قسط 28

وہ کائونٹر سے ڈبل روٹی اٹھا کے بھاگ رہی تھی جب واعظہ کمرہ کھول کر نکلی۔
واعظہ کو نکلتے دیکھ کر اس نے مزید برق رفتاری سے دڑکی لگائی تھئ۔
ہائیں۔ واعظہ کا کھلا منہ جب تک بند ہوا اپارٹمنٹ کا دروازہ بھی بند ہو چکا تھا۔
بنا ناشتے جانا ہوگا۔ اس نے یاسیت سے سوچا پھر تیار ہونے واپس کمرے میں گھس گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون نے دروازہ کھولتے ہوئے کینہ توز نظروں سے گھورا تھا۔
میں بریڈ لے آئی یوبو۔ چلو ناشتہ کریں۔
وہ لہرا کر کہتی اسے ایک طرف کرتی اندر داخل ہوئی۔جیسے پتہ نہیں کتنی مصروف ہو۔ صاف شفاف خالی لائونج جس کی میز پر دو خالی کپ اس بات کا اشارہ تھے جن کے لیئے وہ بھاگم بھاگ آئی تھی وہ نا پسندیدہ مہمان واپسی کی راہ لے چکے۔
یوبو؟ یہ کہاں سے سیکھا تم نے۔ اسکے لہرا کر کہنے پر سیہون نے مسکراہٹ بمشکل روکی تھی اب محظوظ سے انداز میں دروازہ بند کرتے ہوئے لابی سے ہی پوچھتا آرہا تھا۔
فاطمہ نے تیکھی نگاہ ڈالی اس پر۔
جب اتنی سی دیر کیلئے آئے تھے تو کوئی بہانہ کر دیتے ایویں مجھے بھگایا ۔ ڈبل روٹی بھی اٹھا لائی میں اب واعظہ بنا ناشتے دفتر جاتی گالیاں دے رہی ہوگی مجھے۔
اس نے پیکٹ کھول کر ایک سلائیس نکالا اور یونہی چبانے لگی۔
فریج میں مکھن جیم سب رکھا ہوا ہے۔
سیہون نے ٹوکا مگر وہ اٹھنےکا ارادہ نہیں رکھتی تھی سو وہ خود گہری سانس بھرتا گیا دونوں چیزیں سلیقے سے ٹرے میں چھری کے ساتھ لیکر آیا۔ لا کر سامنے میز پر رکھ دیا۔
اس نے بنا شکریہ ادا کیئے مکھن اٹھا کر اگلے سلائس پر لگانا شروع کردیا۔
ایک گھنٹہ بیٹھ کر انتظار کیا ہے انہوں نے۔ میں نے بتایا کہ تم سودا سلف لینے گئ ہو آتی ہوگئ ۔ مگر ایک گھنٹے بعد دونوں مجھے مشکوک نظروں سے گھورتے کل آنے کا کہہ کر چلے گئے۔ وہ سائیڈ والے کائوچ پر نیم دراز ہو کر بتانے لگا۔
ہممم۔ بھرے منہ کے ساتھ وہ بس یہی جواب دے سکی
تم ویسے رات کو چلی کیوں گئ تھیں؟ اکیلے گھر میں ڈر لگ رہا تھا؟
وہ اسے گہری نظر سے دیکھ رہا تھا۔
نہیں وہ ان سب کے ساتھ گھومتی رہی کل پھرکھانا وہیں کھایا تو رات ذیادہ ہوگئ سوچا اب صبح ہی جائوں گی۔
اس نے ہبڑ تبڑ دو تین سلائس کھا کر اللہ شکر کرتے ہوئے بتایا۔ ٹرے کھسکا کر وہ آرام سے پائوں اوپر کرکے صوفے پر نیم دراز ہو رہی تھی جب سیہون سرسری سے انداز میں کہتا اٹھا۔ وہ ایکدم جم کر رہ گئ
کیسا لگا لوہتے ورلڈ۔ اس نے ٹرے اور ڈبل روٹی کا لفافہ اٹھایا اور سگھڑ خاتون خانہ کی طرح چیزیں سمیٹ کر انکی جگہ رکھنے چل پڑا۔ فریج کھول کر مکھن رکھتے ہوئے جیسے ہی مڑا فاطمہ فریج کے ساتھ چپکی اسے گھور رہی تھی۔
آہش۔ وہ بے ساختہ دہل کر پیچھے ہوا۔
کس نے بتایا واعظہ نے؟
اسکی تفتیش ۔۔
آنیو۔ اس نے نفی میں سر ہلا کر گزر جانا چاہا
پھر۔ وہ ایکدم سامنے آکھڑئ ہوئی راستہ روکتے ہوئے مشکوک نظروں سے گھورتی۔
پھر کچھ نہیں۔ سیول میں دو چار ہی گھومنے کی جگہ ہیں یونہی اندازہ لگایا۔
وہ جان چھڑا رہا تھا جبکہ فاطمہ جان کو آنے کو تیار تھئ
سیول میں دو چار ہی گھومنے کی جگہ نہیں ہیں۔
جتاتا انداز
دے۔۔ وہ پھر مڑ کر جانے کو تھا تبھی اسکا موبائل بج اٹھا
اس نے ٹرائوزر کی جیب سے موبائل نکال کر فون اٹھانا چاہا فاطمہ نے بیچ میں اچک لیا۔
وے۔ وہ اتنا حیران ہوا کہ ہل بھی نا سکا
اسکی کال بند کرتی وہ جلدی جلدی مطلوبہ ایپ تلاش رہی تھئ
کیا کر رہی ہو۔ ادھر دو کس کا فون تھا۔
وہ جیسے ہوش میں آتا اسکی جانب بھاگا۔ مگر وہ چکمہ دیتی پورے لائونج میں بھاگتی پھر رہی تھی۔
ارےمیرا فون دو۔
وہ میز سے ٹکر کھاتئ مطلوبہ ویڈیو کھول چکی تھی جب وہ سامنے آیا اسکےموبائل کی جانب بڑھتے ہاتھ کو جھٹکتی وہ گھومی جوتے سمیت صوفے پر پھر وہاں سے صوفے کے پار جست لگاتی دوبارہ کچن کائونٹر کے پاس پہنچ چکی تھی۔
فاطمہ۔
سفید صوفے کور پر کالے جوتوں کے نشان وہ صدمے سے کھڑا ہی رہ گیا۔ اور فاطمہ بھی۔۔ مگر اسے صدمہ کچھ اور پہنچا تھا
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف اور ژیہانگ جمائیاں روک رہے تھے۔ وہ لڑکیوں جیسا لڑکا ست رنگئ شرٹ اور نارنجی چست پتلون میں ملبوس گھوم گھوم کر لہرا لہرا کر بڑے سے پراجیکٹر پرسلائیڈز چلاتا جانے کیا کیا سکھانے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔
رواں انگریزی خالص کوریائی لہجہ جس میں الفاظ کے تلفظ وہی تھے جو پاکستان میں بولنے والے کو ہم پیںڈو کہہ کر تمسخر اڑاتے۔
پورا گھنٹہ مسکراہٹ ضبط کرتے منہ پھیر کر منہ چھپا کر ہنستے گزارا تھا۔ آخر میں تنگ آکر اسکا لیکچر سننے کی کوشش ترک کرکے وہ دھڑ دھڑ ژیہانگ کے چلتے قلم کو رشک سے دیکھنے لگی۔ جانے اس فضولیات میں سے بھی وہ کیا کیا اہم نکات لکھ رہا تھا
ژیہانگ نے اسکی محویت محسوس کرکے دھیرے سے قلم اور رائیٹنگ پیڈ تھوڑا سا اسکی جانب کھسکا دیا۔
انگریزی لکھتے ہاتھ رومن اردو پر آگئے۔
تم کہو تو اپنی شرٹ اس سے تبدیل کر لوں ۔رنگ تھوڑا سا پینڈو ہے مگر استری شدہ ہے۔ اور میں چونکہ اس سے ذیادہ پیارا ہوں تو جچے گا مجھ پر۔
پڑھتے پڑھتے اسکی آنکھیں حجم سے دگنی ہونے لگیں تو چونک کر سر اٹھا کر ژیہانگ کو دیکھنے لگی۔ لبوں پر مسکراہٹ دبائے بظاہر وہ سامنے اس کارٹون کی جانب متوجہ تھا۔ وہ کھسیا کے سیدھی ہوئی۔
اپنا رائٹنگ پیڈ اٹھایا اس پر جواب لکھنے لگی
اس سے بہتر ہوگا۔شرٹ اتار کر ایسے ہی پھر لو۔
ژیہانگ کے لیئے یہ جواب غیر متوقع تھا۔ اس نے کن انکھوں سے الف کو دیکھا اسکا انہماک عروج پر تھامکمل طور پر کارٹون کی جانب متوجہ۔
اس نے گہری سانس لی۔ پھر کالر سے نیچے والا بٹن کھولا۔
پہلا ۔۔ دوسرا۔۔ تیسرا۔۔
الف کی آنکھیں چکر کھانے لگیں
اس نے سارے بٹن کھولے اور شرٹ اتار کر ساتھ والی کرسی پر ٹکا دی۔
ہاہ۔ اس نے رخ پورا پھیر لیا۔ اسکے ردعمل پر ژیہانگ کی بانچھیں چر سی گئ تھیں بے ساختہ امڈ آنے والے قہقہے کو اس نے بمشکل روکا تھا۔
بھول ہی۔گئ تھی لڑکوں میں شرم حیا نام۔کی کوئی چیز ہوتی نہیں بے غیرت جیسے انتظار میں ہی۔تھا ایک تو کمینہ لڑکا ہے اوپر سے کوریائی بلکہ چینی اتنا خیال بھی نہیں کیا بالکل برابر بیٹھی ہوں۔۔ الو کا۔۔۔
دانت کچکچا کر وہ منہ ہی منہ میں رخ پھیر کر بڑ بڑاتی گئ۔
ژیہانگ کی سماعتیں ٹھیک تھیں مگر اتنی بھی اچھی نہ تھیں کہ کسی کے منہ ہی منہ میں بڑ بڑانے کو بھی سن لیتا۔ ہمہ تن گوش البتہ ہوگیا تھا ا س کوشش میں کہ سن سکے کیا بول رہی ہے۔
ست رنگئ شرٹ والے نے انتہائی اہم ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے بارے میں بتاتے ہوئے مڑ کر داد چاہنے والے انداز میں دیکھا تو پتہ چلا حاضرین میں سے ایک دائیں جانب رخ موڑ کر گلاس وال پر لگے اسٹیکر کو گھورتے ہوئے بڑ بڑا رہی ہے تو دوسرا کہنیاں میز پر ٹکائے پوری دلچسپی سے اسے دیکھنے میں مشغول ہے۔ گہری سانس لیکر اس نے الیکٹرانک پین میز پر پٹخا۔ دونوں چونک کے سیدھے ہوئے
آئی گیش یو گائز لوست انترسٹ سو آئیل کوییٹ ہیئر۔
آئی ہوپ یو گائزہیو انڈل اشٹنڈ مائی ٹودے از لیکچل ۔ٹومالو۔ آئی ول گیو۔
یہاں تک بولنے پر ہی الف کی مسکراہٹ بے قابو ہوئی۔ پورے دانت باہر آنے کو تیار تھے جنہیں چھپانے کو اس نے مصنوعی کھانسی کا سہارا لیا۔
آہو کھو کھو ۔۔ وہ مٹھی چہرے کے سامنے کر کے زور زور سے کھانسنے لگی۔
ژیہانگ اسکا مسلئہ سمجھ کر اسے کافی لطف اندوز ہونے والے انداز میں دیکھ رہا تھا۔
او وہاٹ ہیپند ڈئیل۔ آل یو آل رائت۔
نزاکت سے چلتے ہوئے وہ اسکے سامنے تشویش زدہ انداز میں لہرایا تو جیسے سونے پر سہاگہ کا کام ہوا۔ وہ ہنستے ہنستے سامنے میز پر سر رکھ کر منہ چھپا گئ۔
یہ ٹھیک ہے۔ میں اسکو پانی پلاتا ہوں۔ آپکا بہت شکریہ آج ہم نے کافئ کچھ سیکھا آپ سے۔ گھسامنیدہ۔
ژیہانگ بڑے ادب سے کھڑے ہوکر ہنگل میں اس سے بولا۔ اس پر اس کا خاطر خواہ اثر ہوا جھینپتے ہوئے آنیو آنیو کرتا رہا۔
یہ بالکل ٹھیک ہے بس کبھی کبھی ہو جاتا اچھو ۔۔ وہ بتاتے ہوئے سامنے کونے میں رکھے ڈسپنسر کی جانب بڑھا۔
او پور گرل۔ گیت ول شون ڈئیل۔
میز پر ہلکے سے انگلی۔بجا کر تشویش ظاہر کرتا وہ لہرا۔کر چلا گیا۔الف کی ہنسی رک چکی تھی مگر اس نے سر اٹھانے کی حماقت نہیں کی۔
پیپر کپ میں پانی لا کر اسکے سامنے رکھتے ہوئے اس نے دھیرے سے میز پر انگلیوں کے جوڑ سے دستک دی۔
الف دھیرے سے سیدھی ہوئی ڈرتے ڈرتے نگاہ اٹھائی وہ دوستانہ سے انداز میں مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے پانی کا گلاس اٹھا کے پی لیا۔
مجھے یہاں سے واپسی پر ابھی جم جانا ہے ۔ جم شرٹ دھلوالی تھیں سو نئی شرٹ ہاتھ میں پکڑ کرلانے کی بجائے پہن آیا تھا میں۔
اس نے یونہی وضاحت کی۔ الف کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی۔
اس غیر استری شدہ شرٹ کے نیچے وہ جم کی سفید سلیو لیس سویٹ شرٹ پہنے ہوئے تھا اسکے بہت ذیادہ مسلز نہیں بنے تھے مگر دبلے سراپے پر بھی جم لگانے سے بازو کے کٹس نمایاں تھے۔
اب یہ مت کہنا کہ پینٹ کے نیچے جم کا ٹرائوزر بھی پہن رکھا ہے۔
الف شرارت سے بولی
دے۔ وہ روانی میں بولا پھر جھینپ کر ہنس پڑا۔
وہ واقعی سفید شارٹس پہن کر آیا ہوا تھا۔
الف کا منہ دوبارہ کھل گیا تھا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج کا منہ کھلا پھر صدمے سے کھلا ہی رہ گیا۔
وہ دونوں نرسیں ہنس ہنس کر جانے کیا موبائل میں دیکھ رہی تھیں وہ انکو ہدایت دینے اور ڈپٹنے کی نیت سے قریب آئی کہ کام۔کے وقت موبائل میں ویڈیوز دیکھنے کا کونسا وقت ہے جب ویڈیو میں سے آتی مانوس سی آواز نے اسکے کان کھڑے کر دیئے۔ کل کا منظر جزئیات سے تازہ ہوا تھا۔
اس دیو قامت بڑے سے فیری ویل کے نیچے کھڑے ہوکر اوپر نگاہ کی تو گردن میں بل آگیا تھا۔ آسمان کو چھوتا وہ دیو ہیکل جھولا۔ اگر ان سب کے سر پر ٹوپی ہوتی تو وہ گر چکی ہوتی بلکہ عزہ اور واعظہ خرگوش کے کانوں والے پیارے سے جو بینڈ لگائے تھیں کورین لڑکیوں کی دیکھا دیکھی وہ پھسلنے لگے تھے۔ دونوں نے منہ کھول کر سر پر ہاتھ جمائے تھے۔
وائو۔ میں نے زندگئ میں اتنا بڑا فیری ویل نہیں دیکھا۔
فاطمہ کی آنکھیں گول سی ہوگئ تھیں اور ہونٹ بھی۔
اسکو فیری ویل نہیں وچ ویل بلکہ شیطانی ویل کہنا چاہیئے۔ کون احمق اس بھیانک آسمان کو چھوتے جھولے پر بیٹھنا چاہے گا۔
عروج نے کہا تو وہ سب مڑ کر باقاعدہ اسے گھورنے لگیں۔
میں نے اسی پر بیٹھنا ہے ٹکٹ لو اسکا
الف جیسے مچل کر بولی۔ اس نے بڑی سی لائٹ اسٹک لی ہوئی تھی اسے جھلانے پر جل بجھ کرنے لگی وہ ہلا ہلا کر واعظہ کی آنکھوں میں مارنے لگی۔
اچھا۔بیٹھتے ہیں اس پر بھی اسے تو پرے کرو۔
واعظہ نے اسکا ہاتھ پیچھے کیا اور سر ہلا کر خرگوش کے کان لہرانے لگی
تو پھر کتنے ٹکٹ لوں۔
ایک دو تین۔
اسکی پھر گنتی شروع ہونے لگی تھی
پانچ لو نا۔ عزہ نے مشکل آسان کی
نہیں میرا نہیں لینا ۔جائو تم سب میں ہرگز اس پر نہیں بیٹھنے والی بلکہ تم سب کو بھی اگر جان پیاری ہے تو اس پر مت بیٹھو۔ اتنا اونچا جھولا خطرناک پینگ لے گا۔ وہ۔جھر جھری سی لیکر بولی
اچھا۔۔ الف جیسے حیران ہوئی ۔ اسکی دیکھا دیکھی سب نے ہی حیران ہونے کی بھرپور اداکاری کرتے ہوئے عروج کو منہ چڑایا۔
کیا تم سب مجھے اکیلا چھوڑ جائوگی؟ میں اکیلی یہاں کیا کروںگئ؟
عروج ان سب کو ٹکٹ گھر تک منانے آئی۔
تم جائو تھوڑی دھوپ سینک لو۔
واعظہ نے کندھے اچکا کر مشورہ دیا
عروج ادھر پھسلن سیڑھی لگی ہوئی ہے جائو وہاں کھیل لو کئی بچے ہیں اتنی گرمی میں بھی وہاں۔
عزہ نے دور لگی سلائیڈز کی جانب اشارہ کرکے بتایا۔
تم۔ عروج دانت کچکچا کے دیکھ کر رہ گئ۔ یقینا ان بچوں کی تشریف بھی جل رہی ہوگی جو بچہ سلائیڈ سے اترتا سب سے پہلے تشریف سہلاتا۔ اس نے بے زار سا ہوکے نگاہ دوڑائی دور گول گول چکر کھانے والے جھولے لگے تھے جن میں ہاتھی گھوڑا گینڈا وغیرہ بنے تھے ۔
عزہ تم رک جائو۔ ہم ادھر ہاتھی پر ۔۔ وہ پرجوش سی ہوکر عزہ کو وہاں جانے کا لالچ دینےمڑی تو پتہ چلا سب سکھیاں ٹر چکی ہیں۔ وہ قطار میں لگی کھڑی تھی۔ اسکو متوجہ ہوتے دیکھ کر ٹکٹ گھر پر کھڑا وہ لڑکا پیلے دانتوں کی نمائش کرنے لگا۔
ایک مجھے بھی۔
اس نے گہری سانس لیکر ٹکٹ لیا۔
فیرئ ویل پر ایک وقت میں بس چار لوگ بیٹھ سکتے آپ میں سے ایک ادھر دوسرے کیبن میں آجائے۔
وہ مسکین شکل والا کورین بابو ان ضدی لڑکیوں کو جھک جھک کر سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ واعظہ عزہ فاطمہ جھٹ سے اندر گھس کر بیٹھ چکی تھیں الف اور عروج اکٹھے چڑھنے لگیں تو آپریٹر نے متانت سے انہیں روکا۔
آپ میں سے ایک چڑھے بس۔
کوئی نہیں ہم اکٹھے آئی ہیں اکٹھے بیٹھیں گی۔
الف نے پیر پٹخا
تو اور کیا مجھے اکیلے وہاں نا رہنا پڑے اس لیئے اس موت کے جھولے پر بیٹھنے پر رضامند ہوئی ہوں۔
عروج نے منہ بنایا۔
دیکھیں ہم ان کوریائی لڑکیوں کی طرح دو کلو کا منہ لیکر نہیں پھرتی ہیں ہم پانچوں کا ملا کر وزن بھی چار کوریائی لڑکیوں کے برابر ہوگا منہ ملا کے۔
واعظہ نے تفصیل سے ہنگل میں سمجھایا تو اس چندی آنکھوں والے کی آنکھیں پاکستانیوں جتنی پھیل گئیں
یہ کیسی منطق ہے۔
ایویں ہم کوریائی لڑکیاں آپ سے کہیں کم ہیں وزن اور قد میں ۔
انکے پیچھے کھڑی اچھی خاصی فربہ لڑکی تنک کر بولی۔
کیا یہ کالی انڈین ہمیں موٹا کہہ رہی ہیں۔
اسکی سہیلی کراپ ٹاپ پہنے ننگے بازوئوں پر فرضی آستیںیں چڑھا کر لڑنے کے در پہ ہوئی۔
یہ کالا کس کو بولا۔
کالا کہنے پر وہ سب تلملا گئیں۔ عروج نے ڈینم عبایا کی آستین چڑھا لی
تو کیا کہوں گوری ؟ اتنی اچھی شکل ہوتی تو چھپا کے پھرتیں تم ۔
موٹی والی نے تمسخرانہ انداز سے دیکھا۔
شکل تو تمہیں چھپا کے پھرنا چاہیئے کوئی اس پھولے غبارے کو سوئی نا چبھو دے شرارت میں۔ عروج کے پیروں سے لگی سر پر بجھی۔
کیا کہا۔ وہ موٹی عروج کے اوپر پل پڑنے لگی تو اسکی سہیلی نے کھینچا
کیا کہہ رہی مجھے بتائو۔ عروج کی سہیلی اسکا کندھا ہلا کے ترجمہ کر نے کو کہہ رہی تھی۔ عروج نے گھور کر دیکھا
الف نے آئو دیکھا نا تائو لائٹ اسٹک اس موٹی کی آنکھوں کے سامنے نچا دی۔
سہیلی نے اس موٹو کو تپ کو چھوڑ دیا۔
چاروں فیری ویل کے کیبن کے سامنے گتھم گتھا تھیں واعظہ عزہ فاطمہ منہ کھولے تھیں صورت حال سمجھ کر باہر نکلنا چاہا۔
فیری ویل والے نے اپنے بال مٹھئ میں جکڑتے انکا کیبن اوپر چلا دیا اورچلا کر بولا
اس والے کیبن میں بیٹھنا ہے تم لوگوں نے یا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار یہ تو بہت آہستہ چلا رہے ہیں۔
فاطمہ نے منہ بنا کر نیچے دیکھا۔ پہلا چکر آہستہ سا تھا شائد آہستہ آہستہ رفتار پکڑتا یہ جھولا
اچھی بات ہے ورنہ تو مجھے جھولے میں چکر آنے لگتے۔
عزہ نے کہا تو واعظہ اور فاطمہ دونوں نے گھور کر دیکھا۔
وہ کھسیا سی گئ۔
نہیں میرا مطلب ہے۔
اسکی بات ادھوری رہ گئ۔ فیری ویل نے جھٹکا سا لے کر رفتار پکڑی
پکڑ کر بیٹھو۔ فاطمہ نے تنبیہہ کی۔ جھولے کی راڈ تھام کر اس نے جھٹ موبائل کیمرہ آن کیا
عزہ نے کلمہ پڑھتے ہوئے آنکھیں بند کیں۔ تھوڑا سا سہارا ہوا ٹھنڈی تیز ہوا کا جھونکا آیا اس نے خوشگوار ہوا کو اندر تک جزب کیا اور آنکھیں کھولیں سامنے واعظہ دہری ہوکر نیچے دیکھ رہی تھی کود کر شائد خود کشی کا ہی ارادہ تھا
نہیں لغت میں مرنے نہیں دوں گی تمہیں۔ وہ لپک کر واعظہ سے لپٹ گئ
اس کے چیخ پڑنے پر واعظہ اور فاطمہ دونوں نے جھٹکا کھایا۔ فاطمہ کا موبائل ہاتھ سے چھوٹا مگر شکر ہے کیبن میں ہی گرا۔ اس نے دھڑ دھڑ دل قابو کرتے اٹھایا واعظہ سیدھی ہو بیٹھی۔
میں نیچے دیکھنا چاہ رہی تھی یار یہ نیچے والے کیبن میں غیر معمولی خاموشی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں پھولے منہ کے ساتھ ایک دوسرے کو کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھیں۔ سنگل پسلی سہیلی موبائل فون گمبل میں لگا کر جھولے کی راڈ سے لگا کر دھڑا دھڑ موٹو کے ساتھ سیلفیاں لینا شروع ہوگئ۔ تین چار کے بعد انہیں ایک۔نگاہ دیکھ کر ہلکے سے ہونہہ بھی کیا۔
الف نے اپنا موبائل نکالا اور فورا عروج کے ساتھ سیلفی لی۔
ان دونوں نے دیکھا تو خود بھی ہونہہ کیا۔
دوسرے چکر پر موٹو نے ڈر کر اپنی سنگل پسلی سہیلی کا ہاتھ تھاما تو الف نے ہنس کر عروج کے کان میں سرگوشی کی
موٹو کا چھوٹو سا دل۔۔۔۔۔
کہتے ساتھ ہی نگاہ کی تو عروج کو اپنا بازو دبوچے آنکھیں بند کیئے سورتیں پڑھتے پایا۔
موٹو کی سوکھی سہیلی کا گمبل والا ہاتھ ٹکا رہ گیا موٹو اس سے بری طرح لپٹ کر چیخیں مارنے لگی۔ اسکی دل دہلانے والی چیخوں پر عروج نے آنکھیں کھولے بنا ہی یہ سمجھ لیا کہ جھولا ٹوٹ گیا۔
ہائے اللہ جھولا ٹوٹ گیا امی۔ بابا۔ اللہ میاں۔ آخرمیں کلمہ
کچھ نہیں ہوا عروج ہوش کرو
ارد گرد دلفریب نظاروں سے بے نیاز عروج اور وہ موٹو چندی آنکھوں والی لڑکی چیخیں مار مار کر آسمان کے کوے اڑا رہی تھیں۔ الف بھونچکا سی کبھی عروج کو سنبھالتی کبھی موٹو کو چیخنے سے منع کرتی مگر موٹو کے اندر تو کوئی ٹیپ ریکارڈر تھا لمحہ بھر بھی تھک کے چپ نہ ہوتی۔
اس ہڑبونگ میں سنگل پسلی کا لطف لیتا محظوظ چہرہ دیکھا بھی تو سرسر ی سا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔
پورے تین منٹ کی ویڈیو تھئ جس میں وہ چندی آنکھوں والی لڑکی مسکرا رہی تھی جبکہ اسکی سہیلی کا چیخیں مار مار کر رو رو کے برا حال تھا عقب میں ڈینم عبایا میں چہرے پر کالا نقاب کیئے اسکارف پہنے ایک لڑکی کم و بیش اسی حال میں تھی ایک لڑکی دونوں کو سنبھالنے کی ناکام۔کوشش کر رہی تھی۔
ویڈیو کل رات وائرل ہوئی تھی اس وقت ٹرینڈنگ میں آرہی تھی ملین ویوز ہو چکے تھے دھڑا دھڑ شئیرنگ جاری تھی۔
اپنے پیچھے کسی ذی نفس کی موجودگی محسوس کرکے نرسیں پلٹ کر دیکھنے لگیں ۔ پھر ایک نگاہ فون پر۔
یہ میں نہیں ہوں۔ عروج کے منہ سے بے ساختہ نکلا
دونوں مشکوک سی ہوئیں
اتنا بڑا کوریا ہے ہزاروں لڑکیاں عبایا پہنتی ہونگی ایک بس میرے پاس تھوڑی ہے یہ ڈینم عبایا۔
وہ غصے میں چلا اٹھئ
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
ہاں عبایا تو کوریا کا قومی لباس ہے۔ پورا کوریا ڈینم عبایا پہن کر گھومتا ہے۔ بلکہ یہاں کے تو لڑکے بھی ڈینم عبایا پہنتے ہیں۔
واعظہ فون کان سے لگائے سڑک پار کر رہی تھی اسکی بات سن کر اتنے آرام سے کہا کہ وہ بس فون دیکھ کر ہی رہ گئ
یار وائرل ہوئی وی ہے ویڈیو۔ اور تو اور الف کا چہرہ بھی بالکل واضح ہے۔ عروج کا پتہ چلے نا چلے الف کا تو پکا پتہ لگ رہا ہے۔ کچھ کرو
فاطمہ کچن میں ٹہل ٹہل کر فون پر بات کرتے ہوئے کافی بنا رہی تھی۔ سیہون پھولے منہ کے ساتھ لائونج کے صوفے کو صاف کر رہا تھا اس نے جھٹ رخ موڑا
میں کل ایک لیپ ٹاپ جا کر نور کو جیل میں دیتی ہوں تاکہ وہ تم لوگوں کیلئے اس لڑکی کا اکائونٹ ہیک کرکے ویڈیو ڈیلیٹ کردے۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ جوش میں فاطمہ کہہ بیٹھی پھر کھسیانی سی ہو کر سر کھجانے لگی
اس بار فون کو ہاتھ میں لیکر گھورنے کی باری واعظہ کی تھی
تمہیں کیوں پریشانی ہورہی ہے تمہاری تو ویڈیو نہیں بنی سکون کرو پھر۔ واعظہ نے کہہ کر فون بند کرنا چاہا
اچھا سنو اوپا کے علاوہ بھائئ کو اور کیا کہتے۔
اسکا ارادہ بھانپ کر جھٹ اگلا سوال داغا
امجا۔ اس نے بے دھیانی سے کہا
وہ ایک بار پھرٹی سی این کے دفتر کے سامنے کھڑی تھی۔
ٹھیک۔ فاطمہ نے جھٹ فون بند کیا۔
نہیں اورا بونی۔ اسے خیال آیا مگر فون بندہو چکا تھا۔ اس نے گہری سانس لی اور تیزی سے عمارت کی جانب قدم بڑھا دیئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا ایس بی ایس کی ایک پارٹی اتنا بڑا مسلئہ ہوگی ہمارے منے سے چینل کیلئے۔ واپسی پر الف ہنس کر کہہ رہی تھی۔ وہ دونوں بس اسٹاپ تک اکٹھے ہی آتے تھے ہاں بسیں دونوں کی الگ الگ تھیں۔ بس اسٹاپ پر اس وقت رش تھا۔ بنچ فل تھے ذیادہ تر ادھیڑ عمر افراد ہی بیٹھتے تھے بنچ پر۔ ورنہ نوجوان عوام کھڑے ہی رہتے تھے شائد یہی وجہ تھی سب کی چیتے جیسی کمر تھی۔
ویسے یہ لڑکا دلچسپ کردار تھا۔ الف نے فیصلہ سنایا تو ژیہانگ ہنس دیا۔ پھر بولا
اسکا لیکچر بھی دلچسپ تھا۔ کافی کچھ سکھایا ہے اس نے مارکیٹنگ کی رو سے۔ اگر سنتیں تو کام آتا۔
مارکیٹنگ سیکھنی ہوتی تو مارکیٹنگ پڑھتی نا۔ ہم سادے لوگ۔ سادی ہماری تعلیم۔
الف نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا۔اور کندھے اچکا کر سڑک پر نگاہ جما دی سچی بات یہ مارکیٹنگ وارکیٹنگ اسکے بس کا روگ نہیں تھی۔ تبھی بس آکر رکی۔ آدھے لوگ جھٹ پٹ چڑھے۔ یہ ژیہانگ کے روٹ کی بس تھی۔ اس نے چونک کر بس نمبر دیکھا پھر سوالیہ نگاہوں سے ژیہانگ کو دیکھا۔ وہ اسکی جانب متوجہ نہیں تھا۔بس کو ہی دیکھ رہا تھا مگر بڑھنے کی بجائے اطمینان سے کھڑا رہا۔ بس سے اترنے والی ایک حاملہ خاتون اترتے اترتے چکرا سی گئیں۔ وہ لمحہ بھر کی تاخیر کیئے بنا انکی جانب بڑھا اور سہارا دے کر انہیں بنچ پر لا بٹھایا۔ اسکی بس بھر کر روانہ ہو چکی تھی۔
بس اسٹاپ پر اور بھی لوگ تھے لڑکے بھی لڑکیاں بھی۔ مگر اتنی پھرتی بس اسی نے دکھائی۔ وہ خاتون اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر پینے لگیں۔ وہ بھی ازراہ ہمدردی انکی جانب بڑھ آئی۔
آپکی بس چھوٹ گئ میری وجہ سے۔ وہ خاتون دو گھونٹ پی کر اپنے حواس بحال کرکے شرمندہ سے انداز میں بولیں۔
کوئی بات نہیں اس بس پر چڑھنے کا ارادہ بھی نہیں تھا میرا۔ وہ لاپروا سے انداز میں بولا
وہ خاتون مسکرا دیں۔
خاتون آپ کو گھر پہنچنے میں مدد درکار ہو تو میں حاضرہوں۔
اس نے آگے بڑھ کر انگریزی میں خدمات پیش کیں۔ خاتون نے سوالیہ سی نظروں سے دیکھا۔
ژیہانگ نے مترجم کے فرائض نبھائے تو ہنس دیں
میں ادھر پچھلی گلی میں ہی رہتی ہوں ۔ بالکل ٹھیک ہوں میں ویسے میرے میاں آتے ہی ہونگے مجھے لینے۔ میں نے پیغام بھیجا تھا انکو ۔ آپ میری فکر نہ کریں۔
آپ دونوں کا شکریہ۔
وہ جھک کر بولیں۔
الف تمہاری بس آگئ۔ ژیہانگ نے اسکی بس آتے دیکھ کر اسے خبردار کیا تو وہ جھک کر خاتون کو سلام کرتی ہوشیار ہوئی۔ بس میں رش تھا اسے نشست نہ مل سکی کھڑے ہو کر ہینڈ ہینڈل می ہاتھ پھنسا کر مڑ کر بس اسٹاپ کو دیکھا خاتون کے پاس کوئی مرد آکھڑا ہوا تھا یقینا انکا شوہر ہوگا۔ ژیہانگ کہاں گیا۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے دیکھا اسکے بالکل سامنے ایک انکل سے کھڑے تھے اس نے اچک کر انکے کندھے کے اوپر سے دیکھا تو ژیہانگ ٹیکسی روک رہا تھا۔
انکل نے اسے تھوڑا حیرت سے گھورا تو وہ کھسیا کر رخ پھیر گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزاروں بلکہ لاکھوں لڑکیاں جھولوں پر ڈرتی ہونگی چیخیں مارتی ہوںگی ایک میری ہی ویڈیو بنا کر وائرل کر دی۔ اوپر سے مجھے بھی کل ڈینم عبایا ہی پہننا تھا وہ بھی کوریا میں۔ شکل تک چھپی ہوئی تھی پھر بھی ایک ایک مجھے دیکھ کر فورا فون ان لاک کرنے لگتا جیسے انکو آر پار نظر آرہا۔
ڈیوٹئ کے دوران عروج کا غصہ بھی عروج پر جاتا رہا تھا۔
بچے کو پھسلائے بغیر ٹیکا ٹھونک دیا۔ بچہ رونے کی بجائے ٹکر ٹکر شکل ہی دیکھتا رہ گیا۔ آنٹی کو کڑوی دوا بنا پانی کے تھما دی۔ کوئی مریض ہنستا تو لگتا اس پر ہنس رہا ہے۔ ڈیوٹی آورز ختم ہوتے ہی وہ غصے میں سیدھی باہر نکل آئی۔ کھٹ کھٹ پیر پٹخ پٹخ کر چلتی سیدھا پارکنگ لاٹ سے باہر نکلتے اسکا بس نہیں تھا کیا کرے۔
وہ لڑکی کہیں سے میرے سامنے آئے اور میں میں اسکی چندی آنکھیں چیر کر اپنی آنکھوں سے بڑی کردوں۔
اس نے مٹھیاں بھینچیں۔
اسکی پھنی ناک اتنی زور سے کھینچوں کہ پنوکیو بن جائے اور اسکے بھاڑ ایسے ہنستے منہ یہ کالی گاڑی ٹھوںس دوں۔ گاڑی۔
وہ سوچتے سوچتے چونکی۔ یہ کالی گاڑی کیوں اتنی کم رفتار میں اسکے برابر برابر چلے جاری ہے۔ یہ خیال اسے یقینا کافی دیر کے بعد آیا تھا کیونکہ گاڑی اس کے ذرا سا سامنے آکر رک چکی تھی۔ دروازہ کھلنے کیلئے انلاک ہوا۔
چند لمحے تھے بہادر بن کر اپنا بھاری بیگ جو آدھا کندھا جھکائے تھا گھما کے ڈرائیور کے منہ پر مار کر بھاگ کھڑی ہو یا الٹے پائوں واپسی کی راہ لیتے پانچ سو میٹر ریس کے کسی کھلآڑی سے ذیادہ تیز رفتار سے واپس ہاسپٹل بھاگے۔چونکہ وہ ایک سیدھی سادی عام سی لڑکی تھی سو بھاگنا اسے دونوں صورتوں میں تھا۔ ۔انہی سوچوں میں نووارد۔خراماں خراماں چلتی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔
آننیانگ۔ چندی آنکھیں لبوں پر کھلتی مسکراہٹ پھنی ناک۔وہ لڑکی اسکے سامنے کھڑی تھئ اور عروج اتنی ہکا بکا ہوئی کے اپنے سب ارادوں کو عملی جامہ پہنانا ہی بھول گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *