قسط 29

عشنا کا پتہ کرو کہاں ہے دو دن سے۔
چائے پیالی میں نکالتے ہوئے واعظہ کو خیال آیا تو مڑ کر ہانک لگائی۔ عزہ الف عروج قطار سے بیٹھی ایک دوسرے کے سر میں تیل لگا رہی تھیں۔
یار فون بند جا رہا ہے اسکا۔ عزہ نے الف کے سر میں تیل جھسا۔ جیسے ہی ہتھیلی پیچھے کو کی وہ سر کے بل عزہ کے اوپر آئئ گردن بھی کھنچ گئ۔
آہ۔ آرام سے بال نچ گئے میرے۔ الف کا توازن خراب ہوا تو عروج کے سر سے مٹھی نکالے بنا ہی توازن درست کیا نتیجتا اسکے مٹھی بھر بال کھنچےتو اگلی چیخ اسکے منہ سے برآمد ہوئی۔
انسان بنو الف کی بچی۔ میرے بالوں کو کھینچ لیا ہاتھ میں ہی آگئے ہونگے۔ اس نے تڑپ کر سر چھڑاتے ہوئے چندیا سہلائی۔
نہیں تو۔ الف نے جھٹ نفی میں سر ہلایا۔چپکے سے ہتھیلی دیکھی تو اس میں کئی بال چپکے تھے۔ فورا ہاتھ پیچھے کر لیا۔عروج مشکوک سی دیکھ رہی تھی۔
عروج پورے مٹھی بھر بال توڑے ہیں اس نے۔ عزہ نے شکایت لگائی۔ الف نے مڑ کر گھورنا چاہا تو عروج نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جوابا اسکے گھونسلے سے مٹھی بھر لی
الف کی بچی گنجا کررہی تھیں مجھے۔ عروج نے دانت کچکچائے
عزہ بہت ہی کوئی کمینی نکلی ہو تم۔۔ الف کو عزہ پر سخت تائو آیا
اوہو ایک دوسرے کے بال نوچو میں نے کیا بگاڑا۔ عزہ نے مظلومیت کا رونا رویا۔
۔منے لائونج میں ورلڈ وار تھری چھڑ گئ تھی۔ الف کے ہاتھوں میں عروج کے بال نہ آسکے تو عزہ کے سر پر دونوں ہاتھوں سے حملہ کردیا۔ تینوں جذباتی ہو کر اب کھڑی ہو چکی تھیں۔گول گول چکر کاٹتے ہوئے تینوں نے ایک دوسرے کو بالوں سے پکڑ رکھا تھا
میرے تو ابھی تیل بھی نہیں لگا تھا الف چھوڑو بال ٹوٹ رہے میرے۔
واعظہ چھوٹی ٹرے میں چائے کے چار کپ لیکر لائونج میں آئی تو بوکھلا سی گئ
اوہو۔ چائے گر جائے گی۔ عزہ کی کہنی سے ٹرے بچاتی جھلائی۔
بے ہنگم چیخ و پکار سے پورا اپارٹمنٹ لرز رہا تھا۔
اوہو رکو بال چھوڑو۔۔ کیا ہنگامہ ہے ہوش کرو۔
چائے اسکے ہاتھوں میں ٹھنڈی ہونے لگی تھی۔ تبھی دروازے پر زوردار اطلاعی گھنٹی بجی۔واعظہ کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوا۔ اپنی مخصوص گونج دار اونچی آواز جسکو وہ شاز ہی استعمال کرتی تھی استعمال کرتے ہوئے چلائی۔
بس کرو بچپنا پڑوسیوں نے پولیس بلا لی ہے۔
پولیس کا نام سنتے ہی انکی زبان ہاتھ سب رکے تھے۔
فلیٹ میں خاموشی چھا گئ۔ واعظہ نے حسب توفیق گھورا۔
چائے منی میز پر رکھتی دروازہ کھولنے چل دی۔ تینوں لاوئنج کی دیوار سے لگ کر سر نکال کر راہداری میں جھانکنے لگیں۔ واعظہ نے دروازہ کھولا تو طوبی بڑی سی ٹرے لیئے سامنے کھڑی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منے لائونج کے صوفے پر طوبی کو مہمان ہونے کا رتبہ بخشتے ہوئے بٹھایا تھا وہ سب قطار میں لائونج میں بیچوں بیچ آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔ بیچ میں ڈش رکھی تھی
انہوں نے پلیٹوں کا تکلف نہیں کیا بڑی ڈش میں ہی شروع ہوگئیں بس چمچے لے آئی تھیں اندر سے۔
طوبی نے گہری سانس بھری۔ اسکے چہرے پر اداسی سی چھا گئ تھئ۔
اسکے برابر میں ہی واعظہ کی۔بنائی چائے کی ٹرے رکھی تھی۔
آپ چائے تو لیجئے طوبی۔ عروج نے کہا تو وہ یونہی سر ہلاگئ۔ وہ سب ٹھیک ٹھاک بھوکی ہو رہی تھیں۔ اسکا اندازہ انکی کھانے کی رفتار دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔
وہ چند لمحے سر جھکائے کچھ سوچتی رہی پھر کہے بنا نہ رہ سکی۔
تو وہ مجھ سے ملے بغیر ہی چلا گیا۔ مجھے مانا بہت غصہ آیا ہوا تھا پر مجھ سے مل کر تو جاتا۔ آپی کہتا تھا مجھے۔ بس کہتا تھا ؟ مانتا نہیں تھا۔
ایسی بات نہیں ہے طوبی۔ واعظہ نے فورا ہاتھ روک کر سر اٹھایا۔
وہ بس کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتا ہے۔ بچہ ہی تو ہے۔ جو کچھ اس نے سہا کیا وہ سب اسکے لیئے بہت ذیادہ تھا۔وہ اگر آپی نا سمجھتا تو خط تھوڑا لکھتا ۔
پھر بھی۔ وہ بے قراری سے بات کاٹ گئ۔
مجھ سے مل کر تو جانا چاہیئے تھا۔ تم لوگوں کے تو ساتھ تھا مل کر تو گیا ہوگا
وہ ہم میں سے کسی سے مل کر نہیں گیا طوبی۔ عروج نے اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہی
لغ۔۔ الف کی زبان میں کھجلی ہوئی۔ جھٹ دانتوں تلے دبا کر پینترا بدلا
صرف واعظہ کو بتا کے گیا ہے۔ ہم تو سمجھے تھے تھوڑی دیر تک آجائے گا۔وہ تو۔۔
خاموشی سے سب کی باتیں سنتی عزہ نے سر اٹھا کر براہ راست طوبی کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔
آپ مل لیتیں اس سے طوبی جی؟
وہ ہاں کہتے کہتے رک سی گئ۔ شائد وہ ملنے آتا تو ڈانٹ ہی دیتی یا ملنے سے انکار کر دیتی۔ اسے اتنا ہی۔غصہ تھا۔مگر اب جب وہ یوں چلا گیا تھا بنا ملے تو سارا غصہ کہیں غائب ہو گیا تھا۔بس ایک خلش سی تھی۔
اسے بے اختیار اپنے الفاظ یاد آئے
میں ایک غیر مسلم کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طوبی کی آنکھوں میں آنسو بھر رہے تھے۔ ان سب کے کھانے کی رفتار کم ہو چکی تھی۔
چائے پی لو طوبی ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
واعظہ نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ اٹھتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا تو کچھ سوچتی طوبی چونک گئ

میں اس سے ملوں گی۔ واعظہ اسکا پتہ بتائو مجھے میں اس سے ملنے جائوں گئ۔
وہ ایکدم مضبوط سے لہجے میں واعظہ سے مخاطب ہوئی۔
پہلے چائے پی لو ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
واعظہ اطمینان سے کہتی کچن کی۔جانب بڑھ گئ ۔ فریج کھول کر گلاس بھرتی۔۔ پیتی۔ اس سے ذیادہ مصروف کوئی۔نا تھا۔ طوبی تو طوبی باقی تینوں بھی اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
کہاں رہتا ہے ۔۔۔نہیں۔کس ہائی اسکول میں اس نے تبادلہ کرایا ہے کس گائوں گیا ہے سب تفصیل بتائو ہم سب اکٹھے چلیں گے۔
عزہ کو یہ خیال بھایا تھا جھٹ چٹکی بجاتے ہوئے پرجوش سی ہوئی
ہاں۔یہ ٹھیک ہے کان سے پکڑ کرلائیں گے اسے واپس۔
طوبی بھی خوش ہوگئ۔
چار کپ ہیں چائے کے تم چاروں ایک ایک لے لو۔ میرا دل نہیں چاہ رہا اب پینے کا۔
واعظہ نے پانی پی کر گلاس کائونٹر پر رکھ کر مشورہ دیا
اوہو دفع کرو چائے کو بتائو کہاں
عروج جھلائی
کیا مطلب دفع کرو۔ اتنی تھکی ہوئی آئی ہوں میں اتنا برا اور بڑا دن گزار کر آتے ہی مجھ سے چائے بنوا لی کہ میرے سوا کسی کے ہاتھ کی چائے ہی نہیں پسند اور اب دفع کرو چائے۔ پیئو سب خبردار جو ضائع کی۔
وہ پلٹ کر چلائی۔
سونے کی چائے بنائی ہے جو اتنی باتیں سنا رہی ہو۔ عروج کو اسکے یوں چیخنے پر غصہ ہی آگیا
کیا ہوگیا ہے۔ الف نے ٹوکنا چاہا
اچھا میں پی رہی ہوں چائے ضائع نہیں کر رہے ہم
طوبی نے جھگڑا نپٹانے کو کپ اٹھا کر منہ سے ہی لگا لیا
گرم گرم چائے سے ہونٹ بھی ذرا سا جلا ۔ مگر اس وقت اہم معاملہ درپیش تھا
خود بتائو طوبی صبح بنا ناشتے کے نکلی تھی میں پوری دوپہر اس منحوس چینل نے برباد کی ابھی گھر آئی ہوں تو کھانا تک کسی نے نہیں بنایا ہوا تھا الٹا چائے کی فرمائش کردی اب بنا کر لائی ہوں تو کوئی پینے کو تیار نہیں۔سخت زہر لگتا ہے مجھے کہ میں چائے بنائوں اور اسے کوئی پیئے نا۔ بے حرمتی ہے میری چائے کی یہ۔
وہ اتنی سنجیدگی سے یہ شکایت کر رہی تھی کہ طوبی تو طوبی عروج عزہ اور الف بھئ چپ سی ہو کر دیکھنے لگیں
نہیں ہم بے حرمتی نہیں کریں گے چائے کی ہم پیئیں گے۔ ابھی کھانا کھا رہے تھے واعظہ۔
عزہ نے منانا چاہا۔
بالکل ۔ اور الف یہ جو برتن نہ دھونے کے چکر میں سب نے ٹرے میں ہی کھالیا نا کپ تم دھو کر رکھنا سمجھیں۔
وہ وارننگ دیتی رکی نہیں کمرے میں جاگھسی دروازہ بھی بند کر دیا تھا۔
بے چاری الف نے توآئیڈیا نہیں دیا تھا میں ہی چمچ اٹھا لائی تھی ۔عروج ہنسی۔
اسکا کوئی اسکرو ڈھیلا۔ہوگیا ہے۔ عزہ بھی حیران ہوئی ۔
مجھے بھی بہت غصہ آتا جب دلاور کی چائے بنا کر رکھ دوں اور وہ ٹھنڈی ہوتی رہنے دیتے ہیں دو تین بار بتائو تب کپ منہ کو لگاتے۔ بھئ ٹھنڈی چائے پینے کا کیا فائدہ۔
طوبی کی بات پر وہ دونوں سر کھجانے لگیں
مجھ سے نہیں کھولتی چائے پی جاتی۔ عزہ نے کندھے اچکائے۔
اور مجھ سے خالی پیٹ نہیں پی جاتی۔ شکریہ طوبی بہت مزے کا کھانا تھا پیٹ بھر گیا میرا۔ الف چائے پکڑا دو۔
عروج پر کھا کے سستی سی سوار ہونے لگی تھی۔
تم لوگوں کو اور چاہیئئے ہوں چاول تو لا دوں؟ ابھئ عشنا بھی آتی ہوگی ۔۔
طوبی نے تقریبا صاف ہوئی ڈش دیکھ کر پوچھا۔
نہیں ہم نے کھا لیا بس تھینک یو طوبی۔ عروج نے فورا منع کیا۔
عشنا کیلئے تو ۔۔۔۔طوبی نے اٹھنا چاہا تو عزہ نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا۔
کہاں دو دن سے عشنا گئ ہوئی ہے کسی سہیلی کے ہاں اب تو فون بھی نہیں اٹھا رہی
کہاں گئ ہوئی ہے حد یے لاپروائی کی۔طوبی کے اندر کی خیال رکھنے والی اماں بیدار ہوگئیں۔
ایسے ہی کرتی ہے یاد نہیں کیسے فون گھر بھول کر سب وے میں گم ہوگئ تھی ۔۔ عزہ نے یاد دلایا تو عروج کو اپنا دکھ یاد آگیا
اور ان سب نے فون کر کرکے مجھے سونے نا دیا۔
آلف نے اٹھ کر چائے کی ٹرے اٹھالی۔ عزہ اور عروج کو کپ پکڑا کر اپنا کپ لیکرسوچے بنا نہ رہ سکی۔
چائے چائے کی رٹ نے بھلا ہی دیا ان سب کو کہ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیانیئے۔
دنیا کی سب سے معصوم لڑکی اسکے سامنے سر جھکائے کھڑی منمنا کر کہہ رہی تھی۔
اس نے ایک نگاہ ڈالی پھر صوفے کی رگڑائی میں لگ گیا۔ جانے کونسا لیکویڈ تھا صوفے پر ڈالا اور کپڑا پھیرا داغ آدھا رہ گیا اور نم بھی نہیں ہوا صوفہ۔ وہ دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
بیانیئے بولا نا اب تو مان جائو۔
وہ کپڑا اٹھا کر سیدھا ہوا داغ آخر کار غائب ہو گیا تھا۔ وہ شیشی بند کرتا پلٹا تو وہ عین اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
دے؟ اسے ککھ سمجھ نا آیا۔
وہ میں کہہ رہی تھی بیانیئے کہہ رہی ہوں
اپنے سر پر چپت لگا کر اس بار اس نے انگریزی میں کہا تھا۔
اب تو بات ختم کرو۔ دیکھو صاف ہوگیا صوفہ۔ وہ سیدھی صوفے کی جانب بڑھی اشارہ کیا۔ سیہون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔اس نے ںگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تو ہلکا سا دھبہ ابھی بھی تھا۔ ہونٹ دانتوں تلے کاٹتی اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو جھٹ بیٹھ گئی۔ اس کو روکنے کیلئے جب تک سیہون نے منہ کھولا وہ بیٹھ چکی تھی۔ ایک اور غلط اندازہ۔ اسے بیٹھ کر پتہ لگا کہ صوفہ گیلابھی ہوا تھا۔
تمہیں کہا کس نے تھا کہ لائونج کیلئے سفید صوفے لو۔ ہم پاکستانی کبھی سفید صوفے نہیں ڈالتے لائونج میں ۔ ہر وقت کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے۔ بھورے ٹھیک رہتے۔ میل خورا رنگ اور ہم مڈل کلاس تو بھورے صوفے پر بھی کور ڈال کر رکھتے۔ زندگی بھر اندر سے صوفے نئے رہتے بھلے کور پرانے اور گندے ہوتے رہیں۔
اس نے اپنی طرف سے بڑے پتے کی بات بتائی تھی مگر سیہون ذرا متاثر نہ ہوا۔ کہے بغیر نہ رہ سکا
اس سے بہتر یہ نہیں کہ صوفے ہی استعمال کیئے جائیں اور خراب ہونے پر انکو ہی ٹھیک کروا لیا جائے۔
بات میں دم ہے۔فاطمہ قائل ہوئی
مگر تم کیا جانو پرانے صوفے پاکستانی گھرانوں میں گھر کے فرد کی طرح ہوتے ہیں۔ بلکہ ان سے بھی ذیادہ اہم۔اگر پاکستانی گھرانوں میں بچہ صوفے پر کودتے ہوئے گر جائے تو والدین بچے کا سر ٹوٹنے سے ذیادہ فکر مند صوفے کی ٹانگ ٹوٹنے پر ہوتے ہیں۔
وہ جوش سے سیدھی ہوئئ
تمہیں پتہ ہے۔۔میری امی کے جہیز کے صوفے آج تک نئے نکور ہیں۔ ہم نے ڈرائینگ روم میں جب بدلے تو اٹھا کر لائونج میں ڈال لیئے مگر مجال ہے امئ ہمیں صوفے کی بے حرمتی کرنے دیں ۔
وہ بیٹھے بیٹھے اسپرنگ صوفے پر زرا سا اچھلی۔ صوفہ نیا ہونے کی وجہ سے صحیح جھولے دے گیا اسے خاصا مزا آیا۔
ہائے کتنے مزے کا ہے۔ یہ خالصتا اردو میں کہا گیا۔ بچوں کی طرح خوش ہوتی صوفے پر جھولتی سیہون کو اسکے بچپنے پر ہنسی آگئ مگر وہ اپنے میں مگن تھی۔ سر جھکائے جھولے کے مزے لیکر دوبارہ انگریزی میں شروع ہوگئ۔
ایسے تو ناممکن تھا کہ ہم کبھی بچپن میں بھی کر سکیں۔
زرا ذیادہ دیر بیٹھ جاتے تو اٹھا دیتی تھیں کہ زمین پر فلور کشن پر بیٹھ جائو تھوڑی دیر ۔۔صوفہ خراب ہو رہا ہے۔ دراصل امی کے جہیز کا صوفہ تھا نا۔
کہتے کہتے جب اس نے سر اٹھا کر مخاطب کو دیکھنا چاہا تو پتہ چلا سیہون صاحب ٹر چکے۔ اب اوپن کچن میں فریج کھولے کھڑے اندر جھانک رہے ہیں۔
اس نے اٹھنا چاہا پھریاد آیا کہ گیلی جگہ بیٹھ چکی ہے۔
مجھے بھی آج سفید ٹرائوزر ہی چڑھانا تھا۔
وہ بے بسی سے بڑبڑائی۔
سیہون فریج سے چاول نکال کر ان پر ڈھیر ساری کمچی اور بلیک بینز ڈال کر پلیٹ بنا کر جب آیا تو وہ منہ بنائے بڑ بڑ میں ہی لگی تھی۔
تم نے بھی ناشتہ نہیں کیا ہوا تھا؟ فاطمہ حیران ہو کر چیخی۔ سامنے وال کلاک پر نگاہ پڑی تو گھڑئ ساڑھے گیارہ بجا رہی تھی۔
ہمیں کچھ اصول طے کر لینے چاہیئں جب تک ہمیں اکٹھے رہنا ہے۔
منہ میں نوالہ بھرے چٹخارے لیتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا۔ چھوٹا سا منہ پھولے کلوں کے ساتھ غبارہ سا بنا ہوا تھا
فاطمہ دیکھ کر رہ گئ۔
آٹھ نو سالہ دو پونیاں لہراتی یونیفارم پہنے فاطمہ منہ میں پراٹھے کا پدا سا نوالہ جو اماں نے ہی منہ میں دیا تھا اسے کلے میں دبا کر بڑی ضروری بات بتا رہی تھی۔
پتہ ہے امی عاصمہ کے گھر میں اتنی بڑی بلی ہے
فاطمہ پہلے کھا لو پھر بات کرنا کھاتے ہوئے بولتے نہیں ہیں..
امی نے لمحہ بھی ضائع کیئے بنا ٹوکا تھا۔
اس گھر کی صفائی ایک دن میں اور ایک دن تم کروگی۔
یہ اصول نمبر 1 تھا۔ ایک اور فلیش بیک چل پڑا تھا فاطمہ کی آنکھوں کے سامنے ۔۔
وہ منے لائونج میں صفائی کر رہی تھی۔ برش پیچھے سے آگے کرنے کی بجائے آگے سے اپنی جانب کر رہی تھی نتیجتا ساری گرد اسکے اپنے پائوں پر اور عروج ابیہا اور نور کی حیران نظریں اسکے چہرے پر جم رہی تھیں۔
فاطمہ پہلی بار جھاڑو دے رہی ہو؟ ۔
نور پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
نہیں۔ وہ فٹ سے مکر گئ۔ پھر اپنے ارد گرد پھیلے گردباد پر نگاہ ڈال کر سر جھکا لیا۔
آہ ہاں۔
رات کو جو بھی گھر نہیں آئے گا یا نہیں آنے کا ارادہ رکھے گا وہ دوسرے کو 11 بجے تک مطلع کر دے گا۔
سیہون کا ناشتہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا
دوسرا اصول۔
کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تم رات کو آئو ہی نا؟
فاطمہ بھونچکا سی رہ گئ۔
ہاں ویک اینڈ پر کبھی کسی پارٹی میں لیٹ ہو ہی جاتا ہے، اور ڈرنک ہو جائوں۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکا۔
تمہاری کوئی خطرناک قسم کی عادتیں تو نہیں ٹن ہو کر؟ وہDrinking Habbits)کا پوچھ رہا تھا۔
اس نے حفظ ما تقدم کے طور پر پوچھنا بہترسمجھا۔ فاطمہ اچھل ہی تو پڑی خاصے چبھتے انداز میں بولی۔
جی نہیں۔ میں مسلمان ہوں ہم ڈرنک نہیں کرتے۔
اوکے اوکے۔ سیہون نے فورا صلح کا پرچم۔لہرایا
مانا مسلمانوں میں منع ہوتا ہے مگر سب ہر اصول پر کاربند تو نہیں رہتے نا۔اسلیئے احتیاطا پوچھ لیا۔ اب مسلمان نماز بھی تو پڑھتے ہیں۔نا میں نے کبھی واعظہ کو دیکھا مسجد جاتے ہوئے نا تم اتنے دنوں میں کبھئ مسجد گئیں۔
سیہون کا انداز سادہ سا تھا فاطمہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ
مانا کبھی کبھار چھٹ جاتی ہے نماز مگر اسکا یہ مطلب بھی نہیں لیا جا سکتا کہ وہ پڑھتی ہی نہیں۔۔
اس نے گلا کھنکارہ
لڑکیاں مسجد نہیں جاتیں۔ وہ گھر میں پڑھتی ہیں نماز وہ بھی کسی۔۔ وہ نا محرم کا ترجمہ ذہن میں دوڑانے لگی۔ مگر سمجھ نا آیا۔
کسی اجنبی کے سامنے نہیں۔
اس نے اسٹرینجر ترجمہ کیا تھا۔
دے۔۔۔ سیہون نے سر ہلایا۔
ہم کوریائی گھر میں باہر کے جوتے استعمال نہیں کرتے۔
اس نے ایک نظر اسکے پائوں پر ڈال کر کہا۔
اور ہم پاکستانی جوتے بنا گھر میں داخل نہیں ہوسکتے۔
وہ اردو میں بڑ بڑائی مگر اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہم اپنا اپنا کھانا اپنی مرضی سے خود پکا لیا کریں گے اور گروسری شاپنگ بھی خود اپنی اپنی الگ کریں گے۔
یہ شرط فاطمہ نے لگائی تھی۔ سیہون نے ایک نگاہ دیکھ کر اسے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔ مگر ہنگل میں بڑ بڑایا ضرور
پیسے ہیں بھلا؟ بے روزگار محترمہ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جم گئی یہ بس لیپ ٹاپ کے سامنے رات بھر کے لیئے۔
اس پر اپنے استری شدہ کپڑے لٹکا دوں تو مجھے قوی امید ہے صبح اسی طرح استری شدہ اسکے سر پر سجے ملیں گے۔
عروج ہلکی سی دستک دے کر کمرے میں داخل۔ہوئی تو واعظہ کو اپنے بستر پر دراز لیپ ٹاپ پر مگن پایا۔
کوئی کام تھا۔
اس نے اطمینان سے سر اٹھا کر اسے دیکھا
سنو مجھے ایک مشورہ کرنا ہے۔
وہ اسکے سامنے بیڈ پر آبیٹھی
کہو۔
یار وہ ایک یو ٹیوبر ہے۔وہ مجھے اپنے چینل پر انٹرویو کیلئے بلانا چاہتی ہے پیسے بھی دے گی۔ مگر لائیو اسٹریم ہوگا۔ پیسوں کی خیر ہے مگر یوں اچانک لائیو اسٹریم پر تھوڑا سا جھجک رہی ہوں۔ ملینوں فالورز ہیں اسکے
وہ تھوڑی پرجوش سی تھی۔ واعظہ نے ایک نگاہ اسکے تمتاتے چہرے پر ڈالی پھر دوبارہ لیپ ٹاپ اسکرین پر نگاہ جما لی۔ ہاتھ کی بورڈ پر چل رہے تھے۔
کس خوشی میں؟ اسکا سوال منطقی تھا۔
اس خوشی میں۔ عروج نے اپنے دائیں جانب چٹکی بجا کر اشارہ کیا تو ایک یاد اسکے دائیں جانب چلنے لگی دونوں بغور اس تصوراتی پردے کو گھورنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکی اسے قریبئ ریستوران لے آئی تھی۔
کیا پیئوگی؟ اس نے بہت دوستانہ انداز میں اس سے پوچھا۔
سیلف سروس تھی سو وہ یقینا خود اٹھ کر جاتی
کچھ نہیں شکریہ۔ آپ کو جو بات کرنی ہے کر لیں۔
عروج کا لہجہ کھردرا ہو چلا تھا۔ اس لڑکی کے اطمینان میں سرموق فرق نا آیا تھا۔ گلابی شارٹ فراک جیسے لباس میں ملبوس اسکی گوری رنگت اتنا دمک رہی تھی کہ عروج کو اپنا رنگ بھجنگ لگنے لگا تھا حالانکہ عروج تو عروج وہ لڑکی تک عروج کو نقاب کے باعث دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر نزاکت سے اپنے ریشمی بال جھٹک کربولی۔
ضرور مگر ساتھ کوئی اچھی سی ڈرنک بھی ہو تو کیا ہی بات ہے۔ میں لیکر آتی ہوں۔
وہ موقع دیئے بنا اٹھ گئ۔ عروج کو اسوقت کچھ بھی کھانے پینے کا دل نہیں کر رہا تھا۔مگر وہ چند ہی منٹوں میں دو بھرے ہوئے گلاس پھلوں کی کاک ٹیل کے لے آئی تھی۔
شکریہ۔ ساری بٹ ناٹ ساری والے انداز میں اسکے منہ سے پھسلا تھا۔
میرا نام مشیل ہے۔ یو ٹیوبر ہوں اسی نام سے چینل ہے میرا۔ پرسوں وی لاگ بناتے اتفاق سے تم بھی میری ویڈیو کا حصہ بن گئیں تمہارے ری اکشنز اتنے مزے کے تھے کہ نیٹیزنز netizenz نے میری ویڈیو کو بہت اچھا رسپانس دیا۔
وہ لمحہ بھر رکی جیسے عروج کا ردعمل دیکھا چاہ رہی ہو مگر نقاب کے باعث ناکام رہی۔سو سلسلہ کلام جوڑا۔
تمہاری ویڈیو بہت تیزی سے وائرل ہوئی ہے کوریا میں۔تم تو بیٹھے بٹھائے سیلیبریٹی بن گئ ہو۔
اسکا انداز عروج کو بالکل اچھا نا لگا۔ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔
آپکو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کسی کو بتائے بغیر اسکی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لگا دیں۔لوگوں کے ریسپانس لیں میں آپکی اس حرکت پر آپ پر سو بھی کر سکتی ہوں۔
وہ چٹخ کر بولی تو جوابا وہ لڑکی ہنس دی۔
ریلیکس ڈیئر۔ میں اسی کیلئے معزرت کرنے آئی ہوں۔آپ سے بنا پوچھے آپکی ویڈیو بنانے کیلئے آئی ایم سوری۔
وہ دھیرے سے سر جھکا کر بولی۔ روائتئ کوریائی انداز میں آدھا جھکی نہیں مگر چونکہ معزرت بھی انگریزی میں تھی اس نے برا نا مانا۔
اٹس اوکے۔ عروج اسکا کیا بگاڑ سکتی تھئ۔
آپ پیئیں نا۔ اس نےجوس کی طرف اشارہ کیا۔
عروج نے ریستوران پر نگاہ دوڑائی تو کافی رش محسوس ہوا۔ وہ نقاب اتار کر یہاں جوس پینا نہیں چاہتی تھی۔
شکریہ ۔ میں اب چلتی ہوں۔ وہ اپنا بیگ سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی تو مشیل بوکھلا سی گئ
ارے بیٹھیئے ۔ مجھے آپ سے ایک اور بات بھی کرنی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر سچ مچ معزرت کے لیئے آئی تھی تو پہلےویڈیو بھی ڈیلیٹ کرتی نا۔
واعظہ نے اسکی فلیش بیک میں اینٹرئ ماری
وہ کہہ رہی تھی یو ٹیوب ویوز ذیادہ ہو جائیں تو ویڈیو کو اون کر لیتی ہے پھرآپ چاہ کر بھی ڈیلیٹ نہیں کر سکتے۔
عروج نے وہی بتایا جو اسے بتایا گیا تھا۔
واعظہ لیپ ٹاپ پر نگاہ جما کر بیٹھ گئ۔ عروج کو اسکے یہی انداز زہر لگتے تھے۔ بندہ اب ضروری بات کر رہا ہے تو اسکی شکل تھوڑی دیر ہی دیکھ لو۔ کہ اسے لگے اسکی سنی جا رہی ہے۔
میں مسلمان ہوں یہ جان کر وہ حیران بھی ہوئی اور خوش بھی۔کہتی ہے مسلمان لڑکی وہ بھی ڈاکٹر ہے یہاں کوریا میں تو مجھے یقینا اپنے چنگوئوں ، اپنی یو ٹیوب کمیونٹی کو وہ چنگو کہتی ہے ۔ عروج نے وضاحت کی۔
ہاں تو کہتی ہے مجھے اپنے چنگوئوں کو آپ سے ملوانا چاہیئے اور جو یہ سب پر امپریشن ہے نا کہ مسلمان بیک ورڈ ہوتے ہیں خاص کر لڑکیاں انکے بارے میں دنیا کو ضرور بتانا چاہیئے۔ کہ مسلمان لڑکیاں بھی پڑھی لکھی ہوتی ہیں او۔۔ اسکے پاس اسکی لمبی تقریر بتانے والی تھی مگر واعظہ لیپ ٹاپ پر نگاہ جمائے بیٹھی تھی جانے سن بھی رہی تھی کہ۔نہیں۔
اے سن رہی ہو کچھ بتا رہی ہوں میں
اس نے تپ کر اسکا کندھا ہلایا۔ تو واعظہ نے ہونٹ بھینچ لیئے اور لیپ ٹاپ اسکے سامنے کردیا۔
وہ اسکی وائرل ویڈیو کے کمنٹس کھولے بیٹھی پڑھ رہی۔تھی۔ مشیل کا ہی چینل مگر کمنٹس۔
اس نے پڑھنا شروع کیا تو آنکھیں کھلتی سی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حسب معمول ہنگامہ خیز تھی۔
الف عزہ اور عروج حسب معمول اکٹھے اور ایک ہی سنگھار میز کے سامنے تیار ہو رہی تھیں۔
کوئی ایک تو ساتھ والے کمرے میں چلی جائو۔
عروج جھلائی۔
وہاں بھی تو رش۔۔ عزہ کہتے کہتے رک گئ۔
اب تو ساتھ والے کمرے میں بس واعظہ ہے۔ فاطمہ، نور ابیہا عشنا کوئی بھی تو نہیں ہے۔
وہ اداس سی ہو چلی تھی۔ الف بال سلجھا رہی تھی ان دونوں سے ہٹ کر پیچھے بیڈ پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ برش چلانے لگی۔
ابیہا کو دیکھو جب سے پاکستان گئی ہے کوئی اتا پتہ نہیں۔
عروج کو بھئ اسکی یاد آئی۔
ہمیں اس کو پوچھنا چاہیئے تھا اسکی امی کی طبیعت خراب تھی۔
عزہ نے جتایا۔
وہی ۔ عروج نے سر جھٹکا۔
یہاں نور والا معاملہ اتنا الجھ گیا تھا کہ ذہن سے ہی نکل گیا اسکی خیریت پوچھنا۔ اوپر سے جیل کی ہوا۔ اف۔ اس نے جھرجھری سی لی۔
عزہ آئی لائنر لگاتے اسکی کہنی سے جھونک کھا کر گھورنے لگئ
ابھئ آنکھ میں گھستا برش میری۔
یہ الف کہاں گئ۔ عروج نے اسکارف سر پر لپیٹتے دائیں بائیں دیکھا تو عزہ بھی ٹشو سے آنکھ صاف کرتی مڑی دیکھا تو بیڈ پر بیٹھی چپکے چپکے نیر بہا رہی تھی۔
اوئے تمہیں کیا ہوا صبح صبح۔
عروج تڑپ کر اسکے پاس آئی۔
امی یاد آگئ ہونگئ۔عزہ کا اندازہ تیار تھا
نور یاد آگئ۔ صبح میری اسکی ایک بار تو نوک جھوک ضرور ہی ہوتی تھی۔ جانے وہ کیسی ہوگی ہم ایک بار بھی اسے دیکھنے ملنے نا جا سکے۔
وہ بھرائی سی آواز میں بولی
ہمیں جانا تو چاہیئے۔ عزہ آئی لائینر لگانے کا ارادہ ترک کرتی اسکے پاس آبیٹھئ۔
اسکے پاپا اسکی پڑھائی چھڑوا کر واپس لے جائیں گے۔یقینا۔
الف نے کہا تو وہ دونوں چپ سی ہوگئیں
جیل جانے سے تو یہ بھی بہتر ہے۔اللہ کرے اسکو وہاں ذیادہ عرصہ نا رہنا پڑے۔ آمین۔
عروج نے کہا تو تینوں نے صدق دل سے آمین کہا۔
اچھا سنو تم دونوں آج پہلے آجائوگی مجھے اور واعظہ کو کہیں جانا ہے سو پلیز کھانا تم دونوں مل کر پکا لینا۔
عروج کی ہدایت پر دونوں گھورنے لگیں
کیوں؟ آج تمہاری بارئ ہے عروج کھانا پکانے کی۔
اوہو ایڈجسٹ کر لینا نا ۔
اسکا انداز بے نیازی بھرا ہو چلا تھا یعنی نو مور بحث
بتا کے جائو کہاں جائو گی دونوں
الف اور یوں جان چھوڑ دے
بس کہیں جانا ہے یوں سمجھ لو کسی سےدو دو ہاتھ کرنے ہیں۔
عروج نے دانت کچکچا کر کہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یہ کر سکتی ہوں۔
اس بڑے سے دوائوں کے اسٹور کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے گہری سانس لی۔ پھر مٹھی بند کر کرکے عزم کیا۔ اور گلاس ڈور دھکیلتے ہوئے بڑے اعتماد سے کھٹ کھٹ کرتی اندر داخل ہوئی۔ کائونٹر پر کھڑی سیلز گرل اسے دیکھتے ہی مستعد ہوئی۔
آننیانگ ۔۔ اس نے جھک کر ادب سے سلام کیا۔
مجھے ایک عدد کریم چاہیئے جو جلن دور کرے مگر اس میں گھوڑے کی چربی استعمال نہ ہوئی ہو ۔۔
دے۔ ؟ وہ لڑکی ہونق ہوئی۔
سعدیہ کائونٹر کے قریب ہی ریک میں سے چاکلیٹس دیکھ رہی تھی چونک کر مڑی۔
بلو جینز پر لانگ سفید کرتا پہنے شدید پاکستانی انداز میں سر پر دوپٹہ لیکر کان کے پیچھے اڑس کر بولتی اس لڑکی نے اسکی توجہ فورا کھینچ لی تھی۔
یہ میرا ہاتھ دیکھو۔ جل گیا ہے اسکی دوا دو۔ مگر سور گھوڑا بلکہ کسئ جانور کی چربی یا کچھ بھی اس کریم میں نہیں ہونا چاہیئے۔ ۔ اس نے آستین اوپر کرکے دیکھایا۔ساتھ فر فر اپنی سب ڈیمانڈز بھی رکھ دیں۔ اس کورین لڑکی نے تو ہلکی سی چیخ ہی مار دی۔ لال لال گوشت ہلکی سی کھال بھی تولیہ جیسی ہوئی وی تھئ۔
یہ کیا ہوا۔ اس نے گٹ پٹ شروع کردی تھئ۔
تمہیں کیاہوا؟ چاولوں کی پیچ گری ہے اتنی زور کی تو میں نے چیخ نہیں ماری تھی۔ ذرا سا جلا ہی تو ہے۔ حد ہوگئ اتنا بڑا منہ اور چڑیا سا دل۔ ذرا سی کھال ہی تو اتر گئ ہے۔ اس نے باقاعدہ کھال چھو کر دکھایا
جب وہ ہنگل میں بڑ بڑ کر رہی تھی تو طوبی کیوں منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتی۔
جب وہ ہنگل میں بڑ بڑ کر رہی تھی تو طوبی کیوں منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتی۔

آندے۔ وہ لڑکی یوں گھبرائی جیسے اسکی کھال اترنے لگی ہو طوبی کے ہاتھوں۔۔
اس طرح مت کیجیئے زخم کھل جائے گا۔
کیا بولے جا رہی ہو لڑکی۔ جائو کسی پڑھے لکھے کو بلائو جسے انگریزی آتی ہو۔عجیب ملک ہے چار لوگ انگریزی نہیں جانتے کہنے کو ترقی یافتہ ملک ہے۔
اس نے سر جھٹکا۔
اوہ یہ تو بہت جل گیا ہے۔آپکو ڈاکٹر کو دکھانا چاہیئے۔ کسی نے طوبی کے قریب آکر ہمدردی بھرے انداز میں کہا تو طوبی مڑ کر اپنی جھونک میں بولی
۔ ارے نہیں اتنی چوٹ پر دوا بھی نہیں لگاتی یہ تو دلاور مجھ سے ذیادہ گھبرا گئے بہت پیار کرتے ہیں۔کہہ رہے عروج کے پاس چلو اب وہ بے چاری ابھی ہاسپٹل سے آئی کہاں میں ۔۔دوا لے آ۔
کہتے کہتے نووارد کو دیکھا۔ گھورا۔ پھر چیخ مار کر لپٹ ہی تو گئ
اوہ تم سعدیہ۔ سعدیہ رند ہو نا۔ یو ٹیوب والی۔؟؟؟
جج جی۔ اسکے منہ سے بس یہی نکل سکا مگر وہاں سن کون رہا تھا۔
اوہ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے تم سے مل کر میں بہت شوق سے تمہاری ویڈیوز دیکھتئ ہوں۔
طوبی کی بانہوں میں نازک سی سعدیہ پھڑ پھڑا رہی تھی۔
جئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *