Salam Korea Episode 19

Salam Korea
by Vaiza Zaidi
قسط 19

urdu novel salam korea episode 19 featuring  seoul korea a urdu korean fan fiction by desi kimchi
Salam Korea Episode 19

صبح کسی نے جھٹکے سے اسے دور پھینکا تھا جس سے اسکی آنکھ کھلی۔۔
اس نے دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا تو ہوپ تھی وہ شائد سوتے میں اس سے لپٹ گئ تھی اس نے اٹھتے ہوئے اسکا بازو بے دردی سے اپنے اوپر سے بنا اسکے سوئے ہونے کا لحاظ کیئے پھینکا تھا۔۔
اسکا تنفس تیز ہوگیا تھا۔ دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی
وہ بس شاکی نظروں سے دیکھ کر رہ گئی۔ ہوپ یوں تھئ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں بیچ میں سونے کی وجہ سے وہ پائینتی سے اتر رہی تھی بنا مڑ کر دیکھے باتھ روم میں گھس گئ۔۔ اریزہ نے انگڑائی لے کر کندھے سیدھے کیئے۔ وہ کافی پھیل کر سونے کی عادی تھی اس وقت اسے اپنا عالیشان کمرہ بے حد یاد۔ آیا تھا۔۔ آنکھ کھل تو گئی تھی اس نے موبائل اٹھا کروقت دیکھا۔ ۔۔ پاپا کی مس کال بھی پڑی تھی۔۔ اس نے وقت کا اندازہ لگایا سو گئے ہونگے ۔ وہ مایوس سی ہو کر اٹھ گئ۔۔
اسکو گرمیاں کہتے یہ لوگ۔ اسے بستر سے نکلتے ہی خنکی کا احساس ہوا۔۔ اس کا جوڑا سامنے کرسی پر پھیلا تھا اس نے گوارا کا سویٹ سوٹ پہن رکھا تھا جو ڈھیلا ڈھالا تو اتنا زیادہ نہ تھا مگر لانبا تھا۔ اس نے باتھ روم کے دروازے سے کان لگائے ۔۔ ہوپ شائد شاور لے رہی تھی۔۔
اسکا انتظار کرنے سے بہتر اسے یہی لگا ناشتہ بنا لے۔۔ گوارا بے سدھ سو رہی تھی جانے کب رات کو آکر وہ بستر پر آن سوئی۔ اس نے باہر آکر دیکھا تو یون بن غائب تھا۔ یقینا صبح صبح دونوں کی آنکھ کھلی ہوگی۔ البتہ صوفے پر کمبل پھیلے تھے۔ اس نے انکو سمیٹ کر تہہ لگائی کیبنٹ میں رکھا او رخود کچن میں چلی آئی۔ ۔۔ اس نے دو کے حساب سے ناشتہ بنایا۔۔ ہوپ عجیب سی ہی لڑکی تھی جانے کھائے نہ کھائے اس نے یہی سوچا تھا اس سے پوچھ لے گی اس نے ناشتہ میز پر لگایا تو وہ تیار ہو کر کمرے سے نکلی۔۔
فریج خالی ڈھنڈار پڑا تھا انڈے تھے بس اس نے آملیٹ بھی تیار کر دیا۔۔
ہوپ۔۔ وہ سیدھا داخلی دروازے کی جانب جا رہی تھی اس نے پہچھے سے آواز دی تو چونک گئ
میں نے ناشتہ بنایا ہے کر لو۔ پراٹھا شائد تمہیں پسند نہ آئے مگر آملیٹ بھی ہے وہ تو کھاتی ہی ہوگی۔۔
اس نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا۔۔
میرے لیئے کیوں؟۔۔
اسکا سوال کڑا تھا
میں اپنے اور گوارا کیلیئے بناتی ہوں اب تم بھی ہو تو تمہارے لیئے بھی بنا دیا۔۔ اریزہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی
میں احسان لینا پسند نہیں کرتی آئندہ مت بنانا۔۔ وہ کہہ کر رکی نہیں۔۔ دھپ دھپ کرتی نکل۔گئی۔۔
حد ہی ہے۔۔ وہ چڑ گئ۔۔ اتنے نخرے ۔۔۔
کمرے میں گورا کو جگانے آئی تو وہ بیڈ پر نہیں تھی۔۔
گوارا۔۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا تھا
آخ۔ آہغ۔۔
قے کرنے کی آواز آرہی تھی۔۔
گوارا تم ٹھیک تو ہو۔
وہ بھاگتی ہوئی باتھ روم میں آئی اگلا منظر اسکی طبیعت خراب کر گیا۔۔
گوارا ٹوائلٹ بول پر جھکی دونوں ہاتھ سے اسی کا سہارہ لیئے قے کر رہی تھئ اسکے لانبے ریشمی بال پوری سیٹ پر بکھرے پڑے تھے
یہ کیا کر رہی ہو۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔۔
آہ۔۔ وہ سیدھی ہو کر وہیں بیٹھ گئی۔۔
ٹوائلٹ بول پر بازو ٹکائے وہ نڈھال سی ہو رہی تھی۔۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔ مجھے الٹی آرہی ہے۔۔
کہتے کہتے وہ پھرٹوائلٹ بول پر جھک گئ
آخ۔۔ اریزہ نے منہ پھیر لیا۔۔
اس میں کیوں کر رہی ہو الٹی بیسن میں کیوں نہیں کر رہیں۔۔
اسکا دل اسکو سہارا دینے کا بھی کر رہا تھا اور کراہیت بھی آرہی تھی۔۔
گوارا نے حیرت سے اسکو دیکھا جیسے اسکی عقل پر شک کر رہی ہو۔۔ پھر فلش کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
سنک بند ہو جاتا احمق۔۔ گوارا دیوار کا سہارا لے کر چل رہی تھی
ہاتھ تو دھو لو۔۔
اریز کی اپنی مجبوری۔۔
کیوں؟۔ گوارا کو اسکا۔انداز عجیب لگا۔۔ وہ اسکے پاس آئی تو اریزہ ایک قدم پیچھے ہو گئ
وومیٹنگ چھوت کی بیماری نہیں ہوتی۔۔ کل شائد کوئی چیز ایسی کھا لی جو ہضم نہ ہوئی ۔۔ لی اسلیئے طبیعت خراب ہو رہی ہے۔
وہ تھکے تھکے انداز میں بتا رہی تھی
پیا کم تھا تم نے کل۔ اریزہ نے ٹوکا۔۔ اورتم نے ٹوائلٹ بول پکڑا ہوا تھا جراثیم ہوتے اس میں اس طرح اور بیمار پڑو گی ہاتھ دھو۔۔
اریزہ نے اصرار کیا تو وہ حیران ہو کر اسکو دیکھتی مان گئ۔۔ سنک میں ہاتھ دھو لیئے۔۔
میں ویسے گٹر میں ہاتھ نہیں۔چلا رہی تھی۔۔
صابن سے ہاتھ دھو کر اس نے جتایا۔۔
پھر بھی گندا ہوتا ٹوائلٹ بول۔ہم کبھی الٹی کم ازکم اس میں نہیں کرتے۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
باہر نکل کر بیڈ پر گرنے والے انداز میں دراز ہوئی۔ وہ مزاق اڑا رہی تھی
میں صاف ستھری بچی ہوں فلش کر کے سب بہا کر نکلی ابھی سنک میں یہی کام کرتی تو سنک بند ہو جاتا۔۔
تو کھول لیا جاتا ہے سنک اگر بند ہو بھی جائے تو۔۔
اریزہ دھیمے سے بڑ بڑائی
منہ کا اتنا حترام تو کرنا چاہیئے۔۔ اریزہ اردو میں بڑ بڑا رہی تھی۔
کیا کہہ رہی ہو؟۔۔ گوارا کو اسکی ناگواری پر حیرت ہوئی۔۔
کچھ نہیں۔۔
اریزہ نے ٹالنا چاہا
تم کہہ رہی تھیں ہم۔۔
اس نے ہم پر زور دیا۔۔
الٹی ٹوائلٹ بول میں نہیں کرتے پھر کہاں کرتے ہو تم لوگ؟۔۔
وہ اسی بات پر اٹک گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہخ آغ۔۔ سنتھیا بیسن پر جھکی الٹی کر رہی تھی۔۔۔۔ ایڈون اسکی الٹی کی آواز سن کر باتھ روم کا ہلکا سا دروازہ ناک کرکے پوچھنے لگا۔
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے؟
آہاں۔ اس کے منہ سے نقاہت کی وجہ سے بہت ہلکی سی آواز نکلی۔ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو ایڈون دروازے کے باہر ہی کھڑا تھا بے چینئ چہرے سے عیاں تھی
کیا ہوا الٹی کیوں آرہی تھی تمہیں؟
وہ دھیرے سے اسکی پیشانی چھوتے پوچھ رہا تھا۔
پتہ نہیں کل وہ جو چاول کھائے شائد وہ لڑ گئے مجھے۔ مرچیں بہت تھیں شائد ۔۔
وہ تھکے تھکے انداز میں بتاتی کمرے میں آکر بیڈ پر ڈھے سی گئ۔
یہ ایک درمیانے درجے کا موٹیل تھا جہاں انہوں نے گزشتہ رات گزاری تھی۔ اب تو ان دونوں کیلئے یہ معمول کی بات ہو گئ تھی۔ ایڈون کی پریشانی اسکو طمانیت عطا کر گئ تھی۔ یقینا ایڈون کو اسکی پروا ہونے لگی تھی تو بہت جلد وہ ایڈون کی محبت کی بھئ بلا شرکت غیرے مالک بن جائے گی۔ وہ سوچتے سوچتے مسکرا دی۔
ایڈون نے ناشتہ منگوا لیا تھا ٹرالی گھسیٹ کر بیڈ کی جانب لاتے اس پر نگاہ پڑی تواسکی مسکراہٹ کا الٹا اثر ہوا۔
کیا ہوا؟ مسکرا کیوں رہی ہو۔ اسکے انداز میں تشویش تھی۔
سنتھیا اٹھ بیٹھی۔
ایسے ہی۔۔ کیا ہے ناشتے میں ۔ وہ ٹرے کا جائزہ لینے لگی۔ چیز آملیٹ بریڈ مکھن چاکلیٹ بن ہاٹ کافی
وہ ایک پیس اٹھا کر ا س پر مکھن لگانے لگی۔سلائس کھاتے یونہی ایڈون کی جانب دیکھا تو وہ بہت سنجیدگی سے اس پر نگاہ جمائے بیٹھا تھا۔ اس نے ابرو اچکا کر اس سنجیدگی کی وجہ اشارتا پوچھنا چاہی۔
تمہیں جو گولیاں لا کر دی تھیں میں نے کھاتی رہی ہو؟
ایڈون کے سوال پر وہ نوالہ چبانا بھول گئ۔
آئئ مین طبیعت بس آج خراب ہوئی ہے یا پہلے بھی کبھی ۔۔
اس نے جملہ ادھورا چھوڑا۔اسکے انداز میں فکر سے ذیادہ جواب حاصل کرنے کی بے تابی تھئ۔ سنتھیا پلک جھپکائے بنا اسے دیکھے گئ۔ اس سوال کا مقصد اسے بخوبی سمجھ آگیا تھا مگر ایڈون کی گھبراہٹ اسکی سمجھ سے بالاتر تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا ہنسے جا رہی تھی
ہنسنے کی کیا بات۔۔ اریزہ کو برا لگ رہا تھا
کچھ نہیں۔۔ تم لوگ کی صفائی کی عادتیں کافی عجیب ہیں۔ ٹوائلٹ پیپر استعمال نہیں کرتے مگر ٹوائلٹ بول کے جراثیم سے ڈرتے ہو ہا ہا۔۔ ۔
مجھے لگتا ٹوائلٹ پیپر استعمال کرنا جراثیم کو ذیادہ دعوت دیتا۔۔
اریزہ یکدم سنجیدہ ہوئی۔۔
اچھا چھوڑو۔۔
گوارا نے اسکا موڈ بگڑتا دیکھا تو سفید جھنڈی لہرائی
اس وقت مجھے دوا چاہیئے لا دوگی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈیکل اسٹور تو قریب تھا وہ آرام سے آگئ۔۔ مگر اصل امتحان اب درپیش تھا
ریسیپشن پر کھڑی نازک سی لڑکی نے مسکرا کر جھک کر اسے خوش آمدید کہا تھا۔
مجھے دوا چاہیئے الٹی کی۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ مسکرا دی۔۔
اریزہ کو اندازہ ہوا اسے ککھ سمجھ نہیں آئی۔۔
میڈیسن۔۔۔
وہ یونہی دیکھتی رہی پھر ہنگل میں کچھ بولی۔۔
میڈیشن ۔۔ اس نے کوریائی انداز کی نقل کی۔۔
دے۔ اس نے سر ہلایا۔۔
کونسی؟۔۔ اب اس نے اشاروں سے بھی کام لیا۔۔
وومیٹنگ۔۔
اریزہ نے کہا اس بار وہ بے بسی سے مسکرائی
وومیٹنگ۔۔ اریزہ نے اشارے سے بتایا۔۔ اشارے نہایت تہزیب یافتہ انداز میں کیئے گئے۔۔
ہائی بلڈ پریشر کی گولی کا پتہ سامنے تھا۔۔ مگر ساتھ ہی جانے کیا ہنگل میں کہے جا رہی تھی۔۔
صد شکر تھا دوا پر ہنگل کے ساتھ انگریزی میں بھی کچھ لکھا تھا۔۔
یہ نہیں۔۔ اس نے پڑھ کر واپس کر دیا۔۔
مجھے ۔۔ اسکے زہن میں جھماکا ہوا۔۔
دوا کا نیا پتہ تھا سو اس پر لکھی عبارت پڑھی جا سکی۔ مگر اگر جان کر ایسے استعمال کیا جائے کہ دوا نکالنے کے بعد انگریزی ہدایات بالکل نہ پڑھی جا سکیں۔ اس نے فورا بیگ کھنگالنا شروع کیا۔۔ ایک دوا کا خالی پتہ اسکے پاس موجود ہونا چاہیئے
ہے گرل ۔ وہ اسے ان متوجہ کر رہی تھی۔۔
یہ نہیں مجھے الٹی کی دوا چاہیئے۔۔ اسے ہاتھ روک کر دوبارہ اسی تگ و دو میں جتنا پڑا۔۔
اس نے اس بار منہ سے آواز نکال کر تھوڑی سی زبان بھی نکال کر کافی مزاحیہ انداز میں بتایا۔۔ لڑکی بے ساختہ ہنسی۔۔

بد ہضمی کی دوا درکار ہے۔اور او آر ایس بھی دے دو۔۔
کسی نے آگے بڑھ کر اسکی مشکل آسان کی۔۔ نووارد کا انداز بتا رہا تھا مسکراہٹ کا گلا گھونٹ کر بظاہر سنجیدگی سے کہا ہے۔۔ اریزہ نے مڑ کر دیکھا ہایون تھا اریزہ کو دیکھ کر وہ مسکرایا۔۔تو ارییزہ کھسیانی ہوئی سیدھی ہوئی۔۔
دے۔۔ لڑکی دوا لینے مڑی
اسلام و علیکم۔۔ اس نے مسکرا کر اسے وش کیا۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔اریزہ نے فوری جواب دیا۔
کیسی ہو۔ وہ مزید پوچھ رہا تھا۔۔
۔ اریزہ کا منہ کھلا۔۔۔
ٹھیک۔۔ تم۔۔
تم۔ وہ سوچ میں پڑا۔۔۔۔
یہ لیجئے۔۔ لڑکی مطلوبہ دوائیں لے آئی تھی۔۔
گومو وویو۔۔ یہ بھی۔۔ وہ دوبارہ بیگ میں گھس گئ تھی۔۔
مجھے سر درد کی دوا دیجئے گا۔ہایون نے کنپٹی مسل کر کہا
یہ والی دوا بھی۔۔ اس نے ریپر ڈھونڈ نکالا تھا۔۔ جھٹ سے اسے دوا کا خالی پتہ دیا۔۔
یہ؟۔۔ اس لڑکی نے حیرانی سے اسکی شکل دیکھی۔۔
جی۔۔ اریزہ کو سمجھ نہ آیا اسکا انداز۔
اس نے ہایون کے سامنے اسکی سر درد کی گولی رکھی اور اسکے سامنے مطلوبہ دوا کا پتہ۔۔
وہ شکریہ ادا کر کے اٹھانے لگی تو اس لڑکی نے دوا پر ہاتھ رکھ کر اسے کچھ بتایا۔۔
معزرت؟۔۔ اریزہ کو سمجھ نہ آیا۔۔ دوا خرید کر مڑتا ہایون بھی رک کر اسے دیکھنے لگا۔۔
وہ لڑکی اسکو پکار رہی تھئ۔
اسے یقئنا مترجم درکار تھا۔۔
یہ تم استعمال کرتی ہو؟
ہایون نے پوچھا تو وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔۔
جی؟۔ اس کے منہ سے جی ہی نکلا
وہ لڑکی ہنگل میں گٹ پٹ کیئے جا رہی تھی۔ ایک تو سیول میں درجنوں تو لہجے چلتے ہیں۔ اگر وہ ٹھہر ٹھہر کر بولتی تو شائد کچھ اسکے پلے پڑتا مگر اسکی تیز گام اسکے سر پر۔سے گزری وہ سوالیہ نگاہوں سے ہایون کو دیکھنے لگی۔
یہ برتھ کنٹرول میڈیسن کی ایک قسم ہے اسکو ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کیجئے اسکا زیادہ استعمال آپکو ماں بننے کی صلاحیت سے محروم کر سکتا ہے یہ دوا آپکو ڈاکٹر کی مستند پرچی کے بغیر نہیں دی جا سکتی ہے۔۔
ہایون نے ترجمہ کیا تو اریزہ سناٹے میں آگئ تھی۔۔
اس نے دوا کو بے یقینی سے اٹھا کر دیکھا خالی ہوا پتہ اور یہ نیا پتہ یقینا ملتے جلتے تھے۔۔ دوا کی نئی پیکنگ میں انگریزی ہدایات بھی درج تھیں۔۔
آگاشی؟۔۔ اس لڑکی نے اسے مخاطب کرکے متوجہ کیا۔۔
آپ لینا چاہتی ہیں یہ دوا؟۔۔ ڈاکٹر کی مستند پرچی۔۔
وہ مزید کہہ رہی تھی۔۔
نہیں۔۔ اریزہ نے سختئ سے منع کیا۔۔
پھر خیال آیا تو انگریزی میں بتایا۔۔
نہیں میرا خیال ہے کوئی غلط فہمی ہے۔۔ اس نے سنبھل کر بات بنائی۔ ہایون اسے کافی غور سے دیکھ رہا تھا۔۔
گومو وویو۔۔
اس نے قیمت ادا کر کے اسکا شکریہ ادا کیا ۔۔ ہایون بھی شائد اسکی وجہ سے ہی کھڑا تھا ادائگی کرکے اسکے ساتھ ہی نکل آیا۔
تمہاری طبیعت اب کیسی ہے؟ رات کو نیند ٹھیک سے آئی۔
اسکے ہم قدم چلتا وہ خیریت دریافت کر رہا تھا۔
ہاں ۔ ٹھیک ہوں میں۔ وہ اپنی سوچوں میں الجھی تھی چونک کے جواب دیا۔۔
سر کیلئے بھی ائنمنٹ لے لیتیں۔۔
اس نے کہا تو اس نے لاپروائی سے سر ہلایا۔۔۔
اسکے ہم قدم خاموش چلتے جانا۔۔ اسے الجھن سی آئی۔
تم میرے ساتھ کیا گھر تک۔۔
وہ جھلا کر کہنے ہی لگی تھی۔۔ آدھا جملہ منہ میں روکنا پڑا
تبھی وہ کرم کہتا بائیں جانب مڑ نے لگا۔اسکی آدھی بات پر چونک کر رک کر پوچھنے لگا۔۔
دے؟
آنیا۔ وہ کھسیائی۔ گڈ بائے۔
اس نے ہاتھ ہلایا۔۔ ساتھ سر بھئ۔
بائے۔۔ ہایون مسکرا کر ہاتھ ہلاتا گلی میں مڑ گیا۔اس گلی میں ڈھلوان تھی وہ کافی تیز قدم اٹھاتا جا رہا تھا۔
ہوں اسکا شائد یہیں قریب ہی گھر ہے جبھئ پیدل گھوم رہا۔۔
اس نے شائد پہلی دفعہ اسے۔ ٹریک سوٹ میں دیکھا تھا۔ ورنہ تو ہر وقت نک۔سک سے تیار ہی رہتا تھا۔۔۔ مگر بلیک ٹریک سوٹ بھی اسکی شخصیت کا ایک ہی تاثر دکھا رہا تھاوہ بھی۔ قیمتی۔۔
اس نے چپکے سے خود پر نگاہ ڈالی۔
گوارا کے پاجامے کی ٹانگیں لمبی تھیں اس نے موڑے تو دونوں پانئچے تھے مگر اب ایک سیدھا ہو چکا تھا۔ ایک اونچا ایک نیچا پائنچہ۔ اس نے جلدی سے سڑک کنارے اس دکان کی گلاس وال میں خود کو دیکھا۔ بکھرے سے بالوں کو اس نے کیچر میں سمیٹا تھا کنگھی کی زحمت نہ کی تھی۔ ہڈ سر پر چڑھا لیا تھا جو کب گرا اسے پتہ نہ لگا۔ زحمت منہ دھونے کی بھی نہ کی تھی۔ گوارا کیلئے دوا لینے نکلتے اسی کا اپر اٹھایا تھا سو اسکے اپرکی زپ بند نہ ہوسکتی تھی۔گوارا تو شائد ہوا پھانکتی تھی مگر وہ مہینہ بھر روزے رکھ کر بھی بیس سے بس انیس ہی ہوپائی تھئ۔ گرے اپر گلابی سویٹ سوٹ پر جچتا اگر کھلی زپ سے اسکی شرٹ نا جھانک رہی ہوتی۔ پاجامہ بھی صاف لگتا تھا کسی کا پہنا ہے۔
اس نے پیر جھٹک کر دوسرا پائنچہ بھی نیچے کر لیا۔
شکر ہے میرابوائے فرینڈ نہیں کوئی ورنہ اس حلیئے میں دیکھ کر پکا بریک اپ کرلیتا مجھ سے۔
اس کو پہلی دفعہ سنگل ہونے پر خوشی ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا اسکا بنایا ہوا دلیہ کھا رہی تھئ جب وہ مرے مرے قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی۔۔ اوپن کچن میں سلیب ٹیبل پر تمیز سے کرسی پر بیٹھی وہ بڑے سے بائول میں کھا رہی تھی۔۔ اس دیکھ کر بمشکل بھرا ہوا منہ خالی کر کے بےتابی سے بولئ۔۔
اتنی دیر؟۔ پتہ مجھے ایک اور الٹی آگئ اتنی دیر میں۔۔ اس بار بیسن میں کی۔۔۔ جا کر دیکھ لو۔۔ نرا پانی ہی تھا۔۔
گوارا کا انداز اتنا معصومانہ تھا کہ اتنے برے موڈ میں بھی وہ ہنس دی
ہاہ۔۔ گوارا بھی ہنسی۔۔
ویسے مزے کا ہے دلیہ شکریہ اریزہ شا۔۔
وہ ممنون ہوئی۔۔
یہ لو۔۔ اس نے دوائیں سامنے رکھیں اور او آر ایس نکال کر اسکے لیئے جگ بھر کر بنانے لگی۔۔
اسکا بنایا ناشتہ یخ ہو چکا تھا ۔
اس نے جگ لا کر اسکے سامنے رکھا اور اپنا
ناشتہ مائکروویو میں گرم کرنے لگی۔۔
تم بنا ناشتے کیئے میرے لیئے دوا لینے چلی گئیں اور دلیہ بنا کے گئیں۔ ۔۔ گوارا منہ تک چمچ لے جاتے ہوئے تھمی۔۔
اریزہ نے سرسری سا ہوں کیا۔۔ مایکروویو کا ٹائیمر چل رہا تھا وہ اسکے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ گوارا نے چمچ بائول میں رکھ دیا
کیا ہوا کھا کیوں نہیں رہیں۔۔؟۔۔ اریزہ نے حیرت سے اسے دیکھا جو نوالہ چھوڑ کر اب اسکے بنائے جگ سے او آر ایس انڈیل کر پی رہی تھی۔۔
تم نے مجھے اپنا بہت زیر بار کر دیا ہے۔۔ تمہارا بے حد شکریہ۔۔
اس نے پی کر گلا س رکھا اور اسکے سامنے سر جھکا کر کہنے لگی۔۔
آہش۔۔ اریزہ ہنسی۔۔ اسے لگا وہ مزاق کر رہی ہے۔۔
مگر اس نے سر اٹھایا تو وہ بے حد سنجیدہ دکھائی دے رہی تھی۔
ارے۔۔ اریزہ کا منہ کھلارہ گیا تھا۔۔
تم واقعی دل کی بے حد اچھی لڑکی ہو۔جی ہائے تم پر فدا ہو گئ تھی تو مجھے لگا تھا وہ کچھ زیادہ ہی محسوس کررہی ہے مگر تم واقعی بہت خاص ہو۔۔ مجھے خوشی ہے ہم دیر سے سہی مگر دوست بن چکے ہیں۔۔ گوارا مزید کہہ کر مسکرائی
اریزہ پورا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ مائکرو ویو کی گھنٹی بجی تو گوارا اسکے اٹھنے سے پہلے اٹھی اور ناشتہ لاکر اسکے سامنے سجا دیا۔۔ پھر گھوم کر واپس اپنی جگہ آبیٹھی۔۔ اریزہ کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر مانوس ماحول میں اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔ چند لمحے تو سمجھ بھئ نہ آیا کہاں ہے۔۔ اس نے فورا اٹھنا چاہا۔۔ مگر سر میں اتنی شدید درد کی لہریں اٹھیں کہ کراہ کر واپس تکیے پر گر سی گئ۔۔ اس نے پیشانی پر بندھی پٹی کو محسوس کیا تو اسے یاد آیا وہ ہاسٹل کی سیڑھی پر چکرا کر گرنے کو تھی سو مدد کو اریزہ کو آواز دی تھی۔ تو اریزہ آگئ تھی کیا ؟
اریزہ۔۔ اس نے بے ساختہ زور سے پکار لیا۔
اسکے بیڈ کے پیتھیانے بیٹھی وہ لڑکی موبائل میں مگن تھی۔ اسکی آواز پر چونکی ۔ مگر وہ اریزہ نہیں تھی۔۔
کین چھنا۔۔ اس کو جاگتے دیکھ کر وہ اٹھ کر اسکے پاس آئی تھی۔۔
تم ٹھیک ہو؟۔۔ جی ہائے نے سر پر ہاتھ مار کر انگریزی میں کہا۔۔
اس نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔پھر اٹھ کر ماحول پر نگاہ کی۔ وہ انکے ہاسٹل کا کیلنک تھا۔ وہ اس وقت اسی کیلنک کے بیڈ پر لیٹی تھی۔ دوسرا بیڈ برابر ہی تھا اور خالی تھا۔ بیڈ کے گرد پردے برابر تھے۔ ڈاکٹرنی شائد کسی اور طالبہ کو دیکھ رہی تھی ہلکی ہلکی ہنگل میں گفت و شنید کی آواز اسے پردے کے دوسری جانب سے آرہی تھیں۔
تھائی نیے۔ اس نے گہری۔سانس لی۔۔

کیا ہوا ہے مجھے۔۔ سنتھیا نے پوچھا۔۔
تمہیں یاد نہیں؟۔ تم گر گئ تھیں چکرا کر؟۔۔
جی ہائے حیران ہوئی۔۔
مجھے یاد ہے میں سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔ سنتھیا بے چین سی ہوئی۔۔
ہاں تم سیڑھی پر بے ہو ش ہو گئ تھیں۔شکر ہے میں نے بروقت آکر تمہیں پکڑ لیا ورنہ بارہ چودہ سیڑھیاں نیچے جا گرتیں۔ ویسے۔ آج میری طاقت کا کافی امتحان لیا تم نے۔۔
اس نے منہ بناتے ہوئے اپنے کندھے کو سہلایا۔۔
مجھے کیا ہوا ہے؟ مجھے چکر کیوں آئے؟ ڈاکٹر کیا کہتی ہے
سنتھیا بے چین سی ہوئئ وہ بھی اسے سنجیدگی سے تفصیل بتانے لگی۔۔
تم نے کوئی ایسی دوا لی ہے جس سے تمہاری یہ حالت ہوئی ہے۔۔ ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کروانے کو کہا۔۔ اس نے یہ بھی خیال ظاہر کیا ہے کہ شائد کوئی پیچیدگی نہ ہوگئ ہو۔۔۔ اس نے ٹھہر ٹھہر کر بولتے ہوئے بغور اسکا چہرہ پڑھا۔۔
سنتھیا نے سر جھکا لیا۔
اب اگر بہتر محسوس کر رہی ہو چلیں؟۔۔ ٹیسٹ تو اب کل ہی ہو سکیں گے۔۔ جے ہی غیر ارادی طور پر آنکھیں مسل رہی تھی۔۔سنتھیا نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ پلٹ کر کرسی کی پشت سے ٹکا اپنا ہڈ نکال کر پہننے لگی۔
یقینا اسکو کافی زحمت ہوئی ہوگی اسکی وجہ سے۔۔
اس نے سوچا۔۔
جی ہائے اپنا بیگ سمیٹ رہی تھی جب اسے سنتھیا کی ہلکی سی آواز سنائی دی۔۔
شکریہ جی ہائے۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہائے اسے سہارا دیتی کمرے میں چھوڑ گئی تھی۔۔ ساتھ پھلوں کا کین جوس اور دلیہ جو اسے سمجھ آیا خرید کر لائی تھی۔۔ اس نے ممنونیت سے اسے دیکھا تھا۔۔ جانے وہ کیا سمجھی۔ صفائ دینے لگی۔۔
میں نے ابھی اریزہ کو نہیں بتایا ۔۔ بتا دوں؟۔۔ اکیلی ہو طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔۔
نہیں۔ اس نے جلدی سے کہا تھا۔۔ انداز میں نا گواری نہیں تھی۔۔
جی ہائےنے گہری سانس لی۔۔ اس کو یہی امید تھی ۔
خیر مجھے کال۔کر لینا کوئی بھی چیز چاہیئے ہو تو۔۔ میں نیچے ہال میں پریکٹس کرنے جا رہی ہوں۔۔
اس نے مزید کہا تو سنتھیا سر ہلا گئ۔۔ جی ہائےاسے آرام کرنے کا کہتی دروازہ بند کرکے چلی گئ تووہ بھی بیڈ پر لیٹ ہی گئ۔ فی الحال مزید جاگنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔۔ اسکے فون کی بتی جلی مانوس نام دیکھ کر اس نے بند کر دیا۔۔ اس وقت وہ اسکے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ اس نے گہری سانس لیکر آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے۔۔ اس نے گوارا کیلیئے ڈھیلی کھچڑی بنائی تھی۔۔ اسے کا فئ پسند آئی۔۔
بہت مزے کی ہے۔۔ اس نے چٹخارا بھرا۔۔
وہ کافی شوق سے کھا رہی تھی۔۔
بنا چٹنی کے نہ سلاد بس دہی۔۔ اسے تو کافی پھیکا لگ رہا تھا۔۔۔
بس کوئی پھیکا سا بے ذائقہ محلول اندر جا رہا تھا۔۔
تبھئ تھکی تھکی سی ہوپ اندر داخل ہوئی ۔۔ نہ سلام نہ دعا ارادہ سیدھا کمرے میں گھسنے کا تھا۔۔
ہوپ آجائو ہمارے ساتھ کھانا کھا لو۔۔
یہ اریزہ تھی۔گوارا نے گھور کر دیکھا تھا اسے۔۔
بندی کے نخرے عروج پر جاتے جا رہے آئی بڑی گوریو کی شہزادی۔۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔
ہوپ جاتے جاتے رکی پھر کچھ سوچ کر انکے پاس چلی آئی۔۔ بیگ سے فرائی چکن کا ایک پیکٹ نکال کر میز پر رکھ دیا۔
مجھے بھوک نہیں تم لوگوں نے کھانا ہو تو کھا لو۔۔ وہ کہہ کر پلٹنے لگی۔۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں اور اریزہ چکن نہیں کھائے گی۔۔ ہاں اگر تم نے کھانا ہو تو آجائو گرم ہیں چاول۔۔
گوارا نے کہا تو اس نے تصحیح کی۔۔
چکن نہیں ہے پورک اسٹیک ہے۔۔
کیا۔؟۔۔ اسکا رکھا شاپر اریزہ اٹھا کر میز پر جگہ بنا کر رکھ رہی تھی۔ بری طرح چونک کر چھوڑ دیا ہاتھ سے۔۔یہ غیر ارادی حرکت تھی۔۔ پورک پکڑ لیا تھا اسے اپنا ہاتھ گندا لگا۔۔ شاپر میز سے ٹکراتا زمین بوس ہو گیا۔ اریزہ بری طرح خفت زدہ ہوئی۔۔
بیانیئے۔۔ اس نے فورا معزرت کی۔۔
تم سے گرا نہیں تم نے اسے چھوڑا ہے ۔۔ جیسے یہ کھانے پینے کی چیز نہیں کوئی غلیظ چیز پکڑا دی ہو میں نے تمہیں۔۔ شرم آنی چاہیئے تمہیں ایسا کرتے ہوئے۔۔
ہوپ اسے گھورتے ہوئے جیسے غرائی تھی۔۔
تم غیز ضروری ردعمل دے رہی ہو۔۔ چھوٹ گیا ہے اسکے ہاتھ سے شاپر میں ہی ہے اٹھا لو۔ گوارا نے ناگواری سے اسے ٹوکا۔
میں اٹھا دیتی ہوں۔۔ اریزہ نے فورا جھک کر اٹھانا چاہا ہوپ نے سختی سے اسے پیچھے کر دیا۔۔
اٹھا لوں گی میں۔ اس نے جھک کر اٹھایا
اور اریزہ کی جانب جان کر بڑھایا۔۔
یہ لو۔ اسے سنبھال کر رکھ دو۔۔
وہ اسے نظروں میں لیئے تھی۔
اریزہ نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔۔
تم خود رکھ لو ادھر۔۔ اس نے سادہ سے انداز میں کہا۔۔
ان دونوں کو بحث میں پڑتا دیکھ کر گوارا اٹھ کھڑی ہوئی ارادہ سفید جھنڈی لہرانے کا تھا مگر ہوپ نے موقع نہیں دیا۔۔
دیکھا ۔۔ وہ اب گوارا کی جانب مڑی اور جتا کر بولی۔۔
یہ اسکو گندا سمجھ کر ہاتھ نہیں لگا رہی تھی۔۔
وجہ پوچھ سکتی ہوں میں؟۔۔ وہ اریزہ کی جانب پشت کیئے کیئے گوارا کو دیکھتے ہوئے مخاطب اریزہ سے ہی تھی۔۔
واقعی اریزہ؟۔۔ گوارا حیران ہوئی۔۔
اریزہ نے سر جھکا لیا۔۔
جواب نہیں تمہارے پاس؟۔ ہوپ استہزائیہ ہنسی۔۔
اسلیئے کہ میں لائی ہوں؟۔۔ یا اس لیئے کہ۔۔
وہ جانے کیا کہنے والی تھی اریزہ نے اسکی مضبوط لہجے میں بات کاٹ دی۔۔
اسلیئے کہ میرے مزہب میں پورک کھانا منع ہے۔۔
کھانا تو دور اسکو ہاتھ لگانا چھونا بھی پسند نہیں کیا جاتا۔ مجھ سے ابھی جو ہوا۔۔ وہ غیر ارادی حرکت تھی۔۔ میں سچے دل سے معزرت خواہ ہوں۔۔
گوارا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
ہاہ اش۔ ہوپ زور سے قہقہہ لگا کر ہنسی۔۔
مزہب میں منع۔۔ ؟۔۔ کبھی بھوک سے پاگل ہو رہی ہوتو کیا تب بھی نہیں چھووگی۔۔ ؟۔ جب بھوک لگتی ہے نا بس کھانا درکار ہوتا۔۔ پھر چاہے زمیں سے چن کر گندم کے دانے منہ میں بھرو یا کوڑے سے گلا سڑا نکال کر کھائو۔ کھانا پڑتا۔۔
اسکا لہجہ نہایت تلخ تھا۔
تب بھی میری کوشش ہوگی میں پورک نہ کھائوں۔۔
اریزہ کا انداز ہنوز تھا۔۔
پھر دعا کرنا کبھی بھوکی نہ پھرو۔ مزہب کہیں پیچھے رہ جاتا ایسی کیفیت میں۔۔ وہ شاپر اٹھا کر فریج میں رکھتی اسے جتا کر کہتی کمرے میں گھس گئ۔۔
اب یہ کیا تھا۔۔ گوارا نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا۔
اریزہ بھی الجھن بھرے انداز سے ہی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
پتہ نہیں۔۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔
بیٹھو کھانا کھائو۔۔ اریزہ کرسی گھسیٹ کر دوبارہ بیٹھ گئ۔۔
گوارا نے بھی تقلید کی۔۔ اس بار اریزہ منہ بنائے بغیر نوالے نگلنے لگی۔۔ گوارا نے ایک نظر اسے دیکھا پھر زہن میں در آنے والا سوال پوچھ بیٹھی۔۔
تم مزہب کی بات کر رہی تھیں۔۔ اسلام پورک کھانے سے منع کرتا۔۔ ۔
اریزہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔۔ وہ ہمہ تن گوش تھی۔۔
ہاں۔۔ اریزہ نے آہستہ سے جواب دیا۔
خفا تو نہیں۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے نگاہ اٹھا کر گوارا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
جبھی جی ہائے کے پاپا اس دن خفا ہو گئے تھے۔
وہ ہنگل میں بڑبڑائی۔
کس دن؟
وہ سوالیہ۔ہوئی۔
آہش۔ گوارا نے چمچ پلیٹ میں رکھا اور سیدھی ہو بیٹھی۔
یہ لڑکی بہت کمینی ہے۔۔ خیر دفع کرو اسے۔۔۔۔ویسے اریزہ۔ تم ہر وقت اسکارف سر پر نہیں لیتیں۔۔ مسلمان لڑکیاں تو سر ڈھکتی ہیں نا کرسچن نن کی طرح۔۔ تم بس تہوار والے دن سر پر دوپٹہ لیتی ہو۔
اسکا انداز دلچسپی بھرا تھا۔۔
ہمم۔ اس نے ہنکارہ بھرا۔۔
میں اسکارف نہیں لیتی۔۔ مگر ویسے کو شش کرتی لباس اسلامی انداز کا ہی ہو۔اس نے جز بز سا ہو کر سر پر ہاتھ پھیرا۔۔ بال تھوڑے کھردرے سے محسوس ہو رہے تھے۔
ہممم۔ وہ پر سوچ انداز میں سر ہلانے لگی۔۔

مجھے ویسے کرسچن ننز کافی انسپایر کرتی ہیں۔۔ انکی مسکراہٹ انکا نرم سا بولنے کا انداز اچھا لگتا۔۔
آج تک بس دو ایک۔بار ہی گئ ہوں میں چرچ اچھا لگا تھا جا کے۔۔۔ وہ اسے سادگی سے بتا رہی تھی۔۔
اس نے دوبارہ کھچڑی کے نوالے منہ میں بھرنا شروع کر دیئے تھے۔۔
اریزہ منہ میں بھرے چاول چبانا بھول گئ۔۔
ایک دو بار بس۔۔ اس نے بمشکل نگل کر حیرانی سے دیکھا۔۔
ہوں۔۔ گوارا مطمئن تھی۔۔
تمہیں ڈانٹ نہیں پڑتی گھر والوں سے؟۔۔ میرا مطلب اگر میں نماز نہ پڑھوں دو دن تو امی تو مجھے بہت ڈانٹتی ہیں ابھی اگر انہیں پتہ چلے میں یہاں عبادت اتنی ٹال جاتی تو میری پٹائی کر دیں۔۔ آکر۔۔ اریزہ نے کہا تو گوارا بے ساختہ ہنسی۔۔
میری آہموجی بھی شائد ایسا ہی کریں مگر بدھا اتنے ظالم ہرگز نہیں۔۔ سو مجھے پتہ میرا کارما میرا انتظار کر بھی رہا ہو تو اتنا ہی ہوگا کہ میں برداشت کر سکوں۔۔ گوارا نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔۔
اریزہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی تو اس نے وضا حت کی۔۔
میں اتنا کم گرجا گھر اسلیئے گئی ہوں کیونکہ میں عیسائی نہیں بدھ متی ہوں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکی آنکھ الارم سے نہیں کھلی تھی۔۔اکثر نہیں کھلتی تھی۔ وہ بجتے سروں کو نیند میں بھی سن رہی تھی دھیما سا پیانو۔ اسکے ڈاکٹر نے یہ دھن تجویز کی تھی۔ اس الارم سے اسکی آنکھ بنا کسی جزباتی دھچکے کے کھلتی تھی۔ اور نہیں بھی کھل۔پاتی تھی۔ اسنوز پر مستقل بجتا الارم اسے لوری دے رہا تھا۔
اتنے دھیمے سروں کا الارم لگانے کا کیا فائدہ ہے اریزہ۔۔ گوارا نے اسے ہلاکر جگایا تھا۔۔
اٹھ جائو ہمیں دیر ہو گئی ہے۔۔ وہ شائد شاور لے کر نکلی تھی جلدی سے اسے اٹھا کر ہیئر ڈرائر سے بال سکھانے لگی۔۔ وہ کسلمندی سے اٹھ کر جمائی لیتی اٹھ بیٹھی۔۔ چادر اپنے اوپر سے ہٹا کر ایک طرف کی تو ہاتھ یوآنا سے ٹکرایا۔۔
ہیئر ڈرائیر کی گھوں گھوں سے بے نیاز وہ خراٹے لے رہی تھی۔۔
یہ آج گئ نہیں۔۔ اریزہ احتیاط سے اٹھتی اسکے قریب آکر سرگوشی میں پوچھنے لگی۔۔
جب میں اٹھی تھی تب اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو تھا۔۔ گوارا نے اسکی احتیاط کے بر عکس آرام سے کہا تھا۔۔ اریزہ نے زبان دانتوں تلے دبا کر فورا ہوپ کودیکھا جو اسکی آواز سے کسمسا کر کروٹ بدل رہی تھی۔۔
آہستہ ۔۔ اس نے سرگوشی میں ہی گوارا کو ٹوکا۔۔
کتنا سوئے گی جانا نہیں کیا آج اسے۔۔ گوارا بے نیازی سے بال جھٹک رہی تھی۔۔ اریزہ سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ۔۔
آج چھٹی ہے میری۔۔ اس نے بڑ بڑا کر جواب بھی دے دیا۔۔
اریزہ نہا کر باہر آئی تو گوارا نک سک سے تیار لائونج میں اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔
چلیں۔۔۔ اسے آتے دیکھ کر وہ فٹ سے کھڑی ہوگئ۔۔
ایک منٹ اریزہ اسکو کہتی فریج کی طرف بڑھئ۔۔
کچھ بھی نہیں ہے فریج میں سوائے تمہارے پسندیدہ پورک اسٹیک کے۔۔ گوارا نے شرارت سے ہانک لگائی۔۔ اریزہ فریج کھولتے کھولتے رک کر اسے گھورنے لگی۔۔
راستے میں کچھ لے لیں گے۔۔
اس نے تسلی بھی دی
ہاہ۔۔ وہ گہری سانس لیکر رہ گئ۔۔
وہ سویٹ پینٹ شرٹ میں ہی ملبوس تھی۔
تمہیں کوئی اپنا ڈریس دوں۔
گوارا نے فراخ دلی سے پوچھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کا سفر اسے ایک مرحلہ لگتا تھا۔ عادت ہی نہ تھی کھڑے ہو کر سفر کرنے کی اور صنف قوی کو ڈھٹائی سے بیٹھے دیکھنے کی۔ آج تو وجہ بھی تھی اسکے پاس۔ ریشمی کرتا پاجامہ لانبا دوپٹہ پوری بس مڑ مڑ کر دیکھتی محسوس ہو رہی تھی اسے۔
گوارا ہم ٹیکسی نہ کرلیں ؟ کرایہ میں دے دوں گی۔
وہ گوارا کے کان میں منمنائی۔
اتنی امیر ہو تو مجھے اچھا سا ناشتہ کرادینا کینٹین میں۔
گوارا کی اپنی منطق تھئ۔
وہ چیں بہ چیں ہوگئ۔
خدا خدا کرکے اسٹاپ آیا۔ تو اس نے سکھ کی سانس لی۔
آئیندہ میں ویک اینڈ پر تمہارے گھر نہیں آئوں گی۔ مجھ سے یہ بس کا سفر نہیں ہوتا بالکل بھی۔۔
وہ عید کا جوڑا ہی پہنے تھی۔
گوارا نے کان پر سے مکھی اڑائی۔ اور سیدھا کنوینیئٹ اسٹور گھس گئ۔
چاکلیٹ بن کافی سینڈوچ۔
اس نے اپنی پسند سے چیزیں اٹھائی تھیں۔ اریزہ ریک کے ساتھ قد آدم آئینے میں خود کو دیکھتی سر پر دوپٹہ درست کر رہی تھی۔
فالتو میں پریشان ہو رہی ہو اتنے بھی بال نہیں جلے تمہارے کے سر ڈھکنے کیلیے پریشان ہوتی رہو۔ مجھے تو لگا تھا چندیا نظر آرہی ہوگی تمہاری مگر غنیمت ہے۔۔
گوارا کے زور شور سے بولنے پر وہ اچھل پڑی پھر ادھر ادھر دیکھتے اسے ایک لگا بھی دی۔
آہستہ بولو۔
ہائے۔۔ گوارا کھلکھلائی۔
کیا ہوا تم چھپانا چاہتی ہو کہ کل تمہاری سہیلی نے اسٹریٹنر سے تمہارے بال جلا دیئے۔
اس نے شرارت سے ٹہوکا دیا۔ وہ بھنا کر رہ گئ۔
ویسے تمہیں یقین ہے اس نے جان کے نہیں جلائے؟
گوارا ایکدم سنجیدہ ہو کر بولی۔
ظاہر ہے۔ باتیں کرتے وہ بے دھیان ہوگئ تھی بس۔
اسکے یقین سے کہنے پر گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔
اچھی بات ہے اگر ایسا ہے۔
اس نے بحث نہ کی۔ دونوں پیمنٹ کرکے باہر نکلیں تو راہ چلتی اس آہجومہ نے بڑا غور سے ان دونوں کو دیکھا پھر سر ہلاتی جانے کیا بڑبڑارہی تھیں۔
اریزہ غیر ارادی طو رپر اپنے کپڑے ٹھیک کرنے لگ گئ۔
آج تو مجھے بھی دنیا پلٹ پلٹ کر دیکھ رہی ہے۔ گوارا نے اسکے بازو میں ہاتھ ڈال کر شرارت سے کہا۔
تمہیں دیکھ کر لگ رہا ہے جوزن ایرا کی شہزادی جدید کوریا میں آکر حیران پریشان سی کھڑی دیکھ رہی ہے۔۔۔
اریزہ جھینپ سی گئ۔
ویسے تم اپنا وزن تھوڑا کم کیوں نہیں کر لیتیں۔ اتنی کیوٹ ہو مگر میرے جیسی بھاری بھرکم لڑکی کے کپڑے تمہیں نہیں آپائے۔۔
اسکے سنگ قدم اٹھاتی گوارا روانی میں کہہ رہی تھی۔۔ اریزہ نے اسکے چہرے کو غور سے دیکھا۔ وہ تمسخر نہیں اڑا رہی تھی ۔
اریزہ کو صبح کی وہ پریڈ یاد آئی۔
اس نے سنتھیا کے جتنے کپڑے پہن کر دیکھے وہ بہت تنگ نہ تھے مگر کوئی سلیو لیس تھا کسی کا گلا گہرا تھا کوئی مہین تھا۔ اور وہ پہن بھی لیتی تو اسکو پہن کر یہاں گھومنا اسکے لیئے یہاں جوزن ایرا کی شہزادی بن کے پھرنے سے ذیادہ مشکل تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس شروع ہونے والی تھی سو اسے سیدھا یونی آنا پڑا۔ ورنہ ارادہ یہی تھا کہ ہاسٹل جا کر پہلے کپڑے بدل لے۔ حسب توقع اسکے کلاس میں داخل ہوتے لمحہ بھر کو خاموشی سی چھائی۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے سنتھیا کو ڈھونڈنا چاہا وہ پیچھے کی کرسیوں پر ایڈون کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس نے بھی پیچھے جانا چاہا مگر جی ہائے نے پکار لیا۔ وہ پہلی رو میں بیٹھی تھی۔ گوارا اور وہ اسی کے پاس آن بیٹھیں۔۔
پیاری لگ رہی ہو۔ چھوٹتے ہی وہ بولی اریزہ مسکرادی۔ ۔۔ یہ سر پر دوپٹہ کیوں لے رکھا ہے؟ ۔
اسے تجسس تھا۔
اسکے بال جل گئے اسٹریٹنر سے۔ گوارا نے اس سے پہلے جواب دیا۔
تم۔ جیلسی بلی تم نے ہی جلائے ہوں گے۔ اس نے بلا لحاظ گوارا کے سر پر چپت لگائی۔
جی نہیں اسکی سہیلی نے۔۔
گوارا نے باقائدہ پیچھے کی جانب اشارہ کرکے بتایا۔ اریزہ نے اسکا ہاتھ تھاما۔۔
غلطی سے جل گئے۔ اریزہ نے دانت کچکچا کر گوارا کو گھورا۔ پھر بات بدلنے کو بولی۔
تمہارا ویک اینڈ کیسا گزرا ؟ گائوں گئ ہوئی تھیں نا۔
بڑا مزا آیا۔ دو دن خوب ہلا گلا کیا ہم نے پورک باربئ کیو کیا۔ گوارا تم چلتیں سچی اتنا مس کیا میم۔۔
حسب توقع اسکا ذہن بدل گیا تھا۔ وہ جانے کیا قصہ سنانے لگی۔ اس نے گہری سانس لیکر ذرا سا مڑ کر پیچھے دیکھا تو لمحہ بھر کو ٹھٹک سی گئ۔ سنتھیا رخ موڑئ تیکھی نگاہوں سے برابر بیٹھے ایڈون کو دیکھ رہی تھی۔اسکی نگاہوں کا تعاقب کرتے ایڈون پر نگاہ گئ تو سن سی رہ گئ۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس کے بعد سنتھیا بہت تیزی سے ایڈون کے ساتھ نکلی تھی۔ اس نے پیچھے جانا چاہا تو گوارا نے کسی بات میں الجھا لیا سب کلاسز لینے کے بعد وہ ہاسٹل کے کمرے میں آئی تو سنتھیا کمبل منہ تک تانے لیٹی تھی۔
اس نے دھیرے سے قریب آکر پکارا۔
سنتھیا۔۔
جوابا وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔
اسکا فون بج اٹھا تھا۔ اس نے جھٹکے سے کمبل ہٹا کر موبائل اٹھآ کر دیکھا ایڈون کالنگ دیکھ کر آف کرکے ایک طرف رکھ دیا۔ اور دوبارہ منہ تک کمبل تان لیا۔
جی ہائے بتا رہی تھی کہ تمہاری طبیعت خراب ہے ؟ کیا ہوا۔
وہ دھیرے سے اسکے بیڈ پر بیٹھ کر پوچھنے لگی۔
کل چکر آگئے تھے بس۔ اب ٹھیک ہوں۔۔۔
اس نے مختصر ہی جواب دیا۔
کچھ کھایا ہے آج؟
وہ فکرمندی سے پوچھ رہی تھی۔
سنتھیا نے کمبل چہرے سے ہٹا کر غور سے اسے دیکھا۔
کیا ہوا؟۔۔ وہ اسکے یوں دیکھنے پر حیران ہوئی۔
تم یہاں آکر عجیب سی حرکتیں نہیں کرنے لگی ہو؟ اتنا نمایاں اور الگ دکھائی دینے کا شوق پہلے تو نہیں تھا تمہیں۔
سنتھیا کے بے مروت انداز سے ذیادہ کڑوے کسیلے الفاظ اسکا دماغ گھما گئے۔
کیا بکواس کر رہی ہو۔ ؟ وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
صحیح کہہ رہی ہوں۔۔۔ اتنا تو پاکستان میں تم سر پر دوپٹہ لیکر نہیں پھرتی تھیں۔ اتنا کام والا عید کا جوڑا کبھی پاکستان میں یونیورسٹی پہن کر نہیں گئیں۔ مزا آرہا تھا نا تمہیں جب سب گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔۔
سنتھیا بھی اٹھ کر بیٹھ گئ۔
اریزہ نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا مگر سنتھیا نے موقع نہ دیا۔
کیا ۔۔۔۔
ویسے کامیاب رہی ہو توجہ حاصل کرنے میں۔۔۔ سب کی بھی اور ایڈون کی بھی۔ ایک ٹک دیکھ رہا تھا تمہیں۔۔
شٹ اپ۔ اریزہ حلق کے بل چلائی۔
اپنی گھٹیا سوچ کو اپنے تک محدود رکھومیرے بارے میں زبان سنبھال کر بات کرو۔ اور ایڈون کی ساری توجہ بھی تمہیں مبارک ہو مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ایڈون کی توجہ کی۔ جتنا تمہارے سر پر ایڈون سوار ہے ہروقت ان سیکیور رہتی ہو اور الٹی سیدھی باتیں سوچتی رہتی ہو پاگل ہو جائو گئ اسطرح تم ۔۔۔۔۔۔
کیوں؟ تم ایڈون کو پسند نہیں کرتیں؟ مجھے کہتی تھیں نا کہ ایڈون بہت سمجھدار ڈیسنٹ لڑکا ہے۔ مجھے اسکے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے۔
سنتھیا اب قدرے رسان سے پوچھ رہی تھئ۔
ہاں تو تمہارے لیئے ہی کہا کرتی تھی ہمیشہ مجھے رتی برابر بھئ تمہارے اس ایڈون میں دلچسپی نہیں سمجھیں۔ وہ کہتی پیر پٹختی اوپر جانے لگی
مگر تم میرے لیئے کبھی ایسی چیز پسند نہیں کرتیں جو تمہیں اپنے لیئے پسند نہ ہو۔۔۔ یقینا ایڈون تمہیں بھی پسند تھا ورنہ تم مجھے کبھی اس سے منگنی نہ کرنے دیتیں۔۔۔
اسکی بات پر سیڑھیاں چڑھتی اریزہ ٹھٹک کے رکی تھی۔
تم بھئ کہیں نہ کہیں اسے پسند کرتی تھیں۔
سنتھیا کو لگا اسکا تیر نشانے پر لگا ہے۔
ہے نا۔ اگر وہ کرسچن نہ ہوتا مسلمان ہوتا تو کیا تم اسکے بارے میں سوچتیں؟؟؟
سنتھیا بیڈ سے اترکر اسکے پیچھے آن کھڑی ہوئی۔
تم پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟ کیسی فضول باتیں کر رہی ہو تم۔
اریزہ بھنا کر مڑی۔
سنتھیا نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔
میری قسم کھا کے بتائو اگر وہ مسلمان ہوتا تو کیا تم سوچتیں اسکے بارےمیں۔؟؟؟
اریزہ سن سی اسکی شکل دیکھتی رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکی آنکھ سورج کی روشنی منہ پر پڑنے سے کھلی تھی۔ اس نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا تو آنکھیں پوری کھل گئیں۔ گیارہ بج رہے تھے۔ اسکی چھٹی ہوگئ تھی بیٹھے بٹھائے۔ وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی بیڈ سائیڈ کی ریلنگ سے نیچے جھانکا سنتھیا کا بستر سمٹا ہوا تھا۔ یقینا وہ تیار ہو کر یونیورسٹی جا چکی تھی۔
وہ تاسف سے سر پر ہاتھ مارتی نیچے اتری۔ فریش ہو کر اپنا بیگ اٹھاتئ باہر نکل آئی۔ ایک آدھ کلاس تو مل ہی جاتی۔۔۔۔۔
ابھئ ڈیپارٹمنٹ کی جانب جا ہی رہی تھی کہ گوارا پیچھے سے آکر اسکے کندھے سے جھول گئ۔
اریزہ اریزہ پلیز ہیلپ می۔ صرف تم ہی مجھے اس مصیبت سے نکال سکتی ہو۔۔
وہ آنکھیں پٹپٹاتی امید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس عالی شان کاسمیٹک سرجری کے کلینک کے باہر کھڑی اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔ گوارا کان دباتی اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر لے آئی تھی۔
جی ہائے کبھی نہ آتی میرے ساتھ اپائنٹمنٹ لینے کیلئے۔ پلیز بس میں تھوڑی نروس ہو رہی ہوں۔ تم بس میرے ساتھ رہو کچھ نہ کرنا۔۔۔
وہ۔منت بھرے انداز میں بول رہی تھی۔ اریزہ نے آہ بھری۔
اگلی اپائنٹمنٹ بک کروانے کیلئے اسکے پاس کیش کی بھی کمی تھی۔ اریزہ نے کو ہی پیمنٹ کرنی پڑی۔ فی الحال تو چندی آنکھوں والی اس چٹی ڈاکٹرنی کے پاس یہ قربانی کی بکری لائی گئ تھی ۔ اس نے فوٹو شاپ کرکے گوارا کا چہرہ کمپیوٹر پر دکھا کر ناک چڑھا کر کہا
آپکی آنکھوں کے اوپر پپوٹے بنوانے کی ضرورت ہے۔اور آپکے چہرے پر بہت چربی ہے ہم اسے گھلا کر تکونی شکل دیں گے۔ ہوںٹوں پر ہم فلوئڈ بھر کر موٹا کریں گے اور کچھ فلرز آپکے ماتھے پر دینے پڑیں گے اس سے آپکا چوڑا ماتھا کم لگے گا اور ابرو اچکنے سے آنکھیں بڑی بڑی لگنے لگیں گی۔ ناک ہم سلیکون کی بنائیں گے جو ابھری ہوئی ہوگی۔۔
نہایت پیشہ ورانہ انداز میں بتاتے اس نے جب مانیٹر گھما کر انکی جانب کیا تو اریزہ اچھل پڑی۔
یہ کون ہے؟
میں ہوں احمق۔ گوارا نے دانت پیسے۔
کچھ کچھ خلائی مخلوق کے نقوش سے مشابہہ گوارا کی ایک نئی صورت سامنے تھی۔ اسکی آنکھیں ابھی کھنچئ ہوئی تھیں تصویر میں پھٹی پھٹی سی لگ رہی تھیں۔ گال جو بھرے بھرے گلابی سے تھے مدقوق بڑھیا کی طرح دھنسے دھنسے تھےگول چہرہ وی کرنے کے چکر میں نوکدار تھوڑی نکال دی تھی جس سے وہ با آسانی کاغذ کاٹ سکے ۔۔صرف ناک بہتر لگ رہی تھی۔ مگر اس ناک کا مطلب تھا اصل ناک کی ہڈی پر مکمل سلیکون کی نئی ناک جمانا۔
خدایا۔ تم اپنی شکل اتنی بگاڑ نے کے پیسے بھی دوگی۔؟
وہ بلبلا کر گوارا کی جانب مڑی۔
میں دیکھو جوائے لگنے لگوں گی۔۔
گوارا شاد تھی۔ جوائے کی تصویر نکال کر دکھائی۔
اریزہ کی آنکھیں پھیلتی چلی گئیں۔
تمہاری اس حسینہ اس جوائے کوبریسز لگوانے کی ضرورت ہے۔سارے دانت باہر ہیں۔ اور تم اپنی شکل کی کیوں دشمن بنی ہوئی ہو۔ اتنی پیاری صورت ہے۔
وہ منتوں پر اتر آئی۔ دونوں کو انگریزی میں گٹ پٹ کرتے دیکھ کر ڈاکٹرنی خوامخواہ متاثر ہونے لگی۔
ذرا کورین بیوٹی معیار کی رو سے دیکھو۔ عام بے حد عام ترین شکل ہے میری پھینی ناک چھوٹی آنکھیں چھوٹا سا دہانہ۔ میں بد صورت مینڈکی ہوں مجھے ہر صورت خوبصورت شہزادی بننا ہے۔
گوارا نے اپنے چہرے کے خدو خال باری باری دبا کر اپنی پھبتی اڑائی۔
اور یہ تمہارے ہوںٹ چیر دیں گی؟
اریزہ بھنائئ۔
نہیں مگر موٹے تو کر دیں گی نا۔ اندر مائع ڈال کر۔
گوارا نے منہ کھولے بٹر بٹر گھورتی ڈاکٹرنی کو دیکھ کر اسکو ٹہوکا دیا۔۔
آپ بھی اگر سرجری کروانے میں دلچسپی لیں تو میں آپکو بھی اچھی تجاویز دے سکتی ہوں۔
ڈاکٹرنی نے رواں ہنگل میں کہا تھا مگر اریزہ کو کچھ کچھ پلے پڑنے لگی تھی ہنگل۔
تیز ہو کر بولی۔
ہا ں بتائو ذرا میری صورت میں کیا تبدیلی لائو گی اچھی خاصی حسینہ ہوں میں۔
اس نے محاورتا آستینیں چڑھائی تھیں۔
آپ ادھر دیکھیں۔ اس نے مونیٹرکے ساتھ ایک اسٹینڈ سے جڑے کیمرے کی جانب اشارہ کیا۔
اریزہ نے گھورتے ہوئے تصویر کھنچوا لی۔ گوارا ہنسی ضبط کر رہی تھی۔ ڈاکٹرنی انہماک سے اپنے مانیٹر کو گھورتے ہوئے جانے کیا کلک کرنے میں لگئ تھئ۔
میری شکل ہر لحاظ سے مجھے پسند ہے۔ یہ چاہے جتنی بھی کوشش کر لیں اس شکل میں مزید تبدیلی نہیں لا سکتیں۔
اس نے گوارا کو چیلنج کیا۔
سہیلی تم ابھی اپنا نیا روپ دیکھو پھر پوچھوں گی۔
گوارا کا انداز مزاق اڑاتا سا تھا۔
چند ڈرامائی لمحوں کے بعد ڈاکٹرنی نے اسکرین کا رخ اسکی جانب کیا۔
ایک نہایت دلکش کھڑے کھڑے نقوش کی حسینہ اسکی نگاہوں کے سامنے تھی۔
کم چاگیا۔ گوارا او روہ اکٹھے دہل اٹھیں۔۔ بس اریزہ کے منہ سے کم چاگیا کی جگہ
ہائے اللہ۔۔۔ نکلا تھا۔۔
یہ کون ہے۔ اریزہ کے منہ سے سرسراتی سی آواز نکلی۔
یہ آپ ہی ہیں۔۔ ڈاکٹرنئ نے یقین دلایا۔ بس تھوڑی سی تبدیلی آپکے خد و خال میں لائی ہوں۔ آنکھیں تو ٹھیک ہیں آپکی مگر دھنسی ہوئی ہیں دو تین سیشنز میں حلقے کم ہونگے آپکےنیز آپکی ناک غیر ضروری طور پر لمبی ہے اور پھیلی ہوئی بھی ہے اسکو ستواں کرسکتے ہیں اور آپکے چہرے میں بھی گوارا کی طرح چربی بہت ہے ہم اسکو گھلا کر رخسار کی ہڈی نمایاں کر دیں گے اور آپکی تھوڑی پر جو گڑھا بن رہا ہے ہم اسے بھی برابر کر سکتے ہیں ساتھ ہی یہ جو آپکے ہونٹ ہیں۔
بس۔۔ اریزہ سے اپنی شکل کی اتنی برائیاں برداشت نہ ہوئیں۔
اچھی خاصئ ہی ہوں میں مجھے اپنی شکل بدلوا کر نئی شکل نہیں چاہیئے۔ ذرا بنا تدوین والی تصویر دکھائیں۔ انیس بیس کا ہی فرق ہوگا ا سمیں اور اس میں۔
اس نے ہاتھ نچاکر دھڑلے سے کہا۔ یہ تو ماننے والی بات تھی کہ اس نے ماننا نہیں تھا۔
ڈاکٹرنی نے کندھے اچکا کر اسکی تصویر سامنے کردی۔
پھولا غبارے جیسا منہ چھوٹی دھنسی ہوئی آنکھیں۔ عینک لگانے کی وجہ سے حلقے نمایاں تھے اس وقت تو لینز لگائے تھئ مگر دیکھنے سے پتہ لگتا تھا کھوپے چڑھانے کی عادی ہے۔ ناک جسے وہ پاکستان میں ستواں ہی سمجھتی تھی پھیلی اور بیٹھی لگ رہی تھی۔ اور تھوڑی۔۔
دراصل ابھی کونسا وہ تصور کھنچوانے آئی تھی۔ بس سامنے دیکھ کر کھنچوا لی۔ گوارا سے بحث کی ساری اکتاہٹ اسکے چہرے پر جمئ تھی اس نے اپنی زندگی میں اپنی اتنی بکواس تصویر کبھئ نہ کھنچوائی تھی۔
اس کی ساری طراری ہوا ہو گئ۔ روہانسی سی ہو کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اردو میں بڑبڑائی۔
امی اتنئ بدصورت بیٹی ہوئی آپکے یہاں۔۔۔۔۔ صحیح نیندیں اڑیں ہیں آپکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے کئ گھنٹے انہوں نے گوارا کی شکل سدھارنے میں لگائے۔ ابھی کوئی مائع نہیں بھرنا تھا ابھی بس ٹیسٹ ہونے تھے کسی قسم کی جلدی بیماری تو نہیں انکی لگائی جانے والی چیزوں کے کسی اجزا سے کوئی الرجی تو نہیں۔ ساتھ ساتھ گوارا کے حلقے دور کرنے اور جلد کی تیاری کیلئے جانے کون کون سے محلول گھول گھول کر لگائے جاتے رہے۔ جنکو بیس بیس منٹ بعد اتارا جاتا تھا۔ وہ جمائی لے لے کر بے حال ہو گئ۔ چھے بجے جب وہ انتظار والے صوفے پر سو ہی گئ تھی تب ایک حسین سی لڑکی نے پاس آکر اسکو ہلایا۔
چلو اریزہ اب چلیں۔
میں کیوں کسی اجنبی۔
اریزہ نے جمائی لیتے ہوئے کہنا چاہا کہ میں کیوں کسی اجنبئ کے ساتھ جائوں بھلا کہ جھٹکا سا لگا۔
گوارا نے ایک ادا سے بال جھٹکے۔
تم تو ایکدم بدل گئ ہو۔ وہ حیرانی سے بولی۔
انہوں نے آپریشن کردیا؟ ۔۔ اسکو واقعی یہی لگا تھا۔
ارے نہیں۔ ابھی تو بس فیشل اور اسکن پالش ہوئی ہے میری ۔
گوارا نے وضاحت کی۔
میری مانو تو تمہارے لیئے یہی کافی ہے۔ اریزہ نے پھر اسے سمجھانا چاہا۔
خالی پیٹ نصیحتیں نہیں۔ گوارا نے ہاتھ اٹھا کر کہا وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ گوارا او روہ قریبی ریستوران آئی تھیں
چونکہ تم نے آج میری وجہ سے اتنا وقت برباد کیا سو آجکی دعوت میری طرف سے۔ گوارا کافی ترنگ میں تھی۔ اس نے سر ہلا دیا۔
جاجا میان منگوایا تھا اس نے نوڈلز ہمراہ کالا لوبیا۔ اسکے لیئے کہہ کر خاص الگ بنوایا جس میں گوشت کا ذرہ بھی نہ ہو۔
یہاں نان ویج آپشنز ہوتے ہیں ورنہ ہم جاجا میان سور کے گوشت کے بنا ادھورا سمجھتے ہیں۔۔۔ گوارا نے نوڈلز کو کالے سیاہ شوربے میں گھما کر لطف لیکر کھاتے ہوئے بتایا۔ اریزہ نے ڈرتے ڈرتے چکھا۔
لوبیا وہ ہمیشہ چاول کے ساتھ کھاتی تھی یا ابلے لوبیے پر چاٹ مصالحہ چھڑک کر ابھی تو کالے لوبیے کے اس سالن میں سوائے لہسن کے اسے کوئی مصالحہ محسوس نہ ہوا اوپر سے گندم کے لمبے لمبے نوڈلز۔ جن کو Chewy گوارا نے کہہ کر بنوایا تھا۔ اسکے نزدیک تو ابھی کچے ہی رہ گئے تھے۔ اس نے نمک دانی اٹھا کر آدھی چھڑک ڈالی۔
ویسے تمہاری تھوڑی کافی مختلف سی ہے۔ تھوڑی پر گڑھا کیوں ہے؟ چوٹ لگی تھی کیا بچپن میں۔
گوارا کے سوال پر اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
اس نے اپنی تھوڑی چھوئی۔
یہ خوبصورتی بلکہ خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں پورا فنکاروں کا خاندان ہے جن کے ہر فرد کے تھوڑی پر ایسے ڈمپل ہے اور وہ خوبصورت بھی ہیں سب۔
اس نے جاجا میان چھوڑا موبائل اٹھالیا۔ اب اسکو جاوید شیخ کا پورا خاندان دکھانا بنتا تھا۔
واقعی ؟ عجیب بات ہے۔ مجھے تو لگا تھا کوئی بچپن کی چوٹ ہے تمہاری۔
گوارا لاپروائی سے کہہ کر نوڈلز کھا رہی تھی۔ اریزہ نے موبائل نکال کر اسکے منہ پر سامنے کردیا۔ گوارا ڈر کر زرا سا پیچھے ہوئئ۔ پھر حیران ہو کر مومل شیخ کی انسٹا اسکرال کرنے لگی۔
واقعی یہ تو ان سب کے چہروں میں ہے سب کے سب کیسے آپریشن کرواتے بے چارے۔۔
گوارا کے تبصرے پر وہ سر تھام کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم بہت کم کھاتی ہو ویسے ۔۔گوارا نے کھانے کے بعد اسکی پلیٹ آدھی بھرئ دیکھ کر کہا تھا۔
بقیہ پیک کروالوں؟ گوارا نے پوچھا تھا مگر اس نے منع کردیا یہاں تازہ گرم کھانا دشوار تھا بعد میں تو بالکل دل نہ کرتا۔ اسکے صاف انکار پر گوارا کندھے اچکا کر رہ گئ۔
اب کیا ہاسٹل جائو گئ میرے ساتھ میرے فلیٹ میں چلو کل اکٹھے یونی چلیں گے۔ ۔۔۔
گوارا نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ دونوں تھکی ہوئی واپس آئی تھیں سو بیڈ پر گرتے ہی غافل ہوگئیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گیارہ بجے ہوپ کے آنے پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔
وہ اسے تھوڑا سا دھکیل کر اپنے لیٹنے کی جگہ بنانا چاہ رہی تھی۔۔
وہ اٹھ بیٹھی۔ ہوپ کو شرمندگی ہوئی ۔۔
بیانتا۔ اس نے اتنا دھیمی آواز میں کہا تھا کہ مڑ کر سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر وقت دیکھتی اریزہ نے سنا ہی نہیں۔۔
وہ اپنی جانب سے چادر کھسکا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ہوپ ٹھنڈی سانس لیتی سونے لیٹ گئ۔ اریزہ اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔۔ منہ دھو کر واپس آئی تو کمرے میں اجنبی بو کا احساس ہوا وہ سر جھٹکتی باہر نکل آئی۔۔۔ ذرا سا جاجامیان ہضم ہوچکا تھا۔ اب کافی بھوک لگ رہی تھی۔۔
یونہی کچن میں آکر جھانکاڈھنڈار فریج سامنے تھا۔۔
اس نے مایوسی سے کیبنٹس کھنگالیں۔۔ ایک میں سے بس ایک گندم کا بسکٹ ملا۔۔
ہاہ۔۔ وہ روہانسی ہو چلی تھی۔۔
گوارا کو بھوک نہیں لگتی ۔۔ اس نے رشک سے کمرے میں جھانک کر گوارا کو میٹھی نیند سوتے دیکھا تھا۔۔
کسمسا تک نہیں رہی تھی بے سدھ تھی۔۔
نہیں اسی کو وقت بے وقت بھوک لگتی۔۔ کتنے بسکٹس لائی تھی میں نے تو ایک آدھ ہی کھایا ہوگا۔۔ اس کو یاد آیا۔۔
سب ختم کر دیئے۔۔ چلو کوئی نہیں لائو بھی تو۔۔ وہ چڑ رہی تھی۔۔
یونہی ٹہل ٹہل کر بھوک بھگاتی رہی۔۔ ٹی وی کھول لیا۔۔ بھوک میں ٹی وی بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ لگتا بھی کیسے ایک لفظ پلے نہیں پڑ رہا تھا کیا بول رہے۔۔
اس نے سر تھام کر وال کلاک پر نظر دوڑائی۔۔
روپیٹ کر سوا گیارہ ہوئے تھے۔۔
اف۔۔ اسے رونا ہی تو آگیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس گیمنگ ذون میں بیٹھا پب جی کھیل رہا تھا جب اسے موبائل پر پیغام ملا۔
زندگی تم پر اس سے زیادہ بھی مہربان کیا ہوگی۔۔
خوش قسمت انسان ہمیں تو نہ جلا۔۔
یہ یون بن تھا۔۔
خوش رہو ہمیشہ۔مبارک ہو۔
کم سن کا پیغام آیا
اگر تمہارا گرل فرینڈ والاعہدہ خالی ہے تو میں اپلائی کرنا چاہتی ہوں۔ آگے منہ چڑاتا اسمائیلی
یہ جی ہائےتھی۔۔
خدا کرے اس سے بھی زیادہ مہربان ثابت ہو آئندہ زندگی تمہاری آمین۔۔
جون جے۔۔
آہش۔۔ اسکا چکن ڈنر تو ہوا ہوگیا تھا۔ اس نے لاگ آئوٹ کیا اور سہولت سے۔موبائل کی اطلاعات دیکھنے لگا۔
اسکے موبائل میں مبارکباد کے پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔۔
مجھے بھئ تو پتہ لگے کہ آخر مجھ پر ایسی کیا آفت نازل ہوئی ہے جو سب مبارکباد دے رہے ؟
اس نے کم سن کو چڑ کر پیغام بھیجا۔جوابا اس نے ایک نوٹیفیکشن کی تصویر بھیجی۔
اسکے باپ نے ایک کاسمیٹک کمپنی خرید ی تھئ۔ مکمل حقوق اور کوریا کی تمام فرنچائزز اور شاپس کی چین۔ وہ بیٹھے بٹھائے اسکا مینجنگ ڈائریکٹر بن چکا تھا۔
وہ اسکرال کرتا اٹھ کر باہر نکل آیا۔ اسکی چم چم کرتی ہندائی آونتے سےچار ہائی اسکولر ٹیک لگائے سیلفیاں لے رہے تھے۔
ایک اسکے دروازے پر یوں ہاتھ رکھے تھا جیسے ابھی بس کھول کر بیٹھنے لگا ہے۔
اسکے ساتھئ نے تصویر کھینچ کر آواز لگائی
تھیبا۔۔ تم ہی مالک لگ رہے ہو اس گاڑی کے۔۔
میرے خاندان کی سات پشتوں میں کسی کے پاس یہ گاڑی نہ ہوگی۔
وہ لڑکا مسخرے پن سے بولا۔
کیسے ہو سکتی لانچ ہی اسی سال ہوئی ہے۔ دوسرے ساتھی نے ہنس کر اسکی بات آگے بڑھائی۔
جانے کون خوش نصیب بڈھا مالک ہے اسکا۔ پوری جوانی لگا کر اس قابل ہوا ہوگا اس کو خریدنے کے۔
ایک لڑکے نے رشک سے اسکی گاڑی کے بونٹ پر ہاتھ پھیرا۔
بڈھے یہ گاڑی کیوں لیں گے۔ کسی امیر باپ کی حرامخور اولاد یہاں گیم کھیلنے آئی ہوگی اس میں بیٹھ کے۔
دوسرے نے اختلاف کیا۔
اس تبصرے نے اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا انکے پاس چلا آیا۔
تم سب اسکے ساتھ پوز مارو میں سامنے سے تصویر لے دیتا ہوں۔۔
اسکی آفر پر سب حیران ہو کر اسے دیکھنے لگے مگر اسے سنجیدہ دیکھ کر ایک نے اپنا موبائل اسے تھما دیا۔ وہ سب ہنستے مسکراتے پوز دینے لگے۔
ان سب کی تصویر کھینچ کر اس نے موبائل واپس کیا۔
گوما وویو ہیونگ۔
ان سب نے جھک کر شکریہ ادا کیا۔ ان میں سے ایک جو شائد انکے گروپ کالیڈر تھا خیر سگالی انداز میں مسکراتے اپنا تعارف کرانے لگا۔
میں ہان گیول یہ میرا دوست ہے جون یہ ایڈورڈ اور یہ سنگ ہو ۔۔ اور آپ۔
میں۔ اس نے لمحہ بھر سوچا۔پھر مسکرا کر بولا۔

امیر باپ کی حرام خور اولاد۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
جب بھوک لگتی تو بس کھانا درکار ہوتا پھر چاہے زمین سے گندم کا دانہ چن کر کھائو یا گلا سڑا کوڑے دان سے اٹھا کر کھائو۔۔
پھر دعا کرنا کبھی بھوکی نہ پھرو۔۔
ہاش۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں سر جکڑا۔۔
بد دعا دی تھی کیا اس نے۔۔ اس نے چڑ کر کمرے کے بند دروازے کو گھورا۔۔
گھر میں کتنی بار رات کا کھانا کھائے بغیر سوئی ہوں اور آج۔۔
اسے خود پر بھی غصہ آرہا تھا۔۔۔
اریزہ بھوکی مت سو انڈا بنا کر لائی ہوں۔۔ ۔۔
وہ تکیئے میں منہ دیئے پڑی تھی۔۔ جب صفیہ خفا خفا سی اسکیلیئے ٹرے سجا کر لائی تھیں۔۔
کیا ضرورت تھی۔۔ کہا تھا نا میں نے میں سو جائوں گی۔۔
اسکا غصہ کم نہیں ہوا تھا چڑے چڑے انداز میں اٹھ بیٹھی ۔۔
خالی پیٹ نیند بھی نہیں آئے گی پتہ مجھے۔۔ انہوں نے ٹرے اسکے سامنے بیڈ پر رکھ کر گھورا۔۔اور خود بھی سامنے بیٹھ کر اسکیلیئے نوالہ بنانے لگیں۔۔
وہ یونہی خفا خفا دیکھتی رہی انہوں نے نوالہ بنا کر اسکے منہ میں ڈالا۔۔
ایسے وہ کبھی بنا پراٹھا آملیٹ نہ کھاتی مگر بھوک تھی کہ کیا اسے کافی لذیذ لگا۔۔ ایک نوالہ دے کر انہوں نے ہاتھ کھینچ لیا۔۔
بس ایک نوالے کی محبت تھی۔۔
وہ چباتے ہوئے بولی۔ صفیہ نظر انداز کر گئیں۔۔
ایک دنیا میرے ہاتھ کےکھٹے بینگن کی تعریف کرتی کبھی کھا کر تو دیکھو۔۔ فٹ سے نہ کر دیتی ہو۔۔
انہوں نے ابھی بھی ڈانٹنا ضروری سمجھا۔۔
مجھے نہیں پسند بینگن آپ ہر دوسرے دن بنا لیتی ہیں۔۔
بھوک ہر چیز پر غالب تھی۔۔ وہ مر بھکوں کی طرح تیز تیز نوالے بنا کر کھا نے لگی تھی۔۔
آرام سے کھائو۔۔ انہوں نے محبت سے اپنی نخریلی بیٹی کو دیکھا۔۔ جو دھڑا دھڑ نوالے بنا کر منہ میں ڈالے جا رہی تھی
ایک ہفتے بعد بنائے تھے میں نے آج۔ انہوں نے تصحیح ضروری سمجھی۔
اریزہ کا منہ بھرا تھا سو سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
اتنی بھوکی ہورہی تھیں۔۔ مگر ایک انڈا نہیں بنا کر کھا رہی تھیں۔۔
میں سو جاتی ابھی۔ اس نے ماننا تھوڑی تھا۔۔
ہاں پتہ مجھے کوئی نیند نہیں آرہی تھی تمہیں۔۔ انہوں نے جتایا تو وہ کھسیانی ہوئی
آپکو بھی تو نہیں آرہی تھی۔۔ اس نے کہا تو صفیہ گہری سانس لیکر بولیں۔۔
بچے بھوکے ہوں تو ماں نہیں سو سکتی۔۔ ابھی قدر نہیں ہے تمہیں جب میں نہیں ہونگی تو یاد آئوں گی۔۔ کیسے ماں خدمت کرتی تھی جوان بیٹی کی۔۔ وہ طنز سے باز نہ آئیں۔۔
اریزہ کا پیٹ بھر گیا تھا سو موڈ خوشگوار ہو گیا تھا لپک کر ان کے پاس آئی اور کندھے سے لٹک کر جھولا کر بولی۔۔
آپ ہمیشہ ہونگی میرے ساتھ مجھے پتہ ہے میرے نخرے اٹھانے کو۔۔ وہ شرارت سے کہہ رہی تھی
اور نوے فیصد پاکستانی مائوں کی طرح وہ اپنی بیٹی کے لاڈ سے چڑیں۔۔
پرے ہٹو کیا بچپنا ہے۔۔ دم گھٹ رہا میرا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
آہ۔۔ ساڑھے گیارہ۔۔ ہوئے تھے۔۔
بھوک سے آنتیں پلٹ رہی تھیں۔۔
تھوڑا سا چل کر ہی مارکیٹ ہے ۔۔ میں لے آتی ہوں کچھ کھانے کو۔۔ وہ مصمم ارادہ کرکے اٹھی۔۔
گوارا کو اٹھا لیتی ہون تھوڑا سا غصہ ہی کرے گی نا۔۔
اس نے سوچا تو تھا مگر اب گوارا کے سر پر کھڑے اسکے خراٹے سنتے ہمت نہ ہوئی اسے جگانے کی۔۔ گوارا۔۔ اس نے آہستہ سے پکارا۔۔
وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔ البتہ ہوپ نے بڑبڑا کر کروٹ بدلی۔
کیا بھنگ پی کر سوئئ ہو۔ اس نے دانت کچکچا کر پوچھا۔ گوارا ٹن تھی۔ اس کی بیڈ سائیڈ ٹیبل پر نگاہ گئ تو سر پیٹ کر رہ گئ سوجو سجی تھئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی پونے بارہ ہی تو ہوئے ہیں۔۔ اتنی لڑکیاں پھر رہئ ہوتی ہیں باہر یہ پاکستان تھوڑی۔۔
وہ دھیرے دھیرے چلتی خود سے باتیں کرتی جا رہی تھی۔۔
وہ اکیلی لڑکی تھی اس پوری سنسان گلی میں۔۔
خائو۔۔
اسٹریٹ لائٹ جل تو رہی تھیں مگر بیچ بیچ میں کہیں تھوڑا سا اندھیرا مل ہی جاتا تھا۔۔
پتہ ہے یہاں ایک بار اتنی رات کو آتے ہوئے ایک عورت ملتی ہے ۔۔ ہیونگ سک کہیں آس پاس بولا تھا
اس کے قدم تھمے۔۔
اس دن رات کے ایک بج رہے تھے ابھی تو بارہ بھی نہیں بجے۔۔ اس نے فورا خود کو تسلی دی۔۔
اس نے بلا ارادہ گھڑی دیکھی بارہ بس بجنے ہی کو تھے
کوریا میں تھوڑی بھوت ہوتے ہوں گے اور ہونگے بھی تو پاکستانی لڑکی میں کیا دلچسپی ہوگی انہیں یہاں تو ایک سے ایک حسین لڑکی ہے پہلے سے ہی۔۔
وہ۔خوف دور کرنے کو خود سے باتیں کر تی جا رہی تھی۔۔
تبھی کسی چیز کے دھپ سے گرنے کی آواز آئی
وہ۔خوفزدہ سی ہو کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
آئو۔۔ وہ کوئی بلی تھی غراتی ہوئی اسکے آگے سے بھاگتی بائیں جانب نکلتی گلی میں گھس گئ۔۔
اسے چند لمحے لگ گئے سانس بحال کرنے میں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیون الیون کوریا کے تقریبا ہر علاقے میں ہوتے تھے۔ یہاں تو بس دو گلیوں بعد ہی تھا۔ گلیوں کے برعکس سڑک پر کافی روشنی تھی مگر چہل پہل نہیں تھی۔ یہی غنیمت تھا وہ فورا اس سیون الیون میں گھس گئی۔۔
اب میں کم از کم ایک پیک بسکٹ کا چھپا کر رکھوں گی۔۔وہ عزم کر رہی تھی۔۔
بھلا بتائو۔۔ رات کے بارہ بجے میں اکیلی یہاں سپر اسٹور میں۔ خواب میں بھی کبھی نہیں سوچا تھا میں نے۔۔ پاپا کو پتہ چلے تو ابھی واپس بلا لیں۔۔ انجان ملک انجان لوگ ۔۔۔ میں یہاں آدھی رات کوسڑک پر پھر رہی۔۔ایسے تو کبھی اپنے ملک میں اکیلے رات کو نہیں نکلی میں
اس نے اچک اچک کر اسٹور پر نظر دوڑائی۔۔
اکا دکا لوگ تھے وہ بھی مذکر کائونٹر پر بھی لڑکا تھا۔۔
خیر۔۔ اس نے گہری سانس بھری
اپنے ملک میں مجھے اس وقت اکیلے باہر نکلنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔ کبھی بھوک لگی بھی تو گھر سے کچھ نہ کچھ نکل آتا فریج تو کبھی خالی ہوتا ہی نہیں تھا۔۔
وہ بڑ بڑاتی باسکٹ اٹھاتی کائونٹر کی طرف بڑھی۔۔
اپنے اعتماد کو بحال کرنے کیلیئے وہ سر گھما گھما کر اسٹور پر نظر دوڑا رہی تھی۔۔
کبھی بہت دل۔کیا بھی تو صارم کے ساتھ گاڑی میں جاتی تھی آئسکریم کھانےکمینہ انکار کرتا تھا مگر ہمیشہ میری ضد کے آگے ہار ماننا ہی پڑتی تھئ اسے اسے صارم کی یاد آئئ۔۔
سارا راستہ بولتا تھا مگر لے جاتا تھا۔۔
۔۔ اسے یاد آیا تو لمحہ بھر کو اسکے قدم تھمے۔۔
مس یوصارم۔۔۔۔
اسکی آنکھ بھر آئی۔۔ اس نے ہتھیلی کی پشت سے آنکھ صاف کی۔۔
ہو از صارم۔ کسی نے آہستہ سے پوچھا تھا۔۔
وہ بری طرح چونک کر مڑی
ہایون ہاتھ میں کین پکڑے مسکرا کر اسکے قریب کھڑا پوچھ رہا تھا۔۔
اسے اسکے ڈر جانے کی امید نہیں تھئ۔۔
بیانئے۔۔ اس نے فورا ہاتھ اٹھا کر معزرت کی۔۔ پتہ چلے یہیں بے ہوش ہو گرے۔۔
نہیں۔۔ وہ۔خجل سی ہوئی۔۔ ایسا بھی کیا۔۔ اسے خود پر غصہ آیا۔۔۔
وہ بس میں مگن تھی اپنے آپ سے باتیں کرنے میں۔۔ اس نے کھسیا کر صفائی دی
اور مجھے افسوس ہوا مجھے اردو کیوں نہیں سمجھ آتی۔۔
وہ زیر لب مسکراہٹ دبا کر بڑبڑایا۔

ہوں۔۔ اریزہ کو سنائی نہ دیا تو متوجہ ہونے والے انداز میں دیکھنے لگی۔۔
آہش نتھنگ۔۔ تمہیں نہیں لگتا اشیا خوردونوش خریدنے کیلیئے یہ وقت کافی نا مناسب ہے۔۔
وہ بات بدل گیا۔۔
سب ختم ہوا وا تھا۔۔ وہ بے چارگی سے بولی۔۔
مجھے شدید بھوک لگ رہی تھی۔۔ سو کچھ کھانے کو لینے آئی ۔۔ اب آہی گئ تواور چیزیں خرید لیں۔۔
اسکے ذہن میں کل کا ناشتہ تھا سو انڈے میدہ دودھ بھی خرید لیا تھا۔
ہمم۔ وہ کیا کہتا۔۔
کندھے اچکا دیئے۔۔
تمہیں کولڈ ڈرنک اتنے پسند کہ اتنی رات کو خریدنے نکل پڑے۔۔
اس نے اسکے ہاتھ میں پکڑا کین دیکھ کر ٹوکا۔۔
آنیو۔۔ وہ چونکا۔۔
یہ کولڈ۔۔ وہ کہنے جا رہا تھا کولڈ ڈرنک نہیں شراب ہے۔۔
پھر خیال آیا تو سر ہلا دیا بس۔۔
ہاں مجھے کافی پسند ہیں ڈرنکس۔۔ وہ مسکرا دیا۔۔
ایک تو یہ خرم شہزادہ۔ ہر وقت کی مسکراہٹ۔ مگر اس وقت مضمحل سئ مسکراہٹ تھئ۔
اریزہ اسے غور سے دیکھتی کچھ کہتے کہتے رک سی گئ۔
تم۔۔ ۔۔
دے؟۔۔ وہ اسے جواب طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
کچھ نہیں۔۔ بھول جائو۔۔ وہ سر جھٹک کر اسکے مزید کسی سوال سے بچنے کو کائونٹر کی طرف بڑھ گئ۔۔
مجھے کیا۔ میرے مسلئے کم ہیں۔ بڑبڑاہٹ۔
ہایون نے حیرانی سے دیکھا اسے۔۔
کائونٹر والےلڑکے نے دو شاپر بنا دیئے۔ ابھی کھانے کی اشیاء پر بوجھ نہ بنے اسلیئے۔ ہایون نے خود ہی آگے بڑھ کر بھاری والا شاپر اٹھا لیا۔
وہ دونوں آگے پیچھے اسٹور سے نکلے ۔۔
شکریہ۔۔ اس نے باہر نکلتے ہی سہولت سے شکریہ ادا کر کے شاپر لینا چاہا۔۔
آئو میں گھر تک چھوڑ دیتا ہوں تمہیں۔۔ اس نے شاپر واپس نہیں کیا۔۔
کوئی بات نہیں گھر قریب میں چلی جائوں گی۔۔اریزہ کو اچھا نہیں لگ رہا تھا اسکی مدد لینا۔۔
بارہ بج چکے اکیلی سنسان گلی سے جائوگی مناسب نہیں۔۔
اس نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
آئی بھی تو تھی تم پریشان نہ ہو۔۔
وہ بھی اڑ گئ ۔۔
نہیں آنا چاہیئے تھا۔۔ اس نے دھیرج انداز اپنایا۔۔
بہر حال آئو۔۔ میں گاڑی میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔
کیوں۔۔ وہ بھنائی۔۔
کوئی بھی نہیں ہے اور میں بچی تھوڑی ہوں۔۔
تم میری وجہ سے کیوں خوار ہو رہے۔۔
اسے بھوک لگی تھی سو چڑ چڑی ہو رہی تھی
بچی نہیں ہو پھر بھی بات عقل میں نہیں گھس رہی۔
وہ بھی چڑا۔۔
رات کا وقت سنسان علاقہ ہے۔۔ تمہیں اکیلے نہیں جانے دے سکتا۔۔ یہ پاکستان نہیں کوریا ہے۔۔ مجھے نہیں پتہ پاکستان کتنا محفوظ ہے وہاں ایسے رات گئے پھرنا عام بات ہوگی مگر یہاں اس وقت مجھے بہتر نہیں لگتا تم اکیلی جائو۔۔
آئو۔۔
اسکا انداز تھوڑا سخت ہوا تھا۔۔
یہ کوریا ہے جبھئ اس وقت یہاں باہر ہوں۔پاکستان میں تو سوچ بھی نہیں سکتی۔۔ خیر پاکستان میں مجھے نکلنے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔۔ وہ سوچ کر رہ گئ۔۔ اسے شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر وہ مزید بولا۔۔
میں گاڑی ساتھ لایا ہوا ہوں اسلیئے کہہ رہا چلو اس میں چل کر بیٹھو۔۔ ورنہ تمہارے ساتھ تمہارے حسب خواہش پیدل چھوڑ آتا تمہیں۔۔
وہ اسے بالکل صارم لگا تھا زمہ دار اور خیال رکھنے والا۔۔
اس سے چڑ کر بھی اسکیلیئے پریشان ہونے والا۔۔
وہ خاموشی سے آگے بڑھ آئی۔۔
وہ اسکیلیئے دروازہ کھولنے پیسنجر سیٹ کی۔طرف بڑھا تھا تو وہ اپنی جانب سے پسنجر سیٹ سمجھ کر ڈرائونگ سیٹ کی طرف بڑھی تھی۔۔
تم ڈرایئو کر وگئ؟۔۔ ہایون نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔
اس نے ہونق سی ہو کر دیکھا۔۔
پھر خیال آیا تو سر پر ہاتھ مارتی گھوم کر اسکے پاس آئی۔۔
ایک تو یہ لیفٹ ہینڈ ڈرائیو۔۔ وہ بڑ بڑائی۔۔ ہایون نے بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ دبائی۔۔
ایک شاپر اس نے پچھلی سیٹ پر رکھا دوسرا اس سے لینے کو پلٹا تو وہ چیزاور ویجیٹیبل سینڈوچ اور کوئی بن اپنی گود میں شاپر دھرے نکال رہی تھی۔
اسے جانے کیا خیال آیا۔ پلٹ کر اسٹور میں گھس گیا۔۔
جلدی جلدی سینڈوچ کی دو تین چکھیاں مار لیں تو کچھ دل کو قرار آیا۔
ہیونگ سک گھوم کر آکر ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔۔
۔۔ خالی سوکھےسینڈوچ نگلنا مشکل ہو رہے تھے۔۔اس نے بیریوں والی ڈرنک لی تھی۔ اسکا ذائقہ کافی اچھا تھا۔ اس نے بوتل کھول کر گھونٹ بھرا۔ ہایون نے کچھ کہنے کو لب کھولے۔
یہ لو۔۔تم۔بھئ کھائو۔۔۔ اس نے فورا دو سینڈوچ اسکی جانب بڑھا دیئے۔۔
اسکا ارادہ صاف انکار کا تھا مگر پھر احساس ہوا اس نے بھی رات کو کھانا نہیں کھایا تھا۔۔ سو شکریہ ادا کرکے لے لیا۔۔
دونوں اتنے بھوکے تھے کہ خاموشی کھائے گئے۔۔
خالی کین کپ اس نے علیحدہ ایک شاپر میں ڈال دیئے تھے۔
یہ کونسی گاڑی ہے؟ اسکی سیٹیں کافی آرام دہ ہیں۔ بندہ لانگ ڈرائیو میں آرام سے سو سکتا ہے۔۔
اس نے دلچسپی سے گاڑی کا جائزہ لیا۔
کھیا۔۔ ہایون ماڈل نمبر بھی بتانے لگا تھا مگر اریزہ کو دلچسپی نہ تھی۔
مجھے اتنی بھوک لگی تھی کہ مجھے نیند بھی نہیں آرہی تھی۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔ گلیوں سے راستہ پیدل کا تھا مگر گاڑی سے یقینا اسے گھوم کر جانا پڑتا سڑک کے راستے وہ گاڑی موڑ کر سڑک پر لے آیا۔
اب آجائے گی یہ ڈرنک جو پی لی۔ یہ کس نے تجویز کی تھی تمہیں؟
گوارا نے اسکے ساتھ پی تھی مزے کی لگی کیوں؟ الکوحل ہے اس میں؟
وہ بھونچکا ہوئی ہایون ہنس دیا
نہیں۔ مگر یہ بنیادی طور پر دوائی ہےایٹی ڈیپریسنٹ میڈیسن اکثر لوگ جنہیں نیند نہ آنے کی شکایت ہو اسے پیتے ہیں تو سو جاتے ہیں۔یہ ذہن پرسکون کرتی ہے۔
مجھے نیند نہ آنی ہوتی تونیند کی گولی بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔ پیپرز میں خاص کر جاگنے کیلئے کافی بناتی تھی سنتھیا جبکہ میں بنا کافی پیئے بھی ساری رات جاگتی اور سنتھیا سو جاتئ کافی پی کر بھی۔ وہ مزے لیکر بتا رہی تھی۔
اسکی بات پر ہایون حیران ہو کر کچھ کہنے والا تھا کہ
تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔۔
نونا ۔۔
اس نے فون دیکھا تو فورا ایک طرف گاڑی لگا کر روک دی۔۔
نونا کیسی ہیں آپ۔۔ وہ بے تابی سے فون اٹھا کر بولا
بالکل ٹھیک۔۔ انی کھلکھلائیں۔۔
بہت بہت مبارک ہو۔ میرا منا بھائئ اب ایم ڈی بن گیا ہے۔ کیا مجھے ہان کاسمیٹکس کی خریداری پر ڈسکائوںٹ ملا کرے گا۔ ۔۔ وہ شرارت کے موڈ میں تھیں۔۔۔
اس نے کن اکھیوں سے اریزہ کو دیکھا وہ اسکی جھجک محسوس کرکے دانستہ رخ بدل کر سر سیٹ پر ٹکا گئ۔ ۔۔ وہ گاڑی سے اتر آیا۔۔
بالکل نہیں۔ آپ مجھ سے ملے بتائے بغیر چین چلی گئیں؟۔ وہ شکوہ کر رہا تھا۔۔
یقینا اسکا لمبی بات کا ارادہ تھا اس نے سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بھی موند لیں ایسا کرتے اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ۔۔
کوئی پہلی بار تھوڑی آئی ہوں۔۔ انہوں نے پیار سے کہا۔۔
پھر بھی اور مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے آپ نے آہبو جی کی بات کیوں مان لی۔۔ آپ ایک بات پھر انکو اپنی زندگی سے کھیلنے دیں گی؟
نونا چپ سی رہ گئیں۔
آپ کی وجہ سے آہبوجی نے یہ کمپنی میرے نام کی ہے نا۔
اسکا تیر نشانے پر لگا تھا نونا جز بز سی ہوگئیں۔
دیکھو مجھے سچ مچ کم خاندان سے جڑنے میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ امیر کبیر ہیں اور ان سے جڑ کر لی گروپ مزید توسیع حاصل کرے گا۔
اور آپ۔ ہایون نے بے صبری سے ٹوکا۔
کھیون ہیونگ ابھی بھی آپکے انتظار میں ہیں۔ انکو آپ ایک بار پھر مایوس کردیں گئ؟
ہایونا۔ وہ ایک دم ڈپٹ کر بولیں۔
تم سے میں کہہ چکی ہوں ہم کھیون وون کے بارے میں دوبارہ بات نہیں کریں گے سمجھ نہیں ائی تمہیں۔۔
کیوں؟ وہ جوابا انہی کے انداز میں بولا۔
ہیونگ نے ابھی تک شادی نہیں کی وہ آپکے انتظار میں ہیں کیوں آپ انکو دوسری بار بھی چھوڑ دینا چاہتی ہیں۔
میں نے کبھی اسکو اپنا انتظار کرنے کو نہیں کہا۔ اور میں دوبارہ شادی کرلوں یہی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔ انکا انداز قطعی تھا۔
کل تک تو آپکا دوبارہ شادی کرنے کا ارادہ تک نہ تھا اب اچانک ؟
اب اچانک میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ میں دوبارہ شادی کر لوں۔
تاکہ وہ مزید میرا انتظار نہ کرے۔۔ اگلہ جملہ وہ سوچ کر رہ گئیں۔۔ پھر سنبھل کر ایک دم اپنی جون میں واپس آکر بولیں۔
ہایونا اتنا نہ سوچا کرو۔ باقی واپس آکر بات کرتی ہوں بس دو دن میں واپس آرہی میری جان بس پریشان مت ہو میں بالکل ٹھیک ۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔
انہوں نے اسے مزید کچھ بھی کہنے سننے کا موقع دیئے بغیر فون رکھ دیا۔۔
آہش۔ وہ بس فون کو دیکھ کر رہ گیا۔
ہمیشہ ایسا ہی کرتی ہیں۔ بچہ تو نہیں ہوں میں اب۔۔ اسے غصہ آرہا تھا۔۔ دل کیا فون اٹھا کر سڑک پر دے مارے۔ چند لمحے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ مزاج بگڑ چکا تھا سو خاموشی سے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔
اپنے پورچ میں لا کر گاڑی کھڑی کرکے اترا توگاڑی لاک کرتے ایکدم سن سا رہ گیا۔ وہ تو بھول ہی گیا تھا کہ اریزہ اسکی گاڑی میں بیٹھی ہے۔ اس نے اندر جھانکا وہ سیٹ تھوڑی نیچے کرکے پرسکون سو رہی تھی۔
آگیا گھر۔۔ اس نے مڑ کر متوجہ کرنا چاہا تو دیکھا وہ بے خبر سو چکی تھی۔۔
گود میں شاپر پر دونوں ہاتھ ٹکائے سیٹ پر سر رکھے خراٹے لے رہی تھئ۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے ہلانا چاہا۔ پھر خیال آیا۔ اچانک گہری نیند سے اٹھانا ایسے انسان کو جسے پینک ڈس اوڈر ہو منع کیا جاتا ہے۔
اریزہ۔۔ اس نے تھوڑا سا اونچی آواز میں پکارا وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔
اس نےگاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کی گاڑی کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔ وہ سوتے میں سہم سی گئ۔ ایک دم سے سرخ آنکھیں کھولی تھیں۔ اسکا تنفس تیز سا ہوا۔
اریزہ اس نے پکارا اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔ وہ چند لمحے اسکی شکل دیکھتی رہی۔ مگر ان نظروں میں پہچان نہیں تھی۔
کین چھنا۔اس نے دھیرے سے اسکا ہاتھ تھپکا۔۔

پندرہ سالہ اریزہ کو سوتے میں ڈر لگا تھا۔ وہ لرز رہی تھی۔ اسکے ماں باپ اکثر رات کو اٹھ کر اسکے کمرے میں آتے تھے۔ اگر وہ خواب میں ڈر رہی ہو تو اسے تھپکتے تھے۔۔
سو جائو اریزہ۔۔خواب تھا بس یہ۔۔۔۔
جبین دھیرے دھیرے اس کے کان میں سرگوشی کر رہی تھیں۔ انکئ آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسکے برابر بیٹھی وہ دھیرے دھیرے اسکا کندھا تھپک رہی تھیں۔۔
امی۔۔ وہ سسکی۔۔مم ۔۔۔ مجھے بچالیں۔۔
اس نے سوتے میں ہاتھ بڑھا کر ماں کو پکارا تھا۔
میں یہیں ہوں میری جان۔
جبین نے اسکے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں مضبوطئ سے جبین کاہاتھ پکڑا۔۔ اسے یک گونہ اطمینان نصیب ہوا تھا۔ماں اسکے آس پاس تھی۔ اب کوئی فکر نہیں۔۔
اریزہ اب لرز نہیں رہی تھئ۔ ۔ جبین کتنی دیر اسکے برابر اپنا ہاتھ اسے تھمائے بیٹھی بے آواز روتی رہی تھیں۔۔۔ خواب تھا یا حقیقت ادراک نہ ہوسکا۔۔
اریزہ نے اسکا ہاتھ مضبوطئ سے تھام کر آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔
اس نے ایک نظر ادھر ادھر دیکھا۔ پھر بے چارگی سے اسے دیکھنے لگا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔۔
جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko Salam Korea ki qist ?Rate us below

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

Salam Korea Episode 18

Salam Korea
by Vaiza Zaidi

سلام کوریا قسط 18

New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.
Bookmark : urduz.com
kuch acha perho
Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy
Episode 
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books
Salam Korea Episode 18

کم خاندان کی یادگاری آخری آرام گاہ ۔۔۔
کسی عجائب گھر کی طرح انکی آخری سات پشتوں کے ہر فرد کی آخری آرام گاہ جس میں بڑے سے لان میں درجنوں خوش رنگ پھولوں کے کنج تھے تو ایک قطار میں درخت بھئ آب و تاب سے کھڑے تھے۔ ہر درخت کے ساتھ زمین پر ایک تختی لگی تھی۔ جس پر کسی مرحوم یا مرحومہ کیلئے توصیفی کلمات پیدائش اور وفات کی تاریخیں درج تھیں۔۔۔اونچے اونچے ان درختوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ مرحوم مرحومہ کو دنیا سے گئے بھی ایک طویل عرصہ ہوچکا ہے۔ کچھ بالکل نئے پودے بھی تھے
کچھ کے نام کے پودے مرجھا گئے تھے انکی جگہ تازہ پودے لگائے گئے تھے۔اس بڑے سے لان کے دائیں جانب ہال نما عمارت تھی جس کے اندرچہار اطراف دیوار گیر شوکیس بنے ہوئے تھے ۔ہر شوکیس میں ایک چھوٹے چوکور خانے میں مرحوم یا مرحومہ کی باقیات کورین روائتی مرتبان میں سجی تھی ساتھ اہل خانہ کی پسند کے مطابق انکی تصویر اکیلی یا اہل خانہ کے ہمراہ فریم میں سجی تھی۔ ملاقاتی پھولوں کا گلدستہ اسی خانے میں سجا دیتے۔۔ وہ کتنی ہی دیر سے وہ اس شوکیس کے سامنے کھڑا بے بسی سے اپنی ماں کی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔ باقی شوکیسوں کے برعکس اسکی ماں کی تصویر سجی تھی۔اسکے برابر والے خانے میں اسکے باپ کی باقیات اور انکی تصویر تھی۔ دونوں خانوں میں اس کا خاندان احوال چارٹ میں بھی ذکر نہ تھا
پہلے اسکے باپ کے خانے میں اسکی بچپن کی اپنے باپ کے ہمراہ بیس بال کیپ پہنے خوبصورت تصویر سجی تھی۔وہ اسکی ماں نے ہٹائی تھی۔ اور اب اسکی ماں کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اسے کاٹ کے الگ کردیا گیا تھا۔
اس آرام گاہ کی دیکھ بھال پر معمور ملازم اسے دیکھ کر سیدھا اسکے پاس چلا آیا تھا۔ ادب سے جھک کر کورنش بجا لایا۔ جوابا وہ بمشکل سر کے اشارے سے جواب دے سکا۔
آپ کیلئے تازہ پھولوں کا گلدستہ منگوا دوں۔
اسے خالی ہاتھ کھڑا دیکھ کر اس نے فورا اپنی خدمات پیش کیں۔
پھول ۔۔۔ اس نے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھا۔ پھر خیال آیا۔
پھول ہاں کم از کم وہ پھول تو لا سکتا تھا۔ مگر وہ یونہی یہاں خالی ہاتھ جھلاتا چلا آیا۔
اس نے خانے کے شیشے پر دھیرے سے ہاتھ رکھ کر جیسے اپنی ماں کا لمس محسوس کرنا چاہا۔
یہ مرتبان چھوٹا سا نہیں ہے؟
اسکے جواب کا منتظر ملازم اسکے سوال پر چونکا
دے؟؟۔ وہ سمجھ نہ سکا اسکا مطلب۔
میری ماں کا قد بہت اچھا تھا۔ پانچ فٹ سات انچ۔مجھے ۔۔
اسکے گلے میں آنسوئوں کا گولہ سا اٹکا۔ آواز بھرا سا گئ۔
مجھے اچنبھا ہے کہ انکی باقیات اتنے سے مرتبان میں کیسے سمٹ پائیں۔
جملہ مکمل کرتے اس نے اسی شیشے پر سر ٹکا دیاتھا۔ اسکے بے آواز آنسو بہہ نکلے تھے۔
سچ پوچھیں تو یہ مرتبان آدھے خالی ہی ہیں۔سیمیٹری سے انسان بس ذرا سی راکھ دھول بن جاتے ہیں آگ اتنی ہی بے رحم ہے۔
ملازم یہی سمجھا تھا کہ اسے وہم ہورہا ہے کہ اسکی والدہ کی باقیات ضائع ہوئی ہیں وغیرہ سو انداز سادہ سا صفائی دینے والا ہی تھا۔ مگر اسکے جملے پر علی خود پر ضبط کھو بیٹھا۔ قدموں سے جیسے جان سی نکلتی گئ۔ وہ وہیں گھٹنوں کے بل گر سا گیا تھا۔
اس آگ سے آپکو بچانا چاہتا تھا یہ آگ آپکو لپیٹ لے گئ آہماں۔۔
وہ مٹھیاں بھینچے بلک بلک کر رو نے لگا۔ ملازم بے چارگی سے اسے دیکھتا رہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون اسے اور اریزہ کو اس مشہور ہندوستانی ملبوسات کی دکان پر لایا تھا۔ رنگوں کی بہتات جھلمل ملبوسات دونوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ انگرکھے، لہنگا چولی سے لیکر راجستھانی فراک ساڑھیاں۔ سب کچھ بے حد خوبصورت تھا۔مگر سارا جوش آدھے گھنٹے میں ختم ہوچکا تھا۔
اریزہ کو راجستھانی فراک پسند آئی پشواز کی جامنی نیلے امتزاج کی خوب گھیر والی فراک جس پر سنہرا کام تھا دیدہ زیب اور سادہ ساتھ سنہرا ہی چوڑی دار ۔۔ مگر گلا آگے پیچھے سے خوب گہرا۔ اس گہرے ترین گلے پر پیچھے بس ایک سنہری ڈوری تھی۔
سیلز گرل نے اسکی دلچسپی بھانپ کر اس جوڑے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے شروع کردیئے۔
آپکا رنگ اتنا صاف ہے یہ تو خوب کھلے گا آپ پر۔اس کی آستین دیکھئے اس پر کام دیکھیں۔ آپکے سڈول گورے بازو اس میں دمکیں گے۔
چلو چھٹی ہوئی۔ آستین مکمل سی تھرو تھی وہ بد دل سی ہوئی۔
آپ پہن کر دیکھ لیں۔
اس نے اکسایا۔ وہ ابھی بھی شش و پنج میں تھی۔
سنتھیا نے نارنجئ پٹے ہوئے سلور کام والی مختصر سی سلک کی قیمض اور غرارہ پسند کیا تھا۔ اسی وقت چینجنگ روم میں جا کر پہن بھی آئی۔
اسکے نازک وجود پر یہ لباس خوب بیٹھا تھا۔ وہ قد آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھ رہی تھی۔
اریزہ فراک اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہی تھی جب ایڈون کی آواز پر چونک کر مڑی۔۔۔
سنتھیا یہ آف وائٹ کام والا لو نا یہ ذیادہ پیارا ہے۔ یہ اورنج تو اوور سا لگ رہا ہے۔
اسکا انداز سادہ سا تھا۔ وہ بھی دل ہی دل میں متفق ہوئی۔ واقعی یہ لباس اتنا اچھا نا تھا۔ دور سے ایسے لگ رہا تھا جیسے آگ سی لگی ہو۔ شائد کچھ لوگوں کو ایسا رنگ ایسے کام کے ساتھ پسند آتا ہوگا جبھی تو ڈیزائنر نے یہ ڈئزائن کیا مگروہ کچھ لوگ اس وقت دکان میں موجود نہ تھے کم ازکم۔ وہ جل کر اریزہ کے پاس چلی آئی۔
اریزہ بتائو یہ کیسا لگ رہا ہے مجھ پر ۔
وہ یقینا تعریف سننا چاہ رہی تھی۔
اریزہ نے سرتاپا اسے دیکھا پھر متاثر ہوجانے والے انداز میں بولی۔
بہت سلم بہت اسمارٹ لگ رہی ہو یار۔ روزے رکھ رکھ کر میں اتنی پتلی نہ ہوسکی جتنئ تم لگ رہی ہو بالکل ماڈلز کیے جیسی ۔۔
اس نے دل سے بے ساختہ تعریف کی تھی مگر سنتھیا پر اوس سی آن گری۔ بس دبلی پتلی؟ وہ تو تھی ہی مگر یہ لباس کیا اس پر جچ رہا بس شکل نہ دیکھو تب؟ اس نے بلا ارادہ اپنےملبوس پرہاتھ پھیرا۔ اپنے سانولے ہاتھوں کو اس گہرے نارنجی رنگ پر مزید سنولاتا دیکھا تو جھٹ سے ریلنگ پر سے ایک ہنگر اٹھاتی اندر بدلنے چلی گئ۔ اریزہ نے ابھی وہی ہینگر لگایا تھا اب پلٹ کر دوسرے لباس دیکھنے لگی۔
گلابی اور پیچ کے امتزاج کا ڈبل بریس کرتا پاجامہ ساتھ سنہری کام والا دوپٹہ تھا۔ ڈھیلا ڈھالا۔ سادا سا۔ بس گلے سے دامن تک سنہرئ کام والی پٹی آرہی تھی۔ اس نے قیمت پوچھی تو نہایت انکساری سے سیلز گرل نے جواب دیا۔
ساڑھے تین لاکھ وون ۔۔
ساڑھ۔۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
سونے کی تاروں کا کام کیا ہوا ہے کیا ؟
اس نے طنز نہیں کیا تھا حقیقتا یہی سمجھی تھی۔ ڈیزائنر ڈریس ہے کچھ بعید نہیں۔
آنیا۔
وہ بوکھلائی۔
یہ بھی عجیب معاملہ۔تھا۔ ہندوستانی دکان کورین باجی نوکر تھیں اور انہیں انگریزی خوب اچھی آتی تھی۔
آپ چاہیں تو قسطوں میں ادائیگئ کر لیں۔
اس نے اسے مشکل میں دیکھا تو مدد کو بولی۔۔
آندے۔ ا س نے گہری سانس لی۔
اسی وقت موبائل میں ایکسچینج ریٹ دیکھا۔ گو کورین وون لاکھوں میں ہوں تو پاکستانئ عدد میں آدھے بن جاتے مگر ۔۔۔۔
اس نے موبائل کائونٹر پر رکھا اور والٹ میں جھانکنے لگی۔
کیا میں اس فضول خرچی کی متحمل ہو سکتی ہوں۔
وہ شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔
کیا ہوا ؟ پیسے کم پڑ گئے کیا؟
ایڈون اسکے پاس آکھڑا ہوا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میچنگ سینڈلز ائیر رنگز انہوں نے خوب دل کھول کر شاپنگ کی تھئ۔ اسے سب شاپنگ تھما کر ٹیکسی میں بٹھا کر ایڈون اور سنتھیا خود آگے کہیں چلے گئے۔۔ سنتھیا کا موڈ تھوڑا سا آف تھا پھولا ہوا تھا۔ وہ سر جھٹکتی ٹیکسی میں بیٹھ گئ ۔ ٹیکسی نے اسے ہاسٹل کے باہر اتارا تھا۔تین اسکے تین ہی سنتھیا کے بڑے بڑے شاپنگ بیگز ۔۔ وہ سنبھالتے سنبھالتے ہلکان سی ہونے لگی۔ راہداری سے ہاسٹل کی سیڑھیوں تک درجنوں لڑکیاں گزریں مجال ہے کسی نے اپنی خدمات پیش کی ہوں۔ بے مروت لڑکیاں۔ وہ دانت پیستی سیڑھیاں چڑھتی اوپر آئی سانس وانس پھول چکی تھی۔ شاپنگ کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی وسط میں ڈھیر کی پھر تھک کر سنتھیا کے بیڈ پر گر سی گئ۔
اف توبہ۔ ایسے بے مروت لوگ نہ دیکھے۔ ابھی پاکستان ہوتا تو۔۔۔۔
وہ چڑ کر اٹھ بیٹھی۔ سنتھیا کے شاپنگ بیگز اسکی الماری میں رکھ کر اپنے بیگز لیکر وہ اوپر چلی آئی۔
سب بیگز نکال کر بیڈ پر پھیلائے۔
بلاگ پر اسٹیٹس لگانا تھا سو ابھئ بس شاپنگ بیگز کی تصویریں چاہیئے تھیں۔ اس نے ایک انداز سے سب کو لگاکر بیگ سے موبائل نکالنے کیلئے بیگ کھولا۔ ہاتھ ڈالا۔ چیزیں نکلتی گئیں۔والٹ، گھڑی ، پین ، ہینڈزفری، شاپنگ کی رسید ائیررنگز، لاکٹ نہیں نکلنا تھا تو موبائل نہیں نکلا۔
اسکے ہاتھوں کے طوطے کبوتر سب اڑ گئے۔
آخری بار موبائل اس نے نکالا تھا کورین وون کی پاکستانی روپے میں قیمت کا اندازہ کرنے اور۔ کائونٹر پر رکھا۔ پھر اٹھایا۔۔ نہیں ۔۔
اسکی روح فنا ہوئی۔ موبائل بس رکھا ہی تھا اٹھایا نہیں۔۔
وہیں کائونٹر پر چھوڑ دیا۔ وہ صدمے کی حالت میں دل تھامتی وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھتی چلی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیلز گرل نے اسکی شکل دیکھتے ہی فون نکال کے سامنے رکھ دیا تھا۔
گومو وویو۔ فون لیکر وہ کوریائی انداز میں رکوع میں ہی چلی گئ تھی۔ دو تین بار جھک جھک کے شکریہ ادا کیا۔
وہ اسکے انداز پر مسکرا دی۔
پرس سنبھالتی موبائل کو حقیقتا سینے سے لگائے وہ دکان سے باہر نکلی تھی۔ اتنے دنوں میں پہلی بار اکیلی خود پر بھروسہ کرکے نکلی تھی۔ ٹیکسی سے آئی تھی۔ اوراب پھر ٹیکسی لینی تھی۔ اب چونکہ موبائل ہاتھ میں تھا سو آرام سے ٹیکسی منگوا سکتی تھی۔ خراماں خراماں دکان سے نکل کر حسب عادت ادھر ادھر دیکھے بنا سڑک کی جانب رخ کیا۔ سر ایک کھمبے سے بندے سے ٹکرایا تھا موبائل ہاتھ سے چھوٹا گول گول چکر کھا کر لمحہ بھر کو چمکا پھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ بھونچکا سی اس افتاد پر اپنے موبائل کو روہانسی انداز میں دیکھتی رہ گئ۔
ٹکرانے والا بیان کہتا نکل لیا تھا۔
اتنئ منحوسیت؟؟؟
وہ دلگرفتہ سی موبائل اٹھا کر دیکھنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے لگا تھا ہم عید کے دن بھی یونیورسٹی جا رہے ہوں گے۔
کانوں میں میچنگ ائیر رنگ ڈالتے اریزہ نے ہنس کر کہا تھا۔
ہاں شکر ہے ہفتے کی عید پڑی ہے۔ پاکستان میں کب ہے عید؟
سنتھیا بالوں کو ہیئر ڈرائیر سے سوکھا رہی تھی۔
شائد کل اور پشاور والوں نے تو آج منا لی ہوگی۔ جانے کیا مزا آتا ہے ہر سال یہ تفریق پیدا کرکے۔
وہ جھلائی ۔۔سنتھیا مسکرا دی۔
یہاں بھی تو دیکھو عید منا رہے ہیں بنا کسی جھگڑے کے۔
وہ مزید کہتی آئینے کے سامنے سے ہٹ گئ۔ اب سنتھیا کے تیار ہونے کی باری تھی۔۔۔
سرمئی فراک اسکا کھلا گہرا گلا ۔۔۔ سنتھیا کے لانبے بال احتیاط سے ایک طرف کرکے آگے کیئے پھر اسکے گلے کے پیچھے ڈوریاں کس کر گرہ لگادی۔۔
شکریہ۔ سنتھیا نے سر جھٹک کر کہتے بال پیچھے کر لیئے۔۔کمر تک لانبے سنتھیا کے گھنے سیاہ بال اسکی پشت کو ڈھانک گئے۔
یار میرے بال اسٹریٹ کر دو پیچھے سے۔
نا اسکے سنتھیا جیسے گھنے سلکی بال تھے نا اسکے جتنے لمبے کہ بنا ان کے ساتھ دو دو ہاتھ کیئے وہ تیار نہ ہو سکتی تھی۔۔۔ سومنت بھرے انداز میں بولی۔
سنتھیا نے اپنا میک اپ ادھورا چھوڑا اور اسکے ہاتھ سے اسٹریٹنر لیکر بال اسٹریٹ کرنے لگی۔
دو تین بار دوپٹہ الجھا تو دوپٹہ اتار کر رکھ دیا ایک طرف۔
گو سامنے اریزہ ہی تھی اور اس وقت تو سر جھکائے بیٹھی موبائل میں مگن تھی پھر بھی اسے جھجک سی آئی۔
یار یہ گلا کچھ ذیادہ گہرا ہے۔ تم ہی کھڑی ہو جائو میں اس سے ذیادہ نہیں جھک سکتی۔
وہ جھکتے جھکتے رکی۔ پھر جھلا کر بولی
اریزہ نے سر اٹھا کر اسکی جھلائی شکل دیکھی پھر ہنستی اٹھ کھڑی ہوئی۔
یہ لو۔ یہ ڈریس لیتے لیتے میں نے اسی وجہ سے چھوڑا تھا۔
اسکی بات پر سنتھیا کے ہاتھ جہاں تھے وہاں رک سے گئے۔
کیا مطلب؟ وہ چونک سی گئ۔
یہ ڈریس لینے لگی تھی میں مگرایک تو گلا اتنا گہرا ہے آگے پیچھے سے۔ اوپر سے آستینیں الگ سی تھرو۔جبھئ واپس رکھ دیا تھا آ۔۔
اسٹریٹنر اسکی چندیا پر گرم گرم لگا توجملے کے آخرمیں چیخ سی پڑی۔
اوہ۔ سوری ۔۔ سنتھیا نے سٹپٹا کر ہاتھ پیچھے کیا۔ اسکے سر کے بیچوں بیچ میں سے بالوں کی موٹی سی لٹ سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
ہاہ۔ سنتھیا کی بچی سر جلا دیا میرا۔
وہ تڑپ کر اپنا سر سہلاتی وہیں بیٹھ گئ۔
آئم سو سو سو ری۔ اس کو کچھ سمجھ نہ آیا۔ اریزہ کی آنکھوں میں ضبط کے باوجود آنسو آگئے تھے۔ سنتھئا کو کچھ سمجھ نہ آیا تو گلاس میں پانی لاکر سر پر چھڑکنے لگی۔
آئم سو سوری۔اریزہ بالکل غلطی سے ہوا سو سوری۔
وہ معزرت کرتی روہانسی سی ہوگئ۔
اٹس اوکے۔۔ شکر ہے بال نہیں جل گئے۔ بس تھوڑی سی جلن ہے۔
اسے اتنا پریشان ہوتا دیکھ کر اریزہ الٹا اسے تسلی دینے لگی۔
سنتھیا نے دزدیدہ نگاہوں سے اسکا سر دیکھا پھر سر جھکا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں تیار ہو کرباہر نکلیں تو ہاسٹل کے گیٹ تک درختوں تک نے منہ کھول کر انہیں دیکھا تھا۔ کچھ لڑکیاں تو انہیں خلائی مخلوق سمجھ کر انکے راستے سے بھی ڈر کر ہٹ گئیں۔ رہی سہی کسر گیٹ سے باہر نکل کر پوری ہوگئ۔
سالک شاہزیب ایڈون کے ساتھ یون بن کم سن ہایون اور گوارا بھی کھڑے تھے۔ گوارا تو دوڑ کر انکے پاس آئی۔
یہ۔ یہ تم لوگوں نے بھارتی لباس پہنا ہے؟ اف میں نے بھی پہننا تھا۔ کہاں سےلیا۔ کتنا پیارا ہے۔ وہ کھلے دل سے تعریف کر رہی تھی۔
اور یہ کیا ہے۔ اس نے بڑی حیرت سے اریزہ کے سر پر جمے دوپٹے کو چھوا۔
اسکو سر پر بھی لیتے ہیں۔
سنتھیا نے حفظ ماتقدم کے طور پر اسکا ہاتھ پیچھے کردیا۔
ہاں ایسے انڈین برائڈز سر پر لیتی ہیں نا۔ گوارا کی معلومات پکی تھیں۔
چلو آدھے ہایون کی گاڑی میں آدھے یون بن کی گاڑی میں چلیں گے۔
ایڈون انکے قریب آکر بولا۔۔
اریزہ کو سچ مچ اپنا آپ دلہن لگنے لگا تھا۔ اس وقت وہ مرکز نگاہ تھی۔ اس نے سٹپٹا کر گھورا
ان لوگوں کو ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت تھی۔
انکو ساتھ لے جانے پر مفت میں سواری مل رہی ہے اور کیا چاہیئے۔
ایڈون شرارت سے بولا۔
چلو آجائو سارے۔
یون بن بلا رہا تھا
اریزہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔
اس نے بے تکلفی سے جملہ چسپاں کیا۔ یہی جملہ کسی دیسی نے کہا ہوتا تو برا مان جاتی اس وقت بھی اچھا تو نہ لگا مگر ہونٹ بھینچ گئ۔
تمہارا ہبئ بہت لکی ہے۔ سونے پر سہاگہ۔ اس کا سارا موڈ غارت ہوا۔
نو ڈائوٹ تم پیاری لگ رہی ہو۔
ہایون نے بھی اسے سراہنا فرض سمجھا۔
اریزہ پیارئ لگ رہی ہو۔
سالک شاہزیب دونوں جان کے باری باری انگریزی میں بولے۔
ہاں سچ میں پیاری لگ رہی ہو
گوارا دل سے بولی۔
ایڈون بھی انکی شرارت میں شامل ہوگیا۔۔
اریزہ تم ۔۔
اریزہ حقیقتا اپنا پرس گھما کر اسے لگانے لگی تھی کہ وہ بچتا ہنستا ہوا بھاگا۔ وہ سب اب اریزہ کو ہوٹ کررہے تھے۔ اسکے گرد دائرہ بنا کر تالیاں بجاتے اسی جملے کی گردان کر رہے تھے۔ اریزہ کا ہنستے ہوئے اور کچھ خفت سے منہ سرخ ہو چکا تھا۔
سنتھیا نے گہری سانس لی۔ یہاں موجود سب لوگوں کو وہ شائد نظر بھئ نہیں آرہی تھی اریزہ کے سامنے۔
اس نے یونہی اپنا موبائل نکال کر وقت دیکھا تبھی کوئی اسکے قریب آگیا اس نے چونک کے سر اٹھایا۔
سنتھیا تم پیاری نہیں۔۔۔ کہنے والا ذرا سا تھما۔۔
حسین لگ رہی ہو۔
چندی آنکھوں والا وہ لڑکا ماتھے پر بکھرے بال وہ شائد اس سے دوسری بار مخاطب ہوا ہوگا۔ وہ اتنی حیران رہ گئ کہ بس ٹکر ٹکر دیکھتی رہی۔
کم سن اسکی حیرانی پر مسکرادیا۔ بھر پور مگر سادہ سی مسکراہٹ وہ نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھتی رہی وہ سر جھٹکتا مڑا ان کی ہلڑ بازی سے بے نیاز سب سے پہلے جا کر ہایون کی گاڑی کے پاس جا کھڑا ہوا۔
ہایون نے اسے دیکھ کر فورا گاڑی انلاک کردی تھی۔
آئو سنتھیا۔
ایڈون پکار رہا تھا اسے۔ اریزہ اور گوارا باتیں کرتی یون بن کی۔گاڑی کی۔جانب بڑھ چکی تھیں۔۔ وہ سر جھٹکتی ایڈون کے پاس چلی آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عید کی مناسبت سے پاکستانی سفارت خانے میں تقریب کا اہتمام تھا۔ ایک جانب کھانے پینے کی چیزوں کے اسٹالز تھے روائتی پاکستانی پکوان کی خوشبو چار سو پھیلی تھی تو دوسری جانب پاکستانی آرٹس اینڈ کرافٹس کے اسٹال سجے تھے۔ کچھ فنکار پرفارم کرنے آئے تھے۔ پاکستانی کمیونٹی اور مسلم کمیونٹی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی و غیر ملکی بھی بڑی تعداد میں رونق میلہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ ۔۔۔ یہاں آکر انکو اندازہ ہوا تھا کہ کوریا میں صرف وہ چار پانچ لوگ ہی بس پاکستان سے نہیں آئے تھے بلکہ ایک بڑی تعداد موجود تھی۔۔۔ وہ پانچوں ذیادہ تیار ہو کر آئے تھے اپنی جانب سے مگر یہاں تو رنگ و بو کا سیلاب آیا ہوا تھا۔۔۔۔
اف گوارا کو ضرور وئک اینڈ پر گائوں جانا تھا ورنہ اسے تو ضرور دکھاتئ میں پاکستانی لباس بلکہ اسے بھی پہنواتی میں۔
اریزہ کو افسوس ہو رہا تھا۔ اور اس سے ذیادہ سنتھیا کو اسے دیکھ دیکھ کر۔
سوری اریزہ۔
ہاسٹل سے یہاں تک کے سفر میں جانے کتنے ہزار دفعہ وہ یہ دہرا چکی تھی کہ اریزہ کو جھنجھلانا پڑا
تمہارے سوری کہنے سے میری چندیا کی جلن ختم ہورہی ہے نا جلے ہوئے بالوں کی جگہ چمکدار گھنے لمبے بال اگ آئے ہیں سو اپنا سوری اپنے پاس رکھو۔
اریزہ کے جملوں پر اسکا مزید منہ اتر گیا۔
اریزہ شرمندہ ہوگئ۔
اچھا نا بس کرو۔ وہسے بھی تم نے اتنا اچھا دوپٹہ سیٹ کیا ہے میرے سر پر کہ ناممکن ہے کسی کو پتہ لگے کہ میرے بالوں کا کیا حشر ہوا ہے۔
وہ دانستہ ہنسی ۔۔ سنتھیا بھی مسکرا دی۔ درجن بھر پنیں ٹھونک کر اس نے دوپٹہ اسکے سر پر ٹکا دیا تھا اور سچ تو یہ کہ دوپٹے کے ہالے میں اسکا چہرہ مزید سنہرا لگ رہا تھا۔
یہ لو سویاں۔ پھر نہ کہنا کہ عید پر سویاں کھانے کو نہ ملیں۔
ایڈون نے ڈسپوزایبل پیالہ لا کر اسے تھمایا۔
میرے لیئے؟ سنتھیا سوالی ہوئی۔
یار اس اسٹال پر سب سے ذیادہ رش تھا یہ کورینوں سے پاکستانی کھانے کھائے نہیں جا رہے سب سی سی کرتے سویوں پر ٹوٹ پڑے یہ آخری پیالہ تھا ۔ میں نے شکر ہے کھایا نہیں تھا ورنہ یہ بھی نہ بچتا۔
ایڈون ہنس ہنس کر بتا رہا تھا۔ سنتھیا کا منہ بن گیا۔
کوئی نہیں اتنی ذیادہ ہے یہ ہم سب کھا سکتے ہیں۔یہ لو سنتھیا۔
اریزہ نے چمچ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو وہ درشتی سے بولی۔
تم کیا چاہتی ہو ہر چیز مجھے تمہاری چھوڑی ہوئی ہی ملا کرے۔ مجھے نہیں چاہیئے۔
ارے۔ اسکی۔بات پراسکا منہ کھلا رہ گیا۔
ایڈون کی پیشانی پرناگواری کی کئی شکنیں پڑ گئیں۔
جنہیں دیکھ کر اسکو مزید غصہ آگیا ۔۔ تن فن کرتی آگے بڑھ گئ۔
اسے کیا ہوا۔
اریزہ کو سمجھ نہ آیا اسکا غصہ۔
پاگل ہوگئ ہے اور کیا ہوا۔ ایڈون جل کر بولا۔ پھر خود کو گہری سانس لیکر پرسکون کرنے کی کوشش کرتا اسکے پیچھے چل پڑا۔
اس نے کندھے اچکا کر بڑا سا چمچہ لیا ابھی منہ میں رکھا ہی تھا فون بج اٹھا اس نے بے دھیانی میں چمچ منہ میں ہی رکھے رکھے چھوٹے سے پرس سے موبائل نکال کر مزے سے دیکھنے لگی کہ کس کی کال ہے کہ کلک کی سی تصویر کھنچنے کی آواز پر چونک سی گئ۔
اس پر کوئی فلیش آیا تھا اور تصویر کھنچ گئ تھی۔ یا شائد وہم ہوا تھا۔منہ میں چمچہ لیئے وہ صدمے سے چمچ منہ سے نکالنا بھول گئ۔
سر اٹھا کے ادھر ادھر دیکھا۔ وہ داخلی حصے میں کونے میں کھڑی تھئ کچھ فاصلے پر اسٹالز تھے لوگ یہیں سے گزر کر آ جا رہے تھے۔ کئ فوٹرگرافر وی لاگرز آئے ہوئے تھے کیمرہ تھامے کئی صحافی اس تقریب کا احوال محفوظ کر رہے تھے۔ دو تین تو سامنے ہی تھے ایک نے فوری اسے اپنی جانب دیکھتا پا کر رخ بدلا تھا۔ اسے یہ اتفاق نہ لگا۔
ہیلو ۔۔ اریزہ۔ صارم اسکی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے پر پکار رہا تھا۔
صارم۔
وہ روہانسی ہوئی۔ چمچ منہ سے نکال کر غصے میں پھینک ہی دیا۔
میری تصویر کھنچ گئ ہے او رمجھے پتہ بھی نہیں کہ کس نے کھینچئ۔
تو کیا ہوا۔ صارم حیران ہوگیا۔
کون ہے میں چھوڑوں گی نہیں اسے۔۔۔ اسکا غصہ بے قابو ہونے کو تھا۔
بعد میں بات کرتی ہوں تم سے۔
اس نے فون بند کرکے بیگ میں رکھا اور اپنی تصویر کھینچنے والے فوٹوگرافرکی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔
تیز تیز قدم اٹھاتی اسکا رخ سیدھا اسی چندی آنکھوں والے ڈی ایس ایل آر تھامے لڑکے کی جانب تھا جو اسکو دیکھ کر رخ بدل گیا تھا۔
اریزہ ادھر۔۔۔
ہایون اسکے ایکدم سامنے آگیا جانے کیا کہنے لگا تھا اس نے اپنے ہاتھ میں تھاما پیالا اسے تھمایا اور تن فن کرتی آگے بڑھی۔۔
ہایون نے حیرت سے اپنے ہاتھ میں تھمایا ہوا پیالہ دیکھا پھر مڑ کر اسے دیکھا۔
لمحہ بھر کو ہی ہایون نے توجہ بھٹکائی تھی اسکی۔اور وہ لڑکا نظر سے اوجھل ہوگیا تھا۔ ایکدم بھیڑ میں گھس کر غائب۔۔وہ بیچ راستے میں کھڑی متلاشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھئ۔
کیا ہوا۔ ؟ ہایون نے پوچھا
وہ ۔۔ وہ لڑکا ۔۔ اس نے میری تصویر کھینچ لی۔ وہ بھی اتنی بری۔۔ ۔ میں اسکی جان نکال دوں گئ۔
وہ مٹھیاں بھینچ کر بولی۔
کس نے۔ ہایون فورا سنجیدہ ہوا۔
وہ ادھر کھڑا تھا۔ بلو اپر پہنے تھا۔ہڈ سر پر لیا ہوا تھا۔ مجھے دیکھ کر بھیڑ میں گھس گیا۔
ہایون نے لمحہ بھر بھی تاخیر نہ کی تیز تیز قدم اٹھاتا بھیڑ کی جانب بڑھا۔ وہ بھی اسکے پیچھے بھاگئ آئی۔ چند لمحے لگے تھے اسے ڈھونڈنے میں۔ وہ اب ایک پاکستانی کپل کی تصویر بنا رہا تھا۔ جو گول گپے کھا رہے تھے۔
ہایون اسکے سر پر جا پہنچا۔۔۔
یہ لو۔ اس نے پیالہ اسکی جانب بڑھایا ۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے کیمرہ ایک ہاتھ میں لیکر دوسرے ہاتھ سے تھام گیا۔۔
وے؟ ۔۔۔ وہ پوچھ رہا تھا۔ ہایون نے اسکے ہاتھ سے کیمرہ چھین کر فورا تصویریں دیکھنی شروع کردیں۔ وہ لڑکا حیران پریشان اسے دیکھ رہا تھا۔وہ دبلی پتلی جسامت کا اوسط قد کا حامل لڑکا تھا اسکے مقابلہ ہایون کا چھے فٹ سے اوپر قد اور جارحانہ انداز۔وہ قدرتی طور پر رعب میں آگیا تھا۔
ویو؟کیا مسلئہ ہے آپکے ساتھ۔
چوری چھپے تصویر کھینچتے ہو لڑکیوں کی شرم نہیں آتی۔ ؟ میں تمہیں پولیس کے حوالے کردوں گی۔ سمجھے۔
اریزہ کی بھاگتے سانس پھول چکی تھی۔ مگر لڑکا وہی تھا۔ قریب آتے ہی اس پر چڑھ دوڑی۔۔ مگر اردو میں ۔وہ بے چارہ حیران پریشان اس افتاد پر بھونچکا سا کھڑا بٹر بٹر دیکھے جا رہا تھا۔
کیا کہہ رہی ہو آگاشی۔
ہایون نےجلدی جلدی اسکی پچاس سے اوپر تصویریں دیکھ لیں۔ مگر اسے اریزہ نظر نہ آئی۔
اس نے اریزہ کو آنکھوں سے اشارہ کیا کہ بس کرے۔
اسکا کیمرہ ہی توڑ دو تاکہ باز آجائے یہ۔
اریزہ مزید تیز ہو کر بولی۔۔ ۔ ہایون نے کھسیانی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسکی جانب کیمرہ بڑھایا۔
میں یہاں کا سرکاری فوٹوگرافر ہوں اس تقریب کے اہم مناظر عکس بند کرنے کیلئےمجھےبلایا گیا ہے خاص طور پر ۔۔۔۔
وہ گلے میں لٹکا کوئی کارڈ دکھاتا درشتی سے بولا۔۔۔
تم ہوتے کون ہو میرے کیمرے کو ہاتھ لگانے والے۔
اس نے سارا رعب لحاظ بالائے طاق رکھا اور مڑ کر انتظامیہ کے اہلکاروں کو بلانے لگا۔ اتفاق یا بد قسمتی
گول گپے ہی کھا رہے تھے شائد انہی کی تصویر بھی بنا رہا تھا وہ۔
سیکیورٹی۔۔ ادھر آئو۔
اس کے پکارنے پر منہ میں گول گپے بھرے وہ چندی آنکھوں والے اہلکار فورا متوجہ ہوئے۔ اس سے قبل کہ وہ یہ چند قدم کا فاصلہ طے کرتے ہایون نے کیمرے کا بڑا سا اسٹریپ اسکے گلے میں ڈالا اریزہ کا ہاتھ تھاما اور دوڑ لگا دی۔
ہائیں۔ اریزہ بھونچکا سی اسکے ساتھ کئی قدم دوڑ گئ۔۔
میری تصویر۔۔
اریزہ نے ہاتھ چھڑاتے کہا۔ تو اس نے رک کر اسکا ہاتھ چھوڑا۔ اہلکار اس لڑکے تک چکے تھے اب معاملہ دریافت کیا جا رہا تھا۔
ہایون نے گہری سانس بھری اور پھر دوڑ لگائی۔ فوٹوگرافر اسے دوبارہ اپنے روبرو دیکھ کر ابھی صرف حیران ہی ہو پایا تھا۔
یہ میری دوست کا ہے۔ اس نے اسکے ہاتھوں سے سویوں کا پیالہ چھینا۔۔
بیانئے۔۔ بیانمیتا۔۔
معزرت بے حد معزرت۔
جھک کے کہتا وہ واپس بھی اتنی ہی تیزی سے آیا تھا۔ اریزہ بھونچکا سی کھڑی اسکی پھرتی دیکھ رہی تھی۔
بھاگو وہ پیالہ تھامے بھاگتا ہوا آیا تھا۔ اریزہ نے اسکے پیچھے دوڑ کر آتے اہلکاروں کو دیکھا پھر خود بھی دوڑ لگادی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھاگتے بھاگتے دونوں کانسرٹ والے حصے میں گھس گئے تھے۔ یہاں بھیڑ بھی تھی اور شور بھئ۔اسٹیج کے قریب بس دو رویہ بیٹھنے کا انتظام تھا باقی پورا لان کھلا تھا۔ جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں کھڑے ہو کر پروگرام سے حظ اٹھا رہےتھے۔ ۔ کوئی ابھرتا ہوا کامیڈین اردو میں مزاحیہ خاکہ پیش کر رہا تھا۔ یہاں بڑی تعداد میں جنوبئ ایشیائی شکلیں تھیں سو یہاں گم جانا آسان تھا۔۔ اریزہ کی سانس پھول گئ تھی۔۔وہ وہیں ایک کونے کی طرف بڑھ گئ۔ ہایون نے بھی اسکی تقلید کی۔ بھیڑ میں گزرتے ایک جوڑا باتوں میں مگن ہاتھ میں کپ آئس کریم پکڑے تھا اس نے آرام سے ان چھوئے والے کپ سے چمچ اٹھا لیا۔ پیالے میں رکھ کر پیالہ اسکی جانب بڑھا دیا۔
تصویر۔
ہایون نے یقینا طنز کیا تھا۔
تصویر۔ اریزہ نے آنکھیں پھاڑیں۔ یہ اچھا انکے بولے الفاظ یاد کر لیتا تھا۔۔ کمپیوٹر کہیں کا۔
اسکے کیمرے کو اچھی طرح دیکھا میں نے۔ ہایون اس بار انگریزی میں بولا۔ کوئی ایک تصویر بھی تمہاری نہیں۔۔
اتنی سی دیر میں سب دیکھ لیا؟ اریزہ مشکوک تھی۔
ہاں تو دو سال لگاتا ۔۔ وہ منہ بنا کر بولا۔
کھائو۔۔ اس نے پیالہ اسکی جانب پھر بڑھایا۔
آنیا۔ اس نے سر ہلادیا۔
جانے دو مجھے نہیں کھانا۔۔ اسکا موڈ خراب ہو رہا تھا۔ ہایون نے کندھے اچکا دیئے پھر خود کھانے لگا۔
سویٹ نوڈلز پہلی بار کھائے ہیں مزے کے ہیں۔
وہ چسکے لے رہا تھا۔
اریزہ نے کچھ کہنا چاہا پھر ہوںٹ بھینچ گئ۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ نہ سالک نہ شاہزیب نہ ہی ایڈون اور سنتھیا کوئی بھی تو دور دور تک نظر نہ آرہا تھا۔
اس کا منہ پھول گیا۔
اسکا فون اب دوبارہ بج رہا تھا۔ بابا کالنگ۔ وہ ایکدم خوش سی ہوگئ۔۔
عید مبارک بابا۔
اس نے خوشی سے زور دار آواز میں کہا۔ اسکی آواز سن کر بے ساختہ انکے چہرے پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئ۔
عید مبارک بیٹا۔ کیسی ہو ؟
میں ٹھیک ہوں آپ کیسے۔؟
وہ محبت سے بولی۔
میں بھئ ٹھیک ہوں۔اور میری گڑیا تیار ہوئی عید پر؟
جی بابا۔۔ اس نے کہتے زور و شور سے سر ہلایا۔
چلو پھر میں ویڈیو کال کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا تو اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔ اس نے ایک کان پر ہاتھ رکھا ہوا تھا تب بات سن پا رہی تھی۔
بابا ہینڈز فری نہیں ہے پاس اور میں یہاں باہر آئی ہوئی ہوں شور بہت ہے ہاسٹل جا کے بات کرتی ہوں ۔۔
چلو ٹھیک ہے میں ابھی جاگ ہی رہا ہوں اچھا آرام سے جب وقت ملے فون کر لینا۔۔
وہ بھی فورا مان گئے اسکے پیچھے سے آتا شور انکو بھی سنائی دے رہا تھا
اوکے بابا لو یو بائے۔
اس نے فون کو باقائدہ چوم کر خدا حافظ کہا۔ کال بند کرکے سر اٹھایا تو ہایون کو دلچسپی سے محظوظ انداز میں دیکھتا پایا۔
بوائے فرینڈ تھا ؟
دے؟ اسکی آنکھیں ابلیں۔
جی نہیں والد تھے میرے۔ اس نے ناک چڑھا کر بتایاپھر جتایا۔
حدہے پہلے سنتھیا کو میری گرل فریںڈ بنا دیا اب بابا کو۔۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کے علاوہ انسان کی زندگی میں اور بھی رشتے ہوتے ہیں۔
تو سنگل ہو یعنی؟
اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔۔۔
اس نے سر جھٹکا پھر اپنی سیلفی لینے لگی۔
ٹوٹی اسکرین پر تصویر کے دو حصے ہو رہے تھے۔
کیا خبر تھی فون ٹوٹ جائے گا کچھ پیسے ہی سیو کرلیتی۔
اسے خود پر غصہ آیا۔۔
لعنت ہو مجھ پر۔ اس ڈریس میں جھونک دیئے اتنے پیسے۔
اس نے اپنے کپڑوں پر جھلا کر ہاتھ مارا۔
کیا ہوا ؟ سب ٹھیک ہے؟
اس کی بڑبڑاہٹ اسے سمجھ تو نہ آئی تھی مگر جھلاہٹ نے پوچھنے پر مجبور کر دیا تھا۔
کچھ نہیں۔ آئی مین۔ آنیا۔
اس نے سر جھٹکا۔
تصویر بنانئ ہے؟ لائو میں بنا دوں؟
وہ سیلفی ہی لے رہی تھی جبھی اس نے اندازہ لگایا۔ اس نے بھی اندھا کیا چاہے دو آنکھیں فورا موبائل اسے تھما دیا۔
پوری لینا۔ پورا ڈریس آنا چاہیئے۔
اس کو بابا کو ڈریس بھی دکھانا تھا اور اسکے پیسے بھی بتانے تھے۔
مجھے پہلے خیال کیوں نہ آیا۔ اسکی آنکھیں چمک گئیں۔ ہایون اسکے موبائل میں اسی کو فوکس کر رہا تھا۔
بابا کو قیمت بڑھا کے بھئ تو بتائی جا سکتی تھی۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ اسٹیج کی۔طرف ہی روشنی ذیادہ تھی اسٹیج کے بائیں جانب پھولوں کا کنج تھا
ادھر آئو۔
وہ اسکو کہتی تیزی سے اس کونے کی جانب بڑھی۔ ہایون کا منہ کھلا رہ گیا۔ اسے لگا تھا اسکے پل پل بدلتے تاثرات تصویریں بنوانے کیلئے ہی تھے۔ وہ دو تین اسکے موبائل میں کھینچ چکا تھا۔
خاموش تصویریں کلک تک کی آواز اسکے فون میں بند تھی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکے ہاتھ میں فون بھی بند ہو گیا۔
اریزہ پھولوں والی باڑ کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
آئو نا۔ وہ پکا ررہی تھی۔ ہایون نے اسکے موبائل کا آن کا بٹن دبایا مگر وہ آن ہوا ہی نہیں۔
اریزہ ذرا سا ترچھئ ہو کر کھڑی پوز بنا رہی تھی۔ ایک بازو کہنی سے ترچھا کرکے دوسرے ہاتھ سےنزاکت سے ہاتھوں میں ہاتھ تھامے بالکل ماڈلز کی طرح۔
اس نے مسکراہٹ دباتے اسکی تصویر کھینچی۔
ایک ایسے۔
اب اس نے رخ بدلا تھا۔۔ تبھی اسکی نگاہ فاصلے پرسامنے سے آتےیون بن گوارا پر پڑی۔ گوارا اسے دیکھتے ہی ہاتھ ہلانے لگی تصویر بنانا بھول کر وہ زور و شور سے ہاتھ ہلاتی مسکرائی تھی۔ یہی منظر تصویر میں قید ہو گیا تھا۔
بس کافی ہے۔ چلو وہاں چلیں۔
اس نے فورا پینترا بدلا تھا۔ ہایون نے کندھے اچکا کر اسکا موبائل اسے واپس کر دیا۔ اور جوابا اس نے شکریہ بھی کہنا ضروری نہ سمجھا تھا تیزی سے گوارا کی جانب بڑھ گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنگن دریا کے مشرقی کنارے اسے سنتھیا ضد کرکے لائی تھی۔ دریا کنارے بنے واکنگ ٹریک پر اس وقت بس وہی دونوں تھے۔ یہاں قدرے فاصلے سے لیمپ پوسٹ تھے جن کی روشنی خاصی ناکافی تھی پراسرار اور ملگجے اندھیرے سےسجے اس ٹریک سے نیچے نشیب تھا پھر گھنی جھاڑیاں تھیں اسکے نیچے چلتا ہوا دریا۔ فضا میں جھینگروں اور اوپر سے گزرتے پل پر رواں ٹریفک کا شور تھا۔
سنتھیا کو یہاں آکر یک گونہ سکون سا ملا تھا۔
اتنا تیار ہو کر یہاں لے آئی ہو کوئی ہوائی مخلوق عاشق ہوگئ نا تو مجھے ہی اٹھا کر سیدھا دریا میں پھینک دے گی۔
ایڈون نے محتاط سے انداز میں اسے یہاں آنے پر ہی ٹوکا تھا مگر سنتھیا بے نیازی سے بولی
میں نے صلیب پہن رکھی ہے۔ ہمارے قریب بھی کوئی نہیں آسکتا۔
پھر بھی یہ وقت یہاں آنے کیلئے مناسب نہیں ہے۔ ہم اجنبی ملک میں ہیں۔ یہاں کا ہمیں ماحول کا پتہ نہیں۔
ایڈون نے سمجھانا چاہا تو وہ چڑ گئ
پاکستان سے تو ذیادہ محفوظ ہے۔۔ اور جو تمہیں عید ملن چھوڑ کر آنے کا دکھ ہو رہا تو راحت فتح علی خان نہیں آنے والے تھے وہاں ۔ اور باقی کوئی سنگر تمہارا پسندیدہ نہیں تھا۔۔
وہ بحث کے موڈ میں تھئ۔ ایڈون نے خاموشی کو بہتر جانا۔۔
کتنی ہی دیر وہ دونوں خاموش ایک لفظ بولے بنا ٹہلتے رہے کہ سنتھیا خود سے لڑتے لڑتے تھک گئ۔ ٹریک کے ساتھ بنت سنگی بنچ پر خاموشی سے جا بیٹھی۔ ایڈون کو دو تین قدم چلنے کے بعد احساس ہوا کہ وہ ساتھ نہیں۔مڑ کر دیکھا تو وہ سنگی بنچ پر سر جھکائے دونوں ہاتھ ٹکائے ہارے ہوئے انداز میں بیٹھئ تھی۔ اس نے ذرا دھیان سے دیکھا اسے۔
سرمئی جامنی نیلے امتزاج کی اس فراک میں وہ نہایت نازک سی لگ رہی تھی۔ لانبا دوپٹہ اس نے کندھے پر ایک جانب ڈال رکھا تھا۔ اسکے بال گھنے سیاہ سیدھے اور کمر تک آتے تھے اس وقت بھی پشت پر آبشار سی بکھری تھی۔ ہلکے پھلکے میک اپ میں وہ اس وقت کافی حسین لگ رہی تھی۔ مگر اسکا دل بالکل خاموش سا تھا۔
جانے کیوں اسکے ساتھ یہ ہونے لگا تھا۔ اسکے پاس باتیں ختم سی ہوگئ تھیں۔سنتھیا اسکے ساتھ اکیلے وقت گزارنا چاہتی تھی باتیں کرنا چاہتی تھی مگر جانے کیوں اسکا ذہن بالکل خالی ہوجاتا تھا۔ کوئی بات کوئی چیز ذہن میں آتی ہی نہ تھی وہ کسی روبوٹ کی طرح اسکا ساتھ دینے کی کوشش کرتا تھا۔ اسے اپنی اس کیفیت سے خود خوف آنے لگا تھا۔
سنتھیا کو جانے اسکی نظروں کا احساس ہوا تھا یا یونہی اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چونک کر سنبھل کر مسکراتا اسکے پاس چلا آیا۔
بس تھک گئیں۔۔۔ ابھی تو ہمیں واپس بھی جانا ہے
وہ ہلکے پھلکے سے انداز میں کہتا اسکے برابر آن بیٹھا۔
ہمم۔۔ وہ قصدا مسکرائی۔
بھوک لگی؟ مجھے تو بہت ذوروں کی لگ رہی ہے۔ کیا کھائو گی؟
ایڈون نے پوچھا تو وہ سر جھٹک کر بولی
مجھے کورین کھانے نہیں کھانے کسی انڈین ریستوران چلتے ہیں۔
ہمم۔ چلو اریزہ کو بھی ساتھ لے لیں گے۔ اب تو تقریب بھی ختم ہونے والی ہوگی۔
وہ روانی میں کہتا اٹھا سنتھیا ہونٹ بھینچ کرچند لمحے سوچ کر بولی
اریزہ گوارا وغیرہ کے ساتھ ہے یقینا انکے ساتھ چلی جائے گی ہاسٹل ہم دونوں چلتے ہیں نا بس۔
اس نے کوشش کرکے اپنا بولنے کا انداز سادہ سا ہی رکھا تھا۔
ایڈون نے گہری سانس لیکر اسکے تاثرات دیکھے پھر سر ہلا دیا۔
ٹھیک ہے چلو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاف توقع ان سب کو اس تقریب میں خاصا مزا آیا تھا۔ گوارا نے سندھی اجرک بڑے شوق سے خریدی تھی اب اپنے آف شولڈر ٹاپ کے اوپر کاندھوں پر ڈالے مزے سے پوز بنوا بنوا کر تصویریں کھنچوا رہی تھی۔ یون بن نے بھی سندھی ٹوپی خریدی تھی اس وقت جینز شرٹ کے اوپر یہی پہنے تھا۔ گھنے بال ماتھے پر بکھرے تھے۔ جو ٹوپی کے اگلے کٹائو سے جھانک رہے تھے۔کم سن کا چاٹ کھانے سے برا حال ہوا وا تھا سالک اور شاہزیب اسکا مزاق اڑا رہے تھے۔ ہایون گوارا کا فوٹو گرافر تھا۔ تصویریں کھینچ کھینچ کے وہ تھک گیا تھا یون بن بھی تھک گیا تھا مگر گوارا کی ہمت جوان تھی۔ وہ سب اس وقت باہر آچکے تھے پارکنگ کے قریب سڑک پر شغل جاری تھا۔ وہ تھوڑا بے چین سی ہو رہی تھی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ان سب کا واپسی کا ارادہ نہیں تھا۔
اچھابس اب ہم چلتے ہیں۔ ہایون نے آخر اسکے اس فوٹو سیشن کا اختتام کردیا۔
چلو پھر آجائو میری گاڑی کی سواریوں۔
یون بن نے نعرہ لگایا پھر بندے گن کر پوچھنے لگا۔
ایڈون اور اسکی گرل فرینڈ کہاں ہیں؟
وہ دونوں کب کے جا چکے ہیں۔
شاہزیب نے بتایا تو وہ پریشان سی ہوگئ
سنتھیا کہاں چلی گئ مجھے چھوڑ کر؟
اسکے ایکدم پریشان ہونے پر سالک نے اسے تسلی دی۔
تو کیا ہوا ہم تو ہیں نا۔ چلو یار اب چلیں۔ وہ اب شاہزیب کم سن وغیرہ سے کہہ رہا تھا۔
چلو۔ کلب چلتے ہیں۔ یہ مشورہ ہایون کا تھا جس سے سب نے اتفاق کیا۔
ہاں ٹھیک ہے۔ وہ سب پر جوش سے ہوئے
ہم گاڑیاں نکال کر لاتے ہیں۔
یون بن اور ہایون پارکنگ کی جانب بڑھ گئے۔
گوارا تم تو گھر جائوگی نا ؟
اس کو واحد امید گوارا ہی لگی۔ اسکے پاس آکر امید بھرے انداز میں پوچھا۔
نہیں کیوں بھلا۔ کل چھٹی ہے اتنی جلدی گھر جا کر کیا کرنا اس شمالی کوریائئ لڑکی کو دیکھوں جا کر یار قسم سے بھوتنی ہے پوری۔ گھپ اندھیرے میں بیٹھی رہتی ہے ہر بات کا الٹا جواب سڑی سی شکل بناکر دیتئ عجیب نفسیاتی سی ہے۔ ہایون نے سفارش نہ کی ہوتی تو پکا۔۔
مجھے گھر جانا ہے۔ اریزہ نے اسکی بات کاٹ کر بے تابی سے بتایا۔
دیوار پھلانگنی آتی ہے؟
گوارا سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔
نہیں کیوں؟ وہ اس بے محل سوال پر الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگی
اسلیئے کہ رات کے گیارہ ہو رہے ہیں ۔ ہاسٹل میں مین گیٹ دس بجے بند ہوجاتا اسکے بعد جا کر یا تو اپنی بستی کروا کر یو لگوا کر اندر جا سکتے یا دیوار پھلانگ کر ۔۔
گوارا بے نیازی سے بولی
پھر۔
اسکے تو ہوش اڑ گئے۔ گھبرا کر پوچھا۔
پھر یہ کہ میرے ساتھ چلنا فلیٹ پر۔مگر ابھی پہلے کلب چلو۔ میرا اتنی جلدی واپسی کا کوئی موڈ نہیں۔
یون بن گاڑی موڑ کر لے آیا تھا وہ اسکا ہاتھ تھامتی بولی تو اریزہ نے بھی بے چارگی سے خود کو حالات کے حوالے کردیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلب میں گوارا کا ہاتھ تھامے وہ کسی ننھی بچی کی طرح ہی داخل ہوئی تھی۔ داخلے سے لیکر راہداری سے گزرتے مین ڈانسنگ فلور تک لوگ ہی لوگ تھے مگر انکے لیئے سرعت سے راستہ بنتا جا رہا تھا۔لوگ پہلے چونک کے دیکھتے پھر گھورتے پھر فورا ایک قدم پیچھے ہو جاتے۔ وہ بری طرح سٹپٹا گئ تھئ۔ گوارا اسکے برعکس لاپروا سی تھی۔ اس نے ڈانسنگ فلور پر جا کر ہی اسکا ہاتھ چھوڑا تھا۔ او رخود بھی جھومنے لگی۔ یون بن سالک شاہزیب ہایون سب ڈانسنگ فلو رپر آچکے تھے۔ اجنبی دھن پر مگن ناچتے۔ اسے ایکدم یہ سب بہت برا اور عجیب سا لگا۔ ابھی کل تک رمضان تھا روزے رکھ رہے تھے عبادت میں مشغول تھے اور آج عین عید کے دن یہاں سب بھول بھلا کر ناچنا۔
وہ پلٹ کر ڈانس فلور سے اتر آئی۔ ڈسکو لائٹس ملگجی روشنی اسے اس منزل پر ہی شدید گھٹن ہونے لگی تھی۔
وہ انکو نظروں میں رکھتے ہوئے ہی فلور سے دور سجی نسبتا کونے میں رکھی میز کرسی پر آن بیٹھی۔
اسے شدید نیند آنے لگی تھئ۔ سحری کے بعد سونے کی عادت تھی رات کو نیند بھی دیر سے آئی تھی۔ اس وقت تو سر میں دھماکے سے ہونے لگے تھے۔
اس نے دونوں کہنیاں میز پر ٹکا کر اپنا چہرہ بازوئوں میں چھپا لیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک پاکستانی ریستوران تھا۔ جس نے عید کی۔مناسبت سے نا صرف ریستوران کو آرائشی قمقموں سے سجا رکھا تھا خاصا ڈسکائونٹ دے رکھا تھا۔ کوئی وائوچر بھی تھا ایڈون کے پاس کھانا خاصا سستا اور ذائقے دار تھا۔ سنتھیا کا مزاج اب بہتر ہوگیا تھا۔مستقل بولتے ہوئے اس نے
بریانی چکن کڑاہی خوب دل بھر کے کھائی۔ پھر خیال آیا۔
اریزہ کو بھی لے آتے ہم اسے بریانی کھانے کا دل کر رہا تھا۔
وہ بے دھیانی میں بول گئ تھئ۔ ایڈون نے ایک گہری نگاہ ڈالی تھی اس پر بولا کچھ نہیں۔ وہ پھر بھی شرمندہ سی ہوگئ۔
خجل ہو کر بات بدل گئ۔
بابا نے عیدی بھجوائئ ہے؟ کہہ رہے تھے تمہیں بھیجیں گے۔
ہاں۔ ایڈون نے مختصر کہہ کر ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کیا۔
وائو۔۔ مل گئ کتنی ہے؟ وہ بچوں کی طرح خوش ہوئئ۔
ہم کل جیجو آئی لینڈ چلیں ۔میں نے کبھی جزیرہ نہیں دیکھا۔ سنا ہے خاصئ خوبصورت جگہ ہے۔
ہم ابھی کہاں جائیں گے یہ سوچو۔ ایڈون نے اسکے انڈوں کی ٹوکری کو سر پر سے بے دردی سے گرادیا
کیوں؟ اسکا سوال بجا تھا۔
محترمہ ہم لیٹ ہو چکے ہیں۔ہاسٹل کے دروازے ہم پر بند ہو چکے ہیں۔گیارہ بج رہے ہیں۔
ایڈون نے اپنی کلائی اسکی نگاہوں کے سامنے کی۔ نئی چمکتے ڈائل والی گھڑی ۔ سنتھیا نے نگاہ چرا لی۔
پھر۔
ایڈون نے اپنی پیشانی مسلی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈانس فلور پر ناچتے جھومتے اسے اس لڑکی نے خود آکر ڈانس کی آفر کی۔ سنہری رنگت والی چندی آنکھوں میں نشے کا خمار تھا۔ اسکے ساتھ ناچتے ہوئے وہ ہوش کھو رہی تھی۔ اس نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے ڈانس فلور سے باہرلا کر ٹیبل پر لا بٹھایا۔ پاس سے گزرتی ویٹرس کو اسکے لیئے پانی لانے کا کہا۔ وہ وہیں میز پر سر رکھ کر ڈھے سی گئ۔
سومیا۔
کوئی لڑکی اسکا نام پکارتی اسکے پاس آئی۔
ہایون اسے اسکو سنبھالنے کا اشارہ کرتا خود کم سن کو ٹیکسٹ کرنے لگا
میں جا رہا ہوں گھر تم نے چلنا ہے۔
چند ہی لمحوں میں جواب آیا تھا۔۔
آندے تم جائو میں یہیں ہوں۔
اس نے گہری سانس لی۔ اسکا دل کلب سے جلدی بھر جاتا تھا جانے کیوں۔ شائد وہ سنگل تھا اسلیئے۔ مگر بہت سے سنگل لوگ بھی یہاں ہلڑ بازی کرتے ناچتے گاتے حظ اٹھاتے ہی تھے۔
تم ایک بوڑھی روح ہو ہایون۔ جوزن ایرا کے باسی جسکو آج سے کئی سو سال قبل پیدا ہونا تھا مگر لیٹ ہوگیا۔
نونا اسکے کان کھینچتے اکثر یہ جملہ کہتی تھیں۔ ابھی بھی ذہن میں انکے الفاظ گونجے تو وہ ذرا سا ہنس کر سر جھٹکنے لگا۔
پیدا تو خیر مجھے ابھئ بھی نہیں ہونا چاہیئے تھا بلکہ کبھی بھی نہیں ہونا چاہیئے تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گڑیا۔یہاں سو گئیں۔
کسی کی نرم سی آواز اسکے کان میں گونجی تھی۔ اس نے کسمسا کر اس نرم سے لمس کو محسوس کیا تھا۔
اتنے آرام سے ہلاتے رہو گے تواٹھے گی ہی نہیں۔ کتنی بار کہا ہے اسکو اپنے کمرے میں جا کے سویا کرے جانے اس صوفے پر کیسا نشہ ہے اسکول سے آکر بھی یہیں سو جاتی ہے۔
امی اسے اٹھاتے جھلا کر بول رہی تھیں
چھوڑیں امی سونے دیں۔ میں اسے گود میں اٹھا کر چھوڑ آتا ہوں۔
حماد نے نرمی سے اسکو بازوئوں میں اٹھایا تھا
سات آٹھ سالہ اریزہ کو گود میں اٹھا کر اسکے بستر پر لے جا کر بہت احتیاط سے لٹادیا تھا۔
اس نے کسمسا کر ذرا سی آنکھ کھول کر دیکھا۔ حماد کا مسکراتا چہرہ نگاہوں کے سامنے تھا۔
سو جائو ۔۔۔۔ اس نے پیار سے تھپکا۔
اس نے دوبارہ آنکھیں بند کیں پھر گھبرا کر کھولیں۔ حماد کی پیشانی سے خون کی لکیر سی اسکے گال تک بہتی چلی آئی۔ مسکراہٹ دھیمی پڑتی گئ۔ دھوئئیں کے بادل سے اسکے اورحماد کے بیچ حائل ہونے لگے
اس نے پکارنا چاہا ۔۔ اسکی زبان گنگ سی ہوگئ۔ بری طرح خوفزدہ ہو کر اس نے پکارنا چاہا۔ کہ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سرسری سی طائرانہ نگاہ کلب پر ڈالتا باہر نکلنے کو تھا کہ عجیب سا احساس ہوا۔ وہ بڑھتے بڑھتے رک کر پلٹ کر دیکھنے لگا۔۔ نیم تاریک اس کونے میں گلابی دوپٹے سے ڈھکاشناسا وجود۔میز پربازوئوں میں سر رکھے اسے مغالطہ ہوا تھا کہ کیا اسے لگا وہ کانپ رہی ہے۔ اس نے پلٹ کر گوارا وغیرہ کو دیکھا وہ سب ڈانس فلور پر ناچنے میں مگن تھے۔
وہ کچھ سوچ کر اسکے پاس چلا آیا۔
ہلکے سے گلا کھنکار کر پوچھا۔
اریزہ شا۔ گھر جانا ہے ؟
اسکے سوال کے جواب میں کوئی ردعمل سامنے نہ آیا تھا۔
اریزہ۔۔
اس نے جھک کر اسکو دیکھنا چاہا۔
اسکا چہرہ چھپا ہوا تھا دوپٹے میں۔ مگر اسکو دیکھنے پر اندازہ ہوتا تھا وہ لرز رہی ہے۔
حم۔ حماد۔ بھ۔ بھائی۔
وہ شائد کچھ بڑبڑا بھی رہی تھی۔۔
اریزہ۔۔۔
اس نے ذرا سا جھک کر اسکا کندھا ہلایا۔
اسکی ایکدم سے آنکھ کھلی تھی۔ ملگجا اندھیرا۔ نا مانوس ماحول شور۔ اسکی سانس بند ہونے لگی۔ وہ خواب سے جاگ کر بھئ جاگ نہ سکی تھی۔
اریزہ۔
ہایون نے جھک کر اسے ہلایا۔وہ ایکدم جھٹکے سے اٹھی اسکا بازو اس نے پوری قوت سے دور کیا تھا۔ اسکے منہ سے گھٹی گھٹی سی آوازیں نکلی تھیں جیسے وہ چلانا چاہ رہی ہو۔مگر آواز نہ نکل رہی ہو۔
حم۔۔ ۔۔ وہ پکار رہی تھی مگر لفظ منہ سے نکل نہیں رہے تھے۔
اریزہ۔ اسکی حالت سے گھبرا کر اس نے اسکو کندھوں سے تھامنا چاہا مگر اس نے بری طرح اسکو جھٹک کے پیچھے کیا۔ اسکا ہاتھ ہایون کی ناک پر لگا تھا۔ مگر وہ پھر بھی اسے تھامنے آگے بڑھا۔ اسکو سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا ہو رہا تھا۔ بری طرح ہانپتے ہوئے اس نے کھڑا ہونا چاہا مگر آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔
اریزہ۔
وہ اسکے قریب آنے پر مزید بوکھلا رہی تھی۔ اس بار اس نے اسے تھامنے کی کوشش کرنے کی بجائے پکارنے پر اکتفا کیا۔فل بجتی موسیقی میں اسکو کافی زور لگا کر پکارنا پڑ رہا تھا۔
اریزہ ۔۔ اریزہ۔۔۔اس نے زرا زور سے پکارا۔
اس تیسری آواز پر اس نے پہچانا تھا اسے۔ اسکی آنکھوں میں شناسائی کی رمق دیکھ کر وہ ہمت کرکے اسے تھامنے بڑھا مگر لمحہ بھر کی ہی بات تھی ہانپتے ہوئے وہ لہرائی سہارے کیلئے کرسی کو تھامنا چاہا مگر ناکام ہوتے کھڑے قد سے لہرا کر زمین پر گر سی گئ۔ہایون دم بخود سا اسے گرتا دیکھ رہا تھا۔
کین چھنا۔ وہ گھبرا کے اسکی جانب بڑھا۔ پھر خیال آیا۔تو انگریزی میں بولا۔
آر یو آل رائٹ؟ اریزہ؟
ہایون نے آگے بڑھ کر سہارا دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا وہ خالی خالی۔نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بڑے سے سیون الیون کے باہر سجی میز کرسی پر وہ بیٹھی اپنی ہتھیلیاں مسل رہی تھی۔ ہایون بنانا ملک اور چیز سینڈوچ خرید کر لایا لا کر اسکے سامنے میز پر رکھا۔
اس نے خجل سا ہو کر سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھی۔ ہایون نے سفید براق اپر پہن رکھا تھا۔ اسکا ہاتھ لگنے سے اسکی نکسیر پھوٹ گئ تھئ۔ اسکے اپر پر خون کے کئی چھوٹے چھوٹے دھبے تھے۔۔
اس نے ناک کے نتھنے میں ٹشو رول کرکے رکھا ہوا تھا۔
بیانئے۔ اس نے کہتے ہی سر جھکا لیا تھا۔
بیانئے خود سے کہو پہلے۔۔۔ وہ تیز ہو کر بولا۔
تمہیں پتہ ہے کتنا ذیادہ بی پی لو تھا تمہارا۔ بیہوش ہوتے ہوتے بچی ہو۔ کھانا نہیں کھایا ہوا تھا کیا تم نے؟
اس نے سر جھکائے جھکائے ہی نفی میں سر ہلایا
ہائش۔ اسکو اندازہ تھا۔ بس سر پیٹ کر رہ گیا۔
چلو یہ کھائو۔ پیور ویج ہے۔
اس کے تسلی دلانے پر اس نے سینڈوچ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
بھوک تو اسے واقعی لگ رہی تھی۔ مگر یہ خواب جانے کب اسکا پیچھا چھوڑنے والے تھے۔ اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔ جتنا وہ خود کو مضبوط بنانا چاہتی تھی اتنا کمزور پڑ جاتی تھئ۔
ہایون نے اپنے لیئے کاربونیٹڈ ڈرنک لیا تھا۔ اسکے مقابل بیٹھ کر وہ گھونٹ گھونٹ ختم کرنے لگا۔
تم ڈرائونا خواب دیکھ رہی تھیں؟
ہایون کو اپنا وقت یاد آگیا تھا سو نرمی سے پوچھا
اریزہ نے سر مزید جھکا لیا۔ یقینا وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔
تم لوگ عید کیسے مناتے ہو؟ میرا مطلب ہے پاکستان میں بھی کانسرٹ میں جاتے ہو ؟ ایسے ایونٹس ہوتے ہیں وہاں؟
وہ بات بدلنے کی غرض سے پوچھ رہا تھا۔
نہیں۔ وہاں ہم رشتے داروں کے گھر ملنے ملانے جاتے ہیں۔ دوستوں سے ملتے ہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بناتے ہیں۔ اور۔۔
اس نے سوچنا چاہا مگر احساس ہوا۔ پچھلی کئی عیدیں بیڈ پر اینڈتے امی کی صلواتیں سنتے گزاری ہیں۔ سنتھیا آجاتی تھی تب وہ بستر سے طلوع ہوتی تھی۔ تب امی کو اور غصہ آتا تھا۔ جب تیار ہو کر دونوں نیچے تو آجاتی تھیں مگر ڈائٹنگ کے نام پر انکی پکائی ایک چیز کو ہاتھ لگانے کو تیار نہ۔ہوتی تھیں
ناقدری ہو تم۔ ارے نصیب والوں کو عید کےدن اتنی نعمتیں نصیب ہوتی ہیں اور تم ناشکری کرتی ہو۔ اچھے سے اچھا کھانے کو موجود ہے پورا مہینہ اسکی رضا کیلئے بھوک ماری ہے تو آج اسکی نعمت کا شکر اداکرو۔۔ نماز پڑھو جی بھر کھائو خوش ہو۔ مگر یہ آج کل کی نسل ہی ایسی ہے۔ انکا سوچو جو عید کے دن بھی فاقے کررہے ہوتے ہیں کتنوں سے خوش نصیب ہو کیا یہ شکر کا مقام نہیں؟ نعمتوں سے منہ موڑنا ناشکری ہوتا ہے کسی دن عید پر اپنے ہاتھوں سے منہ میں نوالے ڈالنے والی ماں پاس نہ ہوگئ تو احساس ہوگا۔
ہر دیسی ماں کی طرح آخر میں وہ ایموشنل بلیک میلنگ پر اتر آتی تھیں۔اور وہ دونوں انکے دائیں بائیں کندھے پر جھک کر انکے گال چوم لیتی تھیں۔
اچھا نا صارم سے کہیں پہلے ہمیں گھما لائے پھر ہم پکا رات کو یہ سب کھائیں گے۔ وعدہ۔
کرما تھا یا مکافات عمل اسکے سامنے آگیا تھا۔ عین عید کے دن بھوک سے نڈھال ایک اجنبی کی عنایت ۔۔۔ اس نے جھر جھری سی لی تھی۔
تمہیں پینک ڈس اوڈر( Panic disorder) ہے؟
ہایون نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے اچانک پوچھا تھا۔ وہ بری طرح چونک کے دیکھنے لگی تھی اسے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریزہ میری ناک دیکھو مجھے لگ رہا ہے مزید ڈھے گئ ہے۔۔
لفٹ میں لگے شیشے میں اپنا چہرہ دیکھتی گوارا پریشان ہو اٹھی تھئ۔ اس نے شیشے سے ناک چپکا رکھی تھی۔ جبھی یہ وہم ہو رہا تھا۔
نہیں بالکل ٹھیک ہے ادھر مت دیکھو۔
اریزہ نے اسکوبمشکل پیچھے کیا وہ لہرا کر دوبارہ شیشے پر آرہی اسکا منہ سیدھا شیشے پر لگتا جبھی اس بے فورا اپنی ہتھیلی آگے کردی۔ ٹھک سے اسکی ناک اسکی ہتھیلی پر لگی تھی۔
اس طرح مدہوش ہونے میں کیا مزا آتا ہے تم لوگوں کو۔
وہ خاصا چڑ کر بولی تھی۔
جوابا یون بن ہنسا تھا۔
یہ گوارا ایسے ہی کرتی ہے۔ میں تومدہوش نہیں ہوتا۔
وہ کہہ کر ہایون کے کندھے پر سر ٹکا گیا۔
ہایون یار اس لفٹ سے کہو اوپر جائے یہ دائیں جانب جارہی ہے۔۔
اریزہ نے تاسف سے دیکھا۔۔ ہایون اسکی جھلاہٹ پر ہنس دیا۔
میں نے پہلی دفعہ کسی کو کوئی ایسا تہوار مناتے دیکھا ہے جس میں شراب کا عمل دخل نہیں تھا۔
ہایون نے کہا تھا۔ اسے لگا تھا اریزہ کوئی وضاحت دے گی مگر وہ چپ رہی۔ تبھی لفٹ کا دروازہ کھل گیا۔ گوارا جو ابھی تک اسکی ہتھیلی سے ناک چپکائے کھڑی تھی ایکدم سے لفٹ کا دروازہ کھلتے ہی باہر نکلنے لگی
ارے رکو۔ اریزہ فورا مستعد ہوئی مگر تب تک وہ لفٹ کے باہر دراز ہوچکی تھی۔ ہایون نے یون بن کو چھوڑا او رآگے بڑھ کر اسے اٹھانے لگا۔
گوارا نے ہڑبڑا کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
میری ناک گر گئ۔
کوئی نہیں گری لگی ہوئی ہے منہ پر۔
اریزہ چڑ کر بولی۔
یون بن اور ہایون اسے اور گوارا کو اپارٹمنٹ تک چھوڑنے آئے تھے۔ گوارا مکمل طور پر مدہوش تھی۔۔ یون بن بھئ جھوم رہا تھا مگر اسکا حال اتنا خراب نہ تھا۔ ہایون گوارا کو سہارا دیئے تھا
اریزہ میری ناک گر گئ باہر اٹھا لائو۔۔۔۔سیلیکون کی ہوگی۔۔
بہت۔۔
گوارا دہائی دے رہی تھی۔
ابھی اصلی ہی ناک ہے تمہاری اور لگی ہوئی ہے منہ پر تمہارے۔
نہیں گر گئ وہاں گری تھی میں نا تو۔۔ لا کر لگا دو واپس۔ میں لاتی ہوں
وہ دہائیں دے رہی تھی۔ ہایون نے اسے صوفے پر لا کر بٹھا یا تواٹھ کر جانے لگی۔
اریزہ کو اسکی بات پر اس بار ہنسی ہی آگئ تھی۔ ہلکے سے اسکی ناک دبا کر تسلی دی۔
یہ لو لگا دی واپس۔
تھائی نیئے۔اس نے اپنی ناک چھو کر تسلی کی۔ پھراطمینان ہوا تو دوبارہ بیٹھی۔۔ پھر خیال آیا تو بیٹھے بیٹھے رکوع میں اریزہ کے سامنے جھک گئ۔
گوما وویو اریزہ۔۔ تم بہت اچھی ہو میری ناک واپس لگا دی۔
ہایون نےیون بن کا کندھا تھپتھپایا۔
اچھا میں جا رہا ہوں تم نے چلنا ہے۔
جوابا یون بن مزید صوفے پر ںیم دراز ہو گیا۔
آنیا۔۔ بالکل ہمت نہیں۔۔۔
اس نے کہہ کر آنکھیں بھی بند کر لیں۔ اریزہ گوارا کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
گوارا اندر کمرے میں چل کر لیٹ جائو۔۔
دے۔ ( اچھا) اٹھتی ہوں۔۔
وہ اسکا چہرہ تھپتھپا رہی تھی گوارا نے بات سمجھ کر اٹھنا چاہا مگر لہرا کر دوبارہ گر گئ صوفے پر۔ اریزہ اسے اٹھانے کے چکر میں خود بھی گرتے گرتے بچی تھی۔
اریزہ انکو یہیں چھوڑ دو۔۔
ہایون نے کہا تو وہ سر ہلاکر رہ گئ۔ ہایون نے ہلکا سا سر جھکا کر کہا
کرم۔۔۔۔۔۔
یہ اسکا خدا حافظ کہنے کا انداز تھا۔۔ وہ اسکی جانب دیکھنے سے احتراظ برت رہی تھی سو بس سر جھکانے پر اکتفا کیا۔
ہایون کو نکلتے نکلتے یاد آیا تو مڑا۔ وہ جو اپنی جھونک میں سر جھکائے اسکئ پہچھے آرہی تھی ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
یہ یون بن کی گاڑی کی چابی ہے دے دینا اسے۔
اسنے جیب سے چابی نکال کر اسے تھمائی
دے۔ اس نے سر نہ اٹھایا۔
ہایون کے نکلتے داخلی دروازہ لاک کرکے جب مڑی تو گوارا اور یون بن خراٹے بھر رہے تھے۔اس نے چابی سامنے میز پر رکھی۔ لائونج کی کیبنٹ سے کمبل نکال کر ان دونوں پر ڈالا۔ مڑ ی تو دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
ہائے اللہ۔۔ اس نے فورا دل پر ہاتھ رکھا تھا۔
سامنے دروازے میں ہوپ سرخ آنکھیں لیئے گھور رہی تھی۔
ابھی مزید کوئی اس ویک اینڈ سوپ کی قسط آنی ہے یا میں اب سو جائوں؟
دے ؟
اتنی ہنگل آتی ہوتی تو کورین ہی ہوتی وہ۔ آنکھیں پھاڑیں۔ ہوپ نے چڑ کر اس بار اپنی بات کا انگریزی ترجمہ کیا۔
آنیا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
یہ آخری قسط تھئ۔
اس نے اپنی جانب سے تسلی دی تھی۔ مگر وہ گھورتی ہوئی پلٹی اور دھماکے سے دروازہ بند کیا۔
گوارا چونک کے اٹھی تھی۔
اوہ۔۔ اریزہ میری ناک باہر ہی رہ گئ ۔۔ وہ اب لڑکھڑاتی اٹھی اور دروازے کی جانب جانے لگی۔
اریزہ نے دانت کچکچا کر گھونسا بنا کر اس کمرے کے دروازے کو دکھایا جس میں ابھی ہوپ گھسی تھی ۔۔
آنیا۔ میں نے لگا دی ناک واپس گوارا۔
اس سے قبل گوارا دروازہ کھول کے باہر نکل جاتی وہ کہتی ہوئی فورا اسکے پیچھے بھاگئ۔ جوابا گوارا باہر جاتے جاتے رکی احساس تشکر سے اسکی جانب پھر جھک گئ۔
گوما وویو تم بہت اچھی ہو اریزہ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چہرے پر کالے نقاب چڑھائے بالوں پر کالے ہی پی کیپ۔
وہ تینوں ہاسٹل کی دیوار پرسے کود کر نیچے اترے تھے۔ کیمپس لان میں ہو کا عالم تھا۔ اونچے اونچے درخت ملگجا اندھیرا جھینگروں کی آوازیں۔مگر یہ وقت ان چیزوں پر غورکرنے کا نہیں تھا۔ہاسٹل کا داخلی دروازہ بند تھا۔کم سن نے ہلا جلا کر دیکھا بند تھا۔ حسب عادت سالک آگے بڑھ کر کارڈ سوائپ کرنے لگا تو کم سن نے اسکا بازو پکڑ کر پیچھے کیا
تمہیں کیا لگتا میرے پاس کارڈ نہیں۔ رات کے تین بجے کارڈ سوائپ کروگے تو کیا بچوگے تم؟ آخری بندہ کون داخل ہوا اسکا ریکارڈ بن جائے گا پھابو۔
اسکے ڈانٹنے پر سالک ہونق ہو کر پوچھنے لگا
پھر کیا کریں۔
کم سن اسے دیکھ کر رہ گیا۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر ہاسٹل کے پچھلے حصے کی جانب انہیں لیکر آیا۔ ایمرجنسی سیڑھیوں کے اختتام پر ممٹی سی بنی تھی وہاں رات گزاری جا سکتی تھی۔
مگر دروازے پر موٹا تازہ تالا تھا۔ تازہ اسلیئے کہ نیا نیا لگتا تھا۔
شاہزیب نے ادھر ادھر دیکھا پھر کیاری کے کنارے سے بڑا سا پتھر اٹھا کر لایا۔ اس سے قبل کے دروازے کے تالے پر پوری قوت سے مار کر توڑ ڈالتا کم سن نے جیب سے چابی نکالی اور تالا کھول دیا۔
دونوں منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔
کھاجا۔ کم سن نے مسکرا کر انکو آنے کا اشارہ کیا۔ چار منزلہ سیڑھیاں چڑھ کر ٹیرس سا تھا۔ وہاں ایک کونے میں پیٹی سی رکھی تھی۔ اس نے پیٹی سے تین کمبل نکالے ۔۔
واہ یہاں تو پورا انتظام ہے۔
سالک متاثر ہونے والے انداز میں بولا
یہ اضافی کمبل وغیرہ یہاں رکھے جاتے تھے ۔ یہ جگہ ہم نے اتفاقا دریافت کی تھی۔ ورنہ اب تو اضافی سامان کیلئے ہاسٹل میں علیحدہ اسٹور بن چکا ہے۔ یہاں تو کوئی آتا بھی نہیں۔۔۔۔میں یون بن اور اکثر ہایون بھی ہمارے ساتھ یہاں چل کرتا ہے۔ کم سن نے بتایا تو شاہزیب نے سر ہلایا۔
میرے ہاسٹل میں سالک اور ایڈون بھی اکثر ایسے دھاوا بولتے تھے۔ میرے کمرے میں ہر چیز تین کے حساب سے ہوتی تھی۔
ایڈون کو تم لوگوں کے ساتھ اتنا دیکھا تو نہیں ہے ایک لڑائی کے بعد دوستی ختم ہوگئ ہے تم لوگوں کی۔
کم سن ٹیرس کی ریلنگ سے کمر ٹکاکر سگریٹ سلگا رہا تھا
نہیں رویہ تو اسکا ٹھیک ہے ہمارے ساتھ بس وہ اب سنتھیا کو ذیادہ وقت دیتا ہے۔ دینا بھی چاہیئے۔ گرل فریںڈ ہے آخر۔
شاہزیب کا انداز سادہ سا تھا۔
ہممم۔ یون بن بھی اب ہمارے ساتھ کم گوارا کے ساتھ ذیادہ نظر آتا ہے۔
کم سن متفق تھا۔۔۔
ایک بات پوچھوں؟ سالک دیوار سے ٹیک لگائے کمبل اوڑھے سکون سے بیٹھا تھا۔
کم سن نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔ یہ اشارہ تھا کہ کیا پوچھنا ہے؟
تمہیں گوارا کے بعد کوئی لڑکی پسند ںہیں آئی؟ میرا مطلب تم اتنے وجیہہ ہو یہاں اتنی پیاری لڑکیاں ہیں پھر ابھی تک سنگل کیوں ہو ؟
سالک نے سیدھا سوال کیا۔ کم سن ہنس پڑا۔
مجھے تو پسند آجائے گی اسے میں پسند کیسے آئوں گا ؟۔ نہ میں ہایون کی طرح کا امیرزادہ ہوں نہ یون بن کی طرح کھاتے پیتے گھر کا۔۔۔ اپنے اخراجات پورے کیسے کروں جس کا دماغ یہ سوچتا رہتا ہو وہ محبت کا کھڑاگ کیسے پال سکتا ہے۔
اسکے سوال میں دم تھا۔ سالک متفق ہو کر سر ہلانے لگا۔
صحیح کہہ رہے ہو۔
غلط کہہ رہے ہو۔
شاہزیب نے فورا نفی کی تھی۔ کم سن اور سالک دونوں نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
محبت کا کھڑاگ پالا نہیں جاتا محبت ہو جاتی ہے۔ اگر یہ اختیاری معاملہ ہوتا تو غریب ہمیشہ سوچتے رہ جاتے صرف امیر ہی محبت کیا کرتے۔ شاہزیب کا انداز فلسفیانہ تھا۔
ہاں اس بے چارے کے حالات تو تم سے بھی خراب پھر بھی محبت ہوگئ تھی اسے۔
سالک نے اسکا مزاق اڑایا تھا۔ شاہزیب نے پاس پڑا کمبل اٹھا کے اسکے منہ پر مارا تھا۔
بکواس کیے جا بس۔ وہ ہنسے گیا۔ شاہزیب کا منہ سرخ ہو رہا تھا۔۔
اچھا پھر کیا ہوا ۔۔۔
کم سن کو دلچسپی ہوئی۔
اسکا مزہب مختلف تھا۔ بلکہ مزہب نہیں فرقہ کہنا چاہییے۔ اس بے چارے کی ہمت بھی نہ ہوئی اسے پرپوز کرنے کی۔ ابا کا ڈنڈا ذیادہ خطرناک تھا۔ اسکے نزدیک۔
ابا کا ڈنڈا؟۔۔۔ کم سن بھونچکا سا ہوا۔
یہ لوگ با محاورہ انگریزی ترجمہ نہیں کیا کرتے تھے بس روز مرہ کی عام گفتگو کا جو ترجمہ بنے وہی چپکا دیتے پھر جو چل سو چل۔۔۔۔
ابھی بھی ابا کے ڈنڈے کو ابا کا ڈنڈا ہی کہا تھا انگریزی میں۔
میرا مطلب ہے ابا نے مار مار کر بھرکس بنا دینا تھا سخت مزہبی ہیں اسکے ابا۔
سالک نے وضاحت کی۔
والد نے تو شادی نہیں کرنی تھی۔
کم سن کو یہ منطق سمجھ نہ آئی۔
خیر اس لڑکی نے کونسا مان جانا تھا۔۔
شاہزیب نے گہری سانس لیکر کہا۔
بس اتنی آہیں نہ بھر ۔۔۔۔پہوا کچھ ذیادہ ہی خنک لگنے لگی ہے
سالک کو اپنے مزاق پر افسوس بھی ہوا خوامخواہ اسے اداس کردیا۔ شاہزیب اسکے کندھے پر سر رکھ کر دراز ہو گیا تھا۔ اب اگر ہمدردی مل رہی تھی تو کیوں نہ پرسکون ہو کر سو ہی جایا جائے۔سالک اب اس پر کمبل ڈال رہا تھا۔
کم سن نے کندھے اچکا کر رخ بدل لیا۔
ان لوگوں کو تو آپس میں جتنی انسیت ہے انکو گرل فرینڈ ملنی بھئ نہیں ہے۔۔
یہ اسکا خیال تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو اللہ کی وحدانیت پر یقین نہیں لائے وہ کفر کی حالت میں ہی انتقال کر گئے۔ جس نے زندگی بھر اللہ کو نہ پہچانا اسکے لیئے مرنے کے بعد بخشش کی دعا کرنا نہ کرنا بے معنی ہے۔۔
وہ ان عالم دین کے پاس اپنی ماں کے ایصال ثواب کے لیئے اپنائے گئے طریقے کے بارے میں پوچھنے آیا تھا۔۔آخر کیا طریقہ اختیار کرے؟ مگر انکا جواب مفصل اور توقع کے برخلاف تھا۔اس وقت وہ اپنے گھر کے بڑے سے کمرے میں بیٹھے تھے۔ اس جیسے کئ نو مسلم اور دیگر ممالک کے مسلم طلباء انکا لیکچر لینے آئے تھے۔ فرشی نشستوں پر ایک علمی مجلس جاری تھی۔۔ ایک بندہ سوال کرتا ۔ سب خاموشی سے سنتے تھے۔ اب اسکی باری تھی اپنے ذہن سے سب شکوک و شبہات دور کرنے کی۔
وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے ہونٹ بھینچے انکے سامنے بیٹھا ضبط کے کڑے مرحلے سے گزر رہا تھا۔
اللہ نے اپنے رسول ص کو سرکش کافروں کیلئے دعا کرنے سے بھی منع کیا تھا۔ انکو جہنم کا عزاب دیا ہی جانا ہے اسکو ٹالا نہیں جا سکتا۔ تمہاری ماں تمہارے لیئے بے حد عزیز سہی مگر چونکہ کفر کی حالت میں دنیا سے گئ ہے اسکے لیئے تم چاہے قرآن بخشو یا کچھ بھی اس تک اسکا ثواب نہیں پہنچے گا۔۔۔ ان مفتی صاحب نے رسان سے سمجھایا تھا۔
مگر میں اپنی بیوی کیلئے بھی فاتحہ خوانی کرواتا رہا ہوں۔
اس نے صفائی دینی چاہی۔
تمہاری بیوی مسلمان تھی؟
انہوں نے الٹا سوال کیا۔ اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلادیا
یہی معاملہ اسکے ساتھ بھی ہے۔
انہوں نے لگی لپٹی رکھے بنا کہا۔ وہ مایوس سا ہو کر اٹھا آیا۔
عبد الھادی اسکا گھر کے باہر انتظار کر رہے تھے۔
وہ خاموشی سے پسنجر سیٹ پر آن بیٹھا۔
وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے کی بجائے رخ موڑ کر اسے تکنے لگے۔ وہ بے حد مایوس اور آزردہ نظر آرہا تھا۔
کیا کہا انہوں نے؟
وہ پوچھے بنا نہ رہ سکے۔ اس نے جوابا آہ بھری او رنشست کی پشت سے سر ٹکا لیا۔
کہتے ہیں کوئی فائدہ نہیں انکے ایصال ثواب کیلئے کچھ بھی کرنے کا۔ آپ غلط تھے۔ مجھے رچل کیلئے بھی فاتحہ خوانی نہیں کرانی چاہیئے تھی۔
عبدالھادی گہری سانس لیکر سیدھے ہو بیٹھے۔
جب میں بڈھسٹ تھا تو مجھے ایک امید ہوتی تھی اس زندگی میں کچھ برا ہوا بھی تو میں دوبارہ دنیا میں آئوں گا۔ یہ نہ سہی اگلی زندگی اچھی ہوگی اچھے اعمال کروں گا تو میرے ساتھ اچھا ہوگا برا کروں گا تو برا۔ اسلام نے تو مجھ سے یہ امید ہی چھین لی ہے کہ شائد میں دوبارہ کبھی ہمیشہ کیلئے بچھڑ جانے والے اپنے پیاروں کو دوبارہ دیکھ بھی پائوں گا۔
تلخی سے کہتے اسکی آواز ڈوبتی سی گئ۔ اس نے چند لمحے ہونٹ بھینچ کر خود پر قابو پانے کی کوشش کی پھر مڑ کر ان سے پوچھنے لگا۔
میری ماں جہنم میں جائے گی میری بیوی بھی۔ میرا عقیدہ ہے کہ میں اپنے ہر گناہ کی سزا پاکر بھی اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں جائوں گا۔ تومیں ان دونوں سے تو ہمیشہ کیلئے بچھڑ گیا نا ؟میں تو انکے لیئے دعا بھئ نہیں کر سکتا۔ ۔۔۔۔ مجھے اجازت نہیں۔۔۔
عبد الھادی نے خاموشی سے سامنے دیکھتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کر دئ۔ گاڑی کو پہلے تھوڑا سا پیچھے کیا پھر گاڑی سیدھی کرکے دائیں جانب موڑ کر سڑک پر لے آئے۔۔۔۔۔
دنیا میں ہمیں سب سوال ہاں یا نہیں میں نہیں ملتے۔ کبھی کبھی سوچ کا زاویہ موڑنا پڑتا ہے تھوڑی لچک دکھانی پڑتی ہے۔ وہ زرا سا رکے۔۔ علی بے تاثر چہرہ لیئے سامنے سڑک پر نگاہ جمائے تھا۔ وہ اندازہ نہ لگا سکے کہ وہ سن رہا ہے کہ نہیں۔۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی۔۔
کیوں؟ کیونکہ اللہ ہمیں خود سے اچھی امید رکھنے کا کہتا ہے۔ کہتا ہے دعا مانگو میں تقدیر بدلنے پر قادر ہوں۔
امید اور دعا ایک مسلمان کی زندگی کا بہترین اثاثہ ہوتے ہیں۔
نا امیدی تو کفر ہے بیٹا۔۔۔ اللہ بہت بے نیاز ہے۔۔۔ کیا خبر وہ تمہاری دعائیں تمہاری ماں کے حق میں قبول لےکیا خبر تمہارا دعائیں مانگنا خدا کو اتنا پسند آئے کہ وہ تمہیں وہ سب دے دے جو تم مانگو۔ حقوق اللہ تو اللہ کا معاملہ ہیں۔ اس سے کیا بعید کہ معاف کردے۔ تم اس امید پر عمل جاری رکھو صلہ اللہ کی مرضی۔
وہ کندھے اچکاکر بولے۔
مفتی صاحب کہتے ہیں کافروں کیلئے دعا کرنے کیلئے اللہ نے رسول ص کو منع کیا تھا۔
وہ بے چین سا ہوا۔۔
بے شک۔ مگر وہ اللہ اور رسول ص کا معاملہ تھا۔ جن سرکش کافروں کیلئے ہدایت کی دعا کیلئے منع کیا گیا تھا انہوں نے سرکشی اور ایزا رسانئ کی ہر حد پار کی تھئ۔۔۔۔ان جیسے تو مسلمان بھی ہو سکتے ہیں جو نام کے مسلمان ہوں منافق ہوں دل کہیں جھکتے ہوں زبان کچھ اور کہتی ہو جنہوں نے دنیا میں انسانوں کو بانٹ رکھا ہو فساد مچا رکھا ہو انکے قول فعل میں تضاد ہو جو کافر نہ سہی منافق ہوں۔ اور کافر اور منافق جہنم میں سب سے نچلے درجے پر اکٹھے کر دیئے جائیں گے۔ ایسے مسلمان اور کافر میں فرق ہے بھی تو کیا فائدہ؟ اسی طرح دنیا میں کوئی ایسے بھی کافر ہوں گے جن سے لوگوں کو فیض پہنچا جن کے لیئے کسی کے دل سے دعا نکلی ہو جن کا ایک عمل انکے لیئے صدقہ جاریہ بن گیا ہو جن کی اپنی بندوں پر رحم کرنے کی عادت اللہ کو اتنا خوش کردے کہ وہ ان پر رحم کردے انہیں جہنم کا ایندھن نہ بنائے۔
قیامت تک کی مہلت ہم سب کو دی گئ ہے۔ اگر ہاں اور نہیں پر جہنم دوزخ کا فیصلہ ہونا ہوتا تو قیامت کا انتظار کیوں سیدھا مرنے کے بعد دوزخ یا جنت میں کیوں نہیں پہنچا دیئے جاتے ؟ اسی لیئے کہ شائدکسی کاایسا کوئی ایسا عمل ہو جو قیامت تک ثواب کا سلسلہ جاری رہے اور اسکے گناہوں کا پلڑا ہلکا پڑ جائے۔
وہ جو کہنا چاہ رہے تھے انہیں علی کی شکل دیکھ کر اندازہ نہیں ہوپایا کہ وہ اپنی بات سمجھانے میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں۔ سو مزید کچھ بھی کہنے کا ارادہ ترک کردیا۔ علی خاموشی سے سامنے دیکھ رہا تھا۔ سامنے سیدھی سڑک تھی۔
مگر سیدھی سڑک پر کب کہاں سے کوئی رکاوٹ آجائے کیا خبر تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔
جاری ہے

Kesi lagi apko Salam Korea ki qist ?Rate us below

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

Home » 2022 » 03

Mujhse hazaron hain tau dhond le baqi

mujse hazaron hain tau dhond le baqi..
mujsa kahan milayga mujhse na poch…

yaar zinda sohbat baqi tau sun meray yara..
mera poch le kisi se mera mujhse na poch…

zindagi hay so guzaar li mer jata gr waqt aata …
kesi guzri kiun ker guzri ye mujhse na poch…

Dhond leti hay mujhay dunya gum nahi hua main…
nahen milta main kisi se kisi ka mujhse na poch…

Haal pochta houn tau samjhte hen koi matlab hay unse…
be matlab pochta houn kiun yeh mujhse na poch…

azaar dunya kay keh ker khuda se mangta hun dua ye…
mujhse jinhain azaar hain pohanchay unka mujhse na poch…

hazar baar kaha mene tanhai main mjhe rehny do…
hajoom se dil derta hay ab kiun woh mujhse na poch…

by Hajoom E Tanhai

مجھ سے ہزاروں ہیں تو ڈھونڈ لے باقی
مجھ سا کہاں ملے گا مجھ سے نہ پوچھ

یار زندہ صحبت باقی تو سن میرے یارا
میرا حال پوچھ لے کسی سے مجھ سے میرا نہ پوچھ

زندگی ہے سو گزار لی مر جاتا گر وقت آتا۔۔۔
کیسی گزری کیونکر گزری اب یہ مجھ سےنہ پوچھ

ڈھونڈ لیتی ہے مجھے دنیا گم نہیں ہوا میں
نہیں ملتا میں کسی ، کسی کا مجھ سے نہ پوچھ

حال پوچھتا ہوں تو سمجھتے ہیں کوئی مطلب ہے ان سے
بے مطلب پوچھتا ہوں کیوں یہ مجھ سے نہ پوچھ۔۔۔

آزار دنیا کے کہہ کر خدا سے مانگتا ہوں دعا یہ
مجھ سے جنہیں آزار ہیں پہنچے انکا مجھ سے نہ پوچھ

ہزار بار کہا میں نے تنہائی میں مجھے رہنے دو
ہجوم سے دل ڈرتا ہے اب کیوں وہ مجھ سے نا پوچھ۔

از قلم ہجوم تنہائی

sirf tujh se manga tha aik baar main nay tujhay

صرف تجھ سے مانگا تھا ایک بار میں نے تجھے
….میں در در بھیک مانگنے والا تو نہیں تھا
سوال میرے پر نہ جھڑکا نہ دیا خود کو مجھے تو نے
….میں یوں ترے در سے ٹلنے والا تو نہیں تھا
اس نے بہانہ یہ کیا دنیا تیاگ نہ سکوں گا میں لیکن
لڑتا نہیں پر میں دنیا سے ڈرنے والا تو نہیں تھا
چھپاتے رہے اپنی سر خوشی مجھ سے کیوں میرے دوست
میں غمگین سہی ان کی خوشیوں سے جلنے والا تو نہیں تھا
احباب بھی بنتے گئے وقت کے ساتھ حصہ ہجوم کا
تنہائی میں سوچا بن ان کے میں مرنے والا تو نہیں تھا

از قلم ہجوم تنہائی

Salam Korea Episode 17

salam korea
by vaiza zaidi

Salam Korea Episode 17

قسط 17
اس نے جلدی جلدی جو سمجھ میں آیا بیگ میں ڈالا ویسے تو بیگ تیار کر ہی لیا تھا اس نے پھربھی ابھی لگ رہا تھا دو تین چیزیں یہیں چھوڑ جائے گی۔
گوارا کو ہلا کر اپنے جانے کا بتایا وہ اوں آں کرکے سوگئ۔
ایڈون نے اسکے فون پر مس کال دی تو جلدی سے اپنا پرس بیگ اٹھاتئ وہ باہر نکل آئی۔ لفٹ آنے میں وقت تھا وہ یونہی سر گھما کے ادھر ادھر دیکھتی رہی۔ لفٹ کے سامنے ہی دائیں جانب اوپر کو جانے والی سیڑھیاں تھیں جن پر آج اسکی نظر پڑی۔ یعنی اس سے اوپر بس چھت تھی۔
اسکا دل کیا کہ سیڑھی چڑھ کر چھت دیکھ آئے مڑنے ہی لگی تھی کہ لفٹ آگئ۔ ایڈون اسکے انتظار میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔وہ اسے گھور کر رہ گئ۔
تم مجھے کل بتا دیتے کہ اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا۔ حد ہے۔ مجھے تو لگا تھا تم دونوں ویک اینڈ گزارنے گئے ہوئے ہو۔
جانا تو تھا مگر۔وہ قصدا بات ادھوری چھوڑ کر رہ گیا۔ پورا راستہ وہ دل ہی دل میں دعائیں پڑھتی آئی۔ سر پر دوپٹہ رکھ کر آیت الکرسی چاروں قل جو سمجھ آیا آنکھیں بند کرکے سنتھیا کو تصو رکرکے پھونک بھئ دیا۔ایڈون اسکے برابر ہی بیٹھا تھا۔ اس نے اسکی حرکت دیکھی مگر بولا کچھ نہیں۔
ٹیکسی سے اتر کر ایڈون گھوم کر اسکے پاس آیا۔ وہ اس وقت ہاسٹل کے گیٹ پر کھڑے تھے۔۔
تم مجھے کال کر دینا میں تمہیں خود اچھا سا ناشتہ کروا کر ڈراپ کروں گا وعدہ۔۔
روزہ ہے میرا۔
ایڈون کی آفر پروہ چڑ کر بولی پھر ۔ سر جھٹکتی تیز تیز قدم اٹھاتی وہ سیدھا ہاسٹل کی جانب بڑھ گئ۔ اسکو فکر ہو رہی تھی سو بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ ڈالیں اوپر آنے سے اسکی سانسیں پھول چکی تھیں۔۔ وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔ دروازہ کھولا تو سنتھیا کو آرام سے بیڈ پر دراز کانوں میں ہنڈز فری چڑھائے پائوں ہلاتے ہوئے گانے سننتے گنگناتے اور کوئی کتاب پڑھتے پایا۔۔
کھٹکے پر بھی سر نہ اٹھایا۔ اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔
فون کہاں ہے تمہارا؟۔۔ اس نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ پلیئر میں سے سن رہی تھی ۔۔اس نے آگے بڑھ کر اسکی ہینڈ فری کھینچی۔۔ سنتھئا نے گھور کر دیکھا۔
فرصت مل گئ واپسی کی۔۔۔ خیال آگیا میرا۔ کوئی اندازہ ہے پچھلے تین دن سے اکیلی پڑی ہوں اس کمرے میں۔
وہ الٹا اریزہ پر چڑھ دوڑی۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
ارے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ میرے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوئیں کہ ایڈون کے ساتھ جانا ہے۔ اور ایڈون کے ساتھ گئ بھی نہیں۔ وہ بے چارہ اتنا پریشان ہو رہا تھا مجھے لیکر آیا ہے کہ تمہارے حالات دریافت کروں۔
وہ تیز ہو کر بولی۔
تمہیں ایڈون لیکر آیا ہے؟ وہ چونکی۔ اسے خوشگوار سی حیرت ہوئی۔
ہاں۔ وہ دھم سے اسکے بیڈ پر گری۔
اوپر سے اتنا پریشان کردیا کہ تین دن سے تم فون نہیں اٹھا رہیں پورا راستہ دعائیں پڑھتی آئی ہوں ابھئ سیڑھیوں پر۔
اسکی سانس بولتے بولتے پھول گئ۔
ابھئ سیڑھیوں پر بھی بھاگتی آئی۔ میرا تو ابھی سے حلق خشک ہوگیا۔
اسکی دہائیاں جاری تھیں
میں پانی لاتی ہوں۔یہ وہ اٹھنے کو تھی اریزہ نے اسکے گھٹنے پر چپت لگا دئ
روزہ ہے میرا۔
اوہ ہاں۔ اسے بھی یاد آیا رمضان چل رہا سو اطمینان سے دوبارہ بیٹھ گئ
پھر لڑائئ ہوئئ ہے تم دونوں کی؟ اریزہ کہنی کے بل اسکے تکیے پر ٹک کر بولی
نہیں۔ وہ دامن بچا گئ
پھر فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں اسکا؟۔
اریزہ کی تفتیش جاری تھی۔
سنتھیا چپ سی ہوگئ۔
اسکوسر جھکائے دیکھ کر وہ سیدھی ہوبیٹھی
کیا ہوا سنتھیا ؟ سب ٹھیک تو ہے نا۔
وہ دونوں ہاتھ گود میں رکھے ناخن پر سے نیل پالش کھرچتی گہری سوچ میں گم تھئ۔چند لمحے بعد گہری سانس لیکر بولی
اریزہ مجھے لگتا ہے ایڈون مجھ سے پیار نہیں کرتا۔مجھے لگتا ہے میں اسکے اوپر مسلط ہوں وہ بور ہوتا ہے میرے ساتھ۔۔۔
اس نے ایسا کہا۔ اریزہ کو غصہ آگیا۔
سمجھتا کیا ہے وہ خود کو۔ ایک سے ایک لڑکا مل سکتا ہے تمہیں۔ اس سے کہو اپنے نخرے اپنے پاس رکھے۔ بلکہ تم کہو اسے تم بور ہوتی ہو اسکے ساتھ۔
وہ ایکدم اتنا بھڑک کر بولی تھی کہ سنتھیا کو ہنسی ہی آگئ۔۔
اسے ہنستے دیکھ کر بھی اریزہ کا غصہ کم نہ ہوا
تمہارا مسلئہ پتہ ہے کیا سنتھیا تم بہت ہی ذیادہ سویٹ ہو۔ اسی لیئے وہ تمہیں فار گرانٹڈ لے رہا ہے۔
وہ نتیجے پر پہنچ گئ۔سنتھیا کو اس کے یوں بھڑک اٹھنے پر پیار ہی آگیا۔
اس نے ایسا کہا نہیں ہے۔ پاگل۔ ایسا کوئی کہہ سکتا بھلا۔
اس نے ہنس کر بات آئی گئ کرنی چاہی۔
پھر تم نے بیٹھے بیٹھے کہانی بنا لی،؟ اریزہ کا ارادہ اسے اب آڑے ہاتھوں لینے کا تھا۔
پتہ ہے ابھئ جان نکلی پڑی تھی اسکی مجھے لینے خود آیا کہ جا کر سنتھیا کو دیکھو۔ اور تم یہاں اکیلی بیٹھی الٹے سیدھے اندازے لگا رہی ہو۔ فون کرکے خیریت بتائو اپنی اب اسے۔
اسے ہلکا سا ڈانٹتئ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں ذرا اسائنمنٹ دیکھ لوں تمہاری تیار ہے؟اریزہ اس سے پوچھ رہی تھی مگر اس نے جواب نہ دیا
سنتھیا فون میں لگی تھی اسے اب اریزہ اور ایڈون کو انبلاک کرنا تھا۔۔۔۔
فون پر انبلاک کرتے ہی ایڈون کی کال آگئ تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں تیار ہو کر اسائنمنٹ سب مٹ کرانے چلی آئیں۔ یونیورسٹی کی داخلی سڑک پر ۔۔ کوئی تقریب کا سماء تھا۔۔ کافی سارے طلبا مختلف ماسک پہنے رنگین لباس میں ملبوس تھے کوئی بے رنگ رین کوٹ پہنے تھا تو کوئی چھتری لیئے گھوم رہا تھا۔ سب ایک دوسرے پر واٹر گن سے رنگدار پانی پھینک رہے تھے۔ غباروں میں پانی بھر کر ایک دوسرے پر اچھال رہے تھے۔۔
خوشی ہنسی قہقہے۔
یہ ہولی۔منا رہے ہیں۔
سنتھیا کو حیرت ہوئئ۔
ان میں دیسی شکلیں بھی تھیں مگر ذیادہ تر چندی آنکھوں والے ہی تھے۔
انکا بھئ کوئی کلر فیسٹول ہوتا ہے لگتا ہے۔
اریزہ نے کندھے اچکا دیئے۔ دونوں راستہ بدل کر ڈیپارٹمنٹ چلی آئیں۔ جی ہائے اور گوارا یہیں تھیں۔
تم بنا بتائے چلی آئیں میں ایک گھنٹہ تمہیں اپارٹمنٹ میں ڈھونڈتی رہی ۔ ٹیرس سے نیچے جھانکا کہیں گر گرا تو نہیں گئیں ٹوائلٹ بول تک میں ڈھونڈا تمہیں۔ مگر یہ جی ہائے فلش کر چکی تھی مجھے تو لگا تھا۔
گوارا کا مسخرا پن عروج پر تھا۔ جی ہائے ہنس رہی تھی
اریزہ نے بے تکلفی سے اسکا بازو دبوچا۔
کیا کہا مجھے فلش کر دیا جی ہائے نے۔
اس نے اسی کا سکھایا دائو چلایا تھا۔ وہ بھی حیران رہ گئ
واہ اریزہ تم تو بہت جلدی سیکھ گئیں۔
جی ہائے متاثر ہوئی۔۔۔
بس یہی تو میرا کمال ہے۔
اریزہ کہہ کر ہنسی گوارا اور جی ہائے دونوں نے ساتھ دیا۔غیر محسوس طریقے سے سنتھیا ان سے چند قدم پیچھے رہ گئ تھی۔تینوں ہنستی بولتی بڑھتی گئیں۔
وہ دانستہ رک کر دیکھنے لگی شائد اریزہ پلٹ کر دیکھ لے اسکی غیر موجودگی محسوس کرکے۔
کیسی ہو۔
ایڈون اسکے کانوں کے پاس گنگنایا۔ وہ دہل سی گئ مگر بظاہر منہ بنا کر بولی
میں تو اچھی ہوں بس مجھے لوگ اچھے نہیں ملتے۔
ایڈون اسکے طنز پر آہ بھرتا اسکے برابر ہوا۔
بس ایک میں ہی تو برا ہوں باقی سب کو کیوں برا کہہ رہی ہو۔
وہ مزاق میں بات اڑانے کے موڈ میں تھا۔
ہاں باقی سب نے کیا کیا ہے۔ سنتھیا سوچ کے رہ گئ۔
بس ایک میں۔۔
اسکا ذہن سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔
پھر کیا سوچا ہے؟
ایڈون جانے کیا بول رہا تھا اسکی بے توجہی محسوس کرکے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر بولا۔
کس بارے میں۔۔
وہ چونکی۔
لو پوری بات کردی میں نے تم سن نہیں رہیں؟ عید پر ہم سب پلان کر رہے ہیں گھومنے جانے کا۔ کیا خیال یےعید کی شاپنگ کے بارے میں۔ کب چلنا؟
ایڈون نے دہرایا تو وہ کندھے اچکا کر بولی
نئ شاپنگ کی کیا ضرورت ہے اتنے کپڑے تو لائی ہوں میں۔
کیوں وہاں تو عید پر نئے کپڑے بنواتئ ہی تھیں۔
ایڈون نے ٹوکا
تو وہاں سب تیار ہوتے تھے اسلیئے ہمیں بھی ہونا پڑتا تھا۔ اب یہاں کونسا سب عید منائیں گے۔یہاں تو شائد اریزہ بھی شاپنگ نہ کرے ہم آئوٹ اینڈ آڈ لگیں گے تیار ہو کر۔
وہ کندھے اچکا کر بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں لگیں گے آئوٹ اینڈ آڈ۔
اریزہ تیز ہو کر بولی۔
بلکہ میں سوچ رہی ہوں کہ ہم پاکستان سے ڈریس منگوائیں۔ ایک جیسا۔ کیسا؟
وہ دونوں اسائنمنٹ جمع کر وا کر واپس ہاسٹل آرہی تھیں۔
جتنے میں آئے گا اس سے بہتر یہاں کسی اچھے برانڈ سے شاپنگ کرلو۔
سنتھیا کی بات میں وزن تھا۔۔
چلو کچھ کرتے ہیں اسکا بھی۔
اسکے بھی بات دل کو لگی۔۔۔ سر ہلانے لگی۔
ویسے یہاں گرمی بھی ذیادہ گرم نہیں سردی کیسی ہوتی ہوگی۔
اریزہ کو ہوا سرد سی لگی۔ تو اپنے بازو سہلاتے ہوئے حیرت سے بھری دھوپ کو گھورنے لگی
برف پڑتی ہے یہاں۔ سنتھیا نے یاد دلایا۔
یار پھر تو ہمیں اسکے لیئے بھی شاپنگ کرنی ہوگی۔
اریزہ معصوم بنی۔۔ سنتھیا گھور کر رہ گئ۔ تبھی گوارا کی کال آگئ۔
وہ چلتے چلتے ایکدم رک گئ۔ سنتھیا اپنی جھونک میں کئ قدم آگے بڑھ گئ پھر مڑ کر گھورنے لگی۔
ابھی اسی وقت۔۔۔ ٹھیک ہے۔
اریزہ اسے نظروں میں رکھے گوارا سے پوچھ رہی۔تھی۔ جانے آگے جواب کیا تھا اس نے دے ( اچھا)کہتے ہی فون بند کر دیا۔
کیا ہوا۔ سنتھیا متجسس ہوئی۔۔
گوارا وغیرہ لوتے ورلڈ ٹاور جا رہے ہیں کہہ رہی تم دونوں بھی آجائو۔
لوتے ورلڈ؟ لوٹے ورلڈ ہوتا تو بات بھی تھی یہ۔لوتے کیا نام ہوا۔ ؟
سنتھیا۔ نام پر ہی اٹک گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوٹے کہتے اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ واقعی قدیم کسی ظروف کی شکل کی عمارت کھڑی ہوگی انکی نظروں کے سامنے۔
ان دونوں نے ٹیکسی سے اتر کر کمپائونڈ کے گرین ایریا سے سر اٹھا کر جب اس عمارت کو دیکھنا شروع کیا تو سر اونچا ہوتا گیا ہوتا گیا۔ٹوپی پہنی ہوتی تو پکا گر جاتی۔
بیس اکیس بائیس۔
وہ دونوں اسکی منزلیں گن رہی تھیں
ایک سو تئیس مزنلہ عمارت ہے یہ کوریا کی سب سے اونچی عمارت۔ ۔
جی ہائے نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔
ایک سو ت۔۔ دونوں حق دق سی رہ گئیں۔
گلدان کی طرز کی اس شان و شوکت والی عمارت کا نظارہ مسحور کن تھا۔ سورج کی پڑتی دھوپ میں شیشوں سے رنگ ہی رنگ منعکس ہورہے تھے۔
اصل مبہوت کردینے والے مناظر یہاں سے نہیں ایک سو ستراہویں منزل سے دکھائی دیں گے۔
گوارا نے کہا تو سنتھیا حیران ہوگئ
کیوں؟ باقی منزلیں خالی ہیں اسکی؟
گوارا کا منہ کھلا رہ گیا۔
پہلے ہم جائیں گے سترہویں فلور ہینگ آئوٹ کے بعد جائیں گے کچھ پیٹ پوجا کرنے سو لڑکیوں کمر کس لو اور میرے پیچھے آئو۔
جی ہائے انکی گائیڈ بن جانے کو تن من دھن سے تیار تھی۔
اسکے مارچ پاسٹ شروع کرتے ہی ان دونوں نے بھی تقلید کی۔ شکر یہ تھا کہ ہفتے کا کام کا دن ہونے کے باعث رش کم تھا۔ بس کچھ غیر ملکی ہی اس اونچی ترین عمارت کی سیر کو آئے تھے۔ وہ دونوں دلچسپی سے انٹیریر دیکھ رہی تھیں مگر گوارا اور جی ہائے کو اوپر جانے کی جلدی تھی۔ انکا رخ سیدھا لفٹ کی جانب تھا۔
تم میں سے کسی کو اونچائی سے خوف تو نہیں آتا ؟
لفٹ کا بٹن دباتے جی ہائے کو خیال آیا۔
ایک سو ستراہویں منزل تک پہنچیں گے زندگی میں پہلی بار پھر سوچیں گے۔
اریزہ سنتھیا کے کان میں منمنائی
آنیا۔ اس نے دھڑلے سے کہا۔ جی ہائے اور گوارا ایک دوسرے کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرنے لگیں۔
موشن سکنس؟ ۔۔ ( تیزی سے حرکت کرنے پر چکر آنے کی بیماری)
آندے۔ سنتھیا نے زور و شور سے گردن ہلائی۔
اگر آج تم نے مجھ پر الٹی کی تو تمہیں ایک سو ستراہویں منزل سے نیچے پھینک دوں گی۔
اریزہ نے دانت کچکچائے۔ وہ ڈھیٹ بنی مسکراتی رہی۔ لفٹ آچکی تھی ۔ لفٹ میں داخل ہوتے ہی خوبصورت پھول بوٹوں کی آتش بازی دیواروں پر رنگ بکھیر رہی تھی۔ ہلکی نیلگوں روشنی میں ایک دم جھماکے سے اینیمیشن کےمناظر بدلے۔
وائو۔ وہ دونوں باقائدہ دیوار چھو کر اسکے رنگ محسوس کر نے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔
اس دیوار پر دیکھو سب سے پیاری اینیمیشن یہاں ہے۔ گوارا نے اریزہ کا باقائدہ کندھوں سے پکڑ کر رخ موڑا۔
اس جانب شیشے کی دیوار تھی جس سے گرائونڈ فلور تک چمکتا دمکتا صاف نظر آرہا تھا۔ مگر گولی کی رفتار سے اوپر سے اوپر جاتے گراوئونڈ فلور ننھے منے نقطوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔
اس نے تھوک نگلا۔
یہ نظارہ یکدم اور اچانک سامنے تھا۔ اسکا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا تھا۔
کیا ہے اس جانب مجھے بھی دکھائو۔
سنتھیا اسکے کندھےپر تھوڑی رکھ کر جھانکنے لگی وہ سرعت سے سیدھی ہوئی اسے بھئ گھما کر رخ بدل دیا۔
کچھ خاص نہیں فضول اینیمیشن ہے اس طرف کی۔
وہ سنتھیا کی الٹیاں نہیں سہہ سکتی تھی۔۔ سو جلدی جلدی دھیان بٹایا۔۔
ارے دیکھنے تو دو سنتھیا حیران تھی۔ لفٹ آچکی تھی دروازہ کھلتے ہی اریزہ اسکا ہاتھ تھامتی باہر نکل آئی۔ انکی تیزی پر گوارا اور جی ہائے منہ کھول کر انہیں دیکھتی رہ گئیں۔
یہ اب تک کا سب سے پھسپھسا ردعمل تھا اتنا پھسپھسا تو سیول کے باسی بھی پہلی بار یہاں آکر نہیں دیتے۔ وہ دونوں تیز تیز قدم اٹھاتی سیدھا گلاس وال کی جانب بڑھی تھیں۔ شیشے کی شفاف دیوار سے سیول شہر کا اونچائی سے نظارہ بے حد دلکش تھا۔ اونچی اونچی عمارتوں اور شفاف سڑکوں کے جال سے لیکر دور آسمان تک تیرتے بادل سب جیسے ہاتھ بھر کے فاصلے پر تھا۔
یہ تو لگ رہا ہم آسمان میں کھڑے ہیں۔
اریزہ مسحور سی ہو کر بولی۔
ہاں یہاں سے پورا سیول دیکھا جا سکتا ہے پوری 360 ڈگری کے زاویئے سے۔۔
جی ہائے نے لمبی طویل راہداری کی جانب اشارہ کرتے دکھایا۔ اس منزل پر مکمل شیشے کی دیواریں تھیں۔ وہ بھی صاف شفاف۔
کچھ غیر ملکی باشندے کیمرہ اٹھائے تصویریں وغیرہ بنا رہے تھے باقی کورین ہی تھے۔ مگر منظم سے اپنے کام سے کام رکھتے تصویریں بناتے خوش گپیاں کرتے۔ ایک چھوٹا سا پانچ چھے سال کا بچہ غبارہ تھامے دیوار پر ہاتھ رکھے پتہ نہیں کیا گٹ پٹ کرتا اپنے ماں باپ سے کہہ رہا تھا وہ ہنس ہنس کر جواب دے رہے تھے۔
اس بچے کو ڈر نہیں لگ رہا؟
سنتھیا نے رشک سے کہا۔۔
کیوں ڈرنا کیوں ہے بچے نے؟ تمہیں جو دیکھ لیا۔
اریزہ نے مزاق اڑایا۔
نہیں اتنی اونچائ سے مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ سنتھیا منمنائی۔۔
مجھےتو الٹی آرہی ہے ۔۔
اریزہ کا رنگ اڑا اڑا سا ہوا

نہ کرنا روزہ ٹوٹ جائے گا۔
سنتھیا کو فکر ہوئی۔پھر اطمینان سے بولی
میرا روزہ نہیں ہے

۔ اریزہ منمنائئ۔۔پھر کر لو الٹی تم جو کام ہے۔
ویسے مجھے حیرت ہورہی ہے ہم دونوں بڑےخطرناک قسم کے ردعمل کئ توقع کر رہے تھے مگر تم دونوں تو بالکل نہیں ڈریں یہاں آکر۔
گوارا کو اپنے پرینک کے ضائع جانے کا افسوس ہوا۔
ڈرنے کی کیا بات ہے سامنے دیوار ہے شیشے کی ہے تو کیا ہوا۔
اریزہ نے مضبوط بن کر کہا گویا تسلی بھی دی خود کو۔
نہیں دیوار سے نہیں لوگ اس فرش پر کھڑا ہوتے ڈر جاتے بڑے بڑوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں نیچے دیکھتے۔
جی ہائے ہنس کر بولی
کیوں فرش سے کیا ڈرنا ۔۔ سنتھیا سمجھی نہیں۔
فرش بھی تو گلاس کا ہے نا۔
گوارا نے وضاحت کی۔ دونوں نا سمجھنے والے انداز میں اسکی شکل دیکھنے لگیں۔
اس نے ابرو کے اشارے سے مسکرا کر نیچے دیکھنے کو کہا۔۔
اریزہ اور سنتھیا نے اکٹھے نیچے جھک کر دیکھا۔۔ روح فنا ہونا ، ہاتھوں کے طوطے اڑ جانا اور مزید محاورے ذہن میں آنہیں پائے۔ دونوں کی آنکھیں پھٹ سی گئیں تیورا کر دونوں اسی فرش پر کانپتی ٹانگوں لرزتے وجود کے ساتھ ڈھے سی گئیں۔ کیونکہ اس منزل پر صرف دیواریں ہی نہیں فرش بھی آر پار دکھائی دینے والے شیشے کا تھا۔ ایک سو ستراہویں منزل سے صاف دکھائی دیتا گرائونڈ فلور اس پر چلتے لوگ بس نقطے ہی حرکت کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
انکو پتہ ہی نہ چلا تھا ؟
جی ہائے حیران ہوئی۔
پاکستانی لڑکیاں ڈر کر چیختی نہیں ہیں ۔ گوارا انکے پھسپھسے ردعمل سے نتیجہ اخذ کر رہی تھی۔
دونوں کے چہرے سفید تھے ہونٹ تھر تھر کانپ رہے تھے منہ سے آواز ہی نہ نکل سکی۔
چلو اٹھو یہ فرش پکا ہے آج تک ٹوٹا نہیں سیکنڑوں لوگ روندتے ہیں اسے۔
جی ہائے نے تسلی دیتے آگے بڑھ کر انہیں اٹھانا چاہا۔
ہاں شاک پروف۔۔
گوارا نے تسلی دینا چاہی مگر شائد آج اس فرش کو سب سے بڑا شاک ملنا تھا۔
زور دار پھٹنے کی آواز تھی۔ اس بے خوف بچے کا غبارہ پھٹ گیا تھا۔اچانک مگر شیشے کے فرش پر بیٹھی اریزہ سنتھیا کو لگا فرش تڑخ گیا۔ دونوں کے منہ سے اکٹھے زوردار چیخ نکلی۔ اسکی پیروی میں دوسری تیسری ۔۔ پھر چیخوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ پوری منزل کے لوگ پہلے بھونچکا ہوئے پھرگڑبڑائے پھر اسی شیشے کے فرش پر بھگدڑ سئ مچئ ۔کوئی لفٹ کی جانب بھاگا کوئی سیڑھیوں کے کسی نے اپنے بچے ڈھونڈے۔۔ انتظامیہ کے اہلکار بگٹٹ آوازوں کے منبع کی جانب بھاگے۔ فرش کے بیچوں بیچ ایک دوسرے کے گلے لگ کر آنکھیں بند کرکے چیخیں مارتی ان لڑکیوں کی چیخوں سے لگتا تھا آج فرش ہی نہیں دیوار کے شیشے بھئ تڑخ جائیں گے۔
گوارا جی ہائے ان دونوں کو سنبھالنے میں ہلکان ہو رہی تھیں جو نا ایک دوسرے سے الگ ہو رہی تھیں نا چیخنا کم کیا تھا۔ دونوں کے کان اب سن ہو چکے تھے اور انکے ساتھ ساتھ گوارا اور جی ہائے کے بھی۔
تجربے نے گوارا کا تجزیہ غلط ثابت کر دیا تھا۔ پاکستانی لڑکیاں کسی سے کم نہیں ڈر کر چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوتے ورلڈ ٹاور کی انتظامیہ کے دفتر میں انکی ٹیم کا ایک ایک فرد چوکنا اور مستعد انکی خدمت میں حاضر تھا۔ انکو بڑے سے صوفے پر بٹھایا گیا تھا چھوٹے چھوٹے شال نما کمبل اوڑھے وہ دونوں خفت سے سرخ چہرے لیئے بیٹھی تھیں ۔اریزہ تو خیر بیہوش ہوگئ تھی ایک آدھ چیخ کے بعد مگر وہ تو ہوش و ہواس میں ہی ابتدائئ طبی امداد حاصل کر رہی تھی۔ یہاں لا کر سب سے پہلے تو انہیں ہلایا جلایا پھر ریسکیو ٹیم بلا لی گئ۔ اریزہ کو تو ڈرپ ھی لگا دی ۔اسے جوس پر ٹرخادیا۔۔ اب ۔تو خیر اریزہ بھی ہوش میں آگئ تھی۔ روزہ تو ٹوٹ ہی گیا تھا سو صبر سے شرمندہ ہورہی تھی

کوریا کی ایمرجنسی سروس 119 کی ٹیم انکا فشار خون دیکھ رہی تھی۔ جوس کے ڈبے سے دھیرے دھیرے گھونٹ بھرتی ان دونوں کو اس وقت پر افسوس ہو رہا تھاکہ فرش سچ مچ کیوں نہیں تڑخ کر ٹوٹا۔ اوپر سے گوارا اور جی ہائے کا بجتا ریکارڈ۔
بیانتا۔۔
گوارا اور جی ہائےنے جانے کونسی دفعہ معزرت کی تھی۔ دونوں سخت شرمندہ تھیں۔اس وقت انکے سامنے ہاتھ مسلتی شرمسار سی کھڑی تھیں۔
۔ڈاکٹر نے ان دونوں کا فشار خون دیکھنے کے بعد ایک ایک ٹیکا ٹھونکا تھا۔ اب اپنا فرسٹ ایڈ باکس بند کر رہے تھے۔
آپ دونوں اب اسپتال چل کر مکمل معائنہ کروالیں ۔۔۔
انکو اچھی طرح ٹھونک بجا کے دیکھنے کے باوجود بھی شائد انکو تسلی نہ ہوئی۔
ہنگل میں دیئے گئے اس مشورے پر دونوں نے سوالیہ نگاہوں سے سہیلیوں کو دیکھا۔
جی ہائے نےترجمہ کیا۔
آندے۔ کین چھنا۔ دونوں فٹ سے دونوں ہاتھ اٹھا کر اطمینان دلانے لگیں۔ کین چھنا کا مطلب ٹھیک ہے، ضرورت نہیں، خیر ہے کوئی بات نہیں وغیرہ کے ضمرے میں استعمال ہوتا ہے۔ ان دونوں کی دودھ پیتی ہنگل اس وقت بالکل گنگ ہوئی تھی سو بس اسی جملے کی گردان کرتی چلی گئیں۔۔
119 والے جھک جھک کر سلام کرتے اپنا سامان سمیٹتے چلے گئے۔ انکا جوس ابھی بھی ختم نہ ہوپایا تھا۔ تبھئ وہ ادھیڑ عمر انتظامیہ کا اہلکار اپنے دو چیلوں کے ہمراہ انکے سامنے آ کر جھک جھک کر بولنے لگا
ہم بہت شرمندہ ہیں۔ لوتے ورلڈ کی انتظامیہ ایسی کسی بھی شرارت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔ یقین جانیئے ہم نئے آنے والے سیاحوں کو خود رہنمائی فراہم کرتے ہیں تاکہ کسی کمزور دل کے فرد کو اچانک دھچکا نہ پہنچے۔ ہماری ایک سو سترہویں منزل بین القوامی اصولوں کے مطابق تیار کی گئ ہے اور بالکل محفوظ ہے۔ یہ ٹوٹ نہیں سکتی ہم اسکا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ہمارا اس منزل کو بنانے کا مقصد سیاحوں کو اونچی عمارتوں سے دلکش نظارے دکھانے او رتفریح کا نیا انداز روشناس کرانے کا تھا۔ہرگز کسی کی دل آزاری ہمارا مقصد نہیں ۔ ہم شرمندہ ہیں کہ آپکو اس ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔۔
وہ انتظامیہ کا کوئی اونچا افسر تھا ادھیڑ عمر کا نرم سے تاثرات والا چندی آنکھوں کے ساتھ کہتے ہوئے آدھا جھک گیا تھا۔ اسکی تقلید میں اسکے ہمراہ موجود دیگردو نوجوان افسران بھی آدھے جھک گئے۔ جھکے رہے۔
انکی کمروں میں درد نہیں ہوتا؟
اریزہ نے سنتھیا کے کان میں سرگوشی کی۔
جتنی دیر سے جھکے ہیں لگتا ہے آج تو ضرور ہوگا۔
سنتھیا نے پیشن گوئی کی۔
دونوں حیرت سے انہیں دیکھے جا رہی تھیں جو جھکے تھے تو سیدھا ہونا بھول گئے تھے۔
کین چھنا ۔۔ گوارا انکو سرگوشی میں ہنگل میں جانے کیا بتا رہی تھئ۔
کیا کہہ رہی ہے یہ۔ پورے جملے میں بس کین چھنا سمجھ آیا۔
سنتھیا نے حیرت سے دیکھتے کہا۔
یہ لوگ سیدھے کیوں نہیں ہو رہے۔
اریزہ نے جی ہائے سے پوچھا۔ وہ الگ اشارےکررہی تھی۔
دونوں کو سمجھ نہ آیا مگر اریزہ کو انکا جھکے رہنا برا لگ رہا تھا۔۔
آپ سیدھے ہو جائیں آپکی کمر میں درد ہو جائے گا۔
شستہ انگریزی میں اریزہ نے کہا تو تینوں گہری سانس لیتے سیدھے ہوئے۔
کین چھنا۔۔ چھے سو ہمبندا۔۔
گوارا اور جی ہائے اب ان تینوں سے جھک جھک کر معزرت کر رہی تھیں۔
ان انکل سے سلام دعا کرکے دونوں خراماں خراماں دروازہ کھول کر جانے لگیں کہ۔خیال آیا تو مڑ کر۔دانت پیس کر بولیں۔۔
کھاجا۔۔
اوہ۔ دونوں جوس کے ڈبے سنبھالتی فورا اٹھ کر انکے پیچھے بھاگی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک چینی ریستوران میں کھانا کھا کر وہ سب دوبارہ چارج ہوچکی تھیں۔
چلو اب اچھی سی مووی ہوجائے۔
سنتھیا نے کہا تو اریزہ بھی پرجوش ہوگئ۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ کوئی اچھی سی فلم دیکھتے ہیں۔
ان دونوں کے پرجوش ہونے پر جی ہائے سٹپٹا کر گوارا کو دیکھنے لگی۔
ٹھیک ہے۔۔ چلتے ہیں۔وہ یقینا جی ہائے کا اشارہ نہ سمجھی۔ اریزہ سنتھیا بھی مکمل حمایتی تھیں
ان سب کو پرجوش دیکھ کر اس نے جھجک بالائے طاق رکھ دی۔ ہنگل میں گوارا کو دانت پیس کر بتایا
یہ جو سب سے ذیادہ پرجوش ہے نا فلم دیکھنے کو اس نے لوتے ورلڈ سے لیکرچینی ریستوران تک کہیں ایک پیسہ نہیں نکالا ٹیکسی کے کرایوں تک میں میرے یا تمہارے پیسے لگے ہیں۔
مگر کھانے کا بل تو اریزہ نے پے کیا نا۔
گوارا نے دانستہ مسکرا کر اسے آنکھوں سے اشارہ کرتے گھرکا کہ یہ وقت مناسب نہیں اس بات کا۔
ہاں اریزہ میں ہے یہ تمیز مگر ابھی ہی فیصلہ کر لو ٹکٹس کون لے گا پاپ کارن کون کیونکہ میرے پاس صرف دو ٹکٹس کی گنجائش ہے۔
اس نے کندھے اچکا دیئے۔
کیا ہوا کیا مسلئہ ہے۔
اریزہ اور سنتھیا کو انکا لہجہ سمجھ نہیں آرہا تھا پھر بھی اتنا اندازہ ہوا کہ پیسوں کی بات ہورہئ ہے۔
گوارا نے دانت پیس کر گھورا پھر دانستہ مسکرا کر اریزہ سے بولی
نہیں وہ بس جی ہائے کو اپنی پینڈنگ اسائنمنٹس یاد آرہی ہیں۔ میں نے کہا مل جل کر کرلیں گے۔۔
نہیں میں یہ کہہ رہی تھی کہ میرے پاس اب ذیادہ پیسے نہیں بچے ہیں اب ہمیں مل جل کر ہی پیمنٹ کرنی پڑے گی۔
جی ہائے نے تنک کر صاف صاف کہہ ڈالا۔
اوہ۔ اریزہ اور سنتھیا سنجیدہ ہوگئیں۔
اسکا مطلب ہے اب ہمیں تمہیں خدا حافظ کہہ کر واپس بھیج دینا چاہیئے ہم تینوں بس فلم دیکھنے چلیں۔
سنتھیا جیسے سارا معاملہ سمجھ گئ۔
ہوں چلو ٹھیک ہے جی ہائے آننیانگ۔
اریزہ نے بھی تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔باقائدہ ہاتھ ہلا کر خدا حافظ بھئ کہہ دیا۔
جی ہائے تو جی ہائے گوارا بھی بھونچکا سی ان دونوں کی بے مروتی کو دیکھتی رہ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب ٹائٹلز پڑھ کر فلم دیکھنا یا فلم دیکھتے ہوئے سب ٹائٹلز کو جلدی جلدی پڑھنا دونوں ہی بیزار ہوگئیں۔ کوئی رومانوی فلم تھی۔ موٹے سے گول گپے جیسے منہ والی ہیروئن اور تھوڑا سا ہی اس سے بڑا چھوٹا سا ہیرو۔ان دونوں نے جمائی لیتے ایک دوسرے کو ملتجی نظروں سے دیکھا پھر مڑ کر اکٹھے جی ہائے اور گوارا کو کہنا چاہا کہ چلیں۔ مگر ان دونوں کے برعکس وہ دونوں بری طرح مگن تھیں فلم میں۔ جانے کیا کہانی چل رہی تھی کچھ پلے نہ پڑ رہا تھا اوپر سے چیخ چیخ کے بولتے لوگ اچانک ہائش۔ یاآآا۔۔۔ اور جھنچا کہتے تو دل اچھل کر انکا بھی حلق میں آجاتا۔
دونوں کے پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ فلم کے اختتام پر جی ہائے اور گوارا انکی جانب متوجہ ہوئیں تو دونوں ایک دوسرے کے سر پر سر ٹکائے خراٹے بھر رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینما سے باہر نکلتے جی ہائے اور گوارا نے خوب مزاق اڑایا تھا۔۔
ہمیں لگا تھا ہم کوئی انگریزی فلم دیکھیں گے۔
اریزہ نے کہا تو سنتھیا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
ہاں تو اور کیا۔۔۔
سچی محبت کی کہانی تھی ہائے تم لوگوں نے محبت کی ہی نہیں ورنہ محبت کی اپنی زبان ہوتی ہے۔
گوارا جھوم کے لہراکر بولی
کیہہ سوری (گوبر ) کونسی محبت دکھائی دی تمہیں۔ ؟ ایک کس سین اس میں بھی ہیرو نے برستی بارش میں ہیروئن کی چھتری چومی۔
جی ہائے چمک کر اعتراض کرنے لگی۔
تو تمہارے خیال میں انسان محبت میں صرف جسمانی تعلق بناتا ہے؟۔گوارا نے اس سے سوال کیا
میرا خیال ہے جسمانئ تعلق بنانے کیلئے ہی محبت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے
جی ہائےکندھے اچکا کر بولی۔
اف کتنی منتقمانہ سوچ ہے تمہاری۔ محبت وجود سے ہوتی ہے جسم سے نہیں۔فلم غور سے دیکھتیں تو ہیرو کا ہیروئن کیلئے پیار سمجھ آتا تمہیں۔ گوارا نے ناک چڑھائی
تم اور یون بن ایسی بدھا والی تارالدنیا محبت کرتے ہو جیسے؟ جی ہائے نے مزاق اڑایا گوارا کھسیانی سی ہوئی۔
ہاں تو ہمیں اپنا رشتہ قائم کرنے میں وقت لگا تھا یونہی۔تھوڑی ہم۔۔۔ وہ چلتے چلتے رک۔کر ان لوگوں کے سامنے آکھڑی ہوئی۔
تم دونوں بتائو ہم میں سے کون صحیح کہہ رہا؟
مجھے کبھی محبت نہیں ہوئی ۔
اریزہ نے کندھے اچکائے۔
سنتھیا لمحہ بھر کو سوچ میں پڑی۔اسکے ذہن میں اپنا اور ایڈون کا تعلق گھوم گیا۔ اسکے لاکھ محبت کا دم بھرنے کے باوجود بھی اسے ایڈون کو اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے مشرقی روائیتوں کو توڑنا پڑا ہی تھا۔
محبت جسم سے ہو نہ ہو محبت میں جسم آہی جاتا ہے۔۔۔۔۔
گہری بات۔ گوارا متاثر ہوئئ۔
یہی بات دوسرے لفظوں میں میں نے کہی ہے۔ جی ہائے ہنسی۔ ۔۔۔ اسکی بات پر سنتھیا کے قدم رک سے گئے۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں ساکت سی کھڑی رہ گئ۔ اسکے رکنے کا نوٹس لیئے بنا ان دونوں کا جھگڑا جاری تھا۔ چلتے چلتے اسکے اور انکے درمیان چند قدم کا فاصلہ آنے لگا
کوئی نہیں تم تو اپنے ابا کی دوسری شادی کے بعد انتہا پسند ہوگئ ہو ورنہ محبت کا بے حد خوبصورت رخ بھی ہوتا ہے۔
گوارا نے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر جان کر ہنگل میں کہا۔
میرے آہبجوجی کا ذکر مت کیا کرو میرے سامنے موڈ خراب ہوجاتا ہے میرا۔
حسب توقع وہ چڑ گئ۔
ہاں تو اور کیا وجہ ہے تمہارئ ایسے ایبنارمل خیالات کی۔
تائی من؟ ہیں بولو یاد آتا ابھی بھئ کیا؟ پہلا پیار۔۔
وہ جان کے چھیڑ رہی تھی۔ جی ہائے نے اپنا بیگ گھما کر اسے مارنا چاہا۔ وہ جھکائی دے گئ۔ اور منہ چڑاتی بھاگ اٹھی۔ جی ہائے اسے مارنے کو دوڑ پڑی۔۔
ان دونوں کی نوک جھونک سمجھ نہ آنے کئ باوجود بھی اریزہ انکی لڑائی کا۔لطف لے رہی تھی بے پروا سڑک کنارے چلتے چلتے وہ دونوں دوڑنے لگیں ۔۔ نہ کسی نے رک کر گھورا نہ برا سمجھا۔ دو لڑکیاں اپنی مستی شرارت کرتی کافی دور جا کر بھی گتھم گتھا تھیں ۔جی ہائے اسے اپنے بیگ سے پیٹ رہی تھی گوارا ہنستے ہنستے جھکائی دے رہی تھی۔
دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اریزہ رشک سے دیکھ رہی تھی انہیں۔
اریزہ۔۔۔ سنتھیابھاگ کے اسکے ہم قدم ہوئی۔
تمہیں واقعی محبت نہیں ہوئی کبھی؟
مجھے؟ وہ چونکی۔ کس سے ہوتی؟
کسی سے بھی اسکول کالج یونیورسٹی کتنے ہی تو لڑکے بڑھے تھے تمہاری جانب۔۔۔
ہوتی تو تمہیں پتہ ہوتا۔
اس نے کندھے اچکا کر آرام سے کہا۔
مجھے تو سجاد سے بھی محبت نہ ہوپائی تھی۔ حالانکہ کہتے نکاح کے دو بول محبت پیدا کردیتے ہیں دل میں۔
اسکا جواب مفصل تھا۔ وہ لوگ اب تیز قدم اٹھا کر جی ہائے اور گوارا کے پاس جا رہی تھیں۔۔
تمہاری رخصتی ہو جاتی تو ہوجاتی تمہیں محبت ہے نا؟
سنتھیا کے سوال پر اریزہ نے ابرو چڑھا کر دیکھا۔
کیا سننا چاہ رہی ہو؟ ۔ وہ اس جرح کا مطلب پوچھ رہی تھی سنتھیا اپنی بات کا مطلب بتانے لگی۔
مطلب ہو جاتی نا محبت جب اکٹھے رہتے ساتھ رہتے تعلق بنتا لگائو پیدا ہوجاتا۔
لوگ سالوں ساتھ رہتے شادی کرتے ان میں محبت لگائو پیدا ہی نہیں ہو پاتا یا ختم ہو جاتا ہے آخر طلاق بھی تو لوگوں کی ہوتی ہےنا۔۔۔
اریزہ کا انداز سادہ سا تھا۔سنتھیا چپ کر گئ۔گوارا اور جی ہائے انکا انتظار کر رہی تھیں۔ انہوں نے کیب روک رکھی تھی۔
پالی پالی۔ گوارا ہاتھ کے اشارے سے اورچلا۔کر۔انہیں جلدی آنے کو کہہ رہی تھی۔ ان دونوں نے بھی بحث ختم۔کرکے قدموں کی رفتار بڑھا دی۔ان دونوں کی طرح بھاگنے کی کوشش نہ کرسکیں۔ انکو یوں لڑھکتے آتے دیکھ کر گوارا نے گہری سانس لی
بندہ بھاگ لیتا ہے یہ دونوں بہت سست ہیں۔
جی ہائے نے بھئ ناک چڑھا کر کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا ان تینوں کو ہاسٹل بھیج کر وہ اپنے اپارٹمنٹ آئی تھی۔ پورا اپارٹمنٹ تاریکی میں ڈوبا تھا شائد ہوپ نہیں آئی تھی۔کاریڈور میں شو ریک پر ایک اجنبی جوڑی تھی تو مگر وہ دھیان دیئے بنا چپل بدلتی بتیاں جلاتی اپنی دھن میں کمرے میں داخل ہوئی۔۔ اس نے بتی جلائی تو دل تھام کر وہیں گر سی گئ۔ ایک زور دار چیخ منہ سے نکلی۔
کم چاگیا۔
گھپ اندھیرا کیئے ہوپ بہت سکون سے بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھی موبائل استعمال کر رہی تھی۔ اسکے چلانے پر ناگواری سے اسے دیکھا۔
تم کیا بھوتوں کی طرح پورے گھر میں اندھیرا کیئے بیٹھی تھیں۔
دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
تم کیا پورے گھر میں چراغاں کرتی داخل ہوئی ہو
بجلی کا بل نہیں آتا تمہارا؟
جوابا وہ ترکی بہ ترکی بولی۔
آتا ہے میں گھپ اندھیرا کرکے ڈرنے ڈرانے کی۔بجائے اسکا بل ادا کرنے پر یقین رکھتی ہوں۔
وہ۔بھی چبا چبا کر بولی۔ گوارا نے بے نیازی سے اسکا جملہ نظر انداز کیا پھر اپنے فون پر نگاہ جما لی۔
پہلی لڑکی دیکھی یے جو اندھیرے میں اتنے سکون سے بیٹھی تھی۔ کوئی ڈر نہیں لگ رہا تھا اسے کیا۔۔۔
وہ بڑبڑ کرتی صوفے پر سے کپڑے اٹھانے لگی۔
اسکی بات پر بظاہر بے نیازی سے بیٹھی ہوپ نے ذرا کی۔ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
وہ شاید نہانے جا رہی تھی کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں گھسس گئ۔۔۔
ڈر۔ اس نے سوچا۔ اندھیرے سے کیا ڈرنا۔
جس نے دنیا دیکھ رکھی ہو اسکے نزدیک اندھیرا سب سے کم خوفناک چیز ہوتا ہے۔ دنیا میں سب سے خوفناک انسان ہی ہیں۔۔۔ کاش کہ تمہیں کبھی تجربہ نہ ہو اس چیز کا۔
بڑبڑا تے ہوئے اس نے فون ایک جانب رکھا اور کروٹ لیکر آنکھیں موند لیں۔ دس منٹ بعد گوارا جب نہا کے باہر نکلی تو وہ گہری نیند میں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہبوجی واپس آچکے تھے۔۔ اسے انکو ایک۔مہینے کی کارکردگی بتانی تھی۔۔ وہ بیزار سا انکے سامنے بیٹھا تھا۔ انکا سیکٹری اسکے برابر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔ وہ سر سری نظر ڈال کر دو تین فائلیں بھگتا کر رکھ چکے تھے۔۔
گنگشن کتنی بار دفتر آئی ہے؟۔ وہ سیکٹری سے پوچھ رہے تھے۔۔
ہفتے میں تین بار آیا کرتی تھیں۔۔ سیکٹری نے بتایا تو وہ جانے کیوں ہایون پر نظریں گاڑ بیٹھے۔۔
تم امریکہ نہیں جائو گے؟۔۔ انداز انکا تحکمانہ نہیں تھا وہ بس پوچھ رہے تھے۔۔
آنیو۔ اس نے مختصر جواب دیا۔۔
دفتر سنبھالنے کا بھی ارادہ نہیں؟۔۔
انداز ہنوز تھا۔۔
دے۔۔ (جی)۔۔ اس نے مزید سر جھکا لیا۔۔
گنگشن کا رشتہ میں نے ڈاریکٹر کے بیٹے سے طے کر دیا ہے ۔۔۔ وہ بتا رہے تھے۔۔
ہایون نے مٹھئ بھینچی۔اطلاع نئ نہیں تھی۔۔ اسکو اس دن نونا اور انکے درمیان ہونے والی گفتگو یاد تھی۔۔
آپ مجھے سیڑھی بنائے بغیر بھی کاروبار کے بلاشرکت غیرے عظیم آسمان کو چھوتے ہیں مزید اور کتنا اوپر جانا چاہتے؟۔۔میں دوسری بار اپنی زندگی آپکے ہاتھوں کھلونا بننے نہیں دے سکتی۔۔
انی کی آواز بھرائی تھی۔۔ شائد روئی بھی ہونگی مگر اسکا باپ پگھلنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔
پھر مجھے ہایون کا رشتہ ڈاریکٹر کی بیٹی سے طے کرنا پڑے گا۔۔ مگر ہایون کے شیئرز تمہارے شیئرز سے کہیں زیادہ ہیں۔۔ میں ڈائریکٹر کے ہاتھ میں کمپنی نہیں دے سکتا۔۔ اس احمق لڑکے کو کاروبار کی الف بے بھی معلوم نہیں۔۔ ڈاریکٹر سمدھی بننے کے بعد کب کونسا پتہ پھینکے کیا خبر۔۔ انہوں نے تفصیل سے اپنے ذہن میں چلنے والی جمع تفریق نونا کو سمجھائی۔۔
نونا تاسف سے اپنے لالچی باپ کو گھور رہی تھیں۔
مجھ سے تو آپکو محبت نہیں مگر ہیون سے تو کرتے ہیں نا۔۔ اسکے خواب کیوں اپنی مادہ پرست طبیعت کے ہاتھوں پامال کر رہے ہیں۔۔ وہ ضبط سے بولیں۔۔
مجھے کسی کو تو سہارا بنانا پڑے گا۔۔ اپنے چچا زاد بھائی کو کچھ تو ضمانت دینی پڑے گی۔۔ وہ کیسے اپنی مکمل حمایت مجھے دے گا بنا کوئی فائدہ اٹھائے۔۔ وہ سخت چڑے۔۔ انکے بچے جانے کس پر پڑے تھے جزباتی احمق۔۔
اگر تم مان جاتی ہو تو ٹھیک۔۔۔۔ مجھے ہیون کے نام سب شئیرز واپس لے کر تمہارے نام کرنے ہونگے۔۔ جو تمہاری ماں کا دیرینہ خواب ہے۔۔
پھر تم کسی دن بھی ہاتھ پکڑ کر اسکو اس گھر سے نکال دینا۔۔۔ بلکہ نہیں یہ کام تمہاری ماں کر لے گی۔۔ ٹھیک ہے جائو۔۔
وہ بے نیازی سے کہہ کر رخ موڑ کر سگار جلانے لگے۔۔
انی ساکت سی بیٹھی انہیں دیکھ رہی تھیں۔۔
آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔ بیٹا ہے وہ آپکا۔۔
ایسا بس میں سمجھتا۔۔ تمہاری ماں اسے میرا بیٹا بھی ماننے کو تیار نہیں۔۔ آج اگر میں مر جائوں تو اسکی۔اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔۔
تم اچھی طر ح جانتی ہو۔۔ وہ کن اکھیوں سے دیکھتے سگار کے کش لیے جارہے تھے۔۔
آپ ہیون کو بے دخل نہیں کریں گے۔۔ انی تڑپ کر انکے سامنے آکھڑی ہوئی تھیں۔۔
میں نہیں کرنا چاہتا۔ مگر ہیون اگر میری بات مان کر شادی کے لیئے رضامند ہو بھی جاتا تو بھی اسکی بلا شرکت غیرے والی جائداد میں حیثیت نہیں رہنے دے سکتا۔۔ سب اس عیاش آدمی کے پاس چلا جائے گا بیٹی داماد کی صورت۔۔ انہوں نے کھل کر اپنی بے بسی بیان کی۔۔ انی انہیں دیکھتی رہ گئیں۔۔
ٹھیک ہے۔۔ میں راضی ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنا تم نے ؟ آہبوجی کو لگا وہ سن نہیں رہا۔
جانتا ہوں۔۔ اس نے اپنی مٹھی بھینچی۔۔
ضبط سے اسکی کنپٹی کی رگ ابھر آئی تھی۔۔
میں اسکے نام کے شئرز تمہارے نام کر رہا ہوں۔۔ اسطرح تمہاری حیثیت بڑھ جائے گی۔۔ میں چاہتا ہوں تم ڈائریکٹرز کا اعتماد جیتو اور منتظم اعلی کا عہدہ سنبھال لو۔۔ وہ سرسری سے انداز میں کہے جارہے تھے۔۔
اور اگر میں یہ دونوں کام آپکو کرنے نا دوں تو۔۔
اس نے انکو تحریک دینے والے انداز میں کہا۔۔
لی اسے غور سے دیکھتے رہے۔۔
پھر مسکرا دیئے۔۔
مرضی تمہاری۔۔ روک سکو توروک لو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نونا کے کمرے میں پکارتا آیا تھا۔
نوکرانی انکے کمرے کی صفائی کر رہی تھی۔۔ آہٹ پر چونک کر مڑی پھر جھک کر ادب سے سلام کیا۔۔
انی کہاں ہیں؟۔ اس نے پوچھا۔۔
وہ تو کل شام کی فلائٹ سے چین گئ ہیں۔۔ نوکرانی نے بتایا
کیا۔؟۔۔ وہ حیرانی سے چیخ ہی تو پڑا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حسب عادت منہ ہاتھ دھو کر باتھ روم سے نکلی تھی۔ سنتھیا بیڈ پر بیٹھی اپنا والٹ نکالے جانے کس جمع تفریق میں لگی تھئ۔ وہ اپنے ڈورم کی سیڑھی چڑھنے لگی تو اس نے پکارا۔۔
اریزہ ادھر آئو۔
وہ سعادتمندی سےرخ بدل کر اسکے بیڈ پر آن بیٹھی۔
یہ لو۔۔
اس نے چند کرنسی نوٹ اسکی۔جانب بڑھائے۔
یہ کیا ؟
وہ۔قطعی نہ سمجھی۔
آج کھانے کے پیسے بھی تم نے دیئے پھر فلم کا ٹکٹس ، اسنیکس او رواپسی کا کرایہ بھی۔ میں اتنی گھامڑ کہ والٹ لیئے بنا ہی تمہارے ساتھ چل۔پڑی۔
سنتھیا نے وضاحت کی تو اریزہ برا مان گئ۔
تو کیا ہوا۔ اب تم مجھ سے حساب کتاب رکھو گی؟
یہ بات نہیں مگر ہم چاروں اکٹھےگئے تھے ان دونوں نے بھی تو حصہ بٹایا نا میرے لیئے ہر بار تم نے ادائیگی کی تو مجھے شرمندگی ہورہی ہے۔
سنتھیا نے کہا تو وہ اسکے ہاتھ سے پیسے اور والٹ دونوں چھین کر اس میں پیسے رکھنے لگی۔
مانا آپ بہت بڑے بیوروکریٹ کی اکلوتی بیٹی ہیں آپکو پیسے کی کمی نہیں مگر دوستی میں حساب کتاب نہیں لانا چاہیئے۔
رکھو یہ پیسے اپنے پاس۔ اور یہ بتائو عید کی شاپنگ کرنے کب جانا ہے؟
وہ اسے ڈانٹ کر بات بھی بدل گئ سنتھیا نے کچھ کہنا چاہا پھر سر ہلا کر بولی۔
ایڈون سے پوچھوں گئ۔
کیوں ایڈون سے کیاپوچھنا ؟ ہم چاروں چلیں گے نا کتنا مزا آیا نا گرلز ڈے آئوٹ میں۔ ہم لڑکیاں ہی لڑکیاں بس پورا شہر گھوم آئیں۔۔ کل گوارا سے کہوں گی۔۔
اریزہ کو آج بہت مزا آیا تھا۔ سنتھیا مسکرا دی۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔
آج جو تصویریں لی ہیں مجھے بھیجو میں انسٹا پر تو لگائوں۔ وہ۔ہدایت کرتی اٹھ گئ۔ سنتھیا بیڈ درست کرتی نیم دراز ہوئی سب تصویریں چن کر بھیجیں اسے پھر ایک پیغام بھی لکھ ڈالا۔
ابو پیسے چاہیئیں عید کی شاپنگ کرنی ہے۔
جواب سرعت سے آیا تھا۔اورغیر متوقع بھی۔
بھیجے ہیں نا بیٹا عید کی شاپنگ کروانے کا کہہ کر ہی ایڈون کو اس سے کہو نا شاپنگ کرا لائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالک شاہزیب ایڈون اس بڑی سی چھابڑی نما عارضی دکان کے سامنے کھڑے شرٹس اور جینز پسند کر رہے تھے۔
ایک ہی دکان پر کھڑے رنگ ڈیزائن وغیرہ کی ذیادہ فکر کیئے بنا۔۔ وہ اور سنتھیا بیزاری سے ان لوگوں کی “شاپنگ” دیکھ رہی تھیں۔گنگنم کی مشہور مڈل کلاس مارکیٹ جس میں حقیقتا کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔پنڈی کے راجہ بازار کی طرح تنگ گلیاں اور آدھی آدھی گلی تک استراحت فرماتی دکانوں کے آگے بڑی بڑھی چھابڑیاں اور ٹھیلے۔ سوئی سے ہاتھی تک یہاں بک رہا تھا۔خیر سچ مچ کا ہاتھی نہیں محاورتا کہا۔ ان دونوں سے دو ایک لوگ ٹکرا کر گزرے تو بھنا کر سنتھیا بولی۔۔
بس بھی کرو ساری دکان خریدنی ہے؟
آگے پیچھے اور بھی دکانیں ہیں کم از کم ایک آدھ تو چیز کہیں اور سے لے لو۔
اریزہ بھئ ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
کیا ضرورت ہے۔ یہ فرسٹ کاپی بیچ رہا ہے سستی سستی شرٹس ہیں یہ سب۔
ایڈون نے آترا کر بتایا۔ چینجنگ روم تو تھا نہیں۔۔ سالک نے وہیں شرٹ اتار کر اپنے سائز کی شرٹ نکلوا کر پہنی۔
ٹی پنک شرٹ پہن کر موبائل میں اپنا بوتھا دیکھ کر سالک اتراکر پوچھنے لگا
یہ کیسی ہے؟ ۔۔ جوابا دکاندار شاہزیب ایڈون کے ساتھ جملہ راہ گیروں تک کو منہ کھولے گھورتا پایا تو سٹپٹا سا گیا۔
کیا ہوا۔ ؟
پینٹ بھئ بدل لے یہیں کھڑے کھڑے۔ ایڈون نے دانت کچکچایے۔ اریزہ سنتھیا قصدا رخ موڑ گئیں۔
یار پینٹ کے ساتھ مسلئہ ہے میں نے آج۔
اس سے قبل کہ وہ بھانڈ اپنا مسلئہ بھی فل والیم میں بتاتا شاہزیب نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔
ایڈون کو بھئ اسکی ٹی پنک شرٹ پسند آئی۔
ویسے یہ کلر اچھا لگ رہا ہے اس پر۔
تو تو بھی لے لے۔ سالک نے کندھے اچکائے۔ اچھا ہے عید کے دن دونوں بھائی ایک جیسے کپڑے پہنے ہوں گے۔
ایڈون اس جیسی شرٹ اٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر دیکھنےلگا پھر ہنس کر بولا۔
اس میں تو میں اور کالا لگوں گا۔
توپھر یہ اورنج لے لے۔ تاکہ اندھیرے میں بھی دور سے چمکے تو۔
شاہزیب نے حقیقتا گہرے نارنجی رنگ کی شرٹ اٹھا کے تھمائی جوابا وہ گھور کر رہ گیا۔
یار کرتا پاجامہ یاد آرہا ہے مجھے یہاں ملتا تو ہوگا۔
سالک کو عید کی یاد ستائی۔
عید کی نماز جینز پہن کر پڑھوں گا میں کیا ؟ اسے دکھ ہو رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرے کرتا جو کمر سے تھوڑا سا ہی نیچے آرہا تھا ہمراہ سفید کھڑا پاجامہ پہن کر وہ انکے سامنے آیا تو بے ساختہ وہ دل سے خوش ہو کر ماشا اللہ کہہ بیٹھے۔
بہت وجیہہ بہت پیارے لگ رہے ہو ماشا اللہ۔
انہوں نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم لی
علی جھینپا جھینپا سا تھا انکے ردعمل پر۔ اسے آج بطور خاص اصرار کرکے عبدالہادی نے اپنے گھر بلایا تھا۔ اور عید کا جوڑا تھمایا تھا بلکہ ابھی پہن کر دکھانے پر اصرار بھی کرنے لگے۔ تاکہ کمی بیشی دور ہوسکے۔۔۔
اسکی کیا ضرورت تھی۔ ؟ میرے پاس بہت سے کپڑے ہیں۔۔۔
وہ کہے بنا نہ رہ سکا۔
کیسے ضرورت نہ تھی؟عید پر کیا پرانے کپڑے پہنتے ؟
وہ بگڑ کر بولے۔
بیٹا رمضان کے بعد عید کا دن مسلمانوں کیلئے اللہ کا تحفہ ہے۔ اس دن خوش ہونا صاف کپڑے پہن کر سجدہ شکر ادا کرنا سنت نبوی ص ہے۔ پورا مہینہ عبادت کرکے اپنا نفس سنوار کر عید کے دن سچی خوشی محسوس کرنا ہم پر فرض ہے بیٹا۔
یہ لباس ہے کونسا۔؟ کچھ کچھ کیمونو( جاپانی روایتی لباس) جیسا ہے
ویسے یہ ترکی لباس ہے۔ میری ترک بیوی نے خاص ترکی سے منگوائے تھے یہ کرتے پاجامے۔ میں اپنا دکھائوں۔
انہیں اچانک خیال آیا تو بچوں جیسی خوشی سے بولے۔
جی دکھائیے۔۔
وہ مسکرا دیا۔ وہ خوشی خوشی اپنا لباس لینے اندر کمرے میں چلے گیے۔ وہ یونہی طائرانہ نظر کمرے پر ڈالتا صوفے پر ٹک گیا۔ اسکو تبھی موبائل پر پیغام آیا تھا۔
کھول کر پڑھتے ہی وہ ایکدم اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
یہ دیکھو میرے اور تمہارے کرتے میں بس ایمبرائیڈری کا فرق ہے تھوڑا سا ہم عید پر صحیح باپ بیٹا لگیں گے تیار ہو کر۔۔
وہ کرتا پہن کر خوشگوار انداز میں بولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔۔
علی نے بے چین سی نگاہ ان پر ڈالی۔ وہ بھی ایکدم سنجیدہ سے ہوگئے
کیا ہوا؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں بھاگم بھاگ اسپتال پہنچے تھے۔ یہ اسپتال اسکے ٹرسٹ کا حصہ تھا۔ ریسیپشن پر سے ہی انہیں وی آئی پی پروٹوکول ملا تھا۔۔ انتظامیہ کا اہلکار انہیں سب تفصیل بتاتا آئی سی یو تک لایا تھا۔ ۔ اسکی ماں کی اچانک طبیعت خراب ہوگئ تھئ۔ گھر میں کافی دیر تکلیف میں پڑے رہنے کے بعد وہ ہوش وحواس سے بے گانہ ہوگئی تھیں تب ملازمہ کسی کام سے اندر آئی تو انکو بیہوش پڑے دیکھ کر اس نے ایمرجنسی سروس بلائی۔۔ فوری اسپتال پہنچانے کے باوجود ابھی انکی حالت خطرے سے باہر نہ تھی۔ اسکے چچا اور اسکے چچا کا بیٹا آئی سی یو کے باہر ہی کھڑے تھے اور اسکو دیکھ کر خاصے بدمزا بھی ہوئےتھے۔
اب کیا لینے آئے ہو؟ماں اکیلی گھر میں بیمار پڑی رہی تمہیں احساس نہ ہوا تمہارے ہوتے ہوئے بھی ہم تمہاری ماں کو اسپتال لائے علاج کروا رہے تمہاری اب کیا ضرورت باقی رہ گئ ہے۔ جائو اپنے نئے رشتے نبھائو۔ اپنے نئے باپ کے ساتھ۔
اسکے چچا نے لتاڑ کر رکھ دیا۔ آخری جملے پر ان دونوں کو ایک جیسے ملبوس میں دیکھ کر طنزیہ انداز حقارت بھرا ہوگیا تھا۔ عبدالہادی خفت زدہ سے ہوگئے۔ جبکہ علی سر جھکا کے کھڑا سنتا رہا۔ ایک لفظ صفائی میں نہ بولا۔
کچھ اندازہ ہے ہمارے ہاتھ سے سارا کاروبار نکل رہا ہے؟ ایک تمہارے غلط فیصلے نے تمہاری ماں کے سب شئیرز ڈبو دیئے ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے ۔
کوئی سننے لگے تو سنانے والوں کی تو چاندی ہوجاتی ہے۔ سو وہ اسکی ماں کی بیماری سے کاروبار تک پہنچ گئے۔
اپنی ماں کی بیماری میں اسکے پاس نہ ہونا میری غلطی ہے اس پر میں خاموشی سے آپکی سخت سست سن سکتا ہوں مگر کاروبار اور اس سے جڑے معاملات سے میں خود کو الگ کر چکا ہوں اسکا تذکرہ کرنے کیلئے یہ وقت ویسے بھی مناسب نہیں۔۔
اسکے دو ٹوک جواب پر وہ دانت پیس کر رہ گئے
ہائش۔ ہمیشہ یہی خود سری دکھا کے تم نے بھابی کا دل دکھایا اور اب کاروبار بھی ڈبونے چلے ہو۔۔ جانے تم جیسی اولاد۔۔
وہ بڑ بڑا رہے تھے انہیں نظر انداز کرکے وہ آئی سی یو سے نکلتے ڈاکٹر کی جانب لپکا۔
شدید ذہنی دبائو کے باعث انکا فشار خون بہت بلند ہو گیا تھا۔
ہم تک پہنچنے میں انکو بہت دیر لگ گئ۔ ہم پوری کوشش کرنے کے باوجود بھئ انکو بچا نہ سکے۔۔ بیانیئے۔۔
ڈاکٹر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے افسوس بھرے انداز میں بتایا تھا۔۔۔ وہ ساکت سا کھڑا اسکو دیکھتا رہ۔گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان لڑکوں کی جوتوں کپڑوں سمیت مکمل شاپنگ میں ایک گھنٹہ لگا ہوگا اسکے بعد ان دونوں کو انکی پسند کی چیزیں خریدنے میں ساری شام خرچ ہوگئ۔
مگر وہ تینوں بڑے تحمل سے شاپر اٹھائے انکے ہمراہ دکانیں جھانکتے پھرے۔ ہر دکان پر ایک تو مناسب لباس اکا دکا تھے جو تھے وہ ان دونوں کو پسند نہ آتے ناک چڑھا کر باہر نکل آتیں۔اب تو تنگ آکر ان تینوں نے بھی انکی مدد کرانی شروع کر دی۔۔ سالک ہینگ ہوئی اسکرٹس نکال کر اسکے سامنے لہرانے لگا۔ سیلز گرل سٹپٹائی سی اسکے ساتھ ساتھ آئی تھی۔
اسکرٹ پہنوں میں عید کے دن۔۔
اریزہ بھنائی۔
کوئی حرج نہیں لانگ اسکرٹس بھی ہیں یہاں۔
شاہزیب نے گھاگھرے کی طرز کی اسکرٹ اسے دکھائی۔
یہ بھی لمبا کرتا لگ رہا ہے۔
سالک ہینگرز سیلز گرل کو تھما کر اب ڈمی کے لانگ ٹاپ کو لہرا کر دکھا رہا تھا۔
ایڈون اور سنتھیا دکان میں کے ایک کونے میں گھسے الگ ڈسپلے کے کپڑے چھانٹ رہے تھے۔
سرمئی گلابی امتزاج کی وہ چھوٹے چھوٹے پھولوں والی سلیو لیس میکسی تھی۔ سنتھیا اور ایڈون نے ایک ساتھ اسکی جانب ہاتھ بڑھایا۔ سنتھیا نے ہاتھ پیچھے کیا۔
یہ دیکھو اریزہ یہ تم پر سوٹ کرے گی۔۔۔۔۔
ایڈون ہینگر اٹھا کر اریزہ کی جانب بڑھا جو قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی ہلکے نیلے رنگ کا ٹاپ خود سے لگا کر دیکھ رہی تھئ۔
ایڈون نے اسے سوٹ تھمایا تو وہ خود سے لگا کر دیکھنے لگی۔۔۔
ٹاپ واقعئ خوبصورت تھا۔۔ مگر خاصا فٹنگ والا۔ یقینا اسکو پھنس جاتا۔۔۔۔
اس نے کالر سے سائز دیکھا پھر پاس کھڑی سیلز گرل سے بولی
اسکا کوئی بڑا سائز ہے؟
آندے۔ فری شائز۔
ٹوٹی پھوٹی انگریزئ ہنگل میں دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر اس نے بات سمجھا ہی دی۔
آجائے گا اریزہ اتنے روزے تو رکھتی رہی ہو۔۔
شاہزیب نے کہا تو وہ گھور کر رہ گئ۔
اندر چینجنگ روم ہے آپ وہاں جا کر پہن کر دیکھ لیں۔
سیلز گرل نے کہا تو وہ متزبزب ہوئی۔
سنتھیا۔ اس نے سنتھیا سے مشورہ کرنا چاہا مگر وہ چینجنگ روم کی جانب ہی بڑھ رہی تھی۔ وہ ٹاپ اٹھاتی ان کیبنز کی طرف بڑھ آئی۔ سنتھیا اسکے برابر والے کیبن میں ہی تھی۔ اس نے کپڑے بدلے اور آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔
میکسی اسے آ تو گئی مگر بہت چست تھی۔
اریزہ مجھے بھی دکھانا میکسی۔
سنتھیا نے آواز لگائی تو وہ سٹپٹا سی گئ۔۔۔
سنتھیا چینج کرکے اب اسکے کیبن کے باہر کھڑی تھی۔
اس نے دروازہ کھولا سنتھیا کا منہ کھلا۔
تم کیا کر رہی تھیں اتنی دیر سے کپڑے ہی نہیں بدلے ؟
وہ حیران ہوئی۔ اریزہ میکسی بدل چکی تھی۔
یہ لباس میرے لیئے نہیں بنا۔ تمہیں شائد آجائے۔ اس نے احتیاط سے سنتھیا کے ساتھ لگایا تو دبلی پتلی سنتھیا کو واقعی وہ لباس اتنا چست نہ ہوتا جتنا اس پر لگا تھا۔
سنتھیا نے لمحہ بھر سوچا پھر وہ میکسی لیکر کیبن میں گھس گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیار ہو کر وہ باہر نکلی تو اریزہ اسکے انتظار میں باہر کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر جیسے منہ کھلا رہ گیا
اف بہت بہت پیاری لگ رہی ہو تم۔
اس نے چٹا چٹ گال چوم لیئے۔ سنتھیا سرخ سی ہوگئ۔
چلو ایڈون سامنے ہی کھڑا ہے منہ کھلا رہ جائے گا اسکا۔ اسکو دھکیل کر کہتی وہ شرارت سے کان میں منمنائی۔ سنتھیا نے قدآدم آئینے میں خود کو دیکھا تو اعتماد سا چال میں آگیا۔ سہج سہج کر چلتی باہر آئی تو سب سے پہلے ایڈون کی ہی اس پر نظر پڑی۔
ایک لمحے کو تو حیران ہوا پھر تاثرات پر قابو پا لیا۔
کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔
وہ اسکے سامنے ہی جا کھڑی ہوئی۔
آ ہاں۔ اچھی لگ رہی ہو مگر یہ رنگ تھوڑا ڈارک نہیں؟۔
وہ بے ساختہ بولا سنتھیا کا منہ اتر سا گیا۔
کیا ہوا میں اس میں کالی لگ رہی ہوں
اسے یہی گمان گزرا۔۔
آں۔۔ نہیں ۔۔ اچھی لگ رہی ہو اسمارٹ۔ تم لائٹ کلرز لیتی ہو نا اسلیئے بس ۔۔
وہ سنبھل کر مسکرا کر بولا۔
سنتھیا کو اسکی وضاحت مطمئن نہ کرسکی مڑ کر آئینے میں اپنا سراپا دیکھنے لگی۔
گہرے رنگوں میں اسکی رنگت مزید گہری لگ رہی تھی۔ اس نے آئینے میں منعکس ہوتا اریزہ کا عکس دیکھا جو ڈسپلے سے ایک اور ٹاپ اٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہی تھی۔ ہلکے سے عنابی رنگ کا۔ جو اس کی گوری رنگت پر جچ رہا تھا۔ خیر اسکا رنگ صاف ہی اتنا تھا ہر رنگ جچتا تھا اس پر ۔۔
وہ کپڑے بدلنے کیبن میں واپس گھس گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکے انکو ہاسٹل کے باہر چھوڑ کر خود آگے چلے گئے تھے۔ ان دونوں نے عید کا جوڑا نہیں لیا تھا۔
میں نے کہا تھا نا۔ ہم لڑکیاں لڑکیاں مل کر چلتے مزا بھی آتا اور جی ہائے اور گوارا دونوں کو دیکھا ہے انکی ڈریسنگ کتنی اعلی ہوتی ہے دونوں ہی میچنگ وغیرہ کا خوب دھیان رکھتی ہیں۔
اریزہ کمرے میں داخل ہونے تک سیر حاصل تبصرہ کرتی آئی۔
مگر مجھے دوبارہ ایڈون کے ساتھ ہی جانا پڑے گا۔ وہ مسکرا دی
کیوں؟ اریزہ سوالیہ ہوئی
وہ اسلیئے کہ ابو نے پیسے ایڈون کو ہی بھجوائے ہیں عید کی شاپنگ کیلئے۔
وہ اطمینان سے کہتی بیڈ پر دھپ سے گر گئ۔ پھر پھر کر تھکن ہوگئ تھی۔
یہ کیا بات ہوئی۔ اریزہ کمر پر ہاتھ رکھ کر جرح کرنے لگی۔
تمہارے ابو پیسے ایڈون کو کیوں بھجوا رہے؟
ایڈون سمجھدار ہے لڑکا ہے ذیادہ بہتر سنبھال سکتا۔
وہ متفق تھی یا نہیں اس بات سےمگر بظاہر اسکو یہی صحیح لگ رہا تھا۔
ںو وے۔اپنا پیسہ اپنے ابا کا پیسہ انسان خود ہی صحیح طرح خرچ کر سکتا ہے۔۔ پاپا کہتے ہیں یہ میرے۔ انہوں نے مجھے یہی سکھایا۔
۔چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لینی ہوتی تھی نا تو پاپا مجھے پیسے دیتے چاہے امی یا صارم کے ساتھ ہی کیوں نہ جائوں۔ ایک بار بس میں نے شکایت لگائی تھی پاپا کو کہ امی نے مجھے چیز نہیں لینے دی کہ پیسے ختم ہوگئے بس پھر پاپا نے کبھی میری پاکٹ منی بھی امی کے ہاتھ نا دی مجھے۔
وہ ہنس ہنس کر بتا رہی تھی۔
تمہارے پاپا تم سے بہت پیار کرتے ہیں نا۔ سنتھیا مسکرا دی۔
ہمیشہ سے۔ جب حماد بھائی زندہ تھے نا تب بھی پاپا کی میں لاڈلی ہوتی تھئ۔ حماد بھائی کے بعد تو بہت ذیادہ ہی پاپاپیار کرنے لگے ہیں۔ ۔۔۔
وہ بولتے بولتے رکی۔۔ پھر قصدا ہنس کر بولی
شائد ایک ہی اولاد باقی رہ گئ ہوں میں اسلیے۔
اچھا ایمو ہونے کی نہیں ہو رہی۔ سنتھیا فورا اٹھ بیٹھی۔
یہ سوچو آخر ہم کیا کریں۔عید کے کپڑے تو ہمیں یہاں پسند نہیں آرہے۔ پھر ۔؟
سنتھئا کی بات میں دم تھا۔اریزہ بھی اسکے پاس آن بیٹھی
یار ویسے انڈیںز تو دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں یہاں بھی انڈینز ہوں گے نا۔ کیا پتہ یہاں بھی کپڑے بکنے آتے ہوں۔۔
اریزہ کے کہنے پر سنتھیا ہنسی۔۔
کون پہنتا ہوگا یہاں۔ مجھے نہیں لگتا یہاں بھارتی کپڑے بکتے ہوں گے۔
سنتھیا نے نفئ میں گردن ہلائی۔
سرچ کرتے ہیں۔اریزہ نے فورا موبائل نکال لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روایتی کورین انداز میں آخری رسومات انجام دی جا رہی تھیں۔ قد آدم گلدستے جن پر بڑے بڑے بینر چسپاں تھے آنجہانی ینگ سومی کیلئے تعزیتی کلمات سے سجے۔ الوداعی رسومات کمیونٹی ہال میں ادا ہونی تھیں۔ ہال کمرے میں ینگ سومی کی خوبصورت تصویر فریم کرکے چبوترے پر رکھی تھی ارد گرد تعزیت کیلئے آئے لوگوں کی جانب سے پھول اور پھل رکھے تھے۔ لوگ بدھ متی عقائد کے مطابق تصویر کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اپنی نیک تمنائوں کا اظہار کرتے پھر ایک دو رسمی کلمات ایک کونے میں سر جھکائے بیٹھے علی کا کندھا تھپکتے ادا کرتے اور چلے جاتے۔ دوسرے ہال کمرے میں ضیافت کا انتظام تھا۔ چھوٹی چھوٹی چوکیوں پر کورین طرز کے سات رنگ کے کھانے تھے قیمتی شراب سے مہمانوں کی تواضع کی جا رہی تھی۔ شہر کے متمول لوگ اس جنازے میں شریک تھے۔ کالے تھری پیس سوٹوں کا جیسے میلہ لگا ہوا تھا۔
کم جون جے۔۔
آنے والے نے خاصے تکلف سے اسے مخاطب کیا تھا۔
اس نے خالی خالی نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ لی گروپ کا خاندان تعزیت کیلئے آیا تھا۔ وہ اپنے سن سے ذہن کے ساتھ بھی اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ اس خاندان سے اسکے چچا کا خاندان جڑنے والا ہے تو یقینا انکو تعظیم دینا اس پر فرض تھا۔ سو میکانیکی انداز میں اٹھ کھڑا ہوا
آہجوشی لی نے رسمی سے انداز میں اسکا کندھا تھپکا ۔۔۔
بہت افسوس ہوا بیٹا۔ شائد یہی قدرت کی مرضی تھی۔ تمہاری ماں بہت محنتئ اور قابل انسان تھی یقینا اسکا جانا ہم سب کیلئے بہت بڑا نقصان ہے۔
لی روائتی جملے دہرا رہے تھے۔ انکے برابر کھڑا ہایون بالکل خاموش سرجھکائے کھڑا تھا۔وہ رسمی کلمات ادا کرنے اور سماجئ روابط نبھانے میں بالکل اناڑی تھا۔ابھی بھی باپ کی تنبیہی نگاہوں سے نگاہ چرا کر آہجومہ سومی کی تصویر کی جانب بڑھ گیا۔ روائتی طریقے سے سجدہ کرنے کے بعد وہ فورا ہی جانے کو تیار ہوئے تھے۔۔
اسکے چچا انکا سایہ بنے ہوئے تھے۔ بہت اصرار سے انکو ضیافت کیلیے لے گئے بلایا تو ہایون کو بھی تھا۔ مگر وہ دانستہ پیچھے رہ گیا۔ علی دوبارہ میکانکی سے انداز میں دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھا تھا۔ سرمئی ترک لباس میں ملبوس علی روائتی کورین ماتمی سیاہ لباس زیب تن نہیں کیئے تھا۔اسکا لباس ملگجا بے ترتیب تھا۔ چہرے پر آنسوئوں کے مٹے مٹے نشان تھے بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ الجھا ٹوٹا سا دکھائی دے رہا تھا۔ہایون اسکے کندھے پر دھیرے سے تسلی آمیز انداز میں ہاتھ رکھتا برابر آن بیٹھا۔۔
علی نے چونک کر آنسوئوں سے بھری نگاہیں اٹھا کر دیکھا پھر سر جھکا لیا۔۔۔۔۔
میری آہمونی کو جلا دیا انہوں نے۔ میری ایک نہ سنی۔۔
وہ ضبط کھو کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنی ماں کی لاش کو جلانا نہیں چاہتا۔۔
وہ حلق کے بل چلایا تھا۔ کم گروپ کے آبائئ گھر کے ڈرائنگ روم میں ہونے والی اس ملاقات میں اسکے چچا انکا بیٹا ، انکا وکیل اور اسکی ماں کا وکیل سب موجود تھے۔
اسکی ماں کے وکیل نے اسکی ماں کی وصیت سنائئ تھی جس میں جائداد کے بٹوارے اور جون جے کو قانونی طور پر اس جائداد ، انکی کمپنی کے شئیرز اور ا س وسیع و عریض بنگلے جس میں وہ سب اس وقت موجود تھے کی ملکیت سے اسکی ماں کی جانب سے عاق کر دیا گیا تھا۔۔۔
مزہب کی تبدیلی کے باعث کم سو می اپنے بیٹے سے شدید ناراض تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ انکا بیٹا انکے عقیدے پر پلٹ آئے۔ اس لیئے انہوں نے ناراضی کے اظہار کے طور پر اپنی منقولہ و غیر منقولہ تمام جائداد سے اپنے اکلوتے بیٹے جو ن جے کو عاق کر دیا تھا۔ تا وقتیکہ کہ وہ اپنے مزہب پر واپس آکر اپنی پرانی شناخت بحال نہ کرلے۔ دوسری صورت میں یہ گھر کم گروپ کے وارثین میں تقسیم کیا جائے گا۔
جون جے سپاٹ تاثرات سے انکی ساری باتیں سنتا رہا تھا۔ اسکے چچا اور کزن دونوں کو اس سے اتنی شرافت کی امید نہ تھی۔ خاموشی سے اپنے ہاتھ سے اپنے حق سے دستبرداری کے تمام کاغذوں پر اس نے دستخط کیئے تھے۔
مگر جب وکیل نے اسکی ماں کی وصیت کے مطابق بدھ متی عقائد سے انکی لاش کو جلانے کا حکم نامہ سنایا تو وہ تڑپ اٹھا تھا۔
مگر تمہاری ماں کی یہی وصیت ہے کہ اسے اسکے عقائد کے مطابق ہی رسومات ادا کرکے دفنایا جائے۔
اسکے چچا کو اسکے اعتراض کرنے پر حیرت ہوئی تھی۔
میں بیٹا ہوں انکا۔ میں انکی قبر بنوانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں اپنی ماں کو جلا کر راکھ نہیں ہوتے دیکھ سکتا ۔مجھے انکا مرقد چاہیئے جہاں میں جا کر اپنی ماں سے مل سکوں۔ پھول نچھاور کر سکوں۔
وہ جزباتی ہو کر بولا۔
یہ تو کوئی مسلئہ نہیں۔ ہم انکو اپنے خاندانی یادگارگھر میں ہی جگہ دیں گے جہاں جدی پشتی ہمارے بڑوں کی باقیات سجی ہیں۔ تم جایا کرنا اپنی ماں سے ملنے پھول رکھنے۔
نا چاہتے ہوئے بھی آخر میں انکا انداز طنزیہ ہوگیا تھا۔۔
میں وارث ہوں انکا۔۔ انکا اکلوتا بیٹا میری مرضی میں اپنی ماں کا جنازہ جلائوں یا دفنائوں آپ کو اس زمین جائیداد سے دلچسپی ہے نا یہ سب آپکی ہوئی مجھےمیری ماں کا جنازہ چاہیئے۔۔
وہ ضدی انداز میں بولا۔ جوابا اسکے چچا طیش میں آکر اٹھ کھڑے ہوئے۔
تم کس ماں کی بات کر رہے ہو جسکے آخری وقت میں تم اسکے ساتھ نہ تھے؟ کمپنی ڈوب گئی تم نے پروا نہ کی یہ صدمہ تمہاری ماں کی جان لے گیا اور تم کہتے ہو ت وارث ہو اسکی لاش کے کوئی حق نہیں تمہارا اس جنازے پر وہ ہمارے خاندان کی بہو ہے او رہم اسکو اپنے آبائی یادگارگھر کا حصہ ہی بنائیں گے۔
کونسا خاندان؟ وہ چٹخ کر بولا۔
میرے باپ کو ساری عمر تو آپ نے اپنابھائی نہ مانا۔ انکو دادا جان کی غلطی سمجھا اب کس منہ سے۔
اسکا جملہ ابھی منہ میں تھا کہ اسکے چچا کا بھرپور تھپڑ خاموش کرواگیا اسے
یہ پہلی اور آخری بار ہے جو تم نے یہ دہلیز پار کی ۔ میں تمہیں تمہاری ماں کی رسومات میں آنے سے نہیں روکوں گا مگر اب تم یہاں ایک پل نہیں رک سکتے۔۔
انہوں نے تنفر سے کہہ کر حقیقتا اسے اپنے سیکیورٹی گارڈز سے دھکے دے کر نکلوایا تھا۔
مجھے صرف میری ماں چاہیئے۔ خدا کا واسطہ ہے مجھے میری ماں دے دو۔ مجھے اور کچھ نہیں چاہیئے۔
وہ تڑپا تھا مچلا تھا گڑگڑایا تھا۔۔مگر۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری ماں کو راکھ بنا دیا انہوں نے۔۔ وہ ہایون کے کندھے پر سر رکھے بلک اٹھا تھا۔۔
میری ماں کو راکھ کردیا۔ مجھے قبر نہیں بنوانے دی۔ اس راکھ کو بھی دفنانے کی اجازت نہیں مجھے۔ میری ماں کو جلا دیا۔۔
وہ بے ربط بولتا بین کر رہا تھا۔ ہایون چپ سا اسے سنتا رہا۔ یوم بن کم سن بھی آگئے تھے۔ ان دونوں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا تھا۔۔ وہ روئے جا رہا تھا اور یہی جملے دہرائے جا رہا تھا۔۔۔
میری ماں کو کتنی تکلیف دی انہوں نے۔۔۔
وہ بڑبڑانے والے انداز میں ہچکیاں لے رہا تھا۔
ہایون بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔
مری ہوئی ماں کو جلایا یا دفنایا کیا فرق پڑتا۔ اسکو مری ہوئی ماں کی۔تکلیف اتنی محسوس ہو رہی تھی اور وہ۔۔
وہ گھبرا کر اپنی ٹائی ڈھیلی کرتا باہر نکل آیا۔ اسے اندر ایک دم سے بہت گھٹن سی محسوس ہونے لگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبد الھادی اسکے ساتھ اسکے گھر آئے تھے۔پچھلے تین چار دن سے اس نے کپڑے تک نہ بدلے تھے نا کھانا ڈھنگ سے کھایا تھا۔ انہوں نے اسے کپڑے بدلنے بھیجا۔ اور خود کھانا گرم کرنے لگے۔۔جب کافی دیر وہ کمرے سے باہر نہ آیا تو وہ تشویش میں مبتلا ہو کر کمرے میں چلے آئے۔
اس نے شاور لے لیا تھا۔ کپڑے بدل لیئے تھے مگر بیڈ کی پٹی سے سر ٹکائے زمین پر بیٹھا اپنی ماں کی تصویر چومتا رو رہا تھا۔ وہ تاسف بھرئ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئے۔ پھر دھیرے سے اسکے برابر بیڈ پر آن بیٹھے۔ پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیر کرکہنے لگے
صبر کرو آدل ( بیٹا)۔ جانے والے کبھی واپس نہیں آتے۔ ہمیں انکے بغیر جینا سیکھنا ہوتا ہے۔ یوں رو رو کر ماں کے دل کو بے چین نہ کرو بیٹا۔ اپنے اکلوتے بیٹے کو یوں غم سے نڈھال دیکھ کر انہیں تکلیف ہوتی ہوگئ۔۔
وہ مجھ سے نفرت کرنے لگی تھیں۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔اسکی چندی آنکھیں سوج چکی تھیں۔ چہرہ سرخ اور ستا ہوا تھا۔ انکادل کٹ کر رہ گیا۔ اور وہ کہہ رہا تھا۔
مجھے عاق کردیا تھا۔ انہوں نے مجھے کبھی واپس گھر نہ آنے دیا۔ اپنے جنازے تک پر سے میرا حق ختم کردیا۔ اپنی ماں کو آخری بار چھو بھی نہ سکا میں۔۔۔ وہ مجھے سے ناراض چلی گئیں۔ میں انہیں منا نہ سکا۔۔۔۔
مائیں ناراض نہیں ہوتیں بیٹا۔ ماں توبے لوث محبت کرتی ہے۔اللہ نے اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے ماں کی محبت کی مثال دی ہے بیٹا۔ تمہیں جائداد سے عاق کرنا صرف تمہیں واپس بلانے کی کوشش تھئ کہیں زمین جائداد جاتے دیکھ کرہی سہی تم پلٹ آئو بس۔۔۔۔
مجھے کچھ نہیں چاہیئے تھا بس مجھے میری ماں کا وجود دے دیتے۔اسکو راکھ نہ بناتے میرے پاس انکی ایک نشانی ایک قبر ایک سلسلہ ربط رہ جاتا کاش۔۔
اس نے کہتے ہوئے تھک کر انکے گھٹنے سے سر ٹکادیا۔
میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ آہجوشی۔ میرا اس دنیا میں کوئی اپنا نہیں رہا۔۔ میں تنہا رہ گیا۔۔۔۔۔میرے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں رہی آہجوشی۔۔۔۔
اسکے بین انکا بھی دل چیرے دے رہے تھے
انہوں نے جھک کر اسکے چہرے پر سے آنسو صاف کیئے۔۔
ایسا نہیں سوچتے بیٹا۔ ہم اکیلے کبھی نہیں ہوتے اللہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔دیکھنا وہ تمہارے لیئے زندگی میں جینے کی نئی وجہ پیدا کردے گا۔
وہ تسلی آمیز انداز میں بولے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سبزی کے سینڈوچ بنا کر سحری کی تھی۔ کافی کا مگ بنا کو واپس ڈورم میں آئی تو سنتھیا ابھئ بھی گہری نیند میں تھی۔ وہ کافی کی چسکیاں لیتے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے بئڈ پر آن بیٹھی۔
کھلی ترچھی چھت تک مکمل گلاس وال سے آسمان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ چاند کی آخری تاریخیں تھیں سو نا ہونے کے برابر باریک سا چاند تھا۔
وہ غور سے اسے دیکھتئ رہی۔ تبھئ اسکو میسج آیا تھا۔
صارم تھا۔
اس نظم نے کہیں دل پر وار کیا ہے تم بھی پڑھو۔

کاہے کی تگ و دو میں پھنساتے ہو خود کو .
ایک دن تیرا یہاں نام و نشان بھی نہیں رہنا …

قائم ذات بس ایک ہی ہو گی باقی ابد تک …
تو نے نہیں رہنا ہے میں نے بھی نہیں رہنا
…
آسمان کو تسخیر کرنے کی کوشش ہیں سب کرتے …
سنا ہے ایک دن ہم نے زمیں میں بھی نہیں رہنا …

دشواریاں جڑی ہیں اسی زندگی سے اگر ہجوم …
ایک دن تو تجھے یہاں زندہ بھی نہیں رہنا …

کہنے کو کہتے رہیں گے سبھی بہت کچھ …
سننے کے مگر قابل اب ہم نے نہیں رہنا …

آیے تھے اکیلے یہاں جانا بھی ہو گا تنہا …
بس دنیا کا چونچلا ہے کہ تنہا نہیں رہنا …
دنیا کا چونچلا ۔۔
اسے ہنسی آگئ۔ مگر نظم واقعی دل کو لگی تھی۔۔
کاہے کی۔تگ و دو۔۔۔
وہ زیر لب بڑبڑائئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔۔۔

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔