salam korea
by vaiza zaidi

Salam Korea Episode 17

قسط 17
اس نے جلدی جلدی جو سمجھ میں آیا بیگ میں ڈالا ویسے تو بیگ تیار کر ہی لیا تھا اس نے پھربھی ابھی لگ رہا تھا دو تین چیزیں یہیں چھوڑ جائے گی۔
گوارا کو ہلا کر اپنے جانے کا بتایا وہ اوں آں کرکے سوگئ۔
ایڈون نے اسکے فون پر مس کال دی تو جلدی سے اپنا پرس بیگ اٹھاتئ وہ باہر نکل آئی۔ لفٹ آنے میں وقت تھا وہ یونہی سر گھما کے ادھر ادھر دیکھتی رہی۔ لفٹ کے سامنے ہی دائیں جانب اوپر کو جانے والی سیڑھیاں تھیں جن پر آج اسکی نظر پڑی۔ یعنی اس سے اوپر بس چھت تھی۔
اسکا دل کیا کہ سیڑھی چڑھ کر چھت دیکھ آئے مڑنے ہی لگی تھی کہ لفٹ آگئ۔ ایڈون اسکے انتظار میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔وہ اسے گھور کر رہ گئ۔
تم مجھے کل بتا دیتے کہ اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا۔ حد ہے۔ مجھے تو لگا تھا تم دونوں ویک اینڈ گزارنے گئے ہوئے ہو۔
جانا تو تھا مگر۔وہ قصدا بات ادھوری چھوڑ کر رہ گیا۔ پورا راستہ وہ دل ہی دل میں دعائیں پڑھتی آئی۔ سر پر دوپٹہ رکھ کر آیت الکرسی چاروں قل جو سمجھ آیا آنکھیں بند کرکے سنتھیا کو تصو رکرکے پھونک بھئ دیا۔ایڈون اسکے برابر ہی بیٹھا تھا۔ اس نے اسکی حرکت دیکھی مگر بولا کچھ نہیں۔
ٹیکسی سے اتر کر ایڈون گھوم کر اسکے پاس آیا۔ وہ اس وقت ہاسٹل کے گیٹ پر کھڑے تھے۔۔
تم مجھے کال کر دینا میں تمہیں خود اچھا سا ناشتہ کروا کر ڈراپ کروں گا وعدہ۔۔
روزہ ہے میرا۔
ایڈون کی آفر پروہ چڑ کر بولی پھر ۔ سر جھٹکتی تیز تیز قدم اٹھاتی وہ سیدھا ہاسٹل کی جانب بڑھ گئ۔ اسکو فکر ہو رہی تھی سو بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ ڈالیں اوپر آنے سے اسکی سانسیں پھول چکی تھیں۔۔ وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔ دروازہ کھولا تو سنتھیا کو آرام سے بیڈ پر دراز کانوں میں ہنڈز فری چڑھائے پائوں ہلاتے ہوئے گانے سننتے گنگناتے اور کوئی کتاب پڑھتے پایا۔۔
کھٹکے پر بھی سر نہ اٹھایا۔ اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔
فون کہاں ہے تمہارا؟۔۔ اس نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ پلیئر میں سے سن رہی تھی ۔۔اس نے آگے بڑھ کر اسکی ہینڈ فری کھینچی۔۔ سنتھئا نے گھور کر دیکھا۔
فرصت مل گئ واپسی کی۔۔۔ خیال آگیا میرا۔ کوئی اندازہ ہے پچھلے تین دن سے اکیلی پڑی ہوں اس کمرے میں۔
وہ الٹا اریزہ پر چڑھ دوڑی۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
ارے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ میرے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوئیں کہ ایڈون کے ساتھ جانا ہے۔ اور ایڈون کے ساتھ گئ بھی نہیں۔ وہ بے چارہ اتنا پریشان ہو رہا تھا مجھے لیکر آیا ہے کہ تمہارے حالات دریافت کروں۔
وہ تیز ہو کر بولی۔
تمہیں ایڈون لیکر آیا ہے؟ وہ چونکی۔ اسے خوشگوار سی حیرت ہوئی۔
ہاں۔ وہ دھم سے اسکے بیڈ پر گری۔
اوپر سے اتنا پریشان کردیا کہ تین دن سے تم فون نہیں اٹھا رہیں پورا راستہ دعائیں پڑھتی آئی ہوں ابھئ سیڑھیوں پر۔
اسکی سانس بولتے بولتے پھول گئ۔
ابھئ سیڑھیوں پر بھی بھاگتی آئی۔ میرا تو ابھی سے حلق خشک ہوگیا۔
اسکی دہائیاں جاری تھیں
میں پانی لاتی ہوں۔یہ وہ اٹھنے کو تھی اریزہ نے اسکے گھٹنے پر چپت لگا دئ
روزہ ہے میرا۔
اوہ ہاں۔ اسے بھی یاد آیا رمضان چل رہا سو اطمینان سے دوبارہ بیٹھ گئ
پھر لڑائئ ہوئئ ہے تم دونوں کی؟ اریزہ کہنی کے بل اسکے تکیے پر ٹک کر بولی
نہیں۔ وہ دامن بچا گئ
پھر فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں اسکا؟۔
اریزہ کی تفتیش جاری تھی۔
سنتھیا چپ سی ہوگئ۔
اسکوسر جھکائے دیکھ کر وہ سیدھی ہوبیٹھی
کیا ہوا سنتھیا ؟ سب ٹھیک تو ہے نا۔
وہ دونوں ہاتھ گود میں رکھے ناخن پر سے نیل پالش کھرچتی گہری سوچ میں گم تھئ۔چند لمحے بعد گہری سانس لیکر بولی
اریزہ مجھے لگتا ہے ایڈون مجھ سے پیار نہیں کرتا۔مجھے لگتا ہے میں اسکے اوپر مسلط ہوں وہ بور ہوتا ہے میرے ساتھ۔۔۔
اس نے ایسا کہا۔ اریزہ کو غصہ آگیا۔
سمجھتا کیا ہے وہ خود کو۔ ایک سے ایک لڑکا مل سکتا ہے تمہیں۔ اس سے کہو اپنے نخرے اپنے پاس رکھے۔ بلکہ تم کہو اسے تم بور ہوتی ہو اسکے ساتھ۔
وہ ایکدم اتنا بھڑک کر بولی تھی کہ سنتھیا کو ہنسی ہی آگئ۔۔
اسے ہنستے دیکھ کر بھی اریزہ کا غصہ کم نہ ہوا
تمہارا مسلئہ پتہ ہے کیا سنتھیا تم بہت ہی ذیادہ سویٹ ہو۔ اسی لیئے وہ تمہیں فار گرانٹڈ لے رہا ہے۔
وہ نتیجے پر پہنچ گئ۔سنتھیا کو اس کے یوں بھڑک اٹھنے پر پیار ہی آگیا۔
اس نے ایسا کہا نہیں ہے۔ پاگل۔ ایسا کوئی کہہ سکتا بھلا۔
اس نے ہنس کر بات آئی گئ کرنی چاہی۔
پھر تم نے بیٹھے بیٹھے کہانی بنا لی،؟ اریزہ کا ارادہ اسے اب آڑے ہاتھوں لینے کا تھا۔
پتہ ہے ابھئ جان نکلی پڑی تھی اسکی مجھے لینے خود آیا کہ جا کر سنتھیا کو دیکھو۔ اور تم یہاں اکیلی بیٹھی الٹے سیدھے اندازے لگا رہی ہو۔ فون کرکے خیریت بتائو اپنی اب اسے۔
اسے ہلکا سا ڈانٹتئ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں ذرا اسائنمنٹ دیکھ لوں تمہاری تیار ہے؟اریزہ اس سے پوچھ رہی تھی مگر اس نے جواب نہ دیا
سنتھیا فون میں لگی تھی اسے اب اریزہ اور ایڈون کو انبلاک کرنا تھا۔۔۔۔
فون پر انبلاک کرتے ہی ایڈون کی کال آگئ تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں تیار ہو کر اسائنمنٹ سب مٹ کرانے چلی آئیں۔ یونیورسٹی کی داخلی سڑک پر ۔۔ کوئی تقریب کا سماء تھا۔۔ کافی سارے طلبا مختلف ماسک پہنے رنگین لباس میں ملبوس تھے کوئی بے رنگ رین کوٹ پہنے تھا تو کوئی چھتری لیئے گھوم رہا تھا۔ سب ایک دوسرے پر واٹر گن سے رنگدار پانی پھینک رہے تھے۔ غباروں میں پانی بھر کر ایک دوسرے پر اچھال رہے تھے۔۔
خوشی ہنسی قہقہے۔
یہ ہولی۔منا رہے ہیں۔
سنتھیا کو حیرت ہوئئ۔
ان میں دیسی شکلیں بھی تھیں مگر ذیادہ تر چندی آنکھوں والے ہی تھے۔
انکا بھئ کوئی کلر فیسٹول ہوتا ہے لگتا ہے۔
اریزہ نے کندھے اچکا دیئے۔ دونوں راستہ بدل کر ڈیپارٹمنٹ چلی آئیں۔ جی ہائے اور گوارا یہیں تھیں۔
تم بنا بتائے چلی آئیں میں ایک گھنٹہ تمہیں اپارٹمنٹ میں ڈھونڈتی رہی ۔ ٹیرس سے نیچے جھانکا کہیں گر گرا تو نہیں گئیں ٹوائلٹ بول تک میں ڈھونڈا تمہیں۔ مگر یہ جی ہائے فلش کر چکی تھی مجھے تو لگا تھا۔
گوارا کا مسخرا پن عروج پر تھا۔ جی ہائے ہنس رہی تھی
اریزہ نے بے تکلفی سے اسکا بازو دبوچا۔
کیا کہا مجھے فلش کر دیا جی ہائے نے۔
اس نے اسی کا سکھایا دائو چلایا تھا۔ وہ بھی حیران رہ گئ
واہ اریزہ تم تو بہت جلدی سیکھ گئیں۔
جی ہائے متاثر ہوئی۔۔۔
بس یہی تو میرا کمال ہے۔
اریزہ کہہ کر ہنسی گوارا اور جی ہائے دونوں نے ساتھ دیا۔غیر محسوس طریقے سے سنتھیا ان سے چند قدم پیچھے رہ گئ تھی۔تینوں ہنستی بولتی بڑھتی گئیں۔
وہ دانستہ رک کر دیکھنے لگی شائد اریزہ پلٹ کر دیکھ لے اسکی غیر موجودگی محسوس کرکے۔
کیسی ہو۔
ایڈون اسکے کانوں کے پاس گنگنایا۔ وہ دہل سی گئ مگر بظاہر منہ بنا کر بولی
میں تو اچھی ہوں بس مجھے لوگ اچھے نہیں ملتے۔
ایڈون اسکے طنز پر آہ بھرتا اسکے برابر ہوا۔
بس ایک میں ہی تو برا ہوں باقی سب کو کیوں برا کہہ رہی ہو۔
وہ مزاق میں بات اڑانے کے موڈ میں تھا۔
ہاں باقی سب نے کیا کیا ہے۔ سنتھیا سوچ کے رہ گئ۔
بس ایک میں۔۔
اسکا ذہن سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔
پھر کیا سوچا ہے؟
ایڈون جانے کیا بول رہا تھا اسکی بے توجہی محسوس کرکے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر بولا۔
کس بارے میں۔۔
وہ چونکی۔
لو پوری بات کردی میں نے تم سن نہیں رہیں؟ عید پر ہم سب پلان کر رہے ہیں گھومنے جانے کا۔ کیا خیال یےعید کی شاپنگ کے بارے میں۔ کب چلنا؟
ایڈون نے دہرایا تو وہ کندھے اچکا کر بولی
نئ شاپنگ کی کیا ضرورت ہے اتنے کپڑے تو لائی ہوں میں۔
کیوں وہاں تو عید پر نئے کپڑے بنواتئ ہی تھیں۔
ایڈون نے ٹوکا
تو وہاں سب تیار ہوتے تھے اسلیئے ہمیں بھی ہونا پڑتا تھا۔ اب یہاں کونسا سب عید منائیں گے۔یہاں تو شائد اریزہ بھی شاپنگ نہ کرے ہم آئوٹ اینڈ آڈ لگیں گے تیار ہو کر۔
وہ کندھے اچکا کر بولی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں لگیں گے آئوٹ اینڈ آڈ۔
اریزہ تیز ہو کر بولی۔
بلکہ میں سوچ رہی ہوں کہ ہم پاکستان سے ڈریس منگوائیں۔ ایک جیسا۔ کیسا؟
وہ دونوں اسائنمنٹ جمع کر وا کر واپس ہاسٹل آرہی تھیں۔
جتنے میں آئے گا اس سے بہتر یہاں کسی اچھے برانڈ سے شاپنگ کرلو۔
سنتھیا کی بات میں وزن تھا۔۔
چلو کچھ کرتے ہیں اسکا بھی۔
اسکے بھی بات دل کو لگی۔۔۔ سر ہلانے لگی۔
ویسے یہاں گرمی بھی ذیادہ گرم نہیں سردی کیسی ہوتی ہوگی۔
اریزہ کو ہوا سرد سی لگی۔ تو اپنے بازو سہلاتے ہوئے حیرت سے بھری دھوپ کو گھورنے لگی
برف پڑتی ہے یہاں۔ سنتھیا نے یاد دلایا۔
یار پھر تو ہمیں اسکے لیئے بھی شاپنگ کرنی ہوگی۔
اریزہ معصوم بنی۔۔ سنتھیا گھور کر رہ گئ۔ تبھی گوارا کی کال آگئ۔
وہ چلتے چلتے ایکدم رک گئ۔ سنتھیا اپنی جھونک میں کئ قدم آگے بڑھ گئ پھر مڑ کر گھورنے لگی۔
ابھی اسی وقت۔۔۔ ٹھیک ہے۔
اریزہ اسے نظروں میں رکھے گوارا سے پوچھ رہی۔تھی۔ جانے آگے جواب کیا تھا اس نے دے ( اچھا)کہتے ہی فون بند کر دیا۔
کیا ہوا۔ سنتھیا متجسس ہوئی۔۔
گوارا وغیرہ لوتے ورلڈ ٹاور جا رہے ہیں کہہ رہی تم دونوں بھی آجائو۔
لوتے ورلڈ؟ لوٹے ورلڈ ہوتا تو بات بھی تھی یہ۔لوتے کیا نام ہوا۔ ؟
سنتھیا۔ نام پر ہی اٹک گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوٹے کہتے اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ واقعی قدیم کسی ظروف کی شکل کی عمارت کھڑی ہوگی انکی نظروں کے سامنے۔
ان دونوں نے ٹیکسی سے اتر کر کمپائونڈ کے گرین ایریا سے سر اٹھا کر جب اس عمارت کو دیکھنا شروع کیا تو سر اونچا ہوتا گیا ہوتا گیا۔ٹوپی پہنی ہوتی تو پکا گر جاتی۔
بیس اکیس بائیس۔
وہ دونوں اسکی منزلیں گن رہی تھیں
ایک سو تئیس مزنلہ عمارت ہے یہ کوریا کی سب سے اونچی عمارت۔ ۔
جی ہائے نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔
ایک سو ت۔۔ دونوں حق دق سی رہ گئیں۔
گلدان کی طرز کی اس شان و شوکت والی عمارت کا نظارہ مسحور کن تھا۔ سورج کی پڑتی دھوپ میں شیشوں سے رنگ ہی رنگ منعکس ہورہے تھے۔
اصل مبہوت کردینے والے مناظر یہاں سے نہیں ایک سو ستراہویں منزل سے دکھائی دیں گے۔
گوارا نے کہا تو سنتھیا حیران ہوگئ
کیوں؟ باقی منزلیں خالی ہیں اسکی؟
گوارا کا منہ کھلا رہ گیا۔
پہلے ہم جائیں گے سترہویں فلور ہینگ آئوٹ کے بعد جائیں گے کچھ پیٹ پوجا کرنے سو لڑکیوں کمر کس لو اور میرے پیچھے آئو۔
جی ہائے انکی گائیڈ بن جانے کو تن من دھن سے تیار تھی۔
اسکے مارچ پاسٹ شروع کرتے ہی ان دونوں نے بھی تقلید کی۔ شکر یہ تھا کہ ہفتے کا کام کا دن ہونے کے باعث رش کم تھا۔ بس کچھ غیر ملکی ہی اس اونچی ترین عمارت کی سیر کو آئے تھے۔ وہ دونوں دلچسپی سے انٹیریر دیکھ رہی تھیں مگر گوارا اور جی ہائے کو اوپر جانے کی جلدی تھی۔ انکا رخ سیدھا لفٹ کی جانب تھا۔
تم میں سے کسی کو اونچائی سے خوف تو نہیں آتا ؟
لفٹ کا بٹن دباتے جی ہائے کو خیال آیا۔
ایک سو ستراہویں منزل تک پہنچیں گے زندگی میں پہلی بار پھر سوچیں گے۔
اریزہ سنتھیا کے کان میں منمنائی
آنیا۔ اس نے دھڑلے سے کہا۔ جی ہائے اور گوارا ایک دوسرے کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرنے لگیں۔
موشن سکنس؟ ۔۔ ( تیزی سے حرکت کرنے پر چکر آنے کی بیماری)
آندے۔ سنتھیا نے زور و شور سے گردن ہلائی۔
اگر آج تم نے مجھ پر الٹی کی تو تمہیں ایک سو ستراہویں منزل سے نیچے پھینک دوں گی۔
اریزہ نے دانت کچکچائے۔ وہ ڈھیٹ بنی مسکراتی رہی۔ لفٹ آچکی تھی ۔ لفٹ میں داخل ہوتے ہی خوبصورت پھول بوٹوں کی آتش بازی دیواروں پر رنگ بکھیر رہی تھی۔ ہلکی نیلگوں روشنی میں ایک دم جھماکے سے اینیمیشن کےمناظر بدلے۔
وائو۔ وہ دونوں باقائدہ دیوار چھو کر اسکے رنگ محسوس کر نے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔
اس دیوار پر دیکھو سب سے پیاری اینیمیشن یہاں ہے۔ گوارا نے اریزہ کا باقائدہ کندھوں سے پکڑ کر رخ موڑا۔
اس جانب شیشے کی دیوار تھی جس سے گرائونڈ فلور تک چمکتا دمکتا صاف نظر آرہا تھا۔ مگر گولی کی رفتار سے اوپر سے اوپر جاتے گراوئونڈ فلور ننھے منے نقطوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔
اس نے تھوک نگلا۔
یہ نظارہ یکدم اور اچانک سامنے تھا۔ اسکا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا تھا۔
کیا ہے اس جانب مجھے بھی دکھائو۔
سنتھیا اسکے کندھےپر تھوڑی رکھ کر جھانکنے لگی وہ سرعت سے سیدھی ہوئی اسے بھئ گھما کر رخ بدل دیا۔
کچھ خاص نہیں فضول اینیمیشن ہے اس طرف کی۔
وہ سنتھیا کی الٹیاں نہیں سہہ سکتی تھی۔۔ سو جلدی جلدی دھیان بٹایا۔۔
ارے دیکھنے تو دو سنتھیا حیران تھی۔ لفٹ آچکی تھی دروازہ کھلتے ہی اریزہ اسکا ہاتھ تھامتی باہر نکل آئی۔ انکی تیزی پر گوارا اور جی ہائے منہ کھول کر انہیں دیکھتی رہ گئیں۔
یہ اب تک کا سب سے پھسپھسا ردعمل تھا اتنا پھسپھسا تو سیول کے باسی بھی پہلی بار یہاں آکر نہیں دیتے۔ وہ دونوں تیز تیز قدم اٹھاتی سیدھا گلاس وال کی جانب بڑھی تھیں۔ شیشے کی شفاف دیوار سے سیول شہر کا اونچائی سے نظارہ بے حد دلکش تھا۔ اونچی اونچی عمارتوں اور شفاف سڑکوں کے جال سے لیکر دور آسمان تک تیرتے بادل سب جیسے ہاتھ بھر کے فاصلے پر تھا۔
یہ تو لگ رہا ہم آسمان میں کھڑے ہیں۔
اریزہ مسحور سی ہو کر بولی۔
ہاں یہاں سے پورا سیول دیکھا جا سکتا ہے پوری 360 ڈگری کے زاویئے سے۔۔
جی ہائے نے لمبی طویل راہداری کی جانب اشارہ کرتے دکھایا۔ اس منزل پر مکمل شیشے کی دیواریں تھیں۔ وہ بھی صاف شفاف۔
کچھ غیر ملکی باشندے کیمرہ اٹھائے تصویریں وغیرہ بنا رہے تھے باقی کورین ہی تھے۔ مگر منظم سے اپنے کام سے کام رکھتے تصویریں بناتے خوش گپیاں کرتے۔ ایک چھوٹا سا پانچ چھے سال کا بچہ غبارہ تھامے دیوار پر ہاتھ رکھے پتہ نہیں کیا گٹ پٹ کرتا اپنے ماں باپ سے کہہ رہا تھا وہ ہنس ہنس کر جواب دے رہے تھے۔
اس بچے کو ڈر نہیں لگ رہا؟
سنتھیا نے رشک سے کہا۔۔
کیوں ڈرنا کیوں ہے بچے نے؟ تمہیں جو دیکھ لیا۔
اریزہ نے مزاق اڑایا۔
نہیں اتنی اونچائ سے مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ سنتھیا منمنائی۔۔
مجھےتو الٹی آرہی ہے ۔۔
اریزہ کا رنگ اڑا اڑا سا ہوا

نہ کرنا روزہ ٹوٹ جائے گا۔
سنتھیا کو فکر ہوئی۔پھر اطمینان سے بولی
میرا روزہ نہیں ہے

۔ اریزہ منمنائئ۔۔پھر کر لو الٹی تم جو کام ہے۔
ویسے مجھے حیرت ہورہی ہے ہم دونوں بڑےخطرناک قسم کے ردعمل کئ توقع کر رہے تھے مگر تم دونوں تو بالکل نہیں ڈریں یہاں آکر۔
گوارا کو اپنے پرینک کے ضائع جانے کا افسوس ہوا۔
ڈرنے کی کیا بات ہے سامنے دیوار ہے شیشے کی ہے تو کیا ہوا۔
اریزہ نے مضبوط بن کر کہا گویا تسلی بھی دی خود کو۔
نہیں دیوار سے نہیں لوگ اس فرش پر کھڑا ہوتے ڈر جاتے بڑے بڑوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں نیچے دیکھتے۔
جی ہائے ہنس کر بولی
کیوں فرش سے کیا ڈرنا ۔۔ سنتھیا سمجھی نہیں۔
فرش بھی تو گلاس کا ہے نا۔
گوارا نے وضاحت کی۔ دونوں نا سمجھنے والے انداز میں اسکی شکل دیکھنے لگیں۔
اس نے ابرو کے اشارے سے مسکرا کر نیچے دیکھنے کو کہا۔۔
اریزہ اور سنتھیا نے اکٹھے نیچے جھک کر دیکھا۔۔ روح فنا ہونا ، ہاتھوں کے طوطے اڑ جانا اور مزید محاورے ذہن میں آنہیں پائے۔ دونوں کی آنکھیں پھٹ سی گئیں تیورا کر دونوں اسی فرش پر کانپتی ٹانگوں لرزتے وجود کے ساتھ ڈھے سی گئیں۔ کیونکہ اس منزل پر صرف دیواریں ہی نہیں فرش بھی آر پار دکھائی دینے والے شیشے کا تھا۔ ایک سو ستراہویں منزل سے صاف دکھائی دیتا گرائونڈ فلور اس پر چلتے لوگ بس نقطے ہی حرکت کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
انکو پتہ ہی نہ چلا تھا ؟
جی ہائے حیران ہوئی۔
پاکستانی لڑکیاں ڈر کر چیختی نہیں ہیں ۔ گوارا انکے پھسپھسے ردعمل سے نتیجہ اخذ کر رہی تھی۔
دونوں کے چہرے سفید تھے ہونٹ تھر تھر کانپ رہے تھے منہ سے آواز ہی نہ نکل سکی۔
چلو اٹھو یہ فرش پکا ہے آج تک ٹوٹا نہیں سیکنڑوں لوگ روندتے ہیں اسے۔
جی ہائے نے تسلی دیتے آگے بڑھ کر انہیں اٹھانا چاہا۔
ہاں شاک پروف۔۔
گوارا نے تسلی دینا چاہی مگر شائد آج اس فرش کو سب سے بڑا شاک ملنا تھا۔
زور دار پھٹنے کی آواز تھی۔ اس بے خوف بچے کا غبارہ پھٹ گیا تھا۔اچانک مگر شیشے کے فرش پر بیٹھی اریزہ سنتھیا کو لگا فرش تڑخ گیا۔ دونوں کے منہ سے اکٹھے زوردار چیخ نکلی۔ اسکی پیروی میں دوسری تیسری ۔۔ پھر چیخوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ پوری منزل کے لوگ پہلے بھونچکا ہوئے پھرگڑبڑائے پھر اسی شیشے کے فرش پر بھگدڑ سئ مچئ ۔کوئی لفٹ کی جانب بھاگا کوئی سیڑھیوں کے کسی نے اپنے بچے ڈھونڈے۔۔ انتظامیہ کے اہلکار بگٹٹ آوازوں کے منبع کی جانب بھاگے۔ فرش کے بیچوں بیچ ایک دوسرے کے گلے لگ کر آنکھیں بند کرکے چیخیں مارتی ان لڑکیوں کی چیخوں سے لگتا تھا آج فرش ہی نہیں دیوار کے شیشے بھئ تڑخ جائیں گے۔
گوارا جی ہائے ان دونوں کو سنبھالنے میں ہلکان ہو رہی تھیں جو نا ایک دوسرے سے الگ ہو رہی تھیں نا چیخنا کم کیا تھا۔ دونوں کے کان اب سن ہو چکے تھے اور انکے ساتھ ساتھ گوارا اور جی ہائے کے بھی۔
تجربے نے گوارا کا تجزیہ غلط ثابت کر دیا تھا۔ پاکستانی لڑکیاں کسی سے کم نہیں ڈر کر چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا سکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوتے ورلڈ ٹاور کی انتظامیہ کے دفتر میں انکی ٹیم کا ایک ایک فرد چوکنا اور مستعد انکی خدمت میں حاضر تھا۔ انکو بڑے سے صوفے پر بٹھایا گیا تھا چھوٹے چھوٹے شال نما کمبل اوڑھے وہ دونوں خفت سے سرخ چہرے لیئے بیٹھی تھیں ۔اریزہ تو خیر بیہوش ہوگئ تھی ایک آدھ چیخ کے بعد مگر وہ تو ہوش و ہواس میں ہی ابتدائئ طبی امداد حاصل کر رہی تھی۔ یہاں لا کر سب سے پہلے تو انہیں ہلایا جلایا پھر ریسکیو ٹیم بلا لی گئ۔ اریزہ کو تو ڈرپ ھی لگا دی ۔اسے جوس پر ٹرخادیا۔۔ اب ۔تو خیر اریزہ بھی ہوش میں آگئ تھی۔ روزہ تو ٹوٹ ہی گیا تھا سو صبر سے شرمندہ ہورہی تھی

کوریا کی ایمرجنسی سروس 119 کی ٹیم انکا فشار خون دیکھ رہی تھی۔ جوس کے ڈبے سے دھیرے دھیرے گھونٹ بھرتی ان دونوں کو اس وقت پر افسوس ہو رہا تھاکہ فرش سچ مچ کیوں نہیں تڑخ کر ٹوٹا۔ اوپر سے گوارا اور جی ہائے کا بجتا ریکارڈ۔
بیانتا۔۔
گوارا اور جی ہائےنے جانے کونسی دفعہ معزرت کی تھی۔ دونوں سخت شرمندہ تھیں۔اس وقت انکے سامنے ہاتھ مسلتی شرمسار سی کھڑی تھیں۔
۔ڈاکٹر نے ان دونوں کا فشار خون دیکھنے کے بعد ایک ایک ٹیکا ٹھونکا تھا۔ اب اپنا فرسٹ ایڈ باکس بند کر رہے تھے۔
آپ دونوں اب اسپتال چل کر مکمل معائنہ کروالیں ۔۔۔
انکو اچھی طرح ٹھونک بجا کے دیکھنے کے باوجود بھی شائد انکو تسلی نہ ہوئی۔
ہنگل میں دیئے گئے اس مشورے پر دونوں نے سوالیہ نگاہوں سے سہیلیوں کو دیکھا۔
جی ہائے نےترجمہ کیا۔
آندے۔ کین چھنا۔ دونوں فٹ سے دونوں ہاتھ اٹھا کر اطمینان دلانے لگیں۔ کین چھنا کا مطلب ٹھیک ہے، ضرورت نہیں، خیر ہے کوئی بات نہیں وغیرہ کے ضمرے میں استعمال ہوتا ہے۔ ان دونوں کی دودھ پیتی ہنگل اس وقت بالکل گنگ ہوئی تھی سو بس اسی جملے کی گردان کرتی چلی گئیں۔۔
119 والے جھک جھک کر سلام کرتے اپنا سامان سمیٹتے چلے گئے۔ انکا جوس ابھی بھی ختم نہ ہوپایا تھا۔ تبھئ وہ ادھیڑ عمر انتظامیہ کا اہلکار اپنے دو چیلوں کے ہمراہ انکے سامنے آ کر جھک جھک کر بولنے لگا
ہم بہت شرمندہ ہیں۔ لوتے ورلڈ کی انتظامیہ ایسی کسی بھی شرارت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔ یقین جانیئے ہم نئے آنے والے سیاحوں کو خود رہنمائی فراہم کرتے ہیں تاکہ کسی کمزور دل کے فرد کو اچانک دھچکا نہ پہنچے۔ ہماری ایک سو سترہویں منزل بین القوامی اصولوں کے مطابق تیار کی گئ ہے اور بالکل محفوظ ہے۔ یہ ٹوٹ نہیں سکتی ہم اسکا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ہمارا اس منزل کو بنانے کا مقصد سیاحوں کو اونچی عمارتوں سے دلکش نظارے دکھانے او رتفریح کا نیا انداز روشناس کرانے کا تھا۔ہرگز کسی کی دل آزاری ہمارا مقصد نہیں ۔ ہم شرمندہ ہیں کہ آپکو اس ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔۔
وہ انتظامیہ کا کوئی اونچا افسر تھا ادھیڑ عمر کا نرم سے تاثرات والا چندی آنکھوں کے ساتھ کہتے ہوئے آدھا جھک گیا تھا۔ اسکی تقلید میں اسکے ہمراہ موجود دیگردو نوجوان افسران بھی آدھے جھک گئے۔ جھکے رہے۔
انکی کمروں میں درد نہیں ہوتا؟
اریزہ نے سنتھیا کے کان میں سرگوشی کی۔
جتنی دیر سے جھکے ہیں لگتا ہے آج تو ضرور ہوگا۔
سنتھیا نے پیشن گوئی کی۔
دونوں حیرت سے انہیں دیکھے جا رہی تھیں جو جھکے تھے تو سیدھا ہونا بھول گئے تھے۔
کین چھنا ۔۔ گوارا انکو سرگوشی میں ہنگل میں جانے کیا بتا رہی تھئ۔
کیا کہہ رہی ہے یہ۔ پورے جملے میں بس کین چھنا سمجھ آیا۔
سنتھیا نے حیرت سے دیکھتے کہا۔
یہ لوگ سیدھے کیوں نہیں ہو رہے۔
اریزہ نے جی ہائے سے پوچھا۔ وہ الگ اشارےکررہی تھی۔
دونوں کو سمجھ نہ آیا مگر اریزہ کو انکا جھکے رہنا برا لگ رہا تھا۔۔
آپ سیدھے ہو جائیں آپکی کمر میں درد ہو جائے گا۔
شستہ انگریزی میں اریزہ نے کہا تو تینوں گہری سانس لیتے سیدھے ہوئے۔
کین چھنا۔۔ چھے سو ہمبندا۔۔
گوارا اور جی ہائے اب ان تینوں سے جھک جھک کر معزرت کر رہی تھیں۔
ان انکل سے سلام دعا کرکے دونوں خراماں خراماں دروازہ کھول کر جانے لگیں کہ۔خیال آیا تو مڑ کر۔دانت پیس کر بولیں۔۔
کھاجا۔۔
اوہ۔ دونوں جوس کے ڈبے سنبھالتی فورا اٹھ کر انکے پیچھے بھاگی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک چینی ریستوران میں کھانا کھا کر وہ سب دوبارہ چارج ہوچکی تھیں۔
چلو اب اچھی سی مووی ہوجائے۔
سنتھیا نے کہا تو اریزہ بھی پرجوش ہوگئ۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ کوئی اچھی سی فلم دیکھتے ہیں۔
ان دونوں کے پرجوش ہونے پر جی ہائے سٹپٹا کر گوارا کو دیکھنے لگی۔
ٹھیک ہے۔۔ چلتے ہیں۔وہ یقینا جی ہائے کا اشارہ نہ سمجھی۔ اریزہ سنتھیا بھی مکمل حمایتی تھیں
ان سب کو پرجوش دیکھ کر اس نے جھجک بالائے طاق رکھ دی۔ ہنگل میں گوارا کو دانت پیس کر بتایا
یہ جو سب سے ذیادہ پرجوش ہے نا فلم دیکھنے کو اس نے لوتے ورلڈ سے لیکرچینی ریستوران تک کہیں ایک پیسہ نہیں نکالا ٹیکسی کے کرایوں تک میں میرے یا تمہارے پیسے لگے ہیں۔
مگر کھانے کا بل تو اریزہ نے پے کیا نا۔
گوارا نے دانستہ مسکرا کر اسے آنکھوں سے اشارہ کرتے گھرکا کہ یہ وقت مناسب نہیں اس بات کا۔
ہاں اریزہ میں ہے یہ تمیز مگر ابھی ہی فیصلہ کر لو ٹکٹس کون لے گا پاپ کارن کون کیونکہ میرے پاس صرف دو ٹکٹس کی گنجائش ہے۔
اس نے کندھے اچکا دیئے۔
کیا ہوا کیا مسلئہ ہے۔
اریزہ اور سنتھیا کو انکا لہجہ سمجھ نہیں آرہا تھا پھر بھی اتنا اندازہ ہوا کہ پیسوں کی بات ہورہئ ہے۔
گوارا نے دانت پیس کر گھورا پھر دانستہ مسکرا کر اریزہ سے بولی
نہیں وہ بس جی ہائے کو اپنی پینڈنگ اسائنمنٹس یاد آرہی ہیں۔ میں نے کہا مل جل کر کرلیں گے۔۔
نہیں میں یہ کہہ رہی تھی کہ میرے پاس اب ذیادہ پیسے نہیں بچے ہیں اب ہمیں مل جل کر ہی پیمنٹ کرنی پڑے گی۔
جی ہائے نے تنک کر صاف صاف کہہ ڈالا۔
اوہ۔ اریزہ اور سنتھیا سنجیدہ ہوگئیں۔
اسکا مطلب ہے اب ہمیں تمہیں خدا حافظ کہہ کر واپس بھیج دینا چاہیئے ہم تینوں بس فلم دیکھنے چلیں۔
سنتھیا جیسے سارا معاملہ سمجھ گئ۔
ہوں چلو ٹھیک ہے جی ہائے آننیانگ۔
اریزہ نے بھی تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔باقائدہ ہاتھ ہلا کر خدا حافظ بھئ کہہ دیا۔
جی ہائے تو جی ہائے گوارا بھی بھونچکا سی ان دونوں کی بے مروتی کو دیکھتی رہ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب ٹائٹلز پڑھ کر فلم دیکھنا یا فلم دیکھتے ہوئے سب ٹائٹلز کو جلدی جلدی پڑھنا دونوں ہی بیزار ہوگئیں۔ کوئی رومانوی فلم تھی۔ موٹے سے گول گپے جیسے منہ والی ہیروئن اور تھوڑا سا ہی اس سے بڑا چھوٹا سا ہیرو۔ان دونوں نے جمائی لیتے ایک دوسرے کو ملتجی نظروں سے دیکھا پھر مڑ کر اکٹھے جی ہائے اور گوارا کو کہنا چاہا کہ چلیں۔ مگر ان دونوں کے برعکس وہ دونوں بری طرح مگن تھیں فلم میں۔ جانے کیا کہانی چل رہی تھی کچھ پلے نہ پڑ رہا تھا اوپر سے چیخ چیخ کے بولتے لوگ اچانک ہائش۔ یاآآا۔۔۔ اور جھنچا کہتے تو دل اچھل کر انکا بھی حلق میں آجاتا۔
دونوں کے پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ فلم کے اختتام پر جی ہائے اور گوارا انکی جانب متوجہ ہوئیں تو دونوں ایک دوسرے کے سر پر سر ٹکائے خراٹے بھر رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سینما سے باہر نکلتے جی ہائے اور گوارا نے خوب مزاق اڑایا تھا۔۔
ہمیں لگا تھا ہم کوئی انگریزی فلم دیکھیں گے۔
اریزہ نے کہا تو سنتھیا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
ہاں تو اور کیا۔۔۔
سچی محبت کی کہانی تھی ہائے تم لوگوں نے محبت کی ہی نہیں ورنہ محبت کی اپنی زبان ہوتی ہے۔
گوارا جھوم کے لہراکر بولی
کیہہ سوری (گوبر ) کونسی محبت دکھائی دی تمہیں۔ ؟ ایک کس سین اس میں بھی ہیرو نے برستی بارش میں ہیروئن کی چھتری چومی۔
جی ہائے چمک کر اعتراض کرنے لگی۔
تو تمہارے خیال میں انسان محبت میں صرف جسمانی تعلق بناتا ہے؟۔گوارا نے اس سے سوال کیا
میرا خیال ہے جسمانئ تعلق بنانے کیلئے ہی محبت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے
جی ہائےکندھے اچکا کر بولی۔
اف کتنی منتقمانہ سوچ ہے تمہاری۔ محبت وجود سے ہوتی ہے جسم سے نہیں۔فلم غور سے دیکھتیں تو ہیرو کا ہیروئن کیلئے پیار سمجھ آتا تمہیں۔ گوارا نے ناک چڑھائی
تم اور یون بن ایسی بدھا والی تارالدنیا محبت کرتے ہو جیسے؟ جی ہائے نے مزاق اڑایا گوارا کھسیانی سی ہوئی۔
ہاں تو ہمیں اپنا رشتہ قائم کرنے میں وقت لگا تھا یونہی۔تھوڑی ہم۔۔۔ وہ چلتے چلتے رک۔کر ان لوگوں کے سامنے آکھڑی ہوئی۔
تم دونوں بتائو ہم میں سے کون صحیح کہہ رہا؟
مجھے کبھی محبت نہیں ہوئی ۔
اریزہ نے کندھے اچکائے۔
سنتھیا لمحہ بھر کو سوچ میں پڑی۔اسکے ذہن میں اپنا اور ایڈون کا تعلق گھوم گیا۔ اسکے لاکھ محبت کا دم بھرنے کے باوجود بھی اسے ایڈون کو اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے مشرقی روائیتوں کو توڑنا پڑا ہی تھا۔
محبت جسم سے ہو نہ ہو محبت میں جسم آہی جاتا ہے۔۔۔۔۔
گہری بات۔ گوارا متاثر ہوئئ۔
یہی بات دوسرے لفظوں میں میں نے کہی ہے۔ جی ہائے ہنسی۔ ۔۔۔ اسکی بات پر سنتھیا کے قدم رک سے گئے۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں ساکت سی کھڑی رہ گئ۔ اسکے رکنے کا نوٹس لیئے بنا ان دونوں کا جھگڑا جاری تھا۔ چلتے چلتے اسکے اور انکے درمیان چند قدم کا فاصلہ آنے لگا
کوئی نہیں تم تو اپنے ابا کی دوسری شادی کے بعد انتہا پسند ہوگئ ہو ورنہ محبت کا بے حد خوبصورت رخ بھی ہوتا ہے۔
گوارا نے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر جان کر ہنگل میں کہا۔
میرے آہبجوجی کا ذکر مت کیا کرو میرے سامنے موڈ خراب ہوجاتا ہے میرا۔
حسب توقع وہ چڑ گئ۔
ہاں تو اور کیا وجہ ہے تمہارئ ایسے ایبنارمل خیالات کی۔
تائی من؟ ہیں بولو یاد آتا ابھی بھئ کیا؟ پہلا پیار۔۔
وہ جان کے چھیڑ رہی تھی۔ جی ہائے نے اپنا بیگ گھما کر اسے مارنا چاہا۔ وہ جھکائی دے گئ۔ اور منہ چڑاتی بھاگ اٹھی۔ جی ہائے اسے مارنے کو دوڑ پڑی۔۔
ان دونوں کی نوک جھونک سمجھ نہ آنے کئ باوجود بھی اریزہ انکی لڑائی کا۔لطف لے رہی تھی بے پروا سڑک کنارے چلتے چلتے وہ دونوں دوڑنے لگیں ۔۔ نہ کسی نے رک کر گھورا نہ برا سمجھا۔ دو لڑکیاں اپنی مستی شرارت کرتی کافی دور جا کر بھی گتھم گتھا تھیں ۔جی ہائے اسے اپنے بیگ سے پیٹ رہی تھی گوارا ہنستے ہنستے جھکائی دے رہی تھی۔
دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اریزہ رشک سے دیکھ رہی تھی انہیں۔
اریزہ۔۔۔ سنتھیابھاگ کے اسکے ہم قدم ہوئی۔
تمہیں واقعی محبت نہیں ہوئی کبھی؟
مجھے؟ وہ چونکی۔ کس سے ہوتی؟
کسی سے بھی اسکول کالج یونیورسٹی کتنے ہی تو لڑکے بڑھے تھے تمہاری جانب۔۔۔
ہوتی تو تمہیں پتہ ہوتا۔
اس نے کندھے اچکا کر آرام سے کہا۔
مجھے تو سجاد سے بھی محبت نہ ہوپائی تھی۔ حالانکہ کہتے نکاح کے دو بول محبت پیدا کردیتے ہیں دل میں۔
اسکا جواب مفصل تھا۔ وہ لوگ اب تیز قدم اٹھا کر جی ہائے اور گوارا کے پاس جا رہی تھیں۔۔
تمہاری رخصتی ہو جاتی تو ہوجاتی تمہیں محبت ہے نا؟
سنتھیا کے سوال پر اریزہ نے ابرو چڑھا کر دیکھا۔
کیا سننا چاہ رہی ہو؟ ۔ وہ اس جرح کا مطلب پوچھ رہی تھی سنتھیا اپنی بات کا مطلب بتانے لگی۔
مطلب ہو جاتی نا محبت جب اکٹھے رہتے ساتھ رہتے تعلق بنتا لگائو پیدا ہوجاتا۔
لوگ سالوں ساتھ رہتے شادی کرتے ان میں محبت لگائو پیدا ہی نہیں ہو پاتا یا ختم ہو جاتا ہے آخر طلاق بھی تو لوگوں کی ہوتی ہےنا۔۔۔
اریزہ کا انداز سادہ سا تھا۔سنتھیا چپ کر گئ۔گوارا اور جی ہائے انکا انتظار کر رہی تھیں۔ انہوں نے کیب روک رکھی تھی۔
پالی پالی۔ گوارا ہاتھ کے اشارے سے اورچلا۔کر۔انہیں جلدی آنے کو کہہ رہی تھی۔ ان دونوں نے بھی بحث ختم۔کرکے قدموں کی رفتار بڑھا دی۔ان دونوں کی طرح بھاگنے کی کوشش نہ کرسکیں۔ انکو یوں لڑھکتے آتے دیکھ کر گوارا نے گہری سانس لی
بندہ بھاگ لیتا ہے یہ دونوں بہت سست ہیں۔
جی ہائے نے بھئ ناک چڑھا کر کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا ان تینوں کو ہاسٹل بھیج کر وہ اپنے اپارٹمنٹ آئی تھی۔ پورا اپارٹمنٹ تاریکی میں ڈوبا تھا شائد ہوپ نہیں آئی تھی۔کاریڈور میں شو ریک پر ایک اجنبی جوڑی تھی تو مگر وہ دھیان دیئے بنا چپل بدلتی بتیاں جلاتی اپنی دھن میں کمرے میں داخل ہوئی۔۔ اس نے بتی جلائی تو دل تھام کر وہیں گر سی گئ۔ ایک زور دار چیخ منہ سے نکلی۔
کم چاگیا۔
گھپ اندھیرا کیئے ہوپ بہت سکون سے بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھی موبائل استعمال کر رہی تھی۔ اسکے چلانے پر ناگواری سے اسے دیکھا۔
تم کیا بھوتوں کی طرح پورے گھر میں اندھیرا کیئے بیٹھی تھیں۔
دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
تم کیا پورے گھر میں چراغاں کرتی داخل ہوئی ہو
بجلی کا بل نہیں آتا تمہارا؟
جوابا وہ ترکی بہ ترکی بولی۔
آتا ہے میں گھپ اندھیرا کرکے ڈرنے ڈرانے کی۔بجائے اسکا بل ادا کرنے پر یقین رکھتی ہوں۔
وہ۔بھی چبا چبا کر بولی۔ گوارا نے بے نیازی سے اسکا جملہ نظر انداز کیا پھر اپنے فون پر نگاہ جما لی۔
پہلی لڑکی دیکھی یے جو اندھیرے میں اتنے سکون سے بیٹھی تھی۔ کوئی ڈر نہیں لگ رہا تھا اسے کیا۔۔۔
وہ بڑبڑ کرتی صوفے پر سے کپڑے اٹھانے لگی۔
اسکی بات پر بظاہر بے نیازی سے بیٹھی ہوپ نے ذرا کی۔ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
وہ شاید نہانے جا رہی تھی کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں گھسس گئ۔۔۔
ڈر۔ اس نے سوچا۔ اندھیرے سے کیا ڈرنا۔
جس نے دنیا دیکھ رکھی ہو اسکے نزدیک اندھیرا سب سے کم خوفناک چیز ہوتا ہے۔ دنیا میں سب سے خوفناک انسان ہی ہیں۔۔۔ کاش کہ تمہیں کبھی تجربہ نہ ہو اس چیز کا۔
بڑبڑا تے ہوئے اس نے فون ایک جانب رکھا اور کروٹ لیکر آنکھیں موند لیں۔ دس منٹ بعد گوارا جب نہا کے باہر نکلی تو وہ گہری نیند میں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہبوجی واپس آچکے تھے۔۔ اسے انکو ایک۔مہینے کی کارکردگی بتانی تھی۔۔ وہ بیزار سا انکے سامنے بیٹھا تھا۔ انکا سیکٹری اسکے برابر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔ وہ سر سری نظر ڈال کر دو تین فائلیں بھگتا کر رکھ چکے تھے۔۔
گنگشن کتنی بار دفتر آئی ہے؟۔ وہ سیکٹری سے پوچھ رہے تھے۔۔
ہفتے میں تین بار آیا کرتی تھیں۔۔ سیکٹری نے بتایا تو وہ جانے کیوں ہایون پر نظریں گاڑ بیٹھے۔۔
تم امریکہ نہیں جائو گے؟۔۔ انداز انکا تحکمانہ نہیں تھا وہ بس پوچھ رہے تھے۔۔
آنیو۔ اس نے مختصر جواب دیا۔۔
دفتر سنبھالنے کا بھی ارادہ نہیں؟۔۔
انداز ہنوز تھا۔۔
دے۔۔ (جی)۔۔ اس نے مزید سر جھکا لیا۔۔
گنگشن کا رشتہ میں نے ڈاریکٹر کے بیٹے سے طے کر دیا ہے ۔۔۔ وہ بتا رہے تھے۔۔
ہایون نے مٹھئ بھینچی۔اطلاع نئ نہیں تھی۔۔ اسکو اس دن نونا اور انکے درمیان ہونے والی گفتگو یاد تھی۔۔
آپ مجھے سیڑھی بنائے بغیر بھی کاروبار کے بلاشرکت غیرے عظیم آسمان کو چھوتے ہیں مزید اور کتنا اوپر جانا چاہتے؟۔۔میں دوسری بار اپنی زندگی آپکے ہاتھوں کھلونا بننے نہیں دے سکتی۔۔
انی کی آواز بھرائی تھی۔۔ شائد روئی بھی ہونگی مگر اسکا باپ پگھلنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔
پھر مجھے ہایون کا رشتہ ڈاریکٹر کی بیٹی سے طے کرنا پڑے گا۔۔ مگر ہایون کے شیئرز تمہارے شیئرز سے کہیں زیادہ ہیں۔۔ میں ڈائریکٹر کے ہاتھ میں کمپنی نہیں دے سکتا۔۔ اس احمق لڑکے کو کاروبار کی الف بے بھی معلوم نہیں۔۔ ڈاریکٹر سمدھی بننے کے بعد کب کونسا پتہ پھینکے کیا خبر۔۔ انہوں نے تفصیل سے اپنے ذہن میں چلنے والی جمع تفریق نونا کو سمجھائی۔۔
نونا تاسف سے اپنے لالچی باپ کو گھور رہی تھیں۔
مجھ سے تو آپکو محبت نہیں مگر ہیون سے تو کرتے ہیں نا۔۔ اسکے خواب کیوں اپنی مادہ پرست طبیعت کے ہاتھوں پامال کر رہے ہیں۔۔ وہ ضبط سے بولیں۔۔
مجھے کسی کو تو سہارا بنانا پڑے گا۔۔ اپنے چچا زاد بھائی کو کچھ تو ضمانت دینی پڑے گی۔۔ وہ کیسے اپنی مکمل حمایت مجھے دے گا بنا کوئی فائدہ اٹھائے۔۔ وہ سخت چڑے۔۔ انکے بچے جانے کس پر پڑے تھے جزباتی احمق۔۔
اگر تم مان جاتی ہو تو ٹھیک۔۔۔۔ مجھے ہیون کے نام سب شئیرز واپس لے کر تمہارے نام کرنے ہونگے۔۔ جو تمہاری ماں کا دیرینہ خواب ہے۔۔
پھر تم کسی دن بھی ہاتھ پکڑ کر اسکو اس گھر سے نکال دینا۔۔۔ بلکہ نہیں یہ کام تمہاری ماں کر لے گی۔۔ ٹھیک ہے جائو۔۔
وہ بے نیازی سے کہہ کر رخ موڑ کر سگار جلانے لگے۔۔
انی ساکت سی بیٹھی انہیں دیکھ رہی تھیں۔۔
آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔ بیٹا ہے وہ آپکا۔۔
ایسا بس میں سمجھتا۔۔ تمہاری ماں اسے میرا بیٹا بھی ماننے کو تیار نہیں۔۔ آج اگر میں مر جائوں تو اسکی۔اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔۔
تم اچھی طر ح جانتی ہو۔۔ وہ کن اکھیوں سے دیکھتے سگار کے کش لیے جارہے تھے۔۔
آپ ہیون کو بے دخل نہیں کریں گے۔۔ انی تڑپ کر انکے سامنے آکھڑی ہوئی تھیں۔۔
میں نہیں کرنا چاہتا۔ مگر ہیون اگر میری بات مان کر شادی کے لیئے رضامند ہو بھی جاتا تو بھی اسکی بلا شرکت غیرے والی جائداد میں حیثیت نہیں رہنے دے سکتا۔۔ سب اس عیاش آدمی کے پاس چلا جائے گا بیٹی داماد کی صورت۔۔ انہوں نے کھل کر اپنی بے بسی بیان کی۔۔ انی انہیں دیکھتی رہ گئیں۔۔
ٹھیک ہے۔۔ میں راضی ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنا تم نے ؟ آہبوجی کو لگا وہ سن نہیں رہا۔
جانتا ہوں۔۔ اس نے اپنی مٹھی بھینچی۔۔
ضبط سے اسکی کنپٹی کی رگ ابھر آئی تھی۔۔
میں اسکے نام کے شئرز تمہارے نام کر رہا ہوں۔۔ اسطرح تمہاری حیثیت بڑھ جائے گی۔۔ میں چاہتا ہوں تم ڈائریکٹرز کا اعتماد جیتو اور منتظم اعلی کا عہدہ سنبھال لو۔۔ وہ سرسری سے انداز میں کہے جارہے تھے۔۔
اور اگر میں یہ دونوں کام آپکو کرنے نا دوں تو۔۔
اس نے انکو تحریک دینے والے انداز میں کہا۔۔
لی اسے غور سے دیکھتے رہے۔۔
پھر مسکرا دیئے۔۔
مرضی تمہاری۔۔ روک سکو توروک لو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نونا کے کمرے میں پکارتا آیا تھا۔
نوکرانی انکے کمرے کی صفائی کر رہی تھی۔۔ آہٹ پر چونک کر مڑی پھر جھک کر ادب سے سلام کیا۔۔
انی کہاں ہیں؟۔ اس نے پوچھا۔۔
وہ تو کل شام کی فلائٹ سے چین گئ ہیں۔۔ نوکرانی نے بتایا
کیا۔؟۔۔ وہ حیرانی سے چیخ ہی تو پڑا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حسب عادت منہ ہاتھ دھو کر باتھ روم سے نکلی تھی۔ سنتھیا بیڈ پر بیٹھی اپنا والٹ نکالے جانے کس جمع تفریق میں لگی تھئ۔ وہ اپنے ڈورم کی سیڑھی چڑھنے لگی تو اس نے پکارا۔۔
اریزہ ادھر آئو۔
وہ سعادتمندی سےرخ بدل کر اسکے بیڈ پر آن بیٹھی۔
یہ لو۔۔
اس نے چند کرنسی نوٹ اسکی۔جانب بڑھائے۔
یہ کیا ؟
وہ۔قطعی نہ سمجھی۔
آج کھانے کے پیسے بھی تم نے دیئے پھر فلم کا ٹکٹس ، اسنیکس او رواپسی کا کرایہ بھی۔ میں اتنی گھامڑ کہ والٹ لیئے بنا ہی تمہارے ساتھ چل۔پڑی۔
سنتھیا نے وضاحت کی تو اریزہ برا مان گئ۔
تو کیا ہوا۔ اب تم مجھ سے حساب کتاب رکھو گی؟
یہ بات نہیں مگر ہم چاروں اکٹھےگئے تھے ان دونوں نے بھی تو حصہ بٹایا نا میرے لیئے ہر بار تم نے ادائیگی کی تو مجھے شرمندگی ہورہی ہے۔
سنتھیا نے کہا تو وہ اسکے ہاتھ سے پیسے اور والٹ دونوں چھین کر اس میں پیسے رکھنے لگی۔
مانا آپ بہت بڑے بیوروکریٹ کی اکلوتی بیٹی ہیں آپکو پیسے کی کمی نہیں مگر دوستی میں حساب کتاب نہیں لانا چاہیئے۔
رکھو یہ پیسے اپنے پاس۔ اور یہ بتائو عید کی شاپنگ کرنے کب جانا ہے؟
وہ اسے ڈانٹ کر بات بھی بدل گئ سنتھیا نے کچھ کہنا چاہا پھر سر ہلا کر بولی۔
ایڈون سے پوچھوں گئ۔
کیوں ایڈون سے کیاپوچھنا ؟ ہم چاروں چلیں گے نا کتنا مزا آیا نا گرلز ڈے آئوٹ میں۔ ہم لڑکیاں ہی لڑکیاں بس پورا شہر گھوم آئیں۔۔ کل گوارا سے کہوں گی۔۔
اریزہ کو آج بہت مزا آیا تھا۔ سنتھیا مسکرا دی۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔
آج جو تصویریں لی ہیں مجھے بھیجو میں انسٹا پر تو لگائوں۔ وہ۔ہدایت کرتی اٹھ گئ۔ سنتھیا بیڈ درست کرتی نیم دراز ہوئی سب تصویریں چن کر بھیجیں اسے پھر ایک پیغام بھی لکھ ڈالا۔
ابو پیسے چاہیئیں عید کی شاپنگ کرنی ہے۔
جواب سرعت سے آیا تھا۔اورغیر متوقع بھی۔
بھیجے ہیں نا بیٹا عید کی شاپنگ کروانے کا کہہ کر ہی ایڈون کو اس سے کہو نا شاپنگ کرا لائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالک شاہزیب ایڈون اس بڑی سی چھابڑی نما عارضی دکان کے سامنے کھڑے شرٹس اور جینز پسند کر رہے تھے۔
ایک ہی دکان پر کھڑے رنگ ڈیزائن وغیرہ کی ذیادہ فکر کیئے بنا۔۔ وہ اور سنتھیا بیزاری سے ان لوگوں کی “شاپنگ” دیکھ رہی تھیں۔گنگنم کی مشہور مڈل کلاس مارکیٹ جس میں حقیقتا کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔پنڈی کے راجہ بازار کی طرح تنگ گلیاں اور آدھی آدھی گلی تک استراحت فرماتی دکانوں کے آگے بڑی بڑھی چھابڑیاں اور ٹھیلے۔ سوئی سے ہاتھی تک یہاں بک رہا تھا۔خیر سچ مچ کا ہاتھی نہیں محاورتا کہا۔ ان دونوں سے دو ایک لوگ ٹکرا کر گزرے تو بھنا کر سنتھیا بولی۔۔
بس بھی کرو ساری دکان خریدنی ہے؟
آگے پیچھے اور بھی دکانیں ہیں کم از کم ایک آدھ تو چیز کہیں اور سے لے لو۔
اریزہ بھئ ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
کیا ضرورت ہے۔ یہ فرسٹ کاپی بیچ رہا ہے سستی سستی شرٹس ہیں یہ سب۔
ایڈون نے آترا کر بتایا۔ چینجنگ روم تو تھا نہیں۔۔ سالک نے وہیں شرٹ اتار کر اپنے سائز کی شرٹ نکلوا کر پہنی۔
ٹی پنک شرٹ پہن کر موبائل میں اپنا بوتھا دیکھ کر سالک اتراکر پوچھنے لگا
یہ کیسی ہے؟ ۔۔ جوابا دکاندار شاہزیب ایڈون کے ساتھ جملہ راہ گیروں تک کو منہ کھولے گھورتا پایا تو سٹپٹا سا گیا۔
کیا ہوا۔ ؟
پینٹ بھئ بدل لے یہیں کھڑے کھڑے۔ ایڈون نے دانت کچکچایے۔ اریزہ سنتھیا قصدا رخ موڑ گئیں۔
یار پینٹ کے ساتھ مسلئہ ہے میں نے آج۔
اس سے قبل کہ وہ بھانڈ اپنا مسلئہ بھی فل والیم میں بتاتا شاہزیب نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔
ایڈون کو بھئ اسکی ٹی پنک شرٹ پسند آئی۔
ویسے یہ کلر اچھا لگ رہا ہے اس پر۔
تو تو بھی لے لے۔ سالک نے کندھے اچکائے۔ اچھا ہے عید کے دن دونوں بھائی ایک جیسے کپڑے پہنے ہوں گے۔
ایڈون اس جیسی شرٹ اٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر دیکھنےلگا پھر ہنس کر بولا۔
اس میں تو میں اور کالا لگوں گا۔
توپھر یہ اورنج لے لے۔ تاکہ اندھیرے میں بھی دور سے چمکے تو۔
شاہزیب نے حقیقتا گہرے نارنجی رنگ کی شرٹ اٹھا کے تھمائی جوابا وہ گھور کر رہ گیا۔
یار کرتا پاجامہ یاد آرہا ہے مجھے یہاں ملتا تو ہوگا۔
سالک کو عید کی یاد ستائی۔
عید کی نماز جینز پہن کر پڑھوں گا میں کیا ؟ اسے دکھ ہو رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرے کرتا جو کمر سے تھوڑا سا ہی نیچے آرہا تھا ہمراہ سفید کھڑا پاجامہ پہن کر وہ انکے سامنے آیا تو بے ساختہ وہ دل سے خوش ہو کر ماشا اللہ کہہ بیٹھے۔
بہت وجیہہ بہت پیارے لگ رہے ہو ماشا اللہ۔
انہوں نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم لی
علی جھینپا جھینپا سا تھا انکے ردعمل پر۔ اسے آج بطور خاص اصرار کرکے عبدالہادی نے اپنے گھر بلایا تھا۔ اور عید کا جوڑا تھمایا تھا بلکہ ابھی پہن کر دکھانے پر اصرار بھی کرنے لگے۔ تاکہ کمی بیشی دور ہوسکے۔۔۔
اسکی کیا ضرورت تھی۔ ؟ میرے پاس بہت سے کپڑے ہیں۔۔۔
وہ کہے بنا نہ رہ سکا۔
کیسے ضرورت نہ تھی؟عید پر کیا پرانے کپڑے پہنتے ؟
وہ بگڑ کر بولے۔
بیٹا رمضان کے بعد عید کا دن مسلمانوں کیلئے اللہ کا تحفہ ہے۔ اس دن خوش ہونا صاف کپڑے پہن کر سجدہ شکر ادا کرنا سنت نبوی ص ہے۔ پورا مہینہ عبادت کرکے اپنا نفس سنوار کر عید کے دن سچی خوشی محسوس کرنا ہم پر فرض ہے بیٹا۔
یہ لباس ہے کونسا۔؟ کچھ کچھ کیمونو( جاپانی روایتی لباس) جیسا ہے
ویسے یہ ترکی لباس ہے۔ میری ترک بیوی نے خاص ترکی سے منگوائے تھے یہ کرتے پاجامے۔ میں اپنا دکھائوں۔
انہیں اچانک خیال آیا تو بچوں جیسی خوشی سے بولے۔
جی دکھائیے۔۔
وہ مسکرا دیا۔ وہ خوشی خوشی اپنا لباس لینے اندر کمرے میں چلے گیے۔ وہ یونہی طائرانہ نظر کمرے پر ڈالتا صوفے پر ٹک گیا۔ اسکو تبھی موبائل پر پیغام آیا تھا۔
کھول کر پڑھتے ہی وہ ایکدم اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
یہ دیکھو میرے اور تمہارے کرتے میں بس ایمبرائیڈری کا فرق ہے تھوڑا سا ہم عید پر صحیح باپ بیٹا لگیں گے تیار ہو کر۔۔
وہ کرتا پہن کر خوشگوار انداز میں بولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔۔
علی نے بے چین سی نگاہ ان پر ڈالی۔ وہ بھی ایکدم سنجیدہ سے ہوگئے
کیا ہوا؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں بھاگم بھاگ اسپتال پہنچے تھے۔ یہ اسپتال اسکے ٹرسٹ کا حصہ تھا۔ ریسیپشن پر سے ہی انہیں وی آئی پی پروٹوکول ملا تھا۔۔ انتظامیہ کا اہلکار انہیں سب تفصیل بتاتا آئی سی یو تک لایا تھا۔ ۔ اسکی ماں کی اچانک طبیعت خراب ہوگئ تھئ۔ گھر میں کافی دیر تکلیف میں پڑے رہنے کے بعد وہ ہوش وحواس سے بے گانہ ہوگئی تھیں تب ملازمہ کسی کام سے اندر آئی تو انکو بیہوش پڑے دیکھ کر اس نے ایمرجنسی سروس بلائی۔۔ فوری اسپتال پہنچانے کے باوجود ابھی انکی حالت خطرے سے باہر نہ تھی۔ اسکے چچا اور اسکے چچا کا بیٹا آئی سی یو کے باہر ہی کھڑے تھے اور اسکو دیکھ کر خاصے بدمزا بھی ہوئےتھے۔
اب کیا لینے آئے ہو؟ماں اکیلی گھر میں بیمار پڑی رہی تمہیں احساس نہ ہوا تمہارے ہوتے ہوئے بھی ہم تمہاری ماں کو اسپتال لائے علاج کروا رہے تمہاری اب کیا ضرورت باقی رہ گئ ہے۔ جائو اپنے نئے رشتے نبھائو۔ اپنے نئے باپ کے ساتھ۔
اسکے چچا نے لتاڑ کر رکھ دیا۔ آخری جملے پر ان دونوں کو ایک جیسے ملبوس میں دیکھ کر طنزیہ انداز حقارت بھرا ہوگیا تھا۔ عبدالہادی خفت زدہ سے ہوگئے۔ جبکہ علی سر جھکا کے کھڑا سنتا رہا۔ ایک لفظ صفائی میں نہ بولا۔
کچھ اندازہ ہے ہمارے ہاتھ سے سارا کاروبار نکل رہا ہے؟ ایک تمہارے غلط فیصلے نے تمہاری ماں کے سب شئیرز ڈبو دیئے ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے ۔
کوئی سننے لگے تو سنانے والوں کی تو چاندی ہوجاتی ہے۔ سو وہ اسکی ماں کی بیماری سے کاروبار تک پہنچ گئے۔
اپنی ماں کی بیماری میں اسکے پاس نہ ہونا میری غلطی ہے اس پر میں خاموشی سے آپکی سخت سست سن سکتا ہوں مگر کاروبار اور اس سے جڑے معاملات سے میں خود کو الگ کر چکا ہوں اسکا تذکرہ کرنے کیلئے یہ وقت ویسے بھی مناسب نہیں۔۔
اسکے دو ٹوک جواب پر وہ دانت پیس کر رہ گئے
ہائش۔ ہمیشہ یہی خود سری دکھا کے تم نے بھابی کا دل دکھایا اور اب کاروبار بھی ڈبونے چلے ہو۔۔ جانے تم جیسی اولاد۔۔
وہ بڑ بڑا رہے تھے انہیں نظر انداز کرکے وہ آئی سی یو سے نکلتے ڈاکٹر کی جانب لپکا۔
شدید ذہنی دبائو کے باعث انکا فشار خون بہت بلند ہو گیا تھا۔
ہم تک پہنچنے میں انکو بہت دیر لگ گئ۔ ہم پوری کوشش کرنے کے باوجود بھئ انکو بچا نہ سکے۔۔ بیانیئے۔۔
ڈاکٹر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے افسوس بھرے انداز میں بتایا تھا۔۔۔ وہ ساکت سا کھڑا اسکو دیکھتا رہ۔گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان لڑکوں کی جوتوں کپڑوں سمیت مکمل شاپنگ میں ایک گھنٹہ لگا ہوگا اسکے بعد ان دونوں کو انکی پسند کی چیزیں خریدنے میں ساری شام خرچ ہوگئ۔
مگر وہ تینوں بڑے تحمل سے شاپر اٹھائے انکے ہمراہ دکانیں جھانکتے پھرے۔ ہر دکان پر ایک تو مناسب لباس اکا دکا تھے جو تھے وہ ان دونوں کو پسند نہ آتے ناک چڑھا کر باہر نکل آتیں۔اب تو تنگ آکر ان تینوں نے بھی انکی مدد کرانی شروع کر دی۔۔ سالک ہینگ ہوئی اسکرٹس نکال کر اسکے سامنے لہرانے لگا۔ سیلز گرل سٹپٹائی سی اسکے ساتھ ساتھ آئی تھی۔
اسکرٹ پہنوں میں عید کے دن۔۔
اریزہ بھنائی۔
کوئی حرج نہیں لانگ اسکرٹس بھی ہیں یہاں۔
شاہزیب نے گھاگھرے کی طرز کی اسکرٹ اسے دکھائی۔
یہ بھی لمبا کرتا لگ رہا ہے۔
سالک ہینگرز سیلز گرل کو تھما کر اب ڈمی کے لانگ ٹاپ کو لہرا کر دکھا رہا تھا۔
ایڈون اور سنتھیا دکان میں کے ایک کونے میں گھسے الگ ڈسپلے کے کپڑے چھانٹ رہے تھے۔
سرمئی گلابی امتزاج کی وہ چھوٹے چھوٹے پھولوں والی سلیو لیس میکسی تھی۔ سنتھیا اور ایڈون نے ایک ساتھ اسکی جانب ہاتھ بڑھایا۔ سنتھیا نے ہاتھ پیچھے کیا۔
یہ دیکھو اریزہ یہ تم پر سوٹ کرے گی۔۔۔۔۔
ایڈون ہینگر اٹھا کر اریزہ کی جانب بڑھا جو قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی ہلکے نیلے رنگ کا ٹاپ خود سے لگا کر دیکھ رہی تھئ۔
ایڈون نے اسے سوٹ تھمایا تو وہ خود سے لگا کر دیکھنے لگی۔۔۔
ٹاپ واقعئ خوبصورت تھا۔۔ مگر خاصا فٹنگ والا۔ یقینا اسکو پھنس جاتا۔۔۔۔
اس نے کالر سے سائز دیکھا پھر پاس کھڑی سیلز گرل سے بولی
اسکا کوئی بڑا سائز ہے؟
آندے۔ فری شائز۔
ٹوٹی پھوٹی انگریزئ ہنگل میں دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر اس نے بات سمجھا ہی دی۔
آجائے گا اریزہ اتنے روزے تو رکھتی رہی ہو۔۔
شاہزیب نے کہا تو وہ گھور کر رہ گئ۔
اندر چینجنگ روم ہے آپ وہاں جا کر پہن کر دیکھ لیں۔
سیلز گرل نے کہا تو وہ متزبزب ہوئی۔
سنتھیا۔ اس نے سنتھیا سے مشورہ کرنا چاہا مگر وہ چینجنگ روم کی جانب ہی بڑھ رہی تھی۔ وہ ٹاپ اٹھاتی ان کیبنز کی طرف بڑھ آئی۔ سنتھیا اسکے برابر والے کیبن میں ہی تھی۔ اس نے کپڑے بدلے اور آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔
میکسی اسے آ تو گئی مگر بہت چست تھی۔
اریزہ مجھے بھی دکھانا میکسی۔
سنتھیا نے آواز لگائی تو وہ سٹپٹا سی گئ۔۔۔
سنتھیا چینج کرکے اب اسکے کیبن کے باہر کھڑی تھی۔
اس نے دروازہ کھولا سنتھیا کا منہ کھلا۔
تم کیا کر رہی تھیں اتنی دیر سے کپڑے ہی نہیں بدلے ؟
وہ حیران ہوئی۔ اریزہ میکسی بدل چکی تھی۔
یہ لباس میرے لیئے نہیں بنا۔ تمہیں شائد آجائے۔ اس نے احتیاط سے سنتھیا کے ساتھ لگایا تو دبلی پتلی سنتھیا کو واقعی وہ لباس اتنا چست نہ ہوتا جتنا اس پر لگا تھا۔
سنتھیا نے لمحہ بھر سوچا پھر وہ میکسی لیکر کیبن میں گھس گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیار ہو کر وہ باہر نکلی تو اریزہ اسکے انتظار میں باہر کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر جیسے منہ کھلا رہ گیا
اف بہت بہت پیاری لگ رہی ہو تم۔
اس نے چٹا چٹ گال چوم لیئے۔ سنتھیا سرخ سی ہوگئ۔
چلو ایڈون سامنے ہی کھڑا ہے منہ کھلا رہ جائے گا اسکا۔ اسکو دھکیل کر کہتی وہ شرارت سے کان میں منمنائی۔ سنتھیا نے قدآدم آئینے میں خود کو دیکھا تو اعتماد سا چال میں آگیا۔ سہج سہج کر چلتی باہر آئی تو سب سے پہلے ایڈون کی ہی اس پر نظر پڑی۔
ایک لمحے کو تو حیران ہوا پھر تاثرات پر قابو پا لیا۔
کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔
وہ اسکے سامنے ہی جا کھڑی ہوئی۔
آ ہاں۔ اچھی لگ رہی ہو مگر یہ رنگ تھوڑا ڈارک نہیں؟۔
وہ بے ساختہ بولا سنتھیا کا منہ اتر سا گیا۔
کیا ہوا میں اس میں کالی لگ رہی ہوں
اسے یہی گمان گزرا۔۔
آں۔۔ نہیں ۔۔ اچھی لگ رہی ہو اسمارٹ۔ تم لائٹ کلرز لیتی ہو نا اسلیئے بس ۔۔
وہ سنبھل کر مسکرا کر بولا۔
سنتھیا کو اسکی وضاحت مطمئن نہ کرسکی مڑ کر آئینے میں اپنا سراپا دیکھنے لگی۔
گہرے رنگوں میں اسکی رنگت مزید گہری لگ رہی تھی۔ اس نے آئینے میں منعکس ہوتا اریزہ کا عکس دیکھا جو ڈسپلے سے ایک اور ٹاپ اٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہی تھی۔ ہلکے سے عنابی رنگ کا۔ جو اس کی گوری رنگت پر جچ رہا تھا۔ خیر اسکا رنگ صاف ہی اتنا تھا ہر رنگ جچتا تھا اس پر ۔۔
وہ کپڑے بدلنے کیبن میں واپس گھس گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکے انکو ہاسٹل کے باہر چھوڑ کر خود آگے چلے گئے تھے۔ ان دونوں نے عید کا جوڑا نہیں لیا تھا۔
میں نے کہا تھا نا۔ ہم لڑکیاں لڑکیاں مل کر چلتے مزا بھی آتا اور جی ہائے اور گوارا دونوں کو دیکھا ہے انکی ڈریسنگ کتنی اعلی ہوتی ہے دونوں ہی میچنگ وغیرہ کا خوب دھیان رکھتی ہیں۔
اریزہ کمرے میں داخل ہونے تک سیر حاصل تبصرہ کرتی آئی۔
مگر مجھے دوبارہ ایڈون کے ساتھ ہی جانا پڑے گا۔ وہ مسکرا دی
کیوں؟ اریزہ سوالیہ ہوئی
وہ اسلیئے کہ ابو نے پیسے ایڈون کو ہی بھجوائے ہیں عید کی شاپنگ کیلئے۔
وہ اطمینان سے کہتی بیڈ پر دھپ سے گر گئ۔ پھر پھر کر تھکن ہوگئ تھی۔
یہ کیا بات ہوئی۔ اریزہ کمر پر ہاتھ رکھ کر جرح کرنے لگی۔
تمہارے ابو پیسے ایڈون کو کیوں بھجوا رہے؟
ایڈون سمجھدار ہے لڑکا ہے ذیادہ بہتر سنبھال سکتا۔
وہ متفق تھی یا نہیں اس بات سےمگر بظاہر اسکو یہی صحیح لگ رہا تھا۔
ںو وے۔اپنا پیسہ اپنے ابا کا پیسہ انسان خود ہی صحیح طرح خرچ کر سکتا ہے۔۔ پاپا کہتے ہیں یہ میرے۔ انہوں نے مجھے یہی سکھایا۔
۔چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لینی ہوتی تھی نا تو پاپا مجھے پیسے دیتے چاہے امی یا صارم کے ساتھ ہی کیوں نہ جائوں۔ ایک بار بس میں نے شکایت لگائی تھی پاپا کو کہ امی نے مجھے چیز نہیں لینے دی کہ پیسے ختم ہوگئے بس پھر پاپا نے کبھی میری پاکٹ منی بھی امی کے ہاتھ نا دی مجھے۔
وہ ہنس ہنس کر بتا رہی تھی۔
تمہارے پاپا تم سے بہت پیار کرتے ہیں نا۔ سنتھیا مسکرا دی۔
ہمیشہ سے۔ جب حماد بھائی زندہ تھے نا تب بھی پاپا کی میں لاڈلی ہوتی تھئ۔ حماد بھائی کے بعد تو بہت ذیادہ ہی پاپاپیار کرنے لگے ہیں۔ ۔۔۔
وہ بولتے بولتے رکی۔۔ پھر قصدا ہنس کر بولی
شائد ایک ہی اولاد باقی رہ گئ ہوں میں اسلیے۔
اچھا ایمو ہونے کی نہیں ہو رہی۔ سنتھیا فورا اٹھ بیٹھی۔
یہ سوچو آخر ہم کیا کریں۔عید کے کپڑے تو ہمیں یہاں پسند نہیں آرہے۔ پھر ۔؟
سنتھئا کی بات میں دم تھا۔اریزہ بھی اسکے پاس آن بیٹھی
یار ویسے انڈیںز تو دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں یہاں بھی انڈینز ہوں گے نا۔ کیا پتہ یہاں بھی کپڑے بکنے آتے ہوں۔۔
اریزہ کے کہنے پر سنتھیا ہنسی۔۔
کون پہنتا ہوگا یہاں۔ مجھے نہیں لگتا یہاں بھارتی کپڑے بکتے ہوں گے۔
سنتھیا نے نفئ میں گردن ہلائی۔
سرچ کرتے ہیں۔اریزہ نے فورا موبائل نکال لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روایتی کورین انداز میں آخری رسومات انجام دی جا رہی تھیں۔ قد آدم گلدستے جن پر بڑے بڑے بینر چسپاں تھے آنجہانی ینگ سومی کیلئے تعزیتی کلمات سے سجے۔ الوداعی رسومات کمیونٹی ہال میں ادا ہونی تھیں۔ ہال کمرے میں ینگ سومی کی خوبصورت تصویر فریم کرکے چبوترے پر رکھی تھی ارد گرد تعزیت کیلئے آئے لوگوں کی جانب سے پھول اور پھل رکھے تھے۔ لوگ بدھ متی عقائد کے مطابق تصویر کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اپنی نیک تمنائوں کا اظہار کرتے پھر ایک دو رسمی کلمات ایک کونے میں سر جھکائے بیٹھے علی کا کندھا تھپکتے ادا کرتے اور چلے جاتے۔ دوسرے ہال کمرے میں ضیافت کا انتظام تھا۔ چھوٹی چھوٹی چوکیوں پر کورین طرز کے سات رنگ کے کھانے تھے قیمتی شراب سے مہمانوں کی تواضع کی جا رہی تھی۔ شہر کے متمول لوگ اس جنازے میں شریک تھے۔ کالے تھری پیس سوٹوں کا جیسے میلہ لگا ہوا تھا۔
کم جون جے۔۔
آنے والے نے خاصے تکلف سے اسے مخاطب کیا تھا۔
اس نے خالی خالی نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ لی گروپ کا خاندان تعزیت کیلئے آیا تھا۔ وہ اپنے سن سے ذہن کے ساتھ بھی اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ اس خاندان سے اسکے چچا کا خاندان جڑنے والا ہے تو یقینا انکو تعظیم دینا اس پر فرض تھا۔ سو میکانیکی انداز میں اٹھ کھڑا ہوا
آہجوشی لی نے رسمی سے انداز میں اسکا کندھا تھپکا ۔۔۔
بہت افسوس ہوا بیٹا۔ شائد یہی قدرت کی مرضی تھی۔ تمہاری ماں بہت محنتئ اور قابل انسان تھی یقینا اسکا جانا ہم سب کیلئے بہت بڑا نقصان ہے۔
لی روائتی جملے دہرا رہے تھے۔ انکے برابر کھڑا ہایون بالکل خاموش سرجھکائے کھڑا تھا۔وہ رسمی کلمات ادا کرنے اور سماجئ روابط نبھانے میں بالکل اناڑی تھا۔ابھی بھی باپ کی تنبیہی نگاہوں سے نگاہ چرا کر آہجومہ سومی کی تصویر کی جانب بڑھ گیا۔ روائتی طریقے سے سجدہ کرنے کے بعد وہ فورا ہی جانے کو تیار ہوئے تھے۔۔
اسکے چچا انکا سایہ بنے ہوئے تھے۔ بہت اصرار سے انکو ضیافت کیلیے لے گئے بلایا تو ہایون کو بھی تھا۔ مگر وہ دانستہ پیچھے رہ گیا۔ علی دوبارہ میکانکی سے انداز میں دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھا تھا۔ سرمئی ترک لباس میں ملبوس علی روائتی کورین ماتمی سیاہ لباس زیب تن نہیں کیئے تھا۔اسکا لباس ملگجا بے ترتیب تھا۔ چہرے پر آنسوئوں کے مٹے مٹے نشان تھے بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ الجھا ٹوٹا سا دکھائی دے رہا تھا۔ہایون اسکے کندھے پر دھیرے سے تسلی آمیز انداز میں ہاتھ رکھتا برابر آن بیٹھا۔۔
علی نے چونک کر آنسوئوں سے بھری نگاہیں اٹھا کر دیکھا پھر سر جھکا لیا۔۔۔۔۔
میری آہمونی کو جلا دیا انہوں نے۔ میری ایک نہ سنی۔۔
وہ ضبط کھو کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنی ماں کی لاش کو جلانا نہیں چاہتا۔۔
وہ حلق کے بل چلایا تھا۔ کم گروپ کے آبائئ گھر کے ڈرائنگ روم میں ہونے والی اس ملاقات میں اسکے چچا انکا بیٹا ، انکا وکیل اور اسکی ماں کا وکیل سب موجود تھے۔
اسکی ماں کے وکیل نے اسکی ماں کی وصیت سنائئ تھی جس میں جائداد کے بٹوارے اور جون جے کو قانونی طور پر اس جائداد ، انکی کمپنی کے شئیرز اور ا س وسیع و عریض بنگلے جس میں وہ سب اس وقت موجود تھے کی ملکیت سے اسکی ماں کی جانب سے عاق کر دیا گیا تھا۔۔۔
مزہب کی تبدیلی کے باعث کم سو می اپنے بیٹے سے شدید ناراض تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ انکا بیٹا انکے عقیدے پر پلٹ آئے۔ اس لیئے انہوں نے ناراضی کے اظہار کے طور پر اپنی منقولہ و غیر منقولہ تمام جائداد سے اپنے اکلوتے بیٹے جو ن جے کو عاق کر دیا تھا۔ تا وقتیکہ کہ وہ اپنے مزہب پر واپس آکر اپنی پرانی شناخت بحال نہ کرلے۔ دوسری صورت میں یہ گھر کم گروپ کے وارثین میں تقسیم کیا جائے گا۔
جون جے سپاٹ تاثرات سے انکی ساری باتیں سنتا رہا تھا۔ اسکے چچا اور کزن دونوں کو اس سے اتنی شرافت کی امید نہ تھی۔ خاموشی سے اپنے ہاتھ سے اپنے حق سے دستبرداری کے تمام کاغذوں پر اس نے دستخط کیئے تھے۔
مگر جب وکیل نے اسکی ماں کی وصیت کے مطابق بدھ متی عقائد سے انکی لاش کو جلانے کا حکم نامہ سنایا تو وہ تڑپ اٹھا تھا۔
مگر تمہاری ماں کی یہی وصیت ہے کہ اسے اسکے عقائد کے مطابق ہی رسومات ادا کرکے دفنایا جائے۔
اسکے چچا کو اسکے اعتراض کرنے پر حیرت ہوئی تھی۔
میں بیٹا ہوں انکا۔ میں انکی قبر بنوانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں اپنی ماں کو جلا کر راکھ نہیں ہوتے دیکھ سکتا ۔مجھے انکا مرقد چاہیئے جہاں میں جا کر اپنی ماں سے مل سکوں۔ پھول نچھاور کر سکوں۔
وہ جزباتی ہو کر بولا۔
یہ تو کوئی مسلئہ نہیں۔ ہم انکو اپنے خاندانی یادگارگھر میں ہی جگہ دیں گے جہاں جدی پشتی ہمارے بڑوں کی باقیات سجی ہیں۔ تم جایا کرنا اپنی ماں سے ملنے پھول رکھنے۔
نا چاہتے ہوئے بھی آخر میں انکا انداز طنزیہ ہوگیا تھا۔۔
میں وارث ہوں انکا۔۔ انکا اکلوتا بیٹا میری مرضی میں اپنی ماں کا جنازہ جلائوں یا دفنائوں آپ کو اس زمین جائیداد سے دلچسپی ہے نا یہ سب آپکی ہوئی مجھےمیری ماں کا جنازہ چاہیئے۔۔
وہ ضدی انداز میں بولا۔ جوابا اسکے چچا طیش میں آکر اٹھ کھڑے ہوئے۔
تم کس ماں کی بات کر رہے ہو جسکے آخری وقت میں تم اسکے ساتھ نہ تھے؟ کمپنی ڈوب گئی تم نے پروا نہ کی یہ صدمہ تمہاری ماں کی جان لے گیا اور تم کہتے ہو ت وارث ہو اسکی لاش کے کوئی حق نہیں تمہارا اس جنازے پر وہ ہمارے خاندان کی بہو ہے او رہم اسکو اپنے آبائی یادگارگھر کا حصہ ہی بنائیں گے۔
کونسا خاندان؟ وہ چٹخ کر بولا۔
میرے باپ کو ساری عمر تو آپ نے اپنابھائی نہ مانا۔ انکو دادا جان کی غلطی سمجھا اب کس منہ سے۔
اسکا جملہ ابھی منہ میں تھا کہ اسکے چچا کا بھرپور تھپڑ خاموش کرواگیا اسے
یہ پہلی اور آخری بار ہے جو تم نے یہ دہلیز پار کی ۔ میں تمہیں تمہاری ماں کی رسومات میں آنے سے نہیں روکوں گا مگر اب تم یہاں ایک پل نہیں رک سکتے۔۔
انہوں نے تنفر سے کہہ کر حقیقتا اسے اپنے سیکیورٹی گارڈز سے دھکے دے کر نکلوایا تھا۔
مجھے صرف میری ماں چاہیئے۔ خدا کا واسطہ ہے مجھے میری ماں دے دو۔ مجھے اور کچھ نہیں چاہیئے۔
وہ تڑپا تھا مچلا تھا گڑگڑایا تھا۔۔مگر۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری ماں کو راکھ بنا دیا انہوں نے۔۔ وہ ہایون کے کندھے پر سر رکھے بلک اٹھا تھا۔۔
میری ماں کو راکھ کردیا۔ مجھے قبر نہیں بنوانے دی۔ اس راکھ کو بھی دفنانے کی اجازت نہیں مجھے۔ میری ماں کو جلا دیا۔۔
وہ بے ربط بولتا بین کر رہا تھا۔ ہایون چپ سا اسے سنتا رہا۔ یوم بن کم سن بھی آگئے تھے۔ ان دونوں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا تھا۔۔ وہ روئے جا رہا تھا اور یہی جملے دہرائے جا رہا تھا۔۔۔
میری ماں کو کتنی تکلیف دی انہوں نے۔۔۔
وہ بڑبڑانے والے انداز میں ہچکیاں لے رہا تھا۔
ہایون بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔
مری ہوئی ماں کو جلایا یا دفنایا کیا فرق پڑتا۔ اسکو مری ہوئی ماں کی۔تکلیف اتنی محسوس ہو رہی تھی اور وہ۔۔
وہ گھبرا کر اپنی ٹائی ڈھیلی کرتا باہر نکل آیا۔ اسے اندر ایک دم سے بہت گھٹن سی محسوس ہونے لگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبد الھادی اسکے ساتھ اسکے گھر آئے تھے۔پچھلے تین چار دن سے اس نے کپڑے تک نہ بدلے تھے نا کھانا ڈھنگ سے کھایا تھا۔ انہوں نے اسے کپڑے بدلنے بھیجا۔ اور خود کھانا گرم کرنے لگے۔۔جب کافی دیر وہ کمرے سے باہر نہ آیا تو وہ تشویش میں مبتلا ہو کر کمرے میں چلے آئے۔
اس نے شاور لے لیا تھا۔ کپڑے بدل لیئے تھے مگر بیڈ کی پٹی سے سر ٹکائے زمین پر بیٹھا اپنی ماں کی تصویر چومتا رو رہا تھا۔ وہ تاسف بھرئ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئے۔ پھر دھیرے سے اسکے برابر بیڈ پر آن بیٹھے۔ پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیر کرکہنے لگے
صبر کرو آدل ( بیٹا)۔ جانے والے کبھی واپس نہیں آتے۔ ہمیں انکے بغیر جینا سیکھنا ہوتا ہے۔ یوں رو رو کر ماں کے دل کو بے چین نہ کرو بیٹا۔ اپنے اکلوتے بیٹے کو یوں غم سے نڈھال دیکھ کر انہیں تکلیف ہوتی ہوگئ۔۔
وہ مجھ سے نفرت کرنے لگی تھیں۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔اسکی چندی آنکھیں سوج چکی تھیں۔ چہرہ سرخ اور ستا ہوا تھا۔ انکادل کٹ کر رہ گیا۔ اور وہ کہہ رہا تھا۔
مجھے عاق کردیا تھا۔ انہوں نے مجھے کبھی واپس گھر نہ آنے دیا۔ اپنے جنازے تک پر سے میرا حق ختم کردیا۔ اپنی ماں کو آخری بار چھو بھی نہ سکا میں۔۔۔ وہ مجھے سے ناراض چلی گئیں۔ میں انہیں منا نہ سکا۔۔۔۔
مائیں ناراض نہیں ہوتیں بیٹا۔ ماں توبے لوث محبت کرتی ہے۔اللہ نے اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے ماں کی محبت کی مثال دی ہے بیٹا۔ تمہیں جائداد سے عاق کرنا صرف تمہیں واپس بلانے کی کوشش تھئ کہیں زمین جائداد جاتے دیکھ کرہی سہی تم پلٹ آئو بس۔۔۔۔
مجھے کچھ نہیں چاہیئے تھا بس مجھے میری ماں کا وجود دے دیتے۔اسکو راکھ نہ بناتے میرے پاس انکی ایک نشانی ایک قبر ایک سلسلہ ربط رہ جاتا کاش۔۔
اس نے کہتے ہوئے تھک کر انکے گھٹنے سے سر ٹکادیا۔
میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ آہجوشی۔ میرا اس دنیا میں کوئی اپنا نہیں رہا۔۔ میں تنہا رہ گیا۔۔۔۔۔میرے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں رہی آہجوشی۔۔۔۔
اسکے بین انکا بھی دل چیرے دے رہے تھے
انہوں نے جھک کر اسکے چہرے پر سے آنسو صاف کیئے۔۔
ایسا نہیں سوچتے بیٹا۔ ہم اکیلے کبھی نہیں ہوتے اللہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔دیکھنا وہ تمہارے لیئے زندگی میں جینے کی نئی وجہ پیدا کردے گا۔
وہ تسلی آمیز انداز میں بولے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے سبزی کے سینڈوچ بنا کر سحری کی تھی۔ کافی کا مگ بنا کو واپس ڈورم میں آئی تو سنتھیا ابھئ بھی گہری نیند میں تھی۔ وہ کافی کی چسکیاں لیتے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے بئڈ پر آن بیٹھی۔
کھلی ترچھی چھت تک مکمل گلاس وال سے آسمان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ چاند کی آخری تاریخیں تھیں سو نا ہونے کے برابر باریک سا چاند تھا۔
وہ غور سے اسے دیکھتئ رہی۔ تبھئ اسکو میسج آیا تھا۔
صارم تھا۔
اس نظم نے کہیں دل پر وار کیا ہے تم بھی پڑھو۔

کاہے کی تگ و دو میں پھنساتے ہو خود کو .
ایک دن تیرا یہاں نام و نشان بھی نہیں رہنا …

قائم ذات بس ایک ہی ہو گی باقی ابد تک …
تو نے نہیں رہنا ہے میں نے بھی نہیں رہنا

آسمان کو تسخیر کرنے کی کوشش ہیں سب کرتے …
سنا ہے ایک دن ہم نے زمیں میں بھی نہیں رہنا …

دشواریاں جڑی ہیں اسی زندگی سے اگر ہجوم …
ایک دن تو تجھے یہاں زندہ بھی نہیں رہنا …

کہنے کو کہتے رہیں گے سبھی بہت کچھ …
سننے کے مگر قابل اب ہم نے نہیں رہنا …

آیے تھے اکیلے یہاں جانا بھی ہو گا تنہا …
بس دنیا کا چونچلا ہے کہ تنہا نہیں رہنا …
دنیا کا چونچلا ۔۔
اسے ہنسی آگئ۔ مگر نظم واقعی دل کو لگی تھی۔۔
کاہے کی۔تگ و دو۔۔۔
وہ زیر لب بڑبڑائئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔۔۔

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *