Salam Korea
by Vaiza Zaidi
قسط 19

urdu novel salam korea episode 19 featuring  seoul korea a urdu korean fan fiction by desi kimchi
Salam Korea Episode 19

صبح کسی نے جھٹکے سے اسے دور پھینکا تھا جس سے اسکی آنکھ کھلی۔۔
اس نے دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا تو ہوپ تھی وہ شائد سوتے میں اس سے لپٹ گئ تھی اس نے اٹھتے ہوئے اسکا بازو بے دردی سے اپنے اوپر سے بنا اسکے سوئے ہونے کا لحاظ کیئے پھینکا تھا۔۔
اسکا تنفس تیز ہوگیا تھا۔ دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی
وہ بس شاکی نظروں سے دیکھ کر رہ گئی۔ ہوپ یوں تھئ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں بیچ میں سونے کی وجہ سے وہ پائینتی سے اتر رہی تھی بنا مڑ کر دیکھے باتھ روم میں گھس گئ۔۔ اریزہ نے انگڑائی لے کر کندھے سیدھے کیئے۔ وہ کافی پھیل کر سونے کی عادی تھی اس وقت اسے اپنا عالیشان کمرہ بے حد یاد۔ آیا تھا۔۔ آنکھ کھل تو گئی تھی اس نے موبائل اٹھا کروقت دیکھا۔ ۔۔ پاپا کی مس کال بھی پڑی تھی۔۔ اس نے وقت کا اندازہ لگایا سو گئے ہونگے ۔ وہ مایوس سی ہو کر اٹھ گئ۔۔
اسکو گرمیاں کہتے یہ لوگ۔ اسے بستر سے نکلتے ہی خنکی کا احساس ہوا۔۔ اس کا جوڑا سامنے کرسی پر پھیلا تھا اس نے گوارا کا سویٹ سوٹ پہن رکھا تھا جو ڈھیلا ڈھالا تو اتنا زیادہ نہ تھا مگر لانبا تھا۔ اس نے باتھ روم کے دروازے سے کان لگائے ۔۔ ہوپ شائد شاور لے رہی تھی۔۔
اسکا انتظار کرنے سے بہتر اسے یہی لگا ناشتہ بنا لے۔۔ گوارا بے سدھ سو رہی تھی جانے کب رات کو آکر وہ بستر پر آن سوئی۔ اس نے باہر آکر دیکھا تو یون بن غائب تھا۔ یقینا صبح صبح دونوں کی آنکھ کھلی ہوگی۔ البتہ صوفے پر کمبل پھیلے تھے۔ اس نے انکو سمیٹ کر تہہ لگائی کیبنٹ میں رکھا او رخود کچن میں چلی آئی۔ ۔۔ اس نے دو کے حساب سے ناشتہ بنایا۔۔ ہوپ عجیب سی ہی لڑکی تھی جانے کھائے نہ کھائے اس نے یہی سوچا تھا اس سے پوچھ لے گی اس نے ناشتہ میز پر لگایا تو وہ تیار ہو کر کمرے سے نکلی۔۔
فریج خالی ڈھنڈار پڑا تھا انڈے تھے بس اس نے آملیٹ بھی تیار کر دیا۔۔
ہوپ۔۔ وہ سیدھا داخلی دروازے کی جانب جا رہی تھی اس نے پہچھے سے آواز دی تو چونک گئ
میں نے ناشتہ بنایا ہے کر لو۔ پراٹھا شائد تمہیں پسند نہ آئے مگر آملیٹ بھی ہے وہ تو کھاتی ہی ہوگی۔۔
اس نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا۔۔
میرے لیئے کیوں؟۔۔
اسکا سوال کڑا تھا
میں اپنے اور گوارا کیلیئے بناتی ہوں اب تم بھی ہو تو تمہارے لیئے بھی بنا دیا۔۔ اریزہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی
میں احسان لینا پسند نہیں کرتی آئندہ مت بنانا۔۔ وہ کہہ کر رکی نہیں۔۔ دھپ دھپ کرتی نکل۔گئی۔۔
حد ہی ہے۔۔ وہ چڑ گئ۔۔ اتنے نخرے ۔۔۔
کمرے میں گورا کو جگانے آئی تو وہ بیڈ پر نہیں تھی۔۔
گوارا۔۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا تھا
آخ۔ آہغ۔۔
قے کرنے کی آواز آرہی تھی۔۔
گوارا تم ٹھیک تو ہو۔
وہ بھاگتی ہوئی باتھ روم میں آئی اگلا منظر اسکی طبیعت خراب کر گیا۔۔
گوارا ٹوائلٹ بول پر جھکی دونوں ہاتھ سے اسی کا سہارہ لیئے قے کر رہی تھئ اسکے لانبے ریشمی بال پوری سیٹ پر بکھرے پڑے تھے
یہ کیا کر رہی ہو۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔۔
آہ۔۔ وہ سیدھی ہو کر وہیں بیٹھ گئی۔۔
ٹوائلٹ بول پر بازو ٹکائے وہ نڈھال سی ہو رہی تھی۔۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔ مجھے الٹی آرہی ہے۔۔
کہتے کہتے وہ پھرٹوائلٹ بول پر جھک گئ
آخ۔۔ اریزہ نے منہ پھیر لیا۔۔
اس میں کیوں کر رہی ہو الٹی بیسن میں کیوں نہیں کر رہیں۔۔
اسکا دل اسکو سہارا دینے کا بھی کر رہا تھا اور کراہیت بھی آرہی تھی۔۔
گوارا نے حیرت سے اسکو دیکھا جیسے اسکی عقل پر شک کر رہی ہو۔۔ پھر فلش کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
سنک بند ہو جاتا احمق۔۔ گوارا دیوار کا سہارا لے کر چل رہی تھی
ہاتھ تو دھو لو۔۔
اریز کی اپنی مجبوری۔۔
کیوں؟۔ گوارا کو اسکا۔انداز عجیب لگا۔۔ وہ اسکے پاس آئی تو اریزہ ایک قدم پیچھے ہو گئ
وومیٹنگ چھوت کی بیماری نہیں ہوتی۔۔ کل شائد کوئی چیز ایسی کھا لی جو ہضم نہ ہوئی ۔۔ لی اسلیئے طبیعت خراب ہو رہی ہے۔
وہ تھکے تھکے انداز میں بتا رہی تھی
پیا کم تھا تم نے کل۔ اریزہ نے ٹوکا۔۔ اورتم نے ٹوائلٹ بول پکڑا ہوا تھا جراثیم ہوتے اس میں اس طرح اور بیمار پڑو گی ہاتھ دھو۔۔
اریزہ نے اصرار کیا تو وہ حیران ہو کر اسکو دیکھتی مان گئ۔۔ سنک میں ہاتھ دھو لیئے۔۔
میں ویسے گٹر میں ہاتھ نہیں۔چلا رہی تھی۔۔
صابن سے ہاتھ دھو کر اس نے جتایا۔۔
پھر بھی گندا ہوتا ٹوائلٹ بول۔ہم کبھی الٹی کم ازکم اس میں نہیں کرتے۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
باہر نکل کر بیڈ پر گرنے والے انداز میں دراز ہوئی۔ وہ مزاق اڑا رہی تھی
میں صاف ستھری بچی ہوں فلش کر کے سب بہا کر نکلی ابھی سنک میں یہی کام کرتی تو سنک بند ہو جاتا۔۔
تو کھول لیا جاتا ہے سنک اگر بند ہو بھی جائے تو۔۔
اریزہ دھیمے سے بڑ بڑائی
منہ کا اتنا حترام تو کرنا چاہیئے۔۔ اریزہ اردو میں بڑ بڑا رہی تھی۔
کیا کہہ رہی ہو؟۔۔ گوارا کو اسکی ناگواری پر حیرت ہوئی۔۔
کچھ نہیں۔۔
اریزہ نے ٹالنا چاہا
تم کہہ رہی تھیں ہم۔۔
اس نے ہم پر زور دیا۔۔
الٹی ٹوائلٹ بول میں نہیں کرتے پھر کہاں کرتے ہو تم لوگ؟۔۔
وہ اسی بات پر اٹک گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہخ آغ۔۔ سنتھیا بیسن پر جھکی الٹی کر رہی تھی۔۔۔۔ ایڈون اسکی الٹی کی آواز سن کر باتھ روم کا ہلکا سا دروازہ ناک کرکے پوچھنے لگا۔
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے؟
آہاں۔ اس کے منہ سے نقاہت کی وجہ سے بہت ہلکی سی آواز نکلی۔ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو ایڈون دروازے کے باہر ہی کھڑا تھا بے چینئ چہرے سے عیاں تھی
کیا ہوا الٹی کیوں آرہی تھی تمہیں؟
وہ دھیرے سے اسکی پیشانی چھوتے پوچھ رہا تھا۔
پتہ نہیں کل وہ جو چاول کھائے شائد وہ لڑ گئے مجھے۔ مرچیں بہت تھیں شائد ۔۔
وہ تھکے تھکے انداز میں بتاتی کمرے میں آکر بیڈ پر ڈھے سی گئ۔
یہ ایک درمیانے درجے کا موٹیل تھا جہاں انہوں نے گزشتہ رات گزاری تھی۔ اب تو ان دونوں کیلئے یہ معمول کی بات ہو گئ تھی۔ ایڈون کی پریشانی اسکو طمانیت عطا کر گئ تھی۔ یقینا ایڈون کو اسکی پروا ہونے لگی تھی تو بہت جلد وہ ایڈون کی محبت کی بھئ بلا شرکت غیرے مالک بن جائے گی۔ وہ سوچتے سوچتے مسکرا دی۔
ایڈون نے ناشتہ منگوا لیا تھا ٹرالی گھسیٹ کر بیڈ کی جانب لاتے اس پر نگاہ پڑی تواسکی مسکراہٹ کا الٹا اثر ہوا۔
کیا ہوا؟ مسکرا کیوں رہی ہو۔ اسکے انداز میں تشویش تھی۔
سنتھیا اٹھ بیٹھی۔
ایسے ہی۔۔ کیا ہے ناشتے میں ۔ وہ ٹرے کا جائزہ لینے لگی۔ چیز آملیٹ بریڈ مکھن چاکلیٹ بن ہاٹ کافی
وہ ایک پیس اٹھا کر ا س پر مکھن لگانے لگی۔سلائس کھاتے یونہی ایڈون کی جانب دیکھا تو وہ بہت سنجیدگی سے اس پر نگاہ جمائے بیٹھا تھا۔ اس نے ابرو اچکا کر اس سنجیدگی کی وجہ اشارتا پوچھنا چاہی۔
تمہیں جو گولیاں لا کر دی تھیں میں نے کھاتی رہی ہو؟
ایڈون کے سوال پر وہ نوالہ چبانا بھول گئ۔
آئئ مین طبیعت بس آج خراب ہوئی ہے یا پہلے بھی کبھی ۔۔
اس نے جملہ ادھورا چھوڑا۔اسکے انداز میں فکر سے ذیادہ جواب حاصل کرنے کی بے تابی تھئ۔ سنتھیا پلک جھپکائے بنا اسے دیکھے گئ۔ اس سوال کا مقصد اسے بخوبی سمجھ آگیا تھا مگر ایڈون کی گھبراہٹ اسکی سمجھ سے بالاتر تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا ہنسے جا رہی تھی
ہنسنے کی کیا بات۔۔ اریزہ کو برا لگ رہا تھا
کچھ نہیں۔۔ تم لوگ کی صفائی کی عادتیں کافی عجیب ہیں۔ ٹوائلٹ پیپر استعمال نہیں کرتے مگر ٹوائلٹ بول کے جراثیم سے ڈرتے ہو ہا ہا۔۔ ۔
مجھے لگتا ٹوائلٹ پیپر استعمال کرنا جراثیم کو ذیادہ دعوت دیتا۔۔
اریزہ یکدم سنجیدہ ہوئی۔۔
اچھا چھوڑو۔۔
گوارا نے اسکا موڈ بگڑتا دیکھا تو سفید جھنڈی لہرائی
اس وقت مجھے دوا چاہیئے لا دوگی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈیکل اسٹور تو قریب تھا وہ آرام سے آگئ۔۔ مگر اصل امتحان اب درپیش تھا
ریسیپشن پر کھڑی نازک سی لڑکی نے مسکرا کر جھک کر اسے خوش آمدید کہا تھا۔
مجھے دوا چاہیئے الٹی کی۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ مسکرا دی۔۔
اریزہ کو اندازہ ہوا اسے ککھ سمجھ نہیں آئی۔۔
میڈیسن۔۔۔
وہ یونہی دیکھتی رہی پھر ہنگل میں کچھ بولی۔۔
میڈیشن ۔۔ اس نے کوریائی انداز کی نقل کی۔۔
دے۔ اس نے سر ہلایا۔۔
کونسی؟۔۔ اب اس نے اشاروں سے بھی کام لیا۔۔
وومیٹنگ۔۔
اریزہ نے کہا اس بار وہ بے بسی سے مسکرائی
وومیٹنگ۔۔ اریزہ نے اشارے سے بتایا۔۔ اشارے نہایت تہزیب یافتہ انداز میں کیئے گئے۔۔
ہائی بلڈ پریشر کی گولی کا پتہ سامنے تھا۔۔ مگر ساتھ ہی جانے کیا ہنگل میں کہے جا رہی تھی۔۔
صد شکر تھا دوا پر ہنگل کے ساتھ انگریزی میں بھی کچھ لکھا تھا۔۔
یہ نہیں۔۔ اس نے پڑھ کر واپس کر دیا۔۔
مجھے ۔۔ اسکے زہن میں جھماکا ہوا۔۔
دوا کا نیا پتہ تھا سو اس پر لکھی عبارت پڑھی جا سکی۔ مگر اگر جان کر ایسے استعمال کیا جائے کہ دوا نکالنے کے بعد انگریزی ہدایات بالکل نہ پڑھی جا سکیں۔ اس نے فورا بیگ کھنگالنا شروع کیا۔۔ ایک دوا کا خالی پتہ اسکے پاس موجود ہونا چاہیئے
ہے گرل ۔ وہ اسے ان متوجہ کر رہی تھی۔۔
یہ نہیں مجھے الٹی کی دوا چاہیئے۔۔ اسے ہاتھ روک کر دوبارہ اسی تگ و دو میں جتنا پڑا۔۔
اس نے اس بار منہ سے آواز نکال کر تھوڑی سی زبان بھی نکال کر کافی مزاحیہ انداز میں بتایا۔۔ لڑکی بے ساختہ ہنسی۔۔

بد ہضمی کی دوا درکار ہے۔اور او آر ایس بھی دے دو۔۔
کسی نے آگے بڑھ کر اسکی مشکل آسان کی۔۔ نووارد کا انداز بتا رہا تھا مسکراہٹ کا گلا گھونٹ کر بظاہر سنجیدگی سے کہا ہے۔۔ اریزہ نے مڑ کر دیکھا ہایون تھا اریزہ کو دیکھ کر وہ مسکرایا۔۔تو ارییزہ کھسیانی ہوئی سیدھی ہوئی۔۔
دے۔۔ لڑکی دوا لینے مڑی
اسلام و علیکم۔۔ اس نے مسکرا کر اسے وش کیا۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔اریزہ نے فوری جواب دیا۔
کیسی ہو۔ وہ مزید پوچھ رہا تھا۔۔
۔ اریزہ کا منہ کھلا۔۔۔
ٹھیک۔۔ تم۔۔
تم۔ وہ سوچ میں پڑا۔۔۔۔
یہ لیجئے۔۔ لڑکی مطلوبہ دوائیں لے آئی تھی۔۔
گومو وویو۔۔ یہ بھی۔۔ وہ دوبارہ بیگ میں گھس گئ تھی۔۔
مجھے سر درد کی دوا دیجئے گا۔ہایون نے کنپٹی مسل کر کہا
یہ والی دوا بھی۔۔ اس نے ریپر ڈھونڈ نکالا تھا۔۔ جھٹ سے اسے دوا کا خالی پتہ دیا۔۔
یہ؟۔۔ اس لڑکی نے حیرانی سے اسکی شکل دیکھی۔۔
جی۔۔ اریزہ کو سمجھ نہ آیا اسکا انداز۔
اس نے ہایون کے سامنے اسکی سر درد کی گولی رکھی اور اسکے سامنے مطلوبہ دوا کا پتہ۔۔
وہ شکریہ ادا کر کے اٹھانے لگی تو اس لڑکی نے دوا پر ہاتھ رکھ کر اسے کچھ بتایا۔۔
معزرت؟۔۔ اریزہ کو سمجھ نہ آیا۔۔ دوا خرید کر مڑتا ہایون بھی رک کر اسے دیکھنے لگا۔۔
وہ لڑکی اسکو پکار رہی تھئ۔
اسے یقئنا مترجم درکار تھا۔۔
یہ تم استعمال کرتی ہو؟
ہایون نے پوچھا تو وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔۔
جی؟۔ اس کے منہ سے جی ہی نکلا
وہ لڑکی ہنگل میں گٹ پٹ کیئے جا رہی تھی۔ ایک تو سیول میں درجنوں تو لہجے چلتے ہیں۔ اگر وہ ٹھہر ٹھہر کر بولتی تو شائد کچھ اسکے پلے پڑتا مگر اسکی تیز گام اسکے سر پر۔سے گزری وہ سوالیہ نگاہوں سے ہایون کو دیکھنے لگی۔
یہ برتھ کنٹرول میڈیسن کی ایک قسم ہے اسکو ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کیجئے اسکا زیادہ استعمال آپکو ماں بننے کی صلاحیت سے محروم کر سکتا ہے یہ دوا آپکو ڈاکٹر کی مستند پرچی کے بغیر نہیں دی جا سکتی ہے۔۔
ہایون نے ترجمہ کیا تو اریزہ سناٹے میں آگئ تھی۔۔
اس نے دوا کو بے یقینی سے اٹھا کر دیکھا خالی ہوا پتہ اور یہ نیا پتہ یقینا ملتے جلتے تھے۔۔ دوا کی نئی پیکنگ میں انگریزی ہدایات بھی درج تھیں۔۔
آگاشی؟۔۔ اس لڑکی نے اسے مخاطب کرکے متوجہ کیا۔۔
آپ لینا چاہتی ہیں یہ دوا؟۔۔ ڈاکٹر کی مستند پرچی۔۔
وہ مزید کہہ رہی تھی۔۔
نہیں۔۔ اریزہ نے سختئ سے منع کیا۔۔
پھر خیال آیا تو انگریزی میں بتایا۔۔
نہیں میرا خیال ہے کوئی غلط فہمی ہے۔۔ اس نے سنبھل کر بات بنائی۔ ہایون اسے کافی غور سے دیکھ رہا تھا۔۔
گومو وویو۔۔
اس نے قیمت ادا کر کے اسکا شکریہ ادا کیا ۔۔ ہایون بھی شائد اسکی وجہ سے ہی کھڑا تھا ادائگی کرکے اسکے ساتھ ہی نکل آیا۔
تمہاری طبیعت اب کیسی ہے؟ رات کو نیند ٹھیک سے آئی۔
اسکے ہم قدم چلتا وہ خیریت دریافت کر رہا تھا۔
ہاں ۔ ٹھیک ہوں میں۔ وہ اپنی سوچوں میں الجھی تھی چونک کے جواب دیا۔۔
سر کیلئے بھی ائنمنٹ لے لیتیں۔۔
اس نے کہا تو اس نے لاپروائی سے سر ہلایا۔۔۔
اسکے ہم قدم خاموش چلتے جانا۔۔ اسے الجھن سی آئی۔
تم میرے ساتھ کیا گھر تک۔۔
وہ جھلا کر کہنے ہی لگی تھی۔۔ آدھا جملہ منہ میں روکنا پڑا
تبھی وہ کرم کہتا بائیں جانب مڑ نے لگا۔اسکی آدھی بات پر چونک کر رک کر پوچھنے لگا۔۔
دے؟
آنیا۔ وہ کھسیائی۔ گڈ بائے۔
اس نے ہاتھ ہلایا۔۔ ساتھ سر بھئ۔
بائے۔۔ ہایون مسکرا کر ہاتھ ہلاتا گلی میں مڑ گیا۔اس گلی میں ڈھلوان تھی وہ کافی تیز قدم اٹھاتا جا رہا تھا۔
ہوں اسکا شائد یہیں قریب ہی گھر ہے جبھئ پیدل گھوم رہا۔۔
اس نے شائد پہلی دفعہ اسے۔ ٹریک سوٹ میں دیکھا تھا۔ ورنہ تو ہر وقت نک۔سک سے تیار ہی رہتا تھا۔۔۔ مگر بلیک ٹریک سوٹ بھی اسکی شخصیت کا ایک ہی تاثر دکھا رہا تھاوہ بھی۔ قیمتی۔۔
اس نے چپکے سے خود پر نگاہ ڈالی۔
گوارا کے پاجامے کی ٹانگیں لمبی تھیں اس نے موڑے تو دونوں پانئچے تھے مگر اب ایک سیدھا ہو چکا تھا۔ ایک اونچا ایک نیچا پائنچہ۔ اس نے جلدی سے سڑک کنارے اس دکان کی گلاس وال میں خود کو دیکھا۔ بکھرے سے بالوں کو اس نے کیچر میں سمیٹا تھا کنگھی کی زحمت نہ کی تھی۔ ہڈ سر پر چڑھا لیا تھا جو کب گرا اسے پتہ نہ لگا۔ زحمت منہ دھونے کی بھی نہ کی تھی۔ گوارا کیلئے دوا لینے نکلتے اسی کا اپر اٹھایا تھا سو اسکے اپرکی زپ بند نہ ہوسکتی تھی۔گوارا تو شائد ہوا پھانکتی تھی مگر وہ مہینہ بھر روزے رکھ کر بھی بیس سے بس انیس ہی ہوپائی تھئ۔ گرے اپر گلابی سویٹ سوٹ پر جچتا اگر کھلی زپ سے اسکی شرٹ نا جھانک رہی ہوتی۔ پاجامہ بھی صاف لگتا تھا کسی کا پہنا ہے۔
اس نے پیر جھٹک کر دوسرا پائنچہ بھی نیچے کر لیا۔
شکر ہے میرابوائے فرینڈ نہیں کوئی ورنہ اس حلیئے میں دیکھ کر پکا بریک اپ کرلیتا مجھ سے۔
اس کو پہلی دفعہ سنگل ہونے پر خوشی ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا اسکا بنایا ہوا دلیہ کھا رہی تھئ جب وہ مرے مرے قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی۔۔ اوپن کچن میں سلیب ٹیبل پر تمیز سے کرسی پر بیٹھی وہ بڑے سے بائول میں کھا رہی تھی۔۔ اس دیکھ کر بمشکل بھرا ہوا منہ خالی کر کے بےتابی سے بولئ۔۔
اتنی دیر؟۔ پتہ مجھے ایک اور الٹی آگئ اتنی دیر میں۔۔ اس بار بیسن میں کی۔۔۔ جا کر دیکھ لو۔۔ نرا پانی ہی تھا۔۔
گوارا کا انداز اتنا معصومانہ تھا کہ اتنے برے موڈ میں بھی وہ ہنس دی
ہاہ۔۔ گوارا بھی ہنسی۔۔
ویسے مزے کا ہے دلیہ شکریہ اریزہ شا۔۔
وہ ممنون ہوئی۔۔
یہ لو۔۔ اس نے دوائیں سامنے رکھیں اور او آر ایس نکال کر اسکے لیئے جگ بھر کر بنانے لگی۔۔
اسکا بنایا ناشتہ یخ ہو چکا تھا ۔
اس نے جگ لا کر اسکے سامنے رکھا اور اپنا
ناشتہ مائکروویو میں گرم کرنے لگی۔۔
تم بنا ناشتے کیئے میرے لیئے دوا لینے چلی گئیں اور دلیہ بنا کے گئیں۔ ۔۔ گوارا منہ تک چمچ لے جاتے ہوئے تھمی۔۔
اریزہ نے سرسری سا ہوں کیا۔۔ مایکروویو کا ٹائیمر چل رہا تھا وہ اسکے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ گوارا نے چمچ بائول میں رکھ دیا
کیا ہوا کھا کیوں نہیں رہیں۔۔؟۔۔ اریزہ نے حیرت سے اسے دیکھا جو نوالہ چھوڑ کر اب اسکے بنائے جگ سے او آر ایس انڈیل کر پی رہی تھی۔۔
تم نے مجھے اپنا بہت زیر بار کر دیا ہے۔۔ تمہارا بے حد شکریہ۔۔
اس نے پی کر گلا س رکھا اور اسکے سامنے سر جھکا کر کہنے لگی۔۔
آہش۔۔ اریزہ ہنسی۔۔ اسے لگا وہ مزاق کر رہی ہے۔۔
مگر اس نے سر اٹھایا تو وہ بے حد سنجیدہ دکھائی دے رہی تھی۔
ارے۔۔ اریزہ کا منہ کھلارہ گیا تھا۔۔
تم واقعی دل کی بے حد اچھی لڑکی ہو۔جی ہائے تم پر فدا ہو گئ تھی تو مجھے لگا تھا وہ کچھ زیادہ ہی محسوس کررہی ہے مگر تم واقعی بہت خاص ہو۔۔ مجھے خوشی ہے ہم دیر سے سہی مگر دوست بن چکے ہیں۔۔ گوارا مزید کہہ کر مسکرائی
اریزہ پورا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ مائکرو ویو کی گھنٹی بجی تو گوارا اسکے اٹھنے سے پہلے اٹھی اور ناشتہ لاکر اسکے سامنے سجا دیا۔۔ پھر گھوم کر واپس اپنی جگہ آبیٹھی۔۔ اریزہ کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر مانوس ماحول میں اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔ چند لمحے تو سمجھ بھئ نہ آیا کہاں ہے۔۔ اس نے فورا اٹھنا چاہا۔۔ مگر سر میں اتنی شدید درد کی لہریں اٹھیں کہ کراہ کر واپس تکیے پر گر سی گئ۔۔ اس نے پیشانی پر بندھی پٹی کو محسوس کیا تو اسے یاد آیا وہ ہاسٹل کی سیڑھی پر چکرا کر گرنے کو تھی سو مدد کو اریزہ کو آواز دی تھی۔ تو اریزہ آگئ تھی کیا ؟
اریزہ۔۔ اس نے بے ساختہ زور سے پکار لیا۔
اسکے بیڈ کے پیتھیانے بیٹھی وہ لڑکی موبائل میں مگن تھی۔ اسکی آواز پر چونکی ۔ مگر وہ اریزہ نہیں تھی۔۔
کین چھنا۔۔ اس کو جاگتے دیکھ کر وہ اٹھ کر اسکے پاس آئی تھی۔۔
تم ٹھیک ہو؟۔۔ جی ہائے نے سر پر ہاتھ مار کر انگریزی میں کہا۔۔
اس نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔پھر اٹھ کر ماحول پر نگاہ کی۔ وہ انکے ہاسٹل کا کیلنک تھا۔ وہ اس وقت اسی کیلنک کے بیڈ پر لیٹی تھی۔ دوسرا بیڈ برابر ہی تھا اور خالی تھا۔ بیڈ کے گرد پردے برابر تھے۔ ڈاکٹرنی شائد کسی اور طالبہ کو دیکھ رہی تھی ہلکی ہلکی ہنگل میں گفت و شنید کی آواز اسے پردے کے دوسری جانب سے آرہی تھیں۔
تھائی نیے۔ اس نے گہری۔سانس لی۔۔

کیا ہوا ہے مجھے۔۔ سنتھیا نے پوچھا۔۔
تمہیں یاد نہیں؟۔ تم گر گئ تھیں چکرا کر؟۔۔
جی ہائے حیران ہوئی۔۔
مجھے یاد ہے میں سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔ سنتھیا بے چین سی ہوئی۔۔
ہاں تم سیڑھی پر بے ہو ش ہو گئ تھیں۔شکر ہے میں نے بروقت آکر تمہیں پکڑ لیا ورنہ بارہ چودہ سیڑھیاں نیچے جا گرتیں۔ ویسے۔ آج میری طاقت کا کافی امتحان لیا تم نے۔۔
اس نے منہ بناتے ہوئے اپنے کندھے کو سہلایا۔۔
مجھے کیا ہوا ہے؟ مجھے چکر کیوں آئے؟ ڈاکٹر کیا کہتی ہے
سنتھیا بے چین سی ہوئئ وہ بھی اسے سنجیدگی سے تفصیل بتانے لگی۔۔
تم نے کوئی ایسی دوا لی ہے جس سے تمہاری یہ حالت ہوئی ہے۔۔ ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کروانے کو کہا۔۔ اس نے یہ بھی خیال ظاہر کیا ہے کہ شائد کوئی پیچیدگی نہ ہوگئ ہو۔۔۔ اس نے ٹھہر ٹھہر کر بولتے ہوئے بغور اسکا چہرہ پڑھا۔۔
سنتھیا نے سر جھکا لیا۔
اب اگر بہتر محسوس کر رہی ہو چلیں؟۔۔ ٹیسٹ تو اب کل ہی ہو سکیں گے۔۔ جے ہی غیر ارادی طور پر آنکھیں مسل رہی تھی۔۔سنتھیا نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ پلٹ کر کرسی کی پشت سے ٹکا اپنا ہڈ نکال کر پہننے لگی۔
یقینا اسکو کافی زحمت ہوئی ہوگی اسکی وجہ سے۔۔
اس نے سوچا۔۔
جی ہائے اپنا بیگ سمیٹ رہی تھی جب اسے سنتھیا کی ہلکی سی آواز سنائی دی۔۔
شکریہ جی ہائے۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہائے اسے سہارا دیتی کمرے میں چھوڑ گئی تھی۔۔ ساتھ پھلوں کا کین جوس اور دلیہ جو اسے سمجھ آیا خرید کر لائی تھی۔۔ اس نے ممنونیت سے اسے دیکھا تھا۔۔ جانے وہ کیا سمجھی۔ صفائ دینے لگی۔۔
میں نے ابھی اریزہ کو نہیں بتایا ۔۔ بتا دوں؟۔۔ اکیلی ہو طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔۔
نہیں۔ اس نے جلدی سے کہا تھا۔۔ انداز میں نا گواری نہیں تھی۔۔
جی ہائےنے گہری سانس لی۔۔ اس کو یہی امید تھی ۔
خیر مجھے کال۔کر لینا کوئی بھی چیز چاہیئے ہو تو۔۔ میں نیچے ہال میں پریکٹس کرنے جا رہی ہوں۔۔
اس نے مزید کہا تو سنتھیا سر ہلا گئ۔۔ جی ہائےاسے آرام کرنے کا کہتی دروازہ بند کرکے چلی گئ تووہ بھی بیڈ پر لیٹ ہی گئ۔ فی الحال مزید جاگنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔۔ اسکے فون کی بتی جلی مانوس نام دیکھ کر اس نے بند کر دیا۔۔ اس وقت وہ اسکے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ اس نے گہری سانس لیکر آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے۔۔ اس نے گوارا کیلیئے ڈھیلی کھچڑی بنائی تھی۔۔ اسے کا فئ پسند آئی۔۔
بہت مزے کی ہے۔۔ اس نے چٹخارا بھرا۔۔
وہ کافی شوق سے کھا رہی تھی۔۔
بنا چٹنی کے نہ سلاد بس دہی۔۔ اسے تو کافی پھیکا لگ رہا تھا۔۔۔
بس کوئی پھیکا سا بے ذائقہ محلول اندر جا رہا تھا۔۔
تبھئ تھکی تھکی سی ہوپ اندر داخل ہوئی ۔۔ نہ سلام نہ دعا ارادہ سیدھا کمرے میں گھسنے کا تھا۔۔
ہوپ آجائو ہمارے ساتھ کھانا کھا لو۔۔
یہ اریزہ تھی۔گوارا نے گھور کر دیکھا تھا اسے۔۔
بندی کے نخرے عروج پر جاتے جا رہے آئی بڑی گوریو کی شہزادی۔۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔
ہوپ جاتے جاتے رکی پھر کچھ سوچ کر انکے پاس چلی آئی۔۔ بیگ سے فرائی چکن کا ایک پیکٹ نکال کر میز پر رکھ دیا۔
مجھے بھوک نہیں تم لوگوں نے کھانا ہو تو کھا لو۔۔ وہ کہہ کر پلٹنے لگی۔۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں اور اریزہ چکن نہیں کھائے گی۔۔ ہاں اگر تم نے کھانا ہو تو آجائو گرم ہیں چاول۔۔
گوارا نے کہا تو اس نے تصحیح کی۔۔
چکن نہیں ہے پورک اسٹیک ہے۔۔
کیا۔؟۔۔ اسکا رکھا شاپر اریزہ اٹھا کر میز پر جگہ بنا کر رکھ رہی تھی۔ بری طرح چونک کر چھوڑ دیا ہاتھ سے۔۔یہ غیر ارادی حرکت تھی۔۔ پورک پکڑ لیا تھا اسے اپنا ہاتھ گندا لگا۔۔ شاپر میز سے ٹکراتا زمین بوس ہو گیا۔ اریزہ بری طرح خفت زدہ ہوئی۔۔
بیانیئے۔۔ اس نے فورا معزرت کی۔۔
تم سے گرا نہیں تم نے اسے چھوڑا ہے ۔۔ جیسے یہ کھانے پینے کی چیز نہیں کوئی غلیظ چیز پکڑا دی ہو میں نے تمہیں۔۔ شرم آنی چاہیئے تمہیں ایسا کرتے ہوئے۔۔
ہوپ اسے گھورتے ہوئے جیسے غرائی تھی۔۔
تم غیز ضروری ردعمل دے رہی ہو۔۔ چھوٹ گیا ہے اسکے ہاتھ سے شاپر میں ہی ہے اٹھا لو۔ گوارا نے ناگواری سے اسے ٹوکا۔
میں اٹھا دیتی ہوں۔۔ اریزہ نے فورا جھک کر اٹھانا چاہا ہوپ نے سختی سے اسے پیچھے کر دیا۔۔
اٹھا لوں گی میں۔ اس نے جھک کر اٹھایا
اور اریزہ کی جانب جان کر بڑھایا۔۔
یہ لو۔ اسے سنبھال کر رکھ دو۔۔
وہ اسے نظروں میں لیئے تھی۔
اریزہ نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔۔
تم خود رکھ لو ادھر۔۔ اس نے سادہ سے انداز میں کہا۔۔
ان دونوں کو بحث میں پڑتا دیکھ کر گوارا اٹھ کھڑی ہوئی ارادہ سفید جھنڈی لہرانے کا تھا مگر ہوپ نے موقع نہیں دیا۔۔
دیکھا ۔۔ وہ اب گوارا کی جانب مڑی اور جتا کر بولی۔۔
یہ اسکو گندا سمجھ کر ہاتھ نہیں لگا رہی تھی۔۔
وجہ پوچھ سکتی ہوں میں؟۔۔ وہ اریزہ کی جانب پشت کیئے کیئے گوارا کو دیکھتے ہوئے مخاطب اریزہ سے ہی تھی۔۔
واقعی اریزہ؟۔۔ گوارا حیران ہوئی۔۔
اریزہ نے سر جھکا لیا۔۔
جواب نہیں تمہارے پاس؟۔ ہوپ استہزائیہ ہنسی۔۔
اسلیئے کہ میں لائی ہوں؟۔۔ یا اس لیئے کہ۔۔
وہ جانے کیا کہنے والی تھی اریزہ نے اسکی مضبوط لہجے میں بات کاٹ دی۔۔
اسلیئے کہ میرے مزہب میں پورک کھانا منع ہے۔۔
کھانا تو دور اسکو ہاتھ لگانا چھونا بھی پسند نہیں کیا جاتا۔ مجھ سے ابھی جو ہوا۔۔ وہ غیر ارادی حرکت تھی۔۔ میں سچے دل سے معزرت خواہ ہوں۔۔
گوارا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
ہاہ اش۔ ہوپ زور سے قہقہہ لگا کر ہنسی۔۔
مزہب میں منع۔۔ ؟۔۔ کبھی بھوک سے پاگل ہو رہی ہوتو کیا تب بھی نہیں چھووگی۔۔ ؟۔ جب بھوک لگتی ہے نا بس کھانا درکار ہوتا۔۔ پھر چاہے زمیں سے چن کر گندم کے دانے منہ میں بھرو یا کوڑے سے گلا سڑا نکال کر کھائو۔ کھانا پڑتا۔۔
اسکا لہجہ نہایت تلخ تھا۔
تب بھی میری کوشش ہوگی میں پورک نہ کھائوں۔۔
اریزہ کا انداز ہنوز تھا۔۔
پھر دعا کرنا کبھی بھوکی نہ پھرو۔ مزہب کہیں پیچھے رہ جاتا ایسی کیفیت میں۔۔ وہ شاپر اٹھا کر فریج میں رکھتی اسے جتا کر کہتی کمرے میں گھس گئ۔۔
اب یہ کیا تھا۔۔ گوارا نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا۔
اریزہ بھی الجھن بھرے انداز سے ہی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
پتہ نہیں۔۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔
بیٹھو کھانا کھائو۔۔ اریزہ کرسی گھسیٹ کر دوبارہ بیٹھ گئ۔۔
گوارا نے بھی تقلید کی۔۔ اس بار اریزہ منہ بنائے بغیر نوالے نگلنے لگی۔۔ گوارا نے ایک نظر اسے دیکھا پھر زہن میں در آنے والا سوال پوچھ بیٹھی۔۔
تم مزہب کی بات کر رہی تھیں۔۔ اسلام پورک کھانے سے منع کرتا۔۔ ۔
اریزہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔۔ وہ ہمہ تن گوش تھی۔۔
ہاں۔۔ اریزہ نے آہستہ سے جواب دیا۔
خفا تو نہیں۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے نگاہ اٹھا کر گوارا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
جبھی جی ہائے کے پاپا اس دن خفا ہو گئے تھے۔
وہ ہنگل میں بڑبڑائی۔
کس دن؟
وہ سوالیہ۔ہوئی۔
آہش۔ گوارا نے چمچ پلیٹ میں رکھا اور سیدھی ہو بیٹھی۔
یہ لڑکی بہت کمینی ہے۔۔ خیر دفع کرو اسے۔۔۔۔ویسے اریزہ۔ تم ہر وقت اسکارف سر پر نہیں لیتیں۔۔ مسلمان لڑکیاں تو سر ڈھکتی ہیں نا کرسچن نن کی طرح۔۔ تم بس تہوار والے دن سر پر دوپٹہ لیتی ہو۔
اسکا انداز دلچسپی بھرا تھا۔۔
ہمم۔ اس نے ہنکارہ بھرا۔۔
میں اسکارف نہیں لیتی۔۔ مگر ویسے کو شش کرتی لباس اسلامی انداز کا ہی ہو۔اس نے جز بز سا ہو کر سر پر ہاتھ پھیرا۔۔ بال تھوڑے کھردرے سے محسوس ہو رہے تھے۔
ہممم۔ وہ پر سوچ انداز میں سر ہلانے لگی۔۔

مجھے ویسے کرسچن ننز کافی انسپایر کرتی ہیں۔۔ انکی مسکراہٹ انکا نرم سا بولنے کا انداز اچھا لگتا۔۔
آج تک بس دو ایک۔بار ہی گئ ہوں میں چرچ اچھا لگا تھا جا کے۔۔۔ وہ اسے سادگی سے بتا رہی تھی۔۔
اس نے دوبارہ کھچڑی کے نوالے منہ میں بھرنا شروع کر دیئے تھے۔۔
اریزہ منہ میں بھرے چاول چبانا بھول گئ۔۔
ایک دو بار بس۔۔ اس نے بمشکل نگل کر حیرانی سے دیکھا۔۔
ہوں۔۔ گوارا مطمئن تھی۔۔
تمہیں ڈانٹ نہیں پڑتی گھر والوں سے؟۔۔ میرا مطلب اگر میں نماز نہ پڑھوں دو دن تو امی تو مجھے بہت ڈانٹتی ہیں ابھی اگر انہیں پتہ چلے میں یہاں عبادت اتنی ٹال جاتی تو میری پٹائی کر دیں۔۔ آکر۔۔ اریزہ نے کہا تو گوارا بے ساختہ ہنسی۔۔
میری آہموجی بھی شائد ایسا ہی کریں مگر بدھا اتنے ظالم ہرگز نہیں۔۔ سو مجھے پتہ میرا کارما میرا انتظار کر بھی رہا ہو تو اتنا ہی ہوگا کہ میں برداشت کر سکوں۔۔ گوارا نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔۔
اریزہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی تو اس نے وضا حت کی۔۔
میں اتنا کم گرجا گھر اسلیئے گئی ہوں کیونکہ میں عیسائی نہیں بدھ متی ہوں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکی آنکھ الارم سے نہیں کھلی تھی۔۔اکثر نہیں کھلتی تھی۔ وہ بجتے سروں کو نیند میں بھی سن رہی تھی دھیما سا پیانو۔ اسکے ڈاکٹر نے یہ دھن تجویز کی تھی۔ اس الارم سے اسکی آنکھ بنا کسی جزباتی دھچکے کے کھلتی تھی۔ اور نہیں بھی کھل۔پاتی تھی۔ اسنوز پر مستقل بجتا الارم اسے لوری دے رہا تھا۔
اتنے دھیمے سروں کا الارم لگانے کا کیا فائدہ ہے اریزہ۔۔ گوارا نے اسے ہلاکر جگایا تھا۔۔
اٹھ جائو ہمیں دیر ہو گئی ہے۔۔ وہ شائد شاور لے کر نکلی تھی جلدی سے اسے اٹھا کر ہیئر ڈرائر سے بال سکھانے لگی۔۔ وہ کسلمندی سے اٹھ کر جمائی لیتی اٹھ بیٹھی۔۔ چادر اپنے اوپر سے ہٹا کر ایک طرف کی تو ہاتھ یوآنا سے ٹکرایا۔۔
ہیئر ڈرائیر کی گھوں گھوں سے بے نیاز وہ خراٹے لے رہی تھی۔۔
یہ آج گئ نہیں۔۔ اریزہ احتیاط سے اٹھتی اسکے قریب آکر سرگوشی میں پوچھنے لگی۔۔
جب میں اٹھی تھی تب اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو تھا۔۔ گوارا نے اسکی احتیاط کے بر عکس آرام سے کہا تھا۔۔ اریزہ نے زبان دانتوں تلے دبا کر فورا ہوپ کودیکھا جو اسکی آواز سے کسمسا کر کروٹ بدل رہی تھی۔۔
آہستہ ۔۔ اس نے سرگوشی میں ہی گوارا کو ٹوکا۔۔
کتنا سوئے گی جانا نہیں کیا آج اسے۔۔ گوارا بے نیازی سے بال جھٹک رہی تھی۔۔ اریزہ سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ۔۔
آج چھٹی ہے میری۔۔ اس نے بڑ بڑا کر جواب بھی دے دیا۔۔
اریزہ نہا کر باہر آئی تو گوارا نک سک سے تیار لائونج میں اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔
چلیں۔۔۔ اسے آتے دیکھ کر وہ فٹ سے کھڑی ہوگئ۔۔
ایک منٹ اریزہ اسکو کہتی فریج کی طرف بڑھئ۔۔
کچھ بھی نہیں ہے فریج میں سوائے تمہارے پسندیدہ پورک اسٹیک کے۔۔ گوارا نے شرارت سے ہانک لگائی۔۔ اریزہ فریج کھولتے کھولتے رک کر اسے گھورنے لگی۔۔
راستے میں کچھ لے لیں گے۔۔
اس نے تسلی بھی دی
ہاہ۔۔ وہ گہری سانس لیکر رہ گئ۔۔
وہ سویٹ پینٹ شرٹ میں ہی ملبوس تھی۔
تمہیں کوئی اپنا ڈریس دوں۔
گوارا نے فراخ دلی سے پوچھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس کا سفر اسے ایک مرحلہ لگتا تھا۔ عادت ہی نہ تھی کھڑے ہو کر سفر کرنے کی اور صنف قوی کو ڈھٹائی سے بیٹھے دیکھنے کی۔ آج تو وجہ بھی تھی اسکے پاس۔ ریشمی کرتا پاجامہ لانبا دوپٹہ پوری بس مڑ مڑ کر دیکھتی محسوس ہو رہی تھی اسے۔
گوارا ہم ٹیکسی نہ کرلیں ؟ کرایہ میں دے دوں گی۔
وہ گوارا کے کان میں منمنائی۔
اتنی امیر ہو تو مجھے اچھا سا ناشتہ کرادینا کینٹین میں۔
گوارا کی اپنی منطق تھئ۔
وہ چیں بہ چیں ہوگئ۔
خدا خدا کرکے اسٹاپ آیا۔ تو اس نے سکھ کی سانس لی۔
آئیندہ میں ویک اینڈ پر تمہارے گھر نہیں آئوں گی۔ مجھ سے یہ بس کا سفر نہیں ہوتا بالکل بھی۔۔
وہ عید کا جوڑا ہی پہنے تھی۔
گوارا نے کان پر سے مکھی اڑائی۔ اور سیدھا کنوینیئٹ اسٹور گھس گئ۔
چاکلیٹ بن کافی سینڈوچ۔
اس نے اپنی پسند سے چیزیں اٹھائی تھیں۔ اریزہ ریک کے ساتھ قد آدم آئینے میں خود کو دیکھتی سر پر دوپٹہ درست کر رہی تھی۔
فالتو میں پریشان ہو رہی ہو اتنے بھی بال نہیں جلے تمہارے کے سر ڈھکنے کیلیے پریشان ہوتی رہو۔ مجھے تو لگا تھا چندیا نظر آرہی ہوگی تمہاری مگر غنیمت ہے۔۔
گوارا کے زور شور سے بولنے پر وہ اچھل پڑی پھر ادھر ادھر دیکھتے اسے ایک لگا بھی دی۔
آہستہ بولو۔
ہائے۔۔ گوارا کھلکھلائی۔
کیا ہوا تم چھپانا چاہتی ہو کہ کل تمہاری سہیلی نے اسٹریٹنر سے تمہارے بال جلا دیئے۔
اس نے شرارت سے ٹہوکا دیا۔ وہ بھنا کر رہ گئ۔
ویسے تمہیں یقین ہے اس نے جان کے نہیں جلائے؟
گوارا ایکدم سنجیدہ ہو کر بولی۔
ظاہر ہے۔ باتیں کرتے وہ بے دھیان ہوگئ تھی بس۔
اسکے یقین سے کہنے پر گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔
اچھی بات ہے اگر ایسا ہے۔
اس نے بحث نہ کی۔ دونوں پیمنٹ کرکے باہر نکلیں تو راہ چلتی اس آہجومہ نے بڑا غور سے ان دونوں کو دیکھا پھر سر ہلاتی جانے کیا بڑبڑارہی تھیں۔
اریزہ غیر ارادی طو رپر اپنے کپڑے ٹھیک کرنے لگ گئ۔
آج تو مجھے بھی دنیا پلٹ پلٹ کر دیکھ رہی ہے۔ گوارا نے اسکے بازو میں ہاتھ ڈال کر شرارت سے کہا۔
تمہیں دیکھ کر لگ رہا ہے جوزن ایرا کی شہزادی جدید کوریا میں آکر حیران پریشان سی کھڑی دیکھ رہی ہے۔۔۔
اریزہ جھینپ سی گئ۔
ویسے تم اپنا وزن تھوڑا کم کیوں نہیں کر لیتیں۔ اتنی کیوٹ ہو مگر میرے جیسی بھاری بھرکم لڑکی کے کپڑے تمہیں نہیں آپائے۔۔
اسکے سنگ قدم اٹھاتی گوارا روانی میں کہہ رہی تھی۔۔ اریزہ نے اسکے چہرے کو غور سے دیکھا۔ وہ تمسخر نہیں اڑا رہی تھی ۔
اریزہ کو صبح کی وہ پریڈ یاد آئی۔
اس نے سنتھیا کے جتنے کپڑے پہن کر دیکھے وہ بہت تنگ نہ تھے مگر کوئی سلیو لیس تھا کسی کا گلا گہرا تھا کوئی مہین تھا۔ اور وہ پہن بھی لیتی تو اسکو پہن کر یہاں گھومنا اسکے لیئے یہاں جوزن ایرا کی شہزادی بن کے پھرنے سے ذیادہ مشکل تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس شروع ہونے والی تھی سو اسے سیدھا یونی آنا پڑا۔ ورنہ ارادہ یہی تھا کہ ہاسٹل جا کر پہلے کپڑے بدل لے۔ حسب توقع اسکے کلاس میں داخل ہوتے لمحہ بھر کو خاموشی سی چھائی۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے سنتھیا کو ڈھونڈنا چاہا وہ پیچھے کی کرسیوں پر ایڈون کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس نے بھی پیچھے جانا چاہا مگر جی ہائے نے پکار لیا۔ وہ پہلی رو میں بیٹھی تھی۔ گوارا اور وہ اسی کے پاس آن بیٹھیں۔۔
پیاری لگ رہی ہو۔ چھوٹتے ہی وہ بولی اریزہ مسکرادی۔ ۔۔ یہ سر پر دوپٹہ کیوں لے رکھا ہے؟ ۔
اسے تجسس تھا۔
اسکے بال جل گئے اسٹریٹنر سے۔ گوارا نے اس سے پہلے جواب دیا۔
تم۔ جیلسی بلی تم نے ہی جلائے ہوں گے۔ اس نے بلا لحاظ گوارا کے سر پر چپت لگائی۔
جی نہیں اسکی سہیلی نے۔۔
گوارا نے باقائدہ پیچھے کی جانب اشارہ کرکے بتایا۔ اریزہ نے اسکا ہاتھ تھاما۔۔
غلطی سے جل گئے۔ اریزہ نے دانت کچکچا کر گوارا کو گھورا۔ پھر بات بدلنے کو بولی۔
تمہارا ویک اینڈ کیسا گزرا ؟ گائوں گئ ہوئی تھیں نا۔
بڑا مزا آیا۔ دو دن خوب ہلا گلا کیا ہم نے پورک باربئ کیو کیا۔ گوارا تم چلتیں سچی اتنا مس کیا میم۔۔
حسب توقع اسکا ذہن بدل گیا تھا۔ وہ جانے کیا قصہ سنانے لگی۔ اس نے گہری سانس لیکر ذرا سا مڑ کر پیچھے دیکھا تو لمحہ بھر کو ٹھٹک سی گئ۔ سنتھیا رخ موڑئ تیکھی نگاہوں سے برابر بیٹھے ایڈون کو دیکھ رہی تھی۔اسکی نگاہوں کا تعاقب کرتے ایڈون پر نگاہ گئ تو سن سی رہ گئ۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس کے بعد سنتھیا بہت تیزی سے ایڈون کے ساتھ نکلی تھی۔ اس نے پیچھے جانا چاہا تو گوارا نے کسی بات میں الجھا لیا سب کلاسز لینے کے بعد وہ ہاسٹل کے کمرے میں آئی تو سنتھیا کمبل منہ تک تانے لیٹی تھی۔
اس نے دھیرے سے قریب آکر پکارا۔
سنتھیا۔۔
جوابا وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔
اسکا فون بج اٹھا تھا۔ اس نے جھٹکے سے کمبل ہٹا کر موبائل اٹھآ کر دیکھا ایڈون کالنگ دیکھ کر آف کرکے ایک طرف رکھ دیا۔ اور دوبارہ منہ تک کمبل تان لیا۔
جی ہائے بتا رہی تھی کہ تمہاری طبیعت خراب ہے ؟ کیا ہوا۔
وہ دھیرے سے اسکے بیڈ پر بیٹھ کر پوچھنے لگی۔
کل چکر آگئے تھے بس۔ اب ٹھیک ہوں۔۔۔
اس نے مختصر ہی جواب دیا۔
کچھ کھایا ہے آج؟
وہ فکرمندی سے پوچھ رہی تھی۔
سنتھیا نے کمبل چہرے سے ہٹا کر غور سے اسے دیکھا۔
کیا ہوا؟۔۔ وہ اسکے یوں دیکھنے پر حیران ہوئی۔
تم یہاں آکر عجیب سی حرکتیں نہیں کرنے لگی ہو؟ اتنا نمایاں اور الگ دکھائی دینے کا شوق پہلے تو نہیں تھا تمہیں۔
سنتھیا کے بے مروت انداز سے ذیادہ کڑوے کسیلے الفاظ اسکا دماغ گھما گئے۔
کیا بکواس کر رہی ہو۔ ؟ وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
صحیح کہہ رہی ہوں۔۔۔ اتنا تو پاکستان میں تم سر پر دوپٹہ لیکر نہیں پھرتی تھیں۔ اتنا کام والا عید کا جوڑا کبھی پاکستان میں یونیورسٹی پہن کر نہیں گئیں۔ مزا آرہا تھا نا تمہیں جب سب گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔۔
سنتھیا بھی اٹھ کر بیٹھ گئ۔
اریزہ نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا مگر سنتھیا نے موقع نہ دیا۔
کیا ۔۔۔۔
ویسے کامیاب رہی ہو توجہ حاصل کرنے میں۔۔۔ سب کی بھی اور ایڈون کی بھی۔ ایک ٹک دیکھ رہا تھا تمہیں۔۔
شٹ اپ۔ اریزہ حلق کے بل چلائی۔
اپنی گھٹیا سوچ کو اپنے تک محدود رکھومیرے بارے میں زبان سنبھال کر بات کرو۔ اور ایڈون کی ساری توجہ بھی تمہیں مبارک ہو مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ایڈون کی توجہ کی۔ جتنا تمہارے سر پر ایڈون سوار ہے ہروقت ان سیکیور رہتی ہو اور الٹی سیدھی باتیں سوچتی رہتی ہو پاگل ہو جائو گئ اسطرح تم ۔۔۔۔۔۔
کیوں؟ تم ایڈون کو پسند نہیں کرتیں؟ مجھے کہتی تھیں نا کہ ایڈون بہت سمجھدار ڈیسنٹ لڑکا ہے۔ مجھے اسکے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے۔
سنتھیا اب قدرے رسان سے پوچھ رہی تھئ۔
ہاں تو تمہارے لیئے ہی کہا کرتی تھی ہمیشہ مجھے رتی برابر بھئ تمہارے اس ایڈون میں دلچسپی نہیں سمجھیں۔ وہ کہتی پیر پٹختی اوپر جانے لگی
مگر تم میرے لیئے کبھی ایسی چیز پسند نہیں کرتیں جو تمہیں اپنے لیئے پسند نہ ہو۔۔۔ یقینا ایڈون تمہیں بھی پسند تھا ورنہ تم مجھے کبھی اس سے منگنی نہ کرنے دیتیں۔۔۔
اسکی بات پر سیڑھیاں چڑھتی اریزہ ٹھٹک کے رکی تھی۔
تم بھئ کہیں نہ کہیں اسے پسند کرتی تھیں۔
سنتھیا کو لگا اسکا تیر نشانے پر لگا ہے۔
ہے نا۔ اگر وہ کرسچن نہ ہوتا مسلمان ہوتا تو کیا تم اسکے بارے میں سوچتیں؟؟؟
سنتھیا بیڈ سے اترکر اسکے پیچھے آن کھڑی ہوئی۔
تم پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟ کیسی فضول باتیں کر رہی ہو تم۔
اریزہ بھنا کر مڑی۔
سنتھیا نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔
میری قسم کھا کے بتائو اگر وہ مسلمان ہوتا تو کیا تم سوچتیں اسکے بارےمیں۔؟؟؟
اریزہ سن سی اسکی شکل دیکھتی رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکی آنکھ سورج کی روشنی منہ پر پڑنے سے کھلی تھی۔ اس نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا تو آنکھیں پوری کھل گئیں۔ گیارہ بج رہے تھے۔ اسکی چھٹی ہوگئ تھی بیٹھے بٹھائے۔ وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی بیڈ سائیڈ کی ریلنگ سے نیچے جھانکا سنتھیا کا بستر سمٹا ہوا تھا۔ یقینا وہ تیار ہو کر یونیورسٹی جا چکی تھی۔
وہ تاسف سے سر پر ہاتھ مارتی نیچے اتری۔ فریش ہو کر اپنا بیگ اٹھاتئ باہر نکل آئی۔ ایک آدھ کلاس تو مل ہی جاتی۔۔۔۔۔
ابھئ ڈیپارٹمنٹ کی جانب جا ہی رہی تھی کہ گوارا پیچھے سے آکر اسکے کندھے سے جھول گئ۔
اریزہ اریزہ پلیز ہیلپ می۔ صرف تم ہی مجھے اس مصیبت سے نکال سکتی ہو۔۔
وہ آنکھیں پٹپٹاتی امید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس عالی شان کاسمیٹک سرجری کے کلینک کے باہر کھڑی اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔ گوارا کان دباتی اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر لے آئی تھی۔
جی ہائے کبھی نہ آتی میرے ساتھ اپائنٹمنٹ لینے کیلئے۔ پلیز بس میں تھوڑی نروس ہو رہی ہوں۔ تم بس میرے ساتھ رہو کچھ نہ کرنا۔۔۔
وہ۔منت بھرے انداز میں بول رہی تھی۔ اریزہ نے آہ بھری۔
اگلی اپائنٹمنٹ بک کروانے کیلئے اسکے پاس کیش کی بھی کمی تھی۔ اریزہ نے کو ہی پیمنٹ کرنی پڑی۔ فی الحال تو چندی آنکھوں والی اس چٹی ڈاکٹرنی کے پاس یہ قربانی کی بکری لائی گئ تھی ۔ اس نے فوٹو شاپ کرکے گوارا کا چہرہ کمپیوٹر پر دکھا کر ناک چڑھا کر کہا
آپکی آنکھوں کے اوپر پپوٹے بنوانے کی ضرورت ہے۔اور آپکے چہرے پر بہت چربی ہے ہم اسے گھلا کر تکونی شکل دیں گے۔ ہوںٹوں پر ہم فلوئڈ بھر کر موٹا کریں گے اور کچھ فلرز آپکے ماتھے پر دینے پڑیں گے اس سے آپکا چوڑا ماتھا کم لگے گا اور ابرو اچکنے سے آنکھیں بڑی بڑی لگنے لگیں گی۔ ناک ہم سلیکون کی بنائیں گے جو ابھری ہوئی ہوگی۔۔
نہایت پیشہ ورانہ انداز میں بتاتے اس نے جب مانیٹر گھما کر انکی جانب کیا تو اریزہ اچھل پڑی۔
یہ کون ہے؟
میں ہوں احمق۔ گوارا نے دانت پیسے۔
کچھ کچھ خلائی مخلوق کے نقوش سے مشابہہ گوارا کی ایک نئی صورت سامنے تھی۔ اسکی آنکھیں ابھی کھنچئ ہوئی تھیں تصویر میں پھٹی پھٹی سی لگ رہی تھیں۔ گال جو بھرے بھرے گلابی سے تھے مدقوق بڑھیا کی طرح دھنسے دھنسے تھےگول چہرہ وی کرنے کے چکر میں نوکدار تھوڑی نکال دی تھی جس سے وہ با آسانی کاغذ کاٹ سکے ۔۔صرف ناک بہتر لگ رہی تھی۔ مگر اس ناک کا مطلب تھا اصل ناک کی ہڈی پر مکمل سلیکون کی نئی ناک جمانا۔
خدایا۔ تم اپنی شکل اتنی بگاڑ نے کے پیسے بھی دوگی۔؟
وہ بلبلا کر گوارا کی جانب مڑی۔
میں دیکھو جوائے لگنے لگوں گی۔۔
گوارا شاد تھی۔ جوائے کی تصویر نکال کر دکھائی۔
اریزہ کی آنکھیں پھیلتی چلی گئیں۔
تمہاری اس حسینہ اس جوائے کوبریسز لگوانے کی ضرورت ہے۔سارے دانت باہر ہیں۔ اور تم اپنی شکل کی کیوں دشمن بنی ہوئی ہو۔ اتنی پیاری صورت ہے۔
وہ منتوں پر اتر آئی۔ دونوں کو انگریزی میں گٹ پٹ کرتے دیکھ کر ڈاکٹرنی خوامخواہ متاثر ہونے لگی۔
ذرا کورین بیوٹی معیار کی رو سے دیکھو۔ عام بے حد عام ترین شکل ہے میری پھینی ناک چھوٹی آنکھیں چھوٹا سا دہانہ۔ میں بد صورت مینڈکی ہوں مجھے ہر صورت خوبصورت شہزادی بننا ہے۔
گوارا نے اپنے چہرے کے خدو خال باری باری دبا کر اپنی پھبتی اڑائی۔
اور یہ تمہارے ہوںٹ چیر دیں گی؟
اریزہ بھنائئ۔
نہیں مگر موٹے تو کر دیں گی نا۔ اندر مائع ڈال کر۔
گوارا نے منہ کھولے بٹر بٹر گھورتی ڈاکٹرنی کو دیکھ کر اسکو ٹہوکا دیا۔۔
آپ بھی اگر سرجری کروانے میں دلچسپی لیں تو میں آپکو بھی اچھی تجاویز دے سکتی ہوں۔
ڈاکٹرنی نے رواں ہنگل میں کہا تھا مگر اریزہ کو کچھ کچھ پلے پڑنے لگی تھی ہنگل۔
تیز ہو کر بولی۔
ہا ں بتائو ذرا میری صورت میں کیا تبدیلی لائو گی اچھی خاصی حسینہ ہوں میں۔
اس نے محاورتا آستینیں چڑھائی تھیں۔
آپ ادھر دیکھیں۔ اس نے مونیٹرکے ساتھ ایک اسٹینڈ سے جڑے کیمرے کی جانب اشارہ کیا۔
اریزہ نے گھورتے ہوئے تصویر کھنچوا لی۔ گوارا ہنسی ضبط کر رہی تھی۔ ڈاکٹرنی انہماک سے اپنے مانیٹر کو گھورتے ہوئے جانے کیا کلک کرنے میں لگئ تھئ۔
میری شکل ہر لحاظ سے مجھے پسند ہے۔ یہ چاہے جتنی بھی کوشش کر لیں اس شکل میں مزید تبدیلی نہیں لا سکتیں۔
اس نے گوارا کو چیلنج کیا۔
سہیلی تم ابھی اپنا نیا روپ دیکھو پھر پوچھوں گی۔
گوارا کا انداز مزاق اڑاتا سا تھا۔
چند ڈرامائی لمحوں کے بعد ڈاکٹرنی نے اسکرین کا رخ اسکی جانب کیا۔
ایک نہایت دلکش کھڑے کھڑے نقوش کی حسینہ اسکی نگاہوں کے سامنے تھی۔
کم چاگیا۔ گوارا او روہ اکٹھے دہل اٹھیں۔۔ بس اریزہ کے منہ سے کم چاگیا کی جگہ
ہائے اللہ۔۔۔ نکلا تھا۔۔
یہ کون ہے۔ اریزہ کے منہ سے سرسراتی سی آواز نکلی۔
یہ آپ ہی ہیں۔۔ ڈاکٹرنئ نے یقین دلایا۔ بس تھوڑی سی تبدیلی آپکے خد و خال میں لائی ہوں۔ آنکھیں تو ٹھیک ہیں آپکی مگر دھنسی ہوئی ہیں دو تین سیشنز میں حلقے کم ہونگے آپکےنیز آپکی ناک غیر ضروری طور پر لمبی ہے اور پھیلی ہوئی بھی ہے اسکو ستواں کرسکتے ہیں اور آپکے چہرے میں بھی گوارا کی طرح چربی بہت ہے ہم اسکو گھلا کر رخسار کی ہڈی نمایاں کر دیں گے اور آپکی تھوڑی پر جو گڑھا بن رہا ہے ہم اسے بھی برابر کر سکتے ہیں ساتھ ہی یہ جو آپکے ہونٹ ہیں۔
بس۔۔ اریزہ سے اپنی شکل کی اتنی برائیاں برداشت نہ ہوئیں۔
اچھی خاصئ ہی ہوں میں مجھے اپنی شکل بدلوا کر نئی شکل نہیں چاہیئے۔ ذرا بنا تدوین والی تصویر دکھائیں۔ انیس بیس کا ہی فرق ہوگا ا سمیں اور اس میں۔
اس نے ہاتھ نچاکر دھڑلے سے کہا۔ یہ تو ماننے والی بات تھی کہ اس نے ماننا نہیں تھا۔
ڈاکٹرنی نے کندھے اچکا کر اسکی تصویر سامنے کردی۔
پھولا غبارے جیسا منہ چھوٹی دھنسی ہوئی آنکھیں۔ عینک لگانے کی وجہ سے حلقے نمایاں تھے اس وقت تو لینز لگائے تھئ مگر دیکھنے سے پتہ لگتا تھا کھوپے چڑھانے کی عادی ہے۔ ناک جسے وہ پاکستان میں ستواں ہی سمجھتی تھی پھیلی اور بیٹھی لگ رہی تھی۔ اور تھوڑی۔۔
دراصل ابھی کونسا وہ تصور کھنچوانے آئی تھی۔ بس سامنے دیکھ کر کھنچوا لی۔ گوارا سے بحث کی ساری اکتاہٹ اسکے چہرے پر جمئ تھی اس نے اپنی زندگی میں اپنی اتنی بکواس تصویر کبھئ نہ کھنچوائی تھی۔
اس کی ساری طراری ہوا ہو گئ۔ روہانسی سی ہو کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اردو میں بڑبڑائی۔
امی اتنئ بدصورت بیٹی ہوئی آپکے یہاں۔۔۔۔۔ صحیح نیندیں اڑیں ہیں آپکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے کئ گھنٹے انہوں نے گوارا کی شکل سدھارنے میں لگائے۔ ابھی کوئی مائع نہیں بھرنا تھا ابھی بس ٹیسٹ ہونے تھے کسی قسم کی جلدی بیماری تو نہیں انکی لگائی جانے والی چیزوں کے کسی اجزا سے کوئی الرجی تو نہیں۔ ساتھ ساتھ گوارا کے حلقے دور کرنے اور جلد کی تیاری کیلئے جانے کون کون سے محلول گھول گھول کر لگائے جاتے رہے۔ جنکو بیس بیس منٹ بعد اتارا جاتا تھا۔ وہ جمائی لے لے کر بے حال ہو گئ۔ چھے بجے جب وہ انتظار والے صوفے پر سو ہی گئ تھی تب ایک حسین سی لڑکی نے پاس آکر اسکو ہلایا۔
چلو اریزہ اب چلیں۔
میں کیوں کسی اجنبی۔
اریزہ نے جمائی لیتے ہوئے کہنا چاہا کہ میں کیوں کسی اجنبئ کے ساتھ جائوں بھلا کہ جھٹکا سا لگا۔
گوارا نے ایک ادا سے بال جھٹکے۔
تم تو ایکدم بدل گئ ہو۔ وہ حیرانی سے بولی۔
انہوں نے آپریشن کردیا؟ ۔۔ اسکو واقعی یہی لگا تھا۔
ارے نہیں۔ ابھی تو بس فیشل اور اسکن پالش ہوئی ہے میری ۔
گوارا نے وضاحت کی۔
میری مانو تو تمہارے لیئے یہی کافی ہے۔ اریزہ نے پھر اسے سمجھانا چاہا۔
خالی پیٹ نصیحتیں نہیں۔ گوارا نے ہاتھ اٹھا کر کہا وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ گوارا او روہ قریبی ریستوران آئی تھیں
چونکہ تم نے آج میری وجہ سے اتنا وقت برباد کیا سو آجکی دعوت میری طرف سے۔ گوارا کافی ترنگ میں تھی۔ اس نے سر ہلا دیا۔
جاجا میان منگوایا تھا اس نے نوڈلز ہمراہ کالا لوبیا۔ اسکے لیئے کہہ کر خاص الگ بنوایا جس میں گوشت کا ذرہ بھی نہ ہو۔
یہاں نان ویج آپشنز ہوتے ہیں ورنہ ہم جاجا میان سور کے گوشت کے بنا ادھورا سمجھتے ہیں۔۔۔ گوارا نے نوڈلز کو کالے سیاہ شوربے میں گھما کر لطف لیکر کھاتے ہوئے بتایا۔ اریزہ نے ڈرتے ڈرتے چکھا۔
لوبیا وہ ہمیشہ چاول کے ساتھ کھاتی تھی یا ابلے لوبیے پر چاٹ مصالحہ چھڑک کر ابھی تو کالے لوبیے کے اس سالن میں سوائے لہسن کے اسے کوئی مصالحہ محسوس نہ ہوا اوپر سے گندم کے لمبے لمبے نوڈلز۔ جن کو Chewy گوارا نے کہہ کر بنوایا تھا۔ اسکے نزدیک تو ابھی کچے ہی رہ گئے تھے۔ اس نے نمک دانی اٹھا کر آدھی چھڑک ڈالی۔
ویسے تمہاری تھوڑی کافی مختلف سی ہے۔ تھوڑی پر گڑھا کیوں ہے؟ چوٹ لگی تھی کیا بچپن میں۔
گوارا کے سوال پر اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
اس نے اپنی تھوڑی چھوئی۔
یہ خوبصورتی بلکہ خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں پورا فنکاروں کا خاندان ہے جن کے ہر فرد کے تھوڑی پر ایسے ڈمپل ہے اور وہ خوبصورت بھی ہیں سب۔
اس نے جاجا میان چھوڑا موبائل اٹھالیا۔ اب اسکو جاوید شیخ کا پورا خاندان دکھانا بنتا تھا۔
واقعی ؟ عجیب بات ہے۔ مجھے تو لگا تھا کوئی بچپن کی چوٹ ہے تمہاری۔
گوارا لاپروائی سے کہہ کر نوڈلز کھا رہی تھی۔ اریزہ نے موبائل نکال کر اسکے منہ پر سامنے کردیا۔ گوارا ڈر کر زرا سا پیچھے ہوئئ۔ پھر حیران ہو کر مومل شیخ کی انسٹا اسکرال کرنے لگی۔
واقعی یہ تو ان سب کے چہروں میں ہے سب کے سب کیسے آپریشن کرواتے بے چارے۔۔
گوارا کے تبصرے پر وہ سر تھام کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم بہت کم کھاتی ہو ویسے ۔۔گوارا نے کھانے کے بعد اسکی پلیٹ آدھی بھرئ دیکھ کر کہا تھا۔
بقیہ پیک کروالوں؟ گوارا نے پوچھا تھا مگر اس نے منع کردیا یہاں تازہ گرم کھانا دشوار تھا بعد میں تو بالکل دل نہ کرتا۔ اسکے صاف انکار پر گوارا کندھے اچکا کر رہ گئ۔
اب کیا ہاسٹل جائو گئ میرے ساتھ میرے فلیٹ میں چلو کل اکٹھے یونی چلیں گے۔ ۔۔۔
گوارا نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ دونوں تھکی ہوئی واپس آئی تھیں سو بیڈ پر گرتے ہی غافل ہوگئیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گیارہ بجے ہوپ کے آنے پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔
وہ اسے تھوڑا سا دھکیل کر اپنے لیٹنے کی جگہ بنانا چاہ رہی تھی۔۔
وہ اٹھ بیٹھی۔ ہوپ کو شرمندگی ہوئی ۔۔
بیانتا۔ اس نے اتنا دھیمی آواز میں کہا تھا کہ مڑ کر سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر وقت دیکھتی اریزہ نے سنا ہی نہیں۔۔
وہ اپنی جانب سے چادر کھسکا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ہوپ ٹھنڈی سانس لیتی سونے لیٹ گئ۔ اریزہ اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔۔ منہ دھو کر واپس آئی تو کمرے میں اجنبی بو کا احساس ہوا وہ سر جھٹکتی باہر نکل آئی۔۔۔ ذرا سا جاجامیان ہضم ہوچکا تھا۔ اب کافی بھوک لگ رہی تھی۔۔
یونہی کچن میں آکر جھانکاڈھنڈار فریج سامنے تھا۔۔
اس نے مایوسی سے کیبنٹس کھنگالیں۔۔ ایک میں سے بس ایک گندم کا بسکٹ ملا۔۔
ہاہ۔۔ وہ روہانسی ہو چلی تھی۔۔
گوارا کو بھوک نہیں لگتی ۔۔ اس نے رشک سے کمرے میں جھانک کر گوارا کو میٹھی نیند سوتے دیکھا تھا۔۔
کسمسا تک نہیں رہی تھی بے سدھ تھی۔۔
نہیں اسی کو وقت بے وقت بھوک لگتی۔۔ کتنے بسکٹس لائی تھی میں نے تو ایک آدھ ہی کھایا ہوگا۔۔ اس کو یاد آیا۔۔
سب ختم کر دیئے۔۔ چلو کوئی نہیں لائو بھی تو۔۔ وہ چڑ رہی تھی۔۔
یونہی ٹہل ٹہل کر بھوک بھگاتی رہی۔۔ ٹی وی کھول لیا۔۔ بھوک میں ٹی وی بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ لگتا بھی کیسے ایک لفظ پلے نہیں پڑ رہا تھا کیا بول رہے۔۔
اس نے سر تھام کر وال کلاک پر نظر دوڑائی۔۔
روپیٹ کر سوا گیارہ ہوئے تھے۔۔
اف۔۔ اسے رونا ہی تو آگیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس گیمنگ ذون میں بیٹھا پب جی کھیل رہا تھا جب اسے موبائل پر پیغام ملا۔
زندگی تم پر اس سے زیادہ بھی مہربان کیا ہوگی۔۔
خوش قسمت انسان ہمیں تو نہ جلا۔۔
یہ یون بن تھا۔۔
خوش رہو ہمیشہ۔مبارک ہو۔
کم سن کا پیغام آیا
اگر تمہارا گرل فرینڈ والاعہدہ خالی ہے تو میں اپلائی کرنا چاہتی ہوں۔ آگے منہ چڑاتا اسمائیلی
یہ جی ہائےتھی۔۔
خدا کرے اس سے بھی زیادہ مہربان ثابت ہو آئندہ زندگی تمہاری آمین۔۔
جون جے۔۔
آہش۔۔ اسکا چکن ڈنر تو ہوا ہوگیا تھا۔ اس نے لاگ آئوٹ کیا اور سہولت سے۔موبائل کی اطلاعات دیکھنے لگا۔
اسکے موبائل میں مبارکباد کے پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔۔
مجھے بھئ تو پتہ لگے کہ آخر مجھ پر ایسی کیا آفت نازل ہوئی ہے جو سب مبارکباد دے رہے ؟
اس نے کم سن کو چڑ کر پیغام بھیجا۔جوابا اس نے ایک نوٹیفیکشن کی تصویر بھیجی۔
اسکے باپ نے ایک کاسمیٹک کمپنی خرید ی تھئ۔ مکمل حقوق اور کوریا کی تمام فرنچائزز اور شاپس کی چین۔ وہ بیٹھے بٹھائے اسکا مینجنگ ڈائریکٹر بن چکا تھا۔
وہ اسکرال کرتا اٹھ کر باہر نکل آیا۔ اسکی چم چم کرتی ہندائی آونتے سےچار ہائی اسکولر ٹیک لگائے سیلفیاں لے رہے تھے۔
ایک اسکے دروازے پر یوں ہاتھ رکھے تھا جیسے ابھی بس کھول کر بیٹھنے لگا ہے۔
اسکے ساتھئ نے تصویر کھینچ کر آواز لگائی
تھیبا۔۔ تم ہی مالک لگ رہے ہو اس گاڑی کے۔۔
میرے خاندان کی سات پشتوں میں کسی کے پاس یہ گاڑی نہ ہوگی۔
وہ لڑکا مسخرے پن سے بولا۔
کیسے ہو سکتی لانچ ہی اسی سال ہوئی ہے۔ دوسرے ساتھی نے ہنس کر اسکی بات آگے بڑھائی۔
جانے کون خوش نصیب بڈھا مالک ہے اسکا۔ پوری جوانی لگا کر اس قابل ہوا ہوگا اس کو خریدنے کے۔
ایک لڑکے نے رشک سے اسکی گاڑی کے بونٹ پر ہاتھ پھیرا۔
بڈھے یہ گاڑی کیوں لیں گے۔ کسی امیر باپ کی حرامخور اولاد یہاں گیم کھیلنے آئی ہوگی اس میں بیٹھ کے۔
دوسرے نے اختلاف کیا۔
اس تبصرے نے اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا انکے پاس چلا آیا۔
تم سب اسکے ساتھ پوز مارو میں سامنے سے تصویر لے دیتا ہوں۔۔
اسکی آفر پر سب حیران ہو کر اسے دیکھنے لگے مگر اسے سنجیدہ دیکھ کر ایک نے اپنا موبائل اسے تھما دیا۔ وہ سب ہنستے مسکراتے پوز دینے لگے۔
ان سب کی تصویر کھینچ کر اس نے موبائل واپس کیا۔
گوما وویو ہیونگ۔
ان سب نے جھک کر شکریہ ادا کیا۔ ان میں سے ایک جو شائد انکے گروپ کالیڈر تھا خیر سگالی انداز میں مسکراتے اپنا تعارف کرانے لگا۔
میں ہان گیول یہ میرا دوست ہے جون یہ ایڈورڈ اور یہ سنگ ہو ۔۔ اور آپ۔
میں۔ اس نے لمحہ بھر سوچا۔پھر مسکرا کر بولا۔

امیر باپ کی حرام خور اولاد۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
جب بھوک لگتی تو بس کھانا درکار ہوتا پھر چاہے زمین سے گندم کا دانہ چن کر کھائو یا گلا سڑا کوڑے دان سے اٹھا کر کھائو۔۔
پھر دعا کرنا کبھی بھوکی نہ پھرو۔۔
ہاش۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں سر جکڑا۔۔
بد دعا دی تھی کیا اس نے۔۔ اس نے چڑ کر کمرے کے بند دروازے کو گھورا۔۔
گھر میں کتنی بار رات کا کھانا کھائے بغیر سوئی ہوں اور آج۔۔
اسے خود پر بھی غصہ آرہا تھا۔۔۔
اریزہ بھوکی مت سو انڈا بنا کر لائی ہوں۔۔ ۔۔
وہ تکیئے میں منہ دیئے پڑی تھی۔۔ جب صفیہ خفا خفا سی اسکیلیئے ٹرے سجا کر لائی تھیں۔۔
کیا ضرورت تھی۔۔ کہا تھا نا میں نے میں سو جائوں گی۔۔
اسکا غصہ کم نہیں ہوا تھا چڑے چڑے انداز میں اٹھ بیٹھی ۔۔
خالی پیٹ نیند بھی نہیں آئے گی پتہ مجھے۔۔ انہوں نے ٹرے اسکے سامنے بیڈ پر رکھ کر گھورا۔۔اور خود بھی سامنے بیٹھ کر اسکیلیئے نوالہ بنانے لگیں۔۔
وہ یونہی خفا خفا دیکھتی رہی انہوں نے نوالہ بنا کر اسکے منہ میں ڈالا۔۔
ایسے وہ کبھی بنا پراٹھا آملیٹ نہ کھاتی مگر بھوک تھی کہ کیا اسے کافی لذیذ لگا۔۔ ایک نوالہ دے کر انہوں نے ہاتھ کھینچ لیا۔۔
بس ایک نوالے کی محبت تھی۔۔
وہ چباتے ہوئے بولی۔ صفیہ نظر انداز کر گئیں۔۔
ایک دنیا میرے ہاتھ کےکھٹے بینگن کی تعریف کرتی کبھی کھا کر تو دیکھو۔۔ فٹ سے نہ کر دیتی ہو۔۔
انہوں نے ابھی بھی ڈانٹنا ضروری سمجھا۔۔
مجھے نہیں پسند بینگن آپ ہر دوسرے دن بنا لیتی ہیں۔۔
بھوک ہر چیز پر غالب تھی۔۔ وہ مر بھکوں کی طرح تیز تیز نوالے بنا کر کھا نے لگی تھی۔۔
آرام سے کھائو۔۔ انہوں نے محبت سے اپنی نخریلی بیٹی کو دیکھا۔۔ جو دھڑا دھڑ نوالے بنا کر منہ میں ڈالے جا رہی تھی
ایک ہفتے بعد بنائے تھے میں نے آج۔ انہوں نے تصحیح ضروری سمجھی۔
اریزہ کا منہ بھرا تھا سو سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
اتنی بھوکی ہورہی تھیں۔۔ مگر ایک انڈا نہیں بنا کر کھا رہی تھیں۔۔
میں سو جاتی ابھی۔ اس نے ماننا تھوڑی تھا۔۔
ہاں پتہ مجھے کوئی نیند نہیں آرہی تھی تمہیں۔۔ انہوں نے جتایا تو وہ کھسیانی ہوئی
آپکو بھی تو نہیں آرہی تھی۔۔ اس نے کہا تو صفیہ گہری سانس لیکر بولیں۔۔
بچے بھوکے ہوں تو ماں نہیں سو سکتی۔۔ ابھی قدر نہیں ہے تمہیں جب میں نہیں ہونگی تو یاد آئوں گی۔۔ کیسے ماں خدمت کرتی تھی جوان بیٹی کی۔۔ وہ طنز سے باز نہ آئیں۔۔
اریزہ کا پیٹ بھر گیا تھا سو موڈ خوشگوار ہو گیا تھا لپک کر ان کے پاس آئی اور کندھے سے لٹک کر جھولا کر بولی۔۔
آپ ہمیشہ ہونگی میرے ساتھ مجھے پتہ ہے میرے نخرے اٹھانے کو۔۔ وہ شرارت سے کہہ رہی تھی
اور نوے فیصد پاکستانی مائوں کی طرح وہ اپنی بیٹی کے لاڈ سے چڑیں۔۔
پرے ہٹو کیا بچپنا ہے۔۔ دم گھٹ رہا میرا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
آہ۔۔ ساڑھے گیارہ۔۔ ہوئے تھے۔۔
بھوک سے آنتیں پلٹ رہی تھیں۔۔
تھوڑا سا چل کر ہی مارکیٹ ہے ۔۔ میں لے آتی ہوں کچھ کھانے کو۔۔ وہ مصمم ارادہ کرکے اٹھی۔۔
گوارا کو اٹھا لیتی ہون تھوڑا سا غصہ ہی کرے گی نا۔۔
اس نے سوچا تو تھا مگر اب گوارا کے سر پر کھڑے اسکے خراٹے سنتے ہمت نہ ہوئی اسے جگانے کی۔۔ گوارا۔۔ اس نے آہستہ سے پکارا۔۔
وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔ البتہ ہوپ نے بڑبڑا کر کروٹ بدلی۔
کیا بھنگ پی کر سوئئ ہو۔ اس نے دانت کچکچا کر پوچھا۔ گوارا ٹن تھی۔ اس کی بیڈ سائیڈ ٹیبل پر نگاہ گئ تو سر پیٹ کر رہ گئ سوجو سجی تھئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی پونے بارہ ہی تو ہوئے ہیں۔۔ اتنی لڑکیاں پھر رہئ ہوتی ہیں باہر یہ پاکستان تھوڑی۔۔
وہ دھیرے دھیرے چلتی خود سے باتیں کرتی جا رہی تھی۔۔
وہ اکیلی لڑکی تھی اس پوری سنسان گلی میں۔۔
خائو۔۔
اسٹریٹ لائٹ جل تو رہی تھیں مگر بیچ بیچ میں کہیں تھوڑا سا اندھیرا مل ہی جاتا تھا۔۔
پتہ ہے یہاں ایک بار اتنی رات کو آتے ہوئے ایک عورت ملتی ہے ۔۔ ہیونگ سک کہیں آس پاس بولا تھا
اس کے قدم تھمے۔۔
اس دن رات کے ایک بج رہے تھے ابھی تو بارہ بھی نہیں بجے۔۔ اس نے فورا خود کو تسلی دی۔۔
اس نے بلا ارادہ گھڑی دیکھی بارہ بس بجنے ہی کو تھے
کوریا میں تھوڑی بھوت ہوتے ہوں گے اور ہونگے بھی تو پاکستانی لڑکی میں کیا دلچسپی ہوگی انہیں یہاں تو ایک سے ایک حسین لڑکی ہے پہلے سے ہی۔۔
وہ۔خوف دور کرنے کو خود سے باتیں کر تی جا رہی تھی۔۔
تبھی کسی چیز کے دھپ سے گرنے کی آواز آئی
وہ۔خوفزدہ سی ہو کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
آئو۔۔ وہ کوئی بلی تھی غراتی ہوئی اسکے آگے سے بھاگتی بائیں جانب نکلتی گلی میں گھس گئ۔۔
اسے چند لمحے لگ گئے سانس بحال کرنے میں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیون الیون کوریا کے تقریبا ہر علاقے میں ہوتے تھے۔ یہاں تو بس دو گلیوں بعد ہی تھا۔ گلیوں کے برعکس سڑک پر کافی روشنی تھی مگر چہل پہل نہیں تھی۔ یہی غنیمت تھا وہ فورا اس سیون الیون میں گھس گئی۔۔
اب میں کم از کم ایک پیک بسکٹ کا چھپا کر رکھوں گی۔۔وہ عزم کر رہی تھی۔۔
بھلا بتائو۔۔ رات کے بارہ بجے میں اکیلی یہاں سپر اسٹور میں۔ خواب میں بھی کبھی نہیں سوچا تھا میں نے۔۔ پاپا کو پتہ چلے تو ابھی واپس بلا لیں۔۔ انجان ملک انجان لوگ ۔۔۔ میں یہاں آدھی رات کوسڑک پر پھر رہی۔۔ایسے تو کبھی اپنے ملک میں اکیلے رات کو نہیں نکلی میں
اس نے اچک اچک کر اسٹور پر نظر دوڑائی۔۔
اکا دکا لوگ تھے وہ بھی مذکر کائونٹر پر بھی لڑکا تھا۔۔
خیر۔۔ اس نے گہری سانس بھری
اپنے ملک میں مجھے اس وقت اکیلے باہر نکلنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔ کبھی بھوک لگی بھی تو گھر سے کچھ نہ کچھ نکل آتا فریج تو کبھی خالی ہوتا ہی نہیں تھا۔۔
وہ بڑ بڑاتی باسکٹ اٹھاتی کائونٹر کی طرف بڑھی۔۔
اپنے اعتماد کو بحال کرنے کیلیئے وہ سر گھما گھما کر اسٹور پر نظر دوڑا رہی تھی۔۔
کبھی بہت دل۔کیا بھی تو صارم کے ساتھ گاڑی میں جاتی تھی آئسکریم کھانےکمینہ انکار کرتا تھا مگر ہمیشہ میری ضد کے آگے ہار ماننا ہی پڑتی تھئ اسے اسے صارم کی یاد آئئ۔۔
سارا راستہ بولتا تھا مگر لے جاتا تھا۔۔
۔۔ اسے یاد آیا تو لمحہ بھر کو اسکے قدم تھمے۔۔
مس یوصارم۔۔۔۔
اسکی آنکھ بھر آئی۔۔ اس نے ہتھیلی کی پشت سے آنکھ صاف کی۔۔
ہو از صارم۔ کسی نے آہستہ سے پوچھا تھا۔۔
وہ بری طرح چونک کر مڑی
ہایون ہاتھ میں کین پکڑے مسکرا کر اسکے قریب کھڑا پوچھ رہا تھا۔۔
اسے اسکے ڈر جانے کی امید نہیں تھئ۔۔
بیانئے۔۔ اس نے فورا ہاتھ اٹھا کر معزرت کی۔۔ پتہ چلے یہیں بے ہوش ہو گرے۔۔
نہیں۔۔ وہ۔خجل سی ہوئی۔۔ ایسا بھی کیا۔۔ اسے خود پر غصہ آیا۔۔۔
وہ بس میں مگن تھی اپنے آپ سے باتیں کرنے میں۔۔ اس نے کھسیا کر صفائی دی
اور مجھے افسوس ہوا مجھے اردو کیوں نہیں سمجھ آتی۔۔
وہ زیر لب مسکراہٹ دبا کر بڑبڑایا۔

ہوں۔۔ اریزہ کو سنائی نہ دیا تو متوجہ ہونے والے انداز میں دیکھنے لگی۔۔
آہش نتھنگ۔۔ تمہیں نہیں لگتا اشیا خوردونوش خریدنے کیلیئے یہ وقت کافی نا مناسب ہے۔۔
وہ بات بدل گیا۔۔
سب ختم ہوا وا تھا۔۔ وہ بے چارگی سے بولی۔۔
مجھے شدید بھوک لگ رہی تھی۔۔ سو کچھ کھانے کو لینے آئی ۔۔ اب آہی گئ تواور چیزیں خرید لیں۔۔
اسکے ذہن میں کل کا ناشتہ تھا سو انڈے میدہ دودھ بھی خرید لیا تھا۔
ہمم۔ وہ کیا کہتا۔۔
کندھے اچکا دیئے۔۔
تمہیں کولڈ ڈرنک اتنے پسند کہ اتنی رات کو خریدنے نکل پڑے۔۔
اس نے اسکے ہاتھ میں پکڑا کین دیکھ کر ٹوکا۔۔
آنیو۔۔ وہ چونکا۔۔
یہ کولڈ۔۔ وہ کہنے جا رہا تھا کولڈ ڈرنک نہیں شراب ہے۔۔
پھر خیال آیا تو سر ہلا دیا بس۔۔
ہاں مجھے کافی پسند ہیں ڈرنکس۔۔ وہ مسکرا دیا۔۔
ایک تو یہ خرم شہزادہ۔ ہر وقت کی مسکراہٹ۔ مگر اس وقت مضمحل سئ مسکراہٹ تھئ۔
اریزہ اسے غور سے دیکھتی کچھ کہتے کہتے رک سی گئ۔
تم۔۔ ۔۔
دے؟۔۔ وہ اسے جواب طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
کچھ نہیں۔۔ بھول جائو۔۔ وہ سر جھٹک کر اسکے مزید کسی سوال سے بچنے کو کائونٹر کی طرف بڑھ گئ۔۔
مجھے کیا۔ میرے مسلئے کم ہیں۔ بڑبڑاہٹ۔
ہایون نے حیرانی سے دیکھا اسے۔۔
کائونٹر والےلڑکے نے دو شاپر بنا دیئے۔ ابھی کھانے کی اشیاء پر بوجھ نہ بنے اسلیئے۔ ہایون نے خود ہی آگے بڑھ کر بھاری والا شاپر اٹھا لیا۔
وہ دونوں آگے پیچھے اسٹور سے نکلے ۔۔
شکریہ۔۔ اس نے باہر نکلتے ہی سہولت سے شکریہ ادا کر کے شاپر لینا چاہا۔۔
آئو میں گھر تک چھوڑ دیتا ہوں تمہیں۔۔ اس نے شاپر واپس نہیں کیا۔۔
کوئی بات نہیں گھر قریب میں چلی جائوں گی۔۔اریزہ کو اچھا نہیں لگ رہا تھا اسکی مدد لینا۔۔
بارہ بج چکے اکیلی سنسان گلی سے جائوگی مناسب نہیں۔۔
اس نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
آئی بھی تو تھی تم پریشان نہ ہو۔۔
وہ بھی اڑ گئ ۔۔
نہیں آنا چاہیئے تھا۔۔ اس نے دھیرج انداز اپنایا۔۔
بہر حال آئو۔۔ میں گاڑی میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔
کیوں۔۔ وہ بھنائی۔۔
کوئی بھی نہیں ہے اور میں بچی تھوڑی ہوں۔۔
تم میری وجہ سے کیوں خوار ہو رہے۔۔
اسے بھوک لگی تھی سو چڑ چڑی ہو رہی تھی
بچی نہیں ہو پھر بھی بات عقل میں نہیں گھس رہی۔
وہ بھی چڑا۔۔
رات کا وقت سنسان علاقہ ہے۔۔ تمہیں اکیلے نہیں جانے دے سکتا۔۔ یہ پاکستان نہیں کوریا ہے۔۔ مجھے نہیں پتہ پاکستان کتنا محفوظ ہے وہاں ایسے رات گئے پھرنا عام بات ہوگی مگر یہاں اس وقت مجھے بہتر نہیں لگتا تم اکیلی جائو۔۔
آئو۔۔
اسکا انداز تھوڑا سخت ہوا تھا۔۔
یہ کوریا ہے جبھئ اس وقت یہاں باہر ہوں۔پاکستان میں تو سوچ بھی نہیں سکتی۔۔ خیر پاکستان میں مجھے نکلنے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔۔ وہ سوچ کر رہ گئ۔۔ اسے شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر وہ مزید بولا۔۔
میں گاڑی ساتھ لایا ہوا ہوں اسلیئے کہہ رہا چلو اس میں چل کر بیٹھو۔۔ ورنہ تمہارے ساتھ تمہارے حسب خواہش پیدل چھوڑ آتا تمہیں۔۔
وہ اسے بالکل صارم لگا تھا زمہ دار اور خیال رکھنے والا۔۔
اس سے چڑ کر بھی اسکیلیئے پریشان ہونے والا۔۔
وہ خاموشی سے آگے بڑھ آئی۔۔
وہ اسکیلیئے دروازہ کھولنے پیسنجر سیٹ کی۔طرف بڑھا تھا تو وہ اپنی جانب سے پسنجر سیٹ سمجھ کر ڈرائونگ سیٹ کی طرف بڑھی تھی۔۔
تم ڈرایئو کر وگئ؟۔۔ ہایون نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔
اس نے ہونق سی ہو کر دیکھا۔۔
پھر خیال آیا تو سر پر ہاتھ مارتی گھوم کر اسکے پاس آئی۔۔
ایک تو یہ لیفٹ ہینڈ ڈرائیو۔۔ وہ بڑ بڑائی۔۔ ہایون نے بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ دبائی۔۔
ایک شاپر اس نے پچھلی سیٹ پر رکھا دوسرا اس سے لینے کو پلٹا تو وہ چیزاور ویجیٹیبل سینڈوچ اور کوئی بن اپنی گود میں شاپر دھرے نکال رہی تھی۔
اسے جانے کیا خیال آیا۔ پلٹ کر اسٹور میں گھس گیا۔۔
جلدی جلدی سینڈوچ کی دو تین چکھیاں مار لیں تو کچھ دل کو قرار آیا۔
ہیونگ سک گھوم کر آکر ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔۔
۔۔ خالی سوکھےسینڈوچ نگلنا مشکل ہو رہے تھے۔۔اس نے بیریوں والی ڈرنک لی تھی۔ اسکا ذائقہ کافی اچھا تھا۔ اس نے بوتل کھول کر گھونٹ بھرا۔ ہایون نے کچھ کہنے کو لب کھولے۔
یہ لو۔۔تم۔بھئ کھائو۔۔۔ اس نے فورا دو سینڈوچ اسکی جانب بڑھا دیئے۔۔
اسکا ارادہ صاف انکار کا تھا مگر پھر احساس ہوا اس نے بھی رات کو کھانا نہیں کھایا تھا۔۔ سو شکریہ ادا کرکے لے لیا۔۔
دونوں اتنے بھوکے تھے کہ خاموشی کھائے گئے۔۔
خالی کین کپ اس نے علیحدہ ایک شاپر میں ڈال دیئے تھے۔
یہ کونسی گاڑی ہے؟ اسکی سیٹیں کافی آرام دہ ہیں۔ بندہ لانگ ڈرائیو میں آرام سے سو سکتا ہے۔۔
اس نے دلچسپی سے گاڑی کا جائزہ لیا۔
کھیا۔۔ ہایون ماڈل نمبر بھی بتانے لگا تھا مگر اریزہ کو دلچسپی نہ تھی۔
مجھے اتنی بھوک لگی تھی کہ مجھے نیند بھی نہیں آرہی تھی۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔ گلیوں سے راستہ پیدل کا تھا مگر گاڑی سے یقینا اسے گھوم کر جانا پڑتا سڑک کے راستے وہ گاڑی موڑ کر سڑک پر لے آیا۔
اب آجائے گی یہ ڈرنک جو پی لی۔ یہ کس نے تجویز کی تھی تمہیں؟
گوارا نے اسکے ساتھ پی تھی مزے کی لگی کیوں؟ الکوحل ہے اس میں؟
وہ بھونچکا ہوئی ہایون ہنس دیا
نہیں۔ مگر یہ بنیادی طور پر دوائی ہےایٹی ڈیپریسنٹ میڈیسن اکثر لوگ جنہیں نیند نہ آنے کی شکایت ہو اسے پیتے ہیں تو سو جاتے ہیں۔یہ ذہن پرسکون کرتی ہے۔
مجھے نیند نہ آنی ہوتی تونیند کی گولی بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔ پیپرز میں خاص کر جاگنے کیلئے کافی بناتی تھی سنتھیا جبکہ میں بنا کافی پیئے بھی ساری رات جاگتی اور سنتھیا سو جاتئ کافی پی کر بھی۔ وہ مزے لیکر بتا رہی تھی۔
اسکی بات پر ہایون حیران ہو کر کچھ کہنے والا تھا کہ
تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔۔
نونا ۔۔
اس نے فون دیکھا تو فورا ایک طرف گاڑی لگا کر روک دی۔۔
نونا کیسی ہیں آپ۔۔ وہ بے تابی سے فون اٹھا کر بولا
بالکل ٹھیک۔۔ انی کھلکھلائیں۔۔
بہت بہت مبارک ہو۔ میرا منا بھائئ اب ایم ڈی بن گیا ہے۔ کیا مجھے ہان کاسمیٹکس کی خریداری پر ڈسکائوںٹ ملا کرے گا۔ ۔۔ وہ شرارت کے موڈ میں تھیں۔۔۔
اس نے کن اکھیوں سے اریزہ کو دیکھا وہ اسکی جھجک محسوس کرکے دانستہ رخ بدل کر سر سیٹ پر ٹکا گئ۔ ۔۔ وہ گاڑی سے اتر آیا۔۔
بالکل نہیں۔ آپ مجھ سے ملے بتائے بغیر چین چلی گئیں؟۔ وہ شکوہ کر رہا تھا۔۔
یقینا اسکا لمبی بات کا ارادہ تھا اس نے سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بھی موند لیں ایسا کرتے اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ۔۔
کوئی پہلی بار تھوڑی آئی ہوں۔۔ انہوں نے پیار سے کہا۔۔
پھر بھی اور مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے آپ نے آہبو جی کی بات کیوں مان لی۔۔ آپ ایک بات پھر انکو اپنی زندگی سے کھیلنے دیں گی؟
نونا چپ سی رہ گئیں۔
آپ کی وجہ سے آہبوجی نے یہ کمپنی میرے نام کی ہے نا۔
اسکا تیر نشانے پر لگا تھا نونا جز بز سی ہوگئیں۔
دیکھو مجھے سچ مچ کم خاندان سے جڑنے میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ امیر کبیر ہیں اور ان سے جڑ کر لی گروپ مزید توسیع حاصل کرے گا۔
اور آپ۔ ہایون نے بے صبری سے ٹوکا۔
کھیون ہیونگ ابھی بھی آپکے انتظار میں ہیں۔ انکو آپ ایک بار پھر مایوس کردیں گئ؟
ہایونا۔ وہ ایک دم ڈپٹ کر بولیں۔
تم سے میں کہہ چکی ہوں ہم کھیون وون کے بارے میں دوبارہ بات نہیں کریں گے سمجھ نہیں ائی تمہیں۔۔
کیوں؟ وہ جوابا انہی کے انداز میں بولا۔
ہیونگ نے ابھی تک شادی نہیں کی وہ آپکے انتظار میں ہیں کیوں آپ انکو دوسری بار بھی چھوڑ دینا چاہتی ہیں۔
میں نے کبھی اسکو اپنا انتظار کرنے کو نہیں کہا۔ اور میں دوبارہ شادی کرلوں یہی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔ انکا انداز قطعی تھا۔
کل تک تو آپکا دوبارہ شادی کرنے کا ارادہ تک نہ تھا اب اچانک ؟
اب اچانک میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ میں دوبارہ شادی کر لوں۔
تاکہ وہ مزید میرا انتظار نہ کرے۔۔ اگلہ جملہ وہ سوچ کر رہ گئیں۔۔ پھر سنبھل کر ایک دم اپنی جون میں واپس آکر بولیں۔
ہایونا اتنا نہ سوچا کرو۔ باقی واپس آکر بات کرتی ہوں بس دو دن میں واپس آرہی میری جان بس پریشان مت ہو میں بالکل ٹھیک ۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔
انہوں نے اسے مزید کچھ بھی کہنے سننے کا موقع دیئے بغیر فون رکھ دیا۔۔
آہش۔ وہ بس فون کو دیکھ کر رہ گیا۔
ہمیشہ ایسا ہی کرتی ہیں۔ بچہ تو نہیں ہوں میں اب۔۔ اسے غصہ آرہا تھا۔۔ دل کیا فون اٹھا کر سڑک پر دے مارے۔ چند لمحے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ مزاج بگڑ چکا تھا سو خاموشی سے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔
اپنے پورچ میں لا کر گاڑی کھڑی کرکے اترا توگاڑی لاک کرتے ایکدم سن سا رہ گیا۔ وہ تو بھول ہی گیا تھا کہ اریزہ اسکی گاڑی میں بیٹھی ہے۔ اس نے اندر جھانکا وہ سیٹ تھوڑی نیچے کرکے پرسکون سو رہی تھی۔
آگیا گھر۔۔ اس نے مڑ کر متوجہ کرنا چاہا تو دیکھا وہ بے خبر سو چکی تھی۔۔
گود میں شاپر پر دونوں ہاتھ ٹکائے سیٹ پر سر رکھے خراٹے لے رہی تھئ۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے ہلانا چاہا۔ پھر خیال آیا۔ اچانک گہری نیند سے اٹھانا ایسے انسان کو جسے پینک ڈس اوڈر ہو منع کیا جاتا ہے۔
اریزہ۔۔ اس نے تھوڑا سا اونچی آواز میں پکارا وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔
اس نےگاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کی گاڑی کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔ وہ سوتے میں سہم سی گئ۔ ایک دم سے سرخ آنکھیں کھولی تھیں۔ اسکا تنفس تیز سا ہوا۔
اریزہ اس نے پکارا اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔ وہ چند لمحے اسکی شکل دیکھتی رہی۔ مگر ان نظروں میں پہچان نہیں تھی۔
کین چھنا۔اس نے دھیرے سے اسکا ہاتھ تھپکا۔۔

پندرہ سالہ اریزہ کو سوتے میں ڈر لگا تھا۔ وہ لرز رہی تھی۔ اسکے ماں باپ اکثر رات کو اٹھ کر اسکے کمرے میں آتے تھے۔ اگر وہ خواب میں ڈر رہی ہو تو اسے تھپکتے تھے۔۔
سو جائو اریزہ۔۔خواب تھا بس یہ۔۔۔۔
جبین دھیرے دھیرے اس کے کان میں سرگوشی کر رہی تھیں۔ انکئ آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسکے برابر بیٹھی وہ دھیرے دھیرے اسکا کندھا تھپک رہی تھیں۔۔
امی۔۔ وہ سسکی۔۔مم ۔۔۔ مجھے بچالیں۔۔
اس نے سوتے میں ہاتھ بڑھا کر ماں کو پکارا تھا۔
میں یہیں ہوں میری جان۔
جبین نے اسکے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں مضبوطئ سے جبین کاہاتھ پکڑا۔۔ اسے یک گونہ اطمینان نصیب ہوا تھا۔ماں اسکے آس پاس تھی۔ اب کوئی فکر نہیں۔۔
اریزہ اب لرز نہیں رہی تھئ۔ ۔ جبین کتنی دیر اسکے برابر اپنا ہاتھ اسے تھمائے بیٹھی بے آواز روتی رہی تھیں۔۔۔ خواب تھا یا حقیقت ادراک نہ ہوسکا۔۔
اریزہ نے اسکا ہاتھ مضبوطئ سے تھام کر آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔
اس نے ایک نظر ادھر ادھر دیکھا۔ پھر بے چارگی سے اسے دیکھنے لگا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔۔
جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko Salam Korea ki qist ?Rate us below

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *