Aeyina web drama script

آئینہ
ویب ڈرامہ اسکرپٹ

پہلا منظر

کلاس روم کا منظرہے۔ ایک نہایت خوبصورت مرد جسکی عمر لگ بھگ تیس پینتیس برس ہوگی بارہویں کی طلباء کو میتھس پڑھا رہا ہے۔بچیوں کے چہرے پر دبی دبی مسکان ہے۔ایک طالبہ نے تصویر بنائی ہے۔ دوسری طالبہ اس تصویر کو دیکھ کر ہنسی روک رہی ہے۔ پڑھاتے پڑھاتے استاد نے مڑ کر دیکھا۔تصویر میں استاد کی ٹائی پن جو اس نے قمیض کی جیب میں اٹکا رکھی ہے بطور خاص نمایاں کرکے بنائی گئ ہے

جہانزیب: کیا ہو رہا ہے۔؟چوتھی رو میں بیٹھئ دو لڑکیاں مستقل دبی دبی ہنسی ہنس رہی تھیں۔
اس نے آواز پر فورا مڑ کر دیکھا
ان دونوں کے سوا سب کی توجہ بلیک بورڈ کی طرف تھی۔ وہ دبے قدموں انکے سر پر جا کھڑا ہوا
جہانزیب مسکراہٹ دباتے ہوئے: یہ آرٹ کلاس نہیں ہے ۔ تبسم ۔میتھس پر دھیان دو ۔۔ پچھلےٹیسٹ میں غالبا تمہارے سو میں سےاسی نمبر تھے نا؟
تبسم او رتانیہ کورس میں : سوری سر
جہانزیب : آئندہ میں اپنی کلاس کے دوران ایسے فن پارےبناتے نہ دیکھوں سمجھیں دونوں؟
بھاری آواز پر دونوں لڑکیاں گھبرا گئیں ۔جہانزیب نے پھرتی سےوہ کاغذ اٹھا لیا دونوں لڑکیوں کا رنگ فق ہو گیا۔
کاغذ پر اسکی تصویر بنی ہوئی تھی۔ بڑی بڑی آنکھیں کشادہ پیشانئ جس پر گھنے بالوں کا گچھا تھا۔گندمی رنگت ہلکی سی داڑھئ جسکے خوبصورت خط بنے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی اس پر عنوان تھا۔ تانیہ کے خوابوں کا شہزادہ
تانیہ اورتبسم کا رنگ فق ہو چکا تھا سر جھکا کےرہ گئیں
تبسم تانیہ سر جھکائے:جی سر
جہانزیب: ویسے اسکیچنگ اچھی کر لیتی ہو اسکو میں رکھ رہا ہوں۔۔شکریہ
تانیہ : بال بال بچے مجھے تو لگا تھا سر غصے میں آجائیں گے
تبسم: میری تو جان نکل گئ تھئ۔ سر کو اپنی تصویر دیکھ کر غصہ آنا چاہیئے تھا
تانیہ : سر بہت سویٹ ہیں یار ہمیں ایسی شرارت انکے ساتھ کرنی نہیں چاہیئے تھی۔
تبسم : ہاں یار اب تو مجھے بھی شرمندگی ہورہی ہے۔۔
جہانزیب نے غور سے اپنی تصویر کو دیکھا پھر مسکرا کر بولا
اسکی بات پر تانیہ اور تبسم نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ بے نیازئ سے دوبارہ بلیک بورڈ کی جانب بڑھ گیا
تانیہ تبسم کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگی


دوسرا منظر
اگلی کلاس فری تھی۔وہ یونہی باہر نکل آیا تو کینٹین کی جانب جاتی مس ربیعہ پر نظر پڑی۔تیز قدم اٹھاتا انکے پاس چلا آیا
مس ربیعہ درمیانے قد کی خوش شکل خاتون ہیں۔ اسکے اس طرح اچانک آواز دے کر سامنے آکھڑےہونے پر حیران ہیں۔۔

جہانزیب: کیسی ہیں آپ مس ربیعہ آج صبح سے دکھائی نہ دیں کہاں تھیں۔
ربیعہ: میں کلاسز لے رہی تھی۔
جہانزیب مس ربیعہ کے بالکل سامنے آکھڑا ہوا ہے وہ چونک کے دیکھ رہی ہیں
یوں لگتا ہے وہ تھوڑی نالاں ہوئی ہیں
جہانزیب :چلیں اب تو ملاقات ہوگئ ہے۔ ویسے مجھے آپ جیسی میچیورخاتون سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ میری کل والی بات پر مجھ سے شرمانے لگیں گی۔ اور مجھ سے چھپتی پھریں گی
ربیعہ ناگواری سے: ایسی کوئی بات نہیں ہے۔میں نے کل ہی آپکو جواب دے دیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف پروفیشنل تعلق ہے ان سب باتوں کی گنجائیش نہیں نکلتی۔ میں چلتی ہوں۔
جہانزیب ہنستے ہوئے: ارےآپ تو برا مان گئیں۔ یہی تو آپکو بتانا چاہ رہا تھا بہت جلدی میں کل آپ نے انکار کر دیا آپکو تھوڑا سوچنے کیلئے وقت لینا چاہیئے تھا۔
ربیعہ: مجھے ضرورت نہیں میں اپنا فیصلہ آپکو بتا چکی ہوں۔

جہانزیب: یہ میری کلاس کی بچی نے میری تصویربنائی ہے۔ اسکے نزدیک میں اسکے خوابوں کا شہزادہ ہوں۔۔ ہنسی آئی مجھے دیکھ کر۔ پھر ذہن میں سوال لہرایا کہ۔۔۔۔
میں شکل و صورت کا لاجواب ہوں اچھی نوکری کرتا ہوں عادات کا بھی اچھا ہوں تو آخر ربیعہ نے میرے پرپوزل پر فوری انکار کیوں کردیا ۔۔ہوں؟
سختئ سے کہہ کر ربیعہ آگے بڑھنے کو تھی کہ اسکی نگاہوں کے سامنےپرچہ لہرایا جہانزیب نے۔وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
اس نے ہاتھ پیچھے کرکے پرچے کو بغور دیکھا۔
ربیعہ : آپکو ان بچیوں کو ڈانٹنا چاہیئے تھا انہیں ایسا فضول مزاق نہیں کرنا چاہیئے تھا
جہانزیب: ہاں ڈانٹنا تو چاہیئے تھا مگر میں ڈانٹ سکا نہیں۔ بس مجھے یہی خیال آیا کہ آخر مجھ میں ایسی کیا کمی ہے جو ربیعہ نے لمحہ بھر بھی سوچے بنا انکار کردیا
پھر اپنے چہرے کے ساتھ پرچہ لگا کر معصوم سا بن کے پوچھنے لگا۔ربیعہ حیرت سے دیکھنے لگی
ربیعہ: میں آپکو بتا چکی ہوں ہمارے خاندان میں خاندان سے باہر شادی کا رواج نہیں پھر میری منگنی بھی ہو چکی ہے۔ مجھے بار بار آپکے سامنے یہ دہراتے اچھا نہیں لگ رہا پلیز آئیندہ ہم اس موضوع پر بات نہیں کریں گے۔
جہانزیب مایوسی سے: کیا کمی ہے مجھ میں ؟ آپ گھر والوں سے بات تو کرکے دیکھیں۔ انہیں بتائیں کہ آپکو میری صورت اپنے ہم پلہ بہتر انسان مل چکا ہے آپ۔مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہیں وہ یقینا مان جائیں گے۔
ربیعہ تھوڑا جھلاتے ہوئے:دیکھیں آپ اچھے انسان ہیں یوں اپنی اور میری انسلٹ مت کیجئے۔
ربیعہ شرمندگی سے:

جہانزیب : کیا وجہ ہے جو آپ انکار کر دیتی ہیں یوں سختی سے۔۔ میں خوش شکل پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہوں ۔ آپکو پسند کرتا ہوں کیا آپکو۔۔۔
ربیعہ: بس کیجئے ۔ختم کریں اس تماشے کو ۔ میں آپکو صاف صاف کہہ چکی ہوں مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں۔بار بار میرا راستہ روک کر مجھے پریشان مت کیا کریں۔
جہانزیب : ربیعہ میں واقعی تم کو پسند کرتا ہوں
اسکے ضدی انداز ہر ربیعہ بری طرح غصے میں آچکی ہے۔ سر جھٹک کر آگےبڑھنے کو تھی کہ اس نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔
ربیعہ نے آگ بگولا ہو کر ہاتھ چھڑایا اور سختی سے بولی
ربیعہ :میں نہیں کرتی ہوں آپکو پسند سمجھے آپ
جہانزیب : ربیعہ
بات تو سنو ربیعہ
ربیعہ سختی سے کہہ کر رکی نہیں وہ پکارتا رہ گیا۔

تیسرا منظر
ربیعہ اپنے فلیٹ میں بیٹھی ناخنوں پر نیل پالش لگا رہی ہے اسکی سہیلی اپنے لیپ ٹاپ میں لگی کوئی کام کر رہی ہے۔

سونیا: تمہیں اب اسکی شکایت پرنسپل سے کر دینی چاہیئے۔مستقل تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے ایویں تمہیں بدنام کر دے گا
ربیعہ: یار بس یہی سوچ کر رک جاتی ہوں اچھا انسان ہے۔ سادہ سا ہے بس۔ مجھے پرپوز کرنے سے پہلے اچھا کولیگ تھا اچھی طرح بات کرتا تھا اب اچانک۔۔۔۔
سونیا لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے یونہی بولی
ربیعہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھر گہری سانس
لیکر بولی

ربیعہ کا فون بجنے لگا تو اس نے فون اٹھا کر دیکھا پھر نو کرکے ایک طرف رکھ دیا
سونیا: وہی تھا۔۔
ربیعہ :ہاں
سونیا: وہ تمہاری گڈ بکس میں آنا چاہ رہا تھا جبھی اتنا اچھا بنا ہوا تھا اب اپنی اصلیت دکھا رہا ہے۔ بتائو گرائونڈ میں تمہارا ہاتھ پکڑ رہا ہے تمہیں تنگ کر رہا ہے آوازیں دے رہا ہے۔حد کردی ہے اس نے۔ لوگوں نے کتنی باتیں بنائی ہوں گی۔ضروربچوں نے بھی دیکھا ہوگا۔
ربیعہ : یار میں پہلے ہی پریشان ہوں۔ صبح سے بار بار فون کر رہا ہے تنگ کر رہا ہے جانے مجھ سے چاہتا کیا ہے۔ عاجز کر دیا ہے اس نے مجھے
سونیا : ویسے شکل و صورت کا کیسا ہے۔؟
ربیعہ : شکل و صورت میں کیا اعتراض کروں تم جانتی ہو میں سطحی سوچ رکھنے والی لڑکی نہیں ہوں۔مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا مگر اسکے بارے میں عجیب عجیب باتیں مشہور ہیں اور سچ تو ہے کچھ حد تک درست بھی ہیں۔کوئی کہتا یے احساس کمتری کا شکار ہے کوئی کہتا ہے غصے میں پاگل ہو جاتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں جو اس نے مالی بابا کو مارا تھا مجھے تو سچی بات ہے یہ بندہ نارمل نہیں لگتا۔ پرنسپل صاحب کا رشتے دار نہ ہوتا تو سیدھا کیس ہوتا اس پر۔
سونیا : دیکھو ہوتا ہے کچھ لڑکے ہوتے ہیں غصہ ور ہو سکتا ہے اسے غصے پر اپنے قابو نہ ہو لوگ وقت کے ساتھ بدل بھی تو جاتے ہیں اور احساس کمترئ والی بات عجیب کہی۔ اتنی کم عمری میں پی ایچ
ڈی کی تیاری کرنے والا خوش
شکل ایک سیکیور نوکری کرنے والا احساس کمتری کا شکار کیوں ہوگا۔۔ مجھے تمہاری بات کی سمجھ نہیں لگی
ربیعہ: تم کس خوشی میں مجھے کنوینس کرنے میں لگ گئ ہو۔میں اس سے ہرگز شادی کرنا نہیں چاہتی نہ کروں گی سمجھیں۔۔
سونیا: وہی تو جاننا چاہ رہی ہوں۔ مجھے پتہ ہے تمہاری کوئی منگنی ونگنئ نہیں ہوئی وی اور دیہاتی کزن ہیں سارے تمہارے ان میں سے کسی کے پلے بندھنے کی بجائے اگر یہاں کوئی ویل ایجوکیٹڈ بندہ پرپوز کر رہا ہے تو کیا ضرورت ہے تمہیں فالتو میں انکار کرنے کی ۔
اسکا فون پھر بج اٹھا۔ سونیا نے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور آلتی پالتی مار کر بیٹھی اور اشتیاق سے پوچھنے لگی
میسج : ربیعہ بس ایک بار فون اٹھا لو
آخری بار میری بات سنو
کیوں تم ایسے کر رہی ہو۔۔
ربیعہ ؟
تم ہو وہاں
کیا کمی ہے مجھ میں کیوں ایسے کر رہی ہو میرے ساتھ
سونیا:یہ تو دیوانہ ہوا پڑا ہے۔
ربیعہ:سائیکو ہے۔
میسج: کیوں میرے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے۔
کیوں ہر لڑکی مجھے انکار کر دیتی ہے۔۔
کیوں ؟
بتائو بولو جواب دو۔
تم لڑکیاں کیوں ایسے کر تی ہومیرےساتھ
سونیا میسج ٹائپ کرتے ہوئے:
باقی لڑکیوں کا تو آپ ان سے ہی پوچھیں میں آپکو جواب دے چکی ہوں میری منگنئ ہو چکی ہے ۔۔
میسج: تو توڑ لو نا میری خاطر
سونیا:یا اللہ کیا چیز ہے یہ لڑکا۔
ربیعہ : اب سمجھ آئی کیوں میں نے چھوٹتے ہی انکار کیا اور منگنی والا جھوٹ بولا
کئی میسجز آچکے ہیں۔۔
سونیا: تم اب اسکو کوئی جواب نہ دینا ذیادہ تنگ کرے تو کل یہ سب میسجز دکھا کر ایڈمن میں کمپلین کردینا۔۔
ربیعہ : لگتا ہے اب یہی کرنا پڑے گا
موبائل اب تواتر سے پیغامات سے بج رہا تھا
ربیعہ نے جھلا کر موبائل اٹھایا پھر میسج دیکھ کر سونیا کے حوالے کر دیا ۔سونئا نے میسجز پڑھے تصویر دیکھئ پھر پریشان سی ہو کر اسے دیکھنے لگی

چوتھا منظر۔
ربیعہ تھکی تھکی سی گھرکا لاک کھولتی اندر داخل ہوئی ہے۔اندر داخل ہوتے ہی چونک گئ ہے۔ پورا کمرہ تحفوں سے بھرا ہوا ہے۔ غبارے اور پارٹی پاپرز ٹیڈی بیئرز وہ خوشگوار حیرت سے آگے بڑھتئ ہے سامنے ایک بڑا سا بھالو ہے وہ جیسے ہی اسے چھونے لگتی ہے اسے ہٹا کر ایکدم جہانزیب بھالو کے پیچھے سے نمودار ہوتا ہے۔ وہ گھبرا کے پیچھے ہوتی ہے۔

جہانزیب : سالگرہ مبارک ہو ربیعہ۔ تم جیو ہزارو سال خوش رہو ربیعہ۔۔ میرے ساتھ۔۔جہانزیب مسکراتے ہوئے اسکے سامنے آتا ہے ایک ہاتھ میں کیک اور دوسرے ہاتھ میں بکے لہراتا ہوا خوشگوار موڈ میں ہے۔
ربیعہ : یہ کیا حرکت ہے اور تم اندر کیسے آئے؟ربیعہ ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے۔۔
جہانزیب: تمہاری سہیلی کی مہربانی سے اندر آسکا۔
ربیعہ: سونیا ۔۔۔
جہانزیب دلفریب مسکراہٹ سے لائونج کے ایک کونے کی جانب اشارہ کرتا ہےوہ مڑ کر دیکھتی ہے تو جیسے روح فنا ہونےلگتی ہے۔
ربیعہ: سونیا ۔۔۔
جہانزیب: ٹھیک ہے وہ۔ بس مجھے اندر آنے نہیں دے رہی تھی اس لیئے اسکے ہاتھ پائوں باندھ کے بٹھانا پڑا۔ اچھا ہے۔ ہم آرام سے اب بات کر لیں گے۔۔
ربیعہ: مجھے تم سےکوئی بات نہیں کرنی دفع ہو جائو تم یہاں سے۔۔
جہانزیب۔سنجیدہ ہوتے ہوئے: مگر مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔
سونیا اس کونے میں بیٹھی ہے منہ ہاتھ پائوں سب بندھے ہوئے ہیں۔
ربیعہ اسکی جانب بڑھتی ہے جہانزیب اسکا بازو تھام کے روک دیتا ہے۔
ربیعہ : ہاتھ چھوڑو میرا۔۔
سونیا۔۔سونیا۔۔
جہانزیب:یہ لو اس سے کاٹ لو ۔۔۔
سونیا: بچائو۔۔۔ بچائو کوئی ہے؟
جہانزیب :چپ کرکے بیٹھو اگر آواز نکالی تو گلا کاٹ دوں گا
ربیعہ:پلیز اسے کچھ مت کہو۔ چھوڑ دو اسے۔اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے۔۔
جہانزیب: وہی تو کہہ رہا ہوں اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے پھر بھی بات نہیں کرنے دے رہی گلا کاٹ دیتا ہوں اسکا۔۔ چپ کرتی ہو کہ نہیں ؟
سونیا گھٹی گھٹئ چیخیں مار رہی ہے۔۔ ایکدم چپ ہو جاتی ہے۔
ربیعہ تڑپ کر رو دی: تت تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہو کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا؟
ربیعہ تنفر سےہاتھ چھڑا کر سہیلی کی جانب بھاگتی ہے۔ خلاف توقع جہانزیب اسکو آرام سے دیکھتا رہتا ہے۔ وہ آگے بڑھ کر سہیلی کے ہاتھ پائوں کھولنے کی کوشش کرتی ہے منہ سے کپڑا ہٹاتی ہے۔ گرہیں اتنی سخت ہیں کہ کھل نہیں پاتیں ۔جہانزیب آگے بڑھ کر اکڑوں بیٹھتے ہوئے چھری آگے بڑھاتا ہے۔دونوں ڈر کے پیچھے ہوتی ہیں۔
جہانزیب کو چھری بڑھاتے دیکھ کر سونیا ایکدم سے چلا چلا کر پکارنے لگتی ہے۔جہانزیب جھلا کر سونیا کا منہ بند کرکے گردن پر چھری رکھتا ہے۔ ربیعہ تڑپ اٹھتی ہے۔
دونوں گھبرا کر رونے لگتی ہیں
جہانزیب: وہی تو ۔۔ وہی تو بتانا چاہ رہا ہوں میں ۔مگر نا تم سننے کو تیار ہوتی ہو نا یہ مجھے سکون سے بات کرنے دیتی ہے۔۔
ناراضگئ سے گھورتے ہوئے۔
ربیعہ:مم میں سنتی ہوں بولو۔ اسکو چھوڑ دو۔ پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔
جہانزیب : میری بات سنو گی نا؟
ربیعہ: ہاں ہاں پلیز اسے چھوڑ دو۔
جہانزیب: بالکل خاموش بیٹھنا سمجھیں تم ورنہ گردن اڑا دوں گا۔
جہانزیب فیصلہ کن نظروں سے اسے اور سونیا کو دیکھتا ہے جو خوف کے مارے کانپ رہی ہے پھر گردن چھوڑ دیتا ہے وہ گھبرا کر ربیعہ سے جا لپٹی ہے۔
سونیا نے سر ہلایا۔
جہانزیب : اب میں بولوں سنو گی نا؟
ربیعہ زو رو شور سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے۔۔
: ہا ۔۔۔ ہاں ۔۔
ربیعہ اسے اپنے ساتھ لگائے سامنے بیٹھی ہے جہانزیب آرام سے ان دونوں کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتا ہے
جہانزیب دھیرے سے مسکرایا: میں کل ساری رات سوچتا رہا کہ تم نے مجھے سیدھا سیدھا انکار کر دیا کیونکہ میں نے کبھی تمہیں بتایا ہی نہیں کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔
تھوڑا عجیب ہے تمہاری سہیلی کے سامنے اپنا اقرارمحبت کرنا مگر خیر۔
سونیا: مم میں چلی جاتئ ہوں۔
جہانزیب: تمہیں سمجھ نہیں آتی چپ کرکے بیٹھو۔ایک لفظ اور بولیں تو تمہارے چھرا گھونپ دوں گا۔
ربیعہ: اب نہیں بولے گئ۔ پلیز۔چھری نیچے کرلو۔
سونیا فورا اٹھنے لگتی ہے۔ جہانزیب آگ بگولا ہو کر غراتا ہے۔ دونوں کی جان نکل جاتی ہے۔
ربیعہ: اب نہیں بولے گئ۔ پلیز۔چھری نیچے کرلو۔
جہانزیب: سارا موڈ خراب کردیا۔کہاں تھا میں ؟
ہاں ربیعہ میں پچھلے چار سال سے تم سے محبت کر رہا ہوں۔ تم سے منسوب ایک ایک چیز میں نے سنبھال کر رکھی ہے۔تمہارا ایک ایک تحفہ سینے سے لگا رکھا ہے۔
ربیعہ : میں نے کبھی تمہیں تحفہ نہیں دیا۔
جہانزیب : تم بھول رہی ہو تم نے بہت بار تحفہ دیا ہے مجھے۔سب سنبھال کر رکھے ہیں میں نے دکھاتا ہوں
اسے ایکدم کچھ یاد آتا ہے تو ایک بڑا سا شاپنگ بیگ اٹھالاتا ہے۔
اور اس میں سے ایک چیونگم نکالتا ہےچیونگم پگھل چکی ہے ریپر رنگ بدل چکا ہے۔
ہاں ایک منٹ۔
یہ دیکھو۔یاد آیا تمہیں؟ آج سے چار سال پہلے جب تم پہلی بار مجھ سے ملیں ۔جاب کا پہلا دن تم نے پورے اسٹاف کو یہ چیونگم دی۔ آج تک اسکو سنبھال کر رکھا ہے میں نے۔تمہارا پہلا تحفہ تھا یہ۔کیسے استعمال کر لیتا میں۔
ربیعہ: یہ سب کو دی تھی میں نے صرف تمہارے لیئے نہیں تھی۔
جہانزیب: جانتا ہوں اسکے باوجود میں نے اسکو سینے سے لگا کر رکھا ہے۔ اور یہ جوس کا ڈبہ۔ تمہیں یہ جوس ایک طالبہ نے دیا تھا۔اس دن میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم نے مجھے دے دیا تھا۔ میں اسکو کھولنا تو دور پی بھی نہ
سکا۔
ربیعہ:تم پاگل ہو گئے ہو۔۔
جہانزیب: ہاں لیکن تمہارے پیار میں۔
او ریہ ٹیچرز ڈے پر تم نے یہ کارڈ دیا تھا۔ بچوں سے خاص طور سے بنوا کر۔ میں اس دن آیا بھی نہیں تھا تم نے اگلے دن جب میں آیا تو مجھے دیا ۔ تم مشرقی لڑکی ہو ایکدم سے اقرار تو نہیں کر سکتی تھیں۔اس کارڈ کا متن پڑھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ تمہارے دل کی آواز ہے۔۔
ربیعہ: بچوں نے خود بنایا تھا میں نے ان سے نہیں بب بنوایا تھا
جہانزیب: چلو مان لیا۔۔۔( مسکراتے ہوئے)
یہ پیسٹرئ۔ یہ تو تم نے مجھے میری سالگرہ والے دن دی تھی۔ پچھلےچار سال سے سنبھال کر رکھی ہے۔
ربیعہ: پاگل ہو گئے ہو ۔یہ ہٹائو سڑ چکی ہے یہ۔پھینکو اسے۔
جہانزیب: تبھی تو ۔ یہ سڑ گئ تھی جبھی میں نے تم سے کہا تھا میری سالگرہ پر مجھے کوئی کھانے پینے کا تحفہ نہ دیا کرو اور تم نے مجھے اگلے سال یہ ٹائ پن دی تھی مجھے۔میں ٹائی نہیں باندھتا ہوں مگر ٹائی پن جیب سے لگا کر رکھتا ہوں ہمیشہ۔۔
پلاسٹک کے خوبصورت سےٹرانسپیرنٹ باکس میں پیسٹری سڑ چکی ہے۔دونوں کو ابکائی آگئ ہے ناک پر ہاتھ رکھتی پیچھے ہوئیں
ربیعہ : میں نے تمہیں تمہارے کہنے پر تحفہ دیا تھا۔
جہانزیب: تم۔۔ اف سن کے اچھا لگ رہا ہے تمہارے منہ سے۔ اچھی بات ہے اب ہم میں یوں اجنبیوں کی طرح آپ جناب والا تعلق تو رہا نہیں ہے۔
ربیعہ: تم نے کہہ دیا جو کہنا تھا اب چلے جائو یہاں سے۔
جہانزیب: ابھی کہاں دل کی بات کہہ پایا۔۔ ربیعہ یہ پین یہ چاکس یہ تمہارا ڈسپوز ایبل گلاس تم نے مجھے آج تک جو کچھ بھئ دیا ہے میں اسے پھینکنے کی ہمت نہیں کرسکا تو سوچو تمہیں زندگی سے نکلتا دیکھ کر مجھ پر کیا بیت رہی ہوگی۔ ؟ میری جان نکل رہی ہےربیعہ۔ میں کوئی ایسا ویسا انسان تو نہیں ہوں تم ایک بار مجھ پر اعتبار تو کرو ایک بار مجھے اپنا
سونیا : دور رہ کر بات کرو۔
وہ بولتے بولتے جزباتی ہو کر انکے قریب چلا آیا ربیعہ کےگال پر ہاتھ رکھنا چاہا تو سونیا نے جھٹک  دیا۔ جہانزیب نے بنا لحاظ تھپڑ ماردیا وہ دور جا گری ربیعہ تڑپ کر اسکی جانب بڑھی جہانزیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر جانے نہ دیا
ربیعہ: نہیں ۔ سونیا۔ دور ہٹو تم اس سے
جہانزیب: مجھے اس میں کوئی دلچسپی ہے بھی نہیں۔ 
سونیا: دور ہٹو تم ربیعہ سے مین تمہارا سر پھاڑ دوں گی
جہانزیب : تمہارا گلا ہی کاٹ دیتا ہوں میں۔ ہمیں بات ہی نہیں کرنے دے رہی ہو تم
سونیا : ربیعہ
 
ربیعہ : نن نہیں پلیز اسے مت کہو کچھ۔ پلیز۔میں سن رہی ہوں۔
 
 
جہانزیب : اب تم آرام سے پڑی رہو سونیا ہمیں تنگ مت کرنا ہم اہم بات کررہے ہیں۔
 
جہانزیب نے غرا کر کہا اور سونیا کو بازو سے کھینچ کر اسکی گردن پر چھری رکھی ربیعہ نے ہاتھ جوڑ دیئے۔جاہنزیب نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سونیا کو اس بار سونیا کے دوبارہ ہاتھ باندھے اور اسے اپنے پاس بٹھا لیا اس بار اسکو دھکا دے کر زمین پر لٹا دیا۔ ربیعہ چپ سی ہوگئی وہ اطمینان سے اب سونیا کی گردن پر چھری رکھے ہے
ربیعہ : میں نے تمہاری ساری بات سن لی ہے اب پلیز تم چلے جائو یہاں سے۔
جہانزیب: تم کہو تو دنیا سے چلا جائوں پتہ  ہے ربیعہ تمہارےلیئے میں دنیا کا سب سے اچھا انسان بن جانا چاہتا ہوں
ربیعہ : تم ایسا کیوں کر رہے ہو
جہانزیب: میں تمہارے لیئے خود کوبدل سکتا ہوں ربیعہ  ایک موقع دو مجھے میں مانتا ہوں
ربیعہ : میں نے تمہاری ساری بات سن لی ہے اب پلیز تم چلے جائو یہاں سے۔
جہانزیب: تم کہو تو دنیا سے چلا جائوں پتہ  ہے ربیعہ تمہارےلیئے میں دنیا کا سب سے اچھا انسان بن جانا چاہتا ہوں
ربیعہ : تم ایسا کیوں کر رہے ہو
جہانزیب: میں تمہارے لیئے خود کوبدل سکتا ہوں ربیعہ  ایک موقع دو مجھے میں مانتا ہوں
 
میں بچپن سے اتنا اچھا لڑکا نہیں تھا کافی شرارتی  تھا۔سب کو بہت تنگ کرتا تھا کلاس کا سب سے لمبا لڑکا ہوتا تھا۔ اور میری کلاس میں ایک بچہ ہوتا تھا بالکل مجھ سے مختلف سب سے چھوٹے قد کا سیاہ رنگت والا بچہ








 
ربیعہ بے چارگی سے سونیا کو دیکھتی ہے اسکی آنکھوں میں آنسو ہیں وہ کانپ رہی ہے

پانچواں منظر۔۔

کلاس روم کا منظر ہے چندپانچویں جماعت کے بچے کلاس میں شور و غل مچاتے پھر رہے ہیں سب بچے اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہیں کلاس میں سب سے پیچھے ایک کالا سیاہ چھوٹے سے قد کا بچہ سب کو بٹر بٹر دیکھ رہا ہے۔ پھر بیگ سے اپنا لنچ باکس نکالتا ہے نوڈلز ہیں اسکے لنچ باکس میں ۔ ایک بچے نے بیگ سے لنچ باکس نکالا مگر شائد بودے گیا ہے سو برا  سا منہ بنایا اور دوسرے بچوں کو اس لنچ باکس سے تنگ کرنے لگاکلاس کا سب سے لمبا خوبصورت لڑکا اپنے دوستوں کے ساتھ گیند سے کھیلتےشغل لگاتے ہوئے دیکھتا ہے پھر اپنے دوست کو آنکھ مارتا اسکے پاس چلا آتا یے۔

بچہ : اوئے کالو یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو آئو ہمارے ساتھ کھیلو نا۔
 
کالو : نن نہیں مجھے نہیں کھیلنا۔
 

دوسرا بچہ: کیوں ابھی تک ٹانگ میں درد ہو رہا ہے ؟ جس پر بال لگی تھی۔
بچے نے لنچ باکس کھولا ہے اور چند بچے اسکے سر پر آن کھڑے ہوئے ہیں
پہلا بچہ :کیا کرتے ہو اسکو پہلے بھی چوٹ لگا دی تھی جبھی تو بے چارہ ہمارے ساتھ کھیلنے نہیں آتا۔کیوں کالو ناراض ہو نا  ہم سے؟
کالو : نن نہیں تو۔



تیسرا بچہ : تم ناراض ہو جبھی تو ہمارے ساتھ نہ کھیلتے ہو نا کھاتے ہو
کالو : نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں
لمبا لڑکا : پھر ہمارے ساتھ کھائو نا کیا لائے ہو تم؟
کالو: نوڈلز

بچے نے اسکی ٹانگ پر لات سی ماری۔ وہ تڑپ کر سہلانے لگا
لمبا لڑکا:چکھائو کیسے بنے ہیں۔
دوسرابچہ : ہمم مزے کا ہے۔۔
لمبا بچہ : سب کھا گئے تم سب اب یہ بے چارا کیا کھائے گا۔چلو اپنا لنچ باکس شئیر کرو کالو کے ساتھ
 
انہوں نے اسکا لنچ باکس چھین لیا۔اور سب مزے لے لے کر کھانے لگے۔
لمبے لڑکے نے آنکھ ماری تو دوسرا بچہ معصوم بن کر لنچ باکس نکال کر دکھانے لگا
کالو: یہ اچھا نہیں ہے سڑا ہوا ہے۔
لمبا بچہ: ہم اتنے پیار سے تمہیں اپنا لنچ باکس دے رہے ہیں تم کہہ رہے ہو سڑا ہوا ہے کھانا کتنی بری بات ہےکالو
دوسرا بچہ: دل توڑ دیا۔
کالو: نہیں یہ واقعی سڑا ہوا ہے میں نہیں کھا سکتا
لمبا بچہ : تم ہمیں دوست ہی نہیں سمجھتے ہمارا لنچ نہیں کھارہے ہم بھی تمہارا لنچ واپس کرتے ہیں ۔
دوسرے بچے : ہاں ہا ں ہم بھی تمہارے نوڈلز واپس کرتے ہیں
کالو : نن نہیں۔ میں کھا لیتا ہوں
 
لمبا بچہ : اوئے کالو تمہارے نوڈلز تھوڑے سے بچ گئے ہیں کیا کریں انکا ؟
دوسرا بچہ : کالو کے تو ابھی تک بال ہی نہیں آئے اسکے بال بنا دیتے ہیں
لمبا بچہ : ہاں یہ ٹھیک رہے گا کالو ریپنزل
 
دوسرا بچہ : ریپنزل ریپنزل
سب بچے الٹی کرنے کی ادااکاری کرنے لگے حلق میں انگلی ڈال کر کالو گھبرا کر لنچ باکس سے نیا نوالہ بنانے لگتا ہے
سب بچے اسے کھاتے دیکھنےلگتے ہیں اور منہ چھپا کر ہنستے ہیں کالو کو الٹی  آنے لگتئ ہے تو پانی کی بوتل منہ سے لگا لیتا ہے لمبا بچہ بچے ہوئے نوڈلز سب اسکے سر پر ڈال دیتے ہیں

چھٹا منظر

جہانزیب ماضی سے حال میں آیا ہے ربیعہ اور سونیا پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں جہانزیب مسکرایا۔

ویسے ہی سونیا پڑی ہوئی ہے ربیعہ دیوار سے لگی اسے حیرت اور خوف سے ملی جلی کیفیت میں دیکھ رہی ہے
جہانزیب : میرے بچپن کی بات سن کر کافی حیران لگتی ہو۔ بچپن معصوم سادہ ہوتا ہے اچھے برے کی سمجھ نہیں ہوتی ہے۔ مجھے اب احساس ہوتا ہے اس بچے کے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے۔ وہ تو کافی ڈر جاتا ہوگا۔ اسکا اتنی بے عزتی کے بعد دل کرتا ہوگا کہ کبھی اسکول واپس نہ آئے جہاں اسکا کوئی دوست کوئی ہمدرد نہیں۔
 
یقینا اس بچے کا بھی دل کرتا ہوگا وہ سب کے ساتھ کھیلے باتیں کریں مگر وہ جب جہاں میرے ساتھ کھیل میں شامل ہونے کی کوشش کرتا میں اسکو مارتا اسکا مزاق اڑاتا سب بچوں کو ڈراتا کہ اگر اس سے بات کی تو میں ناراض ہو جائوں گا میرے ڈر سے کوئی بچہ اسکے پاس پھٹکتا بھی نہ تھا وہ تنہارہ گیا تھا۔ وہ اکثر کلاس میں اکیلا بیٹھا روتا تھا پر مجھے اس پر ترس نہیں آتا تھا میں اسکا مزاق اڑاتا اس بچے اس بچے کا تو دل کرتا ہوگا نا اسکول کی چھت پر چڑھ کر نیچے کود جائے

جہانزیب: بہت برا لڑکا تھا نا میں
 
وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ۔ جزباتی انداز میں اضطراری حرکتیں کرتا وہ ہاتھوں کو ہلا ہلا کر صورتحال بیان کر رہا تھا۔چھت پر چڑھنے پر بازو اونچا کرکے ہوا میں بازو سے سیڑھیاں چڑھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ پہلے چڑھا پھر وہاں سے کودنے کا اشارہ کرتے ہوئے ایکدم سے منہ کے بل سامنے باقایدہ اچھل کر کودا اور زمین پر اوندھا لیٹ ہی گیا۔




ربیعہ اور سونیا بھونچکا سی اسے دئکھ رہی تھیں جو انکے سامنے اوندھا لیٹا ہوا تھا ایکدم سے سر اٹھا کر دیکھاپھر کہنی زمین پر ٹکا کر اپنے ہاتھ کی ٹیک لیکر تھوڑی ٹکائی اور آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے مسکرا کر دیکھنے لگا
ربیعہ : ہاں۔ میرا مطلب نن نہیں ۔۔ تم چھوٹے سے تھے بچے شرارت کرتےہیں
جہانزیب : یہ شرارت لگ رہی ہے( چلاتے ہوئے)
یہ بدتمیزئ تھی۔ اس بچے کا سکون سے پڑھنا محال کردیا تھا میں نے اتنا تنگ کیا تھا اسے شرارت کہتے ہیں؟ اس بچے نے اسکول کی چھت سے چھلانگ لگا دی تھی۔ اسکی ٹانگ ٹوٹ گئ تھی میری وجہ سے ۔ آج تک لڑکھڑا کر چلتا ہے وہ اور تم کہتی ہو شرارت تھئ؟
 
وہ اوندھا لیٹا ایکدم بھڑک اٹھا تھا ۔ ربیعہ اور سونیا بری طرح ڈر گئ تھیں۔۔
 
ویسے وہ بچہ ذیادہ جزباتی ہو گیا احمق ۔ شرارت ہی تو تھی۔ یہ مگر میں بڑے ہو کر بھی نہ بدلا۔
وقت کے ساتھ میں بڑا ہواتو اور ہینڈسم ہوتا گیا میرا قد بھی بہت اونچا گیا اور شکل و صورت تو پہلے ہی اچھی تھی ۔
مجھے ایک لڑکی پسند کرنے لگی۔  سچ بتائوں تو میں دل پھینک بھی تھا۔  ( آنکھ مارتے ہوئے)
 
وہ کف ڑا رہا تھا غصے سے۔ پھر ایکدم موڈ بدل لیا۔
ایکدم ٹھنڈا ہو کر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ رکھ کر بولا
 
اس لڑکی نے میرے بہت نخرے اٹھائے۔ مجھے مہنگے مہنگے تحفے دیتی تھی چار سال اس نے میرے ساتھ گزارے اور ایک دن بھی کینٹین کا بل میں نے نہیں دیا بے چاری بہت محبت کرتی تھی مجھ سے۔میں نے سختی سے کہہ رکھا تھا اسے کہ وہ میری گرل فرینڈ ہے اس بات کا یونیورسٹی میں کسی سے ذکر نہ کرے ورنہ میں دوسری لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ
کیسے کرتا۔
ربیعہ ۔۔۔۔
ربیعہ : ہ ہاں۔ 
جہانزیب : تم سوچ رہی ہوگی میں یہ سب تمہیں کیوں بتا رہا ہوں؟
ربیعہ : کک کیوں
جہانزئب : میں زندگی کی نئی شروعات تمہارے ساتھ سب سچ بتا کر کرنا چاہتا ہوں کل کو کوئی تمہیں میرے بارے میں الٹی سیدھی بات بتائے تو تم مجھ سے بدگمان نہ ہو۔ اور ہمیشہ مجھ پر بھروسہ کرو
 
سونیا : پ پھر کیا ہوا؟ میرا مطلب اس لڑکی کے ساتھ تم نے کیا کیا ؟
جہانزیب :اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے
 ایکدن فائنل سے کچھ پہلے وہ اپنی گاڑی پھولوں اور غباروں سے سجا کر لائی
 
وہ رینگتا ہوا ربیعہ کے پاس آنے لگا وہ ڈر کر پیچھے ہوئی سونیا نے اسکو اسکے پاس جاتے دیکھا تو گھبرا کر ٹوکا۔وہ گھورکر دیکھنے لگا پھر شرمندہ سے انداز میں بولا

ساتواں منظر

اس خوبصورت لڑکے کی آنکھوں پر پٹی رکھے اسے چلاتی ہوئی پارکنگ لاٹ تک لائی

جہانزیب : یہ یہ گاڑی دکھانے لائی ہو تم مجھے احمق ۔۔ دس دفعہ کی دیکھی ہوئی ہے۔
لڑکی : چابئ لو اور ڈگی کھولو
 
جہانزیب :کیوں بھئ؟پھر کوئی تحفہ لے آئی ہو میرے لیئے
گاڑی کھڑی ہے اور لڑکی  لڑکے کی آنکھوں پر پٹی باندھے اسے چلا کر لائی ہے ۔ گاڑی کے پاس لا کر اسکی آنکھوں سے پٹی ہٹائی۔
 
کیا بکواس ہے یہ؟ یہ سب کیا ہے ؟
لڑکی : میرے دل کی آواز میں سچے دل سے تم سے محبت کرنے لگی ہوں آئی لو یو متین
 
ڈگی کھولنے پر کئی غبارے جو سیٹ سے بندھے ڈگی میں بھرے تھے ایکدم باہر نکلے غباروں کے ساتھ ایک بینر بھی نکلا جس پر سرخ رنگ سے آئی لو یو لکھا تھا۔ ایک بڑا سا ٹیڈی بئیر باہر جھانکتے ہوئے ایک بڑا سا بوکے دکھانے لگا
جس پر کارڈ او رانگوٹھی کا کیس بھی چپکا تھا۔ول یو میری می؟
جہانزیب: دماغ خراب ہوگیا ہے کیا تمہارا؟ پاگل ہو گئ ہو کیا چار دن تم پر ترس کھا کر ذرا سی بات چیت کیا کرلی تم اپنی اوقات بھول گئیں ؟ کالی گٹھی گنجی لڑکی آئینہ تو دیکھ لیتیں ایسی بات کرنے سے پہلے۔ تم ہو کیا؟ اس قابل ہو کہ میرے جیسے خوبصورت لڑکے کے ساتھ برابر میں کھڑی بھی ہو سکتی ہو۔ اپنی اوقات میں رہنا سیکھو۔ ایڈیٹ نان سنس
سارا موڈ خراب کردیا
 
لڑکی : گڑگڑاتے ہوئے : میری بات تو سنو
جہانزیب : ہاتھ مت لگانا مجھے
اس نے طیش میں آکر منہ پر تھپڑ مار دیا

آٹھواں منظر

دونوں لڑکیاں اسے تاسف سے دیکھ رہی ہیں وہ یونہی اوندھا لیٹا ہوا ہے دونوں لڑکیاں  پسینے پسینے ہوئی وی ہیں  سونیا بھی اٹھ بیٹھی ہے اس نے اپنے ہاتھ کھول لیئے ہیں اور وہ ربیعہ کو اشارے کر رہی ہے

جہانزیب : میں نے بہت غلط حرکت کی اس دن۔ مجھے اس لڑکی پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے تھا اتنا گھٹیا میں کیسے ہو گیا
پوری یونیورسٹی میں اسکی کیا عزت رہ گئ ہوگی۔
کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی ہوگی۔ سب اسکو دیکھ کر مزاق اڑاتے ہوں گے۔ وہ روتی ہوگی اسکا دل چاہا ہوگا کہ وہ اپنی کلائی کی رگیں کاٹ لے


ربیعہ : نن نہیں ۔۔رک جائوایسا مت کرو متین
اس نے اپنا چہرہ بازوئوں میں چھپا لیا ہے۔چند لمحے یونہی پڑا رہا پھر ایکدم سے اٹھ بیٹھا۔او رہچکیاں لے
لے کر رو پڑا۔۔









بولتے بولتے اس نے ہاتھ میں پکڑی چھری اپنی کلائی پر رکھی ربیعہ اور سونیا کے منہ سے چیخ نکلی۔۔
جہانزیب نے ایک دم چونک کر اسے دیکھا:
کیا کک کیا کہا تم نے مجھے۔۔
ربیعہ : مم متین۔ یہی نام ہے نا تمہارا؟
جہانزیب : نن نہیں میں متین نہیں ہوں میں جہان جہانزیب ہوں ۔۔
 
وہ ایکدم پاگلوں کی طرح چلاتا اٹھ کھڑاہوا۔
ربیعہ او رسونیا بھی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں ۔۔
جہانزیب دونوں ہاتھوں میں سرتھامے ادھر ادھر ڈکراتا چلاتا پھر رہا تھا کہ اسکی نگاہ لائونج میں لگے آئینے پر پڑی۔
جہانزیب ہوں میں متین نہیں۔ جہانزیب جہان
 
گنجا سا سیاہ رنگت والا بد شکل سا چھوٹے قد کا بد صورت لڑکا کھڑا تھا۔
 
 
اسکی ساری زندگی لمحے میں آنکھوں میں گھوم گئ۔اسکول میں پڑھاتا بدصورت ٹیچر اسکی کارٹون نما بنی تصویر جس میں اسے مزیدبد صورت دکھایا گیا تھا اسکول کی چھت سے کودتا بچہ ، یونیورسٹی میں لڑکی کے ہاتھوں تھپڑ کھاتا لڑکا
منہ پر شادی سے انکار کرتی لڑکی ربیعہ
 
جہانزیب : آگے بڑھ کر آئینے پر ہاتھ رکھتا : میں میں تو متین ہوں۔
 
ربیعہ : مم متین آئیم سوری
جیانزیب : ربیعہ تم متین سے شادی کروگی؟

ربیعہ نفی میں ہچکچاتے ہوئے سر ہلاتے ہوئے۔ متین سر ایسے ہلاتا ہےجیسے سب سمجھ گیا ہے پھر طائرانہ نگاہ پورے فلیٹ پر بکھری چیزوں پر ڈالتا ہاتھ کے اشارے کرتا جیسے وہ یہ سب پھیلاوا کرنے پر شرمندہ ہے سر جھکاتا چلا جاتا ہے۔ اسکی ایک ٹانگ میں واضح لڑکھڑاہٹ ہے۔

ختم شد

URDU WEB TRAVEL NOVEL Salam Korea Episode 25

Salam Korea
by vaiza zaidi

New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.Salam Korea urdu web travel novel episode 25
Salam Korea urdu web travel novel episode 25


قسط 25
کوریا کے سب سے مہنگے برانڈ کے منگنی کے جوڑے دیکھتی گنگشن کو جون من کے سنگ منگنی کا لباس خریدنے میں نام کا بھی اشتیاق محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ ایک بے حد اکتا دینے والا دن تھا اسکے لیئے۔ انکی ڈیزائنر ہلکان ہو رہی تھی دونوں کیلئے رنگوں کا انتخاب کرنے میں۔ انگوری رنگ کی وہ میکسی جس کی آستینیں اور گلے دلکش کٹ ورک سے سجی تھی اس نے یونہی اٹھا کر منتخب کر لیا تھا۔ جون من سنجیدگی سے اسکی غیر دلچسپی دیکھ رہا تھا۔
میم یہ ہلکا آسمانی ذیادہ دیدہ زیب ہے اسی انداز میں مگر اس پر موتیوں اورپتھروں کا کام بھاری ہے۔
ہچکچاتے جھجکتے ہوئے انکی شادی کے انتظامات دیکھنے پر معمور لڑکی بولی تھی۔ ایسا کوئی بھی مشورہ دینے کا مطلب ہوتا تھا ان نک چڑھے پیسے والے لوگوں کی سب توپوں کا رخ اپنی جانب کرنا مگر وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔ جب بجٹ میں کسی قسم کی کوئی قدغن نہ تھی تو اگر کم خاندان کی ناک کٹ پھٹ جاتی اگر انکی ہونے والی بہو ایسے جوڑے کا انتخاب کر لیتی جو پچھلے سال کی بہار کا سب سے ذیادہ مشہور ڈیزائن تھا اور کم و بیش ہرخاص و عام شادی میں دلہنوں کا پہلا انتخاب رہا تھا۔
ٹھیک ہے وہی کردو۔
گنگشن نے بڑے آرام سے مان لیا۔کیرل چند لمحے تو بے یقینی سے دیکھتی رہ گئ۔
آپ اسکو زیب تن کرکے دیکھ لیں تاکہ ناپ وغیرہ کی کمی بیشی دور کروائی جا سکے۔
وہ آدھی جھک کر کہہ رہی تھی۔
اچھا۔ وہ بنا چوں چراں کیئے لباس اٹھا کر اندر کمرے میں بدلنے چل دی۔
جون من نے گہرے نیلے رنگ کے جو کم وبیش کالا ہی دکھائی دیتا تھاڈنر سوٹ کا انتخاب کیا تھا۔۔
گنگشن لباس بدل کر آئی تھی۔ وہ خود کو آئینے میں ہر انداز سے دیکھ رہا تھا کہ پشت سے اسکا عکس ابھرتا دیکھ کر چونک کے ایک جانب ہوا۔ یہ اسکو آئینہ دیکھنے کا موقع دینے کی نیت سے کیا گیا تھا۔
کیسا ہے۔؟ گنگشن کا انداز سادہ تھا
اچھا ہے۔ وہ گڑبڑا کر بولا۔
گنگشن نے سر ہلایا اور فورا کپڑے بدلنے مڑگئ۔۔۔جیولری جوتوں تک کا انتخاب اس نے فوری او رنپے تلے وقت کے اندر کیا تھا۔ خاموشی سے اکٹھے کھانا کھایا تھا۔ اسکے گھر ڈراپ کیا تو جھک کر سلام کرتی وہ شکریہ ادا کرتی اندر چلی گئ۔
تو آہبوجی نے ایک اور کامیاب بزنس ڈیل کر لی ہے۔
اسکو نظروں میں رکھتے ہوئے وہ بڑبڑایا تھا پھر گاڑی اسٹارٹ کر لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر داخلی دروازے پر اطلاعی گھنٹی بج رہی تھی۔ ہوپ بیڈ پر پیر پسارے لیٹی موبائل استعمال کررہی تھی اسکے برابر بیٹھئ
گوارا اپنے چہرے کو چھو چھو کر دیکھ رہی تھی۔ اسکے نقوش میں نمایاں فرق آچکا تھا۔ اسکے ہونٹوں کے گرد ٹیکے لگا کر پٹھے اکڑا دیئے گئے تھے۔ اب وہ بول رہی تھی تو تھوڑی اور بانچھوں کے گرد کا حصہ ہلنے کو تیار نہ تھا۔ پتلی تماشا میں وہ آسانی سے حصہ لے سکتی تھی ذیادہ محنت بھی نہ کرنی پڑتی۔
بیڈ سے نیچے کارپٹ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی اریزہ اپنے دھلے ہوئے سوکھے کپڑے تہہ کر رہی تھی اور احتیاط سے ڈھیر لگا رہی تھئ۔ اسے دیکھ کر تاسف سے ٹوکا
اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ کہتی تھی نا پڑو سرجری کے چکر میں پہلے بہتر شکل تھی تمہاری
اریزہ نے محاورتا نہیں حقیقتا اس محاورے کا انگریزی ترجمہ کیا تھا۔
چڑیاں کھیت پورا چاہ کر بھی نہیں کھا سکتیں۔
گوارا نے پہلا اعتراض یہی جڑا۔
اور ابھی تو کھیت کو پانی دیا گیا ہے فصل دیکھنا کتنی شاندار ہوگی جب کٹائی کا وقت آئے گا۔ وہ اتراکربولی۔
تب تک تم بدصورت قراردی جا چکی ہوگی۔۔۔
اریزہ تمہارا فون کانپے جا رہا ہے۔
ہوپ نے سائیڈ ٹیبل سے جھر جھر کی آواز نکالتے اسکے فون کو گھورا
خیر ہے نظر انداز کرو۔
اریزہ نے مسکرا کر کندھے اچکائے۔
یار گوارا میری جاب ڈھونڈو نا کچھ کرکے۔
اریزہ نے کہا تو گوارا نے سر پر ہاتھ مارا
اوئے ایک ڈھونڈی ہے نا۔ ایک بچوں کے سیریل کی تشہیر کرنی ہے مفت کھلانا ہے اسٹور میں ایک ہفتے کا اسٹال لگنا ہے ٹھہرو میں نے تصویر کھینچئ تھی اشتہار کی بھیجتی ہوں کاکائو آن کرو۔
گوارا نے موبائل ڈھونڈا تکیئے کے نیچے بیڈ سائیڈ پھر بیڈ کے نیچے جھانکا۔ ہوپ نے منہ بناتے ہوئے کروٹ لی تو کمر میں چبھا جھلا کر گوارا کے پاس پٹخا۔ گوارا نے اس موبائلی توہین پر کچھ کہنا چاہا مگر اریزہ نےآواز نکالنے بنا چمکارا پچکارا۔ چپ برداشت کرو۔۔وہ گھور کر۔رہ۔گئ۔
اطلاعی گھنٹی پھر بجی
تم دونوں کے کان بند ہیں کیا گھنٹی کی آواز نہیں آرہی۔
ہوپ چڑ کر بولی۔
مکین تم بھی ہو اس گھر کی جا کر دیکھ لو کون آیا ہے۔
گوارا فورا چڑی۔۔
مجھ سے ملنے آج تک نہ کوئی آیا ہے نا آئے گا۔ تم دونوں کے ہی ملنے والے آتے ہیں جا کردیکھو بھی تم دونوں ہی۔
ہوپ کے کہنے پر گوارا تنک کر بولی۔
جب ہمارے ملنے والے ہیں تو جتنی دیر باہر کھڑے گھنٹی بجاتے رہیں تمہیں کیا۔
اریزہ چوکنا ہو کر اٹھ بیٹھی۔ دونوں نے اب اسکے بعد ہاتھا پائی ہی شروع کرنی تھی۔ گھنٹئ پھر بجی۔ ہوپ نے کینہ توز نظروں سے گھورتے کان پر ٹونٹیاں چڑھا لیں۔
اسکا برتائو یقین کرو مجھے جتنئ آگ لگاتا کسی دن میں نے اپنے ساتھ اسکو بھئ جلا مارنا ہے۔
گوارا نے دانت کچکائے۔
اے ذیادہ دانت نہ کچکچائوسب فلر بہہ جائیں گے تمہارے یہ نہ ہو ہونٹ بھئ نیچے آن گرے جتنا پھولا ہوا ہے۔
اریزہ اسے چھیڑتی بیڈ سے کود کر اترتے باہر بھاگی تھی گوارا نے بنا لحاظ پاس پڑا تکیہ مارا تھاا سے جو اگر وہ اتنی پھرتی نہ دکھاتی تو یقینا کمرپر لگتا۔
وہ منہ چڑاتی ہنسی روکتی دروازہ کھولنے چلی آئی۔ حسب عادت بنا کیمرے میں دیکھے کھولا ۔۔ ایڈون فون کان سے لگائے اسے ہی کال ملائے تھا۔ اسکو دیکھ کر کال بند کرکے مسکرا کر بولا۔
اسلام و علیکم کیسی ہو۔
وہ اتنی حیران ہوئی کہ دیکھتی رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریلنگ سے بازو ٹکائے وہ دونوں ہاتھوں میں پیشانی ٹکائے دھیرے دھیرے انگلیوں سے اپنی کنپٹیاں مسل رہا تھا۔
اریزہ بھونچکا سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
اب تم ہی بتائو میں کیا غلط کہہ رہا ہوں۔
وہ اریزہ کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پا رہا تھا۔ دانستہ رخ موڑے تھا۔ اس نے یہی کہا تھا کہ ضروری بات کرنی ہے تو اریزہ اسے ٹیرس میں لے آئی تھی اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ضروری بات یہ ہوگئ۔ وہ حیرت کے مارے گنگ سی اسکی شکل دیکھے گئ۔
اس بچے کا ہمارے معاشرے میں کوئی مقام نہ ہوگا۔ ہم واپس جا کر سب کو کیا جواب دیں گے۔ مگر وہ کچھ سوچنا سمجھنا نہیں چاہتی۔ مجھے کہہ رہی ہے شادی کر لو یہاں۔ میں کر لوں تو گھر کیا بتائوں گا کہ کیوں اتنی عجلت میں شادی کر لی؟ میں سوچ نہیں سکتا تھا وہ اتنی حماقت دکھائے گی۔۔ اسکو ذرا اپنی عزت کا اپنے والدین کی عزت کا خیال نہیں ہے۔
تمہیں تھا اپنا یا اپنے والدین کی عزت کا خیال۔
وہ چٹخ کر بولی۔ ایڈون نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔ اسکا منہ بالکل سرخ ہوگیا تھا۔
جو بھی ہوا ہے اس میں تمہاری برابر کی ذمہ داری بنتی ہے۔ تم سارا قصور اسکے کھاتے میں ڈال کر بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔
میں نے کب انکار کیا ۔ہوئی ہے مجھ سے بھی غلطی۔ تو اس معاملے کا حل بھی تو میں ہی نکال رہا ہوں۔ اسے سمجھائو عقل سجھائو یہ بات اتنی سادہ اور آسان نہیں جتنا وہ سمجھ رہی ہے۔
اسکے انداز میں بے چارگی تھی۔
تم اسے قتل کرنے پر مجبور کر رہے ہو۔ اگر یہ بچہ۔ وہ رک سی گئ۔ جتنا بھی روشن خیال بن لے یہ موضوع ۔۔۔۔وہ ایڈون سے کیسے بات کر سکتئ تھی کھل کر۔
ابھی اتنا وقت نہیں گزرا ہے ۔ وہ اسکی ادھوری بات سمجھ کر بولا۔
تم چلو ذرا دیکھو اسکی حالت تم خود بھی یہی مشورہ دوگی اسے۔ اسکی طبیعت اسکا مزاج کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔
وہ رسان سے کہہ رہا تھا۔ اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ عبدالھادی سے ملنے آیا ہوا تھا۔ انکی بیگم کسی سے ملنے گئ ہوئی تھیں دونوں بچیاں گھر میں تھیں سو عبدالہادی انکا خیال رکھنے کو گھر میں ہی تھے۔ اسکو بچیوں کے پاس بٹھا کر خود کچن میں کھانا گرم کررہے تھے۔
اپنا حق نہ چھوڑو ابھی تم جزباتی ہوئے ہو مگر پیسہ اس دنیا کی اٹل حقیقت ہے۔ وہ گھر تمہارے والدین کے نام ہے تم اس کی وراثت کے حقدار ہو علی۔
وہ مجھے وراثت کا حق نہیں رہائش کی اجازت دے رہے ہیں۔
اس نےبلاکس سے ایک اونچی عمارت کھڑی کر دی تھی۔
دونوں بچیاں بلاکس سے اسکے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ بالترتیب چار اور آٹھ سال کی بچیاں خاصی تمیز دار تھیں۔ نقوش چپٹے تھے مگر ناک ماں کی طرح کھڑی کھڑی سی تھی۔عمارت کھڑی ہوئی تو اگلا کھیل اسکے سامنے تھا۔
جو بھی ہے۔ تم اپنا موجودہ اپارٹمنٹ کرایے پر دے سکتے ہو معقول آمدنی کا انتظام ہو جائے گا۔
وہ مشورہ دے رہے تھے۔۔ علی استہزائیہ ہنسی ہنس کر رہ گیا
آپس میں وراثتی لوٹ مار چل رہی ہے۔جو میرے باپ دادا نے اپنے بھائیوں سے چھینا اب انکے بھائی ان سے چھین رہے میں ان کا شریک بن کر اپنے گناہوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
۔اب اسے بچوں کا پزل جوڑنا تھا۔ دونوں تندہی سے لگی ہوئی تھیں۔
تم پھر بھئ بھائی کی شادی میں ضرور جانا۔وہ تاکید کر رہے تھے
حرام کھانا ہوگا وہاں شراب کا دور ہوگا غیر مسلموں کی قابل اعتراض محفل میں جائوں۔
وہ گنوا رہا تھابولتے بولتے ایکدم سے پیچھے ہوا اگر نہ ہوتا تو عین سر پر انکا پھینکا ہوا ربڑکا دستانہ پڑتا۔۔
ہزار بار سمجھایا ہے حالت جنگ میں نہ ہوں تو غیر مسلموں کی خوشی غمی میں شریک ہونے میں حرج نہیں ہمیں ان سے حسن سلوک سے پیش آنے کی ہدایت ہےتمہیں وہاں حرام کھانے شراب پینے انکی مشابہت اختیار کرنے کی اجازت نہیں پر تمہارے جانے سے اگر وہ خوش ہوتے ہیں تو تمہیں جانا چاہیئے۔ رسول ص کی بیٹی باپردہ ہونے کے باوجود یہودی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے گئ تھیں کیونکہ یہودی خود چل کر آیا تھا دعوت دینے۔
وہ فل آن لیکچر دینے کے موڈ میں تھے۔ علی ہنس دیا۔
کائونٹر پر کھڑے پیاز بھی اسی تیزی سے کاٹ رہے تھے جتنا تیزی سے اسے لیکچر سنا دیا تھا۔
وہ لوگ یہودی نہیں ہیں۔ بدھ متی ہیں۔ کسی آسمانی مزہب سے تعلق نہیں انکا۔
ان دونوں کی بحث میں بچیاں اسکی توجہ بٹتے دیکھ کر اسکا بازو ہلا کر متوجہ کرنے لگیں۔
تمہارا چچا ذاد ہے۔ تم اسکے کافی قریب تھے وہ اسی مان کے ساتھ بلاوا دینے آیا تھا تمہیں۔ تم بدلے ہو وہ نہیں۔
عبدالہادی رسان سے کہہ رہے تھے۔اسکی آنکھوں کے سامنے بچپن سے آج تک کی اسکی۔کئی یادیں تازہ ہو گئیں اکٹھے باسکٹ بال کھیلنا سائکلنگ کرنا اسکے امریکہ جانے تک ان دونوں کی دوستی مثالی ہوا کرتی تھی وہ حقیقتا اسکو بڑے بھائیوں والا پیار دیتا تھا۔۔
جواب دو؟ عبدالہادی کی جھلائی آواز پر وہ چونکا۔
دے؟ اسکے انجان بننے پر وہ گھور کر رہ گئے۔
میں پوچھ رہا ہوں تمہاری بات کروں میں آمنہ کی بھانجی سے؟
کیا بات کرنی ہے۔؟ وہ قطعی نہ سمجھا۔
شادی کیلئے ملوانا چاہ رہا ہوں بھئ ۔۔ وہ جھلائے
میں آپکو بتا چکا ہوں میں شادی نہیں کرنا چاہتا رچل کے بعد مجھے دنیا میں کسی لڑکی میں کوئی دلچسپی نہیں رہ گئ ہے۔
اس نے قدرے سخت انداز اپنایا۔ اور جان کے رخ بدل کر پزل جوڑنے میں جت گیا۔
دلچسپی پیدا ہو جائے گی۔ مریم سے ملو خوبصورت ہے پڑھی لکھی ہے۔ایک دو بار ملاقات کرو دلچسپی ہوجائے گی تمہیں بھی۔۔ وہ اسے منا لینا چاہتےتھے۔

آپکو کیا لگتا ہے میں اتنا سطحی لڑکا ہوں کہ دو ایک بار کسی لڑکی سے ملوں گا اور رچل کی جگہ کسی انجان لڑکی کو دے دوں گا۔
وہ بد لحاظی سے بولا تھا۔ وہ اسکے ضدی انداز پر مسکرا دیئے۔ اوپن کچن سے اپنے کام نپٹاتے وہ اسے دیکھتے گفتگو جاری رکھےتھے۔ لائونج میں بیٹھا علی خفا خفا سا دکھائی دیتا تھا۔
رچل کی جگہ کسی کو نہ دو کسی اور کیلئے دل میں خود بخود جگہ بن جائے گی۔ اور جس کو تمہاری زندگی میں آنا ہوگا وہ ایک دن میں یہ جگہ بنا لے گی ایک دن میں کئی بار مل کر یا کئی دن میں ایک بارمل کر بھی۔
انکی بات پر علی کا دل چاہا بد تمیزی سے جتا دے سب آپ جیسے نہیں ہوتے۔ زندہ بیوی بیٹی کے ہوتے ہوئے بھی نئی دنیا بسا لی او رمطمئن بھی رہے۔
علی کا مزاج بھانپ کر فی الحال انہوں نے اس بات کو یہیں ختم کردیا
یہ دیکھو بس چار پزل رہ گئے انکو صحیح لگادیں گے تو تصویر مکمل ہو جائے گی۔ مگر باقی پزل ہیں کہاں۔
آخری پزل کا ٹکڑا لگا کر بھی تصویر مکمل نہ تھی۔
یہیں ہوگا۔
دونوں بچیاں آگے پیچھے مڑ کر کھلونوں میں ہاتھ مارنے لگیں
علی میں ذرا دکان سے دودھ لے آئوں۔ وہ معزرت خواہانہ انداز میں کہتے ہوئے باہر جانے کو تیار کھڑے تھے
آپ بیٹھیں میں لے آتا ہوں۔ وہ فورا اٹھنے لگا۔
دونوں بچیوں کا منہ بن گیا۔
میری بچیوں کا موڈ خراب نہ کرو پزل حل کرو۔
انہوں نے شفقت بھرے انداز میں کہا تو وہ خجل سا ہوگیا۔
دے۔ بیٹھیئے۔
بڑی والی فاطمہ نے باقائدہ اسکا ہاتھ تھام کر واپس بٹھایا۔ سارا اٹھ کر اپنا گھوڑا گھسیٹ لائی۔۔
یہ دیکھیں میرا گھوڑا
وہ اتنے شوق سے دکھا رہی تھی اسے اشتیاق جتانا پڑا۔ ناچار واپس بیٹھ گیا۔ پزل بناتے وہ مکمل مگن تھا جب فاطمہ نے اچانک اسکا ہاتھ تھاما وہ چونک کر دیکھنے لگا وہ تھوڑی خوفزدہ سی اسکی پشت کی جانب اوپر سر اٹھا کر دیکھ رہی تھی۔ اس نے حیران ہو کر مڑ کر دیکھا تو چندی آنکھوں والی اس لڑکی کو اس نے کینہ توز نظروں سے گھورتا پایا۔
سارا بھی اپنے گھوڑے سے اتر اسکے کندھے سے آن لگی۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟
دونوں ہاتھ کمر پر رکھے وہ جرح کرنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
وہ بچیوں کا سر تھپکتا اٹھ کھڑا ہوا۔
میں یہاں اکثر آتا ہوں۔ آپ بیٹھیں آہجوشی باہر گئے ہیں آتے ہی ہوں گے۔
کیسے باپ ہیں انجان آدمی کے پاس بچیاں چھوڑ کر چلے گئے۔۔
اسکا انداز طنز بھرا تھا۔ وہ سلگ کر رہ گیا
میں انجان نہیں ہوں۔
باپ توپتہ مجھے انکا کون ہے تم کون ہو پھر کیا ان کی ماں ہو؟
وہ طنز سے ہنسی۔ وہ کوئی سخت سا جواب دینے لگا تھا کہ داخلی دروازے پر کھٹ پٹ سے توجہ بٹ گئ۔
کون آیا ہے علی ۔
عبدالہادی دروازے پر جوتے دیکھ کر پوچھتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ جی ہائے کو دیکھ کر بے ساختہ خوشی انکے چہرے پر پھیل گئ۔
تم کب آئیں ؟ کیسی ہو بیٹا۔ ؟ وہ فورا اسکے پاس آئے
ابھی آئی ہوں۔ اس کا انداز لیا دیا تھا۔ ناگواری تھوڑی کم تھی وہ اسی پر خوش ہوگئے
بیٹھو بہنوں کے پاس میں تمہارے لیئے کچھ کھانے کو لاتا ہوں ۔ وہ خوشی کا اظہار کرتے کچن کی جانب بڑھے۔
میں بیٹھنے نہیں آئی ہوں۔ مجھے اپنے کمرے سے کچھ لینا تھا۔ وہ بے نیازی سے کہتی ماسٹر بیڈ روم کے مقابل اپنے بیڈروم کی جانب بڑھ گئ۔ عبدالہادی کچھ کہتے کہتے رکے۔ جی ہائے کو دروازہ کھولتے ہی جھٹکا سا لگا تھا۔
گلابی بنک بیڈ گلابئ دیواریں اسٹفڈ ٹوائز سے سجا وہ کمرہ اب اسکا نہیں رہا تھا۔ عبد الہادی تیزئ سے اسکی۔جانب بڑھے۔ وہ صدمے کی سی حالت میں کھڑی بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔
بیٹا وہ جگہ کی کمی کے باعث بچیوں کا کمرہ الگ کرنا پڑا تمہاری چیزیں سب اسٹور میں الماری میں احتیاط سے رکھی
وہ لجاجت سے کہتے اسکا ہاتھ تھامنے لگے اس نے سختی سے جھٹک دیا۔ اور پلٹ کر بجائے اسٹور روم جانے کے سیدھی باہر نکلتی چلی گئ۔
عبدالہادی اسکے پیچھے لپکے۔ علی کو اپنی موجودگی یہاں کافی عجیب محسوس ہوئی تو اس نے بھی باہر کی راہ لی۔
چھوٹے سے کمپائونڈ کے آگے ٹیکسی سے اترتی عبایا میں ملبوس آمنہ عبدالہادی کو دیکھ کر وہ لمحہ بھر رکی ۔۔ عبایا کے باوجود بھی اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ انکے یہاں مزید ایک پھول کھلنے کی تیاری ہے۔ اس نے مڑ کر بھرپور شاکی نظر ان پر ڈالی تھی۔
عبدالہادی مجرم سا خود کو محسوس کرتے نگاہ چرا گئے۔ آمنہ نے کوریائی انداز میں جھکنے کی بجائے ذرا سا سر خم کرتے اسے سلام کیا تھا۔ جوابا وہ انکو مکمل نظر انداز کرتی انکی ہی چھوڑی ہوئی ٹیکسی میں بیٹھ گئ۔
آئو علی کیسے ہو بڑے دنوں کے بعد آئے۔
آمنہ خوش دلی سے اس سے مخاطب تھیں۔ وہ سٹپٹا کر عبد الہادی کو دیکھنے لگا جو چند قدم آگے بڑھ کر اس ٹیکسی پر حسرت بھری نگاہ جمائے کھڑے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ وہ میرے ساتھ رہنے کو تیار ہوتی ہے نا ماں کے پاس جاتی ہے.جب یہ گھر لیا تھا میں نے بڑے شوق سے اسکے لیئے یہ کمرہ سیٹ کیا تھا کچھ عرصہ رہی بھی میرے ساتھ فاطمہ سے پیار کرتی تھئ پھر سارا پیدا ہوئی تو جانے کیا ہوا کہ الگ رہنے کی ٹھان لی۔۔ میں اسکا کمرہ کسی صورت بھی بچیوں کو نہ دیتا مگر بچیاں بڑی ہو رہی ہیں اور آمنہ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی مجھے مجبورا کمرہ الگ کرنا پڑا۔یقین مانو ایک ایک چیز اسکی احتیاط سے اسٹور روم میں رکھی ہے۔ اور وہ آج بھی یہاں آکر رہنا چاہے تو میں بچیوں کا کمرہ خالی کردوں گا اسکے لیئے۔ پہلی اولاد ہے میری اسکا مقام ہی الگ ہوتا ہے دل میں۔ ہے نا۔
عبدالہادی دھیمے انداز میں خود کلامی کے سے انداز میں بات کر رہے تھے۔ دونوں بچیاں کمیونٹی پارک میں جھولوں کے پاس دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ وہ انہی پر نگاہ جمائے تھے۔علی نے خاموشی سے انکی بات کو سنا تھا اور جواب دینے سے احتراظ کیا تھا اسی طرح جیسے سوال بھی نہ کیا تھا کوئی۔
جب جی ہائے پیدا ہوئی تھی تو میں اور ہانا بہت خوش تھے۔ ہم نے ایک ایک چیز اسکی شوق سے دل سے خریدی تھی۔ ہانا کہتی تھی اسکی شکل مجھ سے ملتی ہے اور میں کہتا تھا ہانا کے بچپن کی ہوبہو تصویر ہے۔اب ہانا اسے دیکھ کر میری بات مان گئ ہوگی بالکل جی ہائے ہانا کی شکل ہے۔
انہوں نے اپنا پرس نکال کر بڑے اشتیاق سے تصویر پر ہاتھ پھیرا۔چار پانچ سال کی جی ہائے کو گود میں لیئے کھڑے ایک بازو ہانا کے کندھے پر رکھے وہ محبت سے ساتھ لگائے تھے۔ وہ تصویر پر انگوٹھا دھرے تھے جس سے تصویر آدھی چھپ سی گئ تھی اوپر سے تصویر ایک مکمل خوشحال چندی آنکھوں والے گھرانے کی تھی۔ علی نے ایک نظر دیکھا۔۔ انہوں نے انگوٹھا ہٹا دیا تھا۔ اب مکمل تصویر تھی مگر ایسی جیسے دو تصویروں کو اوپر نیچے فریم میں جوڑا گیا ہوا۔ اب جو تصویر تھی اس میں عبایا پہنے ایک عربی نقوش کی خاتون انکے برابر کھڑی تھی۔ ایک چند ماہ کی بچی گود میں لیئے خوش باش سی اور چند سال کی منہ بنا کر رونے کو تیار بچی کو گود میں لیئے خوش باش کھڑے اسی محبت سے اپنی دوسری بیوی کے کندھے پر بازو پھیلائے محبت سے ساتھ لگائے۔ اس نے چونک کر سر اٹھا کر انکی شکل دیکھی پھر کچھ کہتے کہتے رک کر رخ موڑ کر سامنے دیکھنے لگا۔
تم سوچ رہے ہو کہ میں دوغلا انسان ہوں ۔ دو خاندانوں سے جڑا ہوں پہلی بیوی بچی کی محبت کا دعوی کرنے والا کھوکھلا انسان جو اپنی دوسری بیوی بچوں کے ساتھ بھی خوش باش زندگی گزار رہا ہے۔
انکی بات پر وہ پلٹ کر انکی شکل دیکھنے لگا۔ اسکے چہرے کی حیرت غماز تھی کہ وہ حرف بہ حرف اسکی سوچ پڑھ گئے ہیں۔ وہ مسکرا دیئے۔
میں ہانا سے محبت کرتا تھا کرتا ہوں۔ میں نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ بھی اسلام قبول کر لے۔ جی ہائے بھی ۔ جی ہائے کر بھی لیتی مگر ہانا کو بالکل گوارا نہیں تھا اس نے خلع مانگ لئ تھی۔ میں روتا تھا راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعا مانگتا تھا کہ اسکا دل بدل جائے وہ بھی مسلمان ہو جائے۔ میرا گھر مجھے بہت عزیز تھا۔ایکدن سجدے میں روتے روتے ایکدم سے میرا دل ٹھہر سا گیا۔ یہی خواہش ہانا کی بھی تو ہوگی۔ تو کیا وہ۔۔۔
آپکو پھر محبت ہوگئ؟
وہ بات کاٹ کر بولا۔ عبدالہادی چپ ہوگئے۔
یہ سوال میں نے بھی کیا تھا عالم دین سے جب ہانا سے طلاق کے بعد میں اس گھر میں اکیلا تنہا رہا ۔ بہت سوچا زندگی میں اب میرے لیئے کوئی خوشی باقی نہ رہی ہے۔ اب میں کبھی خوش نہ ہوپائوں گا۔ جانتے ہو جواب میں انہوں نے کیا کہا تھا مجھے۔
علی ہمہ تن گوش تھا۔مگر اسکی آنکھوں کی بے چینی ان سے مخفی نہ رہ سکی۔
شادی کرلو عبدالہادی۔ اللہ کی رضا کیلئے تم نے اپنا پچھلا تعلق ختم کیا ہے اللہ تمہیں نئے رشتوں سے خوشیاں فراہم کردےگا۔ وہ اپنے اوپر کسی کا احسان نہیں رکھتا۔ وہ احسان کرنے والوں میں سے ہے۔
سننے میں بہت اچھا ہے مگر کیا محبت بھی دوبارہ ہوتی ہے۔
وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا نے اسے پورا روٹ لکھ کر دیا تھا ایک ایپ بھی انسٹال کروادی تھی جس سے وہ اپنے مطلوبہ مقام تک جانے کیلئے کب کونسی ٹرین کا انتخاب کرنا تھا یہ سب رہنمائی دی جاتی تھی۔ پھر بھی وہ الجھن بھرے انداز میں اسٹیشن پر کھڑی آتے جاتےلوگوں کو اس چار رویہ داخلی راستے سے گزرتے دیکھ رہی تھی۔ چپس یا ٹوکن بھی تھے پلاسٹک کے جو کرائے کی رقم کے بعد ملتے تھے انکو ڈالا جا سکتا تھا یا اسکینر سے کارڈ استعمال کیا جا سکتا اس کارڈ میں پیسے ڈلوا لیتی تھی گوارا۔اسکو بھی بنوا دیا تھا ۔۔۔ بس ایک راڈ تھا جو اسکے راستے کی دیوار بنا تھا۔
اس نے کارڈ چھوایا۔ عجیب ٹیں ٹیں کرکے رک گیا راڈ ہٹا ہی نہیں۔ اس نے دوسری بارکارڈ چھوایا۔ تیسری بار۔۔
اس وقت یہاں رش ہو رہا تھا۔ اسکے پیچھے قطار بننے لگی تھی۔ اسے خفت محسوس ہو رہی تھی۔ اسکے پیچھے کھڑی لڑکی نے آہش۔ چچ۔ اور ایک دو مزید بیزارکن آوازیں نکالیں جن کا یقینا ہنگل میں کوئی مطلب تو ہوتا ہوگا۔ پھر پلٹ کر دوسری رو کی جانب بڑھ گئ
ایک دن تو ساتھ چلی آتی۔ پہلا انٹرویو ہے میراکسی بھی جاب کیلئے ہنگل تک نہیں آتی مجھے۔
اسے گھبراہٹ کا دورہ بس پڑنے کو ہی تھا۔
وہ واپس پلٹی۔ اسکے پیچھے ایک چندی آنکھوں والا لڑکا کھڑا یقینا اسکے فارغ ہونے کے انتظار میں تھا۔
سوری۔ وہ کہتی فورا ہٹ گئ آگے سے۔
اس نے کارڈ چھوایا راڈ فوری طور پر ہٹ گیا۔ اریزہ آنکھیں پھاڑ کر اس مشین کے اس تعصب کو دیکھنے لگی۔
مس آپ کا کارڈ ختم ہو چکا ہے۔ آپ ٹکٹ لے سکتی ہیں۔
وہ چندی آنکھوں والا یقینا نیکی کے موڈ میں تھا۔ خالص امریکی لہجے میں انگریزی ۔ منہ پر کالا ماسک چڑھائے وہ تھا تو چندی آنکھوں والا ۔ اریزہ نے مڑ کر ادھر ادھر دیکھا۔ اسے ٹکٹ کہاں سے بنوائے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ گھبراہٹ اسکے چہرے سے ہویدا تھی ۔ چاروں طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ ایک آدمی تو چلتے چلتے اس سے ٹکراتا گزر گیا۔ اسکو زور کا جھٹکا لگا تھا۔ ٹکرانے والے نے محسوس بھئ نہ کیا موبائل پر جھکا آگے کسی اور سے بھی ٹکرایا ہوگا۔۔۔وہ متزبزب ہوئی واپسی کا ارادہ باندھ لے یا یہ کڑوا گھونٹ پی لے۔
اسے آگے جا کر جانے کیا خیال آیا تو مڑ کر دیکھنے لگا۔۔
وہ داخلی راستے میں بیچ میں رکی ادھر ادھر شائد ٹکٹ کائو ٹر تلاش رہی تھی۔۔ وہ مڑ کر اسکے پاس چلا آیا۔۔
ادھر۔ اس نے اشارے سے بتایا۔
گومو وویو۔۔ کائونٹرسامنے تھا۔۔ وہ۔ہی اندھی ہوئی پڑی تھی۔۔ یا فیصلہ نہ کرپائی تھی۔
شکریہ۔
اس نے فیصلہ لے لیا۔ ٹکٹ لے ہی لے۔ کوئی مرد وزن کی تشخیص نہ تھی نہ الگ الگ رو کا کھڑاگ اسکے آگے کھڑے لڑکے اور آدمی نے اپنی باری اسے دینے کی کوشش نہ کی۔ البتہ اپنا ٹکٹ بنواتے فورا جگہ خالی کرتے گئے۔ ترقی یافتہ ملک کے ترقی کی دوڑ میں بھاگتے دوڑتے مصروف لوگ۔۔۔ اسکی باری آگئ کارڈ ریچارج ہوا
میٹرو تک جانے کیلیئے داخلی راستے پر لوہے کی راڈ لگئ تھی۔۔ اس نے کارڈ چھوایا اس بار تو ٹیں کی آواز بھی نہ آئی۔ مگر راڈ بھی نہ ہٹا۔
کیا مصیبت ہے۔ وہ جھلانے ہی لگی تھی کہ ایک ہاتھ سامنے آگیا۔۔
اس نے چونک کر دیکھا وہی لڑکا مسکرا رہا تھا۔۔
اس نے جھجکتے کارڈا سکے ہاتھ پر رکھابتو اس نے اسکے ابھرے نقش کو مشین سے چھوادیا۔۔وہ اس بار کارڈ ہی الٹا رکھ رہی تھی۔
اسے خفت سئ محسوس ہوئی ۔ وہ اگر ذرا دھیان دیتی تو خود ہی یہ بات سمجھ آجاتئ۔ ٹن کی آواز سے کھل گیا تھا۔۔
وہ پار ہوئی تو علی بھی اسکے پیچھے پیچھے ہی آرہا۔۔
میرے خدا۔ اتنے لوگ۔۔ وہ ٹھٹک سی گئ۔۔ پورا اسٹیشن کسی مچھلی بازار کا نقشہ پیش کر رہا تھا اتنے لوگ۔
ٹرین آکر رکی۔ سب دوڑ کر چڑھے۔۔ ٹرین بھی اتنی ہی کھچا کھچ بھری تھی۔۔ وہ جھجک کر رک گئ۔۔علی چونکہ پیچھے تھا تو اس نے بھی اگلی ٹرین کا انتظار ہی بہتر سمجھا
دو منٹ بعد دوسری آئی وہ اس میں بھی سوار نہ ہو سکی۔۔علی لپک کر چڑھا۔ وہ اسکے پیچھے آرہی تھی وہیں رک گئ۔ علی کی یونہی نظر پڑی تو وہ وہیں پیچھے کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ بھی حیران ہوتا اتر آیا۔
بہت رش ہے۔۔ وہ جیسے صفائی پیش کرنے لگی۔۔
اگلی ٹرین بھی خالی نہیں ہوگی۔۔ علی نے جتایا
وہ ۔۔مجھے اتنے رش کی عادت نہیں۔۔ وہ کھسیا گئ۔۔
انڈین ہو آپ۔۔ اس نے دلچسپی سے دیکھا۔۔بلیک جینز پر بلیک ہی لانگ ٹاپ اور بلیک اور گرے پرنٹد بڑا سا اسکارف گلے میں ڈالے وہ گول سے چہرے والی لڑکی انڈین کے حساب سے کافی صاف رنگ کی مالک تھی۔
نہیں۔۔ اس نے تنک کر فورا تردید کی۔۔
میں پاکستانئ ہوں۔۔
علی اسکے انداز پر ہنس دیا۔۔
میں امریکہ میں کافی عرصہ رہا ہوں کسی انڈین کو پاکستانئ سمجھ لو یا پاکستانی کو انڈین برا کیوں مان جاتے۔۔ اس نے لطیف پیرائے میں کہا اریزہ سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
پاکستان میں اتنا رش نہیں ہوتا۔۔ میٹرو میں؟۔
تیسری ٹرین کا دروازہ بند ہو رہا تھا انکے سامنے۔۔
اسے حیرانگی ہوئی
اریزہ چونکی۔۔
پاکستان میں میٹرو ٹرین ہی نہیں ہوتی۔۔ وہ بڑ بڑائی۔۔
لاہور میں اب بن جائے شائد۔۔
اسے اردو میں بڑبڑاتے وہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔ اسے وضاحت کرنی پڑی۔۔
ہوتا ہے رش۔۔ مگر عوامی آمدورفت کے زرائع میں خواتین اور حضرات کی نشستین علیحدہ ہوتی ہیں اس طرح تنگ جگہوں پر ٹکرائے بنا جہاں گزارا نہیں اسکی عادت نہیں۔۔
اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔۔
اگلی ٹرین آئی تو اسے بولا۔۔
میری پیروی کرو۔ وہ تیز قدم اٹھاتا راستہ بناتا رہا وہ اسکے پیچھے پیچھے چڑھ گی ٹرین میں کافی ہجوم تھا اسی نے آگے بڑھ کر کھڑکی کے پاس جگہ بنا کر اسے کھڑا کیا خود پیٹھ موڑ کر دیوار بن کر کھڑا ہو گیا۔ماسک لگائے اس لڑکے کی آنکھیں شہد رنگ کی تھیں۔ ۔اسکے بالوں کا رنگ بھی شہد رنگ ہی تھا۔ خلاف توقع اس لڑکے نے دوبارہ مڑ کر اسے نہ دیکھا۔
ایپ کے مطابق اب اگلے اسٹیشن پر اسے اترنا تھا۔ وہ اترنے کودروازے کی جانب بڑھی تو اس لمبی مخلوق نے ٹرین کے رکتے ہی اپنے لانبے بازوکا استعمال کرتے پنکھا چلا کر اسکیلئے راستہ بنا دیا تھا یہاں وہ آرام سے اتر گئ۔۔ پھر مڑ کر بولی۔۔
شکریہ۔۔ پھر خیال آیا۔۔ تھینک یو۔۔
ٹرین کے بند ہوتے شیشے کےدروازے سے وہ دیکھ رہا تھا۔
گومو وویو۔۔ اسکو اب خیال آیا تو آدھا جھک کر اسے ہنگل میں کہا۔۔ اسے آواز تو نہ پہنچی ہوگی مگر اس نےسر ہلا دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹوڈنٹ ویزا ۔۔
اس چندی آنکھوں والے نے سرتاپا اسے دیکھا تھا وہ سٹپٹا سی گئ۔
اسٹوڈنٹس کےتو ورکنگ آورز ہوتے ہیں۔ پورا ہفتہ آپ کام نہیں کرسکتیں۔ پھر ضمانت بھئ چاہیئے ہوگی ہمیں آپ کو ہم رکھ بھی لیں تو ہمیں ایک اور ملازم رکھنا پڑے گا۔ ہمیں کسی صورت وارے میں نہیں۔۔ سب سے بڑھ کرہمارا نشانہ بچے اور خواتین ہیں اس سیریل کو خریدنےکیلئے۔ آپ کیسے رضامند کر پائیں گی کورین عوام کو یہ سیریل خریدنے کیلئے جب آپکو ہنگل آتی ہی نہیں ہے۔؟
اس نے شستہ انگریزی میں تعارف کرایا اپنا تو اس چندی آنکھوں والے نے بدمزہ شکل بنائی تھی اسے تب ہی اندازہ ہوگیا تھاکہ یہاں دال نہیں گلنے والی۔
آپ اپنا سی وی چھوڑ جائیں اگرکوئی ویکنسی ہوئی ہمارے پاس تو ہم آپکو فون کر لیں گے۔
انہوں نے چھٹی بھی کردی اسکی۔ادھیڑ عمر اس چندی آنکھوں والے کی بے مروتی عروج پر تھی۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔
آجکا دن ہی برا ہے۔ وہ یہی سوچ سکی۔ بنا خدا حافظ کہے وہ خاصی چڑی ہوئی کمرے سے نکلی۔راہداری میں چند چندی آنکھوں والے سامنے سے آرہے تھے وہ ان پر نگاہ غلط ڈالے بنا تن فن کرتی باہر نکل گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا کو اسکی شکل دیکھتے ہی پتہ لگ گیا تھا کہ جاب نہیں ملی۔ دروازہ کھولتے ہی اسکےتیور دیکھتی کان دباتی ایک سائیڈ میں ہوگئ تھی۔ وہ حسب عادت اندر داخل ہوگئ تو خیال آیا پلٹی راہداری میں رکھے جوتے کے ریک پر سے جوتے بدلے پھر لائونج میں صوفے پر آکر ڈھیر ہوگئ۔
تم نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ یہاں جاب حاصل کرنے کیلئے ضمانت بھی چاہیئے ہوگی۔ اور کہاں کیا تعلیم حاصل کر رہی یہ بھی بتانا پڑے گا اورتو اور ہنگل نہیں آتی تو فٹے منہ کہہ کر کھڑے کھڑے نکال بھی دیا کریں گے۔
گوارا نے پانی کا گلاس لا کر دیا تو وہ تھامتے ہوئے پھٹ پڑی
ہاں تو یونیورسٹی کارڈ دکھانا تھا نا۔اور ضمانت میں ہوں نا تمہاری
گوارا ہنسی دباتئ اسکے برابر آن بیٹھی۔
وہ گھورتئ پانی کا گلاس ختم کرنے لگی۔ ایک سانس میں پی کر سامنے میز پر رکھا تو ایک سوبر سا گرے رنگ کا کارڈ توجہ کھینچ لے گیا اسکی۔
انگریزی میں دعوت نامہ تھا کسی منگنی کا۔
یہ کس کا ہے؟ پورا دعوت نامہ پڑھ کر اس نے گوارا سے پوچھا تھا۔
ہوپ کا ہوگا میرا تو نہیں ہے۔ گوارا نے کندھے اچکائے۔
وہ ابھی الٹ پلٹ کر دیکھ ہی رہی تھی کہ ہوپ نے جھپٹا سا مارا۔
یہ میرا کارڈ ہے۔ تم لوگوں کا کارڈ ہایون دے گا۔
وہ کہہ کر واپس مڑ چکی تھی۔
ہایون کیوں دے گا ؟ کس کا منگنی کا کارڈ ہے؟
گوارا پوچھ رہی تھی مگر جواب دینا گوارا نہ کیا ہوپ نے ۔ وہ کمرے میں گھس چکی تھی
گوارا گھور کے رہ گئ
میں اسکو کسی دن ٹیرس سے نیچے پھینک دوں گی دیکھنا۔
گوارا نے دانت کچکچائے۔ اریزہ بھونچکا سی ابھی بھی اپنے ہاتھ پھیلائے بیٹھی تھی جیسے کارڈ ابھی بھی اسکے ہاتھ میں ہو۔
میں تمہاری مدد کروں گی اس دن۔ اریزہ نے ہونٹ بھینچ کر ہاتھ نیچے کیئے۔۔۔۔
آج اسے بھی تپا دیا تھا ہوپ نے۔ گوارا نے حیرت سے اسکا جواب سنا پھر مسکراہٹ دباتی اسے کندھا مار۔کر بولی
اچھا میں آج بلائنڈ ڈیٹ پر جا رہی ہوں چلوگی؟
گوارا نے کہا تو وہ مڑ کر آنکھیں پھاڑ کر اسے گھورنے لگی۔
مزاق کر رہی ہو؟
اسے یقین نہ آیا
بالکل نہیں سو فیصد سنجیدہ ہوں۔ گوارا کھلکھلائی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گہرے نیلے رنگ کا وہ گھٹنوں تک کا سلیو لیس فراک تھا جس کے ساتھ اس نے بلیک ٹائٹس پہن لی تھیں۔ سلیو لیس میں اسے پردے کی فکر تو جو تھی سو تھی ٹھنڈ بھی لگنی تھی سو گوارا سے بلیک اوپن سوئیٹ بلائوز لے کر پہنا تب بھی مطمئن نہ ہوئی تو اپنا بلیک اسکارف بھی گلے میں ڈال لیا۔
کہو تو ایک کمبل بھی ساتھ رکھ لوں تمہارے لیئے۔
بال بناتی گوارا چڑ کر بولی تھی تو وہ معصومیت سے کہنے لگی
اوپن ائیر میں جانا ہے تو رکھ لو پلیز مجھے سردی لگ رہی ہے پہلے ہی۔
اسکی بات پر گوارا نے بنا لحاظ اپنے ہاتھ میں پکڑا برش اچھالا۔ سلیکون کا برش ٹھک سے اسکے ماتھے پر لگا تھا اسے چوٹ تو کیا لگنی تھی پرانی یاد تازہ ہوگئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسب معمول سنتھیا آئی ہوئی تھی اسکے بیڈ پر اوندھی لیٹی میگزین کے ورق پلٹتی ماڈلز پر تبصرے کر رہی تھی۔ وہ سنگھار میز کے سامنے بیٹھی بال بنا رہی تھئ۔
یار یہ دیکھو پکا کرسمس پر میں نے یہ ڈریس بنوانا ہے۔ ایسا ہی بنوانا ہے
وہ ایک خوبصورت سے پیچ رنگ کے فراک اور چوڑی دار پر ریجھ چکی تھی۔ وہیں سے میگزین اسے لہرا کر دکھانے لگی۔
لباس واقعی پیارا تھا ماڈل بھئ ۔ مگر ماڈل نے خاصا گہرا گلا بنا آستین کے ساتھ پہن رکھا تھا۔پیچھے پورا ڈوریوں کا کام تھا۔
یہ بنوالینا مگر ایسا نہیں۔ اس نے رسان سے کہتے اسکی توجہ قابل اعتراض لباس پر دلائی۔
کیوں کیا برائی ہے ۔ میں نے ایسا ہی بیک لیس بنانا ہے۔۔۔
وہ ٹھنک کر بولی پھر اسے چھیڑنے کو ایک آنکھ دبا کر کہا۔ فرنٹ لیس بھی ۔
ہاں اب یہی گل کھلانے رہ گئے۔خبردا رجو ایسا سوچا بھئ۔ خاک میں ملا دو میری ناک برسوں کی بنی بنائی عزت مٹی میں رول دے گی یہ لڑکی توبہ۔
اریزہ بھی اسی کی منہ بولی بہن تھی۔ پکا سا منہ بنا کر بین ڈالنے لگی۔سنتھیا نے منہ بنایا پھر چٹخارہ لیکر بولی
زندگئ میں کبھئ موقع ملا نا تو پکا میں نے بھی گل کھلانا ہے۔
میں تمہیں کوئی گل کھلانے ہی نہیں دوں گی۔
اریزہ نے تاک کے نشانہ لیا برش کا سیدھا اسکے سر پر بجا۔ وہ وہیں اپنا سر تھام کے دہری ہوگئ
ہائے مار ڈالا ظالم۔
وہ اتنی زور سے دہائی دے رہی تھی کہ وہ سب مستی بھول بھال بھاگ کر اسکے پاس بیڈ پر آگئ جو تڑپ کے اٹھی بیٹھی اب دونوں ہاتھوں میں سر تھامے ہائے ہائے کر رہی تھی۔
سوری سو سوری۔ زو رسے لگ گیا۔ اسکا سر تھامے وہ شرمندگی سے ڈوب مرنے کو تھی۔
نہیں گلاب کی پنکھڑی چھوائی ہے تم نے۔ سنتھیا ہاتھ نیچے کرکے گھورنے لگی۔ اسکی پیشانی سرخ ہونے لگی تھی۔
ایک معصوم سی سلیو لیس پہننے کی خواہش کا اظہار کیا تم نے سر ہی پھوڑ ڈالا میرا۔
اریزہ کا خفت سے سرخ چہرہ دیکھ کر اسے شرارت سوجھی
آئیم رئیلی ویری سوری یار۔ وہ آگے بڑھ کر اسکا سر سہلانا چاہ رہی تھی مگر سنتھیا نے دور کردیا
رہنے دو۔
زخم دے کر سہلانا دوستوں کی ہے ادا ٹھہری ۔۔ ہمیں عدو ہی بھاتے ہیں ایسے چارہ گر سے۔۔
وہ لہک لہک کر شعر پڑھ رہی تھی جو شائد کہا بھی موصوفہ نے ابھی ابھی خود ہی تھا۔ اسکے وزن سے اریزہ نے اندازہ لگایا تھا۔
برش کہاں گیا میرا۔ اریزہ نے ادھر ادھر برش کی تلاش میں ہاتھ مارا
ہاں برش سنبھال لو میرا سر گیا بھاڑ میں
اسکی طوطا چشمی پر سنتھئا نے آہ بھری۔ برش اسکے پہلو میں ہی پڑا تھا۔ اریزہ نے جھپٹا اور اچھی خاصی زور سے اپنی پیشانی پر دے مارا۔ سنتھیا کی آنکھیں حیرت سے پھیل سی گئیں۔ اریزہ دوسری بار برش اپنے سر پر مارنے ہی والی تھی کہ اس نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر برش لیکر ایک طرف پھینکا۔پھر غصے سے بولی
پاگل ہوگئ ہو یہ کیا حرکت ہے؟
میری وجہ سے گومڑا بن گیا ہے تمہارے۔۔ اریزہ نے تاسف سے اسکی پیشانی دیکھی۔
تو تم میری وجہ سے اپنے سر میں بھئ گومڑا ڈال لوگی؟ سنتھیا چڑی
ایک تو مجھے مار کر زخمئ کیا اوپر سے اب خود کو تکلیف پہنچا کر مجھے ہی گلٹی کرارہی ہو۔
وہ بھنا رہی تھی اریزہ ہنس پڑی
خیر وہ پٹائی تو تم ڈیزرو کرتی تھیں۔ گل جو کھلانے جا رہی تھیں۔ اریزہ کا انداز شرارت بھرا تھا۔
میں تمہارے ہوتے گل کھلا ہی نہیں پائوں گی۔ سنتھیا کو دکھ ہوا۔
میں گل کھلانے ہی نہیں دوں گی تمہیں۔ اریزہ نے مزے سے کہا
پھر بھی کھلایا تو؟ ۔۔۔سنتھیا کو اس بحث میں مزا آرہا تھا اریزہ سوچ میں پڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا زور کا لگ گیا؟ ۔۔۔ پر یہ تو سیلیکون کا ہے۔۔
گوارا اسکا رنگ اڑتا دیکھ کر گھبرا سی گئی زمین سے اٹھا کر برش اپنی پیشانی پر مار کر دیکھا اریزہ اسکی بات پر اپنی سوچ سے چونکی اسے اپنے ماتھے پر برش مار کر چیک کرنے دیکھا تو ہنسی ہی آگئ۔ اسے ہنستا دیکھ کر گوارا کی تشویش دور ہوئی
کیا ہوا تھا تمہیں؟ وہی میں کہوں سیلکون برش سے چوٹ کیسے لگ گئ تمہیں۔ ؟ کیا سوچ رہی تھیں؟
اس نے پکڑ لیا تھا اسے۔ اریزہ قصدا سر جھٹک کر بولی
کچھ نہیں ایسے ہی سنتھیا یاد آگئ تھی مجھے۔
ہوں۔گوارا نے ہنکارا بھرا۔
تم تو اسے یاد کر رہی ہو وہ تو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تمہیں یاد بھئ نہ کرتی ہوگی۔
وہ اب ہلکا پھلکا سا میک اپ کر رہی تھی۔
تمہیں جی ہائے یاد آتی ہے۔۔ اریزہ کو یونہی خیال گزرا۔
ہاں۔ اس کا انداز سادہ تھا۔
جی ہائے لوگوں کو زندگئ سے نکال باہر کرنے میں ماہر ہے۔ میری اسکی دو تین سال کی دوستی اسکو بھلانے میں وقت نہیں لگا ہوگا۔ خاصی خود غرض لڑکی ہے۔
وہ صاف گوئی سے بولی۔
تمہاری اسکی لڑائی ہوئی ہے کیا ؟ اس دن آئی تھی تو مجھ سے بھی سیدھی طرح بات نہ کی اور اتنے دنوں سے آئی بھی نہیں۔ اریزہ کو اب یاد آیا کہ کافی دن ہوچکے ہیں جی ہائے سے سرے سے ملاقات نہ ہوپائی تھی۔
کس بات پر لڑائی ہوئی ہے تم دونوں میں؟
گوارا کا بات ٹال دینے کا ارادہ تھا۔مگر اریزہ نے آگے بڑھ کر کندھا ہلا کر پوچھا تو اسے بتانا پڑا
کہہ رہی تھی کہ تم سے دوستی چھوڑ دوں۔ یا تم سے دوستی رکھوں یا اس سے۔
مگر اس نے ایسا کیوں کہا؟ اسے حیرت ہوئی ۔اسکی تو جی ہائے سے کبھی لڑائی بھی نہ ہوئی تھی۔
کیونکہ تم مسلمان ہو یہ اسے پتہ لگ گیا تھا۔ اور وہ ہر مسلمان سے نفرت کرتی ہے۔۔۔۔
گوارا بیڈ پر سے بیگ اٹھاتی جانے کو بالکل تیار کھڑی تھی۔
کیوں؟ اریزہ کی حیرت عروج پر تھی۔
لمبی کہانی ہے چلو راستے میں بتاتی ہوں۔
گوارا نے اسے چلنے کا اشارہ دیا تو وہ بھی کندھے پر بیگ درست کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بڑے سے نائیٹ کلب میں داخل ہوتے ہوئے اس نے خاصی بیزاری سے گوارا کو دیکھا جو اسکے تاثرات دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔
ہوپ اپنی دوسری جاب پر جا چکی ہے اکیلی فلیٹ میں تم نے ٹامک ٹوئیاں ہی مارنی تھیں یہاں تھوڑا اچھل کود کرلو انجوائے کرلو۔
گوارا نے اسکو منانے والے انداز میں کہا تھا۔ پھر اسکا ہاتھ تھام کر اندر لے آئی۔ اندر ڈانس فلور پر خوب رونق لگی تھی۔
ایڈون اور ہایون سامنے ہی بار کائونٹر کے قریب لگے اونچے اونچے اسٹولز کے قریب کھڑےباتیں کر رہے تھے۔ وہ سیدھا انکے پاس لے آئی تھی۔ ہایون ڈرنک ہی کر رہا تھاانہیں دیکھ کر واضح طور پر اسکے چہرے پر رونق نظر آئی تھی۔ گوارا آگے بڑھ کر اسکے گلے لگتے کان میں بولی
تمہارا کام پورا کیا جوابا مجھے کیا ملے گا؟
ہایون ہنس دیا تھا۔ ایڈون اریزہ سے حال احوال پوچھ رہا تھا۔
کونسا جوس لوگئ۔ ؟ ایڈون نے اریزہ سے پوچھا پھر اسکے لیئے پلٹ کرکائونٹر کی جانب بڑھ کر ویٹر کو آورڈر دینے لگا
تمہارا سرپرائز تمہارے پیچھے ہے۔
ہایون نے کہنے پر اس نے الجھن بھرے انداز میں پیچھے دیکھا تو یون بن کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس نے فورا منہ بنایا۔
بکواس۔۔ وہ منہ بنا کر جانے لگی تو یون بن اسکے سامنے آگیا
کب تک ناراض رہو گی۔ یون بن مسمسی سی شکل بنائے اسکا راستہ روکے کھڑا تھا
اگلے جنم تک۔ وہ اتنی آسانی سے ماننے کو تیار نہ تھی۔
مگر میں تب تک تمہیں ناراض نہیں رکھ سکتا۔
اس نے اسکو کھینچ کر اپنے قریب کیا اور ایک خوبصورت سی چین لہرائی۔ گوارا کی ناراضگی مدہم پڑنے لگی۔ جی کے نام کا لاکٹ تھا جس کا وایے وہ خود پہنے تھا۔ گوارا کے گلے میں لاکٹ ڈالا تو وہ خود بخود جی سے مقناطیسی کشش کے ذریعے چپک سا گیا۔ گوارا کی آنکھوں میں ستارے سے اتر آئے تھے۔ بس اتنی ہی ناراضگی رہی تھی دونوں میں۔
انہیں بے دھیانی سے دیکھتی اریزہ کے چہرے پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئ۔ سر جھٹک کر رخ موڑا تو بہت دلچسپی سے ہایون کو خود کو تکتا پایا۔ وہ جھینپ سی گئ۔
یہ دونوں ہائی اسکول سے ایسے ہی ہیں۔ ہر مہینے دو بار بریک اپ ہوتا ہے انکا اور اسی طرح یون بن تحفہ دے کر منا لیتا ہے۔
ہایون نے بتایا تو وہ سر ہلا گئ۔
یون بن اور گوارا ڈانس فلور کی جانب بڑھ گئے تھے۔
ایڈون نے جوس کا گلاس لا کر تھمایا تھا اسے۔ اس نے شکریہ کہہ کر گلاس تھام لیا۔
سنتھئا کیسی ہے۔ اریزہ نے پوچھا تو ایڈون شکوہ کناں انداز میں بولا
ایک کام کہا تھا تم سے۔
اریزہ شرمندہ سی ہوئی
کل جائوں گئ سنتھئا سے ملنے فکر نہ کرو۔
یار یہ پاکستان تھوڑی ہے ہزار لیگل کمپلیکیشنز ہیں اور۔ وہ دانستہ زرا سا رخ موڑ کر اور آواز دبا کر بولا تھا۔ دونوں اردو میں بات کرتے مگن ہو چکے تھے۔ ہایون چند لمحے تو دیکھتا رہا پھر پلٹ کر اپنے لیئے ڈرنک بنوانے لگا۔ہوپ نے گہری نگاہ ڈالی تھی اس پر۔
آننیانگ۔
آننیانگ۔۔ ہایون کا انداز گرمجوشی سے خالی تھا۔
تم اب مدہوش ہو جائوگے بہت پی رہے ہو۔
ہوپ نے جانے کیوں ٹوکا تھا۔
پیا مدہوش ہونے کیلئے جاتا ہے۔ وہ ہنس کر ٹال گیا تھا۔
تم سنائو کوئی مسلئہ تو نہیں ہو رہا انکےساتھ رہنے میں۔ گوارا تھوڑی۔ٹیڑھی کھیر ہے ۔۔
میں اریزہ کے بھی ساتھ رہتی ہوں۔ ہوپ نے جتایا۔
وہ اسکے لیئے شراب میں سوڈا ملا رہی تھی۔
اریزہ بہت سادہ سی لڑکی ہے اسکے ساتھ تمہاراآتشیں مزاج
بھئ پانی ہوجاتا ہوگا۔
اسکا مشروب بن چکا تھا۔ اس نے اب یہ گلاس اٹھا کر خود بھی اٹھ جانا تھا یہاں سے۔
پیٹرول بھی دیکھنے میں پانی جیسا ہی ہوتا ہے مگر آگ سے مل کر اسے ٹھنڈا کرنے کی بجائے بھڑکا دیتا ہے۔
وہ چندی آنکھوں والی لڑکی جانے کیوں زہر خند سی ہوئی تھی۔ ہایون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ویسے یہاں کیسے آگئیں یہ جگہ تمہارے لیئے نہیں ہے۔
ایڈون نے بات کرتے کرتے ادھر ادھر دیکھ کر ٹوک ہی دیا۔
اکیلی رہتی پھر اپارٹمنٹ میں ہوپ بھی جاب پر گئ ہوئی تھی گوارا نے یہاں آنا تھا۔ اسی لیئے۔
اسے صفائی دینے کی ضرورت تو نہ تھی مگر جانے کیوں اسے ان کلبوں وغیرہ میں گھٹن سی محسوس ہوتی تھی۔اس وقت بھی اسے اپنا آپ تیزی موسیقی پر بے ہنگم انداز میں ناچتے لوگوں میں ٹھیک ٹھاک مس فٹ محسوس ہو رہا تھا۔
آئو باہر چلتے ہیں۔ ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلا گئ۔ باہر نکل کر اس نے تازہ فضا میں گہری سانس لی تھی۔ اندر حبس سا تھا باہر کی نسبت یا شائد ماحول کا فرق اسے الجھن میں مبتلا کر رہا تھا اسے باہر آکر سکون سا محسوس ہوا۔
کھانا کھایا ہے تم نے؟
وہی اسکا ازلی خیال رکھنے والا انداز۔
نہیں۔۔ جواب حسب توقع تھا۔ وہ مسکرا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا نے یونہی ڈانس کرتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو ہایون ایک کونے میں اکیلا بیٹھا پی رہا تھا وہ یون بن کو بتاتی بھاگ کر اسکے پاس آئی تھی۔
تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟ اریزہ کہاں ہے؟
اسکی بات پر ہایون پھیکی سی ہنسی ہنس دیا
ایڈون اور اریزہ باہر چلے گئے ہیں۔
کیا ؟ وہ چیخ ہی تو پڑی۔
کیوں جانے دیا اسے؟ تم اب یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو جائو اسکے پیچھے۔
گوارا کو حیرت ہورہی تھی ہایون نے مزید ایک گھونٹ بھرا۔
تم مدہوش ہوگئے ہو ؟
اسکے سنٹ سے انداز پر گوارا کو شک ہوا۔
ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ایڈون نے جیسے قید تنہائی کی سزا دے ڈالی تھی۔ وہ سارا دن اکیلی کمرے میں پڑی رہتی ۔ایڈون اسکے لیئے باقاعدگی سے کھانا لے آتا تھا۔ مگر وہ یوں تنہارہتے اکیلے پڑے پڑے بے تحاشا ذہنی طور پر تھک سی گئ تھی۔
ابھی بھی پڑے پڑے اس نے وقت دیکھا تو رات کے نو بج رہے تھے۔ ایڈون اس وقت تک واپس آچکا ہوتا تھا۔ یہی سوچ کر وہ اٹھی۔ بن اور دودھ پڑا ہوا تھا مگر اسکا بالکل کھانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو لابی میں سے خنک ہوا کا جھونکا آیا تھا۔ وہ کچھ بحالی محسوس کر رہی تھی۔ دروازہ احتیاط سے لاک کرکے وہ ایڈون کے کمرے کے پاس آئی۔ کمرہ بند تھا بڑا سا تالہ منہ چڑا رہا تھا۔ وہ بیزار سی ہو کر باہر نکل آئی۔ موسم بدلتا جا رہا تھا۔ اب پہلے سی گرمی نہ تھی ۔ پھر بھی اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔
اپنے اندر اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے بھٹی سی جل رہی ہو۔ اسکو بھوک بھی لگ رہی تھی مگر پیسے بھی نہ تھے پاس۔ اس نے موبائل نکال کر ایڈون کو کال ملالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ریستوران جانا پہچانا لگ رہا ہے۔
اریزہ نے گردن گھما گھما کر دیکھا۔
تمہیں یاد نہیں جب وہ کورین لڑکا ہمیں مارنے دوڑا تھا تب ہم اسی ریستوران میں ہی تو آکر چھپے تھے۔
ایڈون نے کہا تو اسکے دماغ کی بتی جلی۔
آہاں۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا تو کچھ فاصلے پر وہ میز تھی جہاں وہ اس دن بیٹھےتھے۔ اس وقت وہاں ایک چندی آنکھوں والا جوڑا بیٹھا تھا۔۔
یہاں کا مالک مسلمان تھا نا۔ اسے یاد آیا
ہاں۔ مگر یہاں مینیو میں کھانا سب کورین ہے۔ ایڈون مینیو کھولے بیٹھا تھا۔اسکا فون بار بار تھر تھرا رہا تھا اس نے بیزار ہو کر سائلنٹ کیا اور پلٹ کر رکھ دیا۔ اب اسکرین روشن ہو بھی رہی تھی تو نظر نہیں آرہی تھی۔
بیف سوپ اسپائیسی چکن فرائئ اور ابلے ہوئے چاول ۔ مکمل کوریائی مینیو۔
ایڈون نے ہی آرڈر دیا تھا۔ ایک جانب اوپن کچن میں خانساماں کھانا پکاتے دکھائی دے رہے تھے۔
ہمیں حلال گوشت چاہیئے ہوگا۔
ایڈون نے تاکید کی تو ویٹر سر ہلاتا چلا گیا۔
تم نے کیا سوچا ہے آگے پڑھنے کا ؟ ایڈون نے برسبیل تذکرہ پوچھا وہ جواب دینے ہی لگی تھی کہ اچانک زور زور سے کسی کے بولنے کی آواز پر چونک گئ۔ ان سے کچھ فاصلے پر ایک یوٹوبر زور زور سے بولتا ویڈیو بنا رہا تھا۔ شائد فوڈ وی لاگر تھا۔ کھانے پر رواں تبصرہ کرتا وہ ایک ایک میز کے پاس جا کر ان سے رائے طلب کر رہا تھا۔
کیسا لگا آپکو یہاں کا حلال گوشت؟ وہ پوچھ رہا تھا۔
ذائقے میں کوئی فرق نہیں حلال گوشت کا ذائقہ بھی عام گوشت جیسا ہی ہوتا ہے۔
ایک لڑکی بتا رہی تھی
مجھے تو خالص کورین بیف کا ہی ذائقہ محسوس ہوا۔
ایک ادھیڑ عمر آدمی انٹرویو دے رہا تھا
اریزہ دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
انکی۔باتیں تو سمجھ نہیں آرہی تھی البتہ انکا انداز بڑا دلچسپ تھا۔پورے جملے میں اسے بس حلال ہی سمجھ آرہا تھا۔ وہ یو ٹیوبر ایک ایک میز کے پاس جا کر ان سے رائے طلب کر رہا تھا۔
یہ کیا پوچھ رہا ہے؟
وہ ادھر دیکھتی پوچھ ایڈون سے رہی تھی
یہ پوچھ رہا ہے حلال گوشت اور عام گوشت میں آپکو ذائقے میں کیا فرق محسوس ہوا؟
ایڈون نے ترجمہ کردیا۔ تبھی وہ لڑکا مڑا اب اسکا رخ انکی
جانب تھا۔۔
بہت فرق ہوتا ہوگا۔ اریزہ کو یقین تھا
یہ سب کہہ رہے ہیں کوئی فرق نہیں محسوس ہوا۔
ایڈون ہنسا۔ وہ لڑکا ان سے اگلی میز والوں کا انٹرویو لے رہا تھا۔
اوہ یہ اب ہمارے پاس آئے گا۔ وہ ایکدم سیدھی ہوئی ۔
ایڈون دونوں بازو میز پر رکھے اسی کو دیکھ رہا تھا
آنے دو ہم بھی رائے دے دیں گے کہ حلال گوشت کیسا ہوتا ہے ذائقے میں۔
ایڈون نہ چونکا نہ گڑبڑایا اطمینان سے بولا۔ اریزہ کی مسکراہٹ سمٹ سی گئ۔ لڑکی اپنے اوپر پڑتی نگاہ پہچان لیتی ہے۔ اسےایڈون کا یوں اس پر نظریں جمانا پسند نہیں آیا تھا۔
میں ہنگل سیکھ رہا ہوں اس وقت اکیڈمی جاتا ہوں آج چھٹی تھی میری۔ تم بھی سیکھ لو یہاں ہنگل کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ ایڈون بات بدل گیا تھا۔
کھانا سرو ہو نےلگا تھا وہ چپ ہی رہی۔ سبزیوں اور گوشت سے بھرا ہوا سوپ ساتھ سادے چاول ۔ اب ان دونوں کا میل ملاپ کیسے کرنا تھا وہ ایڈون کو دیکھنے لگی۔ایڈون سوپ کے پیالے میں چاول ڈال رہا تھا۔اس نے ڈرتے ڈرتے تقلید کی
سوپ میں چاول ڈال کر کھانا زندگی میں پہلی بار کھانے جا رہی تھی۔ اس نے چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔ مختلف مگر خوش ذائقہ تھا سوپ۔ گوشت تھوڑا بساندھ بھرا تھا۔ ہری گوبھی نارنجی گاجر شملہ مرچ ہری پیاز نے گھل مل کر کھانے کا ذائقہ اچھا کر ہی دیا تھا۔
نوالہ لیکر اس نے جیسے سکھ کی سانس لی۔ اسے پسند آگیا تھا اس نے برملا اظہار کیا
یہ تو واقعی مزے کا ہے۔
ایڈون مسکرایا
تم نہ بھی کہتی تو پتہ چل جاتا تمہارے تاثرات سے۔
وہ کہہ گیا۔ اریزہ جھینپ گئ۔
ایک تو جانے کونسے لوگ ہوتے جن کے چہرے کے تاثرات انکے قابو میں ہوتے ہیں ۔مجھ سے تو بالکل تاثرات نہیں چھپائے جاتے اپنے۔ وہ خفا تھی خود سے۔
خالص ہوتے ہیں وہ لوگ جنکو آپ چہرہ دیکھ کر پڑھ سکیں۔ یہ خوبی ہے تمہاری پاگل
ایڈون نےٹوکا اسکا انداز اتنا شفقت بھرا تھا جیسے دادا ابا تعریف کر رہے ہوں۔
جی سمجھ گی داداجان۔ وہ چڑی تھی ایڈون نے کھل کر ہنستے اسکی چڑ پر حظ اٹھایا تھا۔ گلاس وال سے سڑک پر کھڑے ہایون نے ان دونوں کو بہت غور سے دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون اسکی کال کاٹے گیا تو وہ خود ہی ہمت کرکے اندر آئی اپنے پرس سے کچھ پیسے نکالے اپر پہنا اور قریبی سیون الیون میں چلی آئی۔
گرمئ میں سوپ نوڈلز کھانا ایک کاردشوار لگا تھا مگر ریمن کے علاوہ وہ اورکیا کھائے پورے کنوینئسن اسٹور میں اسکی مٹھی میں دبے پیسوں کے حساب سے بس ریمن کھانے کی ہی اوقات تھی اسکی۔ اس نے بیزاری سے کپ اٹھایا ریپر اتار کر اس میں ڈسپنسر سے گرم پانی بھرا ساتھ چاپ اسٹکس تھیں چمچ اسے خریدنا پڑتا ۔ سو چاپ اسٹکس اٹھائے ایک کونے والی میز کی جانب بڑھ گئ۔
کم سن اپنی بھانجی کو گود میں لیئے کنوینیئس اسٹور آیا تھا۔
اسکوکپ آئیسکریم دلائی۔ بچی فورا کھانے کو مچلی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی بیٹھنے کی جگہ ہو تو اسے بٹھا دے کہ بیزار سی شکل بنائے ایک کونے میں میز کرسی پر بیٹھی سوپ کے اٹھتے دھوئیں پر نگاہ جمایے سنتھئا پر نظر پڑی تو اسکے پاس ہی چلا آیا
آننیانگ کیسی ہو؟
وہ اسکے سامنے آن بیٹھا۔ اپنی چھوٹی سی بھانجی کو اس نے سہولت سے میز پر بٹھا دیا تھا۔ بچی نے بلا تاخیر لڈ ہٹا کر آئیس کریم کھانا شروع کردی
ٹھیک ہوں۔تم کیسے۔ وہ اپنے کسی خیال سے چونکی تھی۔
سو ذرا سا بیزاری سے ہی جواب دیا تھا۔
کیا ہوا ہے تمہیں ؟ بیمار ہو؟
اسکی رنگت اتنی پیلی ہو رہی تھی کہ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا وہ اسکے پوچھنے پر سٹپٹا سی گئ
نہیں تو۔ کیوں۔
اسکی گھبراہٹ کو اس نے پوری طرح محسوس کیا تھا۔
کمزور لگ رہی ہو۔پھر ایڈون سے لڑائی ہوئی ہے؟
اس نے یونہی پوچھا تھا۔
نہیں سب ٹھیک ہے۔
وہ سر ہلا کر کپ نوڈلز پر جھک گئ۔چاپ اسٹکس سے کھولتے ہوئے بھاپ اڑاتے سوپ سے نوڈلز نکال کر کھانے کی کوشش میں اسکے ہونٹ بری طرح جلے تھے۔ وہ ایکدم بلبلا کر سیدھی ہوئی۔ بچی کی اسکی جانب پشت تھی وہ مڑکر اسے غور سے دیکھنے لگی۔ اپنی آئسکریم بھی اسکی جانب بڑھا دی۔ بمشکل سال بھر کی بچی تھی گوری چٹی دو پونیاں بنائے آئسکریم اسکے پورے منہ پر لگی تھی ۔ بہت شوق سے کھا رہی تھی پھر بھی آئسکریم اور چمچ اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔
ہم اسکے ساتھ عموما سوجو پیتے ہیں مگر تم لوگوں کو جانے شراب سے کیا الرجی ہے۔ خیر یہ لو سوڈا۔
کم سن اٹھ کر کین سوڈا لے آیا تھا لا کر اسکے سامنے رکھا۔ ساتھ ہی پلاسٹک کے کانٹے کا بھی پیکٹ تھا۔ خود اپنے لیئے اس نے سوجو لی تھی۔
سنتھیا نے فورا کین کھول کر منہ سے لگا لیا تھا۔
بچی اب کم سن کی جانب آئسکریم بڑھا رہی تھی۔
کم سن نے ایک چمچ لیکر اس بچی کو چوما تھا۔ سنتھیا کو ایک درد سا اپنے دل میں اٹھتا محسوس ہوا تھا۔
بچے تو ایسے ہی ہوتے ہیں راہ چلتے ملیں تو پیار آجائے مگرایڈون کے چہرے پر اس ذکر سے کتنی بیزاری اور اکتاہٹ آجاتی ہے۔ کیا صرف اسلیئے کہ وہ اس وقت اس بچے کے لیئے ذہنی طور پر تیار نہیں یا اسے سرے سے میرے اور اس بچے میں دلچسپی نہیں۔۔ نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ اچانک ہوا ہے یہ سب اسلییے وہ ایسے۔۔۔۔۔
بے خیالی میں کم سن پر نظر جمائے وہ اور ہی سوچوں میں گم تھی۔
کم سن کی اس پر نظر پڑی تو اسکی غائب دماغی محسوس کر لی۔ کانٹے کا ریپر کھول کر کانٹا اسکی جانب بڑھایا
یہ لو چاپ اسٹکس سے کھانے میں اور منہ جلالوگی۔
کم سن کے کہنے پر وہ چونک کے خجل سی ہوئی۔
شکریہ۔ اس نے کانٹا تھام لیا۔ کانٹے سے چھوٹے چھوٹے لقمے بناتی وہ تیزی سے کھا رہی تھی جیسے بہت بھوک لگی ہو۔ وہ یقینا اس وقت یا تو پریشان تھی یا بھوکی۔ یا دونوں کم سن کا اندازہ تھا۔ خیر دونوں ہی صورتوں میں وہ بالکل اسے منہ لگانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی یہ اندازہ ہوگیا تھا۔
کرم۔ کہہ کر کم سن اٹھنے لگا۔ بچی کو احتیاط سے گود میں اٹھا کر مڑا جب اسے پیچھے سے سنتھیا کی آواز سنائی دی۔
یہ بچی کون ہے۔
اس نے سر اٹھا کر دئکھا تو سامنے جگہ خالی تھی۔ کم سن جانے لگا تھا بتا کر یا بنا بتائے اسے اب احساس ہوا تھا۔ جبکہ وہ جاتے جاتے رک گیا۔
یہ میرے باپ کی بیوی کی بیٹی کی بیٹی ہے۔
اسے شرارت سوجھی تھی۔ مسکراہٹ دبا کر اسکی جانب مڑ کر سنجیدگی سے بولا
سنتھیا واقعی چکرا گئ۔ ذہن میں حساب لگا کر تھوڑا خفگی سے بولی
تمہاری بھانجی۔ بہن کی بیٹی ہوئی نا۔
سنتھیا کو اسکے اتنے دور کا رشتہ بتانے پر حیرت ہوئی تھی۔
کم سن ہنسا۔
میرے باپ کی بیوی میری ماں نہیں ہے اور بیٹی میرے باپ کی بیٹی نہیں ہے تو یہ میری بہن کی بیٹی تو کہیں سے نہ ہوئی نا۔
اس نے سمجھایا۔ سنتھیا اسے گھورتی رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھا پی کر اٹھنے ہی لگے تھے جب گوارا کا فون آیا تھا ۔
کہاں ہو؟ ہم گھر جانے لگے ہیں۔
وہ چھوٹتے ہی بولی تھی۔
میں تو پتہ نہیں۔ اس کو سمجھ نہ آیا کیا جگہ بتائے۔
گوارا لوگ گھر جانے لگے ہیں پوچھ رہی ہے میں کہاں ہوں۔
کیا بتائوں؟ وہ ایڈون سے پوچھ رہی تھی۔
گوارا کو بتا دو تمہیں میں گھر چھوڑ دوں گا۔
ایڈون نیپکن سے منہ پونچھتے اطمینان سے بولا۔
کہہ تو ایسے رہے ہو جیسے لینڈ کروزر کھڑی ہے باہر تمہاری۔
اریزہ نے ٹوک دیا۔ واپس لوکل ہی جانا تھا تو بلا وجہ ایڈون کو چکر لگوانے کا فائدہ
تم نے لینڈ کروزر میں ہی جانا ہے تو ٹھیک ہے ارینج کر لیتے ہیں۔
وہ کہاں ہاتھ آنے والا تھا۔ اریزہ اسے گھور کر رہ گئ
گوارا تم جائو میں آجائوں گی گھر۔ اس نے یہی کہہ دیا
اچھا سنو ہایون وہیں ہوگا اسے کہہ دیتی ہوں تمہیں لے آئے گا۔
گوارا نے یہی بتانا تھا اسے۔ اسکا جواب سنے بنا کال بند بھی کردی۔
ارے ۔۔ نہیں۔۔ رہنے دو۔ اریزہ کے کہنے تک کال ختم ہوچکی تھی۔
چلو چلیں۔ ایڈون اٹھ کھڑا ہوا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی گلی میں داخل ہونے تک
کم سن ساری کہانی سناتا آیا تھا۔ وہ اپنے بیزار مزاج کے برعکس اس وقت سب بھول بھال کے دلچسپی سے سنتی آئی تھی۔ بات ختم ہونے پر تاسف سے بولی
مجھے حیرت نہیں ہوئی۔ ہمارے یہاں بھی سوتیلے بھائیوں کے ایسے ہی خوفناک قصے مشہور ہیں۔جانے لوگ جائداد کے پیچھے اتنے تنگ دل کیوں ہو جاتے ہیں۔
انسان بنیادی طور پر خود غرض ہوتا ہے۔ شراکت بٹوارا اسکے پسند ہی نہیں بس لوگوں کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں کچھ کے نزدیک زمین جائداد اتنی اہم ہے تو کسی کے نزدیک لوگ ۔
کم سن رسان سے بولا ۔ اسکی بھانجی اسکے کندھے سے لگی اونگھ رہی تھی وہ قدم اٹھاتے اسے دھیرے دھیرے تھپک رہا تھا۔
اسکا پہلا تاثر اسے یاد تھا بے نیاز خود میں مگن لاپروا دکھائی دینے والے کم سن کا یہ بھی رخ تھا۔ سچ ہے انسان کے بارے میں درست اندازہ لگانا آسان نہیں۔
گلی کی اسٹریٹ لائیٹ اتنی کم تھی کہ عجیب پر اسرار سی لگ رہی تھی۔ جاتے وقت تو اسے احساس نہ ہوا مگر اس وقت یہ اندھیرا نظر انداز کرنے والا نہ تھا۔اس نے سوچ کے جھرجھری سی لی۔ اگر کم سن نہ ہوتا تو وہ اکیلی آرہی ہوتی یہاں۔۔
تمہاری سوتیلی والدہ کا گھر یہاں سے قریب ہے۔
اس کا گوشی وون آگیا تھا۔ کم سن کا گھر نہیں آیاتھا جبکہ وہ ساتھ یہی کہہ کر آیا تھا کہ اسکا گھر قریب ہے۔
یہاں سے تو نہیں کنوینئس اسٹور سے قریب تھا۔
وہ سادگی سے بولا۔
ہیں تو پھر تم یہاں اس راستے کیوں آگئے؟
وہ حیران ہو کر بولی۔
تمہیں چھوڑنے آیا ہوں ۔ کم سن کا جواب مختصر تھا۔ اسکی بھانجی سو چکی تھی۔
اب تم واپس جائو گے۔ ؟ اسکا انداز جرح کرنے والا تھا
یہاں سے بھی راستہ ہے آگے سے دوگلیوں بعد تھوڑا لمبا روٹ ہے ۔ کرم
وہ بچی کی وجہ سے ذرا سا سر جھک کر الوداعیہ کہتا جانے لگا۔
شکریہ۔ اس نے زور سے کہا۔
کم سن کے لیئے یہ غیر متوقع تھا سو پلٹ کر حیرت سے دیکھا ۔ وہ مسکرادی۔
اس نیم تاریک گلی میں اکیلے آنا واقعی مشکل ہوتا میرے لیئے۔ شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون اسے ٹیکسی میں خود چھوڑنے آیا تھا۔اسکی زحمت پر دل ہی دل میں ممنون ہوئی تھی۔ ٹیکسی کا کرایہ دینے کی کوشش بھی ایڈون نے ناکام کردی۔
ابھی مجھے بھی واپس جانا ہے اسی ٹیکسی میں۔ ایڈون کا بہانہ بوگس لہجہ اٹل تھا۔ وہ سر ہلاتی گاڑی سے اتر آئی۔ ٹیکسی آگے بڑھ گئ تو پیشانی مسلتی وہ کمپائونڈ کی جانب بڑھی۔
ہایون کی گاڑی ٹیکسی گزرنے کے بعد وہاں چند لمحے رکی تھی۔ تیز تیز قدم اٹھاتئ اریزہ اندر چلی گئ تو اس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ بس اسٹاپ سے پیدل آتی تھکے تھکے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوپ کے پاس سے گزرا تھا ہایون اور اسے دیکھا تک نہ تھا۔
اسکے قدم مزید سست ہوتے گئے۔
اریزہ پر اسے جی بھر کر رشک آیا تھا۔۔
کچھ ذیادہ ہی غیر اہم ہوں میں ۔۔ اس نے یاسیت سے سوچا۔
سست روی سے چلتی جب وہ اوپر پہنچی تب تک اریزہ کپڑے بدل کر کچن میں کھٹر پٹر کر رہی تھی گوارا بھی کچن کائونٹر کے پاس بیٹھی اسے کوئی قصہ سنا رہی تھی ۔ اسے دیکھ کر اریزہ نے خیر سگالی مسکراہٹ دیتے ہوئے پوچھا تھا۔
کافی پیوگی؟
نہیں ۔ یہ سونے کا وقت ہے اور تم دونوں بھی پی کر میرے سر پر بک بک کرنے کی بجائے اس وقت کمرے میں آنا جب خاموشی سے سونے کا ارادہ ہو۔
بے مروتی تو ختم تھی اس وقت تو بدلحاظی بھی عروج پر تھی۔ انہیں باتیں سناتی وہ انکا جواب سننے رکی نہ تھی۔دھاڑ سے دروازہ کھولتی کمرے کے اندر
اسکو اٹھا کر ٹیرس سے لٹکادوں؟
گوارا نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
تم لٹکانا میں اسکا ہاتھ تھام لوں گی۔ تو تم چھوڑ دینا اسے
اریزہ نے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے اسکی شکل دیکھی۔
کیوں؟ گوارا حیران ہوئی۔
کیونکہ پھر اسکا سارا وزن میرے ہاتھ میں ہوگا اور ایک جھٹکے سے میں اپنا ہاتھ چھڑا لوں گی۔
وہ دانت کچکچا کر بولی گوارا قہقہہ لگا کر ہنسی
سچی۔ یار پہلے تو اسکے ساتھ ہمدردی ہوئی تھی تھوڑی مجھے مگر یہ بد لحاظ بدتمیز لڑکی کسی اچھے جزبے کے قابل ہی نہیں ہے۔
اس نے دانت کچکچائے۔ کمرے کا کھلا دروازہ دھاڑ سے بند ہوا تھا۔
اسکی لن ترانی شاید نہیں یقینا اسکے کانوں تک پہنچ چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا اور وہ اسے مزید تنگ کرنے کی بجائے کافی پینے ٹیرس میں چلی آئی تھیں۔ خنک سی ہوا گرم گرم کافی سیول کی جگ مگ روشنی۔ طبیعت پر اچھا اثرڈال رہی تھیں۔
یار سیول میری جان ہے۔ یہاں کی بات الگ ہی ہے۔
گوارا نے ریلنگ پر کہنیاں ٹکا کر اس ہوا کو گہری سانس لیکر خود میں سمویا پھر کافی کا گھونٹ بھرنے لگی۔ کم و بیش اسی پوز میں کافی کا مگ تھامے اریزہ نے اسکو یاددلانا ضروری سمجھا
یہی بات آخری بار اپنے گائوں کے بارے میں کہی تھی تم نے۔
ہاں تو کیا ہوا۔ گوارا ڈھٹائی سے ہنسی۔۔
میری جان سیول بھی ہے اور میرا گائوں بھی۔ سچی اریزہ اب جب میں گائوں جائوں نا تم بھی چلنا میرے ساتھ ۔بہت خوبصورت جگہ ہے قسم سے۔۔ اپنا باغ دکھائوں گی۔ ہے تو ویسے ٹھیکےکا مگر ہم اپنے باپ کا ہی سمجھتے ہیں ۔ رضاکارانہ طور پر ایک دن کام کرتے ہیں اور دل بھر کر تازہ پھل توڑ کر کھاتے ہیں۔ نارنگیوں کی کاشت ہوتی ہے وہاں۔ سچی گائوں کی زندگی کا مزا ہی الگ ہے
گوارا خیالی طور پر اپنے گائوں میں پہنچ چکی تھی۔ چمکتی آنکھیں دبا دبا جوش۔
ضرور چلوں گئ ۔میں نے آج تک گائوں نہیں دیکھا۔
اس نے تو یونہی بات کی تھی مگر گوارا حیران رہ گئ
کیوں پاکستان میں گائوں نہیں؟
ہیں۔ پاکستانی کی ستر فیصد آبادی گائوں کی رہائشی ہے۔ مگر ہمارے کوئی عزیز وغیرہ بھی گائوں کے رہنے والے نہیں۔ سب شہروں میں بسے ہیں۔
اس نے وضاحت کی ۔ گوارا سر ہلا کر رہ گئ جغرافیہ میں اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
اریزہ نے اسے غور سے دیکھا۔
گائوں کی گوری کی اصطلاح پر ہرگز بھی گوارا نہیں اترتی تھی۔ کسی طور وہ سیول کی رہائشی شہری لڑکی سے کم نہ تھی۔اسے اپنے گائوں سے تعلق پر کوئی احساس کمتری نہ تھا۔۔ فخر اسکے لہجے سے چھلکتا تھا اپنے گائوں کا حوالہ دینا اسکے لیئے قابل فخر تھا ایک ہم لوگ ہیں ۔ کسی کا گائوں سے تعلق ہے اسے پینڈو کہتے اسکے لہجے کا تمسخر اڑاتے۔اسے افسوس ہوا ۔ ہم لوگ خاصی اخلاقی برائی کا شکار ہیں۔
اچھا ہاں یاد آیا۔ وہ کافی پیتے پیتے یاد آنے پر چونکی۔۔
وہ کارڈ گنگشن نونا کی منگنی کا تھا۔ ہوپ کو تو براہ راست انہوں نے کارڈ دیا ہایون نے میرے اور تمہارے لیئے دعوت نامہ دیا ۔ مجھے تو خیر جھونگے میں دیا۔ وہ بلاتا بھی نہ تو میں نے جانا تھا۔ وہ ہنسی۔
میں نے کہا بھی میں تمہیں بتا کر لے آئوں گی منگنی میں
خیر تمہارے لیئے بطور خاص کارڈ دیا اس نے اسے لگا تھا کارڈ نہ دیا تو تم جائوگئ نہیں۔ سو باقائدہ دعوت ہے آپکو آنسہ اریزہ ۔۔
وہ شرارت سے بول رہی تھی اریزہ کھسیا گئ۔ اسکا اندازہ درست تھا۔ چاہے وہ نونا کی منگنی کا ہی کارڈ کیوں نہ ہوتا وہ نہ جاتی یوں منہ اٹھا کے بنا دعوت۔۔
کب ہے؟ اریزہ نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑی
تاریخ تو نہیں پتہ مگراسی ہفتے ہے۔ شائد آخرمیں۔
پتہ ہے مجھے دل سے خوشی ہوئی ہے انکی شادی کا سن کے۔ انکے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔
کیا ہوا ہے انکے ساتھ؟ اریزہ کو حیرت ہوئئ
وہ تو خاصی خوش باش نظر آتی ہیں۔
ہاں ہیں تو وہ بہت مثبت شخصیت کی مالک۔ گوارا نے سر ہلایا۔
انہوں نے اپنے ساتھ بیتے ماضی کو سر پر سوار نہیں کر رکھا۔
دراصل یہ گنگشن نونا کی دوسری شادی ہو رہی ہے۔ انکی پہلی شادی جب ہم ہائی اسکول میں تھے تب ہوئی تھی۔
گوارا بتا رہی تھئ۔۔ اریزہ حیرت سے سن رہی تھی۔ ایسے بھی ہوتا ہے دنیا میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے قبل۔۔۔

ایڈون ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ وہ بیزار سی ہوکر واپس اپنے کمرے میں چلی آئی۔ وقت گزاری کیلئے موبائل آن کر لیا۔ نیٹ فلیکس اچھے وقتوں میں سبسکرائب کیا ہوا تھا
بیزاری سے اس پر ڈرامہ یا فلم ڈھونڈتی رہی مگر کسی میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے یونہی یو ٹیوب کھول لیا۔ موبائل پر لوکیشن آن تھی۔ سو سارے کوریائی مواد ہی نیوز فیڈ میں آرہے تھے۔
ایک تو یو ٹیوب کا ملک کیوں بدل گیا۔ ؟ پھر اپڈیٹ آئی ہوگی مصیبت۔
اس نے جھلا کرویڈیوز اوپر نیچے کیں لائیو ٹرینڈنگ پر ایک ویڈیو چل رہی تھی۔ جو اسکا انگوٹھا لگنے سے چل پڑی۔
وہ کوئی کورین یوٹیوبر تھا جو ایک ریستوران میں لوگوں سے کھانے پر رائے لے رہا تھا۔ ایک چندی آنکھوں والے کا انٹرویو لیکر وہ مڑا
یہاں بیٹھا ہے ایک غیر ملکی جوڑا جو مزے لیکر کورین آکس بلڈ سوپ کھا رہا ہے ۔۔

آئیے ان سے پوچھتے ہیں انکو حلال کھانا کیسا لگا ؟
مگر پہلے ہم ان سے اجازت لے لیں۔
کیمرے کا رخ زمین کی جانب تھا ۔
ہم لائیو جا رہے ہیں موکجا چینل کی۔جانب سے کیا آپ ہماری اس براہ راست ویڈیو کا حصہ بنیں گے؟
وہ بڑی تمیز سے انگریزی میں پوچھ رہا تھا۔
اوکے سیمز فائن ٹو می۔
مانوس آواز ویڈیو پر کانٹے کا بٹن دبا کر بند کرتے کرتے وہ رکی تھی۔ کیمرے کا رخ اب اس غیر ملکی جوڑے کی جانب کر دیا گیا تھا۔
وہ بے یقینئ سے دیکھتی اٹھ بیٹھئ۔
دونوں چہرے مانوس تھے۔ اور اکٹھے بھی تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے

Kesi lagi Apko aaj ki Salam Korea ki qist? Rate us below

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

Salam Korea Episode 24

Salam Korea
by vaiza zaidi

seoul korea based urdu web travel novel featuring seoul korea salam korea episode 24 by vaiza zaidi
Salam Korea Episode 24


قسط 24
اسکا فون بجے جا رہا تھا کافی دیر سے۔ گوارا باورچی خانے میں کھڑی کافی بنا رہی تھی جب مسلسل بجتی گھنٹی سے تنگ آکر کمرے میں آئئ۔۔ اریزہ بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھے تھی۔ نگاہیں اپنے سامنے اہتمام سے رکھے فون پر ہی تھیں۔جو بجے جا رہا تھا بجے جا رہا تھا۔
شاباش اعلی۔ سامنے فون رکھا ہے بج رہا ہے تم بیٹھی دیکھ رہی ہو۔ اٹھائو نا
وہ جھلائی
بجنے دو۔ نہیں اٹھانا۔
وہ منہ پھلا کر بولی۔
گوارا نے ایک نظر دیکھا اور آگے بڑھ کر اٹھا لیا۔اریزہ ایکدم الرٹ ہوئئ
خبردار مت اٹھانا۔۔
اس نے انگلی اٹھا کر دھمکی دینے والے انداز میں کہا۔
گوارا نے اسے گھور کر دیکھا۔
فون میں ایک سہولت یہ ہوتی ہے کہ فون کی بیل بند کردی جائے تاکہ فالتو شور نہ ہو دوسری سہولت ناپسندیدہ کال کو نظر انداز کرنے کیلئے اسے بلاک کرنے کی بھی۔
اس نے اسکا فون سائلنٹ کرکے نگاہوں کے سامنے لہرایا۔
جانتی ہوں۔ اس نے سر جھکالیا
مگر بلاک نہیں کر سکتی۔ بھائی ہے اور اٹھا نا بھی نہیں چاہتی کیونکہ اس خبیث بھائی نے رج کے زلیل کیا ہے مجھے۔
اسے شدید غصہ آیا ہوا تھا۔
گوارا ہنس پڑی۔
اچھا چلو آئو ہم مل کر ٹیرس میں گپیں مارتے ہوئے کافی پئیں۔۔۔
اس کے بہلانے والے انداز پر وہ منہ پھلاتی اٹھ گئ۔تبھی موبائل پھر بج اٹھا تھا۔ اس نے سرسری سی نگاہ ڈالی اس بار پاپا کی کال تھی سو لپک کر فون اٹھا لیا۔
اب کیوں اٹھا لیا فون ؟ گوارا نے آنکھیں پھاڑیں۔
پاپا ہیں۔
اس نے بتا کر فورا فون اٹھا لیا۔
اسلام و علیکم پاپا کیسے ہیں؟
اس کے جوش و خروش سے ظاہر تھا وہ کتنا یاد کر رہی تھی باپ کو۔ گوارا کے ساتھ کمرے سے نکل کر اسکا ارادہ لائونج میں بیٹھنے کا تھا وہیں مڑی مگر وہاں صوفے پر ہوپ دراز کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی سو پھر یو ٹرن لیتی ٹیرس میں آگئ۔
صارم جلا بھنا بول رہا تھا۔
پتہ تھا تمہارے ہاتھ میں فون ہوگا پھر بھی نہیں اٹھا رہی تھیں۔
حد ہوتی ہے اریزہ اتنا کمینہ پن۔۔۔
اس سے بھی ذیادہ۔ تمہارا فون نہیں اٹھا رہی تھی تو سمجھ نہیں آئی کہ تمہاری منحوس آواز بھی سننا نہیں چاہ رہی ڈھیٹ بن کے پاپا کے نمبر سے بھی فون ملا لیا۔
اسکی بات کاٹ کر وہ بنا لحاظ بولتی چلی گئ۔
تم ہوگئ منحوس لڑکی ایک تو سب تمہاری فکر میں پاگل ہو رہے تمہارے مزاج ہی۔۔
جوابا وہ بھنایا مگر پاپا نے اسکے ہاتھ سے فون لے لیا۔
اچھا بس میری بیٹئ کو کچھ نہ کہوجائو تم اپنی خالہ سے کہو چائے بنا کر بھیجیں میرے لیئے۔
اس کو پہلی فرصت میں چلتا کیا وہ انہیں شاکی نظروں سے دیکھتا پیر پٹختا چلا گیا۔
باپ کی حمایت اسے ڈھیر ساری خوشی دے گئ تھئ اتنی بڑی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آگئ تھی۔
کیسی ہو بیٹا۔۔ اطمینان سے اپنی اسٹڈی روم کی میز پر آک ربیٹھتے وہ فکرمندی سے پوچھ رہے تھے۔
میں ٹھیک ہوں پاپا۔۔ مس یو سو مچ۔
وہ اب ٹیرس میں ٹہل ٹہل کر وہ فون پر بات کررہی تھی۔ ہوا میں اچھی خاصی خنکی محسوس ہونے لگی تھئ۔
مس یو ٹو بیٹا۔ آجائو بیٹا واپس اگلے سمسٹر میں پھر آجانا۔۔
پاپا سے اس نے کچھ نہیں چھپایا تھا۔۔
واپس آنا مشکل ہو جائے گا پاپا۔ کیونکہ آئی مس یو ٹو۔۔
اسکی آواز بھرا گئ۔۔
تو کوئی بات نہیں یہیں پڑھ لینا بیٹا میں تمہاری ماں کو سمجھادوں گا جب تک میری بیٹی کی تعلیم مکمل نہیں ہوگی اسکی شادی وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ہوگا ۔۔
وہ اسے منا رہے تھے مان بھی جاتی اگر اسے ایک فیصد بھی اپنی ماں پر بھروسہ ہوتا
وہ بہت ضدی ہیں آپ انہیں کتنا روکیں گے۔۔۔ پتہ ہے پاپا یہاں میں نے جاب شروع کر دی ہے خود بس سے آتی ہوں جاتی ہوں۔ شاپنگ بھی کر لیتی ہوں اور اب مجھے راتوں کو ڈرائونے خواب بھی نہیں آتے۔ یہاں گھومتے پھرتے یہ ڈربھی نہیں لگتا کہ کہیں کوئی دھماکا ہوجائے گا۔
بیٹا جاب کی کیا ضرورت پڑ گئ۔ میں اور پیسے بھجوا دیتا ہوں ۔ وہ تڑپ ہی اٹھے۔۔
پاپا بات ضرورت کی نہیں ہے مجھے چوزہ بن کے زندگی نہیں گزارنی وہاں اکیلے گاڑی میں بھی نکلنے نہیں دیتی تھیں امی میں یہاں سکون سے ہوں پاپا۔ میرا بس چلے تو یہیں رہ جائوں کبھی واپس نہ آئوں۔۔
اسکے انداز میں جو بے چینی اور بےزاری تھی یقینا انکے غلط رویوں نے ہی پیدا کی تھی وہ اس وقت اسے جتنا بھی بلا لیں وہ آ بھی جائے تو بھئ یقینا دل سے ان سے خفا ہی رہے گی اور وہ اس سے اتنے شرمندہ تھے کہ اسکے دل سے ہلکا سا بھی ملال مٹ جانے تک اسکو چھیڑنا نہیں چاہتے تھے۔۔
ملنے تو آیا کروگی نا مجھ سے؟ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تواسے بھی احساس ہوا کیا فضول بکے جا رہی ہوں۔
میں آجاتی ہوں پاپا اگلے سمسٹر کیلئے اپلائی کردوں گی ۔۔
وہ فورا شرمندہ ہوئی
اسکے فورا پیترا بدلنے پر وہ ہنس دیئے۔
اچھا بس اتنئ فرمانبرداری کی ضرورت نہیں۔ یہ بتائو ہاسٹل کب چھوڑنا ہے؟ مائکل کا فون آیا تھا مجھے بتا رہا تھا رہائش الگ کرنی پڑے گی کہہ رہا تھا اریزہ اور سنتھیا اکٹھے رہیں تو اطمینان رہے گا ایڈون کوئی گھر یا اپارٹمنٹ کا انتظام کرے گا تو دونوں بہنیں مل کر رہیں۔ تم دونوں ایک ہی جگہ انتظام کرنا تاکہ مجھے بھی اطمینان رہے اور پیسوں کی فکر مت کرنا جتنے چاہیئے ہوں بتا دینا۔ میں بھجوا دوں گا۔ ٹھیک ہے۔۔ ۔۔۔۔ بولتے بولتے انہیں طویل خاموشی کا احساس ہوا
ہیلو اریزہ۔۔ وہ سمجھے کال۔کٹ گئ ہے
جی بابا۔۔ وہ چونکی۔
کیا ہوا بیٹا چپ کیوں ہو گئیں؟ سب ٹھیک ہے نا؟ کوئی مسلئہ تو نہیں۔ وہ حسب عادت پریشان ہو گئے۔
نہیں ۔ ٹھیک ہے میں ویسے انتظام کر چکی ہوں۔ میری ایک کورین دوست ہے اسکا اپارٹمنٹ ہے۔ کرایہ بھی مناسب ہے۔ سنتھیا کا مسلئہ نہیں ایڈون ہے اسکے ساتھ۔
اس نے لمحہ بھر ہی سوچا۔ جتنے مائکل انکل اور بابا کے تعلقات تھے کچھ بعید نہیں تھا وہ سر ہوجاتے جبکہ اب اسے سنتھیا کے ساتھ اپارٹمنٹ شئیر کرنا ناممکن لگ رہا تھا۔
بیٹا تو سنتھیا کو اپنے ساتھ ایڈجسٹ کر لو نا۔ مائکل کافی فکر مند تھا۔اسے سنتھیا کی فکر ہو رہی تھی۔ لا ابالی سی ہے اریزہ سمجھدار ہے اسکے ساتھ رہے گی تومجھے اطمینان رہے گا میں نے کہا میری یہی رائے اریزہ کے بارے میں ہے سنتھیا سمجھدار بچی ہے اریزہ کے ساتھ رہے گی تو مجھے اطمینان رہے گا۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں ہنس کر بتا رہے اریزہ کا منہ اتر گیا۔
بابا آپ نے انکو ایسے ہی کہہ دیا۔۔
اسے برا لگا تھا کم از کم اسکے بارے میں ایسا کسی اور کے سامنے نہیں کہنا چاہیئے تھا۔
بالکل نہیں۔ وہ مسکرا دیئے۔مزاق کر رہا تھا بیٹا۔
اسکو کیوں کہتا جبکہ مجھے پتہ ہے میری بیٹی بہت سمجھدار اور ذمہ دار ہے۔ اس پربھروسہ ہے مجھے جبھی تو اتنی دور بھیج دیا ۔ انکے لہجے میں فخر بول رہا تھا۔
واقعی پاپا آپ ایسا سمجھتے ہیں۔۔ وہ سنجیدہ سی ہوگئی۔۔
بالکل۔ سو فیصد۔ انکے انداز میں تیقن تھا۔
میری بیٹی ایک ذہین سمجھدار مضبوط شخصیت کی مالک لڑکی ہے۔ مجھے اس پر فخر ہے۔۔۔
انکا مضبوط لہجہ تھا۔ جانے وہ اس کو جتا رہے تھے یا سچ مچ ایسا سمجھتے تھے۔ وہ اندازہ نہ لگا پائی۔
اچھا خیر سنتھیا کو اپنے ساتھ رکھنا مائکل نے بہت تاکید کی ہے مجھے۔
انہیں خیال آیا تو پھر تاکید کر ڈالی۔
بابا سنتھیا شائد میرے ساتھ رہنے پر نہ مانے۔ وہ اب کافی بدل گئ ہے پھر اسکا خیال رکھنے کو ایڈون ہے نا۔ وہ اسکو کسی اچھی جگہ۔۔
اس سے مزید جھوٹ نہ بولا گیا۔ جوابا بابا چپ ہوگئے تھے۔ پھر چند لمحے توقف سے بولے۔
بیٹا ایڈون اسکا خیال رکھتا ہوگا مگر مائکل نے مجھے خاص تاکید کی ہے۔ وہ اسکا منگیتر ہے خاندان کا لڑکا سہی مگر رشتوں کی نزاکتیں ہوتی ہیں۔۔ اب اس نے مجھے خاص تاکید کی ہے کہ تم سنتھیا کے ساتھ رہو تو کوئی وجہ ہوگی نا۔
انکی بات پر اسکے ذہن میں پچھلے کئی مہینے کے واقعات گھوم سے گئے۔۔
تمہاری سہیلی ہے تم بچپن سے واقف ہو اس سے اسکے ساتھ رہنا آسان ہوگا تمہارے لیئے بھی۔ اپنی اس کورین سہیلی سے کہو نا اسکی بھی جگہ بنا لے اپنے گھر میں۔ پیسے کی فکر نہ کرنا بس بیٹا۔۔۔۔
ٹھیک ہے بابا۔ کہتی ہوں اسے۔
وہ مزید کیا بحث کرتی۔
اچھا جاب کہاں کی ہے؟ کیا کام ہے؟
انہیں خیال آیا۔۔ وہ سٹپٹا سی گئ۔
بس وہ۔۔ یہ۔ بابا وہ چھوٹی سی جاب ہے۔ ری۔۔ ریسسیپشن پر کھڑا ہونا ہے ایک چھوٹی سی کمپنی ہے۔
کچھ نہ کچھ سوجھ گیا۔
اچھا ۔۔ انکو پسند تو نہ آیا مگر قصدا ناگواری کا اظہار نہ کیا
چلو جب تک فارغ ہو کر لو پھر جیسے ہی پڑھائی شروع ہو چھوڑ دینا۔ ٹھیک ہے خود کو ہلکان کرنے کی ضرورت نہیں۔
انہیں اب اسکی فکر ہو رہی تھئ۔
ٹھیک ہے۔ بابا ۔۔ وہ مسکرا دی۔
اچھا چلو اپنا خیال رکھنا اور صارم سے خفا نہ ہوا کرو تم فون نہیں اٹھا رہی تھیں اتنا پریشان ہوا وا تھا۔ پیار کرتا ہے بھائی بس ایسے ہی چھیڑا کرتے ہیں انکی باتوں کو دل پر نہیں لگاتے۔
انہوں نے لگے ہاتھوں ہلکی پھلکی کلاس بھی لے لی
ٹھیک ہے بابا۔ اپنا خیال رکھیئے گا ۔۔ اس نے بھی بحث نہ کی۔
جی خدا حافظ۔۔۔
فون بند کرکے دانت کچکچا کر ٹہلنے لگی۔
کمینہ بابا نے ذکر تک نہیں کیا پلاٹ کا اس کو ذیادہ درد اٹھ رہے تھے۔ مجھے ایویں گلٹی کرا دیا۔ اب تو جھوٹ بھی بول دیا کہ۔جاب کر رہی ہوں۔ اب تو پیسے منگوانے سے بھی گئ۔
یہاں تو موسم۔۔ اس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔
بادل چھا رہے تھے۔ خنک سی چبھنے والی ہوا۔
یہاں تو گرمیاں بھئ سردیوں سے کم نہیں۔ ایک میں گدھی تھوڑا سا جغرافیہ ہی پڑھ آتی کیسا موسم ہوتا کوریا کا دو چار موٹے جوڑے لے آتئ سردیوں کے نہ سہی لان کی بجائے کاٹن کے ہی لے آتی۔
موبائل ہاتھ میں گھماتئ سست روی سے چکر کاٹ کے مڑی تو گوارا کافی کے مگ تھامے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
تم بول بول کے سوچتی ہو ؟
نہیں۔۔ وہ کھسیائئ۔ بس اپنی اردو کوہوا لگا رہی تھی مجھے لگ رہا انگریزی بول بول کے میرا منہ جمتا جا رہا ہے۔۔
اس نے باقائدہ اپنے گال تھپتھپا کر کہا تھا۔
تو کورین سیکھو نا۔
گوارا کا مشورہ وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
پھر مستقل خراش رہنے لگے گی گلے میں۔ دو تین تو سر نکلتے ہیں سیدھے گلے کے۔ ورنہ مفہوم ہی بدل جاتا ایک ہی لفظ کا۔ قدر کرو پاکستانیو اردو کیسی آرامدہ زبان ہے نہ گلے کی آوازیں الگ الگ نکالنے کی ضرورت نا منہ ٹیڑھا کرنے کی ۔۔
گوارا نےاس کی خاموشی سے اکتا کر خود ہی کوئی نئی بات شروع کردی۔ ہاں ا س بار یہ سب گفتگو اس نے ذہن میں ہی سوچئ بولنے کی غلطی نہ کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے خبر سو رہا تھا جب مسلسل بجتی گھنٹی کی آواز پر اسکی آنکھ کھلی۔ چند لمحے تو سمجھ بھی نہ آیا کہ کہاں ہے۔ پھر سستی سے سائیڈ ٹیبل کا لیمپ جلاتا اٹھا۔ شام کے آٹھ بج رہے تھے۔ وہ تقریبا چار گھنٹے سے سو رہا تھا۔ مکمل پرسکون نیند نے اچھا خاصا طبیعت کو بشاش کر دیا تھا۔ اپنے بازو کھینچتا وہ باہر آیا اپنے لائونج کی بتی جلائی بالوں میں ہاتھ پھیرتا لابی میں آیا دروازہ کھولا جی مکدر ہوگیا۔
کم من جون اسکا چچا ذاد بھائی کھڑا مسکرا رہا تھا۔
آنیانگ۔ اسکے چہرے کے تنے تاثرات سے حظ اٹھاتا وہ اسکی دعوت کا انتظار کیئے بنا بےتکلفی سے اندر چلا آیا۔۔
اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر دروازہ بند کیا۔ لابی میں رکھے شو ریک سے جوتے بدلتا وہ سیدھا اندر چھوٹے سے لائونج میں چلا آیا تھا۔ تھری پیس سوٹ میں وہ نک سک سے تیار ہو کر یقینا اسکے گھر کا جائزہ لینے نہیں آیا تھا مگر اس وقت طائرانہ نگاہ اسکے پورے گھر پر ڈال رہا تھا
یہ تو شروع ہوتے ہی ختم ہوگیا۔
لائونج کے بیچ کھڑا وہ استہزائیہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
بس یہ لائونج اور ایک کمرہ ۔۔۔ تم رہ لیتے ہو اتنی سی جگہ میں؟
اسکی حیرت حد سے سوا تھی۔ وہ سامنے کھلے دروازے سے اسے بیڈ روم میں جھانک رہا تھا۔
ایک ادھربھئ ہے کمرہ۔
دروازے ساتھ ساتھ ہی تھے جانے تجاہل عارفانہ تھا یا اسے ستانا مقصود۔ وہ بتا کر اوپن کچن میں چلا آیا۔ گھر میں دشمن بھی چلا آئے تو مہمان نوازی فرض ہے۔ وہ فریج سے اورنج جوس نکالنے لگا۔
ہوں۔ اس نے ہنکارا بھرا۔ دوسرےکمرے کا دروازہ ذرا سا کھول کے جھانکا۔
خالی ہے یہ تو۔ اسے حیرانگئ ہوئی۔
علی خاموشی سے کائونٹر ٹیبل پر گلاس میں جوس بھر کر رکھنے لگا۔ وہ اپنا تفتیشی دورہ مکمل کرکے ادھر ہی چلا آیا۔
بس ایک ہی کمرے میں سامان ہے تمہارے ۔ اور یہ ٹی وی بھی چھوٹا سا ہے۔۔
من جون کرسی کھینچ کر بیٹھتے بھرپور حیرت کا اظہار کر رہا تھا۔
ہاں بس اتنے ہی پیسے تھے میرے پاس آہستہ آہستہ دوسرے کمرے کا سامان بھی ڈال دوں گا۔
علی کے انداز میں بے نیازی تھی۔ اسکے چہرے پر اتنا اطمینان تھا کہ من جون دیکھ کر رہ گیا۔
تم اپنے کمرے کا سامان لا سکتے ہویہاں۔ تمہارا کمرہ ابھی بھی استعمال نہیں ہوتا لاکڈ ہے۔ تمہاری چیزیں ہیں لے آئو۔
اسے حقیقتا افسوس ہوا تھا۔ اتنے چھوٹے تو انکے سرونٹ کوارٹرز بھی نہ تھے۔
چیزیں ہی توہیں۔ ماں کو لا نا سکا اس گھر سے چیزیں کیا کرنی ہیں۔
علی نے ذرا سا ہنس کر کہا تھا۔ وہ بخوبی طنز سمجھ گیا تھا۔
میں نے آہبوجی سے کہا تھا کہ تمہاری امی کی میت تمہارے حوالے کردیں۔ مگر وہ مانے نہیں۔ انہیں اپنی ساکھ بہت عزیز ہے۔
اسکا انداز صفائی دینے والا تھا۔
اب تو ویسے بھی یادگار گھر میں رکھی ہیں باقیات انکی۔ تم چاہو تو وہاں سے انکی باقیات لیکر دفنا دو جہاں دل چاہے۔ تمہارا قبر بنانے کا خواب بھئ۔۔۔۔۔

پلیز۔ انکے جلنے کا ذکر مت کرو۔۔ علی نے جیسے اذیت سے آنکھیں میچ لیں اسکی کنپٹی کی رگیں ابھر آئی تھیں۔ وہ سمجھ نہیں سکتا تھا اسکا کرب۔
اسکے ایکدم ٹوکنے پر خاموش ہوتو گیا مگر دزدیدہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ علی نے مالٹے کے رس کا گلاس اسکی جانب بڑھا دیا۔ اس نے حیرت سے دیکھا تھا۔ سوجو ، کولڈ ڈرنک یا ہلکی پھلکی کوئی دوسری شراب کی جگہ جوس۔۔۔ وہ بلا ارادہ سوال کر گیا
تمہارا بالکل ارادہ نہیں ہے واپس اپنے مذہب پر آنے کا؟
اسکے پوچھنے پر علی نے جواب نہ دیا۔ دوسرا گلاس اٹھا کر اپنے لیئے بھی پیکٹ سے جوس نکالنے لگا۔۔
کیسے آنا ہوا۔
وہ اب تھوڑا بے مروت بن کے کہہ رہا تھا۔
اس نے ایک گھونٹ لیا۔۔
شادی کا بلاوا دینے آیا ہوں۔
اس نے جیب سے کارڈ نکال کر سامنے رکھا۔
علی نے اس سادہ مگر قیمتی گرے کارڈ کو نگاہ بھر کر دیکھا
گنگشن اچھی لڑکی ہے۔۔تم خوش رہو گے اسکے ساتھ۔ پر کوشش کرنا وہ بھی خوش رہ سکے تمہارے ساتھ۔
اسکی بات پر جون من نے ابرو اچکا کے دیکھا اسے۔
تمہارے نئے مذہب میں ادب آداب کی جگہ نہیں؟ تم مجھے ہیونگ کہتے تھے آپ جناب کرکے بات کرتے تھے تین سال بڑا ہونے کا کافی لحاظ تھا تمہیں میرا اب خاصے بے مروت ہو چلے ہو۔
اس نے ڈانٹ ہی دیا۔
یہ میری بشری کمزوری ہے اسکو میرے مزہب کی تبدیلی سے نہ جوڑیں۔
علی جل بھن ہی گیا۔ ایک تو اسکے مزاج کے ہر رخ کو اسکے مزہب سے جوڑا جاتا تھا۔
رہی بات لحاظ کی تو آپ بہتر جانتے ہیں ادب لحاظ صرف میری بول چال میں تھا میں پہلے ذیادہ بد تمیز اور سر پھرا تھا۔
اسکی بات پر جون من کو ہنسی سی آگئ۔علی یونہی خفا خفا دیکھتا رہا۔
خیر۔ اس کی ناراضی محسوس کرکے وہ صلح جویانہ انداز میں بولا۔
میں نے آہبوجی سے بات کی ہے۔ تم مزہب تو جائداد میں حصہ نہ ملنے کے باوجود بدلنے کو تیار نہیں ہو۔ مگر بہر حال تم میرے بھائئ ہو۔ مجھے تمہارا یوں یہاں ایسے مشکل زندگی گزارنا گوارا نہیں ہے۔ میرے بس میں ہوتا تو تمہارا حصہ پورا تمہیں دلواتا مگر جب تک میرے ابا زندہ ہیں ایسا ناممکن ہے بہر حال تم اپنا گھر لے سکتے ہو۔ وہ میں تمہارے نام کر دیتاہوں۔ چاہو تو بیچ کر اپنا کوئی کام شروع کرلو یا وہیں رہنا شروع کردو مرضی ہے تمہاری۔
بات ختم کرکے انہوں نے ایک سانس میں جوس پی کر گلاس ایک جانب رکھا۔ علی حیران سا اسکی شکل دیکھ رہا تھا۔
سوچ لو۔ اسکی حیرانئ پر وہ مسکرا دیا۔
میں اتنا برا نہیں ہوں جتنا سمجھتے ہو تم مجھے۔
وہ کہہ ہی گیا۔
اچھا میں چلتا ہوں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا
شادئ اگلے ہفتے ہے۔ آنا ضرور۔۔
اسکے کہنے پر علی سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
میں چلتا ہوں۔ وہ گہری سانس بھرتا داخلی دروازے کی جانب بڑھا۔ اسکو حقیقتا افسوس ہوا تھا۔ اتنے چھوٹے گھر میں بنا سہولتوں کے رہنا یقینا علی کے لیئے مشکل ہوگا۔ اتنا ضدی ثابت ہوگا وہ اپنے نئے مزہب کیلئے انہوں نے سوچا نہ تھا۔
ہیونگ۔ ( بھائی )وہ جوتے بدل رہا تھا جب اسے اپنے پیچھے علی کی آواز سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔
مجھے گھر نہیں چاہیئے۔ گھر لوگوں سے ہوتا ہے۔ مجھے اگر کچھ دینا ہے میرا بھائی دے دیں مجھے۔
اسکا جملہ ۔۔ جون من اسے چند لمحے حیرانگی سے دیکھتا رہ گیا۔ علی مسکرا دیا تو چونک کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
مگر گھر والی بات پر غور کرنا۔ وہ جاتے جاتے بھئ ایک بار پھر یاد دہانی کر گیا تھا۔ علی بھی مزید بحث کی بجائے خاموشی سے سر ہلا کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکی آنکھ کھلی تو چند لمحے سمجھ بھی نہ آ سکا کہاں ہے۔دھیرے دھیرے ذہن بیدار ہونا شروع ہوا تو ایک کراہ سی منہ سے نکل گئ۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کا سہارا لیا اٹھ بیٹھی۔ سرہانے پانی کی بوتل اور گلاس رکھا تھا جمائی روکتے ہوئے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا نیند میں تھی یا لاپروائی کر گئ گلاس نیچے گر گیا۔ پلاسٹک کا گلاس اس نے جھک کر اٹھایا تو اٹھاتے ہوئے خیال ہی نہ رہا جگہ تنگ ہے سر سیدھا میز کے کونے سے لگا تارے ناچ سے گئے۔
آہ۔ وہ گلاس چھوڑ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئ۔ موٹے موٹے آنسو جھٹ پٹ آنکھوں میں اتر آئے چند لمحے اپنی بے بسی پر وہ بے آواز روتی رہی پھر ہچکیاں بندھ گئئیں۔ درد سے ذیادہ اپنی حالت زار اسے رلا گئ۔
تبھئ دروازے پر دستک ہوئئ۔۔ ایک دو۔ اس نے گھٹنوں میں منہ دیا اور گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔
تبھئ کسی نے ہینڈل گھمایا دروازہ کھلتا چلا گیا۔ ایڈون سر پکڑ کر رہ گیا۔ہاتھ میں پکڑا شاپر میز پر رکھا پھر شروع ہی ہوگیا۔۔
یہ کیا تم نے دروازہ لاک ہی نہیں کیا ہوا ؟ سنتھیا ہم اب ہاسٹل میں نہیں ہیں ہر قماش کا انسان رہتا ہے یہاں۔ ویسے تو ہاسٹل میں بھی۔ بولتے بولتے اسکی نگاہ اس کے سسکتے وجود پر پڑی تو گھبرا کر پاس آیا۔
کیا ہوا ؟ رورہی ہو ؟ کیا ہوا سنتھیا؟
وہ بری طرح پریشان ہو کر اسکے بازو ہٹا کر چہرہ دیکھنے لگا۔ رو رو کے سوجی آنکھیں سرخ چہرہ کیا کیا برے خیال نہ آگئے۔
بتائو نا سنتھیا کیا ہوا ہے ایسے کیوں رو رہی ہو۔
اسکی گھبراہٹ کے مارے آواز کانپ گئ۔ رونے دھونے سے فرصت ملی تو سنتھیا کو کلیجے میں ٹھنڈ پڑی محسوس ہوئئ۔ وہ یقینا اکیلی نہیں تھی یہاں۔ایڈون سے سب گلے جاتے رہے اس وقت اسکی پریشان صورت دیکھ کر۔ دل کو تسلی ہوئی تو آنسو پونچھ کر بولی
اتنا تنگ کمرہ ہے گلاس گر گیا اٹھانے لگی تو پورا میز کا کونہ سر میں گھس گیا۔
وہ رندھے گلے سے بولی تو وہ بے اختیار ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔
دکھائوکہاں چوٹ لگی۔
وہ اسکا سر سہلانے لگا۔ سنتھیا کی کراہ سی نکل گئ فورا اسکا ہاتھ ہٹایا
آہ۔ شائد گومڑا پڑگیا ہے۔ سنتھیا خفت بھرے انداز میں بولی۔
اچھا چلو اٹھو منہ ہاتھ دھو لو۔ ادھر لابی کے آخر میں واشرومز بنے ہیں۔ میں کچھ ناشتے کا سامان لایا تھا کھالو ۔ دس بج رہے ہیں مجھے گیارہ بجے ڈیوٹی پر پہنچنا ہے مجھے دیر ہو رہی ہے آکر بات کرتا ہوں اور۔۔ اسے خیال آیاتو جیب سے والٹ نکال کر کچھ پیسے نکالے۔
یہ پیسے رکھو دوپہر میں سامنے سیون الیون ہے وہاں سے کچھ لیکر کھالینا۔ اسکے ہاتھ میں پیسے تھما کر وہ عجلت میں ہی پلٹنے لگا۔
اوکے بائے
سنو۔وہ بے تابی سے پکار بیٹھی۔ وہ جوابا بولے بنا مڑ کر دیکھنے لگا۔
میں سارا دن یہاں ا س کمرے میں اکیلی بیٹھی رہوں گئ؟
اسے حقیقتا سوچ کے گھبراہٹ ہوئی۔
سامنے پارک ہے وہاں گھوم آنا اچھا میں چلتا ہوں بائے۔
وہ مشورہ دیتا ٹھہرا ہی نہیں۔ سنتھیا کے لب نیم وا ہو کے رہ گئے۔
میں سارا دن یہاں اس کمرے میں اکیلے۔ وہ گھبرا کے اٹھ کھڑی ہوئئ۔
ہاتھ میں پکڑے پیسے اپنا بیگ اٹھا کر اس میں ڈالے ۔بیگ سے ٹوتھ پیسٹ اور فیس واش لیکر باہر نکل آئی۔ لمبی راہداری کے آخر میں کچھ روشنی دکھائی دے رہی تھی وہ اندازے سے چلتی ادھر چلی آئی۔ یہاں ایک جانب خواتین کے لیئے ٹوائلٹس بنے تھے دوسری جانب مردوں کیلئے۔ اس نے جھجکتے دروازہ کھولا تو اندر بس چار کیبن تھے جن میں بیت الخلا تھا دوسرے چار کیبن غسل خانے کے تھے۔ اسوقت سب خالی ہی تھے۔ یقینا صبح جانے والے تیار ہو کر جا چکے تھے۔الجھن کے مارے کتنے لمحے سوچنے میں گزر گئے۔۔
منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو راہداری میں کمرے سے کوئی نکل کر جا رہا تھا۔وہ اپنا ٹوتھ پیسٹ اور فیس واش اٹھا لائی تھئ۔ مرے مرے قدموں سے چلتی اپنے کمرے کے قریب آئی تو دروازہ کھلا تھا۔پوری راہداری میں سے بس یہی دروازہ کھلا تھا۔ نکلنے والا یقینا اسکے کمرے سے نکلا تھا۔ اس کے اندر بجلی سی بھرگئ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی تو ایک لمحے کو چکرا گئ۔ اسکا پورا بیگ الٹا پڑا تھا وہ لاکٹ ٹاپس چھوٹی موٹی جیولری ایک چھوٹے سے پائوچ میں اپنے بیگ میں رکھے تھے پاوئچ غائب تھا اسکا والٹ خالی تھا اس نے مڑ کر میز پر دیکھا تو شاپر بھی الٹا ہوا تھا۔لوٹ کر لے جانے والا اسکا ناشتہ بھی لے جا چکا تھا۔
نہیں۔ اسکی آنتیں بھوک سے پلٹیاں کھا رہی تھیں۔وہ پوری قوت سے دوڑتئ باہر نکلی تھی۔ کمپائونڈ تک مگر کسی زی نفس کا نام و نشان بھئ نہ تھا۔ وہ بے بسی سے سر پکڑ کر رہ گئ ۔۔
فون کروں ایڈون کو۔ صحیح ناراض ہوگا مجھ سے کہہ کر بھی گیا تھا کمرہ لاک رکھا کرو
اسکی ذرا سی لاپروائی اسے ٹھیک ٹھاک مہنگی پڑنے والی تھئ۔ کیا کروں اس نے ذہن کے گھوڑے دوڑانے چاہے تو ایک بار پھر ساکت رہ گئ۔
اسکاچاکلیٹ بن تک چرا لے جانے والا موبائل خدا واسطے تھوڑی چھوڑ کر گیا ہوگا۔
وہ الٹے پیر واپس آئی اس بار اسکے کمرے کے باہر دو لڑکیاں کھڑی تھیں۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتئ انکے پاس آئی۔
ہے کیا کررہی ہو یہاں۔
اس کا لہجہ سخت ہوگیا نا چاہتے ہوئے بھی۔ اسکی انگریزی سن کر دونوں چندی آنکھوں والیاں سٹپٹا سی گئیں۔
یہ تمہارا کمرہ ہے ؟ ایسے کھول کر مت جایا کرو چوری ہو جائے گئ۔
ایک نے ہنگل میں اسے سمجھایا اسکے سر پر سے گزرا۔
کیا ؟ اسکو پہلے ہی جھلاہٹ چڑھ رہی تھی۔
روم اوپن، ڈینجرش۔ تھیوز ہیئر۔
دوسری نے اپنی ہائی اسکول کی سیکھی سب انگریزی الٹ دی۔
اوہ۔ سنتھیا کچھ ٹھنڈی پڑی۔
دے۔ گھمسامنیدہ۔
اس نے جھک کر شکریہ ادا کردیا اس مفت مشورے کا۔
آنیانگ۔ دونوں اب الوداعیہ انداز میں کہہ کر منتظر کھڑی تھیں
آنیانگ۔ اس نے بھی سر جھکا لیا۔۔ اب جائو بھی۔ اسے الجھن ہوئی انکو یوں کھڑے دیکھ کر۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر کچھ کہا پھر منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنس دیں۔ سنتھیا نے گھو رکر دیکھا۔
اندر جائو۔ ان سائئڈ گو۔
دونوں ہاتھ کے اشارے اور جو جو لفظ سمجھ آرہا تھا بول کے اسے اندر جانے کا کہہ رہی تھیں۔ اوہ۔ اسکے دماغ کی بتی روشن ہوئئ۔
ظاہر ہے اس تنگ راہداری میں کھڑی وہ انکا راستہ روکے تھی۔
سوری۔ رئیلی سوری۔
وہ کھسیا کر فورا کھلے دروازے سے اندر گھسی۔ دونوں لڑکیاں ہنس کر ہاتھ ہلاتی آگے بڑھ گئیں۔ اس نے جھلا کر دروازہ بند کیا۔
کمرے میں اسکے کپڑوں کے بیگ جوں کے توں ان چھوئے رکھے تھے یقینا اسکو انکو کھولنے کا موقع نہیں ملا تھا۔آہ۔ اسکے منہ سے حقیقتا آہ نکل گئ۔ موبائل ڈھونڈنے کی بھی کوشش نہ بستر پر گر سی گئ
صبح چوٹ نے رلا دیا اب بھوک کی وجہ سے آنسو آرہے تھے اس نے آنکھوں پر بازو رکھا او رتسلی سے رونے لگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گوارا کیلئے ناشتہ بنا رہی تھی۔ کائونٹر ٹیبل پر بیٹھی اورنج جوس کی چسکیاں لیتی اپنے موبائل میں وہ نوٹس پڑھ رہی تھی۔
سب تمہاری غلطی ہے اچھی بھلی مجھے عادت تھی ناشتہ نہ کرنے کی تم نے ڈال دی۔ ورنہ میں دو وقت کھانے پر چلتی ہوں دوپہر اور رات۔ اب دیکھ لو تمہیں میرے لیئے ناشتہ بنانا پڑ رہا ہے۔ ویسے میں خود بھی بنا سکتی ہوں ناشتہ مگر سختی سے میری ڈرماٹولوجسٹ نے کہا ہے گرمی کے دھوپ کے قریب بھئ نہ جانا۔ جبھی یہ ڈھاٹا خرید کے لائی ہوں۔
اس نے کرسی پر سے ڈھاٹا اٹھا کر دکھایا۔ کیپ جمع اسکارف تھا بڑا سا جس میں نقاب بھئ بنا ہوا تھا۔ اس نے اکثر لڑکیوں کو یہاں یہ پہنے دیکھا تھا۔ پی کیپ کے اندر فل پردہ جھولتا تھا آگے سے منہ ڈھکتا صرف آنکھیں نظر آتیں اور پیچھے سے بال ڈھکنے کیلئے اسکارف ۔۔
اسکو ہم ٹوپی والا برقعہ کہتے ہیں بس اندر ٹوپی گول ہیٹ جیسی ہوتی ہے۔
اریزہ نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا۔
یہ کوریا کی ایجاد ہے۔ گوارا اترائی۔
ہم نے بہت سی چیزیں دی ہیں ایشیاء کو۔ لڑکیوں کی جلد نازک ہوتی ہے باہر کے موسم ا س پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لڑکوں کی سخت جلد کو دھوپ کی سختیاں کملا دیتی ہیں ہم لڑکیوں کو تو اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ منہ بال ڈھک کر نکلنا چاہیئے باہر۔
گوارا کی بات پر اسے ہنسی ہی آگئ۔۔۔ اچھی تقریر تھی پردے کے حق میں۔
تھیبا۔ یہ تو ٹاپک میں نے پڑھا ہی آج ہے۔ ڈیفیوژن آف اننوویشن۔ یہ کیا بلا ہے بھئی۔ وہ اب ہنگل میں شروع تھی۔
دفع دور ۔۔ ویسے بھئ دو چار وائیوا لے کر یونیورسٹی والوں نے کونسا میرا جی پی اے بڑھا دینا ہے ۔
وہ اب آدھی ہنگل آدھی انگریزئ ملا جلا کر بول رہی تھی۔
خوامخواہ زحمت کر رہی ہو نیا کچھ پڑھنے کی جو پڑھا ہوا اسی کے نوٹس پر دھیان دو وائیوا کی ہی تیاری ہوجائے۔
اسکے سامنے پراٹھا آملیٹ رکھتے اریزہ نے کہا تو
اس نے فورا موبائل ایک طرف رکھ دیا۔ اور رغبت سے ناشتہ کرنے لگی۔
اریزہ اپنا ناشتہ گرم چائے کا کپ لیکر مقابل آبیٹھی۔ تبھئ تیار ہو کر کمرے سے ہوپ نکلی تھی۔ ان پر نگاہ غلط ڈالتی سیدھا رخ باہر کی جانب تھا۔ وہ داہنے پیر پر ذرا کم وزن ڈال رہی تھی۔ ایک بار کے بعد دوبارہ جانے اس نے خود پٹی کی بھی تھی کہ نہیں۔ افسوس ہوا اسے اپنی لاتعلقی پر
یونا۔ اریزہ اسے بے اختیار پکار بیٹھی۔ جوابا اس نے ترچھی نگاہ ڈالی پھر جواب نہ ملنے پر مڑ کر کر گھورا
یونا۔ اریزہ کو توقع نہ تھی کہ۔مڑ کر دیکھے گئ سو خوش ہو کر دعوت دی
آئو ناشتہ کرکے جائو۔ اب کیسی طبیعت ہے تمہاری۔پائوں ٹھیک ہوا۔؟۔
ایک تو یہ اریزہ کا سوشل ورک۔ گوارا ہنگل میں بڑبڑائی
یوآنہ نام ہے میرا اور میرے لیئے ناشتہ مت بنایا کرو کتنی دفعہ کہا ہے تمہیں۔
وہ جھلائی اور پیر پٹختی سی واپس آئی انکے پاس۔
بیان۔( معزرت) یوآنہ۔
اریزہ نے جیسے ڈر کر فورا تصحیح کی۔ اور پلیٹ اسکی جانب کھسکا دی۔ وہ کونسا کورین تھی نام بولنے میں زبان رواں تھئ مگر نام سمجھ بھی تو آئے ۔یوآنہ اس بات پر بھی اس سے لڑ سکتی تھی۔
یہ پھر وہی بنایا ہے اس دن والا۔۔ یو آنہ کا انداز تفتیشی تھا۔
اریزہ کچھ نہ بولی۔ گوارا نے گہری نگاہ سے یوآنہ کو دیکھا جو بظاہر جھلائی سی گرم پراٹھے پر آملیٹ پھیلا کر رول بنا رہی تھی۔ رول بنا کر اسکو دیکھ کر بولی
میرے لیئے زحمت مت کیا کرو مجھے بالکل کسی سے اپنا کام کروانا پسند نہیں۔
اریزہ نے سر ہلادیا۔ اور چائے کا کپ اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگی
آننیانگ۔۔
وہ کہہ کر تیز تیز قدم اٹھاتی چلی گئ۔ اریزہ کا پورا پراٹھا لیکر۔
آ بیل مجھے مار، پائوں پر کلہاڑی مارنا ، حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ۔ اور ناجانے کتنی ضرب المثل اسے یاد آکے رہ گئیں۔
اور وہ کونسا محاورہ تھا۔ دوستی بھی بری دشمنی بھی۔ مگر کس کی۔
گوارا نے اپنی پلیٹ اسکی جانب بڑھا دی۔۔آدھا پراٹھا بچا تھا۔
یہ لو میں کھا چکی۔ وہ ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی
ارے میں اور بنا لوں گی۔ ا س نے انکار کرنا چاہا وہ سہولت سے منع کر گئ
اسی کو کھالو مجھے پتہ ہے تم اور نہیں بنائو گی۔
وہ ہنس کر بولی تو اریزہ کھسیا کر سر ہلا گئ
اچھا میں چلتی ہوں۔ وہ اپنا بیگ اٹھانے لگی۔ آننیانگ۔
سارا دن پڑا تھا اسکے پاس کرنے کو کچھ بھی نہ تھا۔ اس نے سستی سے نوالہ توڑا۔
گوارا جاتے جاتے مڑی ۔۔ اسکی بیزار شکل دیکھی تو خیال آیا
تم کوئی جاب کیوں نہیں کر لیتیں۔ ؟
ہاں کرنی ہے نا جاب۔ وہ ایکدم پرجوش ہوئی۔
بلکہ میں تو کہنے والی تھی مجھے کہیں جاب دلوا دو میں اپنا خرچہ خود اٹھانا چاہتی ہوں۔ اگلے سمسٹر کا۔
اسکی بات پر گوارا نے اطمینان سے جواب دیا
ٹھیک ہے کل میری کمپنی میں آجانا میں ایم ڈی رکھ لوں گی تمہیں۔
کیا؟ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔ گوارا زور سےہنس پڑی۔
مزاق نہ اڑائو۔ اریزہ کو برا لگ گیا۔
میں تو مشورہ دے رہی تھی میں کونسا ایل جی کی مالک ہوں سہیلی۔ جو جھٹ سے کہیں جاب لگا دوں تمہاری۔
اس نے آگے بڑھ کر اسکے پھولے گال پر چٹکی بھری
اریزہ گھور کے رہ گئ۔
اچھا دیکھتی ہوں کوئی آتے جاتے پارٹ ٹایم جاب کے ایڈز دیکھتی آئوں گئ آتے وقت پریشان نہ ہو مگر بنا ہنگل سیکھے جاب کرنا مشکل ہوگا تمہارے لیے۔۔پہلے بتا دوں۔ یہاں کسی کو ایک لفظ انگریزی نہیں آتی۔
اس نے ڈرایا۔
ہمم۔ وہ کیا کہتی آگے سے۔
اوکے میں کسی ہنگل کلاسز کا بھی پتہ کرتی ہوں تم سارا دن فری ہوگئ جاب کے ساتھ ہنگل بھی سیکھ لینا۔ فکر نہ کرنا۔اوکے بائے۔
وہ عجلت میں بولتی ڈھاٹہ چڑھاتی خدا حافظ کہتی بھاگ گئ۔
خدا خدا کرکے تھوڑی انگریزی بہتر ہوئی ہے تو نیا کھڑاگ کورین سیکھو۔
وہ سوچ کے رہ گئ۔
اگلا نوالہ ذرا بڑا لیا ۔۔ اب احساس ہوا کہ وہ آدھا پراٹھا اتنی فراخ دلی سے کیسے اسے دے گئ۔ اس کا منہ بنا۔
نمک آملیٹ میں ذیادہ تھا۔ اپنے لیئے نئے سرے سے ناشتہ کیا بناتئ وہی ختم۔کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روتے روتے آنکھ لگ گئ تھی کہ کیا۔ فون بجنے پر آنکھ کھلی۔
وہ چند لمحے حواس ہی بحال کرتی رہ گئ۔ پھر اٹھ بیٹھی۔ باہر کھڑکی سے اسٹریٹ لائیٹ کی روشنی اندر آرہی تھی۔
وہ ہڑبڑا سی گئ۔ جانےوہ اتنا وقت سوتی رہی یا بھوک سے بے ہوش ہو گئ۔ فون لگاتار بجے جا رہا تھا۔ اسکی جیسے جان میں جان آئی۔ادھر ادھر دیکھا بستر تکیہ ہٹا کر دیکھا۔ ٹٹول کر بتی جلائی فون بجنا بند ہو گیا۔
اف۔
فون بج رہا تھا یعنی چوری ہونے سے بچ گیا مگر اس چھوٹی سی کٹیا میں جانے کہاں چھپا تھا۔ دوبارہ کچھ وقفے سے بجنا شروع ہوا۔آواز کا منبع اس نے تلاشتے ہوئے نیچے دیکھا تو بیڈ اور میز کے بالکل کنارے اوندھا پڑا تھا۔یقینا رات کو تکیئے کے پاس رکھ کر سوئی اور وہ پھسل کر گر گیا نیچے۔
اسے جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ جھٹ سینے میں بھینچ لیا۔
فون ابھئ بھئ بج رہا تھا۔ اس نے خداوند کا شکر ادا کرکے سینے پر صلیب بنائئ اور فون اٹھا لیا۔ بابا تھے۔
کیسی ہو کہاں تھیں نا کوئی جواب نہ بات دوپہر سے فون کر رہا ہوں ۔۔
چھوٹتے ہی وہ ڈانٹنے لگے۔
وہ سو رہی تھی کیسے ہیں آپ۔ وہ بات بدل گئ
میں ٹھیک ہوں یہ بتائو انتظام کیا ایڈون نے کسی اپارٹمنٹ کا؟ میں نے اریزہ کے پاپا سے بھی بات کر لی ہے تم اور اریزہ مل کر رہنا ایک جگہ۔ اسکے ساتھ ہوگی تو مجھے اطمینان رہے گا۔
بابا میں بچی تھوڑی ہوں۔ وہ چڑ گئ
میرے لیئے تو بچی ہی ہو۔ وہ مسکرائے
اریزہ تو جیسے دادی اماں ہے میری۔ وہ بحث میں لگ گئ
ایک سے بھلے دو ہوتے ہیں بیٹا۔ وہ اسکی کج بحثی سے تنگ سے ہوئے۔
اچھا چھوڑو یہ سب یہ بتائوکیا ارادے ہیں اگلے سمسٹرکا بیٹھ کے انتظار کرنے کی بجائے کوئی چھوٹا موٹا کورس کرلو۔
وقت ضائع نہ کرو۔ ایڈون بتا رہا تھا اس نے کورین سیکھنی شروع کردی ہے تم بھی سیکھو۔
بابا۔ وہ ایکدم ٹوک کر بولی۔
ہاں بولو۔ وہ بھی ہمہ تن گوش ہوئے
بابا وہ ایڈون کا بھی رہائش کا مسلئہ ہے میں اور اریزہ اسکو بھی اپنے فلیٹ میں رکھ لیں۔
اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔۔
ایڈون تو بتا رہا تھا کہ اس نے کسی کمرے کا انتظام کر لیا ہے تمہیں نہیں بتایا؟ ویڈیو کال کی تھئ اسے میں نے اس نے دکھایا ٹھیک تھا ایک چھڑے چھانٹ کیلئے کہہ رہا تھا ایسا ہی کمرہ ڈھونڈ دے گا تمہیں میں نے صاف منع کیا۔ اسے۔۔میری بیٹی ایسی فضول سی جگہ نہیں رہ پائے گئ۔
گوشئ وون کہتے ہیں اسے۔
اس کے منہ سے بمشکل آواز نکلی۔
ہاں وہی۔گوشی جو بھی ہے۔ نام جیسا بھی ہو مجھے تو بالکل جگہ پسند نہیں آئی۔ دیکھا نہیں تھا تم نے بالکل چھوٹا سا کمرہ اس سے بڑا تو باتھ روم ہے ہمارا۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم اتنے تنگ سے کمرے میں نہیں رہ پائوگئ اسے کہہ دیا میں نے پیسوں کی فکر نہ کرے۔ لڑکوں کا کیا ہے آنکھیں بند کرتے ہیں تو سڑک کنارے بھی سو سکتے ہیں۔ تمہیں ویسے بھئ گرمی ذیادہ ہی لگتی ہے۔
اسکے بابا کا لہجہ محبتوں سے چور تھا۔ اس نے چور نگاہ اپنے گرد ڈالی اور سر جھکا لیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیزاری سے لائونج میں بیٹھی چینل پر چینل بدل رہی تھی۔ گوارا کا میسج آیا تھا۔ اس نے فون اٹھا کر دیکھا
میں رات کو دیر سے آئوں گئ۔
اس نے بنا جواب دیئے فون صوفے پر رکھ دیا۔
ہوپ بھی دس بجے تک ہی آتی تھی۔ اکیلے ڈھنڈار فلیٹ میں ٹھیک ٹھاک بوریت اور قنوطیت محسوس ہو رہی تھی۔ سو سو کے تھک چکی تھی اس وقت ۔ ٹی وی پر کوئی گیم شو ریپیٹ ٹیلی کاسٹ ہو رہا تھا ہنگل میں مزاق اڑاتے وہ ایک لفظ سمجھے بنا بس دیکھ رہی تھی۔
میرا تو دن ہی نہیں گزر رہا ۔ اس نے وال کلاک کی جانب دیکھا سات بج رہے تھے۔ صبح کا آدھا پراٹھا کھایا ہوا تھا اس وقت بھوک بھی لگ رہی تھی۔ اس نے ٹی وی بند کیا اور ڈھیلے ڈھیلے قدم اٹھاتئ کچن میں چلی آئی۔
دالیں لوبیا سب کچھ تھا چاول بھئ تھے۔ مگر ان سب کو پکانے کیلئے کوئی مصالحہ نہ تھا۔
اس نے ایک دفعہ گوارا سے پوچھا تھا تم مصالحے وغیرہ نہیں خریدتی ہو تو وہ ہنس کر بولی
کمچی سے لیکر سادے سالن چٹنیاں ہر چیز کے تیار ڈبے ملتے وہ بھئ گوشت کے اضافی ذائقے کے ساتھ ضرورت ہی نہیں ہے الگ سے لینے کی۔
اس وقت بھی الماری میں قطار سے ڈبے سجے تھے چٹنیوں مربوں کےمگر اسکے لیئے ایکدم بےکار تھے۔
ٹماٹر ادرک لہسن پیاز بھئ موجود تھا مگر نمک مرچ ہلدی و دیگر مصالحے ندارد تھے۔
کیا عذاب ہے۔۔۔۔ وہ جھلا کر رہ گئ۔
رائس ککر میں چاول پکانے چھوڑے۔ مسور کی دال چڑھائی۔
ساتھ لہسن کی چٹنی بنانے کیلئے لہسن کوٹ لیئے۔ نمک کے نام پر اجینو موتو تھا۔ چمچ بھر کر ڈالتے ڈالتے ہاتھ روک لیا۔
نمک تو خرید ہی لائو ساتھ ٹماٹر اور جو کوئی مصالحہ ملا۔
اس نے ارادہ باندھا۔
وہ سویٹ شرٹ اور ٹرائوزر میں ملبوس تھی۔ اس حلیئے میں باہر جانے کو دل نہیں مانا ۔ اس وقت اہتمام سے اپنا لان کا جوڑا نکالا تیار ہو کر باہر آئی دال کا چولہا بند ہی کردیا۔ اب باہر نکلنا ہی تھا تو گوشت ڈھونڈا جا سکتا تھا وہ بھی حلال۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے پاس حلال گوشت نہیں ہوتا۔
مسکرا کر اس سیون الیون والی لڑکی نے بتایا تھا۔
ویسے یہ ہوتا کونسا جانور ہے آپ مجھے اسکا ہنگل نام بتائیں تو میں بتا دیتی ہوں ویسے ہمارے پاس خنزیر ، گائے ، بکرے گدھے مرغئ سب کا گوشت موجود ہے۔
ایک چھوٹا سا پمفلٹ نکال کر اس نے ایک ایک پر انگلی رکھ کر اسے بتایا۔
گھمسامنیدہ۔۔ اب حلال نامی جانور بتائو اسے۔
اس نے بس سادہ نمک خریدا اور شکریہ ادا کرکے قیمت اداکرکے نکل آئی۔
کیسے ناشکرے ہیں ہم یہ نمک کیسا ہم دھڑلے سے استعمال کرتے ہیں فریج سے برف نکالنی ہے نمک چھڑک دو ،چیونٹیان بھگانی نمک چھڑک دو کوئی ناپسندیدہ مہمان آجائے اسکے جاتے وقت چوکھٹ پر چھڑک دو کسی کے زخموں تک پر چھڑکنے کو تیا ررہتے یہاں مٹھی بھر پیسوں میں چٹکی بھر نمک خریدیں نا تو زندگی بھر نمک سوائے کھانے کے کہیں استعمال نہ کریں۔غرارے بھی بس گرم پانی کے کرلیں اتنا مہنگا نمک۔۔ چلتے چلتے ٹھوکر سی لگی۔تو خود کو کوس بھی لیا
جہنم میں جائو اریزہ۔۔
¹وہ سر جھٹکتی سوچتی جا رہی تھی جب کوئی چلتے چلتے اسکے ہم قدم ہوا۔۔
سلام۔ کیسی ہو۔۔؟۔۔
وہ چھوٹتے ہی پوچھ رہا تھا۔
ایک تو یہ ہایون۔۔اردو میں احوال بھی پوچھنا سیکھ لیا۔ ایک میں ہوں نام کی ہنگل نہ سیکھ پائی۔
اسکی سوچ اسکے چہرے پر لکھی تھی۔
ٹھیک ہوں۔۔ ۔ تم کیسے ہو۔
اس نے مروتا پوچھا۔
تم لگ تو نہیں رہی ہو۔۔ منہ کیوں پھلایا ہوا ہے۔
وہ دوستانہ انداز میں پوچھنے لگا۔
میں نے ۔ اس نے فورا منہ پر ہاتھ رکھا۔
میرا پیدائشئ ہی اتنا ہی بڑا منہ ہے۔
اچھا۔۔ ویسے چھوٹا ہوا ہے تھوڑا۔ کبھی غور سے آئینہ نہیں دیکھا۔
اسکا انداز سرسری تھا ۔۔
اریزہ کا پورا منہ کھلا
یہ کیا اسے باڈی شیمنگ کی گئ تھئ اور اسے یقینا برا ماننا چاہیئے تھا۔ وہ حیرانی کے مارے سوچتی ہی رہ گئ کیا ردعمل دے۔
ویسے مجھے یقین تو تھا کہ تم آج کے دن کے حساب سے تیار ہوئی ہوگی جتنے تم سب لوگ جزباتی ہو مگر تم منائوگی کس کے ساتھ۔ تمہارے دوست واپس چلے گئے جو یہاں ہیں وہ تم سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔
وہ چلتے چلتے بائیں جانب گلی میں مڑ گیا۔ وہ بے دھیانی میں اسکے ساتھ ہی مڑ چکی تھی۔
کون ؟ کون لڑتا رہتا ہے مجھ سے ؟
اسے حقیقتا سمجھ نہ آیا۔
تمہاری سہیلی۔ وہ یقینا تمہاری دوست نہیں ہے۔تمہیں اس سے دور رہنا چاہیئے۔ بجائے اسکے کہ رویا کرو اسکی باتوں پر۔
وہ چلتے چلتے رک کر اسکے مقابل آکر جتانے والے انداز میں بولا۔
وہ سٹپٹا سی گئ۔ اپنی طرف سے منہ ہاتھ دھو کرواپس آئی تھی میز پر ۔باقی لوگ ہایون کو تنگ کرنے میں مگن تھے ہوٹنگ کر رہے تھے اس نے تو یہی سمجھا تھا کسی نے دھیان بھی نہیں دیا اسکی متورم آنکھوں پر مگر وہاں ہایون ہی اس پر دھیان دیئے تھا۔۔
ویسے مسلئہ کیا ہے اسکے ساتھ۔ اچانک ہی۔ کہاں تو اتنی شیر و شکر تھیں تم دونوں کہ گمان ہوتا تھا کہ
وہ اگلوانے کے موڈ میں تھا اس سے قبل اپنی غلط فہمی دوبارہ دہراتا اس نے بات کاٹ دی۔
ہم لڑتے رہتے ہیں ۔ بچپن کی دوست ہے وہ میری ہمارا تعلق تمہاری سوچ سے ذیادہ گہرا ہے۔
اسکی بات پر وہ کندھے اچکا کر ایک طرف ہو کر اسکے ہم قدم ہو لیا
میرا خیال ہے کہ تعلق گہرا ہونے کا تعلق دل سے ہوتا ہے وقت سے نہیں۔ کبھی مختصر عرصے کی رفاقت انسان کو ذیادہ قلبی دوستی سے نواز دیتی ہے کبھی سالوں کے تعلق لمحوں میں ٹوٹ جاتے ہیں۔
وہ تو یونہی کہہ رہا تھا مگر بات گہری تھی۔ انگریزی میں کوئی بات کہی جائے تو ذیادہ ہی گہری لگتی ہے۔ وہ بات کے فسوں میں کھوئی تھی جب اچانک چلتے چلتے اسکے سامنے گاڑی کا کھلا دروازہ آگیا۔ وہ چونک کے ایک طرف ہوئی۔
ہایون اس سے ایک قدم آگے ہو کر پنسجر سیٹ کا دروازہ کھولے ہوئے تھا اسکے لیئے۔۔
وہ حیران سی اسکی شکل دیکھنے لگی تو وہ ہنس کر بولا
میں تمہارے گھر ہی آنے والا تھا پر تم میرے ساتھ میرے گھر ہی آگئ ہو۔۔۔
اسکی بات پر چونک کے اس نے اردگرد دیکھا۔ وہ واقعی رہائشی بلاک کی جانب آچکی تھی ہایون کی ہمراہی میں ۔یہاں سے تو واپسی کا راستہ بھی نہیں آتا تھا اسے۔ اسے ٹھیک ٹھاک خفت سئ محسوس ہوئی۔ وہ ہایون کے بنگلے کے سامنے کھڑے تھے۔
اندر آنے کو کہتا پرتم پورک کھاتی نہیں ہو۔ گھر میں پورک اسٹیک ہی بنا ہوا ہے۔
وہ بول رہا تھا مگر اسے سنائی نہیں دے رہا تھا اپنی ذہن کم کم چلانے کی عادت پر غصہ ہی بہت تھا
مر جائو اریزہ۔ اسے شرمندگی سے گڑمرنے کو دل کیا۔
بیٹھو۔ نا۔ اس نے ٹوکا تو وہ مرے مرے انداز میں گاڑی میں بیٹھ گئ۔ ہایون گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آن بیٹھا
میں نے چائینیز نہیں کھانا اور میری جانب سے دعوت ہوگی میں پے کروں گی۔
اریزہ نے گاڑی میں بیٹھ کر شرطیں رکھیں۔۔
سیٹ بیلٹ باندھ لو۔۔ ہایون نے جیسے سنا ہی نہیں۔۔
اریزہ نے گھور کر دیکھا۔۔
ہم پاکستانی ڈرائیونگ کرتے نہیں باندھتے۔ پسنجر سیٹ کو سیٹ بیلٹ بندھوا رہے۔ آئے بڑے۔۔
وہ بڑ بڑائی۔۔ مگر مڑ کر سیٹ بیلٹ کھینچ لی۔
وے؟۔۔ وہ پوری طرح متوجہ تھا
اسے ترجمہ کرکے بتانا پڑا۔۔
واقعی؟۔۔ وہ حیران پریشان رہ گیا۔۔
ہاں۔۔ ہم اسلام آباد داخل۔ہوتے ہوئے پھر یاد سے بیلٹ باندھ لیتے مگر پنڈی میں سب چلتا۔۔ اور لڑکی ڈرائیو کر رہی ہو تو بالکل بھی نہیں روکتے جب تک کوئی بڑامسلئہ کھڑا نہ کر لو۔
وہ مزے لے کر بتا رہی تھی۔
واقعی۔۔ لڑکیوں کیلیئے کوئی قانون نہیں؟۔ وہ حیران تھا
اب یہ بھی نہیں۔۔ اریزہ سٹپٹائی۔۔
جبھی تمہاری ڈرائونگ ٹھیک بھی نہیں
وہ جیسے نتیجے پر پہنچ گیا۔۔
اس دن جب ہم واپس آرہے تھے تو مجھے تم سب کا ایک حصے میں گھر پہنچنا مشکل لگ رہا تھا۔۔
ڈولتی گاڑی کا منظر اسکے زہن کے پردے پر لہرایا۔۔
اریزہ کھسیائی۔۔
ایسی بھی کوئی بات نہیں میں بہت اچھی ڈرائونگ کر لیتی ہوں۔۔ اسے برا لگا تھا
اس دن اگر تم میرے ہی ساتھ نہ ہوتیں تو میں یہی سمجھتا تم پی کر چلا رہی ہو۔۔
وہ سراسر مزاق اڑا رہا تھا
پہلی بار بائیں ہاتھ والی ڈرائونگ والی گاڑی چلا رہی تھئ عادت ہی نہیں مجھے اسکی جبھی ایسا ہوا۔ اس نے منہ پھلا کر صفائی پیش کی۔۔
کیا مطلب ؟۔۔ وہ سمجھا نہیں
پاکستانی گاڑیوں میں یہ سب کچھ یہاں اس والی نشست پر ہوتا۔ اس نے اشارے سے گئیر اسٹیرنگ سب کو اپنے سامنے رکھا۔۔
رائٹ ہینڈ ڈرائیو۔۔ وہ سمجھ گیا۔۔
ہاں۔۔ اریزہ نے سر ہلایا۔۔
اسے جانے کیوں ہنسی آگئ۔۔ کھل کر ہنستا گیا۔۔ اریزہ اسے حیرانئ سے دیکھ رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریستوران کے باہر کھڑی وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھئ۔ ہایون نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔ وہ بے تحاشہ مشکور ہوئی۔۔ہایون کی معیت میں اندر داخل ہوئی۔تو سچ مچ آنکھیں بھر آئیں۔۔
میز کرسیاں تو عام ریستوران جیسے ہی تھے مگر ایک کونے میں مینار پاکستان کا قد آدم ماڈل رکھا تھا جس سے روشنی پھوٹ رہی تھی کیا خوبصورت لیمپ تھا دوسرے کونے میں فیصل مسجد کے ڈیزان کا لیمپ سجا تھا
دل سے میں نے دیکھا پاکستان ۔۔ دھیمی آواز میں چل رہا تھا
پورا ریستوران سبز اور سفید قمقموں غباروں جھنڈیوں اور انہی رنگوں کی آرائشوں سے سجا تھا
ایک جانب چودہ اگست کی مناسبت سے قمقمون سے جشن آزادی مبارک لکھا تھا
آج چودہ اگست ہے۔ اسکی آنکھیں بھرا گئیں۔ کیا کیا منصوبے بنائے تھے یوں چودہ اگست منائیں گے سفید لباس زیب تن کریں گے اور جھںڈا گلے میں ڈال کر۔۔۔ اور جب سچ مچ یہ دن آیا تھا تو سب جدا بھئ ہو چکے تھے اور بھول بھی گئے۔
اسکا دل اداس ہو گیا تھا۔انکے لیئے پہلے سے ریزرویشن ہوئی وی تھی سو سیدھا اسی میز پر لا بٹھایا تھا ہایون نے۔
اسلام و علیکم۔۔ پاکستانی ویٹر نے جھک کر ان دونوں کو سلام کر کے انکے سامنے میز پر مینیو کارڈ رکھا
مجھے تو کوئی اندازہ نہیں بس ایک بار یہاں چکن کڑاہی کھائی ہے۔۔ سو تم اپنی پسند سے کچھ بھی منگوا لو مگر۔۔ وہ رکا۔۔
اریزہ جو سر ہلاتی مینیو کارڈ پر نظر دوڑا رہی تھی۔۔ چونک کر دیکھنے لگی۔۔
کل دوبارہ اس پر نظر پڑی تھی تو مجھے فورا خیال آیا تمہارا سو یہ دعوت میری جانب سے ہی ہوگی۔۔ منظور۔۔ وہ منوانے والے انداز میں دیکھ رہا تھا۔۔
وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی۔۔
اس نے چکن کڑاہی اور بریانی ہی آرڈر کی تھی۔۔ ساتھ ایک مختصر سی تاکید بھئ۔
دل سے میں نے دیکھا پاکستان دوبارہ لگا دیں۔
ویٹرسر ہلا کر مڑ گیا تھا۔ وہی گانا دوبار لگ گیا تھا۔ وہ بلا ارادہ گنگنا بیٹھی۔ ہایون کے چہرے پر محظوظانہ مسکراہٹ در آئی۔ تو وہ کھسیا کر بولی۔
یہ گانا بہت پسند ہے مجھے۔
ہایون نے سر ہلا دیا۔ پھر پورا گانا سن کر ہی خیال آیا کہ ہاتھ دھو لینا چاہیئے۔
میں ابھی ہاتھ دھو کے آتی ہوں۔۔ وہ بتا کر ریسٹ روم چلی گئ۔۔
ویٹر کھانا لگا رہا تھا جب اسکی واپسی ہوئی۔۔
نان کی بجائے اس نے توے والی روٹی منگوائی تھی۔۔ گرم گرم روٹی دسترخوان میں لپٹی کتنے دن بعد نصیب ہوئی تھی۔۔
ہیون نے دیکھا تو وہ سالن نکال کر روٹی دسترخوان سے نکال رہی تھی۔ ہایون ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رک گیا۔۔
کیا ہوا۔۔ اریزہ نے پوچھا۔۔
تمہارے اس کھانے کو تو ہاتھ سے کھانا پڑے گا تو ہاتھ دھلے ہونے چاہیئں۔۔
اس نے تائد چاہی۔۔
میں ہاتھ دھونے ہی گئ تھی۔۔ تم نے دھونا تو تم بھی دھو آئو۔۔
اریزہ نے روٹی دوبارہ لپیٹ کر رکھ دی۔۔ وہ سر ہلاتا اٹھ گیا۔۔ ہاتھ دھو کر آیا تو وہ اسکے انتظار میں ہاتھ روک کر بیٹھی تھی۔۔
بیانئے ۔۔ اس نے فورا معزرت کی۔۔
کوئی بات نہیں۔۔ وہ اسکا انتظار ہی کر رہی تھی ہیون نے اپنے لیئے کھانا نکالا تو وہ وہ مزے سے بسم اللہ پڑھ کر شروع ہو گئ تھی۔۔ اسکو نوالا بنانے میں مشکل آرہی تھئ وہ دز دیدہ نظرون سے اریزہ کو دیکھتا۔۔ اریزہ چھوٹے نوالے بنا رہی تھی خوب چبا کر کھا رہی تھی۔۔ ساتھ ساتھ جو ڈش خود اٹھاتی اسکی پلیٹ مین بھی تھوڑا سا ڈال دیتی۔۔
اس نےبریانی نکالی تو چمچ کی بجائے وہ بھی ہاتھ سے ہی کھانے لگی۔۔ ہایون اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا۔۔ وہ بہت نفاست سے نوالا بنا رہی تھی۔۔
وہ بہت رغبت سے کھا رہی تھئ۔۔
۔۔ ہیون کی نظروں کا احساس ہوا تو جھجک کر ہاتھ نیچے کیا۔
وہ چمچ تھا تو۔۔ وہ کھسیا کر ہاتھ پونچھنے لگی۔
آنیو۔ ہیون نے فورا روکا۔
تم جیسے کھاتی ہو ویسے ہی کھائو۔۔ جس میں تمہیں آسانئ ہو۔۔ بلکہ میں بھی کوشش کرتا ہوں۔۔ اس نے بھی چمچ رکھ دیا۔۔
جس طرح اریزہ کیلیئے چاپ اسٹک سے نوالہ بنانا مشکل ہو رہا تھا اسی طرح ہایون بھی منہ تک لے جانے میں کتنے ہی نوالے گرا چکا تھا۔۔
ایسے۔۔ اریزہ مسکراہٹ دبا کر اسے نوالہ بنانا سکھانے لگی۔
بیک گرائونڈ میں وہی ملی نغمہ بجے جا رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا کھا کر باہر نکلے تو اسے کون نظر آگئ۔۔
آئیسکریم کھائیں۔۔ اس نے پوچھا۔۔
ہیون کون شوق سے نہیں کھاتا تھا یہی بتانے کو منہ کھولا مگر اریزہ نے موقع نہیں دیا۔
اس بار بھاگ کر گئ۔۔ خود خرید کر لے آئی۔۔
ہیون اسکی پھرتی دیکھ کر رہ گیا۔۔
مجھے کون بہت پسند پاپا تو کون کی مشین خریدنے لگے تھے مگر امی آڑے آگئیں۔۔
اس نے منہ بنا کر بتایا۔۔
امی۔۔ ہیون پاپا تو سمجھ گیا تھا۔۔
آہمو جی۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔ اسکی کون پگھلنے کو تھئ۔۔
اسکو یہاں سے چاٹو۔۔ پگھل رہی ہے ایسے۔۔
اریزہ نے فورا اسکو توجہ دلائی۔۔
پھر اپنی کون کو کونے سے زبان لگا کر گویا اسے عملی طور پر سکھایا کیسے کون کھاتے۔۔
تمہارے آہبو جی تم سے بہت پیار کرتے ؟۔۔ اس نے بات برائے بات پوچھا۔۔
بہت زیادہ میں لاڈلی ہوں انکی۔ اس نے اترا کر بتایا تھا۔۔
اور آہمو جی۔۔ ہایون اسکے بچوں جیسے انداز پر مسکرا رہا تھا۔۔
وہ نہیں کرتیں۔۔ پیار مجھ سے۔ اسکا انداز خفا خفا سا ہوگیا۔
کیوں۔ ہیون چونکا۔ اریزہ کی ماں بھی کیا اسکی ماں کی طرح سوتیلی ہے۔۔
انکو بھائی پیارا تھا ۔۔ وہ بھائی کے ذکر پر اداس سی ہوئی۔۔
بچپن کی کوئی یاد تازہ ہوئی تھی۔۔
ہائے میرا حماد چلا گیا۔۔ آپا۔
خالہ سے لپٹ کر بلکتی اسکی ماں وہ خالہ کی آمد کا سن کر بھاگتی آئی تھی ڈرائنگ روم میں ابھی دروازے پر ہی تھئ کہ ماں کے بین سنائی دیئے۔۔
ایک بیٹا تھا میرا بس آپا۔۔ خدا کو لینا تھا تو بیٹی لے لیتا۔۔ میرا بیٹا کیوں چھین لیا ۔۔ ہمارا اکلوتا سہارا تھا بڑھاپے کا میرا جوان بیٹا چلا گیا آپا۔
ماں کے بین اسکا دل چیر گئے تھے۔۔ ماں صدمے میں تھی حواس کھو رہی تھی مگر وہ بھی تو ایک بارہ سال کی بچی ہی تھی ان جملوں کو سہہ نہ سکی رو پڑی بھلا نہ سکی آج تک یاد تھے
پاگل مت بنو صفیہ۔۔ خدا کی امانت تھی اس نے لے لی شکر ادا کرو اریزہ بچ گئ۔۔ وہ بھی تو وہیں تھی۔
یہی تو کہہ رہی آپا وہ بھی تو وہیں تھی۔۔ میرا حماد کیوں چلا گیا۔۔ میرا ایسا سلجھا ہوا تابعدار بیٹا۔۔
ماں کے بین نہ تھمے۔۔
ہوش کر و صفیہ۔۔ مت فضول بکو۔۔ خدا کا لاکھ شکر ہے گود خالی نہ ہوئی تمہاری۔۔بیٹی تو بچ گئ۔۔ اسکی شکل دیکھو حوصلہ پکڑو۔۔ خالہ نے ڈپٹ دیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکو آئیسکریم کھانے کا طریقہ سکھاتی لڑکی اب اپنے ہاتھ خراب کر چکی تھی سوچوں میں گم ہو کر۔۔
ہیون اسکی سوچیں تو نہیں پڑھ سکتا تھا مگر سوچیں تکیلف دہ ہی تھیں اتنا تو اسکا چہرہ پڑھ گیا تھا سو بات بدل کر بولا۔۔
تم نے کبھئ یہ کھیلا ہے۔۔ اس نے تھوڑی دور ایک کائو نٹر کی جانب اشارہ کیا۔۔
کیا؟۔۔
اریزہ چونکی۔۔
ادھر آئو۔۔ وہ اسے کہتا آگے بڑھا اریزہ نے بھی تقلید کی۔۔
وہ ایک چھوٹا سا کیبن تھا جس میں چھوٹے چھوٹے اٹفڈ ٹوائز گڑیائیں بھالو ، سینڈیز اور چھوٹے موٹے تحائف پڑے تھے۔۔ کیبن شیشے کا تھا اسکے آگے ایک چھوٹا سا ہنڈل بنا ہوا تھا اس ہینڈل سے متصل ایک آہنی پنجہ سا لٹک رہا تھا اس ہینڈل سے وہ پنجا ہلتا جلتا تھا انہیں اپنی مرضی کا تحفہ اٹھا کر باہر نکالنا تھا اس آہنی پنجے کے زریعے۔۔ یہ جتنا آسان لگ رہا تھا اتنا تھا نہیں۔۔ چند سیکنڈ کے بعد پنجا کھل جاتا تھا انکو چاہے وہ راستہ پورا کر چکا ہو یا نہین۔۔ ہیون اسکیلیئے ایک دو پونیوں والی گڑیا اٹھانے کی کو شش کر تا رہا۔۔
اسے ایک چھوٹا سا گڈا پسند آگیا تھا۔۔
اس نے ہایون کا خوب مزاق اڑا کر اس سے ہینڈل چھین لیا تھا۔۔ تین ناکام کو ششوں کے بعد چوتھی بار وہ کامیاب ہوئی تھی۔۔ اس نے وہیں اچھلنا شروع کر دیا تھا۔۔ اس نے حقیقتا چڑا چڑا کر اسکی ناک میں دم کر دیا تھا اتراہٹ سے اسکا برا حال تھا۔۔
پہلی بار کھیلا ہے میں نے۔۔ اس نے جتایا
تم عظیم ہو بھئی۔۔
اس نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔۔
اریزہ اس گڈے کی مختلف انداز میں تصویریں کھینچ رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے شہر کی روشنیاں اسکی نگاہوں کے سامنے تھیں۔ دامن کوہ سے کبھی اسلام آباد شہر کا شام میں نظارہ کرو تو لگتا ہے جیسے ایک بڑی سی جھیل میں روشنی کے دیئے تیر رہے ہوں۔ مگر یہاں نام سان ٹاور کے قریب بنے اس بڑے سے پارک کی بالکونی سے سیول شہر کو دیکھتے اسے لگا تھا کہ ستاروں کی بارات اتر آئی ہو اسکے آنگن میں۔ سیول کی فلک بوس عمارتیں اور ان سے پھوٹتی روشنیاں۔ وہ مبہوت سی ہوگئ تھی۔ اوپر ٹاور تک کیبل کار تھی جسکا الگ سے ٹکٹ لینا پڑتا۔ اس نے یہیں کھلی فضا کو ترجیح دی تھی۔ پھر وقت بھی کم تھا کیبل کار بند ہی ہونے والی تھی۔
تم مجھے بتا دیتیں میں چھٹی لیکر آجاتا۔
ایڈون نے اسکو کوک تھمائی اس نے چونک کر کین اسکے ہاتھ سے لے لیا۔۔۔
اسکا جواب سنتھیا دانستہ ٹال گئ۔ اسے ہلکی ہلکی سرد ہوا کو سہتے یہاں ملگجے اندھیرے میں کھڑے ہو کر شہر کی روشنیاں دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔ اس وقت وہ بس اس لمحے میں جینا چاہ رہی تھی۔
کتنی ہی دیر گزر گئ۔ دونوں خاموشی سے برابر برابر کھڑے بس سامنے دیکھ رہے تھے اپنی اپنی سوچ میں گم۔
کتنی ہی دیر کے بعد جانے کس تکلیف دہ سوچ کو ٹالنے اس نے سر جھٹک کر دائیں جانب دیکھا تو ایڈون کو بھی کسی گہری سوچ میں گم پایا۔
کیا سوچ رہے ہو۔
اس نے پوچھا تو ایڈون نفی میں سر ہلانے لگا۔
کچھ خاص نہیں۔
تمہیں پتہ ہے میں کیا سوچ رہی تھی۔
سنتھیا نے ناز سے کہا تھا۔۔ جوابا ایڈون نے پوچھا ہی۔نہیں چند لمحے انتظارکے بعد وہ خود ہی بولی۔
میں سوچ رہی تھی کہ آج سے پانچ سات سال بعد بھی ہم دونوں یہاں آئے ہوں یونہی کھڑے اس نظارے کو دیکھ رہے ہوں یہی موسم ہو یہی شہر ہو بس ۔۔۔۔۔۔۔
وہ لحظہ بھر رکی۔ پھر ایڈون کو دیکھ کر بولی
ہم دونوں خاموش نہ ہوں۔۔۔۔
ایڈون گہری سانس لیکر ریلنگ پر بازو ٹکا کر اپنی پیشانی سہلانے لگا۔
پانچ سات سال بعد کی بجائے ابھی کا سوچو۔ لگ رہا ہے بارش ہوگی ہمیں اب چلنا چاہیئے۔
ایڈون آسمان کو دیکھتے ہوئے بولا۔ ہلکے ہلکے بادل چھا رہے تھے۔
آج چودہ اگست ہے۔ یاد ہے پچھلے سال اس دن ہم پنڈی میں چھت پر سے جھنڈیاں اتار رہے تھے۔ بارش جو شروع ہو گئ تھی۔
سنتھیا کا دل واپس اسی کٹیا میں جانے کا نہیں کر رہا تھا۔
سو بات بدل گئ۔
کتنا مزا آتا تھا جھنڈیاں لگانے کا سب سے بڑا پرچم لگانے کا۔ یہاں تو سب کیلئے عام سا دن ہے۔
وہ بور سے انداز میں بولی۔
جھنڈیاں لگانے کونسا ہماری حیثیت بدل جاتی تھی۔ رہتے ہم وہی اقلیت کے اقلیت تھے۔ پوری جھنڈے کا چھوٹا سا حصہ۔ جتنا کھل کے یہاں پھر رہے رات کے دس بج رہے کسی کو جوابدہ نہیں ہم یہاں وہاں آزادی سے اتنی رات کو کسی پبلک پلیس پر گھوم سکتے تھے ہم پاکستان میں ؟
ایڈون میں اتنی تلخی پاکستان کیلیے پاکستان میں رہتے بھی تھی یا اب اچانک پیدا ہوئی تھی وہ درست اندازہ نہ لگا سکی۔ الجھن بھرے انداز میں پوچھنے لگی
تمہیں کوریا پاکستان سے ذیادہ پسند ہے؟
اب میں اس وقت کوریا پاکستان کے موازنے کے موڈ میں نہیں ہوں مگر اتنا کہوں گا پاکستان میں بےجا پابندیاں ہمیں اقلیت ہونے کی وجہ سے سہنی پڑتی ہیں وہ ملک مسلمانوں کیلئے ہی ہے بس۔
ایڈون نے ہاتھ جھاڑے۔۔۔
خیر۔۔۔میں بہت تھک گیا ہوں۔ جاب اسکے بعد اکیڈمی اس وقت دل کررہا تھا بس بستر ہو اور میں سوجائوں۔ ہنگل کے سبق روز کے روز ملتے ان مشقوں کو دہرانا اور یاد کرنا پڑتا ہے۔ آج تو وقت نہیں ملنا مجھے۔۔ اسی لیئے یہاں آنے سے منع کر رہا تھا۔
وہ سرسری سے انداز میں بتا رہا تھا۔ تھکن اسکے انداز سے واضح تھی۔
مگر تمہیں میری فرمائش پر یہاں آنا پڑگیا۔
وہ فورا چڑی تھی۔ ایڈون ہونٹ بھینچ کر رخ موڑ گیا۔ اسکی یہ حرکت اسے مزید غصہ دلا گئ۔ وہ پھٹ سی پڑی۔
کوئی اندازہ ہے تمہیں میں نے سارا دن کیسے گزارا ایک تنگ کوٹھری میں بند۔ بھوک سے آنتیں پلٹ رہی تھیں میری۔ مگر گھٹن کا احساس سب پر حاوی تھا۔ مجھے لگ رہا تھا ساری دیواریں مجھ پر آن گریں گی۔ مجھ سے ایک گھنٹہ اس گوشی وون میں گزارنا مشکل ہے کجا وہاں رہناسانس نہیں آرہی تھی مجھے ۔
ایڈون یونہی رخ موڑے کھڑا تھا اس نے آگے بڑھ کر اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی جانب موڑا۔
۔ ایک بات تو بتائو بابا اتنے پیسے بھیج رہے ہیں کہ فلیٹ لیا جاسکے مگر تم منع کیئے چلے جا رہے ہو۔
اتنا دشوار ہے تمہارے لیئے ایک کمرے کا فلیٹ ارینج کرنا؟ یا تم مجھ سے اتنے عاجز ہو کہ میرے ساتھ رہنا گوارا ہی نہیں ہے۔۔
مجھ میں اس وقت تم سے لڑنے کی بھی ہمت نہیں ہے سنتھیا۔
وہ عاجز سا ہو کر بولا۔
تمہیں احساس کیوں نہیں ہو رہا کہ میں گوشی وون میں نہیں رہ سکتی۔
وہ بے بسی سے رو پڑی۔ اسے کوئی سخت سا جواب دیتے دیتے رہ گیا ایڈون۔
میں کچھ پیسے بچانا چاہ رہا تھا۔۔ تم نے فیصلہ کرنا ہے اس بچے کیلئے۔ اگر اس معاملے کو ختم کرنا ہو تو بھی اور اگر تم اسکو ۔۔ وہ بولتے بولتے رک گیا۔ پھر دھیرے سے اسکے کندھے تھام کر اپنے مقابل کرلیا۔ سنتھیا نے آنسوئوں بھری نگاہیں ا س پر جما دیں۔
ہمیں اسکی پرورش کیلیے بھی پیسے چاہیئے ہوں گے۔ ہم اپنے والدین سے پیسے نہیں مانگ سکتے اس سب کیلئے۔۔۔ تم نے کیا سوچا ہے ؟ کیا کرنا۔
میرا فیصلہ؟ وہ چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی۔
ہاں۔ ایڈون نے تھوک نگلا۔
تم جو بھئ فیصلہ کروگی مجھے منظور ہوگا۔ اگر تم چاہتی ہو ہم اپنے والدین کو اعتماد میں لے کر یہاں شادی کر لیں تو بھی اور اگر تم چاہو تو ہم اس معاملے کو خاموشی سے ختم کر لیں گے۔
سنتھیا نے لمحہ بھر سوچا۔
میں اس بچے کو پیدا کرنا چاہتی ہوں۔
ایڈون کو لگا کہ پورا سیول لمحہ بھر کیلئے تھم گیا تھا اسکے لیئے۔۔۔۔
…………………………….
وہ اسے اپارٹمنٹ کے باہر چھوڑ کر گیا تھا۔ اس نے کہا بھئ کوئی بات نہیں میں چلی جائوں گی۔۔ مگر وہ اسے چھوڑنے اوپر تک آیا تھا۔۔
گوارا ابھی گھر نہیں لوٹی تھی۔۔ وہ کمرے میں آئی تو ہوپ بیڈ پر بے خبر سو رہی تھی۔۔اس کے پائوں کے زخم پر پپڑی آچکی تھئ مگر اتنی خشک کہ لگتا تھا ابھی خون چھلک پڑے گا۔ اس نے لمحہ بھر سوچا۔ گوارا کے پاس چوٹ پر لگانے والی دوا پڑی تو تھی ۔ اس نے اٹھا کر احتیاط سے ٹیوب سے اسکے زخم پر دوا لگا دی تھی۔ ہوپ ذرا سا کسمسائی وہ فورا پیچھے ہٹی۔کچھ بعید نا تھا کہ یوں دوا لگانے پر لات ہی مار دے۔ اس نے اسکے دوبارہ گہری نیند میں جانے کا انتظار کیا اور ایک رومال لاکر اسکے پائوں کے نیچے بچھا دیا۔ سب کاروائی کرکے فریش ہونے باتھ روم گھس گئ۔ نہا دھو کر تازہ دم ہو کر نکلی تو تھکن سے براحال تھا۔ گوارا کا انتظار کرنے کی بجائے وہ آکر لیٹ گئ۔۔ اب بلاگ اپڈیٹ کرنے کی باری تھی۔۔
زندگی میں پہلی بار کوئی کھیل کھیلا اور انعام بھی جیتا ہے۔ اس نے یہی عنوان دیا۔۔
اور اس گڈے کی سب تصویریں لگا دیں۔
کمنٹ آرہے تھے اس نے کھولا
پہلا کمنٹ : آج کے دن کے حوالے سے تو کچھ پوسٹ کرتیں تم
دوسرا کمنٹ: انعام یہ ہے تو کھیل بھی کوئی گھٹیا سا ہوگا
تیسرا کمنٹ: پاکستانی ہو کر اتنی محنت کی۔ اندر تار ڈال کر نکال لینا تھا۔
چوتھا کمنٹ : اس مشین پر ایک پتھر مارتیں ایک گڈے کی بجائے سب مل جاتے دکان کھول لیتیں اپنی تم
پانچوان کمنٹ: بارش شروع ۔ چودہ اگست ہو اور بارش نہ ہو نا ممکن۔
چھٹا اسی کمنٹ کا جواب کھول کھول کر سب پوچھ رہے تھے کس شہر کی بات کر رہے کہاں ہو رہی ہے بارش۔
اور ہایون پیغام بھیج کر پوچھ رہا تھا
کونسا گانا تھا جو وہاں چل رہا تھا سن کے مزے کا لگا تھا۔
اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ ۔ جھٹ گانا یوٹیوب پر ڈھونڈ کر اسے لنک بھیجا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیون کو اسکے اتنی جلدی جواب بھیجنے کی توقع نہیں تھئ۔۔
جلدی جواب دینے والے بھی نعمت دوست ہوتے۔۔ اس نے سوچا۔۔ اسکا بھیجا گانا لگانے لگا پھر خیال آیا۔
یاہ آئی ایم آلاییو۔۔ مورم اسکول کا او ایس ٹی ۔۔ وہ یہی گانا سن رہا تھا یہی اسے بھی بھیج دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیغام۔کی گھنٹی بجی۔۔
اس نے کھول کر دیکھا تو کوئی لنک تھا
اس نے فورا کھولا جیسے ہی موسیقی کی آواز بلند ہوئی ڈر کر بند کر دیا۔ ہوپ بے خبر سو رہی تھی۔۔ اس نے اٹھ کر سائڈ ٹیبل سے ہنڈز فری نکال کر کانوں میں ٹھونس لی پھر دوبارہ چلایا۔۔
چند لمحے سن کر وہ لب ہلانے لگی
یاہ آئی ایم آل رائٹ۔۔ آگے کچھ اور ہی زبان تھی۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا تھا مگر سننے میں اچھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔

Kesi lagi apko Salam Korea ki aaj ki qist ? Rate us below

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔