آئینہ
ویب ڈرامہ اسکرپٹ

پہلا منظر

کلاس روم کا منظرہے۔ ایک نہایت خوبصورت مرد جسکی عمر لگ بھگ تیس پینتیس برس ہوگی بارہویں کی طلباء کو میتھس پڑھا رہا ہے۔بچیوں کے چہرے پر دبی دبی مسکان ہے۔ایک طالبہ نے تصویر بنائی ہے۔ دوسری طالبہ اس تصویر کو دیکھ کر ہنسی روک رہی ہے۔ پڑھاتے پڑھاتے استاد نے مڑ کر دیکھا۔تصویر میں استاد کی ٹائی پن جو اس نے قمیض کی جیب میں اٹکا رکھی ہے بطور خاص نمایاں کرکے بنائی گئ ہے

جہانزیب: کیا ہو رہا ہے۔؟چوتھی رو میں بیٹھئ دو لڑکیاں مستقل دبی دبی ہنسی ہنس رہی تھیں۔
اس نے آواز پر فورا مڑ کر دیکھا
ان دونوں کے سوا سب کی توجہ بلیک بورڈ کی طرف تھی۔ وہ دبے قدموں انکے سر پر جا کھڑا ہوا
جہانزیب مسکراہٹ دباتے ہوئے: یہ آرٹ کلاس نہیں ہے ۔ تبسم ۔میتھس پر دھیان دو ۔۔ پچھلےٹیسٹ میں غالبا تمہارے سو میں سےاسی نمبر تھے نا؟
تبسم او رتانیہ کورس میں : سوری سر
جہانزیب : آئندہ میں اپنی کلاس کے دوران ایسے فن پارےبناتے نہ دیکھوں سمجھیں دونوں؟
بھاری آواز پر دونوں لڑکیاں گھبرا گئیں ۔جہانزیب نے پھرتی سےوہ کاغذ اٹھا لیا دونوں لڑکیوں کا رنگ فق ہو گیا۔
کاغذ پر اسکی تصویر بنی ہوئی تھی۔ بڑی بڑی آنکھیں کشادہ پیشانئ جس پر گھنے بالوں کا گچھا تھا۔گندمی رنگت ہلکی سی داڑھئ جسکے خوبصورت خط بنے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی اس پر عنوان تھا۔ تانیہ کے خوابوں کا شہزادہ
تانیہ اورتبسم کا رنگ فق ہو چکا تھا سر جھکا کےرہ گئیں
تبسم تانیہ سر جھکائے:جی سر
جہانزیب: ویسے اسکیچنگ اچھی کر لیتی ہو اسکو میں رکھ رہا ہوں۔۔شکریہ
تانیہ : بال بال بچے مجھے تو لگا تھا سر غصے میں آجائیں گے
تبسم: میری تو جان نکل گئ تھئ۔ سر کو اپنی تصویر دیکھ کر غصہ آنا چاہیئے تھا
تانیہ : سر بہت سویٹ ہیں یار ہمیں ایسی شرارت انکے ساتھ کرنی نہیں چاہیئے تھی۔
تبسم : ہاں یار اب تو مجھے بھی شرمندگی ہورہی ہے۔۔
جہانزیب نے غور سے اپنی تصویر کو دیکھا پھر مسکرا کر بولا
اسکی بات پر تانیہ اور تبسم نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ بے نیازئ سے دوبارہ بلیک بورڈ کی جانب بڑھ گیا
تانیہ تبسم کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگی


دوسرا منظر
اگلی کلاس فری تھی۔وہ یونہی باہر نکل آیا تو کینٹین کی جانب جاتی مس ربیعہ پر نظر پڑی۔تیز قدم اٹھاتا انکے پاس چلا آیا
مس ربیعہ درمیانے قد کی خوش شکل خاتون ہیں۔ اسکے اس طرح اچانک آواز دے کر سامنے آکھڑےہونے پر حیران ہیں۔۔

جہانزیب: کیسی ہیں آپ مس ربیعہ آج صبح سے دکھائی نہ دیں کہاں تھیں۔
ربیعہ: میں کلاسز لے رہی تھی۔
جہانزیب مس ربیعہ کے بالکل سامنے آکھڑا ہوا ہے وہ چونک کے دیکھ رہی ہیں
یوں لگتا ہے وہ تھوڑی نالاں ہوئی ہیں
جہانزیب :چلیں اب تو ملاقات ہوگئ ہے۔ ویسے مجھے آپ جیسی میچیورخاتون سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ میری کل والی بات پر مجھ سے شرمانے لگیں گی۔ اور مجھ سے چھپتی پھریں گی
ربیعہ ناگواری سے: ایسی کوئی بات نہیں ہے۔میں نے کل ہی آپکو جواب دے دیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف پروفیشنل تعلق ہے ان سب باتوں کی گنجائیش نہیں نکلتی۔ میں چلتی ہوں۔
جہانزیب ہنستے ہوئے: ارےآپ تو برا مان گئیں۔ یہی تو آپکو بتانا چاہ رہا تھا بہت جلدی میں کل آپ نے انکار کر دیا آپکو تھوڑا سوچنے کیلئے وقت لینا چاہیئے تھا۔
ربیعہ: مجھے ضرورت نہیں میں اپنا فیصلہ آپکو بتا چکی ہوں۔

جہانزیب: یہ میری کلاس کی بچی نے میری تصویربنائی ہے۔ اسکے نزدیک میں اسکے خوابوں کا شہزادہ ہوں۔۔ ہنسی آئی مجھے دیکھ کر۔ پھر ذہن میں سوال لہرایا کہ۔۔۔۔
میں شکل و صورت کا لاجواب ہوں اچھی نوکری کرتا ہوں عادات کا بھی اچھا ہوں تو آخر ربیعہ نے میرے پرپوزل پر فوری انکار کیوں کردیا ۔۔ہوں؟
سختئ سے کہہ کر ربیعہ آگے بڑھنے کو تھی کہ اسکی نگاہوں کے سامنےپرچہ لہرایا جہانزیب نے۔وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
اس نے ہاتھ پیچھے کرکے پرچے کو بغور دیکھا۔
ربیعہ : آپکو ان بچیوں کو ڈانٹنا چاہیئے تھا انہیں ایسا فضول مزاق نہیں کرنا چاہیئے تھا
جہانزیب: ہاں ڈانٹنا تو چاہیئے تھا مگر میں ڈانٹ سکا نہیں۔ بس مجھے یہی خیال آیا کہ آخر مجھ میں ایسی کیا کمی ہے جو ربیعہ نے لمحہ بھر بھی سوچے بنا انکار کردیا
پھر اپنے چہرے کے ساتھ پرچہ لگا کر معصوم سا بن کے پوچھنے لگا۔ربیعہ حیرت سے دیکھنے لگی
ربیعہ: میں آپکو بتا چکی ہوں ہمارے خاندان میں خاندان سے باہر شادی کا رواج نہیں پھر میری منگنی بھی ہو چکی ہے۔ مجھے بار بار آپکے سامنے یہ دہراتے اچھا نہیں لگ رہا پلیز آئیندہ ہم اس موضوع پر بات نہیں کریں گے۔
جہانزیب مایوسی سے: کیا کمی ہے مجھ میں ؟ آپ گھر والوں سے بات تو کرکے دیکھیں۔ انہیں بتائیں کہ آپکو میری صورت اپنے ہم پلہ بہتر انسان مل چکا ہے آپ۔مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہیں وہ یقینا مان جائیں گے۔
ربیعہ تھوڑا جھلاتے ہوئے:دیکھیں آپ اچھے انسان ہیں یوں اپنی اور میری انسلٹ مت کیجئے۔
ربیعہ شرمندگی سے:

جہانزیب : کیا وجہ ہے جو آپ انکار کر دیتی ہیں یوں سختی سے۔۔ میں خوش شکل پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہوں ۔ آپکو پسند کرتا ہوں کیا آپکو۔۔۔
ربیعہ: بس کیجئے ۔ختم کریں اس تماشے کو ۔ میں آپکو صاف صاف کہہ چکی ہوں مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں۔بار بار میرا راستہ روک کر مجھے پریشان مت کیا کریں۔
جہانزیب : ربیعہ میں واقعی تم کو پسند کرتا ہوں
اسکے ضدی انداز ہر ربیعہ بری طرح غصے میں آچکی ہے۔ سر جھٹک کر آگےبڑھنے کو تھی کہ اس نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔
ربیعہ نے آگ بگولا ہو کر ہاتھ چھڑایا اور سختی سے بولی
ربیعہ :میں نہیں کرتی ہوں آپکو پسند سمجھے آپ
جہانزیب : ربیعہ
بات تو سنو ربیعہ
ربیعہ سختی سے کہہ کر رکی نہیں وہ پکارتا رہ گیا۔

تیسرا منظر
ربیعہ اپنے فلیٹ میں بیٹھی ناخنوں پر نیل پالش لگا رہی ہے اسکی سہیلی اپنے لیپ ٹاپ میں لگی کوئی کام کر رہی ہے۔

سونیا: تمہیں اب اسکی شکایت پرنسپل سے کر دینی چاہیئے۔مستقل تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے ایویں تمہیں بدنام کر دے گا
ربیعہ: یار بس یہی سوچ کر رک جاتی ہوں اچھا انسان ہے۔ سادہ سا ہے بس۔ مجھے پرپوز کرنے سے پہلے اچھا کولیگ تھا اچھی طرح بات کرتا تھا اب اچانک۔۔۔۔
سونیا لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے یونہی بولی
ربیعہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھر گہری سانس
لیکر بولی

ربیعہ کا فون بجنے لگا تو اس نے فون اٹھا کر دیکھا پھر نو کرکے ایک طرف رکھ دیا
سونیا: وہی تھا۔۔
ربیعہ :ہاں
سونیا: وہ تمہاری گڈ بکس میں آنا چاہ رہا تھا جبھی اتنا اچھا بنا ہوا تھا اب اپنی اصلیت دکھا رہا ہے۔ بتائو گرائونڈ میں تمہارا ہاتھ پکڑ رہا ہے تمہیں تنگ کر رہا ہے آوازیں دے رہا ہے۔حد کردی ہے اس نے۔ لوگوں نے کتنی باتیں بنائی ہوں گی۔ضروربچوں نے بھی دیکھا ہوگا۔
ربیعہ : یار میں پہلے ہی پریشان ہوں۔ صبح سے بار بار فون کر رہا ہے تنگ کر رہا ہے جانے مجھ سے چاہتا کیا ہے۔ عاجز کر دیا ہے اس نے مجھے
سونیا : ویسے شکل و صورت کا کیسا ہے۔؟
ربیعہ : شکل و صورت میں کیا اعتراض کروں تم جانتی ہو میں سطحی سوچ رکھنے والی لڑکی نہیں ہوں۔مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا مگر اسکے بارے میں عجیب عجیب باتیں مشہور ہیں اور سچ تو ہے کچھ حد تک درست بھی ہیں۔کوئی کہتا یے احساس کمتری کا شکار ہے کوئی کہتا ہے غصے میں پاگل ہو جاتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں جو اس نے مالی بابا کو مارا تھا مجھے تو سچی بات ہے یہ بندہ نارمل نہیں لگتا۔ پرنسپل صاحب کا رشتے دار نہ ہوتا تو سیدھا کیس ہوتا اس پر۔
سونیا : دیکھو ہوتا ہے کچھ لڑکے ہوتے ہیں غصہ ور ہو سکتا ہے اسے غصے پر اپنے قابو نہ ہو لوگ وقت کے ساتھ بدل بھی تو جاتے ہیں اور احساس کمترئ والی بات عجیب کہی۔ اتنی کم عمری میں پی ایچ
ڈی کی تیاری کرنے والا خوش
شکل ایک سیکیور نوکری کرنے والا احساس کمتری کا شکار کیوں ہوگا۔۔ مجھے تمہاری بات کی سمجھ نہیں لگی
ربیعہ: تم کس خوشی میں مجھے کنوینس کرنے میں لگ گئ ہو۔میں اس سے ہرگز شادی کرنا نہیں چاہتی نہ کروں گی سمجھیں۔۔
سونیا: وہی تو جاننا چاہ رہی ہوں۔ مجھے پتہ ہے تمہاری کوئی منگنی ونگنئ نہیں ہوئی وی اور دیہاتی کزن ہیں سارے تمہارے ان میں سے کسی کے پلے بندھنے کی بجائے اگر یہاں کوئی ویل ایجوکیٹڈ بندہ پرپوز کر رہا ہے تو کیا ضرورت ہے تمہیں فالتو میں انکار کرنے کی ۔
اسکا فون پھر بج اٹھا۔ سونیا نے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور آلتی پالتی مار کر بیٹھی اور اشتیاق سے پوچھنے لگی
میسج : ربیعہ بس ایک بار فون اٹھا لو
آخری بار میری بات سنو
کیوں تم ایسے کر رہی ہو۔۔
ربیعہ ؟
تم ہو وہاں
کیا کمی ہے مجھ میں کیوں ایسے کر رہی ہو میرے ساتھ
سونیا:یہ تو دیوانہ ہوا پڑا ہے۔
ربیعہ:سائیکو ہے۔
میسج: کیوں میرے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے۔
کیوں ہر لڑکی مجھے انکار کر دیتی ہے۔۔
کیوں ؟
بتائو بولو جواب دو۔
تم لڑکیاں کیوں ایسے کر تی ہومیرےساتھ
سونیا میسج ٹائپ کرتے ہوئے:
باقی لڑکیوں کا تو آپ ان سے ہی پوچھیں میں آپکو جواب دے چکی ہوں میری منگنئ ہو چکی ہے ۔۔
میسج: تو توڑ لو نا میری خاطر
سونیا:یا اللہ کیا چیز ہے یہ لڑکا۔
ربیعہ : اب سمجھ آئی کیوں میں نے چھوٹتے ہی انکار کیا اور منگنی والا جھوٹ بولا
کئی میسجز آچکے ہیں۔۔
سونیا: تم اب اسکو کوئی جواب نہ دینا ذیادہ تنگ کرے تو کل یہ سب میسجز دکھا کر ایڈمن میں کمپلین کردینا۔۔
ربیعہ : لگتا ہے اب یہی کرنا پڑے گا
موبائل اب تواتر سے پیغامات سے بج رہا تھا
ربیعہ نے جھلا کر موبائل اٹھایا پھر میسج دیکھ کر سونیا کے حوالے کر دیا ۔سونئا نے میسجز پڑھے تصویر دیکھئ پھر پریشان سی ہو کر اسے دیکھنے لگی

چوتھا منظر۔
ربیعہ تھکی تھکی سی گھرکا لاک کھولتی اندر داخل ہوئی ہے۔اندر داخل ہوتے ہی چونک گئ ہے۔ پورا کمرہ تحفوں سے بھرا ہوا ہے۔ غبارے اور پارٹی پاپرز ٹیڈی بیئرز وہ خوشگوار حیرت سے آگے بڑھتئ ہے سامنے ایک بڑا سا بھالو ہے وہ جیسے ہی اسے چھونے لگتی ہے اسے ہٹا کر ایکدم جہانزیب بھالو کے پیچھے سے نمودار ہوتا ہے۔ وہ گھبرا کے پیچھے ہوتی ہے۔

جہانزیب : سالگرہ مبارک ہو ربیعہ۔ تم جیو ہزارو سال خوش رہو ربیعہ۔۔ میرے ساتھ۔۔جہانزیب مسکراتے ہوئے اسکے سامنے آتا ہے ایک ہاتھ میں کیک اور دوسرے ہاتھ میں بکے لہراتا ہوا خوشگوار موڈ میں ہے۔
ربیعہ : یہ کیا حرکت ہے اور تم اندر کیسے آئے؟ربیعہ ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے۔۔
جہانزیب: تمہاری سہیلی کی مہربانی سے اندر آسکا۔
ربیعہ: سونیا ۔۔۔
جہانزیب دلفریب مسکراہٹ سے لائونج کے ایک کونے کی جانب اشارہ کرتا ہےوہ مڑ کر دیکھتی ہے تو جیسے روح فنا ہونےلگتی ہے۔
ربیعہ: سونیا ۔۔۔
جہانزیب: ٹھیک ہے وہ۔ بس مجھے اندر آنے نہیں دے رہی تھی اس لیئے اسکے ہاتھ پائوں باندھ کے بٹھانا پڑا۔ اچھا ہے۔ ہم آرام سے اب بات کر لیں گے۔۔
ربیعہ: مجھے تم سےکوئی بات نہیں کرنی دفع ہو جائو تم یہاں سے۔۔
جہانزیب۔سنجیدہ ہوتے ہوئے: مگر مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔
سونیا اس کونے میں بیٹھی ہے منہ ہاتھ پائوں سب بندھے ہوئے ہیں۔
ربیعہ اسکی جانب بڑھتی ہے جہانزیب اسکا بازو تھام کے روک دیتا ہے۔
ربیعہ : ہاتھ چھوڑو میرا۔۔
سونیا۔۔سونیا۔۔
جہانزیب:یہ لو اس سے کاٹ لو ۔۔۔
سونیا: بچائو۔۔۔ بچائو کوئی ہے؟
جہانزیب :چپ کرکے بیٹھو اگر آواز نکالی تو گلا کاٹ دوں گا
ربیعہ:پلیز اسے کچھ مت کہو۔ چھوڑ دو اسے۔اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے۔۔
جہانزیب: وہی تو کہہ رہا ہوں اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے پھر بھی بات نہیں کرنے دے رہی گلا کاٹ دیتا ہوں اسکا۔۔ چپ کرتی ہو کہ نہیں ؟
سونیا گھٹی گھٹئ چیخیں مار رہی ہے۔۔ ایکدم چپ ہو جاتی ہے۔
ربیعہ تڑپ کر رو دی: تت تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہو کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا؟
ربیعہ تنفر سےہاتھ چھڑا کر سہیلی کی جانب بھاگتی ہے۔ خلاف توقع جہانزیب اسکو آرام سے دیکھتا رہتا ہے۔ وہ آگے بڑھ کر سہیلی کے ہاتھ پائوں کھولنے کی کوشش کرتی ہے منہ سے کپڑا ہٹاتی ہے۔ گرہیں اتنی سخت ہیں کہ کھل نہیں پاتیں ۔جہانزیب آگے بڑھ کر اکڑوں بیٹھتے ہوئے چھری آگے بڑھاتا ہے۔دونوں ڈر کے پیچھے ہوتی ہیں۔
جہانزیب کو چھری بڑھاتے دیکھ کر سونیا ایکدم سے چلا چلا کر پکارنے لگتی ہے۔جہانزیب جھلا کر سونیا کا منہ بند کرکے گردن پر چھری رکھتا ہے۔ ربیعہ تڑپ اٹھتی ہے۔
دونوں گھبرا کر رونے لگتی ہیں
جہانزیب: وہی تو ۔۔ وہی تو بتانا چاہ رہا ہوں میں ۔مگر نا تم سننے کو تیار ہوتی ہو نا یہ مجھے سکون سے بات کرنے دیتی ہے۔۔
ناراضگئ سے گھورتے ہوئے۔
ربیعہ:مم میں سنتی ہوں بولو۔ اسکو چھوڑ دو۔ پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔
جہانزیب : میری بات سنو گی نا؟
ربیعہ: ہاں ہاں پلیز اسے چھوڑ دو۔
جہانزیب: بالکل خاموش بیٹھنا سمجھیں تم ورنہ گردن اڑا دوں گا۔
جہانزیب فیصلہ کن نظروں سے اسے اور سونیا کو دیکھتا ہے جو خوف کے مارے کانپ رہی ہے پھر گردن چھوڑ دیتا ہے وہ گھبرا کر ربیعہ سے جا لپٹی ہے۔
سونیا نے سر ہلایا۔
جہانزیب : اب میں بولوں سنو گی نا؟
ربیعہ زو رو شور سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے۔۔
: ہا ۔۔۔ ہاں ۔۔
ربیعہ اسے اپنے ساتھ لگائے سامنے بیٹھی ہے جہانزیب آرام سے ان دونوں کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتا ہے
جہانزیب دھیرے سے مسکرایا: میں کل ساری رات سوچتا رہا کہ تم نے مجھے سیدھا سیدھا انکار کر دیا کیونکہ میں نے کبھی تمہیں بتایا ہی نہیں کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔
تھوڑا عجیب ہے تمہاری سہیلی کے سامنے اپنا اقرارمحبت کرنا مگر خیر۔
سونیا: مم میں چلی جاتئ ہوں۔
جہانزیب: تمہیں سمجھ نہیں آتی چپ کرکے بیٹھو۔ایک لفظ اور بولیں تو تمہارے چھرا گھونپ دوں گا۔
ربیعہ: اب نہیں بولے گئ۔ پلیز۔چھری نیچے کرلو۔
سونیا فورا اٹھنے لگتی ہے۔ جہانزیب آگ بگولا ہو کر غراتا ہے۔ دونوں کی جان نکل جاتی ہے۔
ربیعہ: اب نہیں بولے گئ۔ پلیز۔چھری نیچے کرلو۔
جہانزیب: سارا موڈ خراب کردیا۔کہاں تھا میں ؟
ہاں ربیعہ میں پچھلے چار سال سے تم سے محبت کر رہا ہوں۔ تم سے منسوب ایک ایک چیز میں نے سنبھال کر رکھی ہے۔تمہارا ایک ایک تحفہ سینے سے لگا رکھا ہے۔
ربیعہ : میں نے کبھی تمہیں تحفہ نہیں دیا۔
جہانزیب : تم بھول رہی ہو تم نے بہت بار تحفہ دیا ہے مجھے۔سب سنبھال کر رکھے ہیں میں نے دکھاتا ہوں
اسے ایکدم کچھ یاد آتا ہے تو ایک بڑا سا شاپنگ بیگ اٹھالاتا ہے۔
اور اس میں سے ایک چیونگم نکالتا ہےچیونگم پگھل چکی ہے ریپر رنگ بدل چکا ہے۔
ہاں ایک منٹ۔
یہ دیکھو۔یاد آیا تمہیں؟ آج سے چار سال پہلے جب تم پہلی بار مجھ سے ملیں ۔جاب کا پہلا دن تم نے پورے اسٹاف کو یہ چیونگم دی۔ آج تک اسکو سنبھال کر رکھا ہے میں نے۔تمہارا پہلا تحفہ تھا یہ۔کیسے استعمال کر لیتا میں۔
ربیعہ: یہ سب کو دی تھی میں نے صرف تمہارے لیئے نہیں تھی۔
جہانزیب: جانتا ہوں اسکے باوجود میں نے اسکو سینے سے لگا کر رکھا ہے۔ اور یہ جوس کا ڈبہ۔ تمہیں یہ جوس ایک طالبہ نے دیا تھا۔اس دن میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم نے مجھے دے دیا تھا۔ میں اسکو کھولنا تو دور پی بھی نہ
سکا۔
ربیعہ:تم پاگل ہو گئے ہو۔۔
جہانزیب: ہاں لیکن تمہارے پیار میں۔
او ریہ ٹیچرز ڈے پر تم نے یہ کارڈ دیا تھا۔ بچوں سے خاص طور سے بنوا کر۔ میں اس دن آیا بھی نہیں تھا تم نے اگلے دن جب میں آیا تو مجھے دیا ۔ تم مشرقی لڑکی ہو ایکدم سے اقرار تو نہیں کر سکتی تھیں۔اس کارڈ کا متن پڑھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ تمہارے دل کی آواز ہے۔۔
ربیعہ: بچوں نے خود بنایا تھا میں نے ان سے نہیں بب بنوایا تھا
جہانزیب: چلو مان لیا۔۔۔( مسکراتے ہوئے)
یہ پیسٹرئ۔ یہ تو تم نے مجھے میری سالگرہ والے دن دی تھی۔ پچھلےچار سال سے سنبھال کر رکھی ہے۔
ربیعہ: پاگل ہو گئے ہو ۔یہ ہٹائو سڑ چکی ہے یہ۔پھینکو اسے۔
جہانزیب: تبھی تو ۔ یہ سڑ گئ تھی جبھی میں نے تم سے کہا تھا میری سالگرہ پر مجھے کوئی کھانے پینے کا تحفہ نہ دیا کرو اور تم نے مجھے اگلے سال یہ ٹائ پن دی تھی مجھے۔میں ٹائی نہیں باندھتا ہوں مگر ٹائی پن جیب سے لگا کر رکھتا ہوں ہمیشہ۔۔
پلاسٹک کے خوبصورت سےٹرانسپیرنٹ باکس میں پیسٹری سڑ چکی ہے۔دونوں کو ابکائی آگئ ہے ناک پر ہاتھ رکھتی پیچھے ہوئیں
ربیعہ : میں نے تمہیں تمہارے کہنے پر تحفہ دیا تھا۔
جہانزیب: تم۔۔ اف سن کے اچھا لگ رہا ہے تمہارے منہ سے۔ اچھی بات ہے اب ہم میں یوں اجنبیوں کی طرح آپ جناب والا تعلق تو رہا نہیں ہے۔
ربیعہ: تم نے کہہ دیا جو کہنا تھا اب چلے جائو یہاں سے۔
جہانزیب: ابھی کہاں دل کی بات کہہ پایا۔۔ ربیعہ یہ پین یہ چاکس یہ تمہارا ڈسپوز ایبل گلاس تم نے مجھے آج تک جو کچھ بھئ دیا ہے میں اسے پھینکنے کی ہمت نہیں کرسکا تو سوچو تمہیں زندگی سے نکلتا دیکھ کر مجھ پر کیا بیت رہی ہوگی۔ ؟ میری جان نکل رہی ہےربیعہ۔ میں کوئی ایسا ویسا انسان تو نہیں ہوں تم ایک بار مجھ پر اعتبار تو کرو ایک بار مجھے اپنا
سونیا : دور رہ کر بات کرو۔
وہ بولتے بولتے جزباتی ہو کر انکے قریب چلا آیا ربیعہ کےگال پر ہاتھ رکھنا چاہا تو سونیا نے جھٹک  دیا۔ جہانزیب نے بنا لحاظ تھپڑ ماردیا وہ دور جا گری ربیعہ تڑپ کر اسکی جانب بڑھی جہانزیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر جانے نہ دیا
ربیعہ: نہیں ۔ سونیا۔ دور ہٹو تم اس سے
جہانزیب: مجھے اس میں کوئی دلچسپی ہے بھی نہیں۔ 
سونیا: دور ہٹو تم ربیعہ سے مین تمہارا سر پھاڑ دوں گی
جہانزیب : تمہارا گلا ہی کاٹ دیتا ہوں میں۔ ہمیں بات ہی نہیں کرنے دے رہی ہو تم
سونیا : ربیعہ
 
ربیعہ : نن نہیں پلیز اسے مت کہو کچھ۔ پلیز۔میں سن رہی ہوں۔
 
 
جہانزیب : اب تم آرام سے پڑی رہو سونیا ہمیں تنگ مت کرنا ہم اہم بات کررہے ہیں۔
 
جہانزیب نے غرا کر کہا اور سونیا کو بازو سے کھینچ کر اسکی گردن پر چھری رکھی ربیعہ نے ہاتھ جوڑ دیئے۔جاہنزیب نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سونیا کو اس بار سونیا کے دوبارہ ہاتھ باندھے اور اسے اپنے پاس بٹھا لیا اس بار اسکو دھکا دے کر زمین پر لٹا دیا۔ ربیعہ چپ سی ہوگئی وہ اطمینان سے اب سونیا کی گردن پر چھری رکھے ہے
ربیعہ : میں نے تمہاری ساری بات سن لی ہے اب پلیز تم چلے جائو یہاں سے۔
جہانزیب: تم کہو تو دنیا سے چلا جائوں پتہ  ہے ربیعہ تمہارےلیئے میں دنیا کا سب سے اچھا انسان بن جانا چاہتا ہوں
ربیعہ : تم ایسا کیوں کر رہے ہو
جہانزیب: میں تمہارے لیئے خود کوبدل سکتا ہوں ربیعہ  ایک موقع دو مجھے میں مانتا ہوں
ربیعہ : میں نے تمہاری ساری بات سن لی ہے اب پلیز تم چلے جائو یہاں سے۔
جہانزیب: تم کہو تو دنیا سے چلا جائوں پتہ  ہے ربیعہ تمہارےلیئے میں دنیا کا سب سے اچھا انسان بن جانا چاہتا ہوں
ربیعہ : تم ایسا کیوں کر رہے ہو
جہانزیب: میں تمہارے لیئے خود کوبدل سکتا ہوں ربیعہ  ایک موقع دو مجھے میں مانتا ہوں
 
میں بچپن سے اتنا اچھا لڑکا نہیں تھا کافی شرارتی  تھا۔سب کو بہت تنگ کرتا تھا کلاس کا سب سے لمبا لڑکا ہوتا تھا۔ اور میری کلاس میں ایک بچہ ہوتا تھا بالکل مجھ سے مختلف سب سے چھوٹے قد کا سیاہ رنگت والا بچہ








 
ربیعہ بے چارگی سے سونیا کو دیکھتی ہے اسکی آنکھوں میں آنسو ہیں وہ کانپ رہی ہے

پانچواں منظر۔۔

کلاس روم کا منظر ہے چندپانچویں جماعت کے بچے کلاس میں شور و غل مچاتے پھر رہے ہیں سب بچے اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہیں کلاس میں سب سے پیچھے ایک کالا سیاہ چھوٹے سے قد کا بچہ سب کو بٹر بٹر دیکھ رہا ہے۔ پھر بیگ سے اپنا لنچ باکس نکالتا ہے نوڈلز ہیں اسکے لنچ باکس میں ۔ ایک بچے نے بیگ سے لنچ باکس نکالا مگر شائد بودے گیا ہے سو برا  سا منہ بنایا اور دوسرے بچوں کو اس لنچ باکس سے تنگ کرنے لگاکلاس کا سب سے لمبا خوبصورت لڑکا اپنے دوستوں کے ساتھ گیند سے کھیلتےشغل لگاتے ہوئے دیکھتا ہے پھر اپنے دوست کو آنکھ مارتا اسکے پاس چلا آتا یے۔

بچہ : اوئے کالو یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو آئو ہمارے ساتھ کھیلو نا۔
 
کالو : نن نہیں مجھے نہیں کھیلنا۔
 

دوسرا بچہ: کیوں ابھی تک ٹانگ میں درد ہو رہا ہے ؟ جس پر بال لگی تھی۔
بچے نے لنچ باکس کھولا ہے اور چند بچے اسکے سر پر آن کھڑے ہوئے ہیں
پہلا بچہ :کیا کرتے ہو اسکو پہلے بھی چوٹ لگا دی تھی جبھی تو بے چارہ ہمارے ساتھ کھیلنے نہیں آتا۔کیوں کالو ناراض ہو نا  ہم سے؟
کالو : نن نہیں تو۔



تیسرا بچہ : تم ناراض ہو جبھی تو ہمارے ساتھ نہ کھیلتے ہو نا کھاتے ہو
کالو : نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں
لمبا لڑکا : پھر ہمارے ساتھ کھائو نا کیا لائے ہو تم؟
کالو: نوڈلز

بچے نے اسکی ٹانگ پر لات سی ماری۔ وہ تڑپ کر سہلانے لگا
لمبا لڑکا:چکھائو کیسے بنے ہیں۔
دوسرابچہ : ہمم مزے کا ہے۔۔
لمبا بچہ : سب کھا گئے تم سب اب یہ بے چارا کیا کھائے گا۔چلو اپنا لنچ باکس شئیر کرو کالو کے ساتھ
 
انہوں نے اسکا لنچ باکس چھین لیا۔اور سب مزے لے لے کر کھانے لگے۔
لمبے لڑکے نے آنکھ ماری تو دوسرا بچہ معصوم بن کر لنچ باکس نکال کر دکھانے لگا
کالو: یہ اچھا نہیں ہے سڑا ہوا ہے۔
لمبا بچہ: ہم اتنے پیار سے تمہیں اپنا لنچ باکس دے رہے ہیں تم کہہ رہے ہو سڑا ہوا ہے کھانا کتنی بری بات ہےکالو
دوسرا بچہ: دل توڑ دیا۔
کالو: نہیں یہ واقعی سڑا ہوا ہے میں نہیں کھا سکتا
لمبا بچہ : تم ہمیں دوست ہی نہیں سمجھتے ہمارا لنچ نہیں کھارہے ہم بھی تمہارا لنچ واپس کرتے ہیں ۔
دوسرے بچے : ہاں ہا ں ہم بھی تمہارے نوڈلز واپس کرتے ہیں
کالو : نن نہیں۔ میں کھا لیتا ہوں
 
لمبا بچہ : اوئے کالو تمہارے نوڈلز تھوڑے سے بچ گئے ہیں کیا کریں انکا ؟
دوسرا بچہ : کالو کے تو ابھی تک بال ہی نہیں آئے اسکے بال بنا دیتے ہیں
لمبا بچہ : ہاں یہ ٹھیک رہے گا کالو ریپنزل
 
دوسرا بچہ : ریپنزل ریپنزل
سب بچے الٹی کرنے کی ادااکاری کرنے لگے حلق میں انگلی ڈال کر کالو گھبرا کر لنچ باکس سے نیا نوالہ بنانے لگتا ہے
سب بچے اسے کھاتے دیکھنےلگتے ہیں اور منہ چھپا کر ہنستے ہیں کالو کو الٹی  آنے لگتئ ہے تو پانی کی بوتل منہ سے لگا لیتا ہے لمبا بچہ بچے ہوئے نوڈلز سب اسکے سر پر ڈال دیتے ہیں

چھٹا منظر

جہانزیب ماضی سے حال میں آیا ہے ربیعہ اور سونیا پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں جہانزیب مسکرایا۔

ویسے ہی سونیا پڑی ہوئی ہے ربیعہ دیوار سے لگی اسے حیرت اور خوف سے ملی جلی کیفیت میں دیکھ رہی ہے
جہانزیب : میرے بچپن کی بات سن کر کافی حیران لگتی ہو۔ بچپن معصوم سادہ ہوتا ہے اچھے برے کی سمجھ نہیں ہوتی ہے۔ مجھے اب احساس ہوتا ہے اس بچے کے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے۔ وہ تو کافی ڈر جاتا ہوگا۔ اسکا اتنی بے عزتی کے بعد دل کرتا ہوگا کہ کبھی اسکول واپس نہ آئے جہاں اسکا کوئی دوست کوئی ہمدرد نہیں۔
 
یقینا اس بچے کا بھی دل کرتا ہوگا وہ سب کے ساتھ کھیلے باتیں کریں مگر وہ جب جہاں میرے ساتھ کھیل میں شامل ہونے کی کوشش کرتا میں اسکو مارتا اسکا مزاق اڑاتا سب بچوں کو ڈراتا کہ اگر اس سے بات کی تو میں ناراض ہو جائوں گا میرے ڈر سے کوئی بچہ اسکے پاس پھٹکتا بھی نہ تھا وہ تنہارہ گیا تھا۔ وہ اکثر کلاس میں اکیلا بیٹھا روتا تھا پر مجھے اس پر ترس نہیں آتا تھا میں اسکا مزاق اڑاتا اس بچے اس بچے کا تو دل کرتا ہوگا نا اسکول کی چھت پر چڑھ کر نیچے کود جائے

جہانزیب: بہت برا لڑکا تھا نا میں
 
وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ۔ جزباتی انداز میں اضطراری حرکتیں کرتا وہ ہاتھوں کو ہلا ہلا کر صورتحال بیان کر رہا تھا۔چھت پر چڑھنے پر بازو اونچا کرکے ہوا میں بازو سے سیڑھیاں چڑھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ پہلے چڑھا پھر وہاں سے کودنے کا اشارہ کرتے ہوئے ایکدم سے منہ کے بل سامنے باقایدہ اچھل کر کودا اور زمین پر اوندھا لیٹ ہی گیا۔




ربیعہ اور سونیا بھونچکا سی اسے دئکھ رہی تھیں جو انکے سامنے اوندھا لیٹا ہوا تھا ایکدم سے سر اٹھا کر دیکھاپھر کہنی زمین پر ٹکا کر اپنے ہاتھ کی ٹیک لیکر تھوڑی ٹکائی اور آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے مسکرا کر دیکھنے لگا
ربیعہ : ہاں۔ میرا مطلب نن نہیں ۔۔ تم چھوٹے سے تھے بچے شرارت کرتےہیں
جہانزیب : یہ شرارت لگ رہی ہے( چلاتے ہوئے)
یہ بدتمیزئ تھی۔ اس بچے کا سکون سے پڑھنا محال کردیا تھا میں نے اتنا تنگ کیا تھا اسے شرارت کہتے ہیں؟ اس بچے نے اسکول کی چھت سے چھلانگ لگا دی تھی۔ اسکی ٹانگ ٹوٹ گئ تھی میری وجہ سے ۔ آج تک لڑکھڑا کر چلتا ہے وہ اور تم کہتی ہو شرارت تھئ؟
 
وہ اوندھا لیٹا ایکدم بھڑک اٹھا تھا ۔ ربیعہ اور سونیا بری طرح ڈر گئ تھیں۔۔
 
ویسے وہ بچہ ذیادہ جزباتی ہو گیا احمق ۔ شرارت ہی تو تھی۔ یہ مگر میں بڑے ہو کر بھی نہ بدلا۔
وقت کے ساتھ میں بڑا ہواتو اور ہینڈسم ہوتا گیا میرا قد بھی بہت اونچا گیا اور شکل و صورت تو پہلے ہی اچھی تھی ۔
مجھے ایک لڑکی پسند کرنے لگی۔  سچ بتائوں تو میں دل پھینک بھی تھا۔  ( آنکھ مارتے ہوئے)
 
وہ کف ڑا رہا تھا غصے سے۔ پھر ایکدم موڈ بدل لیا۔
ایکدم ٹھنڈا ہو کر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ رکھ کر بولا
 
اس لڑکی نے میرے بہت نخرے اٹھائے۔ مجھے مہنگے مہنگے تحفے دیتی تھی چار سال اس نے میرے ساتھ گزارے اور ایک دن بھی کینٹین کا بل میں نے نہیں دیا بے چاری بہت محبت کرتی تھی مجھ سے۔میں نے سختی سے کہہ رکھا تھا اسے کہ وہ میری گرل فرینڈ ہے اس بات کا یونیورسٹی میں کسی سے ذکر نہ کرے ورنہ میں دوسری لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ
کیسے کرتا۔
ربیعہ ۔۔۔۔
ربیعہ : ہ ہاں۔ 
جہانزیب : تم سوچ رہی ہوگی میں یہ سب تمہیں کیوں بتا رہا ہوں؟
ربیعہ : کک کیوں
جہانزئب : میں زندگی کی نئی شروعات تمہارے ساتھ سب سچ بتا کر کرنا چاہتا ہوں کل کو کوئی تمہیں میرے بارے میں الٹی سیدھی بات بتائے تو تم مجھ سے بدگمان نہ ہو۔ اور ہمیشہ مجھ پر بھروسہ کرو
 
سونیا : پ پھر کیا ہوا؟ میرا مطلب اس لڑکی کے ساتھ تم نے کیا کیا ؟
جہانزیب :اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے
 ایکدن فائنل سے کچھ پہلے وہ اپنی گاڑی پھولوں اور غباروں سے سجا کر لائی
 
وہ رینگتا ہوا ربیعہ کے پاس آنے لگا وہ ڈر کر پیچھے ہوئی سونیا نے اسکو اسکے پاس جاتے دیکھا تو گھبرا کر ٹوکا۔وہ گھورکر دیکھنے لگا پھر شرمندہ سے انداز میں بولا

ساتواں منظر

اس خوبصورت لڑکے کی آنکھوں پر پٹی رکھے اسے چلاتی ہوئی پارکنگ لاٹ تک لائی

جہانزیب : یہ یہ گاڑی دکھانے لائی ہو تم مجھے احمق ۔۔ دس دفعہ کی دیکھی ہوئی ہے۔
لڑکی : چابئ لو اور ڈگی کھولو
 
جہانزیب :کیوں بھئ؟پھر کوئی تحفہ لے آئی ہو میرے لیئے
گاڑی کھڑی ہے اور لڑکی  لڑکے کی آنکھوں پر پٹی باندھے اسے چلا کر لائی ہے ۔ گاڑی کے پاس لا کر اسکی آنکھوں سے پٹی ہٹائی۔
 
کیا بکواس ہے یہ؟ یہ سب کیا ہے ؟
لڑکی : میرے دل کی آواز میں سچے دل سے تم سے محبت کرنے لگی ہوں آئی لو یو متین
 
ڈگی کھولنے پر کئی غبارے جو سیٹ سے بندھے ڈگی میں بھرے تھے ایکدم باہر نکلے غباروں کے ساتھ ایک بینر بھی نکلا جس پر سرخ رنگ سے آئی لو یو لکھا تھا۔ ایک بڑا سا ٹیڈی بئیر باہر جھانکتے ہوئے ایک بڑا سا بوکے دکھانے لگا
جس پر کارڈ او رانگوٹھی کا کیس بھی چپکا تھا۔ول یو میری می؟
جہانزیب: دماغ خراب ہوگیا ہے کیا تمہارا؟ پاگل ہو گئ ہو کیا چار دن تم پر ترس کھا کر ذرا سی بات چیت کیا کرلی تم اپنی اوقات بھول گئیں ؟ کالی گٹھی گنجی لڑکی آئینہ تو دیکھ لیتیں ایسی بات کرنے سے پہلے۔ تم ہو کیا؟ اس قابل ہو کہ میرے جیسے خوبصورت لڑکے کے ساتھ برابر میں کھڑی بھی ہو سکتی ہو۔ اپنی اوقات میں رہنا سیکھو۔ ایڈیٹ نان سنس
سارا موڈ خراب کردیا
 
لڑکی : گڑگڑاتے ہوئے : میری بات تو سنو
جہانزیب : ہاتھ مت لگانا مجھے
اس نے طیش میں آکر منہ پر تھپڑ مار دیا

آٹھواں منظر

دونوں لڑکیاں اسے تاسف سے دیکھ رہی ہیں وہ یونہی اوندھا لیٹا ہوا ہے دونوں لڑکیاں  پسینے پسینے ہوئی وی ہیں  سونیا بھی اٹھ بیٹھی ہے اس نے اپنے ہاتھ کھول لیئے ہیں اور وہ ربیعہ کو اشارے کر رہی ہے

جہانزیب : میں نے بہت غلط حرکت کی اس دن۔ مجھے اس لڑکی پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے تھا اتنا گھٹیا میں کیسے ہو گیا
پوری یونیورسٹی میں اسکی کیا عزت رہ گئ ہوگی۔
کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی ہوگی۔ سب اسکو دیکھ کر مزاق اڑاتے ہوں گے۔ وہ روتی ہوگی اسکا دل چاہا ہوگا کہ وہ اپنی کلائی کی رگیں کاٹ لے


ربیعہ : نن نہیں ۔۔رک جائوایسا مت کرو متین
اس نے اپنا چہرہ بازوئوں میں چھپا لیا ہے۔چند لمحے یونہی پڑا رہا پھر ایکدم سے اٹھ بیٹھا۔او رہچکیاں لے
لے کر رو پڑا۔۔









بولتے بولتے اس نے ہاتھ میں پکڑی چھری اپنی کلائی پر رکھی ربیعہ اور سونیا کے منہ سے چیخ نکلی۔۔
جہانزیب نے ایک دم چونک کر اسے دیکھا:
کیا کک کیا کہا تم نے مجھے۔۔
ربیعہ : مم متین۔ یہی نام ہے نا تمہارا؟
جہانزیب : نن نہیں میں متین نہیں ہوں میں جہان جہانزیب ہوں ۔۔
 
وہ ایکدم پاگلوں کی طرح چلاتا اٹھ کھڑاہوا۔
ربیعہ او رسونیا بھی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں ۔۔
جہانزیب دونوں ہاتھوں میں سرتھامے ادھر ادھر ڈکراتا چلاتا پھر رہا تھا کہ اسکی نگاہ لائونج میں لگے آئینے پر پڑی۔
جہانزیب ہوں میں متین نہیں۔ جہانزیب جہان
 
گنجا سا سیاہ رنگت والا بد شکل سا چھوٹے قد کا بد صورت لڑکا کھڑا تھا۔
 
 
اسکی ساری زندگی لمحے میں آنکھوں میں گھوم گئ۔اسکول میں پڑھاتا بدصورت ٹیچر اسکی کارٹون نما بنی تصویر جس میں اسے مزیدبد صورت دکھایا گیا تھا اسکول کی چھت سے کودتا بچہ ، یونیورسٹی میں لڑکی کے ہاتھوں تھپڑ کھاتا لڑکا
منہ پر شادی سے انکار کرتی لڑکی ربیعہ
 
جہانزیب : آگے بڑھ کر آئینے پر ہاتھ رکھتا : میں میں تو متین ہوں۔
 
ربیعہ : مم متین آئیم سوری
جیانزیب : ربیعہ تم متین سے شادی کروگی؟

ربیعہ نفی میں ہچکچاتے ہوئے سر ہلاتے ہوئے۔ متین سر ایسے ہلاتا ہےجیسے سب سمجھ گیا ہے پھر طائرانہ نگاہ پورے فلیٹ پر بکھری چیزوں پر ڈالتا ہاتھ کے اشارے کرتا جیسے وہ یہ سب پھیلاوا کرنے پر شرمندہ ہے سر جھکاتا چلا جاتا ہے۔ اسکی ایک ٹانگ میں واضح لڑکھڑاہٹ ہے۔

ختم شد

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *