Salam Korea
by vaiza zaidi

New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.Salam Korea urdu web travel novel episode 25
Salam Korea urdu web travel novel episode 25


قسط 25
کوریا کے سب سے مہنگے برانڈ کے منگنی کے جوڑے دیکھتی گنگشن کو جون من کے سنگ منگنی کا لباس خریدنے میں نام کا بھی اشتیاق محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ ایک بے حد اکتا دینے والا دن تھا اسکے لیئے۔ انکی ڈیزائنر ہلکان ہو رہی تھی دونوں کیلئے رنگوں کا انتخاب کرنے میں۔ انگوری رنگ کی وہ میکسی جس کی آستینیں اور گلے دلکش کٹ ورک سے سجی تھی اس نے یونہی اٹھا کر منتخب کر لیا تھا۔ جون من سنجیدگی سے اسکی غیر دلچسپی دیکھ رہا تھا۔
میم یہ ہلکا آسمانی ذیادہ دیدہ زیب ہے اسی انداز میں مگر اس پر موتیوں اورپتھروں کا کام بھاری ہے۔
ہچکچاتے جھجکتے ہوئے انکی شادی کے انتظامات دیکھنے پر معمور لڑکی بولی تھی۔ ایسا کوئی بھی مشورہ دینے کا مطلب ہوتا تھا ان نک چڑھے پیسے والے لوگوں کی سب توپوں کا رخ اپنی جانب کرنا مگر وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔ جب بجٹ میں کسی قسم کی کوئی قدغن نہ تھی تو اگر کم خاندان کی ناک کٹ پھٹ جاتی اگر انکی ہونے والی بہو ایسے جوڑے کا انتخاب کر لیتی جو پچھلے سال کی بہار کا سب سے ذیادہ مشہور ڈیزائن تھا اور کم و بیش ہرخاص و عام شادی میں دلہنوں کا پہلا انتخاب رہا تھا۔
ٹھیک ہے وہی کردو۔
گنگشن نے بڑے آرام سے مان لیا۔کیرل چند لمحے تو بے یقینی سے دیکھتی رہ گئ۔
آپ اسکو زیب تن کرکے دیکھ لیں تاکہ ناپ وغیرہ کی کمی بیشی دور کروائی جا سکے۔
وہ آدھی جھک کر کہہ رہی تھی۔
اچھا۔ وہ بنا چوں چراں کیئے لباس اٹھا کر اندر کمرے میں بدلنے چل دی۔
جون من نے گہرے نیلے رنگ کے جو کم وبیش کالا ہی دکھائی دیتا تھاڈنر سوٹ کا انتخاب کیا تھا۔۔
گنگشن لباس بدل کر آئی تھی۔ وہ خود کو آئینے میں ہر انداز سے دیکھ رہا تھا کہ پشت سے اسکا عکس ابھرتا دیکھ کر چونک کے ایک جانب ہوا۔ یہ اسکو آئینہ دیکھنے کا موقع دینے کی نیت سے کیا گیا تھا۔
کیسا ہے۔؟ گنگشن کا انداز سادہ تھا
اچھا ہے۔ وہ گڑبڑا کر بولا۔
گنگشن نے سر ہلایا اور فورا کپڑے بدلنے مڑگئ۔۔۔جیولری جوتوں تک کا انتخاب اس نے فوری او رنپے تلے وقت کے اندر کیا تھا۔ خاموشی سے اکٹھے کھانا کھایا تھا۔ اسکے گھر ڈراپ کیا تو جھک کر سلام کرتی وہ شکریہ ادا کرتی اندر چلی گئ۔
تو آہبوجی نے ایک اور کامیاب بزنس ڈیل کر لی ہے۔
اسکو نظروں میں رکھتے ہوئے وہ بڑبڑایا تھا پھر گاڑی اسٹارٹ کر لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر داخلی دروازے پر اطلاعی گھنٹی بج رہی تھی۔ ہوپ بیڈ پر پیر پسارے لیٹی موبائل استعمال کررہی تھی اسکے برابر بیٹھئ
گوارا اپنے چہرے کو چھو چھو کر دیکھ رہی تھی۔ اسکے نقوش میں نمایاں فرق آچکا تھا۔ اسکے ہونٹوں کے گرد ٹیکے لگا کر پٹھے اکڑا دیئے گئے تھے۔ اب وہ بول رہی تھی تو تھوڑی اور بانچھوں کے گرد کا حصہ ہلنے کو تیار نہ تھا۔ پتلی تماشا میں وہ آسانی سے حصہ لے سکتی تھی ذیادہ محنت بھی نہ کرنی پڑتی۔
بیڈ سے نیچے کارپٹ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی اریزہ اپنے دھلے ہوئے سوکھے کپڑے تہہ کر رہی تھی اور احتیاط سے ڈھیر لگا رہی تھئ۔ اسے دیکھ کر تاسف سے ٹوکا
اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ کہتی تھی نا پڑو سرجری کے چکر میں پہلے بہتر شکل تھی تمہاری
اریزہ نے محاورتا نہیں حقیقتا اس محاورے کا انگریزی ترجمہ کیا تھا۔
چڑیاں کھیت پورا چاہ کر بھی نہیں کھا سکتیں۔
گوارا نے پہلا اعتراض یہی جڑا۔
اور ابھی تو کھیت کو پانی دیا گیا ہے فصل دیکھنا کتنی شاندار ہوگی جب کٹائی کا وقت آئے گا۔ وہ اتراکربولی۔
تب تک تم بدصورت قراردی جا چکی ہوگی۔۔۔
اریزہ تمہارا فون کانپے جا رہا ہے۔
ہوپ نے سائیڈ ٹیبل سے جھر جھر کی آواز نکالتے اسکے فون کو گھورا
خیر ہے نظر انداز کرو۔
اریزہ نے مسکرا کر کندھے اچکائے۔
یار گوارا میری جاب ڈھونڈو نا کچھ کرکے۔
اریزہ نے کہا تو گوارا نے سر پر ہاتھ مارا
اوئے ایک ڈھونڈی ہے نا۔ ایک بچوں کے سیریل کی تشہیر کرنی ہے مفت کھلانا ہے اسٹور میں ایک ہفتے کا اسٹال لگنا ہے ٹھہرو میں نے تصویر کھینچئ تھی اشتہار کی بھیجتی ہوں کاکائو آن کرو۔
گوارا نے موبائل ڈھونڈا تکیئے کے نیچے بیڈ سائیڈ پھر بیڈ کے نیچے جھانکا۔ ہوپ نے منہ بناتے ہوئے کروٹ لی تو کمر میں چبھا جھلا کر گوارا کے پاس پٹخا۔ گوارا نے اس موبائلی توہین پر کچھ کہنا چاہا مگر اریزہ نےآواز نکالنے بنا چمکارا پچکارا۔ چپ برداشت کرو۔۔وہ گھور کر۔رہ۔گئ۔
اطلاعی گھنٹی پھر بجی
تم دونوں کے کان بند ہیں کیا گھنٹی کی آواز نہیں آرہی۔
ہوپ چڑ کر بولی۔
مکین تم بھی ہو اس گھر کی جا کر دیکھ لو کون آیا ہے۔
گوارا فورا چڑی۔۔
مجھ سے ملنے آج تک نہ کوئی آیا ہے نا آئے گا۔ تم دونوں کے ہی ملنے والے آتے ہیں جا کردیکھو بھی تم دونوں ہی۔
ہوپ کے کہنے پر گوارا تنک کر بولی۔
جب ہمارے ملنے والے ہیں تو جتنی دیر باہر کھڑے گھنٹی بجاتے رہیں تمہیں کیا۔
اریزہ چوکنا ہو کر اٹھ بیٹھی۔ دونوں نے اب اسکے بعد ہاتھا پائی ہی شروع کرنی تھی۔ گھنٹئ پھر بجی۔ ہوپ نے کینہ توز نظروں سے گھورتے کان پر ٹونٹیاں چڑھا لیں۔
اسکا برتائو یقین کرو مجھے جتنئ آگ لگاتا کسی دن میں نے اپنے ساتھ اسکو بھئ جلا مارنا ہے۔
گوارا نے دانت کچکائے۔
اے ذیادہ دانت نہ کچکچائوسب فلر بہہ جائیں گے تمہارے یہ نہ ہو ہونٹ بھئ نیچے آن گرے جتنا پھولا ہوا ہے۔
اریزہ اسے چھیڑتی بیڈ سے کود کر اترتے باہر بھاگی تھی گوارا نے بنا لحاظ پاس پڑا تکیہ مارا تھاا سے جو اگر وہ اتنی پھرتی نہ دکھاتی تو یقینا کمرپر لگتا۔
وہ منہ چڑاتی ہنسی روکتی دروازہ کھولنے چلی آئی۔ حسب عادت بنا کیمرے میں دیکھے کھولا ۔۔ ایڈون فون کان سے لگائے اسے ہی کال ملائے تھا۔ اسکو دیکھ کر کال بند کرکے مسکرا کر بولا۔
اسلام و علیکم کیسی ہو۔
وہ اتنی حیران ہوئی کہ دیکھتی رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریلنگ سے بازو ٹکائے وہ دونوں ہاتھوں میں پیشانی ٹکائے دھیرے دھیرے انگلیوں سے اپنی کنپٹیاں مسل رہا تھا۔
اریزہ بھونچکا سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
اب تم ہی بتائو میں کیا غلط کہہ رہا ہوں۔
وہ اریزہ کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پا رہا تھا۔ دانستہ رخ موڑے تھا۔ اس نے یہی کہا تھا کہ ضروری بات کرنی ہے تو اریزہ اسے ٹیرس میں لے آئی تھی اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ضروری بات یہ ہوگئ۔ وہ حیرت کے مارے گنگ سی اسکی شکل دیکھے گئ۔
اس بچے کا ہمارے معاشرے میں کوئی مقام نہ ہوگا۔ ہم واپس جا کر سب کو کیا جواب دیں گے۔ مگر وہ کچھ سوچنا سمجھنا نہیں چاہتی۔ مجھے کہہ رہی ہے شادی کر لو یہاں۔ میں کر لوں تو گھر کیا بتائوں گا کہ کیوں اتنی عجلت میں شادی کر لی؟ میں سوچ نہیں سکتا تھا وہ اتنی حماقت دکھائے گی۔۔ اسکو ذرا اپنی عزت کا اپنے والدین کی عزت کا خیال نہیں ہے۔
تمہیں تھا اپنا یا اپنے والدین کی عزت کا خیال۔
وہ چٹخ کر بولی۔ ایڈون نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔ اسکا منہ بالکل سرخ ہوگیا تھا۔
جو بھی ہوا ہے اس میں تمہاری برابر کی ذمہ داری بنتی ہے۔ تم سارا قصور اسکے کھاتے میں ڈال کر بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔
میں نے کب انکار کیا ۔ہوئی ہے مجھ سے بھی غلطی۔ تو اس معاملے کا حل بھی تو میں ہی نکال رہا ہوں۔ اسے سمجھائو عقل سجھائو یہ بات اتنی سادہ اور آسان نہیں جتنا وہ سمجھ رہی ہے۔
اسکے انداز میں بے چارگی تھی۔
تم اسے قتل کرنے پر مجبور کر رہے ہو۔ اگر یہ بچہ۔ وہ رک سی گئ۔ جتنا بھی روشن خیال بن لے یہ موضوع ۔۔۔۔وہ ایڈون سے کیسے بات کر سکتئ تھی کھل کر۔
ابھی اتنا وقت نہیں گزرا ہے ۔ وہ اسکی ادھوری بات سمجھ کر بولا۔
تم چلو ذرا دیکھو اسکی حالت تم خود بھی یہی مشورہ دوگی اسے۔ اسکی طبیعت اسکا مزاج کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔
وہ رسان سے کہہ رہا تھا۔ اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ عبدالھادی سے ملنے آیا ہوا تھا۔ انکی بیگم کسی سے ملنے گئ ہوئی تھیں دونوں بچیاں گھر میں تھیں سو عبدالہادی انکا خیال رکھنے کو گھر میں ہی تھے۔ اسکو بچیوں کے پاس بٹھا کر خود کچن میں کھانا گرم کررہے تھے۔
اپنا حق نہ چھوڑو ابھی تم جزباتی ہوئے ہو مگر پیسہ اس دنیا کی اٹل حقیقت ہے۔ وہ گھر تمہارے والدین کے نام ہے تم اس کی وراثت کے حقدار ہو علی۔
وہ مجھے وراثت کا حق نہیں رہائش کی اجازت دے رہے ہیں۔
اس نےبلاکس سے ایک اونچی عمارت کھڑی کر دی تھی۔
دونوں بچیاں بلاکس سے اسکے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ بالترتیب چار اور آٹھ سال کی بچیاں خاصی تمیز دار تھیں۔ نقوش چپٹے تھے مگر ناک ماں کی طرح کھڑی کھڑی سی تھی۔عمارت کھڑی ہوئی تو اگلا کھیل اسکے سامنے تھا۔
جو بھی ہے۔ تم اپنا موجودہ اپارٹمنٹ کرایے پر دے سکتے ہو معقول آمدنی کا انتظام ہو جائے گا۔
وہ مشورہ دے رہے تھے۔۔ علی استہزائیہ ہنسی ہنس کر رہ گیا
آپس میں وراثتی لوٹ مار چل رہی ہے۔جو میرے باپ دادا نے اپنے بھائیوں سے چھینا اب انکے بھائی ان سے چھین رہے میں ان کا شریک بن کر اپنے گناہوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
۔اب اسے بچوں کا پزل جوڑنا تھا۔ دونوں تندہی سے لگی ہوئی تھیں۔
تم پھر بھئ بھائی کی شادی میں ضرور جانا۔وہ تاکید کر رہے تھے
حرام کھانا ہوگا وہاں شراب کا دور ہوگا غیر مسلموں کی قابل اعتراض محفل میں جائوں۔
وہ گنوا رہا تھابولتے بولتے ایکدم سے پیچھے ہوا اگر نہ ہوتا تو عین سر پر انکا پھینکا ہوا ربڑکا دستانہ پڑتا۔۔
ہزار بار سمجھایا ہے حالت جنگ میں نہ ہوں تو غیر مسلموں کی خوشی غمی میں شریک ہونے میں حرج نہیں ہمیں ان سے حسن سلوک سے پیش آنے کی ہدایت ہےتمہیں وہاں حرام کھانے شراب پینے انکی مشابہت اختیار کرنے کی اجازت نہیں پر تمہارے جانے سے اگر وہ خوش ہوتے ہیں تو تمہیں جانا چاہیئے۔ رسول ص کی بیٹی باپردہ ہونے کے باوجود یہودی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے گئ تھیں کیونکہ یہودی خود چل کر آیا تھا دعوت دینے۔
وہ فل آن لیکچر دینے کے موڈ میں تھے۔ علی ہنس دیا۔
کائونٹر پر کھڑے پیاز بھی اسی تیزی سے کاٹ رہے تھے جتنا تیزی سے اسے لیکچر سنا دیا تھا۔
وہ لوگ یہودی نہیں ہیں۔ بدھ متی ہیں۔ کسی آسمانی مزہب سے تعلق نہیں انکا۔
ان دونوں کی بحث میں بچیاں اسکی توجہ بٹتے دیکھ کر اسکا بازو ہلا کر متوجہ کرنے لگیں۔
تمہارا چچا ذاد ہے۔ تم اسکے کافی قریب تھے وہ اسی مان کے ساتھ بلاوا دینے آیا تھا تمہیں۔ تم بدلے ہو وہ نہیں۔
عبدالہادی رسان سے کہہ رہے تھے۔اسکی آنکھوں کے سامنے بچپن سے آج تک کی اسکی۔کئی یادیں تازہ ہو گئیں اکٹھے باسکٹ بال کھیلنا سائکلنگ کرنا اسکے امریکہ جانے تک ان دونوں کی دوستی مثالی ہوا کرتی تھی وہ حقیقتا اسکو بڑے بھائیوں والا پیار دیتا تھا۔۔
جواب دو؟ عبدالہادی کی جھلائی آواز پر وہ چونکا۔
دے؟ اسکے انجان بننے پر وہ گھور کر رہ گئے۔
میں پوچھ رہا ہوں تمہاری بات کروں میں آمنہ کی بھانجی سے؟
کیا بات کرنی ہے۔؟ وہ قطعی نہ سمجھا۔
شادی کیلئے ملوانا چاہ رہا ہوں بھئ ۔۔ وہ جھلائے
میں آپکو بتا چکا ہوں میں شادی نہیں کرنا چاہتا رچل کے بعد مجھے دنیا میں کسی لڑکی میں کوئی دلچسپی نہیں رہ گئ ہے۔
اس نے قدرے سخت انداز اپنایا۔ اور جان کے رخ بدل کر پزل جوڑنے میں جت گیا۔
دلچسپی پیدا ہو جائے گی۔ مریم سے ملو خوبصورت ہے پڑھی لکھی ہے۔ایک دو بار ملاقات کرو دلچسپی ہوجائے گی تمہیں بھی۔۔ وہ اسے منا لینا چاہتےتھے۔

آپکو کیا لگتا ہے میں اتنا سطحی لڑکا ہوں کہ دو ایک بار کسی لڑکی سے ملوں گا اور رچل کی جگہ کسی انجان لڑکی کو دے دوں گا۔
وہ بد لحاظی سے بولا تھا۔ وہ اسکے ضدی انداز پر مسکرا دیئے۔ اوپن کچن سے اپنے کام نپٹاتے وہ اسے دیکھتے گفتگو جاری رکھےتھے۔ لائونج میں بیٹھا علی خفا خفا سا دکھائی دیتا تھا۔
رچل کی جگہ کسی کو نہ دو کسی اور کیلئے دل میں خود بخود جگہ بن جائے گی۔ اور جس کو تمہاری زندگی میں آنا ہوگا وہ ایک دن میں یہ جگہ بنا لے گی ایک دن میں کئی بار مل کر یا کئی دن میں ایک بارمل کر بھی۔
انکی بات پر علی کا دل چاہا بد تمیزی سے جتا دے سب آپ جیسے نہیں ہوتے۔ زندہ بیوی بیٹی کے ہوتے ہوئے بھی نئی دنیا بسا لی او رمطمئن بھی رہے۔
علی کا مزاج بھانپ کر فی الحال انہوں نے اس بات کو یہیں ختم کردیا
یہ دیکھو بس چار پزل رہ گئے انکو صحیح لگادیں گے تو تصویر مکمل ہو جائے گی۔ مگر باقی پزل ہیں کہاں۔
آخری پزل کا ٹکڑا لگا کر بھی تصویر مکمل نہ تھی۔
یہیں ہوگا۔
دونوں بچیاں آگے پیچھے مڑ کر کھلونوں میں ہاتھ مارنے لگیں
علی میں ذرا دکان سے دودھ لے آئوں۔ وہ معزرت خواہانہ انداز میں کہتے ہوئے باہر جانے کو تیار کھڑے تھے
آپ بیٹھیں میں لے آتا ہوں۔ وہ فورا اٹھنے لگا۔
دونوں بچیوں کا منہ بن گیا۔
میری بچیوں کا موڈ خراب نہ کرو پزل حل کرو۔
انہوں نے شفقت بھرے انداز میں کہا تو وہ خجل سا ہوگیا۔
دے۔ بیٹھیئے۔
بڑی والی فاطمہ نے باقائدہ اسکا ہاتھ تھام کر واپس بٹھایا۔ سارا اٹھ کر اپنا گھوڑا گھسیٹ لائی۔۔
یہ دیکھیں میرا گھوڑا
وہ اتنے شوق سے دکھا رہی تھی اسے اشتیاق جتانا پڑا۔ ناچار واپس بیٹھ گیا۔ پزل بناتے وہ مکمل مگن تھا جب فاطمہ نے اچانک اسکا ہاتھ تھاما وہ چونک کر دیکھنے لگا وہ تھوڑی خوفزدہ سی اسکی پشت کی جانب اوپر سر اٹھا کر دیکھ رہی تھی۔ اس نے حیران ہو کر مڑ کر دیکھا تو چندی آنکھوں والی اس لڑکی کو اس نے کینہ توز نظروں سے گھورتا پایا۔
سارا بھی اپنے گھوڑے سے اتر اسکے کندھے سے آن لگی۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟
دونوں ہاتھ کمر پر رکھے وہ جرح کرنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
وہ بچیوں کا سر تھپکتا اٹھ کھڑا ہوا۔
میں یہاں اکثر آتا ہوں۔ آپ بیٹھیں آہجوشی باہر گئے ہیں آتے ہی ہوں گے۔
کیسے باپ ہیں انجان آدمی کے پاس بچیاں چھوڑ کر چلے گئے۔۔
اسکا انداز طنز بھرا تھا۔ وہ سلگ کر رہ گیا
میں انجان نہیں ہوں۔
باپ توپتہ مجھے انکا کون ہے تم کون ہو پھر کیا ان کی ماں ہو؟
وہ طنز سے ہنسی۔ وہ کوئی سخت سا جواب دینے لگا تھا کہ داخلی دروازے پر کھٹ پٹ سے توجہ بٹ گئ۔
کون آیا ہے علی ۔
عبدالہادی دروازے پر جوتے دیکھ کر پوچھتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ جی ہائے کو دیکھ کر بے ساختہ خوشی انکے چہرے پر پھیل گئ۔
تم کب آئیں ؟ کیسی ہو بیٹا۔ ؟ وہ فورا اسکے پاس آئے
ابھی آئی ہوں۔ اس کا انداز لیا دیا تھا۔ ناگواری تھوڑی کم تھی وہ اسی پر خوش ہوگئے
بیٹھو بہنوں کے پاس میں تمہارے لیئے کچھ کھانے کو لاتا ہوں ۔ وہ خوشی کا اظہار کرتے کچن کی جانب بڑھے۔
میں بیٹھنے نہیں آئی ہوں۔ مجھے اپنے کمرے سے کچھ لینا تھا۔ وہ بے نیازی سے کہتی ماسٹر بیڈ روم کے مقابل اپنے بیڈروم کی جانب بڑھ گئ۔ عبدالہادی کچھ کہتے کہتے رکے۔ جی ہائے کو دروازہ کھولتے ہی جھٹکا سا لگا تھا۔
گلابی بنک بیڈ گلابئ دیواریں اسٹفڈ ٹوائز سے سجا وہ کمرہ اب اسکا نہیں رہا تھا۔ عبد الہادی تیزئ سے اسکی۔جانب بڑھے۔ وہ صدمے کی سی حالت میں کھڑی بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔
بیٹا وہ جگہ کی کمی کے باعث بچیوں کا کمرہ الگ کرنا پڑا تمہاری چیزیں سب اسٹور میں الماری میں احتیاط سے رکھی
وہ لجاجت سے کہتے اسکا ہاتھ تھامنے لگے اس نے سختی سے جھٹک دیا۔ اور پلٹ کر بجائے اسٹور روم جانے کے سیدھی باہر نکلتی چلی گئ۔
عبدالہادی اسکے پیچھے لپکے۔ علی کو اپنی موجودگی یہاں کافی عجیب محسوس ہوئی تو اس نے بھی باہر کی راہ لی۔
چھوٹے سے کمپائونڈ کے آگے ٹیکسی سے اترتی عبایا میں ملبوس آمنہ عبدالہادی کو دیکھ کر وہ لمحہ بھر رکی ۔۔ عبایا کے باوجود بھی اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ انکے یہاں مزید ایک پھول کھلنے کی تیاری ہے۔ اس نے مڑ کر بھرپور شاکی نظر ان پر ڈالی تھی۔
عبدالہادی مجرم سا خود کو محسوس کرتے نگاہ چرا گئے۔ آمنہ نے کوریائی انداز میں جھکنے کی بجائے ذرا سا سر خم کرتے اسے سلام کیا تھا۔ جوابا وہ انکو مکمل نظر انداز کرتی انکی ہی چھوڑی ہوئی ٹیکسی میں بیٹھ گئ۔
آئو علی کیسے ہو بڑے دنوں کے بعد آئے۔
آمنہ خوش دلی سے اس سے مخاطب تھیں۔ وہ سٹپٹا کر عبد الہادی کو دیکھنے لگا جو چند قدم آگے بڑھ کر اس ٹیکسی پر حسرت بھری نگاہ جمائے کھڑے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ وہ میرے ساتھ رہنے کو تیار ہوتی ہے نا ماں کے پاس جاتی ہے.جب یہ گھر لیا تھا میں نے بڑے شوق سے اسکے لیئے یہ کمرہ سیٹ کیا تھا کچھ عرصہ رہی بھی میرے ساتھ فاطمہ سے پیار کرتی تھئ پھر سارا پیدا ہوئی تو جانے کیا ہوا کہ الگ رہنے کی ٹھان لی۔۔ میں اسکا کمرہ کسی صورت بھی بچیوں کو نہ دیتا مگر بچیاں بڑی ہو رہی ہیں اور آمنہ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی مجھے مجبورا کمرہ الگ کرنا پڑا۔یقین مانو ایک ایک چیز اسکی احتیاط سے اسٹور روم میں رکھی ہے۔ اور وہ آج بھی یہاں آکر رہنا چاہے تو میں بچیوں کا کمرہ خالی کردوں گا اسکے لیئے۔ پہلی اولاد ہے میری اسکا مقام ہی الگ ہوتا ہے دل میں۔ ہے نا۔
عبدالہادی دھیمے انداز میں خود کلامی کے سے انداز میں بات کر رہے تھے۔ دونوں بچیاں کمیونٹی پارک میں جھولوں کے پاس دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ وہ انہی پر نگاہ جمائے تھے۔علی نے خاموشی سے انکی بات کو سنا تھا اور جواب دینے سے احتراظ کیا تھا اسی طرح جیسے سوال بھی نہ کیا تھا کوئی۔
جب جی ہائے پیدا ہوئی تھی تو میں اور ہانا بہت خوش تھے۔ ہم نے ایک ایک چیز اسکی شوق سے دل سے خریدی تھی۔ ہانا کہتی تھی اسکی شکل مجھ سے ملتی ہے اور میں کہتا تھا ہانا کے بچپن کی ہوبہو تصویر ہے۔اب ہانا اسے دیکھ کر میری بات مان گئ ہوگی بالکل جی ہائے ہانا کی شکل ہے۔
انہوں نے اپنا پرس نکال کر بڑے اشتیاق سے تصویر پر ہاتھ پھیرا۔چار پانچ سال کی جی ہائے کو گود میں لیئے کھڑے ایک بازو ہانا کے کندھے پر رکھے وہ محبت سے ساتھ لگائے تھے۔ وہ تصویر پر انگوٹھا دھرے تھے جس سے تصویر آدھی چھپ سی گئ تھی اوپر سے تصویر ایک مکمل خوشحال چندی آنکھوں والے گھرانے کی تھی۔ علی نے ایک نظر دیکھا۔۔ انہوں نے انگوٹھا ہٹا دیا تھا۔ اب مکمل تصویر تھی مگر ایسی جیسے دو تصویروں کو اوپر نیچے فریم میں جوڑا گیا ہوا۔ اب جو تصویر تھی اس میں عبایا پہنے ایک عربی نقوش کی خاتون انکے برابر کھڑی تھی۔ ایک چند ماہ کی بچی گود میں لیئے خوش باش سی اور چند سال کی منہ بنا کر رونے کو تیار بچی کو گود میں لیئے خوش باش کھڑے اسی محبت سے اپنی دوسری بیوی کے کندھے پر بازو پھیلائے محبت سے ساتھ لگائے۔ اس نے چونک کر سر اٹھا کر انکی شکل دیکھی پھر کچھ کہتے کہتے رک کر رخ موڑ کر سامنے دیکھنے لگا۔
تم سوچ رہے ہو کہ میں دوغلا انسان ہوں ۔ دو خاندانوں سے جڑا ہوں پہلی بیوی بچی کی محبت کا دعوی کرنے والا کھوکھلا انسان جو اپنی دوسری بیوی بچوں کے ساتھ بھی خوش باش زندگی گزار رہا ہے۔
انکی بات پر وہ پلٹ کر انکی شکل دیکھنے لگا۔ اسکے چہرے کی حیرت غماز تھی کہ وہ حرف بہ حرف اسکی سوچ پڑھ گئے ہیں۔ وہ مسکرا دیئے۔
میں ہانا سے محبت کرتا تھا کرتا ہوں۔ میں نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ بھی اسلام قبول کر لے۔ جی ہائے بھی ۔ جی ہائے کر بھی لیتی مگر ہانا کو بالکل گوارا نہیں تھا اس نے خلع مانگ لئ تھی۔ میں روتا تھا راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعا مانگتا تھا کہ اسکا دل بدل جائے وہ بھی مسلمان ہو جائے۔ میرا گھر مجھے بہت عزیز تھا۔ایکدن سجدے میں روتے روتے ایکدم سے میرا دل ٹھہر سا گیا۔ یہی خواہش ہانا کی بھی تو ہوگی۔ تو کیا وہ۔۔۔
آپکو پھر محبت ہوگئ؟
وہ بات کاٹ کر بولا۔ عبدالہادی چپ ہوگئے۔
یہ سوال میں نے بھی کیا تھا عالم دین سے جب ہانا سے طلاق کے بعد میں اس گھر میں اکیلا تنہا رہا ۔ بہت سوچا زندگی میں اب میرے لیئے کوئی خوشی باقی نہ رہی ہے۔ اب میں کبھی خوش نہ ہوپائوں گا۔ جانتے ہو جواب میں انہوں نے کیا کہا تھا مجھے۔
علی ہمہ تن گوش تھا۔مگر اسکی آنکھوں کی بے چینی ان سے مخفی نہ رہ سکی۔
شادی کرلو عبدالہادی۔ اللہ کی رضا کیلئے تم نے اپنا پچھلا تعلق ختم کیا ہے اللہ تمہیں نئے رشتوں سے خوشیاں فراہم کردےگا۔ وہ اپنے اوپر کسی کا احسان نہیں رکھتا۔ وہ احسان کرنے والوں میں سے ہے۔
سننے میں بہت اچھا ہے مگر کیا محبت بھی دوبارہ ہوتی ہے۔
وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا نے اسے پورا روٹ لکھ کر دیا تھا ایک ایپ بھی انسٹال کروادی تھی جس سے وہ اپنے مطلوبہ مقام تک جانے کیلئے کب کونسی ٹرین کا انتخاب کرنا تھا یہ سب رہنمائی دی جاتی تھی۔ پھر بھی وہ الجھن بھرے انداز میں اسٹیشن پر کھڑی آتے جاتےلوگوں کو اس چار رویہ داخلی راستے سے گزرتے دیکھ رہی تھی۔ چپس یا ٹوکن بھی تھے پلاسٹک کے جو کرائے کی رقم کے بعد ملتے تھے انکو ڈالا جا سکتا تھا یا اسکینر سے کارڈ استعمال کیا جا سکتا اس کارڈ میں پیسے ڈلوا لیتی تھی گوارا۔اسکو بھی بنوا دیا تھا ۔۔۔ بس ایک راڈ تھا جو اسکے راستے کی دیوار بنا تھا۔
اس نے کارڈ چھوایا۔ عجیب ٹیں ٹیں کرکے رک گیا راڈ ہٹا ہی نہیں۔ اس نے دوسری بارکارڈ چھوایا۔ تیسری بار۔۔
اس وقت یہاں رش ہو رہا تھا۔ اسکے پیچھے قطار بننے لگی تھی۔ اسے خفت محسوس ہو رہی تھی۔ اسکے پیچھے کھڑی لڑکی نے آہش۔ چچ۔ اور ایک دو مزید بیزارکن آوازیں نکالیں جن کا یقینا ہنگل میں کوئی مطلب تو ہوتا ہوگا۔ پھر پلٹ کر دوسری رو کی جانب بڑھ گئ
ایک دن تو ساتھ چلی آتی۔ پہلا انٹرویو ہے میراکسی بھی جاب کیلئے ہنگل تک نہیں آتی مجھے۔
اسے گھبراہٹ کا دورہ بس پڑنے کو ہی تھا۔
وہ واپس پلٹی۔ اسکے پیچھے ایک چندی آنکھوں والا لڑکا کھڑا یقینا اسکے فارغ ہونے کے انتظار میں تھا۔
سوری۔ وہ کہتی فورا ہٹ گئ آگے سے۔
اس نے کارڈ چھوایا راڈ فوری طور پر ہٹ گیا۔ اریزہ آنکھیں پھاڑ کر اس مشین کے اس تعصب کو دیکھنے لگی۔
مس آپ کا کارڈ ختم ہو چکا ہے۔ آپ ٹکٹ لے سکتی ہیں۔
وہ چندی آنکھوں والا یقینا نیکی کے موڈ میں تھا۔ خالص امریکی لہجے میں انگریزی ۔ منہ پر کالا ماسک چڑھائے وہ تھا تو چندی آنکھوں والا ۔ اریزہ نے مڑ کر ادھر ادھر دیکھا۔ اسے ٹکٹ کہاں سے بنوائے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ گھبراہٹ اسکے چہرے سے ہویدا تھی ۔ چاروں طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ ایک آدمی تو چلتے چلتے اس سے ٹکراتا گزر گیا۔ اسکو زور کا جھٹکا لگا تھا۔ ٹکرانے والے نے محسوس بھئ نہ کیا موبائل پر جھکا آگے کسی اور سے بھی ٹکرایا ہوگا۔۔۔وہ متزبزب ہوئی واپسی کا ارادہ باندھ لے یا یہ کڑوا گھونٹ پی لے۔
اسے آگے جا کر جانے کیا خیال آیا تو مڑ کر دیکھنے لگا۔۔
وہ داخلی راستے میں بیچ میں رکی ادھر ادھر شائد ٹکٹ کائو ٹر تلاش رہی تھی۔۔ وہ مڑ کر اسکے پاس چلا آیا۔۔
ادھر۔ اس نے اشارے سے بتایا۔
گومو وویو۔۔ کائونٹرسامنے تھا۔۔ وہ۔ہی اندھی ہوئی پڑی تھی۔۔ یا فیصلہ نہ کرپائی تھی۔
شکریہ۔
اس نے فیصلہ لے لیا۔ ٹکٹ لے ہی لے۔ کوئی مرد وزن کی تشخیص نہ تھی نہ الگ الگ رو کا کھڑاگ اسکے آگے کھڑے لڑکے اور آدمی نے اپنی باری اسے دینے کی کوشش نہ کی۔ البتہ اپنا ٹکٹ بنواتے فورا جگہ خالی کرتے گئے۔ ترقی یافتہ ملک کے ترقی کی دوڑ میں بھاگتے دوڑتے مصروف لوگ۔۔۔ اسکی باری آگئ کارڈ ریچارج ہوا
میٹرو تک جانے کیلیئے داخلی راستے پر لوہے کی راڈ لگئ تھی۔۔ اس نے کارڈ چھوایا اس بار تو ٹیں کی آواز بھی نہ آئی۔ مگر راڈ بھی نہ ہٹا۔
کیا مصیبت ہے۔ وہ جھلانے ہی لگی تھی کہ ایک ہاتھ سامنے آگیا۔۔
اس نے چونک کر دیکھا وہی لڑکا مسکرا رہا تھا۔۔
اس نے جھجکتے کارڈا سکے ہاتھ پر رکھابتو اس نے اسکے ابھرے نقش کو مشین سے چھوادیا۔۔وہ اس بار کارڈ ہی الٹا رکھ رہی تھی۔
اسے خفت سئ محسوس ہوئی ۔ وہ اگر ذرا دھیان دیتی تو خود ہی یہ بات سمجھ آجاتئ۔ ٹن کی آواز سے کھل گیا تھا۔۔
وہ پار ہوئی تو علی بھی اسکے پیچھے پیچھے ہی آرہا۔۔
میرے خدا۔ اتنے لوگ۔۔ وہ ٹھٹک سی گئ۔۔ پورا اسٹیشن کسی مچھلی بازار کا نقشہ پیش کر رہا تھا اتنے لوگ۔
ٹرین آکر رکی۔ سب دوڑ کر چڑھے۔۔ ٹرین بھی اتنی ہی کھچا کھچ بھری تھی۔۔ وہ جھجک کر رک گئ۔۔علی چونکہ پیچھے تھا تو اس نے بھی اگلی ٹرین کا انتظار ہی بہتر سمجھا
دو منٹ بعد دوسری آئی وہ اس میں بھی سوار نہ ہو سکی۔۔علی لپک کر چڑھا۔ وہ اسکے پیچھے آرہی تھی وہیں رک گئ۔ علی کی یونہی نظر پڑی تو وہ وہیں پیچھے کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ بھی حیران ہوتا اتر آیا۔
بہت رش ہے۔۔ وہ جیسے صفائی پیش کرنے لگی۔۔
اگلی ٹرین بھی خالی نہیں ہوگی۔۔ علی نے جتایا
وہ ۔۔مجھے اتنے رش کی عادت نہیں۔۔ وہ کھسیا گئ۔۔
انڈین ہو آپ۔۔ اس نے دلچسپی سے دیکھا۔۔بلیک جینز پر بلیک ہی لانگ ٹاپ اور بلیک اور گرے پرنٹد بڑا سا اسکارف گلے میں ڈالے وہ گول سے چہرے والی لڑکی انڈین کے حساب سے کافی صاف رنگ کی مالک تھی۔
نہیں۔۔ اس نے تنک کر فورا تردید کی۔۔
میں پاکستانئ ہوں۔۔
علی اسکے انداز پر ہنس دیا۔۔
میں امریکہ میں کافی عرصہ رہا ہوں کسی انڈین کو پاکستانئ سمجھ لو یا پاکستانی کو انڈین برا کیوں مان جاتے۔۔ اس نے لطیف پیرائے میں کہا اریزہ سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
پاکستان میں اتنا رش نہیں ہوتا۔۔ میٹرو میں؟۔
تیسری ٹرین کا دروازہ بند ہو رہا تھا انکے سامنے۔۔
اسے حیرانگی ہوئی
اریزہ چونکی۔۔
پاکستان میں میٹرو ٹرین ہی نہیں ہوتی۔۔ وہ بڑ بڑائی۔۔
لاہور میں اب بن جائے شائد۔۔
اسے اردو میں بڑبڑاتے وہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔ اسے وضاحت کرنی پڑی۔۔
ہوتا ہے رش۔۔ مگر عوامی آمدورفت کے زرائع میں خواتین اور حضرات کی نشستین علیحدہ ہوتی ہیں اس طرح تنگ جگہوں پر ٹکرائے بنا جہاں گزارا نہیں اسکی عادت نہیں۔۔
اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔۔
اگلی ٹرین آئی تو اسے بولا۔۔
میری پیروی کرو۔ وہ تیز قدم اٹھاتا راستہ بناتا رہا وہ اسکے پیچھے پیچھے چڑھ گی ٹرین میں کافی ہجوم تھا اسی نے آگے بڑھ کر کھڑکی کے پاس جگہ بنا کر اسے کھڑا کیا خود پیٹھ موڑ کر دیوار بن کر کھڑا ہو گیا۔ماسک لگائے اس لڑکے کی آنکھیں شہد رنگ کی تھیں۔ ۔اسکے بالوں کا رنگ بھی شہد رنگ ہی تھا۔ خلاف توقع اس لڑکے نے دوبارہ مڑ کر اسے نہ دیکھا۔
ایپ کے مطابق اب اگلے اسٹیشن پر اسے اترنا تھا۔ وہ اترنے کودروازے کی جانب بڑھی تو اس لمبی مخلوق نے ٹرین کے رکتے ہی اپنے لانبے بازوکا استعمال کرتے پنکھا چلا کر اسکیلئے راستہ بنا دیا تھا یہاں وہ آرام سے اتر گئ۔۔ پھر مڑ کر بولی۔۔
شکریہ۔۔ پھر خیال آیا۔۔ تھینک یو۔۔
ٹرین کے بند ہوتے شیشے کےدروازے سے وہ دیکھ رہا تھا۔
گومو وویو۔۔ اسکو اب خیال آیا تو آدھا جھک کر اسے ہنگل میں کہا۔۔ اسے آواز تو نہ پہنچی ہوگی مگر اس نےسر ہلا دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹوڈنٹ ویزا ۔۔
اس چندی آنکھوں والے نے سرتاپا اسے دیکھا تھا وہ سٹپٹا سی گئ۔
اسٹوڈنٹس کےتو ورکنگ آورز ہوتے ہیں۔ پورا ہفتہ آپ کام نہیں کرسکتیں۔ پھر ضمانت بھئ چاہیئے ہوگی ہمیں آپ کو ہم رکھ بھی لیں تو ہمیں ایک اور ملازم رکھنا پڑے گا۔ ہمیں کسی صورت وارے میں نہیں۔۔ سب سے بڑھ کرہمارا نشانہ بچے اور خواتین ہیں اس سیریل کو خریدنےکیلئے۔ آپ کیسے رضامند کر پائیں گی کورین عوام کو یہ سیریل خریدنے کیلئے جب آپکو ہنگل آتی ہی نہیں ہے۔؟
اس نے شستہ انگریزی میں تعارف کرایا اپنا تو اس چندی آنکھوں والے نے بدمزہ شکل بنائی تھی اسے تب ہی اندازہ ہوگیا تھاکہ یہاں دال نہیں گلنے والی۔
آپ اپنا سی وی چھوڑ جائیں اگرکوئی ویکنسی ہوئی ہمارے پاس تو ہم آپکو فون کر لیں گے۔
انہوں نے چھٹی بھی کردی اسکی۔ادھیڑ عمر اس چندی آنکھوں والے کی بے مروتی عروج پر تھی۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔
آجکا دن ہی برا ہے۔ وہ یہی سوچ سکی۔ بنا خدا حافظ کہے وہ خاصی چڑی ہوئی کمرے سے نکلی۔راہداری میں چند چندی آنکھوں والے سامنے سے آرہے تھے وہ ان پر نگاہ غلط ڈالے بنا تن فن کرتی باہر نکل گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا کو اسکی شکل دیکھتے ہی پتہ لگ گیا تھا کہ جاب نہیں ملی۔ دروازہ کھولتے ہی اسکےتیور دیکھتی کان دباتی ایک سائیڈ میں ہوگئ تھی۔ وہ حسب عادت اندر داخل ہوگئ تو خیال آیا پلٹی راہداری میں رکھے جوتے کے ریک پر سے جوتے بدلے پھر لائونج میں صوفے پر آکر ڈھیر ہوگئ۔
تم نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ یہاں جاب حاصل کرنے کیلئے ضمانت بھی چاہیئے ہوگی۔ اور کہاں کیا تعلیم حاصل کر رہی یہ بھی بتانا پڑے گا اورتو اور ہنگل نہیں آتی تو فٹے منہ کہہ کر کھڑے کھڑے نکال بھی دیا کریں گے۔
گوارا نے پانی کا گلاس لا کر دیا تو وہ تھامتے ہوئے پھٹ پڑی
ہاں تو یونیورسٹی کارڈ دکھانا تھا نا۔اور ضمانت میں ہوں نا تمہاری
گوارا ہنسی دباتئ اسکے برابر آن بیٹھی۔
وہ گھورتئ پانی کا گلاس ختم کرنے لگی۔ ایک سانس میں پی کر سامنے میز پر رکھا تو ایک سوبر سا گرے رنگ کا کارڈ توجہ کھینچ لے گیا اسکی۔
انگریزی میں دعوت نامہ تھا کسی منگنی کا۔
یہ کس کا ہے؟ پورا دعوت نامہ پڑھ کر اس نے گوارا سے پوچھا تھا۔
ہوپ کا ہوگا میرا تو نہیں ہے۔ گوارا نے کندھے اچکائے۔
وہ ابھی الٹ پلٹ کر دیکھ ہی رہی تھی کہ ہوپ نے جھپٹا سا مارا۔
یہ میرا کارڈ ہے۔ تم لوگوں کا کارڈ ہایون دے گا۔
وہ کہہ کر واپس مڑ چکی تھی۔
ہایون کیوں دے گا ؟ کس کا منگنی کا کارڈ ہے؟
گوارا پوچھ رہی تھی مگر جواب دینا گوارا نہ کیا ہوپ نے ۔ وہ کمرے میں گھس چکی تھی
گوارا گھور کے رہ گئ
میں اسکو کسی دن ٹیرس سے نیچے پھینک دوں گی دیکھنا۔
گوارا نے دانت کچکچائے۔ اریزہ بھونچکا سی ابھی بھی اپنے ہاتھ پھیلائے بیٹھی تھی جیسے کارڈ ابھی بھی اسکے ہاتھ میں ہو۔
میں تمہاری مدد کروں گی اس دن۔ اریزہ نے ہونٹ بھینچ کر ہاتھ نیچے کیئے۔۔۔۔
آج اسے بھی تپا دیا تھا ہوپ نے۔ گوارا نے حیرت سے اسکا جواب سنا پھر مسکراہٹ دباتی اسے کندھا مار۔کر بولی
اچھا میں آج بلائنڈ ڈیٹ پر جا رہی ہوں چلوگی؟
گوارا نے کہا تو وہ مڑ کر آنکھیں پھاڑ کر اسے گھورنے لگی۔
مزاق کر رہی ہو؟
اسے یقین نہ آیا
بالکل نہیں سو فیصد سنجیدہ ہوں۔ گوارا کھلکھلائی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گہرے نیلے رنگ کا وہ گھٹنوں تک کا سلیو لیس فراک تھا جس کے ساتھ اس نے بلیک ٹائٹس پہن لی تھیں۔ سلیو لیس میں اسے پردے کی فکر تو جو تھی سو تھی ٹھنڈ بھی لگنی تھی سو گوارا سے بلیک اوپن سوئیٹ بلائوز لے کر پہنا تب بھی مطمئن نہ ہوئی تو اپنا بلیک اسکارف بھی گلے میں ڈال لیا۔
کہو تو ایک کمبل بھی ساتھ رکھ لوں تمہارے لیئے۔
بال بناتی گوارا چڑ کر بولی تھی تو وہ معصومیت سے کہنے لگی
اوپن ائیر میں جانا ہے تو رکھ لو پلیز مجھے سردی لگ رہی ہے پہلے ہی۔
اسکی بات پر گوارا نے بنا لحاظ اپنے ہاتھ میں پکڑا برش اچھالا۔ سلیکون کا برش ٹھک سے اسکے ماتھے پر لگا تھا اسے چوٹ تو کیا لگنی تھی پرانی یاد تازہ ہوگئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسب معمول سنتھیا آئی ہوئی تھی اسکے بیڈ پر اوندھی لیٹی میگزین کے ورق پلٹتی ماڈلز پر تبصرے کر رہی تھی۔ وہ سنگھار میز کے سامنے بیٹھی بال بنا رہی تھئ۔
یار یہ دیکھو پکا کرسمس پر میں نے یہ ڈریس بنوانا ہے۔ ایسا ہی بنوانا ہے
وہ ایک خوبصورت سے پیچ رنگ کے فراک اور چوڑی دار پر ریجھ چکی تھی۔ وہیں سے میگزین اسے لہرا کر دکھانے لگی۔
لباس واقعی پیارا تھا ماڈل بھئ ۔ مگر ماڈل نے خاصا گہرا گلا بنا آستین کے ساتھ پہن رکھا تھا۔پیچھے پورا ڈوریوں کا کام تھا۔
یہ بنوالینا مگر ایسا نہیں۔ اس نے رسان سے کہتے اسکی توجہ قابل اعتراض لباس پر دلائی۔
کیوں کیا برائی ہے ۔ میں نے ایسا ہی بیک لیس بنانا ہے۔۔۔
وہ ٹھنک کر بولی پھر اسے چھیڑنے کو ایک آنکھ دبا کر کہا۔ فرنٹ لیس بھی ۔
ہاں اب یہی گل کھلانے رہ گئے۔خبردا رجو ایسا سوچا بھئ۔ خاک میں ملا دو میری ناک برسوں کی بنی بنائی عزت مٹی میں رول دے گی یہ لڑکی توبہ۔
اریزہ بھی اسی کی منہ بولی بہن تھی۔ پکا سا منہ بنا کر بین ڈالنے لگی۔سنتھیا نے منہ بنایا پھر چٹخارہ لیکر بولی
زندگئ میں کبھئ موقع ملا نا تو پکا میں نے بھی گل کھلانا ہے۔
میں تمہیں کوئی گل کھلانے ہی نہیں دوں گی۔
اریزہ نے تاک کے نشانہ لیا برش کا سیدھا اسکے سر پر بجا۔ وہ وہیں اپنا سر تھام کے دہری ہوگئ
ہائے مار ڈالا ظالم۔
وہ اتنی زور سے دہائی دے رہی تھی کہ وہ سب مستی بھول بھال بھاگ کر اسکے پاس بیڈ پر آگئ جو تڑپ کے اٹھی بیٹھی اب دونوں ہاتھوں میں سر تھامے ہائے ہائے کر رہی تھی۔
سوری سو سوری۔ زو رسے لگ گیا۔ اسکا سر تھامے وہ شرمندگی سے ڈوب مرنے کو تھی۔
نہیں گلاب کی پنکھڑی چھوائی ہے تم نے۔ سنتھیا ہاتھ نیچے کرکے گھورنے لگی۔ اسکی پیشانی سرخ ہونے لگی تھی۔
ایک معصوم سی سلیو لیس پہننے کی خواہش کا اظہار کیا تم نے سر ہی پھوڑ ڈالا میرا۔
اریزہ کا خفت سے سرخ چہرہ دیکھ کر اسے شرارت سوجھی
آئیم رئیلی ویری سوری یار۔ وہ آگے بڑھ کر اسکا سر سہلانا چاہ رہی تھی مگر سنتھیا نے دور کردیا
رہنے دو۔
زخم دے کر سہلانا دوستوں کی ہے ادا ٹھہری ۔۔ ہمیں عدو ہی بھاتے ہیں ایسے چارہ گر سے۔۔
وہ لہک لہک کر شعر پڑھ رہی تھی جو شائد کہا بھی موصوفہ نے ابھی ابھی خود ہی تھا۔ اسکے وزن سے اریزہ نے اندازہ لگایا تھا۔
برش کہاں گیا میرا۔ اریزہ نے ادھر ادھر برش کی تلاش میں ہاتھ مارا
ہاں برش سنبھال لو میرا سر گیا بھاڑ میں
اسکی طوطا چشمی پر سنتھئا نے آہ بھری۔ برش اسکے پہلو میں ہی پڑا تھا۔ اریزہ نے جھپٹا اور اچھی خاصی زور سے اپنی پیشانی پر دے مارا۔ سنتھیا کی آنکھیں حیرت سے پھیل سی گئیں۔ اریزہ دوسری بار برش اپنے سر پر مارنے ہی والی تھی کہ اس نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر برش لیکر ایک طرف پھینکا۔پھر غصے سے بولی
پاگل ہوگئ ہو یہ کیا حرکت ہے؟
میری وجہ سے گومڑا بن گیا ہے تمہارے۔۔ اریزہ نے تاسف سے اسکی پیشانی دیکھی۔
تو تم میری وجہ سے اپنے سر میں بھئ گومڑا ڈال لوگی؟ سنتھیا چڑی
ایک تو مجھے مار کر زخمئ کیا اوپر سے اب خود کو تکلیف پہنچا کر مجھے ہی گلٹی کرارہی ہو۔
وہ بھنا رہی تھی اریزہ ہنس پڑی
خیر وہ پٹائی تو تم ڈیزرو کرتی تھیں۔ گل جو کھلانے جا رہی تھیں۔ اریزہ کا انداز شرارت بھرا تھا۔
میں تمہارے ہوتے گل کھلا ہی نہیں پائوں گی۔ سنتھیا کو دکھ ہوا۔
میں گل کھلانے ہی نہیں دوں گی تمہیں۔ اریزہ نے مزے سے کہا
پھر بھی کھلایا تو؟ ۔۔۔سنتھیا کو اس بحث میں مزا آرہا تھا اریزہ سوچ میں پڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا زور کا لگ گیا؟ ۔۔۔ پر یہ تو سیلیکون کا ہے۔۔
گوارا اسکا رنگ اڑتا دیکھ کر گھبرا سی گئی زمین سے اٹھا کر برش اپنی پیشانی پر مار کر دیکھا اریزہ اسکی بات پر اپنی سوچ سے چونکی اسے اپنے ماتھے پر برش مار کر چیک کرنے دیکھا تو ہنسی ہی آگئ۔ اسے ہنستا دیکھ کر گوارا کی تشویش دور ہوئی
کیا ہوا تھا تمہیں؟ وہی میں کہوں سیلکون برش سے چوٹ کیسے لگ گئ تمہیں۔ ؟ کیا سوچ رہی تھیں؟
اس نے پکڑ لیا تھا اسے۔ اریزہ قصدا سر جھٹک کر بولی
کچھ نہیں ایسے ہی سنتھیا یاد آگئ تھی مجھے۔
ہوں۔گوارا نے ہنکارا بھرا۔
تم تو اسے یاد کر رہی ہو وہ تو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تمہیں یاد بھئ نہ کرتی ہوگی۔
وہ اب ہلکا پھلکا سا میک اپ کر رہی تھی۔
تمہیں جی ہائے یاد آتی ہے۔۔ اریزہ کو یونہی خیال گزرا۔
ہاں۔ اس کا انداز سادہ تھا۔
جی ہائے لوگوں کو زندگئ سے نکال باہر کرنے میں ماہر ہے۔ میری اسکی دو تین سال کی دوستی اسکو بھلانے میں وقت نہیں لگا ہوگا۔ خاصی خود غرض لڑکی ہے۔
وہ صاف گوئی سے بولی۔
تمہاری اسکی لڑائی ہوئی ہے کیا ؟ اس دن آئی تھی تو مجھ سے بھی سیدھی طرح بات نہ کی اور اتنے دنوں سے آئی بھی نہیں۔ اریزہ کو اب یاد آیا کہ کافی دن ہوچکے ہیں جی ہائے سے سرے سے ملاقات نہ ہوپائی تھی۔
کس بات پر لڑائی ہوئی ہے تم دونوں میں؟
گوارا کا بات ٹال دینے کا ارادہ تھا۔مگر اریزہ نے آگے بڑھ کر کندھا ہلا کر پوچھا تو اسے بتانا پڑا
کہہ رہی تھی کہ تم سے دوستی چھوڑ دوں۔ یا تم سے دوستی رکھوں یا اس سے۔
مگر اس نے ایسا کیوں کہا؟ اسے حیرت ہوئی ۔اسکی تو جی ہائے سے کبھی لڑائی بھی نہ ہوئی تھی۔
کیونکہ تم مسلمان ہو یہ اسے پتہ لگ گیا تھا۔ اور وہ ہر مسلمان سے نفرت کرتی ہے۔۔۔۔
گوارا بیڈ پر سے بیگ اٹھاتی جانے کو بالکل تیار کھڑی تھی۔
کیوں؟ اریزہ کی حیرت عروج پر تھی۔
لمبی کہانی ہے چلو راستے میں بتاتی ہوں۔
گوارا نے اسے چلنے کا اشارہ دیا تو وہ بھی کندھے پر بیگ درست کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بڑے سے نائیٹ کلب میں داخل ہوتے ہوئے اس نے خاصی بیزاری سے گوارا کو دیکھا جو اسکے تاثرات دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔
ہوپ اپنی دوسری جاب پر جا چکی ہے اکیلی فلیٹ میں تم نے ٹامک ٹوئیاں ہی مارنی تھیں یہاں تھوڑا اچھل کود کرلو انجوائے کرلو۔
گوارا نے اسکو منانے والے انداز میں کہا تھا۔ پھر اسکا ہاتھ تھام کر اندر لے آئی۔ اندر ڈانس فلور پر خوب رونق لگی تھی۔
ایڈون اور ہایون سامنے ہی بار کائونٹر کے قریب لگے اونچے اونچے اسٹولز کے قریب کھڑےباتیں کر رہے تھے۔ وہ سیدھا انکے پاس لے آئی تھی۔ ہایون ڈرنک ہی کر رہا تھاانہیں دیکھ کر واضح طور پر اسکے چہرے پر رونق نظر آئی تھی۔ گوارا آگے بڑھ کر اسکے گلے لگتے کان میں بولی
تمہارا کام پورا کیا جوابا مجھے کیا ملے گا؟
ہایون ہنس دیا تھا۔ ایڈون اریزہ سے حال احوال پوچھ رہا تھا۔
کونسا جوس لوگئ۔ ؟ ایڈون نے اریزہ سے پوچھا پھر اسکے لیئے پلٹ کرکائونٹر کی جانب بڑھ کر ویٹر کو آورڈر دینے لگا
تمہارا سرپرائز تمہارے پیچھے ہے۔
ہایون نے کہنے پر اس نے الجھن بھرے انداز میں پیچھے دیکھا تو یون بن کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس نے فورا منہ بنایا۔
بکواس۔۔ وہ منہ بنا کر جانے لگی تو یون بن اسکے سامنے آگیا
کب تک ناراض رہو گی۔ یون بن مسمسی سی شکل بنائے اسکا راستہ روکے کھڑا تھا
اگلے جنم تک۔ وہ اتنی آسانی سے ماننے کو تیار نہ تھی۔
مگر میں تب تک تمہیں ناراض نہیں رکھ سکتا۔
اس نے اسکو کھینچ کر اپنے قریب کیا اور ایک خوبصورت سی چین لہرائی۔ گوارا کی ناراضگی مدہم پڑنے لگی۔ جی کے نام کا لاکٹ تھا جس کا وایے وہ خود پہنے تھا۔ گوارا کے گلے میں لاکٹ ڈالا تو وہ خود بخود جی سے مقناطیسی کشش کے ذریعے چپک سا گیا۔ گوارا کی آنکھوں میں ستارے سے اتر آئے تھے۔ بس اتنی ہی ناراضگی رہی تھی دونوں میں۔
انہیں بے دھیانی سے دیکھتی اریزہ کے چہرے پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئ۔ سر جھٹک کر رخ موڑا تو بہت دلچسپی سے ہایون کو خود کو تکتا پایا۔ وہ جھینپ سی گئ۔
یہ دونوں ہائی اسکول سے ایسے ہی ہیں۔ ہر مہینے دو بار بریک اپ ہوتا ہے انکا اور اسی طرح یون بن تحفہ دے کر منا لیتا ہے۔
ہایون نے بتایا تو وہ سر ہلا گئ۔
یون بن اور گوارا ڈانس فلور کی جانب بڑھ گئے تھے۔
ایڈون نے جوس کا گلاس لا کر تھمایا تھا اسے۔ اس نے شکریہ کہہ کر گلاس تھام لیا۔
سنتھئا کیسی ہے۔ اریزہ نے پوچھا تو ایڈون شکوہ کناں انداز میں بولا
ایک کام کہا تھا تم سے۔
اریزہ شرمندہ سی ہوئی
کل جائوں گئ سنتھئا سے ملنے فکر نہ کرو۔
یار یہ پاکستان تھوڑی ہے ہزار لیگل کمپلیکیشنز ہیں اور۔ وہ دانستہ زرا سا رخ موڑ کر اور آواز دبا کر بولا تھا۔ دونوں اردو میں بات کرتے مگن ہو چکے تھے۔ ہایون چند لمحے تو دیکھتا رہا پھر پلٹ کر اپنے لیئے ڈرنک بنوانے لگا۔ہوپ نے گہری نگاہ ڈالی تھی اس پر۔
آننیانگ۔
آننیانگ۔۔ ہایون کا انداز گرمجوشی سے خالی تھا۔
تم اب مدہوش ہو جائوگے بہت پی رہے ہو۔
ہوپ نے جانے کیوں ٹوکا تھا۔
پیا مدہوش ہونے کیلئے جاتا ہے۔ وہ ہنس کر ٹال گیا تھا۔
تم سنائو کوئی مسلئہ تو نہیں ہو رہا انکےساتھ رہنے میں۔ گوارا تھوڑی۔ٹیڑھی کھیر ہے ۔۔
میں اریزہ کے بھی ساتھ رہتی ہوں۔ ہوپ نے جتایا۔
وہ اسکے لیئے شراب میں سوڈا ملا رہی تھی۔
اریزہ بہت سادہ سی لڑکی ہے اسکے ساتھ تمہاراآتشیں مزاج
بھئ پانی ہوجاتا ہوگا۔
اسکا مشروب بن چکا تھا۔ اس نے اب یہ گلاس اٹھا کر خود بھی اٹھ جانا تھا یہاں سے۔
پیٹرول بھی دیکھنے میں پانی جیسا ہی ہوتا ہے مگر آگ سے مل کر اسے ٹھنڈا کرنے کی بجائے بھڑکا دیتا ہے۔
وہ چندی آنکھوں والی لڑکی جانے کیوں زہر خند سی ہوئی تھی۔ ہایون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم ویسے یہاں کیسے آگئیں یہ جگہ تمہارے لیئے نہیں ہے۔
ایڈون نے بات کرتے کرتے ادھر ادھر دیکھ کر ٹوک ہی دیا۔
اکیلی رہتی پھر اپارٹمنٹ میں ہوپ بھی جاب پر گئ ہوئی تھی گوارا نے یہاں آنا تھا۔ اسی لیئے۔
اسے صفائی دینے کی ضرورت تو نہ تھی مگر جانے کیوں اسے ان کلبوں وغیرہ میں گھٹن سی محسوس ہوتی تھی۔اس وقت بھی اسے اپنا آپ تیزی موسیقی پر بے ہنگم انداز میں ناچتے لوگوں میں ٹھیک ٹھاک مس فٹ محسوس ہو رہا تھا۔
آئو باہر چلتے ہیں۔ ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلا گئ۔ باہر نکل کر اس نے تازہ فضا میں گہری سانس لی تھی۔ اندر حبس سا تھا باہر کی نسبت یا شائد ماحول کا فرق اسے الجھن میں مبتلا کر رہا تھا اسے باہر آکر سکون سا محسوس ہوا۔
کھانا کھایا ہے تم نے؟
وہی اسکا ازلی خیال رکھنے والا انداز۔
نہیں۔۔ جواب حسب توقع تھا۔ وہ مسکرا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا نے یونہی ڈانس کرتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو ہایون ایک کونے میں اکیلا بیٹھا پی رہا تھا وہ یون بن کو بتاتی بھاگ کر اسکے پاس آئی تھی۔
تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟ اریزہ کہاں ہے؟
اسکی بات پر ہایون پھیکی سی ہنسی ہنس دیا
ایڈون اور اریزہ باہر چلے گئے ہیں۔
کیا ؟ وہ چیخ ہی تو پڑی۔
کیوں جانے دیا اسے؟ تم اب یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو جائو اسکے پیچھے۔
گوارا کو حیرت ہورہی تھی ہایون نے مزید ایک گھونٹ بھرا۔
تم مدہوش ہوگئے ہو ؟
اسکے سنٹ سے انداز پر گوارا کو شک ہوا۔
ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ایڈون نے جیسے قید تنہائی کی سزا دے ڈالی تھی۔ وہ سارا دن اکیلی کمرے میں پڑی رہتی ۔ایڈون اسکے لیئے باقاعدگی سے کھانا لے آتا تھا۔ مگر وہ یوں تنہارہتے اکیلے پڑے پڑے بے تحاشا ذہنی طور پر تھک سی گئ تھی۔
ابھی بھی پڑے پڑے اس نے وقت دیکھا تو رات کے نو بج رہے تھے۔ ایڈون اس وقت تک واپس آچکا ہوتا تھا۔ یہی سوچ کر وہ اٹھی۔ بن اور دودھ پڑا ہوا تھا مگر اسکا بالکل کھانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو لابی میں سے خنک ہوا کا جھونکا آیا تھا۔ وہ کچھ بحالی محسوس کر رہی تھی۔ دروازہ احتیاط سے لاک کرکے وہ ایڈون کے کمرے کے پاس آئی۔ کمرہ بند تھا بڑا سا تالہ منہ چڑا رہا تھا۔ وہ بیزار سی ہو کر باہر نکل آئی۔ موسم بدلتا جا رہا تھا۔ اب پہلے سی گرمی نہ تھی ۔ پھر بھی اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔
اپنے اندر اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے بھٹی سی جل رہی ہو۔ اسکو بھوک بھی لگ رہی تھی مگر پیسے بھی نہ تھے پاس۔ اس نے موبائل نکال کر ایڈون کو کال ملالی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ریستوران جانا پہچانا لگ رہا ہے۔
اریزہ نے گردن گھما گھما کر دیکھا۔
تمہیں یاد نہیں جب وہ کورین لڑکا ہمیں مارنے دوڑا تھا تب ہم اسی ریستوران میں ہی تو آکر چھپے تھے۔
ایڈون نے کہا تو اسکے دماغ کی بتی جلی۔
آہاں۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا تو کچھ فاصلے پر وہ میز تھی جہاں وہ اس دن بیٹھےتھے۔ اس وقت وہاں ایک چندی آنکھوں والا جوڑا بیٹھا تھا۔۔
یہاں کا مالک مسلمان تھا نا۔ اسے یاد آیا
ہاں۔ مگر یہاں مینیو میں کھانا سب کورین ہے۔ ایڈون مینیو کھولے بیٹھا تھا۔اسکا فون بار بار تھر تھرا رہا تھا اس نے بیزار ہو کر سائلنٹ کیا اور پلٹ کر رکھ دیا۔ اب اسکرین روشن ہو بھی رہی تھی تو نظر نہیں آرہی تھی۔
بیف سوپ اسپائیسی چکن فرائئ اور ابلے ہوئے چاول ۔ مکمل کوریائی مینیو۔
ایڈون نے ہی آرڈر دیا تھا۔ ایک جانب اوپن کچن میں خانساماں کھانا پکاتے دکھائی دے رہے تھے۔
ہمیں حلال گوشت چاہیئے ہوگا۔
ایڈون نے تاکید کی تو ویٹر سر ہلاتا چلا گیا۔
تم نے کیا سوچا ہے آگے پڑھنے کا ؟ ایڈون نے برسبیل تذکرہ پوچھا وہ جواب دینے ہی لگی تھی کہ اچانک زور زور سے کسی کے بولنے کی آواز پر چونک گئ۔ ان سے کچھ فاصلے پر ایک یوٹوبر زور زور سے بولتا ویڈیو بنا رہا تھا۔ شائد فوڈ وی لاگر تھا۔ کھانے پر رواں تبصرہ کرتا وہ ایک ایک میز کے پاس جا کر ان سے رائے طلب کر رہا تھا۔
کیسا لگا آپکو یہاں کا حلال گوشت؟ وہ پوچھ رہا تھا۔
ذائقے میں کوئی فرق نہیں حلال گوشت کا ذائقہ بھی عام گوشت جیسا ہی ہوتا ہے۔
ایک لڑکی بتا رہی تھی
مجھے تو خالص کورین بیف کا ہی ذائقہ محسوس ہوا۔
ایک ادھیڑ عمر آدمی انٹرویو دے رہا تھا
اریزہ دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
انکی۔باتیں تو سمجھ نہیں آرہی تھی البتہ انکا انداز بڑا دلچسپ تھا۔پورے جملے میں اسے بس حلال ہی سمجھ آرہا تھا۔ وہ یو ٹیوبر ایک ایک میز کے پاس جا کر ان سے رائے طلب کر رہا تھا۔
یہ کیا پوچھ رہا ہے؟
وہ ادھر دیکھتی پوچھ ایڈون سے رہی تھی
یہ پوچھ رہا ہے حلال گوشت اور عام گوشت میں آپکو ذائقے میں کیا فرق محسوس ہوا؟
ایڈون نے ترجمہ کردیا۔ تبھی وہ لڑکا مڑا اب اسکا رخ انکی
جانب تھا۔۔
بہت فرق ہوتا ہوگا۔ اریزہ کو یقین تھا
یہ سب کہہ رہے ہیں کوئی فرق نہیں محسوس ہوا۔
ایڈون ہنسا۔ وہ لڑکا ان سے اگلی میز والوں کا انٹرویو لے رہا تھا۔
اوہ یہ اب ہمارے پاس آئے گا۔ وہ ایکدم سیدھی ہوئی ۔
ایڈون دونوں بازو میز پر رکھے اسی کو دیکھ رہا تھا
آنے دو ہم بھی رائے دے دیں گے کہ حلال گوشت کیسا ہوتا ہے ذائقے میں۔
ایڈون نہ چونکا نہ گڑبڑایا اطمینان سے بولا۔ اریزہ کی مسکراہٹ سمٹ سی گئ۔ لڑکی اپنے اوپر پڑتی نگاہ پہچان لیتی ہے۔ اسےایڈون کا یوں اس پر نظریں جمانا پسند نہیں آیا تھا۔
میں ہنگل سیکھ رہا ہوں اس وقت اکیڈمی جاتا ہوں آج چھٹی تھی میری۔ تم بھی سیکھ لو یہاں ہنگل کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ ایڈون بات بدل گیا تھا۔
کھانا سرو ہو نےلگا تھا وہ چپ ہی رہی۔ سبزیوں اور گوشت سے بھرا ہوا سوپ ساتھ سادے چاول ۔ اب ان دونوں کا میل ملاپ کیسے کرنا تھا وہ ایڈون کو دیکھنے لگی۔ایڈون سوپ کے پیالے میں چاول ڈال رہا تھا۔اس نے ڈرتے ڈرتے تقلید کی
سوپ میں چاول ڈال کر کھانا زندگی میں پہلی بار کھانے جا رہی تھی۔ اس نے چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔ مختلف مگر خوش ذائقہ تھا سوپ۔ گوشت تھوڑا بساندھ بھرا تھا۔ ہری گوبھی نارنجی گاجر شملہ مرچ ہری پیاز نے گھل مل کر کھانے کا ذائقہ اچھا کر ہی دیا تھا۔
نوالہ لیکر اس نے جیسے سکھ کی سانس لی۔ اسے پسند آگیا تھا اس نے برملا اظہار کیا
یہ تو واقعی مزے کا ہے۔
ایڈون مسکرایا
تم نہ بھی کہتی تو پتہ چل جاتا تمہارے تاثرات سے۔
وہ کہہ گیا۔ اریزہ جھینپ گئ۔
ایک تو جانے کونسے لوگ ہوتے جن کے چہرے کے تاثرات انکے قابو میں ہوتے ہیں ۔مجھ سے تو بالکل تاثرات نہیں چھپائے جاتے اپنے۔ وہ خفا تھی خود سے۔
خالص ہوتے ہیں وہ لوگ جنکو آپ چہرہ دیکھ کر پڑھ سکیں۔ یہ خوبی ہے تمہاری پاگل
ایڈون نےٹوکا اسکا انداز اتنا شفقت بھرا تھا جیسے دادا ابا تعریف کر رہے ہوں۔
جی سمجھ گی داداجان۔ وہ چڑی تھی ایڈون نے کھل کر ہنستے اسکی چڑ پر حظ اٹھایا تھا۔ گلاس وال سے سڑک پر کھڑے ہایون نے ان دونوں کو بہت غور سے دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون اسکی کال کاٹے گیا تو وہ خود ہی ہمت کرکے اندر آئی اپنے پرس سے کچھ پیسے نکالے اپر پہنا اور قریبی سیون الیون میں چلی آئی۔
گرمئ میں سوپ نوڈلز کھانا ایک کاردشوار لگا تھا مگر ریمن کے علاوہ وہ اورکیا کھائے پورے کنوینئسن اسٹور میں اسکی مٹھی میں دبے پیسوں کے حساب سے بس ریمن کھانے کی ہی اوقات تھی اسکی۔ اس نے بیزاری سے کپ اٹھایا ریپر اتار کر اس میں ڈسپنسر سے گرم پانی بھرا ساتھ چاپ اسٹکس تھیں چمچ اسے خریدنا پڑتا ۔ سو چاپ اسٹکس اٹھائے ایک کونے والی میز کی جانب بڑھ گئ۔
کم سن اپنی بھانجی کو گود میں لیئے کنوینیئس اسٹور آیا تھا۔
اسکوکپ آئیسکریم دلائی۔ بچی فورا کھانے کو مچلی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی بیٹھنے کی جگہ ہو تو اسے بٹھا دے کہ بیزار سی شکل بنائے ایک کونے میں میز کرسی پر بیٹھی سوپ کے اٹھتے دھوئیں پر نگاہ جمایے سنتھئا پر نظر پڑی تو اسکے پاس ہی چلا آیا
آننیانگ کیسی ہو؟
وہ اسکے سامنے آن بیٹھا۔ اپنی چھوٹی سی بھانجی کو اس نے سہولت سے میز پر بٹھا دیا تھا۔ بچی نے بلا تاخیر لڈ ہٹا کر آئیس کریم کھانا شروع کردی
ٹھیک ہوں۔تم کیسے۔ وہ اپنے کسی خیال سے چونکی تھی۔
سو ذرا سا بیزاری سے ہی جواب دیا تھا۔
کیا ہوا ہے تمہیں ؟ بیمار ہو؟
اسکی رنگت اتنی پیلی ہو رہی تھی کہ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا وہ اسکے پوچھنے پر سٹپٹا سی گئ
نہیں تو۔ کیوں۔
اسکی گھبراہٹ کو اس نے پوری طرح محسوس کیا تھا۔
کمزور لگ رہی ہو۔پھر ایڈون سے لڑائی ہوئی ہے؟
اس نے یونہی پوچھا تھا۔
نہیں سب ٹھیک ہے۔
وہ سر ہلا کر کپ نوڈلز پر جھک گئ۔چاپ اسٹکس سے کھولتے ہوئے بھاپ اڑاتے سوپ سے نوڈلز نکال کر کھانے کی کوشش میں اسکے ہونٹ بری طرح جلے تھے۔ وہ ایکدم بلبلا کر سیدھی ہوئی۔ بچی کی اسکی جانب پشت تھی وہ مڑکر اسے غور سے دیکھنے لگی۔ اپنی آئسکریم بھی اسکی جانب بڑھا دی۔ بمشکل سال بھر کی بچی تھی گوری چٹی دو پونیاں بنائے آئسکریم اسکے پورے منہ پر لگی تھی ۔ بہت شوق سے کھا رہی تھی پھر بھی آئسکریم اور چمچ اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔
ہم اسکے ساتھ عموما سوجو پیتے ہیں مگر تم لوگوں کو جانے شراب سے کیا الرجی ہے۔ خیر یہ لو سوڈا۔
کم سن اٹھ کر کین سوڈا لے آیا تھا لا کر اسکے سامنے رکھا۔ ساتھ ہی پلاسٹک کے کانٹے کا بھی پیکٹ تھا۔ خود اپنے لیئے اس نے سوجو لی تھی۔
سنتھیا نے فورا کین کھول کر منہ سے لگا لیا تھا۔
بچی اب کم سن کی جانب آئسکریم بڑھا رہی تھی۔
کم سن نے ایک چمچ لیکر اس بچی کو چوما تھا۔ سنتھیا کو ایک درد سا اپنے دل میں اٹھتا محسوس ہوا تھا۔
بچے تو ایسے ہی ہوتے ہیں راہ چلتے ملیں تو پیار آجائے مگرایڈون کے چہرے پر اس ذکر سے کتنی بیزاری اور اکتاہٹ آجاتی ہے۔ کیا صرف اسلیئے کہ وہ اس وقت اس بچے کے لیئے ذہنی طور پر تیار نہیں یا اسے سرے سے میرے اور اس بچے میں دلچسپی نہیں۔۔ نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ اچانک ہوا ہے یہ سب اسلییے وہ ایسے۔۔۔۔۔
بے خیالی میں کم سن پر نظر جمائے وہ اور ہی سوچوں میں گم تھی۔
کم سن کی اس پر نظر پڑی تو اسکی غائب دماغی محسوس کر لی۔ کانٹے کا ریپر کھول کر کانٹا اسکی جانب بڑھایا
یہ لو چاپ اسٹکس سے کھانے میں اور منہ جلالوگی۔
کم سن کے کہنے پر وہ چونک کے خجل سی ہوئی۔
شکریہ۔ اس نے کانٹا تھام لیا۔ کانٹے سے چھوٹے چھوٹے لقمے بناتی وہ تیزی سے کھا رہی تھی جیسے بہت بھوک لگی ہو۔ وہ یقینا اس وقت یا تو پریشان تھی یا بھوکی۔ یا دونوں کم سن کا اندازہ تھا۔ خیر دونوں ہی صورتوں میں وہ بالکل اسے منہ لگانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی یہ اندازہ ہوگیا تھا۔
کرم۔ کہہ کر کم سن اٹھنے لگا۔ بچی کو احتیاط سے گود میں اٹھا کر مڑا جب اسے پیچھے سے سنتھیا کی آواز سنائی دی۔
یہ بچی کون ہے۔
اس نے سر اٹھا کر دئکھا تو سامنے جگہ خالی تھی۔ کم سن جانے لگا تھا بتا کر یا بنا بتائے اسے اب احساس ہوا تھا۔ جبکہ وہ جاتے جاتے رک گیا۔
یہ میرے باپ کی بیوی کی بیٹی کی بیٹی ہے۔
اسے شرارت سوجھی تھی۔ مسکراہٹ دبا کر اسکی جانب مڑ کر سنجیدگی سے بولا
سنتھیا واقعی چکرا گئ۔ ذہن میں حساب لگا کر تھوڑا خفگی سے بولی
تمہاری بھانجی۔ بہن کی بیٹی ہوئی نا۔
سنتھیا کو اسکے اتنے دور کا رشتہ بتانے پر حیرت ہوئی تھی۔
کم سن ہنسا۔
میرے باپ کی بیوی میری ماں نہیں ہے اور بیٹی میرے باپ کی بیٹی نہیں ہے تو یہ میری بہن کی بیٹی تو کہیں سے نہ ہوئی نا۔
اس نے سمجھایا۔ سنتھیا اسے گھورتی رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھا پی کر اٹھنے ہی لگے تھے جب گوارا کا فون آیا تھا ۔
کہاں ہو؟ ہم گھر جانے لگے ہیں۔
وہ چھوٹتے ہی بولی تھی۔
میں تو پتہ نہیں۔ اس کو سمجھ نہ آیا کیا جگہ بتائے۔
گوارا لوگ گھر جانے لگے ہیں پوچھ رہی ہے میں کہاں ہوں۔
کیا بتائوں؟ وہ ایڈون سے پوچھ رہی تھی۔
گوارا کو بتا دو تمہیں میں گھر چھوڑ دوں گا۔
ایڈون نیپکن سے منہ پونچھتے اطمینان سے بولا۔
کہہ تو ایسے رہے ہو جیسے لینڈ کروزر کھڑی ہے باہر تمہاری۔
اریزہ نے ٹوک دیا۔ واپس لوکل ہی جانا تھا تو بلا وجہ ایڈون کو چکر لگوانے کا فائدہ
تم نے لینڈ کروزر میں ہی جانا ہے تو ٹھیک ہے ارینج کر لیتے ہیں۔
وہ کہاں ہاتھ آنے والا تھا۔ اریزہ اسے گھور کر رہ گئ
گوارا تم جائو میں آجائوں گی گھر۔ اس نے یہی کہہ دیا
اچھا سنو ہایون وہیں ہوگا اسے کہہ دیتی ہوں تمہیں لے آئے گا۔
گوارا نے یہی بتانا تھا اسے۔ اسکا جواب سنے بنا کال بند بھی کردی۔
ارے ۔۔ نہیں۔۔ رہنے دو۔ اریزہ کے کہنے تک کال ختم ہوچکی تھی۔
چلو چلیں۔ ایڈون اٹھ کھڑا ہوا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی گلی میں داخل ہونے تک
کم سن ساری کہانی سناتا آیا تھا۔ وہ اپنے بیزار مزاج کے برعکس اس وقت سب بھول بھال کے دلچسپی سے سنتی آئی تھی۔ بات ختم ہونے پر تاسف سے بولی
مجھے حیرت نہیں ہوئی۔ ہمارے یہاں بھی سوتیلے بھائیوں کے ایسے ہی خوفناک قصے مشہور ہیں۔جانے لوگ جائداد کے پیچھے اتنے تنگ دل کیوں ہو جاتے ہیں۔
انسان بنیادی طور پر خود غرض ہوتا ہے۔ شراکت بٹوارا اسکے پسند ہی نہیں بس لوگوں کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں کچھ کے نزدیک زمین جائداد اتنی اہم ہے تو کسی کے نزدیک لوگ ۔
کم سن رسان سے بولا ۔ اسکی بھانجی اسکے کندھے سے لگی اونگھ رہی تھی وہ قدم اٹھاتے اسے دھیرے دھیرے تھپک رہا تھا۔
اسکا پہلا تاثر اسے یاد تھا بے نیاز خود میں مگن لاپروا دکھائی دینے والے کم سن کا یہ بھی رخ تھا۔ سچ ہے انسان کے بارے میں درست اندازہ لگانا آسان نہیں۔
گلی کی اسٹریٹ لائیٹ اتنی کم تھی کہ عجیب پر اسرار سی لگ رہی تھی۔ جاتے وقت تو اسے احساس نہ ہوا مگر اس وقت یہ اندھیرا نظر انداز کرنے والا نہ تھا۔اس نے سوچ کے جھرجھری سی لی۔ اگر کم سن نہ ہوتا تو وہ اکیلی آرہی ہوتی یہاں۔۔
تمہاری سوتیلی والدہ کا گھر یہاں سے قریب ہے۔
اس کا گوشی وون آگیا تھا۔ کم سن کا گھر نہیں آیاتھا جبکہ وہ ساتھ یہی کہہ کر آیا تھا کہ اسکا گھر قریب ہے۔
یہاں سے تو نہیں کنوینئس اسٹور سے قریب تھا۔
وہ سادگی سے بولا۔
ہیں تو پھر تم یہاں اس راستے کیوں آگئے؟
وہ حیران ہو کر بولی۔
تمہیں چھوڑنے آیا ہوں ۔ کم سن کا جواب مختصر تھا۔ اسکی بھانجی سو چکی تھی۔
اب تم واپس جائو گے۔ ؟ اسکا انداز جرح کرنے والا تھا
یہاں سے بھی راستہ ہے آگے سے دوگلیوں بعد تھوڑا لمبا روٹ ہے ۔ کرم
وہ بچی کی وجہ سے ذرا سا سر جھک کر الوداعیہ کہتا جانے لگا۔
شکریہ۔ اس نے زور سے کہا۔
کم سن کے لیئے یہ غیر متوقع تھا سو پلٹ کر حیرت سے دیکھا ۔ وہ مسکرادی۔
اس نیم تاریک گلی میں اکیلے آنا واقعی مشکل ہوتا میرے لیئے۔ شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون اسے ٹیکسی میں خود چھوڑنے آیا تھا۔اسکی زحمت پر دل ہی دل میں ممنون ہوئی تھی۔ ٹیکسی کا کرایہ دینے کی کوشش بھی ایڈون نے ناکام کردی۔
ابھی مجھے بھی واپس جانا ہے اسی ٹیکسی میں۔ ایڈون کا بہانہ بوگس لہجہ اٹل تھا۔ وہ سر ہلاتی گاڑی سے اتر آئی۔ ٹیکسی آگے بڑھ گئ تو پیشانی مسلتی وہ کمپائونڈ کی جانب بڑھی۔
ہایون کی گاڑی ٹیکسی گزرنے کے بعد وہاں چند لمحے رکی تھی۔ تیز تیز قدم اٹھاتئ اریزہ اندر چلی گئ تو اس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ بس اسٹاپ سے پیدل آتی تھکے تھکے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوپ کے پاس سے گزرا تھا ہایون اور اسے دیکھا تک نہ تھا۔
اسکے قدم مزید سست ہوتے گئے۔
اریزہ پر اسے جی بھر کر رشک آیا تھا۔۔
کچھ ذیادہ ہی غیر اہم ہوں میں ۔۔ اس نے یاسیت سے سوچا۔
سست روی سے چلتی جب وہ اوپر پہنچی تب تک اریزہ کپڑے بدل کر کچن میں کھٹر پٹر کر رہی تھی گوارا بھی کچن کائونٹر کے پاس بیٹھی اسے کوئی قصہ سنا رہی تھی ۔ اسے دیکھ کر اریزہ نے خیر سگالی مسکراہٹ دیتے ہوئے پوچھا تھا۔
کافی پیوگی؟
نہیں ۔ یہ سونے کا وقت ہے اور تم دونوں بھی پی کر میرے سر پر بک بک کرنے کی بجائے اس وقت کمرے میں آنا جب خاموشی سے سونے کا ارادہ ہو۔
بے مروتی تو ختم تھی اس وقت تو بدلحاظی بھی عروج پر تھی۔ انہیں باتیں سناتی وہ انکا جواب سننے رکی نہ تھی۔دھاڑ سے دروازہ کھولتی کمرے کے اندر
اسکو اٹھا کر ٹیرس سے لٹکادوں؟
گوارا نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
تم لٹکانا میں اسکا ہاتھ تھام لوں گی۔ تو تم چھوڑ دینا اسے
اریزہ نے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے اسکی شکل دیکھی۔
کیوں؟ گوارا حیران ہوئی۔
کیونکہ پھر اسکا سارا وزن میرے ہاتھ میں ہوگا اور ایک جھٹکے سے میں اپنا ہاتھ چھڑا لوں گی۔
وہ دانت کچکچا کر بولی گوارا قہقہہ لگا کر ہنسی
سچی۔ یار پہلے تو اسکے ساتھ ہمدردی ہوئی تھی تھوڑی مجھے مگر یہ بد لحاظ بدتمیز لڑکی کسی اچھے جزبے کے قابل ہی نہیں ہے۔
اس نے دانت کچکچائے۔ کمرے کا کھلا دروازہ دھاڑ سے بند ہوا تھا۔
اسکی لن ترانی شاید نہیں یقینا اسکے کانوں تک پہنچ چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا اور وہ اسے مزید تنگ کرنے کی بجائے کافی پینے ٹیرس میں چلی آئی تھیں۔ خنک سی ہوا گرم گرم کافی سیول کی جگ مگ روشنی۔ طبیعت پر اچھا اثرڈال رہی تھیں۔
یار سیول میری جان ہے۔ یہاں کی بات الگ ہی ہے۔
گوارا نے ریلنگ پر کہنیاں ٹکا کر اس ہوا کو گہری سانس لیکر خود میں سمویا پھر کافی کا گھونٹ بھرنے لگی۔ کم و بیش اسی پوز میں کافی کا مگ تھامے اریزہ نے اسکو یاددلانا ضروری سمجھا
یہی بات آخری بار اپنے گائوں کے بارے میں کہی تھی تم نے۔
ہاں تو کیا ہوا۔ گوارا ڈھٹائی سے ہنسی۔۔
میری جان سیول بھی ہے اور میرا گائوں بھی۔ سچی اریزہ اب جب میں گائوں جائوں نا تم بھی چلنا میرے ساتھ ۔بہت خوبصورت جگہ ہے قسم سے۔۔ اپنا باغ دکھائوں گی۔ ہے تو ویسے ٹھیکےکا مگر ہم اپنے باپ کا ہی سمجھتے ہیں ۔ رضاکارانہ طور پر ایک دن کام کرتے ہیں اور دل بھر کر تازہ پھل توڑ کر کھاتے ہیں۔ نارنگیوں کی کاشت ہوتی ہے وہاں۔ سچی گائوں کی زندگی کا مزا ہی الگ ہے
گوارا خیالی طور پر اپنے گائوں میں پہنچ چکی تھی۔ چمکتی آنکھیں دبا دبا جوش۔
ضرور چلوں گئ ۔میں نے آج تک گائوں نہیں دیکھا۔
اس نے تو یونہی بات کی تھی مگر گوارا حیران رہ گئ
کیوں پاکستان میں گائوں نہیں؟
ہیں۔ پاکستانی کی ستر فیصد آبادی گائوں کی رہائشی ہے۔ مگر ہمارے کوئی عزیز وغیرہ بھی گائوں کے رہنے والے نہیں۔ سب شہروں میں بسے ہیں۔
اس نے وضاحت کی ۔ گوارا سر ہلا کر رہ گئ جغرافیہ میں اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
اریزہ نے اسے غور سے دیکھا۔
گائوں کی گوری کی اصطلاح پر ہرگز بھی گوارا نہیں اترتی تھی۔ کسی طور وہ سیول کی رہائشی شہری لڑکی سے کم نہ تھی۔اسے اپنے گائوں سے تعلق پر کوئی احساس کمتری نہ تھا۔۔ فخر اسکے لہجے سے چھلکتا تھا اپنے گائوں کا حوالہ دینا اسکے لیئے قابل فخر تھا ایک ہم لوگ ہیں ۔ کسی کا گائوں سے تعلق ہے اسے پینڈو کہتے اسکے لہجے کا تمسخر اڑاتے۔اسے افسوس ہوا ۔ ہم لوگ خاصی اخلاقی برائی کا شکار ہیں۔
اچھا ہاں یاد آیا۔ وہ کافی پیتے پیتے یاد آنے پر چونکی۔۔
وہ کارڈ گنگشن نونا کی منگنی کا تھا۔ ہوپ کو تو براہ راست انہوں نے کارڈ دیا ہایون نے میرے اور تمہارے لیئے دعوت نامہ دیا ۔ مجھے تو خیر جھونگے میں دیا۔ وہ بلاتا بھی نہ تو میں نے جانا تھا۔ وہ ہنسی۔
میں نے کہا بھی میں تمہیں بتا کر لے آئوں گی منگنی میں
خیر تمہارے لیئے بطور خاص کارڈ دیا اس نے اسے لگا تھا کارڈ نہ دیا تو تم جائوگئ نہیں۔ سو باقائدہ دعوت ہے آپکو آنسہ اریزہ ۔۔
وہ شرارت سے بول رہی تھی اریزہ کھسیا گئ۔ اسکا اندازہ درست تھا۔ چاہے وہ نونا کی منگنی کا ہی کارڈ کیوں نہ ہوتا وہ نہ جاتی یوں منہ اٹھا کے بنا دعوت۔۔
کب ہے؟ اریزہ نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑی
تاریخ تو نہیں پتہ مگراسی ہفتے ہے۔ شائد آخرمیں۔
پتہ ہے مجھے دل سے خوشی ہوئی ہے انکی شادی کا سن کے۔ انکے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔
کیا ہوا ہے انکے ساتھ؟ اریزہ کو حیرت ہوئئ
وہ تو خاصی خوش باش نظر آتی ہیں۔
ہاں ہیں تو وہ بہت مثبت شخصیت کی مالک۔ گوارا نے سر ہلایا۔
انہوں نے اپنے ساتھ بیتے ماضی کو سر پر سوار نہیں کر رکھا۔
دراصل یہ گنگشن نونا کی دوسری شادی ہو رہی ہے۔ انکی پہلی شادی جب ہم ہائی اسکول میں تھے تب ہوئی تھی۔
گوارا بتا رہی تھئ۔۔ اریزہ حیرت سے سن رہی تھی۔ ایسے بھی ہوتا ہے دنیا میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے قبل۔۔۔

ایڈون ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ وہ بیزار سی ہوکر واپس اپنے کمرے میں چلی آئی۔ وقت گزاری کیلئے موبائل آن کر لیا۔ نیٹ فلیکس اچھے وقتوں میں سبسکرائب کیا ہوا تھا
بیزاری سے اس پر ڈرامہ یا فلم ڈھونڈتی رہی مگر کسی میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے یونہی یو ٹیوب کھول لیا۔ موبائل پر لوکیشن آن تھی۔ سو سارے کوریائی مواد ہی نیوز فیڈ میں آرہے تھے۔
ایک تو یو ٹیوب کا ملک کیوں بدل گیا۔ ؟ پھر اپڈیٹ آئی ہوگی مصیبت۔
اس نے جھلا کرویڈیوز اوپر نیچے کیں لائیو ٹرینڈنگ پر ایک ویڈیو چل رہی تھی۔ جو اسکا انگوٹھا لگنے سے چل پڑی۔
وہ کوئی کورین یوٹیوبر تھا جو ایک ریستوران میں لوگوں سے کھانے پر رائے لے رہا تھا۔ ایک چندی آنکھوں والے کا انٹرویو لیکر وہ مڑا
یہاں بیٹھا ہے ایک غیر ملکی جوڑا جو مزے لیکر کورین آکس بلڈ سوپ کھا رہا ہے ۔۔

آئیے ان سے پوچھتے ہیں انکو حلال کھانا کیسا لگا ؟
مگر پہلے ہم ان سے اجازت لے لیں۔
کیمرے کا رخ زمین کی جانب تھا ۔
ہم لائیو جا رہے ہیں موکجا چینل کی۔جانب سے کیا آپ ہماری اس براہ راست ویڈیو کا حصہ بنیں گے؟
وہ بڑی تمیز سے انگریزی میں پوچھ رہا تھا۔
اوکے سیمز فائن ٹو می۔
مانوس آواز ویڈیو پر کانٹے کا بٹن دبا کر بند کرتے کرتے وہ رکی تھی۔ کیمرے کا رخ اب اس غیر ملکی جوڑے کی جانب کر دیا گیا تھا۔
وہ بے یقینئ سے دیکھتی اٹھ بیٹھئ۔
دونوں چہرے مانوس تھے۔ اور اکٹھے بھی تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے

Kesi lagi Apko aaj ki Salam Korea ki qist? Rate us below

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *