Salam Korea Episode 27

Salam Korea
by Vaiza Zaidi


قسط 27

صبح اسکی کافی دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ اتوار تھا گوارا تو رات آئی ہی نہیں۔کسلمندی سے اس نے کروٹ بدلی حسب معمول ہوپ اٹھ کر بیڈ سے جا چکی تھی۔
اس لڑکی کو نیند کیوں نہیں آتی۔ اس نے بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ کروٹ بدلی اور سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر دیکھنے لگی۔
ایک عدد پیغام آیا ہوا تھا۔ اس نے کھولا اور پڑھا
پھر حیرت سے اس پیغام کو دیکھتی رہی۔
انگریزی پیغام موصول ہوا تھا جس میں خوشخبری دی گئ تھی کہ اسے نوکری پر رکھ لیا گیا ہے۔منگل دوپہر اسے
ایک بڑے سے سپر اسٹور میں بلایا گیا تھا جہاں اسکو مناسب تفصیل بتا کر ملازمت کے گھنٹے پورے کرنے تھے۔۔
وہ تحیر سے دیکھتی اٹھ بیٹھئ۔ ۔ اسے یوں بیڈ پر جمے دیکھ کر باتھ روم سے نکلتی ہوپ نے ناک چڑھا کر پوچھا تھا۔
کیا ہوا؟ کسی لڑکے نے ڈیٹ کی آفر کر دی؟
دے ؟ وہ چونکی۔
ہوپ نے ناک چڑھا کر دوبارہ اپنی بات دہرائی
آنی۔
اس نے نفی میں سر ہلایا پھر موبائل اسکو دکھایا۔
یہ دیکھو مجھے جاب مل گئ۔
ہوپ نے میسج پڑھا پھر ناک چڑھا کر بولی
اسپیم میسج ہے۔ یونہی کوئی پیغام بھیجے گا جاب ملنے کا اور تم مان لو گی؟ غیر ملکی طلباء کو آف کیمپس نوکری کی اکثر اجازت نہیں ہوتی او راگر یونیورسٹی سے اجازت لے بھی لو تو نوکری کوئی دیتا نہیں ہے۔ سب ان معاملوں میں پڑنے سے گھبراتے ہیں۔
ہوپ کی طویل توجیح۔ وہ چند لمحے منہ کھولے اسکی شکل دیکھتی رہ گئ۔
کونسی یونیورسٹئ ؟ میں تو کسی یونیورسٹی کا حصہ نہیں
اریزہ نے کہا تو وہ مزید ڈرانے لگئ
پھر تو پکا اسپیم میسج ہے۔ لوگ بڑے بڑے فراڈ کرتے ہیں یوں میسج کرکے بلا کر غائب بھی کر سکتے ہیں اور۔۔

مگر یہ وہی نمبر ہے جس پر رابطہ کرکے میں انٹرویو دینے گئ تھی۔اس نے بات کاٹی اس کا جوش دھیما پڑچکا تھا۔
پھر مبارک ہو۔
ہوپ کا انداز ہنوز تھا۔ٹھس سا۔ لاتعلقی سے کہتے وہ کمرے سے نکل گئ۔
وہ دوبارہ میسج پڑھنے لگی۔پھر اکتا کر موبائل ایک۔طرف رکھتی فریش ہونے باتھ روم میں گھس گئ۔ نہا دھو کر باہر آئی تو ہوپ کچن کی میز پر بیٹھی اہتمام سے چاول اور سوپ تناول فرما رہی تھی۔
وہ اسے قصدا نظر انداز کرتی فریج کھولنے لگی۔
چاول پکے ہوئے ہیں تم کھا لو۔ میں نے ذیادہ پکا لیئے۔
خاصا غیر متوقع جملہ ہوپ کے منہ سے نکلا تھا۔ وہ باقائدہ مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ ہوپ کو اندازہ تھا جبھی نگاہ بھی نہ اٹھائی۔
سادہ ابلے چاول سادہ چکن سوپ ساتھ کمچی۔ ابلے چاول پر کمچی ڈال کر منہ میں رکھتئ اور سوپ کا چمچ منہ میں بھر لیتی۔
وہ آٹا نکال کر پراٹھا بنانے لگی۔
چاول سادہ ہیں چکن نہیں ڈالا گیا اس میں۔نا ہی سور کا گوشت ہے۔
طنز میں ڈوبی آواز اسکی پشت سے ابھری تھی۔
میں ناشتے میں چاول نہیں کھا سکتی۔ زندگی میں کبھی نہیں کھائے۔ ہمارا ناشتہ الگ ہوتا ہے باقی دن کے کھانوں کا اہتمام بالکل مختلف ۔۔
اریزہ نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی۔
ناشتہ ، کھانا نہیں ہوتا کیا؟
ہوپ حیران ہوئی تھی۔
برصغیر کے لوگوں خاص کر پاکستانیوں کیلئے تو ناشتہ اہتمام پر مشتمل الگ ہی ہوتا ہے دن کے باقی وقت کے کھانوں سے۔
اریزہ کے کہنے پر ہوپ نے کندھے اچکائے پھر خاموشی سے کھانے میں مگن ہوگئ۔
اریزہ ناشتہ بنا کر ناشتہ کرنے بیٹھی تو کافی میکر بج اٹھا۔
ہوپ ناشتہ ختم کرچکی تھی۔ سو فورا اٹھ گئ۔ کافی بنا کر ایک کپ اسکے برابر میں بھی رکھ دیا۔
اسکو اتنی حیرت ہوئی کہ نوالہ چبانا بھول گئ۔
ہوپ تھوڑی شرمندہ سی ہوئی۔
تم مجھے ہمیشہ ناشتے کیلئے دعوت دیتئ ہو سو آج میں نے سوچا احسان اتار دوں۔
کھردرا انداز وہ چاہ کر بھی بدل نہ پائی تھی۔۔ یہ ہوپ اسے حیران کرنے پر تلی تھی۔ سادہ سے گرے اپر ٹرائوزر میں ملبوس بالوں کا جوڑا سا بنائے میک اپ سے بے نیاز وہ کل کی نسبت اس وقت بالکل سادہ تھی مگر اسے اچھی لگی۔ ہر وقت کا پھولا منہ اس وقت پچکا ہوا تھا شائد اسلیئے۔
اسکو اپنی اس مثال پر خود ہی ہنسی آگئ۔ جلدی سے سر جھکا لیا۔ نوالہ پھنس پھنس گیا اسے کھانسی سی آگئ۔
یہ لو۔ ہوپ نے گلاس بھر کر پانی اسکی جانب بڑھایا۔
آج ہوپ اسے حیران کرنے پر تلی تھی۔
پانی کا گھونٹ بھرا تو منہ خراب ہوگیا۔
ایک تو یہ لڑکی سدھر ہی نہیں سکتی۔ چائے سے ذرا سا ہلکا گرم پانی تھا۔ اس نے برا سا منہ بنا کر گلاس رکھا۔ پانی سے ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
کیا ہوا ٹھنڈا ہوگیاپانی؟
ہوپ نے معصومیت سے پوچھا جوابا وہ چڑ گئ۔
کسی کو اچھو لگے تو کیا اسے کھولتا پانی پلاتے ہیں۔ جانے تمہیں مجھ سے کیا پرخاش ہے ہر وقت عاجز کرنے پر تلی رہتی ہو۔
وہ یقینا اتنی متحمل مزاج نہیں تھی جتنا کورینز کے سامنے بنی ہوئی تھی اس وقت کی حرکت نے اسے اتنا تپایا کہ اس نے ساری مروت بالائے طاق رکھ دی۔ اسکے یوں غضب ناک ہونے کی ہوپ کو توقع نہ تھئ۔وہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
بیان مگر ہم شمالی کورین تو خاص کر تیز گرم پانی پیتے ہیں۔ یہاں جنوبی کورینز بھی نیم گرم پانی پیتے ہیں ہم لوگ ٹھنڈا پانی کم ہی پیتے ہیں۔ میں نے جلدی میں اپنی بوتل سے پانی دے دیا تھا ۔۔
اس نے میز پر رکھے اپنے فلاسک نما بوتل کی جانب اشارہ کیا۔ بوتل کا ڈھکن ابھی ہٹا ہوا تھا ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
کیوں؟ ۔اسکا موڈ خراب ہوگیا تھا اب آسانی سے ٹھیک نہ ہونا تھا۔
کوئی سزا ملی ہوئی ہے کیا۔ ہمیشہ گرم پانی پیو اور جہنم کے مزے لو۔
اسکا لہجہ خراب تھا۔ہوپ نے اسکی شکل دیکھی اور جواب دیئے بنا اپنا کپ اٹھا کے چلتی بنی۔ اس نے ناک چڑھا کر محترمہ کی بے نیازی ملاحظہ کی۔
اس لڑکی کو لگتا ہے ٹھیکہ ملا ہوا ہے میرا موڈ برباد کرنے کا۔ جتنی شکل پیاری ہے اسکا آدھا پونا اخلاق بھئ اچھے ہوتے تو کیا بات تھی۔
اب اس نے بڑ بڑ ہی کرنی تھی ناشتہ کرتے ہوئے۔ نیا نوالہ منہ میں ڈالا ۔۔
ہمیشہ ٹھنڈے پانی کے فوائد سنے گرم پانی کا تو ہمیشہ سنا جہنمیوں کو پلایا جائے گا کھولتا ہوا پانی۔ ایک تو بندے کو پہلے ہی اعمال کی وجہ سے یقین نہ ہو کہ۔جنت نصیب ہوگی الٹا دنیا میں بھی جہنم کے مزے لوٹنے لگو۔ واہ۔
وہ سرجھٹک جھٹک کے ناشتہ کر رہی تھی۔
ہوپ نے لائونج میں صوفے پر دراز ہو کر ٹی وی آن کر لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو لی گروپ کے زیر انتظام سپراسٹور ہے۔
گوارا اسے پہلے دن خود اسٹور چھوڑنے آئی تھی۔
کتنا بڑا ہے نا۔اس کو اسٹور پسند آیا تھا۔گوارا اسکا ہاتھ تھامے ڈھونڈ ڈھانڈ کے اس نئے امریکی سیریل کی تشہیر کے لیئے لگائے گئے اسٹال پر لے آئی۔ وہی ادھیڑ عمر انکل کھڑے تھے ساتھ ایک دو اور بھی شائد اسکی طرح کے ملازمین تھے۔
اوکے ڈئیرفائٹنگ۔
گوارا نے مٹھی بنا کر اسے دکھایا۔
لڑوں ؟ ۔ اریزہ حیران رہ گئ۔
میرا مطلب ہے گڈ لک۔ گوارا نے سرپیٹ لیا۔
اوہ اچھا۔شکریہ۔
وہ سنبھلی۔
اچھا واپسی پر بھی اسی طرح بس میں آجانا ٹھیک اور کوئی بھی مسلہ ہو بتا دینا۔
وہ اب جانے کی تیاری میں تھی۔ اریزہ نے سر ہلا کر تسلی کرائی وہ اسکے گلے لگتی ہاتھ ہلاتی بھاگ گئ۔
وہ گہرا سانس لیکر اسٹال کے پاس چلی آئی۔
چند منٹ کی مختصرسی انکی تربیت کی گئ جس میں انکا کام صرف بچوں کو بلا کر سیریل چکھانے پر مشتمل تھا۔اس بڑے سے مال پلس مارٹ پر کئی منزلیں تھیں۔اسے اسی منزل کے اسٹال کو سونپ دیا گیا تھا۔ یہاں کئی غیر ملکی برانڈز کی دکانیں تھیں۔ ایک لڑکا اسکے ساتھ کھڑا تھا۔ جو دیکھنے میں ہی بمشکل اسکول جانے والا لگتا تھا۔
آننیانگ۔ اس نے جھک کر بڑی تمیز سے سلام کیا تھا۔
جوابا وہ بھی ہلکے سے سر جھکا کر مسکرا دی۔
پھر تمام وقت وہی لڑکا بچوں کو سیریل کھانے پر مائل کرتا رہا اور وہ سیریل کے ڈبے کھول کر دودھ میں گھول گھول کر دیتی رہی۔ چھے گھنٹے کی شفٹ اور اتنا بورنگ کام۔ جمائیاں آنے لگیں اسے تو وہ لڑکا اسکے لیئے کافی لانے کا کہہ کر اٹھ کر چلا گیا۔

چاکلیٹ ونیلا اور اسٹرابری ۔اتنی پیاری خوشبو آرہی تھی کہ دل کیا ذرا سا چکھ تو کم از کم لے۔ مگر ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رک گئ۔ ایپرن کمپنی کے لوگو والا اس نے پہن رکھا تھا اسٹال اسٹفڈ ٹوائئز اور غباروں سے سجا تھا پھر بھی بچے منہ بنا کر آتے اور کھا کر منہ بنا کر ہی چلے جاتے۔
نونا کافی۔
لڑکے نے کافی لا تھمائی۔
گومو وویو۔
وہ شکر گزار ہوئی۔
میرا تو ٹارگٹ پورا ہو گیا ہے اب میں چلتا ہوں ابھی ایک گھنٹہ ہے آپ اپنے پچیس ڈبے پورے سیل کر لیں۔ آل۔رائٹ۔۔۔۔ مجھے امید ہے 25 ڈبوں کا سیل ٹارگٹ پورا کر لیں گی آج آپ۔۔ فائٹنگ۔
وہ صرف اسی کیلئے کافی لایا تھا۔ مزے سے یہ سب کہتا مسکرا کر یقینا اسکی بے وقوفی کا مزاق اڑا رہا تھا۔
وہاٹ ؟
اسے سمجھ نہ آیا۔ یہ کیا کھیل کھیل گیا وہ۔
ہم دونوں کو پچیس پچیس سیریل کے ڈبے سیل کرنے تھے
میں نے ستائیس ڈبے بیچ دیئے ہیں میری طرف سے یہ دو سیلز آپ رکھ لیں۔ اچھا میں ذرا کلیئرنس کروا لوں۔
وہ کہہ کر رکا نہیں الٹے پیروں مینجمنٹ کے دفتر کی جانب بڑھ گیا۔
اتنے گھنٹوں سے ان بچوں کیلئے سیریل بنا بنا کر اسکے ہاتھ شل ہو گئے تھے اور یہ چپکے چپکے ان سے جانے کیا گٹ پٹ کرتا سب سیلیز اپنے نام کر گیا تھا۔ جتنی دیر میں اسے سارا معاملہ سمجھ آیا وہ رفوچکر ہو چکا تھا۔
ہمارا ٹارگٹ بھی تھا یہ مجھے پتہ کیوں نہ چلا۔
وہ روہانسی سئ ہوگئ۔
یہ سب سیلز اسکی اکیلے کی کیسے بن گئئیں وہ انہی سوچوں میں کلس رہی تھئ کہ دو تین ننھے منے چندی آنکھوں والے بچے اسکے اسٹال پر رکھے بڑے بڑے کارٹونک اسٹینڈز کے شوق میں بھاگے آئے تھے۔۔ اب اچھل اچھل کر اپنی زبان میں جانے کیا کہہ رہے تھے
اتنے معصوم گورے گورے پیارے بچے۔ اسکا دل موم سا ہوا۔ سب جھٹک کر وہ جی جان سے متوجہ ہوئی۔انکا نام پوچھا سب بٹر بٹر شکل دیکھنے لگے۔۔
کیسی تعلیم دیتے ہیں بچوں کو ایک لفظ انگریزی کا نہیں آتا۔ خیر اس عمر میں ہمیں بھئ نہیں سمجھ آتا تھا مگر نیم سن کر نام تو بتا ہی دیتے تھے۔
اسے کوریا کے تعلیمی نظام پر غصہ آیا۔ وہ چھوٹی سی پانچ چھے سال کی بچی اچھل اچھل کر کائونٹر سے سب بائول گرانے پر تلی تھئ۔ اس نے دانت کچکچاتے تحمل سے روکنے کی۔خاطر اس دو پونیوں والی گڑیا کی پونیاں پیار سے چھوئیں جس پر خاصی نفرت سے بچی نے گھورا اور ہونہہ کرتی بھاگ کھڑی ہوئی۔۔
ارے۔۔ وہ حیران ہی رہ گئ اسکے ردعمل پر۔۔ دوسرے بچے کو کائونٹر سے چمچ چاہیئے تھا۔۔
میں بنا کر آپکو چکھاتی ہوں۔۔ اریزہ نے تسلی دیتے ہوئے دودھ کا پیکٹ کھولا۔۔اور ایک۔ننھے پیالے میں سیریل گھولنے لگی۔
ایک تین چار سال کا شیطان کائونڑ پر رکھے ڈبوں کو اچھل اچھل کر ہاتھ مار رہا تھا۔۔ اریزہ نے جھلا کر اسے اسکے اپر سے پکڑ کر اٹھا کر ایک طرف کیا جوابا اس نے غصے میں نہ صرف گھورا بلکہ ریں ریں کرتا ماں کی طرف شکایت لگانے بھاگا۔۔
شکل کے جتنے پیارے ہیں اتنے ہی آفت کے پرکالہ بچے ہیں۔ کوریا کو بھی چین کی طرز پر ایک بچے کی اجازت والی پالیسی اپنانی چاہیئے۔
اریزہ نے بڑبڑانے والے انداز میں کہا پھر پھسلا کر بچوں کو چکھانے لگی۔ جتنے شوق سے ہبڑ تبڑ سب چٹ کر گئے اسے لگا یہی بچے اسکا 25 سیلز کا ٹارگٹ پورا کر دیں گے۔
بیٹا اپنی آہموجی کو بلا کر لائو ۔۔
اس نے پیار سے کہا تھا جوابا وہ آٹھ نو سالہ بچہ منہ چڑا کر بھاگ اٹھا۔
کمینہ بچہ۔۔ وہ روہانسی ہو چلی تھی۔ تین اور بچے آن کھڑے ہوئے
وہ ابھی دو سیریل کے بائول بنا کر سیدھی بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک کڑخت سی پینتیس چھتیس سال کی عورت اسی ننھے شیطان کا ہاتھ پکڑے چیختی چنگھاڑتی اس پر چڑھ دوڑی۔۔
زبان انجان مگر کف اڑاتا انداز۔۔۔
بلا بلا بلا۔۔
ایکسکیوز می۔ آئی کانٹ انڈراسٹیںڈ واٹ یو آر سیئنگ۔۔ میم پلیز کام ڈائون۔۔
اسکی منت سماجت کچھ کام نہ آئی۔۔ آنٹی کا دماغ خراب ہوا وا تھا۔۔
چند لمحے تو اس نے سنا۔مگر جب ارد گرد سے گزرتے صارفین بھی چسکے لینے کھڑے ہوئے اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔۔ انگریزی گئ بالائے طاق۔۔ اور اردو فر فر نکلی۔۔۔ ایک نہ چھوڑی دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر وہ دوبدو ہوئی
اوہ محترمہ۔۔ بہت ہوگئ۔ میں چپ ہوں تو بولے چلی جارہی ہو ۔حد ہوگئ زبان ہے یا قینچی کتر کتر چل رہی ہے۔ خود ایسی ہو جبھی بچہ بھی تمہارا بدتمیز ہے ظاہر ہے اس نے تم سے یہی سب سیکھا ہوگا۔ آنکھیں کیوں پھاڑ رہی ہو یہ بنٹوں جیسی آنکھیں باہر گر پڑیں گی اتنا کھلتی ہوتیں تمہاری آنکھیں تو بیٹے کے کان مڑورتیں مجھ پر نہ چڑھ دوڑتیں۔
آہجومہ کی آنکھوں کے ساتھ منہ بھی کھل چکا تھا۔ انجان زبان میں جانے وہ لڑکی کیا کہے جا رہی تھی۔۔ مگر جو بھی کہہ رہی تھی انداز سے لگ رہا تھا اب کہے گی کم ہاتھ ذیادہ چلائے گی۔۔
اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میرے سامنے تم بھی ایسے ہی اپنی زبان میں گٹ پٹ کیئے جا رہی تھیں۔۔اب سنو۔ نہیں سمجھ آرہی نا یہی پچھلے دس منٹ سے کہہ رہی تھی انگریزی بول لو بی بی تمہاری بکواس سمجھ نہیں آرہی مگر نہ جی۔۔ بک بک بک بک دماغ خراب کرکے رکھ دیا میرا
دے۔۔ کیا کہہ رہی ہو تم؟۔ آہجومہ کی گھن گھرج کم ہوئی۔۔ بھیڑ چھٹنے لگی۔۔ مینجرمنہ کھولے سامنے کھڑا تھا۔۔
اریزہ نے جھٹ دانتوں تلے زبان دبالی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مارکیٹنگ کا پہلا اصول ہوتا ہے کہ کسٹمر ہمیشہ صحیح ہے۔
مینجر صاحب اسے لیکچر دے رہے تھے۔
کسٹمر بھی وہ جو اگر سمجھنے سمجھانے والی عمر میں نہیں۔ بچوں کے ساتھ ہمیں بہت تحمل سے کام لینا پڑتا ہے وہ بات سمجھ نہیں سکتے ہمیں انکو بہلا کر پھسلا کر منانا پڑتا ہے۔ اگر بچے آپ سے ڈریں گے تو آپ انکو اپنی چیز کیسے بیچیں گے؟ جھلاہٹ بے زاری غصہ بچے نہیں سمجھتے۔ اور یہ وہ چیزیں ہیں جو آپ کبھی کسٹمر کو نہیں دکھا سکتے کیونکہ اس سے آپ نے پیسہ نکلوانا ہے۔ پیسہ صرف شیریں لب و لہجے اور تحمل سے ہی آپ کسی کی جیب سے نکلوا سکتے ہیں۔یوں سمجھو ہم وہ ڈاکو ہیں جو گن پوائںٹ کی بجائے مسکراہٹ سے لوگوں کو لوٹتے ہیں۔۔
کوئی حیرت نہیں آپ ایک ڈبہ بھی نہ بیچ پائیں۔
ایک تو اس ہائی اسکولر نے چونا لگایا۔ اوپر سے اتنی بے عزتی کے بعد ملنے والے اس لیکچر کی وجہ سے اسکی شکل پر دنیا جہان کی بے چارگئ چھا گئ تھی جبھی بولتے بولتے چارلس نرم پڑا
آپ ایسا کریں ابھی گھر جا کر آرام کریں۔ کوئی اچھی سی مووی دیکھیں موڈ اچھا کریں کل خوشگوار سےموڈ کے ساتھ آئیے گا۔۔
یہ اس نے رعائیت کی تھی۔ ورنہ اصولا تو کسٹمر سے بدتمیزی کے نام اسکے مینجر نے اسکو اسٹال اور لڑکی دونوں کو اسٹور سے باہر لے جانے کا حکم سنایا تھا۔ چارلس کہہ سن کر معاملہ دبا کر آیا تھا اریزہ کو یہ لیکچر اسٹور کے باہر کھڑے کھڑے دے کر رخصت کیا خود دوبارہ اسٹورمیں گھس گیا تھا آج کے دن اسےہی مغز کھپائی کرنی تھی یہاں۔۔
شکریہ۔۔ اریزہ کے منہ سے جب تک یہ لفظ نکلا وہ پلٹ چکا تھا۔۔
ہاف۔۔ اس نے آہ بھری تھی۔۔ اسٹور تو اتنا خنک نہیں تھا مگر باہر بلا کی سرد ہوا تھی۔سورج کا نام و نشان نہ تھا۔۔اکا دکا دکانیں کھلی تھیں وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھانے لگی۔۔
کوریا میں جاڑا آچکا تھا۔ ستمبر کی خنکی پاکستان کے دسمبر کے برابر چل رہی تھئ۔
سڑک پر ٹریفک معمول سے کم تھا فٹ پاتھ پر پھر ایک دو لوگ چل رہے تھے۔۔ وہ البتہ دکانوں کے آگے پختہ سروس روڈ پرمٹر گشت کر رہی تھی۔ پہلی جاب پہلا دن اور پہلی ہی بے عزتی اسے کافی محسوس ہوئی تھی۔۔
پانی کا قطرہ اسکے کندھے پر آکر گرا تو اس نے چونک کر جھاڑا۔۔ ایک لانگ کوٹ اندر ہائی نیک نیچے فلیٹ شوز اسکے باوجود سرد ہوا کپکپائے دے رہئ تھی اسے۔۔ اسے میٹرو اسٹیشن تک پیدل جانا تھا جو کم از کم بھی پچیس منٹ کی دوری پر تھا۔۔ وہ اپنے قدموں پر نگاہیں جمائے ارد گرد سے بے نیاز چلے جا رہی تھی۔۔
ایک اور قطرہ اسکے کوٹ پر آٹھہرا تو اس نے چڑ کربمشکل زرا سا سر اٹھا کر اوپر دیکھنا چاہا بادل خوب گھر گھر کر آئے تھے۔ ایکدم چھما چھم برس اٹھے وہ بھاگ کے دکانوں کے باہر شیڈ میں گھسی
۔کیا کروں۔ کسے فون کروں۔
وہ سوچ میں پڑی۔ گوارا تو سورہی ہوگی۔ ایڈون۔
اس نے جلدی سے ایڈون کو کال ملائی کال جا رہی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔
وہ بھی تو جاب پر ہوگا۔۔ اسے رونا آنے لگا۔
بارش چھما چھم برس رہی تھی اسکے بال گیلے ہونے لگے تھے۔۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا تو سامنے رہائشئ عمارت نظر آئی۔
وہ بھاگ کر اس میں گھس گئ۔ گلاس ڈور سختی سے بند تھا تاہم اسے تھوڑا سا شیڈ مل گیا۔۔
کوئی ہے۔۔ اس نے کھٹکانا چاہا۔ برف ہوئے ہاتھ زور بھی نہ لگا سکے۔ اسکی سانس پھولنے لگی۔۔
تبھئ بڑے زور سے بجلی کڑکی تھی۔ اور وہ وہیں دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئ۔
سب ٹھیک ہے۔مجھے ڈر نہیں لگ رہا۔ بارش بالکل ڈرائونی نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھتری کے باوجود بارش نے اسے گیلا کردیا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنی رہائشی عمارت کی جانب بڑھا۔ گلاس ڈور کے ساتھ یقینا کوئی ہوم لیس شیڈ بیٹھا تھا بارش سے بچنے کیلئے۔ وہ دھیان دیئے بنا کوڈ دبا کر دروازہ کھولنے لگا اندر آکر دروازہ بند کیا تو عجیب سا احساس ہوااس نے مڑ شیشے کے پار دیکھا۔ کندھوں پر بکھرے بالوں سے اندازہ ہوتا تھا لڑکی ہے۔ کسی بے گھر کے حساب سے اچھے لباس میں ملبوس تھی۔ اکڑوں بیٹھی ہل ہل کر کچھ بڑ بڑا بھی رہی تھی۔ اس نے سوچا مڑ کر چلا جائے مڑ بھی گیا تھا مگر تبھی زور سے بجلی کڑکنے پر اس لڑکی نے جیسے ڈر کر زور زور سے بولنا اور ہلنا شروع کر دیا تھا۔ وہ نظر انداز کر نہ سکا۔
چھوگیو۔ وہ چھتری دروازے کے پاس اسٹینڈ میں ٹکاتا اسکے پاس چلا آیا۔ قریب آکر نرم سی آواز میں اسے متوجہ کرنا چاہا۔
نامانوس سی آواز اس نے چونک کر سامنے دیکھا۔۔ چندی آنکھوں والا اجنبی مگر مانوس دکھائی دیتا چہرہ۔
ارے آپ۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔
یہ کون ہے اجنبی ۔ ۔۔ نہیں اجنبی نہیں۔۔ کہاں دیکھا ہے اسے۔۔
اس کی آنکھیں اصل حجم سے دگنی ہو چلی تھیں۔۔چندی آنکھوں والے نے خاصی دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا کہاں اس ملک میں حیرت کے اظہار کے طور پر بھی آنکھیں کھل نہیں پاتیں تو کہاں یہ لڑکی اپنی موٹی موٹی آنکھیں پھاڑ کر پانڈا بن چلی تھی۔۔۔۔
وہ سٹپٹا کر جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئئ۔
سامنے تڑاتڑ برستی بارش تھی۔ اور یہ۔
آریزہ۔۔ رائٹ آپ اریزہ ہو نا؟
علی نے پہچان لیا تھا۔ اب خود بھی اٹھ کر اسکے مقابل آن کھڑا ہوا۔
پرسوں ہی آپ سے ملاقات ہوئی تھی غالبا آپ نے پہچانا نہیں مجھے۔
اسے حیرت تھئ۔ اسکی شخصیت اتنی غیر متاثر کن تو نہ تھی کہ کوئی لڑکی اس سے پہلی ملاقات میں اچھا تعارف حاصل کرنے کے بعد یوں بھول جائے۔
کین چھنا۔ آئیے اندر آجائیں۔یہ سامنے میرا فلیٹ ہے۔
اسکی آنکھوں میں شناسائی کی رمق آہی گئ تھی مگر وہ متذبذب تھی۔۔۔
ہتھیلیاں مسل کر برستی بارش کو یوں دیکھنے لگی جیسے گزارش کر رہی ہو کہ رک جائو مہربانی ہوگی۔
علی مسکرا دیا۔
موسم انسانوں کی گزارش پر بدلا نہیں کرتے۔
اسکی بات پر اریزہ نے ترچھی سی نگاہ ڈالی اس پر۔
دو گھنٹے بعد رکے گی بارش۔۔۔۔
اس نے جتایا۔ اریزہ گہری سانس لیکر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی میز پر بیٹھا وہ مکمل طور پر مگن تھا تحفہ پیک کرنے میں۔ تحفہ اچھی طرح پیک کرنے کے بعد اس نے دل لگا کر کارڈ لکھا تھا۔ کارڈ کو اس پر چپکایا۔۔۔ بکے اسے راستے سے لینا تھا مگر اس سے قبل۔۔ وہ سوچ میں پڑا کیا چیز رہ گئ۔
نونا نے پیچھے سے اچانک آکر تحفہ اٹھا لیا۔ ہایون نے سٹپٹا کر انکو دیکھا پھر انکی پھرتی کے آگے ہار مان کر صبر سے انکے ردعمل کا انتظار کرنے لگا۔ وہ دل میں ہی پڑھ رہی تھیں مگر چہرے پر پھیلی حیرت اسکو مسکرانے پر مجبور کر گئ۔ نونا بھی نا ٹھیک ٹھاک شرمندہ کرادیتی ہیں کبھی کبھی۔ وہ نچلا لب دانتوں سے دبائےسوچ رہا تھا۔
یہ دن یقینا معجزاتی تھا کیونکہ اس دن ایک پری نے دنیا میں آنکھ کھولی۔
کیا تم جانتی ہو تمہارا ہونا بھی کسی کو خوش کردیتا ہے دوست اور تمہارا خوش ہونا تو خوشی کی انتہائین محسوس کرا دیتا ہے کسی کو۔۔۔۔ اور وہ کسی میں ہوں۔
میری جانب سے سالگرہ مبارک ہو
اریزہ۔۔
وہ نام پڑھ کر واضح طو رپر چونکی تھیں۔
یہ؟
وہ جوابا کھل کر مسکرا دیا۔
تم جس لڑکی کو پسند کرنے لگے ہو وہ اریزہ ہے؟
وہ شدید حیران تھیں۔
دے۔ اس نے اعتراف کر لیا تھا۔
مگر مجھے تو لگا تم یو آنہ۔سے میرا مطلب ہے ہوپ کیلئے تم اتنی محنت کر رہے تھے اور۔۔
وہ حیرت کے مارے جیسے گنگ سئ ہوگئ تھیں۔
ہوپ؟ نہیں نونا میں بس اسکی مدد کرناچاہ رہا تھا۔ میں نے اسکو اس نگاہ سے نہیں دیکھا۔
ہایون کا انداز قطعی تھا
مگر وہ جو نازک سی لڑکی جسکا سہارا بننے کو دل کرے والا آئیڈیلزم تھا تمہارا وہ تو ہوپ۔۔
ہا ہا ہا۔ ہایون زور سے ہنسا۔۔
آئیڈیلزم ۔۔ کیا یاد کرادیا۔ تب میں ایسا ہی سوچتا تھا۔ تب مجھے نہیں معلوم تھا کہ محبت انسان سے ہوتی اسکی شخصیت سے نہیں۔ ہوپ بہت مضبوط شخصیت کی مالک لڑکی ہے اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔
اور اریزہ ؟ مجھے تو وہ بھی کافی بااعتماد لڑکی لگی تھی۔
نونا الجھن ذدہ ہوئیں۔
اریزہ۔ وہ سوچ میں پڑا۔ اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
یہ وہ انڈین لڑکی ہے نا جس نے مجھے اسکارف دیا تھا
گنگشن کو یاد آیا۔
پاکستانئ ۔ ہیونگ سک نے تصحیح کی۔۔
اسے انڈین کہو تو برا مان جاتی ہے۔۔
پھر پرپوز کیا اسے؟ گنگشن کے پوچھنے پر وہ منہ لٹکا کر بولا
ابھی تو نہیں۔ مجھے جاننا ہے وہ بھی کیا میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہے کہ نہیں۔۔
ہاف۔۔ گنگشن نے سر تھام لیا۔۔
اچھا نونا آپ کے بریو ہارٹس کب پرفارم کر رہے میں نے کب سے بکنگ کروائی ہوئی ہے آپ سے ستمبر آ تو گیا ہے

ستمبر والا سیشن تو ٹل چکا اب اگلے مہینے ہی ہوگا جو بھی ہوگا۔ فنکشن ساتھ تمہاری اسپیشل میٹنگ ہوگی جب ہماری آرگنائزیشن کے ساتھ انکا ڈنر ہوگا تو تمہارا پاس بنوا دوں گی تم بنفس نفیس مل لینا ان سے۔۔
دو پاس ۔۔ ہیون نے یاد دلایا۔
ڈن۔۔ گنگشن مسکرائی ۔۔
ہایون گفٹ اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
وہ نک سک سے تیار تھا انکی لائی وہی والی شرٹ پہنے جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا اپنی پہلی ڈیٹ پر پہننا۔۔

یوآنہ واقعی بہت بد قسمت ہو تم۔۔
گنگشن نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے موبائل کی چارجنگ ختم تھی وہ اپنا چارجر اندر سے لے آیا تھا۔ وہ وہیں لابی میں کھڑی اسکا انتظار کرتی رہی ۔
ہایون کا نمبر ہے ویسے میرے پاس۔
اس نے پیشکش کی۔
نہیں میں ٹیکسی بلوا کر چلی جائوں گی۔
اس نے سہولت سے انکار کیا تھا۔ موبائل کو قریبی کائونٹر پر چارجنگ پر لگا کر موبائل آن کرنے لگی۔
موبائل چند لمحوں بعد ہی آن ہو گیا تھا۔
لابی کے ایک کونے میں ملاقاتیوں کیلئے صوفے رکھے تھے۔
یہاں موسم خاصا خنک تھا۔
یہ بالکل سامنے میرا فلیٹ ہے آپ چاہیں تو اندر چلیں یہاں موسم کافی سرد ہے۔
خود وہ اندر سے کپڑے بدل آیا تھا۔ اپر پہنے اسے ٹھنڈ سی لگ رہی تھی۔ اور وہ لڑکی۔ بارش سے بال تھوڑے گیلے ہو چکے تھے
وہ تیسری دفعہ کہہ رہا تھا مگر وہ اندر آنے کو تیار نہ تھی۔
نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔ اس نے سہولت سے منع کردیا ۔۔
ایپ فوری طور پر کھول کر وہ رائڈ ڈالنے لگی کہ خیال آیا۔
کس علاقے میں کس عمارت کا پتہ ڈالے؟ ۔
اس نے بلا ارادہ اپنے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی کا ناخن دانتوں تلے کچل دیا۔
گوارا سے پوچھتی ہوں۔ اس نے فورا گوارا کو کال ملائی ۔
پہلے کورین میں پھر انگریزی میں آپریٹر بولی
آپکا ملایا ہوا نمبر دوسری لائن پر مصروف ہے۔
علی کے دانت بجنے لگے تھے۔ اپنے دونوں بازو سینے پر لپیٹے اس نے ذرا سا سکڑ کر جسم گرم کرنا چاہا۔
گوارا کے بعد اگلا نام ہایون ہی آیا تھا اسکے ذہن میں۔ جھٹ اسے فون ملا دیا۔ دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا تھا۔
اسلام و علیکم۔
خوشگوار انداز اور اس نے جواب بھی نہ دیا سوال کر ڈالا۔
وہ مجھے گوارا کے فلیٹ کی لوکشن بتا دو میں نے ٹیکسی منگوانی ہے۔
کہاں ہو ؟
میں ؟ وہ مڑ کر علی کودیکھنے لگی۔
وہ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑ کر گرم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سرخ ناک سرخ ہوتے گال۔
اسے اسکی شکل دیکھ کر ترس ہی آگیا۔
بے چارہ مروت میں کھڑا ہے باہر لابی میں۔ ویسے کیوں کھڑا ہے۔ چارجر دے کر چلا جاتا اندر۔ میں جاتے وقت دے جاتی اسکا سونے کا چارجر

اسے اسکی مروت پر ہنسی ہی آگئ۔ ایک چارجر کے پیچھے کھڑا ٹھٹھر رہا ہے۔
اسی وقت علی کی اس پر نظر پڑی اس نے فورا مسکراہٹ دبا لی۔
وہ ہایون پوچھ رہا ہے یہ کونسی جگہ ہے۔
اریزہ کے کہنے پر وہ دیکھ کر ہی رہ گیا۔
حد ہےسردی میں یہاں جمتے ہوئے موبائل چارج کر سکتی ہے میرے موبائل سے ہایون کو کال کر لیتی۔
اس نے دانت پیستے قریب آکر فون لیا اسکے ہاتھ سے۔
ہایون کو بتا کر اس نے فون بند کر دیا تھا۔۔
یہ کیا آپ نے فون بند کردیا مجھے رائڈ بک کرنی تھی وہ لوکیشن پوچھ رہا تھا بس۔
وہ جھنجھلائی
ہایون کہہ رہا ہے وہ آرہا ہے آپکو لینے۔
ہایو ۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئ۔ اب ظاہر ہے اسے آنے سے روکا نہیں جا سکتا تھا۔
آپ کا شکریہ کافی زحمت ہوئی آپکو۔ آپ جاسکتے ہیں میں ہایون کا یہیں انتظار کرلوں گئ۔
اس نے دور پڑے صوفوں پر نگاہ کی۔ اتنی دیر سے چوکنا کھڑی تھی۔ بیٹھنے کا خیال تک نہ آیا اس وقت تو تھکن کے مارے برا حال تھا۔
ٹھیک ہے۔ علی کی برداشت بھی تمام ہو رہی تھی۔ پھر بھی مسکرا کر الوداعی انداز میں سر جھکاکر کرم کہتا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
اریزہ نے چند لمحے متزبزب سے انداز میں اسکو جاتے دیکھا پھر جب برداشت ختم ہوتی محسوس ہوئی تو آواز دے ڈالی۔
ایکسکیوز می۔
وہ فورا رکا تھا اور پلٹ کر دیکھنے لگا۔
وہ کیا میں آپکا بیت الخلا استعمال کر سکتی ہوں۔
اس نے کافی جھجک کر پوچھا تھا۔
ہایون کچھ ہی دیر میں آنے والا تھا یہاں یقینا اب وہ اس کے فلیٹ میں جا سکتی تھی۔ احتیاطی تدابیر مکمل تھیں۔
اس نے بمشکل اپنی در آنے والی مسکراہٹ روکی۔
جی ضرور۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے چھما چھم برس کر سب واپسی کے راستے مسدود کردینے والی بارش ایکدم ہی رک بھی گئ تھی۔ اسکی نوکری کا پہلا دن ہی یادگار بن چکا تھا۔ ہایون اسے جب تک لینے پہنچا تھا تب تک آٹھ بج چکے تھے۔ صبح گیارہ بجے ناشتہ کیا تھا۔ دوپہر سے نوکری شروع تھی۔ اب گیارہ بج چکے تھے۔ اس وقت آنتیں الٹ پلٹ چکی تھیں۔ بھوک سے برا حال تھا۔ مگر کیا ہو سکتا تھا۔ صبر سے چپ کرکے بیٹھی رہی
اس نے دوسری تیسری دفعہ موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔تو ہایون سے اسکی بے چینی چھپی نہ رہ سکی۔
کین چھنا۔۔۔۔
ہایون نے پوچھا تو وہ فورا نفی میں سر ہلاگئ۔
نہیں کچھ نہیں۔
سیول کے راستوں کی خبر تو نہ تھی اسے۔ پھر بھی اتنا اندازہ ہو رہا تھا کہ آج گوارا کے گھر کا راستہ کافی دور ہو گیا تھا۔یا اسے لگ رہا تھا۔
جیسے ہی عمارت کے باہر اس نے گاڑی روکی وہ فورا اتری تھی۔
اریزہ۔ اسے پھرتی سے اندر جاتے دیکھ کر اس نے آواز لگائی۔
وہ بنا بولے مڑ کر دیکھنے لگی۔ انداز ایسا تھا کہ بولو پھر میں جائوں۔
وہ گاڑی سے اتر کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولنے لگا۔
اندر سے ایک چھوٹا سا بکے اور تحفہ نکال کر اسکے پاس چلا آیا۔
سالگرہ مبارک ہو اریزہ۔ جیو ہزارو سال ہر سال کے دن ہوں ہزار۔
نا مانوس لہجے میں اٹک اٹک کر اس نے سچ مچ یہی کہا تھا۔ وہ تحیر سے اسے دیکھتی رہ گئ۔
اتنا حیرت سے کہ وہ سٹپٹا ساگیا۔
کیا ہوا غلط بول گیا معاف کرنا۔وہ یہ میں نے گوگل سے ڈھونڈ کے جنگل یاد کیا تھا گوگل کے مطابق سالگرہ پر برصغیر کے لوگ یہی گانا گاتے ہیں۔
وہ صفائئ دینے والے انداز میں بولا۔
اریزہ نے بکے اور تحفہ تھامنے کیلئے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔
ابھی پانچ منٹ ہیں بارہ بجنے میں مگر میں چاہتا تھا آج کے دن کی وش سب سے پہلے میں کروں تمہیں۔ تمہارے سب دوستوں سے پہلے۔
اسکا ردعمل اسکے کیلئے بالکل غیر متوقع تھا۔ سب جملے سب باتیں جو اس نے سوچیں تھیں اور سوچا تھا اس تحفے کے ساتھ ہی اسے پرپوز کر دے گا سب کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ بالکل ساکت سی کھڑی ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی۔
اریزہ۔
وہ سب کہہ سن کے چپ ہو چکا تھا تو پکار بیٹھا۔
ہوں۔ وہ چونکی۔
چھوٹا سا بکے اور ایک درمیانے سائز کا تحفے کا باکس لیئے۔وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
اسکی آنکھیں بھر آئیں۔
ہونٹ بھینچ کر اس نے امڈنے والے آنسوئوں کو روکنا چاہا۔
شکریہ۔ اس نے کوریائی انداز میں ذرا سا جھک کر اس سے بکے اور تحفہ تھاما۔
آر یو آل رائٹ۔
اسکی ہمیشہ تازہ دم رہنے والی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔ خاصی تشویش سے اس نے پوچھا۔
دے۔۔ وہ قصدا مسکرائی۔
گھمسامنیدہ۔۔( شکریہ) گھپشیدہ (چلو ساتھ چلیں )

اتنے دنوں میں الوداعی کلمات تو وہ سیکھ چکی تھی مگر استعمال کم ہی کرتی تھئ۔ اس وقت کہہ کر فورا مڑ گئ تھی۔
ہایون نے اسے روکنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ضرور مگر پھر واپس کھینچ لیا۔
چھوگیو۔
اس نے دھیرے سے کہا تھا جو وہ یقینا سن بھی نہیں پائی تھی۔
تم نے کہا ہے میرے ساتھ چلو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تو دونوں شائد سو چکی تھیں۔سب بتیاں بجھا کے۔
وہ وہیں لائونج میں بتی جلا کے بیٹھ گئ۔
گلابوں او رنجانے کونسے ہلکے پیلے رنگ کے پھولوں سے سجا وہ سادہ مگر بے حد خوبصورت گلدستہ تھا۔اسے ہر لڑکی کی طرح پھول بے حد بھاتے تھے۔اس وقت بھی یہ بکے دل چھو گیا تھا اسکا۔ اس نے کارڈ اٹھایا۔ چیری بلاسم کے درخت کے نیچے روائتی کورین لباس میں ملبوس وہ لڑکی کوئی روائتی ساز بجا رہی تھی۔ اور دھیرے سے ہوا چلنے پر اس پر چیری بلاسم کی برسات ہوگئ تھی۔ ڈوبتے سورج کا منظر دریا کنارہ۔ اور اس پر لکھی کورین تحریر۔جو یقینا اسکی سمجھ سے بالاتر تھئ۔
اس نے کارڈ کھولا اندر نہایت خوبصورت لکھائی میں انگریزی متن تحریر تھا۔
پری۔ اسے ہنسئ آگئ۔
بچے ایسے کارڈ لکھتے ۔ ایک توکورینز کو انگریزی بھی تو نہیں آتئ۔ گوگل کیا ہوگا ہایون نے۔
اس نے اندازہ لگایا۔ پھر احتیاط سے تحفہ کھولنے لگی۔ ایک نہایت قیمتی دکھائی دینے والے ڈبے میں کوئی غیر ملکی پرفیوم تھا۔
اس نے فورا اپنی کلائی پر چھڑکا۔
نفیس سی خوشبو۔ اسے معطر کر گئ۔
اسے یہ تحفہ بے حد پسند آیا تھا فورا اس نے خود پر چھڑک لیا۔
پسند اچھی ہے ہایون کی۔ اسے اتفاق ہوا۔
تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔
صارم تھا۔
اسکے فون اٹھاتے ہی گنگنانے والے انداز میں بولا۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر اریزہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔
جیو ہزارو سال ہر سال کے دن ہوں بس تین سو پینسٹھ بھئی۔ اب ہزارو سال کیوں کہوں ہم سب مر جائیں تم اکیلے جی کر کیاکروگئ۔
وہ مخصوص مسخرے پن سے بولا وہ ہنس دی۔
واقعی یہ گانا گوگل پر سب سے ذیادہ مشہور ہے کیا؟
شکریہ۔ تم بھئ جیتے رہو خوش رہو۔
مختصر جواب دیا گیا۔۔
ہیں خیریت؟ اتنئ تمیز سے مبارکباد وصول کی شکریہ بولا آج سورج کہاں سے نکلا ہے دیکھو باہر کھڑکی میں جھانک کر۔
اسکا مسخرا پن جاری تھا وہ منہ بنا کر بولی۔
کوریائی وقت کے حساب سے رات بارہ بجے کا اندازہ لگاکر وش کرنے تک کا دماغ چلایا تو کیا دماغ بس اتنا چل کر بند ہوگیا تھا ؟ رات بارہ بجے کوریا میں بھی سورج نہیں نکلا ہوتا ہے۔
ہاں یہ لڑکی اریزہ ہی ہے۔ یقین آگیا ۔ کل بھئ مشرق سے ہی سورج نکلے گا میں وہی حیران اتنی عزت سے بات کر رہی ہے اریزہ ہی ہے یا نہیں۔
صارم اسکا موڈ اچھا کرنے کو خاص طور پر اسکی سالگرہ والے دن ضرور سب سے ذیادہ مسخرا پن دکھاتا تھا اسے۔
ویسے سب سے پہلے وش کیا نا میں نے؟ ریمائنڈر لگا رکھا تھا۔ اب ظاہر ہے اتنی اہم تو ہو نہیں جو یاد رکھے تمہیں کوئی۔۔۔۔
وہ نان اسٹاپ بول رہا تھا۔
اور تمہاری وہ فارغ سہیلی سے پہلے وش کیا نا؟ پچھلی بار تو ایک گھنٹہ باتیں کرتی رہی تھی تم سے فون پر میں جاگ جاگ کے تھک گیا تھا۔
اس نے دزدیدہ نگاہوں سے بکے اور تحفے کو دیکھا۔ اسکی زندگی میں اچھا تکون تھا۔ اسکو سالگرہ پر مبارکباد دینے والے بس دو ہی لوگ رہتے تھے ہمیشہ۔ پہلے سنتھیا اور صارم اور اب ہایون اور صارم۔ سنتھیا نے تو شائد بھلا ہی دیا تھا اسے۔
ہیلو ؟ اسکی مسلسل خاموشی سے تنگ آکر بولا۔
تم گھر پر نہیں ہو کیا ؟
اس نے بات بدل دی۔
ہاں یہاں دیگوں والے کے پاس آیا ہوا ہوں کل کے لیئے ۔۔
روانی میں بولتے بولتے وہ دانتوں تلے زبان دبا گیا۔
دیگوں کا آرڈر دینے۔
اریزہ نے جملہ یوں مکمل کیا جیسے پوچھ رہی ہو۔
ہاں۔ صارم نے گہری سانس لی۔ کئی آنسو اریزہ کے چہرے پر آن پھیلے۔
اب اداس مت ہو جانا تم۔ تمہاری سالگرہ کا دن پہلے ہے۔ اور ہر انسان کو اپنی سالگرہ پر خوش ہونے کا پورا حق ہوتا ہے بلکہ میرے حساب سے تو فرض ہے اپنی سالگرہ والے دن خوش ہونا۔۔ کل کیلئے اچھا سا پلان بنائو دوستوں کے ساتھ گھومو پھرو خوش رہنا۔ اور میری طرف سے اپنی پسند کا اچھا سا تحفہ لے لینا سن رہی ہو نا۔۔
ہوں۔ اسکی آنکھیں رواں ہو چکی تھیں۔ مگر وہ صارم کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اچھی بات ہے پورے پانچ روپے بھیجے ہیں میں نے۔
صارم نے چڑایا۔ کوئی پہچھے سے آکر اس سے شائد کچھ پوچھنے لگا تھا اس نے اجازت چاہی
اوکے میں کل بات کرتا ہوں پھر اپنا خیال رکھنا سدا خوش رہو خدا حافظ۔ ۔۔
خدا حافظ۔
اسکی آواز صارم تک پہنچ بھئ نہ پائی تھی۔ اس نے موبائل ایک طرف رکھا پھر چہرہ ہتھیلیوں سے صاف کرتی اٹھ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہجومہ ۔۔ وہ ننھا سا چھے سات سال کا بچہ اسکا دامن کھینچ رہا تھا۔۔
اتنا پیارا بچہ تھا وہ اسٹول پر بیٹھی اسکو کافی پیار سے دیکھ رہی تھی بچہ بھی ترنگ میں آکر جانے کیا کیا اسے بتا رہا تھا وہ بس سر ہلا رہی تھی۔ بچہ اسے اپنی شرٹ پکڑ کر جانے کیا بولا۔ وہ بس مسکرا دی بچہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
کیوٹ۔ اس نے اسکے بھرے بھرے گول گالوں پر چٹکی بھری
ہنستے ہنستے بچہ سنجیدہ ہوا پھر اس کو جانے کیا اشاروں اور ہنگل میں بتانے لگا
دے؟۔ وہ اسکی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔
کھلا تو دیا تھا اسے پورا پیالہ سیریل کا کھا گیا تھا۔ ماں کوئی دس منٹ پہلے اسے ڈھوںڈتی آئی اسے باقائدہ منہ میں چمچ دے نوالے دیتے دیکھ کر اسکو جھک جھک کر سلام کرتی بھاگ گئ۔ یقینا اسے اب اطمینان سے شاپنگ نصیب تھی۔
مگر اریزہ کا اطمینان رخصت ہوچکا تھا۔ بچے کھانے آتو رہے تھے سیریل مگر ماں کو کھینچ کر خریدوانے ایک۔بھی نہیں آیا تھا۔۔ پچیس دور پانچ پیک بھی نہ بکے تھے۔۔
اب عجیب سی زبان میں بچہ جانے کیا کہے جا رہا تھا
اس نے پینٹ کی جانب اشارہ کیا تو اسے کچھ اندازہ ہوا
آندے۔۔ اس نے جھٹ اسے روکنا چاہا چندی آنکھوں والا گورا چٹا بچہ منہ بسورنےگا۔۔
ٹوائلٹ۔ ٹوائلٹ گو ٹو ٹوائلٹ
اس بچے کو اسکی بات سمجھ نہ آئی بھاں بھاں کر کے رونے لگا اسکا گرےلانگ ٹاپ کا دامن کھینچ کر بولتا
آہجومہ۔۔اور ریں ریں شروع
کہاں رہ گئ تمہاری ماں۔۔ اس نے بے بسی سے سوچتے ہوئے اسٹول سے اٹھ کر اچک اچک کر پنجوں کے بل اسٹور پر نگاہ دوڑائی اتنا بڑا اسٹور تھا اوپر سے سب کی کم و بیش ایک جیسی شکل ۔ تبھی اس کو ایک مانوس چہرہ نظر آیا۔۔
اگلا بھی اسٹور میں شائد اسی کو تلاش رہا تھا اسے دیکھ کر اسکی چندی آنکھیں چمکیں اور وہ سیدھا اسکی جانب بڑھتا آیا۔۔
آننیانگ ۔۔ ہیون نے قریب آکر پرجوش انداز میں سلام کیا۔
آنناینگ۔۔ شکر ہے خدا کا تم آگئے دیکھو یہ بچہ جانے کیا کہہ رہا ہے۔۔
اریزہ اسکے رونے پر روہانسی ہوچلی تھی۔۔ اب تو آس پاس سے گزرتے لوگ متوجہ ہونے لگے تھے
کیا ہوا ننھے ساتھئ۔۔ ہیون نے اکڑوں بیٹھ کر اس سے پوچھا جوابا بچہ جو اریزہ کی ٹانگوں سے چمٹا ہوا تھا اسے بتانے لگا اپنا مسلئہ اور ساتھ ہی مسلئے کا حل بھی نکال لیا۔۔
بچہ اپنے کپڑے گیلے کر نے لگا تھا۔۔ اریزہ نے احساس ہوتے ہی اسے خود سے جھٹ دور کرنا چاہا مگر وہ چمٹا ہوا تھا اس سے اپنے کارنامے سے اریزہ کے جوتے اور پینٹ کے پانچے بھی خراب کر دہئے۔
آہش۔۔ اس نے جھلا کر اسے دور کیا۔۔
ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ ابھئ تو اتنا پیار کر رہی تھی اب اچانک۔۔
میرے خدایا۔۔ سارے کپڑے ناپاک کر دیئے اوپر سے یہ جوتے واحد لانگ شوز تھے میرے پاس۔۔ا
سکے لانگ شوزبھی بمشکل ٹخنے تک کے تھے۔
جھلا کر مٹھیاں بھینچتے تنتنا کر چیخی تھی۔۔ بچہ سہم کر جا کر ہیون سےلپٹ گیا۔۔
اب اس سے تو نہ لپٹو۔۔
اسکی آنکھیں ابل آئی تھیں۔
کین چھنا۔۔ ہیون نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگا لیا۔
بچہ سہم کر رونا بھی بھول۔گیا۔۔
اسکے کپڑے گیلے ہیں ہیون۔۔
اریزہ نے اسے انگریزی میں بتانا چاہا۔۔
ہیون اسکو گھن کھاتے دیکھ کر بچے کو اٹھا کر اس سے ہنگل میں ماں کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔ بچے نے اشارے سے دور کھڑی کائونٹر پر بل بنواتی عورت کا بتایا تو وہ اریزہ کو انتظار کرو کہہ کر آگے بڑھ گیا۔۔
اتنا بڑا بچہ ہو کے بھی کہیں بھی۔۔ اوپر سے ہیون نے گود میں اٹھا لیا یاک۔۔
اس نے جھر جھری سی لی۔۔ کائونٹر کے پاس ٹھیک ٹھاک پانی کھڑا ہو گیا تھا وہ چند لمحے بے بسی سی دیکھتی رہی ڈیوٹی ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔۔
میں ایک گھنٹہ ایسے کھڑی نہیں رہ سکتی۔
اس نے سوچ کر فیصلہ لیا اور اسٹال سمیٹنے لگی۔۔
تبھی ایک آہجومہ بڑا سا پوچھا لیکر صفائی کرنے آگئ۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو محترمہ نے اسے ایک۔جانب ہونے کو کہا اور پوچھا پھیر کر پانی پوچھے سے سوتھ دیا۔۔
پانی نہیں استعمال کریں گی آپ۔۔؟
اریزہ کو آج شائد سارے ہی کلچرل شاک ( ثقافتی دھچکے)لگنے تھے
دے؟۔ انمحترمہ کو انگریزی بھی نہیں آتی تھی آنکھیں اور منہ کھول کر دیکھ رہی تھیں
صاف کر تو دیا ہے تم اپنے جوتے اتارکر یہ جوتے پہن لو۔
اگر اتنی الجھن ہو رہی ہے ویسے۔ واٹر پروف ہوتے ہیں یہ جوتے۔۔
ہیون اسکیلئے اسٹور سے سلیپر اٹھا لایا تھا اب مسکرا کر کہہ رہا تھا
وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوکری تو نوکری ہوتی ہے۔ پیر پٹخ کر ایک گھنٹہ ایسے کھڑے نہ رہنے کا ارادہ کر کے بھی وہ ڈیوٹی پوری کر کے باہر نکلی تھی۔
سلیپرز شاپر میں ڈال کر وہ انہی شوز میں ہی ہیون کے ساتھ باہر نکلی۔تھی وہ مطمئن سے انداز میں اسکے ساتھ چل رہا تھا جبکہ اسے اس کے کپڑوں سے بھی کراہیت آنے لگی تھی۔۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے سردی بڑھتی جا رہی تھی
تم نے کھانا نہیں کھایا ہے نا چلو میں آج تمہیں ایک انڈین ریستوران میں لے چلتا ہوں۔۔
اسکا موڈ خوشگوار تھا۔۔
آندے میں گھر جائوں گی ۔۔
اس نے بے ساختہ انکار کیا تھا۔
کھانا تو کھا لو۔۔ ہیون اسکے انداز پر حیران ہوا
نہیں مجھ سے کھایا نہیں جائے گا میں پہلے نہائوں گی پھر کچھ اور کروں گی۔ تمہیں بھی نہانا چاہیئے گھر جا کر ۔۔ اس بچے نے سو سو کی تھی اپنی پینٹ میں جسے تم نے مزے سے گود میں اٹھا لیا تھا۔۔
اس نے صاف کہا تو ہیون حیران سا رہ گیا
تو کیا ہوا۔ قدرت کا نظام ہے سب سو سو کرتے ہیں وہ تو بچہ تھا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے وہ بچے سے کچھ گندا جانور بن گیا تھا اپنی پینٹ میں سو سو کر کے۔۔
ہیون کو اسکے انداز پر ناگواری سی محسوس ہوئی تھی
یہ بات نہیں ہے۔اریزہ نے صفائی پیش کرنی چاہی جسے اس نے ناگواری سے کاٹ دیا
ایسی ہی بات ہے تم اس بچے کے سو سو کر دینے پر چراغ پا ہو گئی تھیں اسے اتنی سختی سے خود سے دور کردیا تھا کہ وہ سہم گیا تھا کیا ہوا اگر اس نے کپڑے گیلے کر دیئے بچپن میں ایسا ہو جاتا ہے تم سے بھی ہو ہوگا کبھی۔۔
ہیون کو اپنی آئیڈیل لڑکی کا ایسا بے رحمانہ انداز برا لگا تھا بلکہ دکھی بھی کر گیا تھا
مگر سو سو گندی چیز ہے اپنے کپڑے گندگی سے خراب کر لیئے تھے اس نے میرے بھی کپڑے خراب کر دیئے ہیں اور تمہارے بھی۔ خود بھی تو وہ کپڑے بدلے گا نا ہمیں بھی بدلنے چاہیئے۔۔
اب نجس کا انگریزی میں کیا ترجمہ ہوتا اسکی لغت ہار گئ تھی پھر بھی اس نے اپنا ماضی الضمیر سمجھانے کی پوری کوشش کی۔
ہیون ہونٹ بھینچ کر دوسری جانب دیکھنے لگا تھا
اریزہ کو اسکا انداز کافی محسوس ہوا۔ اتنے عرصے میں پہلی۔بار ہیون کی پیشانی پر ناگواری کی ایک شکن آئی تھی۔
اچھا میں چلتی ہوں۔ وہ آہستہ سے کہہ کر بس اسٹیشن کی جانب رخ موڑ گئ تبھی بے ساختہ ہیون نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
میرے ساتھ چلو میں ڈراپ کر دوں گا۔۔
اسکے متوجہ ہوتے ہی لمحہ بھر میں اس نے ہاتھ چھوڑ بھی دیا تھا
اریزہ نے کچھ کہنا چاہا پر ہونٹ بھینچ گئ۔۔ ہیون کہہ کر رکا بھی نہیں تھا گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے بلڈنگ کے باہر ڈراپ کر کے چلا جائے گا مگر وہ جب اسکے ساتھ لفٹ میں آیا تو وہ سوالیہ۔نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
گوارا نے کہا ہے اوپر آئو۔
اس نے جیسے صفائی دی۔ وہ شرمندہ سی ہوگئ۔ ظاہر ہے گوارا کا تو وہ دوست تھا۔اگریہاں اسے چھوڑنے آیا ہے تو اس نے یقینا بلایا ہوگا اوپر۔ ہایون مکمل موبایل میں مگن تھا۔ وہ بھی لاتعلق سی کھڑی رہئ ۔۔ منزل آگئی تھی۔ اسے اپنے آپ سے بھی کراہیت آرہی تھی جبکہ ہایون بالکل مطمئن نظر آتا تھا۔ وہ الجھن بھرے انداز سے اسکو دیکھے جا رہی تھی۔ ہایون کو اسکی نظریں جانے محسوس ہی نہ ہوئیں وہ بالکل بے نیازی سے اسکے ساتھ چلتا آیا۔اریزہ نے آگے بڑھ کرفلیٹ کا لاک کوڈ دبایا۔
دروازہ کھولتے ہی ایک زور دار نعرے کے ساتھ اسکا گوارا نے استقبال کیا۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یوہیپی برتھ ڈے ڈئیر اریزہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔
وہ گنگنا کر چپ ہوئی۔
گوارا ہوپ یون بن کم سن سب موجود تھے۔ رنگین ٹوپیاں پہنے غبارے تھامے پارٹی پاپرز بجاتے اسکے کتنے نئے دوست بن چکے تھے اسے آج احساس ہوا۔
سبھئ نے ہاتھ میں تحفے تھامے ہوئے تھے۔گوارا کے چپ ہونے پر باقی سب نے تان بلند کی تھی۔ لہک لہک کر کورس میں گاتے کورین نغمہ۔
سینگئ چوکھا ہمبندا سینگی چوکھا ہمبندا سارانگھیئے اوری اریزہ سینگئ چوکھا ہمبندا۔۔
(سالگرہ مبارک ہو ہمیں تم سے محبت ہے اریزہ )
جھومتے ہوئے گوارا اسکے قریب آئی تھی اور گلے لگ گئ۔
تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا آج سالگرہ ہے تمہاری۔ ہم سب ایک دوسرے کی سالگرہ کا خوب اہتمام کرتے ہیں۔
یون بن ایک تحفہ اسکی جانب بڑھاتے کہہ رہا تھا۔
گھمسامنیدہ۔
اتنی محبتیں پاکر اسکی پھر آنکھیں بھر آئی تھیں۔
ہوپ کم سن نے بھی اسکو تحفے تھمائے۔

چلو اندر آئو کیک کاٹیں۔
گوارا اسے اندر آنے کو کہہ رہی تھی۔ اس نے ایکدم سے ہاتھ چھڑایا۔
میں پہلے فریش ہولوں۔
کچن کئ کائونٹر ٹیبل پرکیک اور تھوڑا بہت تواضع کا سامان رکھا ہوا تھا مگر وہ اس وقت کسی اور ہی الجھن میں تھئ۔
ٹھیک ہے ۔۔ گوارا فورا پیچھے ہوگئ۔ وہ تیزی سے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
وہ سخت الجھن محسوس کر رہی تھی جبھی سیدھا کمرے میں آئی تھی آکر کپڑے نکالے اور باتھ روم میں گھس گئ
نہا کر سویٹ پینٹ اور شرٹ پہن کر نکلی تو سب اسکے انتظار میں بیٹھے تھے۔
آئی ایم سوری۔
وہ شرمندہ سی ہوگئ۔
اس وقت اتنی ٹھنڈ میں نہالیا بیمار نہ پڑجانا۔
گوارا ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
بس وہ۔ اس سے جواب نہ بن سکا۔ ہایون اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ خفگئ بھری نظریں۔وہ نگاہ چرا کر میز کی۔جانب بڑھ آئی۔
یون بن کم سن ہایون ہوپ سب میز کے گرد جمع تھے۔
اس نے ان سب کی تالیوں اور دعائوں میں کیک کاٹا۔ گوارا نے سب کیلئے پلیٹ میں سرو کیا۔
اریزہ تحفے دیکھو۔
گوارا کو جلدی تھئ۔
اس نے گوارا کا گفٹ سب سے پہلے کھولا۔
ایک مشہور کورین برانڈ کی میک اپ کٹ تھی پرس میں رکھنے والی دلکش اور نازک سی۔
شکریہ۔
وہ میک اپ کی ذیادہ شوقین تو نہ تھی مگر اسکا تحفہ اسے بے حد پسند آیا تھا۔
کم سن نے چاکلیٹ باکس دیا تھا۔
اتنی جلدی میں یہی مل سکا تھا۔ دوپہر کو گوارا نے بتایا تھا۔ آئیندہ اچھا تحفہ لینا ہو تو سالگرہ سے ایک آدھ پہلے یاد دہانی کرادینا۔
اسکا مخصوص انداز تھا سنجیدگی سے مزاق کیئے جانا
وہ اسکے چہرے پرمزاق کی رمق تلاش کر نے میں ناکام ہوئی۔۔
دے۔ اس نے سر ہلا دیا۔ اسکی تابعداری پرکم سن بے ساختہ مسکرایا تھا۔۔
بھئ یہ میک اپ کٹ گوارا نے مجھ سے ہی منگوائی تھی اور میں اور گوارا الگ الگ تھوڑی تو یہ تحفہ مشترکہ سمجھو ہماری طرف سے۔
یون بن نے ہاتھ جھاڑ کر کہا تھا۔
کنجوس انسان۔ گوارا نےاپنی پلیٹ ست کیک کا پیس ہی اٹھا کراسے دے مارا جسے اس نے ڈھٹائی سے چہرے پر کھا کرکریم پر انگلی پھیر کر چاٹ لی۔
ویسے ہی کیک بھی میری طرف سے سمجھو۔
ہوپ کا تحفہ سب سے مختلف اور منفرد تھا۔
لکڑی کی کنگھی گول سی جس پرایک کوریائی لڑکی بنی تھی ۔ کنگھئ کے دانے لہریے دار اور قدرے لمبے تھے یوں جیسے اسی لڑکی کے بال بکھر رہے ہوں ہوا سے۔
اس نے فورا کنگھئ سے اپنے سر پر پھیری۔
شکریہ ہوپ بہت خوبصورت ہے۔
اس نے تحفہ دیا تھا یہی بڑی بات تھی۔
یہ وہی کنگھئ نہیں جو تم استعمال کرتی ہو ؟
گوارا نے کہا تو ہوپ بھنا گئ۔
ہرگز نہیں یہ ویسی ضرور ہے۔ مگر میں نے استعمال شدہ چیز نہیں دی اسے۔ کہو تو لا کر دکھا دوں۔
اسکا غصہ یوں بھی ناک پر۔دھرا رہتا تھا۔
ہاں جائو۔ گوارا کو بھی اسے تپانے میں الگ مزا آتا تھا۔وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی
مجھے یقین ہے۔
اریزہ نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
ہایون نے تحفہ نہیں دیا۔ یون بن کو یاد آیا۔
ہایون نے تو رات کو ہی وش کردیا تھا بکے اور فرنچ پرفیوم کے ساتھ۔
گوارا نے لائونج کی سنٹرل ٹیبل کی جانب اشارہ کیا جہاں اس نے گلدستہ سجا رکھا تھا۔
اسی کے کارڈ کو پڑھنے سے مجھے پتہ لگا تھا کہ آج اریزہ کی سالگرہ ہے۔ اس نے تو بتایا بھی نہیں تھا ہمیں۔
گوارا نے کہتے کہتے شاکی انداز سے اسکی جانب دیکھا۔
ہر کوئی تھوڑی تمہاری طرح اپنی سالگرہ کا اعلان کرتا پھرتا سب سے زبردستی تحفے وصول کرتا ہے
یون بن نے کہا تو گوارا حسب عادت چڑ گئ۔
میں نے ایسا کب کیا۔ الٹا تم نے سرپرائز کے چکر میں میرا سالگرہ کا دن میری برسی کا دن بھی بنا دینا تھا۔ الٹے پرینکس سوجھتے بس تمہیں۔
تم مر کے تو دیکھتیں۔
یون بن دل پر ہاتھ رکھ کر جیسے آہ بھر رہا تھا۔
پھر کیا کرتے تم ۔گوارا نے آستین چڑھائی۔
میں تمہارے مرنے کے بعد تمہاری سالگرہ ہی مناتا۔
اس نے فورا پینترا بدلا تھا۔
گوارا دانت پیس کر رہ گئ۔ اسے گوارا کا موڈ ایکدم ٹھیک کرنا آتا تھا۔
دونوں کی ہنگل کی بحث اسکے سر پر سے گزری تھی۔
وہ دیکھ تو رہی تھی انہیں مگر صاف نظر آتا تھا ذہن کہیں اور ہے۔
اریزہ ۔۔کم سن نے پکارا تو وہ ایکدم کسی خیال سے چونکی۔
ہوں۔۔
گھر والے یاد آرہے ہیں؟
کم سن نے نرمی سے پوچھا۔
تمہاری سالگرہ پر کافی اہتمام ہوتا ہوگا۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ تمہیں یہاں تنہائی محسوس نہ ہوسکے۔
وہ مزید کہہ رہا تھا۔ وہ پھیکی سی مسکراہٹ سے بولی۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔مجھے اچھا لگا آپ سب کا یہ اہتمام۔
تمہارے یہاں سالگرہ کیسے مناتے ؟ باقی سب کی طرح کیک کاٹ کر ؟ میرا مطلب کیک کاٹا جاتا ہے دنیا بھر میں پاکستان میں بھی یہی رواج ہے؟
یون بن بھی متوجہ ہوا۔
ہاں۔ اسکا جواب مختصر تھا۔
اریزہ تم تو اکلوتی ہونا سالگرہ پر خوب اہتمام ہوتا ہوگا پارٹی ہوتی ہوگی گفٹس ملتے ہوں گے تمہیں ہے نا؟
گوارا بھی دلچسپی سے پوچھ رہی تھئ۔
آنی۔
اسکا چہرہ پھیکا پڑا۔
میری سالگرہ پر کوئی اہتمام نہیں ہوتا۔ میں کبھئ سالگرہ نہیں مناتی۔
چہرہ بے تاثر رکھنے کی بھرپور کوشش بھی اسے ناکام ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سب مکمل طور پراسکی جانب متوجہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
کیوں؟ یون بن حیران تھا۔
ہایون نے گہرا سانس لیا۔
تو یہ وجہ تھی رات اسکی سالگرہ کی مبارکباد کی وصولی پر اسکا رنگ کیوں اڑ گیا تھا۔
اسکی سالگرہ والے دن ہی تو ۔۔۔۔
اسے جزئیات سے یاد آیا تھا۔ اتفاق سے اس دن کم سن کے سی وی دکھانے پر اس نے چپکے سے اسکی سالگرہ کا دن نوٹ کر لیا تھا مگر یہ بات اسکو یاد نہ رہی تھی۔۔
وہ دھیرے سے بتا چکی تھئ سب اپنی اپنی جگہ افسردہ سے ہوگئے تھے۔ ہوپ کو پہلی دفعہ اسکے چہرے کی ویرانی محسوس ہوئی سو اسکے قریب آکر بیٹھ گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ان سب نے اسکو ہنسانے کی خاطر اتنے جتن کیئے تھے۔۔۔
لائونج میں میز ایک طرف کرکے جگہ بناکر وہ سب بیٹھ گئے تھے۔
آج ہم سب ایک ایک ایسا کام کریں گے جو اریزہ کو ہمیشہ ہماری یاد دلائے۔
گوارا نے اعلان کیا تھا۔
مرجائو پھر۔
یون بن نے مسخرے پن سے کہا ۔ گوارا نے بنا لحاظ چپت لگائی سر پر اسکے۔
چونکہ ہنگل میں کہا تھا سو اریزہ ہوپ کا بازو ہلا کر پوچھنے لگی کیا کہا۔
دعا دی ہے جیو ۔۔
ہوپ نے جان چھڑائی۔ اریزہ نے لفظ یاد کرلیا تھا اب اسے صرف کسی اچھی جگہ استعمال کرنا تھا۔
۔ ہایون اور کم۔سن نے مل کر گانا گایا۔ کورین گانا سمجھ تو نہیں آیا مگر دونوں کی آواز میں سر تھا کم سن میز بھی ساتھ ساتھ بجا رہا تھا۔
ایک جگہ پر تو یوں لگنے لگا دو کی بجائے بس ایک انسان گا رہا ہے۔
یون بن اور گوارا نے کپل ڈانس کیا تھا۔ تھک ہار کر کم سن اور یون بن نے اجازت چاہی تھی۔ ہایون نے روکا مگر دونوں رکے نہیں۔
گوارا برتن سمیٹنے لگی۔ ہوپ لائونج کی حالت درست کرنے میں لگ گئ۔ تبھئ اطلاعی گھنٹی بجی
ہایون ہی اٹھ کر گیا واپسی پر اسکے ہاتھ میں بڑا سا پیکٹ تھا۔
بریانی آرڈر کی تھی میں نے۔ ایک پاکستانی ریستوران سے ارادہ تو وہیں جا کر کھانے کا تھا مگر تم تیار نہ ہوئیں۔۔
وہ اپنے پچھلے موڈ کے برعکس بالکل پہلے کی طرح ازلی مہربان سے انداز میں بول رہا تھا۔۔ شاپر کچن کائونٹر پر رکھا تو گوارا برتن دھوتی بھاگی آئی۔
چاول شاپر۔کھولتے ہی وہ بے ساختہ خوش ہوئی تھی۔
اتنے سارے۔
اس نے سوالیہ۔نگاہوں سے دیکھا۔ہایون نے کندھے اچکا دیئے
سب کیلئے منگوائے تھے مگر کم سن اور یون بن رکے ہی نہیں۔
اس نے بھی اسکے سامنے والی کرسی سنبھال لی۔
گوارا نے ڈسپوزایبل پیک ہی اسکے سامنے کر دیئے۔ ہوپ بھی یہیں چلی آئی۔
اریزہ نےپیک دیکھا تو چاول اسکی ضرورت سے کافی ذیادہ تھے۔
وہ پلیٹ لینے اٹھی تو ہایون نے جانے کیا سمجھا وضاحت دینے لگا
میں نے ہاتھ دھو لیئے تھے اور کھانا شاپر سے نہیں نکالا تھا۔۔
اریزہ اسکے اس طرح کہنے پر شرمندہ سی ہوگئ۔ یقینا اس نے آج اوور ری ایکٹ کر دیا تھا اتنی بد مزاجی دکھائے بغیر بھی وہ گھر آکر نہا کر پاکیزگی حاصل کر سکتی تھی۔
وہ زبان دانتوں تلے دباتی ریک سے پلیٹ لیکر آئی
وہ یہ۔چاول بہت ذیادہ ہیں میں پہلے ہی الگ کر دوں تو کوئی اور بھی کھا لیگا۔۔
اس نے وضاحت کی۔۔ دیگچی پیالے میں مل کر کھانے والے کورینز کو اسکی کھانا جھوٹا کرنے والی اصطلاح کیا خاک سمجھ آنی تھی۔
اس نے خاموشی سے پلیٹ خالی کرنی شروع کر دی۔ وہ چمچ استعمال کر رہی تھی جبکہ ہایون ہوپ اور گوارا چاپ اسٹکس سے کھا رہے تھے۔ کھاتے کھاتے ہایون کے کپڑوں پر چاول گرے۔۔ اسکی بلا ارادہ اسی پر توجہ تھی۔
اریزہ نے بے ساختہ سر جھکا لیا۔ اب اگر وہ ان کپڑوں سے اٹھا کر کھا لیتا تو یقینا اسکا ہی دل برا ہونا تھا۔۔
ہیون نے ایک نظر اسکے جھکتے سر کو دیکھا پھر کپڑوں پر سے چاول اٹھا کر میز پر رکھ دیئے۔
میں چلتا ہوں۔
اس سے مزید کھایا نہیں گیا۔ وہ یکدم ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
کیا ہوا؟ کینچھنا۔۔ گوارا اسکے یوں اٹھنے پر حیران سی ہوئی مگر وہ بیانیئے پھر ملتے ہیں کہتا ہوا اٹھ کر ہی چلا گیا۔۔
ہوپ بھی ایکدم سے کھانا چھوڑ کر اٹھ گئ۔
اب اسے کیا ہوا۔ گوارا نے اس سے پوچھا تھا۔
پتہ نہیں۔۔
کہتے ہوئے بھی اسے احساس ہوا تھا کہ کہیں نہ کہیں اسے پتہ ہی ہے۔

خیر تمہارے لیئے تو ہفتے بھر کی بریانی کا انتظام ہوگیا۔
گوارا شرارت سے کہنی مار کر بولی۔
پانچ چھے پیکٹ۔ اس نے اس بڑے سے شاپر کو دیکھا
ہفتہ۔کیا مہینے بھر چل جائیں گے یہ تو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز پڑھ کر دوپٹہ تہہ کرکے الماری میں رکھ کر وہ سیدھا بیڈ پر گری تھی۔۔ کافی تھکن بھرا دن تھا اسکیلئے۔۔ اس نے موبائل اٹھایا 80 فیصد بیٹری۔۔بیڈ پر کمر کے نیچے تکیئے لگئے وہ۔پرسکون سے انداز میں ٹیک لگا ئے بیٹھ گئ
سارا دن موبائل استعمال نہیں کیا۔۔
یہ دن بھی آنا تھا ۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
اسکرین کا تالا کھولا بابا کا میسج آیا ہوا تھا
سالگرہ مبارک ہو بیٹا۔ جیتی رہو خوش رہو۔۔
اسکی آنکھ بھر آئی۔
زندگئ میں پہلی دفعہ وہ اتنی دور ہوئی تھی کہ انہیں موبائل پر وش کرنا پڑا اور اس نے سارا دن موبائل دیکھا تک نہیں۔۔

اس وقت کا اندازہ لگایا رات کا آخری پہر ہوگا۔۔ کال نہیں کی جاسکتی تھی۔۔

سنتھیا نے اسے میسج تک نہ کیا تھا۔
اتنی کٹھور کیوں ہوگئ ہے وہ۔
اس نے بلاگ کھول لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی میں آپ اپنا پیدائش کا دن خود منتخب نہیں کر سکتے۔ نا ہی یہ منتخب کر سکتے کہ اس دن آپ ہمیشہ خوشیاں پائیں گے۔ یہ دن ہر اس گزرتے ٹھہرتے دن کی طرح کا عام سا دن ہے۔ کبھی خوشیوں بھرا کبھی اداسی کا سبب۔ اہم ہے بس وہ خالص محبت جو اس دن آپکے قریبی لوگ آپ پر نچھاور کردیں ۔۔۔ اگر کبھئ محبت ملے تو خوش ہو لینا چاہیئے یہ سوچے بغیر کہ آج سے قبل کتنی ملی یا آئیندہ جانے ملے نا ملے۔۔۔
مجھے آج بہت محبت ملی ہے۔ امید ہے اگلے سال بھی ملے اس سے اگلے سال بھی اس سے اگلے سال بھی۔۔۔۔ آج کسی ذیاں کا حساب نہیں رکھنا۔۔ آج بس میرا خوش ہونے کا دن ہے ۔میں خوش ہوں۔۔ سچی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا کمنٹ
یوں کہو نا آج سالگرہ ہے۔ سالگرہ مبارک ہو۔۔
دوسرا کمنٹ۔
ایڈمن پیدا ہوتے ہی اتنا فلسفہ جھاڑ دیا۔ تمہاری پیدائیش کے دن پر تم تو خوش ہو۔اور کوئی خوش ہوا کبھی؟ ایسے ہی پوچھا۔
تیسرا کمنٹ۔۔
مگر میں خوش نہیں ہوں کل بائک چوری ہوگئ میری۔۔
چوتھا کمنٹ۔
شاباش لڑکی۔۔ یہی چاہیئے تھا بس ۔۔
صارم تھا یہ۔۔
وہ۔مسکرا دی۔ اسی کیلئے یہ بلاگ لکھا تھا شکر ہے پڑھ لیا۔اب یقینا سوجائے گا آرام سے۔
پانچواں کمنٹ۔۔
سالگرہ مبارک ہو۔۔ کچھ محبتیں چھن جانے کادکھ سارے جہاں کی خوشیوں پر بھاری ہوتا ہے خدا کرے ایسا دکھ کبھی آپکو نہ ملے۔۔
علی۔۔
اس نے گہری سانس لی اور جواب لکھنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاہ۔ مل چکاہے ۔ مگر جو لوگ آپکو ہرحال میں خوش دیکھنا چاہتے ہیں انکی۔محبتیں چھن جانے والی محبتوں کا متبادل نہ سہی مگر انمول ہوتی ہیں۔ ان محبتوں کی قدر کیجئے جو نصیب ہیں۔ ان پر صبر کریں جو چھن چکی ہیں جینے کا یہی۔طریقہ ہے۔۔
بلاگر کا جواب غیر متوقع تھا۔
اس نے دو تین بار پڑھا پھر بلاگ بند کرکے وی چیٹ پر آئے عبدالہادی کے پیغامات دوبارہ پڑھنے لگا۔
میری خاطر ایک بار مل کر تو دیکھو۔ اچھی لڑکی ہے سمجھدار۔ پیاری۔ بس مل۔لو کوئی زبردستی نہیں
اس نے چند لمحے سوچا پھر لکھ بھیجا۔
ٹھیک ہے۔ آپ۔ملاقات کا دن او روقت طے کرکے بتا دیجئے گا۔
انہوں نے فورا میسج پڑھا تھا۔او رجواب بھیجا۔
واقعی۔ سچ۔کیسے مان گئے میری بات
وہ۔بے یقین تھے۔
کسی نے کنوینس کیا ہے مجھے۔
وہ ذرا سا ہنسا۔۔
کس نے؟
وہ متجسس ہوئے۔۔
Aree z thoughts
اس نے بلاگ کا نام ہی لکھ بھیجا۔
یہ کون ہے ؟
وہ حیران تھے
جو بھی ہے مگر اس نے میری الجھن میں ہمیشہ میری مدد کی ہے۔۔ مجھے اسے شکریہ کہنا چاہییے۔۔
اس نے زیر لب کہا تھا۔ اور بلاگ کھول کر کمنٹ لکھنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سونے کا ارادہ نہیں ہے کیا ؟ محترمہ آپکو نوکری پر جانا ہے کل۔
گوارا ہاتھ پونچھتی باتھ روم سے نکلی اسکوموبائل میں مگن دیکھ کر شرارتا جملہ چست کر دیا
وہ بلاگ بند کرکے اب اپنے والدین کی اچھے وقتوں کی کھینچی گئ تصویر دیکھنے میں مگن تھی۔
ابا یاد آرہے ہیں۔
اس نے منہ بسور کر موبائل اسکی۔جانب کیا۔
دکھائو۔۔ وہ بڑے شوق سے تصویر دیکھنے اسکے پاس آبیٹھی
تم ابا کہتی ہو اپنے آہبوجی کو؟
آہبوجی؟ ۔۔۔ اریزہ نے سوالیہ انداز میں دیکھا
والد محترم۔۔ گوارا نے وضاحت کی۔
ہم لوگ ابو جی کہتے ہیں۔یہ تو ملتا جلتا ہے۔ وہ پر جوش ہو۔کر اٹھ بیٹھی
ابھی تو ابا کہہ رہی تھیں۔۔
گوارا اسکے انداز پر۔ہنسی
ہاں میں پاپا کبھی لاڈ میں بابا اور پیٹھ پیچھے ابا کہہ دیتئ ہوں۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ اسکے ہاتھ سے موبائل لیکر تصویر دیکھنے لگی۔
یہ تمہاری آہموجی ہیں؟ میرا مطلب والدہ۔۔
وہ بڑے غور سے دیکھ رہی۔تھی
ہاں۔۔ اریزہ نے چچ کیا۔ اسی شکل کی جوانی والےدور کی جیتی جاگتی تصویر وہ خود تھئ۔
کافی ینگ لگتی ہیں نا انکی۔جلدی شادی ہو گئ تھی یہاں میک اپ میں پھر بڑئ لگ رہی ہیں یہ شادی کی تصویر ہے نا آگے کرو انکی عام حلیئے میں تصویر دیکھو تو میری بڑی بہن لگتی ہیں۔۔
وہ بہت شوق سے بتا رہی تھی۔ گوارا اسکی پرجوش انداز پر باقی تصویریں بھی دیکھنے لگی۔
رنگوں سے بھرا پس منظر زرق برق لباس مسکراتے چہرے۔۔
سنتھیا سرخ لباس میں خوب میک اپ کیئے اسکے ساتھ کھڑی تھی ساتھ روائتی انداز میں سرخ جوڑے میں ملبوس لڑکی
یہ لڑکی تو سنتھیا لگ رہی ہے ساتھ کون ہے؟
وہ پہچان نہیں پائی۔
اریزہ کھل کر ہنستی چلی گئ۔ گوارا اسکے انداز پر نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی
پہچانا نہیں؟ ہنستے ہنستے وہ محظوظ انداز میں پوچھ رہی تھی
ہوپ کمرے میں داخل۔ہوئی تو گوارا کو موبائل میں تفتیشی انداز میں جھکی تھی ساتھ بیٹھی اریزہ ہنسے جارہی تھی
کیا ہوا واٹس سو فنی؟
وہ حسب عادت سر سری سے انداز میں کہہ کر بیڈ پر چڑھی مقصد صرف اپنی موجودگی کا احساس دلانا تھا کہ جگہ خالی۔کرو میں نے سونا۔ مگر اس وقت گوارا گمبھیر مسلئے میں الجھی تھی وہ دونوں کے درمیان سوتی تھی اور اسوقت دونوں سر جوڑے بیٹھی تھیں۔
یار کون ہے ؟ یہ تو سنتھیا ہے کوئی انڈین ہیروئن ہے؟ انکو ہی ایسا لباس پہنے دیکھا۔۔
گوارا ہار ماننے کو تیار نہیں تھی ایک اور غلط اندازہ اریزہ تو لوٹ پوٹ ہوگئ
انڈین ہیروئن کیوں ہونے لگی ؟ میرے گھر میں ۔۔
یہ دیکھو ہوپ یہ لڑکی کون ہے؟ یہ ڈریس تو میں نے دیپیکا کو پہنے دیکھا تھا۔۔ گوارا نے موبائل ہوپ کی جانب بڑھایا
کیا ؟ اریزہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھئ
ہوپ نے ایک۔نگاہ تشویش میں مبتلا اریزہ پر ڈالی دوسری گوارا پر پھر اپنے مخصوص پہیلیاں بجھانے والے انداز میں بولی۔۔۔
سنتھیا کے ساتھ کون ہوسکتاہے۔؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انوشکا ۔ اسکا نام انوشکا شرما ہے۔
گوارا نے اسے اپنی ویبو آئی ڈی پر کسی بھارتی سہیلی کی ڈی پی پر لگی ہوئی تصویر اسے نکال کر دکھائی۔
برائڈل میگزین کا کوئی کور تھا ۔۔
واٹ ایور۔ اتنے مشکل نام۔ہیں توبہ۔ گوارا نے سر جھٹکا
انوشکا یا دیپیکا اس سےفرق نہیں پڑتا مگر یہ اس ڈیزائنر نے میرے ساتھ دھوکا۔کیا ہے۔۔
اریزہ سال۔بھر بعد اپنی شادی کا دن یادکرکے روہانسی ہو چلی تھی
مجھے پانچ لاکھ کا یہ بکواس انوشکا کی اترن لہنگا کاپی کر کے دیاتھا۔ کہتی ہے اس نے خاص میرے لیئے تیار کروایا ہے ایسا دوسرا پیس نہیں دنیا میں جھوٹی دغا باز کہیں کی۔
وہ مٹھیاں بھینچ رہی تھی
گوارا اور ہوپ کی آنکھیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے
اتنا مہنگا کام وہ بھی اس نے چوری کیا اسٹائل۔۔
وہ دانت کچکچا رہی تھی۔
اتنا مہنگا جوڑا دوست کی شادی کیلئے بنوایا؟ پاگل ہو؟ اتنا تو سنتھیا بھئ تیار نہیں ہوئی وی۔
گوارا نے کہا تو وہ جھلا کر بولی
دوست کی تھوڑی اپنی شادی کیلئے بنوایا تھا اف اس وقت
کیسے اماں ابا کا پیسہ اڑاتے ذرا نہیں سوچا کرتی تھی کہ کمانا کتنا مشکل کام ہے۔۔ آج کمر ٹوٹ گئ کھڑے کھڑے تو
بولتے بولتے اسکی گوارا پر نظر گئ تو چپ کر گئ
گوارا کے چہرے پر گہرئ سنجیدگی چھا گئ تھی
مجھے لگا تھا سنتھیا اور ایڈون کی شادی کی تصویرہے۔ مگر تم۔۔ تم کیا شادی شدہ ہو؟
گوارا کی الجھن عروج پر تھی
ہاں۔۔ اریزہ نے گہری سانس لی۔
یہ میری شادی کی ہی تصویر ہے۔ اور میں پاکستان کی ان 80 فیصد احمق لڑکیوں میں سےایک ہوں جو ایک دن کیلئے ایک۔جوڑے پر کروڑوں بھئ خرچ کر نے کو تیار ہوسکتی ہیں۔ مگر سچ میں پچھتا رہی ہوں۔ اب دوبارہ تو میں یہ کبھی نہیں پہنوں گی۔اور اس سیمز کی تو گردن مروڑوں گئ جا کر۔۔
وہ۔تصور میں مٹھی میں اسکی گردن ہی پکڑے تھی
تم ویسے پیاری بہت لگ رہی تھیں اس جوڑے میں
ہوپ نے دل سے کہا تھا جانے کیسے وہ ایکدم ہلکی پھلکی سی ہو کر بولی تھی وہیں گوارا کے دل پر منوں بوجھ آپڑا تھا۔ ہوپ کے بے ساختہ تعریف کرنے پر اریزہ۔جھینپ۔کر کچھ کہہ رہی تھی تو وہیں ہوپ کا۔انداز بھی سکھی سہیلیوں جیسا ہوچلا تھا اتنے عرصے میں پہلی۔بار ہوپ نے سرد مہری۔کی نادیدہ دیوار ڈھا دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاور لیکر وہ آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا
برش رکھتے اپنے سپید سے ہاتھ پر نگاہ پڑی تو دوپہر کا منظر تازہ ہوچلا
اس نے بلا ارادہ ہی اریزہ کو ہاتھ پکڑ کر روکا تھا احساس ہونے پر چھوڑ بھئ دیا تھا ہاتھ پھر بھی اریزہ اپنا ہاتھ یوں الگ کیئے بیٹھی تھی گاڑی میں جیسے کسی گندی چیز سے چھو گیا ہو۔۔ اسکے بچے کو دور کر دینے میں جس کراہیت کا دخل تھا وہی کراہیت اسے ہیون کے پاس سے بھی آئی تھی۔۔ اسکے اندر کہیں کچھ ٹوٹا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ?Rate us below

Rating

Ab thori woh zamanay hain k kahai wohi chahye

اب تھوڑی وہ زمانے ہیں کہ کہیں وہی چاہیئے۔۔
ہمیں اس دنیا سےکچھ بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

دو چار خواہشوں کی ہماری چھوٹی سی فہرست تھی
پرزندگی سے وہی ملا جس پہ کہا اب نہیں
چاہیئے۔۔

واعظ نے گزاری ہے زندگی بلک بلک کر مانگتے جسے۔۔ 

اسی جنت نے ٹھکرایا زاہد تو بہت ہیں یہ اب نہیں
چاہیئے۔۔

کہتے ہیں ملے گا سب اس جہان میں اس جہان میں تو بس۔۔
چند سانسیں ہیں ملی اس سےبھی ہیں تنگ اور اب
نہیں چاہیئے۔۔

احباب مختصر کلام مختصر اب حاصل وصول کا تذکرہ کیا کرنا
ہمیں اور  لوگ تو کیا ہمیں تو ہم بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

ہم نئے مزاج میں ڈھل چکے ہیں محفلوں سے اکتائے ہیں ۔۔
ہم رونقوں  ہجوم سے دورہیں اور تنہائی بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

از قلم ہجوم تنہائی۔

Salam Korea Episode 26

Salam Korea
by Vaiza Zaidi
قسط 26

urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔
اDesi Kimchi seoul korea based Urdu web travel Novel ALL EPISODES LINKS
salam korea episode 26

گنگشن نونا اور اسے آج ایڈمن صاحب سب بتا دینا چاہتے تھے۔گنگشن کا ذہن این جی او کے نئے ایونٹ میں الجھا تھا تو وہ کسی اور ہی کے خیال میں الجھا تھا اتنا کہ سامنے سے پیر پٹخ کر آتی اس لڑکی کو دیکھ کر بھی اسے اسی کسی کا ہی خیال ذہن میں کوندا تھا۔ پروٹوکول کی وجہ سے وہ اپنے خیال کئ تصدیق کیلئے جا نہ سکا۔ گنگشن انی اور چار دیگر اسٹاف ارکان کے ساتھ وہ سیدھا اس ایڈور ٹائزنگ کمپنی کے مالک کے دفتر میں آئے تھے۔ انکی کیمپین کو وہ خود ذاتی طور پر دیکھ رہے تھے کیوں؟ وجہ نئی چھوٹی کمپنی۔ اگلا بندہ اٹھ کے سیٹ سے کھڑا ہوگیا تھا۔
آننیانگ ہاسے او۔ نونا۔۔
آننیانگ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ یونی کیوں نہیں گئے؟
حسب عادت نونا نے جھاڑنا شروع کردیا۔ کم سن کان دبا کر مسکراتے ہوئے سب اسٹاف کو جانے کا اشارہ کرتا ہوا انہیں اپنے آفس کے ایک جانب لگے صوفوں کے پاس لے آیا۔

نونا اب یہ نہیں تعلیم مکمل کرتا آپ کچھ بھی کر لیں۔
ہایون نے صوفے پر اطمینان سے بیٹھتے ہوئے کہا۔
آنی ۔۔ نونا میں پڑھوں گا پکا آج کل تو یونیورسٹی میں مڈز کے بعد کی بریک ہے۔ آپ بتائیں کیا پیئیں گی
نونا مسکرا دیں۔
کھانا کھاتے ہیں اکٹھے۔ میری لنچ کے بعد میٹنگ ہے سو وقت کم ہے۔۔ جلدی سے آرڈر کرو۔
دے۔ کم سن فورا سر ہلاتا اٹھا اور اپنے انٹرکام سے آرڈر کرنے لگا۔
ہایونا تم نے انکی ایڈورٹائزمنٹ کا پروپوزل فائنل کیا تھا نا دیکھ لینا۔ اسکی ٹیم سے بھئ مل لینا۔
نونا کو کام یاد آنے لگے۔
جانے دیں۔ یہ اسکا پہلا پراجیکٹ ہے یقینا جان لڑا دے گا مجھے اتنا دماغ لگانے کی کیا ضرورت۔
ہایون کا جواب نپا تلا تھا۔ کم سن پر نگاہ جمائے وہ بہت پیار سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے اسکی صلاحیتیوں پر پورا یقین ہو۔نونا مسکرا دیں پھر کچھ یاد آیا تو اپنے بیگ سے کچھ نکالنے لگیں۔کم سن فون بند کرکے انکے پاس ہی چلا آیا۔
کم سنا بہت خوبصورت سیٹ اپ ہے تمہارا۔ تم نے اچھا فیصلہ کیا اپنی آبائئ زمین بیچ کر اس کاروبار کو شروع کرنے کا مگر میرا مشورہ یہی ہے پڑھائی ادھوری نہ چھوڑنا سمجھے۔
وہ بڑے پن سے نصیحت کر رہی تھیں وہ مسکرا کر سر ہلا کر رہ گیا۔
اچھا یہ تمہارا کارڈ ۔۔
انہوں نے نوید مسرت کے الفاظ سے سجا منگنی کی دعوت کا کارڈ نکال کر اسکی جانب بڑھایا
آپ نے ضائع ہی کیا کارڈ نونا اس نے تو آنا ہی تھاویسے بھی میرے ساتھ۔
ہایون نے کہا تو نونا ہنس پڑیں۔ پھر شرارت بھرے انداز میں بولیں۔
ہاں ہے تو گھر کی بات مگر سی ای او صاحب بن چکے ہیں یہ اب انکو پروٹوکول تو دینا پڑے گا۔
نونا آپکے کے لیئے تو ہمیشہ میں چھوٹا بھائی ہی رہوں گا
کم سن جھینپ سا گیا۔
یہ تو ہے۔ ہایون کے سب دوستوں کے کارڈز اپنی نگرانی میں بھجوائے ہیں۔ خاص کراسکی گرل فریںڈ کو تو خود اپنے ہاتھوں سے کارڈ دیا ہے۔
اسکی بات پر ہائون تو ہایون کم سن بھی آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگا۔
تم کیا سمجھے مجھے پتہ نہیں میں ۔ نونا محظوظ انداز میں مسکرائیں۔
اس نے وعدہ بھی کیا ہے کہ آئے گی۔۔۔ بلکہ گوارا سے بھی کہا ہے اسے ضرور لیکر آئے۔ اجنبئ تو نہیں وہ میرے لیئے مگر ۔اپنی گرل فرینڈ کی حیثیت سےاسے ضرور مجھے ملوانا۔ سمجھے
انکی بات پر ہایون کے چہرے پر واضح خوشی دوڑی تھی۔
کم سن بھی مسکرا دیا۔
نونا کا فون آنے لگا تو وہ معزرت کرتی اٹھ گئیں۔کم سن اچھل کر اسکے برابر میں آن بیٹھا۔
یہ کب ہوا مجھے کیوں نہیں بتایا۔
کوئی نہیں ہوا ایسے ہی نونا اندازے لگا رہی ہیں۔
ہایون نے دامن بچانا چاہا
درست اندازے۔ کم سن نے جتایا تو وہ ہنس دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا وانا کھا کر نونا تو اٹھ کر چلی گئیں یہ دونوں دفتر میں ہی رہے۔کم سن کی ایڈورٹائزنگ کی ٹیم نے اپنا پلان سلائیڈز پر دکھایا جسے کم سن دلچسپی سے جبکہ وہ بیزاری سے دیکھتا رہا۔
ہم فری سیمپلنگ اور ٹیسٹنگ کا ایونٹ بھی آرگنائز کر رہے ہیں۔ مختلف مارٹس اور شاپنگ سینٹرز میں ایک ایک ٹیم بھیجیں گے۔جو بچوں کو متاثر کرنے کیلئے مختلف چھوٹے چھوٹے گیمز کھلائیں گے انعام میں انکو سیریل کے سیمپلز دیئے جائیں گے۔
اسکا ٹیم لیڈر بتا رہا تھا۔کم سن نے فورا ٹوکا۔
اتنی فری سیمپلنگ کریں گے تو لوگوں کو خریدنے پر مجبور کیسے کریں گے۔ اس کا بجٹ کٹ کریں۔مشہور سب مارٹس کی بجائے لی گروپ کے زیر انتظام مارٹس اور مالز کو بس اس میں شامل کریں۔ بلکہ جو آل ریڈی ایونٹ چل رہے ان میں ہی یہ سب ایڈجسٹ کریں۔
کم سن نے انکی پوری دو سلائیڈ مسترد کی تھیں۔دونوں سٹپٹا کر دیکھنے لگے۔
ہایون نے گردن گھما کر دیکھا۔
کیوں منع کر رہا ہے؟ کرنے دے جو کر رہے ہیں۔
تمہارے باپ کا پیسہ لگارہے ہیں اس لیئے منع کر رہا ہوں جوتمہیں منع کر نا چاہیئے تھا
ہایون نے گردن کھجائی پھر کندھے اچکا دیے۔ پوری میٹنگ میں وہ مزید کچھ نہ بولا۔
ابھی سارا سیٹ اپ چھوٹا تھا سو یہ میٹنگ سی ای او صاحب کے کمرے میں ہی ہوئی۔ پراجیکٹر بھی اسی ایک کونے میں لگا تھا۔
ٹیم لیڈر اٹھ کر گئے تو ایچ آر والا بندہ اٹھ آیا۔ ادھیڑ عمر انکل آتے ہی رونے لگے۔ ہایون نے ناٹ اگین والے انداز میں دیکھا۔
سر ہمیں اپنی کمپنی کے اشتہارات پر مزید پیسہ خرچنا چاہیئے۔ ٹیم لیڈر نے پروموشنل کیمپین کیلئے 25 افراد مانگے تھے ہمیں سی وی ہی پانچ موصول ہوئے جن میں سے چار کو تو ہم نے رکھ لیا ہے ۔ مگر سر نئی کمپنی پر پارٹ ٹائمر بھی بھروسہ نہیں کر رہے ابھی۔
خوش شکل اور نوجوان لوگ بھرتی کیئے ہیں نا۔
کم سن نے سرسری سے انداز میں کہتے فائل تھامی
وہ چندی آنکھوں والے انکل سر جھکا گئے۔
اپنی کمپنی کے پارٹ ٹائمرز کی فہرستیں بھجوادیتا ہوں۔ انکو استعمال کرلو۔
ہایون کا مفت مشورہ۔
ایم ڈی صاحب آپکے والد آپکی ان نوازشوں کے صلے میں آپکو امریکہ اور میری کمپنی کو پاتال میں بھجوا کر دم لیں گے۔
کم سن ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر سی ویز الٹنے پلٹںے لگا۔ دو ادھیڑ عمر شکل سے عادی بدمعاش لگتے تھے دو ہائی اسکولر تھے۔
ریجئکٹ کسے کیا ہے؟
کم سن نے سرسری سا پوچھا۔
جب ان سب کو رکھ لیا ہے تو اسے بھی رکھ لینا تھا۔
انکل نے فائل کے صفحے پلٹ کر آخری سی وی دکھایا
اب یہ ریکوروٹمنٹ والے کام کیوں کر رہے ہو سی ای او ہو ان آہجوشی پر چھوڑو نا جو جسے رکھیں جسے نکالیں۔ تم ایک ایک سی وی دیکھا کروگے
ہایون اسکے ساتھ باہر جانا چاہ رہا تھا جبکہ کم سن ایک کے بعد ایک کام نکال کر نمٹانے میں لگا تھا
ظاہر ہے یہی سب کریں گے مگر تم بھول رہے ہو میری بے بی کمپنی ہے ۔ ایچ آر کا الگ ڈیپارٹمنٹ ہے ہی نہیں میرا ۔ آہجوشی اورمیں ہی ایک ایک بندہ سوچ سمجھ کر رکھ رہے ہیں۔
ہایون کو بتا کر اس نے آخری سی وی دیکھا پھر ہایون کو۔
اسکو کیوں نہیں رکھا اتنی تو پیاری سی ہے۔
کم سن کا انداز واضح بدلا تھا آہجوشی سٹپٹا گئے
وہ یہ فارن اسٹوڈنٹ ہے انکو آوقات کار او راجازت کا بھی مسلئہ ہوتا ہے اور۔۔
ہایون اس سی وی کو دیکھو اورتم فیصلہ کرو ہم اسے رکھیں نہ رکھیں۔
کم سن نے فائل اسکی جانب بڑھا دی۔ہایون حیران ہوا مگر تھام لی۔ سی وی پڑھتے ہی ٹون بدل گئ۔ حاکمانہ انداز میں بولا۔
جو بھی مسلئہ ہو اسکو رکھیں۔
مگر سر بہت مسلئے ہوتے ہیں اس طرح کے طلباء کو ہنگل تک تو ڈھنگ سے آتی نہیں ہے۔
سیکھ لے گی۔کم سن ہائیر ہر۔
ہایون تیز ہو کر بولا۔
کم سن نے ٹھنڈی سانس لی۔
اب تو کلائینٹ کی سفارش ہے پراجیکٹ بھی انکا۔رکھ لیں اسکو۔
مگر سر۔۔۔ آہجوشی نے پھر کہنا چاہا تو اس بار ہایون ڈپٹ کر بولا۔
سی ای او کی سفارش ہے آپ ٹال نہیں سکتے۔
آہجوشی نے گردن جھکا لی اور سلام کرکے نکل گئے نکلتے ہوئے بڑ بڑا رہے تھے۔ سی ای او کی سفارش ہے وہ بھی ایک معمولی سیلز گرل رکھنے کیلئے تھیبا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھیبا۔۔ تھیبا۔ یہ دیکھو اریزہ
گوارا بھاگی بھاگی آئی تھی۔ وہ کچن میں کھڑی اپنے لیئے کافی بنا رہی تھی اسکے ایکدم سے پیچھے آکر شور کرنے پر چونک کے مڑی۔
کیا ہوا ؟ اسکے پوچھنے پر گوارا نے موبائل اسکرین اسکے سامنے کردی۔
اسکی اور ایڈون کی ریستوران کی ویڈیو چل رہی تھی۔
یہ ٹرینڈنگ پر نمبر ون چل رہی ہے۔ اور نیچے کمنٹ دیکھو تمہارے اور ایڈون کے کپل کی تعریفوں کے پل باندھ رہے سب۔ اتنی گوری لڑکی اتنے کالے لڑکے کے ساتھ۔ محبت واقعی وجود رکھتی ہے۔ او ریہ کمنٹ دیکھو۔
وہ جزباتی ہوئی پڑی اسکرال کرکے نیچے دکھا رہی تھی۔ سب ہنگل میں کمنٹس تھے۔ اس نے بیزاری سے پیچھے کیا۔
میں اور ایڈون کبھی کپل نہیں تھے نا ہوسکتے ہیں کبھی۔
جانتی ہوں۔گوارا نے منہ بنایا۔۔
مگر ایڈون سے اس نے جب پوچھا کہ تم اسکے نامجا شنگو ( بوائے فرینڈ کا ہنگل لفظ) ہوتو وہ مسکرا کر دے کہہ رہا ہے۔
یہ بندہ ٹھیک ہی نہیں ہے جبھی تمہاری سہیلی ہر وقت مرچیں چباتی رہتی ہے۔
گوارا کا تجزیہ کتنا درست تھا۔ اسے لگتا تھا سنتھئا اور اسکے بئیچ کی سردمہری دوسروں کو اگر محسوس بھی ہوئی ہوگی تو وجہ نہیں پتہ ہوگئ۔ اسکا منہ اتر سا گیا۔
دفع کرو اسے۔ گوارا اسے اداس دیکھ ہی نہیں سکتی تھی۔
چلو ہم کپڑے منتخب کریں ہم نونا کی منگنی میں کیا پہنیں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ بھئ پہن لوں گی نونا کیا ضرورت ہے اس شاپنگ کی۔ نونا نے ایک بے حد خوبصورت آسمانی میکسی ڈریس اس سے لگایا تووہ منت بھرے انداز میں کہہ اٹھی۔
ہرگز نہیں۔ وہاں ایک سے ایک حسین اور طرحدار لڑکی آئے گی تمہیں ان سے مقابلے پر ہرگز بھی کم نہیں لگنا چاہئے۔ ہر لڑکے کی نظر نہ سہی مگرکم ازکم جس لڑکے کی نظر تم پر ٹھہرے وہ ہٹا نہ پائے۔
نونا اپنے مخصوص اندا زمیں کہہ کر شرارت سے مسکائیں۔
تمہارے لیئے لنچ کرتے ہی بھاگم بھاگ آئی ہوں۔ اور تم نخرے کر رہی ہو جائو سیدھی طرح اسکو پہن کر دکھائو مجھے۔
وہ اب بڑی بہنوں والے رعب سے بولیں۔تو ہوپ کو تھامنا پڑا۔
جتنی دیر میں وہ تیار ہو کر آئی وہ جلدی جلدی دو تین فون سن چکی تھیں۔ ابھی بھئ بات کر رہی تھیں اسے دیکھا تو بات بھول گئیں ۔ وہ میکسی اسکے جسم پر پوری فٹ تھئ۔ وہ بے حد دبلی ہونے کے باوجود اچھی لگ رہی تھی۔ اسنے بال مخصوص انداز میں جوڑا بنا رکھے تھے جو کام کے دوران اسکے لیئے بہتر رہتے مگر اس وقت وہ جوڑا بھی اچھا لگا
تھیبا تم تو پری لگ رہی ہو۔ وہ فون پر خدا حافظ کہتی اسکی جانب لپک کر آئیں۔ ہوپ جھینپ کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگیں۔قیمتی لباس نے واقعی اسکی شخصیت کو نکھار ڈالا تھا۔
صحیح کہتے ہیں لباس انسان کے پر ہوتے ہیں۔ اب تم پرواز بھرنے کیلئے بالکل تیار ہو۔
انہوں نے محبت سے کہتے اسکے بال سنوارے۔
مگر اڑان بھرنے کیلئے منزل کا تعین بھی تو ضروری ہوتا ہے نا۔ خالی سفر صرف تکان دیتا ہے۔
اسکا قنوطئ پن باز نہ آیا۔ اسکی اثر انگیز شخصیت کے کسی کونے میں چھپ کر بیٹھا بھی ایکدم پوری شخصیت پر حاوی ہو چلا تھا۔ وہ چپ سی رہ گئیں۔
ہوپ مسکرا دی۔
شکریہ انی۔ میں اپکے احسانوں تلے دبتی جا رہی ہوں مگر مجھے۔ وزن بالکل نہیں محسوس ہوتا۔۔ اسکی پیمنٹ میں خود کروں گی۔۔ میرے پاس پیسے ہیں۔
اس نے کہا تو وہ مزید اصرار ترک کر گئیں۔ وہ مڑی تو انہوں نے گہری سانس لیکر دل سے دعا دی اسے۔
میری دعا ہے تم اپنی زندگی کا ایک بہتر رخ بھی دیکھنے کے قابل ہو جائو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا ذہن دھیرے دھیرے بیدار ہوا تھا۔ پپوٹے اتنے بھاری ہو رہے تھے کہ کوشش کرنی پڑی کھولنے کیلئے۔ اس نے کسمسا کر اپنے بھاری ہوتے سر کو تھامنا چاہا تو کسی نے اسکا بازو تھام کر کچھ ٹوکا۔ اجنبی آواز ناقابل فہم الفاظ۔
اس نے آنکھیں کھولیں تو چندی آنکھوں والی نرس کا مسکراتا چہرہ سامنے تھا۔
کین چھنا آگاشی؟
وہ جانے کیا پوچھ رہی تھی۔
اس نے پھر اٹھنا چاہا۔
ڈرپ لگی ہوئی ہے لڑکی۔ احتیاط کرو۔ اس بازو کو نہ اٹھائو۔
اسکا بازو بیڈ سے لگائے اس نے ہنگل میں کہا تھا۔ پھر جب احساس ہوا کہ اسکی بات وہ سمجھ نہیں پارہی تو مڑ کر اسٹول پر بیٹھے اونگھتے ایڈون سے بولی
محترم انکو اپنئ زبان میں بتائیں۔
ایڈون آواز پر فورا نیند بھگاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
اسکا ایک بازو نرس کی مضبوط گرفت میں تھا وہ دوسرے بازو سے سہارا لیکر اٹھ بیٹھی۔نرس نے جلدی سے اسکی پشت پر تکیہ لگایا۔
لیٹی رہو۔ ڈرپ لگی ہوئی ہے تمہیں۔۔
وہ فورا اٹھ کے اسکے پاس آیا تھا۔
کیا ہوا مجھے؟
اسے یاد نہیں آیا وہ یہاں کیسے کیوں آئی ؟
تمہیں یاد نہیں؟ وہ الٹا پوچھنے لگا۔
کیسی طبیعت ہے۔ اس کا انداز معمول سے ذیادہ نرم تھا۔
اس نے سر ہلایا۔
ٹھیک ہوں میں۔۔۔
اسکے ہونٹ خشک ہو رہے تھے بمشکل بول پائی۔
پانی۔
ایڈون نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کی بوتل اٹھاکر دی تو وہ کئی گھوںٹ بنا سانس لیئےحلق میں اتارتی چلی گئ۔ لگ رہا تھا برسوں سے پیاسی ہے۔
آپ انکو کچھ کھلائیں پلائیں۔ تاکہ ہم مزید دوا دے سکیں۔
نرس مطمئن ہو کر تاکید کرتی چلی گئ۔
شکر ہے ۔تم نے تو مجھے ڈرا دیا تھا۔
ایڈون گہری سانس لیتا اسکے بیڈ پر ٹکتے ہوئے بولا۔
ساری رات ہوش نہیں آیا تمہیں۔ ان لوگوں نے نیند کی دوا تک نہیں دی پھر بھی تم سوتی رہیں۔ مجھے سخت پریشانی ہورہی تھی۔ کیا۔کھائو گئ؟ سیب کاٹ کر دوں؟
وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی پھر ایک خیال سا کوندا۔۔
تت تم۔ مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟ کیا ہوا مجھے۔۔۔
ایڈون نے سائیڈ ٹیبل سے چھری اور سیب اٹھایا اور اسکے لیئے کاٹنے لگا۔
بھول گئ ہو کیا اپنی حالت؟ یہ لو کھائو
اس نے ایک پھانک اسکی جانب بڑھائی
اس نے ذہن پر زور دیا تو جو پہلا خیال ذہن میں آیا اتنا روح فرسا تھا کہ وہ وحشت زدہ سی ہوگئ۔
میں اسپتال میں ہوں۔۔ مم میں کیوں اسپتال میں ہوں۔
اس نے پریشان سا ہو کر خود کو ٹٹولا۔۔
۔ تم نے ۔ مجھے سے پوچھے بنا ہمارا بچہ۔۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
۔۔ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ تم نے مار دیا اسے۔۔وہ ایکدم بپھر کر چلائی۔
اس نے اپنا کنولا لگا ہاتھ بھلا کر ایڈون کا گریبان پکڑ لیا۔
بولو۔ تم نے ابارشن کروادیا نا۔ کیسے کر سکتے ہو تم ایسا۔ تم نے ۔۔ کیوں کیا۔
کیا ہوگیا ہے پاگل ہوگئ ہو۔ خون نکل رہا ہے تمہارا
وہ گھبرا گیا۔ اسکی ڈرپ نکل گئ تھی خون تیزی سے بہہ نکلا تھا مگر اسکو کسی تکلیف کا احساس نہیں تھا جنونی کیفیت میں اسے جھنجھوڑنے لگی۔
نکلنے دو مجھےتم جواب دوتم کون ہوتے ہو اسے مارنے والے۔ منع کیا تھا نا۔تم نے کیوں کیا ایسا۔
اس نے دیوانہ وار اس پر ہاتھ چلائے تھے۔
وہ بے ربط بول رہی تھی اور رو پڑی تھی۔ ایڈون سن سا رہ گیا ۔
وہ ہاتھا پائی بھی نہ کرسکی ایک زور دار چکر آیا تھا اسے۔
ہوش کرو سنتھیا۔ وہ اسکی حالت سے خود بری طرح گھبرا گیا۔ اس کے ہاتھ سے چھری چھوٹ گئ۔اسکو تھامنا چاہا اس نے نفرت سے جھٹکا۔
مر نے دو بلکہ مجھے بھئ مار دو تمہارا مسلئہ میں ہوں۔ یہ بچہ مسلئہ نہیں تھا۔ تم مجھ سے محبت ہی نہیں کرتے تمہیں اس سے بھی محبت نہیں تھی۔ ۔۔ اس نے لپک کر چھری اٹھائی۔ ایڈون نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے۔تبھئ شائد شور سن کر دروازہ کھول کر تیزی سے نرس اور ڈاکٹر اندر آئے تھے۔ اندر کا منظر دیکھ کر وہ تیر کی طرح ایڈون کی جانب بڑھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون اسکو سہارا دے کراسکے کمرے تک لایا تھا۔
وہ اتنی شرمندہ تھی کہ ایڈون کو دیکھ بھی نہ پا رہی تھی۔۔ اس نے شاپر میز پر رکھا اور خاموشی سے دروازہ کھول کر جانے لگا۔
ایڈون۔
اس نے پکار تو لیا وہ رک بھی گیا مگر سمجھ نہ آئی اب کیا کہے۔ معزرت کرے ۔۔
ایڈون چند لمحے اسکے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر مڑکر دیکھنے لگا وہ اس سے نظر نہ ملا سکی۔
میں آج چھٹی کروں گا۔ اپنے کمرے میں ہی ہوں تھوڑا آرام کرلوں پھر آئوں گا تم بھی تھوڑا آرام کرلو۔
اسکی شرٹ خون سے بھری تھی۔۔۔ وہ نظریں جھکا کر سر ہلا کر رہ گئ۔ وہ دروازہ بند کرتا چلا گیا تو گہری سانس لیکر وہ سیدھی لیٹ گئ۔۔
اسکے ذہن میں رات کا منظرجزئیات سے روشن ہوا تھا۔۔
ویڈیو دیکھنے کے بعد غصے سے پاگل ہوتے ہوئے وہ چند لمحے خود پر قابو پانے کی کوشش کرتی رہی ۔ پھر فیصلہ کرکے اٹھی ۔۔
رات کا دوسراپہر شروع ہونے کو تھا یقینا اب تک ایڈون واپس آچکا ہوگا وہ صبح تک کا انتظار نہیں کر سکتی تھی اتنے غصےمیں۔ تن فن کرتی تیزی سے کمرے سے نکلی اور سیدھا جا کر ایڈون کا دروازہ پوری قوت سے بجا دینا چاہا مگر دماغ سائں سائیں کرنے لگا۔ ایک ہلکی دستک سی پڑ سکی۔ اس نے پوری جان لگا کر دروازہ کھٹکایا دو ضرب ہی میں اسکی بس ہونے لگی اسکو یاد نہیں تھا کہ اسکے منہ سے لفظ نکل رہے تھے یا آواز ڈوب گئ تھی۔
دروازہ کھولو ایڈون۔ ایڈون باہر نک۔۔ لو۔۔
اسکے ہفت اقلیم نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔ کمرے لیپ ٹاپ پر کام کرتا نامانوس دستک پر منہ بنا کر اٹھا اور دروازہ کھول دیا وہ اسکی نگاہوں کے سامنے ہوش و خرد سے بےگانہ ہو کر گری تھی۔ اسے سنبھالنے کو لپکتے بھی اسکا سر دیوار سے جا لگا تھا۔۔
آخری منظر جو اسے یاد تھا وہ ایڈون کا دروازہ کھول کر اپنی جانب بڑھتے دیکھا بس۔
اسکا بئ پی بہت ہائی ہوگیا تھا۔ بروقت اسپتال پہنچنے کی وجہ سے وہ نقصان سے بچ گئ تھی۔۔ اسکے جزباتی پن نے اسکی طبیعت پر تو جو اثر ڈالا سو ڈالا انکوتھانے میں رپورٹ بھی کردیا گیا تھا۔پولیس اہلکار اسکا اسپتال میں بیان لیکر گئے ۔ اب اسکو خراش بھی اگر پہنچتی تو ایڈون دھر لیا جاتا۔ پولیس نے ہزار سوال کرکے مطمئن ہونے کے بعد اسکی جان بخشی کی تھئ۔تو ڈاکٹرنے لمبی چوڑی احتیاط بتائی تھی۔ ساتھ ہی حسب توفیق ایڈون کی کھنچائی بھی کی تھی۔ ایڈون ایک لفظ اپنی صفائئ میں نہیں بولا تھا۔ وہ اتنی شرمندہ تھی کہ معزرت بھئ نہ کرسکی۔
اس وقت بھی بحر شرمندگی میں غرق لیٹی یہی سب سوچے گئ۔
اسکا فون بج اٹھا تھا۔ بیڈ کے کنارے پڑا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو امی کالنگ۔ ماں کی کال اسے نعمت غیر مترقبہ لگی تھی۔ فورا فون اٹھایا اورخود بھی اٹھ بیٹھی
ہیلو۔ اسکی آواز سنتے ہی وہ بولتی چلی گئیں
کیسی ہو بیٹا۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔ میرا اتنا دل گھبرا رہا تھا رات سے فون کررہی ہوں۔ ایڈون سے بات کی تو اس نے کہا تم سو رہی ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری۔؟ اتنی دیر سے سو رہی تھیں؟
سوال پہ سوال بے تابئ پریشانی۔ ماں کا دل تھا خبر ہوگئ تھی شائد۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگیں۔
خوامخواہ فکر کرتی ہیں۔ٹھیک ہوں میں۔ بالکل۔
کھا پی رہی ہو نا ڈھنگ سے ؟ آواز سے تو ٹھیک نہیں لگ رہیں۔ نزلہ ہورہا ہے؟ آواز بیٹھی بیٹھی لگ رہی ہے۔
وہ اسکی توجیہہ سے بالکل مطمئن نہ ہوئیں۔
ہاں تھوڑا موسم بدلا ہے تو شائد۔ تھوڑا گلے میں۔۔
اسکو دل چاہا وہ ماں کے گلے لگ جائے۔ کئی آنسو اسکے گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ اس سے جملہ مکمل نہ ہوسکا۔
دیکھا۔ وہ فورا بولیں۔
۔ مجھے پتہ تھا۔ آئیسکریم کھائی ہوگی؟ گلا بند ہوگیا نا ؟ فورا ڈاکٹر کو دکھائو بخار ہو جاتا ہے ایک تو تمہیں معمولی۔نزلا زکام میں بھی۔ سوپ بنا کر پیئو۔ تمہارے پاپا بتا رہے تھے وہاں موسم بہت ٹھنڈ ہو چکا ہے۔
وہاں ٹھنڈ پڑی۔
بمشکل دھیمی آواز میں وہ بول پائی۔
کہاں یہاں تو ابھی پنکھے چل رہے ہیں۔ اچھا سنو یخنی پیو خود تو کیا بنائوگئ بازار میں انسٹنٹ ساشے ملتے ہوں گے وہ بنا کر پی لو۔۔ بلکہ اریزہ سے بات کرائو میں اس سے کہتی ہوں تم مت نکلنا ٹھنڈ میں باہر ایڈون سے کہو ڈاکٹر کے ہاں لے جائے
گئ تھئ ڈاکٹر کے پاس ابھی آئی ہوں۔۔۔۔۔
اس نے تسلی دینا چاہی۔وہ اور پریشان ہوگئئں۔
تم تو آسانی سے ڈاکٹر کے پاس جانے کو بھی تیار نہیں ہوتیں
کیا ہوا ہے ذیادہ طبیعت خراب ہوگئ ہے؟ بخار ہے؟
امی آپ بہت یاد آرہی ہیں۔۔۔ آئی مس یو امی۔ ۔
وہ بات کاٹ کر بولی۔ اسکی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شائد ڈانٹ پڑ جاتی مگر اس وقت اسکے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ وہ ٹھٹھک گئیں۔
تم ٹھیک تو ہو نا بیٹا۔ آجائو واپس وہاں اکیلا رہنا مشکل ہو رہا ہے تو۔
نہیں آسکتی امی۔ وہ سسکیاں لے کر روپڑی۔
ارے رو کیوں رہی ہو بیٹا۔ اریزہ سے بات کرائو میری وہ بتائے گی تم مجھے نہیں بتا رہی ہو نا اپنی طبیعت۔
وہ بےتحاشا پریشان ہو گئیں۔وہ چند لمحے بے آواز روئے گئ۔ امی بے قرار سی ہوگئیں۔
کیا ہوا بیٹا ؟ پریشانی ہے کوئی ؟ کوئی بات ہے تو بتائو ؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ ایڈون سے جھگڑا ہوا۔
نہیں امی۔ اسے انکو اطمینان دلانے کیلئے خود پر قابو پانا پڑا
بس وہ طبیعت خراب تھئ او رآپکا فون آگیا بس تھوڑا جذباتی۔۔
اس نے سسکی بمشکل روکی۔
ہاں میرا دل بے چین تھا۔ مستقل تمہاری طرف دھیان جا رہا تھا۔ وہی ہوا طبیعت خراب تھی تمہاری۔۔
انکو اپنے اندازے کی درستگی پر ناز ہو رہا تھا تو سنتھیا کو حیرت ہورہی تھی۔
آپ کو میری فکر ہو رہی تھی ۔
اس کے انداز میں حیرت تھئ امی برا مان گئیں۔
پریشان تھی میں۔ ماں کے دل کو خبر ہو جاتی ہے جب اسکے بچے پر کوئی پریشانی بیماری آئی ہو تو۔ ماں کے دل کو بے چینی لاحق ہو جاتی ہے جب تم خود ماں بنوگی نا تو پتہ چلے گا۔ایک ماں کے دل کی دھڑکن بچے کے ساتھ ہی جڑی ہوتی ہے۔ ماں ہونا آسان بات تھوڑی ہے۔ اپنی زندگی تو بس عورت ماں بننے سے قبل تک جیتی ہے اسکے بعد تو بس ماں کی زندگی چلتی ہے۔ ماں کی ذمہ داریاں چلتی ہیں۔ ۔ خیر تم ابھی فورا دوائیں کھائو جو ڈاکٹر نے دی ہیں۔ اور خالی پیٹ نہ کھانا ایک تو تم ضدی ہو بیماری میں کھانے پینے سے بھی بھاگتئ ہو۔ اور
امی۔ آئی لو یو۔
اس نے پھر بات کاٹ دی۔۔ امی نے حیرت سے فون کو دیکھا۔ سنتھیا ایسے جزباتی اظہار کرنے والوں میں سے نہ تھی۔ شائد پہلی دفعہ کہا تھا اس نے یہ جملہ بھی۔ انکا ذہن بہت تیزی سے تانے بانے بننے لگا تھا ۔ وہ سوچ میں پڑیں پھر سنبھل کر بولیں۔
آئی لو یو ٹو بیٹا۔ اچھا چلو شاباش کچھ کھائو دوا پیو میں پھر گھنٹے ایک تک کال کروں گی۔ پریشان کردیا ہے تم نے مجھے بیٹا۔
آپ سو جائیں میں ٹھیک ہوں۔ وہاں تو بہت رات ہو رہی ہوگی۔
اس نے بے دردی سے چہرہ ہاتھ کی پشت سے پونچھا۔
ہاں یہاں ڈیڑھ بج رہا یے مگر بیٹا اب نیند تھوڑی آئے گی۔ تم چلو اٹھو شاباش دوا کھائو اور نیند آئے تو سو جانا میں اریزہ کو فون کرلوں گی۔
نن نہیں۔۔ اس نے فورا کہا پھر احساس ہوا تو بات بنائی
امی وہ اتنا پریشان رہی ہے میرے ساتھ ۔ اب شائد وہ بھی سونے لگی ہے۔ آپ مجھے ہی فون کر لیجئے گا میں ابھی سوئوں گی نہیں۔
اچھا چلو ٹھیک ہے اپناخیال رکھنا۔ خدا حافظ۔
انہوں نے بھئ ذیادہ بحث نہ کی۔ فون رکھ دیا۔ وہ دوبارہ لیٹ گئ۔ اس کا ذہن ماں کی کہی باتوں میں اٹک سا گیا تھا۔
ماں کے دل کو۔خبر ہو جاتی ہے۔۔۔
ماں کی زندگی۔۔۔
ماں بنو گئ تو پتہ لگے گا۔
اس نے کروٹ بدل لی۔۔ مگر سوچیں کروٹ بدلنے سے بدل تھوڑی جاتی ہیں۔اور وہ سوچ رہی تھی۔
ایک شادی شدہ جوڑا جو محبت کرتے ہیں ایک دوجے سے انکو اپنی اولاد کا کتنا انتظار ہوتا ہے کتنی محبت پھوٹتی ہے اس بچے کیلئے مگر محبت میں مبتلا جوڑے کو اپنی ہونے والی اولاد سے محبت نفرت سے قبل جو جذبہ محسوس ہوتا ہے وہ خوف کا ہوتا ہے۔ اسکو بھی خوف آیا تھا۔ کیا ردعمل ہوگا دنیا کا گھر والوں کا ایڈون کا ۔۔۔۔۔ پھر ایڈون کو کھودینے کا خوف پر وقت گزرتے اسکے اندرتبدیلی سی آرہی تھی۔ وہ خوف سے بتدریج محبت میں مبتلا ہوتی جا رہی تھی۔۔ماں کا دل بدلتا جا رہا تھا پر باپ کا دل کیوں نہیں بدلا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں آکر بستر پر گرا تھا۔آج جو کچھ ہوا تھا اس نے اسے اندر سے ہلا دیا تھا۔ کسی چیز کو بنا دیکھے محسوس کیئے اسکی موجودگی سے انکاری ہوجانا آسان ہے مگر۔
اس نے اپنے اپر کی جیب سے ایک چھوٹی سی تصویر نکالی۔ یہ سنتھیا کا الٹرا سائونڈ تھا۔ اس تصویر میں ڈاکٹر نے مٹر کے دانے جتنا جو گول سا دائرہ دکھایا تھا وہ اسکی اولاد تھا۔ اسکا ہونے والا بچہ۔۔ اس تصویر کو غور سے دیکھتے دیکھتے بھی اسکے دل میں کوئی الگ سا جزبہ پیدا نہ ہوسکا تھا۔ اسکی عمر ذمہ داریاں اٹھانے کی نہ تھی افئیر چلانے کی تھی۔ جتنی آسانی سے اس نے معاشرتی حدود و قیود سے آزادی حاصل کی تھی اتنی آسانی سے وہ اس سزا کو قبول نہیں کر پارہا تھا۔۔ ہاں یہ بچہ اسے اپنی سزا ہی محسوس ہوا تھا۔
تصویر دیکھتے فلم کی طرح اسکے ذہن میں اسپتال کے مناظر گھوم گئے تھے۔ سنتھیا جانے واقعی اس بچے سے محبت کرنے لگی تھی یا محض اسکو باندھ لینا چاہتی تھی جو ابارشن پر رضامند نہ تھئ۔ایک تیسرا بھی رخ تھا جس پر اسکا دھیان نہ گیا تھا۔
اس نے تصویر یونہی سائیڈ ٹیبل پر ڈالی۔ وہ اپنے ہلکے وزن سے ٹک نہ سکی نیچے گرگئ۔ اس نے کروٹ بدل لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ جانے کہاں تھی۔ وہ دونوں نک سک سے تیار ہو چکی تھیں۔گوارا نے اسکا اناڑی پن محسوس کرکے خود اسکا میک اپ کر دیا تھا۔ گوارا نے لانگ اسکرٹ اور خوبصورت جھالر والا بلائوز پہنا تھا۔ اس نے بھی گوارا جیسا ہی لباس زیب تن کیا تھا بس رنگ کا فرق تھا۔ اچھے وقت کی کی گئ شاپنگ کام آگئ تھی۔ یون بن گاڑی لے آیا تھا ان دونوں کے انتظار میں بیٹھا لائونج میں مکھیاں مار رہا تھا۔
کتنا وقت لگائو گی دونوں۔ وہ بور ہو کر آوازیں دے رہا تھا۔
بس تیار ہوگئے۔گوارا اپنا پرس سنبھالتی آواز لگانے لگی۔
اریزہ نے بھی اپنا پرس تھاما اور خود پر طائرانہ نگاہ ڈالتی گوارا کے ساتھ باہر نکلی۔
کیوپتا۔( دلکش) ۔۔ واضح طور پر یون بن ٹھٹکا تھا۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
گوارا اترا سی گئ۔ مگر اسکی نظروں کا تعاقب کیاتو یہ بے ساختہ تعریف اریزہ کو دیکھ کر کی گئ تھی۔۔۔ اریزہ جھینپ سی گئ۔ اتنے دن میں اتنی ہنگل سیکھ ہی لی تھی۔
تم پر تو مغربی لباس کافی جچتا ہے۔ تم ایویں ہی اپنے پرانے روائتی لباس کو ترجیح دیتی ہو ۔ ہے نا گوارا
اسکا انداز سادہ سا تھا۔ کھلے دل سے سراہتے ہوئے اس نے گوارا سے تائید چاہی تھی۔
بالکل۔ مگر مجھے یہ اپنے قومی روائتی لباس میں بھی اتنی ہی پیاری لگتی ہے۔ اور یہ اپنے قومی روائتی لباس کو شوق سے پہنتی ہے یہ بات اور اچھی لگتی ہے۔
گوارا نے پیار سے کہتے اسے ساتھ لگایا۔ اریزہ بلش سی ہوگئ۔ زندگی میں پہلی دفعہ اتنے تعریف سننے کو ملی تھی اسے سمجھ نہ آیا کیا کرے۔ اسکے چہرے پر پھیلتی سرخی کو ان دونوں نے تعجب سے دیکھا تھا پھر اکٹھے ہنس پڑے
یار یہ کتنی سادہ سی ہے بلش ہوگئ ہے اپنی تعریف سن کے۔۔
یون بن نے جان کے ہنگل میں کہا تھا۔
اریزہ بہت مختلف اور اچھی لڑکی ہے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے ایک پرخلوص دوست پائئ ہے۔
گوارا نے کھلے دل سے کہا۔ یون بن نے مسکرا کر اسکو دیکھا
تھائی نیئے۔(شکر ہے) تمہیں اپنے جیسی لڑکی تو ملی۔ اب اس دوستی کو کھونا مت۔ میں تمہاری سہیلی بنے بنے تھک چکا ہوں ۔۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا تو گوارا مکا دکھانے لگی۔
یہ ذیادتی ہے تم دونوں میرے سامنے اپنی زبان میں بولےجا رہے ہو جانے کیا کیا۔ یقینا میری برائی ہو رہی ہے ۔۔ یہ گوارا نے میرا تیز میک اپ کر دیا نا۔ میں ابھی منہ دھو کے آتی ہوں۔
ان دونوں کو اسکو ہی دیکھ دیکھ باتیں کرتے دیکھ کر اسے غلط فہمی ہونی ہی تھی۔ منہ بنا کر پلٹنے لگی تو گوارا نے فورا اسکے بازو میں ہاتھ ڈال کر روکا
ہم تعریف کر رہے ہیں پھابو۔( پاگل) خبر دار جو میری اتنی محنت برباد کی۔ اتنی پیاری لگ رہی ہو۔ ہے نا یون بن
اس نے تائید چاہی۔ یون بن نے مسکرا کر سر ہلایا۔ پھر اسکی جانب ذرا سا سرگوشیانہ انداز میں جھک کر بولا
بالکل۔ مگر۔۔۔۔۔ تم سے کم ۔۔۔۔۔
گوارا نے حیرت سے اسے دیکھا اسکا چہرہ غماز تھا کہ اس نے دل سے تعریف کی ہے۔
گوارا مسکرا دی۔
تم بھی بہت پیارے لگ رہے ہو۔
پھر اسکو ڈراپ کرکے ہم ڈیٹ پر چلیں۔
یون بن نے فورا موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا۔
خیال برا نہیں۔ گوارا فورا مان گئ۔
ناٹ اگین ۔ اریزہ چڑ گئ۔ بھنا کر پیر پٹخ کر اندر جانے لگی
گوارا اور یون بن دونوں اسے منانے لپکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیوٹیشن تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ گنگشن ہنس دی
بہت اچھا میک اپ ہے اب مطمئن ہو جائو میں بھی مطمئن ہوں۔
وہ پھر برش لیکر اسکی تھوڑی پر پھیرنے کو تھی کہ اس نے ہاتھ تھام لیا۔
کوریا کے چوٹی کے سیلون کا اسٹاف اسکو تیار کرنے پر معمور تھا۔ گنگشن کےسامنے دیوار گیر آئینہ تھا۔ خود پر سرسری سی نگاہ ڈالتی اٹھی۔ اسکے لیئے خاص کر قد آدم آئینے بھی لگائے گئے تھے۔دو لڑکیاں فورا مستعد ہوئیں وہ ایک آئینے کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔
اسکا روپ نکھر کر آیا تھا۔ پچھلی منگنی کی دفعہ بھی یہی لوگ تھے جن کے ماہرانہ ہاتھوں نے اسکو تیار کیا تھا اب بھی۔ نہ اس وقت اسے کوئی خوشی کی رمق محسوس ہوئی تھی نا اب۔ ہاں اب اتنا دکھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ اسے یاد تھا پچھلی دفعہ تیارہو کر آئینہ دیکھتے وہ رو پڑی تھی۔ اتنا ذیادہ کہ اسکا میک اپ دوبارہ کرنا پڑگیا تھا۔ او ر اب۔
وہ آئینے سے ابھرتے بے تاثر چہرے والے عکس کو دیکھتی رہی۔
میں وقت کے ساتھ ڈھیٹ ہوتی جا رہی ہوں۔
اسکے منہ سے بلا ارادہ نکلا تھا
دے۔؟اسکی مددگار چونکی۔
آنیا۔ اس نے اپنے کندھے پر بکھرے گھنگھریالے کیئے گئے بال جھٹکے۔ بیچ ویوز کرلز نے ( سمندر کی لہروں جیسے گھنگھریالے ) اسکے چہرے کے نقوش کو نکھار بخشا تھا۔ وہ سر جھٹک کر دوسری جانب تیار ہوتی ہوپ کے پاس چلی آئی اسی ٹیم سے اس نے ہوپ کا بھی میک اپ کروایا تھا۔
اسکا میک اپ بھی آخری مراحل میں تھا۔اسکی کھنچی ہوئی آنکھوں کو بڑا دکھانے کیلئے آنکھوں کے کنارے پر سایہ ڈالنے کیلئے گہرے رنگوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ جس سے اسکی آنکھیں بڑی بڑی لگنے لگی تھیں۔ وہ معمول سے کہیں ذیادہ مختلف اور اچھی لگ رہی تھی۔
تھیبا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا تم اتنی خوبصورت لگ سکتی ہو۔
گنگشن کی بے ساختہ تعریف بھی اسے خوش نہ کر سکی۔ بمشکل اپنے چہرے کے تاثرات بدل کر مسکرائی
شکریہ انی۔
آج تو تم ضرور کسی کی نظروں میں آئوگی۔ڈیٹ کی آفر تو پکا کوئی کرے گا سب کڑوی یادیں بھول کر بس کھلے دل سے قبول کرنا
وہ پیار سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی تھیں۔ ہوپ انکے انداز پر ہنس پڑی۔
انی آپ کا پیار اپنی جگہ مگر ہوپ کو جھوٹی ہوپ تو نہ دیں۔۔
دیکھ لینا۔ انی کو یقین تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن اسکی بےتابی پر مسکراہٹ لبوں میں دبائے محظوظ انداز میں دیکھ رہا تھا۔ لی گروپ کے اگلے مالک کی حیثیت سے اس سے خود آ آکر ملنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ جسے فہمائشی مسکراہٹ سجائے بھگتنا اسکی مجبوری تھی۔ مگر بڑے بڑے صنعتکاروں اداکاروں اور چند ایک پارلیمان کے ارکان کی موجودگئ میں بھی اسے بس ایک فرد کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ ایک جانب بار کا انتظام تھا۔ جہاں قیمتی سے قیمتی شراب مہمانوں کو پیش کی جا رہی تھی۔ ہلکی موسیقی میں بہت سے لوگ جوڑی بنائے رقص کر رہے تھے۔ اور وہ بے تابی سے مانوس چہرہ کھوج رہا تھا۔ گردن گھما گھما کر۔ کم سن کونے میں بار کے پاس ہی بیٹھا مشروب نوش کر رہا تھا۔ اٹھ کر اسے بازو سے کھینچ لایا۔
بیٹھ جائو تھک جائوگے۔ جس نے جب آنا ہوگا تب ہی آئے گا تم ٹہل ٹہل کر کسی کو بلا نہیں سکتے۔
منگنی کی تقریب شروع ہونے والی ہے ابھی تک نہیں آئی گوارا نا ہی یون بن
وہ جھلایا۔۔ کم سن مسکرا دیا۔
اتنا انتظار گوارا اور یون بن کا اسے یقینا نہیں تھا۔
لگتا ہے آنے والوں کو آنے کی جلدی نہیں۔ تمہاری یہ سب بےتابئ یکطرفہ تو نہیں؟
کم سن نے اسکی دکھتی رگ دبا دی تھی۔ اس نے شاکی نگاہوں سے دیکھا۔
ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ نونا کی کال آگئ۔
دے۔ اس نے کم سن کو گھورتے ہوئے کال اٹھائ ۔ کم سن رخ موڑ کر مسکراتا ہوا گھونٹ بھرنے لگا۔
سر اٹھا کر سامنے دیکھو ایک زبردست سا سرپرائز ہے۔ تمہارے لیئے۔
نونا کی دھیمی مگر کھلکھلاتی سی آواز۔ اس نے سر اٹھایا ۔۔نونا اور جون من کے نام نیک خواہشات سے سجا بینر اور گلدستے تھامے دو لڑکیاں جوڑے کے آگے آگے چلتی آرہی تھی۔ جو دلکش لڑکی سب سے نمایاں مسکرا رہی تھی وہ جانی پہچانی تھی۔ بے حد مختلف مگر دلکش۔۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ گنگشن اور جون من ایک دوجے کا ہاتھ تھامے سہج سہج کر چلتے جب بیچ اسٹیج پر پہنچے تب ان دونوں لڑکیوں نے انکو گلدستے پیش کیئے اوپر سے ہلکے سے پٹاخے کے ساتھ رنگ برنگی پنیوں اور
پھولوں کی برسات ہوئئ۔
ایک بے حد رومان پرور ماحول میں جب دلہا اور دلہن کو ایک دوجے کے سوا کسی پر توجہ دینے کا موقع بھی نہیں ملتا نونا گردن گھما کر اسے دیکھ رہی تھیں چہرے پر بڑی شرارتی سی مسکراہٹ تھی۔ اس کی نگاہ ہوپ پر گئ تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ شائد پہلی بار مسکرا کر۔۔۔
آگئ۔ کم سن کی دھیمی سی آواز ۔کم سن کی اسٹیج اورہایون کی جانب پشت تھی۔ وہ سنتے ہی چونک کر فورا سے پیشتر مڑگیا۔ گوارا کے سنگ ہال میں داخل ہوتی اریزہ بہت اشتیاق سے اسٹیج کی جانب دیکھتی کچھ بول بھئ رہی تھی۔ ساتھ یون بن بھئ تھا۔ مگر اسے شائد گوارا بھئ ٹھیک سے نظر نہ آئی۔ ہوپ کی مسکراہٹ واضح طور پر پھیکی پڑ گئی تھئ۔ ہایون کافی عجلت میں اسکی جانب بڑھا تھا۔ اسکا کسی نے ہاتھ تھام لیا۔کوئی پرانا ساتھی اس سے ملنے لگ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلدستے سنبھالتے جیسے ہی وہ ہال میں داخل ہوئے سب بتیاں دھیمی پڑ گئیں
کیا ہوا لائیٹ چلی گئ؟ یہاں بھی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے؟
اسے پاکستانی ہونے کے ناطے پہلا خیال یہی آیا۔
پاور ٹرپ ہوا ہوگا۔
گوارا نے اندازہ لگایا۔ تو یون بن نے اسکا سر گھمایا اسٹیج کی جانب۔۔ اوراطلاع دی۔
دلہا دلہن کے استقبال کیلئے بتیاں بجھائی گئ ہیں۔ ۔۔۔
فلڈ لائٹس کے گول چکر گنگشن نونا اور انکے دلہا کا حصار باندھے تھے۔ اوپر سے گرتی پھولوں کی پتیاں۔ مبہوت کردینے والا منظر تھا۔ بے ساختہ اسکے منہ سے وائو نکلا۔
پھر گلدستہ گوارا کے کندھے پر مار کر بولی
دلہا دلہن آگئے گوارا کی بچئ تم نے بکے بنوانے میں اتنا وقت لگوا دیا ہمیں دیرہوگئ۔
ہال میں نیم اندھیرا کرکے خاص جگمگایا گیا تھا اسٹیج کو۔ سب ادھر ہی متوجہ تھے۔ وہ لوگ بھی اسی جانب بڑھ آئے۔
دلہا دلہن ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا رہے تھے۔ ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر ان دونوں کو مائک دیا۔ مختصر جملے۔ ساتھ نبھانے کا عزم کرکے دلہا نھ مسکرا کر بازو لمبا کرتے دلہن کو تکلف سے ساتھ لگایا۔ ۔ اسکے بعد دونوں نے مسکراتے ہوئے جھک کر سب کا شکریہ ادا کیا اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اسٹیج سے نیچے اتر آئے۔ مہمانوں سے ملتے آمد پر شکریہ ادا کرتے اس جوڑے کی منگنی کی تقریب تمام ہوگئ تھی۔۔ ہلکی موسیقی دوبارہ چالو ہو گئ تھئ۔
ہاہ۔
اسکا منہ کھلا اور پھر حیرت کے مارے کھلا ہی رہ گیا۔اس نے موبائل میں وقت دیکھا۔ تقریب کا وقت تھا رات نو بجے۔ اس وقت سوا نو ہو رہے تھے۔ اس نے مایوسی سے نظر گھمائی۔ بڑا سا ہال۔ایک جانب ڈانس فلور تھا جو اس وقت تقریبا خالی تھا۔ کچھ اسٹیج کے قریب آن کھڑے ہوئے تھے۔ دلہا دلہن اس ہجوم میں غائب ہو چکے تھے۔ ایک ایک کے پاس خود جا جا کر جھک جھک کے سلام کرتے دلہا دلہن تو۔ دوسری جانب میزیں لگا کر بوفے کا انتظام تھا۔ قطارمیں لمبی لمبی کھانے سے سجی میزوں پر اکا دکا لوگ اپنی پلیٹ میں گنی چنی چیزیں رکھ رہے تھے۔ کوئی جلدی نہیں کوئی ہڑبونگ نہیں سب سوکھے منہ دلہا دلہن کے ساتھ گپوں میں لگے تھے جیسے یہاں کھانے ہی نہیں آئے ہوئے۔
بس؟ یہ کیا؟ سب ختم ؟۔۔۔۔اتنئ وقت کی پابندی۔ اتنی سادہ رسموں سے پاک تقریب۔ یہ کیسے نان مسلم ہیں۔
اسے دھچکا لگا۔
یہ کیا۔؟ اس نے دانت کچکچائے۔۔
ہم خالی اسٹیج دیکھنے آئے ہیں۔ اس نے برابر کھڑی گوارا کا بازو کھینچا۔
ایسی ہوتئ ہے منگنی بھلا اس سے ذیادہ رونق اور ہلا گلا میرا پہلا دودھ کا دانت ٹوٹنے پر ۔۔۔۔
بڑبڑ کرتے کھینچ کر ساتھ لگاتے ہی اسے ایکدم کچھ نامانوس سا احساس ہوا۔ اس نے جلدی میں جوبازو کھینچا وہ خاصا مضبوط تھا اور کوٹ میں ملبوس تھا۔ اس نے سٹپٹا کر نگاہ اٹھائی اپنے برابر کھڑے وجود کو دیکھا۔جو خوب لمبا سا چندی آنکھوں والا تھا۔ بہت حیرانی سے اس بے تکلفانہ مڈبھیڑ کو دیکھ رہا تھا۔
اوپس۔ سس۔
اس نے فورا بازو چھوڑا۔ سوری بولتے بولتے خیال آیا کہ ہنگل میں کہنا چاہیئے۔
چھے۔۔ سو۔
( سوری کو کیا کہتے ہنگل میں۔ اس نے ذہن کے گھوڑے دوڑائےبس چھے سو ہی یاد آیا۔ آگے کیا تھا؟ )
تھیبا۔۔ اس نے گردن جھکا کے کہا۔ مخاطب کی چندی آنکھیں تھوڑی سی کھل گئیں۔
آنیا۔۔۔۔ اس نے نفئ میں گردن ہلائی۔۔ آنیانگ۔۔دے۔
۔ آندے
۔ جھنچائے او۔
اس نے جلدی جلدی سب ہنگل لفظ بول ڈالے جو جو یاد آئے۔
کیہہ سیکی۔۔
چندی آنکھیں ابلنے کو تیار ہوئیں۔ اریزہ کو اسکے تاثرات دیکھ کر یاد آیا کہ یہ کوئی اچھا لفظ نہیں تھا۔۔ اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔
آنیا ۔۔ ۔۔ اسے یاد آگیا۔سو اس بار قدرے اعتماد سے بولی۔ اور سر جھکانا بھول گئ۔
سارانگھیئے او۔۔۔۔
چندی آنکھوں والے کی آنکھوں میں تیرتی حیرت نے رنگ بدلا تھا۔آنکھیں مائل با شرارت ہوئی اور وہ ہنسی روکنے میں ناکام ہوتے ہوئے قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔ وہ حیرت سے اسے ہنستے دیکھ رہی تھی۔
اسکے قریب آتے دلہا دلہن اور ہایون نےبھی حیرت سے اسکا جملہ بھی سنا تھا اور علی کا ردعمل بھی دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم تو سمجھے ہم نےاپنی منگنی کی تقریب میں مزید دو دلوں کو ملا دیا ہے مگر افسوس یہ ایک غلط فہمی نکلی۔
گنگشن اریزہ کا پیش کیا بکے تھامے شرارت سے علی کو کہہ رہی تھئ۔ جوابا وہ بمشکل مسکرایا۔
ویسے ہم کورینز سوری تھینکس جتنی انگریزی سمجھ لیتے ہیں پھر بھئ مشورہ ہے بنیادی ہنگل سیکھ لو آگاشی۔
جون من نے ہلکے سے ہنس کر جتایا۔ وہ پزل سی کھڑی ہتھیلیاں مسل رہی تھی۔ اتنی ساری شرمندگی اسکے حصے میں آگئ تھئ
اریزہ۔ اریزہ نام ہے اسکا۔
نونا فورا بولیں۔
اریزہ تم مغربی لباس میں بہت جچ رہی ہو۔ مجھے لگا تھا تم آج کی تقریب میں بھی اپنا روائتی لباس ہی پہن کر آئو گی۔
نونا نے بہت پیار سے کہا تھا۔ وہ مسکرا دی۔
یہ گوارا کی ضد تھی۔ ویسے آپ بھی بہت اچھی لگ رہی ہیں۔
اس نے دل سے تعریف کی تھی۔ نونا اسکو بس جوابی تعریف سمجھیں۔سو دھیان نہ دیا۔
تم لوگوں نے کھانا کھایا ؟ ہایون اپنے مہمانوں کا خیال رکھنا
نونا کو اب مہمان نوازی کی فکر تھی۔ ہایون نے اثبات میں سرہلادیا
۔ دلہا دلہن کی پکاریں پڑ رہی تھیں۔ دونوں نے اجازت چاہی۔
علی نے بھئ اب رخصت چاہی ۔
اوکے اب مجھے بھی چلنا چاہیئے۔ مس اریزہ علی۔ علی نام ہے میرا۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔۔
علی نے اسکی مشکل سمجھ کر شستہ انگریزی میں بتایا۔
اریزہ کھسیا سی گئ۔
آئی ایم سوری۔ اسکے منہ سے ہائے ہیلو کی جگہ پھسلا اور وہ مزید سٹپٹا بھئ گئ۔علی اسکی گھبراہٹ سمجھ کر مسکرا دیا
دراصل اریزہ کو ہنگل نہیں آتی ہے ابھی اسے کوریا آئے ذیادہ وقت بھی نہیں ہوا۔
ہایون نے وضاحت دی۔
میں سمجھ سکتا ہوں۔ اور کیسا لگا کوریا اور کورینز ؟
اس نے اسکی شرمندگی کم کرنے کیلئے بات بڑھائی
اچھا ہے۔ خوبصورت ملک ہے ۔کورینز بھئ اچھے ہیں۔
اس نے نپا تلا ہی جواب دیا۔
مگر آپکو یہ تقریب پسند نہیں آئی۔
علی اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا تو وہ تھوڑا اعتماد بحال کرکے بولی۔
آنیا بس میں حیران ہو رہی تھی۔ ہمارے یہاں منگنی میں بھی لمبی تقریب چلتی ہے۔ رسمیں ہوتی ہیں۔ وغیرہ تویہ سب بہت سادہ تھا میرے لیئے۔
ہاں میں نے بھئ سنا ہے پاکستانی اور انڈین شادیوں میں بہت ہلہ گلہ ہوتا ہےمگر کبھی اتفاق نہیں ہوا کسی شادی کا حصہ بننے کا۔۔ وہاں کرسچن بھی یہ سب رسومات کرتے ہیں؟
علی کے سوال پر وہ سوچ میں پڑی۔ سنتھیا اسکی دوست تھی اور کبھی اس نے اسکے خاندان کی کسی شادی میں حصہ نہیں لیا تھا مگر ہاں سنتھیا کی منگنی کی تقریب کا حصہ بنی تھی کم و بیش ایک جیسا ہی ماحول تھا۔ ویسے ہی دیسی لوگ زرق برق لباس۔اور طعام کا اہتمام۔۔۔
ہاں۔ اس نے سوچ کر سر ہلایا تھا۔
آپ کیا کرتے ہیں؟
اس نے یونہی سوال کر لیا تھا۔
میں نے فنانس میں ماسٹرز کیا ہے۔ آج کل ایک نیم سرکاری ادارے میں پڑھاتا ہوں مختلف مضامین۔ وہیں سے عربی سیکھ رہا ہوں۔۔۔
فنانس میں ماسٹرز کے بعد ٹیچنگ؟ ۔۔ اریزہ حیران ہوئی تھی۔
دراصل۔۔ علی نے جانے کیا جواب دیا تھا۔ ان دونوں کو یقینا ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت میں مگن ہوتے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ ہایون ان دونوں کو چند لمحے باتیں کرتے دیکھ کر خاموشی سے ان کے درمیان سے ہٹ گیا تھا۔ہوپ کی اس سے توجہ ہٹ نہ سکی تھی۔ اس کو یوں خاموشی سے جگہ چھوڑتے دیکھ کر وہ اسکی جانب بڑھی تھی کہ کسی نے اسکو مخاطب کر لیا۔
آگاشی آپ ہوپ ہیں نا ؟
وہ کوئی ادھیڑ عمر چندی آنکھوں والا مرد تھا اس سے نہایت تمیز سے پوچھ رہا تھا۔
دے۔ وہ سر ہلا کر آگے بڑھنا چاہ۔رہی تھی۔
آپ کا انٹرویو دیکھا تھا میں نے بہت اچھا بولتی ہیں آپ۔ کیا کر رہی ہیں آپ آجکل؟
وہ مزید بات بڑھانے کے موڈ میں تھا۔ ہایون کا رخ ہال سے باہر جانے والے دروازے کی۔طرف تھا وہ بے چین سی ہوئی۔
کچھ خاص نہیں ایکسکیوز۔۔ وہ معزرت کرنا چاہ رہی تھی کہ اس شخص کے اگلے جملے پر۔ٹھٹھک گئ
وہ کہہ رہا تھا۔
آپ بہت خوبصورت ہیں۔ آپ میں اعتماد بھی ہے میری ایک ایڈ ایجنسی ہے اس میں آپ ماڈلنگ کرنا چاہیں گی ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اف مجھے افسوس ہو رہا ہے اتنی فلمی سچوایشن مجھ سے مس ہوگئ۔
گوارا اسکی زبانی ہی احوال سن کے ہنسے جا رہی تھی۔
پہلی ملاقات اور لڑکی کا اظہار محبت۔ ۔۔
شٹ اپ۔اریزہ چڑی گوارا اسکے انداز پر اور ذور سے ہنسی

بوفے اسٹائل تھا ایک کونے سے اس نے اپنی پلیٹ میں جو جو چیزیں بھرتی جا رہی تھی اسکو دیکھ کر اسے الجھن آنے لگی تھی۔ کیکڑے ، چھوٹی چھپکلیوں کی طرح کی مچھلیاں آنکھوں سمیت تلی ہوئی آکٹوپس ، کھانے میں ویج نان ویج سی فوڈ ائیٹمز تھے اور گوارا سی فوڈ کی شوقین۔ سو اسکا ارادہ یہاں سے آگے جانے کا نہ تھا۔
پہلی ملاقات۔ وہ سوچ میں پڑی تھئ کہ گوارا نے اسکا بازو ہلایا۔
اریزہ وہاں ویج آئٹمز ہیں۔ تم وہاں سے کچھ لے لو۔
گوارا کے ہلانے پر وہ چونکی پھر سرہلا کر اس جانب بڑھ گئ۔
ویجیٹیبل سوپ تھا اشتہا انگیز۔ اس نے وہ لے لیا۔ سبزیوں کا پلائو تھا جس پر مشرومز سجے تھے۔ وہ دھیرے دھیرے بڑھتی گئ۔دو تین طرح کی سلاد تھیں۔ مشروم اسٹیک وائٹ ساس پاستا اور سبزیوں کی بھجیا۔ تھوڑا تھوڑا لیکر وہ گوارا کی جانب پلٹی تو ذہن میں جھماکا ہوا۔
علی کی شکل جانی پہچانی کیوں لگی ؟ یہ وہی تو تھا جس نے میٹرو اسٹیشن میں اسکی مدد کی تھی۔ جبھی اسے دیکھا دیکھا لگا۔
میم آپ ادھر آئیے۔
ایک بیرا مئودب سا اسکے پاس آکر انگریزی میں بولا
کیوں ؟
اسکا فون بجنے لگا بیرے نے سہولت سے اسکے ہاتھ سے پلیٹ تھام لی۔ وہ حیران ہوتی اپنے کندھے سے لٹکتے چھوٹے سے پرس سے فون نکالنے لگی۔
کالر کا نام پڑھ کر وہ چونکی۔ بیرا اسکی پلیٹ پاس سے گزرتے دوسرے بیرے کو تھما چکا تھا جو لیکر آگے بڑھ گیا۔
ارے؟ میں کھانے جا رہی تھی۔۔ وہ ہکا بکا تھی گھور کر بیرے کو دیکھا وہ جوابا سر جھکا گیا۔ ۔ فون بجے جا رہا تھا اس نے اٹھالیا۔
بیرا اس سے تھوڑا فاصلے پر ہو کر اسکے فون سے فارغ ہو جانے کا انتظار کرنے لگا۔
کیسی ہو بیٹا ؟ سنتھیا کی امی بہت پیار سے پوچھ رہی تھیں۔
ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں؟ اس نے بھی جوابا خوش اخلاقی سے احوال پوچھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیرا اسے ایک فلورنیچے لایا تھا۔ بڑا سا ہال نیم تاریک تھا
دھیمی چلتی موسیقی سامنے ایک بڑی سی میز پر بس روشنی تھی۔اس روشنی میں دمکتا مانوس چہرہ وہ بلا جھجک اس جانب چلی آئی۔
ہایون اسکو آتے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا تھا۔ بیرے نے اسکے لیئے کرسی احتیاط سے کھینچی ۔ وہ حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔
اب جائو تم۔ ہایون نے بیرے سے کہا وہ دھیرے سے جھک کے پلٹ گیا۔
یہ۔ اریزہ میز پر نظر دوڑاتی حیران کھڑی تھی
بیٹھو۔ وہ اسکی حیرانی پر مسکرایا۔
وہ متعجب سی اسے دیکھتی ٹک گئ۔
میز اسکے سب پسندیدہ کھانوں سے سجی تھی۔ بریانی مٹن کڑاہی نان چائینئز پلائو کھیر گول گپے دہی بھلے سموسہ۔۔ رس ملائی۔ وہ ابھئ دل بھر کے حیران بھی نہ ہو پائی تھی کہ
دوبیرے پھر انکے سر پر آن کھڑےہوئے تھے
ایک تولیہ ہینڈ واش کی بوتل ، منرل واٹر کی بوتل اور دوسرا ایک خوبصورت سی پیتل کی صراحی کی شکل کا کوئی برتن لیئے کھڑا تھا۔
یہ؟ اس نے حیرانی سے ہایون سے پوچھا
ہاتھ دھولو۔ ہایون مسکرایا۔
اس کا منہ بھی کھل گیا تھا۔
اس نے جھجکتے ہوئے ہینڈ واش ہاتھ میں لیا۔ شہزادیوں کی طرح اسکے ہاتھ اس دھلوائے گئے تھے۔ وہ یقینا یہ خواب دیکھ رہی تھی۔
مجھے تمہاری پسند کا ذیادہ پتہ تو ہے نہیں۔ یہ پلائو کڑاہی اور بریانی آرڈر دینے کے بعد ریستوران والوں سے کہا جو بھی خاص ہو مینیو میں بھجوا دیں۔ امید کرتا ہوں تمہیں پسند آئے گا۔
ہایون نے وضاحت کی۔
یہ بہت سارا کھانا ہے۔۔۔۔ ہایون اور اسکی کیا ضرورت تھی۔ وہ ناراض ہوئئ
ضرورت کیوں نہیں تھی۔ تم بھوکی رہتیں ؟
ہایون الٹا اس سے پوچھنے لگا۔
نہیں پر میں کچھ نہ کچھ کھا لیتی اتنا اہتمام۔
وہ متذبزب تھی۔ ہایون نے بات کاٹ دی
تم تو کورین کھانے کھاتی ہی نہیں ہو۔مجھے پتہ ہے یہ بات جبھی تمہاری پسند کے کھانے منگوائے ہیں اب شروع کرو۔۔
اسکا انداز لاپروا تھا۔ وہ اس سب اہتمام کو معمول کا حصہ قرار دینے پر تلا تھا۔
اریزہ کو اسکے خلوص پر شبہ نہ تھا سو مسکرا کر سر ہلا دیا۔ یوں دوستوں کو زیر بار کرنا اسکو پسند نہ تھا او ریہ بھی سچ تھا ہایون اگر یہ اہتمام نہ کرتا تو شائد وہ بھوکی رہتی۔
تمہارا سب سے پسندیدہ پکوان کونسا ہے ؟ وہ بات بدلنے کو پوچھ رہا تھا۔
یہ۔ کہتے ساتھ ہی
اس نے سب سے پہلے گول گپے کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا
ہایون نے اسے کھٹے پانی میں ڈبو کر کھاتے غور سے دیکھا۔ بہت چٹپٹا تھا پانی۔ اسکو خوب مزا آیا مگر مرچوں سے آنکھیں سرخ ہو چلیں۔۔
اس میں ڈبو کر کھائو ۔۔ وہ اسے سکھا تے سکھاتے ایک اور گول گپا منہ میں بھر چکی تھی۔ چنے چٹنی بھرا بڑا سا گول گپا۔
ہایون نے جھجکتے ہوئے گول گپا کھانا چاہا وہ پٹاخ سے پانی میں گرا اسکے کوٹ تک پانی کے چھینٹے آئے۔ اسکی خدمت پر معمور بیروں نے بمشکل مسکراہٹ دبائی۔
گول گپا کئی گول گپوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اس نے چمچ سے اٹھا کر کھایا تو رات میں تارے بھی دکھائی دیئے اور کائنات کے نئے بلیک ہول بھی
بری طرح کھانستے ہوئے اسے اچھو ہوچلا تھا
اریزہ نے جلدی سے رس ملائی ایک پیالے میں نکال کر اسکی جانب بڑھائی۔
ٹھنڈی میٹھئ رس ملائی منہ میں گھل کر مرچوں کا ذائقہ مندمل کر گئ منہ میں چین پڑا۔
تم مت کھائو گول گپے تمہارے بس کی بات نہیں۔
اریزہ نے چھیڑا تھا۔خود وہ گول گپے میں چنے اور چٹنی بھر رہی تھی۔
ہایون نے ایک نظر اسکو دیکھا پھر اپنے پاس رکھی رس ملائی کو۔ گول گپا اٹھایا اس میں چنے بھرے ایک رس ملائی توڑ کر بھری رس ملائی کے دودھ میں ڈبویا اور منہ میں رکھ لیا۔ اریزہ کا گول گپے سے بھرا منہ تھوڑا سا کھل سا گیا۔
گول گپے میں رس ملائی بھر کر کھانا ؟ اس ثقافتی جھٹکے نے اسکو ششدر کر دیا۔ ہایون نے مزے لیکر کھایا اور چٹخارا بھرا۔
ماشیچتا۔ ( مزےدار)
اریزہ نے بمشکل اپنا گول گپا نگلا۔
واقعی بہت مزے کا کھانا ہوتا ہے پاکستانی۔ تم لوگ کتنے گول گپے کھاتے ہو؟ ایک وقت میں
وہ گول گپے کو ایک وقت کا کھانا سمجھا تھا۔
درجن ایک تو اریزہ جیسی لڑکی بھی بنا ڈکار مارے کھا سکتی تھی ۔ اس نے جواب دینے کی بجائے کھٹا پانی پرے کیا اپنی رس ملائی کا پیالہ اٹھایا ۔گول گپے میں رس ملائی بھری اور منہ میں رکھ لیا۔ زندگی میں پہلی بار گول گپے کو رس ملائی میں ڈبو کر کھایا تھا اور اب سے آئیندہ وہ یہ دونوں چیزیں ملا کر کھانے والی تھی۔
یہ تو واقعی بہت مزے کا لگ رہا ہے۔
وہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
کیا مطلب تم لوگ اسکو ملا کر نہیں کھاتے ؟ ہایون کو حیرت ہوئی
ہرگز نہیں اور کسی پاکستانی کےسامنے دوبارہ یہ کرتب کرنا بھی نا توہین ہے یہ گول گپے کی مگر۔۔
وہ ڈرامائی انداز میں کہتے کہتے رکی پھر منہ میں گول گپا رکھ کر چٹخارا لیکر بولی
مزے کی توہین ہے۔
ہایون اسکے انداز پر ہنس پڑا تھا۔
اور بتائو اور کونسی چیز تم ملا کر کھائو گے۔ اس نے اکسانے والے انداز میں کہا ہایون بھی دلچسپی سے پکوان کی جانب متوجہ ہوا۔
یہ پائرامڈ بریانی میں ملا کر کھانا کیسا لگے گا؟
پائرامڈ؟ وہ ہونق ہوئی۔
یہ تکونا پائرامڈ کی طرح کا ہے نا۔وہ اب سموسے کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر دکھا رہا تھا۔
سموسہ کہتے ہیں اسے۔ اس نے بتایا پھر ایکدم پرجوش ہوئی۔
اس میں بریانی بھرتے ہیں۔ وہ اب سموسے کا پیٹ چاک کرنے لگی۔
دونوں کھا کم کھیل ذیادہ رہے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں مگن اور خوش نظر آرہے تھے۔ ہال کنارے سیڑھیوں سے اترتے ہی ان پر نظر پڑی تھی اسکی۔ وہ ہایون کا پتہ کرتی ادھرچلی آئی تھئ مگر یہ نہیں پتہ تھا کہ ہایون یہاں اکیلا نہیں تھا۔اریزہ بھی ساتھ تھی۔ جہاں اوپر والی منزل پر رنگ و بو کا سیلاب تھا رونقیں تھی مہمان تھے بڑے بڑے لوگ تھے وہ یہاں تھااس منزل کی سب دلکشیوں سے دور اریزہ کے ساتھ خوش
کم از کم ہوپ کو تو وہ دونوں اکٹھے مطمئن اور مکمل لگے تھے۔ اس نے اپنے ہاتھ میں تھما کارڈ مسل ڈالا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا گھر نہیں آئی تھی شائد آئے بھی نا۔ ہایون اسے اپارٹمنٹ تک چھوڑ کر گیا تھا۔ وہ جمائی لیتی اندر آئی تھی۔ بیڈروم میں ہوپ سورہی تھی۔ وہ احتیاط سے کپڑے اٹھاتی فریش ہونے باتھ روم گھس گئ۔ نہا کر نکلی تو کافی کی طلب محسوس ہوئی۔ اپنے لیئے کافی کا مگ بنا کر ٹیرس میں چلی آئی۔ خنک ہوا گرم کافی سیول کی روشنیاں اس نے بلاگ اپڈیٹ کرنا شروع کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہو آیا آپکے کہنے پر بھائی کی منگنی پر۔ اب خوش۔
اس نے گھر آتے ہوئے بس میں بیٹھ کر میسج لکھ کر بھیجا
اچھی بات ہے۔
فوری جواب آیاتھا۔
اب دوسری بات کب تک مانوگے؟
وہ ہار ماننے والے نہیں تھے۔
آج ایک لڑکی نے مجھے آئی لو یو کہا تو ہے۔۔ اسی سے کرلیتا ہوں شادی۔
اس نے لکھ کر بھیجا تھا جوابا لمحہ بھر کا ہی توقف ہوا ہوگا کال آگئ۔ انکے جزباتی پن پر اسے ہنسی آگئ تھی۔ فون اٹھاتے ہی بنا سلام دعا انہوں نے پوچھا۔
واقعی؟ کون ہے کیسی ہے ؟ ہاں کہا اسے؟
ایک ہی سانس میں وہ سارے سوال کر گئے۔
شادی میں ملی تھی ۔۔ اس نے جان کے بات ادھوری چھوڑی۔
آج؟ وہ حیران ہوئے۔
ہاں۔ آج۔ وہ پوری طرح انکے اتائولے پن سے حظ اٹھا رہا تھا
اوہ۔ وہ تھوڑا مایوس ہوئے۔مگر امید زندہ تھی ابھی
تمہیں پسند آئی کیسی لڑکی ہے؟
ہاں اچھی ہے پیاری ہے۔
اس نے مختصر ہی جواب دیا
پھر اس سے ملاقات کرو پرکھو۔ کیا پتہ یہی وہ لڑکی ہو جو۔۔
وہ کہہ رہے تھے اس نے انکو بریک لگائی۔
ملاقات کا کوئی چانس نہیں دوبارہ۔
کیوں نہیں؟ وہ حیران ہوئے
اس نے آئی لو یو بولا تو یقینا تم اسے پسند آئے ہو جبھی تو بولا نا ؟ یا تم جھوٹ بول رہے ہو۔
وہ پل میں جان گئے جوابا وہ ہنس دیا
جھوٹ نہیں بولتا میں۔ جب مسلم نہیں تھا تب بھی کبھی جھوٹ نہیں بولا اب تو نا ممکن ہے۔
پھر ۔ وہ مصر تھے۔اسے ہنسی مزاق چھوڑ کر حقیقت بتانی پڑی۔
اس نے واقعی آئی لو یو کہا مگر وہ ایک غلط فہمی تھی۔۔ اسکی ہنگل اچھی نہیں تو معزرت کی جگہ سارانگھیئے کہہ گئ۔
اوہ۔ انکا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
کوئی چانس ہے ؟ انہوں نے ہار نہ مانی۔
میں غیر مسلموں کی منگنی کی تقریب میں گیا تھا وہ لڑکی بھی کرسچن تھی سو نو چانس ایٹ آل۔۔
اس نے قطیعت سے کہا تو وہ گہری سانس بھر کے بولے
چلو کم از کم کفر تو ٹوٹا۔۔ پڑ جائے پتھر میں جونک بھی کبھی نہ کبھی۔ ۔۔۔ جوابا وہ خاموش رہا تو وہ بھی بات بدل گیے
۔اچھا یہ بتائو کچھ کھایا ہے ؟
آنیا۔۔ وہاں نان ویج آپشن میں بھی پورک فلیور تھا۔ اب گھر جائوں گا تو کچھ بنا کے کھائوں گا۔
اس کو بھوک لگ رہی تھئ۔ عبدالہادی کو اندازہ ہوگیا تھا۔
تو پھر ایسا کرو۔اپنے گھر کے راستے سے ایک اسٹاپ پہلے اتر جائو یہاں آئو ہم نے آج گوشت بھونا ہے۔
انہوں نے دعوت دی تو اس نے تکلفا بھی انکار نہ۔کیا۔
دے۔
کال۔بند کرکے اس نے یونہی سیل فون دیکھا۔ وال پیپر پر اسکی اور رچل کی تصویر تھی۔
سارانگھیئے او۔
رچل ہمیشہ اسے پرجوش انداز میں کہا کرتی تھی۔ اور سچ تو یہ تھا اسکے سوا اور کسی کے منہ سے یہ جملہ سننے کی تمنا نہ رہی تھی۔
سارانگھیئے۔
اس نے زیر لب دہرایا۔

تبھی بلاگ اپڈیٹ آئی تھی۔۔ اس نے گرد ونواح میں نگاہ۔کی ابھی اسٹاپ آنے میں وقت تھا بلاگ پڑھا جا سکتا تھااس نے وہی کھول لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کڑوےمیٹھے کھٹے پھیکے تھوڑے مرچیلے پکوان سے سجی میز کا نام ہے۔
آپکا پسندیدہ پکوان بھی کبھی آپکو ناپسندیدہ ذائقے سے نواز سکتاہے اب یہ آپ پر ہے مرچیں لگنے پر سی سی کریں یا کوئی میٹھا ذائقہ زبان پر رکھ کر اس تکلیف کو زائل کر دیں۔
آپکا ہر حال میں ساتھی پانی ہی ہوتا ہے جو ہر ذائقے کو مندمل کرکے نئے ذائقے چکھنے کیلئے آپکی زبان کو تیار کر دے۔
آج مجھے بھی میرے پسندیدہ پکوان گول گپے نے زبان کو تیکھے پن سے چھلنی کیا اورپتہ ہے اسی میز پر موجود رس ملائی نے میرے گول گپے کے ساتھ مل کر میری زبان کو مرہم بھی دے دیا۔
ساتھ ہی رس ملائی بھرے گول گپے کی تصویر تھی جسے چٹکی سے تھاما گیا ہوا تھا۔
تو حاصل بحث کیا ہوا۔ زندگی کی میز پر سب ذائقے ہیں فرق صرف اپنے پسندیدہ پکوان سے ذرا بھر کو نگاہ ہٹا کر کسی دوسرے ذائقے کو چکھنے پر خود کو آمادہ کرلینا ہی اصل جینا ہے۔۔
کھاتے پیتے جیو۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلا کمنٹ۔
شرم نہیں آتی ہم ہاسٹل باسیوں کو مرغن کھانے دکھاتے؟
دوسرا کمنٹ
یہ ڈنر سوٹ میں جو دھندلا پکوان نظر آرہا اسکا کیا نام ہے کبھی پاکستان میں ایسا دکھائی نہ دیا۔
ہیں۔۔۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ تصویر کو۔ذوم کیا تو میز کے پکوان کی تصویروں میں جو اس نے تقریبا سب ہی اپلوڈ کر دی تھیں پیچھے پس منظر میں آئوٹ آف فوکس بھی پورا ہایون نظر آرہا تھا۔
کمال کی نگاہ ہے۔ اس نے بے ساختہ داد دی
تیسرا کمنٹ
سموسے میں بریانی بھرنا زندگی جینا ہے تو میں پودینے کی چٹنی میں کھیر ڈال کر کھانا بہتر سمجھتا ہوں۔
سب نے خوب اس کی میز کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔۔ اسے ہنسی آئی۔
چوتھا کمنٹ
سب سے اچھا نیا ملا جلا ذائقہ کس کا بنا سچ بتانا ؟
اس نے دیانت داری سے ہی جواب دیا۔
رس ملائی بھرا گول گپا۔۔ یہ یقینا بہترین تجربہ تھا
پانچواں کمنٹ
یہی سب کھانا تھا تو کوریا گئے ہی کیوں ہو؟۔۔
یہ دہائی کسی دکھے دل سے نکلی تھی۔ اسے ہنسی آگئ۔
چھٹا کمنٹ۔
یہ جگ میں آپ ہو؟
ہیں۔ اسے کمنٹ سمجھ نہ آیا۔ غور کیا تصویر کو۔ذوم کیا تو پتہ چلا ہر احتیاط کے باوجود کہ اسکی اپنی کوئی تصویر نہ آنے پائے اس گول گپے کو چٹکی میں بھرنے والی تصویر میں میز پر رکھا جگ اسکا مکمل عکس منعکس کر رہا تھا۔ ہلکا سا دھندلا مگر موبائل اٹھائے ہاتھ اور اسکا چہرہ۔ اب جس نے اسے دیکھا ہوا ہو اس کیلئے پہچاننا آسان تھا ۔ دھندلی تصویر تھی اس نے تصویر ڈیلیٹ کرنے کی بجائے مختصر۔جواب لکھا۔۔
ہاں۔۔۔
اور ٹھنڈی ہوتی کافی کی جانب متوجہ ہوگئ۔۔
کل پکا سنتھیا سے ملنے جائوں گی۔ جانے کتنی بیمار ہوگئ ہے جو آنٹی تشویش ذدہ ہوگئیں۔ اس نے کہیں آنٹی کو بتا تو نہ دیا۔
سوچ اتنی کٹیلی تھی کہ وہ بے دھیانی میں گرم گھونٹ لے بیٹھی۔۔
سی کرکے کپ پیچھے کیا۔
احمق لڑکی۔۔
وہ بڑبڑاکررہ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد
جاری ہے۔

Kesi lagi apko Salam Korea ki qist? Rate us below

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

Desi kimchi seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi

Kesay main apni zaat ki islaah kia karoun

Kesay main Apni zaat ki islaah kiya keroun…
Yehan tau sharafat k roz paimanay badaltay hain…
کیسے میں اپنی ذات کی اصلاح کیا کروں
یہاں تو شرافت کے روز پیمانے بدلتے ہیں۔

Jhukatay tau hain sir sajday main hum ay khuda…
Roz sajda kerny k apne bahanay badaltay hain…
جھکاتے تو ہیں سر سجدے میں ہم اے خدا
روز سجدہ کرنے کے اپنے مگر بہانے بدلتے ہیں

IShq kamil main mubtila hain youn tasawer e jana k…
Nigah k mehwar nahi badaltay hain nishanay badalty hain…
عشق کامل میں مبتلا ہیں یوں تصور جاناں کے
نگاہ کے محور نہیں بدلتے ہیں اور نشانے بدلتے ہیں

Azim e safar hain matloon mizaaji na samjho humadi…
Usi manzil ki talash main hain bus rahain  badaltay hain…
عازم سفر ہیں متلون مزاجی نہ سمجھواسے ہماری
اسی منزل کی تلاش میں ہیں بس راہیں بدلتے ہیں

Khumaar in ankhoun main kam hay tau na samjo momin…
hum peena nahi chortay hain may khanay badaltay hain…
خمار ان آنکھوں میں کم ہے تو نہ سمجھو مومن
ہم پینا نہیں چھوڑتے ہیں صرف مے خانے بدلتے ہیں
Ahwal jo poch lia us ne  tau younhi khush feham hua dil…
Badla tau nahi woh faqat fursat k zamanay badaltay hain…
احوال جو پوچھ لیا اس نے تویونہی خوش فہم ہوا دل
بدلا تو نہیں وہ فقط فرصت کے زمانے بدلتے ہیں

Yeh soch k usko apna samajhnay ki ghalti ki hay…
Apnay apne rehtay hain haan begaanay badaltay hain…
یہ سوچ کے اسکو اپنا سمجھبے کی غلطی کی ہے
اپنے اپنے رہتے ہیں ہاں بےگانے بدلتے ہیں

Kesay shanasaoun say apna daman bachaya jayay humdum…
hum tau khana badosh bhi nahi jo roz thikanay badaltay hain…

کیسے شناسائوں سے اپنا دامن بچایا جائے ہمدم
ہم تو خانہ بدوش بھی نہیں جو روز ٹھکانے بدلتے ہیں

Napasand krty hain shayri hajoom ki islye bhi bazauq…
hum Tanhai per hi likhtay hain sirf Alfaz badaltay hain…

ناپسند کرتے ہیں شاعری ہجوم کی اس لیئے بھئ با ذوق
ہم تنہائی پر ہی لکھتےہیں  صرف الفاظ بدلتے ہیں۔

by hajoom e tanhai