Salam Korea
by Vaiza Zaidi


قسط 27

صبح اسکی کافی دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ اتوار تھا گوارا تو رات آئی ہی نہیں۔کسلمندی سے اس نے کروٹ بدلی حسب معمول ہوپ اٹھ کر بیڈ سے جا چکی تھی۔
اس لڑکی کو نیند کیوں نہیں آتی۔ اس نے بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ کروٹ بدلی اور سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر دیکھنے لگی۔
ایک عدد پیغام آیا ہوا تھا۔ اس نے کھولا اور پڑھا
پھر حیرت سے اس پیغام کو دیکھتی رہی۔
انگریزی پیغام موصول ہوا تھا جس میں خوشخبری دی گئ تھی کہ اسے نوکری پر رکھ لیا گیا ہے۔منگل دوپہر اسے
ایک بڑے سے سپر اسٹور میں بلایا گیا تھا جہاں اسکو مناسب تفصیل بتا کر ملازمت کے گھنٹے پورے کرنے تھے۔۔
وہ تحیر سے دیکھتی اٹھ بیٹھئ۔ ۔ اسے یوں بیڈ پر جمے دیکھ کر باتھ روم سے نکلتی ہوپ نے ناک چڑھا کر پوچھا تھا۔
کیا ہوا؟ کسی لڑکے نے ڈیٹ کی آفر کر دی؟
دے ؟ وہ چونکی۔
ہوپ نے ناک چڑھا کر دوبارہ اپنی بات دہرائی
آنی۔
اس نے نفی میں سر ہلایا پھر موبائل اسکو دکھایا۔
یہ دیکھو مجھے جاب مل گئ۔
ہوپ نے میسج پڑھا پھر ناک چڑھا کر بولی
اسپیم میسج ہے۔ یونہی کوئی پیغام بھیجے گا جاب ملنے کا اور تم مان لو گی؟ غیر ملکی طلباء کو آف کیمپس نوکری کی اکثر اجازت نہیں ہوتی او راگر یونیورسٹی سے اجازت لے بھی لو تو نوکری کوئی دیتا نہیں ہے۔ سب ان معاملوں میں پڑنے سے گھبراتے ہیں۔
ہوپ کی طویل توجیح۔ وہ چند لمحے منہ کھولے اسکی شکل دیکھتی رہ گئ۔
کونسی یونیورسٹئ ؟ میں تو کسی یونیورسٹی کا حصہ نہیں
اریزہ نے کہا تو وہ مزید ڈرانے لگئ
پھر تو پکا اسپیم میسج ہے۔ لوگ بڑے بڑے فراڈ کرتے ہیں یوں میسج کرکے بلا کر غائب بھی کر سکتے ہیں اور۔۔

مگر یہ وہی نمبر ہے جس پر رابطہ کرکے میں انٹرویو دینے گئ تھی۔اس نے بات کاٹی اس کا جوش دھیما پڑچکا تھا۔
پھر مبارک ہو۔
ہوپ کا انداز ہنوز تھا۔ٹھس سا۔ لاتعلقی سے کہتے وہ کمرے سے نکل گئ۔
وہ دوبارہ میسج پڑھنے لگی۔پھر اکتا کر موبائل ایک۔طرف رکھتی فریش ہونے باتھ روم میں گھس گئ۔ نہا دھو کر باہر آئی تو ہوپ کچن کی میز پر بیٹھی اہتمام سے چاول اور سوپ تناول فرما رہی تھی۔
وہ اسے قصدا نظر انداز کرتی فریج کھولنے لگی۔
چاول پکے ہوئے ہیں تم کھا لو۔ میں نے ذیادہ پکا لیئے۔
خاصا غیر متوقع جملہ ہوپ کے منہ سے نکلا تھا۔ وہ باقائدہ مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ ہوپ کو اندازہ تھا جبھی نگاہ بھی نہ اٹھائی۔
سادہ ابلے چاول سادہ چکن سوپ ساتھ کمچی۔ ابلے چاول پر کمچی ڈال کر منہ میں رکھتئ اور سوپ کا چمچ منہ میں بھر لیتی۔
وہ آٹا نکال کر پراٹھا بنانے لگی۔
چاول سادہ ہیں چکن نہیں ڈالا گیا اس میں۔نا ہی سور کا گوشت ہے۔
طنز میں ڈوبی آواز اسکی پشت سے ابھری تھی۔
میں ناشتے میں چاول نہیں کھا سکتی۔ زندگی میں کبھی نہیں کھائے۔ ہمارا ناشتہ الگ ہوتا ہے باقی دن کے کھانوں کا اہتمام بالکل مختلف ۔۔
اریزہ نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی۔
ناشتہ ، کھانا نہیں ہوتا کیا؟
ہوپ حیران ہوئی تھی۔
برصغیر کے لوگوں خاص کر پاکستانیوں کیلئے تو ناشتہ اہتمام پر مشتمل الگ ہی ہوتا ہے دن کے باقی وقت کے کھانوں سے۔
اریزہ کے کہنے پر ہوپ نے کندھے اچکائے پھر خاموشی سے کھانے میں مگن ہوگئ۔
اریزہ ناشتہ بنا کر ناشتہ کرنے بیٹھی تو کافی میکر بج اٹھا۔
ہوپ ناشتہ ختم کرچکی تھی۔ سو فورا اٹھ گئ۔ کافی بنا کر ایک کپ اسکے برابر میں بھی رکھ دیا۔
اسکو اتنی حیرت ہوئی کہ نوالہ چبانا بھول گئ۔
ہوپ تھوڑی شرمندہ سی ہوئی۔
تم مجھے ہمیشہ ناشتے کیلئے دعوت دیتئ ہو سو آج میں نے سوچا احسان اتار دوں۔
کھردرا انداز وہ چاہ کر بھی بدل نہ پائی تھی۔۔ یہ ہوپ اسے حیران کرنے پر تلی تھی۔ سادہ سے گرے اپر ٹرائوزر میں ملبوس بالوں کا جوڑا سا بنائے میک اپ سے بے نیاز وہ کل کی نسبت اس وقت بالکل سادہ تھی مگر اسے اچھی لگی۔ ہر وقت کا پھولا منہ اس وقت پچکا ہوا تھا شائد اسلیئے۔
اسکو اپنی اس مثال پر خود ہی ہنسی آگئ۔ جلدی سے سر جھکا لیا۔ نوالہ پھنس پھنس گیا اسے کھانسی سی آگئ۔
یہ لو۔ ہوپ نے گلاس بھر کر پانی اسکی جانب بڑھایا۔
آج ہوپ اسے حیران کرنے پر تلی تھی۔
پانی کا گھونٹ بھرا تو منہ خراب ہوگیا۔
ایک تو یہ لڑکی سدھر ہی نہیں سکتی۔ چائے سے ذرا سا ہلکا گرم پانی تھا۔ اس نے برا سا منہ بنا کر گلاس رکھا۔ پانی سے ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
کیا ہوا ٹھنڈا ہوگیاپانی؟
ہوپ نے معصومیت سے پوچھا جوابا وہ چڑ گئ۔
کسی کو اچھو لگے تو کیا اسے کھولتا پانی پلاتے ہیں۔ جانے تمہیں مجھ سے کیا پرخاش ہے ہر وقت عاجز کرنے پر تلی رہتی ہو۔
وہ یقینا اتنی متحمل مزاج نہیں تھی جتنا کورینز کے سامنے بنی ہوئی تھی اس وقت کی حرکت نے اسے اتنا تپایا کہ اس نے ساری مروت بالائے طاق رکھ دی۔ اسکے یوں غضب ناک ہونے کی ہوپ کو توقع نہ تھئ۔وہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
بیان مگر ہم شمالی کورین تو خاص کر تیز گرم پانی پیتے ہیں۔ یہاں جنوبی کورینز بھی نیم گرم پانی پیتے ہیں ہم لوگ ٹھنڈا پانی کم ہی پیتے ہیں۔ میں نے جلدی میں اپنی بوتل سے پانی دے دیا تھا ۔۔
اس نے میز پر رکھے اپنے فلاسک نما بوتل کی جانب اشارہ کیا۔ بوتل کا ڈھکن ابھی ہٹا ہوا تھا ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
کیوں؟ ۔اسکا موڈ خراب ہوگیا تھا اب آسانی سے ٹھیک نہ ہونا تھا۔
کوئی سزا ملی ہوئی ہے کیا۔ ہمیشہ گرم پانی پیو اور جہنم کے مزے لو۔
اسکا لہجہ خراب تھا۔ہوپ نے اسکی شکل دیکھی اور جواب دیئے بنا اپنا کپ اٹھا کے چلتی بنی۔ اس نے ناک چڑھا کر محترمہ کی بے نیازی ملاحظہ کی۔
اس لڑکی کو لگتا ہے ٹھیکہ ملا ہوا ہے میرا موڈ برباد کرنے کا۔ جتنی شکل پیاری ہے اسکا آدھا پونا اخلاق بھئ اچھے ہوتے تو کیا بات تھی۔
اب اس نے بڑ بڑ ہی کرنی تھی ناشتہ کرتے ہوئے۔ نیا نوالہ منہ میں ڈالا ۔۔
ہمیشہ ٹھنڈے پانی کے فوائد سنے گرم پانی کا تو ہمیشہ سنا جہنمیوں کو پلایا جائے گا کھولتا ہوا پانی۔ ایک تو بندے کو پہلے ہی اعمال کی وجہ سے یقین نہ ہو کہ۔جنت نصیب ہوگی الٹا دنیا میں بھی جہنم کے مزے لوٹنے لگو۔ واہ۔
وہ سرجھٹک جھٹک کے ناشتہ کر رہی تھی۔
ہوپ نے لائونج میں صوفے پر دراز ہو کر ٹی وی آن کر لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو لی گروپ کے زیر انتظام سپراسٹور ہے۔
گوارا اسے پہلے دن خود اسٹور چھوڑنے آئی تھی۔
کتنا بڑا ہے نا۔اس کو اسٹور پسند آیا تھا۔گوارا اسکا ہاتھ تھامے ڈھونڈ ڈھانڈ کے اس نئے امریکی سیریل کی تشہیر کے لیئے لگائے گئے اسٹال پر لے آئی۔ وہی ادھیڑ عمر انکل کھڑے تھے ساتھ ایک دو اور بھی شائد اسکی طرح کے ملازمین تھے۔
اوکے ڈئیرفائٹنگ۔
گوارا نے مٹھی بنا کر اسے دکھایا۔
لڑوں ؟ ۔ اریزہ حیران رہ گئ۔
میرا مطلب ہے گڈ لک۔ گوارا نے سرپیٹ لیا۔
اوہ اچھا۔شکریہ۔
وہ سنبھلی۔
اچھا واپسی پر بھی اسی طرح بس میں آجانا ٹھیک اور کوئی بھی مسلہ ہو بتا دینا۔
وہ اب جانے کی تیاری میں تھی۔ اریزہ نے سر ہلا کر تسلی کرائی وہ اسکے گلے لگتی ہاتھ ہلاتی بھاگ گئ۔
وہ گہرا سانس لیکر اسٹال کے پاس چلی آئی۔
چند منٹ کی مختصرسی انکی تربیت کی گئ جس میں انکا کام صرف بچوں کو بلا کر سیریل چکھانے پر مشتمل تھا۔اس بڑے سے مال پلس مارٹ پر کئی منزلیں تھیں۔اسے اسی منزل کے اسٹال کو سونپ دیا گیا تھا۔ یہاں کئی غیر ملکی برانڈز کی دکانیں تھیں۔ ایک لڑکا اسکے ساتھ کھڑا تھا۔ جو دیکھنے میں ہی بمشکل اسکول جانے والا لگتا تھا۔
آننیانگ۔ اس نے جھک کر بڑی تمیز سے سلام کیا تھا۔
جوابا وہ بھی ہلکے سے سر جھکا کر مسکرا دی۔
پھر تمام وقت وہی لڑکا بچوں کو سیریل کھانے پر مائل کرتا رہا اور وہ سیریل کے ڈبے کھول کر دودھ میں گھول گھول کر دیتی رہی۔ چھے گھنٹے کی شفٹ اور اتنا بورنگ کام۔ جمائیاں آنے لگیں اسے تو وہ لڑکا اسکے لیئے کافی لانے کا کہہ کر اٹھ کر چلا گیا۔

چاکلیٹ ونیلا اور اسٹرابری ۔اتنی پیاری خوشبو آرہی تھی کہ دل کیا ذرا سا چکھ تو کم از کم لے۔ مگر ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رک گئ۔ ایپرن کمپنی کے لوگو والا اس نے پہن رکھا تھا اسٹال اسٹفڈ ٹوائئز اور غباروں سے سجا تھا پھر بھی بچے منہ بنا کر آتے اور کھا کر منہ بنا کر ہی چلے جاتے۔
نونا کافی۔
لڑکے نے کافی لا تھمائی۔
گومو وویو۔
وہ شکر گزار ہوئی۔
میرا تو ٹارگٹ پورا ہو گیا ہے اب میں چلتا ہوں ابھی ایک گھنٹہ ہے آپ اپنے پچیس ڈبے پورے سیل کر لیں۔ آل۔رائٹ۔۔۔۔ مجھے امید ہے 25 ڈبوں کا سیل ٹارگٹ پورا کر لیں گی آج آپ۔۔ فائٹنگ۔
وہ صرف اسی کیلئے کافی لایا تھا۔ مزے سے یہ سب کہتا مسکرا کر یقینا اسکی بے وقوفی کا مزاق اڑا رہا تھا۔
وہاٹ ؟
اسے سمجھ نہ آیا۔ یہ کیا کھیل کھیل گیا وہ۔
ہم دونوں کو پچیس پچیس سیریل کے ڈبے سیل کرنے تھے
میں نے ستائیس ڈبے بیچ دیئے ہیں میری طرف سے یہ دو سیلز آپ رکھ لیں۔ اچھا میں ذرا کلیئرنس کروا لوں۔
وہ کہہ کر رکا نہیں الٹے پیروں مینجمنٹ کے دفتر کی جانب بڑھ گیا۔
اتنے گھنٹوں سے ان بچوں کیلئے سیریل بنا بنا کر اسکے ہاتھ شل ہو گئے تھے اور یہ چپکے چپکے ان سے جانے کیا گٹ پٹ کرتا سب سیلیز اپنے نام کر گیا تھا۔ جتنی دیر میں اسے سارا معاملہ سمجھ آیا وہ رفوچکر ہو چکا تھا۔
ہمارا ٹارگٹ بھی تھا یہ مجھے پتہ کیوں نہ چلا۔
وہ روہانسی سئ ہوگئ۔
یہ سب سیلز اسکی اکیلے کی کیسے بن گئئیں وہ انہی سوچوں میں کلس رہی تھئ کہ دو تین ننھے منے چندی آنکھوں والے بچے اسکے اسٹال پر رکھے بڑے بڑے کارٹونک اسٹینڈز کے شوق میں بھاگے آئے تھے۔۔ اب اچھل اچھل کر اپنی زبان میں جانے کیا کہہ رہے تھے
اتنے معصوم گورے گورے پیارے بچے۔ اسکا دل موم سا ہوا۔ سب جھٹک کر وہ جی جان سے متوجہ ہوئی۔انکا نام پوچھا سب بٹر بٹر شکل دیکھنے لگے۔۔
کیسی تعلیم دیتے ہیں بچوں کو ایک لفظ انگریزی کا نہیں آتا۔ خیر اس عمر میں ہمیں بھئ نہیں سمجھ آتا تھا مگر نیم سن کر نام تو بتا ہی دیتے تھے۔
اسے کوریا کے تعلیمی نظام پر غصہ آیا۔ وہ چھوٹی سی پانچ چھے سال کی بچی اچھل اچھل کر کائونٹر سے سب بائول گرانے پر تلی تھئ۔ اس نے دانت کچکچاتے تحمل سے روکنے کی۔خاطر اس دو پونیوں والی گڑیا کی پونیاں پیار سے چھوئیں جس پر خاصی نفرت سے بچی نے گھورا اور ہونہہ کرتی بھاگ کھڑی ہوئی۔۔
ارے۔۔ وہ حیران ہی رہ گئ اسکے ردعمل پر۔۔ دوسرے بچے کو کائونٹر سے چمچ چاہیئے تھا۔۔
میں بنا کر آپکو چکھاتی ہوں۔۔ اریزہ نے تسلی دیتے ہوئے دودھ کا پیکٹ کھولا۔۔اور ایک۔ننھے پیالے میں سیریل گھولنے لگی۔
ایک تین چار سال کا شیطان کائونڑ پر رکھے ڈبوں کو اچھل اچھل کر ہاتھ مار رہا تھا۔۔ اریزہ نے جھلا کر اسے اسکے اپر سے پکڑ کر اٹھا کر ایک طرف کیا جوابا اس نے غصے میں نہ صرف گھورا بلکہ ریں ریں کرتا ماں کی طرف شکایت لگانے بھاگا۔۔
شکل کے جتنے پیارے ہیں اتنے ہی آفت کے پرکالہ بچے ہیں۔ کوریا کو بھی چین کی طرز پر ایک بچے کی اجازت والی پالیسی اپنانی چاہیئے۔
اریزہ نے بڑبڑانے والے انداز میں کہا پھر پھسلا کر بچوں کو چکھانے لگی۔ جتنے شوق سے ہبڑ تبڑ سب چٹ کر گئے اسے لگا یہی بچے اسکا 25 سیلز کا ٹارگٹ پورا کر دیں گے۔
بیٹا اپنی آہموجی کو بلا کر لائو ۔۔
اس نے پیار سے کہا تھا جوابا وہ آٹھ نو سالہ بچہ منہ چڑا کر بھاگ اٹھا۔
کمینہ بچہ۔۔ وہ روہانسی ہو چلی تھی۔ تین اور بچے آن کھڑے ہوئے
وہ ابھی دو سیریل کے بائول بنا کر سیدھی بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک کڑخت سی پینتیس چھتیس سال کی عورت اسی ننھے شیطان کا ہاتھ پکڑے چیختی چنگھاڑتی اس پر چڑھ دوڑی۔۔
زبان انجان مگر کف اڑاتا انداز۔۔۔
بلا بلا بلا۔۔
ایکسکیوز می۔ آئی کانٹ انڈراسٹیںڈ واٹ یو آر سیئنگ۔۔ میم پلیز کام ڈائون۔۔
اسکی منت سماجت کچھ کام نہ آئی۔۔ آنٹی کا دماغ خراب ہوا وا تھا۔۔
چند لمحے تو اس نے سنا۔مگر جب ارد گرد سے گزرتے صارفین بھی چسکے لینے کھڑے ہوئے اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔۔ انگریزی گئ بالائے طاق۔۔ اور اردو فر فر نکلی۔۔۔ ایک نہ چھوڑی دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر وہ دوبدو ہوئی
اوہ محترمہ۔۔ بہت ہوگئ۔ میں چپ ہوں تو بولے چلی جارہی ہو ۔حد ہوگئ زبان ہے یا قینچی کتر کتر چل رہی ہے۔ خود ایسی ہو جبھی بچہ بھی تمہارا بدتمیز ہے ظاہر ہے اس نے تم سے یہی سب سیکھا ہوگا۔ آنکھیں کیوں پھاڑ رہی ہو یہ بنٹوں جیسی آنکھیں باہر گر پڑیں گی اتنا کھلتی ہوتیں تمہاری آنکھیں تو بیٹے کے کان مڑورتیں مجھ پر نہ چڑھ دوڑتیں۔
آہجومہ کی آنکھوں کے ساتھ منہ بھی کھل چکا تھا۔ انجان زبان میں جانے وہ لڑکی کیا کہے جا رہی تھی۔۔ مگر جو بھی کہہ رہی تھی انداز سے لگ رہا تھا اب کہے گی کم ہاتھ ذیادہ چلائے گی۔۔
اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میرے سامنے تم بھی ایسے ہی اپنی زبان میں گٹ پٹ کیئے جا رہی تھیں۔۔اب سنو۔ نہیں سمجھ آرہی نا یہی پچھلے دس منٹ سے کہہ رہی تھی انگریزی بول لو بی بی تمہاری بکواس سمجھ نہیں آرہی مگر نہ جی۔۔ بک بک بک بک دماغ خراب کرکے رکھ دیا میرا
دے۔۔ کیا کہہ رہی ہو تم؟۔ آہجومہ کی گھن گھرج کم ہوئی۔۔ بھیڑ چھٹنے لگی۔۔ مینجرمنہ کھولے سامنے کھڑا تھا۔۔
اریزہ نے جھٹ دانتوں تلے زبان دبالی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مارکیٹنگ کا پہلا اصول ہوتا ہے کہ کسٹمر ہمیشہ صحیح ہے۔
مینجر صاحب اسے لیکچر دے رہے تھے۔
کسٹمر بھی وہ جو اگر سمجھنے سمجھانے والی عمر میں نہیں۔ بچوں کے ساتھ ہمیں بہت تحمل سے کام لینا پڑتا ہے وہ بات سمجھ نہیں سکتے ہمیں انکو بہلا کر پھسلا کر منانا پڑتا ہے۔ اگر بچے آپ سے ڈریں گے تو آپ انکو اپنی چیز کیسے بیچیں گے؟ جھلاہٹ بے زاری غصہ بچے نہیں سمجھتے۔ اور یہ وہ چیزیں ہیں جو آپ کبھی کسٹمر کو نہیں دکھا سکتے کیونکہ اس سے آپ نے پیسہ نکلوانا ہے۔ پیسہ صرف شیریں لب و لہجے اور تحمل سے ہی آپ کسی کی جیب سے نکلوا سکتے ہیں۔یوں سمجھو ہم وہ ڈاکو ہیں جو گن پوائںٹ کی بجائے مسکراہٹ سے لوگوں کو لوٹتے ہیں۔۔
کوئی حیرت نہیں آپ ایک ڈبہ بھی نہ بیچ پائیں۔
ایک تو اس ہائی اسکولر نے چونا لگایا۔ اوپر سے اتنی بے عزتی کے بعد ملنے والے اس لیکچر کی وجہ سے اسکی شکل پر دنیا جہان کی بے چارگئ چھا گئ تھی جبھی بولتے بولتے چارلس نرم پڑا
آپ ایسا کریں ابھی گھر جا کر آرام کریں۔ کوئی اچھی سی مووی دیکھیں موڈ اچھا کریں کل خوشگوار سےموڈ کے ساتھ آئیے گا۔۔
یہ اس نے رعائیت کی تھی۔ ورنہ اصولا تو کسٹمر سے بدتمیزی کے نام اسکے مینجر نے اسکو اسٹال اور لڑکی دونوں کو اسٹور سے باہر لے جانے کا حکم سنایا تھا۔ چارلس کہہ سن کر معاملہ دبا کر آیا تھا اریزہ کو یہ لیکچر اسٹور کے باہر کھڑے کھڑے دے کر رخصت کیا خود دوبارہ اسٹورمیں گھس گیا تھا آج کے دن اسےہی مغز کھپائی کرنی تھی یہاں۔۔
شکریہ۔۔ اریزہ کے منہ سے جب تک یہ لفظ نکلا وہ پلٹ چکا تھا۔۔
ہاف۔۔ اس نے آہ بھری تھی۔۔ اسٹور تو اتنا خنک نہیں تھا مگر باہر بلا کی سرد ہوا تھی۔سورج کا نام و نشان نہ تھا۔۔اکا دکا دکانیں کھلی تھیں وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھانے لگی۔۔
کوریا میں جاڑا آچکا تھا۔ ستمبر کی خنکی پاکستان کے دسمبر کے برابر چل رہی تھئ۔
سڑک پر ٹریفک معمول سے کم تھا فٹ پاتھ پر پھر ایک دو لوگ چل رہے تھے۔۔ وہ البتہ دکانوں کے آگے پختہ سروس روڈ پرمٹر گشت کر رہی تھی۔ پہلی جاب پہلا دن اور پہلی ہی بے عزتی اسے کافی محسوس ہوئی تھی۔۔
پانی کا قطرہ اسکے کندھے پر آکر گرا تو اس نے چونک کر جھاڑا۔۔ ایک لانگ کوٹ اندر ہائی نیک نیچے فلیٹ شوز اسکے باوجود سرد ہوا کپکپائے دے رہئ تھی اسے۔۔ اسے میٹرو اسٹیشن تک پیدل جانا تھا جو کم از کم بھی پچیس منٹ کی دوری پر تھا۔۔ وہ اپنے قدموں پر نگاہیں جمائے ارد گرد سے بے نیاز چلے جا رہی تھی۔۔
ایک اور قطرہ اسکے کوٹ پر آٹھہرا تو اس نے چڑ کربمشکل زرا سا سر اٹھا کر اوپر دیکھنا چاہا بادل خوب گھر گھر کر آئے تھے۔ ایکدم چھما چھم برس اٹھے وہ بھاگ کے دکانوں کے باہر شیڈ میں گھسی
۔کیا کروں۔ کسے فون کروں۔
وہ سوچ میں پڑی۔ گوارا تو سورہی ہوگی۔ ایڈون۔
اس نے جلدی سے ایڈون کو کال ملائی کال جا رہی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔
وہ بھی تو جاب پر ہوگا۔۔ اسے رونا آنے لگا۔
بارش چھما چھم برس رہی تھی اسکے بال گیلے ہونے لگے تھے۔۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا تو سامنے رہائشئ عمارت نظر آئی۔
وہ بھاگ کر اس میں گھس گئ۔ گلاس ڈور سختی سے بند تھا تاہم اسے تھوڑا سا شیڈ مل گیا۔۔
کوئی ہے۔۔ اس نے کھٹکانا چاہا۔ برف ہوئے ہاتھ زور بھی نہ لگا سکے۔ اسکی سانس پھولنے لگی۔۔
تبھئ بڑے زور سے بجلی کڑکی تھی۔ اور وہ وہیں دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئ۔
سب ٹھیک ہے۔مجھے ڈر نہیں لگ رہا۔ بارش بالکل ڈرائونی نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھتری کے باوجود بارش نے اسے گیلا کردیا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنی رہائشی عمارت کی جانب بڑھا۔ گلاس ڈور کے ساتھ یقینا کوئی ہوم لیس شیڈ بیٹھا تھا بارش سے بچنے کیلئے۔ وہ دھیان دیئے بنا کوڈ دبا کر دروازہ کھولنے لگا اندر آکر دروازہ بند کیا تو عجیب سا احساس ہوااس نے مڑ شیشے کے پار دیکھا۔ کندھوں پر بکھرے بالوں سے اندازہ ہوتا تھا لڑکی ہے۔ کسی بے گھر کے حساب سے اچھے لباس میں ملبوس تھی۔ اکڑوں بیٹھی ہل ہل کر کچھ بڑ بڑا بھی رہی تھی۔ اس نے سوچا مڑ کر چلا جائے مڑ بھی گیا تھا مگر تبھی زور سے بجلی کڑکنے پر اس لڑکی نے جیسے ڈر کر زور زور سے بولنا اور ہلنا شروع کر دیا تھا۔ وہ نظر انداز کر نہ سکا۔
چھوگیو۔ وہ چھتری دروازے کے پاس اسٹینڈ میں ٹکاتا اسکے پاس چلا آیا۔ قریب آکر نرم سی آواز میں اسے متوجہ کرنا چاہا۔
نامانوس سی آواز اس نے چونک کر سامنے دیکھا۔۔ چندی آنکھوں والا اجنبی مگر مانوس دکھائی دیتا چہرہ۔
ارے آپ۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔
یہ کون ہے اجنبی ۔ ۔۔ نہیں اجنبی نہیں۔۔ کہاں دیکھا ہے اسے۔۔
اس کی آنکھیں اصل حجم سے دگنی ہو چلی تھیں۔۔چندی آنکھوں والے نے خاصی دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا کہاں اس ملک میں حیرت کے اظہار کے طور پر بھی آنکھیں کھل نہیں پاتیں تو کہاں یہ لڑکی اپنی موٹی موٹی آنکھیں پھاڑ کر پانڈا بن چلی تھی۔۔۔۔
وہ سٹپٹا کر جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئئ۔
سامنے تڑاتڑ برستی بارش تھی۔ اور یہ۔
آریزہ۔۔ رائٹ آپ اریزہ ہو نا؟
علی نے پہچان لیا تھا۔ اب خود بھی اٹھ کر اسکے مقابل آن کھڑا ہوا۔
پرسوں ہی آپ سے ملاقات ہوئی تھی غالبا آپ نے پہچانا نہیں مجھے۔
اسے حیرت تھئ۔ اسکی شخصیت اتنی غیر متاثر کن تو نہ تھی کہ کوئی لڑکی اس سے پہلی ملاقات میں اچھا تعارف حاصل کرنے کے بعد یوں بھول جائے۔
کین چھنا۔ آئیے اندر آجائیں۔یہ سامنے میرا فلیٹ ہے۔
اسکی آنکھوں میں شناسائی کی رمق آہی گئ تھی مگر وہ متذبذب تھی۔۔۔
ہتھیلیاں مسل کر برستی بارش کو یوں دیکھنے لگی جیسے گزارش کر رہی ہو کہ رک جائو مہربانی ہوگی۔
علی مسکرا دیا۔
موسم انسانوں کی گزارش پر بدلا نہیں کرتے۔
اسکی بات پر اریزہ نے ترچھی سی نگاہ ڈالی اس پر۔
دو گھنٹے بعد رکے گی بارش۔۔۔۔
اس نے جتایا۔ اریزہ گہری سانس لیکر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی میز پر بیٹھا وہ مکمل طور پر مگن تھا تحفہ پیک کرنے میں۔ تحفہ اچھی طرح پیک کرنے کے بعد اس نے دل لگا کر کارڈ لکھا تھا۔ کارڈ کو اس پر چپکایا۔۔۔ بکے اسے راستے سے لینا تھا مگر اس سے قبل۔۔ وہ سوچ میں پڑا کیا چیز رہ گئ۔
نونا نے پیچھے سے اچانک آکر تحفہ اٹھا لیا۔ ہایون نے سٹپٹا کر انکو دیکھا پھر انکی پھرتی کے آگے ہار مان کر صبر سے انکے ردعمل کا انتظار کرنے لگا۔ وہ دل میں ہی پڑھ رہی تھیں مگر چہرے پر پھیلی حیرت اسکو مسکرانے پر مجبور کر گئ۔ نونا بھی نا ٹھیک ٹھاک شرمندہ کرادیتی ہیں کبھی کبھی۔ وہ نچلا لب دانتوں سے دبائےسوچ رہا تھا۔
یہ دن یقینا معجزاتی تھا کیونکہ اس دن ایک پری نے دنیا میں آنکھ کھولی۔
کیا تم جانتی ہو تمہارا ہونا بھی کسی کو خوش کردیتا ہے دوست اور تمہارا خوش ہونا تو خوشی کی انتہائین محسوس کرا دیتا ہے کسی کو۔۔۔۔ اور وہ کسی میں ہوں۔
میری جانب سے سالگرہ مبارک ہو
اریزہ۔۔
وہ نام پڑھ کر واضح طو رپر چونکی تھیں۔
یہ؟
وہ جوابا کھل کر مسکرا دیا۔
تم جس لڑکی کو پسند کرنے لگے ہو وہ اریزہ ہے؟
وہ شدید حیران تھیں۔
دے۔ اس نے اعتراف کر لیا تھا۔
مگر مجھے تو لگا تم یو آنہ۔سے میرا مطلب ہے ہوپ کیلئے تم اتنی محنت کر رہے تھے اور۔۔
وہ حیرت کے مارے جیسے گنگ سئ ہوگئ تھیں۔
ہوپ؟ نہیں نونا میں بس اسکی مدد کرناچاہ رہا تھا۔ میں نے اسکو اس نگاہ سے نہیں دیکھا۔
ہایون کا انداز قطعی تھا
مگر وہ جو نازک سی لڑکی جسکا سہارا بننے کو دل کرے والا آئیڈیلزم تھا تمہارا وہ تو ہوپ۔۔
ہا ہا ہا۔ ہایون زور سے ہنسا۔۔
آئیڈیلزم ۔۔ کیا یاد کرادیا۔ تب میں ایسا ہی سوچتا تھا۔ تب مجھے نہیں معلوم تھا کہ محبت انسان سے ہوتی اسکی شخصیت سے نہیں۔ ہوپ بہت مضبوط شخصیت کی مالک لڑکی ہے اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔
اور اریزہ ؟ مجھے تو وہ بھی کافی بااعتماد لڑکی لگی تھی۔
نونا الجھن ذدہ ہوئیں۔
اریزہ۔ وہ سوچ میں پڑا۔ اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
یہ وہ انڈین لڑکی ہے نا جس نے مجھے اسکارف دیا تھا
گنگشن کو یاد آیا۔
پاکستانئ ۔ ہیونگ سک نے تصحیح کی۔۔
اسے انڈین کہو تو برا مان جاتی ہے۔۔
پھر پرپوز کیا اسے؟ گنگشن کے پوچھنے پر وہ منہ لٹکا کر بولا
ابھی تو نہیں۔ مجھے جاننا ہے وہ بھی کیا میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہے کہ نہیں۔۔
ہاف۔۔ گنگشن نے سر تھام لیا۔۔
اچھا نونا آپ کے بریو ہارٹس کب پرفارم کر رہے میں نے کب سے بکنگ کروائی ہوئی ہے آپ سے ستمبر آ تو گیا ہے

ستمبر والا سیشن تو ٹل چکا اب اگلے مہینے ہی ہوگا جو بھی ہوگا۔ فنکشن ساتھ تمہاری اسپیشل میٹنگ ہوگی جب ہماری آرگنائزیشن کے ساتھ انکا ڈنر ہوگا تو تمہارا پاس بنوا دوں گی تم بنفس نفیس مل لینا ان سے۔۔
دو پاس ۔۔ ہیون نے یاد دلایا۔
ڈن۔۔ گنگشن مسکرائی ۔۔
ہایون گفٹ اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
وہ نک سک سے تیار تھا انکی لائی وہی والی شرٹ پہنے جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا اپنی پہلی ڈیٹ پر پہننا۔۔

یوآنہ واقعی بہت بد قسمت ہو تم۔۔
گنگشن نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے موبائل کی چارجنگ ختم تھی وہ اپنا چارجر اندر سے لے آیا تھا۔ وہ وہیں لابی میں کھڑی اسکا انتظار کرتی رہی ۔
ہایون کا نمبر ہے ویسے میرے پاس۔
اس نے پیشکش کی۔
نہیں میں ٹیکسی بلوا کر چلی جائوں گی۔
اس نے سہولت سے انکار کیا تھا۔ موبائل کو قریبی کائونٹر پر چارجنگ پر لگا کر موبائل آن کرنے لگی۔
موبائل چند لمحوں بعد ہی آن ہو گیا تھا۔
لابی کے ایک کونے میں ملاقاتیوں کیلئے صوفے رکھے تھے۔
یہاں موسم خاصا خنک تھا۔
یہ بالکل سامنے میرا فلیٹ ہے آپ چاہیں تو اندر چلیں یہاں موسم کافی سرد ہے۔
خود وہ اندر سے کپڑے بدل آیا تھا۔ اپر پہنے اسے ٹھنڈ سی لگ رہی تھی۔ اور وہ لڑکی۔ بارش سے بال تھوڑے گیلے ہو چکے تھے
وہ تیسری دفعہ کہہ رہا تھا مگر وہ اندر آنے کو تیار نہ تھی۔
نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔ اس نے سہولت سے منع کردیا ۔۔
ایپ فوری طور پر کھول کر وہ رائڈ ڈالنے لگی کہ خیال آیا۔
کس علاقے میں کس عمارت کا پتہ ڈالے؟ ۔
اس نے بلا ارادہ اپنے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی کا ناخن دانتوں تلے کچل دیا۔
گوارا سے پوچھتی ہوں۔ اس نے فورا گوارا کو کال ملائی ۔
پہلے کورین میں پھر انگریزی میں آپریٹر بولی
آپکا ملایا ہوا نمبر دوسری لائن پر مصروف ہے۔
علی کے دانت بجنے لگے تھے۔ اپنے دونوں بازو سینے پر لپیٹے اس نے ذرا سا سکڑ کر جسم گرم کرنا چاہا۔
گوارا کے بعد اگلا نام ہایون ہی آیا تھا اسکے ذہن میں۔ جھٹ اسے فون ملا دیا۔ دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا تھا۔
اسلام و علیکم۔
خوشگوار انداز اور اس نے جواب بھی نہ دیا سوال کر ڈالا۔
وہ مجھے گوارا کے فلیٹ کی لوکشن بتا دو میں نے ٹیکسی منگوانی ہے۔
کہاں ہو ؟
میں ؟ وہ مڑ کر علی کودیکھنے لگی۔
وہ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑ کر گرم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سرخ ناک سرخ ہوتے گال۔
اسے اسکی شکل دیکھ کر ترس ہی آگیا۔
بے چارہ مروت میں کھڑا ہے باہر لابی میں۔ ویسے کیوں کھڑا ہے۔ چارجر دے کر چلا جاتا اندر۔ میں جاتے وقت دے جاتی اسکا سونے کا چارجر

اسے اسکی مروت پر ہنسی ہی آگئ۔ ایک چارجر کے پیچھے کھڑا ٹھٹھر رہا ہے۔
اسی وقت علی کی اس پر نظر پڑی اس نے فورا مسکراہٹ دبا لی۔
وہ ہایون پوچھ رہا ہے یہ کونسی جگہ ہے۔
اریزہ کے کہنے پر وہ دیکھ کر ہی رہ گیا۔
حد ہےسردی میں یہاں جمتے ہوئے موبائل چارج کر سکتی ہے میرے موبائل سے ہایون کو کال کر لیتی۔
اس نے دانت پیستے قریب آکر فون لیا اسکے ہاتھ سے۔
ہایون کو بتا کر اس نے فون بند کر دیا تھا۔۔
یہ کیا آپ نے فون بند کردیا مجھے رائڈ بک کرنی تھی وہ لوکیشن پوچھ رہا تھا بس۔
وہ جھنجھلائی
ہایون کہہ رہا ہے وہ آرہا ہے آپکو لینے۔
ہایو ۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئ۔ اب ظاہر ہے اسے آنے سے روکا نہیں جا سکتا تھا۔
آپ کا شکریہ کافی زحمت ہوئی آپکو۔ آپ جاسکتے ہیں میں ہایون کا یہیں انتظار کرلوں گئ۔
اس نے دور پڑے صوفوں پر نگاہ کی۔ اتنی دیر سے چوکنا کھڑی تھی۔ بیٹھنے کا خیال تک نہ آیا اس وقت تو تھکن کے مارے برا حال تھا۔
ٹھیک ہے۔ علی کی برداشت بھی تمام ہو رہی تھی۔ پھر بھی مسکرا کر الوداعی انداز میں سر جھکاکر کرم کہتا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
اریزہ نے چند لمحے متزبزب سے انداز میں اسکو جاتے دیکھا پھر جب برداشت ختم ہوتی محسوس ہوئی تو آواز دے ڈالی۔
ایکسکیوز می۔
وہ فورا رکا تھا اور پلٹ کر دیکھنے لگا۔
وہ کیا میں آپکا بیت الخلا استعمال کر سکتی ہوں۔
اس نے کافی جھجک کر پوچھا تھا۔
ہایون کچھ ہی دیر میں آنے والا تھا یہاں یقینا اب وہ اس کے فلیٹ میں جا سکتی تھی۔ احتیاطی تدابیر مکمل تھیں۔
اس نے بمشکل اپنی در آنے والی مسکراہٹ روکی۔
جی ضرور۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے چھما چھم برس کر سب واپسی کے راستے مسدود کردینے والی بارش ایکدم ہی رک بھی گئ تھی۔ اسکی نوکری کا پہلا دن ہی یادگار بن چکا تھا۔ ہایون اسے جب تک لینے پہنچا تھا تب تک آٹھ بج چکے تھے۔ صبح گیارہ بجے ناشتہ کیا تھا۔ دوپہر سے نوکری شروع تھی۔ اب گیارہ بج چکے تھے۔ اس وقت آنتیں الٹ پلٹ چکی تھیں۔ بھوک سے برا حال تھا۔ مگر کیا ہو سکتا تھا۔ صبر سے چپ کرکے بیٹھی رہی
اس نے دوسری تیسری دفعہ موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔تو ہایون سے اسکی بے چینی چھپی نہ رہ سکی۔
کین چھنا۔۔۔۔
ہایون نے پوچھا تو وہ فورا نفی میں سر ہلاگئ۔
نہیں کچھ نہیں۔
سیول کے راستوں کی خبر تو نہ تھی اسے۔ پھر بھی اتنا اندازہ ہو رہا تھا کہ آج گوارا کے گھر کا راستہ کافی دور ہو گیا تھا۔یا اسے لگ رہا تھا۔
جیسے ہی عمارت کے باہر اس نے گاڑی روکی وہ فورا اتری تھی۔
اریزہ۔ اسے پھرتی سے اندر جاتے دیکھ کر اس نے آواز لگائی۔
وہ بنا بولے مڑ کر دیکھنے لگی۔ انداز ایسا تھا کہ بولو پھر میں جائوں۔
وہ گاڑی سے اتر کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولنے لگا۔
اندر سے ایک چھوٹا سا بکے اور تحفہ نکال کر اسکے پاس چلا آیا۔
سالگرہ مبارک ہو اریزہ۔ جیو ہزارو سال ہر سال کے دن ہوں ہزار۔
نا مانوس لہجے میں اٹک اٹک کر اس نے سچ مچ یہی کہا تھا۔ وہ تحیر سے اسے دیکھتی رہ گئ۔
اتنا حیرت سے کہ وہ سٹپٹا ساگیا۔
کیا ہوا غلط بول گیا معاف کرنا۔وہ یہ میں نے گوگل سے ڈھونڈ کے جنگل یاد کیا تھا گوگل کے مطابق سالگرہ پر برصغیر کے لوگ یہی گانا گاتے ہیں۔
وہ صفائئ دینے والے انداز میں بولا۔
اریزہ نے بکے اور تحفہ تھامنے کیلئے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔
ابھی پانچ منٹ ہیں بارہ بجنے میں مگر میں چاہتا تھا آج کے دن کی وش سب سے پہلے میں کروں تمہیں۔ تمہارے سب دوستوں سے پہلے۔
اسکا ردعمل اسکے کیلئے بالکل غیر متوقع تھا۔ سب جملے سب باتیں جو اس نے سوچیں تھیں اور سوچا تھا اس تحفے کے ساتھ ہی اسے پرپوز کر دے گا سب کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ بالکل ساکت سی کھڑی ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی۔
اریزہ۔
وہ سب کہہ سن کے چپ ہو چکا تھا تو پکار بیٹھا۔
ہوں۔ وہ چونکی۔
چھوٹا سا بکے اور ایک درمیانے سائز کا تحفے کا باکس لیئے۔وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
اسکی آنکھیں بھر آئیں۔
ہونٹ بھینچ کر اس نے امڈنے والے آنسوئوں کو روکنا چاہا۔
شکریہ۔ اس نے کوریائی انداز میں ذرا سا جھک کر اس سے بکے اور تحفہ تھاما۔
آر یو آل رائٹ۔
اسکی ہمیشہ تازہ دم رہنے والی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔ خاصی تشویش سے اس نے پوچھا۔
دے۔۔ وہ قصدا مسکرائی۔
گھمسامنیدہ۔۔( شکریہ) گھپشیدہ (چلو ساتھ چلیں )

اتنے دنوں میں الوداعی کلمات تو وہ سیکھ چکی تھی مگر استعمال کم ہی کرتی تھئ۔ اس وقت کہہ کر فورا مڑ گئ تھی۔
ہایون نے اسے روکنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ضرور مگر پھر واپس کھینچ لیا۔
چھوگیو۔
اس نے دھیرے سے کہا تھا جو وہ یقینا سن بھی نہیں پائی تھی۔
تم نے کہا ہے میرے ساتھ چلو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تو دونوں شائد سو چکی تھیں۔سب بتیاں بجھا کے۔
وہ وہیں لائونج میں بتی جلا کے بیٹھ گئ۔
گلابوں او رنجانے کونسے ہلکے پیلے رنگ کے پھولوں سے سجا وہ سادہ مگر بے حد خوبصورت گلدستہ تھا۔اسے ہر لڑکی کی طرح پھول بے حد بھاتے تھے۔اس وقت بھی یہ بکے دل چھو گیا تھا اسکا۔ اس نے کارڈ اٹھایا۔ چیری بلاسم کے درخت کے نیچے روائتی کورین لباس میں ملبوس وہ لڑکی کوئی روائتی ساز بجا رہی تھی۔ اور دھیرے سے ہوا چلنے پر اس پر چیری بلاسم کی برسات ہوگئ تھی۔ ڈوبتے سورج کا منظر دریا کنارہ۔ اور اس پر لکھی کورین تحریر۔جو یقینا اسکی سمجھ سے بالاتر تھئ۔
اس نے کارڈ کھولا اندر نہایت خوبصورت لکھائی میں انگریزی متن تحریر تھا۔
پری۔ اسے ہنسئ آگئ۔
بچے ایسے کارڈ لکھتے ۔ ایک توکورینز کو انگریزی بھی تو نہیں آتئ۔ گوگل کیا ہوگا ہایون نے۔
اس نے اندازہ لگایا۔ پھر احتیاط سے تحفہ کھولنے لگی۔ ایک نہایت قیمتی دکھائی دینے والے ڈبے میں کوئی غیر ملکی پرفیوم تھا۔
اس نے فورا اپنی کلائی پر چھڑکا۔
نفیس سی خوشبو۔ اسے معطر کر گئ۔
اسے یہ تحفہ بے حد پسند آیا تھا فورا اس نے خود پر چھڑک لیا۔
پسند اچھی ہے ہایون کی۔ اسے اتفاق ہوا۔
تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔
صارم تھا۔
اسکے فون اٹھاتے ہی گنگنانے والے انداز میں بولا۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر اریزہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔
جیو ہزارو سال ہر سال کے دن ہوں بس تین سو پینسٹھ بھئی۔ اب ہزارو سال کیوں کہوں ہم سب مر جائیں تم اکیلے جی کر کیاکروگئ۔
وہ مخصوص مسخرے پن سے بولا وہ ہنس دی۔
واقعی یہ گانا گوگل پر سب سے ذیادہ مشہور ہے کیا؟
شکریہ۔ تم بھئ جیتے رہو خوش رہو۔
مختصر جواب دیا گیا۔۔
ہیں خیریت؟ اتنئ تمیز سے مبارکباد وصول کی شکریہ بولا آج سورج کہاں سے نکلا ہے دیکھو باہر کھڑکی میں جھانک کر۔
اسکا مسخرا پن جاری تھا وہ منہ بنا کر بولی۔
کوریائی وقت کے حساب سے رات بارہ بجے کا اندازہ لگاکر وش کرنے تک کا دماغ چلایا تو کیا دماغ بس اتنا چل کر بند ہوگیا تھا ؟ رات بارہ بجے کوریا میں بھی سورج نہیں نکلا ہوتا ہے۔
ہاں یہ لڑکی اریزہ ہی ہے۔ یقین آگیا ۔ کل بھئ مشرق سے ہی سورج نکلے گا میں وہی حیران اتنی عزت سے بات کر رہی ہے اریزہ ہی ہے یا نہیں۔
صارم اسکا موڈ اچھا کرنے کو خاص طور پر اسکی سالگرہ والے دن ضرور سب سے ذیادہ مسخرا پن دکھاتا تھا اسے۔
ویسے سب سے پہلے وش کیا نا میں نے؟ ریمائنڈر لگا رکھا تھا۔ اب ظاہر ہے اتنی اہم تو ہو نہیں جو یاد رکھے تمہیں کوئی۔۔۔۔
وہ نان اسٹاپ بول رہا تھا۔
اور تمہاری وہ فارغ سہیلی سے پہلے وش کیا نا؟ پچھلی بار تو ایک گھنٹہ باتیں کرتی رہی تھی تم سے فون پر میں جاگ جاگ کے تھک گیا تھا۔
اس نے دزدیدہ نگاہوں سے بکے اور تحفے کو دیکھا۔ اسکی زندگی میں اچھا تکون تھا۔ اسکو سالگرہ پر مبارکباد دینے والے بس دو ہی لوگ رہتے تھے ہمیشہ۔ پہلے سنتھیا اور صارم اور اب ہایون اور صارم۔ سنتھیا نے تو شائد بھلا ہی دیا تھا اسے۔
ہیلو ؟ اسکی مسلسل خاموشی سے تنگ آکر بولا۔
تم گھر پر نہیں ہو کیا ؟
اس نے بات بدل دی۔
ہاں یہاں دیگوں والے کے پاس آیا ہوا ہوں کل کے لیئے ۔۔
روانی میں بولتے بولتے وہ دانتوں تلے زبان دبا گیا۔
دیگوں کا آرڈر دینے۔
اریزہ نے جملہ یوں مکمل کیا جیسے پوچھ رہی ہو۔
ہاں۔ صارم نے گہری سانس لی۔ کئی آنسو اریزہ کے چہرے پر آن پھیلے۔
اب اداس مت ہو جانا تم۔ تمہاری سالگرہ کا دن پہلے ہے۔ اور ہر انسان کو اپنی سالگرہ پر خوش ہونے کا پورا حق ہوتا ہے بلکہ میرے حساب سے تو فرض ہے اپنی سالگرہ والے دن خوش ہونا۔۔ کل کیلئے اچھا سا پلان بنائو دوستوں کے ساتھ گھومو پھرو خوش رہنا۔ اور میری طرف سے اپنی پسند کا اچھا سا تحفہ لے لینا سن رہی ہو نا۔۔
ہوں۔ اسکی آنکھیں رواں ہو چکی تھیں۔ مگر وہ صارم کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اچھی بات ہے پورے پانچ روپے بھیجے ہیں میں نے۔
صارم نے چڑایا۔ کوئی پہچھے سے آکر اس سے شائد کچھ پوچھنے لگا تھا اس نے اجازت چاہی
اوکے میں کل بات کرتا ہوں پھر اپنا خیال رکھنا سدا خوش رہو خدا حافظ۔ ۔۔
خدا حافظ۔
اسکی آواز صارم تک پہنچ بھئ نہ پائی تھی۔ اس نے موبائل ایک طرف رکھا پھر چہرہ ہتھیلیوں سے صاف کرتی اٹھ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہجومہ ۔۔ وہ ننھا سا چھے سات سال کا بچہ اسکا دامن کھینچ رہا تھا۔۔
اتنا پیارا بچہ تھا وہ اسٹول پر بیٹھی اسکو کافی پیار سے دیکھ رہی تھی بچہ بھی ترنگ میں آکر جانے کیا کیا اسے بتا رہا تھا وہ بس سر ہلا رہی تھی۔ بچہ اسے اپنی شرٹ پکڑ کر جانے کیا بولا۔ وہ بس مسکرا دی بچہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
کیوٹ۔ اس نے اسکے بھرے بھرے گول گالوں پر چٹکی بھری
ہنستے ہنستے بچہ سنجیدہ ہوا پھر اس کو جانے کیا اشاروں اور ہنگل میں بتانے لگا
دے؟۔ وہ اسکی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔
کھلا تو دیا تھا اسے پورا پیالہ سیریل کا کھا گیا تھا۔ ماں کوئی دس منٹ پہلے اسے ڈھوںڈتی آئی اسے باقائدہ منہ میں چمچ دے نوالے دیتے دیکھ کر اسکو جھک جھک کر سلام کرتی بھاگ گئ۔ یقینا اسے اب اطمینان سے شاپنگ نصیب تھی۔
مگر اریزہ کا اطمینان رخصت ہوچکا تھا۔ بچے کھانے آتو رہے تھے سیریل مگر ماں کو کھینچ کر خریدوانے ایک۔بھی نہیں آیا تھا۔۔ پچیس دور پانچ پیک بھی نہ بکے تھے۔۔
اب عجیب سی زبان میں بچہ جانے کیا کہے جا رہا تھا
اس نے پینٹ کی جانب اشارہ کیا تو اسے کچھ اندازہ ہوا
آندے۔۔ اس نے جھٹ اسے روکنا چاہا چندی آنکھوں والا گورا چٹا بچہ منہ بسورنےگا۔۔
ٹوائلٹ۔ ٹوائلٹ گو ٹو ٹوائلٹ
اس بچے کو اسکی بات سمجھ نہ آئی بھاں بھاں کر کے رونے لگا اسکا گرےلانگ ٹاپ کا دامن کھینچ کر بولتا
آہجومہ۔۔اور ریں ریں شروع
کہاں رہ گئ تمہاری ماں۔۔ اس نے بے بسی سے سوچتے ہوئے اسٹول سے اٹھ کر اچک اچک کر پنجوں کے بل اسٹور پر نگاہ دوڑائی اتنا بڑا اسٹور تھا اوپر سے سب کی کم و بیش ایک جیسی شکل ۔ تبھی اس کو ایک مانوس چہرہ نظر آیا۔۔
اگلا بھی اسٹور میں شائد اسی کو تلاش رہا تھا اسے دیکھ کر اسکی چندی آنکھیں چمکیں اور وہ سیدھا اسکی جانب بڑھتا آیا۔۔
آننیانگ ۔۔ ہیون نے قریب آکر پرجوش انداز میں سلام کیا۔
آنناینگ۔۔ شکر ہے خدا کا تم آگئے دیکھو یہ بچہ جانے کیا کہہ رہا ہے۔۔
اریزہ اسکے رونے پر روہانسی ہوچلی تھی۔۔ اب تو آس پاس سے گزرتے لوگ متوجہ ہونے لگے تھے
کیا ہوا ننھے ساتھئ۔۔ ہیون نے اکڑوں بیٹھ کر اس سے پوچھا جوابا بچہ جو اریزہ کی ٹانگوں سے چمٹا ہوا تھا اسے بتانے لگا اپنا مسلئہ اور ساتھ ہی مسلئے کا حل بھی نکال لیا۔۔
بچہ اپنے کپڑے گیلے کر نے لگا تھا۔۔ اریزہ نے احساس ہوتے ہی اسے خود سے جھٹ دور کرنا چاہا مگر وہ چمٹا ہوا تھا اس سے اپنے کارنامے سے اریزہ کے جوتے اور پینٹ کے پانچے بھی خراب کر دہئے۔
آہش۔۔ اس نے جھلا کر اسے دور کیا۔۔
ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ ابھئ تو اتنا پیار کر رہی تھی اب اچانک۔۔
میرے خدایا۔۔ سارے کپڑے ناپاک کر دیئے اوپر سے یہ جوتے واحد لانگ شوز تھے میرے پاس۔۔ا
سکے لانگ شوزبھی بمشکل ٹخنے تک کے تھے۔
جھلا کر مٹھیاں بھینچتے تنتنا کر چیخی تھی۔۔ بچہ سہم کر جا کر ہیون سےلپٹ گیا۔۔
اب اس سے تو نہ لپٹو۔۔
اسکی آنکھیں ابل آئی تھیں۔
کین چھنا۔۔ ہیون نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگا لیا۔
بچہ سہم کر رونا بھی بھول۔گیا۔۔
اسکے کپڑے گیلے ہیں ہیون۔۔
اریزہ نے اسے انگریزی میں بتانا چاہا۔۔
ہیون اسکو گھن کھاتے دیکھ کر بچے کو اٹھا کر اس سے ہنگل میں ماں کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔ بچے نے اشارے سے دور کھڑی کائونٹر پر بل بنواتی عورت کا بتایا تو وہ اریزہ کو انتظار کرو کہہ کر آگے بڑھ گیا۔۔
اتنا بڑا بچہ ہو کے بھی کہیں بھی۔۔ اوپر سے ہیون نے گود میں اٹھا لیا یاک۔۔
اس نے جھر جھری سی لی۔۔ کائونٹر کے پاس ٹھیک ٹھاک پانی کھڑا ہو گیا تھا وہ چند لمحے بے بسی سی دیکھتی رہی ڈیوٹی ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔۔
میں ایک گھنٹہ ایسے کھڑی نہیں رہ سکتی۔
اس نے سوچ کر فیصلہ لیا اور اسٹال سمیٹنے لگی۔۔
تبھی ایک آہجومہ بڑا سا پوچھا لیکر صفائی کرنے آگئ۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو محترمہ نے اسے ایک۔جانب ہونے کو کہا اور پوچھا پھیر کر پانی پوچھے سے سوتھ دیا۔۔
پانی نہیں استعمال کریں گی آپ۔۔؟
اریزہ کو آج شائد سارے ہی کلچرل شاک ( ثقافتی دھچکے)لگنے تھے
دے؟۔ انمحترمہ کو انگریزی بھی نہیں آتی تھی آنکھیں اور منہ کھول کر دیکھ رہی تھیں
صاف کر تو دیا ہے تم اپنے جوتے اتارکر یہ جوتے پہن لو۔
اگر اتنی الجھن ہو رہی ہے ویسے۔ واٹر پروف ہوتے ہیں یہ جوتے۔۔
ہیون اسکیلئے اسٹور سے سلیپر اٹھا لایا تھا اب مسکرا کر کہہ رہا تھا
وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوکری تو نوکری ہوتی ہے۔ پیر پٹخ کر ایک گھنٹہ ایسے کھڑے نہ رہنے کا ارادہ کر کے بھی وہ ڈیوٹی پوری کر کے باہر نکلی تھی۔
سلیپرز شاپر میں ڈال کر وہ انہی شوز میں ہی ہیون کے ساتھ باہر نکلی۔تھی وہ مطمئن سے انداز میں اسکے ساتھ چل رہا تھا جبکہ اسے اس کے کپڑوں سے بھی کراہیت آنے لگی تھی۔۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے سردی بڑھتی جا رہی تھی
تم نے کھانا نہیں کھایا ہے نا چلو میں آج تمہیں ایک انڈین ریستوران میں لے چلتا ہوں۔۔
اسکا موڈ خوشگوار تھا۔۔
آندے میں گھر جائوں گی ۔۔
اس نے بے ساختہ انکار کیا تھا۔
کھانا تو کھا لو۔۔ ہیون اسکے انداز پر حیران ہوا
نہیں مجھ سے کھایا نہیں جائے گا میں پہلے نہائوں گی پھر کچھ اور کروں گی۔ تمہیں بھی نہانا چاہیئے گھر جا کر ۔۔ اس بچے نے سو سو کی تھی اپنی پینٹ میں جسے تم نے مزے سے گود میں اٹھا لیا تھا۔۔
اس نے صاف کہا تو ہیون حیران سا رہ گیا
تو کیا ہوا۔ قدرت کا نظام ہے سب سو سو کرتے ہیں وہ تو بچہ تھا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے وہ بچے سے کچھ گندا جانور بن گیا تھا اپنی پینٹ میں سو سو کر کے۔۔
ہیون کو اسکے انداز پر ناگواری سی محسوس ہوئی تھی
یہ بات نہیں ہے۔اریزہ نے صفائی پیش کرنی چاہی جسے اس نے ناگواری سے کاٹ دیا
ایسی ہی بات ہے تم اس بچے کے سو سو کر دینے پر چراغ پا ہو گئی تھیں اسے اتنی سختی سے خود سے دور کردیا تھا کہ وہ سہم گیا تھا کیا ہوا اگر اس نے کپڑے گیلے کر دیئے بچپن میں ایسا ہو جاتا ہے تم سے بھی ہو ہوگا کبھی۔۔
ہیون کو اپنی آئیڈیل لڑکی کا ایسا بے رحمانہ انداز برا لگا تھا بلکہ دکھی بھی کر گیا تھا
مگر سو سو گندی چیز ہے اپنے کپڑے گندگی سے خراب کر لیئے تھے اس نے میرے بھی کپڑے خراب کر دیئے ہیں اور تمہارے بھی۔ خود بھی تو وہ کپڑے بدلے گا نا ہمیں بھی بدلنے چاہیئے۔۔
اب نجس کا انگریزی میں کیا ترجمہ ہوتا اسکی لغت ہار گئ تھی پھر بھی اس نے اپنا ماضی الضمیر سمجھانے کی پوری کوشش کی۔
ہیون ہونٹ بھینچ کر دوسری جانب دیکھنے لگا تھا
اریزہ کو اسکا انداز کافی محسوس ہوا۔ اتنے عرصے میں پہلی۔بار ہیون کی پیشانی پر ناگواری کی ایک شکن آئی تھی۔
اچھا میں چلتی ہوں۔ وہ آہستہ سے کہہ کر بس اسٹیشن کی جانب رخ موڑ گئ تبھی بے ساختہ ہیون نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
میرے ساتھ چلو میں ڈراپ کر دوں گا۔۔
اسکے متوجہ ہوتے ہی لمحہ بھر میں اس نے ہاتھ چھوڑ بھی دیا تھا
اریزہ نے کچھ کہنا چاہا پر ہونٹ بھینچ گئ۔۔ ہیون کہہ کر رکا بھی نہیں تھا گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے بلڈنگ کے باہر ڈراپ کر کے چلا جائے گا مگر وہ جب اسکے ساتھ لفٹ میں آیا تو وہ سوالیہ۔نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
گوارا نے کہا ہے اوپر آئو۔
اس نے جیسے صفائی دی۔ وہ شرمندہ سی ہوگئ۔ ظاہر ہے گوارا کا تو وہ دوست تھا۔اگریہاں اسے چھوڑنے آیا ہے تو اس نے یقینا بلایا ہوگا اوپر۔ ہایون مکمل موبایل میں مگن تھا۔ وہ بھی لاتعلق سی کھڑی رہئ ۔۔ منزل آگئی تھی۔ اسے اپنے آپ سے بھی کراہیت آرہی تھی جبکہ ہایون بالکل مطمئن نظر آتا تھا۔ وہ الجھن بھرے انداز سے اسکو دیکھے جا رہی تھی۔ ہایون کو اسکی نظریں جانے محسوس ہی نہ ہوئیں وہ بالکل بے نیازی سے اسکے ساتھ چلتا آیا۔اریزہ نے آگے بڑھ کرفلیٹ کا لاک کوڈ دبایا۔
دروازہ کھولتے ہی ایک زور دار نعرے کے ساتھ اسکا گوارا نے استقبال کیا۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یوہیپی برتھ ڈے ڈئیر اریزہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔
وہ گنگنا کر چپ ہوئی۔
گوارا ہوپ یون بن کم سن سب موجود تھے۔ رنگین ٹوپیاں پہنے غبارے تھامے پارٹی پاپرز بجاتے اسکے کتنے نئے دوست بن چکے تھے اسے آج احساس ہوا۔
سبھئ نے ہاتھ میں تحفے تھامے ہوئے تھے۔گوارا کے چپ ہونے پر باقی سب نے تان بلند کی تھی۔ لہک لہک کر کورس میں گاتے کورین نغمہ۔
سینگئ چوکھا ہمبندا سینگی چوکھا ہمبندا سارانگھیئے اوری اریزہ سینگئ چوکھا ہمبندا۔۔
(سالگرہ مبارک ہو ہمیں تم سے محبت ہے اریزہ )
جھومتے ہوئے گوارا اسکے قریب آئی تھی اور گلے لگ گئ۔
تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا آج سالگرہ ہے تمہاری۔ ہم سب ایک دوسرے کی سالگرہ کا خوب اہتمام کرتے ہیں۔
یون بن ایک تحفہ اسکی جانب بڑھاتے کہہ رہا تھا۔
گھمسامنیدہ۔
اتنی محبتیں پاکر اسکی پھر آنکھیں بھر آئی تھیں۔
ہوپ کم سن نے بھی اسکو تحفے تھمائے۔

چلو اندر آئو کیک کاٹیں۔
گوارا اسے اندر آنے کو کہہ رہی تھی۔ اس نے ایکدم سے ہاتھ چھڑایا۔
میں پہلے فریش ہولوں۔
کچن کئ کائونٹر ٹیبل پرکیک اور تھوڑا بہت تواضع کا سامان رکھا ہوا تھا مگر وہ اس وقت کسی اور ہی الجھن میں تھئ۔
ٹھیک ہے ۔۔ گوارا فورا پیچھے ہوگئ۔ وہ تیزی سے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
وہ سخت الجھن محسوس کر رہی تھی جبھی سیدھا کمرے میں آئی تھی آکر کپڑے نکالے اور باتھ روم میں گھس گئ
نہا کر سویٹ پینٹ اور شرٹ پہن کر نکلی تو سب اسکے انتظار میں بیٹھے تھے۔
آئی ایم سوری۔
وہ شرمندہ سی ہوگئ۔
اس وقت اتنی ٹھنڈ میں نہالیا بیمار نہ پڑجانا۔
گوارا ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
بس وہ۔ اس سے جواب نہ بن سکا۔ ہایون اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ خفگئ بھری نظریں۔وہ نگاہ چرا کر میز کی۔جانب بڑھ آئی۔
یون بن کم سن ہایون ہوپ سب میز کے گرد جمع تھے۔
اس نے ان سب کی تالیوں اور دعائوں میں کیک کاٹا۔ گوارا نے سب کیلئے پلیٹ میں سرو کیا۔
اریزہ تحفے دیکھو۔
گوارا کو جلدی تھئ۔
اس نے گوارا کا گفٹ سب سے پہلے کھولا۔
ایک مشہور کورین برانڈ کی میک اپ کٹ تھی پرس میں رکھنے والی دلکش اور نازک سی۔
شکریہ۔
وہ میک اپ کی ذیادہ شوقین تو نہ تھی مگر اسکا تحفہ اسے بے حد پسند آیا تھا۔
کم سن نے چاکلیٹ باکس دیا تھا۔
اتنی جلدی میں یہی مل سکا تھا۔ دوپہر کو گوارا نے بتایا تھا۔ آئیندہ اچھا تحفہ لینا ہو تو سالگرہ سے ایک آدھ پہلے یاد دہانی کرادینا۔
اسکا مخصوص انداز تھا سنجیدگی سے مزاق کیئے جانا
وہ اسکے چہرے پرمزاق کی رمق تلاش کر نے میں ناکام ہوئی۔۔
دے۔ اس نے سر ہلا دیا۔ اسکی تابعداری پرکم سن بے ساختہ مسکرایا تھا۔۔
بھئ یہ میک اپ کٹ گوارا نے مجھ سے ہی منگوائی تھی اور میں اور گوارا الگ الگ تھوڑی تو یہ تحفہ مشترکہ سمجھو ہماری طرف سے۔
یون بن نے ہاتھ جھاڑ کر کہا تھا۔
کنجوس انسان۔ گوارا نےاپنی پلیٹ ست کیک کا پیس ہی اٹھا کراسے دے مارا جسے اس نے ڈھٹائی سے چہرے پر کھا کرکریم پر انگلی پھیر کر چاٹ لی۔
ویسے ہی کیک بھی میری طرف سے سمجھو۔
ہوپ کا تحفہ سب سے مختلف اور منفرد تھا۔
لکڑی کی کنگھی گول سی جس پرایک کوریائی لڑکی بنی تھی ۔ کنگھئ کے دانے لہریے دار اور قدرے لمبے تھے یوں جیسے اسی لڑکی کے بال بکھر رہے ہوں ہوا سے۔
اس نے فورا کنگھئ سے اپنے سر پر پھیری۔
شکریہ ہوپ بہت خوبصورت ہے۔
اس نے تحفہ دیا تھا یہی بڑی بات تھی۔
یہ وہی کنگھئ نہیں جو تم استعمال کرتی ہو ؟
گوارا نے کہا تو ہوپ بھنا گئ۔
ہرگز نہیں یہ ویسی ضرور ہے۔ مگر میں نے استعمال شدہ چیز نہیں دی اسے۔ کہو تو لا کر دکھا دوں۔
اسکا غصہ یوں بھی ناک پر۔دھرا رہتا تھا۔
ہاں جائو۔ گوارا کو بھی اسے تپانے میں الگ مزا آتا تھا۔وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی
مجھے یقین ہے۔
اریزہ نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
ہایون نے تحفہ نہیں دیا۔ یون بن کو یاد آیا۔
ہایون نے تو رات کو ہی وش کردیا تھا بکے اور فرنچ پرفیوم کے ساتھ۔
گوارا نے لائونج کی سنٹرل ٹیبل کی جانب اشارہ کیا جہاں اس نے گلدستہ سجا رکھا تھا۔
اسی کے کارڈ کو پڑھنے سے مجھے پتہ لگا تھا کہ آج اریزہ کی سالگرہ ہے۔ اس نے تو بتایا بھی نہیں تھا ہمیں۔
گوارا نے کہتے کہتے شاکی انداز سے اسکی جانب دیکھا۔
ہر کوئی تھوڑی تمہاری طرح اپنی سالگرہ کا اعلان کرتا پھرتا سب سے زبردستی تحفے وصول کرتا ہے
یون بن نے کہا تو گوارا حسب عادت چڑ گئ۔
میں نے ایسا کب کیا۔ الٹا تم نے سرپرائز کے چکر میں میرا سالگرہ کا دن میری برسی کا دن بھی بنا دینا تھا۔ الٹے پرینکس سوجھتے بس تمہیں۔
تم مر کے تو دیکھتیں۔
یون بن دل پر ہاتھ رکھ کر جیسے آہ بھر رہا تھا۔
پھر کیا کرتے تم ۔گوارا نے آستین چڑھائی۔
میں تمہارے مرنے کے بعد تمہاری سالگرہ ہی مناتا۔
اس نے فورا پینترا بدلا تھا۔
گوارا دانت پیس کر رہ گئ۔ اسے گوارا کا موڈ ایکدم ٹھیک کرنا آتا تھا۔
دونوں کی ہنگل کی بحث اسکے سر پر سے گزری تھی۔
وہ دیکھ تو رہی تھی انہیں مگر صاف نظر آتا تھا ذہن کہیں اور ہے۔
اریزہ ۔۔کم سن نے پکارا تو وہ ایکدم کسی خیال سے چونکی۔
ہوں۔۔
گھر والے یاد آرہے ہیں؟
کم سن نے نرمی سے پوچھا۔
تمہاری سالگرہ پر کافی اہتمام ہوتا ہوگا۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ تمہیں یہاں تنہائی محسوس نہ ہوسکے۔
وہ مزید کہہ رہا تھا۔ وہ پھیکی سی مسکراہٹ سے بولی۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔مجھے اچھا لگا آپ سب کا یہ اہتمام۔
تمہارے یہاں سالگرہ کیسے مناتے ؟ باقی سب کی طرح کیک کاٹ کر ؟ میرا مطلب کیک کاٹا جاتا ہے دنیا بھر میں پاکستان میں بھی یہی رواج ہے؟
یون بن بھی متوجہ ہوا۔
ہاں۔ اسکا جواب مختصر تھا۔
اریزہ تم تو اکلوتی ہونا سالگرہ پر خوب اہتمام ہوتا ہوگا پارٹی ہوتی ہوگی گفٹس ملتے ہوں گے تمہیں ہے نا؟
گوارا بھی دلچسپی سے پوچھ رہی تھئ۔
آنی۔
اسکا چہرہ پھیکا پڑا۔
میری سالگرہ پر کوئی اہتمام نہیں ہوتا۔ میں کبھئ سالگرہ نہیں مناتی۔
چہرہ بے تاثر رکھنے کی بھرپور کوشش بھی اسے ناکام ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سب مکمل طور پراسکی جانب متوجہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
کیوں؟ یون بن حیران تھا۔
ہایون نے گہرا سانس لیا۔
تو یہ وجہ تھی رات اسکی سالگرہ کی مبارکباد کی وصولی پر اسکا رنگ کیوں اڑ گیا تھا۔
اسکی سالگرہ والے دن ہی تو ۔۔۔۔
اسے جزئیات سے یاد آیا تھا۔ اتفاق سے اس دن کم سن کے سی وی دکھانے پر اس نے چپکے سے اسکی سالگرہ کا دن نوٹ کر لیا تھا مگر یہ بات اسکو یاد نہ رہی تھی۔۔
وہ دھیرے سے بتا چکی تھئ سب اپنی اپنی جگہ افسردہ سے ہوگئے تھے۔ ہوپ کو پہلی دفعہ اسکے چہرے کی ویرانی محسوس ہوئی سو اسکے قریب آکر بیٹھ گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ان سب نے اسکو ہنسانے کی خاطر اتنے جتن کیئے تھے۔۔۔
لائونج میں میز ایک طرف کرکے جگہ بناکر وہ سب بیٹھ گئے تھے۔
آج ہم سب ایک ایک ایسا کام کریں گے جو اریزہ کو ہمیشہ ہماری یاد دلائے۔
گوارا نے اعلان کیا تھا۔
مرجائو پھر۔
یون بن نے مسخرے پن سے کہا ۔ گوارا نے بنا لحاظ چپت لگائی سر پر اسکے۔
چونکہ ہنگل میں کہا تھا سو اریزہ ہوپ کا بازو ہلا کر پوچھنے لگی کیا کہا۔
دعا دی ہے جیو ۔۔
ہوپ نے جان چھڑائی۔ اریزہ نے لفظ یاد کرلیا تھا اب اسے صرف کسی اچھی جگہ استعمال کرنا تھا۔
۔ ہایون اور کم۔سن نے مل کر گانا گایا۔ کورین گانا سمجھ تو نہیں آیا مگر دونوں کی آواز میں سر تھا کم سن میز بھی ساتھ ساتھ بجا رہا تھا۔
ایک جگہ پر تو یوں لگنے لگا دو کی بجائے بس ایک انسان گا رہا ہے۔
یون بن اور گوارا نے کپل ڈانس کیا تھا۔ تھک ہار کر کم سن اور یون بن نے اجازت چاہی تھی۔ ہایون نے روکا مگر دونوں رکے نہیں۔
گوارا برتن سمیٹنے لگی۔ ہوپ لائونج کی حالت درست کرنے میں لگ گئ۔ تبھئ اطلاعی گھنٹی بجی
ہایون ہی اٹھ کر گیا واپسی پر اسکے ہاتھ میں بڑا سا پیکٹ تھا۔
بریانی آرڈر کی تھی میں نے۔ ایک پاکستانی ریستوران سے ارادہ تو وہیں جا کر کھانے کا تھا مگر تم تیار نہ ہوئیں۔۔
وہ اپنے پچھلے موڈ کے برعکس بالکل پہلے کی طرح ازلی مہربان سے انداز میں بول رہا تھا۔۔ شاپر کچن کائونٹر پر رکھا تو گوارا برتن دھوتی بھاگی آئی۔
چاول شاپر۔کھولتے ہی وہ بے ساختہ خوش ہوئی تھی۔
اتنے سارے۔
اس نے سوالیہ۔نگاہوں سے دیکھا۔ہایون نے کندھے اچکا دیئے
سب کیلئے منگوائے تھے مگر کم سن اور یون بن رکے ہی نہیں۔
اس نے بھی اسکے سامنے والی کرسی سنبھال لی۔
گوارا نے ڈسپوزایبل پیک ہی اسکے سامنے کر دیئے۔ ہوپ بھی یہیں چلی آئی۔
اریزہ نےپیک دیکھا تو چاول اسکی ضرورت سے کافی ذیادہ تھے۔
وہ پلیٹ لینے اٹھی تو ہایون نے جانے کیا سمجھا وضاحت دینے لگا
میں نے ہاتھ دھو لیئے تھے اور کھانا شاپر سے نہیں نکالا تھا۔۔
اریزہ اسکے اس طرح کہنے پر شرمندہ سی ہوگئ۔ یقینا اس نے آج اوور ری ایکٹ کر دیا تھا اتنی بد مزاجی دکھائے بغیر بھی وہ گھر آکر نہا کر پاکیزگی حاصل کر سکتی تھی۔
وہ زبان دانتوں تلے دباتی ریک سے پلیٹ لیکر آئی
وہ یہ۔چاول بہت ذیادہ ہیں میں پہلے ہی الگ کر دوں تو کوئی اور بھی کھا لیگا۔۔
اس نے وضاحت کی۔۔ دیگچی پیالے میں مل کر کھانے والے کورینز کو اسکی کھانا جھوٹا کرنے والی اصطلاح کیا خاک سمجھ آنی تھی۔
اس نے خاموشی سے پلیٹ خالی کرنی شروع کر دی۔ وہ چمچ استعمال کر رہی تھی جبکہ ہایون ہوپ اور گوارا چاپ اسٹکس سے کھا رہے تھے۔ کھاتے کھاتے ہایون کے کپڑوں پر چاول گرے۔۔ اسکی بلا ارادہ اسی پر توجہ تھی۔
اریزہ نے بے ساختہ سر جھکا لیا۔ اب اگر وہ ان کپڑوں سے اٹھا کر کھا لیتا تو یقینا اسکا ہی دل برا ہونا تھا۔۔
ہیون نے ایک نظر اسکے جھکتے سر کو دیکھا پھر کپڑوں پر سے چاول اٹھا کر میز پر رکھ دیئے۔
میں چلتا ہوں۔
اس سے مزید کھایا نہیں گیا۔ وہ یکدم ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
کیا ہوا؟ کینچھنا۔۔ گوارا اسکے یوں اٹھنے پر حیران سی ہوئی مگر وہ بیانیئے پھر ملتے ہیں کہتا ہوا اٹھ کر ہی چلا گیا۔۔
ہوپ بھی ایکدم سے کھانا چھوڑ کر اٹھ گئ۔
اب اسے کیا ہوا۔ گوارا نے اس سے پوچھا تھا۔
پتہ نہیں۔۔
کہتے ہوئے بھی اسے احساس ہوا تھا کہ کہیں نہ کہیں اسے پتہ ہی ہے۔

خیر تمہارے لیئے تو ہفتے بھر کی بریانی کا انتظام ہوگیا۔
گوارا شرارت سے کہنی مار کر بولی۔
پانچ چھے پیکٹ۔ اس نے اس بڑے سے شاپر کو دیکھا
ہفتہ۔کیا مہینے بھر چل جائیں گے یہ تو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز پڑھ کر دوپٹہ تہہ کرکے الماری میں رکھ کر وہ سیدھا بیڈ پر گری تھی۔۔ کافی تھکن بھرا دن تھا اسکیلئے۔۔ اس نے موبائل اٹھایا 80 فیصد بیٹری۔۔بیڈ پر کمر کے نیچے تکیئے لگئے وہ۔پرسکون سے انداز میں ٹیک لگا ئے بیٹھ گئ
سارا دن موبائل استعمال نہیں کیا۔۔
یہ دن بھی آنا تھا ۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
اسکرین کا تالا کھولا بابا کا میسج آیا ہوا تھا
سالگرہ مبارک ہو بیٹا۔ جیتی رہو خوش رہو۔۔
اسکی آنکھ بھر آئی۔
زندگئ میں پہلی دفعہ وہ اتنی دور ہوئی تھی کہ انہیں موبائل پر وش کرنا پڑا اور اس نے سارا دن موبائل دیکھا تک نہیں۔۔

اس وقت کا اندازہ لگایا رات کا آخری پہر ہوگا۔۔ کال نہیں کی جاسکتی تھی۔۔

سنتھیا نے اسے میسج تک نہ کیا تھا۔
اتنی کٹھور کیوں ہوگئ ہے وہ۔
اس نے بلاگ کھول لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی میں آپ اپنا پیدائش کا دن خود منتخب نہیں کر سکتے۔ نا ہی یہ منتخب کر سکتے کہ اس دن آپ ہمیشہ خوشیاں پائیں گے۔ یہ دن ہر اس گزرتے ٹھہرتے دن کی طرح کا عام سا دن ہے۔ کبھی خوشیوں بھرا کبھی اداسی کا سبب۔ اہم ہے بس وہ خالص محبت جو اس دن آپکے قریبی لوگ آپ پر نچھاور کردیں ۔۔۔ اگر کبھئ محبت ملے تو خوش ہو لینا چاہیئے یہ سوچے بغیر کہ آج سے قبل کتنی ملی یا آئیندہ جانے ملے نا ملے۔۔۔
مجھے آج بہت محبت ملی ہے۔ امید ہے اگلے سال بھی ملے اس سے اگلے سال بھی اس سے اگلے سال بھی۔۔۔۔ آج کسی ذیاں کا حساب نہیں رکھنا۔۔ آج بس میرا خوش ہونے کا دن ہے ۔میں خوش ہوں۔۔ سچی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا کمنٹ
یوں کہو نا آج سالگرہ ہے۔ سالگرہ مبارک ہو۔۔
دوسرا کمنٹ۔
ایڈمن پیدا ہوتے ہی اتنا فلسفہ جھاڑ دیا۔ تمہاری پیدائیش کے دن پر تم تو خوش ہو۔اور کوئی خوش ہوا کبھی؟ ایسے ہی پوچھا۔
تیسرا کمنٹ۔۔
مگر میں خوش نہیں ہوں کل بائک چوری ہوگئ میری۔۔
چوتھا کمنٹ۔
شاباش لڑکی۔۔ یہی چاہیئے تھا بس ۔۔
صارم تھا یہ۔۔
وہ۔مسکرا دی۔ اسی کیلئے یہ بلاگ لکھا تھا شکر ہے پڑھ لیا۔اب یقینا سوجائے گا آرام سے۔
پانچواں کمنٹ۔۔
سالگرہ مبارک ہو۔۔ کچھ محبتیں چھن جانے کادکھ سارے جہاں کی خوشیوں پر بھاری ہوتا ہے خدا کرے ایسا دکھ کبھی آپکو نہ ملے۔۔
علی۔۔
اس نے گہری سانس لی اور جواب لکھنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاہ۔ مل چکاہے ۔ مگر جو لوگ آپکو ہرحال میں خوش دیکھنا چاہتے ہیں انکی۔محبتیں چھن جانے والی محبتوں کا متبادل نہ سہی مگر انمول ہوتی ہیں۔ ان محبتوں کی قدر کیجئے جو نصیب ہیں۔ ان پر صبر کریں جو چھن چکی ہیں جینے کا یہی۔طریقہ ہے۔۔
بلاگر کا جواب غیر متوقع تھا۔
اس نے دو تین بار پڑھا پھر بلاگ بند کرکے وی چیٹ پر آئے عبدالہادی کے پیغامات دوبارہ پڑھنے لگا۔
میری خاطر ایک بار مل کر تو دیکھو۔ اچھی لڑکی ہے سمجھدار۔ پیاری۔ بس مل۔لو کوئی زبردستی نہیں
اس نے چند لمحے سوچا پھر لکھ بھیجا۔
ٹھیک ہے۔ آپ۔ملاقات کا دن او روقت طے کرکے بتا دیجئے گا۔
انہوں نے فورا میسج پڑھا تھا۔او رجواب بھیجا۔
واقعی۔ سچ۔کیسے مان گئے میری بات
وہ۔بے یقین تھے۔
کسی نے کنوینس کیا ہے مجھے۔
وہ ذرا سا ہنسا۔۔
کس نے؟
وہ متجسس ہوئے۔۔
Aree z thoughts
اس نے بلاگ کا نام ہی لکھ بھیجا۔
یہ کون ہے ؟
وہ حیران تھے
جو بھی ہے مگر اس نے میری الجھن میں ہمیشہ میری مدد کی ہے۔۔ مجھے اسے شکریہ کہنا چاہییے۔۔
اس نے زیر لب کہا تھا۔ اور بلاگ کھول کر کمنٹ لکھنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سونے کا ارادہ نہیں ہے کیا ؟ محترمہ آپکو نوکری پر جانا ہے کل۔
گوارا ہاتھ پونچھتی باتھ روم سے نکلی اسکوموبائل میں مگن دیکھ کر شرارتا جملہ چست کر دیا
وہ بلاگ بند کرکے اب اپنے والدین کی اچھے وقتوں کی کھینچی گئ تصویر دیکھنے میں مگن تھی۔
ابا یاد آرہے ہیں۔
اس نے منہ بسور کر موبائل اسکی۔جانب کیا۔
دکھائو۔۔ وہ بڑے شوق سے تصویر دیکھنے اسکے پاس آبیٹھی
تم ابا کہتی ہو اپنے آہبوجی کو؟
آہبوجی؟ ۔۔۔ اریزہ نے سوالیہ انداز میں دیکھا
والد محترم۔۔ گوارا نے وضاحت کی۔
ہم لوگ ابو جی کہتے ہیں۔یہ تو ملتا جلتا ہے۔ وہ پر جوش ہو۔کر اٹھ بیٹھی
ابھی تو ابا کہہ رہی تھیں۔۔
گوارا اسکے انداز پر۔ہنسی
ہاں میں پاپا کبھی لاڈ میں بابا اور پیٹھ پیچھے ابا کہہ دیتئ ہوں۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ اسکے ہاتھ سے موبائل لیکر تصویر دیکھنے لگی۔
یہ تمہاری آہموجی ہیں؟ میرا مطلب والدہ۔۔
وہ بڑے غور سے دیکھ رہی۔تھی
ہاں۔۔ اریزہ نے چچ کیا۔ اسی شکل کی جوانی والےدور کی جیتی جاگتی تصویر وہ خود تھئ۔
کافی ینگ لگتی ہیں نا انکی۔جلدی شادی ہو گئ تھی یہاں میک اپ میں پھر بڑئ لگ رہی ہیں یہ شادی کی تصویر ہے نا آگے کرو انکی عام حلیئے میں تصویر دیکھو تو میری بڑی بہن لگتی ہیں۔۔
وہ بہت شوق سے بتا رہی تھی۔ گوارا اسکی پرجوش انداز پر باقی تصویریں بھی دیکھنے لگی۔
رنگوں سے بھرا پس منظر زرق برق لباس مسکراتے چہرے۔۔
سنتھیا سرخ لباس میں خوب میک اپ کیئے اسکے ساتھ کھڑی تھی ساتھ روائتی انداز میں سرخ جوڑے میں ملبوس لڑکی
یہ لڑکی تو سنتھیا لگ رہی ہے ساتھ کون ہے؟
وہ پہچان نہیں پائی۔
اریزہ کھل کر ہنستی چلی گئ۔ گوارا اسکے انداز پر نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی
پہچانا نہیں؟ ہنستے ہنستے وہ محظوظ انداز میں پوچھ رہی تھی
ہوپ کمرے میں داخل۔ہوئی تو گوارا کو موبائل میں تفتیشی انداز میں جھکی تھی ساتھ بیٹھی اریزہ ہنسے جارہی تھی
کیا ہوا واٹس سو فنی؟
وہ حسب عادت سر سری سے انداز میں کہہ کر بیڈ پر چڑھی مقصد صرف اپنی موجودگی کا احساس دلانا تھا کہ جگہ خالی۔کرو میں نے سونا۔ مگر اس وقت گوارا گمبھیر مسلئے میں الجھی تھی وہ دونوں کے درمیان سوتی تھی اور اسوقت دونوں سر جوڑے بیٹھی تھیں۔
یار کون ہے ؟ یہ تو سنتھیا ہے کوئی انڈین ہیروئن ہے؟ انکو ہی ایسا لباس پہنے دیکھا۔۔
گوارا ہار ماننے کو تیار نہیں تھی ایک اور غلط اندازہ اریزہ تو لوٹ پوٹ ہوگئ
انڈین ہیروئن کیوں ہونے لگی ؟ میرے گھر میں ۔۔
یہ دیکھو ہوپ یہ لڑکی کون ہے؟ یہ ڈریس تو میں نے دیپیکا کو پہنے دیکھا تھا۔۔ گوارا نے موبائل ہوپ کی جانب بڑھایا
کیا ؟ اریزہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھئ
ہوپ نے ایک۔نگاہ تشویش میں مبتلا اریزہ پر ڈالی دوسری گوارا پر پھر اپنے مخصوص پہیلیاں بجھانے والے انداز میں بولی۔۔۔
سنتھیا کے ساتھ کون ہوسکتاہے۔؟۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انوشکا ۔ اسکا نام انوشکا شرما ہے۔
گوارا نے اسے اپنی ویبو آئی ڈی پر کسی بھارتی سہیلی کی ڈی پی پر لگی ہوئی تصویر اسے نکال کر دکھائی۔
برائڈل میگزین کا کوئی کور تھا ۔۔
واٹ ایور۔ اتنے مشکل نام۔ہیں توبہ۔ گوارا نے سر جھٹکا
انوشکا یا دیپیکا اس سےفرق نہیں پڑتا مگر یہ اس ڈیزائنر نے میرے ساتھ دھوکا۔کیا ہے۔۔
اریزہ سال۔بھر بعد اپنی شادی کا دن یادکرکے روہانسی ہو چلی تھی
مجھے پانچ لاکھ کا یہ بکواس انوشکا کی اترن لہنگا کاپی کر کے دیاتھا۔ کہتی ہے اس نے خاص میرے لیئے تیار کروایا ہے ایسا دوسرا پیس نہیں دنیا میں جھوٹی دغا باز کہیں کی۔
وہ مٹھیاں بھینچ رہی تھی
گوارا اور ہوپ کی آنکھیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے
اتنا مہنگا کام وہ بھی اس نے چوری کیا اسٹائل۔۔
وہ دانت کچکچا رہی تھی۔
اتنا مہنگا جوڑا دوست کی شادی کیلئے بنوایا؟ پاگل ہو؟ اتنا تو سنتھیا بھئ تیار نہیں ہوئی وی۔
گوارا نے کہا تو وہ جھلا کر بولی
دوست کی تھوڑی اپنی شادی کیلئے بنوایا تھا اف اس وقت
کیسے اماں ابا کا پیسہ اڑاتے ذرا نہیں سوچا کرتی تھی کہ کمانا کتنا مشکل کام ہے۔۔ آج کمر ٹوٹ گئ کھڑے کھڑے تو
بولتے بولتے اسکی گوارا پر نظر گئ تو چپ کر گئ
گوارا کے چہرے پر گہرئ سنجیدگی چھا گئ تھی
مجھے لگا تھا سنتھیا اور ایڈون کی شادی کی تصویرہے۔ مگر تم۔۔ تم کیا شادی شدہ ہو؟
گوارا کی الجھن عروج پر تھی
ہاں۔۔ اریزہ نے گہری سانس لی۔
یہ میری شادی کی ہی تصویر ہے۔ اور میں پاکستان کی ان 80 فیصد احمق لڑکیوں میں سےایک ہوں جو ایک دن کیلئے ایک۔جوڑے پر کروڑوں بھئ خرچ کر نے کو تیار ہوسکتی ہیں۔ مگر سچ میں پچھتا رہی ہوں۔ اب دوبارہ تو میں یہ کبھی نہیں پہنوں گی۔اور اس سیمز کی تو گردن مروڑوں گئ جا کر۔۔
وہ۔تصور میں مٹھی میں اسکی گردن ہی پکڑے تھی
تم ویسے پیاری بہت لگ رہی تھیں اس جوڑے میں
ہوپ نے دل سے کہا تھا جانے کیسے وہ ایکدم ہلکی پھلکی سی ہو کر بولی تھی وہیں گوارا کے دل پر منوں بوجھ آپڑا تھا۔ ہوپ کے بے ساختہ تعریف کرنے پر اریزہ۔جھینپ۔کر کچھ کہہ رہی تھی تو وہیں ہوپ کا۔انداز بھی سکھی سہیلیوں جیسا ہوچلا تھا اتنے عرصے میں پہلی۔بار ہوپ نے سرد مہری۔کی نادیدہ دیوار ڈھا دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاور لیکر وہ آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا
برش رکھتے اپنے سپید سے ہاتھ پر نگاہ پڑی تو دوپہر کا منظر تازہ ہوچلا
اس نے بلا ارادہ ہی اریزہ کو ہاتھ پکڑ کر روکا تھا احساس ہونے پر چھوڑ بھئ دیا تھا ہاتھ پھر بھی اریزہ اپنا ہاتھ یوں الگ کیئے بیٹھی تھی گاڑی میں جیسے کسی گندی چیز سے چھو گیا ہو۔۔ اسکے بچے کو دور کر دینے میں جس کراہیت کا دخل تھا وہی کراہیت اسے ہیون کے پاس سے بھی آئی تھی۔۔ اسکے اندر کہیں کچھ ٹوٹا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ?Rate us below

Rating

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *