اب تھوڑی وہ زمانے ہیں کہ کہیں وہی چاہیئے۔۔
ہمیں اس دنیا سےکچھ بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

دو چار خواہشوں کی ہماری چھوٹی سی فہرست تھی
پرزندگی سے وہی ملا جس پہ کہا اب نہیں
چاہیئے۔۔

واعظ نے گزاری ہے زندگی بلک بلک کر مانگتے جسے۔۔ 

اسی جنت نے ٹھکرایا زاہد تو بہت ہیں یہ اب نہیں
چاہیئے۔۔

کہتے ہیں ملے گا سب اس جہان میں اس جہان میں تو بس۔۔
چند سانسیں ہیں ملی اس سےبھی ہیں تنگ اور اب
نہیں چاہیئے۔۔

احباب مختصر کلام مختصر اب حاصل وصول کا تذکرہ کیا کرنا
ہمیں اور  لوگ تو کیا ہمیں تو ہم بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

ہم نئے مزاج میں ڈھل چکے ہیں محفلوں سے اکتائے ہیں ۔۔
ہم رونقوں  ہجوم سے دورہیں اور تنہائی بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

از قلم ہجوم تنہائی۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *