Salam Korea Episode 34

Salam Korea
by vaiza zaidi
قسط 34

اب اتنا ہنسنا تو نہیں چاہیئے بندے سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔
کتنئ دیر خفت ذدہ رہتی۔ فورا شرمندگی دور کی غصہ چڑھا لیا۔ علی بہت کھل کر ہنسا تھا اور ہنستے ہوئے اسکا اینگری ینگ مین سنجیدہ انداز بالکل غائب ہو گیا تھا۔پھر بھی اسے کھل کر ہنستے دیکھ کر وہ تھوڑا خفگی سے بولی۔
اسکے الفاظ تو سمجھ نہیں آئے تھے علی کو مگر اسکے خفا خفا سے انداز کو بھانپ کر اس نے فورا ہنسی کو بریک لگائی۔
آننیانگ ۔۔
اس نے خیر مقدمی مسکراہٹ سجائئ۔
ہیلو۔ اب کے اریزہ نے ہنگل میں بات کرنے کی غلطی نہیں دہرائی۔
یہ لو۔ اس نے شاپنگ بیگ اسکی جانب بڑھایا وہ ہاتھ بڑھانے کی بجائے تحیر سے دیکھنے لگی۔ گفٹ وہ بھی سر کیوں دے رہے بھئ؟۔

یہ تمہارا کوٹ ۔کل تم ریلنگ پر لٹکا بھول گئ تھیں۔۔ علی نے اسکی حیرت دور کی۔
اوہ۔ اس نے فورا بیگ تلاشا۔
صبح یہی سوچ رہی تھی کہ کل کوٹ آکر کہاں اتارا مل ہی نہیں رہا ۔ اتنی موٹی رضائئ چڑھانی پڑی سب جبھی گھور گھو رکر دیکھ رہے تھے۔
وہ روانی میں بولتی کوٹ نکال رہی تھی۔
شکریہ ۔۔ اس نے سر اٹھایا اچانک یاد آیا تھا۔۔
اف آپکے کپڑے؟ ۔اس نے سر پر ہاتھ مارا۔
میں بھول گئ بالکل۔ کل پکا لے آئوں گی ویسے دھو دیئے تھے میں نے۔
اس نے تسلی بھی دینی چاہی۔ علی اسے دیکھتا رہا پھر اسکی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئ
وہ مستقل یقینا اسی سے مخاطب تھی یہ بھول کر کہ وہ اسکی اردو کی الف ب بھی نہیں جانتا۔ اریزہ نے اسکو مسکراتا دیکھا تو چونکی۔
معزرت۔ اس نے زبان دانتوں تلے دبائئ۔
میں اردو میں بولتی گئ میں کہہ رہی تھی۔
اب وہ اپنی انگریزی کو ہوا لگا رہی تھی۔ اسکو انگریزی میں تسلی دی کہ میں بالکل لاپروا نہیں احتیاط سے کپڑے رکھے ہیں جس دن یاد رہا لا کر ہاتھ میں تھمائے گی بالکل فکر نہ کرے علی۔
علی کو اب واقعی فکر ہونے لگی تھئ۔ بظاہر تسلی سے سنتے ہوئے اس نے چپکے سے کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھا کلاس کا وقت ہوچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون بھونچکا سا کھڑا خالی کمرہ دیکھ رہا تھا۔ اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ صبح جب واپس آئے گا تو سنتھیا اپنا سب سامان لیکر جا چکی ہوگی۔
وہ جا بھئ کہاں سکتی تھی۔ اسکے پاس رہنے کو کوئی جگہ کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔پیسے بھئ جانے تھے کہ نہیں۔ اس نے اضطراری انداز میں سر جھٹکا۔
بیڈ کی چادر تکیہ سب بے شکن تھے۔ یعنی وہ رات کو ہی جا چکی تھی یہاں سے۔ کمرہ بالکل صاف تھا یہاں تک کے کل صبح لا کر رکھا گیا ناشتے کا سامان بھی نہیں تھا۔
یہ۔جزباتی لڑکی۔
اس نے دانت پیسے۔ پھر بیڈ درازیں سب ٹٹول ٹٹول کر دیکھیں کوئی پتہ کوئی خط کچھ بھی نہیں تھا۔ اس نے اپنا کوئی نشان نہیں چھوڑا تھا۔
وہ سر تھام کے وہیں بیڈ پر ٹک گیا۔
بہت بری طرح پھنسا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن اور وہ دونوں قریبئ تمام ہوٹلز سونا میں پتہ کرتے پھرے تھے۔ہر جگہ سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس چھوٹے سے سرائے سے نکلتے ہوئے اسکا بس نہیں تھا کیا کرے۔ زور دار ٹھوکر زمین کو لگاتے وہ پریشانی و انتشار کی آخری حدوں پر تھا۔
پیسے اسکے پاس اتنے نہیں ہوں گے کہ وہ کسی ہوٹل جا سکے۔ کہاں چلی گئ وہ بے وقوف لڑکی۔
وہ مٹھیاں بھینچ رہا تھا۔یون بن اسکے برعکس سنجیدگی سے صورت حال کا تجزیہ کر رہا تھا۔ سینے پر ہاتھ باندھے سب ممکنہ باتیں سوچ کر اسکو یہی خیال آیا۔
ہمیں سب دوستوں میں اطلاع کرنی چاہیئے ۔ وہ پریگننٹ ہے موسم ابھی تو ٹھیک ہے مگر رات کو بارش کا امکان ہے۔ وہ کسی پارک یا کھلی جگہ پورا دن گزار سکتی ہے مگر رات کو اسکے لیئے مشکل ہوگئ۔پھر ۔ اسکی ذہنی رو جانے کس طرف جائے کہیں وہ کوئی انتہائی قدم اٹھانے کا ارادہ نہ رکھتی ہو۔
یون بن کے انداز میں سنگینی تھئ۔ ایڈون نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
انتہائی قدم؟
وہ خودکشی کی کوشش نہ کرلے۔۔۔
یون بن نے بغور اسکی شکل دیکھتے کہا تو وہ لمحہ بھر کو سناٹے میں آیا۔۔
تمہیں اندازہ ہے رات سے تمہاری ممانی کی کیا حالت ہے۔ ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں اس نے تمہاری ممانی کو صاف کہا ہے وہ خود کشی کر لے گی ہم نے کیسے رات گزاری ہے ہم جانتے ہیں تمہارا فون لگا تو تم نے نہیں اٹھایا سنتھیا کو فون کرتے رہے وہ ہر دفعہ فون کاٹ دیتی کانٹوں پر گزرا ہے ہمارا۔۔۔۔۔۔۔ ٹوون
اسکے کانوں میں کل صبح کی ہوئی ماموں سے گفتگو گونجی۔
سوائے اریزہ کے اسکا کوئی دوست نہیں تھا یہاں اور اریزہ کے پاس وہ نہیں جا سکتی اتنا پتہ ہے مجھے۔ ہمیں پولیس میں اطلاع کرنی چاہیئے۔
ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلانے لگا
میں رپورٹ کر دیتا ہوں تم پہلے ہی پولیس والوں کے دائرہ شک میں ہو۔
اس نے سنتھیا والے معاملے کی رپورٹ کا جتایا۔ ایڈون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔
۔ تم اپنی ایمبیسی سے رابطہ کرو۔ کیا خبر وہ واپس جا رہی ہو۔
یون بن کو خیال آیا۔۔ وہ بری طرح چڑ گیا
بس تک پر سفر کے پیسے نہیں ہوںگے اسکے پاس جہاز کا ٹکٹ کہاں سے لے گی۔
اسکو جھلانے کے بعد احساس ہوا تو خود پر قابو پاتے یون بن سے معزرت بھی کرنے لگا۔۔
ایم سوری ۔
آنیو۔ یون بن نے اسکا کندھا تھپکا
مجھے اندازہ ہے تمہاری پریشانی کا۔ تم فکر نہ کرو ہم سب مل کر ڈھونڈ لیں گے۔۔ میں کم سن سے بات کرتا ہوں۔
اسے تسلی دیتے ہوئے اس نے کم سن کو فون بھی ملا لیا۔۔اسکے پرخلوص انداز نے ایڈون پر خاصا اثر کیا تھا۔ وہ ضرور ایسا ہی دوست تھا اپنے دوستوں کیلئے ہر قسم کی مصیبت میں پڑنے کو تیار مگر یہ پہلی بار تھا کوئی دوست اسکے ساتھ خالصتا اسکے لیئے یوں خواری کاٹ رہا ہو۔
اس نے کچھ سوچ کے اریزہ کو کال ملا دی۔
اس نے حسب توقع اسکا فون کاٹ دیا تھا۔ اس نے دو تین کوششوں کے بعد پیغام لکھ بھیجا
اریزہ سنتھیا تمہارے ساتھ ہے۔ ؟ پلیز جواب دو ایمرجنسی ہے
نہیں۔۔ مختصر جواب چند لمحوں میں ہی موصول ہوا تھا۔
اس نے گہری سانس لی۔
اریزہ کے پاس بھی نہیں گئیں تو کہاں گئیں تم سنتھیا۔۔۔
اسے صرف فکر نہیں ہورہی تھی غصہ بھی آرہا تھا۔۔
ایک لمحے کو ایک کمینہ خیال بھی آیا۔
اگر وہ واقعی خود کشی کر لے تو ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس ختم ہونے کے بعد وہ حسب معمول ٹیرس میں آکر کھڑی ہو گئ تھی۔ یہاں سے سامنے دو رویہ سڑک سے لیکر ذرا فاصلے پر میٹرو اسٹیشن تک نظر آتا تھا۔ ہیون کی دیو ہیکل گاڑی موڑ مڑتے نظر آجاتئ۔ سو وہ اطمینان سے جیکٹ ریلنگ پر ٹکا کر کوٹ پہن کر جانے کیلئے بالکل تیار تھی۔ جیکٹ کو موڑ کر شاپر میں نہیں رکھا جا سکتا تھا۔سو اس نے بیگ ساتھ ہی ٹکا دیا تھا زمین پر۔ دھوپ کو بادل ڈھکتے جا رہے تھے یقینا آج رات شدید سردی پڑنی تھی کم از کم بارش یا برفباری تو ضرور ہونی تھی۔
اس نے موبائل اٹھا کر اس منظر کو قید کیا۔ سیول کی روشنیاں اور خوبصورت عمارتوں میں سے جھانکتا آسمان۔
ابھئ فورا اس تصویر کو اپلوڈ کرنا تھا اس نے اچھے سے عنوان کے ساتھ۔ جیسے ہی بلاگ کھولا اسکرین جل بجھ کرنے لگی۔
ایڈون کی کال آرہی تھی بیزار ہو کر اس نے کاٹ دی۔ تو اسکا پیغام موصول ہوا
حد ہے۔ وہ بیزار ہوئی۔
کیوں آئے گی وہ میرے پاس ؟ تم دونوں بخش ۔۔۔
وہ لمبا میسج ٹائپ کرنے لگی تھی۔ پیشانی کی رگیں تن گئ تھیں بھنوئوں کے درمیان شکنیں پڑ چکی تھیں۔
اسلام و علیکم۔ اریزہ
اجنبی لہجہ شستہ سلام۔صحیح تلفظ سے پکارا جانا اس نے چونک کے رخ پھیرا۔
ہیون اسکے بالکل مقابل کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ۔اتنی حیران ہوئی کہ جواب بھی نہ دے سکی۔
کیا ہوا؟
ہیون نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائئ ۔ وہ گڑبڑاکر سیدھی ہوئی
وہ تم۔اچانک پیچھے کیسے۔ میں تو وہاں دیکھ رہی تھی کہ تم وہاں سے آئوگے۔
اس نے مڑ کر ریلنگ کے پار سڑک کی جانب اشارہ کیا۔ اسکی حیرت پرہیون کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
تم انتظار کر رہی تھیں میرا؟
اسکی چندی آنکھیں شائد تھوڑی بڑی ہوئی تھیں۔اسکا موبائل پھر بجا تھا۔
آں۔ ہاں۔
ایڈون کا ایک اور میسج آچکا تھا۔ اس نے جلدی سے جواب مٹا کر یک لفظی جواب لکھ بھیجا۔اس وقت وہ لڑنے بھڑنے کے موڈ میں نہیں تھی۔
چلیں۔
ہیون نے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلاتے بیگ اور شاپنگ بیگ سنبھالا۔
چلو۔
کم سن کو بتا دیا ہے میں نے۔ تم آج چھٹئ کر رہی ہو۔آج ہم خوب گھومیں گے پھریں گے۔
ہیون کا انداز دھونس بھرا تھا
اچھا۔ اس نے سر ہلادیا ۔۔ اسکا فون دوبارہ بج اٹھا تھا۔ وہی نام وہ کال کاٹتے کاٹتے رہ گئ۔ پھر اٹھا ہی لیا فون۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن کم سن اور ایڈون پولیس میں رپورٹ درج کرانے آئے تھے۔ ایک اہلکار ان سے معلومات لے رہا تھا ۔ وہ ہیون کے ساتھ سیدھا وہیں پہنچی تھی۔ تھانے میں داخل ہوتے ہی اس نے متلاشی نگاہوں سے ایڈون کو ڈھونڈا تھا۔
ایڈون ۔۔ ایڈون۔۔ کہاں گئ ہے سنتھیا؟
اس نے دور سے ہی ایڈون کو دیکھا توپکارتی ہوئی بھاگ کر پاس آئی ۔
ایڈون یون بن کم سن کے کمراہ ایک تفتیشی افسر کے سامنے خاموش بیٹھا بیان لکھ رہا تھا۔ ایکدم اٹھ کھڑا ہوا۔
تم؟ تم تھانے میں کیا کر رہی ہو بتایا تو تھا میں نے میں رپورٹ درج کرا رہا ہوں۔۔۔تمہیں یہاں آنے کی ضرورت نہیں تھی۔
ایڈون کی بات پر اسکو غصہ ہی آگیا۔
کیوں ضرورت نہیں تھی۔موسم دیکھا ہے باہر؟ بارش ہو رہی ہے اور وہ اس وقت جانے کہاں ہے۔ اسکی تو طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ کیا کہا ہے تم نے اسے جووہ اس طرح چلی گئ؟
اسکی آواز جوش جزبات میں کافی اونچی ہو گئ تھی۔
ریلیکس۔ اریزہ۔
ہیون فورا آگے بڑھ کر ٹوکنے لگا۔ اسے اسکی بات تو سمجھ نہیں آئی تھی مگراسکے جارحانہ انداز سے خائف ہو کر یون بن اور کم سن بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
کچھ نہیں کہا میں نے۔ اسے کم غصہ نہیں تھا جھلا کر بولا۔۔
اورتم اسکو یہاں کیوں لیکر آئے ہو؟ یہ کوئی اچھی جگہ ہے کسی لڑکی کیلئے ؟
ایڈون انگریزئ میں ہیون پر چڑھ دوڑا۔
اسکو کیا کہہ رہے ہو مجھے بتائو سنتھیا کہاں ہے؟ ایسے کیسے وہ چلی گئ؟ وہ جا بھی کہاں سکتی ہے۔۔ کیا کہا ہے تم نے اسے؟
اریزہ اسکے غصے کو خاطر میں نہ لاتے اس سے ذیادہ زور سے بولی تھی۔
میں کیا کہوں گا اسے ؟ دماغ خراب اسکا ہوا ہے بنا کسی کو کچھ کہے جانے کہاں چلی گئ ہے۔
ایڈون الگ جھلا رہا تھا۔
پاگل تو نہیں ہے وہ نا ہی اتنی احمق۔ سچ بتائو مجھے کیا بات ہوئی ہے تم دونوں کے بیچ جووہ یوں کہیں چلی گئ ؟؟؟
اریزہ کا بس نہیں تھا اسکا گریبان پکڑ لے۔
کس زبان میں بتائوں کوئی بات نہیں ہوئی ہے صبح آرام سے ناشتہ کراکے کمرے میں چھوڑ کر گیا ہوں واپس آیا ہوں تو کہیں دف۔۔
اس نے بمشکل زبان روکی تھی۔ وہ کیا کہنے جا رہا تھا؟
اریزہ غصے سے جیسے پاگل ہوگئ۔
دفع؟دفع ہوگئ یہ کہنے جا رہے تھے نا تم یہ عزت ہے تمہاری نظر میں سنتھیا کی۔
ہاں یہی عزت ہے۔ وہ جوابا اس سے ذیادہ زور سے چلایا۔
اسی قابل ہے وہ۔ دو کوڑی کی عزت نہیں چھوڑی ہے اس نے میری کہاں کہاں نہیں ذلیل کروادیا ہے مجھے او رخود جانے۔۔
اور تم تم نے اسکو کم خوارکیاہے اس سب کے ذمہ دار تم خود ہو۔۔
اریزہ ترکی بہ ترکی بولی تھی کہ پولیس افسر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اونچی گرج دار آواز میں بولا۔۔
کھم آنے۔۔ بس کرو کیا کر رہے ہو تم لوگ۔
پولیس افسر انکے شور سے تنگ آکر اٹھ کھڑا ہوا۔
دونوں ایکدم خاموش ہوئے تھے۔
کیا کہہ رہے ہیں یہ لوگ۔ پولیس افسر نے یون بن اور کم سن سے پوچھا تھا دونوں نے کندھے اچکا دیئے۔
آپ لوگ اپنے معاملات باہر جا کر نمٹائیں ہم اپنی تفتیش شروع کرنے لگے ہیں کوئی اطلاع آئی تو ہم آپکو بتا دیں گے۔
کنپٹی سہلاتے افسر نے بمشکل اپنی جھلاہٹ پر قابو پاتے ہوئے عزت سے انکو نکل جانے کا کہا تھا۔ یون بن کم سن سر جھکا کے کوریائی انداز میں خدا حافظ کہتے نکلنے لگے۔ ایڈون بھئ ہمرا ہ تھا جب پولیس افسر نے پکارا۔
اور آپ مسٹر آیڈون
وہ اب ایڈون سے مخاطب تھا۔
اگلے اڑتالیس گھنٹوں تک آپ شہر سے باہر نہیں جائیں گے او رجب آپکو بلایا جائے آپکو یہاں آنا پڑے گا تفتیش میں آپ سب سے پہلے شک کے دائرے میں آتے ہیں۔
ایڈون نے ہونٹ بھینچ کر سر ہلایا تھا۔
کیا کہا ہے انہوں نے۔ وہ ہیون کے سر ہوئی۔ ہیون نے ترجمہ کیا تو وہ اسکے سر ہوگئ۔
کیوں شک کے دائرے میں آتے ہیں ؟ کیا کیا ہے ایڈون نے۔ پوچھو ان سے۔
اسکے اصرار پر ہیون کو پولیس افسر سے پوچھنا پڑا۔
اپنی گرل فرینڈ کا جبری اسقاط حمل کروانے کی کوشش کا الزام ہے ان پر۔۔۔۔
پولیس افسر کے جواب کا ہیون نے ترجمہ کرکے بتایا تھا اسے۔ اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ۔ وہ تن فن کرتی ایڈون سے یقینا لڑنے کے ارادے سے نکلی تھی۔ ۔ ہیون جلدی سے پولیس والے سے مصافحہ کرتا اسکے پیچھے بھاگا۔ پولیس اسٹیشن کے باہر بارش شروع ہو چکی تھی۔ ایڈون کم سن شیڈ میں کھڑے یون بن کے پارکنگ سے گاڑی لانے کا انتظار کررہے تھے اس نے پیچھے سے جا کر اسکے کندھے پر ہاتھ مار اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔ ایڈون پورا گھوم گیا تھا اس نے بنا سوچے سمجھے ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر جڑ دیا تھا۔ اسکے پیچھے بھاگ کے آتا ہیون اس سے دو قدم دور ہی رک گیا تھا۔
جرائت کیسے ہوئی تمہاری سنتھیا کے ساتھ یہ سب کرنے کی؟ کیا لگا تھا وہ اکیلی ہے اسکا یہاں کوئی نہیں؟
اس کو زبردستی اسپتال لے جانے کی ہمت کیسے ہوئی تمہاری؟ بولو جواب دو۔
وہ سچ مچ جیسے اپنا آپا کھو بیٹھی تھی۔ گریبان سے پکڑ کر حلق کے بل چلاتے ہوئے وہ اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔
کیا ہوگیاہے اریزہ پاگل ہو گئ ہو؟
ایڈون اس افتاد کیلئے تیار نہیں تھا اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر اس نے جھٹکے سے دور کیا تھا اسے۔ وہ گرتے گرتے بچی تھی۔
تم پاگل ہو چکے ہو۔ وہ جوابا اس سے زو رسے چلائی۔
کیوں مجبور کیا تم نے سنتھیا کو؟ جواب دو مجھے۔ کیا دھمکی دی تھی تم نے اسے کیا کہہ کر۔
کوئی دھمکی نہیں دی تھی میں نے۔ اپنی مرضئ سے گئ تھی وہ میرے ساتھ اسپتال۔
ایڈون نے بمشکل خود پر قابو پا کر جواب دیا تھا۔
میں مان ہی نہیں سکتی۔ سنتھیا کبھی ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ وہ نہیں مان رہی تھی جبھی تم نے مجھے کہا تھا اس سے بات کرو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم اتنے گرے ہوئے انسان ہوگے۔
اریزہ نفرت سے کہتی کف اڑا رہی تھی ایڈون کو اسکی بے اعتباری پر دکھ بھی ہو رہا تھا۔
نا مانو۔
وہ اپنی جتنی بھی صفائی دے لیتا اس نے نہیں ماننا تھا۔اس نے رخ موڑ لیا۔ کم سن او رہیون کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے روکیں دونوں کو۔
میں خود انکل سے بات کرتی ہوں بتاتئ ہوں تم انکی بیٹی کے ساتھ کیا کرچکے ہو اور سنتھیا تمہاری وجہ سے کہیں چلی گئ ہے۔
اس نے صرف دھمکی نہیں دی تھی۔ فون نکال کر اسی وقت اسکے سامنے ملانے لگی ۔۔
اریزہ خبر دار جو تم نے ماموں کو فون کیا۔
وہ بل کھاتا مڑا اسے وارننگ دینے والے انداز میں انگلی اٹھا کر بولا۔
میں ابھی اسی وقت فون کر رہی ہوں۔مجھے سنتھیا مت سمجھنا ڈرتئ نہیں ہوں میں تم سے۔ ۔۔
وہ اس سے ذرا خائف نہ ہوئی تھی بلکہ فون ملا کر کان سے لگا لیا۔
تم سمجھتئ کیا ہو خود کو۔ وہ غصے سے بے قابو ہوتا آگے بڑھا تھا اسکا بازو پکڑ کراسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر دور سڑک پر برستی بارش میں پھینکا تھا۔وہ ششدرسی رہ گئ۔
مجھ سے سنتھیا سے اس معاملے سے دو ررہو سمجھیں ورنہ۔
اسکا بازو سختی سے دبوچے وہ دھمکی آمیز انداز میں بولا
ورنہ کیا ؟۔۔۔کیا کرلوگے بولو۔ تم ایک بزدل گھٹیا اور کمینے انسان ہو۔ کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں ہو تم۔
وہ جوابا اسکو دوسرے ہاتھ سے دھکا دے کر بولی تھی۔اسکو حقیقتا رتی برابر بھی خوف محسوس نہیں ہوا تھا اس سے۔
تم۔ حد میں رہو سمجھیں۔۔۔غصے سے بے قابو وہ شائد اس وقت اس پر ہاتھ اٹھا دیتا کہ کم سن نے اسے پیچھے سے او رہیون نے ایکدم سے اسکے ہاتھ کوپکڑ کراریزہ کا بازو چھڑاتے اسے آگے سے روکا تھا۔ دونوں کی گرفت بھی مضبوط تھی اور نگاہوں میں کچھ ایسا ضرور تھا کہ اسے رکنا پڑا تھا۔
بس کرو۔ کم سن نے اسکوکندھے سے پکڑ کر کھینچ کر پیچھے کیا تھا۔ ہیون دیوار بن کر اریزہ کے آگے آکھڑا ہوا تھا۔ ایڈون کو اپنے غصے کو دبانا پڑا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن گاڑی نکال کے لایا تو سامنے غیر متوقع منظر تھا۔ اریزہ اور ایڈون گتھم گتھا ہورہے تھے او رکم سن اور ہیون معاملہ سنبھالنے میں ہلکان ۔ اسکے گاڑی سے نکلنے کی نوبت نہیں آپائی تھی کم سن نے ایڈون کو کھینچ کر لا کر گاڑی میں بٹھایا تھا اس نے بھی وقت ضائع کیئے بنا گاڑی آگے بڑھا دی۔ انکی گاڑی کو نکلتے دیکھ کر ہیون کو خیال آیا آگے بڑھ کر روکنا چاہا مگر دیر ہو گئ تھی۔ وہ سر پر ہاتھ مارتا اریزہ کی جانب متوجہ ہوا۔ وہ دونوں ہاتھ دعا کی طرح سینے سے لگائے آنکھیں بند کیئے منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتی رو بھی رہی تھی۔
کین چھنا۔۔ ہیون نے اس سے پوچھا تو وہ اور زور سے رو دی۔
کس حال میں جانے کہاں ہوگی سنتھیا۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا اریزہ۔
ہیون کو یہ تو سمجھ نہیں آیا اس نے کیا کہا ہے مگر سنتھیا کا نام لے رہی ہے تو یقینا اسکی وجہ سے ہی پریشان ہو رہی ہوگی سو یہی تسلی دے سکا۔ جوابا اس نے اور زور سے رونا شروع کردیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا سنتھیا کو۔ وہ خیریت سے ہوگی۔ ہم سب مل کر ڈھونڈیں گے تم پریشان مت ہو۔
انی نے بے حد پیار سے اسکو اپنے ساتھ لگا کر تسلی دی تھی۔ وہ اس وقت انکے دفتر میں انکے ساتھ صوفے پر بیٹھی تھی۔اب رو تو نہیں رہی تھی مگر اسکا چہرہ ستا ہوا تھا۔ ہیون کو یہی سمجھ آیا تھا کہ نونا کے اثر ورسوخ سے مدد لی جائے سو اسے نونا کے دفتر لے آیا تھا۔
انہوں نے وقت ضائع نہیں کیا تھا۔ اسے تسلی دیتے ہی کئی جگہ کال ملا دی تھی۔ ہنگل میں ہدایات دے کر وہ فون بند کرکے اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔
وہ جہاں جس ہوٹل میں چیک ان کرے گی ہم اسے ٹریس کر لیں گے۔ ہمارے ادارے کے لوگ تیزی سے کام کرتے ہیں سچ پوچھو تو پولیس سے بھی ذیادہ تیزی سے۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولیں۔اریزہ مشکور نظروں سے دیکھتی بولی۔
آپکا بہت بہت شکریہ انی۔
انی مسکرا دیں۔ ہیون ایک کونے میں ہیٹر کے پاس کھڑا کپڑے سے موبائل صاف کرنے میں لگا تھا۔
آنیو۔یہ کوئی بڑی بات نہیں۔۔ تم مجھے بہنوں کی طرح ہی عزیز ہوگئ ہو۔مجھ سے جو بن پڑا میں کروں گئ۔
سنتھیا کی تصویر میری سیکٹری کو دے دو۔
انہوں نے کہا تو اسے خیال آیا اپنے فون کا۔
وہ تو میرے فون میں ہوگی ۔۔ مگر فون ۔۔۔
وہ پریشان ہوئی۔
ہیون نے مایوسی سے سر ہلاتے اسے دیکھا۔
یہ ختم ہو گیا ہے ۔آن نہیں ہو رہا۔ بارش کے علاوہ یون بن کی گاڑی کا ٹائر بھی اس پر سے گزرا ہے اب اسکو سفر آخرت پر بھیجنا ہی پڑے گا۔
اوہ ۔۔ وہ مایوس سی ہوئی۔۔
ایڈون سے مانگ لیتا ہوں تصویر تم فکر نہ کرو۔
ہیون نے کہتے ہوئے اسی وقت میسج ٹائپ کرکے ایڈون کو بھیجا تھا۔
کچھ کھائو گی اریزہ؟
انی کو اب اسکی مزید فکر ہو رہی تھی۔ بے خیالی میں ہنگل میں ہی پوچھ بیٹھیں۔
نہیں ۔ کین چھنا۔ وہ بمشکل مسکرا کر بولی۔
اب میں گھر جائوں گی۔
یہ پہلا مکمل کورین جملہ تھا جو وہ بولی تھی۔ نونا کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ در آئی۔
تھیبا ۔ تم نے تو بہت جلدی ہنگل سیکھ لی ہے شاباش۔
وہ ہنگل میں اسکی تعریف کر رہی تھیں۔ اسے جملہ سمجھ آگیا تھا مگر اسکا جواب نہ بن پڑا۔
میں کوشش کر رہی ہوں۔
اس نے سوچ سوچ کر کہا۔
اب مجھے محتاط ہونا پڑے گا بھئی۔ اریزہ میں اب ہیون کو کچھ بھی الٹا سیدھا تمہارے سامنے نہیں کہہ سکتی۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں شائد اسکا دھیان بٹانے کی کوشش کر رہی تھیں۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے ہیون کو دیکھا۔ وہ سمجھ کر فورا ترجمہ کرنے لگا۔ اسکی ہنگل بہتر ہو رہی تھی مگر اتنی بھی اچھی نہ ہوئی تھی کہ انکے خالص سیول لہجے کو سمجھ پاتی۔
وہ پھیکا سا مسکرا دی۔ پھر اٹھ کھڑی ہوئئ۔ ہیون نے بھئ تقلید کی۔
میرا خیال ہے اب مجھے گھر جانا چاہیئے۔
انی بھی اسکے ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ایک بار پھر تسلی دینے لگیں
چلو ٹھیک ہے۔ اور بالکل پریشان مت ہونا۔ کوریا محفوظ ملک ہے وہ جہاں ہوگئ خیریت سے ہوگی۔
انشا اللہ۔
اس نے صدق دل سے کہا تھا۔ وہ ان سے الوداع کہنے لگی تھی کہ انی پیار سے اسکے گال سے گال مس کرنے لگیں۔ انہیں اسکا انداز آج بھی یاد تھا۔
مجھے خوشی ہوئی تم سے مل کر۔
مجھے بھی۔ اس نے بھی کرٹسی نبھادی۔
اوہ ہاں۔
انہیں اچانک جیسے کچھ یاد آیا۔ فورا اپنی میز کی جانب بڑھیں دراز کھول کر کچھ کارڈز نکالے اور لاکر اسے تھمائے۔
اریزہ اس سے اگلے ہفتے کو میری شادی ہے تم نے ضرور آنا ہے۔ہوپ اور گوارا کو بھی دے دینا۔میں نے تم سب کے کارڈز سنبھال کے رکھے ہوئے تھے۔
انہوں نے اسے تین کارڈز لا تھمائے تھے۔
ہیون نے جتاتی نگاہوں سے انکو دیکھا وہ قصدا رخ موڑ گئیں۔اور اریزہ کے کندھے پر پیار سے ہاتھ رکھ کر کہنے لگیں۔
مجھے پتہ ہے یہ مناسب وقت نہیں دعوت نامے دینے کا مگر میری مجبوری ہے میں کل چین جا رہی ہوں اب کم از بھی ہفتے بعد واپسی ہوگی میں بالکل نہیں چاہتی کہ میرے عزیزمہمان میری مصروفیت کی نظر ہو جائیں۔
اریزہ نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ بہت خوبصورت کارڈ تھا دلہا دلہن ہنبق میں مسکرا رہے تھے اسک کارڈ کو تھوڑا سا پھسلائو تو اندر سفید براق لباس میں دلہن اورکالے سیاہ سوٹ میں دلہا گلے لگ جاتے تھے۔نیچے خوبصورت ہنگل میں تفصیلات لکھی تھیں۔ بس ایک کارڈ تھا کوئی لمبی چوڑی رسومات نہیں تفصیل نہیں۔
آپ چین جا رہی ہیں ؟ اسکے منہ سے کارڈ دیکھتے ہوئے انکی بات سنتے حیرانی سے پھسلا۔۔
ہاں کیوں؟ وہ اسکی حیرانی پر ہنسیں۔۔
میں چین نہیں جا سکتی؟
نہیں۔ وہ گڑبڑائئ۔
میرا مطلب ہے آپکی شادی ہورہی ہے آپکو اپنی مصروفیات کم کرکے آرام کرنا چاہیئے۔ گھر میں رہنا چاہیئے۔ ہمارے یہاں تو مایوں بٹھا دیتے ٹوٹکے آزماتےاس سے جلد پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
اچھا؟ انی نے بھر پور دلچسپی لی۔
کیا ٹوٹکے کرتے کچھ بتائو مجھے؟ میری جلد آجکل ویسے واقعی کافی بے رونق ہو رہی ہے۔
آپ ایلو ویرا جیل لگائیں۔ اسکرب کے لیئے ہم توبیسن میں دودھ ملا کر لگاتے عرق گلاب میں انٹن گوندھ کر لگاتے۔ ابٹن مجھے نہیں پتہ اسے انگریزی میں کیا کہتے۔۔۔۔۔
وہ دونوں گوڑھ سہیلیوں کی طرح شروع ہو گئ تھیں ۔ ہیون جو گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر نکلنے کو بالکل تیار تھا انکی گفتگو کا رخ مڑتا دیکھ کر تاسف سے سر ہلاتا سوچ رہا تھا۔۔
یہ لڑکیوں کو ہر اہم بات الوداعیہ کے وقت ہی کیوں یاد آتئ ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انی سے مل کر اسکے دل کو واقعی تسلی ہوئی تھی۔ اب وہ رونے کی بجائے ذہن کے گھوڑے دوڑا رہی تھی کہ آخر سنتھیا جا کہاں سکتی ہے۔انی کے دفتر سے نکل کر پارکنگ لاٹ تک اس نے سب ممکنہ مقامات سوچ لیئے جہاں وہ جا سکتی ہے۔ اسکے چہرے پر اسکی ادھیڑ بن واضح تھئ۔ ہیون نے گا ہے بگا ہے اسکے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی تفکر کی گہری لکیر اسکی پیشانی پر واضح تھی۔ بارش تھم چکی تھی۔ مگر سردی شدید تھی۔ اتنئ کہ ہیون نے جھر جھری سی لی اسکو سردی لگ رہی تھی تو اریزہ کو تو تھر تھر کانپنا چاہیئے تھا۔ ابھی شائد سنتھیا کی فکر حاوی تھی جو وہ بالکل آرام سے چل رہی تھی۔
مجھے لگا تھا اس دن سوپ الٹوانے کے بعد تم سنتھیا کے ساتھ دوستی سے تائب ہو جائو گی مگر آج تمہاری پریشانی دیکھ کر مجھے شک ہو رہا ہے کہ میرا پہلا شک درست تو نہیں تھا۔
اس نے ہم قدم چلتے یونہی چھیڑا تھا اسے۔
مجھے بھی لگا تھا مگریہ بھی سچ ہے وہ میری بچپن کی واحد دوست ہے میں اس سے محبت کرتی ہوں۔میرے اس پر غصے پر اسکی فکر حاوی ہے۔
اریزہ کا جواب نپا تلا تھا۔
یعنی میرا پہلا والا شک درست تھا ۔ تم سنتھیا سے محبت کرتی ہو۔۔
ہیون جیسے سب معاملہ سمجھ گیا۔
ایویں اس وقت تم مجھ سے ناراض بھئ ہوگئ تھیں۔ جانے کیوں لڑکیاں اپنے دل کی بات کھل کر نہ کہتی ہیں نا مانتی ہیں۔
ہیون تاسف سے سر ہلا رہا تھا۔
کونسا پہلا شک؟ ناراضگئ۔
اریزہ نے الجھن بھری نگاہ سے دیکھا۔ پھر دماغ کے گھوڑے سرپٹ دوڑے۔ بھنا ہی تو گئ
کیا مطلب ہے کس وقت کی بات کر رہے ہو؟
جب تم کہتی تھیں ایسی کوئی بات نہیں سنتھیا صرف دوست ہے میری تم تو اس سے محبت میں مبتلا ہو۔
وہ مسکراہٹ دبا کر پکا سا منہ بنا کر بولا۔
پھر پھر؟۔۔
اسے غصے کے مارے کچھ سوجھا ہی نہیں۔ مٹھیاں بھینچ کر وہیں پیر پٹخ کر بولی
سنتھیا میری دوست ہے میں اس سے پیار کر تی ہوں مگر جیسا تم سوچ رہے ویسا کچھ نہیں سمجھے۔
آراسو آراسو۔ وہی تو سنتھیا تمہاری گرل فرینڈ ہے۔
ہیون شرارت پر آمادہ تھا۔بالکل سنجیدہ شکل بنا کر سر ہلانے لگا۔
ہیون۔ اسکا انداز ڈانٹنے والا ہو چلا۔
ایسا ویسا کچھ نہیں۔ میں اسے دوست کے طور پر ہی چاہتی ہوں۔ اور تم آج تک یہ بات لیئے بیٹھے ہو تمہیں یقین کیوں نہیں آتا۔۔
اسے سچ مچ غصہ آرہا تھا۔ وہ دونوں چلتے ہوئے گاڑی کے پاس پہنچ چکے تھے۔
اچھا ۔۔اچھا غصہ کیوں کر رہی ہو۔
ہیون نے آرام سے کہا اور آگے بڑھ کر گاڑی انلاک کرنے لگا۔ مقصد اسے تپانا نہیں تھا وہ تو بس یونہی دل۔لگی کر رہا تھا مگر اریزہ تپ گئ۔
میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔ یہ کام کوریا میں ہوتے ہوںگے ہم پاکستانی نارمل ہوتے ہیں لڑکیوں کو لڑکے پسند ہوتے ہیں او رلڑکوں کو لڑکیاں آئئ سمجھ۔
گاڑی کا دروازہ کھولتے ہیون نے محظوظ سی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔
تو تمہیں لڑکے پسند ہیں۔ لڑکیاں نہیں۔
بالکل۔
وہ آج اسکی غلط فہمی دو رکر دینا چاہتی تھی۔
کیسے لڑکے پسند تمہیں؟ موٹے گنجے بڑی عمر کے یا۔۔
اس نے گاڑی کی چھت پر بازو ٹکا ہاتھ کی پشت پر تھوڑی رکھتے ہوئے دلچسپی سے دیکھا۔۔
موٹے گنجے بڑی عمر کے۔ اسکے ذہن میں سجاد گھوم گیا۔ وہ موٹا گنجا تو خیرنہیں تھا مگر ہاں اسکا آئیڈیل بھی نہیں تھا۔ اسکا آئیڈیل۔۔ وہ سچ مچ سوچ میں پڑی۔
موٹے نہ ہوں اسمارٹ ہوں بال بھی سر پر ہونے چاہیئے لمبے ہوں گورے کالے سے فرق نہیں پڑتا بس بندے کی صورت ایسی ہو جیسے ابھی مسکرا دے گا غصہ ور تنک مزاج لڑکے ذہر لگتے۔
لمبا چلے گا؟ ہیون اسکے ساتھ کسوٹی کھیل رہا تھا جیسے۔
اس نے فورا سر ہلایا۔
ہاں لمبا ہونا چاہیے میں اتنی لمبی نہیں اوپر سے وہ بھی گٹھا ہوا تو بچے۔۔۔
روانی میں وہ کیا بولنے جا رہی تھی سٹپٹا کر بریک لگائی
لمبا گورا اسمارٹ لڑکا ہو جو ہر وقت مسکراتا ہو ۔۔
ہیون نے یہ بات جان کے مسکرا کر کہی تھی۔ اریزہ گڑبڑا گئ۔
اچھا آئیڈیل ہے۔
ہیون کا انداز معنی خیز تھا ۔ اس نے جلدی سے اپنی جانب سے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھنا چاہا پھر رک سی گئ۔ اس جانب سیٹ کے آگے اسٹئیرنگ ویل لگا ہوا تھا۔وہ حسب عادت رائٹ ہینڈ ڈرائیو کے حساب سے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب آن کھڑی ہوئی تھئ۔
ہیون کھل کے ہنس دیا۔ وہ اسکے لیئے ہی دروازہ کھل کر بٹھانے کیلئے پسنجر سیٹ کی طرف بڑھا تھا۔ وہ۔کھسیا کر سر کھجاتئ بڑبڑاتی ہوئی گھوم کر اسکی طرف آئی۔ اس نے ایک طرف ہو کر اسکے لیئے دروازہ کھولا تھا۔
اور مہزب بھی ہو۔
اریزہ نے اسکے مہزبانہ انداز کو دل ہی دل میں سراہتے ہوئے سوچا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہوپ کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھی جب وہ گھر پہنچی۔ سیدھا اندر آتے آتے خیال آیا تو پلٹ کر دروازے کے پاس رکھے شو ریک میں جوتے بدل کر اندر داخل ہوئی۔ بیگ سنبھالتی اسے سلام کہتی سیدھا کمرے میں گھس گئ۔ ہوپ پیچھے پیچھے آئی۔
کہاں رہ گئ تھیں؟ اکیڈمی سے تو اتنی دیر نہیں لگتی تمہیں۔۔
اسکے انداز میں فکر تھی۔ بیڈ پر دھپ سے بیٹھتی اریزہ نے حیرانگی سے دیکھا اسے۔وہ بدستور سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اس نے گہری سانس لی۔
پولیس اسٹیشن گئ تھی۔ میری سہیلی کہیں بنا بتائے چلی گئ ہے۔رپورٹ درج کروائی ہے۔ اللہ کرے وہ خیریت سے ہو۔
کون گوارا؟
وہ چونکی۔
آنی۔ ( نہیں) ۔ سنتھیا۔ وہ میری بچپن کی دوست ہے پاکستانی ہے وہ بھی۔
اس نے تفصیلا بتایا۔
تمہاری دوست ہے؟ بچپن کی کہاں ہوتی ہے میں نے تو نہیں دیکھا اسے۔
ہوپ کو ٹھیک ٹھاک حیرت ہوئی تھی۔ اریزہ نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
ہماری لڑائی ہوئئ وی تھی۔
فون کیوں آف ہے تمہارا؟ اتنی مرتبہ کال ملائی میں نے۔ یہاں میں تمہاری گمشدگی کئ رپورٹ درج کروانے کا سوچنے لگی تھی۔
ہوپ کی پریشانی اسکے لیئے خاصی خوشگوار حیرت کا باعث تھی۔
فون خراب ہوگیا میرا۔ ٹوٹ گیا۔
اسکے انداز میں دکھ اتر آیا۔ جواب دے کر اردو میں بڑبڑانے لگی۔
اف نیا فون بھی لینا پڑے گا اب مجھے۔ ایڈون کی تو۔۔
کتنا جنگلی انسان ہے کمینہ۔ الو کا۔۔
اسکو دل بھر کر گالیاں دینے کا دل کر رہا تھا۔ کہاں اس نے کبھی اسے غصے سے بے قابو ہوتے نہ دیکھا تھا کہاں آج وہ اس پر شائد ہاتھ بھی اٹھا دیتا اگر ہیون اور کم سن نہ ہوتے۔ اسے سوچ کے پھر غصہ آرہا تھا۔ مٹھیاں بھینچ کر رہ گئ
اچھا۔ چلو کھانا کھالو۔ سبزیوں کا سوپ بنایا ہےساتھ سادے چاول ہیں۔
ہوپ نے اسکے چہرے کے اتار چڑھائو کو بغور دیکھا تھا جبھی بات بدل دی۔۔۔ اریزہ کا منہ کھلا ہوپ نے آج شائد حیران کر کرکے مار دینا تھا۔
اچھا ۔۔ اسے بھوک لگ تو رہی تھی۔ ہیون کے بار بار کہنے پر بھی وہ کھانے کو تیار نہ ہوئی تھی مگر اب چوہے دوڑ رہے تھے سو بنا مزید نخرے کیئے اسکے ساتھ کچن میں چلی آئی۔
سادے چاول سوپ کے ساتھ ملا کر کھانا نیا تجربہ تھا مگر ذائقہ دار تھا۔ کھاتے کھاتے یاد آیا
انی سے ملاقات ہوئئ تھی آج۔ انکی شادی ہو رہی ہے انہوں نے تمہارے لیئے بھی کارڈ بھیجا ہے۔
ہوپ نے ایکدم سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھی۔
انہوں نے او رکچھ کہا؟
اسکے انداز میں بے تابی تھی۔
اور تو کچھ نہیں۔ اس نے کندھے اچکائے پھر یاد آیا۔
ہاں کل چین جا رہی ہیں ہفتےایک رہیں گی۔ جبھی خود کارڈ دینے نہ آسکیں میرے ہاتھ بھجوادیا۔
انی کل چین جا رہی ہیں۔
وہ بے چین سی ہوگئ ۔
مجھے تو لگا تھا وہ اب تک چین سے ہو کرواپس بھی آچکی ہوں گی۔
اسکے چہرے پر۔تفکر دیکھ کر اسے بھی تشویش ہوئئ
تم ٹھیک ہو؟ انکے چین جانے سے تمہیں کوئی مسلئہ ہے؟
ہاں۔ انکو بہت پہلے جانا تھا اب تک واپس بھی آجانا تھا۔ مگر ظاہر ہے انکو اس بات کی کیا فکر کہ میں کتنی پریشان ہوں۔ انکا مسلئہ تھوڑی۔ پتھر دل ہیں ایکدم ذرا پروا نہیں کہ مجھ پر کیا بیت رہئ ہے
وہ چڑ رہی تھی۔ انی جیسی لڑکی سے بے مروتی سنگدلی کی اسے امید تو نہیں تھی پھر بھی ہوپ سے پوچھ لیا۔
ہوا کیا ہے تمہارا کوئی کام کرنا تھا انی نے؟
کر ہی تو نہیں رہی ہیں کب سے ٹالے جا رہی ہیں۔ میں نے اپنی ماں کا پتہ کروانا تھا جانے کہاں ہیں کس حال میں ہیں چین میں ہی ہیں یا واپس اس جہنم میں پہنچ گئیں ہیں۔ مگر ظاہر ہے یہ پریشانی میری ہے انہیں کیافکر۔
اسکا دل اچاٹ ہو گیا تھا۔ کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اریزہ تسلئ دینا چاہ رہی تھی مگر سمجھ نہ آیا کیا کہے۔ سو کھانے کیلئے ہی روکنے لگی۔
کہاں جا رہی ہو کھانا تو پورا کھا لو۔
ہوپ سر جھٹکتئ پلیٹیں سمیٹنے لگی۔
نہیں بس میرا دل بھر گیا۔تم کافی پیئوگی؟
پل میں تولہ پل میں ماشہ وہ اب مہمان نوازی کے موڈ میں تھی۔ نیکی اور پوچھ پوچھ اس نے بھی جھٹ سر ہلادیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ بیڈ پر بیٹھی اپنے ٹرائوزر کو گھٹنے تک چڑھائے دوا لگا رہی تھی۔ وہ وضو کرکے باتھ روم سے نکلی تو پہلی نظر اسکے زخم پر پڑی ۔۔
یہ کیسے چوٹ لگی۔؟ وہ فطرت سے مجبور تھی شائد۔
ہوپ نے گہری سانس لیکر سر جھٹکا جیسے کہہ رہی ہو تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔
گر گئ تھی۔
مختصر جواب تھا۔ ہوپ کے مزاج کا ابھی بھی اسے پتہ نہیں لگتا تھا پل میں تولہ پل میں ماشہ سو مزید بہناپا دکھانے کی بجائے خود نماز کی تیاری کرنے لگی۔
تمہیں ہاتھ پر پانی نہیں لگانا چاہیئے تھا۔
ہوپ پر شائد اسکا اثر ہوا تھا۔
اتنا گہرا زخم نہیں تھا میرا۔۔۔ پانی زخم پر ٹھیک ٹھاک چبھا تھا مگر کھرنڈ سا آرہا تھا خون نہیں نکلا تو اس نے ہاتھ منہ دھو کر وضو کر لیا تھا۔ اسے جواب دیتئ وہ
کمرے کے کونے میں صاف چادر بچھا کر دوپٹہ اچھی طرح لپیٹ کر نیت باندھنے لگی ۔۔۔ ہوپ بینڈیج لگا کر نائٹ لیمپ جلا کر لیٹنے ہی لگی تھی کہ اسے دیکھ کر خیال آیا تو اٹھ کر بیٹھ گئ۔
تمہارا سونے کا ارادہ نہیں ہے؟ کیا کرنے لگی ہو؟
آں۔ اریزہ چونکی۔
نہیں مجھے نماز پڑھنی ہے۔ تم اگر تنگ ہو رہی ہو تو میں باہر چلی جاتی ہوں۔
شکر تھا ابھی نیت باندھی نہیں تھی۔ فورا جھک کر سمیٹنے لگی تو ہوپ ہاتھ اٹھا کر بولی
میں تنگ نہیں ہوتی میرے سرہانے نقارہ بھی بجا لو تو میں سوجائوں گئ تم پڑھ لو نماز۔۔
ہوپ کے کہنے پر وہ سر ہلا کر چادر ٹھیک کرنے لگی۔
تمہارے خدا کا کیا نام ہے؟
ہوپ کے سوال پر وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی
مطلب؟
مطلب جیسے بدھ متی کے گوتم بدھ ہیں ، عیسائیوں کے جیزز ہوتے تم لوگ اپنے خدا کو کیا کہتے۔
اس نے وضاحت کی۔
اللہ۔
اریزہ کا جواب مختصر تھا۔
تمہارا اللہ تمہاری دعائیں سنتا ہے؟
اسکا اگلا سوال حاضر تھا۔
اریزہ نے پلٹ کر اسکی شکل دیکھی ۔ وہ سنجیدگی سے اسکے دیکھتے ہوئے جواب کی منتظر تھی۔ اریزہ سہولت سے وہیں چوکڑی مار کر بیٹھ گئ۔
ہاں۔ اللہ سے جب میں نے تڑپ تڑپ کر دعا مانگی ہے اس نے سنی ہے۔ میرے ساتھ تو معجزہ بھی ہوا ہے۔ نا ممکن نظر آنے والا کام ہوا ہے۔ اور ۔
وہ روانی میں کہتے کہتے رکی۔پھر دھیرے سے بولی
ممکن نظر آنے والا ایکدم ناممکن میں بدل گیا۔
اسے یاد آیا کس طرح اچانک اسکا بیچ سمسٹر تعلیمی سلسلہ منقطع ہوا۔۔
کونسا ناممکن کام ہوا ہے تمہارا۔۔
ہوپ نے پھر سوال کیا۔
یہی کوریا آنے والا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں کبھی کوریا آکر تعلیم حاصل کرسکوں گی۔ اسکے لیئے میں جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔
اریزہ کے انداز میں اتنی شکر گزاری تھی کہ ہوپ اسے دیکھ کر رہ گئ
مگر تمہارا تو سمسٹر سیز ہوگیا ہے نا۔
ہوپ نے اسکئ دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا
ہاں۔۔ نہیں۔ میرا مطلب اب دوبارہ اگلے سمسٹر میں داخلہ لے لوں گی انشا اللہ۔
اریزہ نے وثوق سے کہا ۔۔
انشا اللہ؟؟؟
ہوپ پھر سوالیہ ہوئی۔
اسکا مطلب ہوتا ہے اللہ کی رضا کے ساتھ۔ یہ کہہ دو تو خدائی مدد ساتھ ہو جاتی ہے پھر ضرور کام ہوتا ہے۔
اریزہ کے کہنے پر وہ چند لمحے سوچ میں پڑی ۔۔
اریزہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
پھر تم کیا انشا اللہ کہہ سکتی ہو کہ میرے بہن بھائیوں اور ماں کا پتہ چل جائے۔
ہوپ نے جانے کس امید کی ڈور تھامے فرمائش داغی تھی۔
اریزہ اسکی شکل دیکھ کر رہ گئ۔ ہوپ کو امید چاہیئے تھی زندگی کی گاڑی کھینچنے کیلئے۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
انشااللہ۔۔ انکا جلد سے جلد پتہ لگ جائے گا۔۔۔
اریزہ نے خلوص نیت سے دعا کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل بھر آیا تھا۔ اسکی نماز طویل سے طویل ہوگئ تھی۔ قضا نمازیں پڑھنے کے بعد اس نے نفل پڑھے تھے سنتھیا کی خیر و عافیت کیلئے۔ دونوں ہاتھ پھیلا کر دعا مانگتے رو پڑی تھی۔
یا اللہ تو جانتا ہے مجھے سنتھیا کی بہت پروا ہے وہ صرف سہیلی نہیں میری بہن جیسی ہے۔ مجھے اس پر غصہ آیا بہت آیا مگر تو جانتا ہے میں نے۔۔ ہچکی۔۔
کبھی میں نے اسکا برا نہیں چاہا اسکو اپنی امان میں رکھنا میرےاللہ۔جانے وہ کہاں کس حال میں ہے اسکو اپنی حفاظت میں رکھنا میرے اللہ۔ دعائیں مانگتے مانگتے اسے ہوپ کی التجا آمیز نگاہیں یاد آئیں تو خود بخود وہ بھی اسکی دعا کا حصہ بن گئ۔
یا اللہ ہوپ پر رحم فرما اسے اسکے گھر والوں کی۔خیر و عافیت کی اطلاع دے۔ اس کے بہن بھائی ماں باپ سب خیریت سے ہوں۔ اسکا انتظار ختم کر دے۔ آمین۔
دیر تک دعائیں کرنے سے اسکا دل ہلکا ہوگیا تھا۔ سلام پھیر کر جاء نماز سمیٹتی وہ اٹھی تو احساس ہوا کافی دیر ہوگئ ہے نماز پڑھتے پڑھتے۔ بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گئ تھی۔ ہوپ شائد سو چکی تھی۔ اسکی مدہم سانسوں کی آواز گہری نیند کا پتہ دے رہی تھی۔ اس کے اوپر کمبل درست کرتی وہ خود بھی اسکے برابر آلیٹی۔ چند ہی لمحوں میں غافل بھی ہوگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ تا دیر سوتی رہی تھی۔ اتنی دیروہ بھی گہری نیند کہ جب اسکی آنکھ کھلی تو کچھ دیر تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کہاں ہے۔ چند لمحے آنکھیں کھولنے میں لگاتے ہوئے اس نے بیڈ پر ہاتھ مارتے ہوئے موبائل ڈھونڈا تھا۔ تکیئے کے نیچے بیڈ سائیڈ میز اچھل کر اٹھ بیٹھی۔ پھر یاد آیا تو سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ۔
سامنے دیوار پر سجی گھڑی دو بجا رہی تھی۔ کلاس مس ہو چکی تھی۔ بھوک بھی شدید تھی۔ سو فورا تازہ دم ہونے نہانے گھس گئ۔ نہا دھو کر گیلے بال تولیہ میں لپیٹے وہ سیدھا باورچی خانے میں چلی آئی۔ میز پر بڑی سی جالی دار ٹوکری سے کچھ ڈھکا ہوا تھا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو ایگ رول آملیٹ توس مکھن اور بنانا ملک کا پیک رکھا ہوا تھا۔۔
ہوپ تم اتنی بھی ہوپ لیس نہیں ہو۔ وہ زیر لب کہتی اہتمام سے ناشتہ کرنے بیٹھ گئ۔
بنانا ملک پیتے ہوئے ہاتھ پر دوا لگا رہی تھی جب داخلی دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔
ہیون ہوگا وہ جلدی جلدی دوا کا ڈھکن لگاتی اٹھی اور بنا کیمرے میں دیکھے دروازہ بھی کھول دیا۔ خلاف توقع سامنے کم سن تھا۔
اسکے چہرے پر اتنی حیرانی آئی کہ کم سن کان کھجانے لگا۔
آننیانگ۔۔ اندر آجائوں؟
آہاں ۔۔ آئو۔ وہ گڑبڑا کر اسے راستہ دینے لگی۔ کم سن گیلری میں لگے شو ریک میں جوتے بدلتا ہوا اندر چلا آیا۔
تم اکیلی ہو۔گھر میں؟ ہوپ بھی نہیں ہے؟
وہ طائرانہ نگاہوں سے اپارٹمنٹ کو دیکھتا پوچھ رہا تھا۔
ہاں فی الحال اکیلی ہوں۔ ہوپ جاب پر گئ ہے۔
اسے کھد بد سی ہورہی تھی سو پوچھے بنا نہ رہ سکی۔۔
تم یہاں کیسے خیریت؟ سنتھیا کا کچھ پتہ لگا؟
نہیں۔ کم سن نے گہری سانس لی۔
تم سے بھی سنتھیا کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے؟
کم سن کے سوال پروہ اسے دیکھ کررہ۔گئ۔
جانے کہاں چلی گئ ہے احمق۔
اس نے دانت پیسے۔۔
میں تم سے اس کے بارے میں بات کرنے آیا ہوں۔
بیٹھو۔
وہ سہولت سے لائونج میں بچھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اسے دعوت دے رہا تھا۔
سب ٹھیک ہے نا؟؟؟۔۔
وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی صوفے پر آبیٹھی۔
سنتھیا سے تمہاری بچپن کی دوستی ہے نا؟
ہاں۔۔ اریزہ بنا توقف بولی۔
کتنی دوستی ہے تمہاری اس سے؟ پریشان ہو تم اسکے یوں گم جانے پر؟
کم سن کسوٹی کھیل رہا تھا وہ۔جھلا گئ
ظاہر سی بات ہے وہ میری دوست کم بہن جیسی ہے مجھے اسکی شدید فکر ہو رہی ہے جانے کہاں ہے کس حال میں ہے۔
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے وہ تمہارے ساتھ کافی کمینہ پن دکھا چکی ہے۔ بد تمیزی کرتی رہی ہے اور پھر بھی تم اس دن والے سوپ کے واقعے کے باوجود اس سے ناراض نہیں ہو ۔۔ ہےنا۔
اس کی تمہید اسے مزید دہلانے لگی تھی۔
ہاں کیوں۔ اسکا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا۔ کم سن نے بغور اسکی پریشان صورت دیکھی۔
سنتھیا ٹھیک تو ہے نا؟
اریزہ کو برے برے وہم ستانے لگے تھے۔
کم سن نے گہری سانس لی اور صوفے کی پشت سے سر ٹکا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن اسے اور ایڈون کو ریستوران لیکر آیا تھا۔
پورک اسٹیک ساتھ ویج سوپ نوڈلز۔ تین جگہ۔
ویٹر کو کھانے کا آرڈر دے کر اس نے جلدی لانے کی تاکید بھئ کر دی تھی۔
تم دونوں بیٹھو کھانا کھائو میں چلتا ہوں۔۔۔مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ ایڈون دامن چھڑا کر نکلنا چاہ رہاتھا۔
کم آنے۔ یون بن نے ہاتھ پکڑ کر روکا۔
میری بھوک سے جان نکلی جا رہی ہے۔ ذیادہ زور نہیں لگا سکتابیٹھ جائو۔ صبح سے تم نے کچھ نہیں کھایا ہے۔
مگر مجھے بھوک نہیں ہے کچھ کھانے کا موڈ نہیں ہے میرا بس اب گھر جائوں گا۔۔ ۔۔
ایڈون کا سچ مچ کچھ کھانے کا دل نہیں تھا ۔ کم سن خاموشی سے ہتھیلی پر تھوڑی جمائے میز پر کہنی ٹکا کر ان دونوں کا محبت بھرا منظر دیکھ رہا تھا۔
باہر بارش ہو رہی ہے کھانا کھالو میں گھر ڈراپ کردوں گا۔
یون بن نے گلاس وال سے باہر چھلا چھل برستی بارش کو دیکھ کر کہا تو ایڈون سر جھٹکتا اٹھ کھڑا ہوا
پنڈی کا رہائشی ہوں بارش سے فرق نہیں پڑتا چلتا ہوں۔
پنڈی میں بہت بارشیں ہوتی ہیں۔ یون بن نے دلچسپی سے پوچھا۔
ہاں۔ ایڈون مصافحہ کرکے نکلنا چاہ رہا تھا ۔۔
اوکے۔ بائے۔۔
یون بن نے ہاتھ نہیں چھوڑا۔
برفباری بھی ہوتی ہے؟ اگلا سوال حاضر تھا۔
نہیں۔۔۔ ایڈون نے دانت پیسے۔
ویٹر کھانا لے آیا تھا۔۔ میز پر رکھے چھوٹے سے چولہے پر گوشت انہوں نے خود تلنا تھا۔ سوپ کے پیالے اچار اور سلاد کے پتے سجا کر کچے گوشت کی ٹرے لا کر اس نے میز پر رکھی تھئ یوں کے یون بن بیٹھا ہوا ایڈون اسکے ہاتھ میں ہاتھ پکڑائے اسے گھور رہا تھا۔ ویٹر کے چہرے پر واضح حیرانگی تھی مگر بولا کچھ نہیں کھانا سجا کے چلا گیا۔
ہاتھ چھوڑ کر بات کرو۔
نہیں چھوڑوں گا کھانا بھئ آگیا ہے اب کھا کر ہی جا سکتے ہو تم۔۔
یون بن کی دھونس بھری فکر ایڈون کے نخرے۔۔
بس کرو ایویں سب کو مشکوک کر رہے ہو دونوں۔
کم سن نے بیزار سے انداز میں ٹوکتے ہوئے گوشت کے پارچے تلنے شروع کردیئے۔ ایڈون کا ہاتھ یون بن چھوڑ ہی نہیں رہا تھا سو اسے گھورتے ہوئے بیٹھنا ہی پڑا۔
کھانا کھا کر اٹھنے تک بارش رک چکی تھی۔
وہ تینوں بئیر کین تھامے اکٹھے ہی باہر نکلے۔
تم فکر نہ کرو غیر ملکی ہونے کی وجہ سے اسکو ترجیحی بنیاد پر ڈھونڈا جا رہا ہوگا۔ اب تک تو پاکستان ایمبیسی سے رابطہ بھی کر لیا ہوگا دیکھنا ذیادہ سے ذیادہ کل رات تک اسکا پتہ چل جائے گا۔
یون بن نے تسلی دیتے ہوئے اسکا کندھا تھپکا تھا۔ جوابا وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلانے لگا۔
اریزہ کافی پریشان لگ رہی تھی۔
کم سن نے یونہی کہا تھا مگر ایڈون چلتے چلتے رک کراسے دیکھنے لگا۔۔
ظاہر سی بات ہے دوست ہے وہ ۔ پریشان تو ہوگی وہ دیکھا نہیں تھا اسکا بس نہیں تھا کہ ایڈون کو پیٹ ہی دے۔ خاصا کرارا تھپڑ لگایا ہے اس نے۔
یون بن نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تھا۔
ایڈون بھی لگانے لگا تھا کہ میں اور ہیون بیچ میں آگئے۔
کم سن نے اسے جتایا ہی تھا ۔۔ یون بن نے بے یقینی سے شکل دیکھی اسکی
ناممکن۔ ایڈون کبھی اس پر ہاتھ اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
اسکی بات کے جواب میں ایڈون کے سر جھکا لیا۔
میں آجکل بہت کچھ ایسا کر رہا ہوں جو میں عام دنوں میں کرنے کا سوچ بھئ نہیں سکتا۔
ایڈون نے کین خالی کرکے اسے مٹھی میں بھرے بھرے مروڑ دیا تھا۔
کین چھنا کین چھنا۔۔
یون بن اسکا کندھا تھپکنے لگا۔۔
انسان کی اصلیت غیر معمولی حالات میں ہی کھلتی ہے۔
کم سن کو اسکے اعتراف پر مزید غصہ ہی آیا تھا۔
حالات کو کم طاقتور نہیں سمجھنا چاہیئے ان میں انسانوں کویکسر بدل دینے کی طاقت ہوا کرتی ہے۔
ایڈون کو اس پر غصہ نہیں آیا تھا۔ بہت سبھائو سے اسے کہا تھا۔ کم سن نے سر جھٹکا۔وہ گاڑی کے پاس پہنچ چکے تھے سو یون بن نے صلح کا پرچم لہرایا ان کے بیچ۔
اچھا چلو بیٹھو دونوں ۔گاڑی انلاک کرتا یون بن ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا تھا۔۔
کم سن کا موبائل بجا تھا۔ ٹیکسٹ میسج وہ بھی انگریزی میں۔۔ انجان نمبر سے۔۔
اس نے فورا کھولا۔
کم سن سنتھیا ہیئر تم سے بات ہو سکتی ہے ابھی؟
اس نے بے یقینی سے دو سے تین بار پیغام پڑھا۔
یون بن ہارن بجا کر اسے متوجہ کر رہا تھا۔
تم لوگ جائو مجھے ایک کام یاد آگیا ہے۔۔۔۔
یون بن نے سر ہلا کر گاڑی نکال لی تھی۔ گاڑی جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوئی تھی اس نے فورا اس نمبر پر کال ملا دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے مجھے صرف اتنا کہا کہ وہ اپنی دوست کے پاس ہے اور ٹھیک ہے۔ وہ جاب کرنا چاہتی ہے مگر فی الحال وہ کہاں ہے یہ کسی کو بتانا نہیں چاہتی۔ اس نے اپنا فون بھئ بند اسلیئے رکھا ہے کہ کوئی اس تک پہنچ نہ سکے۔
کم سن کی بات پر اس نے حقیقیتا اپنا سر تھام لیا تھا۔ اتنا بچپنا اتنی بڑی حماقت۔ اسے حالات سے لڑنے کے مشورے دینے والی یوں حالات سے بھاگ اٹھے گی۔
اسے غصہ آرہا تھا۔
تم فورا سے پیشتر پولیس کو اطلاع دو کونسا نمبر ہے جس سے اس نے تمہیں رابطہ کیا ہے؟
کم سن ہونٹ بھینچ کر اسے دیکھنے لگا۔ اسکی نگاہیں پڑھ کر وہ چڑ ہی گئ۔
تو اور کیا کروگے؟ ایڈون اسکے والدین سب کتنے پریشان ہو رہے ہیں اور وہ احمق کہیں چھپی بیٹھی ہے۔ اوپر سے تمہیں کال بھی کر رہی ہے کرنی ہی تھی کال تو ایڈون کو کرتی مجھے کرتی۔
اریزہ ۔ شانت رہو۔ اس نے ایڈون کو کال کیوں کرنی تھی وہ اسے مجبور کر رہا ہے ابارشن کیلئے۔ اور تم ۔۔
وہ۔کہتے کہتے رکا۔
دیکھو۔ اریزہ۔
ایمانداری سے کہوں مجھے یہی لگا تھا کہ وہ دوست تم ہو۔۔۔ میں یہاں آیا ہی اسی لیئے تھا کہ اس سے بات کروں۔
حدہے۔ اریزہ تاسف سے دیکھنے لگی۔
اتنی شدید پریشان تھی میں اسکے لیئے اور تمہیں لگا وہ میرے پاس ہے؟
ہاں۔ اس نے صاف گوئی سے کام لیا۔۔
کل جس طرح تم ایڈون کے ساتھ پیش آئیں وہ غیر معمولی تھا۔مجھے یہی لگا کہ کوئی تم پرشک نہ کرے اسلیئے تم اتنا صدمہ دکھا رہی تھیں۔
اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔
اب بتائو اسکی اور کوئی دوست ہے جس کا تم سوچ سکتی ہو جس کے پاس وہ جا کر رہ سکتی ہو۔
کم سن کے کہنے پر اس نے چند لمحے تو سوچا۔پھر سر نفی میں ہلانے لگی۔
یقینا کسی غیر معروف ہوٹل یا سونا میں رکی ہے۔ دوست اسکی صرف یہاں میں ہوں۔ گوارا تک سے تو اسکی دوستی نہیں ہوئی وہ اور کہاں سے دوست بنائے گی۔جھوٹ بول رہی ہے یقینا۔
کرم۔۔ کم سن اٹھ کھڑا ہوا۔
اس نے مجھ سے رابطہ کیا ہے یقینا اسے بھروسہ ہوگا کہ میں اسکا پتہ کسی کو نہیں دوں گا۔ اس نے مجھے خود کال کرنے کا کہا ہے اسکی پھر کال آئے گی تو میں اسے سمجھانے کی کوشش کروں گا اور تمہیں بھئ اسکی خیریت کی اطلاع دے دوں گا۔ فکر نہ کرو۔۔
اسکی تسلی بھی اسے مطمئن نہ کر سکی۔ فکرمندی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔
پولیس کو تو بتا دو۔ کہاں ہے وہ کم ازکم پتہ تو چلے۔
وہ جہاں ہے ٹھیک ہے۔ اس بارے میں مجھے رتی بھر بھی شبہ ہوتا تو یہاں آنے کی بجائے پولیس اسٹیشن جاتا۔ تم بھی گھبرائو مت۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں اگر اس نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے تو اسکا بھروسہ ٹوٹے نا۔ میں اسے سمجھاکر خود واپس آنے کو کہوں گا۔ ٹرسٹ می۔
وہ سبھائو سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہہ رہا تھا۔ اس نے سمجھ کر سر ہلا دیا۔
میں پہلے جاتا ہوں۔
وہ الوداع کہتا نکل گیا ۔ وہ وہیں صوفے پر گر سی گئ۔
حد ہے حد۔ تمہاری رج کے پٹائی ہونی چاہیئے ۔۔سنتھیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیون کے ہم قدم چلتے اکیڈمی کے راستے میں اس نے پورا قصہ سنایا تھا۔
مجھے تو حیرت ہے اس نے کم سن سے رابطہ کیوں کیا؟
اریزہ بھر پور حیرت کا اظہار کر رہی تھی۔
اور مجھے حیرت ہے کم سن اسکی فکر کیوں کر رہا ہے؟
ہیون کے مشکوک ہونے پر وہ گھور کر بولی
کم سن اچھا لڑکا ہے اسکی جگہ تم بھی ہوتے تو ایسا ہی کرتے۔
نہیں۔ ہیون نے اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ ڈالے۔ اور اطمینان سے بولا۔
میں ہوتا تو اس نے جو جو بد تمیزیاں تمہارے ساتھ کی ہیں سب جتاتا اور کہتا کسی اور سے فیور لو مجھ سے کوئی امید نہ رکھنا۔
اریزہ کا۔حقیقتا منہ کھلا رہ گیا تھا
ہیون اسکی حیرت پرخاصا محظوظ ہوا ۔۔ سڑک پار کرنے والوں کا سگنل بند تھا۔
کیا ہوا حیران کیوں ہو رہی ہو ؟ تم میری دوست ہو وہ نہیں تم میرے لیئے اہم ہو جو تمہارے ساتھ بد تمیزیاں کرے گرم سوپ پھینکے اسکا منہ نہ بھی توڑسکوں اسکو منہ تو ہرگز نہ لگائوں میں۔ منہ توڑا بھی تمہاری وجہ سے نہیں۔ تم اسے ابھی بھی اپنا دوست مانتی ہو۔پھابو۔
اس نے کندھے اچکائے۔
اسکو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔ مسکرا کر سر ہلایا۔
سگنل کھل گیا تھا۔اسے سر جھکائے سوچ میں گم مسکراتے دیکھ کر ہیون نے ہی اسکو ہلایا۔
چلو۔
وہ چونکی۔ باتوں باتوں میں اسے پتہ بھی نہ لگا تھا کہ اکیڈمی آگئ ہے۔
میں اتنے دنوں میں ایک بار بھی راستہ نہیں دیکھ پائی۔ تم مجھے باتوں میں لگا لیتے ہو میں اردگرد دیکھتی ہی نہیں۔ اب جس دن تم نہیں آئوگے ساتھ میری چھٹی ہوجانی ہے۔
اریزہ کے منہ پھلا کر الزام دھرنے پر وہ ہنسا تھا۔
تمہاری چھٹئ نہیں ہونے دوں گا بے فکر رہو۔ اسکے اطمینان دلانے پر بھی وہ منہ پھلائے رہی۔اسکا بیگ ہیون نے ہی تھام رکھا تھا وہ خود ایک شاپنگ بیگ تھامے تھی۔۔ سیڑھیاں چڑھ کر اس نے بیگ تھمایا اریزہ کو۔وہ بیگ سنبھالتی خدا حافظ کہتی اندر جانے لگی تو ہایون نے پکار لیا۔
اچھا سنو۔۔۔ پرسوں اسکینگ کا پروگرام تھا میرا جو برباد ہوا ۔ اب آج واپسی پر میں گاڑی لیکر آئوں گا اسکینگ کرنے چلیں گے۔
اس نے فٹا فٹ پروگرام سیٹ کیا
اسکینگ؟ مجھے نہیں کرنی آتی اسکینگ۔ میں نے آج تک نہیں کی۔
اریزہ گھبراگئ ۔
کوئی بڑا مسلئہ نہیں سب پہلی بار کبھی نہ کبھی اسکینگ کرتے ہی ہیں۔ تم اپنا جیکٹ یاد سے اٹھا لینا۔ کلاس میں بھول آئی تھیں نا؟
اس نے اریزہ کے اعتراض کو چٹکیوں میں اڑایا تھا۔
اس نے سر ہلا دیا۔
چلو اندر جائو میں چلتا ہوں۔ ہایون نے اسے اندر جانےکو کہا پھر جاتے جاتے مڑ کر تاکید کی
میں کال کروں گا تو باہر آجانا ۔
میرا موبائل کل ٹوٹ چکا ہے یاد آیا؟
اس نے یاد دلایا۔
مائئ بیڈ اچھا میں اوپر ہی آجائوں گا۔ تم کلاس میں ہی رہنا ۔
اس نے فورا اگلا پروگرام سیٹ کردیا۔ وہ ہاتھ ہلاتا تیز قدم اٹھاتا سیڑھیاں اتر گیا۔ ریلنگ کے پاس آکر وہ اسکو سڑک پار کرتے تک وہ بلا ارادہ دیکھے گئ۔
مس اریزہ۔۔ کلاس شروع ہونے لگی ہے۔
کسی نے اسے دھیرے سے پکارا تو وہ چونک کے مڑی۔
سامنے سر علی کھڑے مسکرا رہے تھے۔
اوہ ہیلو۔ سر آپکے کپڑے۔
اس نے اٹینشن سا ہو کر تھیلا انکی۔جانب بڑھایا ۔ عین اسی وقت سر نے بھئ ایک تھیلا اسکی۔جانب بڑھایا تھا۔
آپکی جیکٹ۔
اوہ۔ وہ میں کلاس میں بھول۔گئ اسے شائد۔
اس پر گھڑوں پانی پڑا تھا۔ پہلے کوٹ اب جیکٹ۔ حد ہے لاپروائی کی اریزہ۔ وہ کوس کے رہ گئ خو دکو۔
آپ اسکو یہیں ریلنگ پر بھول گئ تھیں۔
سرکی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔
اس نے کھسیا کر گھمسامنیدہ کہہ کر تھام لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس میں اسکو نیند سے جھٹکے لگنے لگے تھے۔ بچپن سے انگریزی سیکھنا اور بات تھی بڑے ہو کر ایک نئی اجنبی زبان سیکھنا خاص کر زبان بھی ایسی جس میں ذرا سا حلق پر کم زور دے کر آواز نکالنے پر لفظ کا مطلب ہی بدل جاتا ہے۔
ہنگل کو ٹونل لینگویج کہا جاتا ہے۔ حلق سے نکلنے والی آوازوں سے الفاظ کے مفہوم تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ۔
سرعلی بورڈ کی طرف مڑے ادھر اسکی بس ہوئی جمائی لیتے ہوئے اس نے سر ڈیسک پر ٹکا دیا۔
علی کی عادت تھی ہر نیا لفظ جملہ سکھاتے وقت وہ پوری کلاس سے دہرواتا تھا۔
میں کمچی شوق سے کھاتا ہوں۔
اس وقت بھی جب اس نے جملہ بول کر سب کو اپنے ساتھ بلوانا چاہا تو جواب میں کھلکھلاہٹیں ابھریں۔
وہ مسکرا کر مڑا۔
کیا ہوا؟
سر ۔۔ سب نے اریزہ کی جانب اشارہ کیا تھا۔
وہ سو گئ ہے۔ شائد۔
ایک نے شوخی سے پوچھا۔
ہم ہنگل میں کیسے کہیں گے کہ وہ لڑکی سو گئ ہے؟
ہنگل میں میل فی میل کیلئے الگ ورب استعمال نہیں ہوتا۔ وہ سوگئ ہے ہم۔لڑکے کیلئے بھئ استعمال کر سکتے ہیں۔
علئ مسکرا کر بولا۔
چلیں ہم دوسرا جملہ سیکھتے ہیں۔
اسے آرام کرنے دو مت تنگ کرو ۔۔
اس نے ہنگل میں جملہ دہرایا تھا۔
پوری کلاس نے شرارتا کورس میں دہرایا تھا۔
اریزہ ہڑبڑا کر اٹھ گئ تھی۔
صبح بخیر اریزہ۔
علی نے شرارت سے کہا تو پوری کلاس ہنس پڑی تھی۔
اریزہ کا منہ سرخ ہوگیا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
حسب ہدایت اس نے جیکٹ پہن لیا تھا کوٹ خاص طور پر یاد سے اٹھایا بیگ سنبھال کر باہر نکل آئی۔ سورج نہیں نکلاہوا تھا بادل چھائے تھے۔ سردی کڑاکے کی تھی۔ ہیون کا انتظار کرتے قلفی جمنے لگی تھی جب اسکی دیو ہیکل گاڑی موڑ مڑی تھی۔ جتنی دیر میں وہ یو ٹرن لیکر آیا وہ نیچے سڑک پر اتر کر آگئ تھئ۔ ہیون کو اترنا نہیں پڑا وہ سیدھا بھاگ کر گاڑی کے پاس آئی۔ اس نے فورا دروازہ کھولا۔ اندر گرم گرم ماحول اسے کچھ سکون ملا۔
بہت سردی ہے آج۔ اس نے ہتھیلیاں رگڑیں۔
ہیون نے اسے سیٹ بیلٹ پہننے کی تاکید کرتے ہوئے گاڑی چلا دئ۔
کافی پیوگی؟
اس نے پوچھا جوابا اس نے نفی میں سر ہلادیا
ہاں۔ ورنہ مجھے پھر نیند آجانی ہے۔ پتہ ہے۔ ۔ آج میری اتنی بستی ہوئی۔ سخت شرمندہ ہورہی ہوں میں۔ اس نے منہ پھلا کر شکایت لگائی۔
کیوں کیا ہوا۔ ہیون نے دلچسپی سے اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھا
اتنا گرم ماحول تھا کلاس کا مجھے نیند آگئ۔سب نے اتنا مزاق اڑایا۔ وہ ناک چڑھا کر بولی۔
ہیون مسکرا دیا۔
کوئی بات نہیں۔۔۔۔
سر علی دیکھنے میں کیسے سڑو کھڑوس سے لگتے ہیں سب کے ساتھ مل کر ہنس رہے تھے۔
اس نے جمائی لیتے ہوئے بتایا۔
ہیونگ بہت خوش مزاج انسان ہوتے تھے۔ بہت شرارتی اور زندہ دل۔
ہیون کی بات پر اسے صد فیصد یقین تھا۔
اندازہ ہوگیا مجھے کل سے کافی پی کر جائوں گی کلاس میں۔ ویسے اسکینگ ریزورٹ کتنا دور ہے؟۔
اریزہ نے پوچھا تووہ گاڑی کی اسکرین پر اشارہ کرکے بولا
بنا ٹریفک 45 منٹس کا راستہ ہے تم سو سکتی ہو نیند پوری ہو جائے گی تمہاری۔
وہ احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا سیول کی سڑکیں شفاف بنا کھڈوں والی وہ سو بھی سکتی تھی مگر اتنی بستی کے بعد سونا چاہیئے نہیں تھا اسے۔ سو جھٹ کانوں کو ہاتھ لگائے۔۔
نہ بابا نہ اب نہیں رسک لینا سونے کا۔ ۔ پوری آنکھیں کھول کر بیٹھوں گی ۔۔۔ایک دن میں ایک ہی بستی کافی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹریفک آج تھا۔۔۔ شفاف سڑک طویل راستہ آج ہیون بھی خلاف معمول خاموش تھا۔ وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتی چپ ہوئی اس وقت گاڑی ٹریفک میں پھنسی تھی ۔ جب تک نکلے گی۔۔۔۔ تیسرا کلمہ پڑھو تو راستے آسان ہو جاتے یہ سوچتے ابھی ورد شروع بھی نہیں کیا تھا کہ کب پلکیں بوجھل۔ہوئیں۔۔ سچ مچ اسکے برابر بیٹھی اونگھ گئ تھی۔ گاڑی رکی ہوئی تھی جب اسکی آنکھ کھلی۔ شائد ویسے ہی نیند پوری ہونے پر آنکھ کھلی تھی۔
اللہ و اکبر اللہ و اکبر۔ لا الہ الااللہ۔۔
نہیں اذان کی آواز تھی۔ بہت تیز نہیں تھی مگر واضح تھی۔ ختم ہو رہی تھی۔
اس نے سیدھا ہوتے اردگرد نظر دوڑائی تو باہر اندھیرا چھا چکا تھا۔گاڑی شائد کسی تفریحی مقام کے احاطے میں پارکنگ ایریا میں رکی ہوئی تھی۔ اسکی سیٹ آرام دہ حالت میں پیچھے ہوئی وی تھی شائد جبھی وہ سوتی رہی۔۔
گاڑی بند کیئے نشست کی پشت سے سر ٹکائے آرام دہ حالت میں بیٹھا تھا۔ چہرے پر سنجیدگی سامنے ونڈ اسکرین پر نگاہ جمی ہیون کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ اتنی گہری سوچ تھی کہ اسکے اٹھنے کا اسے احساس ہی نہ ہوا۔
اس نے شرمندہ سا ہوتے ہوئے پکارا
ہیون۔
آں دے۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔
اٹھ گئیں تم؟ نیند پوری ہوئی۔
وہ یونہی پوچھ رہا تھا مگر وہ اچھی خاصی شرمندہ ہوگئ۔
آئیم سوری۔ تم نے کہیں گھومنے جانا تھا اور میں سو گئی۔ اٹھا دیتے مجھے؟ ایک تو تمہاری گاڑی کی نشست ہی اتنی آرام دہ ہے بندہ ذرا سا سر ٹکائے غافل ہو جاتاہے۔
خالصتا اریزہ کا انداز شرمندہ بھی ہورہی تھی ساتھ الزام اسکی گاڑی پر لگا دیا۔
بہر حال اٹھا دینا چاہیئے تھا تمہیں جانے کتنی دیر ہوگئی۔
اس نے موبائل میں وقت دیکھتے پھر ٹوکا۔ گھڑی نے اگلا جھٹکا دیا اسے۔چیخ ہی پڑی
کیا پونے سات میں تین چار گھنٹے سوتی رہی۔ حد ہے۔

تم بہت گہری نیند سو رہی تھیں مجھے اٹھانا مناسب نہیں لگا۔۔ اسکینگ کا ارادہ تھا یقین کرو گوانگانگ دو ریزورٹ کے پارکنگ لاٹ سے گاڑی واپس نکال کے لایا ہوں۔
ہیون محظوظ سے انداز میں بتا رہا تھا۔
اریزہ کی بچی۔ وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولی۔ رات گئے ہوپ کے ساتھ طویل بیٹھکوں کا یہی نتیجہ نکلنا تھا۔ بہر حال نیند پوری ہو گئ تھی۔
مجھے جگا دینا چاہیئے تھا۔
اسکینگ میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی مگر یوں ہیون کی گاڑی میں دوسری بار اتنی طویل نیند لینا اسے خاصا شرمندہ کر گیا تھا کیا سوچتا ہوگا۔
چلیں؟۔۔
ہیون نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے چلنے کا اشارہ کیا وہ سر ہلا کر دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
یہ کونسی جگہ ہے؟
باہر ہوا خاصی سرد تھی اسے تو لگا بوندا باندی بھی ہو رہی ہے۔ اس نے جھر جھری سی لی۔
سر پرائز ہے خود ہی چل کر دیکھ لو
ہیون بے نیاز بنا ۔ اس نے بھی کندھے اچکا دیئے۔ پارکنگ انہیں نسبتا فاصلے پر ملی تھی۔ ذیلی سڑک پر ہیون کے ہم قدم چلتے وہ گردن گھما گھما کر دیکھ رہی تھی آتے جاتے لوگ سڑک کی چہل پہل سامنے کھلی مارکیٹ کی رونقیں ۔کرسمس کی تیاریاں عروج پر تھیں مارکیٹ میں جا بجا سینٹا کے لباس میں چلتے پھرتے لوگ اشتہار بانٹ رہے تھے کہیں کرسمس ٹری سجا کھڑا تھا وہ بہت شوق سے رونقیں دیکھ رہی تھی ہیون چلتے چلتے رکا۔ وہ بھی رک گئ۔
تم غلط جگہ دیکھ رہی ہو۔ پیچھے مڑ کر دیکھو۔ ہیون نے کہا تو وہ نا سمجھتے ہوئے گول گھوم گئ۔
وہ عربی طرز تعمیر کی بڑی سی عمارت تھی۔ سبز روشنی سے سجے دومینار گنبد۔ جس پر بڑا سا اللہ و اکبر لکھا ہوا تھا۔
اس نے حیرانگی سے مڑ کر اسے دیکھا۔
ہم مسجد آئے ہیں ؟
اریزہ کے حیرانگی سے پوچھنے پر وہ ہنس دیا۔
ہاں۔ چلو تو سہی اندر۔
ہیون کے کہنے پر وہ کندھے اچکا کر ساتھ چل پڑی۔
اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ سیول شہر میں جامع مسجد بھی ہوگی۔
یہ اٹیوان ہے یہاں کافی سارے مسلمانوں کے ریستوران بھی ہیں۔
ہیون اسکی معلومات عامہ میں اضافہ کر رہا تھا۔
وہ سر ہلاتی اسکے پیچھے چل رہی تھی۔ شائد فیصل مسجد کی طرح کا کوئی تفریحی مقام ہے یہ۔۔ کوئی مشہور مسجد یا۔۔ وہ بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر مسجد کا احاطہ شروع ہو رہا تھا۔ کچھ چندی آنکھوں والے کچھ افریقی النسل سر پر ٹوپی سجائے شائد نماز پڑھنے اوپر جا رہے تھے وہ ایک طرف ہو کر راستہ دینے لگی۔
ہیون اپنی جھونک میں آگے بڑھ رہا تھا کہ احساس ہوا وہ کہیں پیچھے رک گئ ہے۔ وہ واقعی سیڑھیوں کے اختتام پر ایک جانب کھڑی ہو کر سر اٹھا کر مسجد کی عمارت کو دیکھ رہی تھی۔
ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔ کئی قطرے اسکے چہرے پر آن گرے تھے۔
کیا ہوا چلو نا نماز کا وقت ہو رہا ہےنا تمہاری؟
ہیون نے پاس آکر کہا تو وہ یوں دیکھنے لگی جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔
تم یہاں مجھے اسلیئے لائے ہو کہ میں نماز پڑھ سکوں؟
وہ حیرانگئ سے مرنے کو تھی جیسے۔ ہیون نے سر ہلایا۔
لڑکیاں مسجد جا کر نماز نہیں پڑھتی ہیں۔ اس نے سر پیٹ لیا جیسے۔۔
جانتا ہوں۔ مسلمان لڑکے او رلڑکیاں الگ الگ عبادت کرتے ہیں ادھر لڑکیوں کیلئے الگ انتظام ہے۔
اس نے دور راہداری کی جانب اشارہ کیا۔ جہاں ایک بورڈ لگا ہوا تھا جس میں کورین میں کوئی ہدایات وغیرہ لکھی تھیں۔
میں سب معلومات لیکر آیا ہوں۔ تم جائو نماز پڑھ لو میں یہاں تمہارا انتظار کرتا ہوں یا بلکہ ایسا کرتا ہوں میں بھی اندر پریئیر کر آتا ہوں۔ ٹھیک ہے۔
ہیون اسے آج شائد حیران کر کرکے ہی مارنے والا تھا۔
تم کونسی پرئیر کروگے؟ نماز پڑھوگے؟ اریزہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
ہیون ہنس دیا۔
مجھے نماز کہاں آتی ہے مگر خدا تو ہر عبادت گاہ میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ میں اندر جا کر ہاتھ جوڑ کر پرئیر کر لوں گا جیسے تم نے چرچ میں ہاتھ ایسے کرکے دعا مانگئ تھی۔
ہیون نے دعا کرنے کے انداز میں ہاتھ پھیلاکر سمجھایا۔ اسکے نزدیک یہ کوئی بڑی بات نہ تھی۔ اریزہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس دن چرچ میں سر ڈھانک کر اس نے جو دعائیں مانگی تھیں اسکو کسی نے نا صرف نوٹ کیا تھا بلکہ اسکا بدلہ اتارنے پر تل گیا تھا۔ مسجد میں ہتھیلیآں جوڑ کر پرئیر کرنے کو تیار ہیون ۔۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ اسکی معصومیت پر ہنسے یا اپنا سر پیٹ لے۔
کیا سوچ رہی ہو؟
ہیون نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔
ہم باہر چل کر بات کرتے ہیں۔
بہر حال وہ مسجد کے احاطے میں کھڑے تھے۔ اسے یہاں اسکی غلط فہمی دور کرنا بھی بے ادبی لگا تھا۔
وہ سنجیدگی سے کہہ کر پلٹی
اریزہ۔ رکو ۔۔ مجھے ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔
ہیون نے اسکا بازو تھام کر روکا۔

نیچے چلتے ہیں نا۔ بارش بھی ہونے لگی ہے اب تو۔
اریزہ نے بیزاری سے کہا۔۔
نہیں یہیں بات کرنی ہے۔
اس نے لمحہ بھر سوچ کر گہری سانس لیکر کہہ دیا۔
میں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ میں آج تمہیں یہاں اسی لیئے لیکر آیا ہوں۔
وہ تھم کر رکا تھا پھر ایک قدم آگے ہو کراسکا ہاتھ تھام کر کہنے لگا۔ اسکی سنجیدگی اسکا انداز اریزہ ٹھٹک کر اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔ اسکے صبیح چہرے پر سنجیدگی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔یقینا کوئی اہم بات تھی۔
ایسی کیا بات۔۔ نیچے چل کر بات کرتے ہیں نا۔۔
کھد بد تو ہو رہی تھی ۔ اریزہ نے دھیرے سے کہہ کے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا۔۔
اریزہ میں جو بھی کہنے جا رہا ہوں اس میں کوئی لگی لپٹی نہیں ہے۔ جو میرے دل میں ہے بنا سوچے میں کہہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ اس نے گہری سانس لیکر اریزہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
اس دن چرچ میں تمہیں دیکھ کر مجھے ایک الگ سا احساس ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا تھا وہ کیا احساس تھا۔۔ تم پرئیر کر رہی تھیں مگر تم اتنی مختلف اور مقدس سی لگی تھیں مجھے کہ میرا دل لمحہ بھر کو جیسے تھم سا گیا تھا۔ تمہیں دیکھنا تمہیں جاننا چاہتا تھا تب میں۔
اریزہ اپنا ہاتھ چھڑانا بھول گئ تھی۔ موسم نے کروٹ لے لی تھئ۔ بوندا باندی تیز پھوار میں بدلتی جا رہی تھی۔
اور پھر دھیرے دھیرے یہ احساس اتنا الگ اتنا انوکھا رخ اختیار کر گیا ہے کہ اسکا اعتراف میں آج یہاں کرنا چاہتا ہوں۔ تمہاری مقدس ترین عبادت گاہ میں کہ۔
وہ سانس لینے رکا۔۔ اریزہ کی سانس رک سی گئ۔
اریزہ تم مجھے بہت اچھی لگنے لگی ہو۔
رواں انگریزی بولتے بولتے وہ ایکدم اردو پر اتر آیا تھا۔
اریزہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔ بلکہ۔
اس نے ذرا سا وقفہ لیا۔
میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔
اس نے ان دو جملوں کو بولنے کی بہت مشق کی تھی۔ جبھی بالکل اٹکے بنا ایکدم کہہ ڈالا تھا۔
بجلی نہیں کڑکی تھی۔ بادل نہیں گرجے تھے۔ مگر شور ایکدم سے اتنا بڑھا تھا کہ اسے جیسے اسکی سنائی ہی نہ دی۔ نہیں سن تو لی تھی مگر سمجھ نہیں آئی تھی۔
اریزہ بنا پلک جھپکائے اسے دیکھتی جا رہی تھی۔
کیا اس نے وہی کہا ہے جو اس نے سنا ہے۔
اریزہ میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں ۔۔ جھنچا۔
ہیون نے جھنچا پر زو ردے کر کہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔

جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko Salam Korea ki yeh qist ? Rate us below

Rating
Home » 2023 » 01

Salam Korea Episode 33

salam korea
by vaiza zaidi
قسط 33

ڈرائیور کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگا ۔ اس نے تیزی سے جا کر سنتھیا کے کمرے کا دروازہ کھٹکایا . چند دستکوں پر بھی نہ کھلا تو اس نے زور لگا کر کھول دیا تھا۔ کمرے میں تالا نہیں لگا تھا مگر کوئی تھا بھی نہیں۔
کیا ہوا آپ جانتے ہیں کون ہے سنتھیا ؟
ڈرائور نے حیرت سے پوچھا تھا۔اسکے پاس جواب دینے کا وقت نہیں تھا۔ اس نے فورا فون نکال کر کال ملانی چاہی۔ مگر کس کو کال ملائے؟ سنتھیا کا تو نمبر اسکے پاس تھا بھی نہیں۔ ۔ سر جھٹک کر وہ خود ہی ڈھونڈنے کا ارادہ کرتا گوشی وون سے نکلا
میں آپکو لے چلتا ہوں جہاں جانا۔
ڈرائیور اسکے پیچھے بھاگا آیا تھا۔ تیزی سے ڈرائئونگ سیٹ کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے کہا تھا۔ کم سن سر ہلاتا ٹیکسی کی جانب بڑھا جب اسے شائبہ سا گزرا ۔ کن اکھیوں سے نظر آتا وجود۔ وہ آیکدم سے رکا۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا ۔ داخلی گلی سے خراماں خراماں چل کر آتی سنتھیا سامنے ہی کھڑی تھی۔ ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے۔ اسے دیکھتا پا کرشائد یونہی ٹھٹھک کر رکی تھی۔
ہائیش۔
اس کی جیسے جان میں جان آئی تھی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ سوچا کافی پی لوں تو بہتر محسوس کروں گی۔ یہیں کنوینیئنس اسٹور تک گئ تھی بس۔
گارڈن کے باہر سنگی کیاری سے ٹکے کافی کا گھونٹ بھرتی وہ مضبوط انداز میں بتا رہی تھی۔ کم سن نے گہری سانس لی۔
میں معزرت خواہ ہوں۔ یقینا زبان الگ ہونے کی وجہ سے کوئی غلط فہمی ہوگئ ہوگی۔ میں بنیاد پرست مسیحی ہوں حرام موت مرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔
اس نے ہنس کر کہا تھا۔ کم سن نے بغور اسکی شکل دیکھی ۔ اتنی بغور کہ وہ تھوڑا جز بز سی ہوگئی۔
چلتا ہوں میں۔ تمہارا بوائے فرینڈ بے ہوش پڑا ہے اپنے کمرے میں۔اسے ہی چھوڑنے آیا تھا میں۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
کیا ہوا اسے؟
وہ گھبرا کے بولی تھی۔
پی کے ٹن ہے۔
اس کا انداز تسلی دلانے والا تھا۔ سنتھیا کچھ کہتے کہتے ہونٹ بھینچ گئ۔
تمہارا نمبر میرے پاس نہیں تھا کہ میں کال کرکے پوچھ لیتا معاملہ۔
کم سن نے کہا تو جوابا اس نے بس سر ہلادیا۔وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ پھر والٹ سے اپنا کارڈ نکال کر اسکی جانب بڑھا دیا۔ بڑھاتے ہوئے اس نے حسب عادت اپنا دائیں بازو کی کلائی چھو لی تھی۔
میرا نمبر رکھ لو۔ کبھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔کام آئے گا۔
اب وہ اتنی بھئ بد تمیز نہیں تھی۔ ہاتھ بڑھا کر کارڈ لے لیا۔ سیدھا ہاتھ بڑھا کر کارڈ لے لیا۔ کورین ثقافت میں یہ خاصی معیوب حرکت تھی۔ ہمیشہ کورین کسی کو کوئی چیز دیتے یا لیتے وقت اپنا دایاں ہاتھ کلائی سے چھو لیتے ہیں۔یا دونوں ہاتھ بڑھاتے ہیں۔
سنتھیا جیسے اسکا کارڈ حفظ کر رہی تھی۔
وہ مزید بھئ کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر پھر ہمت نہ ہوئی۔
کرم۔
اس نے اتنا آہستہ سے کہہ کر رخصت چاہی کہ خود بھی بمشکل آواز آئی ۔ دو قدم ہی بڑھائے ہوں گے کہ سنتھیا نے پکار لیا۔
کم سن۔۔
اپنے نام کا اتنا مختلف تلفظ اسکے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔ اس نے دباتے ہوئے مڑ کر دیکھا۔
یہ تمہاری کمپنی ہے؟ کوئی جاب ہے ایسی جو میں کر سکتی ہوں اس میں؟
اس نے سیدھا سوال کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیدھا اپنے کمرے میں آکر اپنے بستر پر گرا تھا۔
چت لیٹے وہ چند گھنٹوں قبل والے منظر میں ہی اٹکا تھا۔
لوگوں میں سے رستہ بناتے وہ جب اریزہ تک پہنچا تھا تو حقیقتا اسے یوں بے دم سا دیکھ کر ایک لمحے کو اسکے حواس گل ہو گئے تھے۔
اریزہ۔ وہ بے تابی سے پکارتا گھٹنوں کے بل جھکا تھا۔ اسکے گرد لڑکے لڑکیوں نے گھیرا سا بنا دیا تھا تاکہ کوئی آگے نہ آسکے۔ رضاکاروں کے اسے اسٹریچر پر لٹا کر اٹھانے تک وہ اسے پکارتا رہا تھا۔ اور اس نے لمحہ بھر کیلئے آنکھ کھول کر دیکھا تھا۔ ہاتھ بڑھایا تھا۔ اسکی انگلیاں زخمی تھیں مگر اس نے اسکی جیکٹ مٹھی میں پکڑ لی تھی۔ اور کچھ کہنا بھی چاہا تھا۔
اس نے کروٹ لی تو جیکٹ کی جیب میں رکھی انگوٹھی کا کیس کمر میں چبھا تھا۔ اس نے سی کرکے ایکدم سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے جیب سے کیس نکالا۔
جانے اسکی قسمت کے ستارے گردش میں کیوں تھے۔ اس نے کیس سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ تبھی اسکی نگاہ سائیڈ ٹیبل پر رکھے گلابی لفافے پر پڑی۔ اس نے اٹھا کر کھولا۔ بے حد خوبصورت ہلکے گلابی پھولوں کا گلدستہ بنا ہوا تھا جس پر ایک کوریائی نظم لکھی تھی۔
تم جو چاہو سمندر کی گہرائی ماپنا
تو تم چاند بنو کہ
لہروں میں تلاطم بپا کرسکو
جو تم دنیاپر حکومت کی آرزو کرو
تو یک جنبش سے موسم بدل سکو
یہ میری آرزو ہے
تمہاری ہر خواہش کا کئی گنا تمہیں ملے
مگر تم نے فقط ستاروں کی چاہ کی ہے۔
تو جان لو
یہ تو تمہارے قسمت میں پہلے سے ہی
لکھے ہیں
مبارک ہو میرے بھائی جو چاہا ملا تمہیں۔ سدا خوش رہو
مجھے پتہ ہے تمہیں کوئی لڑکی انکار کر ہی نہیں سکتی ہے۔
یہ کارڈ نونا نے اسکے لیئے لکھا ہوگا۔اسکے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آئی تھی۔۔ کارڈ دیکھتے وہ دھیرے سے بڑبڑایا۔۔
کتنئ خوش فہمی ہے آپکو میرے بارے میں۔ کیا کہوں
اس نے آج پہلی بار میرا ہاتھ تھاما تھا۔ میرا نام بھی لیا تھا۔ مگر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ نے کہا تھا وہ گھر نہیں آئے گی آج جبھی رات کو تمہاری وجہ سے میں واپس آئی ورنہ میرا قطعی ارادہ نہیں تھاواپس آنے کا۔ یون بن تو کہہ رہا تھا کہ میں سامان لیکر ہی چلوں صبح وہ بجائے یہاں آنے کے مجھے سیدھا بس اڈے لے جاتا۔
گوارا اسکے سامنے ٹوسٹ اور ہاف فرائی انڈہ رکھتے کہہ رہی تھی۔ اسکی تین انگلیاں کچلی گئ تھیں شائد کسی کے پائوں کے نیچے آکر ۔ بینڈیج تو اس نے نہیں اتاری تھی مگر ہاتھ پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ سو وہ الٹے ہاتھ سے ہی ٹوسٹ کا نوالہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔
شکریہ یار تم سراپا پیار ہو۔
اریزہ کے انگریزی میں مکھن لگانے پر وہ ہنس دی۔
پھر ٹوسٹ کا نوالہ بنا کر اسکے منہ میں ڈالا۔
مجھے فکر ہو رہی ہے تمہاری۔ ایسا کرتی ہوں ٹکٹ کینسل کرا دیتی ہوں آج ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔ پراپر چیک اپ کرائو کوئی فریکچر نہ ہوگیا ہو۔
گوارا سچ مچ فکر مند ہو رہی تھی۔
ارے بچی تھوڑی ہوں میں۔ جائو تم میں خود چلی جائوں گی ڈاکٹر کے پاس فکر نہ کرو۔
اریزہ کو اسکا خلوص شرمندہ کر رہا تھا۔
ہاں بچی نہیں ہو جبھی اندھیرے سے ڈرتی ہو اکیلے رہنے سے ڈرتی ہو۔ مجھے حیرت ہے ویسے کیا واقعی کبھی پاکستان میں اکیلی نہیں رہی ہو گھر میں۔میرا مطلب ہے والدین ہر وقت تو ساتھ نہیں ہوتے نا۔
وہ اپنے ماحول کے مطابق کہہ رہی تھی۔
پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔
اسکا جواب مختصر تھا۔ گوارا کندھے اچکا کر رہ گئ۔
اس نے بے دلی سے ناشتہ ختم کیا تھا۔
جائو فریش ہو لو جاتے ہوئے اچھی سی تصویر بنا کر لیکر جائوں گی تمہاری تاکہ سفر اچھا گزرے میرا۔
گوارا نے جیسے اسے پچکارا۔وہ یونہی سستی سے اٹھ کر نہانے گھس گئ۔ اپنے بیگ کو سمیٹ کر وہ بیڈ پر دھپ سےبیٹھی پھر ایکدم اٹھی۔ وہ شائد اریزہ کا موبائل تھا۔
اس نے ایک نظر بند دروازے پر ڈالی پھر اسکا موبائل اٹھا لیا۔ لاک نہیں تھا۔ وہ سہولت سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ
اریزہ آئم سوری مگر ہیون کا مسلئہ بھی اہم ہے مجھے ہی تم دونوں کی مدد کرنی پڑے گی۔
وہ سہولت سے اسکے موبائل کی گیلری کھول کر دیکھنے لگی۔سنتھیا اور اریزہ کی تصویروں کا ایک انبار تھا۔بہت اسکرال کرکے نیچے جا کے اسے وہ مطلوبہ تصویریں ملی تھیں۔ لال جوڑا۔ دلہن کا اوتار۔ ساتھ وہ استحقاق سے بیٹھا شخص جو ٹھیک ٹھاک تیار تھا۔دلہن کی ٹکر کا ہی۔ پھر خیال آیا تو اپنا موبائل اٹھا کر تصویر کی تصویر کھینچ لی۔
تبھئ ہیون کالنگ لکھا نظر آیا۔ وہ گڑبڑا سی گئ
اسکا موبائل وابریٹ کر رہا تھا اس نے گڑبڑاہٹ میں نو کرکے رکھنا چاہا مگر کال موصول ہوگئ
اسلام وعلیکم صبح بخیر۔
ہیون کی پرجوش سی آواز۔ وہ ٹھس سی ہو کر رہ گئ۔
آننیانگ۔ بمشکل منہ سے نکلا تھا
گوارا۔ ؟ وہ فورا آواز پہچان گیا
دے۔ اس نے سوچ کے جواب دیا تھا
اریزہ کہاں ہے؟
وہ جہاں بھئ ہے تم کہاں ہو؟ کیا کر رہے ہو؟
وہ چڑھ دوڑی۔
کیا ہوا گھر میں ہوں تیار ہو رہا ہوں ۔۔ وہ حیران ہوا اسکے انداز پر صبح صبح بلاوجہ
بس تیاریاں ہی ختم نہیں ہو رہیں تمہاری۔جانے کس انتظار میں ہو۔ ایک ذرا سا زبان نہیں ہلائی جا رہی ہے تم سے۔
وہ بھنائی۔
تم اگر کورین ڈرامے دیکھنے کے عادی ہوتےتو تمہاری احساس ہوتا سائیڈ ہیرو والی سب غلطیاں دہرارہے ہو تم۔
گوارا کو اتنا غصہ آرہا تھا کہ دل کر رہا تھا فون سے نکل کر کان کھینچ لے اسکے
ہیون اسکی بات پر الجھن ذدہ انداز میں فون دیکھنے لگا۔
مطلب۔ وہ واقعی نہیں سمجھا تھا
مطلب سادہ سا ہے۔ مواقع بھی اسی کو ملتے ہیں جسکو ان مواقعوں سے فائدہ اٹھانا آتاہو۔ ذرا گنو کتنے مواقع اب تک گنوا چکے ہو ۔ سادہ سا سارانگھیئے کہنے میں اتنا ہچکچا کیوں رہے ہو۔ اریزہ جتنی بھی مختلف لڑکی سہی سر تو نہیں پھاڑ دے گی نا تمہارا آئی لو یو کہنے پر۔ کل بہترین موقع تھا کہتے اسے آئی لو یو مگر نہیں جانے کس کے انتظار میں ہو تم ۔کل کلاں کو کسی اور نے تم سے ذیادہ ہمت دکھا دی تو بیٹھے رہنا سر پر ہاتھ رکھ کر روتے۔
گوارا نے بنا لحاظ ٹھیک ٹھاک سنا دی۔
کل کیسے کہتا ۔۔ وہ چڑ کر کہتے یکدم رکا۔ خیال آیا تو پوچھنےلگا
کل اریزہ نے بتایا تمہیں۔
ہاں گر گئ تھی وہ اسکا ہاتھ زخمی ہوگیاہے۔ تم کہاں تھے اس وقت ویسے؟ چوٹ لگنے کیسے دی اسے ؟
گوارا نے کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا اسے۔
اب کیسی ہے وہ؟
وہ احتیاط سے بات کر رہا تھا۔
ہاتھ سوجا ہوا ہے میں اسے کہہ رہی تھی ایکسرے کروائے اور ڈریسنگ بھی دوبارہ کروانی ہوگی اسے۔ کہا تو ہے اس نے آج جائے گی۔ تم لے جائونا اسے۔
وہ جتانے والے انداز میں بولی۔
ہوں اور ہوپ کیسی ہے؟
ہیون نے پوچھا تو وہ الٹا اسے پوچھنے لگی
پتہ نہیں رات گھر نہیں آئی تم کیوں پوچھ رہے ہواسکو کیا ہونا؟
ایسے ہی ۔۔ کل وہ بھی آئی تھی کانسرٹ میں۔
وہ ٹال گیا۔
اچھا اور اس ہوپ نے تمہارے منہ پر آکر ٹیپ چپکا دی ہوگی کہ۔خبردار آج اریزہ کو پرپوز نہ کرنا ہیں۔
وہ بھی جوابا تیز ہو کر بولی تو ہیون قہقہہ لگا کر ہنس پڑا
تم بھی نا۔۔۔اچھا اریزہ کو بتا دینا میں آرہا ہوں تیار رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی اداس سی شکل بنا کر اسے دروازے تک چھوڑنے آئی تھی کہ گوارا دیکھ کر رہ گئ
تم میرے ساتھ ہی چلو مجھے پتہ ہے اس ہوپ کے ساتھ رہناکتنا ہوپ لیس ہے۔
گوارا نے کہہ ہی دیا۔ وہ ہنس دی۔
یار میں جاب کرتی ہوں اب اور اب اکیڈمی جوائن کر رہی ہوں ہنگل سیکھوں گی تھوڑا پڑھائی پر دھیان دوں گئ مجھے یہاں سے اب ڈگری لیکر ہی جانا ہے۔ چھٹیوں کا وقت نہیں میرے پاس۔۔۔
اس کا ارادہ مصمم تھا۔ گوارا نے مسکرا کر سر ہلا دیا
اچھا سنو وہ ہیون کی کال آئی تھی کہہ رہا تھا تیار رہنا وہ آرہا ہے یاد سے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے تمہیں۔
وہ جاتے جاتے کچھ یاد آنے پر پلٹی۔
تمہیں فون آیا تھا؟ وہ حیران ہوئی
نہیں تمہارا فون بج رہا تھا میں نے اٹھا لیا۔ نام ہیون لکھا آرہا تھا انگلش میں تھا تو میں نے پڑھ کر اٹھا لیا۔تم لوگ فون بک میں اپنی زبان میں نام سیو نہیں کرتے؟
گوارا حیران تھی۔ اریزہ نفی میں سر ہلا کر رہ گئ۔
اچھا یار میں نکلتی ہوں یوں بن اب کیا اوپر آئے گا پارکنگ میں ہی رکنے کو کہا ہے میں نے۔ اور تمہیں نیچے تک آنے کی ضرورت نہیں بہت سردی ہے آج۔
اسے گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے گوارا نے محبت سے کہا تھا۔
میں بہت یاد کروں گی تمہیں۔ اریزہ نے اسکے کندھے پر تھوڑی رکھ کر دل سے کہا تھا
میں بھی۔ گوارا بھی سچ مچ اداس ہو رہی تھی
فون کرنا پہنچ کر۔
اسے دروازے سے رخصت کرتے کرتے اس نے یاد دہانی کرائی۔ جوابا گوارا مسکرا کر سر ہلاتے لفٹ کی جانب بڑھ گئ۔ دروازہ بند کرکے اندر آئی تو یکدم ویرانی کا سا احساس ہوا تھا ۔۔
یہ کوریا ہے۔یہاں جن بھوت نہیں ہو سکتے۔
تھوک نگل کر اس نے خود کو یقین دلایا۔ پھر اپارٹمنٹ کی ایک ایک بتی جلادی۔
ٹئ وی بھی آن کر دیا۔
اکیلے کمرے میں رہنا اس نے کس مشکل سے شروع کیا تھا کجا اکیلے گھر میں۔
کچن میں برتن دھونے لگ گئ سب سمیٹا۔۔۔ ایویں ہی بار بار اسے وہم ہو رہا تھا کوئی چل پھر رہا ہےیا اچانک کوئی بھیانک سی شکل والا پیچھے سے آکر کھڑا ہوجائے گا۔
اس نے زو رزور سے آیت الکرسی پڑھ کر خود پر پھونکی۔ اب تھوڑا محفوظ محفوظ محسوس ہورہا تھا۔ مگر یہ احساس وقتی رہا۔
تبھی ٹی وی پر کوئی پر اسرار سی موسیقی چلنے لگی۔
بس اسکی کمی تھی۔
وہ دانت کچکچاتی ٹی وی کے پاس آئی۔
کسی ڈرائونی فلم کا اشتہار تھا ایکدم ہی چیخ اور بھیانک سی شکل ٹی وی پر چھائئ۔۔ اس نے جھٹ چینل بدلا۔
اسکی اپنی آواز گم۔وہیں دھپ سے صوفے پر گر سی گئ۔اب سوجو کا اشتہار چلنے لگا۔
صبح صبح کون ڈرائونی فلم کا اشتہار لگاتا ہے۔ جاہل کورین۔۔
اسکا بس چلتا تو ٹی وی میں سے نکل کر صبح صبح منحوس شکل دکھانے والے کی شکل منحوس کر دیتی مار مار کر۔
مجھے ڈر نہیں لگ رہا ۔۔ سب ٹھیک ہے
اس نے بول کر خود کو تسلی کرانی چاہی۔
تبھی اطلاعی گھنٹی بج اٹھئ۔۔
اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
کاش گوارا واپس آگئ ہو۔
یہ امید کرتے ہوئے اسے اس امید کے بودا ہونے کا احساس تھا۔
اطلاعی گھنٹی دوبارہ بجی۔
وہ ہمت کرکے اٹھ ہی گئ۔۔ پہلے کیمرے سے باہر دیکھا تو اطمینان کی لہر سی دوڑ گئ۔
اسلام و علیکم۔
صبح کی طرح تروتازہ مسکراہٹ تازہ دم سا خوشبوئوں میں بسا ہیون ہاتھ میں ایک بڑا سا شاپر لیئےکھڑا تھا۔
وعلیکم السلام۔ وہ خوش دلی سے کہتی ایک جانب ہوگئ۔
مجھے لگا تھا تم تیار ہو کر میرا انتظار کر رہی ہوگی۔
اسے سویٹ پینٹ اور اپر میں ملبوس ملگجے سے حلیے میں کھڑا دیکھ کراندر آتے ہوئے وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکا۔
وہ شرمندہ سی ہو کر دروازہ بند کرنے لگی۔
بس پانچ منٹ لگیں گے۔ کافی پیوگے؟
اس نے تسلی دینی چاہی۔
نہیں ابھی پی کر ہی آرہا ہوں۔
وہ سہولت سے صوفے پر بیٹھ کرٹی وی دیکھنے لگا۔
وہ اطمینان سے کمرے میں آکر کپڑے لیکر باتھ روم میں گھس گئ۔
جینز ہائی نیک اور اپر پہن کر وہ اپنے گیلے بال ڈرائر کر رہی تھی جب ہیون نے دروازے پر دستک دی۔۔

گیارہ بجے کلاس ہے تمہاری کتنا وقت لوگی اور؟
اسکے کہنے پر وہ چونکی۔
کونسی کلاس؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کامن سینس ہوتا ہے زخم کو صاف کرنا ۔
وہ خفگئ سے کہہ رہا تھا۔ گوارا کے کچن کی کیبنٹس کھول کھول کر دیکھتے اسے مطلوبہ چیز نظر آہی گئ۔
فرسٹ ایڈ باکس۔
اریزہ تھوڑی ہتھیلی پر جمائے کہنی میز پر ٹکائے ایک ٹک گھور رہی تھی۔
تم کتنے لمبے ہو۔ اس کیبنٹ تک میرا ہاتھ پہنچتا تک نہیں۔ گوارا کو بھی پنجوں کے بل کھڑا ہونا پڑتا ہے اسکو کھولنے کیلئے اور تم ۔۔
وہ سچ مچ یہی سوچ رہی تھی۔ سو کہہ دیا۔ ہیون ہنس دیا۔
میں اسے تعریف کے طور پرلیتا ہوں۔ بس قد ہی اچھا ہئ میرا ہے چلو کم از کم کچھ تو اچھا ہے۔
وہ بے چاری سی شکل بناتا اسکے مقابل آن بیٹھا۔ اسکا ہاتھ تھام کر احتیاط سے بینڈیج اتارنے لگا۔
نہیں تمہارے خد وخال بھی اچھے ہیں بالوں کا رنگ بھی سب سے اچھی بات ہے کہ تم دھیمے مزاج کے ہو ہر وقت مسکراتے رہتے ہو مجھے غصہ ور لوگ۔
اپنی تعریفوں پر ہیون نے یونہی سر اٹھا کر اسے دیکھا اسکے چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ در آئی۔ اریزہ ایکدم گڑبڑا کر چپ ہوئی۔
او رکیا کیا اچھا ہے مجھ میں؟۔ وہ اسکا زخم محلول سے صاف کرتے پوچھ رہا تھا۔
آہ۔ جواب تو کیا دینا تھا لگا تھا آگ ہی لگ گئ ہے ہاتھ میں اس نے تڑپ کر ہاتھ کھینچنا چاہا مگر ہیون کی گرفت مضبوط تھئ۔
بیان۔۔ اس نے فورا معزرت کی وہ ہلکے ہلکے سے پھونکیں بھی مار رہا تھا۔
زخم صاف کرنا ضروری ہے۔ سوری۔
اس نے کہتے ہوئے اسکی شکل دیکھی۔ آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھرے وہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس نے جلدی سے آئنٹمنٹ کا لیپ کیا۔ اسکی انگلیاں چھپ سی گئیں سفید مادے میں۔
کل ڈاکٹر نے تمہاری انگلیاں دیکھی تو تھیں فریکچر نہیں ہے مگر پھر بھی اکیڈمی سے واپسی پر ہم ڈاکٹر کے پاس چلیں گے۔ ایکسرے کروالینا چاہیئے تسلی کیلئے۔
وہ مزید کہہ رہا تھا۔
اکیڈمی؟ اریزہ نے سوالیہ انداز میں دہرایا
تم نے فارم فل کر لیا ہے نا ؟ پرسوں کہا تو تھا کل چلیں گے اکیڈمئ؟
ہیون کے پوچھنے پر وہ گڑ بڑا گئ۔
نہیں وہ۔ تم نے کل کا کہا تھا نا کل تو ہم کانسرٹ گئے تھے۔
اریزہ اور غلطئ مان لے اپنی کبھی۔
کل مطلب اگلا کاروباری دن اتوار کو اکیڈمی بھوتوں سے ملاقات کیلئے جانا تھا ؟
ہیون کی بات پر وہ سر کھجانے لگی۔
ہم لوگ ایسے موقع پر طنز میں کہتے کہ اتوار کو صفائی کرنے جانا تھا کیا۔
وہ ہنسی ہیون مسکرایا تک نہیں تو خجل سی ہو کر اٹھنا پڑا۔ خالی فارم لا کر اسکے سامنے رکھا۔ہیون اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گیا۔
زندگئ میں کبھی میں نے کوئی فارم فل نہیں کیا ہمیشہ صارم فل کرتا ہے چاہے اسکول کا ہو کالج کا یا یونیورسٹی کا اور تو اور۔
اسکی لن ترانی سنتے وہ پوری توجہ سے فارم بھرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر دھوپ نکلی ہوئی تھی پھر بھی اسے سردی محسوس ہو رہی تھی۔ گرم لانگ کوٹ کے نیچے اس نے موٹا سویٹر بھی پہن لیا تھا گلے میں مفلر ڈالا ہوا تھا پھر بھئ ناک سرخ اور ٹھنڈی ہوتی محسوس ہو رہی تھی اسے۔
اتنی سردی ہے نہیں ویسے۔
اسکے قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے ہیون اسکا مزاق اڑا رہا تھا۔اوور کوٹ اس وقت تھوڑا گرم لگ رہا تھا مگر اتنا بھی نہیں۔
میرے لیئے ہے۔اس نے شان سے گردن اٹھا کر کہا تھا۔
تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ مگرخنکی لگ رہی تھی
ہم پیدل جائیں گے؟ اس نے یونہی پوچھا تھا
ہاں دو گلی۔چھوڑ کر ہی۔ہے۔ ہیون نے اطمینان دلایا۔
یہ وہی گلی ہے نا جس کے بارے میں تم خوفناک کہانی سنا رہے تھے۔
اس نے پہچان لی۔ ہیون محظوظ سے انداز میں سر ہلانے لگا
پتہ ہے ہمارے گھر کے قریب بھی ایک گلی کے بارے میں مشہور تھا کہ رات کو وہاں چڑیل پھرتی ہے۔ صارم کو بڑا شوق ہوتا تھا اسے دیکھنے کا۔ اکثر رات کو جب ہم واک کرنے جاتے مجھے اتنا ستاتا تھا ہر بار جس گلی میں مڑتے اسی کے بارے میں کہتا تھا کہ یہ ہے وہ گلی۔ اف بہت ڈرایا ہے اس نے مجھے۔ ایک بار تو رو پڑی تھی میں۔ بس جس دن رو پڑی اسکے بعد اس نے مجھے تنگ نہیں کیا۔
تمہیں ڈرنا نہیں چاہیئے یہ جن بھوت سب بکواس ہے۔ ایویں لوگ کہانیاں بناتے تھے وقت گزاری کیلئے۔
ہیون نے یونہی کہا تھا مگر اریزہ کو ایمان تھا انکے ہونے پر
کوئی نہیں ہوتے ہیں۔ ابھئ میں اکیلی تھی نا اپارٹمنٹ میں تو اتنا ڈر بھئ لگا مجھے بلا وجہ آہٹیں ہو رہی تھیں۔
اس نے جھر جھری سی لی۔
تم ڈر رہی تھیں کیوں؟ ہیون رک کر پوچھنے لگا
ویسے تو میں نے آیت الکرسی پڑھ لی تھی اگر کوئی چیز تھی بھی تو بھاگ گئ ہوگی مگر میں کبھی اکیلی رہی نہیں ہوں نا تو بلا وجہ وہم ہو رہا تھا شائد۔
اسے خود پر غصہ بھی آرہا تھا۔
گوارا تو چلی گئ ہوگئ ہوپ بھی سارا دن تو گھرمیں نہیں رہا کرے گی تو تم ڈرتی رہو گی؟
ہیون بہت سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا
میں جاب پر بھی تو جائوں گی۔
وہ کندھے اچکا گئی۔
ہم ویسے یہاں رک کیوں گئے۔
اس نے یونہی ادھر ادھر دیکھا تو وہ اہم شاہراہ پر آچکے تھے۔ سامنے مارکیٹ تھی کچھ دفتر فوڈ پوائنٹ بھئ ۔۔
ہیون نے اشارہ دکھایا۔ ابھی ٹریفک رواں تھا پیدل چلنے والوں کا اشارہ بند تھآ۔وہ اتنا مگن ساتھ چلتی آئی تھی کہ کب سڑک آگئ اسے پتہ نہ لگا۔ اشارہ کھل گیا تھا
ہیون اسکے ساتھ اندر اسکول تک آیا تھا۔ دفتر میں فارم جمع کروا کر اسکی کلاس کی سلپ کارڈ سب کچھ لا کر اسکے ہاتھ میں تھمایا۔
گوماویو۔
اسکے انداز میں لاپروائئ تھی۔
یہ تمہارا بیگ۔ ہیون نے اسکو بیگ تھمایا۔
گرے اور بلیک امتزاج کا جدید فیشن کے مطابق خوبصورت سا کالج بیگ جس میں کئی کتابیں بھی تھیں۔وہ یہی سمجھی تھی کہ ہیون کا اپنا بیگ ہے۔
یہ۔ وہ جھجکی۔۔
میں اس سب کا بل بنا کر اکٹھے وصول لوں گا۔ فی الحال کلاس شروع ہونے والی ہے تمہاری۔
اس نے ذرا ڈپٹ کر کر کہا تو وہ چپ کر گئ۔۔
کرم۔ وہ کہہ کر جانے لگا مگر وہ اپنی جگہ ہی کھڑی تھی۔ نئئ جگہ اجنبئ شکلیں۔وہ یقینا جھجک رہی تھئ۔ وہ کچھ سوچ کر پلٹ آیا پھر ریسیپشن سے معلومات لیکر اسکو کلاس تک بٹھا کر گیا تھا۔
جب فارغ ہو جانا تو مجھے پیغام بھیج دینا میں آجائوں گا۔
اسکے کہنے پر وہ ہچکچا سی گئ۔
تم مت آنا۔ میں خود واپس چلی جائوں گی گھر۔
اسکی بات پر ہیون ایسے مسکرایا جیسے کسی بچے کی بات پر مسکراتے ہیں۔
ویسے تو واکنگ ڈسٹنس ہے مگر کیا تمہیں راستہ آتا ہے۔ ابھی میرے ساتھ آتے ہوئے تم نے اردگرد دیکھا تھا؟
اسکی بات پر زور و شور سے سر ہلاتے ہلاتے وہ رکی تھی۔ ہیون کھل کر ہنسا۔
کرم۔۔ وہ اجازت طلب کرتا چلا گیا۔ وہ اپنا سر تھام کر رہ گئ۔
کچھ ذیادہ ہی پیراسائیٹ بنتی جا رہی ہوں میں۔ اس نے دانت کچکچائے۔
آننیانگ واسے او۔
جماعت میں داخل ہوتے ہوئے انکے استاد نے خوش دلی سے سلام جھاڑا تھا۔ وہ ایکدم چوکنا سی ہو کر بیٹھی۔ سامنے دیکھا اور آنکھیں پھیل سی گئیں۔استاد محترم نے بھی طائرانہ نگاہ جماعت پر ڈالتے ہوئے اسکی موجودگی کو نوٹس کیا اور خوشدلی سے مسکرا دیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلاس فل ہیٹڈ تھئ۔ جہاں کلاس ختم ہونے پر سب طلبا ء جان چھٹی سو لاکھوں پائے کی مصداق باہر بھاگے تھے وہاں وہ آرام سے ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری پر پائوں رکھ کر سکون سے بیٹھ کر موبائل استعمال کرنے لگی۔وہ اسکو ہی دیکھ رہا تھا سب طلباء اٹھ اٹھ کر نکل گئے اسکا اطمینان قابل دید تھا۔ لانگ کوٹ جینز جوتے گلے میں مفلر وہ ملفوف تھی آج بھئ۔
وہ مسکرا کر سر جھٹکتا اسکے پاس ہی چلا آیا
ہیلو۔
اسکے قریب آکر کہنے پر وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی
ہا۔۔ ہیلو۔
بہر حال وہ اب اسکا استاد تھا وہ مزے سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے نیم دراز بیٹھئ تھی۔
کیسی ہو۔
وہ اطمینان سے اسکے قریب کرسی پر ٹک گیا
ٹھیک ہوں آپ کیسے ہو۔ اسے اسکے یوں قریب آ بیٹھنےپر حیرت ہوئی تھی مگر مسکرا کر ہی جواب دیا
آپ کی دو تین کلاسز مس ہو چکی ہیں ہنگل کی آج میری چوتھی کلاس تھی۔ آپ تو پیچھے رہ جائیں گی اس طرح۔
اس نے کہا تو وہ لاپروا سے انداز میں بولی
عام بول چال میں بالکل کوری نہیں ہوں میں آجکا لیکچر بھی سمجھ آیا ہے مجھے اور ہم جب یہاں آئے تھے سمسٹر کئ آغاز میں تو ہماری ابتدائی ہنگل کی کلاسز یونی میں ہوتی تھیں تھوڑی بہت آتی ہی ہے مجھے۔
علی مسکرا دیا
کھانے کا آرڈر کرتے ہوئے کیا جملہ بولنا چاہیے اگر آپ ویجیٹیرین ہوں؟
سادہ سوال۔ ساری ہنگل کے ترمرے سے آنکھوں کے سامنے ناچنے لگے۔۔ پہلا سبق نیا ٹیچر پکا گائودی سمجھے گا۔ اریزہ اپنے زنگ لگے دماغ کو رگڑ لو یہی وقت ہے۔ اس نے اپنے ذہن کے گھوڑے دوڑائے۔
ہیم سونگ چھےاو۔ ۔۔
اس نے چٹکی بجا کر جتانے والے انداز میں کہا۔
علی بے ساختہ ہنستا چلا گیا۔
اریزہ نے خاصئ حیرت سے اسکے ردعمل کو دیکھا۔۔۔
اگر یہ غلط ہے بھی تو آپکو مزاق اڑانے کی بجائے تصحیح کر دینا چاہیئے ۔۔
وہ خفا ہوگئ تھی۔ بیگ اٹھا کر ڈیسک سے اپنی ابتدائی ہنگل کی کتاب سمیٹنے لگی۔
خفا خفا سی منہ پھلائے۔ علی کو اپنی ہنسی کو بریک لگانی پڑی۔
ہیم پیگا چوسے او۔
یہ ہے درست جملہ۔ مطلب سور کا گوشت نکال کے دو۔
علی کا مقصد اسکو خفا کرنا نہیں تھا سو فورا تصحیح بھی کردی۔
اس نے سر ہلادیا۔ اور موبائل اٹھا کے دیکھنے لگی
میسج آیا تھا اسے۔
ویٹ۔
اسے اپنے ٹیچر کا مستقل ٹکٹکی جما کے دیکھنا سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔
بھوک بھی لگ رہی تھی اور گھر بھی جانا تھا۔وہ اٹھ کھڑی ہوئئ
گھر جا رہی ہو ؟اسکئ ٹیچر کو آج بہت فکر ہو رہی تھی اسکی۔
جی۔وہ کہتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئ۔علی کی مسکراہٹ گہری ہوگئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گیلری سے باہر جھانک رہی تھی۔ نرم گرم دھوپ بیچ دوپہر گیارہ سے تین کلاسز تھیں۔ سو اس وقت وہ دھوپ سینک سکتی تھی۔ اوور کوٹ اس نے گرمی لگنے پر اتار کر ریلنگ پر ٹانگ دیا۔ مگر ہائی نیک پہن رکھی تھی۔ اب اندر اسے پسینے آرہے تھے
تمہیں سردی بہت لگتی ہے عادت نہیں ہوئی ابھی؟
اس نے گرم گرم کافی اور چیز سینڈوچ کا شاپر اسے لا تھمایا۔
دے۔۔ وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔ عجیب لگ رہا تھا کہاں وہ اسکا استاد اور اب اس سے کافی اور چیز سینڈوچ کی ٹریٹ لینا۔
شاپر میں دو سینڈوچز تھے یقینا ایک وہ اپنے لیئے لایا تھا۔ اس نے ایک سینڈوچ نکال کر شاپر واپس کردیا۔
چیز سینڈوچ کھا کھا کے نفرت سی ہی ہونے لگی تھی۔ مگر بھوک بھئ لگ رہی تھی۔ اس نے کافی تیزی سے ختم کیا تھا۔
ہیون نہیں آیا ابھئ تک؟
علی نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلادیا۔
آتا ہوگا۔ بہت ذمہ دار لڑکا ہے۔تمہارا انتخاب اچھا ہے۔
اسکی بات پر اس نے ترچھی سی نگاہ ڈالی تو علی نے وضاحت دینے والے انداز میں کہا۔
اچھا لڑکا ہے ہیون۔۔۔ سچ کہوں بہت اچھا ہے۔
علی یقینا رشتہ کرانے والی عورتوں کی طرح دوبارہ تعریفوں کے پل باندھنے لگا ہے ۔ سمجھ کیا رہا ہے یہ۔
اس نے ناک چڑھائئ۔۔
ہیون مجھ سے جونئر ہوتا تھا۔ ہمیشہ سے توجہ کا۔مرکز رہا وہ ۔ ہمارے اسکول کا امیر ترین اور نہایت اچھے مزاج کا متحمل لڑکا۔ایک بار میرا جھگڑا ہوا تھا اسکے دوست سے اپنے دوست کو۔بچانے یہ بیچ میں آگیا تھا پے در پے کئی مکے کھا لیئے اس نے مجھ سے مگر تب بھی پلٹ کر ہاتھ نہیں اٹھایا بس مجھے روکتا رہا۔ بعد میں سب لڑکوں نے مجھے اتنا ڈرایا کہ یقینا اب اسکے ابا مجھے آسکول بدلنے پر مجبور کر دیں گے۔
وہ اسکے برعکس ہلکے پھلکے انداز میں قصہ سناتا چلا گیا
ہیون کا ذکروہ بھی اسکی تعریف اسے سننا اچھا لگا تھا
وہ بھی کافی دلچسپی سے سنتئ گئ
پھر؟ اس کے رکنے پر اریزہ نے فورا پوچھا۔ علی نے اپنی طرف سے بات مکمل کردی تھی مگر اسکے اشتیاق پر ذرا سا ہنس کر مزید بتانے لگا
اگلے دن ہیون آیا نہیں اسکول میں نے بھی سوچا جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ دو تین دن بعد آیا چہرے کی سوجن کم ہوچکی تھی اس نے پوری کلاس کو ٹریٹ دی اور میرے لیئے الگ لنچ باکس لیکر آیا۔ سچی بات اسے دیکھ کر مجھے شرمندگی ہوئی بس پھر میں نے معزرت کی اور اسکے لائے رائس کیک کھا لئے۔
علی نے کندھے اچکائے۔ سنہری دھوپ میں اسکی بے تحاشا گوری رنگت چمک رہی تھی۔ پاکستان میں ہوتا تو فئیر اینڈ لولی کی ماڈل ہوتا۔ اریزہ کو سوچ کے ہنسی آگئ۔
کیا ہوا؟ علی نے دلچسپی سے اسکو ہنستے دیکھ کر پوچھا۔
کچھ نہیں۔ اس نے ٹالنا چاہا۔ مگر اسکے اصرار پر۔بتا دیا
جوابا اس نے خوب اونچا قہقہہ لگایا
پھر تو مجھے فورا پاکستان جانا چاہییے میرا مستقبل کافی روشن ہوگا پاکستان میں۔
علی محظوظ ہوا تھا۔ اریزہ سر کھجا کے رہ گئ۔ یقینا اسکی حس مزاح کافی اچھی تھی۔
ویسے پاکستان میں مسلمان ذیادہ ہیں ہے نا؟ مجھے امریکہ۔میں جتنے بھئ پاکستانی ملے سب مسلمان تھے۔ عیسائی کافی کم ہیں وہاں ۔۔
وہ کافی باتونی تھا یا اس کے ساتھ ہیون کی سہیلی ہونے کی وجہ سے اعزازی توجہ بخشی۔جا رہی تھی۔
ہاں کم ہیں مگر میری پکی سہیلی بھی عیسائی ہے۔ ہم ہمیشہ ساتھ رہتے آئے ہیں میری بہن جیسی ہے وہ۔
بولتے بولتے اسے دور سڑک پار کرتاہیون آتا دکھائی دیا۔
اچھا میں چلتی ہوں۔۔ اس نے کافی کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے بیگ کندھے پر سیدھا کیا۔عجلت میں ٹیک کئیر کہتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئ۔ ہیون کی۔نگاہ ٹیرس پر کھڑے علی پر پڑی تو ہاتھ ہلانے لگا۔علی نے بھی خوشدلی سے ہاتھ ہلادیا
اریزہ تیز قدم اٹھاتی اسکے پاس پہنچ چکی تھی۔ شائد اسے گھرک رہی تھی کیونکہ ہیون مسکراتے ہوئے کان پکڑ رہا تھا۔مکمل منظر علی نے مسکرا کر سر جھٹکا تو یونہی ریلنگ پر ٹکے اس کوٹ پر نظر پڑی۔
ویٹ۔ہیلو۔ اس نے چونک کر آواز دے کر انہیں پکارنا چاہا مگر دونوں یونہی باتیں کرتے مڑنے لگے۔فاصلہ اتنا ذیادہ نہ تھا مگر دونوں شائد ایک دوسرے کے سوا کسی اور جانب متوجہ ہونا نہیں چاہتے تھے۔
علی نے کوٹ احتیاط سے اٹھا لیا۔ اب اسے کل ہی واپس لیا جا سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوٹ جتنئ بھی گہری ہو ذیادہ دوا لگانے سے زخم جلدی نہیں بھرتے۔
ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا تھا۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے ہیون کو دیکھا وہ خفت سے سر کھجانے لگا۔ڈاکٹر نے اسکا ہاتھ نرمی سے صاف کرکے کچھ دوائیں لکھ دی تھیں ۔ ایکسرے کروا کر دکھانے کی بھی تاکید کی تھی۔
معانقہ کرکے ہیون اور وہ اکٹھے ہی باہر نکلے تھے۔ اسکا ایکسرے بالکل ٹھیک تھا۔ انگلیاں بس باہر سے ہی زخمی ہوئی تھیں۔ ہڈی محفوظ تھی۔ زخم صاف کروانے کی تاکید ہی اسے دوبارہ ملی۔
اسپتال سے نکلتے شام ہو چکی تھی۔ ہیون کا سارا دن یقینا اسکے ساتھ برباد ہوا تھا۔اسے شرمندگی سی ہورہی تھی۔ ہیون نے اس سے رات کے کھانے کا پوچھا مگر اس نے سہولت سے منع کردیا۔ وہ اب اسے گاڑی میں گھر چھوڑنے جا رہا تھا۔ مکمل طور پر سڑک پر متوجہ ہیون کو دیکھتے اسے پھر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔
میں نے آج تمہیں بہت زحمت دی ہے ۔ آئی ایم سوری
اس نے کہہ ہی دیا۔
ہیون نے اسے باقائدہ گردن موڑ کر دیکھا۔
شکریہ۔
اسے بھئ احساس ہوا الفاظ غلط استعمال ہو گئے ہیں۔
مجھے بالکل زحمت نہیں محسوس ہوئی۔
اسکا جواب مختصر تھا۔
اریزہ میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ کیا تم کل ڈنر پر چلو گی میرے ساتھ۔
بلا تمہید اس نے سوال کیا تھا۔
آج کیلئے تو وہ سہولت سے منع کر گئ تھی جبھی شائد۔
کیا بات کرنی ہے کرو۔
اس نے تجسس چھپاتے ہوئے کہا تھا۔
کل آٹھ بجے۔ ٹھیک۔۔
ا س نے گاڑی اسکی عمارت کے کمپائونڈ میں روکی تھی۔
ہوں ٹھیک ہے۔ بائے۔
وہ کیا کہتی سر ہلاتی اتر گئ۔ دوسری جانب سےگاڑی کا دروازہ کھول کر ہیون بھی اتر آیا۔ وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
ہوپ اگر نہ واپس آئی ہوئی تو تم ڈروگی۔
اس نے جیسے وضاحت کی۔ وہ یقینا اسکے ساتھ اپارٹمنٹ تک آنے والا تھا۔ ایک اور احسان۔
میں ہوپ سے پوچھ لیتی ہوں وہ آگئ ہوتو۔۔
اس نے کہتے ہوئے بیگ سے فون نکالا نکالتے ہوئے احساس ہوا کبھی اسکے او رہوپ کے درمیان اتنے تعلقات نہیں رہے کہ نمبر کا تبادلہ کرتیں دونوں۔
وہ شش و پنج میں پڑ گئ۔
ہیون نے سمجھ کر خود ہوپ کو فون ملا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟
ایڈون نے ایکدم سے پیچھے سے آکر اسکوبازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے بھینچی ہوئی آواز میں کہا تھا۔
وہ کنوینیئس اسٹور سے ناشتہ خریدنے آئی تھی پیمنٹ کرکے باہر نکلی ہی تھی کہ اس افتاد نے حقیقتا اسے سہما دیا ۔ اسکا ایک لمحے کو تو لگا دل ہی بند ہو گیا ہے۔
ایڈون کو اسکی حالت دیکھ کر تھوڑا خیال ہوا تو بازو چھوڑ کر دانت کچکچاتے ہوئے بولا
تم نے ماموں ممانی کو بتا دیا ؟ کوئی اندازہ ہے تمہیں کتنا بڑا بھونچال آچکا ہے وہاں؟ صبح سے تین فون آچکے ہیں انکے مجھے۔
تو تمہیں احساس ہوا پھر کہ میں لاوارث نہیں ہوں۔ مجھے پوچھنے والے لوگ ہیں جنکو مجھ سے سچ مچ محبت ہے جنکو میری زندگی کی پروا ہے ۔
وہ چٹخ کر بولی
تمہاری پروا مجھے بھی ہے جبھی یہاں تمہارے ساتھ خواری کاٹ رہا ہوں احمق لڑکی۔ ۔ ایڈون نے بمشکل اپنے لہجے پر قابو پایا۔گہری سانس لیکر چند لمحے ادھر ادھر دیکھ کر خود کو پرسکون کرنے لگا۔ سنتھیا ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ سچ مچ پریشان بلکہ کمزور تھکا تھکا بھی لگا۔ اسکا دل نرم سا پڑا۔۔
دیکھو ۔۔ اس نے کچھ سوچ کر اسکا ہاتھ تھاما۔
تم۔۔ کہتے ہوئے اسکے ہاتھ میں تھامے شاپر پر نگاہ پڑی تو کہنے کا ارادہ ملتوی کیا۔ کنوینئیس اسٹور کے باہر لگی میز کرسی گھسیٹ کر اسے بٹھایا اسکے ہاتھ سے شاپر لیکر ڈبل روٹی مکھن دودھ نکال کر میز پر سجائے۔
پہلے ناشتہ کرلیتے ہیں۔
اس کے کہنے پر سنتھیا بنا کوئی اعتراض کیئے خاموشی سے نشست سنبھالنے لگی۔ ایڈون کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں چہرہ بھی تپا ہوا لگ رہا تھا۔جیسے بخار ہو۔اس نے توس نکال کرڈسپوز ایبل چمچ سے مکھن لگا کر اسکی جانب بڑھایا۔
تم کل دھت تھے نشے میں۔
اس نے جانے پوچھا تھا یا بتایا تھا۔
اس نے توس کی جانب ہاتھ نہیں بڑھایا تو ایڈون نے اسکا ہاتھ تھام کر توس پکڑایا۔
ہاں۔ یون بن کے ساتھ کلب گیا تھا وہاں تھوڑی پی لی تھی۔ وہی مجھے چھوڑ گیا ہوگا۔
اس نے وضاحت کی۔
کم سن آیا تھا چھوڑنے۔
اس نے توس کھانا شروع کیا۔ ایڈون نے سر جھٹکا۔
ہاں کم سن۔
وہ مکمل طور پر کھانے میں مگن تھا اور اسکی جانب دیکھنے سے دانستہ احتراظ کر رہا تھا۔وہ اس پر نگاہ جمائے تھی۔ رات کا منظر اسکی نگاہوں میں تازہ تھا۔ کم سن کے اطمینان دلانے کے باوجود وہ ایڈون کو دیکھنے آئی تھی۔ بیڈ پر اوندھاترچھا گرا تھا۔ کمبل ڈالنا تو دور اسکے جوتے بھئ نہیں اتارے تھے کسی نے۔ موبائل زمین پر شائد اسکی جیب سے پھسل کر گرا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکے جوتے اتارے اسکی ٹانگیں احتیاط سے بیڈ پر کیں سر کے نیچے تکیہ رکھا کمبل کھول کر اڑھایا۔ موبائل تکیے کے پاس رکھا۔ اور
ایڈون کا ناشتہ ختم ہو چکا تھا۔ اس نے بھی سلائس ختم کر لیا تھاخاموشی سے واپسی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے وہ بنا تمہید بولا تھا۔
صبح صبح ماموں کا فون آیا تھا مجھے۔ انہوں نے مجھے جو کہا وہ الگ داستان ہے۔ میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا مجھے وہ غلط نہیں لگے۔ کوئی بھی ہوتا انکی جگہ اسکا یہی ردعمل ہوتا۔بہر حال وہ بھی میرے فیصلے کے حق میں ہیں۔ پہلی فرصت میں ابارشن کروانے کا کہا ہے انہوں نے۔ تم اب بنا کوئی بہانہ بنائے بنا کسی قسم کا مسلئہ کھڑا کیئے خاموشی سے اب وہ ہونے دو جو ہم سب کیلئے اس وقت بہتر ہے۔
چند جملے تھے۔ راستے پر محیط ہو گئے تھے۔ وہ بالکل چپ سی ہو گئ تھی۔ ایڈون جانے مزید کیا کہتا آیا یا شائد چپ ہی رہا تھا اسے یاد نہیں تھا۔ ایڈون کو بھی اندازہ تھا کہ اس وقت وہ یقینا مائوف سے ذہن کے ساتھ چل رہی ہے ۔ جبھی اسکو گوشی وون تک چھوڑنے آیا ۔سامان رکھا۔ اسکو کمرے میں بیڈ پر بٹھا کراسکے سامنے دوزانو بیٹھ کر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرہ تھام کر بولا۔
میں بہت برا سہی مگر یہ حقیقت ہے تمہارے لیئے برا نہیں ہوں کبھی برا سوچ نہیں سکتا تمہارے لیئے کبھی بھی نہیں۔ کل تمہیں جو کچھ کہا وہ سب غصے میں کہہ گیاتھا۔ اسے بھلا دینا میں اب بھی تمہارے ساتھ ہی اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ آئی لو یو سنتھیا۔
اس نے کہتے ہوئے اٹھ کر اسکی پیشانی چوم لی تھی۔ پھر ایکدم سیدھا ہوا۔
میں ابھی جا رہا ہوں تم آرام کر لو کھانا میں شام کو لیتا آئوں گا اکٹھے کھائیں گے۔ٹھیک ہے؟
ٹھیک ہے۔
اس نے سرموق حرکت نہیں کی تھی جبھی اس نے بات دہرا کر پوچھا جوابا وہ تکیہ سیدھا کرتی بستر پر لیٹ گئ۔ ایڈون چند لمحے اسکے جواب کا انتظار کرتا رہا پھر اس پر کمبل ڈالتا ہوا کمرے کا دروازہ بند کرتا نکل گیا۔رات کے مناظر من و عن تازہ ہوئے تھے ذہن میں۔ سنتھیا کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا یہ کیا کردیا ۔۔
وہ سنتھیا کا اعتراف سن کر ہکا بکا سی رہ گئ تھیں۔
پھر لعن طعن کا طویل سلسلہ تھا۔ انکے کوسنے سنتے وہ چڑ گئ۔
ممی بس کریں میں مر جائوں اس سے آپکو کوئی فرق نہیں پڑے گا؟ بس عزت کی فکر ہے آپکو۔
وہ چلا اٹھئ تھی۔
مر جاتیں تم صبر کر لیتے۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے ہمیں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا ہے اوپر سے تم واپس آنا چاہ رہی ہو کیا بتائیں گے ہم سب کو کیا کہیں گے پڑھنے بھیجا تھا اور۔۔
سارا سر پر ہاتھ رکھ کر رو پڑی تھیں۔
پہلی بار سنتھیا کا دل سکڑا
ممی میں مانتی ہوں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے مگر ممی کیا بچوں سے غلطیاں نہیں ہوتیں؟ انکو معاف نہیں کیا جا سکتا؟
وہ فون تھامے بلک رہی تھی
معاف کریں؟ ہماری کیا مجال ہے سنتھیامگر تم جیتی جاگتی سانس لیتی غلطی کیسے دنیا سے چھپائوگی؟ تم نہیں جانتی ہو زندگی تباہ ہو جائے گی تمہاری میری بچی۔
ماں تھیں بلک اٹھی تھیں اولاد کیلئے ہی۔ ۔۔ ایڈون ۔۔ وہ کیا کہتا ہے؟
ممی ایڈون بہت سنگدل ہے وہ ابارٹ کروادینا چاہتا ہے اسے۔
وہ جانتی تھی کس مشکل سے اس نے یہ الفاظ ادا کیئے تھے۔اسکی آواز ساتھ چھوڑ رہی تھی۔ سارا ماں تھیں یقینا اسکا درد سمجھ سکتی تھیں۔
ہو سکتا ہے ابھی؟
وہ ایکدم چونکیں۔
بولو سنتھیا ہو سکتا ہے ابھی؟
انکے لہجے کی امید سنتھیا سمجھ گئ وہ یہ آخری بازی بھی ہار گئ ہے۔
ممی۔۔ سنتھیا کے منہ سے آواز بھی نہ نکل پائی۔
کروائو فورا پھرابارشن۔ پیسے چاہیئئیں ہم فورا مزید بھجواتے ہیں ۔فکر نہ کرو تم اور دیر نہ کرو میری بچی بہت مشکل ہو جائے گی ورنہ اس بچے کو اس دنیا
میں۔۔
بس کریں ممی۔ کیوں کیوں میں ایک جان لینے کا گناہ اپنے سر لوں۔ کیا حرج ہے اگر ہم اسکو دنیا میں آنے دیں ایسا کیا گناہ کیا اس معصوم نے جو سب اسکی زندگی کے دشمن بن گئے ہیں۔
وہ پھٹ پڑی۔
گناہ اس نے نہیں تم نے کیا ہے او ریہی ہوتا ہے ماں باپ کے گناہوں کی سزا انکی اولاد بھگتتی ہے اولاد کے کرنے ماں باپ کو بھگتنے پڑتے۔۔ اب بھگتو تم بھی جیسے ہم ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں۔
سارا چٹخ کر بولیں۔ سنتھیا ایکدم آنسو پونچھ کر اٹل سے انداز میں بولی۔
ٹھیک ہے پھر میرا فیصلہ بھی سن لیں۔ اگر اس بچے کو کچھ ہوا تو میں اپنی جان بھی دے دوں گی۔
ٹھیک ہے دے دو جان صبر کر لیں گے ہم کہہ دیں گے مر گئ ۔۔۔۔۔ مر گئ ہو تم ہمارے لیئے سنتھیا ایسی اولاد ہونے سے بہتر تھا ہم بے اولاد رہتے۔ تمکو احساس تک نہیں ہو رہا تم نے ہمارے ساتھ کیا کرڈالا ہے۔
سارا بلک بلک کر کہہ رہی تھیں۔اس نے لعن طعن ڈانٹ ڈپٹ سب برداشت کرنے کا حوصلہ کرکے ماں کو سچائی بتائی تھی۔ یہ سوچ کر کہ شائد ایک ماں ہی ایک ماں کے جزبات سمجھ سکے مگر انکا ردعمل اسکی توقع سے ذیادہ شدید تھا۔
اگر اس بچے کا دنیا میں آنا نہیں لکھا تو صرف ایک ہی صورت ہوگی کہ اسکو دنیا میں لانے والی ہی نہیں رہی۔ آپ صبر کر لیں مجھ پر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حقیقتا خود کشی کے ارادے سے ہی نکلی تھی۔ کنوینیئس اسٹور میں چیزیں کھنگالتے آخراسے مطلوبہ چیز مل ہی گئ۔ وہ ایک تیز دھار کی چھری خرید کر نکلی ہی تھی جب اسے چرچ کی صلیب نظر آئی تھی۔ اونچی سی صلیب چرچ کا مینار اسکا دل ایکدم کھنچا تھا۔ اسکو اس علاقے کی ذیادہ پہچان نہ تھی مگر اونچی سی صلیب نیون سائن کی طرح چمک رہی تھی کرسمس قریب تھا سو اس پر برقی قمقمے دور سے بہار دکھا رہے تھے۔ وہ بے اختیار کھنچی گئ۔ اس چرچ تک کونسی گلی جاتی ہے کونسا راستہ وہ اندازے سے بڑھتی گئ دو دفعہ غلط مڑی ایک دفعہ راہ گیر سے پوچھا۔ چرچ کے گیٹ تک پہنچ کر اسے لگا تھا جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہے۔ چرچ میں کورس ہنگل میں کوئی نغمہ گنگنا رہے تھے کرسمس کہ تقریبات کیلئے تیاری ہو رہی تھی کچھ لوگ اگلی نشستوں پر بھی بیٹھے تھے وہ سب سے آخری رو کی قریبی نشست پر جا بیٹھی تھی۔
کوئی لمبی چوڑی تمہید نہیں باندھی تھی اس نے
آپ جانتے ہیں نا میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ مجھ سے بھول ہوئی ہے مجھے بے شک معاف نہ کریں جو چاہے سزا دے لیں مگر مجھے مزید ایک گناہ کبیرہ کرنے سے بچا لیں۔ اس بچے کی زندگی آپکی ضمانت میں دیتی ہوں بچا لیں اسے۔ کچھ نہ ہونے دیجئے گا اسے۔
پلیز۔آپ تو جانتے ہیں نا؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی خیال آنے پر وہ ایکدم اٹھ بیٹھی۔ اپنے چہرے پر پھسل آنے والے آنسو صاف کرتی وہ اپنے کارڈیگن کی جیبیں ٹٹولنے لگی۔ کنوئنئس اسٹور کی رسیدیں کچھ ریز گاری۔ اور۔ وہ کارڈ۔۔۔ اس نے کارڈ کو مٹھئ میں بھرلیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوپ کا فون آس پاس ہی کہیں بجا تھا۔اس نے چونک کے دیکھا تو وہ کمپائونڈ میں اندر جاتے جاتے رکی تھی۔
وہ رہی میں چلتی ہوں بائے۔
وہ تیزی سے کہتی بھاگ کے ہوپ کی جانب بڑھی تھی۔۔ ہیون نے جواب دینے کیلئے منہ کھولا ہی تھا مگر وہ بھاگ چکی تھی۔ اس نے کال کاٹ کے موبائل جیب میں رکھ لیا اور گہری سانس لیتا واپس مڑ گیا۔
ہوپ موبائل میں مسڈ کال دیکھ رہی تھی۔ شائد کال بیک کرنے لگی تھی اس نے جا لیا۔ پھولی سانس سے بتایا۔
ہیون تھا۔ میں نے کال۔کروائی تھی کہ پوچھ سکوں کتنی دیر ہے۔
لفٹ ابھی آکر رکی تھی۔ ہوپ کو بتا کر وہ تیزی سے لفٹ کی۔جانب لپکی ۔
ہوپ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے اسکی پیروی کرنے لگی۔
جلدی آئو۔ اسے سست قدم اٹھاتے وہ تھوڑا تپ کر بولی
ہوپ ہیون کو کال ملا رہی تھی۔ خاصی ناگواری سے اسے گھورا تھا۔ جبکہ وہ لفٹ کا بٹن دبائے کینہ توز نگاہوں سے گھور رہی تھی۔
کیا جلدی ہے؟
وہ تیورئ چڑھا کر کہتی لفٹ میں داخل ہوئی تھی۔ اس نے جھٹ اپنے فلور کا بٹن دبایا۔
بیل جا رہی تھی ہیون نے دو تین بیلوں کے بعد فون کاٹ دیا تھا۔
ہوپ نے دزدیدہ نگاہوں سے اریزہ کو دیکھا وہ بالکل بھی اسکی جانب متوجہ نہیں تھی بلکہ بے چینی سے لفٹ کے پینل میں فلور گن رہی تھی انکے فلور پر دروازہ کھلتے ہی وہ بجلی کی تیزی سے نکلی تھی۔
بھاگ کرپاسورڈ لگا کر دروازہ کھولا حسب عادت ہاتھ مار کر بند بھی کردیا۔ اپنی جھونک میں آتی ہوپ کے منہ پر دروازہ بند ہوا تھا۔۔
کیہہ سیکی۔
بے ساختہ اسکے منہ سے گالی نکلی تھی۔ دوبارہ پاسورڈ لگا کر اندر داخل ہوئی تو پورا اپارٹمنٹ جگمگا رہا تھا اس نے سوئچ بورڈ کی سب لائٹس جلا دی تھیں۔کمرے کی بھی جل رہی تھی۔
ہوپ متجسس سی اندر داخل ہوئی تو کمرہ خالی تھا باتھ روم کا دروازہ بند تھا ۔
اسکی اتنی تیزی کی وجہ اب اسے سمجھ آگئ تھئ۔ وہ تھکی تھکی سی بیڈ پر گر گئ۔ آج کا دن بہت لمبا تھا اسکے لیئے۔اس وقت بالکل بھی ہمت نہ تھی اٹھ کر کھانا وانا کھانے کی بھی۔ وہیں گول مول سی ہو کر پڑ گئ سو بھئ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بھر بھر کر چھپاکے منہ پر مارے تھے۔ اس وقت اسکی حالت کافی بری ہو گئی تھی۔ باقائدہ پیٹ میں درد شروع ہو گیا تھا۔ گہری سانس لیکر دروازے کا سہارہ لیتی باہر آئی تھی۔ ہوپ بیڈ پر آڑی۔ترچھی پڑی بے خبر سو رہی تھی۔ چہرے پر تھکن نمایاں تھی۔ اتنی نمایاں کہ وہ بلا ارادہ رک کر دیکھنے لگی۔ اسکے نقوش کافی کھنچے کھنچے تھے۔شائد اسکے بے تحاشا دبلا ہونے کی وجہ سے۔ اس نے ایک جانب تہہ ہوا کمبل اسے پھیلا کر اوڑھایا۔ اور خود باہر نکل آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے پاس چار پیسے آجائیں گے تو کیا تکلیف پہنچے گی۔ وہ چڑی۔ ایک ہاتھ سے فون کان میں لگائے دوسرے ہاتھ سے وہ کٹے ہوئے آلو دھو رہی تھی۔
کیا فائدہ ان چار پیسوں کا مجھے وہ والا آئی پیڈ تو بھیجا نہیں ۔ خرید کر تو بھیجنا دور وہی والا بھجوا دو۔
وہ الٹی سیدھی ہانک رہا تھا
تم اچھی طرح جانتے ہو وہ امانت ہے اور میں اسے واپس بھی کرنے والی ہوں۔
گھی گرم ہو چکا تھا اس نے بھر کر آلو اس میں ڈالے۔
ہاں وہ اتنا امیر کبیر فنکار انتظار میں بیٹھا ہوگا نا ابھی تک اس نے نیا خرید لیا ہوگا احمق۔
صارم نے اسکی عقل کا ماتم کیا
تم بھی خرید لو نا کس نے روکا۔
وہ بے نیازی سے بولی۔ ایک ہاتھ سے آلو تلتے دوسرے ہاتھ سے فون کان سے لگائے وہ مصروف تھی۔
اچھا یہ بتائو کس نے ایڈمیشن کے پیسے دیئےہیں ؟ صارم سنجیدہ ہوا
ہیون نے۔ اس نے تل جانے والے چپس پلیٹ میں نکالے۔ ایک وقت میں ہی کڑاہی بھر کر بنا لیئے تھے چولہا بند کرتے ہوئے وہ پلیٹ اٹھاکر فریج کھولنے بڑھی
وہ ہی فارم فل کرواکے مجھے اکیڈمی چھوڑنے بھی گیا ساتھ کورس کی بکس سے بھرا بیگ بھی دیا مجھے ہا ہا ۔ بہت کیئرنگ ہے۔
یہ کس خوشی میں اتنا مہربان ہے تم پر؟ صارم کا انداز
ایک ہاتھ میں موبائل تھا دوسرے میں پلیٹ فریج کھولنے کو ہاتھ بڑھاتے وہ ٹھٹھک کر رہ گئ۔
مطلب؟
اس نے مڑ کر پلیٹ میز پر ٹکائی۔
مطلب صاف ہے یہ کیوں اتنا مہربان ہے تم پر؟ ہر وقت تمہارے ساتھ رہتا ہے ہر کام اپنے ذمے لے رکھا ہے؟ کیوں؟ متھے نہ لگ جائے تمہارے یہ۔
صارم کا انداز تفتیشئ تھا۔
اسکے انداز پر وہ چڑ گئ۔
بس پاکستانی ذہنیت آگئ بیچ میں۔ یہ کوریا ہے یہاں لڑکے لڑکیاں ہئوا نہیں ایک دوسرے کیلئے۔ سب دوست کو دوست سمجھتے لڑکا یا لڑکی نہیں۔ یہ پاکستان میں ہی ہوتا ہےلڑکی نے ہنس کے بات کرلی سیدھا پرپوز کرنے لگتے لڑکے۔ ہیون کے ذہن میں بھئ ایسی کوئی بات نہ ہوگی اسکو یہاں کوئی کمی ہے ایک سے ایک حسین لڑکی ہے یہاں۔ وہ سچ مچ ایک پرخلوص اچھا انسان ہے باقی دوستوں کے ساتھ بھی اتنا ہی کرتا ہے وہ۔میں کوئی خاص نہیں ہوں اسکے لیئے۔
اس نے خاصے غصے سے فریج کھول کر کیچ اپ نکالا تھا دھاڑ سے دروازہ بند کیا منہ پھلاتے آکر میز پر بیٹھی۔
اوہو تو ایسی بات ہے۔ تو اس پر تمہیں دکھ کیوں ہو رہا ؟ صارم نے مسکراہٹ دباتے ٹوکا۔
منہ تک چپس لے جاتے اریزہ کا ہاتھ رکا۔ چند ثانیئے چپ رہی پھر جھاڑ دیا۔
بکواس ۔ سو جائو دماغ خراب ہوگیاہے تمہارا۔
اس کے چڑنے پر صارم قہقہہ لگا کر ہنسا۔
ہا ہا ہا۔ تپتی کتنا ہو تم مزاق کر رہا تھا یار۔ تم ویسے ہو لکی یہاں مجھے اپنا ذاتی ملازم بنا رکھا تھا وہاں بھی نخرے اٹھانے والے مل گئے ہیں۔ کبھی اپنے بل پر بھی کچھ کر لیا کرو لڑکی۔
ہاں کوریا میں تو میرا بھوت رہ رہا ہے نا اکیلے۔ یا روز تم آتے ہو مجھے چھوڑنے لے جانے خود ہی کر رہی ہوں نا جاب بھی میں۔تمہاری تو۔
وہ بری طرح چڑ گئ تھی۔ صارم ہنسے گیا۔ پھر پینترا بدل کر بولا۔
اچھا اچھا بس چپس بن گئے نا اب کھائو اور موٹی ہو جائو۔اور جو تصویر بھیجی نا اسکو کم از کم دیکھ لو۔ میرا بچپن کا دوست ہے سگا پھپو کا بیٹا ہے یقین کرو تمہارے لیئے بہترین ہے پیارا بھئ ہے۔ ایک اور پلس۔
بے زاری سے چپس ٹونگتے وہ سر ہلاتی گئ۔
بس اس سے کہو دو سال انتظار کرے اس سے پہلے تو میں چھٹیوں میں بھی نہیں آئوں گی کوئی بھروسہ ہے تم لوگوں کا واپس ہی نہ آنے دو۔
شٹ اپ۔ صارم بھنایا۔
دیکھو۔ بنا دیکھے سوچے پرکھے جھٹ انکار کرنا بند کرو۔ خالہ پریشان ہیں بہت ہر وقت تمہاری۔۔
اوہ پلیز۔ اس نے فورا بات کاٹ دی
میں تنگ آگئ ہوں امی پریشان ہیں تو میں شادی کر لوں واہ ۔ اتنی دور تو آچکی ہوں اب بھی پریشان ہیں تو کیا کروں مر جائوں؟ پریشانی ہی ختم ہو جائے انکی۔
چٹخ کر بولی تو صارم کو بھئ غصہ آگیا
بکواس بند کرو۔ سوچ کر بولا کرو اتنے محبت کرنے والے لوگ ہیں زندگی میں اسکا شکر ۔۔۔
اسکا یقینا بھاشن جھاڑنے کا پروگرام تھا اس نے موقع نہیں دیا بات کاٹ دی۔
کھانا کھا رہی ہوں میں اور جواب ایڈوانس دے چکی اب دوبارہ ا س پر بات کرنے کیلئے فون نہ کرنا بائے۔
اس نے کہہ کر صارم کا جواب سنے بغیر کال بند کر دی۔
صبح کا ناشتہ کیا ہوا تھا اس وقت زوروں سے بھوک لگ رہی تھی۔ جلدی جلدی چپس کھاتے مکمل پلیٹ کی جانب متوجہ تھی ۔ کچھ خیال آیا تو واٹس ایپ کھول کر تصویر بھی نکال لی۔
اچھا خاصا خوش شکل جوان تھا۔
سجاد کے ساتھ شادی سے پہلے اگر یہ رشتہ آیا ہوتا تو یقینا اس نے بنا سوچے سمجھے ہاں کرنی تھی مگر ابھی اسکو یہ تصویر دیکھ کر نہ خوشی ہوئی نا غصہ آیا بس چند لمحے دیکھنے کے بعد اس نے ایپ بند کردی۔
یونہی سر اٹھایا تو سامنے ہوپ کھڑی تھی۔ اچھل کر پیچھے ہوئئ۔
ہائے اللہ ڈرا دیا مجھے۔
اسکے کہنے پر ہوپ نے سرد سی نگاہ ڈال کر گھونٹ گھونٹ پانی پینا شروع کردیا۔ اسکی گرم پانی کی بوتل جو تھرماس جیسی تھی میز پر ہی رکھی رہتی تھی۔
کھائو گئ؟ اس نے ازراہ مروت اسکی جانب پلیٹ بڑھائی۔ گرم بھاپ اڑاتے چپس کیچ اپ۔ ہوپ نے غیر ارادہ طو رپر ہاتھ بڑھادیا۔
اسکے اپنے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے۔ کھانا کھائے بنا ہی آکر سو گئ تھی اس وقت چپس نعمت غیر مترقبہ لگے تھے۔ اس نے ایک دو کھائے تو احساس ہوا بھوک کافی زو رکی لگی ہوئی ہے۔
ریمن بھی بنا دوں؟
اسکی بھوک کا احساس کرکے اریزہ نے پوچھا جوابا وہ شرمندہ سی ہو کر ہاتھ واپس کھینچ گئ۔
نہیں میں خود بنا لیتی ہوں۔۔۔ وہ فورا کچن کیبنٹ کی جانب بڑھی پھر خیال آیا تو مڑ کر اس سے پوچھنے لگی۔
تم بھئ کھائو گی؟
اریزہ چپس کھارہی تھی اسکے پوچھنے پر حقیقتا ہاتھ سے چپس چھوٹا تھا۔
نہیں ۔ پھر خیال آیا تو
نو ۔۔ آں۔ آنی۔
اس نے اچھی خاصی حیرت سے سر نفی میں ہلایا تھا۔ہوپ گھور کر رہ گئ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیول کی روشنیاں مدھم پڑ چکی تھیں۔ شہر میں سونے کا وقت ہو چکا تھا۔صبح کے چار بجے سخت سردی اور وہ دونوں اپارٹمنٹ کے ٹیرس پر کھڑی کافی کی چسکیاں لے رہی تھیں۔
مگر ایک دوسرے سے قطعی مختلف حلیئے میں۔
ہوپ نے ایک نظر اسکو دیکھا۔ گھٹنوں تک والے گوارا کے دیئے رضائی نما جیکٹ میں مفلر لپیٹے خوب گرم والے موٹے گھر میں پہننے والے وولن سوکس اور سلیپر میں وہ سرخ ہوتی ناک کے ساتھ کافی کا مگ تھامے اسکی گرمائش لیتے بھی جھر جھری سی لے رہی تھی۔
خود ہوپ نے گھر کا مخصوص سویٹ سوٹ اور اپر پن رکھا تھا۔
تم بہت کمزور ہو۔
تم بہت مضبوط لڑکی ہو۔
دونوں اکٹھے بولی تھیں انگریزی میں۔ پھر ہنس دیں۔
تم لوگوں کو سردی کیوں نہیں لگتی مائنس میں ہے درجہ حرارت اور تم کتنے اطمینان سے کھڑی ہو۔
اریزہ نے کہا تو وہ ہنس پڑی۔
اوروں کا تو نہیں پتہ مگر شمالی کوریا میں میں بچپن سے برفباری کے دوران امدادی ٹرکوں سے اپنے وزن سے ذیادہ بڑے تھیلے اٹھا کر لانے کی عادی تھی۔ گرم کپڑے ہم سب بہن بھائیوں کے حساب سے کم ہوتے تھے۔ ایک کوٹ ہوتا تھا جو آہمونی نے اپنا پرانا مجھے دیا تھا۔ تب مجھے بڑا ہوتا تھا اور جب وہ چھوٹا ہوا تو اپنا قد بڑھ جانے پر خود پر بہت غصہ آیا تھا مجھے۔
وہ پرسکون سے انداز میں چسکیاں لیتے بتا رہی تھی۔ اریزہ کانپنا بھول۔کر اتنی متاسف سی دیکھ رہی تھی اسے کہ اسے ہنسی آگئ۔ شرارت سے بولی
اس بات کو دس پندرہ سال ہو چکے ہیں۔ اتنا دکھی مت ہو۔
تمہاری آہمونی ابھی بھی کوریا میں ہیں؟ اور بہن بھائی ؟
اس نے دلگیری سے پوچھا تھا۔
پتہ نہیں گنگشن نونا کوشش تو کر رہی ہیں پتہ کروانے کی مگر انکا کوئی اتا پتہ نہیں کہ شمالی کوریا میں ہیں چین میں یہاں یا مر کھپ گئے۔
وہ بےدردی سے بولی۔
بس انکی اطلاع کا انتظار کر رہی ہوں جی کر۔ اگر زندہ ہوئے تو انکو بلانے کا خرچہ اٹھانے کیلئے پیسہ پیسہ جوڑ رہی ہوں۔ اور اگر۔
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر چپ ہوگئ۔
اور اگر؟ اریزہ اسکی جانب مکمل مڑ کر پوچھنے لگی۔
ہوپ نے اسکو ہمہ تن گوش دیکھا تو مسکرا دی۔
اور اگر وہ مر چکے ہوئے تو ایک فلور اوراوپر چڑھوں گئ۔
اس نے اشارے سے اوپر دکھایا۔ انکا فلور آخری تھا اس سے اوپر بس چھت تھی اریزہ اسکی انگلی کے اشارے پر احمقوں کی طرح سر اٹھا کر دیکھنے لگی۔
ہیں کیوں؟ وہ واقعی نہیں سمجھی تھی۔ ہوپ نے ہاتھ سے اچھت سےلیکر نیچے گرائونڈ فلور تک اشارہ کیا۔
اور وہاں سے نیچے۔
ہوپ مسکرائی۔
اریزہ کی گردن اسکے ہاتھ کے ساتھ گھومی تھی۔ یونہی جھک کر نیچے دیکھا تو کمپائونڈ اور لان کی جلتی دیو ہیکل روشنیاں اسے قمقموں سی لگیں۔ اتنی اونچائی اسکی روح تھرا گئ۔
اللہ نہ کرے۔ وہ بے ساختہ بولی۔
اسکی بات نہ سمجھتے ہوپ نے بھنئوں اچکا کر اسے دیکھا جیسے مطلب پوچھ رہی ہوں۔
میرا مطلب ہے خد انہ کرے انکو کچھ ہو اور تم خبردار خودکشی کا سوچنا بھی مت گناہ ہے۔اللہ سے اچھی امید رکھو دیکھنا وہ سب ٹھیک ہوں گے اور تم ایکدن ان سب سے ملوگی بھی انشا اللہ۔ خاص کر اپنی آہمونی سے
اس نےمسکرا کر پورے خلوص سے دعا دی تھی۔
میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں جسے تم بہلا سکو۔ حقیقت صرف یہ ہے کہ مجھے اندازہ ہے ان میں سے شائد ہی کوئی ایک آدھ زندہ بچا ہو تم نے کورین بیگار کیمپ نہیں دیکھے جبھی۔
اسکے پرخلوص جملوں پر ہوپ کا ردعمل بالکل غیر متوقع تھا۔ سپاٹ سے انداز میں جتا کر بولی۔ اسکی مسکراہٹ دھیمی پڑ گئ۔
تمہارے گھر سے فون تھا۔
ہوپ کو بھی شائد احساس ہوا تھا اپنے قنوطی پن میں وہ خاصی بدلحاظ ہو چلی ہے سو بات بدل دی۔
ہاں۔ اریزہ کا انداز دھیما پڑ گیا تھا
کون کون ہے تمہارے گھر میں؟
ہوپ جانے کیوں دلچسپی لے رہی تھی شائد اپنی کج روی کا ازالہ کرر ہی تھئ۔
وہ سوچ میں پڑی ایسے اکیلے پریشان انسان کے آگے کیا اپنے گھر کا ذکر کرے۔
ماں زندہ ہے تمہاری؟
اسے شش و پنج میں دیکھ کر اس نے اگلا سوال داغ دیا
ہاں۔ وہ جھٹ سے بولی۔ جتنا ناراض سہی مگر ماں کے ذکر نے جزباتی کردیا تھا
میرے گھر میں ماں ہے باپ ہے ایک بھائی ہے ابھی اسی سے بات کر رہی تھی میں۔
کبھئ باپ سے بات کرتی ہو کبھی بھائی سے ماں سے بات کرتے ایک دفعہ نہیں دیکھا میں نے تمہیں۔
ہوپ کا سوال دو ٹوک تھا وہ۔جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
وہ میں ناراض ہوں ان سے اور وہ مجھ سے۔نا وہ مجھ سے بات کرنے پر اصرار کرتی ہیں نہ میں۔بھائی اور پاپا سے خیریت پوچھ لیتی ہوں میں بس۔
اس نے سچ ہی بتادیا۔ ہوپ ہنوز اسے گھورتی رہی
کیوں؟
بس ۔ وہ ٹالنا چاہتئ تھی۔
ماں سے کیوں ناراض ہو؟ ماں سے بھی کوئی ناراض ہوتا ہے؟ ابھی میسر ہیں تو قدر نہیں تمہیں؟ انکے بنا زندگی کا تصور بھی کر سکتی ہو تم؟فالتو انا کے زعم میں نہ رہو تم۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے ماں کے بغیر زندگی کیسی ہوتی ہے۔
وہ ڈانٹ رہی تھی اسے۔ کیا؟ اریزہ حیران ہو کر دیکھنے لگی۔پھر قدرے برا مان کر بولی
کوئی وجہ ہی ہے جس سے اپنی ماں سے ناراض ہوں۔تم نہیں جانتیں انہوں نے میرے ساتھ کیا کیا ہے۔ اور۔۔
نہیں جانتی۔۔۔ مگر تمہیں بتائوں۔۔۔ ہوپ سکون سے بولی
میری ماں نے مجھے بارہ سال کی عمر میں ایک ساٹھ سالہ چینی شخص کو بیچا تھا چند یو آن کے بدلے تاکہ میری چھوٹی بہنوں کو کھانا اور دوا دے سکے۔ اوراگلے آٹھ سال میں نے اس شخص سے پٹتے اسکی خدمت کرتے گزارے میں نے دو وقت کے کھانے کے بدلے۔
اپنی ماں سے مجھے آج تک اتنا سا شکوہ تک نہ ہوسکا۔
وہ انگلی کی پورانگوٹھے سے چھوتی ذرہ برابر کا اشارہ کررہی تھی۔ اریزہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھتی رہ گئ۔
میری ماں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچوں تو اس نے میرے حق میں بہتر کیا تھا اسکی باقی دو بیٹیاں جانے بچیں ئا نہیں مگر میں بچ گئ اس ایک فیصلے کی وجہ سے۔ ماں سے ذیادہ کون اولاد کا بہتر سوچ سکتا؟
وہ مسکرائی۔ اسکی مسکراہٹ دیکھ کر اریزہ کا دل چاہا اسے کہے مسکرایا نہ کرے۔ وہ دکھی لگتی ہے دیکھنے میں مگر مسکراتے دیکھو تو ٹوٹی ہوئئ بھی لگتی ہے۔
پھر؟ کیا ہوا میرا مطلب تمہارا شوہروہ کہاں ہے؟
اریزہ نے پوچھا تو وہ مگ ہونٹوں سے لگا کر بچی کھچئ کافی بھی حلق میں انڈیلنے لگی۔ اندر تک سب جلتا گیا تھا حالانکہ کافی اب اتنی گرم نہیں رہی تھی۔
مر گیا۔ شرابی تھا بی پی کا مسلئہ تھا ذیابیطس بھی تھی اس نے آٹھ سال کھینچ لیئے جی کر اسی پر حیرت ہے مجھے۔
وہ تمسخرانہ انداز میں بولی۔ اریزہ جز بز سی ہوئی۔جانے اسے تعزیت کرنی چاہیئے یا مبارکباد دینی چاہیئے۔ اسکی کشمکش چہرے پر واضح تھی۔ ہوپ بغور دیکھنے لگی اسے۔آج تک اسے زندگی میں ایسا کوئی انسان نہیں ملا تھا جو اسکی باتیں سنتے اس حد تک اسکے دکھ کو محسوس کرنے لگا ہو کہ جیسے یہ سب اسکے اپنے ساتھ بیتا ہو۔
تم اتنا دکھی مت ہو اس کو مرے ہوئے بھی سات آٹھ سال ہو رہے ہیں۔
وہ مزاق اڑا رہی تھی۔ اریزہ گہری سانس بھر کے رہ گئ۔
کیوپتا۔ ( کیوٹ) تم بہت ہی پیمپرڈ ہو۔ دوسروں کے دکھ تم محسوس کرنے لگو گی تو خوش رہنا بھول جائوگئ۔ دنیا بہت بری ہے بہت برا کرتی ہے یہ انسانوں کے ساتھ۔
ہوپ کا انداز ہنوز تھا۔ شرارت بھرے آنکھوں میں ہنس رہی تھئ۔ ۔اریزہ کو غصہ ہی آگیا۔ عجیب لڑکی ہے۔ کوئی کل سیدھی نہیں۔
ابھی تمہاری ایج اتنی نہیں۔ وہ مزید بھی کچھ کہنے لگی تھی کہ اریزہ نے چڑ کر بات کاٹ دی
اچھا بس۔ مانا بہت تجربہ ہے تمہارا مگر اب ایسی بھی اماں نہیں ہو تم۔
اٹھائیس سال۔
ہوپ نے اسکی بات کاٹ دی
اٹھائیس سال کی ہوں میں تم سے پانچ سات سال بڑی ۔ اب تو بنتا ہے نا میرا رعب جھاڑنا؟
وہ اب باقائدہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولی۔ اریزہ چپ ہی رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں بچیاں تیار ہو چکی تھیں۔ عبدالھادی نے دونوں کے بیگ بھی لا کر اسے تھمائے۔
بہت شکریہ تمہارا۔ ہمیں بالکل مخالف سمت جانا ہے جبھی تمہیں زحمت دے رہے ہیں۔
وہ مشکور و شرمندہ سے لہجے میں بولے تھے۔
کوئی بات نہیں۔۔
علی شرمندہ سا ہوا۔ عبدالہادی کی بیگم انکے ساتھ ہی تیار کھڑی تھیں وہ بھئ معزرت کرنے لگیں۔
تمہیں زحمت ہوگی مگر بچیوں کو وقت سے پہلے اسکول چھوڑنا بھی مناسب نہیں لگا ہمیں۔ تم ناشتہ واشتہ کر لو۔سب تیار ہے۔
آپ بے فکرہو کر جائیں ۔ اس نے اطمینان دلایا دونوں ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے رخصت ہوئے۔ اس نے گہری سانس لی۔ دونوں بچیاں بٹر بٹر اسکی شکل تک رہی تھیں۔
ٹی وی آن کردوں؟ اس نے پوچھا تو دونوں نے اکٹھے گردن ہلائی۔ انکو ٹی وی لگا کر لائونج میں بٹھا کر وہ کچن میں چلا آیا۔ اہتمام سے ناشتہ سجا تھا میز پر جالی سے ڈھکا۔ اس نے کافی میکر میں کافی بننے رکھی اور خود اطمینان سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا۔ کافی میکر کا بزر بجا تو اٹھ کر کافی نکالنے لگا کہ پیچھے سے لگا کوئی بہت تیزی سے گزرا ہے۔ اس نے چونک کر مڑ کر دیکھا تو دونوں بچیاں سکون سے کارپٹ پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔اسکی جانب پشت تھی۔ اس نے کندھے اچکائے اور واپس ناشتہ کرنے بیٹھ گیا۔ کافی کا گھونٹ بھرا تبھی اسے عبدالھادی کے کمرے میں آہٹ سی محسوس ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ الماری کا سیف کھول کراس میں سے چیزیں نکال رہی تھی۔ سیونگ سرٹیفکیٹس ، کیش بنک اسٹیٹمنٹس جیولری۔ اس نے دیکھ دیکھ کر چن چن کر چیزیں نکال کر اپنے بیگ میں ڈالیں اور واپس سب چیزیں انکی جگہ پر رکھ کر سیف لاک کرکےمڑی تو ایکدم بھونچکا سی رہ گئ۔
کم چاگیا۔ دل پر ہاتھ رکھ کر وہ دو قدم پیچھےہوئی
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
فورا ہی وہ اپنے حواس میں آکر غصے سے بولی۔
تم کیا کررہی ہو؟
علی نے اسی کا سوال دہرادیا۔
تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے؟ اور تم کر کیا رہے ہو یہاں؟ گھر کے فرد کے سوا کسی کو اہل خانہ کے کمرے تک رسائئ نہیں ہونی چاہیئے بنیادی اخلاقیات ہیں یہ۔
وہ چبا چبا کر بولی تھی۔
علی اسکا لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر گہری سانس لیکر بولا۔
کیا لے جارہی ہو ؟ آہجوشی کو بتایاہے؟
یہ میرا گھر ہے میرے باپ کا میرا جو مرضی ہو لیکر جائوں گئ تمہیں کیا نکلو یہاں سے ۔
وہ بدلحاظی کی حدوں کو پار کر رہی تھی۔ آگے بڑھ کر باقائدہ دھکا دے دیا۔ علی بنا مزاحمت کیے باہر نکل آیا۔ وہ کینہ توز نگاہوں سے دیکھتی اسکے ساتھ باہر نکلی دروازہ بند کرکے بیگ کندھے پر۔درست کرتی جانے لگی کہ علی نے اسکا بیگ ہی پکڑ کر روکا ۔
آہجوشی کو کیا بتائوں گا اگر کوئی چیز کم ہوئی تو؟
میں نے اپنے سرٹیفیکیٹس اٹھائے ہیں اور اپنا زیور لیا ہے۔۔
جی ہائے ٹھٹھک کر رکی۔پھر بولی
بتائوں کیا آہجوشی کو؟
علی کا سوال ہنوز تھا۔ دونوں بچیاں ٹی وی بھول بھال کر انکی جانب متوجہ ہوچکی تھیں
شٹ ۔ وہ زیر لب بڑبڑائی تھئ۔جو مرضی آئے۔کہہ دینا۔
وہ کہہ کر بیگ چھڑاتی آگے بڑھی۔
ٹھیک ہےمیں انکو کہوں گا انکی بیٹی آئی تھی اور وہ اپنا حق وصول کرکے گئ ہے۔
جی ہائےایکدم سے جاتے جاتے رکی ہونٹ کچلے۔
وہ خوش ہوں گے سن کر۔ علی نے اضافہ کیا۔
اس نے پلٹ کر علی کو گھورا پھر لائونج میں کھڑی بہنوں کو دونوں بچیاں اسکو تک رہی تھیں۔
اس نے کندھے سے بیگ اتار کر وہیں الٹ دیا۔
علی کیلئے اسکا ردعمل غیر متوقع تھا۔ بیگ الٹ کر وہ رکی نہیں تیزی سے باہر نکلتی چلی گئ۔
ارے رکو سنو۔
وہ فوری بھاگا تھا اسکے پیچھے۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی سیدھا ٹیکسی کی۔جانب بڑھی شائد اس نے ٹیکسی کو۔انتظار کا کہہ رکھا تھا۔ وہ پکارتا بھاگ کر ٹیکسی کے قریب پہنچا مگر وہ رکی نہیں۔دھاڑ سے دروازہ بند کیا اور اسکے کھڑکی بجانے کے باوجود رخ موڑ کر ڈرائور کو گاڑی آگے بڑھانے کا بھی کہہ دیا۔
لمحہ بھر کی تاخیر کیئے بنا گاڑی چل پڑی تھی۔
وہ ہرگز اسے چڑانا نہیں چاہ رہا تھا مگر اسکی اپنی کیا حیثیت رہ جاتئ اگلے اپنا پورا گھر اسکے اوپر کھلا چھوڑ گئے تھے۔ وہ پلٹ کر اندر آیا تو بچیاں اسکی بکھیری چیزوں کو چھیڑ رہی تھی۔ گھڑی لاکٹ چین بریسلٹ اور سیونگ سرٹیفیکیٹس ۔ فاطمہ نے لاکٹ گلے میں ڈال لیا تھا اب اسے دکھا رہئ تھی۔ وہ احتیاط سے اسکے گلے سے لاکٹ اتارنے لگا۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچیوں کو اسکول گیٹ پر چھوڑ کر وہ اپنی اکیڈمی چلا آیا تھا۔ گتے کا شاپنگ بیگ اٹھائے وہ اندر داخل ہو رہا تھا جب اسکی۔نظر سامنے سے خراماں خراماں چل کر آتے اس جوڑے پر پڑی تھی۔ جانے کونسا قصہ چھڑا تھا۔ لڑکی گھٹنوں تک کا خوب پھولا ہوا جیکٹ پہنے زور و شور سے کچھ بول رہی تھی۔ ساتھ وہ لانبا سا لڑکا ہلکی سی مسکراہٹ سجائے ہمہ تن گوش تھا۔
وہ ان سے سلام دعا کرنے کی خاطر رک گیا۔
لڑکی نے بولتے بولتے رک کر اس لڑکے کو شائد واپس جانے کو کہا تھا۔ وہ سر ہلاتا رک گیا۔ ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہتی وہ آگے آتی گئ۔ وہ لڑکا مڑا نہیں بلکہ وہیں کھڑا اسے جاتے دیکھتا رہا۔
اسکی نظر سامنے پڑی تو علی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ بلیک ہائئ نیک اور کوٹ پہنے وہ مسکرارہا تھا۔ اسکے چہرے پر خفت ذدہ سی مسکراہٹ در آئی۔پیراشوٹ جیکٹ کا۔ہڈ سر پر ٹکائے اندر مفلر لانگ شوز وہ خجل سی ہوئی۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی ارد گرد جتنی بھی چندی آنکھوں والی مخلوق تھی ان میں وہ حقیقتا سب سے الگ اور مختلف لگ رہی تھئ ضرورت سے ذیادہ ملفوف۔ سر کو دیکھ کر وہ قریب آکر بڑے ادب سے کوریائئ انداز میں سر ہلا کر بولی۔
بیاننگ۔۔۔
جانے اسکا لہجہ ایسا تھا یا اس نے واقعی سٹپٹا کر دو لفظوں کو ملا دیا تھا۔۔
علی خاصئ زور سے ہنسا تھا۔وہ سر کھجا کے رہ گئ۔
اسکی ہنگل سر کے سامنے ضرور اسے شرمندہ کرواتی تھئ۔
ہیون جو اسے اکیڈمی تک پہنچتے دیکھ کر پلٹ رہا تھا تھا اس قہقہے کی گونج اس کو واپس مڑ کر دیکھنے پر مجبور کرگئ تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد

جاری ہے۔

Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist? Rate us below

Rating
Home » 2023 » 01