Jugnu short urdu horror stories, urdu novels hajoom e tanhai
بابر کو خوب اچھی طرح تھپک تھپک کر سلاکر اس

نے کمر سیدھی کی۔ جانے دو ایک دن سے خوب چڑ چڑا کیوں ہو رہا تھا ۔ زرا اکیلا چھوڑو جاگ جاتا اور خوب روتا ۔ اب بھی فیڈر پی کر بمشکل سویا تھا۔ پورا  گھر پھیلا پڑا تھا نہ صرف صفائی ہونی باقی تھی بلکہ کھانا بھی پکانا تھا۔ اس نے احتیاط سے چھے مہینے کے گپلو سے بابر کا ماتھا چوم کر اسے کاٹ میں لٹایا۔ صبح تابش نے جاتے ہوئے کمرہ الگ بکھرا دیا تھا۔ تولیہ بیڈ پر کپڑے زمین پر ۔ اس نے گہری سانس لیکر کمرہ سمیٹنا شروع کیا آدھا گھنٹہ لگ گیا اسی میں۔ مگر کمرے کی شکل نکل آئی۔ ابھی دو کارٹن کمرے کے کھلنے والے باقی تھے مگر ابھی وقت نہیں تھا۔ انہیں دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھرتی باہر آگئ۔ بابر کم از کم بھی دو گھنٹے تو آرام سے سوئے گا سو یہی سوچا کہ کچن اور لائونج سمیٹے کھانا پکائے۔ تابش تو اس سے خفا خفا کسی کام کو۔ہاتھ لگانے کو تیار نہ تھا۔ انہیں ایک ہفتہ ہی ہوا تھا یہاں منتقل ہوئے۔ پہلے وہ بھرے پرے سسرال میں رہتی تھی چار نندیں دو دیور ایک عدد غصہ ور ساس ماتھے پر شکن لائے بغیر اس نے ان سب کی خدمت کی تھی۔مگر شادی کے پانچ سال بعد بھی اسکی گود سونی رہی تو ساس نے خوب ہلہ مچایا اپنی بہن کی بیٹی سے رشتہ بھی پکا کردیا تابش کا۔ انیقہ روٹھ کر میکے جا بیٹھی جب اس کو بابر کی خوش خبری ملی۔  پورے نو مہینے وہ میکے رہی تابش نے شادی تو نہ کی مگر اسکے دل میں گرہ پڑگئ۔ جبھی بابر کے بعد پہلی شرط یہی منوائی کہ الگ گھر لیکر رہے گی۔ یہ معاملہ مزید چھے مہینے کھنچا مگر بیٹے کی ماں بن کر اسکے قدم مضبوط ہو چکے تھے سو تابش کو اسکی ماننی ہی پڑی۔ الگ گھر لیا مگر خفگی کے طور پر کسی کام کو ہاتھ نہ لگایا۔ الٹا روز شام کو ماں کے گھر جا کے کھانا کھا کے رات گئے آتا۔ ایک ہفتہ ہونے کو آیا سامان ابھی تک مکمل نہ کھلا نا ٹھکانے لگ سکا مگر انیقہ نے جتایا تک نہیں خود ہی خاموشی سے لگی رہی خیال یہی تھا کب تک اس معمول کو نبھائیں گے۔ ابھی بھی کھانا پکانے باورچی خانے چلی آئی۔ سوچا تھا بریانی بنا لے گی اور اصرار سے تابش کو کھانے پر یہیں بلا لے گی۔ بریانی ویسے بھی تابش کی کمزوری تھی۔ اس نے چاول بھگوئے اور پیاز چھیلنے بیٹھ گئ۔۔ تبھی اسے بابر کی قلقاری کی آواز سنائی تھی۔ پہلے تو وہ وہم ہی سمجھی مگر پھر جب واضح طور پر آواز آئی تو چھری رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ لائونج میں لگے گھڑیال نے گھنٹے بجانا شروع کیئے۔۔ ایک دو۔ اس نے چونک کر نگاہ کی تو عین بارہ بج رہے تھے تابش کی ایک بجے لنچ بریک ہوتی ہے۔۔ اسکے پیروں میں پہیئےلگ گئے اب بابر اٹھ گیا تو ایک گھنٹے میں بریانی نہیں بن سکتی ۔۔وہ دوڑتی کمرے میں آئی تاکہ جلدی سے تھپک کے سلا دے اسے دوبارہ مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔ بابر تکیئے کے سہارے بیڈ پر بیٹھا تھا۔ چھت کو دیکھتے ہوئے قلقاریاں بھر رہا تھا جیسے کسی سے مخاطب ہو۔۔ اسے اچھی طرح یاد تھا وہ تو اسے کاٹ میں لٹا کے گئ تھی۔ چھے مہینے کا بچہ خود سے کروٹ لیکر کہیں بیڈ سے نہ گر جائےیہ خیال اسے ہمیشہ دامن گیر رہتا تھا۔۔ اس نے بھاگ کر اسے گود میں بھر لیا۔۔ بابر کسمسایا اور اسکے سینے سے لگنے کی بجائے اسکے کندھے کے اوپر ہمک ہمک کے دیکھنے لگا۔ دونوں بازو یوں پھیلائے جیسے گود میں جانا چاہتا ہو۔۔ اس نے متوحش ہو کر مڑ کر دیکھا مگر وہاں تو کوئی نہیں تھا۔ پورے گھر میں اسکے سوا کوئی نہ تھا۔۔ اسکی خوف کے مارے جان نکلنے لگی۔۔ بھاگتی ہوئی وہ کمرے سے کیا گھر سے ہی باہر نکل کر گیراج میں آگئ۔ جتنی سورتیں یاد تھیں انکا وردشروع کردیا۔۔ بابر کسمسایا پھر جو چیخیں لگیں اسے کہ اللہ کی پناہ۔۔ وہ ہلکان ہو رہی تھی اسے سنبھالتے قریب تھا کہ خود بھی رو پڑتی کہ مین گیٹ کی گھنٹی بج اٹھی۔۔ وہ بری طرح چونکی پھر ہمت کرکے باہر جھانکا تو ایک خوبصورت سی خاتون نک سک سے تیار کھڑی تھیں۔ اس نے دروازہ کھولا تو مسکرا کر سلام کرنے لگیں۔ 
اسلام وعلیکم میں شبانہ ہوں آپکے پڑوس میں رہتی ہوں 
جی میں انیقہ۔۔ 
بابر کی چیخ و پکار میں وہ بمشکل اتنا ہی کہہ پائی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی بات سن کر شبانہ زور سے ہنس دی۔ وہ دونوں لائونج میں بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ بابر کو شبانہ نے سونف کا پانی بنوا کر پلایا تو وہ جیسے پرسکون سا ہوکے سو گیا تھا ۔انیقہ نے اسے کمرے میں سلانے کی بجائے یہیں صوفے پر لٹا دیا تھا۔ حالانکہ شبانہ نے کہا بھی کہ اب یہ آرام سے سوئے گا تو اندد کمرے میں لٹا دو مگر انیقہ کو وہم سا بیٹھ گیا تھا۔۔پوری بات بتائی شبانہ کو جسے اس نے کان پر سے مکھی کی طرح اڑا دیا
احمق لڑکی گھر میں پہلی بار اکیلی ہو طرح طرح کے وہم ہونگے ۔ آہستہ آہستہ عادت پڑ جائے گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اسکی بات کسی حد تک ٹھیک بھی تھی۔ میکہ بھی بھرا پرا پھر سسرال بھی ملا یہ الگ بات اس سسرال نے وہ ناکوں چنے چبوائے اسے کہ اب ایسے ہزار وہم بھی ہوتے رہیں تو واپس سسرال جا کے رہنے کا سوچے بھی نا۔۔
شبانہ اسکے ساتھ بریانی بنوا کر ہی گئ۔۔ اس نےکافی اصرار بھی کیا کہ کھانا کھا کر جائے مگر اپنے بچے کو وہ ساس کے پاس چھوڑ کر آئی تھی اتفاق  تھا کہ وہ یونہی سبزی لینے گیٹ پر آئی تو بابر کے مسلسل رونے کی وجہ سے خیریت پوچھنے آگئ۔ اسکے اپنے دو بچے تھے بڑی بیٹی تیسری جماعت میں تھی اسکول گئ تھی اب واپسی کا وقت تھا بیٹا بابر کا ہی ہم عمر تھا ۔۔۔ اس سے تھوڑی ہی دیر میں کافی دوستی ہوگئ تھی شائد ہم عمر ہونے کی وجہ سے۔ مگر اب انیقہ کافی حد تک مطمئن ہوگئ تھی۔اچھا پڑوس بھی بڑی نعمت ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکیلے رہتے اسے صحیح آٹے دال کا بھائو پتہ لگا تھا سسرال میں تو مخصوص رقم دے کر وہ آزاد ہو جاتے تھے اب اس
سے دگنی خرچ ہو رہی تھی بچت نام کو نہ تھی۔۔۔
اوپر سے اکیلے بابر کو سنبھالنا۔ سلا کر دو منٹ کمرے سے نکلتی جاگ جاتا قلقاریاں بھرتا ۔۔ اس دن تو حد ہی ہوگئ دنیا کے سب بچے رات کو جاگتے ہیں تو کسی ضرورت سے رو کر اپنی ضرورت کا اظہار کرتے ہیں اسکی رات کو زور زور سے بابر کی قلقاریاں بھرنے سے انکھ کھلی۔اس نے بابر کو اپنے اور تابش کے بیچ ہی سلایا ہوا تھا۔ وہ دھت بے ہوش سوئے پڑے تھے جبکہ بابر کے کھلکھلا کھلکھلا کر ہنسنے کی آواز سے اسکی آنکھ کھل چکی تھی۔۔ اس نے آنکھیں مسل کر بابر کو چیک کیا ڈائپر بھی صاف تھا اسے گود میں لیکر تھپکنے لگی۔بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی گھڑی اٹھا کر وقت دیکھا تو تین بج رہے تھے۔۔ اس نے بابر کو زور زور سے تھپک کر سلانا چاہا تو ہنستے کھیلتے بابر کا فورا موڈ خراب ہوا چیخ چیخ کر رونے لگا۔۔ تابش کی اب آنکھ کھل ہی گئ۔۔
کیا ہوا سے۔۔ نیند سے بھری سرخ آنکھیں ۔۔۔ اسے ان پر ترس آگیا صبح صبح اٹھنا بھی تھا
کچھ نہیں رو پڑا باہر لے جاتی ہوں۔۔
وہ احتیاط سے جمائی روکتی اٹھ کر باہر لے آئی ۔۔ بابر کی چیخیں بڑھتی جا رہی تھیں۔۔ روہانسی ہوگئ۔۔
دودھ بھی نہ پیئے۔۔۔
اس نے سونف والا پانی بنایا ۔۔۔ اگر پیٹ میں درد ہوتو ٹھیک ہو جائے۔۔
لائونج میں ٹہل ٹہل کر اسے چپ کرانے کی کوشش کرنے لگی۔۔

تبھی تابش اٹھ کر باہر آگیا۔۔ لائو اسے مجھے دو۔۔

اس نے اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصدق فورا پکڑا دیا۔۔ حیرت انگیز طور پر بابر ایکدم چپ ہو کر باپ کو دیکھ کر قلقاریاں بھرنے لگا۔۔
تو بیٹا آپکا آپ سے ہڑک رہا تھا۔۔
اس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا مگر تابش مکمل طور پر بابر کی جانب متوجہ تھا۔۔
دیکھو کہا تھا نا مما کی نیند خراب ہو جائے گی۔ اب سو جائو صبح ملیں گے پھر خوب کھیلیں گے۔۔
وہ بابر کو چمکارتے یوں کہہ رہا تھا کہ جیسے وہ سب سمجھ ہی تو رہا ہے۔ انیقہ نے مسکراہٹ روکی
آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے اسے سب سمجھ آرہی آپ کی بات؟
ہاں تو آرہی ہے نا۔۔
تابش نے فورا کہا۔۔ !آرہی ہے نا میری بات سمجھ بابر۔۔
اس نے بابر سے کہا تو حیرت انگیز طور پر وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گیا۔۔
مما کو بھی بتائو سمجھ آرہی ہے نا میری بات اب تو نہیں روئوگے؟
بابر نے مسکرا کر ماں کو دیکھا اور نفی میں گردن ہلا دی۔۔
اب میں صبح آئوں گا ٹھیک ہے؟
تابش نے مسکرا کر تسلی دی جوابا بابر دوبارہ قلقلاریاں بھرنے لگا
انیقہ حیران ہی تو رہ گئ۔۔ اس سے تو بابر ایسے کبھی ردعمل ظاہر نہیں کرتا تھا سارا دن وہ اس سے مخاطب کرتی تھی
ٹھیک ہے جی ماں کی قدر نہیں سب پیار باپ کیلئے۔۔وہ زیر لب بڑبڑائی۔۔ تابش مسکرادیا
یہ لو اب یہ نہیں روئے گا ۔۔ تابش نے بابر کو واپس اسکی گود میں دینا چاہا۔۔
انیقہ نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا اسے تھامنے تو رک گیا۔۔
تم مجھے ایک گلاس پانی تو لادو  میں اسے کمرے میں لٹا دیتا ہوں۔۔
تابش کہہ کر پلٹ گیا۔۔ انیقہ سر ہلا کر کچن میں چلی آئی۔۔
کچی نیند کی وجہ سے سر اسکا سائیں سائیں کرنے لگا تھا۔۔ فریج سے پانی کی بوتل نکال کر پانی پہلے خود پیا پھر گلاس میں بھر کر کمرے میں چلی آئی۔۔ تابش نے بابر کو اسکی جگہ پر لٹا دیا تھا خود پیٹھ موڑے لیٹے تھے۔۔
تابش پانی پی لیں۔۔
اس نے قریب جا کر کہا تو پتہ چلا موصوف خراٹے بھی بھر رہے ہیں
تابش مجھے پتہ ہے اتنی جلدی آپ نہیں سو سکتے ڈرامے مت کریں پانی پی لیں۔۔
انیقہ کو یہ بے وقت مزاق قطعی نہ بھایا۔۔ کہتے کندھا ہی ہلا دیا۔۔
آہ ہاں ۔۔ کیا ہوا۔۔ نیند کے خمار سے بھاری آواز سرخ آنکھیں۔۔
انیقہ عش عش کر اٹھئ اپنے میاں کی اداکاری پر۔۔
یہ پانی پیئیں۔
تابش نے حیرت سے دیکھا۔۔
مگر کیوں۔؟
اسلیئے کہ اب میں لے آئی ہوں۔
اس نے بھی انہی کے انداز میں جواب دیا۔۔
تابش نے حیرت سے دیکھتے اس سے گلاس تھاما اور ایک دو گھونٹ بھر کر گلاس پائیں میز پر رکھ دیا۔۔
آنکھیں اتنی بند ہو رہی تھیں۔کہ گلاس رکھتے ہی دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔۔
انیقہ بہر حال کافی شکر گزار تھی اس وقت اپنے میاں کی سو بتی بجھاتی اپنی طرف سے بیڈ پر آکر لیٹ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکی الارم سے آنکھ کھلی ہی نہیں۔ اتفاق سے تابش کی آنکھ کھلی اسکا کندھا ہلادیا۔۔ اس نے کھلی بند ہوتی آنکھوں سے بیدار ہو کر جب بیڈ کی سائڈ ٹیبل سے گھڑی کو اٹھا کر وقت دیکھا تو اس میں 3 ہی بج رہے تھے یعنی رات کو گھڑی بند اور اب الارم ہی نہیں بجا۔۔
اس نے فورا گردن گھما کر سامنے وال کلاک میں وقت دیکھا تو سوا آٹھ ہو رہے تھے اس وقت تابش نکل بھی جاتے تھے دفتر کیلئے۔۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔۔
 تابش واپس اپنی جگہ آکر لیٹ چکے تھے ۔۔ وہ جھلا ہی گئ۔ اب یہ کیا حرکت ہے تابش دوبارہ کیوں لیٹ گئے۔۔اٹھیں دیر ہوگئ ہے سوا آٹھ ہو رہے ہیں۔۔
تیزی سے اٹھ کر بیٹھی چپل پیروں سے تلاش کر کے پہنی گھوم کر آئی تابش کو جھنجھوڑ ہی ڈالا تقریبا کہتے ہوئے۔۔
وہ ہکا بکا اٹھا۔ کیا ہوگیا۔۔
آپ دوبارہ کیوں سو گئے مجھے اٹھا کر اٹھیں۔۔ سوا آٹھ ہو رہے ہیں۔۔ میں جا رہی ہوں ناشتہ بنانے دوبارہ اٹھانے نہیں آئوں گی۔۔
دھمکی دیتی وہ تیزی سے کہتی کمرے سے نکل گئ۔۔
تابش نے انگڑائی لیتے ہوئے اپنی رسٹ واچ میں وقت دیکھا تو سات بج کر پانچ منٹ ہوئے تھے۔۔
ایک تو یہ انیقہ بھی نا جانے کیا ہوگیا ہے۔فالتو میں اتنا
ڈرامہ۔۔۔۔
تبھی بابر جاگ کر رو پڑا۔۔ 
تابش نے تھپکا مگر اسکا رونا بند نہیں ہوا
انیقہ بابر جاگ گیا ہے اسے پہلے دیکھ لو۔۔ 
اس نے وہیں سے آواز لگائی اور سستی سے چپل پہنتا نہانے گھس گیا۔۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلنے کی آواز آئی یقینا انیقہ ہی تھی سو وہ آرام سے شاور کھول کر فریش ہونے لگا۔۔تھوڑی دیر بعد اسے بابر کے قلقاریاں مارنے کی آواز آئی
اس نے ہلکا سا دروازہ کھول کر جھری سے جھانکا تو نیلا لباس پہنے انیقہ اسکا ڈائپر تبدیل کر رہی تھی۔اسکی جانب پشت تھی لمبے بال پشت پر ہلکے نم بکھرے تھے۔۔وہ مطمئن ہو کر دروازہ بند کرگیا۔۔۔ 
فریش ہو کر باہر نکلا انیقہ اسی وقت کمرے میں داخل ہوئی 
تابش ناشتہ تیار ہو گیا ہے لگا دیا آپ شروع کریں میں یہ بابر کا ڈائپر تبدیل کرکے آتی ہوں۔۔
وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر الماری کی طرف بڑھ گئ
ابھی تو بدلا ہے تم نے۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا اسکی بات پر اچنبھے سے کہتا مڑا تو چونک گیا۔۔ انیقہ گلابی پرنٹ کے جوڑے میں ملبوس تھی الجھے بال سمیٹ کر جوڑے کی شکل میں باندھ کر کیچر لگایا ہوا تھا اس نے۔ ۔۔
کہاں اٹھتے ہی تو کچن میں چلی گئ ابھی فیڈر بنا کر لائی ہوں پلا دوں تو آرام سے سوتا رہے گا ورنہ جاگ گیا تو سب کام مشکل ہو جائیں گے اس نے اتنی پٹس مچانی۔۔ 
وہ ہنستے ہوئے کہتی الماری سے اسکا ڈائپر نکالتی بیڈ پر بیٹھ گئ۔۔
اسکا ڈائپر کھولتے اسے خیال آیا تو سر اٹھا کر دیکھا۔۔ تابش کسی گہری سوچ میں اس پر ہی نگاہ جمائے کھڑا تھا
اس نے چٹکی بجا کر متوجہ کیا
کیا سوچ رہے ناشتہ شروع کریں جا کر ٹھنڈا ہو رہاہے میں آتی ہوں۔
تابش چونکا پھر سر جھٹک کر کنگھا رکھتا جانے ہی لگا تھا کہ انیقہ کی آواز نے پھر چونکا دیا
ارے اس نے لگتا یے سو سو کی ہی نہیں بالکل خشک ہے ڈائپر جیسے ابھی پہنایا ہوا۔۔ چلو۔۔ یہی رہنے دیتی ہوں۔
نہیں۔۔ وہ بے ساختہ مڑا
بدلو اسے فورا ۔۔ 
مگر یہ تو صاف ہے۔۔ 
انیقہ حیران ہوئی اسکے انداز پر
میں جو کہہ رہا ہوں؟؟؟؟ بدلو فورا اسے۔۔ 
اور بھلے ناشتہ مت بنایا کرو صبح میرے لئے میں آفس جا کر کرلوں گا مگر بابر کو اکیلے مت چھوڑا کرو۔۔سمجھیں۔۔
تابش کا انداز کافی سخت تھا انیقہ حیران پریشان دیکھتی رہ گئ
مگر ہوا کیا  تابش۔؟۔۔
اس نے پوچھا تو مگر تابش نظر انداز کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔
وہ کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اکیلے رہتے اسے عادت ہو ہی گئ تھی۔اور بابر کو بھی۔ وہ آرام سے اسے لائونج میں پرام میں بٹھاکر ٹی وی لگا دیتی وہ گھنٹون قلقاریاں بھرتے ٹی وی دیکھتا وہ آرام سے اپنے کام نپٹا لیتی۔۔ کبھی کبھی 
شبانہ آجاتی اپنے بیٹے کو لے کر وہ بابر کا ہی ہم عمر تھا ۔۔ دونوں پرام میں بیٹھےبیٹھے بچپن کے پہلے دوست بن چکے تھے۔۔تم بابر کو بھی اسی اسکول میں ڈالنا جس میں میری ہادیہ جاتی یے اچھا ہے تینوں بچے اکٹھے جایا کریں گے۔۔ شبانہ نے جب 8مہینے کے بابر کو گود میں لیتے کہا تھا تو انیقہ خوب ہنسی تھی پہلے اسے بڑا تو ہو لینے دو۔۔ اور اب پتہ ہی نہ چلا اسکا سکول کا پہلا دن آگیا۔۔
ننھے ننھے قدم اٹھاتے بابر اور شایان۔۔ دونوں اکٹھے ہی ان دونوں کو چھوڑنے آئی تھیں۔۔
بابر ہنستا مسکراتا کلاس میں بیٹھا تھا تو شایان نے رو رو کر پورا اسکول سر پر اٹھایا تھا۔ بمشکل اسے کلاس میں بٹھا کر وہ دونوں اسٹاف روم میں آبیٹھی تھیں۔
ابھی کم از کم ہفتہ بھر مائوں کو بھی آنا تھا جب تک بچوں کو عادت نہ پڑے۔۔
شبانہ کا دل بھر آرہا تھا ۔۔شایان رو ہی اتنا رہا تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد شایان کی ٹیچر اسے گود میں اٹھائے لے آئی۔۔
معزرت یہ رو ہی اتنا رہا تھا کہ مجھے لانا پڑا آج آپ سے لے جایئے کل تھوڑا سمجھا بجھا کر لائیے گا۔۔
ماں کو دیکھتے ہی شایان لپک کر ماں کی گود میں چڑھا۔۔
شبانہ نے اسکے آنسو پونچھے ماتھا چوما وہ بالکل پرسکون ہو کر کندھے سے لگ کر اونگھنے لگا
اور بابر۔۔ وہ ٹھیک ہے۔۔ انیقہ کو فکر ہوئی
وہ تو ماشا اللہ بہت خوش ہے آرام سے بیٹھا ہے اکیلا مگن کھیل بھی رہا ہے آپ بے فکر ہو کر گھر جاسکتی ہیں۔۔
ٹیچر نے مسکرا کر تسلی دی
آپ نے اسکو بابر کے ساتھ بٹھانا تھا نا یہ دونوں بچے اکٹھے ہی کھیلتے ہیں
 شبانہ نے کہا تو ٹیچر حیران ہوئئ
اچھا؟ مگر میں نے اسکو بابر کے ساتھ ہی بٹھایا تھا مگر تھوڑی دیر بعد یہ رو پڑا کہتا میں نے نہیں بیٹھنا جگنو نے مارا۔۔
آپ بابر کو جگنو کہتی ہیں پیارسے؟
انیقہ اور شبانہ حیران ہوئیں
نہیں تو۔ اور بابر تو بہت سلجھا بچہ ہے وہ تو نہیں مارتا کبھی۔۔
انیقہ کو یقین نہ آیا۔۔
چلیں کوئی بات نہیں بچے ہی تو ہیں۔۔
ٹیچر نے تسلی دے کر جانا چاہا مگر انیقہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
میں ایک نظر بابر کو دیکھ لوں؟؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابر واقعی آرام سے بیٹھا اپنے آپ میں مگن کھیل رہا تھا۔۔
اس نے کلاس کے داخلی دروازے سے کھڑے ہو کر ہی اندر جھانکا۔۔ باقی بچے آپس میں ہنس بول رہے تھے مگر بابر اکیلا بیٹھا کتاب کھولے اس میں رنگ بھر رہا تھا۔۔
انیقہ جانے کیوں بے چین سی ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا دن گھر میں بیزار رہنے والا بابر اسکول میں کافی خوش رہتا تھا روز گھر آکر ماں باپ کو نہ جانے کون کونسے قصے سناتا۔  دوست بھی بنا لیا تھا۔۔ شام کو اکثر شبانہ شایان کو بھی بھیج دیتی انیقہ سارا دن فارغ ہی ہوتی تھی سو دونوں کو پڑھا دیا کرتی تھی۔۔ابھی تو ویسے بھی ابتدائی گنتی اور الف بے وغیرہ ہی سیکھ رہے تھے۔۔
اس دن بھی وہ دونوں کو کام کروا کر ڈرائنگ بک میں رنگ بھرنے کا کام دے کر خود شام کی چائے بنانے لگ گئ تابش کے آنے کا وقت ہو رہا تھا تو کباب بھی تلنے شروع کردیئے۔۔تبھی شایان چیخ چیخ کر رو پڑا۔۔
وہ بھاگی بھاگی آئی تو دیکھا بابر اطمینان سے بیٹھا اپنی کتاب میں بنے پھول پر رنگ کر رہا تھا۔۔
اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر شایان کو گود میں بھرا اسکی ہچکیاں بندھ گئ تھیں۔۔ کیا ہوا بیٹا۔۔ بابر کیا ہوا اسے؟۔۔
اس نے شایان کے آنسو پونچھے مگر وہ بلکے جا رہا تھا۔۔تو اسے بابر سے پوچھنا پڑا
اسے جگنو نے مارا ہے۔۔ بابر نے اشارے سے شایان کے برابر دیکھ کر کہا۔۔
کون جگنو ۔۔ اس نے حیرت سے دیکھا وہاں تو بس یہ دونوں بچے تھے۔۔
آنٹی اس نے میری کاپی کھول کر رکھ دی اس میں میں نے رنگ بھرنے تھے مگر اس نے مجھے بھرنے نہیں دیا کہتا جگنو بھررہا ہے۔۔
شایان نے ہچکیاں لیتے بمشکل بتایا۔۔
انیقہ نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا گال پر انگلیوں کے نشان واضح تھے۔۔
بابر آپ نے اپنے دوست کو کیوں مارا ؟ اتنی زور سے دیکھو اسکے گال۔۔ انیقہ کو شدید غصہ آیا تھا دل کر رہا تھا ایک لگا بھی دے بابر کو۔۔ شایان اسکے سینے میں منہ چھپائے روئے جا رہا تھا
مما میں  نے نہیں مارا۔۔ یہ اپنی کاپی کھینچ رہا تھا تو جگنو کو غصہ آگیا منع کیا تھا جگنو کو میں نےمت مارے اسے۔۔
بابر سنجیدگی سے اپنی کاپی رکھ کر بتا رہا تھا۔۔
کون جگنو ؟ یہاں کوئی ہے اپ دونوں کے سوا۔۔ ایک توبد تمیزی کرتے ہو اوپر سے جھوٹ بھی بولتے ہو؟
انیقہ نے کان سے پکڑا تو بابر بھی رونے کو آگیا۔۔
مما میں نے کچھ نہیں کیا۔۔ جگنو نے مارا اسے۔۔ جگنو بڑا ہے اسکا ہاتھ بھی اتنا بڑا ہے دیکھیں۔۔
بابر نے کہتے ہوئے شایان کے گال سےاپنا ہاتھ چھوا۔۔ انیقہ کو جھٹکا سا لگا۔۔
نہیں مما کو کچھ نہ کہنا۔۔ یہ مما ہیں میری۔۔
بابر ایکدم سے اس سے لپٹ کر کہتا گیا پھر زور زور سے رونے لگا۔۔ بابر کیا ہوا بیٹا رو کیوں رہے ہو؟؟؟؟ وہ بری طرح پریشان ہو گئ۔۔ شایان بھی چپ ہو کر بابر کو دیکھ رہا تھا۔۔
پھر اس نے جو تان بلند کی۔۔
وہ حقیقتاپاگل ہونے لگی تھی دونوں بچے اس سے چمٹے جا رہے تھے اور زور زور سے رونے لگے تھے۔۔
یا خدایا۔۔ کیا کروں۔۔ وہ دونوں کو چپ کرانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی۔۔
انیقہ انیقہ۔۔ شبانہ پکارتی چلی آئی ہاتھ میں ڈونگا لیئے یقینا وہ کچھ پکا کر لائی تھی۔۔
انیقہ کی جان میں جان آئی۔۔
شبانہ ۔۔ اس نے بے تابی سے پکارا۔۔
شبانہ لائونج میں داخل ہوئی تو اسے گھٹنوں کے بل لائونج کے کارپٹ پر بیٹھے دیکھ کر دہل کر ڈونگا سائڈ ٹیبل پر ٹکاتی دوڑئ آئی
کیا ہوا؟۔۔ شایان ماں کو دیکھتے ہی جا کے لپٹ گیا۔۔
امی چلیں یہاں سے مجھے لے جائیں۔۔ یہ جگہ اچھی نہیں۔۔
شایان ہچکیاں لیتے روئے چلا گیا۔۔
کیا ہوا اسے؟۔۔ شبانہ بھی گھبرا گئ۔۔
پتہ نہیں دونوں بیٹھے کام کر رہے تھے اچانک شایان رونے لگا شائد بابر سے لڑائی ہوئی ہے اسکی۔۔ ڈانٹا ہے میں نے اسے۔۔
اس نے بابر کو تھپک تھپک کر چپ کرایا۔  وہ ابھی بھی اس سے لپٹا کھڑا تھا۔۔
شبانہ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے سر ہلا رہی تھی ۔۔ شایان کی ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔۔
میں پانی لاتی ہوں۔۔ انیقہ بابر کا سر سہلا کر اسے شبانہ کے پاس بٹھا کر پانی لینے چلی گئ۔۔
فریج سے پانی لیکر آئی تو بابر کی آواز کانوں میں پڑی
نہیں مما نے کچھ نہیں کہا مما تو کچن میں تھیں جگنو نے مارا اسے؟۔۔۔
انیقہ اسکی بات پر ٹھٹکی ضرور مگر پانی کا گلاس لا کرشبانہ کو تھمانا چاہا مگر وہ ہاتھ بد لحاظی سے پرے کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ماں کا دل تو نرم ہوتا ہے انیقہ بچہ کسی کا بھی ہو وہ اس کے ساتھ  اپنی اولاد جیسا پیار نہ بھی کرے مگر یوں مار بھی نہیں بیٹھتی اگر شایان نے کوئی بد تمیزی کر بھی دی تھی تو اسے پیارسے سمجھا دیتیں ڈانٹ دیتیں یوں بھر پور تھپڑ تو نا مارتیں اسکے گال پر میں نے آج تک اسے ڈانٹا تک نہیں تم نے اٹھا کر میرے بچے کے پھول سے گال پر طمانچہ دے مارا؟
انیقہ سٹپٹا گئ ۔۔ قسم لے لو شبانہ میں نے نہیں مارا کیوں ماروں گی؟ میں نے تو بابر کو بھی ڈانٹا۔۔ اچھا؟ شبانہ نے شایان کا چہرہ تھوڑی سے تھام کر اسکی جانب رخ موڑا
یہ ہاتھ جو چھپا ہے اسکے گال پر اتنا بڑا ہاتھ ہے بابر کا؟
انیقہ بری طرح ٹھٹکی تھی واقعی ایک تو گال پر انگلیوں کے نشان واضح تھے دوسرا کسی بڑے انسان کا ہاتھ لگ رہا تھا
بچوں کا تو چھوٹا سا ہاتھ چھوٹی چھوٹی انگلیاں ہوتیں۔۔
انیقہ کو چپ دیکھ کر شبانہ نے پہلے تو کچھ کہنا چاہا پھر پیر پٹختی بچے کو لے کر چلی گئ۔۔
کوئی آیا تھا ابھی بابر؟
انیقہ جھک کر بابر کے مقابل گھٹنوں کے بل بیٹھ کر نرمی سے پوچھنے لگی۔۔
ہاں جگنو۔
بابر نے کہا تو وہ سر تھام کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو سب کاموں سے فارغ ہو کر وہ اطمینان سے تابش کو چائے کا کپ تھما کر بابر کے کمرے میں چلی آئی۔۔
بابر سینے تک کمبل تانے سونے کی تیاریوں میں تھا دودھ کا گلاس خالی کر کے اس نے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔
برش کر لیا میرےبیٹے نے۔؟
انیقہ نے اسکے پاس بیٹھ کر پیار سے پوچھا۔۔
بابر ماں کو دیکھ کر اٹھ بیٹھا۔۔
ہاں۔۔
انیقہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔۔
بیٹا شام کو جب آپ اور شایان کھیل رپے تھے تو آپکے ساتھ کون کھیل رہا تھا؟
جگنو۔۔
بابر نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں انیقہ پر جمائیں۔۔
کون جگنو ؟ انیقہ نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔۔
میرا دوست ہے نا جگنو۔۔ یہ بیٹھا ہے۔۔
بابر جیسے اسکی جرح سے تنگ آیا اپنےبائیں جانب خالی بیڈ پر اشارہ کرکے بولا۔ 
اچھا ۔۔ یہ ہے جگنو۔۔
انیقہ کو اسکے جھوٹ بولنے پر غصہ آیا مگر ضبط کرکے بولی۔۔
مما کو ملوائو ہیلو جگنو ؟
اس نے خلا میں ہاتھ بڑھایا۔۔
بابر اسے دیکھتا رہا۔۔
اس سے کہو نا مما سے ہاتھ ملائے۔۔  انیقہ اسکے جھوٹ کو انجام دینا چاہتی تھی۔۔
ملایا ہوا تو ہے مما۔۔
بابر نے کہا تو وہ گہری سانس لیکر ہاتھ پیچھے کر گئ۔۔
بیٹا جگنو کی باتیں نہیں کرتے ۔۔ وہ آپکا خیالی دوست ہے نا؟ سچ چ تو نہیں ہے نا کوئی ایسے آپ کہا کروگے تو۔۔
اوہو مما ۔۔ بابر نے جیسے جھلا کر بات کاٹی۔۔
ہے نا یہ بیٹھا ہوا ہے۔۔سچ مچ ہے۔۔
انیقہ بھی جھلا اٹھی۔
اچھا اگر سچ مچ ہے تو مجھے نظر کیوں نہیں آتا اسے کہو دکھائی دے مجھے بھی مجھے تو کوئی نظر نہیں آرہا۔۔
بابر۔۔ ایکدم چپ سا ہوا پھر دھیرے سے بولا۔۔
آپ ڈر جائیں گی ماما۔۔۔
انیقہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابر کے اسکول سے فون آیا تھا۔ وہ گھر لاک کرتی بھاگم بھاگ پہنچی تھی۔۔
بابر پرنسپل آفس میں سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔ وہ سیدھا اسکے پاس جا کر لپٹا کر پوچھنے لگی۔۔
کیا ہوا بیٹا ٹھیک تو ہو تم۔۔ ؟؟؟
اسکے پوچھنے پر بابر نے سر جھکا لیا ۔۔ اس نے مڑ کر پرنسپل کو دیکھا تو وہ اسے ہی پرسوچ  نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔
کیا ہوا؟؟؟؟ بے ساختہ اسکے منہ سے پھسلا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابر آدھی چھٹی میں آرام سے درخت کے سائے میں لگے بنچ پر بیٹھا تھا جبکہ باقی بچے میدان میں کھیل کود میں مصروف تھے۔۔
بابر آئو ہمارے ساتھ فٹ بال کھیلو۔۔
شایان اسے بلانے آیا تھا مگر اس نے نرمی سے انکار کردیا۔۔
نہیں میں یہاں جگنو کے ساتھ ہوں تم جائو۔۔
شایان خالی بنچ کو دیکھتا کندھے اچکا کر چلا گیا۔۔
کھیلتے کھیلتے ایک بچے کو جانے کیا سوجھی شرارت سے گول کی بجائے بال کوبنچ کی جانب رخ کرکے زوردار لات مار دی۔۔ بال بابر کو بہت زور سے لگی اس نے رخ موڑ کر بچنا چاہا تو کندھے پر لگی اور وہ الٹ کر زمین پر گرا۔ بال بابر کو لگ کر واپس اس سے ذیادہ تیز رفتار سے واپس آئی اور کک مارنے والے بچے کے پیٹ پر لگی وہ الٹ کر پیچھے گرا اور بے ہوش ہوگیا۔۔ سب بچے سنٹ سے کھڑے دیکھتے رہ گئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بچے کو ہم فوری طور پر اسپتال لیکر گئے ۔ اسکے پیٹ میں اتنی زور سے چوٹ لگی تھی کہ۔۔
پرنسپل صاحبہ سنجیدگی سے بتا رہی تھیں انیقہ نے بات کاٹ کر پوچھا
اب کیسی طبیعت ہے بچے کی؟
وہ گہری سانس لیکر بولیں۔۔
اب تو خیر وہ ہوش میں بھی آگیا ہے اور خطرے سے بھی باہر ہے مگر یہ دو گھنٹے آپ سوچ نہیں سکتیں کس مشکل سے گزارے ہیں ہم نے۔ اسکے والدین تو قانونی چارہ جوئی
انیقہ کی جان میں جان آئی تو تیز ہو کر بولی
بچہ ہے بابر کتنا کوئی زور سے بال پھینک سکتا ہے ؟ اور کھیلتے ہوئے بچوں کو چوٹ بھی لگتی ہے گر بھی پڑتے ہیں اس بات پر قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دینا کیا مطلب
دیکھیں۔۔ پرنسپل صاحبہ نے ہاتھ اٹھا کر انیقہ کو روکنا چاہا۔۔
دیکھیں۔۔ ہمیں بھی پتہ ہے یہ بات مگر بچے کو چوٹ واقعی  شدید آئی ہے اور جو بچے وہاں موجود تھے انکا کہنا بھی یہی ہے کہ بابر نے کک نہیں ماری بال کو بابر خود بھی یہی کہہ رہا ہے کہ اس نے بال نہیں پھینکی۔۔ یہ بچے چھوٹے اتنے ہیں کہ ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔
پھر؟ انیقہ کی پیشانی شکن آلود ہوئی
جب بابر نے نہیں کچھ کیا تو اس طرح مجھے بلانے کا مقصد؟؟؟
بچے کہہ رہے ہیں کہ بال خود سے اڑتی آئی اب ایسا تو ممکن نہیں مگر جب ہم نے بابر سے پوچھا تو وہ کہتا ہے جگنو نے پھینکی۔۔
اب یہ جگنو کون ہے؟ بچہ ہے یا کوئی بڑا ؟ آپ جانتی ہیں اسےرشتہ دار ہے دوست ہے کون ہےکتنا بڑا ہے؟ اور وہ اسکول کی حدود میں آیاکیوں؟
انیقہ کا رنگ اڑ سا گیا تھا
بابر اٹھ کر اسکے پاس چلا آیا۔۔
مما میں جگنو کو منع کرتا ہوں وہ سنتا نہیں۔۔ مما سوری
بابر لپٹ گیا ماں سے۔۔ بابر کو گھبرایا ہوا دیکھ کر پرنسپل صاحبہ بھی نرم پڑ گئیں
دیکھیئے جو ہوا سو ہوا ۔۔ آئیندہ کیلئے جگنو یا جو بھی کوئی آپکا رشتہ دار ہے اسکو منع کیجئے اسکول میں یوں گھس آنا اور کسی بچے کو زخمی کر دینا ہرگز بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جگنو؟؟؟؟۔ ہا ہا ہا۔۔
اسکی توقع کے برعکس تابش نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔۔
انیقہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی
اس نے اپنی طرف سے خوب سوچ سمجھ کر جب بابرقاری صاحب کے پاس بیٹھا قرآن پڑھ رہا تھا اور تابش دفتر سے آکر آرام کر چکنے کے بعد شام کو حسب عادت ٹی وی لائونج میں آکر ٹی وی دیکھنے لگا تھا تب باورچی خانے سے نکل کر چائے بناتے بناتے نکل کر  اسے آج  کا پورا قصہ سنایا تھا
تابش میں سنجیدہ ہوں یہ ہنسنے کی بات نہیں ہے۔۔۔ انیقہ نے تھوڑا سختی سے کہا تو تابش صوفے پر سیدھا ہو کر ٹی وی کی آواز آہستہ کرتا ہوا اسے تفصیل سے بتانے لگا
ابھی دو دن پہلے ہی مجھ سے پوچھ رہا تھا بابر پاپا جگنو کیا ہوتا ہے میں نے اسے یوٹیوب پر جگنو کی ویڈیوز دکھائیں بڑا خوش ہوا تھا ایسا بھی کیڑا ہوتا جو چمکتا رہتا ہے وہی ذہن میں رہا ہوگا اس نے نام لے دیا۔۔۔
مگر وہ بچہ زخمی ہوا ہے اور وہ اس دن شایان کو جو جگنو نے مارا وہ والی بات بھی بتائی تھی شبانہ اس دن سے جو ناراض ہو کر گئ ہے دوبارہ نہیں آئی۔۔
 تابش گہری سانس لیکر رہ گیا
اب تم دو مختلف باتیں جوڑ رہی ہو ۔۔ بچے کھیلتے ہیں گرتے ہیں چوٹ لگتی ہے اور یہ تو بچوں کی نفسیات ہوتی ہے ڈانٹ کے ڈر سے کسی اور کا نام لگا دینا اپنی شرارت پر۔۔
اب آج اسے جگنو نام یاد رہا کل کو کوئ اور نام لے دے گا
مگر اتنا بڑا ہاتھ چھپا تھا شایان کے گال پر وہ تو میں نے خود دیکھا تھا۔۔ انیقہ کی سوئی اٹکی تھی۔۔
تم نے شبانہ سے دوستی نہیں کی تمہیں جا کے منانا چاہیئے تھا اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہیئے تھی اتنی گہری دوستی یوں ختم نہیں ہونی چاہیئے تھی۔۔
تابش نے کہا تو وہ سر ہلا کر رہ گئ تبھی دروازہ کھٹکا کر شبانہ ہنستی مسکراتی چلی آئی۔۔
اسلام و علیکم تابش بھائی اور تم بے مروت انیقہ خفا ہوں تم سے بندہ خود آجاتا ہے ایسا بھی کیا چٹھی لکھ بھیجی  ہاں مٹھائی کھا لی تھی کھانے پینے سے خفگی نہیں دکھاتی۔۔ تابش بھائی ویسے بہت ہی انا والی ہیں آپکی بیگم۔۔۔۔
شبانہ ہاتھ میں پلیٹیں پکڑے تھی انیقہ کو تھماتے خوشگوار انداز میں کہہ رہی تھی۔۔
بھئی یہ تو آپ دونوں سہیلیوں کا معاملہ ہے خود نمٹائیں۔۔
تابش کہہ کر ہنستا ہوا اٹھ کر باہر چلا گیا۔۔
ویسے کیا نام تھا اس مٹھائی کا گھر میں سب کو بہت پسند آئی تھی دودھ کھویا کھوپرا اور نجانے کیاکیا ذائقہ تھا اوپر سے ست رنگی ایسی تو میں نے کسی مٹھائی کی دکان پر بھی نہیں دیکھی پھر یہی سوچا تم کوکنک کرتی ہو یقینا کوئی نئی ترکیب آزمائی ہوگی تم نے ۔۔۔
شبانہ کہے جارہی تھی اسے کچھ سمجھ نہ آیا
کیا کہہ رہی ہو شبانہ کونسی مٹھائی؟
کس نے بھیجی؟
شبانہ اسکے حیران ہونے پر حیران ہوئی
بھئی کل جو بھیجی تم نے اوپر سے مٹھائی کے ساتھ معزرت کی چٹ بھی۔۔ یقین جانو شرمندہ ہوگئ تھی میں چٹ پڑھ کر تمہارے بھائی بھی خفا ہوئے کہ بچوں کی بات پر مجھے اتنا ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔ سو آج میں معزرت کرنے آئی ہوں کان پکڑ کر سوری انیقہ ۔۔
کہتے کہتے باقائدہ دونوں کان پکڑ کر اس نے مزاحیہ سے انداز میں کہا۔۔ انیقہ اسے حیران حیران سی دیکھتی رہی
مگر میں نے تو کوئی۔۔
وہ کہنا چاہ رہی تھی جبھی تابش سستی سے چپل گھسیٹ کر چلتا کمرے سے باہر نکل آیا۔۔
بھئ انیقہ چائے بنانے کا آج کوئی ارادہ نہیں ہے؟؟؟؟
انیقہ تو انیقہ شبانہ بھی ششدر بیٹھی رہ گئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر تو خالی ہے اس وقت۔۔۔
شبانہ کے رشتے کے چچا کوئی صاحب علم انسان تھے ۔۔ شبانہ انکو لیکر آئی تھی۔  باریش چاق و چوبند مگر 70 کی دہائی کے دبلے پتلے اونچے قد کے انسان جنکی پیشانی پر سجدے کا نشان نمایاں تھا۔۔ سفید براق کڑکڑاتا کرتا اور حیدرآبادی پاجامے میں ملبوس انکی شخصیت کا رعب نمایاں تھا۔ انیقہ بے حد گھبرائی تھی تابش نے تو صاف انکو وہمی کہہ کر ٹال دیا تھا مگر شبانہ ٹھٹک گئ تھی ابھی بھی انیقہ کے ساتھ اسکا ہاتھ تھامے کھڑی تھی۔۔
چاروں جانب گھوم گھوم کر دیکھنے کے بعد انہوں نے آنکھیں بند کرکے کہا تھا۔۔
اسکول میں ہے اس وقت۔۔ جو بھی ہے وہ بچے کے ساتھ ہے۔بچے کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔۔
وہ آنکھیں بند کرکے کہے جا رہے تھے
انیقہ تڑپ اٹھی
ہاں بابر اسکول گیا ہوا ہے وہاں ہے کوئی؟ میں جاتی ہوب بابر کے پاس
وہ جیسے جانے ہی لگی تھی شبانہ نے مشکلوں سے روکا۔۔ بزرگ بھی اسکی بے چینی بھانپ گئے تھے
بچے پر آیت الکرسی دم کیا کرو اسے بھی سکھائو ۔۔ ایک تعویز دوں گا اسے اٹھارہ سال تک کا ہونے تک بچے کے گلے سے نا اتارنا ۔۔۔ سمجھیں جو بھی اثر ہے جاتا رہے گا۔۔
بزرگ کی ہر ہدایت وہ بہت غور سے سن رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مما یہ تعویز اتار دوں ؟۔۔
بارہ سالہ بابر گردن میں پڑے تعویز سے الجھن محسوس کرتا کچن میں چلا آیا۔۔
ہنڈیا بھونتی انیقہ نے مسکرا کر اسے دیکھا
ہر دودن بعد تم یہی پوچھتے ہو اب کیا مسلئہ ہے اس سے؟؟؟؟
انیقہ کے کہنے پر بابر نے کھسیا کر کان کھجایا۔۔
وہ میرا سب مزاق اڑاتے ہیں۔۔ اتنا بدنما سا تعویز ہے ۔۔ اور تو کوئی نہیں پہنتا میں ہی کیوں؟؟؟؟
بیٹا  نظر بد کا تعویز ہے ۔۔  اب میرا شہزادہ بیٹا پیارا اتنا ہے کہ مما ڈرتی ہیں کہ نظر نہ لگ جائے اسے۔۔
قد نکالتے بیٹے کو اس نے گدگد ا کر ہنسانا چاہا تو وہ سرخ سا پڑ گیا  انیقہ نے بے ساختہ پیشانی چوم لی تو وہ جھلانے لگا مما میں بڑا ہو گیا ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت پر لگا کر اڑا تھا اسکے بالوں میں کہیں کہیں سفیدی جھلکنے لگی بابر قد میں تابش سےبھی اونچا نکلا تھا ۔۔ دونوں میاں بیوی اسے دیکھ دیکھ کر جیتےتھے۔۔ بابر کا سیکنڈ ایئر  پری انجینئرنگ چل رہا تھا۔۔۔
چونکہ ابھی امتحان دور تھے تو اسکےفٹ بال کے خوب میچز ہو رہے تھے ۔۔ انیقہ بھی پڑھائی پر ذیادہ سخت نہیں تھی۔ بابر ایک ذمہ دار اور سلجھا ہوابچہ تھا گو اب اتنا بچہ بھی نہیں تھا مگر انیقہ کو وہ ابھی بھی چھوٹا بچہ ہی لگتا تھا۔پڑھائی میں غیر زمہ دار نہیں تھا سو اسکے کھیل پر انیقہ کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔
ابھی بھی وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی جب ڈھلتی سہ پہر میں بیگ کندھے سے لٹکائے وہ فٹ بال کھیل کر پسینے میں ڈوبا ہوا  گھر میں داخل ہوا۔۔۔
اور مما کیسی ہیں۔۔
وہ شرارت سے ماں کو چڑانے کی نیت سے قریب آیا۔
انیقہ نے وہیں صوفے پر بیٹھے بیٹھے اسے روک دیا
دور ۔۔۔ جائو نہا کر آئو۔۔ پھر ماں کے پاس آنا۔۔
انیقہ نےکہا تو وہ ہنستے ہوئے پلٹ گیا۔۔
نہا دھو کر آکر ماں کے پاس آبیٹھا۔۔
امتحان کب سے شروع ہو رہے ہیں؟ 
انیقہ نے پوچھا تو وہ کان کھجانے لگا۔۔۔
اگلے ہفتے سے۔۔۔ 
بس پھر اب یہ کھیل کود بند کرو۔۔پڑھائی شروع کردو۔۔ 
بس پرسوں فائنل ہے اسکے بعد پڑھنا ہی ہے۔۔۔ 
انیقہ کے کہنے پر وہ جلدی سے بولا مبادا کہیں فائنل سے نہ روک دے۔۔
تبھی باہر گھنٹی بجی۔۔ 
میں دیکھتا ہوں۔۔ وہ فورا اٹھ گیا۔۔ 
انیقہ ٹی وی پر فلم دیکھ رہی تھی اب انجام قریب تھا وہ انہماک سے دیکھنے لگی۔۔ 
ممی ۔۔ تھوڑی دیر بعد بابر نے قریب آکر جھجکتے ہوئے پکارا۔۔ 
ہوں ۔۔ انیقہ نے بمشکل ٹی وی سے نظر ہٹائی
ممی وہ میرے دوست کے گھر دعوت ہے مجھے بلانے آیا ہے چلا جائوں؟ 
ابھی؟ انیقہ چونکی۔۔
ہاں اسکا گھر دور ہے بتا رہا تھا دو ایک گھنٹے لگیں گے۔۔ 
بابر کا انداز ملتجیانہ ہوا۔۔ 
چلا جائوں؟
ہاں چلے جائو ۔۔ مگر نو بجے تک واپس آجانا سمجھے؟۔۔ انیقہ نے وارننگ دی۔۔ 
بابر نے گھڑی پر نگاہ کی شام کے چار بج رہے تھے 
آجائوں گا اب جائوں؟ 
بابر نے جلدی سے پوچھا۔۔ 
ہاں جائو دوست کا نام تو بتا جائو۔۔ 
دوبارہ ٹی وی کی۔جانب متوجہ ہوتے اسے خیال آیا۔۔
بابر نے چند لمحے سوچا پھر بولا 
جگنو۔۔ 
ہمممم۔ انیقہ نے سر ہلایا بابر پلٹ کر چلا گیا انیقہ کے ذہن میں کوندا سا لپکا۔۔ 
کون ؟ وہ پلٹ کر پکاری  مگر بابر جا چکا تھا۔۔ وہ اٹھ کر تیزی سے باہر بھاگی مین گیٹ بند تھااور اسکے پاس بابر کا تعویز پڑا تھااسے اٹھاتی وہ بےتابی سے بابر کو پکارتی گیٹ کھولنے لگی۔۔ گلی بالکل خالی تھی۔۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ وہ محلہ پہلے جیسا لگ رہا تھا نہ گلی۔۔ مگر اسکا گھر وہ پہچان کر آگے بڑھا۔۔ گھر کا نقشہ بدل چکا تھا اب دو منزلہ پکا مکان تھا اور اسکے ساتھ والا مکان بھی۔۔ 
وہ الجھن بھرے انداز میں گھر کی گھنٹی بجانے لگا۔۔ 
بیٹا یہ گھر خالی ہےدلاور صاحب اپنے خاندان کے ہمراہ کاغان گئے ہوئے ہیں۔۔۔ 
کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر متوجہ کرتے ہوئے بتایا۔۔ بابر چونک کر مڑا۔۔
کون دلاور صاحب؟ یہ تو میرا گھر ہے؟ میرے ممی پاپا کہاں گئے ؟
مخاطب کرنے والا ایک ادھیڑ عمر شخص تھا کنپٹیوں سے بال سفید گھر کا سودا تھامے اسے آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگا۔۔
تم کون ہو بیٹا؟ کوئی غلط فہمی ہوئی ہے لگتا ہے دلاور صاحب تو پندرہ سال سے یہیں رہ رہے ہیں۔۔ 
اس شخص کے کہنےپر وہ حیرت سے چیخ پڑا
کیا ہوگیا ہے اٹھارہ سال کا تو میں ہو رہا ہوں اور اسی گھر میں رہتا آیا ہوں ابھی گھنٹے دو گھنٹے کیلئے باہر گیا تھا۔۔
کیا ہوگیا ہے بیٹا  نشہ وشہ تو نہیں کرتے ہو؟؟۔۔ یہاں تو دلاور صاحب رہتے ہیں برسوں سے
وہ برابر والے گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے کہہ رہے تھے شائد یہ انکا گھر تھا مگر یہاں تو شبانہ آنٹی رہتی تھیں۔ اسے حیرت ہورہی تھی
ان انکل کے کہنے پر اس نے سخت چڑ کر دیکھا۔۔
تابش ہمدانی اور انیقہ ہمدانی کا گھر ہےیہ۔بابر نے جتانے والے انداز میں کہا تواندر جاتے جاتے رک کر وہ شخص پرسوچ انداز میں اسے دیکھتے بولا جیسے کچھ یاد آیا ہو۔۔ اچھا ہاں دلاور صاحب سے پہلے یہاں تابش ہمدانی ہی رہتے تھے مگر جب انکا بیٹ لاپتہ ہوا تو دونوں میاں بیوی گھر بیچ کر آبائی گھر چلے گئے تھے اب تو اس بات کو پچیس تیس سال ہو رہےہیں۔۔
 کیا بات کر رہے ہیں کون ہیں آپ ایسا کیسے ہوسکتا میں بیٹا ہوں انکا  یہ میرا گھر ہے ابھی دوگھنٹے پہلے ہی تو نکلا ہوں گھر سے۔۔
بابر پر کسی انہونی کا احساس ہوا بے تاب ہو کر وہ پڑوس والے گھر کی جانب بڑھا

یہ شبانہ آنٹی کا گھر ہے نا ان سے پوچھتا ہوں۔۔ 
وہ کہتا انکےگھر کی جانب بڑھنے کو تھا کہ وہ اجنبی شخص چونکا۔۔
تم میری امی کو کیسے جانتے ہو؟ اور تم ۔۔۔تم تم بابر ہو؟ مگر تم ایسے کیسے۔۔ 
یہ نہیں ہو سکتا ۔۔ 
وہ ادھیڑ عمر شخص اسے پہچان کر بے حد خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹا۔۔
شبانہ آنٹی تمہاری امی؟ بابر چونکا۔۔ 
شایان۔۔ بابر نے پہچان لیا مگر آنکھوں پر یقین نہ آیا۔۔ شایان تو میرے جتنا تھا اتنا بڑا کیسے۔۔ 
بابر نےاسکی جانب بڑھنا چاہا مگر وہ شخص بری طرح خوفزدہ ہو کر سامان چھوڑتا بابر سے دور ہوتا جلد بازی میں اپنے ہی گیراج میں پشت کے بل گرا اور دیوانہ وار چلانے لگا وہ گھسٹتا پیچھے ہو رہا تھا
ہٹو دور رہو مجھ سے ۔تم بابر نہیں ہوسکتے تم ایسے کیسے پاس مت آنا میرے۔۔۔۔
بابر حیران سا کھڑا اسےدیکھتا رہا تبھی کوئی آکر بابر کے پاس کھڑا ہوا۔۔ بابر نے آنکھوں میں آنسو بھر کر اس سے کہا۔۔ 
دیکھو نا یہ کیا ہوگیا ہے۔۔ 
جگنو۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔ 

از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی)

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *