موت ….
ابھی تو مجھے زندگی یوں ہے  چھو
کے گئی کہ
جیسے قضا سے مجھے بچا رہی ہو مگر
ہو ڈر اسے یہ بھی
موت مجھے نہ مہلت دیگی
میں نپٹا سکوں ادھورے کام سب اپنے
….
صبح سے کام کر کر کے دوپہر ہونے کو آئ اسکو ہوش نہ تھا  نا کھانے کا نہ پینے کا
پانچ  بج رہے تھے تو عالیہ کا صبر ختم ہو چلا اٹھ کر اسکی میز کے پاس آئ اور ہاتھ میں پکڑی دو تین فائلیں اکٹھی کر کے اسکے سر پر بجا دیں
اففف رومیلہ نے تڑپ کر سر سہلاتے گھورا
بس کر جاؤ مرے پیٹ کے چوہے کبڈی کھیل رہے ہیں پیٹ میں آج تو ناشتہ بھی نہیں کیا تھا میں نے
عالیہ نے مظلوم سی شکل بنا کر دکھڑا رویا تو گھورتے گھورتے بھی رومیلہ کی ہنسی نکل گئی
کہا تو تھا مجھے رپورٹ تیار کرنی ہے تم جا کے کھانا کھا لو
وہ میز پر بکھری فائلیں سمیٹتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولی
ہاں تا کہ آج تو تمارا پکا روزہ ہو جا یے وہ بھی بنا رمضان کے اکیلے رہ گیں تو کھانا گول  ہی کر  جااوگی
وہ عادت سے واقف تھی سو چبا چبا کر طنزیہ انداز میں بولی
ہاں   چھٹی ہونے لگی ہے اب گھر جا کے ہی کھاؤنگی
اس نے جان بوجھ کے سرسری انداز اپنایا
گلہ دبا دونگی تمہارا
عالیہ نے زور دار چیخ ماری رومیلہ نے بے  ساختہ کان پر ہاتھ رکھ لیا
اف کتنا چیختی ہو یار مذاق کر رہی تھی چلو اٹھو…
عالیہ اسے گھورتی بیگ اٹھانے چل دی
دونوں اکٹھے دفتر سے نکلی تھیں
پوری لفٹ سے پارکنگ تک عالیہ بجتی آئ
تمہیں ٹریٹ دینے کے لئے میں تمہاری منّت کر کے سو نخرے اٹھا کر لائی ہوں یہاں کوئی تک بنتی ہے لوگ ترستے ہیں میری جیب سے پیسے نکلوانے کے لئے ایک یہ میڈم ہیں انکو میں کہ رہی ہوں خدا کے واسطے میری منگنی کی خوشی میں مجھ سے ٹریٹ لے لو 
رومیلہ مسکرا کر رہ گئی
اچھے دوست بھی کیا نعمت ہوتے
اسے مسکراتا دیکھ کر وہ اور چڑی
ہاں ہاں جب میں نہیں ہونگی نہ تب مری قدر ہوگی
قدر ہوگی یا سکوں ہوگا
گاڑی سٹارٹ کرتے کرتے اس نے پھر چھیڑ دیا تھا
میں چلتی گاڑی سے کود جاؤنگی میرا اور دل نہ جلاؤ
رومیلہ زور سے ہنس دی اسکے انداز پر بچوں کی طرح منہ بنا ے بیٹھی تھی
عالیہ بھنای پھر یکسر مختلف موڈ میں بولی
ویسے زیادہ سے زیادہ پاؤں ہی مڑے گا میرا
اس نے گاڑی کی انتہائی کم رفتار پر چوٹ کی
رومیلہ کے مسکراتے لب بھینچ گیے
میں تیز گاڑی نہیں چلا سکتی تم جانتی ہو عالیہ
جب سے امی ابو کو کھویا  ہے مجھہ سے تو روڈ پر گاڑی لائی بھی نہیں جاتی تھی کیسے اپنے خوف پر قابو پا کر
میں ڈرا یوکرتی ہوں میں جانتی ہوں
وہ اداس سی ہو گئی تھی
اس بات کو سات سال بیت چکے ہیں وہ بس ایک حادثہ تھا جو بد قسمتی سے تمہاری قسمت میں لکھا تھا ….
عالیہ نے کے   گیر پر رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
رومیلہ کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں سات سال پہلے کا حادثہ اسکی آنکھوں میں اتر آیا تھا
جب وہ سب مل کر اسی طرح دعوت میں جا رہے تھے اور اچانک سے سامنے سے ایک ٹرالر آگیا تھا ابو ڈرائیو کر رہے تھے فوری بریک لگاتے لگاتے بھی زور دار ٹکر ہوئی تھی امی ابو موقع پر ختم ہو گیے تھے وہ اپنے چھوٹے دو بہن بھائی  کے ساتھ پیچھے تھی بس وہی ہوش میں رہی تھی وہ جانتی تھی ٹرالر والا موقع سے فرار ہو گیا ہے  اس پر پچھلی سیٹ کا پورا شیشہ ٹوٹا پڑا تھا ٹرالر سے ٹکراتے گاڑی گول گھومی تھی اسکی  بہن کی جانب کا گاڑی کا پورا حصہ تباہ ہو  گیا تھا
وہ بیچ میں بیٹھی تھی دو لاشوں دو بیہوش زخمیوں کے ساتھ کس طرح اس نے اپنے حواس قابو کے کیسے بھائی کو ٹٹول ٹٹول کر اسکے زخم کا اندازہ کیا کیسے  اسکی جانب سے گاڑی کا دروازہ لات مار کر کھولنے کی کوشش  کی
بھائی بہن کو باہر نکال کر باپ کے مردہ جسم میں زندگی کی رمق ڈھونڈنے کی کوشش کی اپنی ناکامی پر روتے  روتے انکا موبائل نکال کر پولیس کو اطلاع دی خود اسکو بھی چوٹ آئ تھی مگر اسے اپنی کسی تکلیف کا کوئی احساس نہ تھا اسے حوصلہ کرنا تھا اپنے چوتھے بہن بھایوں کے لئے
آگیا ریستوران
عالیہ کی آواز پر وہ چونک کر حال میں آئ  تھی
کھانا کھا کر دونوں باہر نکل رہی تھیں جب اسے گھر سے کال آئ
رامش اسکا چھوٹا بھائی تھا لائن پر
گھبرایا ہوا
آپی کہاں ہو اتنی دیر ہوگئی ٹھیک ہو نا؟
ہاں میں تو ٹھیک ہوں تمہیں کیا ہوا؟
وہ اسکی آواز سے بھانپ گئی
ک کچھ نہیں
آپ آج جلدی گھر آجائیں
پلیز آپی … اس نے کہہ  کر فون بند کر دیا
کیوں کیا ہوا ہیلو ؟
وہ بری طرح گھبرا گئی تھی فورا دوبارہ کال ملائی مگر بیل جا رہی تھی کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا
کیا ہوا عالیہ کو بھی فکر ہوئی
پتہ نہیں
وہ رو دینے کو تھی
انیلہ بھی فون نہیں اٹھا رہی
وہ بار بار دونوں کو فون ملا رہی تھی
عالیہ بھی پریشان ہو گئی تھی
………………
رامش آپی بار بار فون کر رہی ہیں پریشان ہو رہی ہونگی
انیلہ نے فون ہاتھ میں پکڑے پکڑے پندرہ مسڈ کالز گن لی تھیں
مجبوری ہے … پریشان نہیں ہونگی تو آیئنگی نہیں پتہ تو ہے کبھی چھٹی نہیں کرتیں اپنی جاب سے آفس سے سیدھا اخبار کے دفتر چلے جانا تھا اگر انھیں بھنک بھی پڑ  جاتی کہ ہم انکے سالگرہ کا سرپرائز پلان کر رہے ہیں
فالتو کے کام مت کیا کرو وغیرہ وغیرہ کہتے ہوئے
یاد نہیں پچھلے سال کیا کیا تھا ؟ کتنا ڈانٹا تھا
رامش نے یاد دلایا  تو وہ سر ہلا کر رہ گئی دونوں لاونج  کی میز سجا رہے تھے پورے لاونج میں سجاوٹ کا سامان بکھراتھا
مگر وہ تو ابھی بھی بہت ڈانٹیں گی …
انیلہ منمنائی
انیلہ صحیح کہ رہی ہے بچے بہن کو پریشان نہ کرو
بوا بھی ہانپتی کانپتی چلی آین وہ انکے بچپن سے انکے یہاں کام کرتی تھیں ایک طرح سے ان تینوں بچوں کو انہوں  نے ہی پالا تھا ہر فرمائش ہر ضد  پوری کرتی تھیں ان بچوں سے انکو بہت لگاؤ تھا
ابھی بھی کچن میں کباب وغیرہ تل کر ادھر انکا ہاتھ بٹانے آگیں تو ٹوکے بنا نہ رہ سکیں
ڈانٹ لیں چاہیں تو مار بھی لیں
غبارے پھلاتا رامش غبارے سے بھی بڑا منہ پھلا کر بولا
ہم تین ہی تو ہیں بس ایک دوسرے کے لئے میری سالگرہ دھوم دھام سے مناتی ہیں انیلہ کی بھی اپنی دفعہ آرام سے ہمیں ڈانٹ کر  منع  کر دیتی ہیں ہم بھی تو اب بچے نہیں رہے اٹھارہ سال کا ہو رہا ہوں
میں پھر بھی مارنا چاہیں تو مار لیں مگر میں

میں بھی انھیں دوسری لڑکیوں کی طرح خوش دیکھنا چاہتا بلاوجہ کا بڑھاپا طاری کیا ہوا ہے انہوں نے خود پر
انکا کیا قصور ہے کہ امی ابو وقت سے پہلے ہمیں چھوڑ گیے اور ان پر ہماری ذمہ داری آگئی  ہے
وہ بولتے بولتے اداس ہوتا گیا قریب تھا کہ رو پڑتا انیلہ اور بوا اس سے لپٹ گیں
اداس نہیں ہونا مل کر مار کھا لیں گے آپی سے کوئی مسلہ ہی نہیں ہے
انیلا نے چٹکی بجا کر کہا تو دونوں ہنس دیے
…….
عالیہ ٹیکسی لے لیتی ہو تم
رومیلہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں
عالیہ کو اسکی فکر لگ گئی
وہ کوئی بات نہیں تم ڈرائیو کر لوگی مجھے گاڑی چلانی بھی نہیں آتی
ایسا کرتے ہیں گاڑی لاک کرو ہم ٹیکسی کر لیتے ہیں
پہلے تمہارے گھر چلتے ہیں
نہیں یار میں اتنی بھی کمزور نہیں پہلے ہی شام ہو رہی ہے تم جاؤ گھر تمہارے گھر والے بھی پریشان ہو رہے ہونگے
اس نے سہولت سے منع کر دیا پھر عالیہ کے نا نا کرنے کے باوجود اسے ٹیکسی روک کر بیٹھا دیا
گھر جاتے ہی مجھے فون کرنا مجھے فکر رہے گی
جاتے جاتے بھی کھڑکی سے سر نکل کر اس نے تاکید کی
اس نے سر ہلایا پھر تیزی سے اپنی گاڑی میں آ بیٹھی
آدھے گھنٹے کا راستہ اسے طویل ترین لگ رہا تھا
پہلی بار اس نے ایکسلٹر  پر پیر کا دباؤ غیر ضروری حد تک بڑھایا گاڑی کی رفتار تیز سے تیز ہو رہی تھی
ملحقہ سڑک سے جب اہم شاہ راہ کی جانب مڑی تو پہلا سگنل پندرہ سیکنڈ میں بند ہونے کو تھا
اس کے پاس دو راستے تھے یا تو رفتار تیز کر کے پار کر لے یا کم کر کے اگلے دو منٹ انتظار کر لے
اس نے پہلا کام کرنے کا فیصلہ کیا
یہ سوچے بنا کہ یہ پندرہ سیکنڈ اسکی زندگی کے فیصلہ کن پندرہ سیکنڈ بھی ہو سکتے ……..
…….
شام ڈھلنے کو آی دونوں  جانے کب یونہی انتظار کرتے کرتے میز سے سر ٹکا کر بےخبر سو گیے
بوا شام ہونے کے خیال سے بولتی  آ یں  
ازان  کا وقت ہو رہا بچوں بتی جلا لو
انکی آواز پر دونوں کسمسایے
آپی ابھی تک نہیں آہیں ؟
…………..
اسکے اشارے کے قریب آتے آتے اشارہ بند ہو گیا تھا
بریک لگاتے لگاتے بھی اسکی گاڑی کافی آگے نکل آی تھی
دوسری جانب  کا ٹریفک کھل چکا تھا ایک تیز رفتار گاڑی سیدھا اسی کی جانب آ ی
آنے والے نے فوری بریک لگائی مگر پھر بھی ایک زبردست ٹکراو ہونے سے نہ بچ سکا
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی رومیلہ کے سینے میں سٹیرنگ کسی بھلے کی طرح اترا تھا اسکی گاڑی روڈ پر پورا گول گھوم کر الٹ گئی تھی کے گاڑیاں اس کے قریب آ کے رکی تھیں اس کے سر پر گھر جانے کی دھن سوار تھی تیزی سے زخموں کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ باہر نکلی اور تقریبا بھاگ سڑک پار کی اسکا رخ تیزی سے اب بھی گھر کی جانب تھا
….
چلی گئی ہونگی آفس
انیلہ نے اداسی سے کہا
رامش بھی اداس سا چیزیں سمیٹنے لگا
بوا بتی جلانے سوئچ بورڈ کی طرف بڑھی تھیں کہ رومیلا کی گھبرائی ہوئے آواز سنائی دی
رامش انیلا
دونوں ایک دم خوش ہو گیے
انیلہ خوشی سے چلآئ  آپی آگیں
آہستہ شہ شہہ رامش نے ٹوکا
ابھی گیٹ پر ہیں
بوا لائٹ مت جلائیے گا
اس نے تاکید کی
گیٹ سے اندر لاؤنج کے دروازے تک ایک  منٹ لگنتا
اسے اتنے کم وقت میں ہی موم بتی جلانی تھی
اس نے جلدی سے موم بتی جلائی اورانیلہ نے  کیک اٹھا لیا
رامش کے ہاتھ میں چمکیلی پنیوں سے بھرا  چھوٹا سا پٹاخہ تھا جو اس نے رومیلہ کی آمد پر بجانا تھا
بوا پیار سے انکے جوش و خروش کو دیکھ رہی تھیں
انیلہ
بھاگتے بھاگتے اسکی سانس پھول رہی تھی تیزی سے اس نے لاونج کا دروازہ کھولا
سرپرائز
انیلا اور رامش اکٹھے چلایے
پھر کورس میں گانے لگے
ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہپی برتھڈے دیر آپی ہپے برتھڈے ٹو یو
ایک پٹاخہ پھوٹا تھا اور اس کے اپر رنگ برنگی پنیوں کی بارش ہونے لگی
رومیلہ کی جان میں جان آی کیا کیا برا نہ سوچ ڈالا تھا اس نے
دونوں اس سے آ کے لپٹ جانا چاہتے تھے مگر رومیلہ کو خفگی بھی جتانی تھی
ہاتھ بڑھا کر روک دیا
کیا حرکت تھی یہ ؟
پتا ہے کتنا پریشان ہو گئی تھی میں
جان نکال دی تم لوگوں نے میری
دونوں کے منہ لٹک گیے
سوری آپی دونوں نے سر جھکا لیا
رومیلہ بیساختہ مسکرا دی
چلو کیک رکھو نیچے
اس نے صاف مسکراہٹ  چھپا کر ڈپٹ  کر کہا
انیلہ نے سر جھکا کر سینٹرل ٹیبل پر رکھ دیا اور وہیں دو زانو بیٹھ گئی
رامش نے بھی تقلید کی بوا نے بچوں کے منہ اترتے دیکھیے تو اشارے سے رومیلہ کو گھرکا
رومیلہ ان کے سامنے آ بیٹھی
کیک کاٹنے سے پہلے میں اس سال تم لوگوں سے ایک وعدہ لینا چاہتی ہوں
خلاف توقع وہ نرمی سے بولی تھی
دونوں سر اٹھا کر دیکھنے لگے اسے
کیسا وعدہ؟
انیلا نے حیرانی سے پوچھا تھا
رومیلہ مسکرائی
ایک تو تم دونوں اپنی تعلیم پر توجہ دوگے مجھے رامش تم سے اس بار اے گریڈ چاہیے
کوئی لا پروائی نہیں چلے گی اب سے سمجھے
میں نے مما بابا کے سرٹیفکیٹس وغیرہ استمعال نہیں کیے تھے وہ اور مرے بینک میں پچھلے تین سالوں کی  کچھ بچت پڑی ہے بہت زیادہ تو نہیں مگر اتنی ہے کہ تم دونوں کوئی اچھی ڈگری لے سکتے ہو تھوڑے سے اخراجات کنٹرل کرنا پڑیں گے مگر اب کہیں تو کمپرومائز کرنا پڑیگا نا
اس نے ان سے تائید چاہی دونوں نے سر ہلا دیا
اب تم دونوں چھوٹے نہیں رہے ہو لڑنا بند کردینا خاص طور سے رامش میرے بعد اب تم گھر کے بڑے ہو انیلہ کا خیال رکھنا اور اب تم چھوٹے سے نہیں رہے کوئی جاب ڈھونڈ لینا مگر پڑھائی چھوڑی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
اسکی دھمکی پر رامش منہ بنا کر بولا
آپ کے ہوتے  ایسا سوچ کر مجھے مرنا ہے کیا
الله نہ کرے
بے ساختہ رومیلہ نے کہا
ویسے میں اپنے بعد کی ہی بات کر رہی
آپ کہاں جا رہی ہیں ؟
انیلہ حیران رہ گئی
رومیلہ لمحہ بھر کو چپ رہ گئی پھر ہلکے پھلکے انداز میں بات بدل گئی
اچھا رامش اور انیلہ ایک بات اور 
بس آپی
دونوں چڑ کر اکٹھے بول پڑے
بوا بھی بولے بنا نہ رہ سکیں 
ہاں رومیلہ بس بھی کرو سالگرہ ماننا چاہ رہے تھے بچے دوپہر سے کچھ بھی کھایا پیا نہیں تم نے آتے ہی بچوں کو جھاڑنا شروع کر دیا
بوا نے کہا تو دونوں نے مسمسی سی شکل بنا لی انکی چالاکی پر رومیلہ زور سے ہنس پڑی
چلو کیک کاٹو
بوا نے کہا تو رامش کیمرے سنبھال کر  بیٹھ گیا
لائٹ تو جلا لو انیلہ نے کہا تو رامش لائٹ جلانے اٹھ گیا
آپی موم بتی نہ بجھانا ابھی
اس نے تاکید کی
رومیلا مسکرا دی
انیلہ ٹیبل پر جھک کر چیزیں سیٹ کرنے لگی بوا کا دھیان بھی کیک کی جانب تھا
رامش بتی جلا کر مڑا تو ٹھٹھک گیا
آپی کہاں گیں؟
انیلہ اور بوا بھی چونک کر مڑ کر دیکھنے لگیں نجانے اتنی سی دیر میں رومیلا کہاں اٹھ کر چلی گئی تھی 
آپی
رامش نے پکارا
آپی
لاونج کا دروازہ کھول کر باہر جھانکا تبھی میں گیٹ کی بیل بجی
اس وقت کون آگیا وہ جھلاتا ہوا گیٹ کھولنے آیا تو ٹھٹھک گیا گیٹ اندر سے بند تھا
اس نے الجھتے ہوئے گیٹ کھولا تو سامنے پولیس کی گاڑی کھڑی تھی دو پولیس والے انکے گیٹ کے سامنے تھے
جی؟وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھنے لگا
یہ رومیلہ آفندی کا گھر ہے؟
اس نے اثبات میں سر ہلایا
آپ انکے رشتے دار ہیں؟
وہ کوئی شناختی کارڈ ہاتھ میں پکڑے تھے
جی  بھائی ہوں انکا …ا
خیریت ؟
اسے تشویش ہوئی
ایک بری خبر ہے آپ کے لئے
آج دوپہر کو آپکی بہن کی گاڑی  حادثے کا شکار ہو گئی ہے انھین  فوری  طور پر اسپتال پھنچایا تو گیا مگر  وہ بد قسمتی سے جان بر نہ ہو سکیں انکی گاڑی کی تلاشی لے کر ہم نے آپ سے جتنی جلدی ممکن ہو سکا ہے رابطہ کیا ہے  باڈی کی  شناخت اور دوسری ضروری کاروائی کے لئے آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا
انسپکٹر کے  کہنے پر رامش کو یقین نہ آیا
ایسا کیسے ہو سکتا ابھی تو وہ یہاں تھیں
انیلہ اور بوا جو اسکے پیچھے چلتی گیٹ تک آگئی  تھیں
اسکی بات کی تائید کرنے لگیں ہاں ہاں
ہماری بیٹی تو اندر ہے آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے
دونوں  کو یقین نہ آیا
رامش کو مگر یقین  کرنا پڑا 
جب اس نے مڑ کر دیکھا تھا تو رومیلہ لاونج کے دروازے پر کھڑی انکو آنکھوں میں آنسو بھرے دیکھ رہی تھی ….



written by vaiza zaidi


By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *