Category: Afsanay (short urdu stories)

Urdu afsanay urdu adab ka aham hisa hain is hisay main mukhtasir urdu afsanay kahanian paish ki gai hain ju pasand ayay usko apne dosto ahbab kay sath zarur share kijye

  • Aks E Zaat| Meta title: “The Deception of Inferiority: One Man’s Journey to a False Sense of superiority

    کہانی :عکس ذات 

    مصنف : واعظہ زیدی

    میتھس ایسی چیز ہے جس میں صرف آپکا دھیان اور توجہ درکار ہے بس۔ تھوڑا سا دھیان بھٹکا اور

     آپ صفر سے شروع کریں گے سوال حل کرنا۔۔

    وہ حسب عادت پڑھاتے ہوئےبلیک بورڈ پر سوال حل کر رہا تھا ساتھ ہی  ادھر ادھر کی باتیں کرکے بچوں کی توجہ بلیک بورڈ کی جانب کرنے کی بھرپور کوشش میں مصروف تھا۔اور اس کوشش میں کتنا ناکام تھا اسے اندازہ تھا۔ اسکی شخصیت کی مقناطیسیست پھر طالبات کو مضمون پر توجہ دینے پر اکسا دیتی تھی۔۔۔ اسکا اونچا لمبا قد خوبصورت ناک نقشہ ملیح انداز گفتگو وہ  ایک نہایت خوبصورت مرد کہلاتا تھا اسکول بھر میں اسکا ثانی کوئی نہ تھا۔اسکے کپڑے بچیوں کا پسندیدہ موضوع تھے۔ وہ ہمیشہ نک سک سے درست تیار ہو کر ہی آتا تھا۔ ابھی بھی بہترین گرے قمیض پتلون میں ملبوس تھا۔ ٹائی نہیں لگاتا تھا پرٹائی پن اہتمام سے اسکی قمیض کی اوپری جیب پر ٹکی رہتی۔ اور لڑکیاں متجسس رہتیں آخر اس اسٹائل کا خیال اسے آیا کہاں سے۔ اسکی عمر لگ بھگ تیس پینتیس برس ہوگی مگر وہ آرام سے پچیس تک کا نظر آتا تھا۔   بارہویں کی طالبات اگر اس پر کرش پال رہی تھیں تو وہ دل ہی دل میں انکو حق بجانب ہی سمجھتا تھا۔ ہاں البتہ خود اپنی مکمل توجہ  کو میتھس پڑھا نے پر مرکوز کیئے رکھتا تھا۔ ابھی بھی اپنی پشت پر  گڑی نظریں محسوس کر رہا تھا۔ اور دبی دبی سرگوشیوں کو بھی سن کر نظر انداز کیئے تھا۔بچیوں کے چہرے پر دبی دبی مسکان تھی ان میں سے ۔ایک طالبہ نے تصویر بنائی تھی  دوسری طالبہ اس تصویر کو دیکھ کر ہنسی روکنے کی کوشش میں بے حال تھی۔  پڑھاتے پڑھاتے اس نے مڑ کر دیکھا۔دونوں تصویر پر جھکی تھی۔ دور سے دیکھنے کے باوجود وہ اندازہ کرچکا تھا کہ تصویر میں استاد کی ٹائی پن جو اس نے قمیض کی جیب میں اٹکا رکھی ہے بطور خاص نمایاں کرکے بنائی گئ ہے۔

    وہ دبے قدموں انکے سر پر جا کھڑا ہوا  

    یہ کیا ہو رہا ہے۔؟

    بھاری آواز پر دونوں لڑکیاں گھبرا گئیں ۔جہانزیب نے پھرتی سےوہ کاغذ اٹھا لیا دونوں لڑکیوں کا رنگ فق ہو گیا۔

    کاغذ پر اسکی تصویر بنی ہوئی تھی۔ بڑی بڑی آنکھیں کشادہ پیشانئ جس پر گھنے بالوں کا گچھا تھا۔گندمی رنگت ہلکی سی داڑھئ جسکے خوبصورت خط بنے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی اس پر عنوان تھا۔ تانیہ کے خوابوں کا شہزادہ

    تانیہ اورتبسم کا رنگ فق ہو چکا تھا سر جھکا کےرہ گئیں

     جہانزیب نے غور سے اپنی تصویر کو دیکھا مسکراہٹ دباتے ہوئےبولا یہ آرٹ کلاس نہیں ہے ۔ تبسم ۔میتھس پر دھیان دو ۔۔ پچھلےٹیسٹ میں غالبا تمہارے سو میں سےاسی نمبر تھے نا؟

    تبسم او رتانیہ کورس میں  سر جھکا کر بولیں سوری سر

    جہانزیب کو اب اپنا رعب دکھانا پڑا۔  آئندہ میں اپنی کلاس کے دوران ایسے فن پارےبناتے نہ دیکھوں سمجھیں دونوں؟ 

    تبسم تانیہ ہنوز  سر جھکائے تھیں ۔جی سر

    تصویر اسے بے حد اچھی لگی تھی سو جاتے جاتے پلٹ کر بولا ویسے اسکیچنگ اچھی کر لیتی ہو اسکو میں رکھ رہا ہوں۔۔شکریہ

    اسکی بات پر تانیہ اور تبسم نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ بے نیازئ سے دوبارہ بلیک بورڈ کی جانب بڑھ گیا

    تانیہ تبسم کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگی

    بال بال بچے مجھے تو لگا تھا سر غصے میں آجائیں گے

    تبسم شرمندہ سی تھی۔ میری تو جان نکل گئ تھئ۔ سر کو اپنی تصویر دیکھ کر غصہ آنا چاہیئے تھا 

    تانیہ نے دزدیدہ نظروں سے دیکھا تو وہ بلیک بورڈ پر دوبارہ سوال حل کرنے میں منہمک ہو چکا تھا۔ سر بہت سویٹ ہیں یار ہمیں ایسی شرارت انکے ساتھ کرنی نہیں چاہیئے تھی۔ 

    تبسم  بھی متفق تھی۔ ہاں یار اب تو مجھے بھی شرمندگی ہورہی ہے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگلی کلاس فری تھی۔وہ یونہی باہر نکل آیا تو کینٹین کی جانب جاتی مس ربیعہ پر نظر پڑی تو تیز قدم اٹھاتا انکے پاس چلا آیا

    مس ربیعہ مس ربیعہ۔ 

    وہ پکارتا اس کے سرپر چلا آیا۔

    ربیعہ چونک کے مڑی یوں سر راہ پکارتے چلے جانے پر اسکے چہرے پر واضح ناگواری دوڑی تھی۔مگر جہانزیب بے نیازتھا۔ خوشدلی سے پوچھنے لگا ” کیسی ہیں آپ مس ربیعہ آج صبح سے دکھائی نہ دیں کہاں تھیں۔

    ربیعہ نے مختصر جواب دیا۔ میں کلاسز لے رہی تھی۔ 

    چلیں اب تو ملاقات ہوگئ ہے۔ ویسے مجھے آپ جیسی میچیورخاتون سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ میری کل والی بات پر مجھ سے شرمانے لگیں گی۔ اور مجھ سے چھپتی پھریں گی ۔ جہانزیب کا انداز شرارت بھرا تھا

    ربیعہ ناگواری سے بولی۔ 

     ایسی کوئی بات نہیں ہے۔میں نے کل ہی آپکو جواب دے دیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف پروفیشنل تعلق ہے ان سب باتوں کی گنجائیش نہیں نکلتی۔ میں چلتی ہوں۔ 

    جہانزیب ہنس پڑا۔

    ارےآپ تو برا مان گئیں۔ یہی تو آپکو بتانا چاہ رہا تھا بہت جلدی میں کل آپ نے انکار کر دیا آپکو تھوڑا سوچنے کیلئے وقت لینا چاہیئے تھا۔

     مجھے ضرورت نہیں میں اپنا فیصلہ آپکو بتا چکی ہوں۔ 

    سختئ سے کہہ کر ربیعہ آگے بڑھنے کو تھی کہ اسکی نگاہوں کے سامنےپرچہ لہرایاجہانزیب نے۔وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔

    اس نے ہاتھ پیچھے کرکے پرچے کو بغور دیکھا۔ 

    پھر اپنے چہرے کے ساتھ پرچہ لگا کر معصوم سا بن کے پوچھنے لگا۔

    یہ میری کلاس کی بچی نے میری تصویربنائی ہے۔ اسکے نزدیک میں اسکے خوابوں کا شہزادہ ہوں۔۔  ہنسی آئی مجھے دیکھ کر۔  پھر ذہن میں سوال لہرایا کہ۔۔۔۔

    میں شکل و صورت کا لاجواب ہوں اچھی نوکری کرتا ہوں عادات کا بھی اچھا ہوں تو آخر ربیعہ نے میرے پرپوزل پر فوری انکار کیوں کردیا ۔۔ہوں؟

    ربیعہ تصویر دیکھ کر خاصی حیران ہوئی  پھر جہانزیب کی شکل غور سے دیکھی۔ 

     آپکو ان بچیوں کو ڈانٹنا چاہیئے تھا انہیں ایسا فضول مزاق نہیں کرنا چاہیئے تھا

    جہانزیب مسکرا دیا۔ 

     ہاں ڈانٹنا تو چاہیئے تھا مگر میں ڈانٹ سکا نہیں۔ بس مجھے یہی خیال آیا کہ آخر مجھ میں ایسی کیا کمی ہے جو ربیعہ نے لمحہ بھر بھی سوچے بنا انکار کردیا

    ربیعہ جھنجھلا سی اٹھی۔ 

    میں آپکو بتا چکی ہوں ہمارے خاندان میں خاندان سے باہر شادی کا رواج نہیں پھر میری منگنی بھی ہو چکی ہے۔ مجھے بار بار آپکے سامنے یہ دہراتے اچھا نہیں لگ رہا پلیز آئیندہ ہم اس موضوع پر بات نہیں کریں گے۔ 

    جہانزیب مایوسی سے اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ 

     کیا کمی ہے مجھ میں ؟ آپ گھر والوں سے بات تو کرکے دیکھیں۔ انہیں بتائیں کہ آپکو میری صورت  اپنے ہم پلہ بہتر انسان مل چکا ہے آپ۔مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہیں وہ  یقینا مان جائیں گے۔

    ربیعہ چڑ گئ۔ 

    دیکھیں آپ اچھے انسان ہیں یوں اپنی اور میری انسلٹ مت کیجئے۔ 

    جہانزیب پر جیسے بالک ہٹ سوار تھی۔ کیا وجہ ہے جو آپ انکار کر دیتی ہیں یوں سختی سے۔۔ میں خوش شکل پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہوں ۔ آپکو پسند کرتا ہوں کیا آپکو۔۔۔ 

    اسکے ضدی انداز ہر ربیعہ بری طرح غصے میں آگے سر جھٹک کر آگےبڑھنے کو تھی کہ اس نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔ 

    ربیعہ نے آگ بگولا ہو کر ہاتھ چھڑایا اور سختی سے بولی

    بس کیجئے ۔ختم کریں اس تماشے کو ۔ میں آپکو صاف صاف کہہ چکی ہوں مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں۔بار بار میرا راستہ روک کر مجھے پریشان مت کیا کریں۔

    جہانزیب ملتجی انداز میں بولا۔  ربیعہ میں واقعی تم کو پسند کرتا ہوں۔

    میں نہیں کرتی ہوں آپکو پسند سمجھے آپ

    ربیعہ سختی سے کہہ کر رکی نہیں وہ پکارتا رہ گیا۔

     ربیعہ 

    بات تو سنو ربیعہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ بیڈ پر بیٹھی پائوں کے ناخنوں پر  نیل پالش لگا رہی تھی جب سونیا کی۔نگاہ اس پر پڑی۔ کوئی چوتھی دفعہ اس نے نیل پالش ریمور سے بوتھا روئی ناخن پر پھیری تو لیپ ٹاپ ایک طرف کرتے وہ اسکی جانب مڑی۔ 

    انکار کر تو دیا ہے اب کیوں الجھن کا شکار ہو۔ 

    ربیعہ ایکدم چونکی۔ 

    نہیں۔ تو۔کوئی الجھن نہیں۔بس وہ۔

    وہ صاف انکار نہ کر سکی اسکے اندازے کی درستگی نے اسے سچ مچ حیران کیا تھا۔  

    اس نے آج حد پار کی ہے۔ یوں کالج میں سب کے سامنے   ہاتھ پکڑ لینا کوئی چھوٹی بات نہیں ۔ جانے کس کس نے دیکھا ہوگا کیا کیا باتیں بنائی ہوں گی۔ 

    وہی تو۔ ربیعہ نیل پالش بند کرکے اسکی جانب رخ کرتی الرٹ سی ہو بیٹھی۔ 

    یہی تو پریشانی ہے مجھے۔ میرے تو امیج کا ستیا ناس ہوگیا ہوگا۔

    تمہیں اب اسکی شکایت پرنسپل سے کر دینی چاہیئے۔مستقل تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے الٹی سیدھی

     باتیں کرتا ہے ایویں تمہیں بدنام کر دے گا ۔۔۔ سونیا کی بات میں وزن تھا۔ ربیعہ مگر ابھی بھئ ہچکچاہٹ کا شکار تھئ۔

     یار بس یہی سوچ کر رک جاتی ہوں اچھا انسان ہے۔ سادہ سا ہے بس۔ مجھے پرپوز کرنے سے پہلے اچھا کولیگ تھا اچھی طرح بات کرتا تھا اب اچانک۔۔۔۔ 

    ربیعہ کا فون بجنے لگا تو اس نے فون اٹھا کر دیکھا پھر نو کرکے ایک طرف رکھ دیا 

    اسکا فون پھر بج اٹھا۔ سونیا کو بھی تجسس ہوا اسکے قریب ہو کر اشتیاق سے پوچھنے لگی

    وہی تھا۔۔ 

    ربیعہ نے گہری سانس بھری 

    ہاں۔۔

     وہ تمہاری گڈ بکس میں آنا چاہ رہا تھا جبھی اتنا اچھا بنا ہوا تھا اب اپنی اصلیت دکھا رہا ہے۔ بتائو گرائونڈ میں تمہارا ہاتھ پکڑ رہا ہے تمہیں تنگ کر رہا ہے آوازیں دے رہا ہے۔حد کردی ہے اس نے۔ لوگوں نے کتنی باتیں بنائی ہوں گی۔ضروربچوں نے بھی دیکھا ہوگا۔

    سونیا نے تو پوری کہانی بنا لی تھی۔ 

     یار میں پہلے ہی پریشان ہوں۔ صبح سے بار بار فون کر رہا ہے تنگ کر رہا ہے جانے مجھ سے چاہتا کیا ہے۔ عاجز کر دیا ہے اس نے مجھے۔۔ ربیعہ ناک تک عاجز آئی ہوئی تھی۔ 

    سونیا کو نیا خیال سوجھا۔ ویسے شکل و صورت کا کیسا ہے۔؟

    ربیعہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ 

    شکل و صورت میں کیا اعتراض کروں تم جانتی ہو میں سطحی سوچ رکھنے والی لڑکی نہیں

     ہوں۔مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا مگر اسکے بارے میں عجیب عجیب باتیں مشہور ہیں اور سچ تو ہے کچھ حد تک درست بھی ہیں۔کوئی کہتا یے احساس کمتری کا شکار ہے کوئی کہتا ہے غصے میں پاگل ہو جاتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں جو اس نے مالی بابا کو مارا تھا مجھے تو سچی بات ہے یہ بندہ نارمل نہیں لگتا۔ پرنسپل صاحب کا رشتے دار نہ ہوتا تو سیدھا کیس ہوتا اس پر۔

    سونیا اسکے تواتر سے جلتے بجھتے موبائل کو دیکھ کر پر سوچ انداز میں بولی۔۔۔   دیکھو ہوتا ہے کچھ لڑکے ہوتے ہیں غصہ ور۔۔۔۔۔ ہو سکتا ہے اسے غصے پر اپنے قابو نہ ہو لوگ وقت کے ساتھ بدل بھی تو جاتے ہیں اور 

    احساس کمتری والی بات عجیب کہی۔  اتنی کم عمری میں پی ایچ ڈی کی تیاری کرنے والا خوش شکل ایک سیکیور نوکری کرنے والا احساس کمتری کا شکار کیوں ہوگا۔۔ مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی۔

    ربیعہ چڑگئ۔  تم کس خوشی میں مجھے کنوینس کرنے میں لگ گئ ہو۔میں اس سے ہرگز شادی کرنا نہیں چاہتی نہ کروں گی سمجھیں۔۔میں اپنے شہر سے دور یہاں صرف نوکری کی غرض سے آئی ہوں اور مجھے کوئی مزید ناطے نہیں بڑھانے یہاں کے لوگوں سے  

     وہی تو جاننا چاہ رہی ہوں۔ کیوں؟ ۔بڑھانے میں حرج کیا ہے۔ مجھے پتہ ہے تمہاری کوئی منگنی ونگنئ نہیں ہوئی وی اور دیہاتی کزن  ہیں سارے تمہارے ان میں سے کسی کے پلے بندھنے کی بجائے اگر یہاں کوئی ویل ایجوکیٹڈ بندہ پرپوز کر رہا ہے تو کیا ضرورت ہے تمہیں فالتو میں انکار کرنے کی ۔

    سونیا بھی تیز ہو کر بولی ۔ 

    اسکا مستقل واٹس ایپ بج رہا تھا۔ اس نے وہی سونیا کی نگاہوں کے سامنے کر دیا

    واٹس ایپ پر اسکی تصویر لگی ہی تھی اس نے غور سے تصور دیکھی پھر ربیعہ کی شکل 

    ٹھہرو اسکو اب میں جواب دیتی ہوں 

    اس نے موبائل ہاتھ سے لے لیا.سب پیغامات اب اسکی نگاہوں کے سامنے تھے 

    میسج : ربیعہ بس ایک بار فون اٹھا لو

    آخری بار میری بات سنو

    کیوں تم ایسے کر رہی ہو۔۔ 

    ربیعہ ؟

    تم ہو وہاں 

    کیا کمی ہے مجھ میں کیوں ایسے کر رہی ہو میرے ساتھ

    سونیا ربیعہ کی شکل دیکھنے لگی۔ 

    یہ تو دیوانہ ہوا پڑا ہے۔

    ربیعہ منہ بنا کر بولی۔ 

    سائیکو ہے۔ 

    میسج: کیوں میرے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے۔

    کیوں ہر لڑکی مجھے انکار کر دیتی ہے۔۔ 

    کیوں ؟ 

    بتائو بولو جواب دو۔

    تم لڑکیاں کیوں ایسے کر تی ہومیرےساتھ

    سونیا میسج ٹائپ کرتے ہوئے:

    باقی لڑکیوں کا تو آپ ان سے ہی پوچھیں میں آپکو جواب دے چکی ہوں میری منگنئ ہو چکی ہے ۔۔ 

    میسج: تو توڑ لو نا میری خاطر

    سونیا بھی پیغامات پڑھ کر چکرا سی گئ۔ 

    یا اللہ کیا چیز ہے یہ لڑکا۔ 

    ربیعہ نے جتایا۔  اب سمجھ آئی کیوں میں نے چھوٹتے ہی انکار کیا اور منگنی والا جھوٹ بولا

    سونیانے موبائل رکھ دیا۔اسکے پیغامات پڑھنا آسان بات نہ تھی۔

    تم اب اسکو کوئی جواب نہ دینا ذیادہ تنگ کرے تو کل یہ سب میسجز دکھا کر ایڈمن میں کمپلین کردینا۔۔ 

    ربیعہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔  لگتا ہے اب یہی کرنا پڑے گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج جہانزیب نے شائد چھٹی کی تھی۔ اس نے سکھ کا سانس لیا۔شکایت کرنے کا ارادہ پکا تھا مگر آج جب وہ آیا ہی نہیں تو اسکا غصہ دھیما پڑ گیا۔ ویسے بھی وہ یوں لڑائی جھگڑے سے بچنا چاہتی تھی۔خیر جہانزیب کی غیر موجودگی نے اسکا موڈ بہتر کر دیا تھا۔سارا دن بس تھکن ہوئی ذہنی کوفت نہ ہوئی۔وہ  تھکی تھکی سی گھرکا لاک کھولتی اندر داخل ہوئی کہ اندر داخل ہوتے ہی چونک گئ۔ پورا لائونج بڑے بڑے  تحفوں کے ڈبوں  سے بھرا ہوا تھا۔۔ غبارے اور پارٹی پاپرز ٹیڈی بیئرز وہ خوشگوار حیرت سے آگے بڑھی۔  بالکل سامنے ایک بڑا سا بھالو بیٹھا تھا۔  وہ جیسے ہی اسے چھونے لگی  اسے ہٹا کر ایکدم جہانزیب بھالو کے پیچھے سے نمودار ہوا۔ وہ گھبرا کے پیچھے ہوئی

    جہانزیب  ایک ہاتھ میں کیک اور دوسرے ہاتھ میں بکے لہراتا ہوا خوشگوار موڈ میں ہے لہرا کر گنگنانے لگا

    ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر ربیعہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔

    سالگرہ مبارک ہو ربیعہ۔ تم جیو ہزارو سال خوش رہو ربیعہ۔۔ میرے ساتھ۔۔

    وہ آخر میں شرارت سے مسکرایا۔

    ربیعہ نے ناگواری سے گلدستہ  پیچھے کیا۔

    یہ کیا حرکت ہے اور تم اندر کیسے آئے؟ 

    ربیعہ غصے سےکانپ اٹھی تھی۔

    تمہاری سہیلی کی مہربانی سے اندر آسکا۔ 

    جہانزیب دلفریب مسکراہٹ سے لائونج کے ایک کونے کی جانب اشارہ کیا اس نے مڑ کر دیکھا  تو جیسے روح فنا ہونےلگی۔ ۔ 

    سونیا اس کونے میں لاچار سی پڑی تھی۔  منہ ہاتھ پائوں سب بندھے ہوئے ہیں۔

    سونیا۔ اسکے منہ سے چیخ سی نکلی

    ربیعہ بے تابی سے  اسکی جانب بڑھی تو جہانزیب نے  اسکا بازو تھام کے روک دیا۔۔ 

    جہانزیب۔ اطمینان دلانے لگا۔  ٹھیک ہے وہ۔ بس مجھے اندر آنے نہیں دے رہی تھی اس لیئے اسکے ہاتھ پائوں باندھ کے بٹھانا پڑا۔ اچھا ہے۔ ہم آرام سے اب بات کر لیں گے۔۔ 

    ربیعہ نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑانا چاہا۔ 

    مجھے تم سےکوئی بات نہیں کرنی دفع ہو جائو تم یہاں سے۔۔ 

    جہانزیب۔سنجیدہ ہوگیا۔۔  مگر مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔

    ربیعہ نے جان لگا کر اپنا بازو چھڑایا۔  ہاتھ چھوڑو میرا۔۔

    ربیعہ تنفر سےہاتھ چھڑا کر سہیلی کی جانب بھاگی ۔۔ خلاف توقع جہانزیب اسکو آرام سے دیکھتا رہا۔اس نے  آگے بڑھ کر سہیلی کے ہاتھ پائوں کھولنے کی کوشش کی مگر گرہیں بے حد سختی سے بندھی تھی اس نے سونیا کے  منہ سے کپڑا ہٹایا تو وہ بے اختیار رو دی۔  ۔جہانزیب نے آگے بڑھ کر اکڑوں  بیٹھتے ہوئے چھری آسکی جانب بڑھا دی۔۔دونوں ڈر کے پیچھے ہوئیں ۔

    یہ لو اس سے کاٹ لو۔۔ اسکا انداز نرم تھا۔

     چھری بڑھتے دیکھ کر سونیا ایکدم سے چلا چلا کر پکارنے لگی

    بچائو بچائو کوئی ہے؟ 

    جہانزیب نے تنگ آکر اسکا منہ بندکرتے گلے پر چھری رکھ دی۔ چپ کرکے بیٹھو اگر آواز نکالی تو گلا کاٹ دوں گا۔ 

    سونیا کی آواز گھٹ سی گئ۔ربیعہ روپڑی۔

    پلیز اسے کچھ مت کہو۔ چھوڑ دو اسے۔اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے۔۔ 

    جہانزیب جھلایا۔ وہی تو کہہ رہا ہوں اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے پھر بھی بات نہیں کرنے دے رہی گلا کاٹ دیتا ہوں اسکا۔۔ چپ کرتی ہو کہ نہیں ؟ 

    سونیا ۔کی سانس تک رک گئ۔

    ربیعہ تڑپ گئ۔۔ تت تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہو کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا؟ 

    وہی تو ۔۔ وہی تو بتانا چاہ رہا ہوں میں ۔مگر نا تم سننے کو تیار ہوتی ہو نا یہ مجھے سکون سے بات کرنے دیتی ہے۔۔ 

    جہانزیب نے ناراضگئ سے سونیا کو  گھورتے ہوئے کہا۔

    ربیعہ سرنڈر کر گئ۔ مم میں سنتی ہوں بولو۔ اسکو چھوڑ دو۔ پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔ 

    اس نے حقیقتا اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے

    جہانزیب نے پہلے تائید چاہی۔  میری بات سنو گی نا؟

    ربیعہ نے سر ہلایا۔ 

    آنسو تواتر سے اسکے گالوں پر بہہ نکلے تھے۔ ہاں ہاں پلیز اسے چھوڑ دو۔

     بالکل خاموش بیٹھنا سمجھیں تم ورنہ گردن اڑا دوں گا۔  

    جہانزیب کے لہجے کی سختی۔  سونیا  نےبمشکل  سر ہلایا۔ 

    جہانزیب نے گرفت ڈھیلی کر دی۔

     اب میں بولوں سنو گی نا؟ 

    ربیعہ زو رو شور سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئےبولی۔ 

    : ہا ۔۔۔ ہاں ۔۔ 

    جہانزیب دھیرے سے مسکرایا میں کل ساری رات سوچتا رہا کہ تم نے مجھے سیدھا سیدھا انکار کر دیا کیونکہ میں نے کبھی تمہیں بتایا ہی نہیں کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ 

    تھوڑا عجیب ہے تمہاری سہیلی کے سامنے اپنا اقرارمحبت کرنا مگر خیر۔ 

    سونیا نے اٹھنا چاہا۔  مم میں چلی جاتئ ہوں۔  

    تمہیں سمجھ نہیں آتی چپ کرکے بیٹھو۔ایک لفظ اور بولیں تو تمہارے چھرا گھونپ دوں گا۔اس نے دوبارہ اسکی گردن دبوچ لی تھی جہانزیب کے تیور اتنے خطرناک تھے کہ ربیعہ کی روح فنا ہونے لگی

    جہانزیب فیصلہ کن نظروں سے اسے اور سونیا کو دیکھنےلگا پھر کانپتی ہوئی سونیا کی گردن چھوڑ دی۔ وہ گھبرا کر ربیعہ سے جا لپٹی۔۔ 

    اس نے سونیا کو کھینچ کر بھینچ لیا اپنے سینے میں۔

    اب نہیں بولے گئ۔ پلیز۔چھری نیچے کرلو۔ 

    جہانزیب چڑامگر پھر آرام سے ان دونوں کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ 

    سارا موڈ خراب کردیا۔کہاں تھا میں ؟۔۔ اس نے سوچنا چاہا۔ 

    اق اقرار۔  ربیعہ کی آواز کانپ کانپ گئ۔ محبت لفظ منہ میں کہیں گم سا ہوگیا ۔ جہانزیب مگر اشارہ پا کر مسکرادیا۔ 

    ہاں اقرار کر رہا تھا اپنی محبت کا۔۔۔ تو سنو ربیعہ میں پچھلے چار سال سے تم سے محبت کر رہا ہوں۔ تم سے منسوب ایک ایک چیز میں نے سنبھال کر رکھی ہے۔تمہارا ایک ایک تحفہ سینے سے لگا رکھا ہے۔ 

    ربیعہ  نے حیرت سے ٹوکا۔میں نے کبھی تمہیں تحفہ نہیں دیا۔ 

    جہانزیب ہنسا۔۔  تم بھول رہی ہو تم نے بہت بار تحفہ دیا ہے مجھے۔سب سنبھال کر رکھے ہیں میں نے دکھاتا ہوں

    ایک منٹ۔۔۔۔

    اسے ایکدم کچھ یاد آیا تو اٹھ گیا۔بڑے بڑے باکس ادھر ادھر کرتے وہ کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔۔ سونیا اور ربیعہ ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔ربیعہ کا پرس دور دروازے کے پاس پڑا تھا سونیا کو دیکھ کر دیوانہ وار بھاگتے اسے خیال ہی نہ آیا کہ پرس گر چکا ہے۔ اسکا موبائل یقینا پرس کے اندر ہی تھا۔کیسے کس کو بلائے اطلاع دے۔ 

    وہ ایک بڑا سا شاپر اٹھا لایا تھا۔آکراسکے سامنئ بیٹھتے اس شاپر میں سے ایک چیونگم نکال کر دکھانے لگا۔ اسکا ریپر بوسیدہ تھا اور چیونگم شائد پگھل گئ تھی۔ چپ چپ کررہی تھی۔

    یہ دیکھو۔یاد آیا تمہیں؟ آج سے چار سال پہلے جب تم پہلی بار مجھ سے ملیں ۔جاب کا پہلا دن تم نے پورے اسٹاف کو یہ چیونگم دی۔ آج تک اسکو سنبھال کر رکھا ہے میں نے۔تمہارا پہلا تحفہ تھا یہ۔کیسے استعمال کر لیتا میں۔

    ربیعہ غرائی۔۔ یہ سب کو دی تھی میں نے صرف تمہارے لیئے نہیں تھی۔ 

    وہ بولتے بولتے جزباتی ہو کر انکے قریب چلا آیا ربیعہ کےگال پر ہاتھ رکھنا چاہا تو سونیا نے جھٹک  دیا۔ جہانزیب نے بنا لحاظ تھپڑ ماردیا وہ دور جا گری ربیعہ تڑپ کر اسکی جانب بڑھی جہانزیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو بےدردی سے جکڑ کر غرا کر کہا 

    جانتا ہوں اسکے باوجود میں نے اسکو سینے سے لگا کر رکھا ہے۔ اور یہ جوس کا ڈبہ۔ تمہیں یہ جوس ایک طالبہ نے دیا تھا۔اس دن میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم نے مجھے دے دیا تھا۔ میں اسکو کھولنا تو دور پی بھی نہ سکا۔ 

    ربیعہ بلبلاکر رو دی۔ تم پاگل ہو گئے ہو۔۔ 

    جہانزیب پرسکون سا ہو کر مسکرایا۔ ہاں لیکن تمہارے پیار میں۔ 

    او ریہ ٹیچرز ڈے پر تم نے یہ کارڈ دیا تھا۔ بچوں سے خاص طور سے بنوا کر۔ میں اس دن آیا بھی نہیں تھا تم نے اگلے دن جب میں آیا تو مجھے دیا ۔ تم مشرقی لڑکی ہو ایکدم سے اقرار تو نہیں کر سکتی تھیں۔اس کارڈ کا متن پڑھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ تمہارے دل کی آواز ہے۔۔ 

    ربیعہ رو تے ہوئے بولی۔ بچوں نے خود بنایا تھا میں نے ان سے نہیں بب بنوایا تھا

    جہانزیب  نے یوں سر جھٹکا جیسے اسکو یقین نہ آیا ہو۔ مگر بولا تو آسانی سے مان گیا۔ 

    چلو مان لیا۔۔۔اس نے پلاسٹک کا ڈبہ نکل کر اسکی جانب بڑھایا 

    یہ پیسٹرئ۔ یہ تو تم نے مجھے میری سالگرہ والے دن دی تھی۔ پچھلےچار سال سے سنبھال کر رکھی ہے۔

    پلاسٹک کے خوبصورت سےٹرانسپیرنٹ  باکس میں پیسٹری سڑ چکی تھی ۔دونوں کو ابکائی  آگئ ناک پر ہاتھ رکھتی پیچھے ہوئیں وہ پیسٹری اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔

    ربیعہ کا بدبو سے دماغ خراب ہو رہا تھا۔  پاگل ہو گئے ہو ۔یہ ہٹائو سڑ چکی ہے یہ۔پھینکو اسے۔ 

    ہاں سڑ گئ مگر میں تم سے محبت کرتا ہوں اسکو کھا سکتا ہوں کھا کر دکھائوں؟ 

    اسکی آنکھیں یکا یک چمکنے لگیں۔ اس نے اس سڑی ہوئی پیسٹری کا لقمہ لے لیا تھا۔ ربیعہ اور سونیا کو ابکائی سے برا حال ہوگیا۔

    بہت سڑ گئ ہے۔ 

    اس نے خود بھی منہ بنایا۔ تھوڑی بہت سڑی چیز تو میں آرام سے کھا لیتا ہوں۔ یہ نہیں کھائی جا رہی۔ 

    جہانزیب نے مایوسی سے سر جھکایا۔پھر جیسے ایکدم خیال آیا تو چٹکی بجا کر بولا۔ تبھی تو  ۔ یہ سڑ گئ تبھئ تو۔ میں نے تم سے کہا تھا میری سالگرہ پر مجھے کوئی کھانے پینے کی چیز کا  تحفہ نہ دیا کرو اور تم نے مجھے اگلے سال یہ ٹائ پن دی تھی مجھے۔میں ٹائی نہیں باندھتا ہوں مگر ٹائی پن جیب سے لگا کر رکھتا ہوں ہمیشہ۔۔

    ربیعہ سر پیٹ کر رہ گئ۔  میں نے تمہیں تمہارے کہنے پر تحفہ دیا تھا۔

    جہانزیب ایکدم خوش دکھائی دینے لگا۔

     تم۔۔ اف سن کے اچھا لگ رہا ہے تمہارے منہ سے۔ اچھی بات ہے اب ہم میں یوں اجنبیوں کی طرح آپ جناب والا تعلق تو رہا نہیں ہے۔

    ربیعہ بے بسی سے ہاتھ جوڑ کر بولی۔

     تم نے کہہ دیا جو کہنا تھا اب چلے جائو یہاں سے۔ 

     ابھی کہاں دل کی بات کہہ پایا۔۔ ربیعہ یہ پین یہ چاکس یہ تمہارا ڈسپوز ایبل گلاس تم نے مجھے آج تک جو کچھ بھئ دیا ہے میں اسے پھینکنے کی ہمت نہیں کرسکا تو سوچو تمہیں زندگی سے نکلتا دیکھ کر مجھ پر کیا بیت رہی ہوگی۔ ؟ میری جان نکل رہی ہےربیعہ۔ میں کوئی ایسا ویسا انسان تو نہیں ہوں تم ایک بار مجھ پر اعتبار تو کرو ایک بار مجھے اپنا۔۔

    جزباتی انداز میں بولتا وہ غیر ارادی طو رپر ربیعہ کے کافی قریب آگیا تھا

    سونیا نے تڑپ کر اسکی ٹانگ پر لات ماری۔  دور رہ کر بات کرو۔ 

    جہانزیب نے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورا۔

    ربیعہ گھبرا گئ۔نہیں ۔ سونیا۔ دور ہٹو تم اس سے 

    جہانزیب نے تنفر سے سر جھٹکا۔ مجھے اس میں کوئی دلچسپی ہے بھی نہیں۔  

    دور ہٹو تم ربیعہ سے مین تمہارا سر پھاڑ دوں گی۔

    سونیا میں اب تھوڑی بہت ہمت آگئ تھی۔ آخر تھا تو وہ اکیلا۔ وہ دونوں دو تھیں۔ قابو پانا اسکے لیئے آسان کام نہیں تھا۔

    جہانزیب نے بیزار ہو کر چھری لہرائئ۔  تمہارا گلا ہی کاٹ دیتا ہوں میں۔ ہمیں بات ہی نہیں کرنے دے رہی ہو تم

    سونیا کا رنگ فق ہوگیا۔ 

    ربیعہ کو اسکے تیور دیکھ کر خوف آرہا تھا۔ ابھی تک وہ بات کر رہا تھا مگر کیا خبر دماغ گھومنے پر وہ کس حد تک بڑھ جائے۔ 

     نن نہیں پلیز اسے مت کہو کچھ۔ پلیز۔میں سن رہی ہوں۔

    اب تم آرام سے پڑی رہو سونیا ہمیں تنگ مت کرنا ہم اہم بات کررہے ہیں۔

    جہانزیب کا لہجہ ہر قسم کی رعائت سے خالی تھا۔ سخت اور بے رحم

    ربیعہ کو یہی سمجھ آیا تھا کہ اسے بھڑکائے بنا محض باتوں میں لگا کر شائد اس مصیبت کو ٹالا جا سکتا ہے۔سو بمشکل خوف پر قابو پاتے سبھائو سے بولی۔ میں نے تمہاری ساری بات سن لی ہے اب پلیز تم چلے جائو یہاں سے۔ 

    جہانزیب دلبرانہ انداز میں مسکرادیا۔

    تم کہو تو دنیا سے چلا جائوں پتہ  ہے ربیعہ ۔ تمہارےلیئے میں دنیا کا سب سے اچھا انسان بن جانا چاہتا ہوں 

    ربیعہ نے ہمت کرکے پوچھ لیا۔ اگرایسا ہے تو تم۔  پھر تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیوں دھمکا رہے ہو ہمیں۔

    جہانزیب فورا شرمندہ ہوا

    معزرت بس وہ۔ تھوڑا سا غصہ ہے مجھ میں۔ مگر یقین کرو ربیعہ  میں تمہارے لیئے خود کوبدل سکتا ہوں ۔۔پرامس ۔۔ ربیعہ  ایک موقع دو مجھے میں مانتا ہوں 

    پتہ ہے میں بچپن سے اتنا اچھا لڑکا نہیں تھا کافی شرارتی  تھا۔سب کو بہت تنگ کرتا تھا کلاس کا سب سے لمبا لڑکا ہوتا تھا۔ اور میری کلاس میں ایک بچہ ہوتا تھا بالکل مجھ سے مختلف سب سے چھوٹے قد کا سیاہ رنگت والا بچہ

    ربیعہ ناگواری سے اسے دیکھ رہی تھی اور وہ مکمل ماضی میں کھو گیا تھا   

    ………………………………………………………. 

       وہ بھی ایک معمول کا دن تھا۔ اسکول میں  بچے کلاس میں شور و غل مچاتے پھر رہے تھے۔ سب بچے اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ تھے مگر کلاس میں سب سے پیچھے ایک کالا سیاہ چھوٹے سے قد کا بچہ بیٹھا سب کو بٹر بٹر دیکھ رہا تھا۔ وہ ان میں سے کسی کا دوست نہیں تھا۔ سب نے اسے بھی نظر انداز ہی کر رکھا تھا۔ لنچ بریک تھی سب کو اپنی سرگرمیوں میں مصروف دیکھ کر اس نے شائد سکھ کا سانس لیتے ہوئے احتیاط سے بیگ سے اپنا لنچ باکس نکالا۔ یوں لگتا تھا جیسے اس رازداری کی کوئی خاص وجہ تھی۔ حالانکہ سادہ سے نوڈلز تھے اسکے لنچ باکس میں ۔۔اس سے کچھ فاصلے پت۔کلاس میں آگے بیٹھنے والے ایک اور بچے نے بھی اسی وقت بیگ سے لنچ باکس نکالا مگر شائد اسکا لایا کھانا سڑ  گیا ہے سو برا  سا منہ بنایا اور دوسرے بچوں کو اس لنچ باکس سے تنگ کرنے لگا۔ کلاس کا سب سے لمبا خوبصورت لڑکا جو اپنے دوستوں کے ساتھ گیند سے کھیلتےشغل لگا رہا ہے اسکی نظر اس پر پڑی تو چہرے پر شرارت بکھر گئ۔  اپنے دوست کو آنکھ مارتا اسکے پاس چلا آیا۔  

    بچے نے لنچ باکس کھولا  اور  تماشا دیکھنے کی نیت سے چند بچے اسکے سر پر آن کھڑے ہوئے 

    بچے نے اسکی ٹانگ پر لات سی ماری۔ وہ تڑپ کر سہلانے لگا 

    انہوں نے اسکا لنچ باکس چھین لیا۔اور سب مزے لے لے کر کھانے لگے۔

    لمبے لڑکے نے آنکھ ماری تو دوسرا بچہ معصوم بن کر لنچ باکس نکال کر دکھانے لگا

    وہ سب کالو کو تنگ کر رہے تھے  مگر کالو ان سب کی توجہ پا کر خوش تھا . بچے نے لنچ باکس کھولا اور اپنے ہاتھوں سے پراٹھے انڈے کا نوالہ بنا کر اسے دیا  اس نے شوق سے نوالا منہ میں رکھا.نوالہ بہت بڑا تھا اس سے نہ چباتے بن رہا تھا نہ نگلتے 

    سب بچے الٹی کرنے کی ادااکاری کرنے لگے .کالو نے گھبرا کر لنچ باکس سے نیا نوالہ بنایا 

    سب بچے اسے کھاتے دیکھنےلگے ہیں اور منہ چھپا کر ہنسنے لگے تھے کالوکی آنکھوں میں آنسو آرہے تھے,پانی کی بوتل منہ سے لگا لی .لمبا بچہ جہانزیب ہنسے جا رہا تھا  بن بن کر پوچھنے لگا  

     اوئے کالو یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو آئو ہمارے ساتھ کھیلو نا۔

    کالوکو اسکی شرارت بھری نگاہوں سے ہمیشہ خوف ہی آیا تھا جبھی دل چاہنے کے باوجود نفی میں سر ہلانے لگا , نن نہیں مجھے نہیں کھیلنا۔ 

    دوسرا بچہ کہنی مار کر بولا کیوں ابھی تک ٹانگ میں درد ہو رہا ہے ؟ جس پر بال لگی تھی۔

    کیا کرتے ہو اسکو پہلے بھی چوٹ لگا دی تھی جبھی تو بے چارہ ہمارے ساتھ کھیلنے نہیں آتا۔کیوں کالو ناراض ہو نا  ہم سے؟جہانزیب پوچھ رہا تھا    

    کالوکی جان نکلنے لگی جیسے 

    نن نہیں تو۔ 

    جہانزیب کے سب دوست دائیں بائیں بیٹھ گیے اور اس سے تفریح لینے لگے 

     ایک  بولا 

     تم ناراض ہو جبھی تو ہمارے ساتھ نہ کھیلتے ہو نا کھاتے ہو

     نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں

    جہانزیب نے مصنوئی ناراضگی دکھائی 

    پھر ہمارے ساتھ کھائو نا کیا لائے ہو تم؟

     نوڈلز

    اپنی آواز خود اسے بھی بمشکل سنائی دی 

    چکھائو کیسے بنے ہیں۔

    جہانزیب نے اسکا پورا لنچ باکس لے لیا  وہ اور اسکے دوست مزے لے کر کھانے لگے 

    ہمم مزے کا ہے۔۔

     جہانزیب چڑا رہا تھا اسےپھر ایک دم معصوم بن کر دوستو کو ڈانٹنے لگا  

     سب کھا گئے تم سب اب یہ بے چارا کیا کھائے گا۔چلو اپنا لنچ باکس شئیر کرو کالو کے ساتھ

    کالو نے انکار کرنا چاہا  نہیں کوئی بات نہیں۔۔ 

    نہیں تم ہمارے ساتھ کھائو نا ہم سب مل بانٹ کر کھائیں گے۔

    وہی سڑا ہوا لنچ باکس بڑھا کر بولا  

    کالونے ڈرتے ڈرتے بتانا چاہا  یہ اچھا نہیں ہے سڑا ہوا ہے۔ 

     ہم اتنے پیار سے تمہیں اپنا لنچ باکس دے رہے ہیں تم کہہ رہے ہو سڑا ہوا ہے کھانا کتنی بری بات ہےکالو

     جہانزیب نے مصنوئی ناراضگی دکھائی  

    دوسرا بچہبھی ہاں میں ہاں ملانے لگا 

     دل توڑ دیا۔ 

    کالوروہانساساہو کر بولا  نہیں یہ واقعی سڑا ہوا ہے میں نہیں کھا سکتا

    : تم ہمیں دوست ہی نہیں سمجھتے ہمارا لنچ نہیں کھارہے ہم بھی تمہارا لنچ واپس کرتے ہیں ۔ 

    دوسرے بچے بھی شغل لگانے لگے ہاں ہا ں ہم بھی تمہارے نوڈلز واپس کرتے ہیں

     نن نہیں۔ میں کھا لیتا ہوں

    کالو نے نیا نوالہ بنا لیا سب بچے منہ چھپا کے ہنس رہے تھے 

    اوئے کالو تمہارے نوڈلز تھوڑے سے بچ گئے ہیں کیا کریں انکا ؟

    جہانزیب نے چونکنے کی اداکاری کی  

    دوسرے بچے  کو انوکھا خیال آیا 

    کالو کے تو تند کرانے کے بعد بال ہی نہیں یے ابھی تک 

     اسکے بال بنا دیتے ہیں 

    ہاں یہ ٹھیک رہے گا کالو ریپنزل 

    جہانزیب کو اس خیال سے گدگدی ہوئی  سب نوڈل اسکے سر پر الٹ دیے لمبے نوڈلز  لٹوں کی طرح اسکے سر سے لٹک رہے تھے 

    سب بچے تالیاں بجا کر اسکو داد دے رہے تھے اور کورس میں گا رہے تھے 

     ریپنزل ریپنزل

    ……………………………………………………………………………………….

    جہانزیب ماضی سے حال میں آیا  ربیعہ اور سونیا دیوار سے لگی اسے حیرت اور خوف سے ملی جلی کیفیت میں پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں  جہانزیب مسکرایا۔

    میرے بچپن کی بات سن کر کافی حیران لگتی ہو۔ بچپن معصوم سادہ ہوتا ہے اچھے برے کی سمجھ

     نہیں ہوتی ہے۔ مجھے اب احساس ہوتا ہے اس بچے کے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے۔ وہ تو کافی ڈر جاتا ہوگا۔ اسکا اتنی بے عزتی کے بعد دل کرتا ہوگا کہ کبھی اسکول واپس نہ آئے جہاں اسکا کوئی دوست کوئی ہمدرد نہیں۔ 

    یقینا اس بچے کا بھی دل کرتا ہوگا وہ سب کے ساتھ کھیلے باتیں کریں مگر وہ جب جہاں میرے ساتھ کھیل میں شامل ہونے کی کوشش کرتا میں اسکو مارتا اسکا مزاق اڑاتا سب بچوں کو ڈراتا کہ اگر اس سے بات کی تو میں ناراض ہو جائوں گا میرے ڈر سے کوئی بچہ اسکے پاس پھٹکتا بھی نہ تھا وہ تنہارہ گیا تھا۔ وہ اکثر کلاس میں اکیلا بیٹھا روتا تھا پر مجھے اس پر ترس نہیں آتا تھا میں اسکا مزاق اڑاتا اس بچے اس بچے کا تو دل کرتا ہوگا نا اسکول کی چھت پر چڑھ کر نیچے کود جائے….

    وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ۔ جزباتی انداز میں اضطراری حرکتیں کرتا وہ ہاتھوں کو ہلا ہلا کر… صورتحال بیان کر رہا تھا۔چھت پر چڑھنے پر بازو اونچا کرکے ہوا میں بازو سے سیڑھیاں چڑھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ پہلے چڑھا پھر وہاں سے کودنے کا اشارہ کرتے ہوئے ایکدم سے منہ کے بل سامنے باقایدہ اچھل کر کودا اور زمین پر اوندھا لیٹ ہی گیا۔ 

    ربیعہ اور سونیا بھونچکا سی اسے دئکھ رہی تھیں جو انکے سامنے اوندھا لیٹا ہوا تھا ایکدم سے سر اٹھا کر دیکھا پھر کہنی زمین پر ٹکا کر اپنے ہاتھ کی ٹیک لیکر تھوڑی ٹکائی اور آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے مسکرا کر دیکھنے لگا

     بہت برا لڑکا تھا نا میں

    ربیع ہسٹپٹا گئی ہاں۔ میرا مطلب نن نہیں ۔۔ تم چھوٹے سے تھے بچے شرارت کرتےہیں 

    جہانزیب : یہ شرارت لگ رہی ہے

    وہ اوندھا لیٹا ایکدم بھڑک اٹھا تھا ۔ ربیعہ اور سونیا بری طرح ڈر گئ تھیں۔۔وہ غصے سے چلاتے ہوئےکف ڑا رہا تھا

    یہ بدتمیزئ تھی۔ اس بچے کا سکون سے پڑھنا محال کردیا تھا میں نے اتنا تنگ کیا تھا اسے شرارت کہتے ہیں؟ اس بچے نے اسکول کی چھت سے چھلانگ لگا دی تھی۔ اسکی ٹانگ ٹوٹ گئ تھی میری وجہ سے ۔ آج تک لڑکھڑا کر چلتا ہے وہ اور تم کہتی ہو شرارت تھئ؟

    وہ گھور رہا تھا پھر ایکدم ٹھنڈا ہو کر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ رکھ کر بولا 

    ویسے وہ بچہ ذیادہ جزباتی ہو گیا احمق ۔ شرارت ہی تو تھی۔ یہ مگر میں بڑے ہو کر بھی نہ بدلا۔ 

    وقت کے ساتھ میں بڑا ہواتو اور ہینڈسم ہوتا گیا میرا قد بھی بہت اونچا گیا اور شکل و صورت تو پہلے ہی اچھی تھی 

    ۔

    مجھے ایک لڑکی پسند کرنے لگی۔  سچ بتائوں تو میں دل پھینک بھی تھا۔  ( آنکھ مارتے ہوئے)

    اس لڑکی نے میرے بہت نخرے اٹھائے۔ مجھے مہنگے مہنگے تحفے دیتی تھی چار سال اس نے میرے ساتھ گزارے اور ایک دن بھی کینٹین کا بل میں نے نہیں دیا بے چاری بہت محبت کرتی تھی مجھ سے۔میں نے سختی سے کہہ رکھا تھا اسے کہ وہ میری گرل فرینڈ ہے اس بات کا یونیورسٹی میں کسی سے ذکر نہ کرے ورنہ میں دوسری لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ کیسے کرتا۔اس نے ایک دم پکارا 

    ربیعہ ۔۔۔۔

    ربیعہ گڑبڑا گئی ہ ہاں۔  

    جہانزیب : تم سوچ رہی ہوگی میں یہ سب تمہیں کیوں بتا رہا ہوں؟ 

    ربیعہ نے  تھوک نگلتے سراسیمہ سے انداز میں پوچھا  کک کیوں؟ 

    میں زندگی کی نئی شروعات تمہارے ساتھ سب سچ بتا کر کرنا چاہتا ہوں کل کو کوئی تمہیں میرے بارے میں الٹی سیدھی بات بتائے تو تم مجھ سے بدگمان نہ ہو۔ اور ہمیشہ مجھ پر بھروسہ کرو

    جہانزیب ہنس دیا ربیعہ کے چہرے پی کی آوارہ لٹیں بکھر آہیں تھیں وہ کسی معمول کی طرح کھینچتا گیا تھا اسکی جانب ہاتھ بڑھا کر انکو سنوارنے کی خواہش تھی سونیا نے گھبرا کر ٹوکنے کی نیت سے پوچھا  

     پ پھر کیا ہوا؟ میرا مطلب اس لڑکی کے ساتھ تم نے کیا کیا ؟

    جہانزیبنے گہری سانس لی ,اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے

     ایکدن فائنل سے کچھ پہلے وہ اپنی گاڑی پھولوں اور غباروں سے سجا کر لائی 

    ………………………………………………………………………….

    اس خوبصورت لڑکے کی آنکھوں پر پٹی رکھے اسے چلاتی ہوئی پارکنگ لاٹ تک لائی ۔  گاڑی کے پاس لا کر اسکی آنکھوں سے پٹی ہٹائی۔

    جہانزیب نے منہ بنایا یہ یہ گاڑی دکھانے لائی ہو تم مجھے احمق ۔۔ دس دفعہ کی دیکھی ہوئی ہے۔

    لڑکی ذرا بد مزہ نہ ہوئی چابئ لو اور ڈگی کھولو

    جہانزیب :کیوں بھئ؟پھر کوئی تحفہ لے آئی ہو میرے لیئے

    ڈگی کھولونا

    اسکا چہرہ دبے دبے جوش سے تمتما رہا تھا جہانزیب کو اسکی شکل سے ہی اندازہ  ہو رہا تھا کہ کوئی خاص بات ہے مگر اپنے ازلی بے نیاز سے انداز میں اس نے بظاھر غیر دلچسپی سے منہ بنا کر ڈگی کھولی جب کہ اندر سے اسکا تجسس سے برا حال تھا 

    ڈگی کھولنے پر کئی غبارے جو سیٹ سے بندھے ڈگی میں بھرے تھے ایکدم باہر نکلے غباروں کے ساتھ ایک بینر بھی نکلا جس پر سرخ رنگ سے آئی لو یو لکھا تھا۔ ایک بڑا سا ٹیڈی بئیر باہر جھانکتے ہوئے ایک بڑا سا بوکے دکھانے لگا

    جس پر کارڈ او رانگوٹھی کا کیس بھی چپکا تھا

    ۔ول یو میری می؟ 

    لڑکی گھٹنے کے بل جھک کر اسکا ہاتھ مانگ رہی تھی 

    کیا بکواس ہے یہ؟ یہ سب کیا ہے ؟ 

    لڑکی : میرے دل کی آواز میں سچے دل سے تم سے محبت کرنے لگی ہوں آئی لو یو متین 

    جہانزیب غصےسے پاگل ہونے لگا

    دماغ خراب ہوگیا ہے کیا تمہارا؟ پاگل ہو گئ ہو کیا چار دن تم پر ترس کھا کر ذرا سی بات چیت کیا کرلی تم اپنی اوقات بھول گئیں ؟ کالی گٹھی گنجی لڑکی آئینہ تو دیکھ لیتیں ایسی بات کرنے سے پہلے۔ تم ہو کیا؟ اس قابل ہو کہ میرے جیسے خوبصورت لڑکے کے ساتھ برابر میں کھڑی بھی ہو سکتی ہو۔ اپنی اوقات میں رہنا سیکھو۔ ایڈیٹ نان سنس

    سارا موڈ خراب کردیا

    لڑکی گڑگڑاتے ہوئے کہہ رہی تھی  میری بات تو سنو 

    جہانزیب : ہاتھ مت لگانا مجھے 

    اس نے طیش میں آکر منہ پر تھپڑ مار دیا

    ……………………………………………………………………

    دونوں لڑکیاں اسے تاسف سے دیکھ رہی تھیں   سونیا نے اسکو باتوں میں لگا دیکھ کر 

    اپنے ہاتھ کھول لیئےتھےاب اشارے سے ربیعہ کو کچھ کہہ رہی تھی مگر ربیعہ متوجہ نا تھی  ربیعہ  جہانزیب کو دیکھے جا رہی تھی اسکے چہرے پر کرب کے تصورات اتنے واضح تھے کہ اسکا سارا خوف کہیں جا سویا تھا بس وہ تاسف سے اسکے شکل دیکھ رہی تھی  

     میں نے بہت غلط حرکت کی اس دن۔ مجھے اس لڑکی پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے تھا اتنا گھٹیا میں کیسے ہو گیا

    پوری یونیورسٹی میں اسکی کیا عزت رہ گئ ہوگی۔

    کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی ہوگی۔ سب اسکو دیکھ کر مزاق اڑاتے ہوں گے۔ وہ روتی ہوگی اسکا دل چاہا ہوگا کہ وہ اپنی کلائی کی رگیں کاٹ لے

    بولتے بولتے اس نے ہاتھ میں پکڑی چھری اپنی کلائی پر رکھی ربیعہ اور سونیا کے منہ سے چیخ نکلی۔۔

    ربیعہ چیخ پڑی نن نہیں ۔۔رک جائوایسا مت کرو متین

    جہانزیب نے ایک دم چونک کر اسے دیکھا: 

    کیا کک کیا کہا تم نے مجھے۔۔ 

    ربیعہ : مم متین۔ یہی نام ہے نا تمہارا؟ 

    جہانزیب : نن نہیں میں متین نہیں ہوں میں جہان جہانزیب ہوں ۔۔ 

    جہانزیب ہوں میں متین نہیں۔ جہانزیب جہان

    وہ ایکدم پاگلوں کی طرح چلاتا اٹھ کھڑاہوا۔ 

    ربیعہ او رسونیا بھی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں ۔۔ 

    جہانزیب دونوں ہاتھوں میں سرتھامے ادھر ادھر ڈکراتا چلاتا پھر رہا تھا کہ اسکی نگاہ لائونج میں لگے آئینے پر پڑی۔

    آئینے میں

    گنجا سا سیاہ رنگت والا بد شکل سا چھوٹے قد کا بد صورت لڑکا کھڑا تھا

    اسکی ساری زندگی لمحے میں آنکھوں میں گھوم گئ۔اسکول میں پڑھاتا بدصورت ٹیچر اسکی کارٹون نما بنی تصویر جس میں اسے مزیدبد صورت دکھایا گیا تھا اسکول کی چھت سے کودتا بچہ ، یونیورسٹی میں لڑکی کے ہاتھوں تھپڑ کھاتا لڑکا 

    منہ پر شادی سے انکار کرتی لڑکی ربیعہ  

    ہر جگہ خوبصورت جہانزیب کی جگہ بدصورت متین نے لے لی تھی فرق اتنا تھا کہ ہر جگہ ذلیل و خوار ہونے والا بس ایک ٹھگنے قد والا لڑکا ہی تھا بد صورت گنجا 

    وہ ساکت سا کھڑا اپنے منعکس ہوتے  عکس کو گھورتا رہا 

     بے یقینی سے آگے بڑھ کر آئینے پر ہاتھ رکھا

     نہیں میں جہانزیب نہیں میں تو  میں میں تو متین ہوں۔

    ربیعہ رو دی مم متین آئیم سوری

    اس نے خالی خالی نگاہوں سے اسکی شکل دیکھی  ربیعہ تم متین سے شادی کروگی؟ 

    اسکے چہرے پر نا قبل فہم سے تاثرات تھے ربیعہ ہچکچا تے ہوۓ  نفی میں سر ہلا گئی  

    متین نے میکانکی انداز میں سر ہلایا جسے سب سمجھ گیا ہو پھر طائرانہ نگاہ پورے فلیٹ پر بکھری چیزوں پر ڈال ہاتھ کے اشارے سے معذرت کرتا جیسے وہ یہ سب پھیلاوا کرنے پر شرمندہ ہے سر جھکاتا فلیٹ سے نکل گیا .ربیعہ نے تاسف سے اسکو جاتے دیکھا اسکی ایک ٹانگ میں واضح لڑکھڑاہٹ تھی

    ……………………………………………………………..

    ختم شد

    Rating
  • Dhay gai short urdu afsana

    بچپن میں بہت سنا اپنے بڑوں سے اسکو اتنے سالوں بعد دیکھامیری خالہ یہ جملہ بہت کہتی تھیں۔ وہ تو ڈھے گیا، یا وہ ڈھے گئ ہے۔ سمجھ نہیں آتا تھا مجھے ڈھے جانا کیا ہوتا ہے۔ دیواریں ڈھے جاتی ہیں جب کمزور ہو جائیں طوفان ٹکرائے زلزلہ آئے کوئی عمارت ڈھے گئ انسان کیسے ڈھے جاتا یے؟ انسان کے اندر کونسے زلزلے آتے ہیں، کونسی دیواریں ہوتی ہیں اس میں جو کمزور ہو جاتی ہیں انسان کیسے ڈھے جاتا ہے۔ بہت حیرت ہوتی تھی۔ خالہ سمجھاتی تھیں۔ حالات انسان کو اسکے حالات اسکی عمر وقت سے پہلے توڑ دیتے ہیں انسان کمزور ہوتا جاتا ہے انکے زیر اثر اپنے ہم عمروں سے جن کو اتنی نا موافق حالات کا سامنا نہ ہو جنہیں اتنی ذہنی پریشانیاں نہ ہوں ان کی نسبت جلد بوڑھا ہو جاتا ہے تھکن چہرے کے خدو خال میں پنجے گاڑ لیتی ہے۔ انسان ہنستا بھی ہے تو آنکھیں ساتھ نہیں دیتیں۔تب کہا جاتا ہے یہ تو ڈھے سا گیا ہے۔ اتنی عمر نہیں حالانکہ ابھی اسکی۔۔۔۔۔ میں سنتی سمجھ کم ہی آتی۔ یہ کیسے لوگوں کا ذکر ہے ۔ مجھے تو نظر نہیں آتے چہروں پر سجے حالات کے تھپیڑے۔مگر ہوا کیا۔۔ مجھے بھی ایک ایسا چہرہ نظر آگیا۔

    میں چند لمحے گھورتی رہی حیران بھی ہوئی کہ آخر کیا ہوا؟

    میرے منہ سے بھی بے ساختہ نکلا ارے تمہیں کیا ہوا تم تو ڈھے گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔

    میں نے کہا تھاآئینہ دیکھتے ہوئے

    ۔۔۔ ۔۔۔ از قلم ہجوم تنہائی

    Kesi lagi apko yeh tehreer? Rate us below

    Rating
  • Thora sa pyar Hua hay urdu short story

    افسانہ: تھوڑا سا پیار ہوا ہے۔۔۔
    مصنفہ: واعظہ زیدی

    نجانے اس دن اسکے دل میں کیا سمائی کہ اپنا ماضی روزینہ کے سامنے کھول بیٹھا۔
    راحیلہ ایسی تھی یوں کرتی تھی ۔۔۔اس کے ساتھ اچھا وقت گزرا مگر کس طرح اسکے گھر والوں بنا اس سے پوچھے اسکا رشتہ خاندان میں طے کردیاوہ کتنا روئی یہ خود کتنا رویا بے بسی کی انتہائیں خودکشی تک کا سوچا وغیرہ۔
    روزینہ عام بیویوں کی طرح اس سے جھگڑنے کی بجائے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سنتی رہی۔خاموشی سے۔۔ اتنا کہ اسکا دل ہلکا پھلکا سا ہو گیا۔
    اس نے اس بات کا اقرار بھی کیا۔۔
    شکر ہے تم میری بیوی سے ذیادہ میری دوست ہو۔ یہ باتیں میں آج تک کسی دوست سے بھی نہ کہہ
    پایا۔کجا تم سے کہہ ڈالا۔

    روزینہ نے اسی متانت سے سر ہلایا اپنے کام میں مگن ہوگئ۔
    پھر تو جیسے اسکے اندر کی گھٹن کو روزن مل گیا۔ پہلا پیار کہاں بھولتا کسی کو۔ اور پہلا پیار کا ذکر کون نہ کرنا چاہے گا۔ پرانی یادیں باتیں قصے۔۔
    ۔کیا کچھ وہ دل میں دبائے تھاقسمت سے بیوی اچھی مل گئ جو اسکی نا صرف دل جمعی سے سنتی بلکہ کبھی کبھی لقمہ بھی دے ڈالتی
    آپ ابھی بھی بہت یاد کرتے ہیں ناراحیلہ کو۔
    ہاں۔ وہ صاف گوئی سے کہتا۔
    مگر اب سوچتا ہوں وہ مل جاتی تو مجھے تم جیسی شریک حیات کہاں ملتی۔ سچ پوچھو تو مجھے ان تہجد کی نمازوں کا دعائوں کا شکوہ جاتا رہتا یے جو نا مقبول ہوئیں اور مجھے راحیلہ نہ مل سکی۔ مگر اللہ نے اجر کی صورت تم دے دیں مجھے۔۔

    روزینہ شرارتی سے انداز میں ہنستی۔۔
    یوں کہیں نا تھوڑا سا مجھ سے بھی پیار ہو گیا
    ہے۔۔
    اس دن بھی جب روزینہ خاموشی سے کپڑے تہہ کرتی اسکی سنے جا رہی تھی
    روزینہ مجھے تم سے بھی پیار ہو چلا ہے۔۔
    یکدم ہی اس نے بات بدل کر کہا تو وہ مسکرا دی
    تھوڑا سا ؟؟؟؟اسکا انداز شرارت بھرا تھا۔۔
    وہ بھی ہنسا۔ پھر گنگنانے لگا۔۔
    تھوڑا سا پیار ہوا ہے تھوڑا ہے باقی۔۔۔
    ویسے روزینہ تھوڑا سا اور پیار ہو جائے نا مجھے تم سے میں راحیلہ کو بھول جائوں گا۔۔
    وہ جزباتی سا ہو چلا۔۔
    راحیلہ تو آپکا پہلا پیار ہے کیسے بھول سکتے ہیں معاذ آپ۔
    وہ رخ پھیر گئ تہہ شدہ کپڑے اٹھا کر الماری میں رکھنے لگی۔
    وہ سانس روکے اسے چند لمحے دیکھتا ہی رہ گیا۔
    اسکو لگا روزینہ کی آنکھوں میں نمی سی جھلکی ہے۔۔ اتنی صابر محبت کرنے والی بیوی سے تھوڑی سی سہی مگر اسے بھی تو محبت ہو گئ تھی۔ تڑپ ہی تو گیااٹھا اسکے قریب چلا آیا کندھوں پر ہاتھ رکھ کر جزب سے بولا
    پہلا پیار کبھی بھول نہیں سکتا مگر روزینہ وعدہ ہے تم سے تمہارے سوا اب زندگی میں کوئی نہیں آئے گا۔۔
    سچ ۔
    روزینہ بھیگی پلکوں کو جھپکتے آس سے دیکھ رہی تھی۔
    مچ۔۔ اس نے مسکرا کر سر ہلادیا۔۔
    وہ دن آخری دن تھاجب میں نے راحیلہ کا نام لیا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ مجھے روزینہ سے بھی بہت محبت ہوگئ ہے اتنی کہ میں بس اسکو چاہتا ہوں اتناکہ اسکے دل و دماغ میں بلا شرکت غیرے راج کرنا چاہتا ہوں۔۔
    یہ تھی میری کہانی ۔۔ اب میری زندگی کا محور بس میری بیوی ہے اب راحیلہ کا ذکر ہمارے درمیان نہیں ہوتا۔۔ مجھے وہ یاد بھی نہیں آتی۔۔میرا پہلا پیار تو موسم سا تھا اچھا تھا گزر بھی گیا۔میری حقیقت میری بیوی ہے۔۔ میری روزینہ اور روزینہ کا میں۔ صرف میں یعنی ساعد مراد۔

    Kesi lagi apko yeh kahani? rate us below

    Rating
  • Aitraaf aik aakhri khat

    خو د کشی سے پہلے میرا آخری خط۔۔۔

    مجھے آج اپنا آخری خط لکھنا ہے۔۔

    کس کے نام لکھوں۔۔؟انکے جن کی وجہ سے آج میں اس مقام پر ہوں۔۔ کہ مجھے سامنے اپنے بس اندھیرا نظر آتا ہے۔ یا انکے نام جن سے میرا کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا۔۔ عجیب بات ہے نا۔۔ مگر آج میرا مخاطب اس دنیا کا ہر وہ فرد ہے جو اس دنیا میں اس وقت موجود ہے۔۔ چلو تو سنو۔۔ یہ میرا آخری خط ہے۔۔ اسکے بعد نہ تو کبھی میری صورت دکھائی دے گینہ کبھی میری آواز سنائی دے گی۔ اب تم لوگ کہوگے تو کیا ؟۔۔ ہا ہا۔۔ تو کیا۔۔تو یہ کہ۔۔ مجھے بھی ویسی ہی زندگی ملی جیسی تم سب کو ملی۔۔ مگر میرا انجام تم سب سے مختلف کیوں ہے؟۔۔ مجھے بڑھاپے تک جینا کیوں مشکل لگ رہا۔میں اپنی جوانی میں ۔۔ قبر میں جا لیٹنے جیسی مایوس کن سوچ کا شکار کیوں ہوں۔۔

    تو سنو۔۔میرے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔۔یوں کہو۔۔ میرے ساتھ دنیا نے اچھا نہیں کیا۔۔ یوں کہو۔۔ مجھے سب نے چھوڑ دیا۔۔ شائد اس نے بھی جو مجھے تمہیں سب کو پیدا کرنے والا ہے۔۔مگر نہیں۔ اس سے مجھے شکوہ نہیں۔۔عجیب بات ہے نا۔۔ برا لوگ کرتے خفا ہم خدا سے ہو جاتے۔۔ نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔۔ میں خدا سے ناراض نہیں۔ ورنہ اسی کے پاس چلے جانے کی خواہش کیوں ہوتی میری؟۔۔میں تو بس۔چلو چھوڑو۔۔مجھے لگتا ہے میں نے اپنی بساط کے مطابق سب اچھا کیا۔۔ اس سے زیادہ میرے بس میں ہی نہیں ہوگا۔تو اگر مجھ سے کوئی شکوہ ہو تو معزرت میں بس اپنے آخری وقت میں اور کہوں بھی تو کیا۔۔ تو خدا حافظ دنیا۔۔ اب مجھ سے اور جیا نہیں جاتا۔۔ ختم شد۔۔میں نے سطروں پر نظر دوڑائی۔۔ایک اطمینان میرے رگ و پے میں دوڑ گیا۔۔ میرا آخری سفر اب آسان ہوگا۔۔ میں نے سوچا۔۔ میرے کچن میں ایک فرائی پین چولہے پر چڑھا ہے۔۔ اس پر ایک خاص مرکب دم دے رہا ہے۔۔ اس کے دھوئیں نے میرے پورے اپارٹمنٹ کا احاطہ کرنا شروع کر دیا ہے۔۔ میں اپنے بستر پر نیم دراز ہو گیا۔۔ آنکھیں زندگی میں بند کروں یا موت کو اپنے حواس مختل کرنے تک انتظار کروںبس میں یہی فیصلہ کرنے لگا ہوں۔۔ آپ شائد متجسس ہیں ۔۔

    میں کون۔۔؟۔۔

    ۔میں ایک ترقی یافتہ ملک کا مشہور ترین گلوکار ہوں ایک دنیا اس شہرت کے مزے لینا چاہتی جو میرے گھر کی باندی ہے جسکے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بقیہ عمر کھا سکتا ہے۔۔ ہا ہا ہا۔۔ میں ہاں۔۔

    میں۔جونگ جوہیون۔۔ شائینی گروپ کا لیڈ سنگر۔۔

    “آخری خط: ایک شخص کا خودکشی سے پہلے خط لکھنے کا افسانہ”
    (Akhri Khat: Ek Shakhs ka Khudkushi se Pehle Khat Likhnay ka Afsana)

    urduz.com: Aitraaf aik aakhri khat

    short urdu afsanay

    https://desikimchi.com/believer-2018-korean-action-movie-urdu-review/
    https://desikimchi.com/why-is-twinkling-watermelon-such-a-popular-kdrama/
  • Instalker(instagram+stalker) aik instagram ki kahani

    میں انسٹاکر ہوں۔ اسٹاکر وہ بھی بس انسٹا کی حد تک۔عجیب لگا نا سن کر۔ حقیقی زندگی سے کہیں بہتر ہے کسی کو بس انسٹا پر بھی دور دور سے تاک لیا جائے۔ دیکھا جائے جی بھر کر اسکے پل پل کی زندگی کی خبر رکھی جائے۔یہ دیکھا جائے کیسی گزر رہی کسی کی زندگی کیا کر رہا وہ آج کل کیا کھایا کہاں گیا سب کچھ تو سب لوگ انسٹا پر ڈال دیتے ہیں۔ اور میرے جیسے بےروزگاروں کا مشغلہ ۔کسی کے گھر جا کر دروازے پر سارا دن کھڑےرہ کر بھی اتنی واقفیت نہ ہو کسی کے حال زندگی سے جتنا آجکل انسٹا پر چپکے چپکے بنا لائک کمنٹ کیئے تکتے جانے سے باخبرہو جایا جائے۔ کوئی لڑکی پسند آجائے تو کبھی کبھار پیغام بھی بھیج لیتا ہوں مگر حرام ہے جو پچھلے سات سالوں میں کسی لڑکی نے بھی جواب دیا ہو۔ سب کے پیغام بنا پڑھے ہی رہ جاتے ہیں۔ انسٹا کو کم از کم اسپیم کا آپشن نہیں نکالنا چاہیئے تھا۔ کم از کم میرا بھلا ہوجایا کرتا مگر اس دل کا کیا کیجئے جو ہزاروں رنگ برنگی تتلیوں میں بس ایک ہی چہرہ کھوجتا ہے۔ روما۔ نام تو پورا رومانہ ہے اسکا مگر انسٹا پر آئی ڈی روما کے نام سے ہی ہے اسکی پبلک پروفائل۔ جس پہلی اور آخری لڑکی نے مجھے انسٹا پر سپیم کرنے کی بجائے جواب دیا تھا۔میں نے ہائی لکھ کربھیجا تھا سات سال قبل اور اس نےمجھے جوابا لکھا ہائے۔ میری آئی ڈی پر میری لاہور میں مینار پاکستان کو چٹکی میں تھامتےمسکراتے ہوئے کیمرے کی آنکھوں میں دیکھتے والی تصویر جو تھی پروفائل پر۔ نظر انداز نہیں کر پائی اور میں بھی تو کچے دھاگے سے بندھا اسکی پروفائل پر گیا تھا اسکی مہندی والے ہاتھوں سے کھڑکی بنا کر کاجل سے سجی مسکارے سے بوجھل پلکیں پٹپٹاتے ہوئے ایک رومانوی گانے پربنئ ٹک ٹاک والی ویڈیو سے۔ ایک لاکھ ویوز تھے مگر پوری پروفائل پر کہیں مکمل چہرے کی تصویر نہ تھی۔ کبھی ہاتھوں میں چہرہ چھپاتے کبھی پیرو میں کھسہ پھنساتے کبھی دھندلی کرکے چہرہ چھپاتے صندلی وجود پر پشواز کی لانبی فراک کا گھیرا بناتے ویڈیو کبھی کرتے پاجامے میں مڑ کر دیکھتی ۔ اس دن میں نے اسکی ستر کے قریب ویڈیوز دیکھی تھیں اس سے ذیادہ ہوتیں تو وہ بھی دیکھ لیتا مگر تھیں ہی بس ستر۔ دو تین گھنٹے بس ایک ایک ویڈیو کو دیکھتا پسند کرتا رہا ہر ویڈیو پر کمنٹ کیا تھا۔ اسے متاثر ہونا پڑا۔ شکر گزار ہوئئ اور میں؟ میں اسکے جواب دینے پر ہوائوں میں اڑتا پھرا تھا۔ تبھی سوچ لیا تھا اس کو ہی اپنے دل کی ملکہ بنائوں گا۔ شکل تک نہ دیکھی تھی۔ مگر جزبہ سچا تھا۔ روز ہی کچھ نہ کچھ اسے بتانے کیلئے ہوتا تھا میرے پاس۔ اسے پیغام بھیجتا وہ دیر سے سہی مگر پڑھ کر جواب ضرور دیتی تھی۔ ہم تقریبا ہم عمر ہی تھے بس کچھ فاصلے تھے ہمارے درمیان میں گجرانوالہ میں رہتا تھا اور وہ کراچی میں۔ مگر تب ہمیں لگتا تھا فاصلے دلوں کےہوتے ہیں بس اور دل تو ہمارے مل گئے تھے۔ آہستہ آہستہ اسے مجھ پر اعتبار آتا گیا۔ اس عید کے دن میں نے اس سے فرمائش داغ دی۔ مجھے اپنی تصویر بھیجو تیار ہو کر۔ مجھے لگا تھا وہ بہانے کرے گی۔ اور میں جتائوں گا اعتبار نہیں مجھ پر؟ مجھ پر شک؟ میں اجنبی ہوں تمہارے لیئے مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی اس نے مجھے اپنی تصویر بھیج دی تھی۔میرے تصور سے ذیادہ خوبصورت لڑکی تھی۔رنگ تو شائد اسکا کم تھا مگر بڑی بڑی آنکھیں ستواں ناک بالکل مہوش حیات لگتی تھی یا شائد بس مجھے لگتی تھی۔مجھے مہوش حیات پسند تھی اور وہ اس جیسی تھی۔ زندگی مکمل تھی میری۔ میں نے اس رشتے کو آگے بڑھانا چاہا۔ گھر والوں سے ضدیں کیں کراچی جا کر پڑھوں گا رہوں گا اکیلے کمائوں گا ۔ تب انٹر کا امتحان دیا تھا ۔ گھر والے لاہور تو بھیج دیتے ضد سے مجبور ہو کر مگر کراچی ناممکن۔ہاں بہت ضد کرنے پر کراچی میں ایک رشتے کے ماموں کے پاس بھیج دیا چھٹیاں گزارنے۔ میرے تو دل کی کلی کھل گئ۔ جھٹ روما کو پیغام بھیجا ملنا مجھ سے۔ جوابا وہ بھی شائد اب مجھ سے ملنا چاہ رہی تھی۔ مان گئ۔ کراچی پہنچ کر مجھے لگتا تھا ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔ روما بھی اسی فضا میں سانس لیتی ہے جس میں میں؟ دو ایک دن تو کراچی کی فضا سے مانوس ہونے میں وقت لگایا پھر ماموں کے بیٹے جو میرا ہم عمر ہی تھا اپنے راز میں شریک کیا ۔ وہ بھی پرجوش تھا میرا ساتھ دینے کا وعدہ کرڈالا ہم اگلے دن ملاقات کا وقت طے کر کے ایک مشہور کافی ہائوس جا پہنچے۔ وہاں دو گھنٹے بیٹھے رہے کافی پی اور واپس آگئے۔ رومانہ سے بھی ملے۔ رومانہ بالکل تصویر جیسی ہی تھی۔ اپنی سہیلی کے ساتھ آئی تھی۔اعتماد میں مجھ سے ذیادہ ہی تھی شائد عمر میں بھی تھوڑی سی۔مجھ سے چٹاخ پٹاخ باتیں کرتی رہی میں پورے پندرہ دن کراچی رہا ہم تین مرتبہ ملے واپسی پر ڈھیر سارے دوبارہ ملنےاکٹھےجینے مرنے کے وعدے کرنے کے بعد میں واپس گجرانوالہ چلا آیا۔ آگے داخلہ لیا پڑھائی شروع کردی۔ دو تین سال گزر گئےٹک ٹاک پاکستان میں بین ہو گئ ۔انسٹاگرام سے اچانک رومانہ نے اپنی سب تصویریں ہٹا دیں کچھ وقت گزرا میرے ذہن سے اسکی تصویر مٹتی گئ۔ ہمارے رابطےجو ختم ہوگئے تھے۔رابطے واٹس ایپ کی وجہ سے تھے اور اسکا موبائل چوری ہوگیا تھا۔ یہ اس نے انسٹا پر اسٹوری لگائی تھی میں نے انسٹا پر اسے اپنا نمبر بھیجا تھا پر شائد اسپیم باکس میں پڑا رہ گیا آج تک ان ریڈ پڑا ہے۔پھر یوں ہوا کہ میری زندگی میں سے روما تو چلی گئ فائزہ زینت رابعہ آئیں یکے بعد دیگرے اور پھر میری طویل بے روزگاری کی وجہ سے ان سب سے تعلق ختم ہوئے انکی شادیاں ہو گئیں اور میں انسٹاکر کا انسٹاکر بن کے رہ گیا۔ کبھی کبھی ان تینوں کی انسٹا بھی جا کر دیکھتا ہوں شوہر بچوں کے ساتھ مگن خوش۔ مگر پروفائل پر ڈھیروں پرائیویسی۔میں بس ڈی پی سے انکی خوشگوار زندگی کا اندازہ لگا لیتا ہوں جس پر کبھی شوہر کے ساتھ کھڑی خوب پھیلے وجود پر چہرے کی جگہ ایموجی لگائے تصویر لگی ہوتی ہے تو ذیادہ تربچوں کی اپنے ہر نئے اضافے کے ساتھ ۔کبھئ میں سوچتا ہوں کوئی میری طرح فارغ بھی ہوگا جو گھنٹوں اپنی ایکسوں کی پروفائل تاڑتا ہے انسٹا پر جا کر۔پھر بھی ایک خلش ہے کبھی رومانہ مل جائے۔ اسکی پروفائل کیا آج بھی پبلک ہوگی اب بھی وہ اپنے چہرے کو چھپا کر ویڈیو بناتی ہوگی یا اس نے بھی اپنا آپا بھلا دیا ہوگا خوب موٹی ہوچکی ہوگی دو تین بچے سنبھالتی سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے پتی ورتا قسم کی عورت جس کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا وقت بھئ نہ ہوگا۔اور پھر سوچتا ہوں زندگی کے کسی موڑ پر ملی تو کیا خوش ہوگی کہ وقت پرمجھ جیسے سے رابطے ختم کیئے جو آج بھی ناکام انسان ہے۔ ڈگری مکمل کیئےدس سال ہونے کوآئےمگر آج بھی جوتیاں چٹخا رہا ہےنا عارضئ نوکریاں کرتا ہے اور آج کل تو بالکل ہی فارغ ہے انسٹاکر کہیں کا۔ایسے کسی وقت پر میں دل سے دعا کرتا ہوں خدا کرے کبھی میرا اسکا سامنا نہ ہو۔ روما نام کے پانچ سو کے قریب انسٹاگرام کھاتے ہیں۔ چار سو تیس دیکھ چکا ہوں وہ کہیں نہیں ہے۔اس نے رومانہ نام سے تو آئی ڈی نہیں بنا رکھی۔ چلیں اسکو بھی ڈھونڈ لیتےہیں۔ارے یہ کیا؟ کہتے ہیں نا طلب سچی ہو تو مراد مل ہی جاتی ہےرومانہ کی آئی ڈی مل گئ مجھے۔ مجھے یہ خیال پہلے کیوں نہ آیا۔ رومانہ ہمیشہ یو سے اپنا نام لکھتی تو ہمیشہ آر یو سے روما اور رومانہ ڈھونڈا آج او سے ڈھونڈا ہے۔ اور مل گئ۔ روماتو آج بھی پبلک پروفائل ہی بنائے ہے۔ مگر اب تو بے فکری سے اپنی مکمل تصویر لگا رہی ہے۔ کبھی دریا کنارے ہنستی کبھی جھولے پر بیٹھی ہے کبھی پہاڑوں میں انداز سے مسکراتی کھڑی۔ یہ نظارے تو پاکستان کے ہی نہیں۔ میں ذرا دیکھوں اسکی بائو؟ ارے ؟ یہ تو ناروے میں ہے وہیں سے پڑھائی کی اس نے دس سال ناروے میں گزرنے کی مبارکباد والے مراسلے میں منسلک۔ مطمئن خوش باش۔۔اوہ جبھی تو سب رابطے ختم ہو گئے۔ س نے بتایا تو تھا کہ اسکے پاپا ناروے میں ہوتے ہیں مگر وہ اسکو بلا بھی لیں گے یہ مجھے کیوں نہیں بتایا تھا۔مجھے اب غصہ آنے لگا ہے۔میں نے موبائل بیڈ پر پٹخ دیا ۔ اسٹالکر ہونا آسان نہیں ۔ کوئی بھی دھچکا لگ سکتا جیسا ابھی مجھے لگا۔ چند لمحے خود کو پرسکون کرنے کے طعد میں نے دوبارہ موبائل اٹھانا چاہا تو پتہ لگا زور سسے پٹخ دیا تھا بیڈ سے پھسل کر نیچے زمین پر جا گرا۔اف میں جھلاتے ہوئے جھک کر اسے اٹھانے لگا۔ موبائل انلاک کرکے اب میں نے غصے میں اسکی ایک ایک تصویر دیکھ ڈالنی ہے۔ نہیں ذیادہ تر۔ ہزاروں کی تعداد میں اس نے تصویریں ڈالی ہیں میں چاہ کر بھی پچھلے چھے سال کی تصاویر نہیں دیکھ سکتا اسکی لیکن یہ کیا۔میں اسکرال کرتے چونکا۔ اسکے چہرے پر پیشانی پر ایک شکن ہے۔ ہر تصویر میں ایک ننھی سی شکن اسکے چہرے پرواضح ہے۔۔ کیوں بھلا؟ اتنی خوش باش لڑکی کو کیسا غم لاحق ہے جو یوں چہرے پر آ ثبت ہوا۔بے تابی سےمیں نے اسکی ایک ایک تصویر کو دونوں انگلیوں سے دبا کر زوم کرکر کے دیکھا۔ وہ شکن اسکی پیشانی سے چہرے تک سفر کر رہی ہے۔میرا دل اپنی ایکس کے اس غم سے بوجھل ہوچلا تھا۔ آخر کیا ستم گزرا اس پر جو یہ تفکر کی ایک شکن اسکی ہر مسکراتی تصویر پر بھی حاوی ہے۔ میں نے اسکاانباکس کھول کر میسج لکھا رومانہ میں تمہارا عاصم کیسی ہو دل تو کر رہا تھا سیدھا سوال کروں کہ کیاہوا ہے تمہیں مگر یوں اچانک وہ کیا مجھے پہچانے گی کیا بتائے گی؟ میری آئی ڈی بھی تو۔ میں لکھتے لکھتے چونکا۔ کوئی خیال سرعت سے میرے دماغ میں آدھمکا۔میری یہ آئی ڈی تو پچھلے سال میں نے بنائی ہے پرانی آئی ڈیاں تو عرصہ ہوا پاسورڈ بھولنے پر کھولی ہی نہیں۔کس نام سے تھئ میری پہلی آئی ہاں چوہدری عاصم پاسورڈ۔۔ ریکور کرکے دیکھتے ہیں۔ میں نے اپنادوسرا اکائونٹ کھولناشروع کیا۔ میں ان دنوں رومانہ کے نام سے ہی پاسورڈ رکھتا تھا آر یو ایم اے۔ این اے۔۔غلط پاسورڈ۔اف مجھے خیال آیا۔ یہ آئی ڈی کھول نہ سکنے کی وجہ آر او سے پاسورڈ رکھنا تھئ ۔اتنی سی بات مجھے سمجھ نہ آئی۔میں نے جلدی سے آر او لکھا آئی ڈی کھل گئ۔ درجنوں ان گنت نوٹیفیکیشن تھے اور سو ڈیڑھ سو کے قریب میسج۔میں نے میسج کھولے۔ تو حیرت کا ایک اور جھٹکا منتظر تھا میرا۔ یہ ڈیڑھ سو کے ڈیڑھ سو پیغام رومانہ کی جانب سے ہی آئے تھے۔نمبر بھیجنے سے لیکر رابطہ نہ کرنے پر شکوے ناراضگی خود ہی مان جاتے ہوئےمنانے کی کوشش ناروے جانے کی اطلاع۔خدایا میں سر پکڑ کر رہ گیا۔ میں اپنی آئی ڈی کھول نہیں پایا اور دوسری آئی ڈی سے اسےمیسج پر میسج بھیجتا رہا ؟ میں نے جلدی سے اسکو میسج لکھ کر بھیجا۔پیاری روما کیسی ہو؟ میں نے آج میسج دیکھا۔ تقریبا سات سالوں کے بعد میں جانتا ہوں تم مجھ سے خفا ہوگی مجھ سے بات کرو میں سب ۔۔ میں دھڑا دھڑ میسج لکھ رہا تھا میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے میسج پڑھ لیئے تھے۔روما۔ میں نے بے تابی سے لکھا۔یکدم ہی اسکرین پر انتباہ آموجود ہوا میرے سب پیغام انریڈ جا رہے تھے میں نے اسکی پروفائل کھولی تو سب تصویریں غائب تھیں۔ اس نے جوابا مجھے بلاک کردیا؟ مجھے حیرت نہیں ہونی چاہیئے ہے نا؟ دس سال قبل کے ایکس کو اچانک آپ کے سات سال پرانے پیغامو ں کا جواب دینے کا خیال آجائے توآپ یقینا بلاک ہی تو کریں گے۔ میں نے آہ بھری۔مانا میں یہ آئی ڈی کھول نہیں پایا مگر نئئ آئی ڈی بناکر پیغام بھیجا تو تھا وہ اس پر بھی اپنا نمبر بھیج سکتی تھئ۔مجھے غصہ آنے لگا۔کونسی دوسری آئی ڈی تھی میری۔ آج تک کل ملا کر تین آئی ڈیز ہیں میری ایک جو میں آجکل استعمال کر رہا ہوں باقی۔۔ چلو اس پرانی والی کو کھولتے ہیں فائزہ کیوجہ سے یہ ڈی ایکٹویٹ کی تھی فائزہ کو بہت شک رہتے تھے مجھ پرمجھے ایڈ کرکے اتنی نظررکھی کہ میں نے ڈی اکٹویٹ کا بہانہ کرکے نئی بنا لی۔اب تو وہ بھی قصہ پارینہ ہوئئ۔ لو دوسری آئی ڈی کھل گئ۔ اس سے میں بلاک نہیں ہوں مگر آج بھی اس نے یہ پیغام نہیں کھول کر پڑھا حد ہے بندہ اپنے اسپیم میسجز ہی دیکھ لیتا ہے۔خوامخواہ میں بریک اپ ہوگیا ورنہ کیا خبرمیں بھی آج ناروے میں ہوتا۔اور اسکی پیشانی بے شکن ہوتی۔مجھے افسوس ہو رہا تھا اسکی پروفائل پر دوبارہ اسکی ایک ایک تصویر کھول کر ذوم کرکے میں دیکھنے لگا۔ اتنی محبت کرتی تھئ مجھ سے ورنہ یوں کئی مہینوں تک سینکڑوں میسج کیوں کرتی اور اب تک ماتھے پر تفکرکی لکیر۔ میں نےاسکی تصویر ذوم کی لکیر بڑھتی گئی پیشانی سے چہرےپھر گردن تک دراڑ سی۔۔ میں چونک گیاارے۔۔میں نے انسٹاگرام بند کردی وہ لکیر ابھی بھی موجود تھی۔اوہ میں چونکایہ تویہ لکیر تو میری اسکرین پر پڑی ہوئی ہے مجھے یاد آیاتھوڑی دیر پہلے جو موبائل زمین پر گرا اس سے شائد پروٹیکٹر ٹوٹ گیا تھا۔اور میں سمجھتا رہا کہ مجھے خود پر ہنسی آگئ۔ اس حقیقت کو کہ یہ لکیر میرے فون پر ہے جاننے کے بعد میں نے دوبارہ اب جب کھولی پروفائل تو اس بار ایک ایک خوش باش بے فکر لڑکی کا چہرہ سامنےتھا۔دھت تیرے کی۔ خود کو کوستے میں نے آئی ڈی لاگ آئوٹ کردی۔ اب میں اپنی سب سے نئی والی آئی ڈی سے اسٹالکنے لگا ہوں ۔کیا رومانہ کو؟ نہیں ایک لڑکی ہےگجرانوالہ کی ہی ہے رومانہ کی ہر تصویر

    پر کمنٹ کرتی ہے شکل کی اچھی لگی ہے مجھے دیکھتا ہوں اسکی پروفائل میسج کروں گا کیا پتہ یہ جواب دے دے

    urdu poetry, urdu shayari, sad poetry in urdu love poetry in urdu jaun elia allama iqbal poetry poetry in urdu 2 lines urdu shayri sad poetry in urdu 2 lines ahmad faraz ghalib shayari attitude poetry in urdu sad quotes in urdu funny poetry in urdu romantic poetry in urdu allama iqbal shayari best poetry in urdu bewafa poetry sad shayari urdu islamic poetry in urdu barish poetry poetry in urdu attitude ghalib poetry allama iqbal poetry in urdu attitude quotes in urdu poetry in urdu text deep poetry in urdu sad poetry in urdu text love shayari urdu ghazal in urdu urdu poetry in urdu text mirza ghalib shayari love poetry in urdu romantic urdu shayari on life rekhta shayari jaun elia poetry iqbal shayari deep lines in urdu sad love poetry in urdu urdu poetry sms best shayari in urdu death poetry in urdu funny shayari in urdu dosti poetry in urdu father quotes in urdu birthday poetry in urdu poetry status eid poetry Hajoom e tanhai poetry, Vaiza zaidi poetry, jaun elia shayari, urdu poetry text copy, attitude poetry in urdu 2 lines text, urdu shayari in english, shero shayari urdu, munafiq poetry, mirza ghalib poetry, romantic shayari in urdu, allama iqbal ki shayari, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, poetry in urdu 2 lines attitude, john elia sad poetry, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, john elia shayari, 2 line urdu poetry copy paste, dukhi poetry, heart touching quotes in urdu, mohsin naqvi poetry, beautiful poetry in urdu, udas poetry, friendship poetry in urdu, muhabbat poetry, urdu sher, one line quotes in urdu, dosti shayari urdu, sad poetry status, narazgi poetry, judai poetry, ghalib shayari in urdu, faiz ahmad faiz shayari, barish poetry in urdu, urdu one line caption copy paste, wasi shah poetry, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, urdu poetry status, islamic poetry in urdu 2 lines, jon elia poetry, funny poetry in urdu for friends, attitude shayari in urdu, allama iqbal poetry in urdu for students, Zawwar haider poetry, mohabbat shayari urdu, jaun elia sad poetry, sad poetry sms, urdu poetry written, urdu novels,urdu novels, urdu poetry, urdu afsanay, urdu statuses, urdu shayari, sad poetry in urdu, love poetry in urdu, poetry in urdu 2 lines, urdu shayri, sad poetry in urdu 2 lines, ahmad faraz, romantic poetry in urdu, best poetry in urdu, bewafa poetry, sad shayari urdu, barish poetry, poetry in urdu text, deep poetry in urdu, sad poetry in urdu text, love shayari urdu, ghazal in urdu, urdu poetry in urdu text, love poetry in urdu romantic, urdu shayari on life, deep lines in urdu, sad love poetry in urdu, urdu poetry sms, best shayari in urdu, very sad poetry in urdu images, novels in urdu pdf, urdu books, bewafa poetry in urdu, best urdu novels, urdu poetry text copy, urdu shayari in english, shero shayari urdu, romantic shayari in urdu, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, 2 line urdu poetry copy paste, famous urdu novels, beautiful poetry in urdu, udas poetry, muhabbat poetry, urdu sher, barish poetry in urdu, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, ahmed faraz poetry, mohabbat shayari urdu, sad poetry sms, urdu poetry written, love poetry in urdu romantic 2 line, attitude poetry in urdu text, heart touching poetry in urdu, sad ghazal in urdu, 2 line urdu poetry romantic sms, ahmad faraz poetry, poetry about life in urdu, urdu words for poetry, urdu poetry copy paste, urdu poetry in english, ahmad faraz shayari, bewafa shayari urdu, love poetry in urdu 2 lines, urdu ghazal poetry, poetry in urdu 2 lines deep sad lines in urdu, faraz shayari, urdu words for shayari, urdu sad poetry sms in urdu writing, dard poetry, happy poetry in urdu, urdu love poetry for her, faraz poetry, ali zaryoun shayari, shayari in urdu words, very sad shayari urdu, ishq poetry in urdu, urdu shayari images, 2 lines poetry, new poetry in urdu, urdu poetry in hindi, urdu poetry lines, one line poetry in urdu, poetry on beauty in urdu, one line poetry in urdu text, muskurahat poetry, sad poetry in urdu 2 lines without images, mohabbat poetry in urdu, nice poetry in urdu, best love poetry in urdu, muhabbat poetry in urdu, best lines in urdu, deep love poetry in urdu, beautiful shayari in urdu, urdu sad poetry sms, Novel urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books, islamic books urdu, udas naslain pdf, urdu poetry books, urdu novel online reading, jasoosi digest, novel novels in urdu, urdu audio books, top urdu novels, romance novel best novels in urdu, wasif ali wasif books pdf, urdu language books pdf, tahir javed mughal novels, urdu digest pdf, naseem hijazi books, best books to read in urdu, ashfaq ahmed books pdf, dastak novel, a hameed novels, psychology books in urdu, bano qudsia novels, pakeeza anchal romantic novel, pyasa sawan novel, free urdu novels, anchal digest novels, raqs bismil nove,l urdu poetry books pdf, new novel 2021 in urdu, urdu novels 2021, love story novel in urdu, urdu history books, raja gidh read online, jasoosi novel, urdu love novels list, pakistani novels in urdu, urdu historical novels, romance novel famous urdu novels list, romance novel urdu novels list urdu poetry, urdu shayari, sad poetry in urdu love poetry in urdu jaun elia allama iqbal poetry poetry in urdu 2 lines urdu shayri sad poetry in urdu 2 lines ahmad faraz ghalib shayari attitude poetry in urdu sad quotes in urdu funny poetry in urdu romantic poetry in urdu allama iqbal shayari best poetry in urdu bewafa poetry sad shayari urdu islamic poetry in urdu barish poetry poetry in urdu attitude ghalib poetry allama iqbal poetry in urdu attitude quotes in urdu poetry in urdu text deep poetry in urdu sad poetry in urdu text love shayari urdu ghazal in urdu urdu poetry in urdu text mirza ghalib shayari love poetry in urdu romantic urdu shayari on life rekhta shayari jaun elia poetry iqbal shayari deep lines in urdu sad love poetry in urdu urdu poetry sms best shayari in urdu death poetry in urdu funny shayari in urdu dosti poetry in urdu father quotes in urdu birthday poetry in urdu poetry status eid poetry Hajoom e tanhai poetry, Vaiza zaidi poetry, jaun elia shayari, urdu poetry text copy, attitude poetry in urdu 2 lines text, urdu shayari in english, shero shayari urdu, munafiq poetry, mirza ghalib poetry, romantic shayari in urdu, allama iqbal ki shayari, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, poetry in urdu 2 lines attitude, john elia sad poetry, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, john elia shayari, 2 line urdu poetry copy paste, dukhi poetry, heart touching quotes in urdu, mohsin naqvi poetry, beautiful poetry in urdu, udas poetry, friendship poetry in urdu, muhabbat poetry, urdu sher, one line quotes in urdu, dosti shayari urdu, sad poetry status, narazgi poetry, judai poetry, ghalib shayari in urdu, faiz ahmad faiz shayari, barish poetry in urdu, urdu one line caption copy paste, wasi shah poetry, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, urdu poetry status, islamic poetry in urdu 2 lines, jon elia poetry, funny poetry in urdu for friends, attitude shayari in urdu, allama iqbal poetry in urdu for students, Zawwar haider poetry, mohabbat shayari urdu, jaun elia sad poetry, sad poetry sms, urdu poetry written, urdu novels,urdu novels, urdu poetry, urdu afsanay, urdu statuses, urdu shayari, sad poetry in urdu, love poetry in urdu, poetry in urdu 2 lines, urdu shayri, sad poetry in urdu 2 lines, ahmad faraz, romantic poetry in urdu, best poetry in urdu, bewafa poetry, sad shayari urdu, barish poetry, poetry in urdu text, deep poetry in urdu, sad poetry in urdu text, love shayari urdu, ghazal in urdu, urdu poetry in urdu text, love poetry in urdu romantic, urdu shayari on life, deep lines in urdu, sad love poetry in urdu, urdu poetry sms, best shayari in urdu, very sad poetry in urdu images, novels in urdu pdf, urdu books, bewafa poetry in urdu, best urdu novels, urdu poetry text copy, urdu shayari in english, shero shayari urdu, romantic shayari in urdu, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, 2 line urdu poetry copy paste, famous urdu novels, beautiful poetry in urdu, udas poetry, muhabbat poetry, urdu sher, barish poetry in urdu, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, ahmed faraz poetry, mohabbat shayari urdu, sad poetry sms, urdu poetry written, love poetry in urdu romantic 2 line, attitude poetry in urdu text, heart touching poetry in urdu, sad ghazal in urdu, 2 line urdu poetry romantic sms, ahmad faraz poetry, poetry about life in urdu, urdu words for poetry, urdu poetry copy paste, urdu poetry in english, ahmad faraz shayari, bewafa shayari urdu, love poetry in urdu 2 lines, urdu ghazal poetry, poetry in urdu 2 lines deep sad lines in urdu, faraz shayari, urdu words for shayari, urdu sad poetry sms in urdu writing, dard poetry, happy poetry in urdu, urdu love poetry for her, faraz poetry, ali zaryoun shayari, shayari in urdu words, very sad shayari urdu, ishq poetry in urdu, urdu shayari images, 2 lines poetry, new poetry in urdu, urdu poetry in hindi, urdu poetry lines, one line poetry in urdu, poetry on beauty in urdu, one line poetry in urdu text, muskurahat poetry, sad poetry in urdu 2 lines without images, mohabbat poetry in urdu, nice poetry in urdu, best love poetry in urdu, muhabbat poetry in urdu, best lines in urdu, deep love poetry in urdu, beautiful shayari in urdu, urdu sad poetry sms, novel urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books, islamic books urdu, udas naslain pdf, urdu poetry books, urdu novel online reading, jasoosi digest, novel novels in urdu, urdu audio books, top urdu novels, romance novel best novels in urdu, wasif ali wasif books pdf, urdu language books pdf, tahir javed mughal novels, urdu digest pdf, naseem hijazi books, best books to read in urdu, ashfaq ahmed books pdf, dastak novel, a hameed novels, psychology books in urdu, bano qudsia novels, pakeeza anchal romantic novel, pyasa sawan novel, free urdu novels, anchal digest novels, raqs bismil nove,l urdu poetry books pdf, new novel 2021 in urdu, urdu novels 2021, love story novel in urdu, urdu history books, raja gidh read online, jasoosi novel, urdu love novels list, pakistani novels in urdu, urdu historical novels, romance novel famous urdu novels list, romance novel urdu novels list urdu poetry, urdu shayari, sad poetry in urdu love poetry in urdu jaun elia allama iqbal poetry poetry in urdu 2 lines urdu shayri sad poetry in urdu 2 lines ahmad faraz ghalib shayari attitude poetry in urdu sad quotes in urdu funny poetry in urdu romantic poetry in urdu allama iqbal shayari best poetry in urdu bewafa poetry sad shayari urdu islamic poetry in urdu barish poetry poetry in urdu attitude ghalib poetry allama iqbal poetry in urdu attitude quotes in urdu poetry in urdu text deep poetry in urdu sad poetry in urdu text love shayari urdu ghazal in urdu urdu poetry in urdu text mirza ghalib shayari love poetry in urdu romantic urdu shayari on life rekhta shayari jaun elia poetry iqbal shayari deep lines in urdu sad love poetry in urdu urdu poetry sms best shayari in urdu death poetry in urdu funny shayari in urdu dosti poetry in urdu father quotes in urdu birthday poetry in urdu poetry status eid poetry Hajoom e tanhai poetry, Vaiza zaidi poetry, jaun elia shayari, urdu poetry text copy, attitude poetry in urdu 2 lines text, urdu shayari in english, shero shayari urdu, munafiq poetry, mirza ghalib poetry, romantic shayari in urdu, allama iqbal ki shayari, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, poetry in urdu 2 lines attitude, john elia sad poetry, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, john elia shayari, 2 line urdu poetry copy paste, dukhi poetry, heart touching quotes in urdu, mohsin naqvi poetry, beautiful poetry in urdu, udas poetry, friendship poetry in urdu, muhabbat poetry, urdu sher, one line quotes in urdu, dosti shayari urdu, sad poetry status, narazgi poetry, judai poetry, ghalib shayari in urdu, faiz ahmad faiz shayari, barish poetry in urdu, urdu one line caption copy paste, wasi shah poetry, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, urdu poetry status, islamic poetry in urdu 2 lines, jon elia poetry, funny poetry in urdu for friends, attitude shayari in urdu, allama iqbal poetry in urdu for students, Zawwar haider poetry, mohabbat shayari urdu, jaun elia sad poetry, sad poetry sms, urdu poetry written, urdu novels,urdu novels, urdu poetry, urdu afsanay, urdu statuses, urdu shayari, sad poetry in urdu, love poetry in urdu, poetry in urdu 2 lines, urdu shayri, sad poetry in urdu 2 lines, ahmad faraz, romantic poetry in urdu, best poetry in urdu, bewafa poetry, sad shayari urdu, barish poetry, poetry in urdu text, deep poetry in urdu, sad poetry in urdu text, love shayari urdu, ghazal in urdu, urdu poetry in urdu text, love poetry in urdu romantic, urdu shayari on life, deep lines in urdu, sad love poetry in urdu, urdu poetry sms, best shayari in urdu, very sad poetry in urdu images, novels in urdu pdf, urdu books, bewafa poetry in urdu, best urdu novels, urdu poetry text copy, urdu shayari in english, shero shayari urdu, romantic shayari in urdu, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, 2 line urdu poetry copy paste, famous urdu novels, beautiful poetry in urdu, udas poetry, muhabbat poetry, urdu sher, barish poetry in urdu, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, ahmed faraz poetry, mohabbat shayari urdu, sad poetry sms, urdu poetry written, love poetry in urdu romantic 2 line, attitude poetry in urdu text, heart touching poetry in urdu, sad ghazal in urdu, 2 line urdu poetry romantic sms, ahmad faraz poetry, poetry about life in urdu, urdu words for poetry, urdu poetry copy paste, urdu poetry in english, ahmad faraz shayari, bewafa shayari urdu, love poetry in urdu 2 lines, urdu ghazal poetry, poetry in urdu 2 lines deep sad lines in urdu, faraz shayari, urdu words for shayari, urdu sad poetry sms in urdu writing, dard poetry, happy poetry in urdu, urdu love poetry for her, faraz poetry, ali zaryoun shayari, shayari in urdu words, very sad shayari urdu, ishq poetry in urdu, urdu shayari images, 2 lines poetry, new poetry in urdu, urdu poetry in hindi, urdu poetry lines, one line poetry in urdu, poetry on beauty in urdu, one line poetry in urdu text, muskurahat poetry, sad poetry in urdu 2 lines without images, mohabbat poetry in urdu, nice poetry in urdu, best love poetry in urdu, muhabbat poetry in urdu, best lines in urdu, deep love poetry in urdu, beautiful shayari in urdu, urdu sad poetry sms, Novel urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books, islamic books urdu, udas naslain pdf, urdu poetry books, urdu novel online reading, jasoosi digest, novel novels in urdu, urdu audio books, top urdu novels, romance novel best novels in urdu, wasif ali wasif books pdf, urdu language books pdf, tahir javed mughal novels, urdu digest pdf, naseem hijazi books, best books to read in urdu, ashfaq ahmed books pdf, dastak novel, a hameed novels, psychology books in urdu, bano qudsia novels, pakeeza anchal romantic novel, pyasa sawan novel, free urdu novels, anchal digest novels, raqs bismil nove,l urdu poetry books pdf, new novel 2021 in urdu, urdu novels 2021, love story novel in urdu, urdu history books, raja gidh read online, jasoosi novel, urdu love novels list, pakistani novels in urdu, urdu historical novels, romance novel famous urdu novels list, romance novel urdu novels list urdu poetry, urdu shayari, sad poetry in urdu love poetry in urdu jaun elia allama iqbal poetry poetry in urdu 2 lines urdu shayri sad poetry in urdu 2 lines ahmad faraz ghalib shayari attitude poetry in urdu sad quotes in urdu funny poetry in urdu romantic poetry in urdu allama iqbal shayari best poetry in urdu bewafa poetry sad shayari urdu islamic poetry in urdu barish poetry poetry in urdu attitude ghalib poetry allama iqbal poetry in urdu attitude quotes in urdu poetry in urdu text deep poetry in urdu sad poetry in urdu text love shayari urdu ghazal in urdu urdu poetry in urdu text mirza ghalib shayari love poetry in urdu romantic urdu shayari on life rekhta shayari jaun elia poetry iqbal shayari deep lines in urdu sad love poetry in urdu urdu poetry sms best shayari in urdu death poetry in urdu funny shayari in urdu dosti poetry in urdu father quotes in urdu birthday poetry in urdu poetry status eid poetry Hajoom e tanhai poetry, Vaiza zaidi poetry, jaun elia shayari, urdu poetry text copy, attitude poetry in urdu 2 lines text, urdu shayari in english, shero shayari urdu, munafiq poetry, mirza ghalib poetry, romantic shayari in urdu, allama iqbal ki shayari, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, poetry in urdu 2 lines attitude, john elia sad poetry, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, john elia shayari, 2 line urdu poetry copy paste, dukhi poetry, heart touching quotes in urdu, mohsin naqvi poetry, beautiful poetry in urdu, udas poetry, friendship poetry in urdu, muhabbat poetry, urdu sher, one line quotes in urdu, dosti shayari urdu, sad poetry status, narazgi poetry, judai poetry, ghalib shayari in urdu, faiz ahmad faiz shayari, barish poetry in urdu, urdu one line caption copy paste, wasi shah poetry, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, urdu poetry status, islamic poetry in urdu 2 lines, jon elia poetry, funny poetry in urdu for friends, attitude shayari in urdu, allama iqbal poetry in urdu for students, Zawwar haider poetry, mohabbat shayari urdu, jaun elia sad poetry, sad poetry sms, urdu poetry written, urdu novels,urdu novels, urdu poetry, urdu afsanay, urdu statuses, urdu shayari, sad poetry in urdu, love poetry in urdu, poetry in urdu 2 lines, urdu shayri, sad poetry in urdu 2 lines, ahmad faraz, romantic poetry in urdu, best poetry in urdu, bewafa poetry, sad shayari urdu, barish poetry, poetry in urdu text, deep poetry in urdu, sad poetry in urdu text, love shayari urdu, ghazal in urdu, urdu poetry in urdu text, love poetry in urdu romantic, urdu shayari on life, deep lines in urdu, sad love poetry in urdu, urdu poetry sms, best shayari in urdu, very sad poetry in urdu images, novels in urdu pdf, urdu books, bewafa poetry in urdu, best urdu novels, urdu poetry text copy, urdu shayari in english, shero shayari urdu, romantic shayari in urdu, heart touching poetry in urdu 2 lines sms, sad poetry sms in urdu 2 lines text messages, 2 line urdu poetry copy paste, famous urdu novels, beautiful poetry in urdu, udas poetry, muhabbat poetry, urdu sher, barish poetry in urdu, most romantic love poetry in urdu, khamoshi poetry, love poetry in urdu text, sad poetry sms in urdu 2 lines, sad poetry in urdu 2 lines about life, ahmed faraz poetry, mohabbat shayari urdu, sad poetry sms, urdu poetry written, love poetry in urdu romantic 2 line, attitude poetry in urdu text, heart touching poetry in urdu, sad ghazal in urdu, 2 line urdu poetry romantic sms, ahmad faraz poetry, poetry about life in urdu, urdu words for poetry, urdu poetry copy paste, urdu poetry in english, ahmad faraz shayari, bewafa shayari urdu, love poetry in urdu 2 lines, urdu ghazal poetry, poetry in urdu 2 lines deep sad lines in urdu, faraz shayari, urdu words for shayari, urdu sad poetry sms in urdu writing, dard poetry, happy poetry in urdu, urdu love poetry for her, faraz poetry, ali zaryoun shayari, shayari in urdu words, very sad shayari urdu, ishq poetry in urdu, urdu shayari images, 2 lines poetry, new poetry in urdu, urdu poetry in hindi, urdu poetry lines, one line poetry in urdu, poetry on beauty in urdu, one line poetry in urdu text, muskurahat poetry, sad poetry in urdu 2 lines without images, mohabbat poetry in urdu, nice poetry in urdu, best love poetry in urdu, muhabbat poetry in urdu, best lines in urdu, deep love poetry in urdu, beautiful shayari in urdu, urdu sad poetry sms, novel urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books, islamic books urdu, udas naslain pdf, urdu poetry books, urdu novel online reading, jasoosi digest, novel novels in urdu, urdu audio books, top urdu novels, romance novel best novels in urdu, wasif ali wasif books pdf, urdu language books pdf, tahir javed mughal novels, urdu digest pdf, naseem hijazi books, best books to read in urdu, ashfaq ahmed books pdf, dastak novel, a hameed novels, psychology books in urdu, bano qudsia novels, pakeeza anchal romantic novel, pyasa sawan novel, free urdu novels, anchal digest novels, raqs bismil nove,l urdu poetry books pdf, new novel 2021 in urdu, urdu novels 2021, love story novel in urdu, urdu history books, raja gidh read online, jasoosi novel, urdu love novels list, pakistani novels in urdu, urdu historical novels, romance novel famous urdu novels list, romance novel urdu novels list kdrama urdu, Desi kimchi, Desi kdrama fans, Urdu kdrama, Urdu web, Kdrama maza, Korean masti, korean dramas, kdrama, k drama, best korean drama, korean drama 2020, korean drama 2021, kdrama 2021 best kdrama, korean series, kdramas to watch, korean drama website, kdrama website, netflix korean drama, asian drama, best korean drama 2020, top korean drama, new korean drama 2021, best korean drama 2021, best kdrama 2020, best kdrama to watch, best korean drama on netflix, best korean series, best kdrama 2021, kdrama netflix, k drama urdu, www korean drama, watch korean drama, best k dramas on netflix, netflix korean drama 2021, best kdrama on netflix, new korean drama, www kdrama, k drama 2021, korean series on netflix, netflix korean drama 2020, top 10 korean drama, top kdrama, top korean drama 2020, k dramas to watch, 2021 korean drama, korean drama series, best korean series on netflix, new kdrama 2021, 2020 kdrama, 2020 korean drama, 2021 kdrama, k drama netflix, best k drama to watch, romance kdrama, k drama 2020, new korean drama 2020, latest korean drama 2021, korean dramas to watch, top korean drama 2021, watch kdrama, korean tv series, highest rated korean drama, korean drama in hindi, korean drama shows, top kdrama 2021, new kdrama, watch asian drama, popular korean drama, kdrama online, latest korean drama, korean drama online, korean netflix series, korean tv shows, korean shows, must watch kdrama, korean shows on netflix, famous korean dramas, romance korean drama, top kdrama 2020, most popular korean drama, korean series 2021, must watch korean drama, new kdrama 2020, best romance kdrama, popular kdrama, good kdramas, korean drama in hindi dubbed, korean series 2020, kdramas 2020, best korean shows on netflix, korean drama 2021 netflix, top k dramas, top rated korean drama, watch kdrama online, korean romance, top korean series, netflix k drama, good korean dramas, latest kdrama 2021, most watched korean drama, top 10 kdrama, famous kdrama, all in korean drama, best k drama 2020, urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books, pakeeza anchal, l online reading, pakeeza anchal novel online reading, urdu novel bank, urdu novel platform, yaar zinda sohbat baqi, desi story urdu,
    /urdu web travel novel fhttps://urduz.com/desi-kimchi-episode-1/eaturing seoul korea
  • Ghar wali

    بھاری سامان اٹھاتا مزدور ہانپتا ہوا سیدھا ہوا مجھے سے بولا۔۔
    باجی اس چوکی کو صاف کر لیں بہت جالے ہیں۔۔
    اب میں اس پھیلے سامان کے ساتھ جھاڑن کہاں ڈھونڈتی۔۔
    آپ اسکو ایسے ہی لے جاکر رکھ دیں میں خود صاف کر لوں گی۔۔
    اس نے چپ ہو کر اٹھالیا۔۔ آگے بڑھ کر اسے فرش پر کوئی پرانا کپڑا ملا اس سے اٹھا کر جھاڑ نا شروع کر دیا۔۔
    میں نے کہا بھی رہنے دیں۔۔
    آپکا کام ہی آسان کر رہا ہوں۔۔ اس نے کہا
    میں چپ ہو گئ۔۔
    اس نے جھاڑا اور دوبارہ چوکی اٹھاتے ہوئے جانے کیا خیال آیا ہنس کر بولا۔۔
    باجی آج تک اپنی گھر والی کیلیئے اتنا وزن نہیں اٹھایا ۔۔

  • Dewaar e Shehr ka noha urdu short afsana

    ۔۔۔
    اسلام و علیکم۔
    (روتے ہوئے)۔
    آج میں آپکو اپنی کہانی سنانا چاہتی ہوں۔ ذیادہ وقت نہیں لوں گی بس اپنی تباہی کی داستان سنانا ہے مجھے۔ آج میں ڈھے گئ ہوں
    مٹی کا ڈھیر
    بن گئ ہوں
    میں آج خود اپنے بوجھ سے گر کر ٹوٹ گئ ہوں۔
    مجھے آج احساس ہوا ہے کہ میں تو بالکل بے کار سی ہوں۔ مجھ سے ہر لمحہ لپٹی رہنے والی میری اولاد جیسی بیل آج میرے گرنے سے مجھ سے ہی دب گئ۔ صرف وہ جانتی تھی کہ میں کتنی کھوکھلی ہوتی جا رہی ہوں ۔۔ اس نے کبھی کسی کو نہ بتایا میری خستہ حالی کے بارے میں۔ اسکی اپنی جان کو خطرہ تھا مگر پھر بھی مجھے اس نے تنہا نہ چھوڑا۔۔او رآج وہ میرے بوجھ سے۔۔
    (آنسو)
    آپ سوچتےہوں گے ایک بے پھول کی معمولی بیل کے ختم ہو جانے پر رو رہی ہے کیسی پاگل ہے۔ صرف بیل تو نہیں
    مجھ سے اکثر کتے بلیاں لپٹ جاتے تھے۔ میرے سائے میں پناہ لیا کرتے تھے کرلاتے تھے۔ ان سب کا درد مجھ میں رچ بس جاتا تھا مگر میں ایک لفظ نہ بولی۔
    آتے جاتے لوگ مجھ پر کوڑا کرکٹ ڈال جاتے تھے۔ ادھ کھایا برگر ، جوس کے خالی ڈبے گلے سڑے پھل۔ میں نے کبھی شکایت نہ کی بلکہ ہمیشہ احسان مانا کہ کوڑا چننے والے بچے ، مزدور بچے سارابھوکے دن پھرتے پھراتے اس میں سے ہی کچھ نہ کچھ چن کر پیٹ بھر لیتے تھے۔
    میں ان بچوں کو خوش دیکھتی تھی تو یہ کوڑا کرکٹ مجھے دل سے عزیز ہوجاتا تھا۔
    اس دن۔۔ البتہ مجھے اپنے خاموش تماشائی بنے سب دیکھتے ہوئے اپنے وجود سے شرم آئی۔
    وہ ایک مجبور سی معصوم سی چھوٹی سی بچی مجھ سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ وہ کوئی بھکاری نہیں تھی سڑک پر پھول بیچ کر اپنے ننھے ہاتھوں سے بھی رزق حلال کمانے کی کوشش کرتی تھی کہ اس شقی نے ۔۔۔
    ( ہچکیاں آنسو) آنسو پونچھ کر
    زرا رحم نہیں کیا تھا اس بچی پر۔
    میرا دل پتھر کا تھا مگر یقین جانیئے اس دن ٹوٹ گیا تھا۔۔ او رصرف یہی نہیں ۔۔
    (جزبات )
    اس کے کچھ دن بعد کا واقعہ ہے
    وہ نوجوان لڑکا یونہی جا رہا تھا اپنے راستے کہ دو لوگ موٹر سائکل پر آئے اسکی کنپٹی پرپستول رکھ دیا ۔ جانے کن جتنوں سے پیسہ پیسہ جوڑ کر موبائل لیا ہوگا کہ موبائل نہ دیتے ہوئے مزاحمت کر گیا ان ظالموں نے میری آنکھوں کے سامنے اسکوگولی ماردی ۔۔
    (آنسو ہچکیاں)
    اسکے لہو کے چھینٹے آئےتھے مجھ پر کیا بتائوں مجھ میں قیامت سی ایک مچی تھی۔۔
    اسی پر بس نہیں نفرت نعرے تفرقے تم میں سے کسی کو احساس بھی نہ ہوا
    میں ڈھے رہی تھی ان باتوں سے مجھ پر جو تم لکھ
    جاتے تھے۔
    بیس سال فقط بیس سال عمر تھی میری اور میں یوں ٹوٹ کر بکھر چکی ہوں گر گئ ہوں۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ میں
    اب گر گئی ہوں توتم ہی لوگ حیران ہوتے ہو کہ ایسا کیسے ہوگیا میری یوں ٹوٹ بکھرنے کی کیا وجہ رہی؟ میری حالت تو اچھی تھی۔۔
    مگر میں آج گری نہیں ہوں۔میں آج ختم ہوگئ ہوں۔ تم سب لوگوں کی وجہ سے مگر تم میں سے کسی کو احساس نہیں ہوا۔
    مگر جو کچھ مجھ پر بیتا ہے وہ تم سب کا کیا ہے۔ اب بھی باز آجائو۔ اب بھی۔۔۔ خدارا ۔
    اپنے لیئے ایسے کیسے جی پائو گے ۔؟ اپنی نسلوں کو کیا دے جائو گے؟
    میرا انجام دیکھو عبرت پکڑو ۔ مگر نہیں تم سب کو مجھ سے میری حالت سے کیا غرض ۔۔۔
    میں تو بس تمہارے شہر کی ایک۔۔۔
    ڈھے جانے والی دیوارہوں ۔

    Dewaar E Shehr ka Noha
  • Ayena khanay main short urdu mukalmay

    گھمنڈی کی باتیں 

    آج کے ہمارے مہمان ہیں 

    گھمنڈی امیر۔۔ 

    آئیے ان سے انکے بارے میں جانتے ہیں۔

    میرا نام امیر ہے۔ بے حد دولت مند گھرانے سے  ہوں۔ سب مجھے گھمنڈی

     کہتے ہیں۔ 

    سوال : کیا کرتے ہیں 

    جواب:( استہزائیہ ہنستے ہوئے) میں سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوا تھا۔ 

    میرا کام صرف عیاشی کرنا ہے۔ وہی کرتا ہوں۔

    سوال: اپنی ایک خوبی ایک خامی بتائیں

    جواب: خامی آپکو لگتا ہے مجھ میں کوئی خامی ہوگئ۔ 

    او رخوبی کیا کیا بتائوں۔ ہینڈسم ہوں ہائیٹ اچھی ہے پیسے والا ہوں ہر چیز ہمیشہ اسٹینڈرڈ کی ہوتی ہے میرے پاس۔۔ 

    سوال:بچپن کا کوئی واقعہ جو بھول نہ پائے ؟

    ہاں ایک بھکاری کو تھپڑ مارا تھا ( ہاہا) بھکاری نے بابا کے پاس جا کر شکایت کی تو انہوں نے بھی جوابا اسے اور مارا( ہا ہا ہا)

    بابا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ 

     ایک بار اپنے والد کے ایک کارخانے میں انکے ساتھ گیا تھا۔ کھیلتے کھیلتے میں نے اخراجی پائپ کے پاس جا کر لائٹر جلا دیا تھا۔ آگ لگ گئ مگر بس دو تین ہی مزدو رجلے تھے۔باقی ملازمین ابا نے فارغ کر دیئے تھےکہ انہوں نے میرا خیال کیوں نہیں رکھا۔ میں جل جاتا تو۔ 

    سوال:زندگی میں کیا نہیں ملا۔ 

    جواب: سوچنا پڑے گا۔ ( ذہن پر ذور ڈالتے ہوئے

    (

    ہاں غم۔۔۔

    سوال: سونے سے پہلے کیا سوچتے ہیں؟ 

    سونے سے پہلے سوچا جاتا ہے ؟( حیران ہوتے ہوئے) غریب سوچتے ہیں۔ ہم تو بستر پر جاتے ہیں سکون سے اے سی آن کرکے سو جاتے ہیں

    سوال: کیا چیز مزاج کو ناگوار گزرتی ہے؟

    جواب:گندے میلے لوگ۔خاص کر کبھئ بابا کے دفتر جائوں تو ۔ جانے کیوں بڑی گاڑی دیکھتے ہی منڈلانے 

    لگتے ہیں۔ہاتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں یاک

    ( گھن کھاتے ہوئے)

    سوال :کوئی سستا تحفہ دے دے تو کیا کرتے ہیں؟ 

    جواب : سستا؟ہاں  پانچ چھے ہزار والا پرفیوم دیا تھا ایک دوست نے میں نے نوکر کو دے دیا تھا۔ اب مجھے تحفہ دو تو میرے اسٹینڈرڈ کا تحفہ دینا چاہیئے نا۔میں تو امپورٹڈ چیزیں استعمال کرتا ہوں ۔۔اس دوست سے دوستی ختم کرلی ہے میں نے۔

    سوال :غریب لوگوں کو کیسے دیکھتے ہیں؟ 

    جواب : حقارت سے۔( منہ بنا کر ) او رکیسے دیکھا جا 

     سکتا۔جانے غریب لوگ ہیں کیوں اتنے دنیا میں ایویں غربت پھیلا رکھی ہے۔

    سوال:کبھئ کسی لڑکی سے پسندیدگئ کا اظہار  کیا؟

    جواب:مجھے کیا ضرورت ہے۔پیسے والا ہوں ایک سے ایک لڑکی ویسے ہی میرے آگے پیچھے رہتی ہے

    سوال: کیا چیز بور کرتی ہے؟ 

    جواب: ابا کی کاروباری ملاقاتوں میں۔ یہ جو دو ٹکے کے سیکٹری پی اے ہوتے انکی خوشامدی باتیں برداشت نہیں ہوتیں

    سوال: آپ اتنے خوش نصیب ہیں لوگ محبت سے ملتے ہیں کیا خیال آتا ہے ذہن میں؟

    جواب:سب میرے پیسے کی وجہ سے انسیت جتا رہے ہیں

    سوال :تنہائی میں کیا خیال آتا ہے؟ 

    جواب : اب کس ملک کی سیر کو جائوں؟

    سوال : ہمارے اس سیگمنٹ میں آکر کیسا لگا؟ 

    جواب : گھٹیا پروڈکشن ہے سب چیزیں سستی سی ہیں کیمرہ لائٹنگ سب گھٹیا ہے۔ اپنے سیٹ پر تھوڑے پیسے خرچ کرلیں۔۔

    My name is Rich. I am wealthy. Everyone calls me arrogant.
    Question: What do you do?
    Answer: I was born with a golden spoon in my mouth. My only job is to indulge in luxury. That’s what I do.
    Question: Any memories from childhood?
    Yes, once I went with my father to one of his factories. While playing, I accidentally lit a lighter near a gas pipe. A fire broke out, but only a few workers were there. The rest of the employees had already left, without caring about my well-being. If I had burned, it wouldn’t have mattered to them.
    Question: What did you not find in life?
    Answer: I have to think about that. (Putting emphasis on thinking)
    Question: What do you think before sleeping?
    Before sleeping, one does think, right? The poor think. We just lie down on our bed, turn on the AC, and fall asleep peacefully.
    Question: What annoys your mood?
    Answer: Dirty and low-class people. Especially when I go to my father’s office, they start staring as soon as they see a luxury car. They try to shake hands or something.
    Question: What do you do if someone gives you a cheap gift?
    Answer: Cheap? Yes, once a friend gave me a perfume worth five to six thousand. I gave it to my servant. Now, if someone gives me a gift, they should give me something of my standard, right?
    Question: How do you see poor people?
    Answer: With contempt. (With a disdainful expression) Oh, how can you even look at them? I wonder why they spread poverty in this world for no reason.
    Question: Have you ever expressed liking for a girl?
    Answer: What do I need that for? I have money. Girls are always behind me for no reason.
    Question: What makes you bored?
    Answer: My father’s business meetings. I can’t tolerate the greetings and conversations of these two-penny secretaries.
    Question: You are so fortunate; people meet you with love. What crosses your mind?
    Answer: Everyone sticks around me because of my money; they pretend to be friendly.
    Question: What comes to your mind when you’re alone?
    Answer: Which country should I visit now?
    Question: How did you find our segment?
    Answer: It’s a lousy production. Everything is cheap here, the camera, the lighting, everything is lousy. Spend some money on your set.

  • Ejaad a short urdu afsana

    ایجاد

    آج مجھے تقریباً دس سال بعد اسکی صورت نظر آئ تھی
    میں اشیاء خوردونوش کے ایک بڑے کریانے سے خریداری کر رہا تھاجب مجھے وہ دکھائی دیا
    سرف کا لفافہ اٹھاتا ہدایت اللہ
    میرا بچپن کا دوست …
    لمبی داڑھی سفید بال پیشانی پر سجدے کا نشان چہرے پر بڑھاپے کی جھریاں سجی تھیں کندھے تھوڑا سا جھک گیے تھے مگر چہرے پر ووہی ملاحت تھی میں اسے دیکھ کر بے حد خوش ہو گیا تھا
    سو پر جوش انداز میں اسکی جانب بڑھا
    ارے ہدایت اللہ کیسے ہو ؟
    وہ مجھے دیکھ کر چونکا پھر بے حد خوش دلی سے میری جانب بڑھا
    اسلام و علیکم کیا حال ہیں ؟
    ہم بغل گیر ہوئے
    وعلیکم السلام .. میں ٹھیک ٹھاک تم نے اپنا کیا حلیہ بنا رکھا ہے بالکل بوڑھے لگ رہے ہو ؟
    میں کہے بغیر نہ رہ سکا
    اس نے ہنس کر مجھے دیکھا
    میں حسب عادت پتلون قمیض میں ملبوس تھا بال اسکی طرح سفید نہیں چھوڑے تھے

    با قاعدگی سے رنگتا ہوں داڑھی ہمیشہ سے منڈوا رکھی تھی اور اب تو جدید دور سے ہم آہنگ ہو کرروز ورزش کی بھی عادت ڈال رکھی تھی سو پیٹ کمر سے لگا تھا اسکی طرح توند نہیں تھی میری سو میں اس وقت اسکے ساتھ کھڑا اس سے کہیں کم عمر دکھائی دیتا تھا
    بس اب تو بڑھاپا ہی آیئگا جوانی تو کب کی گزر چکی ہے
    اس نے ہنس کر بات ٹالی
    ایسا بھی نہیں … مجھے اختلاف تھا
    تم سناؤ فراز بیٹا کیا کر رہا ہے ؟آخری بار تو اسکی اور حارث کے کالج ختم ہونے کی تقریب میں ملاقات ہوئی تھی ہماری ؟
    وہ میری عادت سے واقف تھا ابھی میں نے اسکو واعظ دینا تھا کہ انسان کو اپنا خیال رکھنا چاہیے بڑھاپا ایک ذہنی کیفیت ہے اسے خود پر طاری کر لینا نری حماقت ہے وغیرہ وغیرہ سو فورا بات بدل دی
    ہاں دس سال ہو گیے … میں نے ٹھنڈی سانس بھری
    بس اسکے بعد اسے وظیفہ مل گیا تھا امریکا چلا گیا تھا آجکل ناسا میں نوکری کر رہا نجانے کتنی نیی نیی تحقیقات کا حصہ ہے اب تک کئی نئی سائنسی اصطلاحات کا اضافہ کر چکا ہے طبیعات میں ابھی کچھ عرصۂ پہلے اسے اسکی خدمات کے اعتراف میں امریکی دانش کدہ سے سند بھی ملی ہے ماشااللہ سے
    کہتا ہے وہاں آجائیں اسکے ساتھ رہیں مگر ہم دونوں میاں بیوی تیار نہیں ہوتے یہاں بیٹیاں ہیں ہاں بس سال چھے مہینے بعد ہم مل آتے ہیں
    میں نے سینہ پھلا کر بتایا تھا
    ماشااللہ … الله اور کامیابیاں عطا کرے والدین کو ہمیشہ اسکی جانب سے اچھی نوید ملے
    وہ ہمیشہ کی طرح خوش ہوا تھا سن کر وہ بھی فراز کو اپنے بیٹے کی طرح ہی چاہتا تھا ..
    تم سناؤحارث کیسا ہے وہ کیا کر رہا ہے آجکل؟
    میں نے اسکے بیٹے کا احوال دریافت کیا تو اسکی مسکراہٹ پھیکی سی پڑ گئی
    اس نے تو مدرسہ سے عالم بننے کے نصاب میں داخلہ لیا تھا اب تو عالم بن چکا ہے اپنا مدرسہ چلا رہا ہے اب تو فتوے بھی دیتا ہےکچھ عرصے سے اسکے اور مرے درمیان فقہی اختلاف ہو گیا ہے کافی دن سے ملاقات اس سے میری بھی نہیں ہی ہے کہتا ہے آپ کے نظریات دین کے صحیح عکاس نہیں ہیں تبدیل کیجیے کچھ اسکی دینی اصطلاحات سے مجھے شدید اختلاف ہے بس… کچھ ایسے ہی معاملات ہیں
    وہ ہنس دیا تھا

    Kesa laga aapko yeh afsana? Rate us below

    Rating
  • Din ki neeli chiryaدن کی نیلی چڑیا

    ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ کیس نمبر 400

    ہجوم تنہائی ذہنی بحالی مطب۔ 

    مسیحامحترمہ ہجوم تنہائی۔۔

    نفسیات دان۔ 

    عالمہ پی ایچ ڈی زندگی کے تجربات

    دن کی نیلی چڑیا

    اس نے نگاہ اٹھا کر غور سے اپنے مقابل بیٹھے مریض کی شکل دیکھی۔ مکمل سفید کالر جاب کرنے والا حلیہ۔ گہرے نیلے تھری پیس سوٹ میں سرخ ٹائی سفید شرٹ سلیقے سے سنورے بال کلین شیو کھلتے ہوئے رنگ کا وہ خوبصورت نوجوان تھا۔

    نام ۔۔ ؟ اس نے سوالیہ انداز میں ابرو اچکائی

    اگلا سوچ میں پڑ گیا تھا سوال سن کر۔ تفکر کی لکیر پیشانی پر گہری ہونے لگی تو اس نے گہری سانس لیکر سوال بدل دیا۔

    عمر؟ 

    تین دہائیاں دیکھ چکا ہوں۔ 

    اس نے جیسے تھک کر اعتراف کیا

    تیس سال۔ سر جھکائے ہجوم تنہائی نے فارم پر عمر لکھ ڈالی

    الجھن؟ 

    پھر سوال کیا۔۔ اس بار نوارد کے چہرے پر بے چینئ اور گھبراہٹ سی چھا گئ۔ پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ اس نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ اپنی ٹائی ڈھیلی کرکے گہری سانس لی ۔ مگر پرسکون نہ ہو پایا۔ آگے ہو کر دونوں ہاتھ میز پر ٹکا کر رازدارانہ انداز میں ادھر ادھر دیکھ کر سرگوشی میں بولا۔

    مجھے یہ خوف ہے کہ میں ایک دن اپنے دفتر میں اکیلا بیٹھا ہوں گا تو نیلے پروں والی چڑیا میرے دفتر کی گلاس ونڈو سے آئے گی اور مجھے چونچ میں دبا کر لے جائے گی۔ 

    اس کی الجھن پر ہجوم تنہائی کی آنکھوں میں الجھن تیر گئ

    آپکا دفتر کیا اونچے کسی فلور پر ہے؟ 

    اسکے سوال پر نوارد کے چہرے پر مایوسی چھا گئ

    گرائونڈ فلور پر ہے۔ پر روز میں دیکھتا ہوں میرے دفتر کے احاطے میں چڑیاں کوئے سب آتے ہیں انہوں نے آگے ایک باغیچہ بنا رکھا ہے جس کی دیکھ بھال کیلئے مالی بھی آتا ہے۔میں نے امر بیل لا کر ڈالی سب پودے جل گئے مگر مالی نے پھر باغیچہ ہرا بھرا کر ڈالا۔ اب تو چڑیوں کو دانہ بھی ڈالتا ہے۔ تتلیاں جگنو سب اڑتے پھرتے۔ مگر وہ نیلی چڑیا۔ وہ بس پھدکتی رہتی ہے وہاں اڑ کر کہیں جاتی بھی نہیں ہے۔ 

    وہ جیسے پھٹ پڑا تھا۔ ہجوم غور سے اسکی شکل دیکھتی رہی

    چڑیا جب اڑ نہیں سکتی تو ڈر کیسا؟ وہ چونچ میں آپکو دبا بھی لے تو بھی۔۔۔ 

    اس نے پیشہ ورانہ انداز میں اسکو سمجھا بجھا کر اسکی الجھن دور کرنا چاہی۔ 

    وہ رو پڑا۔ ہجوم کو خوف سا محسوس ہوا۔ اسکی آنکھوں سے آنسوئوں کی دھاریں نکل رہی تھیں۔ اسی طرح روتا رہا تو کہیں اسکے دفتر میں سیلاب نہ آجائے۔ اس نے گھبرا کر ٹشو باکس اسکی جانب بڑھایا

    آپ روئیں نہیں۔مجھے کھل کر بتائیں۔۔۔۔ جو چڑیا اڑ نہیں سکتی وہ آپکو کیوں لگتا ہے کہ کسی دن آپکو اکیلا پا کر چونچ میں دبا کر اڑ جائے گی؟ 

    یہ اکیلے پن والی بات کیسے آپکو پتہ لگی؟ 

    وہ رونا بھول کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ہجوم گڑ بڑا سی گئ

    میرا مطلب اگر کوئی آپکے آس پاس ساتھ ہوگا تو بچانے کی کوشش کرے گا؟ یقینا ننھی چڑیا مزاحمت کا سامنا نہیں کر پائے گئ نا۔ تو یقینا وہ اکیلے میں ہی آپ پر حملہ کرے گی۔۔ 

    اسکی وضاحت پر نوارد کے تنے تنے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے

    ہاں۔ یہ بات مجھے بھئ سمجھ آتی ہے۔ مگر اور 

    کوئی نہیں سمجھتا میری بات۔ وہ اڑتی اسلیئے نہیں ہے کسی دن مجھ پر حملہ کرکے مجھے چونچ میں دبا کر ایک ہی دفعہ اڑ جائے گی۔ میں اسی لیئے اکیلا نہیں رہتا۔ کسی نہ کسی کے ساتھ ہی دفتر سے نکلتا ہوں۔ صبح آتے ہوئے بالکل لمبا راستہ اختیار کرکے اپنے ایک دوست کو مفت اپنے ساتھ گاڑی پر لے کر آتا ہوں۔۔ وہ ہنستا ہے مجھ پر مگر جب اس نیلی چڑیا کے پاس سے گزرتا ہے تو میرا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ 

    وہ بھی یہی سمجھتا ہے نا کہ چڑیا مجھے لے اڑے گی جبھی ایسا کرتا ہے نا؟ 

    آپکا دوست بھی چڑیا سے ڈرتا ہے؟ اسکو حیرانگی ہوئی

     یک نہ شد دو شد۔

    نہیں۔ اسے چڑیا سے ڈر نہیں لگتا۔ اسے مجھ سے ڈر لگتا ہے۔ 

    اس نے سر جھکا لیا۔۔ 

    آپ سے کیوں ڈرتا ہے وہ؟ ہجوم کو اسکا معاملہ الجھا الجھا سا لگا تھا

    وہ ڈرتا ہے کہ کہیں میں ڈر ڈر کر مر نہ جائوں۔ وہ میرا ہاتھ تھامتا ہے تاکہ چڑیا کو لگے میں اکیلا نہیں ہوں۔

    اس کی بات پر ہجوم نے پرسوچ انداز میں سر ہلایا۔ 

    ایسا کریں آپ اپنے دوست کو بھی لے آئیں اگلی دفعہ۔ 

    ہجوم کی بات پر وہ اچنبھے سے اسکی شکل دیکھنے لگا۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسکا دوست اسکے مطالبے پر حیران ہوا۔وہ دونوں صبح صبح کے وقت اکٹھے دفتر آرہے تھے۔ جب اس نے موڑ کاٹ کر دفتر کی ذیلی سڑک کی جانب گاڑی موڑی تو اسکا دوست دور سے دفتر کے احاطے میں پھدکتی نیلی چڑیا کو دیکھ کر الجھن بھرے انداز میں اس سے پوچھنے لگا

    ذہنی الجھن میں مبتلا تم ہو اور نفسیات دان کے پاس میں جائوں کیوں بھلا ؟ 

    چلو تو سہی۔ مجھے لگتا ہے نفسیات دان سمجھ گئی ہے ہمارا معاملہ۔ اس نے گاڑی پارکنگ میں لگا دی تھی۔ گاڑی بند کرکے وہ اتر کر لاک کرنے لگا جب جارحانہ انداز میں اسکا دوست پسنجر سیٹ سے اتر کر اسکی جانب آیا اور غصے سے کہنےلگا

    ایک منٹ۔ ایک بات صاف ہے یہ مسلئہ معاملہ ذہنی الجھن تمہاری ہے میرا کوئی لینا دینا نہیں اس سے۔ جائو اپنی بیمار سوچ کا علاج کرائو سمجھے تم۔ پہلے ہی تمہارے خوف کو دور کرنے کی خاطر جو میں تمہارا ہاتھ پکڑ لیتا ہوں نیلی چڑیا کے سامنے سے گزرتے اس پر لوگ مجھ پر ہنستے ہیں مزاق اڑاتے ہیں۔ خود تو تم پاگل ہو رہے ہو مجھے بھی سب پر پاگل ثابت کرنے لگے ہو۔ وہ بات مکمل کرکے غصے سے مڑ کر تیز قدم اٹھاتا اندر جانے لگا۔ 

    رکو بات سنو۔ اسے اندر کی جانب بڑھتے دیکھ کر اسکی جیسے جان نکلنے کو آگئ۔ اس وقت صبح صبح کا وقت تھا احاطے میں رش بھئ نہ تھا اسے اکیلا چھوڑ کر جانے والا دوست کیا نہیں جانتا تھا کہ اسے اکیلا پا کر نیلی چڑیا اسے لے اڑے گی؟ 

    بات سنو۔وہ پکارتا اسکی جانب لپکا۔ مگر اسکا دوست رکا نہیں۔ تیز تیز قدم اٹھاتا اندر دفتر کی جانب بڑھ گیا۔ 

    نیلی چڑیا پھدکتی ایکدم ان دونوں کے بیچ میں آئی تھی۔ اسکے خوف کے مارے قدم جم گئے تھے۔ چڑیا نے ہوا میں جست لگائی اور سیدھا اسکی کھوپڑی پر آن بیٹھی۔ 

    اسکا دھڑ دھڑ کرتادل سکڑ کر جیسے لمحہ بھر کیلئے رک ہی گیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسے آج کلینک  میں آنے میں دیر ہوگئ تھی۔ اسکی پہلی اپائنٹمنٹ کا وقت ہو گیا تھا ۔ وہ تیزی سے اندر آئی تھی جب ریسیپشنسٹ نے اسے عجلت میں آتے دیکھ کر جلدی سے یاد دہانی کرائی۔ 

    وہ چڑیا والا مریض اندر بیٹھا انتظار کر رہا ہے اور آج تو وہ اپنے ساتھ چڑ۔۔۔ 

    سر ہلاتے وہ اسکی بات سنے بنا سیدھا اپنے دفتر کا گلاس ڈور کھول کر اندر گھس گئ۔ اپنا گرم اوور کوٹ اتار کر ایک جانب اسٹینڈ پر ٹکاتے وہ معزرت خواہانہ انداز میں کہتی اپنی کرسی پر عجلت میں آن بیٹھی

    معزرت معزرت مجھے دیر ہوگئ در اصل راستےمیں مجھے۔ یہ۔۔ یہ کیا۔

    اپنا رجسٹر دراز سے نکال کر میز پر رکھتے اس نے نگاہ اٹھائی تو میز پر پھدکتی اس نیلی چڑیا کو دیکھ کر چونک سی گئ۔ 

    مریض اسکے چونکنے پر ہنس دیا۔

    یہ ۔۔ یہ وہی چڑیاہے۔ اسے حیرت ہوئی  گہرے نیلے پروں والی وہ چڑیا تھوڑی مختلف تھی۔ اسکے پر چھوٹے پنجے بڑے تھے۔

    اس نے انگلی سے احتیاط سے اس چڑیا کو چھونا چاہا مگر وہ چونچ مار کر دور ہو گئ۔ 

    ہاں یہ وہی چڑیا ہے۔ مریض نے احتیاط سے اسے اٹھالیا۔ اسکی دونوں ہتھیلیوں میں چڑیا بڑے اطمینان سے پر سمیٹ کر بیٹھ گئ تھئ۔ 

    اس دن میرا دوست مجھے اکیلا چھوڑ گیا تھا احاطے میں تب یہ چڑیا مجھے اکیلا پا کر میرے سامنے آگئ۔ اس نے جست لگا کر میرے سر پر آن کر میرے بالوں کو اپنی چونچ میں دبا کر اڑنا چاہا تب مجھ پر انکشا ف ہوا اسکے تو پنجے بہت بڑے ہیں اسکے پر اسکے پنجوں کا بوجھ ہی نہیں اٹھا سکتے جبھی تو یہ اڑ نہیں پاتی۔ 

    وہ ہنس دیا۔

    میں کتنا پاگل تھا اس چڑیا سے ڈرتا رہا اب اسکو میں نے پال لیا ہے۔ یہ اکثر میرے سر پر آن بیٹھتی ہے اور۔ 

    یہ دیکھیں۔

    اس نے چڑیا کو اپنے سر پر بٹھا لیا۔ 

    ہجوم اسے چپ چاپ دیکھتی رہی۔چڑیا نے طائرانہ جائزہ لیا اسکے دفتر کا۔ اسکے دفتر کی گلاس ونڈو کھلی تھی۔ ہوا سے پردہ پھڑپھڑا رہا تھا۔ اس نے جست لگائی اور سیدھا اس کھڑکی کی درز سے اڑ کر باہر نکل گئ۔ 

    رکو۔ ارے رکو سنو۔ 

    مریض اسکے پیچھے بد حواسوں کی طرح بھاگا تھا کھڑکی سے ٹکرا کر بمشکل رکا مگر طائر موقع پاتے ہی آسمان کی وسعتوں میں گم ہو چکا تھا۔ وہ وہیں کھڑکی سے لگ کر آنسوئوں سے رونے لگا۔ 

    دیکھیں پلیز مت روئیں۔ہجوم جو بھونچکا سی اسکا ردعمل دیکھ رہی تھی بے ساختہ اپنے دونوں پائوں کرسی پر اونچے کرکے اسے ٹوکنے لگی۔ 

    نیلئ چڑیا اڑ گئ۔ چلی گئ میری زندگی سے میں تو اب اس سے ڈرتا بھئ نہیں تھا۔ کیوں اڑ گئ۔ اسکے تو پائوں اتنے بڑے تھے۔ 

    وہ پردے سے الجھا بیٹھا بین کرتے ہوئے روئے جا رہا تھا۔

    مگر دیکھیں اسکے پائوں جتنے بھی بڑے تھے پر انکا بوجھ اٹھا سکتے تھے جبھی تو وہ اڑ گئ نا؟آپ مت روئیں دیکھیں سیلاب آجائے گا یہاں۔ 

    وہ اپنے دونوں پائوں اوپر کیئے پریشان ہو رہی تھی۔ 

    مریض کا رونا ختم نہیں ہو رہا تھا۔ 

    اس نے انٹرکام پر اپنی منتظم کو بلا ڈالا۔ وہ بھی ریسیپشن چھوڑ کر بھاگی آئی۔ 

    قنوطی یہ انکو باہر لے جائو پانی وانی پلائو یہ تو دفتر آنسوئوں سے بھر دیں گے۔ 

    ہجوم کے کہنے پر اس نے ٹھٹک کر اس روتے شخص کو دیکھا

    کیوں رو رہے ہیں یہ؟ وہ حیران ہو رہی تھی اتنا بھرپور جوان یوں بچوں کی طرح ایڑھیاں رگڑتا ذرا اچھا نہ لگ رہا تھا

    انکی نیلی چڑیا اڑ گئ ہے۔ ہجوم نے ناک چڑھا کر جواب دیا تووہ کھلکھلا دی

    اچھا وہ۔خیالی چڑیا۔ جتنی دیر آپ نہیں آئی تھیں یہ مستقل نیلی چڑیا کی فرضی کہانی سناتے رہے کہہ رہے تھے انکر سر پر بیٹھی ہے اسکے پائوں بڑے وہ اڑ نہیں سکتی پائوں بڑے ہونے کی وجہ سے

    قنوطی ہنس ہنس کر بتا رہی تھی ہجوم سے سخت چڑ کر گھورا

    بھاڑ میں ڈالو نیلی چڑیا کو اس بندے کو باہر لیکر جائو سار دفتر پانی پانی کر رہا ہے رو رو کے میرے دفتر میں سیلاب نہ آجائے

    ہجوم کے کہنے پر قنوطی نے ذرا دھیان سے اسکی شکل دیکھتے ہوئے مزاق کی رمق تلاشی مگر وہ مکمل سنجیدہ تھی۔ 

    قنوطی نے ٹھنڈی سانس بھری اور مریض کو اٹھانے لگی

    میری چڑیا اڑ گئ۔ 

    قنوطی کا سہارا لیکر اٹھتا دن بین کر رہا تھا

    چڑیا ہی تو تھی آسمان ہی اسکا اصل ٹھکانہ تھا جانے دیں۔ آپ کوئی اور فکر پال لیں۔قنوطی کی دلجوئی کا خاطر خواہ اثر ہوا وہ آنسو پونچھتے اٹھنے لگا۔ اسے سہارا لیکر باہر لے جاتے قنوطی نے مڑ کر دیکھا ہجوم ابھی بھی کرسی پر دونوں پائوں اوپر کیئے بیٹھی تھی کھڑکی کے پاس اسے اسکے آنسوئوں کا سیلاب نظر آرہا تھا ۔۔ 

    اس نے گہری سانس لی۔ اور سوچا۔۔

    ہجوم کو تنہائی میں آنسوئوں کے سیلاب ہی نظر آتے ہیں مگریہ بھی حقیقت ہے ان سیلابوں میں کہاں کوئی ڈوب پایا ہے۔۔۔۔۔۔خوامخواہ کا وہم پال رکھا ہے ہجوم نے۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔

    Alone? Join Hajoom

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟ آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ رودادپڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.Bookmark : urduz.com/

    kuch acha perhoSalam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy