Urdu afsanay urdu adab ka aham hisa hain is hisay main mukhtasir urdu afsanay kahanian paish ki gai hain ju pasand ayay usko apne dosto ahbab kay sath zarur share kijye
کیسی ہو؟ خوش ہو؟ میں جانتی ہوں تم خوش نہیں ہو مگر کیا تم جانتی ہو کہ دس سال بعد بھی تم یعنی میں خوش نہیں۔ کچھ نہیں بدلا سوائے تمہارے۔ کیسا تم میں اطمینان سا تھا بڑے سے بڑا دکھ سہہ جانے کا حوصلہ تھا تم میں۔ تم اتنی مطمئن تھیں کہ تم نے مانگا ہی نہیں کچھ اپنے لیئے۔ یہ بھول گئیں کہ تمہیں کبھی مجھ میں بھی بدلنا تھا۔تمہیں لگتا تھا سب ٹھیک ہوجائے گا ہوا بھی مگر اس میں تمہارے اپنےلیئےکیا تھا؟کبھی سوچا تھا اگلے دس سال بعد تم ایک مضطر ،متوحش ، بے سکون سی لڑکی بن جائو گی جس کو اب سب کچھ چاہیئے ہوگا۔ وہ سب کچھ جو تمہارے نزدیک اہم تھا ہی نہیں۔ تم نے جس چیز کی خواہش کی تمہیں نہ ملے گی تم نےدعائوں میں کبھی خواہش کو مانگا ہی نہیں۔کیا تم جانتی ہو جو تم نہیں مانگو گی تمہیں نہیں ملے گا۔
چونک گئیں نا۔ کسی ایسے ہی شانت دل کے ساتھ بڑے جذب سے دونوں ہتھیلیاں پھیلا کر مانگا تھا تم نے خدا سے۔ یا خدا میں تجھ سے سب مانگوں گی تو بس دیتا جا۔ضرورت کی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اگر تو مانگنے سے خوش ہوتا ہے تو میں تجھ سے مانگوں گی۔کیسا خوش ہوئی تھیں اپنے لیئے خسارہ مانگ کے۔ اطمینان بھر گیا تھا دل میں کہ اب سب ملے گا۔ یہ بھول گئیں کہ تمہیں کیا چاہیئے یہ تم کیسے جان سکتی ہو؟ جس نے بن مانگے تمہیں نواز رکھا تھا اسے سوال کی بندش میں باندھ لیا۔ ہمارےہر لفظ کی آزمائش ہوتی ہے بھول گئی تھیں کیا؟جانتی ہو پھر کیا ہوا۔ تمہیں وہ سب ملتا گیا جو تم نے مانگا۔ اور تم نے بہت تھوڑا مانگا بہت کم مانگا۔ تمہیں شائد بہت ملتا مگر تم نے مانگا نہیں ۔ اپنے لیئے مانگا ہی نہیں تو پھر تمہیں وہ سب کیسے ملتا جو تقدیر میں لکھا تھا۔ تم جانتی ہو تم اب مجھ میں کہیں نہیں ہو۔ گو تمہیں کھو کر میں خوش نہیں ہوں۔لیکن مجھے تم یاد آتی ہو۔ اگر تم میرے آج میں ہوتیں تو خوش ہوتیں تمہیں وہ سب مل چکا ہے جو تمہیں چاہیئے تھا۔اور میں اگر تمہارے گزرے کل میں ہوتی تو کچھ چاہتی ہی نا۔ چاہنے کی سزا مل جانے کی صورت بھی ملا کرتی ہےنا۔ یا دعا مانگتی مجھے وہ سب دے چاہےمیں مانگوں بھی نا۔وہ تو سب دے سکتا ہے۔ پر اب میں کیا مانگوں؟
تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔
ہو سکے تو کچھ وقت کیلئے ہی مجھے آملو۔ یا یہ دعا کردو کہ مجھے وہ پرانا اطمینان نصیب ہوجائے۔میرا آج بہت برا ہے تمہارے کل سے بھی ذیادہ۔۔
2150 پاکستان کے شہر راولپنڈی سے دادی کی طبیعت خرابی کا سن کر وہ بھاگی بھاگی آئی تھی۔ دادی بستر پر پڑی تھیں اسکے چندی آنکھوں والے چچا تایا پھپو انکے چندی آنکھوں والے بچےسب دادی کے سرہانے موجود تھے۔ بس ایک اسی کا انتظار تھا۔ اس نے آنسو روکتے ہوئے
دادی کا کپکپاتا ہاتھ تھاما۔ دادی میں چو گایون کاڈرامہ چھوڑ کر چلی آئی آپکی طبیعت کا سنتے ہی وہ بتاتے ہوئے بے اختیار روپڑی دادی کا چہرہ پھیکا پڑ گیا۔ دادی سب بیماری بھول کر اٹھ بیٹھین تڑخ کر بولیں۔ تم اس ودیعت کردہ انعام کو کیسے سنبھالوگی اگر اسی طرح کے ڈرامے پر دادی یا دیگر رشتے داروں کو ترجیح دوگی؟ ہم پاکستانی ہونے کے باوجود چندی آنکھوں والے کیسے بنے؟ جانتی ہو؟ساری ساری رات تمہارے بڑوں نے پورا پورا سیزن ختم کیا ہے۔ دن میں کوئی اور سیریز ختم کرتے تھے رات کو کوئی اور۔ کورین کے چار لفظ سیکھے تھے مگر ہمیشہ ڈرنے پر ہائے اوئی کرنے کی بجائے کم چاگیا کہا، چڑنے پر ہائش، کتنا کمینہ کہنے کی بجائے کہہ سیکی کہہ کر دل کی آگ ٹھنڈی کی اور تو اور نہ ، نا، نہیں کہنے کی بجائے آنیا ، آنی کہنے کی عادت ڈالی تب جا کر ہمارے اطوار اور ہمارے نقوش کورین ہونا شروع ہوئے اور اب ہماری پوری نسل پاکستانی کورین کہلاتی ہے جو رہتے تو پاکستان میں ہیں مگر آج تک کوئی پاکستانی انڈین ڈرامہ نہ دیکھا۔ جنکی آنکھیں تو بڑی ہوتی ہیں مگر کے ڈرمہ دیکھ دیکھ کر آدھی بند ہو کر چندی ہو جاتی ہیں۔اور تم ہماری نسلوں میں تم جیسی لڑکی پیدا نہ ہوئی جسے مرتی ہوئی دادی کے ڈرامہ سے ذیادہ پیاری ہو۔ مجھے خوف ہے تم سے کے ڈرامہ پرستار ہونےکا انعام چھن نہ جائے۔ دادی کا جلال دیکھ کر اسے اور تو کچھ سمجھ نہ آیا گھبرا کر ان کا ہاتھ چھوڑا بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ ڈرامہ پاز ہوا وا تھا۔ جلدی سے کانوں میں ہینڈزفری لگائی اور ڈرامہ پلے کرکے دیکھنے لگی۔ پورا سیزن ختم کیا ۔ ایک اور سیریز شروع کردی۔ وہ ختم کی پھر ایک اور۔۔۔ آخری قسط ختم ہونے پر اس کو ہلکی سی آواز سنائی دی اس نے آواز کا منبع جاننے کی کوشش کی اسکے کمرے کئ دروازے پر دستک ہورہی تھی۔ اس نے کانوں پر سے ہینڈزفری اتار کر پوچھا کون ہے ؟ آہمونی ہوں آدل۔ تمہارے ہارابوجھی کہہ رہے کہ ہارامونی کے جنازے میں تو شریک ہوئی نہیں ہو کم از کم سوئم اور فاتحہ میں ہی شریک ہوجائو۔ پورے تین دن ہو رہے نا تم کمرے سے نکلی ہو ناکسی دستک کا جواب دیا۔ کیا تم کے ڈرامے میں مگن ہو؟ ۔۔ آہمونی اندازہ لگاتے ہوئے خوشی سے لرزتی ہوئی آواز میں بولیں۔ دے۔ وہ چونکی۔ آہمونی کھاجا ۔ میں آرہی ہوں۔ وہ جست لگا کر مسہری سے اتری اپنی سنگھار میز کے بڑے سے آئینے میں اپنی شکل دیکھی۔ تین دن کے پہنے پرانے مسلے ہوئے لباس ، کندھوں پر بکھرے الجھے بال، چہرا ستا ہوا آنکھیں رتجگوں کے خمار سے چندی ہو گئی تھیں۔اس نے بے یقینی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ تھائی نیئے۔ اس نے گہری سانس لی۔ اسکا سراپا مکمل کے پرستاردوشیزہ کی چھپ دکھا رہا تھا۔اس نے اپنا نسلوں سے چلتا آرہا انعام وصول لیا تھا۔ اب وہ مکمل کے پرستار تھی۔ اس نے سکھ کی سانس لی اور اپنے آپکو آئینے میں دیکھتے طمانیت سے مسکرا دی۔
اس نے اس تصویروں سے سجے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی ان معصوم صورتوں والی ان کم عمر دوشیزائوں کو اپنی جانب جی جان سے متوجہ دیکھا تو بمشکل اپنے چہرے کے تاثرات قابو کیئے اور اپنے سامنے دھرے ایزل پر سجے خالی کینوس کی طرف متوجہ ہوگئ۔ وہ سب نادان بچیاں مصوری کا ہنر سیکھنے آئی تھیں۔آئی بھی کس کے پاس۔ وہ دل ہی دل میں ہنسی۔خالی کینوس اسے دعوت دینے لگا۔مجھے بھر دو رنگوں سے ۔ اس نے برش کو تازہ بنائے گئے رنگوں پر رگڑ کر کینوس پر پھیرنا شروع کیا۔ جب ذہن میں نہ کوئی سوچ ہو نہ کچھ کر دکھانے کی امنگ تو کاغذ ہو یا کینوس دونوں ہی شاہکار تخلیق کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ بنتا ہے کچھ ایسا جو نا کسی باذوق کی حس کو تسکین دے نہ کسی بد ذوق کو ہنسنے کا موقع فراہم کرے۔ ابھی جیسے اسکا کینوس آڑی ترچھی رنگین لکیروں سے سج گیا تھا۔
اپنے ہر فن پارے کو جب وہ ناقد کی حیثیت سے دیکھتی تو خود کو طفل مکتب تصور کرتی وہ بھی اتنا کند ذہن جو مصوری تو دور ایک خاکہ ایک لکیر درست کھینچ لینے پر قادر نہ تھی۔ اور یہ اسکی طالبات۔ اسکے ہنر اسکی صلاحیتیوں کی تعریف میں ذمین آسمان کے قلابے ملاتیں۔ اسکے فن پاروں کو پکاسو سے تشبیہہ دیتیں۔یہ تک کہتیں کہ وہ ناقدین نہیں ناقدروں کے درمیان ہے۔جنہیں نہ اسکا کوئی شاہکار دکھائی دیا آج تک کوئی اسکی تصاویر کے اندر چھپے مقصد کو نہ جان سکا جبھئ تو وہ یوں گمنام مصورہ بن کے گمنام علاقے میں چند گمنام فنکاروں کو لکیر کھینچنا سکھانے پر معمور ہے۔ یہ تو یقینا ان گنتی کی پانچ طالبات کی محبت تھی۔ وہ خود کبھی سوچتی تھی آخر اسے قدردانوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔اسکا ہنر کسی کی ستائش کا محتاج نہیں۔ اگر اسکا ہنر ان پانچ دیوانی لڑکیوں کو اسکا گرویدہ کر سکتا ہے تو اسے پانچ سو لوگوں کی واہ واہ کیا کرنی جنہوں نے چار تصاویر دیکھنی دو کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی ہی تصویر بنانی ( ہم نمائش دیکھنے گئے تھے بھئ واہ واہ کرو ہم کتنے باذوق ہیں ) ایک آدھ خریدنی نہیں تو یونہی ہاتھ جھلاتے آرٹ گیلری سے نکل جانا۔ دنیا کی پذیرائی کا تو وہ متمنی ہو جسے دنیا جانتی ہو جو دنیا جان بیٹھے اسکو اسکی بے ثباتی پر گلہ ہو بھی تو کس سے؟ دنیا سے ؟ یا دنیا بنانے والے سے؟ دونوں سے ہی گلہ کرنے لائق وہ خود کو اہل نہیں سمجھتی تھی ۔
ایک خالی کینوس پر رنگ بکھیرتے وہ انہی لا یعنی لامتناہی سوچوں میں گم تھی۔ اسکی پانچوں شاگرد بیٹھی اسکے چہرے کے اتار چڑھائو سے اسکے خیالات پڑھنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھیں۔ آج انکو نیا سبق ملنا تھا مگر انکی استانی صاحبہ خود کوئی نیا سبق پڑھ رہئ تھیں زندگی کا شائد جبھی گرد و پیش سے بے نیاز کینوس پر نگاہ ٹکائے مسلسل ہاتھوں کو حرکت دیئے جانے کیا الا بلا بنائے چلی جا رہی تھیں۔ جب اسکی ایک شاگرد نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔
آج ہم سے کچھ انوکھا بنوائیں۔
جیسا کہ؟ گمنام مصورہ نے ابرو اچکا کر دیکھا
کچھ ایسا جو اس دنیا سے الگ ہو۔ جو کبھی نہ بنا ہووہ خیال جو دنیا میں اب اترا ہو۔
اسکی شاگرد کے انداز میں جوش تھا امنگ تھی تمنا تھئ۔ اسے ہنسی آگئ
لاحاصل کی تمنا نہ پالو۔ ایسا کچھ بنانا اس دنیا کے باسیوں کے لیئے ناممکن ہے۔ بڑے بڑے سورما ہارے۔ انکے کینوس کچھ نیا تخلیق کرجانے کی آس میں خالی رہ گئے۔ اور مصور دنیا خالی کر گئے مگر ناکام رہے ۔ ہم تو جو جیسا بن چکابس اسے اپنا ہنر آزما کر نقل کر سکتے ہیں۔ یوں سمجھو مصور بس نقلچی ہے۔ جو منظر جو شے دیکھی نہ ہو اسکا نہ مقصد سمجھ پاتا ہے نا اسکی منظر کشی کر پاتا ہے۔ ایک مصور کو اپنی حد پتہ ہونی چاہیے۔
اسکا انداز ناصحانہ تھا۔ اسکی شاگرد مایوس سی ہوگئ۔ تسلیم کیا
ہاں نہیں بنا پاتے ہم کچھ بھی نیا۔
ہم کوئی ایسی مخلوق نہ بنائیں جو دنیا میں پہلی دفعہ آئی ہو؟ خلائی مخلوق؟
وہ اپنے اچھوتے خیال سے اچھل پڑی۔ اسکی باقی چاروں شاگرد بھی چونک کے دیکھنے لگیں۔
ہاں ہم آج خلائی مخلوق بنائیں؟یہ تو آج تک جس نے بھی بنایا کوئی نیا پیکر بنایا ہم بھی خلائی مخلوق کی کوئی نئی شکل تخلیق کرتے ہیں۔
وہ سب اتنی پرجوش ہوگئی تھیں کہ مصورہ کو ہار ماننا پڑی۔
ٹھیک ہے بنائو مگر ہر خلائی مخلوق کے پیکر کے پیچھے تمہاری اپنی کوئی نئی سوچ کوئی اچھوتا خیال ہونا چاہیئے آخر یہ خلائی مخلوق کیا کرنے آئی ہے کیوں آئی ہے اور تم نے کیوں بنانا چاہا اسے۔
انکو انکا آج کا کام سمجھاتے مصوری کا ایک اہم باب بھی سکھا دیا تھا۔
وہ سب سر ہلا کر جھٹ مصروف ہوئیں۔ایزل درست کیا کینوس لگایا اور پھر کوئی کینوس خالی نہ رہا۔
کئی گھنٹے بیتے اسکی سب شاگردوں کا کام ختم ہونے کو تھا وہ سب کے پاس جا کر ان سے آج کے کام کی بابت پوچھنے لگی۔
پہلی وہی شاگرد تھئ جس نے خیال دیا تھا۔
کندھے اچکا کر بولی
دنیا سے الگ کچھ بنانا تھا جبھی خلائی مخلوق بنا رہی ہوں۔
اسکی تصویر مکمل تھی۔ وہ سر ہلا کر دوسری کی جانب بڑھئ اسکی خلائی مخلوق ادھورے بدن سہمی کھڑی تھی کینوس پر۔
وہ لڑکی بھی ۔ آنکھوں میں ہراس لیئے بولی
انسانوں سے خوف آتا ہے اسلیئے خلائی مخلوق کی تصویر بنا رہی ہوں۔
اس سے اس کی نگاہوں میں تادیر دیکھا نہ جا سکا نگاہ چرا کر تیسری شاگرد کی جانب بڑھی
اسکی خلائی مخلوق رنگوں سے سجی تھی مگر کیا سر کیا پیر کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ اس لڑکی نے سنجیدگئ سے سر اٹھا کر اسکو مخمصے سے نکالتے ہوئے بتایا۔
یہ دو خلائی مخلوق ہیں۔
مگر یہ تو مجھے ایک ہی مخلوق لگ رہی ہے۔
مصورہ الجھن میں پڑی۔۔
دونوں آپس دوست ہیں انہوں نے ایک دوسرے کا وجود آپس میں مدغم کرلیا ہے یوں کہ شناخت ممکن نہیں۔
ایساکیوں؟ مصورہ مزید الجھی۔
اس مخلوق کو رنگ نسل مذہب سے فرق نہیں پڑتا۔
اس لڑکی کی نگاہوں میں بغاوت کے سائے مدغم ہو رہے تھے۔ وہ سٹپٹاکر آگے بڑھ گئ
آدھی درجن آنکھوں سے سجی یہ خلائی مخلوق بس چہرہ رکھتی تھی۔ نہ خدو خال نہ وجود۔
بنانے والی کا مزید کچھ بنانے کا ارادہ ہی نہ لگتا تھا۔
اسکے کسی سوال سے پہلے ہی اس نے بتایا
میں ایسی مخلوق کی تصویر بنا رہی ہوں جس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔
اسے بہت زور کی ہنسی آئی
احمق لڑکی۔
اس نے سوچا ۔لڑکی ستائش کی متمنی تھی مگر اسکو ہنسی آئے چلی جا رہی تھی اس لڑکی کی سنجیدگئ دیکھتے روک کر منہ پھیر کر آگے بڑھ گئ۔
پانچویں لڑکی بڑی بڑی آنکھوں والی خلائی مخلوق بنا رہی تھی جو ہوا میں تیر رہی تھی اسکے پر لیکن بازو کی جگہ ٹانگوں پر تھے۔
شائد اس نے پرواز افقی طو رپر نہیں عمودی طور پر بھرنی تھی۔
آسمانوں پر کمند؟ اس نے سوچا۔
یہ میں ہوں ۔ میں اس دنیا میں خلائی ہی مخلوق ہوں جو دنیا سے مطابقت نہیں رکھتی۔
اسکی توقع کے برعکس جواب نے اسے حیرت میں مبتلا کیا۔
اسکی سوچ اسکی تصویر سے عیاں تو نہ ہوتی تھی۔
خیر اس نے گہرئ سانس بھری۔
بس آج کا یہی سبق تھا تم لوگوں کا۔ اب چھٹی ہوئی تم سب کی۔
جی؟ کیا ؟ ہیں؟
ان پانچوں میں کھلبلی مچ گئ
مگر ہمیں بتائیے تو ہم نے کیا سیکھا؟
وہ یک زبان ہو کر بولیں۔
آج تم لوگوں نے حقیقت اور ترجیحات کا فرق سیکھا ہے۔ حقیقت تم لوگ ہو اور ترجیحات کینوس پر بکھری ہیں۔
اس نے مسکرا کر کہا ۔ وہ سب کچھ سمجھتی کچھ نہ سمجھتی مزید بولی کچھ نہیں اپناسامان سمیٹنے لگیں۔
مصورہ نے کینوس پر نگاہ جمائی۔
بکھرے رنگوں میں چند چہرے ابھر رہے تھے کوئی چہرہ مضمحل تھا کوئی خوشی سے نہال کسی کے چہرے پر حالات ثبت تھے کسی نے خالی سپاٹ تاثرات سجا رکھے تھے سب سے نمایاں تھا ایک حیران متوحش چہرہ۔
یہ چہرہ بوڑھا تھا۔ اس نے دنیا دیکھ رکھی تھی۔ دنیا کی حقیقت بھی۔
یہ چہرہ اسکا اپنا تھا۔ تصور میں۔ اور حقیقت میں؟
اس نے جھک کر اپنے پیروں کے قریب رکھے اپنے بستے سے آئینہ نکالا ۔ اپنا چہرہ ہر زاوئے سے دیکھا۔ دل بھر کے دیکھا
جواں سال صحتمندی کی چمک لیئے خوبصورت چہرہ ۔
اسکے چہرے کے تاثرات مایوس کن سے ہوتے چلے گئے ۔
اسکی شاگرد سامان سمیٹتی اب جا رہی تھیں جاتے ہوئے اسے الوداع کہہ رہی تھیں۔
آج جو سیکھا اس پر خوش تھیں آج جو وہ سب نہیں سیکھ سکیں اس پر وہ خود اداس ہو رہی تھی۔
بی جان اجی سنتئ ہو؟ بڑی خوشخبری لیکر آئی ہوں نصیبا بوا ہانپتی کانپتی گھر میں داخل ہوئیں وہیں سے پکاریں بئ جان بد مزا سی ہوئیں ابھئ نماز سے فارغ ہو کر تخت پر ہی کمر ٹکانے کو نیم دراز ہوئی تھیں ۔ بد اخلاق نہ
تھیں جبھی پکار کر انہیں یہیں آنے کا کہہ ڈالا نصیبب بوا سیدھا بی جان کے پاس چلی آئیں بیٹھنے سے پہلے ہی خوشی سے پھولے نہ سماتی بولیں لو بہن اس بار تو ایسا رشتہ لائی ہوں انکار کر ہی نہ سکو گی۔ اتنی بہترین لڑکی سیٹیلائٹ سے بھی ڈھونڈو گی نہیں ملے گی۔ بی جان سونے کے ارادے سے لیٹئ تھیں انکے لیئے جگہ بناتی اٹھ بیٹھیں ذرا نخرے سے ناک چڑھا کر بولیں ہوگی تو اسی دنیا کی نا ایسی کیا انوکھی خبر لائی ہو۔ نصیبا بوا انکے پہلو میں جگہ بناتی بیٹھ کر فاتحانہ انداز میں بولیں۔ وہی تو لڑکی اس دنیا کی ہی نہیں ہے۔ خلائی مخلوق ہے۔ عجوبہ سیارے سے ہے۔ پڑھی لکھی باادب مشتری سے امور خانہ داری کی ہی سند لی ہے کوئئ بھلی سی سب سے بڑی بات باادب ہے دنیا میں رہتی ہے سب ڈھنگ سیکھ لیئے ہیں۔ انکی باتوں سے بی جان کو بھی اشتیاق محسوس ہوا سیدھی ہو بیٹھیں۔نصیبن بوا نے بٹوے میں سے تصویر نکال کر سامنے رکھ دی۔ کیا خوبصورت نین نقشہ تھا۔ بڑی بڑی چار پانچ آنکھیں لمبے بال ہرا کھلتا ہوا رنگ۔ انہیں ایکدم شکلا پسند آگئ۔ نصیبن بوا نے انکے تاثرات سے اندازہ لگایا پھر اپنی معلومات کو دس سے ضرب دے کر انہیں مزید متاثر کرنے کی کوشش کرنے لگیں دیکھو کیسا کھلتا ہوا ہرا رنگ ہے، اچھا کھانا بنا لیتئ ہے صرف دنیا ہی نہیں مریخ کے بھی کھانوں کو بنانے میں ماہر ہے۔ آٹھ نو ہاتھ ہیں پلک جھپکتے سب کام کر لیتئ ہے اور تو اور پلوٹو میں لڑکی کے نام پلاٹ ہے۔ شادی پر گھر بنوا کر۔۔ جوش خطابت میں وہ سب ایک ہی سانس میں بتاتی چلی گئیں۔ پلوٹو۔ اتنا دور۔ بی جان پر جیسے مانو ایکدم اوس ہی گر گئ۔ ہاں پلوٹو کو کم نہ سمجھو بہت بڑا سیارہ ہے۔ نصیبا بوا سمجھیں کہ شائد بی جان کی معلومات کم ہے۔ ہوں۔ بی جان نے گہری سانس کھینچی۔ ٹھیک ہے مگر دل نہیں مان رہا دیکھو نا میرا اکلوتا بیٹا ہے سو ارمان ہیں میرے۔ عجوبہ کونسا سیارہ ہے نام ہی نہیں سنا ۔کوئی Jupitor کی لڑکی دکھائو میرا لڑکا وہیں جانا چاہتا ہے ۔ اگر لڑکے کو وہ لوگ وہیں سیٹ کرادیں تو اچھا ہے۔ انکی بات۔۔ نصیبن بوا کی خوش امیدوں کے غبارے سے ایکدم ہوا نکال گئ ۔ ٹھنڈی سانس بھر کر بولیں۔ اچھا اگر یہ ہی شرط ہے تو دیکھتی ہوں jupitor کی کوئی لڑکی بھی۔ ذرا پانی تو پلائو۔ بی جان کو اندازہ تھا کہ برا مان گئیں جبھی انکا گھٹنا دباتی بولیں پانی کیا کھانا وانا کھا کر جانا میں ابھی چائے بھی بنواتئ ہوں۔ انہیں کام تھا ابھئ نصیبن بوا سے سو اتنی مدارت خوشی خوشی کر سکتی تھیں۔ نصیبن بوا نے سر ہلادیا یہ نیم رضامندی تھی۔ بی جان اٹھیں تو گہری سانس لیکر انہوں نے تصویر دوبارہ بٹوے میں ڈال دی۔ بٹوے سے ایک اور تصویر باہر نکلنے لگی تو اسے بھی ٹھیک کرنے لگیں یہ jupitor کی لڑکی کی تصویر تھی۔ اسکے گھر والوں کو انہوں نے بی جان کے لڑکے کی تصویر دکھائی تھی تو بی جان کی ہی قبیلے کی وہ خاتون تھیں شائد ناک چڑھا کر بولیں یہ دنیا کالڑکا؟ آج کل دنیا میں رہتا ہی کون ہے۔ نا شکل اچھی نا کسی دوسرے سیارے میں نوکری ۔ بہن ہمیں کوئی ایسا لڑکا دکھائو جو مارز کا رہائشی ہو شکل صورت سے بھئ کم ازکم میری بیٹی کے جوڑ کا تو ہو۔ اب دنیا میں تو اپنی لاڈوں پلی اکلوتی بیٹی کو دھکیل نہیں سکتی نا۔۔ kuch acha perho
وہ ایک عام سا دن تھا جب انوکھی کو ٹی وی سےخبر ملی کہ فلاں علاقے میں ایک پرانی عمارت میں آگ لگ گئ۔ پہلے تو انوکھی نے سوچا فائر برگیڈ کو فون کرے پھر خیال آیا کہ فائر برگیڈ تو ٹی وی پر صاف آگ بجھاتی نظر آرہی ہے۔ پھر بھی انوکھی نے جا کر جان تو بچانی تھی لوگوں کی۔ انوکھی اٹھی نہا دھو کر تیار ہوئی اپنا پسندیدہ نیلم کا لاکٹ سیٹ پہنا اسکے ساتھ بندے نہیں تھے۔ اب انوکھی نے سوچا کوئی اور سیٹ کے نکال کر پہن لے۔ انوکھی نے ساری سنگھار میز الٹ کر دیکھ لی ہر دراز سے چیزیں نکال لیں کوئی بندہ میچ نہیں کر رہا تھا۔ مجبور ہو کر اپنے پہلے سے پہنے بندوں میں ہی دنیا کو بچانے کا ارادہ کیا۔ اپنا پسندیدہ مارول کا لباس پہنا اور ہلکا پھلکا میک اپ کرکے باہر نکل آئی۔ سامنے پڑوس کے مجو کی سائیکل کھڑی نظر آئی اس نے وہی لی اور فلاں علاقے کی طرف چل پڑی۔ فلاں علاقے میں خوب ہنگامہ تھا۔ پولیس اور فائر برگیڈ عمارت سے زخمیوں کو نکالنے میں لگے ہوئے تھے۔ اس نے خود کو مصروف ظاہر کرنے کیلئے عمارت کا جائزہ لینا شروع کیا سائکل سے دو تین چکر ہی لگائے ہوں گے کہ کچھ بچوں نے آواز دی۔ باجی اپنا دوپٹہ سنبھالیں پہیئے میں آجائے گا۔ اپنے اتنے مہنگے جدید طرز کے مارول لباس کا دوپٹہ تو وہ پہننا بھول ہی گئ تھی۔ اس نے مڑ کر بچوں کو دیکھا۔ تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو یہ جگہ محفوظ نہیں بھاگو یہاں سے۔ بچے ہنسنے لگے ۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کچھ کالی رسیاں نظر آئیں اس سے بچوں کو باندھ کر اڑا کر وہاں سے دور چھوڑ دیا۔بچے چلائے کیا کر رہی ہیں باجی ہم اپنے گھر سے دو کلومیٹر دور آگئے ہیں واپس کیسے جائیں گے؟ ایک بچی کو مزا آیا بولیباجی ایک اور پینگ دے دیں۔ ان میں جو سمجھدار بچہ تھا شکر ادا کرنے لگا کہ آگ لگنے کی وجہ سے علاقے کی بجلی منقطع تھی ورنہ باجی نے رسی سمجھ کر جن بجلی کی تاروں باندھ کر انہیں اڑا دیا تھا ان میں برقی رو ہوتی تو وہ سب تکے بن جاتے۔ انوکھی کا کام ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔ واپس فلاں علاقے میں سائکل چلا کر آئی تو دیکھا عمارت خالی ہوچکی تھی پولیس اور فائر برگیڈ اپنا کام مکمل کر چکے تھے سب زخمیوں کو اسپتال پہنچایا جا چکا تھا اب صفائی کی جا رہی تھی۔ انوکھئ کو ملال ہوا مگر خوشی بھی تھی کہ اس نے عمارت سے باہر کھیلتے بچوں کو کئی کلو میٹر دور صحیح سلامت پہنچا دیا تھا۔وہ گہری سانس لیکر سائکل پر واپس پلٹنے کو تھی کہ اسے کچھ فاصلے پرایک میلے حلیئے میں عمارت کنارے اکڑوں بیٹھا ایک شخص آگ سے ہاتھ سینکتے ہوئے نظر آیا۔ مئی کے مہینے میں آگ سے ہاتھ کون سینکتا یہی سوچ کر اس نے آگے بڑھ کر اسکو بچایا اٹھا کر کھڑا کیاآدھے گھنٹے کی جھاڑ پلائی آگ کے نقصانات پر اور یہ بھی جتایا کہ آج انوکھی نے بچا لیا ورنہ وہ تو جل کر مرجاتا۔ خاموشی سے سنتا وہ شخص جوابا مسکرا کر بولا شکریہ انوکھی ویسے میں ویلڈنگ کر رہا تھا۔ ویسے تم جیسی لڑکی ہی مجھے پسند ہے کیا مجھے تمہارا نمبر مل سکتا ہے؟انوکھی غصے سے آگ بگولا ہوگئ۔ تن فن کر تی سائکل پر سوار ہو کر وہاں سے نکل آئی۔ راستے میں اس نے سنا مسجد سے تین بچوں کی گمشدگی کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ واپس گھر پہنچی تو امی جھاڑو لیئے گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ مجو اپنی ماں کا دوپٹہ چباتے رو رو کر ہلکان ہو رہا تھا۔ مجو کی ماں ہاتھ نچا کر لڑ رہی تھی۔ دیکھ لیں انوکھی مجو کی سائکل لیکر نکل گئ تھی۔ میرا بچہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا الٹا آپ نے اسے چوری کا الزام لگانے پر جھاڑو سے پیٹ دیا۔ میرا بچہ سوکھے کی بیماری کا شکار ہواتو میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ انوکھئ کی امی نے اس بار خاموشی سے سنا سر ہلایا جھاڑو سیدھی کی۔ اس بار انکا ارادہ انوکھی کی پٹائی کا تھا۔
سبق: کبھی دوسروں کے بچوں کو نہ پیٹیں اپنے بچوں کو پیٹا کریں بس۔ ورنہ محلے والوں سے جھگڑا ہوجائے گا
افسانچہ * تم* اس نے بڑے انداز سے گھٹنے کے بل بیٹھ کر اسکی جانب گلاب کا پھول بڑھاتے ہوئے کہا قسم سے میری زندگی میں صرف تم ہو۔۔ اس نے نگاہ اٹھا کر اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا پھر شرماتے ہوئے داہنا ہاتھ بڑھانے کو تھی کہ خیال آیا داہنا ہاتھ تو منگنئ کی انگوٹھی سے سجا ہے سو فورا کمر کے پیچھے ہاتھ کرتے ہوئے غیر محسوس انداز میں بایاں ہاتھ بڑھا کر گلاب کا پھول تھام کر بولی میری زندگی میں آنے والے تم پہلے اور آخری شخص ہو۔۔ خوشی سے سرشار ہوتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔پشت پر جھوٹی قسم کے عذاب سے بچنے کو اس نے ایک ہاتھ سے شہادت اور درمیان والی انگلی سے کاٹے کا نشان بنا رکھا تھا۔۔۔
قصہ ایک روزے کا ۔۔۔ مصنف: واعظہ زیدی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکی آنکھ دیر سے کھلی تھی۔ نیند ہی پوری نہ ہوئی تھی۔ آج پہلا روزہ تھا آدھی رات تک پورا محلہ جاگ کر سحری کرتا رہا برتنوں کی اٹھا پٹخ ۔ ہلچل۔ پڑوسیوں کو نعتیں سنتے ہوئے سحری کرنے کا شوق تھا ۔ ڈھائی بجے سے سحری جگانے والوں کی آمد شروع ہوگئ۔ ایک گروہ ڈھول بجا کر مسلمانوں کو اٹھاتا رہا تو دوسرے کی باری آگئ اس نے جدید ٹیکنالوجی سے مستفید ہوتے ہوئے گانوں کی طرز پر نعتوں کی ریکارڈنگ چلاتے ہوئے سائکل پر گلی کا چکر لگایا۔ ابھی ایک نعت بھی پوری نہ ہوئی ڈھول والے واپس آگئے ۔ یہ گلی ہماری ہے ۔ ڈھول والے چار لوگ تھے گلے میں پٹکا ڈالے تھے سائکل والا اکیلا تھا مگر جی دار تھا۔ دونوں کے خوب رج کے جھگڑے نے مسلمانوں کو وقت سے کافی پہلے جگادیا۔ جب سائکل والا ڈھول والے کو زمین پر گرا کر بجا رہا تھا تب کچھ گھروں کے دروازے کھلے۔ بڑے بزرگ نکلے جوانوں نے قابو کیا اور اپنی گلی میں دونوں کو ہی بین کرکے واپس اندر چلے گئے۔ مشعل کے کمرے کی کھڑکی گلی میں کھلتی تھی تو یہ سارا شور اس نے خون کے گھونٹ پیتے سنا برداشت کیا نیند غارت ہوئی کوئی گھنٹے دو گھنٹے بعد جا کر نیند مہربان ہوئی وہ سوئی۔ صبح یوں ہوئی جیسے ابھی پلک جھپکی اور صبح ہوگئ۔ امی نے جلدی جلدی پراٹھا بنایا مگر اسکے پاس کھانے کا وقت نہیں تھا۔ بھاگم بھاگ یونیورسٹی جانے کیلئے تیار ہوئی ۔ امی نے کہا بھی ناشتہ ساتھ لے جائو یونیورسٹی میں کسی کونے میں بیٹھ کر کھا لینا لیکن پوائنٹ مس ہو جانے کے خوف نے اسکے پیروں میں پہیئے لگا دیئے تھے۔ آج اسکی اہم اسائمننٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی سو چھٹی نہیں کر سکتی تھی۔ کلاس میں بھاگ بھاگ کے پہنچنے تک پیریڈ شروع ہوچکا تھا سر آچکے تھے اسکے اجازت مانگنے پر تیکھی نگاہ سے گھورا مگر چہرے پر بجتے بارہ پھولی سانسوں پر ترس کھا کر کچھ کہا نہیں۔ وہ دھپ سے اپنی مخصوص نشست پر آبیٹھی اپنی عزیز سہیلی رومیصہ کے برابر۔ کیا ہوا؟ دیر کیوں ہو گئ؟ رومیصہ دھیمی آواز میں پوچھ رہی تھی۔ بس وہ صبح آنکھ نہیں کھلی وقت پر اس نے مختصر جواب پر اکتفا کیا۔ پے در پے کلاسیں تھیں۔ بریک جو ہوتی تھی وہ رمضان کی وجہ سے بند تھی۔ اسے یاد آیا اس نے گھر سے نکلتے پانی بھی نہیں پیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے آہ بھر کر گھورا۔ پیاس سے برا حال تھا بمشکل ایک پیریڈ کی بریک تھی کہ سر نے چھٹی کر لی تھی تو پیاس سے بے تاب وہ رومیصہ کے ساتھ سیدھا پانی پینے ڈیپارٹمنٹ کے ڈسپنسر کے پاس آئی تھی۔ ڈسپنسر بند تھا ۔ بوتل ہی غائب تھی۔ ظاہر ہے جب رمضان میں کسی نے پانی پینا ہی نہیں تھا تو کیا ضرورت تھی بوتل بدلنے کی الٹا ڈسپنسر بند کرکے بجلی بھی بچا لی گئ۔ ایسا کرتے ہیں انگلش ڈیپارٹمنٹ چلتے ہیں۔ وہاں غیر ملکی طلباء بڑی تعداد میں پڑھتے ہیں وہاں کا ڈسپنسر آن ہوگا ہی۔ رومیصہ نے ہمدردی سے اسے دیکھتے مشورہ دیا۔ خود تو اسکا روزہ تھا لیکن سہیلی کی شدید فکر ہو رہی تھی۔ انگلش ڈیپارٹمنٹ کونسا پاس تھا۔ تیز چمکتا سورج سر پر تھا اور دور لگ رہا تھا۔ مگر اللہ کا نام لیکر چل پڑیں۔ واقعی یہاں کا ڈسپنسر آن تھا۔ اس نے اکٹھے دو گلاس پی لیئے۔ تھوڑی جان میں جان آئی تو ایکدم شرمندہ سی ہوگئ۔ رومیصہ اسکے ساتھ کھڑی تھی روزے دار اسکے ساتھ اتنا پیدل چلی اور اب وہ بے شرمی سے اسکے سامنے پانی پیتی چلی گئ۔ سوری رومیصہ مجھے خیال نہیں رہا تمہارا تو روزہ ہوگا نا میں کتنی بے شرم ہو تمہارے سامنے پانی پیتی چلی گئ۔ اس نے اتنی معصومیت سے کہا تھا ۔ موبائل میں اسکرال کرتی رومیصہ نے اسکی شکل دیکھ کر ہنستی چلی گئ۔ یار پاگل ہو کیا ۔ اتنا کچا تھوڑی ہے میرا روزہ ۔ پھر بھی یار آئیم سوری۔ مجھے احتیاط کرنی چاہیئے تھئ۔روزے دار کے سامنے۔ مشعل منمنائئ اوہو کچھ نہیں ہوتا۔اس روزے دار کو الٹا مزید ثواب مل گیا ہوگا۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر ہنسی۔ تمہیں مزید ثواب ملا تو مجھے مزید گناہ ملا ہوگا؟ مشعل سوچ کے رہ گئ۔ اسے سوچ میں گم دیکھ کررومیصہ نے اسکے بازو میں بازو حمائل کیا۔ چلو اب کہیں سائے میں بیٹھ کر اسائنمنٹ ڈسکس کر لیں۔قسم سے گھر جا کے بالکل موقع نہیں ملے گا پڑھنے کا مجھے۔ گھر پہنچتے تین بج جانے اور پھر نماز قرآن پڑھتے شام سر پر آجاتی۔ سحری تو امی دیکھ لیتی ہیں مگر افطاری کا سب اہتمام ہم بہنوں کے ذمے ہے۔ اوپر سے بھائی اور ابو تو پکوڑے کے بنا افطار کرتے ہی نہیں ۔۔ وہ سرسری انداز میں اپنی مصروفیات بتا رہی تھی جو رمضان میں دگنئ ہوگئ تھیں۔ وہ دونوں یونہی باتیں کرتی ڈیپارٹمنٹ سے نکل آئیں۔ ارادہ اپنے ڈیپارٹمنٹ میں کسی خالی کمرے کو ڈھونڈ کر بیٹھ کر پڑھنے کا تھا۔مشعل کا سر چکرا رہا تھا دوبارہ فورا پڑھنے کا دل نہیں تھا لیکن رومیصہ پر ترس بھی آرہا تھا۔ روزے میں پکوڑے تیار کروگی ؟ اتنی گرمی ہورہی ہے آجکل تو۔تمہیں تو پیاس لگ جائے گی۔ اسے اپنی سہیلی کی فکر ہونے لگی۔ رومیصہ قہقہہ لگا کر ہنسی۔ ہاں لگ تو جاتی ہے پچھلے سال تو پکوڑے تلتے میں بیہوش ہو کر بھی گر گئ تھی ۔پورے دو دن آرام ملا باہر سے پکوڑے منگوائے تھے۔ تیسرے دن میں پھر کھڑی پکوڑے تل رہی تھی۔ وہ مزاحیہ انداز میں اپنی حالت زار بتارہی تھی۔ مشعل سر ہلا کر رہ گئ۔ تمہارے گھر اہتمام ہوتا ہے جب روزے ہوتے؟ رومیصہ نے سوال کیا۔تو وہ سر جھٹک کر بولی گھر میں بس ہم دو بہنیں اور امی ابو ہی تو ہیں۔ ہم سادہ کھانا ہی کھا لیتے بہن تو ڈائٹنگ کے نام پر وہ بھی نہیں کھاتی ۔ ابو بھی بلڈ پریشر کی وجہ سے پرہیزی کھاتے لے دے کر میں اور امی کبھی کبھار فروٹ چاٹ وغیرہ بنا لیتے بس۔ وہ سادگئ سے بولی تو رومیصہ رشک بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ اف کتنے سمجھدار گھر والے ہیں تمہارے۔ میرا تو کام کاج کی وجہ سے قرآن بمشکل ختم ہو پاتا ہے وہ بھی ایک۔ افطاری کی تیاری پھر اسکے بعد ڈھیر برتن اسکے بعد رات کا کھانا پھر سحری ۔ نماز قرآن کا وقت نکالنا مشکل ہوجاتا ہے قسم سے۔ وہ دونوں اپنے ڈیپارٹمنٹ پہنچ چکی تھیں اب ایک ایک کمرہ کھول کر خالی کمرہ ڈھونڈ رہی تھیں جب ایک کمرہ کھولا تو اندر تو پارٹی کا سماء تھا۔ تین چار لڑکیاں بیٹھیں بریانی کھا رہی تھیں۔ انکے دھاڑ سے دروازہ کھولنے پر ہڑبڑا سی گئیں۔ تم لوگوں کا روزہ نہیں ہے۔ رومیصہ نے حیرت سے پوچھا تو وہ گڑبڑا گئیں۔ فرسٹ سمسٹر کی کلاس تھی۔ ان سے جونیئر تھیں اسکے رعب سے نہ پوچھنے کے باوجود بھی گھبرا ہی گئیں۔ نہیں وہ دراصل چھٹیاں چل رہی ہیں۔ ایک نے جلدی سے بہانہ بنایا تو رومیصہ ہنس پڑی تم سب کی اکٹھی؟ چلو کھائو کھائو ہم خالی کمرہ ڈھونڈ رہی ہیں۔ مخل ہونے کی معزرت۔ جتا کر کہتے ہوئے وہ دروازہ بند کرنے لگی۔ وہ چاروں بھنا ہی گئیں۔ ایک چڑ کر بولی اسے کیا لگ رہا تھا ہم جھوٹ بول رہی ہیں۔ ہاں تو یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اب ہم سب کی چھٹیاں تو واقعی نہیں ہیں۔ میری تو صبح آنکھ ہی نہ کھلی تھی۔ دوسری نے دبے دبے انداز میں ٹوکا۔ بھئی ہماری مرضی ہم روزہ رکھیں نہ رکھیں کسی کو کیا۔ کوئی کون ہوتا ہے پوچھنے والا۔ تیسری نے چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے بات ہی ختم کردی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میکرو اکانومک ڈیولوپمنٹ کے آگے سب الفاظ ناچنے لگے تھے۔ اس نے پلکیں جھپک کر انکا سرا پکڑنا چاہا کہ مسلسل بولتی رومیصہ کی آواز بھی کانوں میں آنی بند ہوگئ۔ قریب تھا گھومتے سر کے ساتھ وہ کرسی سمیت زمین بوس ہو جاتی کہ رومیصہ نے بازو پکڑ کر ہلایا یہ کیا میں اتنی اہم باتیں کر رہی ہوں اور تم سن بھی نہیں رہیں؟ یہ پوائنٹس تو۔۔۔ووووووو آگے سب منظر ہی دھندلا گیا کیا ہوا۔ رومیصہ نے گھبرا کر اسے کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑ ہی ڈالا یار مجھے لگ رہا میرا بی پی لو ہو رہا ہے۔ بھوک سے چکر آرہے۔ نقاہت بھری آواز میں بمشکل اس نے اپنی حالت بتائئ۔ تم نے ناشتہ نہیں کیا تھا؟ رومیصہ پریشان ہوگئ نہیں صبح موقع ہی نہ ملا۔ اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ ابھی یاد آیا کہ رات کو وہ نیند اتنی میٹھی آرہی تھی کہ امی جب کھانا کھانے کیلیے بلانے آئیں تو صاف منع کردیا کہ سونے لگی ہوں۔ اب بارہ پندرہ گھنٹے کے بعد حقیتا آنتیں پلٹتی محسوس ہو رہی تھیں۔ اوہ گاڈ کیا کروں ؟ کینٹین بھی بند ہوتی ہے رمضان بھر۔ ٹھہرو دیکھتی ہوں شائد میرے بیگ میں کوئی ٹافی وغیرہ ہو۔ رومیصہ نے حقیقتا اپنا بیگ الٹ دیا۔کرسی پر اپنے بیگ کی ایک ایک چیز نکال کر رکھ دی۔ اتفاق سے کئی دن پرانی رکھی چاکلیٹ نکل آئی گرمی سے پگھل کر اپنی شکل کھو چکی تھی مگر ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ اس نے جلدی ریپر کھول کر اسکی جانب بڑھادی۔ چاکلیٹ کو ریپر سے شہد کی طرح نکال کر کھانا پڑا ۔لیکن بھلا ہو تھوڑی تقویت ملی دل کو طبیعت بھی سنبھل گئی۔ چند منٹ خود کو سنبھالنے میں لگے تو سچ مچ رومیصہ اسے فرشتہ ہی لگنے لگی۔ بہت شکریہ رومیصہ سچی اس وقت تو لگنے لگا تھا جان نکلنے لگی تھی میری۔ مشعل کے دلگیری سے کہنے پر وہ منہ پھلا کر گھورنے لگی اب تم میرا شکریہ ادا کروگی؟ حد ہے۔ چلو یونیورسٹی میں کینٹین بند سہی باہر سے کوئی چیز دلا لائوں تمہیں۔ رومیصہ نے کہا تو وہ پہلے تو انکار کرنے لگی پھر خیال آیا کہ کہیں دوبارہ طبیعت نہ خراب ہو جائے یونیورسٹی پوائنٹ میں ابھی دیر تھی اور خراب طبیعت کے ساتھ لوکل جانا مناسب نہیں تھا۔ چلو واقعی مجھے مزید طبیعت خراب ہونے سے پہلے کچھ کھا لینا چاہیئے۔ وہ کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئئ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکی یونیورسٹئ سے قریب ترین مرکز ہی لگتا تھا۔وہاں تک جانے کی ہمت نہ تھی اس تیز دھوپ میں۔ ہاں قریب چھپر ہوٹل اور ایک چھوٹی سی ٹک شاپ تھی وہ بھی بند ۔ وہ دونوں منہ لٹکا کے واپس ہوئیں۔ تم پریشان مت ہو تمہارا تو روزہ بھی ہے میری وجہ سے خوار ہو رہی ہو۔ مشعل کو شدید شرمندگی ہو رہی تھی۔ یار ٹیکسئ میں اکیلے گھر بھیجنا مناسب نہیں لگ رہا تمہاری طبیعت بھی خراب ہو رہی ہے۔ میں ساتھ چلتی مگر پھر واپسی پر مجھے کون گھر پہنچائے گا بابا تو کراچی گئے ہوئے ہیں کل آئیں گے واپس۔ رومیصہ فکرمند تھی۔ مشعل ہمت سے کام لے رہی تھی لیکن بی پی شدید لو ہو رہا تھا۔ اب کینٹین ہی واحد سہارا تھی۔ وہ مشعل کو اپنے ساتھ کینٹین ہی کے پاس لے آئی۔ کینٹین کے ملازمیں تو نہیں تھے البتہ کینٹین کے مالک انکل مسجد سے نماز پڑھ کر نکلتے دکھائی دیئے۔رومیصہ خوش ہو گئ۔ پیشانی پر مہراب داڑھی وہ صوم صلوات کے پابند خاصے شریف انسان تھے۔ اس نے سلیقے سے جا کر ان سے مدعا بیان کیا۔ وہ سر ہلاتے فورا کینٹیں کی طرف چل پڑے۔ کینٹین کھول کر ان دونوں کو اندر میز کرسی پر بٹھایا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی وہ چپس چاکلیٹ بسکٹ سینڈوچ جانے کیا کیا اٹھائے چلے آئے۔ بیٹا سینڈوچ ہے تو کل کا مگر فریج میں رکھا تھا خراب نہیں ہوا ہوگا۔ انہوں نے کہتے ڈھیر لگا دیا۔ دو تین طرح کے چپس بسکٹ جوس ۔۔ انکل اتنا کچھ نہیں چاہیئے بہت ذیادہ ہے۔ بس یہ ایک چپس کا پیکٹ اور جوس کافی ہے اس نے بیگ سے پیسے نکال کر دینے چاہے ۔۔ رومیصہ کو پیسوں کی بھی فکر ہو رہی تھی۔ ایک آدھ چپس کا پیکٹ جوس تو ٹھیک تھا مگر اتنا کچھ ۔انہوں نے نرمی سے پیسے لینے سے بھی منع کردیا۔ کوئی بات نہیں بیٹا۔ پیسے کی فکر مت کرو۔ میری بیٹیوں جیسی ہو دونوں اطمینان سے کھا لو۔ دروازہ بند کر دینا میں بعد میں چکر لگا کر تالا لگا لوں گا۔ وہ شفقت بھرے انداز میں سر پر ہاتھ رکھتے کہہ کر خود باہر نکل گئے۔ دونوں؟ رومیصہ چیں بہ چیں ہوئی۔ مشعل نے پھر تکلف نہ کیا۔ سینڈوچ کھا کر جوس پی کر طبیعت بحال ہوئی۔ اف کل دوپہر کو کھانا کھایا تھا رات کو بھی کھانا نہیں کھایا اسوقت صحیح حالت خراب ہوئی وی تھی۔ مشعل کے پیٹ میں کچھ گیا تو توانائی بحال ہونے پر زبان چالو ہوئی۔ رومیصہ ہنس دی۔ چلو اٹھیں اب کلاس شروع ہونے والی ہے۔ اسکے کہنے پر مشعل بھی سر ہلا کر اٹھنے لگی۔ چپس اور باقی بسکٹ احتیاط سے اٹھا کر کائونٹر پر رکھے ایک جوس کے ڈبے کے نیچے دو جوس کے ڈبوں اور سینڈوچ کے پیسے رکھے۔ میں بھی لے لوں یہ مجھے بھی پسند ہے افطار میں پیئوں گی۔ مشہور انرجی ڈرنک دیکھ کر رومیصہ کا بھی دل چاہ گیا۔ اس نے بھی ایک بوتل پکڑ کر اپنے بیگ سے پیسے نکال کر وہیں رکھے۔ کینٹین کی بتیاں بجھا کر احتیاط سے دروازہ بند کردیا۔ ابھی بیگ میں جوس رکھ ہی رہی تھی کہ انکے دو ہم جماعت گزرے اسے دیکھ کر ایک نے جملہ چست کردیا اوئے کھوجے مار روزہ نہیں رکھا تم نے؟ اس سے قبل کہ وہ کوئی جواب دیتی اسکے ہمراہ لڑکے نے اسکو کھینچ لیا۔ پاگل ہو ایسے نہیں ٹوکتے لڑکیوں کو۔ وہ اسکے کان میں گھرک رہاتھا۔ وہ دونوں نظریں چرا کر جوس بیگ میں رکھتی آگے بڑھ گئیں سامنے سے انکل آرہے تھے۔ انہیں بتانا ضروری تھا۔ شکریہ انکل ۔ وہ ہم نے کائونٹر پر پیسے رکھ دیےہیں اور کینٹین کا دروازہ بھی بند کردیا۔ اب طبیعت کیسی ہے بیٹے؟ وہ اسی شفقت بھرے انداز میں پوچھ رہے تھے۔ جی بہتر ہے۔ شکریہ آپکا۔ مشعل ممنون سے انداز میں بولی کوئی بات نہیں۔ مگر بعد میں روزے ضرور رکھ لینا انکی معافی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا تو رومیصہ خاصی شرمندہ سی ہوگئی مشعل نےاسکی کیفیت سمجھ کر سبھائو سےکہا۔ میں رکھتی ہی نہیں ہوں روزے دراصل میں کرسچن ہوں۔ اچھا میں چلتا ہوں۔ آئندہ بھی کبھی ضرورت پڑے توآجانا بیٹے۔ فکر نہ کرنا میں بھی بیٹیوں والا ہوں سمجھ سکتا ہوں۔ وہ جیسے اسکی نادانی پر مسکرائے۔۔ پھر سر جھٹکتے آگے بڑھ گئے۔ ان دونوں کی سمجھ میں نہ آیا انکل کے اس خیال رکھنے والی ادا پر خوش ہوں یا انکی غیر ضروری فکر پر چڑ جائیں۔ حد ہے لڑکیوں نے روزہ نہیں رکھا تو بس ایک ہی خیال آتا ہے ذہن میں ان لوگوں کے۔ مشعل جھلاگئ۔۔ ایسے دیکھ رہے تھے جیسے میں جھوٹ بول رہی ہوں۔حالانکہ میں تو۔۔۔۔ میں تو واقعی عیسائی ہی ہوں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ THE END
Unraveling the Magic of Urdu Afsancha: Delve into the World of Urdu Short Fiction”
اسکی فیس بک بھری تھی۔۔ اسکی ٹائم لائن پر جائو تو رونگٹے کھڑے کر دینے والے مراسلے تھے۔۔ خون لاشیں ظلم بربریت۔۔ کہیں ٹکڑے ٹکڑے جسم تھے کہیں معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کرتے جابر شقی۔۔ وہ آن لائن تھا۔۔ اس نے فورا اسے پیغام بھیجا۔۔ یہ کیا بھیج رہے ہو دل خراب ہوگیا۔۔ جہادی نامی آئی ڈی نے فورا جواب دیا تھا۔۔ یار یہ برما کی تصاویر ہیں۔ دیکھو کتنا ظلم ہو رہا بربریت کی انتہا ہے مسلمانوں کو چیونٹی کی طرح مسل رہے ہیں۔۔ عورتوں بچوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے شقی۔۔ اوہ۔۔ اس کو یاد آیا۔۔ عالمی برادری بھی اس مسلے پر آواز اٹھا رہی تھی۔۔ صحیح۔۔ اس نے بس اتنا ہی ٹائپ کرکے بھیجا آگے سے فوری جواب آیا۔۔ تم بھی شیئر کر و نا ۔۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس ظلم کی اطلاع پہنچے۔ یار ہم مسلمان ایک ہو جائیں تو مجال ہے دنیا ہمارا کچھ بگاڑ لے۔
۔
ہمم۔۔ اس نے سوچا اور شئیر کر دیا۔۔ اسے فوری اطلاع آئی۔۔ جہادی نے آپکے اشتراک کیئے گئے مراسلے کو پسند کیا۔۔ پھر شائد اس نے اسکی پوری ٹائیم لائن کے ہر مراسلے کو پسند کرنا شروع کیا۔۔ جہادی نے آپکے جون میں اشتراک کیے گیے مراسلے پر تبصرہ کیا ہے۔۔ اسکو نئی اطلاع آئی۔ اس نے فورا کھولی۔۔ یہ کیا؟ تو شیعہ ہے؟ اس نے فوری جواب دیا۔۔ نہیں بھئی۔۔ میں سنی ہوں۔
فورا اگلا تبصرہ آیا۔۔ پھر یہ ہٹا مراسلہ۔۔ کیوں۔۔ وہ حیران ہوا۔۔ یار دیکھ اس قول میں حضرت علی کے نام کے آگے رضی اللہ کی جگہ علیہ السلام لکھا ہے۔۔ اس نے غور سے دیکھا۔۔ اس نے تو بس خلیفہ کا قول دیکھ کر اشتراک کیا تھا۔۔ قول تھا۔۔ فتنہ اور فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نےابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کیئے ہوں کہ نہ تو اسکی پیٹھ پر سواری کی جاسکتی ہے اور نہ ہی اسکے تھنوں سے دودھ دوہا جا سکتا ہو۔۔۔
تو ؟ اسے الجھن آئی۔۔ یار رضی اللہ لکھنا چاہیے حضرت علی کے نام کے ساتھ خود تو نے تو رضی اللہ بھی نہیں لکھا۔۔ اس نے ٹوک دیا۔۔ اوہو۔۔ بحث مت کر ہٹا یہ مراسلہ گناہ گار ہو رہا ہے۔۔ جہادی کا فورا پیغام آیا۔
اسکے پاس دلیل تھی۔۔بہت سے علما متفق ہیں اس بات پر کہ حضرت علی کو علیہ السلام کہا جا سکتا ہے کہ رسول صلی اللہ و علیہ واآل وسلم کا نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکی اولاد پر درود و سلام بھیجا جاتا ہی ہے ۔۔وہ اہل بیت کو ماننے والا تھا سب سے بڑھ کر اس نے قول شئیر کیا تھا رضی اللہ یا علیہ السلام تو دیکھا بھی نہیں تھا پھر تھے تو وہ صحابی رسول پھر رسول کے داماد چچا زاد اہل بیت میں سے تھے انکا احترام اپنی جگہ تھا۔۔ اس نے سب کچھ لکھتے لکھتے مٹایا۔۔ اور بس اتنا سا تبصرہ لکھا۔۔ تو کہتا ہے نا ہم مسلمان ایک ہوجائیں تو مجال ہے دنیا ہمارا کچھ بگاڑ لے۔۔ میں کہتا ہوں مجال ہے جو تمام مسلمان ایک ہو جائیں۔