Ejaad a short urdu afsana

ایجاد

آج مجھے تقریباً دس سال بعد اسکی صورت نظر آئ تھی
میں اشیاء خوردونوش کے ایک بڑے کریانے سے خریداری کر رہا تھاجب مجھے وہ دکھائی دیا
سرف کا لفافہ اٹھاتا ہدایت اللہ
میرا بچپن کا دوست …
لمبی داڑھی سفید بال پیشانی پر سجدے کا نشان چہرے پر بڑھاپے کی جھریاں سجی تھیں کندھے تھوڑا سا جھک گیے تھے مگر چہرے پر ووہی ملاحت تھی میں اسے دیکھ کر بے حد خوش ہو گیا تھا
سو پر جوش انداز میں اسکی جانب بڑھا
ارے ہدایت اللہ کیسے ہو ؟
وہ مجھے دیکھ کر چونکا پھر بے حد خوش دلی سے میری جانب بڑھا
اسلام و علیکم کیا حال ہیں ؟
ہم بغل گیر ہوئے
وعلیکم السلام .. میں ٹھیک ٹھاک تم نے اپنا کیا حلیہ بنا رکھا ہے بالکل بوڑھے لگ رہے ہو ؟
میں کہے بغیر نہ رہ سکا
اس نے ہنس کر مجھے دیکھا
میں حسب عادت پتلون قمیض میں ملبوس تھا بال اسکی طرح سفید نہیں چھوڑے تھے

با قاعدگی سے رنگتا ہوں داڑھی ہمیشہ سے منڈوا رکھی تھی اور اب تو جدید دور سے ہم آہنگ ہو کرروز ورزش کی بھی عادت ڈال رکھی تھی سو پیٹ کمر سے لگا تھا اسکی طرح توند نہیں تھی میری سو میں اس وقت اسکے ساتھ کھڑا اس سے کہیں کم عمر دکھائی دیتا تھا
بس اب تو بڑھاپا ہی آیئگا جوانی تو کب کی گزر چکی ہے
اس نے ہنس کر بات ٹالی
ایسا بھی نہیں … مجھے اختلاف تھا
تم سناؤ فراز بیٹا کیا کر رہا ہے ؟آخری بار تو اسکی اور حارث کے کالج ختم ہونے کی تقریب میں ملاقات ہوئی تھی ہماری ؟
وہ میری عادت سے واقف تھا ابھی میں نے اسکو واعظ دینا تھا کہ انسان کو اپنا خیال رکھنا چاہیے بڑھاپا ایک ذہنی کیفیت ہے اسے خود پر طاری کر لینا نری حماقت ہے وغیرہ وغیرہ سو فورا بات بدل دی
ہاں دس سال ہو گیے … میں نے ٹھنڈی سانس بھری
بس اسکے بعد اسے وظیفہ مل گیا تھا امریکا چلا گیا تھا آجکل ناسا میں نوکری کر رہا نجانے کتنی نیی نیی تحقیقات کا حصہ ہے اب تک کئی نئی سائنسی اصطلاحات کا اضافہ کر چکا ہے طبیعات میں ابھی کچھ عرصۂ پہلے اسے اسکی خدمات کے اعتراف میں امریکی دانش کدہ سے سند بھی ملی ہے ماشااللہ سے
کہتا ہے وہاں آجائیں اسکے ساتھ رہیں مگر ہم دونوں میاں بیوی تیار نہیں ہوتے یہاں بیٹیاں ہیں ہاں بس سال چھے مہینے بعد ہم مل آتے ہیں
میں نے سینہ پھلا کر بتایا تھا
ماشااللہ … الله اور کامیابیاں عطا کرے والدین کو ہمیشہ اسکی جانب سے اچھی نوید ملے
وہ ہمیشہ کی طرح خوش ہوا تھا سن کر وہ بھی فراز کو اپنے بیٹے کی طرح ہی چاہتا تھا ..
تم سناؤحارث کیسا ہے وہ کیا کر رہا ہے آجکل؟
میں نے اسکے بیٹے کا احوال دریافت کیا تو اسکی مسکراہٹ پھیکی سی پڑ گئی
اس نے تو مدرسہ سے عالم بننے کے نصاب میں داخلہ لیا تھا اب تو عالم بن چکا ہے اپنا مدرسہ چلا رہا ہے اب تو فتوے بھی دیتا ہےکچھ عرصے سے اسکے اور مرے درمیان فقہی اختلاف ہو گیا ہے کافی دن سے ملاقات اس سے میری بھی نہیں ہی ہے کہتا ہے آپ کے نظریات دین کے صحیح عکاس نہیں ہیں تبدیل کیجیے کچھ اسکی دینی اصطلاحات سے مجھے شدید اختلاف ہے بس… کچھ ایسے ہی معاملات ہیں
وہ ہنس دیا تھا

Kesa laga aapko yeh afsana? Rate us below

Rating

Salam Korea Episode 16

Salam Korea
by vaiza zaidi
قسط 16

Salam korea episode 16 a seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi urdu novels by hajoom e tanhai
Salam korea episode 16 a seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi

آج اس نے الارم تک جاگ کے ہی وقت گزارا۔ گوارا بے خبر سوئی ہوئی تھی۔ وہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ پراٹھا بنایا انڈا تلا۔ کافی بنائئ۔ اچھی طرح سحری کرکے خوب پانی پیا ۔ نیت کی۔ نیند تو آ نہیں رہی تھی۔ سو ٹیرس میں چلی آئی۔
بیس بائیس منزلہ اس عمارت سے سیول کی روشنیاں خوب دلفریب نظارہ لگ رہی تھیں۔ اونچئ اونچئ عمارتوں پر جلتے قمقمےسے۔ ہوا سبک اور سرد تھئ۔ اس کا مگر یہاں سے جانے کو دل نہ کیا۔ ارادہ اب نماز پڑھ کر ہی سونے کا تھا۔
کیا کر رہی ہو۔۔
گوارا اونچا اونچا بولتی اسکے پاس چلی آئی
کچھ نہیں ۔۔ اریزہ نے مسکرا کر دیکھا۔
سیول کی روشنیاں دیکھ رہی تھی۔
گوارا ہنسی۔۔
یہ منظر مجھے متاثر نہیں کرتا۔ مجھے پہاڑ پسند۔۔ بہتا جھرنا۔ ہو اور ساتھ من پسند ساتھئ۔۔ ہائے۔۔
اس نے آنکھیں بند کر کے بازو پھیلا کر مزا لیا۔۔ اریزہ اسکے انداز میں بازو پھیلا کر ریلنگ پر پائوں پھنسا کر کھڑی ہوگئ۔۔
کیا کر رہی ہو۔۔ گوارا نے آنکھیں کھولیں تو رنگ فق ہو گیا اسکا۔ گھبرا کر بازو سے پکڑا اسے
۔۔بیس منزلہ عمارت ہے یہاں سے گریں تو قیمہ بن جائے گا تمہارا۔۔وہ مضبوطی سے جکڑ کر بولی۔۔ اریزہ اسکے برعکس مزے سے آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی۔۔
تصور کرو سامنے بہتا جھرنا ہے اور ایک خوشگوار سبزہ زار میں کھڑی ہو۔۔
ریلنگ پر کھڑے ہونے سے ریلنگ اسکے پیٹ سے نیچے تھی۔۔
اسطرح کھڑے ہو کر جھرنا نہیں سمندر کا خیال آئے گا۔۔اور یہاں کوئی ہینڈسم جیک میرا ہاتھ بھی نہیں تھامے کھڑا کہ میں بے فکر رہوں مجھے گرنے نہیں دےگا۔۔ گوارا نے تقریر جھاڑ دی۔
اترو نیچے۔۔
وہ ڈپٹ رہی تھی۔۔
اسکی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ اریزہ ہاتھ چھڑا نہ سکی اسے اتر نا ہی پڑا۔۔
کتنی جان ہے تم میں۔۔ وہ منہ بنا کر کہہ رہی تھی۔۔
گوارا ہنسی۔
بیٹا تربیت لی ہوئی ہے میں نے رضاکار ہوں۔۔ ابھی ایسے ہی نہیں پکڑا تھا نیچے ٹانگ بھی پھنسا لی تھی اگر تم چھوٹ جاتیں تو تمہیں پکڑے ہونے کی وجہ میں نے بھی جھٹکا کھا کر تمہارے ساتھ نیچےآنا تھا۔۔
اس نے نیچے اپنی ٹانگ کی جانب اشارہ کیا۔۔ اریزہ نے دیکھا تو داد دے کر رہ گئ۔۔
اس نے ریلنگ کے دو راڈوں کے درمیان پائوں پھنسا رکھا تھا
اف کتنی ٹیلنٹڈ لڑکی ہو تم۔۔ اریزہ متاثر بھی ہوئی۔
بے حد۔ اس نے گردن اکڑائی۔۔
تم ہاتھ بھی مجھ سے نہیں چھڑا سکیں۔۔ گوارا کو یاد آیا۔۔
مجھ سے ہاتھ چھڑانا آسان نہیں مگر پھر بھی ایک لڑکی سے ہاتھ نہیں چھڑا سکتی ہو کل کو کسی لڑکے نے پکڑ لیا تم تو آسان شکار ثابت ہوگی اسکیلیئے۔۔ گوارا اب سنجیدگی سے کہہ رہی تھی۔۔
ایویں۔۔ جرائت کسی کی میرا ہاتھ ایسے ہی پکڑ لے۔۔
اریزہ نے اکڑ کر کہا۔
تمہارے یہاں پر ورٹ نہیں ہوتے؟۔۔ گوارا نے کہا تو وہ ایکدم چپ ہوکر دیکھنے لگی۔۔
میرا مطلب ہے ہو سکتا ہے تمہیں کبھئ ضرورت نہیں پڑی ہو مگر تمہیں اپنا بچائو کرنا تو آنا چاہیئے۔۔ گوارا نے وضاحت کی ۔۔
میں تمہں سکھا سکتی ہوں۔ گوارا نے کہا تو اریزہ سوچ میں پڑی۔۔
دیکھو۔۔اگر کوئی تمہارا ہاتھ پکڑ لے تو ایسے کلائی کرو۔۔ وہ اسے کلائی گھما کر دکھا رہی تھی۔۔
ہاتھ میں فورا پسینہ آتا ہے گرفت کبھی بھی کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو ہاتھ چھٹ جاتا۔۔ سو کوئی بھی کبھی حملہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ شکنجے میں پھنسنے مت دو۔۔
وہ اسے پکڑ کر جھکا رہی تھی۔۔
پیٹ میں کہنی مارو۔۔
تھوڑی پر سر مارو۔۔
وہ اسے پٹخنی دے کر گرا رہی تھی اور اس پٹخنی کو روکنے کا طریقہ بھی بتا رہی تھی۔
ایک منٹ۔۔۔۔
اریزہ کو خیال آیا
تم کہہ رہی ہو ہاتھ میں پسینہ آتا تو ابھی اگر میں گرنے لگتی تو تم سے تو چھٹ جاتی ۔۔۔
اچھا سوال۔۔ گوارا کی سانس پھول رہی۔تھی۔۔ سینے پر دھیرے دھیرے سہلا کر اس نے سانس بحال کی۔۔
ایک تو تم سیدھی کھڑی تھیں گر نہیں رہی تھیں بالفرض اگر گرنے لگتیں۔۔ تو میں تمہاری کلائی تھامے تھی دوسرا ہاتھ میرا خالی تھا اس سے میں نے تمہاری کمر یا بازو سے پکڑنا تھا ۔۔ جیکٹ اچھا آپشن تھوڑی مہلت مل جاتی سب سے بڑھ کر تم نے خود ہاتھ پائوں چلا کر مجھے کہیں نہ کہیں سے تھامنا تھا ایسی صورت حال میں انسان کا اپنا خودکار مدافعتی نظام متحرک ہو جاتا۔۔
گوارا نے تفصیل سے بتایا۔۔
اور گرفت آپکی کلائی کا کام ہے۔۔ ابھی اس کمزور کلائی سے تو تم مضبوط گرفت کرنا تو دور مجھ سے ہاتھ چھڑاتے بھی زخمی ہو سکتی ہو۔۔
گوارا نے شرارت سے اسکی کلائی پکڑ کر چھیڑا۔۔
اریزہ نے فورا چھڑانا چاہا۔۔ مگر چھڑا نہیں پائی۔۔ وہ اسکا ہاتھ تھامے اسکی کوشش کو محظوظ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
تم لڑکی نہیں ہو۔
اریزہ کو یقین ہو چلا تھا۔روہانسی ہو کر بولی گوارا قہقہہ لگا کر ہنسی تھی اسکی بات پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹرو کے چلنے کا وقت ہوا خاکروب صفائیاں کرتے پھر رہے تھے جب چہل پہل سے اسکی آنکھ کھلی۔۔
اس نےکسمسا کر اٹھتے ہوئے اپنے اردگرد نگاہ کی۔۔
رات کو اسکے ساتھ دو عورتیں ایک بچہ دو کم عمر لڑکے ایک ادھیڑ عمر مرد ایک ہپی بھی بستر لگا کر سویا تھا مگر اس وقت وہ اکیلی لیٹی تھی۔۔ وہ شرمندہ سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
پوچھا لگاتے ایک خاکروب نے اسکو دیکھا مگر کچھ کہا نہیں۔۔
وہ ایک۔خالی کارٹن زمین پر بچھا کر لیٹی تھی باقی سب کا روز کا معمول تھا سو کسی کے پاس سلیپنگ بیگ تھا تو کوئی ہوا بھرنے والا۔گدا بچھائے تھا یہ کارٹن اسے بوڑھی عورت نے ازراہ ہمدردی اپنا پہش کیا تھا۔۔
وہ کارٹن سمیٹنے لگی تو کئی نوٹ اسکے ہاتھ لگے۔۔
اسے اچھی طرح یاد تھا کارٹن بالکل خالی تھا جب اس نے جھاڑ کر بچھایا تھا۔
وہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔۔
جبھی کوئی اسکے قریب سے گزرتے سکا اچھال گیا۔۔
اس نے چونک کر سر اٹھایا۔۔ وہ کوئی کالج کا طالب علم تھا بیگ کندھوں پر لٹکائے مڑ کر دیکھنے بنا اسے بھیک دے گیا تھا
تمہارے ہی ہیں آتے جاتے لوگ رکھ جاتے ہیں بے گھر افراد کے سرہانے اکثر۔۔
وہ خاکروب اسے سنٹ سا بیٹھے دیکھ کر قریب آکر بولا۔ وہ کچھ نہ بولی ٹکر ٹکر دیکھتی رہی
تم کو آج پہلی بار یہاں دیکھا نئی آئی ہو اس شہر میں؟
وہ یونہی پوچھ رہا تھا۔
اسکی آنکھ سے آنسو بہہ نکلے۔۔
مت رو ۔۔ اسکا دل پسیج گیا۔۔
میں بھکاری نہیں ہوں۔۔ وہ کہتے زار زار رو پڑی
ارے ۔۔ وہ موپ دیوار سے ٹکا کر اسکے سامنے دوزانو بیٹھا
بھکاری نہیں لگتی ہو جبھی لوگ مدد کر رہے۔۔ روز کے آنے جانے والے بھکاریوں کو دھتکار دیتے ہیں دیکھا یہاں کوئی نہیں بیٹھا ہوا۔۔ تم مشکل میں لگتی ہو جبھی لوگ پیسے بھی دے گئے بھیک نہیں مدد ہے یہ
اس نے گھٹنوں میں سر دے لیا۔۔
اپنے ہی الفاظ کانوں میں گونجے آئندہ بھیک اسے دیجئے گا جسے ضرورت ہو۔۔ تو کیا وہ بھی بھیک منگوں میں سے ہو گئ ہے۔۔ اسے اپنی بے بسی پر غصہ بھی آرہا تھا۔۔
آہش۔۔
وہ تاسف سے دیکھ رہا تھا
ایک عورت کو تو خود میں نے کہتے سنا۔۔ بےچاری اچھے گھر کی لگتی ہے۔۔ یہ دو ہزار وون کا نوٹ اس نے تمہارے ہاتھ کے نیچھے دبایا تھا۔۔
وہ چونک کر سر اٹھا کر دیکھنے لگی تو وہ یقین دلانے والے انداز میں سر ہلانے لگا۔۔
واقعی۔۔ اس نے ایسا ہی کہا تھا۔۔پھر میں نے یہ کارٹن کے نیچے دبا دیا تھا کہ ہوا سے اڑ نہ جائے۔۔
وہ اسے بہتر محسوس کرانا چاہ رہا تھا۔۔ اس نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔۔ سادہ سا پینتیس چھتیس سال کا کوریائی نقوش کا حامل مرد جس کے چہرے پر سوائے سادگی کے کچھ نہ تھا۔۔ اسکی ہمدردی اسے جانے کیوں بری نہ لگی۔۔ اس نے سر ہلا دیا۔۔ پھر گھٹنوں کو تھامتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
اس نے پیسے مٹھی میں بھر کر اپنے اپر کی جیب میں ڈال لیئے تھے۔۔
کچھ کھائو گی؟۔۔ اسے اٹھتے دیکھ کر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔
میرے پاس تھوڑا سا چاولوں کا کیک ہے دوں؟۔۔ اس کی خاموشی پر اس نے مزید کہا۔۔
وہ آنسو پونچھتی مسکرا دی۔۔
گومو وویو۔۔ پیسے ہیں میرے پاس کچھ کھا لیتی ہوں میں۔۔
یہ کارٹن ادھر سیڑھیوں کے پاس رکھ دوں گا رات کو وہیں سے لے لینا۔۔
وہ سر ہلا کر کارٹن اٹھانے لگا تو خیال آیا ۔۔ ہوپ مڑ کا جانے لگی تھی کہ اسکی بات پر ٹھٹھک گئ۔۔
وہ سادہ سے انداز میں کہہ کر اب کارٹن تہہ کر رہا تھا۔۔
وہ بس دیکھ کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسٹل کے برعکس گوارا کے فلیٹ میں گزارے روزے بہتر گزررہے تھے۔ اس نے گوارا کے سامنے اعتراف بھی کیا۔۔
تم ہاسٹل چھوڑو یہیں رک جائو۔ گوارا اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق فورا بولی
اریزہ ہنس دی۔ اسے اب پیر کو ہی جانا تھا یونی سو اطمینان تھا۔ لیکن چیزیں پورے کمرے میں پھیلا رکھی تھیں سو اپنے بیگ میں سمیٹ سمیٹ کر رکھ رہی تھی۔
ایک تو تمہیں کرایہ دینا پڑے گا دوسرا بس کا کرایہ بھی۔ مانا میرے آہبوجی بہت پیسے بھیجتے مگر اڑانا مجھے زیب نہیں دیتا۔ انکی محنت کی کمائی ہے۔
اسکی بات پر گوارا جو موبائل میں لگی تھی فون ایک طرف رکھ کر بیڈ پر آلتی پالتی مارتے سیدھی ہو بیٹھی۔
سب مسلم والد ایسے ہوتے ہیں؟ بیٹیوں پر پیسہ خرچ کرنے والے۔
سب والد ہی ایسے ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کیلئے۔ مسلم غیر مسلم کی کیا تفریق۔
اریزہ کو اسکا سوال عجیب سا لگا۔
ہممم۔ گوارا ہوں کرکے چپ ہوگئ
تمہارے والد تمہارا خرچہ نہیں اٹھاتے؟
اریزہ سوال کرتے ہی زبان دانتوں میں دبا گئ۔ اسے یوں پوچھنا نہیں چاہیئے تھا۔
نہیں۔ گوارا کا انداز سادہ سا تھا۔ اسکی جھینپی سی شکل کو دیکھ کر مسکرا کر بولی
میرے سگے باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔ انکی انشورنس وغیرہ سے آہموجی نے ریستوران بنا رکھا ہے گائوں میں۔ اور یہ فلیٹ تھا انکا۔اپنے والد کی شفقت تو یاد نہیں مگر شائد باپ کا کام ہی بچوں کو فائنینشلی سپورٹ فراہم کرنا ہوتا ہے۔اب جی ہائے کو ہی دیکھ لو۔اسکے بابا اس پر کھلا پیسہ خرچتے ہیں۔ مگر وہ اسکی خاطر اسکی امی سے صلح نہیں کر سکتے تھے۔ اسکو دکھ ہی اسی بات کا بس۔
وہ سرسری انداز میں بتاتئ اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔
اریزہ بیگ سمیٹتے سمیٹتے رک کر بیڈ پر بیٹھ گئ۔
اسکے بابا تو اسکے بہت لاڈ اٹھاتے تھے۔شائد ہی کوئی فرمائش ہوگی اسکی جو انہوں نے ٹالی ہو۔ اسکے منہ سے بات نکلنے کی دیر ہوتی تھئ اور وہ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ رات بارہ بجے وہ انکے ساتھ جا کے آئس کریم کھا کے آتی تھی۔ اسکے پاس مہنگے سے مہنگا فون ہوتا تھا۔۔ یہاں بھی وہ مہینے کے درمیان میں ہی پیسے ختم کرکے مزید کی فرمائش کر دیتی تھی۔۔۔ اسکو شدت سے وہ پل یاد آئے جب وہ رات کو انکے ساتھ بیٹھ کر کافی پیتےانکو لمبے لمبے سہیلیوں کے اسکول کے قصے سناتی تھی۔ اسکی سب سہیلیوں کے نام یاد تھے انہیں۔ سنتھیا اسکی سہیلی نہیں بہن ہے یہ انہوں نے اسے سمجھایا تھا۔
اس نے پلٹ کر بیڈ سے اپنا فون اٹھایا اور فورا میسج ٹائپ کرنے لگی
پاپا۔ آپ بہت یاد آرہے ہیں مجھے۔ مس یو۔ اور ڈھیر سارا لو یو۔
جوابا فوری انکا پیغام آیا تھا۔
مس یو ٹو بیٹا۔ اور پیسے چاہیئے ہیں؟؟؟
وہ شرمندہ سی ہوگئ۔
نہیں پاپا بس مس یو اینڈ لو یو۔۔
اس بار پیغام نہیں انکی کال آگئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہائے پریکٹس کر رہی تھی وہ دونوں آلتی پالتی مارے بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں
وہ ربن سے کرتب کر رہی تھی۔۔ ہوا میں تیرتی سبک خرامی سے اڑتی پھر زمین پر اسکے پائوں آہستہ آہستہ یوں آ اترتے جیسے کوئی دھیرے سے اسے اٹھا کر رکھ دیتا ہو۔۔
اریزہ محویت سے دیکھ رہی تھی اور گوارا اسکی محویت دیکھ رہی تھی۔
شفاف گلابی جلد ستواں ناک بڑی بڑی آنکھیں میک اپ کے نام پر کاجل تک نہیں تھا۔ اپنے روائتی سرخ رنگ کے لباس میں ملبوس وہ توجہ کھینچ لینے والا حسن رکھتی تھی۔۔
سوائے نقش مختلف ہونے کہ وہ خود بھی کافی پیاری بلکہ حسین کوریائی لڑکی تھی مگر جب انسان خود ہی اپنی شکل کو نا پسند کر بیٹھے کوئی کیا اسے اسکے حسن کا احساس دلائے۔۔
اسکی پریکٹس ختم ہوئی اریزہ نے اسکے لیئے زور زور سے تالیاں بجائیں تب وہ چونکی۔ جے ہی جھک کر اس سے داد وصول رہی تھی۔۔
چڑھی سانسوں کے ساتھ دھپ سے جی ہائےاسکے پاس آگری۔۔ اف پانی۔۔ اس نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی مگر وہ خالی ہوچکی تھی۔۔ اف۔ اس نے پیاسی نظروں سے ہال کے ایک کونے میں لگے کولر کو دیکھا۔۔
گوارا پانی بھر کے لادو۔۔
اس نے منت بھرے انداز میں گوارا کو کہا۔۔
وہ وہیں اسکے بیگ پر پھیل گئ۔۔
پانی چاہیئے۔۔ اریزہ نے اندازہ لگایا۔۔ جے ہی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
میں لا دیتی ہوں۔۔ اریزہ فورا اٹھی۔۔
میرے لیئے بھی۔۔ گوارا نے اپنی بوتل بھی نکال کر تھما دی
شرم کرو۔۔ جی ہائے نے گھورا مگر وہ ڈھٹائی سے ہنسی
اریزہ دو بوتلیں بھر کر لائی تھی۔۔
جی ہائے تم آجائو نا میرے فلیٹ میں اپنے ابا کے پیسے میرے منہ پر مار دیا کرنا کرائے کی مد میں ساتھ ایک اور بندی ہوجائے تو میری کتنی بچت ہونے لگے۔۔
گوارا کا بچت موڈ آن تھا۔
جی ہائے نے اثبات میں سر ہلایا
خیال اچھا ہے ان سے کرائے کے نام پر مزید پیسے نکلوانے کا موقع بھئ مگر روز جو مجھے اس منحوس ہال میں آکر پریکٹس کرنئ ہے اسکا کیا۔
یار مجھے شکل ٹھیک کرنی ہے ابھی اس اریزہ کو ہی دیکھ لو کیسی ستواں ناک ہے اور میری دیکھو پھینی۔
گوارا نے دہائی دی
اف اسکے عجیب دکھ۔۔
کوئی بتائے اسے اصل دنیا کے مسلے کیا ہیں۔۔ جی ہائےمزاق اڑا رہی تھی۔۔
ماں باپ ہیں بہن بھائی ہیں مگر اسے اکیلا رہنا پسند ہے۔ خیال رکھنے والا بوائے فرینڈ ہے مگر اسکو ناک تک عاجز کیئے رکھتی۔۔ جاب نہیں کرتی ہے مگر خرچے بڑھا رکھے ہر دوسرے دن چھوڑ چھاڑ جیب خرچ اپنے والدین سے منگواتی مگر یہ بہت دکھییا ہے بے چاری۔۔ جب اسے ان سب دکھوں سے فرصت ہوتی تو آئنہ دیکھ کر اچھی بھلی شکل میں عیب ڈھونڈ کر روتی
جی ہائےگنوا گنوا کر زلیل کر رہی تھی اریزہ حیران اسکی شکل۔دیکھ رہی تھی گوارا ہنسے جا رہی تھی۔۔
میں پیسے نہ منگوایا کروں تو میری ماں میرے باپ کے پیسوں سے کما کر اپنے سوتیلے بچوں پر خرچ کردے۔ سب۔
وہ ہنستے ہوئے بولی۔

سدھر جائو آہجومہ زندگی سبق سکھانے پر آتی تو بہت برا رگڑا لگتا ہے۔۔
جو بھی۔۔ اس نے کان سے مکھی اڑائی۔۔
پھر بتانے لگی۔
میں نے نوٹس بورڈ پر اشتہار لگایا ہے صبح سے تین کالز آچکی ہیں مگر سب لڑکوں کی۔
اب ایک کمرے کے فلیٹ میں میل روم میٹ تو رکھنے سے رہی۔۔ ساتھ وہ بھی ایک نازک اندام حسینہ اسکی بھی حفاظت میرے زمے ۔۔ویک اینڈ پر ہی سہی
گوارا نے شرارت سے کہا تو اریزہ ںے تصدیق کرنی چاہی
میری بات کر رہی ہو۔۔
گوارا اور جے ہی کھلکھلا کر ہنس پڑیں
یار یہ مجھ تک سے ہاتھ نہیں چھڑا سکی۔۔ گوارا مزاق اڑا رہی تھی۔۔
واقعی۔۔ جی ہائے حیران ہوئی۔۔ اریزہ خفا ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی
تو اور کیا ایسے کانپ رہی تھی۔۔ گوارا نے مبالغہ آرائی سے کام لیا۔
میرا مزاق نہ اڑائو۔۔ اریزہ کا موڈ خراب ہوا۔۔
ارے ۔ ناراض مت ہو۔۔ وہ اسے خفا بھی نہیں دیکھ سکتی تھیں۔۔ ہنستے ہوئے
۔ دونوں نے ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ لیا۔ وہ ایکدم سے گرتے گرتے انکے ساتھ دھم سے آبیٹھی تھی دونوں اب پیٹ پکڑ کر ہنس رہی تھیں کیونکہ
وہ اس بار بھی ان سے ہاتھ نہ چھڑا پائی تھی۔۔ اس نے گھورا انہیں پھر خود بھی ہنسنے لگی۔۔
ہال کے نیم وا دروازے سے اس نے جھانک کر ان خوش باش چہروں کو غورسے دیکھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر میں داخل۔ہوئی تھیں۔۔ آہموجی باہر نکلنے کو تیار تھیں۔۔ وہ جھک کر سلام کرتی اپنے کمرے کی طرف مڑنے لگیں جب آہموجی کو جانے کیا خیال آیا رک کر پکار لیا۔۔
گنگشن۔۔
آہموجی نے پکارا تھا وہ چند لمحے مڑ بھی نہ سکیں۔۔
دے۔۔ وہ خو د کو سنبھال کر پلٹ آئیں۔۔
تم کہاں سے آرہی ہو؟۔۔
وہ ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
دفتر سے۔۔ انہوں نے مختصر جواب دیا۔۔
کس دفتر سے؟۔۔
آہموجی تفتیش کے موڈ میں تھیں انہوں نے بیزاری سے کہا
اپنے۔۔
اپنے کونسے ؟۔۔ وہ بھنائیں۔۔
کیا پوچھنا چاہ رہی ہیں آپ۔۔ وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولیں۔
لی گروپ سے آرہی ہو نا؟۔۔
انی نے پیشانی مسلی
میں جانتی ہوں جھوٹ مت بولنا۔ انہوں نے ٹوک دیا۔۔
ہیون تھوڑی دیر پہلے ہی اپنا اسپورٹس بیگ لے کر نکلا ہے ظاہر ہے وہ دفتر نہیں گیا ہوگا۔
گنگشن گہری سانس لے کر رہ گئیں۔۔
تم سے میں نے بس ریکارڈ مانگا تھا اتنا تو کر سکتی ہو۔۔ وہ شرمندہ کر دینے والے انداز مین بولیں۔۔
انی خاموش رہیں۔۔
اس لڑکے کے پیچھے تم اپنی ماں کی نافرمان ہوتی جا رہی ہو۔۔
وہ ضبط کھو کر چلائیں۔۔
آوارہ عورت کا ناجائز بچہ ہے وہ کون جانے تمہارا بھائی ہے بھی نہیں۔۔ کل کو بلا شرکت غیرے ہر چیز کا مالک بنا دے گا اسے تمہارا باپ تب تمہیں اپنی ماں کی بات یاد آئے گی۔۔
گنگشن زور سے ہنس دیں۔۔
مالک بنے گا نہیں ہے وہ مالک ۔۔۔
انہوں نے جتایا۔۔ آہموجی ہونہہ کہہ کر رہ گئیں۔۔ وہ زور دے کر بولیں۔۔
۔ وہ نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا۔۔ یہ سب میرا کبھی نہ تھا نہ ہوگا۔۔ آہبوجی اپنی محنت کبھی کسی اور کے ہاتھ میں نہیں سونپیں گے۔ ساری جائداد کمپنی دور ایک معمولی سب کمپنی دان نہ کر۔سکے اپنی بیٹی کا گھر بچانے کیلیئے آپ جانے کس غلط فہمی میں ہیں۔۔
وہ کہہ کر سر جھٹکتی چلی گئیں تھیں۔۔
آہموجی کی فراخ پیشانی شکنوں سے پر ہو گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن اور ہیون بالنگ کر رہے تھے
کم سن نے بورڈ دیکھا ہیونگ سک پندرہ پوائنٹس سے
آگے تھا
بال میں تین انگلیاں پھنسا کر اس نے جتاتئ نظروں سے دیکھا تو کم سن ہنس دیا
وہ انداز سے جھکا نشانہ باندھا اپنےبازو کے زور سے بال کو اسکے راستے پر لڑھکایا بال ریڑھتی گئ اور سیدھا درمیان سے بوتلوں سے ٹکرائی ساری کی ساری بوتلیں ڈھیر ہوگئیں۔۔
یس۔۔ اس نے زور سے چیخ مار کر مٹھی بنا کر ہوا میں لہرائی۔۔
کم سن کی باری ختم ہو چکی تھی اسکور بورڈ ہیونگ سک کی جیت کا جشن منا رہا تھا
اس نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔۔
ہیون پسینے پسینے ہو رہا تھا اس نے سائڈ سے تولیا اٹھا کر اسکی جانب اچھالی۔۔ وہ منہ بازو پونچھتا اسکے پاس صوفے پر آگرا۔
اف تھک گیا۔۔
کم سن نے اسکو پانی کی بوتل پکڑائی خود بھی اسکے ساتھ بیٹھ کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
تو اگر جان کر ایک شاٹ مس نہ کرتا تو میں آج بھی نہ جیت پاتا۔۔
بوتل منہ سے لگاتے اس نے سرسری سے انداز میں کہا کم سن کو پانی پیتے اچھو لگ گیا۔۔ کھانستے کھانستے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ وہ پورے دھیان سے پانی پی رہا تھا۔۔
کم سن سر جھٹک کر رہ گیا
تمہارا کام کر دیا تھا میں نے ایک دو دن میں پیپرز مل جائیں گے تمہیں۔۔
اسے اچانک خیال آیا تو سیدھا ہو کر بتانے لگا۔۔
گومو وویو۔۔ وہ مشکور ہوا
غلامی کر اب میری بقیہ زندگی۔۔ اس نے طنز سے گھورا
کم سن زور سے ہنسا۔۔
احسان مند شکریہ ہی ادا کرتے میری دعا ہے تمہیں کبھی کسی کا احسان مند نا ہونا پڑے۔۔ تم نہیں جانتے مگر تم نے میرا بہت بڑا کام کیا ہے۔۔
کم سن سنجیدہ ہو کر کہہ رہا تھا۔۔ اس نے ہیون کی جانب دیکھنے سے احتراز برتا تھا۔۔ مگر کم سن کو دیکھے بغیر بھی وہ جانتا تھا ایسا اس نے آنکھوں میں در آنے والی نمی کو چھپانے کیلیئے کیا ہے۔۔
کم سنا۔۔ ہیونگ سک نے مخاطب کیا تو وہ اسکی جانب گھوم گیا۔۔
سارنگی اے۔۔ (میں تم سے پیار کرتا ہوں)
کم سن نے پوری آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔
ہیونگ سک اسکی حیرت پر مسکرایا۔۔ پھر بات ہی بدل گیا۔۔
جون جے سے ملنے جارہا ہوں چلو گے؟۔۔
ہیون نے کہا تو کم سن نے اسے غور سے دیکھا
کیوں؟۔۔جا رہے ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اسکے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے بیل بجا رہے تھے۔ تین چار بار کے بعد دروازہ کھلا۔۔ جون جے انکے آگے جھک سا گیا۔۔
اسلام و علیکم۔۔
معزرت بے حد معزرت تم لوگوں کو انتظار کرنا پڑا۔۔ میں نماز پڑھ رہا تھا آئو اندر آئو۔۔
وہ خوشدلی سے دونوں کو گلے لگا کر ملا ۔۔
آننیانگ واسے او۔۔ کم سن کو اسکے سلام کا جواب سمجھ نہ آیا تو اپنی زبان میں ہی سلام کر دیا۔۔
آننیاگ واسے او۔۔ اس نے فورا جواب دیا۔۔ انکو ہمراہ لیئے سیدھا لائونج میں لے آیا۔۔ لاونج میں ایل ای ڈی تھا اور بےحد آرامدہ صو فے بچھے تھے۔۔
کیا لوگے ۔۔
وہ آداب میزبانی نبھا رہا تھا۔۔ دونوں نے اکٹھے شرارت سے کہا۔۔
وہسکی۔
جون جے ہنس دیا۔
وہ تو نہیں ہے۔۔ تازہ جوس ہے لے آتا ہوں۔۔ وہ انکو بیٹھنے کا اشارہ کرتا کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔
ہیون نے اسکے فلیٹ کا جائزہ لیا۔۔ بس ضرورت کا سامان تھا نہ بے حد پر تعیش تھا نہ بالکل خالی۔۔ اسکو اسکا کمرہ یاد آیا۔۔
اس پورے فلیٹ جتنا بس اسکا کمرہ تھا۔۔۔سامان سے اٹا ہوا۔۔ اسکی وارڈروب کسی مہنگی برانڈ کے اسٹور سے کم نہیں تھی نک سک سے درست رہنا مہنگے کلون استعمال کرنا اسکا شوق تھا۔ اور اس وقت۔۔ سادہ سے ٹرائوزر شرٹ میں ملبوس ہلکی ہلکی شیو بڑھی ہوئی وہ انکےلیئے اپنے ہاتھوں سے اورنج جوس نکال رہا تھا۔۔
یہ وہی بندہ ہے جو جھک کر اپنے جوتے کےتسمے تک نہیں باندھنے کو تیار ہوتا تھا ۔۔ اتنا نخریلا تھا۔۔
کم سن نے اسکی جانب جھک کر سرگوشی کی۔ تبھی جون جے کی اس پر نظر پڑی تو مسکرا کر بس دو منٹ میں آیا کا اشارہ کیا۔۔
ہیون نے ہلکے سے ہنکارہ بھرا۔
جون جے تین گلاس بنا کر ٹرے میں سجا لایا۔۔ سہولت سے انہیں تھما کر انکے مقابل آبیٹھا۔۔
میں نے کھانا آرڈر کیا ہے تم لوگ کھا کر ہی جانا ۔۔ اس نے خلوص سے دعوت دی
دونوں نے سر ہلا دیا۔۔
یہ کیا ہے۔۔ ہیونگ سک کو ٹی وی کے پاس رگ سا بچھا نظر آیا۔ تھا تو قالین جیسا ہی مگر قالین پر کوئی تصویر سی بنی تھی۔۔
اوہ۔۔ جائےنماز میں جلدی میں سمیٹنا بھول گیا۔۔
جون جے سر پر ہاتھ مارتا اٹھا
اس پر کیا بنا ہے؟۔۔ کم سن کو بھی تجسس ہوا۔۔
جون جے اٹھ کر تہہ لگا رہا تھا اسکے پوچھنے پر کھول کر دکھانے لگا۔۔
یہ محراب بنی ہے عموما مسجد اسی طرح کی ہوتی اس پر نماز پڑھی جاتی ہے۔۔ ۔۔ جون جے نے تہہ کر کے ریک میں رکھ دی۔۔
میرا روم میٹ تو چادر بچھا کر نماز پڑھتا۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
کون؟۔۔ ہیونگ سک بھی چونکا
شاہزیب۔۔ کم سن نے بتایا تو وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔
چادر میں بھی پڑھ سکتے مگر یہ مخصوص ہوتی تو بس اسی کام کیلیئے رکھی جاتی چادر تو کہیں بھی استعمال ہو سکتی۔۔ جون جے کو سمجھ نہ آیا کیسے افادیت بتائے۔۔
دونوں نے پھر مزید سوال بھی نہ کیا۔۔
اور کیا ہو رہا ہے۔ ہیون سے تو ملاقات ہو جاتی تم کیا کر رہے ہو آجکل پینٹنگ کا شوق کیسا جا رہا۔۔
جون جے نے پوچھا تو کم سن پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔
کب کی چھوڑ دی پینٹنگ۔۔۔
کیوں۔۔ جون جے حیران ہوا۔۔
لمبی کہانی ہے۔۔ کم سن نے ٹالنا چاہا۔۔
ہیون بے نیازی سے گھونٹ بھر رہا تھا۔
چلو جیسے تمہاری مرضی۔۔ جون جے نے بھی اصرار نہ کیا۔۔
تم نے کھانے میں کیا آرڈر کیا ہے۔۔ سبزیاں منگوائی ہیں تو مجھے بالکل بھوک نہیں پہلے بتا رہا۔۔
ہیون نے لگی لپٹے رکھے بغیر کہا۔۔
جون جے زور سے ہنسا۔۔
نہیں حلال ریستوران سے کھانا منگوایا ہے ہے کوریائی کھانا مگر بیف اور چکن ہے ساتھ نوڈلز۔۔
ہیونگ سک مطمئن ہوا۔۔
تم لوگ کھا سکتے ہو بیف اور چکن۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
تم لوگ مطلب۔۔ جون جے سمجھا نہیں
یار مسلم کھا سکتے۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔
میرے کچھ دوست ہیں مسلم جو کبھی ہمارے ساتھ کہیں جا کر گوشت نہیں کھاتے۔۔ اگر تم کسی ریستوران کا کھا سکتے ہو تو بتائو میں انہیں بتائوں گا۔
ہاں ۔۔ ضرور۔۔ اس نے فورا حامی بھری پھر چونکا
تمہارے مسلمان دوست ہیں؟
اسکے زہن میں خطبے میں سنے الفاظ گونجے
یہود اور نصارئ تمہارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔۔
ہاں۔۔ پاکستان ایک ملک ہے اسلامی وہاں سے آئے ہیں۔۔ کچھ ایکسینچ اسٹوڈنٹس۔۔ہماری اچھی خاصی دوستی ہے ان سے اچھے لوگ ہیں۔۔
ہیون نے بھی بتایا تو وہ کندھے اچکا گیا۔۔
اچھی بات ہے۔
تبھی باہر دروازے کی اطلاعی گھنٹی بجی۔۔ کم سن کے دماغ میں بھی گھنٹی بجی۔۔
اس نے غور سے جون جے کو دیکھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہزیب اور ایڈون یونہی رات کو چہل قدمی کرنے نکلے تھے یہ داخلی سڑک تھی سو اکا دکا کوئی گاڑی گزرتی تھی۔ وہ فٹ پاتھ پر چل رہے تھے سڑک شفاف تھی فٹ پاتھ صاف تھا۔ اردگرد صفائی سے ماحول کتنا اچھا لگ رہا تھا۔
۔کاش پاکستان میں بھی لوگ صفائی کا خیال کر لیں
نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے موازنہ کر ڈالا۔ اور دکھ سے سوچا۔۔۔
۔۔ ایڈون نے کسی کو فون ملا کر دیکھا تھا موبائل بند تھا۔۔
آہش۔۔ اس نے سر جھٹک کر موبائل واپس جیب میں ڈال۔لیا۔۔
یار یہاں کا موسم کتنا اچھا ہے
۔ شاہزیب نے دونوں ہاتھ اپر کی جیب میں گھسیڑ کر کندھے اونچے کرکے خنکی کو اپنے اندر سمونا چاہا۔۔
یہاں سب کچھ ہی اچھا ہے۔۔سکون ہے آزادی ہے۔۔
ایڈون نے سادہ سے انداز میں کہا تھا۔۔
شاہزیب نے چلتے چلتے رک کر اسے دیکھا تھا۔۔
ایڈون ایک بات پوچھوں ؟۔۔ زاتی سوال ہے نہ بتانا چاہے تیری مرضی۔۔
اس نے حفظ ماتقدم کےطور پر پہلے ہی کہہ دیا۔۔ ایڈون باقائدہ اسکی جانب مڑ کر گھورنے لگا۔۔
تو کب سے اتنا تمیز تہزیب والا ہوگیا۔۔ پوچھ نہیں بتانا چاہوں تو تیرا۔ وہ رکا۔۔
اگلوا نہیں سکتا مجھ سے۔۔ اس نے کیا لفظ کھایا تھا شاہزیب بخوبی سمجھ کر ہنسا۔۔
نہیں اگلوانا کچھ نہیں تجھ سے تیرا کچھ بھئ مجھ سے چھپا نہیں۔۔
شاہزیب نے کہا تو ایڈون نے فورا دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر جیسے ڈر کر خود کو اس سے چھپایا
کیا بک رہا ہے۔۔
شاہزیب نے کھڑی لات اسکے جمائی۔۔
وہ سی کرتا ٹانگ سہلانے لگا۔۔
سنتھیا جان گئ ہے اریزہ کے بارے میں ؟۔۔
اس نے سیدھا سوال کیا۔۔
ایڈون ایکدم سنجیدہ ہوا۔۔
پھر گہری سانس لے کر سر اثبات میں ہلا دیا۔۔
تجھے میں نے کہا تو کبھی بھولے سے بھی اسکو مت بتانا
شاہزیب کا دل۔کیا اس احمق کے زور سے کان کے نیچے جما دے۔۔ دانت پیس کر بولا تھا
ایڈون نے کوئی جواب نہ دیا۔۔
۔۔ جبھی ناراض ہے تم سے فون بھی اٹھا رہی۔
اس نے پھر پوچھا۔۔
اس بات پر نہیں ناراض۔ اس پر منا لیا تھا میں نے اسے۔۔ اب بس ہر وقت شک کرتی رہتی مجھ پر
کچھ بولوں تو کہتی تم مجھ سے جلدی چڑ جاتے ہو ابھی اریزہ ہوتی تو تمہارا رویہ ایسا نہ ہوتا۔۔
خاموش ہوں تو اسے لگتا اریزہ کی یادوں میں گم ہوں کوئی بھی بات ہو گھوم پھر کر اریزہ کے نام پر آجاتی۔۔ ۔ تنگ آگیا ہوں۔ یار کتنا تو خیال کرتا ہوں میں اسکا کیا کچھ نہیں کرتا اسکے لیئے پھر بھی۔۔
وہ پھٹ پڑا تھا۔۔حقیقتا بال نوچ لینے والا حال تھا اسکا
تین دن سے یونیورسٹی نہیں آرہئ فون بند کیا ہوا ہے
مت پوچھو فکر مند بھی ہوں اور غصہ بھی آرہا ہے مجھے۔۔ لگ رہا میں پاگل ہو جائوں گا۔۔
شاہزیب کو اس پر ترس آرہا تھا۔۔
اونچا لمبا ایڈون بچوں کی طرح روہانسا ہو چلا تھا
اریزہ سے پوچھنا تھا۔۔ شاہزیب نے کہا تو ہونٹ بھینچ گیا
اس سے پوچھا تو کہہ رہی تھی میں گوارا کے ساتھ رہ رہی ہوں۔ اسکے گھر۔۔
کیا۔۔ شاہزیب حیرت سے چیخ پڑا
ہاں۔ ایڈون تھک کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔۔
شاہزیب مجھے لگتا ہے مجھے سنتھیا سے منگنی نہیں کرنی چاہیئے تھی میں نے جلد بازی سے کام لیا ہے۔۔
وہ تھکے تھکے انداز میں بولا
یار کپلز میں لڑائی ہو جاتئ ہے تھوڑا جیلس ہو گئ ہے تحمل سے کام لے ٹھیک ہو جائے گی ۔۔
شاہزیب نے سمجھانا چاہا وہ استہزائیہ ہنسا
مجھے لگا تھا ہر گزرتے دن کے ساتھ اریزہ کیلیئے میرے جزبات سرد ہو جائیں گے ۔ میں سنتھیا کی طرف متوجہ ہوتا جائوں گا۔۔ مگر الٹ ہو رہا۔
تو جانتا ہے میں شکل پر مرنے والا سطحی لڑکا نہیں ہوں۔۔ اس نے شاہزیب سے تائید چاہی شاہزیب خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔
مگر وہ ہے بہت الگ بہت اچھی بہت ۔۔ اس نے تھک کر سر جھکا لیا۔۔
اگر میں عیسائی نہ ہوتا تب بھی وہ مجھے ایسے صاف انکار کر دیتی؟۔۔ کم از کم ایک بار تو سوچتی نا میرے بارے میں۔۔
وہ جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا۔۔
وہ مسلمان ہے یہ جان کر بھی تو محبت کر بیٹھا نا۔ ؟۔۔
محبت مزہب سے بالا تر ہوتی ہے انسان سے ہوتی ہے۔۔ اسے اگر تیرے بارے میں سوچنا ہوتا تو سوچ چکی ہوتی سب سے بڑھ کر ۔۔ وہ تیری قسمت میں ہوتی تو یا تو مسلمان پیدا ہوتا یا وہ عیسائی پیدا ہوئی ہوتی۔۔ سب سے الگ یہ تو مانتا ہے نا ایک۔طاقت ہماری عقل سمجھ سے بالاتر اور قوی ہے
۔۔ اس نے شہادت کی انگلی سے آسمان کی جانب اشارہ کیا۔۔
باقی سنتھیا کیلیئے یہ روڈ سائڈ رومیو اور بالی ووڈ سے متاثر ہتھکنڈے استعمال مت کر وہ جو اتنا رومانوی انداز اپناتے اداکاری کرتے پردے پر ہی اچھا لگتا یہ کام انہیں آتا۔۔ تو اگر کرنا چاہے گا تو اوپری لگے گا کیونکہ تو اداکار نہیں۔۔ اپنے آپ کر وقت دے سنتھیا کو بھی۔
اس طرح خود پر بھی جبر کر رہا اور سنتھیا کو مزید چڑا رہا ہے۔۔
شاہزیب نے الفاظ کے چنائو میں بے حد احتیاط سے کام لیا تھا پھر بھی ایڈون سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا وہ بخوبی سمجھ گیا تھا کس جانب اشارہ ہے شاہزیب کا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں۔۔
چاپ اسٹکس سے اسٹیک کا ٹکڑا اٹھا کر لاپروائی سے کھاتے ہوئے جون جے نے کہا تھا
تم جانتے ہو پھر بھی؟
کم سن اور ہیون چونکے۔
دونوں ہاتھ روک کر گھور رہے تھے۔۔
جون جے نے انکو ہکا بکا دیکھا تو ہنس کر بولا
کھانا تو کھائو۔۔
پھر آرام سے پانی گلاس میں بھر کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
دونوں اسکی ہدایت کے بر عکس اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔ اس نے گلاس میز پر رکھ دیا۔۔ اور انکی حیرت بھری آنکھوں میں جھانک کر بولا
مجھے خوشی ہے میرے اتنے مخلص دوست ہیں۔ گومو وویو۔۔ تم دونوں خاص طور پر مجھے مطلع کرنے اپنے وقت کو صرف کر کے یہاں آئے مجھے دلی قدر ہے
مگر۔۔ وہ رکا پھر گہری سانس لے کر بولا
اب میں اپنا پرانا رہن سہن سب کچھ بدل چکا ہوں اب مجھے نہ اس جائداد میں دلچسپی ہے نہ ہی میں اس کمپنی کیلیئے کچھ بھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں میری جاب میری روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کیلیئے کافی ہے۔۔
اور تمہاری والدہ۔۔ کیا وہ بھی ایسا ہی سوچتی ہیں۔۔
؟۔۔ کم سن نے سیدھا سوال کیا
اسکے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ در آئی
انکو تو بہت دلچسپی ہے اس جائداد میں۔۔
اگلا جملہ اس نے منہ ہی منہ میں کہا
مجھ سے بھی زیادہ عزیز ہے انہیں تو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپس آتے ہوئے گاڑی میں دونوں اسی کے بارے میں سوچ رہے تھے
ابھی جزباتی ہو رہا کچھ عرصے بعد احساس ہوگا اسے۔۔
کم۔سن نے ہیونگ سک سے کہا۔۔
ہوں۔۔
ہیون متفق تھا۔۔
مجھے جب میرے بھائیوں نے ہاتھ پکڑ کر نکال باہر کیا تھا تب میں کتنا خوار ہوا تھا جون جے بھی جانتا۔۔ یون بن اور تم نہ ہوتے تو شائد میں کبھی سنبھل نہ پاتا۔۔ جزباتی سہارہ تو ایکرف تم دونوں نے مجھے پیسے سے بھی بہت سہارہ دیا سڑک پر آگیا تھا میں تو۔۔
کم سن کا انداز تلخ ہوگیا تھا جیسے سب منظر ایکدم آنکھوں کے سامنے آگئے تھے
ہیون خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا
عجیب مزہبی ہوا ہے۔۔ دنیا چھوڑ بیٹھا ہے۔۔ یہ وہی جون جے ہے نا موزے بھی برانڈڈ درکار تھے اسے اور اب اس وقت جو شرٹ پہنے تھا اسکا رنگ اڑا ہوا تھا یہ تو دو سے تیسری بارتو بہترین براںڈڈ لباس بھی زیب تن نہیں کرتا تھا۔۔
وہ واقعی حیران تھا۔۔
تم کچھ نہیں کہو گے؟
وہ شائد اکیلے حیراں ہو ہو کر تھک گیا تھا جبھی اسے بھی بولنے پر اکسانے لگا۔۔
کیا بولوں۔۔ جون جے اب پرانا جون جے نہیں ہے بدل چکا تبدیلی کی وجہ مزہب ہے۔۔۔۔۔ کیا نیا اس میں۔۔
وہ اکتایا تھا۔۔
سچ پوچھو تو جو اسکی عادتیں تھیں اچھی نہیں تھیں اب زیادہ نرم مزاج ہو گیا ہے۔۔ کم سن نے مزید رائے دینا ضروری سمجھا۔
مگر یار حیران کردینے والی بات ہے
وہ ہیون کی جانب باقائدہ مڑ کر بولا
مزہب تو سب کا ہی کوئی نہ کوئی ہوتا سب مزہب اچھائی کی ہی تعلیم دیتے بس یہ مسلمان اتنے کٹر کیوں ہوتے ہیں۔۔ ؟۔۔
کون جانے ۔۔۔ کون جانے ہیونگ سک نے کندھے اچکائے تبھی اسے مانوس سا جھنڈا دکھائی دیا۔۔
وہ کوئی ریستوران تھا جسکی پیشانی پر وہ چمک رہا تھا۔ اس نے زہن کے گھوڑے دوڑائے۔۔
کہاں دیکھا۔۔
روتی لڑکی پریزنٹیشن۔۔
دنیا کی واحد مسلمان ایٹمی قوت۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-
موبائل میں کتنی ہی دیر اس نے وہ چہرہ تکتے وقت بتا دیا تھا سنہری دھوپ میں دمکتا سنہرہ چہرہ
سرد ہوا سے گلابی ہوتا چہرہ۔۔ بات بات پر مسکرا دینے والا خرم شہزادہ۔
یہ انی نے بھجوائے ہیں۔۔
جھوٹ روانی سے بولتا۔۔

اسکے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ آگئ
تو تم پر ترس کھایا جا رہا تھا بس ۔۔
اور کیا ۔وہ دھیرے سے۔ بڑ بڑائی
دے؟
اسکے پاس بیٹھی عورت سمجھی کہ اس سے مخاطب ہے۔۔ سو اس سے پوچھنے لگی۔
وہ متوجہ بھی نہ ہوئی یونہی دیکھتی رہی۔۔
بس اسکے اسٹاپ سے آگے آچکی تھی جب بریک لگنے پر اسکے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹا تھا۔۔اس نے چونک کر بس کی کھڑکی سے جھانکا
آہجوشی یہ تو میانگ اسٹاپ نہیں۔۔
اس نے پکار کر ڈرایور سے پوچھا
وہ گزر چکا ہے۔۔ ڈرایور نے جواب دیا تو وہ سر پر ہاتھ مار کر اٹھی
میں بس یہیں اتر رہی ہوں۔۔ وہ بتاتی بس سے نکل آئی۔۔
باہر نکل کر اس نے لمبی کولتار سڑک کر گھور کر دیکھااس نے اندازہ لگایا
اب تمہیں اگلے آدھے گھنٹے تک روندنا ہے مجھے۔ تھوڑا احساس کر لینا۔۔
وہ سڑک سے مخاطب تھئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن کو ڈراپ کر کے واپس آہی رہا تھا کہ شاہراہ پر ہیون کو دائیں جانب داخلی گلی میں مڑتا کوئی مانوس چہرہ دکھائی دیا اس نے فورا انتہائی دائیں جانب ایکدم سے موڑ کر روکی تھی۔۔
وہ گاڑی سے نکل کر تقریبا بھاگتا ہوا گلی میں داخل ہواتھا۔۔ اتنےرش میں بھی اسے وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتئ بائین جانب ایک۔دکان میں گھستی دکھائی دی۔
وہ تیزی سے لپکا
روزمیری مساج اینڈ سپا۔ اس نے رک کر دکان کی پیشانی پر موجود عبارت پڑھی۔
وہ کاونٹر پر کھڑی تھی۔۔
ای جی آ۔۔
اسکے دو بارہ غائب ہونے کے ڈر سے وہ زور سے پکار بیٹھا
ہوپ بری طرح چونک کر مڑی تھی چابی اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جاپڑی تھی۔۔
ہیون درمیانئ فاصلی لمبے ڈگ بھر کر طے کرتا اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔
کہاں چھپ گئی تھیں؟۔۔تم۔۔
اس نے جھک کر چابی اٹھائی اور مڑ کر جانے لگی
ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
ہوپ۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔ اسکے چہرے کی مخصوص مسکراہٹ زائل ہوئی وہ اپر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اجنبی سے انداز میں کہہ رہا تھا
ہوپ نے مڑ کر اسے بغور دیکھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں میرا نام کیسے پتہ چلا۔؟
کافی کارنرمیں کائونٹر سے ہیون دو کافی بنوا کر اسکے سامنے ٹرے لیئے آ بیٹھا تو اس نے زہن میں کلبلاتا سوال پوچھ لیا۔۔
ایک بلیک کافی ایک کریمی کیپیچینو۔۔
اس نے خود ہی بلیک کافئ اٹھا لی۔۔ ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا مگر وہ بے نیازی سے گھونٹ بھر کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
تمہارے ڈاکومنٹس سے دیکھا تھا۔۔ اس نے بتایا تو اسے یاد آیا۔۔ ایبسٹریکٹ آرٹ کے سیمپلز کیساتھ اس نے سی وی اور کور بھی بھجوایا تھا ۔۔
احمقانہ سوال پوچھنے سے باز نہ آئیں۔۔ کیا لگا تھا اسے خواب آیا تھا ۔۔ وہ خود کو گھرکنے لگی۔۔
تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں؟۔۔ تمہیں جاب آفر ہوئی تھی۔۔ کوئی وجہ تھی نا جو بار بار رابطہ کرنا چاہ رہا تھا۔۔ تم نے خود رابطہ کیا تھا اس نمبر پر؟
اسکا انداز سخت نہیں تھا۔۔ اسے شائد سختی سے بات کرنا آتا ہی نہیں تھا۔۔ اتنا نرم اور دھیما انداز تھا کہ وہ کوئی سخت جواب نہ دے سکی۔
نہیں کیا ۔۔ اس نے ہونٹ بھینچے۔۔
مجھے پتہ تھا۔۔ وہ سرجھٹک رہا تھا
تم نے وہ سامان واپس بھجوایا کیوں؟۔۔
وہ بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا
کیونکہ میں بھکاری نہیں ہوں۔۔ بھیک نہیں چاہیئے تھی مجھے۔ تم نے مجھ پر ترس کھا کر وہ سامان دیا انی تو جانتی بھی نہیں تھیں اس بارے میں۔۔
وہ تیز لہجے میں بولتی گئ۔ ہیونگ سک خاموشی سے دیکھتا رہا۔۔
میں تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا میرے خلوص سے دیئے گئے تحفے کو غلط رنگ دے رہی ہو۔۔
خلوص۔۔ وہ استہزائیہ ہنسی۔۔
اچھا مزاق ہے۔۔ وہ کڑوی کافی کے گھونٹ بھر رہی تھی ۔۔

ہیون چپ سا ہو گیا۔۔ کریمی کیپیچینو کا جھاگ بیٹھتا جا رہا تھا۔ اس نے کپ اٹھا لیا۔۔ دونوں سر جھکائے ایک دوسرے کو دیکھنے سے بھی گریزاں گھونٹ بھر رہے تھے۔۔
کافی پی کر وہ اٹھنے لگی تھی جب ہیون نے اسے نظروں میں رکھتے ہوئے کہا۔۔
میری ایک دوست اسی بلڈنگ میں رہتی ہے اسے کرایہ دار درکار ہے۔ تمہیں نسبتا کم قیمت میں اچھی جگہ رہائش مل سکتی ہے ۔ کیا تمہیں دلچسپی ہے؟۔۔
وہ صاف انکار کر دینا چاہتی تھی۔۔ مگر
بھیک نہیں مدد ہے یہ۔ کسی کے الفاظ کانوں میں گونجے۔
دے۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔ ہیونگ سک مسکرا دیا۔
بھیک بھی تو وصول کی ہی ہے میں نے مدد بھی سہی۔۔ اس نے تلخی سے سوچا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویک اینڈ پر وہ کھینچ کھانچ کر حسب معمول جی ہائے کو بھی لے جانے آئی تھئ۔
ایک تو یہ ہفتہ وار ہجرت مجھ سے ذبردستی کرواتی ہو۔
جی ہائے بڑ بڑا رہی تھی گوارا آرام سے اسکے بیڈ پر بیٹھی پائوں جھلا رہی تھی۔
سنتھیا سے بھی پوچھ لوں۔ اریزہ کو خیال آیا۔
ہاں پوچھ لو۔
گوارا نے فراخدلی سے کہا۔
۔اریزہ ڈورم میں سنتھیا سے ملنے گئ مگر ڈورم خالی تھا۔ وہ گہری سانس بھر کر اسے فون ملانے لگی۔
فون بند تھا۔ یقینا وہ پھر ایڈون کے ساتھ کوئی پروگرام بنا چکی تھئ۔ وہ دروازہ بند کرتی واپس چلی آئی۔ تینوں اہتمام سے اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے چلائیں۔
اس ویک اینڈ ہم خوب چل کریں گے ایک لمحہ بھی فالتو نہیں بیٹھنابس۔۔ اس آموختے کو دہراتے صرف ایک گھنٹے بعد ہی
جی ہائے اریزہ اورگوارا تینوں برابر لیٹی اپنے اپنے موبائل میں لگی ہوئی تھیں۔ جی ہائے حسب عادت گیم کھیل رہی تھی اریزہ اپنا بلاگ کھولے تھی تو گوارا چپکے چپکے آہستہ آواز میں یون بن سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرنے میں مگن تھی۔۔
آہش۔۔
اس نے مزے سے کروٹ لی کہنی جی ہائے کو لگی اسکا چانس گر گیا
اس نے بھنا کر گوارا کو گھورا
بیانئے ۔ اس نے لبوں کی بے آواز جنبش سے آنکھیں سکیڑ کر معزرت خواہانہ شکل بناتے جواب دیا تھا۔۔وہ تپ کر اٹھ بیٹھی اسکے ایکدم اٹھنے سے اریزہ جو اسکے ساتھ ہی لیٹی اسکا بازو لگا اریزہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹا اور زمین پر جا پڑا
سوری۔ جی ہائے فورا معزرت خواہ ہوئی
اریزہ گہری سانس بھر کر لیٹے لیٹے ہی جھک کر موبائل اٹھانے لگی۔۔
اس پاگل کو شوق تو بڑا ہے کرایہ دار رکھنے کا ہم تین کو یہ بیڈ پورا نہیں پڑتا ایک اور کو اپنے سر پر بٹھائو گی؟۔۔
جی ہائے کہتے کہتے بیڈ سے اٹھی۔۔ ایسی آواز گوارا کے کان میں فورا پہنچتی تھی۔۔
فورا فون کان سے ہٹا کر بولی۔
جب تیسری کرایہ دار آئے گی تو تم مت آنا نا ویک اینڈ پر ۔۔ جگہ پوری پڑ جائے۔۔گی۔۔ اسکے آدھے جملے میں ہی جی ہائےنے اسکے پیتھیانے پڑا کمبل اٹھا کر اسکے منہ پر گولا بنا کر دے مارا۔ گوارا جھکائی دے کر بھی بچ نہ پائی جوابا سرہانے سے تکیہ اٹھا کر جی ہائے کو مارا۔۔ اس نے بازو آگے کر کے روکنا چاہا تکیہ اسکے بازو سے ٹکرا کر اریزہ کے موبائل تھام کر واپس آتے ہاتھ پر پڑا اسکے ہاتھ سے پھر موبائل چھوٹ کر زمیں پر گر گیا۔
تمہاری تو۔۔ اریزہ کی بے نیازی رخصت ہوئی تلملا کر وہی تکییہ جی ہائے کو کھینچ کر مارا بس پھر جسے طبل جنگ بج گیا۔ ایک دوسرے کو تکیہ سے مار مار کو تکیوں کا انجر پنجر ٹیڑھا کر دیا۔۔
پٹ پٹا کر تینوں بے دم ہو کر بیڈ پر گریں اور کھلکھلا دیں
یار بڑا مضبوط تکیہ ہے۔۔
اریزہ نے بازو میں دبایا تکیہ سر کے نیچے رکھا
ہاں یار فلموں ڈراموں میں تو اس لڑائی کےبعد فر نکل کر ہوا میں اڑنے لگتا ہے۔۔ جی ہائےنے بھی حیران ہو کر تکیہ الٹا
گوارا کو ایک فر اڑتا دکھائی دیا تو روہانسی ہو کر اپنا تکیہ ٹھیک کرنے لگی۔۔
میرا اکلوتا تکیہ پھٹ گیا۔۔ اسکا دکھ دیدنی تھا۔۔
اسکے تکیے کا ایک کونا پھٹ کر فر اڑا رہا تھا۔۔
سی لو ٹھیک ہو جائے گا۔۔ جے ہی اور اریزہ سب بھول بھال مدد کو آئیں
زہریلی عورتوں۔۔ وہ دانت پیسنے لگی۔۔
جے ہی کھلکھلائی۔
ویسے فلمی سین ہو تو گیا۔۔ تھوڑا سا سہی فر نکل آیا۔۔
اریزہ نے فر اٹھا کر ہوا میں اڑایا۔۔
جے ہی کو شرارت سوجھی گوارا کا تکیہ کھینچ کر اس چھوٹے سے سوراخ کو پورا بھنبھخ کیا اور مٹھی بھر کر فر اڑایا۔۔
گوارا چلاتی تکیے کو بچانے دوڑی مگر جی ہائے اور اریزہ نے اسکا تکیہ قبضے میں لیکر فر اڑانا شروع کر دیا۔۔ گوارا انکے تکیوں پر لپکی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیون اور ہوپ گوارا کے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے تھے
گوارا کافی صفائی پسند ہے میں نے اسکا اپارٹمنٹ کبھی گندا نہیں دیکھا۔۔
ہیونگ سک تعارف کروا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا کمرہ کسی مچھلی بازار کا نقشہ پیش کر رہا تھا
بیڈ کی چادر زمیں پر لوٹ رہی تھی پورے کمرے میں فر اڑ رہا تھا تکیےخالی ہو چکے تھے اور کاوچ پر پڑے دھلے کپڑوں کا ڈھیر بھی اس لڑائی کا حصہ بن چکا تھا۔۔ ٹی شرٹ سکرٹ بھی ایک دوسرے کو گولا بنا کر ماری جا رہی تھیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی دوستیں ویک اینڈ پر آجاتئ ہیں مگر کبھی کبھی ۔۔ ایک تو کورین ہے دوسرئ پاکستانی لڑکی ہے مگر وہ بھی اچھی ہے سادہ سی۔۔ وہ بھی جھگڑالو نہیں ہے تمہاری اس سے بھی اچھی نبھ جائے گی۔۔
اس نے مزید کہہ کراطلاعی گھنٹی بجائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کمزور کہہ کر مزاق اڑا رہی تھیں وہی ہو نا تم دونوں۔۔
جی ہائے بیڈ پر اوندھی پڑی تھی اسکے اوپرگوارا تھی اور ان دونوں کو نیچے دبائے اریزہ ان کی کشن سے دھنائی کر رہی تھی دونوں کا چہرہ لال ہو چکا تھا ہنسنے کی وجہ سے دونوں بے دم ہوئی پڑی تھیں جبھی اریزہ کو کھلا موقع ملا تھا۔ گوارا نے کھسک کر نکلنا چاہا تو اریزہ نے فورا اسکی ٹانگ پکڑی
کدھر؟۔۔
گوارا پھولی سانسوں سے ہانپتی بولی
اطلاعی گھنٹی بجی ہے۔۔
اس وقت۔۔
اریزہ اور جی ہائے دونوں نے بیک وقت گھڑی کو دیکھا۔۔
رات کے ساڑھے گیارہ ہو رہے تھے
اس وقت کون ہو سکتا۔۔
دونوں سنجیدہ ہو کر سیدھی ہوئیں
دیکھ کر ہی پتہ لگے گا۔۔
گوارا نے کندھے اچکائے اور جانے لگی تھی۔ دونوں بیڈ سے کود کر اسکے پاس آئیں اور دائیں بائیں اسکا بازو تھام گئیں
کیا ہے۔ وہ جھلائی
یون بن تو اس وقت آیا نہیں ہم تینوں کا اس شہر میں کوئی جاننے والا نہیں۔۔ کون آیا ہوگا ۔۔ جی ہائے گھبرائی
اس دن جو انگریزی فلم دیکھ رہے تھے جی ہائے اس میں ایسے ہی رات بارہ بجے گھنٹی بجی تھی نا۔۔
اریزہ کو غلط موقع پر ڈرائونی فلم یاد آئی تھی
گوارا سٹپٹا کر دونوں کی شکل دیکھ رہی تھی
اور جب ہیروئن نے دروازہ کھولا تو کوئی نہیں تھا
جی ہائے نے کہا تو گوارا نے مکھی اڑائی
جب کوئی نہیں تھا تو ڈرنے کی کیا بات
ڈرنے کی بات تب تھئ جب وہ دروازہ بند کرکے کندھے اچکا کر مڑی تو اسکے بالکل پیچھے
اریزہ نے لرزتی ہوئی آواز میں بتانا چاہا
تبھی گوارا کو اپنی کمر میں سر سراہٹ ہوئی
کیا تھا پیچھے۔۔ گوارا کو بھی ڈر لگا
چڑیل کھڑئ تھی۔ اریزہ نے کانپتی آواز میں بتایا تھا۔۔
فلم تھی۔۔ گوارا نے ان سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی
تینوں لائونج میں کھڑی ایک دوسرے سے لپٹی تھر تھر کانپتے دروازے کو گھور رہی تھیں جیسے آر پار نظر ہی تو آجائے گا۔۔
تبھی پھر گھنٹی بجی اس بار تواتر سے دو مرتبہ بجی ٹرن۔۔ گوارا کے فون کی گھنٹی اچانک بجی تھی تینوں ڈر کر چیخ پڑیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آج دروازہ کیوں نہیں کھول رہی۔۔ ہیون نے الجھن سے دوبارہ گھنٹی بجائی۔
سو رہی ہوگی۔۔
ہوپ نے کہا تو وہ نفی میں سر ہلا گیا
دس منٹ پہلے اس نے ایس این ایس پر اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کیا ہے۔۔ اس نے وضاحت کی
ایس این ایس سوشل میڈیا کیلیئے کورین یہ لفظ استعمال کرتے ہیں social networking site
ہیونگ سک نے فون ملالیا تھا
تبھی اسے بند دروازے سے نسوانی چیخ بلکہ چیخیں سنائی دیں
اس نے گھبرا کر دروازہ پیٹ دیا
اریزہ۔۔ اریزہ گوارا۔۔ ٹھیک تو ہو تم لوگ۔۔
ہوپ بھی متوحش ہو گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو ہیون کی آواز ہے۔۔ تینوں ایکدم خاموش ہوئیں گوارا نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔۔
ہیون ایک لڑکی کے ہمراہ کھڑا تھا
ٹھیک تو ہو تم ؟۔۔ اس نے گھبرا کر پوچھا تھا گوارا سر ہلاتی سوالیہ نظروں سے لڑکی کو دیکھ رہی تھی
ہوپ نے گوارا کو دیکھا پھر ہیون کو گھورنے لگی
یہ تنگ دل لڑکی۔ کرایہ کم کرے گی؟ ذرا سا چینی دینے میں جان نکل گئ تھی اسکئ۔
وہ چینی زبان میں بڑبڑائی تھئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انھیں لے کر وہ لاونج میں آئی تو اریزہ اور جی ہائے سٹپٹاتی بال درست کرنے لگیں۔۔ اریزہ کو احساس ہوا کہ دوپٹہ پاس نہیں تو ایک قدم پیچھے ہو کر جی ہائےکی آڑ میں ہو گئ۔۔
آننیاگ واسے ہو۔۔
جی ہائے نے مسکرا کر جھک کر سلام کیا تو ہوپ مسکرا دی۔۔
گوارا ہیون کو نظروں میں لیئے تھی اور ہیون
یہ گوارا ہے یہ جی ہائے اور یہ۔۔ اس نے اچک کر جی ہائےکے پیچھے چھپتی اریزہ کو تلاشا۔۔
اریزہ۔۔
اب چھپنا بد تہزیبی تھی اس نے کھسیا کر جی یائے کے پیچھے سے جھانک کر اشارے سے سلام کیا۔۔
آپ سب یہاں رہتی ہیں؟۔۔ ہوپ نے پوچھا
آنیو۔۔ میں تو بس ہفتے کا آخر گزارنے آئی ہوں ۔۔ آپ آجائیں گی تب تھوڑی۔۔ جی ہائے گڑ بڑا بولی تو گوارا نے اسکے پائوں پر پائوں مار کر گھورا
یہ میری دوست ہے اریزہ بھی ویک اینڈ ہم اکٹھے گزارتے ہیں۔
گوارا نے جتانے والے انداز میں کہا تھا
ہوپ بخوبی اسکے ماضی الضمیر کو سمجھ گئی تھی
یعنی اگر یہاں رہنا تو تم بھی اعتراض مت کرنا۔۔
ٹھیک ہے تم اسے کمرہ دکھا دو آرام کرو ہوپ کوئی مسلہ ہو تو مجھے پیغام بھیج دینا تم لوگ بھی آرام کرو رات کافی ہو گئ ہے۔۔ ۔ میں اب چلتا ہوں۔۔ پھر ملتے ہیں۔۔ ہیون نے بات کرتے کرتے گھڑی دیکھی تو عجلت میں نکلنے کی کی۔۔
کمرہ۔۔ ؟۔ہوپ نے اپنا مختصر بیگ کا ہینڈل تھام کر پوچھا تو تینوں کھسیا کر نظر چرا گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرہ اسکی توقع کے برعکس تھا
پورا کمرہ فر سے بھرا تھا چیزیں بکھری پڑیں تھیں فرش پر کپڑے بچھے پڑے تھے بستر آدھا بیڈ پر آدھا نیچے گرا پڑا تھاوہ کمرے میں داخل ہو کر ہکا بکا رہ گئ تھی۔۔ یہ تینوں قصدا سر جھکائے اسکی جانب دیکھے بغیر اندر داخل ہوئیں جس کے ہاتھ جو پڑا وہ اٹھا کر سمیٹنے کی سعی کرنے لگی
یہ۔ اسکے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا
وہ بس ہم شغل میں۔۔۔ جی ہائے نجانے کیوں کھسیانی ہوئی جارہی تھی۔۔
بیانئے بس ہم ابھی صاف کر دیتے ہیں۔۔
گوارا نے گھور کر جی ہائے کو دیکھا۔
پھر بڑبڑائی
بندہ اتنا بھی حلیم الطبع نہ ہو۔۔
ہوپ منہ کھولے دیکھتی ایک قدم پیچھے ہوئی تو کوئی چیز اسکی جوتی کے نیچے چرمرا کر ٹوٹ گئ
اس نے سٹپٹا کر پائوں ہٹایا تینوں اسکی جانب ہاتھ روک کر متوجہ ہوئیں۔۔
اس نے بیگ رکھ کر جھک کر اپنے قدموں میں روندی جانیوالی چیز کی باقیات اٹھائیں
جانے کیا تھا پلاسٹک کا۔۔ کیکڑے جیسا
میرا کیچر۔۔ اریزہ نے بکھرے بالوں والے سر کو ٹٹولا جیسے یقین نہ آرہا ہو یہ اسکا معصوم کیچر ہی داغ مفارقت دے گیا ہے۔۔
اوہ ۔۔ ہوپ نے چٹکی سے کیچرکو پکڑ کر دیکھا۔۔
یہ تو اب نہیں لگ پائے گا۔۔ اریزہ نے مایوسی سے کیچر کو گھورا۔۔
ہم اسے تھوڑی دیر تک صاف کر لیں گے اگر تب تک تم نے فریش ہونا تو یہ باتھ روم ہے۔۔ گوارا نے آداب میزبانی نبھائے۔۔
ہم ویسے ہمیشہ ایسے گند مچا کر نہیں رہتے۔۔
اریزہ نے دوستانہ انداز میں تسلی دی
ہاں اور ایسا پاگل پن بھی ہم پر روز روز سوار نہیں ہوتا۔۔ جی ہائےنے بھی صفائی دی
ویک اینڈ پر ایک نفسیاتی آئئ ہے ورنہ میں اور اریزہ شرافت سے رہ رہے تھے
گوارا ہوپ سے مخاطب نہیں تھی جی ہائے کو گھورتے ہوئے چبا چبا کر بولی
کیا میں نفسیاتی۔۔ جوابا وہ زور سے چلائی اور گوارا کی شرٹ جو تہہ لگا کر رکھنے لگی تھی گولا بنا کر اسکے ہی منہ پر ماردی۔۔
تمہاری تو۔۔ گوارا نے تلملا کر کشن اس پر پھینکا
خدا کا واسطہ دوبارہ شروع نہ ہوجانا۔۔ اریزہ سر پکڑتی بیچ بچائو کرانے بڑھی
اس نے شروع کیا ہے دوبارہ گوارہ چلائی
اس نے پہلے مجھے نفسیاتی کہا ابھی بتاتی ہوں نفسیاتی کیسے ہوتے۔۔ وہ آستین چڑھا کر اسکی جانب بڑھی
بس کرو جانے دو۔۔ اریزہ بیچ بچائو کرانے میں ہلکان ہو رہی تھی
ان تینوں کو دوبارہ پوری توانائیوں سے بھڑتے دیکھ کر ہوپ کے چہرے پربھئ بے ساختہ مسکراہٹ در آئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکا لگاتار فون بج رہا تھا جس سے اسکی آنکھ کھلی۔۔ جی ہائے اور ہوپ زمین پر بستر لگا کر سوئی تھیں وہ اور گوارا بیڈ پر۔ ابھی گوارا اس کے کندھے پر جھکی بازو اسکے گرد حمائل کیئے لپٹ کر سو رہی تھی۔۔ اس نے احتیاط سے بازو نکال کر اسکے سر کے نیچے تکیہ رکھا۔۔ پھر اٹھ کر موبائل دیکھنے لگی۔۔
ایڈون کالنگ۔۔ اس نے پوری آنکھیں کھول کر تعجب سے دیکھا۔۔
تینوں بے خبر سوئی پڑی تھیں وہ سائلنٹ کر کے احتیاط سے بے آواز قدم اٹھاتی باہر نکل آئی
ہیلو۔۔ اس نے فون اٹھایا تو ایڈون چھوٹتے ہی بولا
کہاں ہو؟۔۔
ابھی تو گھر ہوں آج پہلی کلاس گیارہ بجے ہے تو۔۔
وہ جمائی لیتے بتارہی تھی مگر ایڈون نے عجلت میں بات کاٹ دی
گوارا کے فلیٹ میں ہو؟۔۔ میں بس دو منٹ تک پہنچ رہا ہوں۔۔ جلدی سے تیار ہو جائو۔۔
وہ بے تاب تھا۔۔ شائد گاڑی میں ہی تھا اس نے اسکی آواز کے ساتھ میں ٹریفک کے شور کی آمیزش محسوس کی
مگر کیوں۔۔؟۔۔
وہ بگڑی۔۔ ابھئ آٹھ بجے وہ کیوں پہنچ جائے یونی۔
سنتھیا تین دن سے فون نہیں اٹھا رہی وہ یونیورسٹی بھی نہیں آئی ہے۔ بہت پریشان ہوں میں پلیز تم ہاسٹل جا کر اس سے مل لو مجھے بس خیریت جاننی ہے اسکی پلیز اریزہ۔۔
وہ کتنا پریشان تھا اسکی آواز سے مترشح تھا۔
اوہو تو بتا تو رہی ہوں سو رہی ہوگی نا گیارہ ۔۔۔
اس نے بتانا چاہا مگر ایڈون نے پھر بات کاٹ دی۔
اٹھا دینا نا اسے۔ پلیز پلیز مجھے بہت فکرہو رہی ہے۔
وہ حقیقتا منت پر اتر آیا تھا۔۔
اچھا۔۔ ٹھیک ہے۔۔
اس نے حامی بھر کر فون رکھ دیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ خود بھی پریشان ہوگئ تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان تینوں کو ہال میں دیکھ کر اطمینان سا ہوا تھا۔ اپنے موبائل میں اس نے ایڈون کا میسج دوبارہ نکالا۔۔
میں کم سن کے ساتھ ہوں۔
جوابا اس نے لکھا تھا
سچ بولو۔
جوابا اس کا فوری پیغام یہ آیا تھا۔
اریزہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں۔اب خوش۔
وہ یقینا چڑ کر جھوٹ بول رہا تھا۔۔
اب ایڈون کی تلاش بے معنی تھی۔ وہ آرام سے بیگ کندھے پر درست کرتی یونیورسٹی سے نکل آئی۔۔۔۔
شام کے دھندلکے سیول پر چھا رہے تھے۔ گہما گہمی ہجوم۔
وہ بس اس سب میں کھو جانا چاہتی تھی۔
اریزہ کے سوا اسکی بھی کوئی دوست نہ تھی۔ گوارا اور جی ہائے بھی یقینا اریزہ کی ہی سہیلیاں تھیں۔ اریزہ کو اسکے بغیر اکیلا پن محسوس نہیں ہوتا ہوگا مگر وہ تنہا تھی۔
اسکے پاس بس دو ہی تو لوگ تھے ایڈون اور اریزہ۔۔ اور وہ ان دونوں سے ہی دور جانا چاہ رہی تھی۔
جانے باقی دنیا کی لڑکیاں ڈپریشن میں کیا کرتی ہیں۔ پاکستانی لڑکیاں تو بس سوائے تکیئے میں منہ دے کر رونے کے اور کچھ بھئ کرنے کی عادی نہیں۔۔یہاں یوں سڑک پر آ پھرنے کی آزادی تھئ سو آ کر بھی کچھ سوجھ نہ رہا تھا کہاں جائے کیا کرے۔
کیا کروں۔ وہ حقیقتا سڑک کنارے کھڑی یہی سوچ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنگ سی گلی میں بارہ سیڑھیاں اتر کر وہ گھر تھا۔ پرانا مگر اچھی حالت میں بنے اس گھر کا سامنے کا حصہ تو بڑا سا تھا شائد صحن وغیرہ تھا۔ پھولوں سے لدی بیل سے دیوار تقریبا چھپ سی گئ تھی۔ لکڑی کا مختصر سا دروازہ تھا جس کو کھولا تو سامنے واقعی کھلا صحن تھا جس کے بیچوں بیچ چبوترہ سا تھا پرانے زمانے کے کوریائی گھرانوں کا لازمی جز۔ صحن میں بھئ بڑا سا درخت تھا سامنے دو سیڑھیاں چڑھ کر دو کمرے تھے۔ ایک دائیں جانب کونے میں کچن تھا۔ غسل خانہ بھئ اسی طرف تھا۔
سوہائیو تو بچہ تھامے خاموشی سے اندر گھس گئ۔ وہ البتہ کم سن کا بازو تھام کر شکر گزار نظروں سے دیکھنے لگیں
گوما وویو۔
انکے کہنے پر کم سن نے شائد سنا نہیں یا نظر انداز کر گیا
اندر چلیں آہمونی بارش ہونے والی ہے۔
وہ جلدی میں کہتا اندر گھس گیا۔انہوں نے بھئ تقلید کی۔
دونوں کمروں میں ضرورت کا سب سامان تھا۔ برآمدے میں فریج بھئ رکھا تھا۔
سوہائیو نے کمرے کا دروازہ کھول کر بتی جلا دی تھی۔
سامنے چھوٹا سا صوفہ میز رکھے تھے بائیں جانب اندر ڈبل بیڈ تھا ایک جانب دیوار گیر الماری اور سنگھار میز۔ وہ تنقیدی نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ کم سن اور ایم سیانگ بھئ یہیں چلے آئے۔
یہاں سے سوہائیو کو آرام سے بس مل جایا کرے گی اپنے دفتر تک کی۔ اسٹاپ قریب ہی ہے۔۔۔ اور قریب ہی ڈے کئیر سینٹر بھی ہے وہاں آرام سے بچے کو چھوڑا جا سکتا ہے۔
ڈائپر وغیرہ کا کارٹن میں نے لا کر رکھ دیا ہے باقی جس چیز کی ضرورت ہو بتا دینا ۔۔
وہ مزید بتا رہا تھا۔ سوہائیو بچے کو بستر پر لٹا کر کندھے سے لٹکتے بیگ سے اسکے لیئے دودھ کی بوتل نکالنے لگی۔۔ مکمل نظر انداز۔۔۔
اور آپ کو اب اسپا جانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ راشن مہینے بھر کا موجود ہے۔ آپ بس آرام کریں۔
یہ خیال بھرے جملے اس نے روانی سے بولے تھے اور کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔ وہ جو شکریہ ادا کرنا چاہ۔رہی تھیں ہونٹ بھینچ گئیں۔
آگے بڑھ کر زور دار دھپ سوہائیو کے لگائی
بھائئ اتنا خیال کر رہا تھا پھوٹ دیتیں کیا کیا چاہیئے۔
سوہائیو انکے دو ہتھڑ پر سخت بدمزہ ہوئی
بھائئ نہیں ہے وہ میرا۔ نا آپکا بیٹا ہے۔ اس سے احسان یا بھیک ملی ہے ہمیں۔ ہمیں اپنی اوقات یاد رکھنی چاہیئے اور منہ کھول کھول کر فرمائیشیں نہیں کرنی چاہییں۔اور یہ بھیک اور احسان بھی آپ نے لیا ہے۔ میں اپنا خرچہ خود اٹھا سکتی ہوں یہ آپ ہیں جو چند دن عیش کی زندگی گزار کر اب غربت کو سہہ نہیں پارہی ہیں۔۔
وہ بولی تھی تو بولتی چلی گئ تھی۔ سختی کڑواپن بے نیازی اسکی ذات کا خاصہ تھی مگریوں بنا لحاظ وہ منہ در منہ سنا دے گئ انکے گمان میں نہ تھا۔ ایم سیانگ سخت خفت زدہ سی اسکی شکل دیکھتی رہیں۔
اس نے انکے عقب میں کھڑے کم سن کو دیکھا تو زبان کو بریک سی لگی۔ مگر وہ یہا ں اپنی خوشی و مرضی سے نہیں آئی تھی یقینا یہ بات کم سن کے علم میں ہونی چاہیئے۔ مگر اس طرح پتہ لگے وہ یہ بھی نہ چاہتی تھی۔ جھلاہٹ میں فیڈر بیڈ پر پٹختی وہ ایک طرف ہو کر کمرے سے ہی نکلتی چلی گئ۔

ایم سیانگ بھئ مڑ کر کم سن کی شکل دیکھ کر شرمندگی سے سر جھکا گئیں۔۔
یہ کچھ پھل ہیں ۔ وہ دو تین شاپر پکڑے تھا۔
وہیں سینٹرل ٹیبل پر رکھ دیئے۔
کرم۔۔ ( چلتا ہوں)۔۔
گوما وویو۔
اس سےقبل وہ دوبارہ عجلت میں نکل جاتا انہوں نے شکریہ ادا کر ڈالا
تم نے مجھے بیٹوں کی طرح سہارا دیا ہے۔ تمہارا بہت شکریہ۔۔
وہ مزید بھی کچھ کہتیں۔۔
میں نے بس آپکے کیئے گئے احسان کا بدلہ چکایا ہے۔ اور بس۔۔
حساب برابر سمجھیں۔۔۔
وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔ ایم سیانگ گہری سانس لیکر اسے جاتے دیکھ کر رہ گئیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکا ناچتے ہوئے بار بار اسے چھوئے جا رہا تھا۔۔ اس نے دو ایک بار اسکا ہاتھ کندھے سے جھٹکا۔۔ پھر بھی وہ باز نہ آیا تو پیر پٹختی ڈانس فلور سے اتر آئی۔ کائونٹر پر بیرے نت نئے کرتب دکھاتے شراب کے پیگ بنا رہے تھے۔
مجھے سادہ جوس دیں۔
اس نے انگریزی میں کہا جو کائونٹر کے دوسری جانب کھڑے بیرے کوبالکل سمجھ نہ آئی۔
سامنے ٹرے میں پھل کٹے رکھے تھے ٹوتھ پکس پروئےایک ایک نوالے جتنے کٹے ہوئے۔ سیب ایوا کاڈو جیک فروٹ ، پیچ ، اور اسٹابریز۔
ایپل جوس۔
اس نے فروٹ کی ٹرے سے باقائدہ سیب اٹھا کر اسے دکھایا
دے۔
وہ سر جھکاتا اسکی فرمائش پوری کرنے چل دیا۔
وہ کائونٹر پر کہنیاں ٹکا کر اس اونچے سے اسٹول پر ٹک گئ۔ اسکا موبائل بجے جا رہا تھا۔اس نے بیزاری سے اٹھا کر دیکھا۔
ایڈون کالنگ۔ اس نے فون کاٹا پھر کچھ سوچ کر فون بند ہی کردیا۔۔
اسکا جوس آگیا تھا۔
اس نے ایک سانس میں پی کر رکھا۔ پیسے رکھے اور جانے لگی۔ ۔تبھئ اسکا ہاتھ کسی مضبوط گرفت میں آگیا تھا۔۔
اسکے برابر بیٹھے اس کورین لڑکے نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا تھا۔
اس نے سخت غصے میں مڑ کر دیکھا۔۔
موبائل؟ ۔۔
وہ اشارے سے کائونٹر پر رکھے موبائل کی جانب توجہ دلا رہا تھا۔
اس نے ہونٹ بھینچے اپنا ہاتھ چھڑا کر تن فن کرتی پلٹی موبائل اٹھایا اور پلٹ کر جانے لگی۔ پھر خیال آیا۔
مڑ کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔
شراب کے گھونٹ بھرتے کم سن نے سوالیہ انداز میں بھنوئیں اچکائیں۔۔ جیسے پوچھ رہا ہو کیا ہوا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سادہ سی بات ہے۔ اس نے جھوٹ بولا۔
کم سن بے نیازی سے بولا۔
وہ اسکے سامنے اسٹول پر چڑھ کر بیٹھی اسے گھو ررہی تھی۔۔۔
گوما وویو۔ اتنی پتے کی بات تو مجھے سمجھ بھی نہ آنی تھی۔
وہ تپی ہوئی تھی۔ کم سن ہنس دیا۔
تمہیں یہ سوچنا چاہیئے کہ اس نے جھوٹ بولا کیوں۔ آیا وہ جان چھڑا رہا ہے یا جان بچا رہا ہے۔
اسکے سوال میں وزن تھا۔ وہ سوچ میں پڑی۔
جان چھڑا رہا تو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں تھی اسے۔
وہ مزید بولا۔ سنتھیا اسے چونک کے دیکھنے لگی۔
جان بچارہا تھا۔ وہ اگرشاہزیب یا سالک کا نام لیتا تو وہ یقینا اگلا فون انہیں کھڑکاتی۔ کم از کم اریزہ کے ساتھ نہیں تھا یہ کافی نہیں تھا اسکے لیئے۔ ؟ اسے خود اپنی کیفیت نہیں امجھ آرہی تھئ۔
ویسے تم پاکستانی لڑکیاں اتنی وفادار ہوتی ہو کہ ابھی تمہارا بوائے فرینڈ یہاں ہے بھئ نہیں تم سے جھوٹ بھی بولتا ہے مگر تم اسکی غیر موجودگئ میں بھی ڈرنک نہیں کر رہیں۔
کم سن کو واقعی حیرت تھی۔
میں ویسے بھی نہیں پیتی۔ اور نہ پینے کا تعلق ہرگز ایڈون کے منع کرنے سے نہیں ہے۔
وہ تیز ہو کر بولی۔
پھر کس سے ہے؟ تمہارا بھی مزہب منع کرتا ہے۔؟ کم سن نے یونہی پوچھا۔۔
ایسی کوئی بات نہیں۔ میں چاہوں تو ابھی پی سکتی ہوں۔۔
اس نے ٹرے سے ایک شاٹ اٹھا لیا۔
اپنے ہونٹوں تک لائی۔۔اور جتانے والے انداز میں اسے دیکھ کر واپس رکھ دیا۔
یہ کیا تھا۔ وہ ہنس پڑا۔۔
یہ میری قوت ارادی ہے۔ اجنبئ ملک میں اجنبی لڑکے کے سامنے پی کر بہکنا میں افورڈ نہیں کر سکتی۔
وہ صاف گوئی سے بولی۔
یعنی ابھی تم ایڈون کے ساتھ ہوتیں تو پی لیتیں۔
وہ دلچسپی سے اسے دئکھ رہا تھا۔گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک کی سادہ سی گلابی فراک میں ملبوس تھی۔ اسکا رنگ گہرا سانولا تھا مگر لانبا قد بڑی بڑی آنکھیں ستواں ناک نازک سے نقش۔۔ اس میں کچھ ایسا تو تھا جو نگاہ کھینچ لے اپنی جانب ۔۔ خاص کر اسکے لمبے سیدھے بال جنکی اس نے اس وقت چوٹی کر رکھی تھی۔ مغربی لباس کے ساتھ خالص دیسی بالوں کا انداز۔ وہ بے حد سمٹ کر پروقار سے انداز میں بیٹھی تھی۔۔وہ بلا شبہ یہاں موجود سب لڑکیوں میں منفرد سی لگ رہی تھئ۔
ہاں۔
اس نے بلا توقف جواب دیا۔
ایڈون کو پتہ ہے تم اس اجنبی ملک میں اجنبی لڑکے کے ساتھ بیٹھی ہو؟
وہ محظوظ سے انداز میں سوال کر رہا تھا۔۔۔ سنتھیا فورا جواب میں کچھ کہنے لگی تھی کہ احساس ہوا۔ چپ سی رہ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن اسے ہاسٹل تک چھوڑنے آیا تھا۔۔۔۔
شکریہ ۔۔۔
وہ سیدھئ اندر جانے لگی تھی بروقت خیال آیا۔ کوریائی انداز میں جھک کر شکریہ ادا کیا۔
کم سن مسکرا دیا۔۔۔وہ بھئ جوابا مسکرا دی۔۔۔ اپنے ڈورم کا دروازہ کھولتے اسکا اندازہ تھا اریزہ آچکی ہوگی مگر خالی کمرہ اندھیرے میں بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔
آج تو واپس آجانا چاہیئے تھا۔ اسے غصہ ہی آگیا۔ پلٹ کر جی ہائے کے کمرے کا دروازہ دھڑدھڑا ہی دیا۔۔۔ کوئی جواب نہ آیا توناب گھمادی۔ ۔ کمرہ لاکڈ تھا۔۔۔
جی ہائے کمرے میں نہیں ہے۔۔ گوارا کے ساتھ گئ ہوئی ہے۔
پاس سے گزرتی لڑکی نے گاڑی ہنگل میں اسے بتایا۔۔
پورے جملے میں بس جی ہائے اور گوارا ہی سمجھ آئے۔
وہ دانت پیستی کمرے میں واپس آئی۔ بیگ اٹھا کر بیڈ پر پھینک دیا۔
پھر خود بھی دھپ سے بیڈ پر آن گری۔۔۔
موبائل آن کیا۔ ایڈون کا نمبر بلاک کیا اریزہ کا نمبر بلاک کیا۔
کم سن کی مسڈ کال پڑی تھی اسکا نمبر احباب فہرست میں شامل کیا نام لکھا۔۔۔ اس نے اسٹیٹس لگا رکھا تھا۔ مکمل ہنگل میں۔
اس نے کاپی کیا۔۔۔۔۔۔۔
انکی لازمی ہنگل کی کلاس میں ابتدائی ہنگل سکھانے کیلئے ایک ایپ انکے استاد نے سب کو انسٹال کروائی تھئ۔
اس نے اس ایپ میں جملہ ڈالا۔ ترجمہ ہوا۔
لکھا تھا۔۔

Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..

Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..
English heart broken qoutes
Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..

دل کو لگا۔۔۔۔
اس نے اپنا بھی یہی اسٹیٹس لگا لیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے

Kesi lagi apko aaj ki salam korea ki qist? Rate us

Rating

Salam Korea Episode 15

salam korea 

by vaiza zaidi

salam korea 

by vaiza zaidi

urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

Novel urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list
urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

Novel urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list
kdrama urdu,
Desi kimchi,
Desi kdrama fans,
Urdu kdrama,
Urdu web,
Kdrama maza,
Korean masti,
korean dramas,
kdrama,
k drama,
best korean drama,
korean drama 2020,
korean drama 2021,
kdrama 2021
best kdrama,
korean series,
kdramas to watch,
korean drama website,
kdrama website,
netflix korean drama,
asian drama,
best korean drama 2020,
top korean drama,
new korean drama 2021,
best korean drama 2021,
best kdrama 2020,
best kdrama to watch,
best korean drama on netflix,
best korean series,
best kdrama 2021,
kdrama netflix,
k drama urdu,
www korean drama,
watch korean drama,
best k dramas on netflix,
netflix korean drama 2021,
best kdrama on netflix,
new korean drama,
www kdrama,
k drama 2021,
korean series on netflix,
netflix korean drama 2020,
top 10 korean drama,
top kdrama,
top korean drama 2020,
k dramas to watch,
2021 korean drama,
korean drama series,
best korean series on netflix,
new kdrama 2021,
2020 kdrama,
2020 korean drama,
2021 kdrama,
k drama netflix,
best k drama to watch,
romance kdrama,
k drama 2020,
new korean drama 2020,
latest korean drama 2021,
korean dramas to watch,
top korean drama 2021,
watch kdrama,
korean tv series,
highest rated korean drama,
korean drama in hindi,
korean drama shows,
top kdrama 2021,
new kdrama,
watch asian drama,
popular korean drama,
kdrama online,
latest korean drama,
korean drama online,
korean netflix series,
korean tv shows,
korean shows,
must watch kdrama,
korean shows on netflix,
famous korean dramas,
romance korean drama,
top kdrama 2020,
most popular korean drama,
korean series 2021,
must watch korean drama,
new kdrama 2020,
best romance kdrama,
popular kdrama,
good kdramas,
korean drama in hindi dubbed,
korean series 2020,
kdramas 2020,
best korean shows on netflix,
korean drama 2021 netflix,
top k dramas,
top rated korean drama,
watch kdrama online,
korean romance,
top korean series,
netflix k drama,
good korean dramas,
latest kdrama 2021,
most watched korean drama,
top 10 kdrama,
famous kdrama,
all in korean drama,
best k drama 2020,
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
pakeeza anchal,
l online reading,
pakeeza anchal novel online reading,
urdu novel bank,
urdu novel platform,
yaar zinda sohbat baqi,
desi story urdu,
salam korea urdu web travel novel episode 15

قسط 15

۔۔۔۔۔

صبح الارم بجنے پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔ سحری کا وقت نکل چکا تھا۔ وہ خود کو کوس کر رہ گئ۔ ہاں بنا کھائے پیئے روزے کی نیت کر نے کی ہمت نہ تھی۔ ایک تو ویسے ہی جب سے آئی تھی یہاں ڈھنگ سے کھانے کو نہیں مل رہا تھا۔۔ الارم بھئ یہ گوارا کا بجا تھا۔ اس نے اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا الارم لگا ہوا تھا یقینا بج بج کے بند ہوگیا۔ اسکی بے ہوش نیند اور یہ ساتھی گوارا۔ ابھی بھی

گوارا کسمسمائی تھی مگر اٹھنے کا کوئی ارادہ نہین تھا۔۔ وہ فریش ہو کرباہر نکل آئی۔  ناشتہ بنانے لگی۔  ڈبل روٹی اور انڈے ہی موجود تھے اس نے توس سینک کر آملیٹ بنایا ساتھ کافی کے دو مگ بنائے تب گوارا نک سک سے تیار کمرے سے برآمد ہوئی۔

آجائو ناشتہ کر لو۔۔ 

اس نے خوشدلی سے اسے دعوت دی۔۔ 

میں تو ناشتہ نہیں کرتی۔ اس نے کہا تو مگر اتنے اہتمام سے ناشتہ سجا تھا وہ انکار نہ کر سکی۔۔ دونوں کھا پی کر اکٹھے یونی کیلیئے نکلی تھیں۔۔ 

اس فالتو اسائنمنٹ نے آج بھئ یونی کی شکل دکھا دی ورنہ میں نے پورا ہفتہ یہ والا یونیورسٹی کے بارے میں سوچنا بھی نہ تھا۔ 

یہ گوارا کے ارادے تھے۔

اور اریزہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیئے سوچ رہی تھی۔ 

مجھے تو ابھی سے بھوک لگ گئ ہے۔۔ دو پیس اتنے کم کیوں ہوتے ہیں میرے لیئے۔ 

اس وقت صد شکر کل شام جتنا ہجوم نہیں تھا میٹرو میں انہیں بیٹھنے کی جگہ بھی مل گئ۔۔

وہ دلچسپی سے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔۔ 

مختلف ملک مختلف شکلیں مختلف رویئے مگر سب روزی کی خا طر دھکے کھاتے مجبور ۔۔

وہ بوڑھی سی خاتون بڑی سی ٹوکری اٹھائے ایک ہاتھ سے ہینڈل پکڑے کھڑی تھیں۔ ٹوکری انہوں نے زمیں پر نہ رکھی تھی۔ اس نے پہلے تو نظر انداز کرنا چاہا مگر پھر مشرقی تربیت آڑے آہی گئ۔۔ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس نے انکو اپنی جگہ بیٹھنے کو کہا۔۔ وہ جانے کیا سمجھیں معزرت کرنے لگیں۔۔ 

ٹوکری سامنے کر دی 

 وہ بری طرح ڈر گئ تھیں۔۔

وہ الٹا شرمندہ ہو گئ۔۔

میں آپ سے شکایت نہیں کر رہی ۔ اس نے اشارے سے بھی کام لے کر سمجھانا چاہا وہ چپ ہو کر اسے دیکھنے لگیں۔۔

دفعتا اسکی نظر ٹوکری پر پڑی۔ 

نہایت حسین چندی آنکھوں والا بچہ گورا چٹا چھوٹے سے دہانے میں انگوٹھا گھسیڑے آنکھیں موندے شائد سو رہا تھا۔۔

بالکل گڈا سا ۔۔۔ وہ موم سی ہو کر اسکے گال چھو بیٹھی۔۔ 

ماشااللہ ۔۔ بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا وہ عورت کچھ کہتے کہتے چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔

آہجومہ۔۔ یہ آپ کو اپنی نشست پر بیٹھنے کو کہہ رہی تھی۔۔ آپ سے بدبو کی شکایت نہیں کر رہی۔۔ 

گوارا نے اسکو اتنا تردد کرتے دیکھا تو گہری سانس لے کر مترجم کے فرائض نبھانے لگی۔۔

وہ۔عورت یکبارگی مشکور ہو کر اسکی جانب جھکی۔۔ اس نے جلدی سے ٹوکری تھام لی۔۔ غربت کے باعث وہ سودے کی پرانی ٹوکری میں گدا بچھا کر بچے کو لٹائے تھیں۔۔ اس نے ٹوکری اٹھائے انکے بیٹھنے کا ا نتظار کیا پھر احتیاط سے انکی گود میں رکھ دی۔۔

گومو وویو۔۔ انکی آنکھیں جھلما گئیں۔۔ 

یہ آپکا بچہ ہے۔۔۔۔ 

وہ عورت پلٹ کر گوارا کو منتظر نظروں سے دیکھنے لگی۔۔ 

اس نے غور سے انکے چہرے کو دیکھا۔۔ انکی عمر اتنی زیادہ نہیں تھیں مگر جانے زندگی کتنی بری طرح پیش آئی تھی۔۔ انکا چہرہ الجھنوں کی  لکیروں سے بھرا تھا۔۔ گال دبلاپے سے دھنسے تھے۔۔  گوارا نے ترجمہ کیا تو انہوں نے خوشی خوشی بتایا۔

نہیں میری بیٹی کا بچہ ہے۔۔ 

گوارا بھی اب دلچسپی سے اس گل گوتھنے سے بچے کے گال چھو رہی تھئ۔۔

بہت پیارا ہے۔۔ اس نے بےدھیانی سے اردو میں کہا

اس نے دو انگلیاں اپنے ہونٹوں سے چھو کر اسکے گال پر ثبت کیں۔۔۔

زبان گوارا کیلیئے بھی انجان تھی مگر وہ عورت اریزہ کے انداز سے بھی مطلب سمجھ گی۔۔

بو پیارا۔ اس نے اٹک کر اسکے کہے الفاظ دھرانے چاہے۔ شہادت کی انگلی سےاسکی جانب اشارہ کرکے اس نے پھر دہرایا۔۔

۔اریزہ خوشگوار حیرت میں گھرگئ۔۔ محبت کی واقعی اپنی ہی زبان ہوتی ہے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پتہ ہے تمہاری وجہ سے ناشتہ کر لیا۔۔ ورنہ میں ناشتہ نہیں کرتی دس گیارہ بجے بھوک سے بے حال۔ہو کر یون بن کے ساتھ کیفے گھس جاتی روز ریمن کھا کھا الگ دل اوب گیا مگر  تیار کھانا اور کیا کھایا جا سکتا۔۔ 

گوارا اسکے ساتھ چلتے بتا رہی تھی۔۔ یہ وہی گوارا تھی جو سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھی نخرے سے بولتی تھی۔۔ اب اتنی اپنائیت سے پو را راستہ بولتی آئی تھی۔۔ واقعی انسان ضروری نہیں کہ ویسا ہو جیسا پہلی ملاقات میں اپنا تاثر چھوڑے۔۔ 

میں روز  تمہارے لیئے ناشتہ بنا دیا کروں گی۔۔۔ 

اریزہ نے خلوص سے کہا تو گوارا ششدر ہی تو رہ گئ۔۔

واقعی۔۔ اسے یقین نہیں آیا۔۔ 

ہاں۔۔ اس نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔ 

گومو وویو۔۔ گوارا اس سے لپٹ ہی تو گئ۔۔ 

اریزہ کیلیئے یہ اچانک تھا مگر سنبھل کر اسکو گرم جوشی سے ساتھ لگایا۔۔

پتہ صبح مجھ سے کچھ کام نہیں ہوتا ۔مگر میں رات کو  روز کھانا بنا کر کھلا سکتی ہوں تمہیں۔۔ پکا۔۔ 

وہ شائد سحری کی بات کر رہی تھی۔ اریزہ ہنس دی۔ 

گوارا الگ ہو کر اسکی جانب اپنا سیدھا ہاتھ بڑھائے تھی سب انگلیاں بند کیئے سب سے چھوٹی انگلی آگے بڑھائے تھی۔۔ 

اریزہ اسے نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔ 

وعدہ۔۔ اس نے بھنویں اچکا کر اسے بھی ایسا کرنے کا اشارہ کیا۔۔ اریزہ نے بھی ویسے ہی ہاتھ بڑھایا تو اس نے کاٹ کر نے کے انداز میں اسکی چھنگلیا اپنی چھنگلیا سے لپیٹ کر اپنے انگوٹھے سے اسکا انگوٹھا ملا کر تالہ سا لگایا۔۔

یہ ہوا پنکی پرامس ۔۔ وہ بچوں کی طرح کھلکھلائی۔۔ اریزہ زور سے ہنس پڑی۔۔ 

کیا ہوا ۔۔ وہ الٹا حیران ہوئی۔۔ 

کچھ نہیں وہ ہنسی۔ روک کر بمشکل بولی۔۔

ہمارے یہاں ناراضگی کے اظہار اور تعلقات ختم کرنے پر ایسے کٹی کی جاتی۔۔ 

ہیں۔ گوارا کافی حیران ہوئی۔۔ 

واقعی۔۔ عجیب بات ہے۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔ 

وہ اب اسکے کندھے سے لگی آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔۔ 

اور دوستی کیسے کرتے ؟۔۔ وہ پوچھ رہی تھی۔۔ 

دوستئ۔ وہ بتا رہی تھی جبھی سامنے سے آتے ہایون پر نظر پڑی۔۔ اس نے بلا ارادہ گوارا سے اپنا ہاتھ چھڑا کر اسے دھیرے سے الگ کیا۔ ہایون کو بے ساختہ ہنسی آگئ۔۔ اس دن کے بعد آج ملاقات ہوئی تھی انکی۔۔ لگ بھگ پانچ دن ہورہے تھے اس نے سوری لکھ کر پیغام بھیجا تھا مگر اریزہ نے جواب نہ دیا

وے ۔۔ گوارا ابھی حیران ہو کر پوچھنے ہی والی تھی کہ ہایون رفتار بڑھا کر انکے پاس پہنچ گیا۔۔

آننیونگ واسے او۔۔ اس نے مسکرا کر سلام دونوں کو کیا رھا مگر دلچسپی سے اریزہ پر نظر ڈالی تھی۔۔

جو بے نیاز دکھائی دینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ 

آننیانگ واسے او۔ بڑے دن بعد نظر آئے کہاں تھے۔۔یونی کیوں نہیں آرہے تھے۔۔ گوارا کا دھیان بٹ گیا وہ بہت گرمجوشی سے احوال دریافت کر رہی تھی۔۔

بس تھوڑا سا کام میں مصروف تھا۔۔

ہایون اور گوارا باتوں میں لگے تو اریزہ نے کترا کر نکلنا چاہا۔۔ 

ہے۔۔ ہیونگ سے نے اسکا ہاتھ پکڑ کر جانے سے روکا۔۔

اتنی ناراض ہو پیغام کا جواب بھی نہیں دینتیں۔۔ سوری کہا تھا میں نے۔۔ 

وہ معصوم سی شکل بنا کر کہہ رہا تھا۔۔

اریزہ بری طرح چونک گئ۔۔ فورا ہاتھ چھڑانا چاہا۔۔ مگر ہایون نے گرفت تھوڑی سی سخت کی۔۔ 

اریزہ کے برعکس اسکے چہرے پر سادی سی مسکراہٹ تھی۔۔

معزرت۔۔ یار۔۔ غلط فہمی تھی سوری۔۔

اس نے ہاتھ چھوڑ کر باقائدہ جھک کر کہا۔۔ 

تم لوگ ناراض تھے ایک دوسرے سے۔۔ گوارا کو حیرت کا جھٹکا سا لگا۔۔

یار وہ بس میں سمجھا۔۔

ہایون پلٹ کر بتانے لگا تھا کہ اریزہ نے جلدی سے بات کاٹ دی۔۔ 

چھوٹی سی غلط فہمئ تھی ۔۔ میں ناراض نہیں تھی ہایون۔۔ 

اس نے ہونگ سک کی براہ راست آنکھوں میں دیکھ کر جیسے اسے مزید کہنے سے منع بھی کیا۔۔ ہایون نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔

خیر اریزہ ۔۔۔وہ اسکی جانب مڑی۔۔ 

چونکہ تم نے مجھے ناشتہ کرایا سو دوپہر کا کھانا میری طرف سے ہوگا۔۔

اسکی ضرورت نہیں۔۔ اریزہ نے منع کرنا چاہا 

کیوں نہیں؟۔۔  بس طے ہوگیا۔۔ تین بجے یہیں ملنا اکٹھے چلیں گے۔۔

یہ آفر بس اریزہ کیلئے ہے۔۔ ہایون نے ٹوکا۔۔

نہیں اگر تمہارا بھی موڈ ہے دعوت کا تو سائیڈ ڈشز تمہاری طرف سے ہو جائیں گی۔۔ 

گوارا کی بے نیازی عروج پر تھی۔۔

اسکی چالاکی پر اریزہ کھلکھلا دی تو ہایون گھورنے لگا تھا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریسٹورنٹ خالی تھا تقریبا۔۔

اس نے ایک ایک۔میز کپڑا رگڑ کر صاف کی پھر ایپرن اتارتی کائونٹر کے پاس آئی۔۔

میری شفٹ ختم ہو گئ ہے میں جاتی ہوں۔۔ اس نے بتانا ضروری سمجھا تھا۔۔

ٹھیک ہے۔۔ مینیجر نے سر ہلا دیا۔۔ 

وہ پلٹنے لگی تو اسے روک کر ایک چھوٹا سا شاپر تھما دیا۔۔

یہ کھا لینا۔۔

وہ ادھیڑ عمر مینجیجر اسے تھما کر اندر کچن میں چلا گیا۔۔ وہ چونکی پھر شاپر میں ہاتھ ڈال کر دیکھنے لگی کیا ہے یہ۔۔

اس کھڑوس بڈھے کو جانے اس کے کام کرنے لگن یا اسکی اتری شکل دیکھ کر ترس آیا تھا ایک بڑا ہیم برگر مفت تھما دیا۔۔ وہ گہری سانس لیتی ریستوران سے باہر نکل آئی۔۔ دوپہر کا وقت تھا سورج سر پر چمک رہا تھا۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی بس اسٹاپ پر چلی آئی۔۔

وہ گلی میں  تھڑے پر بیٹھی۔ننھے ننھے پتھر چن کر ان سے کھیل رہی تھی

کوئی پتھر اسکا باپ تھا کوئی ماں کوئی بھائی۔۔ 

مجھے دو۔۔ 

ایک۔ننھے پتھر نے اپنے سے تھوڑے بڑے پتھر کی پلیٹ پر جھپٹا مارا تھا۔۔

یہ میرا ٹکڑا ہے۔۔ 

اس نے جلدی سے واپس چھینا۔۔ 

کھانا ٹوتھ پیسٹ کے خالی ڈھکن میں پیش کیا جا رہا تھا۔۔

مجھے بھوک لگی ہے اور کھانا۔۔

اس نے اپنے چھوٹے بھائی کی آواز نکالی۔۔

ای جی روہانسی ہوگی۔۔

میں نے صبح بھی نہیں کھایا تھا۔۔

جونگسو شا۔۔ بہن کو بھی کھانے دو۔۔ اناج کا۔۔ 

وہ بولتے بولتے رکی۔۔ 

گوشت کا ٹکڑا۔۔

خیالی کہانی تھی۔ اناج کی۔جگہ گوشت کہا جا سکتا تھا۔۔ 

اسکی ماں کہہ رہی تھی

وہ خوش سی ہوئی۔۔ 

ای جی۔۔ تم بہت کھانے لگی ہو ۔۔ 

ایک بڑا سا پتھر ایک چھوٹے سے پتھر کو ڈانٹ رہا تھا

مگر یہ تو میری ہی پلیٹ ہے آہموجی نے یہ مجھے دیا تھا۔۔

وہ اپنی آواز نکالتی تو انداز گھگیا جاتا۔۔ 

زبان چلاتی ہو۔۔ وہ آہبو جی کی طرح غرائی۔۔

ایک جھاڑو کا تنکا اٹھا کر اس نے اس چھوٹے پتھر کو خوب پیٹا تھا۔۔

بیانئے بیانئے آہبوجی۔۔

وہ رو رہی تھی۔۔

آہموجی اسکو بچانے آئی تھیں۔۔ 

اس نے دوسرا بڑا پتھر اٹھایا۔

ای جی آ۔

آہموجی اسکے سر پرکھڑی تھیں۔ 

وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔۔

یہ لو۔۔

وہ اپنے دامن میں سے چاولوں کا کیک نکال کر اسے پکڑا رہی تھیں۔۔ اسکی آنکھیں چمک گئی تھیں

ابھی مت کھانا۔۔ انہوں نے فورا ٹوکا تھا۔۔

اس نے بڑے شوق سے تھاما تھا۔۔ اس ہدایت پر آنکھوں میں آنسو ہی تو آگئے تھے۔۔

کیوں۔۔

اس نے۔معصومیت سے پوچھا۔۔

رات کے کھانے کیلیئے ہے ابھی تو تھوڑی سی مکئی کھا لی ہے نا بیٹا۔۔ انہوں نے اسکی تھوڑی چھو کر پیار سے سمجھانا چاہا۔۔ 

میں ابھی امدادی ٹرک سے بہت مشکل سے تھوڑے سے یہ لا پائی ہوں۔۔ باقی بچوں میں تم چھین جھپٹ کر رات کو نہیں لے پائو گی اسلیئے ابھی دے رہی ہوں۔۔ اسے اپنی قمیض کے دامن میں چھپا لو۔۔ اور چپکے سے اپنے کمرے میں ٹرنک میں لے جا کر رکھ لو۔۔ رات کو کھانا۔۔ سمجھ آئی۔۔

اپنی کم خوراکی کا شکار دھنسی ہوئی آنکھوں اور بے انتہا ابھری گالوں کی ہڈیوں والے چہرے کی مالک بیٹی کو انہوں نے چمکار کر سمجھایا تھا۔۔

وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔۔

تھوڑا سا کھا لوں۔۔ 

رات کو پھر بھوک لگ جائے گئ بیٹا۔۔ اہموجی کی آنکھوں میں تارے سے جھلملا گئے۔۔

ٹھیک ہے۔۔ ای جی مایوس سی ہوئی مگر اپنی فراک کے دامن میں چھپانے لگی۔۔

ماں کا دل اسکی سعادتمندی پر پگھل سا گیا۔ اپنے حصے میں سے تھوڑا سا توڑ کر اسکے منہ میں ڈال دیا۔۔ ای جی کی آنکھیں جھلملائیں۔۔ وہ نا چبا رہی تھی نہ نگل رہی تھی  بس ذیادہ سے زیادہ دیر منہ میں رکھ کر اسکے ذائقے کو محسوس کرتے رہنا چاہتی تھی۔۔

ماں مطمئن ہو کر پلٹ گئ۔۔ تو اس نے فراک مین چھپایا کیک نکال کر کترا۔۔

کتنی عجیب بات ہے نا بھوک نہ بھی تو ہاتھ میں اگر کھانے کی چیز ہو تو ہاتھ رکتا نہیں۔۔

کتنی تکلیف دہ یادیں تھیں اسکے بچپن کی۔۔ ایک۔کھانے نے اسے کتنا تڑپایا ہے۔۔ 

اس نے ہیم برگر کو ہاتھ میں لے کر جیسے تولا تھا۔

وہ بس اسٹاپ پر بنے بنچ پر بیٹھی تھی۔۔ دوپہر کا وقت تھا سڑک پر بس اسٹاپ پر کہیں رش نہیں تھا۔۔

دو دن میں وہ تین بار کھاتی تھی۔۔ آخری بار کل شام کو کھایا تھا۔۔

وہ پیسے جمع کر رہی تھی کسی گھٹیا سے علاقے میں ایک کمرہ اسکو درکار تھا سر چھپانے کو۔۔ 

اس نے بیگ سے ایک اشتہا ر نکالا کمرہ کرائے کیلیئے دستیاب 

میرے پاس ہیں۔۔ اٹھارہ سو وون۔۔ روز میں کھانے کی مد میں خرچ کرتی پچاس وون۔ آج اس سے گزارہ کروں تو آج کے پچاس وون بچ جائیں گے۔۔ 

وہ حساب لگا رہی تھی۔۔ 

مطمئن ہو کر اس نے برگر سلیقے سے پیک کر کے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔۔ 

برگر کی خوشبو حواس پر سوار ہو رہی تھی۔۔ اسکی نظر بھٹک کر دو بار بیگ پر گئ۔۔ مگر اب یوآنہ بچی تھوڑی تھئ۔۔

یوآنہ کہا بھی تھا رات کو کھانا اب کیا کروگی؟۔۔

ماں نے اسکےہاتھ میں کیک کے نام پر وہ چاولوں کا پاپڑ جیسا بمشکل چار انگل کا ٹکڑا دیکھا تو سر پیٹ لیا تھا۔۔ 

ای جی شرمندگی سسے سر جھکا ئے تھی۔۔

اب چوبیس  سال کی یوانہ کو اتنی سمجھ تھی

کہ رات کی بھوک برداشت کرنا بہت مشکل ہوتا۔۔ کالی اندھیری رات بھوک میں مزید دیر سے گزرتی اتنی دیر سے کہ سمجھو جان نکلنے ہی لگتی مگر بھوکا مرنا بھی آسان تھوڑی ہوتا۔۔ 

وہ استہزائیہ ہنس دی۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دوپہر کو گوارا کی بتائی جگہ پر اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔ پارکنگ کے قریب فٹ پاتھ پر اس جانب آج رش نہ ہونے کے برابر تھا باہر جاتے ایڈون نے دور سے اسے دیکھا۔ 

وہ فرنچ فرائز کھا رہی تھی ساتھ ساتھ موبائل میں لگی تھی۔ 

وہ اسکے پاس ہی چلا آیا۔

کیسی ہو اریزہ۔ 

اسکے قریب آکر کہنے پر وہ بری طرح اچھلی۔ 

رمضان میں فرائز کھا رہی تھی وہ بھی اپنی دانست میں چھپ کے۔ لا شعوری طور پر فرائز ایکدم سائڈ میں رکھ دیئے۔ 

ایڈون اسکے برابر ہی آن بیٹھا۔ وہ اسکی سٹپٹاہٹ محسوس کر چکا تھا جبھی سرسری سے انداز میں پلیٹ اٹھا کر اس میں سے یونہی ایک دو چپس اٹھا کر اسکو تھما دی۔

اسائنمنٹ جمع کرادی تم نے۔ 

اس نے یونہی اسکی شرمندگی زائل کرنے کو پوچھا۔ 

ہاں صبح سب سے پہلے یہی کام کیا اسکے بعد سے یہاں بیٹھی ہوں۔ 

اریزہ نے بھی سوچا اب کیا ہوسکتا۔ سو آرام سے چپس کھانے لگی۔

سنتھیا کے پاس چلی جاتیں۔ 

اس نے کہا تو اریزہ گہری سانس بھر کے بولی

اس نے بتایا تھا کہ تم اور وہ آج دوسرے شہر جا رہے ہو۔ اسلیئے وہاں نہیں گئ۔ 

ہم بس نکل رہے ہیں سنتھیا چارجر بھول گئ تو واپس گئ ہے لینے۔ چلو گی تم بھی؟ 

اس کے منہ سے بے اختیارانہ نکلا۔

مجھے کباب میں ہڈی کیوں بنانا ہے۔ 

تم ہم دونوں کیلئے ہڈی نہیں ہو۔ یہ بات تم بھی جانتی ہو۔ 

وہ زو ردے کر بولا۔ اسکی بات گہری تھی اور وہ اس میں الجھنا نہیں چاہتی تھی۔ سو خاموش ہی رہی۔ 

تمہیں کوریا کیسا لگا؟ وہ بات سے بات نکال رہا تھا

اچھا ہے۔ اس نے مختصرا کہا۔ 

مجھے بہت اچھا لگا۔ اپنا اپنا سا۔ ایڈون دونوں بازو پیچھے زمین پر ٹکا کران پر وزن دے کر  ریلیکس سا ہو کر بیٹھا۔ 

اپنا اپنا سا؟ وہ حیران ہوئی۔ 

چندی آنکھیں گوری رنگت نا مانوس زبان اس میں اپنائیت کہاں سے جھلکی۔ اسے حیرت تھئ۔

یہاں بہت آزادی ہے لوگوں کے ذہن بندھے ہوئے نہیں ہیں۔ سب اپنے کام سے کام رکھتے ہیں کوئی کسی کو دیکھ کر جج نہیں کرتا۔ لوگ اپنے عقائد دوسروں پر نہیں تھوپتے۔ کسی کو اسکے عقائد کی وجہ سے مسترد نہیں کر دیتے۔ 

وہ بڑ بڑانے والے انداز میں بول رہا تھا۔ وہ چپس چباتے رک سی گئ۔ جانے کیوں اسے لگا وہ اسے ہی سنا رہا ہے۔ 

تبھی ایڈون کا فون بجنے لگا۔ اس نے بیزاری سے دیکھا 

سنتھیا کی کال آرہی تھی۔ وہ شائد باہر بلانے کیلئے ہی کال کر رہی تھی۔ اس نے کال نو کرکے فون جیب میں رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ چند لمحے اسے کھڑا دیکھتا رہا۔ وہ حیران سی ہو کر دیکھنے لگی اسے تو بنا کچھ کہے پلٹ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا داخلی راستے کی جانب بڑھ گیا۔

اسکے دل پر بے تحاشا بوجھ آن گرا۔ آگہی عذاب ہے جس نے بھی کہا سولہ آنے درست بات کی۔ 

کاش 31 دسمبر 2015 میری زندگی میں نہ آئی ہوتی۔۔

وہ یاسیت سے سوچ کر رہ گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

وسیع و عریض لان سے اندر رہائشی عمارت کا فاصلہ اسے صدیوں پر محیط لگا تھا۔ نیم اندھیرے لان میں ایڈون کے ہمراہ چلتے اسے جانے کیوں خیال آیا تھا کہ اسے کم از کم سنتھیا کو بتاکے آنا چاہیئے تھا۔ 

اندر جا کے ویسے کیا کروگی؟ سنتھیا کا کمرہ لاکڈ ہی ہوگا۔ 

ایڈون نے کہا تو وہ حقیقتا پریشان ہوگئ۔ 

یہاں  واک کریں۔ 

ایڈون نے خود ہی دوسرا آپشن دیا۔ 

ہمم۔۔۔ وہ اور کیا کہتی۔  ابھی بارہ بجنے میں وقت تھا اس سے قبل تو یہ دعوت پارٹی ختم ہوتی نظر نہ آرہی تھی۔ گھر کے تین اطراف لان تھا۔ پارٹی اگلے حصے میں تھی وہ دوسرے حصے میں چلے آئے۔ 

سردی کافی تھی۔ اس نے انر بھئ پہن رکھا تھا ساتھ شنیل کی میکسی۔ جبکہ ایڈون اسکے برعکس صرف ایک ہائی نیک اور کوٹ پہنے تھا مگر یوں سکون سے تھا جیسے جون چل رہا ہو اور اسے ٹھنڈ سی لگ رہی تھی۔ 

آج کچھ ذیادہ ٹھنڈ نہیں ہے؟ 

اسکے دانت بجنے کو تیار تھے۔ بڑی کوشش سے قابو کیے

نہیں بلکہ آج تو مجھے کم۔ٹھنڈ لگ رہی ہے۔ 

ایڈون کو اس سے اختلاف تھا۔ 

میم ثمینہ والی اسائنمنٹ بنا لی؟ میم نے کہا تھا پیپرز سے پہلے سب جمع کروادیں ورنہ مارکس نہیں لگائیں گی۔ 

اریزہ کو جنوری میں ہونے والے امتحانوں کی فکر ہو رہی تھی۔

نہیں ۔ تم نے کروا دئ؟ 

ایڈون نے کہا تو وہ فخر سے بولی

میں اپنا کام وقت پر مکمل کر لیتی ہوں۔ ڈیو ڈیٹ سے بھی دو دن پہلے جمع کرادی تھئ۔ 

جی آپ ٹھہریں بلا کی پڑھاکو یونہی تو نہیں ٹاپر کی ریس میں شامل ہیں ۔ وہ چھیڑنے لگا۔اریزہ فخر سے گردن اکڑا گئ

انشا اللہ گولڈ میڈل لوں گئ۔ 

اسے یقین تھا خود پر۔ 

صرف پڑھائی کر کر کے تھک نہیں جاتیں یہی تو چار دن ہیں جوانی ہے کیا پڑھ پڑھ کر ریڑھ لگانی انکی۔ کبھی پڑھائی سے ہٹ کر بھی ادھر ادھر دیکھ لیا کرو۔ اتنے پیارے لڑکے ہیں یونی میں۔ شاہزیب تو گورا چٹا بھی ہے۔ 

وہ۔جان بوجھ کر چھیڑ رہا تھا۔

اس چھچھورے کا نام بھی نہ لینا میرے سامنے۔ حسب توقع وہ بھڑک اٹھی

باڈی بنا کر خود کو سلمان خان سمجھنے لگا ہے۔ نشیلی نگاہیں بنا کر جب گھورتا ہے نا تو دل کرتا ہے دونوں ڈیلے باہر نکال دوں۔ 

وہ اتنے جوش سے بولی تھی کہ ایڈون بے ساختہ ہنس پڑا۔ ہنسے گیا۔ وہ کھسیا سی گئ۔ کھل کر ہنس کر وہ محظوظ سے انداز میں بولا

اف کتنی خطرناک ہو تم۔ اب میں بھی تمہاری طرف دیکھے بنا بات کروں گا کیا خبر غصہ آئے تم میری بھی آنکھیں پھوڑ دو۔ 

وہ معصوم سے انداز میں بولا۔

تم اسکی طرح نہیں گھور سکتے وہ بہت برا لگتا ہے گھورتے ہوئے۔ 

اس نے جھرجھری سی لی۔ ایڈون غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔ مگن سے انداز میں وہ دل کی بات کر رہی تھی۔ دو سال ہو رہے تھے انہیں اکٹھے پڑھتے وہ سنتھیا اریزہ اچھے دوست تھے۔ وہ تینوں ہر کام مل کر کرتے تھے۔  مگر جانے کب اسکا دل اسکے ہاتھوں سے نکلتا چلا گیا۔ 

تمہارا کیا آئیڈیل ہے۔ کیسا لڑکا ہونا چاہیئے تمہاری زندگی میں۔ 

وہ دھڑ دھڑ کرتے دل سے پوچھ رہا تھا۔ اریزہ لمحہ بھر رک کر جیسے سوچنے سی لگی۔ 

کیسا لڑکا ہونا چاہیئے۔۔۔ کبھی سوچا ہی نہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھ سے آنکھیں بند نہیں ہوتیں۔ مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔ جب اندھیرا ہوتا ہے مجھے بس نگاہوں میں ایک منظر سما جاتا ہے۔ خون لاشیں چیخیں۔ مجھے لگتا ہے میرے بازو ہاتھوں پر خون ہے مجھ پر کچھ گرا ہوا ہے۔ اسے جھاڑیں ۔

پندرہ سالہ اریزہ بولتے بولتے ہزیانی سے انداز میں اپنے ہاتھوں پر سے نادیدہ گرد سی جھاڑنے لگی۔ 

مجھے ڈر لگتا ہے اندھیرے سے بہت۔۔ آپ لائٹ جلائیں۔ 

سائیکو تھیراپی میں بہترین وقت یہی ہوتا ہے جب مریض اپنا لاشعور میں دبا خوف بیان کر نے لگے۔ تبھی تو علاج سہل ہو جاتا ہے نفسیات دان کیلئے۔ نفسیات دان نے دھیرے سے اسکی۔نبض پر ہاتھ رکھا 

جب ڈر   محسوس ہوتا ہے تو آپ کیا کرتی ہو۔ 

حماد بھائئ کو پکارتی ہوں۔ مگر وہ اب تو نہیں آسکتے۔ 

وہ مایوس سی ہوئی۔ 

اور پھر۔ 

امی کو بابا کو۔۔اس نے سادگی سے بتایا۔ 

امی اور بابا نہ آئیں کبھی تو کیا کروگی۔

ڈاکٹر پوچھ رہا تھا۔ 

وہ آجاتے ہیں۔ 

اسے یقین نہ آیا ایسا بھئ کبھی ہو سکتا ایسے تو آج تک کبھی نہ ہوا تھا۔ کبھی اچانک لائٹ جائے یو پی ایس ٹرپ کرجائے یا کسی بھی وجہ سے ذرا سا بھی اندھیرا ہو اور وہ پکارے تو امی اور بابا دوڑ کر آتے تھے۔ کبھی کبھی تو اسکے پکارنے سے پہلے ہی۔ 

اب انکے آنے کا انتظار نہیں کرنا۔اریزہ نے اب اندھیرے میں دیکھنا ہے کہ اسے کیا نظر آتا ہے۔ روشنی کا انتظار نہیں کرنا خود اٹھ کر دیکھنا ہے روشنی کرنی ہے۔ جب ڈر لگے تو اپنا ہاتھ خود تھامنا ہے ایسے۔ 

انہوں نے اسکی دونوں ہتھیلیاں جوڑ کر اسکا ہاتھ اسکے اپنے ہاتھ سے ہی ملایا۔ 

اور کہنا ہے۔میں خود بھی اپنے لیئے روشنی کا انتظام کر سکتی ہوں۔ میں اپنے ساتھ ہوں۔ مجھے اپنا ہاتھ تھامنے کے بعد ڈر نہیں لگتا۔ 

آپ لائٹ جلا دیں۔ 

اس نے ملتجی سے انداز میں کہا۔ 

نفسیات دان اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں سے ہٹا لیا۔ 

سامنے میز پر ٹارچ رکھی ہے۔ اپنا ہاتھ تھام کر دہرائو میں اپنے ساتھ ہوں۔۔ مجھے اپنا ہاتھ تھامنے کے بعد ڈر نہیں لگتا۔ 

انکی آواز دور اور مدہم ہوتی گئ۔ اریزہ نے کانپتے ہاتھوں کو مضبوطئ سے باندھا۔۔ کپکپاتی آواز میں دہراتی اٹھنے لگی۔ لہرائی۔ ٹھوکرکھائی۔ مگر جملہ دہراتے وہ چند قدم اٹھا کر میز تک پہنچ ہی گئ۔ 

ٹا۔۔ ٹارچ۔ 

اسکا ہاتھ ٹارچ پر نہیں پڑا تھا وہ میز ٹٹول رہی تھی۔تبھی کسی نے دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کر ٹارچ اسے تھما دی تھی۔ 

اس نے ٹارچ آن کرکے یہ عنایت کرنے والے کو دیکھنا چاہا۔ اسکی معالج مہربان سے انداز میں اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ 

پچیس چھبیس سال کا وہ نوجوان ڈاکٹر جس نے اسکو اپنے خوف سے لڑنے میں مدد دی۔ اسکاپہلا کرش۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسا لڑکا جس کے ساتھ گھپ اندھیرے میں بھی میں ٹارچ ڈھونڈ سکوں۔ 

اس نے یہی کہہ دیا۔ 

اپنے چار سال پرانے کرش کی یاد پر اسکے لبوں پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔ اسکے معالج نے اسے اپنی شادی پر بلایا تھا اور وہ اسکی شادی کا سن کر گھنٹوں روئی تھی وہ بھی اندھیرے میں تکیئے میں منہ دے کر۔ 

ایڈون نے اسکے جواب پر خاصی حیرت سے دیکھا تھا اسے۔ 

اندھیرا ٹارچ ڈھونڈنا اسے ان دونوں میں ربط نہ سمجھ آسکا۔ جبکہ اریزہ جانے کیا سوچ کےدھیرے دھیرے قدم اٹھاتئ محظوظ سی مسکرا رہی تھی۔ 

اس نے ہلکے سے گلا کھنکارا۔۔ وہ تب بھی متوجہ نہ ہوئی۔

میں تم سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔ مگر موقع نہیں مل رہا تھا۔ 

ایڈون نے دھیرے سے ہمت کرکے کہا۔ 

بولو۔ وہ لاپروا تھی۔ لانگ کورٹ شوز جن میں تین انچ کی بلاک ہیل تھی اسے خاصا دراز قامت بنانے کے ساتھ سہج سہج کر چلنے پر مجبور بھئ کر رہی تھی۔

اندھیرا تو یہاں بھی ہے ۔۔۔ کیا میں تمہارے لیئے ٹارچ ڈھونڈنے میں مدد کرنے والا۔۔۔ 

تبھئ درختوں کے قریب سرسراہٹ سی ہوئی۔ شائد کوئی بلی تھی۔ تیزی سے نکل کر سامنے آئی سیاہ بلی جسکی تاریکی میں بس آنکھیں چمکی تھیں۔ اسکا دل ایکدم بند سا ہوا۔

نیم تاریک اندھیرے اور اوپر سے تقریبا پورے چاند سے اسے اس لان میں سیدھا سیدھا بھوت پریت کا ہی گمان ہوا تھا۔ 

وہ  بے ساختہ ایڈون کی اوٹ میں ہوئی تھی۔ ایڈون کا بازو دبوچ لیا تھا۔ آواز حلق سے نکل بھی نہ سکی۔ 

اسکے منہ سے غیر مرئی سی آواز نکلی تھی۔ 

بلی ہے۔ اریزہ ڈرو مت۔ 

یہ تسلی دیتے ایڈون کا چہرہ تمتماسا گیا تھا۔ اریزہ اس کی اوٹ میں پناہ لے گئ تھی کسی کمزور لمحے میں آکر ہی سہی۔ مگر یقینا اسے اس پر بھروسہ تھا اسے کچھ اپنا سمجھتی تھی جبھی۔ یہ خیال اسے سرشار کرنے کیلئے کافی تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہائش۔ بیانیئے۔ 

حسب عادت خوب اونچی آواز میں گوارا بولی۔ وہ تھوڑئ دیر سے آئی مگر آتے ہی معزرت کرنے لگی ۔۔ اریزہ چونک کے حال میں واپس آئی تھئ۔ 

سوری سوری یون بن کے ساتھ ریہرسل کرتے وقت کا پتہ نہیں چلا۔۔ تمہیں بھوک لگی ہوگی چلو بس بھاگم بھاگ چلتے ہیں۔۔ 

وہ عجلت بھرے انداز میں بولی۔۔

نہیں۔۔ اس نے نرمی سے منع کر دیا۔۔

مجھے بھوک نہیں ہے ابھی چپس کھائے ہیں تھوڑی دیر پہلے 

واقعی۔۔ اس نے مشکوک انداز میں دیکھا۔۔

ہاں سچی۔۔ اریزہ نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔۔ 

وہ یون بن کیساتھ میں نے بھی ریمن کھا ہی لیا تھا۔۔ بھوک مجھے بھی نہیں۔۔ گوارا نے کھسیا کر کان کھجایا۔۔

گھر چلیں پھر۔۔ اس نے پوچھا تو اریزہ نے فورا نفی میں سر ہلایا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں سپر اسٹور آئی تھیں۔۔ اریزہ کو سودا خریدنا تھا۔ بیسن گھی وہ  بے دریغ خریداری کر رہی تھی

گوارا ٹوک ہی گئ۔۔

تم پاکستان کے کسی رئیس خاندان سے ہو؟۔۔

اریزہ اپنے دھیان میں تھی چونک کر دیکھنے لگی۔۔

ریک سے خشک خوراک اٹھاتے ہوئے ہاتھ وہیں رک گیا۔۔

مطلب تم یہاں جاب بھی نہیں کرتی ہو تمہارے والد تمہارے خرچے کیلیئے کافی رقم بھیجتے ہیں لگتا ہے۔۔ 

گوارا نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تھا۔۔

اریزہ مسکرا کر رہ گئ۔۔

اچھے خاصے۔۔۔۔اس نے کہا نہیں مگر۔

تم پاکستان میں تو جاب کرتی ہو گی۔۔ اس نے پوچھا تو اریزہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔

نہیں۔۔میں نے کبھی جاب نہیں کی۔۔ 

واقعی۔۔ گوارا حیران ہوئی۔۔ 

واقعی امیر زادی ہے ۔۔۔۔اس نے سوچا۔۔

تمہارے آہبوجی کیا کرتے پاکستان میں۔۔ 

گوارا متجسس تھی۔۔

بیرسٹر ہیں۔۔

اس نے سرسری انداز میں بتا کر ٹرالی پر نظر دوڑائی۔۔کوئی چیز رہ تو نہیں گئ۔ وہ گن رہی تھی۔۔

بیرسٹر ۔ گوارا نے متاثر انداز میں سر ہلارہی تھی

تم نے کچھ نہیں لینا۔۔ اریزہ نے پوچھا 

تم نے سب کچھ لیا مگر ٹوائلٹ رول نہیں لیا۔۔

گوارا نے کچھ سوچ کر اسے ٹوکا۔۔

میں لے لیتی ہوں۔۔ 

اریزہ نے فورا ایک رول اٹھا لیا۔۔

استعمال کرنا چاہیئے۔۔ صحت و صفائی کا خیال رکھنا چاہیئے ورنہ بندہ بیمار ہو جاتا۔۔ 

اریزہ نے ہوں کر دیا سوچا ہی نہیں گوارا کیوں اسے ٹوک رہی۔۔ گوارا بھی اسکئ بے دھیانی محسوس کرکے چپ ہوگئ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انی اپنے دفتر میں بیٹھی  فائلوں میں سر کھپا رہی تھیں جب انکے سیکٹری نے ایک رپورٹ لا کر سامنے رکھی۔۔

انہوں نے مصروف انداز میں ہی سر اٹھا کر دیکھا سیکٹری اشارہ سمجھ کر بتانے لگا۔۔

یہ شمالی کوریا ئی باشندوں کی فہرست ہے جنہوں نے 2014 میں وہاں سے نکلنا چاہا تھا اور مارے گئے۔ انکے بارے میں معلومات اکٹھا کی گئی ہیں۔۔ زندہ یا مردہ جسکی جو جتنی اطلاع ملی ہے میں نے اکٹھی کر دی ہے۔۔ 

انی نے اپنا کام چھوڑ چھاڑ فائل اٹھا لی۔۔

انہوں نے ایک ایک نام انگلی رکھ کر پڑھا تھا۔۔

مطلب مجھے جاناہی پڑے گا۔۔ وہ دھیرے سے بڑ بڑائیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپارٹمنٹ میں آکر وہ سارا سودا سلف باورچی خانے میں ٹھکانے لگانے لگی۔۔ نماز کا وقت تنگ ہو رہا تھا۔ سو جلدی سے نماز پڑھنے کی تیاری کرنے لگی۔ وضو کرکے کمرے کے ایک کونے میں چادر بچھا کر نیت باندھ لی۔ گوارا سستی سے بستر پر پڑی تھی۔ اسکو نماز پڑھتے دیکھ رہی تھی۔ اسکو اسکی نظریں محسوس ہو رہی تھیں مگر یقینا اسے بھی تجسس تھا۔ نماز پڑھ کر چائے کی طلب اسے کچن میں لے آئی۔

دروازے پر دستک ہورہی تھی۔۔ اس نے یہی سوچا گوارا کھول دے گئ۔۔

دستک مستقل  ہوئی تو اس نے کمرے میں جھانکا گوارا شائد غسل کر رہی تھی۔۔ پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔۔

وہ خود ہی دروازہ کھولنے چلی آئی۔۔

دروازہ کھولا تو آنے والے افراد بھونچکا ہی تو رہ گئے۔۔

تم۔۔ نووارد نے انگلی اٹھا کر اسکو ہینڈز اپ کر لیا تھا وہ ڈری ڈری سی پیچھے ہوئی

تم ہو گوارا کی نئی کرائہ دار۔۔ اس نے دانت کچکچائے۔۔

تم ۔۔ کیا ضرورت تھی تمہیں ڈورم چھوڑنے کی۔۔ 

تمہیں منع کیا تھا نا گوارا کے ساتھ اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے سے ۔۔ کیوں ہوئیں۔۔ 

یون بن  جانے واقعی غصے میں تھا یا ڈرامہ کر رہا تھا وہ ڈر سچ مچ گئ۔۔

میں وہ۔۔ اس سے جواب نہ بن پڑا۔۔

بس ۔۔ ہیون نے یون بن  کو کندھے سے پکڑ کر روکا۔۔ 

روکنا ہے تو گوارا کو پلاسٹک سرجری کرنے سے روکو۔۔  

اس نے جتایا۔۔ یون بن  سر جھٹک کر رہ گیا۔۔

وہ کہاں رک رہی ۔۔ انداز بے بسی بھرا تھا۔۔

اریزہ کو اس سے ہمدردی سی محسوس ہوئی۔۔

میں سمجھائوں گی گوارا کو۔۔ 

اس نے کہا تو یون بن اور ہایون نے اسکی شکل دیکھی پھر زور سے ہنس دئے۔۔ 

سن ہی نہ لے وہ ۔۔ دونوں ہنگل میں اکٹھے بڑ بڑائے۔۔

انکو ہنستے اور بڑبڑاتے دیکھ کر اریزہ برا مان گئ۔۔

تم لوگوں کو میری صلاحیت پر شک ہو رہا۔۔ میں سمجھا سکتی۔۔ بہت اچھا سمجھاتی ہوں لوگوں کو مان جاتے ہیں میری بات۔۔ 

اس نے جتایا تو یون بن نے شرارت سے پوچھا

مثال کے طور پر۔۔ 

مثال کے طور پر ۔۔۔

وہ روانی میں بولتے بولتے رک گئ۔۔

میں بس چھٹیاں گزارنے آئی ہوں مستقل منتقل نہیں ہوگئ۔ یونی کھلے گی تو چلی جائوں گی۔ 

اس نے تسلی دی۔یون بن تھوڑا ٹھنڈا ہوا

چائے پیوگے؟ تم لوگ ۔۔

اس نے تکلفا پوچھا تھا۔۔ 

ضرور۔۔مگر گوارا کہاں ہے۔۔ اسکو کو فورا گوارا کی غیر موجودگئ ستائی

تمہیں آتی ہے بنانی۔۔ ہیون نے کسی وجہ سے پوچھا تھا وہ مزے سے بولی۔۔

میں ماہر ہوں پورے خاندان میں میرے ہاتھ کی بنی چائے مشہور ہے۔۔ لوگ فرمائش کر کے بنواتے۔۔

اس نے فخریہ انداز میں گردن اکڑائی۔۔ ہیون اسکے انداز پر ہنس دیا۔۔

اریزہ نئے کپ لائی تھی۔۔ بہت پیارے سے کارٹون بنے تھے۔۔ ساتھ ہنگل میں کچھ لکھا بھی تھا۔۔ وہ چائے چڑھا کر پلٹی تو ہیون دلچسپی سے کپ پر کو ہاتھ میں لیئے جائزہ لینے میں مشغول تھا

اچھے ہیں نا۔۔ اس نے تائید چاہی۔۔

ہاں۔۔اس نے خوشدلی سے کہا۔۔

وہ دوبارہ شاپرزکھول کھول کر ترتیب سے کیبنٹ میں رکھنے لگی۔۔

ہیون خود ہی آگے بڑھ کر مدد کروانے لگا۔۔ کاوئنٹر صاف کرکے اس لائن سے چار کپ سجائے۔۔

ایک پلیٹ میں گندم کے بسکٹس سجائے وہ یونہی بیکڈ کپ کیک بھی لائی تھی ایک پلیٹ میں وہ بھی سجا دیئے۔۔

اف کتنی سگھڑ ہوگئ ہوں میں۔۔ اسے خود پر پیار بھی آگیا۔۔

وہ خود کلامی کر رہی تھی۔۔ ہایون نے مسکراہٹ دبائی۔۔

اور ایک بسکٹ اٹھا کر کترنے لگا۔۔

تمہاری دوست بھی رہتی ہے نا یہیں۔۔

اریزہ کو اچانک ہی یاد آیا تھا سو بلا ارادہ پوچھ لیا۔۔ 

کون۔۔ ہیون اپنے دھیان میں تھا فوری طور پر یاد نہیں آیا۔۔

اریزہ کھسیا گئ۔۔

خود ہی سر پر چپت لگا دی۔

بڑی کوئ بچپن کی سکھی سہیلی ہوں نا جو اتنی بےتکلفی سے پوچھ بیٹھی ہوں۔۔ 

وہ اردو میں بڑ بڑائی۔۔ ہیون دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

کون کسکی بات کر رہی ہو۔۔ اس نے پھر پوچھا۔۔

نیور مائنڈ۔۔ بس ایسے ہی۔۔ کچھ نہیں۔۔ اس نے ٹالنا چاہا۔۔

ہایون ابھی بھی منتظر دیکھ رہا تھا۔۔

ہوپ کی بات کر رہی ہو۔۔ اسے خیال آیا۔۔ 

وہ میں نے گوارا کی تصویر دیکھی تھی وہ بتا رہی تھی تمہاری دوست نے بنائی ہے۔۔

اسے جواب سوجھ گیا سو وضاحت کی۔۔

ہاں ۔۔ آرٹسٹ ہے اچھئ پینٹنگ بناتی ہے۔۔ میں نے بھی بنوائی تھی اپنی۔۔ انتقال کر گئی ہے اب یہاں نہیں رہتی۔۔ 

ہیون سرسری انداز مین بتا رہا تھا۔۔

اریزہ نے غور سے دیکھا۔۔

نہ آنکھیں چمکیں نہ لہجہ بدلا۔۔

ایویں جی ہائے  نے اسکو گرل فرینڈ ہی بنا دیا تھا ہیون کا۔۔ خود ٹرائی مار لیتی اچھا خاصا ہینڈسم تو ہے۔۔ وہ اسے تنقیدی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔

ہیون کو اسکی تنقیدی نگاہوں سے گدگدئ سی ہوئی۔ اسے خیال بھی نہ تھا اچھی طرح جائزہ لیکر گھوم بھی گئ

یون بن  اور گوارا اندر سے زور زور سے بول رہے تھے ۔ 

ایڈون کا نام آیا تو ہیون  چونکا۔۔ دونوں کا لہجہ اتنا مختلف تھا کہ اریزہ کو سمجھ نہیں آیا۔۔البتہ ہیون  کو چونکتے دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔ 

دونوں لڑ تو نہیں رہے۔۔ 

آنیو۔۔ اس نے فورا نفی میں گردن ہلائی۔۔ پھر انگریزی میں وضاحت کی۔۔

نہیں۔۔باتیں کر رہے ہین۔ تمہاری چائے میں دودھ ابالا جاتا۔۔ وہ چولہے کو دیکھ رہا تھا۔۔

ہاں دودھ ابالتے پھر پتی ڈالتے۔۔ وہ۔مزے سے بتانے لگی۔۔

تو ڈال دو۔۔ ہایون نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔

کیا۔۔ اسے سمجھ نہ آئی۔۔ پھر اچانک خیال آیا تو چونک کر پلٹی دودھ ابل کر بس گرنے ہی والا۔تھا۔۔ اس نے بھاگ کر چولہا دھیما کیا۔۔

چائے بنا کر اس نے پیالیوں میں نکال کر گوارا کو آواز دی۔۔ 

واہ یہاں تو پارٹی کا اہتمام ہے۔۔ گوارا اور یون بن خوشگوار انداز میں ہنستے بولتے کھنچے چلے آئے۔۔ 

دونوں کا مزاج پل میں تولہ پل میں ماشہ تھا۔۔

جبھئ شائد نبھ رہی تھی۔۔

یہ کیا ہے۔۔ یون بن کو جھٹکا لگا تھا۔۔

گوارا کو االبتہ اندازہ تھا۔ کپ اٹھا کر اس نے عبارت پڑھی پھر خود منتخب کر کے ایک کپ خود لیا ایک یون بن  کی جانب بڑھا دیا۔۔

ہیون البتہ یہ جھٹکا پہلے سہ چکا تھا سو آرام سے ایک کپ اپنی جانب کھسکا لیا۔۔

چائے ہے۔ اریزہ اسکے انداز پر شرمندہ ہوگئ۔۔

یہ چایے تھوڑی کہی تھی۔۔ اس نے صاف کہا۔۔

تو کیا ہوا انگریزی چائے ہےکچھ نیا بھی آزمانا چاہیئے۔۔ گوارا نے آرام سے کہہ کر گھونٹ بھرا۔۔

وہ ہم شام کو میرا مطلب ہم پاکستانی شام کو یہی چائے پیتے ۔۔ اریزہ نے وضاحت کی۔۔ 

مزے کی ہے نیا زائقہ ہے شکریہ اریزہ۔۔

ہیون  نے اسے شرمندہ ہوتے دیکھا تو اثر زائل۔کرنے کو بولا۔۔

مجھے پتہ تم کو بھی زیادہ پسند نہیں آئی ہو گی۔۔ تم لوگوں کو اسکی عادت نہیں نا سوری۔۔ اریزہ خجل سی ہو گئی تھی۔۔ یون بن  نے دلچسپی سے اسکے گال گلابی ہوتے دیکھے۔۔ 

نہیں نہیں۔۔ اچھی ہے مزے کی ہے۔۔ گوارا نے سچ مچ دل سے کہا تھا۔۔

میں بھی اس ذائقے کو برا نہیں کہہ رہا تھا۔۔ یون بن  کو بھی اخلاقیات نبھانے کا خیال آیا۔۔ 

ہایون خاموشی سے چسکیاں لیتا رہا۔۔ 

اریزہ نے اپنا کپ اٹھایا تو گوارا نے ایک نظر اسے دیکھا ایک نظر ہیون کو اور قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔۔

اس دن تم لوگ کپل شرٹس پہن کر پھر رہے تھے آج کپل کپس میں چائے پی رہے۔۔ کیا سمجھوں میں یہ قدرت کا اشارہ ہے دو دل ملانے کیلیئے۔۔

وہ شرارت سے ہنگل میں بولی۔۔ ہیون اور یون بن  نے بھی چونک کر کپ دیکھا۔۔

 میری ایک خواہش ہے

میں اور تم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے 

یون بن  نے عبارت پڑھی۔۔

پھر اریزہ کے کپ پر نظر ڈالی وہ انکی باتوں سے بے نیاز چائے پی رہی تھی۔۔

بقیہ اسکے کپ پر لکھا تھا۔۔

 سڑک کنارے چل رہے ہوں 

اور موسم کی پہلی برفباری ہم پر برس اٹھے

ہیون اور یون بن  زور سے ہنسے 

اریزہ نے خفا خفا نظر ڈالی۔۔ 

کتنی غلط بات ہے تم لوگ اپنی زبان میں بولے جا رہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا اوپر سے ہنس بھی رہے۔۔

اس نے کہہ ڈالا۔۔

ہم شعر پڑھ رہے تھے۔۔ ہیون نے فورا صلح جو انداز میں کہا۔۔

اب ہم کیا کریں ہم ٹھہرے کورین نا انگریزی سمجھ آتی نہ انگریزی چائے۔۔ یون بن  نے آہ بھر کر پھر چھیڑ دیا۔۔

ہماری بدقسمتی  انگریز دو سو سال ہم پر مسلط رہے دو بلائیں چھوڑ گئے انگریزی اور چائے۔۔چاہ کر بھی جان نہیں چھڑا پا رہے ہم۔۔ اریزہ نے صاف گوئی سے کہا۔۔

پتہ ہے مفت پلاتے تھے شروع شروع میں ایسے عادی کیا تھا انہوں نے۔۔ اریزہ نے بتایا تو تینوں دلچسپی سے سننے لگے۔

ورنہ برصغیر کے لوگ تھوڑی چائے پیتے تھے۔۔ 

واقعی۔۔ وہ کافی حیران ہوئے۔۔ 

کاروبار کے بہانے آئے تھے دھیرے دھیرے قبضہ کر لیا ۔۔ وہ منہ بنا کر بتا رہی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون شاہزیب سالک کم سن ڈنر کرنے جا رہے تھے

ارادہ قریبی فوڈ پوائنٹ تک جانے کا تھا سو پیدل ہی رواں ہوئے۔۔  جب سنتھیا کی کال آئی اسے۔۔

کہاں ہو۔۔

وہ قصدا ایک قدم پیچھے ہو کر اس سے بات کرنے لگا۔۔

کیا کر رہے ہو۔۔ وہ شائد بور ہورہی تھی۔۔

یار شاہزیب وغیرہ کیساتھ ڈنر کا پروگرام ہے۔۔ وہیں جا رہے۔۔ تم نے کھانا کھا لیا۔۔

نہیں۔۔ تم آجائو ان لوگوں کو جانے دو اکٹھے ڈنر کرتے ہیں۔۔ اس نے حسب عادت ناز بھرے انداز سے اسے کہا۔۔

یار ۔۔ وہ تھوڑا سا بےزار ہوا۔۔

میں نے ہی پروگرام بنایا ہے سوری جان تم اریزہ کیساتھ جائو کھانا کھا لو بھوکی نہ سونا اچھا۔

۔ اس نے مزید اپنا انداز نرم کرکے پیار سے کہا تھا۔۔

اریزہ نہیں ہے یہاں۔۔ اسکا منہ کڑوا ہوگیا۔۔

کہاں گئ ہے۔۔۔ اس نے یونہی پوچھا تھا مگر وہ بھڑک کر بولی۔۔

جہاں بھی جائے تمہیں کیا۔ اور ہم کیوں نہیں گئے اسکی وجہ سے؟ ۔۔

ایڈون نے ہونٹ بھینچے۔۔

نہیں۔۔ 

اچھا بعد میں بات کرتے ہیں۔۔ اس نے بات ختم کرنی چاہی۔۔ 

تم میرے ساتھ ہمیشہ ایسے کرتے ہو۔ میں بات کر رہی ہوں نا کیوں فون بند کر رہے۔ میں نے تو کبھی ایسا نہیں کیا جب جس وقت بھی تم فون کرتے سب کام چھوڑ کر تم سے بات کرتی تمہاری خاطر اپنی انا اپنے سب اصول توڑ لیئے پھر بھی تم خوش نہیں ہو مجھ۔ سے کیوں بھلا۔۔ وہ زور زور سے بولتی روہانسی ہو چلی تھی۔۔

ایسی کوئی بات نہیں۔۔ دوستوں کیساتھ ہوں بعد میں فارغ ہو کر کرتا ہوں نا بات۔۔ ایڈون کو اب ہلکا ہلکا غصہ آنا شروع ہو گیا تھا۔۔

 میری جگہ اریزہ ہوتئ تو ؟۔۔ اسے تو ایسے نظر انداز نہیں کرتے نا تم۔۔ 

اریزہ کہاں سے آگئ بیچ میں۔۔

زچ ہو کر وہ تھوڑا اونچی آواز میں بول گیا۔۔

آگے آگے باتیں کرتے کم سن سالک اور شاہزیب تینوں یکدم خاموش ہو کر مڑ کر  اسے دیکھنے 

 لگے۔۔

آئی نہیں وہ گئ ہی نہیں ہمارے بیچ سے مین کتنی بھی کوشش کر لوں وہ جاتی ہی نہیں تمہارے نا دل سے نا دماغ سے ۔۔ وہ بھڑک کر چلائی

میرے ساتھ ہو کر بھی تم اسی کو سوچتے ہو۔۔ میں بات کر رہی ہوتی ہوں تمہارا دھیان کہیں اور ہوتا۔۔ 

میں جان بھی دے دوں تمہارے لیئے تمہیں کوئی فرق نہ پڑے ایسا کیا ہے اس میں؟۔۔ 

تم سے کچھ کہنے کا فائدہ ہی کچھ نہیں۔۔ اس نے دانت کچکچا کر نہ صرف کال بند کی بلکہ موبائل بھی بند کر دیا۔۔ 

سنتھیا نے ایکدم کال بند ہونے پر موبائل کو کان سے ہٹا کر دیکھا پھر فورا ہی دوبا رہ کال ملا دی۔۔

اسکا نمبر بند تھا۔۔

آہ۔۔ اسے بے تحاشہ رونا آگیا اس نے بلبلا کر موبائل سامنے دیوار میں دے مارا ۔۔

خیریت۔۔ شاہزیب اور سالک اسکا لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکے۔۔

ہاں۔۔ وہ زبردستی مسکرایا۔۔

کچھ نہیں اس نے ٹال دیا ان دونوں نے بھی اصرار نہ کیا۔۔

کم سن انکی باتیں سمجھ نہیں سکتا تھا سو دھیان ہٹا لیا۔۔

یار کیا لڑکی ہے۔۔

یونہی باتیں کرتے شاہزیب کی سامنے بل بورڈ پر نظر پڑی تھی۔ 

ڈیجیٹل بورڈ تھا کئی فٹ کی اسکرین پر ایک کوریائی حسینہ جلوہ گر تھی۔ کسی کریم کا ہی اشتہار تھا دودھ جیسی گوری کھنچی ہوئی آنکھیں کسی حور کا گمان ہورہا تھا اس پر۔۔

ہاہ واقعی۔۔ سالک بھی رک کر دیکھنے لگا۔۔

اوئے بھابی ہے تیری ہٹ پرے۔۔

شاہزیب نے اسکو فورا  دھکا دیے کر پرے کیا۔۔ 

شکل دیکھ اتنی گوری ہے اسے بھی گورا ہی پسند آئے گا۔۔

سالک نے ڈھٹائی سے کالر جھاڑے۔

کس کتاب میں لکھا۔۔ اسے کم گورا بھی پسند آسکتا۔۔

شاہزیب کی بات میں  وزن تھا۔۔ 

ابے چل۔۔ سالک نے اسکو سڑک کی جانب دھکا دیا۔۔ وہ پلٹ کر آیا اس پر پل پڑا۔۔

انکی مار کٹائی سے بچتا ایڈون دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈالے محظوظ ہو رہا تھا۔۔کم سن اپنے دھیان سے چونکا تو براہراست کشتی اسکے سامنے چل رہی تھی۔۔

  میری نظر پہلے پڑی وہ اب میری ہے۔۔

شاہزیب  اسکی گردن قابو کی۔۔ 

 یہ کیوں لڑ رہے اچانک۔۔ اس نے ایڈون سے حیرت سے پوچھا۔

دونوں گتھم گتھا سڑک پر پڑے تھے۔۔

ایڈون نے بل بورڈ کیطرف اشارہ کیا۔۔ 

سوزی بے؟۔۔ وہ حیران ہوا۔۔

ایڈون نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ ہنس دیا۔۔

چھوڑو سالوں ۔۔ نہ تمہارے کام کی ہے نہ تمہارے۔۔

ایڈون نے آگے بڑھ کر سالک پر پلے پڑے شاہزیب کو کھینچا کم سن نے ہنستے ہنستے بے حال ہوئے سالک کو ہاتھ پکڑ کر اٹھایا۔۔ دونوں بندر اب اپنے کپڑے جھاڑ رہے تھے۔۔

میرا بھی کرش رہا ہے اس پر ۔۔ مگر سنا ہے لی من ہو(کوریائی اداکار) کے ساتھ آجکل تعلق میں ہے۔ 

کم سن نے معلومات میں اضافہ کیا۔۔

ہاہ۔۔

ایک تو ہر لڑکی جس پر میرا دل اٹکتا یا تو منگنی شدہ نکلتی یا شادی شدہ۔۔ میں لگتا کنوارا مروں گا۔۔

شاہزیب نے یاسیت سے کہا تھا کم سن نے ایڈون کو وضاحت طلب نظروں سے دیکھا تو اس نے مترجم کے فرائض نبھائے۔۔ کم سن ہنس دیا۔۔

سالک نے منہ بنایا۔۔

اب تو نہیں ہے دوبارہ کوشش کر کے دیکھ۔۔

وہ دھیرے سے اردو میں بڑ بڑایا۔۔

شاہزیب کے چہرے پر سایہ سا لہرایا۔۔ ایڈون بھی یکدم سنجیدہ نظر آنے لگا۔۔

کم سن تینوں کی باری باری شکل دیکھنے لگا۔۔

کیا ہوا تم لوگوں کو۔؟۔۔

اس نے چٹکی بجائی۔۔

کچھ نہیں۔۔ یہی کہہ رہے تھے تم جیسا بندہ اکیلا ہے تو ہمارے حال گئے گزرے ہیں

۔۔ ایڈون نے سنبھل کر ہلکے پھلکے انداز میں بات گھما دی

کم سن زور سے ہنسا۔۔

مجھے بچپن سے بس ایک لڑکی پسند آئی سیدھا یہاں جگہ بنائی۔۔ اسکے بعد کوئی یہاں دستک نہیں دے پائی۔۔ 

اس نے دل پر ہلکے سے مٹھی بنا کر رکھی۔۔ اسکی آنکھون میں تبھی ایک اور چہرہ بھی در آیا۔۔ 

یہ کیا ہوا۔۔ وہ ساکت رہ گیا۔۔ 

وہ تینوں خاموشی سے اسے دیکھنے لگے۔۔

پھر؟۔۔ ایڈون نے پوچھا تو وہ چونک سا گیا۔پھر شانہ جھٹک کر دھیرے سے مسکرا دیا۔۔

پھر یہ کہ اسے کوئی اور پسند تھامیں تو اسے بتا بھی نہیں پایا اپنے جزبات کا۔۔ وہ ہنسا۔۔

کیوں؟۔۔ شاہزیب نے فورا پوچھا۔۔  

اسے میں نظر بھی نہیں آتا تھا اسکے آگے۔۔ اور مجھے اس سے بھی پہلے اسکے جزبات کا احساس ہو گیا تھا۔۔ آپ جس سے محبت کرتے اس کا رویہ  اسکی سوچیں کسی بھی دوسرے انسان سے زیادہ جلدی پڑھ لیتے۔۔ آپکا دل اس انسان کے دل کی دھڑکن کب کہاں تھمتی یہ بھی محسوس کر لیتا۔۔ 

وہ بظاہر مسکرا کر بتا رہا تھا۔ مگر اسکی آنکھیں جھلملانے لگی تھیں۔۔

ایڈون اسکے الفاظ میں کھو سا گیا۔۔

ہر بار سنتھیا اس سے اریزہ کے نام پر ہی لڑتی۔۔ تو کیا۔۔ وہ سوچ میں پڑا۔۔

پھر بھی کہتے تو کیا پتہ وہ قدر کرلیتی 

۔۔ سالک کو اسکی بات پسند نہیں آئی۔۔ ایک۔انسان دوسرے انسان کے بارے میں کیسے کوئی پریقین اندازہ لگا سکتا جبکہ انسان ہی تو نا قابل بھروسہ مخلوق کب کہاں کسکے جزبات بدل جائیں کون جانے۔۔ 

آپ کسی سے محبت کریں تو نا ممکن ہے اس انسان کو پتہ نہ چلے۔۔ محبت اپنا آپ منوا لیتی ہے۔۔ الا وہ انسان جان کے انجان بنے تو علیحدہ بات۔۔ مجھے اسے بتانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔۔ اسے پتہ تھا۔۔ 

کم سن سالک کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔۔ انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو بچے ہو کچھ پتہ وتا نہیں تمہیں۔۔ سالک کندھے اچکا کر رہ گیا۔۔ واقعی محبت تو آج تک نہ ہوئی تھی اسے ہوتا ہوگا ایسا بھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

وہ گرم کافی کا مگ اٹھا کر ٹیرس میں چلی آئی۔۔ دور تک دمکتی جگنو سی روشنیاں ہلکا ہلکا ٹریفک کا شور دور فلائی اوور اور اس پر جگمگاتی گاڑیوں کی بتیاں۔۔ وہ گھنٹوں کھڑے دیکھ سکتی تھی۔۔

کتنا پیارا ہے سیول۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنا برا ہے سیول۔۔ رات کے گیارہ بجے بھی سب جاگ رہے ایسے پھر رہے جیسے صبح انکو کوئی کام ہی نہیں۔۔ 

اس نے بےزاری سڑک پر رواں ٹریفک کو گھورا۔۔

شور اسکے سر پرگراں گزر رہا تھا۔۔

آج اس نے مقررہ وقت سے زیادہ دیر کام کیا تھا۔۔ 

اسکی واپسی کیلیئے آخری بس اس سے چھوٹ گئ تھی۔۔ ٹیکسی کے کرائے کے پیسے نہیں تھے۔۔ وہ فی الحال بس اسٹاپ پر بیٹھی میٹرو اسٹیشن بند ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔۔ اسکے داخلی حصے میں نیچےسیڑھیوں کے پاس اس نے اکثر کچھ بے گھر افراد کو بستر لگائے سوئے دیکھا تھا۔۔ آج اسکا ارادہ بھی یہی کرنے کا تھا۔۔ اسپا تک پیدل جانے کی ہمت نہیں تھئ۔۔

وہ نیند اور بھوک سے نڈھال تھی۔۔ بھوک برداشت کرنے کی تو اسے عادت تھی مگر نیند۔۔ 

سو جائو سیول۔۔ وہ بڑ بڑائی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کم آن سیول۔۔ ویک اپ۔۔ بریو ہارٹ اسکے کان میں چلا رہے تھے وہ مگن سر ہلاتی محظوظ ہو رہی تھی۔۔

آج میرا دل کر رہا میں شائع کروں۔۔

کچھ نہیں۔۔

آج کیلیئے کچھ نہیں۔۔ بس کچھ بھی نہیں۔۔ نہ اچھا کہنے کو ہے نا برا کہنا۔۔

جینا ہے بس ابھی اس وقت کو۔۔ جیو میرے ساتھ بس صرف اس پل کو۔۔

اس نے بلاگ پر شائع کیا۔۔

پہلا کمنٹ۔۔

کچھ نہیں۔۔۔ اور آگے ہا ہا ہا ہا۔۔۔

دوسرا۔۔ 

جب کچھ کہنا نہیں ہوتا تو پوسٹ کیوں کرتے ہو۔۔؟؟؟؟؟؟

عمائما کی طرح کوئی چلایا تھا۔۔

تیسرا۔۔

مجھے بھی ایڈمن لے لو قسم سے کبھی بھی ایسا کچھ نہیں شائع کروں گا وعدہ۔۔۔

چوتھا۔۔

گزر چکا ایک پل اب جائیں۔۔ ؟۔۔

وہ ہنسی۔۔

پانچواں۔۔

میں ایسا ہی کرتا ہوں۔۔ ہمیشہ۔ 

عجیب سی آئی ڈی۔۔ 

آہ۔۔ اس نے پہچانا۔۔ 

آپکا نام سمجھ نھہیں آتا انگریزی میں لکھئے مہربانی۔۔

اس نے ٹائیپ کیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی ابھی اپنے اپارٹمنٹ آیا تھا۔۔ بتیاں جلاتا۔۔ جوتے حسب عادت گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے شوریک میں سجائے۔۔ اسکے ہاتھ میں بڑے بڑے شاپر تھے وہ ہفتے بھر کا سودا لے کر آیا تھا۔۔ اب چیزیں ٹھکانے پر رکھ کر اس نےپیک کھانا نکالا۔۔ کھمچھی اور سادے نوڈلز۔۔ کھمچی پر ایک کونے میں حلال بھی لکھا تھا۔۔

اس نے گھڑی میں وقت دیکھا پھر انتظار کرنے لگا۔ تاوقتیکہ مقررہ وقت پر سوئی آن ٹھہری۔

اس نے دعا پڑھ کر رغبت سے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ اسے کال آگئ۔۔

بٹلر ہانگ۔۔

وہ نام دیکھ کر چونکا۔۔ چاپ اسٹک رکھ کر اس نے بے تابی سے فون اٹھایا۔۔

یوونگ سے او۔۔ 

آننیاگ واسے او۔۔ بٹلر ہانگ ادب سے گویا ہوئے۔۔

آننیانگ واسے او۔۔ وہ سنبھلا۔۔

آپ کو  رات کو زحمت دینے کیلیئے پیشگی معزرت۔۔ مگر بات کچھ ایسی ہے کہ میں صبح تک کا انتظار نہیں کر سکتا۔۔ وہ گھبرائے ۔۔

کہیئے۔۔ اسکے دل کی دھڑکن تھمی۔۔

مادام نے چالیس فیصد شئرز آپکے چچا کے نام کر دئے ہیں۔۔اسطرح انکا حصہ آپ سے تھوڑا سا ہی کم رہ جائے گا۔۔ اگر وہ ایک دو ڈاریکٹرز کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گئے تو پوری کمپنی انکے ہاتھ میں آجائے گی۔۔ کل صبح وہ ڈائریکٹرز کی اہم۔ملاقات بلا کر اپنے اثر رسوخ کی دھاک بٹھانا چاہیں گے۔۔ مجھے لگتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کہہ رہے تھے  علی نےغیر دلچسپی سے بات کاٹ دی۔

آہمونی کیسی ہیں ؟۔۔

ٹھیک ہیں۔۔ وہ چپ سے ہوئے۔۔

آپ فکر نہ کریں۔۔کر لینے دیں میرے چچا کو کمپنی پر قبضہ مجھے اس کاروبار میں زرا بھر دلچسپی نہیں۔۔ پھر جو چیز جیسے شروع ہوئی ہے ویسے ہی ختم بھی ہوتی ہے۔۔ آہبوجی نے بھی چچا کو ایسے ہی بے دخل۔کیا تھا جیسے وہ اب مجھے کریں گے۔۔

اس کا اطمینان قابل رشک تھا۔۔ 

مگر۔۔ بٹلر نے کچھ کہنا چاہا۔۔ 

مجھے اس گھر سے بس تب تک اور اتنی دلچسپی ہے جب تک آہموجی وہاں ہیں۔۔ آئندہ آپ زحمت مت کیجئے گا انکی کوئی بھی اطلاع دینے کی۔۔ اسکا انداز درشت نہیں تھا مگر محسوس کی جانے والی سختی تھی۔۔

بہتر ۔۔ وہ۔ہونٹ بھینچ گئے۔۔

آپ سنائیں سب ٹھیک ٹھاک آپکے گھر میں۔۔ جان کی اسکولنگ کیسی جا رہی ؟۔۔   وہ اب ہلکے پھلکے انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔ اس نے دوبارہ کھانا کھانا شروع کر دیا تھا۔

سب ٹھیک ہے آپکو یاد کرتا ہے۔۔ وہ مشکور ہوئے۔۔

میں آئوں گا اس سے ملنے۔۔ اس نے خوشدلی سے کہا۔۔

جی ۔۔ بٹلرہانگ مسکرائے۔۔ 

آپ اپنا اور آہموجی کا خیال رکھیے گا۔۔ میں اطمینان سے اسلیئے ہوں کہ آپ انکے پاس ہیں۔۔ ۔۔ جون جے کا انداز التجائیہ ہوا تھا

دے۔۔ وہ اثبات میں سر ہلا گئے۔۔

اس نے الوداعی کلمات ادا کرکے فون بند کر دیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے پوری پریزنٹیشن بنا کرفائل  ماں کے سامنے ٹیبل پر رکھی تھی 

فائلوں میں الجھی سومئ نے مسکرا کر سر اٹھایا۔

وہ اڑتالیس سال کی انتہائی اسمارٹ اور حسین خاتوں تھیں۔۔ وہ خواتین کے تھری پیس سوٹ مین ملبوس تھیں سادہ سے میک اپ میں تیس تک کی لگ رہی تھیں۔۔ جانے اسکی ماں بے حد پیاری تھی یا اسے پیاری لگ رہی تھی کیوں کہ ماں تھی۔۔ وہ سوچ میں پڑا۔۔ 

بیٹھو۔۔ انہوں نے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔ 

مجھے بہت خوشی ہے تم نے میری بات مان لی۔۔ 

میں بس یہ سب تمہارے حوالے کر دینا چاہتی ہوں

اب تمہاری آہمونی بوڑھی ہوگئ ہیں۔۔ 

وہ مسکرا کر کہہ رہی تھیں۔۔

آپ اور بوڑھی۔ وہ ہنسا۔۔ آہمونی جی کا دل چھو گئی اسکی ہنسی۔۔ کتنے عرصے کے بعد اسے یوں ہنستے دیکھا تھا۔۔ 

آئنہ دیکھیں میری چھوٹی بہن لگ رہی ہیں۔۔

اس نے مزید کہا وہ زور سے ہنس پڑیں۔۔

اف بہت فلرٹی ہو۔۔ ایسی ہی باتیں کرکے گھائل کیا ہوگا رچل کو۔۔

وہ۔یونہی روانی میں ہنستئ اسکی دکھتی رگ چھیڑ گئیں۔ جون جے کی مسکراہٹ دھیمی پڑی۔ سومئئ نے بیٹے کا چہرہ بجھتا دیکھا تو خود کو کوس کر رہ گئیں۔۔

بیانتا۔۔ انہوں نے شرمندہ سے انداز میں کہا۔۔

آہمونی ۔۔ جون جے انکا دل رکھنے کو مسکرایا۔۔

آئندہ مجھے کبھی سوری مت کہیئے گا۔۔ آپ مجھے گناہگار کرتی ہیں۔۔ 

آہمونی کو اسکی بات سمجھ نہیں آئی۔۔ مگر چپ ہوگئیں۔۔

کیا پرپوزل لائے ہو۔۔ ؟۔۔ وہ نظر کی عینک۔لگا کر اسکی فائل دیکھنے لگیں۔۔

انکے چہرے پر پہلے حیرانی آئی پھر الجھن آخر میں وہ اسے سر اٹھا کر گھورنے لگیں۔۔

یہ کیا ہے ؟۔۔

جون جے نے گہری سانس لی۔ انکا ردعمل غیر متوقع نہیں تھا۔۔

تم نے یہ کیا رپورٹ بنائی ہے۔ جون جےآ۔۔ وہ 

حتی المقدور لہجے پر قابو پا کر رسانیت سے بولیں۔۔

جون جے مضبوط لہجے میں بولنا شروع ہوا۔۔

میں نے منافع میں کمی کرکے ملازمین کیلیئے نئے فنڈز کے اجرا کی تجویز دی ہے۔۔ ملازمین کے بہبود فنڈ میں سے بلا سود قرض دینے اور انکی تنخواہ میں اضافے کیساتھ ساتھ فی  الحال جو جو ملازمیں کسی وجہ سے کمپنی کے مقروض ہیں انکے قرضے معاف کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔ میں نے خود اکاوئنٹس کے معاملات دیکھے ہیں۔۔ ہم اصل رقم سے دوگنا کم از کم وصول چکے ہیں۔۔ اب مزید یہ ظلم کرنے کی ضرورت نہیں۔۔

تم پاگل تو نہیں ہوگئے ہو؟۔۔ 

وہ خاموشی سے سنتے ضبط کھو کر چلائیں۔۔

جون جے فورا خاموش ہوا۔۔

ٹیکس کی مد میں اتنا پیسہ بھاڑ میں جھونکو گے میں نے مان لیا۔ تم اپنے باپ کی طرح چور راستے تلاش نہیں کرنا چاہتے مت کرو۔۔ مگر یہ سود سے کیا بیٹھے بٹھائے خار ہوگئی ہے تمہیں؟۔۔

آہمونی جی ہم بہت منافع کماتے ہیں ان سے سود وصول نہ کرکے بھی نقصان میں نہیں رہیں گے البتہ

ان تنخوادار ملازمین کا بھلا ہو جائے گا۔۔ اس نے سمجھانا چاہا وہ درشتی سے گھورتی رہیں۔۔

اور میں نے تجویز کی ہے۔۔ہم اپنی پراڈکٹس کی قیمت کم نہیں کر سکتے کیونکہ وہ استحکام پر ہیں تاہم ہم مقدار بڑھا ئیں گے تاکہ ناجائز منافع وصول نہ ہو۔۔ 

اس نے کہا تو حقیقتا سومئئ کو لگا اسکا دماغ الٹ چکا ہے۔۔

کیا۔لگتا تمہیں۔۔ ہم یہاں کوئی خیراتی ادارہ چلا رہے۔

 بیس ہزار لوگ اس کمپنی سے اپنا معاش چلا رہے۔۔ تم کمپنی کو ڈبونا چاہتے ہو۔۔ ؟

نہیں میں بس ان خامیوں کو دور کرنا چاہتا ہوں جن سے ہمارے ملازمیں مشقت کرکے پیٹ بھر کر نہیں کھا پاتے اور ہم محض نگرانی کرکے اپنا پیٹ جہنم سے بھر رہے۔۔ اسکا انداز نہ چاہتے ہوئے تلخ ہو گیا۔۔

جہنم۔ وہ چونکیں۔۔

یہ تمہارے اس نئے مزہب کی وجہ سے ۔۔ افف۔ انہوں نے پیشانی پیٹ ڈالی۔۔وہ غصے سے ابلتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

 مجھے لگا تھا تم رچل کے جانے کی وجہ سے اپ سیٹ ہو پریشان ہو میں تمہیں سنبھلنے کا موقع دے رہی تھی۔۔ تم نے مزہب بدلنے کا فیصلہ کیا میں نے اعتراض تک نہیں کیا مجھے لگا تھا کچھ عرصے میں خود ہی تمہارا جنون کم ہو جائے گا مگر تم تو برین واش ہوتے جا رہے ہو۔۔ 

کس قسم کا یہ تارک الدنیا مزہب ہے یہ؟۔۔ پچھلا پورا مہینہ تم روزے کے نام پر بھوکے رہے اب اپنا پیسہ لٹا دینا چاہتے ہو  وقت بے وقت عبادت کرتے ہو۔۔ کھانا پینا سونا جاگنا سب حرام ہے کیا تمہارے مزہب میں؟۔۔ کوئی انسانوں والا۔کام جائز ہے تمہارے اس سو کالڈ مزہب میں کہ نہیں۔۔تم کتنے سمجھدار بیٹے تھے میرے کیا ہوتا جا رہا ہے تمہیں۔۔ 

وہ چلا رہی تھیں  بے بسی سے گھگھیا رہی تھیں۔۔ جون جے کی ماں ہونا انہیں بے حد کڑا امتحان لگ رہا تھا۔۔ جون جے بالکل خاموش رہا۔۔

آپکو لگتا نہیں کہ میں اب زیادہ بہتر بیٹا بن گیا ہوں آپکا۔۔

اس نے بے چارگی سے کہا تھا۔۔

ہرگز نہیں۔۔ وہ قطعیت سے بولیں۔۔

اسلام اور اسکے بارے میں مغرب جو پراپیگینڈہ کرتا میں کبھی اس سے متاثر نہیں ہوئی مگر اب

۔ وہ رکیں۔۔ اور جون جے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولیں۔۔

سب صحیح لگتا ہے واقعی یہ ایسا مزہب ہے جو انسان کا دماغ بند کر دیتا اور شدت پسندی پر اکساتا۔۔ 

وہ عجیب سی زبان والی کتاب اس سے سب سیکھتے ہو ابھی میں اس کتاب کو گھر سے۔۔

بس۔۔ جون جے ضبط کی شدت سے سرخ ہوتے چہرے کیساتھ پورے قد سے انکے مقابل آکھڑا ہوا۔۔

اسکی کنپٹی پھڑک رہی تھی۔۔ 

انہیں لگا تھا وہ اب کچھ کر بیٹھے گا۔۔ اسکی آنکھوں میں سرخی تھی۔۔ وہ پہلی بار زندگئ میں اپنے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھ کر گھبرائی تھیں

آپ مجھے جتنا مرضی برا بھلا کہہ لیں میرے مزہب کو اس کتاب کو کچھ مت کہیں۔۔ آپ نہیں جانتی اسکی حرمت۔۔

وہ تھم کر بولا تھا۔۔ کپکپاتے لب دھیمی آواز وہ تو چلایا بھی نہیں تھا۔۔ اسکی انکھیں بس نم ہو کر رہ گئی تھیں

۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکا موبائل بجا تو وہ چونکا۔۔ 

بلاگ کی اپ ڈیٹ تھی۔۔

اسکی اشتہا ختم ہو چکی تھی اس نے میز سے خالی پلیٹ اٹھا کر کھانا ڈھک دیا اور ہاتھ نیپکن سے پونچھتا موبائیل اٹھاتا کمرے میں چلا آیا۔۔ اطمینان سے بستر پر نیم دراز ہو کر اس نے پڑھا۔۔ 

کمنٹ کیا۔۔ ایڈمن نے عجیب فرمائش کی تھی۔۔

جے او۔۔ وہ نام لکھتے لکھتے رکا۔۔ پھر مسکرا کر علی لکھ دیا۔۔ محمد علی۔۔ 

فورا جواب آیا۔۔

بہت خوبصورت نام ہے۔۔ ماشااللہ۔۔ 

یہ کیسا نام ہے؟۔۔

اب نام بدلنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ جو مرضی مزہب کے پیروکار بنو نام کیوں بدل رہے

میں تو جون جے ہی کہوں گا۔۔ ۔

اس کے زہن میں مختلف لوگوں کے ردعمل گونجے

اس نے سر جھٹکا۔۔

شکریہ ۔۔ اور آپکا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نو مسلم۔ 

اس نے سوچا۔۔ 

پھر اپنا نام لکھ دیا۔۔

بیٹری ختم ہونے والی تھی۔۔۔۔۔ اس نے بلاگ  بھئ بند کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد 

جاری ہے۔

Kesi lagi apko salam korea ki qist? Rate us

Rating

Salam Korea Episode 14

Salam Korea
by vaiza zaidi
قسط 14

Salam korea urdu novel feautring seoul korea kdrama fan fiction by desi kimchi
Salam korea urdu novel feautring seoul korea kdrama fan fiction by desi kimchi

سنتھیا فرائی پان میں گرم گرم پراٹھے تل رہی تھی گوارا میز پر بیٹھی ندیدی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی آملیٹ کیلئے پیاز ہری مرچ سب کاٹ کے رکھا ہوا تھا میز پر ایک جانب ایک باسکٹ میں نمک متچ اور دیگر ضروری مصالحے بھی سجے رکھے تھے اس طرح کہ بس اس ٹوکری کو اٹھا کے نکل لو۔ پراٹھے پر تیل لگاتے سنتھیا کی نگاہ اس پر پڑی تھی
آگئیں تم میں اٹھانے ہی آرہی تھی تمہیں تم یہ آملیٹ میں اپنی مرضی سے نمک مرچ ڈال لو۔
سنتھیا نے سادہ سے انداز میں کہہ کر توجہ پراٹھے کی طرف مبذول کرلی تھی
یہ سب کہاں سے آیا؟ اسکی حیرت الگ تھی۔
ایڈون نے بھجوایا ہے تمہارئ لیئے۔
کوشش کے باوجود سنتھیا کا لہجہ سادہ نہ رہ سکا تھا۔ اریزہ اسکے لہجے پر توجہ دیئے بنا خوشی خوشی ٹوکری دیکھ رہی تھی۔ کھجوروں کا بھی چھوٹا سا سہی مگر پیکٹ موجود تھا۔ اس نے یونہی اسکی قیمت دیکھی تو آنکھیں کھل سی گئیں۔
تم سارا دن بھوکی رہو گی۔
گوارا حیرت سے پوچھ رہی تھی۔
نہیں۔ اس نے بے دھیانی میں انکار کیا پھر خیال آیا
آہاں۔ روزہ رکھوں گی تو کھانا پینا دونوں شام کو ہی ہوگا اب۔ تم کیوں اٹھی ہوئی ہو۔
وہ اسکے برابر کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے بات بدل گئ
بھوک لگ رہی تھی ریمن بنانے آئی کچن میں تو سنتھیا پہلے سے موجود تھی کہتی ہے آج مجھے پاکستانی ناشتہ کرائے گی ۔اور مجھے کیا چاہیئے مجھے انسٹنٹ نوڈلز بھی بنانے نہیں پڑ رہے۔
گوارا ڈھٹائی سے کہتی ہنسی ۔اریزہ کو بھی اسکے انداز پر۔ہنسی آگئ۔
یہ فلور کیک بنا رہی ہے وہ بھی آئل سے میں نے کبھی ایسا کیک نہیں دیکھا۔ کیا کہتے اسے
گوارا بولتے بولتے روانی سے ہنگل میں کہہ گئ۔
اسکو پراٹھا کہتے ہیں۔
اریزہ نے بتایا تو وہ حیران رہ گئ۔
تمہیں سمجھ آگیا میں نے کیا کہا؟
ہاں پوری بات نہ سہی مگر مفہوم سمجھ آگیا آخر میں نے لازمی کورین کی کوئی ایک کلاس بھی نہیں چھوڑی ۔
اریزہ نے فخریہ کالر جھاڑے
تھیبا۔۔ گوارا نے متاثر ہونے والے انداز میں تالی بجائئ
دونوں باتوں میں مگن تھیں سنتھیا نے پراٹھے اتار کر خود ہی انڈہ بھی تلنا شروع کر دیا۔
انڈہ تل کر پراٹھے کے ساتھ انکے سامنے رکھا تو بلا۔تکان بولتی اریزہ شرمندہ ہوگئی۔
آئم سوری بالکل بھول گئ میں انڈہ تلنا۔
کوئی بات نہیں۔ سنتھیا نے آرام سے کہا۔ اور کافی بنانے مڑ گئ
اسکو کھاتے کیسے ہیں۔ گوارا کے کہنے پر اس نے نوالہ توڑ کر اسکے منہ میں ڈالا
اف یہ بہت مزے کا ہے
گوارا نے پہلا نوالہ لیتے چٹخارہ بھرا تھا
اف ابھی اسکے ساتھ میری امی کے ہاتھ کا آم کا اچار نہیں اف لطف دوبالا ہوجاتا ہے پراٹھے کا۔
اریزہ نے کہا تو سنتھیا اسکے سامنے کافی رکھتے ہوئے ٹوکے بنا نہ رہ سکی
سحری کر لو وقت کم رہ گیا ہے۔
ہوں۔وہ سر ہلاتی فورا اپنی پلیٹ پر جھک گئ۔
گرم گرم بھاپ اڑاتی کافی۔ اسکے دل سے دعا نکلی سنتھیا کیلئے
سنتھیا جیو ہزارو سال خوش رہو سچی محبت ملے تمہیں۔
کافئ کا گھونٹ بھرتے وہ لہرا کر بولی۔
تم نے بہت ثواب کمایا ہے پتہ ہے سحری کرانے والے کو بھی بہت ثواب ملتا ہے۔
اسکی بات پر سنتھیا نے ترچھی سی نگاہ ڈالی۔
چاہے وہ کرسچن ہی کیوں نہ ہو۔
سنتھیا کے تیکھے انداز میں کہنے پر وہ لمحہ بھر کو چپ ہی رہ گئ پھر کچھ کہنا چاہا تبھی گوارا متاثر ہوجانے والے انداز میں بولی
زبردست ۔ مجھے تم لوگوں کی یہ روایت اچھی لگی۔ جو آپکو کھانا کھلائے اسے دعائیں دو۔ سنتھیا میری بھی دعا ہے تمہارے لیئے سچی محبت پائو تم۔
سنتھیا اسکے کہنے پر اسے نظر بھر کر دیکھ کر رہ گئ۔
اریزہ اور گوارا کے چہرے پر پرخلوص مسکراہٹ ہی تھی وہ چاہ کر بھی کوئی غلط مطلب نہ نکال سکی۔ البتہ دل پر سے کافی بوجھ سا ہٹا الفاظ کا اثر تھا کہ دعا کی طاقت۔ وہ ہلکی پھلکی سی ہوگئ۔
اے سنو آم تو اتنا رس بھرا پھل ہوتا ہے اسکا اچار کیسے بنتا۔
گوارا کو تعجب ہو رہا تھا۔
وہ پکا ہوا پھل ہوتا ہے اچار میں کچا پھل ڈالا جاتا ہے ۔اریزہ اب اسےاچار کی ترکیب سمجھا رہی تھی۔ انکی باتوں سے بے نیاز سنتھیا سوچ رہی تھی
تم دونوں نے دل سے دعا دی ہے اب مجھے واقعی لگتا ہے مجھے سچی محبت مل کر رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سنتھیا نے تیار ہونے کے بعد اسے ہلایا تھا۔ وہ سرعت سے بستر سےاٹھی۔ناشتہ واشتہ تو کرنا نہیں تھا سو تیار ہونے میں ذیادہ وقت نہیں لگا۔۔ وہ آئینے میں بال بناتے ہوئے بھی آئنے میں ابھرتے سنتھیا کے عکس کو دیکھتی رہی۔ خاموشی سے اپنا بیگ تیار کرتی سنتھیا کے پاس اس سے بات کرنے کو کوئی بات نہ تھی جیسے۔ وہ بس بیگ اٹھا کر کمرے سے نکلی نہیں ۔ جس سے اسے لگا کہ اسکا انتظار کر رہی ہے۔جلدی جلدی ہاتھ چلا کر وہ تیار ہوئی تو سنتھیا ایک لفظ بھی بولے بنا خاموشی سے اسکے ساتھ جانے چل پڑی۔
وہ چاروں اب اکٹھے ہی بیٹھا کرتی تھیں۔ کلاسز لینے کے بعد جی ہائے کو اپنے آنے والے کمپیٹیشن کیلئے پریکٹس کرنے جانا تھا۔ سو گوارا انکے ساتھ ہی آگئ۔
تم لوگوں کو بھوک نہیں لگی۔ مجھے تو منہ اندھیرے ناشتے کے بعد اب شدید بھوک لگ گئ ہے۔
ہاتھوں سے آنکھوں پر دھوپ سے بچنے کو چھجا سا بناتے گوارا مسکینیت سے بولی
تو تم نے اس وقت ناشتہ کیوں نہیں کیا وہ تو سورج بھی نکلنے سے پہلے کا وقت تھا۔
اریزہ نے کہا تو سنتھیا بھی کندھے اچکا کر بولی
میں نے بھی نہیں کیا ناشتہ۔
کیوں بھئ۔؟ چلو کیفے چلو پھر۔
اریزہ نے کہا تو وہ ہچکچا سی گئ
تم کیا کروگی پھر۔ آدھا دن تو ہو گیا ہے ڈورم میں فروٹ کیک پڑا ہوگا وہ کھالوں گی۔
کیا ارادے ہیں بھئ؟ یہ اریزہ تو شام تک بھوکی رہے گی تم تو چلو کچھ کھا کے آتے ہیں۔
گوارا نے کہا تو اریزہ نے سنتھیا کو پھر بیٹھنے نہ دیا
چلو جائو تم دونوں کھا کے آجائو میں یہیں بیٹھی ہوں۔
وہ آرام سے ڈرائئو وے کے کنارے گھاس پر پھسکڑا مار کر بیٹھ گئ۔
آر یو شیور ؟ سنتھیا جانا نہیں چاہ رہی تھی مگر بھوک بھئ لگ رہی تھی
بالکل جائو دونوں۔ اس نے زبردستی دونوں کو بھیجا۔
تیز دھوپ میں ہلکی سی چبھن تھی مگر اچھی لگ رہی تھئ وہ دھوپ کی جانب ہی رخ کیئے بیٹھی تھی۔نتیجتا چہرہ تپنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ مگن سی بیٹھی فیس بک پر پوسٹس لگانے میں مصروف تھی۔
ایڈون نےدور سے اسے دیکھا تھا۔ وہ اور کم سن کین جوس پی رہے تھے۔ انکا رخ بالکل مخالف سمت تھا۔ ایڈون اسے دیکھتا ادھر مڑ گیا۔ اپنی دھن میں چلتا کم سن بولتا کئی قدم آگے بڑھ کر حیران ہو کر پلٹا۔
ایڈون نے تیز تیز قدم اٹھاتے اریزہ کی جانب بڑھتے ہوئے اپنا کین سیدھا ڈسٹ بن میں اچھال دیا۔
اور دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھا۔ اپنی دھن میں بیٹھی اریزہ چونک اٹھی۔ کم سن بھی کندھے اچکاتا ادھر ہی چلا آیا
تمہیں ناشتے کا سامان مل گیا تھا؟ آج سحری بنائئ؟
ایڈون کے پوچھنے پر وہ فورا اپنا بیگ ٹٹولنے لگی
یار بہت بہت شکریہ۔آج تو مجھے بالکل روزہ نہیں لگ رہا۔ یہاں گرمی اتنئ نہیں مگر روزہ لمبا بہت ہےبنا اچھی سحری مشکل سے گزرتا ہے۔۔
ایڈون مسکرا دیا۔ گول گول سئ اریزہ کیلئے یقینا کھانا پینا کافی اہم تھا۔
اس نے بیگ سے پیسے نکالے۔
یہ لو اور ایک بار پھر بہت شکریہ تم نے میرا اتنا بڑا مسلئہ حل کردیا۔
اس نے ایڈون کو پیسے دینے چاہے وہ بدک کے پیچھے ہوا۔
یہ کیا ہے رکھو اسے واپس۔۔ میں نے پیسے مانگے ہیں بھلا۔
تو؟ اریزہ حیران ہوکر دیکھنے لگی۔
اچھا خاصا بل بنا تھا اتنی چیزوں کامیں نے پرائئس ٹئگز سے قیمتیں نکالی ہیں کوئی ایکسٹرا پیسے نہیں پکڑا رہی میں۔
تو؟ ایڈون بگڑ گیا
میں آلریڈی پے کر چکا ہوں۔ سالک اور شاہزیب کیلئے بھی سامان لایا تھا انہوں نے تو پیسے نہیں پکڑائے۔ دوست سمجھتی ہی نہیں ہو تم ہمیں۔

ارے۔ میں نے یہ سب لینے کیلئے پاپا سے پیسے الگ سے منگوائے تھے۔۔ اور دوست ہونے کا یہ مطلب تو نہیں ۔ ویسے بھئ مجھے اور شاپنگ کرنی تھی اگر تم ایسا کروگے تو میں پھر کبھی تم سے کچھ نہیں منگوائوں گی
اریزہ نے کہا تو اس نے کان پر سے مکھی اڑائی۔
اچھا اچھا۔ دیکھی جائے گی بعد کی بعد میں ابھی اپنے پیسے سنبھال لو امیر لڑکی۔
انکی خالص اردو میں بحث کو کم سن گھونٹ گھونٹ جوس ختم کرتے خاصے غور سے دئکھ رہا تھا۔
اب دیکھنا میں خود جایا کروں گئ شاپنگ پر ایک چیز تم سے نہیں منگوائوں گئ۔ منت بھئ کروگے نا مجھ سے چیز منگوا لو نہیں منگوائوں گئ
اریزہ کی دھمکی پر ایڈون نے کھل کے قہقہہ لگایا۔ تو اپنی بات پر غور کرکے اریزہ بھی ہنس پڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیفے کھچا کھچ بھرا تھا ۔ اسے کبھی یہاں کیفے کی خوشبوئیں پسند نہ آئیں فورا سامان لیکر باہر نکل آئی۔گوارا اور اسکا رخ میدان کی جانب ہی تھا جبھی سنتھیا نے اسے بازو سے تھام کر روک دیا۔وہ قریبی بنچ کی جانب اشارہ کرکے کہہ رہی تھئ
اسکو پہلے یہاں بیٹھ کے ختم کر لیتے ہیں پھر اریزہ کے پاس چلیں گے اسکا روزہ ہے نا اسکے سامنے کھانا پینا اچھا نہیں لگے گا۔
اسکی بات پر گوارا کیا کہتی کندھے اچکا کر قریبی بنچ پر آن بیٹھئ۔ دونوں نے ابھئ کھانا شروع کیا تھا۔
وہ ایڈون کیلئے بھئ برگر لائی تھی سو اسے کال ملانے لگی۔
گوارا کی یونہی اسکے فون پر نظر پڑی۔
بڑا بڑا ایڈون لکھا نظر آرہا تھا۔
ایڈون کو بلا رہی ہو وہ وہیں اریزہ کے پاس ہی تو بیٹھا ہے۔
اسکی شائد نظر نہیں پڑی تھی۔ گوارا نے اسے بیٹھا دیکھ لیا تھا۔ سنتھیا نے حیران ہو کر مڑ کر دیکھا تو دور بیٹھی اریزہ اب لمبے کم سن اور ایڈون کے پیچھے چھپ سی گئ تھی۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئئ۔
برگر چپس اسپرائٹ اٹھاکر تیز تیز قدم اٹھاتی سنتھیا کو گوارا نے حیرت سے دیکھا پھر خود بھی اپنا برگر اٹھاتی اسکے پیچھے بھاگئ۔ سنتھیا کا مرکز نگاہ ایڈون ہی تھا۔کھل کر وہ اور اریزہ بحث میں لگے ہنس رہے تھے۔ کم سن انکے ساتھ بیٹھا بھئ ساتھ نہیں لگ رہا تھا
کیا ہوا ابھی تو آنے سے روک رہی تھیں ۔گوارا نے ٹوکا تو وہ چونکی
ہاں وہ ایڈون کیلئے بھئ برگر لیا ہے ٹھنڈا ہو جائے گا۔
اسئ یہی بہانہ سوجھا۔ گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔
وہ دونوں انکے قریب آئیں تب تک وہ تینوں کسی اور بحث میں الجھ چکے تھے
دیکھوتپسیا بدھزم میں بھی ہے مگر صرف پجاری ہی کرتے مطلب جسکا ذہن مذہب کی جانب لگ چکا وہ اب بس مزہب کی پیروی کرنا چاہتا ہے اسے دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں اب جو انسان ایسا ذہن بنا چکا ہو اسکے لیئے روزے عبادت کرنا کونسا مشکل کام ہے۔ اب ہم عام انسان تو اپنی اتنی مشکل زندگی کے ساتھ مزہب پر کاربند نہیں رہ سکتے نا۔
کم سن دلیل سے بات کر رہا تھا۔
مزہب صرف چند لوگوں کی میراث تو نہیں ہوتی نا مزہب تو تمام انسانیت کیلئے ہوتا ہے۔
اریزہ نے کہا تو قائل نہ ہونے والے انداز میں سر نفی میں ہلانے لگا۔
وہی تو کہہ رہا ہوں اتنا مشکل مزہب ہوا یہ پھر۔ سب لوگ چاہے وہ ذیادہ مزہبی ہوں نا ہوں انکو روزے بھی رکھنے پانچ دفعہ نماز پڑھنی۔ سالک اور شاہزیب کو دیکھتا ہوں نا۔ ہر دفعہ اتنا اتنا نہا کے آتے ہیں پھر نماز کی جگہ الگ کی ہوئی اس سائیڈ کی صفائی کا الگ خیال رکھنا عام لوگ ایسی زندگی کیسے گزار سکتے؟
انکی بحث سے بے نیاز سنتھیا اور گوارا وہیں انکے پاس آبیٹھیں۔ سنتھیا نے دو برگر لیئے تھے ایک برگر اور چپس والا پیکٹ ایڈون کی جانب بڑھا کر وہ خود خاموشی سے اپنا کھانا کھانے لگی۔ گوارا دلچسپی سے اریزہ کو دیکھ رہی تھی کہ اب اس سوال کا کیا جواب دے گی۔
تم تو گواہ ہو دیکھ رہے ہو شاہزیب اور سالک کو عام انسان ہو کرایسی ہی زندگی گزار رہے ہیں۔خود بھی صاف رکھتے سارا دن بھوکا بھی رہ لیتے ان سب کاموں کے ساتھ عبادت بھی خشوع و خضوع سے کر رہے ہیں۔ مشکل وہ مزہب ہوا جو عام انسانوں کے بس کی بات نہیں جو اختیا رکرے وہ دنیا تیاگے یا وہ مزہب ہوا جو دنیا کے سب کاموں کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے؟
جواب ایڈون کی جانب سے آیا تھامدلل اور فوری ۔ اریزہ بھی متاثرہونے والے اندازمیں دیکھنے لگی۔ کم سن سے جواب نہ بن پڑا
ویسے اگر ڈیووشن ( Devotion) کی بات ہے تو سچی صبح میں متاثر ہوئی کافی۔یہ ڈیووٹڈ تھئ روزے کیلئے مطلب خاص نیند توڑ کر رات کو اٹھ کر کھا نا اور پھر سارا دن بھوکا پیاسا رہنا یقینا آسان کام نہیں ۔ تھیبا اریزہ۔
منہ میں برگر بھرے پھونکیں اڑاتئ گوارا کہہ رہی تھی۔ اریزہ شرمندہ سی ہوگئ۔ اتنا کوئی بڑا کام بھی نہیں تھا روزہ رکھنا کہ یوں سراہتے جائیں سب اسے۔
ہاں یہ بات ماننے والی ہے۔ سالک اور شاہزیب بھی پورے عقیدے سے روزے رکھ رہے ہیں سچ مچ پانی نہیں پیتے کل تو شاہزیب کے ہونٹ اتنے خشک ہو رہے تھے۔
کم سن بتا رہا تھا
تم کھائو برگر ٹھنڈا ہو رہا ہے ۔
سنتھیا نے ایڈون کو ٹوکا۔
بعد میں کھائوں گا اور تم بھی بعد میں کھا لیتیں یا کھا کر آتیں یہاں۔ اریزہ کا روزہ ہے اور تم اسکے سامنے بیٹھ کر کھارہی ہو۔
ایڈون کا انداز سادہ تھا مگر سنتھیا کو بری طرح چبھا۔اریزہ بھی حیران ہو کر دیکھنے لگی
کیوں بھئ میرے سامنے بیٹھ کر کھانے میں کیا حرج؟ میں نظر تھوڑی لگائوں گئ تم بھی کھالو آرام سے۔
وہ برا مان گئ
احمق روزے دار کے سامنے کھانے سے منع کر رہا ہوں۔
ایڈون نے دانت پیسے۔
روزے دار کا روزہ اتنا کچا نہیں ہے جو اسکے سامنے کوئی کھا پی لے تو وہ نیت لگا کے بیٹھ جائے گا۔ وہ جتا کر بولی۔
اگر ایسی بات ہے تو رمضان میں بازار کیوں بند کرواتے پھرتے ہو پاکستان میں؟ کھل کھلا کوئی کھاتاپیتا نظر آجائے تو اسے بند کر دیتے ہو؟ کیوں۔۔ چلو ایڈون برگر کھا کے واپس آجانا یہاں ٹھنڈا ہو رہا ہے
سنتھیا ایک دم چٹخ کر بولتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئئ۔کم سن گوارا بھی اپنی بات چھوڑ کر اسے دیکھنے لگے ایڈون کے ماتھے پر شکن ابھر آئی
اریزہ اس سے یوں بھڑک اٹھنے کی توقع نہیں کر رہی تھی۔
وہ میں بند نہیں کرواتی ۔ مجھے تو تمہارے یہاں بیٹھ کر کھانے پربھی اعتراض نہیں ہے۔
سنتھیا کے برعکس اسکا انداز ابھی بھی نرم تھا
بیٹھ جائو سنتھیا۔ ایڈون نے سنجیدگی سے ٹوکا۔
کیوں ؟ اب روزہ نہیں ٹوٹے گا اریزہ کا؟
وہ چمک کر بولی۔
تم کیوں بات بڑھا رہئ ہو وہ کہہ تو رہی ہے اسے کوئی اعتراض نہیں بیٹھ جائو اب۔
ایڈون کواسکی ضد پر غصہ آنے لگا تھا۔
تمہیں تو ہے نا۔۔ کیوں ؟ نہیں ہے اعتراض ابھی تم ہی مجھے اریزہ کے سامنے کھانے پر ٹوک رہے تھے اب کیا ہوا؟ چلو اٹھو ہم کسی اور جگہ بیٹھ کر کھا کر آتے ہیں۔
وہ ادھ کھایا برگر تھامے اپنا بیگ کندھے پر ٹکاتی جانے کو تیار کھڑی تھئ۔ ایڈون اسے گھو ررہا تھا۔
مجھے بھوک نہیں تم نے جہاں جانا جو کھانا جاکے کھا آئو۔
ایڈون کا انداز خاصا سخت تھا۔سنتھیا کا رنگ سرخ ہوگیا
تم لوگ لڑ رہے ہو۔
کم سن نے پوچھا۔ سنتھیا غصے سے لال پیلی ہوئی کھڑی تھی ایڈون کا رنگ بھی تپا تپا تھا اریزہ گھبرائی سی شکل بنائے کبھی ایڈون کو کبھی سنتھیا کو دیکھ رہی تھی جو ایک دوسرے کو کھاجانے والی نگاہوں سے گھور رہے تھے۔
کیا ہوا پھر کپل فائیٹ ہو رہی ہے تم دونوں کی؟
گوارا نے سنتھیا سے پوچھا تھا مگر وہ یونہی ٹھس سی کھڑی تھی۔
ایڈون جائو تم دونوں کھا پی آجائو میں یہیں بیٹھی ہوں۔
اریزہ کو ہی مصالحت کیلئے بیچ میں کودنا پڑا۔
مجھے بھوک نہیں۔
ایڈون کا انداز بے لچک تھا۔
اٹھ جائو سنتھیا کو غصہ آگیا ہے۔ اریزہ نے کہا تو وہ اسکی شکل دیکھ کر رہ گیا۔ پھر گہری سانس لیتا اٹھ کھڑا ہوا۔
سنتھیا کو مزید طیش آگیا تھا۔ ایڈون نے ایک نظر اسکے لال بھبھوکا چہرے پر ڈالی۔
چلو۔ اس نے برگر نہیں اٹھایا تھا اس پر نگاہ غلط ڈالتا چل پڑا تھا۔ سنتھیا نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر اسکی پیروی کرنے کی بجائے وہیں بچا کھچا برگر پھینکتی پیر پٹختی گرلز ہاسٹل کی طرف بڑھ گئ۔
سنتھیا۔ ارے رکو۔
اریزہ اسے پکار رہی تھی مگر سنتھیا نے پلٹ کر نہ دیکھا ایڈون نے بھی۔
اسے یوں برگر نہیں پھینکنا چاہیئے تھا۔
گوارا نے افسوس سے اس اشتہا انگیز خوشبو اڑاتے برگر کو دیکھا۔
میری آہموجی کہتی ہیں رزق پر غصہ کبھی نہیں اتارنا چاہیئے رزق کو غصہ آجاتا ہے۔
کتنی گہری بات تھئ۔ اریزہ گہری سانس بھر کر رہ گئ۔
کم سن نے ایڈون کے برگر کو اٹھا لیا۔
میری آہموجی جانے کیا کہتی تھیں پتہ نہیں۔ مجھے البتہ کھانے سے منہ موڑنا نہیں پسند۔
اسکی اپنی منطق تھی۔ وہ خوب مزے لیکر برگر کھا رہا تھا۔
اریزہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے سوچوں میں الجھی بیٹھئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے لگا تھا سنتھیا ڈورم واپس آئی ہوگئ مگر خالی ڈورم بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔وہ چند لمحے کھڑی سوچتی رہی۔ ارادہ تو اسی کے ساتھ باہر جانے کا تھا مگر اب مجبوری تھی۔
وہ دھیرے سے جی ہائے کے کمرے کا دروازہ کھٹکا کر اندر چلی آئی۔حسب توقع وہ اپنے ڈورم کی ریلنگ سے الٹی لٹکی تھی۔گوارا منہ پر ماسک لگائے بیٹھی تھئ۔ اسے دیکھ کر دونوں نے استقبالیہ مسکراہٹ اچھالی
تم اتنی لچک دار کیسے ہو۔ اسکے انداز میں ہرگز رشک نہ تھا۔
تم اتنئ سست کیسے ہو۔
اسکے جھکے کندھوں پر جی ہائے نے چوٹ کی۔
ایسا ہے کہ مجھے کچھ ضروری سامان لینا ہے تو کیا تم میں سے کوئی میرے ساتھ چلے گا۔
اس نے بلا تمہید درخواست کی۔
بس کوئی دونوں نہیں جا سکتے۔
جی ہائے اچھل کر اتری۔
اریزہ نے کندھے اچکا دییئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دودھ ڈبل روٹی انڈے وغیرہ لیئے تھے۔ گوارا کاسمیٹکس والے حصے میں گھس گئ ٹرائے ٹرائے کرنے میں پورا میک اپ کر لیا تھا اس نے جی ہائے اسکو مستقل چھیڑ رہی تھی۔ وہ دونوں مکمل مگن تھیں۔ روزے کا وقت ہونے لگا تھا اس نے کنوینئینس اسٹور کے ایک کونے میں لگے ٹیبل چیئر پر افطاری کا سامان رکھنا شروع کیا
اس نے بیکری سے کیک اور ویجیٹیبل سینڈوچ لیا تھا۔ حسب عادت ہر چئیز دوگنئ لی تھئ۔
افطار کرکے پیٹ بھر کر نماز یاد آئی۔ تو آہ بھر کر رہ گئ۔
اب ہاسٹل جا کر ہی نماز پڑھ سکتی تھی۔ بوتل اٹھا کرپانی پیتے یونہی کنوینئس اسٹور کی گلاس وال سے باہر نظر پڑی تو جی ہائے کو کسی بھڑتے پایا۔ وہ جلدی جلدی پانی پی کر بوتل میز پر رکھتی گلاس وال کےپاس چلی آئی
جی ہائے ہاتھ اٹھا اٹھا کر جانے کیا اونچا اونچا بول رہی تھی وہ آہجوشی جیبیں ٹٹول رہے تھے۔ انکے ہمراہ ایک بچی بھی تھی جو ڈر کر باپ سے چپکی جا رہی تھی
یہ کیا سین ہے وہ متجسس سی ہو کر گلاس وال سے چپک گئ۔ وہ ادھیڑ عمر انکل بار بار اسکا ہاتھ تھام رہے تھے کبھئ اسکے آگے منت بھرے انداز میں کچھ کہتے ایک چھوٹی سی آٹھ دس سال کی بچی انکے ہمراہ تھی جو ان دونوں کو سراسیمگی سے دیکھ رہی تھی۔ جی ہائے بری طرح انکا ہاتھ جھٹک رہی تھی۔
ہراسگی کا معاملہ تو نہیں لگتا۔ وہ معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
تم نے کھانا کھا لیا۔ گوارا اچانک سے اسکے برابر آکر بولی
وہ بری طرح اچھلی۔
تم کیسے اس جہان میں آگئیں اتنے چڑیا سے دل کے ساتھ۔
وہ مزاق اڑا رہی تھی۔
کوئی اچانک قریب آجائے تو اچھل پڑتی ہو کوئی تمہارے سامنے لڑے تو کانپنا شروع کر دیتی ہو تمہیں دیکھ کے لگتا کہ چھوٹا سا گنئ پگ پہلی بار لیبارٹری سے باہر نکل کر دنیا دیکھ رہا ہے۔
وہ کھل کر ہنس رہی تھی۔
تم ہوگی گنئ پگ۔ وہ چڑ گئ۔بیٹھے بٹھائے سور کہہ دیا۔۔ حد ہے۔۔
اور کب میں کانپی ؟ اس طرح اچانک چپکے سے کوئی پاس آکھڑا ہو تو کوئی بھی چونک جائے۔
اور دوپہر کو کیا ہوا تھا؟ گوارا اسے چھوڑنے کے موڈ میں نہ تھئ
لڑ سنتھیا اور ایڈون رہے تھے جان تمہاری نکلی جا رہی تھی مجھے تو لگا تھا تم نے رونا شروع کردینا ہے ۔ وہ تو وہ دونوں واک آئوٹ کر گئے ورنہ تم تو انکے چیخنے سے ڈر کر بے ہوش ہوجاتیں۔
وہ یقینا مبالغہ آرائی کر رہی تھی۔
وہ لڑ نہیں رہے تھے۔ بس سنتھیا پوزیسیو ہے اور لڑکے تو پتہ ہے موڈی ہوتے۔ اس نے صفائی دینی چاہی گوارا محظوظ سے انداز سے دیکھ رہی تھی
تمہیں پتہ ہے اتنے دنوں میں تم لوگوں کو دیکھ کر اتنا اندازہ ہو گیا ہے ہمیں بات سمجھ آئے نہ آئے لہجہ سمجھ آجاتا۔ اتنا تحمل سے ٹھہر ٹھہر کر دھیرج سے بولتے ہو صرف لڑائئ جھگڑے میں آواز بلند ہوتی ہے۔
اور تم لوگ نارمل بھئ اتنا اونچی آواز میں بات کرتے ہو جیسے جھگڑا کر رہے ہو۔
وہ بھی جوابا چوٹ کر گئ۔ گوارا ہنس دی۔
ہاں ہماری بولی ایسی ہے۔ ۔اریزہ نے بھئ مسکرا کر رخ بدلا۔اب سڑک پر سکون تھا۔ جی ہائے گلاس ڈو رکھول کر اندر داخل ہو رہی تھی وہ آہجوشی اور بچی غائب ہو چکے تھے
اچھا سنو تم جی ہائے کو نہ بتانا کہ تم مسلم ہو روزے رکھ رہی ہو ۔ گوارا نے جی ہائے کو آتے دیکھ کر سرگوشی کی۔
کیوں۔ اسکی پیشانی پر بل پڑے۔
وہ کیوں شناخت چھپائے۔
بعد میں بتاتئ ہوں۔ گوارا نے اسکا ہاتھ ہلکے سے دبایا تو وہ بھی خاموش ہو رہی۔
جی ہائے کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ اس نے قریب آکر میز سے منرل واٹر کی بوتل اٹھا کر جلدی جلدی کئی گھونٹ بھر لیئے۔
پھر گوارا کو دیکھ کر فاتحانہ انداز میں مسکرائی۔
چلو آج کچھ ثواب کمانے چلیں۔۔
گوارا نے گہری سانس بھری اریزہ نہ سمجھنے والے انداز میں دونوں کو دیکھ کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گنگم اسٹریٹ پر سڑک کنارے ایک بار پھر وہ اسی بینڈ کے کانسڑٹ سننے کو موجود تھیں۔انکا لیڈ سنگر جی ہائے کو پہچان گیا تھا۔ خاص اسکے آگے آ آکر جھک کر گانا گایا۔ جی ہائے وہاں موجود لوگوں میں یکدم مرکز نگاہ بن گئ تھی۔ اس نے کین بیئر کا ایک کین ختم کرکے ہاتھ میں پکڑے شاپر میں ڈالا اور شاپر سے دوسرا نکال لیا۔ مگر ابھی بھئ حواس میں تھی۔ گوارا بیزار سی شکل بنائے تھی۔۔ ۔ اریزہ خود کو تسلی دے رہی تھی
یہ گانا نا مجھے سمجھ آرہا نا میں انجوائے کر رہی ہوں۔ یہاں میں سب کو ڈنڈے کے زور پر رمضان کا احترام کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
کیا بڑ بڑا رہی ہو۔
گوارا نے ببل پھلاتے پوچھا۔
کک کچھ نہیں ۔۔وہ گڑبڑائی
جی ہائے اس لڑکے کے ساتھ ڈانس اسٹیپ لے رہی تھی۔ کئی کیمرے حرکت میں تھے مگر اسے پروا نہیں تھی۔ شارٹ اسکرٹ میں کپل ڈانس کرتے جب وہ گول گول گھومی تو بالکل چابی کی گڑیا لگ رہی تھی۔
جی ہائے بہت پیاری ہے۔
اس نے دل سے کہا تھا
گوارا نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی پھر ہنس دی۔
تم بھئ بس ظاہر پر توجہ مرکوز رکھتی ہو۔ صحیح بات ہے آپ باہر سے ہی تو نظر آتے ہیں لوگ اندر کہاں جھانک سکتے۔ اسی لیئے تو میں بھی باہر سے خوبصورت لگنا چاہتی ہوں۔
بات کو اپنی مرضی کے موضوع پر گھما کر لے جانا اگر کوئی فن تھا تو گوارا طاق تھی اس میں۔
ناچنے کے بعد وہ اب جھک جھک کر داد وصول رہی تھی۔ پرس سے اس نے نوٹوں کی گڈی نکالی اور انکے باکس میں نزاکت سے اندر۔ڈال دی۔
اب اس کمینی کو دیکھو۔ سب پیسے چھین جھپٹ کر لینے کے بعد یہاں پھینک کر ہاتھ جھاڑ کر آئے گی اور واپسی کا کرایہ مجھے بھرنا پڑے گا اسکا۔ چاہتی تو یہ میرے پرس میں بھی یہ پیسے پھینک سکتی تھی۔
اس نے کندھے سےلٹکتے اپنے منے سے پرس کو حسرت سے دیکھا۔
اسکو یہ بینڈ پسند ہوگا۔
اریزہ یہی اندازہ لگا سکی۔
جی ہائے فاتحانہ انداز میں چلتی انکے پاس آئی۔
اڑا دیئے پیسے۔گوارا کا انداز جلا بھنا تھا اسکے برعکس جی ہائے خوش سی کھلکھلائی
اف بڑا مزا آیا۔
تمہیں کیا ضرورت تھی ان سے پیسے لینے کی۔ وہ اپنی راہ جا رہے تھے تم انکے سر پر سوار ہوگئیں۔
گوارا نے ہنگل میں ٹوکا۔
یہ بڈھا اپنی بیٹی کو شاپنگ کرانے آیا تھا۔
جی ہائے تیز ہو کر بولی۔
لو اب ان دونوں کی لڑائی ہونے والی ہے۔ اریزہ بیزار سی ہوئی۔ اتنا سامان اٹھائے کھڑے کھڑے کمر تختہ ہو رہی تھی وہ اطمینان سے انکو لڑتے چھوڑ کر وہیں سڑک پر بنے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئ۔
تو؟ گوارا تیز ہو کر بولی
تو یہ کہ ان کمینوں کی عید آنے والی ہے ۔ میں کیا بیٹی نہیں مجھے عید کی شاپنگ نہیں کراتا وہ بڈھا۔
وہ مزے سے بولی۔
وہ کرسمس نہیں مناتے مگر تم نے کرسمس کی بھی ٹھیک ٹھاک رقم وصولی تھی۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے جی ہائے وہ مسلمان بعد میں ہیں پہلے تمہارے باپ ہیں۔بوڑھے ہو رہے ہیں تمہیں انکا۔

گوارا نے سمجھانا چاہا مگر جی ہائے سمجھنا چاہتی ہی نہیں تھی اسکی بات کاٹ کر بولی
تو وہ بڈھا کیوں بضد ہے میرا خرچہ اٹھانے پر ؟ جوان ہوں اپنا خرچہ خود اٹھاتی ہوں پھر کیوں آتا ہے مجھے جیب خرچ دینے میں نہیں لیتی تھئ تب زبردستی دے کر جاتا تھا جانتی ہو کیوں؟ کیونکہ اسکے نئے مزہب میں بیٹی باپ کی ذمہ داری ہے۔ جب تک شادی نہ کر لوں وہ میرا خرچ اٹھانے کا پابند ہے بلکہ کہتا ہے کہ شادی کا خرچ بھی اٹھائے گا۔۔ وہ استہزائیہ ہنسی۔
کہہ سیکی۔۔ ( گالی)
میرا گھر میرا خاندان توڑنے والا یہ مذہب دیکھو کتنا اچھا ہے۔۔۔۔ ہونہہ۔
جانتی ہو مجھے یہ سب کبھی نہیں چاہیئے تھا مجھے بس ایک گھر جس میں میرے ماں اور باپ اکٹھے خوشی سے رہتے ہوں بس اتنی سی خواہش تھی میری ۔ اور کچھ نہیں چاہیئے تھا۔مگر اس نے اسکے مزہب نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا۔
میرا بھائی میری ماں میرا باپ سب کچھ۔ ہم سب بچھڑ چکے ہیں کیونکہ بس ایک میرے باپ نے عقیدہ بدلا۔ اور سب برباد ہوگیا سب ختم۔
وہ زور زور سے کہتی رو پڑی تھی
اریزہ نے سٹپٹا کر گوارا کو دیکھا۔ اسکے ایک لفظ پلے نہ پڑا تھا۔تھوڑی بہت جوہنگل سیکھی تھی اس سے ابھی اتنا سخت سیول کا لہجہ سمجھنے میں کوئی مدد نہیں مل سکی تھی۔ اس کو سمجھ نہ آیا کہ اٹھ کر ان دونوں کے بیچ پڑے یا نہیں۔ اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ آپس میں نہیں لڑ رہی ہیں۔
حوصلہ کرو جی حیا۔
سنتھیا نے اسے گلے سے لگانا چاہا مگر وہ اسکو جھٹک کر چلائی۔
تمہیں بھی میں غلط لگتی ہوں۔ کبھی خود کو میری جگہ رکھ کر سوچا ہے۔ میرا گھر برباد کیا ہے میرے باپ نے۔ میں نفرت کرتئ ہوں اپنے باپ سے۔ نفرت
اسکو چڑھ رہی تھی۔ سیدھی کھڑی نہیں ہو پا رہی تھی۔
۔ آئی ہیٹ ہم ۔ آئی ہیٹ ہز فیتھ۔ آئی ہیٹ مسلمز آئی ہیٹ یو آل۔
بولتے بولتے وہ انگریزئ میں حلق کے بل چلائی تھی۔
اریزہ نے چونک کر جی ہائے کو دیکھا۔۔ اسکے کان میں سیٹییاں سی گونج گئی تھیں۔
تو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھونچکا سی بیٹھی رہ گئ
گوارا اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
جو جھومتی گوارا کی بانہوں سے پھسلی جا رہی تھی۔
اریزہ ہیلپ می پلیز۔ کیب روکو ذرا ۔۔
گوارا نے اسئ سے مدد مانگئ جو کہ وہ حسب عادت کرنے اٹھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی۔ وہ اسے خاص طور پر اسے اسکے پسندیدہ فاسٹ فوڈ ریستوران لیکر آیا تھا۔
تمہارے دوپہر کے برگر کا۔ کفارہ۔
اس نے برگر کی ٹرے لا کر اسکے سامنے رکھی۔ اس نے رخ موڑ لیا۔ ایڈون سر کھجا کر سیدھا ہوا۔
مجھے سمجھ نہیں آتا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم اچھی طرح جانتی ہو تم دوپہر کو غلط تھیں۔۔ پھر بھی اس وقت تم مجھ سے روٹھئ بیٹھئ ہو۔
اسکا انداز بے چارگی بھرا تھا۔سنتھیا نے تیکھی نگاہ ڈالی اس پر۔
اچھا میں ہی معزرت کر لیتا ہوں۔ آئی۔ ایم سوری۔
وہ اسے ہر قیمت پرمنانا چاہتا تھا۔
ایسے تو ہر وقت کہتے رہتے ہو یہ ہمارا تہوار نہیں وہ ہمارا تہوار نہیں مگر اریزہ کے سامنے ذرا سا برگر کھانے پر تم نے مجھے ذلیل کرکے رکھ دیا سب کے سامنے۔ اس سے میں کیا سمجھوں؟
سالک اور شاہزیب کے سامنے بھی میں یہی کہتا۔ وہ کوشش کرکے اپنا لہجہ ہموار کرکے بولا۔
تمہیں پتہ ہے میں اور کم سن کیوں ہاسٹل سے نکلے تھے کیونکہ سالک اور شاہزیب نماز پڑھ رہے تھے۔ اور دونوں الگ الگ کمرے میں یہ بھی نہیں کہ اکٹھے پڑھ رہے ہوں۔ کم سن شاہزیب کو اور میں سالک کو پرائیویسی دینے کے خیال سے ہاسٹل سے ہی نکل آئے۔ جب سے رمضان شروع ہوا ہے میں ہی نہیں یون بن کم سن بھی انکے سامنے دن میں کچھ نہیں کھاتے۔ کیا ہم ایسا پاکستان میں نہیں کرتے تھے؟ تم خود اریزہ کے سامنے کھاتی پیتی تھیں بھلا آج ایسے بی ہیو کر رہی ہو جیسے کبھی نہ رمضان دیکھا نہ مسلمان دیکھے۔
وہ سبھائو سے بات کرتے کرتے بھئ اسے ڈانٹ ہی گیا۔ سنتھیا کے غصے کے درجے میں کمی سی آنے لگی۔ اسے غصہ کس بات پر کیوں تھا یہ شائد کبھی وہ ایڈون کو سمجھا نہیں پائے گی۔
اس نے خاموشی سے برگر اپنی جانب کھسکا لیا۔
ایسی بات نہیں ہے۔ صبح اریزہ کو سحری میں نے ہی بنا کر دی تھی۔
اسکو لگا کہ یہ بات اسے ایڈون کو بتانی ہی چاہیئے۔
اچھا۔۔ ۔ ایڈون نے اب بات ختم کر دینی چاہی جبھی مکمل طور پر برگر کی جانب متوجہ ہوگیا۔
وہ ایڈون کو دزدیدہ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔ بندہ سراہ ہی لیتا ہے کبھی کسی کی خوبی پتہ لگنے پر۔ سارا دن وقفے وقفے سے اسکی ایک غلطی پر انکی لڑائی چلی تھی مگر اسکی کی گئ اتنی بڑی نیکی ایڈون کے نزدیک اتنی بھئ اہم نہ تھی کہ کوئی تبصرہ کر دیتا۔۔ انسان ایسے ہی ہوتے ہیں انسانوں سے نیکی کا صلہ نہیں صرف غلطی کا بدلہ ملتا ہے۔ سنتھیا کو مگر ابھئ یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی مدہوش کو اٹھا کر لانا کتنا بڑا عزاب تھا کوئی اس سے پوچھتا۔ وہ اور گوارا ہلکان ہو گئی تھیں اسے سیڑھیاں چڑھاتے۔ دھان پان سی جی ہائے جسم ڈھیلا چھوڑنے پر ٹھیک ٹھاک بھاری بھرکم گائے بن گئ تھی۔جسے کھونٹے سے باندھنے پر وہ دونوں بے دم ہو کر اسکے بیڈ پر اسکے برابر ہی گر گئ تھیں۔
میں سوچ نہیں سکتی تھی جی ہائے اتنی بھاری ہوگی۔
اریزہ کی سانس پھول رہی تھی۔ گوارا کی بھی سانس چڑھی تھی مگر اریزہ کی حالت دیکھ کر اسے ترس آگیا۔ اٹھ کر کمرے میں رکھے تھرماس سے پانی نکال کر اسکی جانب بڑھایا
اس نے اٹھ کر پانی کا گلاس تھاما۔ گرم سیال اندر تک اسے جلا گیا۔
یہ کیا گرم پانی دے دیا مجھے۔
وہ جلدی جلدی دو گھونٹ نگل گئ تو جلن کا احساس شدید ہوا۔
ہاں ہم تو گرم ہی پیتے ہیں۔
گلاس ایک ہی تھاوہ انتظار میں کھڑی تھی ۔
اس سے تو مجھے اور پیاس لگ گئ۔شدید پیاس میں گرم پانی پینا کوئی آسان بات نہ تھی وہ برے برے منہ بنا رہی تھی
اچھا جائو اپنے ڈورم سے پی لو جا کے۔ گوارا نے اسکے ہاتھ سے گلاس چھین کر خود پینا شروع کردیا۔ وہ حیران تھی کورین جھوٹا کھانے پینے میں ہچکچاتے نہیں۔ شائد انکے نزدیک انسانیت ہی سب کچھ ہے۔ اس نے سوچا۔ پھر یاد آیا اس دن گوارا کے ساتھ اسکے اپارٹمنٹ میں وہ وائل یو ور سلیپنگ ڈرامہ دیکھ رہی تھئ گوارا رننگ کمنٹری کرکے اسے مکالمے ترجمہ کرکے سنا دیتی تھی۔ مگر دیکھتے دیکھتے ایسا منظر سامنے آیا کہ اسے ابکائی ہی آگئ
چندی آنکھوں والے خوبصورت سے ہے ان صبح کا آغاز مسکراکر اٹھتے کیا۔ اپنے پالتو کتے کو اسکے پیالے میں خشک سا کھانا ڈالا اور یونہی کئئ دانے اپنے منہ میں بھی کتے کے پیالے سے اٹھا کر ڈال لیئے۔ کتے نے برا مانا تھا۔ غصے سے غرایا اریزہ غصے سے تلملا اٹھی تھی۔
کہاں کھو گئیں۔
گوارا نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائئ۔ تو وہ جھر جھری لیتی اٹھ گئ۔
چھائے چھا۔ شب بخیر ہنگل میں کہتی وہ جھک کر سامان اٹھاتی باہر نکل آئی۔ گوارا اپنے بیڈ پر دھم سے گری۔
ہائے میرا کم از کم بوٹوکس ہو جاتا جی ہائے کمینی۔ کیسی ناقدری لڑکی ہے۔ اس نے غصے سے اپنے بیڈ پر آڑی ترچھی پڑی جی ہائے کو گھورا پھر آہ بھر کر تکیہ منہ پر رکھ لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں نائٹ بلب جل رہا تھا۔ سنتھیا نے منہ تک کمبل تان رکھا تھا۔ وہ اسے سوتا سمجھ کر ہی دھیرے سے اسکے سرہانے کیک اور سینڈوچز کا شاپر رکھ کر احتیاط سے سیڑھیاں چڑھ گئ۔
اسکے اوپر جانے کے بعد سنتھیا نے کمبل سے سر نکالا ۔
سینڈوچز کئ خوشبو کیک کی مہک۔
وہ گہری سانس لیکر کروٹ بدل گئ۔
اسکا ارادہ آج سحری کے بعد ہی سونے کا تھا۔ مگر جانے کب آنکھ لگ گئ۔ اس بار سنتھیا نے سحری کی ٹرے اسکے سرہانے رکھ کر جگایا تھا۔
ارے۔ وہ اٹھ کر سچ مچ شرمندہ ہوئئ تھی۔ ٹرے اسکے ہاتھ سے لیکر فورا اپنے بیڈ پر رکھی۔
آئیم سو سوری مجھے جگا دیتیں۔ میں خود سحری بنا لیتی۔
اکیلے کھائو گئ یہ سب۔
اسکی بات پر سنتھیا نے جتانے والے انداز میں کہا۔
نہیں۔وہ فورا پیچھے ہوئی۔ سنتھیا بھی اسکے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
آج تو آملیٹ بہت مزے کا ہے یہ کیا ڈالا ہے چیز۔
پزا کی طرح آملیٹ نے لمبا سا لیس بنایا تو وہ خوشگوار حیرت سے بولی۔
تھوک ہے میرا۔ سنتھیا نے اسکا وہی نوالہ اچک لیا
میرا لے جاتیں ذیادہ مزے کا بنتا مجھے تو آجکل بلغم۔
وہ کونسا کم تھی اسکی لن ترانی جاری تھی سنتھیا نے باقائدہ اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر روکا دونوں کی ڈھینگا مشتی میں ٹرے الٹتے الٹتے بچی۔
یار کافی نہ گرانا اس کے بنا دن نہیں گزرتا۔۔
اریزہ نے منت کرتے کافی کا گھونٹ بھرا۔ اندر تک تازگی اتر گئی۔
اریزہ واقعی جو سحری کراتا اسکو بھی ثواب ملتا ہے۔
سنتھیا جانے کس خیال میں الجھی تھی۔اریزہ نے اسکے چہرے پرپھیلی سنجیدگی غور سے دیکھی۔
ہاں۔ اب سےہر روز سحری تم ہی کروائوگئ مجھے۔
وہ پھر پٹری سے اتری۔
اور تم بدلے میں مجھے کل والی دعا ہی روز دیا کرنا۔
اس نے بھی فورا شرط رکھی۔
کل کیا دعا کی تھی میں نے۔ اسے واقعی یاد نہیں تھا
جانے دو۔ سنتھیا برا مان گئ۔
اریزہ نے سر کھجایا۔
ایک تو میں گجنی۔ سچی میں نہیں یاد۔چلو یہی دعا کر دیتی ہوں کہ میری کل والی دعا قبول ہو جائے تمہارے لیئے خوش۔
اس نے منانا چاہا۔
آمین۔ سنتھیا نے صدق دل سے کہا تھا
اچھا میں تمہارے لیئے کیک سینڈوچ لائی تھی
اریزہ کو کھا پی کے اب یاد آیا تھا۔
صبح کھا لوں گئ۔ دس بجے بھوک لگ جاتی ہے اس وقت کھا کے۔ تمہیں نہیں لگتی؟
سنتھیا کو خیال آیا۔
پیاس لگتی ہے بس بھوک ووک نہیں لگتی۔
اس نے دیانت داری سے جواب دیا۔
ظاہر ہے دھوپ اتنی تیز ہے آجکل اور اتنا چلنا۔بس کل میں اور تم بس ڈیپارٹمنٹ میں ہی رہیں گے یہ جو ہر روز اس یونیورسٹی کا نیا ڈیپارٹمنٹ دیکھنے کا شوق چڑھتا ہے نا اسے رمضان کے بعد تک کیلئے اٹھا رکھو۔ اور پانی بس ایک گلاس پیا تھا تم نے کل پانی تو پیا کرو پانی کی کمی نہ ہو جائے۔ توبہ ہے اریزہ اب یہ سب بھی مجھے تمہیں بتانا پڑے گا۔
سنتھیا کا خیال رکھنے والی سہیلی والا موڈ آن ہو چکا تھا اسکے پاس سوائے سر ہلانے ہاں میں ہاں ملنے کے اور کوئی راستہ نہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش میں پلاسٹک سرجری کروا چکی ہوتی ۔۔ اس ایونٹ کو اتنا میڈیا میں اچھالا جائے گا کیا خبر کسی ہدایت کار کی نظر مجھ پر ٹھہر جاتی ۔۔
گوارا کوریائی روایتی لباس پہنے خود کو ہر زاویئے سے قد آدم آئینے میں دیکھ رہی تھی۔۔
گوارا آئنے کی جان چھوڑو اسکرپٹ پر دھیان بھی دے لو۔۔
یون بن نے ٹوکا تو وہ منہ بناتی اسکے پاس چلی آئی۔
رٹی رٹائی کوریائی داستان ہے۔۔
بادشاہ اپنی اکلوتی بیٹی کو دشمنوں کے خوف سے ایک خفیہ قلعے میں چھپا کر رکھتا ہے ۔۔ وزیر کو کسی طور خبر مل جاتی ہے شہزادی کہاں ہے سو وہ ہیرو کو اسے مارنے کیلیئے بھیجتا ہے۔۔ ہیرو کو شہزادی پہلئ نظر میں پسند آجاتی ہے۔۔ وہ اسے مارنے کی بجائے اسکی محبت میں مبتلا ہو جاتا۔۔ وزیر مزید قاتل بھیجتا ہیرو سب کو مار دیتا مگر خود بھی شہزادی کو بچاتے تیر کھا کر مر۔جاتا۔۔شہزادی۔۔ رو رو کر اسکیلئے گانا گاتی ہے بس۔۔
اس نے کندھے اچکائے یون بن ہنس پڑا۔۔
یہ ڈیڑھ گھنٹے تک چلے گا۔۔ اتنے لمبے ڈائلاگز ہیں یاد کرنا آسان نہیں ہے یہ ہائی اسکول ڈرامہ نہیں ہے اسکو ہلکا مت لو۔۔
اس نے سمجھانا چاہا۔۔
یون بن اگر ہر ہائی اسکول کے ڈرامہ میں ہم مرکزی کردار ادا نہ کرتے تو کیا ہم گرل فرینڈ بوائے فرینڈ ہوتے۔۔
گوارا نے یونہی پوچھا
ہماری دوستی ہی ایک جیسی دلچسپیاں رکھنے کی وجہ سے اکٹھے رہنے کی وجہ سے بڑھی۔
یون بن نے سرسری انداز میں کہا۔۔
وہ لباس میں الجھا ہوا تھا۔۔ مخصوص کوریائی بڑے چوغے نما ریشمی لباس اسے بری طرح گرم کر چکا تھا۔۔ ہاتھ کو پنکھے کی طرح جھل رہا تھا۔۔ گوارا اسکی حالت دیکھ کر مسکراہٹ دبا رہی تھی۔۔
یہ کہہ رہے تھے وگ لگانی پڑے گی۔۔ ایک یہ پرانے لوگ بال کیوں نہیں کٹواتے تھے۔۔ وہ لمبے بالوں کی وگ اٹھا کر الٹ پلٹ کر رہا تھا۔۔
ہم کسی اور چیز میں حصہ نہ لیں ۔۔ یون بن نے بے چارگی سے کہا۔۔۔
مجھے اسی کا حصہ بننا۔۔ گوارا نے ضدی لہجے میں کہا۔۔
مجھے اس کہانی کی خاص بات یہ لگتی ہیرو ہیروئن سے محبت کرتا ہے اتنی کہ اسکی خاطر جان بھی دے دیتا۔ہے۔۔ کم از کم ڈرامہ کرتے ہی تم میرے لیئے مروگے میں یہ دیکھنا چاہتی۔۔ گوارا کا انداز سنجیدہ تھا۔۔یون بن نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ اسکے انداز میں اسکے چہرے پر میں مزاق کر رہی ہوں بدھو بنایا جیسا کچھ نہیں تھا۔۔
تم مجھے مرتے دیکھنا چاہتی ہو؟۔ وہ الجھا۔۔
اپنے لیے جان دیتے دیکھنا چاہتی۔۔ وہ قصدا مسکرائی
ایک ہی بات ہے۔۔
اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔ گوارا نے ایک۔نظر اسے دیکھا پھر دوبارہ آئنے کی طرف بڑھ گئ۔۔
بو ٹوکس تو کروا ہی سکتی ابھی کم از بھی پندرہ دن تو ہہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی گرمی کا فیسٹیول چل رہا تھا یونیورسٹی میں۔ دو تین اکٹھی چھٹیاں آگئی تھیں۔
چلو یار یہاں ہاسٹل میں کیا کرنا میرے اپارٹمنٹ چلو مل کر ہلہ گلہ کریں گے۔
گوارا ایک بار پھر سر تھی انکے۔
ایڈون اور میں آئوٹ اسٹیشن جارہے ہیں۔ اچھا ہوا تم نےپوچھ لیا۔ اریزہ تم اسکے ساتھ چلی جائو یہاں اکیلی کیسے رہو گی میں تو اب اتوار کوہی آئوں گئ۔
سنتھیا اطمینان سے پہلے گوارا پھر اس سے مخاطب ہوئی
تم تو چلو گی نا۔ گوارا نے اسے دیکھا تو وہ اثبات میں سر ہلا گئ۔
اوکے میں ذرا اپنی چیزیں سمیٹ لوں۔ وہ فورا چٹکی بجاتی بھاگی تھئ
سنتھیا۔ تم ایڈون کے ساتھ مت جائو۔
اس نے بہت سوچ کے اسے کہا تھا۔ سنتھیا بال بنا رہی تھی اسکے ہاتھ ایک دم رکے۔ اس نے چونک کر اریزہ کی شکل دیکھی۔ اسکے ہی بیڈ پر بیٹھی وہ غیر مرئی نکتے پر نگاہ جمائے سوچ سوچ کے بول رہی تھی۔
تمہیں کیا تکلیف ہے۔
اس نے برے لہجے میں ہی ٹوکا تھا۔ مگر اریزہ نے دھیان نہ دیا۔
ہم۔ میرا مطلب ہے مجھے۔ ہم سب کو ہی۔
سنتھیا اسکی بات مکمل کرنے کے انتظار میں کھڑی تھی۔
کیا؟ اس سے صبر نہ ہوا۔
یار ہم اس ملک کے نہیں۔ ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کے بیچ فاصلہ رہنا چاہیئے۔ تم۔ اور ایڈون اکیلے ۔ دیکھو میں۔۔۔ تم سمجھدار ہو اپنا برا بھلا سمجھتی ہو۔ پر یوں اسکے ساتھ کئی دن کیلئے جانا مناسب نہیں لگتا
وہ جھجک سئ گئ۔
تمہیں کیا لگتا ہے میرے اور ایڈون کے درمیان کچھ ہو چکا ہے۔
وہ استہزائیہ سے انداز میں ہنسئ
نہیں میں ایسا نہیں کہہ رہی۔
وہ گھبرا کر بستر سے اتر آئئ۔
تم مجھے غلط مت سمجھو۔ میں تمہیں دوست بلکہ اپنی بہن ہی سمجھتی ہوں۔ میں بس تمہیں سمجھا۔۔۔ میں تمہارے بارے میں الٹا سیدھا سوچ بھئ نہیں سکتی یار بچپن سے جانتی ہوں تمہیں۔
اسے لگا تھا سنتھیا ناراض ہوگئ ہے۔ سنتھیا اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ اسکی شکل پر سوائے سنتھیا کی فکر کے کچھ نہ تھا۔ اس نے گہری سانس لی۔
تم نے دیر کر دی ہے اریزہ۔ میں اور ایڈون ایک ہو چکے ہیں۔ اب تو یہ بات پرانی بھی ہو چکی ہے۔
وہ ہنسئ۔ اریزہ سناٹےمیں آگئ تھئ۔ اسکے چہرے کی حیرت دیکھتے سنتھیا نظر چرا گئی
تم پتہ نہیں کس جہان میں رہتی ہوگرو اپ بے بی۔ ۔ تمہیں کیا لگتا گرل فرئنڈ بوائے فرینڈ اکٹھے کسی جگہ عبادت کرنے جاتے ہیں۔ ایڈون تو ویسے بھی۔
وہ بولتے بولتے زبان دانتوں تلے دبا گئ۔ اریزہ ایک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے اسکی ان نگاہوں سے الجھن آرہی تھئ
ویسے بھئ۔ اس نے تھوک نگلا۔
میں اور ایڈون مسلم تھوڑی ہیں جتنا بڑا مسلئہ مسلمز کیلئے ہے اتنا ہمارے لیئے تھوڑی اور مسلمز بھئ تو اب ویلنٹائن ڈے مناتے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بن جاتے یہ گڈ اولڈ ویلیوز تو اب پاکستان میں بھی کوئی فالو نہیں کرتا مائی ڈئیر۔
وہ بال بار بار سلجھا رہی تھی۔ پھر بھی کوئی نہ کوئی بال الجھتا یا سوچ الجھتی۔ وہ اور زور سے برش بالوں میں چلانے لگتی۔
مگر تم کم ازکم پاکستان میں فالو کرتی ہی تھیں یہ گڈ اولڈ ویلیوز۔
وہ آخری الفاظ پر زور دیتی پیر پٹختی باتھ روم میں گھس گئ دروازہ دھاڑ سے بند کیا تھا۔
تمہیں اتنا برا کیوں لگا۔ میرے لیئے۔ یا۔ ۔۔
سنتھیا اس ادھیڑبن میں لگ گئ بند دروازے کو دیکھتے جانے کیا کیا وہم پال۔لیئے۔
اور باتھ روم میں چہرےپر پانی کے چھپاکے مارتے اریزہ
سوچ رہی تھی۔
زندگی جوا نہیں۔۔۔ جو ایسا سوچتے وہ نقصان اٹھاتے ہیں۔سب کچھ دائو پر لگا کر اگر صرف ایک رشتہ بچ رہا ہو تو یقینا یہ خسارے کا سودا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے خاموشی سے ۔ بس ضروری چیزوں کیلیئے بیگ تیار کیا تھا۔سحری کا سامان البتہ رکھ لیا تھا۔
گوارا کیب کی بجائے اسے میٹرو اسٹیشن لے آئی تھی
ہم کیب لے لیتے ہیں نا۔۔ اریزہ اتنا رش دیکھ کر گھبرائی
روز کیب سے تھوڑی آجا سکو گی۔۔ اتنا مہنگا پڑے گا۔۔ یہ اسٹیشن ہوگا یہاں سے روٹ دیکھ لو تاکہ آسانی ہو۔۔پھر تم سیول میں کہیں بھی آ جا سکتی ہو
گوارا ٹکٹ لیتے ہوئے اسے سمجھا رہی تھی۔۔
تم بھی تو ساتھ ہوگی نا۔۔
وہ منمنائی گوارا زور سے ہنسی۔۔
اور جب میں نہیں ساتھ ہونگی تو کیا گھر سے نہیں نکلو گی۔۔
میں ہاسٹل میں ہی ٹھیک تھی۔۔ وہ منمنا کر رہ گئ۔۔ گوارا سن نہیں پائی تھی۔۔
میٹرو کھچا کھچ بھری تھی۔۔
خواتین کو علیحدہ سیٹ دینے کا رواج تو دور مزے سے سیٹ پر مرد بیٹھے تھے خواتین انکے سامنے ہینڈل پکڑے کھڑی تھیں۔۔اسطرح آنےجانے کا تصور اسکےلیئے محال تھا۔۔
بیگ تھامے وہ کسی ننھی بچی کی طرح گوارا کے پہچھے چھپ رہی تھی۔۔ خدا خدا کرکے اسٹاپ آیا تو کتنے ہی لوگ ٹکراتے گزر گئے۔۔ اس نے بہت نا پسندیدہ انداز میں اپنا کندھا جھاڑا۔۔ گوارا اسکا انداز دیکھ کر کھلکھلائی۔۔
جراثیم لگ گئے تمہیں انکے۔۔ اس نے کندھا مار کر چھیڑا
اریزہ مسکرا بھی نہ سکی۔۔ وہ ابھی سے پچھتانے لگی تھی۔۔ گوارا کی بلڈنگ سے اسٹاپ زیادہ دور نہ تھا۔۔
مارکیٹ تو دو دفعہ جا چکی تھی کچھ کچھ راستوں کی پہچان ہوگئ۔۔ اپارٹمنٹ پہنچ کر اس نے اریزہ سے ہی لاک۔کھلوایا۔۔
اسکا پاسورڈ بھی یاد کر لو۔۔1995
میرے والدین کی شادی اس سال ہوئی تھی۔۔ وہ بتا کر ہنسی۔۔
اریزہ بیگ اٹھائے اٹھائے تھک چکی تھی۔۔ کمرے میں آکر بیگ رکھ کر بیڈ پر دھم سے گری
تم تھک گئیں۔۔ چایے پلائوں؟۔۔
اس نے ہمدردی سے پوچھا تھا اس نے بے ساختہ ہاتھ جوڑے۔۔
نہیں۔۔
گوارا زور سے ہنسی۔ تو اریزہ شرمندہ سی ہو گئ
یار وہ ہم چائے کے نام پر جو پیتے وہ بالکل بھی ویسا کچھ نہیں ہوتا جو یہاں چائے کے نام۔پر پیا جاتا۔۔
اس نے وضاحت کی
جانتی ہوں انگریزی چائے ۔۔ ملتی ہے وہ بھی یہاں۔۔ تم لا۔کر رکھ لینا اب تو یہ گھر تم اپنا ہی سمجھوجو مرضی کھائو پکائو۔ عیش کرو۔۔ وہ مزے سے کہتی الماری سے کپڑے نکالتی باتھ روم شاور لینے گھس گئ۔۔
یہ فائدہ تو ہے۔۔ اس نے باآواز بلند سوچا۔۔
آج افطاری پر کیا بنائوں۔
دور بیڈ پر پڑے اسکے موبائل کی اسکرین پھر روشن ہوئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پنڈی کا موسم دونوں طرح سے زیادہ ہوتا گرمیوں میں پینتالیس تک چلا جاتا تو سردیوں میں نقطہ انجماد سے بھی گر جاتا۔۔
سالک بتا رہا تھا یون بن پوری آنکھیں کھول کر دیکھ رہا تھا۔۔ دونوں سالک کے بیڈ پر دراز تھے سالک ٹیک لگا کر بیٹھا تھا تو یون بن تکیہ کھینچ کر اس پر اوندھا لیٹا دلچسپی سے سن رہا تھا۔۔
پینتالیس۔۔ ڈگری میرے خدا۔۔ تم لوگ کیسے برداشت کرتے ہو ۔۔۔وہ بھر پور حیرت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔۔
عادی ہیں۔۔ سالک نے ایسے کہا جیسے کوئی بڑے اعزاز سے نوازا گیا ہو اسے۔۔
ہمت ہے بھئ تم لوگوں کی۔۔ ہم تو چالیس تک بھی نہیں جا پاتے تب بھی یہاں کی گرمی برداشت نہیں ہوتی ہم سے۔۔
ہم تو روزے بھی رکھتے سارا دن پانی پیئے بغیر گزارتے اتنی گرمی میں بھی۔۔
ہیں۔۔
یون بن نے ایڈون سے سن تو رکھا تھا مگر اخلاق کا تقاضا بھی تھا سو حیران ہوا۔۔
اچھا یہ بتائوتمہاری کتنی گرل فرینڈز اب تک رہی ہیں۔۔یون بن نے پوچھا تو سالک جھینپ گیا۔۔
ایک بھی نہیں۔۔
کیوں۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
بس ۔۔ اسے سمجھ نہ آیا کیا جواب دے۔۔
اتنے ہینڈسم ہو اسمارٹ ہو مجھے لگتا پاکستانی لڑکیوں کی قریب کی نظر کمزور ہوتی ہے۔ ایڈون کو اسکے تاثرات مزا دے گئے تھے
سو مزید چھیڑنے لگا۔۔
ہاں اس بات سے تو متفق ہوں۔۔ وہ ہنس دیا
اچھا ویسے پاکستانی لڑکیاں اریزہ جیسی ہوتی ہیں یا سنتھیا جیسی۔۔
یون بن نے پوچھا تو اس نے فٹ سے جواب دیا۔
اریزہ جیسی۔۔
مطلب گوری ہوتی ہیں۔۔ اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔
نہیں۔۔ میں شکل کی بات نہیں کر رہا۔
سالک نے اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔۔
پھر۔۔ یون بن کو سمجھ نہیں آیا۔۔
گوری بھی ہوتی ہیں کالی بھی مگر میں شخصیت کی بات کر رہا اریزہ جیسی ہوتی ہیں شرمیلی سی۔۔سنتھیا تو۔۔۔
سالک بول رہا تھا تبھی دروازے پر کھٹکا ہوا۔۔
ایڈون تھکا تھکا سا کمرے میں داخل ہوا ادھر ادھر دیکھے بغیر شاپر بیڈ پر پھینکتا سیدھا بیڈ پر ڈھیر ہو گیا۔۔
سالک نے باقی الفاظ منہ میں روک لیئے۔۔ یون بن نے اسکی حرکت نوٹ کی مگر بولا کچھ نہیں۔۔
ایڈی کہاں تھا
سالک نے فورا پوچھا۔۔
کچھ نہیں بازار تک گیا تھا۔ اس نے شاپر غیر ارادی طور پر کھینچ کر تکیئے کے نیچے کردیا
کم سن کا کاٹیج ہے شہر سے کچھ فاصلے پر وہاں رہنےجا رہا ہوں ۔۔ ایڈون نے لیٹے لیٹے ہی جواب دیا۔۔
دونوں اردو میں بات کر رہے تھے تو یون بن سیدھا ہو کر موبائل دیکھنے لگا۔
ہمیں بتاتا ہم بھی چلتے۔۔ سالک نے کہا تو ایڈون سیدھا ہو بیٹھا۔۔
وہ بغور سالک کو دیکھ رہا تھا۔۔ وہ سادگی سے ہی کہہ رہا تھا
ایڈون نے جواب نہیں دیا جوتے اتارنے لگا۔
تم اکیلے تو نہیں جا رہے ہو ہے نا۔
سالک نے اس بار جتایا ہی تھا۔۔
لیس کھولتے ایڈون کے ہاتھ پل بھر تھمے۔۔
میں کوئی لیکچر نہیں دینا چاہتا مگر تم بہت تیز بھاگ رہے ہو۔۔ اور بھاگ بھی خود سے رہے ہو خدا کرے تم گر نہ پڑو۔۔
ایڈون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ وہ طنز نہیں کر رہا تھا۔۔ اسے دیکھ کر تاسف سے کہہ رہا تھا۔۔ ایڈون برا نہ مان سکا۔۔
سالک بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے چادر نکال رہا تھا۔۔ اسکا نماز کا ارادہ تھا شائد۔۔ وہ وضو کرنے باتھ روم گھس گیا۔۔
یون بن کو بھی اندازہ ہو گیا تھا۔۔سو وہ اٹھ کر باہر چلا گیا۔۔ ایڈون جوتے بیڈ کے نیچے کھسکا کر سیدھا ہو لیٹا۔۔
پھر کچھ احساس ہوا تو اپنی ہتھیلی پر پھونکا
الکوحل کی محسوس کر لی جانے والی بو تھی۔ وہ تھکا ہوا تھا مگر پھر بھی اپنے جوتے ایک طرف کرکے چپل پہنتا کمرہ خالی کر گیا۔۔
سالک وضو کر کے ہی نکلا تھا آرام سے کونے میں چادر بچھا کر نیت باندھ لی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن نے ہایون کو اپنی آمد سے مطلع کرنے کیلیئے سیکٹری سے کہا تو وہ عاجزی سے جھک کر معزرت کرنے لگی۔۔
سر اس وقت کسی سے نہیں مل سکتے بہت مصروف ہیں۔
کم سن نے ایک۔نظر اسے دیکھا اسکا کائونٹرہایون کے کمرے کے باہر تھا۔۔ وہ دروازہ کھولتا اندر گھس گیا۔۔
سیکٹری گھبرائی ہائیں ہائیں کرتی۔پیچھے دوڑی۔۔
آہجوشی۔ ایسا مت کیجئے ڈاریکٹر صاحب خفا ہونگے۔۔
ڈاریکٹر صاحب کے دوست ان جیسے ہی تو تھے۔۔ کمرے میں گھس کر سب سے پہلے بلائینڈز ہٹا دیں۔۔ کمرے میں بلائنڈز ڈال کر سب بتیاں بجھا کر ڈاریکٹر صاحب کسی اہم میٹنگ میں ہی مصروف تھے مگر اپنے خواب میں۔۔
اسکے جارحانہ انداز میں دروازہ کھولنے اور بلائنڈز ہٹانے سے اسکی نیند ٹوٹ ہی گئ۔۔ کسمساتا آنکھیں مسلتا اٹھ بیٹھا۔
میں نے آہجوشی کو روکنے کی پوری کوشش کی تھی۔۔
سیکٹری بری طرح گھبرائی ہوئی تھی لگتا تھا رو پڑے گی۔۔
کم سن اسے جتاتی نظروں سے گھور رہا تھا۔۔
جمائی لیتے ہایون نے ایک نظر تھر تھر کانپتی سیکٹرئ کو دیکھا پھر انگریزی میں وضاحت کرنے لگا۔
قسم اٹھوا لو جو میں نے اس سے اونچی آواز تو دور فالتو بات بھی کی ہو۔۔ پتہ نہیں کیوں اتنی خوفزدہ رہتی مجھ سے۔۔ وہ بے چارگی سے اپنی روہانسی سیکٹرئ کو دیکھ رہا تھا۔
یہ تمہارا نہیں تمہارے عہدے کا رعب ہے اگر تم اس عہدے پر آہی گئے ہو تو کم از کم سو سو کر اس عہدے کی توہین تو نہ کرو۔۔ کچھ کام ہی کر لو سیکھ لو۔۔
کم سن نے کہا تو وہ برے برے منہ بنانے لگا۔۔
خالی پیٹ لیکچر۔۔
پھر ہنگل میں سیکٹری کو کچھ کھانے کو لانے کو کہا۔۔ وہ جان چھڑاتی جھک کر سلام کرتی بھاگ گئ۔۔ وہ اٹھ تو گیا تھا مگر صوفے سے اٹھ نہیں رہا تھا۔ کم سن گھوم کر اسکے سامنے آبیٹھا۔۔
تمہارے ابا میرے ابا کی کمپنی کو دیوالیہ کرنے پر تلے ہیں۔۔
اس نے بلا تمہید کہا۔۔
تمہارے ابا نے میرے ابا کی کمپنی دیوالیہ کرنے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی
ہایون نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔۔
دونوں زور سے ہنس پڑے۔۔
میں ایک پرپوزل لے کر آیا ہوں۔۔ کم سن نے ایک فائل اسکی۔جانب بڑھائی۔۔
میں کاروبار میں دلچسپی نہ پہلے لیتا تھا نہ اب لینے کا ارادہ ہے۔۔
ہایون نے فائل رکھ دی اور بیزاری سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
کم سن کےلیئے اسکا ردعمل غیر متوقع نہیں تھا۔
جیسے تم اپنے باپ سے لڑے بیٹھے ویسے ہی میں بھی۔۔ مگر جیسے تمہارا باپ تم کو نہیں چھوڑتا اکلوتا ہونے کی وجہ سے۔۔ میرے باپ کی ایسی کوئی مجبوری نہیں۔۔ میرے باقی بھائی میرے باپ کیلیئے کافی ہیں۔۔ میرا باپ مجھے عاق کر چکا میرے پاس فی الحال صرف وہی کچھ ہے جو میں نے خود کمایا اور وہ اتنا نہیں کہ میں ۔۔
وہ رکا۔۔
یہ گھر خرید سکوں۔۔ تم مجھے یہ خرید دو۔۔ اسکا انداز ملتجی ہوگیا تھا۔۔
ہایون اسکے انداز پر پگھل سا گیا۔۔
جھٹ سے فائل اٹھا کر دیکھنے لگا۔۔
یہ تو۔۔ وہ چونکا۔۔
ہاں۔۔ کم سن نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جون جے نے پیغام بھیجا تھا۔
مل سکو تو مل لو میں گنگم اسٹریٹ میں ہوں۔۔
ہایون کو اسکا پیغام ملا تو وہ اس وقت ڈرائیو ہی کر رہا تھا۔۔ اگلے چوک سے گاڑی موڑ کر سیدھا گنگم اسٹریٹ پہنچا تھا۔ رات کے اندھیرےچھا چکے تھے وہ اپنے مخصوص ترکی ریستوران میں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔۔
اسے دیکھ کر نان چھوڑ کر تپاک سے گلے ملا۔۔ ہایون نے ہاتھ ملانے کو آگے بڑھایا تھا مگر وہ تو گلے ہی۔لگ گیا۔۔
کیسے ہو۔ وہ اسی جوش بھرے انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔
ٹھیک۔ہوں۔۔ ہایون حیرانی چھپا نہیں پا رہا تھا۔۔
بیٹھو۔۔
جون جے نے اسکو بیٹھنے کا۔کہا تو وہ جھجکتے ہوئے بیٹھ گیا۔۔
مجھے لگا تھا تم نہیں آئو گے سو میں نے کھانا آرڈر کر دیا۔۔ تم نے کچھ اور منگوانا ہو تو منگوا لو۔۔
وہ شرمندہ ہوتے ہویے کہہ رہا تھا۔۔
یہ تو کوئی اور ہی ملک کا کھانا ہے مجھے اندازہ نہیں کیا اور کیسا ہوگا۔۔
ہایون نے صاف گوئی سے کہا ۔
عربی ریسٹورںٹ ہے۔۔ جون جے نے بتایا۔۔
پھر اپنا نان اور سالن آگے کر دیا۔۔ وہ چکن کھا رہا تھا۔۔
اسے چکھ کر دیکھ لو اچھا ہے ۔۔
ہایون کو سمجھ نہ آیا کیسے کھائے تو اس نے نوالہ بنا کر اسے کھلایا۔
مزے کا تھا۔۔
وہ رغبت سے کھانے لگا۔۔
تم ویسے چکن کھانا چھوڑ نہیں چکے تھے اسلام کی وجہ سے۔۔ ہایون ٹوکے بنا نہ رہ سکا۔۔
جون جے ہلکے سے مسکرا دیا۔۔
حلال کرکے چکن کھاتا ہوں۔۔ یہ ویسے مسلمان ملک کا ریستوران ہے یہاں چکن حلال کرکے ہی پکتا۔
حلال۔۔ اس نے حیرانی سے پوچھا۔۔
حلال۔۔ جون جے سوچ میں پڑا کیسے سمجھائے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بچپن میں کہانی سنی تھئ۔ بابر کی۔
اچھی طرح یاد نہیں مگر کچھ کچھ یوں تھی کہ بابر ایک شہزادہ تھا جو جنگیں لڑتا ہارتا جیتا جنگلوں بھٹک رہا تھا۔کئی دن بھوکے گزرے اسکے۔ جب شکار نہ ملا تو اس نے ایک درخت کے پتے توڑے چبائے اسکی چھال کی اوک میں ٹھہرا پانی پیا اور کہا
بابر با عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔۔
بابر عیش کر لو یہ دنیا دوبارہ نہ ملے گی۔
دنوں کے بھوکے کو ان پتوں پانی سے بھوک مٹنے کا احساس کیسا فرط انگیز محسوس ہوا ہوگا مجھے آج اندازہ ہوا۔
اس سادہ سئ افطاری نے مجھے آج بابر کا عیش کروانا ہے۔ اور میں بابر کی طرح ہی شکر گزار بندی بن کر کھائوں گئ۔
اس نے بلاگ پر اپنی افطاری کی تصویر کھینچ کر لگاتے ہوئے یہ لکھا تھا۔
اسکی افطاری تھئ۔
سادہ روٹئ جس پر لہسن اور نمک مرچ کی کٹی ہوئی چٹنی رکھ کر وہ کھا رہی تھی ساتھ گلاس بھر کر سادہ پانی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا کمنٹ۔۔
میرے گھر کی افطارئ دیکھو۔
ساتھ انواع و اقسام کے کھانوں کی تصویر۔
دوسرا کمنٹ
افطاری کی۔تصویر۔
تیسرا کمنٹ
دوستوں کو افطاری کرواتے ہوئے لی گئ سیلفی میز کھانے سے بھری تنی ہوئی۔
چوتھا کمنٹ ۔۔ پانچواں چھٹا۔ ساتواں سارے ہی کمنٹس تصویروں بھرے
ایک سے ایک۔دعوتی کھانے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صارم نے اسکے بلاگ پر لکھنے کی بجائے سیدھا انباکس کیا تھا۔
یہ دیکھو تمہارے گھر کی افطاری اب احساس ہوا کیا کچھ پیچھے چھوڑ آئی ہو۔
اس عنوان کے ساتھ دل جلانے والے اسمائیلیز
اور گھر کی افطارئ کی تصویر۔
پکوڑے۔ چنا چاٹ دہی بڑے فروٹ چاٹ کچوری جام شیریں بھرا ہوا جگ ، رول سموسے۔ اور ۔۔
اس نے دونوں انگلیوں کی مدد سے تصویر بڑی کی۔ اسکا اپناسر بھی نظر آرہا تھا وہ اسکے سامنے رخ موڑے بیٹھی۔تھی تصویر سے بچنے کو ہی۔ یہ یقینا پچھلے سال کی۔تصویر تھئ۔
اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔
اس وقت کیا کھا رہے اسکی تصویر بھیجو۔۔
حکم کی فوری تعمیل ہوئی۔
ساگ گوشت اور روٹی۔
ساتھ ایک جملہ۔
خالہ کی۔طبیعت ٹھیک نہیں تھی آج
اس نے موبائل ایکطرف رکھ دیا۔ اور افطاری کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد
جاری ہے

Kesi lagi Aapko aaj ki Salam Korea ki qist? Rate us below

Rating

aik jalti khawab ki waadi hay

ek jalti khawab ki wadi hay…
khak urati ankho main…
bojhal palkain bheeg k…
us ka sath nibhati hain…
akelay me jo rota ho…
apna aap khojta ho…
jo jal gaya ho apne hi dil se…
us ko marham laganay ko…
apnay hi hath na uthtay houn…
tatoltay hue andhero main…
koi bhatka musafir ayay…
dekh ke ye pachtayay…
shab se dasay hue log…
chup ki maut hain mer chukay…
kon unhain dafnayay…
sansain tau letay hain…
ek jalti khawab ki wadi hay…
roz mertay hain log hazaro…
haqeeqat is ki aadi hay…

by vaiza zaidi hajoom e tanhai

ایک جلتی خواب کی وادی ہے
خاک اڑاتی آنکھوں میں
بوجھل پلکیں بھیگ کر اسکا ساتھ نبھاتی ہیں
اکیلے میں جو روتا ہو
اپنا آپ کھوجتا ہو
جو جل گیا ہو اپنے ہی دل سے
اسکو مرہم لگانے کو
اپنے ہی ہاتھ نہ اٹھتے ہوں
ٹٹولتے ہوئے اندھیروں میں
کوئی بھٹکا مسافر آئے
دیکھ کے یہ پچھتائے
شب سے ڈسے ہوئے لوگ
چپ کی موت ہیں مرچکے
کون انہیں دفنائے
سانسیں تو لیتے ہیں
ایک جلتی خواب کی وادی ہے
روز مرتے ہیں لوگ ہزاروں
حقیقت اسکی عادی ہے۔۔

از قلم واعظہ زیدی ہجوم تنہائی

Salam Korea Episode 13

salam korea 13

قسط 13

آج کلاس نہیں ہوگی سر نہیں آئے۔۔
وہ کلاس میں جارہی تھی جب شاہزیب نے اسے پکار کر بتایا۔۔
وہ ایڈون اور سالک کلاس کے باہر سیڑھیوں پر لائن سے بیٹھے تھے۔۔
سنتھیا نہیں آئی؟۔۔ ایڈون نے پوچھا
اٹھا کر تو آئی ہوں آتی ہوگی۔۔
وہ بتا کر مڑنے کو تھی
اریزہ رکو۔۔ ایڈون نے کہا تو وہ مڑ کر دیکھنے لگی
یہ لو ہم کیلنڈر لائے تھے رمضان کا۔
وہ بالشت بھر کا کارڈ سا تھا۔
شکریہ۔ اس نے کہہ کر سب سے پہلے اوقات کار دیکھے تو آنکھیں کھل سی گئیں۔۔
3 بج کر اڑتیس منٹ پر سحر اور سات بج کر تریپن منٹ پر افطار۔یعنی پنڈی کے مقابلے میں آدھا پونا گھنٹہ لمبا روزہ۔
وہ دل ہی دل میں حساب لگا رہی تھی
تھوڑا لمبا ہوجائے گا مگر موسم یہاں کا پنڈی جتنا ظالم نہیں ہے۔
ایڈون کے کہنے پر وہ خفت ذدہ سی ہوئئ۔
ہاں شکر ہے یہاں اتنی گرمی نہیں۔
ہم بازار جا رہے ہیں اریزہ چلو گی ؟ سالک نے پوچھا تو وہ سہولت سے انکار کر گئ۔
نہیں۔۔۔
کھجور لائیں تمہارے لیئے ؟
شاہزیب پوچھ رہا تھا۔ وہ پھر ہاں کہتے کہتے رک گئ۔
ایک آدھ دن تو بنا کھجور گزارا چل جائے گا۔
نہیں شکریہ۔ اس نے منع کردیا۔
کھجوریں یہاں عجوہ والی مل رہی تھیں تھوڑی مہنگی ہیں مگر اسکا ذائقہ ہی الگ ہوتا ہے۔
پہلا روزہ کوئی اندازہ ہے کب ہوگا۔
وہ سوچ میں پڑی تھی۔
کل ہو سکتا ہے پرسوں بھئ۔ یہاں ویسے ایک ہی ہوگا پاکستان کی۔طرح دو دو چاند نہیں دیکھیں گے لوگ۔
ایڈون نے ہلکے پھلکے انداز میں طنز کیا۔
کاش پاکستانی بھئ دو دو چاند دیکھنا چھوڑ دیں۔
اریزہ نے کہا تو تینوں نے دل سے آمین کہا۔
ایڈون۔۔ سنتھیا دور کھڑی آواز دے رہی تھی۔۔اریزہ نے مڑ کر دیکھا وہ فاصلے پر تھی مگر یہاں آسکتی تھی۔ اسے اسکا رویہ خاصا حیران کر رہا تھا۔
یہاں آجائو۔۔ ایڈون کا اٹھنے کا ارادہ نہیں تھا۔۔
سنتھیا اشارے سے اسے اب بھی بلا رہی تھی۔۔
آتا ہوں۔۔ وہ کہہ کر اٹھ گیا۔۔
یہ دونوں بہت اونچی ہوائوں میں ہیں۔۔ شاہزیب ہلکی سی آواز میں بڑ بڑایا۔۔ مگر اریزہ نے سن لیا۔۔
مطلب۔۔ وہ نظر انداز نہیں کر سکی۔۔
تم نہیں سمجھو گی۔۔ سالک ہنس پڑا۔۔
کیوں نہیں سمجھوںگی۔۔ وہ اور الجھی۔۔
تم نے دیکھا نہیں یہاں آکر دونوں کے رنگ ڈھنگ یہاں کے لوگوں جیسے ہی ہو گئے ہیں۔۔ شاہ زیب نے کھل کر کہا
اریزہ نے مڑ کر دیکھا دونوں ایک دوسرے کا۔ہاتھ پکڑ کر مگن باتیں کرتے باہر جا رہے تھے۔۔
وہ مسلم نہیں ہیں یار انکا مزہب انکی ثقافت الگ ہی ہے وہ ہم لوگوں کی طرح نہیں سوچتے۔۔
وہ وہیں انکے قریب ہی سیڑھیوں پر ٹک گئ۔۔
مزہب الگ سہی ثقافت کیسے الگ۔۔ سنتھیا کی ڈریسنگ ہی دیکھ لو ٹھیک ہے وہ پاکستان میں بھی ویسٹرن ڈریسنگ کرتی تھی مگر یہاں تو آکر شارٹ اسکرٹس پر آگئ ہے۔۔ تم۔ٹوکتی نہیں ہو اسے؟۔۔
شاہزیب ناپسندیدہ انداز میں کہہ رہا تھا اریزہ زور سے ہنس پڑی۔۔
ہاں اماں ہوں نا میں اسکی۔۔ واپس آتی ہے تو ٹھکائی کروں گی اسکی ۔۔
اس نے شرارت بھرے انداز میں کہا۔۔
پھر بھی یار۔۔ کوئی تہزیب بھی ہوتی ہے۔۔ ہماری تو یہ تربیت بھی نہیں ثافت بھی نہیں۔۔
آیا بڑا دادا ابا۔۔ سالک نے بھی مزاق اڑانا شروع کر دیا۔
تیرے بچے ہیں جو تو انکے غم میں گھل رہا۔۔
میری بلا سے۔۔ اس نے بھی سر جھٹک دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا کو فون ملا رہی تھی مگر اٹھا نہیں رہے تھے۔ اس نے تھک کر میسج لکھنا شروع کیا
بابا پیسےچاہیئیں ؟؟؟ اس بار رمضان کی وجہ سے جلدی بھجوا دیں ذیادہ بھئ۔
اس نے یہی لکھ کر بھیجا۔ پھر جی ہائے کی تلاش میں لگ گئ۔
جی ہائے اور ہایون ٹینس کھیل رہے تھے۔۔
جی ہائے کافی مشکل وقت دے رہی تھی اسے۔۔ دونوں کے پوائنٹس برابر تھے۔۔۔ ہایون اور وہ بھاگ بھاگ کر پسینے پسینے ہو رہے تھے۔۔ اریزہ جی ہائے کو پوچھتی پچھاتی یہاں پہنچی تھی۔۔ دونوں کھیل میں اتنا مگن تھے کہ اریزہ کے آواز دینے پر بھی نہ چونکے۔۔۔ وہ خاموشی سے آکر سیڑہیوں پر بیٹھ کر انکے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔۔
دونوں ہی بہت محنت کررہے تھے۔ جی ہائے ہایون کو کافی ٹکر دے رہی تھی۔۔
یہ دونوں کتنے فٹ اور کیوٹ ہیں۔۔
اس نے کہنی گھٹنے پر جمائی اور داہنی ہتھیلی پر آہ سی بھر کر چہرہ رکھا۔۔
یہ دونوں ساتھ کتنے اچھے لگیں۔۔
اسکو اچھوتا خیال آیا۔۔
دوست بھی ہیں ساتھ بھی رہتے۔۔اکٹھے کھیل رہے تو مطلب دلچسپیاں بھی ایک ۔۔ اوپر سے یہ ہایون اتنا لمبا ہے جی ہائے جیسی لمبی لڑکی ہی سوٹ کرے گی میرے جتنی ہائٹ والی کی تو دیکھتے دیکھتے ہی گردن درد کرنے لگے۔۔۔
وہ بغور اس عالم چنے کو دیکھ رہی تھی۔۔ ریکٹ اٹھاتا تو لگتا آسمان ہی چھو لے گا۔۔
وہ سوچ کر خود ہی ہنس پڑی۔۔
ہنسی کی آواز پر ہایون نے چونک کر آواز کی سمت دیکھا۔۔
گیند مس ہوئی ٹھا کر کےلگی اسکے کندھے پر جی ہائے نے فاتحانہ نعرہ بلند کیا۔۔
میں جیت گئ۔۔
وہ جوش سے اچھلتی نیٹ کے نیچے سے نکل کر اسکے کورٹ میں آئی۔۔ اور چڑانے لگی۔۔
آہ۔ اس نے کراہ کر کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اسکے چہرے پر تکلیف کے گہرے تاثرات تھے۔ وہ اٹھ آئی۔۔
ہایون ہار گیا۔۔ میں شرط جیت گئی فائیٹنگ۔۔ اس نےمٹھی بنا کر دکھا کر چڑایا۔۔
ہایون مسکرا کر رہ گیا۔۔ وہ ابھی بھی سہلا رہا تھا اپنا کندھا۔۔
زور کی لگی ہے۔۔ اریزہ نے پاس آکر پوچھا۔۔
آنیو۔۔ اس نے فورا ہاتھ ہٹا لیا۔۔
ہے اریزہ ۔۔ جی ہائے نے اب دیکھا تھا اسے۔۔
تم کب آئیں۔۔ دیکھا میرا میچ اسے کیسے بری طرح ہرایا میں نے۔۔ جی ہائے کھلکھلائی۔۔
بری طرح نہیں بس یہ بال مس ہو گئ ورنہ میں جیتنے نا دیتا اتنی آسانی سے۔۔
ہیون تڑپ کر بولا۔ دونوں ہنگل میں شروع ہو گئے۔۔
اب تو تم ہارے ہو ئے انسان ایسا ہی کہو گے۔۔ لڑکی سے ہار گیا کیسے مان لوں ۔۔ خالص دقیانوسی کوریائی لڑکے ہو۔۔
جی ہائے بھنائی۔۔
میں نے ایسا کب کہا میں ہرگز بھی شائونسٹ نہیں اچھا خاصا فیمینزم کا۔حامی ہوں الزام نہ لگائو۔۔
ہایون نے الزام تراشی پر گھورا۔۔
فیمنزم اور تم جائو جائو۔۔ رو رہے ہو۔۔
اریزہ سے پوچھ لو یہ ہنسی تو میں اسکو دیکھنے لگا تھا جو مس ہوئی بال ورنہ تم جیسی بگنر ٹینس پلیئر کو چٹکیوں میں اڑا دیتا ہوں میں۔۔
ہیں اریزہ۔۔ جی ہائے مڑ کر پوچھنے لگی۔۔
واٹ۔۔ وہ بے چاری ایک لفظ بھی نہ سمجھ پائی تھی۔۔
فارگیٹ اٹ۔۔ ہایون نے کہا تو جی ہائے گہری سانس لے کر اپنے کٹ بیگ کی طرف بڑھ گئ۔۔
مجھے بھی پانی دینا۔۔ اسے کٹ بیگ سے پانی نکال۔کر پیتے دیکھ کر ہایون نے آواز لگائی
ہایون بال جھٹک رہا تھا۔۔
ہایون انی بریو ہارٹ کے دوہیون سے ملوا سکتی ہیں؟۔۔ میرا مطلب وہ منتظم ہیں نا آج کی محفل کی۔۔
وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔۔
اس نے کندھے اچکائے۔۔ کہنے جا رہا تھا کیا پتہ کہ نے آواز دے کر متوجہ کیا۔۔ وہ۔مڑ ا۔۔
یہ لو۔۔
جی ہائے نے بیگ سے بوتل۔نکال کر اسے وہیں سے اچھال۔دی۔۔ بوتل سیدھا اریزہ کے منہ کی جانب آرہی تھی۔۔ جی ہائے کا نشانہ کمال تھا اریزہ متوجہ بھی نہیں تھی ہایون کو دیکھ رہی تھی ہایون نے آگے ہو کر پورا جسم پھیلا کر اچھل کر اسکا منہ ٹوٹنے سے بچاتے ہوئے پکڑ ہی لی بوتل۔۔
مگر دائیں جانب اچھل کر اتنا جسم اسٹریچ کیا تھا توازن کھو بیٹھا گر ہی گیا۔۔
تم کیا ہر وقت گرتے رہتے۔۔ اریزہ ایک قدم پیچھے ہوئی ورنہ سیدھا اسکے قدموں پر ہی گرتا۔۔
اریزہ نے کہا تو ہایون نے گھورا
شوق ہے مجھے بچپن سے گرنے کا۔۔ وہ دانت کچکچا کر بولا۔۔
نائس کیچ۔۔ جی ہائے تالیاں بجا رہی تھی۔
ہایون سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔ پلٹ کر کینہ توز نظر جی ہائے پر ڈالی۔۔
بہت اعلی تھرو تھا شاباش۔۔ اس نے ہنگل میں کہا۔۔
جی ہائے کھلکھلائی
گومو وویو۔۔
ڈھٹائی عروج پر تھی۔۔
اس کا اٹھنے کا ارادہ نہ دیکھ کر اریزہ بھی گھٹنے کے بل جھکی۔۔
پوچھ کے بتا دو نا۔۔ اگر اس سے ملنا ممکن ہو تب ہی میں جائوں گی کانسرٹ میں ورنہ میرے جانے کا کیا فائدہ۔۔
ہایون گھونٹ بھرتے ہوئے اسے غور سے دیکھ رہا تھا
تمہیں بھی دوہیون اتنا پسند ہے؟۔۔۔ یہ جی ہائے تو پاگل ہے اسکے پیچھے ۔
وہ جیسے جانچ رہ تھا۔۔
ابے نہیں یار۔
اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
وہ سلپ ہو کر بیٹھ ہی گئ۔۔
مجھے اس سے ملنا ہے اسکا ایم پی تھری واپس کرنا ہے۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔
چھوڑو۔۔ دفع کرو۔۔ اسکو کمی تھوڑی۔۔
ہایون نے جیسے مکھی اڑائی۔۔
یہ بات نہیں ہے۔۔ اس نے مجھے دیا ہوتا تو رکھ بھی لیتی یہ میرے پاس رہ گیا ہے ۔۔ یہ
وہ سوچ میں پڑی۔
۔ امانت کو انگریزی میں کیا کہتے۔۔ بالکل بھول گئی۔۔
وہ سر پر ہاتھ مار کر بڑ بڑائی۔
میرے دل پر بوجھ ہے میں کسی کی چیز بنا اجازت استعمال کر رہی۔۔
اس نے جملہ بدل دیا۔۔
اچھا پوچھوں گا۔۔
وہ اتنی بے چین تھی اسے حامی بھرنی پڑی۔۔
چلو چلیں۔۔ وہ اٹھ کے کھڑا ہوگیا۔
اریزہ زمیں پر ہاتھ رکھ کر بوڑھوں کی طرح گھٹنے پکڑتی اٹھی۔
دیکھا میری بڑھیا دوست کو۔۔ جی ہائے نے وہیں سے آواز لگائی۔
کیا ؟۔۔ اریزہ نے پوچھا۔۔ دونوں زور سے ہنس پڑے۔۔
کتنی ہی کوئی کمینگی ہے یہ ویسے۔۔ جان جان کے میرے سامنے اپنی زبان میں شروع ہو رہے ہو۔۔ دیکھنا اب میں بھی ایڈون سے کہوں گی تم لوگ سامنے ہم خوب اردو بولیں گے اور چڑائیں گے
بلکہ مزاق بھی اڑائیں گے ایسے ہی ہنسوں گی تب پتہ لگے گا۔۔۔
اریزہ پیر پٹختی شروع ہوگئ۔۔۔زور زور سے بولی تو جی ہائے بھی ہنسنا بھول اسکو دیکھے لگ گئ
ہایون کے تاثرات دیکھنے والے تھے۔۔ پہلے حیران پھر الجھن زدہ آخر میں منہ کھول کر اسکی فراٹے بھرتی زبان کو دیکھتا خاصا مضحکہ خیز لگ رہا تھا۔۔
کیا کہا تم نے۔۔ وہ حیرانی پر قابو پا کر بولا۔۔
فارگیٹ اٹ۔۔ اس نے ہایون کی نقل اتاری تھی۔۔
اور مزے سے کندھے اچکا کر جی ہائے کی طرف بڑھ گئ۔۔
ہایون نے دلچسپی سے اسکو دیکھا پھر بڑبڑایا۔۔
کمینگئ۔۔ جان۔ مزے کی زبان ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تینوں قریبی کافی شاپ میں کافی پینے آئے تھے۔۔ ہایون آرڈر دینے سیدھا کاونٹر کی طرف بڑھا تھا جی ہائے اور وہ دونوں کارنر کی ٹیبل پر آ بیٹھیں۔۔
موسم ابر آلود ہو رہا تھا سورج چھپ گیا تھا موسم کی۔خنکی کے باعث سڑک پر لگی بتیاں جل اٹھی تھیں۔۔
ایک دم سے جیسے سب جگمگ کرنے لگا۔۔ ٹریفک رواں دواں تھا اکا دکا راہ گیر گزر رہے تھے۔۔ وہ محویت سے باہر دیکھ رہی تھی۔ فٹ پاتھ پر ایک چھوٹا سا بچہ اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔ ماں نے کنگھیوں کا اسٹال سا لگایا ہوا تھا۔۔ کچھ بینڈز اور بریسلیٹ بھی تھے۔ بچہ بار بار کسی چیز کی ضد کر رہا تھا۔۔ ماں کبھی دھیرے سے کچھ کہتی کبھی جھڑک دیتی۔۔ وہ بار بار ضد کرتا ایڑھیاں رگڑنے لگتا۔۔
جی ہائے نے اسے اچنبھے سے دیکھا۔۔
اسے اس منظر میں کچھ خا ص دکھائی نہیں دیا تھا۔۔
کافی۔۔ ہایون نے ٹرے لا کر بیچ میں رکھی۔۔
اریزہ چونک کر متوجہ ہوئی۔۔ وہ دونوں ایکسپریسو پی رہے تھے مگر اسکی کریمی کیپیچینو تھی۔۔
اس کی کیپیچینو پر جھاگ سے بے حد خو بصورت چھوٹا سا بھالو بیٹھا ہاتھ ہلا رہا تھا۔۔
اس نے فورا موبائل نکال کر تصویر کھینچ ڈالی۔۔
یہ مت کہنا تم بھی سوشل میڈیا فریک ہو۔۔ جی ہائے نے بے زاری دے جھر جھری لی۔۔
ارادہ اسکا بلاگ پر پوسٹ کرنے کا تھا سو فورا کہیں شائع نہیں کیا مگر کھسیا ضرور گئ۔۔
فریک تو نہیں کبھی کبھی بس۔۔
وہ سیدھی ہو کر کافی کا لطف اٹھانے لگی۔
تبھی ہایون کا موبائل بجا۔۔
اس نے یونہی موبائل میں موسم دیکھا۔۔
پچیس ڈگری۔۔ وہ بھونچکا رہ گئ۔
اتنے پر تو ہم اے سی چھوڑتے ہیں ۔تبھی تو مجھے خنکی محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے جی ہائے کو بغور دیکھا
بند گلے کا گھٹنوں تک کا فراک پہنے وہ مزے سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھئ۔ سفید گوری ٹانگیں۔
مجھے تو یہاں جلد ہی سردی کے کپڑوں کی ضرورت پڑ جائے گی۔ پاپا سے کہوں کہ پیسے بھجوا دیں یا پھر ستمبر آنے کا انتظار کروں۔۔
وہ ادھیڑ بن میں تھئ۔
ستمبر کے آنے کا انتظار کرو۔۔
ہایون نے فون بند کرکے اچانک اسے مخاطب کیا وہ بری طرح گڑبڑا گئ۔۔
کیا؟۔۔
ستمبر آنے کا انتظار کرو۔۔
اس نے اطمینان سے بات دہرائی۔۔
کیوں؟۔ جی ہائے بھی حیران ہوئی۔۔
میں بول بول کر سوچ رہی تھی؟۔۔ اریزہ نے پوچھا تو ہایون الٹا حیران ہو کر پوچھنے لگا۔۔
نہیں مگر کیا تم اسی بارے میں سوچ رہی تھیں؟۔۔
کس بارے میں؟۔۔ جی ہائے الجھن زدہ ہوگئ۔۔
بریو ہارٹ کا چیریٹی کانسرٹ ہے نا آج شام۔۔ سات بجے۔۔
ہایون نے کہا تو جی ہائے اچھل پڑی۔۔
کیا پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔ کہاں ہے کب ہے مجھے پاسس چاہیئے۔۔ کتنے کا ہے۔۔ ؟۔۔ وہ بے چینی سے شروع ہو گئ۔
پاس تو ہے میرے پاس مگر
دوہیون نہیں آرہا آج اسکی طبیعت خراب ہے باقی بینڈ میمبرز پرفارم کریں گے ہاں ستمبر میں وہ ایک اور کانسرٹ کرے گا سیول میں اسکے بھی سپانسر انی لوگ ہی ہونگے۔۔ اس نے تفصیل سے بتایا۔
دونوں لڑکیوں کے منہ اتر گئے۔۔
ہاہ
کیا ہوتی ہو تم لڑکیاں بھی۔۔ اس ڈبل آئی لڈ والے میں ایسا کیا خاص اس سے زیادہ تو میں ہینڈسم ہوں۔۔
ہہونگ سک نے کالر کھڑے کیئے۔۔
تم اور ہینڈسم۔۔ اچھا مزاق تھا۔۔
جی ہائے نے چٹکیوں میں اڑایا۔۔
کیوں کیا کمی ہے مجھ میں۔۔ وہ برا مان گیا۔۔
ڈبل آئی لڈ والا۔ہوں۔۔ شاذ نظر آتے کوریا میں۔۔ چھے فٹ دو انچ کا ہوں۔۔ تائکوانڈو بلیک بیلٹ ۔۔ گورا چٹا۔۔ سمارٹ ہنستا ہوں تو ایک دنیا تھم جاتی۔۔
وہ۔لن ترانی پر اتر آیا
ہاں جبھی سنگل ہو آج تک دنیا تھمی ہوئی ہے تمہاری۔۔
جی ہائے زور سے ہنسی۔۔
کیوں اریزہ ۔۔ غلط کہہ رہا ہوں۔ اس نے اریزہ سے تائید چاہی۔۔
میں متفق ہوں۔ ہے تو یہ ہینڈسم۔
اریزہ نے حق بات کی۔۔ جی ہائے آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی۔۔
تمہیں یہ ہینڈسم لگ رہا۔۔ تم۔نے ہینڈسم لوگ دیکھے نہیں پھر۔۔ وہ سر جھٹک رہی تھی۔۔
ہاں ہے تو بے چارہ ہینڈسم ۔۔ اس نے جی ہائے سے کہا تو وہ سر جھٹک کر کافی پینے لگی۔ اس نے ہایون سے براہ راست ہی پوچھ لیا۔۔
سنگل کیوں ہو اب تک؟۔۔
ہایون لاجواب ہو گیا پھر قصدا مسکرا کر بولا۔۔
کورین لڑکیوں کی قریب کی نظر خراب شائد اسلیئے
جی نہیں کورین لڑکیوں کی قریب کی نظر ٹھیک ہے اسلئے۔۔
جی ہائے نے جملہ اچک کر چڑایا۔
دونوں پھر بھڑ گئے تھے۔۔
مجھے تو لگ رہا تم دونوں کی نظریں ہی خراب ہیں۔۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے میونگ دیونگ ڈراپ کر دینا۔
کافی شاپ سے نکلتے ہوئے جی ہائے نے ہایون سے کہا تھا۔۔ گاڑی کی طرف بڑھتے ہہونگ سک نے صاف انکار کیا۔۔
میں نہیں جا رہا ادھر۔۔ بس اسٹاپ پر ڈراپ کر دوں گا چلی جانا۔
اریزہ کو تو ہاسٹل ڈراپ کروگے نا مجھے ایک اسٹاپ آگے چھوڑ دینا ۔۔ جی ہائے کہا پھر چڑ کر بولی۔۔
گھس نہیں جائے گی گاڑی تمہاری۔
اریزہ ۔۔ وہ۔چونک کر اردگرد دیکھنے لگا
اریزہ تو انکے ساتھ تھی ہی نہیں۔۔
جی ہائے نے بھی چونک کر اسے ڈھونڈا۔۔
ابھئ کافی شاپ سے اٹھے تو تینوں اکٹھے تھے۔۔
کہاں گئی یہ لڑکی اسے تو یہاں کے راستے بھی نہیں آتے۔۔ جی ہائے تھوڑی سی پریشان ہوئی۔۔
ہایون نے سڑک پر نظر دوڑائی تو وہ اسے ایک اسٹال کے پاس بیٹھی نظر آئی۔
وہ کنگھی خرید رہی تھی۔ وہ بڑا نوٹ تھما کر واپس مڑنے لگی جب اس عورت نے پکارا۔
وہ آندے آندے کرکے جانے کیا کہہ رہی تھی اسے سمجھ نہ آیا۔
ہایون اور جی ہائے اسکے پاس ہی چلے آئے۔
اریزہ یہ کنگھی اتنی مہنگی نہیں ہے یہ بقایا پیسے واپس کرنا چاہ رہی ہے۔
جی ہائے نے بتایا تو وہ سر ہلانے لگی۔
ہاں مجھے اتنا سمجھ آیا ہے مگر میں اسکی مدد کرنا چاہ رہی ہوں۔۔۔ اسکی بات پر جی ہائے اور ہایون ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے۔
ہایون آگے بڑھ کر اس خاتون سے ہنگل میں کہنے لگا۔
دراصل یہ پوری ٹوکری خریدنا چاہ رہی ہے۔
اسکے لیئے یہ پیسے کم ہیں۔ وہ عورت مایوس سی ہوئی
کتنے پیسے بنتے ہیں۔ ہایون والٹ کھول رہا تھا۔
اس عورت کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔
ہایون نے اسکو پیسے دیکر ٹوکری اٹھا لی۔
وہ۔عورت فورا اٹھ کھڑی ہوئی آگے بڑھ کر اریزہ کا ہاتھ تھام کر جھک جھک کے کچھ کہنے لگی۔
شکریہ ادا کر رہی ہے تمہارا۔
جی ہائے نے ترجمہ کیا۔
مگرکیوں۔۔ وہ حیران تھئ۔
جی ہائے نے آگے بڑھ کر ٹوکری ٹٹولنی شروع کی۔
گاڑی میں بیٹھ کر دیکھ لینا۔ ہایون نے اسے ہی پکڑا دی۔ کافی بڑی تھی مگر جی ہائے نے آرام سے سنبھال لی اریزہ نے ہاتھ لگانا چاہا مگر اسے ضرورت نہ تھی۔ ہایون بے نیازی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا
یہاں شائد لڑکیوں کے ہاتھ سے وزن لینے کا رواج نہیں ۔ اسے یہی لگا۔
وائو اس میں تو کافی کام کی چیزیں ہیں۔
جی ہائے پچھلی نشست پر ٹوکری رکھ کر بیٹھ گئ۔ اب دلچسپی سے ٹٹول رہی تھی۔
اریزہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولنا پڑا۔
اریزہ نے مچھلی کی شکل کا لکڑی کا کنگھا لیا تھا جس پر بے حد پیاری چینی بلکہ کورین گڑیا کھدی ہوئی تھی۔
اسکے بال الجھ الجھ جاتے تھے سو وہ گاڑی میں اطمینان سے بیٹھ کر سلجھانے لگی۔
یہاں لوگ بلا وجہ پیسے لینا معیوب سمجھتے ہیں۔ٹپ دینا یا کسی کو زائد قیمت دے کر مدد کرنے کا مطلب اسے بھکاری سمجھنا ہوتا ہے۔
ہایون گاڑی اسٹارٹ کرتے کرتے رک کر بولا
اسکی ہمدردی کا اتنا غلط مطلب وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی
اسکا بچہ روئے جا رہا تھا اسلیئے میں اسکی مدد کرنا چاہ رہی تھئ۔ تم نے بھئ تو اسکی پوری ٹوکری خریدی ہے۔
اسے سمجھ نہ آیا اگر اتنا برا لگنے والی بات تھی تو ہایون کی بات کا برا کیوں نہ منایا۔
ہایون نے اسکو کہاتھا کہ تمہیں کورین مصنوعات اپنے دوستوں میں بانٹنی ہیں اسلیئے تم پوری ٹوکری لینا چاہتی ہو۔
جی ہائے کئی کلپس اور بینڈز چن کر اپنے ہینڈ بیگ میں ڈال چکی تھی سو اطمینان سے ٹوکری کی جان چھوڑتے ہوئے بولی۔
مگر میں نے تو یہ نہیں بانٹنئ تھیں۔ وہ حیران رہ گئ۔ ہایون اور جی ہائے ہنس دیئے
اب بانٹ لینا۔ ہایون لے تو چکا ہے اور یہ پونیاں بھی نہیں باندھتا
جی ہائے اسے چھیڑے بنا نہ رہ سکی۔
تمہیں ضرورت نہیں تھی ایسا کہنے کی۔ نا پوری ٹوکری خریدنے کی
اسے برا لگا تھا۔ ہایون گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
چل۔۔ اتنے پیسے یہ یونہی سڑک پراڑا سکتاہے۔
جی ہائے ہنس رہی تھی۔
گوارا بتاتی ہے یہ ہائی اسکول کے ذمانے میں ایک بوڑھی آنٹئ سے روز ان سب کیلئے تبوکی خریدتا تھا تاکہ انکی مدد کرسکے اور جس دن ان کا تبوکی کا موڈ نہیں ہوتا تھا اس دن یہ ہوم لیس لوگ ڈھونڈتا پھرتا تھا انہیں کھلانے کیلئے۔
ہائش۔ چپ کرو۔ بہت فضول بولتی ہو۔
ہایون کی پوری توجہ سڑک کی جانب تھی مگر اسکا چہرہ خفت ذدہ سرخ سا ہورہا تھا۔
اسکے ایسے کئی سوشل ورک آج تک جاری ہیں۔
وہ۔مزید کہہ رہی تھی۔
جی ہائے بس کرو چپ کرکے بیٹھو
ہایون گھرک رہا تھا۔ جی ہائے اسے چھیڑے جا رہی تھی۔ دونوں اب مکمل ہنگل میں بحث میں الجھے تھے۔
اسے حیرت ہوئی تھی اتنا امیر ہونے کے باوجود وہ کتنا سلجھا ہوا لڑکا تھا۔ اور یہ جی ہائے اسکی سب خوبیاں جاننے کے باوجود اس کو لائن نہیں مارتی تھی دونوں بس دوست تھے۔ ہنستے لڑتے بے تکلف دوست
اسے ان دونوں کی اب نگاہوں کی بجائے عقل پر شبہ ہونے لگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہائے اتری تو وہ پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی۔
تم انکا کیا کرو گے؟ اسکا اشارہ ٹوکری کی۔جانب تھا۔
میں انکو بیچ کر تمہیں پیسے دوں؟ اسکے کہنے پر
ہایون نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹی کا وقت تھا اسکول کے جوق در جوق ٹین ایجرز یونیفارم میں ادھر سے گزرے تھے۔تو دفتر سے واپس گھر کو۔جانے والے بھئ بڑی تعداد میں لوگ آ جا رہےتھے۔
وہ زندگی میں پہلی دفعہ یوں اسٹال لگا کے کھڑی تھی ۔ مگر یہاں کوئی گھورنے والا نہیں تھا یہ اطمینان تھا۔ ایک تو اسکا کرتا پاجامہ شیفون کا دوپٹہ توجہ کا مرکز بنا دوسرا ہایون ہاتھ میں دو پنکھے پکڑے لوگوں کو الگ پکڑ پکڑ کر اسکے اسٹال کی۔جانب بھیج رہا تھا۔
بریسلیٹ فرینڈ شپ بینڈز منٹوں میں ختم ہوئے تھے۔۔ چھوٹے چھوٹے پنکھے اورکنگھیاں ۔۔ بچے تھے بس۔۔ اریزہ کے پاس یکے بعد دیگرےجب لڑکے کنگھی خریدنے آنے لگے تو ہایون آگے بڑھ کر ان سے بھائو تائو کرنے لگا۔۔
دیکھتے دیکھتے وہ بھی ختم ہوئے۔۔ دو چار پنکھے اور دو تین کنگھے بچے بس۔۔
اریزی نے پیسے گنے اور ایمانداری سے سب اسے تھما دیئے۔۔
سب مجھے کیوں۔۔ ہایون حیران تھا
۔۔ تمہاری محنت تھی ساری مجھ سے تو کوئی کچھ خرید ہی نہیں رہا تھا۔۔
اریزہ نے پیسے آدھے آدھے کر دیئے۔۔
تمہاری اکنامکس خاصی کمزور ہے۔ سرمایہ کاری۔ تمہاری تھی۔۔۔
اریزہ نے جتایا تو وہ۔ہنس دیا۔۔
ویسے مزا آیا۔۔۔ وہ نوٹ پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
تم نے سارے بڑے نوٹ مجھے دے دیئے۔ہایون نے جتایا۔۔
ہا۔ اس نے تھک کر سب پیسے اسکے ہاتھ پر رکھ دیئے۔۔
آدھے آدھے کرو۔۔
مجھے نہیں چاہیئے۔۔ ہایون نے منع کیا مگر وہ قطعی انداز میں بولی۔۔
محنت ہم دونوں کی ہے سو پیسے برابر بانٹو۔۔
وہ کندھے اچکا کر اسے سمجھانے لگا۔۔
یہ سب سے چھوٹا نوٹ ہے یہ بڑا۔۔۔ کچھ اسکے پلے پڑا کچھ سر پر سے گزر گیا۔۔
یہ کونسی جگہ ہے ویسے۔۔
اس نے نوٹ والٹ میں رکھتے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔
ارد گرد بہت بڑی بڑی عمارتیں تھیں۔ وہ ایک عمارت کے داخلی راستے کے قریب کھڑے تھے۔۔ ان سے چیزیں خریدنے والے اسی عمارت میں گھستے گئے تھے۔۔
یہ وہی ہال ہے جہاں بریو ہارٹ کا کانسرٹ ہو رہا۔
ہایون نے سرسری انداز میں بتایا۔۔
لو یہاں آگئے ہیں تو کانسرٹ میں چلتے ہیں۔۔اریزہ نے کہا تو ہایون نے پوچھا۔۔
پاس ہے تمہارے پاس۔۔ ؟
ہاں۔۔ اس نے فورا سر ہلایا پھر یاد آیا
پاس تو اس نے اپنے بیڈ سایڈ ٹیبل کی دراز میں رکھا تھا۔۔وہ کھسیا گئ۔۔
ہاسٹل میں ہے۔۔ اس نے مرے مرے انداز میں کہا۔۔
چلو تمہیں اسٹریٹ میوزک سناتا ہوں۔۔ اسے کھڑے کھڑے آئڈیا آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے مشہور گنگنم اسٹریٹ لے آیا تھا۔۔
یہاں جا بجا کلب اور ریستوران تھے یہ کورین نائٹ لائف کا گڑھ تھا۔۔ سڑک کنارے مختلف فنکار بیٹھے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔۔ کہیں کوئی موسیقی کا کوئی ساز بجا رہا تھا تو کہیں چھوٹے موٹے فنکار کرتب دکھا رہے تھے۔۔ وہ بے حد دلچسپی سے سب دیکھ رہی تھی۔۔ بڑے بڑے کارٹون کیریکٹر والا لباس پہنے لوگ پھر رہے تھے۔۔ اس نے دو تین کے ساتھ تصویر بنوائی۔ ایک جانب ایک پلازے کے باہرپلازے کی سیڑھیوں۔پر بیٹھا ایک لڑکا گٹار بجا رہا۔تھا۔ کئی لوگ اسکے گرد گھیرے میں کھڑے اسے سن رہے تھے کچھ غیر ملکی اسکی تصویر بھی بنا رہے تھے۔۔
کوئی نا مانوس دھن تھئ مگر دل چھو لینے والی وہ مگن ہو کر اسکے پاس ہی سیڑھیوں پر آبیٹھی۔
ہایون بھی اسکے پاس آبیٹھا۔۔
لڑکا دھیرے دھیرے گنگنا نے لگا۔
اسومی منچھو جی آنا نوا سنگا کامیون گیبون جو ہا
بلگیری منچجو جی آنا نوا سارنگی تھل یو گا۔۔ بے بی یور مائی لو۔۔
نوا سارنگی باجم نوا۔ بے بی یور مائی ڈریم۔
نوا تورئ سا اسومی منچھیو دے۔ نوا توری گچیون بومسے نوا مے یو نوا تورئ سا ہنا داگو شپو۔۔
بے حد خوبصورت آواز تھئ۔
گٹار بجاتے لڑکے نے مسکرا کر انکی جانب مڑ کر دیکھا تو وہ چونکی۔ پھر پلٹ کر ہایون کو دیکھنے لگی۔۔ وہ بے حد جزب سے آنکھیں بند کیئے گا رہا تھا۔۔
گٹار کی دھن ختم ہوئی اسکا گایا ہوا گانا مکمل ہوا۔۔
سب نے پرجوش تالیاں بجائی تھیں۔۔ سب سے زیادہ زور سے اسے اریزہ کی بجائی تالی ہی سنائی دی تھی۔ وہ آنکھیں کھول کر مسکرایا۔۔
اریزہ اسے ہی دیکھتے پر جوش انداز میں تالیاں بجا رہی تھی۔۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ اورگٹار بجاتا لڑکا جھک جھک کر کورنش بجا لا رہے تھے۔۔
لوگ چھٹنے لگے تو وہ سیڑھیاں اتر کرہایون کے پاس آئی۔۔
واہ بھئی۔۔ تمہاری تو آواز بہت اچھی ہے تمہارے اس چھپے ہوئے فن کا تو مجھے علم ہی نہیں تھا۔۔ وہ۔کھلے دل سے تعریف کر رہی تھی۔۔
گومو ویو۔ وہ جھینپ گیا تھا۔۔
ہائی اسکول میں میں اور سن بے بہت گاتے تھےہر فنکشن میں شروع ہو جاتے تھے تب ہمارا ارادہ آڈیشن دے کر کسی کمپنی کا حصہ بننے کا بھی تھا۔۔
وہ چلتے چلتے سرسری انداز میں بتا رہا تھا۔۔
پھر دیا کیوں نہیں؟۔
اس نے پوچھا تو وہ سر جھٹک گیا۔۔
پھر سن بے کی زندگی میں گرل فرینڈ آگئ اسکا سارا دھیان بس اسکی جانب ہو گیا۔۔
اریزہ زور سے ہنس دی۔۔
ہایون اسے یوں دیکھنے لگا جیسے پوچھ رہا ہو ہنسنے کی کیا بات۔۔
جب آپکے دوستوں کی زندگی میں خاص لوگ آتے تو وہ آپکو مزے سے ایک طرف کر دیتے چاہے وہ کتنے ہی اچھے دوست ہونے کا دعوی کیوں نہ کرتے ہوں۔۔ اب سنتھیا بچپن کی دوست میری مگر جب سے ایڈون اسکی زندگئ میں آیا مجھے بھول ہی گئ ہے۔۔ بتاتے بتاتے اسکا انداز شکائتی سا ہو گیا تھا۔۔
ہایون اسے رک کر دیکھنے لگا
تم سنتھیاکو بہت پسند کرتی ہو۔۔
پسند۔۔
اس نے زور دے کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔
میں محبت کرتی ہوں اس سے۔۔ وہ مسکرا کر سادہ سے انداز میں کہہ گئ۔۔
مجھے اندازہ تھا۔۔ ہایون نے اسے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔۔
ایک بار میں نے تم دونوں کو دیکھا تھا۔۔ تم لوگ سڑک پر گلے لگی ہوئی تھیں۔۔ کوریا میں ایسا کم کم دیکھنے کو ملتا ایک جنس کے لوگ تو بالکل بھی نہیں۔۔ ابھی ہم اتنے ایڈوانس نہیں ہوئے
۔ وہ ہنس کر کہہ رہا تھا۔۔
کیوں۔اس میں ایڈوانس کی کیا بات۔ وہ سمجھی نہیں۔۔
جی ہائے اور گوارا بھئ بہت قریبی سہیلیاں ہیں۔۔کوریا میں بھی۔۔
زن سے اسکے دماغ میں کوئی چیز کھٹک گئی۔۔
ہاں مگر جی ہائے سنگل ہے گوارا کا تو بوایے فرینڈ ہے۔۔ اور جی ہائے اور گوارا دوست تو ہیں مگر گرل فرینڈ تھوڑی ہیں تمہارے اور سنتھیا کی طرح۔۔
کیا۔۔ وہ سمجھ کر زور سے چلائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ہاسٹل کے باہر ڈراپ کیا تو وہ تن فن کرتی اتری اور بنا اسے کچھ کہنے کا موقع دیئے تیز تیز قدم اٹھاتی اندر گھس گئ۔۔ وہ کندھے اچکا کر گاڑی واپس موڑ گیا۔۔
حد ہے مطلب حد ہی ہے۔۔ وہ بھناتی ہوئی مٹھی بھینچتی کمرے میں آئی۔۔ سنتھیا کمرے میں نہیں تھی۔۔ وہ بیگ وہیں ٹکا کر باتھ روم میں گھس گئی۔۔ منہ پر چھپاکے مار مار کر غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔۔
منہ پونچھتی باہر نکلی بیگ اٹھا کر سیڑھیاں چڑھنے لگی۔۔ پھر جانے کیا خیال آیا۔۔ بیگ اپنے بیڈ پر اچھال کر تیزی سے نیچے اتری۔۔ پہلے کمرے کا دروازہ لاک کیا پھر آکر سنتھیا کا تکیہ کھینچا۔۔
خالی تھا۔۔ اس نے بستر جھاڑا بیڈ کے نیچے جھانکا سائڈ ٹیبل تلاش لی۔۔
وہ الجھ گئ۔۔ پھر نا جانے کیا خیال آیا دوڑ کر کوڑے دان کے پاس آئی۔۔ کوڑے دان میں نیا شاپر لگا ہوا تھا اس پر دو دوائیوں کے خالی ریپر چمک رہے تھے۔۔اس نے انکو نکال لیاتھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن سپا سے نکل رہا تھا جب کوئی اسکے پاس سے گزرا وہ چونک کر مڑا۔۔
وہ ایک دھان پان سی لڑکی تھی۔۔ تھوڑی مانوس سی شکل کی۔۔ کاوئنٹر پر سے الماری کی چابی لیکر وہ بنا مڑ کر دیکھے خواتین کے لیئے مخصوص حصے کیطرف بڑھ گئ۔۔
کم سن اسے پکارنے ہی لگا تھا پھر کچھ سوچ کر چپ رہا اور واپس کائونٹر پر موجود لڑکی کے پاس آگیا۔۔
جی سر۔۔ لڑکی نے مسکرا کر اس پرتوجہ کی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگ چاہے دنیا کے کسی حصے میں بھی رہتے ہوں۔۔
آپکو اپنی مرضی کے مطابق جانچتے۔۔ اپنی مرضی کا نتیجہ اخذ کرتے۔۔ اور اپنی مرضی کا ردعمل دیتے۔۔ پھر چاہے وہ آپکا چھوٹا سا عمل ہو یا کوئی بڑی حرکت سب کیلیئے آپ جوابدہ ہیں۔۔ پہلے دنیا کے سامنے۔۔ آخرت بہت بعد کی بات ہے۔۔
اس نے بھناتے ہوئے شائع کیا تھا۔۔
پہلا کمنٹ۔۔
اب کیا کر بیٹھی ہو ایڈمن۔۔
دوسرا۔
پہلے یہ بتائو اتنے دن سے کہاں تھیں ۔۔ تم جوابدہ ہو ہمارے بتائو۔۔ بلاگ پر کچھ شائع کیوں نہیں کیا اتنے دن۔۔ سامنے ہنستا ہوا اسمائیلی۔۔
اسکے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ ہی گئ تھی۔۔
تیسرا۔۔
مجھ سے خود اجالا پوچھ رہی میں سارا دن کیا کرتا رہا سچ مچ بس سوتا رہا ہوں کوئی یقین دلا دو اسے۔۔
چوتھا۔۔
مجھے لڈو اسٹار میں کوئی چیلنج کرنا چاہتا تو آجائے۔۔
پانچواں۔۔
لوگوں کا کیا ہے ایک دن سب مر جائیں گے دیکھنا۔۔
چھٹا۔۔
ہم دنیا میں انسان بن کر آئے ہیں انسانوں میں رہنے آئے ہیں۔ پھر کہیں ہم انہیں کہیں وہ ہمیں سہہ لیں تو زندگی سہل ہے۔۔ اور انسان انسانوں کے بغیر رہ بھی تو نہیں سکتا۔۔ رہنا منع بھی ہے۔ سو تھوڑا سا برداشت سے کام لیجئے۔۔ لوگ اتنے بھی برے نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا رات کو کافی دیر سے آئی تھی۔ آتے ہی بنا آہٹ کیئے بستر میں گھس گئ۔۔
صارم کا میسج آیا تھا۔ رمضان مبارک۔
ہوگیا چاند پاکستان میں؟ اسے حیرت ہوئی۔
بہن کوریا میں ہوگیا ہے اور گھڑی دیکھو بس ایک گھنٹہ ہے تمہارے پاس۔
صارم نے کہا تو وہ اچھل کر اٹھ بیٹھی۔
تمہیں کیسے پتہ؟ اس سے احمقانہ جملہ بھی کہہ سکتی صارم کو اندازہ تھا۔
تمہیں کیسے نہیں پتہ؟ بی بی گوگل کرلو۔
صارم بی بی ہمیشہ اسے چڑانے کو ہی کہتا تھا۔
اچھا۔ اس نے مایوسی سے سر کھجایا۔ بلاگ لکھتے فیس بک استعمال کرتے وقت کا پتہ نہ لگا تھا اسے۔ جلدی سے اٹھ کر اپنی دراز کھنگالنے لگی۔
ایک آدھ چاکلیٹ اور چپس کا پیک تھا بس۔ ان سے روزہ نہ گزرتا اسکا۔ اور پانی۔ وہ کچھ سوچ کر نیچے اتر آئی۔
سنتھیا۔
اس نے دھیرے سے پکارا۔ سنتھیا دس پندرہ منٹ میں سو تو نہیں گئ تھئ۔ مگر سوتی بنئ رہی۔
وہ چند لمحے اسکے اٹھنے کا انتظار کرتی رہی پھر دھیرے سے کمرے کا دروازہ بند کرتی باہر نکل گئ۔
اس نے دروازے کی آواز پر سر پر سے کمبل ہٹا کر دیکھا۔
پھر موبائل اٹھا لیا۔
سالک نے گروپ میں رمضان مبارک لکھ کر بھیجا تھا
وہ گہری سانس لیکر رہ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صاف ستھرے مگر بھائیں بھائیں کرتے کچن میں متزبزب کھڑی تھی۔ کم از کم یہاں پانی تھا۔ اس نے ایک الماری سے پلیٹ نکالی۔ ایک پیپر کپ اٹھایا۔ اس میں پانی بھرا۔
اپنی سحری کو غور سے دیکھا۔ ایک کمینی سی سوچ آئی۔ آج پکا جا کے تھوڑی کھانے پینے کی چیزیں لے آئوں گی کل سے سارے روزے جائیں گے۔ مگر پھر اپنی سوچ پر شرمندہ بھی ہوگئ۔
صبر شکر کرکے اسٹول گھسیٹ کر میز پر بیٹھ گئ۔ تبھی سامنے کریکرز کا پورا پیکٹ آدھرا۔
دو انسٹنٹ کافی کے ساشے تھامے سنتھیاں مصروف سے انداز میں سامنے الیکٹرک کیٹل کی۔جانب بڑھ گئ
تم بہت لاپروا ہو تمہیں رمضان سے قبل کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے لینی چاہیئیں تھیں۔
سنتھیا اسے ڈانٹ نہیں رہی تھی ۔۔اور یہ سپاٹ سے انداز میں بولتی سنتھیا اسکے لیئے یکسر اجنبی تھی۔۔۔
بس غلطی ہوگئ۔ وہ سنبھل کر مسکرائی۔
کریکرز خشک تھے۔ چپس وہ شوق سے کھاتی نہیں تھی۔ سنتھیا نے بھاپ اڑاتی کافی کا مگ لا کر اسکے سامنے رکھا تو اس نے چپس اسکی جانب بڑھا دیئے۔
کھائو تمہارا پورا دن گزرنا ہے۔ سنتھیا کو اسکی فکر بھی تھی۔۔
یہ کھا رہی ہوں نا۔ اس نے بسکٹس کا پیکٹ لہرایا۔ گندم کے بسکٹس کافی ذیادہ تھے اسکا پیٹ بھرنا شروع ہوگیا۔
تمہاری طبیعت کیسی ہے؟
سنتھیا اسکے پوچھنے پر چونکی
ٹھیک ہوں مجھے کیا ہوا۔
اریزہ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی تو گڑبڑا سی گئ ۔۔
بس وہ تھوڑا سر میں درد تھا بس۔۔۔۔
پھر کچھ خیال آیا تو سیدھی ہو بیٹھی۔۔
ایڈون اور میں ڈیٹ پر گئے تھے۔ نام سان ٹاور۔ بہت خوبصورت جگہ ہے۔ پورا سیول نظر آتا ہے۔ وہاں سے۔
ایڈون اور میں نے وہاں لو لاک بھئ لگایا۔ اتنا خوبصورت دل کی شکل کا تالا تھا۔ کہتے ہیں وہاں جو اپنی محبت کا تالا لگاتے ہیں انکو دنیا کی۔کوئی طاقت الگ نہیں کرسکتی۔
سنتھیا بہت شوق سے بتا رہی تھی اریزہ مسکرا دی۔ سادہ سی مسکراہٹ اریزہ کی مسکراہٹ سے وہ کوئی معنی نہ اخذ کر سکی۔
سرجھٹک کر چپس کا پیکٹ کھولنے لگی۔
یہ تمہاری گردن پر کیا ہوا۔ اسکے شانوں پر بکھرے بال اسکے سرجھٹکنے پر پیچھے ہوئے تو اریزہ کو اسکی گردن پر سرخ سا نشان نظر آیا۔ وہ تفکر سے پوچھ رہی تھی۔
یہ۔ سنتھیا سٹپٹاسی گئ۔
کوئی کیڑا مسل گیا تھا ہم ہنگن دریا کے کنارے پر بیٹھے تھے نا کافی دیر۔
اس کی زبان لڑکھڑائی۔ رمضان میں جھوٹ ۔۔۔
اس نے دزدیدہ نگاہوں سے اریزہ کو دیکھا۔
اریزہ سر ہلا کر کافی ختم کررہی تھی۔ اسے ویسے بھی کریدنے کی عادت نہیں تھی۔
رمضان ہمارا تہوار نہیں ہے احمق۔
اسکے کان کے پاس بھاری سی آواز میں کسی نے سرگوشی کی تھی۔۔ اریزہ مکمل طور پر سحری میں مگن تھی۔
بہت میٹھا میٹھا ہو گیا۔۔۔
اریزہ نے مگ رکھ کر اسکے چپس کے بیگ سے ایک دو چپس اٹھا کر منہ میں ڈالے ۔۔
گلابی سی بھری بھرئ سی انگلیاں ۔۔ اسکے ہاتھ خوب نرم نرم سے تھے۔ اسکے ہاتھ بالکل برعکس تھے ۔ سانولے پتلے استخوانئ سی انگلیوں والے۔۔ کسی سانولے سے ہاتھ میں ہاتھ رکھتئ تھی تو نظر بھی نہیں آتے تھے الگ سے۔۔
۔ وہ بلا ارادہ اپنے ہاتھ مسل کر جھاڑنے سی لگی جیسے اسکے ہاتھ پر کوئی دھول مٹی سی لگ گئ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لی گروپ کی وسیع و عریض عمارت اسے اپنے گرد شکنجا کستی محسوس ہو رہی تھی۔۔ وہ خود ہی ڈرایئو کر کے آیا تھا۔۔چند لمحے یونہی باہر کھڑا عمارت کی پیشانی پر کھدے لی گروپ کے الفاظ کو ہی گھورتا رہا۔۔ آتے جاتے ملازمین اس بات سے بے خبر تھے کہ انکا مستقبل کا سی ای او انکے درمیان گمنامی میں کھڑا ہے۔۔ وہ سر جھٹکتا اندر داخل ہو گیا۔۔
سیکٹری سو جان سوک اسکے انتظار میں باہر ریسیپشن پر ہی کھڑے تھے۔۔ اسے آتے دیکھ کر تعظیما جھکے۔۔
آہبو جی کی خاص ہدایت تھی۔۔
ہایون کو میں اس عمارت میں داخل کرنے پر مجبور کر چکا ہوں یہاں سے نکلنے نہ دینا آپکی زمہ داری ہے۔۔
کالے کوٹ پینٹ سرمئی شرٹ اور ٹائی میں ملبوس اکیس سالہ ہایون کے کم عمر چہرے پر دنیا جہان کی بے زاری تھی۔۔ وہ سمجھ گئے تھے اسکو کیسے کہاں کتنا مصروف رکھنا۔۔
اسکو اسکے دفتر تک وہی لے کر آئے تھے درمیان میں آٹھ دس ڈاریکٹر پراجیکٹ مینیجر ز اور جانے کیا کیا عہدہ سنبھالے افراد سے اسکا تعارف کروایا گیا۔۔ وہ مل مل کر تھک گیا۔۔
سیکٹری نے اسکو چھوٹا موٹا خلاصہ پیش کیا کہاں کس کس جگہ اسکے والد محترم پیسہ پھنسا چکے تھے کہاں کہاں مزید سرمایہ کاری کرنی تھی۔۔ کن نئے پراجیکٹس سے انکو بڑی امیدیں تھیں۔۔ امریکہ کس سلسلے میں گئے۔۔ جب باقائدہ اس نے جمائی لی تب جان چھٹئ۔۔ سیکٹری جان اسے چائے پینے کا مشورہ دیتے اسکے لیئے چائے کا آرڈر دیتے باہر چلے گئے
حسب توقع اسکے زمے کوئی کام نہیں تھا۔۔ سب کچھ اسکی غیر موجودگی میں بھی ویسے ہی ہونا تھا سیکٹری مینجرز سب اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔۔
آہمو جی میں آپ سے کبھی جیت نہیں سکتا۔۔
آپ نے مجھے مجبور کر ہی دیا یہاں آنے پر۔
وہ بے بسی سے بڑ بڑایا۔۔
سیکٹری جان کو خاص ہدایت تھی کہ ہر کام کرتے وقت اسے با خبر ضرور کیا جائے جیسے کہ اگر وہ نہ ہو تو سب رک جائے گا۔۔
تیسری بار وہ اسے کوئی فائل اٹھائے کسی پراجیکٹ کی تفصیل بتانے آئے تو اس نے ٹوک دیا۔۔
مجھے یہ بتائیں میرے دستخط درکار ہیں آپکو؟۔۔
جی یہاں۔۔
انہوں نے گڑ بڑا کر اسے ایک جگہ بتائی۔۔
اس نے خاموشی سے دستخط کیئے اور انہیں جانے کا اشارہ کیا۔
بے چارے تعظیما جھک کر سر ہلاتے چلے گئے۔۔
اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔ دو بجے اس نے سب دفتری تہزیب بالائے طاق رکھتے ہوئے کمرے میں رکھے آرام دہ صوفے پر کشن سیدھا کیا اور بے خبر ہو رہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انی تین بجے کے قریب دفتر آئی تھیں۔۔۔
وہ صوفے پر بے خبر سو رہا تھا۔
انکے ساتھ آئی سیکٹری نے آگے بڑھ کر اٹھانا چاہا مگر انہوں نے اشارے سے منع کر دیا۔۔اور اسے بھی بھیج دیا۔۔
خود دھیرے سے اسکے مقابل رکھے صوفے پر بیٹھ کر اسے تکنے لگیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پندرہ سال کی تھیں جب آٹھ سالہ ہایون آہبو جی کا ہاتھ تھامے سہما ہوا سا انکے گھر داخل ہوا تھا۔۔وہ اسی وقت اسکول سے واپس آئی تھی۔۔ بیگ لائونج کے صوفے پر ٹکا کر اس نے آہبو جی سے پوچھا تھا۔۔
یہ کون ہے؟۔۔
ہیون آہبو جی کا ہاتھ تھامے انکے پیچھے چھپ رہا تھا۔۔
آہبو جی لمحہ بھر کو سوچا تھا پھر کھنکار کر تعارف کروایا۔۔
یہ تمہارا چھوٹا بھائی ہے گنگشن۔۔
وہ اتنی چھوٹی نہیں رہی تھیں کہ سمجھ نہ سکتیں کہ انکی ماں کی اولاد نہ ہونے کے باوجود بھی انکا کوئی بھائی پیدا ہو سکتا ہے۔۔
وہ تذبذب سے انہیں دیکھنے لگیں آیا کیا رد عمل ظاہر کریں۔۔ آہبو جی نے کبھی انکو اپنے اتنے قریب آنے نہیں دیا تھا کہ وہ سمجھ سکتیں اس وقت انکا کیا مزاج ہے۔۔ تبھی تیار ہو کر اپنی پنسل ہیل کو ٹک ٹک کرتی آہموجی وہیں چلی آئیں۔۔انکا پرس تھامے انکی سیکٹری انکے پیچھے پیچھے تھی۔۔
تم اس بار جلدی روس سے نہیں آگئے؟۔۔
آہبوجی نے جیسے ان سنا ہی کر دیا۔۔
تمہیں واپس دیکھ کر مجھے ہرگز خوشی نہیں ہوئی۔
تم وہیں کسی حادثے میں مر کیوں نہ گئے۔۔
وہ۔طنز سے صرف انہیں بولنے پر مجبور کر نا چاہ رہی تھیں۔۔ سولہ سالا رفاقت اتنا تو لی کو سمجھا چکی تھی سو مکمل نظر انداز کردیا۔۔
آہجوما۔۔ وہ ملازمہ کو پکار رہے تھے۔۔
ملازمہ پلک جھپکتے میں حاظر ہوئی۔۔
اسکے رہنے کیلیئے کمرہ تیار کرو۔۔
یہ بچہ کون ہے؟۔۔
انکی اب نظر پڑئ تھی۔۔
میرا بیٹا۔۔
مختصر جواب آیا تھا۔۔
کیا۔۔ وہ حلق کے بل چلائیں۔۔
تم جیسے بھنورا صفت انسان کا ایک عورت کیساتھ گزارا نہیں اس بات پر میں نے صبر کر لیا تھا مگر ان دو ٹکے کی عورتوں سے تم بچہ پیدا کروا کر اس گھر میں لے آئو گے میں تمہارے اس گھٹیا پن کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔
وہ حلق کے بل چلا رہی تھیں۔۔
میں تمہارا پابند نا تھا نہ ہوں۔۔ میری مرضی میں جہاں جس مرضی سے اپنی اولاد پیدا کروائوں تم تو مجھے وارث دے نہیں سکی ہو مجھے بے نشان نہیں رہنا تھا۔۔
وہ ان سے بھی اونچی آواز میں چلائے۔۔
تو تم اب اس حد تک پاگل ہوگئے ہو بیٹے کی خواہش میں کہ نا جائز اولاد پیدا کروا ڈالی ؟۔۔ اس طوائف کی اولاد تمہارا خون ہے اس بات کا یقین کیسے ہوا تمہیں؟۔۔
آہمو جی جوان ہوتی بیٹی اور کم سن بچے کی موجودگی یکسر فراموش کیئے جو منہ میں آ رہا تھا بولے جا رہی تھیں۔۔
میرا خون ہے میری اولاد اگر تمہیں شک ہے تو ہوتا رہے۔ اور بیلا طوائف نہیں اسکے بارے میں سنبھل کر بات کرو۔۔
دونوں کی بحث بیچ لائونج میں جاری تھی۔۔ گھر میں موجود ملازمین کی موجودگی سے بے نیاز وہ دونوں غیض و غضب سے کانپ رہے تھے۔۔
ہایون نے ڈر کر رونا شروع کر دیا تھا۔۔
وہ اتنا خوفزدہ تھا کہ بے آواز رو رہا تھا۔۔
آہجومہ اسے لے کر جائو کمرے میں۔۔
آہبوجی کی نظر پڑ گئ تھی۔۔
خبر دار میں کسی کی ناجائز اولاد کو اپنے گھر میں نہیں گھسا سکتی۔۔ آہمونی نے فورا روکا۔۔
کم سنائی دیتا ہے تمہیں لے کر جائو اسے کمرے میں۔۔
لی سوجن کی اتنی اونچی آواز شائد پہلی بار ہی اس گھر کے درودیوار سن رہے تھے
خبردار جو اسکو اندر لے کر گئیں۔۔
آہمونی کم نہیں تھیں ۔۔ انکی آواز بھی کافی اونچی ہوتی جا رہی تھی۔۔
آج ابھی فیصلہ ہو گا۔۔ میں کسی ناجائز اولاد کو اس جائداد کا حصہ نہیں بننے دے سکتی۔۔
فون لگائو وکیل کو۔۔
آہمونی غصے سے پاگل ہو رہی تھیں۔۔ سیکٹری گڑبڑا کر انکا موبائل پرس سے نکالنے لگی۔۔
کسی غلط فہمی میں مت رہنا مجھے سے ٹکرائو گی تو سڑک پر لا کھڑا کروں گا۔۔ کسی تیسرے کو سوچ سمجھ کر بیچ میں لانا۔۔
وہ اتنی دیر میں کچھ سوچ چکے تھے۔۔مگر آہمونی خاطر میں لانے کو تیار نہ تھیں۔۔
دیکھ لوں گی تمہیں ۔۔
اس بچے کو اس گھر میں لا کر تم نے اس گھر کا بٹوارہ کرنے کی شروعات کر دی ہے۔۔
انہوں نے سہمے ہوئے بچے کی جانب اشارہ کیا۔۔
تم ابھی تک یہیں ہو۔۔ وہ حلق کے بل چلائے۔۔
یہ اس گھر میں نہیں رہے گا۔۔ آہمونی جی ان سے بھی زور سے چلائیں۔۔
آہش۔۔ لی نے غصے سے انکا بازو تھاما اور انہیں انکے احتجاج کے باوجود کھینچتے ہوئے کمرے میں لے گئے۔۔
ملازمہ کبھی ہاتھ تھامتی کبھی چھوڑتی ہایون کا بیمار بدن وہیں ڈھیر ہو گیا تھا۔۔
خاموش تماشائی بنی گنگشن کو جانے کیا ہوا آگے بڑھ کر اس نے اس بچے کو بانہوں میں بھر کر گرنے سے بچا لیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخار تیز ہو گیا تھا۔۔ اس کے سرہانےبیٹھی پٹیاں رکھ رکھ کر وہ اسکا بخار کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
بے ہوشی میں ہایون نے ماں سمجھ کر اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
ماما۔۔ماتوشکا۔۔
ایک۔لمحے کو وہ رک سی گئیں۔۔ بخار سے تپتے سرخ چہرے خشک لبوں سے وہ بچہ ماں کو پکار رہا تھا۔۔اسے ماں ہی دکھائی دی تھی یا کیا۔۔ اس نے بمشکل آنکھ کھول کر اس محبت بھرے لمس کو ماں کے لمس پر محمول کرتے گرفت کیا تھا
اسکی ماں نے خواب میں پیار سے اسکے ہاتھ کو چوما تھا۔۔
اس نے آنکھیں کھولیں ایک مہربان سا چہرہ اس پر جھکا تھا۔۔
وہ اس نامانوس چہرے کو پہچاننا چاہ رہا تھا۔۔
اسکی آنکھ کھل گئ۔۔ ہایون کسمسا کر سیدھا ہوا
صوفے پر سونے سے اسکا جسم شل ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔ وہ گردن ہلا تا کندھے کھینچ کر انہیں آرام دہ انداز میں لا کر اٹھ بیٹھا۔۔ گنگشن اسکے سامنے والے سگل صوفے کی ہتھی پر بازو ٹکا ئے سر رکھے سو رہی تھی۔۔ اسکو بہن پر پیار سا آگیا۔۔ اپنا کوٹ اسٹینڈ سے لا کر احتیاط سے ان کو اڑھا دیا۔۔ وہ بلائنڈز کھینچ کر نیم اندھیرا کر کے سونے لیٹا تھا۔۔ صرف اسکی میز کے اوپر کی دو بتیاں جل رہی تھیں۔۔ اس نے بلائینز ہٹا کر باہر جھانکا
شام کے چھے بج رہے تھے اندھیرا ہوا ہی چاہتا تھا۔۔
سیول کی روشنیاں جلنا شروع ہو چکی تھیں۔۔
تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر اسکی پی اے اندر داخل۔ہوئی۔۔
سر ۔۔ وہ ابھی اتنا ہی بولی تھی۔۔
اس نے انی کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے اسے خاموش کرا دیا۔۔ پھر اسکے ساتھ ہی باہر نکل آیا
سر دفتری اوقات ختم ہو چکے ہیں۔۔ آپ نے دو میٹنگز کیلیے بعد میں وقت نکالنے کو کہا تھا میں نے چار بجے کی ملاقات طے کردی تھی مگر۔۔ وہ اٹکی۔۔
ہایون اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔
پھر آپ کیلیے کل دوپہر کے کھانے کا وقت طے کر دیا ہے۔۔ معزرت میں آپ سے پوچھ نہ سکی مگر اگر آپ کو اعتراض ہو تو
وہ اچھا خاصا ڈر رہی تھی اس سے
ٹھیک ہے۔۔ تم بھی اب جائو۔۔
ہہونگ سک کو ترس ہی آگیا۔۔ وہ جان چھٹی سو لاکھوں پائے والے انداز میں سر ہلاتی اپنی میز کی جانب بڑھ گئ۔۔ تبھی انی دروازہ کھولتی باہر چلی آئیں۔
اٹھ گئیں آپ۔۔ اس نے مسکرا کر پوچھا۔۔
ہاں دیکھو زرا کیسے بے وقت سو گئ۔۔ انہوں نے ہنستے ہوئے اسکا کوٹ اسے تھمایا۔۔
رات کا کیا پروگرام ہے؟۔۔ ہایون نے پوچھا تو انہوں نے کندھے اچکا دیئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انی نے ڈھیروں ڈھیر شاپنگ کی تھی۔۔ وہ بھی اسکی۔۔
اسکیلیئے نت نئے رنگوں کی شرٹ پینٹ پسند کرتی پھریں۔۔ اسکو ٹرائی روم بھیجتیں کہ جو سب سے زیادہ جچے گی وہی خریدیں گی۔۔ مگر پھر ہر شرٹ پر انکا دل آجاتا۔۔ شہزادہ لگتا انہیں اپنا بھائی۔۔ ایک بار تو اسے چوم ہی لیا۔۔ وہ ہنس ہی پڑا تھا
پورئ دکان خریدنی ہی تھی تو مجھے کیوں بار بار کپڑے بدلواتئ رہی ہیں۔۔
ڈھیروں ڈھیر بیگز اٹھائے باہر نکلتا بظاہر وہ منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔۔
پتہ نہیں پھر کب موقع ملے۔۔ میں بس چاہ رہی تھی۔۔
وہ یاسیت سے کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔۔ انداز خود کلامی کا تھا۔۔
ہایون کو سمجھ نہ آیا سو رک کر پوچھنے لگا۔۔
کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔
میں کہہ رہی۔۔ میرا اتنا شہزادوں جیسا حسین بھائی ہے مگر ہے ایکدم گھامڑ۔۔ ایک لڑکی نہیں پٹا سکتا کیا کرے گا یہ۔۔
انہوں نے ہلکے سے اسکی پیشانی پر چپت لگادی
یہ تو نہیں کہہ رہی تھیں۔۔۔
وہ دھیرے سے مسکرایا۔۔
یہ اسکا مخصوص انداز تھا۔۔ بے چارگی بھرا جب جب انی اسے ٹالتی تھیں وہ یونہی مسکرا دیا کرتا تھا جیسے کہہ رہا ہو جانتا ہوں مجھ سے کچھ چھپا رہی ہیں۔ اور انی ہمیشہ کی طرح اسکی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کرتی قصدا ہلکے پھلکے انداز میں بولتی بات بدل گئیں۔۔
مجھے پارچے کھانے ۔۔ وہ بھی خود تل کر۔۔
وہ انہیں دیکھ کر رہ گیا۔۔
وہ انکو انکے پسندیدہ ریستوران لے آیا تھا۔۔
چھوٹے سے فرائی پان میں دھیرے دھیرے مصالحہ لگے پارچے تل تل کرسلاد کے پتوں میں لپیٹ کر ہایون کی پلیٹ میں رکھے جا رہی تھیں۔۔ دو کے بعد تیسری بار اس نے چاپ اسٹک سے اٹھا کر انکی پلیٹ میں رکھنا چاہا انہوں نے منہ کھول دیا۔۔
ہایون نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ انی حیران ہوئیں مگر وہ پھونک پھونک کر اسکو ٹھنڈا کرکے دوبارہ انکی جانب بڑھا رہا تھا۔۔ انہوں نے اسکے ہاتھ سے نوالہ لیا تو آنکھ بھر آئی۔۔
کیسے رہوں گی تمہارے بن۔۔
انہیں سوچ کر ہی دل میں درد سا ہوا تھا۔۔ ہایون اب نئے پارچے تلنے میں مگن تھا چاپ اسٹک سے پلٹتا تھوڑا سا اولیو آئل ڈالتا مگن تھا انکی جانب متوجہ نہیں تھا۔ انہوں نے گہری سانس لی۔۔
تم اپنی پڑھائی سے صرف نگاہ کرکے دفتر آرہے ہو مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔۔ نیپکن سے منہ صاف کرکے وہ سنجیدگی سے بولیں۔۔ہایون چونکا پھر رسان سے بولا۔۔
آپ اپنی پسندیدہ ملازمت سے صرف نگاہ کر کے دفتر آتیں مجھے یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
وہ اسے دیکھ کر رہ گئیں۔۔
میں نے آہبو جی سے کہہ دیا تھا میں چھٹی لے کر دفتر دیکھ لوں گی۔۔ پھر بھی انہوں نے تمہیں دفتر لا کر ہی دم لیا۔۔
ہایون کیلیئے نئی اطلاع تھی۔۔ وہ سیدھا ہو کر پلیٹ میں رکھے پارچے الٹ پلٹ کرنے لگا۔۔
آہبوجی تمہیں سب سونپنا چاہتے میں سمجھتی ہوں مگر تم پرمسلط کرنا چاہتے مجھے بالکل پسند نہیں آ رہا۔۔ تم یونیورسٹی جائو میں دیکھ لوں گی دفتری معاملات۔۔
انی کا انداز تحکم بھرا تھا۔ پیار بھرا تحکم۔۔ اسے انکے خلوص کی دل سے قدر تھی۔۔
آج کل اتنا پڑھائی کا زور نہیں میرا اتنا کوئی حرج نہیں ہو رہا۔۔
اس نے اطمینان دلانا چاہا۔۔
تم صحیح کہہ رہے ہو؟۔۔ انہوں نے تصدیق چاہی۔۔
ہاں ایک دم۔۔ اس نے مسکرا کر یقین دلایا۔۔
انی مسکرا دیں۔۔
ٹھیک ہے۔۔ میں پھر بھی ایک دو دن وقت نکال کر چکر لگالیا کروں گی۔۔
انہوں نے اسکے خیال سے کہا وہ۔کندھے اچکا گیا۔۔
ہوپ یہاں ہی کام کرتی تھی نا۔۔
یونہی کھانا کھاتے انہیں خیال آیا۔۔
ہاں۔۔ مگر اس نے یہ نوکری چھوڑ دی ہے۔۔
ہایون نے بتایا تو وہ سر ہلا کر بولیں۔۔
ہاں تم بتا تو رہے تھے اسے تم نے کوئی جاب دلوا دی ہے۔۔
ہایون کے حلق میں نوالہ اٹکا۔۔
اس نے وہ جاب نہیں کی۔۔
ہیں کیوں۔۔ ؟۔۔ انی حیران ہوئیں۔۔
پتہ نہیں۔۔ وہ کیا بتاتا اسے خود خبر نہ تھی۔۔
پھر کیا کر رہی ہے یہ لڑکی
انی نے سر پکڑ لیا تھا۔۔
۔۔ اسکا تو اپارٹمنٹ کا خرچہ بھی نہیں نکل پا رہا ہوگا۔۔ اف۔۔ میں بھی کتنی بھلکڑ ہوں مجھے اس سے خود پوچھنا چاہیئے تھا ابھی تین چار دن پہلے آئی تو تھی مجھ سے ملنے۔۔
وہ آئی تھی آپ سے ملنے۔۔ ہایون چونکا۔۔
ہاں۔۔ میں جائوںگی اس سے ملنے ۔۔ انہوں نے مصمم ارادہ کیا۔
آپ اس سے نہیں مل سکتیں وہ گھر وہ۔چھوڑ چکی ہے۔۔
ہایون نے بتایا تو وہ شاکڈ رہ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چپس بسکٹس دو بجے تک سب ہضم۔ہوچکا تھا۔ بابا نے پیسے وائر کر دیئے تھے۔ مگر وہ اکیلی کیسے باہر جا کر شاپنگ کرتی۔
وہ بے زاری سے فٹ بال۔کورٹ میں آکر بیٹھ گئ۔۔
آج تو یہاں بھی کوئی نہیں تھا۔۔ دور سیڑھیوں پر ایک دو کھلاڑی بیٹھے تھے وہ بھی کٹ بیگ سمیٹتے جانے کو اٹھ گئے۔۔
وہ یونہی گھٹنوں پر چہرہ ٹکائے سامنے دیکھنے لگی۔۔ زہن منتشر تھا کہیں کوئی سوچ ٹک ہی نہیں رہی تھی۔۔
بےزار سا ہو کر اس نے موبائل اٹھا لیا۔۔ فیس بک اوپر نیچے کر کے اس نے بند کر دی۔۔ اور گیلری سے تصویریں نکال۔نکال کر دیکھنے لگی۔
سفید فراک اور سرخ اسکارف پیچھے بڑی سی مچھلی منہ کھولے جیسے لمحہ بھر بعد وہ اسے سالم نگل لے گی۔ یہ اسکی مال میں ایکوریم کے ساتھ ہایون نے کھینچی تھی
اگلی ہایون کی اپنی سیلفی تھی۔۔ سنجیدگی سے کیمرے میں دیکھتا وہ اس مسکراتے ہایون کا سایہ لگ رہا تھا۔۔ وہ ڈیلیٹ کرتے کرتے رک گئ۔
یہ کب لی۔۔ اس نے۔۔ وہ حیران ہوئی۔۔
۔۔ اس نے اپنا موبائل تھما کر تصویر کھنچوائی تھی۔۔ پھر اسکے موبائل کمیرے کا مزاق اڑا کر اگلی کئی تصویریں ہایون نے اپنے موبائل میں کھینچی تھیں۔۔ اسے یاد آیا۔
اف اس نے مجھے تصویریں بھیجی ہی نہیں۔۔ کمینہ
اس کو غصہ آگیا۔۔
کتنا پیارا رزلٹ تھا اسکے کیمرے کا اچھی تصویر آتی تھی۔۔ اسے ماننا پڑا۔۔ اس نے آگے کر دی تصویر۔۔
۔ جی ہائے گوارا کے ساتھ سنتھیا کے ساتھ۔۔ آگے چند ہی تصویریں تھیں۔۔
اسکے پاس نئی سے زیادہ پرانی تصویریں تھیں۔۔ حماد کی دلاور کی۔۔ اس نے بچپن کی تصویریں بھی کھینچ کر محفوظ کر رکھی تھیں۔۔ باری باری سب فولڈر دیکھتے اسکی دلہن بنی تصویر سامنے آگئ۔۔ اسکی سنتھیا کی ۔۔ ہنستے مسکراتے۔۔ کون۔جانتا تھا چند گھنٹوں میں سب بدل جائے گا۔۔ اس نے بند کر دیا۔ امی آپ نے بالکل اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔۔
اسے ایکدم سے غصہ آگیا۔۔
موبائل سائڈ میں پٹخ دیا۔۔
یہی سب ہوتا میں یہاں اکیلی بیٹھی ہوتی دوسرے ملک میں سہی کم از کم مجھے کوئی تکلیف دہ یاد تو نہ ستا رہی ہوتی۔۔
وہ اشارہ کر کر کے خود سے باتیں کر رہی تھی۔۔
خیر میری طلاق کا معاملہ نہ ہوتا تو ابو کبھی مجھ پر ترس کھا کر اتنی دور نہ بھیجتے۔۔
دماغ نے دوسری راہ سجھائی تو ٹھنڈی ہوئی۔۔
مگر پھر مجھے خود سے پاکستان سے بھاگنے کی کیا ضرورت پڑتی میں خوش تھی وہاں بھی سکون سے ہی پڑھ رہی تھی۔۔ بس میری پوری ذات ہلا کر رکھ دی بلا وجہ۔۔ ۔
امی اتنا آرام سے کیسے ہیں کوئی اور تو۔۔۔
اسکی سوچ کر ہی سانس رک گئ۔۔
نہیں۔۔ اس نے سینے پر مکا مار کر خود کو گھبرانے سے روکا۔۔
اب تو یہ سب جتنا مرضی مجھ پر دبائو ڈال لیں میں نہیں مانوں گی سمجھوتے پر۔۔
زور زور سے نفی میں سر ہلاتے وہ خود کو یقین دلا رہی تھی ۔۔ مگر سچ یہی تھا ابھی بھی خود بری طرح ڈر رہی تھی۔۔
مگر سجاد نہ سہی کوئی اور ڈھونڈ لیں گے۔ اس جیسا یا شائد اس سے بھی۔۔
مجھے نہیں کرنی شادی
میں نے نہیں جانا پاکستان یہیں رہنا۔۔ اس نے بلبلا کر کسی خدشے سے دہل کر گھٹنوں میں سر دے دیا۔۔ اور ہچکیاں لے کر رو دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن کی کلاس تھی اسکے ہمراہ باتیں کرتے وہ اسے چھوڑنے آیا تھا ۔۔
میں یہ پہنچا دوں گا فکر نہ کریں ہیونگ۔
کم سن اسکے ہاتھ سے شاپر لیکر تسلی دینے والے انداز میں بولا۔
گومو ووئیو۔
علی مسکرا کر سر کو ہلکا سا خم دے کر بولا۔
اچھا میری کلاس ہے میں چلا۔ کم سن گھڑی دیکھ کر چونکا پھر جلدی سے دعا سلام کرتا بھاگ کھڑا ہوا۔
وہ چند لمحے اسے یونہی جاتے دیکھتا رہا ۔ گھر جلدی جا کے بھی کچھ نہیں کرنا تھا۔ یہاں کہیں پر فٹ بال گرائونڈ تھا۔ اس نے آتے سرسری سا دیکھا تھا۔ وہ یونہی سکون کی تلاش میں ادھر نکل آیا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا وہ کس سمت جائے اندازے سے چلتا آیا تو فٹ بال۔کورٹ سامنے تھا۔۔ اس وقت خالی ہی تھا۔ پورے کورٹ میں دھوپ پھیلی تھی ہاں سیڑھیوں پر چھائوں تھی۔۔ ایک جانب دو لڑکے سایہ دار جگہ پر فٹ بال سے کرتب کر رہے تھے وہ دلچسپی سے دیکھنے لگا وہ بھی تھوڑئ دیر میں سیڑھیوں کے پاس سے بیگ اٹھاتے چلتے بنے تبھی اوپر سے بے زاری سے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اس لڑکی پر نظر پڑی تھی۔ اسکے خدو خال اجنبی تھے تو حلیہ تو بالکل الگ تھا۔۔
وہ لمبی سی گھٹنوں تک کی گلابی شرٹ اورجینز میں ملبوس تھی ساتھ بڑا سا پردہ اوڑھے تھی۔۔ اس نے شولڈر کٹ بالوں کی پونی بنا رکھی تھی۔۔
ایسا لباس۔۔ وہ سوچ میں پڑ گیا کہاں دیکھا۔۔
رچل کے ساتھ کوئی غیر ملکی فلم دیکھی تھی امریکہ میں۔۔ کونسا ملک تھا۔۔ اسے یاد نہ آیا۔۔ وہ سوچتا اسی کو دیکھے جا رہا تھا۔۔ اس لڑکی نے ہاتھ ہلا ہلا کر بات کرنی شروع کی تو یکدم چونک کر باقائدہ جھک کر اسکے مخاطب کو دیکھنا چاہا۔۔ مگر وہاں کوئی نہیں تھا وہ الجھن بھری حیرت سے دیکھ رہا تھا۔۔
اس نے بولتے بولتے گھٹنوں میں سر دے کر شائد رونا شروع کر دیا تھا۔۔ اسکا جسم ہچکیوں سے لرز رہا تھا۔۔
اسکا دل پگھل گیا۔۔ وہ بھی ایک وقت تھا یونہی کہیں بھی بیٹھے بیٹھے ہچکیوں سے رو پڑتا تھا۔۔ رچل کو یاد کر کے۔۔ جانے اس پر کیا بیتی تھی۔۔ وہ تھوڑی دیر تو دیکھتا رہا پھر رہا نہ گیا۔۔ اٹھ ہی گیا۔۔
قریبی ڈیپارٹمنٹ میں لگی وینڈنگ مشین سے پیسے ڈال کر پانی کی بوتل خرید لایا۔۔ حسب توقع وہ رونے میں مگن تھی۔۔
آہ۔۔ وہ ہنگل میں پکارتے پکارتے رک گیا۔۔
ہیلو۔۔مس۔۔ اس نے اسکے قریب آکر دھیرے سے پکارا۔۔
اریزہ نے دہل کر سر اٹھایا۔۔
بے تحاشہ گریہ سے اسکی بڑی بڑی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔ اسکے چہرے پر آنسووں کی نمی تھی۔۔ بالوں کی کئی لٹیں نکل کر چہرے سے آچپکی تھیں۔۔
اسکی کھڑی ناک کی لو سے لیکر گالوں کی ہڈی تک جیسے کسی نے بلشر پھیر دیا تھا۔۔ ایک۔لمحے کو وہ اپنی بات بھی بھول گیا۔۔
اریزہ نے جلدی جلدئ دوپٹے سے چہرہ صاف کیا۔۔
اف۔۔ وہ شرمندگی سے ڈوب مرنے کے مقام پر تھی۔۔
رونا بھئ وقت اور موقع دیکھے بغیر آتا ایک تو۔۔
وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔۔
یہ لیں پانی پی لیں۔۔ علی نے بوتل بڑھائی اریزہ متزبزب تھی ۔۔
مگر مخاطب کے چہرے کے نرم نرم سے تاثرات دیکھ کر بوتل تھام لی۔
وہ اس سے تھوڑا سا فاصلہ رکھ کر وہیں بیٹھ گیا۔
گومو وویو۔۔
اریزہ نے اسکا شکریہ ادا کیا
مسکرایا۔۔ تو اسے ہنگل آتی ہے۔۔
غم ایسے ہی ہوتے کب کہاں دل تڑپا دیتے کیا خبر۔۔
مگر رونا بہت اچھا ہوتا دل ٹھہر جاتا۔۔ یوں لگتا تکلیف ختم تو نہیں ہو رہی مگر کم ضرور ہو گئ ہے۔۔
وہ رواں ہنگل میں بولا تھا۔۔
اریزہ کچھ نہ سمجھتے اسے دیکھتی گئ۔۔
تم پیاری لڑکی ہو خدا کرے آئندہ ہمیشہ ہنستی ہوئی ہی ملو اگر ملو۔۔ وہ مسکرا کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
ابھی بھی ہنگل میں ہی کہہ رہا تھا۔۔
اس نے مسکرا کر کوریائی انداز میں جھک کر الوداع ہی کہا ہو گا۔۔
اریزہ نے سوچ کر اسکو اسی کے انداز میں گردن جھکا کر الوداع کہہ دیا۔
اس نے موبائل اٹھا لیا۔۔
غم بھئ کیا عجیب شے ہوتے کون جانتا کب کہاں آپ کمزور پڑ کر رو پڑیں۔ مگر رونا اچھا ہے۔۔ رونا کمزوری نہیں طاقت دیتا ہے۔۔ غم کو سہنے کی طاقت۔۔ دل ٹھہر جاتا یوں لگتا تکلیف ختم تو نہیں ہو رہی مگر کم ضرور ہو گئ ہے۔۔
ویسے خدا کرے آپ سب پڑھنے والے کبھی نہ روئیں ہنستے ہوئے ہی کمنٹ کریں اگر کریں تو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا۔۔
اچھا بھلا مزاج تھا میرا مجھے میرے غم یاد دلا دیئے اب رونے کا دل کر رہا۔۔
دوسرا۔۔
اتنا اچھا ہوتا رونا مگر کیا کروں آ ہی نہیں رہا رونا۔۔ ایڈمن اپنی شکل دکھا دو ڈر کر ہی رو پڑوں شائد۔۔
فٹے منہ۔ اس نے جل۔کر یہی کمنٹ کر دیا۔۔
تیسرا۔۔۔
مجھے دادی یاد آگئیں۔۔ ابھی زندہ ہیں۔۔ کیا میں رو سکتا اس بات پر۔۔ ؟۔ میرا مطلب میری پھپھو کی بیٹی سے میرا رشتہ طے کر دیا ہے انہوں نے کتنا اچھا ہوتا میں اس وقت رو رہا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
ہاہ بے چارہ۔۔ اس پر اسے واقعی ترس آیا
چوتھا۔۔
آہ۔ میں رو رہا ہوں چپ بھی کرا دے کوئی۔۔
آگے آنسو والے اسمائیلی تھے۔۔
پانچواں۔۔
روتے ہیں چھم چھم نین اجڑ گیا چین۔۔ آگئے میرے ایگزیم ۔۔ ایڈمن دوا تو میں نہیں کی پورا سال نہیں پڑھا۔۔ تم دعا ہی کر دو۔۔
اس نے بیسٹ آف لک لکھ دیا۔۔
چھٹا
کوئی کہیں تمہاری وجہ سے رو رہا ہے تمہیں خبر ہے۔؟
آہ۔ یہ آئی ڈی۔ وہ صارم کو بلاک کرتے کرتے رک کر بلاگ بند کر گئ۔۔
اسکے موبائل میں پھر میسج آیا تھا۔۔
بس اداس اسمائیلی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اٹھ کر کھڑکی پر سے پردے ہٹا ئے تو اندازہ ہوا شام کے دھند لکے پھیل رہے تھے۔۔ کھڑکی کے بالکل سامنے جھیل کا نظارہ تھا۔۔ سورج کی کرنوں کا جھیل کے پانی پر دمکنے کا نظارہ اگر دلکش ہوتا تو اس وقت جھیل کا ٹھہرا پانی اندھیرے سمیٹتا بھی کیا خوب لگ رہا تھا۔۔ وہ یونہی دیکھے گیا۔۔
اس وقت یہاں کس قدر خاموشی ہے۔۔ پاکستان میں یہ وقت اذانوں کی آواز سے گونج رہا ہوتا تھا۔۔
اس نے یونہی سوچا پھر مڑ کر بیڈ کی جانب نگاہ کی۔۔
سنتھیا بے خبر سو رہی تھی۔
وہ اسے دیکھے گیا۔۔ دیکھتے دیکھتے سنتھیا کی شکل تبدیل۔ہو کر کسی اور چہرے کی جھلک
دکھلانے لگی۔۔
پھر وہ چہرہ بھی دھندلاتا گیا۔۔ اسکی آنکھوں میں بہت پانی اتر آیا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھ بجے ہال میں کھانا ملنا تھا۔ تب تک اسکی حالت مخدوش ہوچکی تھی۔۔ ڈھیر ساری سلاد ابلے چاول سبزیوں کا سوپ انڈے لیکرافطاری کرنے بیٹھی تو اسے اپنی رنگ برنگے کھانوں سے سجی افطاری یاد آئی۔۔
صارم کا میسج آیا تھا۔ اس نے کھول کر دیکھا۔
افطاری کی ہی تصویر کھینچ کر بھیجی تھی۔
کمی۔۔ وہ گالی دیتے دیتے زبان دانتوں تلے دبا گئ۔
اس نے تصویر ذوم کی جبین کی پکوڑے کے ٹرے رکھتے ہاتھ کی بھی تصویر آگئ تھی۔
اسکی ماں کے ہاتھ میں بے حد ذائقہ تھا۔ یقینا اس وقت جو فروٹ چاٹ دہی بھلے پکوڑے کچوری چکن پلائو سب بے حد لذیذ بنا ہوا ہوگا۔ مگر وہ صرف اپنی ماں کا ہاتھ دیکھ رہی تھی۔
کیا دیکھ رہی ہو۔۔
جی ہائے دھم سے اسکے برابر آن بیٹھی۔
اس نے مسکرا کر موبائل رکھا اور سوپ پینے لگی۔
جی ہائے اسکی تصویر دیکھ کر ہنس دی۔
تم اپنے روایتی کھانے دیکھ کر انکا ذائقہ اس کھانے میں محسوس کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
وہ چھیڑ رہی تھی۔
مگر یہ ذائقہ محسوس نہیں ہو پارہا۔ اس نے بھی بے چاری سی شکل بنا لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا۔۔ کہاں ہو جواب تو دے دو۔۔
اس نے کم از کم بھی دس پیغام بھیج دیئے تھے مگر سنتھیا جواب نہیں دے رہی تھی۔۔
کیا ہوگیا ہے تمہیں ۔۔ وہ بے بسی سے موبائل کو دیکھ کر بڑبڑائی۔۔
کمرہ کافی پھیلا ہوا تھا۔۔ وہ صفائی میں لگ گئی۔۔ نہ صرف اپنا بلکہ سنتھیا کا بھی سب سامان سمیٹ کر جھاڑا پونچھا۔۔ تھک کر گھڑی پر نگاہ گئ تو دس بج رہے تھے۔۔ سنتھیا کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔۔
وہ اٹھ کر جی ہائے کے کمرے میں چلی آئی۔۔ جی ہائے لیٹی ہوئی تھی گوارا حسب عادت لیپ ٹاپ پر جتی تھی۔
دونوں نے اسے مسکرا کر خوش آمدید کہا تھا۔
مجھے کچھ چیزیں خریدنی ہیں ہم اس وقت باہر جا سکتے ہیں؟
وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔۔
گوارا نے الرٹ ہو کر لیپ ٹاپ بند کیا اور اسکی جانب گھوم۔گئ۔۔
سیدھے راستے سے تو نہیں ۔۔
جی ہائے اور گوارا اکٹھے بولیں۔۔
وہ مایوس سی ہوئی
پتہ ہے میں اور یون بن منتخب کر لیئے گئے ہیں لوک داستان کی ڈرامائی تشکیل کیلیئے۔ یونورسٹی کی تقریبات اگلے ہفتے سے شروع ہو رہی ہیں۔
اس نے چہکتے ہوئے بتایا تھا۔۔
اچھا۔۔ اریزہ کا انداز اتنا ہی سرسری تھا۔۔اسکو غم ہی کوئی اور لاحق تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکڈ فوڈ بریڈ انڈے آٹا سبزی گھی مکھن ۔
اچھا خاصا سودا سلف لے لیا تھا ایڈون نے۔
رمضان ہمارا تہوار نہیں ہے۔
سنتھیا نے جتایا اسے۔
ہاں مگر کھانے پینے کی منادی تو نہیں نا۔ تمہیں دیسی کھانے یاد نہیں آرہے ؟
اس کا انداز سبھائو بھرا تھا۔ وہ چیں بہ چیں ہو۔کر رہ۔گئ
دو بڑے شاپر بھر کر اس نے سامان خریدا تھا جو صرف کھانے پینے کی اشیاء سے بھرا تھا۔ ایک وہ سالک اور شاہزیب کیلئے اپنے ہاسٹل لے جا رہا تھا دوسرا اسے تھما دیا تھا۔
اسے ہاسٹل کے پاس پیدل چھوڑ کر اب اس نے اپنے ہاسٹل کی۔جانب جانا تھا۔
اوکے خدا حافظ۔
وہ اس کے اوپر جھکا وہ قصدا رخ موڑ گئ۔ ایڈون نے برا نا مانا۔
اپنا خیال رکھنا۔ مسکرا کر کہتا وہ آگے بڑھ گیا۔
آٹھ بج رہے تھے سب یقینا کھانا کھانے کیفے میں گئے ہوئے تھے جبھی یہاں بالکل رش نہ تھا۔ اس نے شاپر وہیں سیڑھیوں کے پاس اندھیرے میں چھوڑا اور خود لان کی طرف بڑھ گئ۔ اسکا اس وقت اکیلے رہنے کا دل کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحری کے وقت الارم بجا تو اسے یہی لگا کہ جیسے ابھئ ابھی ہی تو سوئی تھی۔ اسکو پہلا خیال سنتھیا کا ہی آیا ۔۔
اس نے کروٹ بدل۔کر ریلنگ سے نیچے جھانکا
سنتھیا کا بیڈ خالی تھا۔
وہ شائد آج رات بھر نہیں آئی تھی واپس۔
اسکی پیشانی پربل سے پڑ گئے۔۔۔
آج اسکے پاس چپس وغیرہ بھی نہ تھے۔ پانی پی کر نیت کرنے کا ارادہ تھا اسکا۔
وہ سستی سے اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔
باہر نکل کر اپنے سرہانے رکھی پانی کی بوتل اٹھا کر پانی پیا دو گھوںٹ ہی نکلے ۔
بھوک۔برداشت ہو۔جاتی تھئ اس سے پیاس نہ ہوتی۔ ابھی سارا دن پڑا تھا۔ گہری سانس بھر کر وہ پانی لینے کچن میں چلی آئی۔ کچن میں کل کے برعکس اس وقت سناٹا نا تھا۔ وہ ڈھیلے ڈھالے قدم اٹھاتی اندر داخل ہوئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے ہاتھوں سے پانی کی بوتل چھوٹتے چھوٹتے بچی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔
جاری ہے۔

Kesi lagi apko aaj ki qist? Rate us

★★★★

Jis Ka Safar Tamam Hua – Urdu Sad Poetry on Loss

jis ka safar tamam hua wo ab kahan jayay…
theher b na sakay yehan palat b na payay…
humrah jitnay b thay sab sath chorte gayay…
akelay na berh sakay agay na sangi payay…
kisi ko kia gharz beeti kia hum pe umar bhar…
pocha nahi kisi ne na khud keh payay…
tasali na sahi do bol hamdardi k mil jatay…
huns huns k bata saky na khul k ro payay…
hum mizaaj itnay hum dono he reh gyay tanha…
keh na payay dil ki kabi na kisi ki sun payay…
haqeeqat itni si k bas na muraad hi rehy hum…
tabeer na mil saki koi na khawab dekh payay…
qalam hath me lia aur buna daleen bs lakeerain…
tasveer na bun saki koi na tehreer ker payay…
hajoom ne ikathi ki bs zindagi bhar tanhai…
ashnao say door rehay apne na bun payay…

By HAJOOM E TANHAI

جس کا سفر تمام ہوا وہ اب کہاں جائے
ٹھہر بھی نہ سکے یہاں پلٹ بھی نہ پائے

ہمراہ جتنے بھی تھے سب ساتھ چھوڑتے گیۓ…
اکیلے نہ بڑھ سکے آگے نہ کوئی سنگی پائے…

کسی کو کیا غرض بیٹی کیا ہم پہ امر بھر …
پوچھا نہیں کسی نے نہ خود کہ پائے…

تسلی نہ سہی دو بول ہمدردی کے مل جاتے …
ہنس ہنس کہ بتا سکے نہ کھل کے رو پائے …

ہم مزاج اتنے ہم دونوں ہیں رہ گئے تنہا …
کہ نہ پائے دل کی کبھی نہ کسی کی سن پائے …

حقیقت اتنی سی کہ بس نا مراد ہی رہے ہم …
تعبیر نہ مل سکی کوئی نہ خواب دیکھ پائے…

قلم ہاتھ میں لیا اور بنا ڈالیں بس لکیریں
تصویر نہ بن سکی کوئی نہ تحریر کر پائے…

ہجوم نے اکٹھی کی بس زندگی بھر تنہائی . ..
آشناؤں سے دور رہے اپنے،اپنے نہ بن پائے …

از قلم ہجوم تنہائی

mana k wo youn tau bara khush atwar hay… per us k sath sath rehna bara dushwaar hay…

mana k wo youn tau bara khush atwar hay…
per us k sath sath rehna bara dushwaar hay…


kotah been hay mager chorta nahi nuqta e nazar…
behas wo kerta hay bohat hota sir pe sawar hay…


shaksyat mutasir kun nahi tau na sahi mager…
din ba din hota jaa reha wo adam bayzaar hay…


muskurahat uski aisi k zakhami ker deti hay chehra…
us ko hunsanay ki khawahish rekhna tau baykar hay…


itna us ko b ehsas hay apni kam mayagi ka…
khamosh rehta hay halake khush guftar hay…


kanootiat itni hay us me k ahbab hain nalaan us say…
bantta phrta hay tanhaiyan yeh uska shuaar hay…


kabi milay ga youn tapak say k gehra yarana hay…
kabhi pehchanay ga b na dekh k wo ada kaar hay…


na taluk nibhanay atay na nata torna hay ata…
rabto me pehal kerna uska tareka e farar hay…


lafz lafz tanha hay jabi aadi hay apni kehnay ka…
samayeen say mehrom reha ab samaato pe bar hay…


jee leta hay zindagi aur ander sy merta bhi hay…
hajoom b hay tanhai b youn hota wo khawar hay…

BY HAJOOM E TANHAI

مانا کہ وہ یوں تو بڑا خوش اطوار ہے …
پر اس کہ ساتھ ساتھ رہنا بڑا دشوار ہے …

کوتاہ بین ہے مگر چھوڑتا نہیں نقطہ نظر …
بحث وہ کرتا ہے بہت ہوتا سر پہ سوار ہے …

شخصیت متاثر کن نہیں تو نہ سہی مگر …
دن بہ دن ہوتا جا رہا وہ آدم بیزار ہے …

مسکراہٹ اسکی ایسی کہ زخمی کر دیتی ہے چہرہ …
اس کو ہنسنے کی خواہش رکھنا تو بیکار ہے …

اتنا اس کو بھی احساس ہے اپنی کم مایگی کا …
خاموش رہتا ہے حالانکہ خوش گفتار ہے …

قنوطیت اتنی ہے اس میں کہ احباب ہیں نالاں اس سے ..
بنتا پھرتا ہے تنہا یہاں یہ اسکا شعار ہے …

کبھی ملے گا یوں تپاک سے کہ گہرا یارانہ ہے …
کبھی پہچانے گا بھی نہ دیکھ کہ وہ ادا کار ہے …

نہ تعلق نبھانے آتے نہ ناتا توڑنا ہے آتا…
رابطوں میں پہل کرنا اسکا طریقہ فرار ہے …

لفظ لفظ تنہا ہے جبھی عادی ہے اپنی کہنے کا …
سامعین سے محروم رہا اب سماعتوں پہ بار ہے …

جی لیتا ہے زندگی اور اندر سے مرتا بھی ہے …
ہجوم بھی ہے تنہائی بھی یوں ہوتا وہ خوار ہے …

از قلم ہجوم تنہائی

Salam Korea Episode 12

Salam Korea

by Vaiza Zaidi

سلام کوریا
قسط 12

صبح معمول کے مطابق تھی وہ نہا کر فریش ہوکر باہر جانے کیلیئے کمرے سے نکلا تھا کہ آہبوجی سے سامنا ہو گیا۔۔
آننیاگ واسے او۔۔ وہ۔ہلکے سے سر کو خم دیتا گزرنے کو تھا۔۔
ہایون نا ۔۔۔۔ رکو۔۔
وہ اہتمام سےڈائننگ ٹیبل پر اکیلے بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے چاول سوپ انڈے کے رول سب کچھ موجود تھا۔۔
وہ رک گیا۔۔ مگر وہ شائد اسکے ضبط کا امتحان لینا چاہتے تھے۔۔ وہ انکے پاس کھڑا انہیں منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا اور وہ اہتمام سے ایک کے بعد ایک نوالہ لے رہے تھے۔۔
آہبوجی۔۔ اس نے ناچار پکارا۔۔
ہوں۔۔ وہ۔یوں چونکے جیسے ہایون نے ان سے توجہ کی بھیک مانگ لی ہو۔۔
ہمم بیٹھو۔ انہوں نے ہنکارا بھرا۔۔
ہایون بیٹھنا چاہتا تو نہیں تھا مگر کوئی چارہ نہ تھا۔
میں ایک مہینے کیلیے امریکا جا رہا ہوں۔۔
انہوں نے توقف لیا۔۔ ہایون نے یوں دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو تو میں کیا کروں؟۔۔
تم اس ایک مہینے کیلیئے میری جگہ دفتری معاملات دیکھو گے۔۔سیکٹری آہن تمہیں سب سمجھا دیں گے۔۔ مگر بہر حال کسی بھی معاملے کو نپٹانے میں آخری فیصلہ تمہارا ہوگا۔۔ کل سے دفتر آنا شروع کر دینا میں زیادہ سے زیادہ اگلےویک اینڈ تک چلا جائوں گا۔۔
ہایون نے پوری توجہ سے انکی پوری بات سنی تھی پھر اطمینان سے اٹھتے ہوئے بولا۔۔
مجھے دلچسپی نہیں معزرت۔
ٹھیک ہے پھر مجھے گنگشن کو کہنا پڑے گا۔۔
انکا اطمینان عروج پر تھا۔۔ سرسری سے انداز میں بولے
وہ پلٹ کر جاتے جاتے رک گیا۔۔
میرے پاس اولاد کے نام پر بس یہ دو لوگ ہی ہیں۔۔ سو اگر تم نہیں تو گنگشن کو میری جگہ کام کرنا ہوگا۔۔
انہوں نے نئپکن سے منہ صاف کرتے جیسے وضاحت کی تھی۔۔۔
آہموجی سے کیوں نہیں کہتے؟۔۔
اس نے جیسے احتجاج کیا۔۔
اگر اس عورت کے ہاتھ ایک دن بھی اتنی طاقت آئی تو سب سے پہلے وہ تمہارا پتہ صاف کرے گی۔۔
وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے ۔۔
مجھے کچھ چاہیئے بھی نہیں۔۔ وہ۔لاپروا تھا۔۔ اسکی بات پر لی صاحب یوں مسکرائے جیسے کوئی بچوں کی بات پر مسکرا دیتا ہے۔۔
میں گنگشن سے کہہ دوں گا ۔۔ تم جائو۔۔ اپنا کام کرو۔۔
وہ اسکا کندھا تھپتھپا کر آگے بڑھنے کو تھے۔۔ ہایون نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کر کے سوچا۔۔ پھر ہاں کردی۔۔
میں کل آجائوں گا دفتر۔۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا تھا۔۔ لی فاتحانہ مسکراہٹ سے اسے جاتے دیکھتے رہے۔۔
مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا یہ بچے ایک دوسرے کیلیئے محبت میں کچھ بھی کر سکتے اچھی کمزوری ہاتھ لگی میرے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن پول کے کنارے کاوچ پر لیٹا اس بے چین روح کو ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر تیر تیر کر چکر لگاتے دیکھ رہا تھا۔۔ وہ پانی پر بازو یوں چلا رہا تھا جیسے پانی کو پٹخ رہا ہو۔۔ کوئی درجن ایک چکر لگا کر جب وہ تھک کر کنارے آیا تو وہ آرام سے اٹھا اور اسے سہارا دینے کو ہاتھ آگے بڑھایا۔۔
ہایون نے ایک نظر اسے دیکھا پھر جیسے ہار مان کر اسکا ہاتھ تھام کر باہر نکل آیا۔۔
کاوچ پر آکر وہ تھک کر گرا تھا۔۔
میں نہیں پوچھوں گا تمہیں کیا پریشانی ہے۔۔ کیونکہ تم اس پریشانی سے کیسے نمٹنا یہ ٹھان چکے
۔۔ کم سن نے اسے کہا تو ہایون زور سے ہنسا تھا۔۔
اسکا انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو صحیح پہچانے ہو مجھے۔۔
وہ اب کافی پرسکون نظر آرہا تھا۔۔ اس نے گرل۔سے تولیہ کھینچی اور بال خشک کرنے لگا۔۔
کم سن اسے دیکھتا رہا پھر مسکرا کر سر جھٹک گیا۔۔
ہایون ۔۔ ایک بات پوچھوں اگر تم نہ بتانا چاہو تو صاف کہنا برا مت مان جانا۔۔
اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر کہا۔۔
بولو۔۔ ہایون نے سائیڈ ٹیبل سے مشروب کا گلاس اٹھا کر چسکی لی۔۔
تم نے اپنی آہموجی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے کبھی؟۔۔
اس نے سیدھا سوال کیا تھا۔۔ ہایون اگلا گھونٹ بھرتے بھرتے رک سا گیا۔۔۔۔۔۔۔کم سن نے ایک نظر اسکے چہرے ہر پھیلتے سائے دیکھے پھر بات بدل دی۔۔
تمہاری ہوپ کا کوئی مسلئہ ہے جو تمہیں الجھا رہا؟
کم سن کے تمہاری ہوپ کہنے پر اس نے چڑ کر گھورا۔
نہیں اور وہ میری ہوپ بھی نہیں ہے۔
اسکے جل کر کہنے پر کم سن نے خوب حظ اٹھایا قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔۔
اچھا میری ہوپ اب خوش۔ میری ہوپ میں خداداد صلاحیت ہے بس اسکو کسی اچھے ادارے سے آرٹس کی کوئی ڈگری لینی چاہیئے وہ بنیادی باتیں سکھائیں گے اسکا ہنر نکھر جائے گا۔
اس نے کچھ نہیں کرنا۔ ہایون چڑ کر بولا۔
اس پاگل لڑکی نے۔مجھے سب چیزیں واپس بھجوا دیں۔۔ اور مجھے کسی پیغام کا جواب بھی نہیں دے رہی ۔گھر بھی بدل لیا حد ہے۔ وہ کافی تپا ہوا تھا۔۔
اوپر سے اس ایڈیٹر نے علیحدہ ناک میں دم کیا ہوا ۔۔ کہہ رہا دو دن میں جواب دو ورنہ کسی اور کو ہائر کر لوں میں مجھے جلدی۔ اب بتائو۔۔ میں کیا کروں۔
دفع کرو۔
۔ کم سن نے گھونٹ بھر کر اطمینان سے کہا۔۔
آپ صرف اسکی مدد کر سکتے جو آپ سے مدد لینا چاہے وہ تم سے مدد نہیں لینا چاہتی۔۔ تم اسکی مدد کا خیال دل سے نکال دو۔۔
ہایون نے گہری سانس لی۔۔
یار میں واقعی اسکی مدد کرنا چاہ رہا تھا۔۔ جانے اسے اچانک ہوا کیا۔۔ میرا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا۔۔ اسکی جگہ کوئی بھی ہوتا تو میں یہی کرتا۔۔
اسکے انداز میں سچائی تھی۔ کم سن اسکا چہرہ پڑھ سکتا تھا۔۔ کتنے صاف اور خالص ہوتے ہیں وہ چہرے جو آسانی سے پڑھے جا سکتے ہین جھوٹ کی ملمع کاری سے دور عیاری کے نقاب سے مبرا۔۔
معصوم سادہ ۔۔ ہایون نے اپنی چندی آنکھوں کو سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔
کیا ہوا۔۔
کم سن چونک کر مسکرایا۔۔
تم بہت پیارے ہو۔۔ ہایون کیلیئے یہ کافی غیر متوقع اعتراف تھا۔۔۔ پورا منہ کھول کر رہ گیا۔۔
کیا؟
کم سن اسکے انداز پر مسکرایا۔۔
بہت صاف دل کے سچے ستھرے سے انسان ہو کوئی بہت ہی خاص لڑکی ہونی چاہیئے تمہارے لیئے۔۔۔
ہایون ۔کی حیرت دو چند ہو گئی تھی۔۔ کم سن اٹھا پھر ہلکے سے اسکے گال پر چپت لگا دی۔۔
منہ بند کرو۔۔
آہش۔۔۔ اسکا جبڑا ہل گیا تھا ۔۔ کراہ کر سہلانے لگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا بیڈ پر نیم دراز موبائل میں مگن تھی۔۔
جی ہائے اسکے پیروں کے پاس ٹکی موبائل میں مگن تھی۔۔ اریزہ ان دونوں کے پھیلنے کے بعد بچی تھوڑی سی سرہانے والی جگہ پر بیٹھی موبائل میں مگن تھی۔۔ مطلب صحیح بہترین وقت اکٹھے گزارا جا رہا تھا۔۔ اریزہ سب سے پہلے اکتائی تھی۔ موبائل تکیے پر پٹخ کر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔۔
کیا ہوا ؟۔۔ جی ہائے گیم کھیل رہی تھی نظریں ہٹائے بنا توجہ سے نوازا۔۔
میں بور ہو رہی ہوں۔۔ اس نے منہ بنایا۔۔
میں بھی۔۔ گوارا نے بھی موبائل ایک طرف رکھ دیا۔۔
باہر چلیں۔۔۔ جی ہائے نے کہا تو گوارا نے بے چاری سی شکل بنا لی۔۔
ایم آئوٹ آف کیش۔۔
کل کم خرچنا تھا نا۔۔ جی ہائے نے منہ بنایا۔
یار کیا زندگی ہے پیسہ پیسہ سوچ کر خرچنا۔۔ اب آخری ہفتہ مہینے کا میرا ایسا بکواس گزرے گا۔اور
وہ رکی ایک۔نظر اریزہ۔کو دیکھا پھر ہنگل میں شروع ہوگئ۔۔
آج کے کھانے کیلیئے نا راشن ہے نا پیسے۔۔ سو ہم ابھی ہاسٹل چلتے ہیں کم از کم کھانا تو ملے گا۔۔ اب کیا کروں۔۔
وہ۔جھنجھلائی۔۔ ۔ جب تک میری پاکٹ منی ٹرانسفر نہیں ہوگی میں بھوکی مروں گی۔۔۔
ہآش۔۔ جی ہائے۔نے تاسف سے گھورا۔۔
تمہیں اس اپارٹمنٹ کو کرائے پر چڑھا کر عیش کرنا چاہیئے۔
گوارا نے گھور کر دیکھا۔
کہہ کون رہا جو ہر مہینے ملنے والی پاکٹ منی اور چھے مہینے بعد ملنے والی ایک معقول رقم باہر پھینک آتی ہے۔
تمہیں کتنی بار کہا ہے مجھے یہ طعنہ مت دیا کرو۔
جی ہائے تپ کے سیدھی ہو بیٹھی۔
اپنے باپ کے پیسے کو استعمال کرنے سے میں بھوکا مرنا پسند کروں گی۔
چل چل۔ گوارا نے مکھی اڑائی
یہ زیادتی ہے تم۔لوگ انگریزی میں بات کرو۔۔
اریزہ احمقوں کیطرح دونوں کا چہرہ دیکھ رہی تھی جھنجھلا گئ۔۔
کم از کم مجھے میری دوست کے سامنے شرمندہ نہ کرتیں۔۔ اسے بھی دعوت دی تھی تو کل کم از کم تھوڑا بچت کر لینی تھی اب کیا کہوگی اسے ؟
جی ہائے نے مسکرا کر اریزہ کو دیکھا اور معزرت کرنے کے انداز میں سر ہلایا۔۔ پھر دانت کچکچا کر ہنگل میں ہی گوارا سے بولی۔
ہوگئ نا غلطی۔۔ گوارا نے معصوم سی شکل بنائی۔۔
کوئی مسلہ ہے۔۔ ؟
اریزہ نے اندازہ لگانے کی پوری کوشش کی تھی۔۔
آنیو۔۔ دونوں اکٹھے بول پڑیں۔۔
ہم بس طے کر رہے تھے کیا کھائیں۔۔ میں ایسا کرتی ہوں مارکیٹ سے سامان لے آتی ہوں۔۔ جی ہائے کچھ فیصلہ کیا پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
میں بھی چلتی ہوں۔۔ گوارا بھی اٹھی
میں بھی چلتی ہوں۔۔ اریزہ فورا تیار ہوگئ۔۔
نہیں تم نہانا چاہ رہی تھیں فریش ہولو۔۔ ہم بس تھوڑی دیر میں آتے ہیں۔۔ جی ہائے نے اتنی قطیعت سے کہا تھا کہ وہ رک گئ۔۔
ٹھیک ہے۔۔ وہ اور کیا کہتی۔۔
بس ہم ابھی آئے۔۔
جی ہائے اور گوارا جلدی جلدی اپر پہننے لگیں۔۔ وہ دونوں چلی گئیں تو اس نے اپنے کپڑے نکالے پھر پورے کمرے پر نظر ڈالی۔۔ پورا کمرہ بکھرا پڑا تھا سب سمیٹ کر تھوڑی بہت جھاڑ پونچھ کر کے وہ باتھ روم۔میں گھس گئ۔۔ نہا دھو کر باہر آئی نماز پڑھی۔۔ ابھی دعا کیلیئے ہاتھ اٹھائے ہی تھے کہ کال بیل بج اٹھی۔۔ اس نے نظر انداز کر کے دعا مکمل کرنی چاہی مگر آنے والا بے صبرا تھا۔۔ اس نے آہ بھر کر چادر جسے بچھا کر نماز ادا کر رہی تھی سمیٹی اتنی سی دیر میں دو مرتبہ پھر بیل بج چکی تھی۔۔
ارے۔۔ اسے غصہ ہی آگیا۔۔ تن فن کرتی دروازے پر گئ اور کھول دیا۔
آنے والوں کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔۔
آرغ۔۔ یون بن کے منہ سے لا یعنی سی آواز نکلی۔۔ کم سن اور ہایون بھی بھونچکا سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔
کہاں وہ۔آنے والے کو۔کھری کھری سنانے کے در پے تھی کہاں انکی سہمی شکلیں دیکھ کر خود سراسیمہ رہ گئ۔۔
کیا ہوا۔۔ اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔
آہ۔۔ تم نے مجھے ڈرا دیا
۔۔ یون بن سب سے پہلے حواسوں میں آیا تھا۔۔
اسکی جانب اشارہ کیا تو وہ حیران ہو کر اپنی طرف دیکھنے لگی۔
اوہ۔۔ وہ آف وائٹ کرتا پاجامہ پہنے تھی ساتھ بڑا سا دوپٹہ نماز کے اسٹائل میں اوڑھا ہوا تھا۔۔ پہلی نظر میں کفن پوش مردے کا ہی گمان ہوا تھا۔۔
ہارر مووی کا کفن پوش مردہ لگ رہی تھیں تم
کم سن نے کہہ بھی دیا۔۔اریزہ گھور کر رہ گئ
اف تم ہمیشہ حیران کرتی ہو ۔۔ ایک لمحے کو تو لگا ڈراونی فلم چل رہی اور میں دن میں زندہ لاش دیکھ رہا۔۔
یون بن سر ہلاتا اسے ایک طرف کرتا اندر داخل۔ہوا۔۔
خوامخواہ ہی۔۔ اس نے نا دانستگی میں اپنا بازو جھاڑا تھا جسے یون بن نے دھکیلا تھا۔۔ ہایون نے اسکو حیرت سے دیکھا تھا ۔۔ وہ جز بز سی ہو کر دوپٹہ کھول رہی تھی۔۔
میں نے مسلم لڑکیوں کو ایسے سر لپیٹے دیکھا ہے ہمیشہ تم صحیح اسکارف نہیں لیتیں۔۔ کم سن نے بھی اندر داخل ہوتے ہویے اپنی معلومات کا رعب جھاڑنا ضروری سمجھا تھا۔۔
اس نے منہ بنا کر دروازہ بند کیا۔۔
گوارا کہاں ہے؟۔ یون بن اندر باتھ روم تک جھانک آیا تھا۔۔
باہر گئی ہیں جی ہائے اور گوارا آتی ہونگی۔۔
وہ بتا کر اپنے بال جھٹکتی اندر کمرے میں چلی گئ۔۔
یون بن کچن کیبنٹس کھول کھول کر دیکھنے لگا۔۔ کم سن نے ہمیشہ کی طرح لاونج میں رکھے کاوچ پر دراز ہو کر ٹی وی کھول لیا تھا۔۔ ہایون نے کچھ سوچ کر کمرے میں چلا آیا۔۔ وہ آئنے کے سامنے کھڑی بال سلجھا رہی تھی۔۔ آہٹ پر مڑ کر دیکھا پھر دوبارہ بال سلجھانے لگی۔۔
اریزہ۔ نونا نے تمہارے لیے یہ بھیجا ہے۔۔ اس نے جیب سے کوئی پمفلٹ جیسا کچھ نکال کر اسے پکڑایا۔۔
اس نے کنگھا رکھ کر پکڑ لیا۔۔
یہ کیا ہے۔
پورا بروشر ہنگل میں تھا کچھ پاپ سنگرز کی تصویریں بھی تھیں مگر اسے کچھ سمجھ نہ آیا۔۔
بریو ہارٹ کے چیریٹی کنسرٹ کے پاسسز ہیں۔۔ نونا کی انجمن ہی اسکو ترتیب دے رہی ہے۔۔
اس نے وضاحت کی۔۔
اوہ اچھا۔۔ میری جانب سے شکریہ ادا کرنا انکا۔۔
اس نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی سر جھکا کر وش کرتا پلٹنے لگا پھر کچھ یاد آیا۔۔ مڑ کر مسکرا کر کہنے لگا۔۔
تم ابھی بالکل نن لگ رہی تھیں۔۔
اسکا انداز اتنا سادہ سا تھا وہ سمجھ نہیں پائی۔۔
مزاق اڑا رہے ہو ؟۔۔
آنیو۔۔ اس نے فوری تردید کی۔۔
نن ایسے ہی اسکارف کرتیں ہیں۔۔ اس نے اشارے سے بتایا۔۔
اور ایسی ہی معصوم سی لگتی ہیں۔۔۔
اس نے مسکرا کر وضاحت کی اریزہ چاہ کر بھی برا نہ مان سکی۔۔ جھینپ کر بولی۔۔
تھینکس فار دا کمپلیمنٹ۔۔
یو ر ویلکم۔۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
جی ہائے نے اپنا کارڈ ڈال کر اے ٹی ایم سے کیش نکالا تھا۔۔وہ دونوں سیدھا مارکیٹ آئی تھیں۔۔
سبزیاں خریدنے کے بعد اس نے آٹے کا بھی۔پیکٹ اٹھا لیا تھا۔۔ گوارا نے حیرت سے اسے دیکھا تو وہ وضاحت کرنے لگی۔۔
اریزہ ہاسٹل میں کھانا نہیں کھاتی۔۔ یہاں میں نے دیکھا وہ جب وہ فرائی پین میں کیک بناتی تو بہت شوق سے کھاتی ہے۔۔ کم از کم ایک دو دن وہ آرام سے جب تک یہاں ہے کھانا ڈھنگ سے کھا۔لے۔۔

تم اریزہ کو کافی ذیادہ پسند کرتی ہو ہے نا؟ گوارا نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
ہاں۔۔ مجھے اچھی لگتی ہے۔۔۔مجھے اسکی سب سے اچھی عادت یہ لگتی وہ جب بھی کچھ کھا رہی ہوتی ہے اور میں یا کوئی بھی اسکے سامنے آتا اسکے ساتھ ضرور بانٹتی ہے۔۔ میں بس اسکا خیال رکھنا چاہ رہی۔۔
اس نے صاف گوئی سے کہا۔۔
مجھے پہلے وہ اتنی اچھی نہیں لگی تھی۔ گوارا نے صاف گوئی سے کہا۔۔
پھر جب تم اس سے دوستی کرنے لگیں تو میں جیلس بھی ہوگئ تھی۔۔
آہہ۔۔ جی ہائے نے پیار سے اسے ساتھ لگایا۔۔
مگر اب مجھے لگتا وہ کافی سادہ سی لڑکی ہے بلکہ اگر کسی لڑکے کی نظر سے دیکھا جائے تو بے حد خوبصورت لڑکی ہے مگر وہ بہت سادہ سی دکھایی دیتی ہے اپنی خوبصورتی نمایاں نہیں کرتی ایک لڑکی ہونے کے ناطے مجھے اسکا رویہ عجیب لگتا۔۔
گوارا اپنے مخصوص دو ٹوک انداز میں بولی۔۔
شائد۔انکی ثقافت کا اثر ہے۔۔ جی ہائے بھی متفق تھی کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔
ہم شائد۔۔
دونوں شاپنگ مکمل کر کے باہر نکلیں دونوں کے ہاتھوں میں بڑے بڑے بیگ تھے۔۔ جی ہائے ایک ہاتھ بیگز کے ساتھ کلچ بھی لاپروائی سے تھاما ہوا تھا۔۔ دونوں باتیں کرتی سڑک کے قریب آئیں۔۔ ایک لڑکا جی ہائے سے ٹکرایا۔۔
ارے۔۔ جی ہائے نے سنبھل کر خود کو گرنے سے بچایا۔۔
وہ معزرت کرتا تیز تیز ڈگ بھرتا آگے جانے لگا۔۔ اسکی ایکدم سے بڑھتی رفتار کو گوارا نے حیرت سے دیکھا۔۔
اسکو کیا پہیئے لگ گئے ہیں۔؟۔۔
اس نے خیال ظاہر کیا۔۔
نہیں میرا کلچ چرا کر بھاگا ہے۔۔ جی ہائے نے ہاتھ میں پکڑے بیگز سڑک کنارے رکھے۔۔
کیا؟۔۔ گوارا نے منہ کھول کر اسے گھورا۔۔
میں جائوں گی۔۔ اس نے بھی بیگز رکھ دیئے۔۔
میں۔۔ دونوں کی بحث لمبی ہو رہی تھی۔۔ وہ لڑکا بھاگ کر دائیں جان داخلی گلی میں مڑ گیا۔۔
بیگز کے پاس کون رہے گا؟۔۔ جی ہائے نے دانت کچکچایے۔۔ گوارا نے مزید بحث میں وقت ضائع نہیں کیا بھاگ کھڑی ہوئی۔۔ جی ہائے منہ کھول کر اسکی پھرتی دیکھتی رہ گئ۔۔
پھر سب بیگز اٹھا تی اسکے پیچھے بھاگی۔۔
ہائ ہیلز کے ساتھ دوڑنا گوارا کا ہی وال تھا۔۔ وہ پوری جان لگا کر بھاگی تھی۔۔ گلی میں رش کم تھا اسے آسانی سے وہ لڑکا بھاگتا نظر آگیا تھا۔۔
گوارا ٹھیلے والے سے بچتی راہ گیر سے ٹکرائی۔۔ وہ۔لڑکا سیدھی سڑک پر بھاگتا بھی بوکھلاہٹ میں مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے منہ کے بل گرتے گرتے بچا تھا۔۔ مگر ابھی ہمت جوان تھی کو ڑے دان سے بچتا وہ بائیں جانب گلی میں مڑا تو بھاری شاپنگ بیگ منہ پر لگا تھا۔ وہ الٹ کر پشت کے بل گرا تھا۔۔
منے آج غلط جگہ پنگا لے لیا تم نے۔۔ جی ہائے شآرٹ کٹ سے آئی تھی۔۔ بڑے انداز سے بال جھٹک کر اس سے بولی تھی۔۔
ناٹ اگین۔۔ گوارا بھاگی بھاگی آئی تھی اسے دیکھ کر رکی اور سانس بحال کرنے لگی۔۔
اب اگلے کئ سال اس بہادری کے قصے سننے پڑیں گے۔۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان پانچوں نے زور دار قہقہہ لگایا تھا جی ہائے البتہ کھسیا گئی تھی۔۔
مجھے کیا پتہ تھا شاپر پھٹ جائے گا اور سارا آٹا خراب ہو جائے گا۔۔ معزرت اریزہ ۔۔
اس نے معصوم سی شکل بنا کر اریزہ کو دیکھا۔۔
کوئی بات نہیں۔۔ اریزہ نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔
وہ سب کچن میں بنے سلیب ٹیبل کے گرد جمع کھانا کھا رہے تھے
آج گوشت کی ہڑتال تھی کیا؟
۔ہایون ایک ایک ڈش دیکھ کر معصومیت سے پوچھ رہا تھا۔۔
اریزہ کی دعوت کر رہے تھے ہم تم لوگوں کی نہیں۔۔ اریزہ گوشت نہیں کھاتی اور یہ ایک ڈش ہے تو گوشت کی۔۔ گوارا حسب عادت تنک کر بولی۔۔
معزرت تم لوگوں کو میری وجہ سے کافی تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے۔۔
اریزہ شرمندہ ہوگئ۔
اب کیا ہو سکتا۔۔ ہمارا کھانا تو تمہاری وجہ سے برباد ہو چکا۔۔ کم سن نے چاپ اسٹک اٹھا ک لہراتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے کہا تھا۔۔
میری زندگی گوشت کے بن ادھوری ہے۔۔ ہایون نے بھی چاپ اسٹک پٹخ دی پلیٹ میں۔۔
گوارا تمہیں میرے بارے میں تو سوچنا تھا۔۔ اب اس اریزہ کی وجہ سے میں بھوکا رہ گیا۔۔ یون بن کی مایوسی کا عالم ہی کچھ اور تھا۔۔
میں شرمندہ ہوں۔۔ گوارا نے سر جھکا لیا۔۔
ارے کیا ہوگیا ہے تم لوگوں کو۔۔ جی ہائے انکے رویے کو دیکھ کر حیران ہو رہی تھی۔۔ اچنبھے سے ہنگل میں بولی۔۔
اگر ایسی بات ہے کہ میری وجہ سے تم سب کا کھانا خراب ہوگیا تو۔۔ اریزہ روہانسی سی ہو کر بولی۔۔
نہیں۔۔ جی ہائے نے فورا اسکا ہاتھ تھاما۔۔
نہیں واقعی یہ لوگ کھا نہیں پارہے تو اب میں۔۔ وہ پھر رکی۔۔
لگ رہا تھا اب روئی کہ تب۔۔
ان سب کو دکھا دکھا کر پیٹ بھر کر کھائوں گی۔۔
اس نے یکا یک انداز بدل کر ہنستے ہویے چڑایا۔۔ اسکی شرارت پر یہ چاروں بھی اپنی ایکٹنگ بھول بھال کھلکھلا کر ہنس دیئے تھے۔۔
تم لوگ بہت بڑی چیز ہو۔۔ جی ہائے انہیں دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔۔ اسے گمان بھی نہین گزراتھا انکی شرارت کا۔۔
وہ تو ہم ہیں۔۔ وہ کورس میں بولے تھے۔۔
کافی کون کون پیئے گا۔ہایون شرافت سے کھانا کھا کر اٹھتے ہوئے پوچھنے۔لگا۔۔
سب نے ہاتھ کھڑا کر دیا تھا۔۔ یون بن برتن سمیٹنے لگا جی ہائے بچ جانے والا کھانا اٹھا کر فریج مین رکھنے لگی۔ اریزہ کافی رشک سے دیکھ رہی تھی۔۔ وہ۔سب دوست تھے سب برابر تھے کوئی تشخیص نہیں تھی کہ کھانا لڑکیاں ہی لگائیں گی یا سمیٹیں گی۔۔
کم سن اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ اسکی نظر پڑی تو مسکرا دیا۔۔
گوارا اور یون بن کسی بحث میں لگ چکے تھے۔۔
مجھے اچھا لگ رہا ہے تم سب ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو ہر چیز میں۔۔ کم سن اسے دیکھے جا رہا تھا تو اسے بتانا پڑا۔
تم لوگ ایک دوسرے کا کام میں ہاتھ نہیں بٹاتے؟۔
اس نے فورا پوچھا۔۔
وہاں تشخیص ہے کچھ کام بس لڑکے کرتے کچھ بس لڑکیاں۔۔
مثلا۔۔ ہایون بھی مڑ کر پوچھنے لگا۔۔
مطلب جیسے ابھی گوارا اور جی ہائے بتا رہی تھیں ایسے کوئی پرس چھین کےبھاگتا تو ۔۔۔ وہ الفاظ ڈھونڈنے لگی۔۔ اسکی ووکیبلری ہمیشہ دغا دے جاتی تھی۔۔ مگر وہ سب اسکا انتظار کر رہے تھے۔۔
لڑکیاں پیچھے نہ بھاگتیں۔ لڑکے شائد بھاگ کر مارتے یا شائد وہ بھی۔۔ کیونکہ وہاں۔۔ مار بھی دیتے ڈکیتی میں۔کبھی کبھی۔۔
اس نے اٹک اٹک کر بات مکمل کر دی تھی۔۔
واقعی؟۔ وہ حیران ہوئے۔۔
اور لڑکیاں۔۔ میرا مطلب پاکستانی لڑکیاں کس چیز میں ماہر ہوتی ہیں؟۔۔
ہایون نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑ گئ۔۔
گھر سنبھالتی ہیں۔۔ ابھی پاکستان ہوتا تو یہ سب کام لڑکیاں سمیٹتیں لڑکے آرام سے بیٹھے رہتے ۔۔ وہ ہنسی۔
وہ سب کچھ مایوس سے ہوئے تھے۔۔
نہیں ویسے اوور آل پاکستان کی کیا خاصیت ہے۔۔ جیسے یہاں کے لوگ اپنے بچوں کو آرٹ میوزک اسپورٹس وغیرہ ایکسٹرا کیوریکولر ایکٹیویٹیز میں ضرور ڈالتے ہیں۔۔۔ یون بن نے وضاحت کی۔۔
وہاں لڑکیاں کیا سیکھتی ہیں؟
ریزہ چائے بنا دو۔۔ صارم پکارا۔۔
اتنے پرگرام آتے ٹی وی پر کھانا بنانے کے لڑکیوں کوکیسا شوق ہوتا کچھ نیا سیکھ کر پکانے کا ایک یہ لڑکی ہے کسی ڈھنگ کی چیز میں دلچسپی ہی نہیں۔۔
جبین کہہ رہی تھیں
کیسی لڑکی ہو میک اپ تک کرنا نہیں آتا شادی کے بعد کیا کروگئ؟
سنتھیا اسکو آئی لائنر لگاتے ڈپٹ رہی تھی
اس نے سر جھٹکا۔۔
کچھ نہیں۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔۔ وہ سب اسے دیکھ کر رہ گئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو یہ سب مل کر کوریائ کھیل جما کر بیٹھے تھے۔۔ کچھ بلاکس بچھا کر انکو جانے کیا طریقہ تھا حل۔کرنے کا اسکے پلے نہ پڑا۔۔ گوارا اور یون بن پارٹنر تھے کم سن اور جی ہائے۔۔
ہایون جی ہائے اور کم سن کو مشورے دے رہا تھا۔۔ باتیں کرتے کرتے وہ سب ہنگل پر اتر آئے۔۔
وہ کچھ دیر انکو ہنستا کھیلتا دیکھتی رہی پھر آہستگی سے اٹھ کر باہر چلی آئی۔۔
ٹیرس پر خنک ہوا چل رہی تھی۔۔ وہ ریلنگ پر آکر دونوں کہنیاں ٹکا کر داہنے ہاتھ کے پیالے میں چہرہ ٹکا کر دھیرے سے بڑبڑائ
پاکستانی لڑکیوں کی خاصیت۔۔
ہاہ۔۔ ہمیں کیا سکھایا جاتا۔۔
چائے بنانا ؟۔۔
چائے تک بنانا نہیں آتی اگلے گھر جا کر کیا کروگی۔۔

اب بڑی ہو گئ ہو دھیرے دھیرے سنبھل کر چلا کرو تمہاری عمر میں حماد گود میں آگیا تھا میری تم ابھی تک بچی بنی پھرتی یو۔۔
دوپٹہ ٹھیک کرو۔
تم ٹھیک طرح اسکارف نہیں لیتیں۔۔ کم سن کی آواز کان میں گونجی۔۔ وہ ہنسی۔۔
تم نے کیا کرنا تیرنا سیکھ کر یہ لڑکوں کے کام ہیں۔۔۔
تم کھانا پکانا سیکھو کل کو شادی ہوگی تو کیا کروگی؟
کتھک؟ ؟۔۔ بیٹا آپکو کیا ضرورت ہے؟۔۔ کوئی کمپیوٹر کورس کر لو۔۔
بیکنگ کورس کر لو۔۔ اس موئے کمپیوٹر میں کیا رکھا۔۔ آج کل تو بڑا مقابلہ ہوگیا ہے ٹی وی دیکھ دیکھ کر لڑکیاں کیسے نئے نئے کیک بناتی ہیں
پھپھو نے تمہاری ۔۔۔۔جہانزیب کا رشتہ طے کردیا۔۔
ایسے بڑا بھتیجی پر پیار آتا تھا مگر بہو کی دفعہ کیسا ایک۔طرف کر دیا ہمیں۔۔ سنا ہے انکی بہو ہوم اکنامکس گریجوئٹ ہے۔۔ ہک ہا کتنا کہتی ہوں کچھ کھانے پکانے میں دلچسپی لے لو۔۔
تمہارا رشتہ آیا ہے۔۔ وہ مسز فرقان نہیں ؟ اس دن آئی تھیں تم نے جو کیک بنایا تھا بڑا پسند آیا تھا انہیں دیکھو آج اپنے بیٹے کا رشتہ لے آئیں۔۔
امی ہنس کر بتا رہی تھیں۔۔
اسکی ذہنی رو سہیلیوں کی طرف مڑ گئ۔۔
میری منگنی بچپن میں ہو گئ تھی۔۔
یار آپا کی شادی ہو جلدی سے میری باری آئے۔۔
کوئی حسرت سے کہہ رہی تھی۔۔
میری شادی ہونیوالی ہے۔۔
میری شادی ہوگئ ہے۔۔
میری شادی کیوں نہیں ہو رہی۔۔
میری شادی ہو جائے دعا کرو۔۔

ہم کو کچھ اور سوچنے ہی نہیں دیا جاتا۔۔
اس نے مایوسی سے سر ہلایا۔۔
اور جن کو موقع ملتا کچھ کر گزرنے کا پھر انہوں نے دنیا میں کیا کیا نہیں کیا۔۔ فائٹر پائلٹ اڑایا ملک چلایا۔ ۔نوبل پرائز دلوایا۔۔
اس نے بلاگ کھول لیا۔۔
میں بیج ۔ننھا سا۔
مجھے بنجر زمین ملی۔۔
مجھے کسی نے سیراب نہ کیا
میں نے پھر بھی سر ابھارا۔۔
مجھ سے کونپل پھوٹی۔۔
میرا خواب تنا ور درخت بننے کا تھا۔۔
میں مگر۔۔
نہ بڑھ پائی۔۔
میں بیل رہ گئ۔۔
مجھے سہارا چاہیئے تھا۔۔
مگر یہ کیا۔۔
مجھے اکھاڑ دیا؟۔۔
کہیں اور گاڑ دیا۔۔
مجھے سہارے کو کچھ ملا تو ہے۔۔
کون جانے
میں بڑھ کر کوئی جھنڈ بن سکوں گی۔۔
یا یونہی اپنے وزن سے دب کر۔۔
مٹی میں مل جائوں گی۔۔
دیکھو وقت کیا دکھاتا ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آجکا سوال۔۔
پاکستانی لڑکیاں کس چیز میں اچھی ہیں۔۔۔؟
پہلا کمنٹ۔۔
دل توڑنے میں۔ ہٹلر کہیں کی۔۔
دوسرا۔۔
سوال ہی غلط۔۔ لڑکیاں اور کسی چیز میں اچھی؟
تیسرا۔۔
غیبت کرنے میں۔۔
چوتھا۔۔
بس بک بک کروا لو کام چوری میں اچھی ہیں۔۔
پانچواں۔۔
رونے میں۔۔بس رلوا لو کام نا کروائو کوئی۔۔
چھٹی۔۔
بدتمیزی میں انکا کوئی ثانی نہیں زبان چلانے میں اچھی۔۔
ساتواں۔۔
پاکستانی لڑکیوں کو زیادہ نہیں جانتا مگر لڑکیاں سب ہی اچھی ہوتی ہیں۔۔ خدا نے بے حد پیاری نازک سی مخلوق بنائی ہے۔۔ اسکے بغیر دنیا بےشک ادھوری ہے۔۔ خدا کو بھی اپنی یہ مخلوق بہت پیاری اس نے اپنے سب سے پیارے نبی کو بھی لڑکی سے ہی نوازا۔
لڑکیوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی سے ہی پیش آنا چاہیئے۔۔
اسی ہنگل آیڈی کا کمنٹ تھا نام کیا تھا آج تک نہ جان پائی۔۔ ہاں ڈی پی سے پہچان لیا تھا۔۔ لکھنے والے نے گڈ ایٹ اور گڈ بئینگ کا کانسیپٹ مکس کر دیا تھا مگر لکھا کیا خوب تھا۔۔ اور مزے کی بات اوپر سارے نیگیٹو کمنٹ کرنے والے اس کمنٹ کو دھڑا دھڑ پسند کر رہے تھے۔۔
کیا چیز ہیں یہ لوگ۔۔ وہ ہنس دی۔۔
سب آئسکریم کھانے جا رہے آجائو۔۔ جی ہائے نے پکارا تو وہ جلدی سے لاگ آئوٹ کرتی اندر بھاگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستاروں بھرا آسمان سامنے سوک چھون جھیل کوریا کی مصنوعی جھیل جسکا پانی سیول کے گرد و نواح کو سیراب کرتا تھا انکے ہوٹل سے دور تک جھیل کا نظارہ ملا تھا۔ وہ مچل گئ تھی۔اس وقت تو یہاں کافی لوگ سیر کو آئے تھے ٹہل رہے تھے مگر ایڈون کو رات کو ہی یہاں آنا تھا سو آرام سے کھانا وانا کھا کے نکلے تھے۔ گیارہ بج رہے تھے۔۔میپل درختوں سے سجا شام کے وقت جب سورج کی شعاعیں ان سرخ اور نارنجی پتوں والے درختوں سے منعکس ہو کر جھیل پر پڑ رہی تھیں رنگوں کی بہار اتر آئئ تھی۔ مبہوت کر دینے والا منظر تھا تو اب رات چڑھ آنے پر سیاہ گھور درخت پراسرار سے لگ رہے تھے۔ آج چاند پورا نہیں تھا مگر آدھے چاند کی روشنی میں جھیل کے کنارے پتھروں پر پائوں لٹکا کر بیٹھنا ساتھ من پسند ساتھی ہو اور کیا چاہیئے زندگی سے۔۔
اس نے دونوں بازو پیچھے کر کے اپنا وزن ہتھیلیوں پر ڈال کر سر اونچا کر کے آسمان کو دیکھا۔۔ اکا دکا دمکتے ستارے اور کہیں کہیں بادل
اس نے گہری سانس لے کر فضا میں پھیلی تازگی کو اپنےاندر سمویا۔۔
ایڈون نے اسے ایک نظر دیکھا پھر خود بھی اسی کی طرح پیچھے ہو کر آسمان تکنے لگا۔۔
ایڈون۔۔ سنتھیا نے دھیرے سے پکارا۔۔
جانے اس نے سنا ہی نہیں یا نظرانداز کر دیا۔
اس سے دوبارا پکارا ہی نہیں گیا۔۔ مایوس سی ہو کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔
سنتھیا۔۔ وہ جو چاند کے قریب ستارہ ہے نا وہ والا وہ میں ہوں۔۔ ایڈون کو جانے کیا سوجھی اسے اشارہ کرکے بتایا۔۔
اس نے اشارے کی سمت دیکھا وہ ستارہ کافی چمک رہا تھا باقی ستاروں کی نسبت زیادہ نمایاں۔۔
اور میں؟۔۔ سنتھیا مڑ کر پوچھنے لگی۔۔
تم وہ سوچ میں پڑا۔ تم وہ والا۔۔
اس نے اس ستارے سے تھوڑا ہٹ کر دمکتے ستارے کی۔طرف اشارہ کیا۔۔
میں وہ کیوں۔۔ اسے اچھا نہیں لگا۔۔ وہ ستارہ چاند اور اس دمکتے روشن ستارے سے کافی دور تھا۔۔ اس نے منہ بنا لیا۔۔
کیونکہ تم۔مجھ سے اتنی دور جو بیٹھی ہو۔۔
ایڈون نے ہنس کر دیکھا۔
سنتھیا کو بہت دن بعد پرانا والا ایڈون نظر آیا تھا۔
کیا ہوا پیارا لگ رہا ہوں؟
ایڈون مسکرایا
ہاں۔ سنتھیا نے بنا شرمندہ ہوئے کہا
کالا کلوٹا چوڑے جیسا پیارا لگ رہا ہوں تمہیں پکا محبت کرتی ہو مجھ سے۔۔
ایڈون چڑا رہا تھا وہ چڑ بھئ گئ
میں نے کسی چوڑے سے منگنی نہیں کی تھی۔۔ اور کالا دل نہیں ہونا چاہیئے۔ منہ تو دھوپ بھی کالا کر دیتی ہے۔۔
اس نے کندھے اچکا کر کہا۔۔
جھوٹی تم دھوپ میں کالی نہیں ہوئیں ۔۔ایڈون کے کہنے پر اسکا منہ اتر سا گیا۔
میں نے کب کہا کہ میں دھوپ کی وجہ سے کالی ہوں۔
اسکی یہ دکھتی رگ تھی۔ بچپن سے اسے اپنے نہایت سانولی رنگت کی وجہ سے ٹھیک ٹھاک احساس کمتری رہا تھا۔
تو کیا چائے پیتی تھیں؟۔
وہ بھولپن سے پوچھ رہا تھا۔ سنتھیا اس مزاق کے موڈ میں نہ تھی۔ اسکے چہرے کے تاثرات تن سے گئے۔
کالا ہونا کوئی برائئ نہیں ہے سنتھیا۔ میں بھی کالا ہوں تم بھی اور مجھے تم تمہیں میں دنیا کے سب سے خوبصورت انسان لگتے ہیں
چند مہینے قبل کہا ہوتا یہ ایڈون نے تو وہ خوشی سے پھولے نہ سماتی اس وقت استہزائیہ انداز میں ہنس دی۔
میری بات تو ٹھیک ہے مجھے تم اچھے لگتے ہو مگر تم۔۔
وہ جملہ ادھورا چھوڑ کررخ بدل کر سامنے دیکھنے لگی تھی۔
ایڈون ایکٹنگ چھوڑ کر اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔
سنتھیا۔۔ کتنا پیار کرتی ہو مجھ سے؟۔۔
سنتھیا سنجیدہ سی ہو کر سیدھی ہوئی۔۔
میں کوئی پیار ویار نہیں کرتی۔۔ جانے کیوں وہ غصے میں آگئ تھی۔۔
ایڈون بھی اٹھ بیٹھا۔۔
کاش کوئی لڑکی مجھے پیار کرتئ۔۔ وہ گنگناتا شرٹ ٹھیک کر رہا تھا۔۔
مجھ سے محبت کا اظہار کرتی۔۔ وہ شرارت سے اسے دیکھ دیکھ کر گا رہا تھا۔۔
کوئی ہیرو وویر نہیں لگ رہے ایکدم زہر لگ رہے۔ وہ بھنا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ایڈون محظوظ ہو کر ہنسا ۔۔۔
مگر تم بالکل ہیروئن کی طرح پیش آرہی ہو میرے ساتھ۔۔ وہ چھیڑنے کے موڈ میں تھا۔۔
سنتھیا منہ بناتی پیر پٹختی جانے لگی۔۔ دو چار قدم آگے بڑھ کر رک کر پلٹ کر دیکھا۔۔ وہ بازو پیچھے پھیلائے ہتھیلیوں پر وزن دیئے سر اونچا کر کے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔۔ کسی فلمی ہیرو کی طرح اسکے پیچھے اٹھ کر نہیں آرہا تھا۔۔
اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔ وہ مایوس سی ہو کر پلٹنے لگی تبھی اسے ایڈون کی آواز آئی
مت جائو سنتھیا۔۔
ایڈون نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھے بغیر کہا۔۔ اور سنتھیا قدم بڑھا ہی نہ سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب ٹہلتے ہوئے قریبی مارکیٹ آئے تھے۔۔ رات کے ڈیڑھ بج چکے تھے مارکیٹ آدھی سے زیادہ بند ہو چکی تھی۔۔ سڑک پر انکے سوا فی الحال اور کوئی نہ تھا۔۔انہوں نے میڈیکل اسٹور سے پیک آئسکریم پر ہی گزارا کرنے کا سوچا۔۔ اسٹور میں آکر سب سیدھا کاوئنٹر پر موجود سیلز مین کے پاس بڑھتے گئے۔۔ اریزہ اور ہایون رکے
دونوں کے دماغ ایک ساتھ چلے تھے دونوں نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھا پھر بھاگ کر فریزر کے پاس پہنچے۔۔ سیلز مین نے باقیوں کو بھی فریزر کی راہ دکھائی تھی جہاں ہایون اور اریزہ دھاوا بول چکے تھے۔۔ سب بھاگ کر ان پر چڑھ آئے۔۔
فریزر کھول کر سب اندر آدھے تقریبا گھس گئے تھے۔۔
مجھے چاکلیٹ ۔۔ مجھے اسٹرابیڑی۔۔ مجھے ونیلا۔۔ ہایون اوراریزہ کا سینڈوچ بننے ہی والا۔تھا اریزہ نے ڈھونڈ کر ونیلا اور چاکلیٹ مکس فلیور نکالا تھا جسے یون بن نے اچک لیا۔۔ اور لے لو۔۔
ہایون بھی ڈاکوئوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔۔ پھر یہ دونوں ہی فریزر میں فلیور ڈھونڈتے رہ گئے باقی سب باہر بھاگ گئے۔۔ گلاس وال سے سب انکو منہ چڑا رہے تھے۔۔ اریزہ اور ہایون پہلے انہیں گھورتے رہے پھر ہنس دیئے۔۔
آپ لوگوں کو پسند کی آئسکریم مل گئ؟۔۔
سیلز مین چیں بہ چیں ہوا وہ بھی فریزر کب سے کھولے کھڑے تھے۔۔
آنیو۔۔ ہایون سیدھا ہوا۔۔
مکس فلیور ختم ہے چاکلیٹ اور ونیلا۔۔ اس نے پوچھا تو سیلز مین نے کندھے اچکا دیئے۔۔
کوئی اور دیکھ لو۔۔
اریزہ نے منہ بنا کر یونہی ایک اٹھا لی۔ ہایون نے پیور ونیلا اٹھا لیا۔۔
پیمنٹ کرکے جب وہ باہر نکلے تو سب غائب ہو چکے تھے۔۔
یہ سب کہاں گئے۔۔ اریزہ حیران ہوئی تو ہایون نے کندھے اچکائے۔۔
گھر ہی گئے ہونگے۔۔ میرے ساتھ اکثر یہی کرتے یہ لوگ پیمنٹ کے وقت مجھے اکیلا چھوڑ کر بھاگ جاتے۔۔ وہ ہنس کر بتا رہا تھا۔۔دونوں آہستہ آہستہ چلنے لگے
کتنی غلط حرکت ہے۔۔ اریزہ آئسکریم کا ریپر اتار رہی تھی۔۔ اسے اچھا خاصا سرپرائز ملا۔۔
پیور چاکلیٹ۔۔
اس نے روہانسا سا منہ بنا لیا۔۔ اسے پیور چاکلیٹ بالکل پسند نہیں تھی۔۔ ہایون نے اپنی آئسکریم کا ریپر اتارتے ہوئے اسے منہ بناتے دیکھا تو پوچھا
کیا ہوا۔۔؟
کچھ نہیں۔۔ اس نے ایک ہلکی سی بائٹ لی۔۔
ایک بار تو میرے ساتھ اتنا برا ہوا۔۔ یہ لوگ فائیو اسٹار گئے آرڈر دیا۔۔ مجھے بلایا۔۔ میں گھر کے حلیے میں اٹھ کر آیا والٹ میں کیش بھی زیادہ نہیں تھا مجھے خبر بھی نہیں کوئی کون کتنے لوگ تھے۔۔ میں بیٹھا جا کر یہ ایک ایک کرکے اٹھتے گئے۔۔
ویٹر بل لے کر آیا تو مجھے پتہ چلا کل پندرہ لوگوں کا کھانا تھا۔۔
وہ ہنس ہنس کر بتا رہا تھا
پھر۔۔ اریزہ نے پوچھا تو منہ بنا کر بتانے لگا۔۔
والٹ خالی تھا تب میرے پاس کریڈٹ کارڈ بھی نہیں ہوتا تھا۔۔ ہائی اسکول کی بات بتا رہا۔۔
قسمیں کھائیں کہ لی گروپ کا وارث ہوں میرے حلیے کی وجہ سے یقین بھی نہیں کیا ۔۔ پولیس بلوا لی۔۔
تین گھنٹے تھانے رہا۔۔ بل بھی تو اچھا خاصا تھا۔۔
پاپا خود آئے میری ضمانت دی۔۔ پھر مجھے کریڈٹ کارڈ مل گیا تھا۔۔ یہ اچھئ بات ہوئی۔۔
اریزہ ہنس پڑی۔۔ اتنی مشکل صورتحال کا بھی کتنا اچھا سادہ سا نتیجہ نکالا تھا اس نے۔۔
تم کافی اچھا سوچتے ہو۔۔ اس نے صاف دلی سے کہا۔۔ ہایون اسکے کہنے پر زور سے ہنسا۔۔
وہ اب آئسکریم کا ریپر اتار رہا تھا۔
اریزہ نے بے دھیانی میں بڑی چکھ مار لی۔۔
منہ میں کڑواہٹ سی گھل گئ۔۔ نہ چاہتے بھی اسکے چہرے کے تاثرات سب کہانی کہنے لگے۔۔
کیا ہوا تمہیں یہ آئس کریم پسند نہیں۔۔
ہایون نے کہا تو اس نے بے چارگی سے سر ہلایا۔۔
آئو تمہیں دوسری دلا لائوں۔۔ اس نے فورا کہا مگر اریزہ نے مڑ کر دیکھا تو چلتے چلتے کافی دور نکل آئے تھے۔۔
رہنے دو اتنا واپس کیا جائیں گے۔۔ اریزہ نے کہا تو اس نے کچھ سوچ کر اپنی آئسکریم اسکی طرف بڑھا دی۔۔
نہیں نہیں۔۔ وہ شرمندہ ہو گئ۔۔
تم کھایو۔۔ کوئی بات نہیں چاکلیٹ ہے تو کیا ہوا ہے تو آئسکریم کھا لوں گی۔۔ اس نے سہولت سے منع کرنا چاہا۔۔
منہ بنا بنا کر کھائو گی۔ اس نے مزاق اڑایا۔۔
پکڑو ۔۔ اس نے اصرار کیا تو اریزہ کو تھامنی پڑی۔۔
لائو دو ۔۔ وہ اسکی آئسکریم مانگ رہا تھا۔۔
وہ ادھ کھائی دیتے ہوئے ہچکچائی۔۔
یہ۔۔
کیا اب دونوں کھائوگی؟۔۔ ہایون حیران ہوا۔۔
نہیں میرا مطلب تھا میں نے بایٹ کی ہوئی ہے۔۔ اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔۔
کوئی بات نہیں اس نے آرام سے لے کر کھانی شروع کر دی۔
اریزہ کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔
موڑ پر آکر وہ گلی میں مڑنے لگے۔۔
گلی میں گھپ اندھیرا تھا آگے جا کر دور ایک بلب جل رہا تھا۔۔ وہ چلتے چلتے رک سی گئ۔۔
کیا ہوا۔۔ وہ اپنی جھونک میں چلتا گیا پھر احساس ہوا کہ اکیلا چل رہا تو مڑ کر پوچھنے لگا۔۔
وہ کوئی اور راستہ نہیں یہاں تو کافی اندھیرا ہے۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ سوچ میں پڑا۔۔
یہ چھوٹا ہے ایک گلی کے بعد عمارت آجائے گی سڑک سے تھوڑا لمبا ہو جائے گا۔۔ یہ ویسے تھوڑا ہی اندھیرا ہے میں موبائیل کی ٹارچ آن کر دیتا۔۔
وہ آئسکریم منہ میں دبا کر جیب سے موبائل نکالنے لگا۔۔
اٹس اوکے اریزہ کھسیا گئ۔۔ مگر ہایون نے ٹارچ آن کر لی تھی۔۔
تمہیں ڈر لگتا اندھیرے سے۔۔ اس نے چلتے چلتے یونہی پوچھا۔۔ پہلے تو اس نے صاف مکر جانا چاہا۔۔
کوئی نہیں۔۔ اس نے کوئی نہیں ہی کہا تھا۔۔اسے سمجھ نہیں آیا۔۔
واٹ؟
تھوڑا بہت۔۔ اس نے تھوڑا سا کھسیائے انداز میں کہا۔۔
کیا ڈر لگتا جیسے ابھی اس سامنے گھر سے کوئی چڑیل باہر نکل آئے گی؟۔۔
وہ ایکدم سے پر اسرار انداز میں سامنے گھر کی طرف اشارہ کرکے بولا۔۔
اریزہ بے دھیانی میں اسکے اشارہ کیے گئے گھر کو دیکھنے لگی دہل گئ۔۔ اندھیرے میں کوریائی طرز کا بنا ہوا وہ پرانا سا گھر خاصا ڈرائونا لگ رہا تھا۔۔
وہ رک گئی۔۔
کیا ہوا ڈر گئیں۔۔ اسکا پراسرار لہجہ کام کر گیا تھا۔۔ لڑکی گھبرا گئ تھی۔۔
نہیں تو۔۔ ڈرنے کی کیا بات۔۔ کپکپائی سی آواز میں اس نے فورا انکار کیا تھا۔۔ ہایون نے سمجھ کر مزید شرارت کا موڈ بنا لیا۔۔
یہاں اس پہر جو اکیلا گزرتا غائب ہو جاتا ۔۔ پھر اگلے دن کوڑے دان میں اسکی لاش ملتی ہے۔۔ یہاں ایک بد روح کا بسیرا ہے۔۔
اریزہ رک سی گئ۔۔
واقعی۔۔ وہ سراسیمہ انداز میں پوچھ رہی تھی۔۔
رکو نہیں پتہ ہے یہاں ایک لڑکا اور لڑکی ایسے ہی رات کو آرہے تھے انہیں ایک بوڑھی عورت ملی۔۔
اسے اندازہ ہوگیا تھا وہ کافی دہل گئی۔۔ اس نے سامنے سے ایک عورت کو کوڑے کا شاپر کوڑے دان میں ڈالنے کی غرض سے خراماں خراماں چلتے آتے دیکھا تو عورت بھی شامل کرلی۔۔
اریزہ کو گمان بھی نہ گزرا اسکے معصوم چہرے سے کہ بکواس کر رہا۔۔ سنجیدہ سی ہو کر اس سے پوچھنے لگی سامنے اسکا دھیان کم ہی تھا وہ پوری اسکی جانب گھومی چل رہی تھی
پھر۔۔
گوری سی عورت تھی اسکرٹ پہنے گھنگھریالے بال کھولے ۔۔۔
وہ سامنے دیکھ کر حلیہ بتا رہا تھا۔۔
اس عورت نے ان کے قریب آکر پوچھا۔۔
تم لوگ اتنی رات کو باہر کیا کر رہے؟۔۔
اور۔۔
وہ چلتے چلتے قریب آگئے تھے
کیا وقت ہو رہا۔۔
اس عورت نے کوڑے دان میں کوڑا ڈال کر ہاتھ جھاڑے اور یونہی مخاطب کر لیا۔۔ اریزہ کیلیے اس عورت کا آوارد ہونا غیر متوقع تھا۔۔ ہلکی سی چیخ مار کر ہایون کے پیچھے ہو گئ۔۔
اس نے ہایون کو پکڑا نہیں تھا مگر جانے کس زبان میں زور زور سے کچھ گردان کرنے لگی۔۔
لاحول ولاقوت۔۔۔

عورت نے اسکے انداز کو عجیب سی نظروں سے دیکھا۔۔
ہایون کو اس طرح ڈرامے کا اختتام ہوگا توقع نہ تھی کھسیا کر انہیں وقت بتایا۔ عورت اسے گھورتی اپنے گھر کی طرف مڑ گئ۔۔
دیکھا میں نے کہا تھا نا۔۔
ہایون نے دوبارہ اپنا لہجہ پر اسرار بنایا۔۔
یہاں اس وقت روحیں پھرتی ہیں ہماری قسمت اچھی تھی جو اچھی روح ملی۔۔ کہہ کر گئ ہے جلدی سے گھر جائو ورنہ مارے جایو گے۔۔
وہ مکمل ڈرامائی انداز میں لگا تھا۔۔
اریزہ متاثر ہوئے بنا دیکھتی رہی۔۔
کیا ہوا یقین نہیں آیا۔۔؟۔۔
ہایون حیران ہوا۔۔
دیکھ لو وہ عورت غائب ہو چکی۔۔ اس نے گلی کی طرف اشارہ اریزہ نے مڑ کر دیکھا تو وہ عورت واقعی وہاں نہیں تھی۔۔
گھر چلی گئی ہوگی۔۔ اس نے کندھے اچکائے
جی نہیں وہ غائب ہوگئ۔۔
ہایون نے جھٹلایا۔۔ کہہ کر گئ ہے رکنا نہیں ورنہ مارے جائو گے۔۔
وہ ڈرامہ بازی ختم کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔
وہ عورت ہی تھی جی۔۔اس نے زور دے کر کہا۔۔
ورنہ ابھی جو میں نے پڑھا تو غائب ہو جاتی۔۔
اسے یقین تھا۔۔
کیا پڑھا۔۔تھا۔۔ ہایون کو یاد آیا۔
لا حول والا۔۔ اس سے بولا نہ جا سکا۔۔
اریزہ نے دوبارہ پڑھا۔۔
جی یہ پڑھ لو تو کوئی بھی شیطانی چیز ہوتی تو غائب ہو جاتی۔۔
اس نے جتانے والے انداز میں سر ہلا۔ہلا کر بتایا تھا۔۔
اچھا۔۔ وہ ہنسا
کوئی جادو ئی منتر ہے؟۔۔ جیسے فادر پڑھتے بھوتوں کو قابو کرنے کیلیئے۔۔
نہیں منتر نہیں۔۔ اس نے سر جھٹکا۔۔
مقدس جملے ہیں۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔
ہایون متاثر ہونے والے انداز میں سر ہلانے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب فلیٹ پہنچے تو دونوں لڑکے لاوئنج میں بستر بچھائے سو رہے تھے۔۔ ہایون کا بستر بھی یہیں بچھا تھا۔۔وہ فورا وہیں تھک کر گر گیا۔۔
اریزہ کمرے میں آئی تو دونوں لڑکیاں لپٹی پڑی تھیں۔
اریزہ فریش ہونے باتھ روم گھسی تو دونوں نے سر اٹھا کر اسے جاتے دیکھا۔۔ وہ تھوڑی دیر میں آرام سے فریش ہو کر باہر نکل آئی۔۔ گھوم کر آئی اور جی ہائے کے پاس جگہ بنا کر لیٹ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا۔۔
صبح یون بن باتھ روم سے چلا رہا تھا۔۔
تینوں بے خبر سو رہی تھیں جب اسکے پکارنے سے گوارا کی آنکھ کھلی۔۔ بلکہ گوارا ہی کیا سب ہی جاگ گئے۔۔
گوارا ۔۔۔
کیا ہے۔۔ وہ جھلا کر اٹھئ۔۔
باتھ روم مین ٹوائلٹ پیپر بھی رکھتے ہیں ہائی جین کیلیئے ضروری ہوتا۔۔ وہ باتھ روم سے سر نکال کر گھور رہا تھا۔۔
نہا لیتے۔۔ وہ منہ بنا کر اٹھی۔۔
نہا کر ہی نکل رہا ہوں۔۔ وہ باتھ گائون کی ڈوریاں کستے باہر نکل آیا۔۔
مگر باقیوں کیلیئے تو رکھ دو۔۔ وہ سنگھار میز کے آئنے میں جھک کر دیکھتا بال سنوار رہا تھا۔۔
گوارا نے ٹائلٹ رول الماری سے نکال کر اسی کوکھینچ مارا۔۔
اسکے سر پر ہی لگا وہ سہلاتا گھورنے لگا۔۔
جب نکل ہے آئے تھے تو اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔
جی ہائے نے جمائی روکتے اٹھتے ہوئے پوچھا۔۔ یون بن ڈھٹائی سے مسکرایا۔۔
جگا رہا تھا تم سب کو دس بج گئے۔اٹھنا نہیں تم۔لوگوں کو۔۔
یون بن کے کہنے پر دونوں گھور کر رہ گئیں۔۔
گوارا اسے گھورتی ہوئی اسکے پائوں کے پاس سے گرا ہوا ٹائلٹ پیپر رول اٹھاتی باتھروم میں گھس گئ۔۔
اریزہ کسمساتی اٹھ بیٹھی۔۔
تم لوگ رات کو کہاں رہ گئے تھے؟
یون بن اریزہ سے پوچھ رہا تھا
کہیں نہیں۔۔ سیدھے گھر آئے تھے۔۔
اس نے بتایا۔۔تو یون بن نے سر ہلایا۔۔
مان۔نہیں سکتا۔۔ ہم لوگ گھر آکر بستر بچھا کر سو بھی گئے تم لوگ اسکے بھی بعد آئے ہو۔۔
جون تائ نے کہا تو اسکے زہن میں رات کا منظر تازہ ہوا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ شارٹ کٹ تھا۔۔ اف میں تھک گئی۔۔ مجھے تو شدید پیاس لگ رہی۔۔
بلڈنگ کی داخلی سیڑھیوں پر اسکی ٹانگیں جواب دے گئیں وہیں تھک کر بیٹھ گئ۔۔ شدید پیاس لگ رہی تھی۔۔ یوں لگتا تھا سب باہر آجائے گا۔۔
تھا تو۔۔ مگر تم بہت آہستہ چلتی ہو اور آہستہ چل کر بھی تمہارا اتنا کم اسٹیمنا ہے کہ سانس پھول گئ۔۔ ابھی جوانی میں یہ حال بڑھاپے میں کیا کروگئ۔۔
میری مام تم سے زیادہ فٹ ہونگیں
ہایون اسے شرمندہ کرنا چاہا۔۔
میرے خاندان میں کوئی مجھ سے زیادہ پھرتیلی لڑکی نہ ہوگی۔۔ اس نے چڑ کر بڑک ماری
اتنا چل کر کوئی بھی تھک سکتا۔۔
اب میرا کورین لڑکیوں سےمقابلہ مت کرو۔۔ میں سیدھی سادی پاکستانی لڑکی ہوں۔۔ مجھے نہیں آتا تایکوانڈو جمناسٹک جڈو وغیرہ نہ سیکھنا مجھے۔۔
میری یہاں سے واپس جا کر بھی بس شادی ہونی۔۔
پہلے جملے کے بعد وہ بھنا کر اردو میں شروع ہو گئ تھی۔۔
غصہ جھلاہٹ اور آخر میں بے بس سا انداز۔۔ اسکے پلے کچھ نہ پڑا سو خاموشی سے اسکے ساتھ سے ہو کر اندر چلا گیا۔۔
وہ وہیں بیٹھی سانس بحال کر رہی تھی۔۔
تبھی اسکے سامنے ڈسپوز ایبل گلاس پانی سے بھرا لہرایا۔۔
اس نے تھام لیا۔۔ ایک سانس میں پی گئی۔۔
شکریہ۔۔ اسے اس وقت واقعی پانی کی قدر محسوس ہو رہی تھی
تم برا مان گئیں معزرت مگر تم فزیکلی کافی کمزور ہو کوئی جم لگایو تھوڑا سا تو اسٹیمنا بلڈ کرو۔۔ تایکوانڈو جڈو سیکھنے کو نہیں کہہ رہا مگر ابھی اس اپنے پیچھے کھڑی چڑیل سے اگر ڈرو تو بھاگ تو سکو کم از کم۔۔
سنجیدگی سے کہتے کہتے وہ پٹری سے اترا۔۔ اسے دیکھتے دیکھتے اسکے پیچھے ایسے دیکھا جیسے سچ مچ کوئی کھڑا ہو۔۔ اریزہ نے بے ساختہ مڑ کر دیکھا پھر دانت کچکچا کر اسے پیپر کپ مار دیا۔۔
وہ زور سے ہنسا تھا۔۔ ایک تو وہ ہنسنے کے معاملے میں بہت فراخ دل تھا۔۔ اسکی ہنسی اس پر جچتی بھی بہت تھی۔۔ مگر ابھی اسے دیکھتے اریزہ کو جانے کیا ادراک ہوا تھا۔۔ وہ بلا ارادہ اسے غور سے دیکھے گئ۔۔
وہ۔ہنستے ہنستے چپ ہوا اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔ اریزہ نے یوں سر ہلایا جیسے کہہ رہی ہو کچھ نہیں۔۔
چلو۔۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا تو اریزہ نے بھی تقلید کی۔۔ لفٹ کا انتظار کرتے کرتے اس نے پھر چھیڑا۔
دفع کر و لفٹ کو ہم سیڑھیوں سے چلتے۔۔
پاگل نہیں ہوئی ابھی میں۔۔
اس نے لفٹ میں گھستے پھر کہا۔۔
ویسے میرا اسٹیمنا ابھی بھی اتنا کہ میں اوپر سیڑھی سے جا سکتا۔۔
اسکا انداز جتانے والانہیں تھا وہ یونہی بتا رہا تھا۔۔ اریزہ نے لفٹ کے بند ہوتے دروازے میں پیر اڑا دیا۔
پھر تم پیدل آئو۔۔ میں بھی دیکھوں کتنے سپر مین ہو۔۔
اسکا انداز تپانے والا تھا۔۔
ہایون نے کندھے اچکائے
چیلنج ایکسیپٹڈ۔۔
وہ لفٹ سے باہر نکل آیا۔۔
اریزہ نے ہنس کر چودھویں منزل کا بٹن دبا دیا۔۔ وہ۔لفٹ بند ہونے تک مسکرا کر ہاتھ ہلاتا رہا۔۔
پہلا دوسرا تیسرا۔۔ چوتھے فلور تک اسے یقین تھا وہ دوسری لفٹ سے اوپر آرہا ہوگا۔ لڑکے کونسا سنجیدہ ہوتے۔۔
مگر ہایون اگر واقعی ۔۔ ایک لمحے کی سوچ تھی اس نے چھٹے فلور پر لفٹ روک دی۔ لفٹ سے نکل۔کر دوسری لفٹ کو دیکھا وہ گراونڈ پر ہی تھی
یہ پاگل واقعی سیڑھیوں سے آرہا۔
اسے اس حماقت کی توقع تو نہیں تھی۔۔ آکر سیڑھیوں سے نیچے جھانکنے لگی دور دور تک اسکا نام و نشان نہیں تھا۔۔
سیڑھیوں پر روشنی تھی مگر رات کا پہر اسکی ان پر جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔۔
ایک قدم اتر کر واپس اوپر سے نیچے جھک جھک کر جھانکنے لگی۔۔ تبھی ہلکی سی آہٹ ہوئی۔۔
ہایون۔۔ اس نے پکارنا چاہا مگر آواز نہیں نکلی۔
وہ پورے فلور پر اکیلی کھڑی تھی۔۔ اسے ہلکا ہلکا ڈر لگ رہا تھا۔۔
کہیں وہ۔اوپر پہنچ بھی چکا ہو اور میں یہاں بے وقوف۔۔
اسے خیال گزرا۔۔
سیڑھیوں پر آہٹ تھی یا وہم ۔۔
اس نے ہایون کا نمبر نکالا فون میں اور کال ملا دی۔۔
ہلکی ہلکی فون کی رنگ ٹون سنائی دی۔
ہیلو۔۔
اسکا نام اسکرین پر چمکا تو اس نے مسکرا کر فون اٹھایا۔۔ ہیلو اس نے خاص اریزہ کیلیئے بولا تھا۔
ہیولو۔۔ ہیلو۔۔ کہاں ہو۔۔ وہ تھوڑا بوکھلا کر بولی تھی۔۔
میں۔ اس نے سیڑھیوں پر سامنے بورڈ پڑھا فورتھ فلور۔۔ پر ہوں خیریت تم۔گھبرائی کیوں ہو۔
فورتھ۔۔ اس نے سیڑھیوں سے نیچے جھانکا۔۔ ابھی بھی دکھائی تو نہیں دے رہا تھا۔۔ مگر اسکے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔۔
اریزہ ۔۔ اسکی آواز نہیں آئی تو اس نے فون کو دیکھا کال ملی ہوئی تھی۔
آہ ہاں ریلنگ کے پاس آئو۔۔ وہ چونکی پھر ریلنگ سے جھک کر نیچجے جھانکنے لگی۔۔۔
ہایون نے حیران ہو کر مطالبہ سنا پھر ریلنگ کے پاس آگیا پہلے نیچے دیکھا پھر اوپر۔ اریزہ آدھی ریلنگ سے نیچے جھکی جھانک رہی تھی۔۔
وہ مسکرا دیا۔
پھر اگلے دو زینے بھاگ کر اوپر چڑھ آیا۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔
اس نے پوچھا تو وہ الٹا اس پر چڑھ دوڑی
کتنے بے وقوف ہو ۔۔ واقعی سیڑھیاں چڑھتے آرہے تھے ٹانگیں عزیز نہیں تھیں،کوئی بھی دوسرا انسان ہوتا تو دوسری لفٹ سے اوپر آتا اور ساری عمر مان کے نہ دیتا کہ لفٹ سے آیا ہوں۔۔
مگر میں ایسا کیوں کرتا؟۔۔ میں واقعی سیڑھیان چڑھ سکتا ہوں اتنی۔۔ بلکہ کہو تو باقی بھی چڑھ کر آتا ہوں۔۔ وہ مسکراتا اگلے زینے کی طرف بڑھنے کو تھا۔۔
بس مجھے یقین آگیا۔۔ چلو لفٹ سے۔
اریزہ نے کان پکڑے تھے اس پاگل لڑکے سے کچھ بعید نہیں تھا۔۔
ویسے تم کیوں یہاں اتر گئی تھیں۔۔ لفٹ میں داخل ہوتے وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا
مجھے گلٹ ہو رہا تھا کہ میرے تپانے پر تم اتنا اسٹریس لینے لگے۔۔ وہ منہ بنا کر بولی۔۔
آئندہ کبھی جوش نہیں دلائوں گی تمہیں پاگل ہو ایک دم۔۔
یہ جملہ اسے گھورتے اردو میں بولا۔۔
آہش میں بھی۔۔۔پاگل۔۔۔۔ اس نے اپنے سینے پر انگوٹھا رکھ کر حیرت سے پوچھا۔۔ وہ ہنگل بولا تھا۔۔
کیا۔۔ اریزہ کی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں۔۔
تمہیں سمجھ آیا میں نے کیا کہا۔۔ وہ شاکڈ تھی۔۔
نہیں۔۔ وہ اسکی پوری کھلی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا۔۔
ڈرا دیا تھا۔ اس نے سانس بحال کی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب سے آخر میں فریش ہو کر باہر آئی۔۔۔۔ وہ سب ناشتہ کرتے ہوئے باتوں میں مگن تھے اسے دیکھ کر ایک لمحے کوخاموشی چھائی۔ وہ اپنی جگہ چور سی بن گئ
آئو ناشتہ کرو۔۔ جی ہائے مسکرا کر اپنے ساتھ جگہ بنائی۔۔
اس نے ایک نظرناشتے پر دوڑائی۔ سبزیوں کا سوپ انڈے رول پین کیک چاول اور ساتھ گوشت کی کوئی ڈش۔۔
اس نے پین کیک اٹھا لیا۔۔ صبح صبح اس سے میٹھا کھایا نہیں جاتا تھا۔اس نے بے دلی سے نوالہ لیا۔۔
۔ اریزہ بریڈ بھی ہے۔۔ ہایون نے اسکی جانب بریڈ بڑھائی۔۔
میں آملیٹ بنا دوں؟۔۔ گوارا اٹھتے ہوئے بولی۔
نہیں نہیں میں خود بنا لیتی ہوں۔۔ وہ سہولت سے منع کرتی اٹھ گئی۔۔ فریج سے انڈہ نکالا حسب عادت اسے پہلے پانی سے گزارا پھر سلیب پر رکھ کر پیاز کاٹنے لگی۔۔
اسکے فرشتوں کو خبر نہیں تھی یہ سب اسے بڑے غور سے دیکھ رہے۔۔ وہ۔آملیٹ بنا کر پلٹی تو سب اسکی جانب ہی متوجہ تھے۔۔
کیا ہوا۔۔ وہ حیران رہ گئ۔۔
کچھ نہیں۔۔ ویسے انڈے صاف ہی تھے ۔۔ جی ہائے نے کہا تو اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔
بس عادت پڑی ہوئی دھو کے استعمال کر نے کی۔۔
وہ بریڈ بھی شوق سے نہیں کھاتی تھی مگر ابھی غنیمت تھا چائے کی کمی محسوس ہو رہی تھی۔۔ اس کے نوالی اٹکا تو ابھی اس نے سر اٹھایا ہی تھا کم سن نے بھرا ہوا پانی کا۔گلاس آگے رکھ دیا۔
گومو وویو۔۔ وہ مسکرا کر شکریہ ادا کرتی گھونٹ بھرنے لگی۔۔
اریزہ تم ہاسٹل میں کیا ناشتہ کرتی ہو۔؟۔۔ گوارا کو خیال آیا۔۔
کبھی چاول کبھی بوائلڈ ایگ کبھی سبزیوں کا سوپ۔۔ اس نے سوچ سوچ کر بتایا۔۔
تم پاکستان میں تو وہ کھاتی ہوگی نا جو اس دن بنایا تھا۔۔ فلور کیک
جی ہائے کو یاد آیا۔۔
پراٹھا کہتے اسے۔ اریزہ نے بتایا
ہان ہاں پراٹھا۔۔
گوارا نے صحیح تلفظ میں بول لیا تھا۔۔
پراٹھا۔۔۔
لڑکے چونکے
اس دن اس نے فلور کیک بنایا تھا بنا کچھ ڈالے بس اوپر گھی سے تلا تھا کافی مزے کا تھا۔۔ جی ہائے تعریفیں کر رہی تھی۔۔
ہمیں بھی کھلائو کسی دن۔۔
یون بن نے فورا فرمائش داغی۔۔
ہاں کیوں نہیں۔۔ اس نے خوشدلی سے ہامی بھر لی۔۔ ناشتہ ختم کرکے وہ حسب عادت چیزیں سمیٹنے لگی۔۔
یار مجھے کوئی کرائے دارنئ ڈھونڈ دو یارو۔ احسان مانوں گئ۔ مجھے پیسے چاہیئیں۔
گوارا نے مظلوم سی شکل بنا کر کہا
ہر گز نہیں۔۔کم سن اور یون بن اکٹھے چلائے
بالکل ضرورت نہیں اریزہ۔۔ یون بن اسے ٹوک کر ہنگل میں شروع ہو گیا۔۔
خوب پتہ ہمیں کیوں تمہیں کرائے دار چاہیئیں۔۔ تاکہ پیسے جمع کرکے پلاسٹک سرجری کروا سکو۔
یون بن بھنایا۔
تمہیں کیا تکلیف۔۔ گوارا چلائی۔۔
میرا منہ میرے پیسے جو مرضی آئے کروں۔
خبر دار جو تم میرے سامنے منہ بدلو ا کر آئیں۔۔ وہ بلبلایا۔۔
میں یہاں دو کرائے دارنیاں رکھ رکھ کر خود پکا پکا ہاسٹل شفٹ ہو جائوں گئ۔
گوارا کے ارادے خطرناک تھے
خبردار جی ہائے اسکو کمرے میں نہ گھسنے دینا۔۔۔۔ یون بن چلایا
بالکل اس ارادے کی راہ میں میں جو رکاوٹ کھڑی کر سکی کروں گی۔ جی ہائے نے عزم کیا۔
میں اریزہ کے ساتھ رہ لوں گی۔
گوارا بھنائئ۔۔
خبردار اریزہ اسکی مدد نہ کرنا۔ یون بن تڑپ اٹھا۔
دونوں بچوں کی طرح لڑ رہے تھے جی ہائے بیچ بچائو کرا رہی تھی۔۔ کم سن انہیں لڑتے دیکھ کر غیر محسوس انداز میں چلتا بنا۔۔ اریزہ ہنگل اور انگریزی کی کھچڑی بنتے کافی دلچسپی سے دیکھ رہئ تھی۔۔
اور ہایون اسکے چہرے کے بنتے بگڑتے زاویے دیکھ کر انجوائے کر رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈورم میں آکر اس نے اپنا بیگ نیچے کھڑے کھڑے ہی اوپر اچھال دیا تھا۔۔ سنتھیا کمرے میں نہیں تھی۔۔ پچھلے تین دن میں اس نے ایک میسج کا جواب نہیں دیا تھا۔۔ اس نے اس کے خالی بیڈ کو دیکھ کر گہری سانس بھری۔۔
وہ باتھ روم میں گھس گئ۔۔ نہا کر باہر نکلی تو سنتھیا کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔۔
اسلام و علیکم ۔۔ اریزہ نے خوشدلی سے سلام کیا۔۔
ہائے۔۔ سنتھیا کا موڈ شائد ٹھیک نہیں تھا یا اسے دیکھ کر خراب ہوا تھا وہ سمجھ نہیں پائی۔۔
وعیلکم السلام کہتے ہیں جواب میں۔۔ اس نے جتایا۔۔
سنتھیا سر جھٹکتی بیگ کونے میں رکھتی بیڈ پر دراز ہو گئ۔۔
مکمل نظر انداز۔ اریزہ نے الجھن سے اسے دیکھا۔۔
کل کانسرٹ میں چلو گی میرے ساتھ۔۔
اریزہ نے پوچھا تو وہ بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی سر اونچا کرکے دیکھنے لگی۔۔
کسکا کانسرٹ ہے۔۔ ؟
بریو ہارٹ بینڈ کاوہی سنگر جو ہمیں پلیین میں ملا تھا۔۔
اریزہ نے بتایا تو منہ بنا کر بولی۔۔
انکی شنگ پونگ کیا سمجھ آئے گی۔۔ وہ سیدھی چت لیٹ گئ۔۔
ہلا گلا رہے گا واپسی پر کچھ کھا پی لیں گے کل شام کا پروگرام ہے۔۔ وہ شوق سے اسکے پاس آبیٹھی۔۔
سنتھیا غیر ارادئ طور پر کھسک کر پیچھے ہو گئ۔۔
پھر اس حرکت کا خیال۔آیا تو اٹھ بیٹھی
مجھے نہیں جانا تم نے جانا ہو تو چلی جائو۔۔ وہ اسکے پاس سے ہو کر اٹھنے لگی۔۔
اریزہ نے مڑ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
تم نے جانا نہیں ہے یا میرے ساتھ نہیں جانا۔۔؟
میرا ایڈون کے ساتھ پروگرام طے ہے۔۔ وہ کترا کر ہاتھ چھڑاتی باتھ روم چلی گئ۔۔
ایڈون ۔۔ وہ ہنس کر رہ گئ۔۔
اریزہ بی بی اب بوائے فرینڈ ان ہے سو گرل فرینڈ کھچ جائو۔۔ اب۔۔ وہ سر پر ہاتھ مارتی اٹھی اپنے ڈورم کی سیڑھیاں چڑھتے اسکی سنتھیا کے ہینڈ بیگ پر نظر پڑی۔۔ اس نے یونہی بیڈ کے اوپر رکھ چھوڑا تھا گرنے ہی والا تھا۔۔
اس نے اتر کر اسے سیدھا کرکے رکھنا چاہا بیگ کی زپ کھلی تھی اسکی اچٹتی نظر پڑی تھی۔۔ اس نے زپ بند کر دی۔۔
بیگ کو بیڈ پر رکھ کر مڑی تو سنتھیا کھڑی گھور رہی تھی۔
تم میرا بیگ کیوں کھول کر دیکھ رہی تھیں۔۔اس نے کافی غصے سے پوچھا تھا۔۔
تمہاری چیزیں چرانی تھیں۔۔ اسے غصہ آگیا تھا۔
میں تمہاری چیزوں کو ہاتھ لگاتی ہوں؟۔۔ اوپر تک نہیں جاتی تم بھی میری چیزوں میں مت گھسا کرو۔۔
وہ تیزی سے بیگ کے پاس آئی اور اسے اٹھا کر اپنے سرہانے بیڈ پر رکھ دیا۔ اریزہ چڑ کر کچھ کہنے لگی تھی مگر پھر اسکی حرکت اسے کھٹکا گئ۔۔
کیا ہوا ہے اچانک تمہیں؟۔۔ وہ بہت ٹھنڈے انداز میں پوچھ رہی تھی۔۔
سنتھیا نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔۔ وہ منہ دھو کر آئی تھی چہرہ تولیہ میں گم کر لیا۔۔ ہلکے ہلکے تھپتھپاتے اریزہ کی جانب پشت بھی کر لی۔۔
اریزہ چند لمحے تو دیکھتی رہی پھر سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔
سنتھیا نے مڑ کر اسکے اوپر چلے جانے کا۔یقین کیا۔۔ پھر بیگ کھول کر اس میں سے ایک شاپر نکال کر اپنے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل میں رکھ کر لاک بھی کر دیا۔۔
چابی اپنے تکیے کے غلاف میں رکھ کر لیٹ کر موبائل استعمال کرنے لگی
اریزہ اوپر بیڈ کی جھری سے اسکی تمام مشکوک حرکتیں دیکھ رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح الارم سے اسکی آنکھ کھلی تھی۔
الارم بند کر کے اس نے نیچے جھانکا سنتھیا بے خبر سوئی پڑی تھی۔ وہ اٹھ کر نیچے آئی فریش ہو کر تیار بھی ہو گئ سنتھیا ٹس سے مس نہ ہوئی
اس کا ارادہ تو اب سنتھیا سے بات نہ کرنے کا تھا مگر ابھی اسے دیر ہو جاتی۔ اس نے جا کے اسکا شانہ ہلایا۔۔
سنتھیا۔۔
سونے دو ایڈی۔۔ اس نے کسمسا کر کروٹ بدلی۔۔
سنتھیا۔۔ اس نے گہری سانس لے کر اسے جھنجھوڑا۔۔
آٹھ بیس ہو رہے اٹھ جائو دیر ہو جائے گی۔۔ورنہ
سنتھیا۔۔ نے پوری آنکھیں کھولیں۔۔
اچھا۔۔
وہ اٹھ ہی گئی تھی۔۔۔
میں جائوں یا انتظار کروں۔۔
اریزہ نے پوچھا تو جوتی پہنتے لاپروائی سے بولی جائو۔۔
اریزہ پر نگاہ غلط ڈالے بنا اٹھ کر باتھ روم گھس گئ۔۔
اریزہ کا چہرہ بجھ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

Kesi lagi salam korea ki yeh qist? Rate us

Rating

Salam Korea Episode 11

Salam korea

by vaiza zaidi

قسط 11

وہ گھر کے دروازے پر پہنچا ہی تھا کہ دروازہ کھل گیا۔ بڑی سی گاڑی میں تمکنت سے  پچھلی نشست پر آہموجی براجمان تھیں۔اسکی شکل دیکھتے ہی تاثرات سپاٹ کر لیئے تھے۔ ڈرائور گاڑی بڑھا نہیں سکتا تھا پھر بھئ خاصے درشت انداز میں ٹوکا اسے

چلا کیوں نہیں رہے گاڑی رک کیوں گئے؟ 

ڈرائور نے گہری سانس لیکر سر جھکا لیا۔ وہ چند لمحے انکے کٹھور انداز کو دیکھتا رہا پھر آگے بڑھ کر انکی جانب والی کھڑکی پر جھکا 

کیسی ہیں آہموجی آپ؟ 

جوابا انہوں نے رخ پھیر لیا۔ 

آہموجی مجھے کچھ نہیں چاہیئے آپ سے کچھ بھی نہیں۔ میں آپ کو منانے آتا ہوں بس۔ آپ مجھے کچھ نہ دیں بس مجھے معاف کر دیں۔ میں بیٹا ہوں آپکا یوں منہ نہ موڑیں مجھ سے۔ 

آپ ایک بار بس ایک آخری بار مجھے معاف نہیں کرسکتیں آہموجی؟ میں مسلمان ہو بھی گیا تو بھی آپکا بیٹا تو ہوں ؟ ایک بار میری شکل دیکھ لیں۔۔ 

شیشے بند تھے اسکی آواز شائد اندر نہ جارہی ہو مگر اسکی بے تابئ اسکے انداز سے جھلک رہی تھی اس نے شیشے پر ہاتھ مار کر انکو متوجہ کرنا چاہا جوابا وہ حلق کے بل ڈرائور پر چلائیں۔  

گاڑی چلائو اب کس وجہ سے رکے ہو؟ 

ڈرائیور نے جھٹکے سے گاڑی آگے بڑھائئ تھئ وہ جھکا تھا لڑکھڑا گیا مگر اسکی ماں نے پلٹ کر نہ دیکھا۔

وہ وہیں گھٹنے کے بل گر سا گیا۔ 

کیا کروں اللہ؟ ماں نہیں مان رہی تو تو دیکھ رہا ہے نا میں کوشش کرتا ہوں؟  

وہ ہچکیوں سے رو دیا۔  کیسا  سودا تھا یہ رچل  ماں دوست کچھ بھئ تو اسکے پاس نہ رہا تھا سوائے ایمان کے۔ مگر ایمان اتنا مضبوط تھا اسکا کہ وہ سب رشتے دائو پر لگانے کو تیار تھا۔ چوکیدار نے گیٹ بند کرنا تھا مگر وہ وہاں دو زانو بیٹھا روئے جا رہا تھا۔ اپنے نہایت اکھڑ مالک کو یوں روتے دیکھنا اسکے لیئے بالکل غیر متوقع تھا۔ اسے یاد تھا ذرا سا گیٹ دیر سے کھولنے پر وہ ٹھیک ٹھاک چلاتا تھا اس پر۔ 

آئیگو۔ اکلوتا بیٹا ہے یہ سب جائداد اسی کے کام نہیں آئے گی تو کس کام کی ہے یہ سب جائداد۔ 

اس نے سر جھٹکا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماں آپ بہت  کٹھور ہیں۔ مجھ سے واقعی کیا ذرہ بھر بھی محبت نہ تھی آپکو؟ کیا مجبوری تھی جو کبھئ پلٹ کر حال بھئ نہ پوچھا میرا؟ میں سوچتی تھی کبھی آپ جیسئ نہ بنوں گئ۔ میں ترس کے قابل کبھی نہیں بنوں گی۔ مگر دیکھیں آج مجھ پر دنیا ترس کھا رہی ہے۔ آپکی وجہ سے۔ 

وہ دھیرے سے بڑبڑانے والے انداز میں مخاطب تھی۔ تصویر سے یوں جیسے ماں جیتی جاگتی سامنے کھڑی یو۔ 

سونا میں اپنا سونے کا میٹ بچھائے وہ دیوار سے کمر ٹکائے بیٹھئ تھئ اس نے ایک پرانے فریم کو تھام رکھا تھا۔۔  اس جیسے نقوش کی وہ دبلی پتلی مگر ادھیڑ عمر عورت کی تصویر تھی۔۔ جو کوریائی نقوش کے حامل اس کھلکھلا کر ہنستے شخص سے لگی کھڑی تھی وہ شخص جتنا مسکرا رہا تھا خوش دکھائی دے رہا تھا اتنی ہی سنجیدہ اور سنٹ تھی وہ۔عورت ۔۔بلکہ کسی حد تک سراسیمگی بھی اسکی شکل سے جھلک رہی تھی۔۔ اس نے اپنے سارے بال۔سیدھے پیچھے کر کے جوڑے میں باندھ رکھے تھے ایسا کرنے سے اسکی پیشانی نمایاں ہوگئی تھی۔۔ اور ایک ترچھی لکیر سی پیشانی پر کھنچی تھی۔۔ یہ ہوپ کو کسی کے بےدرد دھکے سے بچاتے گرنے پر لگی تھی۔۔ میز کا کونا انکے ماتھے پر گھس گیا تھا خون کا فوارہ چھوٹا تھا جیسے ۔۔ بہتا خون دیکھ کر وہ شقی رک گیا تھا۔۔ 

آہبوجی آپ جانتے ہیں میں نے اس تصویر سے آپکو کاٹ کر الگ کیوں نہیں کیا؟

کیونکہ میں اپنی ماں کا ایسا چہرہ دیکھتی ہوں تو اسکی وجہ یاد رکھنا چاہتی ہوں۔۔ کاش میں آپکا منہ  نوچ سکتی۔

۔ اس نے سوچا پھر ہنسی سی آگئ۔۔

میں زندہ رہنا چاہتی ہوں کم از کم تب تک جب تک آپکا چہرہ نوچ نہ لوں۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے گھر آکے سب سے پہلے رائٹنگ پیڈ ڈھونڈا تھا۔۔ کچھ ہنگل میں لکھا پھر اس کو  موبائل میں ویب سائٹ کھول کر انگریزی حروف تہجی میں لکھ کر ڈھونڈا تھا۔۔ 

جواب نے مسکراہٹ بکھیر دی تھی اسکے چہرے پر۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح ابر آلود تھی۔۔ گرمی گرمی کہنے والے ایک بارش ہوتی اور ٹھٹھرنے لگتے۔۔اسکو بھی صبح اٹھ کر خنکی کا احساس ہوا تھا۔۔ آج اس نے لان کی بجائے جی ہائے کا دیا ٹاپ نکال لیا اسکے ساتھ ہلکا سا کاٹن شرگ پہن لیا اوپر سے اسکارف میچ کرکے گلے میں ڈالا تو سنتھیا ٹوک ہی گئ۔۔

اور بھی کچھ دوں چڑھا لو ۔۔ اسکے ٹوکنے پر اریزہ نے مڑ کر دیکھا۔۔ وہ تیار ہو چکی تھی شائد اسے آئینہ چاہیئے تھا جبھئ اسکا انداز کھردرا تھا۔۔

وہ فورا قد آدم آئنے کے آگے سے ہٹ کر سینڈل پہننے لگی۔۔

گوارا نے مجھے کل پھر انوائٹ کیا ویک اینڈ گزارنے کیلیئے۔۔ لاسٹ ویک۔کافی مستی کی تھی دوبارہ چلیں؟

سینڈل کے اسٹریپ چڑھاتی وہ مصروف انداز میں پوچھ رہی تھی۔۔

جائو ۔۔ میں نے روکا؟

سنتھیا کا انداز سرسری تھا۔۔

تم بھی چلو گی نا۔۔؟ وہ مسکرائی۔۔

مجھے نہیں جانا۔۔ سنتھیا نے پیچ کلر کی لپ اسٹک کا شیڈ نکالا ۔۔ اریزہ اسے آئنے میں دیکھ رہی تھی۔۔ 

کیوں؟ اتنا مزہ آیا تھا۔۔ چلتے ہیں نا یہاں کیا اس کمرے میں بور ویک اینڈ گزارنا۔۔ 

سنتھیا نے ایک نظر اسکے چہرے کو غور سے دیکھا اس نے پیچ ہی رنگ کی لپ اسٹک لگا رکھی تھی۔۔۔گورئ رنگت پر صرف لپ اسٹک ہی رعنائی دوڑا گئ تھی۔ اس نے ٹشو اٹھا کر اپنے ہونٹ رگڑ لیئے۔ وہ اب بیوٹی  باکس میں سے نیا شیڈ ڈھونڈ رہی تھی۔۔ 

تم جانا چاہتی ہو چلی جائو۔۔ مجھے کیا کہہ رہی ہو۔۔

وہ۔مصروف تھئ۔۔

میں اکیلے نہیں جائوں گی پتہ ہے تمہیں تمہارے بنا میں کہیں نہیں جاتی۔۔ اس نے ٹھنک کر ضد کی۔۔ 

کیوں؟ میں کیا باڈی گارڈ ہوں تمہاری؟۔۔ بچی تو نہیں ہو کہ میں اور ایڈون تمہارا گارجین کئ طرح خیال کریں جہاں جانا ہو لے کر جائیں ؟ ۔

وہ بلا اردہ چٹخ کر بولی اریزہ اسے ایکدم چپ سی ہو کر دیکھنے لگی تو اسے احساس ہوا۔۔ نسبتا دھیمے انداز سے کہنے لگی۔۔

۔۔ بڑی ہو جائو اریزہ۔۔ خود آنے جانے اپنی زمہ داری خود اٹھانے کی عادت ڈال۔لو۔۔ اب۔۔ میں ہر جگہ تمہارے ساتھ تمہاری سپورٹ کیلیے نہیں جا سکتی۔۔

اریزہ زبردستی مسکرائی۔

میں اسلیئے نہیں کہہ رہی تھی۔۔ تم میری واحد دوست ہو میں کہیں بھی جائوں میرا دل۔کرتا تم ساتھ ہو میرے بس اسلیئے۔۔

وہ مڑ کر بیگ سمیٹنے لگی۔۔

سنتھیا تھوڑی شرمندہ سی ہوئی۔۔ اپنی صفائی دینے لگی

میرا اور ایڈون کا ویک اینڈ پر شہر سے باہر جانے کا پروگرام ہے۔۔ تم بہتر ہے چلی جائو گوارا کے گھر یہاں اکیلے بور ہی ہوگی۔۔ 

ہمم۔ ٹھیک ہے۔۔ اریزہ کو اسکے رویئے الجھا  رہے تھے اس بار مسکرا بھی نہ سکی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی ہائے اس کو دیکھ کر ایکدم خوش ہوئی تھی۔ 

مجھے پتہ تھا یہ تمہیں فٹ ہوگا تم اتنی موٹی نہیں  ہو اپنے روائتی کپڑوں کی وجہ سے لگتی یو۔۔ 

وہ اسے سر تاپا دیکھ رہی تھی پھر چونکی۔

یہ کیوں پہن لیا۔۔ اس نے شرگ کی طرف اشارہ کرکے پوچھا۔۔

موسم خنک ہے نا۔۔ اسے یہی بہانہ سوجھا

خنک؟۔ وہ حیران رہ گئ۔۔ وہ خود نیٹ کا بلاوئز سلیو لیس انر اور گھٹنوں تک کی اسکرٹ پہنے تھی

ہاں۔۔ اس موسم کی عادت نہیں نا۔۔ اس نے مزید کہا تو وہ کندھے اچکا گئ

چلو چھوڑو۔۔ ہم ہایون کو لوٹ رہے ہیں۔۔ ٹریٹ دے رہا ہے وہ ہمیں۔ کیوں کہ ہماری پریزنٹیشن پر سر کا فیڈ بیک بہت اچھا آیا ہے ۔۔ فائنل تو بعد میں پتہ چلے گا لیکن ماننے والی بات ہے جتنا بمباسٹک ہمارا کام تھا اتنا کسی کا نہیں ہونے والا۔۔

جی ہائے خوش تھی۔۔آنکھ مار کر بولی۔۔

ہاں مگر ہایون  کیوں ٹریٹ دے رہا ہم سب کی محنت تھی ہم سب کی کوشش ہمیں کچھ مل کر پلان کرنا چاہیئے۔۔ اریزہ نے کہا تو اس نے کندھے اچکا۔دیئے۔

امیر ( chaobel)ہے وہ اس سے جتنا کھینچ لو کم ہے۔۔ پھر اسکی کونسی گرل فرینڈ ہے جس پر خرچ کرے ایٹ لیسٹ اسی بہانے اسے لڑکیوں کا ساتھ مل جائے گا۔۔۔ اس نے جیسے کان سے مکھی اڑائی

چلو پھر۔۔ وہ۔اور کیا کہتی۔۔ وہ۔دونوں باتیں کرتی ہوئی یونی سے باہر نکل آئیں۔۔ ہایون  پارکنگ میں کار سے ٹیک لگائے منہ بنائے کھڑا تھا۔۔ ساتھ ہی ایڈلین اس سے بھی برا منہ بنائے کھڑی تھی۔

تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لگ رہا ہے بہت اچھا وقت گزار رہے تھے۔۔

جی ہائے نے صریحا طنز کیا تھا۔۔ دونوں نے ہونہہ کرکےمنہ پھیر لیا۔۔

جی ہائے فرنٹ سیٹ کی طرف بڑھی تو اسے اور ایڈلین کو پیچھے اکٹھے بیٹھنا پڑا۔۔ ایڈلین کا اسکے ساتھ بیٹھتے منہ بن گیا تھا۔۔ دوسری طرف سے گھوم کر بیٹھتی نزاکت سے اس سے انگریزی میں بولی۔۔ 

سمٹ کر بیٹھو۔۔ بیگ سے جگہ تنگ ہو رہی۔۔ اریزہ کا بیگ بیچ میں رکھا تھا اس جیسی ایک اور نازک اندام لڑکی بھی بیٹھ جاتی تو تنگ نہ ہوتی۔۔ اریزہ کو اسکا انداز کافی چبھا ۔۔ بیگ پیچھے کرکے اس سے بولی

نک چڑھی چڑیل تیلی جیسی تو ہو بھینس جتنی جگہ کیوں چاہیئے بیٹھنے کیلئے تمہیں؟ 

بظاہر مسکرا کر اس نے اردو میں کہا۔ 

کیا؟۔۔ اسے سمجھ نہ آئی۔۔

کیا کہا تم نے ابھی۔

بھینس۔۔ وہ بھینس کہہ کر رکی جیسے اسے ہی بھینس کہہ رہی ہو ۔

بھینس ماری ہے کیا میں نے تمہاری جو ایسی سڑی شکل بنائی ہوئی ہے؟۔ سیدھے منہ بات نہیں ہوتی تم سے۔۔ ؟۔۔

صبح کی بھی شائد چڑ نکل رہی تھی۔ 

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا بک رہی ہو۔۔ اسے اتنا تو پتہ لگ گیا تھا اسے کچھ برا کہا جا رہا۔ہے۔

اریزہ انگریزی میں بات کر ونا یہ۔سمجھ نہیں پا رہی تم کیا کہہ رہی ہو۔۔ 

جی ہائے کیلیئے اریزہ کا انداز نیا تھا ۔۔ بیک ویو مرر سے دیکھ کر اسےکہنے لگی۔۔

مجھے اس پاگل عورت سے بات کرنے کا شوق نہیں نہ سمجھ آئے اسکو میری بلا سے۔۔ وہ مسکرا کر بولی۔۔ اتنی دیر سے چپکے چپکے مسکراتا ہایون  ہنس پڑا۔۔اریزہ چوکنا ہوئی۔۔ یہ کیوں ہنسا اسے سمجھ آگئ کیا میں نے جو کہا؟۔ اس نے آئنے سے اسکا چہرہ دیکھا وہ مسکراہٹ ہونٹوں کے گوشے میں دبائے سامنے دیکھنے میں مگن تھا۔۔ 

ایڈلین کے تن بدن میں آگ لگ گئ۔۔ اس نے ناک سے دھواں نکالتے ہوئے رخ پھیر لیا ہایون چڑا رہا تھا اسے کیا

گاڑی ایک جانے پہچانے ریستوران کے سامنے رکی تھی۔

ایڈلین نے ایک نظر باہر ڈالی پھر اترنے سے انکار کر دیا۔

میں اس ریستوران میں نہیں جائوں گی۔۔ یہاں کی نہ سروس اچھی نہ کھانا ۔۔۔

  ہایون  اسے چڑانے والے انداز میں دیکھ رہا تھا یہ جواب اسکیلیئے غیر متوقع نہیں تھا۔۔

جی ہائے اتر چکی تھی اس کو کوئی کال۔آئی تھی وہ ہٹ کر کال سننے لگی۔۔ 

کم آن سیول کے بہترین ریستورانوں میں سے ایک ہے۔۔ یہاں کا کھانا کھانے دور دور سے لوگ آتے۔۔۔ ہایون نے کہا

مجھے پسند نہیں۔۔ کہیں اور چلو۔۔ اس نے شانے اچکا دیئے۔۔ 

مجھے تو کافی پسند آیا تھا یہاں کا۔کھانا۔۔ اریزہ پہلی بار آئی۔تھی مگر ایڈلین کو چڑانے کا موقع ملا تھا کیسے جانے دیتی لہک کر اتری جی ہائے داخلے پر کھڑی انہیں اشارے سے بلا رہی تھی۔۔

آجائو۔۔ جی ہائے تو اندر بھی پہنچ چکی۔۔ ہایون  نے کہا ایسے ہی تھا کہ وہ نہ ہی آئے۔  

ایڈلین۔ ہیونا ۔ اریزہ۔۔ وہ باقائدہ نام۔لے کر پکار رہی تھی۔ ایڈلین کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی اتری دھپ۔دھپ کرتی جی ہائے کی طرف بڑھ گئ۔

یہ سب سے ہی نفرت کرتی یا ہم دونوں کیلیئے اسکا خاص پیکج ہے؟۔۔ اریزہ نے پوچھا تو ہیون نے کندھے اچکا دیئے جیسے کہہ رہا ہو کیا کہہ سکتے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انہوں نے پورک اور بیف آرڈر کیا تھا۔۔ اریزہ نے ایگ رول سادے چاول سبزیوں کے ساتھ۔۔ 

وہ سب مزے لے کر کھا رہے تھے ۔۔ اسے ایگرول پسند آیا مگر تھوڑا لجلجا تھا۔۔ پاکستانی حساب سے کم پکا ہوا جلدی میں اتارا ہوا۔۔ پہلے نوالے میں پتہ نہ چلا۔۔ مگر پھر اسے ابکائی آگئ۔ اس نے پھر ایگ رول۔کو ہاتھ نہ لگایا۔۔ سادے چاول ابلی سبزیوں اور کورین چٹنی کے ساتھ۔۔ بس کچھ جا رہا تھا حلق کے نیچے۔ بے ذائقہ۔ 

اسکی امی کتنا مزے کا سبزی پلائو بناتی تھیں وہ اور صارم زیادہ کھا جاتے تھے۔۔۔۔۔۔ 

اسکی آنکھوں میں دھواں بھرنے لگا۔

ایک بار بھئ مجھ سے بات کرنے کا دل نہ کیا؟ کیا غلطی ہے میری ؟ اپنے ساتھ ذیادتی نہ ہونے دی؟ اوپر سے میں۔۔۔۔۔میں آپکو یاد کر رہی۔۔ اسے خود پر ترس بھی آیا غصہ بھی۔۔

وہ ایکدم اٹھ کر کھڑی ہو گئ۔۔ تینوں چونک کر دیکھنے لگے۔۔

میں زرا فریش اپ ہو کے آتی ہوں۔۔۔ 

ان تینوں نے سر ہلا دیا۔۔ 

کتنی دیر وہ منہ پر چھپاکے مارتئ رہی۔۔۔

میک اپ تو کچھ کیا نہ تھا بس کریم لگائی تھی اور لپ اسٹک۔ دونوں صفا چٹ ہو گئیں۔ رگڑ رگڑ کر ٹشو سے چہرہ خشک کیا۔ چہرہ تھپتھپاتی ہوئی باہر آئی۔ 

 یہ تینوں کھانا کھا چکے تھے اب کچھ پی رہے تھے۔۔

تم بھی پیوگی۔۔؟۔ جی ہائے نے اس سے پوچھا۔۔ اس نے سر ہلا دیا۔۔

یہ تینوں ایک گھونٹ جتنے گلاس میں پی رہے تھے۔۔ 

جی ہائے نے اسے بھی ایک گلاس پکڑایا۔۔ وہ منہ تک۔لے جاتے لے جاتے رک گئ۔۔ اچھی خاصی بری بو تھی۔۔

یہ کونسا ڈرنک ہے؟۔ اس نے بے چارگی سے پوچھا۔۔

ہارڈ ڈرنک۔۔ ہیون نے اسے تھوڑا عجیب سی نظر سے دیکھا

ہارڈ؟۔ اسکی عقل جواب دے گئ تھئ۔۔ 

ووڈکا ہے۔۔ ایڈلین نے جتایا۔۔

اوہ۔۔ اس نے فورا رکھ دیا۔۔

میں شراب نہیں پیتی۔۔ 

دوبارہ نہیں۔۔ ایڈلین جیسے بےزار ہو کر بڑبڑائی

اوکے کوئی جوس پیو گی؟

جے ہی نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا۔دیا۔۔ 

چلو بل دے کر چلیں۔۔ جی ہائےنے ویٹر کو اشارے سے بلایا۔۔ 

ہیون ادھر ادھر جانے کسے گردن گھما گھما کر ڈھونڈ رہا تھا۔۔ 

معزرت مجھے بتایئے گا آپکے ریستوراں میں ہوپ ہوتی تھیں؟

اس نے آخر ویٹر سے پوچھ ہی لیا۔۔

وہ آج چھٹی پر ہیں۔۔ انکی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔ 

ٹھیک ہے۔۔ وہ تھوڑا مایوس ہوا۔۔ ویٹر مخصوص انداز میں جھک کر وش کرتا چلا گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈلین کو اسکے اپارٹمنٹ ڈراپ کرکے وہ ان دونوں کو گوارا کے اپارٹمنٹ  چھوڑنے آیا تھا۔ انکے ساتھ وہ بھی اتر آیا تھا۔۔

وہ یہی سمجھی تھیں کہ انکے ساتھ آئے گا مگر جب اوپر آکر لفٹ سے نکل کردائیں جانب مڑ گیا تو جی ہائے کو تجسس ہوا۔۔

یہ کہاں جا رہا ہے۔۔ وہ رک کر دیکھنے لگی۔۔ 

ہمیں کیا چھوڑو۔۔ اریزہ لاپروائی سے کہہ کر آگے بڑھنے کو تھی جی ہائے نے اسے کھینچ لیا سامنے سیڑھیوں کے پاس دیوار سے ٹک کر اسے دیکھنے لگی۔۔

وہ اسی قطار میں آخری فلیٹ کی ڈور بیل بجا رہا تھا۔۔ 

اجنبی شکل نے دروازہ۔کھولا۔۔ وہ چونکا پھر مسکرا کر بولا

ہوپ ہیں؟

کون ہوپ؟

اس نے الٹا سوال کر دیا۔۔ 

وہ جو یہاں پہلے رہتی تھیں۔۔

وہ جھجک کر بولا۔

مجھے نہیں پتہ میں کل ہی یہاں منتقل۔ہوا ہوں۔۔ اس نے کھردرے انداز میں کہا تو وہ مسکرا کر جھک کر معزرت کرنے لگا۔۔ اس نے ہلکا سا جھک کر دروازہ بند کر دیا تھا۔۔وہ چند لمحے دروازے کو گھورتا رہا پھر تھکے تھکے انداز میں سر جھکائے لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لڑکی پٹا رہا ہیون 

گوارا انکے لائے اسٹیک کو منہ میں بھرے بمشکل بولی۔۔ وہ تینوں بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھیں تھیں۔۔ گوارا نے انکے لائے کھانے اسی وقت کھول کر کھانے شروع کر دیئے تھے 

کوئی اسٹرگلنگ آرٹسٹ ہے بہت بری تصویر بنواتی ہم سب دوستوں کو کہہ کر اس سے تقریبا ہم سب کا اسکیچ بنوا چکا۔ 

وہی لڑکی جس سے آخری بار ہم دونوں نے دریا کنارے تصویر بنوائی تھئ۔۔ جے ہی کو یاد آیا۔۔

ہاں ۔۔ گوارا نے بمشکل چباتے برا سا منہ بنایا۔۔

منہ میں کھانا بھرے پھولے کلوں کے ساتھ بولتی۔ 

ابھئ اریزہ کی امی ہوتیں تو گدی پر زور دار دھپ پڑتی اسکے۔ 

تم۔پہلے کھا لو اچھو نہ ہو جائے۔ اریزہ کو اسکے انداز سے الجھن آرہی تھی۔۔ اسکا کہنا تھا مزید کچھ کہنے کو منہ کھولتی گوارا کو زور سے اچھو ہوا تھا۔۔

جی ہائے اسکی۔کمر سہلانے لگی۔۔ اریزہ بھاگ کے پانی لے آئی۔۔

کھانس کھانس کر اسکا حشر ہوگیا تھا۔۔

منہ سرخ کھانا منہ میں بھرا ہوا۔۔

اس نے بمشکل نگلا۔۔ 

اتنی کوئی پیاری تو نہیں۔۔ جے ہی نے منہ بنایا۔

اوپر سے ہر وقت منہ بنائے رہتی۔۔ گوارا کو بھی بالکل پسند نہیں ائی تھی۔۔ 

مجھے تو ایسا گھورتی تھی میں جیسے اس کے ایزل چرا کر بھاگ جائوں گی۔۔ حالانکہ چار پورٹریٹ بنوائے پیسے دے کر۔۔ہیونگ سک کے کہنے پر اس نے دانت کچکچائے۔۔ 

سڑی ہوئی شکل دیکھ کر ہی انسان اداس ہوجائے۔۔

ایسا بندہ آپکے گرد ہو ویسے ہی ڈپریشن ہو جائے آپکو۔ گوارا بھری بیٹھی تھی جیسے۔۔

کون ہے اتنئ بری لڑکی۔۔ 

اریزہ کو بھی تجسس ہوا۔

دیکھ لینا تم بھی ۔

اس نے کان سے مکھی اڑائی۔۔ پھر بڑے اشتیاق سے پلیٹ رکھ کر سائیڈ ٹیبل سے لیپ ٹاپ اٹھایا۔۔ 

میں نے اپنا دوبارہ فیس فوٹو شاپ کیا ہے۔۔

دوبارہ نہیں۔ جے ہی اور اریزہ ایکساتھ کہتی اٹھ گئیں

تم۔لوگ جلتے ہو مجھ سے۔ وہ بھنا کر چلائی۔۔

جو بھئ سمجھو۔۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ری ہیب سینٹر آئی تھی۔ انی بہت ساری لڑکیوں میں گھری کوئی لیکچر دے رہی تھیں۔۔ اس نے کانفرنس روم کے گلاس ڈور سے جھانکا وہ متوجہ نہیں تھیں۔۔ وہ باہر آکر لابی میں رکھے صوفے پر بیٹھ کر انتظار کر نے لگی۔۔ پانچ سات منٹ بعد انی سامنے سے گزریں تو وہ بھاگ کر انکے پاس آئی۔

گنگشنی شا۔

اسکے پکارنے پر وہ رک گئیں تھیں اسے دیکھ کر بھرپور انداز سے مسکرائیں۔۔

کیسی ہو ہوپ؟

ٹھیک ہوں آپ۔۔وہ جھک کر مسکرائی

میں بھی۔۔ وہ دلکش انداز میں مسکراتی تھیں۔ اس نے رشک سے انکی مسکراہٹ کو دیکھا ۔۔ پھر دیکھتی گئ۔۔

ہوپ۔۔ انی نے پکارا تو وہ جیسے ہوش میں آئی۔۔

معاف کیجئے گا۔۔ انی۔۔ 

انی میری ماں اور بھائی کا کچھ پتہ چلا۔۔

وہ بے تابی سے پوچھ رہی تھی۔۔ انی کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئ۔۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہیں۔۔

اسکے چہرے پر امید بھرا ہیجان تھا۔۔

انہوں نے گہری سانس لی۔۔

ہوپ فی الحال۔کوئی خبر نہیں۔۔ مجھے جیسے ہی اطلاع ملی ضرور سب سے پہلے خبر کر وں گی تم بس دعا کیا کرو۔۔ہم کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے پیار سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مخصوص مسکراہٹ سے کہا۔۔وہ ایک دم اداس نظر آنے لگی تھی۔۔

ہوپ۔۔فائیٹنگ۔۔ انہوں نے مٹھی بنا کر اسے خوش کرنا چاہا۔۔ 

ہمم وہ زبردستی مسکرائی پھر کچھ یاد آیا۔

انی مجھے آپکا شکریہ ادا بھی کرنا تھا آپ نے مجھے جو ایزل پینٹس وغیرہ بھجوائے بہت اچھے تھے مجھے بہت ضرورت بھی تھی انکی

کونسے ؟ ۔ وہ نہ سمجھیں۔۔

وہ جو آپ نے کارٹن بھجوایا تھا۔ پینٹس برشز کنفیکشنری کا۔ ہیونگ سک کے زریعے۔۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔ 

اوہ ہاں ۔۔۔ وہ چونک کر سنبھلیں

۔۔ تمہارے کام آئے اچھی بات شکریہ کی ضرورت نہیں۔۔۔

انہوں نے پیار سے اسکا کندھا تھپتھپایا۔۔ تبھی کسی نے انہیں پکار لیا وہ معزرت کرتی۔آگے بڑھ گئیں

۔ ہوپ البتہ وہیں کھڑی کچھ سوچتی رہی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ٹیرس میں ٹہل ٹہل کر فون پر باتیں کر رہی تھی۔ 

رمضان کی خریداری کرکے آیا ہوں۔ خالو تو پتہ ہے پرہیز کی وجہ سے کچھ کھاتے نہیں خالہ اپنے لیئے تو اہتمام کریں گی نہیں ایک میں کتنا کھائوں گا۔آجائو واپس مل کر پکوڑے کھائیں گے۔ 

صارم فون پر حسب عادت بونگیاں ہانک رہا تھا۔

ہاں پکوڑے کھانے کیلئے اتنا خرچہ کرکے واپس آئوں۔ اب یہاں سے ڈگری ہی لیکر واپس آئوں گی۔ 

اریزہ شان بے نیازی سے بولی

خیر ڈگری وگری تم مکمل نہیں کرتیں وہاں۔۔ 

جانے کون سئ منحوس گھڑی تھی جو صارم نے یہ بکا۔ اریزہ کے تلوئوں سے لگی سر پر بجھی مگر ابھی اسے مزید گل افشانئ کرنی تھی۔

تمہیں کیا لگتا خالو نے تمہیں اتنی دور کیوں بھیجا؟ طلاق کے بعد پتہ ہے کتنی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں خاندان میں۔ سجاد بھائئ اور خالہ تو کینڈا بیٹھے ہیں سب خاندان تصدیق کرنے خالو خالہ کے پاس آتا ہے۔ کیا ماجرا ہوا۔ وغیرہ۔ اور اب دو باتیں چل رہی ہیں کچھ کہہ رہے کہ سجاد نے طلاق دی ہے کیونکہ تم دونوں کی آپس میں کوئی لڑائی ہوئی ہے۔ خالو نے اسی لیئے تمہیں اتنی دور بھیجا تھا تاکہ ان سب باتوں سے پریشان نہ ہو۔۔ 

مگر بابا کو کیا پتہ تھا تم جیسی بئ جمالو مجھے کوریا میں بھی لائیو اپڈیٹ دے گی۔ وہ بھنا کے رہ گئ جوابا صارم کھل کر ہنسا۔ 

میرا کیا قصور ہے فرمانبردارئ؟ میری اماں نے رشتہ طے کیا میرے ابا نے رشتہ توڑا مگر قصور میرا ہے۔ کوئی حد کے کمینے لوگ ہیں یہ۔ 

اسکا خون جل بھن گیا۔ 

تو ؟ تمہیں لگتا تمہارے ساتھ ذیادتی ہوئی ہے۔ صارم سنجیدہ ہوا

تو کیا ہوئی نہیں ہے؟ وہ حیران ہوئی اسکے یوں کہنے پر۔

تم آج سے پچاس پچپن سال پہلے کی لڑکی ہوتیں تو مان لیتا مگر اپنے خود ساختہ مظلومانہ فیز سے ذرا نکل کر سوچو۔ 

تمہاری زندگی تھی تمہاری زندگی کا فیصلہ ہو رہا تھا اور تم کیا کر رہی تھیں؟ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھی تھیں۔ حق چھوڑنے کا تو مزہب بھی حکم نہیں دیتا۔ میں کہہ کہہ کر تھک گیا کہ خالو سے میں بات کرتا ہوں مگر تم نے صاف منع کیا مجھے دونوں دفعہ۔ اور تم چاکلیٹ کافی پسندیدہ سوٹ تک کندھے پر لٹک کر فرمائش کرکے اپنی مرضی سے لیتی تھیں خالو سے اور اپنے۔۔ 

تو؟ مجھے کیا پتہ تھا کہ امی نے بابا تک کو نہ بتایا تھا۔۔ 

وہ تیز ہو کر بات کاٹ کر بولی جوابا وہ اس سے بھی تیز ہو کر بولا

تمہیں پتہ نہ چلتا اگر تم ایک بار خالو سے خود بات کرتیں؟ 

وہ صحیح کہہ رہا تھا وہ چپ سی ہوگئ

مانا خالہ نے دبائو ڈالا مگر تم اپنے آپکو مقرر کہتی ہو نا؟ تحریری مقالے لکھتی ہو تقریر کرتی ہو مگر اپنے حق کیلئے بولا نہ جا سکا کیا فائدہ تمہارے ان گٹس کا؟ 

اسے جانے کیوں شدید غصہ تھا اس پر۔ وہ خاموش نہ رہ سکی

ہاں سب میری غلطی ہے میں پیدا ہی غلط ہوئئ اس دن مرنا بھی مجھے چاہیئے تھا۔۔

بس یہی مظلومیت لے ڈوبی ہے تمہیں۔ اس دن تم نے مرنا ہوتا تو حماد بھائئ کو خراش بھی نہ آتی۔۔۔ تمہیں لگتا خالہ حماد بھائئ سے ذیادہ پیار کرتی ہیں چلو مان لیا مگر اس وقت تم انکی اکلوتی زندہ اولاد ہو وہ تمہیں کھونا نہیں چاہتیں۔۔ روتی ہیں یاد کرکے تمہیں۔ 

وہ اسے سمجھانا چاہ رہا تھا مگر اریزہ کا غصہ سوا ہوچکا تھا

بکواس۔ مجھ سے بات تک کرنا نہیں پسند۔ یاد کرکے روتی ہیں۔ انکو صرف یہ غم ہے کہ میں نے انکی بات مان کر رشتہ نہیں نبھایا بس۔ میں یہ بھی کر جاتی اگر بابا آگے بڑھ کرفیصلہ نہ لیتے۔ 

اسکے کہنے پر صارم گہری سانس لیکر رہ گیا۔ 

وہی نا تم نے جتنا مرضی تقریری جھاڑنی ہو اپنے لیئے خود اسٹینڈ نہیں لینا یہی بات ہے نا؟ 

تم مجھے فون نہ کیا کرو یہ سب بکواس بار بار دہرانے کا مجھےکوئئ شوق نہیں۔ 

اس نے بدلحاظی سے جھڑک دیا۔ صارم ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔۔۔ 

احمق تم جو اپنے یو ٹیوپیا میں رہتی ہو نا جہاں سب ٹھیک ہے اس یوٹیوپیا میں باہر کی خبریں پہنچانا فرض ہے میرا۔

ساری زندگئ تم نے کوریا میں نہیں رہنا ۔ واپس آئوگئ تو یہیں اسی ماحول۔۔۔ 

نہیں آئوں گئ واپس۔ مر جائوں گئ واپس نہیں آئوں گی خوش۔ 

اب فون بند کر رہی ہوں میں۔

ہاں وہیں رہو چھپ کے سب سے۔ بدلنا نہ بس خود کو۔ 

ریپینزل کہیں کی۔ کوئی باہر سے نہیں آتا آپکی مدد کرنے آپکو بچانےکیلئے اپنے لیئے خود فیصلہ کیا جاتا ہے اپنے لیئے خود اسٹینڈ لیا جاتا ہے۔ تم مجھے سو فیصد یقین ہے کوریا میں رہ کر بھئ ویسی ہی ویسی واپس آئوگئ جیسی یہاں سے گئ تھیں۔ یہاں پر میں تھا وہاں سنتھیا کا بازو تھام رکھا ہوگا۔ 

اسکی بات غلط نہیں تھی مگر وہ چلبلا کر ٹوک گئ

جی نہیں۔ میں یہاں سنتھیا کے ساتھ نہیں ہوں۔ میں نے اپنی دوستیں بنائی ہیں دونوں کورین ہیں اس وقت میں انکے اپارٹمنٹ میں انکے ساتھ ویک اینڈ گزارنے آئی ہوں۔ 

اس نے اتراکر کہا جبکہ صارم حقیقتا پریشان ہوگیا

کیا؟ کون ہیں ؟ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں کوریا گئے اتنا اعتبارکرلیا انجان لڑکیوں پر؟ سنتھیا کہاں ہے تم اکیلی۔۔۔۔ 

ابھئ مجھے بھاشن جھاڑ رہے تھے کہ خود مختار ہو جائو اپنا خیال۔خود رکھو اب کیا ہوا۔ 

وہ مزاق اڑارہی تھی جبکہ صارم سنجیدہ تھا۔ 

اجنبئ جگہ ہے اجنبی ماحول اجنبی ملک شہر اور تم نادان لڑکی کسی مشکل میں نہ پھنس جانا۔ سنتھیا کے ساتھ رہا کرو۔ اکیلے ۔۔ 

اچھا میں سونے جا رہی ہوں خدا حافظ۔ 

اس کے انداز میں پریشانی محسوس کرکے وہ۔شاداں و فرحاں ترنگ میں آکر جھٹ فون بند کرگئ۔اسکا جواب سنے بغیر۔ 

رہو تم بھئ پریشان۔ 

صارم کا دوبارہ فون آرہا تھا۔ مگر اسکا اٹھانے کا ارادہ نہیں تھا۔ 

ایویں خون جلا دیا۔ ایک تو ان پاکستانیوں کو دوسروں کے معاملات میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ 

وہ سوچتے مٹھیاں بھینچنے لگی۔۔ 

پندرہ  منزلہ عمارت کی دسویں منزل کے کھلے ٹیرس سے سیول شہر کی سب روشنیاں نگاہوں کو خیرہ کررہی تھیں سبک سرد سی ہوا خوشگوار موسم مگر اسکے اندر بھانبھڑ جل اٹھے تھے۔ جن لوگوں کی باتوں پر دل جلا رہی تھی وہ میلوں دور تھے مگر ہم یہی تو کرتے ہیں۔ کسی کے ایک لفظ ایک جملے پر کوسوں دور مہینوں سالوں سوچ کر یاد کر خون جلاتے ہیں وہ بھی اپنا ہی۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اسکی آنکھ سب سے پہلے کھلی تھی فریش ہو کر اس نے سب سے پہلے آٹا ڈھونڈا کافی سارا بچا پڑا تھا وہ یوں خوش ہوئی جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔۔ جلدی سے گوند کر اس نے پراٹھا بنایا انڈہ بنایا۔۔ تبھی جی ہائےبھی جمائی لیتی کچن میں چلی آئی۔۔

آئو ناشتہ کر لو۔۔ وہ اتنے چٹخارے لے کر کھا رہی تھی کہ جے ہی انکار نہ کر سکی۔۔ ہری مرچوں والا آملیٹ مکھن میں بنا ہوا ساتھ گرم پراٹھے اس نے احتیاطا دو بنا لیئے تھے کام آہی گئے۔۔ 

اف یہ کافی مزے کا ہے۔۔ جے ہی خوب مزے لے رہی تھی۔۔ جاپانیوں اور چینیوں کے برعکس کورین کافی شوق سے مرچ مسالے کھاتے ہیں اسے یہاں آکر اندازہ ہوا تھا۔۔ 

تم لوگ کیا کھا رہے ہو۔ گوارا نے نہایت معصومیت سے کان کھجاتے پوچھا تھا

آجائو تم بھی۔۔ اریزہ نے دعوت دی تو وہ بھی خوشی خوشی شریک ہو گئ۔۔

اریزہ نے اٹھ کر مزید ایک پراٹھا انہیں بنا کر دکھایا۔۔ دونوں کافی حیرت سے دیکھتی رہیں۔۔

تمہیں گرم نہیں لگ رہا؟۔۔ گوارا حیران تھی تو جی ہائے ڈر رہی تھی۔۔

آرام سے ۔۔ جل جائو گی۔۔ 

ہنستے کھیلتے ناشتہ ہوا تھا انکا۔۔

پھر آجکا کیا پروگرام ہے۔۔۔ گوارا نے پوچھا تو جے ہی کرسی پر کسلمندی سے بازو پھیلا کر انگڑائی لے کر بولی۔۔

سوتے ہیں۔۔ 

اور تم اریزہ۔۔ اس نے منہ بنا کر اریزہ سے پوچھا۔۔

مجھے کٹنگ کروانی۔۔ اس نے اپنے شولڈر کٹ بالوں میں انگلیاں چلائیں۔۔

چلو پھر پارلر چلتے ہیں۔ گوارا نے فورا پروگرام بنا لیا۔۔

اریزہ نے تیار ہونے کیلیئے کپڑے نکالے تو دونوں نے اکٹھے منہ بنایا۔۔ 

اچھا یہ۔۔ وہ اپنے ساتھ جینز ٹاپ بھی لائی تھی۔۔ 

ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔ دونوں نے اسے این او سی دے ہی دیا۔۔

تینوں تیار ہو کر جب پارلر آئیں تو یہاں دنیا ہی الگ تھی۔۔

اتنی نازک نازک چینی گڑیائیں جھک جھک کر سلام کرتی۔

اسکے انکار کے باوجود نرمی سے اسکے کندھے دبا دیئے۔۔ اریزہ کو وہیں نیند آنے لگی۔۔ جی ہائے گوارا اسے دیکھ دیکھ کر ہنستی رہیں۔پتہ نہیں کیا کیا مل۔کر اسکا فیشل کیا وہ ٹھیک ٹھاک گوری ہو کر جی ہائے اور گوارا کو ٹکر دینے لگی۔۔ بالوں کا بھی کوئی ہربل ٹریٹمنٹ کیا تھا۔۔ غرض پارلر سے نکلتے وہ خود کو پہچان بھی نہیں پا رہی تھی۔۔ اس نے لمبائی بالوں کی زیادہ کم نہیں کروائی تھی مگر اسٹیپس اور لیئرز کا۔مکس اسکے چہرے پر کافی جچ رہا تھا۔۔ جی ہائے اور گوارا نے کھلے دل سے اسکی تعریف کی تھی۔۔ 

کھانا کھا کر وہ کلب چلی آئی تھیں۔ بنا کسی لڑکے کے ساتھ کے اکیلے اتنی آزادی سے گھومنا اور مزے کرنا اریزہ کیلیئے بہت بڑی بات تھی وہ کافی خوش تھی۔۔ ان تینوں نے فروٹ کاکٹیل منگوایا تھا۔۔ پیتے پیتے ڈی جے نے انکی پسند کا گانا لگا دیا  وہ دونوں ڈانس فلور پر چلی گئیں وہ خاموشی سے ایک۔طرف کونے میں بیٹھ کر انہیں دیکھنے لگی۔۔ وہ دونوں خوب شغل کرنے کے موڈ میں تھیں انکا کلوز ڈانس دیکھنے والا تھا وہ بہت دلچسپی سے دیکھنے میں مگن تھی

۔۔ آپ کو مزید کچھ چاہیئے۔ ایک ویٹرس  نے نرمی سے اس سے پوچھا ٹرے میں مختلف رنگوں کے شربت سجائے وہ پاس سے گزری تو پوچھ لیا اس سے بھئ اس نے نفی میں سر ہلایا تو وہ مسکرا کر جھک کر اسے اچھی شام گزرے دعا دیتی چلی گئ۔ اس نے بھی اسے جوابا یہی کہا تھا۔ اسے تھوڑی دیر گزری ہوگی ایک کھنچی ہوئی آنکھوں والی ویٹرس اسکے پاس آکر کافی سختی سے کچھ بولی۔۔

معزرت مجھے سمجھ نہیں آیا آپ کیا کہہ رہی ہیں؟

اس نے چونک کر شائستگی سے اس سے انگریزی میں کہا۔۔

ضرورت سے زیادہ آرڈر کرتی ہی کیوں ہو۔۔ ؟ جب پینا نہیں تھا تو ضائع کیوں کیا؟ یہ پھلوں کا جوس تھا۔۔ ہر کوئی پھل کھانا افورڈ نہیں کر۔سکتا دوسری۔طرف تم۔جیسی امیر زادیاں کھانا ضائع کرتی ہو۔۔ 

وہ اسکے سامنے گلاس لہرا کر بولی۔ 

یہ گوارا کا۔تھا شائد۔۔ آدھے سے زیادہ۔ڈرنک باقی تھا۔۔

معزرت مگر یہ میرا نہیں۔۔ میری دوست پیتے پیتے ہی اٹھ کر گئ ہے ڈانس فلور پر ۔۔ اس نے سلیقے سے کہا تھا مگر وہ اسے۔درشت انداز میں۔ہی گھورتی ہنگل میں بڑبڑا کر کچھ کہتی چلی گئ۔۔

واہ ۔۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ کر رہ گئ

مطلب میری شکل۔پر لکھا آئو لڑو۔مجھ سے۔ وہ بھنا ہی گئ

جی ہائے اور گوارا اسے ڈانس فلور پر بلا رہی تھیں۔

وہ بھی اٹھ کر انکے پاس چلی آئی

جھوم جھوم کر ناچتے اس نے کئی سیلفیاں بنائی تھیں اور اسی وقت صارم کو بھیجی تھیں۔۔ 

یہ والی پیاری ہے۔۔ اس کا نمبر لے دو  

فوری جواب آیا تھا۔ یہ والی گوارا تھئ

 اسے ہنسی آگئ۔

یہ والی اپنی شکل بدلوانے لگی ہے چند مہینے بعد شکل دیکھ کر فیصلہ کرنا۔۔ 

اس نے یہی لکھ کر بھیجا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے بارہا کال کی ہر بار ہوپ اسکی کال بند کر دیتی تھی۔۔ وہ اس ریسٹورنٹ گیا جہاں وہ پارٹ تائم جاب کرتی تھی مگر ریسیپشنسٹ نے بتایا وہ بیماری کی چھٹی کے بعد آئی ہی نہیں بلکہ اپنا استعفی بھجوا دیا تھا۔۔

کہان چلی گئی ہو تم؟

 ریستوران سے نکل کر وہ یونہی سڑک پر نظر دوڑاتا بڑبڑایا تھا۔۔ وہ سیدھا گھر آیا تھا۔۔ 

ملازم نے اسے دیکھتے ہی بتایا تھا کہ اسکے نام ایک پارسل آیا ہے۔۔

اس نے کمرے میں آکر دیکھا تو ایک چھوٹا کارٹن تھا جسکے ساتھ ایک چھوٹا سا خط تھا۔۔

اس نے فورا خط کھولا۔۔

مختصر تحریر تھی

آئندہ بھیک اسے دیجئے گا جو مانگے۔۔ 

وہ تحریر پڑھ کر چونکا فورا کارٹن کھولا 

تو اسکے ہوپ کو دئیے گئے پینٹس برشز ایزل وغیرہ تھے ان میں سے آدھی چیزوں کی ابھی پیکنگ بھی نہیں کھولی گئ تھی۔

 آہش۔۔ وہ بھنا کر رہ گیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پاکستانی لحاظ سے چھوٹے سے کمرے میں ایک بڑا سا ڈبل بیڈ ایک جانب چھوٹا سا سنگھار میز اور دو مناسب سے چھوٹے صوفےرکھے تھا بس اب چلنے پھرنے کی جگہ تھی بس۔ اس نے باتھ روم کھول کر جھانکا نہایت چھوٹا سا باتھ روم جس میں ایک جانب شیشے کی دیوار میں جتا شاور ایریا تھا۔ اندر گھسو تو دروازہ بند کرنے کیلئے چھپکلی کی طرح دیوار سے چپک جائو۔ 

اس کو دیکھ کر خفقان سا ہونے لگا جھٹ بند کیا۔ کمرے کا چھوٹا ہونا الگ ذہنئ طور پر پریشان کن تھا۔ اس نے کارڈ دیوار میں لگی چھوٹی سئ سوائپ مشین میں رکھا تھا جس سے بنیادی بتیاں جل گئ تھیں۔ اس نے سوئچ بورڈ کے سب بٹن جلا دیے۔ اب آرائشی روشنیاں سائیڈٹیبل لیمپس سب روشن ہو گئے تھے۔ اب کچھ سکون محسوس ہوا تھا اسے۔۔۔ کمرے میں بس ایک جانب پردے لگے تھے وہ اسی کی طرف بڑھی پردے پورے کھول دیئے سامنے شیشے کئ دیوار اور شیشے کی ہی کھڑکیاں تھیں۔۔ اس نے کھڑکیاں سب کھول دیں 

 تازہ ہوا اندر داخل ہوئی خنکی بھی محسوس ہوئی۔ اس نے آف وہائیٹ ون شولڈر گھٹنوں تک کا فراک پہنا ہوا تھا۔ ٹھیک ٹھاک سردی لگی اسے۔ 

اسکے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ 

ایک یہ پاکستانیت نہیں جاتی مجھ میں سے۔۔ 

اس نے اپنے سانولے مگر گداز بازو پر ہاتھ پھیرا۔  

ایڈون کہاں رہ گیا۔ وہ جھلا کر مڑی تبھی ایڈون ایک ویٹر کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوا۔ ویٹر ٹرالی میں یقینا انکے لیئے کھانا لایا تھا۔ سوپ چکن اسٹیک چاول اور کمباپ۔ ( چاولوں  گوشت اور سبزیوں کے امتزاج کو سی ویڈ میں لپیٹ کر کھایا جانے والا کورین کھانا)

ویٹر میز پر سب چیزیں رکھ کر جھک کر سلام کرتا واپس چلا گیا۔ 

پیسے تو اتنے لیئے ہیں انہوں نے کمرہ کتنا چھوٹا سا ہے دم گھٹنے لگا تھا میرا۔ 

وہ کہے بنا نہ رہ سکی۔ ایڈون خاموش ہی رہا۔ 

کمباپ کی جانب اس نے ہاتھ بڑھایا پھر رک گئ

اس میں پورک تو نہیں؟ 

اسکی بات پر ایڈون نے خاموشی سے اسکے سامنے سے پلیٹ ہٹا کر اسٹیک رکھ دیا۔ اور خود کمباپ کھانے لگا

تم پورک کھانے کی عادت مت ڈالو پاکستان میں واپس جا کے مشکل ہوگئ۔ 

وہ اسے اکسا رہی تھی

میرا ارادہ نہیں ہے پاکستان واپس جانے کا میں یہیں سیٹ ہونے کی کوشش کروں گا۔ 

ایڈون نے حتی المقدور اپنا لہجہ سادہ ہی رکھا۔

اریزہ کو بھی کوریا بہت پسند آیا ہے۔ کہہ رہی تھی کہ اسکا بس چلے تو واپس کبھی نہ جائے۔ 

اریزہ نے اسکو کبھی ایسا نہیں کہا تھا مگر وہ اسکی جانب سے کہہ کر ایڈون کے تاثرات دیکھنا چاہ۔رہی تھی۔ ایڈون کا چہرہ بے تاثر رہا۔۔ وہ مکمل کھانے کی جانب متوجہ تھا۔

وہ ہونٹ بھینچ کر اسٹیک پر کانٹا پھیرنے لگی۔ 

عجیب بات ہے نا ویسے پوری دنیا کے کرسچن پورک کھاتے ہیں ایک ہم پاکستانی ہیں کہ 

اس نے استہزا سے جملہ ادھورا چھوڑا۔۔ 

مزے کا ہوتا ہے برائلز چکن جیسا ہی ذائقہ ہے تم چکھ کر دیکھو پسند آئے گا تمہیں۔ 

ایڈون نے ایک کمباپ اسکی جانب بڑھانا چاہا۔۔

نہیں میں گندی ہو جائوں گئ۔ 

وہ بول کر ہنس پڑی۔ ایڈون کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ وہ اس وقت کسی بحث کسی لڑائی میں نہیں پڑنا چاہتا تھامگر سنتھیا کا یہی ارادہ لگتا تھا۔ 

پتہ ہے بچپن کی بات ہے یہ ایک بار اریزہ کو بتایا تھا میں نے کہ برائن انکل کے گھر پورک اسٹیک کھایا ہے میں نے اریزہ نے مجھے دھکا دے کر دو رکیا تھا کہ تم گندی ہوگئ ہو پھر میں نے باقائدہ مائوتھ واش سے غرارے کرکے اسے یقین دلایا تھا اب میں صاف ہوں۔ 

وہ خاصی دلچسپی سے بتا رہی تھی ایڈون نے کوئی ردعمل ہی نہ دیا۔ وہ خود ہی بتا کر ہنستی رہی پھر چپ بھی ہوگئ۔

یہ لو۔ ایڈون نے وائن  کی بوتل اٹھا کراسکے سامنے رکھی۔ 

اب یہ کیا ہے؟ 

اس نے پیشانی پر بل ڈال کر پوچھا۔ 

ریڈ وائن ہے۔ پچھلے ویک اینڈ اسی کو پینے سے روکا تھا تمہیں اب پی لو جتنا مرضی چاہے۔ 

اسکا انداز سادہ تھا۔ 

سنتھیا ہنس پڑی ہنستے ہنستے پہلو بدل کر صوفے کی پشت سے سر ٹکا دیا۔ ہنسے گئ۔ ایڈون کھانا چھوڑ کر اسے دیکھنے لگا۔ 

اس وقت ہم کلب میں تھے اور لوگ تھے وہاں تم نے کبھی پی بھی نہیں ہے اسلیئے بس میں تھوڑا اوور پروٹیکٹیو ہو گیا تھا بس۔

اس نے جانے کیوں صفائی دی۔ سنتھیا ہنستے ہنستے سیدھی ہوئی۔ 

ہماری لڑائی میرے وائن نہ پینے کی وجہ سے نہیں تمہارے وائن پی کر ٹن ہونے سچ بولنے کی وجہ سے ہوئی۔ 

سنتھیا کی بات پر وہ ہاتھ نیپکن سے پونچھتا اٹھ کھڑا ہوا

جو بھی وجہ رہی ہو۔ 

وہ اس جھگڑے کو پھر ٹالنا چاہتا تھا۔

تمہیں اریزہ نے انکار کر دیا تھا نا ؟ کب کی بات ہے یہ ہماری منگنی سے پہلے کی؟ 

سنتھیا اسکو نظروں میں رکھے تھی

میں نے کہا تھا تمہیں کہ یہ بات اب دوبارہ ہمارے درمیان نہیں ہوگئ۔ 

وہ زچ ہوا

مجھے جانناہے۔ اس دن بھی تم ٹال گئے مگر میں اب اس رشتے کو نبھانے سے قبل ساری حقیقت جاننا چاہتی ہوں۔ 

وہ میز پر ہاتھ مار کر ایکدم غصے سے بولی۔ 

کیا کروگئ جان کے۔ 

ایڈون نے تھکے تھکے انداز میں دیکھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنتھیا کے گھر نیو ائیر پارٹی تھی۔ اریزہ کو جبین جانے نہیں دے رہی تھیں۔ 

آنٹی صرف ہم لڑکیاں ہوں گی بس ہم انجوائے کریں گے کھائیں گے پیئیں گے۔ڈانس کریں گے بس۔ 

سنتھیا انکے کندھے پر جھول رہی تھی جبین گہری سانس بھر کر رہ گئیں

بیٹا یہ نیو ائیر وغیرہ ہمارے تہوار تھوڑی ہیں پھر اریزہ کو کبھی رات بھر کیلئے کہیں رکنے نہیں دیتے اسکے پاپا۔ 

انکل سے میں بات کر لوں گئ آپ اجازت تو دیں۔ 

سنتھیا کے کہنے پر انہوں نے جان چھڑانے کو حامی بھری مگر کہہ بھئ دیا کہ اسکے بابا سے پوچھ لو۔ انکو سو فیصد یقین تھا کہ وہ اجازت نہیں دیں گے۔ اس وقت تو بابا گھر پر نہ تھے جب شام کو واپس آئے تو دونوں انکے دائیں بائیں بیٹھ گئیں۔ 

انکل اریزہ میرے گھر نیو ائئر نائٹ منانے چلی جائے؟ 

سنتھئا نے پوچھا انہوں نے لمحہ بھر سوچا اور سر ہلا کر اجازت دے دی۔ 

ہرا۔ آنٹی ایسے ہی ڈر رہی تھیں۔ 

وہ نعرہ مار کر وہیں اریزہ سے لپٹ گئ

ارے رات بھر کا فنکشن ہوگا اسکے گھر یہ وہاں رات رہے گئ۔۔ 

جبین نے یاد دلانا چاہا۔ 

تو کیا ہوا آنٹی میرا گھر اریزہ کا بھی تو گھر ہے میں نہیں رہتی کیا یہاں آکر۔ 

سنتھیا برا مان گئ۔ جبین سٹپٹا سی گئیں

بیٹا اب تھوڑی دیوار سے دیوار ملی ہوئی ہے 

تو آنٹی ہم نے گھر بدل لیا تو کیا ہم بھی بدل گئے؟ یقین کیجئے امی اریزہ کو اتنا یاد کرتی ہیں اسکو اپنی دوسری بیٹی مانتئ ہیں مگر  آپ اسے کبھی میرے گھر بھیجتی نہیں ہیں اب کم ازکم نیو ائیر پر تو آنے دیں ۔۔ 

سنتھیا کے پاس کبھئ دلائل کی کمی نہیں ہوتی تھی۔ جبین نے شوہر کی۔جانب دیکھا وہ بھی نرمی سے سر ہلا کر انہیں منع کرنے سے روک ہی رہے تھے۔ انہوں نے بھی سر اثبات میں ہلا ہی دیا۔ 

 چرچ اتنا خوب صورت سجا ہوتا ہے امی مجھے اتنا شوق تھا دیکھنے کا۔۔ اریزہ کی الگ خوشی تھئ۔ 

چلو جلدی سے کپڑے نکالو عید والا ڈریس نکالنا۔ 

نہیں میں نے نیا بنوایا ہے ایک سفید دکھائوں؟ 

اریزہ نے کہا تو وہ فورا مان گئ

جلدی کرو ایڈون کو فون کردیا ہے لینے آتا ہوگا ہمیں

سنتھیا کو فورا جانے کی فکر لگ گئ۔ دونوں پروگرام بناتئ اٹھ کر بھاگیں۔ 

آپ ان نزاکتوں کو نہیں سمجھتے اب یہ نیو ائیر منانا کہاں سے جائز ہے اوپر سے آرتھر صاحب کے گھر کی تقریبات تو مخلوط ہوتی ہیں گانابجانا ہوتا ہے وہاں ناچتے ہیں لڑکے لڑکیاں مل کر یہ ہمارے یہاں۔۔ 

جبین چیں بہ چیں ہوئیں۔ مرتضی مسکرادیئے

تو؟ ایک تو سوچتی بہت ہیں۔ آرتھر کا خاندان اجنبی نہیں ہمارے لیئے بیس پچیس سال پڑوسی رہے ہیں وہ اچھے شریف لوگ ہیں۔ کیا وہ عید ملنے نہیں آتے ہم سے؟ ہم کرسمس پر کبھی انکے گھر تک نہیں گئے چلو کرسمس مزہبئ بحث بن جاتی مگر نئے سال کی چھوٹی سی تقریب میں شرکت کرنے سے کیا ہو جائے گا۔ باقی اریزہ خود سمجھدار ہو چکی ہے اچھے برے کا پتہ ہے اسے اپنے آپ اسے ہر وقت روکنا ٹوکنا چھوڑ دیں۔ یونیورسٹی پہنچ گئ ہے وہ اب۔ بچئ نہیں رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔ یہ سب اسکی توقع کے برعکس تھا۔ سنتھیا کے بڑے سے لان میں الگ ہی دنیا سجی تھئ۔ ایک جانب باربی کیو کا اہتمام تھا دوسری جانب ہٹ سی بنا کر مشروبات کیلئے بڑا سا کائونٹر بنایا ہوا تھا جس پر باوردی ویٹرز تعینات تھے۔ پورے لان کے اوپر شامیانے تھے جن سے دسمبر کی سردی روکی گئ تھی جگہ جگہ ہیٹر لگے تھے۔ موسیقی کا بھئ خوب اہتمام تھا ۔ کئی مشہور نام سر بکھیرنے آئے تھے موسیقار الگ بیٹھے تھے ڈی جے الگ  فرمائشی گانے لگا رہا تھا۔ یقینا رات بھر کا پروگرام تھا انکا۔ جبھی سنتھیا رات رکنے کی اجازت لیکر آئی تھی ۔ایک کونے میں ڈانس فلو ربناہوا تھا شیشے کی زمین  جن پر ڈسکو لائٹس اور برقی قمقموں کی کہکشاں نے سجا رکھا تھا۔ سانولے سلونے عیسائی جوڑےمغربی لباس زیب تن کیئے کپل ڈانس کر رہے تھے۔ کئی غیر ملکی شکلیں بھی ہاتھ میں جام لیئے مغربی لباس میں ملبوس تقریب کا لطف اٹھا رہے تھے۔ 

سنتھیا کی بچی۔ اس نے ہتھیلیاں مسلیں۔ 

آئوٹ اینڈ آڈ کی وہ شاندار مثال بنی ہوئی تھی۔ جامنی اور نیلے امتزاج کی لانگ فراک جس پر گلے پر ہلکا سا کام ہواتھا چوڑی دار پاجامہ جو اسکے چلنے پر بمشکل نظر آتا تھا لانبا دوپٹہ شیفون کا وہ بلا مبالغہ اس وقت یہاں سب سے ذیادہ کپڑے پہنے تھی۔ باقی سب تو اسکرٹ آف شولڈر یا میکسیز پہنے یوں پھر رہی تھیں جیسے اسلام آباد کا دسمبر نہیں کراچی کا جون چل رہا ہو۔ 

کیا ہوا ٹھنڈ لگ رہی ہے؟ 

وہ دانت پیس رہی تھئ جب سنتھیا کی اس پر نگاہ پڑی فورا دوڑی چلی آئی اسکے پاس۔ 

خود وہ ستاروں بھراپنڈلیوں تک کا فل سلیوز مغربئ طرز کا فراک پہنے تھی جس کے نیچے ٹائٹس بھی پہن رکھی تھیں اس نے۔ 

یہ چرچ ہے؟ اس نے کہا تو سنتھیا کھلکھلا دی۔ 

چرچ بھئ چلیں گے یہ تو پاپا کی پارٹی ہے پتہ ہے کتنے بڑے بڑے لوگ آئے ہیں ۔۔ 

وہ شو مارنا چاہ رہی تھی اریزہ نے گھرک دیا۔

جی جانتی ہو آپکے پاپا بیوروکریٹ ہیں یہاں سب وی آئی پیز ہی آئیے ہوں گےمگر میں یہاں کیا کر رہی ہوں ؟ 

اسکے کہنے پر سنتھیا ہنس دی۔ 

یار سورئ تم سے بھئ جھوٹ بولنا پڑا کہ صرف میری کزنز ہوں گئ مگر یار یقین کرو بہت مزا آنے والا ہے ہم سب کھائیں پیئیں گے ناچیں گے گائیں گے بس ذرا بارہ بجنے دو۔ 

وہ اسکو منانے کندھے پر جھول۔گئ۔ اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ 

پھر واقعی اصل رونق بارہ بجے کے بعد لگی۔ 

جام پر جام چڑھاتے ہوئے مدہوش ہوتے لوگ ڈانس فلور پر ناچ ناچ کر نئے سال کا جشن منا رہے تھے سنتھیا نہیں پیتی تھی مگر اسکے علاوہ اسکی کزنز وغیرہ سب پی بھی رہی تھیں ناچ بھی رہی تھیں۔ اسکے کزنز اسکے پاپا کے دوست بوڑھے جوان کوئی تشخیص نہ تھی ۔ ایک لڑکے نے اسے اپنے ساتھ ڈانس کرنے کی دعوت دی تو اس نے جھومتی سنتھیا کا ہاتھ تھام لیا۔ 

آں کیا ہوا۔ وہ متوجہ ہوئی۔ 

مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔  

گانے کا شور لوگوں کی چیخم دھاڑ۔ سنتھیا نے کان دبا کر پوچھا 

کیا۔۔ 

مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے مجھے یہاں سے جانا ہے۔ 

اسکو بھانت بھانت کے لوگوں کی لگائی ہوئی خوشبوئوں، باربئ کیو کی مہک  اور شراب کی بو سے سخت الجھن آرہی تھی۔ اسکو لگ رہا تھا یہیں چکرا کر بے ہوش ہو جائے گئ۔ 

سنتھیا کو اسکی کزن نے کھینچ لیا تھا۔ قریب تھا وہ وہیں چکرا کر بے ہوش ہو جاتی اسے ایک نرم مہربان آواز اپنے قریب سنائی دی۔

اریزہ۔ 

وہ چونک کے پکارنے والے کی جانب مڑی۔ مخاطب کوئی 

اجنبی نہیں تھا۔ اس نے سکھ کا سانس لیا۔ 

ادھر میرے ساتھ آئو۔ 

ایڈون اسکے چہرے کے تاثرات پڑھتا مسکرا دیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایڈون کھلی کھڑکی سے باہر جھانک رہا تھا۔ دونوں ہاتھ اپر کی جیب میں ڈالے وہ  31 دسمبر 2016 میں پہنچا ہوا تھا شائد۔ 

ایڈون۔ 

سنتھیا نے اسے پکار کر۔متوجہ کرنا چاہا۔ 

اس نے سنا نہیں شائد۔ 

اس نے جلبلا کر سامنے رکھی وائن کی بوتل اٹھائی 

زندگئ میں کبھی ہوش نہ کھوئے تھے اس نے اور آج ہوش اڑ گئے تھے اسکے۔ غلط دن غلط انتخاب کیا تھا اس نے۔ آج اسکو اپنے حواس کھونے نہیں دینے چاہیئے تھے۔ 

اس نے پانی والے گلاس کو اٹھا کر اسے بھرنا شروع کردیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کم سن اپنے روم میں واپس جا چکا تھا۔۔ یون بن بھئ نہیں تھا اور ایڈون بھئ غائب تھا۔ سالک شاہزیب کے پاس آیا ایڈون کا پوچھنے۔ 

وہ شائد آج رات آئے ہی نہ آج کیا ہوسکتا ہے کل بھی نہ۔آئے۔ 

شاہزیب نے بتایا تو وہ حیران ہوگیا

کیوں ؟ کہاں گیا ہے؟ 

یہیں سیول میں ہے مگر سنتھیا کے ساتھ۔ 

شاہزیب نے محتاط انداز میں ہی بتایامگر سالک ہکا بکا رہ گیا

پاگل تو نہیں ہے ؟ انگلینڈ آگیا ہے وہ یہ سمجھ رہا ہےکیا اور سنتھیا اسے کیا ہوا میں اسے ایسی لڑکی نہیں سمجھتا تھا۔ 

سالک کے کہنے پر شاہزیب نے دانت پیسے۔ 

ایسی لڑکی کیا ہوتا۔ اور دونوں بچے نہیں ہیں۔ اپنا اچھا برا سمجھتے ہیں۔ 

سالک کندھے اچکا کر اسکے برابر ہی بیڈ پر آن گرا۔

پرے مر۔ وہ آدھا شاہزیب پر ہی گرا تھا اس نے منہ بنا کر دھکیلا تو الٹا وہ اس سے اور لپٹ گیا۔ کم سن اسی وقت باتھ روم سے نکلا۔  بڑے غور سے ان دونوں کو دیکھا۔دونوں اسکے گھورنے پر سیدھے ہو گئے۔ 

میں نے سنا ہے باتھ روم میں کھانا پینا ان ہائی جینک ہوتا ہے۔ 

سرسری سی نظر ان پر ڈال کر وہ اپنے بیڈ کی جانب بڑھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ 

ہاں تو ہم کونسا بریانی کھاتے ہیں باتھ روم میں۔ سالک نے منہ بنایا۔ 

یہ جو قہوہ پیتے ہو باتھ روم میں اسکا کہہ رہا ہوں۔ ویسے مجھے تو سادہ پانی ہی لگا۔ کیا ڈالتے ہو اس میں۔ 

وہ متجسس تھا دونوں تڑپ کر سیدھے ہو بیٹھے

کونسا قہوہ کیا پی رہے ہیں ہم باتھ روم میں؟ انکی حیرانگی بجا تھی۔ 

یہ جو کیتلی رکھی ہے باتھ روم میں اسکا پوچھ رہا ہوں۔ اسکے کہنے پر دونوں سٹپٹائے

پیا تو نہیں اس کو۔ ؟ 

انکے کہنے پر وہ جھٹ نفی میں سر ہلاگیا۔ 

آنیا۔ ۔۔۔۔ پھر رک کر جھجکتے ہوئے اعتراف کیا۔۔

مطلب تھوڑا سا چکھا تھا۔۔

ابے یار۔ 

سالک نے سر پر ہاتھ مارا تھا۔ شاہزیب نے کھل کر قہقہہ لگایا

اسے بتا کس مقصد کیلئے رکھا ہے اس میں سے پانی پی کر آگیا ہے۔ 

سالک کو گھن سی آئی۔

ہاں تو پانی تو سادہ ہی تھا کونسا تو اسکے اندر۔۔۔

 شاہزیب کی تشریح اس نے باقائدہ اسکو مکے جڑ کر روکی ان کے برعکس کم سن سادہ سے انداز میں کہہ رہا تھا

 ۔۔ سادہ پانی ہی لگا مجھے تو ادھر یون بن کے باتھ روم میں بھئ سالک نے رکھا ہوا تم سب پاکستانی باتھ روم میں قہوہ پیتے ہو؟ 

اسکی حیرانگی دیدنی تھی۔ 

سالک نے منہ بنایا۔ 

نہیں پاکستان میں مسلم شاور آسانئ سے دستیاب ہوتا ہمیں وہاں قہوہ بنانے کی ضرورت نہیں پڑتئ۔ 

شاہزیب نے گھور کر اسے دیکھا۔ پھر کم سن کی غلط فہمی دور کرنے لگا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈھیر سارا مزا اڑا کر وہ تھکی ہاری جھومتی ہوئی اپارٹمنٹ پہنچی تھیں۔۔

اف میں تو تھک گئی۔۔ جی ہائے  سیدھا بیڈ پر گری تھی۔۔ 

میں بھی گوارا بھی لڑھک کر اسکے پاس آگری تھی۔۔ 

کافی پیوگی دونوں۔۔ اریزہ بھی تھکی تھی مگر اس نے لطف اتنا اٹھایا تھا کہ ابھی بھی مسرور سی تھی۔۔ 

میں تو سونے لگی۔۔ گوارا نے صاف انکار کیا

مجھے لا دو۔۔ جی ہائے  نے انگڑائی لی۔ وہ سر ہلاتی کچن میں آگئ۔۔ دو مگ کافی بنا کر جب جے ہی کو اسکا کپ دینے آئی تو جی ہائے گوارا سے لپٹی بے خبر سو رہی تھی۔۔ ا س کو سنتھیا جانے کیوں یاد آئی

۔ جانے اسے اچانک کیا ہوا ہے۔۔ وہ سوچ کر اداس سی ہو چلی تھی۔۔ 

پھر دونوں کو چادر اڑھا کر وہ بتی بجھاتی ٹیرس میں چلی آئی۔۔ سیول ابھی بھی جاگ رہا تھا۔۔ اس نے موبائل اٹھالیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیمنسٹ کہتے لڑکیوں کو آزادی چاہیئے سب کر گزرنے کی۔۔ انکی پسند کا لباس پہننے کی انکو انکی مرضی کا ہر کام کرنے کی آزادی ہو ہر جگہ ہر وقت جانے کی آزادی۔۔ برابری کا حق ملنا چاہیئے کیونکہ لڑکیاں بھی وہ سب کر سکتی ہیں جو لڑکے کر سکتے مگر کیا واقعی لڑکیوں کو یہ سب درکار؟

 مجھے لگتا۔۔

صرف لڑکیوں پر سے دھیان ہٹا لیا جائے بس۔۔ اتنا کافی ہے۔۔ 

اس نے سوچا پھر شائع کر دیا ۔۔ 

ہاں میرے پاس ایک کپ کافی ہے فالتو چاہیئے کسی کو ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلا کمنٹ۔۔

ہائے کیسےدھیان ہٹائوں؟۔۔ ہر وقت لڑکیوں کے بارے میں ہی سوچتا ہے دل میرا۔۔

دوسرا۔

لڑکا ہوں تو لڑکیوں پر ہی دھیان جائے گا نا کیا فالتو بات کرتی ہو ایڈمن۔۔

تیسرا۔

ایڈمن بری بات لڑکوں کو غلط غلط مشورے نہ دو کچے زہن خراب کر رہی ہو۔۔ 

آہ۔۔ اس نے سر  ہی پیٹ لیا تھا اپنا۔۔

چوتھا۔۔

مجھے کافی دے دو بہت سر درد کر رہا۔۔

پانچواں۔۔

میں بھی یہی سوچتا آئندہ تم پر بھی دھیان نہیں دونگا بلاگ ان فالو کر رہا۔۔  آگے منہ چڑاتا اسمائیلی۔۔ صارم تھا یہ۔

چھٹا۔۔

یہ بات میرا مزہب اسلام چودہ سو سال پہلے کہہ چکا۔۔ کسی غیر محرم کو دیکھو تو نظر چرا لو مت گھورو دوسری نگاہ نہ ڈالو۔۔ اسی میں بہتری ہے دونوں کیلیئے۔۔

کسی عجیب سے زبان میں لکھا نام والا صارف ۔۔ اس نے پہچان لیا۔۔یہ وہی تھا جو کچھ عرصے سے باقائدگی سے کمنٹ کر رہا تھا اس نے اسکی آئ ڈی کھول لی۔۔ سیول کوریا کا رہائشی۔۔ ہمم اس نے تجسس میں اسکی وال کھولی۔۔ ہنگل میں ہی سب پوسٹ تھیں اسکا اپنا کوئی بلاگ تھا جس میں جانے کیا مواد تھا ہر کوئی کمنٹ کر رہا تھا کوئی دو پونے دو سو کمنٹ تھے ہزاروں لائکس اور شئرز۔۔

پتہ نہیں لوگوں کے اتنے پیروکار کیسے بن جاتے میرے مر مر کر بھی ہزار نہیں ہوئے۔۔ اس نے رشک سے دیکھا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔

وہ اپنا بلاگ اپڈیٹ کر رہا تھا لیپ ٹاپ کھولے جب اسے نوٹیفیکیشن آیا۔۔

اسے ایڈمن نے جواب دیا تھا بلکہ جواب میں سوال کیا تھا

اسلام؟۔۔ آپ مسلمان ہیں؟

اس نے سوچا۔۔ تو یہ ایڈمن بھی متعصب ہے۔۔ مگر اسے اپنی شناخت پر شرمندگی نہیں تھی سو فورا جواب دیا 

ہاں۔۔ 

اسے چند لمحوں میں ہی جواب ملا ۔۔

اسلام و علیکم جان کر خوشی ہوئی۔۔ میں بھی مسلمان ہی ہوں۔۔اور آپکی بات سے متفق بھی۔۔

اس نے اسمائیلی بھیج دیا۔۔ 

جواب میں  اس نے بھی اسمائیلی ہی بنا کر بھیجا۔

وہ دوسری ٹیب بند کر کے دوبارہ بلاگ اپڈیٹ کرنے لگا تھا کہ اسے ایک اور اطلاع موصول۔ہوئی۔۔  اس نے تجسس میں کھولئ تو اسی ایڈمن نے اسکا بلاگ فالو کیا تھا۔۔ اسے جانے کیوں بے حد خوشی ہوئی تھی۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

پلیز میرا فون اٹھا لو میرے لیئے نہیں اپنے لیئے۔ تمہیں ایک ادارے سے جاب کی آفر ہوئی ہے سچی اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔۔

پلیز مجھ سے رابطہ کرو۔۔

اچھا یہ لو۔نمبر خود بات کر لو۔۔ آہجوشی تائے ہانگ سو ہیں یہ۔۔

پانچ میسجز تھے۔۔ اس نے باری باری سب کھول کر پڑھے ضائع کیئے اور کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اختتام 

جاری ہے

Kesi lagi Salam Korea ki qist? Rate us

Rating