اس رنگ میں بھی لطف بہاراں کی طرف دیکھ
آنکھیں ہیں تو زخموں کے گلستان کی طرف دیکھ
مجبوری و بربادی انسان کی طرف دیکھ
سکوں پر مچلتے ہوئے ایمان کی طرف دیکھ
درویشی شاہانہ رنداں کی طرف دیکھ
سینوں میں دہلتے ہوئے ایمان کی طرف دیکھ
افسوں بہاراں کی حقیقت پہ نظر کر
گلزار سے منہ موڑ بیاباں کی طرف دیکھ
ہے مرے سوا تجھ پہ بھی حرف آنے کا ساماں
کونین کے داتا مرے داماں کی طرف دیکھ
تا چند اسیری طلسمات تبسم
اشکوں پہ نظر کر دل سوزاں کی طرف دیکھ
اے ناظر صد گردش جام مئے رنگیں
یک لحظہ کبھی گردش دوراں کی طرف دیکھ
گر جائے گا نظروں سے فروغ مہ انجم
تابانی اشک سر مژگاں کی طرف دیکھ
ہمدردی آفاق مجھے بخشنے والے
اے کاش مری تنگی داماں کی طرف دیکھ
اک ان نہ سن دوری منزل کا فسانہ
منزل پہ نذر رکھ دل جولاں کی طرف دیکھ
سرمایہ نازش ہی سہی ماضی زریں
امروز تو رنگ چنستاں کی طرف دیکھ
از قلم زوار حیدر شمیم
Blog
-
Is rang main bhi lutf e baharaan ki taraf dekh
-
khizaan tau khair khizaan thi
خزاں تو خیر خزاں تھی ، خزاں کو کیا کہئے
مگر جفایے بہار جواں کو کیا کہئے
کلی کلی کا جگر بجلیوں نے پھونک دیا
کرشمہ نگہ باغباں کو کیا کہئے
غبار راہ بھی کافی تھا رہبری کے لئے
ہو عزم خام تو پھر کارواں کو کیا کہئے
روایت ستم غیر خوب ہے لیکن
حقیقت ستم دوستاں کو کیا کہئے
بسا ہو زہر جب افکار ہی کی رگ رگ میں
زباں بھی کیا کرے طرز بیاں کو کیا کہئے
از قلم زوار حیدر شمیم
-
tarap rahi hain haqiqatain jinko hasil kainaat kahiye
تڑپ رہی ہیں حقیقتیں جن کو حاصل کائنات کہئے
مگر تڑپ کو تڑپ نہ کہئے تڑپ کو رقص حبات کہئے
بجا کہ ہے صبح نو کے چہرے پہ شام کی تیرگی سی لیکن
وہ دن بتائیں تو دن سمجھئے وہ رات کہدیں تو رات کہئے
بضد میں اس پر آج سنئے جفائے دور خزاں کا شکوہ
مصر وہ اس بات پر کہ رنگینی گلستان کی بات کہئے
امیر غربت کچل کے رکھدے تو صرف تفریح دل سمجھئے
غریب شکوہ کے تو اسکو بہت بڑی واردات کہئے
کہاں وہ آزادیاں چمن کی کہاں اسیری قفس کی لیکن
اسے بھی احسان جانئے فکر آشیاں سے نجات کہئے
میں شہد حاضر کروں جو کوزہ میں زہر قاتل سمجھئے اسکو
وہ زہر شیشوں میں بھر کے دے دیں تو اسکو آب حیات کہئے
از قلم زوار حیدر شمیم -
sitamgar ba zaum sitam muskurayay
ستمگر بہ زعم ستم مسکرائے
خدا جانے کیوں اہل غم مسکرائے
کوئی تازہ دھوکہ ہے یا قرب منزل
راہ شوق کے پیچ و خم مسکرائے
میسر کہاں سب کو ایسا تبسم
جفاؤں کے جھرمٹ میں ہم مسکرائے
بہ زعم عمل مسکرائی تمنا
تمنا پہ لوح و قلم مسکرائے
ہمیں جانتے ہیں جو گزری ہے دل پر
ترا ساتھ دینے کو ہم مسکرائے
بہت زور مارا اندھیروں نے شب بھر
ستارے مگر دمبدم مسکرائے
از قلم زوار حیدر شمیم -
mera watan hay yeh meray watan ko kuch na kaho
وہ جیسا بھی ہے چمن ہے چمن کو کچھ نہ کہو
مرا وطن ہے یہ ، میرے وطن کو کچھ نہ کہو
نہ دیکھا جائے مرا دکھ تو پھیر لو نظریں
تبسم سمن و نسترن کو کچھ نہ کہو
ہے حکم دار مرے شکوہ جفا کا جواب
وہ کم سخن ہے مرے کم سخن کو کچھ نہ کہو
خدا کو طعنہ دو تخلیق اہرمن پہ ضرور
مگر خدا کیلیے اہرمن کو کچھ نہ کہو
لہو کے گھونٹ پیو خوبی نسب کہو
خزاں نصیب بہار چمن کو کچھ نہ کہو
جو تشنہ ہیں وہ رہیں سیر جو ہیں اور پئیں
یہی چالان ہے یہاں کا چالان کو کچھ نہ کہو
شمیم مرا فسانہ سنو سنو ، نہ سنو
مگر مجھے مرے طرز سخن کو کچھ نہ کہو
از قلم زوار حیدر شمیم -
sair haram o deer bezaar kharay hain
سیر حرم و دیر سے بیزار کھڑے ہیں
میخانے کے در پر کی دیں دار کھڑے ہیں
وہ سلسلہ اہل جنوں کب ہے سوئے وار
دم انکا غنیمت ہے جو دو چار کھڑے ہیں
پھر اہل خرابات میں ہیں زیست کے آثار
پھر تاڑنے والے پس دیوار کھڑے ہیں
رندوں کو تو کافی ہے ترا حسن نذر بھی
کچھ اہل خرد ہوش سے بیزار کھڑے ہیں
یہ طور نہ دن اہل تقدس کا فسوں بھی
ڈوبے جو رسوا سر بازار کھڑے ہیں
یہ شوق کا مدفن ہے یہ منزل تو نہیں ہے
منزل پہ جو آ پہو نچے ہیں بیزار کھڑے ہیں
از قلم زوار حیدر شمیم -
hum hi say yeh gulzaar phoolay phalay hain
ہمیں سے یہ گلزار پھولے پھلے ہیں
ہمیں پر خزاؤں کے پہرے لگے ہیںکوئی رہبری میرے کس کام آتی
مری منزلیں منزلوں سے پرے ہیں
امنگوں پہ آیی بہار اور گئی بھی
مگر زخم دل ہیں کہ ابھی بھی ہرے ہیں
ہمیں کم مذاق عمل کہنے والے
ہمیں راہ میں راہنما مل گیے ہیں
کہاں ہم کہاں تم کہاں وہ زمانے
مگر دل اب بھی بڑے آسرے ہیں
نہیں گل تو کانٹوں سے دامن سجا لو
کہ یہ بھی بہاروں کے پالے ہوئے ہیں
از قلم زوار حیدر شمیم -
ju ho takhreeb anjaam aisi taameer jahan kiun ho
جو ہو تخریب انجام ایسی تعمیر جہاں کیوں ہو
نہ لرزے جس سے خود بجلی وہ مرا آشیاں کیوں ہو
ہم ایک دن خود بہ فیض جذب دل منزل کو جالیں گے
کوئی گم کردہ منزل رهنمایے کارواں کیوں ہو
زمین کی گردشیں بھی جب مٹا سکتی ہیں انسان کو
بتا اے خالق کونین دور آسمان کیوں ہو
ہمیں تم کو بے شک جور کے قابل بنایا ہے
بجا کہتے ہو پھر شکوہ نہ ہو کچھ لب پہ ہاں کیوں ہو
خجل ہوں ان خیالوں سے جو لب پر لا نہیں سکتا
نہ ہو جب ازن گویائی تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
کہو ذوق دل آزاری تمہارا خیر سے تو ہے
شمیم خستہ دل پر آج اتنے مہربان کیوں ہو
از قلم زوار حیدر شمیم
-
junoon ki raah main mushkil tau koi baat nahi
جنوں کی راہ میں مشکل تو کوئی بات نہیں
شمیم سخت ہے منزل ہے تو کوئی بات نہیں
فریب راہبراں سے میں دل گرفتہ ہوں
وگرنہ دوری منزل تو کوئی بات نہیں
ہزار شکر فضائے چمن نکھر تو چلی
ہوا ہے خون مرا دل تو کوئی بات نہیں
یہ دیکھنا ہے کہ طوفان ہے کتنے پانی میں
حصول دامن ساحل تو کوئی بات نہیں
خدا کے بندوں پہ ایمان ہے کس قدر یارو
فقط خدا کے ہو قائل تو کوئی بات نہیں
یہ دیکھ شمع میں کتنے سہاگ جلتے ہیں
نشاط گرمی محفل تو کوئی بات نہیں
سلام سختی راہ وفا کے غماذو
سلامت آرزوّے دل تو کوئی بات نہیں
از قلم زوار حیدر شمیم -
saaf na kahiyay dil ki baat
صاف نہ کہئے دل کی بات
آپ ہمارے ! جھوٹی بات
دکھ دینا نہیں فخر کی بات
کہہ نہ سکے اتنی سی بات
اپنے پرائے سارے خفا ہیں
بھولے سے کہہ دی سچی بات
جھوٹ کہا کہنے والے نے
آپ اور اتنی اوچھی بات
ہم اور آپ کے جور کا چرچہ
یونہی بات سے نکلی بات
جی نہ سکے تو مر ہی رہیں گے
عشق سے توبہ جھوٹی بات
چھپ رہے تو دل جلتا ہے
اور جو کہہ کر کھوئی بات
ہم اور آپ کی دل آزاری
کہہ گئے لب پر آتی بات
ہائے وہ لہجے کی شیرینی
اپنی جیسی پیاری بات
کون خوشی سے دل دیتا ہے
ہوگئی ہونے والی بات
آس کے دیپک رات کے تارے
سوز مسلسل آج کی بات
ہاں تمہیں میرے درد سے نسبت
جاؤ ، سدھارو ، اچھی بات
از قلم زوار حیدر شمیم



