تین بہن بھائیوں کی کہانی ہے جن میں دو چھوٹے بہن بھائی اپنی بڑی بہن کے لیے ایک سرپرائز پلان کرتے ہیں۔ لیکن جب ان کی بہن کا ایک حادثہ ہوتا ہے اور اس کی روح ان سے ملنے آتی ہے، تو کہانی ایک جذباتی موڑ لیتی ہے۔
موت …. ابھی تو مجھے زندگی یوں ہے چھو کے گئی کہ جیسے قضا سے مجھے بچا رہی ہو مگر ہو ڈر اسے یہ بھی موت مجھے نہ مہلت دیگی میں نپٹا سکوں ادھورے کام سب اپنے …. صبح سے کام کر کر کے دوپہر ہونے کو آئ اسکو ہوش نہ تھا نا کھانے کا نہ پینے کا پانچ بج رہے تھے تو عالیہ کا صبر ختم ہو چلا اٹھ کر اسکی میز کے پاس آئ اور ہاتھ میں پکڑی دو تین فائلیں اکٹھی کر کے اسکے سر پر بجا دیں اففف رومیلہ نے تڑپ کر سر سہلاتے گھورا بس کر جاؤ مرے پیٹ کے چوہے کبڈی کھیل رہے ہیں پیٹ میں آج تو ناشتہ بھی نہیں کیا تھا میں نے عالیہ نے مظلوم سی شکل بنا کر دکھڑا رویا تو گھورتے گھورتے بھی رومیلہ کی ہنسی نکل گئی کہا تو تھا مجھے رپورٹ تیار کرنی ہے تم جا کے کھانا کھا لو وہ میز پر بکھری فائلیں سمیٹتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولی ہاں تا کہ آج تو تمارا پکا روزہ ہو جا یے وہ بھی بنا رمضان کے اکیلے رہ گیں تو کھانا گول ہی کر جااوگی وہ عادت سے واقف تھی سو چبا چبا کر طنزیہ انداز میں بولی ہاں چھٹی ہونے لگی ہے اب گھر جا کے ہی کھاؤنگی اس نے جان بوجھ کے سرسری انداز اپنایا گلہ دبا دونگی تمہارا عالیہ نے زور دار چیخ ماری رومیلہ نے بے ساختہ کان پر ہاتھ رکھ لیا اف کتنا چیختی ہو یار مذاق کر رہی تھی چلو اٹھو… عالیہ اسے گھورتی بیگ اٹھانے چل دی دونوں اکٹھے دفتر سے نکلی تھیں پوری لفٹ سے پارکنگ تک عالیہ بجتی آئ تمہیں ٹریٹ دینے کے لئے میں تمہاری منّت کر کے سو نخرے اٹھا کر لائی ہوں یہاں کوئی تک بنتی ہے لوگ ترستے ہیں میری جیب سے پیسے نکلوانے کے لئے ایک یہ میڈم ہیں انکو میں کہ رہی ہوں خدا کے واسطے میری منگنی کی خوشی میں مجھ سے ٹریٹ لے لو رومیلہ مسکرا کر رہ گئی اچھے دوست بھی کیا نعمت ہوتے اسے مسکراتا دیکھ کر وہ اور چڑی ہاں ہاں جب میں نہیں ہونگی نہ تب مری قدر ہوگی قدر ہوگی یا سکوں ہوگا گاڑی سٹارٹ کرتے کرتے اس نے پھر چھیڑ دیا تھا میں چلتی گاڑی سے کود جاؤنگی میرا اور دل نہ جلاؤ رومیلہ زور سے ہنس دی اسکے انداز پر بچوں کی طرح منہ بنا ے بیٹھی تھی عالیہ بھنای پھر یکسر مختلف موڈ میں بولی ویسے زیادہ سے زیادہ پاؤں ہی مڑے گا میرا اس نے گاڑی کی انتہائی کم رفتار پر چوٹ کی رومیلہ کے مسکراتے لب بھینچ گیے میں تیز گاڑی نہیں چلا سکتی تم جانتی ہو عالیہ جب سے امی ابو کو کھویا ہے مجھہ سے تو روڈ پر گاڑی لائی بھی نہیں جاتی تھی کیسے اپنے خوف پر قابو پا کر میں ڈرا یوکرتی ہوں میں جانتی ہوں وہ اداس سی ہو گئی تھی اس بات کو سات سال بیت چکے ہیں وہ بس ایک حادثہ تھا جو بد قسمتی سے تمہاری قسمت میں لکھا تھا …. عالیہ نے کے گیر پر رکھے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا رومیلہ کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں سات سال پہلے کا حادثہ اسکی آنکھوں میں اتر آیا تھا جب وہ سب مل کر اسی طرح دعوت میں جا رہے تھے اور اچانک سے سامنے سے ایک ٹرالر آگیا تھا ابو ڈرائیو کر رہے تھے فوری بریک لگاتے لگاتے بھی زور دار ٹکر ہوئی تھی امی ابو موقع پر ختم ہو گیے تھے وہ اپنے چھوٹے دو بہن بھائی کے ساتھ پیچھے تھی بس وہی ہوش میں رہی تھی وہ جانتی تھی ٹرالر والا موقع سے فرار ہو گیا ہے اس پر پچھلی سیٹ کا پورا شیشہ ٹوٹا پڑا تھا ٹرالر سے ٹکراتے گاڑی گول گھومی تھی اسکی بہن کی جانب کا گاڑی کا پورا حصہ تباہ ہو گیا تھا وہ بیچ میں بیٹھی تھی دو لاشوں دو بیہوش زخمیوں کے ساتھ کس طرح اس نے اپنے حواس قابو کے کیسے بھائی کو ٹٹول ٹٹول کر اسکے زخم کا اندازہ کیا کیسے اسکی جانب سے گاڑی کا دروازہ لات مار کر کھولنے کی کوشش کی بھائی بہن کو باہر نکال کر باپ کے مردہ جسم میں زندگی کی رمق ڈھونڈنے کی کوشش کی اپنی ناکامی پر روتے روتے انکا موبائل نکال کر پولیس کو اطلاع دی خود اسکو بھی چوٹ آئ تھی مگر اسے اپنی کسی تکلیف کا کوئی احساس نہ تھا اسے حوصلہ کرنا تھا اپنے چوتھے بہن بھایوں کے لئے آگیا ریستوران عالیہ کی آواز پر وہ چونک کر حال میں آئ تھی کھانا کھا کر دونوں باہر نکل رہی تھیں جب اسے گھر سے کال آئ رامش اسکا چھوٹا بھائی تھا لائن پر گھبرایا ہوا آپی کہاں ہو اتنی دیر ہوگئی ٹھیک ہو نا؟ ہاں میں تو ٹھیک ہوں تمہیں کیا ہوا؟ وہ اسکی آواز سے بھانپ گئی ک کچھ نہیں آپ آج جلدی گھر آجائیں پلیز آپی … اس نے کہہ کر فون بند کر دیا کیوں کیا ہوا ہیلو ؟ وہ بری طرح گھبرا گئی تھی فورا دوبارہ کال ملائی مگر بیل جا رہی تھی کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا کیا ہوا عالیہ کو بھی فکر ہوئی پتہ نہیں وہ رو دینے کو تھی انیلہ بھی فون نہیں اٹھا رہی وہ بار بار دونوں کو فون ملا رہی تھی عالیہ بھی پریشان ہو گئی تھی ……………… رامش آپی بار بار فون کر رہی ہیں پریشان ہو رہی ہونگی انیلہ نے فون ہاتھ میں پکڑے پکڑے پندرہ مسڈ کالز گن لی تھیں مجبوری ہے … پریشان نہیں ہونگی تو آیئنگی نہیں پتہ تو ہے کبھی چھٹی نہیں کرتیں اپنی جاب سے آفس سے سیدھا اخبار کے دفتر چلے جانا تھا اگر انھیں بھنک بھی پڑ جاتی کہ ہم انکے سالگرہ کا سرپرائز پلان کر رہے ہیں فالتو کے کام مت کیا کرو وغیرہ وغیرہ کہتے ہوئے یاد نہیں پچھلے سال کیا کیا تھا ؟ کتنا ڈانٹا تھا رامش نے یاد دلایا تو وہ سر ہلا کر رہ گئی دونوں لاونج کی میز سجا رہے تھے پورے لاونج میں سجاوٹ کا سامان بکھراتھا مگر وہ تو ابھی بھی بہت ڈانٹیں گی … انیلہ منمنائی انیلہ صحیح کہ رہی ہے بچے بہن کو پریشان نہ کرو بوا بھی ہانپتی کانپتی چلی آین وہ انکے بچپن سے انکے یہاں کام کرتی تھیں ایک طرح سے ان تینوں بچوں کو انہوں نے ہی پالا تھا ہر فرمائش ہر ضد پوری کرتی تھیں ان بچوں سے انکو بہت لگاؤ تھا ابھی بھی کچن میں کباب وغیرہ تل کر ادھر انکا ہاتھ بٹانے آگیں تو ٹوکے بنا نہ رہ سکیں ڈانٹ لیں چاہیں تو مار بھی لیں غبارے پھلاتا رامش غبارے سے بھی بڑا منہ پھلا کر بولا ہم تین ہی تو ہیں بس ایک دوسرے کے لئے میری سالگرہ دھوم دھام سے مناتی ہیں انیلہ کی بھی اپنی دفعہ آرام سے ہمیں ڈانٹ کر منع کر دیتی ہیں ہم بھی تو اب بچے نہیں رہے اٹھارہ سال کا ہو رہا ہوں میں پھر بھی مارنا چاہیں تو مار لیں مگر میں
میں بھی انھیں دوسری لڑکیوں کی طرح خوش دیکھنا چاہتا بلاوجہ کا بڑھاپا طاری کیا ہوا ہے انہوں نے خود پر انکا کیا قصور ہے کہ امی ابو وقت سے پہلے ہمیں چھوڑ گیے اور ان پر ہماری ذمہ داری آگئی ہے وہ بولتے بولتے اداس ہوتا گیا قریب تھا کہ رو پڑتا انیلہ اور بوا اس سے لپٹ گیں اداس نہیں ہونا مل کر مار کھا لیں گے آپی سے کوئی مسلہ ہی نہیں ہے انیلا نے چٹکی بجا کر کہا تو دونوں ہنس دیے ……. عالیہ ٹیکسی لے لیتی ہو تم رومیلہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں عالیہ کو اسکی فکر لگ گئی وہ کوئی بات نہیں تم ڈرائیو کر لوگی مجھے گاڑی چلانی بھی نہیں آتی ایسا کرتے ہیں گاڑی لاک کرو ہم ٹیکسی کر لیتے ہیں پہلے تمہارے گھر چلتے ہیں نہیں یار میں اتنی بھی کمزور نہیں پہلے ہی شام ہو رہی ہے تم جاؤ گھر تمہارے گھر والے بھی پریشان ہو رہے ہونگے اس نے سہولت سے منع کر دیا پھر عالیہ کے نا نا کرنے کے باوجود اسے ٹیکسی روک کر بیٹھا دیا گھر جاتے ہی مجھے فون کرنا مجھے فکر رہے گی جاتے جاتے بھی کھڑکی سے سر نکل کر اس نے تاکید کی اس نے سر ہلایا پھر تیزی سے اپنی گاڑی میں آ بیٹھی آدھے گھنٹے کا راستہ اسے طویل ترین لگ رہا تھا پہلی بار اس نے ایکسلٹر پر پیر کا دباؤ غیر ضروری حد تک بڑھایا گاڑی کی رفتار تیز سے تیز ہو رہی تھی ملحقہ سڑک سے جب اہم شاہ راہ کی جانب مڑی تو پہلا سگنل پندرہ سیکنڈ میں بند ہونے کو تھا اس کے پاس دو راستے تھے یا تو رفتار تیز کر کے پار کر لے یا کم کر کے اگلے دو منٹ انتظار کر لے اس نے پہلا کام کرنے کا فیصلہ کیا یہ سوچے بنا کہ یہ پندرہ سیکنڈ اسکی زندگی کے فیصلہ کن پندرہ سیکنڈ بھی ہو سکتے …….. ……. شام ڈھلنے کو آی دونوں جانے کب یونہی انتظار کرتے کرتے میز سے سر ٹکا کر بےخبر سو گیے بوا شام ہونے کے خیال سے بولتی آ یں ازان کا وقت ہو رہا بچوں بتی جلا لو انکی آواز پر دونوں کسمسایے آپی ابھی تک نہیں آہیں ؟ ………….. اسکے اشارے کے قریب آتے آتے اشارہ بند ہو گیا تھا بریک لگاتے لگاتے بھی اسکی گاڑی کافی آگے نکل آی تھی دوسری جانب کا ٹریفک کھل چکا تھا ایک تیز رفتار گاڑی سیدھا اسی کی جانب آ ی آنے والے نے فوری بریک لگائی مگر پھر بھی ایک زبردست ٹکراو ہونے سے نہ بچ سکا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی رومیلہ کے سینے میں سٹیرنگ کسی بھلے کی طرح اترا تھا اسکی گاڑی روڈ پر پورا گول گھوم کر الٹ گئی تھی کے گاڑیاں اس کے قریب آ کے رکی تھیں اس کے سر پر گھر جانے کی دھن سوار تھی تیزی سے زخموں کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ باہر نکلی اور تقریبا بھاگ سڑک پار کی اسکا رخ تیزی سے اب بھی گھر کی جانب تھا …. چلی گئی ہونگی آفس انیلہ نے اداسی سے کہا رامش بھی اداس سا چیزیں سمیٹنے لگا بوا بتی جلانے سوئچ بورڈ کی طرف بڑھی تھیں کہ رومیلا کی گھبرائی ہوئے آواز سنائی دی رامش انیلا دونوں ایک دم خوش ہو گیے انیلہ خوشی سے چلآئ آپی آگیں آہستہ شہ شہہ رامش نے ٹوکا ابھی گیٹ پر ہیں بوا لائٹ مت جلائیے گا اس نے تاکید کی گیٹ سے اندر لاؤنج کے دروازے تک ایک منٹ لگنتا اسے اتنے کم وقت میں ہی موم بتی جلانی تھی اس نے جلدی سے موم بتی جلائی اورانیلہ نے کیک اٹھا لیا رامش کے ہاتھ میں چمکیلی پنیوں سے بھرا چھوٹا سا پٹاخہ تھا جو اس نے رومیلہ کی آمد پر بجانا تھا بوا پیار سے انکے جوش و خروش کو دیکھ رہی تھیں انیلہ بھاگتے بھاگتے اسکی سانس پھول رہی تھی تیزی سے اس نے لاونج کا دروازہ کھولا سرپرائز انیلا اور رامش اکٹھے چلایے پھر کورس میں گانے لگے ہیپی برتھڈے ٹو یو ہپی برتھڈے دیر آپی ہپے برتھڈے ٹو یو ایک پٹاخہ پھوٹا تھا اور اس کے اپر رنگ برنگی پنیوں کی بارش ہونے لگی رومیلہ کی جان میں جان آی کیا کیا برا نہ سوچ ڈالا تھا اس نے دونوں اس سے آ کے لپٹ جانا چاہتے تھے مگر رومیلہ کو خفگی بھی جتانی تھی ہاتھ بڑھا کر روک دیا کیا حرکت تھی یہ ؟ پتا ہے کتنا پریشان ہو گئی تھی میں جان نکال دی تم لوگوں نے میری دونوں کے منہ لٹک گیے سوری آپی دونوں نے سر جھکا لیا رومیلہ بیساختہ مسکرا دی چلو کیک رکھو نیچے اس نے صاف مسکراہٹ چھپا کر ڈپٹ کر کہا انیلہ نے سر جھکا کر سینٹرل ٹیبل پر رکھ دیا اور وہیں دو زانو بیٹھ گئی رامش نے بھی تقلید کی بوا نے بچوں کے منہ اترتے دیکھیے تو اشارے سے رومیلہ کو گھرکا رومیلہ ان کے سامنے آ بیٹھی کیک کاٹنے سے پہلے میں اس سال تم لوگوں سے ایک وعدہ لینا چاہتی ہوں خلاف توقع وہ نرمی سے بولی تھی دونوں سر اٹھا کر دیکھنے لگے اسے کیسا وعدہ؟ انیلا نے حیرانی سے پوچھا تھا رومیلہ مسکرائی ایک تو تم دونوں اپنی تعلیم پر توجہ دوگے مجھے رامش تم سے اس بار اے گریڈ چاہیے کوئی لا پروائی نہیں چلے گی اب سے سمجھے میں نے مما بابا کے سرٹیفکیٹس وغیرہ استمعال نہیں کیے تھے وہ اور مرے بینک میں پچھلے تین سالوں کی کچھ بچت پڑی ہے بہت زیادہ تو نہیں مگر اتنی ہے کہ تم دونوں کوئی اچھی ڈگری لے سکتے ہو تھوڑے سے اخراجات کنٹرل کرنا پڑیں گے مگر اب کہیں تو کمپرومائز کرنا پڑیگا نا اس نے ان سے تائید چاہی دونوں نے سر ہلا دیا اب تم دونوں چھوٹے نہیں رہے ہو لڑنا بند کردینا خاص طور سے رامش میرے بعد اب تم گھر کے بڑے ہو انیلہ کا خیال رکھنا اور اب تم چھوٹے سے نہیں رہے کوئی جاب ڈھونڈ لینا مگر پڑھائی چھوڑی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اسکی دھمکی پر رامش منہ بنا کر بولا آپ کے ہوتے ایسا سوچ کر مجھے مرنا ہے کیا الله نہ کرے بے ساختہ رومیلہ نے کہا ویسے میں اپنے بعد کی ہی بات کر رہی آپ کہاں جا رہی ہیں ؟ انیلہ حیران رہ گئی رومیلہ لمحہ بھر کو چپ رہ گئی پھر ہلکے پھلکے انداز میں بات بدل گئی اچھا رامش اور انیلہ ایک بات اور بس آپی دونوں چڑ کر اکٹھے بول پڑے بوا بھی بولے بنا نہ رہ سکیں ہاں رومیلہ بس بھی کرو سالگرہ ماننا چاہ رہے تھے بچے دوپہر سے کچھ بھی کھایا پیا نہیں تم نے آتے ہی بچوں کو جھاڑنا شروع کر دیا بوا نے کہا تو دونوں نے مسمسی سی شکل بنا لی انکی چالاکی پر رومیلہ زور سے ہنس پڑی چلو کیک کاٹو بوا نے کہا تو رامش کیمرے سنبھال کر بیٹھ گیا لائٹ تو جلا لو انیلہ نے کہا تو رامش لائٹ جلانے اٹھ گیا آپی موم بتی نہ بجھانا ابھی اس نے تاکید کی رومیلا مسکرا دی انیلہ ٹیبل پر جھک کر چیزیں سیٹ کرنے لگی بوا کا دھیان بھی کیک کی جانب تھا رامش بتی جلا کر مڑا تو ٹھٹھک گیا آپی کہاں گیں؟ انیلہ اور بوا بھی چونک کر مڑ کر دیکھنے لگیں نجانے اتنی سی دیر میں رومیلا کہاں اٹھ کر چلی گئی تھی آپی رامش نے پکارا آپی لاونج کا دروازہ کھول کر باہر جھانکا تبھی میں گیٹ کی بیل بجی اس وقت کون آگیا وہ جھلاتا ہوا گیٹ کھولنے آیا تو ٹھٹھک گیا گیٹ اندر سے بند تھا اس نے الجھتے ہوئے گیٹ کھولا تو سامنے پولیس کی گاڑی کھڑی تھی دو پولیس والے انکے گیٹ کے سامنے تھے جی؟وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھنے لگا یہ رومیلہ آفندی کا گھر ہے؟ اس نے اثبات میں سر ہلایا آپ انکے رشتے دار ہیں؟ وہ کوئی شناختی کارڈ ہاتھ میں پکڑے تھے جی بھائی ہوں انکا …ا خیریت ؟ اسے تشویش ہوئی ایک بری خبر ہے آپ کے لئے آج دوپہر کو آپکی بہن کی گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی ہے انھین فوری طور پر اسپتال پھنچایا تو گیا مگر وہ بد قسمتی سے جان بر نہ ہو سکیں انکی گاڑی کی تلاشی لے کر ہم نے آپ سے جتنی جلدی ممکن ہو سکا ہے رابطہ کیا ہے باڈی کی شناخت اور دوسری ضروری کاروائی کے لئے آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا انسپکٹر کے کہنے پر رامش کو یقین نہ آیا ایسا کیسے ہو سکتا ابھی تو وہ یہاں تھیں انیلہ اور بوا جو اسکے پیچھے چلتی گیٹ تک آگئی تھیں اسکی بات کی تائید کرنے لگیں ہاں ہاں ہماری بیٹی تو اندر ہے آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے دونوں کو یقین نہ آیا رامش کو مگر یقین کرنا پڑا جب اس نے مڑ کر دیکھا تھا تو رومیلہ لاونج کے دروازے پر کھڑی انکو آنکھوں میں آنسو بھرے دیکھ رہی تھی ….
مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے stress dysphoria میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔
اچھا نا سوری مجھے غصہ آگیا تھا جبھی ایسے بول دیا۔ معاف کردو
وہ بنچ پر بیٹھی تھی مزنہ کو دیکھتے ہی منہ پھیر لیا مگر مزنہ پاس آکر اسکے پاس اکڑوں بیٹھ کر گھٹنے پکڑ کر معافی مانگنے لگی۔
مزنہ عادل صرف میرا منگیتر ہی نہیں سگا تایا ذاد بھی ہے۔ میں اسکے ساتھ اپنا عروسی جوڑا ہی پسند کرنے گئ تھی کل۔ اور تم نے کیسے کہہ دیا منہ پھاڑ کر گلچھرے۔۔
اسکو واقعی دکھ پہنچا تھا اس وقت بھی آواز بھرا سی گئ۔
معاف کردو پلیز۔ ماہا تمہیں پتہ ہے نا میرا ایسا ہی گدھا سا ہوں میں۔ اوپر سے ہر وقت عادل عادل کرتی رہتی ہو میں تو جیلس ہوگیا ہوں اس سے ایسا لگنے لگا ہے تم اس سے مجھ سے بھی ذیادہ پیار کرنے لگی ہو۔
جزباتی سے انداز میں کہتی مزنہ اسے بہت الگ بہت مختلف سی لگی تھئ۔بچوں کی طرح شکوہ کرتی ماہا نے اسکےسر پر چپت لگا دی
احمق ۔میری واحد دوست ہو تم تمہاری جگہ وہ اسٹوپڈ عادل کبھی نہیں لے سکتا۔
وہ لے رہا ہے میری جگہ۔ آہستہ آہستہ
وہ خفا سئ ہو کر اٹھ کر اسکے برابر بنچ پر آن بیٹھی۔
اے۔ ماہا نے اسکی تھوڑی پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا تو اسکی آنکھوں میں تیرتا پانی اسے بھی اداس کر گیا
مزنہ نے اپنی شکوہ کناں نگاہیں اسکے صبیح چہرے پر ٹکادیں
کم آن شادی کر رہی ہوں کوئی جیل تھوڑی جا رہی ہوں۔ہم تب بھی روز ملا کریں گے ایسے ہی فون کھڑکا کر بلا لیا کروں گی۔ کوئی دیور ہوتا نا میرا تو پکا تم کو ہمیشہ کے لیئے اپنے ساتھ اپنے گھر ہی رکھ لیتئ میں۔ ماہا اپنے مزاق پر خود ہی ہنسی
تم ۔ مزنہ نے لمحہ بھر سوچا پھر سامنے گرائونڈ میں کھیلتے لڑکوں پر نگاہ جما دی
تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتیں ماہا ؟ چھوڑو یہ شادی وادی کی ضرورت ہے اس ٹنٹنے کی۔
ماہا ہنس دی۔
اور عادل کا کیا ہوگا؟
اور میرا کیا ہوگا ماہا۔میں تم سے عادل سے ذیادہ محبت کرتا ہوں۔
اس نے جی کڑا کرکے کہہ ڈالا۔ماہا نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔
پاگل تم تم ہو وہ وہ ہے۔ تم میری جان ہو مزنہ۔ اچھا فالتو میں مجھے جزباتئ نہ کرو قسم سے رخصتی تک کے آنسو یہیں بہا دینے ہیں میں نے۔ اپنی بھیگتی پلکیں صاف کرتی وہ مصنوعی خفگئ سے بولی تھئ
آج یونیورسٹی سے واپسی پر وہ سیدھا گھر جانے کی بجائے سیلون میں گھس گئ تھئ۔ اپنا نیا ہیئر اسٹائل بدلوا کر وہ گھر آئی تھی۔ بائک پورچ میں کھڑی کرکے اس نے لائونج کا دروازہ کھولنے کو ہاتھ بڑھایا تو ادھ کھلے دروازے سے اپنا نام سنائی دیا تو فطرئ تجسس سے رک کر بات سننے لگی۔
سچ میں مجھے تو جب ڈاکٹر نے کہا کہ پتہ کریں کسی کو پسند تو نہیں کرتی جسکا اتنا صدمہ لیا ہے تو میں خود بھی پریشان ہو گئ تھی اس طرف تو ہمارا دھیان بھئ نہیں گیا تھا کہ اس دن آنٹی سے اتنی بد تمیزی کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ وہاں نہیں کہیں اور شادی کرنا چاہتی ہے
امی کسی کو بتا رہی تھیں
نہیں امی ایسا ویسا کچھ نہیں۔ ۔ مزنہ کی ایک ہی تو دوست ہے بچپن سے کتنا تو لگائو ہے اسے ماہا سے بس اسکی دوری کا خیال اسے دکھی کر گیا ہے۔ بچپناہے بس اسکا۔ ماہا کی شادی ہو جائے گی خود ہی عقل آجائے گی اسے۔
حفصہ نے ہنس کر تسلی دی ۔
امی مزنہ ماہا آپی سے محب۔۔ کنزی کی زبان لڑکھڑائی
محبت کرتی ہے۔اس دن جب بخار میں میں مزنہ کے ساتھ سوئی تھی تو وہ بار بار ماہا کا نام لے رہی تھی اور کہہ رہی تھی۔
کنزی جانے کیا بتانے لگی تھی اس نے جھٹکے پورا دروازہ کھولا اور اندر آگئ
آگئیں تم ہم تمہارا۔۔۔
اسے دیکھتے ہوئئ حفصہ خوشگوار انداز میں کہنے لگی تھی کہ اسے دیکھ کر حیرت کے مارے چپ ہی ہوگئ۔امی اور کنزی بھی حیرانگی سے اسے دیکھنے لگیں
کیسا لگ رہا ہوں یہ ہیئر اسٹائل سوٹ کر رہا ہے مجھے۔
اپنے تازہ کٹنگ ہوئے بالوں پرہاتھ پھیر کر وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔
جدید مردانہ ہیئر اسٹائل بنوا کر اس نے درمیان میں خوب گھنا پف رکھوا کر دونوں جانب کنپٹیوں سے مشین پھروا لی تھی۔ یہ مردانہ کٹنگ اس پر جچ رہی تھی کیونکہ وہ اس وقت لڑکا ہی لگ رہی تھی بلیک اپر بلیک جینز میں دبلا سراپا مردانہ چال ڈھال اگر کوئی اسے پہلی بار دیکھتا تو لڑکا ہی سمجھتا۔۔۔۔۔
یہ یہ کیا کیا تم نے؟ امی نے سکتے سے باہر آتے ہی اسے آڑے ہاتھوں لیا
تمہیں امی نے اپنی قسم دی تھی کہ تم بال نہیں کٹوائوگی
کنزی نے یاد کرایا
ہاں مگر قسم وسم پر میرا کوئی یقین نہیں۔امی قسم واپس لے لیں اپنی۔
وہ آرام سے کہتی اپنے کمرے کی جانب مڑی
ایک منٹ تم کب سے اتنی خود مختار اور خود سر ہوگئ ہو؟ میرے کہے کی کوئی اہمیت نہیں ہے تمہاری نظر میں کیوں بال۔کٹوائے ہیں تم نے؟ بولو
امی غضب سے کانپ اٹھیں
اسکا سادا سا جواب ہے میری مرضی۔
اس نے بدتمیزئ سے جواب دے کر کندھے اچکائے
مزنہ تمہاری بدتمیزیاں خود سری ہم نے برداشت کیں کیونکہ تم بیمار تھیں مگر تم ناجائز فائدہ مت اٹھائو ہماری نرمی کا۔بہت ہوگیا اپنی حد میں آجائو واپس
حفصہ غرائی۔
بیمار تھا۔ آپ لوگوں کو کتنی بار سمجھائوں میں لڑکی نہیں ہوں مجھے لڑکی سمجھنا چھوڑ دیں۔عجیب بے وقوفی ہے کہ۔۔
وہ بول رہی تھی مگر حفصہ کا تھپڑ اسے خاموش کراگیا۔
کیا بکواس کر رہی ہو بولو؟ لڑکی نہیں ہو تو کیا ہو تم؟ لڑکا تو پیدا نہیں ہوئیں تھیں تم ؟ آئندہ میرے سامنے ایسی بکواس کی تو زبان کھینچ لوں گئ میں سمجھیں تم
حفصہ طیش کے عالم انگلی اٹھا کر اسے دھمکی دے رہی تھی۔امی حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھ رہی تھیں اور کنزی اسکی نظریں
اس نے گہری سانس لیکرخود کو پرسکون کیا
اسکے اطمینان نے حفصہ کو ٹھٹکا سا دیا
اگر آپکو ایسا سمجھ کے اطمینان ملتا تو ٹھیک ہےآپ مجھے لڑکی سمجھ لیں مگر مجھے اپنے آپکو لڑکا سمجھ کر سکون ملتا ہے ۔۔۔ اس نے لحظہ بھر کا توقف لیا اور ان سب پر طائرانہ نگاہ ڈال کر استہزائیہ انداز میں بولی
مجھے میرا سکون آپکے سکون سے ذیادہ عزیز ہے مجھے۔
وہ کہہ کر رکی نہیں اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر دھاڑ سے بند کرتے ہوئے ان سب کو بھی جیسے بھاڑ میں جھونک دیا تھا۔وہ تینوں ششدر سی کھڑی دیکھتی رہ گئیں۔
صبح امی شائد ناراضگی کے اظہارکے طور پر نہ اٹھیں اور کنزی نے بھی چھٹی کرلی۔ وہ خود ہی تیارہو کر نیا ٹرائوزر شرٹ پہن کر تیار ہو کر گھر لاک کرتی یونیورسٹی کیلئے نکل گئ۔
وہ اور عادل ڈیپارٹمنٹ کی بیک پر مخصوص سیڑھیوں پر بیٹھے تھے۔آج موسم بہت خوبصورت ہو رہا تھا بادل آ جا رہے تھے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی
لگتا ہے آس پاس کہیں بارش ہوئی ہے۔
عادل نے موسم کی ٹھنڈک گہری سانس لیکر خود میں سموتے ہوئے خیال ظاہر کیا۔
یہاں بھی ہوگی دیکھنا گھٹا برسنے والی لگتی ہے۔ماہا کو یقین تھا
ایسے موسم میں تو پکوڑے بنتے ہیں۔عادل نے کہا تو وہ ناک چڑھا کر بولی
نہیں بھئ۔کوئی چکنی تلی ہوئی چیز نہیں کھانے والی میں ۔ فورا دانہ نکل آتا ہے اب شادی تک اسکن خراب ہونا میں افورڈ نہیں کر سکتی۔
کچھ نہیں ہوتا دو مہینے پڑے ہیں آج نکل بھی آیا تو تب تک ٹھیک۔ہو جائے گا
عادل کا شائد زوروں سے دل کیا تھا پکوڑے کھانے کا سو ہاتھ جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔
میرے لیئے مت لانا اپنے لیئے لے آئو۔
ماہا نے حفظ ماتقدم کے طور پر کہا مگر عادل جانتا تھا اسکی سب فکر وکر پکوڑے سامنے آنے سے پہلے تک کی ہے پکوڑے دیکھ کر سب بھول جانا ہے اس نے سو کان پر سے مکھی اڑاتا پکوڑے لینے چل دیا۔
آج سر سلمان نہیں آئے تھے سو پہلا پیریڈ فری تھا وہ یونہی پیر جھلاتے ادھر ادھر نگاہ دوڑا رہی تھی جب کسی پیچھے سے آکر اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
مزنہ۔ وہ فورا پہچان گئ
کیسے پہچانا۔مزنہ نے ہاتھ پیچھے کر لیئے ماہا نے گردن گھماکر اسے دیکھنے کی بجائے بے نیازی سے کندھے اچکائے
تمہارے علاوہ بس عادل ہی یہ حرکت کرسکتا ہے وہ میرے سامنے کینٹین کی طرف گیا ہے۔
اسکی وضاحت نے تھوڑا سا مزنہ کو مایوس کیا۔
پھر سنبھل کر سیڑھیاں اتر کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
ماہا نے مسکرا کر اسکی جانب رخ کیا تو حیران سی رہ گئ۔ مسکراہٹ مدھم ہوئی پھر غائب ہی ہوگئ۔
کیسا لگ رہا ہوں میں۔
اس نے قصدا پف میں ہاتھ پھیر کر ایک انداز سے اسکی جانب دیکھا۔ گرے فیڈڈ جینز جاگرز میں گرے اور وائٹ اپر میں ملبوس بوائے کٹ بال دراز قد وہ خوبصورت نہیں وجیہہ لگ رہی تھی
یہ کیا کیا تم نے؟ اتنے لمبے اتنی مشکل سے ہوئے تھے تمہارےبال سب کٹوا دیئے
وہ بری طرح بھونچکا رہ گئ تھی۔ اٹھ کر اسکے قریب آکر یقین کیا تو اسے سچ مچ دکھ ہوا
کیا ہوا اچھا نہیں لگ رہا ؟ عادل سے ذیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں نا میں۔
اس نے مان سے پوچھا جوابا وہ سختی سے نفی میں سر ہلا گئ
ایکدم ذہر لگ رہی ہو تم ۔ اف تم میری واحد سہیلی ہو شادی تک تو تمہارے بال انچ انچ بھئ بمشکل آئیں گے اور تم کیا لگو گی شادی میں بھلا اف۔ میں نے تو کیا کیا پلان کیا تھا تم اکلوتئ سالی بنتی عادل کی اور
ماہا دکھ سے کہے جا رہی تھی کہ مزنہ نے بےزاری سے ٹوک دیا
فارگاڈ سیک۔ بند کرو یہ عادل نامہ۔ تم نے کہا تھا نا اگر میں لڑکا ہوتی تو کبھی عادل ہمارے بیچ میں نہ آتا تم مجھ سے شادی کرتیں۔ لو اب دیکھو مجھے میں۔۔۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو۔ ماہا اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔
بکواس نہیں سچ ہے یہ۔ ۔ وہ جیسے تھک کر بولی
آئی لو یو ماہا۔بہت پیار کرتا ہوں میں تم سے۔ تمہارے بنا نہیں رہ سکتا اور میں یہ بھی جانتا ہوں تم بھی پیار کرتی ہو مجھ سے کل کہہ ۔۔۔ وہ جانے کیا کہے جا رہی تھی ماہانے زور دار تھپڑ اسکے منہ پر دے مارا
پاگل ہوگئ ہو تم ہوش کھو بیٹھئ ہو کیا۔۔کیسی باتیں کر رہی ہو تم ۔
وہ غصے کے مارےپاگل ہونے کو تھی
ماہا پاگل نہیں ہوں میں۔بہت سوچا ہے میں نے میں بچپن سے تمہارے سوا کسی کو اپنا نہیں مانا ہے۔ میں تم سے
وہ گڑگڑا رہی تھی
باس۔ایک۔لفظ اور نہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم اتنا گر جائو گی۔ میں تو بہن۔
بولتے بولتے اسکی نگاہ مزنہ کے پیچھے پکوڑے کی پلیٹ تھامے ششدر کھڑے عادل پرپڑی توچہرہ چھپاتی ڈیپارٹمنٹ کی جانب بھاگ گئ
رکو ماہا۔ مزنہ نے پکارنا چاہا مگر وہ رکی نہیں کسی احساس کے تحت مڑ کر دیکھا تو عادل کوخود کو گھورتا پایا۔ اسکی نگاہیں۔ اسکی نگاہوں میں اتنے تاثرات تھے کہ وہ ٹک کر گھور بھی نہ سکی
ماہا اسی دن سے میں ڈرتا تھا اور سمجھاتا تھا تمہیں۔
وہ ماہا کو لیکر پارک میں آیا تھا۔وہ بنچ پر بیٹھی زار و قطار روئےچلی جا رہی تھی۔
وہ مزاق کر رہی ہوگی۔ میں چلی آئی یقینا وہ مجھے بتاتی کہ اس نے میرے ساتھ پرینک کیا ہے میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔۔ وہ میری بچپن کی دوست ہے
وہ احساس جرم کا شکار ہو رہی تھی اسکی بات پر عادل سر پیٹ کر رہ گیا
وہ خود کو تمہارا بچپن کا دوست سمجھتئ ہے سہیلی نہیں۔ ماہا۔تمہیں ابھئ بھئ سمجھ نہیں آیا اسکا مسلئہ؟ وہ لڑکی نفسیاتی ہے۔ خود کو لڑکی نہیں سمجھتی۔بارہا یہ بات میں نے تم کو سمجھانئ چاہی ہے وہ مجھ سے مقابلہ بازی کرتی ہے۔اسکا اٹھنا بیٹھنا تمہیں دیکھنا تمہارے گلے لگنا سب۔۔ ۔۔تمہیں احساس ہی نہیں ہوتا تھا مگر وہ
بس۔ماہا نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیئے۔
بس کرو ایسا کچھ نہیں ہے ایسا کچھ نہیں ہوسکتا۔ سب جھوٹ ہے۔
وہ اور بلک بلک کر رونے لگی تو عادل کا دل پسیج گیا
اچھا روئو نہیں۔ جو ہوگیا سو ہوگیا اب اس سے کنارہ کش ہو جائو اسی میں بہتری ہے تمہاری بھی اسکی بھی۔
کتنا ہی وقت وہ اسی پارک میں کھڑی ان دونوں کو دیکھتئ رہی تھئ۔عادل نے کتنے استحقاق سے اسکا ہاتھ تھاما اسے چپ کرایا جب بوندا باندی شروع ہونے لگی تو وہ دونوں اٹھ کر وہاں سے چلے گئے ساتھ شائد اسکے وجود کا ایک حصہ بھی لے گئے۔بے حس و حرکت کھڑے اسے جانے کتنی دیر گزری کہ چھما چھم بارش اس پر برستی چلی گئ۔
سنو اوئے پاگل ہے کیا کیوں بھیگ رہا ہے؟
پارک کے سیکیورٹی گارڈ نے اپنے کیبن سے باہر جھانکا تو ملگجے ہوتے اندھیرے میں کھڑے اس لڑکے پر نظر پڑی تو آواز لگائے بنا نہ رہ سکا۔
اس لڑکے نے ذرا سا چونک کر اسکی جانب دیکھا تھا۔ گارڈ سٹپٹا سا گیا۔ وہ بھیگتا وجود اسے مخمصے میں مبتلا کر گیا تھا۔
وہ لٹے پٹے مسافر کی طرح ڈولتے قدموں سے پارک سے باہر آئی تھی۔ برستی بارش میں بائک کئی بار ڈولی تھی۔ ہر بار اسے اپنی پشت پر اپنے دائیں جانب سے اپنے بائیں جانب سے آواز سنائی دی تھی۔
الفاظ تھے کہ تیر تھے جو اسکی سماعتوں میں گھستے تھے روح تک چھلنی کرتے جاتے تھے۔
گھر کے احاطے میں گیراج میں امی تسبیح لیئے اسکی سلامتی کی دعا مانگتی ٹہل رہی تھیں۔اسے دیکھ کر تڑپ کر پاس آئیں۔
اف ابھی تو بخار سے اٹھی ہو اتنا بھیگ گئیں چلو اندر فورا کپڑے بدلو۔ میں سوپ بنواتئ ہوں۔
جامد تاثرات میکانکی انداز میں وہ انکے سہارے کےساتھ کسی زندہ لاش کی طرح چلتی آئی تھی۔
اسکے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے انہوں نے پکار کر کنزی کو چائے بنانے کو کہا تھا۔
وہ بھیگے وجود کے ساتھ بیڈ پر آن بیٹھئ۔ اسکے لیئے نئے کپڑے الماری سے نکالتے ہوئے امی نے اسے بیڈ پر بیٹھنے سے روکا تھا ٹوکا تھا
کنزی کمرے میں چلی آئی۔تھی
اف یہ اتنا کیسے بھیگ گئ کہیں رک کر بارش کا انتظار کرلیا ہوتا مزنہ۔
تم پاگل ہو گئ ہو۔
حفصہ نے اسکے منہ پر تھپڑ مارا تھا۔
کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھئ ہو مزنہ
کنزی بے قراری سےپکار رہی تھی
تم پاگل ہو گئی ہو کیا ۔۔
امی اسکے منہ پر تھپڑ مار رہی تھیں۔
کیا ہوا مزنہ۔امی اسکا کندھاہلارہی تھیں
اس نے اپنی سپید ہوتی ہتھیلیاں نگاہوں کے سامنے پھیلائیں
نازک نرم پتلی پتلی انگلیاں۔اس کو تھامتی ایک نرم سی گلابی ہتھیلی۔۔
عادل کے مضبوط ہاتھوں میں سماتی وہ نازک سی ہتھیلی
تم پاگل ہوگئ ہو کیا۔
وہی نازک ہاتھ اسکے گال پر آجما تھا۔غصے افسوس سے گھورتی ماہا۔
میں پاگل ہو گئی ہوں۔
اس نے بے چینی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے۔ اس پر ایک جنون اور وحشت سی طاری ہوئی تھئ
کیا ہوا مزنہ۔
امی اور کنزی کے اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں اا نے دیوانگی کے عالم میں انکے ہاتھ خود پر سے نوچ نوچ کر ہٹائے تھے
یہ میں نہیں ہوں۔ نہیں ہوں میں یہ۔
حلق کے بل چلاتئ وہ خود کو بری طرح نوچ کھسوٹ رہی تھی۔اپنے چہرےپر اس نے خراشیں ڈال لی تھیں۔ دیوانہ وار خود کوطمانچے لگائےتھے حلق کے بل چلاتے غراتے وہ بس ایک ہی بات بار بار دہرا رہی تھی
مزنہ کو شدید نروس بریک ڈائون ہوا تھا۔وجہ کیا تھی۔عامر اور خالہ کے سامنے بہانے بنا بنا کر وہ پاگل ہو چلی تھی۔ کنزی کا رو رو کے برا حال تھا تو امی مصلے سے اٹھتی ہی نہ تھیں جانے کون کون سے وظیفے شروع کر دیئے تھے۔
مزنہ کو تین چار دن بعد ہوش آیا تھا۔اسکے بعد ایک۔جامد چپ اسکے وجود پر آن ٹھہری تھی۔۔ ایک ہفتے کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں اسے گھر لے جانے کی اجازت دی تھی۔۔
گھر آکر بھی وہ خاموش چپ چاپ تھی۔ کسی معمول کی طرح کھانا کھانے کو کہو تو کھا لیتی نہ کہو تو باتھ روم تک جانے نہ اٹھتی۔
ہمیں کچھ نہیں پتہ۔ اس دن بارش میں بری طرح بھیگ گئ تھی گھر آکر ایسے ہی خاموش تھی پھر اچانک جیسےاس پر کوئی جنون سوار ہوا اس نے مجھے امی کو دھکے دیئے پھر خود کو مارنے لگی۔
اسکے ہر طرح سے کریدنے پر کنزی بس اتنا ہی بتا پائی بتاتےبتاتےبھی رو پڑی۔ اسے بمشکل چپ کرا کر وہ امی کے پاس چلی آئی۔ کئی نفل پڑھنے کے بعد وہ پھر نیت باندھنے کی تیاری میں تھیں تو اس نے روک دیا
امی ڈاکٹر کہتے ہیں ذہنی دبائو ہے اس پر۔ اگر کوئی مسلئہ ہے تو دوا دے رہے ہیں خیال رکھ رہے ہیں کچھ تو بہتری آئے اس میں اتنی چپ رہتی ہے کہ ہول آتا ہے دیکھ کر اسے۔۔۔
حفصہ کہہ تو رہی تھی مگر کیا وہ خود نہیں دیکھ رہی تھیں مزنہ کو۔انکی آنکھیں برس اٹھیں جانے کیا ہوگیا انکی اچھی بھلی بیٹی کو ۔حفصہ نے ماں کے کندھے پر تسلی بھرا ہاتھ رکھا۔۔
امی کنزی بتاتی ہے گم صم سی ہوگئ تھی بارش سے آکر۔ امی ہوائی مخلوق کے وجود سے انکار نہیں پھر رات گئے بارش میں کیا پتہ کہاں سے گزر آئی ہو کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی مخلوق اس پر۔۔۔۔
امی نے چونک کر اسکی شکل دیکھی تو وہ سٹپٹا کر چپ سی ہوگئ
امی سعدیہ کے رشتے کیلئے خالہ تعویز لائی تھیں کسی بزرگ سے۔ ہم بھی مسلئہ بتا کر اگر تعویز لے آئیں۔دیکھیں اگر کوئی ایسا ویسا مسلئہ نہ بھی ہوا تو دعا میں تو بہت اثر ہوتا ہے کیا پتہ یوں شفا لکھی ہو مزنہ کے نصیب میں
ٹھئک ہے ئہ بھی کر دیکھتے ہیں۔امی آہ بھر کر بولیں۔
حفصہ نے انکو سینے سے لگا لیا
دیکھئے گا بالکل ٹھیک ہو جائے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنزی مزنہ کیلئے کھانا لیکر آئی تھی۔ مزنہ زمین پر بیڈ سے ٹیک لگائے سر بیڈ پر رکھے بیٹھی تھی۔اتنی ساکت کہ لمحہ بھر کو مجسمے کا گمان ہو
مزنہ کھانا کھالو۔ کنزی نے ٹرے اسکے قریب لا کر رکھی تو اس نے سر اٹھا کر آنکھیں سکوڑ کر اسے جیسے پہچاننے کی کوشش کی۔ چند ہی دنوں میں وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کے رہ گئ تھی۔رخسار کی نمایاں ہوتی ہڈیاں پیلی رنگت آنکھوں میں ویرانی۔ اور وحشت۔وہ مزنہ کا کوئی بھیانک سایہ لگتی تھئ۔
مزنہ۔ کھانا کھالو۔ کنزی کی آنکھیں بھر آئیں۔ کیسی اسکی زندگی سے بھرپور بہن۔
ماہا۔۔تم ماہا ہو نا۔ اس نے اسکا کندھا ہلایا۔
میں کنزی ہوں مزنہ۔۔
کنزی نے دھڑ دھڑ کرتے دل سے اسے دیکھتے ہوئے بتایا
ماہا ۔۔ ماہا کو بلائو۔ماہا آئے گی تو میں کھائوں گا۔یہ
گمبھیر بھاری آواز۔ کنزی ڈر سئ گئ۔ یہ مزنہ کی آواز تو نہ تھی۔۔
ماہا۔چاہیئے مجھے۔ماہاکو بلائو ورنہ ۔۔ اس نے وحشت ذدہ سے انداز میں ٹرے اٹھا لی۔
میں یہ کھانا تم پر الٹ دوں گا ۔اس نے کنزی کی جانب رخ کیا تو ڈر کر ایکدم بھاگ کھڑئ ہوئی
امی۔۔آپی۔
اسکی بےتابانہ چیخوں پر دونوں بھاگی آئیں وہ آپی سے لگ کر رو دی۔۔
بلائو ماہاکو۔ ورنہ تم سب کو کھا جائوں گا میں۔
ٹرےتھامے وہ انکے سامنے آکھڑی ہوئی۔ اسکی نگاہوں میں دیکھتے حفصہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹیں دوڑتی محسوس ہوئی تھیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر اپنے سل کر آئے جوڑے پھیلائےتنقیدی نگاہوں سے جائزہ لے رہی تھی۔ امی اسکے ساتھ ہی کپڑے تہہ کروا رہی تھیں۔
شادی میں چند دن ہی رہ گئے لے دے کے ایک ہی سہیلا ہے تمہارا۔
امی نے ہنس کر کہاتھا وہ ہونٹ بھینچ گئ
وہ بھی نہیں آئی ابھی تک۔ کب آئے گی مزنہ۔ کتنے کام نمٹا دیتی تھی وہ تمہارے اب تمہارے فیورٹ پارلر کی بکنگ کروانے بھی تمہیں خود جانا پڑا۔
اسکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے امی۔اس نے بہانہ بنایا۔
اچھا۔امی حیران ہوئیں
تو پھر اس سے مل ہی آئو ذیادہ طبیعت تو خراب نہیں اسکی۔ چھوٹی موٹی بیماری کو تو وہ خاطر میں نہیں لاتی۔ یاد ہے خود ایک سو تین بخار تھا اور تمہاری عیادت کو آئی تھی۔تم نے دو چھینکیں مار کر بستر سے اٹھنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ
پرانی یادیں جانے کیوں امی کو یاد آئے چلی جارہی تھیں۔ کپڑے تہہ کرتے وہ بولے گئیں۔۔ تبھی اسکا موبائل گنگنا اٹھا۔بیڈ پر چمکتی اسکرین۔مزنہ کالنگ۔ امی کی نظر پڑ گئ تو فون اٹھاکر اسے تھماتے ہوئےبولیں۔
لو ماشا اللہ لمبی عمر ہے تمہاری دوست کی میری جانب سے بھی پوچھنا اسے کہنا یاد کررہی ہوں میں اپنے ماہی منڈے کو۔
جی۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے فون تھام لیا۔
ہیلو۔
ہیلو بیٹا ماہا۔ میں مزنہ کی امی بول رہی ہوں۔۔
جی آنٹی خیریت۔حیرانی کے عالم میں بس اسکے منہ سے اتنا ہی نکل سکا۔
میں پھر کہوں گا تم غلطی کر رہی ہو۔۔ تمہیں اب اس سے ہر تعلق ختم کرلینا چاہیئے۔۔
گھر کے سامنے گاڑی روکنے تک عادل نصیحت کر نے سے باز نہ آیا۔ تو وہ جھلا گئ
مجھے بھی پتہ ہے مگر میں یہاں آنٹی کے بلانے پر آئی ہوں۔ آنٹی سے امی کے بھی تعلقات ہیں یوں بے مروتی سے انکار نہیں کر سکتی تھی میں۔۔
اسکے چڑنے پر عادل پھر نہ بولا
وہ جھجکتے ہوئے لائونج میں داخل ہوئی تو حفصہ آنٹی کنزی تینوں متوحش سی بیٹھی نظر آئیں۔
کیا ہوا آنٹی۔ وہ سیدھی انکے پاس ہی چلی آئی۔ صفیہ تو اسکی شکل دیکھ کر رونے لگیں حفصہ نے ہی اسے ساری بات بتائی
تم بس اس سے ملو پوچھو آخر مسلئہ کیا ہے کیا بات ہے جو اسے اتنا پریشان کر رہی ہےہماری شکل دیکھ کر چیختی ہے اور کہتی ہے ماہا کو بلائو۔
حفصہ کے کہنے پر وہ جز بز سی ہو کر پہلو بدل گئ
مجھے تو لگتا یے کوئی سایہ ہوگیا ہے ۔ ہم یہ تعویز لائے ہیں۔ اسکو مزنہ کے تکیئے کے نیچے رکھنا ہے بس مگر ہم میں سے کسی کو وہ اندر بھی نہیں آنے دے رہی ہے۔
کیوں؟ ۔۔ ماہا کا سوال جائز تھا۔مگر اسکی دیوانگی والی حالت کا ذکر حفصہ نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔اس وقت بھئ بات ٹال گئ۔
تعویز اسکے ہاتھ میں تھما کر منت بھرے انداز میں بولی
پلیز ماہا بس یہ تعویز کسی طرح اس تک پہنچ جائے بس
ماہا سر ہلا کر رہ گئ۔
حفصہ کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئی تو مزنہ دیوار سے سر ٹکائے زمین میں بیٹھی خلائوں میں گھور رہی تھی۔ اسکا دل تڑپ سا گیا۔ دھیرے سے پکارا
مزنہ۔ اسکے پکارنے پر اس نے چونک کر نگاہ اسکی جانب کی۔ شناسائی کی رمق آنکھوں میں جھلکی وہ خوش ہو کر بھاگتی ہوئی اسکے پاس آگی
ماہا تم آگئیں۔ماہا۔ میں کتنی بار تمہارے گھر گیا تمہیں فون کیاتم نے نہیں اٹھایا۔
اسکو کندھوں سے تھامے وہ آنکھوں میں آنسو بھرے پوچھ رہی تھی۔ ماہا اسے دیکھ کر ششدر تھی
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نےمزنہ
ملگجا لباس استخوانی وجود وہ تو جیسے گھل کر رہ گئ تھی۔
کچھ نہیں تم آگئیں میں اب بالکل ٹھیک ہو جائوں گا
وہ اتنے بشاش لہجے میں بولی کہ ماہا اسے دیکھتی ہی رہ گئ۔
ادھر آئو۔
وہ اسکو بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگاتی بیڈ تک لائی۔
ماہا کے ذہن میں عادل کے الفاظ گونجے
اس نے جھٹکے سے خود کو چھڑایا
کیوں ایسی حرکتیں کر رہی ہو کیا ہوگیا ہے تمہیں۔
اسکے انداز میں خود بخود سختی در آئی
اسے پیچھے کرکے وہ اسکے بیڈ کے سرہانے آن بیٹھی
مزنہ اسکے قدموں میں آن بیٹھی
ماہا سب مجھے پاگل کہتے ہیں مگر یہاں دل کو تمہارا مجھے پاگل کہنا سب سے ذیادہ چبھا۔ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ماہا۔ چاہے دنیا کچھ بھئ کہے میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا
تمہیں عادل کے ساتھ دیکھ کر میرے جسم میں چیونٹیاں سی رینگنے لگتی ہیں۔۔ کیا محبت کرنا پاگل پن ہے ماہا؟ عادل کی محبت نظر آتئ ہے تمہیں اور میں
نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھتی اسے سچ مچ وہ پاگل ہی لگی۔تھی۔ قریب تھا کہ وہ چیخ مار کر باہر بھاگتی کنزی ٹرے میں چائے کباب لیئے چلی آئی
ماہا آپی آپ کیا یاد کریں گی آج آپکو اپنے ہاتھ کی گرم گرم چائے پلاتی ہوں۔ بہت کم لوگوں کو یہ اعزاز نصیب ہوتا ہے
آئو مزنہ کباب کھا لو۔
اس نے ٹرے لا کر بیڈ پر رکھئ تو ماہا نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا۔ وہ سمجھ کر مزنہ کو سہارا دے کر اٹھانے لگی اسکی لمحہ بھر کی نظر اوجھل ہونے کا فائدہ اٹھاتے اس نے مٹھی میں دبا تعویز اسکے تکیے کے غلاف میں گھسیڑ دیا تھا
اس دن ماہا کی نگاہوں میں اسے اپنے لیئے واضح نفرت نظر آئی تھی۔ اسکا دل اس ایک نظر کا وار نہ سہہ سکا تھا۔ ماہا کے جانے کے بعد وہ بلک بلک کر روئی تھئ۔ کچھ دیر تو امی اورکنزی نے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی پھر تھک کر اسکے حال پر چھوڑدیا روتے روتے اس نے اپنے پچھلے کئی مہینوں کا غبار نکال دیا تھا۔ڈاکٹر بھی یہی کہتے تھے اسکواندر ہی اندر کوئئ بات کھائے جا رہی ہے اسکا غبار نکل جائے تو شائد سنبھل جائے۔ روتے روتے وہ سوگئ تھی۔اگلے کئی دن پھر سوئی رہی تھی پہلےاسپتال میں پھر دوائوں کے ذریعے گھرمیں۔
اس دفعہ ڈاکٹر نے انہیں نفسیات دان سے مشورہ کرنے کا بھی مشورہ دیا تھا۔مگر صفیہ اپنی بیٹی پر پاگل پن ٹھپہ ہرگز نہیں لگوانا چاہتی تھیں۔
جتنے دن مزنہ بیمار رہی گھر کے باہر کے سب کام انہوں نے خود ہی سنبھال لیئے تھے۔اب انکو احساس ہو رہا تھا کہ بلا وجہ سب ذمہ داریاں مزنہ پر ڈال رکھی تھیں۔وہ خود بھی سب کام کر سکتی ہیں۔ کنزی انکے ساتھ اکثر بازار بھی چلی جاتی تھی۔ مزنہ تو گھر سے اب نکلنے کو بھی تیار نہ ہوتی تھی۔ یونیورسٹی میں اسکا سمسٹر فریز کروا لیا تھا یہ کام بھی کنزی کے ساتھ جا کر اسکی میڈیکل رپورٹس دکھا کر وہ خود ہی کر آئی تھیں۔وہاں جا کے انکو احساس ہوا تھا کہ مزنہ بے حد ذہین لڑکی ہے اسکا جی پی اے اسے پہلی تین میں سے ایک پوزیشن دلا رہا تھا۔ اسکا رزلٹ جان کر بے حد فخر ہوا تھا اسکی ماں ہونے پر۔بے حد خوش خوش وہ واپس آئی تھیں۔واپسی پر دونوں نے بازار کا بھی چکر لگا لیا۔ مزنہ کے لیئے بے حد خوبصورت گلابی کام والا پاجامہ کرتا لیا تھا انہوں نے۔ کنزی نے کہا بھی کہ مزنہ یہ پہننے کو تیار نہ ہوگی مگر انہوں نے بڑے مان سے کہا میں منا لوں گی اسے۔
حفصہ کی نند کی شادی تھی مایوں مہندی میں تو انہوں نے بہانہ بنا دیا تھا مگر شادی میں جانا ضروری تھی۔ وہ اب لوگوں کو مزید باتیں بنانے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھیں جبھی اسکے لیئے خالص لڑکیوں والا لباس لیا تھا۔ارادہ یہی تھا قسمیں دے کر ساتھ لے جانے پر راضی بھی کر لیں گی۔یوں بھی اتنے دنوں سے گھر میں تھی تھوڑی بہت آب و ہوا کی تبدیلی بھی ضروری تھی۔
لدی پھندی وہ سات بجے گھر پہنچی تھیں مزنہ خلاف معمول لائونج میں بیٹھی کوئی اسپورٹس چینل دیکھ رہی تھی
انہوں نے بڑے شوق سے اسکا جوڑا نکال کر اسے دکھایا
یہ کس کے لیئے۔ اس نے بے تاثر سے انداز میں ہی پوچھا تھا
تمہارےلیئے۔ آج کیلئے تو بہانہ کردیا مگر کل تو ہم سب کو جانا ہی پڑے گا نا شادی میں۔پرانے کپڑوں میں جائوگی
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولیں۔
وہ خاموشی سے جوڑا ہر زاویئے سے دیکھنے لگی
کنزی کو لگا تھا بھڑک اٹھے گی مگر یقینا یہ ایک اچھی علامت تھی۔ جھٹ چٹکی بجا کر بولی
میں سب کیلئے چائے بنا کر لاتی ہوں۔
میرے لیئے ساتھ کچھ کھانے کو بھی لے آنا۔۔
لباس تہہ کرتے ہوئے مزنہ سرسری سے انداز میں بولی تھی۔امی اور کنزی نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا۔دو مہینے میں پہلی بار خود سے اس نے کھانا منگوایا تھا۔
میں کباب تل کے لاتی ہوں۔کنزی خوشی خوشی اٹھ گئ امی نے پیار سے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔
کنزی نے اسے سنگھار میز کے سامنے بٹھایا ہوا تھا۔ گلابی کرتا پاجامہ میں نازک سی مزنہ بے حد مختلف اور اچھی لگ رہی تھی بس چہرے پر محسوس کی جانے والی اداسی تھی
گہرے حلقے تھے جنہیں چھپانے کو میک اپ ضروری تھا۔
اسکے بال اب بوائے کٹ لگنے لگے تھےسو اس لباس میں مخصوص اسکی مردانہ لک نہیں آرہی تھی
بالکل۔ اتنے حلقے پڑے ہیں پیلی لگنے لگی ہو اس کی ضرورت تو ہے نا۔۔ کنزی نے نا نا کے باوجود اسکا فل میک اپ کردیا تھا۔ وہ پھر کچھ نہ بولی۔ کنزی نے میک اپ کرنے کے بعد فورا اسکی دو چار اچھی اچھی تصویریں بھی بنا لیں۔
ماہا کا فون آیا ؟۔۔ اسے جانے کیسے خیال آیا۔کنزی چپ سی رہ گئ
نہیں۔ اس نے جھوٹ بولنا مناسب نہیں سمجھامگر اسکی دل آزاری کا بھی خیال تھا سوفورا صفائی بھی دینے لگی
مصروف ہوں گئ وہ بھئ۔ چار دن بعد انکی بھی تو بارات ہے۔ کارڈ بھجوایا تھا انہوں نے ڈرائیور کے ہاتھوں۔ تم نے جانا ہو تو میں ساتھ چلوں گئ تمہارے ٹھیک ہے نا
نہیں۔ ضرورت نہیں۔ اس کے جواب پر کنزی نے حیرت سے اسے دیکھا وہ بے نیازی سے دوپٹہ اٹھارہی تھی۔۔۔
جلدی کرو تم لوگ۔۔ امی تیار ہو کر انہیں بلانے آئی تھیں مگر اسے دیکھ کر بات ہی بھول گئیں۔ ماشا اللہ کہہ کر اسکی پیشانی چوم لی۔
بہت حسین لگ رہی ہے میری بیٹی۔ انہوں نے کہا تو کنزی ٹھنک کر بولی
اور میں امی۔
تم بھی انہوں نے دونوں کو سینے سے لگا لیا تھا۔ مزنہ کو انکے سینے سے لگ کر جانے کیسا سکون ملا کہ اسکے چہرے پر چھائی ساری بے چینی رخصت سی ہونے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی میں وہ کتنی ہی نظروں میں آئی۔کچھ نے اس تبدیلی کو سراہا تو کچھ نے تسمخر بھی اڑایا۔
جو خاندان والے ہمیشہ اسکے حلیئے پر باتیں بناتے تھے اسکی تبدیلی دیکھ کر منہ چھپا کر ہنسے بھی۔ حفصہ کی نندوں وغیرہ نے اس اونچی لمبی لڑکی کے بارے میں حفصہ سے تفصیل سے سوال کیئے۔ انہیں اب اپنے دوسرے اونچے لمبے بھائی کیلئے لڑکی کی تلاش تھی۔ حفصہ نے بے حد خوش ہوکر ماں کو یہ بات بتائی تھی۔۔
آج پیاری بھی بہت لگ رہی ہے۔امی نے نہارتی نگاہوں سے دیکھا
واقعی کوئی سایہ ہی تھا اب ماشا اللہ سے بات بھی مان رہی ہے اور کنزی سے بول بھی لیتی ہے۔
کہاں۔کنزی نے فورا کہا
اتنا خاموش ہوگئ ہے کھاتی پیتی بھی نہیں ڈھنگ سے۔۔۔
ٹھیک ہوجائے گی میں اس بار خود انہی بابا جی کے پاس جائوں گئ۔تم جو تعویز لائی تھیں واقعی پراثر تھا۔
امی نے سب خدشے جھٹک دیئے۔
اچھا تم جائو بہن کے پاس رہو اکیلی بیٹھی ہے ۔ انہوں نے کنزی کو اٹھادیاوہ بھی سعادتمندی سے اچھا امی کہتی مزنہ کے پاس چلی آئی۔
۔انکی۔باتوں سے بے نیاز مزنہ شدید بے چین تھی۔ لگ رہا تھا سب اسے دیکھ رہے ہیں۔وہ چپکے سے اٹھ کر باتھ روم چلی آئی۔۔ دیوار گیر آئیینے۔ وہ بیسن کے پاس چلی آئی۔ آئینہ ایک خوبصورت دوشیزہ کا روپ منعکس کر رہا تھا۔ نازک سے نین نقش میک اپ نے نکھار ڈالے تھے۔ اسکے وجود کی مخصوص سختی اور بے نیازی یوں اوجھل ہوئی تھی کہ جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ یہ تو بالکل ہی الگ روپ تھا اسکا۔
اس نے وحشت ذدہ سا ہو کر آئینے پر ہاتھ رکھا۔ چند لمحے خود کو دیکھتے اس پر عجیب سا خلفشار حاوی ہونے لگا۔ بے چینئ سے رگڑ رگڑ کر منہ ہاتھ دھونے لگی۔۔
یہ میں نہیں ہوں۔
بیت الخلا سے نکلتی اس لڑکی نے بڑی حیرت سے اسے بڑبڑاتے اور شڑاپ شڑاپ پانی اپنے چہرے پر بہاتے دیکھا تھا۔
آپ ٹھیک تو ہیں۔ قریب آکر اس نے نرمی سےاسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو مزنہ جیسے ہوش میں واپس آگئ ۔۔
ہاں۔ہاں۔میں ٹھیک ہوں۔
لرزتی ہوئی آواز اور ڈولتی چال کے ساتھ وہ باتھ روم سے باہر نکل گئ۔
وہ سیدھا گھر آئی تھی۔۔۔ گیٹ پر لگا بڑا سا تالہ اس نے کنارے سے اینٹ اٹھا کر اس تالے پر مار کر تالہ توڑ دیا۔ آگے لائونج کا دروازہ بھی بند تھا۔ اس نے اس کے لاک پر بھی اینٹ مار مار کر توڑ دیا۔ دروازے پر شدید ضرب آئی تھی۔مگر اسے پروا نہیں تھی۔
کمرے میں آکر وہ اپنے بیڈ پر جیسے گر سی گئ۔ جانے کتنا وقت بیتا جب اسے مانوس سی آواز آئی۔
آنٹی ؟ کنزی ؟ مزنہ۔کوئی ہے گھر میں؟
اسے وہم ہوا تھا شائد۔
وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔
چوری تو نہیں ہوگئ کہیں گھر میں۔کسی نے دروازہ توڑ دیا ہے لگتا ہے۔
آواز قریب آئئ تھی۔ وہ چونک کر لائونج کی جانب بھاگئ۔
اسکا وہم نہیں تھا۔ ماہا ہی تھی۔ فون پر بات کرتی اس وقت لائونج میں ہی کھڑی تھی۔ اسکی جانب پشت تھی۔
نہیں کوئی نہیں ہے۔ اچھا میں اندر نہیں جا رہی واپس باہر نکل رہی ہوں ارے پریشان نہ ہو۔۔۔
ماہا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بے تابی سے پکارا۔
وہ چونک کے مڑی۔
مزنہ۔ اس نے بے یقینی سے کہا تھا۔ مزنہ کو پہچاننا مشکل ہوا تھا اسکے لیئے۔
ماہا تم آگئیں۔۔۔
آنکھوں میں آنسو بھرے حسرت سے کہتی مزنہ کو دیکھ کر اسکا دل ہل سا گیا تھا۔
یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے مزنہ۔ وہ گھبرا کر اسکے پاس آئی۔چہرہ گریبان گلا سب پانی سے بھیگا ہوا تھا۔
عجیب لگ رہی ہوں نا۔وہ ہنسی۔
یہ لباس یہ دوپٹہ۔یہ میں نہیں ہوں ۔۔ ہے نا۔
اس نے اپنے گلے میں جھولتا دوپٹہ جھٹکے سے نوچ کر پھینکا
کیا ہوا ہے اور یہ پانی؟ ماہا اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو اٹھی۔۔ اسکو کندھے سے تھام کر پوچھا پھر گھبرا کر ادھر ادھر دیکھتے آوازیں لگانے لگئ
کہاں ہیں سب ؟ آنٹی کنزی۔۔۔
کیوں فکر مند ہو رہی ہو میرے لیئے۔ کس حیثیت سے ؟ کیا سمجھ رہی ہو مجھے۔ وہ جو میں نظر آرہا ہوں یا وہ جو میں اصل ہوں۔
مزنہ نے اسکو بازوئوں سے جارحانہ انداز میں جکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔
کیا بکواس کر رہی ہو۔ماہا نے خود کو اسکی گرفت سے چھڑانا چاہا۔
بکواس نہیں ہے یہ۔ اب تو میں نے جانا ہے خود کو۔وہ نہیں ہوں میں جو تم سب سمجھتے ہو۔ وہ حلق کے بل اتنی زور سے چلائی کہ ماہا کو اپنے کان کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے۔
اس نے جنونی انداز میں اسے چھوڑا اور بھاگ کی کچن میں گھس گئ
ماہا کو سمجھ نہ آیا کیسے سنبھالے اسے۔
آنٹی کنزی۔۔ وہ دوسرے کمرے کا دروازہ کھول کر مدد کو پکاری
میں اس وجود اس جھوٹے وجود کا قصہ ہی تمام کرتی ہوں۔
وہ اسئ جنونی انداز میں کچن کی چھری اٹھائے نکلی تھی
کک۔ کیا کرنے لگی ہو۔ ماہا کی جان ہی نکل گئ
اپنا قصہ تمام۔
وہ زہر خند سے مسکرائی۔ وہ ماہا کی جانب بڑھی مگر اسکی چھری کا رخ ماہا کی جانب نہیں تھا وہ خود کشی نہیں کر رہی تھی مگر اس نے جنونی انداز میں خود پر چھریاں چلا لی تھیں۔۔ پے در پے وار۔ ۔ خون فوارے کی طرح نکلا تھا ماہا ساکت سی کھڑی اسے دیکھتئ رہ گئ۔
سفید براق سویٹ شرٹ اور ٹرائوزر میں ملبوس وہ وجود کائوچ پر دراز اتنا نحیف و نزار لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی ڈھانچہ کپڑے میں لپیٹ کر لٹا دیا گیا ہو۔اسکے لب ہل رہے تھے۔ مسلسل اور مستقل باتیں بے ربط سی کبھی بچپن کا قصہ۔ اسکے برابر ہی کرسی پر بیٹھی وہ ڈاکٹر بہت انہماک سے اسے سن رہی تھی۔
بولتے بولتے اسکی سانس پھولنے لگی تو اس نے نرمی سے اسے بولنے سے روک دیا۔
اب تھوڑی دیر آرام کرلو آدھے گھنٹے بعد جب تمہاری آنکھ کھلے گئ تو تم باہر بہت خوشگوار موڈ میں آئو گی۔
اسے ہدایت دیتی وہ کمرے میں چلی آئی۔۔جہاں حفصہ اور صفیہ دونوں انتظار میں بیٹھی اسکی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔۔
کا شکار ہے۔ یہ مکمل طور پر نفسیاتی مسلئہ ہے۔بنیادی طور پر اس میں مبتلا انسان مسلسل ایک کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔ اسکے اندر جنگ چھڑی رہتی ۔آیا وہ اس جنس یا صنف سے تعلق رکھتا ہے جو اسکی پیدائش کے وقت اسکے جسم کو دیکھ کر متعین کی گئ ہے یا اس جنس یا صنف سے جو وہ خود کو سمجھتا ہے۔۔
اسکے رویئے اسکے لباس کے انتخاب، بول چال ، وغیرہ اس سب پر اسکے ذہن میں چلتی اس مستقل جنگ کا اثر پڑتا ہے۔
عموما بچے چار پانچ سال کی عمر سے اپنے رویئے کے ذریعے اس بے چینی اور اضطراب کا اظہار کرتے ہیں یا بلوغت کی عمر میں۔ ایسی صورت میں ہم مکمل ایک علاج کا طریقہ وضع کرتے ہیں جس میں ہارمونل ٹریٹمنٹ سے اور کائونسلنگ سے شروعات کی جاتی ہے اور پھر مریض کے مرض کی سنگینی پر منحصر ہے کہ۔ وہ بولتے بولتے رکی
کہ؟ صفیہ نے بے تابئ سے سوال کیا۔
ہم پھر ایسے مریض کو سرجری کا مشورہ دیتے ہیں۔اب تو پاکستان میں بھی ایسے بہت سے کیسز ہیں جن میں بچوں کا کامیاب آپریشن کیا گیا ہے اور وہ مکمل طور پر اپنی حسب خواہش جنس کا انتخاب کرکے مکمل اور نارمل زندگی گزار رہے ہیں
کیسی بات کر رہی ہیں آپ۔ صفیہ چیخ پڑیں
میری بیٹی ہے وہ مکمل صحتمند لڑکی پیدا ہوئی ہے وہ ایسے کیسے۔۔ انکی صدمے کے مارے آواز کپکپا گئ۔
میں نے آپکو پہلے بھی بتایا یہ مکمل طور پر نفسیاتی مسلئہ ہے۔۔ ہم بحیثیت مسلمان یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیں بہترین صورت و صنف میں اللہ نے مکمل انسان پیدا کیا ہے۔ اگر ایک بچہ اپنے آپ سے خود نالاں ہونے لگے اوردوسری صنف میں دلچسپی لینے لگے یا اپنے رویئےسے دوسری صنف ظاہر کرنے کی کوشش کرے تو اسوقت اس بچے کو مکمل رہنمائی فراہم کرکے مدد کی جاسکتی ہے۔۔
معاف کیجئے گا آپکی بیٹی نے اپنی نسوانیت ختم کرنے کی کوشش کی ہے وہ اس وجود اور شناخت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے۔وہ یہ بات ماننے پر تیار نہیں ہے کہ اسے لڑکی بنا کر دنیا میں بھیجا گیا ہے۔
مگر ڈاکٹر صاحبہ صرف ذہنی دبائو کے باعث کیسے وہ بالکل مختلف انسان بن سکتی ہے؟
حفصہ کو بالکل سمجھ نہ آیا کہ انکی اچھی بھلی بہن کیسے خود کو لڑکا سمجھنے لگی ہے۔ ایسی بھی کیا نفسیاتی گرہ
دیکھیں نفسیاتئ مسائل میں کوئی ایک چیز ہی مکمل طور پر انسان پر اثر نہیں ڈالتی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی انسان بیٹھے بٹھائے کسی مخصوص سوچ کی آبیاری کرے اور بدل جائے عموما اسکے گرد رہنے والے افراد کے روئیے، ماحول معاشرے کا رواج رہن سہن یہ سب اسکے روئیوں پر گہرا نقش ڈال جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔
ارے صفیہ تم۔۔ راہ چلتے انہیں مانوس آواز سنائی دی تو انہوں نے ٹھٹک کر مڑ کر دیکھا۔انکی بچپن کی سہیلی راہ چلتے ملنے پر پکار رہی تھی۔ وہ مسکرا کر پلٹیں۔ انکے ساتھ قدم بڑھاتی مزنہ بھی رک گئ۔
بھائی کا سن کر بہت افسوس ہوا تھا مگر انکی پوسٹنگ ہوگئ تھی تو ملنے آ نہ سکی ابھی پچھلے ہفتے آئی ہوں اس شہر میں واپس۔
سہیلی کے تعزیتی الفاظ انکی آنکھیں نم کر گئے
اور یہ بیٹا ہے تمہارا؟
انہوں نے ماں کے ساتھ سینہ تانے محافظ بنے کھڑے اس بارہ تیرہ سالہ لڑکے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنا چاہا
بیٹی ہے یہ میری۔
امی نے پیار سے دیکھتے تعارف کرایا۔
ہیں مگر اس نے لڑکوں جیسے کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں۔
وہ خاتون استعجاب کے مارے ٹوکے بنا نہ رہ سکیں
امی ہنس دیں۔۔
بس اسکو ایسے ہی لڑکوں جیسے کپڑے پہن کر پھرنے کا شوق ہے۔ میں بھی منع نہیں کرتی ابھی چھوٹی ہے بڑی ہو کے خود ہی سمجھ آجائے گی اسے۔۔۔۔
مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے stress dysphoria میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔
صبح وہ حقیقتا یونیورسٹی میں ماہا کو ڈھونڈتی پھری تھی۔ جانے کہاں غائب تھی۔ بے دلی سے پیریڈز اٹنیڈ کرنے کے بعد وہ خاصے خراب موڈ میں گھر واپس آرہی تھی جب ماہا کی کال آئی۔ فورا سڑک کنارے بائک روک کر اس نے فون اٹھا لیا۔
کہاں ہو صبح سے فون کر رہا ہوں اگر آج یونی نہیں آنا تھا تو بتا تو دیتیں میں بھی نہ آتا
ہائے میرا جانو اداس ہو گیا میرے بن۔ ماہا آگے سے یوں کھلکھلائی جیسے وہ کوئی رام کہانی سنارہی ہو۔
یار قسم سے یونیورسٹی آئی تھی مگر یہ عادل کے بچے نے اغوا کر لیا مجھے۔ موبائل تک بند کروادیا۔ یہاں مونال لا کر سرپرائز دیا ہے اپنی ہی سالگرہ کا مجھے۔ اف اتنا بے ایمان موسم ہو رہا ہے۔
وہ خوش تھی بے تحاشہ خوش اسکی آواز سے جھلک رہا تھا۔
اچھا بس بھی کرو کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔۔ عادل کی آواز آئی تھی
میں بھی آتا ہوں۔
اس نے کہا توماہا آگے سے خو ش ہوگئ
یہ صحیح رہے گا تم بھی آجائو ابھی ۔
وہ جانے کیا کہنے جا رہی تھی کہ عادل ڈپٹ کر بولا
پاگل تو نہیں ہو وہ کیسے مونال آئے گی بائک پر اوپر سے بارش ہونے والی ہے کتنی تو پھسلن ہو جاتی ہے سڑک پر۔
میں آرہا ہوں میرا انتظار کرنا۔
اسے عادل کا کہنا چیلنج سا لگا سو ضدی انداز میں بولی
نہیں جانو عادل صحیح کہہ رہا ہے ۔ ماہا ڈر گئ تھی۔ عادل بھی دانت پیس رہا تھا۔
ہم پھر کسی دن آئیں گے مل کے۔خفا نہ ہونا میری جان آج وہسے بھی عادل کی سالگرہ یہ ہمارے ساتھ کباب میں ہڈی بنا رہے گا کسی دن ہم دونوں بائک پر آئیں گے بس ہم دونوں۔
ماہا مسکا لگا رہی تھی مگر مزنہ کے دل کو جیسے ٹھنڈ سی پڑی۔
یہ ٹھیک ہے کسی دن۔ اس نے کہنا چاہا مگر ماہا نے عجلت میں بات کاٹ دی۔
اچھا میرے جانو غصہ نہ کرنا کل ملتے ہیں اپنا خیال رکھنا با بائے۔ موا۔
اس نے فلائنگ کس بھیج کر فون بند کر دیا۔
اس نے سر جھٹک کر فون بند کرکے جیب میں ڈالا بائک کوکک لگا کر دوبارہ اسٹارٹ کرنا چاہا تو کچھ فاصلے
پرکھڑے ان دو لڑکوں پر نظر پڑی جو اسے عجوبہ روزگار
سمجھ کر ویڈیو بنا رہے تھے اسکو اپنی طرف متو جہ ہوتے دیکھ کر چونکے پھر تیزی سے بھاگ بھی اٹھے وہ بس گھور کر رہ گئ۔
گھر حسب معمول وہ چار بجے کے قریب پہنچی تھی مگر عام دنوں کے برعکس کافی چہل پہل تھی گھرمیں۔کنزی اور امی کچن میں لگے ہوئے تھے حفصہ لائونج کے کونے میں لگے استری اسٹینڈ پر کپڑے استری کر رہی تھی
خیریت ایک ہی ہفتےمیں دو چکر۔ عامر بھائی سے طلاق لینے کا تو ارادہ نہیں۔
قریب جا کر اس نےزور سے ہنستے ہوئے کہا تو حفصہ نے بنا لحاظ دو ہتھڑ لگا دیئے
سوچ سمجھ کے بولا کرو کچھ بھی بول دیتی ہو۔برا لگ رہا ہے بہن کا آنا۔
اس نےمصنوعی خفگی جتائی۔
برا تو نہیں البتہ حیران کن لگ رہا ہے۔ وہ صاف گوئی سے بولی۔
آپی ڈرائینگ روم کی اچھی طرح جھاڑ پونچھ کر دی ہے اور رول بھی بنا دیئے اور کوئی کام کرنا ہے تو وہ بھی بتا دیں۔
کنزی مصروف سی دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی اسکے پاس چلی آئی۔
خیریت کوئی آرہا ہے کیا ؟
مزنہ کوتجسس ہوا۔
حفصہ مسکرا دی پیار سے تھوڑی چھو کر بولی
ہاں ایک نہایت اچھی سی خاتوں آرہی ہیں تمہیں دیکھنے۔
کیوں دیکھنے آرہی ہیں مجھے ؟ مجھ پر ٹکٹ لگ گیا ہے کیا؟ کوئی فلم ہوں میں کیا۔
وہ جانے سمجھی نہیں یا جان کے انجان بن گئ
فلم نہیں تم تو ڈرامہ ہو مزنہ وہ بھی ہارر۔
کنزی اپنی سابقہ ناراضگیاں بھلا کر شرارت سے بولی۔مزنہ کے ماتھے پر بل پڑگئے تو حفصہ نے بات کا اثر ذائل کرنے کو کنزی کو ڈانٹ دیا
بری بات کنزی بڑی بہن ہے تمیز سے بات کیا کرو۔
آستین پر استری پھیر کر نیا نکور کاٹن کا جوڑا تھما کر بولی
یہ لو جائو نہا کر یہ جوڑا پہن لو۔
مزنہ بدک گئ
میں کیوں یہ پہن لوں یہ آپکا ہے اور میں ویسےبھی ایسے کپڑے نہیں پہنتا پتہ ہے آپکو یہ بات۔
اسکے صاف انکار نے بھئ حفصہ کو بد دل نہ کیا۔ پچکار کے بولی
بیٹا مہمان آرہے ہیں انکے سامنے سب ہی اچھا سا حلیہ بنا کر جاتے ہیں کنزی امی اور میں نے بھی کپڑے بدلے ہیں تم بھی بدل لو ویسے بھی وہ تمہیں دیکھنے آرہی ہیں۔
حفصہ نے اپنی طرف سے سبھائو سے بات کی مگر وہ پٹھے پر ہاتھ بھی دھرنے نہ دے رہی تھی
میں نہیں پہن رہا یہ کپڑے اور انہوں نے مجھے دیکھنا ہے تو ایسے ہی دیکھیں میں ان کپڑوں میں بھی دکھائی دے رہا ہوں غائب نہیں ہوگیا۔
مزنہ بگڑکر بولی توکنزی ہنس دی
آپکو ایسے دیکھ کر انکو دلہا نظر آئے گا جبکہ انکو اپنے بیٹے کیلئے دلہا نہیں دلہن درکار ہے۔ میری بہنیا بنے گی دلہنیا سمجھیں مزنہ بی بی
اسکے مزاحیہ انداز پر حفصہ بھی ہنس پڑی۔مزنہ نے جھلا کر کپڑے زمین پر پھینک دییئے
یہ کیا مزاق چل رہا ہےمجھے نہیں پہننے یہ کپڑے
کیوں بھئ؟ اسکے رویئے نے حفصہ کو ٹھٹکا دیا سنجیدہ سی۔ہوگئی۔ بڑی بہن والا رعب ڈال کر ڈپٹ کر بولی
کیوں نہیں پہن رہیں یہ کپڑے۔۔خبردار جو اس حلیئے میں انکے سامنے آئیں۔جائو کپڑے بدلو اور کنزی اسکا تھوڑا میک اپ بھی کردینا۔
مگر آپی میں یہ سب نہیں کرتا۔اس نے احتجاج کرنا چاہا جسے وہ خاطرمیں نہ لائی
مگر اب کرو۔تھوڑا سجنا سنورنا شروع کرو۔تھوڑی لڑکیوں والی حرکتیں بھی کر لیا کرو۔۔
وہ سمجھانے والے انداز میں بولی جوابا ایکدم مزنہ چلا اٹھی
میں لڑکی نہیں ہوں۔۔۔
حفصہ ایکدم چپ ہو کر دیکھنے لگی تبھی داخلی دروازے پر دستک ہوئی۔ امی جو مزنہ کے چلانے پر کچن سے نکل آئی تھیں جلدی سے دروازہ کھولنے لگیں۔ واقعی مہمان خاتون ہی تھیں۔
دو منٹ میں کپڑے بدل کر آئو۔ حفصہ نے گھور کر سخت لہجےمیں کہا تو وہ پیر پٹختی اندر بڑھ گئ۔۔۔۔۔۔۔
چائےکا پرتکلف دور چلا۔ رول سموسے کباب اور پیٹیز۔ کنزی کے ہاتھ کی مزیدار چائے بیگم اصفہانی نے خوب تعریفیں کرکرکے انصاف کیا۔ صفیہ کو بھی بیگم اصفہانی فورا پسند آگئیں۔گوری سی پروقار انداز گفتگو خوش لباس خاتون انکے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر نظر گھما گھما کر گھر کا جائزہ لینے کی بجائے انکی مکمل توجہ کا مرکز صفیہ اور حفصہ ہی تھیں۔ ادھر ادھر کی باتیں کرکے سیدھا مدعے پرچلی آئیں
میری بڑی بہو نے آپکی بہت تعریف کی بتا رہی تھی کیسے آپ نے بیوگی اور اکلوتے بیٹے کی موت کا صدمہ جھیلا پھر بھی ہمت نہیں ہاری۔
امی انکساری سے مسکرا دیں۔
بس برا وقت تھا گزر گیا۔شکر ہے خدا کا بیٹیاں سعادت مند اور نیک ہیں میری۔حفصہ کی تو پانچ سال پہلے شادی کردی۔تھی اب مزنہ کی باری ہےما شا اللہ سے میری بیٹی بہت کام کاجو ہے باہرکا سب کام دکانوں کا حساب
وہ سادگی سے کہے جا رہی تھیں حفصہ نے سٹپٹا کر ماں کو گھورا تو جملہ ادھورا چھوڑ گئیں
بیگم اصفہانی بھی شائد بال کی۔کھال نکالنے کی عادی نہ تھیں مسکرا کر بولیں
اچھا ما شا اللہ گھر بیٹی نے سنبھال رکھا ہے؟ظاہر ہے حفصہ تو اب مہمان ہے اس گھر میں۔کنزی تو پڑھائی میں مصروف ہوتی ہوگی۔
امی گڑبڑا گئیں
جی جی ۔۔ آپ چائےلیجئے۔
چائے تو بہت مزے کی ہے۔ گھونٹ بھر کر وہ ہنس دیں
میرا بیٹا ماشا اللہ سے بہت خوش خوراک ہے صاف بات کروں گی بہن۔ کہتا ہے امی شکل وکل سے مجھے سروکار نہیں بس کھانا لذیذ بناتی ہو ۔۔ سچ بتائوں آپکے یہاں ایک ایک چیز میں ذائقہ ہے اور یہ جان کے تو بہت خوشی ہوئی کہ بچی کام کاجو ہے سب گھر سنبھال رکھا ہے۔
امی نے حفصہ کی شکل دیکھی اس نے اشارے سے انہیں دھیرج رکھنے کا اشارہ کیا۔
یہ آپکی بیٹی ہے؟
انکی خود ہی دروازے کی اوٹ میں کھڑی مزنہ پر نگاہ پڑی تو پوچھ لیا۔ حفصہ اور صفیہ نے بھی مڑکر دیکھا تو حیران رہ گئئیں۔ہر وقت اوٹ پٹانگ حلیہ بنائے رکھنے کی وجہ سے اندازہ نہ ہوا مگر اس وقت بڑی بڑی آنکھوں میں کاجل ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک گلابی ہی سوٹ میں دراز قد مزنہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔
خاتون بھی ایک ٹک دیکھتی رہ گئیں۔
ما شا اللہ ادھر آئو بیٹا۔ بڑی تعریفیں سنی ہیں بھئ تمہاری۔ بہت سگھڑ ہو بھئ بچیاں تو کام کرتی ہی اچھی لگتی ہیں۔
وہ پیار سے یونہی بات برائے بات کہہ رہی تھیں مگر مزنہ کے تو جیسے تلوے سے لگی سر پر بجھی
دو قدم اندر آکر انکے پاس جانے کی بجائے وہیں تن کر کھڑی ہوکر بولی
کیوں بیٹیاں نوکرانیاں ہوتی ہیں؟جو کام کرکے اچھی لگتی ہیں آپکو یا بہو کے روپ میں کام والی چاہیئے آپکو۔
اسکے تند و تیز لہجے پر وہ خاتون گھبرا سی گئیں
نہیں وہ۔میرا مطلب
حفصہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی
مزنہ کیا بدتمیزی ہے یہ۔
نہیں تو اور کیا فخر سے کہہ رہیں کہ بیٹا خوش خوراک ہے۔ انکو اپنے پیٹو بیٹے کیلئے روٹیاں تھوپنے والی نوکرانی درکار ہے
خاتون کا رنگ ہتک سے سرخ ہوگیا امی نے ڈپٹا
مزنہ چپ کرجائو
یہ کیا بدتمیزئ ہے آپ لوگ یوں گھر بلا کر مہمانوں کو بے عزت کرتے ہیں ۔بہت منہ زور بیٹی ہے آپکی۔
بیگم اصفہانی سب مروت لحاظ بالائے طاق رکھ کر گرجیں
بیٹی نہیں بیٹا ہوں میں انکا بیٹا۔ اور گھر میں گھس کر چائے پانی نہیں کرتا باہر کے سب کام سنبھالتا ہوں۔
اسکے بولنے پر خاتون بولنا بھول کر حیرت زدہ رہ گئیں
یہ یہ کیسے بول۔رہی ہے
حفصہ اسکو بازو سے پکڑ کر باہر لے جانے لگی مگر وہ اسے ہلا بھی نہ پائی
ایسے ہی بولتا ہوں میں ۔اگر آپکو اپنے پیٹو بیٹے کیلئے دلہا درکار ہے تو یہاں بیٹھیں ورنہ چلتی پھرتی نظرآئیں
اتنی منہ زوری بد زبانی مہمان خاتون تو گنگ ہوگئیں البتہ امی نےبلا۔لحاظ اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا
بند کرو بکواس یہ تربیت دی ہے میں نے تمہیں۔
امی کی غیض و غضب سے آواز پھٹ سی گئ۔ کنزی ہنگامہ سن کر بھاگی آئی بیگم اصفہانی تنفر سے انہیں دیکھتی باہر نکل گئیں۔
حفصہ کے روکنے پر بھی نہ رکیں
کیا ہوا امی۔ کنزی نے آگے بڑھ کر تھر تھر کانپتی ماں کو سہارا دیا
پاگل ہو گئ ہو کیا تم یہ کیا حرکت کی ہے تم نے۔حفصہ نے پلٹ کر اسے جھنجھوڑ دیا
ہاں ہاں میں پاگل ہوگیا ہوں۔ماں کے تھپڑ نے مزنہ پر جو سکتہ طاری کیا تھا وہ حفصہ کے جھنجھوڑ ڈالنے پر ٹوٹ گیا۔حلق کے بل چلا اٹھی
اپنے کاموں کیلئے تم سب نے مجھے پاگل بنایا ہےمیں خود ایسا نہیں بناتم لوگوں کے کام کرتے کرتے بن گیا ہوں میں اب
کام کام کی کیا رٹنی لگا رکھی ہے تم نے؟
امی بگڑ کر بولیں
باہر کے دو چار کام کرلینے سے تم خود کو لڑکا ہی سمجھنے لگ گئ ہو واقعی بہت ڈھیل دے دی ہے میں نے تمہیں ۔ کتنا بے عزت کرایا ہے ماں کو آج تم نے؟ایسی بد لحاظ اور نافرمان۔۔۔
کیا نافرمانی کی ہے میں نے۔بیٹوں کی طرح گھر کا بوجھ اٹھایا ہے ہمیشہ خود دوڑدھوپ کی کبھی آپ سب پر آنچ نہ آنے دی۔منٹ منٹ پرباہر کے چکر لگائے ہر کام بیٹے کی طرح کیا کبھی بیٹے کی کمی محسوس نہ ہونے دی اب میں آپکا بیٹا ہی بن چکا ہوں بھول جائیں میں لڑکی پیدا ہوئی تھی
وہ گرج رہی تھی۔بھاری آواز مضبوط انداز وہ تینوں ششدر سی اسے دیکھتی رہ گئیں۔
یہی یہی سب میں آپکو بتا رہی تھی مگر میری کوئی سنتا نہیں۔کنزی بولی تو حفصہ اسے دیکھ کر رہ۔گئ
امی کے ہاتھ پائوں بے دم سے ہونے لگے۔ حفصہ آنکو سہارا دے کر بٹھانے لگی۔
میں کیا کروں میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ امی رو ہی دیں۔۔۔۔۔۔۔
اپنی طرف سے تو اس نے داد چاہنے والے انداز میں ماہا کو اپنا کارنامہ سنایا تھا مگر اسکے ہر اچھے برے فعل میں اسکا کندھا تھپتھپانے والی ماہا کا ردعمل بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ اس پر چلا اٹھی تھی۔ یونیورسٹی کے گرائونڈ میں بیٹھ کر سموسمہ اڑاتے اس نے ہنس ہنس کر قصہ سنایا مگر ماہا ہنسنے کی۔بجائےاسے یوں دیکھنے لگی جیسے اسکے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔
پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟ کیا ضرورت تھی تمہیں ان خاتون سے اتنی بد تمیزی کرنے کی کوئی اندازہ ہے تمہیں وہ کتنا بدنام کر سکتی ہیں تمہیں؟ لوگ تو دشمنی پر اتر آتے ہیں احمق۔ اگر لڑکا پسند نہیں تھا تو بعد میں حفصہ آپی سے بات کر لیتیں آنٹی کو منا لیتے میں آنٹی سے بات کرتی
میں نے کونسا دیکھا تھا لڑکا۔ اس نے اطمینان سے کندھے اچکائے
پھر اتنی بدتمیزی کی وجہ۔جتنا میں جانتی ہوں آنٹی تمہاری پسند ناپسند کو اہمیت ضرور دیں گی۔انکے دل میں تمہاری الگ ہی جگہ ہے۔ بجائے اسکے کہ تم ان کو اپنی پسند نا پسند بتائو تم نے ایک غیر خاتون کے سامنے انکو شرمندہ کروادیا۔ انہوں نے ایک تھپڑ مارا میری اماں تو ڈنڈے سے پٹائی کرتیں میری اگر میں نے یہ حرکت کی ہوتی تو۔
سموسے کو چٹنی میں بھگوتے وہ صاف گوئی سے کہہ رہی تھی
لڑکیاں اتنی ہی مجبور ہوتی ہیں۔ مزنہ کو اس پر ترس آگیا
ہاں تم تو جیسے لڑکا ہو نا۔بی بی ہو تم بھی لڑکی ہی۔ہونی تمہاری بھی شادی ہی ہے۔ ابھی بائک اڑا رہی ہو بعد میں کسی ببلو ڈبو کو گود میں لے کر سیاں جی کا۔کندھا دبوچ کر بیٹھا کروگی سمٹ کر بائک پر
لہک۔لہک کر کہتی شرارت آنکھوں میں بھرے وہ کھلکھلا رہی تھی۔ مزنہ کو اس پر۔غصہ آنے کی بجائے ہنسی ہی آگئ
دیکھی جائے گی۔ مزنہ نے کان پر سےمکھی اڑائی
یہ بتائو آج شام کا کیا پروگرام ہے ریفریشمنٹ سینٹر چلیں؟
بیگ اٹھا کر کھڑے ہوتے اس نے پوچھا مگر خلاف توقع ماہا نفی میں سر ہلا گئ
نہیں بھئ آج ڈنر عادل کے ساتھ کرنا ہے۔ تم مجھے گھر چھوڑ دو
ماہا بھی ہاتھ جھاڑتی اٹھ گئ۔
مزنہ کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
ڈنر کیوں؟ رات کو کیا ضرورت ہے عادل کے ساتھ ڈنر پر جانے کی؟ یہاں ہر وقت اکٹھے پھر پھرا کر دل نہیں بھرتا؟ یہاں تو چلو انکو پتہ نہ چلے یوں رات گئے پھرنے سے نہیں روکتے گھر والے تمہیں۔
ماہا منہ کھولے اسکی جھاڑ سنتی گئی پھر اسکے کندھے پر مکا مار کر بولی
بس بس ذیادہ ڈائلاگ بازی مت کرو۔فیملی ڈنر ہے عادل کے گھروالے اور میرے گھر والے بھی ہوں گے۔ اور۔
وہ بولتے بولتے مسکائی
کوئی کینڈل لائٹ رومینٹک ڈنر پر نہیں جا رہے ہم۔ ماہا نے جتایا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئ۔
ماہا کو اسکے گھر چھوڑ کر وہ آدھے پنڈی کا چکر لگا کر واپس گھر پہنچ پائی تھی۔ نو بج رہے تھے امی اسکے انتظار میں ٹہل رہی تھیں۔ دو دن سے اس سے مخاطب نہ ہونے باوجود وہ اسکے کھانے پینے کا اسی طرح خیال رکھ رہی تھیں۔
کنزی سو گئ۔ اس نے یونہی پوچھا تھا مگر وہ جواب دیئے بنا کچن میں چلی گئیں۔
وہ تھکی تھکی سی اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر گر سی گئ۔
اسلام آباد میں اپنے ماہی منڈے والے حلیئے میں سارا دن گھومنے میں بھی اسے ان نظروں اور جملوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا تھا جو گلریز پنڈی میں ماہا کو اسکے گھر چھوڑنے کے بعد اسے گلیوں میں سے گزرتے سڑک پر آتے سگنل پر رکتے سننا پڑا تھا
ماہی منڈا،اوئے لڑکے، اوئے۔سن یہ بتا دے لڑکا ہے یا لڑکی، غلیظ جملے بازی ریس لگائے گا؟ نہیں ریس لگائے گی بول
سنو شش۔۔
آوازیں شور روشنیاں۔۔۔
ماں کی نرم سی آواز۔ ۔۔۔
مزنہ۔
اس نے جھٹ آنکھیں کھول دیں۔امی کھانے کی ٹرے لیئے کھڑی تھیں۔وہ ذہنی طور پر ابھی بھی شائد گھر نہ پہنچی تھی۔خالی خالی نگاہوں سے دیکھتی رہی جیسے انکے وہاں کھڑے ہونے کا مقصد سمجھ نہ آرہا ہو
سرخ لال بوٹی سی آنکھیں تپا۔ہوا چہرہ۔ ماں کا کلیجہ تڑپ سا گیا۔
ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اسکے پاس آبیٹھیں۔
کیا ہوا مزنہ طبیعت تو ٹھیک ہے نا بیٹا۔
امی آپ بھی مجھ سے نفرت کرتی ہیں؟
وہ یونہی دیکھتی رہی کہنا کیا تھا کہہ کیا گئ۔۔اس نے انکی گود میں منہ چھپا لیا۔
نہیں میری جان تم تو میری سب سے لاڈلی بیٹی ہو ۔۔
امی تڑپ ہی تو گئیں اسے اپنے بازوئوں کے حلقے میں لے لیا۔۔
ماہا بے خوش خوش یونیورسٹی آئی تھی۔ اسکو دیکھتے ہی بھاگی آئی گلے سے جھول ہی گئ۔ اسکے بے ساختہ اظہار پر اسکا سارا گلہ جاتا رہا موڈ بھی اچھا ہوگیا۔
کیا ہوا خیریت ہے؟ بہت خوش نظر آرہی ہو اور آج تو عادل کا دم چھلا بھی ساتھ نہیں ہے۔
پوچھتے پوچھتے بھی وہ طنز کیئے بنا نہ رہ سکی۔
اب سے وہ میرے آس پاس بھی نہیں پھٹکا کرے گا۔
وہ کھلکھلائی
کیوں بھئ منگنی ٹوٹ گئ کیا تمہاری۔
اسے سچ مچ یہی خیال گزرا تھا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو ماہا اسکے گھونسا دے جڑتئ پر آج وہ اور ہی ہوائوں میں تھئ۔جھوم کے بولی
اللہ نہ کرے بس ہماری شادی طے ہوگئ ہے دو مہینے بعد کی تاریخ رکھی گئ ہے سو اب سے ملنا جلنا بند دو مہینے تک ہک ہا۔ میں کیسے رہوں گی یار۔۔۔۔وہ اسکے ساتھ ساتھ قدم بڑھا رہی تھی مگر اسکی بات سن کر اسکے قدم رک سے گئے
بس جلدی جلدی سب کام ہونے ہیں ڈھیروں شاپنگ کرنی ہے مجھے اور اب سے تم اگلے دو مہینے تک آفیشلی میری ڈرائیور ہو ساری شاپنگ۔۔۔۔۔ بولتے بولتے اسے احساس ہوا کہ اکیلی چلتی جا رہی ہے تو چونک کر مڑی
کیا ہوا آئو نا کلاس شروع ہونے والی ہے ۔۔
اس نے یاد دلایا۔
کیوں شادی کرنے لگی ہو ابھی نا تمہاری پڑھائی مکمل ہے نا عادل کی کماتا وماتا تک نہیں ہے۔۔ اس نے اتنا منہ بنا کر کہا تھا کہ ماہا کو ہنسی آگئ
پکا لڑاکا پھپھیوں کی طرح اعتراض اٹھائے ہیں۔ ہا ہا ہا۔
بھئی ہمارا بی ایس کا آخری سمسٹر ہے اسکا ایم بی اے کا۔مڈز تو ہو چکے ہمارے فائنلز بھی ختم ہو جائیں گے دو مہینے تک پھر کیا کرنا میں نے تو شادی ہی سہی۔
وہ بے حد خوش اور مگن تھی سو آرام سے تاویلیں گھڑتی گئ۔۔
مگر دو مہینے میں عادل کی نوکری تو نہیں لگ جائے گی۔
اس نے ذرا بھنا کر کہا۔
تو عادل نے کونسا نوکری کرنی ہے ۔تایا ابو کا کاروبار ہی سنبھالنا ہے۔ چلو اس فالتو بحث میں پراکسی نکل جائے گی۔
ماہا نے اپنا کہا سچ کر دکھایا نا امتحانوں کی فکر تھی نا ہی کوئی اور کام دھندہ بس شاپنگ کا پروگرام بنا کر فون کھڑکاتی اور سارا دن اسے لیئےلیئے بازاروں کے چکر لگواتی رہتی۔ دھوپ میں پھر پھر کر اسکا رنگ سیاہ ہوگیا نا دوپہر کے کھانے کی فکر نا شام کے امی نے کچھ دن تو برداشت کیا اسکا یہ معمول مگر جب شام کو تھک ہارکر وہ جب بسترپر گری اور تھکن کے مارے کھانے سے بھی انکار کردیاتو انکےصبر کاپیمانہ لبریز ہوگیا بھنا کر باہر آئیں۔کنزی برتن دھورہی تھی انہوں نے ساری بھڑاس اسکےسامنے نکال دی۔
اتنا سا منہ نکل آیا ہے مزنہ کا۔نوکر ہی سمجھ رکھا ہے ماہا نے ۔صبح یونیورسٹی شام کو شاپنگ جانے دن بھر کچھ کھاتی پیتی بھی ہے کہ نہیں۔عجیب لڑکی ہے بھئ اپنی ماں بہن کے ساتھ شاپنگ کرے گاڑی میں گھومے میری بیٹی ملازمہ ہے کیا اسکی کہ اسے لیئےلیئےبازاروں کے چکر لگائے۔۔۔
روٹی پکاتےانہوں نے تھپ تھپ سارا غصہ نکال دیا۔ کنزی نے ماں کا غصے سے لال بھبھوکا چہرہ دیکھا تو مسکرا دی
ارے امی ماہا باجی اکلوتی تو ہیں کہاں کوئی بہن بھائی ہے انکا اور آنٹی کے ساتھ تھوڑی کھل کے گھوم پھر کر شاپنگ کر سکتی ہوں گی۔ جبھی مزنہ کے ساتھ جاتی ہیں کہ آرام سے دونوں سہیلیاں گھوم پھر کر چیزیں لیتی ہوں گی۔
ہاں تو کوئی حد ہونی چاہیئےنا روز روز کا یوں بازاروں میں پھرنا ابھی بھئ مزنہ کا چہرہ لال ہو رہا تھا ہلکا ہلکا بخار بھی لگ رہا تھاجیسے۔تھکا ڈالامیری بیٹی کو ابھی آئے ذرا اسکا فون خبرلیتی ہوں میں اپنے ابا کی گاڑی کو ہوا لگائے نا۔۔
کوئئ ضرورت نہیں اسکی خبر لینے کی۔دو چار دن کی ہی بات ہے اورجب مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تو۔۔
مزنہ شائد پانی پینے آئی تھی کچن کے دروازے کا سہارا لیئے انکی بات سن کر فورا بولی۔
حال دیکھو اپنا نچڑ گئ ہو چار دن میں کھانا وانا بھی چھٹ گیا ہے اس طرح تو بیمار پڑ جائو گئ۔
امی فکر مندی سے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر بولیں۔انکی بات پر کنزی نے بھی ذرا غور سے اسکی شکل دیکھی۔پژ مردگئ چہرے سے عیاں تھی۔ مضمحل سی وہ دروازے کا یوں سہارہ لیئے کھڑی تھی جیسے چکرا کر گر جائے گی۔
بس آج کھانے سے انکار کیا تھا دل نہیں تھا۔چلیں ابھی پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہوں آپکی فکر دور کرنے کو ٹھیک ہے۔
اس نے بشاشت طاری کرتےہوئےجیسے انکو بہلایا۔وہ بہل بھی گئیں۔تینوں نے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا مگر رات کو اسکو شدید بخار ہوگیا۔ صبح امی اٹھانے آئیں تو بخار میں پھنکتےکراہ بھی رہی تھی۔ امی کے تو ہاتھ پائوں پھول گئے۔ کنزی کو بھئ کالج جانے سے روک دیا اسکے سرہانےہی تسبیح لیکر بیٹھ گئیں۔ کنزی نے دودھ گرم کرکے لا کر دیا تو امی کو ڈبل روٹی یاد آئی
ڈبل روٹی ہی لے آئو بھوک لگ رہی ہوگی اسے۔
امی ڈبل روٹی تو ختم ہوگئ ہے۔ کنزی نے دھیرے سے بتایا
تو وہ اسےلانےکا کہتے کہتے رک گئیں
ہاں کل مزنہ کو یاد کرایا تھا لانا بھول گئ شاید۔
مزنہ کی پیشانی سہلاتے انہیں خیال آیا۔
لانے والی ہی وہی تھی ہر چیز۔
دوپہر تک بخار کا زور کم تو ہوا مگر سودا سلف ہر چیز کیلئے وہ دونوں بیٹھی رہ گئیں۔
گھر میں بس آلو تھے وہی پکا لیئے۔دلیہ ختم تھا دودھ بھی ختم تھا۔سونے پر سہاگہ موٹرالگ چلتے چلتے رکی تو دھواں دے گئ۔ابھی مزنہ ٹھیک ہوتی تو فورا مکینک لے آتی ۔ ڈاکٹرتک بلانے کیلئے وہ دونوں بیٹھی تھیں۔
امی مزنہ بیمار ہوئی ہے تو گھر کاہر کام ہی رک گیا ہے۔آج تو موٹر بنا بھئ گزارا ہو جائے گا کل کیا کریں گے ۔سودا سلف کیلئے کیا کریں؟
کنزی نے کہا تو وہ سوچ میں پڑ گئیں۔پھر حفصہ کو فون ملا دیا۔ حفصہ میاں کے ساتھ چکوال گئ ہوئی تھی وہ الگ پریشان ہو گئ مزنہ کی طبیعت کتنی خراب ہے جو ایسے فون کرناپڑا مشکل سے اسے مطمئن کرکےفون بند کیا۔
قریبی مارکیٹ سے سودا تو میں جا کر لے آتی ہوں باقی پانی احتیاط سے خرچ کرنا تم۔اور مزنہ سے کہو تھوڑی ہمت پکڑے قریبئ کلینک لے چلتے ہیں۔
امی نےخود ہی حل نکالا۔کنزی سر ہلاگئ۔ برسوں سے گھر سے نکلنے کی عادت نہیں تھی۔اللہ بخشے شوہر سخت گیرتھےکبھی انکے ساتھ بھی بازار جانے کی نوبت نہ آئی۔ہاں انکے بعد حالات نے خواریاں کٹوائیں ان سے مگر اب پھر پچھلے کئی سالوں سے اکیلے تو گھر سے نکلی ہی نہ تھیں۔ مگر بڑھتی عمرتھوڑا بہت با اعتماد کر ہی گئ تھی سو چادر
اوڑھ کرنکلیں تو سودے سلف کے بعد مکینک کو بھی بلا لائیں۔موٹر اپنی نگرانی میں ٹھیک کروائی کنزی ماں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوئی
امی ایویں ہی ہم نے سب کام مزنہ پر ڈال رکھے ہیں یہ سب کام تو آپ بھی کر سکتی ہیں ہم ایویں مکینک بلانےتک کیلئے بھی مزنہ کا انتظار کرتے تھے۔
کنزی مزنہ کے لیئے دودھ ڈبل روٹی لے جاتے ہوئے یونہی کہہ رہی تھی انہوں نے سر ہلا دیامگر یہ تو انکو پتہ تھا سائکلوں والے کے پاس جا کر موٹر ٹھیک کرنے کیلئے کاریگر کو بلارہی تھیں۔وہ تو بھلا انسان تھا مزنہ کو بھی جانتا تھا انکو گھربھیج کر خود مکینک کو فون کرکے بھجوا دیا تھا۔۔۔
اگلے دو دن مزنہ کا بخار چڑھتا اترتا رہا۔ حفصہ پریشان ہو کر فورا اگلے دن واپس آئی۔عامر ڈاکٹر کو بلا کر لائے دوائیں وغیرہ وہ ہی سب خیال رکھتے رہے۔ پھر بھی دو دن میں مزنہ نچڑ سی گئ۔ بخار کبھی سر پر چڑھنے لگتا کبھی چہرہ تھر تھرانے لگتا۔ ڈاکٹر نے شدید تفکر کا نتیجہ بتایا۔ امی نے مصلہ سنبھال لیا جانے کتنے نفل مان لیئے تیسرے دن وہ مکمل ہوش میں آئی تو فورا سجدے میں جا گریں۔کنزی پچھلے دو دن سے اسکے پاس ہی بیڈ پر سو رہی تھی امی کا میٹرس بھی اسی کمرے میں بچھا لیا تھا۔حفصہ کوشش کے باوجود رہ تو نہ سکی مگر تھوڑی تھوڑی دیر بعد فون کرکے خیریت پوچھ لیتی تھی۔ اس دن بھئ وہ مزنہ کے ساتھ سو رہی تھی جب اچانک مزنہ کا بخار بڑھنے لگا۔ کنزی نے اٹھ کر اسکے تھرمامیٹر لگا کر بخار دیکھا پھر پانی لا کر سر پر پٹیاں رکھنے لگی۔۔ وہ جانے کیا بخار میں منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگی۔اس نے کان لگا کر سننا چاہا ۔۔ ادھورے ٹوٹے جملے۔ وہ ماہا کو پکار رہی تھی۔ اسے اسکی حالت دیکھ کر خوف ہی آنے لگا۔ امی کی شائد ابھی آنکھ لگی تھی اس نے ایک دو بار پکارا مگر جب وہ ٹس سے مس نہ ہوئیں تو خود ہی جو جو سورت سمجھ آئی پڑھنے لگی۔ اس نے ایکدم اپنی لال انگارہ آنکھیں کھول کر دیکھا۔
تم تم ماہاتم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے جو ٹوٹے پھوٹے الفاظ تھے کہ زلزلہ تھے۔ انہوں نے کنزی کے سر پر جیسے پہاڑ گرا ڈالا تھا۔
صبح اسکا بخار ختم ہو چکا تھا۔خود ہی اٹھ کر منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بدلےناشتہ کیا سب دوائیں بنا چوں چراں کیئے کھا لیں۔ ۔یونیورسٹی جانے کی تو امی نے اجازت نہ دی۔ کنزی کی لگ رہا تھا طبیعت خراب ہوگئ تھی۔ سر بوجھل ہو رہا تھا آنکھیں رت جگے سے سرخ بھی ہو رہی تھیں پھر بھی یونیفارم پہنے تیار کھڑی تھی کالج جانے کو۔ ناشتے تک کوتیار نہ تھی۔
میں چھوڑ آئوں تمہیں کالج۔ اس نے بغور اسکی ڈھیلی طبیعت کو دیکھتے ہوئے آفر کی
نہیں ۔اس نے فورا انکار کیا
ساری رات تو بخار رہا ہے اب جاکے طبیعت سنبھلی ہے تو ذیادہ تھکن مت لو۔ ابھئ بھی ناشتے کے بعد جا کے سوجانا۔ ڈاکٹر نے ذیادہ سے ذیادہ آرام کرنے کا بتایا ہے۔ بتائو ایسے چہرہ تھر تھرا رہا تھا تمہارا بخار میں میری تو جان ہی نکل گئ۔
امی نے بھی فورا گھرکا وہ خاموشی سے کان دبا کے سنے گئ۔ کنزی نے دزدیدہ نگاہوں سے اسے دیکھا پھر جلدی سے اپنا بیگ اٹھا کر باہر گیراج میں چلی آئی۔حالانکہ ابھی اسکی وین آنے میں پورے دس منٹ باقی تھے۔۔۔۔
امی کے حسب ہدایت وہ آکر کمرے میں لیٹ تو گئ مگر نیند کوسوں دور تھی۔ یونہی وقت گزاری کیلئے موبائل استعمال کرنے لگی۔ماہا نے مشہور ریستوران کا چیک ان لگایا ہوا تھا۔
ہمراہ عادل۔ اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ۔ کہاں کہہ رہی تھی اگلے دو مہینے تک عادل سے ملنا ملانا بند اور اب اسکے ساتھ ہوٹلنگ ہو رہی ہے۔
اس نے اسی وقت یہی سب لکھ کر واٹس ایپ کر ڈالا۔
اسکا پیغام اس نے فورا پڑھا تھا مگر جواب نہیں دیا۔
کیا بات ہے جواب کیوں نہیں دے رہی ہو؟ یا عادل نے منع کیا ہے جواب دینے سے بھی۔
اسکا یہ پیغام بھئ پڑھ لیا گیا تھا جواب ندارد
تمہارے گھر والے جانتے ہیں تم باہر کس کے ساتھ گلچھرے اڑا رہی ہو؟
اسکو اتنا غصہ آیا کہ اس نے یہی لکھ بھیجا
میرے گھر والے بھئ ساتھ ہیں میرے اور تم اپنی چھوٹی سوچ اپنے پاس رکھو۔عادل نے منع نہیں کیا تھا جواب دینے سے میں کھانا کھا رہی تھی۔ہاں اور اگر وہ منع کرتا تو میں واقعی میں منع ہو جاتئ جواب نہ دیتئ۔
اسکا سچ مچ اسکی فضول بات پر دماغ گھوم گیا تھا سو سخت ہی جواب دیا اسے۔
اتنا اہم ہو گیا ہے وہ دو ٹکے کا عادل تمہارے لیئے کہ تم مجھے ایسے کہہ رہی ہو۔
اسے اتنے سخت جواب کئ توقع نہ تھی۔اسکے پیغام کو اس بار پڑھا بھئ نہیں گیا تھا۔اس نے جھلا کر فون ملا لیا۔ دو تین بیلوں کے بعد لائن کاٹ دی گئ۔ اس نے دوبارہ فون ملایا تو ماہا نے فون ہی بند کردیا۔
ہائش۔اس نے غصے میں آکر فون پوری قوت سے زمین پر پٹخ دیا۔وہ تو شکر ہے میٹرس بچھا ہونے سے بچت ہوگئ۔اسی وقت حفصہ جو کمرے میں داخل ہورہی تھی گھبرا کر ٹوکنے لگی
ارے ارے کیا کر رہی ہو۔ ؟
حفصہ کو دیکھ کر وہ بھی گڑ بڑا گئ۔ آگے ہو کر موبائل کی باقیات پر نظر ڈالی
شکر ہے بچت ہوگئ۔ حفصہ نے آگے بڑھ کر فون اٹھایا اور گھورنے لگی
لگتا ہے طبیعت ٹھیک ہوگئ تمہاری۔ دوبارہ جناتی غصہ وارد ہو رہا ہے تمہارا۔ شکر ہے۔ پتہ ہے امی کتنا پریشان ہوگئ تھیں تمہارے لیئے کبھی اتنی شدید بیمار نہ پڑیں تم ۔
حقیقت تو یہ کہ اسے ٹھیک ٹھاک بیٹھا دیکھ کر حفصہ نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔مزنہ کھسیا کر فون اسکے ہاتھ سے لینے لگی
ہاں آج بہتر ہوں۔
بہتر ہوتے ہی غصہ کس پر آگیا تمہیں ہیں؟ حفصہ اطمینان سے اسکے بیڈ پر برابر آن بیٹھی
وہ بس۔ وہ جز بز سی ہوئی
اور وہ تمہاری رگ جاں ہم نوالہ ہم پیالہ ماہا صاحبہ کہاں مصروف ہیں ؟ تین دن سے بیمار ہو ایک بار بھی خیریت پوچھنے کو بھی فون نہیں کیا اس نے کیسی دوست ہے۔
حفصہ نے کہا تو اسکا غصہ پھر واردہو گیا
موصوفہ عادل کے ساتھ لنچ کر رہی ہیں۔ دو مہینے بعد شادی ہے ان دونوں کی پھر بھئ ہر وقت اکٹھے رہتے ہیں۔گھر والےتک نہیں روکتے ان دونوں کو۔۔۔
اس نے اتنےدل جلے انداز میں کہا تھا کہ حفصہ کو ہنسی ہی آگئ مگر اسے منہ پھلائے دیکھ کر سمجھانے والے انداز میں بولی
تمہیں کیوں اتنا غصہ آرہا ہے؟ سہیلی پرائی ہورہی ہے تمہاری اب تمہارے ساتھ تھوڑی وقت گزارا کرے گی اپنے منگیتر کے ساتھ گھوما پھرا کرے گی۔
کیوں بھئ۔ شادی کر رہی ہے تو بس اب سب کچھ عادل ہے میری کوئی حیثیت نہیں رہی اسکے نزدیک
وہ دلی جزبات زبان پر لے آئی۔ حفصہ اسکے بچپنے پر مسکرا کر رہ گئ
یہی ہوتا ہے چندا۔ اب ہم تینوں بہنیں کیسے ہر وقت سر جوڑ کے بیٹھی رہتی تھیں اب مہینہ ہو جاتا مجھے تم دونوں کی شکل بھی دیکھے۔
اس نے پیار سے اسکے بال بگاڑے
شادی ہم لڑکیوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔ہماری ترجیحات بھی بدل۔جاتی ہیں۔ اپنے بہن بھائئ گھر والے دور ہو جاتے ہیں دوستیاں تو بالکل ہی ختم بھی ہو جاتی ہیں۔ اگر سیاں جی قسمت سے اچھے مل جائیں تو ہی دوستیاں قائم رہتی ہیں ورنہ سب ختم۔۔۔
میں ایسا نہیں کروں گا۔میرے لیئے ماہا ہمیشہ میری سب سے بہترین قریبی دوست رہے گی۔۔
وہ اٹل انداز میں ضدی انداز سے بولی
اب یہ تو وقت بتائے گا کیا پتہ تم شادی کے بعد سیاں سیاں کرو اور سہیلیاں بھول جائو۔
وہ بھی جوابا ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔
میں شادی ہی نہیں کروں گا پھر۔ اس نے حفصہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تو حفصہ کی آنکھوں میں الجھن تیر گئ۔ اسکی طبیعت بھی ٹھیک نہ تھی سو بحث میں نہ پڑی۔
بات بدل دی۔
اچھا یہ بتائو۔ گریڈز کیسے آئے ہیں مڈز میں تمہارے؟
اس نے بڑے پیار سے پوچھا تھا مگر مزنہ کی پیشانی پر بل پڑگئے
کیوں گریڈز کیوں یاد آگئے۔ ؟
ایسے ہی۔ حفصہ نے ٹالنا چاہا۔ گھما پھر کر پوچھنے لگی
کوئی جھگڑا وگڑا تو نہیں ہوا کوئی یونیور سٹی میں کوئی ٹیچر وغیرہ تو نہیں دشمن بنا ہوا ؟ اگر کوئی مسلئہ ہے تو تم کھل کر مجھے بتا سکتی ہو۔۔
ایسا کچھ نہیں ہوا اگر ہوا بھی ہے تو میں خود نمٹ سکتی ہوں ایسے معاملوں سے۔ مزنہ قطیعت سے بولی
کبھئ کبھی ہمیں لگتا ہے ہم بہت مضبوط ہیں اور ہم ہوتے بھی ہیں مگر بہت پریشانی ہو نا کسی بات کی تو ذہن پر بوجھ بہت بڑھ جاتا ہے ایسے موقعے پر کسی کے ساتھ باتیں کرکے وہ بوجھ بانٹ لیا جائے تو نا صرف انسان ہلکا پھلکا ہوجاتاہے بلکہ ہو سکتا ہے اگلا اتنا اچھا مشورہ دے کہ الجھن پریشانی ہی ختم ہو جائے۔ تمہارے ذہن پر بھی اگر کوئی بوجھ کوئی الجھن ہے تو تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو بتا سکتی ہو کیا چیز پریشان کر رہی ہے۔
حفصہ اس سے اسکی پریشانی کی اصل وجہ اگلوانا چاہتی تھی۔ ڈاکٹر نے صاف کہا تھا کہ اسکے ذہن پر شدید دبائو ہے جسکی وجہ سے اسکو فٹس پڑنے لگے تھے بہتر ہوگا اسکی ذہنی پریشانی میں کمی لائی جائے اس سے بات کریں اسکا خیال رکھیں اسکو احساس دلائیں کہ اسکے گرد محبت کرنے والے لوگ ہیں جو اسے مطمئن اور خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔
مزنہ اسے بے تاثر نظروں سے دیکھتی رہی
بتا دوں مجھے کیا پریشانی ہے؟۔
اسکا انداز عجیب سا ہوگیا تھا
ہاں نا میری جان مجھے نہیں بتائوگی تو پھر کسے بتائوگی؟
حفصہ نے محبت سے اسکےپیشانی کے بال سمیٹے۔
ماہا مجھ سے دور جا رہی ہے آپی۔ میں اسکے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔
تم نے چائے نہیں بنانی نہ بنائو میرے بارے میں کسی قسم کی فضول بکواس کی منہ توڑ دوں گا تمہارا۔ جائو نکلو یہاں سے۔گیٹ لاسٹ۔
اسکا انداز اتنا سخت تھا کہ باوجود خواہش کے کنزی بول نہ پائی شاکی نگاہ سے ماں کو دیکھتی پیر پٹختی باہر نکل گئ
بہت بد تمیز ہو گئ ہے یہ۔ اتنی زبان کب لگ گئ اسکے۔ سیدھا کرنا پڑے گا اسے اب۔ تم نماز وماز پڑھ لو میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔
امی سبھائو سے اسکے کندھے کو سہلاتی اٹھنے لگیں۔اپنی کنپٹی سہلاتی مزنہ چونک گئ پھر ٹھنڈی سانس لیکر ہموار لہجے میں بولی
مجھے نہیں پینی چائے۔لائٹ اور دروازہ بند کرکے جائیے گا۔
میں لیٹوں گی تھوڑی دیر۔
وہ بستر پر دراز ہوگئ
مگر بیٹا نماز کا وقت۔۔ امی نے ٹوکنا چاہا جوابا اس نے اپنا بازو آنکھوں پر ٹکا دیا۔امی چپ ہو گئیں۔اس وقت یقینا وہ کچھ سننے سنانے کے موڈ میں نہیں تھی۔ سواسکی ہدایت کے مطابق دروازہ اور بتی بند کرتی خود بھی باہر نکل آئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنزی بیڈ پر کپڑے پھیلائے انہیں کھول کھول کر دیکھ رہی تھی۔
بہت بدتمیز ہو گئ ہو تم بڑی بہن سے ایسے مقابلہ بازی کرتے ہیں؟ ذرا سا چائے بنا کر دے دیتیں تو گھس جاتیں۔
امی نے کمرے میں آتے اسے آڑے ہاتھوں لے لیا۔
کنزی نے ایک نظر انہیں دیکھا پھر گلابی پھولدار پرنٹ کی خوبصورت قمیض بیڈ پر پھیلا کر بظاہر سرسری سے انداز میں بولی
امی یہ قمیض مزنہ کو آجائے گی نا؟
فٹنگ والی جدید تراش خراش کا وہ کرتا پاجامہ دیدہ زیب لگ رہا تھا سلنے کے بعد۔
یہ تو تمہارا سوٹ ہے مزنہ نے تو گرے رنگ کا مردانہ کرتا سلوایا ہے۔ امی اسکے بات بدلنے پر چیں بہ چیں ہوئیں
ہاں تو کیا ہوا۔بہنیں ایک دوسرے کے کپڑے پہنتی ہی ہیں مزنہ پر یہ جچے گا آپ اسکو کہییئے گا کل یونیورسٹی یہی پہن کر جائے۔۔
وہ احتیاط سے تہہ لگاتے ہوئے بولی
تمہیں پتہ تو ہے وہ کتنا خفا ہوگی۔ اس سے یہ کپڑے نہیں پہنے جاتے تنگ ہوتی ہے وہ۔ اسکے لیئے جوڑا سل کر آیا ہے نا وہی پہنے گی وہ۔
امی بیڈ کرائون سے ٹیک لگاتے آرام سے بیٹھتی ہوئی بولیں۔
کیوں؟ کنزی تیز ہو کر دھپ سے بیڈ پر آن بیٹھی
سب لڑکیاں ایسے کپڑے پہنتی ہیں۔اگر اسے ڈھیلے ڈھالے پسند ہیں تو ہم اسکے لیئےڈھیلے ڈھالے کپڑے بنوا دیتے ہیں۔کب تک وہ مردانہ کپڑے پہنا کرے گی؟آپ سمجھائیں نا اسے۔ اب بڑی ہوگئ ہے۔ دوپٹہ اوڑھا کرے جیسے میں اوڑھتی ہوں لڑکیوں والے کپڑے پہنا کرے آپکو اندازہ بھی نہیں ہے لوگ اسکے بارے میں کیسی کیسی باتیں بناتے ہیں۔
کنزی کے کہنے پر وہ سنجیدہ سی ہو کر سیدھی ہوئیں
سچی بات تو یہ کہ وہ میری ایک نہیں سنتی۔جانتی تو ہو کتنی ضدی ہے۔قسمیں دے دے کراس کو بال کٹوانے سے منع کیا ہے اس پر بھی وہ کندھوں سے ذرا سا نیچے بال نہیں جانے دیتی۔ اب ایک بات منوائی ہے آہستہ آہستہ اسکو کپڑوں پر بھی منا لوں گئ
کب؟ یونیورسٹی تک تو پہنچ گئ ہے۔ نا بات چیت کا انداز بدلا ہے نا چال ڈھال کپڑے یا تو مردانہ کرتے پہنتی ہے یا جینز شرٹ۔اب تو اسے دیکھو تو پہلی نظر میں یہی گمان ہوتا کہ لڑکا ہی ہے۔
کنزی کے کہنے پر وہ آہ بھر کے رہ گئیں۔
حق ہاہ میری قسمت۔آج ہادی زندہ ہوتا تو اتنا ہی بڑا گھبرو جوان ہوتا دو سال کا ہی تو فرق تھا مزنہ اور ہادی میں۔اکٹھے کھیلتے تھے کپڑے بھی ایک جیسے پہنتے دوست بھی مشترکہ ہوتے تھے۔کتنی گم سم ہوگئ تھی اسکے جانے پر میرا خود حال برا تھا۔ اسکو ہادی کے کپڑے پہنے گھومتے دیکھتئ تو لگتا تھا ہادی ہی میری آنکھوں کے سامنے چل پھر رہا ہے۔ وہ کہتے کہتے آبدیدہ ہو گئیں۔مگر جانے کیوں ہر بار انکی ایسی کسی دکھ بھری بات پر تاسف سے انکو گلے لگا لینے والی کنزی آج بالکل نہ پگھلی۔
ہادی بھائی آج سے کئی برس پہلے گزر چکے۔ اس بات کو گرہ سے باندھ لیں۔ نہ وہ واپس آسکتے نا ہی انکی کمی کوئی پوری کر سکتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ مزنہ ہماری بہن ہے وہ چاہے جیسے مرضی۔۔۔
بولتے بولتے اس کی ماں کی آنکھوں سے جاری تواتر سے گرتے آنسوئوں پر پڑی تو خاموش ہی ہوگئ۔
جائو تم چائے بنائوایک چائے بنانے کیلئے کیا کیا تاویل نہ گڑھ لی بس زبان چلوا لو اس لڑکی سے ۔
آنسو پونچھتے ہوئے امی بگڑیں تو وہ جھلا کر اٹھ گئ۔
بنا رہی ہوں چائے۔ کبھی میری بات نہ سنئیے گا آپ نہ سمجھیئے گا۔
صبح دونوں ہی خاموش تھیں۔ امی کا بھی منہ پھولا ہوا تھا۔ کنزی کی وین آئی تو مزنہ بھی ساتھ اٹھ گئ۔ وہ بائک نکال رہی تھی جب اس نے وین والے کو کہتے سنا
واپسی پر وین نہیں آئے گی مجھے بہت ضروری کام سے گائوں جانا ہے واپسی پر آپ لوکل آجائیں گا۔
کنزی سر ہلاتی وین میں بیٹھنے جا رہی تھی جب اس نے پیچھے سے آواز لگا ئی
تم دو بجے کالج سے نکل آنا میں آجائوں گا لینے
اور کوئی وقت ہوتا تو کنزی خوش ہوجاتی مگر اس وقت پلٹ کر خاصے سخت انداز میں بولی
کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں میرے کالج آنے کی میں خود آجائوں گی وین سے۔
مزنہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی وہ آرام سے وین میں بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔
ذیادہ ہی دماغ خراب ہو رہا ہے اسکا۔ اسکو کیا لگتا معافی مانگوں گا میں۔۔ خود بدتمیزی کرتی ہے اوپر سے اکڑ بھئ رہی ہے۔
غصے سے بائک کو زوردار کک لگا دی۔
یونیورسٹی پہنچ کر حسب معمول اس نے ماہا کو ڈھونڈا تھا۔
نہ کینٹین میں نہ کلاس میں۔ کال ملائی تو کھلکھلاتے ہوئے بولی
میرے بغیر دل نہیں لگ رہا نا جانو؟ بس میں ابھی آئی ۔۔
اسکی کھلکھلاہٹوں کے درمیان بھی عادل کی آواز اسے سنائی دے گئ۔
وہ وہیں ڈیپارٹمنٹ کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگی
بات سنیں۔
ایک منحنی سی لڑکی اسکے پاس آکر بولی۔ اس نے یونہی سر اٹھا کر دیکھا
میرا نام بیلا ہے میں میڈیا اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ سے ہوں ٹک ٹاک بھئ بناتی ہوں آپ نے دیکھا ہوگا۔
اسکا انداز اتنا پریقین تھا کہ جیسے مشہور سیلیبریٹی ہے اور مزنہ تو یقینا فین ہی ہوگی اسکی۔
اچھا پھر؟۔ مزنہ کے تاثرات ہنوز رہے تو وہ تھوڑا گڑبڑا سی گئ
وہ میں ٹک ٹاک بنا رہی ہوں آپ بس میرے ساتھ چل لیں گی۔ مجھے لڑکا چاہیئے اپنے ساتھ ذرا سا ایکٹ ہے آپکو کوئی ڈائلاگ بھئ نہیں بولنا ہوگا۔ پلیز۔
اس نے اتنے منت بھرے انداز میں کہا کہ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
اسکو ساتھ چلتے دیکھ کر وہ جیسے بے طرح خوش ہوئی تھی۔ وہ میڈیا اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ کی تھی انکو کوئی پراجیکٹ کرنا تھا جس کیلئے اداکاری کیلئے لڑکا درکار تھا یہ سب تفصیل اس نے چلتے چلتے بتائی تھی۔
کہاں رہ گئ تھیں اتنی بڑی یونیورسٹی میں ایک لڑکا نہ ملا تمہیں؟
اسکی سہیلیاں اسے دیکھتے ہی چلائیں۔
آگئ آگئی اور وہ جو بانہوں میں بانہیں ڈالنے والا سین تھا نا اسکا بھئ انتظام ہوگیا۔
بیلا چہکی۔مزنہ ان سب کو سوالیہ انداز میں دیکھتی رہی۔
ماہا کی تین مسڈ کالز آچکی تھیں۔ وہ جلدی جلدی ٹک ٹاک بنوا کر بھاگی تو ماہا ڈیپارٹمنٹ کی لابی میں بے چینی سے منہ پھلائے گھوم رہی تھی۔۔
اس نے جاتے ہی اسکو پیچھے سے بانہوں میں بھر لیا ماہا خفگی سے خود کو چھڑانے لگی
چھوڑو جانے دو۔ جائو اپنے سب کام نمٹا لو ماہا جائے بھاڑ میں۔
وہ سخت خفا تھی اسے اس پر پیار ہی آگیا اسکا گال چوم کر اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکا دی
اتنی خفگئ میری جان۔ایسے روٹھو گی تو میں تو مرجائوں گا۔
اسکے مکالمے پر ماہا کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
اچھا تو یہ سب سیکھ کر آئے ہو تم۔
اس نے کہا تو وہ ہنس دی۔
یار وہ بی ایس کی نئی بچیاں تھیں۔کوئی پراجیکٹ تھا انکا اسکے لیئے چھوٹی سی ویڈیو بنانی تھی۔ اب لڑکے کے تو گلے نہیں لگ سکتی تھی سو مجھ سے خوب لپٹ لپٹ کر ڈائلاگ بولے اس نے۔ یہ والے ڈائلاگ میرے تھے۔اف تھکا دیا پندرہ ری ٹیکس دیں میں نے۔
اول تو بی بی آپ بھئ بی ایس ہی کی ہیں فائنل ائیر ہے تو کیا ہوا ایویویں انکی اماں بن گئیں بچیاں کہہ کر۔۔
ماہا نے کہا تو وہ ہنس کر بولی
اماں نہیں ابا۔۔
وہی۔ ماہا نے لاپروائی سے کندھے اچکائے۔
اچھا چلو آج ویسے بھی کوئی اہم پیریڈ نہیں ہے مجھے باہر جانا ہے کچھ شاپنگ کرنی ہے۔
اس نے کہا تو مزنہ نے جتانے والے انداز میں یاد کرایا
جانا تھا نا عادل کے ساتھ۔ ابھی اسی کے پاس تو تھیں۔
ارے عادل عادل ہے وہ میری جانو کی جگہ تھوڑی لے سکتا۔ اب میں جتنی آسانی اور سکون سے تمہارے ساتھ گھوم پھر سکتی اس عادل کے بچے کے ساتھ تھوڑی جا سکتی۔
ماہا اسے مسکا لگاتے ہوئےبولی۔
خاص کر شاپنگ میں تو وہ اتنا تنگ کرتا ہے جلدی کرو ۔۔
خیر تنگ تو میں بھئ ہوتا ہوں ایک چیز کیلئے دس دکانیں کھنگالتی ہو تم۔
لگے ہاتھوں مزنہ نے بھی جتا دیا۔
لیکن تم جتنا بھی چڑ لو ہمیشہ میری شاپنگ مکمل ہونے تک میرا ساتھ نبھاتے ہو ۔ماہا اسکے کندھے سے جھول گئ
کاش تم پکے والا لڑکا ہوتے سچی میں نے عادل ہو لفٹ ہی نہیں کرانی تھی۔ ماہا بے تکی ہانک رہی تھی۔
میں اور تم ہمیشہ ساتھ رہتے اف اتنا گھومتے پھرتے آئیڈیل کپل ہوتےہم ہائیٹ بھی میچ کرتی ہے ہماری
بائک پر ماہا اسکا کندھا دبوچے بیٹھی تھی۔ اور وہ آج اسے ڈرانے کو خوب تیز بائک اڑاتے لائی تھی۔ مال کے باہر بائک روکی تو وہ اچھل کر نیچے اتری ایک زور دار مکا لگا دیا اسکے کندھے پر
اگر تم یہ سمجھتے ہو نا ایسے مجھے ڈرادوگے اور آئیندہ میں تم سے شاپنگ پر جانے کی فرمائش کرنا چھوڑ دوں گئ تو غلط فہمی ہے تمہاری آج اور آئیندہ بھی مجھے جب جب جانا ہوگا تم ہی مجھے لیکر آیا کروگے سمجھے۔
اسکے خونخوار انداز کے برعکس وہ سکون سے بائک کا انجن بند کر رہی تھی۔
ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا تحفہ عادل کیلئے تم نے لینا ہے تو میں کیوں تمہارے ساتھ یہاں خوار ہورہا ہوں بھئ
اسی کے ساتھ آنا تھا نا۔
لو۔ وہ برا مان گئ۔
پھر سرپرائز کیسے رہتا۔ ہماری منگنی کے بعد پہلی سالگرہ ہے اسکی مجھے اسکے لیئے بہت اچھا سا تحفہ لینا ہے۔
وہ جھوم جھوم کر بولی تھی۔ مزنہ اسے دیکھ کر ہی رہ گئ ۔ پھر مال میں عادل کی شاپنگ کہیں پیچھے رہ گئ جہاں اسے سیل لگی نظر آتی گھس جاتی ۔۔۔
پہلے عادل کیلئے کچھ لے لو۔
مزنہ کو ٹوکنا پڑا
ہاں تو عادل کیلئے تو سب سے بہترین تحفہ لینا ہے ایسے ہی تھوڑی کچھ اٹھا لوں گی کچھ دل کو جچے کچھ بھائے۔۔۔۔ اف کتنا پیارا ہے یہ
بولتے بولتے مشہور برانڈ کا بے حد خوبصورت کرتا پسند آگیا جھٹ اپنے ساتھ لگا کر دیکھنے لگی۔
تم غالبا عادل کی شاپنگ کیلئے آئی تھیں۔
مزنہ نے ٹوکا تو وہ ڈھٹائی سے ہنس دی
میں بھی تو عادل کی ہی ہوں۔۔عادل میرا میں عادل کی۔۔۔۔۔
کچھ ذیادہ ہی فدا ہو عادل پر اتنا بھئ پیارا نہیں ہے وہ
خواتین کی سائیڈ کے مقابل ہی مردانہ کلیکش تھی وہ قصدا لاپروائی سے کہتی اسے چڑاتی اس جانب چلی آئی۔ماہا کسی اور جوڑے کی طرف مگن ہوگئ تھی اس نے دھیان نہ دیا شائد۔جبھی اسکا وار خالی گیا۔
مردانہ حصہ بالکل خالی پڑا تھا وہ ڈمی پر لگے اس خوبصورت کاٹن کے کرتے کی جانب چلی آئی۔ گلے پر ہلکا سا کام کلف لگا کرتا نیچے جینز ڈمی خوب سج رہا تھا
اس جانب لگا ہوا ہے یہ جوڑا اگر آپ ٹرائی کرنا چاہیں تو
اسکے مردانہ حلیئے اور کرتے کو دیکھنے کے انداز سے یقینا اس سیلز گرل کو غلط فہمی ہوئی تھی۔ بولتی قریب آئی تو اسے دیکھ کر جھجک سی گئ
سورئ میں سمجھی آپ اپنے لیئے دیکھ رہے میرا مطلب دیکھ رہی ہیں۔
خالص مردانہ کرتے واسکٹ اور جینز میں ملبوس خاتون کو دیکھ کر اسے یقینا حیرت کا جھٹکا سا لگا تھا۔
وائو۔ مجھے پتہ تھا تم میری مدد کروائوگے۔ یہ واقعی بہت پیارا کرتا ہے۔عادل کیلئے دیکھ رہے ہو نا
ماہا حسب عادت شور مچاتی آئی۔کرتے کو توصیفی انداز سے دیکھتئ پسند کی مہر لگاتی
نہیں میں تو اپنے لیئے۔
مزنہ نے اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی مگر جلد باز ماہا مڑ کر سیلز گرل سے شروع ہوچکی تھی۔
مجھے یہ والا کرتا دکھائیں کونسا سائز بیسٹ رہے گا ہاییٹ ویسٹ بس کچھ اسی جیسی چاہیئے عادل کا بس ایک آدھ نچ ہی قد ذیادہ ہے مزنہ سے۔
سیلز گرل سے مستقل بولتے ہوئے وہ یہی کرتا نکلوا رہی تھی۔
پھر بل بنواتے تک بولتے بالتے اسے کائونٹرپر جیولری پسند آگئ
نازک سے زنجیر میں جھل مل کرتے نگینے جڑے آویزے۔۔ چین اتنی باریک تھی کہ دور سے دیکھنے پر لگتا نگینے ہوا میں معلق ہیں۔
یہ کیسے ہیں۔ کانوں میں سجا کر وہ اسکو دکھا کر پوچھنے لگی
جانے جگر جگر کرتے ہیرے جیسے نگینوں کی جھلملاہٹ تھی یا اسکے گالوں میں پڑتے ڈمپل سے اسکے چہرے ہر جگمگاہٹ تھی وہ بے تحاشا حسین لگ رہی تھی۔
بتائو نا کیسی لگ رہی ہوں میں؟
ماہا نے ٹوکا
بہت پیاری بے حد حسین۔
اس نے دل سے کہا تو وہ پھر کھلکھلا دی۔ اسکا حسن دو آتشہ سا ہو چلا
مزنہ نے سنبھل کر اسکے گال پر جھولتی اس آوارہ سی لٹ کو احتیاط سے اسکے کان کے پیچھے اڑس دیا۔۔
وہ روبیہ اور لیلی کے ساتھ کینٹین میں گپ شپ کرتی سموسہ چاٹ اڑا رہی تھی جب شمائلہ اپنے گروپ کے ہمراہ بن بلائے مہمان کی طرح نازل ہوگئ۔
تمہاری بہن تو بڑی سپر اسٹار نکلی۔ اوہ۔ وہ جان کے اٹکی۔
معاف کرنا سپر اسٹار نکلا۔ پوری ٹک ٹاک پر ٹرینڈنگ میں آرہا ہے۔ ہمیں پتہ ہوتا تو اس دن روک کرآٹوگراف لے لیتے۔۔
وہ آنکھیں مٹکا مٹکا کر چمک چمک کر بول رہی تھی۔اسکی سہیلیاں کھی کھی کرنےلگیں۔
میں تو کندھےسے لگ کر تصویر بھی بنوا لیتی ۔۔ اسکی سہیلی نے لقمہ دیا
ارے امی کو کیا بتاتیں کس کے کندھے سے لگ کر تصویر بنائئ ہے لڑکی یا لڑکا۔
یہ ہما تھی کہتے ساتھ ہی ہنسے چلی گئ۔
کیا بد تمیزئ ہے یہ شمائلہ۔
کنزی کا طیش سے منہ سرخ ہو چکا تھا۔ اسکا ہاتھ دبا کرروکتے ہوئےلیلی بولی تھی۔
بد تمیزی؟؟؟ ارے ہم تو تعریف کر رہے تھےسچی ہمیں نہیں پتہ تھا اسکی بہن ہیرو آتی ہے ٹک ٹاک پر۔
شمائلہ نے بھولا بن کراپنا موبائل اسکی نگاہوں کے سامنےلہرایا۔
کیا بکواس کر رہی ہو۔کنزی دونوں ہاتھ میز پر مارتی غضب کےمارےاٹھ کھڑی ہوئی
بکواس تعریف کر رہی ہوں دیکھو کتنا اچھا ایکٹر ہے تمہارا بھائئ۔ میرا مطلب بہن۔
شمائلہ کے چہرے پر چڑا دینےوالی مسکراہٹ تھی۔اسکا موبائل نگاہوں کے سامنے تھا کنزی نے تھامنا چاہا مگراس نے موبائل چھوڑا نہیں بلکہ ویڈیوچلا بھئ دی۔
مشہور بھارتی گانے پر وہ لڑکی بہت جھوم جھوم کر اس لڑکے کے کندھے سے لٹک لٹک کر گا رہی تھی۔لڑک بھی خوب موج میں اسے احتیاط سے تھام رہا تھا۔ لڑکے کی بس ایک دو بار جھلک ہی آئی تھی۔ویڈیو کےآخر میں دونوں نے اپنی پیشانیاں ٹکائیں اور رومانوی پوز دیا۔۔۔ لڑکی کو وہ نہیں جانتی تھئ مگرلڑکا وہ لاکھوں لوگوں میں پہچان سکتی تھی۔ وہ لڑکا۔ کوئی اور نہیں اسکی اپنی سگی ماں جائی تھی
وہ پتھرا سی گئ۔
کینٹین میں موجود سب لڑکیوں کی توجہ انکی جانب ہونے لگی
شمائلہ نے استہزائیہ انداز سے دیکھتے ویڈیو دوبارہ پلےکردی
بھئی مبارک باد دو کنزی کی بہن مشہور ہوگئ ہے ٹک ٹاکر کے طور پر۔
شمائلہ کی سہیلی نے اعلان کر ڈالا۔ لڑکیاں فورا متوجہ ہوئیں
یہ لڑکی کنزی کی بہن ہے؟ جانے کس نے پوچھا
نہیں یہ لڑکی نہیں اس ویڈیو میں جو لڑکا ہے وہ۔۔
شمائلہ اس تماشےسے بہت محظوظ ہورہی تھی۔ روبیہ اور لیلی نےکنزی کا ہاتھ پکڑ کر اس جمگھٹےسے نکلنا چاہا۔
کیا ہوا؟ کنزی کا بھائی ٹک ٹاکرہے؟
ایک لڑکی اسکو روک کرپوچھ رہی تھی
ارےکنزی کا بھائی نہیں بہن ہے ۔۔ اسکی بہن لڑکوں جیسی لگتی ہے۔
جانےکون اعلان کر رہی تھی کنزی نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔روبیہ اور لیلی کتنے جتنوں سے اسے کھینچ کھانچ کر کینٹین سےباہر لے کر آئیں۔سائکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے بیک سائیڈ اس وقت سنسان ہو تی تھیں دونوں اسے تھام کر وہیں لے آئیں۔ دیوار سے لگ کر بیٹھتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
مت روئو۔ شمائلہ کی عادت تو جانتی ہو۔ ایسا بھی کچھ عجیب نہیں یہ ٹک ٹاکر انیتا اسکومیں بھی فالو کرتی ہوں اسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے جسمیں مزنہ آپی پڑھتی ہیں۔بنوا لی ہوگئ ویڈیو۔شمائلہ کا پتہ تو ہےتمہیں ہے ہی سڑی ہوئی جل ککڑی۔۔
لیلی اسکو بہلانےکو جو سمجھ آرہاتھا کہے جا رہی تھی۔
اسی مانوس گانےکی آواز سنائی دی تو لیلی نے گھور کر روبیہ کو دیکھا۔وہ سنجیدہ سی شکل بنائےویڈیودیکھ رہی تھی گڑ بڑا سی گئ۔ کنزی نے بھی سر اٹھا کر دیکھا۔
وہ میں بس دیکھنا چاہ رہی تھی کمنٹس۔
روبیہ نے صفائی دینا چاہی۔ کنزی نے دوپٹےسے آنسو پونچھے اور اسکا موبائل ہاتھ میں لیکرخود بھی کمنٹس پڑھنے لگی۔
ان لوگوں نے اس دن کم تماشا لگایا تھاجب مزنہ آپی اسکو چھوڑنے آئی تھیں۔ اب تو انکوپکاموقع ملا ہے
روبیہ گہری سانس لیکر بولی
یار عجیب سائکو ہیں یہ۔ہمیشہ لیٹ کالج آتی ہیں اس دن کنزی لیٹ ہو گئ تو دیکھ لیا ورنہ کتنی دفعہ تو مزنہ آپی اسے چھوڑ کر گئ ہیں لینےتو اکثر ہی آتی تھیں گارڈ تک پہچانتا انکو انہوں نےاس دن ایسے تماشا بنا دیا تھا جیسے
لیلی کو شمائلہ پرشدید غصہ آرہا تھا۔
کنزی خاموشی سے کمنٹس پڑھنے لگی۔
یہ لڑکی سائیکوہی ہے۔۔یونیورسٹی بھی ایسے ہی آتی ہے۔
کالج سے آکروہ جلے پیرکی بلی کی طرح پھری تھی۔ امی نے سب ناراضگئ بالائے طاق رکھ کر اسکی بے چینی کا سبب بھی پوچھا مگر وہ سیدھا کنزی سے ہی بات کرنا چاہتی تھی۔امی اسے اسکےحال پر چھوڑ کر نماز کی نیت باندھنے لگیں۔
وقت گزرتا گیا شام کی چائےبن گئ۔ اس نے مزنہ کو فون کھڑکایا اس نے اٹھایا ہی نہیں ۔امی اطمینان سے آکر لائونج میں آٹھ بجے کاڈرامہ دیکھنے لگیں
وہ سنجیدگی سے انکے پاس آن بیٹھی۔
امی کی یونہی نظر پڑگئی تو تشویش سے پوچھنے لگیں
کیا ہوا کنزی۔۔
امی کا پوچھنا غضب ہو گیا۔ وہ بل کھا کر بولی
امی آٹھ بج رہے ہیں کنزی ابھی تک گھر نہیں آئی۔
امی نوٹس لیئے بنا بولیں۔
آتی ہوگی آج یونیورسٹی کے بعد ماہا کے ساتھ کہیں جانا تھا۔ اسے۔
ایک یہ ماہا آپی۔ مانا بچپن کی دوست ہیں مزنہ کی مگر ڈرائیور کی طرح پیش آتی ہیں مزنہ کے ساتھ۔ کہیں جانا فون کھڑکا دیا یہ بائک لیکر حاضر ہیں۔ لڑکیوں والی دوستی تو نہیں نبھاتیں الٹا مزنہ کو مستقل لڑکوں کی طرح ٹریٹ کر کرکے اور اسکا دماغ خراب کر دیا ہے۔
امی ہنس دیں۔
ہاں اسکا فون آیا تھا کنزی کے فون پر کنزی باتھ روم میں تھی تو میں نے اٹھا لیا کہہ رہی تھی۔ جانو بھول گئے آج ہم نے صدر جانا تھا مجھے تو اتنی ہنسی آئی اسکے ایسےبولنے پر اور وہ میری آواز سن کر اتنی شرمندہ ہا ہا ہا۔
دیکھا۔کنزی اپنا اندازہ درست ثابت ہونے پر تیز ہو کر بولی
اب انہوں نے صدر جانا تھا اور مزنہ انکے لیئے ڈرائیور ڈیوٹی کرے گی کیوں بھلا؟۔
ارے پرانے تعلقات ہیں۔ واحد تو دوست ہےمیں تو شکر کرتی ہوں ایک ہی سہی لڑکی دوست ہے ورنہ اسکا یاد ہے لڑکپن تک لڑکوں کے ساتھ ہی کھیلتی تھی آئوں گا جائوں گا کہتی تھی اب تو۔۔۔ امی کے ڈرامے میں اشتہار آگئے تھے سو فرصت سے بیٹی سے بات سے بات بڑھانے لگیں۔کنزی کو سمجھ نہ آیا کیسے بتائے۔سو بات بدل کر گھڑی کی جانب اشارہ کرنے لگی
اور وقت دیکھیں۔کبھی آپ نے مجھے اور حفصہ آپی کو تو اتنی رات گئےکہیں آنے جانے نہ دیا۔ حفصہ آپی کی تو شادی بھی ہو چکی ہےپھر بھی انکو آپ شام میں رکشے تک میں اکیلے نہیں جانے دیتیں ہمیشہ عامر بھائی آتے پھر اسے کیوں نہیں ٹوکتیں۔ ساڑھے آٹھ ہو رہے ہیں کوئی اتا پتہ نہیں اسکا۔
امی اسکا لال بھبھوکا چہرہ دیکھتی ہی رہ گئیں پھر سبھائو سے سمجھانے لگیں۔
مزنہ ماشا اللہ سے سمجھدار بہادر لڑکی ہے اپنی موٹر سائکل لیکر گئ ہے..
امی لڑکیاں بہادر نہیں ہوتیں ہونا نہیں چاہیئے ہوں بھی تو لڑکی کو لڑکی تو لگنا چاہیئے یہ دیکھیں۔
اس نے غصے کے مارے ویڈیو نکال کر دکھا دی۔
کیسی ویڈیوز بنا رہی ہیں لڑکیاں یہ منگیتر بھی ہے اگر اسکا تو یوں لپٹنا۔۔
امی پہچانی ہی نہیں۔
غور سے دیکھیں امی یہ لڑکا نہیں ہے مزنہ ہے۔
کنزی نے سر پیٹ لیا۔
اچھا ہاں۔وہ مسکرا دیں۔
میں ماں ہو کر دھوکا کھا گئ ما شا اللہ میری مزنہ
اوفوہ امی۔ کنزی جھلا کر چیخ پڑی
ذرا کمنٹ کھول کر دیکھیں کیا کہہ رہے ہیں لوگ مزنہ کے بارے میں ہجڑا تک کہہ رہے ہیں اسے۔ اور آپ خود دیکھیں مزنہ بالکل بھی لڑکیوں جیسی نہیں ہے بولتی چلتی پہنتی اوڑھتئ سب لڑکوں کی طرح ہے لڑکی کہو تو غصے میں آجاتی ہے۔ بولتے بولتے اسکی نگاہ بائک کی چابی جھلاتی مگن سی لائونج میں داخل ہوتی مزنہ پر پڑی۔ مردانہ گہرے رنگ کی ۔ ٹی شرٹ جینز میں ملبوس دوپٹہ ندارد۔ہاتھ میں شاپر پھر کسی دکان کے چکر لگا کے آئی تھی۔مزید لوگ مزید الٹی سیدھی باتیں
چڑ کر کہہ دیا
اور یہ تو دوپٹہ تک نہیں اوڑھتی۔ باہر پھر پھر کر چہرے تک پر سختی آچکی ہے اسکےلڑکی لگتی ہی نہیں ہے اب۔
کیا فضول باتیں کر رہی ہو کہاں سے فضول باتیں ذہن میں آرہی ہیں تمہارے۔
امی کی پشت تھئ پھر بھی لاڈلی بیٹی کی حمایت میں کنزی پر خفا ہونے لگیں۔ ۔کنزی کو دیکھتےمزنہ وہیں رک کر سننے لگی تھی اب ماتھے پر کئی شکنیں بھی ابھر آئی تھیں۔
کنزی اٹھ کر کھڑی ہوگئ۔
یہ فضول باتیں نہیں ہیں۔ امی اسکو سمجھائیں یہ لڑکی ہے لڑکی رہے لڑکا بننے کی کوشش میں بیچ میں ہی نہ۔
بکواس بند کرو۔ مزنہ بھاری آواز میں چلا اٹھی۔
جتنا مرضی چلائومگر حقیقت سے نظر نہ چرائو تم دوپٹہ اوڑھو نہ اوڑھوآئوں گا جائوں گا کرو نہ کرو تم لڑکی ہو لڑکی رہو گی
کنزی بے خوفی سے دوبدو تھئ۔مزنہ طیش کے عالم میں اسکی جانب بڑھی۔ امی گھبرا کر مزنہ کو روکنے لگیں
ہوش کرو وہ تو چھوٹی ہے نادان ہے جانے کس کی باتوں میں آگئی
امی کے جملے اسے تیر کی طرح چبھے
چھوٹی ہوں نادان نہیں۔ آپ نادانی کر رہی ہیں۔کچھ اندازہ ہے آپکو لوگ پیٹھ پیچھےاسے سائکوخبطی پاگل کیاکچھ نہیں کہتے اور اب اس ٹک ٹاک والے کارنامے کے بعد تو ہجڑا اور گ۔۔ وہ فرط شرم سے چپ کر گئ
بولو کیا کہتے۔ مزنہ دانت کچکچا رہی تھی۔۔
گھر میں اتنی زبان چلتی ہے باہر جواب کیوں نہیں دیتیں تم
امی ان دونوں کو روکتے جھلا گئئیں۔
کس کس کو جواب دوں ؟کنزی چلائی تو کئی آنسو گال پر امنڈتےچلے آئے
کس کس کو روکوں۔ خالہ عامر بھائی محلے والے اور میری سہیلیوں تک تو منہ درمنہ مقابلہ کیا اب تو اسکو انجان لوگ تک۔ آپکو احساس کیوں نہیں ہوتا یہ غلط ہے شرم آتی ہے جب لوگ اسکو ۔۔
تو تمہیں بھی میرے وجود سے شرمندگی ہو تی ہےحفصہ کی طرح۔ ؟ تم چاہتی ہو میں تمہاری طرح نزاکت سے چلا کروں ہر وقت دوپٹے میں الجھی رہا کروں شلوار پہن کر بائک چلایا کروں؟؟
مزنہ دھاڑی۔ آنکھوں میں سرخ ڈورے بھاری آواز امی بھی ٹھٹک کر اسے دیکھنے لگیں۔۔کنزی ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔
بات سنو مزنہ۔ امی نے پیار سے اسکا بازو تھام کر سمجھانا چاہا
کچھ نہیں سننا میں نے خوب سمجھ رہی ہوں میں اسکا مسلئہ۔مگر یاد رکھو میں جیسی بھی ہوں لڑکوں جیسی یا ہجڑوں جیسی ہر طرح سے تم سے بہتر ہوں۔یاد رکھو ایک درزی سے جوڑا لانے تک کیلیئےتم اسی مزنہ کی محتاج ہو۔ اگر لڑکیاں تم جیسی ہوتی ہیں تو میں لڑکا ہی ٹھیک ہوں۔
وہ مزنہ کا جوڑا ہی درزی سے لائی تھی۔ ہاتھ میں پکڑا شاپر
کنزی پر اچھال کر حقارت بھرے انداز میں کہتی مزنہ کنزی کو اتنی مختلف اور اجنبی لگی کہ چند لمحے دیکھتی ہی رہ گئ
بہن کو غلط مت سمجھو بیٹا۔ اتنا غصہ مت کرو میری اچھی بیٹئ ہو نا تم
امی لجاجت سے بولیں تو وہ لمحہ بھر کو خاموش ہو کر انہیں دیکھنے لگی۔ اپنی پیشانی مسل کر خود کو ٹھنڈا کیا جیسے۔اس بات ہموار مگر اٹل لہجے میں بولی۔۔
بیٹی نہیں بیٹا ہوں میں امی آپکے ہادی کا پرتو۔میں لڑکا ہوں آپکا بیٹا۔اس حقیقت کو جتنی جلدی ہوسکےباور کرلیں۔
وہ کہہ کر رکی نہیں پیر پٹختی کمرےکی جانب بڑھ گئ
کنزی تو کنزی امی بھی سناٹے میں آگئ تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے وہ سنجیدہ سی شکل بنائے موبائل میں مگن تھی۔ جب امی تھکی تھکی سی کمرے میں داخل ہوئیں۔
جانے کس کی نظر لگ گئ ہے ایسا گھل مل کے بیٹھی رہتی تھیں میری بیٹیاں اب ہر وقت کا جھگڑا۔
امی اسے ڈانٹنے ڈپٹنے کے موڈ میں تھیں مگر وہ بے نیازی سے موبائل میں لگی رہی۔
جانے دوپہر کو کچھ کھایا یا شام کو میں نے اتنا پکارا تو دروازہ کھول لیا مگر کھانا کھانے کو تیار نہیں ہوا یہ جا کر دوبارہ منہ تک چادر تان کے لیٹ گیا ہے۔
امی بولتی ہوئی کمرے کی چیزیں سمیٹ رہی تھی
کھانے کو تیار نہیں ہوئی، دوبارہ منہ تک چادر تان کر لیٹ گئ ہے۔
وہ جتانے والے انداز میں چبا چبا کر بولی
امی آپ تو میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ موبائل ایک طرف رکھ کر وہ سیدھی ہو بیٹھی
کیا سمجھوں ۔امی چڑ گئیں۔
تم تو ایسی نہ تھیں اتنی پیاری بیٹی تھیں۔بہن سے اتنا پیار کرتی تھیں جب کوئی کچھ اسے کہتا تھا تو لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتی تھیں آج کیا کچھ نہ سنا دیا تم نے اسے۔
بالکل میں اب بھی وہی ہوں۔ امی۔ مگر آج جب کوئی اسے کچھ کہتا ہے تو مجھے یہ سمجھ بھی آرہا ہے کہ اس نے موقع دیا ہے دنیا کو باتیں بنانے کا۔ ایک دنیا کی لڑکیاں کیا کچھ نہیں کرتیں جہاز اڑاتی ہیں ، پہاڑ کی چوٹی سر کرتی ہیں سب کیا اپنی چال ڈھال حلیہ بدل لیتی ہیں؟ اسکو لڑکی کہہ دو تو اسے گالی کی طرح لگتا ہےامی یہ نارمل رویہ نہیں ہے خدا کاواسطہ ہے میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ بچپن سے ایسی ہے اب اچانک کیوں تمہیں اس میں اتنے کیڑے نظر آنے لگےہیں۔
صبح وہ کب اٹھی کب باہر چلی گئ انہیں پتہ نہ لگا۔وہ اتوار کی وجہ سے گیارہ بجے اٹھیں۔ کنزی کو جگایا اسے اٹھانے کمرے میں آئیں تو وہ گھر میں نہیں تھی۔ بائک بھی نہ تھی۔
ابھی فون کرکے پوچھنے کا سوچ ہی رہی تھیں کہ بائک پورچ میں آرکنے کی آواز آئی۔ وہ کچن سے تجسس میں باہر لائونج میں چلی آئیں تو داخلی دروازے سے حفصہ اور مزنہ اکٹھے اندر آرہی تھیں۔
اسلام و علیکم امی۔
وہ خوشگوار انداز میں آکر ان سے لپٹ گئ۔
وعلیکم السلام۔ کیسی ہو پورے دو ہفتے بعد ماں یاد آئی تمہیں ہیں۔
بیٹی کو کلیجے سے لگا نے پر ڈھیروں ٹھنڈ سینے میں پڑی تھی پھر بھی ہلکا پھلکا شکوہ کر ہی ڈالا۔ جوابا حفصہ کھلکھلائی
اف آپکو نہیں پتہ کتنی مصروفیت رہی ہے آخر کار خوشخبری ہے میرے پاس مگر امی پہلے اچھا سا پراٹھا بنا کر کھلائیں قسم سے پیٹ میں چوہے کود رہے ہیں۔
وہ بچوں کی طرح ٹھنکی۔
امی مجھے بھی ناشتہ کرادیں۔آپی نے نہار منہ بلوا لیا گیٹ پر انتظار میں کھڑی تھی بس جیسے ہی پہنچا بیٹھ کے واپس یہاں لے آئیں پانی تک کو نہ پوچھا۔
مزنہ اپنے ہمیشہ کے انداز میں بولتی ہوئی لائونج میں ٹی وی چلا کر صوفے پر گر گئ۔امی نے چونک کے شکل دیکھی۔نارمل انداز تھا رات والی تلخی کا شائبہ تک نہ تھا۔امی محبت سے مسکرا دیں
کیا کرتی امی ردا اپنی دادو اور اپنے تایا کے بچوں کے ساتھ کل سے اپنی پھپو کے گھر گئ ہوئی ہے۔ یہ صبح صبح گاڑی لیکر نکل گئے لاہور جانا تھا انہیں اب میں اکیلی تھی۔ کیا اپنے لیئے اہتمام کرتی سوچا آج ماں کے ہاتھ کا پراٹھا کھائوں۔
حفصہ لاڈ سے ماں کے کندھے سے جھول گئ
بس دو منٹ میں بناتی ہوں اپنی بیٹیوں کیلئے پراٹھے۔جائو کنزی کو بھی اٹھا لائو۔ امی کہتی فورا کچن میں گھس گئیں۔ حفصہ نے آلو کی ترکاری تیار کی گرم گرم پراٹھے۔کنزی اٹھ آئی تو بہن سے لپٹ گئ۔ ہنستے بولتے اسی نے چائے بنا دی۔ اہتمام سے جب ناشتہ کرنے بیٹھیں تب تک مزنہ آرام سےٹی وی کے چینل بدلتی رہی
اب مزنہ کو بھی گھر کے کاموں میں لگائیں کم از کم چائے تو بنانئ سیکھ لے۔
حفصہ نے تو یونہی بات کی مگر امی بری طرح سٹپٹا گئیں۔ او رآنکھ کے اشارےسے اسے چپ ہونے کا کہنےلگیں۔مزنہ تو بے نیازی سے ناشتہ کرتی رہی جیسے سنا ہی نہ ہو کنزی کے چہرےپر بڑی جتاتی مسکراہٹ آئی تھی۔
اتوار کے دن کے حساب سے کئی کام منتظر تھے مگر سر فہرست سودا سلف لانا تھا۔حفصہ کو اپنے ہاتھ کی بریانی کھلانے کیلئے انہوں نے فٹا فٹ سودے کی فہرست مزنہ کے حوالے کی وہ فورا بائک لیکر نکل گئ کنزی کو اپنا ادھورا اسائنمنٹ مکمل کرنا تھا سو کمرے میں گھس گئ
حفصہ جو بات کرنے آئی تھی اسکے لیئے اسے یہی وقت مناسب لگا۔امی کو لیکرلائونج میں آ بیٹھی۔
امی ابھی خالہ نے سب کو اطلاع نہیں دی مگر سعدیہ کا رشتہ طے ہو گیا ہے۔ اب جانے وہ کرامت والے بابا کا تعویز اثر کر گیا کہ کیا جھٹ پٹ سب کام ہو رہے ہیں ۔لڑکا اکلوتا ہے دبئی میں رہتا ہےباپ نہیں ہے ماں بھی ساتھ رہتی ہے ۔ اچھے لوگ ہیں۔
شکر ہے خدا کا۔بہت پریشان تھی میری بہن۔ اللہ نے اسکی مشکل آسان کی۔ شکر الحمد اللہ۔۔
امی کے دل سے بے ساختہ شکر نکلا۔ بھانجی انکی حفصہ سے بھی دو مہینے بڑی تھی مگر قسمت نہیں کھل رہی تھی۔حفصہ مسکرا دی۔ امی ہمیشہ سے ہی اتنی رقیق القلب تھیں اس دفعہ تو حفصہ کی وجہ سے ڈھیروں دعائیں انہوں نے بھی سعدیہ کیلیے کی تھیں جو مقبول ہوگئیں ۔جتنا شکر کرتیں کم تھا۔
اور ایک اور خاص بات امی۔ حفصہ کو اصل بات کرنے کی جلدی بھی تھی۔ڈر یہی تھا کہ مزنہ نہ آجائے اس سے پہلے بات کرلے
مزنہ کیلئے رشتہ ہے۔میری سہیلی کا دیور ہے۔میری شادی کی سالگرہ پراسکی ساس کی آپ سے اور کنزی سے ملاقات ہوئی تھی۔ ہمارا گھرانہ پسند آیا ہے انہیں۔انہوں نے توبات کنزی کی کی تھی مگر میں نے بتایا کہ ابھی تو فرسٹ ائیر کا امتحان دیا ہے کم ازکم گریجوایشن سے پہلے اسکا نہیں سوچنا تو خود ہی انہوں نے مزنہ کا ذکر کر ڈالا۔مزنہ بھی کم پیاری نہیں ہے بس اسکو لڑکیوں والے کپڑے پہنوا کر کسی دن انکو ملنے بلا لیں۔لڑکا عمر میں مناسب ہے اپنا کاروبار کر رہا ہےپڑھے لکھے لوگ ہیں۔
ایک ہی سانس میں سب سنا کر وہ بمشکل سانس لینے رکی تھی۔اتنا جوش و خروش دیکھ کر بھی امی ہچکچاہٹ کا شکارہوئیں۔
مگر بیٹا ابھی مزنہ شائد تیار نہ ہو شادی کیلئے۔
حفصہ تیز ہو کر بولی
کیوں نہیں؟ آخری سمسٹر ہے یونیورسٹی کا شادی طے ہو بھی جائے تو سال چھے مہینے لگ جائیں گے فارغ ہو جائے گی ڈگری سے۔۔
پھر بھی۔ ویسے بھی اس نے سارا گھر سنبھال رکھا ہے۔
امی گومگو میں تھیں کہ حفصہ کوکل والی لڑائی اور مزنہ کے مکالمے بتائیں نہ بتائیں۔جانے وہ واقعی ایسا سوچنے لگی ہے یا غصے میں کہہ گئ ہے۔ سمجھ نہ آیا تو بودا بہانہ تراش لیا۔ حفصہ کچھ اور ہی سمجھی
سارا گھر سنبھال لیا ہے تو کیا اسکی شادی ہی نہیں کریں گی؟ اور لڑکیاں گھر کے کام کرکے گھر سنبھالتی ہیں باہر کے کام کرکے نہیں
امی بے بسی سے اسکی شکل دیکھنے لگیں
بیٹا دکانوں کا حساب کتاب سب وہی دیکھتی ہے اور وہ تو کہتی ہے ڈگری کے بعد نوکری کرے گی
امی بس کریں۔حفصہ جھلا گئ
ایک دنیا کی خواتین اپنے کام خود کرتی ہیں۔ آپ نے اچھا باہر کی دنیا کو ہوا بنا رکھا ہےاور اس چکر میں اسے بھی عجوبہ ماہی منڈا بنا دیا ہے۔ امی بیٹی ہے آپکی وہ۔ بیٹا نہیں۔ اگر عام سی لڑکی ہوتی تو پھر چلو دو چار سال ٹال جاتے اسکی شادی کا سلسلہ مگر اسے دیکھیں ذرا بالکل لڑکا بن کے رہ گئ ہے۔ابھی کم عمر ہے رعب میں ہے آپکے ڈانٹ ڈپٹ کر شادی کردیں یہ ماہی منڈا پن سب بھول بھال جائے گی اسے ابھی اسکے حال پر چھوڑا تو بالکل ہاتھ سے نکل جائے گی۔
پہلے کنزی اوراب حفصہ دونوں کی ایک ہی بولی۔ انکو تو لگنے لگا تھا تمام عمر بس گھاس ہی کھودی ہے سب عقل شعور انکی بیٹیوں نے گھول کے پی لیا ہے۔
امی خود غرض نہ بنیں معاملے کو سمجھیں۔ حفصہ انکی طوہل خاموشی سے جھلا گئ
ابھی میری ساس اور شوہر نے ہمارے گھرانے کا بائکاٹ کردیا ہے نا خود آتے ہیں نہ ردا کو آنے دیتےہیں مجھے روک سکتے تو شائد میرا آنا بھی بند کرا دیتے۔طرح طرح کی باتیں بن رہی ہیں امی۔لوگ کہتے ہیں آپ مزنہ کی اب کبھی شادی ہی نہیں کریں گی۔آپکو کیا پتہ خاندان والے تک مزنہ کے بارے میں کیا کہہ جاتے حالانکہ بچپن سے دیکھ رہے ہیں اسے۔
دبے لفظوں میں اس نے خانداں میں پھیلی چہ مگوئیوں کا بھی تذکرہ کر ڈالا۔
امی ٹکر ٹکردیکھتی رہیں یہ وقت بھی آنا تھا کہ انکی اپنی اولاد خود غرضی کے طعنے دے گی۔ سوچتی رہیں۔پھرتھک کر بولیں
نہیں خود غرض تو نہیں ہوں میں۔ چلو بلا لو کسی دن انکو مل لیتے ہیں۔
مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے stress dysphoria میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔
اٹھ جائو کنزی مزنہ ۔ اٹھا اٹھا کے تھک گئ میں۔دیر ہو جائے گی تم لوگوں کو آٹھ بج رہے ہیں۔۔ تھپا تھپ پراٹھے کو بڑھا کر توے پر ڈالتے ہوئے صفیہ اونچی آواز میں پکار رہی تھیں۔ یونیفارم میں نک سک سے تیار ہوکر سنگھار میز کے سامنے بال بناتی کنزی نے کمرے سے ہی آواز لگائئ۔ اٹھ گئ ہوں امی یہ مزنہ سوئی پڑی ہے ابھی تک۔ اس کی تیز آواز پر برابر ہی بیڈ پر سوئی مزنہ کسمسا کر اٹھی۔ گھور کر دانت پیستی آنکھیں ملتی۔ مزنہ اٹھ جائواور مجھے کالج بھی چھوڑ آئو پلیز۔ اسکی سب گھوریاں نظر انداز کرتی پونی باندھ کر کنزی اسکے پاس آبیٹھی۔ مزنہ نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا تے ہوئے ایک بار اور گھورا۔ شرافت سے وین کا کرایہ پکڑو اور جائو۔ پلیز نا میں لیٹ ہو جائوں گئ نا بہن نہیں ہو۔ کنزی اسکا گھٹنا پکڑ کر منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔اس پر ذرا اثر نہ ہوا۔بے مروتی سے بولی راستہ ناپو میں نہیں لے جارہا پورا شہر گزار کر کالج ہے تمہارا تمہارے چکر میں میں لیٹ ہوجائوں گا۔ امی دیکھیں نامزنہ کو صاف انکار کر رہا ہےمجھے چھوڑ کر نہیں آئے گا اب اتنا تیار ہو کر میں لوکل وین سے نہیں جا سکتی میرا وین والا بھی آکر جا چکا تب میں تیار نہیں ہوئی تھی۔۔ امی اس سےکہیں نا۔۔ اسکی ساری منتیں نرمی بھک سے اڑ گئیں فورا اٹھ گئ۔چلا کر پیر پٹخ کر شکایت لگانے لگی ارے ارے۔ مزنہ اسکے انداز پر اٹھ بیٹھی ۔امی پراٹھہ ہاٹ پاٹ میں رکھ کر دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی یہیں چلی آئیں۔ اب تو بالکل نہیں لیکر جائوں گا دیکھ لینا۔اس نے منہ پر ہاتھ پھیرا تو کنزی منہ چڑانے لگی۔ امی نے آتے ہی اسکی یہی بات پکڑ لی۔ کتنئ بار کہا ہے یہ آئوں گا جائوں گا مت کیا کروبڑی ہوگئ ہو تم ۔نہ جانے کونسا منحوس وقت تھا جو یہ لڑکوں کی طرح بولنے کی عادت پڑی ہے اسے۔اور کنزی تم بھی اسی کی طرح امی اس سے کہیں نامجھے بائک پر چھوڑ آئے۔میں وین سے ایسے نہیں جا سکتی کنزی امی کے کندھے سے لٹک گئ۔۔ اتنا میک اپ تھوپ کے جانے کو کہا کس نے ہے اسے؟۔ بے موقع جھاڑ صبح صبح نئی ذمہ داری اس نے خاصا چڑ کر ٹوکا تھا چھوڑ آئو نا بہن کو۔اسکی سہیلی کی سالگرہ ہے آج۔ اب تو کتنے دنوں کے بعد فرمائش کر رہی ہے۔ امی اسکا سر سہلاتے دلار سے کہہ رہی تھیں کنزی منہ چڑانے لگئ تو وہ اسے گھور کر رہ گئ۔ امی اس بلی کا روز کا ڈرامہ ہے آج ویسے بھی پہلی دو کلاسیں فری ہیں میری میں لیٹ جائوں گا پھر کپڑے بھی استری نہیں میرے۔۔ سستی سے پیر سلیپر میں ڈالتے ہوئے وہ منہ پھلا کر کہہ رہی تھی انداز نیم رضامندانہ ہی تھا۔ امی کو اسکی فرمانبرداری پر پیار ہی آگیا۔۔ انکی تینوں بیٹیوں میں سب سے ذیادہ فرمانبردار یہی تھئ۔سو فورا کنزی کو حکم دے ڈالا جائو جلدی سے بھائی کے کپڑے استری کردوجائو شاباش۔ انکی بات پر منہ بناتئ کنزی آخر میں ہنس پڑئ اب خود ہی اس کلو کو بھائی کہہ دیاآپ نے۔ اسکی بات پرموبائل کو چارجنگ پر لگاتی مزنہ بھی مسکرا دی اوہو ایک تو زبان بھئ پھسل جاتی ہے۔امی خفت ذدہ سی ہوئیں مگر آگے بڑھ کر مزنہ کا خفا خفا سا چہرہ ہاتھوں میں لیکر پیار سے کہنے لگیں۔ مگرسچ پوچھو تومیری آنکھ کا تارا ہے میری مزنہ۔۔تم دونوں سے ذیادہ فرمانبردار اور کام کاجو بیٹی ہے میری۔ مزنہ مسکرا دی۔ امی کا ہاتھ چومتی کنزی کو منہ چڑاتی باتھ روم میں گھس گئ۔ کنزی نے منہ بنا کر امی کو دیکھا خیرہم دونوں بھی بہت کام کرتی ہیں آپا کو بھری سسرال بھیج رکھا ہے سارا وقت کچن میں گھسی رہتی ہیں۔۔ اپنے آدھے درجن دیوروں کا ناشتہ بناتئ ہیں وہ اس نے بڑ بڑاتے ہوئے الماری سے اسکا مردانہ کرتا اور جینز نکالی امی کو اسکی عادت کا پتہ تھا اب اس نے لمبی تقریر جھاڑنی تھئ سو کان دبا کر نکل گئیں۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو کمرہ خالی ہو چکا تھا۔سو کپڑے نکال کر لائونج میں استری اسٹینڈ کے پاس بڑ بڑاتی چلی آئی۔ اور میں تو جتنا بھی کام کرلوں گنتئ میں نہیں آتا۔ کھانا پکاتی ہوں برتن دھوتی ہوں صفائی ستھرائی بھی میرے ذمہ اوپر سے اس کالو کی خدمتیں بھی کرواتی ہیں مجھ سے۔ یہ کبھی میرے کپڑےپریس کرتئ ہے۔ دل لگا کراستری کرتے وہ اونچی آواز میں بڑ بڑا رہی تھی۔امی چائے بناتئ ان سنی کرتی رہیں۔ جب تک مزنہ تیار ہو کر آئی اسکا موڈ ٹھیک ہو چکا تھا۔امی کے ساتھ ناشتہ میز پر لگانے میں مدد بھی کروائی۔۔ ان دونوں کو ناشتہ کرتے چھوڑ کر امی اندر سے کچھ کاغذ اٹھائے چلی آئیں۔ مزنہ یہ آج بجلی کے بل کی آخری تاریخ ہے۔بنک سے پیسے نکلوا کر جمع کروادینا۔موٹر بھئ کل سے بہت آواز کر رہی ہے لگتا ہے جل جائے گئ یونیورسٹی سے واپسی پر مکینک لیتے آنااور حفصہ کے ہاں سے سوٹ لےآنا وہ سلوا چکی ہےمگر اسکا جانے کب آنا ہو دوکنزی کے ہیں دو تمہارے ایک میرا ہے۔ سر ہلا ہلا کر سنتی مزنہ سنجیدہ سی ہوگئ۔ باقی کام کردوں گامگر یہ حفصہ آپی کے گھر نہیں جا سکتا۔انکی ساس اور عامر بھائئ کا بس نہیں چلتاکہ مجھے دیکھ کے کچا چبا جائیں ایسا گھورتے ہیں جیسے میں کوئی عجوبہ ہوں۔ بولتے ہوئے آخر میں دکھی بھی ہوگئ۔ کنزی اور امی بھی چپ سی ہو کر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔امی ذرا سنبھل کر بولیں۔ بس بیٹا سب کا اپنا ذہن ہوتا ہے۔تھوڑے سے دقیانوسی ہیں وہ لوگ۔۔ نہیں پسند انکو خود مختار لڑکیاں انکی بات پر کنزی نے باقائدہ آنکھ پھاڑ لیں حیرت سے لڑکی؟؟ کہاں سے لگتی ہے یہ لڑکی؟ ڈھیلے ڈھالے جدید مگرمردانہ طرز کے کرتے میں ملبوس اس نے اپنے کندھوں تک آتے بال کھینچ کر پونی میں باندھ رکھے تھے۔ میک سے مبرا دھلا دھلایا صاف مگر سپاٹ سا چہرہ۔ ناشتہ کرتے ہوئے وہ مردوں کی طرح ہی آستین چڑھائے بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔انداز میں لاپروا مرد کا تاثر نمایاں تھا بہ نسبت نازک سی لڑکی کے۔ یہ لمبے بال تک اس میں لڑکیوں والی لک نہیں آنے دیتے۔آواز تک بھاری ہوچکی ہے اسکی امی اسکو بوائے کٹ کروانے دیں ہم بھائی ہی بنا لیتے ہیں اسے۔ وہ مزاق نہیں اڑا رہی تھی بس شرارت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔ اسکی بات پر مزنہ نے جھٹ اجازت طلب نگاہوں سے دیکھا بوائے کٹ کروالوں امی؟ سچی لمبے بال نہیں سنبھلتے مجھ سے؟ مگرامی سختی سے جھڑک گئیں۔ خبردار جو بالوں کو کٹوانے کا سوچاتمہیں قسم دی ہوئی ہے خبردار جو کٹوائے۔ سختی سے کہتے ہوئے جب انہوں نے مزنہ کا چہرہ اترتا دیکھا تو لہجہ دھیما کرکے سمجھانے والے انداز میں بولیں بیٹا لوگ باتیں بناتے ہیں۔کیوں لڑکوں کی طرح بولتی ہو چلتی ہو لڑکوں جیسے کپڑے پہنتی ہو۔سب مجھے خود غرض اور نا عاقبت اندیش ماں تک کہہ ڈالتے ہیں کہ اپنے کام نکلوانے کیلئےمیں نے تمہیں بیٹا بنا رکھا ہے کوئی ایک بیوہ ماں کی مجبوری نہیں سمجھتا۔ بولتے ہوئے انکی آواز بھرا گئ۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے پچھتاوا بھی ہوتا ہے مجھے تمہیں ٹوکتے رہنا چاہیئے تھا۔ بیٹی کبھی بیٹا نہیں بن سکتی۔ تمہیں بیٹوں کی طرح پال کر میں خود کو مجرم سمجھنے لگی ہوں۔ کل کو تمہیں بھی رخصت۔۔انہوں نے رونا ہی شروع کردیا تو دونوں بہنیں اٹھ کر ان سے دائیں بائیں لپٹ گئیں۔ میں تو مزاق کررہی تھئ ۔۔۔ سوری امی کنزی نےدونوں کان پکڑ لیئے۔ نہیں کٹوا رہا میں بال اور کپڑے بھئ لے آئوں گابس رونا بند کریں۔۔ مزنہ نے بازو کے حلقے میں لیا تو وہ بھی آنسو پونچھنے لگیں۔۔ جیتی رہو دونوں۔ انہوں نے دل سے دعا دی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک سرد سی بےرحم شام تھی جب انکو اپنے شوہر اور اکلوتے بیٹے کے ٹریفک حادثے میں گزر جانے کی اطلاع ملی تھی۔ بارہ سالہ عبدالہادی اپنے باپ کے ہمراہ بڑے شوق سے نئے جوتے لینے موٹر سائکل پر گیا تھا۔ ایک تیز رفتار ٹرک ان دونوں کی زندگی کا چراغ بجھا گیا۔ نفیسہ تو بالکل ہمت ہار بیٹھی تھیں۔چودہ پندرہ سالہ حفصہ ماں کو سنبھالنے کی اپنی سی کوشش کرتی تھی۔ مگر نفیسہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر ہادی کو پکارنے لگ جاتی تھیں۔ چالیسیوں تک سب رشتے داروں نے حتی المقدور ساتھ نبھایا۔ گھر اپنا تھا اسی کا ایک حصہ اوپر کاکرائے پر چڑھا کر کچھ سرٹٹیفیکیٹس تھے ان سے ایک دکان خرید کرکرائے پر چڑھا کر زندگی کی گاڑی کھینچنی شروع کردی۔ جیسے تیسے عدت گزری اسکے بعد گھر کا معمولی سے معمولی کام بھی کرنے کیلئے جب گھر سے نکلنا پڑا تو گھبرا سی گئیں۔حفصہ کو ساتھ لے جانا شروع کیا تو لوگوں کی نظروں اور باتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سودا سلف لانا ہو کرایہ وصول کرنا انہوں نے حفصہ کو ساتھ لے جانا چھوڑ دیا۔ مگر اکیلے نکلنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی۔ مزنہ نسبتا تیز اور ہوشیار تھی اور ابھی ذیادہ قد بھی نہ نکالا تھا۔ انہوں نے اسکو ہر کام میں اپنے ساتھ رکھنا شروع کیا۔ بڑھتئ عمر کی بچی کو ہادی کے پینٹ شرٹ پہنا کر لے جاتیں تو سب اسے بچی کی بجائے بچہ ہی سمجھتے۔ انہوں نے اسکو پھر بچہ ہی بناڈالا۔ بال بالکل چھوٹے چھوٹے کروادیئے عبدالہادی کے کرتے پاجامے پہنتے مزنہ نے اطوار بھی لڑکوں جیسے ہی اختیار کر لیئے۔ اسے ہر معاملے میں ساتھ رکھتے ایک وقت آیا کہ وہ ہر معاملے کو ان سے بہتر سمجھنے سنبھالنے لگی۔ مارکیٹ میں بھانت بھانت کے لوگوں سے نمٹتے انکو احساس بھی نہ ہوا کہ کب وہ بڑی ہونے لگی۔ لوگوں نے مردمارسہی مگر لڑکی ہی سنجھنا شروع کردیا۔ مزنہ پہلے گھبرائی پھر اس نے نظروں کے وار سے جھجکتے چھپتے انکا ڈٹ کر سامنا اور ڈپٹ کر مردانہ وار مقابلہ کرنا شروع کردیا۔ بڑھتے قد اور دبلی جسامت کے باعث وہ اس عمر میں جب لڑکیاں خود سے چھپنا شروع کرتی ہیں اس نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈپٹنا سیکھا۔ دوپٹہ اوڑھنے کی بجائے گلے میں مفلر ڈالنا شروع کیا رنگ برنگی شلوارقمیض کی جگہ پھیکے رنگوں کے مردانہ کرتے بنوانے لگی۔ بال بڑھانے ہی چھوڑ دیئے۔ قد نکالا تو وہ بھی تاڑ سا۔پانچ فٹ نو انچ کی لڑکی تو کیا ہی لگتی الٹا مردانہ چال اور حلیئے کے باعث بہنوں کیلئے بھائی کی طرح ہی ڈھال بن گئ۔ موٹر سائکل چلانا سیکھ لی۔ حفصہ کی شادی کا وقت آیا تو تن و تنہا سب معاملات خوش اسلوبئ سے سنبھال لیئے۔ دیگوں ٹینٹ سروس سے لیکر شادی ہال تک کا سب انتظام بیٹے کی طرح سنبھالا اگر وہ سچ مچ بیٹا ہوتئ تو انٹر میں ہونے کے باوجود سب کچھ اچھی طرح سنبھالنے پر صفیہ فخریہ اسکی تعریفیں وصولتیں ۔مگر حفصہ کی شادی میں جس طرح لوگوں نے اس کو دیکھ کر باتیں بنائیں۔ اسکو ہجڑا تک کہہ ڈالا۔ تب پہلی بارصفیہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ مگر تب تک شائد بہت دیر ہوچکی تھی۔مزنہ انکے ہر طرح کی سختی کرنے ڈانٹ ڈپٹ اور پیار سے سمجھانے کے باوجود نا لڑکیوں والے کپڑے پہننے کوتیار ہوئئ نہ ہی لب و لہجہ بدلنے پر۔انہوں نے اسکو لڑکیوں کے ہی اسکول اور کالج میں پڑھوایا بال کٹوانے نہ دیے اب کندھوں تک آتے تھے کہ اس سے ذیادہ بڑھنے نہیں دیتی تھئ وہ مگر یونیفارم میں دوپٹہ لینے کے باوجود اسکی چال ڈھال ٹھٹکا دیتی تھی۔ لڑکیاں اس سے دور ہو جاتیں یا باتیں بناتیں۔لے دے کے بس ایک ہی اسکی دوست بنی۔اور ایسی بہترین دوست جو پہلے اسکول پھر کالج اور اب بی ایس میں یونیورسٹی میں بھی اسکے ساتھ تھئ۔جسے کنزی اور حفصہ کی طرح اس نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا۔مگر کہیں کچھ ایسا ضرور تھا جو اسے خود بھی اب کھٹکنے لگا تھا۔ ابھی بھی بائک چلاتے اشارے پر رکتے وہ کتنی ہی عجیب نظروں کے حصار میں تھی۔ عادی ہو چکنے کا کہنے اور عادی ہوجانے میں یقینا جو بال برابر فرق تھا اسے ضرور محسوس ہوتا تھا۔ اس نے ہیلمٹ گرمئ کی وجہ سے پہن نہیں رکھا تھا جبھی اس وقت۔۔ اس نے اشارہ کھلتے ہی ایکدم بائک تیز چلا دی تھی۔ پیچھے اپنی دھن میں بیٹھی کنزی نے سنبھل کر اسکا کندھا دبوچا کیا کرتی ہو ابھی گر جاتی میں۔ اسکے چلانے کا اس نے قطعی نوٹس نہ لیا بائک یونہی اڑاتی رہی کیا ہوگیا ہے مزنہ آہستہ چلائو میں گرجائوں گی۔ وہ اس بار جان کر اسکے کان پر چیخی۔۔ اسکے ڈرنے پر مزنہ محظوظ ہوکر بولی واقعی؟ پھر تو مجھے اور رفتار بڑھانی چاہیئے ۔۔۔تم گرو ڈرو تاکہ آئندہ یہ خرافاتی خیال نہ آئے کہ میں صبح صبح تمہیں ڈراپ کروں کالج ۔۔ وہ ہنس ہنس کر مزید ڈراتئ رہی۔ جیسے ہی کالج کے آگے اس نے بائک روکی کنزی نے اترتے ہی دھپ سے اسکے کندھے پر مکا مارا۔مزنہ ڈھٹائی سے ہنس کر اسے چڑاتی رہی۔ پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر اسکے ہاتھ پر ہزار روپیہ بھی رکھ دیا۔ کنزی کی سب کوفت دور ہوئی کھلکھلا کر اسکو گلے لگاکر پیار کرتئ خداحافظ کہتی اندر بھاگی۔ اسکے بچپنے پر وہ بزرگانہ شفقت سے مسکرا کر سرجھٹکتی بائک نکال لے گئ۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی سامنے اسکا گروپ کھڑا تھا وہ گرمجوشی سے انکو ہاتھ ہلاتے ہوئے انکی جانب بڑھنے کو تھی جب سینیئرز کا ایک گروپ اسے پکارنے لگا۔ اے اے کنزی۔ یہ کونسا کزن تھا تمہارا؟؟ فورتھ ائیر کی شمائلہ آنکھیں مٹکا مٹکا کر پوچھتی اسے ایکدم زہر ہی لگی۔ کونسا کزن ؟ وہ سمجھی نہیں۔ ارے وہی جس سے لپٹ کرپیار کرتی تم ابھی آئی ہو اندر۔ دوسری لڑکی نے عامیانہ انداز میں کہہ کر شمائلہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارا وہ سب زور سے ہنس دیں۔۔ شٹ اپ۔ سوچ سمجھ کر بولا کرو ۔ وہ غصے سے زور سے بولی تو اسکی سہیلیاں بھی اسکی مدد کو دوڑی آئیں۔۔ ہم سوچ سمجھ کر بولا بھی کریں اور تم باہر بنا سوچے سمجھے گلے لگو گال سے گال ملائو۔ ایک اور لڑکی چمک کر بولی تو کنزی کی ساری مروت رخصت ہوئئ خبردار جو ایک لفظ بھئ مزید بکواس کی تو منہ توڑ دوں گی۔ میں اپنی بہن کے ساتھ آئی ہوں بڑی بہن ہے وہ میری۔ اسکی طیش کے مارے آواز پھٹ سی گئ۔ ارد گرد لڑکیوں کی بھنبھناہٹیں بھی تھم سی گئیں کیا ہوا کنزئ۔۔ اسکی سہیلی نے آکر اسے بازو سے تھاما۔۔ فرط طیش سے وہ کانپ رہی تھی مگر ہم نے خود دیکھا وہ تو بالکل لڑکا۔۔۔۔ شمائلہ خود بھی اسکا ردعمل دیکھ کر گڑبڑا سی گئ وہ مزنہ ہیں اسکی بڑی بہن ۔ وہ لڑکوں جیسی لگتی ہیں مگر بڑی بہن ہیں اسکی۔ کنزی کو کندھے سے تھام کر لیلی نے ان سب کئ غلط فہمی دور کرنی چاہی۔ واٹ ؟ مگر وہ تو بالکل لڑکا تھی۔ بالوں کی پونی تھی مگر وہ تو بالکل لڑکی نہیں لگتی۔۔۔۔ شمائلہ کی حیرت عروج پر تھی۔ توکیا ہوا وہ دراصل اسکا بھائیوں کی طرح ہی خیال رکھتی ہیں بس کپڑے مردانہ ہوتے ہیں انکے۔ہیں وہ لڑکی ہی۔ روبیہ نے بھی صفائی دینی چاہی۔ ہیں کنزی کی بہن ہے وہ؟ کنزی کو اپنی پشت سےحیرانی بھری آواز سنائی دی۔ ارے یار میں خود حیران ہوئی کنزی کو کیا ہوا کس طرح لڑکے سے گلے مل رہی ہے۔ بائیں جانب سے حیرت کا اظہار۔ بہن ہی ہے یا؟ نا بھائی نا بہن ؟ سرگوشی۔۔ جب وہ بہن ہیں تو بھائیوں کی طرح کی کیوں ہیں۔ شمائلہ اپنی حیرت پر قابو پا کر پوچھ رہی تھی۔ کنزی کی بہن تھئ۔۔ کنزی کا بھائی۔۔ آوازیں ہی آوازیں وہ دونوں کانوں پر ہاتھ رکھتی وہاں سے بھاگ اٹھئ۔ روبیہ اور لیلی بھی اسکے پیچھے دوڑیں مگر یہاں موجود مجمع ابھی بھی اس معمے کو حل کرنے میں مصروف تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی کے احاطے میں بائک کھڑی کرکے وہ حسب عادت بائک پر لگے آئینے میں دیکھ کر بال سنوارنے لگی۔ ایک دو لٹیں ماتھے پر آن گری تھیں جنہیں اس نے لاپروائی سے سمیٹا تھا۔ انداز میں بے نیازی پنہاں تھی۔ بائک لاک کرکے یونیورسٹی کے احاطے سے لیکر ڈیپارٹمنٹ تک وہ کتنی ہی نظروں کے حصار میں رہی تھی۔ ماہا اورعادل کینٹین سے ہنستے بولتے باہر نکل رہے تھے۔ اسکی نگاہوں میں چمک سی آگئ۔ تیز تیز قدم اٹھاتی سیدھا وہ مکمل عادل کی جانب متوجہ ہنسی ہوئی ماہا سے جا لپٹی تھی ماہا اپنی دھن میں چونکی مگر اسکا لمس محسوس کرتے ہی پہچان کر ہنس کر جوابا مڑ کر گلے لگ گئ۔ ہیلو میری جان۔مزنہ نے اسکے کان میں سرگوشی کی کیسے ہو جانو آج تو بہت ہینڈسم لگ رہے ہو۔اس سے الگ ہو کر سرتاپا دیکھتے ہوئے وہ توصیفی انداز میں بولی۔۔ مزنہ ہنسی اور آگے بڑھ کرعادل سے بھی گلے لگنا چاہا مگر وہ سنجیدہ سا چہرہ بنا کر پیچھے ہٹ کر کھڑا ہوگیا کیوٹ کہہ لو۔ لڑکیاں ہینڈسم نہیں ہوتیں۔ عادل نے اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے جتانے والے انداز میں کہا ۔۔ ماہا اسکی بات پر ہنس دی اور پیار سے اسکو ساتھ لگا کر بولئ یہ کہاں سے لڑکی ہے۔ یہ تو ماہی منڈا ہے۔ میرا پہلا بوائے فرینڈ یہی ہے۔۔ اسکی بات پر جو فخریہ مسکراہٹ مزنہ کے چہرے پر در آئی تھئ وہ جانے کیوں عادل کو بالکل پسندنہ آئی۔ یہ گرل ہے بوائے فرینڈ بس میں ہوں تمہاراتمہیں تو بلکہ اپنی سہیلی کو بھی اچھا سا بوائے فرینڈ ڈھونڈ نے میں مد دکرنی چاہیئے عادل کی بات پر مزنہ کو اچھا خاصا برا لگا۔ تپ کر بولی تم میری فکر مت کرو میرے لیئے ماہا ہی کافی ہےمجھے اسکے سوا کسی کی ضرورت نہیں ہے۔یہی میری فرینڈ بھی گرل فرینڈ بھی ۔۔ اسکا انداز عادل کو چیلنج دیتا ہوا لگا تو وہ بھی شرارت بھرے مگر جتانے والے انداز میں کہنے لگا لڑکیوں کی گرل فرینڈ نہیں بوائے فرینڈ ہوتے ہیں۔ مزنہ بی بی۔۔ اور تم چاہے جتنا بھی حقیقت سے بھاگ لو رہوگی لڑکی ہی اور ایکدن تم نے بھئ لال جوڑا پہن کر رخصت ہونا ہے پیا سنگ۔ اسکے ہلکے پھلکے مگر جتانے والے انداز نے مزنہ کا دماغ کھولا دیا۔ سختی سے بولی ایسا کبھئ نہیں ہوگا۔ ایسا ہی ہوگا ڈئیر۔ عادل نے مزید چڑایا اسکی مسکراہٹ پر مزنہ کے تن بدن میں آگ سی لگ گئ تم اتنے ان سیکیور کیوں رہتے ہو؟ مرد نہیں ہوکیا؟ ڈرتے ہو مقابلہ کرنے سے؟ مزنہ اسکو کندھے سے دھکا دیتے ہوئے بولی۔ قدمیں وہ بس دو ایک انچ ہی بڑا ہوگا پھر بھی یوں دھکا دیا تھا جیسے مسل ڈالے گی چٹکیوں میں۔ عادل کو اسکے دھکے سے ذیادہ جملے غصے میں لے آئے۔ مزنہ تم لڑکی ہو اسلیئے لحاظ کر رہا ہوں۔ تم حد سے گزر رہی ہو۔ عادل کا چہرہ یک لخت سرخ پڑا تھا تو مزنہ بھی لال بھبھوکا ہو چلی تھی ماہا گھبرا کر دونوں کے بیچ میں آگئ گائز کیا ہوگیا ہے؟ ریلیکس؟ کس فالتوبحث میں الجھ رہے ہو؟ وہ بری طرح گھبرا گئ تھی ماہا کو بیچ میں آتے دیکھ کر دونوں ٹھنڈے پڑے عادل بالوں میں انگلیاں پھنسا کر خود کو شانت کرنے لگا تو وہیں مزنہ ماہا کو منصف بنا کر پوچھنے لگئ میں الجھا ہوں ؟ یہ ہروقت الٹی سیدھی باتیں کرتا ہےمیں جو مرضی کروں اسے کیا۔میں لڑکا ہوں یا لڑکی اس سے ۔۔۔۔ تم لڑکی ہی ہو اور تمہیں کم از کم اب یہ بات خود کو باور کرالینی چاہیئے۔ عادل اپنا غصہ ہمیشہ کی طرح جھٹک کر دوبارہ اس سے مخاطب تھا۔انداز سمجھانے والا تھا مگر مزنہ کو طنز ہی لگا چٹخ کر بولی تم پاکستانئ مرد ہو ہی میل شائونسٹ۔ کسی پروگریسیو (progressive)انڈیپینڈنٹ (independent) لڑکی کو دیکھتے ہو تو جل اٹھتے ہو اسے لیٹ ڈائون کرنے کو الٹی سیدھی thats what you are.. larki… وہ ذرا سا جھک کر اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے زور دے کر بولا مزنہ نے اسے گھور پھر پیر پٹختی چلی ہی گئ۔ ماہا نے اسے روکنا چاہا مزنئ ۔۔ مزنئ بات سنو رکو۔ مگر وہ رکی نہیں ماہا نے گھور کر عادل کو دیکھا تم کیا فضول بحث لیکر بیٹھ گئے۔ پتہ ہے نا اسے ایسی باتیں نہیں پسند خفا کردیا نا اسے۔ کبھی کبھی تو لگتا وہ بس میری دوست ہے۔۔۔ یہ فضول بحث نہیں ہے۔ دیکھو اسے ۔۔ اس نے تیز قدم اٹھاتی لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی مزنہ کی جانب اشارہ کیا کہیں سے نارمل لڑکی لگتئ ہے؟ اسے دوست سمجھا ہے جبھی چاہتا ہوں وہ نارمل لڑکی بنے۔ لڑکیوں جیسی چال ڈھال اپنائے انکے جیسے کپڑے پہنا کرے۔ یہ آئوں گا جائوں کرنے سے وہ لڑکا نہیں بن جائے گی۔ تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے پیٹھ پیچھے لوگ کیسی باتیں کرتے ہیں اسکے بارے میں ۔پاگل سائیکو تک کہتے ہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتا اسکے گھر والے سمجھتے کیوں نہیں اسکا مسلئہ؟ وہ۔خود کو لڑکی سمجھتی ہی نہیں ہے اور تمہیں بھی۔ غصے سے بولتے بولتے وہ ایکدم رکا۔ تم ۔۔ تم بھی نہیں سمجھاتیں اسے۔۔ وہ جھلا سا گیا تھا ماہا اسکے چپ ہونے کا ہی انتظار کر رہی تھی۔ بول لیا اب میں بولوں؟ ماہا نے کہا تو وہ ہونٹ بھینچ کر دیکھنے لگا۔ تمہیں عجیب لگتی ہے کیونکہ تم نے اسے پچھلے سال دو سال سے ہی دیکھا یا جانا ہے۔ وہ میری بچپن کی دوست ہے۔ ہمیشہ سے ہی ایسی ہے۔اسے لڑکیوں والے شوق نہیں پھر وہ تین بہنیں ہیں انکے گھر کا باہر کا ہر کام یہی کرتی ہے تو تھوڑی سی مردمار ٹائپ ہے مگر یار ہمارا معاشرہ بھی تو دیکھو نا۔ ایسا اسے ہونا پڑا ہے۔بس اور۔۔ اسکی توجیہہ پر عادل بری طرح چڑ سا گیا ہاں بس وہ ہے ایسی اسکا کچھ نہیں ہو سکتا۔میں تمہیں نہیں سمجھا پا رہا وہ کیا سمجھے گئ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عادل سے منہ ماری کے بعد اسکا پھر موڈ خراب ہی رہا۔ اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے چکر میں ماہا بھی عادل سے کھنچی کھنچی اسکے ساتھ ساتھ رہی مناتی رہی کینٹین میں اسکے ساتھ لنچ کیا۔ عادل کو شائد اتنی کوئی پروا بھی نہیں تھی۔ ویسے بھی اسکا ڈیپارٹمنٹ دوسرا تھا آرام سے گھر بھی چلا گیا۔ ہاں ماہا کے منانے سے اسکا موڈ بہتر ہوا اسے اپنی بائک پر خود گھر چھوڑ کر جب گھر جانے کا ارادہ باندھا تو تھکن کے مارے بیگ کا وزن ذیادہ محسوس ہوا۔ مگر ایک اور کام ابھی باقی تھا۔ اس نے گہری سانس لی اور بائک کا رخ حفصہ کے سسرال کی جانب موڑ دیا۔۔۔ حفصہ کے گھر میں غیر معمولی چہل پہل تھی۔ مین گیٹ کھلا ہوا تھا سو وہ آرام سے بائک کھڑی کرکے اندر چلی آئی۔ پانچ سالہ ساراکچھ بچوں کے ساتھ گیراج میں ہی کھیل رہی تھی۔ اسے دیکھ کر کھیل چھوڑ چھاڑ بھاگی آئی اور آکر لپٹ گئ۔ مانی آدئیں۔ اسکے پیار کے بے ساختہ اظہار پر اس نے بھی جھک کر اسکو گود میں اٹھا لیا حفصہ نے مزنہ اور کنزی کو آنی کہلوایا تھا اس سے کنزی کو تو خیر کنزی آنی ہی کہتی تھی مزنہ اسکی زبان پر نہیں چڑھتا تھاسو وہ مزنہ آنی کو ملا جلا مانی کہنے لگی تھی اسے۔ اور اسے اسکے منہ سے اتنا پیارا لگتا تھا کہ کبھی تصحیح بھی نہیں کی۔ کیسا ہے میرا بیٹا ۔ وہ پیار سے اسکا گال چوم کر پوچھ رہی تھی۔ گلابی فراک میں وہ چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی اسکی بات پر منہ بسورنے لگئ میں نے نیکر پہننی تھی مما نے فراک پہنا دی گندا برا لگ رہی ہوں میں۔۔ اس نے اتنئ معصومیت سے شکایت لگائی کہ وہ ہنس دی نہیں تو اتنی پالو لگ رہی ہے سارو۔۔ اس نے جھٹ گال چوم لیئے مما سے کہو نا مجھے معاذ جیسے کپڑے پہننے۔۔ اس نے اشارے سے اپنے تایا ذاد بھائی کو دکھایا۔ حفصہ کے جیٹھ کے دونوں بیٹے ہی تھے بڑا آٹھ دس سال کا چھوٹا معاذسارا سے چند مہینے کے فرق سے ہی تھا۔ ان دونوں بچوں کے ساتھ کھیل کھیل کر اسکی ایسی خواہش عجیب نہ تھی۔ اس وقت تو خیر ان دونوں بھائیوں کے ساتھ دو تین او ربھی بچے ہی تھے اس وقت اسکو خوب حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ مانی آپ لڑکی ہو نا۔ معاذ بھی اسکے پاس بھاگا آیا۔ جی نہیں جی لڑکیاں تو ایسے کپڑے نہیں پہنتیں۔ ایک بچے نے اعتراض جڑا۔ یہ لڑکا ہیں انکے بس بال لمبے ہیں۔۔ میرے چاچو نے بھی بڑھائے ہوئے ہیں۔ دوسرا بچہ اسکی بات کاٹ کر بولااور بھاگا بھاگا اسکے پاس آیا آپ لڑکا ہیں نا؟ اسکے ساتھ باقی بچے بھی تجسس میں کھنچے آئے۔۔ وہ گڑبڑا سی گئ۔ اتنے چھوٹے بچے تھے اوپر سے حفصہ کے سسرالی بھی ڈانٹ کر بھگا بھی نہیں سکتی تھی۔ مانی لڑکی ہی ہیں بس وہ لڑکوں جیسے کپڑے پہنتی ہیں۔ معاذ سے بڑے شاذ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ کیوں؟ بچے کا سوال تیار تھا۔ اس نے گڑبڑا کر سارا کو گود سے اتارا اور قصدا رعب سے بولی کیا اتنئ گرمی میں باہر کھیل رہے ہو تم سب چلو اندر ۔۔ اسکے اچانک رعب میں بچوں نے تو کیا ہی آنا تھا الٹا برے برے منہ بنانے لگے چلو بچو آجائو اندر کھانا لگ گیا ہے۔ تبھی حفصہ لائونج کا دروازہ کھول کر باہر جھانک کر بچوں کو بلانے لگی اسلام و علیکم آپی وہ گرمجوشی سے اسکی جانب بڑھی۔ حفصہ کی اس پر نظر نہیں پڑی تھئ اسے دیکھ کر گھبرا سی گئ۔ بچوں کو اندر جانے کا کہتی خود جلدی سے باہر نکل آئی تم اس وقت خیریت؟ انداز میں گرمجوشی مفقود تھی۔ مزنہ کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھنے لگا ہاں وہ امی نے سوٹ منگوائے ہیں جو سل چکے ہیں۔۔ وہ بھی سنجیدہ سی ہوگئ اچھا اچھا میں یہیں لیکر آتی ہوں۔ حفصہ نے کہا تو وہ اسکے ساتھ آنے لگی تم یہیں رکو میں لا رہی ہوں۔ حفصہ نے سے روک ہی دیا آپی پانی بھی پینا ہے مجھےاتنی دھوپ سے آرہا ہوں۔ مزنہ نے کہا تو وہ جانے کیوں جھلا سی گئ اچھا پانی بھی لا دیتی ہوں یہیں رکو تم۔ وہ کہہ کر رکی نہیں تیزی سے اندر گھس گئ۔۔ چند ہی لمحوں میں وہ باہر بھی تھئ۔ شائد بھاگتی ہوئی گئ تھی اندر جبھی پانی لانا بھی بھول گئ۔ شاپر تھما کر بولی یہ لو۔ امی سے کہنا ایک سوٹ ابھئ درزی نے واپس نہیں کیاوہ میں بعد میں بھجوا دوں گی اب تم جلدی سے گھر جائو عامر بوتل لینے گئے ہیں آتے ہوں گے تمہیں نہ دیکھ لیں۔۔ وہ جو پانی کا یاد دلانے لگی تھی اسکی ہدایت پر جھلا گئ کیوں مجھے نہ دیکھ لیں۔میں کوئی بھوت ہوں جو مجھے دیکھ کر ڈر جائیں گے۔؟ حفصہ کی جان پر بنی تھی اسکی حجت پر چڑ ہی گئ میری نند کے رشتے کیلئے لوگ آئے ہوئے ہیں نازک معاملہ ہے کوئی اونچ نیچ ہوئی نا سیدھا سارا الزام تم پر دھر دیں گے جانتی تو ہو عامر اور انکی اماں کا مزاج میں کوئی رسک نہیں لے سکتئ۔ اور یہ لو پیسے۔ باہر سے بوتل لے لینا پانی کی۔ اس نے دوپٹے کے کنارے سے بندھے پیسے نکال کر بڑھانے چاہے۔ ہتک کے احساس سے مزنہ کی پیشانی پر کئی بل آگئے۔ شاکی نگاہ سے اسے دیکھتی شاپر لیکر اسکا پیسے بڑھاتا ہاتھ نظرانداز کرتی باہر نکل گئ۔ حفصہ نے اسے پکارا اسکئ پیچھےگیٹ تک آئی مگر وہ لمحہ بھر بھی نہ رکی بائک نکال لے گئ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکینک کو وہ واپسی پر ساتھ لائی تھی۔ موٹر اپنہ نگرانی میں ٹھیک کروا کر موٹر چلا کر تسلی کرکے جب لائونج کا دروازہ کھولا تو گرم تپتے چہرے پر ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اسے بے تحشا تھکن کا احساس دلا گیا۔ لائونج نیم تاریک تھا یقینا امی اور کنزی سو ہی رہی ہوں گی۔ صبح ساڑھے سات کی نکلی اب ساڑھے پانچ بجے گھر میں واپس قدم رکھ پائی تھی۔ شاپر ابھی تک ہاتھ میں ہی تھے۔ وہ ٹھنڈی سانس بھرتے امی کے کمرے کی جانب چلی آئی۔کنزی شائد اسکے کمرے میں تھئ امی اکیلی بیڈ پر لیٹی تھیں۔یقینا سو ہی رہی ہوں گی۔ اس نےشاپر لا کر امی کے سرہانے رکھے اپنی جانب سے تو خوب احتیاط سے رکھے تھے مگر پھر بھی آہٹ سے انکی آنکھ کھل ہی گئ۔ آگیا میرا بیٹا۔ چلو منہ ہاتھ دھو لو میں روٹی ڈال دیتی ہوں۔ وہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ کنزی آگئ کالج سے۔ اس نے یونہی پوچھا۔۔ ہاں وہ تو ایک بجے تک آجاتی ہے۔ کھانا وانا کھا کر سو رہی ہے اٹھا دو اب اسے بھی پانچ بج رہے ہیں نماز وماز پڑھے۔ امی بیڈ کے نیچے سے چپل پیر سے نکالتے ہوئے بولیں۔ اس نے بس سر ہلا دیا۔ اورکمرے میں چلی آئی۔ کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔ پردے وغیرہ کھڑکیوں پر ڈلے ہوئے تھے ہلکا ہلکا اے سی چل رہا تھا۔ کنزی چادر تانے بے خبر اسکے بیڈ پر سو رہی تھی۔ گرمی کے تھپیڑے کھانے کے بعد ایکدم ٹھنڈک نے اسکا دماغ سن سا کردیا تھا۔ کچھ سجھائی بھی نا دیا۔ بچ کر چلتے بھی بری طرح گھٹنا بیڈ سے ہی ٹکرا گیا۔ آہ۔ وہ گھٹنا سہلاتی وہیں بیڈ کے کنارے ہی ٹک گئ بیڈ ہلنے سے کنزی کی فورا آنکھ کھلی۔ کون۔وہ آنکھیں کھول کر دیکھنے لگی۔ مزنہ نے جواب نہیں دیا تو فورا اٹھ کر لائٹ جلانے لگی۔ کیا ہوا چوٹ لگی ہے۔ اسے گھٹنا دباتے دیکھ کر وہ فورا پاس چلی آئی مزنہ نے رخ پھیرنا چاہا مگر اسکی آنکھوں میں تیرتے موٹے موٹے آنسو اس سے چھپے نہ رہ سکے بہت زور سے چوٹ لگی ہے۔ اس نے سہلاناچاہا مگر وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی جائو تم میرا کھانا یہیں لے آئو میں منہ ہاتھ دھو لوں ذرا۔۔ وہ تیزی سے کہتئ باتھ روم میں گھس گئ۔ خوب رگڑ رگڑ کر منہ دھویا چہرے پر دنیا جہان کی تھکن گردو غباروہ پانی بھر بھر کر منہ پر ڈالتی رہی۔ جانے کتنی دیر گزر گئ کہ کنزی نے گھبرا کر دروازہ بجا ڈالا کیا ہوا رو رہی ہو؟ ذیادہ چوٹ آگئ ہے؟ اسکی تشویش پر اس نے خاصا بدمزا ہو کر دروازہ کھولا کیا ہوا کہاں چوٹ لگی ہے؟ امی بھی پریشان کھڑی تھیں ذرا سا ٹھوکر لگ گئ اس پر بیٹھ کر روئوں گا بھلا میں؟ وہ قصدا لاپروائئ سے کہتی ہوئی اپنے بیڈ کی جانب بڑھی۔ اس نے مجھے پریشان کردیا۔ امی نے جیسے سکھ کا سانس لیا مجھے آکر کہتی یے مزنہ کو بہت زور سے چوٹ لگی ہے گھٹنے میں۔ اب باتھ روم سے نکل نہیں رہا رو رہا ہے یقینا امی دوپٹے سے ہاتھ پونچھتئ اسکے برابر ہی آن بیٹھیں۔ بیڈ پر اسکا کھانا سجا ہوا تھا گرم گرم روٹی اور آلو گوشت۔ اسکی بھوک چمک سی اٹھی۔ ڈھیلے ڈھالے مردانہ کرتےکی آستین ذرا سا چڑھا کر وہ مکمل لاپروا سے انداز میں کھانے میں مگن تھئ میں نے کہا تھا نکل نہیں رہی رو رہی ہوگی۔ کنزی چبا چباکر بولی۔ میرا بچہ سب کام کرکے آیا ہے جائو اسکے لیئے چائے بنا کر لائو۔ سر میں درد ہو گیا ہوگا۔ امی لاڈ سے اسکے بال سنوارنے لگیں۔ کنزی چڑ سی گئ۔ ہمیں ٹوکتی رہتی ہیں خود اسے بیٹا بیٹا کہتی رہتی ہیں۔ یہ بھئ بیٹی ہے کبھی اس سے بھی چائے بنوا لیا کریں۔۔ تھوڑی کڑک چائے بنانا۔۔ مزنہ نے اسے ہرگز چڑانے کو نہیں کہا تھا مگر اسکا جملہ جلتی پر تیل ڈال گیا تھا۔ آپکو اسکے لاڈ اٹھاناہے خود اٹھائیں۔مجھ سے مت اٹھوائیں۔ ۔ میں کالج سے آتی ہوں تو اپنے لیئے روٹی بھئ خود ڈالتی ہوں اسے ٹرے میں لگا کر کھانا پانی دیتی ہیں اور۔۔۔ تم بھی پھر کسی دن بائک پر بنک ونک کے چکر لگائو بجلی گیس کا بل ٹھیک کروانے جائو مکیکنک کو بلا کر لایاکرو سودا سلف لانے کی ذمہ داری اٹھائو پھر مقابلہ کرنا۔ کبھی بھائی کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا مزنہ نے اس پر یہ حال ہے تمہارا امی نے ایک نہ رکھی لتاڑ کر رکھ دیا۔کنزی مگر آج چپ ہونے والی نہ تھی۔فٹ سے بولی بھائی کی کمی ہے امی ہماری زندگی میں۔بھائی نہیں ہے کوئی میرا اور یہ یہ سب کچھ کر کے بھی بھائی نہیں بن گئ ہے ہمارا اور دنیا میں کیا لڑکیاں یہ سب کام نہیں کرتیں وہ سب اسکی طرح کیا لڑکوں والے کپڑے پہنتی ہیں یا چال ڈھال بدل لیتی ہیں۔؟ آپکو احساس ہی نہیں ہے کہ اسکے اس حلیے کی بنا پر بس کرو خاموش ہو جائو مزنہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔۔ بھاری گمبھیر آواز میں وہ چلائی تو کنزی تو کنزی امی بھی ایکدم چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگ گئیں۔ …………………………… ختم شد۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔
سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟ آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi .. دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔
اسکی ساس کو ذیابیطس تھی اور یہ اسکی زندگی کا سب سے بڑا روگ تھا
گھر میں مٹھاس نام کی کوئی چیز آ نہیں سکتی تھی
مجال ہے جو اپنی بڑھتی ہوئی شوگر کا انھیں احساس ہو وہی سمیعہ جو طرح طرح کے ٹرائفل کیک ڈونٹ وغیرہ بنانے میں ماہر تھی یہاں آ کر میٹھے کو ترس بیٹھی تھی
ایسا نہیں تھا کھانے پینے پر پابندی تھی مگر وہ کچھ بھی میٹھا بنا لے ساس صاحبہ سب سے پہلے چکھنے پہنچتی تھیں
کھہیر بنا رہی ہو ذرا میٹھا چکھا نا
ایک پیالی چکھنے کے بہانے
کیک بیک کیا ہے ؟ ارے چینی تو لگ رہا ڈالنا بھول گئیں
ایک بڑا سا ٹکڑا کھا کے اعتراض آتا
پھلوں کی مکس چاٹ بنی تو پھل ہی پھیکے نکلے پھر رات کو ہسپتال کا ایک چکر
اس نے گھر میں ہی شوگر کی زیادتی معلوم کرنے والا آلہ منگوا لیا
اب جب اس نے فروٹ پنچ بنایا تو یہ کہہ کر پورا گلاس پی گیئں
ارے یہ آلہ خراب ہو گیا ہے ہمیشہ ہی زیادہ شوگر بتاتا
رات کو ہسپتال پہنچ گئیں
فراز نے ٹوک دیا
تمہیں جو مرضی بنانا بناؤ مگر امی کو تو مت کھلایا کرو دکھائی نہیں دیتا کتنی بیمار ہیں
سمیعہ بس دیکھ کر رہ گئی وہ کونسا چمچے بھر بھر کر منہ میں ڈالتی تھی چیزیں….. ٹوکتی ہی تھی مگر ایک تو بہو تھی اسکا ٹوکنا برا بھی لگتا اور خاطر میں بھی نا لاتی تھیں مگر اب تو حد ہی ہو گئی تھی
میاں نے بھی ڈانٹ دیا
بیچارہ سارا دن دفتر رات کو ہسپتال ترس بھی آیا اسے
اس نے گھر میں میٹھا بنانا چھوڑ دیا
کولڈ ڈرنک چھوڑو جام شیریں تک گھر میں منع ہو گئے
مہمانوں کے لئے بسکٹ تک نمکین لانے شروع کر دیے
خود شدید بھی دل کرے کچھ کھانے کا تو بھی نمکین سے گزارا کرتی نہ گھر میں آئیگا کچھ نہ دل للچائے گا
ایک دن کسی کام سے باورچی خانے میں آئی دیکھا چینی پھانک رہی تھیں
سر پکڑ کر رہ گئی اب اگر کوئی بہو ہو تو درد سمجھہ سکتی تھی سمیعہ کا نندیں الگ سناتی تھیں باتیں امی کی شوگر کنٹرول کیا کرو انکو کھانے میں یہ دو وہ دو
میاں الگ پریشان اتنا پرہیز کر کے بھی امی کی شوگر ہائی کیوں
خود وہ اب چینی بھی بند کر دے کیا منگوانا
شوگر گھر کے ایک فرد کو تھی پرہیز سارا گھرانہ کر رہا تھا
امی کی دوائیں ختم ہو رہی تھیں پہلے تو سوچا فراز کو پیغام بھیج کر یاد دہانی کرا دے پھر کچھ سوچ کر کال ملا لی
پڑوس سے مٹھائی آئی تھی سوۓ اتفاق دروازہ تہمینہ بیگم نے ہی کھولا
کس خوشی میں ہے بھئی؟
سامنے والوں کا چھوٹا بیٹا پورے دانت نکال کر بولا
آنٹی میں میٹرک میں پاس ہو گیا پورے آٹھ سو بتیس نمبر آئے ہیں میرے
پلیٹ پکڑ کر تہمینہ بیگم کو گڈو سے بھی زیادہ خوشی ہوئی تھی
مبارک ہو سر پر ہاتھ پھیر کر بھیجا تھا اسے
دروازہ بند کرتے کرتے ایک گلاب جامن جلدی جلدی کھا لی هایے شوگر کے مریض سے کوئی پوچھے مٹھاس کیا نعمت ہے کھا کر وہ آزردہ ہوگیئں
پھر یاد آیا اتنے آرام سے مٹھائی کھا لی سمیعہ کہاں ہے ؟
کہیں چھپ کے دیکھ تو نہیں رہی فراز کو شکایت نہ لگا دے اتنی ہی کوئی ڈراؤنی سوچ تھی کہ گلاب جامن واپس حلق میں ہی آ گئی سمجھو
جلدی سے پلیٹ ڈھک کر باورچی خانے میں رکھی دبے قدموں چلتی ہوئی سمیعہ کے کمرے کے پاس آئیں
تھوڑا سا دروازہ کھلا تھا کسی سے فون پر بات کر رہی تھی مطمئن ہو کے پلٹنے کو تھیں کہ اپنا ذکر سنائی دیا فطری تجسس بیدار ہوا وہیں آڑ میں کھڑی رہ گیں
ارے میں نے آنٹی کا ایسا حل نکالا ہے کیا بتاؤں
بظاھر تو میٹھے کی گھر میں پابندی ہے مگر چینی تو ہے نا خوب جانتی چھپ چھپ کے کھا لیتی ہیں میں بھی انجان بنی ہوئی کھانے دو زہر شوگر اتنی زیادہ ہے کہ زہر ہی سمجھو اسے
کہہ کر ہنسی زور سے
ڈاکٹر نے کہا ہے واک کرنے کو وہ تک نہیں کرتیں ہونا کیا ہے پھر کچھ نہیں کچھ نہیں شوگر اتنی ہائی رہتی کہ بستر سے اٹھ نہیں سکتیں ہا ہا ہا پورا گھر کا نظام آرام سے میرے ہاتھ میں آگیا ہے
کیا ؟
شاطر قاتل بہو ؟
کیسے اب الزام تو نہ لگائو نا
وہ مصنوئی ناراضگی سے بولی
اپنا قتل وہ خود کر رہیں میرا کیا قصور
اس بات پر تو پولیس بھی مجھے نہیں پکڑ سکتی تم کس کھیت کی مولی ہو
وہ آخر میں قہقہہ لگا کر ہنسی
تہمینہ خاموشی سے پلٹ گیں
……………………
فراز حیران تھا مہینہ ہونے کو آیا کوئی ہسپتال کا چکر نہیں لگا دوائیں پابندی سے لے رہی تھیں امی اور تو اور شام کو ابا کے ساتھ پارک میں چہل قدمی کو بھی جانے لگی تھیں
سمیعہ سے کہا تو منہ بنا کر بولی میرے تو سارے سٹار پلس والے پلان فیل ہو گئے کیا کیا نہ سوچا تھا میٹھا کھلا کھلا کر ساس کو بستر پر ڈال دونگی اور گھر پر راج کرونگی
فراز قہقہہ لگا کر ہنسا
واقعی اس دن امی نے سن لیا تھا سب کیا
سمیعہ اثبات میں سر ہلا کر ہنس دی
اس دن وہ فراز سے ہی بات کر رہی تھی جو سنگھار میز کے شیشے میں تہمینہ بیگم کا عکس دکھائی دیا
بس جانے کیا ذہن میں سوچ آئی کہاں وہ فراز کو دوائی لانے کی تاکید کر رہی تھی کہاں ایک دم بات گھما دی
فراز نے حیران ہو کر فون کو گھورا تھا خیر تو ہے اچانک اس بکواس کی وجہ
مگر سمیعہ بولتی گئی تھی اس وقت تو اندازہ نہیں تھا یہ ترکیب کارگر رہیگی مگر سٹار پلس کے سارے ڈرامے دیکھنے والی تہمینہ بیگم سچ مچ اپنی بہو سے ڈر گئ تھیں
اور
سمیعہ ویسے اب کبھی کبھی ٹرائفل بنا لیتی ہے مگر تہمینہ بیگم چکھنے کو بھی تیار نہیں ہوتی ہیں
اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai
انکا تو دھیان بھی نہیں گیا تھا اس طرف انکے دوست نے توجہ دلائی انکی چلتی ہوئے سڑک پر کریانے کی دکان تھی کچھ مہینوں سے جانے کیوں کاروبار میں کچھ مندہ تھا لوگ بڑے مارٹ میں جا کر شاپنگ کرنا پسند کرنے لگے تھے کہ کیا کچھ نقصان ہوا انکو تبھی دوست نے کہا ایک آدھ مہینہ دو نمبر مال رکه لو انہوں نے خود تو حج نہیں کیا تھا مگر دو نمبر کام بھی نہیں کیا تھا بات مگر دل کو لگی ایک مہینہ جم کر بکا مال کچھ پرانے گاہک ایک دو چیزیں واپس کرانے آیے بھی انہوں نے معذرت کر کے نیا سامان دے دیا آدھی قیمت پر خوشی خوشی لوٹ گیے مگر چلتی ہوئے سڑک پر انکی کریانے کی دکان تھی کون کون آتا واپس کس کو یاد رہتا پورے پچاس ہزار بچے دیگر معمول کے منافع کے علاوہ وہ خوشی خوشی گن رہے تھے تبھی موبائل بجا انہوں نے فون سنا تو حواس باختہ ہو گے انکے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا ہاسپٹل سے کال تھی ریسپشن پر بیتابی سے ایک بوڑھا ایکسیڈنٹ کیس کی تفصیل پوچھ رہا تھا ڈاکٹر نے تسلی دی اسکے بیٹے کی جان بچ گی تھی بر وقت ہاسپٹل لانے سے مگر کچھ ٹیسٹ ہونے تھے اور ایک چھوٹا سا آپریشن … ڈاکٹر نے ایک فارم دیا اسے پر کر لیں کانپتے بوڑھے ہاتھ فارم فل کرنے لگے تقریبا بارہ ہزار ابھی جمع کرانے تھے ٹیسٹوں اور دیگر آپریشن کے اخراجات کی تفصیل بھی لکھی تھی انہوں نے جلدی سے سب کو جمع کر کے کل رقم کا تخمینہ لگایا تو پچاس ایک ہزار بن گیے تھے
اردوز ویب ڈائجسٹ کی تمام تحاریر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں بلا اجازت ان تحاریر کو استعمال کرنے پر انضباطی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔۔ از قلم واعظہ زیدی (ہجوم تنہائی) #اردو #اردوویب #ناول #hajoometanhai