Blog

  • yeh hajoom e rang o nikhat

    یہ ہجوم رنگ و نکہت ، تیرے حسین اشارے 

    مری سو آرزوئیں کہیں جاگ اٹھیں نہ پیارے 

    ہیں بھری بہار میں بھی ، مری زیست کے سہارے 

    وہی بھولی بسری یادیں وہی گمشدہ نظارے 

    یہ بہار نور و نغمہ ، وہی ہم ، وہی شب غم 

    وہی صبح کا تصور ، وہی ڈوبتے ستارے

    ہے نوید موسم گل ترا نغمہ تبسم 

    تری نبض کی حرارت مری آہ کے شرارے 

    مرے دل کی دھڑکنوں کو ابھی رائیگاں نہ سمجھو 

    ابھی ہوش میں ہے شبنم ، ابھی جاگتے ہیں تارے 

    ہوئے منتشر جو تارے چنے دامن سحر نے 

    جو بکھر گئے ہیں سپنے انھیں کون اب سنوارے 

    کہیں ہم تو کون مانے کہ ہیں اپنے قاتلوں میں 

    وہی حسن و ناز والے وہی مہرباں ہمارے 

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • aankh main ansoo la

    آنکھ میں آنسو ،لب پہ تبسم 

    آنکھ میں آنسو لب پہ تبسم 

    اف وہ ترا انداز تکلم 

    کتنا ہی بدلے رنگ زمانہ 

    ہم ہوں یہی ہم ، تم بھی یہی تم 

    اہ تھی لب تک آتے آتے 

    دل میں اٹھی تھی موج تبسم 

    دل اور ایسی درد کی دنیا 

    ایک قطرے میں اتنا تلاطم

    کتنا سہانہ موسم آیا 

    مست گھٹائیں دل میں تلاطم 

    درد کی ماری کوئل کوکی 

    سیکھ لیا غنچوں نے تبسم 

    نہر کنارے ہولے ہولے 

    اٹھلاتی موجوں کا ترنم 

    آؤ شمیم اک نغمہ چھیڑیں 

    کس عالم میں کھویے سے ہو تم 

    آگئی پھر کی یاد کسی کی 

    کیوں بیٹھے ہو چپ چپ گم سم 

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • mumkin nahi taskeen ay hamdam dil rota hay ro lenay de

    ممکن نہیں تسکین اے ہمدم دل روتا ہے رولینے دے

    میں زیست کا حاصل کھو ہی چکا اس زیست کو بھی کھو لینے دے

    جب درد ہی دل کو بھایا ہو پھر چارہ گری سے کیا حاصل

    برباد میں ہوتا جاتا ہوں برباد مجھے ہو لینے دے

    وہ احد تمنا ختم ہوا ، یادوں کا سہارا باقی ہے 

    اس وادی رنگین میں دل ایک لمحہ سہی کھو لینے دے

    دساز ستارے تھک بھی چلے آنکھوں میں اتنی رات کٹی 

    اے درد مسلسل تھم بھی سہی کچھ دیر ذرا سولینے دے 

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • woh tabasum yaad aaya ro diye

    وہ تبسم یاد آیا رودیے

    کوئی غنچہ مسکرایا رو دیے

    ذہن میں لہرا گئیں  زلفیں تیری 

    ابر جب گھر گھر کے آیا رودیے

    جسے اپنے غم کا نغمہ مل گیا 

    گیت یوں مطرب نے گیا رودیے

    درد سا دل میں اٹھا آنکھیں بھر آییں

    یاد نے تیری رلایا رو دیے 

    شغل یہ ہے فصل گل میں شمیم 

    آنکھہ پھڑکی دل بھر آیا رودیے

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • phir shagoofay phoot nikle toot ker aaai bahar

    حور غم خواری کا جنت دل بہل جانے کا نام

    خلد تخیل خرد منداں ہے میے خانے کا نام

    ساقیا میے ، رقص اے رندو ترنم مطربو

    محتسب کے لب پہ آج آیا ہے پیمانے کا نام

    فتنہ ہائے ہوش کا ردعمل دیوانہ پن 

    مفت میں بدنام کر رکھا ہے دیوانے کا نام

    پھر شگوفے  پھوٹ نکلے ٹوٹ کر آئیی بہار

    پھر لیا ہے آپ نے اپنے دیوانے کا نام 

    مجھ پہ گزرا ہے کچھ  ایسا عالم تشنہ لبی 

    چبھ سا جاتا ہے مرے ہونٹوں میں پیمانے کا نام

    میے پیام امن میخانہ بنا دارالسلام 

    محتسب کے نام پر رکھا ہے میخانے کا نام

    چاک دامان خیر سے چاک جگر سے آملا

    یوں  بہارستان ٹھہرا مرے ویرا نے کا نام

    داغہائے سینہ پھر لو دے اٹھے ہیں شمیم 

    شاعری ٹھہرا جگر کی آگ بھڑکانے کا نام 

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • bala say ghair lia andheron bagolon nay

    بلا سے گھیر لیا اندھیروں بگولوں نے

    مرے جنوں کو ہوا دی ہے چند پھولوں نے

    خراب حال ہو تم بھی ، مگر نصیبوں سے

    مجھے تو دن یہ دکھایا میرے اصولوں نے

    بہار رنگ سمن زار ہے مری منزل

    یہ بات الگ ہے کہ الجھا لیا ببولوں نے

    بکھر گئی ہیں کیوں یونہی اتنی پنکھڑیاں

    بھری بہار کو طعنہ دیا ہے پھولوں نے

    چمن تلک تھی سب اہل چمن کی دلداریاں

    قفس میں اس بندھائی ہے کچھ بگولوں نے

    ہزار اصول ہوئے جذب شوق پر صدقے

    ہزار نام دیے شوق کو اصولوں نے

    وفا سے مضحکہ اہل جور بھی دیکھا

    وفا کے نغمہ سراؤں نے دل ملولوں نے

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • niyat ho doobnay ki tau imkaan nayay nayay

    نیت ہو ڈوبنے کی ، تو امکان نئے نئے 

    اٹھتے ہیں ساحلوں سے بھی طوفان نئے نئے 

    وحشت نئی نئی ، کبھی ارماں نئے نئے 

    دل ہے تو دل بہلنے کے ساماں نئے نئے 

    پیمانے ریزہ ریزہ ، خرابے کھنڈر کھنڈر 

    اب ہیں بھری بہار کے عنوان نئے نئے 

    ہاں یہ مقام ہے کہ چلیں چارہ گر کے پاس

    دل ڈھونڈتا ہے درد کے ساماں نئے نئے 

    غیروں کی دشمنی ہے بڑی عامیانہ چیز 

    میری خرابیوں کے ہیں عنوان نئے نئے 

    پینے کے بعد حضرت واعظ کا زور نطق

    جسے ہوئے ہیں آج مسلمان نئے نئے 

    ایک ترک  عشق پر ہی نہیں داستاں تمام  

    دل ہے تو ٹوٹنے کے بھی امکان نئے نئے 

    پھولوں کا شوق اور خار و شرار و برق 

    ہمراہ درد آئے ہیں درماں نئے نئے

    مستی بھری گھٹا نہ سہی ابر غم سہی

    ارماں بہ خیر زیست کے ساماں نئے نئے 

    آوارہ نکہتیں کبھی پابند خوش نوا 

    کھلتے ہیں گل بنام بہاراں نئے نئے 

    دشمن کا دل جلے کہ ہمارا لہو شمیم 

    ہم ہیں تو روشنی کے بھی ساماں نئے نئے 

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • sach ko sach na bahanay ko bahana samjhain

    سچ کو سچ اور نہ بہانے کو بہانہ سمجھیں

    تم  ستاؤ  ہمیں ہم جور زمانہ سمجھیں

    غیر کو غیر یگانے کو یگانہ سمجھیں

    یہ تو جب ہو کہ ذرا رنگ زمانہ سمجھیں

    جھوٹ کو جھوٹ فسانے کو فسانہ سمجھیں

    وہ بھی دن آئے کہ اسرار زمانہ سمجھیں

    ہم تو انساں کو دکھی دیکھ کر ہنسنے سے رہے

    آپ سمجھیں غم دوراں کو فسانہ سمجھیں

    ہم ہیں جو دیتے ہیں آہوں کو ہنسی کا آہنگ

    کم ہیں جو غم کو مسرت کا خزانہ سمجھیں

    دھڑکنیں ہر دکھے دل کی ہیں میرے سینے میں

    میں کہوں اپنی تو لوگ اپنا فسانہ سمجھیں

    آپ اٹھائیں تو سہی درد کا پرچم لے کے

    اہل دل جتنے بھی ہیں شانہ بشانہ سمجھیں

    ہے مرا شعر مرے درد کی تصویر شمیم

    آپ سے نوحہ ، کہ نعرہ ، کہ ترانہ سمجھیں

    از قلم زوار حیدر شمیم

  • Rubaai armaan kuchaltay huway dil dukhta hay

    رباعی
    ارمان کچلتے ہوۓ دل دکھتا ہے 
    ایما ں بھی بدلتے ہوئے دل دکھتا ہے 

    گل چاک بد اماں  ہیں انھیں کیا چھیڑوں 
    غنچوں کو مسلتے ہوئے دل دکھتا ہے 


    از قلم زوار حیدر شمیم

  • qataaقطعہ 

    قطعہ 
    وہم رنگیں سے لو لگاۓ ہوئے 
    سوز دل کے دیے جلائے ہوۓ

    چار و ناچار جی رہا ہوں میں 
    ہر سہارے سے جی چرائے ہوۓ

    انکی الفت کا بھی زمانہ تھا 
    اب زمانہ ہوا بھلائے ہوئے

    از قلم زوار حیدر شمیم