Desi Kimchi Episode 29

قسط 29

عشنا کا پتہ کرو کہاں ہے دو دن سے۔
چائے پیالی میں نکالتے ہوئے واعظہ کو خیال آیا تو مڑ کر ہانک لگائی۔ عزہ الف عروج قطار سے بیٹھی ایک دوسرے کے سر میں تیل لگا رہی تھیں۔
یار فون بند جا رہا ہے اسکا۔ عزہ نے الف کے سر میں تیل جھسا۔ جیسے ہی ہتھیلی پیچھے کو کی وہ سر کے بل عزہ کے اوپر آئئ گردن بھی کھنچ گئ۔
آہ۔ آرام سے بال نچ گئے میرے۔ الف کا توازن خراب ہوا تو عروج کے سر سے مٹھی نکالے بنا ہی توازن درست کیا نتیجتا اسکے مٹھی بھر بال کھنچےتو اگلی چیخ اسکے منہ سے برآمد ہوئی۔
انسان بنو الف کی بچی۔ میرے بالوں کو کھینچ لیا ہاتھ میں ہی آگئے ہونگے۔ اس نے تڑپ کر سر چھڑاتے ہوئے چندیا سہلائی۔
نہیں تو۔ الف نے جھٹ نفی میں سر ہلایا۔چپکے سے ہتھیلی دیکھی تو اس میں کئی بال چپکے تھے۔ فورا ہاتھ پیچھے کر لیا۔عروج مشکوک سی دیکھ رہی تھی۔
عروج پورے مٹھی بھر بال توڑے ہیں اس نے۔ عزہ نے شکایت لگائی۔ الف نے مڑ کر گھورنا چاہا تو عروج نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جوابا اسکے گھونسلے سے مٹھی بھر لی
الف کی بچی گنجا کررہی تھیں مجھے۔ عروج نے دانت کچکچائے
عزہ بہت ہی کوئی کمینی نکلی ہو تم۔۔ الف کو عزہ پر سخت تائو آیا
اوہو ایک دوسرے کے بال نوچو میں نے کیا بگاڑا۔ عزہ نے مظلومیت کا رونا رویا۔
۔منے لائونج میں ورلڈ وار تھری چھڑ گئ تھی۔ الف کے ہاتھوں میں عروج کے بال نہ آسکے تو عزہ کے سر پر دونوں ہاتھوں سے حملہ کردیا۔ تینوں جذباتی ہو کر اب کھڑی ہو چکی تھیں۔گول گول چکر کاٹتے ہوئے تینوں نے ایک دوسرے کو بالوں سے پکڑ رکھا تھا
میرے تو ابھی تیل بھی نہیں لگا تھا الف چھوڑو بال ٹوٹ رہے میرے۔
واعظہ چھوٹی ٹرے میں چائے کے چار کپ لیکر لائونج میں آئی تو بوکھلا سی گئ
اوہو۔ چائے گر جائے گی۔ عزہ کی کہنی سے ٹرے بچاتی جھلائی۔
بے ہنگم چیخ و پکار سے پورا اپارٹمنٹ لرز رہا تھا۔
اوہو رکو بال چھوڑو۔۔ کیا ہنگامہ ہے ہوش کرو۔
چائے اسکے ہاتھوں میں ٹھنڈی ہونے لگی تھی۔ تبھی دروازے پر زوردار اطلاعی گھنٹی بجی۔واعظہ کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوا۔ اپنی مخصوص گونج دار اونچی آواز جسکو وہ شاز ہی استعمال کرتی تھی استعمال کرتے ہوئے چلائی۔
بس کرو بچپنا پڑوسیوں نے پولیس بلا لی ہے۔
پولیس کا نام سنتے ہی انکی زبان ہاتھ سب رکے تھے۔
فلیٹ میں خاموشی چھا گئ۔ واعظہ نے حسب توفیق گھورا۔
چائے منی میز پر رکھتی دروازہ کھولنے چل دی۔ تینوں لاوئنج کی دیوار سے لگ کر سر نکال کر راہداری میں جھانکنے لگیں۔ واعظہ نے دروازہ کھولا تو طوبی بڑی سی ٹرے لیئے سامنے کھڑی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منے لائونج کے صوفے پر طوبی کو مہمان ہونے کا رتبہ بخشتے ہوئے بٹھایا تھا وہ سب قطار میں لائونج میں بیچوں بیچ آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔ بیچ میں ڈش رکھی تھی
انہوں نے پلیٹوں کا تکلف نہیں کیا بڑی ڈش میں ہی شروع ہوگئیں بس چمچے لے آئی تھیں اندر سے۔
طوبی نے گہری سانس بھری۔ اسکے چہرے پر اداسی سی چھا گئ تھئ۔
اسکے برابر میں ہی واعظہ کی۔بنائی چائے کی ٹرے رکھی تھی۔
آپ چائے تو لیجئے طوبی۔ عروج نے کہا تو وہ یونہی سر ہلاگئ۔ وہ سب ٹھیک ٹھاک بھوکی ہو رہی تھیں۔ اسکا اندازہ انکی کھانے کی رفتار دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔
وہ چند لمحے سر جھکائے کچھ سوچتی رہی پھر کہے بنا نہ رہ سکی۔
تو وہ مجھ سے ملے بغیر ہی چلا گیا۔ مجھے مانا بہت غصہ آیا ہوا تھا پر مجھ سے مل کر تو جاتا۔ آپی کہتا تھا مجھے۔ بس کہتا تھا ؟ مانتا نہیں تھا۔
ایسی بات نہیں ہے طوبی۔ واعظہ نے فورا ہاتھ روک کر سر اٹھایا۔
وہ بس کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتا ہے۔ بچہ ہی تو ہے۔ جو کچھ اس نے سہا کیا وہ سب اسکے لیئے بہت ذیادہ تھا۔وہ اگر آپی نا سمجھتا تو خط تھوڑا لکھتا ۔
پھر بھی۔ وہ بے قراری سے بات کاٹ گئ۔
مجھ سے مل کر تو جانا چاہیئے تھا۔ تم لوگوں کے تو ساتھ تھا مل کر تو گیا ہوگا
وہ ہم میں سے کسی سے مل کر نہیں گیا طوبی۔ عروج نے اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہی
لغ۔۔ الف کی زبان میں کھجلی ہوئی۔ جھٹ دانتوں تلے دبا کر پینترا بدلا
صرف واعظہ کو بتا کے گیا ہے۔ ہم تو سمجھے تھے تھوڑی دیر تک آجائے گا۔وہ تو۔۔
خاموشی سے سب کی باتیں سنتی عزہ نے سر اٹھا کر براہ راست طوبی کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔
آپ مل لیتیں اس سے طوبی جی؟
وہ ہاں کہتے کہتے رک سی گئ۔ شائد وہ ملنے آتا تو ڈانٹ ہی دیتی یا ملنے سے انکار کر دیتی۔ اسے اتنا ہی۔غصہ تھا۔مگر اب جب وہ یوں چلا گیا تھا بنا ملے تو سارا غصہ کہیں غائب ہو گیا تھا۔بس ایک خلش سی تھی۔
اسے بے اختیار اپنے الفاظ یاد آئے
میں ایک غیر مسلم کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طوبی کی آنکھوں میں آنسو بھر رہے تھے۔ ان سب کے کھانے کی رفتار کم ہو چکی تھی۔
چائے پی لو طوبی ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
واعظہ نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ اٹھتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا تو کچھ سوچتی طوبی چونک گئ

میں اس سے ملوں گی۔ واعظہ اسکا پتہ بتائو مجھے میں اس سے ملنے جائوں گئ۔
وہ ایکدم مضبوط سے لہجے میں واعظہ سے مخاطب ہوئی۔
پہلے چائے پی لو ٹھنڈی ہو رہی ہے۔
واعظہ اطمینان سے کہتی کچن کی۔جانب بڑھ گئ ۔ فریج کھول کر گلاس بھرتی۔۔ پیتی۔ اس سے ذیادہ مصروف کوئی۔نا تھا۔ طوبی تو طوبی باقی تینوں بھی اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
کہاں رہتا ہے ۔۔۔نہیں۔کس ہائی اسکول میں اس نے تبادلہ کرایا ہے کس گائوں گیا ہے سب تفصیل بتائو ہم سب اکٹھے چلیں گے۔
عزہ کو یہ خیال بھایا تھا جھٹ چٹکی بجاتے ہوئے پرجوش سی ہوئی
ہاں۔یہ ٹھیک ہے کان سے پکڑ کرلائیں گے اسے واپس۔
طوبی بھی خوش ہوگئ۔
چار کپ ہیں چائے کے تم چاروں ایک ایک لے لو۔ میرا دل نہیں چاہ رہا اب پینے کا۔
واعظہ نے پانی پی کر گلاس کائونٹر پر رکھ کر مشورہ دیا
اوہو دفع کرو چائے کو بتائو کہاں
عروج جھلائی
کیا مطلب دفع کرو۔ اتنی تھکی ہوئی آئی ہوں میں اتنا برا اور بڑا دن گزار کر آتے ہی مجھ سے چائے بنوا لی کہ میرے سوا کسی کے ہاتھ کی چائے ہی نہیں پسند اور اب دفع کرو چائے۔ پیئو سب خبردار جو ضائع کی۔
وہ پلٹ کر چلائی۔
سونے کی چائے بنائی ہے جو اتنی باتیں سنا رہی ہو۔ عروج کو اسکے یوں چیخنے پر غصہ ہی آگیا
کیا ہوگیا ہے۔ الف نے ٹوکنا چاہا
اچھا میں پی رہی ہوں چائے ضائع نہیں کر رہے ہم
طوبی نے جھگڑا نپٹانے کو کپ اٹھا کر منہ سے ہی لگا لیا
گرم گرم چائے سے ہونٹ بھی ذرا سا جلا ۔ مگر اس وقت اہم معاملہ درپیش تھا
خود بتائو طوبی صبح بنا ناشتے کے نکلی تھی میں پوری دوپہر اس منحوس چینل نے برباد کی ابھی گھر آئی ہوں تو کھانا تک کسی نے نہیں بنایا ہوا تھا الٹا چائے کی فرمائش کردی اب بنا کر لائی ہوں تو کوئی پینے کو تیار نہیں۔سخت زہر لگتا ہے مجھے کہ میں چائے بنائوں اور اسے کوئی پیئے نا۔ بے حرمتی ہے میری چائے کی یہ۔
وہ اتنی سنجیدگی سے یہ شکایت کر رہی تھی کہ طوبی تو طوبی عروج عزہ اور الف بھئ چپ سی ہو کر دیکھنے لگیں
نہیں ہم بے حرمتی نہیں کریں گے چائے کی ہم پیئیں گے۔ ابھی کھانا کھا رہے تھے واعظہ۔
عزہ نے منانا چاہا۔
بالکل ۔ اور الف یہ جو برتن نہ دھونے کے چکر میں سب نے ٹرے میں ہی کھالیا نا کپ تم دھو کر رکھنا سمجھیں۔
وہ وارننگ دیتی رکی نہیں کمرے میں جاگھسی دروازہ بھی بند کر دیا تھا۔
بے چاری الف نے توآئیڈیا نہیں دیا تھا میں ہی چمچ اٹھا لائی تھی ۔عروج ہنسی۔
اسکا کوئی اسکرو ڈھیلا۔ہوگیا ہے۔ عزہ بھی حیران ہوئی ۔
مجھے بھی بہت غصہ آتا جب دلاور کی چائے بنا کر رکھ دوں اور وہ ٹھنڈی ہوتی رہنے دیتے ہیں دو تین بار بتائو تب کپ منہ کو لگاتے۔ بھئ ٹھنڈی چائے پینے کا کیا فائدہ۔
طوبی کی بات پر وہ دونوں سر کھجانے لگیں
مجھ سے نہیں کھولتی چائے پی جاتی۔ عزہ نے کندھے اچکائے۔
اور مجھ سے خالی پیٹ نہیں پی جاتی۔ شکریہ طوبی بہت مزے کا کھانا تھا پیٹ بھر گیا میرا۔ الف چائے پکڑا دو۔
عروج پر کھا کے سستی سی سوار ہونے لگی تھی۔
تم لوگوں کو اور چاہیئئے ہوں چاول تو لا دوں؟ ابھئ عشنا بھی آتی ہوگی ۔۔
طوبی نے تقریبا صاف ہوئی ڈش دیکھ کر پوچھا۔
نہیں ہم نے کھا لیا بس تھینک یو طوبی۔ عروج نے فورا منع کیا۔
عشنا کیلئے تو ۔۔۔۔طوبی نے اٹھنا چاہا تو عزہ نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا دیا۔
کہاں دو دن سے عشنا گئ ہوئی ہے کسی سہیلی کے ہاں اب تو فون بھی نہیں اٹھا رہی
کہاں گئ ہوئی ہے حد یے لاپروائی کی۔طوبی کے اندر کی خیال رکھنے والی اماں بیدار ہوگئیں۔
ایسے ہی کرتی ہے یاد نہیں کیسے فون گھر بھول کر سب وے میں گم ہوگئ تھی ۔۔ عزہ نے یاد دلایا تو عروج کو اپنا دکھ یاد آگیا
اور ان سب نے فون کر کرکے مجھے سونے نا دیا۔
آلف نے اٹھ کر چائے کی ٹرے اٹھالی۔ عزہ اور عروج کو کپ پکڑا کر اپنا کپ لیکرسوچے بنا نہ رہ سکی۔
چائے چائے کی رٹ نے بھلا ہی دیا ان سب کو کہ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیانیئے۔
دنیا کی سب سے معصوم لڑکی اسکے سامنے سر جھکائے کھڑی منمنا کر کہہ رہی تھی۔
اس نے ایک نگاہ ڈالی پھر صوفے کی رگڑائی میں لگ گیا۔ جانے کونسا لیکویڈ تھا صوفے پر ڈالا اور کپڑا پھیرا داغ آدھا رہ گیا اور نم بھی نہیں ہوا صوفہ۔ وہ دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
بیانیئے بولا نا اب تو مان جائو۔
وہ کپڑا اٹھا کر سیدھا ہوا داغ آخر کار غائب ہو گیا تھا۔ وہ شیشی بند کرتا پلٹا تو وہ عین اسکے سامنے آکھڑی ہوئی
دے؟ اسے ککھ سمجھ نا آیا۔
وہ میں کہہ رہی تھی بیانیئے کہہ رہی ہوں
اپنے سر پر چپت لگا کر اس بار اس نے انگریزی میں کہا تھا۔
اب تو بات ختم کرو۔ دیکھو صاف ہوگیا صوفہ۔ وہ سیدھی صوفے کی جانب بڑھی اشارہ کیا۔ سیہون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔اس نے ںگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تو ہلکا سا دھبہ ابھی بھی تھا۔ ہونٹ دانتوں تلے کاٹتی اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو جھٹ بیٹھ گئی۔ اس کو روکنے کیلئے جب تک سیہون نے منہ کھولا وہ بیٹھ چکی تھی۔ ایک اور غلط اندازہ۔ اسے بیٹھ کر پتہ لگا کہ صوفہ گیلابھی ہوا تھا۔
تمہیں کہا کس نے تھا کہ لائونج کیلئے سفید صوفے لو۔ ہم پاکستانی کبھی سفید صوفے نہیں ڈالتے لائونج میں ۔ ہر وقت کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے۔ بھورے ٹھیک رہتے۔ میل خورا رنگ اور ہم مڈل کلاس تو بھورے صوفے پر بھی کور ڈال کر رکھتے۔ زندگی بھر اندر سے صوفے نئے رہتے بھلے کور پرانے اور گندے ہوتے رہیں۔
اس نے اپنی طرف سے بڑے پتے کی بات بتائی تھی مگر سیہون ذرا متاثر نہ ہوا۔ کہے بغیر نہ رہ سکا
اس سے بہتر یہ نہیں کہ صوفے ہی استعمال کیئے جائیں اور خراب ہونے پر انکو ہی ٹھیک کروا لیا جائے۔
بات میں دم ہے۔فاطمہ قائل ہوئی
مگر تم کیا جانو پرانے صوفے پاکستانی گھرانوں میں گھر کے فرد کی طرح ہوتے ہیں۔ بلکہ ان سے بھی ذیادہ اہم۔اگر پاکستانی گھرانوں میں بچہ صوفے پر کودتے ہوئے گر جائے تو والدین بچے کا سر ٹوٹنے سے ذیادہ فکر مند صوفے کی ٹانگ ٹوٹنے پر ہوتے ہیں۔
وہ جوش سے سیدھی ہوئئ
تمہیں پتہ ہے۔۔میری امی کے جہیز کے صوفے آج تک نئے نکور ہیں۔ ہم نے ڈرائینگ روم میں جب بدلے تو اٹھا کر لائونج میں ڈال لیئے مگر مجال ہے امئ ہمیں صوفے کی بے حرمتی کرنے دیں ۔
وہ بیٹھے بیٹھے اسپرنگ صوفے پر زرا سا اچھلی۔ صوفہ نیا ہونے کی وجہ سے صحیح جھولے دے گیا اسے خاصا مزا آیا۔
ہائے کتنے مزے کا ہے۔ یہ خالصتا اردو میں کہا گیا۔ بچوں کی طرح خوش ہوتی صوفے پر جھولتی سیہون کو اسکے بچپنے پر ہنسی آگئ مگر وہ اپنے میں مگن تھی۔ سر جھکائے جھولے کے مزے لیکر دوبارہ انگریزی میں شروع ہوگئ۔
ایسے تو ناممکن تھا کہ ہم کبھی بچپن میں بھی کر سکیں۔
زرا ذیادہ دیر بیٹھ جاتے تو اٹھا دیتی تھیں کہ زمین پر فلور کشن پر بیٹھ جائو تھوڑی دیر ۔۔صوفہ خراب ہو رہا ہے۔ دراصل امی کے جہیز کا صوفہ تھا نا۔
کہتے کہتے جب اس نے سر اٹھا کر مخاطب کو دیکھنا چاہا تو پتہ چلا سیہون صاحب ٹر چکے۔ اب اوپن کچن میں فریج کھولے کھڑے اندر جھانک رہے ہیں۔
اس نے اٹھنا چاہا پھریاد آیا کہ گیلی جگہ بیٹھ چکی ہے۔
مجھے بھی آج سفید ٹرائوزر ہی چڑھانا تھا۔
وہ بے بسی سے بڑبڑائی۔
سیہون فریج سے چاول نکال کر ان پر ڈھیر ساری کمچی اور بلیک بینز ڈال کر پلیٹ بنا کر جب آیا تو وہ منہ بنائے بڑ بڑ میں ہی لگی تھی۔
تم نے بھی ناشتہ نہیں کیا ہوا تھا؟ فاطمہ حیران ہو کر چیخی۔ سامنے وال کلاک پر نگاہ پڑی تو گھڑئ ساڑھے گیارہ بجا رہی تھی۔
ہمیں کچھ اصول طے کر لینے چاہیئں جب تک ہمیں اکٹھے رہنا ہے۔
منہ میں نوالہ بھرے چٹخارے لیتے ہوئے وہ کہہ رہا تھا۔ چھوٹا سا منہ پھولے کلوں کے ساتھ غبارہ سا بنا ہوا تھا
فاطمہ دیکھ کر رہ گئ۔
آٹھ نو سالہ دو پونیاں لہراتی یونیفارم پہنے فاطمہ منہ میں پراٹھے کا پدا سا نوالہ جو اماں نے ہی منہ میں دیا تھا اسے کلے میں دبا کر بڑی ضروری بات بتا رہی تھی۔
پتہ ہے امی عاصمہ کے گھر میں اتنی بڑی بلی ہے
فاطمہ پہلے کھا لو پھر بات کرنا کھاتے ہوئے بولتے نہیں ہیں..
امی نے لمحہ بھی ضائع کیئے بنا ٹوکا تھا۔
اس گھر کی صفائی ایک دن میں اور ایک دن تم کروگی۔
یہ اصول نمبر 1 تھا۔ ایک اور فلیش بیک چل پڑا تھا فاطمہ کی آنکھوں کے سامنے ۔۔
وہ منے لائونج میں صفائی کر رہی تھی۔ برش پیچھے سے آگے کرنے کی بجائے آگے سے اپنی جانب کر رہی تھی نتیجتا ساری گرد اسکے اپنے پائوں پر اور عروج ابیہا اور نور کی حیران نظریں اسکے چہرے پر جم رہی تھیں۔
فاطمہ پہلی بار جھاڑو دے رہی ہو؟ ۔
نور پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
نہیں۔ وہ فٹ سے مکر گئ۔ پھر اپنے ارد گرد پھیلے گردباد پر نگاہ ڈال کر سر جھکا لیا۔
آہ ہاں۔
رات کو جو بھی گھر نہیں آئے گا یا نہیں آنے کا ارادہ رکھے گا وہ دوسرے کو 11 بجے تک مطلع کر دے گا۔
سیہون کا ناشتہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا
دوسرا اصول۔
کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تم رات کو آئو ہی نا؟
فاطمہ بھونچکا سی رہ گئ۔
ہاں ویک اینڈ پر کبھی کسی پارٹی میں لیٹ ہو ہی جاتا ہے، اور ڈرنک ہو جائوں۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکا۔
تمہاری کوئی خطرناک قسم کی عادتیں تو نہیں ٹن ہو کر؟ وہDrinking Habbits)کا پوچھ رہا تھا۔
اس نے حفظ ما تقدم کے طور پر پوچھنا بہترسمجھا۔ فاطمہ اچھل ہی تو پڑی خاصے چبھتے انداز میں بولی۔
جی نہیں۔ میں مسلمان ہوں ہم ڈرنک نہیں کرتے۔
اوکے اوکے۔ سیہون نے فورا صلح کا پرچم۔لہرایا
مانا مسلمانوں میں منع ہوتا ہے مگر سب ہر اصول پر کاربند تو نہیں رہتے نا۔اسلیئے احتیاطا پوچھ لیا۔ اب مسلمان نماز بھی تو پڑھتے ہیں۔نا میں نے کبھی واعظہ کو دیکھا مسجد جاتے ہوئے نا تم اتنے دنوں میں کبھئ مسجد گئیں۔
سیہون کا انداز سادہ سا تھا فاطمہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ
مانا کبھی کبھار چھٹ جاتی ہے نماز مگر اسکا یہ مطلب بھی نہیں لیا جا سکتا کہ وہ پڑھتی ہی نہیں۔۔
اس نے گلا کھنکارہ
لڑکیاں مسجد نہیں جاتیں۔ وہ گھر میں پڑھتی ہیں نماز وہ بھی کسی۔۔ وہ نا محرم کا ترجمہ ذہن میں دوڑانے لگی۔ مگر سمجھ نا آیا۔
کسی اجنبی کے سامنے نہیں۔
اس نے اسٹرینجر ترجمہ کیا تھا۔
دے۔۔۔ سیہون نے سر ہلایا۔
ہم کوریائی گھر میں باہر کے جوتے استعمال نہیں کرتے۔
اس نے ایک نظر اسکے پائوں پر ڈال کر کہا۔
اور ہم پاکستانی جوتے بنا گھر میں داخل نہیں ہوسکتے۔
وہ اردو میں بڑ بڑائی مگر اثبات میں سر ہلا دیا۔
ہم اپنا اپنا کھانا اپنی مرضی سے خود پکا لیا کریں گے اور گروسری شاپنگ بھی خود اپنی اپنی الگ کریں گے۔
یہ شرط فاطمہ نے لگائی تھی۔ سیہون نے ایک نگاہ دیکھ کر اسے سر اثبات میں ہلا دیا تھا۔ مگر ہنگل میں بڑ بڑایا ضرور
پیسے ہیں بھلا؟ بے روزگار محترمہ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جم گئی یہ بس لیپ ٹاپ کے سامنے رات بھر کے لیئے۔
اس پر اپنے استری شدہ کپڑے لٹکا دوں تو مجھے قوی امید ہے صبح اسی طرح استری شدہ اسکے سر پر سجے ملیں گے۔
عروج ہلکی سی دستک دے کر کمرے میں داخل۔ہوئی تو واعظہ کو اپنے بستر پر دراز لیپ ٹاپ پر مگن پایا۔
کوئی کام تھا۔
اس نے اطمینان سے سر اٹھا کر اسے دیکھا
سنو مجھے ایک مشورہ کرنا ہے۔
وہ اسکے سامنے بیڈ پر آبیٹھی
کہو۔
یار وہ ایک یو ٹیوبر ہے۔وہ مجھے اپنے چینل پر انٹرویو کیلئے بلانا چاہتی ہے پیسے بھی دے گی۔ مگر لائیو اسٹریم ہوگا۔ پیسوں کی خیر ہے مگر یوں اچانک لائیو اسٹریم پر تھوڑا سا جھجک رہی ہوں۔ ملینوں فالورز ہیں اسکے
وہ تھوڑی پرجوش سی تھی۔ واعظہ نے ایک نگاہ اسکے تمتاتے چہرے پر ڈالی پھر دوبارہ لیپ ٹاپ اسکرین پر نگاہ جما لی۔ ہاتھ کی بورڈ پر چل رہے تھے۔
کس خوشی میں؟ اسکا سوال منطقی تھا۔
اس خوشی میں۔ عروج نے اپنے دائیں جانب چٹکی بجا کر اشارہ کیا تو ایک یاد اسکے دائیں جانب چلنے لگی دونوں بغور اس تصوراتی پردے کو گھورنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکی اسے قریبئ ریستوران لے آئی تھی۔
کیا پیئوگی؟ اس نے بہت دوستانہ انداز میں اس سے پوچھا۔
سیلف سروس تھی سو وہ یقینا خود اٹھ کر جاتی
کچھ نہیں شکریہ۔ آپ کو جو بات کرنی ہے کر لیں۔
عروج کا لہجہ کھردرا ہو چلا تھا۔ اس لڑکی کے اطمینان میں سرموق فرق نا آیا تھا۔ گلابی شارٹ فراک جیسے لباس میں ملبوس اسکی گوری رنگت اتنا دمک رہی تھی کہ عروج کو اپنا رنگ بھجنگ لگنے لگا تھا حالانکہ عروج تو عروج وہ لڑکی تک عروج کو نقاب کے باعث دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر نزاکت سے اپنے ریشمی بال جھٹک کربولی۔
ضرور مگر ساتھ کوئی اچھی سی ڈرنک بھی ہو تو کیا ہی بات ہے۔ میں لیکر آتی ہوں۔
وہ موقع دیئے بنا اٹھ گئ۔ عروج کو اسوقت کچھ بھی کھانے پینے کا دل نہیں کر رہا تھا۔مگر وہ چند ہی منٹوں میں دو بھرے ہوئے گلاس پھلوں کی کاک ٹیل کے لے آئی تھی۔
شکریہ۔ ساری بٹ ناٹ ساری والے انداز میں اسکے منہ سے پھسلا تھا۔
میرا نام مشیل ہے۔ یو ٹیوبر ہوں اسی نام سے چینل ہے میرا۔ پرسوں وی لاگ بناتے اتفاق سے تم بھی میری ویڈیو کا حصہ بن گئیں تمہارے ری اکشنز اتنے مزے کے تھے کہ نیٹیزنز netizenz نے میری ویڈیو کو بہت اچھا رسپانس دیا۔
وہ لمحہ بھر رکی جیسے عروج کا ردعمل دیکھا چاہ رہی ہو مگر نقاب کے باعث ناکام رہی۔سو سلسلہ کلام جوڑا۔
تمہاری ویڈیو بہت تیزی سے وائرل ہوئی ہے کوریا میں۔تم تو بیٹھے بٹھائے سیلیبریٹی بن گئ ہو۔
اسکا انداز عروج کو بالکل اچھا نا لگا۔ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔
آپکو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ آپ کسی کو بتائے بغیر اسکی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لگا دیں۔لوگوں کے ریسپانس لیں میں آپکی اس حرکت پر آپ پر سو بھی کر سکتی ہوں۔
وہ چٹخ کر بولی تو جوابا وہ لڑکی ہنس دی۔
ریلیکس ڈیئر۔ میں اسی کیلئے معزرت کرنے آئی ہوں۔آپ سے بنا پوچھے آپکی ویڈیو بنانے کیلئے آئی ایم سوری۔
وہ دھیرے سے سر جھکا کر بولی۔ روائتئ کوریائی انداز میں آدھا جھکی نہیں مگر چونکہ معزرت بھی انگریزی میں تھی اس نے برا نا مانا۔
اٹس اوکے۔ عروج اسکا کیا بگاڑ سکتی تھئ۔
آپ پیئیں نا۔ اس نےجوس کی طرف اشارہ کیا۔
عروج نے ریستوران پر نگاہ دوڑائی تو کافی رش محسوس ہوا۔ وہ نقاب اتار کر یہاں جوس پینا نہیں چاہتی تھی۔
شکریہ ۔ میں اب چلتی ہوں۔ وہ اپنا بیگ سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی تو مشیل بوکھلا سی گئ
ارے بیٹھیئے ۔ مجھے آپ سے ایک اور بات بھی کرنی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر سچ مچ معزرت کے لیئے آئی تھی تو پہلےویڈیو بھی ڈیلیٹ کرتی نا۔
واعظہ نے اسکی فلیش بیک میں اینٹرئ ماری
وہ کہہ رہی تھی یو ٹیوب ویوز ذیادہ ہو جائیں تو ویڈیو کو اون کر لیتی ہے پھرآپ چاہ کر بھی ڈیلیٹ نہیں کر سکتے۔
عروج نے وہی بتایا جو اسے بتایا گیا تھا۔
واعظہ لیپ ٹاپ پر نگاہ جما کر بیٹھ گئ۔ عروج کو اسکے یہی انداز زہر لگتے تھے۔ بندہ اب ضروری بات کر رہا ہے تو اسکی شکل تھوڑی دیر ہی دیکھ لو۔ کہ اسے لگے اسکی سنی جا رہی ہے۔
میں مسلمان ہوں یہ جان کر وہ حیران بھی ہوئی اور خوش بھی۔کہتی ہے مسلمان لڑکی وہ بھی ڈاکٹر ہے یہاں کوریا میں تو مجھے یقینا اپنے چنگوئوں ، اپنی یو ٹیوب کمیونٹی کو وہ چنگو کہتی ہے ۔ عروج نے وضاحت کی۔
ہاں تو کہتی ہے مجھے اپنے چنگوئوں کو آپ سے ملوانا چاہیئے اور جو یہ سب پر امپریشن ہے نا کہ مسلمان بیک ورڈ ہوتے ہیں خاص کر لڑکیاں انکے بارے میں دنیا کو ضرور بتانا چاہیئے۔ کہ مسلمان لڑکیاں بھی پڑھی لکھی ہوتی ہیں او۔۔ اسکے پاس اسکی لمبی تقریر بتانے والی تھی مگر واعظہ لیپ ٹاپ پر نگاہ جمائے بیٹھی تھی جانے سن بھی رہی تھی کہ۔نہیں۔
اے سن رہی ہو کچھ بتا رہی ہوں میں
اس نے تپ کر اسکا کندھا ہلایا۔ تو واعظہ نے ہونٹ بھینچ لیئے اور لیپ ٹاپ اسکے سامنے کردیا۔
وہ اسکی وائرل ویڈیو کے کمنٹس کھولے بیٹھی پڑھ رہی۔تھی۔ مشیل کا ہی چینل مگر کمنٹس۔
اس نے پڑھنا شروع کیا تو آنکھیں کھلتی سی گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حسب معمول ہنگامہ خیز تھی۔
الف عزہ اور عروج حسب معمول اکٹھے اور ایک ہی سنگھار میز کے سامنے تیار ہو رہی تھیں۔
کوئی ایک تو ساتھ والے کمرے میں چلی جائو۔
عروج جھلائی۔
وہاں بھی تو رش۔۔ عزہ کہتے کہتے رک گئ۔
اب تو ساتھ والے کمرے میں بس واعظہ ہے۔ فاطمہ، نور ابیہا عشنا کوئی بھی تو نہیں ہے۔
وہ اداس سی ہو چلی تھی۔ الف بال سلجھا رہی تھی ان دونوں سے ہٹ کر پیچھے بیڈ پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ برش چلانے لگی۔
ابیہا کو دیکھو جب سے پاکستان گئی ہے کوئی اتا پتہ نہیں۔
عروج کو بھئ اسکی یاد آئی۔
ہمیں اس کو پوچھنا چاہیئے تھا اسکی امی کی طبیعت خراب تھی۔
عزہ نے جتایا۔
وہی ۔ عروج نے سر جھٹکا۔
یہاں نور والا معاملہ اتنا الجھ گیا تھا کہ ذہن سے ہی نکل گیا اسکی خیریت پوچھنا۔ اوپر سے جیل کی ہوا۔ اف۔ اس نے جھرجھری سی لی۔
عزہ آئی لائنر لگاتے اسکی کہنی سے جھونک کھا کر گھورنے لگئ
ابھئ آنکھ میں گھستا برش میری۔
یہ الف کہاں گئ۔ عروج نے اسکارف سر پر لپیٹتے دائیں بائیں دیکھا تو عزہ بھی ٹشو سے آنکھ صاف کرتی مڑی دیکھا تو بیڈ پر بیٹھی چپکے چپکے نیر بہا رہی تھی۔
اوئے تمہیں کیا ہوا صبح صبح۔
عروج تڑپ کر اسکے پاس آئی۔
امی یاد آگئ ہونگئ۔عزہ کا اندازہ تیار تھا
نور یاد آگئ۔ صبح میری اسکی ایک بار تو نوک جھوک ضرور ہی ہوتی تھی۔ جانے وہ کیسی ہوگی ہم ایک بار بھی اسے دیکھنے ملنے نا جا سکے۔
وہ بھرائی سی آواز میں بولی
ہمیں جانا تو چاہیئے۔ عزہ آئی لائینر لگانے کا ارادہ ترک کرتی اسکے پاس آبیٹھئ۔
اسکے پاپا اسکی پڑھائی چھڑوا کر واپس لے جائیں گے۔یقینا۔
الف نے کہا تو وہ دونوں چپ سی ہوگئیں
جیل جانے سے تو یہ بھی بہتر ہے۔اللہ کرے اسکو وہاں ذیادہ عرصہ نا رہنا پڑے۔ آمین۔
عروج نے کہا تو تینوں نے صدق دل سے آمین کہا۔
اچھا سنو تم دونوں آج پہلے آجائوگی مجھے اور واعظہ کو کہیں جانا ہے سو پلیز کھانا تم دونوں مل کر پکا لینا۔
عروج کی ہدایت پر دونوں گھورنے لگیں
کیوں؟ آج تمہاری بارئ ہے عروج کھانا پکانے کی۔
اوہو ایڈجسٹ کر لینا نا ۔
اسکا انداز بے نیازی بھرا ہو چلا تھا یعنی نو مور بحث
بتا کے جائو کہاں جائو گی دونوں
الف اور یوں جان چھوڑ دے
بس کہیں جانا ہے یوں سمجھ لو کسی سےدو دو ہاتھ کرنے ہیں۔
عروج نے دانت کچکچا کر کہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یہ کر سکتی ہوں۔
اس بڑے سے دوائوں کے اسٹور کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے گہری سانس لی۔ پھر مٹھی بند کر کرکے عزم کیا۔ اور گلاس ڈور دھکیلتے ہوئے بڑے اعتماد سے کھٹ کھٹ کرتی اندر داخل ہوئی۔ کائونٹر پر کھڑی سیلز گرل اسے دیکھتے ہی مستعد ہوئی۔
آننیانگ ۔۔ اس نے جھک کر ادب سے سلام کیا۔
مجھے ایک عدد کریم چاہیئے جو جلن دور کرے مگر اس میں گھوڑے کی چربی استعمال نہ ہوئی ہو ۔۔
دے۔ ؟ وہ لڑکی ہونق ہوئی۔
سعدیہ کائونٹر کے قریب ہی ریک میں سے چاکلیٹس دیکھ رہی تھی چونک کر مڑی۔
بلو جینز پر لانگ سفید کرتا پہنے شدید پاکستانی انداز میں سر پر دوپٹہ لیکر کان کے پیچھے اڑس کر بولتی اس لڑکی نے اسکی توجہ فورا کھینچ لی تھی۔
یہ میرا ہاتھ دیکھو۔ جل گیا ہے اسکی دوا دو۔ مگر سور گھوڑا بلکہ کسئ جانور کی چربی یا کچھ بھی اس کریم میں نہیں ہونا چاہیئے۔ ۔ اس نے آستین اوپر کرکے دیکھایا۔ساتھ فر فر اپنی سب ڈیمانڈز بھی رکھ دیں۔ اس کورین لڑکی نے تو ہلکی سی چیخ ہی مار دی۔ لال لال گوشت ہلکی سی کھال بھی تولیہ جیسی ہوئی وی تھئ۔
یہ کیا ہوا۔ اس نے گٹ پٹ شروع کردی تھئ۔
تمہیں کیاہوا؟ چاولوں کی پیچ گری ہے اتنی زور کی تو میں نے چیخ نہیں ماری تھی۔ ذرا سا جلا ہی تو ہے۔ حد ہوگئ اتنا بڑا منہ اور چڑیا سا دل۔ ذرا سی کھال ہی تو اتر گئ ہے۔ اس نے باقاعدہ کھال چھو کر دکھایا
جب وہ ہنگل میں بڑ بڑ کر رہی تھی تو طوبی کیوں منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتی۔
جب وہ ہنگل میں بڑ بڑ کر رہی تھی تو طوبی کیوں منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولتی۔

آندے۔ وہ لڑکی یوں گھبرائی جیسے اسکی کھال اترنے لگی ہو طوبی کے ہاتھوں۔۔
اس طرح مت کیجیئے زخم کھل جائے گا۔
کیا بولے جا رہی ہو لڑکی۔ جائو کسی پڑھے لکھے کو بلائو جسے انگریزی آتی ہو۔عجیب ملک ہے چار لوگ انگریزی نہیں جانتے کہنے کو ترقی یافتہ ملک ہے۔
اس نے سر جھٹکا۔
اوہ یہ تو بہت جل گیا ہے۔آپکو ڈاکٹر کو دکھانا چاہیئے۔ کسی نے طوبی کے قریب آکر ہمدردی بھرے انداز میں کہا تو طوبی مڑ کر اپنی جھونک میں بولی
۔ ارے نہیں اتنی چوٹ پر دوا بھی نہیں لگاتی یہ تو دلاور مجھ سے ذیادہ گھبرا گئے بہت پیار کرتے ہیں۔کہہ رہے عروج کے پاس چلو اب وہ بے چاری ابھی ہاسپٹل سے آئی کہاں میں ۔۔دوا لے آ۔
کہتے کہتے نووارد کو دیکھا۔ گھورا۔ پھر چیخ مار کر لپٹ ہی تو گئ
اوہ تم سعدیہ۔ سعدیہ رند ہو نا۔ یو ٹیوب والی۔؟؟؟
جج جی۔ اسکے منہ سے بس یہی نکل سکا مگر وہاں سن کون رہا تھا۔
اوہ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے تم سے مل کر میں بہت شوق سے تمہاری ویڈیوز دیکھتئ ہوں۔
طوبی کی بانہوں میں نازک سی سعدیہ پھڑ پھڑا رہی تھی۔
جئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔

Desi Kimchi Episode 28

قسط 28

وہ کائونٹر سے ڈبل روٹی اٹھا کے بھاگ رہی تھی جب واعظہ کمرہ کھول کر نکلی۔
واعظہ کو نکلتے دیکھ کر اس نے مزید برق رفتاری سے دڑکی لگائی تھئ۔
ہائیں۔ واعظہ کا کھلا منہ جب تک بند ہوا اپارٹمنٹ کا دروازہ بھی بند ہو چکا تھا۔
بنا ناشتے جانا ہوگا۔ اس نے یاسیت سے سوچا پھر تیار ہونے واپس کمرے میں گھس گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون نے دروازہ کھولتے ہوئے کینہ توز نظروں سے گھورا تھا۔
میں بریڈ لے آئی یوبو۔ چلو ناشتہ کریں۔
وہ لہرا کر کہتی اسے ایک طرف کرتی اندر داخل ہوئی۔جیسے پتہ نہیں کتنی مصروف ہو۔ صاف شفاف خالی لائونج جس کی میز پر دو خالی کپ اس بات کا اشارہ تھے جن کے لیئے وہ بھاگم بھاگ آئی تھی وہ نا پسندیدہ مہمان واپسی کی راہ لے چکے۔
یوبو؟ یہ کہاں سے سیکھا تم نے۔ اسکے لہرا کر کہنے پر سیہون نے مسکراہٹ بمشکل روکی تھی اب محظوظ سے انداز میں دروازہ بند کرتے ہوئے لابی سے ہی پوچھتا آرہا تھا۔
فاطمہ نے تیکھی نگاہ ڈالی اس پر۔
جب اتنی سی دیر کیلئے آئے تھے تو کوئی بہانہ کر دیتے ایویں مجھے بھگایا ۔ ڈبل روٹی بھی اٹھا لائی میں اب واعظہ بنا ناشتے دفتر جاتی گالیاں دے رہی ہوگی مجھے۔
اس نے پیکٹ کھول کر ایک سلائیس نکالا اور یونہی چبانے لگی۔
فریج میں مکھن جیم سب رکھا ہوا ہے۔
سیہون نے ٹوکا مگر وہ اٹھنےکا ارادہ نہیں رکھتی تھی سو وہ خود گہری سانس بھرتا گیا دونوں چیزیں سلیقے سے ٹرے میں چھری کے ساتھ لیکر آیا۔ لا کر سامنے میز پر رکھ دیا۔
اس نے بنا شکریہ ادا کیئے مکھن اٹھا کر اگلے سلائس پر لگانا شروع کردیا۔
ایک گھنٹہ بیٹھ کر انتظار کیا ہے انہوں نے۔ میں نے بتایا کہ تم سودا سلف لینے گئ ہو آتی ہوگئ ۔ مگر ایک گھنٹے بعد دونوں مجھے مشکوک نظروں سے گھورتے کل آنے کا کہہ کر چلے گئے۔ وہ سائیڈ والے کائوچ پر نیم دراز ہو کر بتانے لگا۔
ہممم۔ بھرے منہ کے ساتھ وہ بس یہی جواب دے سکی
تم ویسے رات کو چلی کیوں گئ تھیں؟ اکیلے گھر میں ڈر لگ رہا تھا؟
وہ اسے گہری نظر سے دیکھ رہا تھا۔
نہیں وہ ان سب کے ساتھ گھومتی رہی کل پھرکھانا وہیں کھایا تو رات ذیادہ ہوگئ سوچا اب صبح ہی جائوں گی۔
اس نے ہبڑ تبڑ دو تین سلائس کھا کر اللہ شکر کرتے ہوئے بتایا۔ ٹرے کھسکا کر وہ آرام سے پائوں اوپر کرکے صوفے پر نیم دراز ہو رہی تھی جب سیہون سرسری سے انداز میں کہتا اٹھا۔ وہ ایکدم جم کر رہ گئ
کیسا لگا لوہتے ورلڈ۔ اس نے ٹرے اور ڈبل روٹی کا لفافہ اٹھایا اور سگھڑ خاتون خانہ کی طرح چیزیں سمیٹ کر انکی جگہ رکھنے چل پڑا۔ فریج کھول کر مکھن رکھتے ہوئے جیسے ہی مڑا فاطمہ فریج کے ساتھ چپکی اسے گھور رہی تھی۔
آہش۔ وہ بے ساختہ دہل کر پیچھے ہوا۔
کس نے بتایا واعظہ نے؟
اسکی تفتیش ۔۔
آنیو۔ اس نے نفی میں سر ہلا کر گزر جانا چاہا
پھر۔ وہ ایکدم سامنے آکھڑئ ہوئی راستہ روکتے ہوئے مشکوک نظروں سے گھورتی۔
پھر کچھ نہیں۔ سیول میں دو چار ہی گھومنے کی جگہ ہیں یونہی اندازہ لگایا۔
وہ جان چھڑا رہا تھا جبکہ فاطمہ جان کو آنے کو تیار تھئ
سیول میں دو چار ہی گھومنے کی جگہ نہیں ہیں۔
جتاتا انداز
دے۔۔ وہ پھر مڑ کر جانے کو تھا تبھی اسکا موبائل بج اٹھا
اس نے ٹرائوزر کی جیب سے موبائل نکال کر فون اٹھانا چاہا فاطمہ نے بیچ میں اچک لیا۔
وے۔ وہ اتنا حیران ہوا کہ ہل بھی نا سکا
اسکی کال بند کرتی وہ جلدی جلدی مطلوبہ ایپ تلاش رہی تھئ
کیا کر رہی ہو۔ ادھر دو کس کا فون تھا۔
وہ جیسے ہوش میں آتا اسکی جانب بھاگا۔ مگر وہ چکمہ دیتی پورے لائونج میں بھاگتی پھر رہی تھی۔
ارےمیرا فون دو۔
وہ میز سے ٹکر کھاتئ مطلوبہ ویڈیو کھول چکی تھی جب وہ سامنے آیا اسکےموبائل کی جانب بڑھتے ہاتھ کو جھٹکتی وہ گھومی جوتے سمیت صوفے پر پھر وہاں سے صوفے کے پار جست لگاتی دوبارہ کچن کائونٹر کے پاس پہنچ چکی تھی۔
فاطمہ۔
سفید صوفے کور پر کالے جوتوں کے نشان وہ صدمے سے کھڑا ہی رہ گیا۔ اور فاطمہ بھی۔۔ مگر اسے صدمہ کچھ اور پہنچا تھا
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف اور ژیہانگ جمائیاں روک رہے تھے۔ وہ لڑکیوں جیسا لڑکا ست رنگئ شرٹ اور نارنجی چست پتلون میں ملبوس گھوم گھوم کر لہرا لہرا کر بڑے سے پراجیکٹر پرسلائیڈز چلاتا جانے کیا کیا سکھانے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔
رواں انگریزی خالص کوریائی لہجہ جس میں الفاظ کے تلفظ وہی تھے جو پاکستان میں بولنے والے کو ہم پیںڈو کہہ کر تمسخر اڑاتے۔
پورا گھنٹہ مسکراہٹ ضبط کرتے منہ پھیر کر منہ چھپا کر ہنستے گزارا تھا۔ آخر میں تنگ آکر اسکا لیکچر سننے کی کوشش ترک کرکے وہ دھڑ دھڑ ژیہانگ کے چلتے قلم کو رشک سے دیکھنے لگی۔ جانے اس فضولیات میں سے بھی وہ کیا کیا اہم نکات لکھ رہا تھا
ژیہانگ نے اسکی محویت محسوس کرکے دھیرے سے قلم اور رائیٹنگ پیڈ تھوڑا سا اسکی جانب کھسکا دیا۔
انگریزی لکھتے ہاتھ رومن اردو پر آگئے۔
تم کہو تو اپنی شرٹ اس سے تبدیل کر لوں ۔رنگ تھوڑا سا پینڈو ہے مگر استری شدہ ہے۔ اور میں چونکہ اس سے ذیادہ پیارا ہوں تو جچے گا مجھ پر۔
پڑھتے پڑھتے اسکی آنکھیں حجم سے دگنی ہونے لگیں تو چونک کر سر اٹھا کر ژیہانگ کو دیکھنے لگی۔ لبوں پر مسکراہٹ دبائے بظاہر وہ سامنے اس کارٹون کی جانب متوجہ تھا۔ وہ کھسیا کے سیدھی ہوئی۔
اپنا رائٹنگ پیڈ اٹھایا اس پر جواب لکھنے لگی
اس سے بہتر ہوگا۔شرٹ اتار کر ایسے ہی پھر لو۔
ژیہانگ کے لیئے یہ جواب غیر متوقع تھا۔ اس نے کن انکھوں سے الف کو دیکھا اسکا انہماک عروج پر تھامکمل طور پر کارٹون کی جانب متوجہ۔
اس نے گہری سانس لی۔ پھر کالر سے نیچے والا بٹن کھولا۔
پہلا ۔۔ دوسرا۔۔ تیسرا۔۔
الف کی آنکھیں چکر کھانے لگیں
اس نے سارے بٹن کھولے اور شرٹ اتار کر ساتھ والی کرسی پر ٹکا دی۔
ہاہ۔ اس نے رخ پورا پھیر لیا۔ اسکے ردعمل پر ژیہانگ کی بانچھیں چر سی گئ تھیں بے ساختہ امڈ آنے والے قہقہے کو اس نے بمشکل روکا تھا۔
بھول ہی۔گئ تھی لڑکوں میں شرم حیا نام۔کی کوئی چیز ہوتی نہیں بے غیرت جیسے انتظار میں ہی۔تھا ایک تو کمینہ لڑکا ہے اوپر سے کوریائی بلکہ چینی اتنا خیال بھی نہیں کیا بالکل برابر بیٹھی ہوں۔۔ الو کا۔۔۔
دانت کچکچا کر وہ منہ ہی منہ میں رخ پھیر کر بڑ بڑاتی گئ۔
ژیہانگ کی سماعتیں ٹھیک تھیں مگر اتنی بھی اچھی نہ تھیں کہ کسی کے منہ ہی منہ میں بڑ بڑانے کو بھی سن لیتا۔ ہمہ تن گوش البتہ ہوگیا تھا ا س کوشش میں کہ سن سکے کیا بول رہی ہے۔
ست رنگئ شرٹ والے نے انتہائی اہم ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے بارے میں بتاتے ہوئے مڑ کر داد چاہنے والے انداز میں دیکھا تو پتہ چلا حاضرین میں سے ایک دائیں جانب رخ موڑ کر گلاس وال پر لگے اسٹیکر کو گھورتے ہوئے بڑ بڑا رہی ہے تو دوسرا کہنیاں میز پر ٹکائے پوری دلچسپی سے اسے دیکھنے میں مشغول ہے۔ گہری سانس لیکر اس نے الیکٹرانک پین میز پر پٹخا۔ دونوں چونک کے سیدھے ہوئے
آئی گیش یو گائز لوست انترسٹ سو آئیل کوییٹ ہیئر۔
آئی ہوپ یو گائزہیو انڈل اشٹنڈ مائی ٹودے از لیکچل ۔ٹومالو۔ آئی ول گیو۔
یہاں تک بولنے پر ہی الف کی مسکراہٹ بے قابو ہوئی۔ پورے دانت باہر آنے کو تیار تھے جنہیں چھپانے کو اس نے مصنوعی کھانسی کا سہارا لیا۔
آہو کھو کھو ۔۔ وہ مٹھی چہرے کے سامنے کر کے زور زور سے کھانسنے لگی۔
ژیہانگ اسکا مسلئہ سمجھ کر اسے کافی لطف اندوز ہونے والے انداز میں دیکھ رہا تھا۔
او وہاٹ ہیپند ڈئیل۔ آل یو آل رائت۔
نزاکت سے چلتے ہوئے وہ اسکے سامنے تشویش زدہ انداز میں لہرایا تو جیسے سونے پر سہاگہ کا کام ہوا۔ وہ ہنستے ہنستے سامنے میز پر سر رکھ کر منہ چھپا گئ۔
یہ ٹھیک ہے۔ میں اسکو پانی پلاتا ہوں۔ آپکا بہت شکریہ آج ہم نے کافئ کچھ سیکھا آپ سے۔ گھسامنیدہ۔
ژیہانگ بڑے ادب سے کھڑے ہوکر ہنگل میں اس سے بولا۔ اس پر اس کا خاطر خواہ اثر ہوا جھینپتے ہوئے آنیو آنیو کرتا رہا۔
یہ بالکل ٹھیک ہے بس کبھی کبھی ہو جاتا اچھو ۔۔ وہ بتاتے ہوئے سامنے کونے میں رکھے ڈسپنسر کی جانب بڑھا۔
او پور گرل۔ گیت ول شون ڈئیل۔
میز پر ہلکے سے انگلی۔بجا کر تشویش ظاہر کرتا وہ لہرا۔کر چلا گیا۔الف کی ہنسی رک چکی تھی مگر اس نے سر اٹھانے کی حماقت نہیں کی۔
پیپر کپ میں پانی لا کر اسکے سامنے رکھتے ہوئے اس نے دھیرے سے میز پر انگلیوں کے جوڑ سے دستک دی۔
الف دھیرے سے سیدھی ہوئی ڈرتے ڈرتے نگاہ اٹھائی وہ دوستانہ سے انداز میں مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے سکھ کا سانس لیتے ہوئے پانی کا گلاس اٹھا کے پی لیا۔
مجھے یہاں سے واپسی پر ابھی جم جانا ہے ۔ جم شرٹ دھلوالی تھیں سو نئی شرٹ ہاتھ میں پکڑ کرلانے کی بجائے پہن آیا تھا میں۔
اس نے یونہی وضاحت کی۔ الف کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی۔
اس غیر استری شدہ شرٹ کے نیچے وہ جم کی سفید سلیو لیس سویٹ شرٹ پہنے ہوئے تھا اسکے بہت ذیادہ مسلز نہیں بنے تھے مگر دبلے سراپے پر بھی جم لگانے سے بازو کے کٹس نمایاں تھے۔
اب یہ مت کہنا کہ پینٹ کے نیچے جم کا ٹرائوزر بھی پہن رکھا ہے۔
الف شرارت سے بولی
دے۔ وہ روانی میں بولا پھر جھینپ کر ہنس پڑا۔
وہ واقعی سفید شارٹس پہن کر آیا ہوا تھا۔
الف کا منہ دوبارہ کھل گیا تھا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج کا منہ کھلا پھر صدمے سے کھلا ہی رہ گیا۔
وہ دونوں نرسیں ہنس ہنس کر جانے کیا موبائل میں دیکھ رہی تھیں وہ انکو ہدایت دینے اور ڈپٹنے کی نیت سے قریب آئی کہ کام۔کے وقت موبائل میں ویڈیوز دیکھنے کا کونسا وقت ہے جب ویڈیو میں سے آتی مانوس سی آواز نے اسکے کان کھڑے کر دیئے۔ کل کا منظر جزئیات سے تازہ ہوا تھا۔
اس دیو قامت بڑے سے فیری ویل کے نیچے کھڑے ہوکر اوپر نگاہ کی تو گردن میں بل آگیا تھا۔ آسمان کو چھوتا وہ دیو ہیکل جھولا۔ اگر ان سب کے سر پر ٹوپی ہوتی تو وہ گر چکی ہوتی بلکہ عزہ اور واعظہ خرگوش کے کانوں والے پیارے سے جو بینڈ لگائے تھیں کورین لڑکیوں کی دیکھا دیکھی وہ پھسلنے لگے تھے۔ دونوں نے منہ کھول کر سر پر ہاتھ جمائے تھے۔
وائو۔ میں نے زندگئ میں اتنا بڑا فیری ویل نہیں دیکھا۔
فاطمہ کی آنکھیں گول سی ہوگئ تھیں اور ہونٹ بھی۔
اسکو فیری ویل نہیں وچ ویل بلکہ شیطانی ویل کہنا چاہیئے۔ کون احمق اس بھیانک آسمان کو چھوتے جھولے پر بیٹھنا چاہے گا۔
عروج نے کہا تو وہ سب مڑ کر باقاعدہ اسے گھورنے لگیں۔
میں نے اسی پر بیٹھنا ہے ٹکٹ لو اسکا
الف جیسے مچل کر بولی۔ اس نے بڑی سی لائٹ اسٹک لی ہوئی تھی اسے جھلانے پر جل بجھ کرنے لگی وہ ہلا ہلا کر واعظہ کی آنکھوں میں مارنے لگی۔
اچھا۔بیٹھتے ہیں اس پر بھی اسے تو پرے کرو۔
واعظہ نے اسکا ہاتھ پیچھے کیا اور سر ہلا کر خرگوش کے کان لہرانے لگی
تو پھر کتنے ٹکٹ لوں۔
ایک دو تین۔
اسکی پھر گنتی شروع ہونے لگی تھی
پانچ لو نا۔ عزہ نے مشکل آسان کی
نہیں میرا نہیں لینا ۔جائو تم سب میں ہرگز اس پر نہیں بیٹھنے والی بلکہ تم سب کو بھی اگر جان پیاری ہے تو اس پر مت بیٹھو۔ اتنا اونچا جھولا خطرناک پینگ لے گا۔ وہ۔جھر جھری سی لیکر بولی
اچھا۔۔ الف جیسے حیران ہوئی ۔ اسکی دیکھا دیکھی سب نے ہی حیران ہونے کی بھرپور اداکاری کرتے ہوئے عروج کو منہ چڑایا۔
کیا تم سب مجھے اکیلا چھوڑ جائوگی؟ میں اکیلی یہاں کیا کروںگئ؟
عروج ان سب کو ٹکٹ گھر تک منانے آئی۔
تم جائو تھوڑی دھوپ سینک لو۔
واعظہ نے کندھے اچکا کر مشورہ دیا
عروج ادھر پھسلن سیڑھی لگی ہوئی ہے جائو وہاں کھیل لو کئی بچے ہیں اتنی گرمی میں بھی وہاں۔
عزہ نے دور لگی سلائیڈز کی جانب اشارہ کرکے بتایا۔
تم۔ عروج دانت کچکچا کے دیکھ کر رہ گئ۔ یقینا ان بچوں کی تشریف بھی جل رہی ہوگی جو بچہ سلائیڈ سے اترتا سب سے پہلے تشریف سہلاتا۔ اس نے بے زار سا ہوکے نگاہ دوڑائی دور گول گول چکر کھانے والے جھولے لگے تھے جن میں ہاتھی گھوڑا گینڈا وغیرہ بنے تھے ۔
عزہ تم رک جائو۔ ہم ادھر ہاتھی پر ۔۔ وہ پرجوش سی ہوکر عزہ کو وہاں جانے کا لالچ دینےمڑی تو پتہ چلا سب سکھیاں ٹر چکی ہیں۔ وہ قطار میں لگی کھڑی تھی۔ اسکو متوجہ ہوتے دیکھ کر ٹکٹ گھر پر کھڑا وہ لڑکا پیلے دانتوں کی نمائش کرنے لگا۔
ایک مجھے بھی۔
اس نے گہری سانس لیکر ٹکٹ لیا۔
فیرئ ویل پر ایک وقت میں بس چار لوگ بیٹھ سکتے آپ میں سے ایک ادھر دوسرے کیبن میں آجائے۔
وہ مسکین شکل والا کورین بابو ان ضدی لڑکیوں کو جھک جھک کر سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ واعظہ عزہ فاطمہ جھٹ سے اندر گھس کر بیٹھ چکی تھیں الف اور عروج اکٹھے چڑھنے لگیں تو آپریٹر نے متانت سے انہیں روکا۔
آپ میں سے ایک چڑھے بس۔
کوئی نہیں ہم اکٹھے آئی ہیں اکٹھے بیٹھیں گی۔
الف نے پیر پٹخا
تو اور کیا مجھے اکیلے وہاں نا رہنا پڑے اس لیئے اس موت کے جھولے پر بیٹھنے پر رضامند ہوئی ہوں۔
عروج نے منہ بنایا۔
دیکھیں ہم ان کوریائی لڑکیوں کی طرح دو کلو کا منہ لیکر نہیں پھرتی ہیں ہم پانچوں کا ملا کر وزن بھی چار کوریائی لڑکیوں کے برابر ہوگا منہ ملا کے۔
واعظہ نے تفصیل سے ہنگل میں سمجھایا تو اس چندی آنکھوں والے کی آنکھیں پاکستانیوں جتنی پھیل گئیں
یہ کیسی منطق ہے۔
ایویں ہم کوریائی لڑکیاں آپ سے کہیں کم ہیں وزن اور قد میں ۔
انکے پیچھے کھڑی اچھی خاصی فربہ لڑکی تنک کر بولی۔
کیا یہ کالی انڈین ہمیں موٹا کہہ رہی ہیں۔
اسکی سہیلی کراپ ٹاپ پہنے ننگے بازوئوں پر فرضی آستیںیں چڑھا کر لڑنے کے در پہ ہوئی۔
یہ کالا کس کو بولا۔
کالا کہنے پر وہ سب تلملا گئیں۔ عروج نے ڈینم عبایا کی آستین چڑھا لی
تو کیا کہوں گوری ؟ اتنی اچھی شکل ہوتی تو چھپا کے پھرتیں تم ۔
موٹی والی نے تمسخرانہ انداز سے دیکھا۔
شکل تو تمہیں چھپا کے پھرنا چاہیئے کوئی اس پھولے غبارے کو سوئی نا چبھو دے شرارت میں۔ عروج کے پیروں سے لگی سر پر بجھی۔
کیا کہا۔ وہ موٹی عروج کے اوپر پل پڑنے لگی تو اسکی سہیلی نے کھینچا
کیا کہہ رہی مجھے بتائو۔ عروج کی سہیلی اسکا کندھا ہلا کے ترجمہ کر نے کو کہہ رہی تھی۔ عروج نے گھور کر دیکھا
الف نے آئو دیکھا نا تائو لائٹ اسٹک اس موٹی کی آنکھوں کے سامنے نچا دی۔
سہیلی نے اس موٹو کو تپ کو چھوڑ دیا۔
چاروں فیری ویل کے کیبن کے سامنے گتھم گتھا تھیں واعظہ عزہ فاطمہ منہ کھولے تھیں صورت حال سمجھ کر باہر نکلنا چاہا۔
فیری ویل والے نے اپنے بال مٹھئ میں جکڑتے انکا کیبن اوپر چلا دیا اورچلا کر بولا
اس والے کیبن میں بیٹھنا ہے تم لوگوں نے یا نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار یہ تو بہت آہستہ چلا رہے ہیں۔
فاطمہ نے منہ بنا کر نیچے دیکھا۔ پہلا چکر آہستہ سا تھا شائد آہستہ آہستہ رفتار پکڑتا یہ جھولا
اچھی بات ہے ورنہ تو مجھے جھولے میں چکر آنے لگتے۔
عزہ نے کہا تو واعظہ اور فاطمہ دونوں نے گھور کر دیکھا۔
وہ کھسیا سی گئ۔
نہیں میرا مطلب ہے۔
اسکی بات ادھوری رہ گئ۔ فیری ویل نے جھٹکا سا لے کر رفتار پکڑی
پکڑ کر بیٹھو۔ فاطمہ نے تنبیہہ کی۔ جھولے کی راڈ تھام کر اس نے جھٹ موبائل کیمرہ آن کیا
عزہ نے کلمہ پڑھتے ہوئے آنکھیں بند کیں۔ تھوڑا سا سہارا ہوا ٹھنڈی تیز ہوا کا جھونکا آیا اس نے خوشگوار ہوا کو اندر تک جزب کیا اور آنکھیں کھولیں سامنے واعظہ دہری ہوکر نیچے دیکھ رہی تھی کود کر شائد خود کشی کا ہی ارادہ تھا
نہیں لغت میں مرنے نہیں دوں گی تمہیں۔ وہ لپک کر واعظہ سے لپٹ گئ
اس کے چیخ پڑنے پر واعظہ اور فاطمہ دونوں نے جھٹکا کھایا۔ فاطمہ کا موبائل ہاتھ سے چھوٹا مگر شکر ہے کیبن میں ہی گرا۔ اس نے دھڑ دھڑ دل قابو کرتے اٹھایا واعظہ سیدھی ہو بیٹھی۔
میں نیچے دیکھنا چاہ رہی تھی یار یہ نیچے والے کیبن میں غیر معمولی خاموشی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں پھولے منہ کے ساتھ ایک دوسرے کو کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھیں۔ سنگل پسلی سہیلی موبائل فون گمبل میں لگا کر جھولے کی راڈ سے لگا کر دھڑا دھڑ موٹو کے ساتھ سیلفیاں لینا شروع ہوگئ۔ تین چار کے بعد انہیں ایک۔نگاہ دیکھ کر ہلکے سے ہونہہ بھی کیا۔
الف نے اپنا موبائل نکالا اور فورا عروج کے ساتھ سیلفی لی۔
ان دونوں نے دیکھا تو خود بھی ہونہہ کیا۔
دوسرے چکر پر موٹو نے ڈر کر اپنی سنگل پسلی سہیلی کا ہاتھ تھاما تو الف نے ہنس کر عروج کے کان میں سرگوشی کی
موٹو کا چھوٹو سا دل۔۔۔۔۔
کہتے ساتھ ہی نگاہ کی تو عروج کو اپنا بازو دبوچے آنکھیں بند کیئے سورتیں پڑھتے پایا۔
موٹو کی سوکھی سہیلی کا گمبل والا ہاتھ ٹکا رہ گیا موٹو اس سے بری طرح لپٹ کر چیخیں مارنے لگی۔ اسکی دل دہلانے والی چیخوں پر عروج نے آنکھیں کھولے بنا ہی یہ سمجھ لیا کہ جھولا ٹوٹ گیا۔
ہائے اللہ جھولا ٹوٹ گیا امی۔ بابا۔ اللہ میاں۔ آخرمیں کلمہ
کچھ نہیں ہوا عروج ہوش کرو
ارد گرد دلفریب نظاروں سے بے نیاز عروج اور وہ موٹو چندی آنکھوں والی لڑکی چیخیں مار مار کر آسمان کے کوے اڑا رہی تھیں۔ الف بھونچکا سی کبھی عروج کو سنبھالتی کبھی موٹو کو چیخنے سے منع کرتی مگر موٹو کے اندر تو کوئی ٹیپ ریکارڈر تھا لمحہ بھر بھی تھک کے چپ نہ ہوتی۔
اس ہڑبونگ میں سنگل پسلی کا لطف لیتا محظوظ چہرہ دیکھا بھی تو سرسر ی سا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔
پورے تین منٹ کی ویڈیو تھئ جس میں وہ چندی آنکھوں والی لڑکی مسکرا رہی تھی جبکہ اسکی سہیلی کا چیخیں مار مار کر رو رو کے برا حال تھا عقب میں ڈینم عبایا میں چہرے پر کالا نقاب کیئے اسکارف پہنے ایک لڑکی کم و بیش اسی حال میں تھی ایک لڑکی دونوں کو سنبھالنے کی ناکام۔کوشش کر رہی تھی۔
ویڈیو کل رات وائرل ہوئی تھی اس وقت ٹرینڈنگ میں آرہی تھی ملین ویوز ہو چکے تھے دھڑا دھڑ شئیرنگ جاری تھی۔
اپنے پیچھے کسی ذی نفس کی موجودگی محسوس کرکے نرسیں پلٹ کر دیکھنے لگیں ۔ پھر ایک نگاہ فون پر۔
یہ میں نہیں ہوں۔ عروج کے منہ سے بے ساختہ نکلا
دونوں مشکوک سی ہوئیں
اتنا بڑا کوریا ہے ہزاروں لڑکیاں عبایا پہنتی ہونگی ایک بس میرے پاس تھوڑی ہے یہ ڈینم عبایا۔
وہ غصے میں چلا اٹھئ
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
ہاں عبایا تو کوریا کا قومی لباس ہے۔ پورا کوریا ڈینم عبایا پہن کر گھومتا ہے۔ بلکہ یہاں کے تو لڑکے بھی ڈینم عبایا پہنتے ہیں۔
واعظہ فون کان سے لگائے سڑک پار کر رہی تھی اسکی بات سن کر اتنے آرام سے کہا کہ وہ بس فون دیکھ کر ہی رہ گئ
یار وائرل ہوئی وی ہے ویڈیو۔ اور تو اور الف کا چہرہ بھی بالکل واضح ہے۔ عروج کا پتہ چلے نا چلے الف کا تو پکا پتہ لگ رہا ہے۔ کچھ کرو
فاطمہ کچن میں ٹہل ٹہل کر فون پر بات کرتے ہوئے کافی بنا رہی تھی۔ سیہون پھولے منہ کے ساتھ لائونج کے صوفے کو صاف کر رہا تھا اس نے جھٹ رخ موڑا
میں کل ایک لیپ ٹاپ جا کر نور کو جیل میں دیتی ہوں تاکہ وہ تم لوگوں کیلئے اس لڑکی کا اکائونٹ ہیک کرکے ویڈیو ڈیلیٹ کردے۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ جوش میں فاطمہ کہہ بیٹھی پھر کھسیانی سی ہو کر سر کھجانے لگی
اس بار فون کو ہاتھ میں لیکر گھورنے کی باری واعظہ کی تھی
تمہیں کیوں پریشانی ہورہی ہے تمہاری تو ویڈیو نہیں بنی سکون کرو پھر۔ واعظہ نے کہہ کر فون بند کرنا چاہا
اچھا سنو اوپا کے علاوہ بھائئ کو اور کیا کہتے۔
اسکا ارادہ بھانپ کر جھٹ اگلا سوال داغا
امجا۔ اس نے بے دھیانی سے کہا
وہ ایک بار پھرٹی سی این کے دفتر کے سامنے کھڑی تھی۔
ٹھیک۔ فاطمہ نے جھٹ فون بند کیا۔
نہیں اورا بونی۔ اسے خیال آیا مگر فون بندہو چکا تھا۔ اس نے گہری سانس لی اور تیزی سے عمارت کی جانب قدم بڑھا دیئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا ایس بی ایس کی ایک پارٹی اتنا بڑا مسلئہ ہوگی ہمارے منے سے چینل کیلئے۔ واپسی پر الف ہنس کر کہہ رہی تھی۔ وہ دونوں بس اسٹاپ تک اکٹھے ہی آتے تھے ہاں بسیں دونوں کی الگ الگ تھیں۔ بس اسٹاپ پر اس وقت رش تھا۔ بنچ فل تھے ذیادہ تر ادھیڑ عمر افراد ہی بیٹھتے تھے بنچ پر۔ ورنہ نوجوان عوام کھڑے ہی رہتے تھے شائد یہی وجہ تھی سب کی چیتے جیسی کمر تھی۔
ویسے یہ لڑکا دلچسپ کردار تھا۔ الف نے فیصلہ سنایا تو ژیہانگ ہنس دیا۔ پھر بولا
اسکا لیکچر بھی دلچسپ تھا۔ کافی کچھ سکھایا ہے اس نے مارکیٹنگ کی رو سے۔ اگر سنتیں تو کام آتا۔
مارکیٹنگ سیکھنی ہوتی تو مارکیٹنگ پڑھتی نا۔ ہم سادے لوگ۔ سادی ہماری تعلیم۔
الف نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا۔اور کندھے اچکا کر سڑک پر نگاہ جما دی سچی بات یہ مارکیٹنگ وارکیٹنگ اسکے بس کا روگ نہیں تھی۔ تبھی بس آکر رکی۔ آدھے لوگ جھٹ پٹ چڑھے۔ یہ ژیہانگ کے روٹ کی بس تھی۔ اس نے چونک کر بس نمبر دیکھا پھر سوالیہ نگاہوں سے ژیہانگ کو دیکھا۔ وہ اسکی جانب متوجہ نہیں تھا۔بس کو ہی دیکھ رہا تھا مگر بڑھنے کی بجائے اطمینان سے کھڑا رہا۔ بس سے اترنے والی ایک حاملہ خاتون اترتے اترتے چکرا سی گئیں۔ وہ لمحہ بھر کی تاخیر کیئے بنا انکی جانب بڑھا اور سہارا دے کر انہیں بنچ پر لا بٹھایا۔ اسکی بس بھر کر روانہ ہو چکی تھی۔
بس اسٹاپ پر اور بھی لوگ تھے لڑکے بھی لڑکیاں بھی۔ مگر اتنی پھرتی بس اسی نے دکھائی۔ وہ خاتون اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر پینے لگیں۔ وہ بھی ازراہ ہمدردی انکی جانب بڑھ آئی۔
آپکی بس چھوٹ گئ میری وجہ سے۔ وہ خاتون دو گھونٹ پی کر اپنے حواس بحال کرکے شرمندہ سے انداز میں بولیں۔
کوئی بات نہیں اس بس پر چڑھنے کا ارادہ بھی نہیں تھا میرا۔ وہ لاپروا سے انداز میں بولا
وہ خاتون مسکرا دیں۔
خاتون آپ کو گھر پہنچنے میں مدد درکار ہو تو میں حاضرہوں۔
اس نے آگے بڑھ کر انگریزی میں خدمات پیش کیں۔ خاتون نے سوالیہ سی نظروں سے دیکھا۔
ژیہانگ نے مترجم کے فرائض نبھائے تو ہنس دیں
میں ادھر پچھلی گلی میں ہی رہتی ہوں ۔ بالکل ٹھیک ہوں میں ویسے میرے میاں آتے ہی ہونگے مجھے لینے۔ میں نے پیغام بھیجا تھا انکو ۔ آپ میری فکر نہ کریں۔
آپ دونوں کا شکریہ۔
وہ جھک کر بولیں۔
الف تمہاری بس آگئ۔ ژیہانگ نے اسکی بس آتے دیکھ کر اسے خبردار کیا تو وہ جھک کر خاتون کو سلام کرتی ہوشیار ہوئی۔ بس میں رش تھا اسے نشست نہ مل سکی کھڑے ہو کر ہینڈ ہینڈل می ہاتھ پھنسا کر مڑ کر بس اسٹاپ کو دیکھا خاتون کے پاس کوئی مرد آکھڑا ہوا تھا یقینا انکا شوہر ہوگا۔ ژیہانگ کہاں گیا۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے دیکھا اسکے بالکل سامنے ایک انکل سے کھڑے تھے اس نے اچک کر انکے کندھے کے اوپر سے دیکھا تو ژیہانگ ٹیکسی روک رہا تھا۔
انکل نے اسے تھوڑا حیرت سے گھورا تو وہ کھسیا کر رخ پھیر گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزاروں بلکہ لاکھوں لڑکیاں جھولوں پر ڈرتی ہونگی چیخیں مارتی ہوںگی ایک میری ہی ویڈیو بنا کر وائرل کر دی۔ اوپر سے مجھے بھی کل ڈینم عبایا ہی پہننا تھا وہ بھی کوریا میں۔ شکل تک چھپی ہوئی تھی پھر بھی ایک ایک مجھے دیکھ کر فورا فون ان لاک کرنے لگتا جیسے انکو آر پار نظر آرہا۔
ڈیوٹئ کے دوران عروج کا غصہ بھی عروج پر جاتا رہا تھا۔
بچے کو پھسلائے بغیر ٹیکا ٹھونک دیا۔ بچہ رونے کی بجائے ٹکر ٹکر شکل ہی دیکھتا رہ گیا۔ آنٹی کو کڑوی دوا بنا پانی کے تھما دی۔ کوئی مریض ہنستا تو لگتا اس پر ہنس رہا ہے۔ ڈیوٹی آورز ختم ہوتے ہی وہ غصے میں سیدھی باہر نکل آئی۔ کھٹ کھٹ پیر پٹخ پٹخ کر چلتی سیدھا پارکنگ لاٹ سے باہر نکلتے اسکا بس نہیں تھا کیا کرے۔
وہ لڑکی کہیں سے میرے سامنے آئے اور میں میں اسکی چندی آنکھیں چیر کر اپنی آنکھوں سے بڑی کردوں۔
اس نے مٹھیاں بھینچیں۔
اسکی پھنی ناک اتنی زور سے کھینچوں کہ پنوکیو بن جائے اور اسکے بھاڑ ایسے ہنستے منہ یہ کالی گاڑی ٹھوںس دوں۔ گاڑی۔
وہ سوچتے سوچتے چونکی۔ یہ کالی گاڑی کیوں اتنی کم رفتار میں اسکے برابر برابر چلے جاری ہے۔ یہ خیال اسے یقینا کافی دیر کے بعد آیا تھا کیونکہ گاڑی اس کے ذرا سا سامنے آکر رک چکی تھی۔ دروازہ کھلنے کیلئے انلاک ہوا۔
چند لمحے تھے بہادر بن کر اپنا بھاری بیگ جو آدھا کندھا جھکائے تھا گھما کے ڈرائیور کے منہ پر مار کر بھاگ کھڑی ہو یا الٹے پائوں واپسی کی راہ لیتے پانچ سو میٹر ریس کے کسی کھلآڑی سے ذیادہ تیز رفتار سے واپس ہاسپٹل بھاگے۔چونکہ وہ ایک سیدھی سادی عام سی لڑکی تھی سو بھاگنا اسے دونوں صورتوں میں تھا۔ ۔انہی سوچوں میں نووارد۔خراماں خراماں چلتی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔
آننیانگ۔ چندی آنکھیں لبوں پر کھلتی مسکراہٹ پھنی ناک۔وہ لڑکی اسکے سامنے کھڑی تھئ اور عروج اتنی ہکا بکا ہوئی کے اپنے سب ارادوں کو عملی جامہ پہنانا ہی بھول گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

Desi Kimchi Episode 27

قسط27

وہ سب تیار ہو کر سیہون کے کمرے سے ملحقہ غسل خانے کے دروازے پر کھڑی واعظہ کے نکلنے کا انتظار کر رہی تھیں
اللہ کب سے تیار ہو کر کھڑے ہیں تمہارا ناشتے پر انتظار کرتے رہے تم کہاں چلی گئ تھیں صبح صبح۔۔
عزہ نے دہائی دی
تم یہاں باتھ روم میں گھسی بیٹھی ہو۔ نکل بھی آئو اب
عروج جھلائی
تو اور کیا ہم سب تیار بھی ہوگئے ہیں آج ہم نے گھومنے جانا تھا یاد آیا؟؟؟؟
الف نے دروازے پر طبلہ بجاتے ہوئے کہا تھا۔
یار عشنا سے بات ہوئی کہاں ہے کل گھر بھی نہیں آئی؟
شاور گرنے کی آواز کے ساتھ ہلکی سی واعظہ کی آواز آئی
ہاں کہہ رہی کہ دوست کے ہاں رکی ہوئی ہے رات کو بتانا بھول گئ تھئ۔
الف نے لفظ بہ لفظ دہرایا جو اس نے پیغام میں لکھ بھیجا تھا
تبھی باتھ روم کا دروازہ کھول کر واعظہ
تولیہ سے سر رگڑتے ہوئے دانستہ ان سب کو نظر انداز کرتی باہر نکل آئی۔ تینوں نے بھنا کر اسے گھورا پھر پیر پٹختی اسکے پیچھے لائونج میں چلی آئیں۔
نہیں جانا تو صاف کہہ دو۔
تینوں کے منہ پھولے ہوئے تھے۔ فاطمہ کی تیاری اب جا کے مکمل ہوئی تھی وہ بھی اپنے کمرے سے نمودار ہو ہی گئ۔
ہم واپسی پر اپنے گھر جائیں گے سو تم لوگ اپنا سامان سمیٹ لو جو بھی ہے یہاں۔
واعظہ فریج سے پانی نکال کر پی رہی تھی انہیں باہر آتے دیکھ کر ہدایت کردی۔
تھا کیا ہمارے پاس کپڑے ہی پہنے ہوئے تھے خالی ہاتھ یونیورسٹی گئ ہوں بس عید کے کپڑے ہی ہیں انکو شاپر میں ڈال لیتے ہیں۔
الف نے حسب عادت تفصیل سے بتایا۔ واعظہ نے ترچھی نگاہ سے دیکھا
وہ کان دباتی کمرے میں گھس گئ
ہے جن کہاں ہے؟ صبح سے دکھائی نہیں دے رہا۔ عروج کو۔تجسس ہوا۔ بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اسکا انداز سرسری سا تھا
تم لوگوں نے کچھ سمیٹنا ومیٹنا نہیں ؟ بار بار سیہون کو تنگ تھوڑی کرنا چاہیئے خاموشی سے بے چارہ ہفتہ ہونے کو آیا ہمیں برداشت کر رہا ہے تو ضروری ہے ہم اسکی مروت رخصت کرکے ہی دم لیں۔
واعظہ ایکدم سے بگڑ کر بولی۔
ہائیں تمہیں کیا ہوا ہے۔ عزہ اورعروج دونوں نے کورس میں کہا تھا
مجھے کیا ہونا تم لوگوں کی سستی پر غصہ آرہا میرا انتظار کرنے کی بجائے کم از کم سامان ہی سمیٹ لینا تھا اب گھنٹہ اور چاہیئے ہوگا تم لوگوں کو۔ حد ہی ہے۔
وہ سابقہ انداز میں ہی بولی۔
اوئے۔ عروج کو اپنی شان میں گستاخی محسوس ہو ہی گئ۔ تڑپ کر پنجے تیز کرنے چاہے۔
یہ کس طرح بات کر رہی ہو خیر تو ہے؟
اسے واقعی حیرت ہوئی تھی۔
تم تو اپنا سامان سمیٹ لو۔ وہ اسکی بات یکسر نظر انداز کرکے عزہ سے مخاطب تھئ ۔ رخ کمرے کی جانب تھا بیچ میں ذرا کی زرا رک کر عزہ کو کہا تو اس نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا اور اسکے پیچھے ہولی
دیکھو کیسے ان سنا کیا اس نے یہ عزہ وغیرہ نے بات سن سن کر اسکو سر پر چڑھا لیا ہے ۔ وہ پلٹ کر اب تک۔خاموشی سے کھڑی فاطمہ سے شکایتی انداز میں بولی۔
بتائو عزہ وغیرہ کی۔طرح مجھ پر۔یعنی مجھ پر رعب جھاڑ گئ؟
اسے یقین نہیں آیا تھا ابھی تک۔ فاطمہ نے خاموش رہنے کو ہی ترجیح دی اور اپنے لیئے کافی بنانے چلدی۔ ایک گھنٹہ تو کم از کم انہیں لگنا ہی تھا اب۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب بیچ دوپہر میں لوہتے ورلڈ کے دروازے پر کھڑی تھیں۔22 ڈگری پر جہاں کوریائی گرمی منا کر گھروں میں چھپ بیٹھے تھے یا واٹر سلائڈز کے مزے لینے لوہتے ورلڈ کی مصنوعی جھیل میں گھسے تھے وہاں پانچ لڑکیاں چہلیں کرتی پھر رہی تھیں۔ سب سے پہلے جا گھسیں جھولوں میں ۔
خوب تپتے جھولوں میں گھوم گھام کر چکر کھا لیئے انگنت تصاویر۔ لوہتے ورلڈ کے ریستوران میں کھانا کھانے کا مطلب باقی مہینہ بنا کھائے گزارنا تھا سو دو تین گھنٹے وہاں برباد کرنے کے بعد وہ سب سب شرافت سے واپسی کی راہ۔لینے لگیں۔ عزہ کو ابھی بھی چکر آرہے تھے تو فاطمہ کا سر گھوم رہا تھا۔ جھولوں پر خوب شور مچانے والی عروج اسوقت تازہ دم تھی۔قریبی ریستوران سے کھانا پیک کروا کر وہ سیدھا گھر چلی آئیں۔ ہفتے بھر بعد گھر آنے کا احساس ہی خوش کن تھا۔
واعظہ نے دروازہ کھولا تو وہ سب اسکے پیچھے گھسی چلی آئیں۔ جتنی تیزی سے گھسی تھیں اتنی تیزی سے پلٹ کر باہر بھاگیں۔ واعظہ ناک بند کرتی لائونج کی کھڑکیاں کھولنے لگی۔ پیڈسٹل چلایا ایگزاسٹ فین چلایا۔ اندر بدبو کے جھونکے ختم تو نہیں ہوئے مگر کم ضرور ہو گئے تھے۔ بدبو کا منبع تھا۔۔خون۔ جو ٹھیک ٹھاک سڑ چکا تھا۔
واعظہ لائونج کے بیچوں بیچ کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی روہانسی سی ہوئی گھر کا جائزہ لے رہی تھی۔ عروج ، عزہ الف اور فاطمہ دھیرے دھیرے راہداری میں آگے بڑھ آئیں اوپن کچن کی بہرونی دیوار کی آڑ سے اندر جھانکنے لگیں۔ واعظہ انہیں گھور کر رہ۔گئ۔
وہ طوبئ آپی نے چھری پھیر کر جیسے ہی مرغی کو پانی پلانا چاہا وہ انکے ہاتھ سے نکل گئ۔ ادھ کٹی گردن کے ساتھ بھی جانے کہاں سے اس میں اتنی جان آگئ تھی کہ پورے اپارٹمنٹ میں اڑتی پھری۔
عزہ نے سر جھکا کر بتایا۔ اور دیوار سے ہٹ کر اندر لائونج میں چلی آئی۔ اسکی ہمت کو داد دیتی باقیوں نے بھی پیروی کی۔ کھانے کے شاپر فاطمہ کے پاس تھے انہیں کچن کائونٹر پر ٹکاتے ٹکاتے رک کر اندر چولہے کے پاس رکھنے لگی
وہ سب لائونج میں کھڑے گھر کا جائزہ لے رہے تھے۔کچن کے کائونٹر سے لائونج کے صوفے تک گاڑھا گاڑھا خون پھیلا تھا وہاں سے شائد مرغی نے اپنے پرانے مسکن واعظہ کے کارٹن پر چھلانگ لگائی سو خون کے چھینٹے جا بجا راہداری کی دیواروں پر بھی پڑے تھے۔مرغی کو تھامنے کی کوشش میں پوری راہداری کو خون سے سرخ کیا ہوا تھا جس سے پھسل کر طوبی کے شوہرکمر میں چک پڑوا بیٹھے
امیوزمنٹ پارک میں چہلیں کرنے کے بعد کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ صفائی کر سکے مگر ان میں سے کسی کی بھی بے چارگی سے بھری شکل دیکھے بنا واعظہ کمرے میں گھس چکی تھی
آپریشن صفائی شروع ہونے کو تھا۔
مگر اپنے نئے کپڑے برباد کوئی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
سب نے گہری سانس بھری اور جھٹ کپڑے بدل کر باہر آئیں۔ واعظہ نے بالٹی بھر کر لائونج میں لا رکھی تو عروج وائپر اور پوچھا اٹھا لائی۔ عزہ اور الف دیوار پر سے خون صاف کرنے پر معمور ہوئیں تو فاطمہ کچن صاف کرنے لگی۔ عروج اور واعظہ نے لائونج دھو ڈالا۔ صوفے پر پاکستانی عادت کے باعث چادر بچھا رکھی تھی سو اسکی بچت ہو گئ نئی چادر بچھا کر لائونج کا کارپٹ اٹھا کر گیلری میں رکھا اسکو کل دھونے کا ارادہ تھا۔ منے لائونج میں چادر بچھا کر عزہ اور الف نے کھانا چن دیا ۔ تھک کے چور ہونے کے بعد کھانا ملا تو خوب مزے۔لیکر سیر ہو کر کھایا ان سب نے۔
یار پلائو تھوڑا سا ہے جن کے لیئے بھی بچا لو وہ باہر کھانا نہیں کھاتا۔
عزہ نے فکر کی تو چاول کی طرف ہاتھ بڑھاتی الف نے سر ہلا کر روٹی اٹھا لی۔
ہے جن کے لیئے کھانا مت بچائو وہ گائوں چلا گیا ہے۔
واعظہ نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا تھا
ہیں اچانک کیوں؟ عروج حیران ہوئی
کب آئے گا واپس۔ عزہ بے چین۔۔ الف چیخ ہی تو پڑی
مل کے تو جاتا اسکے گائوں سے میں نے ہانجی ( سلک کے ہاتھ والے پنکھے)منگوانے تھے اتنے خوبصورت تو یہاں ملتے ہی نہیں۔ اس نے بتایا تھا اسکی دادی خود بناتی ہیں
تم نے کیا کرنے تھے ہانجی؟ فاطمہ حیران ہوئی
یار وہ کام آجاتے ہیں۔ وہ گڑبڑا سی گئ
کب تک آئے گا واپس ؟ مجھے اس سے بات کرنی تھی ہم میں تلخ کلامی ہوگئ تھئ۔ میں نے سوچا تھا صبح بات کروں گی اس سے۔ اور ہم نے طوبی آپی کو مل کے منانا بھی تھا
کب تک آئے گا واپس بتا کے تو گیا ہوگا نا
عزہ واعظہ کا بازو ہلانے لگی
ہاں بتا کے گیا ہے کہ ۔ واعظہ کو سمجھ نہ آیا کس طرح کہے۔تو چپ سی ہو کر ہونٹ کاٹنے لگی
کب آئے گا؟ الف سے رہا نا گیا
کبھی واپس نہیں آئے گا۔
اس نے کہہ ہی دیا۔۔
کیا؟ وہ سب چیخ ہی تو پڑیں۔
کیوں؟ ایسے کیسے؟
اسے روکا نہیں تم نے؟ فاطمہ نے واعظہ کی آنکھوں میں جھانکا۔
بہت روکا۔ اسکی آنکھوں سے آنسو پھسل آئے۔
نہیں رکا۔ کہتا ہے کچھ عرصہ اکیلے رہنا چاہتا ہے۔ اس نے اپنا تبادلہ بھی گائوں کے اسکول میں کروادیا ہے۔
وہ بہت پریشان تھا فاطمہ۔
وہ رو ہی پڑی۔ عروج اور فاطمہ تڑپ کر اسکی۔جانب بڑھیں
فاطمہ نے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا تو وہ گھٹ گھٹ کر رونے لگئ۔
میری غلطی ہے اسے ہاتھ تھام کر گڑھے سے نکالتے نکالتے اسے واپس اسی میں دھکیل دیا۔ مجھے اس کو یہاں لانا۔نہیں چاہیئے تھا۔
وہ بلکتے ہوئے کہے جا رہی تھئ۔ اسکی۔بات انکے پلے نہیں پڑ رہی تھی مگر اسکا یوں رو پڑنا انکے لیئے بے حد اچنبھے کا باعث تھا۔ وہ اور عروج ایک دوسرے کو دیکھ کر۔رہ۔گئیں
میری وجہ سے ہوا نا؟ مجھ سے خفا ہوکر چلا گیا۔۔
عزہ بھی جیسے رونے کو تیار تھی۔ اسے گلٹ ہو رہا تھا
اب تم نہ رونے لگنا۔ الف کے کہنے کی دیر تھی وہ بے تحاشہ رو پڑی
میں نے اسے کیا کچھ نہ کہہ دیا۔ ہچکی۔
جبھئ ناراض ہو کر چلا گیا۔۔ چھوٹا سا تو ہے کیسے رہے گا اکیلا
وہ سچ مچ بڑی بہنوں کی۔طرح پریشان ہو رہی تھی۔
واعظہ کہاں ہے اسکا گائوں ہم جا کر اسے منا لیں گے۔ ایسے چھوٹے موٹے جھگڑے کہاں نہیں ہوتے مت روئو۔
فاطمہ نے تسلی دینی چاہی۔
میں سوری کر لیتی ہوں اس سے ۔۔ عزہ واعظہ کے قریب کر بولی
آنسوئوں سے تر چہرہ واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
وہ بڈھسٹ ہے بڈھسٹ رہے جو کھانا پینا ہے کھائے پیئے ہم نہیں ٹوکیں گے اسے اس سے کہو واپس آجائے۔ ہم طوبی سے بھی مل کر بات کریں گے۔
عروج نے اپنے تئیں معاملہ نپٹانا چاہا۔
ہاں تو اور کیا۔ ہم سب نے جھوٹ بولا ہم سب اکٹھے طوبی کو منائیں گے تو مان جائیں گی وہ بھی۔ الف نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
واعظہ اسے فون کرو نا میں خود بات کرکے معزرت کر لیتی ہوں۔ آنسو پونچھتے عزہ منمنائی۔ ان سب کو دیکھتے واعظہ کے آنسو تھمنے لگے۔ کیا کچھ نا تھا ان کے چہروں پر محبت فکر پریشانی جیسے گھر کا کوئی فرد کہیں چلا گیابنا بتایے اور اسے ہر صورت واپس لانے کیلئے سب گھروالے مصمم ارادہ کر یں۔
تم۔سب اس سے محبت کرنے لگی ہو نا۔
اس نے یاسیت سے پوچھا۔
ہاں تو اتنا تو کیوٹ سا پلا پلایا بھائی ملا ہے ہمیں۔ فاطمہ ہنسی
دن میں دس بار بھی کوئی چیز منگواتی تو فورا لا کر دیتا تھا ۔ عروج ہنس کر بولی۔ وہ وقت اسکی نظروں کے سامنے آیا جب سینی ٹائزر ، کریم شیمپو سب ابیہا واعظہ بے گھر افراد میں بانٹ آئی تھیں

میں نے سچ مچ اتنا سلجھا ہوا۔ہائی اسکولر آج تک نہیں دیکھا کوریا تو کوریا پاکستان میں بھئ میرے کزنز تو پھدکتے پھرتے تمیز سے بات کرنا محال۔ فاطمہ نے ناک چڑھائی
واعظہ فون کرو نا اسے۔
عزہ نے کہا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ
اس نے فون نمبر بھی بدل لیا ہے۔ اور وہ تم سے ناراض بھی نہیں ہے عزہ۔
پھر کیوں چلا گیا ایسے۔ وہ بھرائے ہوئے انداز میں پوچھنے لگی
ان سب کے چہروں پر پریشانی تھی خیال تھا فکر تھی انہیں دیکھتے دیکھتے اسکی ذہنی رو بہکی
تم اتنے گندے اور نیچ ہوگے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی
عروج نے نفرت سے منہ پھیرا
تم جیسے انسان کو میں نے بھائی مان لیا مجھے سوچ کر شرم آتئ ہے۔ عزہ نفرت سے پھنکاری
نکل جائو یہاں سے آئیندہ شکل بھی مت دکھانا اپنی
نکلو جائو۔
ہے جن گھٹنوں کے بل بیٹھا رو رہا تھا
مجھے معاف کردیں نونا میں نے اپنی اصلیت چھپائی آپ سے۔
کوئی معافی نہیں مل سکتی تم جیسے دھوکے باز کو
فاطمہ گرجی
اور تم واعظہ تم نے ایسے انسان کو لا کر ہمارے بیچ کھڑا کر دیا جو۔
فاطمہ عزہ الف نور سب اسکی جانب نفرت سے گھورتی مڑی تھیں۔
واعظہ بولو نا ۔ عزہ نے اسکا کندھا ہلایا تو وہ چونک سی اٹھی
کیوں چلا گیا وہ۔ ؟؟؟
ہے جن کی منہ بولی بہنیں اسکے لیئے فکرمند تھیں۔مگر ہے جن کا سچ جان کر کیا وہ یہی کرتیں۔
اس نے سر جھٹکا
وہ کچھ عرصہ اکیلے رہ کر خود کو سنبھالنا چاہتا ہے۔ تم سب دعا کرنا اسکیلئے وہ سنبھل جائے گر نا پڑے۔ خود سے لڑتے
واعظہ دھیرے سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی
صبح جو بھی سب سے پہلے اٹھے مجھے بھی اٹھادے۔ وہ کہہ کر رکی نہیں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ
کوئی تو بات ہے لغت رو پڑی۔
الف نے خیال ظاہر کیا
یار عادت سی ہوگئ تھی ہمیں ہے جن کی کیسے رہیں گے
عروج نے ٹھنڈی سانس بھری
یاد ہے پہلی بار زخمی سا جب آیا تو عزہ تو اسے بھوت ہی سمجھی تھئ۔
فاطمہ نے کہا تو عزہ کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ آگئ
اور جھٹ بھائی بھی تو بنا لیا تھا میں نے۔ تب تو صرف کہا ہی تھا مگراس نے سچ مچ بھائی ہی بن کر دکھایا۔ وہ ملول سی ہوگئ تو الف نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
منا لائونج منا صوفہ خالی خالی لگ رہا تھا۔
عزہ کو چاکلیٹس یاد آئیں جو وہ اپنی نونا کیلئے روزانہ لاتا تھا۔ کھٹا چونا لیموں کا شربت چکھ کر آنکھیں میچتا
الف کی باری پر چپکے سے سارے برتن دھوتا اور الف کائونٹر پر بیٹھی باتیں بگھارتی
چاول کھاتے اچھو ہو جانا اور ان سب کا پریشانی سے اسکی کمر مسلنا بخار میں اسکو اٹھا کر کمرے میں لے جانا
تو فاطمہ اور الف کی لڑائی میں بیچ بچائو کراتا، الف کے پروگرام میں لمبے لمبے فون آوازیں بدل بدل کر کرتا
ہے جن کتنی یادیں چھوڑ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح حسب معمول تھی۔
عروج عزہ الف کی باتھ روم پر لڑائی ہورہی تھی۔ عروج سب سے پہلے اٹھ کر باتھ روم بھاگی تھی۔ الف اور عزہ اسکی پھرتی ملاحظہ کرتی پہلےتو دنگ رہ گئیں پھر بھاگ کر دروازے سے چپک کر سخت سست سنانے لگیں وہ بھی کان بند کیئے فریش ہورہی تھی ۔ فاطمہ اور واعظہ لمبئ تانے دوسرے کمرے میں سوئی پڑی تھیں
عروج کے نکلتے ہی عزہ الف کو جھکائی دیتے باتھروم گھس گئ تو الف نے موٹی والی گالی دی
عروج ہنس پڑئ ۔
واعظہ کے کمرے میں چلی جائو
بال تولیہ سے رگڑتے عروج نے مشورہ دیا تو وہ اسے گھورتی پیر پٹختی چل دی
اسے اٹھا بھی دینا کہہ کر سوئی تھی کہ اٹھا دینا صبح مجھے۔
پیچھے سے ہانک لگائی۔
الف یقینا اتنئ احمق نہیں تھی کہ اپنے باتھروم کی ریس میں ایک بندہ اور شامل کر لیتی سو آرام سے باتھروم گھسی نہائی تیار ہو کر گنگناتے نکلی اور بھول بھی گئ عروج کی ہدایت۔ فاطمہ اور واعظہ گوڑ سہیلیوں کی طرح لپٹی بے خبر سو رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا یونہی مزاج اچھا تھا صبح ہی صبح گنگناتے ہوئے حاضری لگوائئ وارڈ کا چکر لگایا۔ اسکے وارڈ میں داخل ہوتے ہی لمحہ بھر کو خاموشی چھائی۔
مستقل نقاب ہونے کے باعث اسکی مسکراہٹ تو انکی نگاہوں سے اوجھل رہتی تھی مگر اسکا نرم۔انداز مریضوں کو گرویدہ کر دیتا تھا۔ وہ مسکرا کر اس آٹھ سالہ بچے کو آننیانگ کہتی اسکی فائل دیکھنے لگی۔ بچہ سیڑھیوں سے گر پڑا تھا کل سے پلستر چڑھا تھا اسکی ٹانگ پر تفصیلات پڑھتےاسے اپنے پیچھے کھسر پھسر سی محسوس ہوئی۔ اس نے یونہی پلٹ کر پیچھے دیکھا تو وارڈ کے سب مریض اسکو ہی دیکھ رہے تھے۔ اسکے مڑ کر دیکھتے سناٹا سا ہوگیا۔ اس نے کندھے اچکائے بچے کی دوائیں دیکھیں۔
بچہ ماں کے کان میں گھسا
وہی والی نونا۔
ماں نےاسے چپ کرنے کا اشارہ کرتے چور سا ہو کر عروج کو دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔متوجہ ہونے پر جھک کر آننیانگ کہتی وہ آگے بڑھ گئ۔
پھر اگلا بستر اس سے اگلا۔
سب اسے کچھ ذیادہ ہی غور سے دیکھ رہے تھے وہ سٹپٹا کر باتھ روم چلی آئی۔ آئینے کے سامنے نقاب ہٹا یا۔
لپ اسٹک ہی لگائی ہے آج میں نے نئی۔ ماسک سے آر پار نظر آرہا کیا؟ ویسے کچھ ذیادہ ہی جچ رہی ہوں میں۔
وہ غور سے خود کو دیکھ رہی تھی۔ چہرے سے نگاہ نیچے کی۔ لانگ گرے ٹاپ گرے ہی۔جینز اور لائٹ گرے پرنٹڈ شرگ اور لمبا سا اسکارف ۔ یہ اسکے وہی کپڑے تھے جو اس نے امیوزمنٹ پارک میں جاتے وقت کل پہنے تھے۔ بہت ذیادہ تو نہیں مگر کچھ شکنیں آچکی تھیں۔
ہاں کپڑے۔ کل سیدھے کر کے رکھ تو دیئے تھے تاکہ دوبارہ استری نا کرنے پڑیں۔ پھربھی شکنیں پڑ گئیں۔ اسی لیئے گھور رہے ہونگے بیوٹی کاںشسس۔
وہ بڑ بڑا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پلین وہایئٹ شرٹ شکنوں سے پر تھی ساتھ گریبان کا بٹن بھی ٹوٹا ہوا تھا۔ گرے پینٹ اتنی ہی جما کے استری ہوئی وی تھی کہ کریز ہلی بھی نا ہو۔ بال نک سک سے تیار جیل لگے ہوئے چم چم کرتے جوتے۔ عجیب ڈب کھڑبہ منظر تھا نگاہوں کے سامنے۔الف کے جو چہرے پر تاثرات اسے دیکھ کر آئے تھے ژیہانگ نے بے ساختہ اپنی در آنے والی مسکراہٹ دبائی۔ وہ جتنا بدمزا منہ بنائے کھڑی تھی اسے دیکھ کر اسے اتنا ہی مزا آگیا تھا۔
انکوفنکشن ایٹی کیٹس ٹریننگ کیلئے آج صبح صبح اسٹوڈیو بلایا گیا تھا۔ الف خود نک سک سے تیار تھی بلو جینز نیوی بلو لانگ ٹاپ ساتھ نیوی بلیو اسکارف سر پر لپٹا ہوا نیوی بلیو شیفون کا دوپٹہ۔ وہ لابی میں کھڑئ اسکا ہی انتظار کر رہی تھی
شرٹ استری کرتے ہوئے بجلی چلی گئ تھی کیا؟
اس نے تیکھی نگاہ ڈال کر پوچھا تھا
اسکے طنز پر ژیہانگ زور سے ہنسا
نہیں بجلی جانے کی خوش قسمتی بس بے چارےپاکستانیوں کے نصیب میں ہے یہاں تو ہر وقت دن رات آتی رہتی ٹک ٹک ٹک ٹک۔
معصوم سی شکل بنا کر وہ اشتہار کی نقل اتارتے ہوئے ٹک ٹک کہتا انگلی گھڑی کی سوئیوں کی طرح گھماتا بولا۔
کسی چینی شکل کو خالص پاکستانی اشتہار کی نقل اتارتے دیکھنا کتنا مزے کا تجربہ تھا الف کھلکھلا کر ہنستی چلی گئ۔
اسکے ہنسنے پر ژیہانگ بھی ہنس دیا۔
یہ اشتہار بھی سن رکھا ہے تم ۔۔۔
وہ کہتے کہتے رکی
آپ نے؟
تم مجھے تم کہہ سکتی ہو۔ اس نے مسکرا کر کہا تو وہ سر ہلا گئ۔
مجھے یہ اشتہار کافی مزے کا لگتا تھا۔ میری بھانجی بالکل اسی بچے کی طرح ٹک ٹک کرتی رہتی تھی۔ بہت ویڈیوز بناتی تھی میں اسکی۔میری انسٹا بھری ہوئی ہے اسکی ویڈیوز سے۔ وہ شوق سے بتا رہی تھی ژیہانگ دھیمی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے متانت سے سن رہا تھا
اچھا ۔۔ دکھانا مجھے بھی۔
دونوں یونہی باتیں کرتے لفٹ کی جانب چلے آئے
پاکستان میں کتنا عرصہ رہے ۔۔
تم اور آپ کے چکر میں پھنسی الف نے دونوں ہی جملے سے نکال دیئے۔ژیہانگ کو اپنے استاد یاد آئے
جب کسی ہم عمر سے بات کر رہے ہوں تو تم کا استعمال کرتے ہیں کسی سے بے تکلفی ظاہر کرنی ہو تو بھی ،تاہم اجنبیوں اور بڑوں سے ہمیشہ آپ کا صیغہ استعمال کیا۔جاتا ہے۔ آپ میں ادب بھئ ہے اوراجنبیت بھی۔
تاہم اردو کی خوبی یہ بھی ہے کہ آپ اور تم کا استعمال کیئے بنا بھی بات کی جا سکتی ہے اگر مخاطب آپکے سامنے ہو اور آپ فیصلہ نا کر پارہے ہوں کہ اجنبیت کی دیوار قائم رکھنی ہے یا گرا دینی ہے۔
ہیں؟ الف نے اسے لفٹ کی جانب متوجہ کیا۔ مگر اشارہ اسکا اپنے سوال کی جانب ہی تھا کافی دیر سے جواب نہیں آیا تھا۔
میں پورے تین سال رہا ہوں پاکستان میں۔ سارا سارا وقت ٹی وی دیکھتا تھا کتنے اشتہار تو مجھے منہ زبانی یاد ہیں۔ یہاں بھی پاکستان سے ہی آیا ہوں۔ سچ پوچھو تو سوچتا تھا اردو بولنے کا موقع جانے کب ملے یہ نہ ہو کہ بھول ہی جائوں ۔ مگر شکر ہے تم مل گئیں۔ وہ لفٹ کے بٹن دباتا آخر میں اسے دیکھ کر مسکرا کر بولا
اسکے جملے پر الف چونک گئ تھی مگر اسکا انداز بے حد سادہ تھا لفٹ کے بٹن دبا کر اب وہ اپنا موبائل دیکھ رہا تھا۔
پاکستان کیسا لگا تھا آپکو؟
اس نے اشتیاق سے پوچھا تھا مگر جواب اسکا اتنا ہی سرسری اور مختصر تھا
اچھا تھا۔ وہ مکمل مگن تھا فون میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس بجے فاطمہ کا فون بجنا شروع ہوا۔فاطمہ تو نہیں اسکی مستقل بجتی گھنٹی سے واعظہ اٹھ کر بیٹھ گئ۔
فاطی دیکھو کون کال کررہا۔ اس نے عینک نہیں لگائی تھی سو موبائل پر نام نہیں پڑھ پائی موبائل تھما کر دوبارہ لڑھک گئ۔
کون ہے۔ بیزاری سے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا بنا دیکھے
کہاں ہو تم؟ بتایا بھی تھا تمہیں کہ کائونسلرز آئیں گے ملنے اب گھر میں بیٹھے ہیں فورا پہنچو۔
سیہون کان میں چیخا اس نے پٹ آنکھیں کھولیں۔
اتنئ صبح۔؟ اسکے منہ سے نکلا
سیہون فون بند کر چکا تھا
سامنے وال کلاک دس بجا رہی تھی۔
دس بج گئے؟ وہ حیران ہوئی پھر پلٹ کر دوبارہ خراٹے لیتی واعظہ کو جھنجھوڑ ڈالا
اٹھا جائو دس بج گئے کسی نے اٹھایا ہی نہیں ہمیں۔۔
اسکی آواز تھئ کہ اٹیم بم وہ بھی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔
اس بار تو مجھے دفتر میں گھسنے نہیں دینے والے۔
اس کو پکا یقین تھا۔ فاطمہ کے البتہ حواس بحال ہو چکے تھے سو واعظہ کے حواس بحال ہونے سے پہلے سیدھا باتھ روم کی جانب بھاگئ۔ واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ پھر دھیرے سے بڑ بڑائی
ہمیشہ دیر۔کر دیتا ہوں میں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔

Desi Kimchi Episode 26

قسط 26
میں معزرت خواہ ہوں آپ دونوں کو ڈرا دیا میں نے۔
یون بے ٹھیک ٹھاک شرمندہ سی تھی۔ دونوں اسے کینہ توز نظروں سے ہی گھو ررہی تھیں جان نکال دی تھی اس نے۔ اب سامنے بیٹھی انہی کے پیش کردہ سینڈوچ کو چباتے ہوئے بار بار جھک جھک کر معزرت کر رہی تھی۔
آنیو۔ (کوئی بات نہیں۔) جس خشک انداز میں واعظہ نے کہا تھا اسکی رہی سہی جان بھی فنا ہو چلی تھی۔
وہ دراصل مجھے آپکے گھر میں کھائے ان پکوڑوں کا ذائقہ بھولا ہی نہیں۔ مجھے نام بھی نہیں پتہ تھا ورنہ ضرور آن لائن ڈھونڈ ہی لیتی۔ اب یاد رہے گا وہ پکوڑے تھے۔ ابھی آپ کو دیکھ کر مجھے یہی بہتر لگا آپ سے براہ راست ہی ترکیب پوچھ لوں۔
اسکی چندی آنکھیں مسکراتے ہوئے مزید چندی ہو چلی تھیں۔
پیاز تھی ، پالک تھی اور بینگن مگر لپیٹا کس چیز میں تھا انکو؟
بیسن ۔ یہ عروج تھئ۔ اردو میں جواب دیتی
کارن فلور۔ واعظہ پر بدلہ لینے کا بھوت سوار تھا۔عروج نے گھور کر دیکھا مگر وہ چہرے پر نہایت پر خلوص مسکراہٹ سجائے تھی کہ یون بے کو شک بھی نہ گزرا۔
اوہ یعنی مکئی کا آٹا۔
اس نے جیسے خوش ہو کر چٹکی بجائی
میں ضرور بنائوں گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واعظہ عروج اور سیہون اکٹھے ہی رات گئے گھر میں داخل ہوئے تھے۔گھر میں مکمل خاموشی اور اندھیرے کا راج تھا۔تینوں کو تھکن اتنی سوار تھی کہ بس سیدھا اپنے اپنے کمروں میں گھس گئے۔سیہون جب کمرے میں آیا تب ہے جن بے سدھ پڑا تھا وہ آہٹ کیئے بنا احتیاط سے تازہ دم ہونے غسل خانے میں گھس گیا تھا۔اسے پھر بھی آہٹ محسوس ہوئی کہ کیا اس نے پٹ آنکھیں کھول لی تھیں۔
صبح اتوار تھا سب نے خوب نیند پوری کی گیارہ بجے کے قریب ان سب کے کمزور سیل جان پکڑنا شروع ہوئے۔ ایک ہی باتھ روم تھا ان سب کو ایک دوسرے کا انتظار کرتا جھگڑتا چھوڑ کر وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔سیہون کے کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھٹکا کر جھانکا پھر سٹپٹا کر بند کردیا۔ ہے جن شرٹ بدل رہا تھا اسے جھجک کر دروازہ بند کرتے دیکھ کر خود دروازہ کھولنے لگا۔ واعظہ پلٹ کر واپس فاطمہ کے کمرے کی جانب مڑ گئ تھی
آجائیں انی ۔ہے جن نے پکارا تو پلٹی
تم ہوجائو تیار میں بس ویسے ہی ۔۔ وہ کھسیا سی گئ تھی
میں بس تیار ہو رہا تھا ہو گیا اچھا ہوا آپ مل گئیں رات کو تو آپ کافی دیر سے واپس آئیں۔
وہ دروازہ کھول کر بولتا ہوا اندر کمرے میں چلا آیا ۔
کمرے میں بس ہے جن ہی تھا
سیہون چلا گیا نوکری پر ۔ اس نے یونہی پوچھا
جی ۔۔ اسکا جواب مختصر تھا۔ وہ ایک طرف ہوکر اپنے بیڈ پر سے والٹ اٹھانے لگا۔
واعظہ کی بیڈ پر نگاہ پڑی تو ٹھٹک سی گئ۔ ۔ بیڈ پر اس کا تیار بیگ رکھا تھا اس نے آگے بڑھ کر زپ بند کی ۔ واعظہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔ وہ نظر چرا کر تیز تیز بولتا گیا
مجھے دراصل آپکو بتانا تھا میں فلیٹ سے صبح جا کر اپنا سب سامان لے آیا تھا ہیونگ(بھائی سہیون کے بارے میں بات ہو رہی ہے) سے چابی لے لی تھی میں نے ۔ ویسے تو مل کر ہی جاتا میں اس وقت ذیادہ وقت نہیں میرے پاس۔ بس کا وقت ہونے والا۔ہے میں جا رہا ہوں۔ بس مجھے آپکا بے حد شکریہ ادا کرنا تھا نونا۔ ہے جن کی آنکھیں جھلملا رہی تھیں۔واعظہ حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی اس نے آگے بڑھ کر واعظہ کے ہاتھ تھام لیئے۔
آپ نے میرا بہت خیال رکھا میری مشکل ترین وقت میں مدد کی۔ میں آپکا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔آپ میری سچ مچ بہن ہیں میری نونا۔ آپ مجھے زندگی کی آخری سانس تک یاد رہیں گی سارانگھیئے نونا۔ اس نے اسکے ہاتھ عقیدت سے چوم لیئے۔
کیا مطلب کہاں جا رہے ہو؟ وہ بھونچکا سی رہ گئ
جہاں جانے سے آپ مجھے چند مہینے قبل روک کر یہاں لے آئی تھیں۔
وہ تھکے تھکے انداز میں مسکرایا۔ اسکی رنگت بے حد زرد مگر آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ جیسے وہ یا بہت رویا ہو یا ساری رات نہ سویا ہو۔
تم تارک الدنیا۔واعظہ کی آواز گنگ سی ہوتی گئی۔ وہ یقین کرنا نہیں چاہ رہی تھی جس بچے کو وہ انگلی پکڑ کر چلا کر دنیا میں واپس لائی تھی وہ یوں ایکدم واپس دنیا چھوڑنے جا رہا تھا
۔تم تارک الدنیا ہونے جا رہے ہو۔ اس نے پھر تصدیق چاہی ۔ اسے شدید صدمہ پہنچا تھا ۔ وہ لمحہ بھر کو تو چپ سی کھڑی رہ گئ تھئ
ہے جن کو اس سے اسی ردعمل کی توقع تھی۔ اور یہ بھی کہ وہ پھر اسے روکے گی ساری رات اس نے وہی حیلے بہانے گڑھتے ہوئے گزاری تھی جن سے وہ اس وقت اس اچھی لڑکی کو مطمئن کر سکتا تھا مگر سب بے سود رائیگاں جاتا نظر آرہا تھا کہ وہ سب کچھ بھول گیا تھا یاد تھا تو اسے چند مہینے قبل کا وہ بس کا منظر۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے نگاہ بس پر دوڑائی تو بس ایک بچےکے برابر کی نشست خالی نظر آئی ۔وہ جھٹ اسکے پاس دھم سے آ بیٹھی۔ کھڑکی سے سر ٹکائے کانوں پر ہیڈ فون چڑھائےبانہوں میں اسکول بیگ سینے سے بھینچے بیٹھا آنکھیں بند کیئے وہ سولہ سترہ سال کا لڑکاہوگا جو شائد سو رہا تھا ۔ جبھی واعظہ کے برابر آبیٹھنے پر بھی نہ چونکا نا آنکھیں کھولیں۔ پچھلی نشست سے اٹھ کر آتا وہ چندی آنکھوں والا ادھیڑ عمر کرخت سے چہرے والا مرد سخت بد مزا ہوا تھا
آگاشی۔ یہ میری جگہ ہے؟۔
اس نے بلا تکلف واعظہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اس نے تڑپ کر اسکا ہاتھ پیچھے کیا
ہاتھ لگائے بنا بات کریں
وہ بھنا کر اٹھنے کو تھی کہ بے نیاز سے بیٹھے اس بچے نےبیگ پر سے ہاتھ ہٹا کر واعظہ کی کلائی تھام کر روکا۔
یہ نشست میرے برابر ہے یہاں وہی بیٹھ سکتا ہے جسے میں بیٹھنے کی اجازت دوں گا۔
آنکھیں پوری کھول کر جس تحکمانہ انداز میں وہ لڑکا بولا تھا اس نے اس ادھیڑ عمر آدمی کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ بکتا جھکتا وہ پلٹ گیا۔
اسکو پلٹتے دیکھ کر ہے جن نے کلائی چھوڑی اور سابقہ انداز میں واپس سیدھا ہوبیٹھا۔واعظہ بھنوئویں اور کندھے اچکا کر سیدھی ہو بیٹھی۔
او نام کوئئ نیگا ہاسو دامیان۔
اسکے ہیڈ فون سے آواز باہر تک آرہی تھی۔
بی ٹی ایس۔ واعظہ کے کان کھڑے ہوئے۔
یہ اسکا پسندیدہ گانا تھا۔
وہ یونہی گانے سے محظوظ ہوتی گردن ہلا ہلا کر بول بے آواز گنگنانے لگی۔
اس لڑکے نے فورا گانا بدل دیا تھا اس نے بد مزا سا ہو کر اسکے ہاتھ میں تھامے اس آئی پوڈ سے ملتے جلتے سستے سے ایم پی تھری پلیئر کو گھورا جو اسکی انگلی کی جنبش کے باعث کسی گانے پر ٹک نہیں رہا تھا۔ اسکی کلائی کے اندرونی جوڑ پر عین نبض کے قریب ایک ٹیٹو سا تھا۔ مٹا مٹا سا اسٹیکر جیسا۔ جیسے اسکو رگڑ کر اتارا جائے تو شائد اتر جائے۔ مگر اس اسٹیکر پر جو لکھا تھا اسکا مفہوم سمجھ نہ آسکا انگریزی میں سکس اور۔ آگے کچھ مٹا مٹا سا تھا
9 لکھا ہوا تھا یہاں۔
اسکے کہنے پر وہ جو تھوڑا سا جھک کر غور سے دیکھ رہی تھی سٹپٹا کر سیدھی ہوئی
چھے سو ہمبندا۔۔ ( میں معزرت خواہ ہوں)
اس نے جھک کر معزرت کی۔ جوابا وہ بچہ ہنس پڑا۔
آنیو۔ آپ متجسس تھیں اسلیئے بتا دیا ۔ یہ میرا ماضی ہے آدھا مٹا چکا ہوں آدھا مٹا دوں گا۔ پھر میری کلائی صاف ہو جائے گی۔ وہ دھیرے سے اس پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ وہ اسٹیکر جیسا جو اتر رہا تھا وہ کھال تھی اسکی۔
اوہ کیا کر رہے ہو۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسناہٹ دوڑی تھی جھٹ اسکو ٹوکا۔
آپکو کیا ہوا میری کلائی ہے آپ تو یوں ڈری ہیں جیسے آپکی کھال اتر رہی ہو۔
خالص نوجوان بدتمیز بچوں والے انداز میں وہ تسمخر اڑاتا زور سے ہنسا تھا۔
میں اپنے ساتھ اتنا ظلم نہیں کر سکتی۔ کہ اپنی کھال خود اتارنے بیٹھ جائوں۔ دنیا کم ہے ستانے کو کہ ہم خود بھی اپنے آپکو تکلیف دینے بیٹھ جائیں۔۔ہمیں تو بلکہ دنیا کے آزار سے خود کو بچانے میں اپنی توانائیاں خرچ کرنی چاہیئں ۔
واعظہ ذرا جو بدمزا ہوئی ہو۔ اسکے اندر کی جھکی واعظ دینے کو تیار واعظہ انگڑائی لیکر بیدار ہوئی تھی۔ اسکے جملوں نے غیر محسوس سے انداز میں ہے جن پر اثر کیا تھا زخم کریدتی انگلیاں سست پڑیں۔ واعظہ مسکرا دی
ویسے ٹیٹو تو اب اتر جاتے ہیں لیزر سے انکو یوں اتارنے کی کیا ضرورت ؟
پیسے لگتے ہیں اس میں۔ اس نے جتایا۔پھر بیگ سے کم باپ نکالنے لگا۔
آپ ویسے ان کاسٹیوم والی لڑکیوں کی کئیر ٹیکر ہیں کیا؟
آپ سب سے پہلے بڑھی تھیں بس کی جانب سب سے آخر میں چڑھی تھیں
کم باپ اسکی جانب بڑھا تے وہ سادگی سے پوچھ رہا تھا۔
وہ یقینا اتنا بے خبر بیٹھا نہیں تھا جتنا دکھائی دے رہا تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار لڑکیاں گنو تو پتہ چلے ہر لڑکی کو پانچ منٹ بھی لگیں تو چالیس منٹ کہیں نہیں گئے۔ یار بارہ ہونے کو آئے ابھی باتھ روم سے فارغ نہیں ہوئے ہیں باہر کیا خاک پتھر جا پائیں گے
تم لوگ کوئی پروگرام بنانا تو دور بنا بنایا پروگرام بھی برباد کرنے میں ماہر ہو۔
یہ تقریر الف جھاڑ رہی تھئ۔ فاطمہ کا باتھ روم میں منہ بند کرکے منہ دھونا محال ہوگیا۔بھنا کر بند دروازے کو گھور کر رہ گئ۔ ۔
یہ حساب کیسے لگایا تم نے؟۔
عموما ایسا سوال عشنا کی جانب سے آتا تھا مگر آج عروج میتھس ٹیسٹ لینے کے درپے تھئ۔ بیڈ پر دراز موبائل پر انگلیاں چلا رہی تھی۔
ہم آٹھ لڑکیاں ہیں ایٹ فائوز آر فورٹی۔
الف نے چٹکئ بجائی
ہم آٹھ کہاں رہ گئیں؟ عزہ نے انگڑائی لی
ابیہا پاکستان چلی گئ ، نور جیل میں ہے واعظہ سیہون کے واش روم میں چلی گئ ہے لے دے کر رہ گئیں میں، تم ، عروج اور فاطمہ چار لڑکیاں۔ بس۔
حساب کرتے کرتے وہ چونکی۔
ایک دو تین۔ ہم تین لڑکیاں ہیں کمرے میں۔
عروج بھی چونکی۔
ہاں تو ایک باتھروم میں ہے نا فاطمہ۔
الف نے مکھی اڑائی کان پر سے۔
عروج ، عزہ ، فاطمہ، واعظہ باہر، میں ادھر نور جیل میں ابیہا پاکستان میں۔ رہ کون گیا؟
الف نے دوبارہ گنتی کی۔
عشنا۔ تینوں اکٹھے چیخی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا نام پکارے جانے پر وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اسکے پاس پیسے تو تھے نہیں سو قریبی پارک میں بنچ پر آ بیٹھی ۔ واعظہ کو فون ملانا تو دور موبائل کی بیٹری ہی فین میٹنگ کی تصاویر او رویڈیوز بناتے ہوئے ختم ہوچکی تھی۔
سامنے کالے لانگ عبایا میں ملبوس بھاری تن و توش کی وہ عورت شدید حیرت سے اسے گھور رہی تھی۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
خالہ آپ۔ نقاب میں بھی عشنا پہچان کر سٹپٹا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھئ
تم یہاں کیا کر رہی ہو عشنا وہآں پاکستان میں سب سمجھ رہے ہیں کہ تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانے کیا اجزاء ہوں کم۔باپ کے اس نے بہت سلیقے سے معزرت کر لی تھی۔وہ کندھے اچکا کر کھانے لگا بڑے بڑے نوالے۔ واعظہ ٹوکتے ٹوکتے رہ گئ۔ انکا رواج ہی اور تھا ۔ ہم جسے بدتہذیبئ بد تمیزی سے کھانا گردانتے وہ انکی ریت تھی۔ چھوٹے سے دہانے میں پورا کم۔باپ ڈال کر کلے پھلا کر کھاتا وہ بالکل بھالو لگ رہا تھا اس نے منہ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی۔ ہے جن نے گہری نگاہ اس پر ڈالی تھی اسکی حرکت چھپی نہ رہ سکی تھی
آپ پڑھتی ہیں؟ وہ یونہی پوچھ بیٹھا۔
ہاں۔ اس نے سر ہلایا۔ ماسٹرز کر رہی ہوں اور
تم تو اسکول میں پڑھتے ہوگے؟ اس نے حسب عادت لمبی بات کی۔
ہاں ہائی اسکول کا طالب علم ہوں ۔ چھٹی پر گائوں جا رہا ہوں۔ آپ اور آپکی بچیاں بہت مختلف سی لگ رہی ہیں
آپ لوگ کسی کاسٹیوم پارٹی پر جا رہی ہیں۔۔
بڑی دیر سے متجسس ہے جن پوچھ ہی بیٹھا۔۔
آنیو۔۔ واعظہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔
صبح صبح کونسی کاسٹیوم پارٹی۔۔
واعظہ ہنسی۔۔
پھر یہ کیا پہنے ہیں۔؟ اس نے اچک کر عزہ اور نور کو دیکھتے ہوئےپوچھا۔۔
اچھا یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ یہ مزہبی لباس ہے انکا۔۔
واعظہ کو سوجھا نہیں کہ عبایا کو انگریزی میں کیا کہے۔۔۔۔
ہے جن ہائی اسکول کا طالب علم تھا سیول میں پڑھتا تھا ہفتے کے آخر میں اپنے گائوں جا رہا تھا سیول میں بھی اسکول جانے والے بچے انگریزی پڑھتے اور سیکھتے ہیں اتنی کہ ہماری طرح بات کر ہی سکتے ہیں۔۔ تھوڑا سوچ کر سہی۔
ہمم۔ تو یہ اسلامی نن ہیں۔ جیسے کرسچنز کی نن ہوتی ہیں ویسی یہ ڈیوٹڈ ہیں اسلام کیلئے۔۔
ہے ان نے اندازہ لگایا پھر تصدیق چاہنے والے انداز میں دیکھنے لگا۔۔
نہیں ڈیوشن کا کانسیپٹ اسلام میں نہیں ہے۔ بس یوں کہہ لو یہ مزہبئ ہیں مگر اسلام آپکو دین کیلئے دنیا چھوڑ دینے کا درس نہیں دیتا۔۔ ہم عام زندگی گزارتے ہیں مگر اسلامی اصولوں کے ساتھ۔۔
واعظہ نے اپنی طرف سے مدلل جواب دیا۔۔
خیر ۔۔ ہے جن نے گہری سانس لی۔۔
میں بھی ڈیووٹ کردوں گا خود کو اگلے کچھ سالوں میں میں خود کو نارنجی چولے میں مالائیں گلے میں ڈال کر سر منڈوائے کسی ویران پہاڑی پر آسن جمائے بیٹھا دیکھتا ہوں۔۔
آنکھیں بند کرتا وہ جیسے سچ مچ خود کو بدھ مت کا راہب بنا تصور کر رہا تھا جیسے۔۔
یہ تصور اتنا روشن تھا کہ ایک لمحے کو واعظہ بھی خود کو کسی ویران پہاڑی پر ایک سترہ سالہ گنجے
نارنجی لبادے میں ملبوس راہب کے سامنے بیٹھا محسوس کرنے لگئ۔۔
نہیں۔۔
اس نے جھر جھری لی اور چونک کر جے ہن کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ آنکھیں بند کیئے جے ہن کیلئے بھی تصور اتنا روشن تھا کہ اسکی چندی آنکھوں کے کنارے بھیگ چلے تھے واعظہ کا دل موم ہوگیا۔۔
بمشکل سولہ سترہ سال کا دبلا پتلا سا ہے جن جسکی مسیں بھئ ابھی پوری نہ بھیگی تھیں ہلکا سا ہی رواں تھا ابھی جوانی ڈھنگ سے آئی نہیں تھی اور دنیا تیاگ دینے کو تیار بیٹھا تھا۔۔
نہیں منے میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی۔۔
واعظہ کے اندر کی بڑی بہن جاگ اٹھی تھی۔۔
واٹ؟۔ منا آنکھیں کھول کر ان جملوں کو سمجھنے کی ناکام کو شش کرنے لگا تھا۔۔
دے ؟
میرا مطلب ہے تمہیں کیا پڑی ہے ابھی تو زندگی شروع ہوئی ہے تمہاری ابھی تو تمہاری عمر کے لڑکے کھیلتے کودتے پھرتے ہیں لڑکیوں کے چکر میں پڑتے ہیں پڑھائی مکمل کرتے ہیں کیریر بناتے ہیں تمہیں کیا پڑی ہے اپنی زندگی برباد کرنے کی یوں دنیا تیاگ کر۔ وہ جوش سے کہتی چلی۔گئ۔
آپ نہیں جانتی زندگی کتنی دشوار ہے میرے لیئے۔
یہ جملہ اس سترہ سال کے بچے کے منہ سے پھسلاتھا۔
بریک اپ۔ واعظہ نے لمحے کے ہزارویں حصے میں اندازہ لگایا تھا اور اسکے خیال میں یہ اندازہ سو فیصد درست تھا۔
میرے لیئے زندگی نے بس دو راستے چھوڑے ہیں۔ یا تو میں بے غیرتی کا تر نوالہ اڑائوں یا عزت کی روٹی کھائوں جنگلوں میں دنیا سے کٹ کر بدھا کی عبادت میں اپنے دانستہ نادانستہ گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے۔ اب دنیا میں رہنے کے قابل نہیں رہا میں ۔
اسکا انداز چٹخا ہوا سا تھا۔
یہ کیا بات ہوئی۔ سیول میں کہاں رہتے ہو؟
اسکی ہمدردانہ طبیعت جوش ما ررہی تھی
کہیں نہیں ۔ وہ ہنسا۔ میرا سیول میں کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔
اوہ یعنئ رہائش کا مسلئہ ہے؟ سیول میں؟ پڑھتے نہیں ہو کیا اسکول میں تم؟ نوکری کرو۔ پڑھائی کا خرچ اٹھائو جوان بچے ہو کیا کمی ہے زندگی میں؟ اگر رہائش کا بہت مسلئہ تو میں انتظام کر دیتی ہوں میرا ایک فلیٹ ہے سیول میں تم وہاں رہو۔ ویسے ہے تو چھوٹا سا ہم لڑکیاں بھی بہت ذیادہ ہیں ۔مگر کچھ نا کچھ انتظام ہو ہی جائے گا۔ تم بس پڑھائی پر توجہ دو صبح اسکول جائو شام کو جاب کرو سب بچے یہی تو کرتے اتنے مایوس کیوں ہو تم؟
حسب عادت اپنے ذہن سے اسکے مسائل کا اندازہ لگا کر وہ جھٹ پٹ حل نکالنا شروع ہوگئ تھی۔
آپ مجھے رکھیں گی اپنے گھر؟ کتنا چارج کریں گی؟ ویسے میں چھوٹا سہی مگر ۔۔۔ اتنا چھوٹا نہیں۔۔
اسکی بات اسکا انداز واعظہ کے سر پر سے گزرا تھا۔
آپ ویسے اتنی بڑی تو نہیں ہیں آپکو تو کوئی اچھا بوائے فرینڈ بھی مل جائے گا۔ آپ مجھے کیوں رکھنا چاہتی ہیں۔؟
وہ استہزائیہ کہہ کر خود ہی جیسے خود پر ہنسا۔
کیا مطلب اسکا اس بات سے کیا تعلق؟
وہ الجھئ۔۔
مطلب بنا مطلب تو آپ مجھے نہیں رکھنے والی ہیں نا؟ میں آپکے مطلب کا ہوں کیا؟ آپ مجھے رہائش دیں گی تو مجھے آپکا مطلب پورا کرنا ہوگا ہے نا۔
وہ کھل کر بولا انداز استہزائیہ سا تھا زن سے واعظہ کے دماغ میں جیسے کوئی گولی سی گزری تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ہنگم شور کے باعث بس الٹتے الٹتے بچی تھی۔ عروج نے اس ادھیڑ عمر آدمی کو فوری طبی امداد دی واعظہ کی توجہ بٹ گئ تھی عروج کی مدد کرواتے ایمبولنس کی آمد تک وہ اور عروج ایک دوسرے سے نامانوس زبان میں باتیں کر رہی تھیں وہ بہت غور سے اسے دیکھتا رہا تھا۔ایمبولنس کی آمد پر جب مریض کو اسٹریچر پر ڈال کے لے جا رہے تھے واضح طور پر اس نے اسے سکھ کا سانس لیتے دیکھا تھا۔ اسکے ساتھ آئی لڑکیاں اسے جانے کیا کہہ رہی تھیں ایک اسکے کندھے سے جھول کر کچھ کہہ رہی۔تھی تو دوسری اسکا بازو کھینچ کر کچھ بتا رہی تھی۔ اسکی پیشانی پر بل تک نہیں تھا۔ وہ ہنستے ہنستے سر ہلانے لگی تو سب ایکدم سے ہنستی ہوئی اس سے آلپٹی تھیں۔ وہ بھی ہنس دی تھی۔ اسے ہنستا دیکھ کر اسکے اپنے چہرے پر مسکراہٹ در آئی تھی۔ اور احساس ہوتے ہی مدھم بھی پڑ گئ۔ وہ لڑکی عجیب تھئ اس سے چند سال بڑی ہوگی مگر بات کرنے کا انداز ایسا تھا جیسی اسکی ماں ہی ہو۔ اب تک کی زندگی میں اسے ٹکر جانے والی پہلی انسان جس نے اس کو بچہ سمجھا ۔ سترہ سال کا بچہ؟ عجیب ہی تھی۔
بس روانہ ہونے کو تیار ہوئی سب جھٹ پٹ بس میں سوار ہونے لگے۔ اسے یقین تھا اب وہ اسکے پاس والی نشست پر نہیں آکر بیٹھے گی۔ سو آرام سے اس نشست پر اپنا بیگ رکھا۔ وہ بچہ اور اسکی ماں جس طرح اسے گھور رہے تھے عزہ کیلئے دوبارہ وہاں جا بیٹھنا ممکن نہ تھا ۔
واعظہ تمہاری جگہ میں بیٹھنے لگی ہوں۔
عزہ نے اردو میں ہانک لگائی ۔ اسکے مطابق واعظہ نے اس لڑکے کو شرافت ٹیسٹ میں پاس کر دیا تھا۔ سو اسکے ساتھ بیٹھا جا سکتا تھا لیکن جیسے ہی وہ اس نشست کی۔جانب بڑھی جانے جان بوجھ کر یا اتفاقیہ ہے جن نے اپنا بیگ ساتھ والی نشست پر رکھ دیا وہ بد مزہ ہو کر اسے گھورتی واپس اپنی جگہ چلی آئی۔ واعظہ حسب عادت سب سے آخر میں چڑھی ان سب کو گن کر سیدھا اپنی نشست کی جانب بڑھی ہے جن کا بیگ اٹھا کر اسکی گود میں پٹخا اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں
میں نے سوچا ہے کہ تمہیں رکھ لوں اپنے پاس اپنے مطلب کیلئے۔
وہ سنجیدگی سے کہتی اسکے پاس بیٹھ گئ۔
مجھے۔ اس نے کچھ کہنا چاہا مگر واعظہ نے موقع نہیں دیا
میں نے بہت سوچا دماغ سے۔۔ وہ سانس لینے رکی ہوگی
کب ؟ کس وقت۔ اس نے مزاق اڑانا چاہا۔ مریض کو اسٹریچر پر ڈالتے وقت جو عروج کو سینیٹائزر تھما رہی تھی بیگ سے نکال کر تب ؟ یا سہیلیوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے وقت۔
۔ اور فیصلہ دل سے کیا ہے۔ مجھے تم اچھے لگے ہو دل سے سو میں تمہیں پیشکش کرتی ہوں کہ میرے گھر میں آکر رہو۔ میرے چھوٹے بھائی بن کر۔ وہ کہہ کر مسکرا دی
میں نہیں کوئی بھائ۔
وہ تیزی سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے چونکا۔ یہ کیا۔کہہ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ابھی تارک الدنیا نہیں ہورہا۔ میں خود کو سوچنے کا مزید وقت دینا چاہتا ہوں۔ اسلیئے فی الحال سیول سے جا رہا ہوں۔
اس نے رخ پھیر کر اپنا انداز سادہ رکھ کر وضاحت دی مگر پھر جب واعظہ کا کوئی ردعمل نہ آیا تو چور سی نگاہ اس پر ڈالی۔ وہ بے آواز رو رہی تھی۔
نونا مت روئیں۔ وہ تڑپ سا گیا۔ اس نے بے دردی سے آنسو پونچھے۔
تم ان سب کی وجہ سے جا رہے ہو نا ۔مت جائو ۔ تم ہماری وجہ سے اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع نہ کرو چھے بال۔ ( پلیز)
تم یہاں کسی ہاسٹل میں شفٹ ہو جائو پلیز مت جائو میری غلطی ہے میں تمہیں ہم سب میں لے آئی تم مت گھبرائو کچھ نہیں ہوگا تم بڈھسٹ ہی رہو گے ہے جن۔۔
پلیز اپنے ساتھ ایک اور ظلم مت کرو تم پڑھ لوگے تو زندگی بدل جائے گی تمہاری ہے جن۔
وہ منت بھرے انداز میں اسکو کہہ رہی تھی۔ اسکیلئے بلک رہی تھی۔ اس نے بانہوں میں بھینچ لیا ۔
نونا میرے امتحان ہو چکے ہیں ۔اور آگے کیلئے میں نے تبادلے کی درخواست دی ہے پکا وعدہ میں اپنی تعلیم مکمل کروں گا۔میں گائوں کے اسکول میں اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھوں گا مت روئیں چھے بال۔
تم کیوں جا رہے ہو مت جائو نا۔
اسکے کہنے پر اسکے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ بکھر گئ۔
نونا مجھے خود کو جاننا ہے میں کیا چاہتا ہوں میں اس وقت بہت مخمصے میں ہوں۔ میرا دل و دماغ بہت الجھا ہوا ہے مجھے کچھ وقت اس سب سے دور اپنے آپ کے ساتھ گزارنا ہے ۔شائد میں اپنی زندگی کا بہتر رخ دیکھ سکوں ۔مجھے مت روکیں نونا۔
اسکا انداز التجائیہ ہوا تو اسکی ہچکیاں تھمنے لگیں۔بہت حوصلے سے وہ اس سے الگ ہوئی۔ اپنا بیگ اٹھاتا وہ تیزی سے کمرے سے نکلا کہ کہیں باقیوں سے ٹاکرا نا ہوجائے۔ فی الحال سب کمرے میں ہی بند تھے
عزہ سے تو مل لو۔ اسے تیزی سے بیرونی دروازے کی جانب بڑھتے دیکھ کر واعظہ نے کہنا چاہا۔اسکے قدم سست پڑے مگر وہ نا پلٹا ذرا سا رک کر بولا۔
عزہ نونا کو سوری کہہ دیجئے گا میری جانب سے۔ میں ان سے نگاہ نہیں ملا پائوں گا۔ وہ بہت اچھی ہیں انکو ذرا سا جھوٹ برداشت جب انکو پتہ لگے گا کہ میں ہی سراپا جھوٹ ہوں تووہ سہہ نہیں پائیں گی۔ اپنا خیال رکھیئے گا نونا اللہ حافظ۔
وہ کہہ کر تیزی سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔ واعظہ بس دیکھ کر ہی رہ گئ تھی اسے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپی یہ تھی میری اصلیت یقینا قابل فخر نہیں تھی اگر آپ جانتیں تو کیا تب بھی مجھے اپنا سمجھ پاتیں؟ نہیں نا بس اسی لیئے اپنا ماضی چھپاتا رہا آپ سے آپ مجھ سے
ناراض ہیں نا ؟ مجھ سے خفا ہیں آپکو ہونا بھی چاہیئے میں اسی لیئے معافی مانگ رہا ہوں معاف کر دیں پلیز خود کو۔ خود پر اپنی سادگی پر آپکو غصہ آرہا ہے نا آپی آپکا قصور نہیں یہ دنیا مجھ جیسوں سے بھری پڑی ہے آپ جیسے لوگ کم ہیں خو دکو نا بدلیئے گا۔ ۔ جو ہوا اس میں آپ کی کہیں کوئی غلطی نہ تھی۔ آپی۔بس یہ جان لیں کہ ایک بدکردار بد قماش انسان آپکو دھوکا دے گیا مگر اس بات پر خود کو بدل کر انسانوں پر اعتبار کرنا مت چھوڑ دیجئے گا۔
دراصل انی ہوتا کچھ یوں ہے کہ ہم اپنے آپ میں کچھ پیمانے رکھتے ہیں لوگوں کو ناپنے کے انسانوں کو جانچنے کے پھر اس میں کمی بیشی آ جانے پر ہم اپنے آپکو مورد الزام ٹھہراتے ہیں کہ ہم نے صحیح نہیں جانچا غلط ماپا مگر دراصل غلط وہ پیمانہ ہوتا جو صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کیلئے ہم نے تھام رکھا ہوتا ہے۔ یہ کام انسانوں کے بس کا ہوتا توجنت کا تصور ہی نہ رہتا۔ ہے نا؟ سب سزا دیتے منصف بن کر سب مجرم ٹھہرتے کسی نا کسی کی عدالت میں۔۔
میں آپکی عدالت میں مجرم ہوں اور اپنی عدالت میں بھی سب قصور میرے نکلتے ہیں سو معافی کا طلبگار ہوں۔ ایک جرم آپکا بھی ہے میں اس پر معافی بھیج رہا ہوں مگر آپکو ملے گی تب جب آپ اپنا جرم جان جائیں گی۔
ہے جن ۔۔

خط پڑھ کر طوبی نے گہری سانس لی تھی۔ناشتے کی میز پر دلاور نے خط لا کر اسے دیا تھا ۔ بچے اتوار کی وجہ سے سو رہے تھے اس نے بھی انکو سونے دیا دونوں میاں بیوی ناشتہ کرنے کیلئے اٹھ گئے تھے۔ دلاور اخبار لینے بیرونی دروازے پر گئے تو چوکھٹ سے اندر انہیں زمین پر پڑا ملا ایک سفید لفافہ۔ لفافے پر نام نہیں تھا سو انہوں نے کھول لیا دو پرچے نکلے تھے انہوں نے تجسس میں پڑھ تو لیا مگر پھر سوچ میں پڑے وہیں کھڑے رہ گئے ۔ طوبی ناشتہ میز پر لگا کر آوازیں دینے لگی تب چونکے۔گہری سانس لیکر کچھ سوچا۔ پھر طوبی کو لفافہ لا تھمایا۔ طوبی نے پوچھا بھی کس کا خط ہے مگر انہوں نے یہی کہا کہ خود پڑھ لو ۔ دلاور بہت غور سے اسکا چہرہ دیکھ رہے تھے
یہ۔خط آپکو کہاں سے ملا؟ ۔ لفافے سے نکلنے والا پرچہ احتیاط سے لفافے میں ڈالتے ہوئے اس کا انداز سرسری سا تھا۔
دروازے پر پڑا تھا۔ تم نے معاف کردیا ہے جن کو؟
دلاور نے بے صبری سے پوچھا۔
ظاہر ہے۔ پتھر دل تو نہیں ہوں۔معاف ہی کرنا ہے ابھی تو غصہ کم ہوا ہے میرا ختم نہیں۔ ہاں مگر اب پہلے جیسا سب کچھ تو نہیں ہو سکتا جب تک میرا دل صاف نہ ہو جائے۔ بھئ ایسی بھی کیا بات تھی کہ جھوٹ پر جھوٹ گڑھو۔ اور بھئی میری بھی غلطی نکال دی بلکہ کرائم یعنی جرم نکال دیا میرا ۔ ہاں بھئ سب صحیح میں غلط ہوں جسکو سادہ سمجھ کر جسکا جو دل چاہے سلوک کرے۔۔
وہ بھنا گئ تھی اسکے آخری جملے پر۔اسکے بھنانے پر دلاور ہنس ہی پڑے۔ جوابا وہ اور خفا ہوئی
ہاں اب یہ رہ گیا کہ آپ بھی مزاق اڑائیں میرا۔ شرافت کا زمانہ ہی نہیں بھئ۔ خیر کب آرہی ہیں یہ لوگ واپس آپ نے پتہ کیا تھانے میں؟ کتنے دن بے چاریوں کو انکے اپنے ہی گھر آنے نہیں دیں گے؟
معاملہ تو نمٹ گیا اب تو آسکتی ہیں یہ لوگ واپس گھر میرا خیال ہے عید کی وجہ سے دیر ہوئی ہے انہیں۔
دلاور لقمہ توڑتے ہوئے بتا رہے تھے
ہممم۔ میں نے غصے میں کل دھیان ہی نہیں دیا فاطمہ عروج واعظہ ان کی بھئ تو دعوت تیار کی تھی اتنا کھانا بچا ہے۔ اگر آج آجاتیں تو انکو گھر ہی۔بھجوا دیتی کھانا پکانے سے بچ جاتیں۔
وہ حسب عادت بڑ بڑا بڑ بڑا کر سوچ رہی۔تھی
دلاور ان سے بے نیاز کسی سوچ میں گم تھے۔
میں چائے لیکر آتی ہوں۔ وہ دم پر رکھی چائے نکالنے اٹھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔
جاری ہے

Desi Kimchi Episode 25

قسط 25
دھیرے سے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی اسکے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔ واعظہ ابھی بھی بیڈ پر بازوئوں میں سر چھپائے کرسی پر بیٹھی بے سدھ تھی۔ البتہ نور جاگ چکی تھی ۔ بیڈ کرائون سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی مگر آنکھیں بند ہی کی ہوئی تھیں۔۔ ڈرپ ختم ہونے والی تھی۔ وہ ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھتی ڈرپ دیکھنے لگی تو اس نے چونک کر آنکھیں کھول دیں۔
ڈرپ نکال کر عروج نے اس پر نگاہ کی تو اسے منتظر نظروں سے دیکھتا پایا۔
کیسی طبیعت ہے؟ اس نے سرگوشیانہ انداز میں پوچھا تھا جوابا اس نے بس سر ہلا دیا۔
عید کا آدھا دن جیل اور بقیہ آدھا اس وقت ہاسپٹل میں گزر رہا ہو جسکا، اسکا حال پوچھنا نہیں چاہیئے وہ رو ہی دے گا جوابا۔ اسکی آنکھوں کے کنارے سے موٹے موٹے بے آواز بہتے آنسوئوں کی دھار دیکھتے ہوئے اس نے سوچا۔
اس نے متاسف سا ہو کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔
اس ذرا سے سہارے نے دل اور کاٹ کے رکھ دیا تھا وہ ہچکیاں لیکر رونے لگی۔۔پھر خیال آیا تو ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر واعظہ کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے آواز دبا لی۔
یہ سیہون کھانا لایا تھا گھر سے بریانی ہے پہلے تو مجھے چیک کرانی پڑ گئ باہر مگر خیر ابھی گرم ہے تم نے کھانا ہے تو کھالو بہت سارئ ہے۔
عروج سرگوشی میں کہہ رہی تھی جوابا وہ نفی میں سر ہلاتی رہی بھوک پیاس کچھ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
مجھے کچھ نہیں کھانا پینا۔ اس نے بھی جوابا سسکیاں دباتے سرگوشئ میں جواب دیا۔
تبھی ان دونوں کی سب احتیاط غارت کرتی ہوئی دھاڑ سے دروازہ کھول کر وہ چندی آنکھوں والی جاسوسہ داخل ہوئی۔
آننیانگ ہاسے او۔ ملزمہ کو ہوش آگیا ہو تو کیا ہم اسکی ملاقات گھر والوں سے کروا سکتے ہیں؟ ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔
واعظہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ ان دونوں نے گھور کر اسے دیکھا تھا ۔جوابا وہ سٹپٹا سی گئ۔ صفائی دینے والے انداز میں بولی۔
دراصل ہم حال پوچھنا چاہ رہے تھے ۔ ہم جیل میں کھانے پینے کی ہر سہولت فراہم کر رہے ہیں مگر یہ خود صبح سے شام تک کھانا نہیں کھاتیں نتیجتا آج بے ہوش ہوگئیں ذہنی دبائو اور خوراک کی کمی کے باعث۔ اب انکے گھروالے ایمبیسئ کے رابطہ کرنے پر ملنے آئے ہیں خصوصی اجازت سے۔
اسکی نا سمجھ آنے والی بک بک سن کر ٹپ ٹپ دوبارہ نور نیر بہانے لگی۔
آج آپکا کوئی تہوار بھی ہے شائد۔ ہمیں ایمبیسی کی جانب سے بتایا گیا ہے۔ وہ۔ وہ رکی ۔ پھر اٹک اٹک کر بولی
عادی موبر۔
کیا؟ تینوں اکٹھے بول پڑیں۔ موصوفہ پھر سٹپٹا گئیں۔
عادی مبراک۔
یہ کونسا تہوار ہے ہمارا۔ واعظہ تشویش زدہ ہوئی
مجھے تو نہیں پتہ ورنہ مناتی نا میں ؟ عروج کو تشویش لاحق ہوئی ایسا کونسا تہوار ہے جو انکو خود آج تک پتہ نہ چل سکا۔
کیا کہہ رہی ہے یہ چڑیل۔ عید کے دن بھی مجھے جیل بھیج کر دم لے گئ۔ عروج انکو لکھ دو مجھے کوئی بہت ہی سنگین بیماری ہے یا کہہ دو گرنے سے سر میں شدید چوٹ آئی ہے کم از کم ایک دن تو اسپتال رکھنا ہی پڑے گا ۔۔
بھلے دکھ کا کوئی عالم ہو عید کا دن بے ہوش ہو کر گرنے کے باعث اسپتال میں گزر رہا ہو اسکے پاس نت نئے آئیڈیاز کی کمی نہیں تھی دلگیری سے عروج کا ہاتھ پکڑے کہہ رہی تھی۔
عروج اسے دیکھ کر ہی رہ گئ۔
میں آپکو آپکے تہوار کی مبارکباد دینا چاہ رہی ہوں ۔ اس نے کھسیا کر وضاحت کی ۔
اوہ اچھا۔ عید نام ہے ہمارے تہوار کا ۔ عید مبارک کہتے ہیں ہم آج کے دن ایک دوسرے کو۔
عروج کے دماغ کی گھنٹی بج ہی اٹھی۔
دے دے ۔۔ اس نے زور و شور سے سر ہلایا۔
ایڈ مبرک۔
اف۔ واعظہ نے سر پر ہاتھ ہی مار لیا اس بار۔
ایک اور پیغام ہے آپکی ایمبیسی سے آپکے اہل خانہ تک ہم نے رابطہ کیا ہے۔ وہ آپ سے ملنے آئیں گے۔۔ ابھی تھوڑی دیر میں۔
اسکی بات پر عروج نے چونک کر واعظہ کی شکل دیکھی جس کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑی تھی۔ نور ٹکر ٹکر ان تینوں کو دیکھ رہی تھی۔
وہ لڑکی ان سے بے نیاز اب وہ میسج نکال رہی تھی موبائل میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار یہ عروج اور واعظہ آج گھر نہیں آئیں گی؟
چکر لگاتے موبائل میں گم الف سے وہ جھلا کر پوچھ رہی تھی۔ فاطمہ ٹیرس میں ٹہل ٹہل کر کھانا ہضم کر رہی تھی۔ عزہ اور ہے جن رات ہونے کو آئی تھی بند تھے کمرے میں۔ عشنا کا دور دور تک پتہ نہیں تھا الف البتہ اسکے ساتھ ٹیرس پر موجود تھی۔ ریلنگ سے ٹیک لگائے آرام سے بیٹھی موبائل میں مگن جانے اسے نیا کیا شاک پہنچا تھا۔ بٹر بٹر اسکرین گھو ررہی تھی
صبح سے بھوکے پیاسے دونوں پڑے ہیں عید کے دن۔ اتنا کہا دوپہر کو ابھی رات کو بھی مگر دونوں کا ایک جواب بھوک نہیں۔ بتائو عید کے کتنے منصوبے بنائے تھے یہ کریں گے وہ کریں گے یہاں جائیں گے وہاں جائیںگے۔ سب ختم۔
بھلا بتائو۔
واعظہ آتی دونوں کو کان سے پکڑ کر سیدھا کر دیتی۔ حالانکہ میں بھی ہوں یہاں واعظہ سے کم پرسنیلٹی نہیں میری اور ڈیل ڈول میں بھی برابر ہی ہیں ہم۔
اس نے فرضی ڈولا بنایا۔
مگر میرا کوئی رعب ہی نہیں ہے ۔ واعظہ کونسا انکی امی برابر ہے جو اسکے رعب میں سب آجاتے۔ سمجھ نہیں آتا مجھے۔
دو چکر خاموشی سے لگائے۔۔ پھر شروع ہوئی۔
اور پتہ ہے سیہون اور میری کا بریک اپ کیوں ہوا؟
تیسرے چکر پر تیسرا قصہ شروع کر چکی تھی مگر جواب ندارد
اب تم کیا اتنے غور سے دیکھ رہی ہو۔اس نے آگے بڑھ کر موبائل چھین لیا الف سے۔ ساری گچ پچ چینی کچھ کچھ فیس بک کی چھوٹی بہن جیسی ایپ مگر سب کی سب چینی اشکال۔ چھوٹی چھوٹی آنکھوں والے لوگ اسکی آنکھیں پھیل سی گئیں۔ الف نے سٹپٹا کر موبائل واپس چھینا۔
ویبو؟
فاطمہ کو یقین نا آیا تو تصدیق کرنی چاہی۔
الف نے ہونٹ کاٹ ڈالے۔
ہاں۔ مرا مرا سا انداز
مگر تمہارا کیا کام ویبو پر۔تم اسٹاک کر رہی ہو؟
فاطمہ چیخ ہی تو پڑی۔
ہاں۔ الف نے دانت پیسے۔
مگر کون کسے کیوں؟؟؟۔ یہ چندی آنکھوں والا کون ہے جسے اسٹاک کر رہی ہو وہ بھی ویبو پر جا کر؟؟؟؟؟ اسکی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی تھی دھم سے اسکے پاس ہی آگری وہ بھئ گھٹنوں کے بل۔۔۔۔ اسکے جواب سے قبل ہی ایک عدد چیخ اسکے اپنے منہ سے برآمد ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس وقت ایک چینی ریستوران کے باہر کھڑے تھے
چلو۔ اسے باہر جمے دیکھ کر ژیہانگ نے ٹوکا۔ وہ سرجھٹک کر اسکے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گئ۔ کونے کی سڑک کنارے شیشے کی دیوار کے ساتھ والی جگہ اس نے منتخب کی تھی۔ ژیہانگ نے آگے بڑھ کر اسکیلئے کرسی کھینچی تھی پھر اسکے بیٹھنے کے بعد ہی خود نشست سنبھالی۔ ایک اسکارف پہنے چندی آنکھوں والی ادھیڑ عمر عورت جس نے لانگ اسکرٹ پر ایپرن باندھا ہوا تھا مسکرا کر جھک کر انہیں نی ہائو کہتی مینیو کارڈ تھما گئ۔ اب یقینا دس پندرہ منٹ بعد وہ اگلا حکم لینے آتی۔
یہاں حلال کھانا تو ہوگا نا؟ مینیو کارڈ کھول کر دیکھتے الف نے پوچھا۔ مینیو کارڈ دیکھنا بے کار رہا ۔ سب کچھ چینی اور انگریزی میں تھا مگر کھانے کے جو نام تھے وہ یکسر اجنبی تھے بلکہ ان تصویروں میں کھانے کے اجزاء پہچاننا بھی نا ممکن نظر آتا تھا۔
یہاں سب حلال ہے۔ ژیہانگ مسکرایا۔
مگر کہیں لکھا ہوا تو نہیں ہے حلال۔ اور اس ریستوران کا نام تو انگریزی میں لکھا بھی نہیں ہے جانے کیا کچھ پکتا ہوگا یہاں۔
اس نے اعتراض جڑا۔
ژیہانگ نے مینیو کارڈ میں ایک جگہ انگریزی میں لکھا نام اسے دکھایا جس پر اسکی نظر پڑی ہی نہیں تھی۔
شومائو سانئین ۔ جسکا لفظی مطلب بنتا ہے فوڈ پانڈا ۔ اس
چینئ ریستوران کا مالک مسلمان ہے اور وہ تمام چینی کھانے سو فیصد حلال اجزا سے بناتا ہے حالانکہ یہاں ذیادہ تر غیر مسلم آتے ہیں مگر پھر بھی یہاں کبھی تمہیں حرام گوشت کھانے کو نہیں ملے گا۔ پورک وغیرہ نہیں رکھتے یہ لوگ۔
ژیہانگ نے وضاحت کی مگر الف کی آنکھیں مزید کھل سی گئیں۔ اور تھوڑا سا منہ بھی۔ کیونکہ۔۔۔ کیونکہ ژیہانگ نے یہ ساری وضاحت اردو میں کی تھی۔
رواں لہجہ مکمل صاف جملہ ۔ وہ خاتون اب آرڈر لینے واپس آچکی تھیں۔ژیہانگ اسکے چہرے کو دیکھ کر دھیرے سے مسکرایا پھر ان خاتون کو آرڈر لکھوانے لگا۔ شاشلک، چینی چکن فرائیڈ رائس اور اسپرنگ رولز۔
خاتون جھک کر سلام کرتئ پلٹ گئیں۔
تم اردو بھی جانتے ہو؟؟؟؟؟۔ الف کا کھلا منہ لمحہ بھر ہی بند ہوا پھر جھٹ اگلا سوال داغ دیا۔
انگریزی میں تم اور آپ میں فرق نہیں ہوتا مگر پھر بھی وہ ہمیشہ سوچ کر محتاط انداز میں جس طرح بات کرتی تھی ایک تکلف ایک گریز محسوس کیا جاسکتا تھا لیکن ابھی تو تکلف کی سب دیواریں گرا کر وہ صرف اسکا مکمل تعارف چاہ رہی تھئ۔ الف حیران تھی مگر اسکی حیرانی دوچند ہونے والی تھی اسے یہ نہیں پتہ تھا۔
ژیہانگ اسکے اتائولے پن پر مسکرا کر سیدھا ہو بیٹھا۔ وہ مسکراتا بہت تھا۔ ایک قطار میں سجے برابر سے موتی جیسے دانت سفید رنگت چندی آنکھیں۔وہ مکمل چینی نقوش کا حامل تھا مگر اردو جانتا تھا مسلمان تھا یہ یقینا حیرانی کی بات تھئ۔
میرا اصل نام ذکریہ ہے اور میرا تعلق چین کے مسلمان کثریتی صوبے شن جانگ سے ہے۔ میرے والد وکیل ہیں والدہ ہائوس وائف۔ مجھے بچپن سے آئیڈل بننے کا شوق تھا سو بیجنگ میں جب ایکسو گروپ کے آڈیشنز کا سنا تو گھر سے بھاگ کر میں بیجنگ چلا آیا۔ میں اور لوہن نے اکٹھے ٹریننگ لی تھی۔ ۔ وہ لمحہ بھر کو تھما تو الف چیخ ہی تو پڑی
کیا ایکسو کا لوہن وہ چینی رکن تمہارا دوست ہے؟
ژیہانگ نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔
تم نے ایکسو کیلئے آڈیشن دیا تھا؟ وائو۔ الف پرجوش سی ہوئی
پھر تم سیلیکٹ نہ ہوسکے اور لوہن ہو گیا؟؟۔ وہ اندازہ لگا رہی تھئ۔
نہیں۔ اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔

ہم دونوں ہی ایکسو گروپ کیلئے منتخب ہو گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نہا کر نکلا تھا۔ بال خشک کرتا جب اپنے ڈورم کے بیڈ پر آکر بیٹھا تو اسکا فون بج بج کے پاگل ہو چکا تھا۔ اکیس مسڈ کالز ۔ پندرہ مسیجز۔ سب کے سب اسکی امی کے۔
میرے بچے جانے کیوں بہت دل گھبرایا ہے بہت برا خواب دیکھا ہے میں نے۔ اپنا خیال رکھنا۔۔
مجھے فرصت ملتے ہی فون کرنا۔۔
بیٹا صدقہ دے دینا یاد سے۔
مجھے پتہ ہے تم نماز پابندی سے پڑھتے ہوگے مگر آج تو ضرور پڑھنا اور دعا کرنا اللہ سے کہ وہ تمہیں ہر آفت سے دور رکھے۔
میرے بچے ماں قربان جائے تمہارے خواب پر تمہارے والد ضرور تم سے تعلق توڑ بیٹھیں مگر وہ بھی بہت اداس ہیں یاد کرتے ہیں تمہیں۔ اللہ کامیاب کرے تمہیں مگر کامیابی ملتے ہی سب سے پہلے باپ کو آکر منا لینا میرے بچے باپ ناراض ہو تو انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔۔
اچھا میں صدقہ خود یہاں دے رہی ہوں تم بس آج نماز پڑھ لینا۔ پڑھو گے نا؟
ایک بار بات کرلو ٹھیک تو ہو نا تم۔
سب پیغامات پڑھتے اسکا دل بھر سا آیا۔ ماں بھی کیا چیز ہے دور کہیں بیٹھی ہے مگر دل اولاد میں اٹکا ہے۔
نماز ۔ اس نے سر کھجایا۔ تین مہینے ہونے کو آئے تھے اس نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ وقت ہی نہیں ملتا تھا ساری دوپہر ساری شام بس ںاچنے میں گزرتی نہیں تو آواز کے اتار چڑھائو پر قابو پاتے۔ اسکا گلا بالکل بیٹھ چکا تھا۔ کل ایک کوریا کی کمپنی کے آڈیشن دیئے تھے سوچا تھا آکر نماز پڑھ کر خوب گڑ گڑا کر دعا مانگے گا مگر سارا دن پہلے تیاری پھر آڈیشن میں گزرا دس بجے ڈورم میں واپسی ہو پائی تو بے سدھ سا ہوکر بستر پر گرا اور غافل ہو گیا۔
نماز پڑھ کر دعا مانگوں کہ ایکسو کے آڈیشن میں کامیاب ہو جائوں ؟ اس نے سوچا پھر جھٹ اٹھ کر وضو کر ڈالا۔ واپس ڈورم میں آکر قبلہ رخ چادر بچھا کر کھڑا ہوگیا۔
آج اس نے معمول سے ذیادہ خشوع و خضوع سے نماز پڑھی مانگنا جو تھا خدا سے اور اسکا تو وعدہ ہے جو دل سے مانگو گے دوں گا۔
دونوں ہاتھ پھیلا کر اس نے دعا مانگی
یا اللہ مجھے ایکسو کے آڈیشن میں کامیاب کردے بس اسکے بعد میں کچھ نہیں مانگوں گااپنے لیئے۔ اور ہاں ۔ میرے والدین کو اپنی امان میں رکھنا میں ان سے بہت دور ہو جائوں گا۔
ذکریہ زکریہ تم اور میں آڈیشن میں کامیاب ہو گئے۔
لوہن بھاگتا ہوا آیا تھا اور آتے ہی دروازہ کھول کر چلایا تھا۔ اسکی رنگت تمتا رہی تھی خوشی سے سانسیں پھول چلی تھیں۔ وہ بھاگتا اسکے پاس آیا مگر اسے عبادت میں مصروف دیکھ کر ٹھٹک کر رک گیا۔
دعا مانگتے ذکریہ کی سانس رک سی گئ ۔۔ اور دعا مانگتے لب بھی۔ اب حالانکہ اسکی دعا کے جملے کچھ اور تھے۔ وہ اپنی دادی کی سکھائی دعا کے الفاظ دہرا رہا تھا
یا اللہ مجھے کبھی غافلوں میں سے نہ کرنا مجھے ہدایت کےراستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما میرے مالک۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم دونوں کو اکٹھے ڈیبیو کرنا تھا۔ اب کچھ طے ہوچکا تھا ایک ہفتے بعد ہم نے کوریا کیلئے نکل جانا تھا۔
اس رات جب ایکسو کیلئے معاہدہ کرنے لگے تو ایک بات پر میں چونک اٹھا تھا۔ یوں تو پورا معاہدہ ہی مجھے ایک غلامی کا پروانہ لگا تھا مگر جب میں نے وہ شق پڑھی جس میں معاہدہ ختم ہونے تک مجھے جو بھی کھانا پینا تھا اس کا فیصلہ بھی کمپنی کرتی مجھے کھٹکا گیا۔میں حرام نہیں کھاتا تھا اور میں مسلمان تھا سینکڑوں لوگوں کو ہرا کر اس مقام پر پہنچا تھا ایک میرے لیئے وہ شق بدلنا یقینا کمپنی کو گوارا نہ تھا مگر یہ کونسا بڑی بات تھی۔ میرے منہ میں کچھ زبردستی ڈالا تو نہیں جا سکتا تھا۔
وہ جملے کے آخر میں الف کے انہماک پر تھوڑا سا رکا۔
پھر کیا ہوا۔؟ وہ بے صبری سے بول اٹھی
دوسری شق تھی دن کے کچھ گھنٹے مجھے صرف ناچنا اور گانا سیکھنا تھا۔ میں کوئی بہت مزہبی انسان کبھی نہیں رہا تھا۔نمازیں بھی چھٹ جاتی تھیں مگر نماز کیلئے ایسے کبھی معمول نہ بنانے والا اگلے کئی سال کیلئے اپنا معمول بنانے کے سارے اختیارات کمپنی کو سونپنے والا تھا۔ عجیب بات ہے نا؟ مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں تھا۔ میں نے بس لمحہ بھر سوچا تھا اور دستخط کرنے کیلئے قلم اٹھا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آگئے ۔ میں انکو لیکر آتی ہوں۔ وہ پیغام پڑھ کر انہیں بتاتی باہر نکل گئ۔
کیا کہہ رہی تھی یہ۔ نور کی جیسے چھٹی حس بیدار ہوئی تھی
واعظہ سائیڈ ٹیبل سے ٹھنڈا ہوتا کھانا اٹھا کر کمرے کے کونے میں لگے بنچ پر جا بیٹھی۔ عروج اسکی بے نیازی پر شاباش دے کر رہ گئ۔
بولو نا عروج کیا کہہ کر گئ ہے یہ؟
نور عروج کا بازو ہلا رہی تھی۔ عروج نے ٹھنڈی سانس بھر کر واعظہ کو دیکھا جو
عروج نے ترجمہ کیا تو نور بپھر کر واعظہ کی جانب مڑی
تم سے میں نے کیا کہا تھا کہ میرے گھر والوں کو خبر نا ہو تم نے انکو باقائدہ رابطہ کرکے بلا لیا؟
کیوں کیوں دھوکا دیا تم نے مجھے واعظہ۔ وہ حلق کے بل چلا اٹھئ تھئ۔
نور کیا ہو گیا ہے ۔ ہم اور کیا کرتے تمہارے گھر والوں سے یہ بات کیسے چھپا سکتے تھے؟ واعظہ نا بھی بتاتی تو ایمبیسی سے یہ لوگ خود رابطہ کر چکے تھے۔
عروج نے بپھری ہوئی نور کو کندھے سے پکڑ کر سنبھالنا چاہا۔ واعظہ کو شدید بھوک لگ رہی تھی ٹھنڈی بریانی بھی خوب خشوع و خضوع سے کھا رہی تھی۔
میں یہاں نہیں رہ سکتی میں جا رہی ہوں مجھے نہیں جانا مین کیسے امی کو منہ دکھائوں گی ابو تو جان سےمار دیں گے میں انکا سامنا نہیں کر سکتی۔۔وہ دیوانوں کی طرح مچل کر عروج کی بانہوں سے نکلی ۔۔
نور ہوش کرو بات تو سنو۔ عروج اسکی جانب لپکی مگر
وہ بری طرح بپھر کر دروازے کی جانب بھاگ اٹھی ۔۔ عروج نے اسے اب روکنے کی کوشش نہ کی۔۔ باہر پولیس کا پہرہ تھا وہ بھاگ کے جا بھی کہاں سکتی تھی۔۔ نور نے دروازہ کھولا تو سامنے موجود شخصیت کو دیکھ کر اسکے جسم سے جیسے جان ہی نکلتی چلی گئ۔
اسکے ابو سامنے کھڑے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبھئ سیہون اتنی آسانئ سے آگیا تھا تم لوگوں کے اس دو ٹکے کے شو میں۔دوست جو تھا ژیہانگ کا۔۔ فاطمہ گھٹنا سہلاتے سر ہلا تے سب سمجھ گئ تھئ۔ الف نے بری طرح تپ کر چپت لگا دی اسکے سر پر۔
خبردار جو ہمارے شو کی شان میں گستاخی کی۔ الف کا انداز دھمکانے والا تھا۔
اف اتنے ننھے وجود میں اتنی جان کہاں سے لاتی ہو ۔ فاطمہ بلبلا کر جوابئ حملہ کرتے ہوئے لات ہوا میں ہی روک کر کہنے لگی۔ ایک تو یہ بندہ کبھی تائیکوانڈو کی ٹریننگ نہ لے کم از کم۔ ہاتھ کی بجائے ٹانگ پہلے اٹھتئ تھئ۔
تم لاتیں کیوں مارنے پر تل جاتی ہو ۔۔ اسکی ٹانگ کو گھورتے وہ حفظ ماتقدم کے طور پر اسکی رسائی سے دور ہو کر چڑ کربولی تھی۔
یہ تکنیکی خرابی پیدا ہوچکی ہے مجھ میں ۔۔ وہ ڈھٹائی سے کہتی ریلنگ کا سہارا لیتے ہوئے اٹھنے لگی۔ کپڑے جھاڑ جھاڑ کر بغور الف کی شکل دیکھی۔ اسکے چہرے پر خطرناک سی سنجیدگی تھئ۔
ویسے اس قصے میں مجھے ژیہانگ کو ویبو پر جا کر اسٹاکنے کی تک سمجھ نہیں آئی۔
یار بہت دکھی کہانی ہے ذکریہ کی ۔ مجھے سچ مچ بہت افسوس ہوا سن کے۔
الف قصہ پورا سنانا چاہ رہی تھی ۔
ہاں ایکسو بینڈ کا حصہ نا بن سکا بے چارہ دنیا کا بدقسمت ترین انسان ہوگا وہ تو۔۔ فاطمہ کا انداز سراسر مزاق اڑانے والا تھا۔
بی ٹئ ایس ہوتا تو بات بھئ تھئ۔
اس نے کہتے ہی زبان دانتوں تلے دبا لی۔ اتنی مشکل سے عید کے چکر میں بنا کوئی مزید ڈرامہ لگائے دونوں نے پچھلی ساری باتیں بھلا کر بات چیت شروع کر لی تھی اب دوبارہ وہ نادانستگی میں سہی اسے چھیڑ بیٹھی تھی۔
فاطمہ میں نے تم سے ایکسو کے پیچھے لڑتے ہوئے اگر کوئی ایسی بات کی ہو جو تمہیں دل پر لگی ہو تو مجھے معاف کردینا۔ مجھے جانے کیا ہوا تھا اس دن ۔ مجھے فین وار بالکل پسند نہیں رہی کبھی بھی اب تو بالکل بھی نہیں کم از کم کے پاپ بینڈ کے پیچھے میں نہیں۔ لڑنا چاہتی ہوں۔
الف اسکے انداز کے بالکل برعکس سابقہ انداز میں مخاطب تھی
آہ۔ وہ سٹپٹائی۔ میں بھی اوور ری ایکٹ کر گئ تھی۔ ۔ بی ٹی ایس ٹھیک ہے بہت پسند مجھے مگر اسکا یہ مطلب تھوڑی انکے پیچھے لڑتی پھروں۔ میری بھی غلطی تھی۔
چھوڑو بس ختم کرو بات۔
وہ دانستہ رخ پھیر گئ۔
سورج کل نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا کیا۔ سر کھجاتے وہ سوچ کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر بات کہیں ختم ہوئی پیچھے رہ گئ۔ باپ کی شکل دیکھتے ہی بت بن جانے والی لڑکی کو باپ نے آگے بڑھ کر گلے سے لگا لیا تھا۔ بیٹی کی شکل غماز تھی اس پر کیا کچھ بیت چلا ہے۔ باپ کے سینے سے لگتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھئ۔
ایمبیسی سے آئے دو مزید افراد ایک وکیل اور وہ پولیس افسر سب کمرے میں داخل ہوئے تو وہ اور عروج دونوں کمرے سے نکل آئی تھیں۔۔۔
مت روئو بیٹا میں آگیا ہوں نا سب سنبھال لوں گا۔
اسکے والد کے جملے دروازہ بند کرتے ہوئے انکے کانوں میں پڑے تھے۔
دونوں کیفے کی جانب بڑھ گئیں۔ کیفے میں اس وقت ذیادہ رش نہیں تھا۔ سو وہ آرام سے کونے والی میز کرسی کی جانب بڑھ گئیں۔
کافی پیئو گئ یا کولڈ ڈرنک؟ عروج نے میزبانی نبھائی۔
کافی۔ واعظہ جمائی لیتے ہوئے میز پر سر رکھ کر آرام سے بیٹھ گئ۔
کافی بنا کر عروج اسکے اور اپنے لیئے سینڈوچزلے آئی تھی۔
بریانی ہی اٹھا لاتے ہم حماقت ہوگئ ایک اور ہم سے۔ واعظہ نے سینڈوچ فورا اٹھایا تھا۔ عروج ادھر ادھر دیکھ کر اطمینان کرتے ہوئے چہرے سے ماسک اتارنے لگی۔ واعظہ نے کافی کا بھی جھٹ گھونٹ بھرا تھا۔ انداز میں اتنی بے صبری تھی کہ اسے ہنسی ہی آگئ۔
کھا تو ایسے ہبڑ تبڑ رہئ تھیں کہ مجھے لگا تھا کہوگی کہ میں نے کھا لیاتھا تم ہی کھائو سینڈوچز۔ عروج نے جتایا تو وہ ڈھیٹ سی بن گئ۔
ہاں تو ہبڑ تبڑ دو چار لقمے ہی لیئے تھے صبح کا ناشتہ کیا ہوا ہے اب جاکے کھانا نصیب ہوا تھا۔ ویسے بریانی تو نہیں کھا رہے ہونگے وہ لوگ اٹھا لائوں۔؟
واعظہ خیال آتے ہی جزباتی ہو کر اٹھنے کو تھی کہ عروج نے ہاتھ پکڑ کر روکا
بیٹھو آرام سے۔ پہلے کتنے فارم بھروا کر تلاشی لیکر تمہیں اندر جانے دیا تھا اب تھوڑی جانے دیں گے۔ ملزمہ ہے وہ ۔ صحافی بو سونگھتے پھر رہے وہ لوگ جتنے محتاط رہیں کم ہوگا۔
عروج کی بات عقل میں گھسی۔ منہ بنا کر سینڈوچ نگلنے لگی۔
عید کے دن سینڈوچ کون کھاتا ہے۔ اس کا دکھ عروج پر تھا۔
عید کے دن انسان ویسے اپنے گھر بھی جاتا ہے تم کیوں نہیں گئیں؟
عروج نے یونہی پوچھا تھا ۔۔وہ اداس سی ہوگئ تھی
سب پاکستان گئے ہوئے ہیں۔بھائی بھابی بچے سب۔
تم بھی چلی جاتیں۔ عروج حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔
کیسے چلی جاتی ؟ جس دن عزہ اغوا ہوتے بچی اس دن رات کی فلائٹ تھی میری۔ وہ مس ہوئی پھر پے در پے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ جا نہیں سکی۔ اب تو مما بھی بات نہیں کر رہیں فون نہیں اٹھا رہیں میرا۔ سب ناراض ہیں مجھ سے۔
واعظہ اداس سے انداز سے کہہ رہی تھی
تم پاکستان کیوں نہیں چلی جاتیں؟ یہاں کونسا بہت کامیاب کیریر ہے تمہارا ایم بی اے تک چھوڑ بیٹھی ہو پاکستان جائو اور۔۔
ہر پاکستانئ کی طرح اگلا اسکا جملہ وہی پسندیدہ ترین والا تھا جس کی توقع میں واعظہ نے دانت کچکچا کر گھورنا شروع ہی کیا تھا کہ پھولی سانسوں کے ساتھ وہی پولیس والی بھاگتی انکے پاس آئی ۔ دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر جھک کر سانسیں بحال کرتے ہوئے وہ ہنگل میں بولی
شکر ہے آپ دونوں مل گئیں پورے اسپتال میں آپ دونوں کو ڈھونڈتئ ہوئی یہاں آئی ہوں۔
کیوں کیا ہوا خیریت۔۔
دونوں گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
آندے آندے۔
اس نے دونوں ہاتھ ہلا۔ہلا کر انہیں کہنا چاہا۔۔۔
کیا ہوا نور خیریت سے تو ہے؟
نور ٹھیک ہے؟
دونوں اکٹھے ہنگل میں چیخی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتام ۔۔۔۔۔
جاری ہے۔

Desi Kimchi Episode 24

قسط 24

کسی نامانوس سے احساس کےتحت اسکی آنکھ کھلی۔ نیم تاریکی میں اس نے آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا تو کمرہ یکسر اجنبی لگا۔ چھوٹا سا کمرہ جس میں اسکے بیڈ کے بالکل برابر کھڑکی پر بھاری پردے تنے تھے۔ ہلکی سی دراڑ سے روشنی کسی بلب کی ہی تھی مدھم سی یعنی شام ہو رہی تھی یا رات ہوگئ تھئ۔ اسے اندازہ نہ ہوا۔۔ اس پر ۔گھبراہٹ کا غلبہ طاری ہوا۔اس نے کہنی پر وزن دیتے فورا اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو کنولا کی سوئی ہاتھ پر زور دینے سے چبھی ۔وہ تڑپ کر واپس تکیئے پر گر سی گئ۔ جسم کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ اس نے ہاتھ سے بستر ٹٹولنا چاہا تو کوئی نرم سی چیز ہاتھ میں آئی۔ اس نے جیسے ہی تھاما احساس ہوا وہ بھی کوئی ہاتھ ہی تھا۔
اس نے گردن گھما کر دیکھا تو کوئی لڑکی اسٹول بیڈ سے جوڑ کر اس پر بیٹھی اسکے بیڈ پر بازو کا تکیئہ بنائے اس میں منہ چھپائے ٹکی شائد سو رہی تھی۔
اس نے زرا سا گردن اٹھا کر پہچاننا چاہا شولڈر کٹ بکھرے بال ۔
اس نے گہری سانس لی۔
وہ واعظہ تھی۔اس نے اپنے اردگرد ماحول پر نگاہ کی تو اندازہ ہوا کہ اسپتال کے کمرے میں ہے۔ مگر یہاں کیسے؟ اس نے ذہن پر زور ڈالنا چاہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ یونہی سڑکوں پر پھرتی پھری تھی۔ سڑک پر چہل پہل تھی۔ لوگوں کو آتے جاتے دیکھتی وہ اداس سی ہوتی گئ۔
ان سب کیلئے معمول کے دن کا اختتام ہوا تھا اور اسکا تو عید کا دن تھا۔ پہلی عید جس میں وہ خالی ہاتھ خالی جیب راستہ ناپ رہی تھی۔ اسکے پاس اتنے پیسے بھی نہیں بچے تھے کہ وہ بس سے سفر کر لیتی۔تھکے تھکے قدم جب اٹھنے سے انکاری ہوئے تو وہ بس اسٹاپ پرلگے بنچ پر آبیٹھی
کیا پایا تھا اس نے فین میٹنگ سے۔ مہینوں کی جمع پونجی اور منٹوں کی ملاقات۔ وہ سیلیبریٹی جو اسکرین پر دیکھتے ہوئے کردار ادا کرتے آس پاس کہیں محسوس ہوتا تھا آج جب سامنے بیٹھا تھا تو لگتا تھا میلوں کے فاصلے ہیں درمیان۔اوروہ وقت حسب خواہش تھما ہی نہیں۔اس نے موبائل نکال کر لاک اسکرین پر نظر جما دی۔
اسکی جانب تحفہ بڑھاتے ہوئے لی منہو کی نگاہ اسکی ہتھیلی پر بنے نقش و نگار پر پڑی۔
اس نے بڑی دلچسپی سے اس سے پوچھا
یہ کیا ہے کیسے بنایا؟
اس نے جوابا اپنی ہتھیلی اسکے سامنے کر دی تھی۔ اور اسے اتنا پسند آیا کہ اپنے مینجر کو کہہ کر تصویر بنوائی مسکراتا ہوا لی من ہو اور اسکی پشت پر دونوں ہتھیلیاں دکھاتی مسکراتی عشنا۔
تصویر بنوا کر اس نے شکریہ بھی ادا کیا۔ جوابا عشنا نے اپنا موبائل بھی بڑھا دیا۔۔
اسکے ہاتھ میں لی من ہو کے ہاتھ کی کھنچی سیلفی تھی جس میں وہ خود بھی تھئ۔۔
لی من ہو ملٹری جا رہا ہے۔ اگلے دو سال اسکے ملٹری میں گزرنے اس بات پر وہ پاکستانی لڑکی بیٹھئ اداس ہو رہی تھی۔ اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔
بے چاری کا لگتا ہے بریک اپ ہوا ہے۔
پاس کھڑی اب ہائی اسکولر لڑکیوں نے تاسف سے اسے موبائل ہاتھ میں لیئے بے آواز روتے دیکھا۔
انی۔ دل چھوٹا نہ کرو تمہیں اس سے بہتر مل جائے گا فائٹنگ
وہ لڑکی اسکی جانب ٹشو بڑھاتئ بڑے خلوص سے کہہ رہی تھی۔ اس نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا ۔ موبائل لاک اسکرین مدھم ہو کر بند ہو چکی تھئ
اس نے شکریہ کہہ کر آنکھیں رگڑ لی تھیں۔
کون جانے اس وقت آنکھیں پونچھنے سے ذیادہ ضروری اسکا گھر پہنچنا تھا جسکے لیئے ٹشو نہیں سکے درکار تھے۔
اب وہ جانے خوش قسمت تھی کہ آنسو پونچھنے والیاں مل گئیں یا بد قسمت کہ گھر پہنچنے کا کوئی سبب نا بن سکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں بالکل خاموش لوٹ کے بدھو گھر کو آئے کے مصداق فلیٹ میں واپس آئے۔ جوتے راہداری میں اتارنے کی دونوں کو عادت نہیں تھی سو سیدھا کچن میں لینڈ کیا۔
ہے جن البتہ تسمے کھولنے میں لگا تھا
میں کہہ رہی تھئ کہ یہ جھوٹ نبھے گا نہیں۔طوبی آپی کو روتے دیکھ کر اتنا برا لگا مجھے ہم نے بلاوجہ انکو دھوکا دیا۔ سب اس ہے جن کے بچے کی وجہ سے ہوا ہے کیا ضرورت تھئ اسے اتنی لمبی کہانیاں ڈالنے کی۔ عزہ کا پارہ ہائی ہوا وا تھا۔ٹہل ٹہل کر بولے جا رہی تھئ
یہ اچھا ہے جو چندی آنکھوں والا ملتا اسے میرا بھائی بنا دیا جاتا ۔ پہلے سیہون اب یہ ہے جن۔ٹھیک ٹھاک بستی ہے جن نے کروادی ہے اب اگلی باری سیہون کی ہوگی۔ جس دن اسے پتہ لگے گا کہ وہ میرا زبردستی منہ بولا بھائی بنا ہوا ہے تو جانے وہ کتنا بولے گا
فاطمہ فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالنے لگی۔ گلاس میں بھر کر منہ تک لے جانے ہی لگی تھی
فاطمہ پانی پینے لگی ہو۔اس کی نظر پڑی تو چیخ مارتی اسکے ہاتھ سے گلاس چھین لیا۔ پانی اچھل کر اسکے کپڑوں پر آرہا۔ اس نے خشمگیں نظروں سے گھورا
تم سیہون کئ بہن ہو یا نہیں کام نندوں والا کیا ہے۔ کیا تکلیف ہے اگرمیں پانی پی لوں تو۔ وہ کپڑے جھاڑنے لگی
عزہ کھسیا سئ گئ۔ وہ مجھے لگا روزہ ہے۔ اب اتنے دنوں سے اس وقت کوئی پانی پیتا نہیں تو۔عادت وہی پڑی وی۔
اس نے وضاحت دیتے گلاس اپنے منہ سے لگا لیا۔
ہے جن آئو کھانا کھا لو۔ عروج نے بریانی بنائی ہے۔
فاطمہ نے ہے جن کو سر جھکائے کمرے کی جانب بڑھتے دیکھ کر آواز دی
مجھے بھوک نہیں۔ اس نے دھیرے سے کہہ کر بڑھ جانا چاہا
اتنی سی بستی سے پیٹ بھرگیاکیا؟۔
عزہ طنزیہ انداز میں بولی۔
مطلب۔ وہ واقعی نہیں سمجھا بات
چھوڑو بھئ عزہ۔ فاطمہ نے ٹوکنا چاہا تو وہ گلاس کائونٹر پر پٹخ کر آستین چڑھا کر بولی۔
تمہاری وجہ سے طوبی آپی بلک بلک کر روئیں اتنا برا مجھے زندگی میں کبھی کسی کا رونا نہیں لگا جتنا طوبی آپی کا لگا عین عید کے دن وہ تمہاری وجہ سے روئیں۔۔تمہارے بے سروپا جھوٹ کی وجہ سے انکا دل ٹوٹ گیا۔کوئی شرم آئی تمہیں؟
عزی بس کرو ۔ فاطمہ نے اسکو کندھے سے تھام کر روکا
میں مانتا ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ میں خود جائوں گا ان سے معافی مانگنے
ہے جن کا چہرہ ست سا گیا تھا۔ سنبھل کر سوچ سوچ کر وہ بولا
اچھا۔ عزہ استہزائیہ ہنسی پھر چٹخے ہوئے انداز میں بولی۔
غلطی کا احساس ہے تمہیں؟ کس غلطی کا طوبی آپی سے یہ جھوٹ کہنے کا کہ میں تمہاری بہن ہوں یا انکو بے وقوف بنا کر انکے گھر مسلمان ہونے کا ناٹک کرنے کا؟ جھوٹی نماز پڑھتے جھوٹے روزے رکھتے شرم نہیں آئی تمہیں کس فخر سے مانا تم نے طوبی آپی کے سامنے کہ تم دل سے ابھی بھی بدھ متی ہو اور وہ نماز روزے سب دکھاوا تھا تمہارا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی وہ یہ سب ڈرامہ کر رہا ہے۔
وہ نماز روزہ سب ڈرامہ تھا دلاور۔ وہ کبھی بھی مسلمان نہیں تھا نہ پیدا ہوتے وقت نہ بعد میں کبھی اس نےسوچا۔ میں ایک کافر کو بھائی بنا کر اسکی خدمت کرتی رہی اسے کھانے پکا پکا کر کھلاتی رہی قرآن تھمادیا اسے ہاتھ میں ۔مجھے کتنا گناہگار کر دیا ہے اس نے۔
طوبی رو ئے جا رہی تھی۔بچے سہم کر بابا کے پاس بھاگے آئے تھے وہ خود بمشکل اٹھ کر لائونج میں چلے آئے۔ طوبی گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی تھی۔ انہوں نے دھیرے سے آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ گلوگیر لہجے میں سر اٹھا کر بولی۔ اسکی آنکھیں موٹے موٹے آنسوئوں سے بھری تھیں
بیٹا بہن بھائیوں کو لیکر کمرے میں جا کر کھیلو۔۔ بلکہ فریج سے آئیسکریم نکال کر اندر جا کر بیٹھ کر کھائو۔
دلاور نے بڑی بیٹی کو کہا تو وہ سر ہلاتی دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کو ہنکا کر لے گئ
تم رو کس بات پر رہی ہو ؟ مانا اس نے جھوٹ بولامگر یہ بھی تو دیکھو کیوں۔۔ محبت کرنے لگا ہے وہ تم سے۔ کسی سگے بھائی کی طرح خیال رکھتا رہا ہے تمہارا۔۔ تمہاری خاطر اس نے جو تم نے کہا وہ سب کیا نماز تک پڑھنے کی کوشش کئ صرف تمہیں خوش کرنے کو۔
وہ اسے سمجھا رہے تھے
نماز روزہ انسانوں کو خوش کرنے کیلئے نہیں کیا جاتا دلاور۔
وہ بپھر کر بولی
تو پھر انسان ہو کر کسی کے نماز روزے کی فکر کیوں کی تم نے ؟
دلاور کا سوال کڑا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزہ بہت سخت الفاظ ہیں تمہارے۔
فاطمہ نے اسے ٹوکنا چاہا۔۔ مگر عزہ سن نہیں رہی تھی چبا چبا کر بولی
ہم سب تک یہ سمجھتے رہے کہ تمہارا دل بدل گیا یے اور تم مسلمان ہونے لگےہویہاں ہمارے سامنے یہ ڈرامہ کرتے رہے کہ تم روزے سے ہو اور باہر سور وغیرہ کھاتے رہے ہوگے۔
اس دن تو مجھے بھی کھلا دیا۔تم نے ہمارا ہمارے مذہب کا مزاق اڑایا ہے جھوٹ دکھاوا کرکے۔تمہارے روزے سب جھوٹے تھے تمہاری نمازیں
نونا بس کریں۔
ہے جن جیسے تڑپ کر چیخا۔مٹھی بھینچ کر وہ اسکے سامنے آکھڑا ہوا
میں مسلمان ہوا یا نہیں مگر میں نے روزہ ہمیشہ پورا رکھا ۔ اسکا ہر رکن پورا کیا۔ اسکول میں بے ہوش ہوکے گرا ہوں مگر کچھ کھایا پیا نہیں۔ جس دن آپ نے سور چکھ لیا تھا اس دن سے آج تک میں نے سور کو ہاتھ نہیں لگایا جبکہ یہ میرا پسندیدہ کھانا ہے۔
ہے جن ہم جانتے ہیں تمہیں دل پر مت لو اور۔
فاطمہ اب ہے جن کو ٹھنڈا کرنا چاپ رہی تھی مگر وہ بھی اسکی ایک نہیں سن رہا تھا
کس نے کہا تھا یہ سب کرنے کو تمہیں بولو؟ عزہ اسکے انداز کو خاطر میں نہ لائی مزید تیز ہوکر بولی
خود تم نے اپنے ساتھ کیا جو بھی کیا۔ نہ جھوٹ بولتے نا نبھاتے نا ہی تمہیں یہ سب کرنا پڑتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ہمدردی ہو گئ تھئ اس سے۔ مجھے سچ مچ وہ اپنا چھوٹا بھائی لگنے لگا تھا۔
طوبی جیسے تھک کر بولی۔
اور اب اچانک وہ برا لگنے لگا؟ اسکا مذہب اسکا قطعی ذاتی معاملہ تھا طوبی تمہیں کوئی ضرورت نہیں تھی اسکو زبردستی اسلام سکھانے کی جانتی ہو وہ تمہارے سامنے اعتراف کرنے سے پہلے جانتی ہو مجھ سے کیا پوچھ رہا تھا؟ دلاور نے گہری سانس لیکر اپنی احمق مگر بے حد پیار کرنے والی بیوی کی آنکھوں میں جھانکا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں دل سے رکھ رہا تھا کہ نہیں یہ میرا اور خدا کا معاملہ ہے تم میں سے کسی کو میرے نماز روزے سے گناہ نہیں ملا اتنا جان گیا ہوں۔ ہر کوئی اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوتا ہے اللہ صرف تمہیں تمہارے گناہ ثواب پر جواب طلبی کرے گا کسی کوریائی ہائی اسکولر ہے جن کے اعمال پر نہیں سمجھیں عزہ نونا۔۔
وہ جیسے ضبط چھوڑ بیٹھا ۔ اسکے الفاظ اسکی اندرونی کیفیت کو آشکار کر رہے تھے وہ اتنا ہی بے چین اور مضطرب تھا جتنا دکھائی دے رہا تھا۔ آنکھیں ضبط سے سرخ ہو گئ تھیں۔ عزہ بھی اسکا چہرہ دیکھتے لمحہ بھر کو چپ سی پوئی پھر اپنی جون میں واپس آتے ہوئے جواب دینے کو منہ کھولا
مگر تم۔۔۔۔۔۔۔
کہ فاطمہ دھاڑی
بس کرو دوبارہ یہ مسلئہ یہاں شروع کرنے کی ضرورت نہیں تم دونوں کو۔ جو بھی ہوا اس میں ہم سب کی غلطی تھی کسی کی تھوڑی سہی مگر بہر حال اس معاملے کو کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھو۔ عید کے دن ایسے فضیحتے مت کرو ایک دوسرے کے۔
دونوں اسکے یوں چلانے پر ایکدم خاموش ہو رہے۔
چند لمحے مکمل خاموشی رہی۔۔
چلو کھانا کھائو ۔بہت بھوک لگ چکی ہے اب مجھے۔
جتنی زور سے چلائی تھی اب اتنے ہی دھیمے انداز میں کہہ رہی تھئ
مجھے بھوک نہیں۔دونوں نے اپنی اپنی زبان میں اکٹھے کہا تھا
اب یہ فالتو بھوک ہڑتال کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس نے انگریزی میں سمجھانا چاہا تو دونوں سر جھٹک کر اپنے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے
لگتا یے انگریزی سمجھ نہیں آئی انہیں میری۔۔
وہ کندھے اچکا کر بڑ بڑائی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھکا ہارا جب گھر پہنچا تو گھر خالی تھا۔ وہ سیدھا کچن میں چلا آیا بھوک کے مارے دم نکل رہا تھا۔ ڈھیر سارا کھانا بنا ہوا تھا خوشبو پورے اپارٹمنٹ میں پھیلی تھی۔۔ اس نے ڈھکن ہٹا کر دیگچی میں جھانکا۔بریانی ۔۔ ساتھ ایک پیالے میں کسٹرڈ۔
بریانئ۔ اسکا منہ بن گیا۔ جانے یہ لڑکیاں اس مرچیلی مرغی اورچاول کے ملغوبے کو اتنا شوق سے کیوں کھاتی تھیں۔ اور آج کھایا کیوں نہیں تھا۔ ایک ہفتے میں تیسری باروہ یہ کھانے جا رہا تھا۔ پلیٹ بھر کر ایک چھوٹی پیالی میں کسٹرڈ نکال کر وہ وہیں کائونٹر کا اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ چاپ اسٹکس سے نوالہ بنانا چاہا تو کھلے کھلے چاولوں کے دانے بکھرتے چلے گئے
وہ گہری سانس بھر کر اٹھنے کو تھا کہ اسکے سامنے ایک چمچ لہرایا۔ اس نے چونک کر دیکھا تو فاطمہ اسے چمچ تھما رہی تھئ۔
کھمسا۔۔ شکریہ۔ وہ روانی میں ہنگل بولتے ہوئے ٹھٹک کر انگریزی میں بولا۔
ہے جن کھانا نہیں کھا رہا ۔۔
اس نے جیسے اطلاع دی۔
تو ؟ سیہون کو سمجھ نہ آیا کہ اس میں پریشانی والی کیا بات
عزہ نے بھی نہیں کھایا۔ اس نے ایک اور اطلاع دی۔
تم نے کھایا؟ سیہون نے الٹا سوال کر ڈالا
نہیں ۔ وہ اسکے سامنے والا اسٹول کھینچ کر بیٹھ گئ
وہ گہری سانس لیکر اٹھا دیگچی سے بریانی کی نئی پلیٹ بنائی لا کر سامنے رکھی اسکے۔
مجھے یہ والی بوٹی پسند نہیں۔
فاطمہ نے منہ پھلایا۔ وہ دیکھ کر رہ گیا۔ پھر اپنی پلیٹ سے ٹانگ اٹھا کر اسکی پلیٹ میں رکھی اور وہ بڑی سی ریشے والی بوٹی اٹھا کر اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔
اتنی مزے کی بریانی بنائی تھی میں نے۔
کوئی کھانے کو تیار ہی نہیں۔ وہ خود بریانی سے ٹھیک ٹھاک انصاف کر رہی تھی۔چمچ ایک جانب پڑا تھا پلیٹ کے۔وہ بھی سر جھٹک کر کھانے لگ گیا۔
واعظہ ہوتی تو دونوں کو سیٹ کر دیتی۔ میری تو سنی ہی نہیں دونوں نے۔ آج کل کے بچے۔ بلکہ نہیں بچے کہنا تو مناسب نہیں۔اتنے بھی چھوٹے نہیں مجھ سے۔
وہ سوچ میں پڑی پھر مڑ کر بند دروازوں کو گھورا۔
یہ بڑے بڑے گھوڑے بد تمیزی کی ہر حد پار کر جاتے ہیں۔ دیکھتے ہی نہیں کوئی بڑا سامنے کھڑا ۔۔ذیادہ نہ سہی تھوڑی سی تو بڑی ہوں میں۔ تھوڑا سا ہی لحاظ کر لیتے۔
اسکا جتنی رفتار سے منہ چل رہا تھا اتنی ہی رفتار سے زبان بھی۔
واعظہ کہاں ہے۔ ؟ اسے پورے جملے میں بس واعظہ ہی سمجھ آیا۔ سو اسی کی بابت سوال کیا فاطمہ چونکی پھر سنبھل کر انگریزی میں بتایا۔
وہ نور کی طبیعت خراب ہوگئ تو عروج اور واعظہ اسپتال گئی ہیں۔
کیا ہوا اسے؟ وہ چمچ چھوڑ بیٹھا
ٹھیک ہے بس شائد بی پی لو ہوگیا یا کیا بے ہوش ہو گئ تھی۔ وہ بروقت اسپتال لے گئے تھے۔ اسکی حالت تشویش ناک نہیں تھی مگر وہ بے ہوشی میں کچھ بول رہی تھی جس میں انہیں یہی سمجھ آیا کہ اپنوں کو بلا رہی ہے سو ۔۔
فاطمہ کو اسکا انداز تھوڑا عجیب لگا۔ اتنا پریشان کیوں؟۔ لیکن اسکی تسلی کو تفصیل سے بتایا۔۔
واعظہ سے بات ہوئئ؟ ۔اس نے چمچ ابھی بھی نہیں اٹھایا تھا
ہاں وہ کہہ رہی تھی ابھی ہوش میں نہیں اسکی نفساتئ دبائو کی وجہ سے طبیعت خرا ب ہوئی تھی۔ سو اسکو نیند آور دوا دے کر سلایا ہوا ہے۔
فاطمہ کے بتانے پر شائد کچھ تسلی ہوئی تھی اسے۔ سو سر ہلاتا آرام سے کھانا کھانے لگا
بات سنو۔ وہ میری سے تعلق ہمیشہ کیلئے ختم ہو گیا ہے تمہارا؟ ۔
اس نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا ۔
سیہون نے جواب نہیں دیا خاموشی سے کھانا کھاتا رہا
وہ کوئی میرج انشورنس والے آئے تھے مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ تم کب موجود ہوگے۔
اس نے بتانا شروع کیا سیہون کی ساری بے نیازی رخصت ہوگئ۔سخت متوحش سا ہو اٹھا
تم نے بتادیا تم میری بیوی ہو؟
اسکا ردعمل غیر متوقع تو نہیں مگر جارحانہ لگا پہلے تو سوچا مکر جائے مگر پھرسوچا کیا اکھاڑ لے گا غصے میں سو ڈرتے ڈرتے سچ بول ہی دیا
آہ آں ۔ہاں۔ مجھے لگا وہ این جی او والے ہیں۔
ہائش ۔۔ وہ جیسے سرپکڑ کر رہ گیا۔
کیا ہوا؟ کچھ غلط ہو گیا۔کیا
وہ ہمدردی سے اسکی جانب تھوڑا رازداری سے جھک کر بولئ
ہاف۔ وہ بس اسے دیکھ کر رہ گیا۔
آندے۔ اب کیا ہو سکتا تھا۔ وہ خالی پلیٹ لیکر اٹھ گیا۔۔
میرج انشورنس کیا بلا ہے؟ تم نے اور میری نے تو شادی ہی نہیں کی نا؟ تو انشورنس کیسی؟
اسے سچ مچ تجسس ہو رہا تھا ۔ سیہون سنک میں اپنی پلیٹ اور چمچ دھو رہا تھا وہ بھی اپنی پلیٹ اٹھاتی اسکے پاس چلی آئی۔
ہم پچھلے چار سال سے ایک بانڈ بھر رہے تھے جس کے مطابق جب ہم شادی کرتے تو ہمیں شادی کے اخراجات کیلئے ایک معقول رقم ساتھ ایک تحفتا ہنی مون پلان ملنا تھا۔ اگر ہم ۔۔۔۔۔۔۔
۔ سیہون کو اتنا تو اسکے بارے میں اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ جواب لیئے بنا ٹلے گی نہیں سو بتانے لگا
کمیٹی ڈال رہے تھے شادی کیلئے۔
اس نے سمجھ کر سر ہلایا
ہمارے یہاں یہ کام امیاں کرتی ہیں ۔ جب سے پیدا ہوتی ہیں لڑکیاں۔۔۔ انکے لیئے جوڑ توڑ شروع اور شادی کیلئے چیزیں جمع کرتی ہیں۔پھر کمیٹی کھل جائے تو شادی کے اخراجات اسی سےپورے ہوتے۔ میرا خیال ہے سب ایشیائی ممالک ایک جیسے ہی ہیں۔میری امی نے میرے لیئے اتنا سونا جمع کر رکھا تھا کہ بس ایک اسی وجہ سے کبھی کبھی میرا بھی شادی کرنے کا دل کر ہی جاتا تھا۔
وہ علامہ بن کر تقریر جھاڑتی کافی میکر میں کافی بنانے لگی۔
کافی پیئوگے؟ اس سے بھی پوچھ لیا۔اس نے سر اثبات میں ہلایا تو وہ اسکیلیئے بھی کافی بنانے لگی۔ سیہون نے اسکی استعمال شدہ پلیٹ بھی دھونے کی نیت سے اٹھا لی
تم لوگوں کے ہاں لڑکیوں کی شادی کا خرچ والدین اٹھاتے ہیں۔؟
اس نے یوں سوال کیا جیسے یہ کوئی انوکھی بات ہو۔
ہاں۔ اس نے آرام سے کہا۔ یہاں بھی میں نے ڈراموں میں دیکھا والدین شادیاں کرواتے ہیں خرچ اٹھاتے وہاں بھی ایسا ہی ہوتا۔
اگر والدین ہوں تو نا۔ سیہون نے ہاتھ دھو کر ٹوٹی بند کی پھر پیپر ٹاول اٹھا کر ہاتھ خشک کرنے لگا
مطلب؟ اسے بات سمجھ نہ آئی
میری کے والدین نہیں ہیں۔وہ یتیم خانے میں پلی بڑھی ہے جبھی اپنی شادی کیلئے سارے اخراجات اٹھانے کیلئے اس نے انشورنس کرارکھی تھی۔
تو کلیم کروا کر تم سے شادی کیوں نہیں کی؟ اسے انکے رشتے کے ختم ہونے کی وجہ سمجھ نہ آئی۔
سیہون نے گہری سانس لی
۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد ۔۔۔۔ جاری ہے

Desi Kimchi Episode 23

قسط 23
اپنی جماعت میں تھکے تھکے قدم اٹھاتئ وہ سب سے پیچھے جا کر بیٹھ گئ تھی۔ عید کا جوڑا پہن رکھا تھا مگر اوپر بڑا سا کالا عبایا اور نقاب۔ بس ہاتھ پر لگی مہندی کا رنگ خوب جم کر آیا تھا۔ وہ اسی کو غور سے دیکھنے لگی۔ کوریائی طرز کا شہتیروں والا گھر ساتھ چیری بلاسم کا بڑا سا درخت چھوٹئ سی پگڈنڈی جو کلائی تک آرہی تھی بکھرے پتوں سے سجی تھی۔
سرخ رنگ سے سجے اس لینڈ اسکیپ پر کسی کا ہنر زوروں پر تھا۔
بورنگ عید ؟ اس نے گہری سانس لیکر سوچا۔
تبھئ اسکے سامنے جاپانی ڈمپلنگز کا ٹفن پیک لہرایا۔
اس نے چونک کر سر اٹھایا تو اسکی واحد جاپانی سہیلی یوگوائے اسے مسکرا کر کہہ رہی تھی
عید مبارک عزہ۔
وہ بے ساختہ اٹھ کر اسکے گلے لگ گئ تھی۔
………………..۔
دس بجے اسکی آنکھ کھلی تھی۔انگڑائی لیکر اٹھی تو کمرہ خالی تھا۔ سستی سے چپل گھسیٹتی باہر نکلی تو فاطمہ اپنے بالوں کا جوڑا بنائے چولہے کے پاس کھڑی نظر آئی۔ تھپ تھپ پراٹھا بنانے میں مصروف آہٹ پر مڑ کر دیکھا تو جھٹ کام بتا دیا
اٹھ گئیں یار واعظہ چائے میں پتی ڈال دو۔
اسکا منہ بن گیا۔ جانے کونسی منحوس گھڑی اچھی چائے بنادی۔ زندگئ بھر کیلئے چائے پر اسکا نام لکھ گیا تھا۔ نہ کسی اور کو نہ ہی خود کو کسی اور کے ہاتھ کی چائے پسند آتی تھئ۔
یہ لوگ چلی گئیں۔ ؟ وہ منہ بناتے دھپ دھپ کرتی آئی چائے کا ڈبہ اٹھا کر چمچ بھر بھر کر پتی جھونک دی۔
اوئے یہ ڈبہ مہینہ بھر چلانا تھا میں نے۔ وہ چیخ ہی توپڑی
اب نہیں چل پائے گا جلدی ختم ہو جائے گا۔
واعظہ اطمینان سے بولی تو وہ اسے بیلن مارتے مارتے رہ گئ۔
سیہون نوکری پر گیا ہوا۔الف عشنا اور عزہ یونیورسٹی گئ ہیں۔ صبح تیار ہوتے کتنا تو شور کیا جگا کے دم لیا مجھے سر میں درد ہوگیا تب سے۔
وہ باقائدہ جمائی لیتے ہوئے بولی۔
عروج کہاں ہے۔ اس نے آملیٹ کیلئے پیاز کاٹتے ہوئے پوچھا۔
ٹیرس پر ۔۔ فاطمہ نے منہ بنایا۔ جب سے اٹھی ہے فون پر لگی ہے اسے کہا تھا کہ آملیٹ بنا دے۔
گھر بات کر رہی ہوگی عید کا دن ہے۔ واعظہ نے لاپروائی سے کہا تو وہ تپ کر بولی
ہنگل میں لگی ہوئی ہے۔ اسکے گھر کونسا کورین پیدا ہوگیا ہے۔ پراٹھا اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھا مڑ کر دیکھا تو واعظہ ہاتھ روکے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔
اسکے دیکھنے پر فاطمہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
دونوں نے پھراکٹھے دوڑ لگائی ۔ ٹیرس کا گلاس ڈور بند تھا اسے دھیرے سے کھول کر دونوں کے صرف سر درز سے باہر نکلے۔۔ باہر ٹہلتے ہوئے عروج بہت خوشگوار انداز میں کسی سے مخاطب تھی۔
ہاں۔۔ نہیں۔ بس یہاں کیسی عید شائد شام کو کسی پبلک پارک میں گھومنے جائیں۔ ہاں۔ نہیں پاکستان میں تو سب رشتے دار ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں۔ ہاں۔ ہاں۔ سب سے مزاتب آتا جب۔
پلٹتے ہوئے ادھ کھلے گلاس ڈور سے لٹکتے دو سروں پر نگاہ پڑی تو آواز حلق میں گھٹ سی گئ ۔بلکہ ہلکی پھلکی چیخ نما بے معنی آواز بھی نکلی دہل کر سینے پر ہاتھ رکھا۔
دوسری جانب سیونگ رو چونکا
کیا ہوا خیریت۔
دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی اس نے منہ ہی منہ میں دونوں کو گالیاں دیں۔
آہاں۔ وہ ناشتے کا وقت ہو چلا تو ذرا کھا پی لوں بعد میں بات کرتی ہوں۔ سنبھل کر خدا حافظ کہہ کر فون بند کرکے وہ تن فن کرتی انکے پاس آئی
سیدھے طریقے سے باہر نکل آتیں دہلا دیا دو سر لٹک رہے ہیں بس۔
کون تھا؟
دونوں کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ زرا جو بدمزا ہوئیں ہوں آکٹھے کورس میں دریافت کیا۔
سیونگ رو تھا۔ وہ چلبلا کر دروازہ پورا کھولتی اندر چلی آئی۔ دونوں سیدھی ہوئیں ایک دوسرے کو معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔
عید کے دن سیونگ رو ۔ یعنی ڈبل عید۔ ڈبل خوشی۔
واعظہ نے شرارت سے اسکو قریب آکر کندھا مارا۔
واہ جی۔ فاطمہ کیوں پیچھے رہتی دوسرا کندھا اسکا ہوا
یہ کب ہوا کیسے ہوا؟؟؟ ہمم بولو
اوفوہ۔ وہ مصنوعی جھلائی دونوں کو اپنے کندھوں سے جھٹکا پھر بے نیازی سے بولی۔
ہم اچھے کولیگ ہیں عید کا تہوار آیا تو مبارکباد کیلئے اس نے فون کر دیا ذیادہ اپنے ننھے دماغوں پر زور نہ ڈالو گھس جائیں گے۔ ابھی عمر پڑی ہے انکو رگڑنے کیلئے۔
وہ سیدھا آملیٹ بنانے اسٹو کی جانب بڑھ گئ تھی۔ واعظہ پیاز کاٹ چکی تھی فاطمہ نے انڈے پھینٹ رکھے تھے۔ سو آرام سے آملیٹ بنانے لگی۔
بس زبانی عید مبارک۔۔واعظہ نے منہ بنایا پھر شرارت سے گنگنانے لگی۔
عید کا دن ہے گلے ہم کو لگا کر ملیئے۔
عروج نے بنا لحاظ کائونٹر سے اںڈا ہی اٹھا کر اسے دے مارا۔ وہ ہنستے ہنستے بس لمحہ بھر کی جھکائی دے گئ انڈا فاطمہ اور اسکے درمیان پھٹ سے زمین پر آگرا
عروج کی۔بچی یہ تم ہی صاف کروگی۔ فاطمہ بھنائی۔ آخر ان سب کے جانے کے بعد گھر اسکی ہی۔ذمہ داری بننا تھا
ہے جن نہیں اٹھا ابھی۔؟ واعظہ کے کہنے کی دیر تھئ کمرے کا دروازہ کھلا ہے جن تولیہ سے بال رگڑتا برآمد ہوا۔ اپنی دھن میں چلتا ہوا آیا۔ تولیہ کندھے پر رکھ کر گھنے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ بے نیازی سے کچن میں چلا آیا۔
آننیانگ ۔ کائونٹر سے جگ اٹھایا گلاس میں پانی بھرا گلاس اٹھا کر منہ کو لگانے لگا تو دیکھا منظر تو ساکت ہوا وا ہے
چولہے پر فرائی پین میں انڈہ سلگنے کو آیا تو عروج نے چونک کر نگاہ کئ فاطمہ ہاٹ پاٹ اٹھائے کائونٹر پر رکھنا بھول گئ تھی اور واعظہ اطمینان سے کہنیاں کائونٹر پر ٹکائے اسٹول پر بیٹھئ باقائدہ منہ کھولےاسے دیکھ رہی۔تھی۔
کیا ہوا؟۔ اس نے سٹپٹا کر چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
یار یہ تو اوپا انڈر پراسس ہے۔
فاطمہ کے ہونٹ وائو کے انداز میں گول ہوئے تھے پھر جھٹ ہوش میں آتے بیان داغا
ہاں یار کچھ ذیادہ ہی۔حسین لگ رہا ہے یہ تو۔
عروج آملیٹ پلیٹ میں نکالنے لگی اب واعظہ کے ردعمل کی باری تھئ۔
وہ گڑبڑا اٹھا۔بے چارگی سے واعظہ کو دیکھنے لگا
کیا ہوا نونا کچھ غلط کر لیا میں نے اسے ایسے ہی نہیں پہنتے؟
ایسے ہی یہاں کھڑے رہنا۔
واعظہ کا کھلا منہ یہ کہہ کر بند ہوا اسے تاکید کرتی وہ سیدھا اٹھ کر کمرے میں گھس گئ۔
وہ سوالیہ نگاہوں سے عروج اور فاطمہ کو دیکھنے لگا دونوں نے کندھے اچکا دیئے۔
فاطمہ چائے کے کپ لا کر میز پر رکھ رہی تھی جب اسکی واپسی ہوئی۔
سنجیدگی سے ہے جن کی جانب بڑھی۔ وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا
اس نے آگے بڑھ کر سات مرتبہ اسکی نوٹ اسکے اوپر سے وارے۔۔
طوبی کے بنائے کرتے پاجامے میں اسکا گورا رنگ دمک رہا تھا ۔لمبا قد مزید نمایاں ہو رہا تھا آج خالص کوریائی بالوں کا انداز بنانے کی بجائے اس نے ایک جانب مانگ کر لی تھی گھنے چمکیلے سیاہ بال محض انگلیوں کے اشارے پر سج گئے تھے۔
یہ عیدی ہے؟۔
اس نے پیسے لینے کو ہاتھ بڑھائے۔مگر واعظہ منہ ہی منہ میں ابھی کچھ پڑھ رہی تھی۔
عروج اور فاطمہ ہنس دیں۔
نظر اتار رہی ہے تمہاری۔یہ پیسے کسی غریب کو دینے ہونگے۔ عروج نے ہنس کر کہا۔ تو وہ جیسے سمجھ کر سر ہلانے لگا۔
واعظہ نے معوذتین پڑھ کر اسکی پیشانی پر پھونک ماری۔
ماشا اللہ بہت جچ رہے ہو تم۔ اس نے کھلے دل سے تعریف کی تو وہ جھینپ سا گیا
اب اسے بھائی کہنا مشکل لگ رہا مجھے ۔۔پانچ چھے سال ہی چھوٹا ہوگا یہ ہم۔سے ہے نا۔
یہ فاطمہ۔تھی۔۔ اسکی لن ترانی پر واعظہ اور عروج دونوں نے گھورا۔
دے نونا؟ ہے جن کو اسکی۔تعریف کا بھی ترجمہ۔چاہیئے تھا۔
چلو ناشتہ کرو پھر ہم طوبی سے ملنے جائیں گے تیار ہوکے۔ تیار ہونے کے بعد پھر عیدی دوںگئ تمہیں۔
پھونک پھانک کر واعظہ نے جواب دیا تو وہ سر ہلانے لگا۔ ۔
بالکل ہم عید کو بھرپور طریقے سے منائیں گے۔
فاطمہ نے عزم کیا
…………………………………
ڈیڑھ بجے کا وقت تھا وہ ایک بجے ہی اس فین میٹنگ کیلئے مخصوص کیئے گئے ہال میں پہنچ چکی تھی۔ شور کرتی لڑکیاں پرجوش سے لڑکے۔ بینرز پلے کارڈ ہیومن پوسٹرز اٹھائے تھے۔ لی من ہو کے قد آدم اسٹینڈز سج رہے تھے۔
دو لڑکیاں کے ایف سی کے برگر اٹھائے زور زور سے بولتی اسکے پاس سے گزریں تو وہ چونک کر دیکھنے لگی۔
کتنا عرصہ ہو چکا تھا اسے اپنی پسند کا کچھ کھائے۔ بچت بچت۔ ایک ایک پیسہ دانتوں سے خرچ کرکے جوڑا تھا۔
لی من ہو کیلئے برانڈڈ ٹی شرٹ اسکی پورے مہینے کے اوور ٹائم اور کئی مہینوں کی۔بچت ٹھکانے لگا گئ تھئ۔ ایک بوکے بس۔ اپنے لیئے شرٹ سائن کروانا چاہتی تھی مگر اپنے لیئے پیسے بچے ہی نہیں۔
لاکھوں پرستاروں میں سے ایک ہوں میں۔ اس نے اپنے گرد اس جمع غفیر کو چور نظروں سے دیکھا۔
فاطمہ بھی تو کچھ ایسا ہی بتا رہی تھی۔
اسکا ہیولہ اسکے آس پاس ہی کہیں تھا۔ اس نے سر جھٹکا۔
عید کا دن اپنے پسندیدہ ستارے کے ساتھ گزاروں گی اس سے بڑھ کر خوشی اور کیا ہو سکتی۔۔
بوکے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسکی خوشبو محسوس کرتے اس نے سوچا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گہری سانس لیکر ریڈیو کی عمارت کو دیکھا۔
شو تو شام کو تھا مگر بلاوا ابھی آچکا تھا اسکا اور شائد ژیہانگ کا بھی۔وہ سرجھٹک کر اندر بڑھ گئ۔
انکا اسٹوڈیو خالی تھا بس ژیہانگ بیٹھا موبائل میں لگا ہوا تھا۔
اسکے سامنے خشک میوہ جات کیریمل میں لپٹے پڑے تھے خاص چینی سوغات۔ اس نے ایک بار یہیں سے خرید کر کھائے تھے۔
اسلام و علیکم۔ وہ روانی میں کہتی اپنا بیگ زمین پر رکھنے لگئ۔ ژیہانگ سے چونک کر سر اٹھایا پھر دھیمی سی مسکراہٹ سے اس سے بولا
عید مبارک۔ یہ لو کھائو۔۔
اس نے حسب توقع وہ پلیٹ تھوڑی سی اسکی جانب کھسکا دی تھئ۔
الف اپنی نشست سنبھال رہی تھی جب اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔۔ وہ جواب دینا ہی بھول گئ۔ اور پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھانا بھئ
تبھئ پروڈیوسر صاحب حسب معمول افراتفریح میں اسٹوڈیو میں داخل ہوئے ایک پلندہ لا کر اسے اور ژیہانگ کے سامنے میز پر لا رکھا۔۔
یہ گو تھرو کر لو تم دونوں اچھی طرح۔
وہ دونوں آنکھیں پھاڑ کر دیکھتے رہ گئے۔
گو تھرو؟ اس پر تو ریسرچ پیپر لکھنا بھی کم۔پڑے۔۔
اس نے حجم کا اندازہ لگانا چاہا۔
یہ کیا ہے۔ دونوں کے منہ سے اکٹھا نکلا۔
یہ ہیں وہ ٹاپ سرمایہ کار جن کو ہم نے گھیرنا ہے۔ ایس بی ایس ایسے ہی تو نہیں کوریا کا نمبر ون میڈیا نیٹ ورک ہے۔ دنیا جہان سے سرمایہ کار آئیں گے۔ اگر کوئی ایک بھی ہم نے گھیر لیا تو کم ازکم سال بھر کی فرصت ہوگی یہ شو کوئئ مائئ کا لعل بند نہیں کراسکے گا۔
وہ فخریہ بولے۔
پر یہ ہے کیا۔
ژیہانگ نے ایک چھوٹا پلندہ اٹھا کر اسے کھول کر دیکھنا شروع کیا جبکہ الف نے اتنی محنت کی بجائے سیدھا پوچھنا بہتر سمجھا
یہ مشہور کمپنیوں کی مارکیٹنگ کی ترجیحآت ہیں۔ جیسے یہ
سوجو برانڈ دیکھ لو اس برانڈ نے بڑے بڑے سیلیبریٹیز کو ہمیشہ ہائر کیا ہے۔ انکی ترجیحات میں ان سیلیبریٹیز کے تمام انٹرویو شوز ہوتے ہیں۔ یعنی ہم نے سیہون کو بلایا تو اگر سیہون انکا کبھی اشتہار کر چکا ہے تو وہ ہمارے شو میں جب جب سیہون آئے گا اشتہار دیں گے۔
انہوں نے تفصیل سے سمجھانا چاہا
تو کیا سیہون نے انکا کبھی اشتہار کیا ہے۔
الف کو لگا تھا اسکا سوال بنتا تھا یہاں۔
اوہو نہیں کیا مگر کر تو سکتا ہے۔وہ جھلائے
ہم یہ تفصیلات کا کریں گے کیا؟ الف ان سے زیادہ جھلائی
بھئ وہاں جا کر اسپانسرز گھیرنا بتانا کہ تم۔لوگوں کے شو میں بڑے بڑے سیلیبریٹیز آتے ہیں ۔اور قسمت مزید یاوری کر گئ کہ اگر تم دونوں میں سے ایک بھی انکا برانڈ ایمبیسیڈر بن گیا تو ہمارے تو وارے نیارے ہونگے تمہاری بھی زندگئ بدل جانی ہے۔
انکو بچوں کی۔طرح سمجھانا پڑ رہا تھا
ایک سیہون ہی آیا ہے بے چارہ وہ بھی جانے کیسے۔
وہ بڑ بڑا کر پلندہ اٹھا کر دیکھنے لگی۔ اتنی سی دیر میں ژیہانگ چار چھوٹے پلندے ایک طرف کر چکا تھا۔ اس نے جتنی دیر میں پلندہ الٹ پلٹ کیا وہ باقی سب بھی چھانٹ چکا تھا
اب الف کے ہاتھ سے وائن برانڈ کی۔تفصیلات کا پلندہ کھینچ کر دیکھنے لگا۔ اس نے بدمزا ہو کر دیکھا اسے۔ ژیہانگ نے الٹ پلٹ کرکے اس فائل کو الگ رکھ دیا۔ میز پر دو ڈھیریاں۔بن چکی تھیں۔ ایک بڑی اور ایک چھوٹی سی
یہ تم نے ترجیحی برانڈ الگ کیئے ہیں؟
پروڈیوسر صاحب نے اسکی تیزی کو کافی پسندیدہ نگاہ سے دیکھا۔
نہیں یہ بڑی ڈھیری تمام شراب اورحرام کھانے کے برانڈز ہیں جن کی اسپانسرشپ مجھے مل بھی رہی ہو تو میں نہیں کروں گا۔
اس نے اطمینان سے کہا ۔تو پروڈیوسر اور الف دونوں کی آنکھیں جیسے ابلنے کو آگئیں
اتنئ بڑئ حماقت ارے سب سے ذیادہ پیسے انہی برانڈز سے ملتے احمق۔
وہ جھلائے
میں نے آپکو شو کا حصہ بننے سے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ میں شراب کی تشہیر نہیں کر سکتا ورنہ یہ سوجو برانڈ تو تب بھی ہمارے شو کو اسپانسر کر ہی رہا تھا۔ آپ نے میری اجازت بنا جو اسکی تشہیر میں میرا نام استعمال کیا اس پر میں ہرجانے کا دعوی بھی کر سکتا ہوں
ژیہانگ کا انداز قطعی تھا۔
اتنے بھی انتہا پسند نہ بنو۔
وہ گڑ بڑائے۔ ہاں تو۔ کبھی اسٹوڈیو میں دیکھا تم نے ؟ شراب کا کارٹن ۔ تم لوگوں کیلئے جو تحفتا بھجواتے تھے اسکو میں دیگر میں بانٹ دیتا تھا۔ ابھئ بھئ ایسا ہی ہوگا پتہ بھی نہیں چلے گا تم دونوں کو مگر ہماری روزی پر تو لات نہ مارو نا۔
انکا انداز ملتجی ہوا۔
جو انجانے میں ہوا اسکی تو نہیں لیکن اب سے آگے میں اس کام کو جاری نہیں رکھ سکتا۔ اگر تو آپکو منظور تو ٹھیک ہے نہیں تو میں اس شو کو چھوڑ دیتا ہوں۔
ژیہانگ قطعی سے انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا تو پروڈیوسر کے ہاتھوں کے طوطے اڑنے لگے۔ الف بالکل خاموشی سے دونوں کو بحث کرتا دیکھ رہی تھی
اچھا اچھا۔ خفا نہ ہو۔ اچھا یہ بتائو لوہن سے بات ہوئی تمہاری۔؟ وہ کب آرہا ہے کوریا؟ ہمیں وقت دے گا؟
انہوں نے بات بدل ڈالی
ابھی تو ڈرامے کی شوٹنگ میں مصروف ہے سویٹ کومبیٹ نام ہے۔ اسکے بعد ہی فرصت ملے گی اسے کبھی۔ میں نے بات کی ہے اس سے اگر بیچ میں کوریا کا چکر لگا تو ہمارے شو میں ضرور آئے گا۔
ژیہانگ انکے انداز پر آنکو مزید تنگ نہ کرتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گیا۔
چلو جب مرضی۔ سوہو بھی ڈرامے میں مصروف ہے ۔لیکن ہے تو کوریا میں اس سے بات کرکے دیکھنا۔ یہ پلندہ میں لے جاتا ہوں۔
وہ اسکے مسترد شدہ پلندے کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
تم لوگ بقیہ برانڈز کو آپس میں ڈسکس کرلو۔
وہ جاتے جاتے بھی ملتجی انداز میں تاکید کر گئے۔
ژیہانگ سر ہلا کر واقعی ان پلندوں کو چھانٹنے بیٹھ گیا۔ کاغذ الٹ پلٹ کرتے یونہی اسے نظروں کا احساس ہوا تو سر اٹھایا۔ الف بالکل سامنے بیٹھی گھور رہی تھی۔
کیا ہوا؟ اس نے چونک کر پوچھا؟
تم نے مجھے عید مبارک کہا۔۔
اسکا انداز تفتیشی تھا۔۔
ہاں تو کیا عید نہیں آج؟۔ وہ گڑبڑایا۔
یہاں بھی کوئی پوپلزئی پیدا ہواگیا کیا کہ۔آدھوں کی آج آدھوں کی کل عید ہو۔۔
وہ اس بار چینی میں بڑ بڑایا۔
تم نے کرتا پاجامہ پہن رکھا ہے۔۔
اس نے جیسے الزام دیا۔
ژیہانگ سیدھا ہو بیٹھا۔ نیوی بلو کرتا سفید پاجامہ وہ بھی حیدر آبادئ طرز کا۔ پہلی بار پہنا تھا ایک ہندوستانی بوتیک سے لیکر وہ بھی آنلائن اسے کچھ گڑ بڑ لگ رہی تھی۔ کارٹون لگ رہا ہوں کیا۔ وہ گڑبڑایا۔پھر خود ہی کہنے لگا۔
صحیح نہیں فٹنگ نا؟ مجھے بھی ڈھیلا لگ رہا ہے۔ اس نے خوب چوڑے پائنچے والے پاجامے کو بلا وجہ ٹھیک کیا۔
شراب اور حرام اشیاء سے کیا مراد ہے۔ وہ گھور رہی تھی۔
تم لوگ تو کتے بھی کھا جاتے ہو؟ ہے نا۔
لاحول ولا۔۔۔ وہ سٹپٹا گیا۔
بھئی میں نہیں کھاتا۔ ہم نہیں کھاتے بلکہ کوئی مسلمان نہیں کھاتا۔احمق لڑکی۔
تو تم مسلمان ہو۔ وہ بھونچکا سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
آہاں ۔ میں مسلمان ہوں۔ وہ بے چارہ بھی گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔
مگر تم تو چینی ہو۔ وہ یقین کرنا بھی چاہ رہی تھی نہیں بھی۔
ژیہانگ اسکے ردعمل پرمسکرا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔لی من ہو کے چہرے پر ایک تکلفاتی مسکراہٹ سجی ہوئی تھی آگے کوئی لڑکا بیٹھا ہو لڑکی یا کوئی جنگلی جانور۔ بس مسکرا کر آننیانگ کہتا۔ سیلفی بنواتا۔ پوسٹر سائن کرتا اور سلیقے سے آگے بڑھ جانے کا اشارہ کر دیتا۔
اسکی باری آئی تو وہی مسکراہٹ وہی انداز۔
اس نے لمبی تقریر یاد کر رکھی تھی۔
میں آپکی بہت بڑی پرستار ہوں۔ سٹی ہنٹر میرا پسندیدہ ترین اور اب لیجنڈ آف بلو سی بھی۔ اور۔
ذہن صفا چٹ ہو گیا۔ انگریزی اردو سب غارت۔
لی من ہو اسکی کیفیت سمجھ کر زور سے ہنسا تھا۔
اس نے خجل ہو کر شرٹ اسکی جانب بڑھا دی۔ جس کو اس نے سائن کر کے واپس کردیا۔
یہ آپکے لیئے ہے۔ وہ بمشکل سمجھا پائی۔
واقعی؟ وہ حیران سا ہوا تھا۔بغور شرٹ دیکھی اسکا برانڈ دیکھا۔ پھر باقائدہ اٹھ کر آدھا جھک کر اسکا شکریہ ادا کیا۔
گھمسامنیدہ۔
لی من ہو کی نگاہیں اس پر جمی تھیں اور وہ بس کسی اور جہاں پہنچ گئ تھی۔ کاش وقت یہیں تھم جائے اور۔
اسکے دل نے بے ساختہ خواہش کی۔
جتنئ بھی عیدیں گزریں سو کے جاگ کے مل ملا کے یہ سب سے مختلف اور۔اچھی عید تھی۔
……………………………………
جتنئ بھی عیدیں گزریں سو کے جاگ کے مل ملا کے یہ سب سے مختلف اور۔تکلیف دہ عید تھی۔ بیرک کی دیوار سے ٹیک لگائے وہ صبح سے بھوکی پیاسی بیٹھی تھی۔ ناشتے میں عید کے دن سویوں کی بجائے چاول کمچی اور عجیب گوشت کا ملغوبہ آیا تھا۔ اس نے یونہی آہجومہ سے پوچھا
یہ کونسا گوشت ہے۔
پورک۔ منہ بھر کر بمشکل کھاتے آہجومہ نے جواب دیا۔ وہ روہانسی سی ہوگئ۔
جانے یہ سزا کیوں ملی تھی اسے۔
دوپہر میں بلیک بین نوڈلز آئے تھے ۔ ان کالے سیاہ نوڈلز کو جنکو کھانے سے آہجومہ کی زبان بھی کالی ہو چلی تھی اسے ذرا اشتہا محسوس نہیں ہوئی۔
یہ کھا کیوں نہیں رہی ہے۔ حوالدارنی نے آہجومہ سے ہی پوچھا تھا۔
یہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کھاتی نہ پیتی ہے شام کو جب باہر کھڑکی سے اندھیرا پھیلتا ہے تب پانی پیتی ہے مجھے تو لگتا یے کوئی چلہ کاٹ رہی ہے۔ آہجومہ پلیٹ سمیت اٹھ کر حوالدارنئ کے کان میں گھس گئ تھیں۔ وہ تو بھلا وہ درمیان میں سلاخوں کا کہ سچ مچ نہیں گھس پائی۔
کالا جادو۔ اس نے اندازہ لگایا۔
شائد۔ آہجومہ کے منہ سے سرسراتی سی آواز نکلی۔
لیکن اس جادو کا اثر نہیں ہو سکتا مجھ پر ایک مشہور بدھمتی راہبہ سے لیکر میں نے تعویز پہن رکھا ہے۔ حوالدارنی نے خوفزدہ نگاہوں سے نور کو دیکھتے ہوئے گلے میں لٹکتے تعویذ کو مٹھی میں بھر کر خود کو تسلی دے رہی تھی
مگر میں نے سنا ہے کالے جادو کا کوئی توڑ نہیں ایسے تعویذ بھاپ بنا کے اڑا دیتا ہے کالا جادو۔
آہجومہ نے اسکا اطمینان اطمینان سے غارت کیا۔
دیکھو کہاں جا رہی۔ہے۔۔
نور لڑکھڑاتے قدموں سے اپنی جگہ سے اٹھی رخ سیدھا روشندان والی دیوار کی جانب تھا دونوں نے دم سادھ لیا۔
وہ جھکی۔ انکی سانسیں تھمیں۔ جھک کر کولر سےگلاس میں پانی لیا۔ واپس پلٹی
ان دونوں پر اچٹتی نگاہ ڈالی۔ دونوں اسکی سرخ انگارہ آنکھوں سے مزید خوفزدہ ہو گئیں
سنو میں جیل سپریٹنڈنٹ کو بتائوں؟
حوالدارنی نے آہجومہ سے جیسے اجازت چاہی
مجھے پانی کی بوتل لا کر دو پہلے میں اب اس کولر سے پانی نہیں پی سکتی
حوالدارنی کے منہ پر آہجمومہ نے ڈکار لی۔ حوالدارنی نے گھور کر دیکھا۔
نور اپنے بنچ کی جانب بڑھتے ایک بار پھر لہرائی ۔ گلاس اسکے ہاتھ سے چھوٹا یہاں وہاں پانی پھیلتا گیا اور نور بھی۔ وہیں کھڑے قد سے نیچے آرہی۔
………………………………………………۔۔۔۔۔۔
عید مبارک ۔ وہ پھولوں کا بکے اور کیک لیکر طوبی کے گھر آئے تھے دروازہ طوبی نے ہی کھولا۔
ہلکے سبز پشواز کی فراک میں ملبوس طوبی نکھری نکھری تیار سی سامنے کھڑی تھی۔ انہیں دیکھ کر اسکی جیسے خوشی کی انتہا نہ رہی تھی۔
الف۔ عروج اور واعظہ کیوں نہیں آئیں اور عشنا میں نے کہا بھی تھا سب آنا مل کر عید منائیں گے۔
وہ پیار بھرا شکوہ کر رہی تھی۔
وہ۔ عزہ نے بتانا چاہا مگر فاطمہ نے اسکا ہاتھ دبا کر روک دیا
وہ عروج ہاسپٹل گئ ہوئی ہے ، واعظہ بھی ساتھ ہے عشنا کی آج فین میٹنگ تھی لی من ہو کی۔ اس کیلئے عید کا لطف دوبالا ہوچکا پہلے ہی الف کا آج شو ہے۔
اس نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی طوبی مطمئن ہوئی کہ نہیں سر البتہ ہلا دیا پھر
عزہ فاطمہ ہے جن وہ باری باری سب سے گلے ملی۔
ہے جن کو تو دیکھتے ہی آنکھیں آنسو سے بھر آئیں۔
کتنا وجیہہ لگ رہا ہے میرا بھائی ماشا اللہ
عبایا اتار کر مجھے اپنا ڈریس دکھائو۔
اس نے بڑی بہنوں والے رعب سے عزہ سے کہا تو وہ ہنس کر عبایا اتارنے لگی
ماشا اللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔ اس نے بے ساختہ دوبارہ عزہ کو گلے لگا لیا۔
اور میں آپی۔
ہے جن بھی اسکے کندھے پر جھول گیا۔
فاطمہ نے بے ساختہ ہونٹوں پر زبان پھیری۔
یہ بہن بھائیوں کی تکون چلنے ہی دینی چاہیئے جانے طوبی کا ردعمل کیسا ہو سچائی جان کر۔۔۔اس نے سوچا تبھی واعظہ اسکے کندھے کے پاس سے نمودار ہوئی
تمہاری ذمہ داری ہے طوبی کی غلط فہمی دور کرنا ۔ ہےجن بہت پریشان ہے ہمیں اسکی مدد کرنی چاہیئے اس بچے کے ایک چھوٹے سے جھوٹ کی اسکو کافی کڑی سزا مل رہی ہے اب بس یہ ڈرامہ ختم ہو جانا چاہیئے۔
فاطمہ نے اثبات میں سر ہلایا تو واعظہ غائب ہوگئ تھی۔
بہت پیارے ماشا اللہ سے میرے دونوں بہن بھائی حسین لگ رہے ہیںمیں ابھی نظر اتارتی ہوں تم دونوں کی۔ وہ محبت سے کہتی جھپاک سے کچن میں گھس گئ۔
بچیاں جھلمل فراک اور چوڑی دار پاجامے میں شرمائی شرمائی سی آکر عید ملنے لگیں تو ننھا شہزادہ چھوٹے سے کرتے پاجامے میں ملبوس پرام میں بیٹھا۔انگوٹھا چوس رہا تھا۔ عزہ نے جھکر پیار سے اسکے گال پر چٹکی بھری
دلاور بھائی کہاں ہیں۔ عزہ نے پوچھا تھا۔
ادھر کمرے میں۔ چلے جائو جاگ رہے ہیں
اس نے اوپن کچن سے اشارہ کیا تو وہ تینوں کمرے میں چلے آئے۔۔
دلاور بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھے سیویاں کھا رہے تھے۔
انہیں دیکھ کر فورا خیر سگالی انداز میں مسکرا کر اٹھنا چاہا تو ہے جن جھٹ آگے بڑھ کر انہیں سہارا دینے لگا
بیٹھے رہیئے دلاور بھائئ۔ معزرت ہم پہلے آپکی طبیعت پوچھنے نہ آسکے ۔ فاطمہ نے شرمندہ سے انداز میں معزرت کی۔
ارے کوئی بڑی بات نہیں معمولی سی چک آئی تھی اب تو کافی ٹھیک ہوں میں۔
انہوں نے مسکرا کر کہا۔
طوبی بچوں کیلئے سویاں۔ انکی بات منہ میں ہی تھی کہ طوبی فرائی پین اٹھائے چلی آئی۔
لال لال مرچیں جلا کر وہ ہے جن کی نظر اتارنے لائی تھی۔
صبح واعظہ کی اتاری نظر کی اسے دل سے قدر ہوئی جب کڑوا دھواں ناک منہ میں گھستا حلق تک خراشیں ڈالتا گیا۔
سارا پرفیوم غائب بس دہکتی مرچوں کی دھانس اور دھوئیں میں دھیرے دھیرے ہے جن نمودار ہوتا تو طوبی دوبارہ اسکو سرتاپا اس دھوئیں سے وار دیتی۔۔ کمرہ دھواں دھواں ہو گیا ۔
فاطمہ عزہ دونوں بری طرح کھانستی باہر بھاگیں ۔
چلنے سے معزور دلاور انکی پھرتی کو رشک سے دیکھ کر رہ گئے۔ بری طرح کھانستے ہے جن کا ساتھ دیتے وہ بمشکل کہہ پائے
بس کرو طوبی ۔بہت دھواں ہو گیا۔
ہاں ہوگئ۔ طوبی اطمینان سے فرائئ پین لیئے مڑ گئ۔
ہے جن کا کھانس کھانس کے برا حشر ہو چلا تھا۔ وہ اٹھ کر کھڑکیاں کھولنے لگا پنکھا چلایا تو تھوڑا امن ہوا۔
دلاور سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھا کر گلاس میں پانی بھرنے لگے۔
کبھی کبھی تو طوبی حد کر دیتی ہے۔
وہ مسکرا کر اسکی جانب گلاس بڑھا رہے تھے۔
اور گئے تم آج عید کی نماز پڑھنے۔ ؟
میں تو جا نہیں سکا پہلی عید میری ہے ایسی جوعید کی نماز پڑھے بنا گزر رہی۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولے تھے۔ ہے جن کا منہ تک جاتا گلاس راستے میں رک گیا۔ اسکے چہرے کے تاثرات دلاور کو بھی تشویش زدہ کر گئے۔
کیا ہوا بیٹا کوئی پریشانئ ہے؟
دلاور بھائی۔ ۔ اس نے ہمت کرکے گلاس واپس رکھا اور انکے سرہانے گھٹنوں کے بل آبیٹھا۔ انکا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر ملتجی سے انداز میں پوچھنےلگا۔
ایک بات پوچھوں برا تو نہیں مانیں گے؟
ہاں پوچھو۔ وہ اسکے انداز پر سنبھل کر بیٹھ گئے
آپ مسلمانوں کیلئے کسی نو مسلم سے ارکان دین پورے کروانا لازم ہے؟ کیا یہ آپکی عبادت کا حصہ ہے؟ اگر کوئی غیر مسلم اوپری دل سے ارکان ادا کرے تو کیا آپکو گناہ ملے گا؟
تم اوپری دل سے نماز روزہ کرتے رہے ہو؟۔ دلاور نے سیدھا سا سوال کر ڈالا تھا۔
اس نے سر جھکا لیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ عزہ اور ہے جن لائونج میں سر جھکائے کھڑے تھے۔
طوبی انکو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔
طوبی ہم سب گڑ بڑائے ہوئے تھے۔ہمیں لگا تھا کہ آپ نجانے کیا خیال کریں ہمارے بارے میں کہ 8 لڑکیوں میں ایک انجان لڑکا رہ رہا ہے تو بس یونہی ہم نے کہہ دیا ۔
عزہ اور ہے جن کی ہمت نہیں تھی طوبی کی آنکھوں میں جھانکنے کی۔ تو فاطمہ نے ہی انکی جانب سے صفائی دی۔
یونہی کہہ دیا؟ وہ چٹخ کر بولی۔۔
پوری کہانی بنالی تم لوگوں نے۔ غیر مسلم ماں بیٹا ماں کے مذہب پر اور بیٹی۔
اس نے کینہ توز نظروں سے عزہ کو گھورا۔
تم لوگ دو مہینے سے مجھے بے وقوف بنا رہے تھے اور میں ۔۔ وہ سر تھامتی فلور کشن پر بیٹھتی چلی گئ۔
ٹوٹے ہوئے گھر کے بچے سمجھ کر تم دونوں سے پیار کر بیٹھئ۔۔ وہ رو دی۔
کیا کچھ نہ یاد آیا اسے۔ زبردستی ہے جن کو لیکر مارکیٹ جاتی سودا لیتے اسے کبھی چاکلیٹ کبھی کوئی اور کھانے پینے کی چیز دلا دی۔ہر بار اسے تاکید کرنا کہ عزہ کیلئے بھی لیکر جانا وہ لمبے لمبے لیکچرز۔اسکو زبردستی قرآن سنوانا مسجد بھجوانا دلاور کے ساتھ ۔سورتیں۔ یاد کروانا
ہے جن نے بے بسی سے فاطمہ کو دیکھا۔
طوبی آپی بات سنیں۔
عزہ نے آگے بڑھ کر اسکا شانہ تھامنا چاہا۔اس نے بری طرح جھڑک کر اسے دور کردیا
بالکل مجھے آپی کہنے کی ضرورت نہیں۔کسی کے خلوص کا مزاق اڑاتے شرم نہیں آئی تم لوگوں کو۔ سگے بہن بھائیوں جتنا پیار دیا تم دونوں کو یہ صلہ ملا ہے مجھے۔ نکل جائو دفع ہو جائو میرے گھر سے میں تم دونوں کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔
وہ ہذیانی انداز میں چلائی۔ ہے جن کو جملے تو نہیں مگر لہجے ضرور سمجھ آرہے تھے لب کاٹتے ہوئے اس نے آگے بڑھنا چاہا تو فاطمہ نے بازو تھام کر روک دیا۔
اس وقت یقینا طوبی کو اکیلے چھوڑ دینا ہی بہتر تھا۔ وہ ان دونوں کو لیکر باہر آگئ تھئ۔
………………………………………

ختم شد

جاری ہے۔۔۔

Desi Kimchi Episode 22

قسط 22
آسمان صاف نہیں تھا مگر پھر بھئ آخری افطاری انہوں نے ٹیرس میں کرنے کا ارادہ کیاتھا۔ صاف ستھرا میٹ اس پر چادر بچھا کر انہوں نے ٹیرس میں بیٹھنے کی تیاری کر لی تھی۔ عروج آج حاتم طائی بنی ہوئی تھی سب کیلئے آئیسکریم خرید کر لائی تھی یہ بڑی سی آئیسکریم بکٹ (بالٹی)شاپر لا کر باورچی خانے میں رکھتے ہی کمر پکڑ لی۔
اف تھک گئ میں۔ کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا۔ کوئی کام مت کہنا مجھے اب۔ میں باہر کا سب نپٹا آئی۔
آیک اچٹتی نظر سب کے مصروف ہاتھوں پر ڈال کر اس نے حفظ ماتقدم کے طور پر اعلان کردیا۔
اب رہ ہی کیا گیا کھانا پکا ہوا ہے افطاری تیار کر رہی ہیں ہم پہلے سے ہی۔ عشنا سادگی سے بولی۔ عروج نے بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا لی۔
۔ فاطمہ پکوڑے تل رہی تھی وہیں سے حسب توفیق گھور ڈالا۔ عزہ نے روح افزا بنانے کی ٹھانی تھی .فاطمہ نے پکوڑے کیلئے بیسن گھولتے ہوئے کہا تھا
عزہ شربت بنا کر ادھر تلنے میں مدد کرانے آجانا۔۔
اور اب پکوڑے سب تل کر ختم ہونے والے تھے یہ ایک جگ شربت بن نہیں پایا تھا۔
عشنا اور الف فروٹ چاٹ کیلئے پھل کاٹ رہی تھیں ۔ آج ہے جن بھی کوئی کوریائی طرز کی چنے کی چاٹ بنا رہا تھا۔ لائونج کی سنگی میز کے کائونٹر پر سب مصروف تھے۔
آئی نہیں واعظہ ابھی تک روزہ کھلنے والا ہے۔
عروج کو فکر ہوئی۔
صبح کی گئ ہے ہو سکتا ہے چاند رات اور عید اپنی فیملی کے ساتھ کرے۔ الف نے خیال ظاہر کیا۔
بتا کے جائے گی اگر عید کرنے جائے گی تو۔ ایسے تھوڑی
فاطمہ نے پکوڑے چھلنی سے اتارتے ہوئے بڑی سی ٹرے میں رکھ لیئے۔
ویسے ہم نے ایک دن بھی افطاری باہر نہیں کی کم از کم ایک افطاری تو باہر کرنی چاہیئے تھی۔ الف کے کہنے پر عروج زور سے ہنس پڑی۔
کوریا میں بیٹھی ہو پاکستان میں نہیں یہاں کون تمہارے لیئے افطار بوفے وغیرہ آفر کر رہا اوپر سے باہر جا کے بنا گوشت سبزیوں کو الا بلا سے مصالحوں میں پکتا کھا کے کیا لطف آنا۔
ہم عید پر تو ڈنر باہر ہی کریں گے۔ بھلے کسی پاکستانی ریستوران میں ہی سہی۔
وہ ضدی انداز میں بولی
اگر کل عید ہوئی تو میری جانب سے ٹریٹ ۔ عروج نے شاہانہ انداز میں کہا تو وہ سب آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگیں۔
خیر ہےکوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا کیا؟آج سب کو آئیسکریم کھلا رہی ہو کل کھانا کھلانے لگی ہو ؟ فاطمہ کو تجسس ہوا اور ٹھیک ہی ہوا۔ عروج گڑبڑا کر مڑ کر ریک سے برتن اٹھانے لگی
ایویں۔ ہم سب گھر والوں سے دور ہیں تو کم از کم ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھا پی کے عید منالیں۔
اسے جواب سوجھ گیا۔
یار سویئیوں کے نام پر یہاں جو ملا ہے وہ نوڈلز ہی لگ رہا ہے۔
عزہ روح افزا بنا کر اب عروج کے لائے شاپر کھنگال رہی تھی۔ ایک پیکٹ لہرا کر بولی۔
ہے جن یہ ورسیچیملی ( سیویاں) ہیں یا نوڈلز۔ ہے جن چنوں پر سویا ساس چھڑکتے چونکا
نوڈلز ہی ہیں یہ۔ آٹے کے نوڈلز ۔ اس نے وضاحت کی ۔ یہ چاروں عروج کو دانت کچکچا کر گھورنے لگیں۔ وہ کھسیا سی گئ
اب کوریا میں تھوڑی سیویاں ہوتئ ہوںگئ۔ ہم کل کھیر بنا لیں گے حدیث تھوڑی کہ سیویاں ہی بنیں۔
وہ قائل کرنے والے انداز میں کہہ رہی تھی۔
چلو دسترخوان سجا لو وقت ہونے لگا ہے۔ الف جلدی سے گھڑئ دیکھ کر مستعد ہوئی۔
شام کی آخری پہر میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آلو ، پیاز، پالک اور بینگن کے پکوڑے کی سجی بھری ٹرے ، چکن رول ، فروٹ چاٹ ، چنا چاٹ ، روح افزا کا بھرا جگ ملائی ملی کھجوریں ساتھ چکن قورمہ جو ڈھونڈ ڈھانڈ کر حلال ٹیگ والا خریدا گیا تھا۔ چپاتیاں ۔ دسترخوان سجا تو وہ سب آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر دعا کرنے لگیں۔
ہے جن نے بھی انکی دیکھا دیکھی دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔
اپنے کیریئر مستقبل حال آئندہ آنے والے یونیورسٹی امتحان نوکری جانے کیا کیا دعائیں مانگی جا رہی تھیں ایک ہے جن تھا جس کی دعا ان سب سے الگ اور انوکھی تھی سیدھا دل سے نکلی۔ شائد جبھی ٹھک سے قبولیت کے درجے پر جا پہنچی تھی۔ جبکہ وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر انکی جانب متوجہ ہوا۔
نونا کل سے ہم اپنی پرانے معمول پر لوٹ آئیں گے ؟ کبھی بھی کچھ بھی کھا سکتے ، جھوٹ بول سکتے تب تو کچھ نہیں ہوگا نا ؟ میرا مطلب رمضان کے علاوہ تو سب کر سکتے نا ۔۔ وہ پوچھنا کیا چاہ رہا تھا اس سے قطع نظر ان سب کے کھجوروں کئ جانب بڑھتے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے تھے۔۔اسکے الفاظ ان سب کو اندر کہیں بہت زور سے لگے تھے
یہ سب تو رمضان کے بعد بھی منع ہوتا یے۔ عشنا الف کے کان میں گھسئ۔۔ ہے جن وضاحت کرنے لگا۔
دراصل میرا پورک اسٹیک کھانے کو دل کر رہا تو عید پر تو کھا سکتا ہوں نا۔
عزہ کا منہ بن گیا۔
پورک نہ ہوگیا زندگی ہوگیا بغیر پورک کھائے نہیں رہ سکتا یہ۔ میں تائب ہوتی ہوں اسے بھائی سمجھنے سے۔ گندا
وہ اردو میں بڑ بڑائی۔ ہے جن منتظر نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ کہ شائد وہ ترجمہ بھی کرے مگر وہ روزہ کھولنے میں لگ گئ۔
جیسے چاہو عید منائو ہے جن مرضی تمہاری۔
فاطمہ مسکرا کر بولی۔ہے جن مطمئن سا ہو کر افطاری سے انصاف کرنے لگا
پورک کھا کے یہ دلاور بھائئ کے ساتھ نماز پڑھنے گیا تو ہم پر لعنتیں پڑیں گی ٹھیک ٹھاک۔
عروج نے ڈرایا
دلاور بھائی کمر میں چک پڑوائے بستر پر پڑے ہیں۔ ۔۔فاطمہ نے لاپرواہ سے انداز میں کہا
کل جائیں انکو دیکھنے عید پر طوبی بھی تو اکیلی ہوگی۔۔
الف نے خیال ظاہر کیا۔
مجھے مہندی لگانی۔ عشنا بسوری۔۔
ویسے کل کی کیا پلاننگ ہے کیسے عید منانی کہیں جانا ہے گھومنے؟ عروج پرجوش سی ہوئی اسکے انداز کے برعکس باقی سب کے منہ اتر گئے
میری کل بھی کلاس ہے۔عزہ بسوری۔
کل لی من ہو کی فین میٹنگ ہے۔عشنا نے بڑا سا چکن پیس منہ میں رکھا
میرا کل شو ہے ۔ الف کا تیزی سے چلتا منہ سست پڑا
اگر کل عید نہ ہوئی تو میں بھی ہاسپٹل میں ہی ہوںگئ۔ عید کے دن۔ عروج کو بھی غم ستانے لگا۔
دیکھتے ہی دیکھتے مطلع ابر آلود ہونا شروع ہوا
بینگن کا پکوڑا املی کی چٹنی میں بھگو کر منہ میں رکھتے ہے جن نے سر اٹھایا تو دسترخوان پر سیلاب رواں تھا
ویئو؟ وہ حیران ہی تو رہ گیا۔
وہ سب زار و قطار رو رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اتنی چپ اور ساکت بیٹھی تھی کہ آہجومہ کو لگا اس پر سکتا طاری ہو گیا ہے۔
حوالدارنی کو اشارے سے پاس بلا کر اسکی۔جانب اشارہ کرکے کہنے لگی
سنو ڈاکٹر سے کہو اسکو دیکھ لے کہیں دماغ پر اثر وثر تو نہیں ہوگیا۔ کتنا تو چیخی چلائی ہے کیا پتہ۔
وہ اپنی طرف سے آواز دبا کر بول رہی تھی مگر کھسر پھسر پر نور نے خالی خالی نظروں سے سر اٹھا کر دیکھا تو دونوں سٹپٹا سئ گئیں
کین چھنا۔۔ حوالدارنی اسکا کندھا تھپک کر واپس اپنی جگہ جا بیٹھئ۔
ملاقات آئی ہے قیدی نمبر 799 کی ۔ وردی میں ملبوس ایک لڑکی تیزی سے اندر آئی سیلوٹ جھاڑا پھر ادب سے حوالدارنی سے بولئ۔ اس نے نے حیرت سے وقت دیکھا
اس وقت؟
کوئی خاص موقع ہے خصوصی اجازت نامہ لیکر آئے ہیں
اسکے رشتے دار۔
اس نے کاغذ لہرایا تو وہ سرہلا کر اٹھ کھڑی ہوئئ
اٹھو نوراشئ تمہارے ملاقاتئ آئے ہیں۔
حوالدارنئ کی بات پر وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
کون آیا ہے۔
اسے بات مکمل سمجھ نا آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چندئ آنکھوں والی اہلکار اسے کیبن میں چھوڑ کر دروازہ بند کرتی باہرنکل گئ۔
گلاس وال کےاس پار بیٹھئ واعظہ اور سیہون ۔ بنا نقاب سیہون کے سامنے کھڑی تھی مگر اس وقت اسے صرف ایک ہی چہرہ نظر آرہا تھا۔
واعظہ وہ بھاگ کر دیوار سے آلگی۔ واعظہ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔گلاس وال سے اسے گلے لگانا ممکن نہ تھا اور وہ دیوار پر سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی
اسے سنبھالتے واعظہ ہلکان ہونے لگی تھی
خود کو سنبھالو نور ۔ وقتی مشکل ہے یہ سب ٹھیک ہو جائے گا
مجھے نکالو یہاں سے مجھے نہیں رہنا یہاں۔ نہ جیل میں ۔نہ کوریا میں ۔۔ وہ ہچکیاں لیتے ہوئے کہہ رہی تھی
مجھے گھر جانا امی کے پاس جانا۔
وہ بلک بلک کر رورہی تھی۔ واعظہ نے بے بسی سے اسے پھر سیہون کو دیکھا جو اسے جتاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا
اسکو نور کے الفاظ تو سمجھ نہیں آرہے تھے مگر اسکا حال دیکھ رہا تھا۔ چار دن اس پر صدیاں بن کر گزرے تھے اس نے نور کو پہلے نہیں دیکھ رکھا تھا مگر پھر بھی پیلاستا ہوا چہرہ سرخ سوجی آنکھیں اسکا رونا بلکنا۔ سب ظاہر کر رہا تھا۔واعظہ نگاہ چرا کر اسکو متوجہ کرنے لگی
بیٹھو نور بات سنو میری۔ ہمارے پاس ذیادہ وقت نہیں ہم خاص تمہیں عید کے تہوار کی اجازت ملنے پر آئے ہیں۔ادھر بیٹھو آئو بات سنو۔۔ اسکے کہنے پر نور دوپٹے سے آنسو پونچھتی کرسی پر گر سی گئ۔ واعظہ نے گہری سانس بھرتے اپنی نشست سنبھالی
گلاس وال میں بنے چھوٹے سے سوراخ سے دونوں ہاتھ اندر کرکے نور کے ہاتھ تھامے۔ ہتھکڑیوں بندھے خشک سے ہاتھ۔ جو فیصلہ اس سے شائد نہ ہوپاتا اس لمحے اس نے کر ڈالا تھا۔ اسکا ہاتھ دھیرے سے تھپک کر اس نے سر جھٹکا۔ پھر ایک شاپر اٹھا کر کائونٹر پر رکھا۔
اچھا سنو۔ ہم یہ تمہارے لیئے لائے ہیں۔ خاص کر عید کا اجازت نامہ لیکر یہ سب چیزیں انکو دکھوا کر لائے ہیں۔
یہ تمہارے لیئے چاکلیٹ یہ تسبیح ، جاء نماز دوپٹہ۔ یہ جوڑا۔۔
اس نے ایک ایک کرکے چیزیں سوراخ سے پار کیں
کل تم کپڑے بدل سکتی ہو تمہیں اجازت ہوگئ کیونکہ کل تہوار ہے۔صبح تیار ہونا نماز پڑھنا اپنے لیئے دل سے دعا کرنا دیکھنا ایکدم سے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
وہ اسے نرمی سے سمجھا رہی تھی۔۔ تسبیح جاء نماز ۔ اس نے آنکھوں سے لگا لی تھیں۔
شکریہ واعظہ۔ وہ بھرائئ سی آواز میں بولی تو واعظہ مسکرا دی
اور یہ دیکھو کون مہندی بھی لائی ہوں تمہارے لیئے۔
اس نے چھوٹا سا شاپر نکالا۔
دو تین کون مہندیاں۔ وہ ہنس دی
تمہیں لگتا میں یہاں عید منائوں گی ایسے ۔۔ مہندی لگائوں گی
وہ پھر رودینے کو تھئ۔
حوصلہ کرو نور تم اتنی کمزور تو نہیں تھیں۔ ہم میں سب سے ذیادہ حوصلے والی ہو تم یوں ہمت مت ہارو۔یار۔
واعظہ خود بھی روہانسی ہو چلی تھی۔
سیہون ان دونوں کو باتیں کرتا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا
میں باہر جا رہا ہوں۔
وہ کہہ کر نکل گیا۔ واعظہ نے بس سر ہلایا
اچھا تمہیں بہت اچھی مہندی لگانی آتی ہے نا ؟
واعظہ کو۔خیال آیا۔ نور آنسو پونچھ کر گھورنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون باہر اسی حوالدارنی سے کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ جب وہ دایاں ہاتھ خود سے الگ سا کیئے ایک ہاتھ سے بیگ کندھے پر ٹھیک کرتی باہر آئی۔ اسے آتے دیکھ کر حوالدارنی گڑبڑا سی گئی۔
چلیں۔ سیہون اسکے برعکس مطمئن سا تھا۔ اسے دیکھ کر بولا تو وہ سر ہلا گئ۔
اسکا دایاں ہاتھ کالا سا ہوا وا تھا سیہون ہی اسکے لیئے داخلی۔دروازے کھولتا آیا تجسس کے مارے رہا نہ گیا۔
یہ کیا کیا ہوا ہے ہاتھ پر۔
مہندی یے۔وہی جو کون لیکر گئ تھی اندر اسی سے بنوائی ہے۔
اس نے ہاتھ ہی اسے دکھا دیا ۔۔ اس نے اپنے اپر کا بازو کہنی تک چڑھا رکھا تھا سپید ہاتھ سے آدھے بازو تک اوپر نیچے بیل بوٹے سے بنے ہوئے تھے۔ وہ ہاتھ بالکل سیدھا کیئے ہوئے تھی۔
پر اس سے یہ کیا ٹیٹو بنوایا ہے؟ اسے تجسس ہو رہا تھا
ہاں ٹیٹو ہی سمجھ لو۔ وہ سیکیورٹی والے کمرے تک پہنچے تو موٹی توند والے پولیس افسر نے روک لیا انہیں
یہ کیا یے؟
مہندی ہے ابھی آپکو دکھا کر ہی تو لیکر گئ تھی۔
واعظہ حیران ہوئی
مگر اس طرح نقش و نگار کیوں بنے ہوئے ؟ کوئی خفیہ۔پیغام لکھا ہوا ہے ان پر ؟
وہ مشکوک انداز سے گھو ررہا تھا انہیں۔۔
چلو جی۔ واعظہ اپنا دوسرا ہاتھ سر پر مار کر رہ۔گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریلنگ سے کہنی ٹکائے وہ سب قطار میں کھڑی آسمان پر بادلوں میں چھپے چاند کو تلاش رہی تھیں۔
یہ آپ سب کی۔خام خیالی ہے کہ اس ابر آلود مطلع میں آپکو باریک چاند دکھائی دے جائے گا۔کوئی اور طریقہ اختیار کر لیں عید کا تعین کرنے کا۔
ہے جن نے انکو سمجھانا چاہا۔ وہ آئسکریم کا پیالہ لیئے گھر میں ٹہل ٹہل کر ٹونگ رہا تھا۔ ابھی بھی انکی جانب سے حسب منشا ردعمل نا دیکھ کر کہہ کر مڑ گیا۔
ابھی پاکستان میں ہوتے تو روئیت ہلال کمیٹی بیٹھ چکی ہوتی۔
عشنا منمنائی
اور پوپلزئی تو اعلان بھی کر چکے ہوتے۔
الف ہنسئ
مجھے مہندی لگانی ہے چاند رات مہندی کے بغیر کیسے منا سکتے بھلا
عزہ پیر پٹخ کر بولی
مہندی لے آئو لگا میں دوں گئ۔
فاطمہ نے کھلے دل سے پیشکش کی
لگاتو میں بھی سکتی ہوں لیکن اسکے ساتھ تجربہ برا رہا
عزہ نے منہ بنایا
کیا برا ہوا۔ الف اور عروج کو دلچسپی ہوئی
میری کزنز ابھی کچھ ذیادہ ہی۔چھوٹی ہیں انکی منی ہتھیلی پر جب پچھلی عید پر میں نے خوب عرق ریزی سے چھوٹے چھوٹے بیل بوٹے بنائے تو دونوں روتی ہوئی اپنی اماں کے پاس میری شکایت کرنے بھاگ گئ تھیں۔
اتنی بری مہندی لگاتی ہو تم۔
عشنا حیران ہوئی۔
عزہ نے دانت پیسے موبائل میں گیلری سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر تصویریں نکالی۔ منی منی ہتھیلیوں کی تصویریں تھی اور ان پر مہندی جس نے بھی لگائئ تھی کمال کیا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے پھول بل کھاتی بیلیں ننھی پوروں پر بھی نقش و نگار منی ایچر آرٹسٹ کیا فن پارے تخلیق کرتے ہونگے جو اس نے کیئے تھے
اتنی تو اچھی لگائی ہے پھر۔ ؟؟؟؟ عشنا نے حیرت سے پوچھا تو عزہ گہری سانس بھر کر بولی
ایک مجھے کہہ رہی تھئ چوکور ڈبا بنا کر اسکے نام کے پہلے حروف لکھ دوں دوسری کو پاکستان کا جھنڈا بنوانا تھا ہتھیلی پر۔
اسکی بات پر وہ سب قہقہہ لگا کر ہنسی تھیں۔ انکی ہنسی کی آواز سن کر لائونج میں داخل ہوتے واعظہ سیہون کے ساتھ ہے جن بھی چونکا تھا۔ واعظہ نے ہے جن کو گھورا
تم تو کہہ رہے تھے یہ لوگ رو دھو رہی ہیں۔
نونا سچ مچ رو رہی تھیں پھر چاند دیکھنے لگیں لگتا ہے چاند نظر آگیا۔
ہےجن کی بات پر واعظہ کو ہنسی آگئ ۔
یہ ہاتھ پر کیا ہے۔ اسے اب نیا تجسس لاحق تھا ۔
افطاری کا سامان ابھی بھی ٹیرس میں سجا تھا۔ البتہ سب ڈھکا ہوا۔تھا۔واعظہ کا تو روزہ تھا افطاری دیکھ کر آنتیں قل ھو اللہ پڑھنے لگیں۔ بیگ فرش پر پھینک پھانک وہ جھٹ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔سیہون کی بھی ساری دوپہر اسکے ساتھ گزری تھی کھانے کا موقع نہ ملا سو وہ بھی بلا تکلف آبیٹھا ہاتھ میں تھاما بڑا سا شاپر اپنے ساتھ احتیاط سے رکھا اور شروع ہوگیا۔
دونوں افطاری میں مگن تھے جب عزہ نے زور دار چیخ ماری
چاند کا اعلان ہوگیا۔ کل عید ہے۔
وہ موبائل میں اپنی عربی دوست کا چاند رات مبارک کا پیغام پڑھ کر خوشی سے اچھل۔پڑی تھئ۔ اسکی بات پر وہ سب ہنستے مسکراتے ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد دینے لگیں۔
چاند رات مبارک۔ منہ میں پکوڑے بھرے واعظہ نے آواز لگائی۔
آگئیں۔۔تم۔ وہ سب چونک کرمڑیں آگے بڑھ کر مبارکباد دینے کو تھیں کہ سیہون کو دیکھ کر رک گئیں وہ بے نیازی سے سر جھکائے فروٹ چاٹ کھا رہا تھا۔
یہ شاپر اٹھائو میں تم لوگوں کیلئے کچھ چیزیں لائی ہوں۔
اس نے اشارے سے سیہون کے لا کررکھے گئے شاپر کا بتایا۔
جائو تم اٹھائو تمہارا منہ بولا بھائی ہے۔
الف نے عزہ کو کہنی ماری تو وہ اسے گھور کر رہ گئ مگر یہ کام اسے ہی کرنا پڑا شاپر کھولتے ہی۔حیرت و مسرت سے چیخ ہی پڑی۔
مہندی چوڑیاں۔ یہ کہاں سے مل گئیں تمہیں کوریا میں۔
خوشی سے اسکی آواز بلند ہوگئ تھئ۔ باقی چاروں بھی بھاگ کر آئیں۔
واعظہ فروٹ چاٹ پلیٹ میں نکال کر بیٹھی تھی پکوڑے تو اٹھا اٹھا کر توبہ کرتے الٹے ہاتھ سے کھا لیئے مگر فروٹ چاٹ کا چمچ الٹے ہاتھ سے کھانے اور اچانک عزہ کے جوش سے چلانے پر اپنے اوپر گرا بیٹھئ
ایمبیسی گئ تھئ۔ کل فیسٹول ہے نا تو یہ سب چیزیں آئی ہوئی تھیں تو میں لے آئی۔ کل چلیں گے سب مل کر۔
سچی۔ عروج ہی خوش ہو۔پائی باقی سب کے اپنئ جھمیلے تھے۔
وہ چمچ اٹھا کر پلیٹ میں رکھنے لگئ۔ ہے جن کچن سے ٹشو باکس لے آیا۔ واعظہ شکریہ کہہ کر اپنے کپڑے ٹشو سے صاف کرنے لگی تو ہے جن اسکے برابر آ بیٹھا
لائیں میں کھلائوں۔
اس نے بڑے پیار سے چمچ بنا کر اسکی جانب بڑھایا۔ واعظہ ممنون سی ہوئی
تمہارے ہاتھ۔ تم نے مہندی لگائی ہے؟
فاطمہ چونک کر اسکے پاس چلی آئی۔ احتیاط سے اسکے پاس بیٹھ کر دھیرے سے چھونے لگی تقریبا سوکھ چکی تھی
یہ نور نے لگائی ہے میرے ۔ واعظہ نے بتایا تو وہ دھیرے سے بڑبڑائی
مگر تمہیں تو مہندی کی بو سے الرجی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واعظہ اس سے مہندی لگواتے ہوئے جانے کیا کیا سمجھاتی بجھاتی رہی مستقل بولتی رہی ادھر ادھر کے قصے باتیں کچھ دیر کو ہی سہی وہ کھل کر ہنسی۔ بھول گئ بڑے شوق سے اسکی ہتھیلی پر بیل بوٹے بناتی رہی تھی۔
میری عید جیل میں گزرے گی کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا میں نے۔
وہ رو دی تھئ۔
برا وقت کون بیٹھ کے سوچتا ہے پاگل۔ جب برا وقت آجائے تو یقینا یہ سوچنا چاہیئے کہ اس سے نپٹا کیسے جائے۔ حوصلہ مت ہارو صبر کرو دیکھنا اللہ تمہیں جلد اس مشکل سے نکالے گا۔
واعظہ دیر تک اسکا ہاتھ تھامے رہی تھی۔اسی کا دیا حوصلہ تھا کہ وہ نئی ہمت دی جیسی پا کر وہاں سے اٹھی تھی۔ ۔
رات کو افطاری کے بعد سبزیوں والا کھانا پیٹ بھر کر کھایا خدا کا شکر ادا کیا نماز پڑھی نفل پڑھے دل کو جیسے ڈھارس سی بندھ گئ۔ تو فرصت سے کون نکال کر بیٹھ گئ۔ سپید ہتھیلی پر بیل بوٹے بناتے آدھا بازو بھر لیا۔ ایک کون آدھی ہوئی تھی۔ اسکے پاس چار پانچ مزید بھی پڑی تھیں۔
احمق میں کہہ بھی رہی تھی مجھے کیا کرنی اتنی ساری اب کیا پائوں پر بھی لگا کے بیٹھ جائوں الٹے ہاتھ سے سیدھے ہاتھ پر تو نہیں لگا سکتئ ۔ وہ آدھی کون ضائع نہیں کرنا چاہ رہی تھئ۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔۔
آہجومہ چادر کی بکل مارے کب سے پڑی تھیں۔ اسے لگا سو رہی ہیں مگر کسمسا کر چادر کی جھری سے انہوں نے بغور دیکھا اسے کر کیا رہی ہے۔۔ پھر تجسس سے قریب آکر اس سے اپنی زبان میں پوچھنے لگیں
کیا کر رہی ہو ؟
اس نے چونک کر سر اٹھایا پھر گہری سانس لی۔
یقینا اسکی کون ضائع نہیں جانے والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزہ الف کے فاطمہ عروج کے ہاتھوں پر مہندی لگا رہی تھی عشنا صبر سے بیٹھئ اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ واعظہ اپنے اور ہے جن کے کپڑے استری کر رہی تھی۔ وہ اسکے ساتھ کھڑا باتیں بگھار رہا تھا۔سیہون باورچی خانے میں کھڑا کافی بنا رہا تھا شائد سب کیلئے کیونکہ کافی دیر سے لگا ہوا تھا۔
بارہ بج رہے میری مہندی کی باری کب آئے گئ۔
عشنا بھنا گئ۔ دونوں پورے پورے ہاتھوں بازوئوں تک مہندی لگوا رہی تھئ۔
اسکے ایکدم بول اٹھنے پر عزہ اور فاطمہ دونوں چونکیں پھر حسب توفیق صلواتیں سنائیں
ابھی ہاتھ ہل جاتا میرا اتنی محنت سے یہ عربی ڈیزائن چھاپ رہی ہوں اور یہ عروج کی بچی کم از کم موبائل اسکرین کا لاک ٹایم ہی بڑھا دو ہر آدھے منٹ بعد اسکرین بند ہو جاتی۔
کھول کے دو اب اسے۔
فاطمہ اس سے نمٹنے کے بعد عروج پر چڑھ دوڑی وہ منماتی کہہ رہی تھی کہ اب ٹچ لاک کھول کھولنا ممکن نہیں دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے مہندی سے بھر گئے ہیں۔
عزہ کی جان الف نے الگ کھا رکھی تھی۔اس پر ابھی انکشاف ہوا تھا کہ عزہ نے منی ہتھیلیوں پر اتنی اچھی مینا کاری اسلیئے کر لی تھی کہ وہ نمونہ دیکھ کر اس سے تین گنا چھوٹا ڈیزائن بناتی تھی نتیجتا جو مہندی کا ڈیزائن دیکھ کر اسکی ہتھیلی پر چھاپ رہی تھی وہ ماڈل کے بازو تک آرہا تھا اور تقریبا پورا چھاپ دینے کے باوجود اسکی ہتھیلی بھی پوری بھر نہ پائی تھی۔
عزہ کئ بچی ساتھ ایک مائکرو اسکوپ بھی بخش دو مجھے تاکہ ہر کسی کو مہندی دکھانے میں آسانی رہے سب سے بڑھ کر مجھے آسانئ رہے خود کو بتانے میں کہ میرے ہاتھوں پر ڈیزائن بنا ہوا یے چیونٹیاں نہیں رینگ رہیں۔
عشنا عروج فاطمہ اور عزہ لوٹ پوٹ ہو گئیں وہ منہ پھلائے گھورتی رہی واعظہ تک استری چھوڑ کر ہنستی چلی گئ۔
سیہون اور ہے جن منہ کھولے انکو دیکھ رہے تھے
کیوں ہنس رہی ہو اتنا۔ نونا۔ ہےجن پوچھے بنا نہ رک سکا۔
واعظہ نے ہنسی روک کر ترجمہ کیا
ارے اتنئ سئ بات لائیں میں ڈیزائن بنا دوں۔ ہے جن سیدھا شاپر سے کون نکال کر عشنا کے پاس آبیٹھا
تم ؟ تمہیں مہندی لگانی آتی ہے؟ عشنا کو تامل ہوا
ارے میں آرٹس کا ہی تو طالب علم ہوں۔ اس نے کالر جھاڑے یہ اطلاع نئی تھئ۔ ان سب کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ پڑھ کیا رہا ہے۔
آپکو کورین آرکیٹیکچر کا فیوژن دکھاتا ہوں بنا کر۔
اس نے مڑ کر بغور عزہ کا ہاتھ دیکھا اسکے مہندی پکڑنے کا انداز دیکھا اور عشنا کا ہاتھ پکڑ کر شروع ہوگیا۔
دونوں جب اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوا کر فارغ ہوئیں اور عزہ اور فاطمہ اکڑی کمر اور گردن سیدھی کرنے لگیں کہ الف نے چیخ مار دی
ہے جن نے اسی وقت اتفاق سے ہاتھ روک کر انگلیآں سہلائی تھیں۔
سیہون اور واعظہ کچن میں سے بھاگے آئے
کیا ہوا؟
وہ سب عشنا کے ہاتھ پر جھکی تھیں عشنا کا چہرہ جوش تمتما رہا تھا جبکہ الف روہانسی ہو چلی تھی۔
ہے جن نے نہایت عرق ریزی سے اسکی ہتھیلی پر ہنبق میں ملبوس شہزادی کے بائیں جانب سے عکس اتارا تھا جو رخ پھیرے اونچے سے پتھر پر بیٹھی سامنے دیکھ رہی تھی ۔ شہزادی کے لباس میں باریک کورین کڑھائی تھی اسکے لمبے سے گائون کے ربن میں اردو میں بڑے خوبصورت سے انداز سے عشنا لکھا تھا۔ اسکا لباس کلائی تک آرہا تھا۔ شہزادی کی لمبی چوٹی بل کھاتی انگوٹھے کے جوڑ تک آرہی تھی تو سر پر پہنا تاج انگلیوں کے جوڑوں پر تھا ۔ایک درخت کا آدھا تنا چھوٹی انگلی اور ہتھیلی کے کے ایک جانب بنا تھا جس میں ننھے منے پھول کھلے تھے کچھ پھول جھڑ کر شہزادی کے اوپربھی آرہے تھے۔ اسکی ہتھیلی ہتھیلی کیا کوئی کینوس تھی جس پر ہے جن نے اپنا ہنر آزما دیا تھا۔
میں ہاتھ دھونے جا رہی میں نے بھی یہی بنوانا ہے۔
الف کے کہنے پر عزہ نے بے دریغ اسکے دو تین ہاتھ جما دیئے وہ دونوں ہاتھوں پر مہندی لگی ہونے کی وجہ سے خود
کو بچا بھئ نہ پائی۔
واہ ہے جن ۔ واعظہ نے بھی بے ساختہ تعریف کی۔
اچھا لگا آپ کو نونا۔ ہے جن خوش ہوگیا تھا۔
بہت پیارا ہے شکریہ ہے جن ایسی مہندی میں نے زندگی میں کبھی نہیں لگوائی۔
عشنا بے حد خوش تھئ۔ اترا کر عروج اور الف کو دکھا رہی تھی۔
اب فوٹو سیشن کی باری تھی عشنا موبائل لیکر روشنی کی تلاش میں اٹھ گئ۔ عزہ اور فاطمہ اب ہے جن کے سامنے ہتھیلیاں پھیلا چکی تھیں۔ہے جن گردن کھجانے لگا۔
سیہون نے آنکے جوش و خروش پر تبصرہ کیا
مجھے نہیں پتہ تھا تم لوگ ٹیٹوز کیلئے اتنی کریزی ہوگی
ہممم۔ مہندی ہماری روایت کا حصہ ہے۔ سب لڑکیاں بہت شوق سے لگواتی ہیں۔ واعظہ نے کہا تو وہ گہری نگاہ ڈال کر جتانے والے انداز میں بولا
تو تم لڑکی نہیں ہو کیا؟
وہ مستقل اپنا دایاں ہاتھ جیب میں ڈالے تھی پھر بھی مہندی کو بو اسکے کہیں آس پاس ہی تھی۔ وہ ہونٹ بھینچ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔۔
جاری ہے

Desi Kimchi Episode 21

قسط 21
تم کھانا کیوں نہیں کھا رہیں بھوک نہیں لگی کیا۔
اسکو کھانا ایک جانب کھسکا کر خاموشی سے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے دیکھ کر اس عورت نے بڑی حیرت سے پوچھا تھا۔ خود وہ سوپ کا پیالہ ڈکار چکی تھی اب مزید سوپ کا مطالبہ کیا تھا جسے سن کر حوالدارنی نے برا سا منہ بنایا مگر مزید لینے چل دئ۔ اسکے چاول بھی ختم ہونے کو تھے اسکی رفتار دیکھ کر لگتا تھا حوالدارنی کو الٹے پیر واپس جانا پڑے گا اسکے لیئے چاول لانے۔
اپنے ہی کسی دھیان میں چونک کر نور نے اسے دیکھا۔۔ جانے وہ اتنی آنکھیں پھاڑ کر اسے کیا کہہ رہی تھی۔
دے؟۔ اسے بس اتنی ہی۔ہنگل آ پائی تھی ۔سو اسی کا استعمال کیا۔
کھانا باپ۔ اس عورت نے اب ہاتھ سے اشارہ بھی کیا۔
دوپہر کے ایک بج رہے تھے اس نے بنا سحری روزہ رکھا تیمم کرکے نماز بھی پڑھ ڈالی ۔ صبح آٹھ بجے کے قریب ناشتہ آیا تھا۔ اسکا ناشتہ جوں کا توں پڑا رہا ۔ اسکی جیل کی ساتھئ عورت اس سے قصدا بے نیازی برتتے ہوئے ڈٹ کر ناشتہ کرتی رہی تھی۔ صبح اس نے حوالدارنی سے صاف چادر منگوا کر ایک کونے میں بچھا کر قضا فجر پڑھی پھر نفل پڑھتی رہی یہاں تک۔کے تھک کے چور ہوگئ۔ سو چادر سمیٹ کر بنچ پر آبیٹھی۔ جیل کی مخصوص وردی کے اوپر وہ اپنا دوپٹہ ابھی بھی نماز کے انداز میں ہی لپیٹے تھی۔
بے دھیانئ میں دوپٹہ سر سے اتارا تو ماتھے پر جاندی کی طرح بال بکھرتے چلے گئے۔ دوپٹہ ہٹایا تو احساس ہوا پسینے میں بھیگی ہوئی ہے
اسکو متوجہ کرنے کی نیت سے اس عورت نے دوبارہ سوال دہرایا اس بار اشارے اور زبان دونوں سے اکٹھے کام۔لیا
کھانا تو کھا لو بھوکے رہنے سے سزا کم نہیں ہوجائے گئ۔کھالو تھوڑا
کھا لو۔
اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا۔ آنسو پھر گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ اس عورت نے ہمدردی سے اسے دیکھا۔
صبح سسے اسکی بے چینی دیکھ رہی۔تھی۔جانے کیا۔تکلیف تھی اسے۔پہلے تو سوچا کھانا کھاتی رہے ۔
پھر جانے کیا سوچ کر پلیٹ ایک طرف رکھتی اسکے پاس برابر آبیٹھئ۔ اسکی تھالی جس میں چاول تھوڑی سی کمچی اور جانے کیا ملغوبہ رکھا تھا اٹھا کر اسکے سامنے رکھا بڑے پیار سے چاپ اسٹکس کا نوالہ بنایا تھوڑی سی کمچی سجائی اسکے منہ کی جانب بڑھا کر بولی ۔۔ آ۔۔ یہ اشارہ تھاکہ منہ کھولو جیسے ہم بچوں کو بہلانے کو کہتے۔
ہونٹوں سے پپی کی آواز نکال کر وہ باقائدہ چمکار رہی تھی نور کی اپنی ماں کی طرح ۔ وہ دیکھ اس عورت کو رہی تھی مگر نظر آرہی تھی اسے اسکی اپنی ماں۔
نخرے مت کرو دیکھو کتنے مزے کی کھچڑی بنائی ہیں کل بنادوں گئ بریانی ۔ چکھ کر تو دیکھو کچھ دن پرہیز کرلو گلا ٹھیک ہوجائے میری بیٹی کو میں اپنے ہاتھوں سے بریانی کھلائوں گئ۔ امی تھوڑا لاڈ سے تھوڑا سا غصہ جتاتے اسے کھانا کھلانے کی سعی کر رہی تھیں۔ اسے بخار گلا بند نزلہ زکام کیا کچھ نہ تھا نتیجتا کھانا پینا بند دوا کھاتے سو نخرے چار دن بعد آج فرمائش کی ماں سے کہ سلائس اور چائے سے تنگ آگئ ہوں تو بریانی بنا دیں اور وہ جھٹ بنا لائیں مگر کھچڑئ سو وہ منہ پھلا کر منہ تک کمبل تان کر لیٹ گئ۔
اٹھو نا نور تنگ نہیں کرو صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اب بھی شام ہونے کو آگئ دوا کھائو ٹھیک ہوجائو پھر ہر فرمائش پوری کردوں گی۔ اٹھ جائو میری اچھی بیٹی۔ انہوں نے کمبل ہٹا کر اسکے پھولے پھولے منہ کو دیکھا پھر مسکرا کر بہلانے لگیں۔ وہ بظاہر منہ بناتئ مگر درحقیقت بھوک سے بے حال ہو کر اٹھ بیٹھئ۔
مجھ سے نہیں کھائی جاتی پھیکی سیٹھی کھچڑی۔
اس نے نخرے سے کہا۔
کل بنائوں گئ نا بریانی چلو شاباش منہ میں لو۔ امی خاطر میں نہ لاتے ہوئے چمچ چاولوں سے بھر کر اسکے منہ کی۔جانب لانے لگیں۔
ماں کے چمکارنے لاڈ کرنے کچھ بھوک سے نڈھال ہونے پر سو نخروں سے وہ نوالہ منہ میں لے ہی گئ۔
شاباش بہت پیاری ہے میری بیٹی۔
اگلا نوالہ تیار تھا جملے کی مار مار میں اسے پوری پلیٹ کھلا کر دم لیا۔
جوان بیٹی کو بچوں کی طرح چمکارتی اسکی ماں۔ اسکے دل سے ہوک اٹھی۔ آج چوتھا دن تھا اس قید خانے میں اور امی کو پتہ لگا تو کیا ہوگا گھر والے کیا کریں گے اس خوف سے باہر اسے صرف اور صرف ماں یاد آئی تھی۔ ہر مصیبت ذدہ کی طرح اسکو اس وقت بس ماں یاد آرہی تھی بس ماں کسی طرح اسکے سامنے آجائے۔
اسکے لب وا ہوئے اس سے قبل کہ وہ آہجومہ چاپ اسٹکس سے اسکے منہ میں نوالہ ڈالتی وہ ایکدم جیسے ہوش میں آگئ
آندے۔ وہ اسکا ہاتھ جھٹکتی ایکدم بنچ سے اتر کر کھڑی ہوگئ۔ بے چینی اسکے چہرے سے ہویدا تھی۔
مجھے یہاں نہیں رہنا میں یہاں نہیں رہ سکتی۔ وہ زور زور سے نفی میں سر ہلارہی تھئ۔
ویئو؟۔ وہ آہجومی حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
نور پر دیوانگئ سئ چھانے لگی سلاخوں کو آکر زور زور سے جھنجھوڑنے لگی۔
مجھے نکالو یہاں سے۔میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے سنو۔
حوالدارنئ سوپ دینے آئی تو یہاں کا منظراسے مزید کوفت میں مبتلا کر گیا۔
سلاخوں کو توڑ دینے کے در پر جنونی سی ہوئی نور مستقل اس سے اپنی زبان میں مخاطب تھی ۔۔
بلائو اس ڈیٹیکٹو کو انسانوں کی پہچان نہیں اسے۔ کیا۔ کیسے لوگ ہو تم لوگ۔ میں ایسی ویسی لڑکی نظر آتی ہوں بھلا۔
اسکی آواز پھٹ رہی تھی اسکے چیخنے چلانے پر دیگر بیرک کی قیدی خواتیں بھی تجسس سے اٹھ کر اسے دیکھنے آگئ تھیں۔
کیا کہا ہے تم نے اسے۔ حوالدارنی نے تنگ سا ہو کر اس آہجومہ سے پوچھا
میں نے کچھ نہیں کہا اسے ۔وہ گڑبڑا کر نور کے بنچ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
یہ اسکی پلیٹ ہے نا دو اسے۔
حوالدارنئ جانے کیا سمجھی ۔
دیکھو میں بے گناہ ہوں۔ میرا یقین کرو۔ ہچکیوں سے روتے وہ سینے پر ہاتھ رکھے اسے یقین دلا دینا چاہتی تھی۔
آس عورت کو سوپ کی پلیٹ تھما کر اس نے نور کو کھانے کی پلیٹ تھما دینی چاہی
نہیں چاہیئے مجھے کھانا سمجھ نہیں آتی بات۔
اس نے غرا کر کھانے کی پلیٹ کو ہاتھ مارا کھانے کی۔بھری پلیٹ حوالدارنئ کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری۔ یہاں سے وہاں تک چاول پھیلتے چلے گئے۔ نہ وہ اسکی بات سمجھ رہی تھیں نا ہی مدد کر سکتی تھیں وہ وہیں بیٹھتی چلی گئ۔
اسکی شکل جاندی سے نہیں مل رہی؟
وہ عورت اسے دیکھتے ہوئے حوالدارنی کے قریب آکر بولی۔
جاندی؟ اس نے حیران ہوکر دیکھا
کو ہے سن وہی بلڈ والی جس نے بلڈ کے ہیرو سے ہی شادی کر لی ہے۔
اس کو اپنے اندازے پر تصدیق کروانی تھی سو جلدی سے تعارف کرایا۔
اوہ کو ہے سن۔ حوالدارنی نے اسے زور زور سے روتے دیکھ کر قائل ہونے والے انداز میں سر ہلایا
حرکتیں بھئ جاندی والی ہی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور نے روزہ رکھا ہوگا۔
آج پھر موسم بھیگا بھیگا سا تھا بادل چھائے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی سبک ہوا میں پیدل چلنا بھی اچھا لگ رہا تھا۔ مگر خالی خالی بھی۔ صبح وہ نور الف تینوں اکٹھے نکلا کرتے تھے۔ نور کو صبح کے وقت بہت بولنے کی عادت تھی۔ پٹاخ پٹاخ نجانے کون کون سے قصے انکے جمائیاں لیتے چہروں کو ہنس ہنس کر دیکھتے بتاتی جاتی تھی۔اس وقت اسکی کمی بے طرح محسوس ہوئی تھی۔
الف کے ہمراہ یونیورسٹی سے نکلتے ہوئے عزہ نے بہت دلگیری سے پوچھا تھا۔
پتہ نہیں۔جیل میں سحری کون کراتا ہوگا اسے۔ الف نے تاسف سے کہا۔
جیل کیسی ہوتئ ہے الف ۔ اکیلی بند ہوگئ وہ کیا؟
عزہ نے معصوم سے انداز میں پوچھا تھا مگر الف چلتے چلتے مڑ کر اسے گھورنے لگی
میں تو پیدا ہی جیسے جیل میں ہوئی تھی۔ مجھے کیا پتہ۔
الف کے چڑنے پر وہ کھسیا سی گئ۔
ہمیں ملنے جانا چاہیئے ویسے نور سے۔ اسکی عید لگتا ہے جیل میں گزرے گئ۔
اسے خیال آیا ۔ الف کچھ کہتے کہتے ہونٹ بھینچ گئ
اس نے تصور کی آنکھ سے نور کو بڑے سے اندھیرے کمرے میں سلاخوں کے پیچھےسر جھکائے کھڑا دیکھا۔ وہ اتنی اکیلی تنہا لگ رہی تھئ کہ اس نے تصور میں پکار لیا۔
اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا
سرخ آنکھیں سرخ چہرہ ماتھے پر ترتیب سے کٹے ہوئے بال۔
اسکی۔ہنسی چھوٹ گئ۔
الف نے حیران ہو کر اسے دیکھا
کیا ہوا۔
کچھ نہیں وہ میں نے تصور کیا نور کو جیل میں۔ عزہ بمشکل ہنستے ہنستے بولی
اور یہ تصور کرکے ہنسی آگئ تمہیں؟ شرم کرو۔۔ الف نے تاسف سے کہا
نہیں ۔۔ نہیں۔ عزہ نےدونوں ہاتھوں کو زور زور سے ہلا کر غلط فہمی دور کرنی چاہی
وہ اسکے جاندی اسٹائل بالوں پر ہنسی آگئ۔ جیل میں بھی وہ بکھرے بالوں کے ساتھ ہی کھڑی تھئ میرے تصور میں۔
بمشکل ہنسی روکتے اس نے بتایا
ہاں تو چار دن میں بال لمبے تھوڑئ ہو گئے ہوں گے۔
الف نے اپنی زہانت جھاڑنا ضروری سمجھا۔ عزہ گہری سانس لیکر اپنا سر ہلانے لگئ۔ سڑک پر شام سے کچھ پہلے کا وقت ہونے کے باعث رش تھا۔ ذیادہ۔تر تو یونیورسٹی فیلوز ہی تھے جو اپنی اپنی منزل کو رواں تھے۔ اپنے کام سے کام رکھتے مگن جس نے کسی ساتھی دوست کے ساتھ چلنا تھا وہ اسکے ساتھ اونچی اونچی آواز میں بولتا جائے اور ان جیسی اکیلی جانے والیاں الگ اپنا راستہ ناپ رہی تھیں۔ کسی نے نا لڑکیاں دیکھ کر سیٹی ماری نا ہی کوئی جملہ پھینکا
یار ہم کتنے سکون سے جا رہے ہیں اپنے راستے کسی نے چھیڑا تک نہیں۔ کوریا بہت سیف ۔۔۔ میرا مطلب محفوظ ہے لڑکیوں کیلئے۔
عزہ آج نور کی کمی پوری کرنا چاہ رہی۔تھئ اسکی بے تکی بات پر الف ہنس دی پھر جتانے والے انداز میں بولی
اتنا بھی سیف نہیں تم اپنے گھر سے دو گلی دور اغوا ہوتے ہوتے بچی تھیں۔
وہ تو نور نے پنگا لیا تھا اور وہ مجھے نہیں نور کو اغوا کرنے آئے تھے بتایا نہیں تھا واعظہ نے۔ ورنہ گھر میں گھس کر نور کے بال کاٹ گئے تھے۔ میں بھی وہیں تھی مجھے کچھ نہ کہا۔
عزہ زور دے کر بولی۔ الف نے ہنکارہ بھر کر رفتار بڑھا لی۔
بس اسٹاپ آگیا تھا مگر بس نہیں آئی تھی۔ اسٹاپ پر ٹھیک ٹھاک رش تھا۔بنچ فل نہیں تھا طلباء خوش گپیوں میں مگن کھڑے تھے بنچ پر بس تین لوگ بیٹھے تھے چندی آنکھوں والا لڑکا اور ایک لڑکی مگن سے آپس میں گٹ پٹ کرنے میں لگے تھے یقینا ڈیٹ چل رہی تھی۔ بنچ بیچ سے خالی تھا ان سے ہٹ کر کھنچے ہوئے نقوش کی لڑکی بیٹھی آئیسکریم کھا رہی تھی۔وہ اگر ایک طرف ہو کر بیٹھتی تو یقینا عزہ یا الف میں سے کوئی بیٹھ جاتی مگر انہوں نے بھی کھڑے رہنے کو ترجیح دی اور اسکے پاس آکھڑی ہوئیں۔ اپنے دھیان میں انہوں نے محسوس ہی نہ کیا کہ جینز اور ٹاپ پہنے اس چندی آنکھوں والی نے انکو اپنے پاس آتے دیکھ کر ٹانگیں سکیڑ کر ناپسندیدہ سی نگاہ ڈالی تھی۔ بلکہ کون آئیسکریم کھاتے چہرے پر یکا یک کڑواہٹ بھی چھا گئ تھی۔۔اس سے انجان عزہ کی اسٹاپ کے اوپر شیشے کی دیوار دیکھتے ہوئے آنکھیں چمک اٹھیں۔
یاد ہے ہم کیسے احمقوں کی طرح یہاں سے پوسٹر اکھاڑ رہے تھے اور اچانک وہ رچ مین پور وومن والا ہیرو سامنے آگیا تھا۔
عزہ کو بس اسٹاپ پر لگا وہ پرانا پوسٹر جو اب پھٹ کر آدھے سے ذیادہ اتر چکا تھا یاد آیا۔
کتنے احمق تھے ہم۔ الف ہنسی۔
بے چارے جی چھانگ ووک کی ناک پر منہو کا پائوں آرہا۔
وہ دلچسپی سے منہو کا پوسٹر دیکھ رہی تھی۔ سب ہنگل میں لکھا تھا بس کل تاریخ پڑھی جا رہی تھی۔
ہے کیا یہ اگر کوئی اشتہار ہے تو مصنوعات تو ہیں ہی نہیں بس منہو بتیسی دکھا رہا ہے۔ الف کو بھی تجسس ہوا۔
ابھی پوچھ لیتے۔ اپنے لمبے عبایا کو سمیٹتی عزہ اعتماد سے اس لڑکی کا کندھا ہلا کر پوچھنے لگی۔
معاف کیجئے گا بتادیں گی یہ کیا لکھا ہوا ہے؟۔
بچھی سا( پاگل ہوگئ ہو)؟۔لڑکی نے غرا کر اسکا ہاتھ یوں اپنے کندھے سے جھٹکا تھا جیسے ہاتھ نہ ہوا کندھے پر سانپ آدھرا ہو
ہائو ڈئیر ئو ٹچ می۔ فلدھئ بچ۔ ( تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی تم غلیظ کتیا۔ )
شستہ انگریزی میں آگے دو تین مزید گالیاں ٹھونک دی تھیں۔
عزہ ششدر سی رہ گئ اس نے ایسا کیا کردیا تھا جو وہ یوں بھڑک اٹھی تھئ۔
میں نے صرف آپ سے پوچھا یہ کیا لکھا ہے آپ گالیاں کیوں دے رہی ہیں۔ آپ انگریزئ نہیں جانتی ہیں کیا؟
الف نے سنبھل کر اسکی غلط فہمی دور کرنا چاہی۔ مگر وہ جو کوئی بھی تھی بہت اچھی طرح انگریزی جانتی تھی۔
گندے مسلمان آگئے یہاں بھی گندگی پھیلانے۔ یہاں بھی قتل و غارت کرنی تم لوگوں نے۔دفع ہو جائواپنے ملک ۔
وہ لڑکی جو بھی تھی خالص امریکی لہجے میں انگریزی بکے جا رہی تھی۔ چلا کر کہتی اس لڑکی نے ٹھیک ٹھاک تماشا لگا دیا تھا
ویئو؟ کیا ہوا۔
دیگر بس اسٹاپ پر کھڑے لڑکے لڑکیاں بھی متوجہ ہوچکے تھے۔ کوئی اس لڑکی سے پوچھ رہا تھا کوئی خود قیاس آرائی کر رہا تھا۔
یہ چورنیاں ہیں کیا؟۔ کسی نے تنفر سے ہنگل میں پوچھا
آندے دہشت گرد ہیں۔ وہ حلق کے بل چلائی۔
مسلمان دہشت گرد قوم سے ہیں یہ۔
شٹ اپ ہمیں تو جو کہہ دیا مسلمانوں کے خلاف بکواس کی تو منہ توڑ دوں گئ ۔ الف بھڑک کر اسکی۔جانب بڑھی ارادہ منہ پر طمانچہ ہی لگا دینے کا تھا۔ عزہ نے گھبرا کر اسکا بازو تھاما۔ اس لڑکی نے جوابا غصے میں ایک اور گالی بکتے آئسکریم بھی اسکی جانب اچھال دی بروقت الف نے جھکائی دی پھر بھی اسکے گال پر سے ہوتی آئیسکریم کپڑوں کو داغدار کرتئ ہوئی زمین پر جا گری۔
الف غصے سے بپھر کر اسکی جانب بڑھی عزہ نے اسکو بازو سے کھینچا
صبر سے کام لو الف۔ رمضان ہے ہمارا روزہ ہے۔
تم ۔۔۔۔ الف نے گالی منہ میں روکی تھئ۔
صبر کرو الف ہمارا روزہ ہے برداشت سے کرو۔
عزہ کے الفاظ تھے کہ جیسے اس پر کسی نے ٹھنڈا ٹھار پانی گرا دیا ہو۔ روزہ صرف بھوک کا تو نہیں ہوتا روزہ اپنے آپ پر قابو رکھنے غصہ برداشت کرنے اور صبر کرنے کا نام ہے۔
وہ لڑکی اس کو ٹھٹک کر رکنے پر شہہ پا کر مزید اسے چڑانے کو بکتی چلی گئ۔ ایک بار بس سوچا کہ صبر کرنا ہے غصے پر قابو پانے کیلئے نجانے کہاں سے ہمت در آئی۔
بس آگئ تھئ۔ وہ بکتی جھکتی بس میں سوار ہوئی آدھے سے ذیادہ تماشائی بھی چھٹ گئے کچھ ہمدردی کچھ حیرت سے ان دونوں کو خاموشی سے سب سہتا دیکھ رہے تھے۔ ایک لڑکے نے جیب سے رومال نکال کر اسکی۔جانب بڑھایا۔
یہ لو اس سے صاف کرلو۔
وہ دونوں ضبط کی انتہا پر چپ سی کھڑی تھیں۔
میکانیکی انداز میں عزہ نے رومال تھاما تو وہ لڑکا جلدی سے بس میں چڑھ گیا یقینا اسے دیر ہو رہی۔تھی۔
عزہ نے الف کا گال پونچھا ۔ اسکی اپنی آنکھیں بھی اتنی بے عزتی پر بھر آئی تھیں۔
بنچ پر بیٹھے جوڑے نے بھی یہ بس پکڑنی تھی مگر دونوں ہی بس کی جانب بڑھے ہی نہیں۔ لڑکی نے ان کے قریب آکر جھک کر سلام کیا۔
میں معزرت خواہ ہوں ابھی جو بھی ہوا اچھا نہیں ہوا۔
وہ لڑکی دوستانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہہ رہی تھی۔
آگے بڑھ کر اشتہار پر انگلی رکھ کر بتانے لگی۔
آپ اس اشتہار کی بابت جاننا چاہ رہی تھیں۔ یہ لی منہو کی فین میٹنگ کا اشتہار ہے کل ایکوا مال میں منعقد ہوگی ملٹری جانے سے قبل یہ آخری میٹنگ ہوگی اسکی۔ یہ لکھا ہوا ہے۔
وہ دونوں اس وقت کچھ بھی سننے سمجھنے کی حالت میں نہیں تھیں۔ پھر بھی اسکے سرجھکا کے شکریہ ادا کردیا۔
آننیانگ۔ وہ دونوں مسکراتے جھک کر کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اور سیہون پولیس اسٹیشن آئے ہوئے تھے۔ دو درجن جگہوں پر دستخط کروا کر نجانے کیا کیا تفصیلات لیکر انکی جان بخشی ہوئی۔اب وہ اپنے فلیٹ جا سکتی تھی۔ طوبی اور دلاور کو بس ایک مرتبہ پولیس اسٹیشن کی زیارت کرنی تھی ایک ہفتے کے اندر۔ معاملہ نمٹنے پر اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔اب اسے یقینا یہ خوشخبری لڑکیوں کو سنانی تھی وہ جان چھٹنے والے انداز میں جانے کو اٹھی تھی تب ہی سیہون اسے دستاویزات کی فائل تھماتا انتظار کرنے کو کہہ کربیت الخلا چلا گیا تھا۔ وہ پولیس اسٹیشن کے ماحول سے جانے کیوں گھبراہٹ سی محسوس کر رہی تھی۔ سو جھٹ باہر نکل آئی۔ فائل کافی بھاری سی تھی اندرخاکی لفافے میں سیہون کے گھر کی اصل دستاویزات اور اس پورے کیس کے ضمانتی کاغذات کی نقل تھی۔ اس نے ایک نظر ڈال کر لفافہ بند کر دیا فائل میں بھی نقول موجود تھیں سب سے اوپر جو کاغذ تھا اس پر لکھے عنوان نے اسے متوجہ کیا اس نے کھول کر پڑھنا شروع کیا
کم جونگ وون کی ضمانتی درخواست تھی جس کے مطابق وہ فلیٹ کی مالکہ کے سب اعمال و نقل و حمل کا ذمہ دار تھا۔اس نے گہری سانس لیکر فائل بند کر دی۔
توبہ اتنے لوگ ایک تو مرد ہونا عذاب ہے کہیں کوئی خلوت (پرائیویسی) نصیب نہیں۔ بارہ لوگوں کی ایک چوہے کے بل جیسی تنگ جگہ میں فراغت کی جگہ بنائی ۔ کوئی حد ہے۔ آننیانگ ایسے کر رہے تھے جیسے پارٹی میں آئے ہیں۔ اوپر سے اتنا گھور گھور کے وہ کمینہ دیکھ رہا مجھے جیسے
سیہون بڑبڑاتا ہوا آیا ۔ وہ چلتے چلتے ذیلی سڑک تک آگئ تھی۔ وہ پھولی سانسوں کے ساتھ بھاگتا آیا اور آتے ہی شروع ہوگیا۔
باس۔ واعظہ نے چڑ کر ٹوکا اسے۔ مجھے مت بتائو۔
وہ فائل سمیت ہاتھ جوڑتی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ اسے چڑتے دیکھ کر سیہون کو لطف آیا ۔
کیا نہ بتائوں یہ کہ وہ لڑکا مجھے گھور ۔۔ سہون نے شرارت سے کہنا چاہا اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی فائل اسکے سر پر۔بج اٹھی تھئ۔
سی ۔۔ اس نے تڑپ کر سہلایا سر اور گھورنے لگا۔
تم جلتی ہو مجھ سے۔تمہیں لفٹ جو نہیں کراتا ۔ ویسے میری تو چلی گئ اب جگہ خالی ہے۔ اس نے شرارت سے آنکھ ماری۔ واعظہ اسکے اس بکواسی موڈ کو خوب پہچانتی تھی۔ بنا سر پیر ہانکے جانا۔ سو ناک کی سیدھ میں دیکھتی قدم اٹھاتی رہی۔ اسے بے نیاز دیکھ کر وہ پھر چھیڑنے لگا۔
اتنا ہینڈسم ہوں کہ لڑکے بھی مرنے لگتے مجھ پر۔ تم نے کبھی مجھے غور سے دیکھا ہی۔نہیں ہے۔
وہ فرضی کالر جھاڑ رہا تھا۔اسکے کہنے پر وہ واقعی رک کر اسے غور سے دیکھنے لگی تھی۔ سیہون اسکے انداز پر خجل سا ہوگیا
گومو وویو۔ وہ سنجیدگی سے اسے فائل تھماتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ پچھلے چھے سالوں میں میں نے شائد بس ایک یہی ڈھنگ کا کام۔کیا ہے کہ تم جیسا پرخلوص دوست بنایا۔ جونگ وون سے رابطہ کرنے پر تم پر کافی غصہ ہوئی کچھ ذیادہ کہہ بھی گئ اسکے لیئے معزرت۔
اسکے سنجیدہ سے انداز پر سیہون کی مسکراہٹ بھی سمٹ گئ۔
میں خفا نہیں ہوں واعظہ۔ اور یقین کرو میں نے آخری آپشن رکھا تھا کہ جونگیا سے رابطہ کروں۔ اور کوئی چارہ نہ تھا اسکے بابا اسپیشل برانچ میں منتظم نہ ہوتے تو کبھی بھی اس سے رابطہ نہ کرتا۔ انکی وجہ سے ہی یہ خون کی رپورٹ دو دن میں آگئ ورنہ تو۔
کرم۔ ( بہرحال) واعظہ نے دانستہ ہلکا پھلکا انداز اپنایا۔
آج میں ان سب کو گھر لے جائوں گی تم ہماری وجہ سے کافی بے آرام رہے۔
اب یہ تکلفات رہنے ہی دو تم ۔ سیہون کا انداز ڈانٹنے والا ہوچلا تھا۔
اب اگلا ٹاسک کیا ہے تمہارا وہ جو روم میٹ تمہاری جیل میں ہے اسکو چھڑوانا؟ کہو تو اسکے لیئے بھی بات کروں جونگیا سے؟
وہ روانی میں اسکو پھر چھیڑ گیا تھا۔
واعظہ ہونٹ بھینچ کر دوسری جانب دیکھنے لگی۔
اگر وہ گروہ کے دوسرے ارکان نہیں پکڑے جاتے اور وہ کمینہ اپنے بیان پر قائم رہا کہ نور اسکے گروہ کی رکن ہے تو ؟؟؟
وہ اس کو ڈرا نہیں رہا تھا ہاں کچھ باتیں باور کرانا چاہ رہا تھا جن سے اس نے نگاہ چرائی تھئ۔ اور ابھی بھی دانستہ نگاہ چرائے سامنے سڑک کے اس پار گہما گہمی کو دیکھ رہی تھی۔
تو۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔
تو یہ کہ پھر مقدمہ درج ہوگا باقائدہ کیس چلے گا پیسہ لگے گا وکیل لینا پڑے گا نئے سرے سے تفتیش ہوگی اور تم جو اسکی نام نہاد سرپرست بنی ہوئی ہو کہاں سے انتظام کروگی۔
سیہون اسکے انداز پر بری طرح چڑ گیا۔ چیخ ہی پڑا۔
یہ پرائے پھڈوں میں ٹانگ اڑانے کا شوق کیا ہے تمہیں؟ تفریح چاہییے زندگی میں؟ بیزارکن ہے؟ اس طرح کچھ لطف اٹھا لیتی ہو دوسروں کے مسلئے سلجھا کے؟ اپنا کوئی مسلئہ نہیں زندگی میں تو چلو دوسروں کے سہی۔
ہاں ایسا ہی ہے ۔ پھر؟ اب نہیں ہے میری زندگی میں کوئی تھرل تواگر میں شامل کر بھی لوں تو تمہیں کیا ؟
جوابا وہ بھی تپ گئ تھی۔
سڑک کنارے وہ دونوں کھڑے چلا چلا کر لڑتے آتے جاتے لوگوں کی توجہ کا باعث بن رہے تھے مگر کسی کے پاس اتنا فالتو وقت نہیں تھا کہ کھڑا ہو کر دیکھے انکی لڑائی کا انجام سوائے سڑک کے دوسری جانب پارک ہوئی اس بڑی سی کالی گاڑی کے جس کے شیشے بھی کالے تھے اور ڈرائیور نے اسکے متوجہ ہونے کا خوف لاحق ہوتے ہی ابھی ابھی اوپر کیئے تھے۔
اتنا شوق ہے نا بیٹیاں پالنے کا تو لیگلی ایڈاپٹ کرلو اس لڑکی کو۔ ورنہ تو کوئی صورت نہیں ۔اسکی مدد کرنے کی۔ تم دو سے تین چکر لگائوگی اس سے ملنے کے ۔۔۔پھرتم بھئ شامل تفتیش ہو جائوگی۔
اسکی بات پر واعظہ کچھ کہتے کہتے ایکدم چپ ہوئی۔ہونٹ بھینچ کر سر جھکا لیا۔ جوتے کی نوک سے زمین کو بے وجہ کریدنےلگی تھئ۔ وہ بھی اسکو دیکھ کر ٹھنڈا پڑا۔
۔ تم اسکے والدین سے کیوں نہیں کہتیں وہ کیوں نہیں آتے یہاں یا کسی سے کہہ سن کر معاملہ سنبھالتے۔
تم نہیں جانتے پاکستانی والدین کو۔ انکو اگر پتہ لگا کہ انکی بیٹی جیل میں ہے تو وہ وہ جیتے جی مر جائیں گے۔ ہمارے دقیانوسی معاشرے میں جیل جانا بہت معیوب بات ہے وہ بھی لڑکی کا۔ اسکا کیس چلے تو شائد کہیں کوئی راہ نکل آئے بچ جائے وہ تعلیم مکمل کرلےلیکن اسکے والدین کو پتہ لگا تو ۔ وہ پہلی فرصت میں نور کی پڑھائی بندکروا دیں گے۔ اسکو ہر قیمت پر واپس لے جائیں گے۔
واعظہ کی بات اس نے بہت غور سے سنی۔
ہمارے یہاں تو بچے پیدا ہی جیل میں ہوتے ہیں۔ سیہون آرام سے بولا۔ واعظہ نے سخت چڑ کر گھورا تو وہ رسان سے کہنے لگا
جیل جانا کسی معاشرے میں رواج نہیں ہوتا سب برا ہی سمجھتے۔ احمق۔
اس نے بات جاری رکھی۔
جتنے بھی سخت گیر ہوں ہے تو انکی بیٹی وہ سب اثاثے لگا کر ہر طریقہ آزما کر اسے بچانا چاہیں گے اور ایسا انہیں ہی کرنا چاہیئے کیونکہ وہ انکی بیٹی ہے انکے سوا کسی اور کا کوئی فرض نہیں بنتا۔دوسری بات۔ تمہیں لگتا کے ڈراموں میں جو سولہ اقساط میں کیس چل کر ختم ہوتا ایسا سادہ او رآسان طریقہ ہے کوریا میں انصاف پانے کا؟ ہزاروں کیسز ہیں جن کی شنوائی کی باری نہیں آتی سالوں۔ اوپر سے یہ اتنا حساس معاملہ ہے یہ بہت لمبا چلے گا۔ تم کب اور کہاں تک اسکا ساتھ دے پائو گئ؟ اور پڑھائی چھٹ جانااور پاکستان چلا جانا
لاکھ درجے بہتر ہوگا اسکے لیئے بہ نسبت یہاں جیل میں سڑنے کے۔
اتنے دنوں میں پہلئ بار تھا کہ واعظہ نے چپ۔ہو کر سنی تھی اسکی بات۔ وہ بھئ مزید اسکی سماعتوں کو زحمت دینے کی بجائے اسے سوچنے کا موقع دینا چاہتا تھا
یہ سب واقعی نہیں سوچا تھا اس نے۔لیکن کوریا کا لڑکا پاکستان کی لڑکی کا مسلئہ کیسے سمجھ سکتا ہے۔
اسے نور کی آنسو بھری آنکھیں اور منت بھرا لہجہ یاد آیا
پلیز میرے گھر والوں کو خبر نہ ہونے دینا اس معاملے کی۔
وہ سرجھٹک کر بولی تو صرف اتنا۔
شکریہ۔
جانے وہ سچ مچ قائل ہوئی تھی یا اس سے جان چھڑانے کو کہہ رہی تھی وہ قصدا دو قدم آگے ہوا۔ فائل سنبھال کر سڑک کنارے دور سے آتی ٹیکسی کو ہاتھ دینے لگا۔ ٹیکسی نے رفتار دھیمی کی تو کن انکھیوں سے اسے دیکھ کر منہ بنا کر بولا۔
اتنی اکڑی گردن کے ساتھ شکریہ بھی ایسے کہتی ہو کہ جیسے سر پر آینٹ اٹھا کر مار رہی ہو۔
وہ ڈرامے باز اب حقیقتا اپنی کنپٹی سہلا رہا تھا۔
آہ سر دکھنے لگا ہے تمہارے تکلفات سے۔۔
اسکا انداز اتنا مسخرانہ ہو چلا تھا کہ وہ ہنس ہی پڑی۔
کدھر جانا ہے۔ ٹیکسی کا دروازہ اسکے بیٹھنے کیلئے کھول کر وہ پوچھ رہا تھا
پاکستانی ایمبیسی۔ ۔ اس نے کہتے ساتھ ہونٹ بھینچ لیئے تھے۔
وہ دروازہ بند کرتے کرتے رک گیا
میں بھی چلوں؟ اس نے پوچھا تو واعظہ جواب دینے کہ۔بجائے نشست پر آگے کھسک گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔۔۔۔ جاری ہے

Desi Kimchi Episode 20

قسط 20
دھیرے سے دروازہ کھٹکا کر اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی تھی مگر جواب ندارد تھا۔ اس نے پھر دستک دے کر ذرا سی دروازے کی درز سے جھانکا تو ہے جن مسہری پر سر جھکائے بیٹھا تھا دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے کسی گہری سوچ میں گم۔
اس نے شاپنگ بیگ سنبھالتے ہوئے اسکے قریب جا کر ہائو کیا۔ وہ نہ ڈرا نہ چونکا جوں کا توں بیٹھا رہا الٹا منہ پھیر کر جلدی سے آنکھیں صاف کرنے لگا۔ وہ بیگز بیڈ پر پھینک کر اسکے پاس ہی بیٹھ گئ۔ پیار سے اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیکر اپنی جانب کیا تو اسکی آنکھیں سرخ ہو کر سوجی ہوئی تھیں۔ یقینا ابھی اس نے اپنے آنسو صاف کیئے تھے۔ سرخ ہوتا چہرہ وہ پریشان سی ہو اٹھی
کیا ہوا خیریت تو ہے ہے جن؟
اسکے اتنا سا پوچھنے کی دیر تھی وہ اس سے لپٹ کر رو پڑا۔
کیا ہوا ہے جن بتائو تو سہی۔ اسکی پشت تھپکتے اس کو پرسکون کرنے کی سعی کرتے ہوئے واعظہ پوچھ رہی تھی۔
نونا میں بہت برا ہوں میں بہت گناہگار ہوگیا ہوں۔ اللہ کا بھی اور بدھا کا بھی۔ میرا کرما میرے سامنے آئے گا تو کیسے سہہ پائوں گا؟
وہ بلکے جا رہا تھا۔ واعظہ چپ سی ہو گئ۔ کئی لمحوں کے بعد اسکی ہچکیاں تھمی تھیں۔ آنسو پونچھتا وہ سیدھا ہو بیٹھا پھر شرمندہ سے انداز میں کہنے لگا
پریشان کردیا نا آپکو بھی نونا۔
اسکی گلابی رنگت سرخ ہو رہی تھی ۔ سرخ ناک سرخ سی آنکھیں وہ بالکل معصوم چھوٹا سا بچہ لگ رہا تھا۔
مجھے دل سے نونا سمجھتے ہو نا؟ اس نے ہے جن کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔
دے۔ اس نے معصومیت سے سر ہلایا۔
بتائو پھر کیا ہوا؟ کیوں پریشان ہو۔ اس نے بہت پیار سے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا جوابا وہ سر جھکا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے طوبی نے فون کرکے بلایا تھا۔ اسے لائونج میں بٹھا کر خود وہ اندر کچھ لینے چلی گئ تھئ۔ بچے ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہے تھے۔ اسکا بیٹا کشن کے سہارے بیٹھا تھا جھنجھنے سے کھیل رہا تھا جب ایکدم سے مڑنے سے منہ کے بل کارپٹ پر آیا۔ چوٹ تو نہیں لگی تھی مگر جانے کیوں خوب زور سے رونے لگا۔
اس نے آگے بڑھ کر اٹھایا اسے بہلانا چاہا مگر وہ چپ ہی نہیں ہو رہا تھا وہ اسے لائونج سے ملحق لیکر بالکونی میں لے آیا۔ تھپکنے اور باہر کی فضا میں آکر وہ چپ ہو ہی گیا۔ وہ یونہی اسے تھپکتے بالکونی سے جھانکنے لگا تبھی اسکی نگاہ نیچے سے گزرتے چھوٹے سے جلوس پر پڑی دس پندرہ بدھ متی پنڈت گیرواں چولے جیسا لباس پہنے گلے میں مالائیں لٹکائے مخصوص الاپ الاپتے گزر رہے تھے۔ لوگ ان سے دعائیں لیتے کچھ ساتھ ہو جاتے کچھ ہدیہ دیتے آگے بڑھ جاتے۔
ہے جن ۔ طوبی اسے لائونج میں سے پکار رہی تھی۔
دے۔ وہ جلدی سے پلٹا۔ طوبی اسکیلئے کچھ شاپر میں لیئے کھڑی تھئ۔
اسے بٹھائو صوفے پر اور جلدی سے مجھے یہ پہن کر دکھائو ویسے تو سب ناپ واپ کر سیا ہے پھر بھی کوئی کمی بیشی ہو تو مجھے بتائو میں ٹھیک کر دوں۔
وہ خوشی سے کافی پرجوش تھی۔ اس نے احتیاط سے اسکے بیٹے کو صوفے پر بٹھایا اور طوبی کے ہاتھ سے شاپر لیکر دیکھنے لگا۔
طوبی نے اپنے ہاتھوں سے اسکے لیئے سفید کرتا پاجامہ سیا تھا جسکے گلے پر کوریائی طرز کے ہنبق پر جو پھول پتیاں بنی ہوتئ ہیں انکو سرمئی اور کالے دھاگوں سے کاڑھا تھا۔کڑھائی کی خوبصورت اور صاف بنت ماہر کاریگری اور کوریائی اور پاکستانی طرز ثقافت کا خوبصورت ملاپ وہ کرتا جدید انداز کا صفائی سے سلا تھا۔ کھڑا پاجامہ پینٹ کی طرز کا سلا تھا۔ اتنا خوبصورت لباس اسکے چہرے پر اشتیاق کے رنگ پھیلتے دیکھ کر طوبی کو لگا اسکی محنت وصول ہوگئ۔
وہ اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہا تھا
یہ تمہاراعید کا لباس ہے میری جانب سے تحفہ میرے منے بھائی کیلئے ۔ تم اسکو پہن کر ہی عید کی نماز پڑھنا۔ سمجھے۔ اسکی بات پر ہےجن کا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔
طوبی کا۔دھیان اس پر نہیں تھا
جائو جلدی سے پہن کر دکھائو مجھے بسم اللہ پڑھ کر پہننا آج جمعتہ الوداع ہے۔ بہترین دن ہے۔ جائو جلدی۔ اس نے اسے کمرے کی جانب دھکیلا تھاپھر صدق دل سے دعا کی۔
اللہ میرے بھائی کو دین پر استقامت سے چلنے کی توفیق عطا کرے آمین۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نونا آپکو بتایا تھا نا میں نے میں تارک الدنیا بننا چاہتا ہوں۔ میں واقعی بننا چاہتا ہوں مگر بجائے میں دنیا سے منہ موڑتا میں روزے رکھ رہا ہوں طوبی آپی کو لگتا میں انکے دین پر آتا جا رہا ہوں۔ نماز روزے کی جانب راغب ہوں وہ سمجھتی ہیں میں پورک کو چھوتا بھی نہیں مگر نونا پورک میرا پسندیدہ کھانا ہے۔۔
ہے جن بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اپنے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر سر جھٹکتا وہ بے حد پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ واعظہ اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔
طوبی نونا مجھے دین کی باتیں بتاتی ہیں میں ان سے جھوٹ کہہ دیتا کہ میں نے پورک کھانا چھوڑ دیا مگر نونا میں نہیں چھوڑ سکتا۔ میں آپ لوگوں کی طرح لمبی لمبی پانچ دفعہ نمازیں نہیں پڑھ سکتا میں ایک دو روزے شغل میں رکھ سکتا ہوں مگر یہ دیکھیں۔ اس نے آگے بڑھ کر بیڈ سے شاپر اٹھایا۔ اس میں سے کرتا پاجامہ نکال کر اسے دکھایا۔
طوبی نونا نے میرے لیئے خود عید کا کرتا کاڑھا ہے۔ وہ چاہتی ہیں میں یہ کرتا پہن کر عید کی۔نماز پڑھوں۔میں یہ پہن سکتا ہوں عید میں آپ سب کے ساتھ شریک ہو سکتا ہوں مگر۔۔
اس نے لحظہ بھر کا توقف لیا پھر جیسے تھک کر بولا۔
مگرمیں عید کے دن نماز نہیں پڑھ سکتا مجھے قرآن کی کہانیاں دلچسپ لگتی ہیں مگر میں انکو رٹ نہیں سکتا۔میں نے قل آیت الکرسی یاد کی ہیں میں درود پڑھتا ہوں مگر میں ہمیشہ انکو پڑھتا ہوں تو میرے دل پر بوجھ آگرتا ہے۔ مجھے آپ لوگوں کا اللہ ٹھیک لگتا ہے مگر مجھے اپنے بدھا سے بھی محبت ہے۔ میں نہ بدھا کا رہا ہوں نا اللہ کا ہو سکا ہوں۔ مجھے لگتا میری اپنی ماں مجھے شاکی نظروں سے دیکھتی ہے جب طوبی آپی میرے لاڈ اٹھاتی ہیں۔میری ماں مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی اگر اسے پتہ لگا کہ میں یہاں مسلمان بن رہا ہوں۔
نونا میں مسجد جاتا ہوں سب جیسے ورزش کرتے میں اسکی نقل کرتا ہوں ۔دلاور بھائی روز مجھے اپنے ساتھ وضو کرواتے رہے مجھے نماز سکھاتے رہے مگر نونا مجھے یاد نہیں ہوتی عربی۔۔ بہت مشکل زبان ہے مجھ سے تلفظ بھی صحیح ادا نہیں ہوتا نونا۔ میں نبی ص کے بارے میں کتابیں پڑھتا رہا وہ بھئ اچھے انسان تھے لیکن مجھے بدھا بھی اچھے لگتے ہیں۔
بے چارگی سے کہتے وہ واعظہ کے سامنے گھٹنے کے بل آبیٹھا۔
نونا میں نے کچھ بھی کسی کو دھوکا دینے کی نیت سے نہیں کیا۔ مجھے پتہ ہے طوبی آپی مجھے عزہ نونا کا بھائی سمجھتی ہیں اسلیئے وہ مجھے بھی مسلمان بنانا چاہتی ہیں مگر نونا سچ تو یہ نہیں نا۔ میں رمضان میں جھوٹ بولتا رہا روزہ رکھتا رہا مگر پورک بھی کھاتا رہا۔ عزہ نونا اس دن پورک کھا کر اتنا روئیں کہ انکو لگا ان سے کوئی بڑا گناہ سرزد ہوگیا آپکے مذہب میں پورک اتنا برا سمجھا جاتا ہے اور میں آپکے اللہ کا روزہ رکھتا رہا اور پورک بھی کھاتا رہا وہ تو مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ نونا۔۔ نونا مجھے لگ رہا ۔۔
وہ ایکدم متوحش سا ہوگیا۔
میں۔ وہ گھبرا کر اٹھنے لگا تو واعظہ نے اسکو دونوں کندھوں سے تھام کر روکا پھر خود بھی بستر سے اتر کر اسکے سامنے دوزانو ہو بیٹھی۔ دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کر اسی کے بائیں پہلو پر رکھ کر بولی
اپنی دھڑکنوں کو محسوس کرو اور غور سے سن کر مجھے جواب دینا۔۔
وہ یونہی اسے خالی نگاہوں سے دیکھتا رہا ۔ وہ چند لمحے بغور اسے دیکھتی رہی۔
تم مسلمان ہو؟
نہیں۔ اس نے بلا توقف جواب دیا۔
تم بدھ متی ہو۔۔
وہ اتنا برملا انکار نا کر سکا ۔ سر جھکا لیا۔
ہاں۔ اس نے کچھ توقف سے جواب دیا۔
بدھا کیسے تھے ؟ معاف کرنے والے پیار کا درس دینے والے سچے ہمم؟
وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔
اس نے حیران ہو کر سر اٹھایا۔
بڈھسٹوں کے ساتھ تعلیم حاصل کی ہے اتنی انجان نہیں تمہارے مذہب سے۔۔
وہ محظوظ سے انداز میں مسکرائی۔
ہاں وہ ایسے ہی تھے۔ مگر وہ کہتے کہ اگر کوئی برائی کروگے تو ضرور اسکا بدلہ پائو گے۔
وہ۔خوفزدہ تھا۔
اچھا۔ تو تم نے کیا برائی کی ؟ کسی دوسرے مزہب پر گئے کسی لڑکی کے منہ بولے بھائی بنے کسی کا دل نہ توڑنے کی نیت سے اسکے مذہب کئ کچھ روایتوں کی پیروی کی تو اسکا بدلہ تمہیں کیا ملے گا کوئی تمہارا منہ بولا بھائی بن کر تمہارا دل نہ ٹوٹے یہ سوچ کر تمہارے ساتھ بدھ متی روایتوں کی پاسداری کرے گا؟
وہ بہت نرم سے انداز سے پوچھ رہی تھی۔
وہ جوابا کچھ بولا نہیں۔
بدھا اگر برے عمل کا برا نتیجہ ملے گا ایسا کہتے تو تم نے تو اچھا عمل بھی کیا کسی کے پیار کا پیار سے جواب دیا کسی۔
وہ مزید بھی کچھ کہہ رہی تھی مگر اندرونی کسی خلفشار سے گھبرا کر وہ اسکی بات کاٹ گیا۔۔
اور اللہ؟؟ وہ وہ مجھے معاف کردے گا۔
واعظہ اسکی بے تابی پر مسکرا دی۔
کم از کم اللہ کے بارے میں میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں۔ وہ تم سے خفا نہیں۔ وہ جس سے خفا ہوتا اسکو بھی نہیں چھوڑتا ۔ اللہ تو پیار ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ ستر مائوں سے ذیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ وہ غلطی کی سزا فورا نہیں دیتا ہاں عمل کا ثواب فورا دے ڈالتا۔ وہ نیتوں کا حال جانتا تمہارا ہر عمل اس سے چھپا نہیں۔ تم مسلمان نہیں ہوئے مگر مسلمانوں کے ساتھ رہے انکے عقیدے کا احترام کیا انکے ساتھ روزہ رکھا جہاں تک ہو سکا پیروی کی۔کتنے مسلمان ہیں جو روزہ نہیں رکھتے نماز نہیں پڑھتے تم مسلمان نہیں بھی ہو پھربھی اسکے احکامات کی پیروی کی کوشش کرتے ہو۔ ہو سکتا ہے تمہیں اتنا کچھ کرنے کا دل چاہا ہی اسی لیئے کہ اللہ کو تمہاری کوئی ادا پسند آگئ۔ اس نے چاہا کہ تم جانو اسکے بارے میں اسکے پیارے نبی ص کے بارے میں۔
مگر۔ وہ ابھی بھی بے چین تھا۔ مگر واعظہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا
اگر تمہارے دل پر ابھی بھی بوجھ ہے۔ تو سنو اللہ تمہاری نیت شروع سے جانتا تھا تم مسلمان ہو ہی نہیں تو تم نماز پڑھو نہ پڑھو اس سے اسکو کوئی غرض نہیں۔ تم دل سے نماز نہیں پڑھتے تھے تو بدھا تم سے کیوں خفا ہونگے تم مسلمان ہو تو نہیں گئے نا؟ تم واحد جس کے گناہ گار ہو جس سے تم نے جھوٹ بولا اسکے بارے میں تم نے سوچا ہی نہیں۔
وہ نرم سے انداز میں جتا کر بولی۔
کون ۔۔۔۔۔۔ اس نے چونک کر واعظہ کی شکل دیکھی
طوبی۔۔ اس نے کہہ کر توقف لیا
تم نے اسے کہا کہ تم عزہ کے بھائی ہو اور پھر ہم سب نے اس سے سچائی چھپائی اس جھوٹ میں ہم سب شریک ہوتے گئے تم تو چھوٹے تھے ہمیں سمجھداری سے کام لینا چاہیئے تھا۔اور ہماری اس غلطی کی وجہ سے تمہیں اتنا کچھ کرنا اور سہنا پڑا۔ ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ تمہارے حوالے سے جھوٹ بولنے کی وجہ سے تمہیں جو اتنا کچھ سہنا پڑا اسکے لیئے ہمیں معاف کردو ۔۔۔میں ہم سب کی۔جانب سے تم معافی مانگتی ہوں۔ واعظہ کی آنکھیں بھرسی گئیں ہے جن نے تڑپ کر اسے گلے لگا لیا
آندے نونا ایسا مت کہیں۔۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا میں خود جا کر طوبی نونا سے معافی مانگوں گا۔
ٹھیک ہے اب یہ رونا دھونا بند کرو ۔ واعظہ نے اسے پیار سے چمکارا۔
یہ کرتا ضرور پہننا عید کے دن اسے پہننے میں حرج نہیں ۔ طوبئ نے بہت پیار سے بنایا ہوگا تمہارے لیئے۔ واعظہ اسے سمجھا نے والے انداز میں کہہ رہی تھی اس نے آنکھیں پونچھ کر سر ہلایا تبھی اسکی نگاہ واعظہ کے لائے شاپنگ بیگ پر پڑی۔ واعظہ توصیفی نگاہ سے کرتا پاجامہ دیکھتے ہوئے اسے احتیاط سے تہہ کرنے لگی۔
یہ کیا ہے۔ ہے جن نے پوچھا تو وہ چونکی ۔۔
یہ ۔ وہ مسکرا دی
تمہارے لیئے عید کا تحفہ لائی تھی۔ ہم سب عید پر خوب اچھی طرح تیار ہوتے ہیں تو تمہارے لیئے مجھے ۔۔
ہے جن نے اسکا جملہ سنتے ہی جھٹ شاپر کھول لیا تو وہ چپ کر گئ۔
سی گرین بے حد خوبصورت پلین ڈریس شرٹ تھی ساتھ میچنگ کیمل کلر کا کاٹن ٹرائوزر۔ اسکو بے حد پسند آئی۔۔
بہت اچھی ہے نونا۔ کھمسامنیدہ۔ میں اسکو چیک کرتا ہوں
وہ بچوں کی طرح خوش ہوتا ہوا باتھ روم بھاگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سحری میں وہ سب بیدار تھیں۔ آج جانے سورج کہاں سے نکلا تھا کہ واعظہ سب کیلئے پراٹھے بنانے کھڑی ہوگئ۔ عروج چیز آملیٹ تیار کر رہی تھی فاطمہ چائے بنا رہی تھی۔ عزہ نے جلدی جلدی لسی بنانے کی تیاری شروع کردی تھی۔ الف اور عشنا میز پر سر رکھے اونگھ رہی تھیں۔
ہے جن کو تو اٹھایا ہی نہیں جائو عزہ اسے تو اٹھا دو۔
بندیاں گنتے ہوئے عروج کو ہی خیال آیا۔
میں لسی بنا رہئ۔عزہ نے فٹ انکار کیا۔
عشنا مارے باندھے سستی سے دوپٹہ کندھے پر برابر کرتی اٹھنے لگی
رہنے دو اسے رات کو دیر سے سویا ہے سونے دو۔ آخری پراٹھا اتار کر چولہا بند کرتے ہوئے واعظہ نے منع کردیا۔
ہو سکتا ہے آج آخری روزہ ہو وہ جاگ کر شکوہ کرے گا اٹھا دو۔
عزہ نے اعتراض کیا تو واعظہ نے قصدا تھوڑا سا سخت انداز میں کہا
تو کونسا وہ مسلمان ہے اسکا روزہ رکھنا نہ رکھنا برابر ہے ایویں اس بے چارے کو فاقہ کرواتے ہیں اپنے ساتھ۔ کم از کم۔
اسکی بات ادھوری تھئ کہ دروازہ کھول کر ہےجن جمائی لیتا ہوا باہر آگیا۔وہ چپ ہوگئ۔ عزہ نے جتانے والے انداز میں دیکھا اسے۔
آپ لوگوں نے اٹھایا ہی نہیں مجھے سحری کا وقت ختم تو نہیں ہوگیا؟ وہ پوچھ رہا تھا۔
واعظہ بس ایک نظر دیکھ کر پلٹ گئ ۔ پراٹھوں والا ہاٹ پاٹ یونہی کھول کر دیکھا پھر بند کر دیا۔
کیا ہوا پراٹھے کم ہیں ؟ آٹا تو ہے لائو میں بنا دیتی ہوں۔
اسکے ماتھے پر تفکر کی لکیر دیکھ کر فاطمہ یہی سمجھی کہ شائد کم پڑ گئے۔
آں۔ وہ چونکی۔ نہیں میں ذیادہ ہی بنا گئ ہوں ۔ چلو ناشتہ کریں۔
واعظہ نے فورا سنبھل کر جواب دیا اور ہاٹ پاٹ اٹھا لیا۔
ہمارا بھائی کتنے روزے رکھ چکا۔ آملیٹ لا کر میز پر رکھتے ہوئے عروج نے اسکو شرارتا کہنی مار کر پوچھا
12۔ اس نے اطمینان سے جواب دیا ان سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
تو تم جو سارا سارا دن غائب رہتے تھے تو کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے؟ عزہ کو تشویش ہوئی۔اس کے سامنے بھر کر لسی کا گلاس رکھ دیا۔
اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ وہ سب اسکے جزبے سے شدید متاثر دکھائی دینے لگیں۔
ایک کلمے کی دیر ہی رہ گئ روزے تو رکھنے لگا ہی ہے یہ اسکو پکا مسلمان بنا دیں گے ہم۔ الف متاثر ہوئی تھی۔
خود پکے مسلمان ہم بنیں نہ بنیں دوسروں کی خوب فکر رہتی ہے ہمیں۔ واعظہ بڑ بڑائی۔ فاطمہ چونکہ پاس ہی کھڑی تھئ سو صرف وہی سن پائی۔ اسے واعظہ الجھی الجھی سی لگ رہی تھئ۔
ہےجن جو لسی کا گلاس اٹھا کر منہ سے لگانے لگا تھا جانے کیوں رک سا گیا۔
فاطمہ ناشتے کا سامان لا کر میز پر رکھنے لگی۔
واعظہ نے میز پر ہاٹ پاٹ رکھتے ہوئے جان کراردو میں بولی۔
ایمان لانا الگ ہوتا ارکان دین پورے کرنا الگ۔ جس طرح نماز روزہ نہ رکھنے سے آپ کافر نہیں ہو جاتے اسی طرح نماز روزہ رکھ کر آپ مسلمان کہلائے جانے کے حقدار بھی نہیں ہو جاتے۔ کیا فائدہ جب وہ دل سے ایمان نہیں لایا بھلے وہ کھائے پیئے یا فاقہ کرے ایک ہی بات ہے۔
اسکا انداز سادہ تھا مگر عروج کو جانے کیوں برا سا لگا
تم نے بڑا اسکے دل میں جھانک کر دیکھا ہے۔ کیا خبر اسکے روزے خدا کو پسند آرہے ہوں اور وہ ہدایت کے در وا کردے۔
اسکے ہدایت کے در وا کروانے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیئے۔
واعظہ تلخ سے انداز میں بولی۔
ایک کم عمر اسکول جانے والے بچے کو مخصوص دینی ماحول میں رکھ کر سیدھا سیدھا برین واش کر رہے ہیں ہم اسکا۔
کیا مطلب واعظہ ہم نے کب اسکی کنپٹی پر بندوق رکھ کر روزہ رکھوایا ہے۔ عزہ بھی حیران ہو کر بحث میں الجھی۔
ہے جن خاموشی سے ان سب کو دیکھ رہا تھا۔الفاظ سمجھ نہیں آرہے تھے نہ ہی وہ اندازہ لگا پارہا تھا کہ آیا موضوع گفتگو کیا ہے۔
ہم نے نہ سہی طوبی نے زبردستی جب سے رمضان شروع ہوا ہے اسکو مسجد بھیجا ہے اپنے میاں کے ساتھ وہاں اسکو نماز بھی سکھاتے رہے وہ اور قرآن بھی پڑھاتے رہے۔ اورطوبئ نے ایسا اسلیئے کیا کہ وہ اسے تمہارا بھائی سمجھتی ہے۔ ہم نے اسکی غلط فہمی اس مقدس مہینے میں بھی دور نہیں کی۔ ہے۔۔ وہ نام لیتے لیتے رکی۔ پھر نام لیئے بنا بولی۔
مانا اس نے جھوٹ بولا مگر ہم سب اس جھوٹ کو نبھاتے بھی رہے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کل کلاں کو کچھ ہواتو کچے ذہن کو زبردستی اپنے دین پر راغب کرنے کی بھی دفعات
وہ جوش میں تھوڑا اونچئ آواز میں بولنے لگی الف نے ہاتھ اٹھا کر اس کو روکا۔۔
ٹھہرو اگر ہے جن نے یہ جھوٹ بولا ہے ہم نے نبھایا ہے تو تم نے بھی تو سیہون کو بیٹھے بٹھائے عزہ کا بھائی بنا دیا تھا خود تم نے بھی تو جھوٹ بولا نا پھر ہم نے تو وہ جھوٹ بھی نبھایا ہے۔
الف کے اس طرح کہنے پر وہ ایکدم چپ سی ہوگئ۔ اسے یوں چپ ہوتے دیکھ کرعزہ کو برالگا۔
اب تم اس بات کو یہاں نہ جوڑو۔وہ جھوٹ نہیں تھا۔ چھوٹا سا مزاق تھا بس۔ اور سیہون میرا بھائی بنا ہے تم فکر نہ کرو۔۔

ہاں تو وہ دھوکا دہی نہیں ہے؟ جب وہ سیہون تمہارے اغوا ہونے کا سن کر دوڑا دوڑا حال پوچھنے آیا تھا اسپتال؟ عروج الف کی مدد کو میدان میں اتر آئی۔
نونا کیا بحث چل رہی ہے سحری کریں لڑیں مت۔ ہے جن کو معاملہ سنگین ہوتا دکھائی دیا تو میدان میں کودا
میں۔نے واعظہ تلملا کر جانے کیا کہنے والی تھی کہ
۔ تبھی بیرونی دروازے پر آہٹ ہوئی سیہون تھکا تھکا سا اندر داخل ہو رہا تھا۔
تم لوگ سحری کر لو یہ بحث بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔
فاطمہ جو اب تک بالکل خاموش بیٹھی تھی سنجیدگی سے بولی۔ تو وہ سب بھی آخری روزے کا خیال کرکے چپ ہوگئیں۔ سیہون ان سب سے بے نیاز سیدھا کمرے میں گھس گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اختتام ۔۔۔ جاری ہے۔