قسط نمبر 33
وہ بے خبر سورہی تھی۔ یہی وقت مناسب تھا اس نے اسکے سرہانے ایک لفافہ رکھا۔ اپنا بیگ اور مختصر سامان وہ پہلے ہی احتیاط سے اٹھا کر باہر لائونج میں لےجا چکی تھی۔ اس پر کمبل درست کرکے وہ دروازہ بند کرکے لائونج میں چلی آئی۔ نور اسکے سامان کو اور پھر اسے خاصے تعجب سے دیکھ رہی تھئ۔
کہاں کی تیاری ہے؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔
میں نے اپنا الگ انتظام کر لیا ہے۔ وہ مسکرا کر بولی
کل تک تو نہیں بتایا۔ اس وقت جا رہی ہو سب سے ملوگی نہیں؟ واعظہ کو تو جگا دو؟ نور نے ٹوکنا ضروری سمجھا تھا
یہیں سیول میں ہی تو ہوں پھر کبھی مل لوں گی بلکہ ٹریٹ دوں گی سب کو۔ عشنا نے کہا تو نور سر ہلا گئ۔
عشنا خدا حافظ کہتی باہر جانے لگی تو اس نے اسکی بے مروتی پر حیران ہو کر ٹوکا۔
مجھ سے تو دوبارہ ملاقات نہیں ہو پائے گی سنا نہیں تھا تم نے میں اس ہفتے واپس پاکستان جا رہی ہوں۔۔
اسکی بات پر عشنا کے تیزی سے بڑھتے قدم رک سے گئے
پاکستان کیوں۔ وہ بے ساختہ پلٹ کر پوچھنے لگی۔ نور اسے یونہی خاموشی سے دیکھتی رہی تو وہ واپس آکر اسکے گلے لگ گئی
آئیم سوری۔ میں بس پتہ نہیں کیا کیا کر رہی ہوں ذہن بہت الجھا ہوا ہے میرا۔
عشنا نے اسکے گلے لگ کر وضاحت کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سستی سے چپل گھسیٹتی جمائی لیتی باہر نکلی تو سب اپنے اپنے معمول پر جا چکی تھیں۔ صرف نور باورچی خانے میں لگی ہوئی کچھ پکانے میں مشغول تھی۔
خیریت ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے۔ فریج سے بوتل نکال کر پانی پیتے وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی
آہاں۔ نور مگن کھڑی تھی اچھل پڑی۔
وہ بس میں نے سوچا جاتے جاتے تم لوگوں کو کچھ اپنے ہاتھ سے پکا کر کھلا کر جائوں۔
وہ سنبھل کر مسکرائی۔
ویسےجاتے ہوئے اچھی یادیں چھوڑ کر جانی چاہیئیں۔
واعظہ اسے مشورہ دیتی منے لائونج کی جانب بڑھ گئ تھی۔
ہوں۔ اس نے زور و شور سے سر ہلایا پھرجب اسکی بات سمجھ آئی تو دانت پیسنے لگی۔
مجھے دیوار پر لٹکی چھپکلی بھی یاد آئے گی مگر یقینا تم نہیں۔۔
وہ جھلا کر چلائی۔ واعظہ نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فل والیم میں ٹی وی آن کر لیا تھا۔۔۔ کے بی ایس کے کسی آنے والے پروگرام کا اشتہار چل رہا تھا
والیم تو کم کر لو۔
نور کو آواز سے سر میں درد ہوتا محسوس ہورہا تھا۔ واعظہ نے آواز نسبتا دھیمی کر لی۔
ناشتہ واشتہ نہیں کرنا؟ دو بج رہے؟
اسکو اسکی خاموشی سے تشویش سی ہوئی۔
نہیں۔
مختصر جواب آیا۔
عشنا چلی گئ ہے کہہ رہی تھی کہ اس نے الگ انتظام کر لیا ہے۔
اس نے اطلاع دینی چاہی۔۔
وہ پاستا بنا رہی تھی۔ ابلنے کیلئے دیگچی میں چڑھا کر پلٹ کر دیکھا تو صوفے پر دراز ٹی وی پر نگاہ جمائے اسکی بات پر ذرا کان نہ دھرا تھا اس نے شائد۔
وہ ہاتھ پونچھتی اسکے سر پر جا کھڑی ہوئی۔
عشنا کو تم نے گھر سے جانے کو کہا ؟
اس نے تکا لگایا تھا جو صحیح لگ گیا تھا۔
ہاں۔ واعظہ نے اطمینان سے اپنے اور ٹی وی کے درمیان جمے نور کو دیکھتے ہوئے اسے ایک جانب ہونے کا اشارہ کیا ۔
کیوں؟ میں بھی جا رہی ہوں اب تو جگہ اور ہو جائے گئ؟ تمہارے فلیٹ کی لیز بھی ختم ہو رہی ہے بلا وجہ کیوں اسے نکال دیا؟ پیسے نہیں دیتئ تھی؟
نور اسکے برابر دھم سے آبیٹھی
اس نے پیسے آدھے دے دیئے ہیں اور باقی آدھے کا وعدہ کیا ہے کہ دے دے گی۔ اسے اسلیئے نہیں نکالا۔
واعظہ کو اسکا پتہ تھا ٹالنے کی کوشش میں یقینا اس نے مزید کچھ اگلوانے لگ جانا تھا۔
پھر؟ اسکی تسلی اب بھی نہ ہوئی تھی۔
پھر کیا؟ میرا گھر ہے مرضی جسے رکھوں نکالوں۔
واعظہ بگڑ کر بولی۔
ایڈی تم ۔۔ گالی بمشکل نوک زبان پر روکی تھی اس نے۔
فاطمہ کہاں ہے؟۔ اسکے برعکس واعظہ اطمینان سے ادھر ادھر دیکھتے پوچھ رہی تھی۔
اسکو سیہون کا فون آیا تھا چلی گئ ۔۔
اسکی بات منہ میں ہی تھی کہ دھاڑ سے دروازہ کھولتی فاطمہ اندر آئی۔ پیر پٹختی اپنے اور واعظہ والے کمرے میں گھسنے کو تھی کہ ان دونوں کے اکٹھے استعجابیہ
کیا ہوا۔ کہنے پر جاتے جاتے رکی۔۔
کیا ہوا خیریت؟ واعظہ نے بات دہرائی تو اسکے ضبط کے سب بندھن ٹوٹ سے گئے۔
پلٹ کر آکر واعظہ کے گلےلگ کر رودی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لائونج میں ان دونوں کی پیشی لگی تھی۔ کمیونٹی سینٹر کی جانب سے آئی وہ خاتون ان سے تفصیلی انٹرویو لیکر جانے کیا کیا گڑے مردے بھی اکھاڑنے پر تلی ہوئی تھی۔
آپ صبح صبح کہاں چلی جاتی ہیں۔ ہماری پانچویں ملاقات ہے جن میں سے تین میں آپکو فون کرکے بلوانا پڑاہے؟
روزمیری اس سے تھوڑا خشک لہجے میں مخاطب تھئ۔
ہاں تو مجھ پر گھر کی ساری ذمہ داری ڈال دی ہے صبح صبح انڈے ڈبل روٹی لینے جانا پڑتا ہے سیہون اٹھتا ہی نہیں اب میں کب تک بھوکی بیٹھی رہوں ؟
اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ذرا ڈھیلی پڑی یہ عورت سر پر چڑھ جائے گی سو اس پر الٹ ہی تو پڑی۔
اب پاکستان ہوتا تو دنیا ادھر کی ادھر ہو جاتی اسکو ہی باہر جا کر انڈے ڈبل روٹی لانا پڑتا وہ بھی اپنے پیسوں سے۔ ہم پاکستانئ لڑکیاں چھوٹئ موٹی چیزیں خریدنے کیلئے گھر سے نہیں نکلتیں۔ ہمیں ہمارے باپ بھائی۔۔ بولتے بولتے خیال آیا۔
شوہر بھی گھر پر انڈے ڈبل روٹی لا کر دیتے ہیں وہ بھی اپنے پیسوں سے۔ اس نے پیسوں پر گھور بھی دیا سیہون کو۔
میں عادت ڈال لوں گا ڈارلنگ صبح صبح گروسری شاپنگ کی۔ سیہون نے ہنس کر بات سنبھالنی چاہی۔
بس وہ رات کو کافی دیر سے سویا تو اس وقت جب فاطمہ مجھے کہہ رہی تھی کہ سودا لا دو تو تھوڑا سستی دکھا گیا۔
فاطمہ ہم کورین مرد بھی بہت خیال رکھنے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔
جبھی تو شادی کی تم سے۔ فاطمہ کے انداز میں لگائو دور دور تک نہیں تھا۔ اتنا سپاٹ بولی کہ اگلی گھورنے ہی لگ گئی۔
سیہون بہت اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔ اس چندی آنکھوں والی کی نگاہوں میں جانے کیا تھا اسے جملہ جوڑنا پڑا۔
کیا تعریف کروں وہ سوچ میں پڑ گئ۔۔۔
ہاں ۔ کیئرنگ بھی۔۔۔۔ کچھ سوجھ ہی گیا تھا اسے۔
آپ کو سیہون میں اور پاکستانی عام مرد میں کیا چیز ایک جیسی لگی؟
وہ اسکو گھر تک پہنچانے پر تل چکی تھی۔۔
سوال نے اسے گڑبڑا دیا۔۔
ذہن نے فورا نقشہ کھینچا تھا۔۔
سیہون اپنا ہر کام خود کرنے کا عادی تھا۔اپنے جوتے احتیاط سے انکی جگہ پر رکھتا برتن دھوتا صفائی کرتا اپنے کپڑے سنبھالتا ۔۔اسکے ذہن میں گھوم گیا۔۔
پاکستانی مرد۔۔ اس نے سوچنا چاہا دور و نزدیک ہر مرد کو اپنے ان معمولی کاموں کیلئے خواتین کو آوازیں لگاتے ہی دیکھا۔۔۔۔
ہاں جمعے والے دن بس نہا دھو کر۔ ایک منٹ۔ اسکے ذہن میں ٹوائلٹ بول میں سر دیئے سیہون جگمگایا۔۔
پاکستانی مرد صاف ستھرے رہتے ہیں( کم از کم جمعے کے دنسوچا)پاکستانی مرد اپنا ہرکام خود کرتے ہیں۔ صفائی کپڑے جوتے اپنے لیئے کھانا بھی خود بنا لیتے ہیں۔ اور باہر کا ہر کام جیسے سودا لانا رات کے تین بجے بھی اٹھا کر کوئی چیز منگوائو ماتھے پر بل نہیں آتا اتوار کے دن بھی صبح صبح نہا دھو کر تیار ہو جاتے ہیں اپنی بیوی کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بھی اپنے خرچے پر بنا لیتےہیں۔ پاکستانی مرد دنیا کے سب سے اچھے مرد ہیں ۔۔۔۔
2020 کی فاطمہ کو کیسا بے وقت یہ جملے کان میں گونجے تھے۔۔ کان سہلا کر رہ گئ۔۔۔
دوپہر کے تین بجے اتوار کی نیند کے مزے لوٹتے اپنے میاں کا کندھا ہلاتے اسے وہ دن یاد آیا تھا۔۔۔۔
یار اتوار کے دن تو سونے دیا کرو۔
ملگجے رات کے ٹرائوزر ٹی شرٹ میں کروٹ بدلتے اسکے شوہر نامدار بڑ بڑائے تھے۔
بریانئ بنا رہی ہوں دہی لادیں بنا رائتے کے کھائی نہیں جائے گئ۔ وہ زچ سی ہوئی۔۔۔
کھالوں گا رہنے دو رائتہ۔ویسے بھی باہر کروناپھیلا ہے۔ غنودگی میں بمشکل جواب دیا۔
دو تین ہنگل کے ایسے الفاظ اسکے منہ سے نکلے جسے دہرانا اچھی بات تو نہیں سو رہنے دیں ہاں اب فاطمہ کی نگاہ فلیش بیک پر تھی
آپ کیا میرے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں؟ وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑنے کے موڈ میں چلائی۔۔
ڈر کر فلیش بیک بند کرتے ہیں جانے دیں واپس آتے ہیں۔۔ ماضی میں۔
اور سیہون بالکل ایک مکمل سلجھا ہوا پاکستانی مرد جیسا ہے۔ مجھے خوشی ہے مجھے سیہون ملا۔
۔ کیا تاثرات تھے سیہون کے اسکی یہ باتیں سنتے ہوئے۔ انکو احاطہ تحریر میں لانا ممکن ہی نہیں۔
آدھا منہ کھلا ہوا آنکھیں اپنے حجم سے دگنی خاص کر جب فاطمہ اٹھلا کر بولی تو اسکا تو رنگ بھی سرخ پڑ گیا تھا۔۔
اور آپکو فاطمہ میں اور کورین لڑکیوں میں کیا چیز ایک جیسی لگتی ہے ؟
وہ اب سیہون کی جانب متوجہ ہوئی۔ فاطمہ بھی اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔ اسے کچھ یاد رہا تو بس اسکی آنکھیں۔۔۔۔
آنکھیں۔۔ اسکی آنکھیں بالکل کورین لڑکیوں جیسی ہیں۔ اسکے منہ سے یہی نکلا۔۔ جہاں روز میری بدمزا سئ ہوئی وہیں
سیہون کے کہنے پر فاطمہ تڑپ سی گئ مانا بھینس جتنے بڑے دیدے منہ پر نہیں لگے تھے مگر اسکی غلافی آنکھیں خالص برصغیرئ نقوش میں جڑی ہرگز بھی کورین لڑکیوں جیسی چندی نہیں تھیں۔
میں عادتوں کی بات کر رہی ہوں۔
فاطمہ بے حد اچھی لڑکی ہے۔ نٹ کھٹ سی ہے۔ صفائی پسند ہے( ذہن میں سفید صوفوں پر جوتوں سمیت چڑھی فاطمہ تھی) بالکل بھی ڈیمانڈنگ نہیں ہے( وہ کچن میں پانی پینے آیا تھا پیچھے سے آواز آئی
کافی بنا رہےہو سیہون؟ میرے لیئے بھی بنا دو)
ہم مل جل کر کام کرتے ہیں ( اپنے برتن دھو کر ریک میں رکھتے ہوئے اس نے گہری سانس لیکرچولہے سے کچن کائونٹر پر یہاں سے وہاں تک پھیلے مصالحوں کے ڈبوں گھی کے چھینٹوں کو دیکھا تھا۔ ایپرن باندھے سالن میں چمچ چلاتے اس نے ذرا زور سے چمچ چلا دیا تھا جب سالن کا چھینٹا سیدھا اسکے منہ پر آکر لگا تھا)
فاطمہ کھانا بہت اچھا بناتی ہے۔۔
( پلیٹ میں چاول نکالتے اس نے بے چارگی سے اسے دیکھا۔
پھر بریانی؟ ابھی پرسوں ہی تو کھائی تھی
خدایا کوئی بریانی کو دیکھ کر بھی منہ بنا سکتاہے؟ فاطمہ نے آنکھیں پھاڑیں
مجھے زندگی بھر تین وقت بریانی کی پلیٹیں کھانے میں دو تو بھی میں نہ اکتائوں۔۔۔ )
اس نے جلدی جلدی ذہن کے گھوڑے دوڑائے
فاطمہ بے حد اچھے اطوار کی لڑکی ہے۔ اسکو شدید غصے میں بھی میں نے اپنا ٹیمپرامنٹ لوز کرتے نہیں دیکھا۔۔
میری اور فاطمہ کی پہلی ملاقات وہ تھپڑ۔ پلٹ کر بھی اس نے تھپڑ نہیں مارا تھا اسے۔
میں سیہون کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
فاطمہ نے ٹکڑا لگانا ضرورئ سمجھا۔۔ مسکرا کر بولی
ابھی تو پہلا سال ہے آپ دونوں خوش ہی رہیں گے تفرقات تو آہستہ آہستہ محسوس ہونگے آپکو ایک اور بات بھی پوچھنی تھی آپ دونوں سے آپ لوگ احتیاط کر رہے ہیں۔ ؟
اس چندی آنکھوں والی نے ان دونوں سے سوال کیا تھا۔
بالکل بہت احتیاط کر رہے ہیں۔ سیہون سے پہلے فاطمہ بولی تھی۔
ہم ایک دوسرے کی ہر بات غور سے سنتے ہیں۔ ایک دوسرے کو اپنے روائتی کھانے کھلاتے ہیں۔ رات کو اکٹھے بیٹھ کر موویز دیکھتے ہیں میں نے ہنگل کی کافی گالیاں بھی سیکھ لی ہیں۔۔
وہ باقائدہ گنوا رہی تھی۔سیہون نے گھور کر دیکھنا چاہا ۔ ۔روزانہ کم ازکم پانچ ۔۔۔ وہ زہن پر زور ڈالنے کو تھمی۔۔ نہیں چھے سے آٹھ گھنٹے تو ضرور ساتھ گزارتے ہیں۔ بس سیہون جاب سے آتا یے تو پھر کہیں نہیں جاتا بس میرے ساتھ رہتا ہے ہےنا۔۔
اس نے لاڈ بھرے انداز میں کہہ کر سیہون کو کہنی ماری ۔ خلاف توقع وہ اسے گھور رہا تھا۔
اس نے نگاہوں ہی نگاہوں میں پوچھنا چاہا کہ کیا مسلئہ ہے مگر وہ گہری سانس لیکر سامنے متوجہ ہو گیا وہ خاتون اب منہ میں پنسل دبائے پرسوچ انداز میں دیکھ رہی تھیں۔
میں نے سنا تو تھا کہ گرم علاقوں مڈل ایسٹ وغیرہ کے ممالک میں لوگ ذیادہ۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑی۔
فاطمہ کے سر پر سے گزری تھی سیہون نے سر تھام لیا تھا۔
دیکھیئے میں یہ تو مشورہ نہیں دوں گی کہ آپ دونوں الگ الگ رہیں ظاہر ہے محبت ہے نئی نئی شادی ہوئی ہےپھر بھی آپکو یہی مشورہ دوں گی کہ احتیاط کیجئے۔۔ اتنا بھی ساتھ ساتھ نہ رہیں۔۔کہ خاندان بڑھ جائے
فاطمہ کئ آنکھیں اب جتنی بڑی ہوچکی تھیں اگر آئینہ دیکھ لیتی تو بخوشی مان لیتی بھینس کے دیدے لگے ہیں منہ پر۔
روز میری کی تقریری جاری تھی۔
دراصل دو مختلف ثقافتوں میں رشتہ ازدواج کے بعد طلاق کےجتنے کیسز ابھی عدالت میں فیصلے کےمنتظر ہیں ان میں ذیادہ تر جوڑوں نے پہلے ہی سال میں اپنا خاندان بڑھا لیا تھا۔ نتیجتا انکے اختلافات بڑھنے علیحدہ ہونے کی صورت میں انکے بچوں کی حوالگی کے حوالے سے ہمارے پاس اتنی شکایتیں آئی ہیں کہ اس سب بکھیڑے میں پڑنے سے بہتر یہی ہے کہ آپ لوگ اپنا مکمل معائنہ کروائیں اور حتی المقدور ایسی کوئی نوبت نہ آنے دیں۔
کیسا معائنہ؟ فاطمہ احمق پن سے بول پڑی۔۔۔
اس خاتون نے تاسف سے دیکھا تھا اسے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنا سیہون کی موجودگی کا خیال کیئے اس نے سب کچھ کہہ ڈالا مجھے کیا پتہ تھا اسکے کہنے کا مطلب کیاتھا۔ پورا لیکچر دیا پمفلٹ دیئے فیملی پلاننگ پر نجانے کونسا پلان تک بنا دیا۔۔۔اس نے ہچکیاں لیں۔
خود تو دفع ہوگئ سیہون کی شکل تک دیکھنے کی ہمت نہیں۔ تھی مجھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سوں سوں کرتے قصہ سنا رہی تھی۔ واعظہ اور نور ہونٹ بھینچے ساکت بیٹھی تھیں۔
اور پتہ ہے جب وہ جارہی تھی سیہون کیا کہتا ہے مجھے۔۔
اس نے آگے بڑھ کر رازداری سے کہا۔۔۔ سکھیاں ساکت تھیں ہمہ تن گوش بھی سو اس نے انکے ردعمل کا انتظار نہیں کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستانئ مرد واقعی اتنے خیال رکھنے والے سلجھے ہوئے ہوتے ہیں۔
روز میری سلام آخر کرتی جا رہی تھیں وہ دونوں اسے لابی تک چھوڑنے آئے تھے۔ روزمیری نے قدم باہر نکالے دروازہ بند کیا فاطمہ نے دڑکی لگا کر اندر بھاگنا چاہا کہ سیہون کی آواز نے روک دیا۔
ہاں کہوں کہ ناں۔ اس ادھیڑ بن میں لگی تھی سیہون اسکے پاس سے ہو کر کچن کی جانب بڑھ گیا۔
مجھے حیرت ہے کہ پھر تم شادی کیلئے تیار کیوں نہیں ہورہی ہو؟
وہ کائونٹر پر سے بوتل اٹھا کر گلاس بھر رہا تھا۔
فاطمہ کا منہ تھوڑا سا کھل گیا۔
مجھے واعظہ نے یہی بتایا تھا کہ تم پاکستان نہیں جانا چاہتی ہو کیونکہ وہاں گئیں تو تمہاری امی تمہاری شادی کرادیں گی تمہارے کزن سے؟
اسکے چہرے پر بکھری حیرانی دیکھ کر سیہون نے وضاحت کی اپنی بات کی۔
اوہ۔ اس نے سر ہلایا۔ پھر تھکے تھکے انداز میں صوفے پر دھم سے آبیٹھئ۔
سیہون نے چند لمحے اسکے جواب کا انتظار کیا پھر آکر اسکے سامنے بیٹھ گیا۔
تمہاری امی تمہاری شادی کروادیں گی کیسے؟
اسکے سوال پر فاطمہ نے الجھن بھرے انداز میں دیکھا۔
میرا مطلب شادی کے اخراجات وہ اٹھائیں گی؟
ہاں اس نے بلا تامل سر ہلایا۔
لڑکا بھی وہ ڈھونڈیں گی؟
اسکو جانے کیا دلچسپی تھئ۔
ہاں لڑکے تو بہت ہیں جانے میرے خاندان کے لڑکوں کی شادیاں کیوں نہیں ہورہیں۔ دھڑا دھڑ رشتے بھجوا رہے میرے لیئے۔ وہ سخت چڑی ہوئی تھی۔
تمہاری پسند شامل ہوگی؟
وہ جانے کیا اگلوانا چاہ رہا تھا۔۔
ظاہر۔ہے۔ جوتی تک اپنی پسند کی لیتی ہوں شوہر تو ہرگز کسی اور کی پسندکا نہیں ہوسکتا۔
اسکا انداز اٹل فیصلہ کن تھا۔
پھر یہاں رہنے کی وجہ؟ پاکستان جائو وہاں جا کر شادی کرو یہاں اتنی مشکل سے نوکری ڈھونڈ رہی ہوجو ٹیمپرامنٹ ہے تمہارا نوکری مل بھی جاتئ یے لڑکا تو بالکل نہیں ملے گا۔۔
فاطمہ دم بخود سی سن رہی تھی اسکی بات پر گھورنا چاہا مگر اسکی بات کا مطلب کچھ اور تھا۔ وہ کہہ رہا تھا
کیونکہ مسلمان تو یہاں ہوتے ہی نہیں۔پھر یہاں اگر کوئی مسلم مل بھی گیا تو وہ تمہارے خرچے خوشی خوشی نہیں اٹھائے گا یہاں بہت ٹف لائف ہے۔ بہت کمپیٹیشن ہے میاں بیوی دونوں کام کرتے ہیں۔ اگر تمہیں پاکستان میں ایسا مرد مل جاتا ہے جو تمہیں اپنے خرچے پر سودا لاکر دے گا تو تمہیں شادی کرلینی چاہیئے اس سے۔ اگریہاں کسی کورین لڑکی کو ایسا پاکستانی ملے تو وہ فورا شادی کرلے۔
شادی زندگی کا مقصد نہیں ہوتا ہے۔ وہ چٹخ کر بولی۔
میں لڑکی ہوں تو کیا ہوا میری اپنی کوئی زندگی نہیں؟ بس شادی کرلوں کیونکہ کوئی کہہ سیکی مجھے اپنے پیسوں سے گھر کا سودا لا کر دینے کو تیار ہوگا؟ میرے خواب ہیں زندگی میں اپنا کوئی مقام کوئی نام بنانا ہے۔ پاکستان سے بھاگنے کی وجہ یہی تھی کہ وہاں کوئی مواقع نہیں تھے میرے لیئے۔ میری تعلیم میرے خواب بس روٹیاں تھوپ کر چولہے کی نذر ہوجاتے۔
یہ اسکی لمبی تقریر کا آغاذ تھا بس پھر فاطمہ بولے سیہون سنے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بولو صحیح کہا نا میں نے؟
فاطمہ نے ساکت سرخ چہروں والی سکھیوں سے تائید چاہی۔
اب بولو بھی بتائو اس دوٹکے کے کورین نے۔۔
فاطمہ دوبارہ شروع ہونے کو تھی کہ نور صوفے سے منے کارپٹ پر لڑھک گئ۔
اسکا جسم ہل رہا تھا
کیا ہوا وہ۔بھونچکا سی رہ گئ۔ واعظہ کی جانب مڑی تو اسکے بھی ضبط کا یارا نہ رہا منے صوفے کے کشن میں منہ چھپاتی اپنے ابلتے قہقہوں کو راستہ دے بیٹھی۔
نور کارپٹ پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔ واعظہ بھی صوفے سے ہنستے ہنستے گر چکی تھی۔
تم لوگ کیوں ہنس رہی ہو؟ فاطمہ بے چارگی سے بولی
میں سیہون کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
واعظہ نے ذرا کی ذرا رک کر جملہ کہا نور کا قہقہہ بلند۔۔
احتیاط کیجئے ہو ہو ہا ہا ہا۔
یہ نور تھی۔
تم دونوں کمینیوں مزاق اڑا رہی ہو میرا۔
فاطمہ آگ بگولہ ہو اٹھی صوفے سے کشن کھینچ کر ان دونوں پر پل پڑی۔
فاطمہ ابھی فیملی نہ بڑھانا۔
اسکے پے درپے حملوں میں بھی دونوں باز نہ آئیں اکٹھے بولیں اور ہنستئ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی ریڈیو کی عمارت میں داخل۔ہوئی تھی۔ آج پھر دیر ہو گئ تھی۔ پھولی پھولی سانسوں کے ساتھ وہ راہداری سے ہوتی سیدھی اسٹوڈیو ون کا دروازہ کھول کر غڑاپ سے اندر۔
ژیہانگ پرسکون سے انداز میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔
اف شکرہے وقت پر پہنچ گئ۔
پھولی سانسوں کو بحال کرتی بال اسکارف سنبھالتی الف بمشکل بولی تھی۔
ژیہانگ اسکو دیکھ کر مسکرا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کوئی اسپانسر شو چلنا تھا تو کم از کم سر بتا تو دیتے ایویں بھاگتی آئی میں۔ تمہیں۔۔ وہ گڑبڑا کر رکی
میرا مطلب آپکو پتہ تھا کہ آج شو نہیں ہے؟
وہ اور ژیہانگ اکٹھے ہی ریڈیو کی عمارت سے نکلے تھے۔
نہیں مجھے بھی آکر پتہ لگا تھا۔ اپر کی جیبوں میں ہاتھ گھساتا ژیہانگ اسکے برعکس مطمئن سا تھا۔
غصہ نہیں آیا آپکو ؟
وہ حیران ہوئئ۔۔ اسکی حیرت پر ژیہانگ ہنس دیا۔
زندگی بہت چھوٹی ہے اور ایسے سرپرائزتو بہت ہی چھوٹی چیز ہیں ان پر ردعمل دینے کا کیا فائدہ۔
ردعمل۔ وہ ہنس پڑی۔
آپکی اردو بہت اچھی ہے۔
بہت محنت سے سیکھی ہے۔ ژیہانگ نے جتانے والے انداز میں کہا۔
کتنا عرصہ لگا تھا اردو سیکھنے میں ؟ وہ دونوں چہل قدمی کرتے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔
چار سال پاکستان رہا ہوں۔بی ایس اردو کیا تھا وہاں سے۔ پتہ نہیں کب روانی سے اردو بولنے لگا۔۔ صحیح یاد نہیں۔
اس نے صاف گوئی سے کہا۔
مجھے چینئ سیکھنی ہو تو کتنا وقت لگے گا۔
وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔
اس پر منحصرہے کہ تم سیکھنا کیوں چاہ رہی ہو۔۔ ایک ڈیڑھ سال بھی لگ سکتا اور ایک عمر بھی۔ دل لگا کر جو کام کیا جائے اسکا صلہ ملتا ہے۔۔۔۔
وہ ہلکے پھلکے سے انداز میں بولا تھا۔۔۔
دل لگا کر۔۔۔اس نے پرسوچ انداز میں دہرایا
دل لگانا ہو تو اوپا پر لگائوں ہنگل پر کیوں لگانا۔
اس نے حسب عادت بول بال کر ہاتھ جھاڑے مگر خلاف توقع ژیہانگ کو خود کو محظوظ نگاہوں سے گھورتا پایا تو سٹپٹا سی گئ۔۔ اسکا رنگ ایکدم سرخ پڑا تھا اور ژیہانگ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔
صحیح کہہ رہی ہو متفق ہوں میں تمہاری بات سے۔
خوب ہنس کر اس نے کہا تھا۔۔ الف زبان دانتوں تلے دبائے تھی
ایک تو مزے سے تبصرہ کر ڈالنے کی عادت ظاہر ہے کوئی سمجھ تو سکتا نہیں کیا کہا سو آرام سے اپنی مادری زبان میں بری بھلی جو منہ میں آئی کہہ دینے کی عادت تھی۔
ژیہانگ قدم بڑھاتا تھوڑے فاصلے پر جا کر رکا تھا مڑ کر دیکھا تو الف خفت کے مارے فریز کھڑی تھی۔
کیا ہوا؟ وہ پلٹ کر واپس آیا۔
آں۔۔ کچھ نہیں۔ وہ۔گڑبڑائی۔
آج موسم اچھا ہو رہا ہے ہے نا۔ اس نے یونہی سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ بادلوں میں گھرتا آسمان خنک سی چلتی ہوا۔
ہاں۔ لگتا ہے آج بارش ہوگی۔
ژیہانگ کے پیشانی پر بکھرے بال ہوا سے خوب اڑ رہے تھے لاپروائی سے انکو سنوارتا وہ آسمان کو دیکھتے بولا اور الف اسے دیکھتے بول گئ۔۔۔۔
رنگ تو اتنا گورا نہ دیا اتنے سلکی بال ہی مجھے دے دیتے اللہ میاں۔ اس چٹی چمڑی پر تو جو بھی ہیئر اسٹائل ملتا جچنا تھا۔
ژیہانگ چہرے پر دنیا جہاں کی حیرت لیئے اسے دیکھ رہا تھا اس بار اس سے ہنسا نہیں گیا۔۔۔ الف کی آنکھیں حجم میں سجل علی جتنی بڑی ہوگئیں
یہ کیا پھر میں نے جو سوچا وہ بول گئ۔
الف نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب مل کر رات کا کھانا کھانے باہر نکلی تھیں۔۔۔۔ ہلکی ہلکی کن من بارش موسم کو سرد کر رہی۔تھی۔ گھر سے نکلتے وقت موٹے جیکٹ کی بجائے لانگ کوٹ جینز پر گزارا کیا تھا اب یہاں گنگنم میں پھرتے گھگھی سی بندھ رہی تھی سب کی۔
انکی حالت دیکھ کر واعظہ انکو ایک پاکستانی ریستوران لیکر آئی تھی۔
نان چکن کڑاہی کباب اور تکوں کا آرڈر دے کر وہ سب سے کونےمیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر دو میزیں اکٹھے لگوا کر بیٹھی تھیں۔
یہاں بلائنڈز بھی ہوتیں تو کتنا اچھا ہوتا۔ عزہ نے گلاس وال سے باہر جھانکتے ایسے ہی کہا تھا۔
ہاں یار وہ جو پورٹ ایبل کمپارٹمنٹ ہوتے ہیں نا وہ ہونے چاہیئے تھے یہاں پرائیویسی رہتی۔
نور نے خیال ظاہر کیا۔
ویسے ہم کونے میں بیٹھے ہیں نظروں میں تو نہیں آرہے ہوںگے
عروج نے بیٹھے بیٹھے گردن لمبی کر کے باقی ریستوران پر جھاتی ماری
یار واعظہ یہ ویٹر سے کہہ کر یہاں والی لائیٹس تو بند کروادو۔
الف کیوں پیچھے رہتی۔ واعظہ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسائے ان سب کی ماہرانہ رائے سے مستفید ہورہی تھی
اندھیرے میں کھانا کیسے کھائوگی؟
عزہ ںے ٹوکا
کھانا منہ سے کھاتے ہیں گھپ اندھیرے میں بھی نوالہ لینے بیٹھو گئ تو ہاتھ منہ میں ہی جائے گا ناک میں نہیں۔
عروج نے معلومات جھاڑنا ضروری سمجھا
ہاں یار یہ لائیٹ بند کروا دو تو میں بھی نقاب ہٹا لوں۔
نور الف سے متفق تھی۔
فاطمہ نے باری باری ان سب کی شکل دیکھی سب ٹھیک ٹھاک سنجیدہ تھیں۔
باہر جو اسٹال لگے ہوئے ہیں نا ان سے پوچھتی ہوں کوئی خیمہ خالی پڑا ہو تو دے دیں یہاں لگوادیتی ہوں۔
واعظہ سنجیدگی سے کہتی اٹھ کھڑئ ہوئی۔
ہیں واقعی دے دیں گے ؟
نور حیران ہوئی
ہاں یہ ٹھیک رہے گا مگر انہوں نے تو زمین پر کیل گاڑ کر لگائے ہوتے ہیں خیمے یہاں کہاں۔ عزہ کی ہمیشہ سے تصوراتی حس تیز تھی فورا تصور کرلیا خیمہ بس ٹائلوں میں گڑی کیل پر اٹک سی گئ۔
سنجیدہ ہو تم واعظہ؟
عروج کو اسکے انداز پر شک گزرا تھا
واعظہ ہونٹ بھینچ کر دیکھ رہی تھی۔
بالکل ۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں آئیندہ گھر سے کیمپ لیکر نکلا کریں گے جہاں اچھا ریستوران دیکھا خیمہ گاڑ لیا ۔ خیمے پر بڑا بڑا لکھوا بھی لیں گے برقع ایونجرز۔۔
یہ فاطمہ تھی۔ لہک لہک کر بولی۔
واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔ پلٹ کر جانے لگی تو نور نے روکنا چاہا
رہنے دو واعظہ یہاں کیمپ کیسے لگائیں گے۔
نور نے اتنی سنجیدگی سے اسے روکا جیسے وہ واقعی سڑک کنارے سے تنبو اکھاڑنے ہی جا رہی ہے۔
واعظہ یار باہر جا رہی ہو تو میرے لیئے
عروج کو جانے کیا یاد آیا اپنا بیگ ٹٹولنے لگی
واش روم جا رہی ہوں۔ وہاں سے کچھ چاہیئے تو بتا دو۔
واعظہ دانت پیس کر بولی تو وہ کھسیا سی گئ
نہیں بس تم ون پیس میں واپس آجانا۔
الف شرارت سے بولی تو وہ گھورتی ہوئی چلی گئ۔ وہ سب ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس پڑیں۔
یار ویسے نور پھر سوچ لو واپس نہ جائو یہاں کتنے تومزے ہیں۔
فاطمہ نے نور کو لالچ دینا چاہا۔
نہیں یار میں نے فیصلہ کرلیا ہے۔ اب میں نے پاکستان ہر صورت واپس جانا ہے۔
نور کا انداز قطعی سا تھا ۔
یار ہمارا گروہ سکڑتا جا رہا ہے ابیہا بھی چلی گئ عشنا بھی اب تم بھی چلی جائو گی۔
فاطمہ نے یونہی کہا تھا مگر جوابا وہ سب جس طرح اسے گھورنے لگیں اسے لگا کچھ غلط نکل گیا ہے منہ سے۔
کیا مطلب ؟ عشنا کہاں چلی گئ ہے؟
الف کی حیرانی دیدنی تھی
رات تک تو فلیٹ میں ہی تھی۔ عروج نے کہا
ہاں خیال ہی نہیں آیا ابھی ہم لوگ ہیں بھی تو کتنے ذیادہ اندازہ ہی نہیں ہوا عشنا ہمارے ساتھ نہیں۔ کہاں رہ گئی فون کروں؟
عزہ بولی تو فاطمہ گہری سانس لیکر بولی
کوئی فائدہ نہیں وہ چلی گئ ہے اب واپس نہیں آئے گی۔
کب کہاں؟
وہ سب اکٹھے چیخی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب انتہائی شدید ردعمل کے انتظار میں کھڑی تھیں۔
خون آلود دیواریں لائونج کونے میں پڑا باکس۔
یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔ واعظہ کی نگاہ اسی پر گئ تھی۔
وہ یہ۔
ان سے کوئی بہانہ نہ بن سکا تھا۔۔
وہ چیل کی طرح جھپٹی تھی۔ باکس خالی تھا
اسکئ چیزیں کہاں ہیں۔
مارے صدمے کے اسکی آواز پھٹ سی گئ تھی۔
وہ تمہارے کمرے میں نیچے والی الماری میں۔۔۔۔۔۔
عزہ نے ڈرتے ڈرتے بتایا تو وہ دانت کچکچاتے ہوئے اسے دیکھنے لگی تھی۔
سب صفائی سے فارغ ہو کر وہ تسلی سے آکر اپنے کمرے میں آبیٹھی تھی۔
اسکی ڈائیریز اسکے نوٹ پیڈ ہائی اسکول کی سالانہ کتاب
وہ ایک ایک چیز سینت سینت کر رکھتی آئی تھی۔
سب کاغذات سنبھالتے اسکے ہاتھ وہ اجنبی سا بھورا پیکٹ لگا تھا۔
یہ تو میرا نہیں ۔ اس نے الٹ پلٹ کر دیکھنا چاہا۔
پھر احتیاط سے کھولا۔
ثریا بنت السلام۔ وزٹ ویزا ۔۔ کاغذات۔
ایک کورٹ کا نوٹس۔۔
اس نے ویزے کی تصویر دیکھی تو کسی بنگلہ دیشی لڑکی کا تھا مگر تصویر۔
اس کو یقین نہیں آیا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کردیکھنا چاہا۔
تو جس لڑکی کو ڈھونڈتے وہ یہاں آئے تھے وہ نور بھی نہیں تھی۔۔
وہ سناٹے میں آگئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہیں سب بتاتی ہوں۔
عشنا جانے کب اسکے سر پر آکھڑی ہوئی تھی۔ اس نے جھٹکے سے سراٹھا کر اسے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ میری سہیلی ہے ثریا۔ ہم اکٹھے ڈورم میں رہتے تھے۔۔ یا یوں کہو مجھے اسکے ڈورم میں رہنا پڑا۔ ایکدن وہ بہت گھبرائی ہوئی ڈورم میں آئی تھی۔ آتے ہی دروازہ بند کرکے ہانپنے لگی تھی یوں لگتا تھا کہ بہت دور سے بھاگتی ہوئی آئی ہے۔
عشنا نے آنکھیں میچیں جیسے وہ منظر اسکی نگاہوں کے سامنے تازہ ہوگیا ہو۔
کیا ہوا۔ وہ اپنے بنک بیڈ پر نیم دراز موبائل میں ڈرامہ دیکھ رہی تھی جب اسکی حالت پر نگاہ پڑی تو فورا موبائل ایک طرف رکھتی اسکے پاس چلی آئی ۔ اتنے سرد موسم میں بھی وہ پسینے میں ڈوبی تھی سوکھے پتے کی طرح اسکا جسم لرز رہا تھا وہ گھبرا سی گئ
کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے؟۔ اس نے پاس جا کر اسکو اپنے کندھے سے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
وہ وہ۔ مجھے معاف کردو۔۔۔۔ تم تم۔ کہیں چلی جائو وہ تمہیں بھی مار دیں گے۔
وہ روتے روتے ایکم ہراساں سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی
اپنی چیزیں سمیٹو۔۔
وہ بھاگ کر بیڈ کے نیچے سے اسکا سوٹ کیس کھینچ کر نکالنے لگی۔
اپنی کتابیں سامان سب رکھو اس میں۔
وہ رونا بھول چکی تھی دیوانوں کی۔طرح اسکے بند بیڈ سے سامان اٹھا اٹھا کر اٹیچی میں ڈالتی
مجھے بتائوگئ آخر ہوا کیا ہے۔
اس نے قریب آکر اسکو کندھے سے جھنجھوڑ ڈالا۔
مجھے مار دیں گے وہ۔آج تم اپنی جان بچائو۔ بھاگو یہاں سے سب سمیٹو۔ اور نکلو یہاں سے۔
ثریا بالکل اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی۔
مگر میں کیسے۔۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی مگر ثریا نے اسے کھینچ کھانچ کر ڈورم سے باہر نکال کھڑا کیا۔
جتنی جلدی ہو سکے جتنی دور ہو سکے یہاں سے جائو۔
ثریا نے اسکے جوابی ردعمل کا انتظار نہیں کیا تھا۔
وہ حیران پریشان کھڑی کی کھڑی رہ گئ تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.