Salam Korea Episode 23

Salam Korea
by vaiza zaidi

قسط 23
ڈیڈا مجھے پیسے چاہیئیں نا۔۔
وہ چڑ کر بولی تھی۔
وہی تو پوچھ رہا ہوں بیٹا کیوں ؟ ایڈون کو میں اچھے خاصے پیسے بھجوا چکا ہوں تم اس سے لو نا۔
ڈیڈا کے جواب پر وہ غصے میں بھر گئ۔
میں آپکی بیٹی ہوں ایڈون نہیں۔ اسے کیوں بھجوائے ہیں۔۔مجھے پیسے چاہیئیں ہیں میں اب کیا ایڈون سے مانگتی پھروں گی؟
ہاں تو کیا حرج ہے۔ اسکے برعکس وہ رسان سے بولے۔
ایڈون بتا رہا تھا کہ اسکالر شپ ختم ہو گئ ہے تو میں نے اگلے سمسٹر کے بلکہ اگلے دو سمسٹر کے پیسے تمہارے اورایڈون دونوں کیلئے بھجوائے ہیں اور جیب خرچ بھی بھیجا ہے۔ ایڈون سے پوچھو تو سہئ۔
اسکے لیئے یہ انکشاف نیا تھا۔
ایڈون کو آپ نے ۔۔ وہ حیرت کے مارے جملہ بھی پورا نہ کرسکی۔
ہاں بیٹا۔ اور سنو میں چاہتا ہوں تم اپنی ڈگری مکمل کرو۔۔ بس پڑھائی پر دھیان دو۔ اریزہ کے ساتھ مل کر کوئی فلیٹ لے لو ایڈون کو کہا ہے کوئی فلیٹ ڈھونڈے ۔ تم لوگوں کیلئے۔ بس تم دونوں اکٹھی رہنا مزید کسی کو ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ ٹھیک ہے۔ اور مزید جتنے پیسے چاہیئئے ہوں بتا دینا میں بھجوا دوں گا۔ اچھا ابھئ میری ایک اہم میٹنگ ہے۔۔
بولتے بولتے انکی نگاہ کلائی میں پہنی گھڑئ پر پڑی تو ایکدم عجلت میں بولے
ڈیڈا۔ ڈیڈا پلیز مزید پیسے مجھے ڈائریکٹ بھجوائیں مجھے ایڈون سے لینا اچھا نہیں لگتا۔
اس نے جلدی سے ٹوکا۔
اچھا اچھا۔ دیکھتے ہیں۔۔ اچھا بیٹا اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔
وہ جلدی میں تھے جبھئ ٹالنے والے انداز میں ہی بولے اور فون رکھ دیا۔
وہ اپنے موبائل کو دیکھ کر رہ گئ۔
اسکا ذہن بری طرح الجھ رہا تھا۔ ایڈون کے پاس اتنے پیسے تھے کہ وہ آرام سے فلیٹ لیکر رہ سکتے تھے پھر بھی۔۔
اسکی سوچ اس بات پر آکر اٹک سی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہزیب اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ اتنی حیرانی سے کہ وہ شرمندہ سا ہو کر سر جھکا گیا۔
مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ ہے۔ وہ بمشکل اتنا ہی کہہ سکا۔۔
شاہزیب کے ماتھے پر شکنیں سی پڑ گئیں۔
اب مسلئہ یہ ہے کہ پیسے میرے پاس بس اتنے ہیں کہ میں ابارشن کا خرچہ کر سکتا ہوں مگر اسکے بعد بھی فوری طور پر اسے پاکستان نہیں بھیجا جا سکتا۔ میں یہاں گوشی وون میں رہ رہا ہوں اسکو کہاں رکھوں گا۔۔ بہت مشکل میں ہوں میں یار۔
وہ دونوں ہاتھوں میں سر دیئے بیٹھا تھا۔ پریشانی اسکی شکل سے ہویدا تھی۔ مگر اس پر رتی برابر بھی شاہزیب کوترس نہ آیا۔ دل کر رہا تھا اس وقت اسکی اتنی ٹھکائی کرے کہ دماغ ٹھکانے پر آجائے۔
وہ دونوں اس وقت ہاسٹل کے احاطے میں لگے باغیچے میں بنچ پر بیٹھے تھے۔
کچھ تو بول ۔۔ گالیاں ہی دے دے۔
اپنے ذہن کی الجھی سوچوں سے گھبرا کر اس نے کہا تھا۔ شاہزیب اسکی پوری بات سن کر بالکل چپ رہ گیا تھا۔ ایک لفظ نہ بولا تھا۔ کچھ کہہ سن لیتا تو شائد اس وقت اسکی جو ذہنی کیفیئت تھی کہ دل کر رہا تھا یہیں گڑ مر جائے تو شائد اسی میں کچھ افاقہ ہوجاتا۔ شاہزیب کی خاموشی تو جیسے سنگسار کر رہی تھی۔
شاہزیب اسے دیکھ کر رہ گیا۔
سنتھیا اتنا کوئی ناقابل عمل حل نہیں بتا رہی۔ تم دونوں با شعور ہو۔ بجائے اسکے کہ اتنے کھڑاگ میں پڑو ایک فلیٹ لو اکٹھے رہو یہاں کسی چرچ میں شادی کرلو گھر میں بتا دینا کہ اکٹھے رہنا تھا اسلیئے ایسا کرنا پڑا۔
شاہزیب بہت سنبھل سنبھل کر بولا تھا۔ ایڈون اسے گھور کر رہ گیا۔
شادی رچا لوں ؟ گھر والوں کو کیا بتائوں ؟ کہ اب مجھ سے ٹکے کی امید نہ رکھیں میں یہاں شادی کر چکا ہوں اسکو چلانے کیلئے جو بھی چھوٹی موٹی نوکری ملے گی کروں گا بھاڑ میں گئ پڑھائی میری بھاڑ میں گیا کیرئر اب مجھے اپنے بیوی بچے پالنے ہیں بس۔
وہ اتنا جھلا کر بولا تھا کہ شاہزیب اسکی شکل دیکھنے لگا۔
یہ سب کرنے سے پہلے سوچنا تھا۔
اسکا دل چاہا کہہ دے مگر بچپن کی دوستی کا لحاظ کر گیا۔
عجیب مصیبت میں پھنس گیا ہوں میں۔ الٹا ایک وہ سنتھیاہے۔ نا اپنی عزت کا خیال ہے نا میری۔ بچہ پالنا چاہتی ہے۔ اس کی امیر زندگئ کی وہ فینٹیسی ہے بس کہ بچہ ہمارے پیار کی نشانی ہے ۔ اس بچے کی پیدائش پر جو سوال اٹھیں گے اس کی طرف دھیان نہیں جا رہا اسکا۔ بس شادی شادی کی رٹنی
بل شٹ۔
وہ سوجو کے گھونٹ بھر رہا تھا۔ بوتل کیاری میں پھینکتا جیبوں میں ہاتھ ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
اسکو ابارشن کیلئے الگ منانا ہے۔ سمجھ نہیں آرہی اسے میری ایک بھی بات۔ ایک دل تو کر رہا سیدھا پاکستان بھجوا دوں وہاں جا کر اپنے ماں باپ کو فیس کرے گی نا تو ساری فینٹسی ناک کے راستے نکل جائے گی خود ابارشن پر راضی ہو جائے گی جب احساس ہوگا یہ بچہ نہیں مصیبت گلے پڑ گئ ہے۔
اریزہ کو پتہ ہے؟ ۔۔۔۔۔ شاہزیب کو خیال آیا۔
پتہ نہیں۔یار۔ وہ ویسے بھی گوارا کے گھر گئ ہوئی ہے۔ اس سے بھی سنتھیا لڑ کر بیٹھی ہے۔ ہر کسی سے تو لڑ رہی ہے۔ عجیب بدمزاج ہوئی وی ہے۔
وہ۔بیزاری سے منہ بنا کر بتا رہا تھا۔
پھر بھی۔ اریزہ اسکی بچپن کی دوست ہے۔ ایسے دوستی تھوڑی ختم ہو جاتی ذراسئ لڑائی سے۔ تم اریزہ سے بات کرلو۔ وہ سنتھیا کو سمجھا سکتی ہے۔
شاہزیب کی بات میں وزن تھا۔ ایڈون نفی میں سرہلاتے کچھ کہتے کہتے رک سا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالک نے اپنا سارا سامان سمیٹ لیا تھا۔ ایڈون کمرے میں داخل ہوا تھا تو اسکا حصہ ایکدم خالی سا محسوس ہوا۔
تم لوگ جلد بازی کر رہے ہو میں پھر کہوں گا۔
یون بن اور سالک بحث میں الجھے تھے۔
کوریا کا تعلیمی نظام ایشیا ء کا سب سے بہترین تعلیمی۔نظام ہے۔ ہمارے یہاں تو امریکہ تک سے لوگ پڑھنے آتے ہیں۔ جنوبی ایشائی ممالک کیلئے تو کوریا میں اتنی اسکالر شپس آتی ہیں لوگ یہاں سے تعلیم حاصل کرکے اپنا کیئریر بنا لیتے ہیں۔ چند مہینوں کی تو بات ہے بس۔
یون بن سمجھا رہا تھا۔ سالک اپنے کپڑے سوٹ کیس میں رکھ کر اسے بند کرتا سیدھا ہوا
او بھائئ ہم یہاں صفر سے اپنی ڈگری شروع کریں ایسی اسکالر شپ کا انتظار کریں جو ملے نہ ملے چانس کی بات ہے کم ازکم اپنی یونی واپس جائوں گا تو اسی سمسٹر کا امتحان تو دے سکوں گا نہیں تو پچھلے دو سال کے جی پی اے کی بنیاد پر اگلے سمسٹر سے ریگولر ہوجائوں گا۔
بائیس سال کا ہو رہا ہوں اسی طرح گریجوایشن میں پھنسا رہوں گا تو کب نوکری کروں گا کب گھر کا خرچہ اٹھانے کے قابل ہوئوں گا۔
سالک نے تفصیل سے بتایا تووہ الٹا حیران ہو گیا۔
تم کیوں اٹھائو گے؟ تمہارے والدین بہن بھائی کچھ نہیں کرتے؟
سالک گہری سانس لیکر رہ گیا۔
ہم پاکستانی ہیں۔ ایک کماتا ہے دس بیٹھ کر صرف کھاتے ہیں۔
ایڈون نے انکی بات اچک لی تھی۔ اردو میں بولا سالک گھور کر رہ گیا
مگر وہ ایک کمانے والا اپنی اولادوں کی پڑھائی کا سب خرچ خود اٹھاتا بھئ ہے تو اولاد کا فرض بنتا ہے سود سمیت اپنے والدین کا احسان اتارنا۔ میں اتنا خود غرض نہیں بن سکتا کہ یہاں نئے سرے سے تعلیمی سلسلہ شروع کروں اور انکو دو کی بجائے چار سال مزید انتظار کروائوں۔۔
سالک کی بات پر ایڈون کے چہرے پر سایہ سا لہرا گیا۔ اس نے تو یونہی بات کی تھی اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا مگر ایڈون کو لگا جیسے اسکے الفاظ اس پر کوڑے کی طرح برس اٹھے ہوں۔۔
تم آنا کبھی پاکستان پورا پنجاب گھمائوں گا اور کشمیر وغیرہ بھی بہت خوبصورت وادیاں ہیں پاکستان میں منی سوئٹزر لینڈ ہے ہمارا پاکستان۔
سالک خوش دلی سے یون بن کو دعوت دے رہا تھا
عجیب بات ہےکبھئ سنا نہیں ایسا۔۔ یون بن کندھے اچکا کر بولا
چلو تم لوگ اب دو تین دن کے ہی مہمان رہ گئے ہو تو کم از کم سونا تو دیکھ لو ہمارا۔ کل چلتے ہیں سونا خوب مزے کریں گے۔
یون بن نے اتنے اشتیاق سے کہا تھا کہ وہ انکار نہ کرسکا۔
ٹھیک ہے کل چلیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصویر کھنچ گئ تھی گردہ تھوڑی چوری کر لیا تھا میں۔نے۔۔
اریزہ سخت خفا تھی۔۔بڑ بڑاتے ہوئے چیزیں سمیٹ رہی تھی۔۔ وہ اور گوارا اسکے کمرے میں سامان سمیٹنے آئی تھیں۔۔
گوارا تو آرام سے سنتھیا کے بیڈ پر پائوں پھیلا کر لیٹ گئ اور موبائل استعمال کرنے لگی اریزہ البتہ اوپر چڑھ گئ تھی۔۔ اسکا لیپ ٹاپ تک یہیں تھا کپڑے ودیگر سامان پر گرد کی تہہ جم رہی تھی۔۔ اسکو بے ساختہ وہ پہلا دن یاد آیا جب وہ اور سنتھیا اس کمرے میں آکر خوشی سے اچھل پڑی تھیں۔ اور گوارا نے ناک چڑھا کر جانے کیا تبصرہ مارا تھا انکے منہ پر۔۔
اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔۔
تمہیں پتہ ہے بریو ہارٹ کا لیڈ سنگر تھا وہ جو ہمارے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر آیا تھا تبھی تو اسکے استقبال کیلئے اتنے رپورٹر جمع تھے ائر پورٹ پر۔۔
وہ اوپر گرل سے جھانک کر بڑے شوق سے سنتھیا کو بتا رہی تھی۔۔ سنتھیآ بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی نیل پالش لگاتے بے نیازی سے بولی
ہوگا سنگر اپنے لیئے ہمارے لیئے تو عام سا چینی تھا ہم کیا جانیں اسے
کورین۔۔ چینی نہیں ہے وہ بے چارہ۔۔ اریزہ ہنسی
کیا فرق ہے دونوں کی آنکھیں کھلتی نہیں چاہے چینی ہو یا کورین۔۔ میرئ لیئے تو بڑی آنکھوں والا سلونا سا لڑکا کافی ہے اسکے سوا کسی کو نہیں دیکھنا مجھے۔۔
وہ ادا سے کہتی لہرائی
یاک ۔۔ اریزہ نے بے ساختہ الٹی کرنے والے انداز میں ناک چڑھا کر کہا تھا۔۔ زہر لگتی ہو ایسے کہتی
ہائے بس ایڈون کو پیاری لگوں میں بس باقی دنیا کی خیر ہے۔۔
وہ لہرا کر بستر پر گر ہی گئ۔۔
ہاں جی اب ہم کہاں نظر آئیں گے تم پریمیوں کو۔۔
اریزہ نے آہ بھری
تم تو نظر آرہی ہو اور بہت ذیادہ نظر آرہی ہو وہ بھی اسکو جسکی آنکھیں نظر نہیں آتیں۔۔ سنتھیا نے چسکے لینے والے انداز میں کہا تو اریزہ نے چونک کر گرل کے دونوں راڈوں کے درمیان سے گردن باہر نکال کر نیچے جھانکا۔۔
کون ؟ کسے ؟؟
ہیون کو اور کسے۔۔ ہیون اب اریزسک ہورہا ہے ۔۔۔ خود ہی بتا رہی تھیں اپنی بہن تک سے ملوایا کھانے کھلائے او راس انگریزنی سے بھی لڑا تمہارے لیئے دال میں کچھ کالا تو ہے۔۔
سنتھیا کھلکھلائی تو اریزہ منہ کھولے سنتی رہ گئ۔
ارے ارے کیا بکے جا رہی ہو۔۔ اس نے غصے سے جلدی سے مڑ کر اپنے بیڈ سے تکیہ اٹھا کر مارنا چاہا مگر گردن پھنس گئ۔۔
ہائے اوئی۔۔ اسکی آہ و فغاں اتنی بلند تھی کہ سنتھیا گھبرا کر بیڈ پر کھڑئ ہوگئ اسکی صرف گردن باہر تھی باقی جسم بیڈ پر اتنی مضحکہ خیز لگ رہی تھی کہ سنتھیا کی ہنسی چھوٹ گئ
ہنسو مت اوپر آکر میری گردن چھڑائو۔۔ اریزہ بلبلائی تو وہ بمشکل ہنسی روکتی اوپر بھاگی آئی جیسے ہی قریب آکر اریزہ کو چھڑانا چاہا اریزہ نے سہولت سے گردن باہر نکال کر اسے گردن سے پکڑ کر بیڈ پر گرلیا۔۔ دونوں کی ہنستے ہنستے تکیوں سے لڑائی ہوئی پھر دونوں ہی اکثر شرارت سے گردن وہاں سے لٹکا کر لیٹ کر ہنستی رہی تھیں۔۔
ہوگیا ؟ گوارا نے اوپر آکر پوچھا تووہ جو بے خیالی میں ویسے ہی گردن پھنسائے لیٹی تھی اٹھ بیٹھی۔۔۔ اسکا سوٹ کیس بھر چکا تھا لیپ ٹاپ اور دیگر چھوٹا موٹا سامان اس نے سمیٹ کر رکھ لیا تھا۔۔
ہاں بس کپڑے سمیٹ لیئے میں نے۔ اور۔۔ اسے خیال آیا تو کیبنٹ کھول کر دیکھنے لگی ۔۔ اسکے ذخیرہ کیئے گئے بسکٹ چپس پاپ کارن ویفرز سب وہیں ان چھوئے موجود تھے۔۔۔ وہ گہری سانس بھر کر انہیں بھی نکالنے لگی۔۔
نیچے تو تمہاری سہیلی نے سب سمیٹ لیا ہے ۔کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ کہاں گئ ہے رہنے ؟۔۔
گوارا اسکے بیڈ پر اوندھئ لیٹی گرل سے گردن نکالے نیچے جھانک رہی تھی۔۔
پتہ نہیں۔۔ اس نے باقی چیزیں سوٹ کیس میں رکھ کر اسے بند کیا پھر ایک بڑا سا ویفر کا پیکٹ کھولتی گوارا کے برابر اسی کے انداز میں لیٹ گئ۔۔ گردن اور ہاتھ گرل سے باہر نکال کر اسے ویفر آفر کیا جسے جوابا اس نے بھی گرل سے ہاتھ نکال۔کر قبول لیا۔۔
تمہاری اسکی دوستی اتنی پکی ہوتی تھی کہ میں اور جی ہائے رشک کرتے تھے۔ ہمیشہ اکٹھے کھاتی پیتی تھیں اتنا وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ نظر نہیں آتی تھی جتنا تمہارے ساتھ۔۔تبھی تو ہیون گے سمجھا تھا تم لوگوں کو۔۔
مت یاد کرائو مجھے۔۔ اریزہ نے منہ بنایا تو گوارا کھلکھلا کر ہنس دی۔۔
پتہ ہے ہم دونوں تمہارےاور یون بن کے رشتے پر رشک کرتے تھے۔ایسا خونخوار اور سر پر سوار ہونے والے رویئے کے باوجود وہ کیسا تمہارے آگے پیچھے پھرتا تھا اف رشک آتا تھا۔۔ سنتھیا کی تو تم دونوں کے پیچھے ایڈون سے لڑائی بھی ہوئی کہ تم تو میرا اتنا خیال نہیں رکھتے۔۔ وہ ہنس کر بتا رہی تھی گوارا کی مسکراہٹ دھیمی پڑ گئ
میں واقعی ڈومینیٹنگ تھی اس رشتے میں۔ اس نے سنجیدگی سے پوچھا تو جوابا اریزہ نے ویفر سے بھرے منہ کے ساتھ زور و شور سے سر اثبات میں ہلایا۔۔
گوارا ہلکا سا ہنسی۔۔
چلو یعنی اب وہ کھل کر سانس لے سکتا ہے۔ میرے بعد۔
مطلب۔۔ اریزہ نے چونک کر دیکھا۔۔
مطلب ہم دونوں نے رشتہ ختم کر لیا ہے۔۔ گوارا نے بہت آرام سے بتایا۔۔ اریزہ چیخ پڑی سر گرل سے لگا۔۔
آرام سے۔۔ گوارا نے اسکا ماتھا سہلایا
کیوں؟؟؟؟؟ کیوں کیا بریک اپ ؟ تم دونوں ساتھ اتنے جچتے تھے۔۔
اریزہ کو واقعی دکھ ہوا
اچھا۔۔ گواراکا انداز محظوظانہ تھا۔۔
اسے لگتا تھا میں اسکے حواسوں پر سوار ہونے کی کوشش کرتی ہوں اور مجھے لگتا تھا وہ مجھ سے چھوٹتا جا رہا ہے اسے تھام کر رکھتے رکھتے تھکنے لگی تھی میں۔۔
تم محبت نہیں کرتی تھیں اس سے۔۔
اسکے اطمینان بھرے انداز نے اریزہ کو بہت حیران کیا تھا
محبت مجھےتو لگتا تھا اسکے دور جانے سے میں مر ہی جائوں گی۔۔ گوارا کے لہجے میں دکھ چھلکا تھا
پھر ؟؟؟ تم دونوں کی اگر لڑائی ہوئی ہےتو ہم صلح کرادیتے ہیں۔۔
اریزہ کے کہنے پر گوارا نے بہت غور سے اسکی شکل۔دیکھی۔۔۔
اسے جی ہائے کا ردعمل یاد آیا تھا جس نے ناک چڑھا کر۔کہا تھا۔۔
دفع کرو۔کوریا میں لڑکے بھرے پڑے ہیں اس بار کسی اچھی ڈیٹنگ ویب سائٹ کو سرچ کر کے ڈھنگ کا لڑکا ڈھونڈنا۔۔
اسکے دل پر کیا گزر رہی تھی اسکا اسے ادراک تک نہ ہوا تھا۔۔جبکہ اریزہ ٹھیک ٹھاک سنجیدہ اور پریشان تھی اسکے لیئے۔۔ دوستی یہی تو ہوتی ہے اپنا بن جانا اپنا سمجھنا۔۔
ہیلو؟۔ اریزہ نے اسے چپ خود کو گھورتے دیکھ کر چٹکی بجا کر متوجہ کیا۔۔
گوارا نے گہری سانس لی۔۔
تمہیں پتہ ہے محبت ایسے ہی کسی گرل میں گردن پھنسانے جیسا ہے۔۔ ہمارا سر پھنسا ہوتا خود کو چھڑا نہیں پاتے لگتا ہے کبھئ گردن نکل نہیں پائے گی مگر۔
۔ اس نے کہتے کہتے رک کر احتیاط سے سر سکیڑ کر دونوں راڈوں کے درمیان سے گردن نکالی۔۔
یہ ہمارا گمان ہوتا ہے ۔ہم اپنی گردن آرام سے نکال۔سکتے ہیں۔۔ ایسے۔۔
وہ سیدھی ہو کر بیٹھ کر ہنسنے لگی۔۔
ارے۔۔ اریزہ جو بے دھیانی میں گردن موڑے اسے دیکھ رہی تھی بھول گئ کہ کہاں گردن پھنسائی ہوئی ہے ایکدم سے مڑنے سے زور کا جھٹکا لگا۔۔
آہ۔۔ وہ تڑپ کر وہیں سر گرا گئ۔۔
کیا ہوا۔۔ گوارا فورا اسکی گردن چھڑانے آئی۔۔
کبھی کبھئ گردن نکالنا مشکل بھی تو ہو جاتا ہے۔۔
اریزہ نے منہ بسورا ۔۔گوارا زور سے ہنس پڑی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون کے ساتھ اسی گوشی وون کی عمارت میں داخل ہوتے اسکے قدم من من بھر کے ہو چلے۔ تنگ سی راہداری آج بھی خالی تھی۔اسکا بڑا سا اٹیچی گھسیٹتا اور چھوٹا بیگ کندھے پر لٹکائے ایڈون اس سے چند قدم آگے ہو کر ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اند رداخل ہو بھی گیا وہ ابھی اس طویل نیم تاریک راہداری کے آغاز میں ہی کھڑی تھی۔ ایڈون نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بھناتا ہوا کمرے کے دروازے سے سر نکال کر بولا۔
آئو بھی وہاں کیوں رک گئیں۔۔
اسکا سخت لہجہ وہ فورا تیز تیز قدم اٹھاتی چلی آئی۔
وہی چھوٹا سا اسٹور نما کمرہ جس پر بس ایک بنچ نما بیڈ تھا سامنے رائٹنگ ٹیبل کے نام پر دیوار گیر الماری کا ہی ایک سرا تھا ایک چھوٹی سی کھڑکی اور بس ۔
یہ تمہارا کمرہ تو نہیں ہے۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا۔
ایڈون کا کمرہ اتنا خالی نہ تھا۔ اس کمرے میں سوائے بستر تکیئے سب خالی تھا۔
ہاں تو یہ میں نے کب کہا کہ میرا کمرہ ہے۔ ایڈون اسکا اٹیچی دیوار کی طرف کرکے کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا۔۔ میرا کمرہ نمبر 25 ہے تمہارا 17 سب سے قریب ترین یہی کمرہ خالی تھا۔ میں نے کوشش کی کہ اپنے کمرے کے قریب والے کسی کمرے کے مکین کو منا لوں مگر یہاں ذیادہ تر لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں منہ پر دروازہ بند کیا سب نے میرا بس یہ ایک کورین لڑکی جو اس کمرے میں رہتی تھی وہ اتفاق سے کہیں اور منتقل ہو رہی تھی سو یہ کمرہ مل گیا ورنہ اوپر کسی فلور۔۔
وہ تفصیلا بتاتا بیڈ پر گر سا گیا۔ اسکا بھاری اٹیچی اٹھانا آسان کام نہ تھا۔
میرا دم گھٹ رہا ہے۔ یہاں تو مجھے سانس بھی نہیں آرہی۔
سنتھیا نے بے تابی سے اسکی بات کاٹی۔۔ اسکا چہرہ پسینے میں تر ہو چکا تھا۔ کمرے کا دروازہ بند ہونے اور ایک باتھ روم جتنی تنگ سی جگہ میں دو نفوس کی موجودگی اس کی حالت واقعی خراب ہونے لگی تھی۔ ایڈون سرعت سے اٹھا۔ کمرے کی اکلوتی کھڑکی کے پٹ کھولے۔
میں یہاں ایگزاسٹ فین لگوادیتا ہوں۔۔
وہ کہتے ہوئے مڑا تو سنتھیا دروازہ پورا کھول کر راہداری میں منہ نکال کر گہری سانس لے رہی تھی۔
کھول تو دی ہے کھڑکی ادھر آکر بیٹھو۔ ایڈون اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھانا چاہتا تھا مگر اس نے جھٹک دیا۔
یہ یہ سرنگ۔۔ تمہارا کمرہ پھر راہداری کے شروع میں ہے یہاں تو کوئی ہوا کا گزر بھئ نہیں ہے اتنی سی کھڑکی۔ میرا باتھ روم اس سے بڑا ہوتا تھا۔۔
سنتھیا کی سانس ابھی بحال ہوئی تھی جبھئ الٹ ہی تو پڑی۔
مانا عجیب لگتا ہے اتنی چھوٹی جگہ میں رہنا مگر بس ایک دو دن پھر عادت ہو جائے گی۔
ایڈون نے سبھائو سےسمجھانا چاہا۔
مجھے عادت نہیں ہو سکتی۔ اس کمرے میں بدبو ہے گھٹن ہے اور یہ جگہ۔ میں یہاں بالکل نہیں رہ سکتی ۔ وہ نفی میں سر ہلاتی کمرے سےباہر نکل آئی۔
ایڈون ہونٹ بھینچ کر دروازہ برابر کرتا اسکے پیچھے چلا آیا۔وہ تیز قدم اٹھاتئ کمپائونڈ سے بھی باہر آکر لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔
ایڈون نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسکے پاس آنے کی بجائے سیدھا سڑک پار کرکے اسٹور میں گھس گیا۔
وہ حیرت سے اسے دیکھتی کمپائونڈ کے باہر بنے گرین ایریا کی کیاری پر ٹک گئ۔
چند لمحوں بعد اسکے سامنے منرل واٹر کی بوتل لہرائی تھی۔ اس نے بلا توقف ڈھکن کھول کر بوتل منہ سے لگا لی او رغٹا غٹ چڑھا تی چلی گئ۔
یہاں کی زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ ہم جیسے طلباء اسی طرح کے گوشی وون یا ہاسٹل وغیرہ میں ہی گزارا کرتے ہیں۔
ایڈون کا انداز نرم سا تھا۔
اوپر سے تمہیں کیا لگتا ہم اکٹھے یہاں شادی کرکے رہ بھی لیں تو اس بچے کے سو خرچے ہوں گے تعلیم ہماری ادھوری ہے اسکے دودھ پیمپر وغیرہ کا خرچہ کہاں سے پورا کریں گے؟
وہ بس اسے دیکھ کر رہ گئ۔
تمہیں بچے بالکل پسند نہیں۔
اس کے کہنے پر ایڈون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا
یہ بات نہیں ہے۔ ابھی نہیں چاہیئے۔ابھی اور بہت کچھ کرنا ہے ابھی سے اس جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتا۔ او رتم خود تم اس وقت ایک بچہ پالنے کی پوزیشن میں ہو؟ سو کام ہوتے ہیں ماں کے۔ اپنی زندگئ اپنی نہیں رہتی بچے کے کھانے پینے ہر ضرورت کا خیال رکھنا پڑتا ہے ایکدم سے وہ پل نہیں جاتا اور اس بچے کو کیری کرنا۔ آٹھ نو مہینے بندھ کر اس بچے کو سینچ ۔۔۔
بس کرو۔
وہ جھلا کر ٹوک گئ۔ پانی کی وہ پوری بوتل خالی کرچکی تھی۔ اس وقت یہاں کا موسم بالکل بھی گرم نہیں تھا پاکستان کے مقابلے میں مگر اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بھٹی میں بیٹھی ہے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ ایڈون مزید کچھ کہتا مگر اس وقت اسکی حالت واقعی قابل رحم تھی۔
مجھے کسی ہوٹل کسی سونا میں چھوڑ دو۔ میں ابھی یہاں اس دڑبے میں رہنے کیلئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں۔
اس نے کہہ ہی دیا۔ ایڈون ہنکارہ بھرتا اٹھ کھڑا ہوا
میں کسی قریبی ہوٹل کا پتہ کرتا ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن اور کم سن نے حقیقتا دوستی نبھا دی۔ انکو سیول کی خوب سیر کرائی۔ ٹرک آئی میوزیم لے گئے۔ جہاں مختلف نگاہوں کو دھوکا دینے والے سیٹ بنے تھے۔ سیدھے فرش پر کھڑے ہونے کے باوجود یوں لگ رہا تھا کہ وہ چھت سے الٹے لٹکے ہیں۔ ایک سیٹ میں عام سائز کی چھت بھی تصویر میں یوں دکھائی دیتی تھی جیسے وہ کسی چھوٹی نیچی چھت کے نیچے جھکے ہوئے کھڑے ہیں۔
انکو کوریا کے عجائب خانے میں لے گئے جن میں لگے بتوں کو دیکھ کر سالک اور شاہزیب ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے
یہ آٹھویں صدی کا بادشاہ تھا۔ کم سن تعارف کرا رہا تھا۔ ساتھ لمبا چوڑا نام بھی بتایا جو انہیں یاد نہ رہا مگر یہ یاد رہا کہ انکے بادشاہوں کے کرتوت بالکل بھی شریفانہ نہ تھے۔ تصاویر میں انکے دور کی جو خوبیاں لکھی تھیں اور جو منظر کشی تھئ دونوں کے چہرے لال ہوگئے۔
آئو تمہاری تصویر لوں۔
کم سن ایک بت کے ساتھ خاصی بے تکلفی سے کھڑا ہو کر تصویر بنوا رہا تھا اسکی تصویر لیتے ہوئے یون بن نے شاہزیب کو بھی دعوت دی۔
نہیں بہت شکریہ میں یہاں فوارے کے ساتھ بنوا لوں گا۔ اس نے سہولت سے منع کردیا۔
۔ان برہنہ اسٹیچوز کے ساتھ تصویر بنا بھئ لیتا تو لگاتا کہاں دکھا کسے پاتا۔ الٹا جوتے الگ پڑتے۔
سالک سر کھجا رہا تھا۔
یار یہاں لڑکیاں بھی تو آتی ہوں گی انکو شرم نہیں آتی؟
ان دونوں کے برعکس یون بن اور کم سن خاصے فخریہ انداز میں مسکرا کر تصاویر بنوا رہے تھے۔
ہمارا ارادہ تم لوگوں کے ساتھ جیجو آئی لینڈ بھی جانے کا تھا سمسٹر بریک میں مگر موقع ہی نہیں رہا۔
یون بن کو افسوس ہو رہا تھا۔
کوئی نہیں میں پڑھ لکھ کر افسر بن کر تم لوگوں سے ملنے آئوں گا سیول۔
سالک نے تسلی دی۔ ان سے ذیادہ خود کو۔ اس وقت تو لگ رہا تھا کہ جیسے دنیا کی سب منحوسیتیں ان سے جڑ گئ ہیں جبھئ پاکستان واپس جانا پڑ رہا ہے۔۔
آپ لوگ آئیے گا نا پاکستان ہم آپکو پاکستان گھمائیں گے۔ وہاں بھی سب کچھ ہے سیول کی طرح
شاہزیب نے خوش دلی سے دعوت دی۔
سوجو ہے ؟
کم سن نے گھونٹ بھر کر جتانے والے انداز میں پوچھا تھا۔
سالک اور شاہزیب ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئے۔
یار انکو میں نے سونا دکھانا تھا انہوں نے سونا نہیں دیکھا ہوا۔
یون بن کو خیال آیا تو کم سن فورا ہی تیار ہوگیا
ایسی بات ہے تو چلو چلیں
وہ سب ایک ساتھ سونا آئے تھے۔۔ وہاں کا نظام دیکھ کر انکی آنکھیں پھٹنے کو آگئی تھیں۔۔
ایک قطار سےبنے ہوئے بھاپ والے کمرے نہانے کیلئے گرم حمام ۔۔ کم سن نے بے تکلفی سے کپڑے لٹکا کر ایک جانب لگے سلیب کا رخ کیا تو دونوں سٹپٹا کر سیدھا باہر نکل آئے۔۔
اوئے آہستہ تولیہ نہ گرا لینا اپنی۔۔ کم سن انکی بوکھلاہٹ پر کھل کر ہنسا تھا۔۔
ایک بند کمرے میں مختصر تولیہ میں لپٹ کر بھاپ کا غسل لینا۔
کم سن اور یون بن تو آرام سے بنچ پر اچھی طرح ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر گئے ان دونوں کو پانچ منٹ میں گھبراہٹ ہونا شروع ہوگئ جب ایک ایک مسام سے پسینہ پھوٹ نکلا
پینے کے لیئے بھاپ اڑاتا چنبیلی کا قہوہ ۔
یار گرمئ ذیادہ ہے مجھے تو پسینے آگئے ہیں۔
شاہزیب نے شکایت کی تو یون بن اطمینان سے چسکی لیکر بولا
اسیلیئے تو یہاں آئے ہیں۔ جسم سے پسینہ بہہ نکلنے کا مطلب جسم سے فاسد مواد کا اخراج ہے۔ اس سے اندرونی تو جو صفائی ہوگی بیرونی طور پر بھی جلد ایسی کھل اٹھے گی کہ پاکستان جا کر بھئ یاد کروگے کہ سونا میں پسینہ بہا کر کتنے تازہ دم ہوئے تھے۔
ہمیں اتنا پسینہ بہانے کیلیے سونا جانے کی ضرورت نہیں ہم دہی لینے بھی گھر سے نکلتے تو پسینے میں نہا کر واپس آتے ہیں۔
شاہزیب نے ماتھے سے بہتی دھاریں انگلی سے جھٹکیں۔
میں چھچھوندر چھچھوندر سا محسوس کر رہا ہوں۔
سالک گھبرا کر اٹھ ہی گیا۔
مجھے یہ قہوہ بچا لینا چاہیئے نہا کر جسم پر ملوں گا اتنے پسینے کے بعد صرف صابن مجھ سے دوسروں کو نہ بچا سکے گا۔
شاہزیب نے قہوہ پینے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔
میں نہیں مزید جیتے جی جہنم کے مزے لوٹ سکتا۔ سالک کمرے سے ہی نکل گیا۔ مگر الٹے قدموں ہی واپس ہوا۔
وہ باہر وہ۔
اسکے منہ سے گھبراہٹ کے مارے لفظ ہی نہ نکل پائے
کیا ہوا۔
اسکی گھبراہٹ پر یہ تینوں چونک کے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
وہ باہر۔۔ باہر سب ۔۔۔ سب نہا رہے ہیں۔
اٹک اٹک کر جب تک جملہ مکمل کر پایا تینوں جست لگا کر دروازے سے باہر جھانکنے پہنچ چکے تھے۔۔
شاہزیب کی آنکھیں کھل سی گئیں۔۔
گائوں میں دوست یار مل کر ٹیوب ویل پر جا کر خوب ادھم مچاتے تھے مگر ان کے ساتھ بھی یوں نہانے کا تصور نہیں تھا۔۔ وہ بھی بچپن کے لنگوٹیا یار تو پھر اکٹھے نیکر پہن کر نہا لیں یوں اچانک پرائے ملک میں انجان لوگوں میں نہانا۔۔
اجتماعی غسل کیا جا رہا تھا باہر۔ چھوٹے چھوٹے حوض بنے تھے جن میں دو سے تین لوگ اکٹھے پانی میں بیٹھے چنبیلی کا قہوہ پی رہے تھے ان حوض کے باہر چھوٹے چھوٹے تھڑوں پر مختلف عمر کے بوڑھے بچے جوان بیٹھے ایک دوسرے کی پیٹھ مل رہے تھے۔ایک جانب شاور لگے تھے مگر شاور کے باہر کسی قسم کے پردے کا کوئی نظام نہ تھا۔
ان کے باہر آتے ہی دو نوجوان گھس گئے تھے پانچ شاور تھے اکٹھے۔۔
کم سن اور یون بن کو کچھ خاص نظر نہ آیا ایک تھڑےکی جانب بڑھتے ہوئے ان دونوں کو بھی ایک دوسرے کی پیٹھ ملنے کا مشورہ دے ڈالا۔
ہم واپس کمرے میں چلیں ؟
شاہزیب نے تھوک نگلا۔ سالک گھور کے رہ گیا۔ یہ دونوں ایک کونے میں بیٹھ کر رش کم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ کافی انتظار کے بعد پتہ لگا کہ یہ انتظار لا حاصل تھا۔
پورا سیول شائد آج ہی یہاں نہانے آن پہنچا تھا۔
یون بن کم سن نہا کر فارغ ہو آئے یہ دونوں ایک کونے میں بیٹھے رہے۔
تم لوگ نہا لو ورنہ آج رات میرا اور یون بن کا سونا مشکل ہو جائے گا تم دونوں ہم دونوں کے ہی روم میٹ ہوتے ہو۔
کم سن نےکہا۔۔
میں ان سب کے سامنے نہیں نہا سکتا۔ ہاسٹل چلو وہاں چاہے برف والے پانی سے نہانا پڑے مجھے منظور ہے۔
سالک نے صاف انکار کیا۔
یون بن نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا پھر کندھے اچکا دیے
ہم سے شرم آرہی ہے تو میں نہا چکا اب جتنے بھی لوگ ہیں انجان ہیں اندر۔۔ نہا ضرور لو ورنہ جتنا پسینہ نکال کے آئے ہو میں نے اپنے روم میں بنا نہائے تم دونوں کو گھسنے نہیں دینا۔۔
یون بن کا انداز وارننگ دینے والا تھا۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر سر ہلاتے اندر گھس گئے۔۔
پھر۔جتنی دیر شاور لیا چندی آنکھوں والوں کو آنکھیں پھاڑ کر گھورتے پایا۔۔
قسم سے مجھے آج سے پہلے نہاتے ہوئے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں دیکھا جا رہا ہوں۔۔
شاہزیب نے آنکھیں بند کر لیں۔
میں تو جیسے خود پر ٹکٹ لگا کر اسٹیج پر نہانے کا عادی ہوں۔۔
سالک نے دانت کچکچائے۔۔
یہ تھا کہ پانی وافر تھا صابن شیمپو بھی جی بھر کر نہائے۔۔
جب تولیہ لپیٹ کر باہر نکل رہے تھے تو پیچھے کوئی ہنگل میں کسی کو کہہ رہا تھا
پتہ نہیں کونسے جاہل ملک سے ہیں کپڑے پہنے پہنے نہا لیئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا کا پہلا سیشن تھا۔ اسکے ساتھ آتے اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وقت کتنا لگے گا۔ اسکوباقائدہ اسٹریچر پر لٹا کے اندر لے جایا گیا تھا۔ جانے کیا کچھ کرنا تھا۔ دو تین ایسے دورے مزید لگنے تھے اسکے بعد آپریشن ہونا تھا۔ایک چندی آنکھوں والی سے فیشل کروا کر اپنی شکل میں کوئی خاص تبدیلی لائے بنا وہ فارغ ہو کر باہر آگئ۔ جانے اسے کتنی دیر لگنی تھئ۔ وہ باہر ریسپیشن کے سامنے بنے انتظار گاہ میں آن بیٹھی۔ اس نے انتظار گاہ میں بیٹھے بیٹھے وہاں موجود آٹھ دس فیشن میگزین کھنگال لیئے کیونکہ ہنگل پڑھ تو سکتی نہ تھی۔ بس ورق پلٹتی رہی۔ اکتا کر سب سمیٹ کر واپس ریک میں رکھنے لگی تو ایک میگزین انگریزی میں دکھائی دیا اس نے غنیمت سمجھ کر اٹھا لیا۔
یونہی صفحے پلٹتے اسے مانوس چہرے دکھائی دیے۔ یوآنہ اور گنگشن انی کی مسکراتے ہوئے انگلیوں سے وی بنائے ہوئے تصویر۔
وہ بہت شوق سے اس سے منسلک مضمون پڑھنے لگی۔
ابھی آدھا ہوا ہوگا کہ فون بج اٹھا ۔
صارم کالنگ۔
اس نے خوش ہوکر میگزین ایک طرف رکھ کر فون اٹھایا۔
ابھی تمہیں ہی یاد کر رہی تھی۔ چھوٹتے ہی بولی۔ صارم پر مطلق اثر نہ ہوا
جھوٹئ۔ کبھئ تو سچ بولا کرو۔
ابھی تم مجھے ہی یاد کر رہے تھے۔ اس نے جملہ بدل لیا۔
ہاں وہ تو میں کر رہا تھا ۔ جبھی تو فون کیا۔ خلاف توقع وہ آرام سے مان گیا۔
اچھا یہ۔بتائو کیسی ہو؟کہاں ہو؟ہاسٹل میں بیٹھئ مکھیاں مار رہی ہو ہے نا۔
اسے اپنے اندازے پر یقین تھا۔
نہیں ایک بیوٹی کلینک آئی ہوئی ہوں۔ اس کے جواب میں فورا اگلا سوال حاضر تھا
اکیلی؟ وہ حیران ہوا تھا
نہیں دوست کے ساتھ آئی ہوں اسے ٹریٹمنٹ کروانا تھا۔
پتہ ہےوہ چہرے کی سرجرئ کراکے نقوش بدلوا رہی ہے اپنے۔۔ وہ تفصیل بتانا چاہ رہی تھی مگر صارم بات بدل گیا
دفع کرو اسے یہ بتائو پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟ وہ یقینا فرصت سے تھا۔۔
سب اے ون بہت اچھے پیپرز ہوئے میرے۔
وہ میگزین ایک جانب رکھ کر پہلو بدل کر بولی۔
میں سب جانتا ہوں۔ ذیادہ بنو مت۔ اس نے ڈپٹ کر کہا۔
جب پتہ ہے تو پوچھ کیوں رہے ہو۔ وہ منہ بنا کربولی
تم نے کیا سوچا ہے ؟ کب واپس آرہی ہو؟
اس نے بلا تمہید سوال کیا
میں چاہے مجھے چار سال لگ جائیں ڈگری لیکر ہی واپس آئوں گی۔
وہ اطمینان سے بولی
تمہاری جگہ دنیا کی کوئی اور لڑکی کہتی تو یقین آجاتا مگر تم سے نہ ہو پائے گا۔سو شرافت سے ٹکٹ کٹائو واپس آکر ڈگری مکمل کرو۔ سال ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔
وہ رعب سے بولا تھا مگر وہ پہلے کونسا کبھی اسکے رعب میں آئی تھی جو اب آتئ۔۔
میرے سال ہیں میری مرضی ضائع کروں یا جو بھی کروں تمہیں کیا۔ وہ ضدی پن سے بولی
خالہ خالو بہت اکیلے ہوگئے ہیں۔اریزہ ۔۔ وہ ناصحانہ انداز میں ٹوکنے لگا
اکلوتی اولاد ہو تم بالکل احساس نہیں اپنے والدین کا تمہیں۔ کوئی اندازہ ہے خالہ کتنی کمزو رہو گئ ہیں۔ اکیلی ہو گئی ہیں سارا دن بولائی بولائی پھرتی ہیں۔
کیوں تم ہو نا کمپنی دیا کروانہیں۔ وہ جتا کر بولی۔
اور امی مجھےبرابھلا کہنے کیلئے ہی یاد کر رہی ہوں گی کہ کاش یہاں ہوتی تو دو چار صلواتیں سنا کر جی ٹھنڈا کر لیتی اپنا ۔۔
شرم کرو۔ماں ہیں تمہاری۔ صارم کو تھوڑا غصہ آیا۔
مجھے افسوس ہے۔ وہ بلا ارادہ کہہ گئ۔
اریزہ۔ بس کرو۔ بہت ہوگیا ڈرامہ۔ اب سب ٹھیک ہو گیا ہے نا اب تو طنز چھوڑدو۔۔
صارم نے اچھے خاصے غصے سے ڈانٹ دیا۔ وہ چپ رہی۔۔وہ پھر شروع ہی ہوگیا۔
بالکل خالہ خالو کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ سکالر شپ ختم ہو چکی ہے اب وہاں رکنے کی کیا تک ہے؟ کوئی اندازہ ہے تمہیں بنا اسکالر شپ کے وہاں رہنا کتنا بڑا خرچہ ہے ہاسٹل کی فیس سمسٹر کی فیس کھانے پینے کا خرچ اوپر سے پچھلے دو مہینے سے تم اتنی بڑی رقمیں مزے سے منگوا رہی ہو کس خوشی میں؟ تمہارے ابا کے پاس کوئی قارون کا خزانہ نہیں ہے۔ انکی حق حلال کی کمائی ہے۔ تمہیں کوئی احساس۔۔
میرے ابا کی کمائی ہے مجھ پر نہیں خرچ کریں گے تو کس پر خرچ کریں گے؟ تم فکر نہ کرو انکے پاس ابھی بھی اتنا ہے کہ تمہارے خرچے میں کمی نہیں آئے گی میری وجہ سے۔
وہ سوچ کے کم ہی بولتی تھی صارم کے سامنے تو کبھی بھی زبان اور دماغ کا رابطہ بحال نہ رکھا ابھی بھی چڑی تو ایک نہ رکھی اسکی۔ جوابا وہ خاموش ہوگیا۔
اتنا خاموش کہ اسے باقائدہ فون کان سے ہٹا کر دیکھنا پڑا کہ آیاکال جاری ہے کہ کٹ گئ۔
اریزہ۔ میری بات ٹھنڈے دل سے سنو۔
چند لمحے چپ رہ کر بولا۔
خالو نے تمہارے نام سے جو پلاٹ بک کروایا تھا اسے بیچنے کا کہا ہے مجھ سے۔ اشد ترین ضرورت میں بھی انہوں نے کبھی اسے نہیں بیچا۔ اب تمہاری پڑھائی اور دیگر اخراجات کیلئے وہ اگر بیچنے لگے ہیں تو تمہیں انکو روکنا چاہیئے۔ واپس آجائو خالو نے وعدہ کیا تو ہے تم سے ڈگری مکمل ہونے سے قبل تمہاری شادی کا سلسلہ نہیں چلائیں گے پھر اب کیا مسلئہ ہے ؟ کیوں ڈر کے کوریا میں چھپی بیٹھی ہو ؟
اسے خاموشی سے شرافت سے سنتے اسے غلط فہمی ہوئی تھی کہ اسے بات سمجھ آرہی ہے۔
بول لیا جو بولنا تھا ؟ اب چپ۔کرکے سنو میرے بابا نے میرے لیئے پلاٹ بک کروایا اسے میری خوشی کیلئے بیچ رہے ہیں یہ میرا اور میرے بابا کا معاملہ ہے تم اپنے کام سے کام رکھو سمجھے۔
وہ بولتے بولتے آخر میں غیر ارادی طور پر کافی زور۔سے کہہ گئ۔ خاموش کاریڈور میں گپ چپ اپنے کام میں مصروف رسیپشنسٹ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی۔ اسکی آواز گونج گئ تھی جبھئ سر کے اشارے سے معزرت کرکے وہ رخ موڑ گئ۔ گلاس وال سے ٹریفک سے رواں دواں سڑک روشنیوں کی جگمگاہٹ مںظر بدلا تو موڈ بھی بدل گیا
پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ ۔۔ صارم جھلایا
تمہارا آخر مسلئہ کیا ہے؟ بڑی کوئی طرم خان ہو نا بڑا پڑھنے کا شوق ہے جیسے تمہیں۔
ہے شوق مجھے تمہیں کیاپتہ ؟ وہ چٹخ کر بولی۔
او رابا کو پیسوں کا مسلئہ ہے تو ان سے کہو مت بھیجا کریں مجھے پیسے میں یہاں پارٹ ٹایم جاب کرکے خود اپنا خرچہ اٹھا لو ں گئ۔ ان سے نہیں ماںگوں گئ۔ بچا لو تم اپنے خالو کا پلاٹ۔
جاب کرلوں گی۔ صارم نے نقل اتاری۔ جاب کروگی وہ بھی تم جیسی لڑکی۔ ذرا بتائو اتنے مہینے سے سیول میں ہو اپنی یونیورسٹئ کا راستہ یاد؟ گئ ہو کبھی سیول میں کہیں بھی اکیلے؟ اپنے بل پر یہاں پنڈی میں یونیورسٹی تک اکیلی جا نہیں سکتی ہو اجنبی ملک میں اپنے بل پر جاب کروگی جیسے میں تمہیں جانتا نہیں نا۔۔
یہ جو کوریا بیٹھی ہو وہ بھئ سنتھیا کے بل پر۔ وہاں کوریا میں بھی سنتھیا گئ ہے تو تم تیار ہوئیں ورنہ سنتھیا کے بنا جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔وہاں بھی مجھے پکا یقین سنتھیا کا بازو پکڑ کر چلتی ہوگی۔مان لو۔ تم ایک بزدل اور بونگی لڑکی ہو۔ دو قدم اپنے بل پر جس سے چلنا محال ہے۔ بڑے بڑے خواب دیکھے ہوں تو شخصیت میں بڑی بڑی تبدیلیاں لانی پڑتئ ہیں۔ تمہارے بارے میں تو مجھے پکا یقین ہے ٹکے کی بھی گرومنگ نہ ہوئی ہوگی تمہاری۔ ابھئ بھی سنتھیا ہے نا بیٹھی تمہارے پاس ۔۔۔اسی کے ساتھ آئی ہو نا۔ کب بڑی ہوگی تم اریزہ؟
وہ دونوں ایک دوسرے کو اس سے بھی ذیادہ سناتے تھے مگر اس وقت یہ سب سننا اس کا ذہن سن سا ہو گیا۔ آنکھیں پانی سے لبا لب بھر گئیں۔ تو یہ تھی اسکی شخصیت دوسروں کی نظر میں۔ اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔
بولو ہے نا سنتھیا پاس تمہارے تم اکیلے تو اپنے ہاسٹل سے کلاس روم بھی نہ جاتی ہوگی مجھے پکا یقین ہے۔اچھا بات کرائو میری سنتھیا سے شائد اسکے منہ سےسن کر کوئی میری بات تمہارے دماغ میں گھس جائے۔
صارم اسے اتنی آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا۔
سن۔۔ س۔۔ اس نے بتانا چاہا مگرمنہ سے لفظ کی جگہ سسکی سی نکلی۔ اس نے بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
ہیلو اریزہ۔ بات سنو۔ صارم کو بھی شائد احساس ہوا ذیادہ بول گیا ہے۔
اس نے فون کاٹ دیا۔ دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔ یہ حقیقت تھی کہ وہ یہاں اتنے عرصے میں کبھی اکیلے کہیں نہ گئ مگر ایسا بھئ نہ تھا کہ وہ کہیں جا نہ سکتی تھی۔ اسے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کی گوارا کے ساتھ آ جا کے بھی عادت نہ پڑی تھی مگروہ ٹیکسی میں تو گھوم سکتی تھی۔یہ الگ بات کہ کبھی کوشش نہ کی۔ اپنے شہر میں واقعی اس نے کبھی ان تجربوں کو کرنے کا نہ سوچا پر اس لیئے کہ وہاں اسکے منہ سے بات نکالنے کی دیر ہوتی بابا خود اسے پک اینڈ ڈراپ دیتے تھے وہ مصروف ہوں تو لاکھ صارم اسکو نخرے دکھاتا رہے پر خیال بہت رکھتا تھا۔ اسکی کبھی کوئی فرمائش ٹالی نہ تھی۔ اسے احساس نہیں ہوا آنسو تواتر سے اسکے گال پر بہتے چلے گئے تھے۔ ہوا کے جھونکے سے میگزین کا ورق پلٹا تھا۔ اگلے صفحے پر یو آنہ کی بڑی سی تصویر تھی۔ اس نظم کے ساتھ جو اس نے بین القوامی سطح پر ہونے والی اس تقریب میں پڑھی تھی۔ اس نظم کی تعریف کئی بین القوامی سطح پر شہرت رکھنے والے شعرا نے کی تھئ وہی نظم جسے یوآنہ نے اپنے لیئے ہوپ قرار دیتے ہوئے اپنا نام ہوپ رکھ ڈالا تھا۔۔ ۔ وہی نظم جسکا ترجمہ انگریزی میں اسکے پروفیسر نے کیا تھا۔وہی نظم جو اس گڈ فارنتھنگ لڑکی اریزہ نے لکھی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خدایا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا تم اپنا فیشل کروانے کے بعد بھی میرا انتظار کرتی رہو گی تین گھنٹے تک کہا تو تھا کہ چلی جانا واپس۔
گوارا کلینک میں اسے انتظار میں بیٹھا دیکھ کر حیران رہ گئ تھی۔
بس تھوڑاسا انتظار کرنا پڑا مجھے خیر ہے۔ اریزہ مسکرا کر اپنا بیگ اٹھاتئ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ضرورت نہیں تھی نا۔ میں تو اسلیئے لائی تھی کہ میرے پیکج کے ساتھ فیشل مینی کیور پیڈی کیور ایک بندے کا فری تھا تو تمہارا بھلا ہوجائے تمہیں یہاں بے بی سٹنگ کرنے تھوڑی لائی تھی ۔پھابو (احمق )لڑکی
تو کیا ہوا۔ اگرمیں نے انتظار کر بھی لیا تو۔
اریزہ چڑ کر بولی۔
ہوا کچھ نہیں خفا کیوں ہو رہی ہو مجھے شرمندگی ہو رہی تھی کہ میری وجہ سے تمہیں اتنا فالتو بیٹھنا پڑا۔
اسکا موڈ بگڑتے دیکھ کر گوارا کو حیرانگی ہوئی۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ باہر کہاں سے کونسی سواری مل سکے گی۔
گوارا کو کیا پتہ کہ اسکا دماغ کس بات نے خراب کیا ہے یہی سوچ کر ذرا موڈ بہتر کیا۔ سر جھکا کر من من کرنے لگی ۔ کیلنک سے نکل کر سڑک پر آنے تک اس سے سر اٹھایا نہ جا سکا۔ اپنا آپ دنیا کا احمق ترین انسان لگ رہا تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ خیال ستا رہا تھا کہ یہاں بھی وہ اکیلی آنے جانے لائق نہ تھی۔
وہاں تو مجھےخود کو یہ مارجن دینے کا موقع مل جاتا تھا کہ زمانہ خراب کوئی لوفر لفنگا نہ ٹکر جائے یہاں تو کوئی سر اٹھا کر دیکھتا بھی نہ تھا۔ پھر بھی۔ دراصل تم واقعی ہی ایک کم ہمت بزدل پیراسائٹ نما لڑکی ہو ورنہ پاکستان میں لڑکیاں کیا اکیلی گھر سے نہیں نکلتیں۔۔وہ یہی سوچتی خود کو کوس رہی تھی۔
گوارا تیز قدم اٹھا رہی تھی ایکدم رک کر پلٹی تو اریزہ سے ٹکراتے ٹکراتے بال بال بچی۔
یہ دیکھو سامنے بس اسٹاپ تھا۔۔گوارا نے دائیں جانب تھوڑے ہی فاصلے پر بنا بس اسٹاپ دکھایا۔
چلو چلیں۔ وہ بولی تو گوارا نے کندھے اچکائے
ابھی تو ہایون آرہا ہے لینے ان سب کا کسی ہوٹل میں ڈنر کا پروگرام ہے میں نے کہا یہاں سے پک کر لے ہمیں۔۔
اس نے کہتے ہوئے اپنی گردن سہلائی۔۔
وہ گوارا کو دیکھ کر رہ گئ۔ ابھی ہی خیال آیا تھا اسے کہ اب پکا بچت کرنی ہے۔
وہ سر جھکا کر مرے مرے قدم اٹھا رہی تھی تبھی وہ گاڑی اسکے سامنے آن رکی۔۔
دیکھی دیکھی لگ رہی ہے۔ اس نے گاڑی پہچان کر ڈرائور تلاشا تبھی گاڑی کا شیشہ نیچے ہوا اندر سے چمکتی دمکتی مسکراتی شکل۔۔
کھا جا۔
ہایون دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔۔۔۔
آج پکا میں اپنابل خود دوں گئ۔ اس نے مصمم ارادہ کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے پر تعییش ریستوران میں بیٹھ کے بندہ ویسے ہی خود کو غریب غریب سا محسوس کرنے لگتا ہے۔
یون بن مسخرے پن سے بولا تھا۔ سالک شاہزیب ایڈون اور سنتھیا سب بڑے شوق سے ریستوران کی آرائش کو دیکھ رہے تھے۔
ہایون کہاں چلا گیا ؟
کم سن کوئی فون کال سننے اٹھ کر گیا تھا واپس آیا تو ہایون کی غیر موجودگی فورا محسوس کی بیٹھتے ہی پوچھا۔
گوارا اور اریزہ کو لینے بھیجا ہے اسے۔ ایڈون نے بتایا۔
یار ویسے ہایون کو ہم نے تو خوار کرکے رکھا ہوا ہی تھا اب پاکستانی بھئ اسکے ساتھ یہی سلوک کرنے نہیں لگے؟
کم سن نے ہنس کر یون بن سے ہنگل میں کہا۔۔
جی ہائے کو نہیں بلایا۔
سنتھیا نے یون بن سے پوچھاتھا۔
فون کیا تھا مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ یون بن نے کندھے اچکا کر لاپروائئ سے بتایا۔
یار ویسے یہ والا ریستوران انتہائی لگژرئیس ہونے کے باوجود سرینہ سے چھوٹا ہی ہوگا ۔
سالک نے گردن گھما کر متاثر نہ ہونے والے انداز میں تاسف سے سر ہلایا۔
یہ ویسے ہوگا اسی کے لیول کا۔
ایڈون نے اندازہ لگایا۔
پھر بھی۔ سرینہ کا تو ہال اس سے بھی دگنا ہوگا یہاں سے وہاں تک نگاہ نہیں ٹھہرتی سرینہ میں برقی قمقمے آرائیش پینٹنگز سب بہت آعلی ہے وہاں کا۔
سالک نے کہا تو ایڈون پوچھے بنا نہ رہ سکا
تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے سرینہ میں پل کر بڑے ہوئے ہو۔
واحد سرینہ ایسا اعلی درجے کا ہوٹل ہے جسکی زیارت سالک کو نصیب ہوئی ہے ایک ایگزیبیشن میں شرکت کا موقع ملا تھا سالک کو زندگی میں اب بقیہ زندگی اسی کا ذکر کرتے گزرے گئ۔
شاہزیب کے مزاق اڑانے والے انداز پر سالک تپ کر اسکو جملہ ختم ہونے تک کئی دو ہتھڑ لگا چکا تھا مگر وہ ڈھیٹ ہنستے ہنستے جملہ مکمل کرکے ہی چپ ہوا تھا۔
کیا ہوا ۔۔ کیوں مار رہے ہو
انکی اردو میں گفتگو میں یون بن کو بھی دلچسپی ہوئی
کہہ رہا ہے یہ ہوٹل پاکستان کے اعلی درجے کے ہوٹل میں سے تین چار نکل آئے۔
شاہزیب نے اپنی مرضی کا۔ترجمہ کیا
واقعی ؟
یون بن حیران رہ گیا۔
ہاں ہمارے یہاں زمین بہت ہے خاص کر امیروں کیلئے
ایڈون منہ بنا کر بولا
اچھا ویسے کوریائی عموما تعمیرات میں جگہ کم ہی خرچ کرتے ہیں ہمارے تاریخی محلات بھی جگہ کے اعتبار سے بہت بڑے نہیں ہوتے جتنے انڈینز کے ہوتے میں نے ایک شو دیکھا تھا کچھ کوریائی فنکار انڈیا گئے تھے وہاں جو تاج محل تھا اتنا بڑا تھا کہ میں حیران رہ گیا تھا دیکھ کے انڈینز اتنے کھلے محلوں میں رہتے تھے۔
یون بن نے کہا تو سالک اور شاہزیب تڑپ نہیں گئے
وہ مسلمانوں کی تعمیرات تھیں۔ اور تاج محل گھر نہیں تھا کسی کا۔۔ شاہزیب اب بر صغیر کی تاریخ یون بن کے گوش گزار کرنے کے موڈ میں تھا۔
انکی بحث سے اکتا کر سنتھئا نے ایڈون کا بازو ہلایا
مجھے بھوک بھی نہیں ہے اور یہاں بور بھی ہو رہی ہوں ہم واپس چلیں۔
پاگل تو نہیں ہو؟ ایڈون نے گھرکا
میں انکو دعوت دے کر پروگرام بنا کر لایا ہوں اور میں ہی چلا جائوں؟ واپس جا رہے ہیں یہ لوگ کچھ تو کرٹسی نبھائو۔
ایڈون نے ڈانٹ ہی دیا۔
اس دعوت کا بل تم دوگے۔ سنتھیا نے کٹیلی نگاہوں سے دیکھا
ظاہرہے۔ ایڈون لاپروا تھا سنتھیا جل گئ۔
ہر وقت تو روتے ہو پیسے نہیں ہیں اتنے بڑے ہوٹل کا بل کہاں سے پےکروگے؟
سنتھیا کے کہنے پر ایڈون نے گھبرا کر سالک شاہزیب کو دیکھا۔
انہوں نے کہہ کر کانفرنس ارینجمنٹ کروائی تھی یہ وی آئی پی لائونج تھا ۔بڑی سی دو میزوں جتنا گھیر تھا جس پر یون بن کم سن سالک شاہزیب ان سے قدرے فاصلے پر سہی مگر دوسرے کمرے میں تو نہ بیٹھے تھے کہ سن نہ پاتے۔ اس وقت زور و شور سے بحث میں الجھے تھے ورنہ یقینا یہ گوہر افشانئ سن ہی لیتے۔
کیا ہو گیا کیسی باتیں کرتی ہو اور فکر نہ کرو تمہارے پیسے خرچ نہیں کر رہا اپنی پارٹ ٹائم جاب کی کمائی اڑائوں گا خوش۔
ایڈون دانت کچکچا کر سخت لہجے میں بولا تھا۔ بس نہیں تھا کہ تنے ابرو اور بدمزہ تاثرات بنائے بیٹھی سنتھئا کا دماغ درست کردے۔
پھر بھئ یہاں لےکے ہی کیوں آئے ہو یہ دونوں کھا لیں گے حرام کھانا ؟
اسے اب نئی فکر لاحق تھئ۔
تمہارا مسلئہ نہیں یہ۔ اس نے بات ہی ختم کردی ۔
کوئی ایک آدھ تصویر ہی بنا دو میری تاکہ آئیندہ زندگی میں سرینہ کے علاوہ کسی اور ہوٹل کا نام بھی لے سکوں۔
سالک نے دہائی دی تو شاہزیب یون بن فورا اسکے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے
ہاں چلو یاد گار رہے گا۔ ایڈون بھی اٹھ گیا۔ سنتھیا کا منہ کھل سا گیا۔ اس نے کچھ کہہ کر روکنا چاہا مگر وہ دانستہ اسے نظر انداز کرگیا۔ سب اٹھ کر ہال کے ایک جانب لگی دیوار گیر پینٹنگ کی طرف بڑھ گئے۔ کم سن موبائل میں لگا ہوا تھا میسج ٹائپ کرکے یونہی اسکی جانب دیکھا تو جانے کیا خیال آیا اپنے اور اسکے بیچ رکھی دوکرسیوں کا فاصلہ ختم کرتا اٹھ کر اسکے دائیں جانب والی کرسی پر آن بیٹھا۔
اس ہوٹل کا بل ہم نے آج تک پے نہیں کیا ۔ہم ہمیشہ ہایون کی مفت دعوت اڑاتے ہیں۔
وہ بے دھیانی میں دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹے شعلہ بار نگاہوں سے انہیں پوز بناتے دیکھے جا رہی تھی جب اپنے قریب یہ گمبھیر آواز سن کر اچھل پڑی۔ پہلے چونکنا پھر حیرت کے مارے آنکھیں پھاڑ کر دیکھنا۔ کم سن کو اسکے تاثرات پر ہنسی ہی آگئ۔
تمہیں کیسے پتہ لگا ہم کیا بات کر رہے ہیں؟
اندازہ لگایا آدھے جملے میں تو انگریزی بولی ہے ہوٹل بل پے تو تکا مار لیا اور نشانے پرلگا۔ ویسے تم لڑکیاں اتنی کنجوس کیوں ہوتی ہو؟
اس نے چھیڑا تھا وہ چڑ بھی گئ
کیونکہ ساری کفایت شعاری لڑکے ہمارے سامنے ہی دکھاتے ہیں۔ خود جہاں مرضی خرچ کرلیں۔
اپنے ہی خرچ کرتے ہیں نا تم اپنے پیسے دل بھر کر جہاں مرضی آئے خرچ کیا کرو
کم سن نے معاملہ ہی سلجھا دیا۔سنتھیا اسکی بات پر کمر کس کے میدان میں اتر آئی۔۔
ہم پاکستانئ ہیں یہ میرا تیرا ہمارے یہاں نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کیا حرج ہے اس میں؟
ہایون نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔
حرج ہے نا۔ جب یہ کھانا میرے لیئے میرے نام سے لیا جا رہا ہے تو پے بھئ میں ہی کروں گی مجھے ہی کرنا چاہییے نا۔
اریزہ ضدی لہجے میں بولی۔
مگر یہ دعوتی کھانا میرے ہوٹل پر جائے گا میری جانب سے دعوت ہوگئ تو اس میں تمہارے پے کرنے کی کیا تک بنتی ہے۔
اسے کہنا پڑا۔
میں آرڈر دےکر گیا تھا کہ واپسی پر پک کرلوں گا۔یہ پانچ لوگوں کا کھانا ہے اچھا خاصا بل ہے۔
پھر بھی مجھ سے میری پسند پوچھ کر جو بریانی سیخ کباب اور تکے پیک کروائے ہیں انکا بل تو مجھے ہی دینا چاہییے نا۔
اس نے اپنے فرمائشی پیکٹ والا شاپر علیحدہ کیا۔وہ اس وقت ایک پاکستانئ ریستوران میں کھڑے بحث کر رہے تھے۔
کائونٹر پر کھڑا وہ انڈین لڑکا ان دونوں کی بحث پر مسکراہٹ دبا رہا تھا۔
عجیب ضدی ہو۔ ہایون چڑا۔
ہاں ہوں ضدی۔ اس نےپرس سے کارڈ نکال کر فورا بڑھایا۔
میرا بل میں خود پے کروں گئ۔۔
کارڈ سوائپ کرواکے وہ اب خاصی مطمئن تھی۔ ہایون نے گھورتے ہوئے بقیہ بل پے کیا شاپر اٹھانے لگا تو وہ آرام سے اسکے ساتھ مڑ کر جانے لگی۔
اپنے شاپر تو اٹھا لو۔ اس نے اپنے شاپر بھی نہ اٹھائے تھے۔ ہایون نے ٹوکا تو بے نیازی سے بولی
ہاں اٹھالائو۔۔ اس دن برا مان گئے تھے نا شاپر کیوں نہیں اٹھوایا تم سے اب اپنا شوق پورا کرلو۔
ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔ اسکے دونوں ہاتھوں میں خاصے بڑے پیکٹس تھے۔ اس تیسرے کیلئے اسکو مشکل سے جگہ بنانی پڑی۔ اتنا احسان اریزہ نے کردیا تھا تیز قدم چل کر پہلے ریستوران کا دروازہ اسکے لیئے کھولا پھر پہلے سے پہلے گاڑی کی جانب بڑھ گئ۔ اسے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب جاتے دیکھ کر اس کو بے ساختہ ہنسی آگئ تھی۔ سر جھٹکتا وہ پچھلئ سیٹ کا دروازہ کھول کر گوارا کے برابر میں پیکٹ رکھنے لگا جو اریزہ پر ہنس رہی تھی۔
تم ہمیشہ بھول جاتی ہو یہاں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہے۔ اریزہ ناکام ہو کر گھوم کر واپس فرنٹ سیٹ پر آن بیٹھئ۔ اس وقت خفت سے منہ سرخ ہوگیا تھا۔
ہاں تو کیا کروں ہمیشہ ادھر ہوتی ہے ہمارے یہاں پسنجر سیٹ۔
وہ منہ پھلا کر بول رہی تھی۔
ہایون دروازہ بند کرکے گھوم کر آکر ڈرائونگ سیٹ پر آکر بیٹھتے بولا۔۔
ویسے اب تک تو کوریا کی عادت ہو جانئ چاہیئے اتنا عرصہ ہوگیا ہے۔
گوارا پیکٹس سے خوشبو سونگھ رہی تھی۔
پاکستانی جہاں جاتے اپنا اثر چھوڑ آتے ۔۔۔پاکستان گئے بنا بھئ تم ایکدن پسنجر سیٹ پر ڈرائیونگ کرنے بیٹھ سکتے ہو۔۔
اریزہ کا انداز چیلنج کرنے والا تھا ہایون ہنس کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
پاکستانی ۔۔اثر۔۔ اسٹرینج۔
اف ویسے مجھے لگتا ہے اریزہ جاتے جاتے مجھے آدھا پاکستانی کر جائے گی اتنی مزے کی خوشبو آرہی ہے میں نے یہی کھانا ہے میرے لیئے کورین کیوزین آرڈر نہ کرنا۔
اس نے ایک پیکٹ ذرا سا کھول کر کباب نکال لیا۔
اور مزے لیکر کھانے لگی۔
یہ اریزہ کا پیکٹ ہے اسکو نہ کھولو اسکی پیمنٹ بھی اسی نے کی ہے۔
ہایون نے صرف اسے جتانے کو ٹوکا۔
ہاں تو دوست بھی تو میری ہے ۔ تم اپنے پیکٹ سنبھال کے رکھو بلکہ گوارا اسے بھی چکھائو اسکو بھی پتہ چلنا چاہیئے دوستوں کی ٹریٹ کا ذائقہ کیا ہوتا ہے۔
وہ کیوں پیچھے رہتی چڑانے کو بن بن کے بولی پھر مڑ کر گوارا سے کہتے اسے جتانے والی نظروں سے دیکھتے کہنے لگی۔
پتہ ہے گوارا ابھی مجھے کہہ رہا تھا بل ذیادہ ہے میں دیتا ہوں پیسے۔ آیا بڑا امیرباپ کی اولاد۔
جملہ تھوڑا بے عزتی والا تھا مگر انگریزی میں اتنا برا نہ لگا۔
ہاہا ۔۔۔۔وہ کھل کے ہنسی۔۔
ویسے ہایون چکھ کر دیکھو کیا ذائقہ ہوتا دوستوں کی ٹریٹ کا ورنہ تو بے چارہ ہمیشہ ہمیں ہی کھلاتا آیا ہے۔
گوارا واقعی اب اریزہ کی سہیلی تھی اسکے ساتھ مل کر چڑانے لگی۔ ہایون انکی باتیں سنتا ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ڈرائونگ پر توجہ مرکوز کیئے تھا۔
اور خوشبو سونگھو میرے بابا کے پیسوں کی چیز کی ۔۔
اریزہ نے گوارا کا ہاتھ تھام کر اسکے آس پاس لہرایا۔
سرموق فرق نہ پڑا تھا ہایون پر۔گوارا ہنس دی
اسکو کبھی چڑا نہیں سکتے ہم ۔ ہائی اسکول سے دیکھ رہے اسے اسکو غصہ کرتے تو دور چڑتے بھی نہیں دیکھا کبھی۔ اتنا ٹھس انسان کوریا میں بھی نہیں دیکھ پائوگئ اریزہ یہ انمول پیس ہے ہمارا۔
شکریہ اس تعریف کا۔
وہی معمول کی مسکراہٹ وہ بے نیازی سے ذرا سا سر جھکا کے کورنش بجا لایا تھا۔
اریزہ نے غور سے دیکھا۔ واقعی غصہ تو دور ذرا سی جھلاہٹ چڑ تک اسکے چہرے پر نہ آپائی تھی۔ اتنا ٹھنڈا میٹھا مزاج یا تو بے حسی تھئ یا بے نیازی۔ گاڑی سگنل پر رکی تھی۔ اس نے اطمینان سے سر گھما کر اسکی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا
کیا ہوا۔
آنیا۔ وہ سر نفی میں ہلا گئ۔
گوارااب چکھائو مجھے میں بھی چکھوں کسی اور امیر ذادی کے باپ کے پیسے کا ذائقہ۔
اسے نظروں میں رکھ کر وہ شرارتا گوارا سے مخاطب تھا۔ گوارا نے جھٹ ایک پیس نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔
اس نے چکھا ہھر سر ہلا کر بولا۔
واقعی اچھا ذائقہ ہے کھا کر مزا آیا۔
اریزہ سٹپٹا سی گئ۔ سگنل کھل گیا تھا مگر اس نے اطمینان سے پہلے کباب ختم کیا پھر ڈیش بورڈ سے ٹشو کھینچ کر اطمینان سے صاف کرنے لگا۔ پیچھے کھڑی گاڑی ہارن پر ہارن دے رہی تھئ۔
ہایون گاڑی چلا لو اب اس نے باہر نکل کر مارنا ہے ہمیں۔۔
گوارا پوری پیچھے مڑ کر ڈرائیور کو اشارے سے صبر کرنے کا کہتی ہایون سے مخاطب تھی۔
اریزہ نے بھی رخ بدل کر سامنے سڑک پر نگاہ جما دی تھی۔
میں نے کوئی دل دکھانے والی بات تو نہیں کی تھی۔
اسکا ذہن کسی کی آنکھوں کی تحریرپڑھنے میں الجھ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالک شاہزیب کے ساتھ یادگار تصاویر بنواتے اسکی نگاہ سنتھیا اور کم سن پر پڑی تھی۔ دونوں جانے کیا باتیں کر رہے تھے کہ سنتھیا کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔ بہت دنوں کے بعد یہ ہنسی اسکے چہرے پر اتنی کھلی تھی کہ یون بن نے انکو مخاطب کرکے تصویر کھینچ لی اور وہ گردن موڑے سنتھیا کو ہی دیکھ رہا تھا یہی پوز اسکا تصویر میں کھنچ گیا۔
ہایون کی گاڑی آتے دیکھ کر سیکیورٹئ گارڈز مستعد ہوئے تھے انکو کھانا اندر بھجوانے کی ہدایت کرتا وہ انکو اپنی رہنمائی میں اندر وی آئی لائونج تک لایا تھا۔ یون بن کم سن نے دور سے ہی دیکھ کر ہاتھ ہلا دیا تھا وہ جوابا مسکرا کر وش کرتا انکے پاس چلا آیا۔
آنیانگ۔ یون بن نے گرم جوشی سے گوارا کو جتانے والے انداز میں سلام کیا جواب اس نے منہ بنا کر ہی دیا تھا۔
پھر بریک اپ ہوگیا تم دونوں کا۔ کم سن چوکنا ہوا۔
تمہارا چانس پھر بھی نہیں۔ ہایون نے اسکے برابر بیٹھتے سرگوشی کی تھی۔۔۔
کم سن نے ذرا برا نہ مانا بلکہ ہنس کر ٹال گیا۔ ہایون نے حیرت سے اسکا ردعمل دیکھا پھر کندھے اچکاگیا۔
گوارا اور اریزہ سب سے مل ملا رہی تھیں سنتھیا نے اریزہ کے سلام کو قصدا نظر انداز کیا تو گوارا اسکا ہاتھ تھام کے ہایون کے برابر آن بیٹھی۔
اریزہ کل ہم جا رہے ہیں دوپہر کی فلائٹ سے۔
سالک نے بطور خاص اطلاع دی۔
اچھا۔ وہ اداس سی ہوئی۔ مجھے بے حد افسوس ہو رہا ہے کاش ہم سب مل کر یہاں سے ڈگری لیکر ہی جاتے۔
اس نے یونہی کہا تھا۔
ہم لیکن کچھ نہ کچھ تو لےکر جارہے ہیں ۔۔ سالک نے کہا
اچھی یادیں اچھے دوست۔
ہاں یار ویسے ہم کورینز اتنی آسانی سے گھلتے ملتے نہیں مگر لگتا ہے پاکستانیوں سے ہمارے ڈی این اے میچ ہوتے ہیں۔
فضا میں ڈی این اے( بی ٹی ایس کا گانا) ہی چل رہا تھا سو یون بن نے اسی کا حوالہ دے ڈالا۔
تم لوگوں نے آرڈر دے دیا تھا نا ؟
ہایون کو مہمان نوازی کا خیال آیا۔
ہاں اب ذرا ہدایت کردو کہ جلدی آجائے۔ کم سن کو بھوک لگی تھی۔ ہایون نے بیرے کو بلانے کا اشارہ کیا مگر انکا آرڈر خو دہی آرہا تھا۔دو بیرے مستعدی سے کھانا لگانے لگے اسٹیک نوڈلز سوپ سادے چاول کمچی فرائیڈ رائس سوشی اور کئی کھانوں کے تو نام بھی ان لوگوں کو نہیں آتے تھے۔ ساتھ چکن بریانی کڑاہی سیخ کباب اور تکے ۔۔ فضا میں کھانے کی خوشبو اتنی تیزی سے پھیلی تھی اور میز سجنے پرایڈون نے تھوک نگلا۔۔
اتنا سب تو ہم نے آرڈر نہیں کیا تھا۔ سالک حیران تھا
اس نے اور شاہزیب نے خالص سبزیوں کی ترکاری اور سبزیوں کا ہی پلائو منگوایا تھا۔مگر خالص پاکستانی کھانے دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی تھی۔
یہ ہمارے دوست کی مہربانی ہے کھلا کھائو بنا سوچے اپنے باپ کا ہوٹل سمجھو۔
یون بن لہرا کر بولا تھا۔
چھائے موکے سبندا۔
کم سن نے باتوں کی بجائے سیدھا کھانے کی طرف دھیان دیا۔
سبزیاں رکھی رہ گئیں کورین اور پاکستانی اپنے اپنے دیس کے کھانوں پر ٹوٹ پڑے۔
کم سن نے چکن تکے کی جانب چاپ اسٹک بڑھائی تو ایڈون نے پورک اسٹیک اٹھا لیا۔
اجنبئ گوشت کی کچی پکی بو۔
سنتھیا کو ابکائی سی آگئ۔۔
وہ ایکدم کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
کیا ہوا۔ وہ سب خاموش ہو کر دیکھنے لگے۔
کیا ہوا۔
مجھے واشروم۔ اس سے بولا بھی نہ گیا۔ ابکائی اتنی شدید تھی کہ فورا منہ پر ہاتھ رکھتی مڑ گئ
ہایون نے فورا ایک ویٹر کو اسے واشروم کا راستہ دکھانے کی ہدایت کی۔
سنتھیا نے یونہی ایڈون کو دیکھا اسے لگا تھا شائد وہ پیچھے آئے گا۔مگر ایڈون سر جھکائے مکمل کھانے کی طرف مگن تھا۔
سنتھیا کو ڈاکٹر کو دکھائو اسکی طبیعت خراب لگ رہی ہے۔ کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں کھایا ہے۔
اسکی پلیٹ میں چاول جوں کے توں تھے۔ جبھی سالک نے ہمدردی سے کہا۔
کوئی نہیں ٹھیک ہے وہ بالکل۔ ذرا سی بد ہضمی ہوئی ہوگی اسے۔
ایڈون نے جتنا عجلت میں صفائی دی تھی شاہزیب نے گہری نگاہ ڈالی تھئ اس پر۔
اریزہ تمہیں جانا چاہیئے تھا اسکے ساتھ۔
شاہزیب نے کہا تو وہ جز بز سی ہوگئ۔
اگلی بندی سلام کا جواب تک نہیں دے رہی وہ کہاں تک۔یکطرفہ دوستئ نبھائے
کوئی ضرورت نہیں آجائے گئ ابھی۔ تم آرام سے کھانا کھائو اریزہ
ایڈون نے کہا تو وہ جو اٹھنے کا ارادہ۔کرنے ہی۔لگی تھی ترک کردیا۔
کیوں ضرورت نہیں۔ سہیلی ہے اریزہ اسکی اتنی طبیعت خراب ہو تو اسے پوچھنا چاہیئے۔ چاہے ناراضگی ہی کیوں نہ ہو۔ شاہزیب ڈپٹنے والے انداز میں بولا تھا
کیا بحث چل پڑی ہے تم لوگوں میں۔
گوارا نے حیران ہو کر پوچھا تو اریزہ اٹھ ہی گئ
میں سنتھیا کو دیکھ آئوں۔
ایڈون سے نوالہ چبانا مشکل ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا واشروم میں بیسن میں جھکی تھی۔ اس نے دھیرے سے قریب آکر اسکی پشت سہلائی
کیا ہوا۔
سنتھیا فورا بیسن کا نل کھول کر بہانے لگی۔ کھایا پیا تو کچھ خاص تھا نہیں۔ذرا سا انار کا جوس تھا وہ بھی نکل گیا۔ اس وقت تو ناتوانی سے اسے چکر آرہے تھے۔
کچھ نہیں ٹھیک ہوں میں۔
بے نیاز کھردرا لہجہ بنانے میں بھی اسکی آواز کانپ سی گئ۔
تم یہاں کیوں آگئیں۔جائو کھانا کھائو۔
اجنبی سرد سا انداز۔ اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
اس نے اریزہ کے پاس سے ہو کر گزر جانا چاہا کہ لہرا گئ اس سے قبل کہ پورے قد سے زمین پر آگرتی اریزہ نے اسے بڑھ کر سنبھال لیا۔
تم بھی جارہی ہو سالک اور شاہزیب کے ساتھ ؟
اس نے اتنئ دیر سے ذہن میں مچلتا سوال پوچھ ڈالا۔
نہیں ۔ سنتھیا نے اپنا آپ چھڑایا۔
تمہیں کیا لگا تھا میں بھی چلی جائوں گی میں ایڈون کو اکیلا یہاں تمہارے پاس چھوڑ کر کبھی نہیں جائوں گئ۔
اسکا انداز اتنا ہتک آمیز تھا کہ اریزہ کے تن بدن میں آگ سی لگ گئ
مطلب کیا ہے تمہارا اس بات سے ؟
وہی جو تم سمجھی ہو۔
وہ کہہ کر رکی نہیں۔ تیز تیز قدم اٹھاتئ باہر نکل گئ۔
کتنا گروگئ اور تم ۔۔۔۔۔۔میری نظروں سے۔
اریزہ بلبلا کر چلائی تھی۔ اسکی آواز پر لحظہ بھر ہی سنتھیا کے قدم رکے تھے پھر متوازن چال چلتی آگے بڑھ گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا کو آتے دیکھ کر ایڈون کی جان میں جان آئی تھی۔ اس وقت اسکی طبیعت بالکل ٹھیک لگ رہی تھی۔ یہ لوگ کھانے پر انتظار کر رہے تھے ۔
چلو ایڈون چلتے ہیں اب۔
اس نے قریب آکر کھڑے کھڑے ہی ایڈون سے کہا تھا۔
ہاں چلتے ہیں کھانا تو کھا لو۔
ایڈون میزبان تھا یوں اٹھنا اسے اچھا نہ لگا۔
میں اکیلی چلی جاتی ہوں پھر۔
اسکی سچ مچ دوبارہ کھانے کی بو سے طبیعت خراب ہو رہی تھی۔ سو کہہ کر رکی نہیں۔
جائو ایڈون تم ۔۔
سالک نے اسے کہا تو وہ متذبذب سا اٹھا۔
میں پھر اپنا کارڈ دے جاتا ہوں۔ وہ اپنا والٹ نکالنے لگا۔
کیا کر رہے ہو بل کی فکر نہ کرو ہم پے کردیں گے تم جائو سنتھیا کے پاس۔
شاہزیب نے اپنایئت سے گھرکا
میری جانب سے دعوت تھئ۔ وہ ابھئ بھی متامل تھا
ابھئ سنتھیا کے پیچھے جائو اس نے کھانا بھی نہیں کھایا اسے کھلائو بھئ کچھ یہاں کی فکر نہ کرو۔
شاہزیب نے اٹھ کر زبردستی والٹ واپس رکھوا کر بھیجا اسے۔اسے خود بھی سنتھیا کی فکر ہو رہی تھی سو معزرت کرتا اسکے پیچھے لپکا۔
ویسے یہ خیال کسکا تھا بریانی لانے کا؟
سالک نے بریانی سے انصاف کرتے ہوئے یونہی پوچھا
تم لوگ کہاں کھاتے ہو کورین کھانے اسی لیئے لے آیا۔
جواب کم سن کی طرف سے آیا تھا۔
اریزہ تو بالکل بھئ کھانا نہیں کھاتی اس لیئے اسے لینے جاتے ہوئے مجھے خیال آیا۔
ہایون نے سادگی سے بتایا۔
ہاں لیکن یوں باہر سے کھانا لانے کی اجازت ہوتی ہے یہاں؟
شاہزیب نے پوچھا تو یون بن کم سن گوارا نے پہلے ہایون کی شکل دیکھی۔
آنیا۔ تینوں نے نفی میں گردن ہلائی۔۔
یہ لا سکتا ہے ۔۔ کم سن نے ہایون کو ٹہوکا دیا۔
اس نے سب کی نظریں محسوس کرکے کانوں پر ہاتھ رکھ کر سر جھکا لیا۔
کیونکہ۔ گوارا نے معنی خیزی سے کم سن کی شکل دیکھی۔ پھر تینوں نے ٹائمنگ ملائی۔۔ شاہزیب اور سالک حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
یہ ہایون کے باپ کا ہوٹل ہے۔۔
وہ کورس میں کہہ کر ٹھٹھہ مار کر ہنسے تھے۔
ہایون کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ یہ ان سب کا کورس میں جتانا ہائی اسکول کے ذمانے سے تھا۔ اب تک جتنئ مرتبہ بھی یہاں آیا تھا اس میں نوے فیصد دفعہ تو ان سب نے مل۔کر یہ تان لگائی ہی تھی۔ اور اسکا ہمیشہ یہی ردعمل ہوتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیسن پر پانی بہا کر اسے صاف کرتے اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ بے آواز کئی آنسو چہرے پر بھی پھسل آئے تھے۔
کیا گناہ ہے میرا۔ میں نے تو کبھی نہیں چاہا تھا کہ ایڈون مجھے۔۔
بڑبڑاتے ہوئے بھی اسکے الفاظ آنسوئوں میں گم ہوئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹھا بن اور سوڈا لا کر اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھا مگر سنتھیا یونہی کہنی میں منہ ڈھانپے سیدھی لیٹی رہی بیڈ پر۔
یہ کھڑکی تو کھول لو۔۔ اس نے آگے بڑھ کر کھڑکی کھول دی۔ دروازہ بند کرکے کرسی جو میز کے نیچے اندر گھسی ہوئی تھی کھینچ کر اسکے مقابل بیٹھ گیا۔
اب اٹھو بھی۔ تمہارا پسندیدہ بن ہے۔ جسکے اندر چاکلیٹ بھری ہوتی ہے۔
اس نے بچوں کی طرح بہلایا۔
اس نے کہنئ ہٹا کر اسکی شکل دیکھی۔ پھر بیڈ کا سہارا لیتی اٹھ بیٹھی۔
بھوک سے اسکا برا حال تھا۔سو ایڈون کے ہاتھ سے بن لیکر اس نے اس نے تیزئ سے کھانا شروع کردیا۔
ایک بن جانے کہاں گیا۔ وہ احتیاطا دو لایا تھا ۔ دوسرا بھی اسکی جانب بڑھا دیا۔
دونوں بن ختم کرکے اس نے ایک سانس میں سوڈا چڑھا لیا تھا۔
تم نے اریزہ کو بتایا اس بارے میں۔
وہ جتنی جلدی واپس آگئ تھی اسے یقین تھا کہ نہیں بتایا ہوگا پھر بھی تسلی کرنئ چاہی۔
اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
ہر گزرتا دن تمہارے لیئے مزید مشکل ہوگا۔ابارشن کے کچھ قوانین ہوتے ہیں ہمارے پاس صرف یہ آخرئ ایک ہفتہ ہے۔ اگر یہ ہفتہ گزر گیا تو ۔۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ خاصا پریشان دکھائی دیتا تھا۔ اتنے دنوں میں پہلی باراسکا لہجہ اسکے لیئے فکرمند سا لگا۔
تمہارے لیئے مجھ سے شادی کرنا اتنا بڑا مسلئہ کیوں ہے؟
ہم اکٹھے رہ سکتے ہیں ہم گھروالوں کو بتا کریہاں شادی کر۔۔۔
سنتھیا نے اسکو نرم پڑتے دیکھ کر منانا چاہا۔
پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ؟
وہ جھلا گیا۔کرسی پیچھے کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
ہم اب شادی کر بھی لیں تو والدین سے کیسے چھپائیں گے کہ یہ جھنجھٹ شادئ کے بعد ہوا ہے؟ اور کس زبان میں سمجھائوں تمہیں کہ اس بچے کا مستقبل کیا ہوگا ؟ لوگ کتنی باتیں بنائیں گے تم فیس کر سکوگئ معاشرے کو؟ یہاں ہمیں ہمارے والدین نے بھروسہ کرکےبھیجا تھا کیا جواب دیں گے ہم انکو۔
اسکے سوال نہیں پتھر تھے جو اس پر برس رہے تھے۔
۔مختصر سے گوشی وون میں ٹہلنے کی بھی جگہ نہ تھی۔ وہ بس کھڑا کھڑا پیرپٹخ سکتا تھا بس۔
ہم یہیں رہ لیں گے نہ ہمیشہ۔
اس کی آنکھیں ڈبڈبا سی گئیں کمزور سی آواز نکل پائی
کب تک یہاں چھپ کر بیٹھیں گے کبھی تو پاکستان جانا ہوگا
جوابا وہ خاصے زور سے چلایا تھا۔
ہم کچھ بھی کر لیں ہیں تو پاکستانی۔ اس معاشرے کا حصہ کیسے فیس کریں گے اپنے گھروالوں دوستوں رشتے داروں کو؟ تم اکلوتی ہو میری تو آگے ابھی دو چھوٹی بہنیں بھی ہیں انکا کیا ۔۔۔
سنتھیا کے لب نیم وا سے ہوئے۔ اسکے پاس دلائل تھے طعنے تھے اپنے حق میں وہ تقریر جھاڑ دیا کرتی تھی وہ تو چپ سہہ جانے والی لڑکی نہ تھئ۔ مگر آج اسے احساس ہوا تھا کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ؟ اس پر فردجرم عائد ہو چکی تھی۔
مختلف موقعوں پر کہے ایڈون کے جملے کانوں میں گونجے تھے جہاں پاکستان صرف مسلمانوں کا ملک تھا اس معاشرے میں قوانین اسلامی طرز کے تھے جن سے انکا کوئی تعلق نہیں تھا وہ ایک غیر مسلم اکثریتی ملک میں تھے یہاں وہ فضول رواج پابندیاں نبھانےکی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔
مگر اب سب بدل چکا تھا۔ ” ان “سے غلطی ہوئی تھی اور پاکستانی معاشرے میں غلطی کی ذمہ داری صرف “عورت “کو اٹھانئ پڑتی ہے۔سزا عورت کا مقدر ہوتی ہے۔ چاہے وہ اپنے حق میں تقریر جھاڑے چیخے چلائے یا خاموشی سے سر جھکا کر مان لے۔۔
اس نے سر جھکا لیا۔ اب سزا ہی اسکو ملنی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون ان دونوں کو ائیر پورٹ چھوڑنے آیا تھا۔ کم سن اور یون بن بھئ ہمراہ تھے۔ ان سب سے گلے ملتے تصویریں بنواتے سالک شاہزیب دونوں آبدیدہ ہو گئے تھے۔
ہم اگلی گرمیوں میں پاکستان آئیں گے پکا
یون بن نے سالک کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا تھا۔
ہاں ضرور تم لوگوں کو شمالی علاقہ جات دکھائیں گے۔ سالک بھی جوابا گرمجوشی سے بولا۔
ویسے یار پاکستان میں حالات خراب کیوں ہیں؟
کم سن نے یونہی پوچھا سالک اسکو جواب دینے لگ گیا
پھر کیا سوچا؟
شاہزیب دانستہ ایڈون کا ہاتھ تھام کے ایک۔طرف ہو گیا۔۔ شاہزیب کے اپنائیت سے پوچھنے پر ایڈون ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔
یار ابارشن ہی کروانا ہے۔ شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتا۔ مگر سنتھیا کا جانے کیا دماغ خراب ہے اتنی سی بات اسکی عقل میں نہیں گھس رہی
سارے ششکے شادی والے ہی چاہیئں مگر شادی نہیں کرنی تجھے۔ شاہزیب چڑ کر کہہ ہی گیا۔ ایڈون شاکی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
ڈر رہی ہو گی۔ وہ بھی۔ اسکا بھی تو پہلا تجربہ ہے۔ تو تو پھر مجھ سے بات کر سکتا ہے وہ تو اریزہ کو بھی سب بتا نہیں سکتی تھوڑا اسکو بھئ سمجھنے کی کوشش کرو۔
شاہزیب کو اس کی شکل دیکھ کر ترس آگیا۔ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے والے انداز میں بولا۔ ایڈون سر ہلا کر رہ گیا۔
ایک بار دوسرے حل کے بارے میں بھی سوچنا۔ جان لینا گناہ کبیرہ ہے۔ وہ ہے تو تمہارا بچہ۔ اس سے جتنا چڑ رہے ہو ۔۔
یار۔ ایڈون نے بیزاری سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔
برسوں کی شادی کے بعد منتوں مرادوں والا بچہ نہیں ہے یہ۔ یہاں یہ سب آسان لگ رہا ہے پاکستان جائوں گا نا تو یہی بچہ میرے گلے کا پھندہ بنا دیا جائے گا۔ میری دو بہنیں ہیں اتنا خود غرض ہو نہیں سکتا میں۔
شاہزیب نے گہری سانس لی۔ ایڈون رخ موڑے اب سالک وغیرہ کو دیکھ رہا تھا جن کی بحث زور و شور سے جاری تھئ۔
اور سنتھیا ؟ تیرے ان فیصلوں کو جھیلنا اسے ہے۔
شاہزیب کی بات پر وہ مڑ کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہ کرسکا۔
تجھے پتہ ہے میرے بابا ہمیشہ مجھے تیری مثال دیتے تھے۔ ایڈون جیسے بنو لائق سمجھدار ذمہ دار۔ ایڈون ایسا بیٹا ہے جس سے باپ اپنا بوجھ بانٹ سکتا ہے۔ او رمیں ہمیشہ کہتا تھا بابا وہ بے حد پرخلوص او رمحبت کرنے والا اچھا دوست بھی ہے۔
ایڈون مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔
تو واقعی لائق بھی ہے اچھا دوست بھی ہے۔ مگر تیری سمجھداری صرف تیرے اپنے معاملے تک ہے اور ذمہ دارتو تو بالکل بھی نہیں ہے۔ تو بس ایک خود غرض انسان ہے۔ تو اب بھی اپنے آپ کو بچا لے گا۔
شاہزیب کا چہرہ سپاٹ تھا۔دور کھڑے سالک پر نظر جمائے وہ بے تاثر لہجے میں بولا۔ ایڈون ساکت سا کھڑا اسے سن رہا تھا۔ شاہزیب نے گھڑی دیکھی فلائٹ کا وقت ہونے لگا تھا۔ اس نے اپنا بیگ کندھے پر درست کیا پھراسکی جانب دیکھے بنا ہی بولا
یقینا تجھے کسی مدد یا مشورے کی ضرورت نہیں ہاں البتہ پھر بھی میری دعائیں تیرے ساتھ ہیں۔۔
ایڈون کچھ کہنا چاہتا تھا مگر شاہزیب نے موقع نہ دیا اس سے گلے تک نہ لگا رخ پھیر کر سیدھا آگے بڑھ گیا۔ ایڈون سناٹے میں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko Salam Korea ki yeh qist ? Rate us

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

girti hue ek dewar e shehar

girti hue ek dewar e shehar ro ro youn pukaari thi…
maira qasoor nahi tha koi mjh main eent kachi thi…

mujh se lipati k bail boli khokhli ho rehi ho tum ander se…
dab gae mery bojh se aaj ,sun uski tau jar sachi thi…

mery saye main dunya k sataye jandaar kae kurlatay thay…
sunti thi chup rehti thi main dardo se kae basi rachi thi…

wo kora kerkat jo mujh pe phainka, jantay ho aziz boht tha mjhe
chun k bhar lety thay pait wo bacho k liye maas machi thi…

kitna royii mujhse lipat k sarak pe bechti thi phool jo…
majboor si masoom se wo tau choti se ek bachi thi…

kisi ki aankh ka tara tha mery samne khoon me tar hua…
jab us k lahoo k chentay ayay mujh me qayamat si aik machi thi…

main dhay rehi thi un bato se mujh pe jo tum likh jatay thay…
ab gir gae hun tau heran ho hotay meri halat tau achi thi…

az qalam Vaiza Zaidi aka Hajoom E tanhai

گرتی ہوئی ایک دیوار شہر رو رو یوں پکاری تھی۔۔
میرا قصور نہیں تھا کوئی مجھے میں اینٹ کچی تھی۔۔۔

مجھ سے لپٹی کے بیل بولی کھوکھلی ہو رہی ہو تم اندرسے۔۔۔
دب گئ میرے بوجھ سے آج ،سن اسکی تو جڑ سچی تھی۔۔

میرے سائے میں دنیا کے ستائے جاندار کئی کرلاتے تھے۔۔
سنتی تھی چپ رہتی تھی میں دردوں سے کئی بسی رچی تھی۔۔

وہ کوڑا کرکٹ جو مجھ پر پھینکا ، جانتے ہو عزیز تھا بہت مجھے۔۔
چن کر بھر لیتے تھے پیٹ وہ بچوں کیلئے ماس مچھی تھی۔۔

کتنا روئی مجھ سے لپٹ کر سڑک پر بیچتی تھی پھول جو۔۔
مجبور سی معصوم سی وہ تو چھوٹی سی ایک بچی تھی۔۔

کسی کی آنکھ کا تارا تھا میرے سامنے خون میں تر ہوا
جب اسکے لہو کے چھینٹے آئے مجھ میں قیامت سی ایک مچی تھی

میں ڈھے رہی تھی ان باتوں سے مجھ پر جو تم لکھ جاتے تھے۔
اب گر گئی ہوں تو حیران ہو ہوتے کہ میری حالت تو اچھی تھی۔۔

از قلم واعظہ زیدی المعروف ہجوم تنہائی۔۔

gham ko naghmaat banaatay guzri dard ki dhoom machatay guzri

غم کو نغمات بناتے گزری
درد کی دھوم مچاتے گزری

سوۓ ارمان جگاتے گزری
شوق کو شعلہ بناتے گزری

دل امیدوں سے بساتے گزری
جسے ویرانہ سجاتے گزری

منزل شوق کہیں ہوتی بھی
منزلوں خاک اڑاتے گزری

نوجوانی تھی کہ آنچل کی ہوا
ہوش میں آتے ہی آتے گزری

انھیں چھو آیی کہیں موج بہار
پھول ہی پھول کھلاتے گزری

نیند آئی نہیں یاد آئیے گئی
رات بھر جان جلاتے گزری

اب بھی فردوس تخیل ہے وہ عمر
جو تیرے درد کے ناتے گزری

از قلم زوّار حیدر زیدی شمیم

Salam Korea Episode 22

Salam Korea
by Vaiza Zaidi


قسط 22

New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea. Bookmark : urduz.com kuch acha perho Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy Episode urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books
New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.

میں واپس پاکستان جا رہا ہوں۔۔۔۔
وہ سر جھکائے اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا ادھر ادھر دیکھے بنا سیدھا اپنے بیڈ پر اوندھا جا لیٹا تھا۔ سالک نماز پڑھ رہا تھا وہ اسکے آگے سے ہی گزر کر آگیا تھا۔ سالک نے سلام پھیر کر اسے بتایا تھا۔ پھر جاء نماز تہہ کرکے دراز کھول کر اس میں ڈال لی۔
اس نے یہ پورٹ ایبل جاء نماز کے بارے میں سداکو سے سنا تھا۔جاپانی مسلمان ایک پانی کا اثر نا محسوس کرنے والی جاء نماز جیب میں لیئے پھرتے ہیں اور جب جہاں نماز کا وقت ہو صرف وضو کیلئے پانی ڈھونڈنا پڑتا تھا کہیں بھی پاک جگہ بچھا کر نماز پڑھ لی۔
ایڈون پر مطلق اثر نہ ہوا۔ یون بن اپنے بیڈ پر لیٹا لیپ ٹاپ میں کچھ دیکھ رہا تھا۔سالک نے گہری سانس لی اس بار قریب آکر ایڈون کو ذرا سا ہلا کر متوجہ کیا۔ وہ بازو میں منہ چھپائے تھا۔۔ سر اٹھا کر گھورنے لگا۔۔
اس کی سرخ سرخ سی آنکھیں دیکھ کر سالک کو یہی لگا پھر پی آیا ہے سو فورا پیچھے ہوا۔۔
پی نہیں ہے میں نے۔
وہ اکھڑ سے انداز میں ہی بولا۔
اور کل تک تو بڑے دعوے تھے یہاں رہ کر محنت مزدوری کروں گا پڑھائی کا خرچہ خود نکال لوں گا اب کیا ہوا؟
وہ اٹھ بیٹھا۔
یہاں چار سال لگیں گے واپس جائوں گا تو دو سال میں ڈگری مکمل ہوگی۔ بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔
سالک رسان سے کہتا اپنے بیڈ پر آن بیٹھا۔
اور شاہزیب؟
وہ بھی واپسی کا سوچ رہا ہے۔ تم بتائو تم نے کیا فیصلہ کیا؟ ہم تو اسی ہفتے واپس جا رہے ہیں کم از کم وہاں جا کے امتحان تو دے سکیں گے۔ سنتھیا نے بھی واپس جانا ہو تو بتا دو تینوں اکٹھے کی فلائٹ لے۔۔۔
وہ نہیں جا ئے گی ۔۔۔۔۔ وہ تیزی سے بات کاٹ کر بولا۔
وہ تو کہہ رہی تھی کہ واپس جانا چاہتی ہے۔
سالک نے یونہی کہا تھا۔۔ مگر ایڈون بھڑک گیا۔۔
اب نہیں جا نا چاہتی تم کیا زبردستی ساتھ لیکر جائوگے؟
نہیں۔۔ سالک گڑبڑا سا گیا۔
سوری۔ ایڈون نے اپنے پیشانی مسلتے معزرت کی۔
اسکی پریشانی اسکے چہرے سے ہویدا تھئ۔
کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا؟
سالک نے دلگیری سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔
آنیا۔۔۔۔کین چھنا۔۔۔۔ میرا مطلب نہیں۔۔ ٹھیک ہے سب۔
وہ روانی میں ہنگل میں کہہ بیٹھا پھر تصحیح کی۔
دیکھا تم بھی روانی میں ہنگل بولنے پر آگئے۔۔ ہم کورین اپنا رنگ چڑھا ہی دیتے ہیں۔۔
یون بن نے ہنس کر مزا لیا تھا۔ دونوں مستقل اردو میں بول رہے تھے سو وہ بےدھیان تھا مگر اپنی مادری زبان کا لفظ بلکہ جملہ چونکا ہی گیا اسے۔۔
مطلب؟ ایڈون نے تیوری چڑھائی۔رواں انگریزی میں بولا۔
کیا اثر ڈالا ہے تم لوگوں نے مجھ پر؟
تم پر ہی نہیں ہم سب پر اثر ڈالتے ہیں۔ایک دنیا کورین ڈراموں کی پرستارہے لوگ شوقیہ ہنگل سیکھتے ہیں اور کوریا تو جو آئے اسے سیکھنی پڑہی جاتی تم لوگوں کی طرح یہاں انگریزی نا ہونے کے برابر ہی استعمال ہوتی ہے۔
اسکا انداز سادہ تھا مگر خاصے فخرسے بتا رہا تھا۔
پتہ ہے چین میں ہنبق شوق سے پہنے جانے لگے ہیں خاص کوریا کے بنے ہوئے ایکسپورٹ ہوتے ہیں حالانکہ انکا روائتی مشرقی لباس ذرا سا مختلف ہے کڑھائی اور رنگوں کے اعتبار سے۔۔
خود تمہیں تو کبھی روائتی لباس پہنے نہ دیکھا۔
سالک نے فورا ٹوکا۔ وہ نماز ہمیشہ لباس بدل کر شلوار قمیض میں ہی پڑھتا تھا۔ابھی بھی اسی میں ملبوس تھا۔
یار ہنبق بڑا مہنگا لباس ہے اور غیر آرام دہ بھی۔ اف سوچ کے حیرا نی ہوتی اتنے پرتوں والا موٹا ریشمی لباس کیسے پہنتے تھے پرانے زمانے میں۔ وہ لیپ ٹاپ بند کرکے ایک طرف رکھتا انگڑائی لیتا بیڈ سے اترا۔۔رخ باتھ روم کی جانب تھا۔۔ وہ کافی دیر سے زبانی امتحان کی تیاری ہی کر رہا تھا ۔۔
کچھ پڑھ بھی لو ہمارا تو بیڑا غرق ہوگیا تمہارے تو امتحان چل رہے ہیں نا۔
سالک نے ٹوک ہی دیا۔ اس وقت فارغ پھرتے سب ہی زہر لگ رہے تھے۔
پڑھ ہی تو رہا تھا۔وہ حیران ہوا۔
لیپ ٹاپ میں۔سالک اس سے زیادہ حیران ہوا۔
ہاں۔ ساری تیاری انٹرنیٹ سے کرتا ہوں دو درجن کتابیں پڑھنے کی بجائے مخصوص ٹاپکس پر آرام سے اہم مواد مل جاتا ہے۔ انٹرنیٹ ایج ہے دوست اب کتابوں کا زمانہ گیا۔
وہ واقعی ایک ترقی یافتہ ملک کا باشندہ تھا۔
ہم انٹرنیٹ پر بھروسہ نہیں کر سکتے اس پر بھروسہ کر بھی لیں تو بجلی پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔ اس پر بھروسہ کر لیں تو جو لیپ ٹاپ نصیب ہوتا ہے ہمیں وہ۔۔
سالک جوش سے خطاب ہی کرنے لگا تھا
چپ کرو سالک۔ ہر وقت بولتے رہتے ہو دماغ خراب کر دیا۔
ایڈون ایکدم سے چلایا ۔۔ وہ دونوں چپ ہو کر دیکھنے لگے اسے۔
کیا کہا اس نے۔ یون بن نے اشارے سے پوچھا۔۔
کیا ہو گیا ہے ایڈون ۔۔۔۔۔پریشان ہو
سالک برا ماننے کی بجائے الٹا فکرمند سا پوچھ رہا تھا۔
پاگل ہو گیا ہوں۔ وہ کھسیا کر پیر پٹختا دونوں کے بیچ سے ہو کر باتھ روم میں گھس گیا۔
اے میں جا رہا تھا۔
بیچارہ یون بن پیچھے سے پکار کر رہ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسکی معمول کے مطابق ہی آنکھ کھلی تھی۔۔
اٹھ کر اس نے پہلے ہوپ کو دیکھا رات جس کروٹ سوئی تھی اسی کروٹ پڑی تھی گڑبڑا کر اسکی ناک کے آگے انگلی رکھ کر تسلی کی کہ سانس چل رہی ۔۔ پٹ آنکھیں کھول کر ہوپ نے گھورا تھا۔۔
ہائش۔۔ اسکے گھورنے پر گوارا بھنا کر رہ گئ۔۔
اپنے اوپر سے کمبل ہٹاتی مسہری سے اتری۔۔
دروازے کی چوکھٹ میں کھڑے ہو کر لائونج میں جھانکا تو کم سن لائونج کے صوفے پر کمبل میں سکڑا پڑا تھا۔۔
تین لوگوں کا ناشتہ بنانا پڑے گا ۔۔
اس نے بیزاری سے سر کھجایا
تبھی اپنے پیچھے آہٹ ہوئی ہوپ غسل خانے کا دروازہ کھول رہی تھئ۔
اے رکو میں پہلے جائوں گی ۔۔ گوارا چیخی۔۔
ہوپ نے بے زاری سے اسے دیکھا اور غڑاپ سے دروازہ کھول کر گھس گئ ۔۔
آہش۔۔ گوارا بلبلا کر دوڑی تبھی داخلی دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔۔
آہش۔ دانت کچکچاتی دروازہ پکڑ کر بے بسی سے غسل خانے کے بند دروازے کو دیکھتی رہی۔
تبھی دوبارہ اطلاعی گھنٹی بج اٹھی۔۔
صبح صبح کون آگیا۔ کم سن بھی کمبل کی قبر سے کسمسا کر نمودار ہوا ۔
اب گوارا کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔۔ صبر سے کام لیتی دروازہ کھولنے چلی آئی۔۔
بنا حفاظتی بین میں دیکھے دروازہ کھول ڈالا۔۔
دنیا کے کسی انسان کو اسوقت دیکھ کر اسے خوشی نہ ہوتی جتنی ابھی نواردکو دیکھ کر ہوئی تھی۔۔
اریزہ شا۔۔
وہ بھاگ کر اس سے لپٹ گئ۔۔
اریزہ بھونچکا رہ گئ تھی تو کم سن اور ہایون بھی منہ کھولے اسکی بے تابی دیکھ رہے تھے
اس نے چٹا چٹ گال چوم لیے۔۔
کہاں رہ گئیں تھیں میں نے اتنا یاد کیا۔۔
وہ دوبارہ اسکے گلے لگ گئ تھئ
پوگو شپو؟۔۔ اریزہ نے سوالیہ نظروں سے ہایون کو دیکھا۔۔
تم تم اسے یاد کر رہی تھیں یقینا کوئی کام ہوگا ؟
ہایون نے جزباتی گوارا کی لگاتار بولی جانے والی ہنگل کا ترجمہ کرنے کی بجائے سیدھا اسی سے پوچھ لیا۔۔
گوارا نے گھور کر دیکھا پھر سیدھی ہوئی۔۔
تم نے ناشتہ تو نہیں کیا ہوگا۔۔ چلو آج ہم پاکستانی ناشتہ کرتے ہیں۔۔ تمہارے ہاتھ کے پراٹھے کھائے بہت دن ہو گئے۔۔
اسکی چالاکی پر ہایون اور کمسن بھونچکا رہ گئے تو اریزہ نہال ہو چلی۔۔
ہم تو ناشتہ کر کے آئے ہیں میں تمہارے لیئے جھٹ پٹ بنا دیتی ہوں۔۔
اس نے مسکرا کر بتایا تو گوارا جیسے دوبارہ جی اٹھی۔۔
ہایون سر جھٹکتا اریزہ کا بیگ گھسیٹتا اندر لے آیا۔۔
اریزہ وقت ضائع کیئے بنا سیدھا باورچی خانے کی جانب بڑھی۔
ہوپ اٹھ گئ۔۔۔
کم سن نے یونہی پوچھا تھا مگر گوارا نے ٹھیک ٹھاک گھور ڈالا۔۔
وہ کھسیا کر کان دباتا اٹھ کر کمبل تہہ کرنے لگا۔۔ ہایون اسکا بیگ کمرے میں رکھ کر اریزہ کے پاس چلا آیا۔۔
میں کوئی مدد کرائوں۔۔؟۔۔
اریزہ پیاز کآٹتے چونکی۔۔
نہیں۔۔ ٹھیک ہے۔۔ بس پیاز ہی کاٹنی تھی۔۔
اسکی آنکھیں جل رہی تھی۔۔ سرخ ناک آنکھوں میں آنسو۔۔ دگرگوں حالت کے ساتھ بھی مسکرا کر منع کر رہی تھی
لائو دو مجھے۔۔ ہایون نے اسکے ہاتھ سے چھری لے لی۔
اریزہ نے جھینپ کر ہاتھ فورا پیچھے کیا مگر ہایون لاپروا سا تھا۔۔
آرام سے اسکے ہاتھ سے پیاز چھری لے کر ماربل سلیب پر ایک کونے میں ٹک کر تندہی سے پیاز کاٹنے لگا۔۔ وہ کسی ماہر خانساماں کی طرح کھٹ کھٹ چھری چلا رہا تھا۔
اریزہ نے متاثر ہو جانے والے انداز میں اسکی تیزی کو دیکھا۔
آٹا گندھا ہوا نہیں تھا۔۔ اس نے ایک پیالے میں نکال کر گوندھنا شروع کیا ۔۔
یہ کیا کر رہی ہو۔۔ یہ کم سن تھا اسے دیکھ کر حیرانی سے پوچھ رہا تھا۔۔
آٹا گوندھ رہی اس سے پراٹھا بنائوں گی کھائو گے تم بھی؟۔۔ ۔اس نے مصروف سے انداز میں کہہ کر دوبارہ مکیاں لگائیں۔۔
وائو۔۔ ہاں کھائوں گا میں بھی۔۔
یہ تو پریشانی سے نجات دینے والی ترکیب ہے۔۔ غصہ آئے تو آٹا گوندھ لو خیالی مکے مارو غصہ ٹھنڈا پڑے تو آرام سے پیٹ بھر کر کھائو بھی۔۔ وہ ہنس کر کہہ رہا تھا
یہ تو ہمیں کبھی خیال ہی نہ آیا۔۔ مکے لگاتی اریزہ کے ہاتھ رکے۔۔
پھر جیسے بجلی ہی بھر گئ ہو اس میں۔۔
ہایون اور کم سن منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔۔
وہ آرام سے مکے لگا کر فارغ ہوئی تو مزاج بھی مزید بہتر ہو چکا تھا۔۔
ناشتہ بنا کر اس نے اہتمام سے میز پر چنا ہایون اور کم سن اسکے ساتھ ساتھ لگے رہے وہ پراٹھے ڈالتی تو ہایون آملیٹ بنا رہا تھا کم سن نے میز پر دیگر ناشتے کا سامان چن دیا تھا
ہوپ اور گوارا میز پر ناشتے کے انتظار میں انکی کارکردگی ملاحظہ کرتی رہیں۔۔ ۔گھی میں تر بتر پراٹھا اور انڈہ جہاں گوارا نے شوق سے نوالہ بنایا وہاں ہوپ جھجکی اور کم سن مدد طلب نظروں سے ہایون کو دیکھ کر رہ گیا۔۔ اسکی حالت ہایون کو محظوظ کر گئ کھل کر ہنس دیا۔۔
کیا ہوا۔۔ پانی رکھتی اریزہ مڑ کر دیکھنے لگی۔
کم سن کو اچھا لگا ناشتہ۔۔ وہ بھی مستی کے موڈ میں تھا
واقعی۔۔ اریزہ اشتیاق سے اسے دیکھنے لگی۔۔ ۔
ہاں۔۔ وہ گڑبڑا کر جلدی سے نوالہ منہ میں رکھ گیا۔۔
میں اور بنائوں پراٹھا؟۔ اریزہ نے پوچھا تو ہوپ اور کم سن اکٹھے ہی بول پڑے
آنیو۔۔ نہیں۔۔ کافی ہے۔۔
گوارا اور ہایون کھلکھلا کر ہنسے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.” “Motherhood: All love begins and ends there.”
وہ ایک بے حد پیاری ماں بیٹے کی ویڈیو تھی بچہ گھٹنیوں چلتا ہمک ہمک کر ماں کو بلا رہا تھا ماں خود آگے بڑھنے کی بجائے اسکے سے کچھ فاصلے پربیٹھی اسکو بلا رہی تھی۔ بچہ نے جیسے ہی رونے والا منہ بنایا اس نے لپک کر گود میں اٹھا لیا۔
شئیر کا بٹن دباکر اس نے پہلے کیپشن لکھا۔۔
ایک اسٹیٹس شئیر ہو چکا تھا۔ دوسرا ایک بے حد پیارےانگریز آٹھ نو ماہ کے بچے کی تصویر اپلوڈ کی جس پرعنوان میں بڑا بڑا لکھا تھا۔۔
“Children are the anchors that hold a mother to life.
وہ اپنے بستر پر لیٹی موبائل استعمال کر رہی تھی جب ایڈون کی کال آئی۔ چند لمحے اسکرین کو دیکھنے کے بعد ہونٹوں پر آئی مسکراہٹ دباتے اس نے کال ریسیو کی۔
کیا کر رہی ہو؟
ایڈون کی گمبھیر آواز وہ ایکدم الرٹ سی ہوئی
کچھ نہیں فیس بک پر اسٹیٹس ۔۔۔
وہی دیکھ رہا ہوں ۔۔۔ ایڈون نے بات کاٹ دی۔
تم کیا ساری دنیا کو بتانا چاہتی ہو کہ تم۔ وہ بری طرح بگڑا تھا۔۔۔
اس کو تپتے دیکھ کر اسکے جلتے دل کو قرار سا آیا۔۔ جتا کر بولی۔۔

میں ساری دنیا سے زیادہ دیر چھپا بھی نہیں سکتی۔
ایڈون چند لمحے چپ رہ گیا پھر سنجیدگی سے بولا۔
باہر آئو۔
کیوں۔ وہ کہتے کہتے رک سی گئ
اچھا۔۔ اس نے مزید بات نہ کی فون ہی بند کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس منٹ بعد وہ باہر آئی تو ایڈون گیٹ کے پاس ہی کھڑا تھا۔
بے چینئ اسکے انداز سے مترشح تھی۔
فکر تو ہے میری۔ اسکے اندر اطمینان کی لہر سی دوڑی۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتئ اسکے پاس آکھڑی ہوئی۔
میں نے ٹیکسی منگوائی ہے آتی ہوگئ۔۔
نا سلام نہ دعا اسے دیکھ رک چھوٹتے ہی بتایا۔اسکا منہ بن گیا۔
کہاں جانا ہے؟
اسپتال اور کہاں۔ ایڈون کا جواب نپا تلا تھا۔
کیوں۔ وہ بدکی۔۔
کیوں کا کیا مطلب۔ جوابا وہ تیوری چڑھا کر بولا۔
اسپتال جا کر مکمل چیک اپ کروائو اور کیا۔
اسکا انداز ہرگز بھی فکر کرنے والا نہیں تھا۔ سنتھیا سناٹے میں آگئ۔
مکمل چیک اپ کے بعد ہی فیصلہ ہوسکے گا نا آگے کیا کرنا۔۔
اس نے کوشش سے اپنے لہجے کو مدھم کیا مگر انداز ہنوز ہی تھا۔ بیزار سا۔۔
تمہیں میری بات کا یقین نہیں؟
وہ صدمے سے چور لہجے میں بولی۔
تم نے وہ گولیاں استعمال نہیں کی تھی نا جو میں نے لا کر دی تھیں۔
ایڈون کا انداز تفتئشئ سا تھا۔
کتنی بار کہوں کی تھیں ۔مستقل استعمال سے بیمار بھی ہوگئ تھئ کبھی احساس ہوا تمہیں میرا؟
سنتھیا چڑ گئ۔
تھوڑی بہت تو ہوتی ہے طبیعت اوپر نیچے تم نے یقینا کھانئ چھوڑی تھیں تبھی تو یہ مسلئہ کھڑا ہوا ہے نا۔۔
وہ اپنی بات پر قائم تھا۔
وہ اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گئ۔
یہ مسلئہ نہیں بچہ ہے ہمارا۔ ہمارے پیا۔۔۔۔
او شٹ اپ۔ یہ اسٹار پلس والے ڈائلاگ نہ دہرانا میرے سامنے۔ فی الحال میں شدید پریشان ہوں۔ اس مصیبت سے کیسے نکلنا اسکو بھئ مجھے ہی دیکھنا ہوگا۔
وہ سامنے سے آتی ٹیکسی دیکھ کر بڑبڑاتا ڈرائیور کو ہاتھ ہلانےلگا۔۔
اب آئو بھی۔ چند قدم بعد اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی جگہ سے ہلی بھی نہیں ہے تو جھنجھلا کر ٹوکا۔ وہ ضبط کرتی اسکے پیچھے چلی آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن اور گوارا کا کہیں جانے کا پروگرام تھا۔یون بن اسے لینے آیا تو کم سن نے بھی اجازت چاہی تھی اسکو لگا تھا ہایون بھی چلتا بنے گا مگر خلاف توقع وہ آرام سے انکو رخصت کرتا جانے ہنگل میں انکو کیا کہتا کیا سنتا دروازہ بند کرکے واپس چلا آیا۔۔
وہ حسب عادت برتن سمیٹ رہی تھی۔ احتیاط سے سب سمیٹ کر سنک میں ڈالے تو ہایون اسکے پاس آگیا۔۔
لائو میں کرتا ہوں۔۔ اس نے سہولت سے گلوز اٹھا کر پہنے
میں کر لوں گئ رہنے دو مدد کی ضرورت نہیں۔۔
اسکے سب جملے اس نے ایک کان سے سنے دوسرے سے نکالے اریزہ ٹھنڈی سانس بھر کر ہٹ گئ۔۔ اسے برتن دھوتے چھوڑ کر کمرے میں جا بیٹھنا بھی بد اخلاقی ہوتی سو وہیں کائونٹر کے پاس اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔۔
ہلکی گلابی ٹی شرٹ بلو جینز میں ملبوس کالے ایپرن کو کمر سے باندھے وہ بہت تندہی سے برتن دھو رہا تھا۔۔ اس کا ارادہ تو نہیں تھا مگر بڑی جانفشانی سے اسکا جائزہ لے ڈالا۔ گوری چٹی رنگت کلین شیو میں کیا کسی لڑکی کی نازک جلد ہوگئ جو اسکی لگ رہی تھئ۔ اسکے بال بھی بہت خوبصورت سے تھے وہ بھی شہد رنگ کے۔ عموما کوریائی لوگوں کے بال کالے ہوتے ہیں مگر اسکے نہیں تھے اب اگر ڈائی کیئے تھے تو حیرت کی بات نہیں تھی کوریا میں لڑکے بھی اپنی ظاہری شخصیت نکھارنے پر خوب توجہ دیتے تھے۔ اسکی نظریں ہایون کو اپنی پشت پر محسوس ہوئی تھیں سو اس نے پلٹ کر اچٹتی سی نگاہ ڈالی وہ واقعی متوجہ تھی۔
یہاں تمہیں ٹھنڈ لگنئ شروع نہیں ہوئی؟
ہایون نے گردن موڑ کر یکدم ہی پوچھا۔۔
کہنیاں کائونٹر پر ٹکائے ہتھیلی پر تھوڑی جمائے وہ اتنے انہماک سے ملاحظہ کر رہی تھی کہ بری طرح گڑبڑا گئ
ہاں نہیں۔۔ ہاں وہ میرا ارادہ ہے شاپنگ پر جانے کا۔۔
وہ یونہی پہلو بدل کر بلا وجہ کائونڑ کی چیزیں چھیڑنے لگی۔۔
ہایون کے چہرے پر بڑی خوبصورت محظوظ مسکراہٹ در آئی۔۔
تم لوگ سردیوں میں بھی اپنا روائتی لباس ہی پہنتی ہو؟۔
وہ برتنوں کو نتھار تے ہوئے بے نیازی سے پوچھ رہا تھا
ہاں ہم لوگ روائتئ ہی لباس زیادہ پہنتے ہیں۔
اریزہ کی خفت زائل تو نہیں ہوئی تھی مگر کب تک شرمندہ رہ سکتی تھی سو سنبھل کر جواب دیا۔
پھر بھی تمہیں یہاں کی سردیوں کیلئے خریداری کرنی پڑے گی۔ گرم کوٹ وغیرہ
ہایون نے کہا تو وہ کچھوے کی طرح گردن لمبی کر کے بیٹھ گئ
وہ تو مجھے بھی پتہ مگر پیسے بھی تو ہوں۔وہ حسب عادت اردو میں بڑبڑائی
تم پاکستان میں جاب کرتی تھیں؟
ہایون کو اسکے جواب میں دلچسپی تو بہت تھی مگر اسکا انگریزی ترجمہ کرنے کا ارادہ نہ دیکھ کر دوسرا سوال داغ دیا
نہیں۔ اس نے کندھے اچکائے۔
کبھی ضرورت نہیں پڑی ۔ پاپا نے کافی اچھا جیب خرچ دیا ہمیشہ۔۔ اسکے لاپروا انداز پر وہ مسکرا دیا
کافی امیر ہوگی پھر تم۔ میرے پاپا مجھے اچھا جیب خرچ دیتے تھے ہمیشہ اور اس بات پر میں ہمیشہ بلنگ (bullying) کا شکار رہا۔ میرے دوست مجھ پر نہ صرف رشک کرتے تھے بلکہ ٹھیک ٹھاک بے عزت بھی کرتے آئے ہیں۔ ہڈ حرام کہتے تھے مجھے
کیوں۔ اریزہ نے آنکھیں پھیلائیں۔۔
یہ کہ میں باپ کے پیسے پر عیش کرتا ہوں خود کچھ نہیں کرتا۔ آج اپنے جیسی لڑکی کے بارے میں جان کر اچھا لگا
وہ شرارت سے مسکرایا۔ اریزہ ہنس دی
اس لحاظ سے تو ہر پاکستانی لڑکی ہی ہڈ حرام ہوئی۔۔
ہم لڑکیاں خاص طور سے پیرا سائٹ جیسئ زندگی گزارتی ہیں پاکستان میں۔ کھانا پینا پڑھائی اور پھر شادی سب والدین کی ذمہ دارئ۔۔
اریزہ کا انداز ہرگز رشک بھرا نہیں تھا مگر پھر بھی ہایون متاثر ہوگیا۔۔
واقعی ایسا ہے؟ تھیبا(زبردست)۔ پاکستانی لڑکیاں خوش قسمت ہیں پھر تو۔ ہمم۔ مجھے پاکستان کا نام بھی نہیں پتہ تھا مگر اب سوچتا ہوں کبھی وہاں کی بھی سیر کروں ۔ تم سمسٹر ختم ہونے تک پاکستان جائوگی تو میں بھی چلوں گا۔۔
وہ تولیئے سے ہاتھ پو نچھتا ہوا اسکے مقابل آبیٹھا
میرے ساتھ۔۔ وہ حیران ہوئی۔
میرا بس چلے تو یہیں رہ جائوں۔ ۔ اردو میں بڑبڑاتے ہوئے اس نے سر جھٹکا۔ہایون مکمل طور پر اسکی جانب ہمہ تن گوش تھا
میرا ابھی تو کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں جاب کروں گی سمسٹر کی فی جمع کروں گی خود اپنا خرچہ اٹھائوں گی۔۔
وہ پکے عزم سے بولی۔
تم نے کہیں جاب تلاش کی؟ ہایون کا سوال منطقی تھا ۔
آں ہاں نہیں۔ میرا مطلب۔۔ وہ گڑبڑا گئ۔۔
ادھوری تعلیم کے ساتھ بلو کالرجاب ہی ملے گی۔۔
ویسے جاب ملنا کوریا میں آسان نہیں ہے۔ لوگ جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں
ہایون کا انداز جتانے والا تھا۔۔ وہ چڑی بھی۔۔
ایڈون ہے نا ڈھونڈ دے گا کوئی۔۔ وہ حسب عادت اردو میں ہی بولی۔۔ ہایون اسے اسی طرح دیکھتا رہا تو وہ تھوڑی کھسیائی
ایڈون ول فائنڈ آ سوٹ ایبل جاب فارمی۔۔ اسے یقین تو تھا مگر پھر بھئ کچھوے کی طرح گردن لمبی کر کے بیٹھ گئ
میں بھی ڈھونڈ سکتا ہوں۔
ہایون نے جتانے والے انداز میں کہا تھا۔
تم تو خیر مجھے مینجر بھی لگوا سکتے ہو سناہے کافی کمپنیاں ہیں تمہارے ابا کی۔ وہ کہہ کر ہنسی۔ ہایون مسکرا دیا۔
ہاں تو تم نے مینجر بننا ہے؟
وہ سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا۔
آں۔ آنیا۔۔ اس نے گڑ بڑا کر نفی میں سر ہلایا۔
ایسے ہی مزاق کر رہی تھی میں۔
توبہ ہی ہے کورینز میں حس مزاح نام کو نہیں۔۔ وہ جان کر اردو میں بولی۔۔
حس ؟ ہایون سوالیہ انداز میں دیکھ رہا تھا۔۔
وہ سر تھام گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریسیپشن کے قریب صوفے پر بیٹھا تھا۔ کبھی اٹھتا ایک چکر لگاتا پھر بے چین سا واپس آکر بیٹھ جاتا۔
تبھی ریسیپشن پر اسکا نام پکارا گیا۔
دے۔ وہ فورا اٹھ کر آیا۔
آپ ادھر چلے جائیں۔ کمرہ نمبر 8۔۔
بمشکل انگریزی میں اٹک اٹک کر بتا پائی تھی۔
وہ سر ہلاتا اسی جانب بڑھ گیا۔ دھیرے سے دروازہ کھٹکا کر اجازت ملنے پر داخل ہوا۔۔اپنے کرسی پر براجمان سامنے میز پر رکھے مانیٹر کی جانب متوجہ ڈاکٹرنئ سہولت سے اسے دیکھ کر اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگی۔
اسلام وعلیکم۔۔ عادتا اسکے منہ سے نکلا تھا۔خجل سا ہو کر وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا
سنتھیا اسکے برابر والی کرسی پر سر جھکائے ہی بیٹھی تھی۔
میں تو آگاشی کو کہہ رہی تھی تم بہت چھوٹی سی ہو مگر تمہیں دیکھ کر لگتا تم بھی ذیادہ عمر کے نہیں ہو۔
وہ مسکرا کر بولی۔ ان دونوں سے چند ہی سال بڑی ہوگی۔
ایڈون چیں بہ چیں سا ہوا۔۔
بہر حال پیار کا بچہ ہے یقینا بہت عزیز ہوگا تم دونوں کو سو خوب خیال رکھنا ہے اچھا کھانا پینا ہے۔ ابھی تو سب ٹھیک ہے۔۔ بس معمول کا چیک اپ کرواتی رہنا۔۔ یہ کچھ طاقت۔۔۔۔
اس سے آگے بھی وہ رواں ہنگل میں بولے گئی مگر سنٹ سے بیٹھے ایڈون کی سماعتیں سائیں سائیں ہی کر رہی تھیں۔
اسے شک تھا کہ شائد سنتھیا نے اسکو تنگ کرنے کیلئے جھوٹ بولا ہے۔ اگر یہ سچ تھا تو۔۔۔۔
اس تو نے حقیقتا اسکے ہاتھ سے طوطے اڑا دیئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے وقت۔۔۔۔۔
دروازہ ہلکے سے کھٹکا کر جی ہائے اندر داخل ہوگئ تھی۔۔ کمرہ خالی۔تھا ہاں غسل خانے سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔ سنتھیا یقینا شاور لے رہی تھی وہ ہاتھ میں پکڑا پائوچ اسکی سائیڈ ٹیبل پر رکھتے رکھتے رک کر اسکے بیڈ پر ہی بیٹھ کر اسکے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگی
سنتھیا تولیہ سے سر رگڑتی باہر نکلی تو اسے بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر چونک گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر چلیں۔ ہایون برتن دھو کر ہاتھ تولیہ سے خشک کرتا اسکے سامنے آبیٹھا
ہوپ یقینا اندر دوبارہ سو چکی تھی۔ وہ فورا ہاں کہتے کہتے جھجک سی گئ۔ ایک لمحے کو بند دروازے پر نگاہ کی تو دوسری نظر سامنے دیوار پر لگی گھڑی پر کی۔ ڈیڑھ بج رہا تھا پورا دن باقی تھا گوارا سے کچھ بعید نہیں تھا کہ واپس آتی بھی نہ یا رات گئے تک ہی آتی پڑھنا تو تھا نہیں ۔۔ ہزار وجوہات تھیں اس مخلصانہ پیشکش کو خوشی خوشی قبول لینے کی مگر پھر بھی جانے کیوں اسے جھجک سی محسوس ہورہی تھی۔۔
ہایون پوری توجہ سے اسے دیکھ رہا تھا اور جواب کا منتظر تھا۔۔
ہوپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ہمیں اسے اکیلے چھوڑنا نہیں چاہیئے۔۔ اسے یہی جواب سوجھا۔۔ ہایون مسکرا دیا جیسے اسے اس سے اسی جواب کی توقع ہو۔
جیسے تمہاری مرضی۔۔ ہایون گہری سانس لیکر اٹھ کھڑا ہوا تھا شائد جانے کیلئے ہی۔
تبھی دروازہ کھول کر ہوپ باہر نکلی اریزہ کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے ہایون سے مخاطب ہوئی
تمہاری بہن فون نہیں اٹھا رہی ہے میرا وجہ جان سکتی ہوں؟
ہایون اس سے اس سوال کی توقع نہیں کر رہا تھا فوری طور پر سمجھا بھی نہیں
دے؟ کیا؟ اسکے منہ سے پھسلا تھا
تمہاری بہن گنگشن پچھلے کئی دنوں سے میرے بارہا فون کرنے کے باوجود میرا فون نہیں اٹھا رہی ہے میں نے انجان نمبر سے بھی اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو میری آواز پہچان کر اس نے فون بند کر دیا۔ تم میری ابھی اسی وقت اس سے بات کروا سکتے ہو؟
اسکا انداز سادہ نہیں بلکہ کسی حد تک سخت تھا ۔ہایون کو کافی برا بھی لگا وہ اسکے باپ کا نوکر نہیں تھا جس سے وہ اتنے تحکمانہ انداز میں بات کرے مگر پھر بھی اپنی فطری رواداری نبھا کر نرم سے انداز میں بولا تھا
ایسی بات نہیں وہ کوریا میں ہیں ہی نہیں چین گئ ہوئی ہیں دو ہفتے ہو رہے ہیں وہ مصروف ہوں گی آئیں گی تو رابطہ کر لیں گی تم سے۔۔
اس نے اپنی طرف سے بڑا مفصل جواب دیا تھا مگر ہوپ اسے یونہی گھورتی رہی
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ گھر نہیں جانا تمہیں؟ نہ گوارا ہے نہ یون بن کس کیلئے رکے ہو یہاں۔؟
اس نے چبھتے ہوئے لہجے میں بہت طنزیہ انداز میں پوچھا تھا ہایون کے تن بدن میں جیسے آگ سی لگ گئ تھی
تم سے مطلب نہیں۔وہ اس کے منہ لگنا نہیں چاہ رہا تھا
ہوپ کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ یہ مسکراہٹ طنزیہ نہ تھی بلکہ اسکے چہرے کے تنے نقوش اس مسکراہٹ سے نرم سے پڑ گئے تھے۔ اسکے کھال منڈھےزرد گالوں پر یہ مسکراہٹ بہت بھلی لگی تھی
کیا ہوا۔۔ خاموشی سے دونوں کی اجنبی زبان میں گفتگو سنتی انکے تنے تاثرات سے اریزہ کو بس یہی اندازہ ہوا کہ یقینا کوئی بحث چل رہی ہے دونوں کے درمیان سو پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔۔
تم دونوں لڑ رہے ہو؟
آنیو۔۔ ہایون نے فورا اپنےتاثرات بدلے
نہیں کچھ نہیں۔ میں پہلے جاتا ہوں۔۔
وہ قصدا ہوپ کی طرف سے رخ پھیرتا اسے الوداعی انداز میں جھک کر بائے کہتا تیزی سے باہر نکل گیا
تم کیا کر رہی ہو یہاں بیٹھئ؟
ہوپ جانے کس خیال میں تھی بڑی سہولت سے اسکے سامنے اسٹول کھینچ کر بیٹھ کر پوچھنے لگی
اریزہ اسکے اپنائیت بھرے انداز پر حیران بھی ہوئی اور خوش بھی یقینا اسکے دل میں جمی گرد اڑی تھی جو آج اسے اریزہ سے خیر سگالی کا خیال آیا
کچھ خاص نہیں ہایون نے برتن دھوئے اورساتھ ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے۔۔۔
اریزہ نے بھی جوابا گرم جوشی سے ہی جواب دیا تھا
تمہیں برتن دھونے نہیں آتے ہیں؟ ہوپ اس کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔۔ اریزہ کا انداز لاپروا سا تھا ابھی بھی بات بڑھانے کو بڑے آرام سے ہنس کر بتانے لگی
مجھے تو سب کام آتا ہے کھانا برتن ۔ میری امی تو ہٹلر تھیں اس معاملے میں انہوں نے ڈانٹ ڈانٹ کر سب سکھایا ہے مجھے۔
یہ جو ابھی تم نے بنایا تھا یہ کیا تھا؟ ہوپ نے اسکی بات کاٹ کر پوچھا تھا
یہ ۔۔۔۔ اریزہ ہنسی
یہ پراٹھا ہوتا ہے آٹے کو گوندھ کر بناتے ہیں اسے کافی مشکل کام ہے اچھا پراٹھا بنانا وہ بھی گول ۔۔ پتہ ہے جب پہلی بار میں نے پراٹھا بنایا تو سری لنکا کے نقشے جیسا بنا تھا۔۔
وہ زورسے ہنسی
سری لنکا کا نقشہ؟ ہوپ اسکے انداز پر مسکرا کر پوچھ رہی تھی
سر ی لنکا کا ںقشہ نہیں پتہ ؟ بتاتی ہوں۔ وہ کائونٹر کے پاس ہی رکھا اسٹکی نوٹ کا پیڈ اور پین کھنیچ کر باقائدہ نقشہ بنانے لگی۔۔
ایسا ہوتا ہے۔ مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا کیسا ہوتا ہے میرے بھائی نے مزاق اڑاتے ہوئے بتایا مجھے ایسے ہی بنا کر اور پہلی بار میری امی نے میری حمایت میں اسے ڈانٹا کہ پہلی دفعہ بنایا ہے۔مزاق نہ اڑائو ورنہ تو وہ بہت لاڈلا ہے انکا اسکے آگے تو اپنی سگی بیٹی کو نہیں پوچھتی ہیں۔ اور بابا انہوں نے تو مجھے پانچ سو روپے دیئے تھے بہت چڑایا پھر میں نے اسے۔۔۔
وہ بہت جو ش و خروش سے قصہ سنا رہی تھی ہنس رہی تھی عادتا تالی مار کر بات کر رہی تھی۔۔
اسے دیکھتے دیکھتے ہوپ کی آنکھوں میں پانی اترنے لگا۔ منظروں پر منظر بدلے ایک منظر حاوی رہا گلابی چہرے والی لڑکی کی بے فکر ہنسی اسکو آئینے میں اپنا چہرہ دکھائی ہی نہ دیا بس وہ چہرہ حاوی رہا۔ اس نے دھیرے سے آئینے پر ہاتھ پھیر کر اس عکس کو مٹا کر اپنا عکس تلاشا۔۔ خیالی عکس دھندلاتا گیا ایک فاقہ زدہ محنت کش شمالی کوریائی محاجر لڑکی کا عکس گہرا ہوتا گیا۔ کھنچی ہوئی آنکھیں کھال منڈھے ہوئے زرد گالوں پر ٹکی تھیں۔ انتہائی خشک اور روکھے پتلے سے کندھوں تک آتے بال شانوں پر بکھرے تھے۔ ناک بھدی سی تھی تو ہونٹ پتلے پتلے چھوٹے سے۔ان ہی نقوش پر اگر گال بھرے ہوتے تو بھی شائد کچھ پیاری لگتی۔۔ اس نے یاسیت سے اپنا چہرہ دیکھا
یہ یہ کمی ہے مجھ میں۔ خوش باش ہنستے کھیلتے چہروں کو اس اداس آنکھوں والی فاقہ زدہ گالوں والی بد صورت سی یوآنا میں کیا دلچسپی محسوس ہونی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کم سن اسکیلئے پھل اور کچھ جوسز وغیرہ لیکر آیا تھا۔لا کر اسکے بیڈ کی سائڈ ٹیبل پر دھر دیئے
آننیانگ۔۔ بہت ادب سے جھک کر سلام کیا تھا اس نے
۔ ہوپ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔ دو دن بستر پر اینڈتے ہوئے وہ بری طرح تھک چکی تھی۔ سو چادر ایک طرف کرتی اٹھ بیٹھی۔۔
جتنی تیزی سے وہ اٹھی تھی کم سن نے ڈر کر سائڈ ٹیبل سے دونوں شاپر اٹھا لیئے۔ہوپ نے حیرانگی سے اسکی حرکت دیکھی۔۔
وہ ۔۔ مجھے لگا تم انہیں اٹھا کر پھینکنے والی ہو۔۔ وہ خود بھی کھسیا گیا تھا۔۔ اتنی معصومیت بھری بے چارگی سے بولا کہ بے ساختہ ہی ہوپ کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔۔
میں کم از کم کھانے پینے کی کوئی چیز کبھی نہیں پھینک سکتی۔۔
وہ دھیرے سے کہتی اٹھ کر اپنی چپل ڈھونڈنے لگی۔۔
کیوں۔ کم سن کے منہ سے بھی بے ساختہ ہی پھسلا تھا۔۔ اسکا جواب دینے کا ہرگز ارادہ نہیں تھا۔پیروں میں چپل پھنساتی وہ چپل گھسیٹتی باتھ روم کی جانب بڑھ گئ۔۔ کم سن نے گہری سانس لیکر دونوں شاپر وہیں ٹکائے اور خود بھی گہری سانس لیتا باہر نکل آیا۔۔
گوارا اور اریزہ اوپن کچن کے کائونٹر پر کہنیاں ٹکائے اسٹول پر بیٹھئ اسی کی جانب متوجہ تھیں۔۔
کیا ہوا انکار کر دیا اس نے لینے سے؟ دونوں نے ہی سوال کیا تھا مگر اپنی اپنی زبان میں۔۔
اقرار نہیں کیا مگر انکار بھی نہیں کیا۔ خیر رکھ دیا میں نے اسکی سائڈ ٹیبل پر کھا ہی لے گی۔۔
وہ کندھے اچکاتا انکے پاس ہی آبیٹھا۔۔اس نے دانستہ جواب انگریزی میں ہی دیا تھا
میں نے اس لیئے کہا کہ یہاں رکھی ہوئی کوئی چیز استعمال نہیں کرتی اور لائے ہی تم اسی کیلئے تھے۔۔اگر اسے نہیں وصولنے تو انکار بھی تمہیں ہی کرے۔۔ گوارا نے صفائی دینا ضروری سمجھا۔۔
کیا کر رہی ہے۔؟ اریزہ کو تجسس ہوا۔۔
واش روم گئ ہے ۔ کم سن نے بتایا تو گوارا تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ہاہ ٹوائلٹ رول تو ختم ہے۔ میں تبھی تو کہہ رہی تھی میرے ساتھ گروسری شاپنگ پر چلو۔
باتھ روم میں تو ہوگا۔ یہاں کوئی اضافی کیبنٹ میں نہیں رکھا ہوا۔۔ اریزہ نے تسلی دینی چاہی۔۔
وہاں بھی نہیں ہوگا کیونکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں گئ تھی واش روم اور میں ختم کرکے آئی تھی جبھی تو تمہیں کہہ رہی تھی ساتھ چلو شاپنگ پر۔ گوارا کے چہرے پر واقعی پریشانی تھی۔۔
تبھی انکے پیچھے کافی زور سے کمرے کا دروازہ بند ہوا تھا۔۔
تینوں نے چونک کر دیکھا ۔۔
یقینا یہ ہوپ تھی اور اب ٹوائلٹ رول کا متبادل انتظام کر رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم خیریت۔۔ سنتھیا سنبھل کر خوش اخلاقی سے پوچھ رہی تھی۔
جی ہائے کا انداز اسکے بالکل برعکس تھا۔ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا۔۔
تم مسلمان ہو؟
نہیں: سنتھیا اسکے انداز پر الجھ سی گئ۔۔
پھر؟ جی ہائے تفتیشی انداز میں بولی تھی
عیسائئ۔۔ کیوں؟ سنتھیا کو اسکا انداز اچھا نہیں لگا تھا مگر دو دن سے جس طرح وہ اسکا خیال رکھ رہی تھی اس کا لحاظ کرکے نرمی سے جواب دیا۔
اور اریزہ؟ جی ہائے کا انداز ہنوز تھا۔۔
وہ مسلمان ہے ۔ سنتھیا الجھ کر تولیہ گرل پر لگاتئ اسکے پاس چلی آئی۔ بیڈ پر بیٹھی جی ہائے ایکدم سے تنک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ہائش۔۔ مجھے پہلے اندازہ کیوں نہ ہوا۔۔ اس نے جھلا کر پائوچ پوری قوت سے بیڈ پر اچھال دیا۔۔
یہ۔۔ یہ تو اریزہ کا ہے۔ اسکے انداز سے الجھتی سنتھیا نے فورا پہچان لیا تھا۔ آگے بڑھ کر پائوچ اٹھایا تو پٹخنے سے اسکا کلچ ٹچ کی آواز سے کھل گیا۔ اللہ کے نام کا پیارا سا لاکٹ اس میں سے باہر آگیا تھا۔۔
اوہ احتیاط سے اسے بلا ارادہ چوم کر واپس ڈال کر پائوچ بند کرکے مڑی تو جی ہائے کو خشمگیں نظروں سے خود کو گھورتے پایا۔
گوارا جانتی ہے کہ اریزہ مسلمان ہے؟
اسکی تفتیش ختم نہیں ہوئی تھی۔۔
جانتئ ۔۔ وہ کہتے کہتے رکی۔۔ مسلئہ کیا ہے آخر؟ اریزہ مسلمان ہے تو کیا ہوا؟ اس نے کیا بگاڑا ہے تمہارا جو یوں غصے میں ہو۔
ہائش۔۔ جی ہائے سر پکڑ کر گھوم گئ۔۔
یقینا گوارا نہیں جانتی ہوگی مجھے اسے بتانا پڑے گا وہ اپنے گھر میں مسلمان کو رکھے ہے احمق بے وقوف لڑکی۔
وہ ہنگل میں زیر لب بڑبڑا تی پیر پٹختی باہر نکل گئ۔۔
ارے سنو ۔۔ پیچھے سے سنتھیا اسے پکار کر رہ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسٹل کی جانب سے پیغام آیا تھا۔ ایک نئی مصیبت اسکے سامنے تھی۔۔
یہ ہاسٹل صرف ان طلباء کیلئے ہے جو یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اگر آپ کسی موجودہ ڈگری سے منسلک نہیں ہیں تو برائے مہربانی اپنا انتظام کیجئے۔کیونکہ آپکا کمرہ دوسری طالبہ کو دے دیا جائے گا۔۔
مسکرا کر چندی آنکھوں والی اس لڑکی نے کمپیوٹر پر اسکی ساری تفصیلات دیکھ کر اسکے سر پر انگریزی میں بم پھوڑا۔
وہ چند لمحے اسے یونہی دیکھتی رہی ۔ چندی آنکھوں میں رحم اتر آیا جانے کس مشکل سے گزر رہی ہے بے چاری۔۔
آپ کے پاس ابھی چند دن ہیں اپنا کہیں اور انتظام کر سکتی ہیں۔اگلا سمسٹراگلے پیر سے شروع ہوگا طلبا یقینا ہفتے کے آخر تک ہی آئیں گے۔آج منگل ہے تو آپ کے پاس ابھی چار دن ہیں۔۔ اس نے بڑے خلوص سے مشورہ دیا تھا۔مگر ہنگل میں ۔ اسکے خاک پلے پڑتا۔۔ کم سن اتفاق سے اپنی فیس جمع کروانے آیا تھا اسے دیکھ کر اسکے پاس آکھڑا ہوا اس سے پہلے کہ متوجہ کر پاتا کلرک کے سر پر پھوڑے بم کے زیر اثر اسے ساکت کھڑے دیکھا تو لبوں پر مسکراہٹ دبا کر اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔۔
وہ بری طرح چونکی۔۔
آہجوشی ۔ آپ انکو انگریزی میں بتا سکتے ہیں کہ انکو اپنے رہنے کا الگ انتظام کر نا ہوگا یونیورسٹی صرف یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو ہی ہاسٹل میں رہائش دیتی ہے۔
چندی آنکھوں والی نے دوبارہ اتنی ہی تفصیل سے بتایا تھا۔ اسکی انگریزی ختم ہوگئ تھی سنتھیا کی ہمت کی طرح۔۔
کم سن نے اثبات میں سر ہلاکر مطلوبہ معلومات انگریزی میں دہرا دیں بمعہ اسکا مشورہ ۔
دے۔ سنتھیا گہری سانس بھر کر پلٹ گئ۔
کم سن نے اپنا فارم اور پیسے کلرک کی جانب بڑھائے ۔۔ سنتھیا باہر کی جانب گلاس ڈور دھکیلتی جا رہی تھی۔ اس نے لمحہ بھر سوچا کلرک کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرکے اپنا فارم اور پیسے واپس شولڈر بیگ میں ڈال سنتھیا کے پیچھے دوڑ لگا دی۔ وہ خلاف معمول خاصے تیز قدم اٹھا رہی تھی۔
بس اسکی کمی تھئ۔۔ اس نے بیزاری سے سوچا
چلتے چلتےاس نے شکوہ کناں نگاہ آسمان پر ڈالی۔
کیا مجھے معافی نہیں مل سکتی؟؟؟
اسکی آنکھیں بھر گئیں۔بے دردی سے آنکھیں رگڑ لیں تبھی کوئی اسکے بالکل سامنے آن کھڑا ہوا۔۔
ہائے۔۔ کم سن بھرپور انداز سے مسکرایا۔۔
ہائے۔۔ وہ کسی اور ہی موڈ میں تھی اسکے پاس سے ہو کر آگے بڑھنے کو تھی ۔ اسکا ارادہ بھانپ کر کم سن نے اسکو بازو سے تھام کر روکا۔اس بےتکلفی پر سنتھیا نے گھور کر دیکھا تھا مگر مقابل ڈھیٹ بن گیا۔۔
کیسی ہو؟ اسکے پرتپاک انداز میں پوچھنے پر بھی وہ ٹھس سی اسے دیکھتی رہی۔
کم سن اسکے ناک بھنوئیں چڑھانے پر اسکا بازو چھوڑ کر کھل کر ہنس دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کورین ریستوران میں کم سن لیکر آیا تھا۔ لانے کی وجہ اسکے سامنے ریسیپشن پر کھڑا تھا۔
وہ دانستہ نظر چرا کر ایک کونے میں کرسی سنبھال گئ۔ کم سن کو لگا تھا وہ بھی سیدھا ایڈون کے پاس جائے گی۔ وہ کندھے اچکا کر اسکے پاس آبیٹھا۔
کیا کھائو گی؟
جواب ندارد تھا۔
یہاں کا پورک اسٹیک بہت اچھا ہوتا ہے ایڈون تو کھا چکا ہے اسے پسند بھئ آیا تھا تم کھائو گئ۔؟
وہ نرم سے انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔
۔ سنتھیا نے اثبات میں سر ہلایا۔
کم سن اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں پر تھوڑی ٹکا کر اسکے بیزار بیزار سے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔ اسکے دیکھنے کے انداز نے ٹرے لیکر آتے ایڈون کو ٹھٹکا دیا تھا سنتھیا البتہ بے نیازی سے گلاس وال کے باہر سڑک پر نظر جمائے بیٹھی تھی۔
ایڈون نے پٹخنے کے انداز میں ٹرے دونوں کے درمیان رکھی تھی۔ اس افتاد پر دونوں اچھلے تھے۔ سنتھیا نے گھور کر دیکھا تھا اسے۔۔
کم سن اسکا لال بھبوکا چہرہ دیکھ کر محظوظ سے انداز میں مسکرایا۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا۔۔
تم دونوں کے جو بھی اختلافات ہیں یہاں بات کرکے دور کرسکتے ہو۔۔ میں نے انکل سے کہہ دیا ہے ایڈون جتنی دیر یہاں بات کرے گا اتنی دیر اسکی زمہ داری میں اٹھا لوں گا۔۔
وہ ہاتھ کے اشارے سے ایڈون سے اسکا ایپرن مانگ رہا تھا۔۔ ایڈون کیلئے اسکی یہ آفر قطعی غیر متوقع تھی۔ ہکا بکا کھڑا دیکھ رہا تھا۔ کم سن نے ابرو اچکائے تو میکانکی انداز میں اپنا ایپرن کھول کر اسکے تھما دیا ۔۔ وہ معمول کے سے انداز میں اسکا ایپرن اپنی کمر کے گرد لپیٹتا نئے آنے والے صارفوں سے آرڈر لینے چل دیا۔۔
ایڈون گہری سانس لیتا اسکے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔۔
سنتھیا اسے مسلسل نظروں میں رکھے تھے۔۔ ایڈون اسکی نظریں خود پر گڑی محسوس کر رہا تھا۔۔ احتیاط سے اپنے پلیٹ میں اس نے کھانا نکال کر پلیٹ سنتھیا کی جانب بڑھا دی۔۔
سنتھیا یونہی چپ گھورتی رہی۔۔
کھانا تو شروع کرو۔۔ گھورنے کا شغل کھانے کے دوران بھی جاری رکھ سکتی ہو۔ ایڈون نے ہلکا پھلکا انداز اپنایا تھا۔۔
ہم یہاں کیوں ہیں ایڈون؟ سنتھیا کا سوال ایڈون کے لئے غیر متوقع تھا۔ وہ سمجھا نہیں تھا سنتھیا نے دوٹوک بات کرنے کی ٹھان لی۔۔
ڈگری ہم لے نہیں رہے چھے مہینے یہاں ضائع کرنے کی بجائے پاکستان واپس چلتے ہیں۔تم نے اگر مزید پڑھنا تو وہاں پڑھ سکتے ہو۔ میں مدد کروں گی تمہاری ہر طرح سے ہم شادی کر لیتے ہیں۔۔
سنتھیا کے جملے اسکے اندرونی انتشار کے عکاس تھے۔
ایڈون ٹھٹک کر اسے دیکھنے لگا۔
مجھے نکاح کرنا ہے۔ مجھ سے اب مزید یہ گلٹ برداشت نہیں ہوتا۔ ایڈون۔۔ اسکا انداز بھرا گیا تھا۔۔
کیسا گلٹ؟ ایڈون نے تجاہل عارفانہ سے کام چلانا چاہا۔۔
تم اچھی طرح جانتے ہو میں کیا کہہ رہی ہوں۔
سنتھیا بےتابئ سے دونوں ہاتھ میز پر مار کر چلا اٹھی تھی۔۔ ارد گرد کئی گردنیں انکی۔جانب مڑی تھیں۔۔ ان سے کچھ فاصلے پر میز صاف کرتا کم سن چونکا تک نہ تھا۔۔ تندہی سے میز چمکاتا رہا تھا۔
آرام سے۔ ایڈون ناگواری چھپا نہ سکا۔۔ ڈپٹ دیا۔۔
تم کیوں عدم تحفظ کا شکار رہتی ہو۔ ؟تمہیں کیوں لگتا ہے ہم نے کچھ غلط کر ڈالا ہے۔ ہم نے کچھ دنیا سے الگ انوکھا نہیں کیا منگنی ہو چکی ہے ہماری محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے جلد شادی کر لیں گے ۔ تم صرف گرل فریںڈ نہیں فیانسی ہو میری ۔ ارے گرل فرینڈ بوائے فریںڈ تو رہتے اکٹھے ہیں ہم نے تو بس کبھی کبھی ساتھ وقت گزاراہے۔ یہاں اس معاشرے میں عام بات ہے یہ ۔۔تم پاکستان میں رہ کرقدامت پسند ہوگئ ہو بس۔
سختی سے کہتے کہتے ایڈون کا انداز آخر میں سمجھانے والا ہو چلا تھا۔
ہم پاکستانئ ہی ہیں ایڈون ہم کوریا میں رہ کر بھی وہیں کہیں زہنی طور پر پھنسے ہیں۔ یہ سب مطالبات تم پاکستان میں کرتے تو مر کر بھی ہاں نہ کرتی مگر یہاں اس دوسرے ملک کے خمار میں میں اپنی حد پار کر گئ ہوں۔ اور تمہاری نظروں میں اپنا پہلے سا مقام بھی کھو بیٹھی ہوں۔۔۔ سنتھیا آج کھل کر سب کہہ دینا چاہتی تھی۔۔ اسکے گالوں پر آنسو بہہ نکلے تھے۔
ایسی بات نہیں ہے۔ ایڈون اسکی آنکھیں لبا لب بھری دیکھ کر نرم پڑا۔
کھانے کی ٹرے ایک طرف کر کے اسکے میز پر دھرے ٹھنڈے یخ ہاتھ تھام لیئے۔
اگر اس وقت کی بات کرتی ہو تو میرا بھی کسی لڑکی کے اتنا قریب جانے کا پہلا موقع تھا ۔ مانتا ہوں ہم معاشرتی طور پر ابھی ایک نہیں ہوئے مگر ہم نے جو کیا وہ گناہ نہیں تھا ہم مسلمان تھوڑی ہیں جو ایسی فالتو روایات میں الجھیں ۔رہا شادی کا سوال تو ہماری شادی طے ہے آپس میں ہی ہوگی ۔ آج یا جب کبھی۔
پاکستان چلو میں یہاں نہیں رہنا چاہتی۔ بھلے وہاں جا کر پڑھائی مکمل کرو یا جو بھی کرو مگر میرے ساتھ واپس چلو۔
سنتھیا ضدی انداز میں بولی۔
میں تو میں تم اب واپس جا سکتی ہو؟ یہ جو مصیبت ۔
وہ روانئ میں بول گیا احساس ہواتو جملہ ادھورا چھوڑا۔
جب تک اس مسلئے کا حل نہیں نکل سکتا ہم واپس نہیں جا سکتے۔نا تم نا میں۔۔
یہی حل تو بتا رہی ہوں۔ہم یہاں شادی کر لیتے ہیں۔ہم گھر والوں سے کہہ دیں گے ہمیں اکٹھے رہنا تھا ہاسٹل سے ہم دونوں کو نکال دیا گیا تھا وغیرہ۔۔ یہی بہترین راستہ ہے۔
وہ سمجھا رہی تھی ایڈون بری طرح چڑ گیا۔۔
پاگل تو نہیں ہوگئ ہو تم؟ یہ ڈھول ہمیشہ کیلئے گلے میں لٹکا کر پھرنا ہے تم نے؟
سنتھیا اسکے جھلاہٹ بھرے انداز کو ساکت سی دیکھتی رہ گئ۔

اس نے گہری سانس لیکر سنتھیا کے ہاتھ تھامتے ہوئے سمجھانا چاہا
میں دو دن سے صرف اسی معاملے کا حل سوچ رہا ہوں۔
میرے پاس کچھ پیسے ہیں کچھ اوور ٹائم کرکے سیو کروں گا۔ کچھ تم کوئی بہانہ بنا کر پاکستان سے منگوائو۔
اسکا انداز اسکی باتیں ۔سنتھیا خالی الذہنی سے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔
کیوں؟
ہم اس معاملے کو ختم کرا لیتے ہیں۔ آئیندہ احتیاط کریں گے۔بس۔۔ آئی پرامس آئیندہ تم پر کوئی مشکل وقت نہیں آنے دوں گا۔۔
اسکا ہاتھ سہلاتے وہ سبھائو سے کہہ رہا تھا۔
کیا مطلب۔ سنتھیا ایکدم سناٹے میں آگئ۔۔
تم اسے۔۔۔۔
وہ بات مکمل نہ کرپائئ۔
تو اور کیا۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کتنی بڑی ذمہ داری ہے؟
ابھی میری تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ ہم شادی بچوں کے چکر میں کیسے پڑ جائیں۔۔ ابھی ذیادہ دیر نہیں ہوئی ہے۔۔ سنتھیا مجھے اپنا کیرئر بنانا ہے یہاں تعلیم مکمل کرکے میں یہاں ہی سیٹل ہونا چاہتا ہوں پاکستان میں رکھا کیا ہے ؟ نا۔۔
اسکی آگے کی لمبی تقریر ہزار بار کی سنتھیا نے سنی تھی جبھی اسکی بات کاٹ کر بولئ۔
میں اس قتل کا حصہ نہیں بنوں گی ۔۔۔ چاہے کچھ ہو جائے۔۔
ایڈون ہکا بکا رہ گیا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکے ایک کئی منزلہ عمارت کے باہر لایا تھا۔دو زینے چڑھ کر اس نے ایک فلیٹ کا دروازہ کھولا تھا۔ سامنے ایک لمبی راہ داری تھی اتنی تنگ کہ بس ایک درمیانی جسامت کا انسان دیواروں سے بچتا سیدھا چل سکے۔ راہد اری میں دروازے ہی دروازے آمنے سامنے تھے ایک دو تین چار آمنے سامنے دروازوں کو وہ بلا ارادہ گننے لگی۔
تبھی ایک ہلکی سی کھڑک کے ساتھ سامنے بائیں جانب کا دروازہ کھلا تھا ایک لحیم شحیم افریقی حبشی نکلا تھا۔ یقینا اسے باہر جانا ہوگا راہداری کے آغاز پر وہ کھڑے تھے اسے راستہ دینے کی غرض سے انکو یقینا باہر نکلنا چاہیئے وہ واپس مڑنے کو تھی جب ایڈون نے اسکا ہاتھ تھام کر ایک دروازے میں چابی گھما کر کھول دیا۔ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو انکے داخل ہوتے ہی ختم ہو گیا تھا۔ اسکو اندر داخل ہو کر ایک جانب سرعت سے ہونا پڑا تھا ایڈون نے احتیاط سے دروازہ بند کیا۔ بمشکل اسکے گھر کے باتھ روم جتنا کمرہ جس میں ایک جانب ٹرین کے برتھ جیسا بیڈ تھا دوسری جانب ایک چھوٹا سا کائونٹر تھا جس پر لیپ ٹاپ رکھنے کے بعدبس دو کتابوں کی جگہ تھی۔ اوپر راڈ لگے تھے جن پر ایڈون کے کپڑے لٹکے تھے۔
بیٹھو۔۔ ایڈون نے اسے بیڈ پر بیٹھنے کا ہی کہا تھا اور تو کہیں کوئی جگہ نہ تھی ہر چیز منہ پر آ رہی۔تھی اسکا دم گھٹنے لگا تھا۔
باہر چلیں۔۔کھینچ کر سانس لیتے ہوئے وہ بس یہی۔کہہ سکی۔۔
وہ اسے قریبی پارک لے آیا تھا۔۔اسے ایکدم تازگی اور سکون کا احساس ہوا تھا۔ایڈون اسکیلئے کافی لیکر آیا تھا اپنے لیئے سیول کی مشہور زمانہ سوجو۔
کوریا کا موسم بالکل بدل چلا تھا جہاں اس تنگ کمرے میں اسے شدید گھٹن کا احساس ہورہا تھا وہاں اس کھلی فضا میں گھگھی بھی بندھنے لگی تھی۔۔
کافی کا گھونٹ بھر کر اسکی گرمائش اندر اتارتے ہوئے اس نے گہری سانس لی تھئ
گوشی وون۔ کہتے ہیں اسے۔ غریب محنت کشوں کے لیئے رات گزارنے کا ٹھکانہ ۔بیڈ سونے کیلئے۔ الماری کپڑوں کیلئے۔ باقی رات کو کوریا میں تو فٹ پاتھ پر بھی سویا نہیں جا سکتا سو یہ کافی سے زیادہ ہے ایک انسان کیلئے۔۔
سالک اور شاہزیب واپس جا رہے ہیں مجھے بھی ہاسٹل سے نکلنا پڑے گا۔ اپنی رہائش کا یہ انتظام کیا ہے میں نے۔۔ اس تنگ راہدارئ کے آخر میں ہئ باتھ روم ہیں جو مشترکہ ہیں۔۔
گہری سانس لیکر ایڈون نے کہنا شروع کیا ۔ اس تمہید کا مقصد اسے بخوبی سمجھ آرہا تھا
میں تمہاری بات مان کر شادی کر بھی لوں تو تمہیں کہاں رکھوں گا ؟ پاکستان جا کر یہ حقیقت بتا کر ہمیں ہمارے والدین معاف بھی کردیں تو ہمارا کیا مستقبل ہوگا ۔ ا س بچے کا کیا مستقبل ہوگا۔ پاکستان میں ہم اقلیت ہیں متوسط طبقے کی اقلیت۔ ہمارے لیئے وہاں پر مواقع محدود ہیں میرےباپ نے ساری زندگی پیسہ پیسہ جوڑا اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر مجھے پڑھا یا۔ مجھ سے چھوٹی دو بہنیں ہیں مجھے انکورخصت کرنا ہے ابا کا سہارابننا ہے۔ وہاں نہ میں ایسی نوکری کرکے اتنا کما سکتا ہوں کہ اپنا خرچ اٹھا سکوں نہ مجھے ایسی کوئی امید نظر آتی ہے کہ پڑھائی مکمل ہونے کے بعد وہاں میرے لیئے کوئی نوکریوں کا ڈھیر پڑا ہوگا کہ میں چن کر زندگی عیش سے گزار سکوں۔ وہاں مسلمان بے روزگار پھر رہے ہم تو۔۔۔
اس نے گہری سانس لی۔
یہ سب باتیں تمہارے لیئے نئی ہوں گی۔ تمہارے بابا بہت امیر ہیں مگر میں ان کے ٹکڑوں پر کتنا عرصہ پل سکوں گا ۔
یہاں بھیجتے ہوئے تمہارے بابا نے مجھے کہا تھا کہ باہر کےملک کی ڈگری لیکر آئو تب ہی یہاں کہیں کہہ سن کر اچھی جگہ لگوا سکوں گا۔ وہ مجھے اپنے ہم پلہ بنانا چاہتے ہیں میں ان کو کیسے جا کر کہوں کہ۔۔۔
سنتھیا چند لمحے سوچتی ہی رہ گئ۔ وہ تمام ڈر خوف واہمے حقیقت بن کر سامنے تھے جنہوں نے اسکی مہینوں سے راتوں کی نیند اڑا رکھئ تھی۔ حقیقت بس اتنی سی تھی۔ وہ ایڈون کے ارادوں سوچوں خیالوں میں کہیں نہیں تھئ۔ اس بات کو سوچ کر اسکا دم رکنے لگتا تھا۔یوں لگتا تھا کہ وہ مرہی جائے گی۔
اپنے ماں باپ اپنی بہنوں یہاں تک کے اسکے باپ تک کی فکر تھی ایڈون کو مگر ایک بار بھی شائد اس نے یہ نہ سوچا تھا کہ سنتھیا پر اسکے فیصلوں کا کیا اثر ہوگا۔۔ اسے جتنا بھیانک لگتا تھا سوچنے میں یہ انکشاف وہ آج سمجھ آگیا تو کتنے آرام سے بیٹھئ تھی۔ کچھ بھی تو نہ ہوا نہ دل بند ہوا نہ ہی وہ پھوٹ پھوٹ روئئ۔
اس نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنی چاہی
مڑکر ایڈون کے بے حد قریب اپنا چہرہ لائی ایڈون نے اچنبھے سے اسے دیکھا تھا۔کیا وہ چاہ رہی تھی ؟ ایڈون نے گہری سانس لیکر سوجو کی بوتل رکھی اور مڑ کر اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا۔ وہ پہل کرنا چاہ رہا تھا سنتھیا نے سرعت سے اسکا ہاتھا ہٹایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
ایڈون ہم اپنے راستے الگ کر لیتے ہیں۔ اس کا انداز سخت سا تھا
ایڈون سر جھٹک کر رہ گیا۔
اس نے چند لمحے انتظار کیا۔ مگر ایڈون پارک پر نگاہ جمائے سوجو کے گھونٹ بھررہا تھا۔
سنتھیا ضبط کھو کر بے آواز رو پڑی۔ اس سے سسکیاں چھپانے پلٹ کر جانا چاہا تب ایڈون کی اسے آواز آئئ
میں رات کو فون کروں گا۔ اٹھا لینا۔۔
اس نے رک کر سنا تھا پھر رکی ہی نہیں۔ تیزتیز قدم اٹھاتئ پارک سے نکلتی چلی گئ اور ایڈون کی زندگی سے بھی۔اپنی دانست میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسٹل آکر وہ جلے پیر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی۔زندگئ میں پہلی دفعہ اسکی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ تھا اور وہ اریزہ سے مشورہ بھی نہیں کر سکتی تھی۔
اریزہ کو اس حقیقت کے بارے میں بتانے کیلئے بہت ہمت درکار تھی۔
خداوند بتائیں میں کیا کروں۔ ؟
وہ تھک کے بیڈ پر گر سی گئ۔
پاکیزہ مریم آپ تو جانتی ہیں نا یہ مرحلہ میرے لیئے کتنا مشکل ہے۔ میں نے گناہ کر لیا ہے۔ مجھے سنگسار کر دیں گے سب۔۔ وہ تکیے میں منہ دے کر رو پڑی۔
میں یہاں نہیں رہ سکتی میں واپس نہیں جا سکتی۔ میرے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔۔ کیا کروں میں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گوارا اور ہوپ کے ساتھ صوفے پر لائین سے بیٹھئ ڈرائی فروٹ اڑا رہی تھی ۔۔گوارا اور ہوپ سوجو اور چکن اڑا رہی تھیں۔بھاپ اڑاتا لال لال مصالحے سے بھرپور تلا ہوا چکن جس پر کالی ساس تھی سرخ کٹی ہوئی مرچ سنگ جانے کیا کچھ تھا۔۔خوشبو اتنی اچھی تھی کہ نگاہ بھٹک گئ اسکی۔ جلدی سے خود کو گھرک کر اس نے کاجو منہ میں رکھا۔۔
بری بات۔۔ حرام ہے چاہے جتنا بھی اشتہا انگیز لگ جائے یہ ۔۔۔۔۔۔۔
ونگز اٹھا کر کھاتے گوارا نے پھر اسے پوچھنا چاہا۔
ذرا سا چکھ کے تو دیکھو۔ چکھنے سے تھوڑی تمہارا ایمان جاتا رہے گا۔۔
آنیا۔ اس نے زور و شور سے نفی میں سر ہلایا۔ ہوپ نے تیکھی نگاہوں سے دیکھا۔
اب چکن بھئ حرام ہے اسکے مزہب میں کیا۔
اس نے واضح طو رپر۔گوارا سے پوچھا تھا مگر اس نے جواب دینے کی بجائے ٹی وی پر۔نگاہ جما دی۔
ہوپ ہونٹ بھینچ کر نئئ سوجو کی بوتل کھولنے لگی۔
انہوں نے ٹی وی پر لیجنڈ آف بلو سی لگایا ہوا تھا۔ اریزہ کو ڈائلاگز سمجھ تو نہیں آرہے تھے مگر کہانی کردار سب انوکھے اوپر سے اعلی درجے کی اینیمیشن وہ بھی بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی گوارا اسکیلئے مترجم کے فرائض انجام دے رہی تھی۔
یہ لڑکا بہت خوبرو ہے۔ اریزہ نے کہا تو گوارا زور سے ہنس دی۔
پتہ ہے آدھا کوریا مرتا ہے اس پر ای منہو نام ہے مگر یہ اسکا آخری ڈرامہ ہے اسکے بعد بے چارہ چلا جائے گا ملٹری۔۔ اسے تاسف ہوا تھا
کیوں؟ ملٹری کیوں جا رہا اگر اسے اتنا فیم مل چکا ہے پیسہ بھی خوب ہوگا اسکے پاس۔
اریزہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ مارنے لگی ہے بلکہ پورا چھتہ اپنے اوپر الٹنے والی ہے۔
شمالی کوریا کئ وجہ سے پورے جنوبی کوریا کے لڑکوں پر ملٹرئ میں تین سال گزارنا فرض ہیں۔ہر وقت جنگ مسلط کرنے کو تیار ہیں ہم پر جبھی حکومت چاہتی ہے کہ ہمارے جوان ان سے نمٹنے کو تیار رہیں
گوارا اسکی جانب جھکتے ہوئے رازدارانہ انداز میں بتا رہی تھی مگر والیم نہ نہ کرتے بھی اتنا تھا کہ پاس ہی بیٹھی ہوپ نے آرام سے سنا تھا۔۔
اور جنوبی کوریا کی وجہ سے شمالی کوریا کی خواتین پر بھی ملٹرئ کی پابندئ ہے۔ جب ہم سے جنگ ہوگی تو ہماری عورتیں گھروں مین بیٹھی اپنے اوپائوں کی لاشوں پر بین نہیں کریں گی بلکہ جنگ کے میدان میں ایسے اوپائوں کی لاشیں گرا رہی ہوں گی۔
چبھتے کڑخت انداز میں اس نے اتنے تنفر سے کہا تھا کہ گوارا اور اریزہ حق دق دیکھتی رہ گئیں۔گوارا کو تو لی منہو خون میں ڈوبا پڑا نظر آرہا تھا تو اریزہ کو خون سائرن دھماکا کیا کیا نا نظروں میں گھوم گیا۔۔
ہماری وجہ سے؟۔ گوارا ہوش میں آکر تن کر بیٹھی۔
تم لوگ ہو بیمار ذہن بس جنگ و جدل زہن پر سوار ہے بھوک سے مر رہے ہو مگر اپنے اس دوٹکے کے کنگ کے تلوے چاٹ رہے ہو جس نے اپنی حکومت قائم رکھنے کیلئے تم سب کو اپنا بے دام غلام بنا رکھا ہے تو ہم پر چڑھائی کے الگ خواب دیکھتا ہے۔
تم لوگ تو بیمار ذہن نہیں ہو نا۔ پھر کیوں مارنا چاہ رہے ہو ہم بیمار ذہنوں کو۔ کیوں جنگ کی تیاریوں میں لگے ہو کیوں
ہوپ بھی سیدھی ہو بیٹھی۔۔
باس اسٹاپ اٹ۔ پاگل ہو گئ ہو کیا تم دونوں؟
اریزہ جو بائیں جانب بیٹھی تھی اٹھ کر دونوں کے بیچ میں آکر بیچ بچائو کرانے کی کوشش کرنے لگی۔۔
ہم اگر جنگئ جنونی ہوتے تو تم شمالی کوریائی محاجروں کو پناہ نہ دیتے اپنے ملک میں۔ یہاں میرے ملک میں سکون سے بیٹھ کر ٹی وئ دیکھ رہی ہو اپنے ملک میں ہوتیں تو کسی کچرے دان سے خوراک چن رہی ہوتیں
شٹ اپ۔ ہوپ حلق کے بل چلائی اس نے گوارا پر ہاتھ اٹھا دیا تھا جسے اریزہ نے پکڑ کر گوارا کو بچایا تھا۔۔
تم ہوتی کون ہو۔ مجھ پر ہاتھ اٹھانے والی۔۔ گوارا بپھر کر آگے بڑھئ۔۔
بس کر جائو پلیز۔۔ بس خدارا ۔۔ اریزہ کا بس گوارا پر ہی چل رہا تھا اس سے لپٹ کر اسے ہی سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔۔اب دونوں زبانی گولہ باری کے ساتھ ہاتھا پائی پر بھی اتر آئیں
دونوں کے بیچ اریزہ کا حلیہ بگڑ گیا تھا۔ ہوپ کے تھپڑ گوارا تک پہنچے نہ تھے مگر وہ بل۔کھا کر اسے مارنے دوڑ رہی تھی۔
تم لوگوں کئ وجہ سے ہم نہ صرف بھوکے مر رہے ہیں بلکہ پیٹ کاٹ کر جنگ کیلیئے تیاریاں کرتے رہتے ہیں۔۔ مگریاد رکھنا بھرا پیٹ جنگ نہیں کرتا جب ان خالی پیٹ والوں سے مقابلہ ہوا نا تو۔۔
ہوپ نے بیچ بچائو کراتی اریزہ کو جھٹکا ۔۔
بس کر جائو تم۔ اس بار اریزہ چلائی تھی۔۔
اسکے بال۔بکھر چکے تھے دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتے اسکو خاصی خراشیں آچکی تھیں۔۔ بازو گوارا کے لمبے ناخنوں سے چھل گیا۔ تو ہوپ کا کرارا ہاتھ بھی کئی جگہیں سرخ کر گیا تھا۔
گوارا اور ہوپ دونوں چپ سی ہو کر دیکھنے لگیں
جنگ نہ ہوگئ ٹافی ہوگئ دونوں لڑ رہی ہو جنگ کیلئے۔ آمنے سامنے ہو کر لو فیصلہ مارو ایک دوسرے کو مگر جیتے گی صرف جنگ اور مرے گی انسانیت۔ مزہب ایک زبان ایک ملک بھی کبھی ایک تھا کبھی سوچا بھی ہے تفرقات ہوتے کیا ہیں۔ مجھ سے پوچھو ۔مزہب زبان زمین ،ذات پات کا فرق ، برادری کا فرق ، رہن سہن ، بودوباش ، ثقافت طرز رہائش۔ اتنے تفرقات ہیں میرے ملک میں اورتم لوگ ایک سرحد کے فرق پر مرنے مارنے پر تل جاتی ہو۔
اریزہ کی بات ابھی ختم نہ ہوئی تھی مگر ہوپ نے تنفر سے بات کاٹ دی۔
تم کچھ نہیں جانتی ہو بیچ میں نہ بولو کبھی جنگ دیکھی ہے؟ میں نے دیکھی ہے خانہ جنگی خون خرابہ ایک نوالے کے پیچھے قتل ہوتے بات کرتی ہو۔ مجھے اب کسی بات سے فرق نہیں پڑتا۔ جنگ سے ایسے عیش و آرام میں پلے لوگ ڈرتے ہیں میرے جیسے ملٹرئ ٹرینڈ نہیں۔۔
ہوپ کی آنکھوں میں بے خوفی تھی مگر اریزہ متاثر نہ ہوئی
تم ۔۔۔۔ بہت فخر ہے جنگ سے نہیں ڈرتیں یا ملٹری ٹرینڈ ہو۔ اس سب کا فائدہ کیا ہے تمہیں؟ یہاں ایک دوسرے ملک میں پناہ گزین ہو تم اور جو ملک تمہیں پناہ دے رہا ہے کھلا پلا رہا ہے اس سے نفرت ہے تمہیں؟؟؟؟
اریزہ کا سوال ہوپ سے دوٹوک تھا۔ ہوپ سے کوئی جواب نہ بن پڑا چپ سی رہ گئ ۔اریزہ نے روئے سخن اب گوارا کی جانب موڑا
ترقی یافتہ ملک میں ہر طرح کا عیش و آرام میسر ہے تمہیں زیب دیتا ہے کسی کو اسکی کمیوں پر طنز کرنا ۔مانا تمہیں سب میسر رہا ہے مگر جس کو یہ سب سہولتیں میسر نہیں اس سے ہمدردی دور تم اسے چڑا رہی ہو۔ جو باتیں شمالی کوریا کی بتاتی ہو اسکا ایک فیصد بھی سچ ہے تو کیا تمہیں اپنے جیسے خدو خال اپنے جیسی بود و باش ہم زبان لڑکی سے ہمدردی محسوس نہیں ہوتی جو کسی طور تم سے کم نہیں مگر حالات کی ستائی ہے۔ تمہیں اسکے ساتھ ہمدردی سے پیش نہیں آنا چاہیئے؟
اب سر جھکانے کی باری گوارا کی تھی۔۔
مجھے تم دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تم دونوں کو آپس میں کوئی اپنائیت محسوس کیوں نہیں ہوتی۔۔
اتنی لمبی تقریر جھاڑ کر وہ جیسے تھک کر بولی تھی۔۔
نہیں ہوتی۔ گوارا فٹ سے بولی۔
ہوپ اور اریزہ نے گھور کر دیکھا اسےتو اس نے جیسے ڈر کر جملہ مکمل کیا
میرا مطلب تھا کہ اس سب کے باوجود اپنائیت مجھے تم سے محسوس ہوتی ہے جو شکل ، رہن سہن بودوباش زبان مزہب سب میں الگ ہے۔ سارانگھیئے اریزہ۔۔
اس نے اریزہ کو اپنے ساتھ لگایا۔۔ہوپ نے گہری سانس بھری اور رخ پھیر کر اندر جانے کو تھی کہ اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
بس کرو لڑنا۔ ہم ایک ساتھ رہ سکتے
جی ہائے نے دھاڑ سےداخلی دروازہ کھولا تو وہ سب چونک کر دیکھنے لگیں۔۔
آئو جی ہائے آنیانگ۔ اریزہ خیر مقدمی انداز میں بولی
ہاں آئو جی ہائے تم بھی۔۔ ہم لڑ ہی رہے ہیں تم بھی حصہ ڈال لواپنا۔۔
گوارا جان کر ہوپ کو چڑانے کو بولی جو اسے گھور کر دیکھتی اریزہ سے ہاتھ چھڑا نے لگی۔
۔۔ جی ہائے کے تاثرات تنے تنے ہی تھے جیسے واقعی لڑنے آئی ہو۔ اریزہ کو اسکے برعکس کافی خوشی ہوئی تھی دیکھ کر آگے بڑھ کر ملنا چاہا مگر جی ہائے کے چہرے پر اتنے سخت تاثرات تھے کہ رک سی گئ
گوارا سے ملنے آئی ہوں۔ بے رخی سے اس نے کہا تھا۔
کین چھنا؟ خیریت غصے میں لگ رہی ہو ؟
گوارا نے فکرمندی سے پوچھا۔
آنیا۔ بالکل خیریت نہیں۔ میری زندگی میں منحوسیت نے ڈیرا جما لیا ہے پچھلے کئی سال سے خیریت کیسے ہو سکتی ہے۔
وہ چبا چبا کر ہنگل میں بولی۔
پتہ تو لگے کیا ہوا؟ ۔۔ گوارا کے ماتھے پر ناگواری کی شکن در آئی۔
اریزہ کو انکی۔گفتگو مکمل سمجھ تو نہ آئی مگر اندازہ ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔
کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا؟
اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا تو وہ جھٹکے سے ہاتھ چھڑا گئ۔
تم لوگ جہاں ہو وہاں خیریت ہو سکتی ہے؟
انگریزی میں اسے جھاڑ کر وہ گوارا سے ہنگل میں بولی
پہلے اس شمالی کوریائی محاجر اب یہ پاکستانی لڑکی تمہیں کوئی اندازہ ہے کن طوفانوں کو اپنے گھر میں بسائے ہو؟
تمہیں میرے گھر کے اٹھتے طوفانوں سے کوئی مطلب نہیں۔
اس بے وجہ تقریر پر گوارا چڑ کر بولی۔
جی ہائے چند لمحے گھورتی رہی۔۔ پھر ناک چڑھا کر اریزہ کی جانب دیکھے بنا سر خم کرکے بولی
اور تم اپنی رہائش کا نیا بندوبست کرو۔۔ اپنا ہاسٹل سے سامان اٹھالینا کمرہ خالی کرنا ہوگا سنتھیا نے کہا تھا بتادوں تمہیں۔۔۔
اور یہاں کا بھی بستر گول سمجھو۔۔
سخت سے انداز میں کہہ کروہ گوارا کو بازو سے کھینچتی کمرے کی طرف بڑھتئ چلی گئ ۔۔
یہ تمہیں کہہ کر گئ ہے؟ وہ پلٹ کر ہوپ سے پوچھنے لگی تو پتہ لگا وہ اکیلی ہی لائونج میں کھڑی ہے ہوپ انکی گفتگو کے درمیان پلٹ کر شائد ٹیرس چلی گئ تھئ۔
سنتھیا نے اسکو بھی کچھ کہہ دیا ہےکیا ۔ اریزہ کو دکھ ہوا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو؟ گوارا نے اسکی بےتکی بات پر حیرانی سے دیکھاتھا۔
توکیا ؟ !کیا تمہیں نہیں پتہ مسلمان کیسےہوتے ؟ یہ جادوگر ہوتے ہیں دن میں کئی کئی بار عبادت کرتے ایسا اورکسی مزہب میں ہوتاہے؟ دھیرے دھیرے انکو دیکھنے سے آپ بھی ان کا اثر قبولنے لگتے ہیں۔ میرے آہبوجی باقاعدہ زیر اثر آکر اپنے دوست کا مزہب اختیار کرگئے کتنی کوشش کی انہوں نے مجھے اور آہموجی کو بھی مسلمان کرنے کی ۔ آہموجی الگ نہ ہوتیں تو شائد ہم دونوں کو بھی وہ اپنی طرح پاگل کر دیتے۔
ہر وقت میرے گھر میں عربی گونجتی تھی۔ تم اس ٹراما کا تصور بھئ نہیں کرسکتیں جس سے میں اور آہموجی گزرے۔
دیکھنا اس کی چیزوں میں بھی یقینا کوئی جادوئی لاکٹ ہوگا۔ کوئی کتاب۔ کوئی تعویز۔
وہ جنونی انداز میں کہتی اریزہ کے بیگ کی جانب بڑھی۔ اسکے بیگ کی زپ کھول کر اسکے سب کپڑے نکال کر بیڈ پر اچھالنے لگئ اسکا پرس الٹ دیا۔ گوارا بھونچکا سی اسکا جنونئ انداز دیکھ رہی تھی۔
اسکے ہاتھ سے اریزہ کا بیگ چھین کر اسکی چیزیں چھین کر واپس ڈالتے ہوئے کہنے لگی
آئیگو۔۔ جی ہائے آ۔۔ سب انسان ایک جیسے نہیں ہوتے سب مسلمان ایک جیسے نہیں ہوتے اور تمہارے آہبوجی مانا چاہتے تھے تم لوگ مسلمان ہو جائو مگر ایک اس بات کے علاوہ وہ کتنے اچھے تھے تم لوگوں کا کتنا خیال رکھتے تھے ہر خرچہ اٹھاتے تھے اور ابھی بھئ دو سال ہو رہے تمہیں ان سے ملے ہوئے پھر بھی وہ ہر تہوار تم کو تحائف بھیجتے ہیں تم پاکٹ منی استعمال کرو نا کرو تمہارے اکائونٹ میں پیسے ڈلواتے ہیں ۔۔۔۔
سب کچھ پیسہ نہیں ہوتا میری مام میرا پورا خرچہ اٹھاتی ہیں مجھے انکے پیسے کی ضرورت نہیں۔۔
جی ہائے نے غصے سے اسکی بات کاٹی۔۔
تمہارے آہبو جی مسلمان ہو گئے تم لوگوں کو بھی مسلمان ہونے پر زور دینے لگےاسکا اریزہ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں بنتا ۔۔ تمہاری چڑ بالکل بلا جواز ہے۔۔
گوارا چیزیں سمیٹ کر واپس انکو انکی جگہ پر رکھتی قطعی انداز میں بولی۔۔۔
اریزہ تم کو بھی اپنے جیسا کر لے گی اور اسکا اثر میں دیکھ بھئ رہی ہوں تم اریزہ تو اریزہ مسلمانوں کے خلاف بھی ایک لفظ نہیں سن سکتی ہو۔۔ پوری دنیا ان متعصبی مسلمانوں سے عاجز ہے اور تم۔۔۔ جی ہائےشائد اپنی بات اچھی طرح سمجھا نہیں پا رہی تھی۔۔ گوارا نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر بیڈ پر بٹھا کر بولئ
دیکھو اریزہ پیدائشی مسلمان ہے وہ تمہارے آہبوجی کی طرح ایکدم سے کسی مزہبی جنون کا شکار نہیں ہوئی ہے۔۔ اسکے جو بھی عقائد قوائد اور روایات ہیں انہیں وہ بس خود اپنے اوپر لاگو کرتی ہے وہ مجھے یا ہوپ کو کبھی مجبور نہیں کرتی ۔ تم تو اریزہ کی مجھ سے پہلے دوست بنی تھیں اسے اتنا نہیں جان پائیں؟ وہ تو اسکارف تک نہیں لیتی ۔۔ بالکل بھی بنیاد پرست نہیں ہے وہ یار۔۔
ہے ۔۔ یہ لوگ ہوتے ہیں بظاہر جیسے بھی نظر آتے ہوں اندر سے کٹر ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے…جی ہائے چلا کر بولی
تو نہ بدلے اسے کیوں بدلنا ہے تمہیں؟
گوارا نے زچ ہو کر کہا۔
وہ تمہیں بدل دے گی۔ بلکہ بدل رہی ہے۔ تم اسکی حمایت کر رہی میں کیا کہہ رہی کچھ فرق نہیں پڑ رہا تمہیں۔ وہ تمہاری دوست ہے یا میں۔۔
وہ جھنجھلا اٹھی۔
تم دونوں میری دوست ہو ۔ گوارا رسان سے بولی۔
یا تو وہ دوست ہوگئ یا میں۔فیصہ کرو۔ ابھی اس کو گھر سے نکالو۔۔۔ میں ایک مسلمان لڑکی کو کسی طور برداشت نہیں کر سکتی مجھے پتہ ہوتا تو میں۔۔۔ وہ جزباتی پن سے کہہ رہی تھی۔۔
گوارا نے اسکا اتنا چڑتے کئی بار دیکھا تھا ہمیشہ رسان سے اسکا پارہ نیچے لانے کی کوشش کی تھی ابھی بھی یہی کرنے لگی۔۔
تحمل سے کام لو جی ہائے۔ بیٹھو۔۔
میں یا وہ ایک فیصلہ کرو۔۔ نکالو اسے اپنے گھر سے
وہ۔حلق کے بل چلائی۔
میں تمہارے اس پاگل پن کی وجہ اسے اپنے گھر سے نہیں نکالنے والی۔
وہ بھی چڑگئ۔
جی ہائے کو بالکل توقع نہ تھی کہ وہ آگے سے یو ں بے مروتی سے کہہ دے گی۔
چند لمحے صدمے کی حالت میں اسے دیکھتی رہ گئ۔
بات سنو ۔۔ گوارا نے گہری سانس لیکر آگے بڑھ کر اس کے کندھے تھامنے چاہے۔
چھے سو۔۔ اس نے اسکے ہاتھ جھٹک دیئے تن فن کرتی کمرے کا دروازہ حقیقتا اپنے پیچھے آتی گوارا کے منہ پر بند کیا۔
ہائش۔۔ گوارا نے فورا دروازہ کھولا مگر تیز تیز قدم اٹھاتی۔ جی ہائے داخلی دروازہ بھی کھول کر نکل رہی تھی۔ سامنے ہایون تھا ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔
بیانیئے۔۔ وہ سنبھل کر جھک کر معزرت کرنے لگا۔۔
ہونہہ۔۔ وہ سر جھٹکتی رکی نہیں باہر نکلتی چلی گئ۔۔وہ اس وقت سننے کے موڈ میں نہ تھی۔ سواسے اسکےحال پر چھوڑ کر وہ ہایون کواندر آنے کا کہنے لگی۔۔
جانے دو اسے تم آئو اندر دروازہ بند کردینا۔
گوارا کا انداز خیر مقدمی تھا اور نارمل بھی۔
ہایون جو بلا ارادہ پرسوچ انداز میں جی ہائے کو لفٹ کی جانب پیر پٹختے جاتے دیکھ رہا تھا چونک اٹھا
پھر لڑائی ہوگئ تم دونوں کی؟ اب کتنے دن بول چال بند رہے گی۔۔
شکرو۔ (چھوڑو ) تمہیں ان تفصیلات کو جاننے کی ضرورت نہیں۔ آئو کھانا کھائو گے؟۔۔ اسکا رخ کچن کی جانب تھا جب اریزہ کی زور دار آواز آئی دونوں ٹیرس کی جانب بھاگے اریزہ بے چاری سی شکل بنائے بمشکل ہوپ کو سنبھالے کھڑی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند ثانیئے قبل۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی ہائے گوارا کو جانے کیا چلا چلا کر بتارہی تھی باہر تک آواز آرہی تھی۔۔ وہ چند لمحے سوچ میں پڑی پھراندر جانے کا ارادہ ترک کرکے باہر ٹیرس میں چلی آئی۔
یہ کتیا۔۔ مجھے کہتی ہے میں انکے ٹکڑوں پر پل رہی ہوں
مجھے کسی کی مدد نہیں چاہیئے۔ میں کچھ بھی کر سکتی ہوں خود ۔۔ اور مجھ پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں سمجھ آئی میں اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں۔۔
لڑکھڑاتے لہجے میں بڑ بڑاتی ہوپ کہہ کیا رہی تھی یہ تو اریزہ کو سمجھ نہ آیا تاہم اسکے بعد ہچکیاں لے کر رونے لگی تو ترس آگیا۔۔ اندر جانے کا ارادہ ترک کرتی وہ اسکے پاس آکھڑی ہوئی۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
اسکا انداز دوستانہ تھا
دیکھ رہی ہوں اتنی بجلی یہاں جلا کر ضائع کرتے وہاں میرے گائوں میں پورے دن میں پانچ گھنٹے بجلی آتی۔۔ ان سے کہو بند کریں ہم رات بھر بنا بجلی رہتے ہیں ۔۔ بند کرو بتیاں سول۔۔
ہوپ اسکے پاس آکھڑے ہونے پر اپنی طرف سے چلائی تھی مگر آواز اتنی نکل نہ سکی ۔۔
اریزہ کو اسکی ہنگل پلے نہ پڑی مگر انداز سے یہ لگا اسے اسکا پاس آنا ناگوار گزراہے۔۔ شراب کی ناقابل برداشت بو اسے ابکائی لینے پر مجبور کر گئ۔۔
ہوپ نے اسکو خود سے دور ہٹتے دیکھا تو ہاتھ میں پکڑی بوتل اٹھا کر اس پر اچھال دی۔۔ وہ بروقت پیچھے ہٹی بوتل اسکے دونوں پیروں کے درمیان ٹوٹ کر چور ہوئی ایک کانچ کا ٹکرا اسکی ایڑھی کے پاس کھب سا گیا۔۔
سی۔۔ وہ تڑپ کر وہیں اکڑوں بیٹھئ شکر ہے ٹکڑا چھوٹا سا تھا اس نے چٹکی سے نکال کر اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔۔
پاگل ہو تم کیا ؟ ایک دنیا کو غم لاحق ہیں یوں دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچاتا پھرتا کوئی۔ اور شراب سے تکلیف کم ہوئی ہے یا مزید دماغ خراب ہوا ہے تمہارا دل تو کر رہا مکا مار کر یہ پھینی ناک اور پچکا دوں تمہاری۔۔
اسکی انگریزی کہیں پیچھے رہ گئ تھی اردو میں اسے سنایا ہوپ بھی اسکے پاس اکڑوں بیٹھ گئ چندی آنکھیں بڑی بڑی کر کرکے معصومیت سے پوچھا
ویو؟ کیا ہوا؟بوتل ٹوٹ گئ؟
ٹھہرو میں اور لاتی ہوں اتنئ سارئ لائی ہوں تم بھئ پی لینا۔۔
لڑ کھڑاتی ریلنگ کا سہارا لیکر وہ اٹھنے لگی تو ہاتھ کانچ پر ہی رکھ کر وزن دے کر اٹھ گئ۔۔ اس سے ذیادہ زور سے چیخ اریزہ کے منہ سے نکلی تھی۔۔
نہیں۔۔۔ اس نے اٹھ کر سے تھاما ۔۔۔
پھی ۔۔پھیہہ۔ ہوپ اپنا کانچ کھبا ہاتھ دیکھ کر بڑ بڑائی۔۔ پھر لڑکھڑاتی آواز میں بولی۔۔
کین چھنا۔۔ (کوئئ بات نہیں)
کین چھنا کی بچی۔۔ اریزہ نے دانت کچکچائے
اسکا ہاتھ پکڑ کر کھبا ہوا کانچ کا ٹکڑا نکالا۔۔ خون فوارے کی طرح نکلا تھا ۔۔ اریزہ کو یہ ٹکڑا اپنے ہاتھ میں کھبا محسوس ہوا تھا۔۔ ہوپ نشے میں تھی پھر بھی تڑپ سی گئ ۔ پھیہہ آہمونی پھیہ۔۔
کہتی وہ لہرا کر اریزہ کے بازو میں جھول گئ۔۔
گوارا۔۔ اریزہ حلق کے بل چلائی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زخم بہت گہرا نہیں تھا۔۔ ہایون اسے احتیاط سے اٹھا کر کمرے میں لے آیا تھا بستر پر لٹا کر زخم کی پٹی بھی اسی نے کی تھئ۔۔ ہوپ بالکل بے سدھ تھی۔ ہایون ڈریسنگ کرکے ہاتھ دھونے باتھ روم گھسا تو اریزہ ہوپ کو کمبل اڑھاتی بتی بجھاتئ باہر نکل آئی۔۔ گوارا باورچی خانے میں چاول دم دے رہی تھی اریزہ نے دوپہر کو چنے کی دال بنائی تھی اس وقت ان چاولوں کے ساتھ اسے ہی کھانے کا ارادہ تھا تو گوارا پورک اسٹیک کے ساتھ چکن نوڈل سوپ اڑانا چاہتی تھی۔۔فضا میں گوشت بھننے کی بو پھیلی تھی۔
کونسا گوشت ہے یہ۔۔ اس نے تندہی سے گوارا کو گرل کرتے دیکھ کر یونہی پوچھا تھا
خنزیر۔ گوارا نے سرسری سا کہا پھر خیال آیا تو مڑ کر اریزہ کے تاثرات غور سے دیکھنے لگی۔۔
خنزیر کا نام سن کر بلا اردہ اس نے جھر جھری سی لی تھی۔۔
ہیون ہاتھ پونچھتا آیا تو گوارا میز ترتیب دینے لگی۔۔ اریزہ نے اپنی دال چاول کی پلیٹ بنائی پھر اٹھ کر لائونج کے صوفے پر جا بیٹھی۔۔
کیا ہوا ؟ ہیون نے کہا تو اس سے فوری بہانہ نہ بن سکا۔۔ گڑ بڑا سی گئ۔۔
وہ۔۔ اس نے سوچا پھر ٹی وی آن کر لیا۔۔
وہ سوچا ٹی وی دیکھتے ہوئے کھائوں۔۔ تم لوگ کھائو۔۔
وہ لوگ جو بھی کھا رہے ہوں اس سے مطلب تو نہیں تھا مگر فضا میں رچی گوشت کی بو اوپر سے ایک ایسا حرام جانور جس کے بارے میں بچپن سے صرف برا ہی سنا اسے کھاتے دیکھ کر اریزہ کو لگا تھا الٹی نہ بھی آئی تو بھی اسکے تا ثرات بگڑ جائیں گے۔۔ لہذا دوری بھلی۔۔
ہیون کا رخ اریزہ کی جانب ہی تھا بڑی فرصت سے اسے دیکھنے لگااریزہ ٹی وی میں منہمک تھی گوارا گہری سانس لیکر بولی۔۔
آج جی ہائے آئی تھی اسے آج پتہ چلا کہ اریزہ مسلمان ہے۔۔ بہت بگڑی مجھ سے بھی لڑی کہ اریزہ مجھے بھی مزہب بدلوا دے گی اسکے پاپا کی طرح مزہبی جنونی پن دکھا کر اور۔۔۔
اچھا۔۔ ہیون کا انداز لاپروا سا تھا
وہ بڑی رغبت سے اسٹیک کھا رہا تھآ
تو؟؟؟ ۔ اسے تو میں نے جھٹلا دیا مگر کچھ کچھ اسکی باتوں میں سچائی ضرور تھی۔۔ اریزہ کافی کٹر ہے اپنے مزہب میں اب ہم پورک کھا رہے ہیں تو وہ دیکھو دور جا بیٹھی ہے کبھئ بھی ڈرنکس میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتی ابھی اس کے اوپر الکوہل گر گئ تو کپڑے بدل کر پائوں دھو کر بیٹھی ہے۔۔۔۔

گوارا جانے کیا سمجھانا چاہ رہی تھی ہایون نے سکون سے سنتے ہوئے چاپ اسٹکس ایک جانب رکھ دیں۔۔
اسکے مزہب میں تو منع ہے پورک مگر میں صرف پسند نہ ہونے پر بہت سی سبزیاں کھاتا ہی نہیں ہوں۔ خاص کر بروکولی پکی ہو تو مجھ سے اسکی بو برداشت نہیں ہوتی ایسے ہی میز سے اٹھ جاتا ہوں۔ شراب مجھے پسند ہے مگر ایسا بھئ ہوا ہے کہ ایک بار چالیس سال پرانی قیمتی شراب پیتے ہوئے میرے کپڑوں پر گر گئ مجھ سے وہ بو اتنی ناقابل برداشت ہوگئ کہ مدہوش ہونے کے باوجود میں شاور کے نیچے جا کھڑا ہوا تھا تب یون بن نے ہی میری مدد کی تھی۔۔ وہی تمہارا بوائے فرینڈ نام تو سنا ہوگا۔۔
آخر میں وہ شرارت سے کہہ کر مسکرایا۔۔ گوارا بے ساختہ ہنس پڑی۔۔
تمہیں پتہ ہے مجھے تم چٹکیوں میں ہر بات اڑا کر ہنستے اچھے لگتے ہو۔ مگر ہر بات اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ خیر سچی بات ہے تمہیں اریزہ سوٹ کرتی ہے میری دعا ہے کہ تم دونوں جلد از جلد محبوب جوڑا بن جائو ۔۔ آمین۔۔
چاپ اسٹکس رکھ کر دونوں ہتھیلیاں آپس میں جوڑ کر بدھا سے مانگنے کے مخصوص انداز میں گوارا نے خلوص دل سے دعا دی تھی۔۔ ہیون محظوظ سے انداز میں ہنستا چلا گیا۔۔
پھابو۔۔ بالکل سادھو سنت لگی ہو کہتے ہوئے۔ یہی کام شروع کردو بہت پیسہ ہے سنا ہے پجارنوں کو لوگ بہت چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔۔
وہ مزاق اڑا رہا تھا مگر گوارا کو اس پر غصہ ہی نہ آیا الٹا
خود بھی اسکے کھل کر ہنسنے پر ساتھ دینے لگی۔ ٹی وی دیکھتی اریزہ نے چونک کر دونوں کو ہنستے دیکھا۔۔
لگتا ہے میں سارے ہی کپلز کو ٹوٹتے دیکھ لوں گی کوریا میں اب یہ دونوں ساتھ۔۔ سوچتے سوچتے وہ غیر ارادی طور پر ہیون کو دیکھنے لگی ۔۔۔ وہ بہت ہنستا تھا مگر اس وقت دل سے ہنس رہا تھا یہ اسے اتنے دنوں میں پہلی بار شائد لگا تھا۔۔ ۔ ہیون کی ہنستے ہنستے نظر پڑی تھی اسکی نظریں محسوس کرکے اسے ہاتھ ہلانے لگا گوارا بھی پلٹ کر اسے دیکھنے لگی تھی اور تب ہی اریزہ کا مسکراتا چہرہ پھیکا پڑتا گیا۔۔ بدقت رخ بدلتے وہ اس ایک نگاہ پر بعد میں بہت پچھتائی تھی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں حسب معمول خاموشی کا راج تھا۔ وہ گہری سانس بھرتا سیدھا کمرے میں آیا تھا۔۔ کوٹ اتارے بغیر بیڈ پر دھپ سے گرا۔۔۔۔جانے کونسی سوچ چہرے پر مسکراہٹ بن کے بکھری تھی جس نے اطمینان بھر دیا تھا اسکے اندر۔۔ وہیں ویسے ہی آڑا ترچھا پڑے جانے کب وہ گہری نیند میں ڈوب چلا تھا۔۔ پرس کندھے پر لٹکائے تھکے تھکے قدموں سے گنگ شن کی اپنے کمرے میں جاتے ہوئے اسکے کمرے کےنیم وا دروازے پر پڑی تھی۔ موسم بدل چلا تھا بوئلر چالو نہیں ہو ئے تھے پھر بھی خنکی کا راستہ کھول کر سونا بیماری کو دعوت دینا ہی تھا قریب آکر اندر جھانک تو بیڈ پر ترچھا پڑا نظرآیا۔۔
یہ لڑکا آہش۔۔ وہ سر جھٹکتی اسے سیدھا کرنے کے ارادے سے اندر آئیں مگر جب اسکے چہرے پر نگاہ پڑی تو گہری نیند میں بھی اسکی پرسکون مسکان انکے اپنے چہرے پر بھی مسکراہٹ دوڑا گئ۔۔ احتیاط سے کہ اسکی نیند نہ کھل جائے اسے کمبل اڑھاتی وہ دروازہ بند کرتی باہر نکل آئیں۔۔
تم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے شمالی کوریائی محاجروں کا؟ جانتی بھی ہو تم نہ صرف اپنی زندگی بلکہ میری کاروباری ساکھ سے بھی کھیل رہی ہو ۔۔
پشت پر سے آہبوجی کی دھاڑ پر وہ لمحہ بھر کو ٹھٹکی تھیں۔۔ پھر مڑ کر بڑے اطمینان سے جواب دیا تھا۔۔
میری زندگی کی آپکو فکر تو ہے نہیں ہاں یقین یہ دلا سکتی ہوں کہ آپکی ساکھ کو اپنی زندگی سے ذیادہ اہم سمجھتے ہوئے کوشش یہی کرتی ہوں کہ مر کر بھی اسے نقصان نہ پہنچنے دوں۔۔
تم بھول رہی ہو کہ میں تمہارا باپ ہوں۔۔
آہبوجی کےماتھے پر تفکر کی لکییر ابھری تھی لہجہ دھیما بھی پڑا تھا۔۔
میری بدقسمتی۔۔ وہ بڑبڑائیں
جانے تم دونوں بہن بھائی کس مٹی کے بنے ہو یہ عیش آرام سب اسی کاروبار کی بدولت ہے جس کو ملیا میٹ کرنے پر تلےہو تم دونوں۔۔ سوچا ہے کبھی کہ
آہبوجی۔۔ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر روکا
آئیندہ کبھی آپکا نام استعمال نہیں کروں گی۔۔ مجھے بارڈر پر اریسٹ کیا جا رہا تھا جبھی مجھے آپکا نام اور ساکھ کو استعمال کرنا پڑا ۔۔ اگر میں محاجرین میں سے ایک سمجھی جاتی تو مجھے جنوبی نہیں شمالی کوریا بھیج دیا جاتا ۔۔ مجھے اپنی زندگی کا ڈر نہیں تھا مگر جن کو بچانے کیلئے اتنے پاپڑ بیلے انکو واپس اسی جہنم میں نہیں پھینک سکتی تھی
۔ مگر آپ سے وعدہ ہے آئیندہ آپ سے کوئی مدد نہیں مانگوں گی۔۔
مجھے تمہاری یقین دہانیاں نہیں چاہیئیں۔۔ آہبوجی چڑ گئے تھے۔۔
ہیون کے کمرے کے باہر کھڑے ہوکر اس گفتگو کو جاری رکھنے کا مطلب اسکی نیند خراب کرنا ہی تھا جبھی وہ بات ختم کرکے چلی جانا چاہتی تھیں۔۔
اگر تم یہ سب اسلیئے کر رہی ہو کہ میں اس شمالی کوریائی لڑکے سے تمہاری شادی کردوں تو ۔۔۔
وہ جانے کیا کہنے لگے تھے گنگشن کو زور سے ہنسی آگئ
اوفوہ ۔۔ وہ بات ختم ہوگی تھی اب میں اپنے لیئے نہیں جیتی فالتو وہم نہ پالیں۔ ایسا کچھ نہیں۔۔ سو جائیں رات ہو گئ ہے۔۔
ہا ہا ہا۔۔ وہ ہنسی روکتی اپنے کمرے کی جانب بڑبڑاتی بڑھ گئی۔۔
شادی ہائش۔۔ اچھا مزاق کرتے ہیں۔۔
آہبوجی کا جملہ انکے منہ میں ہی رہ گیا۔۔
میں کروا دیتا ہوں پر۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا کہ جا کر اپنی انا بالائے طاق رکھ کر ایڈون کو کہے کہ میرے رہنے کا انتظام کردو۔۔
بس دو دن ۔۔۔
پلیٹ میں چمچ سےچاول ادھر ادھر کرتی وہ کھانا بھول چکی تھی۔۔
کم سن اپنی ٹرے بنا کر بیٹھنے کی مناسب جگہ ڈھونڈ رہا تھا جب اسکی نگاہ اکیلی بیٹھی سنتھیا پر پڑی۔ اس نے لمحہ بھر کو سوچا پھر وہیں چلا آیا کرسی گھسیٹ کر اسکے سامنے ٹرے رکھ کر بیٹھ گیا تب بھی اس نے سر نہ اٹھایا۔۔
سنتھیا کی دھڑکن لمحہ بھر کو تھمی۔۔ پھر سر اٹھائے بغیر بولی۔۔
مجھے ہاسٹل چھوڑنا پڑے گا جب تک دوبارہ ہمارا سیشن نہیں شروع ہوتا اب میرے لیئے اگلے چھے مہینے کیلئے رہائش کا انتظام کرو۔۔
دے؟ ۔۔۔ کم سن کو کچھ پلے نہ پڑاتو حیرانی سے بول اٹھا
فرائڈ رائس کا چمچ بھر کر منہ میں رکھتے ہوئے اس نے سر اٹھایا تو ٹھیک ٹھاک حیرت کا جھٹکا لگا۔۔ منہ میں رکھا نوالہ چبانا بھول گئ۔۔
وہ یہی سمجھی تھی کہ ایڈون ہے۔۔
تم کیا کہہ رہیں تھیں؟۔ کم سن دوستانہ انداز میں پوچھ رہا تھا
کچھ نہیں۔۔ وہ سنبھل کر بولی تبھی حلق میں پھندا سا لگ گیا۔۔ بری طرح کھانستے اسکی سانس بند ہونے لگی۔۔
کم سن نے جلدی سے پانی کا گلاس بھر کر اسکی جانب بڑھایا۔ بے تحاشہ کھانستے اسکی حالت غیر ہونے لگی تھی شائد بوٹی کا کوئی ٹکڑا سالم حلق میں پھنس گیا تھا۔۔ اسکا چہرہ سرخ ہو چلا تھا بمشکل پانی پیا کچھ کھانسی تھمی۔۔ کم سن اپنا کھانا چھوڑ کر اسکی جانب جی جان سے متوجہ تھا۔۔
کین چھنا؟ ۔۔ آئی مین آر یو آل رائٹ نائو۔۔
سنتھیا نے بمشکل سر ہلایا۔۔ آنکھوں سے سیل رواں جاری تھا۔۔
ایکسکیوز می۔۔ وہ کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی
کھانا تو کھالو۔۔ کم سن کے کہنے پر وہ بس نفی میں سر ہلا کر جانے لگی
بات سنو ۔۔ تم ابھی کیا کہہ رہی تھیں؟ ہاسٹل ، سیشن۔۔ تمہیں رہائش کا مسلئہ ہے نا؟
کم سن کو باقی بات تو سمجھ نہ آئی مگر اس دن ہاسٹل کی بات چونکہ اسکے سامنے ہوئی تھی سو وہ ٹھیک اندازہ لگا بیٹھا۔۔
سنتھیا نے لمحہ بھر سوچا۔۔
پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریا کنارہ شام کا منظر ہلکی سرد ہوا۔۔ سکوت و سکون۔ اور وہ کھڑی نئے سال کی آتش بازی دیکھ رہی تھی ۔ رنگ پٹاخوں کی آوازوں کے ساتھ آسمان پر بکھر رہے تھے۔ وہ مسحور سی ہو کر دیکھ رہی تھی جبھی کوئی اسکے برابر آکھڑا ہوا۔۔ اس نے من پسند انسان کی موجودگی محسوس کرتے ہی مسکرا کر دیکھا جوابا وہ بھی مسکرا دیا تھا۔۔
اسکی مسکراہٹ سمٹ سی گئ
پٹ آنکھیں کھلی تھیں اسکی۔۔ کمبل اپنے اوپر سے ہٹاتی وہ ایکدم اٹھ بیٹھی ۔ اسکے برابر ہی ہوپ بے خبر سوئی تھی تو ڈبل بیڈ کےدوسرے کنارے گوارا ترچھی پڑی سو رہی تھی۔۔
کیا بکواس خواب دیکھا ۔۔ وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ۔۔ سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا صبح کے پانچ ہو رہے تھے۔۔ گلاس ونڈو پر پردے پڑے تھے پھر بھی اندازہ ہو رہا تھا باہر روشنی کے آثار نہیں۔۔
اس نے دوبارہ کمبل تان کر سونا چاہا۔۔پھر شیطان پر لعنت بھیجتی اٹھ بیٹھی۔۔ ہمت کرکے اٹھی وضو کیا نماز پڑھ کر دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے۔۔ بس میرے حق میں جو بہتر ہو وہ ہو۔۔
دعائئں قبول ہو جائیں تو نئی خواہشیں پیدا ہونے تک لوگ ایسے ہی بے نیازی سے دعا میں خیر مانگتے پھر اگر فیصلے آسمان سے ہی آئیں تو دعائیں بدل کر ضد باندھ لیتے ہیں۔۔ فی الحال تو اریزہ کا دل غنی تھا سو خود کو مومن سمجھتی نماز لپیٹ کر رکھتی وہ باہر نکل آئی۔۔ سورج نکلنے تک اب اس نے سونے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔۔۔ باہر ٹیرس میں آکر ٹہلنے لگی۔ اپنے گھر میں تو ٹیرس پر جانے کون کون سی ہوائی مخلوق کا اندیشہ رہتا تھا کوریا میں آکر جیسے ہر خوف پیچھے رہ گیا تھا۔۔۔
چڑھتے سورج کو دیکھتے ہوئے اسکے اندر عجیب سی سرشاری بھرتی جا رہی تھی۔۔۔
اس سے کچھ بلاک دور کوئی اپنے کمرے سے ملحق ٹیرس پر کھڑا اسی منظر کو دیکھتے مسکرا رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چکراتے سر کے ساتھ وہ باورچی خانے میں کھڑی سوپ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ سبزیاں ڈالتے بیف ڈالتے ہوئے وہ کئی بار انہیں لگا تھا کہ سوپ سمیت زمین بوس ہوگی مگر بچت رہی۔ گوارا اور اریزہ کہنیاں میز پر جمائے ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ ٹکائے اسے بڑے اطمینان سے دیکھ رہی تھیں۔
مجھے لگتا ہے آج بنا ناشتے کے جانا ہی میرے لیئے بہتر رہے گا۔۔ گوارا اکتا کر بولی پھر اریزہ کے کندھے پر چپیڑ مار دی
آہ۔۔ اریزہ نے تڑپ کر بازو سہلاتے گھورا۔۔
وے۔۔؟؟؟؟(کیا؟)
تم نے مجھے ناشتے کی بری عادت ڈال دی ہے ورنہ اچھی بھلی یونیورسٹی تک ہمیشہ بنا ناشتے کے گئ ہوں۔۔
وہ دانت کچکچا رہی تھی۔۔
یہ لو۔۔ لہراتئ ہوپ نے سوپ کا بھرا پیالہ انکے سامنے لا رکھا۔۔
کھائو۔ آج ناشتہ میری طرف سے۔۔ وہ مسکرا کر کہتی کرسی پر گری ۔۔
تم مدہوش ہی رہا کرو اخلاقیات بہتر ہو جاتی ہیں تمہاری۔۔
گوارا کہنے سے باز نہ آئی۔۔ اسکے بنائے سوپ کا بھر کے چمچ چٹخارہ بھی لیا۔۔
میں مدہوش نہیں ہوں۔۔ ہوپ چڑی۔۔ کانپتے ہاتھوں سے چمچ منہ تک جاتے جاتے میز پر آبشار گرا چکا تھا۔۔
اریزہ اپنا ناشتہ بنانے کے ارادے اٹھی تو ہوپ نے اسکو بازو سے تھام لیا۔۔
تم کھائو نا میں نے تمہارے لیئے بھی بنایا ہے۔۔
میں ناشتے میں انڈہ کھائوں گی۔۔ وہ نرمی سے کہتی ہاتھ چھڑاتی ناشتہ بنانے کی نیت سے کائونٹر کی جانب بڑھ گئ۔۔
یہ کبھی میرے ہاتھ کا نہیں کھاتی۔۔ شمالی کوریا والے کم ذات ہیں کیا اسکی نظر میں۔۔
ہوپ ہونٹ لٹکا کر شکایتی انداز میں گوارا سے بولی۔۔
ہاں بلکہ یہ تو انہیں دہشت گرد بھی سمجھتی ہے۔۔ گوارا نے مزید تیلی لگاتے کہا۔۔
اچھا؟ ہوپ کی آنکھیں پھیلیں۔۔ پھر پلٹ کر چلائی
تم مجھے دہشت گرد سمجھتئ ہو؟ تم خود ہوگئ دہشت گرد کیہ سکی۔۔۔(پاگل کتیا)۔۔
اریزہ کو نہ اسکا چلانا سمجھ آیا نہ جملہ ہاں کیہہ سکی سمجھ آیا۔۔ غصے میں بھر کر اسکی جانب بڑھی
تم خود ہوگی کیہہ سکی۔۔ پاگل جاہل کمینی عورت ۔ جتنا خیال کرو تمہارا اتنا دماغ الٹ رہا ہے باہر سردی میں مرنے پڑنے چھوڑ دینا چاہیئے تھا یا اس گیلری سے ہی ٹن حالت میں گر مر جاتیں ٹھیک رہتا۔۔
اریزہ دانت کچکچا کر بولی تو۔۔ گوارا اور ہوپ دونوں چپکی رہ گئیں۔۔
اس نےکیا کہا بتائو مجھے۔۔ ہوپ ہوش میں آکر گوارا کا بازو ہلا رہی تھی۔۔
اس سے کیا پوچھ رہی ہو مجھ سے پوچھو۔۔ لعنت بھیج رہی ہوں تم پر۔۔ اس نے باقاعدہ ہاتھ کی پانچوں انگلیاں کھول کر دکھایا اسے اریزہ نے ساری تقریر اردو میں ہی جھاڑی تھی تو ہوپ ہنگل میں گٹ پٹ کر رہی تھی دونوں کو ککھ ایک دوسرے کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔
اب یہ کیا ہے۔۔ یہ لڑ رہی ہے مجھ سے یا ہاتھ ہلا رہی ہے کوئی کل سیدھی ہے اسکی میں اسکی پھین ( فین) ہوں کیا جو مجھےگریٹ کر رہی ہے۔۔ ہوپ کو غصہ آرہا تھا
گوارا کو اریزہ پر پیار ہی آگیا ۔۔ لڑنا بھی نہیں آتا اسے آگے بڑھ کر اسے پیار سے ساتھ لگا لیا۔۔ اریزہ کی آنکھیں ابلنے کو تھیں۔۔
بیانئئے۔ ان دونوں کو چمٹتا دیکھ کر ہوپ کو بھی شرمندگی ہوئی آگے بڑھ کر وہ بھی ساتھ لگ گئ۔۔
عجیب ہے لڑ رہی تھی یا پیار جتا رہی تھی۔ کیہہ سکی ہی کہا تھا اس نے یا میں نے غلط سن کر اتنا کچھ سنا ڈالا۔۔
اریزہ بھی نرم پڑگئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگست شروع ہوتے ہی ہوا کی خنکی بڑھنا شروع ہوگئ تھی۔۔
وہ اور گوارا شاپنگ کرنے نکلی تھیں۔ گوارا اسے جن مالز میں لیکر پھر رہی تھی وہ بس اسے دیکھ کر رہ گئ۔ کئی کئی ہزار وون کے جوڑے وہ بھی آدھے ادھورے۔۔ گوارا نے لانگ کوٹ لیا اسے بھی پسند آیا۔۔ کالے رنگ کا تھا ہر لباس کے ساتھ چل جاتا مگر جب قیمت دیکھی تو ایکدم بکواس سا لگنے لگا۔۔ گوارا نے ایک لحظہ اسے دیکھا پھر برا سا منہ بنا کر سیلز گرل سے کہنے لگی
کوئی نیا ڈیزائن تو لائے نہیں کھول کر بیٹھے ہیں بوتیک حد ہوتی ہے اب میری سہیلی سخت بیزار ہورہی ہے اور میں شرمندہ یہ سب پٹے ہوئے ڈیزائن ہیں پچھلے سال ہی امریکہ میں آچکے اف۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں اریزہ۔۔
ریل گاڑی کی رفتار کو مات دیتی گوارا کی زبان اریزہ منہ کھولے ہی بس دیکھ کر رہ گئ۔۔ سیلز گرل بیانئے بیانئے کہتی دو مرتبہ گوارا اور دو ہی مرتبہ اریزہ کے سامنے جھکی تو گوارا شان بے نیازی سے اسے نظر انداز کرتی اریزہ کا ہاتھ تھامتی دکان سے باہر نکل آئی۔۔
آئو یہاں سب بکواس مال ہے میں تمہیں کسی اچھی جگہ لیکر جاتی ہوں۔۔
اریزہ کچھ سمجھتے نہ سمجھتے چل پڑی ۔۔
گنگم آسٹریٹ کے مشہور زمانہ کچھ کچھ پنڈی کے راجہ بازار سے مشابہہ بازار میں گوارا نے اسے لا کھڑا کیا تو وہ اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھے بغیر نہ رہ سکی۔۔
یہ اچھی جگہ ہے؟ اس نے اردو میں ہی کہا تھا
کھاجو۔۔ ( چلو) گوارا کی شان بے نیازی عروج پر تھی۔۔
رائس ڈرنک ، پھلوں سبزیوں کے ٹھیلوں سے بچتے بچاتے سڑک چھاپ کھانے پینے کی ریڑھیوں سے تنے بازار میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی مگرگوارا تیز قدموں سے جگہ بناتی اسے ایک تنگ گلیوں والے بازار لے آئی جہاں گرم کپڑوں کی دکانوں کو دیکھ کر اسے بالکل یہ خیال جاتا رہا کہ کوریا میں کھڑی ہے۔ دکانداروں کی شکل نہ دیکھو تو بالکل موتی بازار کا نقشہ تھا۔۔ اور قیمتوں میں ان بڑے مالز سے بالکل آدھے کا فرق۔۔ گوارا کو وہی پرانے پٹے ہوئے ڈیزائن کا لانگ کوٹ اسکن کلر میں مل گیا تھا ۔۔ اور ویسا ہی ڈارک برائون میں بڑے شوق سے اریزہ نے لیا۔۔ اتنے مہینوں سے بچت کر کرکے اور گھر سے سردیوں کی شاپنگ کی مد میں آتے ہی وقت جتنے پیسے لائی تھی سب اڑا دئیے۔۔
یہ ضرور لو اریزہ پچھلے سال کا ڈیزائن ہے میں نے لیا تھا مگر سچ پوچھو سب سے بہترین رہا یہ۔ گوارا نے گھٹنوں تک کا موٹا فوم بھرا جیکٹ جسے دیکھتے لگتا کہ کمبل لپیٹ کر پھر رہے ہوں۔ اس نے فی الحال تو کوریا میں کسی کو پہنے نا دیکھا تھا ۔۔ سو سہولت سے منع کر دیا۔۔
بالکل اچھا نہیں لگ رہا یہ مجھے۔ اتنا موٹا پہن کر گائو تکیہ لگوں گی میں۔۔
گائو تکیہ؟ گوارا سمجھی نہیں۔۔
تکیہ گول موٹا۔۔ اریزہ نے سمجھانا چاہا۔۔
اسکی نا پسندیدگی دیکھ کر اس نے واپس رکھ دیا۔۔
شام ہو رہی تھی۔ سیول کی رونقیں بڑھنا شروع ہو گئ تھیں۔۔
تنگ گلی میں یکدم روشن ہوتے برقی قمقمقے اسے دلکش لگے تو فورا اس نے تصویر کھینچ کر دستی بلاگ پر چڑھا دی۔۔
اس عنوان کے ساتھ۔
سیول میں شام طمطراق سے جلوہ افروز ہوتے ہوئے۔۔۔
کیا کر رہی ہو؟ گوارا نے شاپنگ بیگز سنبھالتے ہوئے پوچھا
بلاگ ہے میرا اس پر تصویر لگا رہی ہوں۔۔
اریزہ نے سرسری سے انداز میں کہا۔۔
دھیان سے لگانا کسی انجان چہرے کی تصویر نہ آنے پائے۔۔ کوریا میں سخت قوانین ہیں کسی کی بلا اجازت تصویر لگا دی نا تو جرمانہ اور قید بھی ہو سکتی ہے۔ انڈو پاک کے برعکس کورینز بالکل کیمرے میں آنا پسند نہیں کرتے۔۔ بلکہ سخت ناراضگی کا اظہار بھی کر سکتے اب اس آہجومہ کو دیکھو گھور رہی ہے تمہیں یہ سمجھ کر کہ تم نے اسکی تصویر تو نہیں لے لی۔ گوارا کے کہنے پر اس نے نظر کی تو واقعی سامنے ایک پانچ چھے سالہ بچے کا ہاتھ تھامے ایک خاتون کو درشت نظروں سے گھورتا پایا۔۔
ان دونوں کو اپنی جانب دیکھتا پاکر وہ انکی جانب بڑھ آئی
آننیانگ ہاسے او۔۔ دونوں نے گڑبڑا کر اکٹھے سلام۔کیا
آننیانگ آہجومہ۔۔ مجھے یہ شک گزرا کہ آپکی کھینچی گئ تصویر میں کہیں میں اپنے بچے کے ساتھ تو نہیں آگئ۔اگر ایسا ہے تو کیا آپ اپنے موبائل سے میری تصویر ضائع کرنا پسند کریں گی؟
انتہائی سخت لہجے میں وہ آہجومہ مخاطب تھی۔۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا کمنٹ۔۔
راجہ بازار کی تصویر لگا کر سیول کہہ رہی ہو پاگل سمجھا ہمیں کیا؟
دوسرا کمنٹ
ایک تو چینی بہت آگئے ہیں پاکستان میں کل کو ہم ہی غیر ملکی لگا کریں گے پاکستان میں
تیسرا کمنٹ
سیول کیا ہے کوئی نیا برانڈ ہے کیا؟
چوتھا کمنٹ
کل میں نے بھی استنبول کی تصویر پوسٹ کی تھی۔۔ ہیش ٹیگ
نائٹ لائف کے ساتھ ۔۔
پانچواں کمنٹ
اوئے ایڈمن یہ چندی آنکھوں والا کون ہے؟
نیوز فیڈ انگوٹھے سے گزارتے ہوئے اس کمنٹ پر چونکی۔۔
تصویر کو زوم کیا تو فٹ پاتھ پر اپنی دھن میں گزرتے اس راہ گیر کی تصویر بے حد واضح تھی۔۔
اپنی طرف سے تو میں نے یہ تصویر دیکھ بھال کر لی تھی کہ کسی کورین کا چہرہ نہ آئے۔
یہ کون آگیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو میں ہوں۔۔
بلاگ دیکھتے وہ بری طرح چونکا تھا۔۔ کل گنگم اسٹریٹ گھومتے ہوئے وہ کسی کے کیمرے میں آگیا تھا۔۔ وہ کسی بھی اور کوئی نہیں یہی ایڈمن جس کو وہ کئی مہینوں سے فالو کر رہا تھا۔۔ یعنی وہ اسکے اتنے قریب ہے۔۔ اسی شہر میں۔۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔
جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko salam Korea ki aaj ki qist ? rate us below

Rating

Salam Korea Episode 21

Salam Korea
by Vaiza Zaidi

قسط 21
گھر پہنچتے پہنچتے وہ ٹھیک ٹھاک بھیگ چکا تھا۔ مگر زرا سا بھی بد مزہ نہ ہوا تھا۔۔
اسکے چہرے پر محسوس کی جا سکنے والی سر شاری تھی۔ کمرے میں آکر وہ کپڑے نکالنے لگا تھا جب اسکی یونہی بیڈ پر نظر پڑی۔۔ ایک بڑا سا شاپنگ بیگ دھرا تھا۔۔
نونا۔ وہ چونکا پھر خو شی سے تقریبا بھاگتا ہوا انی کے کمرے میں آیا۔۔
دروازہ کھلا تھا وہ بیڈ پر بیٹھی لیپ ٹاپ کھولے کسی کام میں مگن تھیں۔۔
نونا۔۔ وہ خوشی سے انکے پاس چلا آیا۔
ہایونا
وہ فورا لیپ ٹاپ ایک طرف رکھ کر اٹھیں۔۔
وہ۔جھجک کر پیچھے ہوا۔
کپڑے گیلے ہیں۔۔
ہاش۔۔ انہوں نے اب دیکھا ۔۔
اتنے بھیگے کیوں ہو؟۔۔ کہاں تھے؟۔ میرے خدا کپڑے بدلو فورا ورنہ بیمار پڑ جائو گے۔۔ وہ جزباتی ہو کر اٹھ کھڑئ ہوئیں۔۔ بلکہ جلدی سے الماری سے اپنا تولیہ نکال کر اسکا سر خشک کرنے لگیں۔۔
آپ فکر نہ کریں میں ٹھیک ہوں۔۔ اس نے تسلی کرانی چاہی مگر وہ یونہی فکرمندی سے اسکے بال رگڑتی رہیں۔۔
حد ہے ابھی تک بارش میں بھیگنے کا چسکا ختم نہیں ہوا۔۔ چلو جلدی سے کپڑے بدل کر آئو میں کافی بناتی ہوں تمہارے لیئے۔۔ وہ کتنے دنوں بعد ایسے ڈانٹ کھا رہا تھا۔۔ اس نے انی کو اپنے بازو کے حلقے میں لےلیا اور پیشانی چوم لی۔۔
بہت یاد کیا آپکو نونا۔
انی کا دل موم سا ہو گیا۔۔
میں نے بھی۔۔ انہوں نے اسکے سینے پر سر رکھ دیا۔۔
پرانی یاد دونوں کے زہنوں میں تازہ ہوئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ۔لان میں اکیلا بال سے کھیل رہا تھا۔۔ اسکی ذاتی ملازمہ کسی کام سے اٹھ کر اندر چلی گئ وہ یونہی مگن کھیلتا رہا ۔۔۔ تبھی موسم نے تیور بدلے تھے۔۔ یکا یک ہی تیز بارش شروع ہو گئ تھی۔
وہ فورا اٹھ کر اندر بھاگا تھا۔۔ مگر داخلی دروازہ سختی سے بند تھا اس نے ہینڈل گھمانا چاہا مگر کھلا نہیں۔۔
آہجومہ۔۔ وہ دروازہ پیٹ پیٹ کر بلا رہا تھا۔۔ جانے کہاں تھی جو سن نہ سکی۔۔ تبھی باہر کار پورچ میں ایک گاڑی آکر رکی تھی ۔۔۔
وہ بھاگ کر ادھر چلا آیا۔۔ ارادہ ڈرائور سے کہنے کا تھا کہ دروازہ کھول دے۔۔ مگر اس سے پہلے وہ کہہ پاتا۔۔ ڈرائور اپنی طرف کا دروازہ کھول کر نیچے اترا اور جلدی سے چھتری کھول کر اسکی سوتیلی ماں کے لیئے سایہ بناتا پچھلا دروازہ۔کھولنے لگا۔۔
اسکی ماں نے دروازہ کھلنے پر ایسی ترچھی نظر اس پر ڈالی وہ سہم کر ایک قدم پیچھے ہو گیا۔۔
وہ اپنی اونچی ہیل سے کھٹ کھٹ کرتی تیزی سے گھر کے اندر جانے لگیں۔۔ وہ بھی پیچھے ہو لیا۔
وہ ایکدم ہی چلتے چلتے رکیں۔۔ وہ جو انکے بالکل پیچھے پیچھے چل رہا تھا اپنی جھونک میں ان سے ٹکرا کر الٹ کر گرپڑا
ہاش ۔۔ وہ بری طرح بھنائیں۔۔
ایک یہ۔۔ یہاں کیا کر رہا۔۔ کتنی بار کہا ہے اسے میری نظروں کے سامنے مت آنے دیا کرو۔۔ اٹھو اور دفع ہو یہاں۔ سے۔۔
پیار سے اٹھا کر بہلانا تو دور نفرت سے اتنی زور سے جھڑکے جانے پر اسکی آنکھیں لبا لب آنسوئوں سے بھر گئیں۔۔ وہ تیزی سے اٹھا اور باہر بھاگتا چلا گیا۔۔
ہائش۔۔ اب یہ کہاں جا رہا جائو اسے پکڑو۔۔
انکے سر میں درد ہو گیا تھا۔۔وہ بیزاری سے حکم دیتی سر پکڑ کر اندر چلی گئیں۔۔
ڈرائور نے اسے تھوڑی ہی دور میں جا لیا تھا۔۔ وہ چھتری پکڑ کر اسکے پیچھے بھاگا تھا تب بھیگ گیا تھا وہ تو اس موسلا دھار بارش میں شرابور ہو چکا تھا۔۔
ڈرائور اسے کندھے سے پکڑ کر لایا تھا اور لائونج میں لا کر چھوڑ دیا تھا۔۔
وہ جہاں جہاں قدم رکھ رہا تھا پانی کے نشان بنتے جا رہے تھے۔۔
وہ سہمتا ہوا اپنے کمرے میں آیا تو گنگشن اسکے بیڈ پر بکھرے کھلونے سمیٹ رہی تھی۔۔
آہٹ پر مڑ کر اسے دیکھا ۔۔
کہاں تھے تم۔۔ اور۔ وہ پریشان ہو کر اسکے پاس چلی آئی۔۔
تم تو بالکل بھیگ گئے ہو ۔ اف۔۔ بارش میں کھیل رہے تھے۔۔ حد ہے ایسے تو بیمار پڑ جائو گے
ہایون جو اس سے ڈانٹ کی توقع کر رہا تھا اسکے جھلانے پر ہی رو پڑا۔۔
ارے
وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلا کر جھٹک رہی تھی۔۔
اسکے رونے پرتڑپ سی گئ۔۔
میں ۔ تو بس۔۔ ڈانٹ تھوڑی رہی تھی۔۔ مت رو۔۔
اس نے اسکے آنسو پونچھے تو وہ اسکے سینے سے لگ کر اور رونے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس بھائی کو بانہوں میں بھر کر بہلاتی تھی آج اتنا بڑا ہو گیا تھا کہ اسکے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔
اس نے بے ساختہ بہہ نکلنے والے آنسو پونچھے۔۔
اور سر اٹھا کر ہایون کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔
اسکے بر عکس ہایون خوشگوار سے موڈ میں تھا۔
خیر ہے آج میرا بھائی خوش ہے۔۔
اس نے پیچھے ہو کر ہلکے سے کندھا مار کر چھیڑا
وہ کہیں اور دیکھتا کہیں اور گم تھا۔۔ اسکے کندھے کے لگنے سے کراہ کر ہوش میں آیا۔۔
میری نونا جو آئی ہیں خوش تو ہونگا۔۔
وہ۔کہاں پکڑائی دینے والا تھا مزے سے بات بدل دی
اچھا جائو کپڑے بدلو فورا۔۔ انہوں نے فورا بڑی بہن والا رعب جمایا تو وہ ہنستا ہوا سر ہلاتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آکر اس نے پہلے اسی شاپنگ بیگ کو کھولا۔۔ بے حد خوبصورت ڈریس شرٹس تھیں ۔۔ اس نے ٹی پنک نکالی اس پر ایک نوٹ چسپاں تھا۔۔
یہ تمہاری پہلی ڈیٹ کیلیئے ہے تاکہ لڑکی تم پر لٹو ہو جائے پہلی نظر میں۔۔
وہ بے ساختہ ہنسا تھا۔۔ پھر ان سب کو احتیاط سے الماری میں رکھ کر ایک ٹی شرٹ نکال کر باتھ روم گھس گیا۔۔
کپڑے تبدیل کر کے جب وہ کچن میں آیا تو نونا بھاپ اڑاتے دو مگ اپنے سامنے میز پر رکھے اسکا انتظار کر رہی تھیں۔۔
واہ۔۔ آہش۔ بہت جچ رہے ہو۔ خیر بھائی کس کے ہو ۔۔ انہوں نے کالر جھاڑے۔۔
اس نے بھی ہنس کر خراج وصول کیا تھا۔۔
میں نے ہر شرٹ پرپرچی لگا دی ہے تمہاری پانچ ڈیٹس کیلیئے ۔۔ ان کو ویسے ہی سلسلہ وار پہننا ۔۔۔ چھٹی ڈیٹ تک لڑکی مکمل فدا ہو چکی ہو گی تم پر۔
انہوں نے اتنے دعوے سے کہا کہ کافی کا گھونٹ بھرتے اچھو ہوگیا۔
کپ رکھ کر اس نے زوردار قہقہہ لگایا تھا۔۔
نونا آپ کیا کیا سوچتی رہتی ہیں۔۔ وہ ہنسے گیا۔۔
صرف تمہارے بارے میں سوچتی ہوں۔۔ وہ پیار سے اس پر نظر جمائے تھیں۔۔
میرے بعد تم تو بالکل اکیلے رہ جائو گے۔ کوئی لڑکی پٹا لو اب جو تمہارا خیال رکھے میرے بعد۔۔
وہ بہت سنجیدگی سے کہہ کر گھونٹ بھرنے لگیں۔۔
ہایون کا منہ تک جاتا کپ وہیں تھم گیا۔۔
وہ آنکھیں کھول کر انہیں دیکھ رہا تھا۔
نونا۔۔ ۔ اس نے پکارا تو وہ چونکیں۔۔ انکے لہجے کی سنجیدگی ہایون کے چہرے پر سنگینی کی صورت سجی تھی۔
آپ پھر کہیں جا رہی ہیں؟۔۔
وے؟۔۔ وہ بات کا اثر زائل۔کرنے کو جان کر تھوڑے تیز انداز سے بولیں۔۔
کیا؟۔ ہمیشہ بہن پر انحصار کرنا تم نے بڑے ہو جائو گرل فرینڈ بنائو زندگی کا لطف اٹھائو۔۔ اور ویسے بھی میں کب تک یہاں ہوں کل کو مرمرا گئ تو کیا کروگے تم۔۔
وہ اپنی طرف سے بات سنبھالتے مزید خراب کر گئیں۔۔
وہ اٹھا اور پاس آکر انکے قدموں میں اکڑوں آبیٹھا۔۔
نونا ۔۔ ایسا مت کہیئے گا دوبارہ۔۔ میرا آپکے سوا ہے ہی کون آپ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتیں۔۔ کہیں نہیں جائیں گی۔۔ میں جانے ہی نہیں دوں گا۔۔
انکا گھٹنا تھامے وہ روہانسا ہو چلا تھا۔۔ بالکل آٹھ سال کے ہایون کی طرح لگا تھا۔۔
پھابو۔۔ پاگل ہوئے ہو۔۔ انکی بھی آنکھ بھر آئی
کہیں نہیں جا رہی میں۔۔ ایسے ہی۔۔ حد ہےمجھے بھی جزباتی کر دیا۔۔۔ آہبوجی نے پکڑ کر جلد شادی کردی میری تو۔۔ میں ویسے چین جانے کی بات کر رہی تھی۔۔ انہوں نے پیار سے اسکا سر تھاما تو وہ انکی گود میں ہی سر رکھ گیا۔۔
نونا میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ آپ اب دوبارہ نہیں جائیں گی ۔
ارے۔۔ وہ اسکے بچکانہ رویئے پر حیران سی ہوئیں۔۔
چین نہ جائوں؟۔۔ میرا آدھا کام تو وہیں کا ہوتا۔۔
چین بے شک جائیں۔ مگر وعدہ کریں۔۔
اس نے اپنی چھوٹی انگلی انکے آگے کی۔
پکا وعدہ کریں۔۔ آئندہ شمالی کوریا جانے کا سوچیں گی بھی نہیں۔۔ وہ انکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
میں۔۔ انکی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔۔۔ یہ بات تو انکی تنظیم کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔۔وہ جھٹلانا چاہتی تھیں مگر ہایون کی آنکھوں میں دیکھ کر جھوٹ نہ بول سکیں۔۔
وہ دھڑلے سے وعدہ بھی نہ کر سکیں۔۔ انکے ہاتھ کانپ سے گئے تھے۔۔ ہایون نے انکے ہاتھ کی لرزش بھانپ کر اپنے مضبوط ہاتھ سے نرمی سے تھاما اور اپنے دوسرے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی بڑھا کر وعدہ بھی لے لیا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ گوارا کے ساتھ یونیورسٹی آئی تھی۔۔ ایڈون وغیرہ بھوک ہڑتال پر جا رہے تھے وہ بھی ساتھ ہولی
وہ پانچوں پلے کارڈ اٹھائے انتظامیہ کے دفتر کے باہر دھوپ میں کھڑے تھے۔۔ آتے جاتے طلبا دیکھ کر معاملہ پوچھتے پھر ہمدردی جتا کر آگے بڑھ جاتے۔۔
صبح سے شام ہو چلی تھی ۔ انتظامیہ نے جھوٹے منہ نہ پوچھا تھا۔۔ اتنی بڑی یونیورسٹی کے اگر پانچ لوگ دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنا رنگ جلا بھی رہے تو کسی کو کیا فرق پڑتا۔۔
گوارا واپسی پر پوچھنے آئی تھی اس سے ساتھ چلنا ہے۔۔ ہایون بھی اسکے ساتھ ہی تھا
نہیں میں انکے ساتھ احتجاج کروں گی۔۔ تم جائو۔
تمہیں کیا لگتا تم پانچوں کے یہاں بھوکے کھڑے رہنے سے انتظامیہ اپنا فیصلہ بدل۔لے گی؟۔
گوارا انکو حقیقت کا آئینہ دکھانا چاہ رہی تھی۔۔
دیکھ لیتے ہیں۔۔ وہ مسکرا دی۔۔ اور کیا کہتی۔۔
تمہیں تو شاپنگ بھی کرنی تھی۔۔ گوارا نے یاد دلایا۔۔
آج نہیں کروں گی ۔۔ اریزہ کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ۔۔
اچھا جے ہائے سے کوئی اپر وغیرہ لے لینا میرے بھی جیکٹ وغیرہ پڑے ہونگے۔۔ گوارا کو یاد آیا۔۔
اریزہ کاٹن کے کرتا پاجامہ میں ملبوس تھی۔۔ دھوپ میں کھڑی تھی اسکی حدت اچھی لگ رہی تھی مگر سرد ہوا ایکدم سے جھر جھری دلا دیتی تھی۔۔ وقفے وقفے سے۔۔
جی ہائے ہے کہاں۔۔ نظر نہیں آئی مجھے۔۔ اریزہ کو خیال آیا۔ تو پوچھ لیا۔۔
ٹرپ پر گئ ہے شام تک آجائے گی۔۔ چلو اچھا میں چلتی ہوں آج تو ہایون ڈراپ کر دے گا۔۔
اس نے شرارت سے ہایون کے بازو میں بازو حمائل کر کے ہلکے سے کندھا مارا تو وہ چونکا۔۔
دے؟۔۔ کیا۔۔ ہاں۔۔ ٹھیک ہے۔۔
وہ گڑبڑا سا گیا تھا۔۔
گوارا کھل کھکھلا کر ہنسی تو وہ اسے گھور کر رہ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنے بے رحم تو ہماری یونی والے بھی نہیں تھے۔۔
کتنے احتجاج کیئے ایک گھنٹے میں ہی انتظامیہ بلا لیتی تھی مزاکرات کیلیئے۔۔ سالک نے مایوسی سے کہا۔۔
تب ہم جون کی شدید گرمی میں دھوپ میں کھڑے تھے۔۔ اور وہ ایک گھنٹہ یہاں ایسے موسم میں کئی دن کھڑے رہنے کے برابر تھا۔
شاہزیب نے ہنس کر مزاق اڑایا تھا۔۔
پھر بھی یار۔۔ مجھے نہیں لگتا ان لوگوں کو کوئی فرق پڑے گا۔ سالک نے کہا تو ان میں سے کسی کی جھٹلانے کی ہمت بھی نہ ہوئی۔۔
نظر آرہا تھا ۔ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے تئیں انکے تمام اخراجات کو اگلے سمسٹر میں ضم کر کے انکے نقصان کا مداوا کر چکی تھی۔۔
یار کہنے کو بس چند مہینے ہیں مگر میرے ماں باپ میری ڈگری کا دن گن گن کر انتظار کر رہے ۔۔ انہیں لگتا میں کوئی ڈگری لے لوں گا تو اچھی نوکری مل جائے گی اپنے باپ کی طرح کلرکی سے ہی ریٹایر ہونے کی بجائے چار پیسے کما لوں گا۔۔
یہ تلخی شاہزیب کے لہجے سے چھلکی تھی۔۔
ایڈون نے گہری سانس بھری اور اپنے ہاتھ میں پکڑا پلے کارڈ ایک طرف رکھتا وہیں کیاری سے ٹک کر بیٹھ گیا۔۔
میں سوچ رہاواپس گیا تو نہ یہاں کا رہوں گا نہ وہاں کا۔۔ یہیں کوئی فل ٹائم نوکری ڈھونڈتا ہوں۔ ڈگری نہ سہی کوریائی وون تو کما سکوں گا۔۔
سالک نے بھی خیال ظاہر کیا۔۔
اتنا کیوں جزباتی ہو رہے ہو تم لوگ۔۔ سنتھیا جو خاموشی سے ایک طرف بیٹھی تھی چڑ کر بولی۔۔
پاکستان میں پڑھ ہی تو رہے تھے ہماری یونیورسٹی تو وہیں کی وہیں ہے تعلیم ہی حاصل کرنی کر لینا جا کر وہاں۔۔ ایویں ضد کرنے سے کیا فائدہ۔۔ الٹا یہاں آکر سیر ہی کرنے کو ملی ہے نقصان کیا ہوا ہے۔۔
یہ اسکا نظریہ جس پر ان چاروں نے تاسف بھری نظروں سے گھورا تھا اسے۔۔
میں تو تھک گئ۔۔ بھوک بھی لگ رہی ہے۔۔ کچھ لائوں تم لوگوں کیلیئے بھی۔۔
وہ بے نیازی سے اٹھی اسکا پوچھنا بھی کسی کا موڈ بہتر نہ کر سکا۔۔ سب نے جواب ہی نہ دیا تو وہ سر جھٹکتی ہاسٹل کی طرف بڑھ گئ۔۔
کیا واقعی ہم یہاں بس سیر کیلیئے آئے تھے؟۔۔ ایڈون نے ہنس کر پوچھا تو وہ سب جوابا مسکرا بھی نہ سکے۔۔
لڑکیوں کو کیا فرق پڑتا۔۔ شاہزیب چڑا۔
انہوں نے تو ڈگری لے کر بس شادی کرنی ہوتی پھر وہ ڈگری جسیسی بھی ہو جہاں کی ہو۔۔ ہم لوگ خوار ہوئے ہیں۔۔ نہ یہاں کے ہو سکے نہ وہاں کے رہے۔۔ چھے مہینے ضایع ہوئے سمجھو۔۔ کیسے یہاں پارٹ ٹائیم نوکری کر کرکے پیسے بچا رہا تھا کہ اگلے سمسٹر تک کا خرچہ نکل آئے مزید ماں باپ پر بوجھ نہ بنوں اکلوتی اولاد تو نہیں دو بہنیں ہیں میری ماں سے ہزار وعدے کرکے آیا تھا یہاں آئوں گا تو ڈگری کے ساتھ یہیں سیٹل ہوجائوں گا۔۔تب جا کر بہن کیلیئے رکھا زیور اٹھا کر دے دیا مجھے۔ اب۔۔
سالک کئ آواز بھرا گئ۔۔
یہاں پڑھائی نہیں ہوگی تو ویزہ بھی ختم ۔۔۔۔ نئے سرے سے۔۔ پھر پتہ نہیں داخلہ ملتا بھی ہے دوبارہ کہ
شایزیب کو خیال آیا۔۔
چھے مہینے تک یہاں رہیں گے کس بل بوتے پر؟۔۔ وہ شاخ ہی نہیں رہی بچوں جس پر آشیانہ تھا۔۔ ایڈون کو صدمے کی انتہا پر ہنسی آرہی تھی۔۔ شائد خود اپنے اوپر ہی۔۔۔
دو تین دن دیکھ لیتے ہیں احتجاج کرکے بھی نہیں تو بوریا بستر سمیٹنا شروع کردو۔ ایڈون کا انداز تلخ سا تھا۔۔
یہاں داخلہ اپنے بل پر لینا اتنا آسان نہیں ہوگا۔۔۔ ایک سوچ مجھے یہ بھی آئی تھی کہ ٹھیک ہے کسی طرح یہاں وقت گزار لیتے ہیں اگکے سیشن کا انتظار کر لیتے ہیں۔۔ مگر۔۔ دوسرے ملکوں سے آنے والے بہت طلبا ہیں یہاں فلپائن جاپان چین تائوان سنگاپور انڈیا۔۔ بہت ٹف مقابلہ ہوگا۔۔ شاہزیب مایوسی سے بولا۔۔
اپنے بل پر داخلے کا خرچہ بھی اٹھانا آسان نہیں یہاں تو یونئورسٹئ کی اسکالر شپ پر آئے تھے جب وہ ہی نہیں تو۔۔ ایڈون تھکے تھکے انداز میں بولا۔۔
ٹھنڈ ہونے لگی ہے اور اندھیرا بھی ہو رہا ہے اریزہ تم بھی جائو اب ہاسٹل میں آرام کرو۔۔ ہم ہیں یہاں۔۔
وہ اب اریزہ سے مخاطب تھا۔۔
ہاں یار تم کیوں خوار ہو رہی ہو جائو ۔ سالک نے بھی کہنا ضروری سمجھا۔۔
اریزہ تو افورڈ کر سکتی ہے اسکو اسکالر شپ سے تو فرق نہیں پڑتا۔۔ اسکے بابا مشہور ایڈوکیٹ ہیں۔۔ شاہزیب نے ہنس کر چھیڑا تھا۔۔
ہاں انکو کیا فرق پڑتا سنتھیا کو ہی دیکھ لو اسکو اجازت دلوانے کیلیئے اسکے اماں ابا سے میں لڑا تھا ۔۔۔ ایڈون کا انداز استہزائیہ ہوا۔
اسکو شائد فرق نہیں پڑتا مگر مجھے بہت پڑتا ہے۔۔ اریزہ خلا میں نظر جمائے بولی تھی۔۔
تم لوگوں کو لگتا میری تو شادی ہو جانی ہے مجھے پڑھ لکھ کر کیا کرنا۔۔ میرے گھر والوں کو بھی یہی لگتا۔۔ مجھے تو لگتا میں پیدا ہی شادی کرنے کیلیئے ہوئی تھی۔۔ میری زندگی کا اور تو کوئی مقصد ہی نہیں ہے۔۔ اسکا انداز استہزائیہ ہوا آخر میں ہنس ہی پڑی۔
میرا بھائی جب مرا تھا مجھے اپنے بابا کے الفاظ یاد۔۔
اپنے دوست سے کہہ رہے تھے۔۔
میری کمر ٹوٹ گئ۔۔ میرا بیٹا مر گیا۔۔ میرا خواب مر گیا۔۔ وکیل بننے سے پہلے ہی مر گیا۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے۔۔
اور تب میں نے سوچا اگر بھائی کی جگہ میں مر جاتی تو پاپا کیا کہتے؟۔۔
اب مجھے پتہ ہے کیا کہتے۔۔
میری بیٹی مر گئ۔۔ اب اسکی شادی کیسے کروں گا ۔۔
رخصت ہونے سے پہلے ہی مر گئ۔۔
وہ قہقہہ لگا کر ہنسی تھی۔۔ ہنستی گئ۔۔ ہنستے ہنستے آنکھوں میں پانی ہی آگیا۔۔
یہ تینوں خاموش اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
مجھے کبھی نہیں لگا میں لڑکی ہوں کچھ کمی ہے مجھ میں بلکہ مجھے تو بہت اچھا لگتا تھا میں لڑکی ہوں۔۔ مگر ابھی تم لوگوں کی باتیں سن کر مجھے لگا میں تو بالکل بے کار سی چیز پہوں۔ تم لوگوں سے تم سے وابستہ لوگوں کے خواب ہیں امیدیں ہیں۔۔ بھروسہ ہے تم انکی امیدوں پر پورا اتروگے۔۔ مجھے سے تو میرے والدین کو بھی کوئی امید کچھ نہیں بالکل بوجھ ہوں میں۔۔ ان پر انحصار کرنے والی کوئی بھی چیز جس کو ٹھکانے پر رکھنا ہی بس انکی زمہ داری ہے۔۔ بس ۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
میں واپس گئ۔ تو میری شادی ہو جائے گی۔۔ کوئی رشتہ دیکھ رکھا ہے میرے والدین نے۔۔ مجھے کیا فرق پڑتا۔۔ اسکی آواز بھرا گئی تو رکی نہیں تیز تیز قدموں سے چلتی ہاسٹل کی طرف بڑھ گئ۔۔
کاش میں بھئ لڑکی ہوتا۔۔ شادی کی فکر والدین کرتے آرام سے ٹھاٹ سے گھر بیٹھتا۔۔ بچے پالتا۔۔ ابھی تو جو حال ہے زندگی کا اگلے دس پندرہ سال بس پیسے کمائوں گا تب کہیں جا کے میری شادی کی باری آئے گی۔۔
یہ سالک تھا منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔۔
یہ تو سچ مچ چاہتا ہے کہ لڑکی بن جائے؟۔۔ تجھے رشک آیا ہے اریزہ پر۔۔شاہزیب نے سنجیدگی سے پوچھا تو وہ فورا نفی میں سر ہلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے لیپ ٹاپ کھولا تھا۔۔

اگرماتم ہوتیتو ازے پاٹا لے تی۔۔ وہ سوچ سوچ کر ٹائپ کر رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگ رات یہیں گزارو گے۔۔
یایون اور یون بن ان سے ملنے آئے تھے۔۔ وہ تینوں کیمپ لگائے بیٹھے تھے۔۔ مگر موسم سرد ہوتا جا رہا تھا۔۔ تینوں جیکٹ چڑھائے ہوئے تھے۔۔ہایون نے گرم گرم کافی کے مگ تھمائے تینوں بس شکر گزار نظروں سے دیکھنے لگے۔۔
رات تک تھوڑی ٹھنڈ ہوجائے گی۔
اپنا مگ تھامے انکے پاس ہی بیٹھتے ہوئے ڈرا رہا تھا۔۔
خیر ہے کشمیر میں موسم ٹھنڈا ہی ہوتا تھا اتناہی ۔ سالک نے مکھی اڑائی۔۔
بالائی پنجاب بھئ ٹھنڈا ہی ہوتا۔۔ شاہزیب نے خود کو تسلی دی۔۔
لڑکیوں کو احتجاج کرنے میں دلچسپی نہیں۔۔۔
ہایون نے پوچھا تو سالک فورا بولا
وہ ہم لڑکوں میں کیا کرتیں ۔۔ہم تو یہیں پائوں پسار کر سو جائیں گے۔۔
کیا مطلب۔۔ کام۔تو انکا بھی ہے تم لوگ اپنا گرم بستر چھوڑ کر بیٹھے ہو تو وہ بھی بیٹھ سکتی ہیں تمہارے ساتھ۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
بیٹھی ہوئی ہی تھیں۔۔ رات ہونے لگی تو بھیج دیا انکو۔۔
ایڈون نے وضاحت کی۔۔
نہیں بھیجنا چاہیئے تھا۔۔ یون بن نے گھونٹ بھرا۔۔
انتظامیہ پر زور پڑتا لڑکیوں سے۔۔ کم سن نے کہا تو شاہزیب تنک کر بولا۔۔
کیوں۔۔؟۔۔ جب ہم ہیں تویہاں پر۔۔ اور لڑکیاں اتنی ٹھنڈ میں رات کو یہاں بیٹھئ ہوتی تو لعنت تھی ہمارے لڑکے ہونے پر۔۔ ہمارا کلچر یہ نہیں کہ لڑکیوں کی آڑ لیں۔۔
تم لوگ لڑکیوں کو بہت قیمتی جانتے ہو نا۔۔ بہت خیال رکھتے ہو لڑکیوں کا۔۔
ہایون کے کہنے پر شاہزیب اور ایڈون ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
خیال۔۔
ہم قیمتی نہیں کمزور سمجھتے ہیں۔خیال نہیں رکھتے یہ سوچتے ہیں کہ ان سے یہ کام ہوگا نہیں۔۔ حقیقت کتنی الٹ تلخ تھی اسے کہنے کی ہمت دونوں میں نہیں تھی۔
ہاں تم لوگ لڑکیوں کا باہر نکلنا پسند نہیں کرتے سمجھ گیا۔۔
کم سن سر ہلا کر بولااس کا انداز طنزیہ نہیں تھا۔۔ مگر تینوں کو چبھا۔۔
ایسی بھی بات نہیں لڑکیاں سب کام کرتیں بس ہم اپنی خواتین کا احترام کرتے ان سے مشقت لینا پسند نہیں کرتے۔۔
ایڈون نے تیز لہجے میں جواب دیا تھا۔۔
ہمارے یہاں بھی ایسا ہی ہے۔۔ مگر تم لوگ کچھ زیادہ ہی سخت ہو۔۔ یون بن نے صاف گوئی سے کام لیا۔۔
ہمیں فخر ہے اس پر۔۔ سالک نے جتانے والے انداز میں کہا۔۔
اچھا چھوڑو۔۔ یہ دونوں تو شائد ڈرنک نہ کریں مگر تم تو کر سکتے ہو کچھ پی لو۔۔ ایسے تو تم لوگ بیمار پڑ جائو گے۔۔ کم سن انکے خیال سے کہہ رہا تھا۔۔
نہیں یار۔ انکے ساتھ ہوں انکی طرح ہی ساتھ رہوں گا۔۔ ایڈون نے سہولت سے انکار کر دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے ڈورم کا دروازہ کھولتے کھولتے وہ رک گئ۔۔
آہٹ پر سنتھیا نے چونک کر دروازہ دیکھا مگر اریزہ احتیاط سے دروازہ بند کرتی جی ہائے کے دروازے کی طرف بڑھ گئ۔۔ دوسری دستک پر جی ہائے کی آواز آئی تھی۔۔
آجائو۔
وہ اندر داخل ہوئی تو جی ہائے کتابیں کھولے بیٹھی تھی اسے دیکھ کر حیران رہ گئ۔۔
تم ۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو؟۔۔ گھر نہیں گئیں؟۔۔
نہیں۔۔ وہ۔مختصر کہتی اسکے پاس ہی آبیٹھی
عجیب حالت ہوئی وی ہے۔
کچھ بھی نہیں پڑھا پریکٹس میں اتنی مصروف تھی۔۔ اب جا کر موقع ملا۔۔ تم نے تو تیاری کر رکھی ہوگی ساری۔۔
وہ انجانے میں اسکی دکھتی رگ پر ہی ہاتھ رکھ رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وہیں جی ہائے کے پاس ہی باتیں کرتی کرتی سو گئی تھی۔۔ صبح اسکی آنکھ کھلی تو دیکھا جی ہائےاس پر کمبل ڈال کر خود گوارا کے بیڈ پر سوئی ہوئی تھی۔۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اٹھ کر اپنے ڈورم میں چلی آئی سنتھیا سوئی ہوئی تھی وہ آرام سے اپنے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گئ فریش ہو کر باہر نکلی تو سنتھیا اسکے ہی انتظار میں شائد بیٹھی تھی۔
اس نے اسے قصدا نظر انداز کیا اور سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔
تمہاری امی کا فون آیا تھا مجھے کہہ رہی تھیں کہ تمہیں منائوں تم شادی کیلیئے رضا مند ہو جائو۔۔ میں نے انہیں نہیں بتایا یہاں کیا ہوا مگر مجھے لگتا تمہیں ہاں کر دینی چاہیئے لڑکے کی تصویر واٹس ایپ کی ہے میں نے تمہیں دیکھ لو پھر فیصلہ کرو۔۔ یہاں تو ہمارا بوریا بستر گول ہونے ہی والا ہے۔۔
خشک بے تاثر انداز مگر اس نے اپنی طرف سے دوستی نبھا دی تھی۔۔
بن مانگے مشوروں کا شکریہ آئندہ کیلیئے اپنے کام سے کام رکھو۔۔ اریزہ نے جوابا اس سے بھی سرد لہجے میں کہا۔۔
سنتھیا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ۔۔ زخمی سی۔
انکار کی وجہ کیا ہے۔۔ کوئی پسند ہے کیا تمہیں۔۔
وہ باز نہ آئی۔۔ اریزہ کی آواز تھوڑی اونچی ہوئی۔
تم سے مطلب اپنے کام سے کام رکھو۔۔
اس بار واقعی لڑکا اچھا ہے تمہیں انکار نہیں کرنا چاہیئے۔۔
سنتھیا نے پھر کہا۔۔
سمجھ نہیں آتی بات تمہیں کہہ رہی ہوں میں اپنے کام سے کام رکھو۔۔
اریزہ بری طرح چلائی۔۔
سنتھیا نے بالکل اثر نہیں لیا۔۔
تم جب کسی کو اس نظر سے نہیں دیکھتیں تو کسی کو بھی زندگی میں شامل کر لینے میں تمہیں اعتراض کیا ہے۔
سنتھیا بس کر جائو مجھے تم سے کسی قسم کی بات نہیں کرنی تمہیں سمجھ کیوں نہیں آرہی یہ بات ۔۔اریزہ ضبط کھو بیٹھی تھی۔۔
جی ہائے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئ۔۔
کیا ہوا۔۔ سب ٹھیک تو ہے۔۔ وہ۔واقعی پریشان تھی۔۔
سنتھیا بت بنی زمین پر کہیں نگاہ ٹکائے بیٹھی تھی۔۔ اریزہ بیچ ڈورم میں کھڑی ہاتھ میں تولیہ پکڑے کف اڑا رہی تھی۔۔
یہ دیکھو جی ہائے۔۔
سنتھیا کے زہن میں جانے کیا سمائی تھی موبائل اٹھا کر بیڈ سے اتر آئی جی ہائے کو تصویر دکھانے لگی۔۔ اریزہ کے تلوے سے لگی سر پر بجھی۔۔
کون ہے یہ آہجوشی۔۔
جی ہائے نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
اریزہ کا مستقبل کا فیانسی۔۔
سنتھیا مسکرائی۔۔ اریزہ تن فن کرتی سیڑھیاں اتری اور اسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر پھینک دیا۔۔
حد میں رہو سنتھیا بہت برداشت کرلیا میں نے تمہیں۔۔ اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی
تم اچھی ہو تمہاری قسمت بھی اچھی ہے
مجھے تم پر رشک آتا ہے اریزہ۔۔ سنتھا نے زرا برا نہ مانا
مسکرا کر بولی انداز حسرت بھرا تھا۔۔
مجھے تم پر ترس آتا ہے۔۔ کیا تھیں اور کیا بن گئ ہو۔
اریزہ نے ترکی بہ ترکی کہا۔۔
تمہاری وجہ سے ۔۔ میں جو بھی بن گئ اسکی وجہ بس تم ہو۔۔
سنتھیا نے آرام سے کہا تھا مگر اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
کیا میری وجہ سے ہاں۔۔ کیا ۔ کیا کیا کیا ہے میں نے۔۔
اریزہ بپھر کر اسکی جانب بڑھی۔۔ جی ہائے بے اختیار اسکے آگے آگئ۔۔ سنتھیا ہلی بھی نہیں اپنی جگہ سے۔۔
میں نے ایڈون کو کہا تھا واپس چلنے کو مگر وہ تیار نہیں ہے۔ صاف بولا میں جانا چاہتی ہوں تو چلی جائوں۔ کیوں میں کیوں جائوں؟ یہاں تم دونوں کو چھوڑ کر۔؟
تم چلی جائو۔ تم کیوں نہیں جاتیں اگر تمہیں ایڈون میں کوئی دلچسپی نہیں تو شادی کیوں نہیں کرنے کو تیار ہو؟۔۔ مجھ پر ترس نہیں آتا تمہیں۔ ایڈون کےدل میں جگہ بنانے کیلیئے کیا کیا نہیں کرگئ مگر تم۔۔۔۔۔ ۔ اور تم تم جاتی بھی نہیں ہو ہماری زندگی سے اچھی بھلی شادی ہوگئ تھی کیوں نہیں گئیں کینڈا ۔۔ کیوں واپس آگئ ہو ہم دونوں کے بیچ۔۔
سنتھیا نقاہت بھرے انداز میں بلک اٹھی۔۔ اس میں اتنی سکت بھی جیسے نہ تھی کہ چلا سکتی۔۔
بس کر جائو سنتھیا بس۔۔
یہ دوسری بار تھا سنتھیا نے اسے ایسے طعنے دہیئے تھے آج وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔ بری طرح بپھر کر وہ اسکی جانب بڑھی تھی جی ہائے۔۔ پوری طاقت لگا کر اسے روکا۔۔
کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو کس بات پر لڑ رہی ہو۔۔
جی ہائےہلکان ہو رہی تھی۔۔

بہت پیار کرتا ہے وہ تم سے۔۔ کیوں اسکو ٹھکرا دیا تم نے تم ہاں کر دیتیں خدا جانتا میں بیچ سے ہٹ جاتی۔۔ تم نے اسے مجھے سونپ کر اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔۔ میرے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا۔۔ مجھے مل کر بھی وہ نہیں مل سکا ہے اریزہ۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔۔ اریزہ کے اعصاب ڈھیلے پڑے۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہو ۔۔ اسکے۔منہ سے مری مری آواز نکلی۔۔
سب جانتی ہوں میں۔۔ میں سب۔۔ میں بھی اس دن وہیں موجود تھی۔۔
وہ بلک کر کہتی بیڈ پر بے دم ہو کر بیٹھ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے آکر انکے پاس دھوپ میں بیٹھ گئ تھی۔۔
تینوں کے علاوہ یون بن ہایون اور سداکو بھی موجود تھے۔۔
ہایون۔نے اسے دیکھ کر فورا فروٹ جوس اسکی جانب بڑھایا۔۔
اس نے لرزتے ہاتھ سے تھاما۔۔ وہ سن سے دماغ کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔
ہایون نے اسکی غائب دماغی فورا پڑھ لی تھی۔۔ اور ایڈون نے بھی۔۔
واٹ ہیپنڈ۔۔؟۔۔ ایک لڑکی نے پاس آکر ہمدردی سے انکے احتجاج کی وجہ پوچھی تھی۔۔
وہ سر اٹھا کر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔
ایڈون نے آگے بڑھ کر رواں انگریزی میں اسے مدعا بتایا۔
وہ ہمدردی کے دو بول بول کر آگے بڑھ گئ۔۔
ایڈون بار بار اسے دیکھ رہا تھا۔۔ شاہزیب اور سداکو باتیں کرنے میں مگن تھے۔۔ سالک موبائل پر جھکا تھا یون بن نے اسکی بے چینی محسوس کر لی تھی۔۔
کیا ہوا ہے؟۔۔
اس نے پوچھا ایڈون بس دیکھ کر رہ گیا۔۔
کیا بتائے؟۔۔
اریزہ ۔۔ اس نے سوچ کر اسے پکار ہی۔لیا۔۔
اریزہ چونک کر متوجہ ہوئی۔۔
وہ سنتھیا سو رہی ہے کیا ابھی تک وہ کیوں نہیں آئی۔۔
اس نے جھجک کر پوچھا۔۔
اریزہ اسے دیکھتی رہی ۔
دیکھتی گئ۔۔ ایڈون کو نہ جانے کیا ہوا نظر چرا گیا۔۔ یون بن نے ایڈون کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
ہایون اریزہ کے برابر آبیٹھا۔۔
دیکھتے دیکھتے اریزہ کی آنکھیں لبا لب بھر گئ تھیں۔۔ ہایون قصدا اسے آڑ دیتا بیٹھا۔
تبھی انتظامیہ سے ایک آدمی انکے پاس چلا آیا۔۔
آننیانگ واسے او۔۔
اس نے جھک کر سلام کیا یہ سب اسکی۔جانب متوجہ۔ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں اندازہ ہے آپ سب کتنے مایوس ہوئے ہونگے۔۔
یقین جانیئے ہم بھی بہت ہوئے ہیں۔۔ ہم ہرگز بھی یہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان سے آنے والے طلبا کسی طور کسی دوسرے ملک سے آنے والے طلبا سے زہانت میں کم ہیں۔۔
ہم نے آپ سب کو داخلہ دیتے ہوئے اس چیز کو مد نظر رکھا تھا ہم ایک بالکل الگ تہزیب سے قابل افراد کا انتخاب کر رہے ہیں۔۔ ہم بہت دکھی ہیں کہ آپکی یونیورسٹی کے ساتھ ہمارا الحاق ممکن نہ ہو سکا۔۔ جو طلبا ہم نے وہاں بھیجے تھے انکی پاکستانیوں کے بارے میں بہت اچھی رائے رہی وہ وہاں تعلیم حاصل کرتے ہوئے مطمئن تھے مگر وہاں کے حالات کی بنا پر ہمیں یہ مشکل فیصلہ لینا پڑا۔۔ ان طلبا کے والدین ہر قیمت پر ان کو واپس بلانا چاہتے تھے چاہے وہ سیمسٹر میں پیچھے رہ جائیں۔۔
یہاں ہم نے انکو فوری طور پر ایڈجسٹ کیا ہے۔ہم آپ سب کو بھی یہی پیکج دینا چاہتے ہیں حالانکہ آپکی یونیورسٹی آپ سب کو واپس بلا رہی ہے مگر ہم پھر بھی آپ سب کیلیئے مزید ایک سہولت دے رہے ہیں ۔۔۔کوریا بہت سی اسکالرشپس فراہم کرتا ہے طلباء کو آپ ان میں سے کسی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یقین جانیئے مشکل طریقہ کار نہیں بس آپکو چند مہینے صبر سے کام لینا ہوگا۔ اور آپ یہاں اپنے بل پر داخلہ لینا چاہیں تو بھی ہمارے دروازے آپ سب پر کھلے ہیں۔
مگر ہمیں معیار کو بھی مد نظر رکھنا ہے آپ سب اگلے ہائی اسکول گریجوایٹ اسسیسمنٹ ٹیسٹ کو پاس کریں یہ آپ کو یہاں کی بیچلرز ڈگری حاصل کرنے کیلیئے لازمی پاس کرنا ہوگا۔۔دو سال کوریا میں تعلیم حاصل کریں ہم آپ سب کو ڈگری ضرور دیں گے مگر اس سیمسٹر کیلیئے معزرت آپکو اگلے سیمسٹر سے ہم ریگولر کر دیں گے۔۔ اس سیمسٹر کے سارے اخراجات ہم برداشت کر سکیں گے۔ آپ چا رسال یہاں تعلیم حاصل کریں ہم آپکو یونیورسٹی کی جانب سے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے مجھے امید ہے آپ سب کو ہماری یہ مخلصانہ کوشش پسند آئے گی۔۔
چندی آنکھوں والا وہ ادھیڑ عمر انسان بے حد شائستہ انداز میں مخاطب تھا۔۔ ان چاروں نے سر جھکا لیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہیں وہیں شام ہو گئ تھی۔۔ اپنا احتجاجی کیمپ سمیٹ کر بھی وہ سب وہیں بیٹھے تھے۔۔

ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا سوائے خاموشی سے انکی۔بات ماننے کے۔۔
ایڈون نے گہری سانس لیکر کہا۔۔
یہ تو دنیا میں ہم۔جہاں بھی جاتے دو سال کم ازکم پیچھے ہو جاتے تعلیم میں کوئی ہماری ڈگری کو مانتا ہی نہیں۔۔ انہوں نے ہم پر احسان دھر کر بھی یہی کیا ہے۔۔
شاہزیب چڑا ہوا تھا۔۔
ان ماہ و سال سے اگر فرق پڑتا ہے تو جائو واپس۔۔ اپنی یونیورسٹی سے۔پڑھو۔۔ بچا لو اپنے چھے ماہ اور ہم لوگوں سے چھے مہینے پہلے ڈگری لیکر بےروزگار پھرو۔۔
ایڈون نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔۔
شاہزیب ہونٹ بھینچ گیا۔۔
سالک نے آہ بھری
انکا ٹیسٹ جانے کیسا ہوگا پاس بھی کر پائیں گے کہ نہیں۔۔
جاہل تو نہیں ہیں ہم۔
اریزہ چڑی
کر لیں گے ہم سب بہترین گریڈز لیکر یہاں تک پہنچے ہیں۔
انکا بھی امتحان دیکھ لیتے ہیں۔۔
گھر والوں کو بتانے کی ضرورت نہیں ویسے بھی اسکالر شپ ختم ہوجانے کے باوجود یونیورسٹی ہم سے اخراجات میں سہولت دے ہی رہی ہے۔۔ بس اب کرنا یہ ہے کہ ابھی سب جاب ڈھونڈو چھے مہینے تک اگلے کم از کم دو سیمسٹر تک کے پیسے جمع کرنے کا ٹارگٹ رکھواسکالر شپ مل جائے تو بھلا چنگا مگر وہ سب چانس پر ہی ہے نا۔ ۔۔ اب سیمسٹر بریک تک تو ہم فل ٹائم جاب بھی کر سکتے ہیں۔۔
ایڈون اگلا لائحہ عمل بھی ترتیب دے چکا تھا۔۔
ٹھیک کہہ رہا ہے ایڈون۔۔
اریزہ نے تائید کی۔۔
ویٹر سویپر والے ہی کام ملیں گے۔۔
سالک نے منہ لٹکایا۔۔
ٹھہر تیرے لیئے میں نئی کمپنی لانچ کرتا ہوں ۔۔ شاہزیب نے مزید چڑایا۔
میں نے آئی کام کیا ہے تھوڑا بہت اکائونٹس سنبھال سکتا ہوں۔۔
سالک کو یاد آیا۔۔
تیرے جیسے لوگوں کیلیئے تھری ایڈیٹس میں کیا کہا گیا ہے۔۔
شاہزیب ہنسا
ایڈون اور اریزہ نے کورس میں کہا۔۔
گدھے۔۔
سالک گھور کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن گوارا جی ہائے ہایون کم سن سداکو۔۔
سب امتحان دے رہے تھے۔۔ پوری کلاس کا جہاں پیپر پر سر جھکا تھا ان سب کی نظریں بھٹک بھٹک کر خالی نشستوں پر جا رہی تھیں۔۔
پیپر دے کر باہر نکلے تو سداکو نے مایوسی سے کہا
مجھے حیرت ہورہی ہے اتنے اچھے اسائنمنٹس اور پریزنٹیشن دینے والوں کو امتحان دینے کے لیئے نا اہل قرار دے دیا ۔۔ دنیا بہت بے رحم ہے۔۔
یون بن اس سے متفق تھا سو سر ہلا کر رہ گیا۔۔
میں سوچ رہا ہوں انکو اس سیمسٹر کی فیس تو چلو اگلے سیمسٹر میں ضم کر دی مگر اسکالر شپ تو ختم ہوگئ یہ لوگ کیسے یہاں اخراجات پورے کریں گے۔۔
کم سن نے پر سوچ انداز میں کہا۔۔تو ہایون چونک کر دیکھنے لگا۔۔
یہاں کوریائی زبان نہ آتی ہو تو جاب حاصل کرنا نا ممکن ہی سمجھو۔۔
سداکو نے کندھے اچکائے۔۔
میں جانتا ہوں کتنی مشکل سے میں نے نوکری حاصل کی ہے ایک ریستوران میں وہ بھی جب کوئی غیر ملکی آتا تب ہی مجھے کارآمد سمجھ کر انگریزی بولنے کیلیئے آگے کر دیا جاتا ورنہ سارا وقت برتن دھوتے گزرتا ہے میرا۔۔
کم سن نے دھیرے سے اسکا کندھا تھپتھپایا
بچے تو نہیں ہیں ایڈون وغیرہ کر لیں گے کچھ نہ کچھ اب تو انکو یونیورسٹی آنے کی ضرورت نہیں مجھے یقین ہے کہیں جاب ہی ڈھونڈ رہے ہونگے۔۔
یہ جی ہائے تھی۔۔
گوارا نے بھی تائید کی۔۔
ہاں مجھے بھی جہاں تک اندازہ ہوا ہے پاکستانی اپنا کام خود کرنے والے خوددار ہوتے ہیں۔۔یہ لوگ کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔۔
یون بننے کہا تو سب سر ہلاگئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے پاس کچھ وون ہونگے؟۔۔ راہ چلتی ایک کورین دوشیزہ کو روک کر سالک انتہائی معصوم شکل بنا کر کہہ رہا تھا ۔
جی؟۔۔ اسکی سمجھ میں اردو خاک پتھر آتی۔۔
وون ۔۔ سکے۔۔۔ اس نے سکے کا اشارہ کیا۔۔
چینج آنٹی۔ کوائین۔۔۔
وہ نوٹ لہراتا اس سے منت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔
وون
وہ جانے کیا سمجھی نوٹ تھام کر بیگ کھنگالنے لگی۔۔
ہائے اللہ کیا کر رہی ہو یہ اکلوتا نوٹ ہے میرے پاس ۔۔۔
مگر اسے اتنی ہی مالیت کے سکے نکالتے دیکھا تو جان میں جان آئی۔
شکر ہے مجھے لگا تھا تم۔میرا اکلوتا نوٹ بھی لے بھاگوگی۔۔
وہ رونے پیٹنے کو آگیا۔۔
دوشیزہ کا دل پگھل ہی گیا۔
یہ لو۔۔
اس نے بیگ میں مٹھی بھر کر کوائین نکال کر تھما دیئے۔نوٹ بھی بڑھا دیا۔
سالک نے پہلے نوٹ چھینا پھر چلر تھامے۔۔
گومو وویو۔۔
اس نے کوریائی انداز میں جھک جھک کر سلام کیا لڑکی مسکرا کر جانے کیا بولتی آگے بڑھ گئ۔۔ یہ فاتحانہ انداز میں مٹھی میں بھرے کوائن چھنکاتا کچھ فاصلے پر وینڈنگ مشین کے پاس کھڑے گھورتے اپنے ہم وطنوں کے پاس آیا۔۔
بہت برکتی نوٹ ہے میرا دس دفعہ تڑوانے کی کوشش کر چکا ہوں مگر ہمیشہ ثابت واپس آجاتا ہے میرے پاس۔
وہ اترایا۔۔
ایسی مسکینیت طاری کر کے فقیروں کی طرح مانگ رہا تھا شرم کر۔۔
شاہزیب نے اسکا سر بجایا۔۔
تو ؟۔ وہ بھنایا۔۔
غیر ملکی ہی غیر ملکیوں کے کام آتے وہاں کوئی چندی آنکھوں والا چائینیز تم سے پیسے مانگتا نہ کرتے تم مدد
سالک سینے پر چڑھ کر بولا
چائینیز کی کرتا نا یہ تو کورین ہیں اور یہ پاکستان میں اتنا آتے بھی نہیں۔۔
ایڈون بھی بحث میں شامل ہوا
ہاں تو آجائیں یہ بھی میں بھی کسی کورین کو ادھار دے دوں گا۔۔
سالک لاپروا تھا۔
لے لیں ڈرنک جس کے انتظار میں ہم یہاں کھڑے۔۔
اریزہ نے طنزیہ کہا تو سالک گڑ بڑا کر مشین کی طرف بڑھا۔۔
کونسی لینی ہے اریزہ۔۔
وہ مشین کا معائنہ کر رہا تھا۔۔ ایک کوائن ڈال کر خواتین پہلے کے اصول پر عمل پیرا ہوا۔۔
اریزہ نے فروٹ جوس پر انگلی رکھی۔
تھوڑی ہی دیر میں کھٹ کی آواز کے ساتھ کین جوس نیچے دراز سے برآمد ہوا۔
پھر سالک کوائین ڈالتا گیا سب باری باری ڈرنک اٹھا تے رہے خود اسکی باری آئی تو کوائین ختم ہو چکے تھے۔۔
ٹھہر۔۔
ایڈون نے اپنی ڈرنک سے بڑا سا گھونٹ بھر کر اسے تھمایا۔۔
پھر مشین کے کئی بٹن دبا کر ٹھوکر ماری درجنوں کوائن نیچے آن گرے۔۔
تو یہ پہلے نہیں کر سکتا تھا؟۔۔ ایویں احسان لیا اس گوری کا۔۔
سالک نے کہہ کر اسکے دیئے کین کو منہ سے لگانا چاہا ایڈون نے لپک کر اس سے چھینا۔
نکال اپنے لیئے ڈرنک۔۔ وہ اپنی ڈرنک بانٹنے کو تیار نہیں تھا
سالک نے ایک ایک کوائن چنا۔۔
اپنی ڈرنک لی
اور کسی نے کوئی اور ڈرنک لینی؟۔۔
اس نے پوچھا تو مگر ان سب نے نفی میں ہی سر ہلایا۔۔
اس نے اپنی ڈرنک لے کر بقیہ سب کوائین مشین میں واپس ڈال دیئے۔۔
اور جھک کر مشین سے بولا۔۔
گھمسامندہ۔۔ شکریہ۔۔
ایڈون شاہزیب اور اریزہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
وہ البتہ مزے سے گھونٹ بھر رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کاش میں مچھلی ہوتا بھلے پاکستانی ہی مچھلی ہوتا۔۔
مزے سے تیرتا رہتا ۔۔۔۔
شاہزیب نےحسرت سے مگن تیرتی مچھلیوں کو دیکھا

وہ سب لائن سے ایکوریم سے ناک چپکائے کھڑے تھے۔۔
ہم میں سے کوئی تمہیں کھا چکا ہوتا پھر۔۔
ایڈون نے کہا تو اس نے مزید تشریح کی
ابے میں چھوٹی موٹی مچھلی تھوڑی ہوتا وہیل ڈولفن تو ہوتا ہی۔۔
تو تم اندھے ہو چکے ہوتے ہم جتنا اپنے ساحلوں پر گند مچا کے رکھتے ۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ منہ بنا کر ایکوریم سے پشت کر گیا۔۔
یار ہم اتنے گندے برے کیوں ہیں۔۔
اس نے سابقہ انداز میں ہی کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرائوکے روم میں ان سب نے چیخیں مار مار کر کمرہ سر پر اٹھایا ہوا تھا۔۔ سامنے بی ٹی ایس کا ڈی این اے چل رہا تھا۔ ساتھ ساتھ شاہزیب اور ایڈون
سیٹی بجے گی کھیل جمے گا تالی بجے گی گا رہے تھے۔
کہہ کیا رہا ہے۔۔
اریزہ نے غور کیا ۔۔
پٹ یور۔۔ اسکی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں۔۔
سالک اور اریزہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر جھٹ نظر چرا کر منہ پھیر کر بیٹھ گئے۔۔
میں نے بھی گانا۔۔ اریزہ نے کہا تو ایڈون جو اچھل کود کر کر کے تھک چکا تھا جھٹ مائک اسے تھما کر صوفے پر آگرا
آسومی منچھو جی آنا ۔۔۔ اس نے ڈھونڈ کر نکالا
پلے ہونا شروع ہوا تو ساتھ ساتھ گانے لگی۔۔
اوئے تمہیں یہ گانا آتا ہے۔۔
شاہزیب نے حیرت سے چیخ ہی مار دی۔۔
اریزہ نے اترا کر دیکھا۔۔
پھر جتنی دیر گاتی رہی وہ اسکے دھرائے جملے دھراتے رہے وہ بھی اپنی مرضی کے الفاظ میں
کہہ کیا رہا ہے یہ۔۔
ایڈون کو تجسس بھی تھا۔۔
اریزہ نے کندھے اچکا دیئے۔۔
اداس گانا لگائو ہم جاتے جاتے رو ہی لیں۔۔
یہ سالک کی فرمائش تھی۔۔
اس نے سیڈ سانگ میں سے ایک لگا دیا
کسی لڑکی نے رونا شروع کر دیا تھا۔۔
سب باقائدہ آنسو پونچھ پونچھ کر روتے رہے۔۔۔
مت رو میری بہن اللہ اس جیسا ہی اور دے گا۔۔
شاہزیب نے باقائدہ اسکرین پر روتی لڑکی کے آنسو بھی پونچھ دیئے۔۔
اوئے یہ گانا سنا ہوا لگ رہا۔۔
ایڈون چونکا۔۔
پہلی نظر میں کیسا جادو کر دیا کی دھن بج رہی تھی۔
اف یہ کوریا سے چرایا تھا انڈین نے۔۔
آخر انہوں نے ایسا گانا تلاش ہی لیا جسکی دھن پر انہیں ہندی گانا یاد تھا پھر وہ سنگر اپنی زبان میں اور یہ سب اردو میں اسی دھن پر گاتے رہے۔۔
چونتیس فیصد انکا نتیجہ آیا تھا ظاہر ہے گا کم چیخیں زیادہ مار رہے تھے۔۔
سڑک پر چاروں اکٹھے چل رہے تھے۔ اریزہ درمیان میں تھی۔۔ جب آتے جاتے لوگ انکو باقائدہ گھور گھور کر جانے لگے تو دو دو کر کے آگے پیچھے چلنے لگے۔۔
جب کوئی بات بگڑ جائے جب کوئی مشکل پڑ جائے۔۔
اریزہ کا اترا منہ دیکھ کر سالک میدان میں اترا
اوئے پاکستانی اداس گانا گا کوئی انڈین گا کے دل اور نہ جلا سارے انڈین امتحان دے رہے ہم پاکستانیوں سے ہی دشمنی نکالی ہے انہوں نے۔۔
شاہزیب رو ہی تو پڑا۔۔
سالک نے فورا پینترا بدلا
ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے ہاں جیتیں گے۔۔
تینوں بن پیئے جھوم رہے تھے۔۔ اریزہ انکے ساتھ ساتھ چلتی اداس ہو رہی تھی۔۔
کیسا بھی ہو اندھیرا۔۔
ایڈون اسکے آگے آگے چلتے ایکدم۔مڑ کر فلمی سے انداز میں اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔۔
دور نہیں سویرا۔۔ شاہزیب اسکے دائیں جانب سے مسکرا کر گاتا ہوا آیا۔
لڑنا ہے کورین سے۔۔ ہماری پڑھائی کے دشمنوں سے
یہ سالک تھا اسکو جگہ نہیں ملی تو اکڑوں بیٹھ گیا اور سر اٹھا کر اسے دیکھتے آنکھیں پٹ پٹا رہا تھا
جینا ہے سر اٹھا کر ظلم و ستم مٹا کر۔۔
ایڈون نے راہ چلتے ماں کا ہاتھ پکڑ کر جاتے بچے کی کاٹن کینڈی چھین کر اریزہ کو چلتے چلتے تھمائی
بچے کی ماں گھورتی آگے ہوئی تو اریزہ نے منہ بنا کر رونے کو تیار ہوتے بچے کو جلدی سے تھما کر اسکے پیار سے سر کے بال بھی چھیڑے۔۔
دنیا حسین بنائیں۔۔ پاس دلوں کو لائیں۔۔
سامنے سے آتے لڑکے اور لڑکی کے گرد وہ تینوں گھوم گھوم کر بازو پھیلائے ناچ رہے تھے۔۔
پاکستان میں یہ کام کرتے تو پٹ ہی جاتے۔۔ ان دونوں کورین کپل نے بے حد حظ اٹھایا اور کچھ سمجھتے نہ کچھ نہ سمجھتے جھک کر شکریہ ادا کرتے ہاتھ ہلاتے آگے بڑھتے گئے۔۔
اریزہ کوہنسی آہی گئ۔۔
آنگن آنگن خوشیاں بانٹیں۔۔
سالک دونوں ہاتھ پھیلائے پیچھے سے آرہا تھا سب رک کر اسے دیکھ رہے تھے اس نے ترنگ میں آ کر پاس سے گزرتے لڑکے اور اپنا خالی کیا ہوا کین تھمایا۔۔
وہ بے دھیانی میں پکڑ گیا پھر اسی کے اوپر اچھالتا
بچھی سا تنفر سے جاتے جاتے انہیں گھورتے ہوئے کہا۔۔
سالک نے دونوں بازو آگے کر کے منہ پر لگنے سے بچایا تھا۔۔ تینوں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے۔۔
یہ کوئی گالی دے کر گیا ہے نا۔۔ بچھی دین
شاہزیب نے نیا لفظ سیکھنا چاہا۔
ہیں گالی دی ہے۔۔ سالک کو غصہ آگیا۔۔پلٹ کر چلایا
اوئے الو کے پٹھے گالی کس کو دی ہے۔کمینے رک۔۔
اگلاپکار پر واقعی جاتے جاتے رک کر مڑا۔۔
قد میں سالک سے تین چار انچ بڑا اب غور کیا تو خوب ڈیل ڈول والا نکلا
او او۔۔
سالک ٹھٹکا۔۔
آننیانگ ۔ گومو وویو۔۔ کہہ سیکی ۔۔ بچھی دن۔۔
اسے جتنی کورین آتی تھی ہاتھ ہلا کر مسکراتے جھاڑ دی۔۔
کہہ سیکی کم سن انکو اکثر کہتا تھا۔اس نے وہ بھی جڑ دیا
یہ بھئ بھول گیا آخری لفظ اسی سے سنا تھا۔۔
اگلا تلملا کر پلٹا۔۔ اسے بھاگ کر واپس آتے دیکھ کر ان چاروں کے ہاتھوں سے طوطے اڑے۔۔
بھاگو۔۔ سالک کہہ کر رکا نہیں تھا۔۔
تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ہاتھ ہلا ہلا کر کورین میں جانے کیا کیا کہتے اس لڑکے کے ڈیل ڈول کو پھر سالک کی پیروی میں ہی عافیت جانی۔۔
بھاگتے بھاگتے جب جب پیچھے مڑ کر دیکھا وہ سانڈ انکے پیچھے ہی آرہا تھا۔۔
کسی ریستوران میں گھس لوگوں کے بیچ مار نہیں پائے گا۔۔
ایڈون اور اریزہ سب سے پیچھے تھے اریزہ ہی رہ جاتی پیچھے سو ایڈون بھاگتے بھاگتے اسکیلیئے رفتار کم کرتا برابر ہوا پھر دماغ اسکا ہی چلا
آگے آگے بھاگتے شاہزیب نے آئو دیکھا نا تائو اگلا جو بھی ریستوران آیا اسمیں گھس گیا سالک اسکے پیچھے یہ دونوں بھی پوری جان لڑا کر گھس ہی گئے۔۔
بھاگ کر سب سے اندر جاکر کونے کی میز پر دھم سے گرے۔۔ چاروں کو سانس نہیں آرہی تھی۔۔ شاہزیب نے ہی ہمت کر کے جگ اٹھایا پہلا گلاس بھر کر اریزہ کی۔جانب بڑھایا خود جگ ہی منہ سے لگا لیا۔۔
گہری گہری سانسیں لیکر اریزہ نے پانی منہ سے لگایا۔۔
چھوٹا سا ریستوران تھا مگر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔
وہ لڑکا گلاس وال سے باہر سڑک پر غصے سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا اسے شائد پتہ نہیں چلا تھا کہ وہ ریستوران میں گھسے ہیں یا اسکے بالکل ساتھ زیلی سڑک پر۔۔
سالک کی نظر پڑی تو فورا سیٹ سے کھسک کر نیچے ہو گیا۔۔شاہزیب نے یہ نہیں دیکھا اس نے ایسا کیوں کیا خود بھی گھس گیا۔۔
جی آپکا آرڈر۔۔
موئودب سا شیف کے یونیفارم میں سر پر ٹوپی پہنے کوئی تمیز سے آکر اریزہ سے پوچھ رہا تھا
پانی پیتی اریزہ چونکی۔۔
جو یہ لوگ۔۔
وہ۔کہتی ہوئی ان کی طرف متوجہ ہوئی تو پتہ چلا اکیلی میز پر بیٹھی ہے تینوں غائب۔۔
یہ کہاں گئے وہ بوکھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
ویٹر نے اسے گھبرا کر کھڑا ہوتے دیکھا تو مسکرا کر آنکھ کے اشارے سے نیچے ہیں بتایا۔۔
وہ سمجھ کر جھکی تو تینوں گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھے تھے۔۔
نکلو باہر ۔۔ اریزہ چڑی۔۔
پہلے دیکھو باہر سے وہ لڑکا چلا گیا؟۔۔
یہ سالک تھا
وہ گہری سانس لیکر اٹھی پھر باہر دیکھ کر انہیں تسلی کرائی اب گلاس ڈور سے باہر کوئی کھڑا نظر نہیں آرہا تھا۔۔
تینوں خیر کا کلمہ پڑھتے اوپر آ ہی گئے۔۔ شیف بڑے تحمل سے کھڑا تھا۔۔
کچھ آرڈر دے ہی لیتے ہیں بھوک لگ رہی ہے ۔
شاہزیب نے مسمسی سے شکل بنائی۔۔
یہ تو کورین ریستوران ہے کسی پاکستانی یا انڈین چلتے۔۔
سالک منمنایا
تو کیا سبزیاں منگوا لیتے ہیں۔۔ ایڈون نے انہیں چھیڑا ہی تھا۔۔
یار میرے خاندان میں آج تک کسی نے اتنی سبزیاں نہیں کھائی ہونگی جتنی چھے مہینے میں کوریا نے کھلا دی ہیں۔۔ حلال کے چکر میں گوشت کو ترس گیا ہوں
سالک کی مظلومیت عروج پر تھی۔
آپ ہمییں سبزیوں اور چاول کا کچھ لا دیں۔
ایڈون نے شستہ انگریزی میں کہا۔۔
حلال فوڈ ہے ہمارے پاس۔۔
اس شیف کو پورے جملے میں بس حلال ہی سمجھ آیا تھا۔۔ مسکرا کر بولا تو شاہزیب کو اسکی چندی آنکھوں پر پیار ہی آگیا۔۔
واقعی۔ وہ تینوں بے تابی سے بولے۔۔
جی حلال گوشت ملتا ہے ہمارے ریستوران میں آپ دیکھ لیں زیادہ تر یہاں مسلمان ہی کھانا کھانے آئے ہیں یہ مکمل حلال ریستوران ہے۔۔
اس نے اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے بتایا تو چاروں مڑ کر دیکھنے لگے۔۔ کچھ پاکستانی کچھ چندی آنکھوں والے کچھ حجاب کیئے بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکیاں مختلف قومیتوں کے مگر چھوٹی بڑی داڑھی والے مرد کچھ کلین شیو۔۔انہوں نے پہلے غور ہی نہیں کیا تھا۔۔
بیف اسٹیک کورین رائس کمباپ جس میں سی ویڈ کی بجائے گندمی روٹئ میں چاول اور سبزیاں لپیٹے تھے۔۔ کچھ سپرنگ رول جیسا ہی بن گیا تھا۔۔
ان چاروں نے سیر ہو کر کھایا۔۔
یار مزے کا ہے کورین کھانا بھی۔۔
اریزہ نے دل سے تعریف کی۔۔
ہاں دیکھو بھلا حلال ریستوران ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔۔ ایویں بھوکے مرتے رہے۔۔ یون بن کو دکھائوں گا یہ۔۔
شاہزیب نے کہا تو ایڈون ہنسا
پاگل انہیں کیا پتہ ہوتا وہ تھوڑی حلال ریستوران ڈھونڈتے ہونگے۔۔
یہ بھی ہے۔۔
سالک نے تائید کی۔۔
ویسے یہاں ویٹر نہیں ہیں شیف ہی خود پکا کر لا لا کر رکھ رہے۔۔
اس نے تھوڑے فاصلے پر اوپن کچن میں کام کرتے دو تین شیف کو دیکھا۔۔ سب چندی آنکھوں والے تھے۔۔
ایویں ماموں تو نہیں بنا رہے شکلیں تو انکی چندی ہی ہیں ۔۔ ایویں حلال کہہ کر کھلا دیا ہمیں۔۔
سالک کو نئی فکر لاحق ہوئی۔
ایسا نہیں ہوتا۔۔ ایڈون نے تسلی دی۔۔
وہ سب کھا چکے تھے۔۔ سو اب دل۔پشوری کو بک بک لازم تھئ۔
اسی شیف کی کام کرتے کرتے ان پر نظر پڑی چاروں اسی پر نگاہ جمائے تھے۔۔ وہ اپنا فرائی پین ساتھی کو تھما کر مسکراتا ہوا انکے پاس چلا آیا۔۔
آپ لوگ کولڈ ڈرنک لیں گے؟۔۔ یا چائے۔۔
چائے مگر پہلے ہمیں یہ بتاییں یہ واقعی حلال گوشت ہی تھا؟۔۔ شاہزیب نے سیدھا سیدھا پوچھ لیا
جی بالکل۔۔۔ علی مسکرا دیا۔۔
آپ فکر نہ کریں۔۔۔ یہ ریستوران کا مالک مسلمان ہے اس نے یہ ریستوران بنایا ہی اپنے جیسے مسلمان بھائیوں کیلیئے ہی ہے حلال کھانے کی فراہمی کیلیئے بنایا ہے۔۔
نہ صرف گوشت حلال ہے بلکہ پکانے والے تینوں شیف بھی مسلمان ہیں۔۔ اس نے مزید تسلی کرانی چاہی
سائونڈز گڈ۔۔
اریزہ نے مسکرا کر کہا۔۔
اللہ برکت دے اس ریستوران کے مالک کے رزق میں۔۔
اس نے کہا تو شیف اسے الجھن سے دیکھنے لگا۔۔
دے؟۔۔ وہ شائد جاننا چاہ رہا تھا کیا کہا ہے اس نے
یہ کہہ رہی ہے۔۔ ایڈون نے حسب عادت مترجم کے فرائض نبھائے۔۔
اوہ شکریہ آپکا۔۔
وہ باقائدہ اریزہ کی طرف مڑ کر جھک کر شکریہ ادا کرنے لگا۔۔
اریزہ اتنی دیر سے اسے دائیں رخ سے دیکھ رہی تھی تھوڑا سا چونکی۔۔
او بھائی وہ تمہیں نہیں مالک کو دعا دے رہی ہے۔۔
سالک نے چمچ مارنا ضروری سمجھا۔۔
اریزہ اتنا شکریہ ادا کر رہا اسے بھی دعا دے دو۔۔
وہ پہلا جملہ انگریزی دوسرا اردو میں بولا۔۔
اس سے پہکے اریزہ کچھ کہتی اس نے دوبارہ جھک کر بتایا۔۔
میں ہی مالک ہوں اس ہوٹل کا ۔۔ علی نام ہے میرا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں دریا کنارے بنچ پر بیٹھے تھے۔۔ رات کے نو بج رہے تھے۔۔
امتحانوں میں وقت کیسا بھاگتا اورآج کیا کچھ نہیں کر لیا ہم نے پھر بھی نو ہی بجے ہیں ابھی بس۔۔
اریزہ اکتائی۔۔
زندگی میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا جن امتحانوں کو ہم کوستے تھے ان سے بھاگتے ایکدن بیٹھے امتحان نہ دے سکنے پر اداس رو رہے ہونگے۔۔
ایڈون ہنسا۔۔پھر بتانے لگا
کل تین جگہ جانا ہے انٹرویو دینے ایک جگہ سیلز مین کیلیئے ایک جگہ ویٹر کے لیئے ایک ورکشاپ میں گاڑیاں دھونے کیلیئے۔۔ سیلز گرل کی جاب کروگی اریزہ ایک سپر اسٹور میں؟
سپر اسٹور میں۔۔ وہ چونکی۔۔وہ تھوڑا ہچکچا گئ
اریزہ کو کیا ضرورت ہے جاب کرنے کی۔۔ سالک ہنسا
میری مانو تو گھر جائو پڑھائی مکمل کرو شادی کرو ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے یہاں کی ہو یا وہاں کی تم نے کونسا نوکری کرنی۔۔
یہ شاہزیب تھا۔۔
ویسے تو تمہیں ضرورت نہیں مگر وقت گزارنے کیلیئے برا نہیں جاب کرنا یونیورسٹی تو جانا نہیں سارا دن گھر میں بور ہونے سے بہتر ہے۔۔
ایڈون نے سینجیدگی سے کہا۔۔
ٹھیک ہے۔۔
شاہزیب کے جملے اسے بری طرح کھلے تھے۔۔
اسکے لیئے فیصلہ کرنا آسان ہو گیا۔۔
چلو نو بج گئے ہوسٹل جاتے جاتے دس ہو جائیں گے۔۔اٹھو
ایڈون نے کہا تو شاہزیب اور سالک منمنائے
کیا کرنا ہاسٹل جا کر سب پڑھائی میں لگے ہونگے دیکھ کر دل جلتا اور یونی پر لعنت بھیجنے کا دل کرتا۔۔
مرو یہیں رہنا رات بھر یہیں مرنا سردی میں۔۔
ایڈون بھنایا
ہاں یہیں رہوں گا میں مروں گا بھی پھر روح بھٹکے گی میری کسی چندی آنکھوں والے کو چین سے یہاں بیٹھنے نہیں دوں گا چٹکیاں کاٹا کروں گا یہاں آنے والوں کے۔۔
سالک چلا چلا کر کہتا دونوں ہاتھ پھیلا کر دریا کی طرف رخ کیئے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔۔
کورین بھی سوچیں گے کن سے پنگا لے لیا ہے۔۔
اریزہ ہنس کر بولی
سنو کوریو۔۔بھگتو ہمیں ۔ شاہزیب بھی ترنگ میں آکر اٹھ کھڑا ہوااور اسکے پاس جاکر اسی کی طرح ہاتھ پھیلا کر چلایا۔۔
۔ اگر تم لوگ ہمیں نہ نکالتےتو ہم آرام سے ڈورم میں بیٹھے پڑھائی کر رہے ہوتے۔۔ اب ہم نیندیں حرام کریں گے تم لوگوں کی۔۔
سن رہے ہو۔
دونوں چلا رہے تھے۔۔
یہ دونوں دیوانے ہو چلے ہیں۔۔ چلو تمہیں گھر چھوڑ دوں کہاں جائو گی ڈورم یا گوارا کے گھر؟۔۔
ایڈون نے پوچھا تو وہ پر سوچ انداز میں اسے دیکھنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصویر میں سے خاتون چلا چلا کر اسے آوازیں دے رہی تھیں۔۔
گوارا کی بچی۔۔ اٹھو مرو دیکھو کون ہے دروازے پر۔۔ ایک تو تمہارے کرتوت ایسے کہ اکیلی پڑی ہو سب دوستیں بھاگ گئیں نا چھوڑ کر ۔۔ سدھر جائو یہ کونسا وقت ہے سونے کا رات بھر کیا کروگی۔۔
وہ چلا چلا کر تھک کر کھانسنے لگیں۔۔
گوارا بے خبر سوئی ہوئی تھی جب مسلسل بجتی اطلاعی گھنٹی اسے بیدار کر ہی گئ۔۔
اریزہ دیکھو کون ہے۔۔
اس نے لیٹے لیٹے ہی آواز لگائی۔۔ پھر یاد آیا اریزہ تو گھر پر ہے ہی نہیں۔۔۔ منہ بنا کر چادر ایک طرف کرتی اٹھ کھڑی ہویی۔۔ بے زاری سے چپل گھسیٹ گھسیٹ کر چلتی جمائی لیتی دروازہ کھولنے لگی
کون۔۔ اس نے سیدھا دروازہ کھولا تھا پھر اسکی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں۔۔
تم۔۔
پیلی پھٹک رنگت نڈھال سی شکل ہوپ کو کم سن سہارا دیئے کھڑا تھا۔۔
کیا ہوا تمہیں۔۔وہ پوچھ رہی تھی۔۔
اندر تو آنے دو۔۔
کم سن نے کہا تو وہ جھٹ سے ایکطرف ہو گئ
ہوپ نے کم سن سے بازو چھڑانا چاہا مگر اسکی گرفت مضوط تھی۔ اسکے احتجاج کی پروا نہ کرتے ہوئے بھی اسے کمرے تک لایا۔۔ گورا پیچھے پیچھے آئی۔
بیڈ کے قریب آکر اس نے ایکدم سے دونوں ہاتھ چھوڑ دیئے۔۔ وہ لہرا کر بیڈ پر بے دم سی ہو کر بیٹھی۔۔
یہ حال ہے تمہارا ایک قدم چل نہیں سکتیں اوپر سے ضدی اتنی ہو ۔۔
وہ بھنایا۔۔ پھر اپنا اپر اوپر کر کے بازو کی خراشیں دیکھنے لگا جو اسے ناخنوں سے آئی تھیں۔۔
تمہیں کیا اس سے میں جیوں مروں گروں اٹھوں۔۔
نحیف آواز میں بھی وہ بالکل برداشت کرنے کو تیار نہ ہوئی ۔۔ اسکے چہرے پر تکلیف نمایاں تھیں آنکھوں کے کنارے بھیگ چلے اس نے آنکھیں میچ لیں جیسے کسی ازیت کو سہا ہو۔۔
کیم چھنا۔۔ گوارا بھی تڑپ کر آگے بڑھی۔۔
مجھے معاف کردو۔۔ اگر میری وجہ سے تکلیف پہنچی ہے ۔۔۔ کم سن گڑ مرنے کو آگیا۔۔
ہوپ نے کوئی جواب نہیں دیا خاموشی سے چادر اوڑھتی لیٹ گئ سر تک تاک لی۔۔
کیا ہوا۔ہے اسے؟۔۔ کہاں ملی یہ تمہیں دو دن سے تو گھر بھی نہیں آئی۔۔
گوارا سٹپٹا گئ تھی۔۔
کم سن نے گہری سانس لی پھر ہاتھ میں پکڑے دوائیوں کے شاپر اسے تھمائے۔۔
یہ اسکی۔دوائیاں ہے۔۔ اسپتال میں تھی دو دن سے۔۔ مجھے سڑک۔کنارے بے ہوش ملی تو اسے میں ہی لیکر گیا تھا۔۔
اس نے تسلی دلانے کو تفصیل سے بتایا مگر گوارا کی تسلی ہو نہ سکی۔۔
کیا ہوا ہے اسے۔؟۔۔
ہوپ نے بے چین سا ہو کر کروٹ بدلی۔۔
کم سن نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر گوارا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا پھر اسکے ساتھ چلتا ہوا اسے کمرے سے باہر لے آیا۔۔
بخار ہے کمزوری ہے۔۔ ڈاکٹر نے مکمل آرام کرنے کو کہا ہے یہ مجھے منع کر رہی تھی مگر میں نے اسکے اسٹور کے مالک سے بات کر لی ہے ایک ہفتے کی چھٹی دلوا دی ہے اسے ۔۔ یہ دوائیں پابندی سے کھانی ہیں اس نے ساتھ فروٹ یخنی بھی ۔۔ میں ابھی جاتے ہوئے دے کر جائوں گا۔باقی یہ دوائیں سنبھال لو کچھ طاقت کے سیریل ہیں ان میں کچھ کھانے کو تیار نہیں ہوتی مگر یہ اسے ضرور ٹھنسا دینا ۔۔ وہ آخر میں چڑا۔۔
ضرور آخر کو میری اکلوتی بیٹی ہے پورا خیال رکھوں گی اسکا۔۔
گوارا بھنا اٹھی۔۔
مجھ سے موصوفہ سیدھے منہ بات تک نہیں کرتیں ہیں۔۔ اریزہ پھر اسے قابو کر لیتی ہے اس سے بھی لڑ چکی ہے۔۔ یہ عجیب آہجومہ۔۔
میں تو اسکا باپ لگتا ہوں نا جو مجھے شکایتیں لگا رہی ہو۔۔
وہ بھی چڑا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر سیدھا جی ہائے کے کمرے میں آئی تھی۔۔ سنتھیا واش روم میں تھی یا باہر پتہ نہ چلا۔اسکا سامنا کرنے کودل نہیں کر رہا تھا
۔۔ جی ہائے کہاں گئ۔۔ کمرہ خالی ڈھنڈار دیکھ کر اس نے سوچا۔۔
بریو ہارٹ کا لیڈ سنگر جگمگاتی مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اتنا پیارا وال پیپر تھا وہ بے ساختہ مسکرا دی۔۔
ایک تو تمہیں مجھے تمہارا ایم پی تھری یا جو بھی وہ بلا ہے واپس کرنا ہے ۔۔ کہاں ملو گے تم ۔۔
وہ اسکے وال پیپر سے مخاطب تھی۔۔
ہایون کہہ تو رہا تھا ستمبر میں کانسرٹ ہے تمہارا کل ملتا تو یاد دہانی کراتی ہوں۔۔ وہ اسے تسلی دے کر لیپ ٹاپ آن کرکے بلاگ کھولنے لگی تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔
ہایون کالنگ۔
وہ ششدر رہ گئ۔۔
بڑی عمر ہے تمہاری۔۔
وہ مسکرا کر رہ گئ۔۔
ہے۔۔ وہ بے ساختہ کہتے کہتے رکی۔۔
اسلام و علیکم۔۔
اس نے مسکرا کر سلام کیا۔۔
وعلیکم السلام۔۔
وہ بھی خوش دلی سے جوابا بولا۔۔
کیسی ہو؟۔۔
ٹھیک یو؟۔۔
وہ لیپ ٹاپ پر اپنی فیس بک آئی ڈی کھولنے لگی۔۔
کیا کر رہی ہو؟۔۔
وہ باتوں کے موڈ میں تھا
کچھ خاص نہیں بلاگ کھول رہی کچھ بک بک کروں گی پھر سو جائوں گی۔۔ تم کیا کر رہے ہو۔۔
اس نے یونہی پوچھا۔۔
میں۔۔ اس نے پیٹ پر دھرے لیپ ٹاپ کو دیکھا۔۔ جس کی اسکرین کافی حیران کن ویب سائٹ کھلی دکھا رہی تھی۔۔
تمہارا بلاگ بھی ہے؟۔ اردو میں ہے؟۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
آہ ہاں نہیں۔۔ مکس سا ہے۔۔ آدھا اردو میں آدھا انگریزی میں۔۔
وہ گڑ بڑائی۔۔
میرا بلاگ اردو میں تو نام کا ہی ہے۔۔
وہ بڑ بڑائی
مجھے ایڈریس دو میں بھی سیر کروں گا۔۔
اس نے بڑی دلچسپی سے کہا تھا۔۔
اریزہ نے فورا بتا دیا۔۔
ہایون نے فورا بک مارک کیا تھا ۔۔
اچھا یہ بتائو۔موڈ کیسا ہے تمہارا۔۔ میں نے سنا تھا تم لوگوں نے اسسیسمنٹ ٹیسٹ دینے کی حامی بھر لی ہے۔۔
ہاں۔۔ وہ گہری سانس لیکر بولی۔۔
اور کیا کرتے۔۔ مجبوری کا نام شکریہ۔۔
واٹ مجبوری؟۔ وہ چونکا۔۔
مجبوری؟۔۔ اریزہ سوچ میں پڑی۔
ایک تو یہ اچھا میری انگریزی ووکیبلری کا امتحان لیتا رہتا۔ وہ بڑ بڑائی مگر ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔۔
جھٹ دوسری ٹیب میں گوگل کھولا اور میں مجبوری سرچ کیا۔۔
سمجھ گیا۔۔ ہایون نے کہا تو وہ چونکی۔۔
میں نے گوگل کر لیا تھا۔۔ وہ بتا رہا تھا۔۔
ہممم۔ اریزہ نے ہنکارہ بھرا۔۔
ایک تو کورین انٹر نیٹ ایکسپلورر ہی استعمال کرتے خود کروم استعمال کر رہی تھی وہ عادتا۔۔
ہاں یہ ماننے والی بات تھی انٹر نیٹ کی رفتار تھی کہ گولی دھڑ ھڑ سب ٹیب کھلتی جا رہی تھیں۔۔
میں مدد کر سکتا ہوں ٹیسٹ کیلیئے تم مجھے کبھی بھی رابطہ کر سکتی ہو۔۔
وہ پورے خلوص سے کہہ رہا تھا۔۔
شکریہ ۔۔ وہ بھی مسکرا دی۔۔
یہ بتایو تمہارا امتحان کیسا ہوا؟۔
اچھا تھا۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
اللہ کامیاب کرے ۔۔ اس نے دل سے دعا دی۔۔ ہایون بے ساختہ ہنسا۔۔
ہنسے کیوں۔۔ وہ برا مان گئ
ایسے ہی اچھا آئسکریم کھائوگی؟۔ آجائوں لینے؟۔۔
اس نے پوچھا تو وہ گڑ بڑا گئ۔۔
اس وقت۔۔ اس نے لیپ ٹاپ میں وقت دیکھا۔۔
دس بج رہے تھے۔۔
ظاہر ہے۔۔ وہ الٹا حیران ہوا۔۔
نہیں میں تو سونے لگی۔ اور ویسے بھی میں ہاسٹل میں ہوں گوارا کے گھر نہیں۔۔
اچھا۔۔ وہ تھوڑا مایوس ہوا۔۔
یونیورسٹی تو جانا نہیں وہاں کیا کر رہی ہو۔۔
وہ برامان گیا۔۔
زلیل ہو رہی ہوں اور کیا۔۔
وہ بھی چڑ کر بولی۔۔ صبح کی یاد تازہ ہوئی۔۔
زالیل۔۔
وہ اس سے مطلب پوچھنے کی بجائے بول کر سرچ کر رہا تھا۔۔
رک۔جائو۔۔ وہ گھبرا گئ۔۔
اسکو سرچ مت کرنا ۔اس نے سختی سے منع کیا۔۔ جانے کیا مطلب نکلے وہ سٹپٹا کر اردو میں بولی۔
ہایون اسکے انداز پر ہنسا ۔
کیا یہ برا لفظ ہے۔۔ اس نے واقعی تلاش ترک کر دی۔۔
آہ۔۔ ہاں۔۔ میرا مطلب میں بتا دیتی۔۔ اسکا مطلب انسلٹ۔۔
اسے سوجھ ہی گیا جواب۔۔
کس نے انسلٹ کی ہے۔۔ وہ سنجیدہ ہوگیا۔۔
تم صبح کافی اپسیٹ تھیں بتائو مجھے کسی نے کچھ کہا ہے کیا۔۔ ؟۔
نہیں وہ۔۔ تمہیں کیسے پتہ چلا میں اپ سیٹ تھی۔۔
وہ الٹا حیران ہوئی
تمہارا چہرہ اترا ہوا تھا صبح ۔۔ ڈورم سے ائی تھیں۔۔ پھر سنتھیا نے کچھ کہا ہے؟۔ تم اسکو شٹ اپ کال کیوں نہیں دیتیں۔۔ وہ دوست نہیں ہے تمہاری کونسا دوست آپکا ہر وقت دل دکھاتا رہتا۔۔مسلہ کیا ہے اسکے ساتھ کس بات پر لڑتی ہے تم سے۔۔
اسے جانے کیوں غصہ آگیا تھا
اریزہ چپ ہی رہ گئ۔۔
میں نے انجانے میں اسے کافی تکلہف پہنچا دی ہے۔۔ اور اسکے سامنے رہ کر شائد اسے مزید دکھی بھی کر رہی۔۔ تم صحیح کہہ رہے تھے مجھے یونی جانا نہیں تو واپس گوارا کے اپارٹمنٹ چلے جانا چاہیئے مجھے۔۔
میں کل تمہیں پک کر لوں گا تم اپنا سامان سمیٹ لینا۔ اور ڈورم چھوڑ ہی دو بے وجہ خرچہ ہے ۔۔
تم زحمت مت کرو۔۔ اس نے منع کرنا چاہا
کوئی بات نہیں۔۔ بس تم کل تیار رہنا ۔
اس نے قطیعت سے کہا تو اسے سر ہلانا پڑا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا چولہے کے آگے کھڑی سوپ بنا رہی تھی۔۔
کم سن میز پر بیٹھا سبزیاں کاٹ رہا تھا۔۔
مس یو اریزہ۔۔
اس نے سر اٹھا کر مظلوم سی شکل بنائی۔۔
جب سے تم میری زندگئ میں آئی ہو کھانا پکانا لگانا میں بھول سی گئ ہوں۔واپس آجائو بس بہت ہو گیا۔۔
وہ ٹھنک رہی تھی۔۔
کم سن نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسکے انداز پر مسکرا دیا۔۔
بخار سے زیادہ تو مضمحل لگ رہی تھی۔۔
وہ چونک کر پلٹی۔۔ کم سن کے سبزی کاٹتے ہاتھ رکے۔۔
بس بخار ہی ہے کوئی سنگین بیماری میں مبتلا تو نہیں ہے؟۔ اسے سچ مچ تشویش تھی۔۔
کم سن نے چند لمحے سوچا پھر فیصلہ کر کے بتا ہی دیا
اسکا کچھ عرصہ حمل ضائع ہوا ہے۔ اسکو اندرونی پیچیدگی کا سامنا ہے ۔۔ بہت کمزور ہے اچھی خوراک اور آرام کی ضرورت ہے۔۔
گوارا کا منہ کھلا رہ گیا تھا
وے؟ میں نے لگ رہا کچھ غلط سن لیا دوبارہ کہو۔۔
اسے یقین نہ آیا۔۔
کم سن چپ ہی رہا ایک نظر اسے دیکھ کر دوبارہ سبزیاں کاٹنے لگ گیا۔۔
میرے خدا۔۔ میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا یہ شادی شدہ ہوگی۔۔
وہ پر سوچ نظروں سے اسکے کمرے کے بند دروازے کو دیکھ رہی۔تھی جیسے آر پار ہی تو نظر آجائے گا
شادی شدہ تو ہوگی ہی۔۔ یا بوائے فرینڈ چھوڑ گیا اسے۔۔
وہ ڈوئی لہرا رہی تھئ۔
عجیب۔۔۔
شمالی کوریائی لڑکی ہے وہ ہم سے بھی زیادہ قدامت پرست ہوتے وہاں شادیاں بھی جلدی کر دی جاتی ہیں اسکے شوہر کو تو شاید خبر بھی نہ ہو۔۔
کم سن نے بھی اندازہ ہی لگایا۔۔
ہاں یہ تو ہے۔۔
عجیب بات ہے مگر مجھے اس لڑکی کیلیئے دل میں کچھ کچھ محسوس ہو رہا۔۔ شائد ترس آرہا ہے۔۔
گوارا نے کہا تو کم سن کو اسکے منہ بنا کر کہنے پر ہنسی ہی آگئ۔۔
ہمدردی ہو رہی ہے تمہیں۔۔
اس نے جتایا۔۔
جو بھی ہے مگر مجھے لڑکیوں کیلیئے ایسےجزبات محسوس ہونے نہیں چاہیئے۔۔ اس دن اریزہ رو رہی تھی میرا دل کٹ رہا تھا آج یہ بیمار ہے مجھے دکھ ہو رہا ۔۔ یہ کوئی صحتمندانہ رویہ نہیں۔۔یون بن بچا لو اپنی گرل فرینڈ کو۔۔
وہ باقئدہ آخر میں سر اونچا کر کے چیخ بھی لی۔۔
آرام سے ۔۔ جاگ جائے گی۔۔
کم سن نے فورا ٹوکا۔۔ وہ سر ہلا کر موبائل دیکھنے لگئ۔۔
امتحان ختم ہوں جان چھوٹے۔اوہ نو۔۔ آج اکتیس جولائی تھی ۔
گوارا چیخ ہی پڑی
ہاں۔۔ کم سن نے اطمینان نے سے کہا پھر چونکا۔۔
میں برباد ہوگئ۔ ۔
آہ ۔۔ ہا آہ۔۔ وہ وہیں زمیں پر سر پکڑتی دھاڑے مارتی بیٹھ گئی۔۔
مجھے تو یاد ہی نہیں تھا۔۔ ہائے مجھے تو اسائمنٹس بھی اریزہ یاد کراتی تھی۔۔ اس نے آج مجھے نہیں اٹھایا تو میں تو اٹھئ بھی نہیں۔۔۔
کم سن کو اب صورت حال کی سنگینی کا اندازہ ہوا
تمہارا پرچہ رہ گیا۔۔ کیا؟
اس نے افسوس سے پوچھا۔۔
میرا آج ڈرما ٹولوجسٹ سے اپائنٹمنٹ تھا میں نے یاد دہانی کیلیئے یاد رکھا تھا مجھے جس دن پرچہ دینا تھا اس سے ایک دن پہلے شام کو ڈاکٹر سے ملنا تھا۔۔ میرا اتنی مشکل سے ملا اپائنٹمنٹ کینسل ہو گیا۔۔
وہ سینے پر ہاتھ مار کر آنسوئوں سے رو رہی تھی۔۔
ہائے مجھے یاد کیوں نہ رہا۔۔
کم سن جو گھبرا کر اپنی کرسی سے اٹھ گیا تھا واپس بیٹھا پلیٹ سے گاجر اٹھا کر کترتے طنز سے بولا
میں سمجھا پرچہ ضائع ہو جانے پر رو رہی ہو۔۔
پرچہ ضائع ہو جاتا کاش امتحان تو دوبارہ دے لوں گی۔۔ اف کوریا کی تین بہتریں ڈاکٹروں میں سے ایک ہے کم از کم بھی چھے مہینے پہلے اپائنٹمنٹ لینا پڑتا۔۔ اف ایک ایک دن میں نے گن گن کر گزارا تھا۔۔
اسکا دکھ کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
چولہے پر چڑھے سوپ نے احتجاج کیا تو اسے رونا موقوف کرکے اٹھنا پڑا۔۔
اف مجھے چکر آرہے ہیں۔۔
اس نے سوپ میں چمچ چلاتے ہوئے کہا پھر لہرا بھی گئی۔۔
کم سن اسکے بالکل پیچھے آکھڑا ہوا تھا۔۔ اسی سے ٹکرا کر سیدھی ہوئی۔۔
یہ دیکھو۔۔
اس نے ایک ہاتھ میں پلیٹ پکڑی تھی شاید یہی تھمانے اٹھا تھا۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے موبائل میں کھنچی تصویر اسے دکھانے لگا۔۔
پھوٹ پھوٹ کر روتی بکھرے بالوں میں آنسوئوں سے گیلے چہرے کے ساتھ بھی وہ کافی دلکش لگ رہی تھی۔۔
اپنے سحر میں وہ خود ہی مبہوت ہوگئ۔۔
یہ میں ہوں۔۔ اس نے لپک کر موبائل تھاما
ہاں ایسی بہتی موٹی بھدی ناک تمہاری ہی ہے اس تصویر نے مجھے بھی قائل کر لیا ہے تمہیں واقعی پلاسٹک سرجری کرا لینی چاہیئے۔۔
سنجیدگی سے بولتے جملے کے اختتام تک وہ گوارا کے دو تین مکے کھا چکا تھا پھر بھی ہنستے ہنستے بات مکمل کر ہی لی۔۔
زہر انسان ہو تم ۔۔۔ مار کر دل ٹھنڈا نہ ہوا تو زبانی گولا باری کا سہارہ لیا
وہ ہنسے گیا۔۔
پیسے کتنے کم رہ گئے ہیں تمہارے۔۔
وہ چھیڑنے سے باز نہیں آیا
بقیہ تم دو گے۔۔ وہ بھنا کر سوپ میں چمچ چلانے لگی
دے بھی سکتا آج تو میرا بھی دل پگھل گیا ہے۔۔
وہ کہہ کر فورا پیچھے ہوا۔۔ گوارا اسے اندازے کے عین مطابق مارنے دوڑی تھی۔۔
گر جائیں گی۔۔ اس سے مار کھاتے اس نے ٹیڑھی ہو جانے والی پلیٹ بمشکل بچائی۔۔ گوارا بھی گھورتی سیدھی ہوئی
یہ لو۔۔ کم سن نے سبزیاں تھمائیں تو اس نے بھی سوپ میں ڈال دیں پھر چمچ چلاتے نخوت سے بولی

میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا میرے جیسی لڑکی ایک دن کسی شمالی کوریائی جاسوس کیلیئے سوپ بنارہی ہوگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنتھیا کے ساتھ صبح ناشتہ کرنے نیچے ہال میں آئی تھی۔۔ اس سے مرضی پوچھ کر اسکا ناشتہ لینے اٹھی تو اریزہ بھی بوفے سے ناشتہ اٹھاتی دکھائی دی۔۔ سبزیوں کا سوپ تھاجس میں نوڈلز ڈالے ہوئے تھے۔۔ ساتھ سادے چاول تھے اس نے ایک پلیٹ میں سادے چاول لیئے تھے ساتھ ایک پیالہ سوپ۔
وہ اپنی اور سنتھیا کی پلیٹ بنا چکی تب بھی اریزہ کو پر سوچ نظروں سے سوپ میں چمچ چلا چلا کر دیکھتے پایا۔۔
اس میں گوشت نہیں ہے ہاں چکن کا ٹیسک میکر ڈالا ہوا ہے۔۔
اس نے اسکی الجھن دور کی۔ اریزہ اچھل ہی تو پڑی۔۔
کہاں تھیں تم رات بھر میں انتظار کرتی رہی تمہارا۔۔
وہ پیالہ وہیں رکھ کر اسکے پاس چلی آئی۔۔
تم کہاں تھیں رات بھر ۔ جے ہی نے الٹا اسی سے سوال کیا۔۔
میں تمہارے کمرے میں اور تم۔۔ اریزہ نے حیران ہو کر پوچھا
میں ہاسٹل سے ملحق کلینک میں سنتھیا کے ساتھ تھی۔
جی۔ہائے بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔
کیوں۔؟۔وہ بھونچکا ہوئی
اچھا۔۔ یہ دوسرے ٹرے کس کیلیئے لیکر جا رہی ہو۔۔ اریزہ کی اسکے ہاتھوں پر نظر پڑی تو پوچھ لیا
یہ سنتھیا کی ہے ۔۔ اسکی کل سے طبیعت خراب ہے بخار ہے میں اسی لیئے رات بھی اسکے پاس ہی رکی۔۔
جے ہی نے کہہ کر غور سے اریزہ کا چہرہ دیکھا۔۔
جس کے تاثرات یکدم سپاٹ پڑ گئے تھے۔۔
اوکے۔۔ اس نے مختصرا کہا پھر پلٹ کر جانے لگی
ناشتہ نہیں کر وگی؟۔۔ جے ہی نے ٹوکا۔۔
میں گھر جا کر کر لوں گی گوارا کے ساتھ۔۔
وہ کہہ کر رکی نہیں تھی۔۔
اس نے ناشتہ لا کر رکھا تو سنتھیا شکر گزار ہوئی۔۔
گومو وویو۔۔
اس نے مسکرا کر کہا تو جی ہائے مسکرا دی۔۔ ماضی کی یاد تازہ ہوئی۔۔
اریزہ نے ناشتہ نہیں کیا؟۔۔ چاول کھاتے بظاہر سر سری سے انداز میں اس نے پوچھا۔۔
نہیں چلی گئ وہ۔۔ بتایا تو تھا اسے تمہارہ طبیعت کا
جے ہی بھی سرسری ہی انداز اپنایا۔۔
میری طبیعت کا سن کر بھی پوچھنے نہیں آئی۔
وہ دھیرے سے بولی۔۔ جی ہائے کو اسکی بات اردو میں ہونے کی وجہ سے سمجھ نہ آئی سو کندھے اچکا کر ناشتہ کرنے میں مگن ہوگئ۔۔
اگزیم کیسے جا رہے تمہارے۔۔
اس نے سر اٹھا کر ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔۔
اچھے ہمیشہ کی طرح۔۔
وہ پر اعتماد انداز میں بولی۔۔
سنتھیا اسکے انداز پر ہنسی۔۔
اریزہ بھی اتنی ہی پر اعتماد رہتی ہے اگزیمز کی اسے کبھی فکر نہیں ہوتی ۔۔ بلکہ وہ تو پر جوش ہو جاتی ہے کوئی حیرت نہیں جو وہ اتنی بر ی طرح مایوس ہوئی ہے ۔۔
سنتھیا کے کہنے پر جی ہائے نوالہ چباتے بہت غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔
اریزہ تمہاری بہت اچھی دوست ہے نا۔ تم اسے پسند کرتی ہو تو منا کیوں نہیں لیتی دور کرو اپنا جھگڑا۔۔
جی ہائے نے کہا تو سنتھیا مسکرا کر بولی۔۔
میں اسے پسند نہیں کرتی۔۔ بلکہ۔۔وہ رکی۔۔
میں اس سے محبت کرتئ ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے پارکنگ میں گاڑی سے ٹکے ہایون کو محو انتظار پایا۔۔
اسے دیکھ کر وہ فورا سیدھا ہوا تھا۔۔
آننیانگ۔۔ اریزہ نے سلام کیا
اسلام و علیکم۔۔۔ ہایون بھی اسکے ساتھ ہی بولا۔۔
دونوں اس اتفاق پر ہنس پڑے۔۔
کیسی ہو۔۔
کیسے ہو۔۔
ابھی بھی دونوں اکٹھے بولے تھے۔۔
اف۔۔
چلو۔۔ ہایون نے کہا تو
اریزہ سر ہلاتی گاڑی کے فرنٹ ڈور کی طرف بڑھی۔۔
ہایون مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
وہ فرنٹ سیٹ کی طرف گئی پھر سر پر ہاتھ مار کر واپس آئی۔۔ ہایون نے لبوں پر مسکراہٹ دباتے پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا۔۔
اب تم پسنجر سیٹ کی طرف کیوں کھڑے تھے۔۔
اس نے بھنا کر اپنی کھسیاہٹ مٹائی۔۔
وہ کچھ نہ بولا احتیاط سے دروازہ بند کر کے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آیا۔۔ اب وہ کھل کر مسکرا رہا تھا۔۔ بیٹھتے ہی سیٹ بیلٹ لگائی
اریزہ کو بھی ہنسی آگئ۔
وہ گاڑی اسٹارٹ کرتے کرتے رک کر اسے دیکھنے لگا۔۔
کیا ہوا؟۔۔
وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔
سیٹ بیلٹ۔۔
اس نے ٹوکا۔۔
اف ۔۔ ایک تو یوں بندھ کر بیٹھنا کتنا برا لگتا۔۔
وہ اردو مین بڑ بڑاتی مڑ کر سیٹ بیلٹ کھینچ کر لگانے لگی۔۔
کم از کم ایک فائدہ ہوگا اب تم پاکستان جا کر بھی سیٹ بیلٹ لگایا کرو گی۔۔
ہایون اترا کر بولا۔۔
تم پاکستانیوں کو ہلکا لے رہے ہو۔۔ ہم فطرتا باغی ہیں۔۔
وہ بھی شرارت سے ہنسی۔۔
تم کورین کو جان لو۔۔ مستقل مزاج ہوتے ۔۔
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔۔
ناشتہ کیا ہے تم نے؟۔۔
اس نے پوچھا تو اریزہ فورا نہیں کہتے کہتے رک گئ۔۔
ہاسٹل میں کیا کھایا ہوگا۔۔ چلو ناشتہ کرتے ہیں۔۔
وہ خود ہی بولا۔۔
کیا کھائیں گے۔۔
اریزہ منہ بنا کر بولی۔۔
کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اچھا کھانے کے پیچھے ندیدی ہو جائوں گی۔۔حسب عادت وی آدھی انگریزی آدھی اردو زبان ملا کر بولی
واٹ ندیدی۔۔؟۔۔
ہایون نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
ایک تمہیں کیا ہر بات کا مطلب جاننا ہوتا۔۔ وہ ابھی بھی اردو میں چڑی۔۔
سچ بتائو اردو تو نہیں سیکھ رہے ہو پاکستان جا رہے ہو؟۔۔ دھماکے ہوتے ہیں وہاں۔۔ دو دن نہیں ٹک پائو گے۔۔ دوڑے دوڑے واپس آئو گے ۔
وہ انگریزی میں اسے ڈرا رہی تھی۔۔
ہایون کھل کر ہنسا۔
تم لوگ بولتے ہی اتنا ٹھہر ٹھہر کر ہو۔۔ میں نے انڈین موویز بھی دیکھی ہیں مگر قسم لے لو زرا جو کوئی ہندی کا لفظ جان پایا۔۔ تم سے کئی لفظ سیکھ لیئے۔
پٹاتی۔۔ پاگل۔۔ کھانا کھانا ۔۔ندیدی۔۔ دماغ ۔۔ ظارف(ظرف)۔۔ عقل۔۔ وہ گنوا رہا تھا اریزہ کی آنکھیں بڑی سے بڑی ہوتی جا رہی تھیں۔۔
تمہیں انکا مطلب پتہ؟۔۔
کچھ کا ظارف کا مطلب نہیں پتہ۔۔ گوگل کیا تھا مگر کچھ خاص سمجھ نہیں آیا۔۔ اور ندیدی کو آج گوگل کروں گا۔
وہ اطمینان سے بتا رہا تھا۔۔
مجھے تو اتنے دن میں بس گومو وویو اور آننیانگ ہی یاد ہوئے۔
وہ متا ثر ہوئی۔۔
سارانگھئے بھئ سیکھ لو۔۔
وہ موڑ کاٹ رہا تھا۔۔ اریزہ نے اسے لبوں پر مسکراہٹ دباتے دیکھا تو مشکوک ہوئی۔۔
کوئی گالی ہے یہ؟۔ ویسے یہ سب جو لفظ تم نے مجھ سے سیکھے ہیں ان میں ایک بھی گالی نہیں۔۔
اس نے جتایا۔۔
مگر مجھے اردو کی گالیاں بھی آتی ہیں۔۔
ہایون ہنسا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے ایک غیر ملکی ریستوران لایا تھا۔۔
سبزیوں کے سینڈوچ کیک اور فروٹ سیلڈ ساتھ فریش اورنج جوس۔۔
ناشتہ سب میٹھا میٹھا تھا مگر مزے کا تھا۔۔
دونوں خاموشی سے کھا رہے تھے۔۔
اسکو اردومیں کیا کہتے۔۔
وہ ایووکاڈو کانٹے میں پھنسائے تھا۔۔
یہ وہاں ہوتا ہی نہیں ہے۔۔
وہ ہنسی۔۔
واقعی۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
اسٹاربری بھی وہاں اب کاشت ہونے لگی ہے ورنہ ہم بس فلیور اور کین پر گزارا کرتے تھے۔۔
اس نے کندھے اچکائے۔۔
وہاں کونسا پھل ہوتا۔؟۔۔
آم مالٹا کیلا سیب انار ۔۔ وہ سلاد میں سے ایک ایک چن کر اسے بتا رہی تھی۔۔
یہ سب یہاں بھی ہوتا ہے تمہیں زیادہ فرق نہیں لگا ہوگا یہاں آکر۔۔
وہ جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا پوری آنکھیں کھولے اس سے تائید چاہ رہا تھا۔۔
ہمم۔ وہ سمجھی نہیں ویسے ہی کندھے اچکا دیئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی کے کیمپس کی طویل مگر سنسان سی راہگزر پر لیمپ پوسٹ کی مدہم روشنی میں نپے تلے قدم اٹھاتے ٹہلتے اس نے درجنوں دفعہ ایڈون کا چہرہ تکا تھا۔
وہ بالکل۔خاموشی سے اسکا ساتھ دے رہا تھا۔ گا ہے بگا ہے اسکی اپنی جانب اٹھتی نگاہ محسوس کرنے کے باوجود بھی چپ ۔۔ اتنا چپ کے سنتھیا کو۔جھلاہٹ سی ہونے لگی۔
میرے بابا تمام پڑھائی کا خرچ اٹھا لیں گے کیوں اتنا پریشان ہو رہے ہو۔
اس نے کہہ ہی دیا۔ ایڈون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔
مگر مجھے انکل آنٹی پر بوجھ نہیں بننا۔ وہ ویسے ہی ہماری فیملی پر بہت احسان کر چکے ہیں۔
اسکا انداز قطعی سا تھا۔
ہم ہاسٹل کی بجائے کوئی کمرہ دیکھ لیتے ہیں۔ قریب ہی کہیں۔
سنتھیا نے ایکدم سے کہا تھا۔
کیوں؟ اور تم کیوں رکنا چاہ رہی ہو؟ دو سال ضائع ہو جائیں گے تم جاکر اپنی ڈگری تو مکمل کرلو۔
تم کیوں رکنا چاہ رہے ہو۔ سنتھئا چڑ کر بولی۔
تم نے پڑھائی مکمل کرکے گھر کا خرچہ اٹھانا ہے میرے ماں باپ کا احسان بھی نہیں لینا تو یہاں دو سال ضائع کرنے کی بجائے اپنا وقت اور پیسہ کیوں نہیں بچاتے؟
وہاں ڈگریاں لیکر لوگ بے روزگار پھر رہے ہیں یہاں دو سال میں سیٹ ہونے کی کوشش کروں گا۔ کچھ کمالوں گا کچھ جوڑوں گا۔یہاں کی ڈگری ہوگئ تو کوئی اہمیت بھی ہوگی ڈگری کی۔
سنتھیا کے برعکس وہ رسان سے سمجھا رہا تھا۔
تم یہاں آنے تک کو تیار نہیں تھیں۔ یہاں ہاسٹل میں رہنا مشکل تھا تمہارے لیئے تم تو آرام سے اپنی ڈگری مکمل کرو نا جا کے۔
میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔
وہ ضدی پن سے بولی۔
پھر وہی بات۔ وہ تھوڑا جھلایا۔
ہم نے ساتھ ہی رہنا ہے زندگی ساتھ گزارنی ہے۔اور مجھے اسی لییے مستقبل کا سوچنا ہے۔ وہاں میرے لیئے مواقع محدود ہیں۔
بابا پیسے بھیجتے تو ہیں۔ ہم کوئی چھوٹا سا فلیٹ لیکر رہ سکتے ہیں۔
سنتھیا کے کہنے پر وہ یوں دیکھنے لگا جیسے اسکا دماغ چل گیا ہو۔۔
کیا ہو گیا ہے؟ ہم اکٹھے ایک گھر لیکر کیسے رہ سکتے ہیں۔ گھر والے الٹا لٹکا دیں گے ہمیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بات گھمانے کی غرض سے بولا۔
کیوں انکو کیا پتہ چلے گا؟ ۔ وہ رک کر اسکا بازو تھام کر بولی۔
سنتھیا کیا بے وقوفی کی۔باتیں کر رہی ہو۔
ایڈون کو غصہ آنے لگا تھا۔
ہم شادی کر لیتے ہیں نا۔ ۔ چرچ میں چل کر۔ پھر تو گھر والے اعتراض نہیں کریں گے۔
جانے اسکے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔ ایڈون زچ ہوگیا
کیا خناس سمایا ہے دماغ میں۔ ۔اور شادی کہاں سے آگئ ؟
اکیس سال کے ہیں ہم بس ابھی۔ شادی وادی کے چکر میں کم از کم میں تیس ایک سال کی عمر تک پڑوں گا۔ ابھی مجھے پڑھنا ہے کیریئر بنانا ہے۔ اور تم بھئ ان فضول باتوں میں لگنے کئ بجائے۔۔۔۔۔
کیوں؟ اکیس سال کی عمر میں ہم ایک ہو سکتے ہیں تو شادی کیوں نہیں کر سکتے؟
وہ اسکا بازو چھوڑ کر ایکدم سے چلائی۔
ایڈون لمحہ کو چپ سا ہوا۔
محبت کرنے افئیر چلانے اور۔۔ وہ بولتے بولتے لحظہ بھر رکی۔۔ الفاظ لبوں تک آ کر دم توڑ گئے۔۔
سب چیزوں کیلئے عمر مناسب ہے شادی مگر اگلے دس سال بعد کرنئ کیوں۔۔
کیا ہوا ہے تمہیں اتنی جھلاہٹ اتنا غصہ کیوں آرہا ہے تمہیں۔
ایڈون حیران سا ہو کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے پوچھنے لگا۔
ہم دونوں پاکستان چلیں گے یا یہیں شادی کرکے اکٹھے رہیں گے۔ اب تم فیصلہ کرو کیا کرنا۔
وہ ضدی پن سے بولی۔
نہ میں پاکستان جائوں گا نہ ابھی شادی کروں گا۔ پاگل ہوئی ہو کیا تم
اسے غصہ آگیا تھا۔
کیوں تم مجھ سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے۔
وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر بولی
شادی شادی۔۔ کوئی اندازہ ہے کوریا کتنا مہنگا ملک ہے۔ تعلیم دونوں کی ادھوری ہے۔ خرچہ کہاں سے اٹھائیں گے۔
اسکو ٹھیک ٹھاک تپ چڑھ چکی تھی۔
میں بابا سے کہوں گی وہ۔ذیادہ پیسے بھیج دیاکریں گے۔
اسکا انداز ہٹیلا تھا۔
مرضی تمہاری جتنے پیسے منگوائو جیسے مرضی خرچ کرو۔
ایڈون نے گہری سانس لیکر خود کو۔پرسکون کیا۔
تم مجھے پاکستان واپس بھیج کر یہاں اکیلے کیوں رہنا چاہتے ہو۔
اسکا انداز غصہ دلانے والا تھا
بھاڑ میں جائو تم ۔میں تمہارے بھلے کو۔کہہ رہا تھا آگے مرضی تمہاری۔ نہیں جانا نہ جائو۔
وہ اپنی طرف سے بات ختم کرکے واپس ہاسٹل جانے کو مڑا۔ چند لمحے اسے لمحہ بہ لمحہ خود سے دور جاتے دیکھتی سنتھیا بے چین سی ہوئئ۔۔۔
یوں لگا وہ اسکی زندگی سے بھی نکلتا جا رہا ہے۔
ایڈون۔۔
اس نے حلق کے بل پکارا۔
ایڈون چلتے چلتے رکا۔۔۔
اسکی پشت تکتے اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیل ڈالا۔
میں پریگننٹ ہوں۔۔
اس نے چلا کر کہا تھا۔ ایڈون کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔ بے اختیار مڑ کر دیکھا۔
میں ہمارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔ اب تو تم مجھ سے شادی کرلوگے نا؟۔۔۔
سنتھیا مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

Kesi lagi Salam Korea ki yeh qist ?Rate us

Rating

Salam Korea Episode 20

Salam Korea
by Vaiza Zaidi

قسط20

New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea. Bookmark : urduz.com kuch acha perho Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy Episode urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books
New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea. Bookmark : urduz.com/ kuch acha perho Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy

صبح سورج کی کرنیں اسکے منہ پر پڑیں تو اسکی آنکھ کھلی۔۔ اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دی تھیں۔۔ سیدھا لیٹے لیٹے اسکی گردن اکڑ گئ تھی۔۔ اس نے کراہ کر اپنی گردن سیدھی کی اور سہلانے لگا۔۔ سر کھجاتا سیدھا ہوا تو چونکا۔۔ وہ اپنے بیڈ سے نہیں اٹھا تھا۔۔ اس نے چونک کر برابر میں نگاہ کی۔ وہ ابھی بھی بے خبر سوئی تھی۔شاپر کو کسی ٹیڈی بئر کی طرح سینے سے لگائے بچوں کی طرح پرسکون اور گہری نیند سوتی بے حد معصوم سی لگ رہی تھی۔
وہ اسےیونہئ دیکھتا رہ گیا تھا۔۔
اسکا الارم بجا تھا آٹھ بج گئے تھے۔۔ وہ چونک کر ہڑ بڑا کر فون اٹھانے لگا۔ فورا بھی بند کرتے کرتے بھی اتنا شور مچ چکا تھا کہ اس سلیپنگ بیوٹی کی آنکھ کھل ہی گئ۔۔
کسمسا کر اس نے آنکھیں کھول دی تھیں۔۔
پہلی نظر ہایون پر ہی پڑی تھی۔۔
اس کی پوری آنکھیں کھل۔گئیں۔۔ارد گرد اجنبی ماحول دیکھا وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔
گڈ مارننگ۔۔ ہایون نے خوشگوار مسکراہٹ سے اسے وش کیا۔۔
میں گاڑی میں ہی سو گئی تھی۔۔ وہ حیران ہوئی۔
ہاں۔۔ ہایون اسکی حیرت پر ہنسا۔۔
تو اٹھا دیتے۔۔ وہ بولتی اب گاڑئ سے باہر جھانکتی جگہ پہچان رہی تھی۔۔ یہ گوارا والی بلڈنگ تو نہیں تھی۔۔
بہت کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اس نے سادگی سے کہا تو وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگ گئی۔۔
میں بڑبڑائی تو نہیں۔۔۔ اسکے لب نیم وا سے ہوئے۔۔اپنی گہری نیند سے اسے یہی خوف لاحق رہتا تھا
بےفکر رہو سمجھ نہیں آیا مجھے جو بھی کہا تم نے۔۔ وہ اسکی حیران نگاہوں کو محظوظ سے انداز میں دیکھ رہا تھا۔
شکر ہے۔ اس نے سکھ کا سانس لیا۔
یہ ویسے کونسی جگہ ہے؟ اس نے اچک اچک کر باہر دیکھا۔جدید طرز کا خاصا بڑا بنگلہ تھا۔۔
یہ میرا گھر ہے۔۔ چلو فریش ہو جائو۔ ناشتہ۔کر لو پھر تمہیں گھر چھوڑ آتا ہوں۔۔
وہ سہولت سے کہتا اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکال کر کھڑا ہو گیا۔۔
وہ انکار کرنا چاہتی تھی مگر اس نے موقع نہیں دیا تھا سو خاموشی سے خود بھی باہر نکل آئی۔۔
گومو وویو۔۔
اسے نکلتے دیکھ کر ہایون اسکی رہنمائی کو اسکے آگے چلنے لگا۔۔ جب اس نے جھک کر اسے کہا۔۔
وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا تو اریزہ کو احساس ہوا۔۔
نہیں۔۔ آنیو۔۔ اسکی ار دو اور ہنگل آپس میں ٹکرا گئیں۔۔
معزرت۔۔ اس نے انگریزی کا سہارا لیا۔
میری وجہ سے تمہیں کافی تکلیف اٹھانی پڑی۔۔۔ وہ سوچ سوچ کے بول رہی تھئ ہایون نےاسکی بات اچک لی
گاڑی میں سوئے۔۔ زندگی میں پہلی بار اپنے ہی گھر کے گیراج میں۔
وہ سنجیدہ ہوا۔ اریزہ فق چہرے سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
ایم سوری۔ وہ حقیقتا شرمندہ ہوئی۔۔
وہ سنجیدگی بھلا کر ہنس پڑا۔۔
جسٹ جوکنگ چلو اندر تو چلو۔
اریزہ نے سر ہلا کر اسکی تقلید کی۔
اسے اندازہ تو تھا ہایون امیر ہے مگر اتنا امیر۔۔
کیا عالیشان گھر تھا اسکا۔۔ تین ملازموں نے محض اندر لاونج تک آتے جھک کر سلام کیا تھا۔۔ قیمتی فرنیچر اور پچاس انچ ایل ای ڈی سے سجا لائونج دیدہ زیب فانوس بیچوں بیچ جھول رہا تھا۔۔
۔۔ کوریائی طرز تعمیر میں بنا گھر جو وسیع و عریض ہونے کے باوجود جگہ کے لحاظ سے شائد اسکے ہی۔گھر کے برابر ہوگا۔۔ مگر قیمت کے لحاظ سے ہر چیز انمول ہی لگ رہی تھی۔۔ وہ بہت شوق سے اسکا گھر دیکھ رہی تھئ۔۔ ہایون نے اسکی دلچسپی دیکھی تو اسے تعارف کراتا لایا یہ اس طرف کچن ہے یہ اس طرف لابی اور پچھلے لان کا دروازہ وہاں گلاس وال سے سوئمنگ پول بھی نظر آرہا تھا۔۔ سیڑھیاں چڑھ کر ایک جانب انی کا کمرہ تھا دوسری جانب اسکا وہ سر ہلا رہی تھی۔۔

Shop Amazon – Create an Amazon Baby Registry

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے مہمان کمرے میں لے آیا تھا۔۔
تم فریش ہو جائو۔۔ اسے دیکھتے خیال آیا۔۔ تو ایک منٹ رکنے کا کہہ کر پلٹ گیا۔۔
وہ یونہی کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔ کھلا ڈلا سا کمرہ تھا نہ فرنیچر کی زیادتی نہ کمی مناسب سا آرام دہ بیڈ ایک جانب صوفے بڑی بڑی فرنچ ونڈو جن پر سے بھاری پردے ہٹے تھے اور باریک پردوں سے چھن چھن کر آتی دھوپ کمرہ کو روشن کر رہی تھی۔۔
یہ لو۔۔ وہ ہینگ ہوا جوڑا لایا تھا۔
گرے اور پنک کنٹراسٹ لانگ اسکرٹ اور لانگ سا بلائوز ساتھ ہی میچنگ پرنٹڈ اسکارف ۔۔
یہ ۔۔ وہ حیران رہ گئ۔۔
نونا کے ہیں۔۔ اس نے مسکرا کر بتایا۔۔
شکریہ۔۔ اسکا شاور لینے کا دل کر تو رہا تھا۔۔
تم فریش ہو جائو میں بھی فریش ہو کر آتا ہوں۔۔ وہ کافی با ادب تھا۔۔
اریزہ اسکی میزبانی سے کافی متاثر ہوئی تھی۔۔
باتھ روم بھی کافی کھلا ڈلا تھا۔۔
ایک جانب باتھ ٹب شیمپو کنڈشنر نجانے کیا کیا پراڈکٹس۔۔ وہ رشک سے دیکھتی رہی۔۔
نہا کر تیار ہو کر باہر نکلی بال تولیہ سے خشک کیئے۔۔
زندگئ میں پہلی بار مغربی طرز کی لانگ اسکرٹ پہنی تھی سو خود کو آئنے میں گھوم گھوم کر دیکھ رہی تھی۔۔
اسکارف ۔۔ ہاتھ میں پکڑتے اسے ہنسی سی آئی۔۔
اسکا دوپٹہ کافی مشہور ہوتا جا رہا تھا۔۔ اس نے اپنے کپڑے تہہ کر کے ڈریسنگ ٹیبل سے ایک شاپر نکال کر اس میں رکھے جب اسکے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔۔
یس۔ اسے اندازہ تھا ہایون ہی ہوگا۔ اسکا اندازہ درست تھا۔۔
ہایون کی معیت میں وہ کچن میں چلی آئی۔۔
اسے بتا دو کیا کھانا۔۔ ملازمہ اسکے سامنے جھک کر مئودب ہوئی۔۔

میں خود بنا لوں ناشتہ؟۔۔ اس نے مڑ کر ہایون سے اجازت مانگی تھی۔۔

………………………………………………………..
ہایون نے ملازمہ کو بھیج دیا تھا۔۔ ملازمہ اسکی فرمائش کردہ سب اشیاء فراہم کر کے ہی گئ تھی۔
وہ تندہی سے آٹا گوندھ رہی تھی۔۔ ہایون کچن میں ہی موجود میز کرسی پر بیٹھا مٹھی پر تھوڑی جمائے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔۔
تم نے اس دن جو کھائی تھی نا وہ روٹی تھی۔ اسے ہم روٹی کہتے۔۔ آج اس پر گھی بھی ہوگا تو یہ بن جائے گا پراٹھا۔۔
وہ اسے بتاتئ بھئ جا رہی تھی۔۔
آملیٹ کھاتے ہو نا؟۔ اس نے مڑ کر پوچھا۔۔ ہایون نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
میرے ہاتھ کا کھا کے دکھائو تو مان جائوں۔۔ وہ کہتے ہوئے زور سے ہنسی تھی۔۔
کیوں؟۔۔ ہایون نے پوچھا تو وہ مزے سے بولی۔۔
دیکھنا۔۔ ویسے میں تمہارے لیئے علیحدہ آملیٹ بنائوں گی۔۔
اس نے ایک انڈے میں پیاز پنیر اور نمک مرچ ڈال۔کر پھینٹ دیا تھا۔ اب جلدی سے پراٹھے تل رہی تھی۔۔ اس نے ہاتھ پر پراٹھا بڑھا کرفرائی پان پر ڈالا۔تو ہایون کو لگا اس نے ہاتھ ہی رکھ دیا ۔۔
دیکھ کر۔۔ وہ بے ساختہ چلایا اور بھاگ کر قریب آیا۔
اریزہ زور سے ہنسی

دیکھنا میں ابھی اسے ہاتھ سے ہی پلٹ دوں گی۔۔
اس نے گردن اکڑائی پھر ہاتھ سے ہی پلٹ کر دکھایا۔۔
وہ ایک بڑے سے فرائینگ پین میں تل رہی تھی ۔۔
ہمارا توا ہوتا۔۔ یہاں تو شائد نہیں ہوتا ہوگا۔۔ اسکے ایسے کنارے نہیں ہوتے۔۔ یہاں آکر فرائینگ پین پر پراٹھے بنا بنا کر عادت ہو گئ ہے۔۔
اس نے اسکا پراٹھا بنا کر ایک طرف رکھ دیا۔۔
پھر اسکیلئے آملیٹ تل کر میز پر سجا کر رکھ دیا۔۔
شروع کرو گرم گرم میں تب تک اپنا بنا کر آتی۔ہوں۔۔
اس نے کہا تو ہایون نے اصاف منع کر دیا۔۔
تم بھی بنا لو اکٹھے ناشتہ کریں گے۔۔
ٹھنڈا اچھا نہیں لگے گا۔۔ اریزہ نے کہا تو وہ الٹا حیران ہو گیا۔۔
گرم کیسے کھایا جائے گا؟۔۔ اسکو ہاتھ سے کھانا ہے نا؟۔۔
اب بحث بے کار تھی اس نے بس سر ہلا دیا۔۔ ایک طرف ابلتے دودھ میں پتی ڈالی ایک طرف پراٹھا ۔۔ وہ پوری طرح مصروف تھی اسکی پھرتی ہایون کافی حیران سا دیکھ رہا تھا۔۔
اب بننے لگا تھا اریزہ کا آملیٹ۔۔
اس نے ٹماٹر پیاز کاٹ کر تیل میں گرم کیا۔۔ تھوڑی سے پیاز تل گئ تو ہری مرچ کاٹ کرچھڑک دی اب بھر بھر کر نمک مرچ ڈلا۔۔ ہایون کی آنکھیں پھیل کر بر صغیر کے لوگوں جیسی ہو گئیں۔۔
تھوڑی پنیر اوپر سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے ڈالی گھی پہاز ٹماٹر گھی چھوڑ چکے تو اس نے علیحدہ سے اوپر انڈہ توڑ کر ڈال دیا۔۔ جب تھوڑا سا فرائی ہو گیا تب زردی توڑ دی۔۔
ہم اسکو پھینٹ کر ڈالتے جیسے ابھی تم نے میرے لیئے بنایا۔۔ وہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔۔
ہم بھی۔۔ مگر یہ۔میری خاص ترکیب ہے
۔ اریزہ کھلکھلائی۔۔ انڈہ تیار ہو چکا تھا بھاپ اڑاتا انڈا پراٹھا۔۔ اس نے جلدی سے دو کپ چائے نکالی اور میز پر لا۔کر سجا دی۔۔
چلو۔۔ بسم اللہ۔ اس نے مصروف سے انداز میں کہتے بھاپ اڑاتے پراٹھے کا نوالہ توڑا اپنے گرم گرم آملیٹ سے نوالہ بنایا منہ میں رکھا ساتھ ہی چائے کا بھی گھونٹ بھر لیا۔۔
ہایون اسے دیکھ رہا تھا تو اس نے منہ چلاتے ہوئے اس سے آنکھوں سے اشارے سے پوچھا کیون نہیں کھا رہے۔۔
اس نے اریزہ کی دیکھا دیکھی نوالہ بنا کر منہ مین رکھ لیا۔۔ کافی جھجکتے ہوئے نوالہ منہ میں ڈالا تھا مگر اتنا برا کوئی تجربہ نہ ہوا۔۔ چائے کے نام پر جو دودھ پتی بنا کر دی تھی وہ بھی ذائقے میں بری نہیں تھی۔۔
اچھا ہے۔۔ اسے واقعی مزے کا لگا تھا۔۔
وہ مسکرا دی۔۔ وہ مگن سے انداز میں ناشتہ کر رہی تھی جب ہایون نے نوالہ توڑ کر ہاتھ بڑھا کر اسکی پلیٹ سے نوالہ بنا لیا۔۔
اریزہ چونکی پھر اپنی پلیٹ تھوڑا سا اسکی جانب کھسکا دی۔۔
اس نے نوالہ چبایا پھر اسکے منہ کے زاوئے دیکھنے والے تھے۔۔ اس نے چبا کر نگل ہی لیا مگر اسکی آنکھیں سرخ ہو گئیں بری طرح کھانسی لگ گئ۔۔
کین چھنا۔ اریزہ گھبرا کر خیریت پوچھنے لگی۔۔
۔ اسے بہت زور کا پھندا لگا تھا۔۔ وہ اٹھنا چاہ رہا تھا شائد فریج سے پانی لینے۔۔
بیٹھو میں پانی لاتی ہوں۔۔
وہ جلدی سے اٹھ گئ۔۔ گلاس بھر کر لائی اتنی ہی دیر میں اسکا کافی براحال ہو گیا تھا۔۔
اریزہ نے گلاس تھمایا تو ایک سانس میں پو را پی گیا تھا۔۔
اتنی مرچیں تم کیسے ۔۔ وہ کہہ کر پھر کھانسنے لگا۔۔
اسکے منہ میں ابھی بھی آگ سی لگی تھی۔۔
بیانئے۔۔ وہ شرمندہ ہوئی۔۔
مجھے میری امی بھی کافی ڈانٹتی ہیں اتنی ہری مرچ نہ کھایا کرو۔۔
ہایون ابھی بھی منہ کھول کھول کر ہانپ رہا تھا۔۔
ایک۔منٹ۔۔ اسے خیال آیا۔۔ جھٹ سے نوالہ توڑا
میز پر موجود پنیر سے نوالہ بنا کر اسکے منہ میں دے دیا۔
پنیر منہ میں گھلی تو مرچیلہ ذائقہ مندمل ہونا شروع ہوا۔۔
اسکے سرخ ہوتے چہرے کی رنگت بحال ہونا شروع ہوئی۔۔
گومو وویو۔۔ وہ کافی شکر گزار ہوا۔
اریزہ مسکرا دی۔۔
یہ ویسے کافی گھی والا ناشتہ نہیں؟۔۔ میرا مطلب ۔۔ وہ گڑ بڑایا۔۔ برا نہ مان جائے اسکے علاقے کی پسندیدہ خوراک کو ٹوکنا۔۔
تم لوگوں کی صحت اچھی ہوگی۔۔
اریزہ ہنس دی۔۔
ہم موٹے ہوتے۔۔ سب کے اتنے اتنے پیٹ باہر۔۔
اس نے مزاحیہ انداز میں کہا تو ہایون بھی ہنس پڑا۔۔
مگر یہ ہے بہت مزے کا یہ الگ بات مجھے آج جم میں زیادہ دیر کام کرنا پڑے گا۔۔ وہ آدھا پراٹھا کھا کر چھوڑ چکا تھا۔۔ اریزہ البتہ مزے لے کر پراٹھا ختم کر رہی تھی۔۔ اس نے بڑی تمیز سے انڈا سمیٹا تھا آخری نوالے میں۔۔
ہایون سے چائے بھی ختم نہیں ہو رہی تھی۔۔
چھوڑ دو اگر نہیں پی جا رہی۔۔ اریزہ نے اسکی مشکل سمجھ لی تھی
نہیں۔۔ وہ کھسیایا۔۔
پھر چائے ختم کر ہی لی۔۔
میں کمرے سے موبائل لے آئوں چارجنگ پر لگا ہے پھر چلتے ہیں۔۔ اس نے کہا تو اریزہ نے سر ہلا دیا۔۔ وہ موبائل لینے چلا گیا تو اس نے حسب عادت میز سمیٹنی شروع کر دی۔۔
جھوٹے برتن اٹھا کر سنک میں رکھ رہی تھئ جب کوئی ایکدم سے آکر اسکے پیچھے کچھ بولا۔۔
گنگشن۔۔
اسے پورے جملے میں بس یہی سمجھ آیا۔۔
وہ فورا پلٹی۔۔
وہ شائد ہایون کی امی تھیں۔۔ گوری چٹی لانگ سکرٹ اور بلائوز میں ملبوس اسے دیکھ کر حیرت سے گنگ ہی ہو گئیں۔۔
تم کون ہو۔۔وہ ابھی بھی ہنگل میں ہی بولی تھیں۔۔
اسلام و علیکم۔۔ اس نے سر کو ہلکا سا خم دے کر پر تپاک سلام جھاڑا۔۔
وہ اور حیران ہوئیں۔۔
اسے خیال آیا۔۔
آننیاگ ہاسے او۔
اس نے اب کوریائی طرز کا جھک کر سلام جھاڑا۔
میں ہایون کی کلاس فیلو ہوں۔ اریزہ نام ہے میرا۔۔
اس نے انکی الجھن دور کرنا چاہی۔۔
آپ شائد اسکی والدہ۔۔ وہ اندازہ لگا رہی تھی جب اسے عجیب سی نظر سے دیکھتے دیکھتے وہ یکدم پلٹ کر سیڑھیوں سے اتر کر انکے پاس آتے ہی ہایون کو گھورنا۔۔ شروع کر دیا تھا
مجھے آج تک شک ہی تھا تم لی جیانگ کے بیٹے ہو مگر آج تم نے ثابت کر ہی دیا۔۔ تیسری دنیا کی تیسرے درجے کی لڑکی ہی ملی تھی عیاشی کرنے کیلیئے اوپر سے اسے اٹھا کر گھر بھی لے آئے۔۔
وہ حلق کے بل چلائی تھیں۔۔ ہایون کا چہرہ ایکدم سرخ پڑا تھا۔۔
دفع ہو جائو ابھی اور اسی وقت اس لڑکی کو لے کر اور آئندہ جو بھی عیاشی کرنی ہو گھر کے باہر کرکے آنا سمجھے۔۔
اریزہ کو انکا ایک لفظ سمجھ نہیں آیا تھا مگر انکا طیش سے سرخ پڑا چہرہ اور زہر زہر لہجہ غماز تھا کہ وہ اسکی یہاں موجودگی پر ہی چراغ پا ہوئی ہیں۔۔
ہم جا ہی رہے ہیں۔۔ اس نے لب بھینچ کر کس طرح اپنے طیش پر قابو کیا تھا وہی جانتا تھا۔۔
آنٹی ہایون کی کوئی غلطی نہیں وہ بس میں۔۔ اس نے صفائی دینی چاہی وہ غصے سے بل کھاتی اسے مڑ کر گھورنے لگیں تو باقی الفاظ اسکے منہ ہی میں دم توڑ گئے زہن صفا چٹ ہو گیا۔۔
وہ شاید انگریزی سمجھ بھئ نہیں سکتی تھیں۔۔
چلو اریزہ۔۔ ہایون اسے کہتا تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکلتا چلا گیا۔۔
وہ سٹپٹا کر ہاتھ مسلتی دیکھتی رہ گئ۔۔ وہ خاتون اب بھی اسے شرر بار نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔
خدا حافظ۔۔
اس نے کہہ کر بڑھنا چاہا۔۔ پھر خیال آیا۔۔مڑی۔
گڈ بائے۔۔
وہ یونہی کھڑی گھور رہی تھیں۔۔
آننیانگ واسے او۔۔
اب جاتے ہوئے اور کیا کہتے ہنگل میں یاد نہیں تھا سو سلام بھیج دیا۔۔ جوابا انہوں نے زور سے ہونہہ کی اور ہیل کی ٹک ٹک کرتی چلی گئیں۔۔
بنیادی غصہ ور تاثرات کافی ملتے جلتے میں پاکستانیوں اور کورین کے۔۔
اس نے با آواز بلند سوچا پھر خود بھی انکی طرح ہونہہ کرکے مڑ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
یہ تمہاری امی تھیں؟۔۔ اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
ہاں بھی نہیں بھی۔۔ وہ سوچ کر رہ گیا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا
اس نے جواب نہیں دیا۔۔
بات سنو۔۔ اس نے اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔۔
وہ شائد ناراض ہو گئی ہیں ۔۔ میں انکو بتانا چاہ رہی تھی مگر شائد انہیں انگریزی سمجھ نہیں آتی۔۔ ہم دونوں چل کر انکی غلط فہمی دور کر دیتے ہیں۔۔
اریزہ نے سادہ سے انداز میں کہا تھا مگر ہایون کا جیسے دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔۔
کیا اسے پتہ چل گیا ان محترمہ نے کیا کیا کہہ ڈالا ہے۔۔؟
کیسی غلط فہمی۔۔ اس نے دھڑ دھڑ کرتے دل سے پوچھا

جیسے وہ شائد برا مان گئی ہیں تم اپنی لڑکی کلاس فیلو کو صبح صبح گھر میں ناشتہ کرا رہے ہو۔۔ پاکستانی امی بھی ہوتیں تو ایسے ہی برا مان جاتیں ۔بلکہ شائد اگر یہاں کوئی پاکستانی امی ہوتیں تو طمانچہ بھی لگا دیتیں۔۔ اس نے خیال ظاہر کیا۔۔
میں انکو بتا دیتی ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔
ہایون کی جان میں جان آئی تھی۔۔ سو موڈ بحال ہوا شرارت سے اسکا جملہ اچک لیا۔۔
کہ ہم نے اکٹھے رات گزاری ہے گاڑی میں۔۔
کیا؟۔۔ وہ چیخی۔
واٹ ۔۔۔ نہیں میرا مطلب ہاں نہیں ایسا۔۔
وہ گھبرا گئ تھی۔۔ ہایون زور سے ہنس دیا۔۔
مزاق کر رہا تھا۔۔
اریزہ گھور کر رہ گئ۔۔
بھول جائو۔۔ وہ کوئی اور بات کر رہی تھیں۔۔
اس نے گہری سانس لےکر گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی۔۔
……………………………………………………….

وہ اور ہایون سیدھا یونیورسٹی آئے تھے۔ گاڑی سے اتر کر دروازہ بند کرتے اسکی یونہی گاڑی کی آرام دہ نشست پر نگاہ پڑی تو دانت کچکچا کر بولی
تمہاری تو ۔ میری توبہ جو آئیندہ اس گاڑی میں بیٹھئ۔ اور دروازہ دھاڑ سے بند کردیا۔ گاڑی لاک کرکے گھوم کے آتے ہایون نے حیرت سے اسے دیکھا تو وہ بری طرح شرمندہ ہوگئ۔
معزرت۔ وہ غلطی۔ سے۔
اوہ تمہارا سامان۔
ہایون کو یاد آیا تو آگے بڑھ کر پچھلی نشست سے سودا اٹھانے لگا۔۔۔
اریزہ کو سخت خجالت محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے شاپر نکالے ضرور مگر اسکو پکڑائے نہیں۔
اسکو ہاسٹل لیکر جانا ہے آئو میں پہنچا دیتا ہوں۔
آنیا۔ اس نے فورا منع کیا۔۔
میں اٹھا لوں گی۔ ہلکے سے شاپر ہیں۔
اس نے اصرار کرنا چاہا مگر وہ سہولت سے منع کرکے آگے قدم بڑھانے لگا۔ اسے ناچار تقلید کرنی پڑی۔
اتنا ویل مینرڈ ہے یہ اتنے امیر خاندان کا چشم و چراغ ہے یا لے پالک بیٹا ہے۔ آنٹی تو اتنی بد لحاظ اور خرانٹ ہیں۔ یقینا اسکے بابا نیک انسان ہوں گے۔
اس لانبے بانس جیسے لڑکے کو دیکھتے اس نے یونہی سوچ لیا تھا۔ہایون نپے تلے قدم اٹھا رہا تھا۔ یقینا اس پر احسان کر رہا تھا۔ ورنہ یوں ۔۔۔
بس اب مجھے دے دو۔
اس نے ایکدم سے آگے آکر فیصلہ کن انداز میں کہا۔
ہایون ٹھٹک کر رکا
مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا یوں تم میرا سامان اٹھائو۔
اسکا انداز ایسا جارحانہ تھا کہ جیسے گن پوائنٹ پر اس سے سامان چھین لے گی۔ ہایون نے حیران ہوتے ہوئے شاپر اسکی جانب بڑھا دییئے۔
گوما وویو۔
اس نے ہلکا سا سر جھکا کے کوریائی انداز میں کہا تو ہایون کو بے ساختہ ہنسئ آگئ۔
آہش۔ مجھے لگا تھا اب تم یقینا میرے سر پر کچھ اٹھا کے دے ماروگئ۔
کیوں بھلا۔ اس کو برا لگا۔ ایک تو اتنی تمیز سے شکریہ ادا کیا۔
میں پاگل ہوں کیا جو۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی جب اسے کسی نے پکارلیا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو ایڈون اور سالک سامنے سے آرہے تھے اسے دیکھا تو دوڑ کے قریب آئے۔
کہاں تھیں تم اریزہ؟ اتنے پریشان تھے ہم سب۔
دونوں کے چہرے سے پریشانی ہویدا تھی۔
کیوں کیا ہوا؟ وہ حیران ہوئی۔
گوارا آئی تھئ ہمارے پاس کہ تم کو یقینا اسکی روم میٹ نے کچھ کہہ دیا ہے اور تم غصے میں واپس آگئ ہو مگر سنتھیا بتارہی تھی تم ہاسٹل بھی واپس نہیں آئیں۔ کہاں رہ گئ تھیں ؟
ایڈون نے بتفصیل بتایا تو وہ سٹپٹا سی گئ۔
فون تک بند جا رہا ہے تمہارا ہم اتنے پریشان تھے کہ ابھی پولیس میں جانے والے تھے۔
سالک نے جتایا تو وہ اپنے بیگ میں فون ٹٹولنے لگی۔ فون کی شائد چارجنگ ختم ہوگئ تھئ یا ویسے ہی مسنگ کر رہا تھا۔
اریزہ کو بھوک لگی تھی سو کھانا لینے باہر آگئ تھی۔ میں نے کہا دیر تو ہو رہی ہے سو یونیورسٹی ہی آگئے سیدھا۔
ہایون نے اسکی مشکل آسان کی۔ دونوں چونکے۔پھر اس سے ہاتھ ملا کر مصافحہ بھی کر لیا۔
اوہ۔ گومو ووئو۔ ایڈون متشکر ہوا پھر اریزہ سے اردو میں بولا۔ مگر یار بتا کے تو جانا چاہیئے تھا گوارا بہت پریشان تھی تمہاری وجہ سے۔
ایڈون کی باہ پر تو وہ سچ مچ شرمندہ ہوگئ۔
یہ میری غلطی ہے میں گوارا سے بات کر لیتی ہوں۔
وہ شرمندہ لگ رہی تھی۔ ایڈون نے اسکے ہاتھ سے شاپر لے لیے۔
کیا لینا ایسا ضرورئ تھا۔ آئیندہ لسٹ بنا دیا کرنا ہم سامان پہنچا دیں گے ہاسٹل۔۔ یوں نکلنے کی ضرورت نہیں۔ ایڈون کا خیال رکھنے والا موڈ آن ہو چکا تھا۔ اب وہ اردو بول رہا تھا ہایون کو بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔ سو چپ ہی رہا۔
چلو چلیں ۔ ایڈون سالک کہتے آگے ہوئے ہایون اور اریزہ نے بھی تقلید کئ۔۔ اریزہ کا اسکارف سبک ہوا سے اڑنے لگا تو وہ ذرا سا رکی۔ ہایون بھئ رکا ایک نظر ان دونوں پر ڈالی پھر اسکی جانب ذرا سا جھک کربھنچی آواز میں بولا
اب تمہاری فیمنسٹ ایگو دھاڑے نہیں مار رہی کہ لڑکا تمہارا سامان اٹھا رہا ہے۔
اریزہ نے سرعت سے سر اٹھایا وہ یقینا تپا تپا کھڑا تھا۔دانت کچکچا کر بولتا اسکی سفید رنگت میں سرخی سی گھل رہی تھی ۔ اب تک شائد پہلی بار اس کو مسکرائے بنا نارمل انسان جیسا دیکھا تو شرارت کی رگ پھڑک اٹھی۔ آواز دبا کر رازدارانہ انداز میں بولی
یہ پاکستانی لڑکے ہیں۔ بوجھ اٹھانے کے عادی ہیں کیونکہ ہم انکے ساتھ گدھے سا ہی سلوک کرتے ہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈورم میں واپس آکر وہ سامان ٹھکانے لگانے لگی۔ سنتھیا واش روم میں سے نکلی تو حیران رہ گئ۔
تم کہاں چلی گئ تھیں۔
وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھئ۔ جوابا اریزہ اسے دیکھ کر ان دیکھا کرتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی سنتھیا نے پیچھے سے آکر اسکو بانہوں میں بھر لیا۔
تم کل والی بات پر ناراض ہونا۔ آئی ایم سوری۔
اریزہ چپ ہی رہی۔
سنتھیا اسکی بچپن کی دوست تھی اسکی رگ رگ سے وہ واقف تھئ۔ اسکی غلطی نہ بھی ہو تو اریزہ کو منانے کیلئے وہ معافیاں مانگ سکتی تھی اب تو سچ مچ اس نے دل دکھا دیا تھا۔ اسکی بچپن کی دوستی یآد کرکے بھی اریزہ کیلئے اپنا غصہ فوری طور پر ختم کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
تم کل واپس ہاسٹل بھی نہیں آئیں۔ گوارا بتا رہی تھی تم اسکے فلیٹ سے بھی چلی گئیں تم کہاں تھیں۔ میں اتنا پریشان ہورہی تھی۔
وہ اس سےلگے لگے ہی بولے جا رہی تھی اریزہ نے خود کو چھڑایا
بے فکر رہو ایڈون کے ساتھ نہیں تھی میں۔
اسکا انداز سخت ہی تھا۔ سنتھیا گڑ مرنے والی ہوگئ۔۔
میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ میں پریشان ہوگئ تھی سچی۔ اریزہ مججے معاف کردو اگر میں نے تمہارا دل دکھا دیا ہے۔ مجھے آجکل خود سمجھ نہیں آرہی ہے مجھے کیا ہوگیا ہے۔ میں ایکدم سے غصے میں آجاتی ہوں۔ میرا بس نہیں چلتا۔۔ کچھ بھی کہہ جاتی ہوں۔ میں شائد پاگل ہوگئ ہوں۔
وہ کہتے کہتے ایکدم جزبات سے مغلوب ہو کر رو پڑی تھی۔
مجھے سمجھ نہیں آرہی خود اپنی۔
اریزہ اسے چند لمحے دیکھتی رہی تو دل پگھل ہی گیا۔ آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔
…..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جولائی شروع ہوتے ہی کورین مختلف میلے منعقد ہونا شروع ہو گئے تھے۔ قدیمی ثقافتی ہفتے میں یون بن اور گوارا کی پرفارمنس تھی یونیورسٹی کی سطح پر ہی پروگرام تھا یون بن اور گوارا اپنے مخصوص کوریائی ثقافتی لباس میں ملبوس ڈرامے کی تیاری کر رہے تھے۔۔ کم سن اور اریزہ اسٹیج پر آلتی پالتی مار کر بیٹھے انکی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔۔
شہزادی۔۔ تمہاری دنیا اور میری دنیا بہت الگ ہے۔۔
ہماری حیثیتیں ہمیں ایک ہونے نہیں دے گیں۔۔
یون بن محافظ کے لباس میں ملبوس تلوار زمیں پر ٹکائے کھڑا بے بسی سے کہہ رہا تھا۔۔
مگر میرا دل ٹوٹ کر جو بکھر رہا اسکا کیا۔۔ گوارا بلک اٹھی تھی۔۔
خود کو سنبھالیئے شہزادی صاحبہ۔۔
محافظ نے پشت کر لی تھی۔۔
گوارا اسکی پشت سے سر ٹکا کر بلک اٹھی۔۔
ہاش۔۔ یون بن کسمسا کر آگے ہوا۔۔
گوارا گد گدی ہو رہی ہے۔۔ اس نے کھلکھلا کر کہا تھا
گوارا نے اسکو جکڑ لیا اور گد گدی کرنے لگی۔۔ دونوں ہنس ہنس کر بے حال ہوگئے۔۔
تم دونوں اسٹیج پر بھی یہی کرنا۔۔ چوتھی بار دیکھ رہا یہیں آکر ہنس پڑتے ہو دونوں۔تم دونوں کو اس ڈرامے میں رکھا کس نے تم لوگ اسے بھئ ذلیل کرائوگے۔ کم سن اور اریزہ انکے بر عکس سنجیدگی سے چپس کھاتے دیکھ رہے تھے انہیں۔۔
انہیں غیر سنجیدہ دیکھ کر کم سن نے بلا لحاظ ڈانٹا۔۔
نہیں یہ انکے سامنے سنجیدگی سے کر رہا تھا یہ تم لوگوں کو دکھاتے ہوئے مستی کر رہا ہے۔ ہم نے اتنی ریہرسل کی ہے کہ سب رٹ گیا ہے ہمیں۔
گوارا نے اسکو دھپ لگاتے ہوئے صفائی دی۔۔
مجھے تو اس بکواس کہانی کو ڈرامہ ٹائز کرنا ہی فلاپ خیال لگ رہا۔۔ یون بن ہنسی روکتا منہ بناتا انکے پاس ہی آکر دھم سے بیٹھ گیا۔۔
گوارا کو بھی اندازہ ہوا اب مزید کوئی تیاری نہ ہو پائے گی سو اس نے بھی تقلید کی۔۔
تم دونوں بے حد پیارے لگ رہے ہو اس لباس میں۔۔
اریزہ کو انکی باتیں تو سمجھ نہ آئیں سو جو محسوس کیا کہہ دیا۔۔
تمہیں تو پسند آنا ہی ہے یہ لباس ۔۔ خود بھی تو شامیانے لپیٹے پھرتی ہو۔۔ گوارا نے ہنس کر چڑایا۔۔
اریزہ ناک پھلا کر رہ گئ۔۔
گوارا گرمی سے پاگل ہو رہی تھی۔۔ اپنے ہنبک کی لمبی گھیر دار آستین کو پنکھے کی طرح جھل۔رہی تھی۔۔
اریزہ نے حسب عادت موبائل میں درجہ حرارت دیکھا پھر گہری سانس لے کر اسے دیکھنے لگی۔۔
گوارا کے گال گلابی ہورہے تھے۔۔
ہم اے سی اتنے درجہ حرارت پر چلاتے ہیں۔۔
اس نے چوبیس درجہ حرارت والا صفحہ اسکے سامنے لہرایا۔۔ گوارا نے اسکا موبائل جھپٹا اور نیچے کرکے اسکے نشان زدہ شہر راولپنڈی کا درجہ حرارت دیکھا آرام سے پینتالیس ۔۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں۔۔
یار یہ کیا ہے۔۔؟۔۔ جبھی تو اسے گرمی نہیں لگتی یہاں۔۔ وہ اب جل رہی تھی اریزہ سے۔۔
تم تصویریں لے رہی تھیں ابھی ہماری دکھائو۔
گوارا کو اب تصویریں دیکھنی تھیں۔ سو موبائل اسکی جانب بڑھا کر بولی۔
اریزہ نے گیلری نکال کر واپس تھما دیا ۔۔ اس نے اچھی خاصی تصویریں لی تھیں۔ وہ سب ایک ایک کرکےدیکھ رہی تھی
دکھائو۔۔ یون بن اور کم سن کو بھی دلچسپی ہوئی۔ تینوں اسکے موبائل پر جھکے تھے۔۔
اریزہ یونہی چپس کھاتی دیکھتی رہی۔۔ سوائپ کرتی گوارا ٹھٹکی تھئ سر اٹھا کر اسے دیکھا
یون بن نے ہنگل میں کچھ کہا گوارا کو اس نے مزے سے سر ہلا دیا۔۔ کم سن بھی شائد اسے کچھ کہہ رہا تھا۔۔ پھر اس نے اریزہ کو دیکھا ۔۔پھر واپس اپنی جگہ آبیٹھا۔۔
کیا ہوا۔ اریزہ نے پوچھا ابھی کم سن کچھ کہنے ہی لگا تھا
بس۔۔ یون بن نے گوارا کے ہاتھ سے موبائل چھین کر اریزہ کو تھما دیا ۔۔ وہ گھورتے ہوئے گوارا کو کچھ کہہ رہا تھا۔۔
گوارا نے جوابا منہ بنا کر کچھ جواب دیا۔۔
اریزہ نے نہ سمجھتے ہوئے موبائل دیکھا۔۔ اسکی دلہن بنی تصویر سامنے تھی۔۔ سنتھیا اسکے کندھے سے جھول رہی تھی۔۔
یہ تو دلہن کا اوتار ہے نا ؟۔۔ گوارا نے تائید چاہی۔۔
اریزہ نے گہری سانس لی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
تم شادی شدہ ہو؟۔۔ گوارا حیرت سے چیخی
طلاق یافتہ بھی۔۔ اریزہ مسکرا دی۔۔
یون بن نے ٹوکا۔۔
تمہیں اسکی ذاتی زندگی سے کیا۔لینا دینا۔
کم سن بغور اریزہ کو دیکھ رہا تھا۔۔ وہ آرام سے آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی۔۔ انداز میں کوئی یاسیت مایوسی کا دکھ نہیں تھا۔۔
کون احمق تھا جس نے اتنی حسین لڑکی کو چھوڑ دیا۔۔
گوارا کہے بغیر نہ رہ۔سکی۔۔
اس بار اریزہ کی مسکراہٹ غائب ہوگئ۔۔
میرا مطلب بڑی بڑی آنکھیں ستوان ناک ایسی صورت تو نایاب ہوتی ۔ اتنی پیاری ناک ۔۔۔ گوارا حسب عادت اسکی ناک کو دیکھتے کھو گئ۔۔
میری ایسی ناک کیوں نہیں بنائی ؟؟۔ اسے پھر شکوہ ہوا خدا سے۔
اریزہ ہنس دی۔۔
یہاں نایاب ہوگی پاکستان میں سب کے ایسے ہی خدو خال ہوتے۔۔
اسکا انداز بے نیاز تھا۔۔
تمہاری ناک تمہارے چہرے پر ٹھیک لگتی اپنے بے کار احساس کمتری سے نکلو۔۔ کم سن نے ڈانٹ ہی تو دیا اسے۔۔
ہایون کی گرل فرینڈ یاد تمہیں؟۔۔ یون بن کو خیال آیا۔۔
اتنی پیلی دھنسے ہوئے گالوں والی اسکی ناک اسکے چہرے پر ہاتھی کی سونڈھ جیسی لگتی اس کو دیکھو اور عبرت پکڑو بہت بہتر شکل ہے تمہاری۔۔ یون۔بن کو ہوپ یاد آئی۔۔
ہوپ؟۔ وہی تو ہے میری نئی کرائے دار۔۔ گوارا نے منہ بنایا۔۔
اس شکل کے ساتھ اسکے نخرے عروج پر ہیں۔۔ سیدھے منہ بات نہیں کرتی کچھ بھئ کہو تو بد مزاج لڑکی لڑنے لگتی۔۔ تبھئ تو مجھے اسی پر شک ہوا تھا کہ اس نے کچھ ایسا کہا جو اریزہ ناراض ہو کر چلی آئی فون بھئ نہیں اٹھا رہی مرا
گوارا تپی ہی تو بیٹھی تھی۔۔ شروع ہو گئ۔
ناحق تم نے اسے برا بھلا کہا بے چاری۔ اریزہ کو ترس بھی آرہا تھا۔
کم سن جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
کیا ہوا۔۔ تینوں چونک کر اسے دیکھنے لگے۔۔
میں زرا ہاسٹل جا رہا کچھ کام۔۔ اس نے بمشکل بہانہ بنایا۔۔
ٹھیک ہے۔۔ اس نے سر ہلایا تو وہ لمبے ڈگ بھرتا نکل گیا۔۔
اسے کیا ہوا۔۔ گوارا نے حیرانی سے اسے جاتے دیکھا۔۔
یون بن بھی اٹھ کھڑا ہوا
میں بھی کپڑے تبدیل کر لوں بہت گرمی لگ رہی۔۔
میں بھی آتی ہوں۔ گوارا بھی فورا اٹھی۔۔
آخری بار تمہارے کہنے پر ایسے کسی بے کار ڈرامے میں حصہ لے رہا ہوں۔۔ یون بن نے کہا تو وہ چڑ ہی تو گئ۔۔
دفع ہو جائو نام۔کٹوا لو اپنا مجھ پر مزید احسان نہ دھرو۔۔
اس نے بھنا کر کہا یون بن کا کام ہو گیا تھا۔۔مزید چڑانے کو معصومیت سے بولا۔۔
اب تو کر لیا احسان ۔۔
مرو۔۔ دونوں لڑتے بھڑتے اسٹیج کے پیچھے سنگھار کمرے میں چلے گئے تھے۔۔
ہاش۔۔ اس نے چپس کا خالی پیک بیگ میں ڈالا اور خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے جھوم کر شہزادی کی کہانی کو اپنے ہاتھوں اور بازوئوں کے اشاروں سے بیان کرنا شروع کیا۔۔
وہ آج جینز اور گلابی لمبا سا کرتا پہنے تھی۔ گلابی دوپٹہ لہرا لہرا کر وہ کبھی شہزادی کے ڈرے سہمے انداز کو بیان کرتی کبھی محافظ کے اکھڑ کھردرے رویے کو۔
جب محافظ اسکے بازو میں دم تو ڑ گیا تو وہ جیسے تھک کر گری اور سسک اٹھی۔۔
اتنی دیر گھوم گھوم کر ناچنے سے اسکی سانس پھول گئ تھئ۔۔ کتنی ہی دیر وہ بیٹھی سانس بحال کرتی رہی۔۔ یونہی سر اٹھایا تو دوبارہ سانس رک گئ۔۔
ایڈون سالک شاہزیب ہایون کم سن سب اسکے سامنے شائقین کی نشستوں کے پاس کھڑے تھے۔۔
کم سن نے فورا تالیاں بجا کر اسکی حوصلہ افزائی کی تھی۔۔ ہایون نے دز دیدہ نظروں سے ان تینوں کو دیکھا جنہوں نے تالیاں بجانے کی زحمت نہیں کی تھی۔۔ اس نے اپنے بھی اٹھتے ہاتھ نیچے کر لیئے۔۔ اریزہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔
یہ رقص کی کونسی قسم تھی؟۔۔ کوئی کہانی بیان کر رہی تھیں نا تم دکھی سی۔۔ ہیرو مر گیا۔۔ مجھے بس اتنا سمجھ آیا۔۔
کم سن انکے بر عکس کافی خوشگوار انداز میں اسکے پاس اسٹیج پر چڑھ آیا۔۔ اسکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر وہ بولا۔
کتھک۔۔ اس نے دھیرے سے جواب دیا۔۔ اسکی اتنی مہارت تھی کہ وہ سمجھ گیا پوری کہانی۔۔ اسے کافی حیرت ہوئی۔۔
ہمم ۔۔ کم سن نے سر ہلایا۔۔ اور اپنا ہاتھ بڑھایا تھا اسے سہارا دے کر اٹھنے کو۔۔
اریزہ نے ایک نظر اسکی پھیلی ہتھیلی کو دیکھا پھر زمین کا سہارا لیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ کمر پر ایک کندھے سے گزار کر باندھا دوپٹہ کھول کر سینے پر پھیلاتے وہ خود کو درجنوں بار کوس چکی تھی۔۔
لعنت ہی ہو تم پر اریزہ۔۔ بس نہ چلا تو بڑبڑا بھی گئ۔۔
کم سن نے حیرت سے اسکے محتاط انداز کو دیکھا
پھر خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔باقی تینون بھی اوپر چڑھ آیئے۔۔
تم ویسے اچھا ڈانس کر لیتی ہو۔۔ سالک نے سادہ سے انداز میں کہا تھا۔۔ اریزہ نے ہونٹ بھینچ لیئے۔۔ وہ تو خود کو اکیلا سمجھ کر شروع ہو گئی تھی۔۔
کیا خبر تھی سب سر پر آن دھمکیں گے۔۔
ایڈون کو اندازہ تھا تعریف اسے مزید چلو بھر پانی میں ڈبو دے گی۔۔سو اپنے توصیفی الفاظ منہ میں ہی دبا کر بات بدل گیا۔
ہم تینوں اس کلچرل ویک میں پاکستانی جھنڈا لہرائیں گے اور ترانہ گائیں گے۔۔ یہ دیکھو لائٹس لائے ہیں ہم
ایڈون نے اسے شاپر تھمایا۔ ہری اور سفید امتزاج کی وہ لائٹ اسٹکس بے حد خوبصورت تھیں۔ وہ بہت شوق سے دیکھ رہی تھی۔۔
کسٹمائز ہیں پانچ بنوائیں ہیں ہم نے کہہ کر ان لائٹس میں سے چاند تارا بنتا ۔۔ سالک نے خالی دیوار پر روشنی کا چاند تارے والا سایہ سا دکھایا۔
کتنے پیسے ہوئے؟
اریزہ نے فورا پوچھا تو ایڈون چڑ گیا
بس پیسے دینے لگ جائو تم بہت مہنگی ہیں یہ کروڑ روپے کی۔۔۔
اسکے چڑنے کی وجہ سمجھ نہ آسکی اسے۔ سالک اور شاہزیب نے بھئ ایڈون کے غصے کو حیرانی سے دیکھا۔
انکےبدلے ہم سب کو ڈنر کرادینا۔
سالک نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
اس میں جھنڈا تو ہے نہیں۔۔ اس نے سب چیزیں احتیاط سے واپس ڈالتے ہوئے پوچھا۔۔
۔ شاہزیب کے ہاتھ میں بھی شاپر تھا۔۔
ہم جھنڈے بھئ پانچ لائے ہیں یہ رہا تمہارا پرچم اور بیج ۔۔ شاہزیب نے ایک بڑا سا شاپر لا کر اسکو تھمایا۔۔ اس نے شاپر ایڈون کو واپس کرتے ہوئے شاہزیب کا دیا شاپر بڑے شوق سے کھولا۔۔ کمسن اور ہایون بہت حیرت سے انکے جوش و خروش کو دیکھ رہے تھے۔۔
تم لوگ جھنڈے کو دیکھ کر اتنے پرجوش کیوں ہو؟
ہایون کہے بغیر نہ رہ سکا۔۔
ہم بہت احترام کرتے ہیں جھنڈے کا کبھی پاکستان آکر دیکھنا۔۔ بلکہ اگست میں دیکھنا ہم یہاں بھئ اپنا قومی اس سے بھی ذیادہ جوش و خروش سے منائیں گے۔
سالک نے فخریہ انداز میں کہا۔۔ اریزہ مگن چیزیں دیکھ رہی تھی۔۔
کئی گز کا بڑا سا پرچم ساتھ ایک چھوٹا سا کیس تھا۔۔ اس نے کھولا تو نہایت خوبصورت ایر رنگ تھے جن پر چاند اور ستارہ لڑیوں میں جھول رہا تھا۔۔ ایک چھوٹا سا پرچم کا ہی بیج بھی تھا۔۔ اسکے نیچے لڑی میں پاکستان کے انگریزی حروف تہجی جھول رہے تھے۔۔
اف بہت خوبصورت۔۔ وہ فدا ہی تو ہو گئی تھی۔۔
تھینک یو سو مچ۔۔
یہ شاہزیب کا آیڈیا تھا۔۔ آرڈر دے کر بنوایا ہے۔۔
ایڈون نے کہا تو وہ متاثر سے انداز میں بولی۔۔
واہ ۔۔۔۔ کمال۔۔۔
کمال؟۔۔ ہایون نے فورا پوچھا۔۔
کمال مطلب۔۔۔ ایڈون سوچ میں پڑا۔۔
اریزہ نے پرچم نکال کر دوپٹے کے انداز میں اوڑھا۔۔ یہ دوپٹے کے حساب سے تھوڑا بڑا تھا۔ وہ کھولتے کھولتے تھوڑا پیچھے ہوئی۔۔ پرچم پیر میں آنے لگا پیر نہ لگ جائے وہ ایکدم پیچھے ہو کر لہرائی۔ ایڈون ساتھ ہی کھڑا تھا۔۔
ارے۔۔ اسکے دیکھتے دیکھتے ہی وہ دھپ سے گر کر جیسے فرش پر بیٹھ ہی گئ۔۔
گرے گی یہ ۔۔ پکڑو۔
کم سن کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
ہایون بھی بات بھول کر ایک قدم آگے ہوا۔ جیسے سہارا دینا چاہتا ہو مگر وہ جب تک آگے ہوا حادثہ رونما ہو چکا تھا۔۔
کین چھنا ۔۔ اس نے فورا پوچھا۔۔
ہاں۔۔ اریزہ نے سر ہلایا۔۔ خفت زدہ سی ہوئی تو تھی ۔مگر سنبھل کر خود ہی کھڑی ہوئی اور پرچم چوم کر تہہ کرنے لگی۔۔
ایڈون سیدھا کھڑا رہا تھا۔۔
میں قریب کھڑا ہوتا تو تمہیں گرنے نہ دیتا۔۔ کم سن نے حیرت سے ایڈون کو دیکھتے ہوئے اریزہ سے کہا تھا۔۔
کوئی بات نہیں مجھے چوٹ نہیں لگی۔۔
اریزہ بے نیازی سے کہتی شاپر سمیٹ رہی تھی۔۔ پرچم چوم کر شاپر میں ڈال دیا۔
یہ کیا کر رہی ہو۔۔ ہایون نے کہا تو وہ مسکرا دی۔۔
پرچم پیر کے نیچے آگیا تھا۔۔ اسکی تحقیر ہو گئ تھی۔ ہم اسے بہت مقدس چیز کی طرح برتتے ہیں اسلیئے
چوما۔۔
اس نے تفصیل سے بتایا۔۔ ان دونوں نے بے یقینی سے لڑکوں کو دیکھا۔۔ تو انہوں نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔۔
عجیب۔۔ دونوں کے منہ سے اکٹھے نکلا۔۔
یہ لوگ ہنس دیئے۔۔
اریزہ تم وقت پر آنا۔۔ ہم سب مل کر ترانہ گائیں گے۔۔ سداکو بھی ہمارا ساتھ دےگا۔۔
سالک نے کہا تو اسے خوشگوار حیرت ہوئی
واقعی۔۔؟۔۔
ٹھیک ہے۔۔ اسے کیا اعتراض ہونا تھا۔۔
اریزہ معزرت کرتی اسٹیج سے اتر کر گوارا کے پاس ڈریسنگ روم میں چلی گئ۔۔
اریزہ کو کتھک آتا ہے مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔ شاہزیب کا مخاطب ایڈون تھا اس نے اردو میں ہی کہا تھا۔۔
تمہیں کیوں اندازہ ہوتا ؟۔۔ وہ ابھی بھی کر اسی لیئے رہی تھی کہ اکیلی تھی اسے اندازہ نہیں تھا ہم اچانک آجائیں گے۔۔ کتنا شرمندہ ہوگئ تھی۔۔ سالک نے فورا ٹوکا۔
اریزہ کو اچھا نہیں لگا تھا نا ہمارا اسے ڈانس کرتے دیکھ لینا۔ ہایون نے اچانک ہی ان سے پوچھا تھا۔۔
تینوں چونک گئے تھے۔۔
ہاں۔۔ آیڈون نے گہری سانس لیکر کہا۔۔
کیوں؟۔ کم سن مزید حیران ہوا۔۔
وہ لڑکیوں کا ڈانس کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا اسلیئے۔ وہ اکیلے کر رہی تھی اسے اندازہ نہیں تھا ہم آجائیں گے۔۔ ایڈون نے انکو بتایا۔۔
اس میں کیا برائی ہے۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
بس کچھ لوگ پسند نہیں کرتے۔۔ سالک نے سرسری سے انداز میں کہا۔۔
ہاتھ پکڑنا بھی؟۔ کم سن نے غور سے ایڈون کو دیکھا۔۔
ایڈون جو جھک کر شاپر ایک طرف رکھ رہا تھا چونکا۔۔
میں نے ابھی اریزہ کے آگے ہاتھ بڑھایا اسے سہارا دینے کو اس نے نہیں تھاما ابھی وہ گر ہی گئ تم اسے تھام کر سہارا دے سکتے تھے مگر تم سیدھے کھڑے رہے مجھے لگا تھا اس نے میرے اجنبی ہونے کی وجہ سے میری مدد نہ لی مگر تم تو اسکے ہم وطن ہو۔۔
کم سن کو بہت حیرت ہوئی تھی سو پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔۔
پاکستانی لڑکیاں ہاتھ نہیں ملاتیں۔۔ لڑکوں سے۔۔ اگر ایڈون اسے تھام لیتا تو اسے گرنے سے زیادہ برا لگتا اسلیئے ایڈون نے اسے تھامنے کی کوشش نہیں کی۔۔
ایڈون نے جواب دینے کیلیئے منہ کھولا ہی تھا کہ شاہزیب نے فورا کہا۔۔
مگر سنتھیا تو ہاتھ ملا لیتی میں نے اس سے کئی بار ہاتھ ملایا ہے۔۔ کم سن نے جھٹلایا۔ ایڈون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔۔ شاہزیب بھی کچھ کہتے کہتے رک گیا۔۔
سنتھیا اسکارف بھی نہیں لیتی۔۔ ہایون کو یاد آیا۔۔
سنتھیا۔۔ کرسچن ہے۔۔ ایڈون نے گہری سانس لی
اریزہ مسلمان ہے۔۔ یہاں مزہب کا فرق آگیا ہے۔۔
اسلام میں ایسی معمول کی بہت سی چیزیں ہیں جو منع ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ہایون اور کم سن بے حد حیران ہوئے تھے۔۔

۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفید لانگ ٹاپ اور جینز ساتھ سفید ہی لانگ شرگ اپنے گھنے سیاہ بال کھول رکھے تھے۔۔ خراماں خرامان چل کر آتی سنتھیا۔۔ شاہزیب اور سالک نے سفید شلوار قمیص پہنی تھی ساتھ سبز کیپ پہن رکھی تھی انکا ارادہ ہرے پٹکے پہننے کا تھا مگر وہ مل نہ سکے تھے سو سبز کیپ پہن رکھی تھی اور کیپ کے شیڈ پر جھنڈے کا چھوٹا سا بیج لگایا ہوا تھا۔ انکے حلیے سجاوٹ طلبا کو متوجہ کر رہی تھی کئی طلبا ان سے جھنڈیاں اور بیج لینے آپہنچے تھے تو کئی انکی تصویریں بنا رہے تھے ایک ہلچل سی تھی۔۔ ایڈون نے خود تو سفید جینز پہنی تھی مگر اسکو ہری سادی سی ٹی شرٹ مل گئ تھی اسکو ہری کیپ نہیں مل سکی تھی سو سفید کیپ پہنےتھا۔ اایڈون اسے آتے دیکھ کر فورا اسکی جانب متوجہ ہوا مسکرا کر اپنی چیزیں چھوڑ چھاڑ خود بھی اسکی جانب بڑھنے کو تھا جب اسے سالک کی آواز آئئ
یار کتنا پر وقار انداز ہے اسکا۔۔ یار واقعی اسکی شخصیت میں کوئی بات ہے۔۔
اس نے چونک کر مڑ کردیکھا تھا مگر سالک کا مرکز نگاہ کوئی اور ہی تھا اس نے اسکی نظروں کے تعقب میں دیکھا تو نظر پلٹنا بھول گئ۔۔
سفید لانگ فراک ٹاپ اور ٹایٹس کے ساتھ اس نے بڑا سا جھنڈا دوپٹے کی طرح اوڑھ رکھا تھا بالوں کی ڈھیلی سی پونی ہوا سے اڑتا اسکا فلک کانوں میں جھولتے ستارہ و ہلال سفید سادا سی سینڈل میں اسکا اٹھتا ہر قدم نپا تلا تھا۔
اسکا ٹاپ۔۔ اس نے پلٹ کر سنتھیا پر نظر ڈالی تھی۔
وہ بالکل ویسا ہی ٹاپ پہنے تھی۔۔ مگر سنتھیا جتنی مغربی طرز کی بجائے دوپٹے سے وہ بالکل پاکستانی کسی فراک اور تنگ پاجامے میں ملبوس لگ رہی تھی۔۔
سنتھیا خود کو مرکز نگاہ جان کر جہاں اترائی تھی وہیں اسکی نظروں کا زاویہ بدلتے دیکھ کر تھم سی گئ ۔۔
پلٹ کر دیکھا تو کینہ توز نظریں خود بخود نرم پڑ گئیں۔۔
سفید ٹاپ میں جہاں اریزہ کی گوری رنگت دمک اٹھی تھی وہاں اسی لباس میں اسکا رنگ مزید دھیما پڑ گیا تھا ۔۔ اس نے استہزائیہ سا مسکرا کر اپنا سانولا ہاتھ دیکھا۔۔ تو میں کچھ بھی کر لوں کچھ بھی۔۔ میں تمہارئ برابری نہیں کر سکتی۔۔ تلخ سوچ نے زہر خند مسکراہٹ چہرے پر سجا دی۔
اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو ایڈون درمیانی فاصلہ ختم کرتا عین اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔
اسکو دیکھتے عجیب سا احساس ہوا تھا۔۔
رنگ روپ ثانوی چیز ہے تاثرات چہرے کو خوبصورت یا بد صورت بناتے ہیں۔۔ اس زہر خند سی مسکراہٹ میں اریزہ بھی شائد اسے زہر ہی لگتی۔ ایڈون نے اسے گہری نظر دیکھ کر سوچا تھا
جی ہائے کہہ رہی تھی تمہاری طبیعت خراب تھی؟۔۔ کیا ہوا تھا؟۔۔ اسکی دو دن بعد ملاقات ہو رہی تھی وہ متفکر تھا۔۔
سزا ملی تھی۔۔ تھوڑا جلدی مل۔گئ ۔۔ وہ مسکرا کر کہتی اسے ایک نظر دیکھ کر شاہزیب وغیرہ کی جانب بڑھ گئ۔۔
اے۔۔ کیا مطلب ہوا اس بات کا۔۔ سنتھیا۔۔ وہ حیران ہو کر اسے پکار رہا تھا اس نے یکسر نظر انداز کیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔
………………………………………………..
کم سن یون بن گوارا جی ہائے ہایون اپنی نشستوں سے پاکستانی جھنڈے انکے لیئے لہرا رہے تھے۔ دیگر طلبا انکو دلچسپی سے پاکستان پاکستان والا نغمہ گاتے دیکھ رہے تھے۔۔
ایڈون سالک شاہزیب اورسداکو ادب سے اسٹیج پر کھڑے گا رہے تھے۔۔ ہایون تو انکی ویڈیو بھی بنا رہا تھا۔۔
ایڈون کی آواز سب سے اچھی تھئ۔ مصرعہ وہی اٹھاتا تھا بعد میں یہ سب کورس گاتے گانے کے بعد ۔۔ سب نے سر کو ہلکا سا خم دے کر اٹھایا تو وہ سب پر جوش انداز میں تالیاں بجانے لگے تھے۔۔
ہایون نے ویڈیو بند کر دی۔ انکے لیئے فراخ دلی سے سب نے تالیاں بجائی تھیں۔ وہ سب خوشی سے سرخ چہرے لیئے انکے پاس آئے تھے۔ گوارا اور یون بن کی پرفارمنس ہو چکی تھی۔ سو وہ سب باہر نکل آئے۔ اب مزید طلباء کی پرفارمنس میں انکو دلچسپی نہ تھی۔

گوارا اور یون بن نے اپنی پرفارمنس کی خوشی میں کیک منگوایا تھا۔ مگر ان لوگوں کو سرپرائز دینے کیلئے آرڈر دے کر جھنڈے کی شکل کا بڑا سا کیک بنوایا تھا۔آدھا کورین جھنڈا آدھے کیک پر پاکستانی۔۔۔۔
اریزہ پاکستان تو تم لوگ کھاتے ہی رہتے ہوگے اب کوریا کھاکے بتائو کیسا لگا ۔ گوارا حصے کر رہی تھی کیک کا ٹکڑا بڑھاتے ہنس کر بولی
گوارا کے کہنے پر وہ پانچوں مسکرا کر رہ گئے۔ خاصا ذو معنی جملہ تھا۔۔اریزہ بھی اسکی مدد کرانے لگی۔
پاکستانی جھنڈے کا ٹکڑا سب سے پہلے اس نے سداکو کو دے کر شکریہ ادا کیا جوابا وہ خوشدلی سے مکمل جاپانی انداز میں تقریبا آدھا جھک سا گیا۔۔ سب طلبا بہت شوق سے کیک کو تبرک۔کی طرح وصول رہے تھے
۔۔ کوئی رہ۔تو نہیں گیا۔۔ کیک کا بس ایک۔چوتھائی حصہ بچا تھا جب اریزہ نے اٹھ کر آواز لگائی
سب خوش گپیوں میں مگن تھے کسی نے سنا بھی تو جواب نہ دیا وہ کندھے اچکا کر ایک چھوٹا سا ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈالنے لگی تھی کہ ہایون سامنے آگیا۔۔
کوریا والا حصہ بھی تھوڑا سا بچا تھا تھوڑا سا پاکستان کا جھنڈا۔۔ ان لوگوں نے بہت تمیز سے کھایا تھا۔ سب نے کھا بھی لیا اور بچا بھی تھا۔
مجھے بھئ پاکستان کھانا ہے۔۔ اسکئ مخصوص مسکراہٹ۔۔
وہ سر ہلا کر ٹکڑا میز پر رکھ کر مزید حصے کرنے لگی۔۔
تم نے اس مغربی طرز کے لباس کو بھی روائتی رنگ دے دیا۔۔ وہ ہنس کر کہہ رہا تھا۔
اریزہ مسکرا دی۔۔
اریزہ خود کو نمایاں کرنا جانتی ہے۔۔
سنتھیا نے خاصے طنزیہ انداز میں انکی گفتگو میں حصہ لیا۔۔
اریزہ مڑ کر حیرت سے اسکی شکل دیکھنے لگی۔
ہر کسی کو یہ ہنر نہیں آتا۔ ۔۔۔ سک نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تھا۔ اریزہ ایک چپ سو سکھ کے تحت اسے مکمل نظر انداز کر دینا چاہتی تھی۔۔جانے کیا مسلئہ تھا اسکے ساتھ۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔
بہت اچھی لگ رہی ہو اریزہ۔۔ یہ ایڈون تھا۔۔ سنتھیا کو چبا چبا کر کچھ بولتے دیکھ کر سیدھا انکے پاس آگیا تھا۔۔
اریزہ یوں ہوگئی جیسے سنا ہی نہیں۔۔
اریزہ ایڈون نے تعریف کی ہے تمہاری شکریہ ہی کہہ دو۔۔ سنتھیا نے جیسے اسے جان کے چڑایا۔۔
اریزہ نے نظر بھر اسے دیکھا۔۔ اسکے دیکھنے پر سنتھیا چند لمحے تو تمسخر بھرے انداز میں دیکھتی رہی پھر جب لگا کہ مزید اریزہ کی آنکھوں میں جھانکا تو شائد رو دے گی تو خود کو سنبھالتی زور سے اریزہ سے ٹکرا کر کندھا مارتی آگے بڑھ گئ۔
ایڈون نے ہونٹ بھینچ کر اسکی حرکت کو دیکھا اور پکارتا ہوا اسکے پیچھے نکل گیا۔۔
اریزہ جھٹکے کےلیئے تیار نہیں تھی بری طرح لڑکھڑا کر گرنے لگی خود کو بچانے کو ہاتھ بڑھایا تو ہایون کے بازو کو ہی دبوچ بیٹھی۔۔
سوری۔۔ سنبھلتے ہی اس نے معزرت کی
آنیا۔۔۔ اٹس اوکے۔۔ وہ بھی ناگواری سے ان کو ہی جاتے دیکھ رہا تھا سنبھل کر فورا اسکی شرمندگی دور کی۔

……………………….۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب اس مشہور پاکستانی ریستوران آئے تھے۔۔
چکن کڑاہی کباب بریانی تکے دل بھر کر منگوائے تھے۔۔ یہ ٹریٹ پاکستانیوں کی جانب سے تھی۔۔ سنتھیا کے علاوہ سب موجود تھے سداکو بھی۔۔
وہ سب خوب شوق سے پاکستانی کھانے کھا رہے تھے۔۔ واپسی پر لڑکوں کا ڈرنک کا پروگرام بن گیا اریزہ کافی تھک چکی تھی مگر گوارا کا موڈ نہیں تھا ابھی واپسی کا۔۔
دریا کنارے چل کر پیتے ہیں۔۔ کیا خیال ہے۔۔ یہ یون بن نے کہا تھا۔۔
سب کو اسکا خیال کافی پسند آیا تھا۔۔
سب گاڑی میں بھر کر جب دریا کنارے پہنچے تو رات کے گیارہ ہو چکے تھے۔۔
ہوا میں خنکی آچکی تھی۔۔ کوریائی باشندوں نے تو شراب کے کین خریدے تھے یہ پاکستانی کوک پر گزارا کر رہے تھے یہاں تک کے ایڈون نے بھی کوک ہی لی۔۔
شاہزیب اور سالک نے اسے کہا بھی شراب لے لو۔۔ مگر اس نے نظر انداز کر دیا۔۔
اسے سنتھیا کی کافی فکر ہو رہی تھی دوپہر میں وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر ہاسٹل چلی گئی اسکا فون بھی نہیں اٹھا رہی تھی۔۔ اریزہ سے ہاسٹل جا کر اسکی خیریت پوچھنے کا کہنے کی اب ہمت نہیں تھی۔۔ جی ہائے بھی ہاسٹل نہیں گئ تھی۔۔یہ سب یہاں پارٹی کرنے آئے تھے۔۔ہانگان پارکس اس دریا کے کنارے خاص کر پکنک کے ارادے سے آئے لوگوں کیلئے ایک بہترین تحفہ تھے۔ سب سیول باسی بدلتے موسموں کا مزا لینے یہاں بڑے شوق سے رات گئے پارٹی کرتے ہیں۔دریا کنارہ صاف شفاف ریت ایک جانب چہل قدمی کے رستے دوسری جانب بنچز۔۔ انکا ارادہ رات گئے ہی اٹھنے کا تھا۔ کم سن کو شوق اٹھا تھا پانی میں پائوں لٹکا کر بیٹھنے کا سالک نے بھی اسکی دیکھا دیکھی پائوں ڈال لیئے مگر تھوڑی ہی دیر میں اسکی بس ہو گئ۔۔
کیا ہوا۔۔ کم سن نے پوچھا تو وہ منہ بنا کر بولا۔۔
اتنا ٹھنڈا پانی ہے۔۔ ہوا بھی خنک ہے تم لوگوں کو ٹھنڈ نہیں لگتی یا گینڈے کی کھال لگوا کر آئے ہو اوپر سے۔۔
اس نے اتنا چڑ کر کہا تھا کہ ان سب نے کھل کر قہقہہ لگایا۔۔
ابھی سے ٹھنڈ۔۔ آگے جب برف پڑے گی تو کیا کروگے؟۔۔ ہایون نے مزاق اڑایا تھا۔۔
کم ازکم جیکٹ وغیرہ تو پہنی ہوگی۔۔ اس نے کان سے مکھی اڑائی۔۔
تھوڑی سی پی۔لو اگر زیادہ ٹھنڈ لگ رہی۔۔ کم سن نے خلوص سے اپنا کین اسکی جانب بڑھایا۔۔
نہ بابا۔ وہ اچھل کر پیچھے ہٹا جیسے اسے بچھو پکڑانے کی کو شش کی گئ ہو۔۔
گوارااور جی ہائے لڑکوں کے پاس بیٹھی ڈرنک کر رہی تھیں ۔ یہ لوگ کوئی کورین کھیل کھیل رہے تھے۔ انتاکشری کی طرح کا۔ لفظ سے لفظ جوڑتے تھے اور غیر متعلقہ لفظ بولنے والے کو ماتھے پر انگوٹھے اور انگلی ملا کر ٹھونگا مارتے۔ لڑکے لڑکی کی تشخیص نہ تھی۔ بنا لحاظ جی ہائے کو مار رہے تھے۔ جوابا وہ بھی پوری جان لگا کر مارتی سب کی پیشانیاں سرخ ہو چکی تھی۔ وہ ہمیشہ یسو پنجو کھیلتے بھی اس مار کٹائی سے سخت اکتاتی تھئ۔ اسکے حصے کی مار بھی صارم کو کھانی پڑتی تھئ۔ کزنز میں۔ اسے انہیں دیکھتے اپنے خاندان کی تقریبات یاد آنے لگیں جب سب کزنز مل کر یسو پنجو یا انتاکشری کھیلتے تھے مگر پٹائی میں کبھی انکے میل کزنز نے لڑکیوں کو مارا نہیں تھا۔ انکو سزا کے طور پر چائے بنانے بھیج دیتے تھے اور تب جو بنا لحاظ لڑکے ایک دوسرے کی ٹھکائی کرتے تھے وہ الگ ہی شغل ہوتا تھا۔ ۔وہ تھوڑی دیر انکے پاس بیٹھ کر بور ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ گاڑیاں کافی دور پارک کرنی پڑی تھیں اتنی دور جا کر اکیلے بیٹھنا گاڑی میں مناسب نہیں لگا اس کو ہلکی ہلکی ٹھنڈ لگ رہی تھی۔۔ اس نے موبائل میں درجہ حرارت دیکھا تو آنکھ کچھ زیادہ ہی بڑی کھل گئ۔۔ چودہ بلکہ اپ ڈیٹ کیا تو گیارہ ڈگری ہی رہ گیا۔۔
میرے خدا۔۔ ستمبر تک تو قلفی جمنے لگے گی مجھے سردیوں کی شاپنگ کر لینی چاہیئے۔۔
اس نے سوچا۔۔ ابھی کیا کروں۔۔ اس نے پہلے سوچا جا کر واپس لڑکوں کے پاس بیٹھ جائے مگر انکے قہقہے اور مستی کی آوازیں سن کر ارادہ بدل کر مخالف سمت آہستہ آہستہ ٹہلنے لگی۔۔
ہایون کی گھونٹ بھرتے اس پر نظر پڑی تھی۔۔
سرسراتے ہیولے کے کپڑے ہی کپڑے نظر آرہے تھے۔۔ اس نے جھنڈے کو شال کی طرح لپیٹا ہوا تھا۔۔ آہستہ آہستہ چلتی وہ اکیلی اندھیرے میں گم ہو رہی تھی۔
اسے دیکھتا وہ بھی اسی اندھیرے میں گم ہورہا تھا۔۔
ہے نا۔۔ یون بن نے کندھے پر ہاتھ مار کر اس سے تائید چاہی تھی۔۔ وہ سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
میں آتا ہوں۔۔ اس نے اخلاقا بتایا تھا مگر وہ سب اپنی خوش گپیوں میں مگن تھے ۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اریزہ کے پاس چلا آیا۔۔
کیا ہوا ٹھنڈ لگ رہی ہے؟۔ اس نے پوچھا تو وہ چونک کر کھسیا سی گئ۔۔
ہاں۔۔
ہایون ہنسا۔۔ کین سے گھونٹ بھرنے لگا پھر خیال آیا تو کین جھک کر زمین پر رکھ دیا۔۔ سیدھا ہوتے ہوئے جانے کیا خیال آیا اسے چھیڑنے کی غرض سے بولا۔۔
اگر سردیاں ہوتیں تو میں جیکٹ اتار کردیتا مگر میں نے بس یہ شرٹ ہی پہنی ہوئی ہے۔۔ کہو تو اتار کر دوں۔۔
اسکا انداز شرارت بھرا تھا۔۔
خبر دار۔۔ اس نے فورا وارننگ دی۔۔
مجھے زہر لگتے وہ لڑکے جو بنا شرٹ گھومتے۔۔
ہایون نے کھل کر قہقہہ لگایا۔۔
میں برا نہیں لگتا۔۔ سکس پیکس ہیں میرے بہت سمارٹ ہوں میں۔۔
لگتا تو نہیں۔۔ اس نے منہ بنا کر اسے غور سے دیکھا۔۔
لمبا سا دبلا سا ہایون۔۔ سکس پیک والے تو اتنے موٹے مسلز والے ہوتے۔۔
اسے غور سے خود کو دیکھتا پایا تو شرارت سے شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔۔
یقین نہیں آرہا دکھاتا ہوں۔۔ اس نے واقعی اریزہ کے نا نا کرنے کے باوجود شرٹ کے بٹن کھول دیئے۔۔
یہ دیکھو۔۔ اسکی بظاہر دبلی جسامت کے برعکس اسکے پیٹ کے مسلز صحیح اکڑے ہوئے تھے۔۔ اس نے اپنی بنیان تھوڑی اونچی کر کے باقاعدہ مسلز سانس پھلا کر دکھایا۔۔
اریزہ بس دیکھ کر رہ گئ۔۔
یقین آیا۔۔ وہ بچوں کے سے اشتیاق سے پوچھ رہا تھا۔۔
ہاں۔۔ اسے بے ساختہ صارم پھر یاد آیا تھا۔۔ شروع شروع میں جم لگا کر روز اس سے تصدیق کرواتا تھا دیکھو میرے پیکس بنے یا نہیں۔۔ اور اسکے بن بھی گئے تھے تب بھی وہ نفی میں سر ہلا کر اسے چڑاتی تھی۔۔ صارم کی بات یاد کرکے اسکے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔۔ بالکل اسی طرح کرتا تھا۔۔
مرتی ہیں لڑکیاں میری جسامت پر۔۔ وہ مزید اترایا۔۔
کوئی نہیں۔۔بالکل بھی متاثرکن نہیں ہو تم۔۔ اسے تو عادت تھی چڑانے کی۔۔ مسکراہٹ دبا کر لاپروا بن گئ۔۔
ہاہ۔۔ وہ حیران رہ گیا۔۔
وہ لاپروا بنی دوبارہ آہستہ آہستہ ٹہلتی آگے بڑھی۔۔
وہ بھی حیرت کے دریا مین غوطہ زن اسکے پاس آیا۔۔
ہے ۔۔ ابھی کوئی اور لڑکی ہوتی تو مر جاتی مجھ پر میری کشش میرا حسن تمہیں قدر نہیں۔۔
وہ مایوس ہوا۔۔
شرٹ لیس لڑکے کو دیکھ کر پاکستانی لڑکیاں نہیں مرنے لگتیں۔۔ وہاں چھے مہینے ہم لڑکوں کو ایسے ہی دیکھتی ہیں۔۔
اس نے کانوں سے مکھی اڑائی۔۔
ہایون کی حیرانی دو چند ہوگئ
مطلب؟۔۔ مجھے تو لگا تو مسلم قدامت پسند ہوتے۔۔ وہ جھجک کر بولا۔۔
اریزہ گڑبڑائی۔۔
ہاں مگر وہاں گرمی پڑتی تو مرد اکثر گھروں میں بنا قمیض گھومتے گرمی میں۔۔ مگر سب نہیں۔۔
وہ۔کھسیا سی گئ تھی روانی میں منہ سے نکلا تھا۔۔۔
پڑھے لکھے گھروں میں ایسا کم ہوتا۔۔ جیسے میرا گھر میرے پاپا صارم وغیرہ کبھی کم کپڑوں میں نہیں گھومتے۔۔ اسکے زہن کے پردے پرشارٹس پہنے گھومتا صارم لہرایا۔ اس نے آنکھ میچ لی۔۔
کیا سوچتا ہوگا۔۔ پاکستانی ننگے پھرتے۔۔
اسے خیال ہی آیا تھا مگر ہایون نے سوچ بھی لیا اور تصدیق چاہی۔
اوہ گرمی بہت پڑتی ہے وہاں۔۔ ۔۔ گرمی میں تو پھر خواتین کا لباس بھی ویسا ہی ہوتا ہوگا نا۔۔
نہیں۔۔ وہ چیخ پڑی۔۔
حد ہے۔۔ یہ اس نے نفی میں سر ہلاتے اردو میں کہا تھا۔۔ وہ ہایون کو گھور رہی تھی۔۔ جو اسکے ایکدم چلانے پر حیران دیکھ رہا تھا۔۔
ایسا ہی لباس ہوتا گرمی میں بھی۔۔ اس نے اپنے لباس کی جانب اشارہ کر کے بتایا۔۔ پھر خیال آیا جینز اور ٹاپ پہنے کھڑی ہے۔۔
میں جو لمبے دوپٹے اور لمبی قمیض پہنے ہوتی نا جیسے۔۔ وہ سوچ میں پڑی۔۔
جیسے میں یونیورسٹی تیار ہوکر آتی نا ویسا
سمجھ گیا۔۔ اس نے اسکی مشکل دور کی۔۔
مگر میرا مطلب یہاں بھی لڑکیاں گرمیوں میں فراک شارٹ اسکرٹ وغیرہ پہنتی ہیں مگر جب آگے سردیاں آئیں گی تو انکا لباس سردیوں کی مناسبت سے ہوگا۔۔ تم لوگ گرمی میں بھی اتنا لپیٹ کر میرا مطلب برا مت ماننا مگر گرمی نہیں لگتی کم از کم یہ پردہ۔۔ ۔۔ ا سے مراد اسکی دوپٹہ تھی۔۔
اوپر سے نہ اوڑھو۔۔
ہمیں عادت ہے۔۔ اریزہ نے مختصر جواب دیا اور مسکرا دی۔۔
مجھے تو یہاں اتنا کچھ پہن کر بھی ٹھنڈ لگ رہی۔۔۔ اس نے دور بیٹھی گوارا اور جی ہائے کو دیکھا دونوں ہی گھٹنوں تک کی فراک جیسے ٹاپ میں ملبوس تھیں۔

اسے جھر جھری لیتے دیکھ کر ہایون مسکرا یا۔۔
گاڑی میں چل کر بیٹھو گی؟۔۔
اس نے پوچھا تو وہ ایکدم ہاں کہتے کہتے رکی۔۔ سب باہر بیٹھے تھے ایویں کیا سوچتے۔۔ وہ ہایون کے ساتھ گاڑی میں اکیلی بیٹھی تھی۔۔
آنیو۔۔ اس نے فورا انکار کیا۔۔ حالانکہ وہ کوریا میں تھی ان سب نے دھیان بھی نہیں دینا تھا اس پر۔۔
تیزتیز واک کر لو جسم گرم ہو جائے گا۔ آجائو۔۔
ہایون کہہ کر مڑا اور واقعی تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔۔ ہیں۔۔ وہ پہلے تو نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی پھر خیال آیا توخود بھی رفتار بڑھا لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڑھ بجے کے قریب وہ لوگ اپارٹمنٹ میں پہنچی تھیں۔۔ہاسٹل تو بند ہوچکا تھا۔
اف بہت تھک گئ سیدھا بستر پر گروں گی۔۔
گوارا با آواز بلند کہتی داخل۔ہوئی۔۔
شش۔۔ اس نے ٹوکا مگر گوارا نے سنا نہیں۔۔ اپارٹمنٹ میں ملگجا اندھیرا تھا۔۔ یعنی ہوپ سو چکی تھی۔۔
اف ویسے مزا بڑا آیا ہے نا اریزہ۔۔ گوارا اسی انداز میں اونچی آواز میں کہتی کمرے میں داخل ہوئی اور بتی بھی جلا دی۔۔اسکے پیچھے پیچھے آتی وہ ٹوکنے کو منہ کھول کر ہی رہ گئ۔۔
روشنی کے جھماکے ہوپ نیند سے جانے کیا سمجھی یکدم اٹھ بیٹھی۔۔ جی ہائے نے اسکی شکل دیکھی تو گوارا کو ایک کندھے پر جما دی
شرم کرو۔
تم جنوبی کوریائی لوگوں میں تمیز نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی کیا۔ جانور میں بھئ دوسرے جانور کیلئے خیال ہوتا ہے۔۔
ہوپ بھنا کر بولی۔
گوارا اور اریزہ ایک دوسرے کو نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھ کر رہ گئیں۔۔ جی ہائے نے ہونٹ بھینچے۔۔
گوارا کی غلطی ہے اسے برا کہو پورے جنوبی کوریا کو کیوں لپیٹ میں لے لیا۔۔
کیا کہہ رہی ہے یہ؟۔۔ اریزہ نے پوچھا تو وہ کندھے اچکا گئ
مجھے کیا پتہ۔۔
ہوپ کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھئ۔۔

کین چھنا؟۔۔ گوارا نے پوچھا مگر وہ بال سمیٹتی اٹھنے لگی۔
اریزہ نے سائڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس بھر کر اسکی جانب بڑھایا۔۔
معزرت گوارا کو یقینا دھیان نہیں رہا کہ تم سورہی ہو۔۔
ہوپ نے اسکی معزرت کو خاصے اچنبھے سے دیکھا مگر گلاس پکڑلیا۔
شکریہ۔۔ وہ سنبھل کر اب انگریزی میں بولی۔۔
تم چینی زبان بھی جانتی ہو۔۔ بیڈ پر بیٹھ کر سینڈل اتارتی ہوئی گوارا نے سرسری سے انداز میں پوچھا تھا۔۔ ہوپ سن سی رہ گئ
ہیں۔۔ یہ چینی زبان تھی؟۔۔ اریزہ بھی حیران ہوئی۔۔ جی ہائے نے ناک چڑھائئ۔
ہاں ورنہ ابھئ گھمسان کی جنگ چھڑتی۔۔
جبھی میں کہوں تھوڑا بہت تو سمجھ آجاتی ہنگل یہ ابھی کیا کہہ رہی تھی ایک لفظ پلے نہیں پڑا۔۔
ہوپ ساکت سی بیٹھی تھی۔۔
اب انکا کیا ردعمل ہوگا۔۔ اسکا دل سوکھے پتے کی طرح لرزرہا تھا۔۔
نارتھ کورین ڈیفیکٹر۔ شمالی کوریائی محاجر ۔ یا اسپائی۔جاسوس جو بھی سمجھیں گی نفرت ہی کریںگی۔۔ اس نے سوچا۔۔
تم لوگ کتنے با صلاحیت ہوتے ہو کتنی زبانیں جانتے ایک میں احمق آج تک انگریزی بھی اچھی طرح سیکھ نہیں پائی۔۔ اریزہ نے منہ بنایا۔۔ وہ کمرے کے اکلوتے صوفے پر گر کر سینڈل اتارتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔
ہم سے مراد تمہاری کس سے ہے؟۔۔
شمالی کوریائی سے یا جنوبی کوریائی سے؟۔۔ جی ہائے بڑے جتانے والے انداز میں ایک نظر ہوپ کو دیکھ کر اس سے مخاطب ہوئی۔۔
مطلب۔۔ اریزہ سمجھی نہیں۔۔
مطلب اگر جنوبی کوریا کی بات کرو تو ہم بس ہنگل جانتے انگریزی اتنی جانتے کہ کام آجائے بس وہ بھی اگر ہم پر زبردستی تدریس میں شامل کرکے نہ سکھائی جائے تو اتنی بھی نہیں آتی۔۔ ہاں شمالی کوریا کی بات الگ یہ لوگ اپنے ملک سے بھاگ کر ارد گرد کے ممالک جا پہنچتے وہاں کی زبان سیکھ جاتے تو نکالے جاتے پھر بھاگتے تو کسی نئے ملک جاتے وہاں کی زبان سیکھنی پڑتی ۔۔ گوارا کا انداز تھوڑا عجیب تھا۔۔ ہوپ کے چہرے کے زاویئے بن بگڑ رہے تھے۔۔
تم شمالی کوریائی ہو؟۔۔ اریزہ بس اتنا ہی سمجھی ہوپ سے پوچھا۔۔ ہوپ نے چونک کر اسکی شکل دیکھی صرف تجسس تھا۔۔ یونہی پوچھ رہی تھی شائد وہ۔۔ اسے ناگواری کا شائبہ تک نہ ہوا۔۔
ظاہر ہے۔۔ اسکی شکل دیکھ کر نہیں لگتا۔۔
جواب جی ہائے کی جانب سے آیا تھا
کیا ہے میری شکل کو؟۔۔ ہوپ تپ کر اسکی جانب مڑ
پیلی پھٹک ہے رخسار کی ہڈیاں نکلی ہوئی ہیں۔۔ جیسے فاقہ کشی کرتی رہی ہوآنکھیں الگ بے رونق ہیں۔۔ گوارا کا انداز سادہ سا تھا
گوارا۔۔ اریزہ نے حیرت سے ٹوکا یہ کس طرح بات کر رہی تھی۔۔
گوارا مطمئن سے انداز میں بازو سینے پر لپیٹ کر جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
شکر ہے جیسی بھی ہوں اپنی شکل پر مطمئن ہوں۔۔ اپنی غلافی آنکھوں چپٹی ناک پر مجھے کوئی شرمندگی نہیں کہ پلاسٹک سرجری کا سوچ لوں
تم۔۔ گوارا کے تن بدن میں آگ لگ گئ تھی۔۔
تمہاری جرات۔۔ وہ دانت پیس رہی تھی
سچ کڑوا لگا نا۔۔ مجھے اپنے شمالی کوریائی باشندے ہونے پر اپنے مخصوص نقوش پر فخر ہے ۔میں محنت کش مھر خود دار لڑکی ہوں اپنی زندگی کی جنگ خود لڑنے والی بہادر میں تم جیسی باربی سے کہیں بہتر ہوں جس کو دنیا کی ہر نعمت میسر ہے مگر اسکی لالچ ختم نہیں ہورہی۔۔ جو اپنی شکل اپنے وطن اپنے نقوش پر فخر کرنے کی بجائے ان پر شرمندہ ہے۔۔
بکواس بند کرو تم۔۔ گوارا تپ کر اس پر ہاتھ اٹھانے بڑھی۔۔
کیا ہوگیا ہے کس بات پر لڑ رہی ہو۔۔ اریزہ گھبرا کر دونوں کے بیچ آئی۔۔ دونوں ہنگل میں لڑ رہی تھیں اسے پلے نہ پڑا تھا۔۔
میں شمالی کوریائی محاجر ہوں کوئی اعتراض ہے؟۔۔ ہوپ اریزہ کی آنکھوں میں جھانک کر مضبوط لہجے میں بولی۔۔
آنیو۔۔ اریزہ بمشکل سر ہلا کر بولی۔۔
جئ ہائے ناک سکوڑ کر سونے کیلئے جی ہائے کی خالی کی گئ جگہ پربیڈ پر دراز ہوگئ۔

.———————————————————————————————-

ہوپ کرائے دار تھئ۔ جی ہائے اپنا حق وصول کر چکی تھی۔ بیڈ پر دونوں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں۔۔ اریزہ نے حسرت سے بیڈ کو دیکھا۔۔ گوارا کو آداب میزبانی سب یاد تھے سو اسے اور اریزہ کو لائونج میں بستر بچھا کے سونا پڑا۔۔
صبح معمول کے مطابق تھی۔۔ مگر خنک۔۔ وہ رات کو خنکی کے باعث کپکپا رہی تھی مگر ہمت نہیں تھی اٹھ کر کچھ ڈھونڈ کر اوڑھنے کی۔۔ اوڑھتی بھی کیا۔۔ پھر جانے کب آنکھ لگی کچھ پتہ نہیں چلا صبح الارم پر پہلا احساس یہی ہوا ابھی تو آنکھ لگی تھی۔۔ اس نے کسمسا کر انگڑائی لی اور سستی سے اٹھ گئی۔۔ منہ ہاتھ دھو کر سب سے پہلے ٹیرس میں چلی آئی۔۔ کالے بادل چھائے تھے دھوپ کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔۔ وہ کانپتی دروازہ بند کرتی اندر چلی آئی۔۔ کمرے میں جھانکا تو جی ہائے بے خبر سو رہی تھئ۔
ناشتہ بنایا میز پر رکھ رہی تھی تب تک گوارا اور جی ہائے بھی سٹر پٹر کرتی چلی آئیں۔
صبح بخیر۔۔ اس نے جتنی خو شدلی سے کہا تھا گوارا کا اتنا ہی مرے مرے انداز میں جواب آیا۔۔ وہ نیند سے جھوم رہی تھی۔۔

آج یونیورسٹی جانے کا دل نہیں کر رہا۔۔ جمائی روکتی وہ سستی سے بولی۔۔
رات کی اتری نہیں سر گھوم رہا۔۔ اس نے سر تھاما۔۔
اریزہ مسکرائی۔۔
رات کا منظر تازہ ہوا زہن میں۔۔
تو چڑھی ہوئی تھی موصوفہ کو۔۔ اس نے دل میں سوچا۔۔
ہینگ اوور سوپ تو بنانا آتا نہیں سر درد ہم پاکستانیوں کے خیال میں ہوتا ہی چائے پینے کیلیئے ہے تو یہ لو۔۔ اس نے بھاپ اڑاتا مگ سامنے رکھا آملیٹ اور پراٹھے پہلے ہی میز پر موجود تھے گوارا نے بھی پھر تکلف نہیں کیا۔۔ جی ہائے نے پراٹھے دیکھ کر منہ بنایا تو اسکے سامنے ڈبل روٹی لارکھی۔
کوئی حیرت نہیں تم یہ سب کھا کھا کے ہی اتنی موٹی ہو۔
جی ہائے نے بلا لحاظ ٹوکا۔ اریزہ جو پراٹھے کا نوالہ توڑ رہی تھی خفت زدہ سی ہوگئ۔
گوارا نے جی ہائے کو ٹہوکا دیا۔ اس نے بھنوئیں اچکائیں جیسے پوچھ رہی ہو کیا ہوا۔۔
میں یہاں جب آتی ہوں تب بس ناشتہ کرتی ہوں ہاسٹل میں تو ڈبل روٹی ہی کھاتی ہوں۔
اس نے جانے کیوں صفائی دی۔
جی ہائے لاپروائئ سے گوارا کی پلیٹ سے آملیٹ اٹھا کر دو سلائس میں رکھتئ اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں تو چھٹی نہیں کر سکتی آگے ہی حاضری کم ہوجانی میری سو چلتی ہوں۔۔
رکو میں بھی چلتی ہوں مجھے بھی یونیورسٹی جانا۔۔
اریزہ نے کہا تو اس نے غور سے دیکھا۔
جب تک تیار ہوگی تم تب تک میں یونیورسٹی پہنچ چکی ہوں گئ۔ تم آتی رہنا مجھے ہاسٹل سے اسائنمنٹ اٹھانی ہے دیر ہورہی مجھے۔ آنیانگ
وہ اپنے ازلی بے نیاز اور تھوڑے بے مروت انداز میں کہہ کر چلتی بنئ۔ اریزہ خاصی حیران تھی اسکے رویئے پر۔
دفع کرو۔ تم بھئ چھٹی کرلو۔۔
گوارا کا آملیٹ تو جا چکا تھا اس نے نوالا چائے میں ڈبو کر منہ میں رکھا۔
اریزہ نے اپنا آملیٹ اسکی جانب بڑھا دیا۔
وہ شمالی کوریائی جاسوس چلی گئ صبح صبح ۔۔ چند لقمے لے کرگوارا کے حواس بحال۔ہوئے۔۔
تم اسے یہ کہہ رہی تھیں ۔۔ جبھی رات کو اسکے تن بدن میں آگ لگ گئ تھی۔۔ اریزہ نے گھورا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔
پاگل ہے وہ۔ مجھے پہلے سے پتہ تھا وہ شمالی کوریائی باشندہ ہے۔ ہایون نے بتا دیا تھا مجھے۔۔ ایویں بے وجہ ٹینٹرم پیدا کر رہی تھی۔۔ اس نے سر جھٹکا۔۔
اسے اسکا طعنہ یاد آیا۔۔ تو منہ بن گیا۔۔
وہ تھوڑی سی دبلی زیادہ ہے مطلب یہاں سب لڑکیاں عموما بھرے بھرے گال کی ہوتی ہیں مگر پھر بھی مجھے نہیں لگا تھا وہ غیر ملکی ہے۔۔ خیر ہمیں تو چینی جاپانی بھی ایک جیسے لگتے اور کورین تو ہم جانتے ہی نہیں ہم چینی ہی سمجھتے ہر چپٹی ناک والے کو۔۔ اریزہ سادہ سے انداز میں کہہ کر ہنسی
کیا مطلب چپٹی ناک۔۔ ہمارے نقوش اچھے نہیں ہوتے تم لوگوں کی نظر میں۔۔ گوارا کا لہجہ تیز ہوا۔۔
کیا ہو گیا میں نے ایسا کب کہا۔۔ اریزہ حیران ہی تو رہ گئ۔۔
دنیا کی پر امن ترین قوم ہیں ہم اور خوبصورت بھی ایک دنیا ہمارے یہاں کے اداکاروں پر مرتی ہے یہاں کے حسن یہاں کی ثقافت کی دیوانی ہے۔۔ تم کہتی ہو ۔۔ ہاش۔۔
وہ طنزیہ انداز میں کہتی جتاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
کون۔۔ شمالی کوریائی یا جنوبی کوریائی۔۔ جہاں تک میری معلومات ہیں دونوں ملک پہلے ایک ہی تھے ان میں ایک ہی قوم بستی۔۔
اریزہ کو اسکے انداز پر غصہ آگیا تھا سو جتاکر بولی۔۔
گوارا لمحہ بھر چپ رہ گئ۔۔
باقی اگر واقعی خدا لگتی کہوں تو تم بہت خوبصورت ہو کم ازکم پلاسٹک سرجری کی تمہیں ضرورت نہیں۔
پھر چاہے یہ بات تم میرے منہ سے سنو یا ہوپ کے بس چڑنے کی بجائے سمجھ لو۔۔
وہ اطمینان سے ناشتے کے برتن اٹھا نے لگی۔۔
گوارا چپ ہو کر اسے گھورنے لگی تھی۔۔
تم بہت خطرناک ہو۔۔ تمہیں کل ہماری ساری باتیں سمجھ آگئی تھیں۔۔
اریزہ کو ہنسی آگئ تھی۔
اسکا صرف اندازہ تھا جو درست نکلا۔۔ کل ہوپ نے اسے اسکی شکل پر طعنہ مارا بالکل ویسے ہی جیسے گوارا اسکی شکل کا تمسخر اڑا رہی تھی۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوب سارا شاور لے کر سب تکان جیسے اتر گئ تھی۔
وہ گنگنا تا ہوا کمرے میں چلا آیا۔۔ آئینے میں دیکھتے ہوئے بال بناتے ہوئے اسے جانے کیا ہوا۔۔ خود کو ہر زاویئے سے دیکھنے لگا۔۔
ہینڈسم تو میں ہوں۔
شرٹ لیس لڑکے کو دیکھ کر پاکستانی لڑکیاں نہیں مرنے لگتیں
اریزہ نے منہ چڑایا تھا۔۔
وہ بے ساختہ ہنس دیا۔۔
مجھے پوچھنا چاہیئے تھاپاکستانی لڑکیوں کو پٹانے کیلیئے کیا کرنا چاہیئے۔۔
وہ زیر لب بڑ بڑا کر مسکرا دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسکرا دینا چاہیئے۔ اریزہ نے کہا تو گوارا اسے اچنبھے سے دیکھنے لگی۔۔
بس؟۔۔ میرا مطلب ۔۔ بس کوئی لڑکا تم پر مرنے لگے تو بس تمہارے سامنے مسکرایا کرے۔۔ کافی ہے۔۔
گوارا بھئ حیران تھی اریزہ اسکے تاثرات دیکھ کر ہنس پڑی۔۔
ہاں مجھے غصہ ور لوگ نہیں پسند ۔۔ وہ کندھے اچکا کر بولی۔۔
گوارا زور سے ہنسی۔۔
مجھے لگا تھا تم اتنی ساری شرطیں بتائو گی لمبا ہو گورا ہو ایسے بات کرتا ہو اتنا خیال رکھنے والا ہو مزاحیہ ہو وغیرہ ۔۔ اس نے اپنے ہنسنے کی خود ہی وضاحت کر دی۔۔ اریزہ سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
ویسے یون بن کی مسکراہٹ بہت قاتلانہ ہے۔۔ جی ہائےنے آنکھ ماری۔۔
آا۔۔ اریزہ نے ناک چڑھائی۔۔
اپنی سہیلی کے سہیلے میں کبھی دل چسپی نہ لوں میں۔۔ اس نے روانی میں اردو میں کہا۔۔ پھر چپ سی رہ گئ۔۔
اس دن سنتھیا نے بھئ تو سر پر ہاتھ رکھوا کر پوچھا تھا۔۔
ایڈون کرسچن ہے اور تمہارا منگیتر ہے۔ تم صرف یہی سوچا کروباقی سب فضول سوچیں اپنے ذہن سے نکال دو۔یہی بہتر ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا کہا تم نے۔۔ ؟۔ گوارا سمجھی نہیں سو اسکا کندھا ہلا کر پوچھنے لگی
میں کہہ رہی تھی میں اپنی دوست کے بوائے فرینڈ میں کبھی بھی دل چسپی نہ لوں۔۔
گوارا مسکرا دی۔۔
مجھے یقین ہے۔۔ تم ایسی ہی ہو۔ اس نے اتنے تیقن سے کہا کہ اریزہ حیران ہو کر دیکھنے لگی وہ پھر بات بدل گئ۔۔
تمہیں ٹھنڈ کیوں ابھی سے لگنے لگی ہے۔۔ وہ کافی حیران تھی۔۔ اریزہ جو ٹیرس پر سرد ہوا سے تھوڑا خنکی محسوس کرنے کی وجہ سے بلا ارادہ بار بار خود کو سکیڑ رہی تھی کھسیا گئ۔۔
ہمارے یہاں اسکو ٹھنڈ میں شمار کیا جانے لگتا ہے۔۔
اسکی ناک بھی چالو ہو گئ تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم آج یونیورسٹئ آئی ہو؟۔۔
گوارا نہانے گھسی تو وہ آرام سے بیڈ پر لیٹ کر کینڈی کرش کھیلنے لگئ۔۔
اسکو اطلاع آئی تھی کہ نیا پیغام آیا مگر اس نے انگوٹھے کے دبائو سے اطلاع کو ایک طرف کر دیا۔۔ اسکے چار موقعے ضائع ہو چکے تھے آخری چل رہا تھا اخیر کوئی منحو س سطح تھی کھیل کی تیس سیکنڈ میں اوپر سے گرتے پھلوں کو پار کروانا تھا ۔۔
تبھئ شائد پیغام بھیجنے والے سے صبر نہ۔ہوا۔۔
ہایون کالنگ لکھا آیا موبائل وہیں جم گیا۔۔
آہ ۔۔ اس نے بے چارگی سے موبائل کو دیکھا۔۔
پھر کال اٹھا لی۔۔
ہیلو۔۔
آننیانگ واسے او۔۔
ہائے۔۔
ہایون کا ہمیشہ کا کھلکھلاتا انداز ۔۔اسکے پر جوش زندگی سے بھرپور انداز پر اسکی بیزاری بھی کم ہوئی مسکرا کر اٹھ بیٹھی۔۔
ہائے۔۔
کیسے ہو۔۔ اس نے احوال پوچھا۔۔
جوابا اس نے خوشدلی سے بتایا
ٹھیک ٹھاک۔۔ ویسے تم پاکستانی کال اٹھاتے ہوئے ہیلو ہی کہتے ہو؟۔۔
ہاں۔۔ اس کو سمجھ نہ آیا۔۔
اچھا۔۔ وہ رکا تو اسے خیال آیا۔۔
ہم اسلام و علیکم کہتے ہیں۔۔
اس نے وضاحت کی۔۔
تم نے مجھے تو سلام نہیں کیا میں اچھا انسان نہیں؟۔۔ کہ مجھے عزت دو تم۔۔
وہ مایوس ہوا۔۔
نہیں ایسی بات نہیں بس وہ یہاں انگریزی بولنے کے چکر میں۔۔ وہ کافی شرمندہ ہوئی تھی۔۔اسکے کلاس فیلو جاننے والے اسلام وعلیکم کہہ کر ہی کال ریسیو کرتے تھے اور اسے سچ مچ عادت ہی نہیں تھی۔۔ ہیلو سے کام چلاتی ہاں کوئی بڑا ہوتو کال وصول کر لینے کے بعد سلامتی بھی بھیج دیا کرتی تھی۔۔ دوسرے ملک آئو تو احساس ہوتا کتنی انگریزی اور انگریز ہم میں گھس چکے۔۔
مزاق کر رہا تھا۔۔
اسے سنجیدہ ہوتے دیکھ کر اس نے فورا صلاح کا جھنڈا لہرایا۔۔
آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئیں؟۔۔
وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔۔
ایسے ہی۔۔ موڈ نہیں ہوا۔۔ وہ جھک کر بیڈ کے نیچے سے چپل ڈھونڈنے لگی۔۔ ایک تو سامنے تھی دوسری ٹھوکر سے بیڈ کے نیچے چلی گئ تھی وہ اکڑوں بیٹھ کر نیچے سے ہاتھ بڑھا کر اسے کھینچنا چاہ رہی تھی۔۔ مگر ہاتھ پہنچا نہیں اس نے تھوڑا سا سر بھی نیچے کیا۔۔اور آگے ہونے لگی۔۔
تمہیں پتہ ہے پہلے مڈٹرم کےمتحانات کیلیئے فہرست آج شائع ہوئی ہے اور اس میں تم سمیت باقی تمام پاکستانی طلبا کا نام نہیں۔۔ آج ایڈون
کیا۔۔ وہ چیخ کر سیدھی ہوئی سر پٹی سے لگا بس جیسے دو ٹکڑے ہی ہو گیے ہوں۔۔مگر خبر کہیں زیادہ تکلیف دہ تھی۔۔
وہ۔رو ہانسی ہو چلی۔۔
کیوں۔ ہم نے تو سب اخراجات ادا کر دیئے تھے یونیورسٹی کی تمام تر ۔۔
اسکی آنکھیں لبالب بھر گئیں۔۔
وہ۔۔ وہ کہتے کہتے رکا۔۔
بات یہ نہیں۔۔ در اصل یونیورسٹی تم لوگوں کو ۔۔
اسے سمجھ نہ آیا کیسے بتائے۔۔
وہ تم لوگوں کی جو پاکستان کی یونیورسٹی ہے نا وہ بین القوامی سطح پر جانی نہیں جاتی۔ تو یونیورسٹی وہاں سے پڑھے گئے دو سال کو یہاں مان نہیں رہی مطلب تم۔لوگوں کی گریجوایشن تب مکمل ہوگی جب تم لوگ چار سال یہاں پڑھوگے ۔۔
سو تم سب طلبا کے نام پہلے سمسٹر میں شامل کر لیئے گئے ہیں جو اگلے تین مہینوں بعد نیا طلبا کا گروہ آئے گا انکے ساتھ۔ تمام اخراجات وہ اس سمسٹر میں ضم کر دیں گے۔۔
وہ مکمل تفصیل ایڈون سے لیکر آیا تھا۔۔
ایسے کیسے۔۔ ہماری یونیورسٹی نے بھی اس یونیورسٹی کے طلبا کو وہاں چوتھے سمسٹر میں ہی قبول کیا ہے۔۔
وہاں جانے والے تمام طلبا واپس آچکے ہیں۔۔ کوئی بم دھماکا ہوا تھا لاہور میں تو سیکیورٹی کی وجہ سے۔

لاہور میں؟۔۔ وہ چیخ پڑی
مگر ہماری یونیورسٹی تو اسلام آباد میں ہے۔۔ حد ہے ایسا کیسے کر سکتے کوئی انسانیت ہے تم لوگوں میں ۔۔ ڈرپوک کہیں کے ہم بھی تو رہ رہے ہیں وہاں۔۔ موت یہاں نہیں آئے گی؟۔۔ سو سال جیو گے۔۔ وہ پھٹ پڑی تھی۔۔ بولتے بولتے آواز بھی بھرا گئ۔۔ ہایون چپ سنتا گیا۔۔یونیورسٹی کی انتظامیہ کا گلا دبا دے۔۔
مت رو پلیز۔۔ ایڈون وغیرہ سب بات کر رہے ہیں آج سارا دن وہ انتظامیہ سے بات کرتے رہے ہیں پریشان مت ہو کوئی حل نکل آئے گا۔۔
تین مہینے ہمارے ضائع۔۔ ایسا کیسے کر سکتے۔۔
وہ اردو میں بول رہی تھی۔۔
ہمارا تو پورا سال ضائع ہوگیا نا۔۔ اسکے دکھ کی کوئی انتہا نہ تھی۔
اریزے شا۔۔ ہم کچھ حل نکال لیں گے۔۔ احتجاج کر لیں گے سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ تم مت پریشان ہو۔۔
اسے سمجھ تو نہیں آرہا تھا مگر اسکا رونا تو سمجھ سکتا تھا اسے اپنی طرف سے جو تسلی دے سکتا تھا دے رہا تھا۔۔
بہت برا کیا ہے حد کر دی۔۔ ہم چھوٹے ملک سے ہیں تو ہمارے پاس کیا دماغ نہیں۔۔ ہم عقل میں کم ہیں۔ ایسا ترقی یافتہ ملک ہونے سے بہتر ہے ہمارا غریب ملک۔۔ ہونہہ۔۔
اسکو غصے میں سمجھ بھی نہیں آرہا تھا کیا کہے۔۔
ہم انکے چندی آنکھوں والوں کو پڑھا رہے یہ ہمیں انکار کر رہے۔
واٹ ۔۔ انگریزی میں بولو نا ظرف واٹ؟۔۔
وہ بے چارہ بنا سمجھے بس سنے جا رہا تھا۔۔
تمہارا سر۔۔
اسے اب احساس ہوا اسکے سارے جملے ضائع گئے۔۔ سو تپ کر چیخی اور کال بند کر کے موبائل بیڈ پر اچھال دیا۔۔
گوارا نہا کر بال جھٹکتی کمرے میں آئی تو اسکا لال بھبوکا چہرہ دیکھ کر حیران رہ گئ۔۔
کیا ہوا؟۔۔ رو کیوں رہی ہو۔۔
تم ہزار دفعہ کہا ہے میری جوتی کو ٹھوکر مار کر بیڈ کے نیچے مت کیا کرو اب بیچ میں پہنچ چکی ہے تمہیں گھسیڑ کر نکالوں اب میں۔۔
وہ حلق کے بل چلائی۔۔
کیا؟۔۔ گوارا کو بس بیڈ سمجھ آیا اسکے پورے جملے میں۔۔
کیا ہوا بیڈ کو۔۔ وہ بے چاری بیڈ کو چھو کر دیکھ رہی تھی۔
یہ تو حال اپنی زبان کے علاوہ ایک لفظ کچھ سمجھ نہیں آتا بنتے بڑے طرم خان ہو۔۔ جاہل۔۔
وہ چڑ کر۔کہتی پیر پٹختی کمرے سے نکل گئ۔۔
کیا ہوا ۔۔
گوارا نے اسکے پیچھے آواز لگائی۔

پھر پر سوچ نظروں سے بیڈ کو۔دیکھنے لگی۔

دیکھنے میں تو ٹھیک ہی۔لگ رہا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری طبیعت آج ٹھیک نہیں لگ رہی تم گھر چلی۔جائو۔۔
اسکو تھکے تھکے انداز میں ٹرے اٹھا کر کائونٹر پر رکھتے دیکھ کر اسکے مینیجر نے ہمدردی سے کہا۔۔
جی۔۔ اسے لگا شائد سننے میں غلطی ہوئی ہے۔۔
میں کہہ رہا ہوں تم گھر چلی جائو آرام کرو۔۔ اس نے نرم سی مسکراہٹ کیساتھ بات دہرائی۔۔
مگر۔۔ وہ ہچکچائی۔۔
جائو جائو۔۔ آج ویسے بھی موسم اعتدال میں نہیں تیز بارش کا امکان ہے ایسے موسم میں کون باہر نکل کر یہاں برگر کھانے آئے گا۔۔ گھر بھجوانے والے ہی زیادہ آرڈر آئیں گے وہ تو سونگ جانگ وغیرہ دیکھتے ہیں۔۔ جائو آج تمہاری چھٹی۔۔
وہ لاپرواہ سے انداز میں کہتا مڑ کر برتن سمیٹ کر سنک میں رکھنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں پڑی ہوئی ہو زمین پر کتیا۔۔ کسی نے زور دار لات مار کر اسے جگایا تھا۔۔
اسکے پیٹ میں درد کی شدید لہریں اٹھی تھیں وہ جو پہلے ہی زمیں پر پڑی تھی مزید دہری ہو گئ۔۔ ۔
کیا ناٹک کر رہی ہو۔اٹھو یہاں سے۔۔ اور میرے لیئے چائے بنا کر لائو۔۔ کیا پکایا ہے تم نے کتیا۔۔
وہ چندی آنکھوں والا ادھیڑ عمر آدمی غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔
وہ آنسو پونچھتی اٹھنے لگی
اتنی ٹھنڈ میں زمیں پر کیوں پڑی تھی کتیا مر مرا جاتی تو کون زمہ دار ہوتا کوڑے میں بھی نہیں پھینک سکتا تھا سیدھا مجھ پر کیس بنتا کیوں مری ہوئی تھی یہاں دروازے پر۔۔
اسکے اٹھتے ہی زوردار تھپڑ اسکے گال پر جما کر وہ پھر غرایا تھا۔۔
میں۔۔ اس نے گھومتے سر کو تھام کر نگاہ دوڑائی۔۔ وہ گھر کے داخلی دروازے کے بالکل سامنے راہداری پر پڑی ہوئی تھی۔۔
کیوں ۔۔ اس نے سوچنا چاہا۔
اب بھونک کیوں نہیں رہی۔۔ اس جلاد صفت انسان نے اسکے بال پکڑ لیئے تھے۔۔
اسے تبھی یاد آیا۔۔
وہ باہر برف باری ہو رہی تھی۔۔ اس نے سسکتے پوئے بتایا بتائے بنا چارہ نہ تھا۔۔
گھر میں کچھ پکانے کو نہ تھا سودا لینے گئ تھی۔۔
ٹھنڈ لگ گئ۔۔ گھر آئی تو چکرا کر گر گئ۔۔
اس نے ٹھوٹی پھوٹی جتنی بھی چینی زبان آتی تھی اس میں ماضی الضمیر بتانے کی پوری کوشش کرنے لگی۔۔
بے ہوش ہو گئ تھی۔۔ اب اٹھی ہے؟۔۔ ایک اور تھپڑ اسکا گال دہکا گیا۔۔
کچھ پکایا بھی نہیں ہوگا۔۔ اب میں بھوکا مروں تمہاری وجہ سے۔۔ آگے مغلظات بکنا شروع۔۔
میں ابھی سوپ بنا لیتی ہوں۔۔اسکی آواز میں لرزش تھی۔۔
وہ کانپ رہی تھی۔۔ اسکے ڈر سے زیادہ ٹھنڈ سے ایک معمولی بوسیدہ سویٹر پہنے تھی۔۔ جس میں سوراخ ہو چکے تھے۔۔ یہ وہ واحد تحفہ تھا جو اسے پچھلے دو سالوں میں ایک بار شیانگ جو کی ایک گرل فرینڈ نے ترس کھا کر اسے دے دیا تھا۔۔
جائو مرو باورچی خانے میں ۔۔آدھے گھنٹے میں کھانا تیار ہونا چاہیئے۔۔
اس نے تحکمانہ انداز میں کہا تو وہ جلدی سے سر ہلاتی زمین پر گرے سودے کے شاپر سمیٹتی کچن میں دوڑ گئ۔۔ کم از کم وہاں حرارت تو ہوگی۔۔
جلتی لکڑیوں پر پکتی ہنڈیا کے نیچے سے نکلتی آنچ پر اپنے سپید ہاتھ سینک کر اپنے گال پر لگاتی تو تکلیف سے آنکھ بھر آتی۔
کھانا بنا کر ٹرے میں لگا کر کمرے میں آئی تو وہ جلاد سو چکا تھا۔۔ اس نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔
پھر مسکرا دی۔۔
یعنی آج میری چھٹی۔۔ وہ زیر لب مسکرائی اور وہیں زمیں پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر جلدی جلدی سوپ اور نوڈلز کھانے لگی۔۔
یہ دو سالوں میں اسکی گن کر پانچویں چھٹی تھی۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔ مینجر نے اسکے تشویش سے کندھے سے ہلایا پھر فکرمندی سے اسکا ماتھا چھو ا۔۔
اسکئ پیشانئ گرم تھی۔۔ وہ کسی ٹرانس سے واپس حواسوں میں آئی۔۔
تمہیں تو کافی تیز بخار ہے لڑکی۔۔ حد کرتی ہو۔۔ وہ اسے تھام کر قریبی اسٹول پر بٹھانے لگا۔۔
بتایا کیوں نہیں؟۔۔ ایک میسج کر دیتیں مجھے اور آرام کرتیں۔۔ کچھ کھایا ہے؟۔۔ وہ شیانگ کی ہی عمر کا ہوگا چندی مگر کھنچی ہوئی آنکھوں والا۔ادھیڑ عمر مرد مگر کتنا مختلف سا تھا دیکھنے میں نہ نقوش مین کڑختگی نہ آواز میں درشتگی۔۔۔ اسکے نرم رویے سے اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔
زیادہ طبیعت خراب ہو رہی ہے؟۔۔وہ اور سٹپٹا گیا۔۔
یہ جونگ آئے تو ۔میں اسے فون کرتا ہوں وہ آئے تو اسٹور اسکے حوالے کرکے تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں۔۔
آنیو آہجوشی۔۔ ۔۔ اس نے دونوں آنکھیں سختی سے رگڑ ڈالیں اور زبردستی مسکرا دی۔۔
کیم چھنا۔۔
نہیں صاحب میں ٹھیک ہوں۔۔
بس بخار ہے میں گھر جا کر دوا کھا لوں گی۔۔
وہ اٹھنے لگی تو مینجر نے اسکو کندھے سے پکڑ کر واپس بٹھا دیا۔۔
نہیں تم اتنے تیز بخار میں کیسے جائو گی۔ بخار دیکھنے والا آلہ ہوتا تو تھا میری دکان پر یہ۔لڑکے ہلڑ بازی کرتے میری چیزوں کے ساتھ کبھی وقت پر نہیں ملتا کچھ۔۔ وہ اسے بٹھا کر تیزی سے اپنے کاونٹر کی جانب بڑھا اوردرازین الٹ پلٹ کرنے لگا۔۔ ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر آلہ لے آیا اسکے کان میں گھسیڑا ۔۔
مجھے پتہ ہے میرا بخار اتنا زیادہ نہیں ہے آپ یونہی پریشان ہو رہے آہجوشی۔۔
اس نے ایک مرتبہ پھر اطمینان دلانا چاہا تھا۔۔مینجر ان سنی کر کے بخار دیکھنے لگا پھر اسکی کھنچی ہوئی چندی آنکھیں اپنے حجم سے دگنی ہوگئیں۔۔
ایک سو دو بخار۔۔ میں ابھی جونی کو بلاتا ہوں۔ ۔۔وہ سیدھا فون کی جانب بڑھا۔۔ پھر رک گیا۔۔
بلکہ ایسا کرو تم یہیں رکو میں ٹیکسی لے کر آتا ہوں جون جانے کب آئے میں دکان بند کر دیتا ہوں۔۔ ٹیکسی تک تو چل۔لو گی۔۔ ہم سیدھا اسپتال چلتے ہیں۔۔
وہ حواس باختہ ہوگیا تھا۔
ایک سو دو بخار ہے بس۔۔ پڑی تو ایسے تھی بستر پر جیسے مرنے لگی ہے۔۔ کسی نے تھرما میٹر اسکے ہی منہ پر دے مارا۔۔
وہ چونکی۔۔
نہیں۔۔ بھئی۔۔ اتنا بخار کوئی بڑی بات نہیں ہوتا۔۔ میں خود چلی جائوں گی ڈاکٹر کے پاس۔۔ وہ یکدم اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ یہ آہجوشی تو دیوانگی میں جانے کیا کر ڈالے۔۔ وہ سوچ کر رہ گئ۔۔
اور شائد تھرما میٹر خراب ہے آپکا مجھے تو معمولی حرارت ہے بس۔۔ اس نے جان کر بشاش انداز اپنایا۔۔
میں بس تھوڑا آرام کرنا چاہتی ہوں اجازت ہو تو گھر چلی جائوں۔۔ اس ہفتے کے آخر پر اوور ٹائم لگا لوں گی۔۔
اس نے تسلی دینے والے انداز میں کہا تو وہ منہ کھول کر ہی دیکھ کر رہ گیا۔۔
ایکدم اتنی طراری ایک سو دو بخار کے بعد تو نقاہت ہو ہی جاتی ہے۔۔ تھرما میٹر ہی خراب ہوگا
ٹھیک ہے۔ وہ اجازت طلب انداز میں دیکھ رہی تھی۔۔
ٹھیک ہے۔۔ اس نے اور کیا کہنا تھا۔۔ وہ مخصوص کوریائی انداز میں جھک کر الوداعی کلمات ادا کرتی رخصت ہوئی تو اس نے ہاتھ میں پکڑا آلہ اپنے کان میں لگا لیا۔۔
کئی درجے کم ایک عام آدمی کی سطح کا نقطہ بتا رہا تھا۔۔۔۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC

وہ ٹیرس میں ٹہلتی اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب گوارا اسکا فون اٹھائے چلی آئی۔۔
اس نے توجہ نہ کی۔۔
بج رہا ہے اٹھا لو۔۔ گوارا نے اسکے تیور دیکھ کر ڈرتے ڈرتے ہاتھ بڑھایا۔۔ اسکو لگا کہیں اس بار فون اٹھا کر عمارت سے نیچے نہ پھینک دے۔۔ اس نے گہری سانس لے کر فون اسکے ہاتھ سے لیا۔۔
امی۔۔ وہ نام دیکھ کر چونکی۔۔ اسے جانے کیوں مسرت ہوئی تھی۔۔ صحیح ہے ماں کے دل کو خبر ہو جاتی ہے اولاد پریشان ہے تو۔۔
اسلام و علیکم ۔۔ اس نے بے تابی سے فون اٹھایا۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔ کیسی ہو؟۔۔ امی نے عام سے انداز میں پوچھا۔۔ تین مہینے بعد بیٹی سے بات کر رہی تھیں یہ ڈر بھی تھا کہیں دوبارہ غصے میں نہ آ جائے
ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں۔۔ اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔ بعد امی کو یاد آگئی میری۔۔ دل تو کیا جتا دے۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں۔۔ پڑھائی کیسی جا رہی ہے تمہاری۔۔؟۔۔
انہوں نے پوچھا تو مگر جواب میں دلچسپی نہ تھی
ٹھیک۔۔ ابھی بس اتنا منہ سے نکلا تھا انہوں نے بات کاٹ دی۔۔
یہ بتائو چھٹیاں کب ہیں تمہاری؟۔۔بہت اچھا رشتہ آیا ہے تمہارا تم کب تک آرہی ہو بتا دو تو ہم یہاں تاریخ رکھ لیں۔۔ تمہارے بابا کے دوست کا بیٹا ہے۔ ہم تو مطمئن ہیں۔۔ پڑھائی کا کیا ہے ہوتی رہے گی۔۔ وہ کینڈا میں رہتا ہے وہیں جا کر مکمل کر لینا۔۔ کب سے چھٹیاں ہیں تمہاری؟۔۔۔
صاف انکار کردیں مجھے نہیں کرنی شادی۔۔
وہ بری طرح جھلا ئی۔۔
کیا مطلب ہے؟۔۔ ہم مطمئن ہیں کر رہے ہیں طے رشتہ اب تو لڑکا اتنا بڑا بھی نہیں دلاور سے کہتی ہوں تصویر بھیج دے گا تمہیں۔۔ وہ اور جھلا کر بولی تھیں۔۔
کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں نے انکار کر دیا اب کوئی بات نہیں ہوگی۔۔ آئندہ مجھے فون بھی کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔
اس نے غصے سے کہہ کر فون کاٹ دیا
جان نہیں چھٹنی میری۔۔ آخر کیوں۔۔ میرا ہر کام خراب ہو ایسا کیوں لکھا ہے آپ نے میری قسمت میں۔۔ وہ آسمان کو دیکھ کر چلا اٹھی ۔۔ ڈھیر سارے آنسو گالوں پر پھیلتے چلے گئے تھے۔۔ وہ بے دم ہو کر وہیں زمین پر بیٹھ گئ۔۔ اور گھٹنوں میں منہ دے کر رونے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈور بیل کی آواز پر گوارا نے دروازہ کھولا تھا۔۔
ہایون تھا۔۔
اریزہ کہاں ہے۔۔ اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔۔
ٹیرس میں ہے۔۔
گوارا نے حیران ہوتے ہوئے بتایا۔۔
کیوں آخر کیوں ۔۔ اریزہ کے چلانے پر
دونوں بھاگ کر ٹیرس میں آئے تو وہ بیچوں بیچ بیٹھی گھٹنوں میں منہ دیئے سسکیاں لے کر رو رہی تھی۔
کیا ہوا کین چھنا؟۔۔ گوارا بھاگ کر اسکے پاس آئی
کوئی کیم چھنا نہیں۔۔
مر جائوں بس میں کچھ دنیا میں میرے لیئے نہیں ہے۔۔ وہ اور زور سے کہتی بلک اٹھی۔۔
کیا ہوا۔ بتائو تو سہی۔۔ گوارا تڑپ گئ اسے بلکتے دیکھ کر۔۔
اسکو ابھی کوئی فون آیا تھا اسکے بعد سے ۔۔ گوارا نے پریشان کھڑے ہایون کو بتایا۔
کہیں کوئی ڈیتھ تو نہیں۔۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے خیال ظاہر کیا۔۔ وہ ہنگل میں کہہ رہی تھی۔۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔ ہایون یہی سمجھا اسکے فون کے بعد سے رو رہی۔۔ بات تو بڑی تھی مگر رونا اسکا حل نہیں تھا۔۔
اریزہ ہم کچھ کر لیں گے فکر مت کرو۔۔ اس نے اپنے طور پر تسلی دینی چاہی
کیا کر لوگے ؟۔۔ وہ جھلا کر سر اٹھا کر بولی۔۔
یہاں پڑھوں نہ پڑھوں ڈگری ملے نہ ملے کوئی فرق نہیں پڑتا میرے خواب میرے ارادے کسی کیلیئے اہم نہیں بس کسی طرح کوئی کاٹھ کا الو میرے سر پر سوار ہو جائے بس۔۔ میری خواہشیں کس کےلیے معنی رکھتیں۔۔ بس ہو جائے گی شادی میری۔۔۔ دھڑا دھڑ رشتے آرہے میرے شادی ہو رہی طلاق ہو رہی پھر شادی طے مزاق ہوں میں کیا؟۔۔ موجود بھی نہیں وہاں اور میرا ر شتہ طے کر کے اطلاع دے رہے مجھے۔۔ ایسا تو جانوروں کے ساتھ ہوتا انسان بھی نہیں سمجھتے کیا مجھے۔۔
بھرائی آواز میں رو رو کر وہ چلائی تھی۔۔ گوارا اور ہایون دم بخود اسے دیکھ رہے تھے۔۔
کیا کہہ رہی ہے کچھ اندازہ ہے تمہیں۔۔ گوارا نے دھیرے سے ہایون کی جانب جھک کر سرگوشی کی۔۔
آنیو۔۔ وہ بے بسی سے نفی میں سر ہلا کر بولا۔۔
تبھی تیز بارش شروع ہو گئ۔۔
وہ یونہی بلک رہی تھی۔۔ انداز کسی ضدی بچے کے جیسا تھا جو محروم رہ گیا ہو۔۔
اریزہ اندر چلو بھیگ جائو گی۔۔ تمہیں تو صبح بھی سردی لگ رہی تھی۔۔ گوارا نے آگے بڑھ کر اسے اٹھانا چاہا۔۔ اس نے ضدی بچے کی طرح خود کو چھڑایا۔
چھوڑ دو مجھے کہیں نہیں جانا مجھے۔۔
وہ اتنی دل برداشتہ تھی کہ انگریزی کی بجائے مستقل اردو میں بات کر رہی تھی۔۔ گوارا کو جملے تو نہیں انداز سمجھ آگیا گہری سانس لے کر اسے اٹھانے کا ارادہ ترک کردیا۔۔ مڑ کر ہایون سے کہنے لگی۔۔
تم۔تو اندر چلو۔۔ ابھی بہت پریشان ہے تھوڑی دیر تک جی ہلکا ہوگا تو اندر آجائے گی۔۔
ہایون نہ اسکی جانب متوجہ ہوا نہ ہی اسکی بات کا جواب دیا۔۔ وہ اریزہ کو دیکھے جا رہا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا جا کر یونیورسٹی والوں کا منہ کچل دے۔۔
گوارا نے ایک نظر اسکی نگاہ کا محور دیکھا۔پھر زمین پر پڑا موبائل اٹھا کر اندر چلی آئی۔ وہ دونوں یقینا اس وقت ٹیرس پر ہوتے ہوئے بھی کہیں اور تھے۔۔ اس کے لب وا ہوئے پھر لب بھینچ کر اندر چلی آئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے بس میں بیٹھتے ہی بار ش شروع ہو گئی تھی۔۔ موسلا دھار بارش تھی۔۔ اسکے آدھے گھنٹے کے سسفر میں نہ کم ہوئی نہ رکی یہاں تک کے اسکے بس سے اترنے تک کا وقت آگیا۔۔ اس نے بے بسی سے اس بے رحم آسمان کو دیکھا۔
اسٹاپ سے رہائشی عمارت تک جاتے جاتے وہ مکمل بھیگ چکی تھی۔اسکا بخار جانے تیز ہوا تھا یا کم مگر بھیگ کر جسم کپکپانے لگا تھا۔۔ دور دور تک خالی سڑک اور تیز بارش۔۔ مارکیٹ تک بند تھی یا مالکان اندر دبک کر بیٹھے تھے۔۔ نہ بندہ نہ بندے کی زات اسکو زور دار چکر آیا تھا۔۔ سنبھل سنبھل کر بھی وہ لہرا کر پورے قد سے نیچے آرہی تھی تبھی شائد اسکا نگران فرشتہ آگے بڑھ کر اسے تھام گیا تھا۔۔ ڈوبتے زہن کے ساتھ بھی اس نے آنکھیں کھول کر تھام لینے والے کا چہرہ دیکھنا چاہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتظامیہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں۔۔
ایڈون نے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا تھا۔۔
وہ سب باہر کیفے میں اکٹھا ہوئے تھے۔۔ سالک اور شاہزیب بھی کم پریشان نہیں تھے۔۔ یون بن انکی ہمت بندھانے اٹھ آیا تھا۔۔ سب کے سامنے گرم کافی رکھی تھی مگر کسی نے ایک گھونٹ تک نہ بھرا تھا۔۔
تم لوگوں کی یونیورسٹی کیا کہتی ہے؟۔۔ یون بن نے کہا تو ایڈون بس دیکھ کر رہ گیا۔
ابھی تو رابطہ کیا ہے آگے ویک اینڈ ہے پیر کو جواب آئے گا اگر کوئی آیا تو ۔۔ اور منگل سے امتحانات شروع ہیں۔۔ سالک نے کہا تو وہ تسلی بھرے انداز میں کہنے لگا۔۔
تم لوگ فکر مت کرو۔۔ کل پھر بات کرتے ہیں نہیں تو احتجاج کرنا ایسا کیسے کر سکتے تم لوگوں نے ہمارے ساتھ پڑھا ہے ہمارے ساتھ ہراسائنمنٹ مکمل کی ہے ایسے کیسے وہ سب ختم کر سکتے۔۔ تم لوگ احتجاج کرو میں بھی ساتھ دوں گا۔۔ اس کے پر خلوص انداز پر تینوں کا دل بڑھا تھا۔۔ وہ مسکرائے تو یون بن بھی مسکرا دیا۔
تم نے کہہ دیا یہی بہت ہے۔۔ شاہزیب کو دل سے قدر تھی۔۔
آج کا ڈنر میری طرف سے۔۔ ایڈون نے کہا تو سالک اٹھ کھڑا ہوا۔۔
تم لوگ کھائو مجھے بھوک نہیں۔۔ وہ جانے لگا تھا۔۔
کہاں جا رہا۔۔ شاہ زیب کو اندازہ تھا اسکی پریشانی کا۔۔
اسکے چہرے سے ہویدا تھی۔۔
تیرے بھوکے رہنے سے مسلہ حل نہیں ہو جائے گا۔۔
ایڈون نے لاپروائی سے کہہ کر ویٹر کو اشارے سے بلایا۔۔
مجھے واقعی بھوک نہیں ۔۔ وہ منمنایا
بیٹھ اور کھا ۔ شاہزیب نے ہاتھ پکڑ اسے کھینچ کر واپس بٹھایا۔۔ یون بن خاصی حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
کیا کہا تم نے؟۔
میں نے اسے کہا کہ بیٹھو اور کھا کے جائو۔۔
شاہزیب نے انگریزی میں وضاحت کی تو اسکی حیرت دو چند ہوگئی۔
کھا کا مطلب ہوتا جائو۔۔ دفع ہو۔۔ اس نے بتایا تو تینوں زور سے ہنس دیئے۔۔
ہم نے ہنگل نہیں اردو بولی ہے اور اردو میں کھا اسکا مطلب ہوتا کھائو ۔۔ ایڈون نے وضاحت کی تو یون بن حیرانی سے بولا۔۔
کافی عجیب ہے یہ تو۔۔
کم سن کہاں ہے صبح سے نظر نہیں آیا۔۔ شاہزیب کو خیال آیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوپ چاول کمچی۔۔ ساتھ اسکا لایا ہوا گوشت انہون نے سٹیک بنا کر سامنے رکھا۔۔ کھانے کے لیئے زمین سے تھوڑی سی اونچی چوڑی سی پیڑھی پر کھانا چنا گیا تھا۔۔ وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھا کھانے کا انتظار کر رہا تھا۔۔ وہ جھک کر فورا شروع ہو گیا تھا۔۔انہوں نے پیار سے دیکھا اسے۔۔
بہت عمدہ ہے۔۔ چھائے موکے سبندا۔
میں ٹھیک ٹھاک کھائوں گا۔۔اس نے روائتی انداز میں انکو شکریہ ادا کیا۔۔ مسکراتے مسکراتے انکی آنکھیں بھر آئیں۔۔
ابھی کل کی ہی بات لگتی پانچ سالا کم سن انکے ہاتھوں سے نوالے لینے کی ضد کرتا وہ بے حد احتیاط سے چاپ اسٹکس سے ایک نوالا چاول اسکے منہ میں ڈالتیں وہ منہ میں بھر کر بیٹھا رہتا وہ فورا ایک چمچ سوپ بھر کر اسکے سامنے کرتیں وہ جلدی سے منہ کھول کر سوپ بھی بھر لیتا۔۔ پورا منہ بھر کر اپنے بھرے بھرے گالوں کو پھلا کر چھوٹا سا پانڈا ہی تو لگتا تھا۔۔وہ اسکا ماتھا چوم لیتی تھیں۔۔
وہ بہت رغبت سے کھا رہا تھا۔۔
اوروہ بہت رغبت سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔
یہ رکھ لیجئے۔۔ کھانا کھا کر اس نے اپنے ہڈ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر انہیں ایک بھورا کاغذی لفافہ نکال کر تھمایا۔۔ نوٹوں سے پھولا ۔۔ انکی مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔
تم اپنی شکل دکھا جاتے ہو یہی بہت ہے۔۔ میری بیٹی اتنا کما لیتی ہے کہ ہمارا گزارہ ہو سکے بیٹا۔۔
انکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔
میں جانتا ہوں۔۔ وہ آہستگی سے بولا۔۔
مگر یہ آپکے بیٹے کی طرف سے ہے۔۔ چھوٹو کا مکمل علاج کروائیں یوں بار بار بخار آنا صحیح بات نہیں۔۔ اس نے دزدیدہ نظروں سے دور پنگھوڑے میں لیٹے ننھے فرشتے کو دیکھا جو نیند میں گم تھا۔۔اسکی سانسوں کی نا ہمواری محسوس کی جا سکتی تھی۔۔
میں سگی ماں تو نہیں ہوں تمہاری مگر مجھے فخر ہے میں تم جیسے بیٹے کی ماں ہوں۔۔ انکے کہتے ہوئے لب کپکپا گئے تو کم سن نے آگے بڑھ کر انکو سینے سے لگا لیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہوئی تو فورا وہ کریانے کی دکان میں گھس کر چھتری خرید لایا۔۔ قطرہ قطرہ برستی بارش چھتری پر گر رہی تھی۔ وہ عیاں چھتری لایا تھا۔۔ ٹرانسپیرنٹ۔۔ جس میں سر اٹھا کر دیکھو تو بارش چہرے پر برستی تھی مگر گیلا نہیں کرتی تھی۔۔
موسم بدلنے لگے تو پہلی بارش دل پر برستی ہے۔۔
اس نے کہیں سنا تھا۔۔ ابھی بھی سر اٹھا کر بار ش کو دیکھتے ہوئے یوں مسکرایا جیسے بارش کو جتا رہا ہو دیکھ لو میرا کچھ بگاڑ نہیں پائیں تم۔۔
اسکا یہ احساس وقتی تھا۔۔ وہی بار ش جو اسکا کچھ نہیں بگاڑ پا رہی تھی کسی کو شرابور کر چکی تھی۔۔
وہ لمحہ بھر کو رکا۔۔ سامنے ہلکے سے رنگ کی لانگ اسکرٹ اور بلائوز میں ملبوس وہ لڑکی اپنے شرگ میں سمٹتی شائد کانپ بھی رہی تھی۔۔ لحظہ بھر کو لہرائی تو وہ ایک دم بھاگ کر اسکی جانب بڑھا۔۔اسکے پہنچتے پہنچتے بھی وہ بے دم سی ہو کرزمین پر آرہی مگر وہ وقت پر پہنچ گیا تھا۔۔ اسے بروقت تھام کر اس نے کھڑے قد سے گرنے سے بچا لیا تھا۔۔ تبھی بجلی چمکی تھی اس لڑکی کے چہرے کے خد و خال نمایاں ہوئے تھے۔۔ کم سن اسے پہچان گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانے کتنی دیر بعد اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔ اس کے پپوٹے اتنے بھاری ہورہے تھے کہ آنکھ کھولتے ہی فورا بند کر لی۔۔ چند لمحے پلکیں جھپکنے کے بعد اسکی آنکھیں کھل ہی گئیں۔۔ ٹیوب لائٹ کی روشنی پورے کمرے کو روشن کیئے ہوئے تھی۔۔ مگر کمرہ یہ کونسا تھا۔۔ اس نے زہن پر زور ڈالنا چاہا۔ بہت نا مانوس سا ماحول تھا۔۔۔ اسے جاگتے دیکھ کر تھوڑے فاصلے پر صوفے پر بیٹھا کم سن فورا اٹھ کر اسکے پاس آیا۔۔
کین چھنا۔۔ (تم ٹھیک ہو)۔۔
دے۔۔(ہاں۔۔)۔
اس نے دھیرے سے کہہ کر اٹھنا چاہا۔۔ مگر کمزوری کی وجہ سے اٹھ بھی نہ سکی۔۔
لیٹی رہو۔۔ ڈرپ لگی ہوئی ہے۔۔ کم سن نے فورا روکا۔۔
اور احتیاط سے اسکے سر کے نیچے تکیہ ٹھیک کرنے لگا۔۔
ڈاکٹر کہہ رہے تھے کمزوری بہت ہے تمہیں اوپر سے بخار بھی۔۔ جبھی طبیعت زیادہ خراب ہو گئ۔۔
وہ بتا رہا تھا۔۔
کتنا خرچہ ہو گیا ہوگا۔۔ وہ بیزاری سے بڑ بڑائی۔۔
آواز اتنی مدھم تھی کہ کم سن سن بھی نہ سکا۔۔
دے؟۔۔ وہ۔پورے کا پورا سوالیہ نشان بنا۔۔
اندے۔۔ وہ اور بیزار ہوئی اپنی بائیں کلائی کو غور سے دیکھنے لگی۔۔ کنولا لگا ہوا تھا۔۔ اس نے دایاں ہاتھ بڑھا کر جیسے ہی آسے کھینچ کر نکال دینا چاہا کم سن نے اسکا ارادہ بھانپ کر اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
تھوڑی سی ڈرپ رہ گئ ہے۔۔ صبر کرو۔
اسکا انداز ڈانٹنے والا تھا۔۔
وہ شدید بد مزہ ہوئی۔۔
مجھے نہیں لگوانی ڈرپ اسکو نکالو۔۔ مجھے گھر جانا۔۔ وہ یکدم جھلا گئ۔۔
مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟۔۔ ہر وقت اتنا چڑی ہوئی کیوں رہتی ہو۔۔ جبھئ خون نہیں بن رہا تمہارا۔۔ کم سن بھی چڑ گیا تھا۔۔
تمہیں کیا۔۔ میرا خون بنے جلے میں جیوں مروں۔۔ وہ اور بری طرح چڑی۔۔
اتنے لوز ٹیمپر کے ساتھ تم آرٹسٹ کیسے بن گئیں؟۔۔
آرٹسٹوں میں تو غصہ اور جھلاہٹ ہوتی ہی نہیں ہے۔۔
وہ بالکل غصہ بھول کر دلچسپی سے اسکی شکل دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے لال بھبوکا ہو چلی تھی۔۔
کہاں بنی۔۔ ؟۔۔ کوئی نہیں ہوں میں آرٹسٹ۔۔ اور ہاتھ چھوڑو میرا۔۔
اس نے غصے سے پاگل ہوتے ہوئے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔۔ تنتنا کر اٹھ بیٹھی دوبارہ۔کنولا نوچنے کیلیئے ہاتھ بڑھایا۔۔ اور دوبارہ ہی کم سن نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں کپڑے بدل کر اسکے سامنے بیبے بچے بنے صوفے پر بیٹھے تھے۔۔ اور گوارا انہیں کینہ توز نظروں سے گھورتی بھرے ہوئے کافی کے مگ تھما رہی تھی۔۔
دونوں دانستہ اس سے نظریں چرا کر کپ تھامنے لگے تھے دونوں ہی کو اکٹھے چھینک آئی تھی۔۔
مطلب حد ہے ۔۔اس نے بھنا کر کپ سامنے میز پر رکھا۔۔
اسکو تو یہاں کے موسم کا اندازہ نہیں تمہاری عقل کو کیا ہوا تھا۔۔ ؟۔ یہ درجہ حرارت دیکھو۔اس نے اپنے سیل فون سے درجہ حرارت نکال کر دکھایا۔۔ ہایون تو حیران نہیں ہوا اسے اندازہ تھا مگر اریزہ کی آنکھیں پھیل گئیں
دس ڈگری۔۔ اس میں تو ہم پنڈی والے دو سوئیٹریں چڑھا چکے ہوتے۔۔ آں چھی۔۔ دسمبر میں جاتا وہ بھی رات کو اتنا ۔۔
بات مکمل کر کے دونوں کی شکل دیکھی تو دونوں کی شکلوں کے تا ثرات زرا بھر نہ بدلے تھے۔
اب ترجمہ کرو کیا کہا۔۔ دونوں نے کورس میں کہا تھا۔۔
وہ کھسیا گئ۔۔
کچھ نہیں میں کہہ رہی تھی۔۔ اتنی ٹھنڈ تو ہم خاطر میں ۔ آہ چھی۔۔ نہیں لاتے۔۔
اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔۔
اچھا۔۔ دونوں حیران ہوئے۔۔
تمہارے یہاں برف باری ہوتی۔۔؟۔۔
ہاں۔۔ اسکے زہن میں مری آیا تھا۔۔ مگر دونوں کچھ اور سمجھے۔۔
اچھا واقعی۔۔ پھر تو میں ایویں زیادہ فکر کر رہی تھی تم تو ٹھنڈ کی عادی ہوگی ہی۔۔ گوارا کا انداز سادہ تھا۔۔
اریزہ نے ایک اور چھینک مار لی تھی۔۔
ویسے کیا ارادہ ہے تم لوگوں کا۔۔ واپس چلے جائو گے؟۔۔ گوارا نے کہا ہایون فورا بولا
واپس کیوں جائیں گے۔۔ ڈگری۔لیئے بغیر۔۔ اصول کی بات ہے یونیورسٹی کو بات سے پھرنا نہیں چاہیئے۔۔ ان لوگوں نے وہی سب پڑھا ہے ویسے ہی پڑھا ہے جیسے ہم تم نے پھر انکے ساتھ اتنی زیادتی کیسے کر سکتے۔۔
ہاں مگر یہاں سے گئے طلبا بھی تو واپس آئے ہیں۔۔ انکے بھی تواتنے مہینے ضائع ہو گئے۔۔
یونیورسٹی انکو اسپیشل دو مہینے کا کورس کروا رہی جسکے بعد وہ اگلے سمسٹر سے ریگولر طالب علم تصور کیئے جائیں گے۔۔ہایون نے کہا تو اریزہ کو ٹھیک ٹھاک صدمہ سا لگا۔۔ سایہ سا لہرا گیا اسکے چہرے پر۔۔ یعنی ہم پاکستانیوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ۔۔ اپنے طلبا کیلئے کتنا سوچ رہے اور ہم۔۔
انکو بھی تو انکی یونیورسٹی واپس بلا لے گی نا۔۔ گوارا نے کہا تو ہایون ایک دم چپ ہوا۔۔
ظاہر ہے جب یہ یونیورسٹی انکو داخلہ نہیں دے گی تو یہ واپس اپنے ملک اپنی یونیورسٹی تو جائیں گے نا۔۔ وہ بھی یقینا اپنے طلبا کیلیئے کچھ نہ کچھ کریں گے ہی تم یونہی پریشان ہوگیئں اریزہ اپنے ملک جاکر آرام سے تعلیم مکمل کرنا کوئی وقت ضائع نہیں ہوگا دیکھنا۔۔ گوارا نے اپنی جانب سے اسے بھر پور تسلی دی تھی
اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ اریزہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔۔
مجھے نہیں جانا واپس۔۔ اب واپس گئ تو۔۔ وہ سوچ کر ہی خوفزدہ ہو کر نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
کیا؟۔۔ گوارا سمجھی نہیں
تم واپس نہیں جانا چاہتیں۔۔ ہیون نے دھیرے سے اس سے پوچھا۔۔
نہیں۔۔ اس نے فورا نفی میں سر ہلایا۔۔
مطلب۔۔ وہ اب دوبارہ انگریزی میں بولی۔۔
میرا یہاں بہت اچھا وقت گزرا ہے مجھے یہاں رہنا پڑھنا بہت اچھا لگتا مجھے تم لوگوں جیسے اتنے پیارے دوست ملے ہیں میں نے نہیں جانا۔۔ اریزہ نے کہا تو گوارا کا دل موم سا ہوا اٹھ کر اسکے پاس آبیٹھی اور اسکا ہاتھ تھام لیا
سچی بتائوں مجھے بھی سن کر بالکل اچھا نہیں لگا مجھے بھی تم بہت اچھی لگتی ہو بالکل میری بہن کی طرح عزیز ہو گئ ہو مجھے میں بھی تم سے دور نہیں ہونا چاہتی۔۔ اس نے کہا تو اریزہ اسکے گلے ہی لگ گئ۔۔
ہم سب مل کر تم لوگوں کے لیئے لڑیں گے فکر مت کرو۔۔ فائیٹنگ۔۔ ہے نا ہیونا۔۔
اریزہ کے کندھے پر تھوڑی رکھ کر وہ ہایون کو دیکھ کر تائید چاہ رہی تھی۔۔
ہایون جو اپنے ہی کسی دھیان میں تھا مسکرا دیا۔۔
تمہیں نہیں جانے دینا میں نے۔۔ اس نے دھیرے سے اریزہ کو دیکھتے ہوئے ہنگل میں کہا تھا۔۔ اریزہ کی تو پشت تھی اس جانب پھر وہ ہنگل سمجھ بھی نہیں سکتی تھی ہاں گوارا ضرور چونکی تھی۔۔
ہاں تو اور کیا ایسے کیسے واپس بھیج سکتے ہمیں کوئی نہیں جا رہی میں واپس۔۔ اریزہ اسکے کندھے پر تھوڑی جمائے بڑ بڑا رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالکل نہیں جا سکتیں ابھی تم۔۔ حالت دیکھی ہے اپنی تم نے خون کی شدید کمی ہے تم میں۔۔ زرا سا بخار بھی اس وقت کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا اندازہ ہے تمہیں ۔۔ہاں کل جب باقی ٹیسٹ کروا لوگی تو اس کی روشنی میں اگر تمہیں بہتر سمجھ کر اجازت دی تو علیحدہ بات ہے ورنہ ہلو گی بھی نہیں تم بستر سے۔۔ سمجھ آئی۔۔
وہ کم سن سے کلائی چھڑوا رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ چھوڑو مجھے گھر جانا جب گشت پر نکلی خاتون طبیب معائنے کی غرض سے آئی تھی۔ اسکو ٹھیک ٹھاک جھاڑ دیا تھا بچکانہ ضد پر۔۔ وہ جہاں خائف ہو کر چپ ہوئی وہیں زیر لب مسکراتے کم سن کو دیکھ کر جھلاہٹ دو چند ہوئی۔۔
ہائش۔۔ اس لڑکی کا بخار پھر بڑھ رہا ہے۔۔ اسکے کان سے آلہ لگا کر دیکھتی وہ سر پکڑ کر رہ گئ۔۔
اسکی ڈرپ دیکھ کر نرس کو ہدایت دینے لگی۔۔
اسکو ایک انجیکشن تیار کرنے کا کہہ کر دوبارہ متوجہ ہوئی۔۔
مجھے اندازہ ہے تم کمزور ہی اتنی ہو جبھی اتنی پیچیدگیاں ہوگئی ہیں۔۔ اپنا خیال رکھا کرو۔۔ خوب کھائو پیو۔۔
تم اسکا خیال نہیں رکھتے ٹھیک سے۔۔ وہ اب مڑ کر کم سن سے کہہ رہی تھی۔۔
کیسے بوائے فرینڈ ہو ابارشن کے بعد اسکی خوراک پر دھیان نہیں دیا تھا۔۔؟۔۔
اسکی بات پر کم سن بری طرح چونکا تو وہیں ہوپ سنٹ سی رہ گئ تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اریزہ روٹی بنا رہی تھی ۔۔ گوارا اور ہایون لائونج میں ہی آمنے سامنے صوفے پر بیٹھے موبائل میں مگن تھے۔۔
کتنی عجیب بات ہے نا۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا میں نے کبھی کہ کسی دن میں رات کو بیٹھ کر کسی ایسے ملک کے باشندے کے ہاتھ کا پکا دیسی کھانا کھانے کا انتظار کر رہی ہوں گی جس ملک کا نام بھی اب سے کچھ عرصہ پہلے تک سنا بھی نہ تھا۔۔
گوارا بظاہر موبائل پر انگلیاں چلاتی سرسری سے انداز میں خود کلامی کر رہی تھی۔۔
زندگی ایسے ہی حیران کرتی ہے۔۔
ہیون مسکرایا تھا۔۔
تم نے سوچا تھا کبھی ۔۔ کہ کب کہاں کسکو ایسے دل دے بیٹھو گے ؟۔۔گوارا کا وار اچانک تھا۔۔ وہ لمحہ بھرکو تھم سا گیا۔۔
آنیو۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔
وہ گڑ بڑایا۔۔
گوارا موبائل سے نگاہیں اٹھا کر اسے محظوظ سے انداز میں دیکھنے لگی
جھٹلا رہے ہو جبکہ ابھی میں نے تو بس اندازہ لگایا ہے کسی کا نام تو لیا ہی نہیں۔۔ اس کا انداز چوری پکڑنے جیسا تھا۔۔
کہہ تو ایسے رہی ہو جیسے نام پتہ ہے تمہیں۔۔ وہ مکرگیا بے نیازی سے دوبارہ موبائل میں جت گیا۔۔
مجھے پتہ ہے۔۔ گوارا جتا نے والے انداز میں بولی۔۔
کیا ہے۔۔نام۔۔ اس نے مسکراہٹ دبائی۔۔
زور سے پکاروں گی۔۔ گوارا چیلنج کر رہی تھی۔۔
چلو۔۔ وہ بھی مزے لے رہا تھا۔۔
اریییزااااااا۔۔۔ اس نے فورا گردن گھما کر کچن میں مصروف اریزہ کو زور دار آواز دے ڈالی۔۔ ہیون کی بے نیازی رخصت ہوئی یکدم سیدھا ہو بیٹھا وہیں اریزہ اس غیر متوقع نقارے سے ڈر کر اچھل ہی تو پڑی ہاتھ میں پکڑی پلیٹ چھوٹ گئی۔۔
گوارا نے دونوں کےردعمل کا خوب حظ اٹھایا زور زور سے ہنسی ہنستے ہنستے دہری ہوگئ۔۔
کیا۔۔ اریزہ اس بے وجہ ہنسی پر حیران گھور رہی تھی
کچھ نہیں پوچھنا تھا کتنی دیر ہے کھانے میں۔۔ ہنستے ہنستے ہی بمشکل وضاحت کی پھر ہنسنے لگی۔۔
بن گیا ۔۔ تم۔بھی نا۔۔ ڈرا ہی دیا مجھے۔۔ آجائو ہاتھ دھو لو گرم گرم روٹی ہے۔۔ اس نے جھک کر پلیٹ اٹھا کر سنک میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔۔
گوارا ابھی بھی ہنسے جا رہی تھی ہیون بھی اسکے انداز پر اب مسکرانے لگا تھا۔
اسے کیا ہوا کیوں ہنسے جا رہی۔۔ اریزہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔
آنیو۔۔ نیور مائنڈ۔۔ ہیون نے تسلی کرائی گوارا تو فورا کرسی گھسیٹ کر آبیٹھی ہایون ہاتھ دھو کر آیا۔۔
بسم اللہ پڑھ کر نوالا توڑتے ہوئے اسے خیال آیا۔۔
ہوپ نہیں آئی ابھی تک۔۔
ہاں اب تک تو آجاتی ہے۔۔ گوارا بھی چونکی۔۔
بارش رکنے کا انتظار کر رہی ہوگی کہیں۔۔ ہیون نےخیال ظاہرکیا تو گوارا نے بھی تائید کی۔۔
ہاں بارش بھی تو لگاتار ہو رہی ہے۔۔تم بھی رات یہیں رک۔جائوہیون پیدل آئے ہو نا۔۔ کیا بھیگتے ہوئے گھر جائو گے۔۔ گوارا نے کہا تو اس نے لاپروائی سے سر جھٹکا
سیول کے لوگ اگر بارش کو سیٹھنا شروع کریں تو سب کام چوپٹ ہوجائئں۔۔ چلا جائوں گا۔۔ کوئی مسلہ نہیں۔۔
تمہارے خیال سے کہہ رہی تھی۔۔ گوارانے اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔
وہ اسکا صحیح بینڈ بجانے والی تھی۔۔ ہیون ہنس کر رہ گیا۔۔
پھر شروع ہو گئے ۔۔ جان کے ہنگل میں بول رہے ہو نا ۔۔ اریزہ نے چڑ کر دونوں سے کہا۔۔
وے؟۔۔ دونوں کورس میں بولے۔۔
وے۔۔ اس نے انکے ہی انداز کی نقل اتاری
ویسے سچ بتائوں تم دونوں ساتھ بیٹھے زیادہ اچھے لگ رہے ہو تم دونوں کی جوڑی زیادہ سج رہی ہے۔۔ میری مانو تو اپنے والے کو چھوڑو اسے پٹا لو۔۔
اریزہ اتنی سنجیدگی سے ہاتھ ہلا ہلا کر کہہ رہی تھی دونوں منہ کھول کر اسے دیکھ رہے تھے۔۔
کیا کہہ رہی ہو۔۔ دونوں پھر اکٹھے بولے تھے
دیکھ لو ۔۔ زہنی ہم آہنگی بھی ہے تم دونوں میں۔۔
اس نے ثبوت بھی دے دیا۔۔
ویسے اگر میں تم ہوتی نا تو یون بن کی بجائے اسے پٹاتی۔۔ شکل کا بھی اچھا ہے عادتیں بھی اچھی اوپر سے امیر کبیر۔۔ گھاس ہی گھودی ہے تم نے۔ وہ مزے سے نوالے لیتے ہوئے کہے جا رہی تھی۔۔ کبھی گوارا کو دیکھتی کبھی ہیون کو۔۔ دونوں البتہ آنکھیں پھاڑے اسے گھور رہے تھے۔۔
ویسے مزے کی بات بتائوں۔۔ یون بن اور ہایون کو شروع شروع میں فرق نہیں کر پاتی تھی۔۔۔انکی شکل کتنی ملتی ہے۔۔
قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔۔
خیر اس وقت تو مجھے سب ہی ایک جیسے لگتے تھے کاربن کاپی ایکدم۔۔ وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگی۔۔
گوارا نے جھک کر ہیون سے کہا
اس روٹی میں کچھ ہے یا سالن میں آئل کی بجائے الکوہل ڈال بیٹھی ہے یہ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر بک جھک کر ٹیکا ٹھونک کر چلی گئی تو ہوپ نے بھی سیدھا لیٹ کر آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔
وہ جو ڈاکٹر کے جانے کے بعد اس سے پوچھنے کے ارادے سے اٹھ آیا تھا اسے آنکھیں بند کرتا دیکھ کر وہیں تھم گیا۔۔ یقینا وہ بات کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔ اسکی پلکوں میں لرزش نہیں تھی۔۔ اگر اسکے سامنے آنکھیں نہ بند کی ہوتیں تو وہ یہی سمجھتا کہ گہری نیند سو رہی ہے۔۔ وہ ٹھنڈی سانس بھرتا واپس مڑا پھر ٹھٹک کر پلٹ کر دیکھنے لگا۔۔
اس ساکت پڑی گڑیا سی لڑکی کی آنکھوں سے قطرے نکل نکل کر تکیئے میں جزب ہو رہے تھے۔۔ وہ بے آواز مگر زارو قطار رو رہی تھی۔۔

Find the perfect fit with Prime Try Before You Buy

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں گیارہ بجے کے قریب سونے لیٹی تھیں۔۔ اسکی طبیعت کے پہش نظر گوارا نے کمبل نکال دیا تھا۔۔ دو گولیاں نگل کر وہ کمبل میں گھس گئی تھی۔۔
چھائے چھائو۔۔
شب بخیر۔ دونوں نے اپنی اپنی زبان میں ایک دوسرے کو کہا پھر اپنی حرکت پر ہنس دیں
وہ حسب عادت بلاگ کھولنے لگی تبھی اسے ایک پیغام موصول ہوا
پاپا تھے۔۔
پڑھائی پر دھیان دو پریشان مت ہونا وہی ہوگا جو تم چاہو گی۔۔ تمہاری امی کو منع کر دیا ہے میں نے ۔۔ کال کرتا مگر شائد اب تک تو تم سو چکی ہوگی اپنا خیال رکھنا پاپا کی جان پاپا مس یو
اس کے اوپر سے کوئی بوجھ ہٹا تھا۔۔ وہ جزباتی سی ہو کر اٹھ بیٹھی دو تین بار پڑھا پیغام پھر خوش ہو کر زور سے تالی بجا نے کو تھی کہ پاس سوئی گوارا کے خیال سے رک گئ۔۔ وہ لمحوں میں بے خبر ہوتی تھی۔۔ ابھی بھی کروٹ لیئے خر خر کر رہی تھی۔۔
مس یو ٹو پاپا۔۔ وہ موبائل چوم بیٹھی۔۔
زہن ہلکا پھلکا ہوا تو بلاگ لکھنا اور آسان ہوا۔۔
رم جھم برستی بارش۔۔
قطرہ قطرہ مجھ میں اترتے
سب کثافتیں سمیٹ کر۔۔
کیسے تازہ دم سا کر گئ ہے مجھے
جیسے یہ بارش
میرے دل کا احوال جانتی ہے
مجھے خود میں سمیٹ کر
کہتی ہے۔۔
دل ہلکا کر لو
اور میں اپنا آپ اسکے سامنے کھول کر
جی بھر کر روئی
اپنے سب آنسو بارش کے پانی میں بہا تے میں
ہلکی پھلکی ہوگئ
جیسے اس بارش سے بڑھ کر میرا کوئی غم خوار نہیں
جیسے یہ بارش ہے میری
سہیلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلا کمنٹ
ایڈمن خیر ہے سموگ سے برا حال ہوا پڑا اس بار تو بارش لگتا ہو گی ہی نہیں
دوسرا کمنٹ
جی بھر کر رونا ہے بارش ہی نہیں ہوتی ہے میرے شہر میں
تیسرا کمنٹ
بارش تو ہو نہیں رہی تم رو رو کر ہی سموگ بہا دو کتنے لوگ بیمار ہو رہے ہیں
چوتھا کمنٹ
اچھا یہ تمہارے آنسو بہہ رہے تھے بارش کے ساتھ میری گلی کا گٹر جبھی بند ہو گیا
پانچواں۔۔
میرا تو رزلٹ آگیا میں نہیں رویا تم کیوں رو رہی ہو۔۔
چھٹا کمنٹ۔۔
انگریزی ترجمہ پلیز۔۔
یہ وہی عجیب سے نام والا علی
اس نے سوچا اب اسکا کیا انگریزی ترجمہ کرے
اس نے جب تک سوچ سوچ کر ترجمہ کیا کوئی من چلا کر چکا تھا ترجمہ
اور ترجمہ ایسا تھا کہ پہلے تو سوچا غصہ کر لے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Its raining cats and dog
But pouring inside me drop by drop
Cleansing polution inside me
Made me feel fresh
As this rain knows whats bothering me
So it hugged me
And say light ur heart
And i opened my heart
Cried my tears mixed with rain
I becam light weight
As this rain is my girl friend
علی نے پوری نظم پڑھی خوب انگریزی تھی۔۔ نیچے ایڈمن نے بھی کمنٹ کیا تھا بہت مزاحیہ۔۔ ساتھ غصے والا اسمائیلی
اس نے جوابا لکھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس میڈ مائی ڈے ۔۔
وہ مسکرادی۔۔
مجھے خوشی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش اب موسلا دھار نہیں ہو رہی تھی ہلکی ہلکی بوندا باندی سرد ہوا دور دور تک بارش سے دھلی شفاف تارکول کی سڑک اکا دکا گزرتی گاڑی اسٹریٹ لائیٹ کی روشنی اور ایک اجنبی راہوں کا مسافر ۔۔۔
دھیرے دھیرے چلتے ہوئے اسے کوئی جلدی نہ تھی۔
جانے کیا کیا سوچ دماغ میں آ رہی تھی کہ ضبط کرتے کرتے بھی وہ ہنس پڑا تھا۔۔ اسکے بالوں پر بارش کے قطرے ٹھہر سے گئے تھے۔۔ اس نے کسی خیال کو جھٹکا پھر رک کر آسمان کو دیکھنے لگا۔۔
ننھی ننھی بوندیں چہرے پر گر رہی تھیں اور اسکے اندر خوشیوں کا نیا جہان آباد ہو رہا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔
جاری ہے۔۔۔

Kesi Lagi apko salam korea ki yeh qist? Rate us below

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ 

کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟ 

آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے 

Desi Kimchi ..

دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد

پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔