Salam Korea
by Vaiza Zaidi

قسط 21
گھر پہنچتے پہنچتے وہ ٹھیک ٹھاک بھیگ چکا تھا۔ مگر زرا سا بھی بد مزہ نہ ہوا تھا۔۔
اسکے چہرے پر محسوس کی جا سکنے والی سر شاری تھی۔ کمرے میں آکر وہ کپڑے نکالنے لگا تھا جب اسکی یونہی بیڈ پر نظر پڑی۔۔ ایک بڑا سا شاپنگ بیگ دھرا تھا۔۔
نونا۔ وہ چونکا پھر خو شی سے تقریبا بھاگتا ہوا انی کے کمرے میں آیا۔۔
دروازہ کھلا تھا وہ بیڈ پر بیٹھی لیپ ٹاپ کھولے کسی کام میں مگن تھیں۔۔
نونا۔۔ وہ خوشی سے انکے پاس چلا آیا۔
ہایونا
وہ فورا لیپ ٹاپ ایک طرف رکھ کر اٹھیں۔۔
وہ۔جھجک کر پیچھے ہوا۔
کپڑے گیلے ہیں۔۔
ہاش۔۔ انہوں نے اب دیکھا ۔۔
اتنے بھیگے کیوں ہو؟۔۔ کہاں تھے؟۔ میرے خدا کپڑے بدلو فورا ورنہ بیمار پڑ جائو گے۔۔ وہ جزباتی ہو کر اٹھ کھڑئ ہوئیں۔۔ بلکہ جلدی سے الماری سے اپنا تولیہ نکال کر اسکا سر خشک کرنے لگیں۔۔
آپ فکر نہ کریں میں ٹھیک ہوں۔۔ اس نے تسلی کرانی چاہی مگر وہ یونہی فکرمندی سے اسکے بال رگڑتی رہیں۔۔
حد ہے ابھی تک بارش میں بھیگنے کا چسکا ختم نہیں ہوا۔۔ چلو جلدی سے کپڑے بدل کر آئو میں کافی بناتی ہوں تمہارے لیئے۔۔ وہ کتنے دنوں بعد ایسے ڈانٹ کھا رہا تھا۔۔ اس نے انی کو اپنے بازو کے حلقے میں لےلیا اور پیشانی چوم لی۔۔
بہت یاد کیا آپکو نونا۔
انی کا دل موم سا ہو گیا۔۔
میں نے بھی۔۔ انہوں نے اسکے سینے پر سر رکھ دیا۔۔
پرانی یاد دونوں کے زہنوں میں تازہ ہوئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ۔لان میں اکیلا بال سے کھیل رہا تھا۔۔ اسکی ذاتی ملازمہ کسی کام سے اٹھ کر اندر چلی گئ وہ یونہی مگن کھیلتا رہا ۔۔۔ تبھی موسم نے تیور بدلے تھے۔۔ یکا یک ہی تیز بارش شروع ہو گئ تھی۔
وہ فورا اٹھ کر اندر بھاگا تھا۔۔ مگر داخلی دروازہ سختی سے بند تھا اس نے ہینڈل گھمانا چاہا مگر کھلا نہیں۔۔
آہجومہ۔۔ وہ دروازہ پیٹ پیٹ کر بلا رہا تھا۔۔ جانے کہاں تھی جو سن نہ سکی۔۔ تبھی باہر کار پورچ میں ایک گاڑی آکر رکی تھی ۔۔۔
وہ بھاگ کر ادھر چلا آیا۔۔ ارادہ ڈرائور سے کہنے کا تھا کہ دروازہ کھول دے۔۔ مگر اس سے پہلے وہ کہہ پاتا۔۔ ڈرائور اپنی طرف کا دروازہ کھول کر نیچے اترا اور جلدی سے چھتری کھول کر اسکی سوتیلی ماں کے لیئے سایہ بناتا پچھلا دروازہ۔کھولنے لگا۔۔
اسکی ماں نے دروازہ کھلنے پر ایسی ترچھی نظر اس پر ڈالی وہ سہم کر ایک قدم پیچھے ہو گیا۔۔
وہ اپنی اونچی ہیل سے کھٹ کھٹ کرتی تیزی سے گھر کے اندر جانے لگیں۔۔ وہ بھی پیچھے ہو لیا۔
وہ ایکدم ہی چلتے چلتے رکیں۔۔ وہ جو انکے بالکل پیچھے پیچھے چل رہا تھا اپنی جھونک میں ان سے ٹکرا کر الٹ کر گرپڑا
ہاش ۔۔ وہ بری طرح بھنائیں۔۔
ایک یہ۔۔ یہاں کیا کر رہا۔۔ کتنی بار کہا ہے اسے میری نظروں کے سامنے مت آنے دیا کرو۔۔ اٹھو اور دفع ہو یہاں۔ سے۔۔
پیار سے اٹھا کر بہلانا تو دور نفرت سے اتنی زور سے جھڑکے جانے پر اسکی آنکھیں لبا لب آنسوئوں سے بھر گئیں۔۔ وہ تیزی سے اٹھا اور باہر بھاگتا چلا گیا۔۔
ہائش۔۔ اب یہ کہاں جا رہا جائو اسے پکڑو۔۔
انکے سر میں درد ہو گیا تھا۔۔وہ بیزاری سے حکم دیتی سر پکڑ کر اندر چلی گئیں۔۔
ڈرائور نے اسے تھوڑی ہی دور میں جا لیا تھا۔۔ وہ چھتری پکڑ کر اسکے پیچھے بھاگا تھا تب بھیگ گیا تھا وہ تو اس موسلا دھار بارش میں شرابور ہو چکا تھا۔۔
ڈرائور اسے کندھے سے پکڑ کر لایا تھا اور لائونج میں لا کر چھوڑ دیا تھا۔۔
وہ جہاں جہاں قدم رکھ رہا تھا پانی کے نشان بنتے جا رہے تھے۔۔
وہ سہمتا ہوا اپنے کمرے میں آیا تو گنگشن اسکے بیڈ پر بکھرے کھلونے سمیٹ رہی تھی۔۔
آہٹ پر مڑ کر اسے دیکھا ۔۔
کہاں تھے تم۔۔ اور۔ وہ پریشان ہو کر اسکے پاس چلی آئی۔۔
تم تو بالکل بھیگ گئے ہو ۔ اف۔۔ بارش میں کھیل رہے تھے۔۔ حد ہے ایسے تو بیمار پڑ جائو گے
ہایون جو اس سے ڈانٹ کی توقع کر رہا تھا اسکے جھلانے پر ہی رو پڑا۔۔
ارے
وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلا کر جھٹک رہی تھی۔۔
اسکے رونے پرتڑپ سی گئ۔۔
میں ۔ تو بس۔۔ ڈانٹ تھوڑی رہی تھی۔۔ مت رو۔۔
اس نے اسکے آنسو پونچھے تو وہ اسکے سینے سے لگ کر اور رونے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس بھائی کو بانہوں میں بھر کر بہلاتی تھی آج اتنا بڑا ہو گیا تھا کہ اسکے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔
اس نے بے ساختہ بہہ نکلنے والے آنسو پونچھے۔۔
اور سر اٹھا کر ہایون کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔
اسکے بر عکس ہایون خوشگوار سے موڈ میں تھا۔
خیر ہے آج میرا بھائی خوش ہے۔۔
اس نے پیچھے ہو کر ہلکے سے کندھا مار کر چھیڑا
وہ کہیں اور دیکھتا کہیں اور گم تھا۔۔ اسکے کندھے کے لگنے سے کراہ کر ہوش میں آیا۔۔
میری نونا جو آئی ہیں خوش تو ہونگا۔۔
وہ۔کہاں پکڑائی دینے والا تھا مزے سے بات بدل دی
اچھا جائو کپڑے بدلو فورا۔۔ انہوں نے فورا بڑی بہن والا رعب جمایا تو وہ ہنستا ہوا سر ہلاتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آکر اس نے پہلے اسی شاپنگ بیگ کو کھولا۔۔ بے حد خوبصورت ڈریس شرٹس تھیں ۔۔ اس نے ٹی پنک نکالی اس پر ایک نوٹ چسپاں تھا۔۔
یہ تمہاری پہلی ڈیٹ کیلیئے ہے تاکہ لڑکی تم پر لٹو ہو جائے پہلی نظر میں۔۔
وہ بے ساختہ ہنسا تھا۔۔ پھر ان سب کو احتیاط سے الماری میں رکھ کر ایک ٹی شرٹ نکال کر باتھ روم گھس گیا۔۔
کپڑے تبدیل کر کے جب وہ کچن میں آیا تو نونا بھاپ اڑاتے دو مگ اپنے سامنے میز پر رکھے اسکا انتظار کر رہی تھیں۔۔
واہ۔۔ آہش۔ بہت جچ رہے ہو۔ خیر بھائی کس کے ہو ۔۔ انہوں نے کالر جھاڑے۔۔
اس نے بھی ہنس کر خراج وصول کیا تھا۔۔
میں نے ہر شرٹ پرپرچی لگا دی ہے تمہاری پانچ ڈیٹس کیلیئے ۔۔ ان کو ویسے ہی سلسلہ وار پہننا ۔۔۔ چھٹی ڈیٹ تک لڑکی مکمل فدا ہو چکی ہو گی تم پر۔
انہوں نے اتنے دعوے سے کہا کہ کافی کا گھونٹ بھرتے اچھو ہوگیا۔
کپ رکھ کر اس نے زوردار قہقہہ لگایا تھا۔۔
نونا آپ کیا کیا سوچتی رہتی ہیں۔۔ وہ ہنسے گیا۔۔
صرف تمہارے بارے میں سوچتی ہوں۔۔ وہ پیار سے اس پر نظر جمائے تھیں۔۔
میرے بعد تم تو بالکل اکیلے رہ جائو گے۔ کوئی لڑکی پٹا لو اب جو تمہارا خیال رکھے میرے بعد۔۔
وہ بہت سنجیدگی سے کہہ کر گھونٹ بھرنے لگیں۔۔
ہایون کا منہ تک جاتا کپ وہیں تھم گیا۔۔
وہ آنکھیں کھول کر انہیں دیکھ رہا تھا۔
نونا۔۔ ۔ اس نے پکارا تو وہ چونکیں۔۔ انکے لہجے کی سنجیدگی ہایون کے چہرے پر سنگینی کی صورت سجی تھی۔
آپ پھر کہیں جا رہی ہیں؟۔۔
وے؟۔۔ وہ بات کا اثر زائل۔کرنے کو جان کر تھوڑے تیز انداز سے بولیں۔۔
کیا؟۔ ہمیشہ بہن پر انحصار کرنا تم نے بڑے ہو جائو گرل فرینڈ بنائو زندگی کا لطف اٹھائو۔۔ اور ویسے بھی میں کب تک یہاں ہوں کل کو مرمرا گئ تو کیا کروگے تم۔۔
وہ اپنی طرف سے بات سنبھالتے مزید خراب کر گئیں۔۔
وہ اٹھا اور پاس آکر انکے قدموں میں اکڑوں آبیٹھا۔۔
نونا ۔۔ ایسا مت کہیئے گا دوبارہ۔۔ میرا آپکے سوا ہے ہی کون آپ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتیں۔۔ کہیں نہیں جائیں گی۔۔ میں جانے ہی نہیں دوں گا۔۔
انکا گھٹنا تھامے وہ روہانسا ہو چلا تھا۔۔ بالکل آٹھ سال کے ہایون کی طرح لگا تھا۔۔
پھابو۔۔ پاگل ہوئے ہو۔۔ انکی بھی آنکھ بھر آئی
کہیں نہیں جا رہی میں۔۔ ایسے ہی۔۔ حد ہےمجھے بھی جزباتی کر دیا۔۔۔ آہبوجی نے پکڑ کر جلد شادی کردی میری تو۔۔ میں ویسے چین جانے کی بات کر رہی تھی۔۔ انہوں نے پیار سے اسکا سر تھاما تو وہ انکی گود میں ہی سر رکھ گیا۔۔
نونا میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ آپ اب دوبارہ نہیں جائیں گی ۔
ارے۔۔ وہ اسکے بچکانہ رویئے پر حیران سی ہوئیں۔۔
چین نہ جائوں؟۔۔ میرا آدھا کام تو وہیں کا ہوتا۔۔
چین بے شک جائیں۔ مگر وعدہ کریں۔۔
اس نے اپنی چھوٹی انگلی انکے آگے کی۔
پکا وعدہ کریں۔۔ آئندہ شمالی کوریا جانے کا سوچیں گی بھی نہیں۔۔ وہ انکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
میں۔۔ انکی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔۔۔ یہ بات تو انکی تنظیم کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔۔وہ جھٹلانا چاہتی تھیں مگر ہایون کی آنکھوں میں دیکھ کر جھوٹ نہ بول سکیں۔۔
وہ دھڑلے سے وعدہ بھی نہ کر سکیں۔۔ انکے ہاتھ کانپ سے گئے تھے۔۔ ہایون نے انکے ہاتھ کی لرزش بھانپ کر اپنے مضبوط ہاتھ سے نرمی سے تھاما اور اپنے دوسرے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی بڑھا کر وعدہ بھی لے لیا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ گوارا کے ساتھ یونیورسٹی آئی تھی۔۔ ایڈون وغیرہ بھوک ہڑتال پر جا رہے تھے وہ بھی ساتھ ہولی
وہ پانچوں پلے کارڈ اٹھائے انتظامیہ کے دفتر کے باہر دھوپ میں کھڑے تھے۔۔ آتے جاتے طلبا دیکھ کر معاملہ پوچھتے پھر ہمدردی جتا کر آگے بڑھ جاتے۔۔
صبح سے شام ہو چلی تھی ۔ انتظامیہ نے جھوٹے منہ نہ پوچھا تھا۔۔ اتنی بڑی یونیورسٹی کے اگر پانچ لوگ دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنا رنگ جلا بھی رہے تو کسی کو کیا فرق پڑتا۔۔
گوارا واپسی پر پوچھنے آئی تھی اس سے ساتھ چلنا ہے۔۔ ہایون بھی اسکے ساتھ ہی تھا
نہیں میں انکے ساتھ احتجاج کروں گی۔۔ تم جائو۔
تمہیں کیا لگتا تم پانچوں کے یہاں بھوکے کھڑے رہنے سے انتظامیہ اپنا فیصلہ بدل۔لے گی؟۔
گوارا انکو حقیقت کا آئینہ دکھانا چاہ رہی تھی۔۔
دیکھ لیتے ہیں۔۔ وہ مسکرا دی۔۔ اور کیا کہتی۔۔
تمہیں تو شاپنگ بھی کرنی تھی۔۔ گوارا نے یاد دلایا۔۔
آج نہیں کروں گی ۔۔ اریزہ کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ۔۔
اچھا جے ہائے سے کوئی اپر وغیرہ لے لینا میرے بھی جیکٹ وغیرہ پڑے ہونگے۔۔ گوارا کو یاد آیا۔۔
اریزہ کاٹن کے کرتا پاجامہ میں ملبوس تھی۔۔ دھوپ میں کھڑی تھی اسکی حدت اچھی لگ رہی تھی مگر سرد ہوا ایکدم سے جھر جھری دلا دیتی تھی۔۔ وقفے وقفے سے۔۔
جی ہائے ہے کہاں۔۔ نظر نہیں آئی مجھے۔۔ اریزہ کو خیال آیا۔ تو پوچھ لیا۔۔
ٹرپ پر گئ ہے شام تک آجائے گی۔۔ چلو اچھا میں چلتی ہوں آج تو ہایون ڈراپ کر دے گا۔۔
اس نے شرارت سے ہایون کے بازو میں بازو حمائل کر کے ہلکے سے کندھا مارا تو وہ چونکا۔۔
دے؟۔۔ کیا۔۔ ہاں۔۔ ٹھیک ہے۔۔
وہ گڑبڑا سا گیا تھا۔۔
گوارا کھل کھکھلا کر ہنسی تو وہ اسے گھور کر رہ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنے بے رحم تو ہماری یونی والے بھی نہیں تھے۔۔
کتنے احتجاج کیئے ایک گھنٹے میں ہی انتظامیہ بلا لیتی تھی مزاکرات کیلیئے۔۔ سالک نے مایوسی سے کہا۔۔
تب ہم جون کی شدید گرمی میں دھوپ میں کھڑے تھے۔۔ اور وہ ایک گھنٹہ یہاں ایسے موسم میں کئی دن کھڑے رہنے کے برابر تھا۔
شاہزیب نے ہنس کر مزاق اڑایا تھا۔۔
پھر بھی یار۔۔ مجھے نہیں لگتا ان لوگوں کو کوئی فرق پڑے گا۔ سالک نے کہا تو ان میں سے کسی کی جھٹلانے کی ہمت بھی نہ ہوئی۔۔
نظر آرہا تھا ۔ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے تئیں انکے تمام اخراجات کو اگلے سمسٹر میں ضم کر کے انکے نقصان کا مداوا کر چکی تھی۔۔
یار کہنے کو بس چند مہینے ہیں مگر میرے ماں باپ میری ڈگری کا دن گن گن کر انتظار کر رہے ۔۔ انہیں لگتا میں کوئی ڈگری لے لوں گا تو اچھی نوکری مل جائے گی اپنے باپ کی طرح کلرکی سے ہی ریٹایر ہونے کی بجائے چار پیسے کما لوں گا۔۔
یہ تلخی شاہزیب کے لہجے سے چھلکی تھی۔۔
ایڈون نے گہری سانس بھری اور اپنے ہاتھ میں پکڑا پلے کارڈ ایک طرف رکھتا وہیں کیاری سے ٹک کر بیٹھ گیا۔۔
میں سوچ رہاواپس گیا تو نہ یہاں کا رہوں گا نہ وہاں کا۔۔ یہیں کوئی فل ٹائم نوکری ڈھونڈتا ہوں۔ ڈگری نہ سہی کوریائی وون تو کما سکوں گا۔۔
سالک نے بھی خیال ظاہر کیا۔۔
اتنا کیوں جزباتی ہو رہے ہو تم لوگ۔۔ سنتھیا جو خاموشی سے ایک طرف بیٹھی تھی چڑ کر بولی۔۔
پاکستان میں پڑھ ہی تو رہے تھے ہماری یونیورسٹی تو وہیں کی وہیں ہے تعلیم ہی حاصل کرنی کر لینا جا کر وہاں۔۔ ایویں ضد کرنے سے کیا فائدہ۔۔ الٹا یہاں آکر سیر ہی کرنے کو ملی ہے نقصان کیا ہوا ہے۔۔
یہ اسکا نظریہ جس پر ان چاروں نے تاسف بھری نظروں سے گھورا تھا اسے۔۔
میں تو تھک گئ۔۔ بھوک بھی لگ رہی ہے۔۔ کچھ لائوں تم لوگوں کیلیئے بھی۔۔
وہ بے نیازی سے اٹھی اسکا پوچھنا بھی کسی کا موڈ بہتر نہ کر سکا۔۔ سب نے جواب ہی نہ دیا تو وہ سر جھٹکتی ہاسٹل کی طرف بڑھ گئ۔۔
کیا واقعی ہم یہاں بس سیر کیلیئے آئے تھے؟۔۔ ایڈون نے ہنس کر پوچھا تو وہ سب جوابا مسکرا بھی نہ سکے۔۔
لڑکیوں کو کیا فرق پڑتا۔۔ شاہزیب چڑا۔
انہوں نے تو ڈگری لے کر بس شادی کرنی ہوتی پھر وہ ڈگری جسیسی بھی ہو جہاں کی ہو۔۔ ہم لوگ خوار ہوئے ہیں۔۔ نہ یہاں کے ہو سکے نہ وہاں کے رہے۔۔ چھے مہینے ضایع ہوئے سمجھو۔۔ کیسے یہاں پارٹ ٹائیم نوکری کر کرکے پیسے بچا رہا تھا کہ اگلے سمسٹر تک کا خرچہ نکل آئے مزید ماں باپ پر بوجھ نہ بنوں اکلوتی اولاد تو نہیں دو بہنیں ہیں میری ماں سے ہزار وعدے کرکے آیا تھا یہاں آئوں گا تو ڈگری کے ساتھ یہیں سیٹل ہوجائوں گا۔۔تب جا کر بہن کیلیئے رکھا زیور اٹھا کر دے دیا مجھے۔ اب۔۔
سالک کئ آواز بھرا گئ۔۔
یہاں پڑھائی نہیں ہوگی تو ویزہ بھی ختم ۔۔۔۔ نئے سرے سے۔۔ پھر پتہ نہیں داخلہ ملتا بھی ہے دوبارہ کہ
شایزیب کو خیال آیا۔۔
چھے مہینے تک یہاں رہیں گے کس بل بوتے پر؟۔۔ وہ شاخ ہی نہیں رہی بچوں جس پر آشیانہ تھا۔۔ ایڈون کو صدمے کی انتہا پر ہنسی آرہی تھی۔۔ شائد خود اپنے اوپر ہی۔۔۔
دو تین دن دیکھ لیتے ہیں احتجاج کرکے بھی نہیں تو بوریا بستر سمیٹنا شروع کردو۔ ایڈون کا انداز تلخ سا تھا۔۔
یہاں داخلہ اپنے بل پر لینا اتنا آسان نہیں ہوگا۔۔۔ ایک سوچ مجھے یہ بھی آئی تھی کہ ٹھیک ہے کسی طرح یہاں وقت گزار لیتے ہیں اگکے سیشن کا انتظار کر لیتے ہیں۔۔ مگر۔۔ دوسرے ملکوں سے آنے والے بہت طلبا ہیں یہاں فلپائن جاپان چین تائوان سنگاپور انڈیا۔۔ بہت ٹف مقابلہ ہوگا۔۔ شاہزیب مایوسی سے بولا۔۔
اپنے بل پر داخلے کا خرچہ بھی اٹھانا آسان نہیں یہاں تو یونئورسٹئ کی اسکالر شپ پر آئے تھے جب وہ ہی نہیں تو۔۔ ایڈون تھکے تھکے انداز میں بولا۔۔
ٹھنڈ ہونے لگی ہے اور اندھیرا بھی ہو رہا ہے اریزہ تم بھی جائو اب ہاسٹل میں آرام کرو۔۔ ہم ہیں یہاں۔۔
وہ اب اریزہ سے مخاطب تھا۔۔
ہاں یار تم کیوں خوار ہو رہی ہو جائو ۔ سالک نے بھی کہنا ضروری سمجھا۔۔
اریزہ تو افورڈ کر سکتی ہے اسکو اسکالر شپ سے تو فرق نہیں پڑتا۔۔ اسکے بابا مشہور ایڈوکیٹ ہیں۔۔ شاہزیب نے ہنس کر چھیڑا تھا۔۔
ہاں انکو کیا فرق پڑتا سنتھیا کو ہی دیکھ لو اسکو اجازت دلوانے کیلیئے اسکے اماں ابا سے میں لڑا تھا ۔۔۔ ایڈون کا انداز استہزائیہ ہوا۔
اسکو شائد فرق نہیں پڑتا مگر مجھے بہت پڑتا ہے۔۔ اریزہ خلا میں نظر جمائے بولی تھی۔۔
تم لوگوں کو لگتا میری تو شادی ہو جانی ہے مجھے پڑھ لکھ کر کیا کرنا۔۔ میرے گھر والوں کو بھی یہی لگتا۔۔ مجھے تو لگتا میں پیدا ہی شادی کرنے کیلیئے ہوئی تھی۔۔ میری زندگی کا اور تو کوئی مقصد ہی نہیں ہے۔۔ اسکا انداز استہزائیہ ہوا آخر میں ہنس ہی پڑی۔
میرا بھائی جب مرا تھا مجھے اپنے بابا کے الفاظ یاد۔۔
اپنے دوست سے کہہ رہے تھے۔۔
میری کمر ٹوٹ گئ۔۔ میرا بیٹا مر گیا۔۔ میرا خواب مر گیا۔۔ وکیل بننے سے پہلے ہی مر گیا۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے۔۔
اور تب میں نے سوچا اگر بھائی کی جگہ میں مر جاتی تو پاپا کیا کہتے؟۔۔
اب مجھے پتہ ہے کیا کہتے۔۔
میری بیٹی مر گئ۔۔ اب اسکی شادی کیسے کروں گا ۔۔
رخصت ہونے سے پہلے ہی مر گئ۔۔
وہ قہقہہ لگا کر ہنسی تھی۔۔ ہنستی گئ۔۔ ہنستے ہنستے آنکھوں میں پانی ہی آگیا۔۔
یہ تینوں خاموش اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
مجھے کبھی نہیں لگا میں لڑکی ہوں کچھ کمی ہے مجھ میں بلکہ مجھے تو بہت اچھا لگتا تھا میں لڑکی ہوں۔۔ مگر ابھی تم لوگوں کی باتیں سن کر مجھے لگا میں تو بالکل بے کار سی چیز پہوں۔ تم لوگوں سے تم سے وابستہ لوگوں کے خواب ہیں امیدیں ہیں۔۔ بھروسہ ہے تم انکی امیدوں پر پورا اتروگے۔۔ مجھے سے تو میرے والدین کو بھی کوئی امید کچھ نہیں بالکل بوجھ ہوں میں۔۔ ان پر انحصار کرنے والی کوئی بھی چیز جس کو ٹھکانے پر رکھنا ہی بس انکی زمہ داری ہے۔۔ بس ۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
میں واپس گئ۔ تو میری شادی ہو جائے گی۔۔ کوئی رشتہ دیکھ رکھا ہے میرے والدین نے۔۔ مجھے کیا فرق پڑتا۔۔ اسکی آواز بھرا گئی تو رکی نہیں تیز تیز قدموں سے چلتی ہاسٹل کی طرف بڑھ گئ۔۔
کاش میں بھئ لڑکی ہوتا۔۔ شادی کی فکر والدین کرتے آرام سے ٹھاٹ سے گھر بیٹھتا۔۔ بچے پالتا۔۔ ابھی تو جو حال ہے زندگی کا اگلے دس پندرہ سال بس پیسے کمائوں گا تب کہیں جا کے میری شادی کی باری آئے گی۔۔
یہ سالک تھا منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔۔
یہ تو سچ مچ چاہتا ہے کہ لڑکی بن جائے؟۔۔ تجھے رشک آیا ہے اریزہ پر۔۔شاہزیب نے سنجیدگی سے پوچھا تو وہ فورا نفی میں سر ہلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے لیپ ٹاپ کھولا تھا۔۔

اگرماتم ہوتیتو ازے پاٹا لے تی۔۔ وہ سوچ سوچ کر ٹائپ کر رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگ رات یہیں گزارو گے۔۔
یایون اور یون بن ان سے ملنے آئے تھے۔۔ وہ تینوں کیمپ لگائے بیٹھے تھے۔۔ مگر موسم سرد ہوتا جا رہا تھا۔۔ تینوں جیکٹ چڑھائے ہوئے تھے۔۔ہایون نے گرم گرم کافی کے مگ تھمائے تینوں بس شکر گزار نظروں سے دیکھنے لگے۔۔
رات تک تھوڑی ٹھنڈ ہوجائے گی۔
اپنا مگ تھامے انکے پاس ہی بیٹھتے ہوئے ڈرا رہا تھا۔۔
خیر ہے کشمیر میں موسم ٹھنڈا ہی ہوتا تھا اتناہی ۔ سالک نے مکھی اڑائی۔۔
بالائی پنجاب بھئ ٹھنڈا ہی ہوتا۔۔ شاہزیب نے خود کو تسلی دی۔۔
لڑکیوں کو احتجاج کرنے میں دلچسپی نہیں۔۔۔
ہایون نے پوچھا تو سالک فورا بولا
وہ ہم لڑکوں میں کیا کرتیں ۔۔ہم تو یہیں پائوں پسار کر سو جائیں گے۔۔
کیا مطلب۔۔ کام۔تو انکا بھی ہے تم لوگ اپنا گرم بستر چھوڑ کر بیٹھے ہو تو وہ بھی بیٹھ سکتی ہیں تمہارے ساتھ۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
بیٹھی ہوئی ہی تھیں۔۔ رات ہونے لگی تو بھیج دیا انکو۔۔
ایڈون نے وضاحت کی۔۔
نہیں بھیجنا چاہیئے تھا۔۔ یون بن نے گھونٹ بھرا۔۔
انتظامیہ پر زور پڑتا لڑکیوں سے۔۔ کم سن نے کہا تو شاہزیب تنک کر بولا۔۔
کیوں۔۔؟۔۔ جب ہم ہیں تویہاں پر۔۔ اور لڑکیاں اتنی ٹھنڈ میں رات کو یہاں بیٹھئ ہوتی تو لعنت تھی ہمارے لڑکے ہونے پر۔۔ ہمارا کلچر یہ نہیں کہ لڑکیوں کی آڑ لیں۔۔
تم لوگ لڑکیوں کو بہت قیمتی جانتے ہو نا۔۔ بہت خیال رکھتے ہو لڑکیوں کا۔۔
ہایون کے کہنے پر شاہزیب اور ایڈون ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
خیال۔۔
ہم قیمتی نہیں کمزور سمجھتے ہیں۔خیال نہیں رکھتے یہ سوچتے ہیں کہ ان سے یہ کام ہوگا نہیں۔۔ حقیقت کتنی الٹ تلخ تھی اسے کہنے کی ہمت دونوں میں نہیں تھی۔
ہاں تم لوگ لڑکیوں کا باہر نکلنا پسند نہیں کرتے سمجھ گیا۔۔
کم سن سر ہلا کر بولااس کا انداز طنزیہ نہیں تھا۔۔ مگر تینوں کو چبھا۔۔
ایسی بھی بات نہیں لڑکیاں سب کام کرتیں بس ہم اپنی خواتین کا احترام کرتے ان سے مشقت لینا پسند نہیں کرتے۔۔
ایڈون نے تیز لہجے میں جواب دیا تھا۔۔
ہمارے یہاں بھی ایسا ہی ہے۔۔ مگر تم لوگ کچھ زیادہ ہی سخت ہو۔۔ یون بن نے صاف گوئی سے کام لیا۔۔
ہمیں فخر ہے اس پر۔۔ سالک نے جتانے والے انداز میں کہا۔۔
اچھا چھوڑو۔۔ یہ دونوں تو شائد ڈرنک نہ کریں مگر تم تو کر سکتے ہو کچھ پی لو۔۔ ایسے تو تم لوگ بیمار پڑ جائو گے۔۔ کم سن انکے خیال سے کہہ رہا تھا۔۔
نہیں یار۔ انکے ساتھ ہوں انکی طرح ہی ساتھ رہوں گا۔۔ ایڈون نے سہولت سے انکار کر دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے ڈورم کا دروازہ کھولتے کھولتے وہ رک گئ۔۔
آہٹ پر سنتھیا نے چونک کر دروازہ دیکھا مگر اریزہ احتیاط سے دروازہ بند کرتی جی ہائے کے دروازے کی طرف بڑھ گئ۔۔ دوسری دستک پر جی ہائے کی آواز آئی تھی۔۔
آجائو۔
وہ اندر داخل ہوئی تو جی ہائے کتابیں کھولے بیٹھی تھی اسے دیکھ کر حیران رہ گئ۔۔
تم ۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو؟۔۔ گھر نہیں گئیں؟۔۔
نہیں۔۔ وہ۔مختصر کہتی اسکے پاس ہی آبیٹھی
عجیب حالت ہوئی وی ہے۔
کچھ بھی نہیں پڑھا پریکٹس میں اتنی مصروف تھی۔۔ اب جا کر موقع ملا۔۔ تم نے تو تیاری کر رکھی ہوگی ساری۔۔
وہ انجانے میں اسکی دکھتی رگ پر ہی ہاتھ رکھ رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ وہیں جی ہائے کے پاس ہی باتیں کرتی کرتی سو گئی تھی۔۔ صبح اسکی آنکھ کھلی تو دیکھا جی ہائےاس پر کمبل ڈال کر خود گوارا کے بیڈ پر سوئی ہوئی تھی۔۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اٹھ کر اپنے ڈورم میں چلی آئی سنتھیا سوئی ہوئی تھی وہ آرام سے اپنے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گئ فریش ہو کر باہر نکلی تو سنتھیا اسکے ہی انتظار میں شائد بیٹھی تھی۔
اس نے اسے قصدا نظر انداز کیا اور سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔
تمہاری امی کا فون آیا تھا مجھے کہہ رہی تھیں کہ تمہیں منائوں تم شادی کیلیئے رضا مند ہو جائو۔۔ میں نے انہیں نہیں بتایا یہاں کیا ہوا مگر مجھے لگتا تمہیں ہاں کر دینی چاہیئے لڑکے کی تصویر واٹس ایپ کی ہے میں نے تمہیں دیکھ لو پھر فیصلہ کرو۔۔ یہاں تو ہمارا بوریا بستر گول ہونے ہی والا ہے۔۔
خشک بے تاثر انداز مگر اس نے اپنی طرف سے دوستی نبھا دی تھی۔۔
بن مانگے مشوروں کا شکریہ آئندہ کیلیئے اپنے کام سے کام رکھو۔۔ اریزہ نے جوابا اس سے بھی سرد لہجے میں کہا۔۔
سنتھیا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ۔۔ زخمی سی۔
انکار کی وجہ کیا ہے۔۔ کوئی پسند ہے کیا تمہیں۔۔
وہ باز نہ آئی۔۔ اریزہ کی آواز تھوڑی اونچی ہوئی۔
تم سے مطلب اپنے کام سے کام رکھو۔۔
اس بار واقعی لڑکا اچھا ہے تمہیں انکار نہیں کرنا چاہیئے۔۔
سنتھیا نے پھر کہا۔۔
سمجھ نہیں آتی بات تمہیں کہہ رہی ہوں میں اپنے کام سے کام رکھو۔۔
اریزہ بری طرح چلائی۔۔
سنتھیا نے بالکل اثر نہیں لیا۔۔
تم جب کسی کو اس نظر سے نہیں دیکھتیں تو کسی کو بھی زندگی میں شامل کر لینے میں تمہیں اعتراض کیا ہے۔
سنتھیا بس کر جائو مجھے تم سے کسی قسم کی بات نہیں کرنی تمہیں سمجھ کیوں نہیں آرہی یہ بات ۔۔اریزہ ضبط کھو بیٹھی تھی۔۔
جی ہائے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئ۔۔
کیا ہوا۔۔ سب ٹھیک تو ہے۔۔ وہ۔واقعی پریشان تھی۔۔
سنتھیا بت بنی زمین پر کہیں نگاہ ٹکائے بیٹھی تھی۔۔ اریزہ بیچ ڈورم میں کھڑی ہاتھ میں تولیہ پکڑے کف اڑا رہی تھی۔۔
یہ دیکھو جی ہائے۔۔
سنتھیا کے زہن میں جانے کیا سمائی تھی موبائل اٹھا کر بیڈ سے اتر آئی جی ہائے کو تصویر دکھانے لگی۔۔ اریزہ کے تلوے سے لگی سر پر بجھی۔۔
کون ہے یہ آہجوشی۔۔
جی ہائے نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
اریزہ کا مستقبل کا فیانسی۔۔
سنتھیا مسکرائی۔۔ اریزہ تن فن کرتی سیڑھیاں اتری اور اسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر پھینک دیا۔۔
حد میں رہو سنتھیا بہت برداشت کرلیا میں نے تمہیں۔۔ اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی
تم اچھی ہو تمہاری قسمت بھی اچھی ہے
مجھے تم پر رشک آتا ہے اریزہ۔۔ سنتھا نے زرا برا نہ مانا
مسکرا کر بولی انداز حسرت بھرا تھا۔۔
مجھے تم پر ترس آتا ہے۔۔ کیا تھیں اور کیا بن گئ ہو۔
اریزہ نے ترکی بہ ترکی کہا۔۔
تمہاری وجہ سے ۔۔ میں جو بھی بن گئ اسکی وجہ بس تم ہو۔۔
سنتھیا نے آرام سے کہا تھا مگر اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
کیا میری وجہ سے ہاں۔۔ کیا ۔ کیا کیا کیا ہے میں نے۔۔
اریزہ بپھر کر اسکی جانب بڑھی۔۔ جی ہائے بے اختیار اسکے آگے آگئ۔۔ سنتھیا ہلی بھی نہیں اپنی جگہ سے۔۔
میں نے ایڈون کو کہا تھا واپس چلنے کو مگر وہ تیار نہیں ہے۔ صاف بولا میں جانا چاہتی ہوں تو چلی جائوں۔ کیوں میں کیوں جائوں؟ یہاں تم دونوں کو چھوڑ کر۔؟
تم چلی جائو۔ تم کیوں نہیں جاتیں اگر تمہیں ایڈون میں کوئی دلچسپی نہیں تو شادی کیوں نہیں کرنے کو تیار ہو؟۔۔ مجھ پر ترس نہیں آتا تمہیں۔ ایڈون کےدل میں جگہ بنانے کیلیئے کیا کیا نہیں کرگئ مگر تم۔۔۔۔۔ ۔ اور تم تم جاتی بھی نہیں ہو ہماری زندگی سے اچھی بھلی شادی ہوگئ تھی کیوں نہیں گئیں کینڈا ۔۔ کیوں واپس آگئ ہو ہم دونوں کے بیچ۔۔
سنتھیا نقاہت بھرے انداز میں بلک اٹھی۔۔ اس میں اتنی سکت بھی جیسے نہ تھی کہ چلا سکتی۔۔
بس کر جائو سنتھیا بس۔۔
یہ دوسری بار تھا سنتھیا نے اسے ایسے طعنے دہیئے تھے آج وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔ بری طرح بپھر کر وہ اسکی جانب بڑھی تھی جی ہائے۔۔ پوری طاقت لگا کر اسے روکا۔۔
کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو کس بات پر لڑ رہی ہو۔۔
جی ہائےہلکان ہو رہی تھی۔۔

بہت پیار کرتا ہے وہ تم سے۔۔ کیوں اسکو ٹھکرا دیا تم نے تم ہاں کر دیتیں خدا جانتا میں بیچ سے ہٹ جاتی۔۔ تم نے اسے مجھے سونپ کر اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔۔ میرے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا۔۔ مجھے مل کر بھی وہ نہیں مل سکا ہے اریزہ۔۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔۔ اریزہ کے اعصاب ڈھیلے پڑے۔۔
یہ کیا کہہ رہی ہو ۔۔ اسکے۔منہ سے مری مری آواز نکلی۔۔
سب جانتی ہوں میں۔۔ میں سب۔۔ میں بھی اس دن وہیں موجود تھی۔۔
وہ بلک کر کہتی بیڈ پر بے دم ہو کر بیٹھ گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے آکر انکے پاس دھوپ میں بیٹھ گئ تھی۔۔
تینوں کے علاوہ یون بن ہایون اور سداکو بھی موجود تھے۔۔
ہایون۔نے اسے دیکھ کر فورا فروٹ جوس اسکی جانب بڑھایا۔۔
اس نے لرزتے ہاتھ سے تھاما۔۔ وہ سن سے دماغ کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔
ہایون نے اسکی غائب دماغی فورا پڑھ لی تھی۔۔ اور ایڈون نے بھی۔۔
واٹ ہیپنڈ۔۔؟۔۔ ایک لڑکی نے پاس آکر ہمدردی سے انکے احتجاج کی وجہ پوچھی تھی۔۔
وہ سر اٹھا کر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔
ایڈون نے آگے بڑھ کر رواں انگریزی میں اسے مدعا بتایا۔
وہ ہمدردی کے دو بول بول کر آگے بڑھ گئ۔۔
ایڈون بار بار اسے دیکھ رہا تھا۔۔ شاہزیب اور سداکو باتیں کرنے میں مگن تھے۔۔ سالک موبائل پر جھکا تھا یون بن نے اسکی بے چینی محسوس کر لی تھی۔۔
کیا ہوا ہے؟۔۔
اس نے پوچھا ایڈون بس دیکھ کر رہ گیا۔۔
کیا بتائے؟۔۔
اریزہ ۔۔ اس نے سوچ کر اسے پکار ہی۔لیا۔۔
اریزہ چونک کر متوجہ ہوئی۔۔
وہ سنتھیا سو رہی ہے کیا ابھی تک وہ کیوں نہیں آئی۔۔
اس نے جھجک کر پوچھا۔۔
اریزہ اسے دیکھتی رہی ۔
دیکھتی گئ۔۔ ایڈون کو نہ جانے کیا ہوا نظر چرا گیا۔۔ یون بن نے ایڈون کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
ہایون اریزہ کے برابر آبیٹھا۔۔
دیکھتے دیکھتے اریزہ کی آنکھیں لبا لب بھر گئ تھیں۔۔ ہایون قصدا اسے آڑ دیتا بیٹھا۔
تبھی انتظامیہ سے ایک آدمی انکے پاس چلا آیا۔۔
آننیانگ واسے او۔۔
اس نے جھک کر سلام کیا یہ سب اسکی۔جانب متوجہ۔ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں اندازہ ہے آپ سب کتنے مایوس ہوئے ہونگے۔۔
یقین جانیئے ہم بھی بہت ہوئے ہیں۔۔ ہم ہرگز بھی یہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان سے آنے والے طلبا کسی طور کسی دوسرے ملک سے آنے والے طلبا سے زہانت میں کم ہیں۔۔
ہم نے آپ سب کو داخلہ دیتے ہوئے اس چیز کو مد نظر رکھا تھا ہم ایک بالکل الگ تہزیب سے قابل افراد کا انتخاب کر رہے ہیں۔۔ ہم بہت دکھی ہیں کہ آپکی یونیورسٹی کے ساتھ ہمارا الحاق ممکن نہ ہو سکا۔۔ جو طلبا ہم نے وہاں بھیجے تھے انکی پاکستانیوں کے بارے میں بہت اچھی رائے رہی وہ وہاں تعلیم حاصل کرتے ہوئے مطمئن تھے مگر وہاں کے حالات کی بنا پر ہمیں یہ مشکل فیصلہ لینا پڑا۔۔ ان طلبا کے والدین ہر قیمت پر ان کو واپس بلانا چاہتے تھے چاہے وہ سیمسٹر میں پیچھے رہ جائیں۔۔
یہاں ہم نے انکو فوری طور پر ایڈجسٹ کیا ہے۔ہم آپ سب کو بھی یہی پیکج دینا چاہتے ہیں حالانکہ آپکی یونیورسٹی آپ سب کو واپس بلا رہی ہے مگر ہم پھر بھی آپ سب کیلیئے مزید ایک سہولت دے رہے ہیں ۔۔۔کوریا بہت سی اسکالرشپس فراہم کرتا ہے طلباء کو آپ ان میں سے کسی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یقین جانیئے مشکل طریقہ کار نہیں بس آپکو چند مہینے صبر سے کام لینا ہوگا۔ اور آپ یہاں اپنے بل پر داخلہ لینا چاہیں تو بھی ہمارے دروازے آپ سب پر کھلے ہیں۔
مگر ہمیں معیار کو بھی مد نظر رکھنا ہے آپ سب اگلے ہائی اسکول گریجوایٹ اسسیسمنٹ ٹیسٹ کو پاس کریں یہ آپ کو یہاں کی بیچلرز ڈگری حاصل کرنے کیلیئے لازمی پاس کرنا ہوگا۔۔دو سال کوریا میں تعلیم حاصل کریں ہم آپ سب کو ڈگری ضرور دیں گے مگر اس سیمسٹر کیلیئے معزرت آپکو اگلے سیمسٹر سے ہم ریگولر کر دیں گے۔۔ اس سیمسٹر کے سارے اخراجات ہم برداشت کر سکیں گے۔ آپ چا رسال یہاں تعلیم حاصل کریں ہم آپکو یونیورسٹی کی جانب سے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے مجھے امید ہے آپ سب کو ہماری یہ مخلصانہ کوشش پسند آئے گی۔۔
چندی آنکھوں والا وہ ادھیڑ عمر انسان بے حد شائستہ انداز میں مخاطب تھا۔۔ ان چاروں نے سر جھکا لیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہیں وہیں شام ہو گئ تھی۔۔ اپنا احتجاجی کیمپ سمیٹ کر بھی وہ سب وہیں بیٹھے تھے۔۔

ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا سوائے خاموشی سے انکی۔بات ماننے کے۔۔
ایڈون نے گہری سانس لیکر کہا۔۔
یہ تو دنیا میں ہم۔جہاں بھی جاتے دو سال کم ازکم پیچھے ہو جاتے تعلیم میں کوئی ہماری ڈگری کو مانتا ہی نہیں۔۔ انہوں نے ہم پر احسان دھر کر بھی یہی کیا ہے۔۔
شاہزیب چڑا ہوا تھا۔۔
ان ماہ و سال سے اگر فرق پڑتا ہے تو جائو واپس۔۔ اپنی یونیورسٹی سے۔پڑھو۔۔ بچا لو اپنے چھے ماہ اور ہم لوگوں سے چھے مہینے پہلے ڈگری لیکر بےروزگار پھرو۔۔
ایڈون نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔۔
شاہزیب ہونٹ بھینچ گیا۔۔
سالک نے آہ بھری
انکا ٹیسٹ جانے کیسا ہوگا پاس بھی کر پائیں گے کہ نہیں۔۔
جاہل تو نہیں ہیں ہم۔
اریزہ چڑی
کر لیں گے ہم سب بہترین گریڈز لیکر یہاں تک پہنچے ہیں۔
انکا بھی امتحان دیکھ لیتے ہیں۔۔
گھر والوں کو بتانے کی ضرورت نہیں ویسے بھی اسکالر شپ ختم ہوجانے کے باوجود یونیورسٹی ہم سے اخراجات میں سہولت دے ہی رہی ہے۔۔ بس اب کرنا یہ ہے کہ ابھی سب جاب ڈھونڈو چھے مہینے تک اگلے کم از کم دو سیمسٹر تک کے پیسے جمع کرنے کا ٹارگٹ رکھواسکالر شپ مل جائے تو بھلا چنگا مگر وہ سب چانس پر ہی ہے نا۔ ۔۔ اب سیمسٹر بریک تک تو ہم فل ٹائم جاب بھی کر سکتے ہیں۔۔
ایڈون اگلا لائحہ عمل بھی ترتیب دے چکا تھا۔۔
ٹھیک کہہ رہا ہے ایڈون۔۔
اریزہ نے تائید کی۔۔
ویٹر سویپر والے ہی کام ملیں گے۔۔
سالک نے منہ لٹکایا۔۔
ٹھہر تیرے لیئے میں نئی کمپنی لانچ کرتا ہوں ۔۔ شاہزیب نے مزید چڑایا۔
میں نے آئی کام کیا ہے تھوڑا بہت اکائونٹس سنبھال سکتا ہوں۔۔
سالک کو یاد آیا۔۔
تیرے جیسے لوگوں کیلیئے تھری ایڈیٹس میں کیا کہا گیا ہے۔۔
شاہزیب ہنسا
ایڈون اور اریزہ نے کورس میں کہا۔۔
گدھے۔۔
سالک گھور کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن گوارا جی ہائے ہایون کم سن سداکو۔۔
سب امتحان دے رہے تھے۔۔ پوری کلاس کا جہاں پیپر پر سر جھکا تھا ان سب کی نظریں بھٹک بھٹک کر خالی نشستوں پر جا رہی تھیں۔۔
پیپر دے کر باہر نکلے تو سداکو نے مایوسی سے کہا
مجھے حیرت ہورہی ہے اتنے اچھے اسائنمنٹس اور پریزنٹیشن دینے والوں کو امتحان دینے کے لیئے نا اہل قرار دے دیا ۔۔ دنیا بہت بے رحم ہے۔۔
یون بن اس سے متفق تھا سو سر ہلا کر رہ گیا۔۔
میں سوچ رہا ہوں انکو اس سیمسٹر کی فیس تو چلو اگلے سیمسٹر میں ضم کر دی مگر اسکالر شپ تو ختم ہوگئ یہ لوگ کیسے یہاں اخراجات پورے کریں گے۔۔
کم سن نے پر سوچ انداز میں کہا۔۔تو ہایون چونک کر دیکھنے لگا۔۔
یہاں کوریائی زبان نہ آتی ہو تو جاب حاصل کرنا نا ممکن ہی سمجھو۔۔
سداکو نے کندھے اچکائے۔۔
میں جانتا ہوں کتنی مشکل سے میں نے نوکری حاصل کی ہے ایک ریستوران میں وہ بھی جب کوئی غیر ملکی آتا تب ہی مجھے کارآمد سمجھ کر انگریزی بولنے کیلیئے آگے کر دیا جاتا ورنہ سارا وقت برتن دھوتے گزرتا ہے میرا۔۔
کم سن نے دھیرے سے اسکا کندھا تھپتھپایا
بچے تو نہیں ہیں ایڈون وغیرہ کر لیں گے کچھ نہ کچھ اب تو انکو یونیورسٹی آنے کی ضرورت نہیں مجھے یقین ہے کہیں جاب ہی ڈھونڈ رہے ہونگے۔۔
یہ جی ہائے تھی۔۔
گوارا نے بھی تائید کی۔۔
ہاں مجھے بھی جہاں تک اندازہ ہوا ہے پاکستانی اپنا کام خود کرنے والے خوددار ہوتے ہیں۔۔یہ لوگ کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔۔
یون بننے کہا تو سب سر ہلاگئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے پاس کچھ وون ہونگے؟۔۔ راہ چلتی ایک کورین دوشیزہ کو روک کر سالک انتہائی معصوم شکل بنا کر کہہ رہا تھا ۔
جی؟۔۔ اسکی سمجھ میں اردو خاک پتھر آتی۔۔
وون ۔۔ سکے۔۔۔ اس نے سکے کا اشارہ کیا۔۔
چینج آنٹی۔ کوائین۔۔۔
وہ نوٹ لہراتا اس سے منت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔
وون
وہ جانے کیا سمجھی نوٹ تھام کر بیگ کھنگالنے لگی۔۔
ہائے اللہ کیا کر رہی ہو یہ اکلوتا نوٹ ہے میرے پاس ۔۔۔
مگر اسے اتنی ہی مالیت کے سکے نکالتے دیکھا تو جان میں جان آئی۔
شکر ہے مجھے لگا تھا تم۔میرا اکلوتا نوٹ بھی لے بھاگوگی۔۔
وہ رونے پیٹنے کو آگیا۔۔
دوشیزہ کا دل پگھل ہی گیا۔
یہ لو۔۔
اس نے بیگ میں مٹھی بھر کر کوائین نکال کر تھما دیئے۔نوٹ بھی بڑھا دیا۔
سالک نے پہلے نوٹ چھینا پھر چلر تھامے۔۔
گومو وویو۔۔
اس نے کوریائی انداز میں جھک جھک کر سلام کیا لڑکی مسکرا کر جانے کیا بولتی آگے بڑھ گئ۔۔ یہ فاتحانہ انداز میں مٹھی میں بھرے کوائن چھنکاتا کچھ فاصلے پر وینڈنگ مشین کے پاس کھڑے گھورتے اپنے ہم وطنوں کے پاس آیا۔۔
بہت برکتی نوٹ ہے میرا دس دفعہ تڑوانے کی کوشش کر چکا ہوں مگر ہمیشہ ثابت واپس آجاتا ہے میرے پاس۔
وہ اترایا۔۔
ایسی مسکینیت طاری کر کے فقیروں کی طرح مانگ رہا تھا شرم کر۔۔
شاہزیب نے اسکا سر بجایا۔۔
تو ؟۔ وہ بھنایا۔۔
غیر ملکی ہی غیر ملکیوں کے کام آتے وہاں کوئی چندی آنکھوں والا چائینیز تم سے پیسے مانگتا نہ کرتے تم مدد
سالک سینے پر چڑھ کر بولا
چائینیز کی کرتا نا یہ تو کورین ہیں اور یہ پاکستان میں اتنا آتے بھی نہیں۔۔
ایڈون بھی بحث میں شامل ہوا
ہاں تو آجائیں یہ بھی میں بھی کسی کورین کو ادھار دے دوں گا۔۔
سالک لاپروا تھا۔
لے لیں ڈرنک جس کے انتظار میں ہم یہاں کھڑے۔۔
اریزہ نے طنزیہ کہا تو سالک گڑ بڑا کر مشین کی طرف بڑھا۔۔
کونسی لینی ہے اریزہ۔۔
وہ مشین کا معائنہ کر رہا تھا۔۔ ایک کوائن ڈال کر خواتین پہلے کے اصول پر عمل پیرا ہوا۔۔
اریزہ نے فروٹ جوس پر انگلی رکھی۔
تھوڑی ہی دیر میں کھٹ کی آواز کے ساتھ کین جوس نیچے دراز سے برآمد ہوا۔
پھر سالک کوائین ڈالتا گیا سب باری باری ڈرنک اٹھا تے رہے خود اسکی باری آئی تو کوائین ختم ہو چکے تھے۔۔
ٹھہر۔۔
ایڈون نے اپنی ڈرنک سے بڑا سا گھونٹ بھر کر اسے تھمایا۔۔
پھر مشین کے کئی بٹن دبا کر ٹھوکر ماری درجنوں کوائن نیچے آن گرے۔۔
تو یہ پہلے نہیں کر سکتا تھا؟۔۔ ایویں احسان لیا اس گوری کا۔۔
سالک نے کہہ کر اسکے دیئے کین کو منہ سے لگانا چاہا ایڈون نے لپک کر اس سے چھینا۔
نکال اپنے لیئے ڈرنک۔۔ وہ اپنی ڈرنک بانٹنے کو تیار نہیں تھا
سالک نے ایک ایک کوائن چنا۔۔
اپنی ڈرنک لی
اور کسی نے کوئی اور ڈرنک لینی؟۔۔
اس نے پوچھا تو مگر ان سب نے نفی میں ہی سر ہلایا۔۔
اس نے اپنی ڈرنک لے کر بقیہ سب کوائین مشین میں واپس ڈال دیئے۔۔
اور جھک کر مشین سے بولا۔۔
گھمسامندہ۔۔ شکریہ۔۔
ایڈون شاہزیب اور اریزہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
وہ البتہ مزے سے گھونٹ بھر رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کاش میں مچھلی ہوتا بھلے پاکستانی ہی مچھلی ہوتا۔۔
مزے سے تیرتا رہتا ۔۔۔۔
شاہزیب نےحسرت سے مگن تیرتی مچھلیوں کو دیکھا

وہ سب لائن سے ایکوریم سے ناک چپکائے کھڑے تھے۔۔
ہم میں سے کوئی تمہیں کھا چکا ہوتا پھر۔۔
ایڈون نے کہا تو اس نے مزید تشریح کی
ابے میں چھوٹی موٹی مچھلی تھوڑی ہوتا وہیل ڈولفن تو ہوتا ہی۔۔
تو تم اندھے ہو چکے ہوتے ہم جتنا اپنے ساحلوں پر گند مچا کے رکھتے ۔۔
اریزہ نے کہا تو وہ منہ بنا کر ایکوریم سے پشت کر گیا۔۔
یار ہم اتنے گندے برے کیوں ہیں۔۔
اس نے سابقہ انداز میں ہی کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرائوکے روم میں ان سب نے چیخیں مار مار کر کمرہ سر پر اٹھایا ہوا تھا۔۔ سامنے بی ٹی ایس کا ڈی این اے چل رہا تھا۔ ساتھ ساتھ شاہزیب اور ایڈون
سیٹی بجے گی کھیل جمے گا تالی بجے گی گا رہے تھے۔
کہہ کیا رہا ہے۔۔
اریزہ نے غور کیا ۔۔
پٹ یور۔۔ اسکی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں۔۔
سالک اور اریزہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر جھٹ نظر چرا کر منہ پھیر کر بیٹھ گئے۔۔
میں نے بھی گانا۔۔ اریزہ نے کہا تو ایڈون جو اچھل کود کر کر کے تھک چکا تھا جھٹ مائک اسے تھما کر صوفے پر آگرا
آسومی منچھو جی آنا ۔۔۔ اس نے ڈھونڈ کر نکالا
پلے ہونا شروع ہوا تو ساتھ ساتھ گانے لگی۔۔
اوئے تمہیں یہ گانا آتا ہے۔۔
شاہزیب نے حیرت سے چیخ ہی مار دی۔۔
اریزہ نے اترا کر دیکھا۔۔
پھر جتنی دیر گاتی رہی وہ اسکے دھرائے جملے دھراتے رہے وہ بھی اپنی مرضی کے الفاظ میں
کہہ کیا رہا ہے یہ۔۔
ایڈون کو تجسس بھی تھا۔۔
اریزہ نے کندھے اچکا دیئے۔۔
اداس گانا لگائو ہم جاتے جاتے رو ہی لیں۔۔
یہ سالک کی فرمائش تھی۔۔
اس نے سیڈ سانگ میں سے ایک لگا دیا
کسی لڑکی نے رونا شروع کر دیا تھا۔۔
سب باقائدہ آنسو پونچھ پونچھ کر روتے رہے۔۔۔
مت رو میری بہن اللہ اس جیسا ہی اور دے گا۔۔
شاہزیب نے باقائدہ اسکرین پر روتی لڑکی کے آنسو بھی پونچھ دیئے۔۔
اوئے یہ گانا سنا ہوا لگ رہا۔۔
ایڈون چونکا۔۔
پہلی نظر میں کیسا جادو کر دیا کی دھن بج رہی تھی۔
اف یہ کوریا سے چرایا تھا انڈین نے۔۔
آخر انہوں نے ایسا گانا تلاش ہی لیا جسکی دھن پر انہیں ہندی گانا یاد تھا پھر وہ سنگر اپنی زبان میں اور یہ سب اردو میں اسی دھن پر گاتے رہے۔۔
چونتیس فیصد انکا نتیجہ آیا تھا ظاہر ہے گا کم چیخیں زیادہ مار رہے تھے۔۔
سڑک پر چاروں اکٹھے چل رہے تھے۔ اریزہ درمیان میں تھی۔۔ جب آتے جاتے لوگ انکو باقائدہ گھور گھور کر جانے لگے تو دو دو کر کے آگے پیچھے چلنے لگے۔۔
جب کوئی بات بگڑ جائے جب کوئی مشکل پڑ جائے۔۔
اریزہ کا اترا منہ دیکھ کر سالک میدان میں اترا
اوئے پاکستانی اداس گانا گا کوئی انڈین گا کے دل اور نہ جلا سارے انڈین امتحان دے رہے ہم پاکستانیوں سے ہی دشمنی نکالی ہے انہوں نے۔۔
شاہزیب رو ہی تو پڑا۔۔
سالک نے فورا پینترا بدلا
ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے ہاں جیتیں گے۔۔
تینوں بن پیئے جھوم رہے تھے۔۔ اریزہ انکے ساتھ ساتھ چلتی اداس ہو رہی تھی۔۔
کیسا بھی ہو اندھیرا۔۔
ایڈون اسکے آگے آگے چلتے ایکدم۔مڑ کر فلمی سے انداز میں اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔۔
دور نہیں سویرا۔۔ شاہزیب اسکے دائیں جانب سے مسکرا کر گاتا ہوا آیا۔
لڑنا ہے کورین سے۔۔ ہماری پڑھائی کے دشمنوں سے
یہ سالک تھا اسکو جگہ نہیں ملی تو اکڑوں بیٹھ گیا اور سر اٹھا کر اسے دیکھتے آنکھیں پٹ پٹا رہا تھا
جینا ہے سر اٹھا کر ظلم و ستم مٹا کر۔۔
ایڈون نے راہ چلتے ماں کا ہاتھ پکڑ کر جاتے بچے کی کاٹن کینڈی چھین کر اریزہ کو چلتے چلتے تھمائی
بچے کی ماں گھورتی آگے ہوئی تو اریزہ نے منہ بنا کر رونے کو تیار ہوتے بچے کو جلدی سے تھما کر اسکے پیار سے سر کے بال بھی چھیڑے۔۔
دنیا حسین بنائیں۔۔ پاس دلوں کو لائیں۔۔
سامنے سے آتے لڑکے اور لڑکی کے گرد وہ تینوں گھوم گھوم کر بازو پھیلائے ناچ رہے تھے۔۔
پاکستان میں یہ کام کرتے تو پٹ ہی جاتے۔۔ ان دونوں کورین کپل نے بے حد حظ اٹھایا اور کچھ سمجھتے نہ کچھ نہ سمجھتے جھک کر شکریہ ادا کرتے ہاتھ ہلاتے آگے بڑھتے گئے۔۔
اریزہ کوہنسی آہی گئ۔۔
آنگن آنگن خوشیاں بانٹیں۔۔
سالک دونوں ہاتھ پھیلائے پیچھے سے آرہا تھا سب رک کر اسے دیکھ رہے تھے اس نے ترنگ میں آ کر پاس سے گزرتے لڑکے اور اپنا خالی کیا ہوا کین تھمایا۔۔
وہ بے دھیانی میں پکڑ گیا پھر اسی کے اوپر اچھالتا
بچھی سا تنفر سے جاتے جاتے انہیں گھورتے ہوئے کہا۔۔
سالک نے دونوں بازو آگے کر کے منہ پر لگنے سے بچایا تھا۔۔ تینوں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے۔۔
یہ کوئی گالی دے کر گیا ہے نا۔۔ بچھی دین
شاہزیب نے نیا لفظ سیکھنا چاہا۔
ہیں گالی دی ہے۔۔ سالک کو غصہ آگیا۔۔پلٹ کر چلایا
اوئے الو کے پٹھے گالی کس کو دی ہے۔کمینے رک۔۔
اگلاپکار پر واقعی جاتے جاتے رک کر مڑا۔۔
قد میں سالک سے تین چار انچ بڑا اب غور کیا تو خوب ڈیل ڈول والا نکلا
او او۔۔
سالک ٹھٹکا۔۔
آننیانگ ۔ گومو وویو۔۔ کہہ سیکی ۔۔ بچھی دن۔۔
اسے جتنی کورین آتی تھی ہاتھ ہلا کر مسکراتے جھاڑ دی۔۔
کہہ سیکی کم سن انکو اکثر کہتا تھا۔اس نے وہ بھی جڑ دیا
یہ بھئ بھول گیا آخری لفظ اسی سے سنا تھا۔۔
اگلا تلملا کر پلٹا۔۔ اسے بھاگ کر واپس آتے دیکھ کر ان چاروں کے ہاتھوں سے طوطے اڑے۔۔
بھاگو۔۔ سالک کہہ کر رکا نہیں تھا۔۔
تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ہاتھ ہلا ہلا کر کورین میں جانے کیا کیا کہتے اس لڑکے کے ڈیل ڈول کو پھر سالک کی پیروی میں ہی عافیت جانی۔۔
بھاگتے بھاگتے جب جب پیچھے مڑ کر دیکھا وہ سانڈ انکے پیچھے ہی آرہا تھا۔۔
کسی ریستوران میں گھس لوگوں کے بیچ مار نہیں پائے گا۔۔
ایڈون اور اریزہ سب سے پیچھے تھے اریزہ ہی رہ جاتی پیچھے سو ایڈون بھاگتے بھاگتے اسکیلیئے رفتار کم کرتا برابر ہوا پھر دماغ اسکا ہی چلا
آگے آگے بھاگتے شاہزیب نے آئو دیکھا نا تائو اگلا جو بھی ریستوران آیا اسمیں گھس گیا سالک اسکے پیچھے یہ دونوں بھی پوری جان لڑا کر گھس ہی گئے۔۔
بھاگ کر سب سے اندر جاکر کونے کی میز پر دھم سے گرے۔۔ چاروں کو سانس نہیں آرہی تھی۔۔ شاہزیب نے ہی ہمت کر کے جگ اٹھایا پہلا گلاس بھر کر اریزہ کی۔جانب بڑھایا خود جگ ہی منہ سے لگا لیا۔۔
گہری گہری سانسیں لیکر اریزہ نے پانی منہ سے لگایا۔۔
چھوٹا سا ریستوران تھا مگر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔
وہ لڑکا گلاس وال سے باہر سڑک پر غصے سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا اسے شائد پتہ نہیں چلا تھا کہ وہ ریستوران میں گھسے ہیں یا اسکے بالکل ساتھ زیلی سڑک پر۔۔
سالک کی نظر پڑی تو فورا سیٹ سے کھسک کر نیچے ہو گیا۔۔شاہزیب نے یہ نہیں دیکھا اس نے ایسا کیوں کیا خود بھی گھس گیا۔۔
جی آپکا آرڈر۔۔
موئودب سا شیف کے یونیفارم میں سر پر ٹوپی پہنے کوئی تمیز سے آکر اریزہ سے پوچھ رہا تھا
پانی پیتی اریزہ چونکی۔۔
جو یہ لوگ۔۔
وہ۔کہتی ہوئی ان کی طرف متوجہ ہوئی تو پتہ چلا اکیلی میز پر بیٹھی ہے تینوں غائب۔۔
یہ کہاں گئے وہ بوکھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
ویٹر نے اسے گھبرا کر کھڑا ہوتے دیکھا تو مسکرا کر آنکھ کے اشارے سے نیچے ہیں بتایا۔۔
وہ سمجھ کر جھکی تو تینوں گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھے تھے۔۔
نکلو باہر ۔۔ اریزہ چڑی۔۔
پہلے دیکھو باہر سے وہ لڑکا چلا گیا؟۔۔
یہ سالک تھا
وہ گہری سانس لیکر اٹھی پھر باہر دیکھ کر انہیں تسلی کرائی اب گلاس ڈور سے باہر کوئی کھڑا نظر نہیں آرہا تھا۔۔
تینوں خیر کا کلمہ پڑھتے اوپر آ ہی گئے۔۔ شیف بڑے تحمل سے کھڑا تھا۔۔
کچھ آرڈر دے ہی لیتے ہیں بھوک لگ رہی ہے ۔
شاہزیب نے مسمسی سے شکل بنائی۔۔
یہ تو کورین ریستوران ہے کسی پاکستانی یا انڈین چلتے۔۔
سالک منمنایا
تو کیا سبزیاں منگوا لیتے ہیں۔۔ ایڈون نے انہیں چھیڑا ہی تھا۔۔
یار میرے خاندان میں آج تک کسی نے اتنی سبزیاں نہیں کھائی ہونگی جتنی چھے مہینے میں کوریا نے کھلا دی ہیں۔۔ حلال کے چکر میں گوشت کو ترس گیا ہوں
سالک کی مظلومیت عروج پر تھی۔
آپ ہمییں سبزیوں اور چاول کا کچھ لا دیں۔
ایڈون نے شستہ انگریزی میں کہا۔۔
حلال فوڈ ہے ہمارے پاس۔۔
اس شیف کو پورے جملے میں بس حلال ہی سمجھ آیا تھا۔۔ مسکرا کر بولا تو شاہزیب کو اسکی چندی آنکھوں پر پیار ہی آگیا۔۔
واقعی۔ وہ تینوں بے تابی سے بولے۔۔
جی حلال گوشت ملتا ہے ہمارے ریستوران میں آپ دیکھ لیں زیادہ تر یہاں مسلمان ہی کھانا کھانے آئے ہیں یہ مکمل حلال ریستوران ہے۔۔
اس نے اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے بتایا تو چاروں مڑ کر دیکھنے لگے۔۔ کچھ پاکستانی کچھ چندی آنکھوں والے کچھ حجاب کیئے بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکیاں مختلف قومیتوں کے مگر چھوٹی بڑی داڑھی والے مرد کچھ کلین شیو۔۔انہوں نے پہلے غور ہی نہیں کیا تھا۔۔
بیف اسٹیک کورین رائس کمباپ جس میں سی ویڈ کی بجائے گندمی روٹئ میں چاول اور سبزیاں لپیٹے تھے۔۔ کچھ سپرنگ رول جیسا ہی بن گیا تھا۔۔
ان چاروں نے سیر ہو کر کھایا۔۔
یار مزے کا ہے کورین کھانا بھی۔۔
اریزہ نے دل سے تعریف کی۔۔
ہاں دیکھو بھلا حلال ریستوران ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔۔ ایویں بھوکے مرتے رہے۔۔ یون بن کو دکھائوں گا یہ۔۔
شاہزیب نے کہا تو ایڈون ہنسا
پاگل انہیں کیا پتہ ہوتا وہ تھوڑی حلال ریستوران ڈھونڈتے ہونگے۔۔
یہ بھی ہے۔۔
سالک نے تائید کی۔۔
ویسے یہاں ویٹر نہیں ہیں شیف ہی خود پکا کر لا لا کر رکھ رہے۔۔
اس نے تھوڑے فاصلے پر اوپن کچن میں کام کرتے دو تین شیف کو دیکھا۔۔ سب چندی آنکھوں والے تھے۔۔
ایویں ماموں تو نہیں بنا رہے شکلیں تو انکی چندی ہی ہیں ۔۔ ایویں حلال کہہ کر کھلا دیا ہمیں۔۔
سالک کو نئی فکر لاحق ہوئی۔
ایسا نہیں ہوتا۔۔ ایڈون نے تسلی دی۔۔
وہ سب کھا چکے تھے۔۔ سو اب دل۔پشوری کو بک بک لازم تھئ۔
اسی شیف کی کام کرتے کرتے ان پر نظر پڑی چاروں اسی پر نگاہ جمائے تھے۔۔ وہ اپنا فرائی پین ساتھی کو تھما کر مسکراتا ہوا انکے پاس چلا آیا۔۔
آپ لوگ کولڈ ڈرنک لیں گے؟۔۔ یا چائے۔۔
چائے مگر پہلے ہمیں یہ بتاییں یہ واقعی حلال گوشت ہی تھا؟۔۔ شاہزیب نے سیدھا سیدھا پوچھ لیا
جی بالکل۔۔۔ علی مسکرا دیا۔۔
آپ فکر نہ کریں۔۔۔ یہ ریستوران کا مالک مسلمان ہے اس نے یہ ریستوران بنایا ہی اپنے جیسے مسلمان بھائیوں کیلیئے ہی ہے حلال کھانے کی فراہمی کیلیئے بنایا ہے۔۔
نہ صرف گوشت حلال ہے بلکہ پکانے والے تینوں شیف بھی مسلمان ہیں۔۔ اس نے مزید تسلی کرانی چاہی
سائونڈز گڈ۔۔
اریزہ نے مسکرا کر کہا۔۔
اللہ برکت دے اس ریستوران کے مالک کے رزق میں۔۔
اس نے کہا تو شیف اسے الجھن سے دیکھنے لگا۔۔
دے؟۔۔ وہ شائد جاننا چاہ رہا تھا کیا کہا ہے اس نے
یہ کہہ رہی ہے۔۔ ایڈون نے حسب عادت مترجم کے فرائض نبھائے۔۔
اوہ شکریہ آپکا۔۔
وہ باقائدہ اریزہ کی طرف مڑ کر جھک کر شکریہ ادا کرنے لگا۔۔
اریزہ اتنی دیر سے اسے دائیں رخ سے دیکھ رہی تھی تھوڑا سا چونکی۔۔
او بھائی وہ تمہیں نہیں مالک کو دعا دے رہی ہے۔۔
سالک نے چمچ مارنا ضروری سمجھا۔۔
اریزہ اتنا شکریہ ادا کر رہا اسے بھی دعا دے دو۔۔
وہ پہلا جملہ انگریزی دوسرا اردو میں بولا۔۔
اس سے پہکے اریزہ کچھ کہتی اس نے دوبارہ جھک کر بتایا۔۔
میں ہی مالک ہوں اس ہوٹل کا ۔۔ علی نام ہے میرا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چاروں دریا کنارے بنچ پر بیٹھے تھے۔۔ رات کے نو بج رہے تھے۔۔
امتحانوں میں وقت کیسا بھاگتا اورآج کیا کچھ نہیں کر لیا ہم نے پھر بھی نو ہی بجے ہیں ابھی بس۔۔
اریزہ اکتائی۔۔
زندگی میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا جن امتحانوں کو ہم کوستے تھے ان سے بھاگتے ایکدن بیٹھے امتحان نہ دے سکنے پر اداس رو رہے ہونگے۔۔
ایڈون ہنسا۔۔پھر بتانے لگا
کل تین جگہ جانا ہے انٹرویو دینے ایک جگہ سیلز مین کیلیئے ایک جگہ ویٹر کے لیئے ایک ورکشاپ میں گاڑیاں دھونے کیلیئے۔۔ سیلز گرل کی جاب کروگی اریزہ ایک سپر اسٹور میں؟
سپر اسٹور میں۔۔ وہ چونکی۔۔وہ تھوڑا ہچکچا گئ
اریزہ کو کیا ضرورت ہے جاب کرنے کی۔۔ سالک ہنسا
میری مانو تو گھر جائو پڑھائی مکمل کرو شادی کرو ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے یہاں کی ہو یا وہاں کی تم نے کونسا نوکری کرنی۔۔
یہ شاہزیب تھا۔۔
ویسے تو تمہیں ضرورت نہیں مگر وقت گزارنے کیلیئے برا نہیں جاب کرنا یونیورسٹی تو جانا نہیں سارا دن گھر میں بور ہونے سے بہتر ہے۔۔
ایڈون نے سینجیدگی سے کہا۔۔
ٹھیک ہے۔۔
شاہزیب کے جملے اسے بری طرح کھلے تھے۔۔
اسکے لیئے فیصلہ کرنا آسان ہو گیا۔۔
چلو نو بج گئے ہوسٹل جاتے جاتے دس ہو جائیں گے۔۔اٹھو
ایڈون نے کہا تو شاہزیب اور سالک منمنائے
کیا کرنا ہاسٹل جا کر سب پڑھائی میں لگے ہونگے دیکھ کر دل جلتا اور یونی پر لعنت بھیجنے کا دل کرتا۔۔
مرو یہیں رہنا رات بھر یہیں مرنا سردی میں۔۔
ایڈون بھنایا
ہاں یہیں رہوں گا میں مروں گا بھی پھر روح بھٹکے گی میری کسی چندی آنکھوں والے کو چین سے یہاں بیٹھنے نہیں دوں گا چٹکیاں کاٹا کروں گا یہاں آنے والوں کے۔۔
سالک چلا چلا کر کہتا دونوں ہاتھ پھیلا کر دریا کی طرف رخ کیئے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔۔
کورین بھی سوچیں گے کن سے پنگا لے لیا ہے۔۔
اریزہ ہنس کر بولی
سنو کوریو۔۔بھگتو ہمیں ۔ شاہزیب بھی ترنگ میں آکر اٹھ کھڑا ہوااور اسکے پاس جاکر اسی کی طرح ہاتھ پھیلا کر چلایا۔۔
۔ اگر تم لوگ ہمیں نہ نکالتےتو ہم آرام سے ڈورم میں بیٹھے پڑھائی کر رہے ہوتے۔۔ اب ہم نیندیں حرام کریں گے تم لوگوں کی۔۔
سن رہے ہو۔
دونوں چلا رہے تھے۔۔
یہ دونوں دیوانے ہو چلے ہیں۔۔ چلو تمہیں گھر چھوڑ دوں کہاں جائو گی ڈورم یا گوارا کے گھر؟۔۔
ایڈون نے پوچھا تو وہ پر سوچ انداز میں اسے دیکھنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصویر میں سے خاتون چلا چلا کر اسے آوازیں دے رہی تھیں۔۔
گوارا کی بچی۔۔ اٹھو مرو دیکھو کون ہے دروازے پر۔۔ ایک تو تمہارے کرتوت ایسے کہ اکیلی پڑی ہو سب دوستیں بھاگ گئیں نا چھوڑ کر ۔۔ سدھر جائو یہ کونسا وقت ہے سونے کا رات بھر کیا کروگی۔۔
وہ چلا چلا کر تھک کر کھانسنے لگیں۔۔
گوارا بے خبر سوئی ہوئی تھی جب مسلسل بجتی اطلاعی گھنٹی اسے بیدار کر ہی گئ۔۔
اریزہ دیکھو کون ہے۔۔
اس نے لیٹے لیٹے ہی آواز لگائی۔۔ پھر یاد آیا اریزہ تو گھر پر ہے ہی نہیں۔۔۔ منہ بنا کر چادر ایک طرف کرتی اٹھ کھڑی ہویی۔۔ بے زاری سے چپل گھسیٹ گھسیٹ کر چلتی جمائی لیتی دروازہ کھولنے لگی
کون۔۔ اس نے سیدھا دروازہ کھولا تھا پھر اسکی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں۔۔
تم۔۔
پیلی پھٹک رنگت نڈھال سی شکل ہوپ کو کم سن سہارا دیئے کھڑا تھا۔۔
کیا ہوا تمہیں۔۔وہ پوچھ رہی تھی۔۔
اندر تو آنے دو۔۔
کم سن نے کہا تو وہ جھٹ سے ایکطرف ہو گئ
ہوپ نے کم سن سے بازو چھڑانا چاہا مگر اسکی گرفت مضوط تھی۔ اسکے احتجاج کی پروا نہ کرتے ہوئے بھی اسے کمرے تک لایا۔۔ گورا پیچھے پیچھے آئی۔
بیڈ کے قریب آکر اس نے ایکدم سے دونوں ہاتھ چھوڑ دیئے۔۔ وہ لہرا کر بیڈ پر بے دم سی ہو کر بیٹھی۔۔
یہ حال ہے تمہارا ایک قدم چل نہیں سکتیں اوپر سے ضدی اتنی ہو ۔۔
وہ بھنایا۔۔ پھر اپنا اپر اوپر کر کے بازو کی خراشیں دیکھنے لگا جو اسے ناخنوں سے آئی تھیں۔۔
تمہیں کیا اس سے میں جیوں مروں گروں اٹھوں۔۔
نحیف آواز میں بھی وہ بالکل برداشت کرنے کو تیار نہ ہوئی ۔۔ اسکے چہرے پر تکلیف نمایاں تھیں آنکھوں کے کنارے بھیگ چلے اس نے آنکھیں میچ لیں جیسے کسی ازیت کو سہا ہو۔۔
کیم چھنا۔۔ گوارا بھی تڑپ کر آگے بڑھی۔۔
مجھے معاف کردو۔۔ اگر میری وجہ سے تکلیف پہنچی ہے ۔۔۔ کم سن گڑ مرنے کو آگیا۔۔
ہوپ نے کوئی جواب نہیں دیا خاموشی سے چادر اوڑھتی لیٹ گئ سر تک تاک لی۔۔
کیا ہوا۔ہے اسے؟۔۔ کہاں ملی یہ تمہیں دو دن سے تو گھر بھی نہیں آئی۔۔
گوارا سٹپٹا گئ تھی۔۔
کم سن نے گہری سانس لی پھر ہاتھ میں پکڑے دوائیوں کے شاپر اسے تھمائے۔۔
یہ اسکی۔دوائیاں ہے۔۔ اسپتال میں تھی دو دن سے۔۔ مجھے سڑک۔کنارے بے ہوش ملی تو اسے میں ہی لیکر گیا تھا۔۔
اس نے تسلی دلانے کو تفصیل سے بتایا مگر گوارا کی تسلی ہو نہ سکی۔۔
کیا ہوا ہے اسے۔؟۔۔
ہوپ نے بے چین سا ہو کر کروٹ بدلی۔۔
کم سن نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر گوارا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا پھر اسکے ساتھ چلتا ہوا اسے کمرے سے باہر لے آیا۔۔
بخار ہے کمزوری ہے۔۔ ڈاکٹر نے مکمل آرام کرنے کو کہا ہے یہ مجھے منع کر رہی تھی مگر میں نے اسکے اسٹور کے مالک سے بات کر لی ہے ایک ہفتے کی چھٹی دلوا دی ہے اسے ۔۔ یہ دوائیں پابندی سے کھانی ہیں اس نے ساتھ فروٹ یخنی بھی ۔۔ میں ابھی جاتے ہوئے دے کر جائوں گا۔باقی یہ دوائیں سنبھال لو کچھ طاقت کے سیریل ہیں ان میں کچھ کھانے کو تیار نہیں ہوتی مگر یہ اسے ضرور ٹھنسا دینا ۔۔ وہ آخر میں چڑا۔۔
ضرور آخر کو میری اکلوتی بیٹی ہے پورا خیال رکھوں گی اسکا۔۔
گوارا بھنا اٹھی۔۔
مجھ سے موصوفہ سیدھے منہ بات تک نہیں کرتیں ہیں۔۔ اریزہ پھر اسے قابو کر لیتی ہے اس سے بھی لڑ چکی ہے۔۔ یہ عجیب آہجومہ۔۔
میں تو اسکا باپ لگتا ہوں نا جو مجھے شکایتیں لگا رہی ہو۔۔
وہ بھی چڑا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر سیدھا جی ہائے کے کمرے میں آئی تھی۔۔ سنتھیا واش روم میں تھی یا باہر پتہ نہ چلا۔اسکا سامنا کرنے کودل نہیں کر رہا تھا
۔۔ جی ہائے کہاں گئ۔۔ کمرہ خالی ڈھنڈار دیکھ کر اس نے سوچا۔۔
بریو ہارٹ کا لیڈ سنگر جگمگاتی مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اتنا پیارا وال پیپر تھا وہ بے ساختہ مسکرا دی۔۔
ایک تو تمہیں مجھے تمہارا ایم پی تھری یا جو بھی وہ بلا ہے واپس کرنا ہے ۔۔ کہاں ملو گے تم ۔۔
وہ اسکے وال پیپر سے مخاطب تھی۔۔
ہایون کہہ تو رہا تھا ستمبر میں کانسرٹ ہے تمہارا کل ملتا تو یاد دہانی کراتی ہوں۔۔ وہ اسے تسلی دے کر لیپ ٹاپ آن کرکے بلاگ کھولنے لگی تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔
ہایون کالنگ۔
وہ ششدر رہ گئ۔۔
بڑی عمر ہے تمہاری۔۔
وہ مسکرا کر رہ گئ۔۔
ہے۔۔ وہ بے ساختہ کہتے کہتے رکی۔۔
اسلام و علیکم۔۔
اس نے مسکرا کر سلام کیا۔۔
وعلیکم السلام۔۔
وہ بھی خوش دلی سے جوابا بولا۔۔
کیسی ہو؟۔۔
ٹھیک یو؟۔۔
وہ لیپ ٹاپ پر اپنی فیس بک آئی ڈی کھولنے لگی۔۔
کیا کر رہی ہو؟۔۔
وہ باتوں کے موڈ میں تھا
کچھ خاص نہیں بلاگ کھول رہی کچھ بک بک کروں گی پھر سو جائوں گی۔۔ تم کیا کر رہے ہو۔۔
اس نے یونہی پوچھا۔۔
میں۔۔ اس نے پیٹ پر دھرے لیپ ٹاپ کو دیکھا۔۔ جس کی اسکرین کافی حیران کن ویب سائٹ کھلی دکھا رہی تھی۔۔
تمہارا بلاگ بھی ہے؟۔ اردو میں ہے؟۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
آہ ہاں نہیں۔۔ مکس سا ہے۔۔ آدھا اردو میں آدھا انگریزی میں۔۔
وہ گڑ بڑائی۔۔
میرا بلاگ اردو میں تو نام کا ہی ہے۔۔
وہ بڑ بڑائی
مجھے ایڈریس دو میں بھی سیر کروں گا۔۔
اس نے بڑی دلچسپی سے کہا تھا۔۔
اریزہ نے فورا بتا دیا۔۔
ہایون نے فورا بک مارک کیا تھا ۔۔
اچھا یہ بتائو۔موڈ کیسا ہے تمہارا۔۔ میں نے سنا تھا تم لوگوں نے اسسیسمنٹ ٹیسٹ دینے کی حامی بھر لی ہے۔۔
ہاں۔۔ وہ گہری سانس لیکر بولی۔۔
اور کیا کرتے۔۔ مجبوری کا نام شکریہ۔۔
واٹ مجبوری؟۔ وہ چونکا۔۔
مجبوری؟۔۔ اریزہ سوچ میں پڑی۔
ایک تو یہ اچھا میری انگریزی ووکیبلری کا امتحان لیتا رہتا۔ وہ بڑ بڑائی مگر ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔۔
جھٹ دوسری ٹیب میں گوگل کھولا اور میں مجبوری سرچ کیا۔۔
سمجھ گیا۔۔ ہایون نے کہا تو وہ چونکی۔۔
میں نے گوگل کر لیا تھا۔۔ وہ بتا رہا تھا۔۔
ہممم۔ اریزہ نے ہنکارہ بھرا۔۔
ایک تو کورین انٹر نیٹ ایکسپلورر ہی استعمال کرتے خود کروم استعمال کر رہی تھی وہ عادتا۔۔
ہاں یہ ماننے والی بات تھی انٹر نیٹ کی رفتار تھی کہ گولی دھڑ ھڑ سب ٹیب کھلتی جا رہی تھیں۔۔
میں مدد کر سکتا ہوں ٹیسٹ کیلیئے تم مجھے کبھی بھی رابطہ کر سکتی ہو۔۔
وہ پورے خلوص سے کہہ رہا تھا۔۔
شکریہ ۔۔ وہ بھی مسکرا دی۔۔
یہ بتایو تمہارا امتحان کیسا ہوا؟۔
اچھا تھا۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
اللہ کامیاب کرے ۔۔ اس نے دل سے دعا دی۔۔ ہایون بے ساختہ ہنسا۔۔
ہنسے کیوں۔۔ وہ برا مان گئ
ایسے ہی اچھا آئسکریم کھائوگی؟۔ آجائوں لینے؟۔۔
اس نے پوچھا تو وہ گڑ بڑا گئ۔۔
اس وقت۔۔ اس نے لیپ ٹاپ میں وقت دیکھا۔۔
دس بج رہے تھے۔۔
ظاہر ہے۔۔ وہ الٹا حیران ہوا۔۔
نہیں میں تو سونے لگی۔ اور ویسے بھی میں ہاسٹل میں ہوں گوارا کے گھر نہیں۔۔
اچھا۔۔ وہ تھوڑا مایوس ہوا۔۔
یونیورسٹی تو جانا نہیں وہاں کیا کر رہی ہو۔۔
وہ برامان گیا۔۔
زلیل ہو رہی ہوں اور کیا۔۔
وہ بھی چڑ کر بولی۔۔ صبح کی یاد تازہ ہوئی۔۔
زالیل۔۔
وہ اس سے مطلب پوچھنے کی بجائے بول کر سرچ کر رہا تھا۔۔
رک۔جائو۔۔ وہ گھبرا گئ۔۔
اسکو سرچ مت کرنا ۔اس نے سختی سے منع کیا۔۔ جانے کیا مطلب نکلے وہ سٹپٹا کر اردو میں بولی۔
ہایون اسکے انداز پر ہنسا ۔
کیا یہ برا لفظ ہے۔۔ اس نے واقعی تلاش ترک کر دی۔۔
آہ۔۔ ہاں۔۔ میرا مطلب میں بتا دیتی۔۔ اسکا مطلب انسلٹ۔۔
اسے سوجھ ہی گیا جواب۔۔
کس نے انسلٹ کی ہے۔۔ وہ سنجیدہ ہوگیا۔۔
تم صبح کافی اپسیٹ تھیں بتائو مجھے کسی نے کچھ کہا ہے کیا۔۔ ؟۔
نہیں وہ۔۔ تمہیں کیسے پتہ چلا میں اپ سیٹ تھی۔۔
وہ الٹا حیران ہوئی
تمہارا چہرہ اترا ہوا تھا صبح ۔۔ ڈورم سے ائی تھیں۔۔ پھر سنتھیا نے کچھ کہا ہے؟۔ تم اسکو شٹ اپ کال کیوں نہیں دیتیں۔۔ وہ دوست نہیں ہے تمہاری کونسا دوست آپکا ہر وقت دل دکھاتا رہتا۔۔مسلہ کیا ہے اسکے ساتھ کس بات پر لڑتی ہے تم سے۔۔
اسے جانے کیوں غصہ آگیا تھا
اریزہ چپ ہی رہ گئ۔۔
میں نے انجانے میں اسے کافی تکلہف پہنچا دی ہے۔۔ اور اسکے سامنے رہ کر شائد اسے مزید دکھی بھی کر رہی۔۔ تم صحیح کہہ رہے تھے مجھے یونی جانا نہیں تو واپس گوارا کے اپارٹمنٹ چلے جانا چاہیئے مجھے۔۔
میں کل تمہیں پک کر لوں گا تم اپنا سامان سمیٹ لینا۔ اور ڈورم چھوڑ ہی دو بے وجہ خرچہ ہے ۔۔
تم زحمت مت کرو۔۔ اس نے منع کرنا چاہا
کوئی بات نہیں۔۔ بس تم کل تیار رہنا ۔
اس نے قطیعت سے کہا تو اسے سر ہلانا پڑا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا چولہے کے آگے کھڑی سوپ بنا رہی تھی۔۔
کم سن میز پر بیٹھا سبزیاں کاٹ رہا تھا۔۔
مس یو اریزہ۔۔
اس نے سر اٹھا کر مظلوم سی شکل بنائی۔۔
جب سے تم میری زندگئ میں آئی ہو کھانا پکانا لگانا میں بھول سی گئ ہوں۔واپس آجائو بس بہت ہو گیا۔۔
وہ ٹھنک رہی تھی۔۔
کم سن نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسکے انداز پر مسکرا دیا۔۔
بخار سے زیادہ تو مضمحل لگ رہی تھی۔۔
وہ چونک کر پلٹی۔۔ کم سن کے سبزی کاٹتے ہاتھ رکے۔۔
بس بخار ہی ہے کوئی سنگین بیماری میں مبتلا تو نہیں ہے؟۔ اسے سچ مچ تشویش تھی۔۔
کم سن نے چند لمحے سوچا پھر فیصلہ کر کے بتا ہی دیا
اسکا کچھ عرصہ حمل ضائع ہوا ہے۔ اسکو اندرونی پیچیدگی کا سامنا ہے ۔۔ بہت کمزور ہے اچھی خوراک اور آرام کی ضرورت ہے۔۔
گوارا کا منہ کھلا رہ گیا تھا
وے؟ میں نے لگ رہا کچھ غلط سن لیا دوبارہ کہو۔۔
اسے یقین نہ آیا۔۔
کم سن چپ ہی رہا ایک نظر اسے دیکھ کر دوبارہ سبزیاں کاٹنے لگ گیا۔۔
میرے خدا۔۔ میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا یہ شادی شدہ ہوگی۔۔
وہ پر سوچ نظروں سے اسکے کمرے کے بند دروازے کو دیکھ رہی۔تھی جیسے آر پار ہی تو نظر آجائے گا
شادی شدہ تو ہوگی ہی۔۔ یا بوائے فرینڈ چھوڑ گیا اسے۔۔
وہ ڈوئی لہرا رہی تھئ۔
عجیب۔۔۔
شمالی کوریائی لڑکی ہے وہ ہم سے بھی زیادہ قدامت پرست ہوتے وہاں شادیاں بھی جلدی کر دی جاتی ہیں اسکے شوہر کو تو شاید خبر بھی نہ ہو۔۔
کم سن نے بھی اندازہ ہی لگایا۔۔
ہاں یہ تو ہے۔۔
عجیب بات ہے مگر مجھے اس لڑکی کیلیئے دل میں کچھ کچھ محسوس ہو رہا۔۔ شائد ترس آرہا ہے۔۔
گوارا نے کہا تو کم سن کو اسکے منہ بنا کر کہنے پر ہنسی ہی آگئ۔۔
ہمدردی ہو رہی ہے تمہیں۔۔
اس نے جتایا۔۔
جو بھی ہے مگر مجھے لڑکیوں کیلیئے ایسےجزبات محسوس ہونے نہیں چاہیئے۔۔ اس دن اریزہ رو رہی تھی میرا دل کٹ رہا تھا آج یہ بیمار ہے مجھے دکھ ہو رہا ۔۔ یہ کوئی صحتمندانہ رویہ نہیں۔۔یون بن بچا لو اپنی گرل فرینڈ کو۔۔
وہ باقئدہ آخر میں سر اونچا کر کے چیخ بھی لی۔۔
آرام سے ۔۔ جاگ جائے گی۔۔
کم سن نے فورا ٹوکا۔۔ وہ سر ہلا کر موبائل دیکھنے لگئ۔۔
امتحان ختم ہوں جان چھوٹے۔اوہ نو۔۔ آج اکتیس جولائی تھی ۔
گوارا چیخ ہی پڑی
ہاں۔۔ کم سن نے اطمینان نے سے کہا پھر چونکا۔۔
میں برباد ہوگئ۔ ۔
آہ ۔۔ ہا آہ۔۔ وہ وہیں زمیں پر سر پکڑتی دھاڑے مارتی بیٹھ گئی۔۔
مجھے تو یاد ہی نہیں تھا۔۔ ہائے مجھے تو اسائمنٹس بھی اریزہ یاد کراتی تھی۔۔ اس نے آج مجھے نہیں اٹھایا تو میں تو اٹھئ بھی نہیں۔۔۔
کم سن کو اب صورت حال کی سنگینی کا اندازہ ہوا
تمہارا پرچہ رہ گیا۔۔ کیا؟
اس نے افسوس سے پوچھا۔۔
میرا آج ڈرما ٹولوجسٹ سے اپائنٹمنٹ تھا میں نے یاد دہانی کیلیئے یاد رکھا تھا مجھے جس دن پرچہ دینا تھا اس سے ایک دن پہلے شام کو ڈاکٹر سے ملنا تھا۔۔ میرا اتنی مشکل سے ملا اپائنٹمنٹ کینسل ہو گیا۔۔
وہ سینے پر ہاتھ مار کر آنسوئوں سے رو رہی تھی۔۔
ہائے مجھے یاد کیوں نہ رہا۔۔
کم سن جو گھبرا کر اپنی کرسی سے اٹھ گیا تھا واپس بیٹھا پلیٹ سے گاجر اٹھا کر کترتے طنز سے بولا
میں سمجھا پرچہ ضائع ہو جانے پر رو رہی ہو۔۔
پرچہ ضائع ہو جاتا کاش امتحان تو دوبارہ دے لوں گی۔۔ اف کوریا کی تین بہتریں ڈاکٹروں میں سے ایک ہے کم از کم بھی چھے مہینے پہلے اپائنٹمنٹ لینا پڑتا۔۔ اف ایک ایک دن میں نے گن گن کر گزارا تھا۔۔
اسکا دکھ کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
چولہے پر چڑھے سوپ نے احتجاج کیا تو اسے رونا موقوف کرکے اٹھنا پڑا۔۔
اف مجھے چکر آرہے ہیں۔۔
اس نے سوپ میں چمچ چلاتے ہوئے کہا پھر لہرا بھی گئی۔۔
کم سن اسکے بالکل پیچھے آکھڑا ہوا تھا۔۔ اسی سے ٹکرا کر سیدھی ہوئی۔۔
یہ دیکھو۔۔
اس نے ایک ہاتھ میں پلیٹ پکڑی تھی شاید یہی تھمانے اٹھا تھا۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے موبائل میں کھنچی تصویر اسے دکھانے لگا۔۔
پھوٹ پھوٹ کر روتی بکھرے بالوں میں آنسوئوں سے گیلے چہرے کے ساتھ بھی وہ کافی دلکش لگ رہی تھی۔۔
اپنے سحر میں وہ خود ہی مبہوت ہوگئ۔۔
یہ میں ہوں۔۔ اس نے لپک کر موبائل تھاما
ہاں ایسی بہتی موٹی بھدی ناک تمہاری ہی ہے اس تصویر نے مجھے بھی قائل کر لیا ہے تمہیں واقعی پلاسٹک سرجری کرا لینی چاہیئے۔۔
سنجیدگی سے بولتے جملے کے اختتام تک وہ گوارا کے دو تین مکے کھا چکا تھا پھر بھی ہنستے ہنستے بات مکمل کر ہی لی۔۔
زہر انسان ہو تم ۔۔۔ مار کر دل ٹھنڈا نہ ہوا تو زبانی گولا باری کا سہارہ لیا
وہ ہنسے گیا۔۔
پیسے کتنے کم رہ گئے ہیں تمہارے۔۔
وہ چھیڑنے سے باز نہیں آیا
بقیہ تم دو گے۔۔ وہ بھنا کر سوپ میں چمچ چلانے لگی
دے بھی سکتا آج تو میرا بھی دل پگھل گیا ہے۔۔
وہ کہہ کر فورا پیچھے ہوا۔۔ گوارا اسے اندازے کے عین مطابق مارنے دوڑی تھی۔۔
گر جائیں گی۔۔ اس سے مار کھاتے اس نے ٹیڑھی ہو جانے والی پلیٹ بمشکل بچائی۔۔ گوارا بھی گھورتی سیدھی ہوئی
یہ لو۔۔ کم سن نے سبزیاں تھمائیں تو اس نے بھی سوپ میں ڈال دیں پھر چمچ چلاتے نخوت سے بولی

میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا میرے جیسی لڑکی ایک دن کسی شمالی کوریائی جاسوس کیلیئے سوپ بنارہی ہوگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سنتھیا کے ساتھ صبح ناشتہ کرنے نیچے ہال میں آئی تھی۔۔ اس سے مرضی پوچھ کر اسکا ناشتہ لینے اٹھی تو اریزہ بھی بوفے سے ناشتہ اٹھاتی دکھائی دی۔۔ سبزیوں کا سوپ تھاجس میں نوڈلز ڈالے ہوئے تھے۔۔ ساتھ سادے چاول تھے اس نے ایک پلیٹ میں سادے چاول لیئے تھے ساتھ ایک پیالہ سوپ۔
وہ اپنی اور سنتھیا کی پلیٹ بنا چکی تب بھی اریزہ کو پر سوچ نظروں سے سوپ میں چمچ چلا چلا کر دیکھتے پایا۔۔
اس میں گوشت نہیں ہے ہاں چکن کا ٹیسک میکر ڈالا ہوا ہے۔۔
اس نے اسکی الجھن دور کی۔ اریزہ اچھل ہی تو پڑی۔۔
کہاں تھیں تم رات بھر میں انتظار کرتی رہی تمہارا۔۔
وہ پیالہ وہیں رکھ کر اسکے پاس چلی آئی۔۔
تم کہاں تھیں رات بھر ۔ جے ہی نے الٹا اسی سے سوال کیا۔۔
میں تمہارے کمرے میں اور تم۔۔ اریزہ نے حیران ہو کر پوچھا
میں ہاسٹل سے ملحق کلینک میں سنتھیا کے ساتھ تھی۔
جی۔ہائے بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔
کیوں۔؟۔وہ بھونچکا ہوئی
اچھا۔۔ یہ دوسرے ٹرے کس کیلیئے لیکر جا رہی ہو۔۔ اریزہ کی اسکے ہاتھوں پر نظر پڑی تو پوچھ لیا
یہ سنتھیا کی ہے ۔۔ اسکی کل سے طبیعت خراب ہے بخار ہے میں اسی لیئے رات بھی اسکے پاس ہی رکی۔۔
جے ہی نے کہہ کر غور سے اریزہ کا چہرہ دیکھا۔۔
جس کے تاثرات یکدم سپاٹ پڑ گئے تھے۔۔
اوکے۔۔ اس نے مختصرا کہا پھر پلٹ کر جانے لگی
ناشتہ نہیں کر وگی؟۔۔ جے ہی نے ٹوکا۔۔
میں گھر جا کر کر لوں گی گوارا کے ساتھ۔۔
وہ کہہ کر رکی نہیں تھی۔۔
اس نے ناشتہ لا کر رکھا تو سنتھیا شکر گزار ہوئی۔۔
گومو وویو۔۔
اس نے مسکرا کر کہا تو جی ہائے مسکرا دی۔۔ ماضی کی یاد تازہ ہوئی۔۔
اریزہ نے ناشتہ نہیں کیا؟۔۔ چاول کھاتے بظاہر سر سری سے انداز میں اس نے پوچھا۔۔
نہیں چلی گئ وہ۔۔ بتایا تو تھا اسے تمہارہ طبیعت کا
جے ہی بھی سرسری ہی انداز اپنایا۔۔
میری طبیعت کا سن کر بھی پوچھنے نہیں آئی۔
وہ دھیرے سے بولی۔۔ جی ہائے کو اسکی بات اردو میں ہونے کی وجہ سے سمجھ نہ آئی سو کندھے اچکا کر ناشتہ کرنے میں مگن ہوگئ۔۔
اگزیم کیسے جا رہے تمہارے۔۔
اس نے سر اٹھا کر ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔۔
اچھے ہمیشہ کی طرح۔۔
وہ پر اعتماد انداز میں بولی۔۔
سنتھیا اسکے انداز پر ہنسی۔۔
اریزہ بھی اتنی ہی پر اعتماد رہتی ہے اگزیمز کی اسے کبھی فکر نہیں ہوتی ۔۔ بلکہ وہ تو پر جوش ہو جاتی ہے کوئی حیرت نہیں جو وہ اتنی بر ی طرح مایوس ہوئی ہے ۔۔
سنتھیا کے کہنے پر جی ہائے نوالہ چباتے بہت غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔
اریزہ تمہاری بہت اچھی دوست ہے نا۔ تم اسے پسند کرتی ہو تو منا کیوں نہیں لیتی دور کرو اپنا جھگڑا۔۔
جی ہائے نے کہا تو سنتھیا مسکرا کر بولی۔۔
میں اسے پسند نہیں کرتی۔۔ بلکہ۔۔وہ رکی۔۔
میں اس سے محبت کرتئ ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے پارکنگ میں گاڑی سے ٹکے ہایون کو محو انتظار پایا۔۔
اسے دیکھ کر وہ فورا سیدھا ہوا تھا۔۔
آننیانگ۔۔ اریزہ نے سلام کیا
اسلام و علیکم۔۔۔ ہایون بھی اسکے ساتھ ہی بولا۔۔
دونوں اس اتفاق پر ہنس پڑے۔۔
کیسی ہو۔۔
کیسے ہو۔۔
ابھی بھی دونوں اکٹھے بولے تھے۔۔
اف۔۔
چلو۔۔ ہایون نے کہا تو
اریزہ سر ہلاتی گاڑی کے فرنٹ ڈور کی طرف بڑھی۔۔
ہایون مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
وہ فرنٹ سیٹ کی طرف گئی پھر سر پر ہاتھ مار کر واپس آئی۔۔ ہایون نے لبوں پر مسکراہٹ دباتے پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا۔۔
اب تم پسنجر سیٹ کی طرف کیوں کھڑے تھے۔۔
اس نے بھنا کر اپنی کھسیاہٹ مٹائی۔۔
وہ کچھ نہ بولا احتیاط سے دروازہ بند کر کے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آیا۔۔ اب وہ کھل کر مسکرا رہا تھا۔۔ بیٹھتے ہی سیٹ بیلٹ لگائی
اریزہ کو بھی ہنسی آگئ۔
وہ گاڑی اسٹارٹ کرتے کرتے رک کر اسے دیکھنے لگا۔۔
کیا ہوا؟۔۔
وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔
سیٹ بیلٹ۔۔
اس نے ٹوکا۔۔
اف ۔۔ ایک تو یوں بندھ کر بیٹھنا کتنا برا لگتا۔۔
وہ اردو مین بڑ بڑاتی مڑ کر سیٹ بیلٹ کھینچ کر لگانے لگی۔۔
کم از کم ایک فائدہ ہوگا اب تم پاکستان جا کر بھی سیٹ بیلٹ لگایا کرو گی۔۔
ہایون اترا کر بولا۔۔
تم پاکستانیوں کو ہلکا لے رہے ہو۔۔ ہم فطرتا باغی ہیں۔۔
وہ بھی شرارت سے ہنسی۔۔
تم کورین کو جان لو۔۔ مستقل مزاج ہوتے ۔۔
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔۔
ناشتہ کیا ہے تم نے؟۔۔
اس نے پوچھا تو اریزہ فورا نہیں کہتے کہتے رک گئ۔۔
ہاسٹل میں کیا کھایا ہوگا۔۔ چلو ناشتہ کرتے ہیں۔۔
وہ خود ہی بولا۔۔
کیا کھائیں گے۔۔
اریزہ منہ بنا کر بولی۔۔
کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اچھا کھانے کے پیچھے ندیدی ہو جائوں گی۔۔حسب عادت وی آدھی انگریزی آدھی اردو زبان ملا کر بولی
واٹ ندیدی۔۔؟۔۔
ہایون نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
ایک تمہیں کیا ہر بات کا مطلب جاننا ہوتا۔۔ وہ ابھی بھی اردو میں چڑی۔۔
سچ بتائو اردو تو نہیں سیکھ رہے ہو پاکستان جا رہے ہو؟۔۔ دھماکے ہوتے ہیں وہاں۔۔ دو دن نہیں ٹک پائو گے۔۔ دوڑے دوڑے واپس آئو گے ۔
وہ انگریزی میں اسے ڈرا رہی تھی۔۔
ہایون کھل کر ہنسا۔
تم لوگ بولتے ہی اتنا ٹھہر ٹھہر کر ہو۔۔ میں نے انڈین موویز بھی دیکھی ہیں مگر قسم لے لو زرا جو کوئی ہندی کا لفظ جان پایا۔۔ تم سے کئی لفظ سیکھ لیئے۔
پٹاتی۔۔ پاگل۔۔ کھانا کھانا ۔۔ندیدی۔۔ دماغ ۔۔ ظارف(ظرف)۔۔ عقل۔۔ وہ گنوا رہا تھا اریزہ کی آنکھیں بڑی سے بڑی ہوتی جا رہی تھیں۔۔
تمہیں انکا مطلب پتہ؟۔۔
کچھ کا ظارف کا مطلب نہیں پتہ۔۔ گوگل کیا تھا مگر کچھ خاص سمجھ نہیں آیا۔۔ اور ندیدی کو آج گوگل کروں گا۔
وہ اطمینان سے بتا رہا تھا۔۔
مجھے تو اتنے دن میں بس گومو وویو اور آننیانگ ہی یاد ہوئے۔
وہ متا ثر ہوئی۔۔
سارانگھئے بھئ سیکھ لو۔۔
وہ موڑ کاٹ رہا تھا۔۔ اریزہ نے اسے لبوں پر مسکراہٹ دباتے دیکھا تو مشکوک ہوئی۔۔
کوئی گالی ہے یہ؟۔ ویسے یہ سب جو لفظ تم نے مجھ سے سیکھے ہیں ان میں ایک بھی گالی نہیں۔۔
اس نے جتایا۔۔
مگر مجھے اردو کی گالیاں بھی آتی ہیں۔۔
ہایون ہنسا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے ایک غیر ملکی ریستوران لایا تھا۔۔
سبزیوں کے سینڈوچ کیک اور فروٹ سیلڈ ساتھ فریش اورنج جوس۔۔
ناشتہ سب میٹھا میٹھا تھا مگر مزے کا تھا۔۔
دونوں خاموشی سے کھا رہے تھے۔۔
اسکو اردومیں کیا کہتے۔۔
وہ ایووکاڈو کانٹے میں پھنسائے تھا۔۔
یہ وہاں ہوتا ہی نہیں ہے۔۔
وہ ہنسی۔۔
واقعی۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
اسٹاربری بھی وہاں اب کاشت ہونے لگی ہے ورنہ ہم بس فلیور اور کین پر گزارا کرتے تھے۔۔
اس نے کندھے اچکائے۔۔
وہاں کونسا پھل ہوتا۔؟۔۔
آم مالٹا کیلا سیب انار ۔۔ وہ سلاد میں سے ایک ایک چن کر اسے بتا رہی تھی۔۔
یہ سب یہاں بھی ہوتا ہے تمہیں زیادہ فرق نہیں لگا ہوگا یہاں آکر۔۔
وہ جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا پوری آنکھیں کھولے اس سے تائید چاہ رہا تھا۔۔
ہمم۔ وہ سمجھی نہیں ویسے ہی کندھے اچکا دیئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی کے کیمپس کی طویل مگر سنسان سی راہگزر پر لیمپ پوسٹ کی مدہم روشنی میں نپے تلے قدم اٹھاتے ٹہلتے اس نے درجنوں دفعہ ایڈون کا چہرہ تکا تھا۔
وہ بالکل۔خاموشی سے اسکا ساتھ دے رہا تھا۔ گا ہے بگا ہے اسکی اپنی جانب اٹھتی نگاہ محسوس کرنے کے باوجود بھی چپ ۔۔ اتنا چپ کے سنتھیا کو۔جھلاہٹ سی ہونے لگی۔
میرے بابا تمام پڑھائی کا خرچ اٹھا لیں گے کیوں اتنا پریشان ہو رہے ہو۔
اس نے کہہ ہی دیا۔ ایڈون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔
مگر مجھے انکل آنٹی پر بوجھ نہیں بننا۔ وہ ویسے ہی ہماری فیملی پر بہت احسان کر چکے ہیں۔
اسکا انداز قطعی سا تھا۔
ہم ہاسٹل کی بجائے کوئی کمرہ دیکھ لیتے ہیں۔ قریب ہی کہیں۔
سنتھیا نے ایکدم سے کہا تھا۔
کیوں؟ اور تم کیوں رکنا چاہ رہی ہو؟ دو سال ضائع ہو جائیں گے تم جاکر اپنی ڈگری تو مکمل کرلو۔
تم کیوں رکنا چاہ رہے ہو۔ سنتھئا چڑ کر بولی۔
تم نے پڑھائی مکمل کرکے گھر کا خرچہ اٹھانا ہے میرے ماں باپ کا احسان بھی نہیں لینا تو یہاں دو سال ضائع کرنے کی بجائے اپنا وقت اور پیسہ کیوں نہیں بچاتے؟
وہاں ڈگریاں لیکر لوگ بے روزگار پھر رہے ہیں یہاں دو سال میں سیٹ ہونے کی کوشش کروں گا۔ کچھ کمالوں گا کچھ جوڑوں گا۔یہاں کی ڈگری ہوگئ تو کوئی اہمیت بھی ہوگی ڈگری کی۔
سنتھیا کے برعکس وہ رسان سے سمجھا رہا تھا۔
تم یہاں آنے تک کو تیار نہیں تھیں۔ یہاں ہاسٹل میں رہنا مشکل تھا تمہارے لیئے تم تو آرام سے اپنی ڈگری مکمل کرو نا جا کے۔
میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔
وہ ضدی پن سے بولی۔
پھر وہی بات۔ وہ تھوڑا جھلایا۔
ہم نے ساتھ ہی رہنا ہے زندگی ساتھ گزارنی ہے۔اور مجھے اسی لییے مستقبل کا سوچنا ہے۔ وہاں میرے لیئے مواقع محدود ہیں۔
بابا پیسے بھیجتے تو ہیں۔ ہم کوئی چھوٹا سا فلیٹ لیکر رہ سکتے ہیں۔
سنتھیا کے کہنے پر وہ یوں دیکھنے لگا جیسے اسکا دماغ چل گیا ہو۔۔
کیا ہو گیا ہے؟ ہم اکٹھے ایک گھر لیکر کیسے رہ سکتے ہیں۔ گھر والے الٹا لٹکا دیں گے ہمیں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بات گھمانے کی غرض سے بولا۔
کیوں انکو کیا پتہ چلے گا؟ ۔ وہ رک کر اسکا بازو تھام کر بولی۔
سنتھیا کیا بے وقوفی کی۔باتیں کر رہی ہو۔
ایڈون کو غصہ آنے لگا تھا۔
ہم شادی کر لیتے ہیں نا۔ ۔ چرچ میں چل کر۔ پھر تو گھر والے اعتراض نہیں کریں گے۔
جانے اسکے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔ ایڈون زچ ہوگیا
کیا خناس سمایا ہے دماغ میں۔ ۔اور شادی کہاں سے آگئ ؟
اکیس سال کے ہیں ہم بس ابھی۔ شادی وادی کے چکر میں کم از کم میں تیس ایک سال کی عمر تک پڑوں گا۔ ابھی مجھے پڑھنا ہے کیریئر بنانا ہے۔ اور تم بھئ ان فضول باتوں میں لگنے کئ بجائے۔۔۔۔۔
کیوں؟ اکیس سال کی عمر میں ہم ایک ہو سکتے ہیں تو شادی کیوں نہیں کر سکتے؟
وہ اسکا بازو چھوڑ کر ایکدم سے چلائی۔
ایڈون لمحہ کو چپ سا ہوا۔
محبت کرنے افئیر چلانے اور۔۔ وہ بولتے بولتے لحظہ بھر رکی۔۔ الفاظ لبوں تک آ کر دم توڑ گئے۔۔
سب چیزوں کیلئے عمر مناسب ہے شادی مگر اگلے دس سال بعد کرنئ کیوں۔۔
کیا ہوا ہے تمہیں اتنی جھلاہٹ اتنا غصہ کیوں آرہا ہے تمہیں۔
ایڈون حیران سا ہو کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے پوچھنے لگا۔
ہم دونوں پاکستان چلیں گے یا یہیں شادی کرکے اکٹھے رہیں گے۔ اب تم فیصلہ کرو کیا کرنا۔
وہ ضدی پن سے بولی۔
نہ میں پاکستان جائوں گا نہ ابھی شادی کروں گا۔ پاگل ہوئی ہو کیا تم
اسے غصہ آگیا تھا۔
کیوں تم مجھ سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے۔
وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر بولی
شادی شادی۔۔ کوئی اندازہ ہے کوریا کتنا مہنگا ملک ہے۔ تعلیم دونوں کی ادھوری ہے۔ خرچہ کہاں سے اٹھائیں گے۔
اسکو ٹھیک ٹھاک تپ چڑھ چکی تھی۔
میں بابا سے کہوں گی وہ۔ذیادہ پیسے بھیج دیاکریں گے۔
اسکا انداز ہٹیلا تھا۔
مرضی تمہاری جتنے پیسے منگوائو جیسے مرضی خرچ کرو۔
ایڈون نے گہری سانس لیکر خود کو۔پرسکون کیا۔
تم مجھے پاکستان واپس بھیج کر یہاں اکیلے کیوں رہنا چاہتے ہو۔
اسکا انداز غصہ دلانے والا تھا
بھاڑ میں جائو تم ۔میں تمہارے بھلے کو۔کہہ رہا تھا آگے مرضی تمہاری۔ نہیں جانا نہ جائو۔
وہ اپنی طرف سے بات ختم کرکے واپس ہاسٹل جانے کو مڑا۔ چند لمحے اسے لمحہ بہ لمحہ خود سے دور جاتے دیکھتی سنتھیا بے چین سی ہوئئ۔۔۔
یوں لگا وہ اسکی زندگی سے بھی نکلتا جا رہا ہے۔
ایڈون۔۔
اس نے حلق کے بل پکارا۔
ایڈون چلتے چلتے رکا۔۔۔
اسکی پشت تکتے اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیل ڈالا۔
میں پریگننٹ ہوں۔۔
اس نے چلا کر کہا تھا۔ ایڈون کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔ بے اختیار مڑ کر دیکھا۔
میں ہمارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔ اب تو تم مجھ سے شادی کرلوگے نا؟۔۔۔
سنتھیا مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

Kesi lagi Salam Korea ki yeh qist ?Rate us

Rating

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *