Salam Korea
by vaiza zaidi

قسط 23
ڈیڈا مجھے پیسے چاہیئیں نا۔۔
وہ چڑ کر بولی تھی۔
وہی تو پوچھ رہا ہوں بیٹا کیوں ؟ ایڈون کو میں اچھے خاصے پیسے بھجوا چکا ہوں تم اس سے لو نا۔
ڈیڈا کے جواب پر وہ غصے میں بھر گئ۔
میں آپکی بیٹی ہوں ایڈون نہیں۔ اسے کیوں بھجوائے ہیں۔۔مجھے پیسے چاہیئیں ہیں میں اب کیا ایڈون سے مانگتی پھروں گی؟
ہاں تو کیا حرج ہے۔ اسکے برعکس وہ رسان سے بولے۔
ایڈون بتا رہا تھا کہ اسکالر شپ ختم ہو گئ ہے تو میں نے اگلے سمسٹر کے بلکہ اگلے دو سمسٹر کے پیسے تمہارے اورایڈون دونوں کیلئے بھجوائے ہیں اور جیب خرچ بھی بھیجا ہے۔ ایڈون سے پوچھو تو سہئ۔
اسکے لیئے یہ انکشاف نیا تھا۔
ایڈون کو آپ نے ۔۔ وہ حیرت کے مارے جملہ بھی پورا نہ کرسکی۔
ہاں بیٹا۔ اور سنو میں چاہتا ہوں تم اپنی ڈگری مکمل کرو۔۔ بس پڑھائی پر دھیان دو۔ اریزہ کے ساتھ مل کر کوئی فلیٹ لے لو ایڈون کو کہا ہے کوئی فلیٹ ڈھونڈے ۔ تم لوگوں کیلئے۔ بس تم دونوں اکٹھی رہنا مزید کسی کو ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ ٹھیک ہے۔ اور مزید جتنے پیسے چاہیئئے ہوں بتا دینا میں بھجوا دوں گا۔ اچھا ابھئ میری ایک اہم میٹنگ ہے۔۔
بولتے بولتے انکی نگاہ کلائی میں پہنی گھڑئ پر پڑی تو ایکدم عجلت میں بولے
ڈیڈا۔ ڈیڈا پلیز مزید پیسے مجھے ڈائریکٹ بھجوائیں مجھے ایڈون سے لینا اچھا نہیں لگتا۔
اس نے جلدی سے ٹوکا۔
اچھا اچھا۔ دیکھتے ہیں۔۔ اچھا بیٹا اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔
وہ جلدی میں تھے جبھئ ٹالنے والے انداز میں ہی بولے اور فون رکھ دیا۔
وہ اپنے موبائل کو دیکھ کر رہ گئ۔
اسکا ذہن بری طرح الجھ رہا تھا۔ ایڈون کے پاس اتنے پیسے تھے کہ وہ آرام سے فلیٹ لیکر رہ سکتے تھے پھر بھی۔۔
اسکی سوچ اس بات پر آکر اٹک سی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہزیب اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ اتنی حیرانی سے کہ وہ شرمندہ سا ہو کر سر جھکا گیا۔
مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ ہے۔ وہ بمشکل اتنا ہی کہہ سکا۔۔
شاہزیب کے ماتھے پر شکنیں سی پڑ گئیں۔
اب مسلئہ یہ ہے کہ پیسے میرے پاس بس اتنے ہیں کہ میں ابارشن کا خرچہ کر سکتا ہوں مگر اسکے بعد بھی فوری طور پر اسے پاکستان نہیں بھیجا جا سکتا۔ میں یہاں گوشی وون میں رہ رہا ہوں اسکو کہاں رکھوں گا۔۔ بہت مشکل میں ہوں میں یار۔
وہ دونوں ہاتھوں میں سر دیئے بیٹھا تھا۔ پریشانی اسکی شکل سے ہویدا تھی۔ مگر اس پر رتی برابر بھی شاہزیب کوترس نہ آیا۔ دل کر رہا تھا اس وقت اسکی اتنی ٹھکائی کرے کہ دماغ ٹھکانے پر آجائے۔
وہ دونوں اس وقت ہاسٹل کے احاطے میں لگے باغیچے میں بنچ پر بیٹھے تھے۔
کچھ تو بول ۔۔ گالیاں ہی دے دے۔
اپنے ذہن کی الجھی سوچوں سے گھبرا کر اس نے کہا تھا۔ شاہزیب اسکی پوری بات سن کر بالکل چپ رہ گیا تھا۔ ایک لفظ نہ بولا تھا۔ کچھ کہہ سن لیتا تو شائد اس وقت اسکی جو ذہنی کیفیئت تھی کہ دل کر رہا تھا یہیں گڑ مر جائے تو شائد اسی میں کچھ افاقہ ہوجاتا۔ شاہزیب کی خاموشی تو جیسے سنگسار کر رہی تھی۔
شاہزیب اسے دیکھ کر رہ گیا۔
سنتھیا اتنا کوئی ناقابل عمل حل نہیں بتا رہی۔ تم دونوں با شعور ہو۔ بجائے اسکے کہ اتنے کھڑاگ میں پڑو ایک فلیٹ لو اکٹھے رہو یہاں کسی چرچ میں شادی کرلو گھر میں بتا دینا کہ اکٹھے رہنا تھا اسلیئے ایسا کرنا پڑا۔
شاہزیب بہت سنبھل سنبھل کر بولا تھا۔ ایڈون اسے گھور کر رہ گیا۔
شادی رچا لوں ؟ گھر والوں کو کیا بتائوں ؟ کہ اب مجھ سے ٹکے کی امید نہ رکھیں میں یہاں شادی کر چکا ہوں اسکو چلانے کیلئے جو بھی چھوٹی موٹی نوکری ملے گی کروں گا بھاڑ میں گئ پڑھائی میری بھاڑ میں گیا کیرئر اب مجھے اپنے بیوی بچے پالنے ہیں بس۔
وہ اتنا جھلا کر بولا تھا کہ شاہزیب اسکی شکل دیکھنے لگا۔
یہ سب کرنے سے پہلے سوچنا تھا۔
اسکا دل چاہا کہہ دے مگر بچپن کی دوستی کا لحاظ کر گیا۔
عجیب مصیبت میں پھنس گیا ہوں میں۔ الٹا ایک وہ سنتھیاہے۔ نا اپنی عزت کا خیال ہے نا میری۔ بچہ پالنا چاہتی ہے۔ اس کی امیر زندگئ کی وہ فینٹیسی ہے بس کہ بچہ ہمارے پیار کی نشانی ہے ۔ اس بچے کی پیدائش پر جو سوال اٹھیں گے اس کی طرف دھیان نہیں جا رہا اسکا۔ بس شادی شادی کی رٹنی
بل شٹ۔
وہ سوجو کے گھونٹ بھر رہا تھا۔ بوتل کیاری میں پھینکتا جیبوں میں ہاتھ ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
اسکو ابارشن کیلئے الگ منانا ہے۔ سمجھ نہیں آرہی اسے میری ایک بھی بات۔ ایک دل تو کر رہا سیدھا پاکستان بھجوا دوں وہاں جا کر اپنے ماں باپ کو فیس کرے گی نا تو ساری فینٹسی ناک کے راستے نکل جائے گی خود ابارشن پر راضی ہو جائے گی جب احساس ہوگا یہ بچہ نہیں مصیبت گلے پڑ گئ ہے۔
اریزہ کو پتہ ہے؟ ۔۔۔۔۔ شاہزیب کو خیال آیا۔
پتہ نہیں۔یار۔ وہ ویسے بھی گوارا کے گھر گئ ہوئی ہے۔ اس سے بھی سنتھیا لڑ کر بیٹھی ہے۔ ہر کسی سے تو لڑ رہی ہے۔ عجیب بدمزاج ہوئی وی ہے۔
وہ۔بیزاری سے منہ بنا کر بتا رہا تھا۔
پھر بھی۔ اریزہ اسکی بچپن کی دوست ہے۔ ایسے دوستی تھوڑی ختم ہو جاتی ذراسئ لڑائی سے۔ تم اریزہ سے بات کرلو۔ وہ سنتھیا کو سمجھا سکتی ہے۔
شاہزیب کی بات میں وزن تھا۔ ایڈون نفی میں سرہلاتے کچھ کہتے کہتے رک سا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالک نے اپنا سارا سامان سمیٹ لیا تھا۔ ایڈون کمرے میں داخل ہوا تھا تو اسکا حصہ ایکدم خالی سا محسوس ہوا۔
تم لوگ جلد بازی کر رہے ہو میں پھر کہوں گا۔
یون بن اور سالک بحث میں الجھے تھے۔
کوریا کا تعلیمی نظام ایشیا ء کا سب سے بہترین تعلیمی۔نظام ہے۔ ہمارے یہاں تو امریکہ تک سے لوگ پڑھنے آتے ہیں۔ جنوبی ایشائی ممالک کیلئے تو کوریا میں اتنی اسکالر شپس آتی ہیں لوگ یہاں سے تعلیم حاصل کرکے اپنا کیئریر بنا لیتے ہیں۔ چند مہینوں کی تو بات ہے بس۔
یون بن سمجھا رہا تھا۔ سالک اپنے کپڑے سوٹ کیس میں رکھ کر اسے بند کرتا سیدھا ہوا
او بھائئ ہم یہاں صفر سے اپنی ڈگری شروع کریں ایسی اسکالر شپ کا انتظار کریں جو ملے نہ ملے چانس کی بات ہے کم ازکم اپنی یونی واپس جائوں گا تو اسی سمسٹر کا امتحان تو دے سکوں گا نہیں تو پچھلے دو سال کے جی پی اے کی بنیاد پر اگلے سمسٹر سے ریگولر ہوجائوں گا۔
بائیس سال کا ہو رہا ہوں اسی طرح گریجوایشن میں پھنسا رہوں گا تو کب نوکری کروں گا کب گھر کا خرچہ اٹھانے کے قابل ہوئوں گا۔
سالک نے تفصیل سے بتایا تووہ الٹا حیران ہو گیا۔
تم کیوں اٹھائو گے؟ تمہارے والدین بہن بھائی کچھ نہیں کرتے؟
سالک گہری سانس لیکر رہ گیا۔
ہم پاکستانی ہیں۔ ایک کماتا ہے دس بیٹھ کر صرف کھاتے ہیں۔
ایڈون نے انکی بات اچک لی تھی۔ اردو میں بولا سالک گھور کر رہ گیا
مگر وہ ایک کمانے والا اپنی اولادوں کی پڑھائی کا سب خرچ خود اٹھاتا بھئ ہے تو اولاد کا فرض بنتا ہے سود سمیت اپنے والدین کا احسان اتارنا۔ میں اتنا خود غرض نہیں بن سکتا کہ یہاں نئے سرے سے تعلیمی سلسلہ شروع کروں اور انکو دو کی بجائے چار سال مزید انتظار کروائوں۔۔
سالک کی بات پر ایڈون کے چہرے پر سایہ سا لہرا گیا۔ اس نے تو یونہی بات کی تھی اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا مگر ایڈون کو لگا جیسے اسکے الفاظ اس پر کوڑے کی طرح برس اٹھے ہوں۔۔
تم آنا کبھی پاکستان پورا پنجاب گھمائوں گا اور کشمیر وغیرہ بھی بہت خوبصورت وادیاں ہیں پاکستان میں منی سوئٹزر لینڈ ہے ہمارا پاکستان۔
سالک خوش دلی سے یون بن کو دعوت دے رہا تھا
عجیب بات ہےکبھئ سنا نہیں ایسا۔۔ یون بن کندھے اچکا کر بولا
چلو تم لوگ اب دو تین دن کے ہی مہمان رہ گئے ہو تو کم از کم سونا تو دیکھ لو ہمارا۔ کل چلتے ہیں سونا خوب مزے کریں گے۔
یون بن نے اتنے اشتیاق سے کہا تھا کہ وہ انکار نہ کرسکا۔
ٹھیک ہے کل چلیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تصویر کھنچ گئ تھی گردہ تھوڑی چوری کر لیا تھا میں۔نے۔۔
اریزہ سخت خفا تھی۔۔بڑ بڑاتے ہوئے چیزیں سمیٹ رہی تھی۔۔ وہ اور گوارا اسکے کمرے میں سامان سمیٹنے آئی تھیں۔۔
گوارا تو آرام سے سنتھیا کے بیڈ پر پائوں پھیلا کر لیٹ گئ اور موبائل استعمال کرنے لگی اریزہ البتہ اوپر چڑھ گئ تھی۔۔ اسکا لیپ ٹاپ تک یہیں تھا کپڑے ودیگر سامان پر گرد کی تہہ جم رہی تھی۔۔ اسکو بے ساختہ وہ پہلا دن یاد آیا جب وہ اور سنتھیا اس کمرے میں آکر خوشی سے اچھل پڑی تھیں۔ اور گوارا نے ناک چڑھا کر جانے کیا تبصرہ مارا تھا انکے منہ پر۔۔
اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔۔
تمہیں پتہ ہے بریو ہارٹ کا لیڈ سنگر تھا وہ جو ہمارے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر آیا تھا تبھی تو اسکے استقبال کیلئے اتنے رپورٹر جمع تھے ائر پورٹ پر۔۔
وہ اوپر گرل سے جھانک کر بڑے شوق سے سنتھیا کو بتا رہی تھی۔۔ سنتھیآ بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی نیل پالش لگاتے بے نیازی سے بولی
ہوگا سنگر اپنے لیئے ہمارے لیئے تو عام سا چینی تھا ہم کیا جانیں اسے
کورین۔۔ چینی نہیں ہے وہ بے چارہ۔۔ اریزہ ہنسی
کیا فرق ہے دونوں کی آنکھیں کھلتی نہیں چاہے چینی ہو یا کورین۔۔ میرئ لیئے تو بڑی آنکھوں والا سلونا سا لڑکا کافی ہے اسکے سوا کسی کو نہیں دیکھنا مجھے۔۔
وہ ادا سے کہتی لہرائی
یاک ۔۔ اریزہ نے بے ساختہ الٹی کرنے والے انداز میں ناک چڑھا کر کہا تھا۔۔ زہر لگتی ہو ایسے کہتی
ہائے بس ایڈون کو پیاری لگوں میں بس باقی دنیا کی خیر ہے۔۔
وہ لہرا کر بستر پر گر ہی گئ۔۔
ہاں جی اب ہم کہاں نظر آئیں گے تم پریمیوں کو۔۔
اریزہ نے آہ بھری
تم تو نظر آرہی ہو اور بہت ذیادہ نظر آرہی ہو وہ بھی اسکو جسکی آنکھیں نظر نہیں آتیں۔۔ سنتھیا نے چسکے لینے والے انداز میں کہا تو اریزہ نے چونک کر گرل کے دونوں راڈوں کے درمیان سے گردن باہر نکال کر نیچے جھانکا۔۔
کون ؟ کسے ؟؟
ہیون کو اور کسے۔۔ ہیون اب اریزسک ہورہا ہے ۔۔۔ خود ہی بتا رہی تھیں اپنی بہن تک سے ملوایا کھانے کھلائے او راس انگریزنی سے بھی لڑا تمہارے لیئے دال میں کچھ کالا تو ہے۔۔
سنتھیا کھلکھلائی تو اریزہ منہ کھولے سنتی رہ گئ۔
ارے ارے کیا بکے جا رہی ہو۔۔ اس نے غصے سے جلدی سے مڑ کر اپنے بیڈ سے تکیہ اٹھا کر مارنا چاہا مگر گردن پھنس گئ۔۔
ہائے اوئی۔۔ اسکی آہ و فغاں اتنی بلند تھی کہ سنتھیا گھبرا کر بیڈ پر کھڑئ ہوگئ اسکی صرف گردن باہر تھی باقی جسم بیڈ پر اتنی مضحکہ خیز لگ رہی تھی کہ سنتھیا کی ہنسی چھوٹ گئ
ہنسو مت اوپر آکر میری گردن چھڑائو۔۔ اریزہ بلبلائی تو وہ بمشکل ہنسی روکتی اوپر بھاگی آئی جیسے ہی قریب آکر اریزہ کو چھڑانا چاہا اریزہ نے سہولت سے گردن باہر نکال کر اسے گردن سے پکڑ کر بیڈ پر گرلیا۔۔ دونوں کی ہنستے ہنستے تکیوں سے لڑائی ہوئی پھر دونوں ہی اکثر شرارت سے گردن وہاں سے لٹکا کر لیٹ کر ہنستی رہی تھیں۔۔
ہوگیا ؟ گوارا نے اوپر آکر پوچھا تووہ جو بے خیالی میں ویسے ہی گردن پھنسائے لیٹی تھی اٹھ بیٹھی۔۔۔ اسکا سوٹ کیس بھر چکا تھا لیپ ٹاپ اور دیگر چھوٹا موٹا سامان اس نے سمیٹ کر رکھ لیا تھا۔۔
ہاں بس کپڑے سمیٹ لیئے میں نے۔ اور۔۔ اسے خیال آیا تو کیبنٹ کھول کر دیکھنے لگی ۔۔ اسکے ذخیرہ کیئے گئے بسکٹ چپس پاپ کارن ویفرز سب وہیں ان چھوئے موجود تھے۔۔۔ وہ گہری سانس بھر کر انہیں بھی نکالنے لگی۔۔
نیچے تو تمہاری سہیلی نے سب سمیٹ لیا ہے ۔کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ کہاں گئ ہے رہنے ؟۔۔
گوارا اسکے بیڈ پر اوندھئ لیٹی گرل سے گردن نکالے نیچے جھانک رہی تھی۔۔
پتہ نہیں۔۔ اس نے باقی چیزیں سوٹ کیس میں رکھ کر اسے بند کیا پھر ایک بڑا سا ویفر کا پیکٹ کھولتی گوارا کے برابر اسی کے انداز میں لیٹ گئ۔۔ گردن اور ہاتھ گرل سے باہر نکال کر اسے ویفر آفر کیا جسے جوابا اس نے بھی گرل سے ہاتھ نکال۔کر قبول لیا۔۔
تمہاری اسکی دوستی اتنی پکی ہوتی تھی کہ میں اور جی ہائے رشک کرتے تھے۔ ہمیشہ اکٹھے کھاتی پیتی تھیں اتنا وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ نظر نہیں آتی تھی جتنا تمہارے ساتھ۔۔تبھی تو ہیون گے سمجھا تھا تم لوگوں کو۔۔
مت یاد کرائو مجھے۔۔ اریزہ نے منہ بنایا تو گوارا کھلکھلا کر ہنس دی۔۔
پتہ ہے ہم دونوں تمہارےاور یون بن کے رشتے پر رشک کرتے تھے۔ایسا خونخوار اور سر پر سوار ہونے والے رویئے کے باوجود وہ کیسا تمہارے آگے پیچھے پھرتا تھا اف رشک آتا تھا۔۔ سنتھیا کی تو تم دونوں کے پیچھے ایڈون سے لڑائی بھی ہوئی کہ تم تو میرا اتنا خیال نہیں رکھتے۔۔ وہ ہنس کر بتا رہی تھی گوارا کی مسکراہٹ دھیمی پڑ گئ
میں واقعی ڈومینیٹنگ تھی اس رشتے میں۔ اس نے سنجیدگی سے پوچھا تو جوابا اریزہ نے ویفر سے بھرے منہ کے ساتھ زور و شور سے سر اثبات میں ہلایا۔۔
گوارا ہلکا سا ہنسی۔۔
چلو یعنی اب وہ کھل کر سانس لے سکتا ہے۔ میرے بعد۔
مطلب۔۔ اریزہ نے چونک کر دیکھا۔۔
مطلب ہم دونوں نے رشتہ ختم کر لیا ہے۔۔ گوارا نے بہت آرام سے بتایا۔۔ اریزہ چیخ پڑی سر گرل سے لگا۔۔
آرام سے۔۔ گوارا نے اسکا ماتھا سہلایا
کیوں؟؟؟؟؟ کیوں کیا بریک اپ ؟ تم دونوں ساتھ اتنے جچتے تھے۔۔
اریزہ کو واقعی دکھ ہوا
اچھا۔۔ گواراکا انداز محظوظانہ تھا۔۔
اسے لگتا تھا میں اسکے حواسوں پر سوار ہونے کی کوشش کرتی ہوں اور مجھے لگتا تھا وہ مجھ سے چھوٹتا جا رہا ہے اسے تھام کر رکھتے رکھتے تھکنے لگی تھی میں۔۔
تم محبت نہیں کرتی تھیں اس سے۔۔
اسکے اطمینان بھرے انداز نے اریزہ کو بہت حیران کیا تھا
محبت مجھےتو لگتا تھا اسکے دور جانے سے میں مر ہی جائوں گی۔۔ گوارا کے لہجے میں دکھ چھلکا تھا
پھر ؟؟؟ تم دونوں کی اگر لڑائی ہوئی ہےتو ہم صلح کرادیتے ہیں۔۔
اریزہ کے کہنے پر گوارا نے بہت غور سے اسکی شکل۔دیکھی۔۔۔
اسے جی ہائے کا ردعمل یاد آیا تھا جس نے ناک چڑھا کر۔کہا تھا۔۔
دفع کرو۔کوریا میں لڑکے بھرے پڑے ہیں اس بار کسی اچھی ڈیٹنگ ویب سائٹ کو سرچ کر کے ڈھنگ کا لڑکا ڈھونڈنا۔۔
اسکے دل پر کیا گزر رہی تھی اسکا اسے ادراک تک نہ ہوا تھا۔۔جبکہ اریزہ ٹھیک ٹھاک سنجیدہ اور پریشان تھی اسکے لیئے۔۔ دوستی یہی تو ہوتی ہے اپنا بن جانا اپنا سمجھنا۔۔
ہیلو؟۔ اریزہ نے اسے چپ خود کو گھورتے دیکھ کر چٹکی بجا کر متوجہ کیا۔۔
گوارا نے گہری سانس لی۔۔
تمہیں پتہ ہے محبت ایسے ہی کسی گرل میں گردن پھنسانے جیسا ہے۔۔ ہمارا سر پھنسا ہوتا خود کو چھڑا نہیں پاتے لگتا ہے کبھئ گردن نکل نہیں پائے گی مگر۔
۔ اس نے کہتے کہتے رک کر احتیاط سے سر سکیڑ کر دونوں راڈوں کے درمیان سے گردن نکالی۔۔
یہ ہمارا گمان ہوتا ہے ۔ہم اپنی گردن آرام سے نکال۔سکتے ہیں۔۔ ایسے۔۔
وہ سیدھی ہو کر بیٹھ کر ہنسنے لگی۔۔
ارے۔۔ اریزہ جو بے دھیانی میں گردن موڑے اسے دیکھ رہی تھی بھول گئ کہ کہاں گردن پھنسائی ہوئی ہے ایکدم سے مڑنے سے زور کا جھٹکا لگا۔۔
آہ۔۔ وہ تڑپ کر وہیں سر گرا گئ۔۔
کیا ہوا۔۔ گوارا فورا اسکی گردن چھڑانے آئی۔۔
کبھی کبھئ گردن نکالنا مشکل بھی تو ہو جاتا ہے۔۔
اریزہ نے منہ بسورا ۔۔گوارا زور سے ہنس پڑی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون کے ساتھ اسی گوشی وون کی عمارت میں داخل ہوتے اسکے قدم من من بھر کے ہو چلے۔ تنگ سی راہداری آج بھی خالی تھی۔اسکا بڑا سا اٹیچی گھسیٹتا اور چھوٹا بیگ کندھے پر لٹکائے ایڈون اس سے چند قدم آگے ہو کر ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اند رداخل ہو بھی گیا وہ ابھی اس طویل نیم تاریک راہداری کے آغاز میں ہی کھڑی تھی۔ ایڈون نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بھناتا ہوا کمرے کے دروازے سے سر نکال کر بولا۔
آئو بھی وہاں کیوں رک گئیں۔۔
اسکا سخت لہجہ وہ فورا تیز تیز قدم اٹھاتی چلی آئی۔
وہی چھوٹا سا اسٹور نما کمرہ جس پر بس ایک بنچ نما بیڈ تھا سامنے رائٹنگ ٹیبل کے نام پر دیوار گیر الماری کا ہی ایک سرا تھا ایک چھوٹی سی کھڑکی اور بس ۔
یہ تمہارا کمرہ تو نہیں ہے۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا۔
ایڈون کا کمرہ اتنا خالی نہ تھا۔ اس کمرے میں سوائے بستر تکیئے سب خالی تھا۔
ہاں تو یہ میں نے کب کہا کہ میرا کمرہ ہے۔ ایڈون اسکا اٹیچی دیوار کی طرف کرکے کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا۔۔ میرا کمرہ نمبر 25 ہے تمہارا 17 سب سے قریب ترین یہی کمرہ خالی تھا۔ میں نے کوشش کی کہ اپنے کمرے کے قریب والے کسی کمرے کے مکین کو منا لوں مگر یہاں ذیادہ تر لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں منہ پر دروازہ بند کیا سب نے میرا بس یہ ایک کورین لڑکی جو اس کمرے میں رہتی تھی وہ اتفاق سے کہیں اور منتقل ہو رہی تھی سو یہ کمرہ مل گیا ورنہ اوپر کسی فلور۔۔
وہ تفصیلا بتاتا بیڈ پر گر سا گیا۔ اسکا بھاری اٹیچی اٹھانا آسان کام نہ تھا۔
میرا دم گھٹ رہا ہے۔ یہاں تو مجھے سانس بھی نہیں آرہی۔
سنتھیا نے بے تابی سے اسکی بات کاٹی۔۔ اسکا چہرہ پسینے میں تر ہو چکا تھا۔ کمرے کا دروازہ بند ہونے اور ایک باتھ روم جتنی تنگ سی جگہ میں دو نفوس کی موجودگی اس کی حالت واقعی خراب ہونے لگی تھی۔ ایڈون سرعت سے اٹھا۔ کمرے کی اکلوتی کھڑکی کے پٹ کھولے۔
میں یہاں ایگزاسٹ فین لگوادیتا ہوں۔۔
وہ کہتے ہوئے مڑا تو سنتھیا دروازہ پورا کھول کر راہداری میں منہ نکال کر گہری سانس لے رہی تھی۔
کھول تو دی ہے کھڑکی ادھر آکر بیٹھو۔ ایڈون اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھانا چاہتا تھا مگر اس نے جھٹک دیا۔
یہ یہ سرنگ۔۔ تمہارا کمرہ پھر راہداری کے شروع میں ہے یہاں تو کوئی ہوا کا گزر بھئ نہیں ہے اتنی سی کھڑکی۔ میرا باتھ روم اس سے بڑا ہوتا تھا۔۔
سنتھیا کی سانس ابھی بحال ہوئی تھی جبھئ الٹ ہی تو پڑی۔
مانا عجیب لگتا ہے اتنی چھوٹی جگہ میں رہنا مگر بس ایک دو دن پھر عادت ہو جائے گی۔
ایڈون نے سبھائو سےسمجھانا چاہا۔
مجھے عادت نہیں ہو سکتی۔ اس کمرے میں بدبو ہے گھٹن ہے اور یہ جگہ۔ میں یہاں بالکل نہیں رہ سکتی ۔ وہ نفی میں سر ہلاتی کمرے سےباہر نکل آئی۔
ایڈون ہونٹ بھینچ کر دروازہ برابر کرتا اسکے پیچھے چلا آیا۔وہ تیز قدم اٹھاتئ کمپائونڈ سے بھی باہر آکر لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔
ایڈون نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسکے پاس آنے کی بجائے سیدھا سڑک پار کرکے اسٹور میں گھس گیا۔
وہ حیرت سے اسے دیکھتی کمپائونڈ کے باہر بنے گرین ایریا کی کیاری پر ٹک گئ۔
چند لمحوں بعد اسکے سامنے منرل واٹر کی بوتل لہرائی تھی۔ اس نے بلا توقف ڈھکن کھول کر بوتل منہ سے لگا لی او رغٹا غٹ چڑھا تی چلی گئ۔
یہاں کی زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ ہم جیسے طلباء اسی طرح کے گوشی وون یا ہاسٹل وغیرہ میں ہی گزارا کرتے ہیں۔
ایڈون کا انداز نرم سا تھا۔
اوپر سے تمہیں کیا لگتا ہم اکٹھے یہاں شادی کرکے رہ بھی لیں تو اس بچے کے سو خرچے ہوں گے تعلیم ہماری ادھوری ہے اسکے دودھ پیمپر وغیرہ کا خرچہ کہاں سے پورا کریں گے؟
وہ بس اسے دیکھ کر رہ گئ۔
تمہیں بچے بالکل پسند نہیں۔
اس کے کہنے پر ایڈون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا
یہ بات نہیں ہے۔ ابھی نہیں چاہیئے۔ابھی اور بہت کچھ کرنا ہے ابھی سے اس جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتا۔ او رتم خود تم اس وقت ایک بچہ پالنے کی پوزیشن میں ہو؟ سو کام ہوتے ہیں ماں کے۔ اپنی زندگئ اپنی نہیں رہتی بچے کے کھانے پینے ہر ضرورت کا خیال رکھنا پڑتا ہے ایکدم سے وہ پل نہیں جاتا اور اس بچے کو کیری کرنا۔ آٹھ نو مہینے بندھ کر اس بچے کو سینچ ۔۔۔
بس کرو۔
وہ جھلا کر ٹوک گئ۔ پانی کی وہ پوری بوتل خالی کرچکی تھی۔ اس وقت یہاں کا موسم بالکل بھی گرم نہیں تھا پاکستان کے مقابلے میں مگر اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بھٹی میں بیٹھی ہے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ ایڈون مزید کچھ کہتا مگر اس وقت اسکی حالت واقعی قابل رحم تھی۔
مجھے کسی ہوٹل کسی سونا میں چھوڑ دو۔ میں ابھی یہاں اس دڑبے میں رہنے کیلئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں۔
اس نے کہہ ہی دیا۔ ایڈون ہنکارہ بھرتا اٹھ کھڑا ہوا
میں کسی قریبی ہوٹل کا پتہ کرتا ہوں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن اور کم سن نے حقیقتا دوستی نبھا دی۔ انکو سیول کی خوب سیر کرائی۔ ٹرک آئی میوزیم لے گئے۔ جہاں مختلف نگاہوں کو دھوکا دینے والے سیٹ بنے تھے۔ سیدھے فرش پر کھڑے ہونے کے باوجود یوں لگ رہا تھا کہ وہ چھت سے الٹے لٹکے ہیں۔ ایک سیٹ میں عام سائز کی چھت بھی تصویر میں یوں دکھائی دیتی تھی جیسے وہ کسی چھوٹی نیچی چھت کے نیچے جھکے ہوئے کھڑے ہیں۔
انکو کوریا کے عجائب خانے میں لے گئے جن میں لگے بتوں کو دیکھ کر سالک اور شاہزیب ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے
یہ آٹھویں صدی کا بادشاہ تھا۔ کم سن تعارف کرا رہا تھا۔ ساتھ لمبا چوڑا نام بھی بتایا جو انہیں یاد نہ رہا مگر یہ یاد رہا کہ انکے بادشاہوں کے کرتوت بالکل بھی شریفانہ نہ تھے۔ تصاویر میں انکے دور کی جو خوبیاں لکھی تھیں اور جو منظر کشی تھئ دونوں کے چہرے لال ہوگئے۔
آئو تمہاری تصویر لوں۔
کم سن ایک بت کے ساتھ خاصی بے تکلفی سے کھڑا ہو کر تصویر بنوا رہا تھا اسکی تصویر لیتے ہوئے یون بن نے شاہزیب کو بھی دعوت دی۔
نہیں بہت شکریہ میں یہاں فوارے کے ساتھ بنوا لوں گا۔ اس نے سہولت سے منع کردیا۔
۔ان برہنہ اسٹیچوز کے ساتھ تصویر بنا بھئ لیتا تو لگاتا کہاں دکھا کسے پاتا۔ الٹا جوتے الگ پڑتے۔
سالک سر کھجا رہا تھا۔
یار یہاں لڑکیاں بھی تو آتی ہوں گی انکو شرم نہیں آتی؟
ان دونوں کے برعکس یون بن اور کم سن خاصے فخریہ انداز میں مسکرا کر تصاویر بنوا رہے تھے۔
ہمارا ارادہ تم لوگوں کے ساتھ جیجو آئی لینڈ بھی جانے کا تھا سمسٹر بریک میں مگر موقع ہی نہیں رہا۔
یون بن کو افسوس ہو رہا تھا۔
کوئی نہیں میں پڑھ لکھ کر افسر بن کر تم لوگوں سے ملنے آئوں گا سیول۔
سالک نے تسلی دی۔ ان سے ذیادہ خود کو۔ اس وقت تو لگ رہا تھا کہ جیسے دنیا کی سب منحوسیتیں ان سے جڑ گئ ہیں جبھئ پاکستان واپس جانا پڑ رہا ہے۔۔
آپ لوگ آئیے گا نا پاکستان ہم آپکو پاکستان گھمائیں گے۔ وہاں بھی سب کچھ ہے سیول کی طرح
شاہزیب نے خوش دلی سے دعوت دی۔
سوجو ہے ؟
کم سن نے گھونٹ بھر کر جتانے والے انداز میں پوچھا تھا۔
سالک اور شاہزیب ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئے۔
یار انکو میں نے سونا دکھانا تھا انہوں نے سونا نہیں دیکھا ہوا۔
یون بن کو خیال آیا تو کم سن فورا ہی تیار ہوگیا
ایسی بات ہے تو چلو چلیں
وہ سب ایک ساتھ سونا آئے تھے۔۔ وہاں کا نظام دیکھ کر انکی آنکھیں پھٹنے کو آگئی تھیں۔۔
ایک قطار سےبنے ہوئے بھاپ والے کمرے نہانے کیلئے گرم حمام ۔۔ کم سن نے بے تکلفی سے کپڑے لٹکا کر ایک جانب لگے سلیب کا رخ کیا تو دونوں سٹپٹا کر سیدھا باہر نکل آئے۔۔
اوئے آہستہ تولیہ نہ گرا لینا اپنی۔۔ کم سن انکی بوکھلاہٹ پر کھل کر ہنسا تھا۔۔
ایک بند کمرے میں مختصر تولیہ میں لپٹ کر بھاپ کا غسل لینا۔
کم سن اور یون بن تو آرام سے بنچ پر اچھی طرح ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر گئے ان دونوں کو پانچ منٹ میں گھبراہٹ ہونا شروع ہوگئ جب ایک ایک مسام سے پسینہ پھوٹ نکلا
پینے کے لیئے بھاپ اڑاتا چنبیلی کا قہوہ ۔
یار گرمئ ذیادہ ہے مجھے تو پسینے آگئے ہیں۔
شاہزیب نے شکایت کی تو یون بن اطمینان سے چسکی لیکر بولا
اسیلیئے تو یہاں آئے ہیں۔ جسم سے پسینہ بہہ نکلنے کا مطلب جسم سے فاسد مواد کا اخراج ہے۔ اس سے اندرونی تو جو صفائی ہوگی بیرونی طور پر بھی جلد ایسی کھل اٹھے گی کہ پاکستان جا کر بھئ یاد کروگے کہ سونا میں پسینہ بہا کر کتنے تازہ دم ہوئے تھے۔
ہمیں اتنا پسینہ بہانے کیلیے سونا جانے کی ضرورت نہیں ہم دہی لینے بھی گھر سے نکلتے تو پسینے میں نہا کر واپس آتے ہیں۔
شاہزیب نے ماتھے سے بہتی دھاریں انگلی سے جھٹکیں۔
میں چھچھوندر چھچھوندر سا محسوس کر رہا ہوں۔
سالک گھبرا کر اٹھ ہی گیا۔
مجھے یہ قہوہ بچا لینا چاہیئے نہا کر جسم پر ملوں گا اتنے پسینے کے بعد صرف صابن مجھ سے دوسروں کو نہ بچا سکے گا۔
شاہزیب نے قہوہ پینے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔
میں نہیں مزید جیتے جی جہنم کے مزے لوٹ سکتا۔ سالک کمرے سے ہی نکل گیا۔ مگر الٹے قدموں ہی واپس ہوا۔
وہ باہر وہ۔
اسکے منہ سے گھبراہٹ کے مارے لفظ ہی نہ نکل پائے
کیا ہوا۔
اسکی گھبراہٹ پر یہ تینوں چونک کے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
وہ باہر۔۔ باہر سب ۔۔۔ سب نہا رہے ہیں۔
اٹک اٹک کر جب تک جملہ مکمل کر پایا تینوں جست لگا کر دروازے سے باہر جھانکنے پہنچ چکے تھے۔۔
شاہزیب کی آنکھیں کھل سی گئیں۔۔
گائوں میں دوست یار مل کر ٹیوب ویل پر جا کر خوب ادھم مچاتے تھے مگر ان کے ساتھ بھی یوں نہانے کا تصور نہیں تھا۔۔ وہ بھی بچپن کے لنگوٹیا یار تو پھر اکٹھے نیکر پہن کر نہا لیں یوں اچانک پرائے ملک میں انجان لوگوں میں نہانا۔۔
اجتماعی غسل کیا جا رہا تھا باہر۔ چھوٹے چھوٹے حوض بنے تھے جن میں دو سے تین لوگ اکٹھے پانی میں بیٹھے چنبیلی کا قہوہ پی رہے تھے ان حوض کے باہر چھوٹے چھوٹے تھڑوں پر مختلف عمر کے بوڑھے بچے جوان بیٹھے ایک دوسرے کی پیٹھ مل رہے تھے۔ایک جانب شاور لگے تھے مگر شاور کے باہر کسی قسم کے پردے کا کوئی نظام نہ تھا۔
ان کے باہر آتے ہی دو نوجوان گھس گئے تھے پانچ شاور تھے اکٹھے۔۔
کم سن اور یون بن کو کچھ خاص نظر نہ آیا ایک تھڑےکی جانب بڑھتے ہوئے ان دونوں کو بھی ایک دوسرے کی پیٹھ ملنے کا مشورہ دے ڈالا۔
ہم واپس کمرے میں چلیں ؟
شاہزیب نے تھوک نگلا۔ سالک گھور کے رہ گیا۔ یہ دونوں ایک کونے میں بیٹھ کر رش کم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ کافی انتظار کے بعد پتہ لگا کہ یہ انتظار لا حاصل تھا۔
پورا سیول شائد آج ہی یہاں نہانے آن پہنچا تھا۔
یون بن کم سن نہا کر فارغ ہو آئے یہ دونوں ایک کونے میں بیٹھے رہے۔
تم لوگ نہا لو ورنہ آج رات میرا اور یون بن کا سونا مشکل ہو جائے گا تم دونوں ہم دونوں کے ہی روم میٹ ہوتے ہو۔
کم سن نےکہا۔۔
میں ان سب کے سامنے نہیں نہا سکتا۔ ہاسٹل چلو وہاں چاہے برف والے پانی سے نہانا پڑے مجھے منظور ہے۔
سالک نے صاف انکار کیا۔
یون بن نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا پھر کندھے اچکا دیے
ہم سے شرم آرہی ہے تو میں نہا چکا اب جتنے بھی لوگ ہیں انجان ہیں اندر۔۔ نہا ضرور لو ورنہ جتنا پسینہ نکال کے آئے ہو میں نے اپنے روم میں بنا نہائے تم دونوں کو گھسنے نہیں دینا۔۔
یون بن کا انداز وارننگ دینے والا تھا۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر سر ہلاتے اندر گھس گئے۔۔
پھر۔جتنی دیر شاور لیا چندی آنکھوں والوں کو آنکھیں پھاڑ کر گھورتے پایا۔۔
قسم سے مجھے آج سے پہلے نہاتے ہوئے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں دیکھا جا رہا ہوں۔۔
شاہزیب نے آنکھیں بند کر لیں۔
میں تو جیسے خود پر ٹکٹ لگا کر اسٹیج پر نہانے کا عادی ہوں۔۔
سالک نے دانت کچکچائے۔۔
یہ تھا کہ پانی وافر تھا صابن شیمپو بھی جی بھر کر نہائے۔۔
جب تولیہ لپیٹ کر باہر نکل رہے تھے تو پیچھے کوئی ہنگل میں کسی کو کہہ رہا تھا
پتہ نہیں کونسے جاہل ملک سے ہیں کپڑے پہنے پہنے نہا لیئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا کا پہلا سیشن تھا۔ اسکے ساتھ آتے اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وقت کتنا لگے گا۔ اسکوباقائدہ اسٹریچر پر لٹا کے اندر لے جایا گیا تھا۔ جانے کیا کچھ کرنا تھا۔ دو تین ایسے دورے مزید لگنے تھے اسکے بعد آپریشن ہونا تھا۔ایک چندی آنکھوں والی سے فیشل کروا کر اپنی شکل میں کوئی خاص تبدیلی لائے بنا وہ فارغ ہو کر باہر آگئ۔ جانے اسے کتنی دیر لگنی تھئ۔ وہ باہر ریسپیشن کے سامنے بنے انتظار گاہ میں آن بیٹھی۔ اس نے انتظار گاہ میں بیٹھے بیٹھے وہاں موجود آٹھ دس فیشن میگزین کھنگال لیئے کیونکہ ہنگل پڑھ تو سکتی نہ تھی۔ بس ورق پلٹتی رہی۔ اکتا کر سب سمیٹ کر واپس ریک میں رکھنے لگی تو ایک میگزین انگریزی میں دکھائی دیا اس نے غنیمت سمجھ کر اٹھا لیا۔
یونہی صفحے پلٹتے اسے مانوس چہرے دکھائی دیے۔ یوآنہ اور گنگشن انی کی مسکراتے ہوئے انگلیوں سے وی بنائے ہوئے تصویر۔
وہ بہت شوق سے اس سے منسلک مضمون پڑھنے لگی۔
ابھی آدھا ہوا ہوگا کہ فون بج اٹھا ۔
صارم کالنگ۔
اس نے خوش ہوکر میگزین ایک طرف رکھ کر فون اٹھایا۔
ابھی تمہیں ہی یاد کر رہی تھی۔ چھوٹتے ہی بولی۔ صارم پر مطلق اثر نہ ہوا
جھوٹئ۔ کبھئ تو سچ بولا کرو۔
ابھی تم مجھے ہی یاد کر رہے تھے۔ اس نے جملہ بدل لیا۔
ہاں وہ تو میں کر رہا تھا ۔ جبھی تو فون کیا۔ خلاف توقع وہ آرام سے مان گیا۔
اچھا یہ۔بتائو کیسی ہو؟کہاں ہو؟ہاسٹل میں بیٹھئ مکھیاں مار رہی ہو ہے نا۔
اسے اپنے اندازے پر یقین تھا۔
نہیں ایک بیوٹی کلینک آئی ہوئی ہوں۔ اس کے جواب میں فورا اگلا سوال حاضر تھا
اکیلی؟ وہ حیران ہوا تھا
نہیں دوست کے ساتھ آئی ہوں اسے ٹریٹمنٹ کروانا تھا۔
پتہ ہےوہ چہرے کی سرجرئ کراکے نقوش بدلوا رہی ہے اپنے۔۔ وہ تفصیل بتانا چاہ رہی تھی مگر صارم بات بدل گیا
دفع کرو اسے یہ بتائو پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟ وہ یقینا فرصت سے تھا۔۔
سب اے ون بہت اچھے پیپرز ہوئے میرے۔
وہ میگزین ایک جانب رکھ کر پہلو بدل کر بولی۔
میں سب جانتا ہوں۔ ذیادہ بنو مت۔ اس نے ڈپٹ کر کہا۔
جب پتہ ہے تو پوچھ کیوں رہے ہو۔ وہ منہ بنا کربولی
تم نے کیا سوچا ہے ؟ کب واپس آرہی ہو؟
اس نے بلا تمہید سوال کیا
میں چاہے مجھے چار سال لگ جائیں ڈگری لیکر ہی واپس آئوں گی۔
وہ اطمینان سے بولی
تمہاری جگہ دنیا کی کوئی اور لڑکی کہتی تو یقین آجاتا مگر تم سے نہ ہو پائے گا۔سو شرافت سے ٹکٹ کٹائو واپس آکر ڈگری مکمل کرو۔ سال ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔
وہ رعب سے بولا تھا مگر وہ پہلے کونسا کبھی اسکے رعب میں آئی تھی جو اب آتئ۔۔
میرے سال ہیں میری مرضی ضائع کروں یا جو بھی کروں تمہیں کیا۔ وہ ضدی پن سے بولی
خالہ خالو بہت اکیلے ہوگئے ہیں۔اریزہ ۔۔ وہ ناصحانہ انداز میں ٹوکنے لگا
اکلوتی اولاد ہو تم بالکل احساس نہیں اپنے والدین کا تمہیں۔ کوئی اندازہ ہے خالہ کتنی کمزو رہو گئ ہیں۔ اکیلی ہو گئی ہیں سارا دن بولائی بولائی پھرتی ہیں۔
کیوں تم ہو نا کمپنی دیا کروانہیں۔ وہ جتا کر بولی۔
اور امی مجھےبرابھلا کہنے کیلئے ہی یاد کر رہی ہوں گی کہ کاش یہاں ہوتی تو دو چار صلواتیں سنا کر جی ٹھنڈا کر لیتی اپنا ۔۔
شرم کرو۔ماں ہیں تمہاری۔ صارم کو تھوڑا غصہ آیا۔
مجھے افسوس ہے۔ وہ بلا ارادہ کہہ گئ۔
اریزہ۔ بس کرو۔ بہت ہوگیا ڈرامہ۔ اب سب ٹھیک ہو گیا ہے نا اب تو طنز چھوڑدو۔۔
صارم نے اچھے خاصے غصے سے ڈانٹ دیا۔ وہ چپ رہی۔۔وہ پھر شروع ہی ہوگیا۔
بالکل خالہ خالو کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ سکالر شپ ختم ہو چکی ہے اب وہاں رکنے کی کیا تک ہے؟ کوئی اندازہ ہے تمہیں بنا اسکالر شپ کے وہاں رہنا کتنا بڑا خرچہ ہے ہاسٹل کی فیس سمسٹر کی فیس کھانے پینے کا خرچ اوپر سے پچھلے دو مہینے سے تم اتنی بڑی رقمیں مزے سے منگوا رہی ہو کس خوشی میں؟ تمہارے ابا کے پاس کوئی قارون کا خزانہ نہیں ہے۔ انکی حق حلال کی کمائی ہے۔ تمہیں کوئی احساس۔۔
میرے ابا کی کمائی ہے مجھ پر نہیں خرچ کریں گے تو کس پر خرچ کریں گے؟ تم فکر نہ کرو انکے پاس ابھی بھی اتنا ہے کہ تمہارے خرچے میں کمی نہیں آئے گی میری وجہ سے۔
وہ سوچ کے کم ہی بولتی تھی صارم کے سامنے تو کبھی بھی زبان اور دماغ کا رابطہ بحال نہ رکھا ابھی بھی چڑی تو ایک نہ رکھی اسکی۔ جوابا وہ خاموش ہوگیا۔
اتنا خاموش کہ اسے باقائدہ فون کان سے ہٹا کر دیکھنا پڑا کہ آیاکال جاری ہے کہ کٹ گئ۔
اریزہ۔ میری بات ٹھنڈے دل سے سنو۔
چند لمحے چپ رہ کر بولا۔
خالو نے تمہارے نام سے جو پلاٹ بک کروایا تھا اسے بیچنے کا کہا ہے مجھ سے۔ اشد ترین ضرورت میں بھی انہوں نے کبھی اسے نہیں بیچا۔ اب تمہاری پڑھائی اور دیگر اخراجات کیلئے وہ اگر بیچنے لگے ہیں تو تمہیں انکو روکنا چاہیئے۔ واپس آجائو خالو نے وعدہ کیا تو ہے تم سے ڈگری مکمل ہونے سے قبل تمہاری شادی کا سلسلہ نہیں چلائیں گے پھر اب کیا مسلئہ ہے ؟ کیوں ڈر کے کوریا میں چھپی بیٹھی ہو ؟
اسے خاموشی سے شرافت سے سنتے اسے غلط فہمی ہوئی تھی کہ اسے بات سمجھ آرہی ہے۔
بول لیا جو بولنا تھا ؟ اب چپ۔کرکے سنو میرے بابا نے میرے لیئے پلاٹ بک کروایا اسے میری خوشی کیلئے بیچ رہے ہیں یہ میرا اور میرے بابا کا معاملہ ہے تم اپنے کام سے کام رکھو سمجھے۔
وہ بولتے بولتے آخر میں غیر ارادی طور پر کافی زور۔سے کہہ گئ۔ خاموش کاریڈور میں گپ چپ اپنے کام میں مصروف رسیپشنسٹ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی۔ اسکی آواز گونج گئ تھی جبھئ سر کے اشارے سے معزرت کرکے وہ رخ موڑ گئ۔ گلاس وال سے ٹریفک سے رواں دواں سڑک روشنیوں کی جگمگاہٹ مںظر بدلا تو موڈ بھی بدل گیا
پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ ۔۔ صارم جھلایا
تمہارا آخر مسلئہ کیا ہے؟ بڑی کوئی طرم خان ہو نا بڑا پڑھنے کا شوق ہے جیسے تمہیں۔
ہے شوق مجھے تمہیں کیاپتہ ؟ وہ چٹخ کر بولی۔
او رابا کو پیسوں کا مسلئہ ہے تو ان سے کہو مت بھیجا کریں مجھے پیسے میں یہاں پارٹ ٹایم جاب کرکے خود اپنا خرچہ اٹھا لو ں گئ۔ ان سے نہیں ماںگوں گئ۔ بچا لو تم اپنے خالو کا پلاٹ۔
جاب کرلوں گی۔ صارم نے نقل اتاری۔ جاب کروگی وہ بھی تم جیسی لڑکی۔ ذرا بتائو اتنے مہینے سے سیول میں ہو اپنی یونیورسٹئ کا راستہ یاد؟ گئ ہو کبھی سیول میں کہیں بھی اکیلے؟ اپنے بل پر یہاں پنڈی میں یونیورسٹی تک اکیلی جا نہیں سکتی ہو اجنبی ملک میں اپنے بل پر جاب کروگی جیسے میں تمہیں جانتا نہیں نا۔۔
یہ جو کوریا بیٹھی ہو وہ بھئ سنتھیا کے بل پر۔ وہاں کوریا میں بھی سنتھیا گئ ہے تو تم تیار ہوئیں ورنہ سنتھیا کے بنا جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔وہاں بھی مجھے پکا یقین سنتھیا کا بازو پکڑ کر چلتی ہوگی۔مان لو۔ تم ایک بزدل اور بونگی لڑکی ہو۔ دو قدم اپنے بل پر جس سے چلنا محال ہے۔ بڑے بڑے خواب دیکھے ہوں تو شخصیت میں بڑی بڑی تبدیلیاں لانی پڑتئ ہیں۔ تمہارے بارے میں تو مجھے پکا یقین ہے ٹکے کی بھی گرومنگ نہ ہوئی ہوگی تمہاری۔ ابھئ بھی سنتھیا ہے نا بیٹھی تمہارے پاس ۔۔۔اسی کے ساتھ آئی ہو نا۔ کب بڑی ہوگی تم اریزہ؟
وہ دونوں ایک دوسرے کو اس سے بھی ذیادہ سناتے تھے مگر اس وقت یہ سب سننا اس کا ذہن سن سا ہو گیا۔ آنکھیں پانی سے لبا لب بھر گئیں۔ تو یہ تھی اسکی شخصیت دوسروں کی نظر میں۔ اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔
بولو ہے نا سنتھیا پاس تمہارے تم اکیلے تو اپنے ہاسٹل سے کلاس روم بھی نہ جاتی ہوگی مجھے پکا یقین ہے۔اچھا بات کرائو میری سنتھیا سے شائد اسکے منہ سےسن کر کوئی میری بات تمہارے دماغ میں گھس جائے۔
صارم اسے اتنی آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا۔
سن۔۔ س۔۔ اس نے بتانا چاہا مگرمنہ سے لفظ کی جگہ سسکی سی نکلی۔ اس نے بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
ہیلو اریزہ۔ بات سنو۔ صارم کو بھی شائد احساس ہوا ذیادہ بول گیا ہے۔
اس نے فون کاٹ دیا۔ دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔ یہ حقیقت تھی کہ وہ یہاں اتنے عرصے میں کبھی اکیلے کہیں نہ گئ مگر ایسا بھئ نہ تھا کہ وہ کہیں جا نہ سکتی تھی۔ اسے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کی گوارا کے ساتھ آ جا کے بھی عادت نہ پڑی تھی مگروہ ٹیکسی میں تو گھوم سکتی تھی۔یہ الگ بات کہ کبھی کوشش نہ کی۔ اپنے شہر میں واقعی اس نے کبھی ان تجربوں کو کرنے کا نہ سوچا پر اس لیئے کہ وہاں اسکے منہ سے بات نکالنے کی دیر ہوتی بابا خود اسے پک اینڈ ڈراپ دیتے تھے وہ مصروف ہوں تو لاکھ صارم اسکو نخرے دکھاتا رہے پر خیال بہت رکھتا تھا۔ اسکی کبھی کوئی فرمائش ٹالی نہ تھی۔ اسے احساس نہیں ہوا آنسو تواتر سے اسکے گال پر بہتے چلے گئے تھے۔ ہوا کے جھونکے سے میگزین کا ورق پلٹا تھا۔ اگلے صفحے پر یو آنہ کی بڑی سی تصویر تھی۔ اس نظم کے ساتھ جو اس نے بین القوامی سطح پر ہونے والی اس تقریب میں پڑھی تھی۔ اس نظم کی تعریف کئی بین القوامی سطح پر شہرت رکھنے والے شعرا نے کی تھئ وہی نظم جسے یوآنہ نے اپنے لیئے ہوپ قرار دیتے ہوئے اپنا نام ہوپ رکھ ڈالا تھا۔۔ ۔ وہی نظم جسکا ترجمہ انگریزی میں اسکے پروفیسر نے کیا تھا۔وہی نظم جو اس گڈ فارنتھنگ لڑکی اریزہ نے لکھی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے خدایا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا تم اپنا فیشل کروانے کے بعد بھی میرا انتظار کرتی رہو گی تین گھنٹے تک کہا تو تھا کہ چلی جانا واپس۔
گوارا کلینک میں اسے انتظار میں بیٹھا دیکھ کر حیران رہ گئ تھی۔
بس تھوڑاسا انتظار کرنا پڑا مجھے خیر ہے۔ اریزہ مسکرا کر اپنا بیگ اٹھاتئ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ضرورت نہیں تھی نا۔ میں تو اسلیئے لائی تھی کہ میرے پیکج کے ساتھ فیشل مینی کیور پیڈی کیور ایک بندے کا فری تھا تو تمہارا بھلا ہوجائے تمہیں یہاں بے بی سٹنگ کرنے تھوڑی لائی تھی ۔پھابو (احمق )لڑکی
تو کیا ہوا۔ اگرمیں نے انتظار کر بھی لیا تو۔
اریزہ چڑ کر بولی۔
ہوا کچھ نہیں خفا کیوں ہو رہی ہو مجھے شرمندگی ہو رہی تھی کہ میری وجہ سے تمہیں اتنا فالتو بیٹھنا پڑا۔
اسکا موڈ بگڑتے دیکھ کر گوارا کو حیرانگی ہوئی۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کہ باہر کہاں سے کونسی سواری مل سکے گی۔
گوارا کو کیا پتہ کہ اسکا دماغ کس بات نے خراب کیا ہے یہی سوچ کر ذرا موڈ بہتر کیا۔ سر جھکا کر من من کرنے لگی ۔ کیلنک سے نکل کر سڑک پر آنے تک اس سے سر اٹھایا نہ جا سکا۔ اپنا آپ دنیا کا احمق ترین انسان لگ رہا تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ خیال ستا رہا تھا کہ یہاں بھی وہ اکیلی آنے جانے لائق نہ تھی۔
وہاں تو مجھےخود کو یہ مارجن دینے کا موقع مل جاتا تھا کہ زمانہ خراب کوئی لوفر لفنگا نہ ٹکر جائے یہاں تو کوئی سر اٹھا کر دیکھتا بھی نہ تھا۔ پھر بھی۔ دراصل تم واقعی ہی ایک کم ہمت بزدل پیراسائٹ نما لڑکی ہو ورنہ پاکستان میں لڑکیاں کیا اکیلی گھر سے نہیں نکلتیں۔۔وہ یہی سوچتی خود کو کوس رہی تھی۔
گوارا تیز قدم اٹھا رہی تھی ایکدم رک کر پلٹی تو اریزہ سے ٹکراتے ٹکراتے بال بال بچی۔
یہ دیکھو سامنے بس اسٹاپ تھا۔۔گوارا نے دائیں جانب تھوڑے ہی فاصلے پر بنا بس اسٹاپ دکھایا۔
چلو چلیں۔ وہ بولی تو گوارا نے کندھے اچکائے
ابھی تو ہایون آرہا ہے لینے ان سب کا کسی ہوٹل میں ڈنر کا پروگرام ہے میں نے کہا یہاں سے پک کر لے ہمیں۔۔
اس نے کہتے ہوئے اپنی گردن سہلائی۔۔
وہ گوارا کو دیکھ کر رہ گئ۔ ابھی ہی خیال آیا تھا اسے کہ اب پکا بچت کرنی ہے۔
وہ سر جھکا کر مرے مرے قدم اٹھا رہی تھی تبھی وہ گاڑی اسکے سامنے آن رکی۔۔
دیکھی دیکھی لگ رہی ہے۔ اس نے گاڑی پہچان کر ڈرائور تلاشا تبھی گاڑی کا شیشہ نیچے ہوا اندر سے چمکتی دمکتی مسکراتی شکل۔۔
کھا جا۔
ہایون دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔۔۔۔
آج پکا میں اپنابل خود دوں گئ۔ اس نے مصمم ارادہ کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے پر تعییش ریستوران میں بیٹھ کے بندہ ویسے ہی خود کو غریب غریب سا محسوس کرنے لگتا ہے۔
یون بن مسخرے پن سے بولا تھا۔ سالک شاہزیب ایڈون اور سنتھیا سب بڑے شوق سے ریستوران کی آرائش کو دیکھ رہے تھے۔
ہایون کہاں چلا گیا ؟
کم سن کوئی فون کال سننے اٹھ کر گیا تھا واپس آیا تو ہایون کی غیر موجودگی فورا محسوس کی بیٹھتے ہی پوچھا۔
گوارا اور اریزہ کو لینے بھیجا ہے اسے۔ ایڈون نے بتایا۔
یار ویسے ہایون کو ہم نے تو خوار کرکے رکھا ہوا ہی تھا اب پاکستانی بھئ اسکے ساتھ یہی سلوک کرنے نہیں لگے؟
کم سن نے ہنس کر یون بن سے ہنگل میں کہا۔۔
جی ہائے کو نہیں بلایا۔
سنتھیا نے یون بن سے پوچھاتھا۔
فون کیا تھا مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ یون بن نے کندھے اچکا کر لاپروائئ سے بتایا۔
یار ویسے یہ والا ریستوران انتہائی لگژرئیس ہونے کے باوجود سرینہ سے چھوٹا ہی ہوگا ۔
سالک نے گردن گھما کر متاثر نہ ہونے والے انداز میں تاسف سے سر ہلایا۔
یہ ویسے ہوگا اسی کے لیول کا۔
ایڈون نے اندازہ لگایا۔
پھر بھی۔ سرینہ کا تو ہال اس سے بھی دگنا ہوگا یہاں سے وہاں تک نگاہ نہیں ٹھہرتی سرینہ میں برقی قمقمے آرائیش پینٹنگز سب بہت آعلی ہے وہاں کا۔
سالک نے کہا تو ایڈون پوچھے بنا نہ رہ سکا
تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے سرینہ میں پل کر بڑے ہوئے ہو۔
واحد سرینہ ایسا اعلی درجے کا ہوٹل ہے جسکی زیارت سالک کو نصیب ہوئی ہے ایک ایگزیبیشن میں شرکت کا موقع ملا تھا سالک کو زندگی میں اب بقیہ زندگی اسی کا ذکر کرتے گزرے گئ۔
شاہزیب کے مزاق اڑانے والے انداز پر سالک تپ کر اسکو جملہ ختم ہونے تک کئی دو ہتھڑ لگا چکا تھا مگر وہ ڈھیٹ ہنستے ہنستے جملہ مکمل کرکے ہی چپ ہوا تھا۔
کیا ہوا ۔۔ کیوں مار رہے ہو
انکی اردو میں گفتگو میں یون بن کو بھی دلچسپی ہوئی
کہہ رہا ہے یہ ہوٹل پاکستان کے اعلی درجے کے ہوٹل میں سے تین چار نکل آئے۔
شاہزیب نے اپنی مرضی کا۔ترجمہ کیا
واقعی ؟
یون بن حیران رہ گیا۔
ہاں ہمارے یہاں زمین بہت ہے خاص کر امیروں کیلئے
ایڈون منہ بنا کر بولا
اچھا ویسے کوریائی عموما تعمیرات میں جگہ کم ہی خرچ کرتے ہیں ہمارے تاریخی محلات بھی جگہ کے اعتبار سے بہت بڑے نہیں ہوتے جتنے انڈینز کے ہوتے میں نے ایک شو دیکھا تھا کچھ کوریائی فنکار انڈیا گئے تھے وہاں جو تاج محل تھا اتنا بڑا تھا کہ میں حیران رہ گیا تھا دیکھ کے انڈینز اتنے کھلے محلوں میں رہتے تھے۔
یون بن نے کہا تو سالک اور شاہزیب تڑپ نہیں گئے
وہ مسلمانوں کی تعمیرات تھیں۔ اور تاج محل گھر نہیں تھا کسی کا۔۔ شاہزیب اب بر صغیر کی تاریخ یون بن کے گوش گزار کرنے کے موڈ میں تھا۔
انکی بحث سے اکتا کر سنتھئا نے ایڈون کا بازو ہلایا
مجھے بھوک بھی نہیں ہے اور یہاں بور بھی ہو رہی ہوں ہم واپس چلیں۔
پاگل تو نہیں ہو؟ ایڈون نے گھرکا
میں انکو دعوت دے کر پروگرام بنا کر لایا ہوں اور میں ہی چلا جائوں؟ واپس جا رہے ہیں یہ لوگ کچھ تو کرٹسی نبھائو۔
ایڈون نے ڈانٹ ہی دیا۔
اس دعوت کا بل تم دوگے۔ سنتھیا نے کٹیلی نگاہوں سے دیکھا
ظاہرہے۔ ایڈون لاپروا تھا سنتھیا جل گئ۔
ہر وقت تو روتے ہو پیسے نہیں ہیں اتنے بڑے ہوٹل کا بل کہاں سے پےکروگے؟
سنتھیا کے کہنے پر ایڈون نے گھبرا کر سالک شاہزیب کو دیکھا۔
انہوں نے کہہ کر کانفرنس ارینجمنٹ کروائی تھی یہ وی آئی پی لائونج تھا ۔بڑی سی دو میزوں جتنا گھیر تھا جس پر یون بن کم سن سالک شاہزیب ان سے قدرے فاصلے پر سہی مگر دوسرے کمرے میں تو نہ بیٹھے تھے کہ سن نہ پاتے۔ اس وقت زور و شور سے بحث میں الجھے تھے ورنہ یقینا یہ گوہر افشانئ سن ہی لیتے۔
کیا ہو گیا کیسی باتیں کرتی ہو اور فکر نہ کرو تمہارے پیسے خرچ نہیں کر رہا اپنی پارٹ ٹائم جاب کی کمائی اڑائوں گا خوش۔
ایڈون دانت کچکچا کر سخت لہجے میں بولا تھا۔ بس نہیں تھا کہ تنے ابرو اور بدمزہ تاثرات بنائے بیٹھی سنتھئا کا دماغ درست کردے۔
پھر بھئ یہاں لےکے ہی کیوں آئے ہو یہ دونوں کھا لیں گے حرام کھانا ؟
اسے اب نئی فکر لاحق تھئ۔
تمہارا مسلئہ نہیں یہ۔ اس نے بات ہی ختم کردی ۔
کوئی ایک آدھ تصویر ہی بنا دو میری تاکہ آئیندہ زندگی میں سرینہ کے علاوہ کسی اور ہوٹل کا نام بھی لے سکوں۔
سالک نے دہائی دی تو شاہزیب یون بن فورا اسکے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے
ہاں چلو یاد گار رہے گا۔ ایڈون بھی اٹھ گیا۔ سنتھیا کا منہ کھل سا گیا۔ اس نے کچھ کہہ کر روکنا چاہا مگر وہ دانستہ اسے نظر انداز کرگیا۔ سب اٹھ کر ہال کے ایک جانب لگی دیوار گیر پینٹنگ کی طرف بڑھ گئے۔ کم سن موبائل میں لگا ہوا تھا میسج ٹائپ کرکے یونہی اسکی جانب دیکھا تو جانے کیا خیال آیا اپنے اور اسکے بیچ رکھی دوکرسیوں کا فاصلہ ختم کرتا اٹھ کر اسکے دائیں جانب والی کرسی پر آن بیٹھا۔
اس ہوٹل کا بل ہم نے آج تک پے نہیں کیا ۔ہم ہمیشہ ہایون کی مفت دعوت اڑاتے ہیں۔
وہ بے دھیانی میں دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹے شعلہ بار نگاہوں سے انہیں پوز بناتے دیکھے جا رہی تھی جب اپنے قریب یہ گمبھیر آواز سن کر اچھل پڑی۔ پہلے چونکنا پھر حیرت کے مارے آنکھیں پھاڑ کر دیکھنا۔ کم سن کو اسکے تاثرات پر ہنسی ہی آگئ۔
تمہیں کیسے پتہ لگا ہم کیا بات کر رہے ہیں؟
اندازہ لگایا آدھے جملے میں تو انگریزی بولی ہے ہوٹل بل پے تو تکا مار لیا اور نشانے پرلگا۔ ویسے تم لڑکیاں اتنی کنجوس کیوں ہوتی ہو؟
اس نے چھیڑا تھا وہ چڑ بھی گئ
کیونکہ ساری کفایت شعاری لڑکے ہمارے سامنے ہی دکھاتے ہیں۔ خود جہاں مرضی خرچ کرلیں۔
اپنے ہی خرچ کرتے ہیں نا تم اپنے پیسے دل بھر کر جہاں مرضی آئے خرچ کیا کرو
کم سن نے معاملہ ہی سلجھا دیا۔سنتھیا اسکی بات پر کمر کس کے میدان میں اتر آئی۔۔
ہم پاکستانئ ہیں یہ میرا تیرا ہمارے یہاں نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کیا حرج ہے اس میں؟
ہایون نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔
حرج ہے نا۔ جب یہ کھانا میرے لیئے میرے نام سے لیا جا رہا ہے تو پے بھئ میں ہی کروں گی مجھے ہی کرنا چاہییے نا۔
اریزہ ضدی لہجے میں بولی۔
مگر یہ دعوتی کھانا میرے ہوٹل پر جائے گا میری جانب سے دعوت ہوگئ تو اس میں تمہارے پے کرنے کی کیا تک بنتی ہے۔
اسے کہنا پڑا۔
میں آرڈر دےکر گیا تھا کہ واپسی پر پک کرلوں گا۔یہ پانچ لوگوں کا کھانا ہے اچھا خاصا بل ہے۔
پھر بھی مجھ سے میری پسند پوچھ کر جو بریانی سیخ کباب اور تکے پیک کروائے ہیں انکا بل تو مجھے ہی دینا چاہییے نا۔
اس نے اپنے فرمائشی پیکٹ والا شاپر علیحدہ کیا۔وہ اس وقت ایک پاکستانئ ریستوران میں کھڑے بحث کر رہے تھے۔
کائونٹر پر کھڑا وہ انڈین لڑکا ان دونوں کی بحث پر مسکراہٹ دبا رہا تھا۔
عجیب ضدی ہو۔ ہایون چڑا۔
ہاں ہوں ضدی۔ اس نےپرس سے کارڈ نکال کر فورا بڑھایا۔
میرا بل میں خود پے کروں گئ۔۔
کارڈ سوائپ کرواکے وہ اب خاصی مطمئن تھی۔ ہایون نے گھورتے ہوئے بقیہ بل پے کیا شاپر اٹھانے لگا تو وہ آرام سے اسکے ساتھ مڑ کر جانے لگی۔
اپنے شاپر تو اٹھا لو۔ اس نے اپنے شاپر بھی نہ اٹھائے تھے۔ ہایون نے ٹوکا تو بے نیازی سے بولی
ہاں اٹھالائو۔۔ اس دن برا مان گئے تھے نا شاپر کیوں نہیں اٹھوایا تم سے اب اپنا شوق پورا کرلو۔
ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔ اسکے دونوں ہاتھوں میں خاصے بڑے پیکٹس تھے۔ اس تیسرے کیلئے اسکو مشکل سے جگہ بنانی پڑی۔ اتنا احسان اریزہ نے کردیا تھا تیز قدم چل کر پہلے ریستوران کا دروازہ اسکے لیئے کھولا پھر پہلے سے پہلے گاڑی کی جانب بڑھ گئ۔ اسے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب جاتے دیکھ کر اس کو بے ساختہ ہنسی آگئ تھی۔ سر جھٹکتا وہ پچھلئ سیٹ کا دروازہ کھول کر گوارا کے برابر میں پیکٹ رکھنے لگا جو اریزہ پر ہنس رہی تھی۔
تم ہمیشہ بھول جاتی ہو یہاں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہے۔ اریزہ ناکام ہو کر گھوم کر واپس فرنٹ سیٹ پر آن بیٹھئ۔ اس وقت خفت سے منہ سرخ ہوگیا تھا۔
ہاں تو کیا کروں ہمیشہ ادھر ہوتی ہے ہمارے یہاں پسنجر سیٹ۔
وہ منہ پھلا کر بول رہی تھی۔
ہایون دروازہ بند کرکے گھوم کر آکر ڈرائونگ سیٹ پر آکر بیٹھتے بولا۔۔
ویسے اب تک تو کوریا کی عادت ہو جانئ چاہیئے اتنا عرصہ ہوگیا ہے۔
گوارا پیکٹس سے خوشبو سونگھ رہی تھی۔
پاکستانی جہاں جاتے اپنا اثر چھوڑ آتے ۔۔۔پاکستان گئے بنا بھئ تم ایکدن پسنجر سیٹ پر ڈرائیونگ کرنے بیٹھ سکتے ہو۔۔
اریزہ کا انداز چیلنج کرنے والا تھا ہایون ہنس کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
پاکستانی ۔۔اثر۔۔ اسٹرینج۔
اف ویسے مجھے لگتا ہے اریزہ جاتے جاتے مجھے آدھا پاکستانی کر جائے گی اتنی مزے کی خوشبو آرہی ہے میں نے یہی کھانا ہے میرے لیئے کورین کیوزین آرڈر نہ کرنا۔
اس نے ایک پیکٹ ذرا سا کھول کر کباب نکال لیا۔
اور مزے لیکر کھانے لگی۔
یہ اریزہ کا پیکٹ ہے اسکو نہ کھولو اسکی پیمنٹ بھی اسی نے کی ہے۔
ہایون نے صرف اسے جتانے کو ٹوکا۔
ہاں تو دوست بھی تو میری ہے ۔ تم اپنے پیکٹ سنبھال کے رکھو بلکہ گوارا اسے بھی چکھائو اسکو بھی پتہ چلنا چاہیئے دوستوں کی ٹریٹ کا ذائقہ کیا ہوتا ہے۔
وہ کیوں پیچھے رہتی چڑانے کو بن بن کے بولی پھر مڑ کر گوارا سے کہتے اسے جتانے والی نظروں سے دیکھتے کہنے لگی۔
پتہ ہے گوارا ابھی مجھے کہہ رہا تھا بل ذیادہ ہے میں دیتا ہوں پیسے۔ آیا بڑا امیرباپ کی اولاد۔
جملہ تھوڑا بے عزتی والا تھا مگر انگریزی میں اتنا برا نہ لگا۔
ہاہا ۔۔۔۔وہ کھل کے ہنسی۔۔
ویسے ہایون چکھ کر دیکھو کیا ذائقہ ہوتا دوستوں کی ٹریٹ کا ورنہ تو بے چارہ ہمیشہ ہمیں ہی کھلاتا آیا ہے۔
گوارا واقعی اب اریزہ کی سہیلی تھی اسکے ساتھ مل کر چڑانے لگی۔ ہایون انکی باتیں سنتا ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ڈرائونگ پر توجہ مرکوز کیئے تھا۔
اور خوشبو سونگھو میرے بابا کے پیسوں کی چیز کی ۔۔
اریزہ نے گوارا کا ہاتھ تھام کر اسکے آس پاس لہرایا۔
سرموق فرق نہ پڑا تھا ہایون پر۔گوارا ہنس دی
اسکو کبھی چڑا نہیں سکتے ہم ۔ ہائی اسکول سے دیکھ رہے اسے اسکو غصہ کرتے تو دور چڑتے بھی نہیں دیکھا کبھی۔ اتنا ٹھس انسان کوریا میں بھی نہیں دیکھ پائوگئ اریزہ یہ انمول پیس ہے ہمارا۔
شکریہ اس تعریف کا۔
وہی معمول کی مسکراہٹ وہ بے نیازی سے ذرا سا سر جھکا کے کورنش بجا لایا تھا۔
اریزہ نے غور سے دیکھا۔ واقعی غصہ تو دور ذرا سی جھلاہٹ چڑ تک اسکے چہرے پر نہ آپائی تھی۔ اتنا ٹھنڈا میٹھا مزاج یا تو بے حسی تھئ یا بے نیازی۔ گاڑی سگنل پر رکی تھی۔ اس نے اطمینان سے سر گھما کر اسکی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا
کیا ہوا۔
آنیا۔ وہ سر نفی میں ہلا گئ۔
گوارااب چکھائو مجھے میں بھی چکھوں کسی اور امیر ذادی کے باپ کے پیسے کا ذائقہ۔
اسے نظروں میں رکھ کر وہ شرارتا گوارا سے مخاطب تھا۔ گوارا نے جھٹ ایک پیس نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔
اس نے چکھا ہھر سر ہلا کر بولا۔
واقعی اچھا ذائقہ ہے کھا کر مزا آیا۔
اریزہ سٹپٹا سی گئ۔ سگنل کھل گیا تھا مگر اس نے اطمینان سے پہلے کباب ختم کیا پھر ڈیش بورڈ سے ٹشو کھینچ کر اطمینان سے صاف کرنے لگا۔ پیچھے کھڑی گاڑی ہارن پر ہارن دے رہی تھئ۔
ہایون گاڑی چلا لو اب اس نے باہر نکل کر مارنا ہے ہمیں۔۔
گوارا پوری پیچھے مڑ کر ڈرائیور کو اشارے سے صبر کرنے کا کہتی ہایون سے مخاطب تھی۔
اریزہ نے بھی رخ بدل کر سامنے سڑک پر نگاہ جما دی تھی۔
میں نے کوئی دل دکھانے والی بات تو نہیں کی تھی۔
اسکا ذہن کسی کی آنکھوں کی تحریرپڑھنے میں الجھ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالک شاہزیب کے ساتھ یادگار تصاویر بنواتے اسکی نگاہ سنتھیا اور کم سن پر پڑی تھی۔ دونوں جانے کیا باتیں کر رہے تھے کہ سنتھیا کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔ بہت دنوں کے بعد یہ ہنسی اسکے چہرے پر اتنی کھلی تھی کہ یون بن نے انکو مخاطب کرکے تصویر کھینچ لی اور وہ گردن موڑے سنتھیا کو ہی دیکھ رہا تھا یہی پوز اسکا تصویر میں کھنچ گیا۔
ہایون کی گاڑی آتے دیکھ کر سیکیورٹئ گارڈز مستعد ہوئے تھے انکو کھانا اندر بھجوانے کی ہدایت کرتا وہ انکو اپنی رہنمائی میں اندر وی آئی لائونج تک لایا تھا۔ یون بن کم سن نے دور سے ہی دیکھ کر ہاتھ ہلا دیا تھا وہ جوابا مسکرا کر وش کرتا انکے پاس چلا آیا۔
آنیانگ۔ یون بن نے گرم جوشی سے گوارا کو جتانے والے انداز میں سلام کیا جواب اس نے منہ بنا کر ہی دیا تھا۔
پھر بریک اپ ہوگیا تم دونوں کا۔ کم سن چوکنا ہوا۔
تمہارا چانس پھر بھی نہیں۔ ہایون نے اسکے برابر بیٹھتے سرگوشی کی تھی۔۔۔
کم سن نے ذرا برا نہ مانا بلکہ ہنس کر ٹال گیا۔ ہایون نے حیرت سے اسکا ردعمل دیکھا پھر کندھے اچکاگیا۔
گوارا اور اریزہ سب سے مل ملا رہی تھیں سنتھیا نے اریزہ کے سلام کو قصدا نظر انداز کیا تو گوارا اسکا ہاتھ تھام کے ہایون کے برابر آن بیٹھی۔
اریزہ کل ہم جا رہے ہیں دوپہر کی فلائٹ سے۔
سالک نے بطور خاص اطلاع دی۔
اچھا۔ وہ اداس سی ہوئی۔ مجھے بے حد افسوس ہو رہا ہے کاش ہم سب مل کر یہاں سے ڈگری لیکر ہی جاتے۔
اس نے یونہی کہا تھا۔
ہم لیکن کچھ نہ کچھ تو لےکر جارہے ہیں ۔۔ سالک نے کہا
اچھی یادیں اچھے دوست۔
ہاں یار ویسے ہم کورینز اتنی آسانی سے گھلتے ملتے نہیں مگر لگتا ہے پاکستانیوں سے ہمارے ڈی این اے میچ ہوتے ہیں۔
فضا میں ڈی این اے( بی ٹی ایس کا گانا) ہی چل رہا تھا سو یون بن نے اسی کا حوالہ دے ڈالا۔
تم لوگوں نے آرڈر دے دیا تھا نا ؟
ہایون کو مہمان نوازی کا خیال آیا۔
ہاں اب ذرا ہدایت کردو کہ جلدی آجائے۔ کم سن کو بھوک لگی تھی۔ ہایون نے بیرے کو بلانے کا اشارہ کیا مگر انکا آرڈر خو دہی آرہا تھا۔دو بیرے مستعدی سے کھانا لگانے لگے اسٹیک نوڈلز سوپ سادے چاول کمچی فرائیڈ رائس سوشی اور کئی کھانوں کے تو نام بھی ان لوگوں کو نہیں آتے تھے۔ ساتھ چکن بریانی کڑاہی سیخ کباب اور تکے ۔۔ فضا میں کھانے کی خوشبو اتنی تیزی سے پھیلی تھی اور میز سجنے پرایڈون نے تھوک نگلا۔۔
اتنا سب تو ہم نے آرڈر نہیں کیا تھا۔ سالک حیران تھا
اس نے اور شاہزیب نے خالص سبزیوں کی ترکاری اور سبزیوں کا ہی پلائو منگوایا تھا۔مگر خالص پاکستانی کھانے دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی تھی۔
یہ ہمارے دوست کی مہربانی ہے کھلا کھائو بنا سوچے اپنے باپ کا ہوٹل سمجھو۔
یون بن لہرا کر بولا تھا۔
چھائے موکے سبندا۔
کم سن نے باتوں کی بجائے سیدھا کھانے کی طرف دھیان دیا۔
سبزیاں رکھی رہ گئیں کورین اور پاکستانی اپنے اپنے دیس کے کھانوں پر ٹوٹ پڑے۔
کم سن نے چکن تکے کی جانب چاپ اسٹک بڑھائی تو ایڈون نے پورک اسٹیک اٹھا لیا۔
اجنبئ گوشت کی کچی پکی بو۔
سنتھیا کو ابکائی سی آگئ۔۔
وہ ایکدم کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
کیا ہوا۔ وہ سب خاموش ہو کر دیکھنے لگے۔
کیا ہوا۔
مجھے واشروم۔ اس سے بولا بھی نہ گیا۔ ابکائی اتنی شدید تھی کہ فورا منہ پر ہاتھ رکھتی مڑ گئ
ہایون نے فورا ایک ویٹر کو اسے واشروم کا راستہ دکھانے کی ہدایت کی۔
سنتھیا نے یونہی ایڈون کو دیکھا اسے لگا تھا شائد وہ پیچھے آئے گا۔مگر ایڈون سر جھکائے مکمل کھانے کی طرف مگن تھا۔
سنتھیا کو ڈاکٹر کو دکھائو اسکی طبیعت خراب لگ رہی ہے۔ کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں کھایا ہے۔
اسکی پلیٹ میں چاول جوں کے توں تھے۔ جبھی سالک نے ہمدردی سے کہا۔
کوئی نہیں ٹھیک ہے وہ بالکل۔ ذرا سی بد ہضمی ہوئی ہوگی اسے۔
ایڈون نے جتنا عجلت میں صفائی دی تھی شاہزیب نے گہری نگاہ ڈالی تھئ اس پر۔
اریزہ تمہیں جانا چاہیئے تھا اسکے ساتھ۔
شاہزیب نے کہا تو وہ جز بز سی ہوگئ۔
اگلی بندی سلام کا جواب تک نہیں دے رہی وہ کہاں تک۔یکطرفہ دوستئ نبھائے
کوئی ضرورت نہیں آجائے گئ ابھی۔ تم آرام سے کھانا کھائو اریزہ
ایڈون نے کہا تو وہ جو اٹھنے کا ارادہ۔کرنے ہی۔لگی تھی ترک کردیا۔
کیوں ضرورت نہیں۔ سہیلی ہے اریزہ اسکی اتنی طبیعت خراب ہو تو اسے پوچھنا چاہیئے۔ چاہے ناراضگی ہی کیوں نہ ہو۔ شاہزیب ڈپٹنے والے انداز میں بولا تھا
کیا بحث چل پڑی ہے تم لوگوں میں۔
گوارا نے حیران ہو کر پوچھا تو اریزہ اٹھ ہی گئ
میں سنتھیا کو دیکھ آئوں۔
ایڈون سے نوالہ چبانا مشکل ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا واشروم میں بیسن میں جھکی تھی۔ اس نے دھیرے سے قریب آکر اسکی پشت سہلائی
کیا ہوا۔
سنتھیا فورا بیسن کا نل کھول کر بہانے لگی۔ کھایا پیا تو کچھ خاص تھا نہیں۔ذرا سا انار کا جوس تھا وہ بھی نکل گیا۔ اس وقت تو ناتوانی سے اسے چکر آرہے تھے۔
کچھ نہیں ٹھیک ہوں میں۔
بے نیاز کھردرا لہجہ بنانے میں بھی اسکی آواز کانپ سی گئ۔
تم یہاں کیوں آگئیں۔جائو کھانا کھائو۔
اجنبی سرد سا انداز۔ اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
اس نے اریزہ کے پاس سے ہو کر گزر جانا چاہا کہ لہرا گئ اس سے قبل کہ پورے قد سے زمین پر آگرتی اریزہ نے اسے بڑھ کر سنبھال لیا۔
تم بھی جارہی ہو سالک اور شاہزیب کے ساتھ ؟
اس نے اتنئ دیر سے ذہن میں مچلتا سوال پوچھ ڈالا۔
نہیں ۔ سنتھیا نے اپنا آپ چھڑایا۔
تمہیں کیا لگا تھا میں بھی چلی جائوں گی میں ایڈون کو اکیلا یہاں تمہارے پاس چھوڑ کر کبھی نہیں جائوں گئ۔
اسکا انداز اتنا ہتک آمیز تھا کہ اریزہ کے تن بدن میں آگ سی لگ گئ
مطلب کیا ہے تمہارا اس بات سے ؟
وہی جو تم سمجھی ہو۔
وہ کہہ کر رکی نہیں۔ تیز تیز قدم اٹھاتئ باہر نکل گئ۔
کتنا گروگئ اور تم ۔۔۔۔۔۔میری نظروں سے۔
اریزہ بلبلا کر چلائی تھی۔ اسکی آواز پر لحظہ بھر ہی سنتھیا کے قدم رکے تھے پھر متوازن چال چلتی آگے بڑھ گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنتھیا کو آتے دیکھ کر ایڈون کی جان میں جان آئی تھی۔ اس وقت اسکی طبیعت بالکل ٹھیک لگ رہی تھی۔ یہ لوگ کھانے پر انتظار کر رہے تھے ۔
چلو ایڈون چلتے ہیں اب۔
اس نے قریب آکر کھڑے کھڑے ہی ایڈون سے کہا تھا۔
ہاں چلتے ہیں کھانا تو کھا لو۔
ایڈون میزبان تھا یوں اٹھنا اسے اچھا نہ لگا۔
میں اکیلی چلی جاتی ہوں پھر۔
اسکی سچ مچ دوبارہ کھانے کی بو سے طبیعت خراب ہو رہی تھی۔ سو کہہ کر رکی نہیں۔
جائو ایڈون تم ۔۔
سالک نے اسے کہا تو وہ متذبذب سا اٹھا۔
میں پھر اپنا کارڈ دے جاتا ہوں۔ وہ اپنا والٹ نکالنے لگا۔
کیا کر رہے ہو بل کی فکر نہ کرو ہم پے کردیں گے تم جائو سنتھیا کے پاس۔
شاہزیب نے اپنایئت سے گھرکا
میری جانب سے دعوت تھئ۔ وہ ابھئ بھی متامل تھا
ابھئ سنتھیا کے پیچھے جائو اس نے کھانا بھی نہیں کھایا اسے کھلائو بھئ کچھ یہاں کی فکر نہ کرو۔
شاہزیب نے اٹھ کر زبردستی والٹ واپس رکھوا کر بھیجا اسے۔اسے خود بھی سنتھیا کی فکر ہو رہی تھی سو معزرت کرتا اسکے پیچھے لپکا۔
ویسے یہ خیال کسکا تھا بریانی لانے کا؟
سالک نے بریانی سے انصاف کرتے ہوئے یونہی پوچھا
تم لوگ کہاں کھاتے ہو کورین کھانے اسی لیئے لے آیا۔
جواب کم سن کی طرف سے آیا تھا۔
اریزہ تو بالکل بھئ کھانا نہیں کھاتی اس لیئے اسے لینے جاتے ہوئے مجھے خیال آیا۔
ہایون نے سادگی سے بتایا۔
ہاں لیکن یوں باہر سے کھانا لانے کی اجازت ہوتی ہے یہاں؟
شاہزیب نے پوچھا تو یون بن کم سن گوارا نے پہلے ہایون کی شکل دیکھی۔
آنیا۔ تینوں نے نفی میں گردن ہلائی۔۔
یہ لا سکتا ہے ۔۔ کم سن نے ہایون کو ٹہوکا دیا۔
اس نے سب کی نظریں محسوس کرکے کانوں پر ہاتھ رکھ کر سر جھکا لیا۔
کیونکہ۔ گوارا نے معنی خیزی سے کم سن کی شکل دیکھی۔ پھر تینوں نے ٹائمنگ ملائی۔۔ شاہزیب اور سالک حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
یہ ہایون کے باپ کا ہوٹل ہے۔۔
وہ کورس میں کہہ کر ٹھٹھہ مار کر ہنسے تھے۔
ہایون کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ یہ ان سب کا کورس میں جتانا ہائی اسکول کے ذمانے سے تھا۔ اب تک جتنئ مرتبہ بھی یہاں آیا تھا اس میں نوے فیصد دفعہ تو ان سب نے مل۔کر یہ تان لگائی ہی تھی۔ اور اسکا ہمیشہ یہی ردعمل ہوتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیسن پر پانی بہا کر اسے صاف کرتے اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ بے آواز کئی آنسو چہرے پر بھی پھسل آئے تھے۔
کیا گناہ ہے میرا۔ میں نے تو کبھی نہیں چاہا تھا کہ ایڈون مجھے۔۔
بڑبڑاتے ہوئے بھی اسکے الفاظ آنسوئوں میں گم ہوئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میٹھا بن اور سوڈا لا کر اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھا مگر سنتھیا یونہی کہنی میں منہ ڈھانپے سیدھی لیٹی رہی بیڈ پر۔
یہ کھڑکی تو کھول لو۔۔ اس نے آگے بڑھ کر کھڑکی کھول دی۔ دروازہ بند کرکے کرسی جو میز کے نیچے اندر گھسی ہوئی تھی کھینچ کر اسکے مقابل بیٹھ گیا۔
اب اٹھو بھی۔ تمہارا پسندیدہ بن ہے۔ جسکے اندر چاکلیٹ بھری ہوتی ہے۔
اس نے بچوں کی طرح بہلایا۔
اس نے کہنئ ہٹا کر اسکی شکل دیکھی۔ پھر بیڈ کا سہارا لیتی اٹھ بیٹھی۔
بھوک سے اسکا برا حال تھا۔سو ایڈون کے ہاتھ سے بن لیکر اس نے اس نے تیزئ سے کھانا شروع کردیا۔
ایک بن جانے کہاں گیا۔ وہ احتیاطا دو لایا تھا ۔ دوسرا بھی اسکی جانب بڑھا دیا۔
دونوں بن ختم کرکے اس نے ایک سانس میں سوڈا چڑھا لیا تھا۔
تم نے اریزہ کو بتایا اس بارے میں۔
وہ جتنی جلدی واپس آگئ تھی اسے یقین تھا کہ نہیں بتایا ہوگا پھر بھی تسلی کرنئ چاہی۔
اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
ہر گزرتا دن تمہارے لیئے مزید مشکل ہوگا۔ابارشن کے کچھ قوانین ہوتے ہیں ہمارے پاس صرف یہ آخرئ ایک ہفتہ ہے۔ اگر یہ ہفتہ گزر گیا تو ۔۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ خاصا پریشان دکھائی دیتا تھا۔ اتنے دنوں میں پہلی باراسکا لہجہ اسکے لیئے فکرمند سا لگا۔
تمہارے لیئے مجھ سے شادی کرنا اتنا بڑا مسلئہ کیوں ہے؟
ہم اکٹھے رہ سکتے ہیں ہم گھروالوں کو بتا کریہاں شادی کر۔۔۔
سنتھیا نے اسکو نرم پڑتے دیکھ کر منانا چاہا۔
پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ؟
وہ جھلا گیا۔کرسی پیچھے کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
ہم اب شادی کر بھی لیں تو والدین سے کیسے چھپائیں گے کہ یہ جھنجھٹ شادئ کے بعد ہوا ہے؟ اور کس زبان میں سمجھائوں تمہیں کہ اس بچے کا مستقبل کیا ہوگا ؟ لوگ کتنی باتیں بنائیں گے تم فیس کر سکوگئ معاشرے کو؟ یہاں ہمیں ہمارے والدین نے بھروسہ کرکےبھیجا تھا کیا جواب دیں گے ہم انکو۔
اسکے سوال نہیں پتھر تھے جو اس پر برس رہے تھے۔
۔مختصر سے گوشی وون میں ٹہلنے کی بھی جگہ نہ تھی۔ وہ بس کھڑا کھڑا پیرپٹخ سکتا تھا بس۔
ہم یہیں رہ لیں گے نہ ہمیشہ۔
اس کی آنکھیں ڈبڈبا سی گئیں کمزور سی آواز نکل پائی
کب تک یہاں چھپ کر بیٹھیں گے کبھی تو پاکستان جانا ہوگا
جوابا وہ خاصے زور سے چلایا تھا۔
ہم کچھ بھی کر لیں ہیں تو پاکستانی۔ اس معاشرے کا حصہ کیسے فیس کریں گے اپنے گھروالوں دوستوں رشتے داروں کو؟ تم اکلوتی ہو میری تو آگے ابھی دو چھوٹی بہنیں بھی ہیں انکا کیا ۔۔۔
سنتھیا کے لب نیم وا سے ہوئے۔ اسکے پاس دلائل تھے طعنے تھے اپنے حق میں وہ تقریر جھاڑ دیا کرتی تھی وہ تو چپ سہہ جانے والی لڑکی نہ تھئ۔ مگر آج اسے احساس ہوا تھا کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ؟ اس پر فردجرم عائد ہو چکی تھی۔
مختلف موقعوں پر کہے ایڈون کے جملے کانوں میں گونجے تھے جہاں پاکستان صرف مسلمانوں کا ملک تھا اس معاشرے میں قوانین اسلامی طرز کے تھے جن سے انکا کوئی تعلق نہیں تھا وہ ایک غیر مسلم اکثریتی ملک میں تھے یہاں وہ فضول رواج پابندیاں نبھانےکی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔
مگر اب سب بدل چکا تھا۔ ” ان “سے غلطی ہوئی تھی اور پاکستانی معاشرے میں غلطی کی ذمہ داری صرف “عورت “کو اٹھانئ پڑتی ہے۔سزا عورت کا مقدر ہوتی ہے۔ چاہے وہ اپنے حق میں تقریر جھاڑے چیخے چلائے یا خاموشی سے سر جھکا کر مان لے۔۔
اس نے سر جھکا لیا۔ اب سزا ہی اسکو ملنی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون ان دونوں کو ائیر پورٹ چھوڑنے آیا تھا۔ کم سن اور یون بن بھئ ہمراہ تھے۔ ان سب سے گلے ملتے تصویریں بنواتے سالک شاہزیب دونوں آبدیدہ ہو گئے تھے۔
ہم اگلی گرمیوں میں پاکستان آئیں گے پکا
یون بن نے سالک کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا تھا۔
ہاں ضرور تم لوگوں کو شمالی علاقہ جات دکھائیں گے۔ سالک بھی جوابا گرمجوشی سے بولا۔
ویسے یار پاکستان میں حالات خراب کیوں ہیں؟
کم سن نے یونہی پوچھا سالک اسکو جواب دینے لگ گیا
پھر کیا سوچا؟
شاہزیب دانستہ ایڈون کا ہاتھ تھام کے ایک۔طرف ہو گیا۔۔ شاہزیب کے اپنائیت سے پوچھنے پر ایڈون ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔
یار ابارشن ہی کروانا ہے۔ شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتا۔ مگر سنتھیا کا جانے کیا دماغ خراب ہے اتنی سی بات اسکی عقل میں نہیں گھس رہی
سارے ششکے شادی والے ہی چاہیئں مگر شادی نہیں کرنی تجھے۔ شاہزیب چڑ کر کہہ ہی گیا۔ ایڈون شاکی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
ڈر رہی ہو گی۔ وہ بھی۔ اسکا بھی تو پہلا تجربہ ہے۔ تو تو پھر مجھ سے بات کر سکتا ہے وہ تو اریزہ کو بھی سب بتا نہیں سکتی تھوڑا اسکو بھئ سمجھنے کی کوشش کرو۔
شاہزیب کو اس کی شکل دیکھ کر ترس آگیا۔ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے والے انداز میں بولا۔ ایڈون سر ہلا کر رہ گیا۔
ایک بار دوسرے حل کے بارے میں بھی سوچنا۔ جان لینا گناہ کبیرہ ہے۔ وہ ہے تو تمہارا بچہ۔ اس سے جتنا چڑ رہے ہو ۔۔
یار۔ ایڈون نے بیزاری سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔
برسوں کی شادی کے بعد منتوں مرادوں والا بچہ نہیں ہے یہ۔ یہاں یہ سب آسان لگ رہا ہے پاکستان جائوں گا نا تو یہی بچہ میرے گلے کا پھندہ بنا دیا جائے گا۔ میری دو بہنیں ہیں اتنا خود غرض ہو نہیں سکتا میں۔
شاہزیب نے گہری سانس لی۔ ایڈون رخ موڑے اب سالک وغیرہ کو دیکھ رہا تھا جن کی بحث زور و شور سے جاری تھئ۔
اور سنتھیا ؟ تیرے ان فیصلوں کو جھیلنا اسے ہے۔
شاہزیب کی بات پر وہ مڑ کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہ کرسکا۔
تجھے پتہ ہے میرے بابا ہمیشہ مجھے تیری مثال دیتے تھے۔ ایڈون جیسے بنو لائق سمجھدار ذمہ دار۔ ایڈون ایسا بیٹا ہے جس سے باپ اپنا بوجھ بانٹ سکتا ہے۔ او رمیں ہمیشہ کہتا تھا بابا وہ بے حد پرخلوص او رمحبت کرنے والا اچھا دوست بھی ہے۔
ایڈون مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔
تو واقعی لائق بھی ہے اچھا دوست بھی ہے۔ مگر تیری سمجھداری صرف تیرے اپنے معاملے تک ہے اور ذمہ دارتو تو بالکل بھی نہیں ہے۔ تو بس ایک خود غرض انسان ہے۔ تو اب بھی اپنے آپ کو بچا لے گا۔
شاہزیب کا چہرہ سپاٹ تھا۔دور کھڑے سالک پر نظر جمائے وہ بے تاثر لہجے میں بولا۔ ایڈون ساکت سا کھڑا اسے سن رہا تھا۔ شاہزیب نے گھڑی دیکھی فلائٹ کا وقت ہونے لگا تھا۔ اس نے اپنا بیگ کندھے پر درست کیا پھراسکی جانب دیکھے بنا ہی بولا
یقینا تجھے کسی مدد یا مشورے کی ضرورت نہیں ہاں البتہ پھر بھی میری دعائیں تیرے ساتھ ہیں۔۔
ایڈون کچھ کہنا چاہتا تھا مگر شاہزیب نے موقع نہ دیا اس سے گلے تک نہ لگا رخ پھیر کر سیدھا آگے بڑھ گیا۔ ایڈون سناٹے میں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔

Kesi lagi apko Salam Korea ki yeh qist ? Rate us

Rating

سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *