Descendents of Dimchies ( urdu afsana about kdrama fans in Pakistan)

Afsanay (short urdu stories)

Urdu Comic

Descendents of dimchies

2150
پاکستان کے شہر راولپنڈی سے
دادی کی طبیعت خرابی کا سن کر وہ بھاگی بھاگی آئی تھی۔ دادی بستر پر پڑی تھیں اسکے چندی آنکھوں والے چچا تایا پھپو انکے چندی آنکھوں والے بچےسب دادی کے سرہانے موجود تھے۔
بس ایک اسی کا انتظار تھا۔ اس نے آنسو روکتے ہوئے

دادی کا کپکپاتا ہاتھ تھاما۔
دادی میں چو گایون کاڈرامہ چھوڑ کر چلی آئی آپکی طبیعت کا سنتے ہی وہ بتاتے ہوئے بے اختیار روپڑی
دادی کا چہرہ پھیکا پڑ گیا۔ دادی سب بیماری بھول کر اٹھ بیٹھین تڑخ کر بولیں۔
تم اس ودیعت کردہ انعام کو کیسے سنبھالوگی اگر اسی طرح کے ڈرامے پر دادی یا دیگر رشتے داروں کو
ترجیح دوگی؟
ہم پاکستانی ہونے کے باوجود چندی آنکھوں والے کیسے بنے؟ جانتی ہو؟ساری ساری رات تمہارے بڑوں نے پورا پورا سیزن ختم کیا ہے۔ دن میں کوئی اور سیریز ختم کرتے تھے رات کو کوئی اور۔ کورین کے چار لفظ سیکھے تھے مگر ہمیشہ ڈرنے پر ہائے اوئی کرنے کی بجائے کم چاگیا کہا، چڑنے پر ہائش، کتنا کمینہ کہنے کی بجائے کہہ سیکی کہہ کر دل کی آگ ٹھنڈی کی اور تو اور نہ ، نا، نہیں کہنے کی بجائے آنیا ، آنی کہنے کی عادت ڈالی تب جا کر ہمارے اطوار اور ہمارے نقوش کورین ہونا شروع ہوئے اور اب ہماری پوری نسل پاکستانی کورین کہلاتی ہے جو رہتے تو پاکستان میں ہیں مگر آج تک کوئی پاکستانی انڈین ڈرامہ نہ دیکھا۔ جنکی آنکھیں تو بڑی ہوتی ہیں مگر کے ڈرمہ دیکھ دیکھ کر آدھی بند ہو کر چندی ہو جاتی ہیں۔اور تم ہماری نسلوں میں تم جیسی لڑکی پیدا نہ ہوئی جسے مرتی ہوئی دادی کے ڈرامہ سے ذیادہ پیاری ہو۔ مجھے خوف ہے تم سے کے ڈرامہ پرستار ہونےکا انعام چھن نہ جائے۔
دادی کا جلال دیکھ کر اسے اور تو کچھ سمجھ نہ آیا گھبرا کر ان کا ہاتھ چھوڑا بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ ڈرامہ پاز ہوا وا تھا۔ جلدی سے کانوں میں ہینڈزفری لگائی اور ڈرامہ پلے کرکے دیکھنے لگی۔ پورا سیزن ختم کیا ۔ ایک اور سیریز شروع کردی۔ وہ ختم کی پھر ایک اور۔۔۔ آخری قسط ختم ہونے پر اس کو ہلکی سی آواز سنائی دی اس نے آواز کا منبع جاننے کی کوشش کی اسکے کمرے کئ دروازے پر دستک ہورہی تھی۔
اس نے کانوں پر سے ہینڈزفری اتار کر پوچھا
کون ہے ؟
آہمونی ہوں آدل۔ تمہارے ہارابوجھی کہہ رہے کہ ہارامونی کے جنازے میں تو شریک ہوئی نہیں ہو کم از کم سوئم اور فاتحہ میں ہی شریک ہوجائو۔ پورے تین دن ہو رہے نا تم کمرے سے نکلی ہو ناکسی دستک کا جواب دیا۔ کیا تم کے ڈرامے میں مگن ہو؟ ۔۔
آہمونی اندازہ لگاتے ہوئے خوشی سے لرزتی ہوئی آواز میں بولیں۔
دے۔ وہ چونکی۔
آہمونی کھاجا ۔ میں آرہی ہوں۔
وہ جست لگا کر مسہری سے اتری اپنی سنگھار میز کے بڑے سے آئینے میں اپنی شکل دیکھی۔
تین دن کے پہنے پرانے مسلے ہوئے لباس ، کندھوں پر بکھرے الجھے بال، چہرا ستا ہوا آنکھیں رتجگوں کے خمار سے چندی ہو گئی تھیں۔اس نے بے یقینی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
تھائی نیئے۔ اس نے گہری سانس لی۔ اسکا سراپا مکمل کے پرستاردوشیزہ کی چھپ دکھا رہا تھا۔اس نے اپنا نسلوں سے چلتا آرہا انعام وصول لیا تھا۔ اب وہ مکمل کے پرستار تھی۔ اس نے سکھ کی سانس لی اور اپنے آپکو آئینے میں دیکھتے طمانیت سے مسکرا دی۔

Rating
https://desikimchi.com/bulbul-bollywood-movie-review-a-genuine-and-unbiased-perspective

https://desikimchi.com/maharaj-indian-movie-a-cinematic-journey-worth-taking

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *