مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی
قسط 4

مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے stress dysphoria میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔
مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی۔ اردو ویب ناول ہے stress dysphoria میں مبتلا ایک لڑکی کی کہانی جس کو معاشرے کے ابنارمل رویوں نے لڑکا بننے پر مجبور کر دیا۔ اپنے آپ سے الجھتی اپنے وجود پر سوالیہ نشان اور ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقتیں جانیئے۔۔ مجھ میں ہی ہے رنگوں کی کمی کی پہلی قسط میں۔۔

اچھا نا سوری مجھے غصہ آگیا تھا جبھی ایسے بول دیا۔ معاف کردو  

وہ بنچ پر بیٹھی تھی مزنہ کو دیکھتے ہی منہ پھیر لیا مگر مزنہ پاس آکر اسکے پاس اکڑوں بیٹھ کر گھٹنے پکڑ کر معافی مانگنے لگی۔

مزنہ عادل صرف میرا منگیتر ہی نہیں سگا تایا ذاد بھی ہے۔ میں اسکے ساتھ اپنا عروسی جوڑا ہی پسند کرنے گئ تھی کل۔ اور تم نے کیسے کہہ دیا منہ پھاڑ کر گلچھرے۔۔

اسکو واقعی دکھ پہنچا تھا اس وقت بھی آواز بھرا سی گئ۔ 

معاف کردو پلیز۔ ماہا تمہیں پتہ ہے نا میرا ایسا ہی گدھا سا ہوں میں۔ اوپر سے ہر وقت عادل عادل کرتی رہتی ہو میں تو جیلس ہوگیا ہوں اس سے ایسا لگنے لگا ہے تم اس سے مجھ سے بھی ذیادہ پیار کرنے لگی ہو۔

جزباتی سے انداز میں کہتی مزنہ اسے بہت الگ بہت مختلف سی لگی تھئ۔بچوں کی طرح شکوہ کرتی ماہا نے اسکےسر پر چپت لگا دی

احمق ۔میری واحد دوست ہو تم تمہاری جگہ وہ اسٹوپڈ عادل کبھی نہیں لے سکتا۔ 

وہ لے رہا ہے میری جگہ۔ آہستہ آہستہ  

وہ خفا سئ ہو کر اٹھ کر اسکے برابر بنچ پر آن بیٹھی۔ 

اے۔ ماہا نے اسکی تھوڑی پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا تو اسکی آنکھوں میں تیرتا پانی اسے بھی اداس کر گیا

مزنہ نے اپنی شکوہ کناں نگاہیں اسکے صبیح چہرے پر ٹکادیں

کم آن شادی کر رہی ہوں کوئی جیل تھوڑی جا رہی ہوں۔ہم تب بھی روز ملا کریں گے ایسے ہی فون کھڑکا کر بلا لیا کروں گی۔ کوئی دیور ہوتا نا میرا تو پکا تم کو ہمیشہ کے لیئے اپنے ساتھ اپنے گھر ہی رکھ لیتئ میں۔ ماہا اپنے مزاق پر خود ہی ہنسی

تم ۔ مزنہ نے لمحہ بھر سوچا پھر سامنے گرائونڈ میں کھیلتے لڑکوں پر نگاہ جما دی

تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتیں ماہا ؟ چھوڑو یہ شادی وادی کی ضرورت ہے اس ٹنٹنے کی۔ 

ماہا ہنس دی۔

اور عادل کا کیا ہوگا؟ 

اور میرا کیا ہوگا ماہا۔میں تم سے عادل سے ذیادہ محبت کرتا ہوں۔

اس نے جی کڑا کرکے کہہ ڈالا۔ماہا نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔ 

پاگل تم تم ہو وہ وہ ہے۔ تم میری جان ہو مزنہ۔ اچھا فالتو میں مجھے جزباتئ نہ کرو قسم سے رخصتی تک کے آنسو یہیں بہا دینے ہیں میں  نے۔ اپنی بھیگتی پلکیں صاف کرتی وہ مصنوعی خفگئ سے بولی تھئ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج یونیورسٹی سے واپسی پر وہ سیدھا گھر جانے کی بجائے سیلون میں گھس گئ تھئ۔ اپنا نیا ہیئر اسٹائل بدلوا کر وہ گھر آئی تھی۔ بائک پورچ میں کھڑی کرکے اس نے لائونج کا دروازہ کھولنے کو ہاتھ بڑھایا تو ادھ کھلے دروازے سے اپنا نام سنائی دیا تو فطرئ تجسس سے رک کر بات سننے لگی۔

سچ میں مجھے تو جب ڈاکٹر نے کہا کہ پتہ کریں کسی کو پسند تو نہیں کرتی جسکا اتنا صدمہ لیا ہے تو میں خود بھی پریشان ہو گئ تھی اس طرف تو ہمارا دھیان بھئ نہیں گیا تھا کہ اس دن آنٹی سے اتنی بد تمیزی کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ وہاں نہیں کہیں اور شادی کرنا چاہتی ہے

امی کسی کو بتا رہی تھیں

نہیں امی ایسا ویسا کچھ نہیں۔ ۔ مزنہ کی ایک ہی تو دوست ہے بچپن سے کتنا تو لگائو ہے اسے ماہا سے بس اسکی دوری کا خیال اسے دکھی کر گیا ہے۔ بچپناہے بس اسکا۔ ماہا کی شادی ہو جائے گی خود ہی عقل آجائے گی اسے۔ 

حفصہ نے ہنس کر تسلی دی ۔

امی مزنہ  ماہا آپی سے محب۔۔ کنزی کی زبان لڑکھڑائی

محبت کرتی ہے۔اس دن جب بخار میں میں مزنہ کے ساتھ سوئی تھی تو وہ بار بار ماہا کا نام لے رہی تھی اور کہہ رہی تھی۔ 

کنزی جانے کیا بتانے لگی تھی اس  نے جھٹکے پورا دروازہ کھولا اور اندر آگئ

آگئیں تم ہم تمہارا۔۔۔ 

اسے دیکھتے ہوئئ حفصہ خوشگوار انداز میں کہنے لگی تھی کہ اسے دیکھ کر حیرت کے مارے چپ ہی ہوگئ۔امی اور کنزی بھی حیرانگی سے اسے دیکھنے لگیں

کیسا لگ رہا ہوں یہ ہیئر اسٹائل سوٹ کر رہا ہے مجھے۔ 

اپنے تازہ کٹنگ ہوئے بالوں پرہاتھ پھیر کر وہ مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔

جدید مردانہ ہیئر اسٹائل بنوا کر اس نے درمیان میں خوب گھنا پف رکھوا کر دونوں جانب کنپٹیوں سے مشین پھروا لی تھی۔ یہ مردانہ کٹنگ اس پر جچ رہی تھی کیونکہ وہ اس وقت لڑکا ہی لگ رہی تھی بلیک اپر بلیک جینز میں دبلا سراپا مردانہ چال ڈھال اگر کوئی اسے پہلی بار دیکھتا تو لڑکا ہی سمجھتا۔۔۔۔۔

یہ یہ کیا کیا تم نے؟ امی نے سکتے سے باہر آتے ہی اسے آڑے ہاتھوں لیا

تمہیں امی نے اپنی قسم دی تھی کہ تم بال نہیں کٹوائوگی

کنزی نے یاد کرایا

ہاں مگر قسم وسم پر میرا کوئی یقین نہیں۔امی قسم واپس لے لیں اپنی۔

وہ آرام سے کہتی اپنے کمرے کی جانب مڑی

ایک منٹ تم کب سے اتنی خود مختار اور خود سر ہوگئ ہو؟ میرے کہے کی کوئی اہمیت نہیں ہے تمہاری نظر میں کیوں بال۔کٹوائے ہیں تم نے؟ بولو 

امی غضب سے کانپ اٹھیں

اسکا سادا سا جواب ہے میری مرضی۔ 

اس نے بدتمیزئ سے جواب دے کر کندھے اچکائے

مزنہ تمہاری بدتمیزیاں خود سری ہم نے برداشت کیں کیونکہ تم بیمار تھیں مگر تم ناجائز فائدہ مت اٹھائو ہماری نرمی کا۔بہت ہوگیا اپنی حد میں آجائو واپس 

حفصہ غرائی۔ 

بیمار تھا۔ آپ لوگوں کو کتنی بار سمجھائوں میں لڑکی نہیں ہوں مجھے لڑکی سمجھنا چھوڑ دیں۔عجیب بے وقوفی ہے کہ۔۔ 

وہ بول رہی تھی مگر حفصہ کا تھپڑ اسے خاموش کراگیا۔ 

کیا بکواس کر رہی ہو بولو؟ لڑکی نہیں ہو تو کیا ہو تم؟ لڑکا تو پیدا نہیں ہوئیں تھیں تم ؟ آئندہ میرے سامنے ایسی بکواس کی تو زبان کھینچ لوں گئ میں سمجھیں تم

حفصہ طیش کے عالم انگلی اٹھا کر اسے دھمکی دے رہی تھی۔امی حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھ رہی تھیں اور کنزی اسکی نظریں 

اس نے گہری سانس لیکرخود کو پرسکون کیا

اسکے اطمینان نے حفصہ کو ٹھٹکا سا دیا

اگر آپکو ایسا سمجھ کے اطمینان ملتا تو ٹھیک ہےآپ مجھے لڑکی سمجھ لیں مگر مجھے اپنے آپکو لڑکا سمجھ کر سکون ملتا ہے ۔۔۔ اس نے لحظہ بھر کا توقف لیا اور ان سب پر طائرانہ نگاہ ڈال کر استہزائیہ انداز میں بولی 

مجھے میرا سکون آپکے سکون سے ذیادہ عزیز ہے مجھے۔ 

وہ کہہ کر رکی نہیں اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر دھاڑ سے بند کرتے ہوئے ان سب کو بھی جیسے بھاڑ میں جھونک دیا تھا۔وہ تینوں ششدر سی کھڑی دیکھتی رہ گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح امی شائد ناراضگی کے اظہارکے طور پر نہ اٹھیں اور کنزی نے بھی چھٹی کرلی۔ وہ خود ہی تیارہو کر نیا ٹرائوزر شرٹ پہن کر تیار ہو کر گھر لاک کرتی یونیورسٹی کیلئے نکل گئ۔ 

وہ اور عادل ڈیپارٹمنٹ کی بیک پر مخصوص سیڑھیوں پر بیٹھے تھے۔آج موسم بہت خوبصورت ہو رہا تھا بادل آ جا رہے تھے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی

لگتا ہے آس پاس کہیں بارش ہوئی ہے۔ 

عادل نے موسم کی ٹھنڈک گہری سانس لیکر خود میں سموتے ہوئے خیال ظاہر کیا۔

یہاں بھی ہوگی دیکھنا گھٹا برسنے والی لگتی ہے۔ماہا کو یقین تھا

ایسے موسم میں تو پکوڑے بنتے ہیں۔عادل نے کہا تو وہ ناک چڑھا کر بولی

نہیں بھئ۔کوئی چکنی تلی ہوئی چیز نہیں کھانے والی میں ۔ فورا دانہ نکل آتا ہے اب شادی تک اسکن خراب ہونا میں افورڈ نہیں کر سکتی۔ 

کچھ نہیں ہوتا دو مہینے پڑے ہیں آج نکل بھی آیا تو تب تک ٹھیک۔ہو جائے گا

عادل کا شائد زوروں سے دل کیا تھا پکوڑے کھانے کا سو ہاتھ جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔

میرے لیئے مت لانا اپنے لیئے لے آئو۔

ماہا نے حفظ ماتقدم کے طور پر کہا مگر عادل جانتا تھا اسکی سب فکر وکر پکوڑے سامنے آنے سے پہلے تک کی ہے پکوڑے دیکھ کر سب بھول جانا ہے اس نے سو کان پر سے مکھی اڑاتا پکوڑے لینے چل دیا۔ 

آج سر سلمان نہیں آئے تھے سو پہلا پیریڈ فری تھا وہ یونہی  پیر جھلاتے ادھر ادھر نگاہ دوڑا رہی تھی جب کسی پیچھے سے آکر اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ 

مزنہ۔ وہ فورا پہچان گئ

کیسے پہچانا۔مزنہ نے ہاتھ پیچھے کر لیئے ماہا نے گردن گھماکر اسے دیکھنے کی بجائے بے نیازی سے کندھے اچکائے

تمہارے علاوہ بس عادل ہی یہ حرکت کرسکتا ہے وہ میرے سامنے کینٹین کی طرف گیا ہے۔ 

اسکی  وضاحت نے تھوڑا سا مزنہ کو مایوس کیا۔ 

پھر سنبھل کر سیڑھیاں اتر کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی

ماہا نے مسکرا کر اسکی جانب رخ کیا تو حیران سی رہ گئ۔ مسکراہٹ مدھم ہوئی پھر غائب ہی ہوگئ۔

کیسا لگ رہا ہوں میں۔ 

اس نے قصدا پف میں ہاتھ پھیر کر ایک انداز سے اسکی جانب دیکھا۔ گرے فیڈڈ جینز جاگرز میں گرے اور وائٹ اپر میں ملبوس بوائے کٹ بال دراز قد وہ خوبصورت نہیں وجیہہ لگ رہی تھی

یہ کیا کیا تم نے؟ اتنے لمبے اتنی مشکل سے ہوئے تھے تمہارےبال سب کٹوا دیئے

وہ بری طرح بھونچکا رہ گئ تھی۔ اٹھ کر اسکے قریب آکر یقین کیا تو اسے سچ مچ دکھ ہوا

کیا ہوا اچھا نہیں لگ رہا ؟ عادل سے ذیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں نا میں۔

اس نے مان سے پوچھا جوابا وہ سختی سے نفی میں سر ہلا گئ

ایکدم ذہر لگ رہی ہو تم ۔ اف تم میری واحد سہیلی ہو شادی تک تو تمہارے بال انچ انچ بھئ بمشکل آئیں گے اور تم کیا لگو گی شادی میں بھلا اف۔ میں نے تو کیا کیا پلان کیا تھا تم اکلوتئ سالی بنتی عادل کی اور

ماہا دکھ سے کہے جا رہی تھی کہ مزنہ نے بےزاری سے ٹوک دیا

فارگاڈ سیک۔ بند کرو یہ عادل نامہ۔ تم نے کہا تھا نا اگر میں لڑکا ہوتی تو کبھی عادل ہمارے بیچ میں نہ آتا تم مجھ سے شادی کرتیں۔ لو اب دیکھو مجھے میں۔۔۔۔۔۔

کیا بکواس کر رہی ہو۔ ماہا اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔ 

بکواس نہیں سچ ہے یہ۔ ۔ وہ جیسے تھک کر بولی

آئی لو یو ماہا۔بہت پیار کرتا ہوں میں تم سے۔ تمہارے بنا نہیں رہ سکتا اور میں یہ بھی جانتا ہوں تم بھی پیار کرتی ہو مجھ سے کل کہہ ۔۔۔ وہ جانے کیا کہے جا رہی تھی ماہانے زور دار تھپڑ اسکے منہ پر دے مارا

پاگل ہوگئ ہو تم ہوش کھو بیٹھئ ہو کیا۔۔کیسی باتیں کر رہی ہو تم ۔ 

وہ غصے کے مارےپاگل ہونے کو تھی

ماہا پاگل نہیں ہوں میں۔بہت سوچا ہے میں نے میں بچپن سے تمہارے سوا کسی کو اپنا نہیں مانا ہے۔ میں تم سے

وہ گڑگڑا رہی تھی

باس۔ایک۔لفظ اور نہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم اتنا گر جائو گی۔ میں تو بہن۔

بولتے بولتے اسکی نگاہ مزنہ کے پیچھے  پکوڑے کی پلیٹ تھامے ششدر کھڑے عادل پرپڑی توچہرہ چھپاتی ڈیپارٹمنٹ کی جانب بھاگ گئ

رکو ماہا۔ مزنہ نے پکارنا چاہا مگر وہ رکی نہیں کسی احساس کے تحت مڑ کر دیکھا تو عادل کوخود کو گھورتا پایا۔ اسکی نگاہیں۔ اسکی نگاہوں میں اتنے تاثرات تھے کہ وہ ٹک کر گھور بھی نہ سکی 

شٹ۔ اس نے منہ پھیر کر خود کو کوس ڈالا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہا اسی دن سے میں ڈرتا تھا اور سمجھاتا تھا تمہیں۔

وہ ماہا کو لیکر پارک میں آیا تھا۔وہ بنچ پر بیٹھی زار و قطار روئےچلی جا رہی تھی۔ 

وہ مزاق کر رہی ہوگی۔ میں چلی آئی یقینا وہ مجھے بتاتی کہ اس نے میرے ساتھ پرینک کیا ہے میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔۔ وہ میری بچپن کی دوست ہے

وہ احساس جرم کا شکار ہو رہی تھی اسکی بات پر عادل سر پیٹ کر رہ گیا

وہ خود کو تمہارا بچپن کا  دوست سمجھتئ ہے سہیلی نہیں۔ ماہا۔تمہیں  ابھئ بھئ سمجھ نہیں آیا اسکا مسلئہ؟ وہ لڑکی نفسیاتی ہے۔ خود کو لڑکی نہیں سمجھتی۔بارہا یہ بات میں نے تم کو سمجھانئ چاہی ہے وہ مجھ سے مقابلہ بازی کرتی ہے۔اسکا اٹھنا بیٹھنا تمہیں دیکھنا تمہارے گلے لگنا سب۔۔ ۔۔تمہیں احساس ہی نہیں ہوتا تھا مگر وہ

بس۔ماہا نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیئے۔ 

بس کرو ایسا کچھ نہیں ہے ایسا کچھ نہیں ہوسکتا۔ سب جھوٹ ہے۔

وہ اور بلک بلک کر رونے لگی تو عادل کا دل پسیج گیا

اچھا روئو نہیں۔ جو ہوگیا سو ہوگیا اب اس سے کنارہ کش ہو جائو اسی میں بہتری ہے تمہاری بھی اسکی بھی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتنا ہی وقت وہ اسی  پارک میں کھڑی ان دونوں کو دیکھتئ رہی تھئ۔عادل نے کتنے استحقاق سے اسکا ہاتھ تھاما اسے چپ کرایا جب بوندا باندی شروع ہونے لگی تو وہ دونوں اٹھ کر وہاں سے چلے گئے ساتھ شائد اسکے وجود کا ایک حصہ بھی لے گئے۔بے حس و حرکت کھڑے اسے جانے کتنی دیر گزری کہ چھما چھم بارش اس پر برستی چلی گئ۔ 

سنو اوئے پاگل ہے کیا کیوں بھیگ رہا ہے؟ 

پارک کے سیکیورٹی گارڈ نے اپنے کیبن سے باہر جھانکا تو ملگجے ہوتے اندھیرے میں کھڑے اس لڑکے پر نظر پڑی تو آواز لگائے بنا نہ رہ سکا۔

اس لڑکے نے ذرا سا چونک کر اسکی جانب دیکھا تھا۔ گارڈ سٹپٹا سا گیا۔ وہ بھیگتا وجود اسے مخمصے میں مبتلا کر گیا تھا۔ 

وہ لٹے پٹے مسافر کی طرح ڈولتے قدموں سے پارک سے باہر آئی تھی۔ برستی بارش میں بائک کئی بار ڈولی تھی۔ ہر بار اسے اپنی پشت پر اپنے دائیں جانب سے اپنے بائیں جانب سے آواز سنائی دی تھی۔ 

الفاظ تھے کہ تیر تھے جو اسکی سماعتوں میں گھستے تھے روح تک چھلنی کرتے جاتے تھے۔ 

گھر کے احاطے میں گیراج میں امی تسبیح لیئے اسکی سلامتی کی دعا مانگتی ٹہل رہی تھیں۔اسے دیکھ کر تڑپ کر پاس آئیں۔

اف ابھی تو بخار سے اٹھی ہو اتنا بھیگ گئیں چلو اندر فورا کپڑے بدلو۔ میں سوپ بنواتئ ہوں۔

جامد تاثرات میکانکی انداز میں وہ انکے سہارے کےساتھ کسی زندہ لاش کی طرح چلتی آئی تھی۔ 

اسکے کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے انہوں نے پکار کر کنزی کو چائے بنانے کو کہا تھا۔

وہ بھیگے وجود کے ساتھ بیڈ پر آن بیٹھئ۔ اسکے لیئے نئے کپڑے الماری سے  نکالتے ہوئے امی نے اسے بیڈ پر بیٹھنے سے روکا تھا ٹوکا تھا

کنزی کمرے میں چلی آئی۔تھی

اف یہ اتنا کیسے بھیگ گئ کہیں رک کر بارش کا انتظار کرلیا ہوتا مزنہ۔ 

تم پاگل ہو گئ ہو۔ 

حفصہ نے اسکے منہ پر تھپڑ مارا تھا۔

کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھئ ہو مزنہ

کنزی بے قراری سےپکار رہی تھی 

تم پاگل ہو گئی ہو کیا ۔۔

امی اسکے منہ پر تھپڑ مار رہی تھیں۔ 

کیا ہوا مزنہ۔امی اسکا کندھاہلارہی تھیں

اس نے اپنی سپید ہوتی ہتھیلیاں نگاہوں کے سامنے پھیلائیں

نازک نرم پتلی پتلی انگلیاں۔اس کو تھامتی  ایک نرم سی گلابی ہتھیلی۔۔ 

عادل کے مضبوط ہاتھوں میں سماتی وہ نازک سی ہتھیلی

تم پاگل ہوگئ ہو کیا۔ 

وہی نازک ہاتھ اسکے گال پر آجما تھا۔غصے افسوس سے گھورتی ماہا۔

میں پاگل ہو گئی ہوں۔ 

اس نے بے چینی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے۔ اس پر ایک جنون اور وحشت سی طاری ہوئی تھئ

کیا ہوا مزنہ۔ 

امی اور کنزی کے اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں اا نے دیوانگی کے عالم میں انکے ہاتھ خود پر سے نوچ نوچ کر ہٹائے تھے

یہ میں نہیں ہوں۔ نہیں ہوں میں یہ۔ 

حلق کے بل چلاتئ وہ خود کو بری طرح نوچ کھسوٹ رہی تھی۔اپنے چہرےپر اس نے خراشیں ڈال لی تھیں۔ دیوانہ وار خود کوطمانچے لگائےتھے حلق کے بل چلاتے غراتے وہ بس ایک ہی بات بار بار دہرا رہی تھی 

یہ نہیں ہوں میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزنہ کو شدید نروس بریک ڈائون ہوا تھا۔وجہ کیا تھی۔عامر اور خالہ کے سامنے بہانے بنا بنا کر وہ پاگل ہو چلی تھی۔ کنزی کا رو رو کے برا حال تھا تو امی مصلے سے اٹھتی ہی نہ تھیں جانے کون کون سے وظیفے  شروع کر دیئے تھے۔ 

مزنہ کو تین چار دن بعد ہوش آیا تھا۔اسکے بعد ایک۔جامد چپ اسکے وجود پر آن ٹھہری تھی۔۔ ایک ہفتے کے بعد ڈاکٹرز نے انہیں اسے گھر لے جانے کی اجازت دی تھی۔۔ 

گھر آکر بھی وہ خاموش چپ چاپ تھی۔ کسی معمول کی طرح کھانا کھانے کو کہو تو کھا لیتی نہ کہو تو باتھ روم تک جانے نہ اٹھتی۔ 

ہمیں کچھ نہیں پتہ۔ اس دن بارش میں بری طرح بھیگ گئ تھی گھر آکر ایسے ہی خاموش تھی پھر اچانک جیسےاس پر کوئی جنون سوار ہوا اس نے مجھے امی کو دھکے دیئے پھر خود کو مارنے لگی۔ 

اسکے ہر طرح سے کریدنے پر کنزی بس اتنا ہی بتا پائی بتاتےبتاتےبھی رو پڑی۔ اسے بمشکل چپ کرا کر وہ امی کے پاس چلی آئی۔ کئی نفل پڑھنے کے بعد وہ پھر نیت باندھنے کی تیاری میں تھیں تو اس نے روک دیا

امی ڈاکٹر کہتے ہیں ذہنی دبائو ہے اس پر۔ اگر کوئی مسلئہ ہے تو دوا دے رہے ہیں خیال رکھ رہے ہیں کچھ تو بہتری آئے اس میں اتنی چپ رہتی ہے کہ ہول آتا ہے دیکھ کر اسے۔۔۔

حفصہ کہہ تو رہی تھی مگر کیا وہ خود نہیں دیکھ رہی تھیں مزنہ کو۔انکی آنکھیں برس اٹھیں جانے کیا ہوگیا انکی اچھی بھلی بیٹی کو ۔حفصہ نے ماں کے کندھے پر تسلی بھرا ہاتھ رکھا۔۔ 

 امی کنزی بتاتی ہے گم صم سی ہوگئ تھی بارش سے آکر۔ امی ہوائی مخلوق کے وجود سے انکار نہیں پھر رات گئے بارش میں کیا پتہ کہاں سے گزر آئی ہو کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی مخلوق اس پر۔۔۔۔ 

امی نے چونک کر اسکی شکل دیکھی تو وہ سٹپٹا کر چپ سی ہوگئ

امی سعدیہ کے رشتے کیلئے خالہ تعویز لائی تھیں کسی بزرگ سے۔ ہم بھی مسلئہ بتا کر اگر تعویز لے آئیں۔دیکھیں اگر کوئی ایسا ویسا مسلئہ نہ بھی ہوا تو دعا میں تو بہت اثر ہوتا ہے کیا پتہ یوں شفا لکھی ہو مزنہ کے نصیب میں

ٹھئک ہے ئہ بھی کر دیکھتے ہیں۔امی آہ بھر کر بولیں۔ 

حفصہ نے  انکو سینے سے لگا لیا

دیکھئے گا بالکل ٹھیک ہو جائے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کنزی مزنہ کیلئے کھانا لیکر آئی تھی۔ مزنہ زمین پر بیڈ سے ٹیک لگائے سر بیڈ پر رکھے بیٹھی تھی۔اتنی ساکت کہ لمحہ بھر کو مجسمے کا گمان ہو 

مزنہ کھانا کھالو۔ کنزی نے ٹرے اسکے قریب لا کر رکھی تو اس نے سر اٹھا کر آنکھیں سکوڑ کر اسے جیسے پہچاننے کی کوشش کی۔ چند ہی دنوں میں وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کے رہ گئ تھی۔رخسار کی نمایاں ہوتی ہڈیاں پیلی رنگت آنکھوں میں ویرانی۔ اور وحشت۔وہ مزنہ کا کوئی بھیانک سایہ لگتی تھئ۔ 

مزنہ۔ کھانا کھالو۔ کنزی کی آنکھیں بھر آئیں۔ کیسی اسکی زندگی سے بھرپور بہن۔

ماہا۔۔تم ماہا ہو نا۔ اس نے اسکا کندھا ہلایا۔ 

میں کنزی ہوں مزنہ۔۔ 

کنزی نے دھڑ دھڑ کرتے دل سے اسے دیکھتے ہوئے بتایا

ماہا ۔۔ ماہا کو بلائو۔ماہا آئے گی تو میں کھائوں گا۔یہ

گمبھیر بھاری آواز۔ کنزی ڈر سئ گئ۔ یہ مزنہ کی آواز تو نہ تھی۔۔ 

ماہا۔چاہیئے مجھے۔ماہاکو بلائو ورنہ ۔۔ اس نے وحشت ذدہ سے انداز میں ٹرے اٹھا لی۔ 

میں یہ کھانا تم پر الٹ دوں گا ۔اس نے کنزی کی جانب رخ کیا تو ڈر کر ایکدم بھاگ کھڑئ ہوئی

امی۔۔آپی۔ 

اسکی بےتابانہ چیخوں پر دونوں بھاگی آئیں وہ آپی سے لگ کر رو دی۔۔ 

بلائو ماہاکو۔ ورنہ تم سب کو کھا جائوں گا میں۔ 

ٹرےتھامے وہ انکے سامنے آکھڑی ہوئی۔ اسکی نگاہوں میں دیکھتے حفصہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹیں دوڑتی محسوس  ہوئی تھیں۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بیڈ پر اپنے سل کر آئے جوڑے پھیلائےتنقیدی نگاہوں سے جائزہ لے رہی تھی۔ امی اسکے ساتھ ہی کپڑے تہہ کروا رہی تھیں۔

شادی میں چند دن ہی رہ گئے لے دے کے ایک ہی سہیلا ہے تمہارا۔

امی نے ہنس کر کہاتھا وہ ہونٹ بھینچ گئ

وہ بھی نہیں آئی ابھی تک۔ کب آئے گی مزنہ۔ کتنے کام نمٹا دیتی تھی وہ تمہارے اب تمہارے فیورٹ پارلر کی بکنگ کروانے بھی تمہیں خود جانا پڑا۔ 

اسکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے امی۔اس نے بہانہ بنایا۔

اچھا۔امی حیران ہوئیں

تو پھر اس سے مل ہی آئو ذیادہ طبیعت تو خراب نہیں اسکی۔ چھوٹی موٹی بیماری کو تو وہ خاطر میں نہیں لاتی۔ یاد ہے خود ایک سو تین بخار تھا اور تمہاری عیادت کو آئی تھی۔تم نے دو چھینکیں مار کر بستر سے اٹھنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ

پرانی یادیں جانے کیوں امی کو یاد آئے چلی جارہی تھیں۔ کپڑے تہہ کرتے وہ بولے گئیں۔۔ تبھی اسکا موبائل گنگنا اٹھا۔بیڈ پر چمکتی اسکرین۔مزنہ کالنگ۔ امی کی نظر پڑ گئ  تو فون اٹھاکر اسے تھماتے ہوئےبولیں۔

لو ماشا اللہ لمبی عمر ہے تمہاری دوست کی میری جانب سے بھی پوچھنا اسے کہنا یاد کررہی ہوں میں اپنے ماہی منڈے کو۔

جی۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے فون تھام لیا۔

ہیلو۔ 

ہیلو بیٹا ماہا۔ میں مزنہ کی امی بول رہی ہوں۔۔ 

جی آنٹی خیریت۔حیرانی کے عالم میں بس اسکے منہ سے اتنا ہی نکل سکا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عادل ہی اسے مزنہ کے گھرچھوڑنے آیا تھا

میں پھر کہوں گا تم غلطی کر رہی ہو۔۔ تمہیں اب اس سے ہر تعلق ختم کرلینا چاہیئے۔۔ 

گھر کے سامنے گاڑی روکنے تک عادل نصیحت کر نے سے باز نہ آیا۔ تو وہ جھلا گئ

مجھے بھی پتہ ہے مگر میں یہاں آنٹی کے بلانے پر آئی ہوں۔ آنٹی سے امی کے بھی تعلقات ہیں یوں بے مروتی سے انکار نہیں کر سکتی تھی میں۔۔

اسکے چڑنے پر عادل پھر نہ بولا

وہ جھجکتے ہوئے لائونج میں داخل ہوئی تو حفصہ آنٹی کنزی تینوں متوحش سی بیٹھی نظر آئیں۔

کیا ہوا آنٹی۔ وہ سیدھی انکے پاس ہی چلی آئی۔ صفیہ تو اسکی شکل دیکھ کر رونے لگیں حفصہ نے ہی اسے ساری بات بتائی

تم بس اس سے ملو پوچھو آخر مسلئہ کیا ہے کیا بات ہے جو اسے اتنا پریشان کر رہی ہےہماری شکل دیکھ کر چیختی ہے اور کہتی ہے ماہا کو بلائو۔ 

حفصہ کے کہنے پر وہ جز بز سی ہو کر پہلو بدل گئ

مجھے تو لگتا یے کوئی سایہ ہوگیا ہے ۔ ہم یہ تعویز لائے ہیں۔ اسکو مزنہ کے تکیئے کے نیچے رکھنا ہے بس مگر ہم میں سے کسی کو وہ اندر بھی نہیں آنے دے رہی ہے۔

کیوں؟ ۔۔ ماہا کا سوال جائز تھا۔مگر اسکی دیوانگی والی حالت کا ذکر حفصہ نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔اس وقت بھئ بات ٹال گئ۔ 

تعویز اسکے ہاتھ میں تھما کر منت بھرے انداز میں بولی

پلیز ماہا بس یہ تعویز کسی طرح اس تک پہنچ جائے بس 

ماہا سر ہلا کر رہ گئ۔

حفصہ کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئی تو مزنہ دیوار سے سر ٹکائے زمین میں بیٹھی خلائوں میں گھور رہی تھی۔ اسکا دل تڑپ سا گیا۔ دھیرے سے پکارا

مزنہ۔ اسکے پکارنے پر اس نے چونک کر نگاہ اسکی جانب کی۔ شناسائی کی رمق آنکھوں میں جھلکی وہ خوش ہو کر بھاگتی ہوئی اسکے پاس آگی

ماہا تم آگئیں۔ماہا۔ میں کتنی بار تمہارے گھر گیا تمہیں فون کیاتم نے نہیں اٹھایا۔

اسکو کندھوں سے تھامے وہ آنکھوں میں آنسو بھرے پوچھ رہی تھی۔ ماہا اسے دیکھ کر ششدر تھی

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نےمزنہ

ملگجا لباس استخوانی وجود وہ تو جیسے گھل کر رہ گئ تھی۔

کچھ نہیں تم آگئیں میں اب بالکل ٹھیک ہو جائوں گا

وہ اتنے بشاش لہجے میں بولی کہ ماہا اسے دیکھتی ہی رہ گئ۔

ادھر آئو۔

وہ اسکو بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگاتی بیڈ تک لائی۔

ماہا کے ذہن میں عادل کے الفاظ گونجے

اس نے جھٹکے سے خود کو چھڑایا

کیوں ایسی حرکتیں کر رہی ہو کیا ہوگیا ہے تمہیں۔ 

اسکے انداز میں خود بخود سختی در آئی

اسے پیچھے کرکے وہ اسکے بیڈ کے سرہانے آن بیٹھی

مزنہ اسکے قدموں میں آن بیٹھی

ماہا سب مجھے پاگل کہتے ہیں مگر یہاں دل کو تمہارا مجھے پاگل کہنا سب سے ذیادہ چبھا۔ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ماہا۔ چاہے دنیا کچھ بھئ کہے میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا

تمہیں عادل کے ساتھ دیکھ کر میرے جسم میں چیونٹیاں سی رینگنے لگتی ہیں۔۔ کیا محبت کرنا پاگل پن ہے ماہا؟ عادل کی محبت نظر آتئ ہے تمہیں اور میں

نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھتی اسے سچ مچ وہ پاگل ہی لگی۔تھی۔ قریب تھا کہ وہ چیخ مار کر باہر بھاگتی کنزی ٹرے میں چائے کباب لیئے چلی آئی

ماہا آپی آپ کیا یاد کریں گی آج آپکو اپنے ہاتھ کی گرم گرم چائے پلاتی ہوں۔  بہت کم لوگوں کو یہ اعزاز نصیب ہوتا ہے

آئو مزنہ کباب کھا لو۔ 

اس نے  ٹرے لا کر بیڈ پر رکھئ تو ماہا نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا۔ وہ سمجھ کر مزنہ کو سہارا دے کر اٹھانے لگی اسکی لمحہ بھر کی نظر اوجھل ہونے کا فائدہ اٹھاتے اس نے مٹھی میں دبا تعویز اسکے تکیے کے غلاف میں گھسیڑ دیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن ماہا کی نگاہوں میں اسے اپنے لیئے واضح نفرت نظر آئی تھی۔ اسکا دل اس ایک نظر کا وار نہ سہہ سکا تھا۔ ماہا کے جانے کے بعد وہ بلک بلک کر روئی تھئ۔ کچھ دیر تو امی اورکنزی نے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی پھر تھک کر اسکے حال پر چھوڑدیا روتے روتے اس نے اپنے پچھلے کئی مہینوں کا غبار نکال دیا تھا۔ڈاکٹر بھی یہی کہتے تھے اسکواندر ہی اندر کوئئ بات کھائے جا رہی ہے اسکا غبار نکل جائے تو شائد سنبھل جائے۔ روتے روتے وہ سوگئ تھی۔اگلے کئی دن پھر سوئی رہی تھی پہلےاسپتال میں پھر دوائوں کے ذریعے گھرمیں۔

اس دفعہ ڈاکٹر نے انہیں نفسیات دان سے مشورہ کرنے کا بھی مشورہ دیا تھا۔مگر صفیہ اپنی بیٹی پر پاگل پن ٹھپہ ہرگز نہیں لگوانا چاہتی تھیں۔

⁰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جتنے دن مزنہ بیمار رہی گھر کے باہر کے سب کام انہوں نے خود ہی سنبھال لیئے تھے۔اب انکو احساس ہو رہا تھا کہ بلا وجہ سب ذمہ داریاں مزنہ پر ڈال رکھی تھیں۔وہ خود بھی سب کام کر سکتی ہیں۔ کنزی انکے ساتھ اکثر بازار بھی چلی جاتی تھی۔ مزنہ تو گھر سے اب نکلنے کو بھی تیار نہ ہوتی تھی۔ یونیورسٹی میں اسکا سمسٹر فریز کروا لیا تھا یہ کام بھی کنزی کے ساتھ جا کر اسکی میڈیکل رپورٹس دکھا کر وہ خود ہی کر آئی تھیں۔وہاں جا کے انکو احساس ہوا تھا کہ مزنہ بے حد ذہین لڑکی ہے اسکا جی پی اے اسے پہلی تین میں سے ایک پوزیشن دلا رہا تھا۔ اسکا رزلٹ جان کر بے حد فخر ہوا تھا اسکی ماں ہونے پر۔بے حد خوش خوش وہ واپس آئی تھیں۔واپسی پر دونوں نے بازار کا بھی چکر لگا لیا۔ مزنہ کے لیئے بے حد خوبصورت گلابی کام والا پاجامہ کرتا لیا تھا انہوں نے۔ کنزی نے کہا بھی کہ مزنہ یہ پہننے کو تیار نہ ہوگی مگر انہوں نے بڑے مان سے کہا میں منا لوں گی اسے۔ 

حفصہ کی نند کی شادی تھی مایوں مہندی میں تو انہوں نے بہانہ بنا دیا تھا مگر شادی میں جانا ضروری تھی۔ وہ اب لوگوں کو مزید باتیں بنانے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھیں جبھی اسکے لیئے خالص لڑکیوں والا لباس لیا تھا۔ارادہ یہی تھا قسمیں دے کر ساتھ لے جانے پر راضی بھی کر لیں گی۔یوں بھی اتنے دنوں سے گھر میں تھی تھوڑی بہت آب و ہوا کی تبدیلی بھی ضروری تھی۔ 

لدی پھندی وہ سات بجے گھر پہنچی تھیں مزنہ خلاف معمول لائونج میں بیٹھی کوئی اسپورٹس چینل دیکھ رہی تھی

 انہوں نے بڑے شوق سے اسکا جوڑا نکال کر اسے دکھایا

یہ کس کے لیئے۔ اس نے بے تاثر سے انداز میں ہی پوچھا تھا

تمہارےلیئے۔ آج کیلئے تو بہانہ کردیا مگر کل تو ہم سب کو جانا ہی پڑے گا نا شادی میں۔پرانے کپڑوں میں جائوگی 

وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولیں۔

وہ خاموشی سے جوڑا ہر زاویئے سے دیکھنے لگی

کنزی کو لگا تھا بھڑک اٹھے گی مگر یقینا یہ ایک اچھی علامت تھی۔ جھٹ چٹکی بجا کر بولی

میں سب کیلئے چائے بنا کر لاتی ہوں۔ 

میرے لیئے ساتھ کچھ کھانے کو بھی لے آنا۔۔ 

لباس تہہ کرتے ہوئے مزنہ سرسری سے انداز میں بولی تھی۔امی اور کنزی نے خوشگوار حیرت سے اسے دیکھا۔دو مہینے میں پہلی بار خود سے اس نے کھانا منگوایا تھا۔ 

میں کباب تل کے لاتی ہوں۔کنزی خوشی خوشی اٹھ گئ امی نے پیار سے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سب ضرورئ ہے۔ 

کنزی نے اسے سنگھار میز کے سامنے بٹھایا ہوا تھا۔ گلابی کرتا پاجامہ میں نازک سی مزنہ بے حد مختلف اور اچھی لگ رہی تھی بس چہرے پر محسوس کی جانے والی اداسی تھی

 گہرے حلقے تھے جنہیں چھپانے کو میک اپ ضروری تھا۔

اسکے بال اب بوائے کٹ لگنے لگے تھےسو اس لباس میں مخصوص اسکی مردانہ لک نہیں آرہی تھی

بالکل۔ اتنے حلقے پڑے ہیں پیلی لگنے لگی ہو اس کی ضرورت تو ہے نا۔۔ کنزی نے نا نا کے باوجود اسکا فل میک اپ کردیا تھا۔ وہ پھر کچھ نہ بولی۔ کنزی نے میک اپ کرنے کے بعد فورا اسکی دو چار اچھی اچھی تصویریں بھی بنا لیں۔

ماہا کا فون آیا ؟۔۔ اسے جانے کیسے خیال آیا۔کنزی چپ سی رہ گئ

نہیں۔ اس نے جھوٹ بولنا مناسب نہیں سمجھامگر اسکی دل آزاری کا بھی خیال تھا سوفورا صفائی بھی دینے لگی

مصروف ہوں گئ وہ بھئ۔ چار دن بعد انکی بھی تو بارات ہے۔ کارڈ بھجوایا تھا انہوں نے ڈرائیور کے ہاتھوں۔ تم نے جانا ہو تو میں ساتھ چلوں گئ تمہارے ٹھیک ہے نا

نہیں۔ ضرورت نہیں۔ اس کے جواب پر کنزی نے حیرت سے اسے دیکھا وہ بے نیازی سے دوپٹہ اٹھارہی تھی۔۔۔ 

جلدی کرو تم لوگ۔۔ امی تیار ہو کر انہیں بلانے آئی تھیں مگر اسے دیکھ کر بات ہی بھول گئیں۔ ماشا اللہ کہہ کر اسکی پیشانی چوم لی۔ 

بہت حسین لگ رہی ہے میری بیٹی۔ انہوں نے کہا تو کنزی ٹھنک کر بولی

اور میں امی۔ 

تم بھی انہوں نے دونوں کو سینے سے لگا لیا تھا۔ مزنہ کو انکے سینے سے لگ کر جانے کیسا سکون ملا کہ اسکے چہرے پر چھائی ساری بے چینی رخصت سی ہونے لگی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی میں وہ کتنی ہی نظروں میں آئی۔کچھ نے اس تبدیلی کو سراہا تو کچھ نے تسمخر بھی اڑایا۔

جو خاندان والے ہمیشہ اسکے حلیئے پر باتیں بناتے تھے اسکی تبدیلی دیکھ کر منہ چھپا کر ہنسے بھی۔ حفصہ کی نندوں وغیرہ نے اس اونچی لمبی لڑکی کے بارے میں حفصہ سے تفصیل سے سوال کیئے۔ انہیں اب اپنے دوسرے اونچے لمبے بھائی کیلئے لڑکی کی تلاش تھی۔ حفصہ نے بے حد خوش ہوکر ماں کو یہ بات بتائی تھی۔۔

آج پیاری بھی بہت لگ رہی ہے۔امی نے نہارتی نگاہوں سے دیکھا

واقعی کوئی سایہ ہی تھا اب ماشا اللہ سے بات بھی مان رہی ہے اور کنزی سے بول بھی لیتی ہے۔

کہاں۔کنزی نے فورا کہا

اتنا خاموش ہوگئ ہے کھاتی پیتی بھی نہیں ڈھنگ سے۔۔۔

ٹھیک ہوجائے گی میں اس بار خود انہی بابا جی کے پاس جائوں گئ۔تم جو تعویز لائی تھیں واقعی پراثر تھا۔

امی نے سب خدشے جھٹک دیئے۔ 

اچھا تم جائو بہن کے پاس رہو اکیلی بیٹھی ہے ۔ انہوں نے کنزی کو اٹھادیاوہ بھی سعادتمندی سے اچھا امی کہتی مزنہ کے پاس چلی آئی۔

۔انکی۔باتوں سے بے نیاز مزنہ شدید بے چین تھی۔ لگ رہا تھا سب اسے دیکھ رہے ہیں۔وہ چپکے سے اٹھ کر باتھ روم چلی آئی۔۔ دیوار گیر آئیینے۔ وہ بیسن کے پاس چلی آئی۔ آئینہ ایک خوبصورت دوشیزہ کا روپ منعکس کر رہا تھا۔ نازک سے نین نقش میک اپ نے نکھار ڈالے تھے۔ اسکے وجود کی مخصوص سختی اور بے نیازی یوں اوجھل ہوئی تھی کہ جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ یہ تو بالکل ہی الگ روپ تھا اسکا۔ 

اس نے وحشت ذدہ سا ہو کر آئینے پر ہاتھ رکھا۔ چند لمحے خود کو دیکھتے اس پر عجیب سا خلفشار حاوی ہونے لگا۔ بے چینئ سے رگڑ رگڑ کر منہ ہاتھ دھونے لگی۔۔

یہ میں نہیں ہوں۔ 

بیت الخلا سے نکلتی اس لڑکی نے بڑی حیرت سے اسے بڑبڑاتے اور شڑاپ شڑاپ پانی اپنے چہرے پر بہاتے دیکھا تھا۔ 

آپ ٹھیک تو ہیں۔ قریب آکر اس نے نرمی سےاسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو مزنہ جیسے ہوش میں واپس آگئ ۔۔ 

ہاں۔ہاں۔میں ٹھیک ہوں۔

لرزتی ہوئی آواز اور ڈولتی چال کے ساتھ وہ باتھ روم سے باہر نکل گئ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سیدھا گھر آئی تھی۔۔۔ گیٹ پر لگا بڑا سا تالہ اس نے کنارے سے اینٹ اٹھا کر اس تالے پر مار کر تالہ توڑ دیا۔ آگے لائونج کا دروازہ بھی بند تھا۔ اس نے اس کے لاک پر بھی اینٹ مار مار کر توڑ دیا۔ دروازے پر شدید ضرب آئی تھی۔مگر اسے پروا نہیں تھی۔ 

کمرے میں آکر وہ اپنے بیڈ پر جیسے گر سی گئ۔ جانے کتنا وقت بیتا جب اسے مانوس سی آواز آئی۔ 

آنٹی ؟ کنزی ؟ مزنہ۔کوئی ہے گھر میں؟ 

اسے وہم ہوا تھا شائد۔ 

وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔

چوری تو نہیں ہوگئ کہیں گھر میں۔کسی نے دروازہ توڑ دیا ہے لگتا ہے۔ 

آواز قریب آئئ تھی۔ وہ چونک کر لائونج کی جانب بھاگئ۔

اسکا وہم نہیں تھا۔ ماہا ہی تھی۔ فون پر بات کرتی اس وقت لائونج میں ہی کھڑی تھی۔ اسکی جانب پشت تھی۔

نہیں کوئی نہیں ہے۔  اچھا میں اندر نہیں جا رہی واپس باہر نکل رہی ہوں ارے پریشان نہ ہو۔۔۔

ماہا۔۔۔۔۔۔۔ 

اس نے بے تابی سے پکارا۔

وہ چونک کے مڑی۔ 

مزنہ۔ اس نے بے یقینی سے کہا تھا۔ مزنہ کو پہچاننا مشکل ہوا تھا اسکے لیئے۔

ماہا تم آگئیں۔۔۔ 

آنکھوں میں آنسو بھرے حسرت سے کہتی مزنہ کو دیکھ کر اسکا دل ہل سا گیا تھا۔

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے مزنہ۔ وہ گھبرا کر اسکے پاس آئی۔چہرہ  گریبان گلا سب پانی سے بھیگا ہوا تھا۔ 

عجیب لگ رہی ہوں نا۔وہ ہنسی۔ 

یہ لباس یہ دوپٹہ۔یہ میں نہیں ہوں ۔۔ ہے نا۔

اس نے اپنے گلے میں جھولتا دوپٹہ جھٹکے سے نوچ کر پھینکا

کیا ہوا ہے اور یہ پانی؟ ماہا اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو اٹھی۔۔ اسکو کندھے سے تھام کر پوچھا  پھر گھبرا کر ادھر ادھر دیکھتے آوازیں لگانے لگئ

کہاں ہیں سب ؟ آنٹی کنزی۔۔۔  

کیوں فکر مند ہو رہی ہو میرے لیئے۔ کس حیثیت سے ؟ کیا سمجھ رہی ہو مجھے۔ وہ جو میں نظر آرہا ہوں یا وہ جو میں اصل ہوں۔ 

مزنہ نے اسکو بازوئوں سے جارحانہ انداز میں جکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔

کیا بکواس کر رہی ہو۔ماہا نے خود کو اسکی گرفت سے چھڑانا چاہا۔

بکواس نہیں ہے یہ۔ اب تو میں نے جانا ہے خود کو۔وہ نہیں ہوں میں جو تم سب سمجھتے ہو۔ وہ حلق کے بل اتنی زور سے چلائی کہ ماہا کو اپنے کان کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے۔ 

اس نے جنونی انداز میں اسے چھوڑا اور بھاگ کی کچن میں گھس گئ

 ماہا کو سمجھ نہ آیا کیسے سنبھالے اسے۔

آنٹی کنزی۔۔ وہ دوسرے کمرے کا دروازہ کھول کر مدد کو پکاری

میں اس وجود اس جھوٹے وجود کا قصہ ہی تمام کرتی ہوں۔

وہ اسئ جنونی انداز میں کچن کی چھری اٹھائے نکلی تھی

کک۔ کیا کرنے لگی ہو۔ ماہا کی جان ہی نکل گئ

اپنا قصہ تمام۔

وہ زہر خند سے مسکرائی۔ وہ ماہا کی جانب بڑھی مگر اسکی چھری کا رخ ماہا کی جانب نہیں تھا وہ خود کشی نہیں کر رہی تھی مگر اس نے جنونی انداز میں خود پر چھریاں چلا لی تھیں۔۔ پے در پے وار۔ ۔ خون فوارے کی طرح نکلا تھا ماہا ساکت سی کھڑی اسے دیکھتئ رہ گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

سفید براق سویٹ شرٹ اور ٹرائوزر میں ملبوس وہ وجود کائوچ پر دراز اتنا نحیف و نزار لگ رہا تھا کہ جیسے کوئی ڈھانچہ کپڑے میں لپیٹ کر لٹا دیا گیا ہو۔اسکے لب ہل رہے تھے۔ مسلسل اور مستقل باتیں بے ربط سی کبھی بچپن کا قصہ۔ اسکے برابر ہی کرسی پر بیٹھی وہ ڈاکٹر بہت انہماک سے اسے سن رہی تھی۔ 

بولتے بولتے اسکی سانس پھولنے لگی تو اس نے نرمی سے اسے بولنے سے روک دیا۔

اب تھوڑی دیر آرام کرلو آدھے گھنٹے بعد جب تمہاری آنکھ کھلے گئ تو تم باہر بہت خوشگوار موڈ میں آئو گی۔ 

اسے ہدایت دیتی وہ کمرے میں چلی آئی۔۔جہاں حفصہ اور صفیہ  دونوں انتظار میں بیٹھی  اسکی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔۔

نفسیات کی اصطلاح میں آپکی بیٹی

کا شکار ہے۔ یہ مکمل طور پر نفسیاتی مسلئہ ہے۔بنیادی طور پر اس میں مبتلا انسان مسلسل ایک کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔ اسکے اندر جنگ چھڑی رہتی ۔آیا وہ اس جنس یا صنف سے تعلق رکھتا ہے جو اسکی پیدائش کے وقت اسکے جسم کو دیکھ کر متعین کی گئ ہے یا اس جنس یا صنف سے جو وہ خود کو سمجھتا ہے۔۔

اسکے رویئے اسکے لباس کے انتخاب، بول چال ، وغیرہ اس سب پر اسکے ذہن میں چلتی اس مستقل جنگ کا اثر پڑتا ہے۔

عموما بچے چار پانچ سال کی عمر سے اپنے رویئے کے ذریعے اس بے چینی اور اضطراب کا اظہار کرتے ہیں یا بلوغت کی عمر میں۔ ایسی صورت میں ہم مکمل ایک علاج کا طریقہ وضع کرتے ہیں جس میں ہارمونل ٹریٹمنٹ سے اور کائونسلنگ سے شروعات کی جاتی ہے اور پھر مریض کے مرض کی سنگینی پر منحصر ہے کہ۔ وہ بولتے بولتے رکی

کہ؟ صفیہ نے بے تابئ سے سوال کیا۔

ہم پھر ایسے مریض کو سرجری کا مشورہ دیتے ہیں۔اب تو پاکستان میں بھی ایسے بہت سے کیسز ہیں جن میں بچوں کا کامیاب آپریشن کیا گیا ہے اور وہ مکمل طور پر اپنی حسب خواہش جنس کا انتخاب کرکے مکمل اور نارمل زندگی گزار رہے ہیں

کیسی بات کر رہی ہیں آپ۔ صفیہ چیخ پڑیں

میری بیٹی ہے وہ مکمل صحتمند لڑکی پیدا ہوئی ہے وہ ایسے کیسے۔۔ انکی صدمے کے مارے آواز کپکپا گئ۔

میں نے آپکو پہلے بھی بتایا یہ مکمل طور پر نفسیاتی مسلئہ ہے۔۔ ہم بحیثیت مسلمان یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیں  بہترین صورت و صنف میں اللہ نے مکمل انسان پیدا کیا ہے۔ اگر ایک بچہ اپنے آپ سے خود نالاں ہونے لگے اوردوسری صنف میں دلچسپی لینے لگے یا اپنے رویئےسے دوسری صنف ظاہر کرنے کی کوشش کرے تو اسوقت اس بچے کو مکمل رہنمائی فراہم کرکے مدد کی جاسکتی ہے۔۔

معاف کیجئے گا آپکی بیٹی نے اپنی نسوانیت ختم کرنے کی کوشش کی ہے وہ اس وجود اور شناخت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے۔وہ یہ بات ماننے پر تیار نہیں ہے کہ اسے لڑکی بنا کر دنیا میں بھیجا گیا ہے۔

مگر ڈاکٹر صاحبہ صرف ذہنی دبائو کے باعث کیسے وہ بالکل مختلف انسان بن سکتی ہے؟

حفصہ کو بالکل سمجھ نہ آیا کہ انکی اچھی بھلی بہن کیسے خود کو لڑکا سمجھنے لگی ہے۔ ایسی بھی کیا نفسیاتی گرہ

دیکھیں نفسیاتئ مسائل میں کوئی ایک چیز ہی مکمل طور پر انسان پر اثر نہیں ڈالتی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی انسان بیٹھے بٹھائے کسی مخصوص سوچ کی آبیاری کرے اور بدل جائے عموما اسکے گرد رہنے والے افراد کے روئیے، ماحول معاشرے کا رواج رہن سہن یہ سب اسکے روئیوں پر گہرا نقش ڈال جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آٹھ سال قبل۔۔۔ 

ارے صفیہ تم۔۔ راہ چلتے انہیں مانوس آواز سنائی دی تو انہوں نے ٹھٹک کر مڑ کر دیکھا۔انکی بچپن کی سہیلی راہ چلتے ملنے پر پکار رہی تھی۔ وہ مسکرا کر پلٹیں۔ انکے ساتھ قدم بڑھاتی مزنہ بھی رک گئ۔ 

بھائی کا سن کر بہت افسوس ہوا تھا مگر انکی پوسٹنگ ہوگئ تھی تو ملنے آ نہ سکی ابھی پچھلے ہفتے آئی ہوں اس شہر میں واپس۔ 

سہیلی کے تعزیتی الفاظ انکی آنکھیں نم کر گئے 

اور یہ بیٹا ہے تمہارا؟ 

انہوں نے ماں کے ساتھ سینہ تانے محافظ بنے کھڑے اس بارہ تیرہ سالہ لڑکے کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنا چاہا

بیٹی ہے یہ میری۔

امی نے پیار سے دیکھتے تعارف کرایا۔

ہیں مگر اس نے لڑکوں جیسے کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں۔

وہ خاتون استعجاب کے مارے ٹوکے بنا نہ رہ سکیں

امی ہنس دیں۔۔ 

بس اسکو ایسے ہی لڑکوں جیسے کپڑے پہن کر پھرنے کا شوق ہے۔ میں بھی منع نہیں کرتی ابھی چھوٹی ہے بڑی ہو کے خود ہی سمجھ آجائے گی اسے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھ میں ہی ہے ۔۔۔۔ رنگوں کی کمی 

یہ زندگی اندھیروں میں گھل رہی۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کل کے نشان۔۔۔۔۔۔ آج میں جم گئے۔۔۔۔۔۔۔

میرے قدم ۔۔۔۔۔۔۔یونہی تھم گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ 

میں آج اڑوں۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹوٹے پروں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔۔۔۔۔۔

Kesi lagi kahani ? Rate us below

Rating
“>> » Home » Urdu Novels » Mujh main hi hay rangoun ki kami » Mujh may he hay rangon ki Kami – Episode 4(final Episode)

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *