Tag: korean novels in urdu

  • Desi Kimchi Episode 51

    قسط نمبر 51
    چنگدوکونگ پیلس۔۔ بڑے بڑے محرابوں والا لکڑی کے منقش دروازوں سے سجا پورے طمطراق سے سورج کی روشنی میں نہا رہا تھا۔ کاغذ کی کھڑکیاں لکڑی کی کھپچیوں کی چوکھٹیں ست رنگوں سے سجی تھیں۔ دور دور تک پھیل وسیع و عریض لان جس میں روائتی کوریائئ طبل بجاتے ایک قطار میں برابر مگر کورس میں قدم اٹھاتے وہ سرخ ہنبق میں ملبوس سپاہی مارچ کر رہے تھے۔ سپہ سالار نے ایک لال اور کالا بڑا سا جھنڈا اٹھا رکھا تھاجس پر بڑا سا ڈریگن بنا ہوا تھا۔ لوگوں کی بڑی تعداد اس روایتئ رقص اور مارچ کو دیکھنے آئی تھی۔ ہنگل میں لہک لہک کر دف بجاتی گاتئ لڑکیاں چبوترے پر بیٹھی تھیں۔ ان کے آگے ہنبق پہنے خوبصورت چندی آنکھوں والی کنیزیں مخصوص رقص پیش کررہی تھیں۔
    سج سنور کر نکلتی اس جوزن شہزادئ نے بڑے شوق سے اپنے کیمرے میں یہ منظر قید کیا۔ اور مڑ کر شہزادے کو متلاشی نگاہوں سے ڈھونڈنے لگی۔قدرے فاصلے پر اس میدان سے باہر بنئ بارہ دری میں روائتی ہنبق سے آراستہ ایک بلند قامت شہزادہ اسکی جانب پشت کیے کھڑا جھیل کو دیکھ رہا تھا۔ اسکی نگاہوں میں شناسائی کی رمق آئی۔
    وہ خوبصورت چندی آنکھوں والا شہزادہ مخملیں ہنبق پہنے ہاتھ میں ریشمی رومال سر پر روائتئ تاج سجائے خفیہ باغ کے احاطے میں بنے اس خوبصورت سے چبوترے پر کھڑا تھا۔ارد گرد چوبی دیواریں جن پر ہری بھری بیلیں لپٹ رہی تھیں۔ گہری سرخ دیواریں سبز بیلوں سے ڈھکی سامنے ہلکی سی نیلاہٹ لیئے شفاف پانی سے لبریز جھیل۔ موتیوں کی لڑیاں اسکی روائیتئ ٹوپی سے آبشار کی طرح اسکے چہرے کے گرد لہرا رہی تھیں۔
    وہ شہزادہ یقینا تنہا کھڑا کسی کا انتظار ہی کر رہا ہوگا۔
    دور دیس سے آتی اس بڑی بڑی آنکھوں والی شہزادی نے ٹھٹھک کر دیکھا۔
    شہزادہ موبائل فون کان سے لگائے سنجیدگی سے گفتگو میں مگن تھا۔
    شہزادی اپنا مخملیں ہنبق سنبھالتی اس سنگی بالکونی نما چبوترے پر جوگرز سمیت چڑھ گئ ۔
    ذرا سا قریب جا کر خاموشی سے فون بند کرنے کا انتظار کرنے لگی۔ شہزادے نے جیسے ہی فون بند کرکے اپنے ہنبق میں سے اپنی جینز ڈھونڈنے کی کوشش کی جو ہنبق کی تہوں میں چھپ سی گئ تھئ شہزادی نے ذرا سا قریب ہو کر زور دار آواز میں ہائو کرڈالا۔
    شہزادہ مگن تھا اس حملے کے لیئے تیار نہ تھا بری طرح اچھل گیا موبائل ہاتھ سے چھوٹ سا گیا پھسل کر نیچے گرا بارہ دری۔ ( ایسی ہی ہوتی ہے بارہ دری بس لکڑی کی بجائے مسلمان پکا کام کیا کرتے تھے) کی جالی سے ٹکرا کر سیدھا غڑاپ سے پانی میں۔
    شہزادی ساکت سی کھڑی پانی میں ہوتے ارتعاش اور بڑھتی ہوئی لہر کو دیکھتی رہ گئی شہزادہ مڑ چکا تھا بجائے اپنے نقصان کا اندازہ کرنے وہ اس بڑی آنکھوں والی کوریائی روائتی شہزادیوں کے لباس میں ملبوس الف کو دیکھ رہا تھا۔
    گلابی سفید خوبصورت امتزاج کے ہنبق میں ملبوس اس نے اپنے اسکارف کو سمیٹ کر گردن کے گرد لپیٹ دیا تھا۔ پرنٹڈ اسکارف اب اسکے لباس کا ہی حصہ لگ رہا تھا۔سر پر اوپر مصنوعی جوڑا ٹکوا کر اس میں مخصوص کوریائی بالوں کی لمبی سلاخ جیسی پن بھی گھسیڑ رکھی تھی۔ دور سے وہ مکمل کوریائی شہزادی ہی لگ رہی تھی۔ قریب سے اسکی آنکھیں ایک تو چونکہ بڑی بڑی تھیں اس وقت سراسیمگی سے مزید پھیل گئ تھیں اور وہ۔۔۔۔
    آئم سوری۔
    وہ سراسئیمہ سی کھڑی تھئ۔
    مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ تم اس بری طرح ڈر جائو گے۔تمہارا موبائل گر گیا پانی میں۔۔ ۔۔ الف اسے صدمے سے جما دیکھ کر جھلائی
    کیا کر رہے ہو پانی میں کودو ابھی ذیادہ دور نہیں گیا ہوگا کیا پتہ مل جائے۔ وہ مڑ کر اسکا بازو ہلانے لگی تب وہ جیسے ہوش میں آیا۔
    آہاں۔ اس نے سٹپٹا کر مڑ کر دیکھا۔
    تمہیں تیرنا آتا ہوگا جائو کود جائو نا۔
    الف کا بس نہیں تھا کہ دھکا ہی دے ڈالے پانی میں۔
    ایسے کیسے کود جائوں پتہ نہیں پانی گہرا کتنا اوپر سے یہ لباس۔ اس نے ہنبق کو جھٹکا دیا
    یہ کرائے کا ہے اسکو اصل حالت میں واپس بھی کرنا ہے۔
    اس نے یاد دلایا۔
    تو اتارو اسے فورا ۔ ابھی پانی ساکت ہےبہا نہیں ہوگا چلو۔
    الف ریلنگ پر جھک کر نیچے جھانک رہی تھی اب جھلا کر کہا تو ژیہانگ کی چندی آنکھوں میں شرارت دوڑ گئ۔
    یہیں اتار دوں کپڑے۔ وہ معصوم بنا
    نہیں جاپان جا کر اتارو۔ جلدی کرو اتنا مہنگا فون تھا تمہارا ختم ہو جائے گا۔
    الف جھلائئ
    اچھا۔ تم آنکھیں بند کرو مجھے شرم آئے گی کپڑے اتارتے ہوئے۔
    اس نے ٹھنک کر کہا تو الف رخ پھیر گئ۔
    جائو کودو۔
    آنکھیں بھئ بند کرو لڑکیوں کا کوئی بھروسہ ۔۔
    ژیہانگ نے کہا تو اس نے دونوں ہاتھ رکھ لیئے آنکھوں پر۔
    اب ٹھیک۔ اسے اسکے یوں نخرے دکھانے پر غصہ بھی آرہا تھا
    مجھے کیا پتہ تم نے آنکھیں بند کی ہیں یا اوپر سے ہاتھ رکھ لیا چپکے چپکےانگلیوں کی دراڑ میں سے دیکھو۔۔
    وہ اسے ستا رہا تھا الف جھلا کر پلٹی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر آنکھیں میچ لیں۔
    اب یقین آیا۔۔
    وہ واقعی آنکھیں میچے کھڑی۔تھی۔
    ژیہانگ نے ادھر ادھر دیکھا تین گول گول سے بڑے چکنے پتھر ایک کونےمیں سجے تھےان میں سے بھی بیل نکل رہی تھی اس نے ہلایا جلایا تو ہلنے لگے اس نے اٹھایا
    الف ابھی بھی آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی۔ اس نے قریب آکر زور سے پتھر اچھال دیا۔ پانی میں شراپ سے پتھرگرا۔ الف نے پٹ آنکھیں کھول کردیکھا۔ پانی میں خوب زور کی ہلچل۔ہوئی تھی لہریں ذرا دیر کر حرکت میں آئیں پھر پرسکون ہونے لگیں۔
    ژیہانگ۔وہ بے چین سی ہوئی۔ پانی ساکت ہو چکا تھا جیسےکبھی مرتعش ہوا ہی نہ تھا۔
    ژیہانگ۔۔ ژیہانگ۔۔ وہ بے قراری سے پکار رہی تھی۔
    ڈوب گیا کیا۔ وہ اب گھبرا اٹھی
    ژیہانگ۔ ژیہانگ ژی۔۔۔
    وہ جب بری طرح گھبرا کر پکارنے لگی تو ژیہانگ دھیرے سے اسکے کان کے پاس بولا
    جی۔فرمائیے۔
    ژیہا۔۔۔۔ وہ بوکھلا کر مڑی اسکے چہرےپر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ژیہانگ اسکے برابر کھڑا مسکرارہا تھا۔
    تم۔ اپنے بیوقوف بنائے جانے پر اسکو ایکدم سے غصہ آیا تھا۔ اور شدید غصے میں وہ پتہ ہے کیا کرتی تھی۔
    رو پڑتئ تھی۔پہلے دانت کچکچایے پھر وہ بسوری اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو بھر آئے اور اسکے اس ردعمل پر ژیہانگ کی مسکراہٹ دھیمی پڑتی چلی گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انتظامیہ کے اہلکارنے جھیل میں گھس کر موبائل نکالا تھا اور وہ آرائشی پتھر بھی۔اہلکار کو پانی سے نکلتے دیکھتے ہوئے اس نے بڑے سے سائن بورڈ کو جو اسی جگہ پر ایک کونے میں گڑا تھا پڑھا تھا۔
    چار فٹ پانی ہے بس اس جھیل میں۔

    جوزن دور میں یہاں باقائدہ قدرتی جھیل تھی۔ یہ بارہ دری یہ سارا باغ جھیل کا حصہ تھا۔ یہ بارہ دری پانی کے بیچ میں تھئ ۔ بادشاہ اپنی ملکہ کے ہمراہ وقت گزارنے یہاں کشتی میں بیٹھ کر آتے تھے۔وقت کے ساتھ سمٹتے اب ختم ہوگئ ہے ۔ اب حکومت نے وہی مناظر تازہ کرنے کیلئے یہ مصنوعی جھیل بنائی ہے۔ یہ پتھر۔
    اس اہلکار نےموبائل تھماتے ہوئے کسی ماہر گائیڈ کی طرح بلا معاوضہ تفصیلات فراہم کی تھیں۔
    دے۔ کھمسامنیدہ۔
    اس نے ٹوکنے کی نیت سے جھک کر شکریہ ادا کیا تھا۔
    اب اس پتھر کی تاریخ سننے میں بالکل دلچسپی نہیں تھی اسے اوپر سے دھیان بارہ دری کے باہر بنچ پر اس منہ پھلائے بیٹھی لڑکی کی جانب تھا۔
    دے۔اسکو ابھی آن نہ کرنا چاولوں کی بوری میں رکھ دو کل استعمال کرنا جب خشک ہو جائے۔
    مفت مشورہ حاضر تھا۔
    دے ۔اس نے سر ہلا کر جھک کر الوداع کہا
    وہ بھی جھک کر سلام کرتا چلا گیا۔
    اس نے موبائل اپنے مخملیں لباس سے پونچھا۔
    پھر آن کر لیا۔
    مہنگا ہے اور واٹر پروف بھی۔ اس نے زیر لب کہا پھر الف کے پاس چلا آیا۔
    تیز دھوپ منہ پر پڑ رہی تھی اسکے۔ وہ اسکے سامنے آکرآڑ بن کر کھڑا ہوا تو الف نے سر اٹھا کر کڑی نگاہ سے گھورا
    پہنا جوزن شہزادی کا لباس ہے اور ایٹی چیوڈمغلیہ شہزادی والا دکھا رہی ہو۔
    اس نے بظاہر منہ پھلایا۔۔۔
    اس نے منہ پھیر لیا۔
    اتنی معصوم ہوتی تھیں جوزن شہزادیاں ذرا نخرا نہیں کرتی تھیں شہزادوں سے غلطئ ہوجائے ناراض بھی نہیں ہوتی تھیں مغلیہ شہزادیوں کی طرح نہیں کہ شہزادوں سے ناک سے لکیریں نکلوا دیں۔
    وہ بن بن کر بولتا ذہر لگ رہا تھا الف کو بھنا کر بولی
    بڑا پتہ ہے مغلیہ شہزادیوں کا۔انتہائی نرم مزاج اور سیدھی سادی ہوتی تھیں۔وہ اچھا نا۔ اور یہ جوزن شہزادیاں دیکھی ہیں ہوارنگ میں اور اسکارلٹ ہارٹ میں سنگ دل بے مہر معمولی غلطیوں پر کوڑے پڑواتی تھیں کنیزوں کو یہ معصومائیں۔۔
    ہاتھ نچا نچا کر وہ کسی ماہر مقرر کی طرح بولی تھی۔ ژیہانگ نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔ ہنستے ہنستے اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا۔ الف نے خاصی حیرت سے دیکھا تھا۔ شائد پہلی بار وہ اتنا بے ساختہ ہنسا تھا۔ دل سے ایکدم۔
    ہنستے ہنستے اس نے اپنی آ نکھیں صاف کیں تووہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
    تمہیں اتنے عرصے میں پہلی بار کھل کر ہنستے دیکھا ہے میں نے۔ تم۔۔۔
    برا تو نہیں لگا میں ہنستے ہوئے؟
    بات کاٹ کےالٹا آگے سے سوال ہوا۔
    برا کیوں ہنستے ہوئے برا کون لگتا ہے بھلا۔ وہ حیران ہوئئ
    میں برا لگتا ہوں ہنستے ہوئے۔ اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا
    زندگی کو۔۔۔ اس نے لحظہ بھر وقفہ کرکے بات مکمل کی۔
    پھر اسکے برابر آن بیٹھا۔
    ایسی تو کوئی بات نہیں زندگی میں کبھی اتار چڑھائو آجاتے ہیں ایسا نہیں سوچنا چاہیئے۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے اسے کہا تھا۔
    یہ میں کھانے کیلئے لایا تھا۔۔۔۔وہ اب اسکے برابر رکھے شاپر سے چپس کے پیکٹ نکال رہا تھا۔ اس نے شاپر شائد چھوا بھی نہیں تھا۔۔ اسکی بات مکمل نظر انداز کرکے وہ چپس کا پیکٹ کھول کر چپس کھانے لگا تھا۔

    میرا بھی انہیں پہننے کا ارادہ نہیں تھا۔ اسے غصہ آیا تھا سو چڑ کر بولی۔ شاپر سے ایک چپس کا پیکٹ نکال کر کھول ہی لیا۔ یہاں پھرتے پھراتے بھوک لگ چکی تھی اسے بھی۔
    ژیہانگ ذرا سا ہنس دیا۔۔
    میں پچھلے دس سالوں میں بس دو بار ہنسا ہوں ایک اس دن جب تم ٹریننگ میں غلط فہمی کا شکارہوگئی تھیں اور ایک آج۔ ویسے تمہیں کیا لگتا میں کافئ بے شرم سا گندا سا لڑکا ہوں؟
    وہ بڑی سنجیدگی سے اسکی جانب مڑا معصوم سی شکل بنا کر بھولپن سے کہنےلگا
    ہیں۔ کہیں بھی کپڑے اتار لوں گا۔ ؟ میں باحیا لڑکا ہوں میرے گھر بھئ باپ بھائی ہیں لڑکوں کی کیا عزت ہوتی پتہ ۔ہے مجھے بھی میں تو اتنا شرمیلا ہوں کہ۔ آخخ۔
    وہ بن بن کر بول رہا تھا الف اس سے ذیادہ برداشت نہیں کر سکتی تھئ۔ اپنے چپس اسکے منہ پر نکال کر مارے اسی پر بس نہیں کیا شاپر قبضے میں کیا اس میں سے چاکلیٹ ٹافیاں ویفرز سب اٹھا اٹھا کر مارے اسکی تقریر ختم نہ ہوتی مگر جب اس نے کین نکالا تو وہ اپنے چپس اٹھا کر بھاگا تھا الف بھی اسکے پیچھے بھاگ اٹھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ای جی آ میک اپ کروا رہی تھی اوروہ اسکے انتظار میں ایک کونے میں بیٹھی موبائل ہاتھ میں لیئےابیہا کو گھور رہی تھی۔
    میرے لیئے ایک صدمہ کم ہے کہ ووکی کی بجائے میری شادی وکی سے ہو رہی ہے اوپر سے تم آئوگئ بھئ نہیں میرئ اکلوتی سہیلی میری بچپن کی دوست ۔اتنی سخت دل بے مہر بے مروت ہوسکتی ہوتم میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
    پیلے لباس میں دونوں ہاتھوں کو دائیں بائیں بیٹھی لڑکیوں کے حوالے کیئے وہ دلگیری سے کہہ رہی تھی کانوں میں بلوٹوتھ کلائی سے ٹھیک کرتی کہتی ۔ یقینا اسکی اداکاری اتنی بری تھئ کہ اسکا موبائل تھامے لائیو ویڈیو کال کرواتی اسکی بارہ سالہ کزن نے ہنسنا شروع کردیا تھا نتیجتا کیمرہ بری طرح اوپر نیچے ہونے لگا
    اوفوہ ٹک کے سیدھئ کھڑی ہوجائو ذرا ہاتھ نہ ہلے تمہارا۔
    ابیہا نے ساری اداکاری بھول بھال کے جھاڑا۔
    ہاں تو کیا کہہ رہی تھئ میں۔ اس نے آہوں کا سلسلہ وہیں سے جوڑنا چاہا۔
    تم مجھے بتا رہی تھیں کہ میں تمہاری بچپن کی اکلوتی سہیلی ہوں ۔ جو سخت دل بے مہر اور بے مروت ہے باوجود اسکے کہ پچھلے چھے مہینے سے یہ تم ہو جس نے نا کبھی یہاں سے جانے کے بعد فون پر رابطہ کیا نا کسی ای میل کا جواب دیا اور تو اور جب میں نے پاکستان میں تمہارے گھر کا پتہ کروایا اپنے کزن سے تو معلوم ہوا وہاں سے بھی دفع ہوچکی ہو تم بنا کوئی اتا پتہ دیئے ایکدم اچانک۔
    بولتے بولتے اسکے غصے میں اضافہ ہوتا گیا ساتھ ہی والیم میں بھئ۔ ایکدم اچانک تک وہ ایکدم اچانک ہی چلا اٹھی تھئ
    لپ اسٹک لگاتی میک اپ آرٹسٹ کا ہاتھ بہکا اور لپ اسٹک ای جی آ کی تھوڑی تک چلی آئی۔
    کم چا گیا۔ ای جی آ اورمیک اپ آرٹسٹ کے منہ سے نکلا
    مہندی لگاتی دونوں لڑکیاں
    ہائے اللہ کہتی الگ اچھلی تھیں ابیہا کا تو سانس ہی بند ہوگیا تھا
    آ۔آ آئی ایم سوری۔ میرا مطلب ہےچھے سونگئھیو۔
    اس نے کھسیا کر سر جھکا کر معزرت کی۔ اور دانت کچکچا کر ابیہا کو گھورا۔۔۔
    سو سورئ ۔ تمہیں نہیں پتہ یہاں کتنی بری طرح پھنس گئ تھئ۔امی نے وہ وہ دہلایا کہ بس کیا بتائوں پتہ نہیں کیا وہم ہوا ہے انجائنا کے بعد بس کہے جا رہی تھیں شادی کرو۔ میری زندگئ کا کوئی بھروسہ نہیں اب خود سوچو
    اب میں ایسے ویسے کسی سے کیسے شادی کر لیتی۔ میرا کوئی معیار ہے۔
    اس نے اترا کر کہا تھا۔ واعظہ اسکی لن ترانی پر گھور کر رہ گئی۔
    بس چھان پٹخ ۔۔ نہیں کچھ اور ہوتا۔ وہ سوچ میں پڑی۔
    ہاں چھان پھٹک کر کچھ یہ دل کو بھلے لگے۔ اس نے شرمانے کو ہاتھ سے چہرہ ڈھکنا چاہا تو دونوں بازو تھامے لڑکیاں بھنا گئیں۔
    ہم مہندی لگانا شروع کریں دوبارہ۔
    دونوں لڑکیوں نے منہ بنا کر کہا۔تو وہ کھسیا کر سر ہلانے لگی۔
    واعظہ بیزاری سے کیمرے سے دکھائی دیتی اسکی الٹی چپلوں کو دیکھ رہی تھی۔
    بچی یقینا تھک کر ہاتھ سیدھا کر چکی تھی نتیجتا آواز ابیہا کی اور تصویر اسکی چپلوں کی آرہی تھی۔
    کیا بتائوں دہلیز پکڑ لی تھی وکی کی امی نے۔
    وہ شرما رہی تھی۔
    وکی کون۔۔۔بازو پر ۔ مہندی لگاتی لڑکی چونکی۔
    اوہو۔ وسیم وقار نام ہے نا تو میں نے انکو ووکی سے وکی بنا دیا ہے اب میں انکا نام تو دھڑلے سے نہیں لے سکتی امی چپل سے ماریں گئ وہ بھی میری اپنی ہی۔ اس نے دونوں کو جواب دیا
    وسی کہو تو بات بنے وقار تو انکے ابو کا نام ہے بگاڑنے پر وہ خود نہ بگڑ جائیں۔
    اسکی کزن نے چھیڑا تو وہ گھور کر رہ گئ۔
    فی الحال تم چپل سیدھی کر لو منحوسیت ہوتی ہے الٹی پڑی ہے زمین پر۔
    واعظہ نے کہا تو وہ چونکی
    تمہیں کیسے پتہ ؟
    سامنے سوہنی کو دیکھا تو سر پیٹ لیا بڑے اہتمام سے کمر پر ہاتھ رکھے اسکی مہندی دیکھ رہی تھی دوسرا ہاتھ جس میں موبائل پکڑ رکھا تھا نیچے رخ کیا ہوا تھا
    اوفوہ تم کیا واعظہ کو میری چپلیں دکھا رہی ہو ادھر کرو موبائل۔اور میری چپل بھی سیدھی کرو۔
    اسکے ڈانٹنے پر بچی نے منہ بنایا پھر جھک کر چپل دیکھی تو چونکی۔
    آپکو کیسے پتہ لگا آپی کہ آپکی چپل الٹی ہوئی وی ہے۔ اسکی حیرانی کی انتہا نہ تھی
    الہام ہوا ہے۔وہ بھئ چڑ کر بولی۔
    اچھا سنو نا غصہ تھوکو کوشش کرو نا تمہیں کیا مسلئہ بھائی سے کہو نا اپنے مجھے نہیں پتہ اسی ہفتے پاکستان میں موجود ہو تم میری شادئ میں سمجھیں۔ باقی سب کا تو پڑھائی کا مسلئہ ہوگا تم تو ویلی ہو اتنی منتیں کیوں کروا رہی ہو میں بات کروں بھائئ سے تمہارے۔
    پاکستان جاکے ابیہا میں جیسے بجلی دوڑ گئ تھی اتنا کتر کتر بولنے کی عادت نہ تھی اسے۔ اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی تھی اسے۔ابھی بھئ غصہ بھول بھال کر پیار سے دیکھ رہی تھئ۔
    اسکی ضرورت نہیں ہے۔ بھائی اب ناروے میں ہوتے ہیں۔
    اس نے اطمینان سے جواب دیتے ہوئے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
    ہیں کب کیوں؟ اور تم کیوں نہیں گئیں؟ کیا کر رہی ہو کوریا میں؟ انکل آنٹی سب گئے ہوں گے نا ؟
    اس نے بنا پروا کیئے بازو کھینچے اور تیزی سے سوہنی سے موبائل چھینتئ کمرے سے نکل کر ٹیرس میں چلی آئی۔
    ہاں سب وہیں ہوتے ہیں آجکل۔ اس نے قصدا لاپروا انداز اپنایا
    تم کیا کر رہی ہو اپنی زندگی کے ساتھ؟ سب بھول جائو۔
    واعظہ نے بیزارئ سے موبائل کو دیکھا ابیہا بی بی واعظ شروع کر چکی تھیں
    سب ٹھیک ہوجاتاہے۔ مجھے دیکھ لو جی چھانگ ووک کی دیوانی تھی قسمت میں لکھا ہے وسیم وقار۔ نام تک میں مماثلت نہیں باقی باتوں کا کہنا کیا۔ بس ذرا سا خود کو سمجھانا بجھانا پڑا ۔ تم بھئ
    اس نے سر تھام لیا۔ پھر بیک کیمرہ آن کرکے خوب تیار ہوکر آئینے میں اپنا جائزہ لیتی ای جی کی جانب رخ کیا۔
    او بی بئ۔ میں یہاں جاب کر رہی ہوں دو سال کا کانٹریکٹ ہے وہ نظر آرہی ای جی اسکی مینجر ہوں میں۔
    اسکا سب کام میں سنبھال رہی ہوں سب چھوڑ چھاڑ کر ناروے جاتی تو پتہ ہےمجھے کانٹریکٹ توڑنے پر کتنا جرمانہ
    یہ آئی لو می ٹو والی ہے نا۔ ابیہا سب بھول بھال کر ساکت دیکھتی رہ گئ
    ہاں۔ واعظہ نے کیمرہ فرنٹ والا آن کیا
    اوہ میرے خدا تم ای جی آ کی مینیجر ہو تمہیں پتہ ہے میری کزن جو ابھی مہندی لگا رہی تھی کتنی بڑی فین ہے ای جی کی وہ دیکھتی تو خوشی سے پاگل ہو جاتی ۔
    رابی رابئ۔ وہ مڑکر پکارنے ہی لگی۔
    چلیں اب ؟ ای جی اسکے پاس چلی آئی۔
    واعظہ اپنا کیمرہ ہٹائو میرا مطلب ای جی کو دکھائو
    اسکی کزنز آچکی تھیں سو نئی فرمائش داغئ گئ
    چھے سو۔۔
    ای جی نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔
    ایک منٹ یہ کچھ آپکی پرستار ہیں پاکستانی آپکو وش کرنا چاہ رہی ہیں۔ واعظہ نے کہا تو وہ ایکدم الرٹ سی ہوگئ چہرے پر دنیا جہان کی انکساری لاد لی
    ہاں دکھائو۔
    اس نے فرنٹ کیم ای جی کی جانب کیا۔
    تین لڑکیاں ایک بچی خوب اتنی زور سے چیخی تھیں کہ واعظہ نے بے ساختہ کان سے بلوٹوتھ نکال دیا
    ای جی کچھ سمجھتے نا سمجھتے ہاتھ دکھانے لگی۔
    کیا کہہ رہی ہیں۔ ای جی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی اس سے پوچھا تو اس نے گہری سانس لیکر والیم کھول دیا
    وہاں اچھلتی ہوئی لڑکیاں اب ذرا منہ بنا کر کمر پر ہاتھ رکھ کے گھور رہی تھیں
    یہ لعنت کیوں دکھا رہی ہے ۔
    اتنا نخرا کس بات کا ہے
    ہم اتنے پیار سے وش کر رہے اور یہ ہم پر لعنت بھیج رہی ہے۔
    یہ لعنت بھیجنا تم نے سکھایا ہے نا واعظہ۔ ابیہا کو یقین تھا۔
    تینوں لڑکیوں نے تابڑ توڑ سوال کیئے تھے۔ ای جی اس سے سب کا ترجمہ کرنے کا کہہ رہی تھئ۔
    کچھ نہیں دعائیں دے رہی ہیں۔ چلو ہمیں دیر ہو رہی ہے۔
    اس نےکھسیا کر انکو گھورتے ہوئے کال ہی بند کردی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسٹوڈیو میں اتنی خاموشی تھی کہ سوئی گرے تو ٹن سے آواز آئے۔ سیہون اور ای جی اسکے سامنے بیٹھے تھے اور وہ مکمل طور پر اپنا مائک سیٹ کیئے انہیں نظر انداز کیئے خاموش بیٹھی تھئ۔
    پانچ منٹ میں شو شروع کردینا یہ جنگل ختم ہوتے ہی۔
    پروڈیوسر گنجے انکل نے دروازہ کھول کر اسے کہا تھا۔ اس۔نے بس سرہلایا۔
    واعظہ پروڈیوسر کے ساتھ کھڑی گلاس وال سے اسے ہی دیکھ رہی تھئ۔ وہ یوں خاموش بیٹھی تھی کہ جیسے زندگی بھر نہ بولے گی۔
    ای جی سیہون کے ساتھ بیٹھی خاصی پرجوش سی نظر آرہی تھی۔ سیہون بغور الف کو دیکھے جا رہا تھا۔پروگرام شروع ہونے میں بس ایک منٹ رہ گیا تھا۔ واعظہ کو فکر سی ہونے لگی۔ ای جی اسے ہاتھ ہلا کر متوجہ کر رہی تھی۔
    میرے بال میرا میک اپ ٹھیک ہے نا۔چھوٹا سا آئینہ دیکھتے ہوئے بھی اسے تسلی نہ ہورہی تھی۔
    اس نے اشارے سے ہی سب ٹھیک ہے کا کہا۔
    ہنا دول سیت۔۔۔
    پروڈیوسر نے کیو دی۔الف سر جھکائے ہی بیٹھی رہی۔
    جامد خاموشی۔۔ گھڑی کئ سوئی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔
    پروڈیوسر اسکو کئی بار کیو دے چکے تھے۔۔
    ایک دو تین۔ واعظہ نے دل میں گنتی شروع کی۔
    ہم آن ائیر ہیں یہ لڑکی بول کیوں نہیں رہی۔
    آپریٹر نے قدرے غصے سے کہا تھا۔
    آہش۔ پروڈیوسر صاحب سر کھجا رہے تھے۔
    آٹھ نو ۔۔۔ واعظہ کی گنتی یہیں تک پہنچی تھی۔ پروڈیوسر صاحب اسٹوڈیو کی جانب بڑھے ہی تھے کہ اس نے ایکدم سے رفتار تیز کی اور غڑاپ سے دروازہ کھول کر اندر گھس گئ۔
    آننیانگ ہاسے ہو۔ نیگا واعظہ ہمبندا۔
    محض چند لمحوں کے وقفے سے وہ الف کا ہیڈ گئیر اتار کر شروع ہوچکی تھی۔ الف ہکا بکا سی اسے بس دیکھ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ای جی اور سیہون کو چائے ناشتہ دیا جا رہا تھا۔ اور اسکی پیشی لگی ہوئی تھی پروڈیوسر صاحب چکور کی طرح اپنی نشست کے پاس غصے میں چکر لگا رہے تھے ہاتھ نچانچا کر چیخ رہے تھے۔ انگریزئ کیا روانی سے اگل رہے تھے۔
    ڈیڑھ سال کا لحاظ بھی نہ کیا تم نے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں کتنا کتنا دبائو آیا مجھ پر کہ اس شو کی ریٹنگ نہیں آتی اسے بند کردو مگر میں نے ہمیشہ سہا۔ کیونکہ مجھے نظر آتا تھا کہ تم اپنی پوری کوشش کرتی ہو۔ جب تک تمہارا دل کیا تم نےیہ شو دل سے کیا اب اچانک جانے کا ارادہ باندھ لیا تو بالکل بھی شو کرنے کو تیار نہ ہوئیں۔ صرف اس شو کی ریکوئسٹ کئ تھئ میں نے یہ کرلو پھر بھلے نوکری چھوڑ جانامگر تم اتنی بد لحاظ ہوسکتی ہو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔جانتی ہو یہ تیس سیکنڈ جو خاموش گئے ہیں آن ائیر جانتی ہو اس پر مجھے کتنے لوگوں کو ایکسپلینیشن دینی پڑے گئ؟
    وہ اس پر بری طرح چلا رہے تھے۔ اور اسے ان پر معمولی سا بھی غصہ نہیں آرہا تھا۔ سر جھکائے وہ خاموشی سے سن رہی تھی۔ غلطئ ہوئی تھی اس سے۔ صرف سال بھر پہلے ہی تو وہ یہ شو اکیلے کر رہی تھی بول بول کر ناک میں دم کر دیتی تھئ کتنا جوش کتنا جزبہ تھا کتنے شوق سے وہ یہ پروگرام کرتی تھی اچانک جیسے دل کچھ کرنے کو تیار ہی نہیں ہو رہا تھا۔کوئی کیو سمجھ نہ آئی بالکل خالی ذہن بیٹھی تھی کیا بولنا کیا پوچھنا کچھ یاد نہ تھا اسے کیوں؟
    وہ خاموش کھڑی اپنا محاسبہ کر رہی تھی۔
    اسے اتنا خاموشی سے سر جھکائے سنتے دیکھ کر انہیں خود ہی ترس آگیا تھا۔
    آہش۔ وہ بکتے جھکتے کرسی پر آن بیٹھے۔ فائلوں پر ہاتھ مار کر ایک کاغذ نکالا اور اس پر مہر ثبت کرنے لگے۔مہر ثبت کرکے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اسی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔ وہ کچھ نہ کچھ نرم پڑ ہی گئے ۔ اس بار بولے تو لہجے سے کڑختگی غائب تھی۔
    میں تمہارا استعفی منظور کر رہا ہوں۔ تم ٹھیک ہے بریک لینا چاہ رہی ہو مرضی ہے تمہاری۔ اصولا جو آج تم نے کیا ہے اس پر براڈ کاسٹنگ کمپنی سیدھا چھے ماہ کا بین لگاتی ہے کم از کم چھے ماہ تک کسی دوسرے نشریاتی ادارے میں بھی نوکری نہیں کر سکتیں مگر میں اس سب کی۔ذمہ داری خود لے رہا ہوں۔مجھے نہیں پتہ تمہیں اچانک کیا ہوا ہے ۔ مگر جب کبھی تمہارا دوبارہ کام۔کرنے کا ارادہ بنےتم یہاں واپس آسکتی ہو۔شرط بس اتنئ ہے کہ پہلے جتنی ہی پرجوش ہو کر واپس آئو اور دل لگا کرکام کرو۔
    اس نے چونک کر سر اٹھایا تو وہ اسکی جانب کاغذ بڑھاتے شفقت سے دیکھ رہے تھے۔
    دے۔ اس نے بمشکل مسکرا کر تھام لیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈبل صوفے ہر ای جی اور سیہون برابر میں بیٹھے تھے سامنے میز پر ناشتہ سجا تھا مگر ان دونوں نے بس فریش جوس لیا تھا۔ سیہون کا مینجر البتہ لگ رہا تھا کافی بھوکا ہو رہا ہے انکے برابر سنگل صوفے پر بیٹھا مستقل۔کھائے جا رہا تھا۔ای جی بہانے بہانے سے سیہون سے بات کررہی۔تھی۔وہ ہلکی سی مسکراہٹ سے سنے جا رہا تھا۔ الف جونہی پروڈیوسر کے کمرے سے نکلنے لگی وہ جلدی سے دروازے سے ہٹ گئ۔ تیزی سے چلتی وہ سیدھی اس کمرے میں چلی آئی جہاں ای جی اور سیہون موجود تھے۔مڑ کر دروازہ بند کرتے اس نے راہداری میں تیز قدم اٹھاتی جاتی الف کو دیکھا پھر سرجھٹک کر اندر آگئ۔ ای جی فورا متوجہ ہوئی تھئ
    مل آئیں تم پروڈیوسر صاحب سے۔ بہت شکر گزار ہوں گے؟ کہہ رہے تھے مجھے کہ اپنی مینجر کو میرے پاس بھیجو میں اسکا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہون۔ تم نے آج انکی عزت بچا لی۔ وہ لڑکی تو لگتا ہے بالکل۔نئی ہے ہنگل تک نہیں آتی تھئ اسے تو جانے شو کیسے کرتی۔ بالکل بھی بات نہیں ہو رہی تھی اس سے تو۔ لگتا ہے سفارشی ہے کوئی
    ای جی ناک چڑھا کر کہہ رہی تھی۔
    نہیں ایسی بات نہیں۔ سیہون بے ساختہ بولا
    اس سے پہلے بھی میرا انٹرویو لے چکی ہے بہت دلچسپ لڑکی ہے آج شائد طبیعت خراب ہوگی اسکی۔
    وہ تائئد چاہنے والے انداز میں اسے دیکھ رہا تھا
    وہ ذرا سا مسکرا کر انکے قریب رکھے بین بیگ کو گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔ ناشتے پر پیٹیز وغیرہ تھیں اس نے میٹھے بسکٹ اور جوس کا گلاس اٹھا لیا۔ خاصی بھوک لگ رہی تھی اسے
    آپ کی آواز بہت اچھی ہے ویسے۔ آپ کو دیکھ کر لگ نہیں رہاتھا کہ آپ پہلی دفعہ شو کر رہی ہیں۔
    سیہون براہ راست اس سے مخاطب ہوا تھا
    وہ بسکٹ ختم کرتئ چونکی۔
    جلدی سے منہ صاف کرتی سیدھی ہوئی
    دراصل پہلئ دفعہ شو کر بھی نہیں رہی تھی۔ ہائی اسکول کے زمانے میں میں آر جے ہوا کرتی تھی لیٹ ناٹ شو ود وی زی کے نام سےایک دوسرے ریڈیو چینل سے دو تین سال۔مسلسل کام کیا ہے میں نے۔ نئی نہیں ہوں نا کام نیا ہے میرے لیئے۔
    اس نےجیسے صفائی پیش کی تھی۔ سیہون اسکے انداز پر مسکرا دیا۔
    پھر چھوڑ کیوں دیا آپکو یہ کام مستقل کرنا چاہیے تھاآپکی آواز بہت اچھی ہےسننے میں۔ وہ کھل کر تعریف کر رہاتھا
    ہاں میں بھی یہی کہتی ہوں اسے ہے نا واعظہ۔
    ای جی سے اتنی دیر خود پر سے سیہون کی توجہ ہٹنا برداشت نہ ہوا تھا جھٹ بولی۔
    آپکی آواز بھی بہت اچھی ہے۔
    اس نے بات ٹال دینی چاہی۔ سیہون کی مسکراہٹ گہری ہوگئ
    اچھا؟ آپکو کونسا گانا پسند ہے ایکسو کا؟
    وہ جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا وہ گڑبڑا سی گئ
    ای جی اسے زیر لب گانے کا نام بتانے لگی۔
    وہ ۔۔ وہ جلدی جلدی ذہن کے گھوڑے دوڑانے لگی ایکسو کا کوئی گانا۔ ہاں۔ اسے یاد آیا۔
    کافی پرانا والا بہت پسند ہے مجھے شوری شوری بڑا مشہور ہوتا تھا جب ہم اسکول ۔۔ بولتے بولتے ای جی کے سر پیٹنے والے تاثرات اور سیہون کے حظ لیتے تاثرات دیکھ کر اسے اندازہ ہوا کچھ غلط بول گئ ہے۔
    وہ ایکسو کا گانا نہیں ہے۔ سپر جونئیر کا ہے۔اس نے مسکرا کر کہا تھا۔وہ سر کھجا کر رہ گئ۔
    دراصل یہ کے پاپ نہیں سنتی ذیادہ یہ اپنی مادری زبان کے گانے سنتئ ہے ایک تو مجھے بھی بہت پسند حسنے جانا بہت اچھی موسیقی ہے اسکی لگائو واعظہ وہ والا گانا ذرا۔
    ای جی نے کہا تو وہ شش و پنج میں پڑی۔ جانے پسند کریں یہ کہ نہیں پھر کچھ سوچ کر موبائل میں لگا دیا۔
    نصرت فتح علی خان کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔
    ایک کورین یوٹیوبر نے اس پر ری ایکشن دیا تھا یہ گانا میں نے بھئ سنا یے۔ سیہون چونک کر سیدھا ہو بیٹھا
    لڑکی کی بھی آواز میں ہے۔
    وہ ری مکس ہے اور سچی بات ہے اس۔گانے کی۔خوبصورتی اسکے الفاظ ہیں اور نصرت فتح کی آواز ہے۔اس ری مکس میں دونوں ہی نہیں۔ اس گانے کی ساری کشش ہی ختم ہو جاتی جب اس میں مزید شاعری ڈال دیتے وہ بھی کسی نو آموز کی۔
    اس پر وہ گھنٹوں بول سکتی تھی۔ نصرت فتح علی خان اسکے پسندیدہ ترین گلوکار تھے ان کے گانے پر طبع آزمائی چاہے انکے بھتیجے نے ہی کیوں نہ کی ہو اسے بالکل پسند نہ آئی تھی سو وہ شروع ہو چکی تھی سیہون بھی ری مکسز سے تنگ تھا دونوں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو میں لگ گئےتو ای جی نے بیزار سا ہو کر جوس کا گلاس لبوں سے لگا لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ ان دونوں کو وینز تک چھوڑنے آئی تھی۔ ای جی آ نے اب گھر جانا تھا سیدھا سیہون سے مل ملا کر وہ وین میں بیٹھتے بیٹھتے بھئ مڑ کر پیچھے دیکھ رہی تھی۔ سیہون وین میں بیٹھ گیا دروازہ بند ہوگیا تب وہ سکون سے بیٹھی اندر
    کل کا شیڈول بتا دو۔
    اسے واعظہ پر۔غصہ آرہا تھا سو گھورتے ہوئے ہی پوچھا
    کل بس شوٹ ہے نئے ڈرامے کی۔
    واعظہ کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ تھی۔مسکراہٹ روکتے ہوئے بتایا تو وہ اور خفا ہوگئ۔
    ہنسی کس بات پر آرہی ہے۔ اور کیسی مینجر ہو بجائے میری بات کروانے کے خود باتیں پٹیلنے بیٹھ گئیں۔ اتنا اچھا موقع تھا ایک دو اچھی تصویریں ہی بنا لیتیں انسٹا پر لگانے کیلئے
    اسکے دکھ ہی الگ تھے۔
    فوٹو شوٹ ہوا تو ہے اتنے اچھے اسٹلز ہیں تمہارے۔ وہ اٹکی
    آپکے اور سیہون کے اکٹھے بھئ میں لگائوں گا نا انہیں انسٹا پر
    اس نے تسلی دینی چاہی
    وہ تو رسمی ( فارمل) شوٹس ہیں۔ غیر رسمی شوٹس کروانا مینیجر کا کام ہوتا ہے ۔ ایک تو ہر بات بتانی پڑتی کیا فائدہ فارنر مینجر رکھنے کا انگریزی ہی آتی ہے بس تمہیں کام کرنا نہیں آتا۔
    وہ ٹھیک ٹھاک بگڑ گئ تھی۔ واعظہ خاموشی سے پیچھے ہو گئ۔ڈرائیور نے وین کا دروازہ بند کیا اور گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔ وہ وین کو نکلتے وہیں کھڑی دیکھتی رہی تبھی سائیڈ واک پر سنگ مر مر کی کیاری پر پھولوں کے کنج کے پاس ٹکئ بیٹھی وہ نظر آئی۔ اس نے سیدھا آگے بڑھنا چاہا جب اسے پیچھے سے کسی کے بھاگ کر آنے اور پکارنے کی آواز آئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سیہوں اپنی ٹوپی ٹھیک کرتا بھاگا آیا
    وی زئ۔ سوری آپکا نام مجھے صحیح یاد ہو سکا ابھی۔ وی زی کہہ لوں آپکو؟
    وہ معصوم سی شکل بنائے معزرت کر رہا تھا۔ اس نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
    یہ میں ایکسو کی لیٹیسٹ البم لایا تھا آپکے لیئے۔ ابھی اس وقت یہی پڑی تھئ وین میں ۔۔۔
    ایک ہاتھ میں البم پکڑے دوسرے ہاتھ سے البم والے ہاتھ کی کلائی پکڑے وہ عاجزئ سے البم اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔کوریا میں کسی کو کوئی چیز ایک ہاتھ سے پکڑانا بدتمیزی میں شمار ہوتا ہے جب بھئ کسی کو کوئی چیز دیں تو یاتو دونوں ہاتھوں سے تھام کر پکڑاتے یا ایسے کلائی تھام لیتے اپنی ہی۔اس نے بھی ذرا سا سر خم کرکے دونوں ہاتھوں سے تھام لی البم۔
    گھمسامندہ۔ اس نے شکریہ بھی سر خم کرکے کہہ ڈالا۔
    ویسے ہمارے سونگز آپکو آسانی سے مل جائیں گے یوٹیوب پر ضرور سنیئے گا خاص کر آپ ڈونٹ میس اپ مائی ٹیمپو ، کوکو بوپ ضرور سنیئے گا۔
    اس نے اتنے تاکیدی مگر بچوں والے انداز میں کہا تو وہ بے ساختہ ہنس دی اسکے یوں ہنس پڑنے پر وہ کان کھجانے لگا اسکی کان کی لو تک سرخ پڑ گئ تھئ۔
    ضرور سنوں گئ۔ اور آئیندہ کبھی ایکسو اور سپر جونیئر کو مکس بھئ نہیں کروں گی۔
    اس نے شرارت بھرے انداز میں کہا تو وہ خوشدلی سے ہنس دیا
    ایسی بات نہیں وہ بھی ہمارے ملک کا بینڈ ہے سب ہی اچھے ہیں۔۔ بی ٹی ایس بھی سب اچھا کام۔کرتے سچی بات یہ کہ ایکسول اور آرمی میں لڑائی ہو جاتی تو بھی برا لگتا ہے ہمیں ہم سب کی الگ شنا۔۔۔
    اسکی بات گھوم کر قریب آتی وین کے شور میں دب سی گئ
    سیہون ہمیں ایوینٹ کیلئے دیر ہو رہی ہے۔
    اسکے مینجر نے وین سے سر نکال کر مخصوص کوریائی درشت سے انداز میں کہا تو وہ معزرت خواہانہ انداز سے دیکھتے یوئے جھک کر سلام کرتا تقریبا بھاگ کر وین تک گیا۔ عجلت میں ہی وین میں سوار ہوا اور زن سے وین نکل۔گئ۔
    بس اس سیلیبریٹی پرزن سے ڈر لگتا تھا مجھے ورنہ ڈراموں میں کام کی بھی آفر آتی تھی مجھے اس وقت۔
    وہ ترس کھا رہی تھئ ایکسو پر سیہون پر عجیب بات تھی نا ایک ایسی لڑکی ہوکر جسکا نہ کوئی کیریئر تھا نا نام۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 50

    قسط 50
    کیوں غلط کہا کیا میں نے؟ طوبی تیز ہو کر بولی۔
    پچھلے کئی دن سے جس طرح میرے ہر قدم پر احتیاط کا مشورہ کبھی یہ کھا لو وہ پی لو کبھی آرام کر لو۔ کیا لگ رہا تھا آپکو کوئی سنگین بیماری ہوگئ ہے نا مجھے۔ مرنے والی ہوں میں تو زرا سا
    کیا بکواس کر رہی ہو۔ وہ تلملا کر پلٹے
    میں ایک تو تمہارا خیال رکھنے کی کوشش کر رہا تھا
    کیوں؟ طوبی کا انداز ہنوز تھا
    کہوں رکھ رہےہیں اتنا خیال کیا منوانا ہے مجھ سےاب ؟
    دس سالہ شادی شدہ زندگی میں دو بار ہی بس آپ اتنے مہربان ہوئے ہیں اور دونوں بار آپ نے مجھ سے کچھ ایسا منوایا ہے کہ آپکے اس انداز سے خوف آنے لگا ہے مجھے۔
    وہ جیسے پھٹ پڑی تھئ۔
    کیا کہہ رہی ہو۔ دلاور پھٹئ پھٹئ نگاہوں سے دیکھنے لگے اسے۔
    سچ کہہ رہی ہوں۔ اور صاف صاف سن لیں اب چاہے آپ میرے ساتھ مزید اچھے ہو جائیں یا مجھ سے نفرت کرنے لگ جائیں اب میں کوئی بات نہیں مانوں گی آپ کی چاہے ۔۔۔
    وہ کہتے کہتے رکی۔ پھر قصدا رخ موڑ کر صائم کو تھپکنے لگی۔
    چاہے چھوڑ دیں آپ مجھے۔
    کس دل سے اس نے یہ جملہ کہا تھا وہ جانتی تھی۔
    دلاور سناٹے میں آگئے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لسٹ پر نظریں دوڑا رہی تھی۔۔ سوپ نوڈلزوہ بھئ ایگ بیس۔ ، جاجا میان( بلیک بین نوڈلز) پورک اسٹیک تبوکی اسپائسی چکن فیٹ ، رائس کیکس ، سنگاپورین رائس چکن ، دو سب وے کے برگر ایک درجن چکن شوارما۔
    وہ گہری سانس لیکر مارکیٹ کا چکر لگا رہی تھی۔ باقی سب کے ٹھیلے دکانیں تو بھری پڑی تھیں مگر یہ ایک درجن چکن شوارما یقینا عربی فنکاروں کیلئے تھے۔ انکو وہ ایسی ویسی جگہ سے نہیں لے سکتی تھی۔ سو سب سامان لیکر اس نے ٹیکسی میں ڈالا پھر اطمینان سے ٹیکسی میں بیٹھ کر ہی اپنے پسندیدہ پاکستانی ریستوران سے آرڈر دیا۔جب وہ تمام چیزیں لیکر سیٹ پر پہنچی تب تک شوارمے نہیں پہنچے تھے۔
    اس نے کھانا لا کر سیٹ پر ایک کونے میں لگی میز کرسیوں پر رکھا اب آگے اسکا ان سب کو منہ پر پیش کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس نے دستانے پہنے ہوئے تھے پھر بھی پورک اسٹیک اٹھانے پر اسے اپنا ہاتھ گندا لگ رہا تھا۔۔۔ باتھ روم میں رگڑ رگڑ کر ہاتھ دھو کر باہر نکلی اور اسے ڈھونڈنےلگئ۔
    اور وہ تھا کہ پورے سیٹ پر نظر نہیں آرہا تھا۔ اس نے روک کر اسپاٹ بوائے کو حلیہ بتا کر پوچھنا چاہا۔ٹوٹی پھوٹی ہنگل میں۔
    کیا نام ہے؟ اس کا سوال بالکل بھی غیر منطقی نا تھا مگر فاطمہ کو غصہ آگیا
    پتہ ہوتا تو نام بتا نہ دیتی احمق۔
    خالص اردو میں بھنا کر بولتی فاطمہ کا جملہ اسکے سر پر سے گزرا تھا مگر اتنا اندازہ ضرور ہوا کہ کوئی اچھا لفظ استعمال نہیں کیا۔ سو کان دبا کے چل پڑا۔

    فاتی ماشی۔ اسسٹنٹ ڈائرکٹر صاحب یقینا کسی ماسی کو آواز دے رہے تھے وہ سر جھٹکتی آگے بڑھ کر پائوڈر رومز کی جانب جانے لگی تو دو ایک بار مزید یہی پکار سنائی دی۔ وہ تو دھیان نا دیتئ مگر جب سیٹ کی بھانت بھانت کی آوازیں دم توڑنے لگیں اور تقریبا سبھی چندی بڑی آنکھوں والے لوگ اسے گھورنے لگے تو وہ چلتے چلتے رکی۔
    فاتی ماشی۔
    اس بار پکارنے والا چلا اٹھا تھا وہ چونک کے مڑی تو اسسٹنٹ ڈائرکٹر اسکے ہمراہ دو لائٹ مین اسپاٹ بوائے سب گھور رہے تھے اسے۔
    آپ نے مجھے پکارا ؟ پوچھتے ہوئے بھی اسے یقین تھا کہ اسے غلط فہمی ہی ہوئی ہے۔
    جی اتنی دیر سےپکار رہا ہوں ای جی آ کو مکالمے یاد ہو گئے ؟ ہم پندرہ منٹ میں ای جی آ کا سین شوٹ کرنے لگے ہیں۔۔
    د۔۔ د دے۔ اس نے زو رو شور سے گردن گھمائی۔
    میں بلا کے لاتی ہوں۔
    وہ فورا مڑی
    اور کھاوا سے کہیئے کھانے کی بریک لینے کیلئے ہم اسکا انتظار کر رہے ہیں کتنی دیر لگے گی ۔
    پیچھے سے آواز آئی تھئ۔
    کھا وا۔ فاطمہ کے دماغ کی گھنٹی بجی۔
    کھاوا نام لیا تھا۔اس نے چٹکی بجائئ دل کیا اپنے کندھے خود تھپتھپا کر شاباشی دے ڈالے۔
    اب جانے اصل نام کیا تھا یہی سوچا تھا بعد میں پوچھوں گی ایک تو یہ کورین اچھے بھلے نام کا بیڑا غرق کر دیتے اتنا پیارا میرا نام فاطمہ اسکے آگے شی لگا لیا نام کے بھی دو حصے کر ڈالے۔ حد ہے خاک پتھر مجھے سمجھ آئے گا کہ۔میرا نام لیا جا رہا ہے
    بڑبڑاتے ہوئے وہ میک اپ رومز کی جانب چلی آئی۔ ای جی نام پڑھ کر اس نے فورا دروازہ کھول لیا۔
    کھاوا اورای جی صوفے پر اسکرپٹ کھولے بیٹھے تھے۔ کھاوا کچھ بول بول کر پڑھ رہا تھا جبکہ ای جی مکمل طور پر کھاوا کی جانب متوجہ زرا سا جھکی ہوئی اس کو نہارتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
    کھاوا صاحب اسکرپٹ کی طرف ہی متوجہ ہوں گے مگر ای جی عربی گھیر والے میکسی نما لباس میں ملبوس تھیں جسکی ایک جانب سے کٹ تھا اور اسکی پوری ٹانگ نمایاں تھی۔
    حبیبی۔ ایک ادا سے منہ میں ہوا بھر کر اٹکتے ہوئے حبیبی کہتے ہوئے اس نے وہی ٹانگ اٹھا کر دوسری ٹانگ پر جمائی یوں کہ۔۔۔
    کھاوا۔ فاطمہ ایکدم سے چیخی تھی۔ کھاوا کے ہاتھ سے اسکرپٹ چھوٹ گیا وہ گھبرا کر۔کھڑا ہوگیا۔
    جج جی۔
    مس ای جی آ بھی شدید بد مزا منہ بنائے گھو ررہی تھیں۔
    اسسٹنٹ ڈائرکٹر صاحب کہہ رہے ہیں کہ پندرہ منٹ میں ان محترمہ کا سین شوٹ ہونا ہے انکو اسکرپٹ یاد ہوا کہ نہیں۔
    وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر یوں پوچھ رہی تھی کہ اگر وہ نفی میں جواب دے تو یہیں کھڑے کھڑے مرغا بنادے گئ۔
    آہ۔ وہ بس ہوگیا۔ ای جی آ کافی ذہین ہے۔
    اس نے کہا مگر فاطمہ یونہی مشکوک گھورتی رہی۔
    وہ کھانا آگیا۔ دو مرتبہ اسپاٹ بوائے پوچھ کے جا چکا ہے۔۔
    اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
    ہاں۔ او رچلو سرو میں نہیں کروں گئ۔ فاطمہ کا انداز ایسا تھا کہ وہ رعب میں آرہا تھا
    بس چلتے ہیں میں کروں گا سروو۔
    اوپا۔ ای جی آ انکی اردو سے بیزار منہ پھلا کے بولی
    مجھے بھوک لگی ہے۔ شوارما کھانا۔
    وہ۔ٹھنک کر بولی۔فاطمہ کے سامنے وہ انگریزی ہی بولا کرتی تھئ اور فاطمہ اسکے سامنے اکبری اصغری والی اردو۔جان کے وہ بھئ۔
    اب اس نے شوارما کیوں کھانا ، تبوکی ، جاجامین نوڈلز پورک اسٹیک سب لے آئی ہوں ۔ اس سے کہو وہی کھائے جو اسکے لیئے آیا ہے شوارما چھے منگوائے ہیں بس ایک اپنے لیئے ایک تمہارے لیئے ہے باقی چار تو عربی فنکار ہیں وہ بھوکے تھوڑی رہیں گے۔
    فاطمہ نے پوری تفصیل یہیں کھڑے کھڑے بتا دی۔کھاوا نے سر کھجا کے دیکھا۔ای جی آنکھیں پٹپٹا رہی تھی۔
    کھاجا۔
    اور کیا کہتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہال میں آتے ہی فاطمہ کو زور کا جھٹکا لگا۔
    عربی فنکار اور کورین سب میز کے گرد جمع خوب مزے لیکر اسٹیک نکال رہے تھے۔
    نہیں۔۔۔یہ مت کھانا عبداللہ ۔۔۔۔۔ وہ وہیں سے پکاری عبداللہ جو پہلا لقمہ منہ میں لے جارہا تھا چونک کے مڑ کر دیکھنے لگا۔
    فاطمہ بھاگتی ہوئی عبداللہ کے پاس آئی کھاوا بھی صورت حال کی نزاکت سمجھتا ہوا دوڑا آیا
    یہ مت کھانا یہ سور کا اسٹیک ہے۔ بلکہ یہ تمام کورین کھانا ہی حرام گوشت اور اجزا سے بنا ہوا ہے میں نے تم لوگوں کیلئے شوارما منگوایا ہے۔
    فاطمہ کی ساری انگریزی عبداللہ کے سر پر سے گزری تھی۔
    تھوڑا بہت یہی سمجھ آیا کہ کھانے سے منع کیا ہے۔ اور شوارما منگوایا ہے۔
    اوہ ٹھیک۔ہے۔ میں نے ہی کورین فوڈ آرڈر کی تھی۔ اب کوریا میں آئے ہیں تو یہاں کے ذائقے چکھنے چاہیئیں نا۔

    ٹوٹے پھوٹے لہجے میں وہ انگریزی میں بولا تھا۔
    ہاں مگر حلال یہ حلال کھانا نہیں۔ پورک ہے یہ۔
    کھاوا نے عربی میں بتایا تو وہ ہنس دیا۔
    ہاں تو کیا ہوا۔ میں کونسا روز کھاتا ہوں ۔ کبھی کبھی پورک چلتا ہے اسکے ساتھ سوجو ہوتی تو اور مزا آتا۔
    وہ آنکھ دبا کر ہنستے ہوئے بولا اور وہی پیس پورا منہ میں رکھ لیا۔ فاطمہ شاکڈ سی کھڑی رہ گئ۔ اس نے عربی میں جواب دیا تھا مگر یہ بتانے کے باوجود کہ یہ پورک ہے وہ کیسے کھا سکتا ہے بھلا۔
    تم نے بتایا نہیں کہ یہ پورک ہے۔ فاطمہ نے بے یقینی سے دیکھتے ہوئے کھاوا سے پوچھا۔
    بتایا ہے۔ کھاوا نے اسے آنکھ کے اشارے سے منع کرتے ہوئے دھیرے سے کہا۔
    انکو چھوڑو۔انکے حال پر۔
    کیا ہوا کیا مسلئہ ہے۔
    ان سے ساتھئ فنکار پوچھ رہے تھے ۔ عبد اللہ نے عربی میں بتایا تو اسکے ہم وطن مسکرا کر انہیں بھی دعوت دینے لگے۔
    آپ لوگ بھی کھائیں۔ مہر اور سلمان دونوں کھانا کھاتے ہوئے کہنے لگے۔۔
    فاطمہ انہیں پہلے حیرت پھر تھوڑا غصے سے گھور کر رہ گئ ۔ تبھی اسکے موبائل پر شائد ڈیلیوری بوائے کی کال۔آئی تھی۔
    ںہیں شکریہ۔ کھاوا نے مسکرا مسکرا کر کہاجبکہ فاطمہ تن فن کرتی فون اٹھائے ہال سے باہر نکل گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھاوا اسکے پیچھے پیچھے آیا تھا۔
    ڈیلیوری بوائے سے کھانالیکر فاطمہ نے اسے تھماکر اندر بھیجا اور خود اندر جانے کی بجائے باہر احاطے میں بنے گھاس کے قطعے پر آبیٹھی۔
    یہ لو کھانا کھالو۔
    وہ بھاگتا ہوا واپس آیا تھا۔ جبھئ سانس بھی تھوڑا پھول رہی تھی۔
    دھپ سے اسکے برابر شاپر رکھتے ہوئے وہ خود بھی اسی بنچ پر بیٹھ گیا۔
    مجھے نہیں کھانا۔ فاطمہ کا موڈ آف ہوچکا تھا۔
    کیوں بھئ کھانے سے کیا ناراضگئ۔ یہ تو حلال شوارما ہے ۔
    اس نے بہلانا چاہا۔
    کوئی حد ہے بھلا مسلمان ہو کر جانتے بوجھتے پورک کھا رہے ہیں سوجو پی رہے ہیں یہ کیسے عربی ہیں یہ شرم نہیں آرہی انکو گندے کام کرتے ہوئے۔۔
    فاطمہ اس سے یوں پوچھ رہی تھی جیسے وہ اسکے ہی تو دبیل ہیں۔
    تم کیوں غصہ کر رہی ہو وہ جانیں اورانکے کام۔۔
    کیوں نہ غصہ کروں ؟ وہ اور چڑ گئ
    مسلمانوں کا نام بدنام کر رہے آدھے ننگے تو پھر رہے حرام کھا پی بھی رہے ان سے کہو کم از کم نام بدل لیں یا تھوڑی شرم لاج ہی رکھ لیں اپنے نام کےمسلمان ہونے کی۔ یہ گند کھا پی کے پاک زمین پر اتریں گے تف ہے ان پر۔
    فاطمہ کا گورا رنگ اس وقت غصے سے سر خ ہورہا تھا۔
    وہ عربی ضرور ہیں مگر سعودی نہیں ہیں عبداللہ دبئی نیشنل ہے اور مہر ترکی مسلمان ہے اور سلمان بھی شائدمصری اداکار ۔ ان تینوں کا جن جگہوں سے تعلق اور۔جس صنعت سے تعلق ہے وہاں یہ سب اتنا معیوب نہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک یہ بات ایسے ہی ہے جیسے آپ شرعی پردہ نہ کریں داڑھی نا رکھیں ویسے ہی کبھی ذرا سا شراب پی لیں پورک چکھ لیں اس سے وہ غیر مسلم تھوڑی ہو جائیں گے۔
    اس نے سبھائو سے سمجھانا چاہا۔
    تمہارا فرض تھا اگر انکو پتہ نہ ہو تو بتانا وہ تم۔نے پورا کیا اب آگے انکی مرضی وہ جو چاہے کریں۔ہم ڈنڈے کے زو رپر کسی سے اسلامی احکام تو فالو نہیں کروا سکتے۔ ہاں ان پر غصہ آسکتا وہ ضرور کرو۔مگر کھانا تم نے اپنے لیئے کھانا ہے انکے لیئے نہیں۔سو یہ کھائو اور غصہ تھوک دو۔
    اسکا انداز اتنا سلجھا ہوا تھا کہ وہ چپ سنے گئ۔
    عام سی فیڈڈ جینز اور سفید اپر میں ملبوس ہلکی سی بڑھی شیو میں نرم سے انداز سے بولتا وہ گندمی رنگت والا عام سا لڑکا تھا مگر انداز بولنے کا مانوس سا لگا تھا جیسے۔۔
    وہ بے خیالی میں دیکھے گئ۔۔
    کھائو نا۔وہ شوارمے کا لفافہ اسکی جانب بڑھائے ہوئے تھا۔ فاطمہ نے چونک کر تھام لیا۔
    ویسے اچھا ہوا تم شوارما حلال لے آئیں ورنہ میں اپنے لنچ کیلئے کلب سینڈوچ لیکر آیا ہوا تھا اور ایک سینڈوچ سے میرا گزارا نہیں ہوتا بالکل۔
    وہ شائد بھوکا ہورہا تھا دو تین جلدی جلدی لقمے لیکر اس نے شوارما چٹ کر لیا تھا اب پیکٹ سے دوسرا نکال رہا تھا۔
    ایک تو یہ پاکستانی لڑکے ۔۔ وہ سرجھٹک کر مسکرا دی۔
    میں ویسے ایک ہی شوارما کھاتا ہوں مگر آج ناشتے بغیر آیا تھا یہاں بھی موقع نہ ملا آنتیں پلٹ رہی تھیں میری۔
    اس نے جانے محسوس کر لیا یا یونہی برسبیل تذکرہ کہہ رہا تھا فاطمہ کو اچھو سا ہوا۔
    میں پانی لیکر آتا ہوں۔
    وہ فورا اٹھنے کو تھا مگر فاطمہ نے اشارے سے روک دیا۔ وہ اپنی پانی کی بوتل بیگ میں رکھتی تھی۔وہی نکال کے پینے لگی۔
    ویسے مجھے فاطمہ کہتے ہیں۔
    اس نے پانی پی کر بوتل کا ڈھکن بند کرتے ہوئے نسبتا نارمل انداز میں بتایا۔
    نہیں تمہیں فاتی ماشا کہتے ہیں یہاں تو۔
    وہ ہنسا تھا فاطمہ کو بھی ہنسی آگئ۔
    ہاں نام بگاڑ ہی ڈالا انہوں نے۔ جیسے تمہارا نام کھاوا۔۔
    کھاوا ۔۔پکارتے ہوئے اتنا عجیب لگ رہا تھا مگر نام۔پتہ ہی نہیں۔۔۔ اتنا دماغ لڑایا مگر سمجھ نا آیا کھاوا اصل میں کس نام کو بگاڑ کر بنا ہے۔کیا نام ہے تمہارا۔
    اس نے سیدھا پوچھ لیا
    کھاوا۔ وہ مسکراہٹ دبا گیا۔۔
    میں اصل نام پوچھ رہی۔ اس نے دانت کچکچائے۔۔
    کیا کرنا جان کے بکواس سا نام ہے کھاوا پیارا نام ہے۔
    تمہارے منہ سے سن کے اور بھی پیارا لگا۔ بولتے بولتے وہ منہ ہی منہ میں بدبدایا
    کیا ؟ فاطمہ کو سنائی نہ دیا
    مجھے کھاوا کہلانا ہی پسند ہے بڑا پیارا لگتا ہے جب لوگ مجھے کھاوا کہتے ہیں۔ یوں لگتا جیسے بھوک سی لگی ہے۔
    وہ تیسرے شوارمے کی جانب ہاتھ بڑھا رہا تھا۔
    فاطمہ نے بمشکل آدھا شوارما کھایا تھا۔ اس بات ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
    تم شوارما اندر دے کر نہیں آئئ یہیں لے آئے سارے۔۔
    آیا ہوں نا۔ وہ چباتے ہوئے بمشکل بولا
    بس ای جی آ کو شوارما پسند باقی سب اسٹیک پر ٹوٹے پڑے تھے۔
    اسے دو شوارمے دے کر چاریہاں لے آیا دو تم کھا لو گی دو میں۔۔
    اوہ۔ بولتے بولتے اس نے شاپر میں ہاتھ مارا تو شرمندہ ہوا
    میں تین کھا گیا۔ میں اور منگواتا ہوں۔
    وہ اپنا ادھ کھایا شاپر پر رکھ کر جیب ٹٹولنے لگا۔
    رہنے دو ایک کافی ہوتا ہے میرے لیئے۔ اس نے سہولت سے منع کردیا۔
    وہ بھی کندھے اچکا کر دوبارہ مزے لیکر کھانے لگا۔
    اچھا تمہارا نام کیا ہے؟ وہ آج نام جان کر ہی دم لینے والی تھی۔
    نوید۔۔ وہ تھوڑا سنجیدہ سا ہو کر بولا
    نوید سے کھاوا ؟ یہ پروڈیوسر انکل پاگل تونہیں۔
    فاطمہ چیخ ہی تو پڑی وہ اسکے انداز پر ہنس پڑا۔
    لاسٹ نیم کو بگاڑ کرکھاوا کر دیا ہے انہوں نے۔
    بہت برا بگاڑا ہے۔ وہ تاسف سے سر ہلانے لگی۔
    نہیں کھاوا اچھا نام ہے مجھے پسند آیا بھوک لگ جاتی ہے کوئی پکارے کھاوا۔۔ کھاا۔۔
    وہ لہک لہک کر بول رہا تھا فاطمہ کو ہنسی آرہی تھی اسکی حماقت پر۔
    کوئی نام لے آپکو بھوک لگ جائے اس سے پیارا نام کیا ہوسکتا۔
    کوئی نام لے اور اسکے حلق میں خراش پڑ جائے اس سے برا نام ہو سکتا۔ وہ ترکی بہ ترکی بولی۔
    کھا وا۔ جیسے حلق کھنکار رہے ہوں۔کھا وا۔ خراش پڑ رہی ہے مجھے۔
    وہ مصنوعی کھانس بھی لی۔
    پھر تو تم مجھے کھاوا ہی کہو حلق صاف ہو جائے گا۔وہ کہاں باز آنے والا تھا۔
    کھا ہی کہوں گی بس وا تم دل میں لگا لیا کرنا اب کھا۔ کھا جا ۔۔
    وہ کورین لفظ کھاجا کا استعمال کرکے اسے جانے کا کہہ رہی تھی وہ بھی سمجھ کے منہ لٹکا کے کھڑاہو گیا
    اچھا فاتی ماسئ۔ چلتا ہوں۔
    فاطمہ کی آنکھیں ابلیں وہ ڈر گیا جیسے
    میرا مطلب ہے ماشی۔ فاطی ماشی۔

    یو۔۔۔ اس نے شاپر ہی اٹھا کر مارنا چاہا وہ ہنستا بھاگ کھڑا ہوا وہ گھور کر رہ گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون آتے ہی اس سے ملنے آیا تھا۔ وہ اپنا سب کام ختم کرکے ای جی کے پاس آئی تھی بتانے کہ میں جا رہی ہوں اگلی میک اپ روم میں ڈریسنگ ڈیسک پر سر رکھے بیٹھی رو رہی تھی۔ دروازہ کھولتے ہی اسکی نگاہ پڑی۔ وہ تیر کی طرح اسکے پاس آئی
    کیا ہوا۔ اسکے کندھے پر ہاتھ تو ہمدردی میں رکھا تھا مگر آف شولڈر ٹاپ میں سیدھا اسکے کندھوں کو چھونے پر گڑ بڑا کر ہاتھ واپس کھینچ لیا جبکہ ای لی سوں سوں کرتی اسکے پیٹ سے لپٹ گئ۔۔
    کیا ہوا۔ اب اسکا گھنے بالوں والا سر اسکے پیٹ سے لگا تھا اس نے اسی کو تھپتھپا دیا۔
    میرا پورے دو پونڈ وزن بڑھ گیا ہے۔ کم از کم بھی دو ہفتے لگیں گے مجھے وزن کم کرنے میں۔
    واعظہ گہری سانس لیکر رہ گئ ۔۔۔
    دو ہفتے بڑی بات تو نہیں یوں چٹکی بجاتے گزر جائیں گے۔۔اور ابھی اس ہفتے بس ایک ریڈیو شو میں جانا ہے باقی تو بس ایونٹس ہیں ان میں کون غور سے دیکھے گا۔
    واعظہ نے سمجھایا تو وہ اور زور سے سوں سوں کرکے بولی۔
    وہی تو مسلئہ ہے سیہون ایکسو کا سیہون میرا سب سے پسندیدہ ممبر ہے ایکسو کا اور اسکے سامنے میں گائے بنی بیٹھی ہوں گئ۔
    وہ دہائی دینے والے انداز میں بولی۔
    سیہون۔۔ اسکے دماغ کی گھنٹی بجی۔
    ایکسو کا سیہوں الف کا تو کرش ہوتا ہے اور وہ۔۔۔
    بتائو میں کیا کروں۔۔۔
    وہ ٹشو سے ناک پونچھتے سر اٹھا کے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
    اپنا میک اپ ریموو کرو سارا آئی لائنر پھیل گیا ہے۔
    واعظہ نے کہا تو وہ گڑبڑا کر مڑ کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔
    میں تمہاری جانب سے معزرت کر لیتی ہوں کہ تم نہیں آسکتیں شو میں۔ ویسے بھی اتنا کوئی مشہور ۔۔
    اسکے کہنے پر ای جی چیخ پڑی۔
    آن۔آنندے آندیے او۔
    میرا پہلی دفعہ سیہون کے ساتھ پروگرام ہوگا میں انکار نہیں کر سکتئ۔ تم نہیں جانتی ہو مجھے ایکسو کتنا کتنا پسند ہیں اور سیہون اف۔ میں تو۔۔۔۔۔۔۔
    آگے وہ اپنی لمبی داستان جڑ رہی تھی واعظہ کا ذہن کہیں اور دوڑ رہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چھے سو نگیئے او۔
    وہ دور سے معزرت کرتی دوڑی آئی۔ سیہون باہر لابی میں صوفے پر بیٹھا میگزین پلٹتے انتظار کر رہا تھا۔۔ اسے دیکھ کر مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    دونوں اکٹھے قریبی کافی شاپ پر آ بیٹھے۔۔۔
    آنٹی کیسی ہیں؟ میری جانب سے معزرت کر لی تھی؟۔
    سلیف سروس تھئ وہ اسے بیٹھنے کا کہہ کر کیک اور کافی
    خرید کر لا کر رکھتے ہوئے پوچھ رہی تھئ۔
    مجھے میری کی کال آئی تھی۔
    سیہون نے بلا تمہید اسے بتایا ۔۔
    لعنت بھیجی تھی ؟ گالیاں دے کر بند کرنا تھا کس منہ سے کال کر رہی تھی سمجھا کیا ہوا ہے اس نے تمہیں اب۔۔
    وہ بھڑک سی گئ تھئ۔ سیہون کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئئ اسکے ردعمل پر۔
    اسے مسکراتے دیکھ کر وہ چپ سی ہوئی۔ بہر حال وہ اسکے ساتھ کم ازکم بھی آٹھ نو سال سے تھا مڈل اسکول سے دونوں دوست تھے اور تب سے ہی میری کیلئے اسکے دل میں الگ ہی جزبات تھے وہ ایسا کچھ چاہ کر بھی نہیں کر سکتا تھا۔
    اسکی منگنئ ختم ہوگئ ہے۔
    اس نے سابقہ ہی انداز میں بتایا تھا
    واعظہ نےکچھ کہنا چاہا مگر سیہون کے چہرے پر جتنا کرب سا اتر آیا تھا وہ کچھ کہنے سے باز رہی۔
    سر جھکا کے وہ کافی میں چمچ چلا رہا تھا۔
    میری محبت ختم نہیں ہوئی مگر میرا دل بہت دکھا ہے اسکے رویئے سے۔ مجھے اسکے جملے نہیں بھولتے۔ میرا دل کیا تھا اسے وہ سب کہوں جو مجھے وہ کہتی گئ تھی مگر میں اسے کچھ کہہ نہ سکا کہہ سکتا ہی نہیں۔۔۔۔
    وہ دھیرے دھیرے سے بول رہا تھا۔ اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔
    پچھلے آٹھ مہینوں میں ایک دن ایسا نہیں گزرا جو میں نے اسے یاد نہ کیا ہو۔۔۔۔

    وہ مزید بھی اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ واعظہ اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گئی پھر اپنا کپ اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔ کافئ ٹھنڈی ہو رہی تھی اسے ٹھنڈی کافی پسند نہیں تھئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اور فاطمہ ابھی فلیٹ سے اندر داخل ہوئی ہی تھیں کہ تیز خوشبو سے دونوں کا سر گھوم گیا۔ ابھی چکراتے سر کو سنبھالانہ تھا کہ عزہ عروج عشنا نے انہیں چیخ کر وہیں ہینڈزاپ کر لیا۔
    وہیں رک جائو آگے نہ آنا رکو۔۔۔
    تینوں اکٹھے چیخیں فاطمہ واعظہ سے لپٹ گئ۔
    کیا ہوا۔
    یہ دیکھو۔
    عروج نے نیچے دکھایا تو لابی میں بیچوں بیچ ایک چھپکلی تڑپ رہی تھی۔
    اتنی سخت جان چھپکلی ہےاس پر پوری اسپرے باٹل خالی کر دی مگر یہ مر نہیں چک رہی۔
    عزہ روہانسی ہونے کو تھی۔
    کونسی بوتل خالی کی ہے ؟ واعظہ اسکے ہاتھ میں بوتل دیکھ کر مشکوک ہوئی۔
    یہ باڈی اسپرے کی۔ عزہ نے فورا بوتل لہرائی
    کس نے کہا ہے کہ باڈی اسپرے چھپکلی پر کرو تو وہ مر جاتی ہے۔
    واعظہ نے سر پیٹ لیا
    وہ اور کوئی اسپرے تھا نہیں تو۔ عزہ نے سر کھجایا
    یار اسکا اتنی خوشبو سے دماغ گھوم گیا تھا یہ ابھی دیوار پر تھی پٹ سے گری ہے زمین پر اور تڑپ رہی۔۔۔۔۔
    عروج نے تائید کی مگر جب دیوار سے نظریں زمین پر آئیں تو چھپکلی غائب تھی۔
    کہاں گئ چھپکلی۔
    عشنا گھبرائی
    عزہ بوکھلائی واعظہ نے نیچے نگاہ کی تو تیز گام کی طرح تیزی سے دوڑتی چھپکلی انکے بالکل پاس آکر دیوار پر چڑھ گئ۔
    فاطمہ چیخیں مارتی دوڑتی لائونج میں پہنچ چکی تھی واعظہ ساکت وہیں کھڑی رہ گئ۔
    اسکے قدم خوف کی حالت میں جم جایا کرتے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
    انہوں نے پکڑ کر لا کر اسے صوفے پر بٹھایا پانی لا کر دیا ۔تب اسکی رنگت بحال ہونا شروع ہوئئ
    صبح ادھر کچن میں تھی ابھی ٹی وی کے پاس عشنا نے جوتی ماری تو ڈری بھی نہیں۔
    عزہ نے رام کہانی سنانی چاہی۔
    جوتئ مارئ بھئ تو چھپکلی سے دوفٹ دور۔ اس نے ڈرنا کیا تھا الٹا ہنس رہی ہوگی عشنا کے نشانے پر۔
    چھپکلی کو لگ جاتئ تو جوتی گندی ہو جاتی نا۔
    عشنا منمنائی۔
    مجھے نہیں پتہ واعظہ مجھے لڑکا چاہییے لڑکا بھی رکھو اپارٹمنٹ میں۔
    عزہ نے ضدئ انداز میں کہا تو پانی پیتی واعظہ کو اچھو ہو گیا۔
    کیا بک رہی ہو۔
    عروج نے آنکھیں نکالیں
    صحیح کہہ رہی ہوں ہےجن جب تک تھا کتنا آرام تھا ایک چھپکلی بھی نظر آتئ تھی بھگا دیتا تھا وہ۔ اب تو کاکروچ بھی ہوگئے ہیں گھر میں
    وہ بسوری۔
    ہاں چھپکلیاں بھگانے والا کوئی ہونا چاہیئے۔
    عشنا کو اتفاق تھا۔
    مگر کورین رکھیں یا پاکستانی ؟
    فاطمہ نے یونہی سوال کیا واعظہ نے گھور کر دیکھا
    چینی رکھ لیتے ہیں اسکے کھانے پینے کا مسلئہ بھی ختم ہوگا آرام سے چھپکلیاں کاکروچ تل لیا کرے گا اپنے لیئے۔
    واعظہ نے تو یونہی کہا تھا ان سب نے سوچ بھی لیا ایک چینی لڑکا پھسکڑا مارے بیٹھا منی میز پر شاہی پکوان سجائے لہک لہک کر مک بانگ بناتے ہوئے۔
    آخ۔ ان سب نے اکٹھے الٹی کی۔
    گندی واعظہ کی بچی۔
    عزہ نے پاس پڑا کشن دے مارا۔
    حد ہوتی ہے ویسے ایو۔ عروج بھئ گھن کھا رہی تھئ۔
    حد بتائوں حد ؟ مطلب لڑکا رکھوں میں یہاں اس دڑبے میں صرف چھپکلیاں مارنے کیلیئے۔
    واعظہ نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے انکی عقل کا ماتم کرتےکہا تو عزہ بھولا سا منہ بنا کر بولی
    نہیں اگر پیارا ہو تو شادی بھی کر لینا۔
    شادی تو تمہاری کرواتئ ہوں میں۔
    واعظہ نے وہی کشن دے مارا عزہ ہنستی جھکائی دے گئ سیدھا عروج کے منہ پر پڑا تھا۔
    مجھے کیوں مارا۔ عروج نے جوابا پے درپے دو تین کشن اٹھا مارے۔ فاطمہ ان سب سے بچی تھی مگر کشن لڑائی میں بچ بیٹھنے والا کیا خاک مزا لیتا سو صوفے سے کشن اٹھا کر شروع ہوگئ۔
    منے لائونج کے پانچ چھے کشن ہی تو تھے ان سب کی ہوائی فائرنگ کی نظر ہونے لگے ہنس ہنس کے سب کا برآحال ہو رہا تھا مگر کوئی ہار ماننے کو تیار نہ تھی۔

    کوئی کل سیدھی ہے تم لوگوں کی کیا ہنگامہ مچا رکھا ہے ؟ ۔۔ الف دھاڑ سے دروازہ کھول کر باہر نکل کر دھاڑی تھئ
    وقت دیکھو کیا ہو رہا ہے کوئی سونا چاہ سکتا ہے کسی کے سر میں درد ہو سکتا ہے مگر تم لوگوں کو احساس ہی نہیں ہے۔
    اسکی بلند آواز پر جو جہاں تھا وہیں رہ گیا تھا۔سب بھونچکا سی اسکا اتنا کڑخت انداز دیکھ رہی تھیں۔
    پتہ کہاں سے اٹھ آئیں ہیں جنگلی گنوار۔ ہوںہہ۔۔
    وہ بول کر گھور کر جیسے ہی پلٹی عین اسکے سر پر کشن لگا تھا
    کس نے کی ہے یہ حرکت۔
    زمین سے کشن اٹھا کروہ سخت جلال میں مڑی تھئ۔
    کیا کروگی پٹائی کروگئ۔ ؟ چل کرو یار ابھی تو بس نو بجے ہیں۔
    فاطمہ نے ہنس کر کہنا چاہا جوابا بھر پور طاقت سے پھینکا گیا کشن اسکے منہ پر لگا تھا
    تیری تو۔
    فاطمہ کا دماغ اتنی زور سے گھوما تھا وہ جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھنے کو تھی کہ عزہ اور عروج نے باقاعدہ اسکو بازو سے پکڑ کر روکا
    شکر کرو کشن تھا۔ آئندہ ایسی حرکت کی تو ۔۔۔
    الف نے انگلی اٹھا کر دھمکی دینی چاہی تو فاطمہ اس سے اونچئ آواز میں بات کاٹ گئی
    کیا کر لوگی؟؟؟؟ کرو ابھی کرو جو کرنا ۔دیکھوں میں بھی۔
    اسکے اشتعال دلانے پر الف بھنا کراسکی جانب بڑھی عشنا ایکدم سے اسکے آگے آگئ
    آئیم سوری میں ادھرصوفے پر پھینک رہی تھی نشانہ خطا ہوگیا۔
    عشنا کی وضاحت پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔ پھر مڑ کر پیر پٹختی واپس کمرے میں چلی گئ۔
    یہ اپنی جاب کی وجہ سے پریشان ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ سب پر غصہ کرتی پھرے۔
    کہا تو عروج نے تھا مگر وہ سب متفق تھیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات کے ڈیڑھ بجے اسکی آنکھ کھلی تھی۔ کسمسا کر کروٹ بدلی تو واعظہ کا بستر خالی تھا اس نے ذرا سا سر اٹھا کے دیکھا تو وہ کھڑکی میں بیٹھی فون پر لگی تھی۔
    کس کے بوائے فرینڈ سے بات کر رہی ہو؟ اپنا تو کوئی ہے نہیں تمہارا۔
    جمائی لیتی وہ اٹھ بیٹھی۔
    تمہارے شوہر سے۔۔ اس نے کان سے فون ہٹا کر اطمینان سے جواب دیا
    آہ ہا۔ آگیا گائوں سے ؟ وہ سستی سے چپل پہنتی باتھ روم۔جانے اٹھی تھی
    ہاں او راب کل سے تم بھی واپس جائو اپنے گھر۔
    اس نے ہدایت کی تو وہ سر ہلاتی باتھ روم۔میں گھس گئ۔
    پھر دوسری بار تقریبا چار بجے آنکھ کھلی تھی وجہ عشنا کا اسکا سا را کمبل کھینچ کر اوڑھ لینا تھی۔
    اس سے کمبل واپس کھینچ کر اوڑھتے مندی مندی آنکھوں سے واعظہ کا بستر دیکھا تو وہ اب بھی خالی تھا۔
    اس نے سر اٹھا کر دیکھا وہ پھر کھڑکی میں ایستادہ فون پر بات کر رہی تھی۔
    اب کس سے بات کر رہی ہو۔ سو جائو۔ کہتے ہوئے اس نے جمائی بھی لے لی۔
    الف کی امی سے۔۔۔
    وہ پھر سوجاتی اگر سائیڈ سے فون اٹھا کر وقت دیکھنے کا شوق نہ چڑھ جاتا فون دیکھا تو فیس بک کے نوٹیفیکیشن انسٹا وہ جو ایک کے بعد ایک پوسٹ دیکھنا شروع ہوئی کوئی آدھے گھنٹے بعد سر اٹھا کر دیکھا تو واعظہ کو ابھی بھی ہینڈز اپ کرایا ہوا تھا الف کی امی نے
    ابھی تک کال چل رہی؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔
    واعظہ بے چارگی سے دیکھنے لگی فون کان سے دور کرکے دیکھا تو پینتالیس منٹ کی کال ہو چکی تھئ۔
    اس کو بھی نیند آنے لگی تھی۔
    جی ٹھیک ہے۔میں بات کروں گئ۔ ابھی آپ آرام کریں جی۔ ٹھیک خدا حافظ۔
    اس نے بات ختم کرکے فون بند کردیا۔
    وہ تھکی تھکی سی بیڈ پر آبیٹھئ
    کیا کہہ رہی تھیں اتنی دیر سے۔
    فاطمہ کو اس پر ترس آیا۔ وہ اپنا بازو سہلا رہی تھی۔
    الف کا پوچھ رہی تھیں آخری سمسٹر کب ختم ہو رہا اسکی کہیں بات طے کرنا چاہ رہی ہیں الف نے صاف انکار کردیا ہے تو مجھے کہہ رہی تھیں سمجھائو اسے
    واعظہ بستر پر گر سی گئ
    ہاں تو کوئی اونگا بونگا سا ہوگا الف باشعور سمجھدار لڑکی ہے۔اسے حق ہے جس مرضی سے شادی کرےجس سے شادی سے انکار کرے ایویں تھوڑی۔
    ابھی اسکی بات میں تھی واعظہ نے تصویر نکال کر دکھائی وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر موبائل لپک لے گئ
    یہ تو فواد خان لگ رہا ہے پیارا ہے یہ تو۔
    اس نے اتنی بے ساختہ تعریف کی کہ واعظہ کو ہنسی آگئ
    احمق گدھئ ہے الف پڑھ لکھ کر گدھے پر لادا ہے اسکی امی کو کان پکڑکر یہیں بیاہ دینا چاہیئے
    اسکی رائے یونہی پل پل بدلتی تھی۔
    واعظہ اطمینان سے لیٹ کر آنکھیں موند گئ۔فاطمہ۔جزباتی ہو کر اسکے بیڈ پر کود آئی
    تم سمجھائو گی اسے ؟
    میں اسکی امی لگتی ہوں۔ وہ برا مان گئ۔
    ہاں تو تم نے ایڈاپٹ کیا ہے نا اپنی ہم عمروں کو تو اب ذمہ داری بھئ اٹھائو۔
    وہ مزے سے بولی۔ واعظہ گھور کر رہ گئ۔پھر کچھ سوچ کر بولی
    بھئی فواد خان ہو یا گنگو تیلی میں کون ہوتی ہوں اسے منانے والی اسکی زندگی ہے وہ بہتر جانتی اسے کیا کرنا۔
    یار عجیب ہے اتنا پیارا لڑکا ڈھونڈا یے امی نے تو خوشی خوشی مایوں بیٹھ جائے فالتو میں رونا پیٹنا مچایا ہوا ہے کئی دن سے دیکھ رہی چڑ چڑئ ہوئی ہے آج بھی کیسا لڑی مجھ سے۔ احمق ۔۔ خود کو تو یہاں کوریا میں آکر بھی کوئی اوپا ملنے کی امید نہیں تو دیسی پھپھا ہی سہی۔
    فاطمہ تاسف سے سر ہلا کر دیکھ رہی تھی
    اب یہ پھپا کہاں سے آیا ؟ واعظہ حیران ہوئئ
    قافیہ ملایا ہے اورکیا
    فاطمہ کھلکھلا ئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 49

    قسط 49
    امیوزمنٹ پارک میں وہ بچوں کے ساتھ مکمل مگن تھے۔ دونوں بچیاں جھولا جھول رہی تھیں۔ صائم کو گود میں اٹھا رکھا تھا۔ وہ مچل کر گود سے اترنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
    انہوں نے اسے اتار دیا ساتھ ہی اسکی کلائی سے ایک بینڈ بھی لگا دیا تھا۔ یہ الیکٹرانک بینڈ تھا۔ دس یا بیس میٹر کے ریڈییس سے بچہ جیسے ہی دور جانے لگتا نا صرف اسکی کلائی پر بزر بجنے لگتا بلکہ ماں باپ کے موبائل پر بھی فوری اطلاع آتی۔ بڑے ملک میں رہنے کے بڑے فائدے۔ طوبی ایک بنچ پر تھک کے آبیٹھی۔ اب یا تو بچوں کے ساتھ جھولے پر بیٹھو یا بچوں کو دور سے دیکھتے رہو۔ اب اگر آج دلاور انکے گرد چکر کاٹ رہے تھے تو وہ کیوں ساتھ خوار ہوتی۔
    بچوں نے کاٹن کینڈی کی فرمائش کی تو انکے لیئے لیتے ہوئے وہ بڑ ا سا بھالو بنواکر اسے بھی تھما گئے۔۔
    وہ بس دیکھ کر رہ گئ۔
    کاٹن کینڈی چبانے والی عمر تو نہ تھی مگر چلو۔اس نے ٹونگنا شروع کردیا۔
    ان سے کافی فاصلے پر کالی جینز کالے اپر میں ہڈ سر پر چڑھائے کالے ماسک منہ پر چڑھائے ٹیلی اسکوپ سے انکے اوپر نظر رکھے عشنا اور عزہ اونچی سی سلائڈ کے سرے پر بیٹھی تھیں۔آج مکمل کے ڈرامہ کے ڈیٹیکٹیوز والا حلیہ تھا۔
    یار انکی تو بھٹک کے بھی نگاہ بچوں سے ہٹ کر ادھر ادھر نہیں جارہی مجھے لگتا ہے طوبئ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی۔
    عزہ منمنائی۔۔
    مگر ہمارا آجکا کام ان پر نگاہ رکھنا ہی ہے۔ یہ یقینا بچوں کے بہانے ابھی غائب ہو کر کسی چندی آنکھوں والی سےملنے جائیں گے۔ طوبی کو تودیکھ لو ایک جگہ بٹھا دیا ہے انہوں نے۔
    عشنا کا اسٹار پلس والا تجربہ بول رہا تھا۔
    ویسے عشنا اگر تمہاری سہیلی کا نام ہے تو تمہارا نام کیا ہے؟ ہمیں بتا تو دو ہم تو ابھی تک تمہیں عشنا ہی کہتے ہیں۔
    عزہ نے کہا تو بجائے کیمرے گھومتے وہ رک کر دو گھںٹے گہری سانس لیکر کوئی بڑا انکشاف کرنے والے انداز میں بولتی۔
    سر سری انداز۔
    مہک۔
    مہک ؟عزہ اچھل۔پڑی۔ اتنا پیارا نام ہے یہ تو۔۔
    مگر مجھے اس نام سے پکارنا نہ کبھی۔ عشنا ہی ٹھیک ہے۔
    اس بار اسکا انداز قطعی تھا۔
    عزہ کیوں کہتے کہتے رک گئ
    اچھا تم واقعی لی من ہو کی فین تو ہو نا؟ اسکی فین میٹنگ میں سچ مچ گئ تھیں نا؟
    ہاں۔ عشنا کا جواب مختصر تھا۔
    ایک بس یہی کام کیا پچھلے پانچ سال سے کوریا میں رہتے ہوئے جس نے مجھے دل سے خوش کیا تھا۔
    وہ اتنا دھیرے سے بولی تھی کہ عزہ اس سے جڑ کر نہ بیٹھی ہوتئ تو سن بھی نا پاتی۔
    تم پانچ سال سے ہو۔ عزہ اپنی حیرت چھپا نا سکی
    اور یہاں نا کوئی جاب نا پڑھائی کر کیا رہی ہو تم اور رہائش تک تو تھی نہیں واپس انڈیا کیوں نہیں چلی گئیں تم؟
    عزہ کو اس پر غصہ بھی آرہا تھا۔
    عشنا کے منہ پر مسک ہونے کی وجہ سے اسکے تاثرات تو نظر نہ آئے مگر اسکا جواب دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا یہ ضرور سمجھ آگیا۔
    حد ہے۔ وہ منہ ہی منہ میں بڑ بڑا کر رہ گئ۔
    دوبارہ ٹیلی اسکوپ آنکھوں سے لگا لی۔ دلاور تھک کے صائم کو لیکر طوبی کے برابر بنچ پر آبیٹھے تھے بچیاں کچھ فاصلے پر جھولوں میں مگن تھیں۔
    تھک بھی نہیں رہیں کب سے گول گول گھوم رہا یہ جھولا میرے دیکھ دیکھ کر سر میں درد ہوگیا۔
    عزہ نے خاموشی توڑی
    ٹیلی اسکوپ نیچے کی تو سامنے دس بارہ سال تک کے کئی بچے بڑے ذوق و شوق سے انہیں سر اٹھا کر دیکھتے نظر آئے۔۔ اسکی ٹیلی اسکوپ گھومتے دیکھ کر انہیں شائد اندازہ ہوا کہ انہیں ہی دیکھا جا رہا سو اچھل اچھل کر خوب شو مچا جانے کیا نعرے لگانے لگے۔ ان سے اچھے خاصے فاصلے پر ہونے کے باوجود بھی انکی بےہنگم چیخ و پکار انکی سماعتوں کی نظر ہو رہی تھی۔
    وہ تھوڑی دیر دیکھتی رہی پھر انہیں ہاتھ ہلا دیا۔ انکا شور تھوڑا اور بلند ہوا
    کیا کر رہی ہو۔
    عشنا کو بھی دلچسپی ہوئی۔ وہ بھی اپنی ٹیلی اسکوپ گھمانے لگی
    وہ دیکھو بچے خوش ہو رہے ہمیں دیکھ کر۔ عزہ نے بتایا
    بچے خوش نہیں حیران ہو رہے اور کچھ بڑے بھی۔
    عشنا نے گھمایا تو انکو کئی جوڑے راہ چلتے پارک میں گھومتے لوگ انہیں سر اٹھا اٹھا کر دیکھتے نظر آئے
    یہ سب ہمیں کیوں گھور رہے۔ عزہ چونکی
    آج تو ہم برقعہ یا عبایا بھی پہن کر نہیں آئے ہیں۔
    کیونکہ اٹھائیس ڈگری میں اس لوہے کے پنجر پر دو پگلوٹ دھوپ سینکتی بیٹھی نظر آرہی ہیں انہیں۔۔ عشنا نے اسکی حیرت کم کرنی چاہی۔۔
    اسکی بات پر عزہ نے دوبارہ دور بین میں دیکھا
    سب ہی شارٹس اسکرٹ منی اسکرٹ میں ملبوس گرمی منا رہے تھے ان میں ہم یقینا خلائی مخلوق ہی لگ رہی ہوں گی انہیں۔عشنا کی وضاحت یقینا درست تھی
    ہاں تو ہم میں نہیں اتنی گرمی بھری ہوئی۔ ہاں دھوپ تھوڑی چبھ تو رہی ہے۔ مگر گرمی والی دھوپ تو نہیں۔
    عزہ نے خفت مٹانی چاہی۔
    دفع کر ہم جو کام کرنے آئے ہیں وہ کریں۔ اس نے کہہ کر طوبی کی جانب رخ کیا۔
    دونوں میاں بیوی انہیں ہی دیکھ رہے تھے طوبی نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا تو بری طرح بوکھلا کر عزہ کےہاتھ سے ٹیلی اسکوپ چھٹ سی گئئ۔ جلدی سے اس نے سنبھالنا چاہا تو ٹیلی اسکوپ تو ہاتھ میں آگئ مگر وہ خود سلائیڈ پر آگے کھسک آئی تھی۔نتیجتا پھسلی عشنا نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا مگر وہ پھسلتی گئ اسکے اپر کا ہڈ مٹھی میں آگیا۔ یوں ساتھ ہی عشنا بھی اسکےپیچھے پیچھے ہی آئی۔ فضا میں کچھ چیخیں ابھریں اور دونوں کی گھاس پر کریش لینڈنگ بڑے اہتمام سے ہوئی۔ طوبی اور دلاور بھاگے بھاگے آئے تھے
    …………………………………۔۔۔۔۔۔۔
    وہ پورا بھالو بور ہو کراکٹھے مروڑ کر منہ میں رکھ رہی تھی جب دلاور کی نگاہ اس پر پڑی۔ فورا صائم کو گود میں اٹھا کر اسکے پاس چلے آئے
    بھوک لگ گئ؟ کیا کھائوں گئ۔پاکستانی یا کورین؟
    مجھ سے نہیں سوپ سے چاول کھائے جاتے۔ کم ازکم گاڑھا سالن جیسا تو ہو پانی جیسا سوپ ابلے چاولوں کے ساتھ لا رکھتے ہیں اس سے بہتر بندہ گھر میں ڈھیلی سی کھچڑی بنا کر چٹنی سے کھالے۔
    طوبی کا جواب حسب توقع تھا وہ مسکرا دیئے۔
    چلو پھر کسی پاکستانی ریستوران چلتے ہیں۔ بچوں کو ایکوریم کسی اور دن لے جائیں گے فی الحال تمہارا چیک اپ ضروری ہے۔ میں نے اپائنٹمنٹ لے لیا ہے لیڈی ڈاکٹر سے۔
    کیوں ؟ مجھے کیا ہوا۔۔ وہ حیران ہوگئ۔
    اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو۔ وہ اتنا بے ساختہ بولے کہ طوبی کی آنکھیں سجل علی کی آنکھیں لگنے لگیں۔
    صبح ابکائی آرہی تھی نا کھانا وانا کھانا مشکل نہ وہ خوب پیٹ بھر کر کھاسکو کوئی اچھی سی دوا ہی لکھوا لیں گے۔ یہاں کے ڈاکٹرز بہت قابل ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے دلیل دی۔
    ہوں۔ طوبی سر ہلا کر رہ گئ
    پھر خیال آیا تو پوچھنے لگی۔
    ہم عشنا عزہ کو بھی ساتھ لے چلیں ؟
    انکو ؟ دلاور چونکے۔
    انکو بلائوگی انکو آنے میں بھی وقت لگے گا۔۔ ہم پھر کسی دن
    وہ رہیں۔اس نے اشارہ کیا دلاو ربھی چونک کر مڑے۔ وہ اب ہاتھ ہلا رہی تھی عزہ کو عزہ انکے ہاتھ ہلانے پر چونکی تھی اور۔۔۔۔
    ……………………….۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا مقام تھا وہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی تھی۔۔ ایک تو پہلے بڑے ہونے کے بعد تو شائد پہلی بار پھسلن سیڑھی کی سیڑھیاں چڑھی تھیں دوسرا اتنی لمبی سلائیڈ تو اسکے خاندان میں کسی نے نا لی ہوگی یہ جھولا ہی کوریا میں لگا تھا۔ دو منٹ کیا اسے تو لگا تھا دو گھنٹے لگ گئے اسے پھسل کر نیچے آتے۔ابھئ گر کر حواس قابو بھئ نہ آئے تھے کہ عشنا بھی اس پر آن گری۔
    اسکے برعکس وہ سرعت سے اٹھ کراسے ہلا نے لگی۔ اس نے بس اتنا رحم کیا عشنا پر کہ ٹانگیں سمیٹیں اور گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھ گئ۔
    کیا ہوا چوٹ تو نہیں لگی۔ طوبی بھاگی بھاگی آئی تھی۔
    دلاور طوبی کے پیچھے۔
    آہستہ بھاگو مت۔گر نا جانا کہتے آرہے تھے
    عزہ نے فیصلہ کیا تھا اب قیامت تک سر نہ اٹھائے گی مگر عشنا نے اسکا انجر پنجر ہلا دیا۔۔
    میں ڈاکٹر کو فون کرتی ہوں۔
    یہ عشنا تھی
    ارے یہاں کلینک ہوگانا۔ اتنے جھولے ہیں ایمرجنسی سروس ہوتی یے امیوزمنٹ پارک کی میں بلاتا ہوں۔
    آں۔ عزہ کو سر اٹھانا ہڑا
    سلائیڈ لی ہے بس ۔سلائڈز اسی لیئے تو ہوتے ہیں۔بس تھوڑی اونچی ذیادہ تھی۔ٹھیک ہوں میں۔
    عزہ جزباتی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ بالکل ٹھیک۔ اس نے کھڑے ہو کر چل کر بھی دکھانا چاہا۔ مگر ساری پھرتی دھری کی دھری رہ گئ۔ سیدھا واپس نیچے آنے لگی کہ عشنا نے بروقت تھام لیا۔

    ………..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریسیپشن پر کھڑی نرس نے انہیں سمجھانا چاہا تھا
    دیکھیں ایک وقت میں بس ایک بندہ جائے۔ اپائنٹمںٹ مسز دلاور کا ہے صرف وہ جائیں
    آپ نے اپنے نام سے اپائنٹمنت لیا ہوا تھا۔
    عشنا مڑی۔
    مجھے بھی دکھانا ہے صبح سے متلی سی ہورہی ہے۔
    طوبی نے خالص اردو میں عزہ کو تھامے ہوئے بتایا
    مگر انکو ایمرجنسی نظر نہیں آرہی پائوں مڑ گیا بچی کھڑی تک نہیں ہو پارہی انکی چھےس سونگیو نہیں مک رہی چھڈو جی۔
    طوبئ کو۔غصہ آگیا۔
    چھے سونگیو دے۔ نرس نے جھک کر متانت سے کہنا چاہا
    عشنا نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا۔
    طوبئ نے عزہ کو دیکھا اسکا پائوں پھول کے کپا ہوچکا تھا۔
    اس نے آئو دیکھا نا تائو ڈاکٹرنی کے کمرے کا گلاس ڈور کھولا غڑاپ سے اندر۔۔
    نرس ابھی انکی پھرتی پر حیران بھی نہ ہوئی تھی صحیح طرح کہ عشنا نے بھئ کمال کر ڈالا دبلی پتلی عزہ کی کمر میں بازو ڈالا سارا بوجھ خود پر لیتے ہوئے غڑاپ سے اندر۔
    ڈاکٹرنی انہیں دیکھ کر پہلے حیران پھر پریشان بھی ہوگئ۔۔۔۔ اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ دونوں ہاتھ ہینڈز اپ کر لیئے
    ڈاکا پڑ گیا یقینا اسے یہی خیال آیا تھا۔ شکل پر۔لکھا تھا۔
    وہ اسکا جھولے سے گر کر پائوں مڑ گیا ہے۔ دیکھیں۔ طوبی سے پہلے عشنا نے شستہ ہنگل جھاڑی۔
    پائوں ؟
    ڈاکٹرنئ نے تھوک نگلا۔ پھر اپنی میز پر رکھا نیم کارڈ درست کیا۔
    پر میں تو گائنا کولوجسٹ ہوں۔ اگلی حیران تھئ۔
    گھبرا کے اندر بھاگی آئی نرس اپنی صفائی دینے لگ گئ
    وہ میں نے روکا تھا انہیں۔۔
    ڈاکٹرنئ نے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔
    عشنا نے عزہ کو صوفے پر بٹھا دیا تھا۔
    کین چھنا کین چھنا۔
    ڈاکٹرنئ نے نرس کو اشارے سے اطمیناں دلاتے عزہ کا پائوں دیکھنا شروع کیا۔
    گائنا کالوجسٹ ہے یہ تو طوبی جی ہمیں کہاں لے آئی ہیں۔ عزہ منمنائی۔
    طوبئ آرام سے بیٹھ کر اسکی ڈگریوں کی تفصیل والا نیم کارڈ اٹھا کے پڑھنے لگی یہ الگ بات کہ سب ہنگل میں لکھا تھا۔
    ہوتی تو یہ بھی پوری ڈاکٹرہیں۔ فکر نہ کرو۔
    عشنا نے تسلی دی۔

    …………………………۔۔۔۔۔۔۔
    نرس نے اسکے پائوں میں دوا لگا کر پٹی باندھ دی تھی۔۔دو ایک۔بار ذرا غور سے اس نے دیکھا تو عزہ نے گہری سانس لیکر اپنا ماسک نیچے کردیا۔۔۔۔ اندر انسانوں والی شکل دیکھ کر اسے تھوڑا اطمینان ہوا۔
    عشنا طوبی کے ساتھ ساتھ لگی تھی ڈاکٹر کی مترجم بنی ہوئی۔طوبی کو خاصا سہارا ہوا۔۔ پھر جب وہ اسے لیکر چیک اپ کیلئے جانے لگی تو ڈاکٹر نے باقائدہ ہاتھ سے روکا
    بس ٹھیک ہے آپ باہر بیٹھیں۔
    وہ سر کھجاتی عزہ کے پاس آبیٹھئ
    انکا پائوں بری طرح مڑ گیا ہے مجھے ڈر ہے اندر سے مسل نہ پھٹ گیا ہو سوجن بہت ذیادہ ہے۔ پائوں کی حرکت بھی درست نہیں شائد پلستر کرنا پڑ جائے ہڈی کو ہلکی ضرب لگی ہے۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے۔ آپ۔کسی اچھے سے فزیشن کو دکھائیں میں نے سن کرنے والا اسپرے کر دیا ہے گھنٹے دو گھنٹے تک آرام رہے گا تب تک آپ اپائنٹمنٹ لے لیں۔
    نرس نے عشنا کو بتایا وہ سر ہلا کے رہ گئ۔ نرس جھک۔جھک کر سلام کرتی باہر۔نکل گئ
    یار قسم سے کوریا تو بہت اچھا ہے مجھے لگا تھا پکی موچ آگئ ایک دو ہفتے لگیں گے اب مجھے لنگڑا کے چلتے۔۔ اس نے تو میرا درد بالکل غائب کردیا جیسے مجھے چوٹ لگی ہی نہیں۔ عزہ خوش تھی۔
    اب طوبی اور دلاور کو کیا کہوں کہ اسپتال بھی چلیں؟ ہم نے انکا سارا فیملی ٹائم برباد کردیا بے چاروں نے ریستوران جانا تھا ۔ گھر چلتے ہیں ہلدی چونا مل دیں گے رات گزر جائے گی عروج دیکھ لے گی کیا مسلئہ ہے۔
    سوچتے سوچتے اسے یہی حل۔مناسب لگا
    طوبی اندر جاتے وقت تو ٹھیک تھی اب تو لگتا تھا جیسے اب گری کہ تب ڈاکٹر کے سہارے آتے دیکھ کر وہ دونوں گھبرا گئیں
    کیا ہوا طوبی جی؟ مارا ہے کیا انہوں نے ؟
    عزہ نے یہ بات ہرگز مزاق میں نہیں کی تھی۔
    خوش ہونا چاہیئے خون کے آنسو رورہا ہے دل ہائے۔۔ عزہ مجھے پانی پلائو۔ میرے دل کو پنکھے لگے ہیں۔
    طوبی دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھی۔
    سن پائوں کے ساتھ عزہ جھٹ اٹھئ تھی سامنے واٹر ڈسپنسر سے پانی لینے مگر جب کھڑی ہوئی تو ہفت اقلیم گھوم سے گئے۔پائوں نے وزن تو اٹھایا ہی نہیں چکرا کر جھٹ سے بیٹھ گئ
    کیا ہوا طوبی جی۔
    طوبی ساکت سی بیٹھئ زمین گھوررہی تھی۔
    کیا ہوا کیا بتایا ہے آپ نے؟ عشنا مڑ کر ڈاکٹر سے ہی پوچھنے لگئ
    یہی کہ خوشی کی خبر ہے آپ ماں بننے والی ہیں۔
    ڈاکٹرنئ مسکرا کر بتا رہی تھئ۔
    کیا میں؟
    عشنا کا دماغ ترجمے میں لگا تھا۔
    اچھل پڑی۔ڈاکٹرنئ اس سے بھی ذیادہ زور سے اچھلی
    نہیں نہیں۔۔ یہ۔ اس نے اس بار اشارہ بھی کیا
    ہیں۔۔ عزہ اور عشنا گھوم کر طوبی کو دیکھنے لگیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
    طوبی اور عشنا عزہ کو سہارا دیکر ٹیکسی سے اتار رہی تھیں۔دلاور کا بس نہیں تھا عزہ کو پنگ پانگ بال۔کی طرح اوپر اچھال کر اپارٹمنٹ میں پہنچا دیں۔
    آہ ہائے۔ ہر قدم پر عزہ کی ہائے نکل رہی تھی ایک جانب سے عشنا نے سارا وزن لیا تھا تو دوسری جانب طوبی کا مضبوط سہارا۔۔
    طوبی آرام سے۔ احتیاط سے۔۔
    صائم کو گود میں لیئے دلاور کی سب فکریں طوبی سے جڑی تھیں
    دلاور چوٹ مجھے نہیں عزہ کو لگی ہے
    طوبی نے دانت کچکچا کر گھورا۔
    ابھی تو انکو پتہ نہیں کہ طوبی جی کے آہ۔
    عزہ بولنے سے باز نہ آئی سرگوشی کردی عشنا کو تبھی عشنا بےدھیان ہوئئ
    کم بخت کوریا والے بھی دو نمبر دوا بنانے لگے ہیں لگتا ہے
    کھیل کے میدان میں تو اسپرے کرتے تو کھلاڑی دوڑتے پھرتے اسکا آدھے گھنٹے میں سارا اثر ختم ہوگیا۔
    طوبی بڑبڑا رہی تھی
    طوبی آگے اسٹیپ ہے۔
    دلاور نے پھرٹوک ڈالا
    آپ لفٹ تو روک لیں جاکر اسے انتظار نہ کرنا پڑے
    طوبئ نے انکو چلتا پھرتا کردیا
    وہ گہری سآنس بھرتے رفتار بڑھا گئے۔
    زینت اور گڑیا بھاگ بھاگ کے انکے آگے گلاس ڈور کھلوا رہی تھیں ۔۔
    لفٹ سےنکل کر دلاور تو اپنے اپارٹمنٹ چلے گئے طوبی کے پیچھے دونوں بچیاں بھی انکے اپارٹمنٹ چلی آئیں۔
    فاطمہ اور عروج لائونج میں فلم دیکھ رہی تھیں انہیں دیکھ کر بھاگئ آئیں جیسے ہی عزہ کو سہارا دیا طوبی اور عشنا جھٹ سے منے صوفے پر آن گریں۔۔عشنا نے اپنا موبائل نکال کر وقت دیکھا تو ساڑھے دس ہو رہے تھے۔۔
    کیا ہوا عزہ ؟ واعظہ نے پوچھا تو وہ روہانسی ہوگئ۔
    مجھے بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ فاطمہ اور عروج اسکا وزن سہارے کھڑی تھیں عشنا کو ہی کھسک کر زمین پر آنا پڑا۔ کارپٹ پر بیٹھئ زینت موبائل میں کوئی گیم کھیل رہی تھی گڑیا کی توجہ البتہ ٹی وی کی جانب تھی۔ ہیرو ہیروئن قریب آرہے تھے فاطمہ نے جھپٹ کر ریموٹ اٹھایا اور کارٹون لگا دیئے۔
    بد مزا ہو کر گڑیا نے اسے دیکھا وہ بےنیاز سی بن گئ۔
    عزہ کویڈجسٹ کرا کر واعظہ پانی لینے دوڑ گئ
    کیا ہوا کیاہوا؟ عروج نے دو درجن بار پوچھ لیا اتنی دیر میں۔
    اس نے سلائیڈ لی تو پائوں مڑ گیا۔
    عشنا نے بتایا تو عروج حیران ہو کر مڑی
    کیوں بھئی کیا شوق چڑھا تمہیں؟
    کیوں بھئ کیاغلط کر ڈالا میں نے وہ بڑوں کیلئے ہی سلائیڈ تھی۔ یہاں کی اتنی بڑی بڑی لڑکیاں بھاگتی دوڑتی جھولے جھولتی پھرتی ہیں بس پاکستانی لڑکیوں کیلئے حرام ہو جاتا بڑے ہو کر سب کچھ۔
    عزہ نے ایسے بلبلا کر کہا کہ عروج کو لگا وہ اسکی سخت گیر پھپھو ہے جس نے باتیں بنا بنا کر عزہ کی ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ کندھے اچکا کر بولی
    مجھے کیا میری طرف سے جائو سی سا پر جا بیٹھو زینت اور گڑیا دونوں کو بٹھا لینا ساتھ اور پھر بھی اڑ جانا
    اس نے اسکی دبلی پتلی جسامت کو نشانہ بنایا تو وہ تڑپ گئ۔
    بچوں کو کیوں تمہیں بٹھائوں گی اتنا اونچا اڑوں گی کہ سیدھا چاند پر جا کے رکوں گئ۔
    عروج بے چاری موٹی تو نہیں تھی مگر کسی کو دبلا کہو تو وہ آگے سے آپکو موٹا بنا ہی دیتا
    میں اپنے ساتھ واعظہ کو بٹھا لوں گی سیدھا مریخ کا رخ کرلینا۔
    وہ کیوں باز آتی۔
    ارے۔ واعظہ بھنا گئ۔ پہلے ہی دو ایک مہینے سے اسے لگ رہا تھا وزن تھوڑا بڑھ گیا ہے۔
    مجھے کیوں بیچ میں لا رہی ہو تم دونوں جائو کائنات کی سیر پر میں زمین میں ہی خوش ہو۔
    نہیں تو یہ ۔۔ عزہ نے کہنا چاہا طوبی نے برداشت جواب دے گئ
    اف بس کرو یہ بحث میرا سر پھٹ رہا پہلے ہی میں بہت پریشان ہوں۔
    اسکے تڑپ کر کہنے پر ایکدم سب خاموش ہوگئیں
    اتنی دیر سے ضبط کیئے بیٹھی طوبی نے چہکوں پہکوں رونا شروع کردیا۔
    امی کیا ہوا۔ زینت موبائل پھینک کر ماں سے لپٹ گئ
    زینت بھی پریشان ہو کر اٹھ آئی۔ طوبی نے دونوں کو ساتھ لگالیا
    طوبی جی بچے پریشان ہو رہے ۔۔۔
    واعظہ پانی کا گلاس طوبی کیلئے بڑھاتئ منمنائی۔
    تم دونوں کیا سر پر سوار ہوگئ ہو جائو باپ کا دماغ کھائو آرہی ہوں میں آدھے گھنٹے میں۔
    طوبی کے بھئ دل کو لگی بات جھٹ دونوں کو جھٹکے سے الگ کرکے آنسو پونچھے۔ ۔
    واعظہ اور فاطمہ نے زینت اور گڑیا کو اپنے ساتھ لگالیا
    مما نیند آرہی ہے۔ زینت بسوری۔۔
    تو میں کیا کروں اتنی بڑی ہوگئ ہو جائو سوئو ۔۔
    طوبی نے لہجہ سخت دل پتھر کر لیا
    آپ دونوں جائو گھر مما ابھی آتی ہیں بس دو منٹ میں
    فاطمہ نے بہلا پھسلا کر دونوں کو بھیجنا چاہا۔ماں سے ڈری ہوئی دونوں سر ہلاتی جانے لگیں
    موبائل تو لے جائو پاپا کا۔ عشنا نے یاد دلایا تو زینت بھاگی آئی اور موبائل کارپٹ سے اٹھا کر گڑیا کا ہاتھ پکڑ کر چلی گئ۔
    اب رو لوں۔
    انکے جانے کے بعد طوبی نے منہ لٹکا کر اتنی معصومیت سے پوچھا کہ وہ سب نثار ہوگئیں۔
    عزہ نےاپنا درد بھول کر گلے میں بانہیں ڈال لیں۔ فاطمہ بھی صوفے کے ہتھے پر آٹکی۔ واعظہ نے گلاس آگے بڑھانا چاہا مگر وہ کارپٹ کو گھورتے ہوئے یاسیت سے کہہ رہی تھی
    میں سوچ بھئ نہیں سکتی تھی کہ میرے ساتھ ایسا ہوگا۔
    عزہ نے سر سہلایا
    کوئی بات نہیں طوبی جو ہوتا اچھا ہوتا کیا ایک نیا پھول کھلنے والا ہے آپکے آنگن میں۔
    دلاور جو گل کھلا رہے اسکے بعد تو مجھے اس پھول کی او رفکر ہورہی ہے۔ اس چڑیل کے کہنے پر دلاور نے چھوڑ دیا مجھے تو میں چاروں بچوں کو لیکر کہاں جائوں گی۔
    طوبی نے بین کرنا چاہا
    ویسے طوبی یہ خوش ہونے والی بات ہے آپ رو رو کر ناشکری نہ کریں۔
    عشنا نے کہا تو عروج فاطمہ اور واعظہ نے گھور کر دیکھا
    انکی زندگی میں سوتن آرہی ہےاور تم کہہ رہی ہو خوش ہونے والی بات ہے
    فاطمہ نے کہا
    تو اور کیا طوبی کیا پتہ نئی آنے والی خوشی کا سوچ کر دلاوربھائئ بھی باز آجائیں۔۔
    تو اور کیا آپ طعنہ دیا کریئے گا تین تین بیٹیوں کے باپ ہو کر بھی باہر چکر چلا رہے۔ شرم کریں ۔
    عزہ نے آستین چڑھائی۔
    تین بیٹیاں؟ فاطمہ کا انداز سوالیہ تھا
    ویسے میں بیٹا اور بیٹی میں فرق کرتی نہیں مگر صائم کا بھی جوڑی دار آجائے تو اچھی بات ہے نا۔
    ویسے دو بیٹیوں کے بعد بیٹا ہوتا ہے دادی کہتی تھیں مگر پھر ہماری بھئ بہن ہوگئ تھی پھر۔
    عشنا نے معلومات میں اضافہ۔کیا
    چلو۔جو بھی ہو۔ طوبی جھینپ سی گئ
    میری عقل گھاس چرنے چلی گئ ہے یا تمہیں بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا؟
    عروج واعظہ کے کان میں گھسی
    فاطمہ بھئ سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی واعظہ کو۔۔جس نے اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑائے
    تو کیا آپ اسلیئے رو رہی ہیں کہ آپکے یہاں پھر خوشخبری ہے۔ ؟
    اس نے اندازہ لگا یا تھا مگر طوبی خفا ہی ہوگئ۔۔
    آنسو پونچھ کر بگڑ کر بولی
    لو میں اس بات پر کیوں روئوں گی ؟ یہ تو خوشی کی بات ہے۔ میں ابھی ساس کو بھی فون کر تی ہوں بلکہ پہلے امی کو کرتی ہوں کیا ٹائم ہو رہا ہوگا اس وقت پاکستان میں۔ وہ عزہ سے کہہ رہی تھی۔جوابا وہ کیلکولیٹ کرنے لگی
    پل میں تولہ پل میں ماشہ یقینا طوبی کیلئے محاورہ بنایا گیا تھا۔اس وقت شرماتی خوشی سے اچھلتی طوبی کے ابھی بھی پلکوں پر آنسو دھرے تھے
    چوتھے بچے کی خبرپر بھی اتنی خوشی ہوتی ہے؟
    فاطمہ دھیرے سے اٹھ کر انکے پاس آبیٹھی اور سرگوشی میں کہا
    جبھئ تو ہم اٹھارہ انیس کروڑ ہوچکے ہیں۔
    عروج بھئ بڑبڑائئ۔
    واعظہ نے ایک نظرعشنا عزہ اور طوبی کو دیکھا پھر گلاس بھر کر پانی خود ہی پی لیا۔ پھر دھیرے سے بولی
    الف کہاں ہے؟
    آرہی ہوگی آج ریڈیو جانے کا کہہ کر گئ تھئ۔ عروج نے بتایا تھا۔ تبھئ کارپٹ پر پڑے فون کی جل بجھ کرتی روشنی نے فاطمہ کی توجہ کھینچ لی اس نے فون اٹھایا تو کال آرہی تھی۔۔اس نے نام پڑھا پھر سب کی نظروں میں آئے بنا چپکے سے اٹھ گئ۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دھیرے دھیرے سرجھکائے چلتی ہوئی بس اسٹاپ پر آبیٹھی۔ تھوڑی دیر قبل کا منظر ذہن میں تازہ ہوا تھا۔
    ای جی آ کا انٹرویو شیڈول میں ہےتم اس سے پہلے استعفی نہیں دےسکتی ہو۔ اور اب تو جاکے ریٹنگ آنا شروع ہوئی ہے یہ کونسا وقت ہے سب چھوڑ بیٹھنے کا؟ لڑکی سچ بتائو کسی اور جگہ نوکری لگ گئ یے؟میں پیسے بڑھا دیتا ہوں مگر یہ واحد انگریزی زبان کا شو ہے ہمیں چین جاپان چھوڑ امریکہ تک سے لوگ سننے لگے ہیں ہم وہاں کے ایک ریڈیو چینل۔سے بھی تعاون کر رہے ہیں تمہیں اندازہ ہےیہ تمہارے کیرئیر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے پھابو۔
    اسکے پروڈیوسر صاحب کی بس اپنے بال نوچنے کی کسر رہ گئ تھی باقی ہر حربہ آزما لیا تھا وہ ٹھس سی کھڑی دیکھتی رہی۔
    مجھ سے اب شو نہیں ہو پارہا۔
    وہ دھیمے لہجے میں بڑ بڑائی تھی۔
    وہی تو پوچھ رہا ہوں ۔ مجھے یقین نہیں آتا تم وہی لڑکی ہو میں پہلے سے ذیادہ محنت کروں گئ ریٹنگ 9 آئے گی اس ہفتے دیکھئے گا اس دفعہ یہ موضوع رکھیں ایکسو کو بلائیں کیا کچھ آئیڈیاز ہوتے تھے تمہارے پاس اب کیا ہوگیا ہے۔ اور سیہون تو تمہارا سب سے ذیادہ پسندیدہ تھا نا ؟ اس نے اتنی مشکل۔سے ژیہانگ کے کہنے پر وقت نکالا ہے ہم پروموشن کر رہے انٹرنیشنل فینز انتظار کررہے ہیں اس شو کا۔ پہلے ژیہانگ چھوڑ گیا اب تم استعفی لا کر رکھ رہی۔ہو کیوں میری روزی پر لات مارنے پر تلی ہو لڑکی۔۔
    پہلی ڈانٹ سے اب تک ہر موقعے پر پہلے سے ذیادہ دل لگا کر کام کرنے کے دعوے کرنے والی جی جان لڑا دوں گی والی الف کہیں جیسے کھو سی گئ تھی۔ ابھی بھی ٹھس سی کھڑی سر جھکائے سنتی رہی
    میں نہیں جانتا سیہون کا انٹرویو تو تمہیں ہی لینا پڑے گا اسکے بعد دیکھیں گے۔ تب تک تم۔بھی اچھی طرح سوچ لو۔
    وہ مزید کہتے کہتے رک کر بات ختم کرگئے۔
    آج کیا تاریخ ہے؟
    اس نے سامنے کلنڈر پر نگاہ ڈالتے آہستہ سے پوچھا تھا۔
    بس آ کر رکی تھی۔ کافی دیر سے بس کے انتظار میں کھڑے لوگ لپک کے چڑھے تھے۔ اسے بھئ اسی بس میں چڑھنا تھا مگر سب کو تیزی سے بڑھتے دیکھ کر بھی وہ اٹھی نہ تھی۔
    چندی آنکھوں والے لوگ بس میں بیٹھے تھے اور بس چل پڑی تھئ۔
    بیس دن رہ گئے۔ اس نے گہری سانس لیکر سرنشست کی پشت سے ٹکا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طوبئ کو کیسے پتہ چلا کہ تم دونوں بھی وہیں پارک میں موجود ہو انہوں نے پوچھا نہیں؟ پیچھا کرتے تو نہیں دیکھ لیا تھا۔
    عروج سوال پرسوال داغ رہی تھی۔
    نہیں انہیں کیا پتہ کہ ہم انکا پیچھا کر رہے تھے وہ تو یہی سمجھیں کہ ہم بھی پارک گئے ہوئے ہیں۔۔
    عزہ منمنائی۔
    پھر بھی وہ منہ پر ماسک ہونے کے باوجود کیسے پہچان گئں۔۔؟
    عروج کے سوال میں دم تھا۔
    طوبی جی جاتے ہوئے ہمیں رات کا بھنا ہوا مرغ دے کر گئ تھیں کہ آج انکا پروگرام باہر کھانا کھانے کا ہے۔ اس وقت میں او رعشنا بس تیار ہو کر نکلنے ہی لگے تھے۔۔
    عزہ نے بتاتے ہوئے سر جھکا لیا۔
    عروج جو اسکا پائوں ٹھونک بجا کے دیکھ رہی تھی ایکدم سے سیدھا کر گئ
    آہہہہہہہ۔ عزہ کی چیخ ہی نکل گئ
    یہ بنیں گی جاسوس پتہ لگائیں گی اس چڑیل کا جو طوبی کا گھر برباد کر رہی ہے۔
    عروج نے فضیحتے کرنے والے انداز میں کہا تھا۔وہ سب واعظہ کے کمرے میں محفل۔لگا کے بیٹھی کارکردگی سنا رہی تھیں۔ واعظہ منہ تک کمبل تانے لیٹی تھی جبکہ عروج ڈبل بیڈ پر عزہ کے بنا چاقو چھری آپریشن میں مصروف تھی عشنا ان سب کیلیے چائے بنانے گئ ہوئی تھی الف اپنے کمرے میں بند تھئ۔
    ہائے عروج مار ڈالا قصائی نہ ہو تو۔
    عزہ پیر پکڑے دہری ہورہی تھئ۔
    موچ تھئ سیدھی اسکو سیدھا کیئے بنا جتنا مرضی اوپر سے پٹیاں باندھ لو کوئی فرق نہیں پڑنا۔اب ہلدی دودھ پیئو سو جائو۔۔
    عروج سیدھی ہو کر بیٹھتے ہوئے مزے سے بولی
    تبھئ عشنا ٹرے میں کپ سجائے اندر داخل ہوئی تو عزہ کو یاد آیا۔
    کل صبح مجھے اپنے ساتھ لے جائو ایکسرے کروائو پتہ نہیں کیا کیا بتایا تھا ڈاکٹر نے عشنا کو۔۔۔
    ہاں کہہ رہی تھئ کہ ایکسرے کروائو سوجن بہت ہے ہڈی کو ضرب بھی آئی ہے۔ اور شائد مسل بھئ پھٹ گیا ہے
    اس نے عروج کے سامنے ٹرے کی۔اس نے کپ اٹھایا عزہ کے سامنے چائے کی تو وہ اسے گھورنے لگ گئ
    ہڈی میں ضرب مسل پھٹ گیا تم مجھے گھر لے آئیں۔۔
    اسکا صدمے سے برا حال تھا۔ عشنا نے نظرچرا کر فاطمہ کی۔جانب ٹرے کردی
    فاطمہ موبائل میں مگن تھئ۔مگر کپ اٹھا لیا عشنا دوبارہ عزہ کی۔جانب مڑئ
    چائے تو لے لو پائوں میں موچ ہے ہاتھ سلامت ہے
    اس نے یاد دلاتے ہوئے ٹرےاسکے اور عروج کے بیچ بیڈ پر رکھی اور سہولت سے واعظہ کے بیڈ پر اسی کے اوپر بیٹھ گئئ ۔۔ کمبل میں فوری تحریک ہوئئ تھی
    عزہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگی اتنی ناقدری
    دیکھو مانا میں تم لوگوں کیلئے اہم نہیں مگر اپنے گھروالوں کی چشم و چراغ ہوں مجھے یوں بجھائو تو نہیں۔۔ اتنا ظلم کیا میرے ساتھ کیا بگاڑا تھا میں نے۔ وہ پھٹ ہی تو پڑئ۔
    اسکو میں کہتی رہی کہ مجھے اسپتال لے جائو واپس لے آئی کہ عروج دیکھ لےگی۔ میں معزور ہوگئ نا تو تم سب پر ۔۔ سوچ میں پڑی فورا یاد آیا۔۔۔۔۔۔ س سسو کر دوں گئ۔
    کیا۔عروج و فاطمہ اچھلیں۔
    کیوں بھئ اس میں سوسو کرنے کی کیا بات ہے۔
    عروج شدید حیران تھئ۔
    ہاں تو کیا سوسو کرنے سے پائوں جڑ تھوڑی جائے گا۔
    فاطمہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائئ۔
    اف سو سو نہیں سو کروں گئ ؟ عزہ جھلا گئ۔
    وہ بھی کیوں کروگی؟ ایک تو بنا فیس لیئے پائوں دیکھا تمہارا۔ ویسے پائوں تمہارے صاف تو تھے نا۔
    عروج نے چھیڑا تو جوابا عزہ نے اسکی گود میں ہی رکھ دیے
    دیکھ لو تسلی کرلو۔
    یار یہ کمبل میں کیا پڑا ہوا ؟عشنا نے کمبل سمیٹ کر ٹیک لگا کر بیٹھنا چاہا
    واعظہ دبی ہے اس میں۔
    واعظہ نے کمبل سے منہ نکال کر گھورا
    سوری۔ عشنا سیدھی ہوئئ۔۔
    یہ چائے لے لو واعظہ ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ فاطمہ نے ٹرے میں اکلوتا بے آسرا کپ دیکھ کر یاد کرایا
    میں نے تو چائے نہیں بنوائئ تھی۔ واعظہ نے کہا تو عروج بڑبڑائئ۔
    اچھا کیا۔
    یہ الف کی ہے میں نے جا کر اسے دی تو بگڑ گئ کہ یہ کونسا وقت ہے چائے کا۔ حالانکہ میری یادداشت میں ایسی بہت سی راتیں ہیں جن میں تین بجے اٹھ کر اس نے چائے بنا کر پی اور پھر سوگئ۔
    اسکی رواں اردو عروج اور فاطمہ تو الگ کمبل سے واعظہ نے منہ نکال کر اسکی شکل دیکھی
    عزہ کا منہ کھلا کا کھلارہ گیا تھا۔
    تھیبا۔
    تمہاری اردو بہت اچھی ہے۔ عروج نے طنز کیا تھا
    میری امی لکھنئو کی ہیں۔وہ تو شاعر بھی ہیں۔
    عشنا نے فخریہ بتایا۔
    فاطمہ نے واعظہ کو واعظہ نے عروج کو عروج نے عزہ کو عزہ نے کندھے اچکا کر فاطمہ کو دیکھا عشنا چائے کا گھونٹ بھرنے میں مگن تھی۔ فاطمہ نے واعظہ کو دیکھا جس کی پیشانی پر شکن پڑ چکی تھئ۔
    کیا ہوا سب چپ کیوں ہو گئے۔
    عشنا نے حیران ہو کر پوچھا۔
    کچھ نہیں۔ وہ ہم سوچ رہے کہ طوبی جی کا مسلئہ کیسے حل کریں۔ جاسوسی تو فلاپ ہوگئ ہماری۔ سارا دن طوبی کے ساتھ ہی گزارا یے دلاور بھائی نے۔
    عزہ نے مایوسی سے چائے ایک اور گھونٹ بھرا پھر کپ ٹرے میں رکھ دیا

    تم سے بہتر تو میں ہو اس پوری پلاننگ میں شریک ہونے بنا بھی اہم خبر چرا لائی۔
    یہ فاطمہ اترا رہی تھی۔
    کیا خبر ہے ؟ عروج نے کڑے تیور سے گھورا۔
    اس لڑکی کا نام روزلین ہے جو طوبی جی کی نیندیں اڑائے ہے۔
    فاطمہ نے کہہ کر خوب اترا کر دیکھا۔
    تمہیں کیسے پتہ۔ چلا۔
    عروج اور عزہ چلائیں۔ اسے واعظہ کے ردعمل کا انتظار تھا اس نے بس اتنا احسان کیا کہ تکیہ اونچا کر کے بازو کے بل پر ہو کر اسے گھورنے لگی مطلب تھا مزید بتائو۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یار عزہ اورعشنا کو بھیج تو دیا ہمیں بھی کچھ کرنا چاہیئے۔
    یہ عروج تھی۔ ان دونوں کےکمرے میں کھڑی کمر پر ہاتھ رکھ کر جمائیاں لیتے دیکھ کر جوش دلانے کی ناکام کوشش کرتئ۔
    ہاں صحیح کہہ رہی ہو سوجانا چاہیئے ۔ واعظہ نے کمبل تان لیا تھا۔
    عروج نے فاطمہ کو دیکھا جو اپنے بیڈ پر بیٹھی کمبل کا سرا ہی ڈھونڈ رہی تھی۔
    اچھا۔ وہ بھی متفق ہوگئ۔ آکر فاطمہ کے برابر ہی کمبل میں گھس گئ۔
    ………………………………………………….

    اتنا بے موقع فالتو بےکار فلیش بیک دکھانے کا مقصد۔
    عشنا نے گھور کر انہیں دیکھا۔
    ہم دونوں باہر دھوپ میں خوار ہو رہے اور تم لوگ سوتی رہی ہو سارا دن
    عزہ کو بھی غصہ آیا۔
    وہی میں حیران ہوں یہ میرے ساتھ سوتی رہی ہے تو اس کو خواب میں آئی یے روزلین؟
    عروج بھی گھورنے لگی
    فاطمہ نے مسکرا کر ان سب کے متجسس چہروں پر نگاہ ڈالی ہھر سیدھی ہو بیٹھی۔
    یہ فون ہے دلاور بھائی کا۔زینت شائد بھول کر چلی گئی۔ اس کا اتنی دیر سے میں پوسٹ مارٹم کر رہی تھی بیٹھی ہوئی سب کھنگال ڈالا ہے یہ تک بھی کہ روزلین سے انکے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔
    وہ بے تحاشہ سنجیدگی سے کہہ رہی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب بچی سے کیا تفتیش کر رہے خود خیال رکھنا چاہیئے تھا آپکو۔ طوبی جمائی لے رہی تھی۔زینت اپنے بیڈ پر سرجھکائے بیٹھی تھئ گڑیا لیٹ چکی تھی اس پر۔کمبل درست کرتی طوبی جھلائی۔ دلاور ہونٹ بھینچ کر رہ گئے
    پتہ نہیں کس کا فون اٹھا لائی ہےاس کا تو لاک بھی نہیں کھل رہا کہ میں کال۔لاگ دیکھ کر مالک سے رابطہ کرلوں۔
    بابا میں نے باہر کسی کا نہیں اٹھایا۔ زینت منمنائی۔
    ہاں تو اور کیا میرے بچوں کو ادھر ادھر سے چیزیں اٹھانے کی عادت نہیں یقینا یہ واعظہ کے گھر میں سے کسی کا ہوگا۔ صبح پتہ کرلوں گئ۔آپکا بھی وہیں کہیں پڑا ہوگا اب بچی کو ڈانٹنا بند کریں پریشان ہو رہی ہے۔
    طوبی کے کہنے پر انہوں نے سر جھٹکا تو زینت پر نگاہ پڑی ہونٹ لٹکائے وہ مجرم سی بنی بیٹھئ تھی۔۔
    چلو۔سو جائو۔
    انہوں نے پیار سے اسکے سر پر تھپکی دی تو وہ مطمئن ہو کر مسکرا کر لیٹ گئ۔
    کمرے کی لائٹ وغیرہ بند کرکے وہ دونوں آگے پیچھے اپنے کمرے میں داخل۔ہوئے۔ صائم کاٹ میں کسمسا رہا تھا اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے تھپکا۔ کاٹ بیڈ سے جوڑا ہوا تھا وہ اسی کے سرہانے لیٹا کرتی تھی سو ابھی بھی فورا نیم دراز ہو کر تھپکنے لگی۔ دلاور اپنے بیڈ سائیڈ پر موبائل رکھنےلگے
    ڈاکٹر نے کیا بتایا سب ٹھیک ہے ؟ کیوں طبیعت خراب تھی؟
    انہیں خیال آیا۔ تو مڑ کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    طوبی نے صائم پر نگاہیں جما لیں۔
    بس تھوڑی معدے میں تکلیف تھئ۔بس کوئی بڑا مسلئہ نہیں۔۔
    اچھا۔۔۔ دلاور کو اچنبھا سا ہوا۔
    اور کچھ میرا مطلب ہے۔۔۔۔ وہ رکے۔۔
    پورا مکمل چیک اپ کروایا ہے نا؟
    پورا چیک اپ کرکے ہی بتایا ہے ۔۔ طوبی کروٹ بدل کر انہیں بغور دیکھتے ہوئے بولی۔
    اچھا۔ چلو اچھی بات ہے۔۔ میں سمجھا۔۔۔خیر۔
    انہوں نے کچھ کہنا چاہا مگر پھر ٹال گئے۔
    آپکو۔کیا۔لگا تھا مجھے کوئی بیماری لگ گئ ہے ؟
    طوبی کا انداز اور لہجہ دونوں تیز اور عجیب تھے۔
    وہ چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگے ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد ۔۔۔
    جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 48

    قسط 48

    لفٹ پر بڑا سا نو سروس لکھا تھا۔اف۔ چار فلورز کی سیڑھیاں اترتے اسکا تیل نکل گیا تھا۔ پاکستان میں ہوتی تو آخری فلو رپر گر ہی جاتی مگر یہاں گرمی میں بھی خنکی تھی
    اس نے چند لمحے سانس بحال کی پھر واٹر ڈسپنسر سے جا کر پانی پیا۔ تو جان میں جان آئی۔
    اف ۔ ہوگی کوئی لڑکی جو اپنے ایکس سے ملنے کیلئے چار فلورز اتر کر جائے۔
    وہ خود کو شاباش دینا چاہ رہی تھی مگر یہاں کوئی سراہنے والا نہیں تھا سو بڑ بڑا کر رہ گئ۔
    تبھئ فون بجا۔اس نے پیغام کھولا
    میں گارڈ کو لفافہ تھماکر جا رہا ہوں لے لینا۔
    حد ہے۔۔۔ مطلب مجھے اس میں کوئی لو انٹرسٹ نہیں تب میں پچاس سیڑھیاں اترکر آرہی ہوں اور یہ دس منٹ گرائونڈ فلور پر انتظار نہیں کرسکتا۔ اس سے تو پاکستانی لڑکے اچھے لو انٹرسٹ کیا بس دیکھنےکے شوق میں کڑی دھوپ میں گرلز کالجز کے باہر کھڑے رہتے۔
    وہ غصے میں بھر کر مٹھیاں بھینچنے لگی۔ پہلی بار پاکستانی لڑکوں کی خوبئ جسے آج تک اس نے خامی بلکہ برائی گردانا تھا آشکار ہوئی تھی۔
    تن فن کرتی تیز قدموں سے چلتی باہر نکل آئی تو واقعی سیونگ رو پارکنگ سے گاڑی نکال رہا تھا۔
    وہ وہیں رک گئ۔ سیونگ رو نے بھی شائد اسے دیکھ لیا تھا۔ جبھی وہیں گاڑی اسٹارٹ چھوڑ کر ہی باہر نکل آیا۔
    اسلام و علیکم کیسی ہو۔
    اس نے قریب آکر مخصوص انداز میں سلام جھاڑا۔
    وہ سینے ہر بازو لپیٹ کر بغور دیکھتی رہی۔
    ڈراموں فلموں کے برعکس اوپا نا تو بجھے تھے نا ہی ٹمٹما رہے تھے۔ تازہ شیو پر خوب تیار شیار جینز کوٹ ڈھیروں پرفیوم ماتھے پر بکھرے بال۔
    اس نے سچ مچ محبت کا اظہار کیا تھا کہ شرارت۔ وہ سوچے بنا نا رہ سکی
    اسے بغور اپنا جائزہ لیتے دیکھ کر وہ ذرا سا مسکرایا۔
    میں تمہارے لیئے تحفہ لایا تھا۔ کل تو تم نے لیا نہیں مگر میں وہ تحفہ کسی اور کو دینا بھی نہیں چاہتا تھا سو اس گارڈ کے پاس چھوڑ دیا۔ اس سے قبل کہ تم آج بھی لینے سے انکار کردو۔ تھوڑا قیمتی ہے
    وہ قیمتی پر آنکھوں میں جگنو سجا کے مسکرایا تھا۔
    عروج چپ ہی رہ گئ۔ ماسک کے پیچھے اسکی بڑی بڑی آنکھیں۔ سیونگ رو براہ راست ان میں جھانکنے لگا۔
    تم سے ویسے مجھے امید نہیں تھی کہ یوں صاف انکار کردوگی مگر میرے ساتھ ہمیشہ ہی کچھ غیر متوقع ہوتا ہے سو سہہ گیا۔۔۔ اس حلیئے سے یہ مت سمجھنا کہ مجھے کوئی دکھ نہیں ہوا تمہارے انکار سے۔ کافی ہوا ہے۔ سچ بتائوں تو رات کو رویا بھی تھا۔۔۔
    عروج کی آنکھوں کی پتلیوں میں حیرت اتر آئی۔
    وہ جیسے اسکی سو چیں حرف بہ حرف پڑھ رہا تھا۔
    بہر حال جاتے ہوئے بس اتنا کہوں گا کہ خوب پڑھنا اسپیشلائزیشن کرنا اپنے سب خواب پورے کرنا اور کبھی مجھے یاد بھی کرلیا کرنا۔ چار سال کا ساتھ اتنی تو مروت کا متقاضی ہے۔۔ ہے نا؟
    وہ مسکرادیا۔ عروج کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر سمجھ نہ آیا کیا کہے۔ کوئی نا پسندیدہ انسان پرپوز کرے تو انکار کرنا کتنا آسان ہوتا ہے مگر سیونگ رو کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا تھا اسکو دکھ دینے کا سوچ کے بھی برا لگ رہا تھا۔۔
    میری مام مسلم تھیں۔ میرے آہپا اور انکے درمیان کبھی اسلام موضوع نہیں بنا تھا۔ مجھے لگا تھا میرے اور تمہارے درمیان بھی یہ موضوع بنے بنا بھی ہمارا تعلق قائم ہوسکتا تھا مگر تم نے۔۔۔۔
    اس نے گہری سانس لی۔
    شائد تم پاکستانی ہونے کی وجہ سے کٹر ہوہیں؟
    وہ پوچھ رہا تھا۔عروج نے ترچھی نگاہ سے گھورا تو ہنس دیا
    سب پاکستانی لڑکیاں تم جیسی ہوتی ہیں یا تم الگ ہی کوئی خاص نمونہ ہو۔۔۔ اسکی ترچھی نگاہ سے وہ خاصا محظوظ ہوا تھا جیسے۔
    کچھ بولو گی یا بس آنکھوں کی بولی بولنی آج؟ جا رہا ہوں کوریا چھوڑ کر خدا حافظ ہی کہہ دو۔
    وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر سر جھکا کر مڑگیا۔
    کہاں۔ عروج کے منہ سے نکلا تھا۔۔۔ وہ یونہی گردن موڑ کر دیکھنے لگا جیسے پوچھ رہا ہو کوئی مطلب ہے کیا؟
    میرا مطلب اچانک کہاں۔۔ کل تک تو کوئی ارادہ نہیں۔۔ یا۔۔
    وہ گڑ بڑا کر چپ ہوگئ۔ میں وضاحتیں کیوں کر رہی خود کو ڈپٹ بھی لیا۔
    جاپان وہاں اپنے انکل سے مل کر امریکہ۔۔۔۔مجھے اسپیشلائزیشن کیلئے اسکالر شپ مل گئ ہے۔۔۔ مجھے دو ہفتے بعد جانا تھا مگر یہاں رکنے۔۔۔۔۔۔
    وہ یونہی مڑ کر بولتے بولتے چپ سا ہوگیا۔پھر گردن موڑ کر بولا۔۔
    میری فلائٹ کا وقت ہو رہا ہے چلتا ہوں۔ بائے۔۔
    وہ کہہ کر رکا نہیں۔ تیز تیز قدم اٹھاتا گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔اسکی آنکھوں سے پھسل آنے والے آنسو راہ دھندلا رہے تھے مگر وہ اب مڑ کر پیچھے دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔اتنی ہی تیزی سے بیٹھ کر گاڑی نکال کر لے گیا۔۔
    عروج وہیں کھڑی دیکھتئ رہی گاڑی نگاہوں سے اوجھل۔ہوئی تو پلٹی
    ٹپ۔ ایک بوند اسکے سر پر آن گری۔۔۔
    اس نے سر اٹھا کر آسمان دیکھا تو کئی بوندیں اسکے تعاقب میں تھیں۔۔۔۔
    کوریا میں یوںہی ایکدم ہی موسم بدل جاتا ہے۔ اسے کمپائونڈ کی۔جانب بھاگ کر جانا پڑا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پروگرام ختم کرکے نکلتے ہی باہر چھاجوں مینہ برسنے لگا تھا۔۔
    سب جیسے تیار تھے سوائے اسکے۔چھتری رین کوٹ۔ اسکی شفٹ کے سب لوگ تیزی سے باہر نکلنے لگے تو وہ تھوڑا ایک جانب ہوگئ۔۔۔
    ایک وہ دن بھی تھا۔۔ جب کے بی ایس ایوارڈز فنکشن سے نکلتے ہوئے وہ بنا آسمان دیکھے نکل آئی تھی۔ فٹ پاتھ پر چلتے چلتے جب ایکدم بارش تیز ہونے لگی تو وہ سٹپٹا کر کوئی سایہ کوئی چھپر ڈھونڈنے لگی تھی کہ اچانک سر پر چھتری تن گئ۔
    کوریا کے موسم کا اندازہ کرنا سیکھ لو اب۔ ہربار مجھے چھتری لا کردینی پڑتی ہے تمہیں۔
    مانوس آواز وہ چونک کرمڑی۔سامنے چندی آنکھوں کے ساتھ مسکراتا ژیہانگ۔۔
    ہر بار؟ پہلے کب ۔۔ وہ بولتے بولتے رکی۔
    ریڈیو کے دفتر کے باہر۔۔ ژیہانگ نے یاد لایا تو اسے وہ اونچا لمبا سراپا بارش سے بچتا بھاگتا۔۔
    اف۔ کتنی احمق ہوں میں اسکو کپڑوں سے بھی نہ پہچانا اردو میں بھی بولا تب بھی احمقوں کی طرح اسکے۔۔۔۔
    اسے اپنی حماقت پر ٹھیک ٹھاک غصہ آن چلا تھا۔۔ اس کا چہرہ پہلے سوچ میں پڑا پھر دہک سا اٹھا۔ ژیہانگ بہت دلچسپی سے اسکے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
    تمہیں دیکھ کر مجھے بچپن میں سنی ایک کہانی یاد آجاتی ہے۔ سنائوں؟
    نہیں۔۔اس نے فورا سر نفی میں بھی ہلایا ۔۔
    کیوں۔ژیہانگ معصوم سا بنا۔
    میں اجنبیوں سے کہانی نہیں سنتی۔۔ وہ کہہ کر مڑ کر جانے لگی
    ذکریہ اجنبی تو نہیں۔۔ وہ ایکدم سے اسکے سامنے آیا۔
    ژیہانگ تو ہے۔ اس نے جتایا۔ اور رخ موڑا۔۔
    تم ذکریہ سے کہانی سن لو بھلے ژیہانگ سے منہ پھیر لو۔
    میں کہانی سن کر بھٹک جائوں گی راستہ۔۔ اس نے دل میں کہہ کر قدم بڑھائے۔ مگر شائد دل میں۔ حقیقت میں تو وہ وہیں کھڑی رہ گئ تھئ۔۔
    سڑک کنارہ برستی بارش گزرتے لوگ لڑکی خفا خفا سی لڑکا دنیا جہان کا اشتیاق آنکھوں میں سمائے دیکھتا۔۔۔ کوئی رک جاتا تو۔۔۔۔۔۔۔
    اس کو احساس بھی نہ ہوا کہ ایک۔بارش اسکے چہرے پر بھی برسنے لگی ہےایسی کہ شیڈ میں کھڑے ہونے کے باوجود بھئ چہرہ تر ہوتا جارہا تھا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واعظہ اور فاطمہ بھیگی مرغیاں بنی جب فلیٹ میں داخل ہوئیں تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔
    فلیٹ میں بیسن اور سوجی کی خوشبوئیں اٹھ رہی تھیں۔ دونوں سیدھا کچن کی جانب بھاگی آئیں تو عزہ پکوڑے تل رہی تھی اور عشنا سوجی کا حلوہ بنا رہی تھی۔۔۔
    آجائو واعظہ فاطمہ گرم گرم آلو پیاز کے پکوڑے اور واعظہ کیلئے ہری مرچ کے پکوڑے الگ سے بنا رہی ہوں یہیں آجائو۔
    عزہ نے کڑاہی سے گرم۔گرم پکوڑے ٹرے میں نکال کر کائونٹر پر رکھے۔
    دونوں کو بھر پیٹ سینڈوچ کھانے پر دلی افسوس ہوا۔
    اف پاکستانیوں زندہ باد کس نے یہ ریت بنائی بارش میں پکوڑے کھانے کی اسکو سات سلام۔
    فاطمہ چہکتی ہوئی آئی۔
    ہم سینڈوچ کھا کے آئے ہیں۔ واعظہ کا انداز جتانے والا تھا
    ہاں ہم سینڈوچ کھا کے آئے ہیں۔ فاطمہ نے اداسی سے کہتے ہوئے آلو کا پکوڑا منہ میں بھر لیا۔
    ہم ایسے موسم میں کھچڑی بناتے ہیں۔
    عشنا نے مسکرا کر بتایا۔
    کیوں بھئ؟ وہ سب حیران ہو کر چیخ ہی تو پڑیں۔
    ہماری والدہ سائوتھ انڈیا سے ہیں وہ ہمیشہ ایسے موسم میں کھچڑی بناتئ ہیں چکن کی۔ اس میں دالیں بھی ڈلتی ہیں آلو بھی
    عشنا نے وضاحت کئ تو انکی حیرانی کم ہوئی
    چکن والی کھچڑی ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ عزہ نے سند جاری کی
    مجھے لگا تھا کہے گئ بارش کے بعد چونکہ سب بیمار ہوجاتے اسلیئے ایڈوانس کھچڑی پکتی۔
    اپنی بات پر فاطمہ نے خود ہی حظ اٹھایا۔ واعظہ عزہ تیزی سے پکوڑے ختم کرنے میں لگی تھیں
    چٹنی نہیں بنائی۔
    عروج شان سے صوفے پر بیٹھی ٹی وی کے ریموٹ سے کھیل رہی تھی۔ وہیں سے آواز لگائی۔ جوابا منہ میں پکوڑے بھرے واعظہ عشنا فاطمہ نے اکٹھے مڑ کر گھورا تو اسے کھسیا کر اٹھنا پڑا۔
    میں لہسن کی چٹنی بنا دیتئ ہوں۔
    اس نے احسان دھرتے کہا۔ فریج کے پاس آئی اندر سے لہسن پیسٹ کا جار نکالا پلیٹ میں کئی چمچ بھر کر ڈالا اور اوپر سے نمک مرچ چھڑک کر چٹنئ گھول لائی۔
    اتنا مہنگا آتا یہ پیسٹ سارے کو: منہ میں پکوڑا بھرنے کی وجہ سے عزہ جملہ مکمل نہ کر پائی۔
    اوہو تو کل سالن بناتے وقت استعمال کرلینا نمک مرچ نہ ڈالنا سالن میں۔
    مفت مشورہ حاضر تھا۔
    عشنا کا حلوہ تیار ہو گیا تھا۔ وہ پلیٹ میں نکال کرچمچ لے آئی
    سب نے پکوڑے کی ٹرے خالی کرلی تب خیال آیا واعظہ کو
    الف کہاں ہے؟
    سو رہی ہے۔بھیگی ہوئئ آئی تھی بس کپڑے بدل کر بستر میں گھس گئ۔ کھانے کیلئے اٹھانے گئ تو کہتی ہے بھوک نہیں بس سوئوں گی۔
    عروج نے بتایا تو فاطمہ اور عزہ حیران سی ہوئیں۔
    آج تو شو تھا نا اسکا ؟ اچھا نہیں ہوا ہوگا۔۔ جبھی۔ فاطمہ نے قیاس آرائی کی۔۔
    امی کال نہیں کی نا اسکے شو میں آج؟
    عزہ نے گھورا۔ تو واعظہ کو یاد آیا۔
    میں نے تو کئی دفعہ سے کال نہیں کی اس نے تو کہا تھا کہ شو خوب چل نکلا ہے کوئی چینی لڑکا بھی ساتھ شو کرنے لگا ہے سنا تو کبھی نہیں مگر پچھلے کچھ دن سے خوش تو تھی۔۔
    ہممم۔ ہو سکتا ہے آج ریٹنگ نہ آئی ہو تو ڈانٹ پڑ گئ ہو۔
    عروج نے لاپروائئ سے بولتے ہوئے پورا پکوڑا چٹنی میں ڈبو کرمنہ میں رکھا۔ عزہ واعظہ فاطمہ ہیں ہیں کرتی رہ گئیں۔
    وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی رہی پھر احساس ہوا۔۔ یہ پکوڑاتو ہری مرچ کا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جہاز نے جیسے ہی زمین کو چھوڑتے ہوئے اڑان بھری وہ بے چین سا ہو کر کھڑکی سے نیچے جھانکنے لگا۔
    سیول انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی جگ مگ کرتی بتیاں لمحہ بہ لمحہ دورہوتی جارہی تھیں اور وہ بھی۔
    پہلا دن جب عروج کو دیکھا اور آخری دن جب عروج کو دیکھا دونوں دفعہ نقاب تھا چہرے پر۔ لوگ کہتے ہیں چہرہ اچھا لگنے لگتا ہے محبت میں اسے تو وہ وجود بنا چہرہ دیکھے بھی عزیز سا لگتا تھا۔۔
    پریویس میں گھبرائی ہوئی وائیوا کی تیاری کرتی تو کبھی مریضہ کا ہاتھ تھامے تسلیاں دیتی کبھی سئنیر ڈاکٹر کو دیکھ کر اسکی پشت میں چھپتی کبھی آہجومہ کے ساتھ بھاری مرتبان اٹھا کر لاتی۔ ہنستے ہوئے چندھیاتی آنکھیں۔ غصے میں بھری تیکھی نظریں۔۔۔۔
    کتنے روپ قید تھے اسکی یادوں میں۔۔
    مگر ہر جگہ مضبوط نڈراپنا خیال خود رکھنے والی ایک سمجھدار پاکستانی باہمت ڈاکٹر لڑکی۔ اور میں ۔۔ روندو کہیں کا
    اپنی آنکھوں میں در آنے والا پانی پونچھتے وہ خود پر استہزائیہ مسکرادیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی آنکھوں سے پانی آبشار کی طرح بہہ رہا تھا زبان جیسے جلتا انگارہ ۔۔
    اسکو پہلے اچھو ہوا اب مستقل کھانسی ۔۔ عزہ نے سوجی کا حلوہ منہ میں ڈال دیا تو الگ آگ لگ گئ۔جھٹ روتی دھوتی سنک کی۔جانب بھاگی اور تھوک دیا۔
    ارے یہ حلوہ میٹھا تھا ابھی جلن کم ہو جاتی۔
    عزہ نے کہا تو وہ برستی آنکھوں سے چلائی
    گرم بھی تھا میری اور زبان جل گئ۔
    اسکی بات پر عزہ نے کھسیا کر سر کھجایا۔ عشنا نے پلیٹ کی جانب دیکھا تو اس میں سے ابھئ بھی دھواں اٹھ رہا تھا
    پانی پی لو۔ فاطمہ نے بوتل بڑھائی اس نے جھٹ منہ سے لگا لی۔
    واعظہ فریج میں گھسئ کچھ ڈھونڈ رہی تھی
    یار وہ آئسکریم رکھی تھئ۔
    اس نے پوچھ ہی لیا ۔۔ عشنا نے دھیرے سےرخ پھیر کر بتایا۔
    وہ تو صبح میں نے کھالی۔
    عروج آدھی بوتل پی کر بھی جلے پیر کی بلی کی طرح کچن میں چکر کھا رہی تھی
    ہائے مر جائوں گئ آج میں۔ اسکے بین فاطمہ کوچڑا گئے
    ایسا بھی کیا ہری مرچ کا پکوڑا سب کھاتے ہی ہیں۔
    یہ کوئی عام ہری مرچ نہیں خالص بنگالی مرچ لے کر آئی تھی آج میں سپر اسٹور سے۔
    عشنا نے اپنی کارگزاری جتائی تو فریج بند کرکے واعظہ اور بوتل بند کرکے عروج نے اکٹھے گھورااسے
    ضرورت کیا تھی کوریا میں بنگالی مرچ امپورٹ کرنے کی۔ نرئ بیماری۔۔
    عزہ نے کہا تو زبان باہر نکالے عروج کو دیکھ کر فاطمہ چڑانے لگی
    خیر بنگالی بھئ سہی ایسی بھی کیا مرچیں لگ گئیں واعظہ نے بھی تو پورا پکوڑا کھایا اسے تو کچھ نہ ہوا۔
    تمہارے خیال میں میں فریج میں آئسکریم عروج کے لیئے ڈھونڈ رہی تھی۔
    وہ گائے کی شکل والے دہی کا ڈبہ پکڑے بھر بھر منہ میں چمچ انڈیلتے اطمینان سے بولی۔
    ادھر دو۔ اسے دہی کھاتا دیکھ کر عروج نے لپک کر اس سے پیالا چھینا۔
    تمہیں بھی مرچیں لگ رہی تھیں۔
    عزہ کو یقین نہ آیا اتنے اطمینان سے بھی مرچیں لگ سکتی ہیں
    مگر واعظہ کو ڈیڑھ لیٹر کی پانی کی بوتل آدھی خالی کیئے پکڑے دیکھا تو یقین کرنا پڑا۔
    جلے پیر کی بلی کو اب کچھ سکون ہوا تھا سو اطمینان سے اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گئ
    ان میں سے کوئی ایک بھی نارمل نہیں ہے کہے دیتی ہوں۔
    فاطمہ نے ہاتھ جھاڑ کر فتوی دیا
    خاموشی سے حلوے کا چمچ منہ میں رکھ کر عشنا ذرا ٹھٹکی نگلا ہھر واعظہ سے کہنے لگی
    پانی دیجئے گا واعظہ۔ حلوہ گرم تھا منہ ہی جل گیا۔
    ۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان میں بارش ہو تو ۔۔۔۔
    اس نے پردے ہٹائے کھڑکی کھولی پر سامنے کوئی کھڑا تھا۔وہ دہشت زدہ سی ہو کر پیچھے کو گر سی گئ۔
    اسکی بھیانک چیخ سے فلیٹ کے درو دیوار ہل سے گئے تھے۔
    یہ کیا۔۔۔۔
    اسکی چیخ پر کمبل میں گھسی الف دہل کر اٹھ بیٹھی باتھ روم سے نکلتی عزہ بھاگ کر اسے اٹھانے آئی اور تو اور ساتھ والے کمرے سے واعظہ عشنا اور عروج بھی دوڑی آئیں۔
    کیا ہوا۔
    فق چہرہ تھر تھر کانپتی عروج کھڑکی کی جانب اشارہ کررہی تھی۔
    بھو بھوت۔۔
    نائٹ بلب کی مدھم روشنی میں ایک بڑا سا سایہ کھڑکی سے جیسے باہر نکلا چلا آرہا تھا۔
    وہ سب بھی سنٹ سی ہو کر پیچھے ہوئیں۔
    لاحول ولا قوت۔۔
    الف زور سے بولی بھوت ٹس سے مس نہ ہوا۔۔
    مگر اسے عقل تھی۔ جھٹ موبائل کی ٹارچ آن کرکے ڈالی۔ دھپ دھپ واعظہ عشنا اسی کے بیڈ پر آگریں اور فاطمہ عشنا کے اوپر ۔۔ الف نے کھسک کر جگہ دیتے ہوئے اٹھ کر سوئچ آن کیا۔۔ منظر واضح ہوا۔
    وہ ایک بڑا سا شٹل کا برقعہ تھا عین کھڑکی کے بیچوں بیچ لٹک رہا تھا۔کھڑکی سے آتی ہوا اس میں بھرتی تو اسکا سارا گھیر پھول کر کیسپر کا ابا بن جاتا وہ بھی کالا سا
    عزہ ہنسی ضبط کرتی بے حال ہو رہی تھی عروج کھا جانے والی نگاہوں سے گھور رہی تھی۔
    اب یہ شٹل کاک برقعہ کہاں سے آیا۔ واعظہ تیر کی طرح کھڑکی کی جانب بڑھی۔۔ بڑے سے شامیانے جیسا گھیر دار کالا سیاہ شٹل کاک برقعہ ۔اسے سو فیصد یقین تھا اسکی برقعہ ایونجرز میں سے کسی کا نہیں تھا۔
    دیکھوکوئی چیز تو ادھر ادھر نہیں ہوئی تم لوگوں کی۔
    اسے نئی فکر سوار ہوگئی۔
    اوہو یہ میرا ہے۔ میں نے دھو کر ڈالا تھا۔ یہاں سکھانے کیلئے۔
    عزہ نے بمشکل ہنسی ضبط کرکے بتایا۔ عروج نے وہیں اسکی کمر میں دھموکا جڑا۔
    تم شٹل کاک برقعہ پہنتی تھیں پاکستان میں۔ فاطمہ حیرت کے مارے بے ہوش ہونے کو تھی
    اسکو پہنتے کیسے ہیں۔؟عشنا اسکو کھول کھول کر دیکھ رہی تھی۔
    اس میں تو نقاب بھی نہیں۔۔ اس نے پونچو کی طرح اپنے کندھوں پر ڈال لیا تھا اب حیرت سے پوچھ رہی تھی۔
    بہنا افغانستان سے تم لوگوں کی سرحد نہیں ملتی لہذا تم اس برقعے کو کیسے پہنتے یہ راز نہیں جان سکتیں۔۔
    فاطمہ نے برقعہ کھینچ کر عزہ کے اوپر پھینک دیا تھا۔
    پہلے تو کبھی تمہیں یہ برقعہ استعمال کرتے نہین دیکھا آیا کہاں سے یہ؟
    واعظہ کو جانے کیا شک ہو رہے تھے۔
    عزہ نے چاروں اطراف دیکھا سب سکھیاں اسے بری طرح گھور رہی تھیں۔ اس نے ٹوپی سر پر جما کر پورا برقع اوڑھ لیا۔
    تھیبا۔ عشنا دنگ رہ گئ۔
    یہ تو ننجا ٹرٹل بن گئ۔ مگر اسکو پہن کر چلتے کیسے ؟ دکھائی دینے کیلئے تو کچھ بھی نہیں اس میں۔ عزہ سانس آرہی ہے۔ ؟
    اسکے پے درپے سوال۔
    عروج واعظہ فاطمہ الف زچ ہو کراکٹھے چلائیں۔۔
    عزہ کی بچی بتائو یہ برقعے کی کیا کہانی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے سب بتا کر سب کے تاثرات دیکھنے چاہے تھے۔ واعظہ کے حسب معمول سپاٹ فاطمہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا والےتاثرات سجائے تھی۔ عشنا سب سے بے نیاز سنگھار میز کے سامنے برقعہ پہنے گھوم گھوم کر دیکھ رہی تھی خود کو۔ الف رو رہی تھی۔ عروج نے جمائی لیکر اپنا تکیہ سیدھا کیا اور انکے ڈبل بیڈ پر پھسکڑا مار کر بیٹھنے کے باوجود اپنے پائوں سیدھا پھیلا کر فاطمہ کی گود میں رکھے اور سر پر بازو بھی رکھ لیا۔ مطلب سونے دو
    اس نے گردن گھمائی۔ پھر چونک کر دوبارہ اسکی جانب نگاہ کی۔
    اپنے سنگل بیڈ پر دیوار سے ٹیک لگائے وہ نیچے کسی نادیدہ چیز کو گھورتے بے آواز آنسو بہا رہی تھی۔
    مت روئو ہم سب مل کر دلاور بھائی کو سمجھائیں گے۔باز آجائیں۔۔
    عزہ نے تسلی دی تو فاطمہ واعظہ نے چونک کر گردن موڑ کر الف کو دیکھا۔ وہ گڑبڑا کر آنسو پونچھنے لگی۔
    اتنی پیار کرنے والئ بہنیں ہیں طوبی کی ابھی دیکھتیں کہ کیسے انکے دکھ میں الف رو رہی ہے تو خوشی سے پاگل ہو جاتیں۔
    عزہ کے انداز میں رقت بھرا رشک تھا وہ الف کی محبت پر سر دھن رہی تھئ۔
    فاطمہ اسے گھور کر رہ گئ۔
    تمہارے خیال میں یہ اتنی رقیق القلب ہے کہ طوبی کے غم میں رو رہی ہے۔ ؟ عروج نے بازو آنکھوں پر رکھے رکھے اضافہ کیا۔
    اس نے تو تمہاری روداد سنی بھی نہیں اس سے پہلے سے چپکے چپکے روئے جارہی ہے۔
    اس بار بازو ہٹا کر الف کو دیکھ کر کہا تھا۔
    کیا ہوا ہے الف ؟ فاطمہ نے مڑ کر پیار سے پوچھنا چاہا مگر پوری نہ مڑ سکی عروج کے پیر پیٹ میں کھبے تھے۔
    کک کچھ نہیں۔ الف عروج کو دانت پیس کر دیکھ کر رہ گئ۔
    تو پندرہ منٹ سے رو کیوں رہی ہو۔
    واعظہ اٹھ کر اسکے برابر آبیٹھی۔
    خوامخواہ۔ وہ سٹپٹا کے سیدھی ہوئی۔
    کس کی باتوں میں آرہی ہو آنکھیں بند کیئے پڑی تھی ایویں ہانک رہی بس وہ آنکھ میں چبھن تھی مسلی تو پانی نکل آیا۔
    میں منہ دھو کے آتی ہوں۔
    اس نے اپنی طرف سے تسلی بخش جواب دے کر رفو چکر ہونا چاہا تبھی فاطمہ کی گود سے پائوں اٹھا کر عروج نے اسکے بیڈ پر رکھ کر اسکے فرار کی راہ مسدود کی
    یہ جو بازو رکھا تھا اس سے جھری بنا کر ایک آنکھ تم پر رکھی تھی میں نے۔
    اس نے باقائدہ پوز مارا۔
    سیدھی طرح بتائو کیا مسلئہ ہے؟ اسکے تیور کڑے تھے
    کل نیچے لابی میں بھی اداس شکل بنائے بیٹھی تھی ابھی پکوڑے کے لیئے اٹھانے آئی تو موصوفہ کا رونے کا شغل جاری تھا آواز دئ تو سوتی بن گئ۔
    یہ امی کو شکایت لگ رہی تھی۔
    کیا ہوا ریڈیو کی نوکری ختم ہوگئ،
    فاطمہ کا دل موم ہوا۔
    نہیں یار۔ اس نے سر جھٹکا پھر دماغ کی بتی روشن ہوئی۔
    ہاں وہ میرا شو بند ہوگیا۔ اگلا ویک اینڈ ہمارا آخری شو ہوگا ۔ میرا ساتھی آر جے چلا گیا تو مجھ سے آج شو بھی۔ نہ۔۔ ہو سکا۔۔ بس ۔ تو ۔۔۔ وہ بتاتے بتاتے پھر روپڑی۔
    باقی جملے نارمل تھے مگر میرا ساتھی آر جے کے ساتھ رقت در آئی اور کسی نے کیا ہو نہ کیا ہو واعظہ نے نوٹ کیا تھا۔
    اوہو یہ تو بہت برا ہوا۔ اگلے مہینے سے تو گھر کا بھی انتظام کرنا تھا تمہیں۔کوئی سیونگ وغیرہ ہے تمہاری؟
    عروج کو بھی افسوس ہوا۔ اسکے جملوں پر الف اور زور وشور سے رودی۔۔
    ظالم دنیا یہاں دل مسافرہو چلا ہے یہ ٹھکانے ڈھونڈنے پر اکسا رہی ہیں۔
    کوئی بات نہیں واعظہ گھر سے نکالے گی تھوڑی۔
    عزہ نے تسلی دینی چاہی۔ واعظہ ترچھی نگاہ سے دیکھنے لگی تو کان دبا گئ
    میں گوشی وون لینے لگی ہوں تم میرے ساتھ چلنا ۔۔
    عشنا برقعے کی ٹوپی سر پر چڑھانے میں کامیاب ہوگئ تھی سو مڑ کر تسلی دینے لگی
    اس ہفتے ای جی اور سیہون آرہے مجھے اکیلے شو کرنا جانے کیسے کرپائوں گی۔
    الف کا بین۔
    ہر معاملے کا چٹکی بجا کے حل نکالنے والی الف کا بلک بلک کر رونا واعظہ کو اچنبھے میں ڈال رہا تھا۔۔
    جو بندئ پلیٹ دھونے سے بچانے کیلئے پورا ڈونگہ سامنے لاکر رکھ دے کہ اسی میں کھائو کوئی اس سے یہ توقع کیسے رکھے کہ کسی معاملے کو سلجھانے کا طریقہ ڈھونڈنے کی بجائے وہ پھسکڑا مار کر بیٹھی رو رہی ہو۔
    ارے روئو مت۔ہو جاتا ہے۔میں ہوں نا۔۔ میں کروں گی تمہارے ساتھ پروگرام۔۔۔۔
    ۔ فاطمہ جزباتی ہو کر اٹھ کر تسلی دینے اسکے پاس بیڈ پر آبیٹھی یہ بھول کر کہ گود میں عروج کی ٹانگ بھئ تھی نتیجتا اسکی ٹانگ مڑی دھپ سے وہ بیڈ سے نیچے آئی ۔۔
    آآااہ۔
    چیخ بھی درد کے مارے نہ نکل سکی ٹانگ سہلاتی وہ وہیں بیڈ سے ٹیک لگا کر رونے لگی
    مار دیا آہ توڑ دی ٹانگ میرئ ظالم۔۔ ہائے امی۔۔۔۔۔

    آہ سوری۔ الف کو کندھے سے لگائے فاطمہ معزرت خواہ تھئ
    عزہ عروج کو اٹھنے میں مدد دینے لگی۔۔۔۔
    فاطمہ کی بچی بدلہ لوں گئ میں۔ عروج نے چہرےپر ہاتھ پھیرا۔ فاطمہ نے لفٹ نہیں کرائی۔
    بس طے ہوگیا پکی آرمی ہونے کے باوجود میں نہ صرف اس سئہون کے بچے کا انٹرویو لوں گئ تمہارے ساتھ بلکہ ایجی سے دبلا ہونے کا راز بھی معلوم کروں گی فکر نا کرو۔
    فاطمہ کی یقین دہانی پر الف کو فکر ہونے لگی۔ اب آنسوئوں کو بریک لگانا ضروری ہوگیا تھا
    شکریہ فورا آنسو پونچھ کر وہ الگ ہوئی
    بس یہ بتا دو کس دن کس وقت شو ہوگا۔۔
    فاطمہ پوچھ رہی تھی۔
    جمعے کو شام سات بجے۔
    واعظہ نے گہری سانس لیکر بتایا
    مسلئہ ہی کوئی نہیں۔ فاطمہ نے چٹکی بجائی
    تم نے کہہ دیا بہت ہے شکریہ فاطمہ ۔۔ بہت تسلی ہوگئ مجھے
    الف نے کہا تو فاطمہ سمجھی ہی نہیں
    ارے دوست اور کب کام آتے مسلئہ حل ہوگیا بس رونا بند کرو۔
    فاطمہ اسے اب بھی ساتھ لگا کر بولی
    یہ تو حل ہوگئا طوبی کا کیا کریں؟
    عزہ منمنائی۔۔
    عروج اب عزہ کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی
    ہم سب کل فارغ ہیں کل اس معاملے کی مکمل تحقیق کر ڈالتے ہیں۔
    عروج جوش سے اٹھ بیٹھی۔۔
    مثلا کیا؟ واعظہ کا انداز طنزیہ تھا
    ہم سب کل صبح جلدی اٹھ کر دلاور بھائی کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔ کہاں جاتے کیا کرتے۔ اور چونکہ بس دو بندے اس کام کو نہیں کر رہے ہونگے تو انکو شک بھی نہیں ہوگا۔
    یہ عزہ کا آئیڈیا تھا۔ عروج کا جوش بھاپ بن کے اڑا
    آج بھئ غالبا یہی کیا تم لوگوں نے کیا نتیجہ نکلا؟
    فاطمہ نے جتایا۔۔
    ہاں تو پتہ لگا لیا نا کہ وہ خاتون انکے دفتر میں کام نہیں کرتیں۔ عزہ کو اپنے کارنامے پر فخر ہو رہاتھا۔
    میرا آئیڈیا بہتر ہے۔ ہم سب مختلف کام کرتے ہیں۔
    ایک انکے موبائل کا ڈیٹا اپنے دوست سے کہہ کر نکلوائے۔
    اس نے ایک کہتے ہوئے واضح طور پر واعظہ کو ہی دیکھا تھا۔وہ ٹھنڈی سانس لیکر رہ گئ
    اور۔
    عزہ کو دلچسپی محسوس ہوئی۔
    اور۔ عروج نے ذہن کے گھوڑے دوڑانے چاہے مگر وہ ہنہنا کر رہ گئے۔
    ایک انکا پیچھا کرے ۔ یہ الف تھئ۔
    ایک انکے دفتر جا کر انکے معمولات پتہ کرکے آئے۔
    فاطمہ بھی چاق و چوبند ہوئی۔
    وہ تو ہم کر آئے۔
    عزہ نے اپنی کارکردگی جتانا چاہی۔
    ویک اینڈ ہے کل تو پکا وہ اپنی گرل فرینڈ سے ملنے جائیں گے۔
    عروج نے کہا تو وہ سب اسے دیکھنے لگ گئیں
    بھئ سب ویک اینڈ پر اپنی گرل فرینڈ سے ملنے ہی جاتے ہیں۔اس نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے دلیل دی۔
    مجھے اور واعظہ کو تو فورا پہچان لیں گے الف کو بھی دیکھا ہوا ہے تم دونوں کو جانا پڑے گا ایک اور برقعہ چاہیے ہوگا۔۔
    فاطمہ نے کہا تو عزہ تڑپ گئ
    ہائے نہیں شٹل کاک برقعے میں گئے تو دلاور بھائی تو پہچانیں نا پہچانیں آدھا سیول پہچان جائے گا ہمیں کل جو ہماری ہوئی ہے نا ۔۔۔
    عزہ نے کہا تو عروج نے بھی سر ہلایا
    مجھے طوبی سے شدید ہمدردی سہی مگر ایک ہفتے مسلسل نائٹ کرنے کے بعد خود سے طوبی سے بھی ذیادہ ہمدردی ہے سو میری جانب سے معزرت۔۔
    میرا خیال ہے ہمیں اس کام کو سنجیدگی سے باقائدہ منصوبہ بندی کرکے کرنا پڑے گا۔
    واعظہ نہایت سنجیدگی سے بولی تو وہ سب متفق ہو گئیں
    صحیح۔۔کہہ رہی ہو۔
    صبح نو بجے سب اٹھ جانا کل۔۔
    فاطمہ نے کہا تو سب کی نگاہیں سیدھا دیوار پر لگی گھڑی پر گئیں جو تین بجا رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حسب معمول صبح نو بجے وہ کچن میں کھڑی پراٹھے بنا رہی تھئ۔ دلاور خوشگوار موڈ میں نہائے دھوئے ترو تازہ سے پیچھے چلے آئے
    میں کوئ مدد کرائوں۔۔
    انہوں نے پیچھے سے آکر اچانک کہا تو وہ بری طرح اچھل پڑی پراٹھا پلٹتے ہوئے ہاتھ بھی رکھا گیا فرائی پین پر۔
    آہ۔ اس سے بھی برا برا جل چکی تھی۔تنور میں بازو گھسیڑ کر روٹیاں تھاپی تھیں سسرال میں سو ردعمل پھسپھسا سا تھا دلاور البتہ تڑپ گئے
    اف دھیان سے کھینچتے ہوئے سنک کے پاس لے جاکر پورا نل کھول دیا
    ٹھیک ہوں میں دلاور۔ پراٹھا جل جائے گا۔۔ وہ منمنا رہی تھی
    اور تم جل چکی ہو۔ دلاور ڈپٹ کر بولے ۔
    سرد پانی نے جلن کا احساس کم کیا تو وہ مطمئن ہو کر مڑے اور پراٹھا پلٹ کر اتار کر پلیٹ میں بھی رکھ دیا۔۔
    اسلام و علیکم امی۔
    زینت اور گڑیا آنکھیں مسلتی چلی آئیں۔
    آجائو بچو ناشتہ کرو ۔۔ دلاو ر مسکرا کر ناشتہ میز پر رکھ رہے تھے۔ آمیزہ بنا تھا فرائی پان گرم ہی تھا بنا گھی ڈالے ہی آملیٹ کا آمیزہ ڈال دیا
    ارے گھی تو ۔۔ طوبی نے کہنا چاہا مگر انہوں نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
    نان اسٹک ہے۔ آج میرے ہاتھ کا آملیٹ کھاکر دیکھو انگلیاں چاٹتی رہ جائو گی۔
    انہوں نے لہک کر کہا تھا۔ جوابا وہ سر جھٹکتی بچیوں کے سامنے دودھ کا گلاس رکھ کر چائے نکالنے لگی۔
    آملیٹ بس ایک جانب سے سینک کر انہوں نے پلٹ دیا تھا اب ماہر شیف کی طرح لہرا کر میز پر رکھ رہے تھے۔
    آجائو بھئ۔
    وہ اسے بلا رہے تھے۔ ہاٹ پاٹ سے پراٹھا نکال کر خوب چٹخارے لیکر کھا رہے تھے۔
    اس نے چائے کا کپ انکے سامنے رکھا دوسرا اپنے سامنے رکھ کر ناشتہ کرنے بیٹھ گئ۔
    کیا خیال ہے آج پارک چلیں؟
    وہ بچیوں سے پوچھ رہے تھے۔
    دے۔۔ دونوں خالص کورین حامی بھر رہی تھیں۔
    کہاں ہزار بار ضد کرنے پر لے جانے کو تیار ہوتے تھے کہاں اب خود پوچھ رہے۔ وہ کڑی نگاہ سے دیکھ رہی۔تھی۔۔
    چلو ناشتہ کرو جلدی سے پھر ہم تیار ہونگے اور طوبی آج کچھ پکانے کی ضرورت نہیں ہم لنچ اور ڈنر باہر کریں گے پہلے پارک پھر ذو۔ ٹھیک۔۔ وہ بچیوں سے تائید چاہ رہے تھے
    پاپا ایکوریم جانا فش والے۔
    زینت نے فرمائش داغی۔
    ٹھیک ہے ڈن۔ وہ بخوشی مان گئے
    ہرے۔۔بچیاں خوشی سے اچھل پڑیں
    خاموشی سے ناشتہ ختم کرو۔ طوبی کی چڑ کہیں تو نکلنی تھی سو ڈپٹ دیا
    تم خود تو شروع کرو یہ کیا آملیٹ تو لیا ہی نہیں۔
    اسے خالی پراٹھا پلیٹ میں رکھے دیکھ کر انہوں نے خود آملیٹ پلیٹ میں نکال کر دیا۔ طوبی کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی مگر وہ بے نیاز تھے
    طوبی جی غصہ نہیں۔ عزہ نے کندھا تھپکا۔
    اس نے غصے میں بڑا سا نوالہ بنا لیا۔ ڈھیر سارا آملیٹ پراٹھا۔ اور۔
    اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔
    انڈا اندر سے بالکل کچا بساندھ بھرا اس سے نگلنا محال ہوگیا۔
    آخ۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھتی سنک کی جانب بھاگی
    سنک میں الٹ کر کلی کرتے جلے دل سے سوچ رہی تھی
    ہیں تو وہی پھوہڑ پاکستانی مرد ایسا آملیٹ میں بنا کر دیتی نا تو ۔۔۔ اس نے انکا غصہ سوچنا چاہا۔ تو خیال آیا۔
    شروع شروع میں کچا آملیٹ بھی دیا تھا مگر دلاور نرمی سے کہہ کر اٹھ جاتے تھے کبھی برا بھلا بھی نہ کہا تھا۔ اسکا دل موم سا ہوا۔ مڑ کر انہیں دیکھنا چاہا وہ پرسوچ نظروں سے اسی کو دیکھ رہے تھے نگاہیں ملنے پر تسلی دینے والے انداز میں بولے۔۔
    ہم آج ڈاکٹر کے پاس بھی چلیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔

  • Desi Kimchi Episode 47

    قسط 47
    ٹیکسی سے اتر کر جیسے ہی اس نے دروازہ بند کیا اسکا شٹل کاک برقعہ دروازے میں بند ہوگیا۔ اسے پتہ بھی نہ چلا ۔عزہ کے پیچھے خراماں خراماں چلتے جب اسکی طرح آگے بڑھ ہی نہ سکی ۔ ایک بار کوشش۔ دوسری بار ذرا زور لگایا تو سر پر سے شٹل کاک برقعے کی ٹوپی کھنچی۔ خیال آیا کوئی لفنگا برقعہ کھینچ رہا ہے بھنا کرمڑی تو دیکھا۔شکر تھا ڈرائیور انکو مشکوک نظروں سے دیکھنے میں مگن تھا۔اسکو گھورنے کی کوشش کی دروازہ کھول کر برقعہ نکالا وہ ٹس سے مس نہ ہوا یاد آیا شٹل کاک میں آنکھیں کہاں نظر آتی ہین اس نے کھسیا ہٹ جھلا کر اتارنی چاہیئے۔
    کیا ہے شرم نہیں آتی پہلی دفعہ برقعے میں خواتین دیکھی ہیں۔
    طوبی نے اردو میں جھاڑا۔ خراماں خراماں چلتی عزہ کو جب فٹ پاتھ سے گزرتے ایک ایک انسان نے گھور کر دیکھا تو طوبی کا ہاتھ پکڑنا چاہا۔
    طوبی جی سب کچھ ذیادہ نہیں گھور رہے۔۔ جملہ منہ میں تھا آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا اچھے خاصے فاصلے پر طوبی ٹیکسی ڈرائور پر چلا رہی تھی۔
    گھورنا بند کرو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھے۔
    طوبی جی۔
    عزہ بھاگ کر پاس آئی۔
    گاڑی کی کھڑکی سے ڈرائئونگ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ہی جتنا منہ نکال سکتا تھا ڈرائورنکال کر تڑیاں لگا رہا تھا ہنگل میں۔
    مجھے ہلکا مت لینا خالص گائے بھینس کا دودھ پیا کرتی تھی ایک تھپڑ لگائوں گئ گردن گھوم جائے گئ۔
    طوبی کی تڑی۔ ڈرائیور کی گٹ پٹ۔
    طوبی جی چلیں اسکو کونسا سمجھ آرہی آپ کیا کہہ رہی ہیں۔
    عزہ بازو سےپکڑ کر کھینچتے کان میں منمنائی۔
    اوہ ہاں۔ طوبی کو بھی خیال آیا۔سو اب ترجمہ کرکے بولی
    I will slap you on your cheek and then your neck will wander towards your back understand

    عزہ یہاں وانڈر ہی آئے گا کہ کچھ اور۔
    طوبی کو اپنی انگریزی پر شک سا گزرا۔
    جانے دیں اسے سمجھ ومجھ انگریزی بھی نہیں آرہی ہوگی۔
    عزہ نے سمجھایا تو طوبی نے غور سے لال بھبوکا چہرہ لیئے مستقل چلاتے ڈرائور کو دیکھا۔ پھر مایوسئ سے سر ہلا کر بولی۔
    سمجھ تو اسکی بھی نہیں آرہی مجھے۔
    ………………………………۔
    فٹ پاتھ سے احاطے تک کتنی ہی دفعہ عزہ کے برقعے کو طوبی نے اپنے پائوں کے نیچے دیا ایکبار تو عزہ سر کے بل پیچھے ہوئی اسی پرآرہی۔ اسے سنبھال کر کھڑا کیا۔
    اب ہم درمیان میں فاصلہ کرکے چلتے ہیں۔ عزہ نے مشورہ دیا تو اسکے دل کو لگا۔ مگر اس بار خود اپنے ہی برقعے میں الجھ کر منہ کے بل۔گرتے گرتے بچی۔
    عزہ نے سہارا دیا۔
    آپ تھوڑا سا نیچے سے اٹھا لیں نا برقعہ بار بار الجھ رہی ہیں۔
    مشورے میں دم تھا مگر طوبی کی اپنی مجبوری۔۔
    میری جوتی نظر آجائے گی کپڑے نظر آجائیں گے فورا پہچان لیں گے دلاور ۔
    اب وہ کھڑکی میں کھڑے تھوڑی باہر جھانک رہے ہوں گے۔
    عزہ نے اسکی عقل کا ماتم کیا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔
    کھڑکی کی بلائنڈز نئیچے کرتے یونہی ذرا کی ذرا اسکی سامنے سڑک پر نگاہ پڑی پھر جم۔گئ۔ اس چندی آنکھوں والے کی آنکھیں پھٹ سی گئیں۔
    کم چھاگیا۔ یہ کیا چیز ہے۔
    دور سے لڑھکتے پڑھکتے آتےخیمے دیکھ کر وہ جتنا حیران ہوا جیسے بولا۔ میٹنگ میں بیٹھے تینوں چاروں انجینئر چونکے۔وہ جو پراجیکٹر پر پڑنے والی لائٹ کا سدباب کرنے کھڑکی بند کرنے آیا تھا بری طرح بد حواس ہو کر نیچے اشارہ کرنے لگا۔
    وہ دیکھو پتہ نہیں کیا ہے ادھر آرہا۔ خیمہ خود اڑتا آرہا۔
    اسکی آدھی ادھوری بات سن کر دلاور چونکہ سب سے قریب تھے کھڑکی کے فورا اٹھ کر اسکے پاس آئے
    کیا ہے وہ۔
    اوہ یہ۔ دلاور نے اطمینان کی سانس لی۔
    یہ برقعہ ہوتا اسےپاکستان میں ہم شٹل کاک برقعہ کہتے ہیں۔اسے مسلمان خواتین اوڑھ کر یا پہن کر پھرتی ہے گھر سے باہر جانا ہو تو۔
    دلاور نے بتانا چاہا تو تجسس میں باقی دونوں انجینئر بھی اٹھ آئے باہر جھانکنے۔
    یہ تو بہت عجیب چیز ہے۔
    اس میں سے دیکھتی کیسے ہیں خواتین۔
    یہ تو خطرناک بھی ہے۔ دیکھو انہیں نظر نہیں آرہا۔ یہ تو ظلم ہے
    ان میں سے ایک چلتےچلتےگرنے کوتھی تو اس چندی آنکھوں والے کو ترس آگیا۔
    سانس کیسے لے رہی ہیں یہ۔ مرد بھی پہنتے ایسا کچھ؟
    انکے سوال بے شمار تھے۔
    نہیں اتنا مشکل بھی نہیں اس میں اوپر کروشیہ کا کام ہوتا تو سوراخ میں سے دیکھ بھی لیتی ہیں سانس بھی لیتی ہیں ۔مگر یہ صرف خواتین کا پہناوا ہے مرد نہیں پہنتے۔
    دلاور کی وضاحت پر ان تینوں نے اتنی متاسفانہ نگاہوں سے گھورا کہ وہ سٹپٹا سے گئے۔
    تم پاکستانی ابھی تک خواتین کا استحصال کرتے ہو؟
    نہیں۔ ہم وہ۔ مگر ۔
    دلاور سے جواب نہ بن پڑا۔۔
    …………………..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دو بڑے بڑے کالے خیمے جب اس مشہور کنسٹرکشن کمپنی کے احاطے میں داخل ہوئے تو پورے اسٹاف میں کھلبلی سی مچ گئ۔ سیکیوریٹی گارڈ نے ہڑبڑا کر اپنی پستول ٹھیک کی۔ تو اندر سے باہر آتی وہ منی اسکرٹ میں ملبوس آہجومہ گھبرا کر واپس پلٹ گئیں۔۔۔ صفائی کرتا وہ ملازم اپنا پوچھا چھوڑ کر الٹے قدموں واپس باتھ روم کی جانب دوڑا تو ان دونوں خیموں کے اوپری حصے پر سجے گلوب گھوم کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
    یہ سب ہمیں خلائی مخلوق سمجھ رہے ہیں طوبی جی۔
    عزہ منمنائی۔
    گھبرائو مت انکی خیر ہے جو مرضئ سمجھیں مگر آج ہم اپنا کام کرکے ہی جائیں گے۔ اسکے برعکس طوبی بااعتماد تھی۔ اسکا ہاتھ تھام کر سیدھا ریسیپشن کی جانب بڑھی۔
    ریسیشن پر کھڑی وہ نازک اندام چندی آنکھوں والی حسینہ جو انٹرکام کان سے لگا کر غالبا سیکیوریٹی کو ہی بلانے لگی تھی انکو دیکھ کر یوں ساکت ہوئی کہ ریسیور چھٹ گیا ہاتھ سے۔ ایک قدم پیچھے ہی ہوگئ۔ یوں لگ رہا تھا کہ اب گری کہ تب گری۔
    معاف کیجئے گا۔
    عزہ نے گلا کھنکار کر اپنی آدھی پونی ہنگل جھاڑ دی۔
    اس ریسیپشنسٹ کی آنکھیں یکا یک سجل علی کی آنکھیں لگنے لگیں اتنی پھٹ سی گئیں۔خیموں میں سے انسانی آواز۔
    دے؟
    یہ تو ڈر ڈر کر مر جائے گئ۔ کہا تھا طوبی جی آپکو کہ یہاں کوریا میں شٹل کاک برقعہ پہن کر پھرنا حماقت ہے۔ اسکو پکا لگ رہا ہوگا کہ ہم یہاں پھٹ جائیں گے۔
    عزہ نے کہا تو طوبی جھلا کر مڑی
    ایویں پھٹ جائیں گے۔ طوبی بگڑی
    اوراحمق عبایا میں آتے تو دلاور فورا پہچان جاتے۔ اور عبایا میں آنکھیں بھی تو نظر آتی ہیں۔ ان چندی آنکھوں والوں میں دور سے پہچانے جاتے میرے بھینس کے دیدے
    طوبی کی بات میں دم تھا۔ انکی گفتگو کے درمیان وہ چندی آنکھوں والی تھر تھر کانپتے دوبارہ کہیں کال ملا چکی تھی۔
    طوبی نے گلا کھنکار کر کڑکدار آواز میں کہا تھا۔
    بات سنیں۔
    رعب دار آواز۔ وہ پھر ریسیور چھوڑ بیٹھی۔۔
    اس کمپنی کو ہر مہینے دو تین نئے فون سیٹ خرید کر دینے پڑتےہوں گے اسے۔
    عزہ نے تاسف سے کہا تھا
    وہ ہمیں کچھ معلومات چاہیئے۔
    طوبی نے آگے ہو کر شٹل کاک برقعہ اونچا کرکے شکل دکھائی تو اگلی کی جان میں جان آئی۔

    …………………………………………………۔۔
    وہ بے خبر سو رہی تھی جب اسکا فون بجتا چلا گیا ۔۔ آواز دور سے آرہی تھی نیند بھی گہری تھی۔ اسے اٹھنے میں کسمساتے وقت لگ گیا جبھی فون بج بج کر بند ہوگیا۔
    انگڑائی لیکر نیند بھگاتی وہ سستی سے اتر کر سامنے کارنس تک آئی موبائل چارجنگ پر لگا تھا اسے نکال کر وقت دیکھا تو شام کے ساڑھے چھےہو رہےتھے۔
    وہ مسڈ کال دیکھتی سستی سے باہرنکل آئی۔
    سیونگ رو۔
    اس نے گہری سانس لی۔
    ………………………………………………..
    لونگ روم میں صوفے پر شاہانہ انداز میں منی اسکرٹ پہن کر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی وہ لڑکی اپنے شہد رنگ بالوں کو ادا سے جھٹک کر مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔
    یہ ہیں مشہور آئیڈل اسٹار سونگ ایجیا اور ایجیا یہ ہیں فا تی ماشی۔( فاطمہ صاحبہ ) یہ آپکو عربی مکالمے یاد کروانے میں مدد کریں گی اور یہ ہے کھاوا یہ بھی آپکی مدد کیلئے ہی یہاں ہوں گے۔ فاطمہ کو ہنگل ابھی نہیں آتی مگر انگریزی سمجھ سکتی ہیں۔ جبکہ کھاوا انگریزی عربی ہنگل سب جانتے آپ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیجئے۔ ایک دوسرے کا خیال کیجئے۔
    ہدایت کار صاحب نے رواں ہنگل اور دو چار موٹے موٹے انگریزی کے لفظ بولے تھے جس سے کچھ کچھ انکا ماضی الضمیر سمجھ آہی گیا تھا

    فاطمہ نے ایک نظر ہدایت کار کو دیکھا پھر اس چندی آنکھوں والی ہیروئن کو پھر مڑ کر اپنے کولیگ کو دیکھنا چاہا جو بڑے مزے سے آننیانگ کہہ کر جھک جھک کر اس گوری چندی آنکھوں والی حسینہ کو سلام کر رہا تھا۔جس نے صوفے کا کشن اٹھا کر اپنی ٹانگوں پر رکھ لیا تھا۔
    آئی بڑی شرم ہی ماری اتنی شرم آرہی تو کپڑے ہی پہن لیتئ۔ اوپر سے ادائیں۔۔ فاطمہ نے دانت پیسے۔ وہ لڑکا تو یوں جھک جھک کر باتیں کر رہا تھا جیسے بچپن کی سہیلی ہے۔ جبکہ فاطمہ کو تو ذرا نقوش مانوس نہ لگے۔

    سیلیبریٹی تو دور اسے وہ لڑکی بھی نہیں لگ رہی تھی۔ لی من کی کو لڑکی بنا دو تو تو بھی وہ اپنےمردانہ نقوش کے باوجود اس لڑکی سے ذیادہ لڑکی لگے۔۔اس نے سر جھٹکا۔
    یہ کونسے کورین سیلیبریٹیز ہیں۔ جنکو کبھی ٹی وی پر دیکھا بھی نہیں۔
    فاطمہ کو شدید مایوسی ہوئی تھی مل کے۔ بڑ بڑائے بنا نہ رہ سکی۔
    اسکے ہمراہ کھڑے اس نے بمشکل مسکراہٹ روکی۔
    انجان شکل دو چار ڈرامے تو وہ بھی ہفتے میں آنے والے دیکھ ہی لیتی تھی مگر بالکل انجان شکل تھی یہ لڑکی تو۔
    پوتھاک اور آگے ناجانے کونسا سمنبدا۔
    جھک کر وہ چندئ آنکھوں والی اسی سے مخاطب تھی وہ بٹر بٹر دیکھتی رہی۔
    میرا خیال رکھئے گا۔ وہ لڑکا سرگوشی کر رہا تھا۔
    کیوں بھئ؟ میں پھپھی لگتئ ہوں تمہاری اپنا خیال خود رکھنا۔
    فاطمہ تو بری طرح جل گئ۔۔
    انکا تو بہت صاف لہجہ ہے۔
    چندی آنکھوں والئ کی آنکھیں کھل سی گئیں ڈائرکٹر صاحب اپنے انتخاب پر پھولے نہ سمائے البتہ وہ لڑکا کھسیا کر سر کھجانے لگا۔۔
    اس لڑکی نے آپکو یہ کہا ہے جوابا آپ بھی یہی جملہ دہرائیں۔
    سٹپٹا کر وہ کان میں منمنایا۔
    آہ۔ اچھا
    فاطمہ کے دماغ کی بتی جل گئ۔ منڈیا ہلانے لگی
    پوتھاک اور جو بھی آگے ہے سمنبدا۔
    اس نے لٹھ مار انداز میں کہا تھا۔ البتہ جھک جھک کر سلام کردیا تھا۔
    یہ ڈائلاگز تیار کر لیں آپ لوگ آدھے گھنٹےمیں آپ لوگوں کا سین ہوگا۔
    ڈائرکٹرصاحب ہنگل جھاڑ کر چلتے بنے اسی لڑکے نے دہرایا اردو میں۔
    اچھا اب میں چلتا ہوں مجھے عربی اداکاروں کو اسنیکس لا کر دینے ہیں۔ چلتا ہوں۔
    وہ لڑکا بتا کر چند لمحے رکا تھا غالبا اسکا ردعمل دیکھنے کو مگر فاطمہ انکے ہاتھ سے اسکرپٹ پکڑتے ہوئے ہی صدمے شدید کیفیت میں تھی۔ دیکھا ہی نہیں۔ ہدایت کار اور وہ لڑکا آگے پیچھے نکل گئے تو وہ سر پر اسکرپٹ مارتی اس لڑکی کے سامنے رکھی کرسی پرڈھیر سی ہوگئ۔
    پہلے میں پڑھ لوں۔ آپ تھوڑا انتظار کر لیں۔
    فاطمہ کے انگریزی میں کہنے پر اس لڑکی کی ساری بے نیازی رخصت ہوگئ سنبھل کر بیٹھ گئ۔اتنی انگریزی بھل بھل کرتی اگل دی فاطمہ نے۔۔۔ جبکہ فاطمہ پڑھنے کی کوشش میں چکرا سی گئ۔
    ہنگل اور عربی دونوں کے الفاظ ناچتے ہوئے آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔
    مجھے ایک لفظ سمجھ نہیں آرہا پڑھوں کیا سمجھائوں کیا۔ واعظہ کی۔بچی جھوٹ بول کر میں نوکری حاصل کر سکتی ہوں جاری نہیں رکھ سکتی۔ نا عربی آتئ نہ یہ گٹ پٹ خاک پتھریاد کروائوں مکالمے۔
    روہانسی سی ہو کر وہ بولی تو چندی آنکھوں والی اشتیاق سسے تھوڑا نزدیک آکر بولی
    ڈھونت بی کوئ ایک اٹش ہارد تو لن ٹھو شون ٹھارائی ٹھو شے لےت۔
    Dont be quick its hard to learn too soon۔ try to say late .
    اس نے اپنی انگریزی جھاڑ کر رعب ڈالنا چاہا تھا شائد۔
    late
    ایک تو لہجہ پھر انگریزی فاطمہ بے ساختہ درستگی کرتے کرتے رک گئ۔
    شے اگئن۔
    وہ اب آنکھیں پٹپٹا رہی تھی۔
    اتنا بڑا پراجیکٹ ہے ان سے یہ بات چھپائی نہیں جا سکے گی کہ میں عربی نہیں اردو بول رہی سب سے بڑھ کر اس مومی مردانہ شکل کی گڑیا کو عربی مکالمے یاد کیسے کروائوں گی۔ مجھے ابھی اسی وقت جا کے سب بتا دینا چاہیئے۔
    اسے دیکھتے ہوئے اس نے فورا فیصلہ کیا تھا اسکرپٹ بند کرتے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    آپ انتظار کیجئےمیں ذرا ہدایت کار صاحب سے مل کرآتی ہوں۔۔
    وہ اسے بتاتی تیزی سے مڑی تھی۔ جھٹ پٹ بھاگ کے دروازہ کھولا تو وہ ہلکا سا بھڑا ہوا تھا اور اس سے کان لگائے کھڑ ا وہ لڑکا اسکے باہر نکلنے سے پہلے اندر آنے لگا تھا۔سنبھل کر سیدھا ہوا
    فاطمہ گھور کر رہ گئ۔ اسکے سنبھلنے پر ایک جانب ہو کر آگے بڑھ جانا چاہا تو اسکی آواز نے قدم روک دیئے۔
    اگرآپ چاہیں تو یہ بات ہدایت کار صاحب سے چھپائی جا سکتی ہے۔
    اسکی بات پر وہ مڑ کر گھورنے لگی تھی۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔
    وہ دونوں بنانا ملک کے گلاس لیکر اس سنسان پارک میں بنچ پر بیٹھی تھیں۔ جھٹپٹے کا وقت ہو چلا تھا مگر طوبئ سوں سوں کرکے روئے جا رہی تھی۔
    شٹل کاک برقعے کے پیچھے سے سوں سوں کی آواز بس سنائی دے رہی تھی۔
    طوبی یہ برقعہ تو ہٹائیں۔۔
    ادھر ادھر دیکھ کر کسی نا محرم کی غیر موجودگی کا یقین کرکے اس نے پہلے اپنا برقعہ اوپر کیا پھر طوبی سے منت بھرے انداز میں کہنے لگی۔
    ہرگز نہیں۔ میرا رو رو کے سارا اسموکی آئیز والا میک اپ خراب ہو چکا ہوگا میں تمہیں نہیں دکھا سکتی اپنا چہرہ۔
    ناک سڑک کر خاصی پاٹ دار مگر بھرائی آواز میں جواب آیا۔
    اسموکی آئیز والا میک اپ؟ عزہ بھونچکا رہ گئ
    آپ شٹل کاک برقعے کے نیچے اسموکی آئیز والا میک اپ کر کے آئی ہیں۔ ؟؟؟ تھیبا۔ وہ دنگ رہ گئ تھی
    کیوں بھلا۔۔
    کیوں کیا مطلب۔؟ طوبئ نے بھڑک اٹھی۔
    اس گوری چندی آنکھوں والی پچھل پیری کو اگر میں آج ملتی تو برقع ہٹا کر دکھاتی کہ جس ذرا سی توند والے سانولے لمبے چوڑے دلاور پر ڈورے ڈال رہی ہے اسکی نا صرف ایک عدد جوان بیوی ہے بلکہ وہ بہت خوبصورت بھی ہے۔
    اس نے کہتے کہتے جزباتی ہوکر برقعہ بھی اٹھا لیا۔ عزہ کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔ طوبی نے
    دھڑلے سے سر ہلاکر جتانے والے انداز میں کہا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ آدھے گھنٹے سے چہکوں پہکوں رونے کہ وجہ سے اسموکی آئی میک اپ گالوں تک آچکا تھا گالوں پر جو ہائی لائٹر اور بلشر تھا وہ پھیل کر اس آئی میک اپ کے ساتھ مکس کھچڑی بن چکا تھا گہرے عنابی اور لال مکس کرکے لگائی لپ اسٹک تھوڑی تک آرہی تھی۔
    آنکھیں پھاڑ کر طوبی ٹھیک ٹھاک بھیانک لگ رہی تھی۔
    جج جی۔ عزہ نے دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالا۔
    بے شک طوبی جی آپ اس لڑکی بلکہ خرانٹ عورت سے کہیں جوان اور حسین ہیں۔ مگر مغرب ہو رہی آپ رونے کی بجائے دعا کیجئے کہ دلاور بھائی راہ راست پر آجائیں۔
    عزہ نے کہتے ہوئے نا محسوس سے انداز میں اسکا برقعہ نیچے کردیا۔
    ہوں۔۔ طوبی کو بھی بات دل کو لگی۔عزہ اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرنےلگی۔
    برقعے کے اندرہی دونوں ہاتھ پھیلا کر ہل ہل کر دعا کرنے لگی۔۔
    جب تک عزہ نے گلاس خالی کیا طوبی کا دل بھی سنبھل چکا تھا
    اس نے برقعے کے اندر ہی طوبی کا گلاس بڑھا دیا
    ویسے طوبی جی آپکو یقین ہے میرا مطلب ہے غلط فہمی بھی تو ہو سکتی ہے۔ مانا دلاور بھائی کے موبائل میں بس اس لڑکی۔
    طوبی کی برقعے میں ہی گردن جھٹکے سے عزہ کی جانب مڑی تو اسے تصحیح کرنی پڑی۔
    میرا مطلب ہے اس عورت کی ہی تصویر تھی اور اس نے پہن بھی اسکرٹ رکھی تھی مگر اکیلی تصویر تھی مطلب دلاور بھائی ساتھ نہیں تھے تو ہو سکتا وہ انکی کوئی کولیگ ہو۔ کام کے سلسلے میں رابطہ ہو ا ہو۔ عزہ نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا مگر طوبی جزباتی ہو کر گلاس بنچ پر پٹخ کر اسکی جانب مڑ گئ
    دیکھا نا ابھئ ہم دلاور کے دفتر میں ہی پتہ کرکے آئے ہیں
    وہ لڑکی اس دفتر میں کام تک نہیں کرتی۔ میری چھٹی حس صحیح بتا رہی تھی۔۔ پچیس منٹ بات کی ہے انہوں نے پرسوں اس سے۔ کوئی میسج نہیں کیا ہوگا کیا کبھی؟ مگر سب چیٹ صاف کی ہوئی ہے۔ واٹس ایپ کاکائو موبائل ہر میسنجر دیکھا صرف ایک میسج ملا۔
    اچھا میں ملنے کا وقت اور جگہ آپکو بتاتا ہوں۔
    اب بتائو اسکا کیا مطلب بنا؟ یقینا فون پر بات کرکے وقت اور جگہ بتائی ہوگی اور گئے بھی ہوں گےملنے۔
    طوبی کو بولتے بولتے پھر رونا آگیا
    اچھا طوبی آپ روئیں تو نہیں۔
    عزہ نے تڑپ کر کندھے سے لگا لیا طوبی کا سر۔
    میں ہوں نا۔ بلکہ ہم ہیں نا ۔۔ ہم سب بہنیں پتہ لگائیں گی کہ آخر دلاور بھائی کیا گل کھلا رہے۔ تسلی دیتے عزہ کا خیمہ بھی ڈھلک آیا۔ عین اسی وقت انکے سر پر لیمپ پوسٹ آن ہوا تھا۔ چمکدار روشنی میں دو کالے خیمے گتھم گتھا
    دور سے خراماں خراماں چل کر آتی اپنے دھیان میں موبائل سے سر اٹھاتے ہی وہ چندی آنکھوں والی لڑکی بری طرح خوفزدہ ہو کر ایک قدم پیچھے ہوئی۔
    کم چاگیا۔
    غیر مانوس آواز پر دونوں خیمے الگ ہوئے اسے ڈرا سہما دیکھ کر طوبی نے اپنا برقعہ ہٹا کر چہرہ دکھا دیا
    کیم چھنا یوجاز ہیئر۔
    طوبی اپنی مرضی کا ہی ترجمہ۔کرتی تھی ہنگل کا یوجا کو یوجاز کہہ کر اس نے جمع بتانے کی کوشش کی تھی۔
    ( سب ٹھیک ہے یہاں لڑکیاں ہیں )
    اس چندی آنکھوں والی لڑکی کی آنکھیں پہلے پھیلیں پھر اوپر چڑھیں اور وہ چکرا کر انکے قدموں میں ڈھیر ہوگئ
    حد ہے۔ دیکھ لو جھٹپٹے کے وقت ایسے ادھورے کپڑے پہن کر گھومیں گی تو یوں ہی چکرا چکرا کر گرتی پھریں گی۔
    طوبی نے سر پیٹ لیا۔ لیمپ کی روشنی میں گوری پنڈلیاں چمک رہی تھیں۔
    ہوں۔ عزہ نے سر ہلایا۔
    ہمیں تو امئ چھت پر بھی جانے نہیں دیتی تھیں۔
    دونوں کوریا کی لڑکیوں پر افسوس کرتی اسے اٹھانے اٹھ گئیں۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بس سے اتر کر پیدل مارچ کرتی جب گلی میں داخل ہونے کیلئے مڑنے لگی تو سڑک پار واعظہ اسے اس بڑے سے کنوئنئنس اسٹور کے باہر میز کرسی پر بیٹھی سینڈوچ کافی اڑاتی دکھائی دی۔
    وہ احتیاط سے سڑک پار کرتی بھاگ کے اسکے پاس چلی آئی۔ پھر شرارت سوجھی تو کندھے ہلا کر ڈرا بھی دیا
    بھائو۔
    ڈرنا تو کیا تھا اس نے کافی کا گھونٹ بھرنے لگی تھی زبان اور ہونٹ جل گئے۔ وہ دیکھ کر رہ گئ۔ البتہ فاطمہ اپنی شرارت پر ہنستی ہوئی اسکے مقابل آبیٹھی۔ اسکے سامنے سے آدھا سینڈوچ بھی اڑا لیا۔
    پتہ ہے کیا ہوا آج۔ انداز اشتیاق بھرا تھا۔
    ہوں اندازہ ہے۔۔
    واعظہ نے سر ہلایا پھر میز پر سے ایک کاغذ اٹھا کر اسکی۔جانب بڑھا دیا۔
    اس کنوینئینس اسٹور کو پارٹ ٹائمر درکار ہےاپلائی کردو ۔
    کیوں بھلا۔ فاطمہ چہکی۔ جبکہ میری نوکری مستقل ہوچکی ہے۔ٹی سی این کے دفتر میں اسسٹنٹ اسٹاف کے طور پر۔ پتہ نہیں ہنگل میں کیا بڑ بڑا رہے تھے مگر یہ دیکھو
    اس نے گلے میں پڑا ٹیگ کارڈ دکھایا
    انکو تو انگریزی بھی نہیں آتی اب اسسٹنٹ اسٹاف میمبر کیا بلا بنا ؟
    وہ سوچ میں پڑی تو واعظہ اچھل پڑی۔
    کیا ؟ تم ریزائن دے کر نہیں آئیں؟
    نہیں ۔ فاطمہ نے شان بے نیازی سے سینڈوچ منہ میں بھرا۔
    بلکہ آج میرے کام سے سب خوش بھی ہوئی۔
    اس نے اپنے کندھے پر فلیش بیک چلا۔کر دکھایا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔
    پورے سیٹ پرہوکا عالم تھا۔بادشاہ اور اسکے وزیر کے مکالمے چل رہے تھے۔ دونوں ہنگل میں گٹ پٹ کر رہے تھے کیمروں کا فوکس اسٹاف میمبران سب کے سب وہیں متوجہ تھے تو سیٹ سے ذرا ہٹ کر ہال کمرے کے اس حصے میں خوب رونق تھی۔ عربی اور کوریائئ اداکار سرگوشیوں میں فرمائشیں کر رہے تھے۔
    عبداللہ کو قہوہ یاد آرہا تھا تو ایجیا کو آئسڈ امیریکانو۔
    سر ہلا ہلا کر اب فرمائشیں نوٹ کرکے اس لڑکے نے میسج ٹائپ کیا تھا۔
    دس منٹ بعد بوتل کے جن کی طرح دو چار بڑے بڑے شاپر اٹھائے فاطمہ تیز تیز قدم اٹھاتی بھاگئ آئی۔
    عربئ فنکاروں کیلئے شوارما اور چاول تھے تو کورینز کیلئے بلیک بین نوڈلز اور پورک اسٹیک۔
    اس نے لا کر ابھی ایک کونے میں میز پر ڈھیر کیا ہی تھا کہ میسج بیپ بجی۔ اسے الٹےپیر ڈرنکس لینے دوڑ جانا پڑا۔
    اس لمبے چوڑے گوری رنگت والے خالص عربی نقوش کے ساتھ وہ بڑا سا ہنبق پہنے الجھتا عربی اسکے قہوے کا گلاس بڑھانے پر خوب خوش ہو کر شکرا شکرا کہہ رہا تھا۔
    لال ہنبق میں بیر بہوٹی بنی وہ عربی لڑکی گھومئ تو ہنبق پورا اسکے بغیر ہی گھوم گیا۔ فاطمہ نے ایکدم سے آگے بڑھ کر اس انہونی کو ہونے سے روکا تھا۔
    عربی عبائے میں ملبوس وہ ایجیا اپنے عبائے کو سمیٹے بنا کرسی پر دھپ سے بیٹھ گئ۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکے لباس کا گھیرا سمیٹا اور اسکو آئیسڈ امیریکانو پیش کی۔
    ایک۔کونےمیں ٹھاٹھ سے کرسی پرٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا وہ لڑکا مزے سے موبائل استعمال کرتے ہوئے فریش جوس کا گھونٹ بھر رہا تھا۔
    فاطمہ سب کو سب پکڑا کر کرسی پر دھپ سے بیٹھتے اسکے اطمینان کو رشک سے دیکھنے لگی ۔ وہ اتنا مگن بے نیاز تھا کہ اسے خبر بھی نہ ہوئی۔
    ڈرنکس اڑاتے کھاتے پیتے مزے لیتے ان چہروں میں اپنا آپ خاصا بے چارہ لگا تو رخ موڑ کر اسٹیج کو دیکھنے لگی۔
    یہ والا فنکار جانا پہچانا لگ رہا تھا کوئی کورین اداکار تھا۔اسے دلچسپی سی ہوئئ۔
    چندی آنکھوں والا وہ لڑکا خالص عربی لباس میں چوخانے والا رومال سر پر لپیٹے جب اس عالیشان عربی تخت پر بیٹھا تو دو جملوں کے بعد اگلا جملہ ہی بھول گیا۔ ہدایت کار نے ہنگل میں کہہ کرمڑ کر اسکی جانب اشارہ کیا۔ وہ الرٹ سی وہ بیٹھئ
    کیا کہنا تھا مجھے؟ وہ سیدھا فاطمہ کی جانب اٹھ کرآیا تھا۔
    فاطمہ نےاسے دیکھتے تھوک نگلا۔
    تبھئ بوتل کے جن کی طرح وہ لڑکا آگے بڑھا تھا
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
    مطلب۔واعظہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔
    مطلب تم اچھی بھلی اسسٹنٹ ہو کر یوں سیٹ پر چھوٹے کا کام کروگی اور وہ لڑکا تمہاری جگہ ان سب کو اسکرپٹ یاد کروائے گا یعنئ تمہارا کام وہ کرے گا اسکا تم۔
    ہاں ۔ فاطمہ چہکی۔ پھر مزید بتایا
    جواب میں اسے میں ہر مہینے اپنی تنخواہ کا آدھاحصہ بھی دیا کروں گی۔
    وہ بھی اپنئ آدھی تنخواہ دے گا تمہیں؟
    واعظہ کے پوچھنے پر وہ گڑبڑائی
    نہیں وہ کیوں دے گا۔ وہ تو میری مدد کررہا ہوگا کام کرنے میں اوراسکی تو گھنٹوں کے حساب سےتنخواہ ہوگی۔میں نے کیا کرنے اسکے پیسے۔
    فاطمہ کو کہتے ہوئے لگا کہ کچھ غلط کر بیٹھی ہے۔

    واعظہ اسے یوں دیکھ رہی تھی جیسے اسکے سر پر سینگ نکل آئے ہوں
    وہ لڑکا گھنٹوں کے حساب سے تنخواہ لے گا تم دنوں کے حساب سے یعنی وہ جب چاہے جتنی دیرچاہے غائب رہے گا بدلے میں یہ سیٹ کےاسپاٹ بوائے والے کام کرکے تم اسے اپنی آدھی تنخواہ بھی دوگی۔
    وہ بھی تو اسکرپٹ یاد کروائے گا میری جگہ۔
    فاطمہ نے دلیل دینی چاہی۔
    اور جب وہ بنا بتائے منہ اٹھائےغائب ہوا کرے گا تب کیا کروگی؟
    کیوں کرے گا وہ ایسا۔ اچھا خاصا شریف لگتا ہے دیکھنے میں۔
    اپنی بات پر خود بھی شک ہوا تو آواز دھیمی ہوگئ۔،چشم تصور میں اسکی شرارتی مسکراہٹ والی شکل تھی۔
    یہ وہ کر رہی ہو نام کیا ہے اسکا،؟
    واعظہ کے پوچھنے پر وہ ایکدم جوش سے نام بتانےلگی کہ خیال آیا۔
    بولو ۔ نام کیا ہے کہاں رہتا؟ تمہاری مستقل پوسٹ ہے وہ پارٹ ٹائمر ہے تمہیں پتہ ہونا چاہیئے کل کلاں کوکوئی مسلئہ ہوگیا تو؟
    واعظہ کی بات میں دم تھاوہ کان دباتی سرجھکا گئ
    نام تو پوچھا ہئ نہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاور۔۔۔ خاور نام ہے۔ خاآاا ور۔۔۔۔۔۔۔
    بالکونی میں کھڑے ہو کر وہ فون پر نام بتا رہےتھے۔
    بھائئ ہے میرا کسی غلط مقصد سے تفتیش نہیں کروا رہا۔ آپ بے فکر رہیں۔
    خالص ہنگل میں انہوں نے تفصیل سے بتایا
    ہوں۔
    اپنے کسی کام سے کمرےمیں آئی طوبی بستر خالی دیکھ کر چونکی۔ صائم کاٹ میں کسمسا رہا تھا۔ سر ہوا کا جھونکا اسکی ریڑھ کئ ہڈی سنسنا گیا تو اس نے ہوا کا منبع ڈھونڈا۔گیلری کا دروازہ کھلا تھا۔
    وہ فطری تجسس سے گیلری کی جانب بڑھ آئی۔ دلاور نہایت دھیمی مگر رواں ہنگل میں گٹ پٹ کر رہے تھے اس نے کان لگا کر سننا چاہا تو سنائی تو دےگیامگرسمجھ نہ آیا۔
    دلاور مستقل بول رہے تھے۔ اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا
    کتنی بد قسمت ہوں میں۔ سوتن بھی ملی تو کورین میرے سامنے بیٹھ کر بھی جانو مانو کر رہے ہوں مجھے ککھ پتہ نہ لگے۔ ہائےجانے کب سے چکر چلا رہے۔کہیں۔۔
    اسکے دماغ میں کوندا سا لپکا۔جھٹ دروازہ چھوڑ کر بیڈ پرآبیٹھی۔
    کہیں یہ اسی ناس پیٹی کے چکر میں تو کوریا نہیں آئے؟
    کیسے بیٹھے بٹھائے نوکری چھوڑ چھاڑ کوریا کی کمپنیوں میں اپلائی کرنے لگے تھے اور کورین سیکھنی بھی شروع کردی تھئ۔۔ اف کتنی بے وقوف ہوں خوش خوش سسرال سے دور ہونے کا سوچ کر اٹھ آئی انکے ساتھ ۔ یہاں سوتن سے انہیں ملانے۔
    آنسوئوں کے سمندر جو اچانک ہی دلاور کی بے وفائی کے شک کے بعد سے آنکھوں سے پھوٹ پڑے تھے اس وقت بھی سونامی کی طرح گالوں پر امڈ آئے۔۔
    فون بند کرکے بازو سکیڑتے سرد ہوا سے بچتے وہ خوشگوار موڈ میں کمرے میں واپس آئے گنگناتے ہوئے گیلری کا دروازہ بند کیا۔ مڑ کر دیکھا بیوی بلک بلک کر روئے جا رہی ہے۔
    کیا ہوا۔ انکے ہاتھوں کے طوطے کوے سب اڑ گئے
    مجھ سے کیا پوچھتے ہیں اپنے گریبان میں جھانکیں کیا کرتے پھر رہے ۔۔
    طوبئ سڑ سڑ کرتے۔چلائی۔۔
    دلاور نے گریبان میں جھانکا پھر ذرا شرمندہ سے لہجے میں بولے۔
    اوہ سورئ یار۔ نہا کر پرانے کپڑے پہننے کا دل نہیں کیا۔ تو نئی بنیان بھی پہن لی۔ ذیادہ کپڑے میلے ہوگئے تو کوئی بات نہیں۔ میری صبح چھٹئ ہے سب دھو دوں گا۔ تم فکرمت کرو۔مجھے اندازہ ہے تم سے اتنا ذیادہ کام نہیں ہو رہا ہوگا۔ اب یہاں میڈ وغیرہ کا انتظام تو مشکل ہے مگر کوشش کروں گا تم فکر نہ کرو بس آرام کرو ۔۔ میں چائے بنانے جا رہا ہوں پیوگی۔
    دلاور کی باتوں پر وہ اتنا حیران ہوئی کہ رونا بھول کر ٹکر ٹکر دئکھتی رہ گئ۔ وہ خود ہی اسکا جواب اثبات میں سمجھ کر خوشی خوشی چائے بنانے چل دیئے۔
    میں دو منٹ میں چائے بنا کرلایا۔ چٹکی بھی بجائی۔
    عزہ کا ہیولہ نمودارہوا طوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھاتا
    آپ نے غصہ نہیں کرنا طوبی جی بہت سمجھداری سے کام لینا ہے۔
    کیسے لوں سمجھداری سے کام۔۔
    طوبی پھر سوں سوں کرنے لگی
    دیکھا ابھی کیا کہا انہوں نے؟ کوئی شوہر بھلا ایسے خود کپڑے دھونے کا میڈ کا انتظام کرنے کا کہتا؟ اور تو اور اوپر سے چائے بنانے چل دیئے۔ ایسے کوئی کرتا بھلا؟؟؟ ہائے امی یہ تو ایسے چاپلوسیاں کرکےمجھ سے دوسری شادی کی اجازت بھی لے لیں گے۔۔۔۔ یہ تو اس چڑیل کے پیچھے پاگل ہی ہوگئے ہیں۔۔
    اس نے دونوں پائوں اوپر کیئے آلتی پالتی مار کر بیٹھی اور دوپٹہ آنکھوں پر رکھ کر خوب زور و شور سے رونے لگی۔۔۔
    ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 46

    قسط 46

    فاطمہ واعظہ بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی بغور عشنا کو ملاحظہ کر رہی تھیں۔۔ عشنا نے اپنا بیگ کھنگالتے سر اٹھا کر دیکھا تو گڑبڑا گئ۔
    وہ یہ میرا ہی بیگ ہے۔اس نے صفائی پیش کی تو فاطمہ اور واعظہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر دانت پیس کر اکٹھے بولیں۔
    تم ہمیں اپنی سچی والی کہانی سنائو گی یا اس 25 ڈگری والے موسم میں گھر سے باہر کھڑا کر دیں تمہیں۔
    یہ تڑی فاطمہ نے لگائی تھی۔ ذرا جو عشنا ڈری ہو۔ ایک نگاہ ڈال کر دوبارہ بیگ کھنگالنے لگی۔
    اس سے ذیادہ تو میری ڈر گئ تھئ مجھ سے جب۔۔
    فاطمہ واعظہ کے کان میں گھسی جوابا اسکی گھوری پر بریک لگا کر چپ ہوکے بیٹھ گئ۔
    میں نے اپنے بارے میں سب سچ بتا دیا ہے آپ شائد یقین نہیں کر رہیں میرا۔
    عشنا نے دھیرے سے سر اٹھا کر کہا تو واعظہ بھڑک اٹھی
    یقین کروں تمہارا؟ نام تک نہیں جانتی میں تمہارا۔ہر بات جھوٹ ہر ڈاکومنٹ جعلی۔ کون ہو تم کہاں کی رہنے والئ ہو ہم کچھ ۔۔۔
    ۔عشنا نے اسکی بات کاٹ کر سکون سے کہا۔
    میں حیدرآباد انڈیا کی رہنے والی ہوں۔۔ یہاں اسکالر شپ پر پڑھنے آئی تومجھے عشنا ملی میرے ساتھ میری ہم جماعت پاکستانی نژاد مسلمان لڑکی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکول کے پہلےدن کلاس کے داخلی دروازے پر سے ہی وہ گھبرائی سی متلاشی نظروں سے مانوس نقوش تلاش کر رہی تھی۔۔سب کے سب چندی آنکھوں اجنبئ زبان بولتے۔
    راستہ دو کیا جم کے کھڑی ہو بیچ میں۔
    اسکی چھے مہینے کی ہنگل کا کڑا امتحان تھا۔اتنی تیزی سے بولتی اسکو دھکیل کر پرے کرتی وہ چندی آنکھوں والی لڑکی۔جب تک اسکے حواس ترجمہ کر پائےوہ آگے بڑھ چکی تھی جبکہ وہ خود لڑکھڑاکرساتھ ہی پڑے خالی بنچ پرگر سی گئ۔
    آپ ٹھیک ہیں؟
    نرم مانوس جملے مگر یکسر اجنبی شکل والی وہ لڑکی مسکرا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھ رہی تھی۔
    جی۔ وہ اپنے کندھے پر بیگ درست کرتی شرمندہ سی ہونے لگی ۔
    ہائے میرا نام عشنا ہے۔ آشنا نہیں۔ مگر پھر بھی تم میرے ساتھ بھاگ کے آسکتی ہو۔
    وہ کہہ کرکھلکھلائی تھی۔ گوری رنگت گالوں میں دونوں جانب پڑتے گڑھے شہد رنگ بال۔ جینز شرٹ میں ملبوس اس لڑکی نے اسکارف بھی گلے میں ڈال رکھا تھا مگر اس کے نقوش اسے قطعی بھارتی نہیں لگے تھے۔ اسکا مزاق سر پر سے گزرنے کی وجہ سے وہ بس ہونقوں کی طرح مسکرا دی۔
    آشنا کا نہیں پتہ؟ جان پہچان والے کو کہتے اردومیں۔۔۔
    عشنا نے وضاحت کی تو وہ بس سر ہلا گئ۔ عشنا اسے بغور دیکھنے لگی۔
    کھلتے ہوئے رنگ کی گھنگھریالے بالوں والی وہ لڑکی کرتی اور جینز میں ملبوس تھی مگر دوپٹہ ندارد تھا
    انڈین ہو تم؟ اس نےاندازہ لگایا۔ جوابا اس نے زور وشور سے اثبات میں سر ہلایا۔
    اچھا۔ مل کے خوشی ہوئی۔۔ انداز نسبتا مایوسی بھرا تھا۔مگر ہھر اپنی جون میں لوٹ کر بولی
    ۔ویسے میں پاکستانی ہوں۔
    آپ ادھر آجائو ہم اردوبولنے والے لڑکے لڑکیوں کا گروپ ادھر اکٹھے بیٹھتا ہے۔تم شائد نئئ ٹرانسفر اسٹوڈنٹ ہو۔خیر نئے پرانے کیا۔ ہم یہاں کئی مہینوں سے جھک مار رہے مجال ہےکچھ پلے پڑا ہو۔بس ہم آپس میں گپیں ہانک کر مل بیٹھ کرکچھ پڑھ پڑھا لیتے ہیں
    وہ لڑکی جو بھی تھی بہت باتونی تھی۔۔اسکا ہاتھ پکڑ کر کلاس کے دائیں جانب بڑھ گئ۔وہ اسکے ساتھ کھنچتی گئ تھی۔
    کونے میں دو لڑکے ایک لڑکی بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔ اس نے اسے بیچ میں لے جا کھڑا کیا۔ وہ تینوں چونک کر چپ ہوئے۔
    یہ اجے ہے یہ تمہارا ہم وطن ہے۔ یہ ثاقب اور یہ ثریا یہ دونوں بنگالی ہیں۔۔ اور یہ ہے۔۔
    اس نے تفصیل سے ان سانولے سلونے لڑکوں کا تعارف کرایا
    ہیلو۔ ہائے
    انہوں نے گرمجوشی سے اسکا اپنے گروپ میں استقبال کیا تھا۔۔ لڑکی بھی سانولی سی تھی مگر گرمجوشی سے اسکی جانب ہاتھ بڑھا رہی تھئ تبھی عشنا چونکی۔
    اور تم ؟ نام تو بتایا ہی نہیں تم نے؟
    تم نے موقع ہی نہیں دیا ہوگا اسے بولنے کا؟۔ اجے نے درست اندازہ لگایا۔
    عشنا تو مجھے لگتا ہے سوتے میں بھی بولتی ہوگی۔
    ثاقب چھیڑ رہا تھا
    ایویں۔۔ عشنا منہ پھلا گئ۔
    میری دوست کو مت تنگ کرو بھئ۔ ثریا نےلاڈ سے اسکو اپنے ساتھ لگایا۔
    تو اور کیا۔ تم لوگ خوامخواہ میں مجھے کہتے میں ذیادہ بولتی میں نے بول بول کر تم سب کی دوستیاں کروائئ ہیب اگرمیں اتنی فرینڈلی نہ ہوتی تو تم سب آج یہاں اکٹھے نہ ہوتےمیرا کمال ہے تم سب کو اکٹھا کیا۔ ورنہ یہ ثاقب اس نے پیچھےاکیلے بیٹھےبیٹھےہی پاس آئوٹ کرجانا تھا اور۔
    عشنا نےاپنی کارکردگی جتائی۔
    جی جی۔ مائی باپ آپ مہان ہیں۔ اجے نےہاتھ جوڑے اسکی تیز گام روکنےکیلئے۔۔
    سر آگئے ہیں۔ سیٹ سنبھال لو سب۔
    ثاقب نے کہا تو وہ سب جلدی جلدی اپنی اپنی جگہ سیدھے ہوگئے۔ وہ بھی مسکرا کر عشنا کے ساتھ بیٹھ گئ۔
    یہ والے سر خبطئ ہیں۔ اکیلے بولتے رہتے۔ انکو سوال کرنے والے طلبا ء ذیادہ پسند نہیں۔ باقی اچھے ہیں یہ بولتے رہتے ہم باتیں کرتے رہتے۔ بس شور نہ کرو تو یہ اس طرف دیکھتے بھی نہیں۔
    دھیمئ آواز میں وہ اسکے کان پر جھکی بولے جا رہی تھی۔
    وہ دیکھو۔
    اس نے کہنی مار کر متوجہ کیا۔
    انکے بالکل آگے والی نشست پربیٹھا وہ چندی آنکھوں والا جوڑا ڈیسک پر نیچے بیٹھ گیا تھا۔۔
    اس نے گڑبڑا کرنظرہٹائئ۔
    اوئے تم تو بلش کرنے لگیں۔ عشنا ہنس پڑئ۔
    گلابو ۔گلابو نام جچتا ہے تم پر وہ کیا گانا تھا گلابو ۔۔عطر گرا دو۔۔
    وہ لہک لہک کر گارہی تھی سر کا رخ دوسری جانب تھا۔
    سشس ۔۔ اس نے سٹپٹا کر اسے روکنا چاہا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسٹوڈیو میں داخل ہوتے ہی اسے ویرانی کا سا احساس ہوا تھا۔ پروڈیوسر گنجے انکل اپنے معاون کے سر پر کھڑے کسی بحث میں الجھے تھے۔ وہ دانستہ انہیں نظر انداز کرتی ریکارڈنگ روم میں چلی آئی۔ وہی ریکارڈنگ روم وہی وہ۔ مگر سب کچھ جیسے بدل چلا تھا۔ اپنا بیگ رکھتے وہ کرسی سنبھالنے لگی جب پروڈیوسر کی گلاس وال سے اس پر نظر پڑی تو معاون کو انتظار کرنے کا کہہ کر وہ دروازہ کھول کر اندر چلے آئے۔
    ہیلو مس الف۔کیسی ہیں آپ ۔
    انہوں نے مروتا پوچھا جوابا اس نے مروتا بھی جواب نہیں دیا۔ ہیڈ گئیر اٹھا کر سر پر لگانے لگی

    آج آپکو اکیلے شو کرنا ہوگا۔ ژیہانگ کا فون آیا تھا ناگزیر وجوہ کی بنا پر وہ آجکا شو نہیں کر سکتا۔ ویسے تو وہ پہلے ہی استعفی دے چکا تھا میری درخواست پر اس ہفتےکا شو کرنے کی حامی بھری تھئ مگر آج اچانک فون آگیا۔
    آپ اکیلے سنبھال لیں گی نا ؟ آپکو بھی پتہ ہوگا ژیہانگ سے کافی دوستی ہوگئ تھئ نا آپکی۔
    میں سنبھال لوں گئ پہلے بھی تو اکیلے کرتی تھی شو۔
    الف کا لہجہ ایکدم تیز اور کھردرا ہوا تو وہ ہونٹ بھینچ کر سر ہلا گئے۔
    ٹھیک ہے پھر آپ تیار رہیں۔
    وہ کہہ کر رکے نہیں۔
    میں سنبھال سکتی ہوں سب اکیلے۔
    اس نے بڑ بڑا کر خود کو یقین دلایا تھا جیسے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس میں جگہ ملنا کوریا میں اتنا ہی آسان تھا جتنا سر میں کسی کی چڑھ آنے والی جوں نکالنا۔ پورا سر کھنگالو باریک کنگھی پھر کہیں جا کے اس ننھی مخلوق سے سامنا ہو پاتا۔ ایسے موقعوں پر فاطمہ کی تیزیاں دیکھنے لائق ہوتی تھیں
    وہ آہجومہ اپنے بچے کا ہاتھ تھامتی اٹھیں تو سب کوریائیوں کو شکست فاش دیتے فاطمہ اتنی تیزی سے بچے کی چھوڑی جگہ بیٹھئ کہ اس نشست پر۔بری نگاہ گاڑے اس ہائی اسکولر کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔ اس نے سر جھٹک کر برابر والی نشست پر بیٹھنا چاہا تب تک وہ فون میں الجھی واعظہ کو کھینچ کر پاس بٹھا چکی تھی۔
    فون کان سےلگائےبات کرتی واعظہ نے صورت حال سمجھنے کی کوشش کی پھر کندھے اچکا کر بات سننے لگی۔
    جی ۔ جی۔ اچھا۔ نہیں ہم بس وہیں آرہے ہیں۔
    جی۔میری دوست ہے میرے ساتھ ہی ہے۔ فاطمہ۔ اسکی بولتے بولتے فاطمہ پر نگاہ گئ۔ حلق میں دل اچھل آیا۔۔
    گھر گھر کر بادل آرہے تھے۔ بس کی کھڑکی سے ندیدوں کی طرح سر باہر نکال کر دیکھتی ہوئی فاطمہ کو اسکی پونی سے کھینچ کر ہی اندر کیا تھا واعظہ نے۔ فون بند کرکے بیگ میں رکھتی وہ بھنا گئ
    مانا خالی ہی ہے مگر یہ استخوانی پنجرہ جو گردن پر سجا رکھا نا اسکا سرمہ میرے کسی کام کا نہیں ہے۔ سر اندر کرکے بیٹھو۔
    واعظہ کی ڈانٹ اسکے سولہ سالہ تعلیمی کیرئر کا امتحان لے لیتی تھئ۔
    استخوانی پنجرہ۔۔۔ وہ سوالیہ نشان ہوئئ۔
    استخوان ہڈی کو کہتے ۔۔ واعظہ بدمزہ سی ہوئئ۔
    اوہ ۔ فاطمہ جیسے سمجھ گئ زور و شور سے سر ہلایا۔
    میرے سر کو استخوانی پنجرہ کہہ رہی ہو۔ مگر پنجرے میں کچھ تو ہے۔ محسوس ہوتا ہےمجھے اکثر خطرے کی گھنٹی سنائی دیتی ۔محتاط ہو جائو فاطمہ آگے راستہ خطرناک ہے۔
    وہ ڈرامائی سے انداز میں آنکھیں مٹکاتی بول رہیتھی۔
    تو محتاط کیوں نہیں ہوتیں تم؟ نئے سرے سے کسی نئی مشکل میں پھنستے وقت نہیں بجا کرتی یا خراب ہے۔
    واعظہ بھنائی۔ مگر فاطمہ پر اثر ندارد تھا۔
    جب بڑی مشکل ہوتی ہے تب بجتی ہے۔جیسے۔۔
    اس نے سوچنا چاہا مگر کوئی ماضی قریب کی مثال سوجھی ہی نہیں۔ سر جھٹک کر بولی۔
    تازہ ترین ابھی بج رہی ہے۔۔۔۔ اس نے مڑ کر واعظہ کی صورت تکی جس پر بیزاری ہی بیزاری تھی۔
    یقینا وہ گھنٹئ کا مرکز پوچھنے نہیں والی تھی سو خود ہی بتانا پڑا اسے
    ہم عشنا کو دوبارہ گھر میں جگہ دے کر غلطی کر رہے ہیں مجھے پکا لگ رہا ہے۔۔۔
    اس نے کہہ کر سانس روک لی۔ واعظہ کا ردعمل ٹھس پھس سا تھا۔ ہلکا سا منہ بنا کر اس نے رخ پھیرا
    مار لی بونگئ اب چپ ہوجائو۔
    واعظہ کی بات پر اسکا منہ اتر گیا۔ اپنی طرف سے اس نے کافی دھماکے دار بات کی تھی۔
    ہے ہی سڑیل۔
    وہ منہ پھیر کر بڑبڑائی مگر اتنی آواز میں کہ اسکے برابر کندھے سے کندھا جوڑے بیٹھئ واعظہ کی سماعتیں محفوظ نہ رہیں۔
    انکا اسٹاپ آچکا تھا ۔بس رکتے ہی سرعت سے واعظہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ فاطمہ کو بھی تقلید کرنی پڑی۔۔
    تیز تیز قدم اٹھاتئ واعظہ کے پیچھے وہ لڑھکتی آرہی تھی۔
    ارے۔ کیا ہوا ہے بھاگ کیوں رہی ہو۔ ٹھہروتو۔
    فاطمہ نے زبان سے روکنا چاہا مگر اسکی رفتار نہ کم ہوئی سو بھاگ کےاسکے آگے ہوئی۔
    دیکھو میری بات سنو۔مومن ایک سوراخ سے دوسری دفعہ نہیں ڈسا جاتا ہے۔مجھے واقعی لگتا ہے ہمیں عشنا پر دوبارہ اعتبار نہیں کرنا چاہیئے۔بلکہ وہ کیا نام بتایا اس نے۔
    فاطمہ سوچ میں پڑی۔
    میں مومن نہیں ہوں۔
    واعظہ سہولت سے کہہ کر ایک جانب ہوکر آگے چل پڑی۔
    ارے۔فاطمہ پوری گھوم گئ۔پھر لپک کر دوبارہ واعظہ کے آگے آکر اسکا راستہ روک لیا۔
    یار بات تو سنو اتنئ لڑکیاں اکٹھے رہ رہی رہیں ہمیں یوں ایک انجان بلکہ ہندوستانی لڑکی کو گھر میں جگہ نہیں دینی چاہیئےجبکہ ہمیں ایک بار ہاتھ لگ چکے ہیں۔۔
    اب اکٹھےاتنی لڑکیاں نہیں رہنے والیں۔ میں نے سب کو کہہ دیا اپنا انتظام کر لیں۔ میں لیزنہیں بڑھوا رہی اپارٹمنٹ کی۔
    سکون سے جواب دے کر وہ پھر فاطمہ کے دائیں جانب سے ہو کر آگے بڑھی۔۔۔ اسکی بات پرچند لمحے ہکا بکا رہنے کے بعد وہ بے یقینی سے پلٹی ۔واعظہ کئی قدم آگے بڑھ چکی تھی وہ پھر بھاگ کےآگےآئی اسکو کندھوں سے پکڑ کر جزباتی انداز میں جھنجھوڑ ڈالا۔
    کیا۔ یہ کیا کہہ رہی ہو۔میں کہاں جائوں گی؟ میرا کوریا میں تمہارے سوا ہے ہی کون۔۔
    شوہر ہے نا۔ میں نے تمہاری شادی کروادی ہے اب اپنے شوہر کے گھر میں دل لگائو۔
    واعظہ ذرا جو متاثر ہوئئ ہو اسکی جزباتیت سے۔۔
    وہ گائوں گیا ہوا ہےبتایا تو ہے اکیلے گھر میں ڈر لگتا مجھے میں نہیں جاسکتی وہاں۔
    اس نے منمنا کر اپنی مجبوری بیان کی۔
    اچھا چلو دفتر آگیا اندر چلیں۔ ۔ واعظہ نے سکون سے سر ہلایا اور اس بار فاطمہ کے بائیں جانب سے نکل کر آگے بڑھی۔ وہ چلتے ہوئے اب دفتر کے احاطے میں پہنچ چکی تھیں۔ بڑا سا سنگی احاطہ آگے دفتر کی عمارت کا داخلی حصہ۔۔۔ چکنے فرش پر ہیل سے اٹکتی فاطمہ کو چند لمحے لگ گئے مڑنے میں اس میں بھی وہ ذرا سا پھسل سی گئ۔قدم سنبھال کر سیدھی ہوئئ۔
    سنگدل۔۔ اوفوہ۔۔ ۔ اسکا راستہ روکنے کیلئےوہ دائیں جانب سے مڑ چکی تھی۔ واعظہ ندارد جھلا کر بائیں جانب مڑی تو سامنے سے آتے استخوانی کھمبے سے ٹکرا کر کئی قدم پیچھے ہونا پڑ گیا۔
    آہ۔۔پیشانی سہلاتے ہوئے وہ کراہ کی آواز پر چونکی
    یہ اسکی آہ ہرگز نہ تھی۔اس نے سر اٹھایا تو مقابل کو اپنی ناک سہلاتے پایا۔ خون کی پتلی سی لکیر اسکے لبوں تک آرہی تھی۔
    اوہ آئی ایم سو۔۔
    اس کےمعزرت کرتے الفاظ کہیں گم گئے۔
    ایک ہاتھ سے نکسیر روکنے کے چکر میں ناک سہلاتے اس لڑکے کا دوسرا ہاتھ ایک اسٹریپ والا گہرا میرون پرس تھامےتھا اس نے اپنی کلائی میں اسٹریپ کا بل دے رکھا تھا۔
    لمحہ لگا تھا فاطمہ کو بیگ پہچاننے میں اور دوسرے لمحے وہ اسکی کلائی موڑ کر کمر کے پیچھے لگا چکی تھی۔اس نے گھمایا پھرایا اسٹریپ اور بیگ ہوا میں اڑے۔جھماکے سے کلائی چھوڑ کر اس نے دائو لگاکر اسے گھوما دیا تھا۔وہ ایکچکر کھا کر گھٹنے کے بل زمین پر آیا۔ دوسرا گھٹنا زمین پر لگنے سے بچانے کو اسے نکسیر روکنے کیلئے مصروف ہاتھ کا استعمال کرنا پڑا۔
    اکڑوں بیٹھ کر حواس بحال ہوئے تو اس نے سوچنا چاہا اسکے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔مڑ کر پیچھے دیکھا تو وہ لڑکی بلیوں اچھلتے ہوئے اپنے بیگ کو ٹٹول ٹٹول کر اسکے ہر طرح سے صحیح و سالم ہونےکا یقین کر رہی تھی۔ مطمئن ہو کر باقائدہ بیگ کو چوما اب اسکو کھول کر دیکھنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی ٹھرکی توندل انکل کی ہمراہی میں سہج سہج کر چلتے وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب ہیل پہننے کا ارادہ کیا تھا۔ایک تو پوری عمارت میں ایسے چکنے ٹائلز تھے کہ دور سے دیکھو تو لگے پانی پڑا ہوا ہے۔ وہ سہج سہج کر قدموں پر نظریں گاڑے چل رہی تھی ۔ وہ لڑکا بھی اسکے ہمراہ تھا۔ اسکے برعکس اسکی ساری توجہ سر گھما گھما کر عمارت کا نقشہ دیکھنے پر مرکوز تھئ۔ یک رویہ کمروں کی یہ طویل راہداری تھی۔جسکو گزار کر وہ نسبتا کھلے حصے میں چلے آئےتھے۔ ایک جانب گلاس وال تھی جس سے سڑک نظر آرہی تھی دوسری جانب ریلنگ جس سے نیچے کی منزلیں اس پر چہل پہل رونق دیکھی جا سکتی تھی مگر اس منزل پر ہو کا عالم تھا۔
    یہاں اس منزل پر اسٹوڈیو اور اس جانب سیٹس لگے ہیں۔
    انہوں نے اشارے کرتے ہوئے انگریزی میں بتایا۔۔۔
    اس جانب میک اپ رومز ہیں۔
    آپ لوگوں کا سارا کام یہاں سیٹ پر ہوگا۔وہ انہیں لیکر ایک ہال کمرے کے دروازے پر لے آئے۔ ہینڈل گھما کر دروازہ کھولا تو جیسے ایک طلسم کدہ کا دروازہ کھل گیا ہو۔ ۔اندر ماحول ہی کچھ اور تھا۔پورا محل نما گھر بنا ہوا تھا دو منزلہ جس پر کیمرے لائٹیں سیٹ کی جارہی تھیں۔ لوگ ہی لوگ آوازیں ہی آوازیں۔۔۔
    وہ لڑکا باقائدہ منہ کھولے ہوئےوائو وائوکرتا دیکھ رہا تھا۔
    کیسے پینڈوئوں کی طرح منہ کھول کر دیکھ رہا۔
    پورےہال پر طائرانہ نگاہ ڈال کر اپنا کھلا منہ بند کرتے اس نے اپنے اس کام کے ساتھی کو ناگواری سے دیکھا جو منہ کھولے دیکھ رہا تھا۔
    یہ ہمارا سیٹ ہے ۔یہ شوٹ 90 دن کی ہے ۔ ابھی عربی فنکار میک اپ روم میں ہیں آتے ہیں تو ان سے آپ دونوں کا۔تعارف کروادیتا ہوں۔
    اس چندی آنکھوں والے انکے باس نے مڑ کر۔جیسے انکی تسلی دئ۔
    جی۔ دونوں نے اکٹھے سر ہلایا تھا۔تبھی ایک اسپاٹ بوائےدو پلندے کاغزوں کے اور ایک شاپر لے آیا۔ بڑے اہتمام سے انہوں نے پلندے آگے بڑھائے۔
    چونکہ بھاری بڑے لگ رہے تھے اس نے تکلفا بھی ہاتھ نہیں بڑھایا۔ اس۔لڑکے نے آگے بڑھ کر تھامنا چاہا انہوں نے نرمی سے رخ اسکی جانب پھیر لیا۔
    یہ اسکرپٹ ہے۔اسے آپ پڑھ لیں۔عربی کورین دونوں طرح کا ہے۔ آپکو سین 13 اور 14 لالا کو یاد کروانے ہیں ۔
    انہوں نے فاطمہ کو اسکرپٹ بڑھائے تھے۔ اس نے جھجکتے ہوئے ہاتھ بڑھایا۔ اٹھانے میں اسکا اندازہ چوک گیا۔ وہ پلندے پتھر کی سلوں جتنے وزنی تھے۔ اسکی شکل جو بنی تھی اس پر۔لڑکے نے منہ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی تھی۔
    جبکہ وہ اب شاپرکھنگال رہے تھے۔
    یہ کارڈز آپ دونوں کے ہیں۔۔ان کو احتیاط سے رکھیئے گا جب تک کمپنی کی جانب سے ایمپلائی کارڈ نہیں آتے ان کارڈز کے بنا آپکو اس سیٹ کیا اس ڈیپارٹمنٹ میں بھی گھسنے نہیں دیا جائے گا۔
    اور۔۔۔ ان توندی انکل نے انکو ایمپلائی کارڈز کی طرز کے کارڈ اور ہار تھماتے ہوئے اسکی روح فنا کر ڈالی تھی۔
    کہہ رہے تھے۔
    عربی لہجے میں کورین بولنا بہت مشکل کام ہے۔ ہم ڈبنگ کروائیں گے لیکن پھر بھی الفاظ بولنے تو درست پڑیں گے نا۔ ایسا کیجئے گا۔ ڈبنگ کیلئے آڈیشن دے دیجئے گا۔ یہاں روم 67 میں ہو رہے ہیں۔ کورین نا سہی عربی ڈبنگ میں آپکی آواز کام آجائے گی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سامنے شوٹنگ شروع ہو چکی تھی۔معروف کورین ادھیڑ عمر اداکار اپنا منظر عکس بند کروا رہے تھے۔ وہ ایک کونے میں بیٹھئ جمائئ پر جمائئ لیتے ہوئے اسکرپٹ پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
    آد۔۔ راخ۔۔ لح۔ خالا۔۔ دخا۔۔
    عربی کو بنا اعراب پڑھنے کا نا شوق تھا نا تجربہ۔ پورے جملے میں اسے خود ہی سمجھ نہ آیا کہ لفظ بنانا کیسے ہے۔
    مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ اس سے پہلے کہ یہ لوگ مجھے دھکے دے کر نکالیں میں خود عزت سے انکار کر دیتی ہوں۔
    اس نے اسکرپٹ بند کرتے ہوئے مصمم ارادہ کیا پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    تبھی سامنے سے دو کپ اٹھائے خراماں خراماں چلتے ہوئے وہ اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔
    یہ لیجئئےکافی۔۔ سر نے بھجوائی ہے۔ کہہ رہے تھے پہلا دن ہے ذیادہ اسٹریس مت لیں۔
    وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔ فاطمہ نے ایک نگاہ دیکھا پھر کپ تھام کر دوبارہ بیٹھ گئ۔ کافئ پی کر بھی ریزائن دیا جاسکتا تھا۔سر پھٹنے کو تھا ویسے بھی۔
    مے آئی۔
    وہ اسکے برابر کرسی گھسیٹ کر بیٹھنا چاہ رہا تھا مگر اجازت طلب کر رہا تھا اس نےسر ہلا دیا ۔تو شکریہ کہہ کر اس نے کرسی تھوڑا سا گھسیٹ کر دور مگر اسکے مقابل کرلی۔
    آپکی کوئی چیز گمی تو نہیں۔ اس نے یقینا بات بڑھانے کو پوچھا تھا۔
    اسکی بات پر فاطمہ چونکی۔
    اگر گمی بھی تو مجھے یاد کہاں ہونا۔ وہ سوچ کے رہ گئ۔

    دراصل یہ بیگ مجھے باہر احاطے میں کرسیوں کے پاس پڑا ملا تھا۔ میں نے اسکو گارڈ کو دینا چاہا تو اس نے صاف کہا کہ عمارت کے اندر کے ہم ذمہ دار ہیں باہر سے کچھ ملے تو اسے کوریا کے گمشدہ اشیاء کے مرکز میں جمع کرائیں۔۔۔ اس میں موبائل بھی تھامگر بیٹری چارج نہیں تھی۔ اسکو چارج کرکے میں نے کوشش کی رابطہ کرنے کی مگرناکام رہا۔ صبح مجھے واعظہ کی کال آئی وہ اس نمبر پر رابطے کی کوشش کر رہی تھیں تو ان سے بات ہوئی میری۔
    کیا؟ وہ چلا ئی۔۔
    واعظہ کو پتہ تھا میرا بیگ مل گیا ہے۔۔
    جی وہ۔ وہ اسکے ردعمل پر گڑبڑا گیا۔
    حد ہے۔ اس لڑکی کی تو۔ مجھے بتا تک نہیں۔ وہ کپ سائڈ میں رکھ کر فون بیگ سے نکالنے لگی۔ جھٹ کال ملائی فون اٹھاتے ہی شروع ہوگئ
    واعظہ کی بچی تمہیں پتہ تھا میرا بیگ مل گیا مجھے بتایا تک نہیں۔ میں نے بلا وجہ ایک شریف آدمی پر دائو آزما دیا ناک پھوٹ گئ ابھی بھی سرخ ناک لیئے بیٹھا ہے میرے سامنے۔
    اپنے اس تعارف پر اسے کافی کا گھونٹ بھرتےاچھو سا لگا تھا
    آگے سے واعظہ کہہ رہی تھی۔
    وہ سب چھوڑو یہ بتائو جاب چھوڑی کہ نہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزہ اپنی دھن میں اسٹاپ پر سے خراماں خراماں چلتی ۔ بیگ کندھے پر درست کرتی گھر گھر کر آتے بادلوں اور سرد ہوا کا مزا لیتی اپنے گھر کی جانب جاتی گلی میں مڑی ہی تھی کہ سامنے سے ہوا سے ہلکا ہلکا اڑتا خوب چوڑا گھیر دارسیاہ خیمہ سنسنان گلی میں اپنی جانب بڑھتا دیکھا تو لمحہ بھر کو لگا دل رک ہی گیا ہے۔
    بب بھوت۔
    جان چھوڑتے لڑکھڑاتے قدموں سے اس نے پیچھے کو الٹے قدم اٹھائے۔ خیمے کی رفتار بڑھی اڑتا اڑتا مزید قریب آیا۔
    وہ خوفزدہ ہو کر گر سی گئ
    لاحول ولا قوت۔
    اس کے ورد کا اس مخلوق پر اثر نہ تھا۔
    یہ بھوت نہیں تو کیا خ خلائی مخلوق ۔۔ اس نے آنکھیں مئچ لیں
    یا اللہ مجھ سے ایسی کیا خطا سرزد ہوئی پہلے اغوا ہوئی اب یہ خلائی مخلوق۔۔۔۔۔
    آنکھیں میچنے کے باوجود بھی کسی نے اسکے جسم پر نا دانت گاڑے نا ہی کوئی الیکٹرانک ڈیواس چپکائی تو اس نے ذرا سی آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا
    وہ خیمہ اسے کالی سی کوئی چیز پکڑا رہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے۔۔

  • Desi Kimchi Episode 45

    قسط 45

    وہ اپنے معاہدے کو اچھی طرح پڑھ کر دستخط کر نے ہی لگا تھا جب بھاگتے ہوئے قدموں کی آواز اسکے ڈورم کے دروازے پر آکر رکی تھی۔
    وہ فطری تجسس سے قلم چھوڑتا دروازے کی جانب بڑھا ہی تھا جب دھاڑ سے دروازہ کھلا تھا اور کئی انجان لوگ اندر گھستے چلے آئے۔
    وہ بھونچکا سا کھڑا تھا جب اسے جانور کی طرح گھسیٹ کر ڈورم سے نکالنے لگے۔
    کیا ہوا ہے؟ آخر میرا قصور کیا ہے؟ مجھے بتائو تو سہی۔
    وہ چلا رہا تھا ایک آدمی کا زور دار تھپڑ اسکو تارے دکھا گیا ۔
    کتے کے بچے جس ملک کا کھاتے ہو اسی کی جڑیں کھوکھلی کرتے ہو
    چینی زبان میں کف اڑاتے اس اہلکار کی بات نے اسکا دماغ چکرا دیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکو اندھیرے کمرے میں ہاتھ پائوں کرسی سے باندھ کر بٹھایا گیا تھا۔ نجانے کتنے دن ہو چلے تھے اسے کچھ اندازہ نہیں تھا۔ بس یاد تھا تو اتنا کہ ہمیشہ ہوش اس نے لاتوں مکوں گھونسوں پر تکلیف سے بے حال ہو کر کھوئے تھے۔ مگر آنکھ اسکی جلد ہی کھول دی جاتی تھی کبھی تیز ٹھنڈا پانی منہ پر پھینک کر کبھی گرم پانی اسکےجسم پر گرا کر۔۔
    اسے نہیں یاد تھا کہ اس نے کچھ کھایا تھا یا نہیں۔
    ہاں اسکے ہوش میں آنےپر بس کچھ مخصوص سوال اس سے پوچھے جاتے تھے جنکا جواب اسکے پاس سوائے نفی میں سر ہلانے کے کچھ نا تھا۔ اسکا چہرہ سوجھ چکا تھا اور وہ اب بولنے سے بھی قاصر تھا۔
    تمہارا بھائی کہاں ہے؟
    اسکے ریشمی بال کسی مضبوط استخوانی شکنجے میں جکڑے تھے۔
    اس نے نفی میں سر ہلایا۔
    کس بات پر نفی میں سر ہلا رہے ہو؟
    میں پوچھ رہا ہوں تمہارا بھائی کہاں ہے۔
    اہلکار چلا رہا تھا۔
    اس نے دوبارہ نفی میں سر ہلایا۔ کمزوری کے باعث اسکی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔
    میرا خیال ہے ہمیں اس سے مزید کوئی معلومات نہیں مل سکتی۔
    اسکو آواز سے اندازہ ہوا تھا کہ یہ اسکو مارنے والے کی آواز نہیں تھئ۔
    اسکو بجلی کے جھٹکے دیتا ہوں فر فر بولے گا۔
    وہ چنگھاڑا
    بچہ ہے۔ بمشکل سترہ اٹھارہ سال کا ہے پہلے ہی اتنا مار پیٹ چکے ہو یہ عقوبت خانے میں مر مرا گیا تو ہمیں اوپر جواب دینا پڑے گا۔
    یہ آواز نسبتا نرم تھئ۔ کم از کم اس آواز میں غصہ نہیں تھا۔ یوں بات کر رہا تھا جیسے صبح ناشتے کا مینیو بتا رہا ہو۔ اطمینان سکون سے۔
    بہت پکا ہے۔ یہ بچہ۔ اتنے دن سے سوائے سر نفی میں ہلانے کے ایک لفظ نہیں بولا۔
    یہ آواز اس نے آواز کامنبع جاننے کو آنکھ ذرا سا کھولی۔
    منظر دھندلا سا تھا۔
    ایک شخص اسکے مقابل کرسی ڈالے بیٹھا تھا اسکے گرد چار اہلکار کھڑے تھے۔ کرسی پر بیٹھے شخص کا لباس ان چاروں سے مختلف تھا۔
    اسکی پلکیں بوجھل ہونے لگیں۔
    آنکھیں تک تو کھول نہیں پا رہا ، منہ سوجا ہوا ہے بولے گا خاک۔۔۔ تم لوگ جسم کو اس قابل بھی تو چھوڑا کرو کہ اسکے اعضاء بیچ سکو۔ مجھے تو لگ رہا اسکی ٹانگ بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔
    بولنے والا اسکے بے حد قریب آچکا تھا۔اسکے چہرے کو چھو کر دیکھتے اس انسان کی گرم سانسیں محسوس ہو رہی تھیں اسے اپنے چہرے پر۔
    اس نے اسکے بے جان پڑے پائوں کو ہلکی سی ٹھوکر ماری۔ درد کی لہر اسکے رگ و پے میں دوڑ گئ مگر منہ سے بس ہلکی سی کراہ سی نکل سکی۔
    تو ٹانگیں کونسا کسی کام آتی ہیں۔ ہم نے پسلیاں وغیرہ چھوڑ دیں ہیں، دل گردے پھیپھڑے سب کام کر رہے ہوںگے پانی بھی پلواتے رہے ہیں نکلواتے بھی رہے ہیں۔ ویسے بھی چار دن ہی ہوئے ہیں اسے ابھی مار کھاتے۔
    اس پر الزام کیا تھا ۔ یہ نرم آواز۔۔
    اسکا بھائی دہشت گرد تنظیم کا رکن نکلاہے۔ اسکا اتا پتہ ڈھونڈتے اسکے گھر گئے تھے وہاں بس اسکے ماں باپ تھے۔ ہم نے انکو تو تربیتئ مرکز پہنچا دیا ہے انکی ٹیوننگ ہوچکی ہوگی۔۔ ( طنزیہ قہقہہ) بھائی کا پتہ نہیں چل رہا۔۔
    اپنے والدین کے ذکر پر اسکے جسم نےجھٹکا سا کھایا تھا۔کپکپی جیسا جھٹکا۔ اسکو اپنے ہاتھ پر نرم سا دبائو محسوس ہوا۔
    خیر مجھے اس کے حالات خراب ہی لگ رہے مجھے نہیں لگتا صبح تک زندہ بچے گا یہ۔۔
    نرم آواز والے نے اسکے پاس سے اٹھتے ہوئے بےزارکن سے انداز میں کہا۔
    چلو کوئی اور دکھا دیتے ہیں۔۔
    اس آدمی کا انداز لاپروا سا تھا
    اسکا کیا کروگے؟ نرم آواز والے نے سر سری سے انداز میں پوچھا۔
    مرگیا تو پیچھے جنگل میں جانوروں کی دعوت ہوجائے گی بچ گیاتو کسی اور کے ہاتھوں بیچ دیں گے۔چلو تمہیں آج جو مرغا پکڑا وہ دکھا دیں۔ اسکی ابھی ہڈی پسلی ایک نہیں کی ایکدم جوان چوڑا سا لڑکا ہے۔
    نہیں یہی چاہیئے اگر اسکو واقعی سینے کمر پر تشدد نہیں کیا تم لوگوں نے تو اسکے جوان اعضا کام آئیں گے۔ مجھے چوڑی جسامت سے کیا لینا مجھے اندر سب مشینری فٹ چاہیئے۔
    نرم آواز والے ہنس کر کہا تھا ۔۔
    جسکی زندگی کا فیصلہ ہو رہا تھا وہ نڈھآل ہوش کھو رہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نرم گرم سی دھوپ اسکے چہرے پر پڑی تھی جب اس نے دھیرے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں۔ سفید دیواریں سفید بستر سفید ملبوس میں اسکے بیڈ کے بالکل سامنے والی کھڑکی کے پردے ہٹاتی نرس۔ اس نے اپنا ذرا سا ہاتھ اٹھایا تبھی پردے ہٹا کر مڑتی نرس کی نگاہ اس پر پڑی تو خوش دلی سے احوال پوچھنےلگئ۔
    نی ہائو۔۔ اب کیسی طبیعت ہے؟ شستہ چینی امریکی لہجے میں بولنے والی وہ سنہری رنگت والی نرس یقینا چینی نہیں تھی۔
    نرس آگے بڑھ کر اسکی کلائی چھوکر نبض دیکھنے لگی۔
    میں۔ اس نے بولنا چاہا مگر جبڑے سے سے اٹھتی درد کی لہر اسکو بولنے سے باز کرگئ
    آپ بولیئے مت۔۔۔ آپکے چہرے پر ٹانکے ہیں۔۔آپ اس وقت اسپتال میں ہیں تھوڑے سے زخمی ہیں مگر جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔میں آپکے گھر والوں کو خبر کرتی ہوں۔ مطمئن رہیے۔
    نرس اسے تسلی دینے والے انداز میں کہتی عجلت میں باہر نکل گئ۔
    کیا تھا سب جو اس پر بیتا کوئی خواب؟ یقینا ابھی ماں باپ دوڑے آئیں گے اسکے پاس۔ مگر وہ اسپتال میں کیوں ہے اور یہ درد کی ٹیسیں۔۔
    وہ خود کو ہلا بھی نہیں پا رہا تھا اس نے کوشش کرکے اٹھنا چاہا تو معلوم ہوا اسکی دونوں ٹانگوں پر پلستر ہے۔ جبھی وہ یوں چت پڑا تھا
    ۔یہ خواب ہے ابھی میری آنکھ کھلے گی تو منظر بدل چکا ہوگا۔۔ اس نے خود کو یقین دلاتے آنکھیں موندیں۔۔تبھی دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے دوبارہ آنکھیں کھول دیں۔ کوئی تیزی سے بولتا ہوا اسکے قریب چلا آیا۔ انداز میں بے تابی مگر آواز یکسر اجنبی تھی۔ اس نے پوری آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا۔ وہ ایک چالیس پینتالیس سال کا چست سا لمبا چوڑا مرد تھا شکل پر پریشانی۔۔ مگر۔۔
    کیسے ہو ژیہانگ۔۔۔ شکر ہے تم ہوش میں آگئے کتنا پریشان کیا ہے تم نے اپنے باپ کو۔ پورے پانچ دن بعد ہوش میں آئے ہو۔ کون سے خبیث لڑکے تھے جو تمہیں پہاڑ سے گرتا دیکھ کر بھاگ گئے بجائے تمہاری مدد کرنے کے سچ بتائو کسی نے دھکا تو نہیں دیا تھا۔۔ میرے بیٹے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم لی۔
    اس کی لگاتار باتوں کو سن کر سمجھنے کی کوشش کرتا ذکریہ چونکا۔۔
    یہ اسکے پاپا نہیں۔ کیا وہ اپنے پاپا کو نہیں پہچان رہا یاد داشت کھوچکا ہے؟ اس نے الجھن بھرے انداز میں دیکھا
    پرشفقت انداز لیئے وہ جو کوئی بھی تھے جہاں تک اسے یاد تھا اسکے پاپا نہیں تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہنگن دریا پر نگاہ جمائے وہ اسکے برابر بنچ پر بیٹھا اپنی بپتا سنا رہا تھا۔
    تائی ژی ہانگ میرا نام مجھے میرے مسیحا نے دیا۔۔۔ تائی ژوژائو ایک امریکی سماجی ادارے سے منسلک تھے جو چین میں دہشت گرد قرار دیئے جانے مسلمانوں اور انکو تربیتی مراکز میں جبری مشقت کروانے کے بارے میں امریکی نشریاتی ادارے کیلئے خفیہ رپورٹ بنا رہے تھے جب ایک دن انکو میرا چچا ذاد بھائی علیم ملا۔ مجھے ڈھونڈنے اور بچانے کئ درخواست کرتا وہ نوجوان اتنا باخبر تھا کہ میں کہاں کس سیل میں ہوں یہ تک اس نے انہیں بتایا تھا۔
    انسانئ اعضاء کا اسمگلر بن کر وہ گئے تو بس مزید پیسے کمانے کی نیت سے تھے مگر وہاں میری حالت دیکھ کر انسانی ہمدردی کے ناطے وہ مجھے وہاں سے خرید کر بچا کرلے آئے۔۔۔۔
    میں کچھ عرصہ تائیوان رہا وہاں سے امریکہ گیا ژوژائو کا بیٹا میری نئی شناخت تھی۔۔۔ میں وہاں ایک پاپ گروپ کا حصہ بنا میری نئی زندگی شروع ہو چکی تھی۔ میں گلو کاری کر رہا تھا ایکسو نا سہی اسٹار شائن کا حصہ بن چکا تھا۔۔ تب لارا مجھے امریکہ میں ملی۔
    اسکی آواز معدوم سی ہوئی۔ الف نے چونک کر سر اٹھایا۔ دور جلتی روشنیوں کا عکس اسکے چہرے کے تآثرات کو ڈھانپ رہا تھا۔وہ کسی معمول کی طرح سب بتاتا جا رہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج کو سیونگ رو عمارت کے باہر ہی چھوڑ کر گیا تھا۔
    اسکی گاڑی سے اترتے اس نے بغور سیونگ رو کو دیکھ کر اسکے مزاج کا اندازہ لگانا چاہا مگر وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ ونڈ اسکرین پر نگاہ جمائے تھا۔ اسکے دروازہ بند کرنے پر احتیاط سے گاڑی آگے بڑھا گیا۔ وہ اسکے چہرے سے کوئی اندازہ نہ لگا پائی تو کندھے اچکا کر پلٹی۔
    لابئ سے گزر کر لفٹ کی۔جانب بڑھتے یونہی طائرانہ نگاہ اس نے ڈالی تو الف کو صوفے پر دھنسا بیٹھا پایا۔
    ارے الف۔؟ وہ لفٹ تک جاتے جاتے مڑ آئی۔
    تم یہاں کیوں بیٹھی ہو۔ اس نے خاصی حیرت سے پوچھا
    اپنے دھیان میں شولڈر بیگ کو گود میں رکھے اس پر تھوڑی ٹکائے گہری سوچ میں گم الف چونک سی گئ۔
    آں ۔ وہ بس تھک گئ تھئ۔ اس نے سرعت سے سیدھے ہوتے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
    تم رو رہی ہو؟ ۔۔۔ عروج اسکے بھیگے گال اور آنکھیں دیکھ کر چونکی۔۔
    کیا ہوا؟ کسی نے کچھ کہا؟ یونیورسٹی میں؟ ریڈیو میں کوئی بات ہوئی؟؟
    عروج کے پے در پے سوال پر وہ خود کو سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ارے کچھ نہیں تھک گئ تھی سر میں درد بھی بہت تھا سو اوپر فورا جانے کی ہمت نہ ہوئی بس اسی لیئے۔ وہ دانستہ بشاش سے انداز میں کہنے لگی۔
    چلو چلیں۔ وہ عروج سے بھی پہلے لفٹ کی طرف تیز قدموں سے چل دی۔
    لفٹ میں جانے کی ہمت نہ ہوئی؟
    عروج سوچ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہائے میں مر گئ۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے انجان دیس میں کیسے روکوں کیسے ٹوکوں۔؟؟؟ میرا تو بھائی بھی چھوٹا ہے۔ ابھی پچھلے سال تک تو پیپر میں سپلی آنے پردلاور کے ہاتھوں تھپڑ کھا چکا ہے وہ تو انکے آگے چوں بھی نہیں کر سکتا۔۔۔ میرا تو کوئی جیٹھ بھی نہیں ہے۔ ہائے امی جی۔۔۔۔
    گھرکا داخلی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی الف اور عروج نے یہ بین سن کر ایک دوسرے کی پہلے تو شکل دیکھی پھر تجسس کے مارے دوڑ ہی لگا دی۔ منے لائونج تک کا فاصلہ ہی کتناتھا فورا رکنا بھی پڑا۔اندر کا منظر خوب روشن تھا۔ منے لائونج میں خوب رونق لگی تھی۔
    فاطمہ منے صوفے پر صارم کو گود میں لیئے بیٹھی اسکے منہ میں فیڈر ٹھونسے ایک ہاتھ سے اپنا پائوں سہلاتی خفا خفا نگاہوں سے ان سب کو گھور رہی تھی۔
    اسکے برابرمیں طوبی بیٹھی دوپٹے سے ناک رگڑ رگڑ کر چہکوں پہکوں رو رہی تھی۔ واعظہ اسکے لیئے پانی کا گلاس بھر کر لائی تھی مگر اسے فرصت نہیں مل رہی تھی پینے کی۔طوبی آہ بھر بھر کر بین بھی کر رہی تھی۔
    ہائے امئ۔۔۔۔ مجھے اکیلا کوریا بھیج دیا یہاں تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں مجھے۔۔
    اسکے لمحہ بھر کی بریک لگانے پر واعظہ نے جھٹ پانی کا گلاس بڑھایا تو اس نے بھی غٹا غٹ چڑھا لیا
    زینت گڑیا کو عزہ ایک جانب لیئے بیٹھی تھی۔دونوں بچیاں خوب دلچسپی سے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنائے اس پر چہرہ ٹکائے ماں کو۔دیکھ رہی تھیں۔
    عشنا منہ کھولے منے قالین پر آلتی پالتی مارے بیٹھی طوبی کے بین سن رہی تھی۔
    طوبی جی بچیاں پریشان ہو رہی ہیں۔۔ آپ رونا تو بند کریں۔عزہ نے کہا تو وہ خم ٹھونک کر میدان میں دوبارہ اتری آخر ابھی تو پانی کی کمک پہنچی تھی۔ عروج اور الف کے سوالیہ چہرے
    ہوا کیا ہے طوبی ؟ دلاو ربھائی تو ٹھیک ہیں؟
    الف نے پوچھا تو وہ سیدھی ہو کر انکی۔جانب مڑی۔ان سے ہی مخاطب ہوئی
    دلاور ہی تو ٹھیک نہیں ۔۔میرا ماتھا اسی دن ٹھنکا تھا جس دن انکو بار میں دیکھا تھا۔ ارے یہ سیول کے بار کوئی ایسے ویسے تھوڑی ہوتے لڑکیاں ہی لڑکیاں شراب ہی شراب۔
    مگر طوبی پی تو آپ۔ آآااا۔
    الف نے کلمہ حق بلند کرنا چاہا تو عزہ نے بیٹھے بیٹھے ہی ٹانگ لمبی کرکے زور دار ٹھوکر ماری اسکی پنڈلی پر۔
    الف نے ایک ٹانگ پر اچھلتے تڑپ کر اسے گھورنا چاہا جواباگھوری کے ساتھ اسکے کچکچاتے دانت بھی دیکھنے پڑ گئے۔ وہ ان بچیوں کی جانب اشارہ کر رہی۔تھی یقینا یہ بات انکے سامنے کرنے کی نہیں تھی وہ وہیں دھپ سے بیٹھ گئ۔
    ہاں اور پتہ ہے سیول کے نائٹ کلبوں میں تو۔۔
    عشنا جانے کیا بتانے لگی تھی۔ باقی سب تو باقی طوبی بھی چپ ہو کر دیکھنے لگی اسکی شکل تو گڑ بڑا سی گئ۔
    آپ بات پوری کریں طوبی کوئی اتنی اہم بات بھی نہیں
    اس دن میرااتنا خیال رکھا میرے لیئےکھانا پکانے کھڑے ہوگئے،اب نا پہلے کی طرح دفتر سےواپسی پر منہ بنا ہوتا ہے نا بات بے بات غصہ کرتے ہیں۔اور تو اور شام کو چائے بنانے خود کھڑے ہو گئے۔۔ میں الماری ٹھیک کر رہی تھی تو صارم رو اٹھا اسے نا صرف اٹھا کر بہلاتے رہے بلکہ فیڈر بنا رکھا تھا کچن میں خود جا کر اٹھایا اور پلانے بھی لگے۔ ۔۔
    طوبی پر بولتے بولتے پھر رقت طاری ہونے لگی۔
    تو ؟ طوبی جی یہ تو اچھی بات ہے کہ وہ سدھر۔عروج سیدھا سیدھا بولنے لگی تھئ کہ بروقت بریک لگا کر جملہ بدلا۔۔ میرا مطلب ہے انکو تو ایسا ہی ہونا چاہیئے نا ہاتھ بٹانے والا۔
    پہلے یہ سب نہیں کرتے تھے دلاور بھائی؟
    واعظہ سنجیدگی سے یوں پوچھ رہی تھی کہ اگر طوبی ہاں کہے تو فورا کان سے پکڑ لے جا کر دلاور کو۔
    دلاور بھائی تو اچھے ہیں نا پھر۔ عشنا نے نتیجہ نکالا۔۔ پاکستانی مرد کہاں کرتے اتنا کام۔۔
    تمہیں کیسے پتہ پاکستانی مردوں کا۔؟ فاطمہ جلبلائی۔ واعظہ نے بھی جانچتی نگاہوں سے دیکھا تو وہ کھسیا سی گئ۔
    وہی تو۔ طوبی جوش سے سیدھی ہو بیٹھی۔
    پاکستانی مرد کہاں ہوتے بیویوں کا اتنا سوچنے خیال رکھنے والے؟ اگر بیٹھے بٹھائے آپکا شوہر آپکا حال احوال پوچھنے لگے؟ گھر کے کاموں میں مدد کرنے لگے بچوں کو وقت دینے لگے آپکی جا بے جا تعریف کرنے لگے تو اسکا کیا مطلب بنتا ہے؟
    طوبی فہد مصطفی کی طرح اپنی آئیڈینز سے مخاطب تھی۔
    یہی کہ وہ سدھر گیاہے؟ الف نے اندازہ لگایا۔
    بیوی کی کمیٹی نکلنے والی ہے جس پر اسکی نظر ہے ؟۔
    یہ فاطمہ تھی۔
    میرا خیال ہے اسکو کوئی لاعلاج بیماری لگ گئ ہے اور وہ اپنا آخری وقت سکون سے گزارنا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر عروج اور کیا کہہ سکتی تھیں
    ہو سکتا ہے بیوی کولا علاج بیماری ہوگئ ہو اور وہ آخری وقت میں۔۔۔ عشنا نے بتاتے بتاتے سب کے ردعمل کو دیکھتے پھر جملہ ادھورا چھوڑا۔
    طوبی نے رخ عزہ کی جانب موڑا
    ہو۔سکتا ہے اس نے بیوی کی باتیں سن لی ہوں اور اب اپنی کی گئ زیادتیوں کا مداوا کرنا چاہ رہا ہو۔ عزہ نے طوبی کو دیکھتے تھوڑا سا ڈر تے ڈرتے کہا۔ اسے واقعی یہی لگ رہا تھا۔
    طوبی نے واعظہ کی جانب گردن موڑی۔ اسکی دیکھا دیکھی سب واعظہ کو دیکھنے لگ گئیں۔ واعظہ سب کو گھورتا پا کر گڑبڑا سی گئ
    مجھے کیا پتہ میں کسی کا شوہر تھوڑی ہوں۔
    اسکا جواب اتنا مایوس کن تھا کہ طوبی نے سر جھکا لیا ہونٹ لٹکا لیئے
    اس دن میرے ساتھ بازار گئے بنا ماتھے پر بل ڈالے جلدی جلدی کا شور مچائے بچہ اٹھا کر بھی مجھے پورا سودا سلف بھائو تائو کرکے دلارہے تھے تو کورین آہجومہ بھی متاثر ہو کر بولیں۔۔ ۔۔۔طوبی کے کندھے کے اوپر فلیش بیک نمودار ہوا۔ سب قسط نمبر 43 کے اس منظر کو دوبارہ دیکھنے لگیں۔۔
    شوہر ہے تمہارا۔
    آہجومہ اسکی قمیض کا دامن پکڑ کر متوجہ کرنے لگیں۔۔
    جی؟ اسکی سمجھ میں خاک پتھر نہ آیا
    شوہر۔ کبھی ناک پر انگلی رکھتیں کبھئ اسکے بچے کی جانب اشارہ کرتیں جب اپنے پیٹ پر خوب ہاتھ پھیر کر بڑھنے کا اشارہ کیا تو طوبی سٹپٹا کر اثبات میں سر ہلا گئ۔
    بہت اچھا شوہر ہے تمہارا۔ بہت خیال رکھنے والا۔
    خوش رہو۔
    خوش ہو کرا نہوں نے ہمکتے ہوئے صائم کو کھیرا تھما دیا۔
    سمجھ تو نہیں آرہا آپ کیا کہہ رہی ہیں مگر اچھا ہی کہہ رہی ہوں گی
    اس نے کہتے ہوئے زرا سا سر جھکایا سلام لینے کو۔آگے سے آہجومہ اس سے بھی زیادہ دو دو فٹ آگے جھک گئیں۔
    اس کو ہنسی ہی آگئ۔ انکے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر دیا
    چلیں آج آپ کیلئے میری دعائیں سہی۔۔۔۔
    وہ ہنس دی۔۔۔۔ پھر ذرا سا سنجیدہ سی ہو کر جھکی
    مگر آہجومہ یہ اتنے اچھے بنے ہوئے ہیں نا اس سے خوف آرہا مجھے۔ خیال تو قربانی کے جانورکا بھی بہت رکھا جاتا ہے مگر اسے اتنا ٹھنسانے پر نیت یہ ہوتی کہ جب حلال ہوگا تو گوشت ذیادہ اترے گا۔۔۔۔۔
    آہجومہ مسکرا کر سر ہلانے لگیں۔۔
    فلیش بیک ختم ہوا مگر طوبی کا سر یونہی جھکا رہا
    کیا مطلب ہوا اس بات کا؟ دلاور بھائی قصائی کا کام کرنے لگے ہیں؟
    عشنا حیران ہو کر بولی۔
    ہیں۔مگر کیوں؟ الف پریشان ہوئئ۔۔
    اوہ تو دلاور بھائئ کی نوکری۔ختم ہوگئ۔ عروج کو اب معاملہ سمجھ آیا تھا۔۔ گہری سانس لیکر تسلی دینے والے انداز میں بولی
    آپ پریشان نا ہوں طوبی ہم ہیں نا آپکے ساتھ۔۔ سب ٹھیک ہو۔جائے گا۔
    اور۔کیا۔ انجینئر ہیں کوالیفائڈ ہیں جلد دوسری جگہ لگ جائے گی نوکری پریشان نہ ہوں آپ۔
    فاطمہ نے کندھا تھپتھپایا۔
    شکر کریں دلاور بھائی چڑ چڑے نہیں ہو گئے۔ہمارے ایک کزن کی دکان میں آگ لگ گئ تھی سب جل گیا تھا تودو تین مہینے انکو گھر بیٹھنا پڑ گیا تھا۔قسم سے اتنا انہوں نے بھابی سے جھگڑا کیا لڑے کہ وہ میکے چلی گئی تھیں غصے میں۔
    عزہ رقت آمیز انداز میں تسلی دے رہی تھی۔
    واعظہ نے لمحہ بھر سوچا۔ پھر کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    آپکو کرائے کا مسلئہ ہے نا ہم سب مل ملا کر انتظام کر دیں گے۔
    طوبی نے سر اٹھا کر دیکھا۔ فاطمہ، الف عشنا ، عروج ، عزہ اور واعظہ سب کی سب فکر مند تھیں اسکو تسلی دے رہی تھیں بیٹھے بٹھائے چھے بہنیں جو جان نثار کرنے کو تیار تھیں مل گئ تھیں۔وہ اکیلی کہاں تھی طوبی نے متشکرانہ نگاہوں سے دیکھنا چاہا مگر ناکام رہی۔ ایک فرق تھا ان سب میں اور خود اس میں۔وہ تھا شادی۔ ان سب کی سوچ کی اڑان اونچی ہو۔کر بھی اسکی پریشانی نہ بھانپ سکی۔
    اس نے منہ بنایا۔
    تم میں سے کوئی میرا مسلئہ سمجھ نہیں سکا سمجھو گی بھی کیسے تم میں سے کسی کی شادی جو نہیں ہوئی۔
    طوبی کی بات پر وہ سب جز بز ہوئیں۔۔
    مرد اچانک سے مہربان ہو جائے بیوی پر اسکے آگے پیچھے پھرنے لگےاسکا خیال کرنے لگے اسکا ہاتھ بٹانے لگے بے جا لگائو جتائے تو اسکا مطلب ہوتا ہے۔۔
    طوبی نے ڈرامائی وقفہ لیا۔ سب نے سانسیں روک لیں۔ سب کو ہمہ تن گوش دیکھ کر طوبی کو خود پر اپنے تجربے کارانہ انداز پر مزید ناز ہوا۔۔ مزید تجسس پھیلا کر اعلان کرنے والے انداز میں بولی
    اسکا مطلب ہوتا ہے۔۔ وہ دوسری شادی کرنے لگا ہے۔۔۔۔۔۔
    وہ سب دم بخود ٹکر ٹکر طوبی کی شکل دیکھنے لگیں۔
    دکھ افسوس پریشانئ۔۔ کیا کیا نا تھا ان پانچوں کےچہرے پر۔۔
    مجھ سے ذیادہ تو انکو صدمہ لگا ہے۔
    طوبی حیران ہی رہ گئ انکے تاثرات دیکھ کر۔۔ پانچ وہ۔چونکی
    صرف پانچ پریشان چہرے چھٹی ۔۔۔ وہ عشنا کی۔جانب مڑی۔جو سر۔کھجاتے ہوئے معصومیت سے پوچھ رہی تھی۔۔
    پھر وہ قصائی والی کیا بات تھی۔۔؟؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اف میرا سر دکھ گیا۔ آج بہت تھکا دینے والالمبا دن تھا میرے لیئے۔
    باتھ روم سے فریش ہو کر۔نکلتی عروج تولیہ سے بال سکھاتے بڑبڑائی۔۔۔
    مجھ سے ذیادہ نہیں۔ پہلےیونی پھر بے بی سٹنگ اور اب طوبی ۔۔ اتنا بہلا پھسلا کر ہم نے طوبی کو گھر تو بھیج دیا مگر یقین کرو اگر طوبی کا میکہ کوریا میں ہوتا نا تو خود انکو میکے چھوڑ کر آتی۔ ایسے میاں کے ساتھ ایک پل نہ رہنے دیتی۔ مجھے تو لگا تھا اس دن کے بعد سدھر گئے ہوں گے دلاور بھائی۔
    عزہ نے جوش سے کہا۔۔ تو عروج رک کر اسے دیکھنے لگی
    احمق ایسے موقعے پر جوش سے نہیں ہوش سے کام لیا جاتا ہے۔ ابھی لڑ بھڑ کر طوبی کو صرف نقصان پہنچے گا۔ شوہر پہلے ہی دامن چھڑا رہا لڑنے سے تو اسے موقع مل جانا الٹا۔۔
    عروج نے کہا تو وہ قائل ہونے والے انداز میں سر ہلانے لگی۔
    تمہیں کیا لگتا الف دلاور بھائی واقعی دوسری شادی کرنے لگے ہیں؟۔
    اس نے مڑ کر الف سے پوچھا وہ اپنے بیڈ پر آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی تھی ۔ بازو ہٹا کر اسے دیکھنے لگی۔۔
    کیا ؟۔۔۔
    ہیں تم سو رہی تھیں۔ سوری۔یار۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا۔
    سرخ آنکھیں ستا ہوا چہرہ عزہ کو کچی نیند سے اٹھانے پر۔شرمندگی ہونے لگی۔
    تم واقعی سو گئ تھیں۔ عروج نے جانچتی نگاہوں سے دیکھا۔ کچھ ایسی ہی شکل اسکی گھر واپسی پر بھی بنی تھی۔ جیسے سو رہی ہویا رو رہی ہو۔
    دلاور بھائی کی بات کر رہی ہو۔ الف نے عروج کو دیکھتا دیکھ کر عزہ کی جانب کروٹ لے لی پھر بولی۔
    کوریا میں دوسری شادی کرنا آسان نہیں۔۔ اور ضرورت بھی کیا ہے۔۔۔۔ جب شادی کا۔جھنجھٹ کیئے بنا بھی ہزار مواقع ہیں یہاں۔ ویسے دلاور بھائئ مجھے ایسے لگتے نہیں۔ بس طوبی زرا سمجھداری سے کام لے ان سے جھگڑے نا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طوبئ کیوں جھگڑ رہی ہو خوامخواہ میں۔
    دلاور بے چارگی سے صارم کو گود میں اٹھائے منت بھرے انداز میں کہہ رہے تھے ۔۔ صارم نے الگ چیخ و پکار مچا رکھی تھی۔۔ طوبی بیڈ کے بیچوں بیچ آلتی پالتی مارے بیٹھی دوپٹے سے چہرہ۔ڈھانکے روئے جا رہی تھی۔
    جھگڑوں گئ خوب جھگڑوں گی چیخوں گی چلائوں گی میرا گھر اجڑ رہا ہے۔ ہائے میں اف بھی نہ کروں۔
    کیسے ؟ صارم کو چپ کراتے وہ زچ ہو رہے تھے۔
    مجھے کیا پتہ۔۔ ایک تو یہاں چمڑی بھی سب کی چٹی ہے۔کھلتے رنگ والیاں بھی کالی لگنے لگتیں۔مگر دلاور کون جانے اصلی صورت کیا ہے انکی۔ اتنے اتنے آپریشن کراتی ہیں آنکھ ناک ہونٹ سب مصنوعی ہے۔ جب چہرے میں دھنسا سلیکون باہر آئے گا نا تو احساس ہوگا بیوی کے گال موٹے سہی مگر اندر کچرا نہیں بھرا ہوا۔ ہاں۔
    بولتے بولتے جزباتی ہو کر دوپٹے والا ہاتھ ہی نچا دیا نتیجتا اتنی دیر سے نقاب ہوا چہرہ کھل کر سامنے آگیا۔
    بیوی کے گال موٹے تو اتنے نا تھے مگر بالکل خشک تھے۔ دلاو رکا منہ کھلا رہ گیا۔
    تم رو نہیں رہی تھیں۔۔ میں سمجھ رہاتھا ۔۔۔۔۔
    ہاں تو کتنا روئوں شام سے رو رہی ہوں خشک ہوگئے آنسو۔
    طوبی نے سٹپٹا کر آنکھیں رگڑیں پھر خود بگڑ کر بولی۔
    اور فائدہ کیا رونے کا کونسا مجھے چپ کرانے کی کوشش بھی کی۔ الٹا جھگڑے جا رہے ہیں۔
    اسے انکی بے حسی پر سچ مچ رونا آگیا۔
    بیوی بچہ اکٹھے رو رہے ہوں تو شوہر کیا کرے۔ اسکا تو پتہ ہمیں جھگڑتے دیکھ کر رو پڑا تم کیوں رو رہی ہو۔
    دلاور بے چارگی سے بولے تو طوبی جل ہی تو گئ
    دل کر رہا آج موسم اچھا ہو رہا ہے نا تو سوچا رو کر انجوائے کروں۔۔۔۔
    سچ مچ آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں جن سے دانستہ نظر چراتے انہوں نے بیٹے کو اسکی گود میں ڈال دیا۔
    خیر اچھی بات ہے اب اسے چپ کرائو یہ سچ مچ رو رہا ہے۔۔۔۔
    بچے تک کو سنبھالنے کو تیارنہیں۔ شوق مزید ایک دو کرنے کا ہو رہا۔۔
    اسکا اشارہ شادی کی طرف تھا۔
    بڑ بڑاتے ہوئے طوبی نے آنکھیں رگڑیں۔ اور زور زور سھ صارم کو تھپکنے لگی۔
    اوہ۔
    دلاور نے بیوی پر گہری نگاہ ڈالی۔ وہ فورا سمجھ گئے۔۔ وہ بھی بالکل الٹ غلط۔۔
    تو یہ بات ہے۔۔۔۔ ابھی صارم چھوٹا ہے اتنی جلدی پر گھبرا گئ ہے لگتا ہے۔ غیر متوقع سہی مگر خوشی ہے۔ مجھے طوبی کا مزید خیال رکھنا چاہیئے۔
    وہ یہی سب سوچتے ہوئے اپنی جگہ بستر پر آن لیٹے۔
    بچے کو۔تھپکتی طوبی کا دل جل گیا۔
    ہاں ہاں بیوی ہے نا نوکرانی سنبھال لے گی بچے۔۔ مردوں کو کیسا اطمینان ہوتا ہے نا۔۔ آرام سے ادھر ادھر منہ مارتے پھرتے۔ اور بیوی۔۔
    اس نے گود میں اونگھتے بچے کو غور سے دیکھا پھر جھک کر پیشانی چوم لی۔۔
    ماں بن کر سوچتی ہے تو سب برداشت کر جاتی ہے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 44

    قسط 44
    عزہ نے اوپر گیلری سے جھانک کر عمارت کے احاطے کا جائزہ لیا دور دور تک طوبی اور دلاور کے آثار نہیں تھے۔ عروج اور الف کا بھی دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ لے دے کہ وہ اکیلی اتنا بڑا فلیٹ اور دو بچیاں ایک نو عمر لڑکا۔
    اس نے گہری سانس بھر گیلری کا دروازہ بند کیا۔ اور منے لائونج میں قالین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
    تیجون صوفے سے ٹیک لگائے قالین پر بیٹھا تھا۔ گڑیا اور زینت اسکے دائیں بائیں بیٹھی تھیں۔ اسکے موبائل میں ڈوریمون لگا ہوا تھا ۔مزے کی بات وہ خود بھی انکے ساتھ بیٹھا مزے سے کارٹون دیکھ رہا تھا۔
    عزہ نے جائزہ لیتی نگاہوں سے دیکھا اسے۔
    وہ اس وقت عام سے جینز شرٹ میں ملبوس تھا۔ ہے جن کے جتنا ہی ہوگا بس۔ کیا پتہ ۔۔ اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ چونک کر سیدھی ہو بیٹھی۔
    کونسے اسکول میں پڑھتے ہو تم؟
    دے۔ اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
    میں پوچھ رہی ہوں کونسے اسکول میں پڑھتے ہو؟
    عزہ کے انداز میں رعب تھا۔ وہ آبھی گیا رعب میں۔گڑبڑا کر بتایا
    جی وہ کنگ ہیونگ جونگ ہائی اسکول میں۔
    یہاں گرد و نواح میں کتنے ہائی اسکول ہیں جو کنگ نام سے شروع ہوتے ہیں۔
    عزہ کی سنجیدگی عروج پر تھی۔
    بہت سے ہیں کیوں۔؟
    وہ حیران ہوا۔ مگر عزہ یونہی سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی رہی تو جواب بدل لیا۔
    وہ اس علاقے میں پیدل کی مسافت پر تین ہائی اسکول ہیں سرکاری۔ ان میں کنگ ہیونگ جونگ ہی ہے بس ایک باقیوں کے نام
    وہ نام بتانے لگا تو عزہ نے مایوسی سے سر ہلا دیا۔
    وہ تو بس میں جاتا تھا جانے کتنی دور اسکول ہوگا اسکا۔۔ وہ اردو میں بڑ بڑائی۔ تیجون حیرت سے اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    تم چائے پیئوگے؟
    وہ بیزاری سے قالین پر سے اٹھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
    دے۔ وہ بوکھلا سا رہا تھا۔ آندے۔
    عزہ نے گھور کر دیکھا تو وہ گڑ بڑا کر اٹھا
    مجھے آپ اغوا کار نہیں لگتیں نہ ہی انکے والدین کے فلیٹ کےبالکل مقابل رہتے ہوئے آپ کوئی ان بچوں کیلئے اجنبی غیر ہوں گی۔ مجھے آپ پر پورا بھروسہ ہے۔ میں انکو آپ پر چھوڑ کر چلتا ہوں۔ خدا حافظ۔
    وہ تیز تیز بولتا جھک جھک کر سلام کرتا اتنی تیزی سے باہر لپکا۔ کہ عزہ کو اپنی شرافت پر شک ہونے لگا۔
    میرا ارادہ اسکو ہراساں کرنے کا تو نہیں تھا۔ پھر کندھے اچکا کر باورچی خانے کی۔جانب بڑھ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام سان ٹاور پر گرل سے بازو ٹکائے سیونگ رو نے سنجیدگی سے برابر کھڑی دلچسپی سے سیول کی بتیاں دیکھنے میں مگن عروج سے پوچھا ۔
    تم نے مجھے بتایا نہیں کہ تمہیں ڈاکٹر عبدالقادر نے پروپوز کیا ہے۔ ؟؟؟
    ابھی کل ہی تو کیا ہے میں نے تو جواب بھی نہیں دیا انہیں ۔۔۔۔وہ لاپروائی سے بولی پھر چونک گئ تیوری چڑھا کر سوال کیا
    تمہیں کیسے پتہ لگا؟
    خود ہی اندازہ لگالیا۔
    یعنی یہ ڈاکٹر قادر اتنے چیپ ہیں سب کو بتاتے پھر رہے حد ہوگئ۔ انکی تو۔
    وہ جیسے آستین چڑھا کر شروع ہی ہونے لگی تھی۔
    ریلیکس۔ سیونگ رو نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا۔۔
    انہوں نے کچھ نہیں کہا دراصل رات جب وہ تمہارے پاس آئے تھے بات کرنے تب میں کسی کام سے آیا تو اتفاق سے سن لیا۔
    اس نے نگاہ چرائی۔۔
    وہ کسی کام سے نہیں آیا تھا بلکہ ڈاکٹر کو عروج کے کائونٹر کی۔جانب بڑھتے دیکھ کر دانستہ پیچھے آیا تھا اور ان سے ایک کائونٹر پیچھے کیبن کی دیوار سے ٹک کر کان لگاکر سنی تھیں انکی باتیں۔
    سچ کہہ رہے ہو؟ وہ مشکوک ہوئی۔
    ہاں بھئ مگر سن بینم ( سینئر) نے ہی کچھ کہا ہے تو کیا انکار کردوگئ انکو شادی سے؟ اتنی سی بات پر۔
    سیونگ رو نے چھیڑا
    انکار تو میں کرنے ہی والی ہوں مگر اگر اس قسم کی باتیں وہ پھیلاتے پھر رہے تو چار باتیں بھی سنائوں گی۔ اب بتائو انہوں نے کوئی شیخی بگھاری ہےنا؟
    اسکا انداز ایسا تھا کہ اگر وہ ہاں کہہ دے تو ابھی جا کے انکے بال نوچنے پہنچ جائے تو ستم ظریفی سے کم ہی رہ گئے تھے سر پر۔
    سیونگ رو ہنس دیا۔ ایک بوجھ سا سرکا تھا دل سے
    نہیں انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ بائی دا وے تم انکو انکار کیوں کرنے لگی ہو ؟ مسلمان ہیں ویل سیٹلڈ ہیں۔
    مسلمان ہیں ویل سیٹلڈ ہیں تو کیا ہوا اتنے بڑے ہیں مجھ سے۔ اور مجھے بالکل پسند نہیں۔ اب سیول میں رہ کر بھی مجھے پاکستانی شکل کے مرد سے شادی کرنی تو پاکستانئ ہی ٹھیک کم از کم بات تو سمجھ آئے گی نا۔
    اسکو فاطمہ کی۔بات یاد آئی تو کہتی ہنستی چلی گئ۔ سیونگ رو بھی اسکے ساتھ ہنس دیا۔۔۔
    صحیح بات ہے۔ سیول میں کم از کم چندی شکل ہی پسند کرنی چاہیئے۔
    سیونگ رو نے معنی خیز انداز میں کہا تھا مگر اس نے دھیان ہی نہیں دیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے نظر اٹھا کر کیفے کا نام پڑھا پھر اچنبھے سے ژیہانگ کی شکل دیکھی۔ وہ ہنس دیا
    کیا ہوا نہیں پسند بلیاں تمہیں؟
    نہیں بلیاں تو پسند ہیں مگر بلیوں کا کیفے؟ یہاں کیا بلیاں پکائی کھائی جاتی ہیں؟ صاف بتا دوں تم شائد یونہی بنے ہوئے ہو مگر پکی مسلمان ہوں میں بلی تو کیا حلال نہ ہوئی ہو تو مرغئ بھی نہیں کھاتی۔
    اسکا انداز فخریہ اور جتانے والا ہو چلا تھا۔ ژیہانگ کی مسکراہٹ غائب سی ہوگئ۔
    نہیں یہ کھانے پینے کی جگہ نہیں ہے۔۔۔
    وہ اسکی رہنمائی کیلئے خود ایک قدم آگے بڑھ کر اند رداخل ہو گیا تو اسے بھی تقلید کرنی پڑی۔
    اندر کا ماحول اسکی توقع سے بالکل برعکس تھا۔ پرتعیش لائونج تھا جس میں کئی جوڑے ایک ایک کونہ سنبھالے بلیاں گود میں لیئے خوش گپیوں میں مگن تھے۔ ایک جانب کئی منزلہ کیبنز سے بنے تھے جہاں بھانت بھانت کی بلیاں بنا جالی کے پنجروں میں بیٹھی سکون کر رہی تھیں۔ بلیوں کے شوقین ان بلیوں کے پاس جا کر بہلا پھسلا کر من پسند بلی کو گود میں لیکر بیٹھ جاتے انکو کھانا کھلاتے کوئی بلی شکر گزار ہوتی تو کوئی نخرا کرتی منہ پھیر کر آگے بڑھ جاتی۔ کچھ اتنی مانوس تھیں کے آرام سے اپنی پسند کے انسانوں کے پاس بیٹھ کر ان سے خود پر ہاتھ پھروائے جارہی تھیں۔ وہ بے حد دلچسپی سے کیفے کا جائزہ لے رہی تھی۔ ایک بلی پاس سے گزری تو اس نے بے ساختہ جھک کر اسکی کمر سہلا دی۔ جوابا اس نے ایک ادا سے اسے دیکھا پھر منہ پھیر کر آگے بڑھ گئ۔
    ۔ژیہانگ سیدھا دائیں جانب کے ایک کونے گلاس وال کے پاس آرام دہ نشست گاہ میں اسے لے کر آیا تھا۔ ایک نہایت سفید جھاگ جیسے بالوں والی۔بلی محو استراحت تھی۔ وہ وفور شوق سے اسکی۔جانب بڑھی۔۔ صوفے پر بلی کے برابر احتیاط سے بیٹھ کر پکارنے لگی۔ بلی نے سرموق حرکت نہ کی۔
    مانو۔ اس نے اس پر پیار سے ہاتھ پھیرا تو اس نے جوابا اپنی کنچوں جیسی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا پھر دوبارہ آنکھیں موند لیں۔ وہ دھیرے سے سہلاتی گئی تو بلی جیسے لطف لینے لگی آرام سے پیر پسار لیئے۔
    تم سے ایک بات پوچھوں۔۔
    وہ پوچھ رہا تھا جوابا اس نے مڑے بغیر نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ ہونٹ بھینچ کر صوفے پر ٹک گیا۔۔۔۔
    وہ تھوڑی دیر بلی کے ساتھ کھیلنے کے بعد سیدھی ہو کر صوفے پر ٹک گئ۔ ژیہانگ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پھنسائے سرجھکائے بیٹھا گہری سوچ میں گم تھا۔
    میں ایک بات پوچھوں؟
    الف نے اسے غور سے دیکھا تو کافی پریشان سا نظر آیا۔ اسکی بات پر دھیرے سے نگاہ اٹھائی جیسے کہہ رہا ہو پوچھو۔
    تم ذکریہ ہو یا ژیہانگ ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فلیش بیک
    وہ ملبوس سنبھالتی گھبرائی سی لڑکی سیدھا اسکے دل میں اترتی چلی آرہی تھی۔ وہ بے اختیار اسکی جانب بڑھنے کو تھا جب کسی نے اسے پکارا تھا۔۔۔۔
    ژیہانگ۔
    الف چونکی۔۔متلاشی نگاہوں سے ڈھونڈا تو وہ لڑکی بے تکلفی سے پکارتی جس لڑکے کی جانب بڑھ رہی تھی اس سے فاصلہ ہونے کے باوجود وہ پہناننے میں غلطی نہیں کر سکتی تھی۔ وہ بے اختیار آگے بڑھی۔
    گوری چٹی مغربی نقوش سنہری بالوں والی وہ حسینہ اسکو پکارتی اسکے پاس چلی آئی۔ اسکی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی ہاتھ میں جام وہ یقینا ہوش کھو رہی تھی۔
    کیسی ہو۔ ژیہانگ تکلف سے مسکرایا مگر لارا تکلفات میں پڑنے کے موڈ میں نہیں تھی۔
    وہ قریب آکر اس کے گال سے گال مس کرکے ملی تھی۔ بلکہ اسکے کندھے پر ہاتھ بھی رکھ کر بے انتہا قریب ہو کر حال احوال پوچھ رہی تھی
    میں ہمیشہ سی خوش مطمئن۔ تم سنائو؟
    میں بھی ٹھیک ہوں۔
    وہ نا محسوس سے انداز میں اس سے ایک قدم پیچھے ہوا۔لارا آگے بڑھ کر اسکے کندھے سے جھول گئ۔
    ابھی سیہون سے تمہارا ہی ذکر کررہی تھی۔ بہت غلطی کی تم نے ایکسو کے ساتھ ڈیبیو نا کرکے تمہاری آواز تمہارا ڈانس آج بھی ہم یاد کر رہے تھے۔ تم دوبارہ کیئریر کیوں نہیں شروع کرتے؟
    لارا اس سے گفتگو کرنے کے موڈ میں تھی۔
    الف اسکے قریب آچکی تھی جب لارا نے اپنی دھن شستہ انگریزی میں کہا۔۔
    تم نے مجھے چھوڑا اور مزہب بھی۔ مزہب چھوڑنا تھا تو مجھے تو نہ چھوڑتے۔۔۔۔
    ژیہانگ نے گھبرا کر الف کی۔جانب دیکھا۔۔
    الف کے چہرے کے سب رنگ اڑ چکے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر نام کا پوچھ رہی ہو تو میں ذکریہ بھی ہوں ژیہانگ بھی۔
    شناخت کا پوچھو تو ذکریہ مر چکا ہے۔ بہت سال پہلے۔۔ میں ژیہانگ ہوں۔۔
    اس نے خلاف توقع بے حد ٹھہرے ہوئے لہجے میں سکون سے بتایا تھا۔
    الف کے پاس پوچھنے کو کوئی سوال نہ رہا۔
    ذکریہ مر چکا ہے ۔۔کون تھا کیسے مرا کب مرا کیا فائدہ جان کے۔ سامنے تو بس ایک ہی نام ہے ایک ہی شناخت۔۔ ژیہانگ سامنے ہے۔ وہی ژیہانگ جو کبھی ذکریہ تھا۔مگر فرق کیا پڑتا ہے ذکریہ ہو یا ژیہانگ۔
    الف نے سر جھکا کر سفید بلی کو چھونا چاہا۔۔۔
    دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی تھی۔
    ژیہانگ ذکریہ ہے یہ جان کر انجانی خوشی ہوئی تھی تب بھی اور اب جب ذکریہ ژیہانگ ہے یہ جان کر دکھ سا ہو رہا تھا اسے فرق کیوں پڑ رہا وہ خود کو سمجھنے میں ناکام سی ہو رہی تھی۔
    میائوں۔
    بلی کی آواز ۔۔۔۔۔اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ تو وہ ایک سیامی بلی تھی جو ژیہانگ کے قدموں میں آکر بیٹھ گئ تھی۔
    یہ بلی مجھ سے بہت مانوس ہوگئ ہے۔ میں یہاں آتا ہوں تو بس اسے لیکر بیٹھا رہتا ہوں۔ نا اسے مجھ سے کوئی امید ہوتی ہے کہ میں اسکے ساتھ کھیلوں گا نا مجھے اسکے نخرے اٹھانے پڑتے۔
    ہم دونوں بس یونہی گھنٹوں ایک دوسرے کے پاس بیٹھے رہتے۔ وہ بر سبیل تذکرہ بتا رہا تھا۔
    اس نے اسے اٹھا کر اپنے برابر بٹھا لیا تھا۔ بلی اسکی ران پر چہرہ رکھ کر سکون سے بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔
    دراصل یہ بوڑھی ہوگئ ہے نا اب چست نہیں رہی۔ لوگ یہاں بلیوں سے کھیلنے ہی تو آتے ہیں۔ مگر جو بلی ان کھیل۔تماشوں سے تھک۔چکی ہو اور مری بھی نا ہو وہ کیا کرے۔۔۔۔ اس میں اور مجھ میں یہی مشترک ہے۔ ہم دونوں تھکے ہوئے ہیں۔۔۔
    چلیں۔
    وہ ایکدم اٹھ کھڑی ہوئی۔
    میں جا رہا ہوں الف۔۔۔۔ اس نے بلی کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔۔
    کہاں۔ اسکے منہ سے بے اختیار نکلا۔ وہ کتنا پچھتائی تھی پوچھ کے۔
    کل جاپان پرسوں کا پتہ نہیں۔ وہاں جا کر پتہ لگے گا کہ مجھے آگے کہاں جانا۔۔۔۔۔
    کیوں جانا ہے ؟ الف کا انداز۔۔۔۔ وہ چونکا نگاہ اٹھائی تو اس کو ایک ٹک خود کو دیکھتے پایا۔
    دیکھنے والی اسکے نگاہ چرانے کے انتظار میں تھی خود بھی نظریں چرا نہ سکی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے آرام سے بنچ پر اپنا بیگ رکھا۔ ڈس پوزایبل مگ رکھا ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سہج کر بیٹھی یونہی سر اٹھا یا تو دونوں کو سر پر کھڑے ہو کر گھورتا دیکھ کر گڑ بڑا گئ۔
    بیٹھیں نا آپ دونوں۔
    اس نے کھسیا کر اپنا مگ اٹھا لیا۔ واعظہ اور فاطمہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اسکے سامنے ہی آلتی پالتی مار کر گھاس پر بیٹھ گئیں۔
    یہ واعظہ تھئ
    یقینا اسکی ساری کہانی جاننے کو بے تاب اسے ذرا رعائیت دینے کو تیار نہیں تھی۔
    اس نے گہری سانس لی۔
    میرا نام عشنا نہیں ہے۔۔۔۔ عشنا تو۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے جلدی سے دروازہ کھولا نکلنا چاہا کہ بر ی طرح سر ٹکرایا کہ سامنے تین لڑکیاں کھڑی تھیں ایک اسکی طرح اپنا سر سہلا بھی رہی تھی۔
    یہ کورین میں ہمارے لیئے بس انڈر ایج مال ہی دستیاب ہے کیا ؟
    فاطمہ نے کہا تو عشنا سر ہلا کر بولی
    یہ ہے جن نہیں ہے۔
    اسکے انداز میں شک تھا۔ واعظہ اپنا سر سہلاتی بڑبڑا رہی تھی۔
    میں واعظہ ہی ہوں نا؟ میرا سر گھوم رہا یادداشت کھونے والی ہے میری لگتا ہے۔
    چھ چھے سو نگیئے ہو۔
    اس نے فورا جھک جھک کر معزرت کی۔ آوازیں سن کر عزہ نے بھی گیلری میں جھانک لیا۔
    آگئیں تم لوگ چائے پیئوگئ ؟
    تمہیں کتنے بھائی چاہیئے ہیں عزہ ایک اور لے آئیں ہے جن گیا تو۔ ۔۔
    فاطمہ نے ٹوک دیا۔ وہ تینوں دروازے میں راستہ روکے کھڑی تھیں
    ہاں۔ عشنا نے زور سے کہا تو سب اپنی اپنی بات بھول اسے دیکھنے لگ گئیں۔
    وہ عزہ۔چائے کا پوچھ رہی تھیں تو ہاں کہا ۔۔ میں نے پینی ہے چائے۔
    اس نے صفائی دینے والے انداز میں کہا۔
    اوئے عشنا کہاں چلی گئ تھیں؟ کیسی ہو؟ عزہ احوال پوچھ رہی تھی۔
    یہیں تھی آج بس اسٹاپ پر مل گئ تو ہم گرفتار کر لائے۔ فاطمہ لہک کر بولی۔
    وہ میں چلتا ہوں۔ اس نے نکل جانا چاہا مگر راہ میں حائل نازک دیواریں۔
    واعظہ نے بازو پھیلا کر دیوار پر ہاتھ ٹکا کر راستہ روکا۔
    کون ہے یہ؟ یہاں کیا کر رہا ؟
    واعظہ نے جانچتی نگاہوں سے تیجون کو گھورا اسکی آنکھوں میں پہچان کے رنگ اترے پھر مزید رنگ اڑ گیا۔
    عزہ یہ بھی بھائی ہے آپکا۔
    یہ عشنا تھی۔ فاطمہ اور واعظہ نے مل۔کر گھورا اسے
    کوئی نہیں بس ایک ہے جن ہی بھائی تھا میرا اور سنو تم لوگ یہ دو تین سال چھوٹے بھائئ نا بنادیا کرومیرے فورا بے رنگ داستان جا رہی میری دو تین سال کے فرق میں کافی مارجن ہوتا۔
    عزہ بھی وہیں بولتی چلی آئی۔
    نا کرو یہ للو پسند آرہا ہے تمہیں جو اسے بھائی لسٹ سے خارج کر رہی ہو۔
    فاطمہ بھونچکا سی رہ گئ
    تنگ راہداری اجنبی زبان لڑکیاں ہی لڑکیاں اوسان خطا ہو رہے تھے اسکے۔
    وہ میں ۔۔۔۔
    نہیں بھئی۔ عزہ نے اسکی ہونق ہوتی شکل دیکھ کر ریجیکٹ کردیا۔
    مجھے جانے دیں پلیز۔
    یہ طوبی نے بے بی سٹر منگوایا تھا ایسا لاپرواہ آدمی بچوں کو میرے پاس چھوڑ کر رفو چکر ہونے کو تھا۔ کان سے پکڑ کر اوپر لائی ، کوئی لچا ہی نہ ہو طوبی کے سامنے پیش کرتی مگر وہ گھر پر نہیں تھئں۔
    عزہ نے اپنی کار۔گزاری جتلائی۔۔
    آدمی ۔۔عشنا نے آنکھیں پھاڑیں۔۔
    احمق طوبی گھر پر ہوتیں تو بے بی سٹر کیوں بلواتیں۔
    فاطمہ نے سر پیٹا۔۔
    وہ آپ۔ مجھے جانے دیں میں نے کچھ نہیں کیا ۔
    تیجون روہانسا ہوچلا تھا۔
    واعظہ اسکی شکل دیکھ کر ایک۔جانب ہوئی وہ گولی کی طرح نکلا باہر۔۔
    یہ مجھے دیکھا دیکھا لگ رہا۔عشنا نے کہا تو فاطمہ ڈر سی گئ۔
    کیا ؟ صحیح بتائو یہ اسی گینگ کا تو نہیں ؟ آآ۔۔۔۔
    فاطمہ کی بات پر واعظہ اور عشنا دونوں نے اکٹھے اسکے پیر دبائے چونکہ دو ہی تھے سو وہ وہیں تڑپ کر بیٹھتی گئی۔
    آہ ظالمو دونوں پیر کچل دیئے میرے۔۔
    کونسا گینگ وہی جس نے نور کو پھنسوایا تھا
    عزہ پوچھ رہی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام سان ٹاور سے سیول پر چھاتے شام کے اندھیروں اور پھر ان اندھیروں کو مدھم کرتی شہر کی روشنیوں کو دھیرے دھیرے اندھیرا نگلتے دیکھتے وہ مکمل اس منظر میں مگن تھی۔ نام سان ٹاور کی گیلری میں گرل سے بازو ٹکائے۔ وہ یوں مگن کھڑی تھی جیسے اکیلی کھڑی ہو۔
    تمہیں سیول کیسا لگتا ہے؟
    سیونگ رو نے اسکی محویت کو محویت سے دیکھتے پوچھا۔
    بہت اچھا۔ بلکہ یوں کہوں کہ سیول میں رہنا مجھے اپنے شہر میں رہنے سے بھی ذیادہ اچھا لگتا ہے۔
    عروج نے مگن سے انداز میں جواب دیا تھا۔
    اور میرا ساتھ؟
    سیونگ رو نے پوچھا تو وہ چونک کر اسکی جانب مڑی
    مطلب؟
    سادا سا سوال ہے۔ سیول پسند ہے ٹھیک ہے سیول میں رہنے والے بھی پسند ہیں یا نہیں۔؟
    سچ بتائوں برا تو نہیں مانو گے؟
    عروج نے لمحہ بھر کے توقف دے کر کہا
    سیونگ رو نے ابرو اچکائی۔۔ جیسے کہہ رہا ہو بولو
    مجھے سیول جتنا بھی پسند ہو یہاں کے باسی بالکل نہیں پسند۔ خشک سرد مزاج لاتعلق۔ اور غیر ملکیوں کو تو بالکل پسند نہیں کرتے ایسے گھورتے ہیں نظر انداز کرتے ہیں جیسے ہم سیول کو کھا جائیں گے یا چھین لیں گے۔
    اس نے کندھے اچکا کر یوں دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو میرا منہ پھٹ انداز پسند تو نہیں آیا ہوگا۔سیونگ رو کے چہرے پر ہر دم کھلی رہنی والی مسکراہٹ مدھم سی ہوگئی۔ اس نے گہری سی سانس بھر کر سیول کی جگ مگ کرتی بتیوں پر نگاہ ڈالی پھر ہلکا سا رخ موڑ کر اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔۔
    اورمیں۔۔۔۔
    تم تو خیر اب دوست ۔۔ عروج نے اسکی آنکھوں کی تحریر پڑھ لی تھی جبھی تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے بات ٹالنئ چاہی مگر سیونگ رو نے بات کاٹ دی
    میں کیسا لگتا ہوں تمہیں؟ کیا تم مجھے نامجا کی طرح دیکھتی ہو؟؟؟ یا دیکھ سکتی ہو
    اسکا جواب اسکی آنکھوں میں پڑھ کر بھی موہوم سی امید کے تحت اس نے پوچھ ڈالا
    وہ۔۔ عروج کی بولتی بند ہوگئی تھی۔
    سیول کی ہوا ایکدم سے پہلے سے ذیادہ خشک اور سرد ہوچکی تھی۔
    نہیں۔ عروج نے فورا کہنا چاہا مگر نقاب کے پیچھے ہونٹ بس ہل کر رہ گئے۔ سیونگ رو آنکھوں میں ڈھیروں جگنو سجائے اسے تک رہا تھا۔
    عروج میں جانتا ہوں ہمارے درمیان بہت تفرقات ہیں۔
    ایک اجنبی ملک کی اجنبی مزہب کی لڑکی جسکی صورت بھئ شائد بس ایک آدھ بار دیکھی ہے مجھے اپنے دل سے قریب محسوس ہوتی ہے۔نجانے کیوں۔ بات عجیب لگتی ہے مگر سچ یہی ہے۔۔ مجھے تم سے تمہارے مزہب سے کوئی مسلئہ نہیں۔ تم جیسی ہو جیسے چاہے رہنا چاہو مجھے ہر وقت ماسک پہنو اسکارف پہنو تمہاری مرضی۔ تمہارے ایمان پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ مجھے بس اس لڑکی سے مطلب ہے جو میرے سامنے ہے۔
    اس نے جیب سے ایک بے حد خوبصورت ریپر میں لپٹا چھوٹا سا تحفہ اسکی جانب بڑھایا۔
    عروج میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔ شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے۔
    مجھ سے شادئ کروگی۔
    نام سان ٹاور کی روشنیوں میں دمکتا وہ چندی آنکھوں والا سیونگ رو چہرے پر دنیا جہان کی سچائیاں سجائے تھا۔ وہ اس سے دو سمسٹر سینئیر تھا۔ ایم بی بی ایس کے دوران کتنی ہی مدد اس سے لی تھی تو ہائوس جاب میں کہاں کہاں نہیں وہ کام آیا تھا۔ پہلے مریض کے چیک اپ سے آج دوپہر تک۔ اس کی زندگی کا ایک حصہ اسکی نگاہوں کے سامنے تھا یہ بھی سچ ہے کہ اس نے اس سے ذیادہ سلجھا ہوا لڑکا نہیں دیکھا تھا ۔ ایک لڑکی ہونے کے ناطے اسکی آنکھوں کی گہری ہوتی چمک اسکے رویوں سے جھلکتی اپنائیت کیا اسے کبھئ نظر نہیں آئی؟ آئی ہمیشہ محسوس ہوئی۔
    وہ ہی تو ابھی رات کو پوچھ رہی تھئ
    اچھا واعظہ یہ تو بتائو جب میں نے بتایا کہ مجھے میرے کولیگ نے پرپوز کیا ہے تو تم نے فٹ سے سیونگ رو کا نام لیا تھا کیوں؟سیونگ رو کہاں سے آگیا؟
    واعظہ کا جواب نپا تلا دوٹوک تھا۔
    سیونگ رو بیچ میں آچکا ہے۔ آج نہیں تو کل۔ ڈاکٹر عبدالقادر کو کیا جواب دینا ہے یہ سوچنے کے ساتھ ساتھ سیونگ رو کو کیا جواب دینا یہ بھی سوچ کے رکھو۔ جلد جواب دینا پڑ جائے گا تمہیں۔
    اور اس نے نہیں سوچا تھا۔ اگر سوچ لیا ہوتا تو۔۔۔
    اس نے غور سے سیونگ رو کو دیکھا وہ منتظر نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
    ایک واحد دوست اجنبی ملک میں کسی دن اس کا یوں ہاتھ مانگ لے گا اس اندازے کو جھٹلانے سے ذیادہ ٹالا تھا اس نے۔ سو آج وہ وقت آگیا تھا۔ یا تو یہ دوستی عمر بھر چلنے والی تھی یا آج اسکا آخری دن تھا اسے ابھی فیصلہ لینا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام

    جاری ہے۔۔

    https://urduz.pk/bachay-jaag-jaan-gay-short-urdu-horror-story/
  • Desi Kimchi Episode 43

    قسط 43
    ٹی سی این ۔۔
    ویٹنگ روم میں بیٹھی دفتر کا بورڈ پڑھتے ہوئے فاطمہ کی آنکھیں کھل سی گئ تھیں۔
    تم یہاں جاب کر رہی ہو؟
    فاطمہ کو سوال کرتے ہی اس سوال کے بونگے ہونے کا احساس ہوگیا تھا۔ واعظہ البتہ پوری سنجیدگی سے بیٹھی ریسیپشن کی جانب دیکھ رہی تھی۔
    آپ آجائیے۔
    ریسیپشن پر موجود چندی آنکھوں والی لڑکی نے بلایا تو وہ سرعت سے اٹھی تھی۔
    آپ تھرڈ فلور پر لیفٹ کارنر والے کمرے میں تشریف لے جائیے۔
    گھمسامنیدہ۔ واعظہ جھک کر شکریہ ادا کرکے پلٹی تو متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر فاطمہ کو ڈھونڈا وہ اسے ہال کمرے کی گلاس وال سے ناک چپکائے کھڑی نظر آئی
    چلو۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اسکے پاس آئی
    یہ یہ سونگ کانگ ہے نا ؟
    وہ بے یقینی سے اندر اشارہ کرتے ہوئے بولی اسکے کہنے پر واعظہ نے آگے ہو کر جھانکا تو سونگ کانگ ٹہل ٹہل کر مکالمے یاد کرتا نظر آیا۔
    ہاں وہی ہے۔
    اس نے اس بار اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
    مجھے یقین نہیں آرہا میں نے کورین سیلیبریٹی کو اپنے سامنے یوں چلتے پھرتے دیکھا واہ۔ فاطمہ پرجوش ہو رہی تھی۔ واعظہ کا انداز البتہ ٹھس سا تھا اسکا ہاتھ تھام کر وہ ہی لمبی راہداری گزار کر ایک کمرے کے سامنے لے آئی۔
    دیکھو گھبرانا مت بس پورے اعتماد سے انٹرویو دینا انکو مترجم درکار ہیں اپنے پراجیکٹ کیلئے تم آرام سے سیلیکٹ ہو جائو گی بس انگریزی تواتر سے تڑا تڑ بولنا سمجھیں۔
    عین دروازے کے سامنے کھڑی اسے سمجھا رہی تھی۔
    ہاں اعتمادتو بچپن سے مجھ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔
    اپنے گھنگھریالے بال جھٹک کر وہ ادا سے مسکرائی تبھی کھٹ سے دروازہ کھلا اندر سے کوئی عجلت میں نکلا نہ اسکے اندازے کے مطابق سامنے کسی کو ہونا چاہیئے تھا نا ہی فاطمہ کا خیال تھا نتیجتا دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے ٹکراتے۔۔۔۔۔ بچ گئے۔
    فاطمہ اپنی لمبی ایڑھی والی جوتی پر توازن بحال نہ کر سکی بوکھلا کر پیچھے ہونے پر پیر پھسلا سر کے بل پیچھے جاتی فاطمہ کو بروقت واعظہ نے سہارا دیا تھا اور جسے سہارا دینا چاہیئے تھا اسکے اپنے قدم لڑکھڑا چکے تھے دروازہ تھام کر گرنے سے بچ گیا مگر کود گیا تھا کسی کی نگاہ کی گہری جھیل میں۔
    آئی ایم سوری۔
    بیانیمنتا ، بیانئیے چھے سونگیو والے ملک میں خالص انگریزی معزرت فاطمہ نے بدمزہ سا ہو کر خود کو سنبھالا۔
    وہ گندمی رنگت کا لمباچوڑا بڑی بڑی آنکھوں والا لڑکا خالص برصغیری نقوش کا مالک تھا۔
    اٹس اوکے۔ واعظہ نے اسکو بازو سے پکڑ کر ایک طرف کیا۔ لڑکا راستہ ملنے پر سر ہلا کر شکریہ ادا کرتا باہر نکل گیا۔
    قسمت ہی خراب ہے ٹکر بھئ ہوئی تو دیسی شکل سے
    واعظہ چلو واپس برا شگون ہوگیا یقینا ۔۔
    فاطمہ کی لن ترانی جاری تھی جب واعظہ نے بنا دھیان دیئے کھینچ کھانچ کر اسے چندی آنکھوں والے ان ادھیڑ عمر انکل کے سامنے لاکھڑا کیا جو اسے دیکھ کر ایکدم اچھل کر اپنی باس سیٹ سے کھڑے ہوگئے
    فائنلی تمہیں مل گئ عربی لڑکی
    خوشی کا بے ساختہ اظہار فاطمہ گڑبڑا سی گئ
    یہ عربی نہیں ہے۔
    واعظہ نے فورا تصحیح کی۔
    تو انڈین ہوگی۔ پہلی گوری انڈین لڑکی دیکھی ہے خوشی ہوئی دیکھ کر میں فورا مس روز کو اطلاع دیتا ہوں۔۔
    وہ فورا فون اٹھا کر کسی کو اطلاع دینے لگے
    ارے نہیں۔ واعظہ بوکھلا گئ۔
    ہاں اسے تو کس سین پر اعتراض نہیں ہوگا نا۔فون ملاتے ملاتے انہیں خیال آیا وہ معصومیت سے پوچھ رہے تھے مگر چونکہ۔ہنگل میں لہذا وہ فاطمہ کی باریک ٹیکے کی طرح کھبنے والی چٹکی سے محفوظ رہی تھی۔
    نہیں یہ اداکارہ نہیں ہے اسے تو میں ٹرانسلیٹر کے طور پر لائی ہوں آپکو۔چاہیئے نا عربی اداکاروں کی۔بات سمجھنے کیلئے؟؟؟؟ یہ اسی کیلئے آئی ہے۔
    اوہ۔ وہ تھوڑے مایوس ہوئے۔ فون رکھ دیا۔۔۔سارا جوش جھاگ کی۔طرح بیٹھ گیا
    واعظہ یہ بندہ مجھے شکل سے ہی ٹھیک ٹھاک ٹھرکی لگ رہا ہے نظریں ٹھیک نہیں ہیں اسکی۔فاطمہ ان بڈھے انکل کو بغور دیکھتے ہوئے تبصرہ جھاڑا
    تمہارا رشتہ طے نہیں کر رہی انکے ساتھ بے فکر رہو۔۔
    واعظہ نے اطمینان دلانا چاہا۔
    تو کیا تعلیمی قابلیت ہے آپکی۔ آپکا سی وی۔ ؟
    اس نے فاطمہ سے پوچھا جوابا وہ پلکیں جھپک گئ۔ وہ کونسا انٹرویو کی نیت سے آئی تھی اسکے پاس سی وی چھوڑ بیگ بھی نہیں تھا۔ بیگ کہاں گیا۔ اسکی سٹی گم ہوئی۔
    بیگ ۔۔۔کہاں گیامیرا۔ اس نے دھیرے سے اپنے دونوں پہلو ٹٹولے مگر بیگ کا فیتہ دونوں کندھوں پر نہیں تھا۔
    وہ اسکا سی وی تو مکمل انگریزی میں تھا تو میں نے سوچا آپکو ای میل کر دوں گی۔ ویسے ایم اے انگلش کیا ہے ا س نے فر فر انگریزئ بولتی ہے۔میری سہیلی ہے بہت محنتی اور قابل لڑکی اسکو نوکری دے کر آپ پچھتائیں گے نہیں۔۔ واعظہ اسکو بولنے پر آمادہ نہ دیکھ کر خم ٹھونک کر میدان میں اتری۔۔ انہوں نے فق چہرے والی لڑکی کو گھورا جو لگ رہا تھا ابھی اٹھ کر بھاگ جائے گی۔۔
    ہنگل تو جانتی ہے نا۔۔ وہ اب واعظہ سے ہی پوچھ رہے تھے۔
    سیکھ رہی ہے آجائے گی کچھ دنوں تک۔
    یہ جواب بھی واعظہ نے دیا تھا
    اچھا عربی سیکھی ہے؟
    ہاں۔ عربی پڑھ لکھ سکتئ ہے۔
    واعظہ کا اعتماد دیکھنے لائق تھا۔
    فاطمہ اسکے کان پر جھکی۔
    کیا پوچھ رہے؟ واعظہ نے جوابا اپنے پائوں سے اسکا پائوں دبا دیا وہ سی کرتی گھورتی سیدھی ہوئی
    بڈھے انکل سنجیدہ ہوگئے تھے انہوں نے دراز سے کاغذ کا پلندہ نکال کر اسکے سامنے بڑھایا۔
    تو زرا یہ پڑھئیے
    فاطمہ نے اعتماد سے پلندہ اٹھایا سامنے رکھا۔
    ایک صفحہ دوسرا تیسرا وہ پلٹتی جا رہی تھی۔
    پہلا صفحہ ہی پڑھ لیجئے۔
    انہوں نے اسکئ مشکل آسان کئ۔
    واعظہ کی بچی یہ کیسے پڑھوں۔
    فاطمہ نے بظاہر مسکرا کر مگر درحقیقت کھا جانے والی نگاہ سے واعظہ کو گھورتے پوچھا تھا
    عربی ہے پڑھ تو سکتی ہو قرآن پڑھا ہوا ہے نا؟ اسے بھی بس پڑھ لو الف بے ہی تو ہے۔ بڈھے انکل کو کونسا سمجھ آنا کیا بول رہی ہو۔
    واعظہ نے کہا تووہ بے چارگی سے بولی
    اس پر تو اعراب بھئ نہیں کیسے پڑھوں ؟ واعظہ یار میں اپنا بیگ بھئ کہیں بھول آئی ہوں اس میں میرے سارے پیسے تھے میں مر گئ واعظہ اب کیا ہوگا۔۔۔ میرا موبائل بھی اسی میں رکھا ہوا تھا۔ میرے پاس پھوٹی کوڑی نہیں بچے گی اور موبائل میں تو برقعہ ایونجرز کی تصویریں بھی ہیں لیک ہوگئیں تو۔ واعظہ کی۔بچی کچھ تو بولو میرا دم اٹک رہا ہے۔ تمہیں پکا یاد ہے نا جب میں بس سے اتری تھی تو بیگ لٹکا ہوا تھا میرے کندھے سے؟
    صفحے پلٹتے وہ بولے جا رہی تھی واعظہ کا منہ کھل گیا۔
    میرا بیگ اس نے اپنا بیگ ڈھونڈنا شروع کردیا شکر ہے اسکا منا بیگ کندھے سے لٹکا ہوا تھا۔ اسکی فائل بھی سامنے میز پر رکھی تھی اس نے سکھ کا سانس لیا۔
    بس ٹھیک ہے ۔ بڈھے انکل ٹھیک ٹھاک متاثر ہوگئے تھے
    اب تک پندرہ لوگوں کا انٹرویو لے چکا ہوں اتنی روانی سے عربی کوئی نہ پڑھ پایا۔ یہ اسکرپٹ تو سب کے سروں پر سے گزر جاتا تھا۔ بس ابھی ایک لڑکا یہ پڑھ پایا ہے یا آپ۔
    شستہ ہنگل میں وہ فاطمہ۔کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات کر رہے تھے جوابا وہ اور واعظہ ساکت بیٹھی سن رہی۔تھیں۔ واعظہ تو شائد سمجھ بھی رہی تھی کہ کیا کہہ رہے ہیں مگر فاطمہ۔ تبھی دماغ کی۔گھنٹی بجی۔
    جی۔ اس نے زور و شور سے سر ہلایا۔
    بس یہ اتنا بڑا پراجیکٹ ہے کہ کمپنی کوئی رسک لے نہیں سکتی ۔ میں تو لڑکی کو ہی رکھنا چاہ رہا تھا لڑکے لاپروا ہوتے اوپر سے ابھی اتنا دماغ کھا کے گیا ہے میرا یہ بات وہ بات جاب کیسے کیا کرنی اف سر میں درد ہوگیا۔ میں پر ڈے کی بات کر رہا تھا اسے گھنٹوں کے حساب سے تنخواہ چاہیئے تھی خیر ۔۔۔ وہ سانس لینے رکے۔۔
    جی جی۔ واعظہ نے ٹہوکا دیا وہ پھر سر ہلانے لگی۔
    اب میں نے اسے رکھ تو لیا ہے مگر سچی بات ہے ان عربی اداکاروں کے نخرے بہت ہیں جب سے شوٹ شروع ہوئی ہے انکے کھانے پینے کا مسلئہ ہی حل نہیں ہو کے دے رہا اب وہ بھاگ دوڑ کون کرے بھلا وہ سنبھال لے گا انکے اوپر کے کام اور آپ اسٹوڈیو میں رہ کر ان اداکاروں کو کورین اداکاروں سے آپس میں کیمسٹری بنانے میں مدد کروانا۔ یہاں ہم میں سے تو کسی کو عربی آتی نہیں وہ پانی بھی مانگتے تو ہمارے اسٹاف کو مسلئہ بن جاتا ہے۔انکے معاملات دیکھنے ہوں گے اور ہاں آپ کا کام ہے یہ ڈائلاگ یاد کروانا ہیں کورین اداکاروں کو۔ہمارے پاس مترجم موجود ہیں مگر لب و لہجے پر محنت کروانا تو انکا کام ہے وہ دیکھ بھی لیں گے مگرہمارے اداکار سب نئے ہی سمجھیں ہیرو ہیروئن کا تو پہلا ڈرامہ ہے انکو مکالمے سمجھانا یاد کروانا بہت بڑا کام ہے اداکاری تو وہ کر ہی لیں اب اگر ہنگل میں ہوتی تو انکا مینجر سنبھال لیتا لیکن عربی ۔۔ اوپر سے وقت بہت کم ہے ورنہ ایجنسی والے انکو عربی سکھوا دیتے یوں۔۔۔
    انکا بریک لگانے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا تھا۔ واعظہ کو ٹوک کر روکنا پڑا۔
    عربئ مکالمے کورینز کو یاد کروانے؟ انکو تو ہنگل یاد کرنے ہونگے نا۔۔۔
    واعظہ کو سمجھ نہ آیا فاطمہ کو تو خیر کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا
    ارے اگر کورینز کو ہنگل مکالمے بلوانے ہوتے تو مسلئہ ہی کیا تھا بھئ دیکھو سنو۔
    ایک طویل ٹوں ٹوں تھی جس پر فاطمہ بنا سمجھے سر ہلا رہی تھی جبکہ واعظہ سمجھنے کے باوجود سر ہلانے سے قاصر تھئ۔۔
    عربی اداکاروں کو انکی مدد کرانا۔ یہ کاپی چاہیں تو ساتھ لے جائیں آپ۔ بس کل سے آجانا ابھی ایچ آر جائو اور ان سے پارٹ ٹائمر کا کارڈ وغیرہ لے لو۔
    انہوں نے بات ہی۔ختم کردی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماتھے پر شکن لائے بنا وہ اسکے ساتھ ساتھ پھر رہے تھے۔
    گنگم اسکوائر پراس وقت ٹھیک ٹھاک رش تھا۔ دو۔رویہ۔دکانیں سامان اور لوگوں سے لدی ہوئی تھیں۔
    تیجون کو جانتے بھی ہیں آپ اچھی طرح یونہی کسی کے حوالے کرآئے بچیوں کو مجھے ہول اٹھ رہے۔۔
    طوبئ نے کہا تو وہ لاپروائی سے بولے
    بچہ ہے اچھا شریف گھر کا فکر نہ کرو۔
    پھر بھی ۔۔۔ ایسا کرتے ہیں باقی سامان پھر لے لیں گے ابھی واپس چلتے ہیں۔۔۔۔ بچیوں پریشان ہو رہی ہوں گی۔۔
    طوبی پرام گھسیٹی انکے پیچھے پہچھے چل رہی تھی ۔ دلاور آگے چل کر راستہ بنا رہے تھے کھوے سے کھوا چھلنے والا ہجوم تھا۔۔
    فکر نہ کرو وہ پریشان ہونے والی نہیں کرنے والی بچیاں ہیں۔۔ مجھے تو تیجون کی فکر ہورہی ہے۔۔
    انہوں نے ہنس کر کہا تو طونی ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔
    کچھ ذیادہ ہی خوشگوار مزاج ہو رہا ہے جناب کا۔۔ خدا خیر کرے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لائونج میں صوفے پر کسی مجرم کی طرح بیٹھا تھا اسکے دائیں بائیں زینت اور گڑیا تفتیشی افسروں کی طرح کھڑیں اسے ٹٹولتی نگاہوں سے دیکھ رہی۔تھیں
    یہ ہے جن بھیا جتنے پیارے نہیں۔
    زینت نے افسوس سے سرجھٹکا
    ہے جن بھیا یاد آرہے ہیں۔۔
    گڑیا نے منہ بسورا
    تیجون انکی باتیں سمجھ نہیں پارہا تھا مگر بسورتی بچی کو فورا چمکارنا چاہا
    کیا ہوا ابھی آہبو جی آہموجی آجائیں گے۔۔ آئی مین ماما پاپا۔
    پتہ ہے ہمیں۔ وہ ہمیں اکیلا چھوڑ کر تھوڑی کہیں چلے جائیں گے۔
    زینت نےفورا کہا۔
    ہےجن بھیا کو چھوڑ جاتے ہمارے پاس۔۔ وہ ڈورے مون کارٹون دکھاتے تھے۔۔
    گڑیا اداس ہوئی۔
    اسے ڈورے مون ہی سمجھ آیا جملے میں۔۔
    ڈورے مون کارٹون دیکھنے ہیں میں ابھی لگا دیتا ہوں۔
    تیجون کی جیسے مشکل آسان ہوئی فورا اپنا موبائل ٹٹولنے لگا۔۔
    آپکو ڈورے مون پسند ہے ؟؟؟گڑیا کا سارا دکھ ہوا ہوگیا۔۔
    اسکے بازو کو اپنی جانب کھینچ کر انگریزی میں بولی۔
    دے۔۔ ۔۔ اس نے کہا پھر خیال آیا تو انگریزی میں بولا
    یس۔۔۔
    پاگل یہ بڑے ہیں ان سے بڑوں والے سوال کرو یہ کارٹون تھوڑی دیکھتے ہوں گے۔ تمہارے لیئے لگا رہے ہیں۔ ویسے ہر وقت دیکھ کر تھکتی نہیں ہو تم۔۔
    زینت کمر پر ہاتھ رکھے اسے تیز نظروں سے دیکھتی بہن سے اردو میں مخاطب تھئ۔۔
    نہیں تھکتی۔۔ اور انکو بھی پسند ہیں انہوں نے یس کہا۔ گڑیا نے تصدیق کی۔
    تو تم تو بچی ہو تمہیں تو وہ یہی کہیں گے نا مگر پاپا کہہ کر گئے ہیں بھائی کو بور نہیں کرنا تو ان سے ہمیں باتیں کرنی ہوں گی تاکہ یہ بور نہ ہوں۔
    زینت بڑی امائوں کی۔طرح جانے کیا گٹ پٹ کر رہی تھی۔
    وہ کان کھجا کے رہ گیا۔۔
    ٹھیک ہے میں بڑوں والے سوال کرتی ہوں۔ گڑیا نے سر ہلایا۔۔ پھر سوچ میں پڑی۔ تیجون کو نگاہوں میں رکھتے بڑے پرسوچ انداز میں سینے پر ہاتھ باندھے پھر انگلی گال پر رکھ کر علامہ اقبال والا پوز بھی ماردیا پھر بولی۔۔
    بڑوں والے سوال کونسے ہوتے؟
    بھئ یہ کارٹون تو نہیں دیکھتے ہوں گے ۔۔ زینت نے اسکی کم عقلی پر سر پیٹا۔
    آپ دونوں کیا کہہ رہی ہو مجھے سمجھ نہیں آرہا۔
    تیجون کے سر پردونوں تفتیشی افسروں کی۔طرح کھڑی تھیں بے چارہ گھگھیا کر انگریزی میں پوچھنے لگا۔
    آپکو موسیقی میں دلچسپی ہے؟
    زینت نے اب انگریزی میں سوال کیا
    آہاں۔ اس نےجھٹ سرہلایا
    ایکسو یا بی ٹئ ایس؟
    یہ سوال گڑیا کی طرف سے آیا تھا
    ایکس۔۔۔۔ ابھی جواب میں تھا کہ علامہ صاحبہ بولیں
    انکو تو لڑکیوں کے گروپ پسند ہوںگے
    یہ بتائیں بلیک پنک یا ٹوائس۔۔؟
    ٹوائس۔۔۔۔ اسکا جواب پورا بمشکل ہوااگلا سوال آیا
    آپکی کوئی گرل فرینڈ ہے؟
    ہاں۔ وہ جھٹ سر ہلا گیا پھر سٹپٹایا۔
    آںدے۔۔ نو۔
    کیا نام ہے؟ زینت پوچھ رہی تھی۔۔
    آپ جتنی ہیں انی؟ گڑیا کو دلچسپی تھی۔۔
    دکھائیں ۔۔۔
    دونوں اسکے گھٹنے پر کہنیاں ٹکا کر فرمائش داغی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورا بازار ماتھے پر شکن لائے بنا گزار کر وہ ان بوڑھی۔خاتون کے پاس جا کر خود ہی رک گئے۔
    ان سے سبزیاں لیتی ہو نا؟
    جی۔ وہ اپنے دھیان سے چونک کر بولی
    صارم کا پرام گھسیٹتی انکے پیچھے پیچھے چلتی رکتی وہ دزدیدہ نگاہوں سے میاں کو دیکھ رہی تھی۔
    کیا کیا لینا۔ وہ پوچھ کر خود ہی آہجومہ کی چھابڑی سے سبزیاں ٹٹولنے لگے۔
    پالک گوبھئ مٹر آلو ٹماٹر پیاز سب کلو کلو تلواتے گئے وہ ایک لفظ نہ بولی۔ بینگن ڈیڑھ کلو خرید لیئے۔ کیونکہ ایک کلو کے بعد انکی۔چھابڑی پر دو چار ہی۔بینگن رہ گئے تھے۔ تو ازراہ ہمدردی وہ بھی اٹھا لیئے۔ آہجومہ شکر گزار نظروں سے دیکھ رہی تھیں دلاور کو۔ حلوہ کدو پانچ کلو کا اٹھانے لگے تو طوبی کو اپنے سب اندیشے جھٹک کر ٹوکنا پڑا
    کیا کرتے ہیں اتنا بڑا کون کھائے گا کیسے ختم ہوگا۔
    دلاور کو بھی دل کو لگی حلوہ کدو واپس رکھ دیا چھوٹا سا کدو اٹھا لیا
    اسکا رائتہ بنا دینا۔ وہ خوشگوار انداز میں مسکرا کر کہہ رہے تھے۔ جتنی سبزی خرید لی۔تھی نا اسے لے جانے کا کوئی۔زریعہ۔نہ تھا۔ دلاور نے پرسوچ نگاہوں سے دیکھا۔
    صائم کو اٹھا کے طوبی کی گود میں دیا پرام سبزیوں سے بھرا۔ آہجومہ کے ساتھ والی دکان میں اسے ٹھہرو کہتے ہوئے گھس گئے۔
    شوہر ہے تمہارا۔
    آہجومہ اسکی قمیض کا دامن پکڑ کر متوجہ کرنے لگیں۔۔
    جی؟ اسکی سمجھ میں خاک پتھر نہ آیا
    شوہر۔ کبھی ناک پر انگلی رکھتیں کبھئ اسکے بچے کی جانب اشارہ کرتیں جب اپنے پیٹ پر خوب ہاتھ پھیر کر بڑھنے کا اشارہ کیا تو طوبی سٹپٹا کر اثبات میں سر ہلا گئ۔
    بہت اچھا شوہر ہے تمہارا۔ بہت خیال رکھنے والا۔
    خوش رہو۔
    خوش ہو کرا نہوں نے ہمکتے ہوئے صائم کو کھیرا تھما دیا۔
    سمجھ تو نہیں آرہا آپ کیا کہہ رہی ہیں مگر اچھا ہی کہہ رہی ہوں گی
    اس نے کہتے ہوئے زرا سا سر جھکایا سلام لینے کو۔آگے سے آہجومہ اس سے بھی زیادہ دو دو فٹ آگے جھک گئیں۔
    اس کو ہنسی ہی آگئ۔ انکے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر دیا
    چلیں آج آپ کیلئے میری دعائیں سہی۔۔۔۔
    مچھلئ کی دکان سے خوب بڑی مچھلی تلوا کر نکلتے دلاور نے بیوی کو کھلکھلا کر ہنستے دیکھا تو انکئ چہرے پر بھی مسکان آگئ۔ تبھی طوبی کی نگاہ انکی۔جانب اٹھی اور اسکی مسکان دھیمئ پڑ گئ
    چلو چلیں۔ انہوں خوشگوار انداز میں مسکراتے ہوئے مچھلی بھی پرام میں لا کر رکھ دی۔
    مچھلی بھی رکھ دیں سبزیاں پہلے ہی پانی ٹپکا رہی ہیں اب خون کا تڑکا بھئ لگ جائے صائم کو اس میں جب بٹھائوں گی نا تو چھچھوندر کی مہک آئے گی پھر اسکے پاس سے۔
    طوبی۔جانے کیوں۔جھلائی۔
    اوہ خیال نہیں رہا اٹھا لیتا ہوں ۔مزید ایک لفظ بھی کہے بنا انہوں نے مچھلی کا شاپر واپس اٹھا لیا۔
    بلکہ ایسا کرو صائم کو مجھے دو تم یہ۔مچھلی اٹھا لو۔ مچھلی کا شاپر تو ہلکا سا ہے میرے گولو بیٹے نے تمہیں تھکا دیا ہوگا۔
    چونچال پیار بھرا انداز اسکو شاپر تھما کر انہوں نے نا صرف صائم کو گود میں لے لیا بلکہ پرام بھی خود گھسیٹنے لگے۔
    طوبئ بہت سمجھدار لڑکی ہو تم تم نے صبر اور عقل سے کام لینا ہے۔ اور تم اکیلی نہیں ہو۔ پانچ بہنیں ہیں یہاں تمہاری ۔۔ تمہاری راجدھانی اتنئ آسانی سے ہلائی نہیں جا سکتی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گئ۔مجھے پہلی فرصت میں۔۔۔۔
    دلاور خراماں خراماں بڑھ رہے تھے جب احساس ہوا انکی ہم سفر کہیں پیچھے رہ گئ۔ چند قدم آگے بڑھ کر مڑ کر دیکھا تو وہ اسی آہجومہ کی چھابڑی کے پاس کھڑی تھی ہکا بکا سی۔
    تبدیلی ایکدم سے آئی ہے حیران ہے شائد مگر اچھی بات یہ ہے کہ مستقل تبدیلی ہے مگر اسکا یقین آہستہ آہستہ ہی آئے گا نا۔۔انہوں نے سوچا۔۔
    آئو نا یے بو۔۔
    انہوں نے دانستہ یے بو کہا زور سے راہ چلتے لوگوں نے چونک کر دیکھا طوبی کی آنکھیں مزید کھل گئیں
    وہ کھل کر مسکرا دیئے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انکو انکے اپارٹمنٹ کی عمارت کی پارکنگ میں ڈراپ کیا تو عزہ شکریہ ادا کرتی باہر نکل آئی۔ عروج بھی اترنے لگی تو سیونگ رو نے دروازہ لاک کر دیا۔
    روج مجھے تم سے بات کرنی ہے۔
    سیونگ رو کے چہرے پر گہری سنجیدگی دیکھ کر وہ ٹھٹک سی گئ۔۔۔
    سیونگ رو گاڑی موڑ کر تیزی سے واپس باہر نکال لی
    عروج کے باہر آنے کا انتظار کرتی عزہ کو اپنا آپ کافی احمق محسوس ہوا۔۔۔ کندھے اچکا کر پلٹنے لگی جب اسے سامنے سے زینت اور گڑیا ایک لڑکے کے ساتھ آتی دکھائی دیں۔ وہ ہرگز نہ رکتی اگر لڑکے کے نقوش چندے نہ ہوتے۔۔
    دیکھو پاپا ماما کو مت بتانا کہ میں نے تم دونوں کو اپنی گرل فرینڈ کی۔تصویر دکھائی پنکی پرامس کرو۔
    تیجون نے انکو اپنی چھنگلیا دکھا کر وعدہ کرنا چاہا
    دونوں خاموشی سے دیکھتی رہیں
    پرامس کرو نا۔
    تیجون نے انہیں ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر ٹوکا
    پرامس ایسے تھوڑی کرتے۔
    زینت نے اسکی مٹھی کھول کر ہاتھ ملایا۔
    اچھا جیسے بھی سہی۔ کسی کو بتانا مت۔
    اسکا جملہ پورا نہ ہوا کہ زینت نے دور سے کالے لبادے میں ملبوس لڑکی کو دیکھ کر دوڑ لگا دی۔
    عزہ آپی۔۔
    گڑیا نے بھئ لڑکے کا ہاتھ چھوڑا اور دوڑ کر آکر اس سے لپٹ گئ۔
    میری زینو۔ کیسی ہو کہاں سے آرہی ہو۔۔ وہ پوچھ زینت سے رہی تھی مگر گھور نووارد کو رہی تھی۔ تیجون کو پسینے چھوٹتے محسوس ہوئے۔
    تیجون بھائی ہیں یہ۔ ہم نے انکو کہا ہمیں آئس کریم کھلا کر لائیں تو کھلا کر لائے ہیں۔
    گڑیا بھئ زینت کی دیکھا دیکھی اسکی ٹانگوں میں آلپٹی۔۔
    وہ تو ٹھیک ہے مگر کون ہے یہ؟ چاچو ماموں تو نہیں نا کہاں ہیں طوبی کس مسٹنڈے کے پاس چھوڑ گئیں تم دونوں کو۔
    جھلاہٹ جانے کہاں کہاں سے عود کر آئی تھی اسکے لہجے میں کہ ککھ بھی پلے نہ پڑنے کے باوجود بھی تیجون سٹپٹا سا گیا۔
    آپی تیجون بھیا کی اتنی پیاری گرل فرینڈ ہے۔ بالکل انکی جیسی شکل کی ہے۔۔
    زینت نے بھانڈا پھوڑا۔ نقاب والی لڑکی نے کڑے تیور سے گھورا
    یہ تم دونوں کو اپنی گرل فرینڈ کی تصویر دکھا رہا تھا۔
    عزہ کے تو جیسے تلوئوں سے لگی سر پر بجھی۔ تیجون کے ہاتھوں سے طوطے اڑے ۔۔ جھٹ نو دوگیارہ ہونا چاہا۔۔
    میں چلتا ہوں۔ آنیانگ۔ اس نے جھک کر اجازت لی عزہ نے دونوں بچیوں کو پروں میں سمیٹا جیسے۔
    ویٹ بے بی سٹر ہوتم ؟
    آنیا۔۔ ( نہیں ) وہ نفی میں سرہلا گیا۔ پھر خیال آیا تو بولا ۔د دا دے۔۔ (ہاں)

    آنیا یا دے؟
    وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر تفتیشی انداز میں مخاطب تھی۔
    کس قسم کے بے بی سٹر ہو تم۔ بچیوں کو کسی بھی ایرے غیرے کے پاس چھوڑ کر چلتے بن رہے تھے؟اتنے چھوٹے بچے تو ہر کسی سے بے تکلف ہوجاتے تمہیں پہلے میرا تعارف نہیں لینا چاہییے تھا؟ طوبی آتیں تو کیا جواب دیتے کہاں کس کے پاس چھوڑا بچیوں کو بولو؟
    تیجون خالص انگریزی میں تواتر سے پڑتی ڈانٹ پر بوکھلا سا گیا سوچا انگریزی میں صفائی دے مگر لفظ منہ چڑاتے بھاگ گئے۔ ہنگل میں ہی بڑبڑاتا رہ گیا۔
    وہ میں تو۔۔۔ جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو ۔۔اس نے اپنے کندھے سے اوپر فلیش بیک کی۔جانب اشارہ کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دلاور بچوں کے ساتھ کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے فون پر گیم چل رہی تھی بچوں کو پزل جوڑنے پر لگایا ہوا تھا صائم پاس لیٹا ہاتھ پائوں چلا کر فیڈر پینے میں مگن تھا۔ بچیاں ہر پزل جوڑ کر پہلے انہیں دکھاتیں پھر کھلکھلاتیں ۔
    قتل و غارت کرتے ہوئے وہ مگن تھے گیم میں جب زینت نے پزل جوڑتے ہی انکا ہاتھ ہلا دیا۔
    پاپا دیکھیں۔
    ابے۔۔ وہ بری طرح اچھلے چانس گرگیا ناک پھلا کر گھورا تو بچی الگ سہم گئ۔ اب چانس تو واپس نہیں آسکتا تھا گہری سانس لیتے موبائل ایک طرف رکھا۔
    دکھائو کیا بنایا۔
    کوئی بچوں کا کارٹون کردار تھا وہ بھی اینیمی کا۔ انکو تو نام دور شکل بھی پہلی بار نظر آئی تھی
    بہت پیارا زبردست ۔۔۔
    ایک فائدہ تھا کوریا کا بچوں کو مصروف رکھنے کی طرح طرح کئ بورڈ گیمز لفظ بنانے سے لیکر پزل جوڑنے تک کی باآسانی مل جاتی تھیں وہ بھی سستی۔ اب یہ پزل جوڑ کر ایوارڈ کی طرح دکھاتے دونوں بچیوں کی تصویر لی سیلفی بھی لی دونوں خوش ہوگئیں تو پزل اٹھا کر بیڈ سے اچھال بھی دیا۔
    ارے۔ ہائیں۔ وہ یہی کرتے رہ گئے زینت نے نئی بورڈ گیم کا کاغذ اتارنا شروع کردیا۔
    کوئی حال نہیں۔ وہ بڑ بڑاتے ہوئے اٹھے پزل چن کر واپس اسکے ڈبے میں ڈالا چونکہ اتنی زحمت کرلی تھی کہ بیڈ سے پائوں نیچے اتار لیئے تھے تو سوچا کافی دیر سے غائب بیوی کا بھئ دیدارکر لیا جائے۔ بھرپور خوشگوار مسکراہٹ سجاتے باہر نکلے تو باہر تو طوفان آیا ہوا تھا۔
    برتن پٹخ پٹخ کر باورچی خانہ سمیٹتی طوبی ریکارڈ کی طرح بج رہی تھئ۔
    اتوار کو ایک چھٹی ہوتی تو چلو ٹھیک ہے مانا آرام کا دل کرتا ہوگا مگر اس چھوسک ( کوریائی تہوار) کی وجہ سے ہفتے کے بیچ میں بھی چھٹی آگئ ہے تو بھی میرا ہاتھ بٹاناتو دور باہر کا کوئی کام بھی کرنے کو تیار نہیں۔ دہی ہے سوچا لوکی کا رائتہ بنا لوں مگر سودا لانے سے صاف انکار اب میں ہی جائوں لوکی لیکر آئوں تو رائتہ بنے گا۔ اب اس بے سری مونگ کی کھچڑی کو خالی دہی سے کیسے حلق سے اتارا جائے۔ پیٹ انکا خراب اور کھچڑی ہم سب کھائیں واہ۔۔
    جزباتئ ہو کو دم پر لگی کھچڑی کا ڈھکن پکڑا ہاتھ جلا وہیں زمین پر بیٹھ کر رونا شروع۔
    اتنی جلدی تو کورین ڈراموں کے منظر نہیں بدلتے جتنی جلدی انکی آنکھوں کے سامنے یہ حقیقت بدل رہی تھی۔
    وہ سٹپٹا کر لپکے۔
    اکیلی پڑ گئ ہوں مگر کسی کو احساس ہو تب نا۔ سودا سلف بھی لائوں اوپر سے پکائوں بھی۔ کم از کم سودا سلف لانے کی ذمہ داری تو اٹھا لیں۔ مگر نہ جی۔ ہے جن کیسا میرے ساتھ ساتھ لگا رہتا تھا۔
    بڑ بڑاتے ہوئے اسکا دل جیسے مٹھی میں لے لیا کسی نے۔
    بچے بھی کتنا ہل گئے تھے اس سے۔ جانے کہاں ہوگا کیا کر رہا ہوگا۔ ایک بار بھی یاد نہیں کیا مجھے۔۔ کتنا پیار کرتی تھی تھوڑا سا غصہ کرلیا تو سب بھول گیا۔۔۔۔ خاور کی طرح۔۔۔ گم کر لیا خود کوکھوگیا۔۔ اور۔
    اسکئ جانب بڑھتے دلاور اسکے آخری جملے پر رک سے گئے۔ آہٹ پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو دلاور کو سنجیدہ نظروں سے خود کو دیکھتا پایا۔ اسکی سٹی گم ہوگئ
    دلاور آپ ۔۔۔ وہ سٹپٹا کر آنسو پونچھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    آپ تو سو نے لگے مجھے لگا ۔۔ وہ ہکلا رہی تھی۔
    خود سے بولنے بڑبڑانے کی عادت اسے یوں ہی پڑی کہ سسرال میں سب سے بڑی بہو اور سب سے کم عمر ہونے کا اعزاز اکٹھے اسکے حصے میں آیا تھا۔ سو جگہ ہونٹ سیئے خاموشی سے سہا دلاور کا تو رعب اتنا تھا کہ فرمائش دور کوئی ضرورت کی شے بھی منگوانی ہو تو سو دفعہ سوچتی تھی۔ بس پھر یونہی اکیلے کچن میں چپکے چپکے چیزیں پٹخ لیں بڑ بڑا لیا دل ہلکا کر لیا۔ ابھی بھی اسکے خیال میں دلاور سو رہے تھے۔ یہ والیم بھی کوریا آکر بڑھا تھا ورنہ سرگوشیانہ انداز میں بڑ بڑ کرتی تھی یہاں کون تھا سننے والا بچے تو ابھی اس عمر میں تھے ہی نہیں کہ سن کر معنی نکالتے یا آگے پہنچاتے۔
    تمہیں ہے جن یاد آرہا ہے۔ انہوں نے سنجیدہ نظروں سے دیکھا تھا اسے۔۔
    نن۔۔ وہ نفی میں سر ہلانے کو تھی پھر جیسے تھک کر اعتراف کر لیا۔
    ہاں۔ آپکو شائد میرا یقین نہ آئے مگر مجھے اس میں سچ مچ دانی ( بھائی) کی جھلک آتی تھی۔ دانی تو مجھ سے بات بھی نہیں کرتا کبھی فون اٹھا بھی لے تو ہوں ہاں کرتا ہے بس مگر ہے جن میری گھنٹوں سنتا تھا سہیلی تھا میری۔۔۔ سچ مچ چھوٹے بھائیوں کی طرح چاہتی تھی میں اسے۔ جانے کہاں چلا گیا ہے۔ مجھ سے روٹھ کر۔
    وہ بچوں کی طرح رونے لگی تھی۔۔ دلاور دیکھ اسے رہے تھے مگر ذہن میں منظر کوئی اور تازہ ہوا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاور۔ خاور رکو کہاں جا رہے ہو ایسے روٹھ کر بات تو سنو۔۔۔۔
    انیس بیس سالہ خاور طیش میں پیر پٹختا گھر سے نکلا تھا باورچی خانے سے اسکے لیئے کھانا گرم کرکے نکلتی طوبی پکارتی اسکے پیچھے لپکی تھی۔ آگ کا شعلہ سا بھڑکا تھا۔۔
    خاور خاور۔
    مٹھیاں بھینچتے وہ بھی اسی وقت کمرے سے نکلے تھے۔۔۔۔
    خاور کے پیچھے جاتے انکے قدم رکے تھے کیونکہ شعلے ایکدم کسی کو لپیٹ میں لے گئے تھے۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    داخلی دروازے کی گھنٹی کی آواز پر وہ چونکے۔ ماضئ سے حال میں لوٹے۔
    میں واعظہ سے کہوں گا ہےجن کا کوئی اتا پتہ دے۔ میں خود اسکو ڈھونڈوں گا کان سے پکڑ کر سامنے لاکھڑا کروں گا اب خوش۔ یہ رونا دھونا تو بند کرو۔
    وہ اسے بچوں کئ طرح بہلا رہے تھے اور وہ بہل بھی گئ۔ واقعی؟؟
    اسکی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔
    ہاں اب چلو منہ دھوئو۔ کیا چیزیں لینی ہیں فہرست بنائو ابھی لیکر آتے ہیں ہم دونوں۔۔
    انہوں نے ٹشو رول کے کئی ٹشوز نکا ل کر اسے تھما دیئے۔
    آپ نے سن لیا۔۔ وہ اور شرمندہ ہوئی۔
    بس میں ایسے ہی کام زیادہ ہو تو بڑ بڑ کرنے لگ جاتی ہوں عادت پڑ گئی ہے۔ کھانا تو بس تیار ہے بچوں کو بلائیں میں لگاتی ہوں۔۔
    سوں سوں کرتی بچوں کی طرح بولتی انہیں وہ عام دنوں سے ذیادہ پیاری لگی یا یوں کہیں لگنے لگی تھی اب اسکی لاپرواہی بچپنے بڑ بڑ کرنے کسی بات پر غصہ آہی نہیں رہا تھا چہرے پر نرم نرم سی مسکراہٹ لیئے وہ فرصت سے تکنا چاہ رہے تھے تبھی اور زور سے گھنٹی بجی۔
    انہوں نے بد مزہ ہو کر دروازے کو گھورا۔
    نہیں ابھی اتنی کوئی بھوک نہیں ایسا کرتے ہیں سودا سلف لے آتے ہیں سادہ رائتے کی بجائے کدو کا رائتہ بنا لو جلدی جھٹ پٹ بن جائے گا ذائقہ بھی بدل جائے گا منہ کا۔
    وہ بڑے پیار سے فرمائش داغ رہے تھے۔
    کدو کا رائتہ۔ طوبئ کا منہ کھلا رہ گیا۔
    سادہ رائتہ بنانا آسان ہوا کہ کدو کا رائتہ ابھی کب لائیں گے کب بنے گا بچوں کو بھوک لگ جائے گئ۔
    طوبئ نے منطق سے سمجھانا چاہا۔۔
    گھنٹی ہھر بج اٹھئ۔
    اوہو پانچ منٹ کے فاصلے پر تو تازہ سبزی ملتی ہے یوں گئے یوں آئے۔
    دلاور نے چٹکی بجائی انکی چٹکی کے ساتھ ہی گھنٹی بجی تھی
    اچھا دروازے پر دیکھیں کون آیا ہے۔
    طوبئ نے کہا تو وہ لاپروائی سے کندھے جھٹک کر بولے
    مجھ سے ملنے کون آئے گا سیلز مین ہوگا کوئی چلا جائے گا دفع کرو۔بس اس وقت کدو کا رائتہ بنے گا فائنل ہوگیا۔۔
    ہاں تو ٹھیک ہے لے آئیں کدو۔۔
    طوبی نے کندھے اچکائے
    ٹیں۔۔۔۔۔۔ گھنٹی بجی۔۔
    اوہو تو تم بھئ چلو نا اپنی مرضی سے سب کچھ ہفتے بھر کا سامان لے آئو میری لائی سبزی پسند نہیں آتی کبھی تو کوئی چیز رہ جاتی ہے۔ سب اکٹھا لے آئو۔
    دلاور اسکے سب شکوے دور کرنا چاہ رہے تھے وہ الٹا چڑ گئ
    حد ہے دلاور۔ بچوں کو اکیلے کیسے چھوڑ سکتے ہیں اور بچوں کو کہاں لیئے لیئے پھریں گے۔ زینت تو دو منٹ چلنے کے بعد فرمائیشیں شروع کر دیتی ہے یہ کھلائو وہ۔کھلائو۔
    ٹیں۔ گھنٹئ کی طوالت میں اضافہ ہوا
    توکھلا دیں گے۔
    دلاور اسکی۔کج بحثی سے تنگ ہونے لگے۔
    ارے ہر دوسری چیز تو یہاں حرام ملتی ہے ٹھیلوں پر میں انکو۔۔
    ٹیں۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکا جملہ گھنٹئ کی آواز میں گم ہوگیا۔
    کون ہے بے صبرا ۔۔
    دونوں اکٹھے جھلائے۔۔
    پاپا کوئی آیا یے۔
    زینت نےبھئ اب آکر بتایا تو انہیں اپنی بحث روکنی پڑی
    پہلے دیکھ لیں کون ہے دروازے پر۔ واعظہ وغیرہ تو اس وقت گھر میں ہی نہیں ہوتیں آپکا کوئی جاننے والا ہوگا۔
    طوبی نے کہا تو وہ سر کھجاتے بڑ بڑاتے دروازے کی جانب بڑھے
    مجھ سے ملنے کون آسکتا یہاں جانتاہی نہیں میں یہاں کسی کو کوئی۔۔۔
    کہتے کہتے دروازہ کھولا تو تیجون جو پھر بیل بجانے والا تھا ایکدم ٹھٹک کر رکا پھر جھک کر بولا
    آننیانگ۔ کیسے ہیں آہجوشی آپ۔
    یہ انکا ہی ملنے والا تھا۔ انہوں نے کھسیا کر مڑ کر دیکھا تو طوبئ اور زینت سینے پر ہاتھ باندھے گھور رہی تھیں انہیں۔
    وہ یہ میں آپکے لیئے لایا تھا۔۔
    اس نے بڑا خوبصورت سا گول سا باکس جس میں چاکلیٹس تھیں انکی جانب بڑھایا
    اسکی کیا ضرورت تھی۔
    وہ خوش ہوگئے تھےچاکلیٹس تو انکی کمزوری تھیں اوپر اوپر سے تکلف کیا۔
    میں آپکا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
    وہ دروازے میں جمے تھے اندر بھی نہیں بلا رہے تھے
    اسلئے۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔ کروم۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سٹپٹا کر مڑنےلگا تھا
    اگر واقعی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہو تویہ چاکلیٹس کافی نہیں کام کرنا ہوگا تمہیں میرا۔
    دلاور گول سی چاکلیٹ کا ریپر اتار کر منہ میں رکھتے ہوئے ڈرامائی انداز میں بولے۔۔
    بسرو چشم۔ وہ انکساری سے جھکا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس میں دونوں کو جگہ نہیں ملی تھی۔ واعظہ ہینڈل پکڑے کھڑی تھی تو فاطمہ اسکے کندھے پر سر رکھے وقفے وقفے سے آہ بھر رہی تھی۔
    ہائے ایک چیز ملتی ہے دوسری کھو جاتی۔۔۔۔
    اتنی مشکل سے جاب ملی تو بیگ زمین کھا گئ کہ آسمان نگل گیا۔
    نا زمین نے کھایا نا آسمان نگل گیا۔ زمین و آسمان کو تمہارے بیگ میں ٹکے کی دلچسپی نہیں ہوگی پکا پتہ ہے مجھے۔ واعظہ چڑی۔
    تمہاری لاپروائی کی وجہ سے کہیں آگے پیچھے ہو گیا ہے مل جائے گا اتنی بڑی کمپنی میں تھوڑی ایسے چیزیں گمتی پھرتی ہیں اور نہ ہی چند ہزار وون اتنی بڑی رقم کہ کورین رال ٹپکائیں چوری کرکے اپنے بد اعمال بڑھائیں۔
    پھر بھی تمہارے پیسے گئے ہوتے تو پوچھتی۔ کل متاع تھی میری یہ۔۔۔
    وہ روہانسی ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔
    اچھا اپنے بل پر کھڑی ہو میرا کندھا مت توڑو۔
    واعظہ نے جھٹکا لگنے پر اسے دور پھینکا تھا تبھی بس اسٹاپ پر رکی تھئ۔
    یونہی اس نے کھڑکی سے دور کا منظر دیکھا ۔ وہ لانگ اسکرٹ میں ملبوس لڑکی تھی جو کافی شاپ سے نکلی تھی اپنی دھن میں مگن کندھے پر بیگ ٹھیک کرتی وہ بس کے مخالف سمت سڑک پر جا رہی تھی۔
    واعظہ۔
    فاطمہ۔۔۔
    دونوں نے اکٹھے اسے دیکھا تھا پھر ایک دوسرے کو۔۔
    بھاگو پکڑو۔
    آہجوشی بس روکیں۔
    دونوں نے لمحہ بھر کا بھی انتظار کیئے بنا شور مچا دیا۔ بس چل پڑنے کے باوجود ڈرائور کو بریک لگانی پڑی۔ دونوں بھاگم بھاگ بس سے اتر کر اس سمت دوڑیں۔ لمحہ بھر میں نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی لڑکی۔ سڑک کے آخری سرے پر چوراہا تھا جس پر دو رویہ ٹریفک بند تھا تو بقیہ دو سڑکوں پر ٹریفک رواں تھا۔ دونوں کی بھاگنے سے سانسیں پھول چکی تھیں۔ وہ لڑکی یقینا کسی کیب میں بیٹھ کر رفو چکر ہو چکی تھی۔
    سانسیں بحال کرتی دونوں تھک کرواپس مڑیں۔۔
    وہ لڑکی انکی نگاہوں کے سامنے کھڑی تھی۔۔
    اسلام و علیکم کیسی ہو دونوں۔۔؟ میرے پیچھے بھاگتی آرہی تھیں نا؟
    اس نے مسکرا کرکہا تو وہ دونوں دیکھ کر رہ گئیں اسے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔۔۔۔

    https://urduz.pk/darwaza-kholain-biwi-ki-awaz-me-koi-aur-makhlooq-pukar-rhi-thi/