قسط 49
امیوزمنٹ پارک میں وہ بچوں کے ساتھ مکمل مگن تھے۔ دونوں بچیاں جھولا جھول رہی تھیں۔ صائم کو گود میں اٹھا رکھا تھا۔ وہ مچل کر گود سے اترنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
انہوں نے اسے اتار دیا ساتھ ہی اسکی کلائی سے ایک بینڈ بھی لگا دیا تھا۔ یہ الیکٹرانک بینڈ تھا۔ دس یا بیس میٹر کے ریڈییس سے بچہ جیسے ہی دور جانے لگتا نا صرف اسکی کلائی پر بزر بجنے لگتا بلکہ ماں باپ کے موبائل پر بھی فوری اطلاع آتی۔ بڑے ملک میں رہنے کے بڑے فائدے۔ طوبی ایک بنچ پر تھک کے آبیٹھی۔ اب یا تو بچوں کے ساتھ جھولے پر بیٹھو یا بچوں کو دور سے دیکھتے رہو۔ اب اگر آج دلاور انکے گرد چکر کاٹ رہے تھے تو وہ کیوں ساتھ خوار ہوتی۔
بچوں نے کاٹن کینڈی کی فرمائش کی تو انکے لیئے لیتے ہوئے وہ بڑ ا سا بھالو بنواکر اسے بھی تھما گئے۔۔
وہ بس دیکھ کر رہ گئ۔
کاٹن کینڈی چبانے والی عمر تو نہ تھی مگر چلو۔اس نے ٹونگنا شروع کردیا۔
ان سے کافی فاصلے پر کالی جینز کالے اپر میں ہڈ سر پر چڑھائے کالے ماسک منہ پر چڑھائے ٹیلی اسکوپ سے انکے اوپر نظر رکھے عشنا اور عزہ اونچی سی سلائڈ کے سرے پر بیٹھی تھیں۔آج مکمل کے ڈرامہ کے ڈیٹیکٹیوز والا حلیہ تھا۔
یار انکی تو بھٹک کے بھی نگاہ بچوں سے ہٹ کر ادھر ادھر نہیں جارہی مجھے لگتا ہے طوبئ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی۔
عزہ منمنائی۔۔
مگر ہمارا آجکا کام ان پر نگاہ رکھنا ہی ہے۔ یہ یقینا بچوں کے بہانے ابھی غائب ہو کر کسی چندی آنکھوں والی سےملنے جائیں گے۔ طوبی کو تودیکھ لو ایک جگہ بٹھا دیا ہے انہوں نے۔
عشنا کا اسٹار پلس والا تجربہ بول رہا تھا۔
ویسے عشنا اگر تمہاری سہیلی کا نام ہے تو تمہارا نام کیا ہے؟ ہمیں بتا تو دو ہم تو ابھی تک تمہیں عشنا ہی کہتے ہیں۔
عزہ نے کہا تو بجائے کیمرے گھومتے وہ رک کر دو گھںٹے گہری سانس لیکر کوئی بڑا انکشاف کرنے والے انداز میں بولتی۔
سر سری انداز۔
مہک۔
مہک ؟عزہ اچھل۔پڑی۔ اتنا پیارا نام ہے یہ تو۔۔
مگر مجھے اس نام سے پکارنا نہ کبھی۔ عشنا ہی ٹھیک ہے۔
اس بار اسکا انداز قطعی تھا۔
عزہ کیوں کہتے کہتے رک گئ
اچھا تم واقعی لی من ہو کی فین تو ہو نا؟ اسکی فین میٹنگ میں سچ مچ گئ تھیں نا؟
ہاں۔ عشنا کا جواب مختصر تھا۔
ایک بس یہی کام کیا پچھلے پانچ سال سے کوریا میں رہتے ہوئے جس نے مجھے دل سے خوش کیا تھا۔
وہ اتنا دھیرے سے بولی تھی کہ عزہ اس سے جڑ کر نہ بیٹھی ہوتئ تو سن بھی نا پاتی۔
تم پانچ سال سے ہو۔ عزہ اپنی حیرت چھپا نا سکی
اور یہاں نا کوئی جاب نا پڑھائی کر کیا رہی ہو تم اور رہائش تک تو تھی نہیں واپس انڈیا کیوں نہیں چلی گئیں تم؟
عزہ کو اس پر غصہ بھی آرہا تھا۔
عشنا کے منہ پر مسک ہونے کی وجہ سے اسکے تاثرات تو نظر نہ آئے مگر اسکا جواب دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا یہ ضرور سمجھ آگیا۔
حد ہے۔ وہ منہ ہی منہ میں بڑ بڑا کر رہ گئ۔
دوبارہ ٹیلی اسکوپ آنکھوں سے لگا لی۔ دلاور تھک کے صائم کو لیکر طوبی کے برابر بنچ پر آبیٹھے تھے بچیاں کچھ فاصلے پر جھولوں میں مگن تھیں۔
تھک بھی نہیں رہیں کب سے گول گول گھوم رہا یہ جھولا میرے دیکھ دیکھ کر سر میں درد ہوگیا۔
عزہ نے خاموشی توڑی
ٹیلی اسکوپ نیچے کی تو سامنے دس بارہ سال تک کے کئی بچے بڑے ذوق و شوق سے انہیں سر اٹھا کر دیکھتے نظر آئے۔۔ اسکی ٹیلی اسکوپ گھومتے دیکھ کر انہیں شائد اندازہ ہوا کہ انہیں ہی دیکھا جا رہا سو اچھل اچھل کر خوب شو مچا جانے کیا نعرے لگانے لگے۔ ان سے اچھے خاصے فاصلے پر ہونے کے باوجود بھی انکی بےہنگم چیخ و پکار انکی سماعتوں کی نظر ہو رہی تھی۔
وہ تھوڑی دیر دیکھتی رہی پھر انہیں ہاتھ ہلا دیا۔ انکا شور تھوڑا اور بلند ہوا
کیا کر رہی ہو۔
عشنا کو بھی دلچسپی ہوئی۔ وہ بھی اپنی ٹیلی اسکوپ گھمانے لگی
وہ دیکھو بچے خوش ہو رہے ہمیں دیکھ کر۔ عزہ نے بتایا
بچے خوش نہیں حیران ہو رہے اور کچھ بڑے بھی۔
عشنا نے گھمایا تو انکو کئی جوڑے راہ چلتے پارک میں گھومتے لوگ انہیں سر اٹھا اٹھا کر دیکھتے نظر آئے
یہ سب ہمیں کیوں گھور رہے۔ عزہ چونکی
آج تو ہم برقعہ یا عبایا بھی پہن کر نہیں آئے ہیں۔
کیونکہ اٹھائیس ڈگری میں اس لوہے کے پنجر پر دو پگلوٹ دھوپ سینکتی بیٹھی نظر آرہی ہیں انہیں۔۔ عشنا نے اسکی حیرت کم کرنی چاہی۔۔
اسکی بات پر عزہ نے دوبارہ دور بین میں دیکھا
سب ہی شارٹس اسکرٹ منی اسکرٹ میں ملبوس گرمی منا رہے تھے ان میں ہم یقینا خلائی مخلوق ہی لگ رہی ہوں گی انہیں۔عشنا کی وضاحت یقینا درست تھی
ہاں تو ہم میں نہیں اتنی گرمی بھری ہوئی۔ ہاں دھوپ تھوڑی چبھ تو رہی ہے۔ مگر گرمی والی دھوپ تو نہیں۔
عزہ نے خفت مٹانی چاہی۔
دفع کر ہم جو کام کرنے آئے ہیں وہ کریں۔ اس نے کہہ کر طوبی کی جانب رخ کیا۔
دونوں میاں بیوی انہیں ہی دیکھ رہے تھے طوبی نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا تو بری طرح بوکھلا کر عزہ کےہاتھ سے ٹیلی اسکوپ چھٹ سی گئئ۔ جلدی سے اس نے سنبھالنا چاہا تو ٹیلی اسکوپ تو ہاتھ میں آگئ مگر وہ خود سلائیڈ پر آگے کھسک آئی تھی۔نتیجتا پھسلی عشنا نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا مگر وہ پھسلتی گئ اسکے اپر کا ہڈ مٹھی میں آگیا۔ یوں ساتھ ہی عشنا بھی اسکےپیچھے پیچھے ہی آئی۔ فضا میں کچھ چیخیں ابھریں اور دونوں کی گھاس پر کریش لینڈنگ بڑے اہتمام سے ہوئی۔ طوبی اور دلاور بھاگے بھاگے آئے تھے
…………………………………۔۔۔۔۔۔۔
وہ پورا بھالو بور ہو کراکٹھے مروڑ کر منہ میں رکھ رہی تھی جب دلاور کی نگاہ اس پر پڑی۔ فورا صائم کو گود میں اٹھا کر اسکے پاس چلے آئے
بھوک لگ گئ؟ کیا کھائوں گئ۔پاکستانی یا کورین؟
مجھ سے نہیں سوپ سے چاول کھائے جاتے۔ کم ازکم گاڑھا سالن جیسا تو ہو پانی جیسا سوپ ابلے چاولوں کے ساتھ لا رکھتے ہیں اس سے بہتر بندہ گھر میں ڈھیلی سی کھچڑی بنا کر چٹنی سے کھالے۔
طوبی کا جواب حسب توقع تھا وہ مسکرا دیئے۔
چلو پھر کسی پاکستانی ریستوران چلتے ہیں۔ بچوں کو ایکوریم کسی اور دن لے جائیں گے فی الحال تمہارا چیک اپ ضروری ہے۔ میں نے اپائنٹمنٹ لے لیا ہے لیڈی ڈاکٹر سے۔
کیوں ؟ مجھے کیا ہوا۔۔ وہ حیران ہوگئ۔
اللہ نہ کرے تمہیں کچھ ہو۔ وہ اتنا بے ساختہ بولے کہ طوبی کی آنکھیں سجل علی کی آنکھیں لگنے لگیں۔
صبح ابکائی آرہی تھی نا کھانا وانا کھانا مشکل نہ وہ خوب پیٹ بھر کر کھاسکو کوئی اچھی سی دوا ہی لکھوا لیں گے۔ یہاں کے ڈاکٹرز بہت قابل ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے دلیل دی۔
ہوں۔ طوبی سر ہلا کر رہ گئ
پھر خیال آیا تو پوچھنے لگی۔
ہم عشنا عزہ کو بھی ساتھ لے چلیں ؟
انکو ؟ دلاور چونکے۔
انکو بلائوگی انکو آنے میں بھی وقت لگے گا۔۔ ہم پھر کسی دن
وہ رہیں۔اس نے اشارہ کیا دلاو ربھی چونک کر مڑے۔ وہ اب ہاتھ ہلا رہی تھی عزہ کو عزہ انکے ہاتھ ہلانے پر چونکی تھی اور۔۔۔۔
……………………….۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا مقام تھا وہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی تھی۔۔ ایک تو پہلے بڑے ہونے کے بعد تو شائد پہلی بار پھسلن سیڑھی کی سیڑھیاں چڑھی تھیں دوسرا اتنی لمبی سلائیڈ تو اسکے خاندان میں کسی نے نا لی ہوگی یہ جھولا ہی کوریا میں لگا تھا۔ دو منٹ کیا اسے تو لگا تھا دو گھنٹے لگ گئے اسے پھسل کر نیچے آتے۔ابھئ گر کر حواس قابو بھئ نہ آئے تھے کہ عشنا بھی اس پر آن گری۔
اسکے برعکس وہ سرعت سے اٹھ کراسے ہلا نے لگی۔ اس نے بس اتنا رحم کیا عشنا پر کہ ٹانگیں سمیٹیں اور گھٹنوں میں منہ دے کر بیٹھ گئ۔
کیا ہوا چوٹ تو نہیں لگی۔ طوبی بھاگی بھاگی آئی تھی۔
دلاور طوبی کے پیچھے۔
آہستہ بھاگو مت۔گر نا جانا کہتے آرہے تھے
عزہ نے فیصلہ کیا تھا اب قیامت تک سر نہ اٹھائے گی مگر عشنا نے اسکا انجر پنجر ہلا دیا۔۔
میں ڈاکٹر کو فون کرتی ہوں۔
یہ عشنا تھی
ارے یہاں کلینک ہوگانا۔ اتنے جھولے ہیں ایمرجنسی سروس ہوتی یے امیوزمنٹ پارک کی میں بلاتا ہوں۔
آں۔ عزہ کو سر اٹھانا ہڑا
سلائیڈ لی ہے بس ۔سلائڈز اسی لیئے تو ہوتے ہیں۔بس تھوڑی اونچی ذیادہ تھی۔ٹھیک ہوں میں۔
عزہ جزباتی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ بالکل ٹھیک۔ اس نے کھڑے ہو کر چل کر بھی دکھانا چاہا۔ مگر ساری پھرتی دھری کی دھری رہ گئ۔ سیدھا واپس نیچے آنے لگی کہ عشنا نے بروقت تھام لیا۔

………..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریسیپشن پر کھڑی نرس نے انہیں سمجھانا چاہا تھا
دیکھیں ایک وقت میں بس ایک بندہ جائے۔ اپائنٹمںٹ مسز دلاور کا ہے صرف وہ جائیں
آپ نے اپنے نام سے اپائنٹمنت لیا ہوا تھا۔
عشنا مڑی۔
مجھے بھی دکھانا ہے صبح سے متلی سی ہورہی ہے۔
طوبی نے خالص اردو میں عزہ کو تھامے ہوئے بتایا
مگر انکو ایمرجنسی نظر نہیں آرہی پائوں مڑ گیا بچی کھڑی تک نہیں ہو پارہی انکی چھےس سونگیو نہیں مک رہی چھڈو جی۔
طوبئ کو۔غصہ آگیا۔
چھے سونگیو دے۔ نرس نے جھک کر متانت سے کہنا چاہا
عشنا نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا۔
طوبئ نے عزہ کو دیکھا اسکا پائوں پھول کے کپا ہوچکا تھا۔
اس نے آئو دیکھا نا تائو ڈاکٹرنی کے کمرے کا گلاس ڈور کھولا غڑاپ سے اندر۔۔
نرس ابھی انکی پھرتی پر حیران بھی نہ ہوئی تھی صحیح طرح کہ عشنا نے بھئ کمال کر ڈالا دبلی پتلی عزہ کی کمر میں بازو ڈالا سارا بوجھ خود پر لیتے ہوئے غڑاپ سے اندر۔
ڈاکٹرنی انہیں دیکھ کر پہلے حیران پھر پریشان بھی ہوگئ۔۔۔۔ اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ دونوں ہاتھ ہینڈز اپ کر لیئے
ڈاکا پڑ گیا یقینا اسے یہی خیال آیا تھا۔ شکل پر۔لکھا تھا۔
وہ اسکا جھولے سے گر کر پائوں مڑ گیا ہے۔ دیکھیں۔ طوبی سے پہلے عشنا نے شستہ ہنگل جھاڑی۔
پائوں ؟
ڈاکٹرنئ نے تھوک نگلا۔ پھر اپنی میز پر رکھا نیم کارڈ درست کیا۔
پر میں تو گائنا کولوجسٹ ہوں۔ اگلی حیران تھئ۔
گھبرا کے اندر بھاگی آئی نرس اپنی صفائی دینے لگ گئ
وہ میں نے روکا تھا انہیں۔۔
ڈاکٹرنئ نے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔
عشنا نے عزہ کو صوفے پر بٹھا دیا تھا۔
کین چھنا کین چھنا۔
ڈاکٹرنئ نے نرس کو اشارے سے اطمیناں دلاتے عزہ کا پائوں دیکھنا شروع کیا۔
گائنا کالوجسٹ ہے یہ تو طوبی جی ہمیں کہاں لے آئی ہیں۔ عزہ منمنائی۔
طوبئ آرام سے بیٹھ کر اسکی ڈگریوں کی تفصیل والا نیم کارڈ اٹھا کے پڑھنے لگی یہ الگ بات کہ سب ہنگل میں لکھا تھا۔
ہوتی تو یہ بھی پوری ڈاکٹرہیں۔ فکر نہ کرو۔
عشنا نے تسلی دی۔

…………………………۔۔۔۔۔۔۔
نرس نے اسکے پائوں میں دوا لگا کر پٹی باندھ دی تھی۔۔دو ایک۔بار ذرا غور سے اس نے دیکھا تو عزہ نے گہری سانس لیکر اپنا ماسک نیچے کردیا۔۔۔۔ اندر انسانوں والی شکل دیکھ کر اسے تھوڑا اطمینان ہوا۔
عشنا طوبی کے ساتھ ساتھ لگی تھی ڈاکٹر کی مترجم بنی ہوئی۔طوبی کو خاصا سہارا ہوا۔۔ پھر جب وہ اسے لیکر چیک اپ کیلئے جانے لگی تو ڈاکٹر نے باقائدہ ہاتھ سے روکا
بس ٹھیک ہے آپ باہر بیٹھیں۔
وہ سر کھجاتی عزہ کے پاس آبیٹھئ
انکا پائوں بری طرح مڑ گیا ہے مجھے ڈر ہے اندر سے مسل نہ پھٹ گیا ہو سوجن بہت ذیادہ ہے۔ پائوں کی حرکت بھی درست نہیں شائد پلستر کرنا پڑ جائے ہڈی کو ہلکی ضرب لگی ہے۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے۔ آپ۔کسی اچھے سے فزیشن کو دکھائیں میں نے سن کرنے والا اسپرے کر دیا ہے گھنٹے دو گھنٹے تک آرام رہے گا تب تک آپ اپائنٹمنٹ لے لیں۔
نرس نے عشنا کو بتایا وہ سر ہلا کے رہ گئ۔ نرس جھک۔جھک کر سلام کرتی باہر۔نکل گئ
یار قسم سے کوریا تو بہت اچھا ہے مجھے لگا تھا پکی موچ آگئ ایک دو ہفتے لگیں گے اب مجھے لنگڑا کے چلتے۔۔ اس نے تو میرا درد بالکل غائب کردیا جیسے مجھے چوٹ لگی ہی نہیں۔ عزہ خوش تھی۔
اب طوبی اور دلاور کو کیا کہوں کہ اسپتال بھی چلیں؟ ہم نے انکا سارا فیملی ٹائم برباد کردیا بے چاروں نے ریستوران جانا تھا ۔ گھر چلتے ہیں ہلدی چونا مل دیں گے رات گزر جائے گی عروج دیکھ لے گی کیا مسلئہ ہے۔
سوچتے سوچتے اسے یہی حل۔مناسب لگا
طوبی اندر جاتے وقت تو ٹھیک تھی اب تو لگتا تھا جیسے اب گری کہ تب ڈاکٹر کے سہارے آتے دیکھ کر وہ دونوں گھبرا گئیں
کیا ہوا طوبی جی؟ مارا ہے کیا انہوں نے ؟
عزہ نے یہ بات ہرگز مزاق میں نہیں کی تھی۔
خوش ہونا چاہیئے خون کے آنسو رورہا ہے دل ہائے۔۔ عزہ مجھے پانی پلائو۔ میرے دل کو پنکھے لگے ہیں۔
طوبی دھپ سے اسکے برابر آن بیٹھی۔
سن پائوں کے ساتھ عزہ جھٹ اٹھئ تھی سامنے واٹر ڈسپنسر سے پانی لینے مگر جب کھڑی ہوئی تو ہفت اقلیم گھوم سے گئے۔پائوں نے وزن تو اٹھایا ہی نہیں چکرا کر جھٹ سے بیٹھ گئ
کیا ہوا طوبی جی۔
طوبی ساکت سی بیٹھئ زمین گھوررہی تھی۔
کیا ہوا کیا بتایا ہے آپ نے؟ عشنا مڑ کر ڈاکٹر سے ہی پوچھنے لگئ
یہی کہ خوشی کی خبر ہے آپ ماں بننے والی ہیں۔
ڈاکٹرنئ مسکرا کر بتا رہی تھئ۔
کیا میں؟
عشنا کا دماغ ترجمے میں لگا تھا۔
اچھل پڑی۔ڈاکٹرنئ اس سے بھی ذیادہ زور سے اچھلی
نہیں نہیں۔۔ یہ۔ اس نے اس بار اشارہ بھی کیا
ہیں۔۔ عزہ اور عشنا گھوم کر طوبی کو دیکھنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
طوبی اور عشنا عزہ کو سہارا دیکر ٹیکسی سے اتار رہی تھیں۔دلاور کا بس نہیں تھا عزہ کو پنگ پانگ بال۔کی طرح اوپر اچھال کر اپارٹمنٹ میں پہنچا دیں۔
آہ ہائے۔ ہر قدم پر عزہ کی ہائے نکل رہی تھی ایک جانب سے عشنا نے سارا وزن لیا تھا تو دوسری جانب طوبی کا مضبوط سہارا۔۔
طوبی آرام سے۔ احتیاط سے۔۔
صائم کو گود میں لیئے دلاور کی سب فکریں طوبی سے جڑی تھیں
دلاور چوٹ مجھے نہیں عزہ کو لگی ہے
طوبی نے دانت کچکچا کر گھورا۔
ابھی تو انکو پتہ نہیں کہ طوبی جی کے آہ۔
عزہ بولنے سے باز نہ آئی سرگوشی کردی عشنا کو تبھی عشنا بےدھیان ہوئئ
کم بخت کوریا والے بھی دو نمبر دوا بنانے لگے ہیں لگتا ہے
کھیل کے میدان میں تو اسپرے کرتے تو کھلاڑی دوڑتے پھرتے اسکا آدھے گھنٹے میں سارا اثر ختم ہوگیا۔
طوبی بڑبڑا رہی تھی
طوبی آگے اسٹیپ ہے۔
دلاور نے پھرٹوک ڈالا
آپ لفٹ تو روک لیں جاکر اسے انتظار نہ کرنا پڑے
طوبئ نے انکو چلتا پھرتا کردیا
وہ گہری سآنس بھرتے رفتار بڑھا گئے۔
زینت اور گڑیا بھاگ بھاگ کے انکے آگے گلاس ڈور کھلوا رہی تھیں ۔۔
لفٹ سےنکل کر دلاور تو اپنے اپارٹمنٹ چلے گئے طوبی کے پیچھے دونوں بچیاں بھی انکے اپارٹمنٹ چلی آئیں۔
فاطمہ اور عروج لائونج میں فلم دیکھ رہی تھیں انہیں دیکھ کر بھاگئ آئیں جیسے ہی عزہ کو سہارا دیا طوبی اور عشنا جھٹ سے منے صوفے پر آن گریں۔۔عشنا نے اپنا موبائل نکال کر وقت دیکھا تو ساڑھے دس ہو رہے تھے۔۔
کیا ہوا عزہ ؟ واعظہ نے پوچھا تو وہ روہانسی ہوگئ۔
مجھے بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ فاطمہ اور عروج اسکا وزن سہارے کھڑی تھیں عشنا کو ہی کھسک کر زمین پر آنا پڑا۔ کارپٹ پر بیٹھئ زینت موبائل میں کوئی گیم کھیل رہی تھی گڑیا کی توجہ البتہ ٹی وی کی جانب تھی۔ ہیرو ہیروئن قریب آرہے تھے فاطمہ نے جھپٹ کر ریموٹ اٹھایا اور کارٹون لگا دیئے۔
بد مزا ہو کر گڑیا نے اسے دیکھا وہ بےنیاز سی بن گئ۔
عزہ کویڈجسٹ کرا کر واعظہ پانی لینے دوڑ گئ
کیا ہوا کیاہوا؟ عروج نے دو درجن بار پوچھ لیا اتنی دیر میں۔
اس نے سلائیڈ لی تو پائوں مڑ گیا۔
عشنا نے بتایا تو عروج حیران ہو کر مڑی
کیوں بھئی کیا شوق چڑھا تمہیں؟
کیوں بھئ کیاغلط کر ڈالا میں نے وہ بڑوں کیلئے ہی سلائیڈ تھی۔ یہاں کی اتنی بڑی بڑی لڑکیاں بھاگتی دوڑتی جھولے جھولتی پھرتی ہیں بس پاکستانی لڑکیوں کیلئے حرام ہو جاتا بڑے ہو کر سب کچھ۔
عزہ نے ایسے بلبلا کر کہا کہ عروج کو لگا وہ اسکی سخت گیر پھپھو ہے جس نے باتیں بنا بنا کر عزہ کی ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ کندھے اچکا کر بولی
مجھے کیا میری طرف سے جائو سی سا پر جا بیٹھو زینت اور گڑیا دونوں کو بٹھا لینا ساتھ اور پھر بھی اڑ جانا
اس نے اسکی دبلی پتلی جسامت کو نشانہ بنایا تو وہ تڑپ گئ۔
بچوں کو کیوں تمہیں بٹھائوں گی اتنا اونچا اڑوں گی کہ سیدھا چاند پر جا کے رکوں گئ۔
عروج بے چاری موٹی تو نہیں تھی مگر کسی کو دبلا کہو تو وہ آگے سے آپکو موٹا بنا ہی دیتا
میں اپنے ساتھ واعظہ کو بٹھا لوں گی سیدھا مریخ کا رخ کرلینا۔
وہ کیوں باز آتی۔
ارے۔ واعظہ بھنا گئ۔ پہلے ہی دو ایک مہینے سے اسے لگ رہا تھا وزن تھوڑا بڑھ گیا ہے۔
مجھے کیوں بیچ میں لا رہی ہو تم دونوں جائو کائنات کی سیر پر میں زمین میں ہی خوش ہو۔
نہیں تو یہ ۔۔ عزہ نے کہنا چاہا طوبی نے برداشت جواب دے گئ
اف بس کرو یہ بحث میرا سر پھٹ رہا پہلے ہی میں بہت پریشان ہوں۔
اسکے تڑپ کر کہنے پر ایکدم سب خاموش ہوگئیں
اتنی دیر سے ضبط کیئے بیٹھی طوبی نے چہکوں پہکوں رونا شروع کردیا۔
امی کیا ہوا۔ زینت موبائل پھینک کر ماں سے لپٹ گئ
زینت بھی پریشان ہو کر اٹھ آئی۔ طوبی نے دونوں کو ساتھ لگالیا
طوبی جی بچے پریشان ہو رہے ۔۔۔
واعظہ پانی کا گلاس طوبی کیلئے بڑھاتئ منمنائی۔
تم دونوں کیا سر پر سوار ہوگئ ہو جائو باپ کا دماغ کھائو آرہی ہوں میں آدھے گھنٹے میں۔
طوبی کے بھئ دل کو لگی بات جھٹ دونوں کو جھٹکے سے الگ کرکے آنسو پونچھے۔ ۔
واعظہ اور فاطمہ نے زینت اور گڑیا کو اپنے ساتھ لگالیا
مما نیند آرہی ہے۔ زینت بسوری۔۔
تو میں کیا کروں اتنی بڑی ہوگئ ہو جائو سوئو ۔۔
طوبی نے لہجہ سخت دل پتھر کر لیا
آپ دونوں جائو گھر مما ابھی آتی ہیں بس دو منٹ میں
فاطمہ نے بہلا پھسلا کر دونوں کو بھیجنا چاہا۔ماں سے ڈری ہوئی دونوں سر ہلاتی جانے لگیں
موبائل تو لے جائو پاپا کا۔ عشنا نے یاد دلایا تو زینت بھاگی آئی اور موبائل کارپٹ سے اٹھا کر گڑیا کا ہاتھ پکڑ کر چلی گئ۔
اب رو لوں۔
انکے جانے کے بعد طوبی نے منہ لٹکا کر اتنی معصومیت سے پوچھا کہ وہ سب نثار ہوگئیں۔
عزہ نےاپنا درد بھول کر گلے میں بانہیں ڈال لیں۔ فاطمہ بھی صوفے کے ہتھے پر آٹکی۔ واعظہ نے گلاس آگے بڑھانا چاہا مگر وہ کارپٹ کو گھورتے ہوئے یاسیت سے کہہ رہی تھی
میں سوچ بھئ نہیں سکتی تھی کہ میرے ساتھ ایسا ہوگا۔
عزہ نے سر سہلایا
کوئی بات نہیں طوبی جو ہوتا اچھا ہوتا کیا ایک نیا پھول کھلنے والا ہے آپکے آنگن میں۔
دلاور جو گل کھلا رہے اسکے بعد تو مجھے اس پھول کی او رفکر ہورہی ہے۔ اس چڑیل کے کہنے پر دلاور نے چھوڑ دیا مجھے تو میں چاروں بچوں کو لیکر کہاں جائوں گی۔
طوبی نے بین کرنا چاہا
ویسے طوبی یہ خوش ہونے والی بات ہے آپ رو رو کر ناشکری نہ کریں۔
عشنا نے کہا تو عروج فاطمہ اور واعظہ نے گھور کر دیکھا
انکی زندگی میں سوتن آرہی ہےاور تم کہہ رہی ہو خوش ہونے والی بات ہے
فاطمہ نے کہا
تو اور کیا طوبی کیا پتہ نئی آنے والی خوشی کا سوچ کر دلاوربھائئ بھی باز آجائیں۔۔
تو اور کیا آپ طعنہ دیا کریئے گا تین تین بیٹیوں کے باپ ہو کر بھی باہر چکر چلا رہے۔ شرم کریں ۔
عزہ نے آستین چڑھائی۔
تین بیٹیاں؟ فاطمہ کا انداز سوالیہ تھا
ویسے میں بیٹا اور بیٹی میں فرق کرتی نہیں مگر صائم کا بھی جوڑی دار آجائے تو اچھی بات ہے نا۔
ویسے دو بیٹیوں کے بعد بیٹا ہوتا ہے دادی کہتی تھیں مگر پھر ہماری بھئ بہن ہوگئ تھی پھر۔
عشنا نے معلومات میں اضافہ۔کیا
چلو۔جو بھی ہو۔ طوبی جھینپ سی گئ
میری عقل گھاس چرنے چلی گئ ہے یا تمہیں بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا؟
عروج واعظہ کے کان میں گھسی
فاطمہ بھئ سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی واعظہ کو۔۔جس نے اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑائے
تو کیا آپ اسلیئے رو رہی ہیں کہ آپکے یہاں پھر خوشخبری ہے۔ ؟
اس نے اندازہ لگا یا تھا مگر طوبی خفا ہی ہوگئ۔۔
آنسو پونچھ کر بگڑ کر بولی
لو میں اس بات پر کیوں روئوں گی ؟ یہ تو خوشی کی بات ہے۔ میں ابھی ساس کو بھی فون کر تی ہوں بلکہ پہلے امی کو کرتی ہوں کیا ٹائم ہو رہا ہوگا اس وقت پاکستان میں۔ وہ عزہ سے کہہ رہی تھی۔جوابا وہ کیلکولیٹ کرنے لگی
پل میں تولہ پل میں ماشہ یقینا طوبی کیلئے محاورہ بنایا گیا تھا۔اس وقت شرماتی خوشی سے اچھلتی طوبی کے ابھی بھی پلکوں پر آنسو دھرے تھے
چوتھے بچے کی خبرپر بھی اتنی خوشی ہوتی ہے؟
فاطمہ دھیرے سے اٹھ کر انکے پاس آبیٹھی اور سرگوشی میں کہا
جبھئ تو ہم اٹھارہ انیس کروڑ ہوچکے ہیں۔
عروج بھئ بڑبڑائئ۔
واعظہ نے ایک نظرعشنا عزہ اور طوبی کو دیکھا پھر گلاس بھر کر پانی خود ہی پی لیا۔ پھر دھیرے سے بولی
الف کہاں ہے؟
آرہی ہوگی آج ریڈیو جانے کا کہہ کر گئ تھئ۔ عروج نے بتایا تھا۔ تبھئ کارپٹ پر پڑے فون کی جل بجھ کرتی روشنی نے فاطمہ کی توجہ کھینچ لی اس نے فون اٹھایا تو کال آرہی تھی۔۔اس نے نام پڑھا پھر سب کی نظروں میں آئے بنا چپکے سے اٹھ گئ۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھیرے دھیرے سرجھکائے چلتی ہوئی بس اسٹاپ پر آبیٹھی۔ تھوڑی دیر قبل کا منظر ذہن میں تازہ ہوا تھا۔
ای جی آ کا انٹرویو شیڈول میں ہےتم اس سے پہلے استعفی نہیں دےسکتی ہو۔ اور اب تو جاکے ریٹنگ آنا شروع ہوئی ہے یہ کونسا وقت ہے سب چھوڑ بیٹھنے کا؟ لڑکی سچ بتائو کسی اور جگہ نوکری لگ گئ یے؟میں پیسے بڑھا دیتا ہوں مگر یہ واحد انگریزی زبان کا شو ہے ہمیں چین جاپان چھوڑ امریکہ تک سے لوگ سننے لگے ہیں ہم وہاں کے ایک ریڈیو چینل۔سے بھی تعاون کر رہے ہیں تمہیں اندازہ ہےیہ تمہارے کیرئیر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے پھابو۔
اسکے پروڈیوسر صاحب کی بس اپنے بال نوچنے کی کسر رہ گئ تھی باقی ہر حربہ آزما لیا تھا وہ ٹھس سی کھڑی دیکھتی رہی۔
مجھ سے اب شو نہیں ہو پارہا۔
وہ دھیمے لہجے میں بڑ بڑائی تھی۔
وہی تو پوچھ رہا ہوں ۔ مجھے یقین نہیں آتا تم وہی لڑکی ہو میں پہلے سے ذیادہ محنت کروں گئ ریٹنگ 9 آئے گی اس ہفتے دیکھئے گا اس دفعہ یہ موضوع رکھیں ایکسو کو بلائیں کیا کچھ آئیڈیاز ہوتے تھے تمہارے پاس اب کیا ہوگیا ہے۔ اور سیہون تو تمہارا سب سے ذیادہ پسندیدہ تھا نا ؟ اس نے اتنی مشکل۔سے ژیہانگ کے کہنے پر وقت نکالا ہے ہم پروموشن کر رہے انٹرنیشنل فینز انتظار کررہے ہیں اس شو کا۔ پہلے ژیہانگ چھوڑ گیا اب تم استعفی لا کر رکھ رہی۔ہو کیوں میری روزی پر لات مارنے پر تلی ہو لڑکی۔۔
پہلی ڈانٹ سے اب تک ہر موقعے پر پہلے سے ذیادہ دل لگا کر کام کرنے کے دعوے کرنے والی جی جان لڑا دوں گی والی الف کہیں جیسے کھو سی گئ تھی۔ ابھی بھی ٹھس سی کھڑی سر جھکائے سنتی رہی
میں نہیں جانتا سیہون کا انٹرویو تو تمہیں ہی لینا پڑے گا اسکے بعد دیکھیں گے۔ تب تک تم۔بھی اچھی طرح سوچ لو۔
وہ مزید کہتے کہتے رک کر بات ختم کرگئے۔
آج کیا تاریخ ہے؟
اس نے سامنے کلنڈر پر نگاہ ڈالتے آہستہ سے پوچھا تھا۔
بس آ کر رکی تھی۔ کافی دیر سے بس کے انتظار میں کھڑے لوگ لپک کے چڑھے تھے۔ اسے بھئ اسی بس میں چڑھنا تھا مگر سب کو تیزی سے بڑھتے دیکھ کر بھی وہ اٹھی نہ تھی۔
چندی آنکھوں والے لوگ بس میں بیٹھے تھے اور بس چل پڑی تھئ۔
بیس دن رہ گئے۔ اس نے گہری سانس لیکر سرنشست کی پشت سے ٹکا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طوبئ کو کیسے پتہ چلا کہ تم دونوں بھی وہیں پارک میں موجود ہو انہوں نے پوچھا نہیں؟ پیچھا کرتے تو نہیں دیکھ لیا تھا۔
عروج سوال پرسوال داغ رہی تھی۔
نہیں انہیں کیا پتہ کہ ہم انکا پیچھا کر رہے تھے وہ تو یہی سمجھیں کہ ہم بھی پارک گئے ہوئے ہیں۔۔
عزہ منمنائی۔
پھر بھی وہ منہ پر ماسک ہونے کے باوجود کیسے پہچان گئں۔۔؟
عروج کے سوال میں دم تھا۔
طوبی جی جاتے ہوئے ہمیں رات کا بھنا ہوا مرغ دے کر گئ تھیں کہ آج انکا پروگرام باہر کھانا کھانے کا ہے۔ اس وقت میں او رعشنا بس تیار ہو کر نکلنے ہی لگے تھے۔۔
عزہ نے بتاتے ہوئے سر جھکا لیا۔
عروج جو اسکا پائوں ٹھونک بجا کے دیکھ رہی تھی ایکدم سے سیدھا کر گئ
آہہہہہہہ۔ عزہ کی چیخ ہی نکل گئ
یہ بنیں گی جاسوس پتہ لگائیں گی اس چڑیل کا جو طوبی کا گھر برباد کر رہی ہے۔
عروج نے فضیحتے کرنے والے انداز میں کہا تھا۔وہ سب واعظہ کے کمرے میں محفل۔لگا کے بیٹھی کارکردگی سنا رہی تھیں۔ واعظہ منہ تک کمبل تانے لیٹی تھی جبکہ عروج ڈبل بیڈ پر عزہ کے بنا چاقو چھری آپریشن میں مصروف تھی عشنا ان سب کیلیے چائے بنانے گئ ہوئی تھی الف اپنے کمرے میں بند تھئ۔
ہائے عروج مار ڈالا قصائی نہ ہو تو۔
عزہ پیر پکڑے دہری ہورہی تھئ۔
موچ تھئ سیدھی اسکو سیدھا کیئے بنا جتنا مرضی اوپر سے پٹیاں باندھ لو کوئی فرق نہیں پڑنا۔اب ہلدی دودھ پیئو سو جائو۔۔
عروج سیدھی ہو کر بیٹھتے ہوئے مزے سے بولی
تبھئ عشنا ٹرے میں کپ سجائے اندر داخل ہوئی تو عزہ کو یاد آیا۔
کل صبح مجھے اپنے ساتھ لے جائو ایکسرے کروائو پتہ نہیں کیا کیا بتایا تھا ڈاکٹر نے عشنا کو۔۔۔
ہاں کہہ رہی تھئ کہ ایکسرے کروائو سوجن بہت ہے ہڈی کو ضرب بھی آئی ہے۔ اور شائد مسل بھئ پھٹ گیا ہے
اس نے عروج کے سامنے ٹرے کی۔اس نے کپ اٹھایا عزہ کے سامنے چائے کی تو وہ اسے گھورنے لگ گئ
ہڈی میں ضرب مسل پھٹ گیا تم مجھے گھر لے آئیں۔۔
اسکا صدمے سے برا حال تھا۔ عشنا نے نظرچرا کر فاطمہ کی۔جانب ٹرے کردی
فاطمہ موبائل میں مگن تھئ۔مگر کپ اٹھا لیا عشنا دوبارہ عزہ کی۔جانب مڑئ
چائے تو لے لو پائوں میں موچ ہے ہاتھ سلامت ہے
اس نے یاد دلاتے ہوئے ٹرےاسکے اور عروج کے بیچ بیڈ پر رکھی اور سہولت سے واعظہ کے بیڈ پر اسی کے اوپر بیٹھ گئئ ۔۔ کمبل میں فوری تحریک ہوئئ تھی
عزہ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگی اتنی ناقدری
دیکھو مانا میں تم لوگوں کیلئے اہم نہیں مگر اپنے گھروالوں کی چشم و چراغ ہوں مجھے یوں بجھائو تو نہیں۔۔ اتنا ظلم کیا میرے ساتھ کیا بگاڑا تھا میں نے۔ وہ پھٹ ہی تو پڑئ۔
اسکو میں کہتی رہی کہ مجھے اسپتال لے جائو واپس لے آئی کہ عروج دیکھ لےگی۔ میں معزور ہوگئ نا تو تم سب پر ۔۔ سوچ میں پڑی فورا یاد آیا۔۔۔۔۔۔ س سسو کر دوں گئ۔
کیا۔عروج و فاطمہ اچھلیں۔
کیوں بھئ اس میں سوسو کرنے کی کیا بات ہے۔
عروج شدید حیران تھئ۔
ہاں تو کیا سوسو کرنے سے پائوں جڑ تھوڑی جائے گا۔
فاطمہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائئ۔
اف سو سو نہیں سو کروں گئ ؟ عزہ جھلا گئ۔
وہ بھی کیوں کروگی؟ ایک تو بنا فیس لیئے پائوں دیکھا تمہارا۔ ویسے پائوں تمہارے صاف تو تھے نا۔
عروج نے چھیڑا تو جوابا عزہ نے اسکی گود میں ہی رکھ دیے
دیکھ لو تسلی کرلو۔
یار یہ کمبل میں کیا پڑا ہوا ؟عشنا نے کمبل سمیٹ کر ٹیک لگا کر بیٹھنا چاہا
واعظہ دبی ہے اس میں۔
واعظہ نے کمبل سے منہ نکال کر گھورا
سوری۔ عشنا سیدھی ہوئئ۔۔
یہ چائے لے لو واعظہ ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ فاطمہ نے ٹرے میں اکلوتا بے آسرا کپ دیکھ کر یاد کرایا
میں نے تو چائے نہیں بنوائئ تھی۔ واعظہ نے کہا تو عروج بڑبڑائئ۔
اچھا کیا۔
یہ الف کی ہے میں نے جا کر اسے دی تو بگڑ گئ کہ یہ کونسا وقت ہے چائے کا۔ حالانکہ میری یادداشت میں ایسی بہت سی راتیں ہیں جن میں تین بجے اٹھ کر اس نے چائے بنا کر پی اور پھر سوگئ۔
اسکی رواں اردو عروج اور فاطمہ تو الگ کمبل سے واعظہ نے منہ نکال کر اسکی شکل دیکھی
عزہ کا منہ کھلا کا کھلارہ گیا تھا۔
تھیبا۔
تمہاری اردو بہت اچھی ہے۔ عروج نے طنز کیا تھا
میری امی لکھنئو کی ہیں۔وہ تو شاعر بھی ہیں۔
عشنا نے فخریہ بتایا۔
فاطمہ نے واعظہ کو واعظہ نے عروج کو عروج نے عزہ کو عزہ نے کندھے اچکا کر فاطمہ کو دیکھا عشنا چائے کا گھونٹ بھرنے میں مگن تھی۔ فاطمہ نے واعظہ کو دیکھا جس کی پیشانی پر شکن پڑ چکی تھئ۔
کیا ہوا سب چپ کیوں ہو گئے۔
عشنا نے حیران ہو کر پوچھا۔
کچھ نہیں۔ وہ ہم سوچ رہے کہ طوبی جی کا مسلئہ کیسے حل کریں۔ جاسوسی تو فلاپ ہوگئ ہماری۔ سارا دن طوبی کے ساتھ ہی گزارا یے دلاور بھائی نے۔
عزہ نے مایوسی سے چائے ایک اور گھونٹ بھرا پھر کپ ٹرے میں رکھ دیا

تم سے بہتر تو میں ہو اس پوری پلاننگ میں شریک ہونے بنا بھی اہم خبر چرا لائی۔
یہ فاطمہ اترا رہی تھی۔
کیا خبر ہے ؟ عروج نے کڑے تیور سے گھورا۔
اس لڑکی کا نام روزلین ہے جو طوبی جی کی نیندیں اڑائے ہے۔
فاطمہ نے کہہ کر خوب اترا کر دیکھا۔
تمہیں کیسے پتہ۔ چلا۔
عروج اور عزہ چلائیں۔ اسے واعظہ کے ردعمل کا انتظار تھا اس نے بس اتنا احسان کیا کہ تکیہ اونچا کر کے بازو کے بل پر ہو کر اسے گھورنے لگی مطلب تھا مزید بتائو۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار عزہ اورعشنا کو بھیج تو دیا ہمیں بھی کچھ کرنا چاہیئے۔
یہ عروج تھی۔ ان دونوں کےکمرے میں کھڑی کمر پر ہاتھ رکھ کر جمائیاں لیتے دیکھ کر جوش دلانے کی ناکام کوشش کرتئ۔
ہاں صحیح کہہ رہی ہو سوجانا چاہیئے ۔ واعظہ نے کمبل تان لیا تھا۔
عروج نے فاطمہ کو دیکھا جو اپنے بیڈ پر بیٹھی کمبل کا سرا ہی ڈھونڈ رہی تھی۔
اچھا۔ وہ بھی متفق ہوگئ۔ آکر فاطمہ کے برابر ہی کمبل میں گھس گئ۔
………………………………………………….

اتنا بے موقع فالتو بےکار فلیش بیک دکھانے کا مقصد۔
عشنا نے گھور کر انہیں دیکھا۔
ہم دونوں باہر دھوپ میں خوار ہو رہے اور تم لوگ سوتی رہی ہو سارا دن
عزہ کو بھی غصہ آیا۔
وہی میں حیران ہوں یہ میرے ساتھ سوتی رہی ہے تو اس کو خواب میں آئی یے روزلین؟
عروج بھی گھورنے لگی
فاطمہ نے مسکرا کر ان سب کے متجسس چہروں پر نگاہ ڈالی ہھر سیدھی ہو بیٹھی۔
یہ فون ہے دلاور بھائی کا۔زینت شائد بھول کر چلی گئی۔ اس کا اتنی دیر سے میں پوسٹ مارٹم کر رہی تھی بیٹھی ہوئی سب کھنگال ڈالا ہے یہ تک بھی کہ روزلین سے انکے تعلقات کی نوعیت کیا ہے۔
وہ بے تحاشہ سنجیدگی سے کہہ رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بچی سے کیا تفتیش کر رہے خود خیال رکھنا چاہیئے تھا آپکو۔ طوبی جمائی لے رہی تھی۔زینت اپنے بیڈ پر سرجھکائے بیٹھی تھئ گڑیا لیٹ چکی تھی اس پر۔کمبل درست کرتی طوبی جھلائی۔ دلاور ہونٹ بھینچ کر رہ گئے
پتہ نہیں کس کا فون اٹھا لائی ہےاس کا تو لاک بھی نہیں کھل رہا کہ میں کال۔لاگ دیکھ کر مالک سے رابطہ کرلوں۔
بابا میں نے باہر کسی کا نہیں اٹھایا۔ زینت منمنائی۔
ہاں تو اور کیا میرے بچوں کو ادھر ادھر سے چیزیں اٹھانے کی عادت نہیں یقینا یہ واعظہ کے گھر میں سے کسی کا ہوگا۔ صبح پتہ کرلوں گئ۔آپکا بھی وہیں کہیں پڑا ہوگا اب بچی کو ڈانٹنا بند کریں پریشان ہو رہی ہے۔
طوبی کے کہنے پر انہوں نے سر جھٹکا تو زینت پر نگاہ پڑی ہونٹ لٹکائے وہ مجرم سی بنی بیٹھئ تھی۔۔
چلو۔سو جائو۔
انہوں نے پیار سے اسکے سر پر تھپکی دی تو وہ مطمئن ہو کر مسکرا کر لیٹ گئ۔
کمرے کی لائٹ وغیرہ بند کرکے وہ دونوں آگے پیچھے اپنے کمرے میں داخل۔ہوئے۔ صائم کاٹ میں کسمسا رہا تھا اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے تھپکا۔ کاٹ بیڈ سے جوڑا ہوا تھا وہ اسی کے سرہانے لیٹا کرتی تھی سو ابھی بھی فورا نیم دراز ہو کر تھپکنے لگی۔ دلاور اپنے بیڈ سائیڈ پر موبائل رکھنےلگے
ڈاکٹر نے کیا بتایا سب ٹھیک ہے ؟ کیوں طبیعت خراب تھی؟
انہیں خیال آیا۔ تو مڑ کر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
طوبی نے صائم پر نگاہیں جما لیں۔
بس تھوڑی معدے میں تکلیف تھئ۔بس کوئی بڑا مسلئہ نہیں۔۔
اچھا۔۔۔ دلاور کو اچنبھا سا ہوا۔
اور کچھ میرا مطلب ہے۔۔۔۔ وہ رکے۔۔
پورا مکمل چیک اپ کروایا ہے نا؟
پورا چیک اپ کرکے ہی بتایا ہے ۔۔ طوبی کروٹ بدل کر انہیں بغور دیکھتے ہوئے بولی۔
اچھا۔ چلو اچھی بات ہے۔۔ میں سمجھا۔۔۔خیر۔
انہوں نے کچھ کہنا چاہا مگر پھر ٹال گئے۔
آپکو۔کیا۔لگا تھا مجھے کوئی بیماری لگ گئ ہے ؟
طوبی کا انداز اور لہجہ دونوں تیز اور عجیب تھے۔
وہ چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد ۔۔۔
جاری ہے۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *