قسط 47
ٹیکسی سے اتر کر جیسے ہی اس نے دروازہ بند کیا اسکا شٹل کاک برقعہ دروازے میں بند ہوگیا۔ اسے پتہ بھی نہ چلا ۔عزہ کے پیچھے خراماں خراماں چلتے جب اسکی طرح آگے بڑھ ہی نہ سکی ۔ ایک بار کوشش۔ دوسری بار ذرا زور لگایا تو سر پر سے شٹل کاک برقعے کی ٹوپی کھنچی۔ خیال آیا کوئی لفنگا برقعہ کھینچ رہا ہے بھنا کرمڑی تو دیکھا۔شکر تھا ڈرائیور انکو مشکوک نظروں سے دیکھنے میں مگن تھا۔اسکو گھورنے کی کوشش کی دروازہ کھول کر برقعہ نکالا وہ ٹس سے مس نہ ہوا یاد آیا شٹل کاک میں آنکھیں کہاں نظر آتی ہین اس نے کھسیا ہٹ جھلا کر اتارنی چاہیئے۔
کیا ہے شرم نہیں آتی پہلی دفعہ برقعے میں خواتین دیکھی ہیں۔
طوبی نے اردو میں جھاڑا۔ خراماں خراماں چلتی عزہ کو جب فٹ پاتھ سے گزرتے ایک ایک انسان نے گھور کر دیکھا تو طوبی کا ہاتھ پکڑنا چاہا۔
طوبی جی سب کچھ ذیادہ نہیں گھور رہے۔۔ جملہ منہ میں تھا آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا اچھے خاصے فاصلے پر طوبی ٹیکسی ڈرائور پر چلا رہی تھی۔
گھورنا بند کرو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھے۔
طوبی جی۔
عزہ بھاگ کر پاس آئی۔
گاڑی کی کھڑکی سے ڈرائئونگ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ہی جتنا منہ نکال سکتا تھا ڈرائورنکال کر تڑیاں لگا رہا تھا ہنگل میں۔
مجھے ہلکا مت لینا خالص گائے بھینس کا دودھ پیا کرتی تھی ایک تھپڑ لگائوں گئ گردن گھوم جائے گئ۔
طوبی کی تڑی۔ ڈرائیور کی گٹ پٹ۔
طوبی جی چلیں اسکو کونسا سمجھ آرہی آپ کیا کہہ رہی ہیں۔
عزہ بازو سےپکڑ کر کھینچتے کان میں منمنائی۔
اوہ ہاں۔ طوبی کو بھی خیال آیا۔سو اب ترجمہ کرکے بولی
I will slap you on your cheek and then your neck will wander towards your back understand

عزہ یہاں وانڈر ہی آئے گا کہ کچھ اور۔
طوبی کو اپنی انگریزی پر شک سا گزرا۔
جانے دیں اسے سمجھ ومجھ انگریزی بھی نہیں آرہی ہوگی۔
عزہ نے سمجھایا تو طوبی نے غور سے لال بھبوکا چہرہ لیئے مستقل چلاتے ڈرائور کو دیکھا۔ پھر مایوسئ سے سر ہلا کر بولی۔
سمجھ تو اسکی بھی نہیں آرہی مجھے۔
………………………………۔
فٹ پاتھ سے احاطے تک کتنی ہی دفعہ عزہ کے برقعے کو طوبی نے اپنے پائوں کے نیچے دیا ایکبار تو عزہ سر کے بل پیچھے ہوئی اسی پرآرہی۔ اسے سنبھال کر کھڑا کیا۔
اب ہم درمیان میں فاصلہ کرکے چلتے ہیں۔ عزہ نے مشورہ دیا تو اسکے دل کو لگا۔ مگر اس بار خود اپنے ہی برقعے میں الجھ کر منہ کے بل۔گرتے گرتے بچی۔
عزہ نے سہارا دیا۔
آپ تھوڑا سا نیچے سے اٹھا لیں نا برقعہ بار بار الجھ رہی ہیں۔
مشورے میں دم تھا مگر طوبی کی اپنی مجبوری۔۔
میری جوتی نظر آجائے گی کپڑے نظر آجائیں گے فورا پہچان لیں گے دلاور ۔
اب وہ کھڑکی میں کھڑے تھوڑی باہر جھانک رہے ہوں گے۔
عزہ نے اسکی عقل کا ماتم کیا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔
کھڑکی کی بلائنڈز نئیچے کرتے یونہی ذرا کی ذرا اسکی سامنے سڑک پر نگاہ پڑی پھر جم۔گئ۔ اس چندی آنکھوں والے کی آنکھیں پھٹ سی گئیں۔
کم چھاگیا۔ یہ کیا چیز ہے۔
دور سے لڑھکتے پڑھکتے آتےخیمے دیکھ کر وہ جتنا حیران ہوا جیسے بولا۔ میٹنگ میں بیٹھے تینوں چاروں انجینئر چونکے۔وہ جو پراجیکٹر پر پڑنے والی لائٹ کا سدباب کرنے کھڑکی بند کرنے آیا تھا بری طرح بد حواس ہو کر نیچے اشارہ کرنے لگا۔
وہ دیکھو پتہ نہیں کیا ہے ادھر آرہا۔ خیمہ خود اڑتا آرہا۔
اسکی آدھی ادھوری بات سن کر دلاور چونکہ سب سے قریب تھے کھڑکی کے فورا اٹھ کر اسکے پاس آئے
کیا ہے وہ۔
اوہ یہ۔ دلاور نے اطمینان کی سانس لی۔
یہ برقعہ ہوتا اسےپاکستان میں ہم شٹل کاک برقعہ کہتے ہیں۔اسے مسلمان خواتین اوڑھ کر یا پہن کر پھرتی ہے گھر سے باہر جانا ہو تو۔
دلاور نے بتانا چاہا تو تجسس میں باقی دونوں انجینئر بھی اٹھ آئے باہر جھانکنے۔
یہ تو بہت عجیب چیز ہے۔
اس میں سے دیکھتی کیسے ہیں خواتین۔
یہ تو خطرناک بھی ہے۔ دیکھو انہیں نظر نہیں آرہا۔ یہ تو ظلم ہے
ان میں سے ایک چلتےچلتےگرنے کوتھی تو اس چندی آنکھوں والے کو ترس آگیا۔
سانس کیسے لے رہی ہیں یہ۔ مرد بھی پہنتے ایسا کچھ؟
انکے سوال بے شمار تھے۔
نہیں اتنا مشکل بھی نہیں اس میں اوپر کروشیہ کا کام ہوتا تو سوراخ میں سے دیکھ بھی لیتی ہیں سانس بھی لیتی ہیں ۔مگر یہ صرف خواتین کا پہناوا ہے مرد نہیں پہنتے۔
دلاور کی وضاحت پر ان تینوں نے اتنی متاسفانہ نگاہوں سے گھورا کہ وہ سٹپٹا سے گئے۔
تم پاکستانی ابھی تک خواتین کا استحصال کرتے ہو؟
نہیں۔ ہم وہ۔ مگر ۔
دلاور سے جواب نہ بن پڑا۔۔
…………………..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو بڑے بڑے کالے خیمے جب اس مشہور کنسٹرکشن کمپنی کے احاطے میں داخل ہوئے تو پورے اسٹاف میں کھلبلی سی مچ گئ۔ سیکیوریٹی گارڈ نے ہڑبڑا کر اپنی پستول ٹھیک کی۔ تو اندر سے باہر آتی وہ منی اسکرٹ میں ملبوس آہجومہ گھبرا کر واپس پلٹ گئیں۔۔۔ صفائی کرتا وہ ملازم اپنا پوچھا چھوڑ کر الٹے قدموں واپس باتھ روم کی جانب دوڑا تو ان دونوں خیموں کے اوپری حصے پر سجے گلوب گھوم کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
یہ سب ہمیں خلائی مخلوق سمجھ رہے ہیں طوبی جی۔
عزہ منمنائی۔
گھبرائو مت انکی خیر ہے جو مرضئ سمجھیں مگر آج ہم اپنا کام کرکے ہی جائیں گے۔ اسکے برعکس طوبی بااعتماد تھی۔ اسکا ہاتھ تھام کر سیدھا ریسیپشن کی جانب بڑھی۔
ریسیشن پر کھڑی وہ نازک اندام چندی آنکھوں والی حسینہ جو انٹرکام کان سے لگا کر غالبا سیکیوریٹی کو ہی بلانے لگی تھی انکو دیکھ کر یوں ساکت ہوئی کہ ریسیور چھٹ گیا ہاتھ سے۔ ایک قدم پیچھے ہی ہوگئ۔ یوں لگ رہا تھا کہ اب گری کہ تب گری۔
معاف کیجئے گا۔
عزہ نے گلا کھنکار کر اپنی آدھی پونی ہنگل جھاڑ دی۔
اس ریسیپشنسٹ کی آنکھیں یکا یک سجل علی کی آنکھیں لگنے لگیں اتنی پھٹ سی گئیں۔خیموں میں سے انسانی آواز۔
دے؟
یہ تو ڈر ڈر کر مر جائے گئ۔ کہا تھا طوبی جی آپکو کہ یہاں کوریا میں شٹل کاک برقعہ پہن کر پھرنا حماقت ہے۔ اسکو پکا لگ رہا ہوگا کہ ہم یہاں پھٹ جائیں گے۔
عزہ نے کہا تو طوبی جھلا کر مڑی
ایویں پھٹ جائیں گے۔ طوبی بگڑی
اوراحمق عبایا میں آتے تو دلاور فورا پہچان جاتے۔ اور عبایا میں آنکھیں بھی تو نظر آتی ہیں۔ ان چندی آنکھوں والوں میں دور سے پہچانے جاتے میرے بھینس کے دیدے
طوبی کی بات میں دم تھا۔ انکی گفتگو کے درمیان وہ چندی آنکھوں والی تھر تھر کانپتے دوبارہ کہیں کال ملا چکی تھی۔
طوبی نے گلا کھنکار کر کڑکدار آواز میں کہا تھا۔
بات سنیں۔
رعب دار آواز۔ وہ پھر ریسیور چھوڑ بیٹھی۔۔
اس کمپنی کو ہر مہینے دو تین نئے فون سیٹ خرید کر دینے پڑتےہوں گے اسے۔
عزہ نے تاسف سے کہا تھا
وہ ہمیں کچھ معلومات چاہیئے۔
طوبی نے آگے ہو کر شٹل کاک برقعہ اونچا کرکے شکل دکھائی تو اگلی کی جان میں جان آئی۔

…………………………………………………۔۔
وہ بے خبر سو رہی تھی جب اسکا فون بجتا چلا گیا ۔۔ آواز دور سے آرہی تھی نیند بھی گہری تھی۔ اسے اٹھنے میں کسمساتے وقت لگ گیا جبھی فون بج بج کر بند ہوگیا۔
انگڑائی لیکر نیند بھگاتی وہ سستی سے اتر کر سامنے کارنس تک آئی موبائل چارجنگ پر لگا تھا اسے نکال کر وقت دیکھا تو شام کے ساڑھے چھےہو رہےتھے۔
وہ مسڈ کال دیکھتی سستی سے باہرنکل آئی۔
سیونگ رو۔
اس نے گہری سانس لی۔
………………………………………………..
لونگ روم میں صوفے پر شاہانہ انداز میں منی اسکرٹ پہن کر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی وہ لڑکی اپنے شہد رنگ بالوں کو ادا سے جھٹک کر مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔
یہ ہیں مشہور آئیڈل اسٹار سونگ ایجیا اور ایجیا یہ ہیں فا تی ماشی۔( فاطمہ صاحبہ ) یہ آپکو عربی مکالمے یاد کروانے میں مدد کریں گی اور یہ ہے کھاوا یہ بھی آپکی مدد کیلئے ہی یہاں ہوں گے۔ فاطمہ کو ہنگل ابھی نہیں آتی مگر انگریزی سمجھ سکتی ہیں۔ جبکہ کھاوا انگریزی عربی ہنگل سب جانتے آپ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیجئے۔ ایک دوسرے کا خیال کیجئے۔
ہدایت کار صاحب نے رواں ہنگل اور دو چار موٹے موٹے انگریزی کے لفظ بولے تھے جس سے کچھ کچھ انکا ماضی الضمیر سمجھ آہی گیا تھا

فاطمہ نے ایک نظر ہدایت کار کو دیکھا پھر اس چندی آنکھوں والی ہیروئن کو پھر مڑ کر اپنے کولیگ کو دیکھنا چاہا جو بڑے مزے سے آننیانگ کہہ کر جھک جھک کر اس گوری چندی آنکھوں والی حسینہ کو سلام کر رہا تھا۔جس نے صوفے کا کشن اٹھا کر اپنی ٹانگوں پر رکھ لیا تھا۔
آئی بڑی شرم ہی ماری اتنی شرم آرہی تو کپڑے ہی پہن لیتئ۔ اوپر سے ادائیں۔۔ فاطمہ نے دانت پیسے۔ وہ لڑکا تو یوں جھک جھک کر باتیں کر رہا تھا جیسے بچپن کی سہیلی ہے۔ جبکہ فاطمہ کو تو ذرا نقوش مانوس نہ لگے۔

سیلیبریٹی تو دور اسے وہ لڑکی بھی نہیں لگ رہی تھی۔ لی من کی کو لڑکی بنا دو تو تو بھی وہ اپنےمردانہ نقوش کے باوجود اس لڑکی سے ذیادہ لڑکی لگے۔۔اس نے سر جھٹکا۔
یہ کونسے کورین سیلیبریٹیز ہیں۔ جنکو کبھی ٹی وی پر دیکھا بھی نہیں۔
فاطمہ کو شدید مایوسی ہوئی تھی مل کے۔ بڑ بڑائے بنا نہ رہ سکی۔
اسکے ہمراہ کھڑے اس نے بمشکل مسکراہٹ روکی۔
انجان شکل دو چار ڈرامے تو وہ بھی ہفتے میں آنے والے دیکھ ہی لیتی تھی مگر بالکل انجان شکل تھی یہ لڑکی تو۔
پوتھاک اور آگے ناجانے کونسا سمنبدا۔
جھک کر وہ چندئ آنکھوں والی اسی سے مخاطب تھی وہ بٹر بٹر دیکھتی رہی۔
میرا خیال رکھئے گا۔ وہ لڑکا سرگوشی کر رہا تھا۔
کیوں بھئ؟ میں پھپھی لگتئ ہوں تمہاری اپنا خیال خود رکھنا۔
فاطمہ تو بری طرح جل گئ۔۔
انکا تو بہت صاف لہجہ ہے۔
چندی آنکھوں والئ کی آنکھیں کھل سی گئیں ڈائرکٹر صاحب اپنے انتخاب پر پھولے نہ سمائے البتہ وہ لڑکا کھسیا کر سر کھجانے لگا۔۔
اس لڑکی نے آپکو یہ کہا ہے جوابا آپ بھی یہی جملہ دہرائیں۔
سٹپٹا کر وہ کان میں منمنایا۔
آہ۔ اچھا
فاطمہ کے دماغ کی بتی جل گئ۔ منڈیا ہلانے لگی
پوتھاک اور جو بھی آگے ہے سمنبدا۔
اس نے لٹھ مار انداز میں کہا تھا۔ البتہ جھک جھک کر سلام کردیا تھا۔
یہ ڈائلاگز تیار کر لیں آپ لوگ آدھے گھنٹےمیں آپ لوگوں کا سین ہوگا۔
ڈائرکٹرصاحب ہنگل جھاڑ کر چلتے بنے اسی لڑکے نے دہرایا اردو میں۔
اچھا اب میں چلتا ہوں مجھے عربی اداکاروں کو اسنیکس لا کر دینے ہیں۔ چلتا ہوں۔
وہ لڑکا بتا کر چند لمحے رکا تھا غالبا اسکا ردعمل دیکھنے کو مگر فاطمہ انکے ہاتھ سے اسکرپٹ پکڑتے ہوئے ہی صدمے شدید کیفیت میں تھی۔ دیکھا ہی نہیں۔ ہدایت کار اور وہ لڑکا آگے پیچھے نکل گئے تو وہ سر پر اسکرپٹ مارتی اس لڑکی کے سامنے رکھی کرسی پرڈھیر سی ہوگئ۔
پہلے میں پڑھ لوں۔ آپ تھوڑا انتظار کر لیں۔
فاطمہ کے انگریزی میں کہنے پر اس لڑکی کی ساری بے نیازی رخصت ہوگئ سنبھل کر بیٹھ گئ۔اتنی انگریزی بھل بھل کرتی اگل دی فاطمہ نے۔۔۔ جبکہ فاطمہ پڑھنے کی کوشش میں چکرا سی گئ۔
ہنگل اور عربی دونوں کے الفاظ ناچتے ہوئے آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔
مجھے ایک لفظ سمجھ نہیں آرہا پڑھوں کیا سمجھائوں کیا۔ واعظہ کی۔بچی جھوٹ بول کر میں نوکری حاصل کر سکتی ہوں جاری نہیں رکھ سکتی۔ نا عربی آتئ نہ یہ گٹ پٹ خاک پتھریاد کروائوں مکالمے۔
روہانسی سی ہو کر وہ بولی تو چندی آنکھوں والی اشتیاق سسے تھوڑا نزدیک آکر بولی
ڈھونت بی کوئ ایک اٹش ہارد تو لن ٹھو شون ٹھارائی ٹھو شے لےت۔
Dont be quick its hard to learn too soon۔ try to say late .
اس نے اپنی انگریزی جھاڑ کر رعب ڈالنا چاہا تھا شائد۔
late
ایک تو لہجہ پھر انگریزی فاطمہ بے ساختہ درستگی کرتے کرتے رک گئ۔
شے اگئن۔
وہ اب آنکھیں پٹپٹا رہی تھی۔
اتنا بڑا پراجیکٹ ہے ان سے یہ بات چھپائی نہیں جا سکے گی کہ میں عربی نہیں اردو بول رہی سب سے بڑھ کر اس مومی مردانہ شکل کی گڑیا کو عربی مکالمے یاد کیسے کروائوں گی۔ مجھے ابھی اسی وقت جا کے سب بتا دینا چاہیئے۔
اسے دیکھتے ہوئے اس نے فورا فیصلہ کیا تھا اسکرپٹ بند کرتے اٹھ کھڑی ہوئی۔
آپ انتظار کیجئےمیں ذرا ہدایت کار صاحب سے مل کرآتی ہوں۔۔
وہ اسے بتاتی تیزی سے مڑی تھی۔ جھٹ پٹ بھاگ کے دروازہ کھولا تو وہ ہلکا سا بھڑا ہوا تھا اور اس سے کان لگائے کھڑ ا وہ لڑکا اسکے باہر نکلنے سے پہلے اندر آنے لگا تھا۔سنبھل کر سیدھا ہوا
فاطمہ گھور کر رہ گئ۔ اسکے سنبھلنے پر ایک جانب ہو کر آگے بڑھ جانا چاہا تو اسکی آواز نے قدم روک دیئے۔
اگرآپ چاہیں تو یہ بات ہدایت کار صاحب سے چھپائی جا سکتی ہے۔
اسکی بات پر وہ مڑ کر گھورنے لگی تھی۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔
وہ دونوں بنانا ملک کے گلاس لیکر اس سنسان پارک میں بنچ پر بیٹھی تھیں۔ جھٹپٹے کا وقت ہو چلا تھا مگر طوبئ سوں سوں کرکے روئے جا رہی تھی۔
شٹل کاک برقعے کے پیچھے سے سوں سوں کی آواز بس سنائی دے رہی تھی۔
طوبی یہ برقعہ تو ہٹائیں۔۔
ادھر ادھر دیکھ کر کسی نا محرم کی غیر موجودگی کا یقین کرکے اس نے پہلے اپنا برقعہ اوپر کیا پھر طوبی سے منت بھرے انداز میں کہنے لگی۔
ہرگز نہیں۔ میرا رو رو کے سارا اسموکی آئیز والا میک اپ خراب ہو چکا ہوگا میں تمہیں نہیں دکھا سکتی اپنا چہرہ۔
ناک سڑک کر خاصی پاٹ دار مگر بھرائی آواز میں جواب آیا۔
اسموکی آئیز والا میک اپ؟ عزہ بھونچکا رہ گئ
آپ شٹل کاک برقعے کے نیچے اسموکی آئیز والا میک اپ کر کے آئی ہیں۔ ؟؟؟ تھیبا۔ وہ دنگ رہ گئ تھی
کیوں بھلا۔۔
کیوں کیا مطلب۔؟ طوبئ نے بھڑک اٹھی۔
اس گوری چندی آنکھوں والی پچھل پیری کو اگر میں آج ملتی تو برقع ہٹا کر دکھاتی کہ جس ذرا سی توند والے سانولے لمبے چوڑے دلاور پر ڈورے ڈال رہی ہے اسکی نا صرف ایک عدد جوان بیوی ہے بلکہ وہ بہت خوبصورت بھی ہے۔
اس نے کہتے کہتے جزباتی ہوکر برقعہ بھی اٹھا لیا۔ عزہ کا اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا تھا۔ طوبی نے
دھڑلے سے سر ہلاکر جتانے والے انداز میں کہا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ آدھے گھنٹے سے چہکوں پہکوں رونے کہ وجہ سے اسموکی آئی میک اپ گالوں تک آچکا تھا گالوں پر جو ہائی لائٹر اور بلشر تھا وہ پھیل کر اس آئی میک اپ کے ساتھ مکس کھچڑی بن چکا تھا گہرے عنابی اور لال مکس کرکے لگائی لپ اسٹک تھوڑی تک آرہی تھی۔
آنکھیں پھاڑ کر طوبی ٹھیک ٹھاک بھیانک لگ رہی تھی۔
جج جی۔ عزہ نے دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالا۔
بے شک طوبی جی آپ اس لڑکی بلکہ خرانٹ عورت سے کہیں جوان اور حسین ہیں۔ مگر مغرب ہو رہی آپ رونے کی بجائے دعا کیجئے کہ دلاور بھائی راہ راست پر آجائیں۔
عزہ نے کہتے ہوئے نا محسوس سے انداز میں اسکا برقعہ نیچے کردیا۔
ہوں۔۔ طوبی کو بھی بات دل کو لگی۔عزہ اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرنےلگی۔
برقعے کے اندرہی دونوں ہاتھ پھیلا کر ہل ہل کر دعا کرنے لگی۔۔
جب تک عزہ نے گلاس خالی کیا طوبی کا دل بھی سنبھل چکا تھا
اس نے برقعے کے اندر ہی طوبی کا گلاس بڑھا دیا
ویسے طوبی جی آپکو یقین ہے میرا مطلب ہے غلط فہمی بھی تو ہو سکتی ہے۔ مانا دلاور بھائی کے موبائل میں بس اس لڑکی۔
طوبی کی برقعے میں ہی گردن جھٹکے سے عزہ کی جانب مڑی تو اسے تصحیح کرنی پڑی۔
میرا مطلب ہے اس عورت کی ہی تصویر تھی اور اس نے پہن بھی اسکرٹ رکھی تھی مگر اکیلی تصویر تھی مطلب دلاور بھائی ساتھ نہیں تھے تو ہو سکتا وہ انکی کوئی کولیگ ہو۔ کام کے سلسلے میں رابطہ ہو ا ہو۔ عزہ نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا مگر طوبی جزباتی ہو کر گلاس بنچ پر پٹخ کر اسکی جانب مڑ گئ
دیکھا نا ابھئ ہم دلاور کے دفتر میں ہی پتہ کرکے آئے ہیں
وہ لڑکی اس دفتر میں کام تک نہیں کرتی۔ میری چھٹی حس صحیح بتا رہی تھی۔۔ پچیس منٹ بات کی ہے انہوں نے پرسوں اس سے۔ کوئی میسج نہیں کیا ہوگا کیا کبھی؟ مگر سب چیٹ صاف کی ہوئی ہے۔ واٹس ایپ کاکائو موبائل ہر میسنجر دیکھا صرف ایک میسج ملا۔
اچھا میں ملنے کا وقت اور جگہ آپکو بتاتا ہوں۔
اب بتائو اسکا کیا مطلب بنا؟ یقینا فون پر بات کرکے وقت اور جگہ بتائی ہوگی اور گئے بھی ہوں گےملنے۔
طوبی کو بولتے بولتے پھر رونا آگیا
اچھا طوبی آپ روئیں تو نہیں۔
عزہ نے تڑپ کر کندھے سے لگا لیا طوبی کا سر۔
میں ہوں نا۔ بلکہ ہم ہیں نا ۔۔ ہم سب بہنیں پتہ لگائیں گی کہ آخر دلاور بھائی کیا گل کھلا رہے۔ تسلی دیتے عزہ کا خیمہ بھی ڈھلک آیا۔ عین اسی وقت انکے سر پر لیمپ پوسٹ آن ہوا تھا۔ چمکدار روشنی میں دو کالے خیمے گتھم گتھا
دور سے خراماں خراماں چل کر آتی اپنے دھیان میں موبائل سے سر اٹھاتے ہی وہ چندی آنکھوں والی لڑکی بری طرح خوفزدہ ہو کر ایک قدم پیچھے ہوئی۔
کم چاگیا۔
غیر مانوس آواز پر دونوں خیمے الگ ہوئے اسے ڈرا سہما دیکھ کر طوبی نے اپنا برقعہ ہٹا کر چہرہ دکھا دیا
کیم چھنا یوجاز ہیئر۔
طوبی اپنی مرضی کا ہی ترجمہ۔کرتی تھی ہنگل کا یوجا کو یوجاز کہہ کر اس نے جمع بتانے کی کوشش کی تھی۔
( سب ٹھیک ہے یہاں لڑکیاں ہیں )
اس چندی آنکھوں والی لڑکی کی آنکھیں پہلے پھیلیں پھر اوپر چڑھیں اور وہ چکرا کر انکے قدموں میں ڈھیر ہوگئ
حد ہے۔ دیکھ لو جھٹپٹے کے وقت ایسے ادھورے کپڑے پہن کر گھومیں گی تو یوں ہی چکرا چکرا کر گرتی پھریں گی۔
طوبی نے سر پیٹ لیا۔ لیمپ کی روشنی میں گوری پنڈلیاں چمک رہی تھیں۔
ہوں۔ عزہ نے سر ہلایا۔
ہمیں تو امئ چھت پر بھی جانے نہیں دیتی تھیں۔
دونوں کوریا کی لڑکیوں پر افسوس کرتی اسے اٹھانے اٹھ گئیں۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بس سے اتر کر پیدل مارچ کرتی جب گلی میں داخل ہونے کیلئے مڑنے لگی تو سڑک پار واعظہ اسے اس بڑے سے کنوئنئنس اسٹور کے باہر میز کرسی پر بیٹھی سینڈوچ کافی اڑاتی دکھائی دی۔
وہ احتیاط سے سڑک پار کرتی بھاگ کے اسکے پاس چلی آئی۔ پھر شرارت سوجھی تو کندھے ہلا کر ڈرا بھی دیا
بھائو۔
ڈرنا تو کیا تھا اس نے کافی کا گھونٹ بھرنے لگی تھی زبان اور ہونٹ جل گئے۔ وہ دیکھ کر رہ گئ۔ البتہ فاطمہ اپنی شرارت پر ہنستی ہوئی اسکے مقابل آبیٹھی۔ اسکے سامنے سے آدھا سینڈوچ بھی اڑا لیا۔
پتہ ہے کیا ہوا آج۔ انداز اشتیاق بھرا تھا۔
ہوں اندازہ ہے۔۔
واعظہ نے سر ہلایا پھر میز پر سے ایک کاغذ اٹھا کر اسکی۔جانب بڑھا دیا۔
اس کنوینئینس اسٹور کو پارٹ ٹائمر درکار ہےاپلائی کردو ۔
کیوں بھلا۔ فاطمہ چہکی۔ جبکہ میری نوکری مستقل ہوچکی ہے۔ٹی سی این کے دفتر میں اسسٹنٹ اسٹاف کے طور پر۔ پتہ نہیں ہنگل میں کیا بڑ بڑا رہے تھے مگر یہ دیکھو
اس نے گلے میں پڑا ٹیگ کارڈ دکھایا
انکو تو انگریزی بھی نہیں آتی اب اسسٹنٹ اسٹاف میمبر کیا بلا بنا ؟
وہ سوچ میں پڑی تو واعظہ اچھل پڑی۔
کیا ؟ تم ریزائن دے کر نہیں آئیں؟
نہیں ۔ فاطمہ نے شان بے نیازی سے سینڈوچ منہ میں بھرا۔
بلکہ آج میرے کام سے سب خوش بھی ہوئی۔
اس نے اپنے کندھے پر فلیش بیک چلا۔کر دکھایا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔
پورے سیٹ پرہوکا عالم تھا۔بادشاہ اور اسکے وزیر کے مکالمے چل رہے تھے۔ دونوں ہنگل میں گٹ پٹ کر رہے تھے کیمروں کا فوکس اسٹاف میمبران سب کے سب وہیں متوجہ تھے تو سیٹ سے ذرا ہٹ کر ہال کمرے کے اس حصے میں خوب رونق تھی۔ عربی اور کوریائئ اداکار سرگوشیوں میں فرمائشیں کر رہے تھے۔
عبداللہ کو قہوہ یاد آرہا تھا تو ایجیا کو آئسڈ امیریکانو۔
سر ہلا ہلا کر اب فرمائشیں نوٹ کرکے اس لڑکے نے میسج ٹائپ کیا تھا۔
دس منٹ بعد بوتل کے جن کی طرح دو چار بڑے بڑے شاپر اٹھائے فاطمہ تیز تیز قدم اٹھاتی بھاگئ آئی۔
عربئ فنکاروں کیلئے شوارما اور چاول تھے تو کورینز کیلئے بلیک بین نوڈلز اور پورک اسٹیک۔
اس نے لا کر ابھی ایک کونے میں میز پر ڈھیر کیا ہی تھا کہ میسج بیپ بجی۔ اسے الٹےپیر ڈرنکس لینے دوڑ جانا پڑا۔
اس لمبے چوڑے گوری رنگت والے خالص عربی نقوش کے ساتھ وہ بڑا سا ہنبق پہنے الجھتا عربی اسکے قہوے کا گلاس بڑھانے پر خوب خوش ہو کر شکرا شکرا کہہ رہا تھا۔
لال ہنبق میں بیر بہوٹی بنی وہ عربی لڑکی گھومئ تو ہنبق پورا اسکے بغیر ہی گھوم گیا۔ فاطمہ نے ایکدم سے آگے بڑھ کر اس انہونی کو ہونے سے روکا تھا۔
عربی عبائے میں ملبوس وہ ایجیا اپنے عبائے کو سمیٹے بنا کرسی پر دھپ سے بیٹھ گئ۔ اس نے آگے بڑھ کر اسکے لباس کا گھیرا سمیٹا اور اسکو آئیسڈ امیریکانو پیش کی۔
ایک۔کونےمیں ٹھاٹھ سے کرسی پرٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا وہ لڑکا مزے سے موبائل استعمال کرتے ہوئے فریش جوس کا گھونٹ بھر رہا تھا۔
فاطمہ سب کو سب پکڑا کر کرسی پر دھپ سے بیٹھتے اسکے اطمینان کو رشک سے دیکھنے لگی ۔ وہ اتنا مگن بے نیاز تھا کہ اسے خبر بھی نہ ہوئی۔
ڈرنکس اڑاتے کھاتے پیتے مزے لیتے ان چہروں میں اپنا آپ خاصا بے چارہ لگا تو رخ موڑ کر اسٹیج کو دیکھنے لگی۔
یہ والا فنکار جانا پہچانا لگ رہا تھا کوئی کورین اداکار تھا۔اسے دلچسپی سی ہوئئ۔
چندی آنکھوں والا وہ لڑکا خالص عربی لباس میں چوخانے والا رومال سر پر لپیٹے جب اس عالیشان عربی تخت پر بیٹھا تو دو جملوں کے بعد اگلا جملہ ہی بھول گیا۔ ہدایت کار نے ہنگل میں کہہ کرمڑ کر اسکی جانب اشارہ کیا۔ وہ الرٹ سی وہ بیٹھئ
کیا کہنا تھا مجھے؟ وہ سیدھا فاطمہ کی جانب اٹھ کرآیا تھا۔
فاطمہ نےاسے دیکھتے تھوک نگلا۔
تبھئ بوتل کے جن کی طرح وہ لڑکا آگے بڑھا تھا
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
مطلب۔واعظہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔
مطلب تم اچھی بھلی اسسٹنٹ ہو کر یوں سیٹ پر چھوٹے کا کام کروگی اور وہ لڑکا تمہاری جگہ ان سب کو اسکرپٹ یاد کروائے گا یعنئ تمہارا کام وہ کرے گا اسکا تم۔
ہاں ۔ فاطمہ چہکی۔ پھر مزید بتایا
جواب میں اسے میں ہر مہینے اپنی تنخواہ کا آدھاحصہ بھی دیا کروں گی۔
وہ بھی اپنئ آدھی تنخواہ دے گا تمہیں؟
واعظہ کے پوچھنے پر وہ گڑبڑائی
نہیں وہ کیوں دے گا۔ وہ تو میری مدد کررہا ہوگا کام کرنے میں اوراسکی تو گھنٹوں کے حساب سےتنخواہ ہوگی۔میں نے کیا کرنے اسکے پیسے۔
فاطمہ کو کہتے ہوئے لگا کہ کچھ غلط کر بیٹھی ہے۔

واعظہ اسے یوں دیکھ رہی تھی جیسے اسکے سر پر سینگ نکل آئے ہوں
وہ لڑکا گھنٹوں کے حساب سے تنخواہ لے گا تم دنوں کے حساب سے یعنی وہ جب چاہے جتنی دیرچاہے غائب رہے گا بدلے میں یہ سیٹ کےاسپاٹ بوائے والے کام کرکے تم اسے اپنی آدھی تنخواہ بھی دوگی۔
وہ بھی تو اسکرپٹ یاد کروائے گا میری جگہ۔
فاطمہ نے دلیل دینی چاہی۔
اور جب وہ بنا بتائے منہ اٹھائےغائب ہوا کرے گا تب کیا کروگی؟
کیوں کرے گا وہ ایسا۔ اچھا خاصا شریف لگتا ہے دیکھنے میں۔
اپنی بات پر خود بھی شک ہوا تو آواز دھیمی ہوگئ۔،چشم تصور میں اسکی شرارتی مسکراہٹ والی شکل تھی۔
یہ وہ کر رہی ہو نام کیا ہے اسکا،؟
واعظہ کے پوچھنے پر وہ ایکدم جوش سے نام بتانےلگی کہ خیال آیا۔
بولو ۔ نام کیا ہے کہاں رہتا؟ تمہاری مستقل پوسٹ ہے وہ پارٹ ٹائمر ہے تمہیں پتہ ہونا چاہیئے کل کلاں کوکوئی مسلئہ ہوگیا تو؟
واعظہ کی بات میں دم تھاوہ کان دباتی سرجھکا گئ
نام تو پوچھا ہئ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاور۔۔۔ خاور نام ہے۔ خاآاا ور۔۔۔۔۔۔۔
بالکونی میں کھڑے ہو کر وہ فون پر نام بتا رہےتھے۔
بھائئ ہے میرا کسی غلط مقصد سے تفتیش نہیں کروا رہا۔ آپ بے فکر رہیں۔
خالص ہنگل میں انہوں نے تفصیل سے بتایا
ہوں۔
اپنے کسی کام سے کمرےمیں آئی طوبی بستر خالی دیکھ کر چونکی۔ صائم کاٹ میں کسمسا رہا تھا۔ سر ہوا کا جھونکا اسکی ریڑھ کئ ہڈی سنسنا گیا تو اس نے ہوا کا منبع ڈھونڈا۔گیلری کا دروازہ کھلا تھا۔
وہ فطری تجسس سے گیلری کی جانب بڑھ آئی۔ دلاور نہایت دھیمی مگر رواں ہنگل میں گٹ پٹ کر رہے تھے اس نے کان لگا کر سننا چاہا تو سنائی تو دےگیامگرسمجھ نہ آیا۔
دلاور مستقل بول رہے تھے۔ اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا
کتنی بد قسمت ہوں میں۔ سوتن بھی ملی تو کورین میرے سامنے بیٹھ کر بھی جانو مانو کر رہے ہوں مجھے ککھ پتہ نہ لگے۔ ہائےجانے کب سے چکر چلا رہے۔کہیں۔۔
اسکے دماغ میں کوندا سا لپکا۔جھٹ دروازہ چھوڑ کر بیڈ پرآبیٹھی۔
کہیں یہ اسی ناس پیٹی کے چکر میں تو کوریا نہیں آئے؟
کیسے بیٹھے بٹھائے نوکری چھوڑ چھاڑ کوریا کی کمپنیوں میں اپلائی کرنے لگے تھے اور کورین سیکھنی بھی شروع کردی تھئ۔۔ اف کتنی بے وقوف ہوں خوش خوش سسرال سے دور ہونے کا سوچ کر اٹھ آئی انکے ساتھ ۔ یہاں سوتن سے انہیں ملانے۔
آنسوئوں کے سمندر جو اچانک ہی دلاور کی بے وفائی کے شک کے بعد سے آنکھوں سے پھوٹ پڑے تھے اس وقت بھی سونامی کی طرح گالوں پر امڈ آئے۔۔
فون بند کرکے بازو سکیڑتے سرد ہوا سے بچتے وہ خوشگوار موڈ میں کمرے میں واپس آئے گنگناتے ہوئے گیلری کا دروازہ بند کیا۔ مڑ کر دیکھا بیوی بلک بلک کر روئے جا رہی ہے۔
کیا ہوا۔ انکے ہاتھوں کے طوطے کوے سب اڑ گئے
مجھ سے کیا پوچھتے ہیں اپنے گریبان میں جھانکیں کیا کرتے پھر رہے ۔۔
طوبئ سڑ سڑ کرتے۔چلائی۔۔
دلاور نے گریبان میں جھانکا پھر ذرا شرمندہ سے لہجے میں بولے۔
اوہ سورئ یار۔ نہا کر پرانے کپڑے پہننے کا دل نہیں کیا۔ تو نئی بنیان بھی پہن لی۔ ذیادہ کپڑے میلے ہوگئے تو کوئی بات نہیں۔ میری صبح چھٹئ ہے سب دھو دوں گا۔ تم فکرمت کرو۔مجھے اندازہ ہے تم سے اتنا ذیادہ کام نہیں ہو رہا ہوگا۔ اب یہاں میڈ وغیرہ کا انتظام تو مشکل ہے مگر کوشش کروں گا تم فکر نہ کرو بس آرام کرو ۔۔ میں چائے بنانے جا رہا ہوں پیوگی۔
دلاور کی باتوں پر وہ اتنا حیران ہوئی کہ رونا بھول کر ٹکر ٹکر دئکھتی رہ گئ۔ وہ خود ہی اسکا جواب اثبات میں سمجھ کر خوشی خوشی چائے بنانے چل دیئے۔
میں دو منٹ میں چائے بنا کرلایا۔ چٹکی بھی بجائی۔
عزہ کا ہیولہ نمودارہوا طوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھاتا
آپ نے غصہ نہیں کرنا طوبی جی بہت سمجھداری سے کام لینا ہے۔
کیسے لوں سمجھداری سے کام۔۔
طوبی پھر سوں سوں کرنے لگی
دیکھا ابھی کیا کہا انہوں نے؟ کوئی شوہر بھلا ایسے خود کپڑے دھونے کا میڈ کا انتظام کرنے کا کہتا؟ اور تو اور اوپر سے چائے بنانے چل دیئے۔ ایسے کوئی کرتا بھلا؟؟؟ ہائے امی یہ تو ایسے چاپلوسیاں کرکےمجھ سے دوسری شادی کی اجازت بھی لے لیں گے۔۔۔۔ یہ تو اس چڑیل کے پیچھے پاگل ہی ہوگئے ہیں۔۔
اس نے دونوں پائوں اوپر کیئے آلتی پالتی مار کر بیٹھی اور دوپٹہ آنکھوں پر رکھ کر خوب زور و شور سے رونے لگی۔۔۔
۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *