قسط نمبر 51
چنگدوکونگ پیلس۔۔ بڑے بڑے محرابوں والا لکڑی کے منقش دروازوں سے سجا پورے طمطراق سے سورج کی روشنی میں نہا رہا تھا۔ کاغذ کی کھڑکیاں لکڑی کی کھپچیوں کی چوکھٹیں ست رنگوں سے سجی تھیں۔ دور دور تک پھیل وسیع و عریض لان جس میں روائتی کوریائئ طبل بجاتے ایک قطار میں برابر مگر کورس میں قدم اٹھاتے وہ سرخ ہنبق میں ملبوس سپاہی مارچ کر رہے تھے۔ سپہ سالار نے ایک لال اور کالا بڑا سا جھنڈا اٹھا رکھا تھاجس پر بڑا سا ڈریگن بنا ہوا تھا۔ لوگوں کی بڑی تعداد اس روایتئ رقص اور مارچ کو دیکھنے آئی تھی۔ ہنگل میں لہک لہک کر دف بجاتی گاتئ لڑکیاں چبوترے پر بیٹھی تھیں۔ ان کے آگے ہنبق پہنے خوبصورت چندی آنکھوں والی کنیزیں مخصوص رقص پیش کررہی تھیں۔
سج سنور کر نکلتی اس جوزن شہزادئ نے بڑے شوق سے اپنے کیمرے میں یہ منظر قید کیا۔ اور مڑ کر شہزادے کو متلاشی نگاہوں سے ڈھونڈنے لگی۔قدرے فاصلے پر اس میدان سے باہر بنئ بارہ دری میں روائتی ہنبق سے آراستہ ایک بلند قامت شہزادہ اسکی جانب پشت کیے کھڑا جھیل کو دیکھ رہا تھا۔ اسکی نگاہوں میں شناسائی کی رمق آئی۔
وہ خوبصورت چندی آنکھوں والا شہزادہ مخملیں ہنبق پہنے ہاتھ میں ریشمی رومال سر پر روائتئ تاج سجائے خفیہ باغ کے احاطے میں بنے اس خوبصورت سے چبوترے پر کھڑا تھا۔ارد گرد چوبی دیواریں جن پر ہری بھری بیلیں لپٹ رہی تھیں۔ گہری سرخ دیواریں سبز بیلوں سے ڈھکی سامنے ہلکی سی نیلاہٹ لیئے شفاف پانی سے لبریز جھیل۔ موتیوں کی لڑیاں اسکی روائیتئ ٹوپی سے آبشار کی طرح اسکے چہرے کے گرد لہرا رہی تھیں۔
وہ شہزادہ یقینا تنہا کھڑا کسی کا انتظار ہی کر رہا ہوگا۔
دور دیس سے آتی اس بڑی بڑی آنکھوں والی شہزادی نے ٹھٹھک کر دیکھا۔
شہزادہ موبائل فون کان سے لگائے سنجیدگی سے گفتگو میں مگن تھا۔
شہزادی اپنا مخملیں ہنبق سنبھالتی اس سنگی بالکونی نما چبوترے پر جوگرز سمیت چڑھ گئ ۔
ذرا سا قریب جا کر خاموشی سے فون بند کرنے کا انتظار کرنے لگی۔ شہزادے نے جیسے ہی فون بند کرکے اپنے ہنبق میں سے اپنی جینز ڈھونڈنے کی کوشش کی جو ہنبق کی تہوں میں چھپ سی گئ تھئ شہزادی نے ذرا سا قریب ہو کر زور دار آواز میں ہائو کرڈالا۔
شہزادہ مگن تھا اس حملے کے لیئے تیار نہ تھا بری طرح اچھل گیا موبائل ہاتھ سے چھوٹ سا گیا پھسل کر نیچے گرا بارہ دری۔ ( ایسی ہی ہوتی ہے بارہ دری بس لکڑی کی بجائے مسلمان پکا کام کیا کرتے تھے) کی جالی سے ٹکرا کر سیدھا غڑاپ سے پانی میں۔
شہزادی ساکت سی کھڑی پانی میں ہوتے ارتعاش اور بڑھتی ہوئی لہر کو دیکھتی رہ گئی شہزادہ مڑ چکا تھا بجائے اپنے نقصان کا اندازہ کرنے وہ اس بڑی آنکھوں والی کوریائی روائتی شہزادیوں کے لباس میں ملبوس الف کو دیکھ رہا تھا۔
گلابی سفید خوبصورت امتزاج کے ہنبق میں ملبوس اس نے اپنے اسکارف کو سمیٹ کر گردن کے گرد لپیٹ دیا تھا۔ پرنٹڈ اسکارف اب اسکے لباس کا ہی حصہ لگ رہا تھا۔سر پر اوپر مصنوعی جوڑا ٹکوا کر اس میں مخصوص کوریائی بالوں کی لمبی سلاخ جیسی پن بھی گھسیڑ رکھی تھی۔ دور سے وہ مکمل کوریائی شہزادی ہی لگ رہی تھی۔ قریب سے اسکی آنکھیں ایک تو چونکہ بڑی بڑی تھیں اس وقت سراسیمگی سے مزید پھیل گئ تھیں اور وہ۔۔۔۔
آئم سوری۔
وہ سراسئیمہ سی کھڑی تھئ۔
مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ تم اس بری طرح ڈر جائو گے۔تمہارا موبائل گر گیا پانی میں۔۔ ۔۔ الف اسے صدمے سے جما دیکھ کر جھلائی
کیا کر رہے ہو پانی میں کودو ابھی ذیادہ دور نہیں گیا ہوگا کیا پتہ مل جائے۔ وہ مڑ کر اسکا بازو ہلانے لگی تب وہ جیسے ہوش میں آیا۔
آہاں۔ اس نے سٹپٹا کر مڑ کر دیکھا۔
تمہیں تیرنا آتا ہوگا جائو کود جائو نا۔
الف کا بس نہیں تھا کہ دھکا ہی دے ڈالے پانی میں۔
ایسے کیسے کود جائوں پتہ نہیں پانی گہرا کتنا اوپر سے یہ لباس۔ اس نے ہنبق کو جھٹکا دیا
یہ کرائے کا ہے اسکو اصل حالت میں واپس بھی کرنا ہے۔
اس نے یاد دلایا۔
تو اتارو اسے فورا ۔ ابھی پانی ساکت ہےبہا نہیں ہوگا چلو۔
الف ریلنگ پر جھک کر نیچے جھانک رہی تھی اب جھلا کر کہا تو ژیہانگ کی چندی آنکھوں میں شرارت دوڑ گئ۔
یہیں اتار دوں کپڑے۔ وہ معصوم بنا
نہیں جاپان جا کر اتارو۔ جلدی کرو اتنا مہنگا فون تھا تمہارا ختم ہو جائے گا۔
الف جھلائئ
اچھا۔ تم آنکھیں بند کرو مجھے شرم آئے گی کپڑے اتارتے ہوئے۔
اس نے ٹھنک کر کہا تو الف رخ پھیر گئ۔
جائو کودو۔
آنکھیں بھئ بند کرو لڑکیوں کا کوئی بھروسہ ۔۔
ژیہانگ نے کہا تو اس نے دونوں ہاتھ رکھ لیئے آنکھوں پر۔
اب ٹھیک۔ اسے اسکے یوں نخرے دکھانے پر غصہ بھی آرہا تھا
مجھے کیا پتہ تم نے آنکھیں بند کی ہیں یا اوپر سے ہاتھ رکھ لیا چپکے چپکےانگلیوں کی دراڑ میں سے دیکھو۔۔
وہ اسے ستا رہا تھا الف جھلا کر پلٹی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر آنکھیں میچ لیں۔
اب یقین آیا۔۔
وہ واقعی آنکھیں میچے کھڑی۔تھی۔
ژیہانگ نے ادھر ادھر دیکھا تین گول گول سے بڑے چکنے پتھر ایک کونےمیں سجے تھےان میں سے بھی بیل نکل رہی تھی اس نے ہلایا جلایا تو ہلنے لگے اس نے اٹھایا
الف ابھی بھی آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی۔ اس نے قریب آکر زور سے پتھر اچھال دیا۔ پانی میں شراپ سے پتھرگرا۔ الف نے پٹ آنکھیں کھول کردیکھا۔ پانی میں خوب زور کی ہلچل۔ہوئی تھی لہریں ذرا دیر کر حرکت میں آئیں پھر پرسکون ہونے لگیں۔
ژیہانگ۔وہ بے چین سی ہوئی۔ پانی ساکت ہو چکا تھا جیسےکبھی مرتعش ہوا ہی نہ تھا۔
ژیہانگ۔۔ ژیہانگ۔۔ وہ بے قراری سے پکار رہی تھی۔
ڈوب گیا کیا۔ وہ اب گھبرا اٹھی
ژیہانگ۔ ژیہانگ ژی۔۔۔
وہ جب بری طرح گھبرا کر پکارنے لگی تو ژیہانگ دھیرے سے اسکے کان کے پاس بولا
جی۔فرمائیے۔
ژیہا۔۔۔۔ وہ بوکھلا کر مڑی اسکے چہرےپر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ژیہانگ اسکے برابر کھڑا مسکرارہا تھا۔
تم۔ اپنے بیوقوف بنائے جانے پر اسکو ایکدم سے غصہ آیا تھا۔ اور شدید غصے میں وہ پتہ ہے کیا کرتی تھی۔
رو پڑتئ تھی۔پہلے دانت کچکچایے پھر وہ بسوری اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو بھر آئے اور اسکے اس ردعمل پر ژیہانگ کی مسکراہٹ دھیمی پڑتی چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتظامیہ کے اہلکارنے جھیل میں گھس کر موبائل نکالا تھا اور وہ آرائشی پتھر بھی۔اہلکار کو پانی سے نکلتے دیکھتے ہوئے اس نے بڑے سے سائن بورڈ کو جو اسی جگہ پر ایک کونے میں گڑا تھا پڑھا تھا۔
چار فٹ پانی ہے بس اس جھیل میں۔

جوزن دور میں یہاں باقائدہ قدرتی جھیل تھی۔ یہ بارہ دری یہ سارا باغ جھیل کا حصہ تھا۔ یہ بارہ دری پانی کے بیچ میں تھئ ۔ بادشاہ اپنی ملکہ کے ہمراہ وقت گزارنے یہاں کشتی میں بیٹھ کر آتے تھے۔وقت کے ساتھ سمٹتے اب ختم ہوگئ ہے ۔ اب حکومت نے وہی مناظر تازہ کرنے کیلئے یہ مصنوعی جھیل بنائی ہے۔ یہ پتھر۔
اس اہلکار نےموبائل تھماتے ہوئے کسی ماہر گائیڈ کی طرح بلا معاوضہ تفصیلات فراہم کی تھیں۔
دے۔ کھمسامنیدہ۔
اس نے ٹوکنے کی نیت سے جھک کر شکریہ ادا کیا تھا۔
اب اس پتھر کی تاریخ سننے میں بالکل دلچسپی نہیں تھی اسے اوپر سے دھیان بارہ دری کے باہر بنچ پر اس منہ پھلائے بیٹھی لڑکی کی جانب تھا۔
دے۔اسکو ابھی آن نہ کرنا چاولوں کی بوری میں رکھ دو کل استعمال کرنا جب خشک ہو جائے۔
مفت مشورہ حاضر تھا۔
دے ۔اس نے سر ہلا کر جھک کر الوداع کہا
وہ بھی جھک کر سلام کرتا چلا گیا۔
اس نے موبائل اپنے مخملیں لباس سے پونچھا۔
پھر آن کر لیا۔
مہنگا ہے اور واٹر پروف بھی۔ اس نے زیر لب کہا پھر الف کے پاس چلا آیا۔
تیز دھوپ منہ پر پڑ رہی تھی اسکے۔ وہ اسکے سامنے آکرآڑ بن کر کھڑا ہوا تو الف نے سر اٹھا کر کڑی نگاہ سے گھورا
پہنا جوزن شہزادی کا لباس ہے اور ایٹی چیوڈمغلیہ شہزادی والا دکھا رہی ہو۔
اس نے بظاہر منہ پھلایا۔۔۔
اس نے منہ پھیر لیا۔
اتنی معصوم ہوتی تھیں جوزن شہزادیاں ذرا نخرا نہیں کرتی تھیں شہزادوں سے غلطئ ہوجائے ناراض بھی نہیں ہوتی تھیں مغلیہ شہزادیوں کی طرح نہیں کہ شہزادوں سے ناک سے لکیریں نکلوا دیں۔
وہ بن بن کر بولتا ذہر لگ رہا تھا الف کو بھنا کر بولی
بڑا پتہ ہے مغلیہ شہزادیوں کا۔انتہائی نرم مزاج اور سیدھی سادی ہوتی تھیں۔وہ اچھا نا۔ اور یہ جوزن شہزادیاں دیکھی ہیں ہوارنگ میں اور اسکارلٹ ہارٹ میں سنگ دل بے مہر معمولی غلطیوں پر کوڑے پڑواتی تھیں کنیزوں کو یہ معصومائیں۔۔
ہاتھ نچا نچا کر وہ کسی ماہر مقرر کی طرح بولی تھی۔ ژیہانگ نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔ ہنستے ہنستے اسکی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا۔ الف نے خاصی حیرت سے دیکھا تھا۔ شائد پہلی بار وہ اتنا بے ساختہ ہنسا تھا۔ دل سے ایکدم۔
ہنستے ہنستے اس نے اپنی آ نکھیں صاف کیں تووہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
تمہیں اتنے عرصے میں پہلی بار کھل کر ہنستے دیکھا ہے میں نے۔ تم۔۔۔
برا تو نہیں لگا میں ہنستے ہوئے؟
بات کاٹ کےالٹا آگے سے سوال ہوا۔
برا کیوں ہنستے ہوئے برا کون لگتا ہے بھلا۔ وہ حیران ہوئئ
میں برا لگتا ہوں ہنستے ہوئے۔ اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا
زندگی کو۔۔۔ اس نے لحظہ بھر وقفہ کرکے بات مکمل کی۔
پھر اسکے برابر آن بیٹھا۔
ایسی تو کوئی بات نہیں زندگی میں کبھی اتار چڑھائو آجاتے ہیں ایسا نہیں سوچنا چاہیئے۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے اسے کہا تھا۔
یہ میں کھانے کیلئے لایا تھا۔۔۔۔وہ اب اسکے برابر رکھے شاپر سے چپس کے پیکٹ نکال رہا تھا۔ اس نے شاپر شائد چھوا بھی نہیں تھا۔۔ اسکی بات مکمل نظر انداز کرکے وہ چپس کا پیکٹ کھول کر چپس کھانے لگا تھا۔

میرا بھی انہیں پہننے کا ارادہ نہیں تھا۔ اسے غصہ آیا تھا سو چڑ کر بولی۔ شاپر سے ایک چپس کا پیکٹ نکال کر کھول ہی لیا۔ یہاں پھرتے پھراتے بھوک لگ چکی تھی اسے بھی۔
ژیہانگ ذرا سا ہنس دیا۔۔
میں پچھلے دس سالوں میں بس دو بار ہنسا ہوں ایک اس دن جب تم ٹریننگ میں غلط فہمی کا شکارہوگئی تھیں اور ایک آج۔ ویسے تمہیں کیا لگتا میں کافئ بے شرم سا گندا سا لڑکا ہوں؟
وہ بڑی سنجیدگی سے اسکی جانب مڑا معصوم سی شکل بنا کر بھولپن سے کہنےلگا
ہیں۔ کہیں بھی کپڑے اتار لوں گا۔ ؟ میں باحیا لڑکا ہوں میرے گھر بھئ باپ بھائی ہیں لڑکوں کی کیا عزت ہوتی پتہ ۔ہے مجھے بھی میں تو اتنا شرمیلا ہوں کہ۔ آخخ۔
وہ بن بن کر بول رہا تھا الف اس سے ذیادہ برداشت نہیں کر سکتی تھئ۔ اپنے چپس اسکے منہ پر نکال کر مارے اسی پر بس نہیں کیا شاپر قبضے میں کیا اس میں سے چاکلیٹ ٹافیاں ویفرز سب اٹھا اٹھا کر مارے اسکی تقریر ختم نہ ہوتی مگر جب اس نے کین نکالا تو وہ اپنے چپس اٹھا کر بھاگا تھا الف بھی اسکے پیچھے بھاگ اٹھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ای جی آ میک اپ کروا رہی تھی اوروہ اسکے انتظار میں ایک کونے میں بیٹھی موبائل ہاتھ میں لیئےابیہا کو گھور رہی تھی۔
میرے لیئے ایک صدمہ کم ہے کہ ووکی کی بجائے میری شادی وکی سے ہو رہی ہے اوپر سے تم آئوگئ بھئ نہیں میرئ اکلوتی سہیلی میری بچپن کی دوست ۔اتنی سخت دل بے مہر بے مروت ہوسکتی ہوتم میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
پیلے لباس میں دونوں ہاتھوں کو دائیں بائیں بیٹھی لڑکیوں کے حوالے کیئے وہ دلگیری سے کہہ رہی تھی کانوں میں بلوٹوتھ کلائی سے ٹھیک کرتی کہتی ۔ یقینا اسکی اداکاری اتنی بری تھئ کہ اسکا موبائل تھامے لائیو ویڈیو کال کرواتی اسکی بارہ سالہ کزن نے ہنسنا شروع کردیا تھا نتیجتا کیمرہ بری طرح اوپر نیچے ہونے لگا
اوفوہ ٹک کے سیدھئ کھڑی ہوجائو ذرا ہاتھ نہ ہلے تمہارا۔
ابیہا نے ساری اداکاری بھول بھال کے جھاڑا۔
ہاں تو کیا کہہ رہی تھئ میں۔ اس نے آہوں کا سلسلہ وہیں سے جوڑنا چاہا۔
تم مجھے بتا رہی تھیں کہ میں تمہاری بچپن کی اکلوتی سہیلی ہوں ۔ جو سخت دل بے مہر اور بے مروت ہے باوجود اسکے کہ پچھلے چھے مہینے سے یہ تم ہو جس نے نا کبھی یہاں سے جانے کے بعد فون پر رابطہ کیا نا کسی ای میل کا جواب دیا اور تو اور جب میں نے پاکستان میں تمہارے گھر کا پتہ کروایا اپنے کزن سے تو معلوم ہوا وہاں سے بھی دفع ہوچکی ہو تم بنا کوئی اتا پتہ دیئے ایکدم اچانک۔
بولتے بولتے اسکے غصے میں اضافہ ہوتا گیا ساتھ ہی والیم میں بھئ۔ ایکدم اچانک تک وہ ایکدم اچانک ہی چلا اٹھی تھئ
لپ اسٹک لگاتی میک اپ آرٹسٹ کا ہاتھ بہکا اور لپ اسٹک ای جی آ کی تھوڑی تک چلی آئی۔
کم چا گیا۔ ای جی آ اورمیک اپ آرٹسٹ کے منہ سے نکلا
مہندی لگاتی دونوں لڑکیاں
ہائے اللہ کہتی الگ اچھلی تھیں ابیہا کا تو سانس ہی بند ہوگیا تھا
آ۔آ آئی ایم سوری۔ میرا مطلب ہےچھے سونگئھیو۔
اس نے کھسیا کر سر جھکا کر معزرت کی۔ اور دانت کچکچا کر ابیہا کو گھورا۔۔۔
سو سورئ ۔ تمہیں نہیں پتہ یہاں کتنی بری طرح پھنس گئ تھئ۔امی نے وہ وہ دہلایا کہ بس کیا بتائوں پتہ نہیں کیا وہم ہوا ہے انجائنا کے بعد بس کہے جا رہی تھیں شادی کرو۔ میری زندگئ کا کوئی بھروسہ نہیں اب خود سوچو
اب میں ایسے ویسے کسی سے کیسے شادی کر لیتی۔ میرا کوئی معیار ہے۔
اس نے اترا کر کہا تھا۔ واعظہ اسکی لن ترانی پر گھور کر رہ گئی۔
بس چھان پٹخ ۔۔ نہیں کچھ اور ہوتا۔ وہ سوچ میں پڑی۔
ہاں چھان پھٹک کر کچھ یہ دل کو بھلے لگے۔ اس نے شرمانے کو ہاتھ سے چہرہ ڈھکنا چاہا تو دونوں بازو تھامے لڑکیاں بھنا گئیں۔
ہم مہندی لگانا شروع کریں دوبارہ۔
دونوں لڑکیوں نے منہ بنا کر کہا۔تو وہ کھسیا کر سر ہلانے لگی۔
واعظہ بیزاری سے کیمرے سے دکھائی دیتی اسکی الٹی چپلوں کو دیکھ رہی تھی۔
بچی یقینا تھک کر ہاتھ سیدھا کر چکی تھی نتیجتا آواز ابیہا کی اور تصویر اسکی چپلوں کی آرہی تھی۔
کیا بتائوں دہلیز پکڑ لی تھی وکی کی امی نے۔
وہ شرما رہی تھی۔
وکی کون۔۔۔بازو پر ۔ مہندی لگاتی لڑکی چونکی۔
اوہو۔ وسیم وقار نام ہے نا تو میں نے انکو ووکی سے وکی بنا دیا ہے اب میں انکا نام تو دھڑلے سے نہیں لے سکتی امی چپل سے ماریں گئ وہ بھی میری اپنی ہی۔ اس نے دونوں کو جواب دیا
وسی کہو تو بات بنے وقار تو انکے ابو کا نام ہے بگاڑنے پر وہ خود نہ بگڑ جائیں۔
اسکی کزن نے چھیڑا تو وہ گھور کر رہ گئ۔
فی الحال تم چپل سیدھی کر لو منحوسیت ہوتی ہے الٹی پڑی ہے زمین پر۔
واعظہ نے کہا تو وہ چونکی
تمہیں کیسے پتہ ؟
سامنے سوہنی کو دیکھا تو سر پیٹ لیا بڑے اہتمام سے کمر پر ہاتھ رکھے اسکی مہندی دیکھ رہی تھی دوسرا ہاتھ جس میں موبائل پکڑ رکھا تھا نیچے رخ کیا ہوا تھا
اوفوہ تم کیا واعظہ کو میری چپلیں دکھا رہی ہو ادھر کرو موبائل۔اور میری چپل بھی سیدھی کرو۔
اسکے ڈانٹنے پر بچی نے منہ بنایا پھر جھک کر چپل دیکھی تو چونکی۔
آپکو کیسے پتہ لگا آپی کہ آپکی چپل الٹی ہوئی وی ہے۔ اسکی حیرانی کی انتہا نہ تھی
الہام ہوا ہے۔وہ بھئ چڑ کر بولی۔
اچھا سنو نا غصہ تھوکو کوشش کرو نا تمہیں کیا مسلئہ بھائی سے کہو نا اپنے مجھے نہیں پتہ اسی ہفتے پاکستان میں موجود ہو تم میری شادئ میں سمجھیں۔ باقی سب کا تو پڑھائی کا مسلئہ ہوگا تم تو ویلی ہو اتنی منتیں کیوں کروا رہی ہو میں بات کروں بھائئ سے تمہارے۔
پاکستان جاکے ابیہا میں جیسے بجلی دوڑ گئ تھی اتنا کتر کتر بولنے کی عادت نہ تھی اسے۔ اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی تھی اسے۔ابھی بھئ غصہ بھول بھال کر پیار سے دیکھ رہی تھئ۔
اسکی ضرورت نہیں ہے۔ بھائی اب ناروے میں ہوتے ہیں۔
اس نے اطمینان سے جواب دیتے ہوئے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
ہیں کب کیوں؟ اور تم کیوں نہیں گئیں؟ کیا کر رہی ہو کوریا میں؟ انکل آنٹی سب گئے ہوں گے نا ؟
اس نے بنا پروا کیئے بازو کھینچے اور تیزی سے سوہنی سے موبائل چھینتئ کمرے سے نکل کر ٹیرس میں چلی آئی۔
ہاں سب وہیں ہوتے ہیں آجکل۔ اس نے قصدا لاپروا انداز اپنایا
تم کیا کر رہی ہو اپنی زندگی کے ساتھ؟ سب بھول جائو۔
واعظہ نے بیزارئ سے موبائل کو دیکھا ابیہا بی بی واعظ شروع کر چکی تھیں
سب ٹھیک ہوجاتاہے۔ مجھے دیکھ لو جی چھانگ ووک کی دیوانی تھی قسمت میں لکھا ہے وسیم وقار۔ نام تک میں مماثلت نہیں باقی باتوں کا کہنا کیا۔ بس ذرا سا خود کو سمجھانا بجھانا پڑا ۔ تم بھئ
اس نے سر تھام لیا۔ پھر بیک کیمرہ آن کرکے خوب تیار ہوکر آئینے میں اپنا جائزہ لیتی ای جی کی جانب رخ کیا۔
او بی بئ۔ میں یہاں جاب کر رہی ہوں دو سال کا کانٹریکٹ ہے وہ نظر آرہی ای جی اسکی مینجر ہوں میں۔
اسکا سب کام میں سنبھال رہی ہوں سب چھوڑ چھاڑ کر ناروے جاتی تو پتہ ہےمجھے کانٹریکٹ توڑنے پر کتنا جرمانہ
یہ آئی لو می ٹو والی ہے نا۔ ابیہا سب بھول بھال کر ساکت دیکھتی رہ گئ
ہاں۔ واعظہ نے کیمرہ فرنٹ والا آن کیا
اوہ میرے خدا تم ای جی آ کی مینیجر ہو تمہیں پتہ ہے میری کزن جو ابھی مہندی لگا رہی تھی کتنی بڑی فین ہے ای جی کی وہ دیکھتی تو خوشی سے پاگل ہو جاتی ۔
رابی رابئ۔ وہ مڑکر پکارنے ہی لگی۔
چلیں اب ؟ ای جی اسکے پاس چلی آئی۔
واعظہ اپنا کیمرہ ہٹائو میرا مطلب ای جی کو دکھائو
اسکی کزنز آچکی تھیں سو نئی فرمائش داغئ گئ
چھے سو۔۔
ای جی نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔
ایک منٹ یہ کچھ آپکی پرستار ہیں پاکستانی آپکو وش کرنا چاہ رہی ہیں۔ واعظہ نے کہا تو وہ ایکدم الرٹ سی ہوگئ چہرے پر دنیا جہان کی انکساری لاد لی
ہاں دکھائو۔
اس نے فرنٹ کیم ای جی کی جانب کیا۔
تین لڑکیاں ایک بچی خوب اتنی زور سے چیخی تھیں کہ واعظہ نے بے ساختہ کان سے بلوٹوتھ نکال دیا
ای جی کچھ سمجھتے نا سمجھتے ہاتھ دکھانے لگی۔
کیا کہہ رہی ہیں۔ ای جی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی اس سے پوچھا تو اس نے گہری سانس لیکر والیم کھول دیا
وہاں اچھلتی ہوئی لڑکیاں اب ذرا منہ بنا کر کمر پر ہاتھ رکھ کے گھور رہی تھیں
یہ لعنت کیوں دکھا رہی ہے ۔
اتنا نخرا کس بات کا ہے
ہم اتنے پیار سے وش کر رہے اور یہ ہم پر لعنت بھیج رہی ہے۔
یہ لعنت بھیجنا تم نے سکھایا ہے نا واعظہ۔ ابیہا کو یقین تھا۔
تینوں لڑکیوں نے تابڑ توڑ سوال کیئے تھے۔ ای جی اس سے سب کا ترجمہ کرنے کا کہہ رہی تھئ۔
کچھ نہیں دعائیں دے رہی ہیں۔ چلو ہمیں دیر ہو رہی ہے۔
اس نےکھسیا کر انکو گھورتے ہوئے کال ہی بند کردی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹوڈیو میں اتنی خاموشی تھی کہ سوئی گرے تو ٹن سے آواز آئے۔ سیہون اور ای جی اسکے سامنے بیٹھے تھے اور وہ مکمل طور پر اپنا مائک سیٹ کیئے انہیں نظر انداز کیئے خاموش بیٹھی تھئ۔
پانچ منٹ میں شو شروع کردینا یہ جنگل ختم ہوتے ہی۔
پروڈیوسر گنجے انکل نے دروازہ کھول کر اسے کہا تھا۔ اس۔نے بس سرہلایا۔
واعظہ پروڈیوسر کے ساتھ کھڑی گلاس وال سے اسے ہی دیکھ رہی تھئ۔ وہ یوں خاموش بیٹھی تھی کہ جیسے زندگی بھر نہ بولے گی۔
ای جی سیہون کے ساتھ بیٹھی خاصی پرجوش سی نظر آرہی تھی۔ سیہون بغور الف کو دیکھے جا رہا تھا۔پروگرام شروع ہونے میں بس ایک منٹ رہ گیا تھا۔ واعظہ کو فکر سی ہونے لگی۔ ای جی اسے ہاتھ ہلا کر متوجہ کر رہی تھی۔
میرے بال میرا میک اپ ٹھیک ہے نا۔چھوٹا سا آئینہ دیکھتے ہوئے بھی اسے تسلی نہ ہورہی تھی۔
اس نے اشارے سے ہی سب ٹھیک ہے کا کہا۔
ہنا دول سیت۔۔۔
پروڈیوسر نے کیو دی۔الف سر جھکائے ہی بیٹھی رہی۔
جامد خاموشی۔۔ گھڑی کئ سوئی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔
پروڈیوسر اسکو کئی بار کیو دے چکے تھے۔۔
ایک دو تین۔ واعظہ نے دل میں گنتی شروع کی۔
ہم آن ائیر ہیں یہ لڑکی بول کیوں نہیں رہی۔
آپریٹر نے قدرے غصے سے کہا تھا۔
آہش۔ پروڈیوسر صاحب سر کھجا رہے تھے۔
آٹھ نو ۔۔۔ واعظہ کی گنتی یہیں تک پہنچی تھی۔ پروڈیوسر صاحب اسٹوڈیو کی جانب بڑھے ہی تھے کہ اس نے ایکدم سے رفتار تیز کی اور غڑاپ سے دروازہ کھول کر اندر گھس گئ۔
آننیانگ ہاسے ہو۔ نیگا واعظہ ہمبندا۔
محض چند لمحوں کے وقفے سے وہ الف کا ہیڈ گئیر اتار کر شروع ہوچکی تھی۔ الف ہکا بکا سی اسے بس دیکھ کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ای جی اور سیہون کو چائے ناشتہ دیا جا رہا تھا۔ اور اسکی پیشی لگی ہوئی تھی پروڈیوسر صاحب چکور کی طرح اپنی نشست کے پاس غصے میں چکر لگا رہے تھے ہاتھ نچانچا کر چیخ رہے تھے۔ انگریزئ کیا روانی سے اگل رہے تھے۔
ڈیڑھ سال کا لحاظ بھی نہ کیا تم نے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں کتنا کتنا دبائو آیا مجھ پر کہ اس شو کی ریٹنگ نہیں آتی اسے بند کردو مگر میں نے ہمیشہ سہا۔ کیونکہ مجھے نظر آتا تھا کہ تم اپنی پوری کوشش کرتی ہو۔ جب تک تمہارا دل کیا تم نےیہ شو دل سے کیا اب اچانک جانے کا ارادہ باندھ لیا تو بالکل بھی شو کرنے کو تیار نہ ہوئیں۔ صرف اس شو کی ریکوئسٹ کئ تھئ میں نے یہ کرلو پھر بھلے نوکری چھوڑ جانامگر تم اتنی بد لحاظ ہوسکتی ہو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔جانتی ہو یہ تیس سیکنڈ جو خاموش گئے ہیں آن ائیر جانتی ہو اس پر مجھے کتنے لوگوں کو ایکسپلینیشن دینی پڑے گئ؟
وہ اس پر بری طرح چلا رہے تھے۔ اور اسے ان پر معمولی سا بھی غصہ نہیں آرہا تھا۔ سر جھکائے وہ خاموشی سے سن رہی تھی۔ غلطئ ہوئی تھی اس سے۔ صرف سال بھر پہلے ہی تو وہ یہ شو اکیلے کر رہی تھی بول بول کر ناک میں دم کر دیتی تھئ کتنا جوش کتنا جزبہ تھا کتنے شوق سے وہ یہ پروگرام کرتی تھی اچانک جیسے دل کچھ کرنے کو تیار ہی نہیں ہو رہا تھا۔کوئی کیو سمجھ نہ آئی بالکل خالی ذہن بیٹھی تھی کیا بولنا کیا پوچھنا کچھ یاد نہ تھا اسے کیوں؟
وہ خاموش کھڑی اپنا محاسبہ کر رہی تھی۔
اسے اتنا خاموشی سے سر جھکائے سنتے دیکھ کر انہیں خود ہی ترس آگیا تھا۔
آہش۔ وہ بکتے جھکتے کرسی پر آن بیٹھے۔ فائلوں پر ہاتھ مار کر ایک کاغذ نکالا اور اس پر مہر ثبت کرنے لگے۔مہر ثبت کرکے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اسی طرح سر جھکائے کھڑی تھی۔ وہ کچھ نہ کچھ نرم پڑ ہی گئے ۔ اس بار بولے تو لہجے سے کڑختگی غائب تھی۔
میں تمہارا استعفی منظور کر رہا ہوں۔ تم ٹھیک ہے بریک لینا چاہ رہی ہو مرضی ہے تمہاری۔ اصولا جو آج تم نے کیا ہے اس پر براڈ کاسٹنگ کمپنی سیدھا چھے ماہ کا بین لگاتی ہے کم از کم چھے ماہ تک کسی دوسرے نشریاتی ادارے میں بھی نوکری نہیں کر سکتیں مگر میں اس سب کی۔ذمہ داری خود لے رہا ہوں۔مجھے نہیں پتہ تمہیں اچانک کیا ہوا ہے ۔ مگر جب کبھی تمہارا دوبارہ کام۔کرنے کا ارادہ بنےتم یہاں واپس آسکتی ہو۔شرط بس اتنئ ہے کہ پہلے جتنی ہی پرجوش ہو کر واپس آئو اور دل لگا کرکام کرو۔
اس نے چونک کر سر اٹھایا تو وہ اسکی جانب کاغذ بڑھاتے شفقت سے دیکھ رہے تھے۔
دے۔ اس نے بمشکل مسکرا کر تھام لیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈبل صوفے ہر ای جی اور سیہون برابر میں بیٹھے تھے سامنے میز پر ناشتہ سجا تھا مگر ان دونوں نے بس فریش جوس لیا تھا۔ سیہون کا مینجر البتہ لگ رہا تھا کافی بھوکا ہو رہا ہے انکے برابر سنگل صوفے پر بیٹھا مستقل۔کھائے جا رہا تھا۔ای جی بہانے بہانے سے سیہون سے بات کررہی۔تھی۔وہ ہلکی سی مسکراہٹ سے سنے جا رہا تھا۔ الف جونہی پروڈیوسر کے کمرے سے نکلنے لگی وہ جلدی سے دروازے سے ہٹ گئ۔ تیزی سے چلتی وہ سیدھی اس کمرے میں چلی آئی جہاں ای جی اور سیہون موجود تھے۔مڑ کر دروازہ بند کرتے اس نے راہداری میں تیز قدم اٹھاتی جاتی الف کو دیکھا پھر سرجھٹک کر اندر آگئ۔ ای جی فورا متوجہ ہوئی تھئ
مل آئیں تم پروڈیوسر صاحب سے۔ بہت شکر گزار ہوں گے؟ کہہ رہے تھے مجھے کہ اپنی مینجر کو میرے پاس بھیجو میں اسکا دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہون۔ تم نے آج انکی عزت بچا لی۔ وہ لڑکی تو لگتا ہے بالکل۔نئی ہے ہنگل تک نہیں آتی تھئ اسے تو جانے شو کیسے کرتی۔ بالکل بھی بات نہیں ہو رہی تھی اس سے تو۔ لگتا ہے سفارشی ہے کوئی
ای جی ناک چڑھا کر کہہ رہی تھی۔
نہیں ایسی بات نہیں۔ سیہون بے ساختہ بولا
اس سے پہلے بھی میرا انٹرویو لے چکی ہے بہت دلچسپ لڑکی ہے آج شائد طبیعت خراب ہوگی اسکی۔
وہ تائئد چاہنے والے انداز میں اسے دیکھ رہا تھا
وہ ذرا سا مسکرا کر انکے قریب رکھے بین بیگ کو گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔ ناشتے پر پیٹیز وغیرہ تھیں اس نے میٹھے بسکٹ اور جوس کا گلاس اٹھا لیا۔ خاصی بھوک لگ رہی تھی اسے
آپ کی آواز بہت اچھی ہے ویسے۔ آپ کو دیکھ کر لگ نہیں رہاتھا کہ آپ پہلی دفعہ شو کر رہی ہیں۔
سیہون براہ راست اس سے مخاطب ہوا تھا
وہ بسکٹ ختم کرتئ چونکی۔
جلدی سے منہ صاف کرتی سیدھی ہوئی
دراصل پہلئ دفعہ شو کر بھی نہیں رہی تھی۔ ہائی اسکول کے زمانے میں میں آر جے ہوا کرتی تھی لیٹ ناٹ شو ود وی زی کے نام سےایک دوسرے ریڈیو چینل سے دو تین سال۔مسلسل کام کیا ہے میں نے۔ نئی نہیں ہوں نا کام نیا ہے میرے لیئے۔
اس نےجیسے صفائی پیش کی تھی۔ سیہون اسکے انداز پر مسکرا دیا۔
پھر چھوڑ کیوں دیا آپکو یہ کام مستقل کرنا چاہیے تھاآپکی آواز بہت اچھی ہےسننے میں۔ وہ کھل کر تعریف کر رہاتھا
ہاں میں بھی یہی کہتی ہوں اسے ہے نا واعظہ۔
ای جی سے اتنی دیر خود پر سے سیہون کی توجہ ہٹنا برداشت نہ ہوا تھا جھٹ بولی۔
آپکی آواز بھی بہت اچھی ہے۔
اس نے بات ٹال دینی چاہی۔ سیہون کی مسکراہٹ گہری ہوگئ
اچھا؟ آپکو کونسا گانا پسند ہے ایکسو کا؟
وہ جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا وہ گڑبڑا سی گئ
ای جی اسے زیر لب گانے کا نام بتانے لگی۔
وہ ۔۔ وہ جلدی جلدی ذہن کے گھوڑے دوڑانے لگی ایکسو کا کوئی گانا۔ ہاں۔ اسے یاد آیا۔
کافی پرانا والا بہت پسند ہے مجھے شوری شوری بڑا مشہور ہوتا تھا جب ہم اسکول ۔۔ بولتے بولتے ای جی کے سر پیٹنے والے تاثرات اور سیہون کے حظ لیتے تاثرات دیکھ کر اسے اندازہ ہوا کچھ غلط بول گئ ہے۔
وہ ایکسو کا گانا نہیں ہے۔ سپر جونئیر کا ہے۔اس نے مسکرا کر کہا تھا۔وہ سر کھجا کر رہ گئ۔
دراصل یہ کے پاپ نہیں سنتی ذیادہ یہ اپنی مادری زبان کے گانے سنتئ ہے ایک تو مجھے بھی بہت پسند حسنے جانا بہت اچھی موسیقی ہے اسکی لگائو واعظہ وہ والا گانا ذرا۔
ای جی نے کہا تو وہ شش و پنج میں پڑی۔ جانے پسند کریں یہ کہ نہیں پھر کچھ سوچ کر موبائل میں لگا دیا۔
نصرت فتح علی خان کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔
ایک کورین یوٹیوبر نے اس پر ری ایکشن دیا تھا یہ گانا میں نے بھئ سنا یے۔ سیہون چونک کر سیدھا ہو بیٹھا
لڑکی کی بھی آواز میں ہے۔
وہ ری مکس ہے اور سچی بات ہے اس۔گانے کی۔خوبصورتی اسکے الفاظ ہیں اور نصرت فتح کی آواز ہے۔اس ری مکس میں دونوں ہی نہیں۔ اس گانے کی ساری کشش ہی ختم ہو جاتی جب اس میں مزید شاعری ڈال دیتے وہ بھی کسی نو آموز کی۔
اس پر وہ گھنٹوں بول سکتی تھی۔ نصرت فتح علی خان اسکے پسندیدہ ترین گلوکار تھے ان کے گانے پر طبع آزمائی چاہے انکے بھتیجے نے ہی کیوں نہ کی ہو اسے بالکل پسند نہ آئی تھی سو وہ شروع ہو چکی تھی سیہون بھی ری مکسز سے تنگ تھا دونوں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو میں لگ گئےتو ای جی نے بیزار سا ہو کر جوس کا گلاس لبوں سے لگا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ان دونوں کو وینز تک چھوڑنے آئی تھی۔ ای جی آ نے اب گھر جانا تھا سیدھا سیہون سے مل ملا کر وہ وین میں بیٹھتے بیٹھتے بھئ مڑ کر پیچھے دیکھ رہی تھی۔ سیہون وین میں بیٹھ گیا دروازہ بند ہوگیا تب وہ سکون سے بیٹھی اندر
کل کا شیڈول بتا دو۔
اسے واعظہ پر۔غصہ آرہا تھا سو گھورتے ہوئے ہی پوچھا
کل بس شوٹ ہے نئے ڈرامے کی۔
واعظہ کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ تھی۔مسکراہٹ روکتے ہوئے بتایا تو وہ اور خفا ہوگئ۔
ہنسی کس بات پر آرہی ہے۔ اور کیسی مینجر ہو بجائے میری بات کروانے کے خود باتیں پٹیلنے بیٹھ گئیں۔ اتنا اچھا موقع تھا ایک دو اچھی تصویریں ہی بنا لیتیں انسٹا پر لگانے کیلئے
اسکے دکھ ہی الگ تھے۔
فوٹو شوٹ ہوا تو ہے اتنے اچھے اسٹلز ہیں تمہارے۔ وہ اٹکی
آپکے اور سیہون کے اکٹھے بھئ میں لگائوں گا نا انہیں انسٹا پر
اس نے تسلی دینی چاہی
وہ تو رسمی ( فارمل) شوٹس ہیں۔ غیر رسمی شوٹس کروانا مینیجر کا کام ہوتا ہے ۔ ایک تو ہر بات بتانی پڑتی کیا فائدہ فارنر مینجر رکھنے کا انگریزی ہی آتی ہے بس تمہیں کام کرنا نہیں آتا۔
وہ ٹھیک ٹھاک بگڑ گئ تھی۔ واعظہ خاموشی سے پیچھے ہو گئ۔ڈرائیور نے وین کا دروازہ بند کیا اور گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا۔ وہ وین کو نکلتے وہیں کھڑی دیکھتی رہی تبھی سائیڈ واک پر سنگ مر مر کی کیاری پر پھولوں کے کنج کے پاس ٹکئ بیٹھی وہ نظر آئی۔ اس نے سیدھا آگے بڑھنا چاہا جب اسے پیچھے سے کسی کے بھاگ کر آنے اور پکارنے کی آواز آئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سیہوں اپنی ٹوپی ٹھیک کرتا بھاگا آیا
وی زئ۔ سوری آپکا نام مجھے صحیح یاد ہو سکا ابھی۔ وی زی کہہ لوں آپکو؟
وہ معصوم سی شکل بنائے معزرت کر رہا تھا۔ اس نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
یہ میں ایکسو کی لیٹیسٹ البم لایا تھا آپکے لیئے۔ ابھی اس وقت یہی پڑی تھئ وین میں ۔۔۔
ایک ہاتھ میں البم پکڑے دوسرے ہاتھ سے البم والے ہاتھ کی کلائی پکڑے وہ عاجزئ سے البم اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔کوریا میں کسی کو کوئی چیز ایک ہاتھ سے پکڑانا بدتمیزی میں شمار ہوتا ہے جب بھئ کسی کو کوئی چیز دیں تو یاتو دونوں ہاتھوں سے تھام کر پکڑاتے یا ایسے کلائی تھام لیتے اپنی ہی۔اس نے بھی ذرا سا سر خم کرکے دونوں ہاتھوں سے تھام لی البم۔
گھمسامندہ۔ اس نے شکریہ بھی سر خم کرکے کہہ ڈالا۔
ویسے ہمارے سونگز آپکو آسانی سے مل جائیں گے یوٹیوب پر ضرور سنیئے گا خاص کر آپ ڈونٹ میس اپ مائی ٹیمپو ، کوکو بوپ ضرور سنیئے گا۔
اس نے اتنے تاکیدی مگر بچوں والے انداز میں کہا تو وہ بے ساختہ ہنس دی اسکے یوں ہنس پڑنے پر وہ کان کھجانے لگا اسکی کان کی لو تک سرخ پڑ گئ تھئ۔
ضرور سنوں گئ۔ اور آئیندہ کبھی ایکسو اور سپر جونیئر کو مکس بھئ نہیں کروں گی۔
اس نے شرارت بھرے انداز میں کہا تو وہ خوشدلی سے ہنس دیا
ایسی بات نہیں وہ بھی ہمارے ملک کا بینڈ ہے سب ہی اچھے ہیں۔۔ بی ٹی ایس بھی سب اچھا کام۔کرتے سچی بات یہ کہ ایکسول اور آرمی میں لڑائی ہو جاتی تو بھی برا لگتا ہے ہمیں ہم سب کی الگ شنا۔۔۔
اسکی بات گھوم کر قریب آتی وین کے شور میں دب سی گئ
سیہون ہمیں ایوینٹ کیلئے دیر ہو رہی ہے۔
اسکے مینجر نے وین سے سر نکال کر مخصوص کوریائی درشت سے انداز میں کہا تو وہ معزرت خواہانہ انداز سے دیکھتے یوئے جھک کر سلام کرتا تقریبا بھاگ کر وین تک گیا۔ عجلت میں ہی وین میں سوار ہوا اور زن سے وین نکل۔گئ۔
بس اس سیلیبریٹی پرزن سے ڈر لگتا تھا مجھے ورنہ ڈراموں میں کام کی بھی آفر آتی تھی مجھے اس وقت۔
وہ ترس کھا رہی تھئ ایکسو پر سیہون پر عجیب بات تھی نا ایک ایسی لڑکی ہوکر جسکا نہ کوئی کیریئر تھا نا نام۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔
جاری ہے

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *