قسط 43
ٹی سی این ۔۔
ویٹنگ روم میں بیٹھی دفتر کا بورڈ پڑھتے ہوئے فاطمہ کی آنکھیں کھل سی گئ تھیں۔
تم یہاں جاب کر رہی ہو؟
فاطمہ کو سوال کرتے ہی اس سوال کے بونگے ہونے کا احساس ہوگیا تھا۔ واعظہ البتہ پوری سنجیدگی سے بیٹھی ریسیپشن کی جانب دیکھ رہی تھی۔
آپ آجائیے۔
ریسیپشن پر موجود چندی آنکھوں والی لڑکی نے بلایا تو وہ سرعت سے اٹھی تھی۔
آپ تھرڈ فلور پر لیفٹ کارنر والے کمرے میں تشریف لے جائیے۔
گھمسامنیدہ۔ واعظہ جھک کر شکریہ ادا کرکے پلٹی تو متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر فاطمہ کو ڈھونڈا وہ اسے ہال کمرے کی گلاس وال سے ناک چپکائے کھڑی نظر آئی
چلو۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اسکے پاس آئی
یہ یہ سونگ کانگ ہے نا ؟
وہ بے یقینی سے اندر اشارہ کرتے ہوئے بولی اسکے کہنے پر واعظہ نے آگے ہو کر جھانکا تو سونگ کانگ ٹہل ٹہل کر مکالمے یاد کرتا نظر آیا۔
ہاں وہی ہے۔
اس نے اس بار اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
مجھے یقین نہیں آرہا میں نے کورین سیلیبریٹی کو اپنے سامنے یوں چلتے پھرتے دیکھا واہ۔ فاطمہ پرجوش ہو رہی تھی۔ واعظہ کا انداز البتہ ٹھس سا تھا اسکا ہاتھ تھام کر وہ ہی لمبی راہداری گزار کر ایک کمرے کے سامنے لے آئی۔
دیکھو گھبرانا مت بس پورے اعتماد سے انٹرویو دینا انکو مترجم درکار ہیں اپنے پراجیکٹ کیلئے تم آرام سے سیلیکٹ ہو جائو گی بس انگریزی تواتر سے تڑا تڑ بولنا سمجھیں۔
عین دروازے کے سامنے کھڑی اسے سمجھا رہی تھی۔
ہاں اعتمادتو بچپن سے مجھ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔
اپنے گھنگھریالے بال جھٹک کر وہ ادا سے مسکرائی تبھی کھٹ سے دروازہ کھلا اندر سے کوئی عجلت میں نکلا نہ اسکے اندازے کے مطابق سامنے کسی کو ہونا چاہیئے تھا نا ہی فاطمہ کا خیال تھا نتیجتا دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے ٹکراتے۔۔۔۔۔ بچ گئے۔
فاطمہ اپنی لمبی ایڑھی والی جوتی پر توازن بحال نہ کر سکی بوکھلا کر پیچھے ہونے پر پیر پھسلا سر کے بل پیچھے جاتی فاطمہ کو بروقت واعظہ نے سہارا دیا تھا اور جسے سہارا دینا چاہیئے تھا اسکے اپنے قدم لڑکھڑا چکے تھے دروازہ تھام کر گرنے سے بچ گیا مگر کود گیا تھا کسی کی نگاہ کی گہری جھیل میں۔
آئی ایم سوری۔
بیانیمنتا ، بیانئیے چھے سونگیو والے ملک میں خالص انگریزی معزرت فاطمہ نے بدمزہ سا ہو کر خود کو سنبھالا۔
وہ گندمی رنگت کا لمباچوڑا بڑی بڑی آنکھوں والا لڑکا خالص برصغیری نقوش کا مالک تھا۔
اٹس اوکے۔ واعظہ نے اسکو بازو سے پکڑ کر ایک طرف کیا۔ لڑکا راستہ ملنے پر سر ہلا کر شکریہ ادا کرتا باہر نکل گیا۔
قسمت ہی خراب ہے ٹکر بھئ ہوئی تو دیسی شکل سے
واعظہ چلو واپس برا شگون ہوگیا یقینا ۔۔
فاطمہ کی لن ترانی جاری تھی جب واعظہ نے بنا دھیان دیئے کھینچ کھانچ کر اسے چندی آنکھوں والے ان ادھیڑ عمر انکل کے سامنے لاکھڑا کیا جو اسے دیکھ کر ایکدم اچھل کر اپنی باس سیٹ سے کھڑے ہوگئے
فائنلی تمہیں مل گئ عربی لڑکی
خوشی کا بے ساختہ اظہار فاطمہ گڑبڑا سی گئ
یہ عربی نہیں ہے۔
واعظہ نے فورا تصحیح کی۔
تو انڈین ہوگی۔ پہلی گوری انڈین لڑکی دیکھی ہے خوشی ہوئی دیکھ کر میں فورا مس روز کو اطلاع دیتا ہوں۔۔
وہ فورا فون اٹھا کر کسی کو اطلاع دینے لگے
ارے نہیں۔ واعظہ بوکھلا گئ۔
ہاں اسے تو کس سین پر اعتراض نہیں ہوگا نا۔فون ملاتے ملاتے انہیں خیال آیا وہ معصومیت سے پوچھ رہے تھے مگر چونکہ۔ہنگل میں لہذا وہ فاطمہ کی باریک ٹیکے کی طرح کھبنے والی چٹکی سے محفوظ رہی تھی۔
نہیں یہ اداکارہ نہیں ہے اسے تو میں ٹرانسلیٹر کے طور پر لائی ہوں آپکو۔چاہیئے نا عربی اداکاروں کی۔بات سمجھنے کیلئے؟؟؟؟ یہ اسی کیلئے آئی ہے۔
اوہ۔ وہ تھوڑے مایوس ہوئے۔ فون رکھ دیا۔۔۔سارا جوش جھاگ کی۔طرح بیٹھ گیا
واعظہ یہ بندہ مجھے شکل سے ہی ٹھیک ٹھاک ٹھرکی لگ رہا ہے نظریں ٹھیک نہیں ہیں اسکی۔فاطمہ ان بڈھے انکل کو بغور دیکھتے ہوئے تبصرہ جھاڑا
تمہارا رشتہ طے نہیں کر رہی انکے ساتھ بے فکر رہو۔۔
واعظہ نے اطمینان دلانا چاہا۔
تو کیا تعلیمی قابلیت ہے آپکی۔ آپکا سی وی۔ ؟
اس نے فاطمہ سے پوچھا جوابا وہ پلکیں جھپک گئ۔ وہ کونسا انٹرویو کی نیت سے آئی تھی اسکے پاس سی وی چھوڑ بیگ بھی نہیں تھا۔ بیگ کہاں گیا۔ اسکی سٹی گم ہوئی۔
بیگ ۔۔۔کہاں گیامیرا۔ اس نے دھیرے سے اپنے دونوں پہلو ٹٹولے مگر بیگ کا فیتہ دونوں کندھوں پر نہیں تھا۔
وہ اسکا سی وی تو مکمل انگریزی میں تھا تو میں نے سوچا آپکو ای میل کر دوں گی۔ ویسے ایم اے انگلش کیا ہے ا س نے فر فر انگریزئ بولتی ہے۔میری سہیلی ہے بہت محنتی اور قابل لڑکی اسکو نوکری دے کر آپ پچھتائیں گے نہیں۔۔ واعظہ اسکو بولنے پر آمادہ نہ دیکھ کر خم ٹھونک کر میدان میں اتری۔۔ انہوں نے فق چہرے والی لڑکی کو گھورا جو لگ رہا تھا ابھی اٹھ کر بھاگ جائے گی۔۔
ہنگل تو جانتی ہے نا۔۔ وہ اب واعظہ سے ہی پوچھ رہے تھے۔
سیکھ رہی ہے آجائے گی کچھ دنوں تک۔
یہ جواب بھی واعظہ نے دیا تھا
اچھا عربی سیکھی ہے؟
ہاں۔ عربی پڑھ لکھ سکتئ ہے۔
واعظہ کا اعتماد دیکھنے لائق تھا۔
فاطمہ اسکے کان پر جھکی۔
کیا پوچھ رہے؟ واعظہ نے جوابا اپنے پائوں سے اسکا پائوں دبا دیا وہ سی کرتی گھورتی سیدھی ہوئی
بڈھے انکل سنجیدہ ہوگئے تھے انہوں نے دراز سے کاغذ کا پلندہ نکال کر اسکے سامنے بڑھایا۔
تو زرا یہ پڑھئیے
فاطمہ نے اعتماد سے پلندہ اٹھایا سامنے رکھا۔
ایک صفحہ دوسرا تیسرا وہ پلٹتی جا رہی تھی۔
پہلا صفحہ ہی پڑھ لیجئے۔
انہوں نے اسکئ مشکل آسان کئ۔
واعظہ کی بچی یہ کیسے پڑھوں۔
فاطمہ نے بظاہر مسکرا کر مگر درحقیقت کھا جانے والی نگاہ سے واعظہ کو گھورتے پوچھا تھا
عربی ہے پڑھ تو سکتی ہو قرآن پڑھا ہوا ہے نا؟ اسے بھی بس پڑھ لو الف بے ہی تو ہے۔ بڈھے انکل کو کونسا سمجھ آنا کیا بول رہی ہو۔
واعظہ نے کہا تووہ بے چارگی سے بولی
اس پر تو اعراب بھئ نہیں کیسے پڑھوں ؟ واعظہ یار میں اپنا بیگ بھئ کہیں بھول آئی ہوں اس میں میرے سارے پیسے تھے میں مر گئ واعظہ اب کیا ہوگا۔۔۔ میرا موبائل بھی اسی میں رکھا ہوا تھا۔ میرے پاس پھوٹی کوڑی نہیں بچے گی اور موبائل میں تو برقعہ ایونجرز کی تصویریں بھی ہیں لیک ہوگئیں تو۔ واعظہ کی۔بچی کچھ تو بولو میرا دم اٹک رہا ہے۔ تمہیں پکا یاد ہے نا جب میں بس سے اتری تھی تو بیگ لٹکا ہوا تھا میرے کندھے سے؟
صفحے پلٹتے وہ بولے جا رہی تھی واعظہ کا منہ کھل گیا۔
میرا بیگ اس نے اپنا بیگ ڈھونڈنا شروع کردیا شکر ہے اسکا منا بیگ کندھے سے لٹکا ہوا تھا۔ اسکی فائل بھی سامنے میز پر رکھی تھی اس نے سکھ کا سانس لیا۔
بس ٹھیک ہے ۔ بڈھے انکل ٹھیک ٹھاک متاثر ہوگئے تھے
اب تک پندرہ لوگوں کا انٹرویو لے چکا ہوں اتنی روانی سے عربی کوئی نہ پڑھ پایا۔ یہ اسکرپٹ تو سب کے سروں پر سے گزر جاتا تھا۔ بس ابھی ایک لڑکا یہ پڑھ پایا ہے یا آپ۔
شستہ ہنگل میں وہ فاطمہ۔کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات کر رہے تھے جوابا وہ اور واعظہ ساکت بیٹھی سن رہی۔تھیں۔ واعظہ تو شائد سمجھ بھی رہی تھی کہ کیا کہہ رہے ہیں مگر فاطمہ۔ تبھی دماغ کی۔گھنٹی بجی۔
جی۔ اس نے زور و شور سے سر ہلایا۔
بس یہ اتنا بڑا پراجیکٹ ہے کہ کمپنی کوئی رسک لے نہیں سکتی ۔ میں تو لڑکی کو ہی رکھنا چاہ رہا تھا لڑکے لاپروا ہوتے اوپر سے ابھی اتنا دماغ کھا کے گیا ہے میرا یہ بات وہ بات جاب کیسے کیا کرنی اف سر میں درد ہوگیا۔ میں پر ڈے کی بات کر رہا تھا اسے گھنٹوں کے حساب سے تنخواہ چاہیئے تھی خیر ۔۔۔ وہ سانس لینے رکے۔۔
جی جی۔ واعظہ نے ٹہوکا دیا وہ پھر سر ہلانے لگی۔
اب میں نے اسے رکھ تو لیا ہے مگر سچی بات ہے ان عربی اداکاروں کے نخرے بہت ہیں جب سے شوٹ شروع ہوئی ہے انکے کھانے پینے کا مسلئہ ہی حل نہیں ہو کے دے رہا اب وہ بھاگ دوڑ کون کرے بھلا وہ سنبھال لے گا انکے اوپر کے کام اور آپ اسٹوڈیو میں رہ کر ان اداکاروں کو کورین اداکاروں سے آپس میں کیمسٹری بنانے میں مدد کروانا۔ یہاں ہم میں سے تو کسی کو عربی آتی نہیں وہ پانی بھی مانگتے تو ہمارے اسٹاف کو مسلئہ بن جاتا ہے۔انکے معاملات دیکھنے ہوں گے اور ہاں آپ کا کام ہے یہ ڈائلاگ یاد کروانا ہیں کورین اداکاروں کو۔ہمارے پاس مترجم موجود ہیں مگر لب و لہجے پر محنت کروانا تو انکا کام ہے وہ دیکھ بھی لیں گے مگرہمارے اداکار سب نئے ہی سمجھیں ہیرو ہیروئن کا تو پہلا ڈرامہ ہے انکو مکالمے سمجھانا یاد کروانا بہت بڑا کام ہے اداکاری تو وہ کر ہی لیں اب اگر ہنگل میں ہوتی تو انکا مینجر سنبھال لیتا لیکن عربی ۔۔ اوپر سے وقت بہت کم ہے ورنہ ایجنسی والے انکو عربی سکھوا دیتے یوں۔۔۔
انکا بریک لگانے کا کوئی ارادہ نہیں لگ رہا تھا۔ واعظہ کو ٹوک کر روکنا پڑا۔
عربئ مکالمے کورینز کو یاد کروانے؟ انکو تو ہنگل یاد کرنے ہونگے نا۔۔۔
واعظہ کو سمجھ نہ آیا فاطمہ کو تو خیر کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا
ارے اگر کورینز کو ہنگل مکالمے بلوانے ہوتے تو مسلئہ ہی کیا تھا بھئ دیکھو سنو۔
ایک طویل ٹوں ٹوں تھی جس پر فاطمہ بنا سمجھے سر ہلا رہی تھی جبکہ واعظہ سمجھنے کے باوجود سر ہلانے سے قاصر تھئ۔۔
عربی اداکاروں کو انکی مدد کرانا۔ یہ کاپی چاہیں تو ساتھ لے جائیں آپ۔ بس کل سے آجانا ابھی ایچ آر جائو اور ان سے پارٹ ٹائمر کا کارڈ وغیرہ لے لو۔
انہوں نے بات ہی۔ختم کردی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماتھے پر شکن لائے بنا وہ اسکے ساتھ ساتھ پھر رہے تھے۔
گنگم اسکوائر پراس وقت ٹھیک ٹھاک رش تھا۔ دو۔رویہ۔دکانیں سامان اور لوگوں سے لدی ہوئی تھیں۔
تیجون کو جانتے بھی ہیں آپ اچھی طرح یونہی کسی کے حوالے کرآئے بچیوں کو مجھے ہول اٹھ رہے۔۔
طوبئ نے کہا تو وہ لاپروائی سے بولے
بچہ ہے اچھا شریف گھر کا فکر نہ کرو۔
پھر بھی ۔۔۔ ایسا کرتے ہیں باقی سامان پھر لے لیں گے ابھی واپس چلتے ہیں۔۔۔۔ بچیوں پریشان ہو رہی ہوں گی۔۔
طوبی پرام گھسیٹی انکے پیچھے پہچھے چل رہی تھی ۔ دلاور آگے چل کر راستہ بنا رہے تھے کھوے سے کھوا چھلنے والا ہجوم تھا۔۔
فکر نہ کرو وہ پریشان ہونے والی نہیں کرنے والی بچیاں ہیں۔۔ مجھے تو تیجون کی فکر ہورہی ہے۔۔
انہوں نے ہنس کر کہا تو طونی ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔
کچھ ذیادہ ہی خوشگوار مزاج ہو رہا ہے جناب کا۔۔ خدا خیر کرے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لائونج میں صوفے پر کسی مجرم کی طرح بیٹھا تھا اسکے دائیں بائیں زینت اور گڑیا تفتیشی افسروں کی طرح کھڑیں اسے ٹٹولتی نگاہوں سے دیکھ رہی۔تھیں
یہ ہے جن بھیا جتنے پیارے نہیں۔
زینت نے افسوس سے سرجھٹکا
ہے جن بھیا یاد آرہے ہیں۔۔
گڑیا نے منہ بسورا
تیجون انکی باتیں سمجھ نہیں پارہا تھا مگر بسورتی بچی کو فورا چمکارنا چاہا
کیا ہوا ابھی آہبو جی آہموجی آجائیں گے۔۔ آئی مین ماما پاپا۔
پتہ ہے ہمیں۔ وہ ہمیں اکیلا چھوڑ کر تھوڑی کہیں چلے جائیں گے۔
زینت نےفورا کہا۔
ہےجن بھیا کو چھوڑ جاتے ہمارے پاس۔۔ وہ ڈورے مون کارٹون دکھاتے تھے۔۔
گڑیا اداس ہوئی۔
اسے ڈورے مون ہی سمجھ آیا جملے میں۔۔
ڈورے مون کارٹون دیکھنے ہیں میں ابھی لگا دیتا ہوں۔
تیجون کی جیسے مشکل آسان ہوئی فورا اپنا موبائل ٹٹولنے لگا۔۔
آپکو ڈورے مون پسند ہے ؟؟؟گڑیا کا سارا دکھ ہوا ہوگیا۔۔
اسکے بازو کو اپنی جانب کھینچ کر انگریزی میں بولی۔
دے۔۔ ۔۔ اس نے کہا پھر خیال آیا تو انگریزی میں بولا
یس۔۔۔
پاگل یہ بڑے ہیں ان سے بڑوں والے سوال کرو یہ کارٹون تھوڑی دیکھتے ہوں گے۔ تمہارے لیئے لگا رہے ہیں۔ ویسے ہر وقت دیکھ کر تھکتی نہیں ہو تم۔۔
زینت کمر پر ہاتھ رکھے اسے تیز نظروں سے دیکھتی بہن سے اردو میں مخاطب تھئ۔۔
نہیں تھکتی۔۔ اور انکو بھی پسند ہیں انہوں نے یس کہا۔ گڑیا نے تصدیق کی۔
تو تم تو بچی ہو تمہیں تو وہ یہی کہیں گے نا مگر پاپا کہہ کر گئے ہیں بھائی کو بور نہیں کرنا تو ان سے ہمیں باتیں کرنی ہوں گی تاکہ یہ بور نہ ہوں۔
زینت بڑی امائوں کی۔طرح جانے کیا گٹ پٹ کر رہی تھی۔
وہ کان کھجا کے رہ گیا۔۔
ٹھیک ہے میں بڑوں والے سوال کرتی ہوں۔ گڑیا نے سر ہلایا۔۔ پھر سوچ میں پڑی۔ تیجون کو نگاہوں میں رکھتے بڑے پرسوچ انداز میں سینے پر ہاتھ باندھے پھر انگلی گال پر رکھ کر علامہ اقبال والا پوز بھی ماردیا پھر بولی۔۔
بڑوں والے سوال کونسے ہوتے؟
بھئ یہ کارٹون تو نہیں دیکھتے ہوں گے ۔۔ زینت نے اسکی کم عقلی پر سر پیٹا۔
آپ دونوں کیا کہہ رہی ہو مجھے سمجھ نہیں آرہا۔
تیجون کے سر پردونوں تفتیشی افسروں کی۔طرح کھڑی تھیں بے چارہ گھگھیا کر انگریزی میں پوچھنے لگا۔
آپکو موسیقی میں دلچسپی ہے؟
زینت نے اب انگریزی میں سوال کیا
آہاں۔ اس نےجھٹ سرہلایا
ایکسو یا بی ٹئ ایس؟
یہ سوال گڑیا کی طرف سے آیا تھا
ایکس۔۔۔۔ ابھی جواب میں تھا کہ علامہ صاحبہ بولیں
انکو تو لڑکیوں کے گروپ پسند ہوںگے
یہ بتائیں بلیک پنک یا ٹوائس۔۔؟
ٹوائس۔۔۔۔ اسکا جواب پورا بمشکل ہوااگلا سوال آیا
آپکی کوئی گرل فرینڈ ہے؟
ہاں۔ وہ جھٹ سر ہلا گیا پھر سٹپٹایا۔
آںدے۔۔ نو۔
کیا نام ہے؟ زینت پوچھ رہی تھی۔۔
آپ جتنی ہیں انی؟ گڑیا کو دلچسپی تھی۔۔
دکھائیں ۔۔۔
دونوں اسکے گھٹنے پر کہنیاں ٹکا کر فرمائش داغی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا بازار ماتھے پر شکن لائے بنا گزار کر وہ ان بوڑھی۔خاتون کے پاس جا کر خود ہی رک گئے۔
ان سے سبزیاں لیتی ہو نا؟
جی۔ وہ اپنے دھیان سے چونک کر بولی
صارم کا پرام گھسیٹتی انکے پیچھے پیچھے چلتی رکتی وہ دزدیدہ نگاہوں سے میاں کو دیکھ رہی تھی۔
کیا کیا لینا۔ وہ پوچھ کر خود ہی آہجومہ کی چھابڑی سے سبزیاں ٹٹولنے لگے۔
پالک گوبھئ مٹر آلو ٹماٹر پیاز سب کلو کلو تلواتے گئے وہ ایک لفظ نہ بولی۔ بینگن ڈیڑھ کلو خرید لیئے۔ کیونکہ ایک کلو کے بعد انکی۔چھابڑی پر دو چار ہی۔بینگن رہ گئے تھے۔ تو ازراہ ہمدردی وہ بھی اٹھا لیئے۔ آہجومہ شکر گزار نظروں سے دیکھ رہی تھیں دلاور کو۔ حلوہ کدو پانچ کلو کا اٹھانے لگے تو طوبی کو اپنے سب اندیشے جھٹک کر ٹوکنا پڑا
کیا کرتے ہیں اتنا بڑا کون کھائے گا کیسے ختم ہوگا۔
دلاور کو بھی دل کو لگی حلوہ کدو واپس رکھ دیا چھوٹا سا کدو اٹھا لیا
اسکا رائتہ بنا دینا۔ وہ خوشگوار انداز میں مسکرا کر کہہ رہے تھے۔ جتنی سبزی خرید لی۔تھی نا اسے لے جانے کا کوئی۔زریعہ۔نہ تھا۔ دلاور نے پرسوچ نگاہوں سے دیکھا۔
صائم کو اٹھا کے طوبی کی گود میں دیا پرام سبزیوں سے بھرا۔ آہجومہ کے ساتھ والی دکان میں اسے ٹھہرو کہتے ہوئے گھس گئے۔
شوہر ہے تمہارا۔
آہجومہ اسکی قمیض کا دامن پکڑ کر متوجہ کرنے لگیں۔۔
جی؟ اسکی سمجھ میں خاک پتھر نہ آیا
شوہر۔ کبھی ناک پر انگلی رکھتیں کبھئ اسکے بچے کی جانب اشارہ کرتیں جب اپنے پیٹ پر خوب ہاتھ پھیر کر بڑھنے کا اشارہ کیا تو طوبی سٹپٹا کر اثبات میں سر ہلا گئ۔
بہت اچھا شوہر ہے تمہارا۔ بہت خیال رکھنے والا۔
خوش رہو۔
خوش ہو کرا نہوں نے ہمکتے ہوئے صائم کو کھیرا تھما دیا۔
سمجھ تو نہیں آرہا آپ کیا کہہ رہی ہیں مگر اچھا ہی کہہ رہی ہوں گی
اس نے کہتے ہوئے زرا سا سر جھکایا سلام لینے کو۔آگے سے آہجومہ اس سے بھی زیادہ دو دو فٹ آگے جھک گئیں۔
اس کو ہنسی ہی آگئ۔ انکے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر دیا
چلیں آج آپ کیلئے میری دعائیں سہی۔۔۔۔
مچھلئ کی دکان سے خوب بڑی مچھلی تلوا کر نکلتے دلاور نے بیوی کو کھلکھلا کر ہنستے دیکھا تو انکئ چہرے پر بھی مسکان آگئ۔ تبھی طوبی کی نگاہ انکی۔جانب اٹھی اور اسکی مسکان دھیمئ پڑ گئ
چلو چلیں۔ انہوں خوشگوار انداز میں مسکراتے ہوئے مچھلی بھی پرام میں لا کر رکھ دی۔
مچھلی بھی رکھ دیں سبزیاں پہلے ہی پانی ٹپکا رہی ہیں اب خون کا تڑکا بھئ لگ جائے صائم کو اس میں جب بٹھائوں گی نا تو چھچھوندر کی مہک آئے گی پھر اسکے پاس سے۔
طوبی۔جانے کیوں۔جھلائی۔
اوہ خیال نہیں رہا اٹھا لیتا ہوں ۔مزید ایک لفظ بھی کہے بنا انہوں نے مچھلی کا شاپر واپس اٹھا لیا۔
بلکہ ایسا کرو صائم کو مجھے دو تم یہ۔مچھلی اٹھا لو۔ مچھلی کا شاپر تو ہلکا سا ہے میرے گولو بیٹے نے تمہیں تھکا دیا ہوگا۔
چونچال پیار بھرا انداز اسکو شاپر تھما کر انہوں نے نا صرف صائم کو گود میں لے لیا بلکہ پرام بھی خود گھسیٹنے لگے۔
طوبئ بہت سمجھدار لڑکی ہو تم تم نے صبر اور عقل سے کام لینا ہے۔ اور تم اکیلی نہیں ہو۔ پانچ بہنیں ہیں یہاں تمہاری ۔۔ تمہاری راجدھانی اتنئ آسانی سے ہلائی نہیں جا سکتی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گئ۔مجھے پہلی فرصت میں۔۔۔۔
دلاور خراماں خراماں بڑھ رہے تھے جب احساس ہوا انکی ہم سفر کہیں پیچھے رہ گئ۔ چند قدم آگے بڑھ کر مڑ کر دیکھا تو وہ اسی آہجومہ کی چھابڑی کے پاس کھڑی تھی ہکا بکا سی۔
تبدیلی ایکدم سے آئی ہے حیران ہے شائد مگر اچھی بات یہ ہے کہ مستقل تبدیلی ہے مگر اسکا یقین آہستہ آہستہ ہی آئے گا نا۔۔انہوں نے سوچا۔۔
آئو نا یے بو۔۔
انہوں نے دانستہ یے بو کہا زور سے راہ چلتے لوگوں نے چونک کر دیکھا طوبی کی آنکھیں مزید کھل گئیں
وہ کھل کر مسکرا دیئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انکو انکے اپارٹمنٹ کی عمارت کی پارکنگ میں ڈراپ کیا تو عزہ شکریہ ادا کرتی باہر نکل آئی۔ عروج بھی اترنے لگی تو سیونگ رو نے دروازہ لاک کر دیا۔
روج مجھے تم سے بات کرنی ہے۔
سیونگ رو کے چہرے پر گہری سنجیدگی دیکھ کر وہ ٹھٹک سی گئ۔۔۔
سیونگ رو گاڑی موڑ کر تیزی سے واپس باہر نکال لی
عروج کے باہر آنے کا انتظار کرتی عزہ کو اپنا آپ کافی احمق محسوس ہوا۔۔۔ کندھے اچکا کر پلٹنے لگی جب اسے سامنے سے زینت اور گڑیا ایک لڑکے کے ساتھ آتی دکھائی دیں۔ وہ ہرگز نہ رکتی اگر لڑکے کے نقوش چندے نہ ہوتے۔۔
دیکھو پاپا ماما کو مت بتانا کہ میں نے تم دونوں کو اپنی گرل فرینڈ کی۔تصویر دکھائی پنکی پرامس کرو۔
تیجون نے انکو اپنی چھنگلیا دکھا کر وعدہ کرنا چاہا
دونوں خاموشی سے دیکھتی رہیں
پرامس کرو نا۔
تیجون نے انہیں ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر ٹوکا
پرامس ایسے تھوڑی کرتے۔
زینت نے اسکی مٹھی کھول کر ہاتھ ملایا۔
اچھا جیسے بھی سہی۔ کسی کو بتانا مت۔
اسکا جملہ پورا نہ ہوا کہ زینت نے دور سے کالے لبادے میں ملبوس لڑکی کو دیکھ کر دوڑ لگا دی۔
عزہ آپی۔۔
گڑیا نے بھئ لڑکے کا ہاتھ چھوڑا اور دوڑ کر آکر اس سے لپٹ گئ۔
میری زینو۔ کیسی ہو کہاں سے آرہی ہو۔۔ وہ پوچھ زینت سے رہی تھی مگر گھور نووارد کو رہی تھی۔ تیجون کو پسینے چھوٹتے محسوس ہوئے۔
تیجون بھائی ہیں یہ۔ ہم نے انکو کہا ہمیں آئس کریم کھلا کر لائیں تو کھلا کر لائے ہیں۔
گڑیا بھئ زینت کی دیکھا دیکھی اسکی ٹانگوں میں آلپٹی۔۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر کون ہے یہ؟ چاچو ماموں تو نہیں نا کہاں ہیں طوبی کس مسٹنڈے کے پاس چھوڑ گئیں تم دونوں کو۔
جھلاہٹ جانے کہاں کہاں سے عود کر آئی تھی اسکے لہجے میں کہ ککھ بھی پلے نہ پڑنے کے باوجود بھی تیجون سٹپٹا سا گیا۔
آپی تیجون بھیا کی اتنی پیاری گرل فرینڈ ہے۔ بالکل انکی جیسی شکل کی ہے۔۔
زینت نے بھانڈا پھوڑا۔ نقاب والی لڑکی نے کڑے تیور سے گھورا
یہ تم دونوں کو اپنی گرل فرینڈ کی تصویر دکھا رہا تھا۔
عزہ کے تو جیسے تلوئوں سے لگی سر پر بجھی۔ تیجون کے ہاتھوں سے طوطے اڑے ۔۔ جھٹ نو دوگیارہ ہونا چاہا۔۔
میں چلتا ہوں۔ آنیانگ۔ اس نے جھک کر اجازت لی عزہ نے دونوں بچیوں کو پروں میں سمیٹا جیسے۔
ویٹ بے بی سٹر ہوتم ؟
آنیا۔۔ ( نہیں ) وہ نفی میں سرہلا گیا۔ پھر خیال آیا تو بولا ۔د دا دے۔۔ (ہاں)

آنیا یا دے؟
وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر تفتیشی انداز میں مخاطب تھی۔
کس قسم کے بے بی سٹر ہو تم۔ بچیوں کو کسی بھی ایرے غیرے کے پاس چھوڑ کر چلتے بن رہے تھے؟اتنے چھوٹے بچے تو ہر کسی سے بے تکلف ہوجاتے تمہیں پہلے میرا تعارف نہیں لینا چاہییے تھا؟ طوبی آتیں تو کیا جواب دیتے کہاں کس کے پاس چھوڑا بچیوں کو بولو؟
تیجون خالص انگریزی میں تواتر سے پڑتی ڈانٹ پر بوکھلا سا گیا سوچا انگریزی میں صفائی دے مگر لفظ منہ چڑاتے بھاگ گئے۔ ہنگل میں ہی بڑبڑاتا رہ گیا۔
وہ میں تو۔۔۔ جب کوئی جواب نہ بن پڑا تو ۔۔اس نے اپنے کندھے سے اوپر فلیش بیک کی۔جانب اشارہ کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلاور بچوں کے ساتھ کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے فون پر گیم چل رہی تھی بچوں کو پزل جوڑنے پر لگایا ہوا تھا صائم پاس لیٹا ہاتھ پائوں چلا کر فیڈر پینے میں مگن تھا۔ بچیاں ہر پزل جوڑ کر پہلے انہیں دکھاتیں پھر کھلکھلاتیں ۔
قتل و غارت کرتے ہوئے وہ مگن تھے گیم میں جب زینت نے پزل جوڑتے ہی انکا ہاتھ ہلا دیا۔
پاپا دیکھیں۔
ابے۔۔ وہ بری طرح اچھلے چانس گرگیا ناک پھلا کر گھورا تو بچی الگ سہم گئ۔ اب چانس تو واپس نہیں آسکتا تھا گہری سانس لیتے موبائل ایک طرف رکھا۔
دکھائو کیا بنایا۔
کوئی بچوں کا کارٹون کردار تھا وہ بھی اینیمی کا۔ انکو تو نام دور شکل بھی پہلی بار نظر آئی تھی
بہت پیارا زبردست ۔۔۔
ایک فائدہ تھا کوریا کا بچوں کو مصروف رکھنے کی طرح طرح کئ بورڈ گیمز لفظ بنانے سے لیکر پزل جوڑنے تک کی باآسانی مل جاتی تھیں وہ بھی سستی۔ اب یہ پزل جوڑ کر ایوارڈ کی طرح دکھاتے دونوں بچیوں کی تصویر لی سیلفی بھی لی دونوں خوش ہوگئیں تو پزل اٹھا کر بیڈ سے اچھال بھی دیا۔
ارے۔ ہائیں۔ وہ یہی کرتے رہ گئے زینت نے نئی بورڈ گیم کا کاغذ اتارنا شروع کردیا۔
کوئی حال نہیں۔ وہ بڑ بڑاتے ہوئے اٹھے پزل چن کر واپس اسکے ڈبے میں ڈالا چونکہ اتنی زحمت کرلی تھی کہ بیڈ سے پائوں نیچے اتار لیئے تھے تو سوچا کافی دیر سے غائب بیوی کا بھئ دیدارکر لیا جائے۔ بھرپور خوشگوار مسکراہٹ سجاتے باہر نکلے تو باہر تو طوفان آیا ہوا تھا۔
برتن پٹخ پٹخ کر باورچی خانہ سمیٹتی طوبی ریکارڈ کی طرح بج رہی تھئ۔
اتوار کو ایک چھٹی ہوتی تو چلو ٹھیک ہے مانا آرام کا دل کرتا ہوگا مگر اس چھوسک ( کوریائی تہوار) کی وجہ سے ہفتے کے بیچ میں بھی چھٹی آگئ ہے تو بھی میرا ہاتھ بٹاناتو دور باہر کا کوئی کام بھی کرنے کو تیار نہیں۔ دہی ہے سوچا لوکی کا رائتہ بنا لوں مگر سودا لانے سے صاف انکار اب میں ہی جائوں لوکی لیکر آئوں تو رائتہ بنے گا۔ اب اس بے سری مونگ کی کھچڑی کو خالی دہی سے کیسے حلق سے اتارا جائے۔ پیٹ انکا خراب اور کھچڑی ہم سب کھائیں واہ۔۔
جزباتئ ہو کو دم پر لگی کھچڑی کا ڈھکن پکڑا ہاتھ جلا وہیں زمین پر بیٹھ کر رونا شروع۔
اتنی جلدی تو کورین ڈراموں کے منظر نہیں بدلتے جتنی جلدی انکی آنکھوں کے سامنے یہ حقیقت بدل رہی تھی۔
وہ سٹپٹا کر لپکے۔
اکیلی پڑ گئ ہوں مگر کسی کو احساس ہو تب نا۔ سودا سلف بھی لائوں اوپر سے پکائوں بھی۔ کم از کم سودا سلف لانے کی ذمہ داری تو اٹھا لیں۔ مگر نہ جی۔ ہے جن کیسا میرے ساتھ ساتھ لگا رہتا تھا۔
بڑ بڑاتے ہوئے اسکا دل جیسے مٹھی میں لے لیا کسی نے۔
بچے بھی کتنا ہل گئے تھے اس سے۔ جانے کہاں ہوگا کیا کر رہا ہوگا۔ ایک بار بھی یاد نہیں کیا مجھے۔۔ کتنا پیار کرتی تھی تھوڑا سا غصہ کرلیا تو سب بھول گیا۔۔۔۔ خاور کی طرح۔۔۔ گم کر لیا خود کوکھوگیا۔۔ اور۔
اسکئ جانب بڑھتے دلاور اسکے آخری جملے پر رک سے گئے۔ آہٹ پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو دلاور کو سنجیدہ نظروں سے خود کو دیکھتا پایا۔ اسکی سٹی گم ہوگئ
دلاور آپ ۔۔۔ وہ سٹپٹا کر آنسو پونچھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
آپ تو سو نے لگے مجھے لگا ۔۔ وہ ہکلا رہی تھی۔
خود سے بولنے بڑبڑانے کی عادت اسے یوں ہی پڑی کہ سسرال میں سب سے بڑی بہو اور سب سے کم عمر ہونے کا اعزاز اکٹھے اسکے حصے میں آیا تھا۔ سو جگہ ہونٹ سیئے خاموشی سے سہا دلاور کا تو رعب اتنا تھا کہ فرمائش دور کوئی ضرورت کی شے بھی منگوانی ہو تو سو دفعہ سوچتی تھی۔ بس پھر یونہی اکیلے کچن میں چپکے چپکے چیزیں پٹخ لیں بڑ بڑا لیا دل ہلکا کر لیا۔ ابھی بھی اسکے خیال میں دلاور سو رہے تھے۔ یہ والیم بھی کوریا آکر بڑھا تھا ورنہ سرگوشیانہ انداز میں بڑ بڑ کرتی تھی یہاں کون تھا سننے والا بچے تو ابھی اس عمر میں تھے ہی نہیں کہ سن کر معنی نکالتے یا آگے پہنچاتے۔
تمہیں ہے جن یاد آرہا ہے۔ انہوں نے سنجیدہ نظروں سے دیکھا تھا اسے۔۔
نن۔۔ وہ نفی میں سر ہلانے کو تھی پھر جیسے تھک کر اعتراف کر لیا۔
ہاں۔ آپکو شائد میرا یقین نہ آئے مگر مجھے اس میں سچ مچ دانی ( بھائی) کی جھلک آتی تھی۔ دانی تو مجھ سے بات بھی نہیں کرتا کبھی فون اٹھا بھی لے تو ہوں ہاں کرتا ہے بس مگر ہے جن میری گھنٹوں سنتا تھا سہیلی تھا میری۔۔۔ سچ مچ چھوٹے بھائیوں کی طرح چاہتی تھی میں اسے۔ جانے کہاں چلا گیا ہے۔ مجھ سے روٹھ کر۔
وہ بچوں کی طرح رونے لگی تھی۔۔ دلاور دیکھ اسے رہے تھے مگر ذہن میں منظر کوئی اور تازہ ہوا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاور۔ خاور رکو کہاں جا رہے ہو ایسے روٹھ کر بات تو سنو۔۔۔۔
انیس بیس سالہ خاور طیش میں پیر پٹختا گھر سے نکلا تھا باورچی خانے سے اسکے لیئے کھانا گرم کرکے نکلتی طوبی پکارتی اسکے پیچھے لپکی تھی۔ آگ کا شعلہ سا بھڑکا تھا۔۔
خاور خاور۔
مٹھیاں بھینچتے وہ بھی اسی وقت کمرے سے نکلے تھے۔۔۔۔
خاور کے پیچھے جاتے انکے قدم رکے تھے کیونکہ شعلے ایکدم کسی کو لپیٹ میں لے گئے تھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داخلی دروازے کی گھنٹی کی آواز پر وہ چونکے۔ ماضئ سے حال میں لوٹے۔
میں واعظہ سے کہوں گا ہےجن کا کوئی اتا پتہ دے۔ میں خود اسکو ڈھونڈوں گا کان سے پکڑ کر سامنے لاکھڑا کروں گا اب خوش۔ یہ رونا دھونا تو بند کرو۔
وہ اسے بچوں کئ طرح بہلا رہے تھے اور وہ بہل بھی گئ۔ واقعی؟؟
اسکی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔
ہاں اب چلو منہ دھوئو۔ کیا چیزیں لینی ہیں فہرست بنائو ابھی لیکر آتے ہیں ہم دونوں۔۔
انہوں نے ٹشو رول کے کئی ٹشوز نکا ل کر اسے تھما دیئے۔
آپ نے سن لیا۔۔ وہ اور شرمندہ ہوئی۔
بس میں ایسے ہی کام زیادہ ہو تو بڑ بڑ کرنے لگ جاتی ہوں عادت پڑ گئی ہے۔ کھانا تو بس تیار ہے بچوں کو بلائیں میں لگاتی ہوں۔۔
سوں سوں کرتی بچوں کی طرح بولتی انہیں وہ عام دنوں سے ذیادہ پیاری لگی یا یوں کہیں لگنے لگی تھی اب اسکی لاپرواہی بچپنے بڑ بڑ کرنے کسی بات پر غصہ آہی نہیں رہا تھا چہرے پر نرم نرم سی مسکراہٹ لیئے وہ فرصت سے تکنا چاہ رہے تھے تبھی اور زور سے گھنٹی بجی۔
انہوں نے بد مزہ ہو کر دروازے کو گھورا۔
نہیں ابھی اتنی کوئی بھوک نہیں ایسا کرتے ہیں سودا سلف لے آتے ہیں سادہ رائتے کی بجائے کدو کا رائتہ بنا لو جلدی جھٹ پٹ بن جائے گا ذائقہ بھی بدل جائے گا منہ کا۔
وہ بڑے پیار سے فرمائش داغ رہے تھے۔
کدو کا رائتہ۔ طوبئ کا منہ کھلا رہ گیا۔
سادہ رائتہ بنانا آسان ہوا کہ کدو کا رائتہ ابھی کب لائیں گے کب بنے گا بچوں کو بھوک لگ جائے گئ۔
طوبئ نے منطق سے سمجھانا چاہا۔۔
گھنٹی ہھر بج اٹھئ۔
اوہو پانچ منٹ کے فاصلے پر تو تازہ سبزی ملتی ہے یوں گئے یوں آئے۔
دلاور نے چٹکی بجائی انکی چٹکی کے ساتھ ہی گھنٹی بجی تھی
اچھا دروازے پر دیکھیں کون آیا ہے۔
طوبئ نے کہا تو وہ لاپروائی سے کندھے جھٹک کر بولے
مجھ سے ملنے کون آئے گا سیلز مین ہوگا کوئی چلا جائے گا دفع کرو۔بس اس وقت کدو کا رائتہ بنے گا فائنل ہوگیا۔۔
ہاں تو ٹھیک ہے لے آئیں کدو۔۔
طوبی نے کندھے اچکائے
ٹیں۔۔۔۔۔۔ گھنٹی بجی۔۔
اوہو تو تم بھئ چلو نا اپنی مرضی سے سب کچھ ہفتے بھر کا سامان لے آئو میری لائی سبزی پسند نہیں آتی کبھی تو کوئی چیز رہ جاتی ہے۔ سب اکٹھا لے آئو۔
دلاور اسکے سب شکوے دور کرنا چاہ رہے تھے وہ الٹا چڑ گئ
حد ہے دلاور۔ بچوں کو اکیلے کیسے چھوڑ سکتے ہیں اور بچوں کو کہاں لیئے لیئے پھریں گے۔ زینت تو دو منٹ چلنے کے بعد فرمائیشیں شروع کر دیتی ہے یہ کھلائو وہ۔کھلائو۔
ٹیں۔ گھنٹئ کی طوالت میں اضافہ ہوا
توکھلا دیں گے۔
دلاور اسکی۔کج بحثی سے تنگ ہونے لگے۔
ارے ہر دوسری چیز تو یہاں حرام ملتی ہے ٹھیلوں پر میں انکو۔۔
ٹیں۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا جملہ گھنٹئ کی آواز میں گم ہوگیا۔
کون ہے بے صبرا ۔۔
دونوں اکٹھے جھلائے۔۔
پاپا کوئی آیا یے۔
زینت نےبھئ اب آکر بتایا تو انہیں اپنی بحث روکنی پڑی
پہلے دیکھ لیں کون ہے دروازے پر۔ واعظہ وغیرہ تو اس وقت گھر میں ہی نہیں ہوتیں آپکا کوئی جاننے والا ہوگا۔
طوبی نے کہا تو وہ سر کھجاتے بڑ بڑاتے دروازے کی جانب بڑھے
مجھ سے ملنے کون آسکتا یہاں جانتاہی نہیں میں یہاں کسی کو کوئی۔۔۔
کہتے کہتے دروازہ کھولا تو تیجون جو پھر بیل بجانے والا تھا ایکدم ٹھٹک کر رکا پھر جھک کر بولا
آننیانگ۔ کیسے ہیں آہجوشی آپ۔
یہ انکا ہی ملنے والا تھا۔ انہوں نے کھسیا کر مڑ کر دیکھا تو طوبئ اور زینت سینے پر ہاتھ باندھے گھور رہی تھیں انہیں۔
وہ یہ میں آپکے لیئے لایا تھا۔۔
اس نے بڑا خوبصورت سا گول سا باکس جس میں چاکلیٹس تھیں انکی جانب بڑھایا
اسکی کیا ضرورت تھی۔
وہ خوش ہوگئے تھےچاکلیٹس تو انکی کمزوری تھیں اوپر اوپر سے تکلف کیا۔
میں آپکا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
وہ دروازے میں جمے تھے اندر بھی نہیں بلا رہے تھے
اسلئے۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔ کروم۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ سٹپٹا کر مڑنےلگا تھا
اگر واقعی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہو تویہ چاکلیٹس کافی نہیں کام کرنا ہوگا تمہیں میرا۔
دلاور گول سی چاکلیٹ کا ریپر اتار کر منہ میں رکھتے ہوئے ڈرامائی انداز میں بولے۔۔
بسرو چشم۔ وہ انکساری سے جھکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس میں دونوں کو جگہ نہیں ملی تھی۔ واعظہ ہینڈل پکڑے کھڑی تھی تو فاطمہ اسکے کندھے پر سر رکھے وقفے وقفے سے آہ بھر رہی تھی۔
ہائے ایک چیز ملتی ہے دوسری کھو جاتی۔۔۔۔
اتنی مشکل سے جاب ملی تو بیگ زمین کھا گئ کہ آسمان نگل گیا۔
نا زمین نے کھایا نا آسمان نگل گیا۔ زمین و آسمان کو تمہارے بیگ میں ٹکے کی دلچسپی نہیں ہوگی پکا پتہ ہے مجھے۔ واعظہ چڑی۔
تمہاری لاپروائی کی وجہ سے کہیں آگے پیچھے ہو گیا ہے مل جائے گا اتنی بڑی کمپنی میں تھوڑی ایسے چیزیں گمتی پھرتی ہیں اور نہ ہی چند ہزار وون اتنی بڑی رقم کہ کورین رال ٹپکائیں چوری کرکے اپنے بد اعمال بڑھائیں۔
پھر بھی تمہارے پیسے گئے ہوتے تو پوچھتی۔ کل متاع تھی میری یہ۔۔۔
وہ روہانسی ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔
اچھا اپنے بل پر کھڑی ہو میرا کندھا مت توڑو۔
واعظہ نے جھٹکا لگنے پر اسے دور پھینکا تھا تبھی بس اسٹاپ پر رکی تھئ۔
یونہی اس نے کھڑکی سے دور کا منظر دیکھا ۔ وہ لانگ اسکرٹ میں ملبوس لڑکی تھی جو کافی شاپ سے نکلی تھی اپنی دھن میں مگن کندھے پر بیگ ٹھیک کرتی وہ بس کے مخالف سمت سڑک پر جا رہی تھی۔
واعظہ۔
فاطمہ۔۔۔
دونوں نے اکٹھے اسے دیکھا تھا پھر ایک دوسرے کو۔۔
بھاگو پکڑو۔
آہجوشی بس روکیں۔
دونوں نے لمحہ بھر کا بھی انتظار کیئے بنا شور مچا دیا۔ بس چل پڑنے کے باوجود ڈرائور کو بریک لگانی پڑی۔ دونوں بھاگم بھاگ بس سے اتر کر اس سمت دوڑیں۔ لمحہ بھر میں نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی لڑکی۔ سڑک کے آخری سرے پر چوراہا تھا جس پر دو رویہ ٹریفک بند تھا تو بقیہ دو سڑکوں پر ٹریفک رواں تھا۔ دونوں کی بھاگنے سے سانسیں پھول چکی تھیں۔ وہ لڑکی یقینا کسی کیب میں بیٹھ کر رفو چکر ہو چکی تھی۔
سانسیں بحال کرتی دونوں تھک کرواپس مڑیں۔۔
وہ لڑکی انکی نگاہوں کے سامنے کھڑی تھی۔۔
اسلام و علیکم کیسی ہو دونوں۔۔؟ میرے پیچھے بھاگتی آرہی تھیں نا؟
اس نے مسکرا کرکہا تو وہ دونوں دیکھ کر رہ گئیں اسے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *