Tag: romantic novels in urdu pdf

  • Desi Kimchi Episode 12

    قسط بارہ
    وہ کمرے میں جانے کیلئے اٹھی تھی۔ ابھی کمرے کا دروازہ کھولنے کیلئے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ وہ خاتون آندے آندے کہتی ہوئی آئیں۔ اس نے مڑ کر سیہون کو دیکھا تو وہ کندھے اچکا گیا۔ اسے دروازے پر روک کر سیہون کو بھی اسکے پاس لا کھڑا کیا تھا انہوں نے پھر باورچی خانے کی درازیں کھول کھول کر جانے کیا تلاشتی رہیں پھر کچھ نہ کچھ مل ہی گیا انہیں تو خوشی خوشی دوڑی چلی آئیں۔
    ایک طشتری میں تھوڑے سے پھول چراغ اور جانے کونسی جڑی بوٹیاں رکھ کر وہ اسکی نظر اتار رہی تھیں
    تلسئ تو اس وقت گھر سے نکلی نہیں چراغ تو بدھا کے مندر سے کل واپسی پر ایک بچ کر آگیا تھا۔ مگر میری اچھی نیت کا خیال رکھنا میں بس تمہاری روایت کے مطابق تمہارا استقبال کرنا چاہ رہی ہوں۔
    خاتون اسے جانے کیا کہہ رہی تھیں۔
    سیہون نے ترجمہ کیا۔ تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ مڑ کر پھر ہینڈل کی جانب ہاتھ بڑھایا توایک اور آندے سنائی دیا۔ اس نے سخت چڑ کر سیہون کو دیکھا۔
    ایک پلاسٹک کے چھوٹے سے پیالے میں وہ اب چاول ڈال کر لائی تھیں اسے دروازے کی چوکھٹ میں رکھ دیا۔
    گھر میں داخل ہوتے وقت تو میں یہ رسم پوری نہ کر سکی لیکن اب تم لوگوں کمرے میں داخل ہونے لگے ہو تو اسے ٹھوکر مار کر رسم پوری کر لو۔۔
    وہ کلش گرانےوالی رسم پوری کرنا چاہ رہی تھیں۔ سیہون نے گہری سانس لیکر ترجمہ کیا۔
    کیا میں یہ چاولوں کے پیالے کو ٹھوکر ماروں ۔؟ میرے خدا اتنی بڑی رزق کی بے حرمتی نہیں کر سکتی میں۔۔ فاطمہ بدک گئ۔ سیہون تو سمجھا تھا کہ وہ آرام سے رسم پوری کرکے کمرے میں چلی جائے گی جان چھٹ جائے گی اسکی مگر یہاں تو وہ بدک کر کھڑی ہوگئ تھی
    کیا کہہ رہی ہے یہ۔ آنٹی کو دستی ترجمہ درکارتھا۔
    ایک تو وہ تمہیں بہو سمجھ کر تمہاری تہزیب و رواج کے مطابق استقبال کرنا چاہ رہی ہیں اور تم نخرے دکھا رہی ہو۔ وہ بھنا گیا۔۔
    بالکل نہیں یہ ہماری تہزیب و رواج نہیں کہ رزق کو ٹھوکر ماریں کبھی چاول تو چھوڑ نمک کا دانہ بھی زمین پر گر جائے امی ڈانٹ کر کہتی تھیں اٹھائو نہیں تو قیامت کے دن تو پلکوں سے چننا پڑ جائے گا۔ نا کہ میں روزے میں چاولوں کو پیروں سے ٹھوکر ماروں۔
    اف۔ سیہون بال نوچنے کو آگیا۔
    اور یہ بتائو تمہاری امی کو یہ سب کیسے پتہ ہے؟ پچھلے جنم میں ہندونی تو نہیں تھیں۔ فاطمہ کو شک گزرا۔
    ہرگز نہیں یہ انکی پہلی زندگی ہے۔ سیہون نے بھنا کر جتایا
    پھر؟ فاطمہ کو جواب درکار تھا۔ اب سہولت سے خالص پاکستانی پنجابن کے انداز میں کمر پر ہاتھ رکھ کر دوبدو ہوئی۔
    آہموجی انڈین فلمیں اور ڈرامے کورین سب ٹائٹلز کے ساتھ بہت شوق سےدیکھتی ہیں۔ ہمارے گائوں میں ایک لوکل سینما ہے جس میں وہ فلموں کو کورین سب ٹائٹل اور کبھی کبھار ڈبنگ کے ساتھ بھی دکھاتے ہیں۔انڈین فلمیں بہت پسند ہیں انکو وہاں سب کا مل۔جل کر ایک۔ساتھ رہنے کا ماحول بہت پسند ہے۔ اسلیئے وہ تمہیں خوش کر دینا چاہتی ہیں۔
    سیہون چہرے پر مسکراہٹ سجائے انگریزی بول رہا تھا۔ خاتون کو یہی تاثر جا رہا تھا کہ دونوں یونہی آپس میں کوئی بات کر رہے ہیں۔
    کرو نا۔ خاتون نے پھر اسے ٹھوکر مارنے کو کہا تو وہ مناسب الفاظ میں منع کرنے لگی تھی کہ
    میں کر دیتا ہوں۔ سیہون نے کہتے ہوئے ٹھوکر مار کر کلش گرانا چاہا بروقت فاطمہ نے تائیکوانڈو کی ٹرک آزما کر ٹانگ اڑا کراسکی پنڈلی میں زوردار لات مار کر اسکی ٹانگ روک دی وہ منہ کے بل گرتے بچا تو خشمگیں نظروں سے گھورنے لگا۔
    میں رزق کو ٹھوکر مارنے نہیں دے سکتی سمجھے۔۔ اس نے دانت کچکچا کر کہا پھر یکسر بدلے ہوئے نرم سے تاثرات کے ساتھ خاتون کی جانب پلٹی۔
    یہ سب کی ضرورت نہیں بلکہ آپ آج یہاں رہیں گی تو انہی چاولوں سے آپکو اپنے ہاتھ کا بہترین پلائو بنا کر کھلائوں گی۔
    اس نے پیالہ اٹھا کر بہت تمیز سے انکو تھماتے ہوئے کہا تھا۔
    سیہون نےترجمہ کیا تو انکی آنکھیں جھلملا گئیں ۔
    سر ہلا کر جیسے انہوں نے اجازت دی جھٹ فاطمہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور سکھ کا سانس لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے کچھ بھی یاد نہیں میں نے تو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں کسی نے پیچھے سے میری ناک پر رومال رکھا تھا اور میرا زہن مائوف ہو گیا تھا۔
    عزہ کا بیان پولیس اہلکار ریکارڈ کر رہے تھے۔ وہ سب ہےجن کے کمرے میں ہی موجود تھے۔ عروج ساری رات کی شفٹ لگا کر فی الحال صوفے پر گری ہوئی تھی ۔ ہے جن بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا ساری رات کے آرام کے باعث وہ اب کافی بہتر لگ رہا تھا۔ عزہ بھی صبح ہی اٹھی تھی۔ واعظہ اور عزہ ہےجن کے پاس ہی کھڑی تھیں۔
    اہلکار نے ہنکارہ بھرا۔ پھر اگلا سوال داغ دیا
    ہمیں جائے وقوعہ سے ایک نقاب ملا ہے۔ بھاگتے ہوئے کسی کا گرا تھا ۔ اسکی شکل آپ تینوں میں سے کسی نے دیکھی۔؟
    میں تو ایک سے بھڑا ہوا تھا ہاں واعظہ نونا نے جب دوسرے کو ماراتو اسکے منہ سے نقاب گرا تھا ۔ میں نے جب اسے دیکھا تو وہ اپنے اپر سے چہرہ ڈھانپ چکا تھا مگرمجھے یقین ہے انہوں نے دیکھا ہے اسکا چہرہ۔
    ہے جن نے کہا تو عزہ اور دونوں اہلکار چونک کر اسکی جانب متوجہ ہویے۔ واعظہ گڑبڑا سی گئ۔
    مگر انہوں نے تو اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے شکل بھی نہیں دیکھی۔ اہلکار کھردرے سے انداز میں بولا۔ واعظہ کا رنگ فق ہوگیا تھا۔
    آپ نےتو دیکھا ہے نا آپ پہچان لیں گی نا نونا۔ ؟ ہے جن شستہ ہنگل میں اس سے مخاطب تھا۔اسکا رنگ واضح طور پر بدلا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حد ہے کیا مصیبت مول لے لی ہے میں نے۔
    اس نے جھلا کر اپنا پرس بیڈ پر پھینکا۔ اور خود باتھ روم میں گھس گئ۔ منہ پر خوب چھپاکے مار مار کر غصہ ٹھنڈا کیا۔
    ایک کے بعد ایک۔ اوپر سے یہ کورین انڈین ڈراموں کو دیکھتے ہیں مطلب کوئی آخری حد ہے حماقت کی۔ ہم پر تو زبان ایک ہونے کی وجہ سے ہندوستانی مواد مسلط رہا یہ کس خوشی میں گائو ماتا، کلش سیندور جانے کیا کیا سیکھ رہے ہیں۔ حد ہوگئ انڈین فلمیں یہاں چل رہی ہیں۔ پاکستانی پتہ نہیں کہاں سوئے پڑے وے ۔ ہمارے ڈرامے چلیں تو اس سب بکواسیات کو بھول جائیں۔ وہ بڑ بڑاتے ہوئے منہ جھاگوں جھاگ کر کرکے مل رہی تھی۔
    پاکستانی ڈرامے دیکھے ہوتے تو یوں راتوں رات بیٹے کے بیاہ رچانے اور بہو لا دینے پر بہو کی آرتی اتارنے کی بجائے اسے دھکے دے کر باہر نکالتیں کہاں کلش گروا رہی ہیں مجھ سے۔۔اور بیٹے کا تو فٹا فٹ اپنی بہن کی بیٹی سے نکاح پڑھوا دینا تھا۔ویسے کوریا میں دو شادیوں کی اجازت تو نہیں۔۔
    منہ پر چھپاکے مار کر آئیںے میں چہرہ دیکھا تو ٹھنڈے پانی سے چہرہ جم کر سفید پڑ چکا تھا سیہون کی رنگ کے حساب سے بہن ہی لگ رہی تھی اب
    کہاں سے میں انڈین لگی انکو اتنی تو گوری سی ہوں۔۔
    ۔۔ وہ چند لمحے خود کو دیکھتی ہی رہ گئ۔ ایک چھوٹی سی ہاتھ میں پہننے والی گھڑی آئینے کے نیچے کارنس پر پڑی تھئ۔ اس نے اٹھا کر دیکھی تو برانڈڈ قیمتی رسٹ واچ تھئ۔مگر وقت ابھی برا ہی بتا رہی تھی سوا سات۔ قریبا آدھا گھنٹہ تھا۔۔افطار میں۔
    بھوک لگ رہی ہے اب تو۔ افطار کر کے ہی اب نماز پڑھوں گی۔وہ جسمانی سے ذیادہ ذہنی طور پر تھکن سے نڈھال ہوئی وی تھئ۔
    افطارئ بنائوں جا کے؟ وہاں تو اس وقت کوئی نہ کوئی بنا چکی ہوتی ہے افطاری۔ وہیں رہتی اگر پتہ ہوتا کہ آج یہاں آنٹی آرہی ہیں۔وہ خود پر ترس کھاتی باہر نکلی سیہون بیڈ پر کہنی آنکھوں پر ٹکائے لیٹا ہوا تھا۔
    اب تم کیا کر رہے ہو یہاں۔ ؟ جھلاہٹ تو سوار تھی ہی ۔ اتنی زور سے چیخی کہ سیہون گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
    کیا مسلئہ ہے تمہارے ساتھ آرام سے بات نہیں کر سکتی ہو؟۔ وہ بھی بگڑکر بولا
    تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اسکا انداز ہنوز تھا
    اپنے کمرے میں آرام کر رہا ہوں اور کیا ۔
    وہ دوبارہ دراز ہو گیا۔ آنکھیں بھی بند کر لیں
    تو پھر میرا کمرہ کونسا ہے ؟ بتائو میں وہاں چلی جاتی ہوں۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ چند لمحے آنکھیں بند کیئے کیئے پرسکون ہوتا رہا پھر آنکھیں بند کیئے کیئے ہی بولا
    دو ہی کمرے ہیں اس گھر میں دوسرے میں آہموجی ہیں۔ وہ کل شام چلی جائیں گئ تو اپنا سامان وہاں رکھ لینا۔
    اور آج ؟ ہم دونوں ایک کمرہ شئیر کریں گے؟ دماغ تو نہیں خراب ہے تمہارا۔ میں ایک اپارٹمنٹ شئیر کرنے پر بالکل راضی نہیں تھی تمہارے ساتھ کجا ایک کمرے میں ناممکن۔ میں ایک منٹ یہاں نہیں رکوں گئ۔ تمہاری آہجومی ۔۔۔۔
    وہ تن فن کرتی اپنا بیگ اٹھانے لگی تو وہ ساری برداشت و تحمل ایک طرف رکھ کر گرجا
    اسی لیئے صبح سے بار بار فون کرتا رہا تھا کہ تم آج وہیں رہو آج آہموجی آرہی ہیں۔ مگر تم نے ایک بار بھی فون ریسیو نہیں کیا ایک اور نمبر میسج کیا تم نے اس پر الگ میسج بھیجا مگر جواب دور تم الٹا مجھے سرپرائز دینے یہاں موجود تھیں۔
    اسکے بیگ اٹھاتے ہاتھ تھمے۔ عشنا کا خطرناک سا پیٹرن تصویر دیکھ کر تو اس نے کھول لیا تھا مگر اسکا پیغام ہنگل میں تھا یقینا یہ سیہون کی غلطی تھی۔ ابھی انگریزی میں بھیجا تو اس نے پڑھ لیا تھا مگر اس سے قبل والا میسج دیکھ کر اسے تو یہی لگا کہ بلا رہا ہے سو عشنا کو بتا کر وہ بھاگم بھاگ یہاں آپہنچی تھی۔
    اس نے موبائل نکالا دو تین غلط کوششوں کے بعد اسکا موبائل انلاک ہو ہی گیا تھا۔ سو اسکا پیغام نکال کر موبائل اسکی جانب بڑھا دیا۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتا موبائل۔تھام کر دیکھنے لگا۔ ایک پیغام ہنگل میں دوسرا انگریزی میں تھا۔
    چھے سو۔۔ وہ کہتے کہتے رکا پھر انگریزئ میں بولا
    آئیم سوری۔ مگر پلیز میری مجبوری سمجھو۔میں اپنی آہموجی کا دل نہیں دکھا سکتا۔ انہوں نے آہبوجی کے بعد بہت مشقتوں سے مجھے اور چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش کی ہے۔ مجھ سے انکو بہت امیدیں ہیں۔یہ انکا بے لوث پیار ہی ہے جو میری اچانک بیوی کو اتنا مان دے رہی ہیں۔تم آج کسی طرح گزارا کر لو۔ میں ادھر زمین پر بستر کر لوں گا۔۔وہ منتوں پر اتر آیا تو وہ چپ سی ہوگئ۔ پھر کہے بغیر نہ رہ سکی۔
    اس سے تو بہتر تھا تم آنٹی کو سچ بتا دیتے کہ یہ بس کاغذی شادی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں منہ کھولے دیکھ رہی تھیں۔۔
    عشنا بٹر بٹر گھورتی انکی نگاہوں سے تنگ سی آگئ
    کیا ہو گیا اسکو موقع ملا ہے وہ کسی کے ساتھ اپارٹمنٹ شیئر کر سکتی ہے تو کر رہی ہے۔
    مگر کون کس کے ساتھ؟ کون ہے اتنا مہربان جو بے روزگار لڑکی کواپارٹمنٹ دے رہا ہے ۔۔ نورحیران بلکہ پریشان ہو چلی تھئ۔
    ویسے اچھا ہی ہوگاآرام سے رہے گی ہم لوگ کیسے مرغیوں کی طرح اتنے لوگ اکٹھے ٹھنسے ہوئے رہتے ہیں ۔۔ الف کو رشک آیا۔
    بتائو نا کون دے رہا ہےاسے مفت میں جگہ؟ نور نے شانہ ہلادیا عشنا کا۔
    دے رہا ہے؟ عشنا نے چونک کر پوچھا۔
    میں نے تو نام بھی نہیں لیا آپکو کیسے پتہ کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ رہے گئ؟اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
    میں نے تو بس اتنا کہا ہے اسکو ایک اور اپارٹمنٹ میں رہنے کی جگہ مل گئ ہے تو اب وہ وہیں رہے گی۔
    کیا لڑکے کے ساتھ رہے گی؟ نور کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔
    دیکھیں میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔
    عشنا گھبرا اٹھی۔
    ابھی تو کہا ہے۔ دیکھو رمضان چل رہا ہے جھوٹ مت بولوسچ بتائو وہ کسی لڑکے کے ساتھ رہے گی اب سے؟ نور کا انداز اگلوانے والا ہو چلا تھا۔
    رمضان ہے جبھی تو جھوٹ نہیں بول سکتی۔ عشنا بے چارگی سے بولی۔ اور سچ بتا بھی نہیں سکتی فاطمہ اور واعظہ جان نکال دیں گئ میری۔ آخری جملہ منہ ہی منہ میں بدبدا گئ۔
    توبہ کیا ہے زور سے بولو نا ۔ الف نے اسکا کندھا ہلایا
    بھئ فاطمہ سے خود پوچھو نا مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو۔ اتنی فکر ہے تو میرے نمبر پر فون کرو بات کرکے اسی سے پوچھ لو مجھے پریشان مت کرو۔ عشنا جھلا ہی گئ۔
    میں کیوں پوچھوں۔ آگے میری اسکی بول چال بند ہے۔ میرے ایکسو کو کیا کچھ نہیں کہا تھا اس نے۔ الف کو اپنے رستے زخم یاد آئے تو دکھی ہوگئ
    تم دونوں کی صلح نہیں ہوئی؟ نور حیران ہوئی۔
    اس دن تو اکٹھے آئی تھیں بلکہ فاطمہ تمہارا آدھا سامان اٹھا کر لائی تھی ہم تو سمجھے تھے دوستی ہوگئ ہے تم۔لوگوں کی۔
    نور نے حیرت سے کہا تووہ نظر چراگئی۔۔
    ہاں مگر بات تو نہیں کی ہم نے آپس میں۔
    پھر بھی پانچ دن بعد عید ہے تم لوگوں کی لڑائی بڑھتی ہی جا رہی ہے تین دن سے ذیادہ ناراضگئ نہیں رہنی چاہیئے رمضان میں تو انسان اور نرم دل ہو جاتا اور لڑائی ہوئی کس فالتو بات پر ہے تم دونوں کی ایکسو بی ٹی ایس دونوں کوریا کے پاپ میوزک بینڈ ہیں۔ انکے گانے پسند کرو ٹھیک ہے مگر یہ کیا دیوانگی ہے کہ ان فنکاروں کیلئے لڑنے مرنے پر اتر آنا جو آپکو جانتے تک نہیں۔ انکی موسیقی کا لطف لو بس کافی ہےانکو پاگلوں کی طرح آئیڈل بنا لینا حماقت ہے وہ بھی میری تمہاری طرح عام انسان ہیں تھوڑے اچھے تھوڑے برے۔ ہاں انکو دکھایا ایسے جاتا کہ لگتا ہے دیوتا ہیں وہ نرم دل مکمل سے انسان۔ مگر حقیقت میں وہ بھی کبھی غصے میں آتے ہونگے کبھی ان سے بھی دل دکھتا ہوگا کسی کا۔ جنگ کوک ایسا سیہون ویسا۔ تم لوگوں کو کیا پتہ وہ کیسے۔ جب انکی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انکو پتہ نہ ہواور وہ قدرتی ردعمل ہی دیں۔ کیا پتہ جو یہ رئیلیٹی شوز چلتے ہیں ان گروپ کے انکے بھی اسکرپٹ بنتے ہوں اس پر وہ اداکاری ہی کرتے ہوں ہمیں لگتا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر جان چھڑک رہے اصل میں کیا خبر انکے تعلقات جانی دشمن جیسے ہوں۔ مگر اپنے پرستاروں کو ان لوگوں نے اپنے ساتھ مصروف رکھا ہوا ہے فالتو ویڈیوز سے۔
    نور ان دونوں کو کب سے یوں سمجھانا چاہ رہی تھی آج جاکے موقع ملا تھا۔ سو سب حقیقتیں کھل کر بیان کر ڈالیں۔ الف تو نہیں عشنا البتہ سر جھکا گئ تھی۔
    ایویں۔ سیہون اور بیکہوں سچ مچ دوست ہیں ہر کنسرٹ میں انکی ایسی کلپس ہوتی ہیں اب ہروقت تو اداکاری نہیں کر سکتے۔ الف کیلئے ابھی یہ سب ہضم کرنا مشکل امر تھا۔۔۔
    جنکا روزگار ہی اسی سے وابستہ ہو وہ کیوں نہیں کر سکتے اداکاری ؟۔ نور کا سوال کڑا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے افطاری کیلئے چکن پلائو اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ خاتون کو سیہون کی دیکھا دیکھی آہموجی کہا تو وہ جیسے واری صدقے ہو اٹھیں۔
    میز پر کھانا لگا کر وہ خود سیہون کو بلا کر لائی۔ وہ لیپ ٹاپ پر لگا ہوا تھا جب اس نے کھانا لگنے کا بتایا
    آجائو کھانا کھا لو پلائو بنایا ہے چکن کا میں نے۔اور شکریہ حلال ٹیگ والا۔چکن لانے کیلئے۔۔
    وہ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بنا سر ہلا کر بولا
    جائو کھائو تم نے صبح سے نہیں کھایا ہوگا میں بعد میں کھا لوں گا۔۔
    وہ ہونٹ بھینچے کھڑی گھورتی رہی۔ اسے شائد احساس ہوا کہ کیا نگاہ اٹھائی تو دروازے پر کھڑی گھورتی فاطمہ کو دیکھ کر جھٹ لیپ ٹاپ بند کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    خوشبو دار ہلکے سے زردئ مائل سفید کھلے کھلے چکن پلائو کا دانا دانا الگ تھا اور مہک رہا تھا۔
    ان دونوں کے آگے چاپ اسٹکس رکھی تھیں۔
    ڈش سجی تھی پلیٹیں بھی۔ اس نے انتظار کیا پھر خود ہی آگے بڑھ کر خاتون کی پلیٹ میں چاول نکالے اور خوب بڑی سی بوٹی بھی۔ انکی آنکھیں جھلملا گئئں مگر فاطمہ بے نیازی سےان پر توجہ کیئے بنا اپنی پلیٹ میں چاول نکال رہی تھی۔
    چھائے موکے سبندا۔خاتون نے کہا تو وہ جوابا سیہون کو دیکھنے لگی۔ اس نے ترجمہ کیا۔
    میں خوب پیٹ بھر کر کھائوں گی۔
    ہم تو میزبان کا شکریہ ادا کرتے ہیں دعوت پر یہ تو کھانا ختم کرکے شرمندہ کردینے کا ارادہ باندھے ہیں۔
    وہ دانستہ اردو میں بڑ بڑائی۔ اب آہجومہ سیہون کو دیکھ رہی تھیں کہ ترجمہ کرے۔ سیہون کندھے اچکا کر رہ گیا اسکی۔جانے بلا کیا بڑ بڑا رہئ ہے۔
    اس نے چاپ اسٹک سے چاول اٹھائے تو وہ پھسلتے چلے گئے ۔۔ ایک۔بار دو بار۔اس نے آہموجی دیکھا تو وہ بھئ
    بے چارگی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ دونوں نے فاطمہ کو دیکھا جو مزے سے چمچ بھر کر منہ میں رکھ رہی تھی۔
    یہاں کوریائی ثقافتئ فرق نظر آرہا تھا انکے نزدیک چاول کم گلے تھے جو ہمارے یہاں جڑے ہوئے اور پھوہڑ پن کی علامت سمجھے جاتے جب کہ وہ خاص کر چاول ذیادہ گلا کر انکو لبٹیوں کی شکل میں گھوٹ لیتے جس سے چاپ اسٹکس سے انکا چھوٹا سا لوتھڑا بنا کر کھانا آسان ہوتا ہے۔ سیہون خاموشی سے چمچ لینے اٹھ گیا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون زمین پر کیمپنگ بیڈ بچھا کر سوگیا تھا۔ بیڈ کراوئون سے ٹیک لگائے وہ نیم دراز آگے کا لائحہ عمل طے کرنے اور سوچنے میں مصروف تھئ۔
    اب مجھے ذاتی پسند نا پسند ایک طرف رکھ کر کوئی بھی چھوٹی بڑئ جاب کر لینی چاہیئے۔ سیہون کو تو میں پیسے دیئے بغیر یہاں نہیں رہ سکتی ۔ واعظہ کی بات اور تھی۔ واعظہ کو جانے عشنا نے بتایا کہ نہیں۔۔۔اس نے جوش میں سائیڈ ٹیبل سے موبائل ااٹھایا۔۔ پھر وقت دیکھ کر رک گئ گیارہ ہو رہے تھے۔سحری کیلئے اٹھنے والے اس وقت سو رہے ہوتے ہیں یہ سوچ کر موبائل دوبارہ اسی جگہ رکھا۔۔
    ۔آہجومہ جانے کیا کیا کہتی رہی ہیں یہ کمینہ خود تو آکر سو گیا مجھے پھنسا کر انکے پاس۔ بس دے دے ہی کرتی رہی ہوں ویسے۔مجھے ہنگل بھی اب سیکھنے کیلئے کسی اکیڈمی میں داخلہ لینا چاہیئے۔ مگر اسکے لیئے تو پیسے درکار ہیں۔ اف۔ پاکستان ہی چلی جائوں۔ مگر وہ گنجا عمران ابھی تک اس نے شادی نہیں کی امی نے اس سے نہیں تو کسی اور سے پکا شادی کرا دینی میری اگر پاکستان گئ تو۔ لیکن میں یہاں کیا کر رہی ہوں؟؟؟ وہ سوچ میں پڑی۔
    نہ میرے پاس ڈھنگ کی جاب نہ ہی کوئی بڑی ڈگری۔ پڑھائی شروع کردوں دوبارہ۔ یہاں ہی شادی نہ کر لوں۔
    اسے اچھوتا خیال سوجھا تو جزبات میں سیدھی اٹھ بیٹھی۔
    سیہون کے ہلکے ہلکے خراٹے گونج رہے تھے۔ سیہون پر نگاہ پڑی تو ہونٹ بھینچ لیئے۔
    ویسے کر تو لی ہے شادی اب تو اگلے چھے مہینے دوسری شادی بھی نہیں کر سکتی۔ میں تو شادی کر ہی نہیں سکتی یہاں کونسا میرے لیئے درجن بھر رشتے موجودہیں۔ وہ خود ہی اپنے خیالوں پر لعنت بھیج کر رہ گئ۔
    اوپا ہوتے تو بڑے زبردست ہیں یہ سیہون بھی اتنا چلائی ہوں اس پر مجال ہے جو ماتھے پر بل بھی آئے زرا سا غصہ کیا بھی تو دس بار سوری بولا۔ احمق۔ اسکو تو وہ میری پیری ٹھیک الو بنا سکتی ہے۔ کتنی لائوڈ لڑکی تھی ویسے۔ آہش۔ کیسا گال پر چماٹ مار دیا ۔ ایک بار تو اسکے بھی منہ پر ویسی چماٹ مارنی ہے مجھے موقع ملے تو سہی۔ اس نے مصمم ارادہ کیا۔
    کیا کچھ سوچے جارہی ہوں موبائل پاس نہ ہو تو بندہ بس سوچ سوچ کر ہی مر جائے۔ اب یہ عشنا کے موبائل میں کیا کروں فیس بک کا پاسورڈ تک یاد نہیں بس موبائل میں لاگ ان رہتی ہے میری تو۔ اس نے سائید ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔ پیٹرن بدل کر لاک ہی ختم کر دیا۔ ایک دو ایپس کھول کر دیکھیں۔
    کل پہلی فرصت میں موبائل تو جا کر واپس کروں۔ اسکا موبائل تو سام سنگ کم لی من ہو برانڈ زیادہ لگ رہا ۔ ہر طرف منہو کی تصویریں۔ بے کار۔ وہ اکتا کر رکھنے ہی لگی تھی کہ نیا پیغام آیا۔ اس نے یونہی کھول لیا
    پیغام انگریزی میں تھا ۔ شکریہ ادا کیا گیا تھا کہ انٹرنیشنل لی من ہو کے فین کلب کیلئے اپلائی کرنے پر ۔ اسے شامل کر لیا۔گیا تھا۔ کچھ رقم موصول وصول ہو چکی تھی کچھ مزید طلب کی گئ تھی اور رقم کے آخر میں لکھے صفر گننے شروع کیئے تو آنکھیں کھل سی گئیں۔ پھر تھوڑا سا منہ بھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کل آپ پولیس اسٹیشن آجائیں ہم آپکو کچھ مشتبہ افراد کی تصاویر دکھائیں گےان میں سے شناخت کر لیجئے گا آپ۔
    اہلکار نے کہا تو وہ بمشکل اثبات میں سر ہلا گئ۔
    کرم۔ اہلکاروں نے ہلکا سا جھک کر اجازت چاہی ۔۔ انکے نکلتے ہی عزی واعظہ کی جانب مڑی
    کیا واقعی تم نے دیکھا ہے؟ پہچان لو گی۔
    آہا ۔ آں۔۔ وہ۔۔ وہ ہتھیلیاں مسلنے لگی۔
    ہاں مجھے پتہ ہے میں نے خود دیکھا ہے نونا نے اسکو مار کر جھکایا تو اسکےچہرے سے نقاب سرک گیا تھا۔ نونا نے دیکھی ہے جھلک اس نے کہنی سے منہ ڈھانپ لینا چاہا تھا مگر نونا جب دوبارہ دیکھیں گی تو پہچان لیں گی۔ ہے نا؟۔ ہے جن روانی میں ہنگل بول کر اس سے تائید چاہ رہا تھا۔
    پہچان ہی نہ لے۔ میرے کولیگ نے اسکی اتنی مدد کی جب لاسٹ ٹائم یہ کاسٹ لگوانے آئی تھی اس سے اتنی باتیں کیں اور کل دوبارہ ملا تو اسکو بالکل یاد نہیں تھا وہ۔
    عروج انگڑائی لیکر اٹھتے ہوئےانگریزی میں بولی۔۔۔
    ہیں؟ ہے جن حیران ہوا تو عزہ بھی اسے چونک کر دیکھ رہی تھی۔
    کل جا ئوں گی پولیس اسٹیشن۔ دیکھو کیا ہوتا۔ وہ انکی۔نظریں محسوس کر کے خود کو سنبھالتی ہوئی بات بدل گئ۔ کچھ دن تم چھٹی کر لو عزہ جب تک ملزمان کا کوئی سراغ نہیں مل جاتا۔
    ویسے عجیب نا تجربہ کار ہی لوگ تھے ۔ جب عزہ نونا کا نقاب ہٹ گیا تو بجائے انکو گاڑی میں ڈالنے کے آپس میں باتوں میں لگ گئے جبھی تو تھوڑا سا مجھے وقت ملا ان پر حملہ کرنے کا ۔۔ایک کہتا یہ دیکھو دوسرا بولا جو بھی ہے لے چلو۔یعنی۔ وہ بولتے بولتے چونکا۔
    ہاں ابھی تم پولیس والوں کو بھی یہی بتا رہے تھے ۔ واہ میں کوئی فالتو تونہیں۔ جو بھی ہے لے چلو۔
    عزہ نے کندھے اچکا کر واعظہ سے تائید چاہی مگر وہ اسے یوں دیکھ رہی تھی جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہوں اس نے سٹپٹا کر عروج کو دیکھا تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی اس نے ہے جن کی جانب رخ کیا تو وہ اس پر سے نگاہ ہٹا کر بولا۔
    جب عزہ کا چہرہ دیکھا تو رک سے گئے تھے پھر بولے جو بھی ہے لے چلو۔۔۔۔۔۔یعنی وہ کسی اور کو لینے آئے تھے؟؟؟
    تینوں نے کم و بیش یہی جملہ بولا تھا وہ بھی اکٹھے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام قسط 12۔۔
    جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 11

    قسط 11

    رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ہے جن دوائیوں کے زیر اثر بے خبر سو رہا تھا۔ اسے کمبل اڑھا کر بتی بجھا کر بس رات کا زیرو کا بلب جلا کر آہستگی سے کمرے سے نکل آئی۔ عروج کی اس وقت ڈیوٹی تھی۔ اور آج تو اپنی ڈیوٹی پر وہ تین گھنٹے پہلے ہی آگئ تھی اسکے بلانے پر۔ اس نے اپر کی جیب سے موبائل نکالا پھر گہری سانس لیکر رہ گئ۔ موبائل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ ہے جن کو اس دیو ہیکل آدمی کے ہاتھوں پٹتے دیکھ کر جس طرح دل اچھل کر حلق میں آیا تھا وہیں عزہ کی جانب بڑھتے اس آدمی کو دیکھ کر اسکی روح فنا ہونے لگی تھی سو بلا سوچے سمجھے موبائل ہی اسے اٹھا کر دے مارا ۔ نشانہ ٹھیک بیٹھا سیدھا کنپٹی پر لگا تھا اسکو لہراتے دیکھ کر اسے موقع ملا تھا جو سانڈ کو پیٹ سکی بیگ بھی مارا۔ پھر ان کے بھاگتے ہی ریسکیو کو کال ملانے کیلئے موبائل اٹھایا تو ایک دھچکا اور منتظر تھا اسکا ۔ اسکا موبائل بری طرح سڑک پر رگڑا گیا تھا نا صرف اسکرین پروٹیکٹر کے ساتھ ٹوٹی تھی بلکہ اسکی بیک سائیڈ بھی ننھے منے ٹکڑوں میں بٹ گئ تھی کچھ موبائل سے چپکے رہ۔گئے کچھ شائد سڑک پر پڑے ہونگے۔
    اس نے اسکرین انلاک کی تو الف نے اسے نور کی تصویر بھیجی ہوئی تھی ساتھ ہنستے ہوئے پوچھا تھا کہ جاندی لگ رہی ہے نا یہ؟
    ہاں۔ اس نے بلا توقف لکھ بھیجا
    دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈال کر وہ عروج سے ملنے وارڈ کی طرف نکل آئی۔ وہ ایک مریض کے سرہانے کھڑی گٹ پٹ لگی ہوئی تھی۔اسکو دیکھ کر اشارے سے اپنے کیبن کی جانب جانے کا کہا وہ سمجھ کر اسکے کیبن کی جانب بڑھ گئ۔ اسکے کیبن کے ساتھ والے کیبن میں بیٹھا وہ لمبا سا لڑکا فون پر لگا تھا اسے دیکھ کر استقبالیہ مسکراہٹ اچھالی۔ وہ نظر انداز کرتی ۔ آرام سے عروج کئ میز پر آبیٹھی اورلیپ ٹاپ کھول کر ایٹ بال پول لگا لی۔
    کیسی ہیں آپ واسیہ۔ فون بند کرکے وہ اسکے پاس آکھڑا ہوا۔
    وہ متوجہ بھی نہ ہوئی۔ اس نے پیشانی کھجائی جیسے سوچنے لگا ہو پھر چٹکی بجا کر بولا
    اوہ نہیں واعسہ۔ وائزہ۔ اٹک اٹک کر وہ قریب قریب درست تلفظ سے بولا
    دے۔ وہ اپنے نام پر چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
    کیسی ہیں آپ بڑے دنوں بعد نظر آئیں بازو ٹھیک ہوگیا آپکا؟
    جی۔ وہ حیران سی ہوتئ ہوئی سیدھی ہو بیٹھی۔ اسکا مخالف کافی تیز تھا اسکی شائد باری نہ آتی۔
    اب میں ٹھیک ہوں ۔ اسکے انداز سے صاف ظاہر تھا اسے پہچانی ہی نہیں ہے ۔ وہ بے ساختہ محظوظ ہو کر ہنس دیا۔ کینڈا میں اپنے مخصوص سے نقوش اور نرم سے مزاج کے باعث سب اسے اسکے نام کی بجائے اوپا کہتے تھے لڑکیاں خاص کر اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتی تھیں ایک بار کسی سے مخاطب ہو لے تو اگلی ملاقات کیلئے اس سے شہہ پا کر لڑکیاں مکھیوں کی طرح منڈلاتی تھیں اسکے گرد۔ یہاں آکر اس سے بھی ذیادہ اسکی طلب میں اضافہ ہوا تھا مگر اسکی شخصیت کی مقناطیسیت شائد ان دو لڑکیوں پر کوئی اثر نہیں رکھتی تھی شائد یوں کہیں بس اسی قومیت کی لڑکیوں پر بے اثر تھئ۔
    عروج سوکھے ہوئے اخروٹوں کا بڑا سا پیکٹ اٹھائے ادھر ہی چلی آئی۔
    آپ نے مجھے پہچانا نہیں لگتا ہے ۔۔۔۔میں آپکا ساتھی بنا تھا ایک بار ہم مل کر جمعدار بنے تھے ڈاکٹر روج کی مہربانی سے۔
    وہ ہنس کر بول رہا تھا۔۔ عروج خفت زدہ سی اسکی جانب اخروٹ بڑھا کر بولی
    ویسے اس دن میں نے کافی حد کر دی تھی مجھے امید ہے آپ لوگ نرمی سے درگزر کر یں گے۔ شستہ انگریزی۔
    واعظہ کو اتنا تو یاد آگیا تھا کہ ٹوٹے ہاتھ کے ساتھ اسٹکی نوٹس اٹھا رہی تھئ کوئی اسکی مدد کر رہا تھا ، کسی نے کائونٹر پر اسکا فارم بھرا تھا ، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ تک راہنمائی۔ مانا مہینہ ہونے کو آگیا تھا پر اسکو چہرہ بالکل یاد نہیں تھا۔ اور نام۔۔
    عروج کرسی گھسیٹ کر بیٹھنے لگی تو اسے بھی اخلاقا دعوت دئ۔
    بیٹھیئے۔
    سیونگ رو جیسے انتظار میں تھا سہولت سے اسکے سامنے بیٹھ کر واعظہ پر نظریں جما لیں۔
    واعظہ نے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔ لیپ ٹاپ پر اسکی باری آ چکی تھی
    واعظہ سیونگ رو کہہ رہا تھا کہ ہمیں پرائیوٹ کسی سیکیورٹی سسٹم کو گھر پر لگانا چاہیئے۔ جب تک تفتیش چلتی رہے کم از کم تب تک۔ تھوڑا مہنگا پڑے گا مگر ہم آٹھ لوگ ہیں مل بانٹ کر کر لیں گے۔ کیا کہتی ہو۔
    عروج کو یاد آیا تو جوش سے انگریزی میں بتانے لگی۔ واعظہ مکمل لیپ ٹاپ کے پیچھے چھپی تھی شائد سیونگ رو کی نظروں سے بھی بچنے کی کوشش تھی۔
    اے تم سے کہہ رہی ہوں۔ اس نے لیپ ٹاپ کے آگے ہاتھ لہرایا تو وہ چونک کر پوچھنے لگی
    عزہ کو ہوش آیا۔ ؟ وہ ذہنی طور پر کہیں اور تھی نگاہ لیپ ٹاپ پر تھی مگر ذہن میں منظر ۔ جب اس کے مارنے پر اس آدمی کے چہرے سے ماسک اترا ۔۔
    آندے۔ عروج بدمزا سی ہو کر پیچھے ہوئی۔ ایک بار اٹھی تھی مجھ سے پانی مانگا میں نے جوس لا کر دیا پی کر پھر سو گئ ہے اب صبح ہی اٹھائوں گی۔
    ہمم۔ اس نے ہنکارا بھرا
    روج بتا رہی تھئ تم نے اس غنڈے کی پٹائی بھی کی کوئی چوٹ ووٹ تو نہیں آئی
    سیونگ رو نے پوچھا تو اس نے مسکرا کر اپنا موبائل سامنے رکھ دیا۔
    مجھے تو نہیں۔ اس کو زخم آئے ہیں ۔۔
    معزرت اسکا علاج میں نہیں کر سکتا ۔۔ وہ محظوظ ہو کر ہنس دیا۔
    ویسے آپ لوگوں کو محتاط رہنا چاہیئے کوریا میں غیر ملکیوں پر ہاتھ ڈالنا آسان کام نہیں ہےلوگ غیر ملکیوں سے پنگا نہی لیتے خاص کر وسطی ایشیائی ممالک کے باشندوں سے۔ یقینا کسی بڑے گینگ کا کام ہے آپ پہلی فرصت میں۔۔۔ وہ ڈرا نہیں رہا تھا محض منطق کی رو سے دیکھ رہا تھا معاملے کو اسکے محتاط جملوں کے استعمال کا اثر تھا کہ کیا واعظہ نے کان پر سے مکھی اڑائی۔ ہنس کر بولی
    ہا ہا۔ ارے چھوٹا موٹا گینگ ہی تھا ایک ہائی اسکول کے بچے سے ڈر کر بھاگ گئے عزہ کو چھوڑ کر۔
    سیونگ رو بے چین سا ہوا
    لیکن مجھے لگتا ہے واعظہ ہمیں کسی سیکیورٹی کمپنی سے رابطہ کرکے جدید نظام نصب کروانا چاہیئے۔ عروج کہے بغیر نہ رہ سکی۔
    اب دیکھو گھر کے اندر کوئی گھس کر نور کے بال کاٹ گیا۔ وہ تشویش زدہ انداز میں بولی تو سیونگ رو بھی چونکا۔
    کیا واقعی؟
    ارے ۔۔ واعظہ سیدھی ہو بیٹھی۔
    الف یا عشنا کی شرارت ہوگی یا فاطمہ کا کام ہوگا کسی کو کیا پڑی ہے کہ گھر کا تالہ توڑے مگر گھر سے ایک قیمتی چیز لے جانے کی بجائے بس بالوں کی لٹ کاٹ کر لے جائے کوئی تک ہے بھلا؟
    کس کے بال کاٹ دیئے۔ ؟ سیونگ رو کو سمجھ نہ آیا۔
    یار وہ ہماری اپارٹمنٹ میٹ ہے اسکے کسی نے صبح صبح آگے سے بال کاٹ دییے ماتھے سے۔ عروج نے بتایا تو اسکی آنکھیں تھوڑی اور کھل سی گئیں
    یہ جو یہاں داخل ہے لڑکی وہ بھی آپکی اپارٹمنٹ میٹ ہے اور وہ لڑکا بھی یعنی آپ چار لوگ اکٹھے رہتے ہیں۔؟ کتنا بڑا اپارٹمنٹ لے رکھا ہے؟ اسکی حیرت بجا تھئ
    دو کمروں کا ۔۔ واعظہ اور عروج دونوں نگاہ چرا گئیں
    دو کمروں میں ہمم چار لوگ ہاں ٹھیک ہے رہ سکتے ہیں ۔۔
    چار نہیں آٹھ۔
    اس بار دونوں اکٹھے بولیں مگر زیر لب۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تین لوگ ہیں ہم پھر بھی گھر خالی خالی نہیں لگ رہا؟
    وہ تینوں ڈبل بیڈ پر لاشوں کی طرح پڑی تھیں۔ نیند جو آبھی رہی تھی وہ گھڑی دیکھ کر سحری میں دوبارہ اٹھنے کے خیال سے بھاگ بھاگ جاتی تھی۔
    چار بلکہ پانچ لوگ گھر سے باہر ہیں اسلیئے۔
    عشنا کا حساب ۔ نور اور الف اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
    یار واعظہ نے اسپتال آنے سے منع کر دیا کہیں واقعی عزہ کی حالت خراب تو نہیں اور وہ ہمیں بتا نہ رہی ہو؟ الف کو انوکھا خیال سوجھا اٹھ بیٹھی
    بالکل تم اسکی ماں میں اسکی دادی عشنا نانی تینوں ہم کمزور اولاد کا صدمہ دل پر لے کر ہم دل پکڑ لیں گی اسلیئے نہیں بتایا واعظہ نے۔ نور جل کر بولی۔
    الف کھسیا سی گئ۔ یہ بھی ہے۔مگر ہم ایک۔نظر دیکھ لیتے تو بہتر نہ رہتا یا واعظہ ہی واپس آجاتی کیوں نہیں آئی وہ واپس وہاں عروج تو ہے۔۔۔ اس نے نئی منطق سوچ ڈالی
    نور بھی اٹھ کر آلتی پالتی مار بیٹھی
    ہم تینوں چلےجاتے تو گھر پر کون رہتا؟ پولیس والے گھر آکر بیان لیکر گئے ہیں ہم سے عزہ کی پشتوں تک کی معلومات پوچھی ہے کوئی ذاتی دشمنی کوئی پنگا تو نہیں لیا کبھی کسی سے ؟ انٹر نیٹ کا سارا ریکارڈ تک نکلوا نے کا کہہ رہے تھے بلائنڈ ڈیٹ پر گئ کبھئ کیا کچھ نہ پوچھ ڈالا انہوں نے مجھ سے۔ میرے بالوں پر بھی اعتراض جڑ دیا انکو کیا ہوا۔
    سخت چڑ آئی مجھ سے کیوں پوچھ رہے آدھے کوریا کی لڑکیاں یہی بالوں کا انداز بنا کر گھومتی ہیں مجھ سے ایسے پوچھ رہی تھی وہ خبطی لڑکی جیسے میں نے کوئی دنیا سے انوکھا کام کیا ہے۔
    نور منہ لٹکا کر بولی تو الف کے ذہن میں جھماکا ہوا۔۔
    نور نے مانگ نکال کر اس فرینج کو پن ٹھونک کر ایک جانب کر رکھا تھا۔اس نے آگے بڑھ کر اسکی وہی پن نکال دی۔ بال اسکی پیشانی پر آبکھرے تھے۔ اسکے بال ترچھے سے کٹے ہوئے تھے ایک جانب سے زرا سا اونچے تھے ظاہر ہے کاٹنے والے نے فرینج تو نہیں کاٹی ہوگی۔ نور نے ناپسندیدہ نظر ڈالی تووہ آئینہ لے آئی سامنے کیا تو نور کی آنکھوں کے سامنے جھماکا ہوا۔
    میں تو کارٹون لگ رہی ہوں۔ وہ رو دی۔۔
    فاطمہ کو بلائو اسے فرینج کاٹنی آتی ہے اسکی پرانی تصویریں دیکھی ہیں اس نے فرینج ہی کاٹی ہوئی تھی بلائو اسے ٹھیک کرے۔
    نور دہائیاں دے رہی تھی۔ الف اور عشنا نے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں
    فاطمہ تو گھر میں نہیں ہے ۔ عشنا نے بتایا تو دونوں حیرت پوچھنے لگیں
    کہاں گئ ہے؟ وہ توایک بجے کی گھر سے نکلی ہے آئی نہیں ابھی تک؟ نور کو پریشانی لگ گئ
    کہیں فاطمہ کو تو نہیں اٹھا لیا ان لوگوں نے؟ الف کے ذہن کے گھوڑے تیزی سے دوڑےتھے
    نہیں۔ عشنا نے غلط فہمی دور کرنئ چاہی
    یا خدا کیا خطا ہوئی ہم سے ، اتنےسکون سے رہ رہے تھے ہم بہنوں کی طرح۔ نور کے بین
    نہیں بات سنو۔ عشنا نے کہنا چاہا مگر آواز دب گئی الف کا جوش عروج پر تھا۔
    یار واقعی کیا غلطی ہوئی ہے ہم سے؟ عزہ اغوا ہوتے ہوتے بچی فاطمہ غائب ، نور کے بال۔۔ الف کڑیاں ملا رہی تھی دونوں لمحہ بھر بھی موقع نہیں دے رہی تھیں کہ عشنا جواب دے سکے
    واعظہ کو بتایا ؟ نور مڑ کر فون اٹھانے لگی
    اسے تو پتہ بھی نہیں ہوگا فاطمہ بھی غائب ہے۔ الف اف۔۔۔
    مجھے پتہ ہے فاطمہ کہاں ہے۔
    عشنا چلا کر بولی۔ دونوں ایکدم چپ ہو کر دیکھنے لگیں پھر بیک وقت پوچھا
    کہاں ہے فاطمہ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکے فلیٹ کے آگے بڑا سا بیگ رکھے اس پر بیٹھی دیوار سے ٹیک لگائے سوتی لڑکی کون۔۔ وہ سٹپٹا یا تبھی فاطمہ کسمسائی تو اسکو باقائدہ جھٹکا لگا۔ ایک۔نظر اسے دیکھا ایک نگاہ اپنے دائیں جانب ڈالی پھر تھوک نگلتے ہوئے پکارا
    فاطمہ۔
    اسکی چونک آنکھ کھلی۔۔سامنے سیہون ہکا بکا کھڑا تھااور۔ سیہون کے ساتھ گلابئ لانگ اسکرٹ اور گلابی مفلر میں ملبوس خاتون کو دیکھ کر وہ جھٹ سیدھی ہو ئی پرس اٹھاتی کھڑی ہوگئ
    یوبو(جان)۔ آگئے آپ ۔ بہت انتظار کرایا آپ نے۔۔
    وہ کورین آگاشی کئ طرح ٹھنک کر بولی۔ سیہون ساکت رہ۔گیا تھا
    تھیبا بہترین اداکارہ نکلی یہ تو۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔
    آگاشی ویو؟ وہ خاتون اچنبھے سے دیکھ رہی تھیں۔
    میں انکی بیوی ہوں ۔ فاطمہ۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔
    اس نے رواں ہنگل میں ہلکا سا کورنش بجا لانے کی طرح جھک کر کہا تھا تو جہاں ان خاتون کی آنکھیں حجم میں دگنی ہوئیں وہیں سیہون کے ہاتھ میں موجود شاپر گرفت ڈھیلی پڑنے سے دھڑ سے زمین پر آرہا۔ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔۔
    اور آپ؟ فاطمہ نے بہت اخلاق سے پوچھا۔ جوابا وہ محترمہ اپنی حیرانی پر قابو پاکر مسکرا کر بولیں۔
    میں سیہون کی والدہ ہوں۔ کیسی ہو تم؟
    اس بار فاطمہ کے ہاتھ سے پرس چھوٹ گیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انڈے سب ٹوٹ گئے تھے اور شاپر میں موجود ہر چیز میں سے انڈوں کی۔بساندھ آرہی تھئ۔پنیر کا ریپر سب سے ہلکا تھا باقی ٹن اور پراسسیسڈ فوڈ ریمن کے پیکٹ شیونگ کریم نوڈلز سب کے پلاسٹک ریپر انڈوں سے۔نہا لیئے تھے۔
    وہ دزدیدہ نظروں سے اسے ہونٹ بھینچے کچن کائونٹر پر شاپر خالی کرتا دیکھ رہی۔تھئ۔ جو جو ٹن دھل سکتا تھا اسے اس نے سنک کے پاس رکھ دیا تھا۔
    مجھے صاف کہا تھا تم نے کہ نہیں آئوگی اب اچانک کیسے پینترا بدلا تم نے؟ بندہ بتا ہی دیتا ہے۔
    اس نے پیغام ٹائپ کر کے بھیجا۔ فاطمہ کی اپارٹمنٹ کا جائزہ لیتی نگاہیں گول گول گھوم رہی تھیں۔ چھوٹا سا دو کمروں کا اپارٹمنٹ تھا جسکا باورچی خانہ کھلا امریکی طرز کا تھا وہ لائونج میں بیٹھی تھی۔ دونوں کمروں کے دروازے اسی لائونج میں کھلتے تھے ۔ اپارٹمنٹ شاندار تھا اسے پسند آگیا تھا اور وہ ان خاتون کو۔
    سامنے صوفے کی سنگل سیٹ پر بیٹھی اسے ایک ٹک دیکھے جا رہی تھیں۔
    اسکا فون بجا اس نے پیغام پڑھا۔ پیغام بھیجنے والا سرخ بھبوکا منہ لیئے کچن میں ہر چیز کو فاطمہ سمجھ کر پٹخ رہا تھا
    میری مرضی۔ اس نے انگریزئ میں لکھا پھر لگا بارود میں تیلی لگانے کے مترادف ہے تو مٹا کر فون ایک جانب رکھ دیا۔
    سیہون کا منہ غبارے جتنا پھول گیا۔
    وہ خاتون اچھی طرح فاطمہ کا جائزہ لے چکیں تو مطمئن ہو کر مسکرائیں۔
    ہندوستانئ ہو تم؟ ہنگل میں وہ پوچھ رہی تھیں۔ وہ جواب طلب نگاہوں سے سیہون کو دیکھنے لگئ جو اب جان بوجھ کر اسکی جانب دیکھنے سے بھی گریز کرر ہا تھا۔
    میں دیکھتے ہی پہچان گئ تھی۔ خاتون کھلکھلا دیں۔
    یہ نقوش برصغیر کے ہی ہوتے ہیں مگر رنگ ہندوستانیوں کا بہت صاف نہیں ہوتا مگر تم تو پھر بھی کافی نکھرے رنگ کی مالک ہو۔
    وہ انکو گوری نہیں لگ سکی تھئ کیونکہ مقابلہ اپنے چاندنی جیسی رنگت رکھنے والے بیٹے سے تھا جس کا رنگ بلا شبہ دودھ جتنا سفید تھا۔ فاطمہ کی جان مشکل میں پھنسی تھی۔ اس نے جملے رٹے تھے تاکہ کونسلروں کو شک نہ ہو
    میں ہنگل نہیں جانتئ۔ اس نے رواں انگریزی میں بتایا۔ خاتون بے طرح خوش ہوگئیں۔
    واہ انگریزی جانتی ہو پڑھی لکھی بھی ہو؟
    تم کیا کرتی ہو؟ میں نے سنا ہے انڈین لڑکیاں بہت وفادار ہوتی ہیں میرا بیٹا ویسے تو جدیدیت کا حامی ہے مگر اندر سے روایتی کورین مرد ہے۔ اسکو لڑکیاں بھی سادی سی پسند ہیں گھرسنبھالنے والی آگاشی۔ اچھا کھانا کمزوری ہے اسکی۔ اور کمچی تو میرے ہاتھ کی اسے بہت پسند ہے۔ ہم گائوں کے دیہاتی لوگ ہیں روایتوں کو سینے سے لگا کر رکھنے والے۔
    فراٹے سے ہنگل بولتی وہ شائد سانس لینے رکی تھیں
    تھیبا۔ فاطمہ کے منہ سے نکلا۔ اتنی زبردست ہنگل تو ایک عمر لگا کر بھی وہ شائد ہی سیکھ پائے۔ ۔سیہون نے ہاتھ روک کر ترچھی نگاہ اس پر ڈالی تھی۔وہ خاتون سمجھیں وہ انکی بات سمجھ کر بولی ہے۔اور خوش ہو کر بتانے لگیں
    سیہون نے کافی زور سے فریج کا دروازہ بند کیا تھا۔ اس نے چونک کر دیکھا تو وہ کافی بنانے مڑ چکا تھا۔
    میرا بیٹا شریف النفس ہے اس نے خود کو بے راہ رو نہیں ہونے دیا۔ یہ تو شراب پی کر بھی اتنا بیبا رہتا ہے۔ کبھی کسی لڑکی کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ مجھے بہت ڈر تھا سیول میں کسی ننگی ٹانگوں والی چٹک مٹک لڑکی پر نہ مر مٹے۔
    کافی میکر میں کافی بننے کو لگا کر وہ اپنے اندر کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے پانی مگ میں نکال کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔
    ۔ مگر شکر ہے بھلے ہندوستانی ہوتم مگر حیا والی دقیانوسی ہو۔کپڑے مناسب پہن رکھے ہیں۔ انہوں نے اسکے جینز اور گھٹنوں تک آتے لانگ ٹاپ کو پسندیدگی سے دیکھا۔ بولتے بولتے جانے کیا خیال آیا۔ زرا سا جھک کر رازداری سے پوچھنے لگیں۔
    مگر تم گائے کا پیشاب پیتی ہو ؟
    آں ۔۔۔ ۔دے۔ ( آں ۔۔ ہاں) اس نے گڑ بڑا کر سر اثبات میں ہلایا۔ سمجھ ومجھ تو آنہیں رہا تھا کیا بول رہی ہیں تائید چاہنے والا انداز دیکھ کر ہاں میں ہاں ملا دی مگر شائد کچھ غلط ہوگیا تھا۔
    سیہون کو پانی پیتے اچھو ہوا منہ سے پانی فوارے کی طرح باہر نکلا تھا۔ آنٹی کی آنکھیں متوحش سے انداز میں پھیل گئیں وہ مڑ کر سیہون کو دیکھنے لگیں جو اب فاطمہ کو گھور رہا تھا
    یہ ۔ یہ کیا کہہ رہی۔ سیہون اسکو سمجھانا جراثیم ہوتے ہیں اس میں نا پیا کرےاور تم کم ازکم اس سے دور رہنا جب جب یہ پیئے۔ اوف خبردار جو کبھی تم نے اسکے ساتھ بیٹھ کر نوش کیا۔ وہ تحفظات کا شکار ہو گئیں۔
    آندے آہموجی۔ ایسی بات نہیں اسے شائد سمجھ نہیں آئی بات۔
    یہ تو مسلمان۔
    وہ ماں کو تسلی دینے کیلئے انکے پاس ہی چلا آیا۔ انکے صوفے کے ہتھے پر ٹک کر بتانے لگا وہ بات کاٹ گئیں
    چلو۔ انکی روایت ہے۔چلو کر لوں گی برداشت میں۔ اسکے گلے میں اسکارف دیکھ کر مجھے تو دھچکا لگا تھا کہ کہیں مسلمان تو نہیں۔۔ آجکل تو یہ بڑی مصیبت ہے ان انتہاپسندوں نے کوریائی نوجوانوں کو گھیرنا شروع کر دیا ہے وہ لڑکی جو ساتھ ساتھ رہتی تھئ عجیب نام والی شکر ہے تم نے اس سے شادی نہیں کر لی۔ سب نے مجھے یہی ڈرا رکھا تھا سیہون مسلمان لڑکی کے ساتھ گھومتا پھرتا ہے دیکھنا شادی کر لے گا مگر میرا بچہ نادان تھوڑی ہے۔ وہ نثار ہونے والے انداز میں اسکو دیکھتی نظروں سے بلائیں اتارنے لگی تھیں
    سیہون چپ سا رہ گیا۔ وہ واعظہ اور میری ایک بار چھٹیوں پر گائوں گئے تھے۔ میری اپنے کم کپڑوں اور واعظہ زیادہ کپڑوں کی وجہ سے انکو کھٹکا گئ تھی۔ میری جدیدیت پسند بے باک لگی تھی تو واعظہ مسلمان ہونے کی وجہ سے انکو اس خوف میں مبتلا کر گئ تھئ۔ ابھی بھی شکر ادا کرتی اپنی ہندونی بہو کی جانب متوجہ ہو گئیں جو بے چاری سی شکل بنائے یہ سب سن رہی تھی کیونکہ سمجھ تو آنہیں رہا تھا۔
    سیہون اس کا ردعمل سوچ کر چپ تھا۔خاتون بڑے ذوق وشوق سے نیا قصہ سنا نے لگیں۔
    یو آن کی شہزادیاں گوریو کے شہزادوں سے بیاہی جاتی تھیں تو انکو عجیب الا بلا کھانے کی عادت تھی اب ایک میز پر بادشاہ سور کا سوپ پی رہا ہوتا تھا توملکہ بلی کھاتی تھی بڑی مشہور کہانی ہے ایک بادشاہ نے بلی پال رکھی تھی ملکہ سے ذیادہ بلی کو چاہتا تھا ملکہ حسد میں مبتلا ہوگئ ایک دن بادشاہ کے سامنے بیٹھ کر اسی بلی کا روسٹ اڑایا۔ پھر۔ تم سمجھ تو رہی ہو نا۔ خاتون نے اسکی عدم دلچسپی بھانپ لی۔ اسکو ترجمہ۔کرکے بتائو کیا کہا میں نے۔ انہوں نے بیٹے کو ٹہوکا دیا۔
    سیہون نے گہری سانس لیکر اسے بتایا تو اسے بے ساختہ کراہیت محسوس ہوئی
    بلی تو ٹھیک مگر سور؟؟؟ اور ان آنٹی کو کراہیت بلی کھانے پر آرہی ہے؟ وہ یوں دیکھ رہی تھی جیسے ان آنٹی کے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہ کرو واقعی۔عروج کو گھن سی آگئ۔
    واعظہ کی بھی کم و بیش یہی حالت تھی۔سیونگ رو نے محظوظ سا ہو کر سلسلہ کلام جوڑا۔
    اب ہوا کچھ یوں کہ کینڈا میں اسٹریٹ ڈاگ تو آسانی سے ملتے نہیں شیلٹر ہوم سے میرے چینی اپارٹمنٹ میٹ نے ایک پیارا سا کتا لیا گھر لایا خوب کھلایا پلایا۔ رات کو اسکا سوپ بنادیا۔ صبح میں اٹھا تو کیا دیکھتا ہوں گرما گرم سوپ سامنے ہے۔ تبھی ہمارے اپارٹمنٹ کی اطلاعی گھنٹی بجی ۔ میں نے دروازہ کھولا تو شیلٹر ہوم والے انسپیکشن کیلئے موجود تھے کہ ہم نے کتے کا کیا انتظام کر رکھا ہے۔
    پھر کیا ہوا۔ عروج نے بے صبری سے پوچھا تو وہ ہنس کر بولا
    اسکو کافی پیسہ خرچنا پڑا تھا معاملہ دبانے کیلئے۔ گو کینڈا کے قوانین سخت ہیں مگر راشی لوگ تو ہر جگہ مل جاتے ہیں۔
    تم لوگ تو کتے بلیاں نہیں کھاتے ہو؟ واعظہ کو اچنبھا ہوا۔
    میری اسکولنگ یہیں کی ہے میں نے کسی کورین کو یہ سب کھاتے نہیں دیکھا۔۔ سیونگ رو نے متاثر ہونے والے انداز میں دیکھا۔
    بجا فرمایا۔ ایسا ہی ہے ہم ہر طرح کا جانور کھاتے تو ہیں مگر اب ترقی یافتہ ہونے کے بعد ہم کافی بدل چکے ہیں ۔ویسے تو
    کوریا کی تاریخ ہزار سال پر مشتمل ہےاتنا کچھ ہوا ہے یہاں کہ ہمارے بچے تاریخ پڑھتے ہوئے تنگ آجاتے ہیں ہم نے مٹ مٹ کر تباہ ہو ہو کر دوبارہ خود کو تعمیر کیا ہے۔ اپنی زبان کا تشخص بحال کیا ورنہ تو چینیوں نے ہمیں غلام بنا رکھا تھا۔ گوریو انکی ریاست کے مقابلے میں کہیں چھوٹی ریاست ہوتی تھی اس پر قبضہ قائم رکھتے تھے من پسند بادشاہ چنتے اپنی شہزادیوں سے انکی شادئ کروا دیتے تھے۔ ان شہزادیوں نے چینی روایات کا گہرا اثر چھوڑا ہم پر وہ انکی اولادیں ہر قسم کے کتے بلیاں کھا لیتے تھے ہم لوگ جانور کھاتے تو ہیں مگر کم ازکم اب کتے بلیاں محفوظ ہیں ہمارے یہاں۔ ہم انکو نہیں کھاتے۔
    تھائینیئے۔ عروج جیسے سکھ کا سانس لیکر بولی۔
    مجھے ویسے تاریخ دلچسپ لگتی ہے مجھے اتنی تفصیل سے تو نہیں پڑھنے کو ملی غیرملکی ہونے کی وجہ سے مگر ہاں میں نے جتنا پڑھا شوق سے پڑھا۔
    واعظہ نے یونہی کہا تھا سیونگ رو نے بات پکڑ لی۔
    پھر تو تمہیں برصغیر کئ بھی تاریخ پتہ ہوگی مجھے بر صغیر کی تاریخ میں بہت دلچسپی ہے مجھے بتائوگی کچھ؟ کیسے اس پورے بر صغیر کو مسلمانوں نے تبدیل کر کے رکھ دیا؟۔ وہ پرشوق انداز میں پوچھ رہا تھا واعظہ گڑ بڑ ا سی گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس سے بہتر تھا تم آنٹی کو سچ بتا دیتے کہ یہ بس کاغذی شادی ہے۔
    وہ منہ کھولے سامنے دیکھ رہی تھی۔ سیہون نے سر پکڑ لیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اختتام۔۔۔۔ جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 10

    دیسی کمچی قسط دس۔
    یہ ٹھیک ہے بس بے ہوشی کی دوا ذیادہ ہونے کی وجہ سے نڈھال ہو گئ تھی ۔ فکر مت کرو۔ اسے جگا سکتی ہوں مگر چونکہ اسے کافی گہرا شاک پہنچا ہے بہتر ہے سو کے اسکے اعصاب پرسکون ہو جائیں۔
    عروج عزہ کے بیڈ کے پاس کھڑے ہے جن کو تسلی دے رہی تھی۔اس نے ابھی عزہ کا دوبارہ چیک اپ کیا تھا۔ اسٹیتھسکوپ کانوں سے ہٹا کر وہ ہے جن کا کندھا تھپتھپا کر تسلی دے رہی تھی خود جسکے سر پر پٹی بندھی تھی۔ بازو پر گہرا زخم تھا شکر ہے ہڈی بچ گئ تھئ۔ اپنے ڈرپ اسٹینڈ سمیت عزہ کے بیڈ کے کنارے کھڑا فکر مند ہو رہا تھا۔ عزہ کی رنگت زرد ہو رہی تھی مگر وہ پرسکون سو رہی تھی۔
    اب تم جا کر سو جائو سارے مسلز اینٹھے ہوئے ہیں تمہارے ۔
    وہ یونہی عزہ کے پاس کھڑا تھا۔ تو عروج کو اسے ٹوکنا پڑا۔
    میں ٹھیک ہوں نونا۔۔ وہ ضدی بچوں کی طرح اینٹھا کھڑا تھا۔
    لغت کہاں گئ۔ عروج نے چڑ کر واعظہ کی تلاش میں نگاہ دوڑائی تو وہ وارڈ کے داخلی دروازے سے آتی دکھائی دی۔
    اسکے ہاتھ میں کچھ شاپر بھی تھے ۔
    انہیں دیکھ کر اسکے قدموں میں بجلی کی تیزی آئی تھی۔
    تم پھر اٹھ آئے ؟ کہا بھی تھا بیڈ پر سے ہلنا مت۔
    اس نے قریب آکر بلا تکلف اسکے مجروح بازو والے کندھے پر مکا لگایا۔
    سن ہی نہیں رہا کب سے اطمینان دلا رہی ہوں اسے کچھ نہیں ہوا۔ عروج نے بھی شکایت لگائی۔
    چلو اب اتنا مہنگا پرائیوٹ روم بک کروایا ہے میرے پیسے ضائع مت کرو چلو جائو اور یہ بھی لیکر جائو کھانا شروع کرو ہم آتے ہیں۔
    واعظہ نے ڈانٹنے والے انداز میں کہا تو وہ سر جھکا گیا۔ ایک ہاتھ میں بڑا سا شاپر پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے اسٹینڈ گھسیٹنا چپ چاپ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔
    تمہاری کیسی سنتا ہے کب سے اسکو کہے جا رہی ہوں کہ جائو کچھ نہیں ہوا میری بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی جیسے۔
    عروج کو دوبارہ غصہ آنے لگا۔ واعظہ آگے بڑھ کر عزہ کی پیشانی چھو کر دیکھنے لگئ۔
    ٹھیک ہے یار یہ۔ بس انہوں نے ڈرگز بہت ہی کوئی ذود اثر استعمال کی تھی یہ تو فوری بے ہوش ہوئی ہوگی۔
    عروج نے خیال ظاہر کیا۔
    واعظہ کی نگاہ میں وہ منظر گھوم گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن کو پکارنے پر بھی وہ جب نہ رکا تو اسے جانے کیوں کچھ انہونی کا خوف لاحق ہوا بنا سوچے اس نے بھی دوڑ لگا دی تھی ہے جن کے پیچھے۔
    گاڑی ہستگی سے عزہ کے پاس آتی جا رہی تھی۔ گاڑی میں سے دو دیو ہیکل مرد جنہوں نے کالے اپر پہنے تھے منہ پرکالا نقاب اور سر پر کالی ہی پی کیپ پہنے اترے۔
    لمحوں کا وقفہ ہوگا انکو عزہ کے پیچھے بڑھتے دیکھ کر وہ پوری جان سے چلایا
    عزہ نونا پیچھے دیکھو۔ ہنگل میں چلاتے اسے یہ خیال نہ آیا تھا کہ عزہ کو اسکی بات سمجھ نہیں آئے گی۔ تاہم عزہ نے اپنے نام پر مڑ کر دیکھا تو ان میں سے ایک اسکی ناک پر رومال جما چکا تھا۔
    عزہ نونا۔ چھوڑو عزہ کو۔ وہ چلاتا پکارتا پوری جان سے دوڑ رہا تھا
    پالی پالی۔ ( جلدی کرو)
    ایک نے عزہ کو پکڑا دوسرے نے پاس آجانے والی گاڑی کا دروازہ کھولا سختی سے رومال جمائے جمائے اسکا ہاتھ پھسلا تھا اور عزہ کے چہرے سے نقاب اتر گیا تھا۔
    ریو یہ دیکھو۔ ایک نے گھبرا کر عزہ کا چہرہ دوسرے کو دکھایا
    تب تک ہے جن انکی گاڑی کے قریب آچکا تھا
    جو بھی ہے لے چلو۔
    دوسرے نے ہے جن کو آتے دیکھ کر عجلت میں کہا
    مگر ہے جن پھرتی سے عزہ کا بازو کھینچ کر ان دونوں کے آگے آگیا تھا۔ کورین ہائی اسکولرز کو سکھائی جانے والی سیلف ڈیفنس کی مشق اس وقت کام آئی تھی اس نے ایک ہی چکر میں گھوم کر لات جما دی تھی اغوا کار کے کندھے پر ۔ اسکے ہاتھ سے عزہ کا بازو چھوٹا اب انکا ارادہ راہ فرار اختیار کرنے کا تھا ایک تو گاڑی میں چڑھ گیا دوسرا کندھے پر لات کھا کر گاڑی سے نیچے آگرا ہے جن اس پر پل پڑا لاتیں مکے تبھی دوسرا بھی گاڑی سے اتر کر بری طرح ہے جن کو پیٹنے لگا دیو ہیکل دو مردوں کا مقابلہ دبلا پتلا نازک سا ہے جن نہیں کر سکتا تھا اس بار ڈرائیور نے ہارن بجایا تو انہوں نے ہے جن کو زخمی کرکے دوبارہ عزہ کی جانب بڑھنا چاہا۔۔پتھر کی طرح کوئی چیز ریو کی کنپٹی پر آکر لگی تھی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو کسی لڑکی نے بھاگ کر قریب آتے اب اسے اپنا بیگ بے دریغ منہ ہی منہ پر مارا ساتھ ایک لات اسکی ران پر جما دی۔ اس نے آگے بڑھ کر ہیڈ لاک لگا دیا۔وہ وہیں دہرا ہو کر گرا اسکے ساتھی نے ہے جن کو پلٹ کر مکا مارا۔ یہ دھمکی تھی جسے سمجھ کر واعظہ نے ریو کو چھوڑ دیا ریو کے چہرے سے ماسک اتر گیا تھا ایک لمحے کو اسکا چہرہ واضح ہوا پھر وہ تیزی سے کہنی سے چہرہ ڈھانپتے ہنگل میں چیخ کر اپنے ساتھی کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہتا گاڑی کی جانب دوڑا۔ دونوں نے چھلانگ لگائئ اور گاڑی نے لمحہ بھر کا توقف کیئے بنا رفتار بڑھا دی۔
    ایک انہونی ہونے سے رہ گئ ۔
    منہ اور بازو سے نکلتے خون کی پروا کیئے بنا ہے جن سڑک پر بے ہوش پڑی عزہ کی۔جانب بڑھا۔۔ گھٹنے کے بل بیٹھ کر اس نے عزہ کا سر گود میں لے لیا۔
    عزہ۔ اسکے گال تھپتھپاتے۔ اسکے سر میں ٹیس اٹھی تھی
    اس سے پہلے کہ وہ بھی چکرا کر سڑک پر پڑا ہوتا واعظہ نے اسکو بانہوں میں بھر لیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ سب اسپتال آنے کو تھیں بہت مشکل سے روکا ہے میں نے ۔۔ کہا کہ صبح تو آجائے گی بھلی چنگی ہو کر سو اسپتال میں رش نہ لگائیں۔
    عروج بتا رہی تھی مگر واعظہ کسی سوچ میں گم رہی تو اس نے آکر اسکا کندھا ہلایا
    تم تو نہیں دوبارہ پٹ آئی ہو؟ دکھائو ابھی تو کاسٹ اترا تھا تم نے بھی ہاتھا پائی ضرور کی ہوگی آس پاس ہو اور مسلئے میں نہ کود پڑو یہ ناممکن ہے تمہارے لیئے۔ عروج اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    نہیں۔ اس نے گہری سانس لی اور سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئ۔
    میں بچ گئ واقعی اس بار۔۔ چلو روزہ کھلنے میں بس پندرہ بیس منٹ ہی رہ گئے ہیں۔ میں کھانے پینے کا سامان لے آئی ہوں ہے جن کے کمرے میں چل کر کھاتے ہیں۔
    عزہ کو آج یہیں رہنے دو میری نائیٹ ہے دیکھ لوں گی اسکو یہاں یہ اکیلی بھی نہیں ہے۔ عروج نے کہا تو وہ بس سر ہلا کر رہ گئی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویہئو کیسے ممکن ہے کہ تم اسکے حلیئے کے بارے میں بھی صحیح طرح نہیں بتا رہے ہو پٹتے وقت کوئی جسامت کا اندازہ بھی نہیں ہوا تمہیں؟
    وہ دونوں ہے جن کے کمرے میں داخل ہوئیں تو دو پولیس اہلکار ہنگل میں ہے جن کا بیان نوٹ کر رہے تھے
    آندیو۔ ہے جن بے زار سے انداز میں بولا
    کہہ تو رہا ہوں انہوں نے جسم کو مسلکولر دکھانے والے جیکٹ پہنے ہوئے تھے فوم بھرا ہوا تھا انکے بازوئوں میں ورنہ میرے جیسی جسامت کا لڑکا ان سے بھڑ سکتا تھا؟ اچھے خاصےمکے میں نے بھی مارے ہیں۔
    ہے جن نے بات دہرائی تو وہ گہری سانس لیکر اپنی کاپی بند کرکے اسے بغور دیکھ کر بولا
    ویسے لحیم شحیم تو رہے ہونگے تمہاری جو حالت کی ہے دیکھ کر یہی لگتا۔
    اسکی بات پر جہاں دوسرے اہلکار نے منہ پھیر کر مسکراہٹ دبائی وہاں ہے جن دانت پیسنے لگا تھا
    آہش۔ آراسو۔ ( ہاں مان لیا) وہ کوریا کے اول درجے کے صحتمند طاقتور غنڈے تھے اور تم چوزے جیسے پولیس والوں کے بس کی بھئ بات نہیں انکو پکڑنا۔
    ہے جن نے کہا تو اہلکار تلملا کر اسکے سر پر گھنٹی بجانے ہی لگا تھا کہ واعظہ نے مداخلت کی
    آپکو کہا بھی ہے کل بیان لینے آ جائیں شائد عزہ نے دیکھا ہو ہے جن بھی کل تک کچھ پرسکون ہوگا تو بیان دینے کے قابل ہوپائے گا اتنی عجلت کس بات کی ہے۔
    اسکا انداز سخت تھا دونوں نے کچھ کہنے کو منہ کھولا پھر رک سے گئے۔
    چھے سو ہمبندا۔ ہم کل آتے ہیں۔ دونوں جھک کر سلام کرتے باہر نکل گئے۔
    چلو کھانا کھائیں۔ کھانا ٹھنڈا ہو گیا ہوگا ان دونوں کو کہہ دینا تھا کہ بعد میں آئیں۔ انکا کام ہے انتظار کریں۔ پہلے اتنا میرا دماغ کھا چکے ہیں۔
    واعظہ بے زاری سے کنپٹی سہلا رہی تھی۔ عروج نے آگے بڑھ کر بیڈ ٹیبل سرکا کر ہے جن کے سامنےلگائی۔ ہے جن کھانے کا شاپر بیڈ سائیڈ ٹیبل سے اٹھانے بڑھا مگر عروج نے روک دیا اور خود اٹھا کر شاپر سے کھانا نکال کر میز پر سجانے لگی۔
    افطار کا وقت ہو گیا۔۔ ہے جن نے اپنے پیر سمیٹ لیئے تھے وہ دونوں بھی بیڈ پر جگہ بنا کر بیٹھ گئیں۔
    دس منٹ ہیں۔ واعظہ نے گھڑی دیکھی
    چکن برگر کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے ہے جن رک سا گیا
    تم شروع کرلو۔ بی پی لو تھا تمہارا جبھی ڈرپ لگا دی تھی میں نے۔ کھانا وانا ڈھنگ سے نہیں کھاتے تم کیا؟
    عروج نے کہا تو وہ چپ سا رہ گیا پھر دھیرے سے بولا
    میں بھی دس منٹ بعد کھائونگا آپکے ساتھ۔
    کیوں بھئ شروع کرو اور۔یہ جوس بھی پیئو اتنا خون بہا ہے آج تمہارا تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہیئے۔ تمہارا کونسا رمضان چل رہا۔۔
    عروج نے کہا تو وہ بات کاٹ کر بولا
    میرا بھی آج روزہ ہے نونا۔
    اسکی بات پر واعظہ اور عروج دونوں نے چونک کر اسکی شکل دیکھی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم نہیں جا رہیں آج ریڈیو؟
    عشنا نے الف کو منے لائونج کے قالین پر آرام سے بے ترتیب حلیئے میں دراز دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔
    میں نے بتا دیا ہے ژیہانگ کو وہ آج سولو شو کر لے گا۔۔وہ لاپروائی سے چینل بدل کر بولی
    کیوں بھئ؟ کس خوشی میں؟تم نے تو کہا تھا کہ تمہیں چھٹی نہیں ملتی۔۔ عشنا نے پوچھا تو اس نے لمحہ بھر کو نور کے ٹی وی کے آگے سے گزر جانے کا انتظار کیا پھر دوبارہ چینل بدل کر ریموٹ سے اسکی جانب اشارہ کرتے ہوئے جتاتی نظروں سے عشنا کو دیکھا۔۔
    نور منے لائونج میں بھی ادھر سے ادھر ٹہل ٹہل کر اپنی پریشانئ دور کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔ چلتے چلتے ٹی وی کے سامنے سے گزرتی کوئی اور وقت ہوتا تو الف جھاڑچکی ہوتی مگر اسکی پریشانی کا لحاظ تھا دوسرا خود کونسا پرسکون بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی چینل پر چینل بدل رہی تھی۔
    خوشی ؟ پاگل آج جو کچھ ہوا اسکے بعد اور اس چکور کو چکر کاٹتے دیکھ کر میں کیسے شو کرنے جا سکتی ہوں بھلا؟
    الف نے کہا تو عشنا کچھ کہتے کہتے رک گئ۔
    تم پریشان نہ ہو میں ٹھیک ہوں۔ اور عشنا ہے نا میرے پاس تم جانا چاہو تو چلی جائو۔
    نور اسکی بات سن کر اسکے سامنے آبیٹھی۔ آلتی پالتی مار کر اب انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
    الف نے پیار بھری نگاہ ڈالنی چاہی مگر تاثرات ناپسندیدہ چیز کو دیکھنے جیسے کڑوے ہوگئے
    میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم فرینج کٹوا کر بالکل جاندی لگنے لگو گی۔
    وہ دھیرے سے بڑ بڑائی جسے صرف عشنا ہی سن پائی
    واقعی میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔
    عشنا دھیرے سے سرگوشیانہ انداز میں قریب ہو کر کان میں بولی۔
    دیکھو ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوریا ہے یہاں اندھیر تھوڑی ہے۔کہ دن دیہاڑے کوئی آئے گا پستول دکھا کر ڈاکا ڈال جائے گا۔
    نور اپنے ہاتھ توڑ لینے پر اترئ ہوئی تھی انگلیاں چٹخا چٹخا کر۔۔ چہرے پر گھبراہٹ اوپر سے اسکے جملے ۔ وہ ان سے ذیادہ خود کو تسلی دے رہی۔تھئ۔۔تاثرات بھی کچھ کچھ جاندی جیسے ہی ہو چلے تھے
    ہاں تو ڈاکا تو نہیں ڈالا بس بال کاٹ کے چلا گیا کوئی۔۔
    عشنا نے یاد دلایا تو جہاں الف اسے دانت پیس کر گھورنے لگی وہاں نور کو دوبارہ یاد آگیا۔ اپنی پیشانی پر بکھرے بالوں پر ہاتھ پھیر کر روہانسی سی ہوگئ۔
    تمہیں دیکھ کر ہمدردئ ہونئ چاہیئے پر۔ الف کا جملہ منہ میں تھا جب زوردار اطلاعئ گھنٹی بجنے پر تینوں اچھل پڑیں۔
    کون آگیا۔
    الف شائد اب تک کی دیسی کمچی کی قسطوں میں پہلی بار دروازہ کھولنے کے ارادے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی کہ الف اور عشنا دائیں بائیں اس سے لپٹ گئیں
    مت کھولنا۔جانے کون ہو۔ نور باقائدہ کانپ رہی تھی
    کہیں وہی صبح والا۔ خوف کے مارے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
    صبح والا کیوں ہوگا ۔اب کیوں آئے گا وہ؟۔ الف نے چڑ کر بازو چھڑانا چاہا
    ہو سکتا ہے اب وہ چوٹی کاٹنے آیا ہو۔ عشنا نے خیال ظاہر کیا تو اس بار نور نے دانت کچکچا کر گھورا الف البتہ اپنے شولڈر سے تھوڑا سا نیچے آتے بالوں کی چھوٹی سی چوٹی چھو کر خوفزدہ ہوئی۔۔
    کیوں آئے گا چوٹی کاٹنے میں اسکی ناک کاٹ ڈالوں گی۔
    نور کا خوف غصے میں بدلا۔ جھٹ کچن کائونٹر پر سے چھوٹی سی قینچی جو انہوں نے پیکٹ کھولنے کیلئے رکھی تھی جھپٹ کر اٹھا لائی۔ کسی ہتھیار کی طرح لہراتے وہ سب سے آگے تھئ الف اور عشنا پیچھے۔
    اطلاعی گھنٹی پھر بج اٹھی۔
    کھولو دروازہ الف۔ نور ہمت مجتمع کرکے الف سے کہہ رہی تھی۔
    الف نے گھور کر اسے دیکھا۔ گھنٹی پھر بج اٹھی۔
    لگتا یے کوئی ہے نہیں اندر۔
    مردانہ آواز پر تینوں اچھل پڑیں۔
    مت کھولو اس وقت تو واعظہ اور فاطمہ بھی نہیں۔
    عشنا گھبرا اٹھی
    ہےجن بھی تو نہیں ہے گھر پر۔ نور کو خدشہ ستایا
    ظاہر ہے وہ اور عزہ دونوں اسپتال میں ہیں۔
    عشنا نے جیسے سر پیٹا۔
    کون۔۔
    الف نے ہمت مجتمع کر کے کی ہول سے باہر جھانکا۔
    کوئی اونچا لمبا سا انسان کھڑا تھا کالے لمبے کوٹ میں کی انکی جانب پشت تھی۔۔وہ کچھ بول رہا تھالف کے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔
    ہم۔تین ہیں وہ ایک۔ میں دروازہ کھولوں گی تم دونوں پیچھے سے حملہ کردینا ٹھیک۔۔
    الف نے کہا تو دونوں نے منڈیا ہلا کر سگنل دیا۔ نہایت آہستہ سے بنا آواز کیئے ہینڈل گھما کر اس نے دروازہ کھولا سال خوردہ دروازے نے چررررر کی اتنی زور دار آواز کی کہ انکے عین دروازے کے سامنے کھڑا وہ آہجوشی چونک کر مڑا ۔ اسکے ہاتھوں میں کچھ تھا جسےدیکھ کر الف اور عشنا
    کی آنکھیں کھل سی گئیں اور وہ ایکدم چونک کر سیدھی ہوئیں انکو ڈرتے دیکھ کر نور نے اپنی آج تک کی زندگی کی جمع شدہ ہمت مجتمع کی اور پیچھے سے قینچی چلاتے ہوئے اس آہجوشی پر دھاوا بول دیا۔ قینچی کا رخ سیدھا آہجوشی کی آنکھ کی جانب تھا جسے اسکے مدافعتی نظام نے انتباہ تصورکرکے ایکدم رخ موڑنے پر مجبور کر دیا۔ اسکے ہاتھ میں موجود پلیٹیں چھوٹیں الف نے کسی ماہر گول کیپر کی طرح چھلانگ لگا کر انکو کیچ کیا تھوڑے سے چاول احتجاجا باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے بقیہ وہ گرتے گرتے بچا گئ عشنا وہ تماشائی تھی جسے بیک وقت دو الگ الگ نظارے دیکھنے تھے سو فرط شوق سے اسکا منہ کھلا رہ گیا تھا۔ میٹرکس کے ہیرو کی طرح ان تین لڑکیوں کو ڈاج کرتے آہجوشی پشت کے بل دھاڑ سے گرے تھے اور ان سے پہلے انکے ماتھے سے کٹ جانے والا خوبصورت پف وہ بالوں کا گچھا زمین پر آرہا جسے صبح دیکھ کر طوبی نثار ہوچلی تھی۔ اب آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی کہ وہ گچھا اب یادگار کے طور پر فریم کیا جا سکتا تھا آخر اسکے محبوب شوہر کے بال تھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا؟ تم نے کس خوشئ میں میرا۔ مطلب۔ عروج گڑ بڑائی
    میں نے نماز بھی پڑھی ہے آج دوپہر کو امام صاحب نے پڑھوائی۔ روزے کے ساتھ نماز ضروری ہوتی ہے نا؟ ۔
    آہاں۔ عروج گڑ بڑائی
    ہے جن سادگی سے بتا رہا تھا۔عروج اچنبھے سے کبھی اسے دیکھ رہی تھی کبھی واعظہ کو۔ جو نہایت سنجیدگی سے ہمہ تن گوش تھی۔
    مجھے دلاور آہجوشی اپنے ساتھ روز مسجد لیکر جاتے رہے ہیں۔ میں نے کافی کچھ اسلام کے بارے میں جان لیا ہے اچھا مذہب ہے۔ وہ مسکرا کرکہہ رہا تھا۔ واعظہ بے چین سی ہو گئ۔
    تم۔ تم سچ بتا دیتے طوبی کو۔ تمہیں کوئی ضرورت نہیں تھی اس جھوٹ کو اس حد تک نبھانے کی۔ نماز پڑھنے روزہ رکھنے کو کس نے کہا تھا تم سے۔ میں طوبی سے خود بات کرلوں گی۔تم آئیندہ اس حد تک جانے کی کوشش مت کرنا
    واعظہ رواں ہنگل میں مخاطب تھی انداز بہت سخت تھا۔ہے جن لیئے اسکا ردعمل کافی حیران کن تھا اسے لگا تھا کہ وہ خوش ہوگی حوصلہ افزائی کرے گی پر وہ۔۔ عروج بھی اتنی ہنگل تو جانتی ہی تھی سو اسے ٹوکنے لگی مگر اردو میں۔۔
    کیا ہو گیا ہے۔ اچھی بات ہے یہ تو تمہیں اسکا دل بڑھانا چاہیئے نا کہ ۔۔
    عروج تم چپ کرو۔ تم سمجھ نہیں رہی ہو کہ ہمارا ایک چھوٹا سا مزاق کیسا عجیب موڑ لے گیا ہے۔ خود کو ہے جن کی۔جگہ رکھ کر سوچو۔ میں کہوں تم ہے جن کی بہن ہو اور کوئی تمہیں پکڑ پکڑ کر بدھ مت کے مندر لے جائے بھجن گوائے کیسا لگے گا تمہیں؟
    واعظہ کا انداز ہنوز تھا عروج نے اسے سمجھانا چاہا
    دیکھو بات الگ ہے ہےجن بچہ نہیں ہے اگر وہ روزہ رکھ رہا ہے نماز پڑھتا ہے تو کیا پتہ وہ کل مسلمان ہو جائے۔
    بچہ ہی ہے یہ۔ واعظہ چلا اٹھی۔
    اٹھارہ سال اسکی کورین ایج ہے۔ کوریا میں یہ بچے کی عمر کا حساب اسکے ماں کے بطن میں آنے سے ہی رکھتے ہیں ۔ ورنہ اصل میں سترہ کا بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ اتنے چھوٹے سے کچے ذہن کے بچے کو مذہبی تعلیم دے کر کسی راہ پر لگانا بے معنی ہے آج یہ سب کر رہا ہے کل کو اسکا دل بدل سکتا ہے اسکو اسکے ماں باپ بہن بھائی سے کاٹ کر مسلمان بنانا ابھی بالکل غلط ہے ۔ یہ باشعور ہوتا سمجھدار ہوتا
    واعظہ جو کہہ رہی تھی عروج کو وہ بھی بالکل غلط نہیں لگ سکا تھا۔ ان دونوں کو اجنبی زبان میں بحث کرتا دیکھ کر بات سمجھ نہ آنے کے باوجود اسے موضوع گفتگو اپنا آپ ہی لگ رہا تھا سو اسے ٹوکنا پڑا
    نونا تحمل سے بات کریں۔ مانا میں عزہ کا اصل بھائی نہیں ہوں مگر یقین کیجئے آج مجھے احساس ہوا کہ عزہ میرے لیئے اتنی ہی عزیز ہے جتنی مجھے اپنی بہن ہوتی۔ اس جھوٹ کو میں 100 فیصد جھوٹ نہیں مانتا ہوں۔ آپ طوبی آپی کو کچھ مت بتائیے۔۔۔
    اسکے آپی کہنے پر دونوں چونک کر اسے دیکھنے لگی تھیں۔
    میں مانتا ہوں شروع میں وہ زبردستی مجھے لے جاتی تھیں ۔ میں انکو صاف انکار نہیں کر پاتا تھا مگر بعد میں جب امام صاحب کا خطبہ سنتا تھا وہ ہنگل میں جب سمجھاتے تھے آپکی کتاب کا مطلب تو مجھے سننا اچھا لگتا تھا۔ میں بعد میں خود بھی بڑے شوق سے جاتا رہا ہوں۔۔
    ہے جن سر جھکا کر جیسے کسی جرم کا اعتراف کر رہا تھا۔
    تو کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟۔ عروج بے صبری سے بولی تو ہے جن کے چہرے پر سایہ سا لہرا گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تینوں طوبی کے سامنے سر جھکائے کھڑی تھیں وہ صارم کو گود میں لیئے منے صوفے پر براجمان کڑے تیوروں سے گھور رہی تھی انہیں۔۔
    سوری طوبی یقین کیجئے یہ سب غلطی سے ہوا آپکے سامنے ہے آج جو کچھ ہوا ہم نے بتا دیا۔ ہم سچ مچ بہت ڈرے ہوئے تھے ہمیں لگا وہی صبح والا بال چور آیا ہے۔
    نور کی تو اب بولنے کی بھی ہمت نہیں تھی سو الف ہی صفائی دے رہی تھی۔
    غضب خدا کا۔میری مت ماری گئ کہ آج پلائو بنایا افطاری کیلئے تو سوچا تم لوگوں کو بھی بھیجوں ایک بار کہا بس انکو سامنے پلیٹ دے آئیں تراویح پڑھنے جا رہے تھے ایک ذرا سا جو انکار کیا ہو فورا پلیٹ تھام لی ۔ اتنا سادہ معصوم ہے میرا میاں۔۔۔ اور تم لوگ اسے بال چور سمجھ بیٹھیں۔ طوبی غضبناک ہوئی۔۔ پھر سوچ میں بھی پڑی
    بال چور کیا ہوتا ہے؟۔
    وہ اس چور نے بس نور کے بال کاٹے اور وہ بال ہمیں ملے بھی نہیں تویقینا وہ بال چرا کر لے گیا ہے۔۔ ہم نے اسکا نام بال چور اسی لیئے رکھا۔
    عشنا نے تفصیل سے بتایا۔
    مگر چور بالوں کا کیا کرے گا؟ ۔الف کو اچنبھا ہوا۔
    ویسے کورین ڈراموں میں دکھاتے ہیں نا شمن جو ہوتے وہ بالوں کے ساتھ پتہ نہیں کیا کیا پڑھتے۔ عشنا کو خوب معلومات تھیں سو اس نے جھاڑنا ضروری سمجھا۔ الف نے قائل ہونے والے انداز میں سر ہلایا۔
    بال چور۔ طوبی نے ذہن میں کڑیاں ملائیں۔ ان تینوں پر نظر ڈالتے نور پر نگاہ گئ وہ شرمندہ سی ہو کر نظر چرا گئ۔ ہاتھ میں پکڑی قینچی۔ اس نے دونوں ہاتھ جھٹ پیچھے کر لیئے۔ طوبی کی پرسوچ نگاہیں اسکی جاندی جیسی فرینج پر تھیں۔
    ایک لٹ تو اس نے نور کی لے لی اور دوسری۔
    باآواز بلند سوچتے اسے جھٹکا لگا تو جھٹ اٹھ کھڑی ہوئی۔ صارم اسکی گود سے گرتے گرتے بچا اسکو کمر پر سنبھالتی اس نے دوڑ لگا دی تھی رخ داخلی دروازے کی۔جانب تھا عشنا الف نور کچھ نہ سمجھتے پیچھے دوڑیں مگر طوبی کو اپنے میاں کئ اس لٹ کی حفاظت کرنی تھی جو نور کی بدولت انکے سر سے الگ ہو کر بے یارو مددگار دروازے کے باہف
    زمین پر پڑی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دسویوں قسط کا اختتام۔۔

    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 9

    قسط 9
    دروازہ کھٹکا کر وہ تھوڑا سا ہٹ کر کھڑی ہو گئ تھی۔ کیونکہ دروازے پر ایک بڑی سی مکڑی لٹک رہی تھی۔
    مانا گھر کے باہر کا حصہ ہے مگر صفائی ہی کرلیتا ہے بندہ۔ دیوار سے لگ کر فاطمہ نے کوفت سے سوچا تھا۔
    بیل دیئے تقریبا 5 منٹ ہو چکے تھے اس نے عشنا کے موبائل میں وقت دیکھا۔ وال پیپر پر لی من ہو مسکرا رہا تھا
    اف۔ ایک یہ الگ مصیبت۔ وہ جھلائی صبح کا واقعہ ذہن میں تازہ ہوا۔۔
    اسکے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر بیڈ پر گر چکا تھا مگر وہ اتنی خوش قسمت نہ تھی کہ بیڈ پر گرتی نتیجتا بیڈ کا کنارا پیٹ میں لگا تھا گھٹنے سیدھا زمین میں۔ آہ۔۔ وہ کراہ کر گھٹنا سہلاتی بمشکل اٹھی ٹٹول کر فون کان سے لگایا
    انی خیریت تو ہے چیخی کیوں؟ عشنا پریشان پوچھ رہی تھی فاطمہ بھناگئ۔
    تم بتائو میں خود کو کیسے کال کر رہی ہوں اور تمہارا موبائل میرے ہاتھ میں کیا کررہا؟
    فاطمہ بھنائی تو وہ کھسیا کر بولی
    وہ صبح نکلتے ہوئئ غلطی سے سائیڈ ٹیبل سے آپکا فون اٹھا لائی سوری۔ میں بس کلاس آف ہوتی ہے تو گھر آتی ہوں ہاں وہ سیہون بار بار فون کر رہا ہے کہہ رہا کہ آپ سے کام ہے میں نےاسکا نمبر میسج کیا ہےدیکھ لیں ۔۔ کہتے ہی ٹھک بند فون ۔۔
    ہیلو ہیلو۔۔ عشنا۔ ہائیں۔ فاطمہ موبائل گھور کر رہ گئ۔
    پیٹرن بنا ہوا تھا اسکے موبائل پر درجن دفعہ بھی دیکھ لے تو کھول نہیں سکتی تھی پے در پے تین میسج آئے ۔
    اس نےجھلا کر اسے فون ملانا چاہا اپنے نمبر پر تو پیٹرن منہ چڑانے لگا۔۔
    نفسیاتئ ۔۔ نفسیاتئ ہیں سب یہاں کوئی نارمل نہیں۔ وہ بیڈ کا سہارا لیکر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نفسیاتی نہیں کسی پاگل کا کام ہوسکتا۔ میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔ جق میرے بال کاٹ دیئے۔ اب میں یونیورسٹی کیسے جائوں گی اس ہیئر اسٹائل کے ساتھ۔
    آئینہ دیکھ دیکھ کر نور کے بین جاری تھی۔
    تم تو عبایا کرکے جاتی ہو کسی کو کیا پتہ چلنا ۔ عروج جمائی لیتی ہوئی اپنے بیڈ کی جانب بڑھی تو نور نے بھی اپنا کدو جیسا سرہلایا۔
    وہ تو ٹھیک مگر گھر میں تو عبایا نہیں پہن کر پھرتی ہوں میں تم لوگ تو دیکھو گی، مزاق اڑائیں گی سب میرا۔ آن ۔۔۔۔۔۔
    دیکھو کیسی لگ رہی ہوں ۔۔ نور نے پلٹ کر الف سے پوچھا تو وہ اپنے موبائل کو دیکھتے ہوئے بڑ بڑائی
    عجیب۔بلکہ عجیب ترین
    عروج اور نور نے باقائدہ منہ کھول کر اسے دیکھا تو وہ اپنے ہی دھیان میں موبائل انہیں دکھا کر بتانے لگی
    دیکھو کیا عجیب اسکرہن شاٹ بھیجا ہے فاطمہ نے۔ ایل اور اے ساتھ 1 2 3 بھی سمجھ نہیں آیا۔
    فاطمہ گھٹنا سہلاتی کمرے میں داخل ہوئی
    یار عروج میرا نمبر ملائو عشنا کی بچی میرا موبائل لے گئ ہے اپنا چھوڑ گئی ہےاور اسکے موبائل میں پیٹرن لگا۔۔
    بولتے بولتے نور پر نظر پڑی تو باقی جملہ منہ میں رہ گیا۔ بے ساختہ ہی دو قدم پیچھے ہو کر دل پر ہاتھ رکھ گئ
    تمہیں کیا ہوا۔ ۔۔
    آں ہاں۔۔۔۔۔۔۔نور نے دوبارہ تان بلند کی جبکہ الف سمجھ کر اپنا موبائل اسکو دکھانے لگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھڑی کھڑی تھک گئ تو اپنا بیگ دیوار سے لگا کر اسی پر بیٹھ کرعشنا کے موبائل میں کوریائی کچھ جملے جو اس نے عروج کی مدد سے ڈائونلوڈ کی گئ ایپ سے سیکھے تھے انکو دھرانے لگی۔ جو اسے ان کونسلروں کو سنانے تھے تاکہ وہ شک نہ کریں اس پر۔
    پھر جانے کب آنکھ ہی لگ گئ۔
    اپنی ہی دھن میں تیز تیز قدموں سے چل کر آتا سیہون اپنے فلیٹ کے آگےپڑی بوری سے ڈر کر دو قدم پہچھے ہو۔
    آہش۔ ۔۔۔۔
    سیہون کے ساتھ آئی خاتون بھی اچنبھے سے دیکھ رہی تھیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یونیورسٹی سے نکلتے وقت موسم ابر آلود تو تھا ہی اب باران رحمت بھی برسنے لگی۔ اپنے اسٹاپ پر اتر کر اس نے شکر کیا کہ پھوار تیز نہیں پاس چھتری تک نہیں تھی اسکے۔
    میں بھی کورین آہجومہ بن گئ ہوں۔ چھتری لیئے بنا ایسے موسم میں نکل آئی ہوں۔ مجھے تو قسمت بھی ایسی کہ کوئی اوپا نہیں ٹکرنے کا بس یہ چھوٹا بلا پیچھے پڑا ہے۔
    اس نے بیگ کو کندھے پر بدلتے ہوئے موبائل کو گھورا۔
    انی میں اسٹاپ پر ہوں آپ کہاں ہیں؟
    ہےجن کا پیغام۔۔
    جھوٹا۔وہ چلتے چلتے اسٹاپ سے تھوڑا آگے ہو گئ تھی سو مڑ کر دیکھا تو اسٹاپ پر بس ایک ادھیڑ عمر عورت بارش سے بچنے کو شیڈ میں بیٹھی تھی۔
    کوئی ضرورت نہیں اسٹاپ پر رکنے کی میں گھر پہنچنے والی ہوں۔
    اس نے میسج لکھا پھر جھوٹ لگا تو مٹا کر موبائل عبایا کی جیب میں ڈال لیا۔ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی وہ ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز اپنی دھن میں چل رہی تھی۔ مین روڈ سے اپنی عمارت کی جانب ذیلی سڑک پر مڑتے ہوئے اس نے بالکل بھی دھیان نہ دیا کہ آج موسم کی وجہ سے کچھ ذیادہ ہی سنسانی سی تھی۔۔
    ہائے کتنے دن ہو گئے ہم کہیں گھومنے نہیں گئے۔ عزہ اداس سی ہوگئ۔ رمضان میں کسی میں ہمت ہی نہیں ہوتی بس عید پر واعظہ سے کہوں گی ہم دوبارہ سمندر کنارے جائیں گے۔
    اس نےسوچ کر چٹکی بجائی۔
    سارے رمضان ثواب کما کر عید پر سمندر کنارے جا کر گناہوں کی ٹوکری دوبارہ بھر لینا۔
    واعظہ کا خیالی پیکر اسکے کندھے کے پاس سے بولا تھا۔
    اوہ۔ وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔ عید پر تو نہیں چلو پھر عید پر امیوزمنٹ پارک چلیں گے۔ اس نے فورا خیال بدلا اور فون نکال کر اس خیال کو سکھیوں کے ساتھ بانٹنے لگی مگر فون پر دس کے قریب پیغامات تھے۔ سب کے سب ہے جن کے۔
    نونا کہاں ہو ؟
    مجھے ایک لڑکی ۔۔
    اس نے اتنا ہی پڑھا تھا کہ کسی نے اسکے منہ پر سختی سے رومال جمایا وہ بھونچکا سی ہوئی مگر رومال میں یقینا بے ہوشی کی دوا تھئ کہ کیا اسکا ذہن تاریکی میں ڈوبنے لگا۔ مگر مکمل بے ہوش ہونے سے قبل اسے ہے جن کے چیخنے کی آواز آئی تھی اسے ہی پکار رہا تھا وہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لڑکی اسے سیدھا اندر لے آئی تھی۔ اندر ماحول ہی کچھ اور تھا ایک جانب بڑا سا اسٹوڈیو جسکا سیٹ اسے جانے کیوں جانا پہچانا لگا۔ وہ پہچان لیتی اگر اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی وہ آہجومہ اسے موقع دیتی۔ اس نے سیدھا اسے لابی میں گھما پھرا کر ایک بڑے سے دفتر میں لا کھڑا کیا تھا۔ ایک خوبصورت سی کوریائی آہجومہ شان سے کرسی پر براجمان فون پر بات کررہی تھی اسے دیکھ کر کچھ کہہ کر فون جھٹ بند کر دیا۔
    یہ لیں آگئ ہیں یہ موصوفہ۔ وہ آہجومہ تعارف کراایسے رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو پکڑو جانے نا دینا۔
    آننیانگ۔ واعظہ نے کوریائی انداز میں جھک کر سلام کیا۔
    جوابا وہ مسکرا کر جواب دیتے ہوئے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگی۔
    دو کپ چائے لے آئو۔
    آندے۔ وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔ کوریائی قہوہ پی کر اسے منہ کا ذائقہ خراب کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ دونوں خواتین اسے حیرت سے دیکھنے لگیں تو اس نے جلدی سے بات بنائی۔
    وہ آج گرمی ہے نا تو جوس پسند کروں گی۔
    اس نے کہا تووہ خاتون مسکرا دیں۔ اپنی اسسٹنٹ کو جوس لانے بھیج کر فرصت سے اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔
    کبھی ایکٹنگ کی ہے؟ در اصل تمہاری ایجنسی نے تمہاری جو تفصیلات بھیجی تھیں اس میں تمہارے اپنے ملک میں کافی ڈرامے کرنے کا درج تھا۔عرب انٹرٹینمنٹ میں شائد ابھی بھی کوئی ڈرامہ چل رہا ہے تمہارا۔
    جی واعظہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
    میں عربی نہیں ہوں نہ ہی کوئی اداکارہ۔ میرا خیال ہے آپکو غلط فہمی ہوئی ہے کوئی۔ میں تو یہ ٹیکو کیئر میں انٹرویو دینے آئی ہوں۔
    اس نے مزید کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کیلئے کارڈ نکال کر انکی جانب بڑھایا۔
    آہجومہ نے اچنبھے سے دیکھتے ہوئے کارڈ پکڑا۔
    ٹیکو کیئر۔مگر یہ تو ٹیکو کیئر کا دفتر نہیں۔ یہ تو ٹی سی این کمپنی کا دفتر ہے۔ مشہور کیبل ٹی وی نیٹ ورک
    جی؟
    واعظہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن کی سانس پھول رہی تھی۔بھاگم بھاگ اسٹاپ پر پہنچنے کی وجہ سے۔چند لمحے تو سانس بحال کرنے میں ہی لگ گئے اسے۔ پیٹ میں بل پڑ رہے تھے وہ رکوع کے انداز میں جھکا سانس بحال کر رہا تھا۔۔اسٹاپ پر عزہ نہیں تھی بس ایک ادھیڑ عمر خاتون بیٹھئ تھیں
    آہجومہ پندرہ نمبر۔۔ بس ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔ آچکی ہے؟؟؟؟
    پھولی سانسوں سے اس نے بمشکل پوچھا تھا۔
    خاتون نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔
    سیکی۔ شٹ۔ وہ کندھے پر بیگ ٹھیک کرتا سیدھا ہوا۔
    متلا شی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو وہ اسے موڑ مڑتی دکھائی دی۔
    آہش۔۔ اس نے دوبارہ دوڑ لگا دی تھی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واقعی ۔۔۔
    پھر منہ کھول کر معاہدے کا کاغذ پڑھنے لگی۔
    یعنئ ایک قسط کے ملین وون۔ یعنی۔ وہ حساب کتاب کرتے ہی چکراسی گئ۔ نفیس سے فرنیچروالے اس بڑے سے دفتر میں وہ اور آہجومہ جنکا نام لی سونگ تھا بیٹھی تھیں۔ روایتی باس کی کرسی کی بجایے وہ اسے لیکر نرم سے صوفے پر آبیٹھی تھی ۔ اپنا مدعا بیان کرکے اب مسکرا کر اسکے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔
    پر میں تو یہاں۔۔ اس نے تھوک نگل کر کچھ کہنا چاہا مگر اس لڑکی نما عورت جو کم ازکم بھی اسکی امی کی عمر کی ہوگی مگر اتنی نازک اور حسین ۔۔
    میں جانتی ہوں مگر مجھے عربی نقوش کی لڑکی چاہیئے ہمارے ڈرامے کی ڈیمانڈ ہے یہ ۔ہم عربی فوک داستان کا اور کوریائی فوک داستان کا فیوژن بنا رہے ہیں۔ ہم یوں تو کسی بھی عربی اداکارہ کو چن لیتے لیکن ہمیں نیا چہرہ اور انگریزی زبان پر عبور رکھنے والی لڑکی درکار ہے۔ تم سوچ لو پیسے بہت ملیں گے۔ کم ازکم ایک انٹرنی سے تو ذیادہ۔
    تم فورا فیصلہ نہ کرو۔ یہ کمپنی ہمارے دفتر کے بالکل مخالف مغربی سمت میں ہے۔چاہو تو وہاں بھی قسمت آزما سکتی ہو۔ یہ میرا کارڈ ہے۔ مجھے کل شام تک سوچ کر بتا دینا۔
    وہ نرم سے انداز سے اسے کارڈ پکڑاتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
    کوریا کی چوٹی کی ہدایت کارہ ٹی سی این کی مینجنگ ڈائریکٹر۔ اور ڈرامہ ںیٹ فلکس کے تعاون سے بن رہا ہے۔
    اسے کارڈ دیکھ کر ہی اپنا آپ کوریا کا سپر اسٹار لگنے لگا تھا ریڈ کارپٹ پر اونچئ ایڑھی کی سینڈل پہن کر ٹک ٹک کرکے لمبی سی سرخ میکسی میں چلتی واعظہ اپنے پرستاروں کو ہاتھ ہلا ہلا کر جواب دے رہی تھی۔ اسکے بال کٹ چکے تھے چھوٹی سی باب کٹنگ اور ماتھے پر فرینج ۔۔
    اس نے پریشانی سے پیشانی چھوئی۔ اسکے بالکل مقابل ہے جن آکر ایک لمبی سی بالوں کی لٹ لہرا رہا تھا۔
    بس میں زور دار جھٹکا لگنے پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔
    اس نے چونک کر کھڑکی کے باہر دیکھا تو اسکا اسٹاپ آچکا تھا۔وہ جھٹ اپنا بیگ سنبھالتی بس سے اتری تھی
    عزہ ذیادہ ہی سوچتی ہے۔ ان بچوں کے اسکولوں میں فینسی ڈریس شو ہوتے رہتے ہیں لڑکی بن رہا ہوگا تو ایکسٹینشنز خرید لایا ہوگا۔ کتنی لمبی کہانی لکھ بھیجی مجھے ہے جن نے جانے کس کے بال کاٹ دیئے۔
    اسے سوچ کر ہی ہنسی آگئ۔بھلا ہے جن ایسا کر سکتا؟وہ پاگل تھوڑی ہے۔
    اس نے ذرا سا سر اٹھایا تو وہی ہے جن پاگلوں کی طرح سڑک پر بھاگتا دکھائی دیا۔
    یہ ۔ اسے لگا مغالطہ ہوا ہے اسے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن کو بھی لیکر جائییے گا میں اسے بلا کر لاتی ہوں
    میاں کو نہا کر سفید کڑ کڑاتا کرتا پہن کر نکلتے دیکھ کر اس نے دل ہی دل میں بلائیں لے ڈالیں تھیں۔
    کنگھئ کرتے دلاور کے ہاتھ اسکی بات پر ٹھٹکے
    میں لے تو جاتا ہوں مگر اسے نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کروں گا آج بھئ۔ وہ وہاں جا کر قرآن کا انگریزی ترجمہ کھول کر پڑھتا رہتا ہے جتنی دیر میں نماز پڑھتا ہوں اور کل تو سورہ النساء پڑھتے اتنا مگن تھا کہ میں نے اسے چلنے کو کہا تو کہتا ہے آپ جائیں میں بعد میں خود چلا جائوں گا۔
    وہ ہرگز بھی متاثر ہونے والے انداز میں نہیں بتا رہے تھے مگر طوبی بے طرح خوش ہوگئ تھی۔
    ہے جن کو میں پکا مسلمان بنا لوں گی۔ دیکھنا آپ۔ طوبی نے عزم سے دلاور کو بتایا۔
    مسلمان ہونا صرف یہ نہیں کہ وہ تمہارے ساتھ مروت میں خطبہ سن لیتا یا میرے ساتھ تمہارے زبردستی بھیجنے پر مسجد چلا جاتا ہے۔ ایک پورا نظام زندگی ہے طوبی۔ یہاں کے بچے جس آزادانہ زندگی کے حامل ہیں وہ کیونکر مسلمان ہوکر پابندیوں سے پر زندگی اختیار کرے گا؟
    دلاور نے اسکے سر پر انڈوں کی ٹوکری توڑی تھی
    ہاں تو مسلمان باپ ہے اسکا اسکی رگوں میں خون تو مسلمانوں کا ہے۔ اس کا دل بدل سکتا ہے۔
    طوبی کا انداز ضدی ہوا۔
    یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ اس باپ کو خیال کرنا چاہیئے نا جس نے اپنی اولاد کو چھوڑ رکھا ہے نہ بیٹی پاس نہ بیٹا۔مجھے تو یہ فیملی ہی سمجھ نہیں آئی اگر ماں مسلمان نہیں ہوئی تھی تو شادی کیوں کی؟ دو بچے بھی ہوگئے ماں کا دل نہ پگھلا بیٹی کیلئے وہ باپ کو دے دی خود بیٹا رکھ لیا ۔ باپ کو فرق بھی نہیں پڑا بیٹا غیر مسلم ہوگیا باپ سے الگ ہو کر کیا انڈین ڈرامے میں ٹوئسٹ ہوتے ہیں جو انکی کہانی میں ہیں۔
    دلاور الجھن بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔ مگر طوبی نے جیسے کان پر سے مکھی اڑائی
    ایک۔یہی مسلئہ ہے آپ مردوں میں ہر بات پر شک رہتا ہے ہر کسی کو تفتیشی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بھئ مرد تو شادی کر سکتے ہیں غیر مسلم سے بھی۔
    طوبی نے کندھے اچکائے
    غیر مسلم سے نہیں صرف اہل کتاب سے وہ بھی جو کافر نہ ہوں ۔اور کفر ہوتا ہے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ اور۔فی زمانہ ایسا عقیدہ رکھنے والے اہل کتاب بھی ناپید ہو چکے ہیں۔
    دلاور نے جتانے والے انداز میں تصحیح کی تو کمرے سے نکلتی طوبی نے سر جھٹکا
    بھئی جو بھی ہو ہے جن کے والد نے جو بھی غلطی کی مجھے سروکار نہیں مجھے تو اس بچے میں سچ مچ اپنا چھوٹا بھائی نظر آتا ہے میں اسے جہنم کا ایندھن تھوڑی بننے دوں گی۔
    اپنے دل ہی دل میں مصمم ارادہ کرتی وہ اپنے فلیٹ سے باہر نکل آئی رخ سیدھا واعظہ کے اپارٹمنٹ کی جانب تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دور سے اس نے اس کالے شیشوں والی واکس ویگن کو نہایت دھیمی رفتار سے عزہ کے موڑ مڑتے ہی اسٹارٹ ہوتے اور اسی موڑ کی جانب مڑتے دیکھا تو قدموں میں بجلی کی سی تیزی دوڑ گئ۔ پوری جان لڑا کر وہ برستی بارش کی پروا نہ کرتے ہوئئ دوڑ پڑا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام ۔۔۔۔
    جاری ہے۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 8

    دیسی کمچی قسط 8
    نور کا آج چھٹی کا ارادہ تھا۔ الف کی آج کلاس ہی نہیں تھی۔ عشنا تیار ہو رہی تھی اسے دیکھ کر بھی عزہ کو تحریک نہیں مل رہی تھی کہ اٹھ کر تیار ہو جائے۔ واعظہ انکے کمرے کی غیر معمولی خاموشی دیکھ کر اپنا لیپ ٹاپ بند کرتی اٹھی ۔۔ لائونج میں ہے جن منے صوفے پر بیٹھا تیار یونیفارم پہنے جوتے کے تسمے باندھ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر فورا خوشگوار انداز میں آننیانگ کہا وہ بھی جوابا مسکرا دی۔
    ناشتہ کرکے جانا ہےجن۔۔ یہ اسکی روزانہ کی۔تاکید تھی اس نے سر ہلا دیا مگر آج اس نے ناشتہ نہیں کرنا تھا یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا ورنہ وجہ بھی بتانئ پڑتی سو ایک چپ سو سکھ کے مصداق تسمے باندھ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ واعظہ عروج کے کمرے میں گھس چکی تھی۔ عشنا کو دیر ہو رہی تھی سو جلدی سے فاطمہ کی سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھاتی تقریبا بھاگتی ہوئی باہر نکلی۔
    نونا۔۔ پیچھے سے ہے جن نے جانے کیا کہنا چاہا مگر اسکے پاس وقت نہیں تھا یہ بھی نوٹ نہ کیا کہ دروازے کا لاک تک اسے آج کھولنا نہیں پڑا تھا وہ تیزی سے اسے بھیڑ کر بھاگ کر لفٹ میں داخل ہوئی۔کوئی اس سے بھی تیزی سے برابر والی لفٹ میں سے نکلا تھا۔
    عروج اپنے بستر پر پڑی باقائدہ خراٹے لے رہی تھی۔ نور اور الف بھی گھوڑے بیچ کر سو رہی تھیں۔ عزہ نے آہٹ پر کمبل سے گردن باہر نکال کر اسے دیکھا۔۔
    کیا بات ہے یونیورسٹی نہیں جانا کسی نے؟
    واعظہ قریب آکر آواز دبا کر پوچھ رہی تھی۔
    جانا تو چاہیئے۔ مگر یہاں گرمیوں میں اتنی سردی کیوں پڑی ہے۔۔
    عزہ ہونٹ لٹکا کر پوچھ رہی تھی۔
    تاکہ سردیوں میں شدید سردئ پڑ سکے۔
    واعظہ اور کسی بات کا جواب نہ دے ۔ عزہ اسکو دیکھ کر رہ گئ۔
    ناشتہ کرنا ہے؟ واعظہ نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا
    وہ جو منکر نکیر کیٹر پلر باہر ہوتا ہے نا اسکے ہوتے میں کر سکتی۔ عزہ نونا رمضان چلا کر پوری دنیا کو بتا دے گا میں نے روزہ نہیں رکھا۔
    وہ شدید چڑے ہوئے انداز میں بولی تو آواز بلند ہو گئ۔واعظہ ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خوفزدہ نظروں سے تینوں کی جانب دیکھنے گئ۔جبکہ تینوں سوئی لڑکیوں نے کسمسا کر بڑ بڑا کر حسب توفیق صلاواتیں سنائیں
    سرپر بڑ بڑ مت۔ الف سوتے میں اتنا ہی بڑ بڑا سکی اور جملہ مکمل کیئے بغیر دوبارہ نیند میں گم ہوگئ
    نور کی آنکھ کھل ہی نہ پائی دس منٹ پہلے جو عزہ نے کندھا ہلا کر پوچھا تھا تو اپنا ہی۔جواب دوبارہ دہرا دیا
    سونے دوووو۔۔۔ مت تنگ کرو۔۔ نہیں جانا بس ایک کلاس ہے میری۔۔۔ نشر مکرر عزہ سر جھٹک کر رہ گئ
    ماں سے مل لو پلیز بیمار ہے وہ۔۔
    عروج خواب میں منتیں کر رہی تھی
    ماں سے یاد آیا۔ ابیہا کی امی کی خیریت پوچھنی چاہیئے ہمیں۔۔
    عزہ کو یاد آیا۔
    کل فون کیا تھا مگر اس نے اٹھایا ہی نہیں چلو اٹھو اگر جانا ہے میں ہےجن سے کہہ دیتی ہوں اسٹاپ تک چھوڑ آئے۔۔
    واعظہ الف کا کمبل برابر کرتے ہوئے سر گوشیانہ انداز میں اسے کہہ رہی تھی۔
    جیسے اسکے پاس تو مرسیڈیز بنیز ہے ۔۔ موٹر سائیکل تک تو ہے نہیں۔ عزہ منہ بنا کر کمبل ایک طرف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    پھر بھی آج اکیلی جائو گی؟ الف اور نور تو نہیں جا رہیں
    ؟ واعظہ کو فکر ہوئی
    اچھی بات یے۔ میرا عبایا میلا ہورہا نور کا اڑاتئ ہوں عزہ چٹکی۔بجا کر بولی۔ پھر جتانے والے انداز میں کمر پر ہاتھ رکھتی واعظہ کی جانب مڑی
    میڈم ایک تو میں کوئی چھوئی موئی لڑکی نہیں ہوں دانت توڑ سکتی کوئی میری جانب آنکھ اٹھا کر دیکھے تو۔ دوسرا یہ سیول ہے پاکستان نہیں جو مجھے اکیلے دیکھ کر کوئی چھیڑے گا۔۔اسکا انداز زعم بھرا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دروازہ پورا کھولتے ہی کوئی نرم سی چیز اسکے اوپر آن گری
    ہایش۔۔ وہ بری طرح ڈر کر پیچھے ہوا۔
    لمبا سا کالا کپڑا جیسے دروازے پر ٹکایا ہوا تھا اسکے کھولتے ہی اس پر آن گرا۔
    آہش۔ یہ نونا کا۔ وہ بڑ بڑاتے ہوئے اٹھانے لگا تو کپڑے میں کوئی چیز بندھئ ہوئی تھی جیسے۔ اس نے تجسس سے اس گٹھری کو کھولا تو ایکدم دل اچھل کر جیسے حلق میں آگیا۔
    ایک چھوٹی سی پرچی بھی تھی
    اوہ۔ چھوٹی مخلوق یہاں کیوں اکڑوں بیٹھی ہو ؟ قدموں کے نیچے آکر کچلے جاتے ابھئ۔
    عزہ اسے دہلیز پر اکڑوں بیٹھا دیکھ کر شرارت سے کہہ رہی تھی۔ اس نے اسکی آواز سنتے ہی جلدی اس کپڑے کو دوبارہ لپیٹ لیا پرچی مروڑ کر جلدی سے جیب میں ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا
    یہ کیا ہے؟ تم نے عبایا پہننا شروع کردیا۔؟
    اسے کالا کپڑا اپنے پیچھے کرتے دیکھ کر اسے تجسس ہوا۔
    آنیا۔۔ ( نہیں) وہ یہ۔ وہ گڑ بڑا سا گیا۔
    جھوٹ نہیں بول سکتا۔ کیا کروں؟
    وہ ہنگل میں بڑ بڑایا۔
    دیکھو لڑکے اگر تم نے سیگریٹ ویگرٹ شروع کی نا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا دکھائو مجھے کیا چھپا رہے۔ عزہ کے اندر کی بہن انگڑائی لیکر جاگ اٹھی جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھی
    آنیو۔۔ وہ گڑ بڑا کر پیچھے ہوا۔
    تم لوگوں نے دروازے پر کیا تھیٹر لگایا ہوا ہے۔۔ واعظہ نےاپارٹمنٹ کے دروازے سے نکلتے ہوئے دونوں کو ٹوکا۔
    امی یہ دیکھو جانے کیا چھپا رہا ہے۔۔ عزہ نے کہا تو عموما واعظہ جو انکی چھیڑ چھاڑ سہہ جاتی تھی اس وقت تنک کر بولی
    امی ہوگی تم خود میں ہنستی رہتی ہوں تو تم لوگ مزاق بنائے چلے جاتے ہو۔ کبھی لغت کبھی امی ۔ بہت ڈھیل دے دی ہے میں نے تم لوگوں کو۔
    واعظہ خالص کوریائی آہجومہ کی۔طرح چلاتی سچ مچ امی ہی لگی تھئ۔ دونوں مئودب ہوئے۔ گو اس نے کہا اردو میں ہی تھا مگر ہے جن کو سمجھ نہ آنے کے باوجود اپنی بہتری اسی میں لگی کہ بیبا بچہ بن جائے
    آٹھ ہو رہے ہیں دیر نہیں ہو رہی تم لوگوں کو۔ اس نے رعب سے کہا تو دونوں لفٹ کی جانب بھاگے۔
    میرے لیئے بھی لفٹ روکنا ذرا ۔ واعظہ بھی انکے پیچھے بھاگ اٹھئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نسیم صبح موسم بادلوں میں ڈھکا آسمان بے حد خوبصورت لگ رہا تھا۔ بیگ لٹکائے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے ہوئے وہ دونوں بس اسٹاپ کی جانب رواں تھے۔ انتہائی رومانوی سیر ہوتی جو اگر اسکے ساتھ چلتا احتیاط سے اردگرد کے ماحول پر نگاہ ڈالتا اوپا اس سے عمر میں چھوٹا نہ ہوتا
    عزہ نے تیکھی نگاہ ڈالی۔ ہے جن کا پروٹیکٹیو موڈ آن تھا وہ بھی جانے کیوں۔ ؟ شانوں پر بیگ لٹکائے وہ اس سے اتنا قدم سے قدم ملا کر کیوں چل رہا تھا؟ اسکو تو دیر ہو رہی ہوگی اسکول سے۔؟ اور سب سے بڑھ کر اس نے تو بس سے جانا ہی نہیں تھا۔۔ عزہ کے ذہن میں جھماکا ہوا
    وہ رکی۔ ہے جن اس سے ایک قدم آگے ہو گیا تھا۔ تفتیشی نگاہوں سے اس نے ہے جن کی پشت کو سرتاپا گھورا ۔۔ عام سا گرے پیںٹ سفید شرٹ والا یونیفارم کندھوں پر لٹکا کالا بیگ۔جس پر کورین میں کچھ گٹ پٹ لکھا تھا۔ بیگ سے جھولتے ڈھیر سارے کی رنگز ایک اسپآئڈر میں ، اور لٹ۔ صاف ستھرا چمکتا ہوا یونیفارم۔ اس کی نگاہ چمکتے سفید اسنیکرز پر پڑی جو دیکھتے ہی دیکھتے گھوم چکے تھے اب جوتوں کی ایڑھی بجائے پنجا انکے سامنے تھا۔ وہ چونکی۔ جھٹ اوپر نگاہ کی ہے جن اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔
    کیا ہوا رک کیوں گئیں؟۔۔ اس نے حیرت سےپوچھا
    کچھ نہیں۔ وہ سنبھل کر اپنا بیگ سنبھالنے لگی۔
    تم کس خوشی میں اسٹاپ پر جا رہے ہو تمہارا اسکول تو اس طرف ہے۔
    اس نے ہاتھ کے اشارے سے مخالف سمت میں اشارہ کیا۔
    وہ واعظہ نونا نے کہا تھا آپکو اسٹاپ تک چھوڑ آئوں۔
    وہ جیسے اس جواب کیلئے تیار تھا۔۔ چلتے چلتے بس اسٹاپ بس آہی گیا تھا۔
    کب کہا تھا ؟ اسے حیرت ہوئی۔۔ اور کیوں کہا؟ میں بچی تھوڑی ہوں روز آتی جاتی ہوں تم کیوں دیر کر رہے ہو تمہارا اسکول لگنے والا ہوگا جائو اب ۔ اسے غصہ آنے لگا
    پھر کہتئ ہے امی نہ کہو۔ ایسے تو میری امی بھی کبھی۔۔ تم جائو بس آگیا بس اسٹاپ۔۔
    اسکے اندر کی ضدی بڑی بہن انگڑائی لیکر بیدار ہوئی۔
    نونا آپ کی بس آتی ہوگی آپ سوار ہو جائیں تو چلا جائوں گا
    وہ سہولت سے کہہ رہا تھا۔تبھی اسکا موبائل بجا تو ذرا سا رخ موڑ کر وہ فون اٹھانے لگا۔ اس نے ہونٹ بھینچ لیئے۔ اسکی مطلوبہ بس سامنے سے آرہی تھی۔ بس اسٹاپ پر انکے دونوں کے علاوہ کئی طلبا ء یونیفارم پہنے کھڑے تھے ایک لڑکی نے ہنستے ہوئے اپنے بال پیچھے کیئے تو عزہ کے ذہن میں جھماکا سا ہوا اس نے پلٹ کر دیکھا ہے جن رخ موڑے فون پر بات کر رہا تھا اسکی جانب پشت تھی۔۔ اس نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسکے بیگ کی ادھ کھلی زپ سے جھانکتے اس شاپر پر جھپٹا سا مارا۔ اور سرعت سے کندھے سے بیگ اتارا اور اپنا ہاتھ اسکی آڑ میں کر لیا۔ ہے جن نے مڑ کر دیکھا تو وہ بس کی جانب اشارہ کرکے بولی۔
    میں جا رہی ہوں ہےجن خدا حافظ۔
    ہے جن نے سر کے اشارے سے جواب دیا۔وہ ابھی بھی فون پر متوجہ تھا۔
    عزہ تیزی سے بس میں چڑھ گئ تو وہ اپنی راہ لینے لگا۔ بس میں چڑھ کر اس نے جلدی سے وہ چیز اپنے بیگ میں ڈال لی۔ اسکے ساتھ کھڑی لڑکی نے منہ بنا کر اسے دیکھا تھا
    کیا ؟ میرے ہیں پہلی بار دیکھے ہیں کیا؟ ۔عزہ تیز لہجے میں بولی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹیکو کیئر۔
    اس بڑئ سئ عمارت کے داخلی صحن میں کھڑے ہوکر اس نے ایک نگاہ اس پر اوپر سے نیچے تک ڈالی پھر تھوک نگلتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے کارڈ کو دوبارہ پڑھا۔ یہی پتہ تھا۔
    یہی ہے؟ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔ کارڈ پر جتنی کم تفصیل لکھی تھئ اس سے تو وہ یہی سمجھی تھی کہ بس کوئی چھوٹی موٹی سئ آئی ٹی کی کمپنی ہوگی۔ مگر یہ چھوٹی ہو کر بھی ٹھیک ٹھاک انفرااسٹرکچر رکھتئ تھئ۔ اس نے گہری سانس لی۔
    اب یہ تو خالی آنا جانا ہی ہوگا۔ رکھ ہی نہ لیں مجھے ۔ویٹ۔
    وہ بڑ بڑاتے ہوئے چونکی۔
    ایم بی اے دیکھ کر مجھے انٹرنی تو نہیں رکھنے کا سوچ رہے مجھے جاب چاہیئے تھی سیہون کے بچے۔ انٹرن شپ نہیں۔ اس نے دانت کچکچائے۔
    پاس سے گزرتی منی اسکرٹ میں ملبوس لڑکی نے اسے اکیلے میں بڑبڑاتے دیکھ کر پاگل نہ سہی نفساتی ضرور سمجھا تھا۔ یہ اسکے چہرے پر لکھا تھا۔
    ویئو؟ وہ بھی جوابا خالص کوریائی انداز میں اسے دیکھ کر غرائی۔ آہجومہ نے قدم تیز کیئے سو اس نے بھی آہ بھرکر اندر کی۔جانب قدم بڑھا دیئے
    گلاس ڈور کھولتے ہوئے اسکا مزاج برہم سا تھا۔ دروازہ کے اس پار جگ مگ کرتی دنیا تھا۔ بڑا سا ریسیپشن جسکے دونوں اطراف پر عمارت کے اندر جانے کے دو بڑے حصے تھے۔ایک جانب تیکنیکی ڈیپارٹمنٹ تھا دوسری جانب ایچ آر ۔
    اس نے سیدھا اسی جانب بڑھ جانا چاہا جب ریسیپشن سے لڑکی نے پکار لیا۔
    محترمہ پہلے اپنی شناخت کرا لیجئے۔
    نرم سا انداز وہ سر ہلا کر ہاتھ میں پکڑی فائل جس میں سی وی اور دیگر دستاویزات تھیں سنبھالتی اسکی جانب بڑھی تبھی کسی نے کہنی سے اسے پکڑ لیا تھا۔
    اس نے جھلا کر مڑ کر دیکھا۔
    ادھر آئو کب سے انتظار ہو رہا ہے تمہارا۔ وہی چندی آنکھوں والی لڑکی دانت کچکچا کر بولی تھئ
    دے؟ وہ حیران ہوئی۔
    چلو میرے ساتھ۔ اس نے بازو سے پکڑ کر کھینچا اور تکنیکی ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئ۔ اسکے ساتھ گھسٹتے ہوئے اس نے بتانا چاہا تھا کہ وہ تو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیڈ وقفے وقفے سے لرز رہا تھا۔ دو تین جھٹکے تو وہ آرام سے سہہ گئ جب جھٹکے تواتر سے آنے لگے تو اسکی آنکھ کھلی تھی۔ کمرے میں وہ اس وقت تنہا تھی نہ عشنا تھی نا واعظہ باہر لائونج میں بھی خاموشی تھی۔
    زلزلہ۔ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔
    الف نور عروج عزہ عشنا زلزلہ آرہا ہے ۔بیٹھ جائو۔
    وہ چلا چلا کر پکارتی ہوئی بیڈ سے نیچے کودی اور زور زور سے کلمہ پڑھنے لگی۔
    اسکے گھبرا کر چلانے پر الف کئ آنکھ کھلی تھی عروج کسمسائی نور غافل ہی پڑی رہی تھی۔
    الف نے ذرا سا اٹھ کر پرسکون سے اپنے کمرے کو دیکھا جس کی نا دیواریں ہل رہی تھیں نا ہی انکے بیڈ۔ پھر بھی مڑ کر ساتھ سوئی نور کا کندھا ہلانے لگی
    اٹھو زلزلہ۔ مندی آنکھیں بمشکل کھول کر اس نے نور کی شکل دیکھی تو حلق کے بل چلا اٹھی۔
    بیڈ سے اتر کر جب زلزلہ تھما تو اسے ہلکی ہلکی زون زون کی آواز بھی آنے لگی۔ آواز کے منبع کی تلاش میں اس نے سیدھا ہو کر بیڈ کو دیکھا تو یہ عشنا کا موبائل وائیبریٹ ہورہا تھا۔ فاطمہ کالنگ۔
    میں خود کو کال کر رہی ہوں۔
    وہ چونکی کال یس کی ہی تھی کہ الف کی زور دار چیخ سے دہل کر اسکے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر بیڈ پر گرا تھا۔ اور وہ خود بھی ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ کس نے کیا۔ نور رو دینے کو تھی ۔ اسکے بالکل سامنے سے ماتھے پر سے کسی نے فرنج کاٹ دی تھی۔ اسے۔آئینہ دکھاتی الف اس سے ذیادہ بھونچکا تھی
    عروج جمائی لیتی کڑی تفتیشئ نگاہ کمرے پر ڈال رہی تھی۔
    یہ یہ تم نے کیا ہے فاطمہ ؟ نور کو جانے کیوں اس پر شک ہوا۔ تم صبح چلا رہی تھیں۔ دیکھو یہ بالکل اچھا مزاق نہیں ہے۔
    انکے سرہانے مورل سپورٹ کی غرض سے کھڑی فاطمہ بھنائی۔
    مجھے کیا ضرورت تمہارے بال کاٹنے کی؟ کاٹنے ہوتے بھی تو میرا ٹارگٹ تمہاری بجائے۔ فاطمہ کہتے کہتے رک سی گئ۔ نگاہ الف پر تھی اس نے منہ بنا کر پہلو بدلانور نے روئے سخن الف کی جانب موڑا
    تو یہ تمہاری شرارت ہے الف ؟ کیوں کیا ایسا بھونڈا مزاق تم نے
    وہ اسکو کندھوں سے پکڑتے ہوئے رو دی۔
    خوامخواہ۔ وہ چیں بہ چیں ہو کر چھڑانے لگی۔
    مجھے خود صبح اتنا زور دار جھٹکا لگا ہے میرے برابر لیٹی تھیں تم میں تو پہچانی بھی نہ تمہیں فورا اور سچ کہوں تو بالکل سوٹ نہیں کر رہی تم پر یہ۔
    الف نے صاف گوئی سے کہا تو نور نے مزید تان بلند کی عروج اور فاطمہ اسے تاسف سے دیکھنے لگیں تو وہ گڑ بڑا گئ
    میرا مطلب ہے ایک سائیڈ پر مانگ نکال لو زرا سے تو بال ۔۔
    جملہ مکمل کرتے اسے مزید نقص امن کا اندیشہ لاحق ہوا تو ادھورا چھوڑ دیا۔
    تمہارا عبایا بھی غائب ہے۔ عروج کی تفتیش مکمل ہوئی تو اس نے ایک اور اطلاع دی۔
    کیا؟ نور سے ذیادہ زور سے الف چلائی تھی۔
    میرا عبایا یہاں اس کرسی پر رکھا تھا کل سوکھا نہیں تھا تو۔۔
    نور اچھل کر بیڈ سے اتری تھی اور عبایا کی تلاش میں کرسی کی۔جانب بڑھی مگر اب کرسی خالی تھی۔
    عبایا تو عزہ۔ الف کے منہ سے پھسلا پھر جلدی سے دانتوں تلے زبان دبا لی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نونا آپکو چھٹی کب ہوگی
    اسے یے جن کا پیغام آیا تھا۔
    ہو گئ یے۔ نکل رہی ہوں یونی سے۔
    اس نے فورا جواب دیا تھا۔
    میں آتا ہوں آپکو لینے آپ وہیں رکیں۔۔۔
    اسکا پیغام آیا تو وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی
    یہ منا سچ مچ بھائی بننے کے چکر میں ہے ذیادہ ہی فری ہو رہا ہے۔ اس نے غصے سے جلدی جلدی ٹائپ کیا
    کس خوشی میں؟ کوئی ضرورت نہیں میں بس سے گھر آرہی ہوں اور تم ذیادہ فالتو فکریں نہ پالو اپنے کام سے کام رکھو ۔
    اس نے میسج بھیج کر سانس لی تھی۔
    بھلا بتائو ذیادہ ہی ابا بن رہا ہے مجھے لینے آئیں گے موصوف ۔ وہ سر جھٹک کر تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
    بس میں اتفاق سے ںشست مل گئ تھئ۔ اس نے اطمینان سے بیٹھ کر موبائل دیکھا تین پیغام آچکے تھے
    کیا ہوا نونا؟ خفا ہیں
    میں چلیں بس اسٹاپ پر آکر آپکا انتظار کروں گا ٹھیک ہے؟
    مجھ سے کوئی غلطی ہوگئ کیا؟
    جواب کیوں نہیں دے رہیں۔
    پڑھتے پڑھتے وہ چونکی۔
    غلطی۔ اسکے دماغ میں کچھ جھماکا سا ہوا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام ۔۔۔۔
    ۔جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 7

    قسط 7
    آہٹ پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ژیہانگ تھا۔ ہاتھ میں ایک بڑا سا شاپر پکڑے۔ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ژیہانگ نے اسے ہی شاپر پکڑادیا۔ برگر چپس اور جوس کا پیکٹ تھا۔ اس کھانا دیکھ کر احساس ہوا کہ پیٹ میں تو چوہے دوڑ رہے ہیں۔ پروگرام کے دوران روزہ افطار کرتے وقت تو بس ایک کھجور منہ میں ڈال لی تھی پھر دوبارہ مصروف ہو گئی تھئ۔ ارادہ یہی تھا چھٹی کے بعد گھر جا کر ایک ہی دفعہ کھائے گئ۔ چپس فرائیڈ تھے اچھی طرح پیک ہوئےجوس بھی مکس فروٹ تھا۔ اس نے چپس اور جوس نکالا اور شروع ہو گئ۔ کچھ پیٹ میں گیا تو حواس بحال ہوئے۔۔
    شکریہ ژی۔ اس نے جھٹ شکریہ بھی ادا کر دیا۔ اسکا نام اچھا خاصا زبان میں وٹ ڈال دیتا تھا سو سب اسے ژی ہی کہتے تھے۔
    ژیہانگ۔ اس نے برگر کھاتے ہوئے جتایا۔ وہ اسکے برابر ہی ایک نشست چھوڑ کر بیٹھ گیا تھا
    ژیہانگ۔ اس نے صحیح تلفظ سے بولا تھا۔ وہ مسکرادیا۔
    برگر تو کھائو ٹھنڈا ہو جائے گا۔ اس نے یاد کرایا ۔ الف سوچ میں پڑی۔ یوں صاف صاف کہنا نا مناسب تھا اسے شک۔تھا کہ برگر جانے حلال ہے کہ نہیں اب ژیہانگ لے کر آیا تھا اسکا یقینا احسان تھا۔
    کافی ہے ابھی کیلئے میرے لیئے اتنا۔ یہ گھر لے جائوں گی۔ اس نے مبہم انداز میں کہا۔ گھر لے جا کر جے ہن کو کھلا یا جا سکتا تھا۔ چپس صاف ہو چکے تھے جوس ختم ہوگیا تھا اور وہ کہہ رہی تھی ۔ ژیہانگ کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔
    رمضان میں جھوٹ؟ اس نے جتایا۔ الف پوری گھوم گئ اسکی جانب۔ آنکھوں میں بے تحاشہ حیرت دیکھ کر وہ جتانےوالے انداز میں بولا۔
    کھا لو حلال ہے خاص کر مسلم ریستوران سے لیکر آیا ہوں جبھی اتنی دیر لگی مجھے۔ سارا دن روزے سے رہی ہو اب بے ہوش نہ ہو جانا بھوک کے مارے۔
    وہ دھیرے سے کہہ کر اپنا خالی ہو جانے والا جوس کا پیکٹ اور برگر کا ریپر شاپر میں سمیٹتے ہوئے اٹھا اور کچھ فاصلے پر رکھے ڈسٹ بن میں ڈالنے اٹھ گیا۔
    الف نے برگر کا شاپر نکالا تو اسکے ریپر کے ایک کونے میں حلال لکھا تھا۔
    ژیہانگ۔ اس نے جان کر بلند آواز میں کہا۔۔ وہ چونک کر پلٹ کر دیکھنے لگا
    شکریہ۔ اس نے کہہ کر بلا تکلف بڑا سا نوالہ لیا۔ واقعی بھوک میں اتنا بڑا برگر کہاں گیا اسے پتہ نہ چلا۔ البتہ کھا پی کر بے حد دل سے خدا کا شکر ادا کیا تھا اس نے۔
    سیہون کا مینیجر تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا آیا اور دھاڑ سے دروازہ کھول کر کمرے میں گھس گیا۔ اسکے ہاتھ میں شائید سیہون کے کپڑے تھے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اسکے پیچھے بھاگے۔
    سیہون کے سر پر دھماکے سے دروازہ کھلا تو لمحہ بھر اسے سمجھ بھی نہ آیا کہ وہ کہاں ہے۔ مینیجر نے ساری بتیاں جلا دی تھیں۔اسے آنکھیں مسلتے اٹھتا دیکھ کر جلدی سے بولا
    چلیں شوٹ کروا لیں گاڑی آنے ہی والی ہے۔ پھر آپ اپنے گھر چلے جائیے گا۔
    کونسئ شوٹ۔ اسکی پیشانی پر کئی بل پڑے۔
    اس پروگرام کی؟ دونوں وی جے اورپروڈیوسر کے ساتھ تصویریں بنوا لیں پریس ریلیز جاری کرنی ہیں اور انسٹا گرام بھی اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ اٹھیں دو گھنٹے ہوچکے ہیں ان لوگوں نے آپکو اٹھا یا ہی نہیں میں کہہ کر گیا تھا کہ جب تک گاڑی ٹھیک نہیں ہوتی شوٹ وغیرہ سب کروالیں۔ آپ نے بھی سارا وقت سونے میں برباد کردیا۔اور بھی کام ہیں مجھے ۔ اب مجھے بھی دیر۔۔
    یہ وہی مینیجر تھا جو سر جھکا کر سیہون کی ڈانٹ سن رہا تھا نیچے؟ الف کو اسکی چلتی زبان دیکھ کر یقین نہ ہوا۔ ایک تو کورین عام بات بھی ایسے کرتے کہ غصے میں لگتے اس وقت تو مینجر کے تاثرات بھی خاصے کڑے تھے۔ دروازے پر الف اور ژیہانگ کو دیکھ کر اسکی چلتی زبان کو فوری بریک لگی تھئ۔ سیہون بےز اری سے اٹھ بیٹھا۔
    نیند نے اسکو تازہ دم ابھی بھی نہیں کیا تھا مگرہاں کچھ بہتر محسوس کر رہا تھا۔
    آپ یہ کپڑے پہن لیجئے۔۔ نہایت ادب سے جھک کر مینیجر اسے کپڑے تھما رہا تھا کہیں سے لگ نہیں رہا تھا یہ وہی بندہ ہے جو اکیلے میں قریب قریب سیہون پر چلا رہا تھا۔
    سیہون نے ایک نگاہ غلط بھی اس پر ڈالے بنا کپڑے تھامے اور ملحقہ باتھ روم میں گھس گیا۔ الف نے سوچا پھر ہاتھ میں پکڑا البم اسکے مینیجر کی جانب بڑھانے لگی
    یہ آپ سیہون کو دے دیجئے گا۔
    مینجرنے سرہلا کر البم تھامنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ژیہانگ نے بیچ میں سے اچک لیا۔ دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا
    میرا خیال ہے نیچے چلتے ہیں وہاں شوٹ کے بعد خود دے لینا یہ سیہون کو ذیادہ اچھا لگے گا۔۔
    سیہون کو پتہ نہیں اچھا لگے گا بھی نہیں ٹھیک ٹھاک تو مزاج برہم ہے اسکا۔
    الف مایوسی سے بڑبڑا کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون کوریا کے مشہور برانڈ کی شرٹ اور ڈریس پینٹ پہن کر چہرے پر نہایت خوشگوار مسکراہٹ لیئے شوٹ کروا رہا تھا۔ انکی ٹیم کے ساتھ تو شوٹ دس منٹ بھی نہیں لگے ہونگے مکمل بھی ہو گئ تھی اب نجانے کون کون سے پوز بنوا رہا تھا فوٹو گرافر۔ ذرا دیر کی بے زاری سے بالکل مختلف اس وقت سیہون ایک مکمل سیلیبریٹی کے روپ میں تھا۔نہایت متحمل مزاج اور خوشگوار سی شخصیت۔
    فوٹو گرافر اسکی ہر طرح ہر رخ سے تصویر لیکر اسکا شکریہ ادا کرنے لگا تو سیہون کےچہرے کی مسکراہٹ ویسے ہی غائب ہوئی تھی جیسے کسی نے بٹن دبا دیا ہو۔
    چلیں۔ مینجر مستعدی سے اسکو کوٹ پہنانے لگا۔
    چلو الف۔ ژیہانگ اسکے برابر ہی کھڑا تھا ایکدم اسے اپنے ساتھ آنے کا کہتا سیہون کی جانب بڑھا۔ الف حیرانگی سے اسکی پھرتی دیکھ رہی تھی۔ لمبا دبلا سا ژیہانگ لمبے ڈگ بھرتا سیہون سے جا ملا تھا۔ ہاتھ ملاتے ہوئے شستہ ہنگل میں جانے اس نے کیا کہا کہ سیہون مڑ کر اسے ہی دیکھنے لگا وہ خائف سی ہو کر سست قدم اٹھاتی انکی جانب بڑھی
    اسلام و علیکم۔
    اس سے قبل کے وہ سلام کرتی سیہون اسکے قریب آنے پر مسکرا کر سر جھکا کر بولا تھا۔
    جی۔ وہ بھونچکا سی رہ گئ۔ پھر گڑ بڑا کر وعلیکم السلام بولی
    ژیہانگ نے مجھے بتایا آپ پاکستان سے ہیں اور میری بڑی فین ہیں مجھے نہیں پتہ تھا کہ ایکسو کو پاکستان میں بھی پسند کیا جاتا ہے۔ بہرحال خوشی ہوئی جان کر۔
    شستہ انگریزی میں سیہون اس سے مخاطب تھا۔ الف اتنی حیران ہوئی کہ اردو انگریزی سب بھول گئ
    اس نے بڑے شوق سے آپکو دینے کیلئے البم بھی بنایا ہے دکھائو الف۔
    ژیہانگ اسکی کیفیت سمجھ کر مدد کو آیا۔
    اچھا واقعی؟ دکھائیں۔۔ سیہون جانے واقعی حیران و خوش تھا یا بن رہا تھا۔ الف اب شائد کبھی نہ جان پائے۔یہ سیلیبریٹیز بہت اچھے اداکار ہیں انکو اپنے تاثرات چھپانے میں ملکہ حاصل تھا۔
    آپکو دیر ہو رہی ہے۔۔ مینجر منمنایا ۔ عوام کے سامنے مینیجرز سے ذیادہ بے ضرر مخلوق کوئی نہ تھئ۔ الف کو اس وقت وہ ذہر لگ رہا تھا۔
    الف نے البم بڑھایا سیہون نے بڑے شوق سے اسکے ہاتھ سے لیا اور فورا کھول کر دیکھنے بھی لگا۔ اسکے ڈیبیو سے لیکر اب تک کی سب تصاویر تھیں یہاں تک کے اسکے بچپن کی بھی۔ بچپن کی تصویر پر اسکا صفحے پلٹتا ہاتھ رک سا گیا۔ اپنی بچپن کی تصویر دیکھ کر اسکی آنکھیں جھلملائی تھیں یا الف کو وہم سا ہوا۔ اس نے اسکی آنکھوں کو غور سے دیکھا۔
    بہت اچھا تحفہ ہے یہ بہت شکریہ۔ مینجر ایک البم لے آئیں گاڑی سے۔
    سیہون نے البم بند کرتے ہوئے مینجر کو حکم دیا۔ وہ چیں بہ چیں ہوتا ہوا البم لینے چل دیا
    میں ابھی گھر جا رہا ہوں یہ البم دیکھ کر میری آہموجی اور آہپھا( امی ابو) مجھ سے بھی ذیادہ خوش ہونگے اس میں سے بہت سی تصاویر تو میں نے دیکھی بھی آج ہیں۔ بہت شکریہ الف۔
    نرم سے انداز میں بولتا ہوا سیہون ۔ الف فرط مسرت سے بے ہوش سی ہونے لگی۔
    ایک سیلفی ہم لے لیں میں جانتا ہوں آپ تنگ ہو رہے ہوںگے لیکن وہ آفیشل شوٹ تھی ہم دونوں اپنی بھی یادگار رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ برا نہ مانیں ۔
    ژیہانگ نے کہا تو وہ ہنس دیا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔
    بڑا سا شاپر لہراتی گنگناتی الف۔ اسٹاپ سے اپنی بلڈنگ تک آتے درجنوں مرتبہ بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ روکتی آئی تھی۔ دل چاہ رہا تھا جیسے بچپن میں خوب خوش ہوکر بل کھاتی تھی اچھل اچھل کر کود کود کر بھاگتی تھی بالکل ویسے ہی بل کھائے۔ مگر۔۔ پھر بھی داخلی دروازے پر وہ گول چکر کھا ہی گئ۔ اپنی دھن میں لابی میں آگے بڑھتی فاطمہ سے بری طرح ٹکرائی دونوں اس حادثے میں الٹ کر گری تھیں۔ اسکے ہاتھ سے گر کر شاپر پھٹ گیا تھا سب چیزیں بکھر گئیں مگر الف چنداں بدمزہ نہ ہوئی
    سوری۔ ۔ مسکراتے ہوئے سر اٹھا کر دیکھا تو فاطمہ کو ہونٹ بھینچے گھورتا پایا۔ اسکی مسکراہٹ سمٹ گئ۔
    سوری۔۔۔ وہ سنجیدہ سی ہو کر اکڑوں بیٹھ کر چیزیں سمیٹنے لگی۔
    ایکسو کی سائینڈ البم اس نے جھٹ جھاڑ کر سینے سے لگا لی۔ جیسے پتہ نہیں کتنی متبرک چیز گرا دی ہے۔ فاطمہ کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی تھی۔ ایکسو کی مرچنڈائز ، ایکسو کا پین ،کسٹمائز ڈائری ، کی چین ، سیہون کے کارٹونک شکل کا اسٹف ٹوائے، انکی لائٹ اسٹک ، سیہون کے خوب صورت سے پوز والی ٹی شرٹ جس پر اسی نے تازہ تازہ ابھی سائن کر کے دیا تھا۔
    وہ تیزی سے سب سمیٹ رہی تھی مگر شاپر پھٹ جانے کے باعث سب ہاتھ میں ہی اٹھا کر لے جانا پڑتا اوپر سے اسکا بیگ۔ فاطمہ نے لمحہ بھر سوچا پھر اسکی آدھی چیزیں اٹھا کر بے نیازی سے لفٹ کی جانب بڑھ گئ۔
    احسان بھی احسان دھر کے کرےگی یہ بلی۔ الف نے دانت پیسے پھر چیزیں سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ فاطمہ اسکے لیئے لفٹ روکے کھڑی تھی۔ وہ اندر داخل ہوئی تو مطلوبہ فلور کا بٹن دبایا
    الف نے فاطمہ کا شکریہ ادا کرنا چاہا مگر اسکے چہرے پر ناقابل فہم قسم کے تاثرات تھے اسکی ہمت نہ پڑی۔ گھر میں دونوں آگے پیچھے داخل ہوئیں۔ نوراورعزہ منے لائونج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں اسے دیکھ کر دونوں چیخ پڑیں
    کیسا رہا انٹرویو تم نے دیکھا سیہون کو؟تصویر کھینچی بات کی ؟ تم تو انٹرویو میں بول ہی نہیں رہی تھیں۔
    نور اور عزہ نے تابڑ توڑ حملے شروع کیئے دونوں بے حد پرجوش تھیں اور الف بھی۔
    ہاں سیلفی بھی لی اور یہ دیکھو ایکسو کا تازہ ترین سائیںڈ البم۔۔
    الف نے البم لہرایا تو دونوں اچھل کر کھڑی ہوگئیں پھر تینوں نے باقاعدہ دھمال ڈالنا شروع کر دیا تھا منا لائونج لگتا تھا انکے شور سے اڑ ہی جائے گا۔ فاطمہ اسکی چیزیں صوفے پر رکھتی اپنے کمرے میں آگئ۔ واعظہ اپنے بیڈ پر دراز کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی عشنااپنا گلہ بیڈ پر پھیلا ئے نوٹ گننے میں مصروف تھئ۔۔
    آگئ الف؟ ہینڈز فری میں بھی شائد واعظہ تک آواز گئ تھی جبھی وہ ایک کان سے اتار کر پوچھنے لگی
    ہاں۔ فاطمہ نے دھیرے سے سر ہلایا۔
    تمہیں کیا ہوا ؟ واعظہ نے اسکی شکل پر بارہ بجے دیکھ کر موبائل ایک طرف رکھ دیا۔
    سیہون سے مل کر آئی ہوں۔ فاطمہ کا انداز ایسا تھا جیسے ابھی رو دے گئ۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔
    سیہون بہت بہت سویٹ ہےاتنا سویٹ کہ کیا بتائوں ۔۔
    الف چہک رہی تھئ۔ عزہ نور اور وہ لائونج میں آلتی پالتی مارے بیٹھی سیہون کے دیئے ہوئے تحائف کا پوسٹ مارٹم کر رہی تھیں۔
    گائوں جا رہا تھا اپنے۔۔۔ مینجر بار بار ٹوکے جلدی کریں۔ اس نے ڈانٹ دیا آرام سے ہمارے ساتھ تصاویر بنوائیں مجھے اور ژیہانگ دونوں کو ایکسو کی کسٹمائز شرٹس اسٹکس ڈائری اف اوپر سے جو میں شرٹ لیکر گئ تھی اسے بھی الگ سائن کر دیا اور ایکسو کی شرٹس الگ دیں ۔ ایکسو پھر ایکسو ہیں اپنے پرستاروں سے دل سے پیار کرتے ہیں ۔اف آج مجھے اتنا فخر ہوا ایکسول ہونے پر ۔۔
    وہ آنکھیں میچ کر جیسے اس وقت ایکسو کے کانسرٹ میں ہی موجود تھئ۔
    پتہ ہے ایکسو کی فین مینٹنگ ہے اگلے ہفتے اس میں بھی انوائٹ کیا ہمیں۔
    اسکے پاس ابھی بھی بتانے کو بہت کچھ تھا۔ عزہ اور نور ہمہ تن گوش تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میری وجہ سے وہ بھی پھنس چکا ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں اسکے ساتھ اپارٹمنٹ شئیر نہیں کر سکتی۔ مجھے اتنا گلٹ ہو رہا ہےپھر ۔ اسکی گرل فرینڈ ذرا سا شک ہونے پر اس نے یاد ہے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا تھا سائیکو بن گی تھی اسے شئیر کرنے کا سوچ کر نہ کہ میں سچ مچ اسکے بوائے فرینڈ سے شادی کر چکی ہوں وہ کیا کیا قیامت نہیں مچائے گی سوچو۔
    فاطمہ ابیہا اور عشنا کے مشترکہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔ عشنا گنتی بھول چکی تھی اب آنکھیں اور منہ کھولے بیٹھی کبھی فاطمہ اور کبھی واعظہ کو دیکھتی۔
    کیا واقعی؟؟ فاطمہ نے سیہون سے شادی کر لی ہے۔
    حیرت کی انتہا پر وہ تصدیق کی خاطر پوچھ رہی تھی۔
    فاطمہ نے ٹھںڈی سانس بھر کر سر جھکا لیا تو واعظہ نے دانت پیس کر گھورا۔
    آہستہ۔یہ بات اس کمرے سے باہر نہیں جانی چاہییے سمجھیں۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
    ہم نے کس کو بتانا ہے بھلا۔ عزہ برا مان گئ اتنی بار الف نے یہ بات دھرائی کہ نور بھی چڑ گئ
    ایسا ہی تھا تو ہمیں نہ بتاتیں ۔۔
    میرے بھی تو پیٹ میں نہیں ٹک رہا تھا۔
    الف کھسیائئ۔
    یار ویسے یہ سیلیبریٹیز کتنے خوش نظر آتے ہیں کون جانے اس لگژری لائف اسٹائل کی کیا قیمت ادا کرتے ہیں وہ۔
    نور اداس سی ہوگئ۔
    تو اور کیا۔ مینجر عوام کے سامنے کیسا میسنا گھنا معصوم بنا ہوتا ہے سیہون پر چلا رہا تھا، اور بے چارہ ائیر پورٹ سے بھوکا پیاسا آیا تھا ہم نے اسے پروگرام کے دوران اسنیکس دیئے یقین کرو سامنے سے اٹھا لے گیا کہ یہ ویٹ بڑھادیں گے اسنیکس نہیں کھانے اور جب سیہون نے کہا۔۔۔
    الف کو جاتے وقت کہا گیا سیہون کا جملہ یاد آیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ژیہانگ اور وہ سیہون کو اسکی وین تک چھوڑنے آئے تھے۔
    الف۔ وین میں بیٹھتے بیٹھتے سیہون کو جانے کیا یاد آیا کہ الف کو مخاطب کر ڈالا
    آپکو زندگی سے کیا چاہیئے؟
    الف گڑبڑائی۔
    وہی سب جو سب کو چاہیئے ہوتا محفوظ مستقبل ، اچھا کیریئر پیسہ پیارا ساتھئ وغیرہ
    اسکی بولتے بولتے سانس پھول گئ تھئ۔
    سیہون مخصوص انداز میں ذرا سا مسکرایا
    اس سب سے ذیادہ ایک انسان کو جانتی ہو کیا چاہیئے ہوتا ہے؟
    وہ براہ راست اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
    ذہنی و قلبی اطمینان۔۔ اور مجھے بس وہی چاہیئے۔
    وہ کہہ کر ان کو الوداع کہتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا۔ پہلے سے تیار مینجر نے لمحہ بھر کی بھی دیر نہ ہونے دی جھٹ چلا دی تھی گاڑی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم کسی صورت پاکستان نہیں جانا چاہتی ہو واپس تمہارے پاس اسکے سوا کوئی راستہ نہیں کہ تم سیہون کے ساتھ اسکا اپارٹمنٹ شئیر کرو۔
    واعظہ کا انداز قطعی تھا۔
    میں ایک انجان اجنبی کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ کیسے شئیر کر سکتی ہوں دماغ خراب تو نہیں ہو گیا تمہارا؟
    فاطمہ غضبناک ہو کر چلا اٹھئ
    آہستہ بولو۔ واعظہ نے گھبرا کر دروازے کی۔جانب دیکھا تو بند تھا پھر بھی آواز باہر جا سکتی تھئ سو دانت پیس کر بولی
    “یہ سب سوچ کر ہی میں نے سیہون کا انتخاب کیا تھا۔ میں اسے سات سال سے جانتئ ہوں ہائی اسکول سے ہم دوست ہیں ۔ پیپر میرج کیلئے مناسب ماہانہ پیسے دینے سے ایک سے ایک جاب لیس لڑکا مل سکتا تھا مگر میں ان میں سے کسی پر اعتبار نہیں کر سکتی تھئ۔ سیہون کو ہائی اسکول سے صرف اور صرف اس ہی جھنڈولے بالوں والی پر کرش ہے اور اب شدید محبت۔ اگر میں نے اس سے منت سماجت نہ کی ہوتی تو وہ آج کل میں اس سے شادی کرنے والا تھا۔ اب تمہاری وجہ سے اسکی شادی چھے ماہ ٹل چکی ہے۔ جب تک وہ تمہیں طلاق نہیں دے گا وہ دوسری شادی نہیں کر سکتا ۔ اور چھے مہینے سے قبل تم دونوں طلاق فائل نہیں کر سکتے سو اب جو ہو چکاہے اسی کے حساب سے اپنا نہیں تو اسکی قربانی کا خیال کرکے اسکو مزید مشکل میں مت ڈالو پلیز۔ “
    اسے چبا چبا کر بتاتے آخر میں اسکا انداز منت بھرا ہوچلا تھا۔ فاطمہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔
    مجھے واپس چلے جانا چاہییے تھا میں سب کو بہت بڑی مشکل میں ڈال چکی ہوں۔
    اس نے بے آواز رونا شروع کر دیا تھا۔ واعظہ اور عشنا اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بات سنو ژیہانگ کس خوشی میں تمہارے ساتھ اتنا کر رہا ہے؟
    لائن تو نہیں مار رہا۔۔ اسکے قصے میں مستقل ژیہانگ کی مدد اور خیال سنتے ہوئے نور کو یہ انوکھا خیال نہیں سوجھا تھا عزہ بھی یقینا یہی پوچھنے والی تھئ۔ اسکی شکل پر لکھا تھا۔ تڑ تڑ چلتی الف کی زبان رکی تھی۔ گڑبڑا کر جھٹ نفی میں زور زور سے سر ہلانے لگئ۔
    نہیں کہاں۔ بس وہ اچھا والا اوپا ہے جیسے سب اوپا ہوتے۔۔ خیال کرنے والے مدد کرنے والے بس ایویں
    اوپا کورین ہوتے ہیں وہ تم نے خود بتایا تھا کہ چینی ہے۔۔
    عزہ نے فورا غلطی پکڑی
    اوفوہ۔۔ وہ جھلا اٹھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن کو خاموشی سے کمرے میں بیٹھے بغور سنتے دیکھ کر طوبی کے اندر سرشاری سی دوڑ گئ تھی۔ کارپٹ پر صوفے سے ٹیک لگائے کشن بازو میں لیئے وہ مگن تھا۔ ۔ گرم گرم چائے کا بھاپ اڑاتا کپ ساتھ چکن نگٹس اسکے سامنے رکھتے ہوئے اس نے دل ہی دل میں اسکی معصوم صورت کی بلائیں لے ڈالیں۔
    اب سب چھوڑو یہ کھا لو پہلے۔
    طوبی کے کہنے پر وہ چونکا۔ ٹی وی پر جو چل رہا تھا اسکو تو شائد اس نے سنا بھی نہیں وہ تو کسی اور گہری سوچ میں گم تھا۔ گڑبڑا کر وہ سیدھا ہوا۔ طوبی نے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بند کر دیا۔
    نونا آپ بھی لیں۔ معاف کیجئے گا۔
    اس نے طوبی کو بھی کھانے کی پیشکش کی پھر رمضان کا خیال آیا تو شرمندہ سا ہوگیا۔ مگر طوبی نے اسکی پلیٹ سے نگٹس اٹھا کر منہ میں ڈال لیئے
    روزہ کھل چکا ہے۔ تم اتنے غور سے مگن سن رہے تھے کہ افطاری کے وقت تمہیں بلانے آئی تو پھر تمہیں مخاطب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
    طوبی نے مسکرا کر بتایا۔ تو وہ خجل سا ہوگیا۔
    وہ ہایونگ چلے گئے مسجد۔ اس نے جھجکتے ہوئے طوبی کے شوہر کا پوچھا۔
    ہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے گئے ہیں۔ تمہیں کوئی کام تھا۔ ہے جن نے کچھ سوچتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔
    رمضان کے کتنے دن رہ گئےہیں۔ اس نے اگلا سوال داغ دیا تھا۔
    تین یا چار روزے رہ گئے پھر عید ۔ تم ہمارے ساتھ عید منائو گے نا؟ میں تمہارے لیئے اپنے ہاتھوں سے کرتا کاڑھ رہی ہوں بس مکمل ہونے ہی والا ہے تم وہ پہن کر جب عید ملو گے تو تمہیں تمہاری پسند کی عیدی دوں گی۔
    طوبی نے پیار سے دیکھتے ہوئے اسے کہا تو وہ اسکی محبت پر مسکرا کر سر ہلانے لگا۔ طوبی کو خیال آیا۔
    لیکن سنو تمہیں کیا پسند ہے؟ میں بھی تمہاری بڑی نونا ہوں بلا تکلف فرمائش کرو مجھ سے سمجھے۔ وہ لاڈ بھرا رعب جھاڑ رہی تھی۔ ہے جن خوش سا ہوگیا
    آپ واقعی جو میں مانگوں گا دیں گئ
    ہاں کیوں نہیں۔ طوبی نےلمحہ بھر کا بھی توقف نہیں کیا تھا۔ ہے جن کی آنکھین جانے کیا سوچ کے چمک اٹھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختتام جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 6


    اس کے رائونڈ پر آتے ہی وارڈ میں کھلبلی مچ گئ۔ خالی ہو جانے والے تین بستروں پر پانچ نرسیں نائٹ ڈیوٹی کو سو کر پورا کررہی تھیں۔ آجکل اسپتال میں کوئی خاص رش نہیں تھا سو انکو فرصت کے لمحات مسیر آئے تو کمر سیدھی کرنے لیٹ گئیں ۔ اسکو اندر آتے دیکھ کر ہڑبڑاہٹ میں اٹھیں تو ایک نرس تو بیڈ سے ہی گر گئی۔۔ عروج انہیں دیکھ کر سر جھٹک کر آگے بڑھ گئ۔ اسے فالتو میں رعب جمانے کا کوئی شوق نہیں تھا ۔ اسکا رخ سیدھا اپنے کیبن کی جانب ہوا تھا۔ آرام سے کیبن میں آکر اس نے لیپ ٹاپ آن کیا اورپڑھنے بیٹھ گئ۔
    ڈاکٹر روج آپ سے ملنے کوئی آیا ہے۔
    وارڈ بوائے نے آکر اسے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا۔
    کون؟ اسکا سوال یقینا منطقی تھا مگر وارڈ بوائے کی شکل پر جو انگریزی میں جواب سوچنے کی گھبراہٹ طاری ہوئی تو ٹھنڈی سانس بھر کر لیپ ٹاپ بند کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    وزیٹرز وارڈ میں تو نہیں آ سکتے تھے سو اسے ہی ریسیپشن پر جانا تھا۔
    چندی آنکھوں والی دبلی پتلی سی پیتیس چھتیس برس کی پرانے گھسے ہوئے کپڑوں میں ملبوس بنچ پر بیٹھی ہاتھ مسل رہی تھی۔ لاکھ عروج نے یادداشت پر زور ڈالا مگر اس کا تعارف ذہن کے پردے پر روشن نہ ہوا۔
    آننیانگ۔ عروج نے آگے بڑھ کر اسے سلام کیا تو وہ گھبرا کر اٹھ ہی کھڑی ہوئی
    آننیانگ۔ آگے تیز تیز ہنگل کی گٹ پٹ تھی جو عروج کے سر پر سے گزری۔ دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر جانے وہ کیا کیا بتا رہی تھی سمجھا رہی تھی۔عروج نے چند لمحے اسکے چپ ہونے کا انتظار کیا مگر اسکی رام کہانی لمبی تھی شائد۔ اسے ٹوکنا پڑا۔
    آہجومہ۔۔ معزرت میری ہنگل اتنی اچھی نہیں کہ آپکی ساری بات سمجھ سکوں۔ ٹھہر ٹھہر کر بات کیجئے۔
    اس نے انگریزی میں کہا تھا مگر ہاتھ کے اشاروں سے کچھ کچھ بات وہ آہجومہ سمجھ ہی گئ۔
    دے۔ ایسے جھک کر سر ہلایا جیسے سب بھیجے میں گھس چکا ہے۔ جھٹ اپنی اسکرٹ کی جیب سے ایک لاکٹ نکال لیا اور دائیں بازو کو کہنی سے بائیں بازو سے تھام کر دائیں ہتھیلی اسکے سامنے بڑھا دی۔ یہ کوریائی مخصوص انداز تھا تمیز سے کسی کو چیز دینی ہو تو دائیں ہاتھ سے اگر چیز دے رہے ہوں تو بائیں ہاتھ سے کہنی چھو کر ادب سے جھک کر دیتے ہیں۔عروج نے کچھ سمجھتے کچھ نا سمجھتے تھاما
    لیکن۔ وہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ لاکٹ کا کیا کروں
    یہ آپ بوڑھی خاتون کو دے دیجئے گا۔
    وہ انگریزی میں کہہ کر آنسو پونچھتی اسے کچھ مزید کہنے کا موقع دیئے بغیر جلدی سے مڑ گئ۔
    ارے ۔۔سنو۔ عروج ہائیں ہائیں کرتی رہ گئ آہجومہ نے تو دوڑ ہی لگا دی۔ عروج نے بھی اسکے پیچھے دوڑ لگانا چاہی مگر اپنی ہیل کے باعث صرف چاہ کر ہی رہ گئ ۔ اگلی کینوس شوز میں بھاگ کھڑی ہوئی۔ اس نے لاکٹ کی ساخت پر غور کیا دل کی شکل کا لاکٹ جس پر چھوٹا سا لاک تھا اس نے چھوا تو نازک سا لاکٹ دو حصوں میں بٹ گیا ایک تو اسی لڑکی کی تصویر تھی دوسری ۔۔۔۔وہ چونک اٹھی
    ارے۔ یہ تو وہی بوڑھی خاتون ہیں۔ وہ اپنی مریضہ پہچان گئ تھی۔
    اس سے کوریائی زبان میں ہر بار جب وہ معائنہ کرنے جاتی تو کچھ کہتی تھیں آخری بار اسے کہنے کے بعد جو بے ہوش ہوئیں ابھی تک کومے میں تھیں۔ اسے تو سمجھ نہیں آیا تھا کہ کیا کہا انہوں نے اس نے اپنی ساتھی نرس سے ذکر کیا تو وہ اداس سی شکل بنا کر بولی یہ صرف آپ سے نہیں ہر اس شخص سے یہی جملہ دہراتی ہیں کہ میری بیٹی کو بلا دو اس سے کہو مجھ سے آخری بار مل لے میں اس سے ملنا چاہتی ہوں۔ ہم نے انکے اہل خانہ سے رابطے کی ہر ممکن کوشش کی ہے انکے فارم پر بس ایک ہی نمبر لکھا ہے جو بند ہوتا ہے۔
    عروج کو افسوس سا ہوا۔ جان کنی کا عالم تھا انکا یقینا انکے گردے ختم ہو چلے تھے ڈائلیسز پر ذندہ تھیں اور نجانے بلند فشار خون اور کون کونسی بیماری لاحق تھی انکو یقینا بیٹی کو یاد کرکے اس سے مل کر ہی دنیا سے جانا چاہ رہی ہوں گی۔
    نجانے اسے کیاہمدردی کا دورہ پڑا کہ انکا فارم نکلوا کر اس نمبر کو اپنے موبائل سے ڈائل کر لیا۔ آگے جو بھی خاتون تھی یقینا اسپتال کا نمبر بلاک کر چکی تھی تبھی بند ملتا تاہم اس کا نمبر اٹھا لیا اور جب عروج نے اس سے اپنا تعارف کروایا تو فٹ سے فون بند کر دیا اس نے تھک کر لمبا سا درد بھرا پیغام اسکی ماں کی حالت اور اسپتال کا پتہ لکھ بھیجا۔ تو آج خود وہ ملنے آئی اور یہ چین دے کر بھاگ گئ۔
    اس لاکٹ سے ماں کی ممتا کو کیا تسلی ہونی ہے۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر لاکٹ کوٹ کی جیب میں ڈال لیا۔ فی الحال تو وہ خاتون ہوش میں تھیں ہی نہیں۔۔ لاکٹ دکھانے کا فائدہ نہیں تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فون کالز کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ ژیہانگ کو لمحہ بھر کی فرصت نہ تھی سیہون نے انگریزی میں بات کرنے سے صاف انکار کیا تھا۔ دو ایک سوال کرکے الف چپ سی ہوگئی۔ جب ژیہانگ کو اسکا سوال ہنگل میں ترجمہ کرکے پوچھنا پڑا۔ جوابا سیہون نے جواب دیا تو براہ راست پروگرام ہونے کے باعث ژیہانگ فوری ترجمہ نہ کر سکا تاہم جیسے ہی پروگرام میں وقفہ آیا باقائدہ الف کی جانب مڑ کر سیہون کا جواب لفظ بہ لفظ دہرایا۔
    مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ میں کوئی بہت الگ اور مختلف زندگی گزار رہا ہوں۔ یہ لڑکے میرا خاندان بن چکے ہیں میری پہچان میری شناخت بس ایکسو بوائے بینڈ ہے اور اس سے الگ میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ یہ میری زندگی ہے اس سے الگ اگر کبھی میں نے کوئی لمحہ بھی جیا ہے تو مجھے یاد نہیں۔

    الف سیہون کو دیکھ کر رہ گئ۔ سوال گندم جواب چنا تھا۔ اس نے پوچھا تھا۔ سیہون کو زندگی سے اب مزید کیا چاہیئے۔
    وہ وقفے کے دوران مراقبے میں چلا گیا تھا۔ وہ زندہ دلی خوش مزاجی سے اپنے پرستاروں سے بات کرنا جیسے اسکا کوئی سوئچ ہو جو وقفے کے دوران بند ہو جاتا ہو اور پروگرام شروع ہوتے ہی آن ہو کر اس میں زندگی کی لہر دوڑا دیتا ہو۔
    اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے ان پر اپنی چندی آنکھیں جمائے ہونٹ بھینچے بیٹھا تھا
    الف کے ذہن میں بے شمار سوال مچل رہے تھے مگر وہ خود پر ضبط کیئے بیٹھی تھی۔ سوائے کالرز کے سوالوں کے جو کچھ بھی پوچھ رہے تھے انکے پاس ایک سوال نامہ بنا رکھا تھا جو سی ہون کے مینیجر نے درجنوں سوال کاٹ کر مخصوص کی اجازت دی تھی اور ابھی بھی اسٹوڈیو کے باہر بیٹھا تھا پروڈیوسر کے ساتھ ۔ اسکے ہاتھ میں مائک تھا جس
    سے جڑا ایک آلہ اسکے کان میں اسکی آواز سیہون کو سنا رہا تھا۔۔ وہ اور ژیہانگ جانتے تھے کہ دیوانے پرستاروں جنہوں نے طرح طرح کے سوال کیئے تھے کوئی سیہون کی پسندیدہ خیالی لڑکی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا تو کسی کو یہ غرض تھی کہ کسی طرح سیہون کی کامیابی کا راز جان لے ان سب سوالوں کے جوابات سیہون کا مینیجر دے رہا تھا ۔ ایسا بھی ہوا کہ اسکی طویل بات کی وجہ سے سیہون فوری جواب نہیں دے پایا تو ایک طویل خاموشی کا وقفہ آنے لگا تو ژیہانگ یا الف کوئی نہ کوئی بات بنا کر پروگرام کو آگے بڑھاتے رہے۔ اسکا دل چاہا تھا کہ پوچھے سیہون خوش ہے؟ مگر یقینا یہ جواب بھی اسکا مینیجر ہی دیتا ، وہ جاننا چاہتی تھی کہ تین سال بڑے بھائی کے ساتھ سیہون کا رشتہ کیسا ہے ، اسکے والدین اسکی کامیابیوں پر کیسا محسوس کرتے کیا وہ ایکسو کے لڑکوں کے درمیان بھائی کو یاد نہیں کرتا ، کیا واقعی بیکہیون اسکے بھائی جیسا ہے مگر پچیس برس کی عمر کے سیہون کی شکل پر اس وقت پچاسی برس کے کسی زندگی سے اکتائے ہوئے انسان والی بیزاری سجی تھی جسے وہ ریڈیو پروگرام ہونے کے باعث چھپانے کی کو شش بھی نہیں کر رہا تھا۔ اپنے پرستاروں کو ہنستے مسکراتے پیغام دیتے ہوئے بھی یہ تاثر اسکے چہرے سے نہیں گیا تھا۔ جانے کیوں وہ اپنے پسندیدہ ترین فنکار سے مل کر خوش نہیں ہوئی تھی بلکہ اسکو ٹھیک ٹھاک اداسی سی محسوس ہوئی تھی شائد سیہون کے چہرے پر چھانے کی وجہ سے اس پر بھی اثر ہوا تھا۔
    پروگرام ختم کرکے سیہون نے لمحہ بھر کا بھی انتظار نہیں کیا تھا اور اٹھ کھڑا ہوا تھا ژیہانگ کے الودعائیہ کلمات جاری تھے اور وہ دروازہ کھول کر باہر بھی نکل گیا۔ریڈیو پروگرام کے درمیان دروازہ کھلنے اور لمحہ بھر کی ہی سہی پس منظر آواز کا نشر ہو جانا گناہ کبیرہ تصورکیا جاتا ہے مگر جانے وہ کیوں اتنا بیزار تھا۔ الف اس سے ایکسو کا فوٹو البم سائن کروانا چاہتی تھی جو اس نے خاص کر سیہون کیلئے بنایا تھا جس میں ایکسو میں سیہون کے شامل ہونے سے لیکر اب تک کی تقریبا جو جو بھی اسے یادگار تصویر ملی تھی اس نے بڑی محنت اور شوق سے سجائی تھی۔ کوئی سیلفی کوئی بات وہ سفید ٹی شرٹ جس پر اس نے سیہون کا اپنا پسندیدہ ترین انداز چھپوایا تھا اس پر وہ سیہون کا دستخط لیکر اسے
    فیبرک پینٹ سے امر کر دینا چاہتی تھئ سب دھرا رہ گیا۔
    اسکو بےتابی سے سیہون کو اٹھ کر جاتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش منہ کھلا رہ جانے والا منہ مایوسی سے بند کرنا ژیہانگ سے چھپا نہ رہ سکا۔
    باہر سیہون مینیجر سے کافی نا خوش نظر آتا ہلکا سا مکا بنا کر ہتھیلی پر مارتا کبھی بالوں میں اضطراری انگلیاں چلاتا۔
    شیشے کی دیوار کے پار وہ سیہون پر ہی نگاہ جمائے تھی
    سنو ؟ تم نے جو سیلفی لینی تھی، ٹی شرٹ پر دستخط اور وہ البم جو تم نے اسے دینا تھا کیا ہوا؟ ژیہانگ نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر متوجہ کیا تو وہ چونکی۔
    وہ شام سے جب سے آئی تھئ بے انتہا پرجوش تھی بڑے شوق سے اس نے ژیہانگ کو دکھائی تھیں چیزیں ۔ وہ یہی اسے جتا رہا تھا۔
    سیہون مجھے اچھے مزاج میں نہیں لگ رہا تھوڑا سا بیزار ہے۔
    اس نے جواندازہ لگایا تھا وہ غلط نہیں تھا۔
    بے چارہ پیرس سے آج دوپہر ہی پہنچا ہے وہاں ٹھیک ٹھاک تھکا ہوگا نان اسٹاپ اسکو سیدھا ائیر پورٹ سے یہاں لے آیا گیا دو گھنٹے ہم نے سر کھایا ہے اور اسکی وین بھی خراب ہوگئ ہے جتنی دیر یہاں شو چلتا رہا پروڈیوسر نے اسسٹنٹ پروڈیوسر کو اسکی وین لیکر بھیجا ہوا تھا ورکشاپ اور وہ ابھی تک واپس نہیں آیا۔۔ یہ تو بہت برداشت سے کام لے گیا میں تو چین بھی جاتا ہوں واپس تو دو دن تک جہاز سے اترنے کے بعد جیٹ لیگ کا بہانہ کرکے گھر سے نہیں نکلتا۔
    ژیہانگ نے پوری تفصیل سے اسے بتایا۔۔ وہ حیرت سے سنتے ہوئے دوبارہ سیہون کی جانب متوجہ ہوئی ۔
    تمہیں کیسے پتہ ۔۔۔اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا
    تو ژیہانگ ہنس دیا
    اس لیئے کہ یہ میٹنگ ارینج میرے سامنے کروائی گئ تھی اور سیہون کا استقبال میری ہی ذمہ داری تھا۔ پروڈیوسر انکے ٹیم مینجیر کا اچھا دوست نہ ہوتا تو جتنا یہ بےزار یہاں آیا ہے کبھی نہ آتا یہاں۔ اسے ایجنسی نے ذبردستی بھیجا ہوگا۔
    واقعی بے چارےکے ساتھ اچھا تو نہیں ہوا۔اسے ہمدردی محسوس ہو رہی تھئ۔ حسب عادت وہ اردو میں بڑبڑائی۔
    ژیہانگ ہنس کر کچھ کہنے لگا کہ خیال آنے پر زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
    پروڈیوسر صاحب اسٹوڈیو کا دروازہ کھول کر اندر چلے آئے
    ژیہانگ ایک مدد درکار تھئ تمہاری۔۔ وہ ژیہانگ سے کہہ رہے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ کو سیہون کا میسج آیا تھا اور وہ سرعت سے انکو الف کا ریڈیو شو سنتے چھوڑ کر دبے پائوں باہر نکلی۔
    سیہون انکی عمارت کے نیچے داخلی دروازے کے باہر کھڑا جوتے سے زمین کرید رہا تھا۔
    کیا ہوا اب۔ وہ خاصی بیزار شکل بنائے اسکے پاس آکھڑی ہوئی۔
    کل صبح 10 بجے یونین کونسل کے کچھ ممبران آئیں گے مجھ سے اور تم سے ملنے سو تمہیں آج رات میرے اپارٹمنٹ میں ہی گزارنی ہوگئ۔
    سیہون نے بنا تمہید باندھے اسکے سر پر بم پھوڑا۔۔ وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔
    کیا کس خوشی میں بھئ؟ میں کوئی تمہارے ساتھ واتھ نہیں جانے والی۔ ڈھیلی ڈھالی گلابی سویٹ پینٹ اور اپر میں ملبوس وہ ہڈ سر پر چڑھائے دونوں ہاتھ ہڈ کی جیبوں میں ڈالے زور زور سے سر نفی میں ہلا رہی تھی۔
    سہون کیلئے اسکا ردعمل بالکل غیرمتوقع نہیں تھا۔ وہ چپ چاپ گھورتا رہا
    اب ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ دیکھو یہ صرف کاغذی رشتہ ہے اسکو ہم چند مہینوں میں ختم کرنے والے ہیں یہ اپارٹمنٹ میں رہنا بہت ذیادہ ہے۔ میں صبح آجائوں گی ملنے۔
    فاطمہ کو اسکی نگاہیں کافی چبھی تھیں۔۔
    اور میں کونسلروں کو اپنی بے روزگار بیوی کے صبح صبح کہاں چلے جانے کی کہانئ گھڑ کر سنائوں گا؟
    وہ دانت کچکچا کر بولا
    تو کہہ دینا میں دوسرے شہر گئ ہوں اب کیا شادی کے بعد بیویاں کہیں آتی جاتی نہیں ہیں؟ میکے گئ ہوں کہہ دینا
    فاطمہ اسکی عقل پر ماتم کرنے والے انداز میں بولی ۔
    تم نے شادئ کا جو معاہدہ دستخط کیا ہے اسکی شرائط یاد ہیں ؟؟؟ ہم دونوں میں سے کوئی بھی چھے مہینے سے قبل بیرون ملک سفر نہیں کر سکتا دوسرے شہر بھی نہیں جا سکتے جب تک ہمارے کائونسلنگ کے چھے ہفتوں کے کم از کم بارہ سیشن پورے نہیں ہو جاتے۔
    اس نے چبا چبا کر یاد دلایا۔
    یاد ہے مگر اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم فالتو گٹ پٹ سنیں انکی۔ فاطمہ نے ناک چڑھائئ۔
    ہم پابند ہیں کیونکہ ہم عام جوڑا نہیں ہیں ۔ ہم نے شادی کے معاہدے پر دستخط کیئے ہیں۔ سیہون کو وہ ٹیڑھی کھیر لگ رہی تھی سو اسے ہی سمجھداری سے کام لینا تھا گہری سانس لیکر خود کر ٹھنڈا کر کے بولا
    کیوں بھئ سب شادی شدہ لوگوں کو یہ ایسے باندھ لیتے ہیں فالتو معاہدوں میں چھے مہینے کہیں نہ جائو انکے فالتو کونسلروں کے واعظ سنو۔؟ جبھی کوریا میں بنا شادی کے رہنے کا رواج پڑ رہاہے۔
    وہ ہاتھ نچا نچا کر اونچا اونچا بولی تھی۔ گارڈ اندر اپنے کیبن سے نکل کر انہیں گھورنے لگا۔
    کون ہے یہ آگاشی۔ ( یہ لڑکی کون ہے؟) وہ سیہون سے مخاطب تھا انداز تھا کہ بیٹا لڑکی چھیڑ رہے ہو یہیں مرغا بنا دوں گا۔ سیہون نے کھا جانے والی نظروں سے فاطمہ کو گھورا
    یہ میری بیوی ہے ہم لڑ نہیں رہے بحث کر رہے ہیں تکلیف کیلئے معزرت
    وہ جھک جھک کر بولا تو بھی چوکیدار مشکوک نگاہوں سے گھورتا رہا۔
    کیا کہہ رہے ہو؟ اسے اس پر بھی تکلیف تھئ۔ قریب آکر کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر پوچھ رہی تھی۔
    یہ دیکھیں ثبوت۔ اس نے جیب سے کاغذ نکال کر تھمایا
    وہ واقعی جیب میں ثبوت لیکر گھوم رہا تھا۔ فاطمہ کو سمجھا نے کیلئے لایا تھا یہاں ثبوت کے طور پر دکھانا پڑ گیا۔
    چوکیدار اسے خوب گھما گھما کر دیکھ رہا تھا۔
    فاطمہ نے جھپٹ لیا
    یہ یہ کیا تم نکاح نامہ لیکر گھوم رہے ہو، مقصد کیا ہے تمہارا مجھے کمزور احمق لڑکی مت سمجھنامیں وقت پڑنے پر جان لے بھی سکتی ہوں۔ فاطمہ غضبناک ہوئی
    مارو ماردو مجھے اس عذاب میں مجھے ڈال دیا ہے اب میرے پاس یہی راستہ رہ گیا ہے تم ابھی مار دو ورنہ بعد میں میری گرل فرینڈ تو مار ہی دے گی مجھے۔
    اسکی بھی جھلاہٹ کی وجہ سے ٹھیک ٹھاک آواز اونچی ہو چلی
    چوکیدار کو سچ مچ یقین ہوا کہ میاں بیوی ہیں کھنکار کر دونوں کو آرام سے بات کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے چلتا بنا
    سیہون کو غصے میں دیکھ کر تھوڑا خائف ہو کر چپ ہوئئ۔
    سیہون چلانے پر نادم سا ہو کر رخ پھیر کر پیشانی سہلانے لگا۔
    چند لمحے خود کو سنبھال کر وہ مڑا تو فاطمہ اسکیلئے قریبی ڈسپنسر سے پیپر کپ میں پانی لیئے کھڑی تھئ۔۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ژیہانگ سیہون کو اوپر ریسٹ روم میں لیکر آیا تھا اسکے لیئے وی آئی پی روم خالی کروایا گیا تھا۔ پروڈیوسر صاحب نے خاص ژیہانگ کی ذمہ داری لگائی تھی کہ اسکا خیال رکھے ۔اسکی وین ٹھیک نہیں ہوئی تھی اسے اسی میں اپنے گھر جانا تھا سو انتظار کے بغیر چارہ نہ تھا۔ سیہون مینیجر سے ٹھیک ٹھاک خفا ہوا تھا ، مینیجر سر جھکائے سن رہا تھا جب پروڈیوسر صاحب کے کہنے پر ژیہانگ نے سیہون کو اوپر کمرے میں جاکر آرام کی پیشکش کی۔ سیہون ایکدم چپ ہوا تھا اپنے مینیجر کے برعکس اسکا رویہ ژیہانگ سے بہت مروت بھرا تھا۔ کمرے کی بتی جلا کر اے سی آن کرکے ریموٹ اسے تھمایا ۔۔
    کچھ کھائیں گے آپ ؟
    اس کے پوچھنے ہر سیہون کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
    نہیں شکریہ۔ جواب مختصر تھا۔ وہ سر ہلا کر اسے آرام کی تاکید کرتا ہوا باہر نکل آیا۔ سیہون نے اسکے نکلتے ہی بتی بجھائی تھئ اور لمبے جہازی کائوچ پر گر سا گیا۔
    کمرے کے باہر ہی الف کھڑی تھی۔
    ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھامے منتظر۔
    آئو تم لے لو آٹو گراف سیلفی جو بھی فارغ ہے ابھی اور اکیلا بھی۔
    ژیہانگ نے فورا مڑ کر دروازہ کھولنا چاہا مگر الف نے روک دیا۔
    تھکا ہوا بھی۔۔۔۔۔ میں انتظار کر لیتی ہوں۔
    وہ واقعی پرستار تھئ اور اسکو اپنے پسندیدہ ستارے کی فکر بھی تھئ۔ ژیہانگ نے سمجھ کر کندھے اچکا دیئے۔
    وہ لابی میں رکھے صوفے کی جانب بڑھ گئ۔ اسے یہاں بیٹھ کر سیہون کا انتظار کرنا تھا۔ ۔۔ ژیہانگ نے لمحہ بھر سوچا پھر تیز تیز قدموں سے لفٹ کی جانب بڑھ گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوریا میں پچھلے کچھ سالوں سے بہت سے غیر ملکی اور کوریائی باشندے شادی کر رہے ہیں۔ کچھ جزبات سے مجبور ہو کر کچھ ہمارئ طرح رہائش اختیار کرنے کیلئے۔ کوئی محض ایک اپارٹمنٹ شئیر کرنے کی وجہ سے بنا کسی رشتے کے والدین بن گئے۔ ان تمام صورتوں میں دو مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہوئے جن میں رہن سہن بودو باش اور سب سے بڑھ کر زبان کا فرق حائل رہا ۔
    جھگڑوں میں بچوں کی دعوے داری سرفہرست رہی۔ نا ماں ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہوتئ نا باپ۔ حکومت کو ایسے معاملوں میں نہ صرف ثالثی کرانی پڑی بلکہ ایسے بچوں کو سرپرستی میں بھی لینا پڑتاہے ۔
    سیہون اور وہ قریبی پارک میں آئے تھے ۔ بنچ پر بیٹھ کر وہ اسے تفصیل سے بتا رہا تھا۔ اسکی آخری بات پر وہ نگاہ چرا گئ تھی۔ایسے بھی والدین ہوتے ہیں بھلا؟ وہ حیران ہوئی سیہون اسکی حیرانگئ کے برعکس اپنی بات جاری رکھے تھا۔
    اسلیئے ان تمام مسائل سے بچنے کیلئے جو جوڑے جن میں ایک ساتھی غیر ملکی ہواور وہ وقتی جذبات یا کسی اور مجبوری کے تحت ایک ہونا چاہتے ہیں انکیلئے نیے سرے سے قانون سازی کی گئ یے۔جس میں بہت شقیں ہیں اسکو سمجھنا آسان نہیں سو کئی ادارے اس طلاق کی شرح کو کم کرنے کیلئے حکومتی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں ۔ایسے ادارے سے منسلک ہو کر شادی کا معاہدہ انکے بنائے معاہدے پر پابند رہتے ہوئے نسبتا آسان ہوتا ہے اسلیئے میں نے ایسے ہی ایک نیم سرکاری ادارے کی مدد لی۔انکے معاہدے کی رو سے۔ ایسے جوڑوں کو کائونسلنگ کےلیئے ادارے سے منسلک ہونا پڑتا ہے یہ نئے شادی شدہ جوڑوں کو نا صرف مفید مشورے دیتے ہیں بلکہ ایک پروگرام کے تحت کوریا میں آنے والے غیر ملکیوں کو ہنگل سکھانے کا بھی اہتمام کرتے ہیں ۔ یہ کائونسلرز چھے مہینے تک جوڑے پر نظر رکھتے ہیں انکے جھگڑے سلجھاتے ہیں انکی قانونی مدد کرتے ہیں۔ ایسے جوڑے خاندان شروع نہیں کر سکتے کم از کم چھے مہینے تک جب تک یہ ادارہ انکو سند نہ عطا کرے ۔ ایسا سرٹیفیکیٹ جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اس جوڑے نے تمام شرائط سمجھ لی ہیں اور ان میں کسی قسم کا بڑا اختلاف نہیں تب جا کرخلاصی ہوگی۔ جو اس رشتے کو نبھانا چاہیں مبارک جو الگ ہو جانا چاہیں انکی طلاق میں مدد بھی یہی کریں گے ۔ یہ ہفتے میں دو بار ملنے آئیں گے جوڑے سے ایک دفعہ بتا کر ایک بار کبھی بھی۔ اسی لیئے چھے مہینے تک جوڑا پابند ہے کہیں جانے آنے کیلئے۔ اگر جانا بھی ہو تو یہ مطلع کر کے جائیں گے۔ پھر ملک کے جس حصے میں جائیں گے وہاں کوئی کونسلر انکو منتخب کردیا جائے گا۔
    سیہون بولتے بولتے جیسے تھکا۔
    میں نے واعظہ کو اس سب کے بارے میں بتایا تھا مگر شائد اس نے تمہیں نہیں بتایا۔
    بتایا تھا۔ فاطمہ نے سر جھکایا۔ مگر میرے پاس فی الحال اور کوئی راستہ نہیں تھا میرا ویزا ختم ہو جاتا تو مجھے ڈی پورٹ کر دیا جاتا ۔۔ جبکہ میں نہیں جانا چاہتی میں نے اسے کہا تھا مجھے ہر شرط منظور ہے۔۔۔
    میں اگر تمہاری جگہ ہوتا تو واپس چلا جاتا۔ سیہون کہے بنا نہ رہ سکا۔
    فاطمہ نے اس پر تیکھی نگاہ ڈالی تو وہ وضاحت کرنے لگا
    جیسا واعظہ بتاتی تم پاکستانی لڑکیاں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتئ ہو وہ تم لوگوں کا خرچہ بھی اٹھاتے ہیں شادی کرواتے ہیں سیٹل کرواتے ہیں تمہیں کیا پڑی ہے اتنے مہنگے سیول میں جبکہ تمہارا یہاں کوئی کیریئر بھی نہیں ہے پڑھ بھی نہیں رہی ہو اتنا خجل خوار ہوکر یہاں رہنے کی؟
    پاکستان میں رہو آرام سے جا کر وہ تمہارا اپنا ملک ہے۔۔
    یوں پرائے دیس۔
    اس سے مزید فاطمہ کی نگاہ برداشت نہ ہوئی تو چپ کر گیا۔
    تم کبھی لڑکی رہے ہو اپنی 27 سالہ زندگی میں؟
    فاطمہ کا سوال کم انداز ذیادہ تیکھا تھا۔ وہ حیران سا سر نفی میں ہلا گیا
    تم نے کبھی لڑکی بن کر زندگی گزاری ہے؟ کبھی پاکستان جا کر رہے ہو؟
    جواب ظاہر ہے نفی میں سر ہلاتے جانا ہی تھا۔
    تم نے کبھی پاکستان میں لڑکی کی زندگی نہیں گزاری ہے ۔ تم کبھی بھئ میری جگہ نہیں ہو سکتے۔
    وہ قطعی سے انداز میں کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔
    سہون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاری ہے۔

  • Desi Kimchi Episode 5

    رجسٹرار کے پاس ایک نیا بیاہتا جوڑا بیٹھا تھا ۔
    رجسٹرار دونوں کو حیران نظروں سے گھورے جا رہا تھا۔۔
    وجہ یہ نہیں تھی کہ پہلی بار کسی کوریائی نے غیر ملکی لڑکی سے شادی کی تھی بلکہ وجہ ایسی کسی بھی شادی میں جو نئے بیاہتا جوڑے کے چہرے پر رونق اور چمک ہوتی ہے اسکا فقدان ہونا تھی۔ اور یہ وجہ تو چلو اتنی بڑی نہیں مگر جس طرح دونوں دانت پیس کر ایک دوسرے کو گھور رہے تھے وہ تھی وجہ۔۔
    خیر دونوں نے دستخط کر کے قلم پٹخا اور فورا سے پیشتر اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
    آپ دونوں کو بہت مبارک ہو۔میری دعا ہے آپ دونوں کا ساتھ مرتے دم تک قائم رہے اور خدا آپکو خوبصورت بچوں سے نوازے آمین۔۔
    چندی آنکھوں والا اپنی نشست سے اٹھا اور مخصوص کوریائی انداز میں جھک کر کہتے ہوئے ہاتھ ملانے لگا لڑکی نے تو کھا جانے والی نظر سے گھورنے پر اکتفا کیا مگر لڑکے نے جلدی سے ملا لیا ہاتھ مبادا کہیں لڑکی گھور گھور کر جو اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی ہے کہیں سچ مچ ہی کچا نا چبا جائے۔۔ مگر
    رجسٹرار نے کوئی نئی انوکھی بات نہیں کی تھی۔ ہر شادی کے اندراج کے بعد جوڑے کو نیک تمنائوں کے ساتھ مبارک باد دینا اسکا کام تھا۔۔
    مگر یہ جوڑا تھوڑا مختلف تھا۔۔وہ کھسیا کر انکی شادی کی دستخط شدہ فائل کو کھول کر دیکھنے لگا۔۔
    کیا کہا اس نے؟۔۔ لڑکی نے غصے سے لڑکے سے انگریزی میں پوچھا تھا۔
    لعنت بھیج رہا ہے ۔۔ لڑکا بڑبڑایا۔۔
    کیا؟۔ لڑکی حلق کے بل چلائی تھئ پورے دفتر میں لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئ۔۔
    اسکی جرائت کیسے ہوئی یہ جانتا نہیں میں کون ہوں ابھی ۔۔۔ابھی اس کی تقریری جاری تھی سیہون نے گھبرا کر دیکھا تو سب انکی جانب متوجہ تھے کچھ تو منہ کھول کر دیکھ رہے تھے۔ مگر یہ تو لڑکی کے چلانے سے پہلے سے گھور رہے تھے۔۔ دو ملکوں کے لوگ شادیاں کرتے ہی ہیں مگر یہ اور ایسی شکل کے لوگوں کو پہلی بار اکٹھے دیکھا کم از کم وہا ں حاضر لوگوں نے۔۔
    شٹ اپ۔۔ وہ آواز دبا کر دانت کچکچا رہا تھا۔۔
    معزرت ۔۔ سیہو ن جھک کر کوریائی انداز میں سب سے معزرت کر نے لگا پھر سیدھا ہو کر لڑکی سے بولا۔۔
    ہماری شادی شدہ زندگی کے لیئے نیک تمنائوں کا اظہار کر رہا ہے احمق۔۔ اور تم تھوڑی دیر کیلئے منہ بند نہیں رکھ سکتیں۔۔
    نہیں میرا منہ ہے میرا جب جو دل چاہے گا بولوں گی۔۔ تم اس سے پوچھو طلاق کا کیا طریقہ کار ہے ۔۔
    لڑکی اسکے غصے کو خاطر میں نا لائی بلکہ مزید تیز ہو کر دبنگ انداز میں بولی تھی۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔
    ابیہا کی امی کا فون آیا تھا انکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی فورا اسے واپس آنے کو کہہ رہی تھیں۔۔ ابیہا فون سنتے ہی تڑپ اٹھی تھی۔۔ جھٹ کال ملا کر اگلی فلائیٹ دبئی کی بک کروا لی تھی۔۔پھر بیٹھ کر رونا شروع کردیا۔۔
    سحری تیار کرتے ہوئے وہ سب باری باری اپنی سی کوشش کر رہی تھیں اسے خاموش کرانے کی۔۔
    الف نے اسکا کندھا سہلاتے ہوئے دلگیری سے کہا۔۔
    دیکھو اب تم اتنی دور ہو چاہ کر بھی فورا انکے پاس نہیں پہنچ سکتی ہو۔سحری تو کر لو۔۔
    نور نے سر پیٹ لیا۔۔ دانت پیس کر بولی
    یہ تم دلاسہ دے رہی ہو یا اسے مزید پریشان کر رہی ہو۔۔
    فاطمہ کو خوب موقع ملا تھا۔ہنس کر بولی
    ایک بار کائی نے آکٹوپس کھایا تو وہ اسکی زبان سے چپک گیا تو جہاں سب میمبرز گھبرا کر اسکو مشورے دینے لگے تو سیہون نے ہنس کر اسے کہا اب تمہاری زبان پر سے جب کیکٹس اترے گا ٹیسٹ بڈز بھی ڈیمج کرکے اترے گا کچھ عرصے تک کسی چیز کا ذائقہ محسوس نہ ہوگا ہاں یہ ہے کہ ٹھیک بھی ہو جائے گا مگر سنا ہے آکٹوپس کے ڈنک ہمیشہ چبھے بھی رہ جاتے ہیں۔۔
    عروج نور اور اب تو ابیہا بھی اسے منہ کھول کر دیکھ رہی تھیں بھلا کیا مقصد ہوا اس بے وقت کی راگنی کا۔ الف کے البتہ تلوے سے لگی آگ اور سر پر جا بجھی۔۔چبا چبا کر بولی
    جن اور جنگ کوک کا قصہ یاد ہے کسی کو جب جنگ کوک کو بخار چڑھا تھا تو جن اسکے سرہانے ساری رات بیٹھا رہا تھا مگر صبح جب تائی ہیونگ آیا توجن کو کہنے لگا جنگ کوک بیمار ہے اور تمہارے لگائو سے چڑتا بھی ہے تو تمہیں اس کے قریب رہ کر مزید اسے پریشان نہیں کرنا چاہیئے۔ جن کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے مگر وہ اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔
    اب اس بات کو بتانے کا کیا مقصد۔۔عروج پوچھے بنا نا رہ سکی۔
    ایکسول کو فالتو بولنے کی عادت ہوتی سوال گندم تو جواب گنا یہ ڈی او کی تربیت ہوتی ہے انکی۔۔ فاطمہ نے کندھے اچکائے
    اور آرمی ہمیشہ نا قدرے بے قدرے سنگدل ہوتے ہیں کچھ بھی۔۔۔۔
    الف کی ریل گاڑی چل نکلی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج پراٹھے واعظہ بنا رہی تھی تھپ تھپ ہاتھ پر بڑھاتی وہ دو مرتبہ تو ہے جن کو لگا فرائی پین پر ہی ہاتھ رکھ گئ ہے مگر اسکی چیخیں نہیں نکلیں تو سمجھا جا سکتا تھا کہ یا تو وہ آگ پروف ہے یا خود ہی جلی بھنی ہوئی اتنا ہے کہ اب باہر کی آگ اثر نہیں کرتی۔۔
    ہے جن کی خوشبوئوں سے یا چہل پہل سے آنکھ کھل گئ تھی سو کیٹر پلر زرا سا سر باہر نکالے موبائل میں مگن تھا۔۔
    الف اور فاطمہ کی کمرے میں گھمسان کی جنگ چھڑی ہوئی تھی عروج کان دباتی باہر نکلی تو ہے جن نے پوچھ ڈالا
    یہ کس بات پر بحث چل رہی ہے؟
    کورین خود اتنی اونچی آواز میں بات کرنے کے عادی ہوتے کہ اسے کوئی عجیب بات لگی ہی نہیں۔۔
    اس بات پر کہ سخت دل ایکسول ہوتے یا آرمی۔۔
    عروج نے کندھے اچکائے ہے جن حیرانگی سے دیکھتا رہ گیا
    واقعئ مجھے تو لگا تھا ہم کورینز سے زیادہ عجیب اور پاگل لوگ نا ہونگے اور بھی کارٹون ہیں بستے بھئی۔۔
    وہ ہنگل میں بڑ بڑایا تھا۔۔
    یار ان سب سے کہو بھاگ کر آجائیں وقت کم رہ گیا ہے
    واعظہ نے مڑ کر عروج سے کہا تو وہ دونوں ہاتھ اوپر کرتی بولی۔۔
    نا بابا اس جنگ و جدل سے مجھے پرے ہی رہنے دو۔۔
    عشنا یار تم جا کر بلا لائو۔۔
    واعظہ نے منت کرنے والے انداز میں کہا تووہ ٹھنڈی ساسنس بھرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    اب دوبارہ کس بات پر لڑائی ہو رہی؟
    آخری پراٹھا اتارتے ہوئے واعظہ کا انداز سرسری تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ دیکھو، یہ دیکھو۔۔
    دو عدد چھے چھے انچ کے موبائل اسکی آنکھوں کے سامنے تھے دونوں پر الگ الگ ویڈیوز چل رہی تھیں دونوں گانوں میں کالے لمبے چغے پہنے لڑکے چیخ رہے تھے
    ایک ہی کی آواز آتی تو شائد اسکے پلے کچھ پڑتا مگر دونوں کی فل والیم میں آوازیں دائیں بازو پر الف جھکی تھی بائیں پر فاطمہ اور ۔۔۔
    تم دونوں مجھے دکھا کیا رہی ہو۔۔
    عشنا کو دونوں نے کھسوٹ ڈالا یہ دیکھو یہ دیکھو کرکے بیچاری چلا اٹھی۔۔
    یہ کہ نقلچی ہے کون۔۔ ایکسو نے ڈارک تھیم پر یہ ویڈیو پہلے بنائی تھی اور انکا گانا ہٹ گیا ملینز ویوز ہیں اور یہ بی ٹی ایس پوری کی پوری ویڈیو کاپی کر کے انکی محنت چوری کرکے ویوز۔ الف کی سانس پھول رہی۔تھی
    اور یہ دیکھو ایکسو نے پوری کی پوری ویڈیو یہ اس انگریز بیںد کی کاپی ماری تھی سب سے پہلے مغرب نے ہی ڈارک تھیم پر ویڈیوز بنانی شروع کی تھیں ایکسو نے حقوق لے رکھے کیا وہ جتنی مرضی نقل کر لیں انکے سوا کوئی ڈارک تھیم پر ویڈیو نا بنائے گا؟۔۔ فاطمہ کا جوش بھی عروج پر تھا بات کاٹ کر شروع ہو چکی تھی۔۔
    اف خدایا بس کرو پاگل کردوگی تم دونوں ہمیں۔۔
    نور نے سر پکڑ لیا تھا۔۔ اسکے بھنانے پر دونوں یکدم
    چپ ہوئی تھیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہے جن اب بستر سے نکل چکا تھا اور دسترخوان لگا رہا تھا۔۔
    بے چارہ انکی اس ہڑ بونگ جو صبح سحری کے نام پر یہ سب مچایا کرتی تھیں میں سو تو پاتا نہیں تھا لہزا انکی مدد کروا کر ثوب کمانے لگا تھا۔۔ نا شتہ کرکے تھوڑا بہت پڑھتا پھر اسکول نکل جاتا تھا۔۔
    گرم پراٹھے آملیٹ رات کا بچا چنے کا سالن اور گرین ٹی اسکی عادت انکو یہیں آ کر پڑی تھی کیونکہ کالی ٹی آسانی سے دستیاب ہوتی نہیں تھی۔
    خلاف معمول سب خاموشی سے آکر بیٹھ گئ تھیں
    ہے جن نے گنتی شروع کی سب موجود تھیں سوائے عزہ کے اعزہ نونا کو تو جگا دیں۔۔
    اسے اپنی بہن کا خوب خیال تھا بھئ۔۔
    ہاں عزہ کو تو اٹھا ئو۔۔ واعظہ کہتے ساتھ ہی نوالہ چھوڑ کر اٹھنے لگی تو نور نے ہاتھ پکڑ کر روکا
    اس نے روزہ نہیں رکھنا ۔۔ اس نے کان میں چپکے سے کہا۔۔
    پھر ہے جن کو دیکھ کر انگریزی میں بتایا
    وہ آج سحری نہیں کرنے کا ارادہ رکھتی۔۔
    اب یہ زومعنی جملہ تھا روزے کا زکر نہیں تھا۔ ہے جن سر ہلا کر ناشتے میں مگن ہو گیا۔
    اسمیں اتنی رازداری برتنے کی کونسی بات۔۔
    عروج ہنسی
    رکھنا تو تم نے بھی نہیں تھا روزہ کیوں اٹھ کے بیٹھی ہو؟
    واعظہ نے کہا تو عروج نے سستی سے جواب دیا اب کھا کر سوئوں گی تو اٹھوں گی تھوڑی بس اسپتال جاتے وقت اٹھوں گی۔
    جانے کس منحوس گھڑئ یہ الفاظ منہ سے نکلے تھے اسکے
    کہ۔۔
    تم ابیہا کو ائیر پورٹ چھوڑنے نہیں جائوگی؟
    الف نے یوں کہا تھا جیسے ایسا نہ کر کے وہ کسی بڑی سعادت سے محروم رہ جائے گئ۔۔ عروج کھسیائی تو ابیہا کو وہیں اپنا جانا یاد آگیا دوبارہ اسی کیفیت میں پہنچ کر جس کیفیت سے فاطمہ اور الف کی لڑائی نے باہر نکالا تھا منہ تک لے جاتا نوالہ واپس پلیٹ میں رکھ دیا ۔ سب الف کو گھور کر رہ گئیں۔ الف میں نے کیا کیا کے مصداق معصوم سئ شکل بنا کر سحری ٹونگنے لگی۔
    میں کافی بنانے جا رہی ہوں اور کسی نے پینی ہے ۔
    اس سے پہلے کہ باقی سب سحری کرنے پر اصرار کرتیں ابیہا اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ واعظہ کا ہاتھ سب سے پہلے کھڑا ہوا تھا۔۔وہیں ایک اعتراض بھئ اٹھ کھڑا ہوا
    انی آپ لوگ سارا دن کچھ کھاتی پیتی نہیں ہیں کافی مت پیا کریں پیاس لگتی ہے اس سے۔۔ بڑا سا نوالہ منہ میں بھرے ہے جنپ نے مخصوص کوریائی انداز میں بات کی تھی اور وہیں اسکے حلق میں نوالہ پھنسا
    کھوں کھوں۔۔
    اسے کھانستے دیکھ کر عزہ نے فورا گلاس پانی کا پیش کیا مگر وہ دیکھتے ہی دیکھتے نیلا پیلا ہونے لگا بلکہ لال ٹماٹر بھی۔۔
    اف ۔ان سب کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔۔ ابیہا اسکی پشت پر مکیاں مار رہی تھی تو نور کا بروقت زہن چلا۔۔ انگلی سے چھت کی جانب اشارہ کرکے بولی
    وہ دیکھو اوپر چڑیا۔۔
    سوائے جن کے سب نے اوپر دیکھا۔۔ کیونکہ موصوفہ نے نا انگریزی نا ہنگل بلکہ حسب عادت اردو میں بولا تھا۔۔جوابا وہ جھلائی۔۔
    اوہو تم لوگ نہیں جن کو کہا ۔۔جب بچپن میں نوالہ پھنستا تو سب بڑے ایسے ہی کہتے تھے نا۔۔
    مگر وہ اردو میں ہمیں کہتے تھے جن کو خاک سمجھ آنی۔۔ عزہ نے دانت پیسے۔۔ جن کی کھانسی تھمی گہری سانس لینے لگا۔ اور اپنے کندھے سہلانے بھی لگا ۔۔ ابیہا کا ہاتھ کافی بھاری تھا۔۔
    اسی لیئے بڑے ہمیں کھانے کے بیچ بات کرنے سے منع کرتے تھے۔ عشنا مدبر بن کر بولی
    اور نوالے بھی چھوٹے لینے کا کہتے تھے۔ نور نے تاسف سے جن کی لال شکل دیکھی۔
    میں معذرت خواہ ہوں۔طبیعت بحال ہوتے ہی وہ کورنش بجا لایا
    مخصوص کوریائی انداز سے بیٹھے بیٹھے ہی جھک کر معزرت کی۔ اپنی غلطی ہو تو بھی معافی نا مانگنے والیاں اس پر نثار ہی تو گئیں۔
    آندے آندے۔ الف اور فاطمہ اکٹھے بولیں پھر اکٹھے ہی ایک دوجے کو گھورنے لگیں۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔
    وہ سب عمارت کے باہر زیلی سڑک پر ٹیکسی کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ واعظہ نے حسب عادت سر گنے
    عشنا ، الف ، نور ، عزہ ، فاطمہ ، 5 لڑکیاں۔ یقینا ایک ٹیکسی سے زائد کی سواری ۔
    واعظہ نے گہری سانس لی پھر سڑک کنارے لمبے ڈگ بھرنے لگی۔۔
    ارے کدھر جا رہی ہو لغت۔۔ نور کے منہ سے بے ساختہ نکلا پھر زبان دانتوں تلے دبا لی۔ واعظہ نے مڑ کر کڑے تیور سے گھورا
    بندے گنو ایک ٹیکسی میں آئوگے؟
    ایک دو۔۔ عشنا سڑک پر موجود بندے گننے لگی۔۔
    بندے ہمارے ساتھ کیوں آرہے ہیں؟ وہ الف کے کان میں منمنائی۔۔
    ہاں تو تم دو ٹیکسیاں بھی یہیں سے کر سکتی ہو۔۔
    یہ فاطمہ تھی۔۔
    واعظہ نے تاسف سے سر جھٹکا۔۔
    ہم میٹرو سے جائیں گے۔۔
    یئے۔ عشنا خوش ہو کر تالی بجا گئ۔۔ اسکے بے طرح خوش ہونے پر سب پلٹ کر گھورنے لگیں۔۔
    وہ میں آج تک میٹرو سے کہیں نہیں گئیں۔۔
    اس نے دھیرے سے کہتے اپنی ایکسائٹمنٹ دبائی
    کیا واعظہ دو ٹیکسیاں کر لیتے ہیں نا کیا میٹرو سے جانا اب تنگ ہو کے۔۔
    عزہ نے کہا تو واعظہ نے کندھے اچکائے۔
    دو ٹیکسی وارا نہیں کھاتی ایک ٹیکسی کی سواری ہو جائو تو چلتے ہیں۔
    ہاں تو ایک میں بھئ آجائیں گے مجھے ابیہا گود میں بٹھا لے گی ۔
    عزہ مزے سے بولی تو چاروں چونکیں۔۔
    ابیہا ۔ وہ کہاں ہے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں بہت یاد کروں گی تمہیں جانے اب کب آنا ہو میرا پاکستان میں تم رابطہ ضرور رکھنا میں آئی تو ملنے آئوں گی تم سے۔۔
    فلیٹ کے باہر راہداری میں طوبی ابیہا کے گلے لگی آنسو بہا رہی تھی۔ ابیہا کی آنکھیں بھی چھم چھم نیر بہا رہی تھیں۔
    اسکا سامان باہر لا لاکر رکھتی عروج کا تیسرا چکر تھا دو بڑے اٹیچی ایک چھوٹا بیگ۔
    پہلے دونوں چکروں میں بھی وہ ان دونوں کو اسی زاوئیے سے یونہی گلے لگے نیر بہاتے دیکھتی رہی تھی
    بہت کم وقت کا ساتھ رہا ہمارا مگر سچ ہے آپ سے بہت اپنائیت محسوس ہوئی ہے کاش ہم کچھ عرصہ اور۔۔
    ابیہا آنسو پونچھتی یہیں تک کہہ پائی تھی کہ عروج بول پڑی
    یہ عرصہ طویل ہو سکتا ہے اگر تم یہیں ایسے کھڑی روتی رہیں تو فلائیٹ تو مس ہو ہی جائے گی۔
    جانے مردوں میں رہ رہ کر جزبات بھی مردہ ہوچکے اس لڑکی کے زرا جو۔۔ طوبی دل ہی دل میں بڑبڑا تی ابیہا سے الگ ہوئی ابیہا کو بھی فلائٹ کا سن کر کرنٹ سا لگا تھا ۔ سیدھی ہوئی اور سامان اٹھانے لگی۔۔
    یہ لوگ کہاں ہیں کم از کم بیگ ہی کوئی اٹھا لے جاتی میرے ساتھ۔۔ ابیہا کا شکوہ بجا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاباش ہے جسکی فلائٹ ہے وہ موصوفہ نیچے اتری تک نہیں ہیں۔ حد ہے یار ہم سارے منہ اٹھا کر ائیر پورٹ پہنچے ہوتے مکھیاں مارنے۔۔ یہ نور تھئ تپی ہوئی۔۔ واعظہ نے بیگ سے فون برآمد کیا یقینا ابیہا کو ہی کال ملانے کیلئے۔۔
    عزہ نے اپنے لانگ کوٹ سے موٹی سی چاکلیٹ بار نکالی ریپر کھولا ابھئ بڑا سا منہ کھول کر نوالہ لینے ہی لگی تھی۔
    عزہ نونا آندے۔۔ ( عزہ باجی نہیں)
    یہ جن پکارا تھا اتنا زور سے اتنا اچانک کہ اسکے ہاتھ سے ادھ کھلی چاکلیٹ پٹاخ سے چھوٹ کر زمین پر جا گری۔۔ سراسیمہ ہو کر آواز کے منبع کو دیکھا تو دور سے بڑا سا بیگ اٹھائے ایک اٹیچی کو وہیل سے کھینچتے ابیہا کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے جن ۔
    ابیہا بھی ایک عدد اٹیچی کھینچتے اسکے ساتھ چلتے اسے حیرانگئ سے دیکھ رہی تھئ۔۔
    آندے نونا آپ بھول رہی ہیں رمضان ہے روزہ ہے آپکا۔۔
    وہ تیز تیز قدموں سے چلتا اسکے پاس آکر پھولی سانسوں سے بولا۔۔
    آں ہاں وہ میں۔۔ عزہ سٹپٹا سی گئ۔
    باقی سب کو خاصی زور سے ہنسی آئی تھی مگر خیر۔۔
    چلو ہم میٹرو سے جائیں گے سو سب ساتھ رہنا۔ ہے جن تم بھی چل رہے ہو ہمارے ساتھ؟۔ واعظہ نے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے کہا تو ہے جن نے بڑے زور شور سے اپنا کدو ہلایا تھا۔۔
    دے میں ہونگ بن یونیورسٹی پر اتر جائوں گا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زیر زمین میٹرو ٹرین کے اسٹیشن کی دنیا ہی الگ تھی چم چم پھسلا دینے والا چکنا فرش۔ پیلی سرخ لکیریں دیوار پر ایک مخصوص راستے کی نشاندہی کر رہی تھیں تو بالکل سامنے دیوار پر پورے میٹرو کے راستے کا نقشہ بنا ہوا تھا۔انچیون ائیر پورٹ کا اسٹیشن دیکھ کر سب کو بڑے فخر سے ہے جن نے نام بتایا۔ جو ان سب کے اوپر سے گزرا خیال یہی تھا کہ جہاں سب اتریں گے یا لغت اترے گی وہیں جو چل سو چل۔
    واعظہ خود ان کو نقشے کا معائنہ کرتے دیکھ کر ٹیکٹ بوتھ کی جانب بڑھ گئ۔
    جب آدھے درجن سے زاید افراد کے ٹکٹ کٹوائے تو ایک لمحے کو اسکو یہی خیال گزرا کہ حماقت ہی کی ہے ٹیکسی کر لینی تھی لیکن اپنی غلطی کا ادراک کر لینے کے بعد اسی غلطی کو مان لینا اور سنگین غلطی ہوتا ہے یہی سوچ کر بے نیازی سے انکی جانب مڑی
    چلو یہ پیلی لکیر کا پیچھا کرو سب ۔ سب اندھا دھند اسکے پیچھے چل پڑیں۔ تبھی ٹرین آنے لگی میٹرو میں ٹھیک ٹھاک ہجوم تھا ان سب کو دھکم پیل سے اندر جانے کیسے گھسا ہی iدیا ہجوم نے۔
    پاکستان کے برعکس نہ خواتین اور مردوں کی علیحدہ نشستیں تھیں نہ ہی خواتین اور مردوں میں یہ فرق روا تھا کہ خاتون کیلیئے نشست چھوڑ دی جائے۔۔ ریل گاڑی کھچا کھچ بھری تھئ عشنا کا دم گھٹنے لگا تھا ۔ جانے شکل پر کیا بے چارگی چھائی کہ اگلے اسٹیشن پر اترنے کاارادہ باندھتی آہجومہ ازراہ ہمدردی اسے اپنی خالی کی گئ نشست پر براجمان ہونےکا کہتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔ جےہن سے باتوں میں مشغول عزہ نے نشست خالی ہوتے دیکھ کر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیٹھ جانا چاہا کہ نازک سی آہجومہ حلق کےبل چلائی۔۔
    آندے۔۔عزہ تو عزہ خود عشنا بھی لرز کر رہ گئ
    یہ اس لڑکی کیلئے خالی کی ہے میں نے۔۔ چلاتے ہوئے یی
    آہجومہ نے عشنا کا ہاتھ پکڑ کر نشست پر بٹھا ڈالا۔۔
    عزہ لال پیلی نہیں ہوگئ۔۔
    یہ چلا کس خوشی میں رہی ہے۔۔وہ عبایا کی آستین چڑھا کر بڑھی تھی اسکی جانب۔۔۔فاطمہ نے باقائد جپھی ڈال کر روکا تھا۔ ہر اسٹاپ پر انکی منتظر نظریں لغت کے سپاٹ چہرے پر جاتیں ۔ دنیا بھر کے اسٹاپ آگئے انکے نہ آئے ٹرین کا رش آدھا رہ گیا۔عشنا کو بیٹھے بیٹھے اونگھ آگئ۔ ہےجن عزہ کے شروع ہوئے قصےکو بیچ میں روکتا وعدہ کرتا ہوا کہ واپسی پر وہیں سے بات سنے گا جہاں سے منقطع ہوئی ہے ہاتھ ہلاتا بھاگم بھاگ اترا
    آدھے گھنٹے کے سفر میں خوب دھکم پیل سہہ کر جب برداشت کی حد تمام ہو چلی تھی دروازے کے قریب جڑی کھڑی واعظہ نے اعلان کیا کہ اگلے اسٹیشن پر اتر جانا ہے۔۔
    اب اگر اس نے اترنے کانہ کہا ہوتا تو بھی میں نے اتر جانا تھا۔۔
    نور نے دانت کچکچائے۔۔
    سب نے اتر کر ٹھیک ٹھاک سنائی۔پلیٹ فارم سے نکل کر برقی سیڑھیاں چڑھتے اسٹیشن سے باہر نکلنے تک واعظہ اپنی سنگین غلطی پر ٹھیک ٹھاک سزا پا چکی تھی مگر اندر سے ۔ باہرسے ازلی ڈھیٹ بے نیاز سی شکل بنائی ہوئی تھی۔جوانکو مزید تپا رہی تھئ مجال ہے جو اثر لے تھوڑاسا جوبھی کہہ لو
    میرا تو ہاتھ شل ہو گیا ہینڈل پکڑے پکڑے۔۔
    نور بازو سہلا رہی تھی۔
    الف کو یہ ایڈونچر بھی مزے لگا تھا سو خاموشی سے انکے ساتھ قدم بڑھا رہی تھی
    لغت ویسے اتنے بھی غریب نہیں ہم۔ اب طے ہوچلا ہے واپسی پر ہم میٹرو سے ہرگز نہیں جائیں گے۔
    فاطمہ نے ناک چڑھائی واعظہ نے گھور کر دیکھا تو جلدی سے بات بناگئ
    ہم بس سے جائیں گے واپس۔
    لو کیا فائد خواری تو اس میں بھی ہونی۔۔
    عزہ کو سخت اعتراض تھا۔۔
    واعظہ سڑک پر ہاتھ دے کر کیب روک رہی تھی۔
    اب یہاں سے کیب کے زریعے ائیر پورٹ جانا تھا دس سے پندرہ منٹ کا سفر تھا ارادہ تو اسکا انکو پیدل طے کرانے کا تھا مگر فی الحال کافئ ہوچکی تھی سو چپ کرکے انکو کیب کی راہ دکھا رہی تھی۔۔عزہ ، الف، نور ، ابیہا ، فاطمہ
    پانچ ۔
    واعظہ ٹھٹکی۔
    ایک آگے آکر بیٹھ جائے محترمہ
    ڈرائیور پانچ لڑکیوں کو بے دردی سے سوار ہوتے دیکھ کر منمنایا۔۔
    کیا بول رہا ہے یہ؟۔ عزہ ابیہا کے کان میں جھکی
    پانچ ہو تم لوگ۔۔ واعظہ نے آنکھیں پھاڑیں
    یہ کہہ رہا ؟ بڑی نئی بات بتائی ہمیں بھی پتہ ہم پانچ ہیں
    الف ہنسی
    گھر سے نکلتے وقت میں نے گنا پانچ سر تھے
    پھر جواب واعظہ کی جانب سے آیا تھا۔
    ہاں ہم پانچ پورے ہو گئے تم آگے بیٹھ جائو
    فاطمہ نے فراخ دلی سے کہا
    ہاں تو ہو گئے نا پانچ۔۔ ابیہا نہ سمجھی
    تم سب سے آخر میں آئی تھیں تو چھے ہوگئے تھے سر میرے علاوہ اب تم کو ملا کر پانچ ہیں۔۔
    واعظہ کے انداز میں فکر در آئی۔۔
    وہ ہے جن اتر گیا نا اسٹیشن پر۔۔ عزہ نے تسلی دینی چاہی۔۔
    آہجمومہ چلیں۔ ڈرائیور اجنبی زبان میں گٹ پٹ سے بیزار ہوا
    الف ، نور ، فاطمہ ، عزہ ، ابیہا ۔ اس نے ایک ایک کو دوبارہ گننا شروع کیا۔۔
    عشنا۔۔ عزہ چونکی۔۔ عشنا تو سیٹ پر سو گئ تھی میں نے سوچا تھا کہ اسے اترتے وقت اٹھا دوں گی پر۔۔
    عزہ نے کہتے کہتے جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا سب کی خشمگیں نظریں اس کے چہرے پر گڑی تھیں۔
    آہجومہ چلیں۔۔ ڈرائیور پھر بولا
    پانچ لڑکیاں اکٹھے چلائیں
    آندےےےےےےےے
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔
    آہجومہ آہجومہ۔۔ اسکا سر کسی نے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا ہوا تھا اور بڑے دلار سے پکار رہا تھا۔۔
    عشنا نے کسمسا کر اسکی نشست کے ڈنڈے کا سہارا لینا چاہا جس کے بل پر سر رکھ کر سوگئی تھی مگر۔۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ وہی میٹرو ٹرین وہی نشست مگر سب انجانی شکلیں۔ اس نے خوفزدہ نظروں سے سامنے دیکھا دو تین چندی آنکھوں والے اسکے گرد کھڑے اسکو جگانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔
    گھمسامنیدہ ۔ میں مزید بھی آپکو اپنا کندھا فراہم کر دیتا سونے کیلئے مگر مجھے اس اسٹیشن پر اترنا ہے۔جاگنے کا شکریہ۔۔
    ہنگل سے شروع کرتے ہوئے اس چندی آنکھوں والے پچیس چھبیس سالہ لڑکے کے انداز میں شرارت اور زبان پر انگریزی اتر آئی تھی۔۔ اسکی بات پر اسکے ساتھی قہقہہ لگا کر ہنسے تھے۔۔
    معزرت۔۔ سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ وہ بری طرح شرمندہ ہو کر سر جھکا گئ۔۔
    کوئی بات نہیں۔۔ وہ اسی انداز سے اٹھتا ہوا ہاتھ ہلاتا اسٹیشن سے اتر گیا۔۔
    یہ سب کہاں گئیں۔ اس نے پریشان ہو کر میٹرو میں جانی پہچانی شکلیں ڈھونڈنی چاہیں۔۔ سب چندی آنکھوں اور گول چہرے والوں میں ایک وہ تنہا اکیلی لڑکی۔
    یقینا اسکی دکھی سہیلیاں اتر چکی تھیں۔ وہ کیا کرے اب؟۔۔ اتر جائوں۔۔ وہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی دروازے کی جانب بڑھی مگر وہ دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں کے سامنے بند ہوگیا۔۔ وہ بے بسی سے گلاس ڈور سے باہر جھانک رہی تھی۔۔
    ہنستے مسکراتے چہروں میں سے کسی نے پلٹ کر دیکھا تو پریشان شکل کی گھبرائی سی لڑکی دروازے پر ایستادہ اسکی نظروں میں جم کر رہ گئ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ائیر پورٹ کی کیب کروا کر واعظہ نے وہیں سے ابیہا کو خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ وہ الٹے قدموں واپس پلٹی تھی عشنا کی تلاش میں۔ وہ سب ابیہا کو ائیر پورٹ کے اندر تک چھوڑنے آئی تھیں۔ ابیہا سے گلے لگ کر سب کی آنکھیں نم ہو چلی تھیں۔
    خیریت سے جائو۔۔ نور نے نم آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا تھا۔۔
    ابیہا مسکرا کر ہاتھ ہلاتی اندر چلتی چلی گئ۔
    بس اتنا سا ایڈونچر ۔۔ عزہ نے منہ بنایا۔۔
    ہاں تو یہاں تمہاری لی من ہو سے ملاقات کروائوں کیا؟
    الف زور سے ہنسی۔۔ ایک بے ہنگم شور بپا ہوا ۔ انہوں نے نگاہ گھمائی تو ایک ہجوم انکی جانب دوڑا چلا آتا دکھائی دیا۔۔ ڈھیر سارے مائکس کیمرے تھامے وہ رپورٹر دوڑے چلے آرہے تھے انکی جانب۔۔ وہ پانچوں گڑبڑا کر رہ گئیں۔۔
    یہ سچ مچ ہمیں ایلین تو نہیں سمجھ رہے؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ شش و پنج میں مبتلا دروازے پر کھڑی تھی۔۔ آگے جائے یا رک جائے۔ یقینا وہ کافی آگے آ چکی تھی مزید آگے جانا حماقت ہوتا۔۔ وہ فیصلہ کرکے بند ہوتے دروازے کو غچہ دیتی تیزی سے نکلی تھی تب بھی اسکا پائوں اٹکا تھا وہ منہ کے بل زمین پر آرہی۔۔ ٹرین کا دروازہ سرعت سے بند ہوا لمحہ بھر کی بھی تاخیر اسکا جانے کیا حال کرتی۔۔
    اپنی بھیانک موت کا تصور اسے منہ کے بل پڑے پڑے ہی رلا گیا تھا۔۔
    آہگاشی۔۔ کین چھنا۔۔ ایک راہ گیر عورت اسکا کندھا ہلا رہی تھی۔۔
    ہمت کر کے وہ آنسو پونچھتی اٹھ کر بیٹھ گئ۔۔
    گھٹنے لگ رہا تھا چور ہو چلے ہیں۔۔۔ وہ وہیں بیٹھی گھٹنا دبانے لگی۔۔
    کیسی منحوس نیند تھی اور میں اتنی فالتو کہ کسی کو یاد بھی نہ رہی۔۔
    چوٹ اجنبیت اور یہ دل دکھا دینے والا احساس وہ گھٹنے میں ہی منہ دے کر سسک اٹھئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آندے۔۔
    وہ موبائل میں تصویر دکھا کر اسٹیشن پر لوگوں سے پوچھتی پھر رہی تھی۔ سب نے صاف انکار کیا تھا۔۔
    یعنی میرا شک صحیح نکلا وہ ہمارے ساتھ اتری ہی نہیں
    واعظہ پریشانی سے اپنے شولڈر کٹ بالوں میں اضطراری انداز میں انگلیاں چلا رہی تھی۔
    میپ۔۔ اسے خیال آیا۔۔ پھر بھاگتی ہوئی اسٹیشن کے ایک جانب لگے نقشے کی جانب بڑھی۔ اگلا اسٹیشن۔۔۔ اس نے تیزی سے انگلی چلائی۔۔
    اب تم رک جانا عشنا آگے نہ بڑھ جانا۔۔
    وہ یوں بڑ بڑائی جیسے عشنا سن ہی تو رہی ہے۔
    ایک بار ملو تو سہی ۔۔سر توڑ دوں گی جو آئیندہ بنا موبائل گھر سے نکلی تم۔
    اسکا پریشانی بھرا لہجہ دھمکی میں بدل گیا تھا۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔
    تکیے میں منہ دیئے وہ بے خبر سو رہی تھی جب کسی صور کی طرح موبائل کی گھنٹی بجنی شروع ہوئی۔ پہلے تو وہ اسے وہم ہی سمجھی۔ مگر جب وقفے وقفے سے گھنٹی بجتی گئ تو اس نے کروٹ بدل کر اپنا موبائل ٹٹول کر ڈھونڈا۔
    اسکا موبائل سائلنٹ تھا۔۔ وہ سستی سے اٹھ کر بیٹھی۔۔ ساتھ والا بیڈ۔ بیڈ کے نیچے۔ سائڈ ٹیبل۔ اسکی درازیں۔
    کرسی ۔ اس پر بکھرے کپڑے اٹھا کر بیڈ پر پٹخے۔ چپل میں پائوں پھنسا کر گالیاں دیتی اٹھی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ہماری آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں۔۔
    وہ چاروں بھونچکا سی کھڑی سامنے ناقابل یقین منظر دیکھ رہی تھیں۔
    ……………………………..
    وہ قریبی پولیس اسٹیشن مدد لینے آئی تھی۔ افسر نے تسلی دینے کے ساتھ ہی اس سے عشنا کا موبائل نمبر مانگا تھا کہ لوکیشن معلوم کر سکے واعظہ گہری سانس بھر کے رہ گئ ۔ اسکے یہ کہنے پر کہ عشنا صاحبہ موبائل گھر بھول گئ تھیں تو اس افسر نے تسلی دے کر رخصت کر دیا تھا کہ ہم ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں انہوں نے پولیس موبائلز کو الرٹ کر دیا تھا۔ شام ہونے کو آئی تھی اسے خوار ہوتے ہوئے۔ وہ تھک کے چور ہو کر گھر واپس آرہی تھی جب سامنے۔۔۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
    وہ سب منے لائوج میں ہنگامہ مچائے تھیں۔ عروج کو اپنے اپنے موبائل سے تصویریں دکھانے کے چکر میں فٹ بال بنا رکھا تھا کوئی کندھے پر جھول رہی تھی اسکے تو کسی نے سیدھا گود میں سر رکھا تھا۔ عروج کو کیا اپنی شادی والے دن پروٹوکول ملنا تھا جو آج ان سکھیوں نے دیا تھا۔
    میں بتا نہیں سکتی کیا حالت تھئ ہماری ہم انکے اتنے قریب تھے کہ آرام سے چھو سکتے تھے انہیں۔ اف خدایا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ شائنی کا پورا گروپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوگا جونگ جوہیون تو مسکرا کر ہمیں آننیانگ کہتا ہوا گیا تھا۔۔
    الف کی آواز جوش سے کانپ رہی تھی۔ نور عزہ فاطمہ کی بھی حالت چنداں مختلف نہ تھی۔
    ہم نے تصویریں لیں منہو نے ہمارے ساتھ تصویر کھنچوائی تصور کر سکتی تھیں کہ کسی دن یوں کورین آئیڈلز سے ائیر پورٹ پر ملاقات ہو جائے گی۔
    عزہ کا خوشی سے برا حال تھا۔۔
    عروج نے سب کے جوش سے سرخ پڑتے چہرے دیکھے تو سر جھٹک کر رہ گئ
    شائنئ تم میں سے کسی ایک کا بھی فیورٹ بینڈ نہیں اسکے میمبرز سے مل کر کیا مزا آیا تم لوگوں کو
    نور کو اسکا یوں ٹھنڈا انداز ذرا پسند نہ آیا۔۔ آستین چڑھا کو بولی
    ہاں تو کیا ہوا مگر پاکستان میں کبھی عطا اللہ عیسی خیلوی تک کو دیکھا ہے آمنےسامنے۔
    نہیں دیکھا تو کیا ہوا اگر دیکھ لیتی تو تصویر کھنچواتے وقت یہ تو پتہ ہوتا نا کہ عطا اللہ عیسی خیلوی ہی ہیں۔ ان میں منہو اور جونگ جوہیون کے سوا کسی کا نام تک نہیں معلوم تم لوگوں کو۔۔
    عروج صاف مزاق اڑا رہی تھی۔ وہ کھسیا سی گئیں۔۔
    یہ بھی سچ تھا۔ سٹی ہنٹر میں جونگ جوہویون کا گانا مشہور نہ ہوا ہوتا تو نام بس منہو کا ہی یاد ہوتا وہ بھی ٹو دی بیوٹی فل یو کی وجہ سے کہ یہ ڈرامہ ان سب نے بڑے شوق سے اکٹھے بیٹھ کر دیکھا تھا۔۔
    مگر یار یہ منہو نے تو ماسک تک نہیں اتارا پتہ بھی نہیں لگ رہا کہ منہو ہی ہے۔ فائدہ ایسی تصویر کا۔۔
    عزہ موبائل میں ذوم کرکے دیکھ رہی تھی تصویر مایوسی سے بولی۔۔
    اگر ایک منہو نے ماسک نہیں اتارا تو کیا ہوا باقی تینوں نے تو اتار کر تصویر بنوائی بھی تو تم عقلمندوں نے نقاب نہیں اتارے ۔۔ یہ تصویریں ہیں بتانا پڑے گا کہ سیلیبریٹیز کے ساتھ آخر کھڑی کون ہے
    فاطمہ کفن پھاڑ بولی تھی تینوں نے گھور کر دیکھا تھا
    عروج عزہ اور نور نے الف البتہ کسی حد تک متفق تھی اور اپنی تصویروں پر مطمئن بھی۔۔
    ہاں تو کیا ذرا سی تصویر کیلئے نقاب اتار دیتے۔۔
    عزہ چمک کر بولی۔۔
    ویسے تم لوگوں کو انہوں نے قریب کیسے آنے دیا تھا؟
    عروج نے پرسوچ انداز میں تصویر دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
    تینوں گڑ بڑا سی گئیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عزہ یہ کوئی سیلیبریٹیز ہیں ہے نا؟۔
    نور نے عزہ کا بازو کھینچا۔۔
    لگ تو رہے ہیں۔ عزہ آنکھیں سکیڑ کر دیکھ رہی تھی۔۔
    وہ چاروں لمبے دبلے لڑکے ماسک پہن کر بھی صحافیوں اور پرستاروں کے چنگل سے بچ نہ سکے تو منہو کے سوا باقی تینوں نے ماسک اتار کر ہاتھ اٹھا اٹھا کر وش کرنا شروع کیا۔۔
    لڑکیوں نے چیخیں ماریں تو صحافیوں نے دھڑا دھڑ تصویریں کھینچنا شروع کر دیں۔۔
    ہم بھی تصویریں لیں۔۔ یہ خیال نور کو ہی آیا تھا۔۔
    چلو۔ رش بہت ہے ہاتھ مت چھوڑنا۔۔ وہ چاروں مصمم ارادہ کرتی ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ناک کی سیدھ میں سر اٹھائے دیکھتیں لڑکیوں میں گھس گئیں۔۔ منی اسکرٹ میں ملبوس گوری گوری لڑکیاں کالے عبایا والی لڑکیوں سے خوف کھاتی پیچھے ہٹتی گئیں۔ راستہ خود بخود بنتا گیا
    نہیں۔ یہ عزہ کچھ کہہ رہی تھی
    ہٹ جائو آگے سے ورنہ کچلی جائو گی۔
    ایک بار اردو میں پھر خیال آنے پر انگریزی میں زور زور سے وارننگ دیتی عزہ خود کش حملہ آور کی چھوٹی بہن ہی لگ رہی تھی۔ باقی تینوں نے بھی یہی جملے دہراتے قدموں کی رفتار تیز کی صحافی تک جان کی امان پاتے ان چاروں کو چھوڑتے پیچھے ہوئے ان چاروں کی سیکیورٹی گارڈز جھٹ دھڑکتے دل کے ساتھ انکو کور کرنے لگے ان چاروں چندی آنکھوں والوں کی آنکھیں جتنی کھل سکتی تھیں اتنی کھل چکی تھیں اوپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے۔۔
    فاطمہ نے یہاں آگے بڑھ کر سیکیورٹی گارڈ کو کہا تھا
    ایک طرف ہو جائو ہمیں صرف انکے ساتھ تصویر لینی ہے۔۔
    رعب دار انداز اوپر سے انگریزی۔۔ وہ گال پر ہاتھ رکھتا ہٹتا گیا۔۔
    دور کہیں ساحل پر کسی لڑکی کے ہاتھوں بنی اپنی اور اپنی گرل فرینڈ کی درگت بروقت یاد آئی تھی اسے۔۔ فاطمہ فاتحانہ انداز میں خوفزدہ سیلیبریٹیز کی جانب بڑھ گئ تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ چار لڑکے تھے جو کسی لڑکی کے ساتھ تھے۔ لڑکی جانے کیوں حلیئے سے جانی پہچانی لگی تھی اسے۔ وہ تیزی سے انکی جانب بڑھی۔۔
    دیکھیں یہاں تک بھی تو پہنچ گئے آگے بھی ہم۔آپکا گھر ڈھونڈن دیں گے آپ روئیں مت۔
    وہ چندی آنکھوں والا عشنا کی آنکھوں سے رواں آبشار کے ہاتھوں خود بھی رونے والا ہوچلا تھا۔۔
    مجھے تو گھر کا راستہ بالکل بھی یاد نہیں میں کبھی گھر نہیں پہنچ پائوں گی۔
    عشنا نے اردو میں کہہ کر ہچکیاں لینی شروع کردی تھیں۔۔
    ہم یہاں کسی دکان سے پتہ کرتے ہیں کہ کوئی فارنرز رہتے ہیں قریب میں۔۔
    ایک لڑکا جان چھڑاتا مارکیٹ کی جانب بھاگا۔۔
    دوسرے نے بھی تقلید کی۔۔
    میں وہاں پتہ کرتا ہوں۔۔
    تیسرا بھی بہانہ کرکے جانے کے چکر میں تھا۔ تیجون نے باقاعدہ اسکا ہاتھ تھام کر روکا اور ملتجی انداز میں ہنگل میں بولا
    مجھے مت اکیلا چھوڑ میں اکیلا اس لڑکی کے آنسوئوں پر بند نہیں باندھ سکتا۔
    تجھے ہی مدد کرنے کی سوجھی تھی اچھا بھلا ہمارا کرائوکے کا پلان تھا اب یہاں ایک غیر ملکی کا گھر ڈھونڈوا اسکے ساتھ..اگلا بھی اس سے چڑا بیٹھا تھا
    یار پوری دنیا میں کورین اوپا مشہور ہیں اپنی مددگار طبیعت اور نرم مزاج فطرت کی وجہ سے کیا تاثر جاتا دنیا میں کہ ہم ایک غیر ملکی روتی لڑکی کو اسٹیشن پر چھوڑ کر آگے بڑھ آئے؟ تیجون کی اپنی منطق تھی
    میں کیا کروں اب یہ لوگ بھی شائد تنگ ہو رہے ہیں چار گھنٹے سے میرے ساتھ گھوم رہے ہیں۔
    عشنا نے سڑ سڑ کرتے ہوئے کہا۔۔
    تو یہ تم لوگوں کا کارنامہ تھا۔ کیا ضرورت تھی اسے لیکر گھومنے کی اسٹیشن پر ہی چھوڑ دیتے کم از کم مجھے خوار ہوئے بغیر مل تو جاتی۔۔
    واعظہ مٹھیاں بھینچتے قریب آکر ہنگل میں چلائی تھی۔ سارے دن کی خواری لہجے میں چھلک آئی تھی۔۔
    ویو؟ دونوں ہکا بکا آنکھیں منہ کھولے اس غیر ملکی نقوش کی غصہ ور آگاشی کو دیکھ رہے تھے۔۔
    امی۔۔ عشنا اسے سے لپٹ گئ
    ہم تو مدد کرنا چاہ رہے تھے۔۔
    تیجون نے صفائی دینا چاہی
    واعظہ نے عشنا کو اپنے سے الگ کیا اور بلا لحاظ شروع ہوئی
    تم دونوں پاگل کے بچوں کی وجہ سے آج سارا دن خوار ہوا ہے میرا۔ کیا ضرورت تھی ہیرو بننے کی۔ احمق گدھے الو پاجی کہیں کے۔ اوپا بننے کا آئیندہ شوق ہو تو کورین بوتھی دیکھ کر اس پر لٹانا ہمدردی سمجھے۔
    دے؟ دونوں ہکا بکا ہوئے
    کیا دوں؟ دل تو کر رہا ایک۔جھانپڑ دوں آئے بڑے اوپا کہیں کے۔۔
    واعظہ نے دانت کچکچائے
    اوپا کہہ رہی یقینا شکریہ ادا کر رہی ہوگی اپنی زبان میں
    تیجون شکریہ کے انداز میں جھکا
    یہ مجھے لگ تو نہیں رہا کہ شکریہ ادا کر رہی ۔۔
    کرس نے واعظہ کے بھبوکا چہرے کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا
    اب کیا جم کے کھڑے ہو جائو راستہ ناپو اپنا۔۔
    دونوں کو جھکتے دیکھ کر اسے مزید غصہ آیا تھا
    دے۔۔ اس بار دونوں نے درست اندازہ لگاتے رفو چکر ہونے میں ہی عافیت جانی۔۔ عشنا اس کے پاس اسکے غصے کی ڈگری ناپتے سہمی سہمی سی کھڑی تھی
    اور تم۔ واعظہ نے روئے سخن اسکی جانب موڑا عمیمہ کی طرح چلائی تھی
    جب موبائل ساتھ لیکر گھوم نہیں سکتی ہو تو خریدا کیوں تھا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج جمائیاں لیتی ہوئی بڑ بڑاتی تیار ہو رہی تھی۔۔
    حرام ہے جو اس گھر میں کوئی سکون سے آرام کر سکے
    اور یہ عشنا صاحبہ آئیندہ موبائل گھر چھوڑ کر گئیں تو توڑ دوں گی ۔۔
    ذرا سا جو آنکھ لگے اسکا موبائل بجنا شروع اوپر سے یہ عقلمندیں جو ساتھ گھوم رہی تھیں پھر بھی ایک ایک نے علیحدہ فون کرکے عشنا کہاں ہو یار پوچھا تھا مطلب جب بتا دیا کہ عشنا موبائل گھر چھوڑ گئ ہے تو بھی علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے فون سے کال کرکے پوچھا ۔۔ آخری فون پر تو دل کر رہا تھا فون اٹھا کر دیوار میں مار دوں۔۔
    تبھئ بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز آئی
    وہ اوور آل پہنتی باہر نکلی ۔ سامنے منہ لٹکائے عشنا اور واعظہ تھکی تھکی سی داخل ہو رہی تھیں۔
    وہ غصے میں بھر کر موبائل پر ہی لیکچر دینے والی تھی مگر دونوں کی شکل دیکھ کر موخر کر دیا ارادہ
    کچھ کھایا تم۔دونوں نے؟ کہاں سے ملی یہ۔۔؟
    اس نے بلا توقف پوچھا۔۔ عشنا نے سر کھجایا۔۔
    پچھلی گلی میں بھٹک رہی تھی۔۔ واعظہ کہتی منے لائونج کے منے صوفے پر گر سی گئ۔ ٹانگیں ٹوٹنے کو آگئی تھیں۔ عشنا سر کھجاتئ غڑاپ سے کمرے میں گھس گئ تھی
    کیا پکا ہے؟۔ واعظہ کو بھوک لگی تھی۔۔
    عروج کو اسکی شکل دیکھ کر ترس آہی گیا۔۔
    کچن سے مٹر قیمہ اور ڈبل روٹی لا کر اسکے سامنے رکھا۔۔ اور خود جلدی سے اپنا بیگ اٹھاتی باہر بھاگی۔۔
    کھانا کھا کر کچھ دماغ ٹھکانے پر آیا تھا۔
    یہ سب سو گئیں کیا اتنی جلدی۔۔
    گھر میں غیر معمولی طور پر خاموشی اسے اب محسوس ہوئی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں گول دائرہ بنائے آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں۔ بیچوں بیچ موبائل اسٹینڈ پر رکھا تھا جسکا اسپیکر آن تھا ویڈیو کال چل رہی تھئ۔ فضا میں الف کی آواز گونج رہی تھی۔۔ عشنا بھی عزہ اور نور کے پاس آ بیٹھی۔
    اپنے اسٹوڈیو میں ادھر سے ادھر چکر کاٹتی بری طرح گھبرائی ہوئی تھی۔
    یار میرے ہاتھ پائوں پھول رے کیا کروں سی ہون آنے والا ہے اور اف میرا چہرہ سرخ ہورہا اوہ نو۔۔
    اس نے چکر کاٹتے ہوئے سامنے دیوار گیر آئینے میں خود کو دیکھا تو لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر اور گھبرا گئ۔
    ریلیکس الف کچھ نہیں ہوادھر دیکھو سب ٹھیک ہے ذرا سا سہیون ہی تو ہے کونسا ہاتھی آرہا اسٹوڈیو میں۔
    عزہ نے اپنی طرف سے تسلی ہی دی تھئ نوراورعشنا اسے گھور کر رہ گئیں۔
    ہاتھئ آجائے اسٹوڈیو میں میں اسکا انٹرویو کر لوں گی آرام سے۔
    الف سرخ گال تھپتھپا رہی تھئ
    ہاتھئ کا انٹرویو کرنے کا کیا فائدہ ۔بھلا۔ عزہ کو سمجھ نہ آیا تو نور نے باقائدہ اسکے گھٹنے چھو لیئے
    فائدہ تو سہیون کا انٹروئو لیکر بھی نہیں ہونا۔۔
    فاطمہ بظاہر بے نیاز سی بنی کچھ فاصلے پر بیڈ پر بیٹھی تھی۔ کانوں میں ہینڈز فری لگی تھی مگر کان انکی کال پر ہی لگے تھے۔ دھیرے سے بڑ بڑائے بنا نہ رہ سکی
    یار مجھے بتائو کیسے اپنی نروس نیس کم کروں ۔ ہے جن جے ہن کہاں ہے اسے بلائو ۔
    الف دوبارہ چکر کاٹنا شروع کر چکی تھی
    ہے جن تو آرمی ہے اس نے کیا کرنا ۔سیہون کا انٹرویو۔ نور سمجھی کہ شائد پروگرام کی وجہ سے کہہ رہی۔۔
    افوہ اس سے پوچھو میں آپکی سب سے بڑی کوریا کی نہیں پاکستان کی۔۔
    وہ سوچ میں پڑئ۔ بلکہ پوری دنیا کی سب سے بڑی پرستار ہوں اسکو ہنگل میں کیسے کہیں گے؟
    اس نے جوش سے کہا تو ان تینوں کا جوش و خروش کم ہوگیا
    اتنا عام سا جملہ کہو گی ۔ یہ تو سب ہی اسے کہتے ہونگے۔۔
    نور نے منہ بنایا
    پھرکیا شادی کیلئے پرپوز کردوں سیدھا؟
    الف بھنائئ۔۔
    نہیں یار کوئی سوچو نیا جملہ نئی بات کوئی ایسا کمپلیمنٹ جو اسے چونکا دے۔۔
    عزہ نے کہا تو فاطمہ کے دماغ کی گھنٹئ بجی۔ پہلو بدل کر بدبدا کر رہ گئ۔
    بلائو ہے جن کو۔۔ الف الگ مشکل میں پھنسی تھی
    ہے جن تو ابھی گھر لوٹا ہی نہیں ۔ابھی جب میں اور واعظہ آئے تو لائونج والا صوفہ خالی پڑا تھا۔ عشنا نے سادگی سے بتایا تو نور اور عزہ اسے چونک کر دیکھنے لگیں پھر چیخ مار کر لپٹ ہی تو گئیں۔
    عشنا۔۔ تم مل گئیں کب آئیں۔۔
    فاطمہ کا دل دہل سا گیا موبائل چھوٹ گیا الف اپنے ہی دھیان میں پلٹی اسٹوڈیو کے دروازے سے اندر داخل ہوتے سیہون اور ژیہانگ نظر آجاتے اگر ان دونوں کے گلا پھاڑ کر چیخنے پر اسکا اسپیکر کھلا ہونے کی وجہ اس نے بھی ڈر کر اچھل کر چیخ نہ مار دی ہوتئ۔
    ہاتھوں سے موبائل کسی گولی کی طرح نکلا تھا اور اندر داخل ہوتے سیہون کی ناک پر پٹاخ سے لگتا دھاڑ سے زمین پر جا گرا۔
    پھر کون سیہون کہاں کا سیہون دل پر ہاتھ رکھتی الف موبائل اٹھانے جھکی
    ہائے میرا نیا فون۔ ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی ہی دھن میں گنگناتے سیٹی بجاتے ہے جن نے لفٹ کا بٹن دبایا اور لفٹ آنے کا انتظار کرنے لگا۔
    لفٹ کا دروازہ کھلتے ہی کوئی اس پر جیسے آن ہی گرا ۔ اتنی عجلت میں کسی نے اسے دھکا دے کر پیچھے کیا اور باہر کی راہ لی کہ وہ موٹی سی گالی جو زبان کی نوک تک آچکی تھی اگل نہ سکا ۔ لمبے چوڑے وجود جس نے کالا سیاہ اپر اور ماسک چڑھا رکھا تھا اسے یقینا کچھ ذیادہ ہی ہلکا لے لیا تھا۔ وہ دانت پیس کر گھورتا ہوا لفٹ میں سوار ہوا۔ اپنے فلور پر پہنچتے ہی لفٹ کا دروازہ کھلا تو سامنے طوبی کھڑی تھئ
    اف شکر کچھ اور بھی مانگ لیتی تو مل جاتا ۔۔
    اسے دیکھ کر وہ چہکی تھی۔
    دے؟ اسکی خاک سمجھ میں آنا تھا کیا بول رہی بس دے کہہ کر ہی رہ گیا۔۔
    آندے۔۔ آندے۔ زرا میرے ساتھ تو چلو نیچے ۔۔
    وہ باہر نکلنے کو تھا جب طوبی نے اسکو بازو سے پکڑ کر دبوچ ہی تو لیا اور دوبارہ لفٹ میں گھس گئ۔۔
    دوبارہ نہیں۔
    جن نے روہانسا سا ہو کر کہا پھر طوبی کے ساتھ کھنچتا گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 4


    قسط چار
    سین ایک۔۔
    urdu web novel seol based korean desi kimchi fan fiction

    سیول کے اس مقامی نائٹ کلب میں گہما گمہی عروج پر تھی۔ ڈے جی نے فل والیم میں موسیقی لگا رکھی تھی ایک جانب من چلے لڑکے لڑکیوں نے ناچ ناچ کر ادھم مچایا ہوا تھا تو دوسری جانب مے خانے کی رونق دیکھنے والی تھی۔ بار کے کائونٹر پر لا تعداد مشروبات سجے تھے اور وہ دونوں اسی کائونٹر پر بازو ٹکائے بچوں کی طرح سر رکھے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔
    کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کبھی زندگی یہاں اس مقام پر لے آئے گی۔۔
    فاطمہ نے یاسیت سے کہتے اپنے سامنے رکھے گول سے وائن گلاس میں پیش کیا گیا لال مشروب کا گھونٹ بھرا ۔۔ بد مزہ سا منہ بنایا پھر گلاس احتیاط سے رکھ کر سر اٹھا کر نشیلی نظروں سے واعظہ کو دیکھا۔
    تم نے سوچا تھا؟
    واعظہ نے برا سا منہ بنا کر سر اٹھایا۔۔ اسکے سامنے بھی وائن گلاس ہی تھا مگر اسکے اندر مشروب سیاہی مائل تھا مگر انداز سے واعظہ کے بھی یہی لگتا تھا کہ پی کر مدہوش ہو رہی ہے۔۔
    اکثر ۔۔ جانتی ہو میری بچپن کی خواہش تھی ۔ تم ہو میں ہوں اور ایسا سجا سجایا مے خانہ۔۔ واہ۔ اور ۔۔
    وہ جھوم کر بولی تھی۔۔ لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر اسکے منہ سے نکل رہے تھے۔۔ فاطمہ چونکی ۔۔ دھیرے سے یونہی پڑے پڑے سر اٹھایا
    جھنچا؟۔۔( واقعی) بے یقینی حیرانگی اسکے انداز سے مترشح تھی
    آئیگو۔۔ ( ارے اف) ازحد حیرانگی۔۔
    کندے۔۔ ( لیکن) وہ چونکی۔۔
    فاطمہ نے ساری ہنگل الٹ دی تھئ۔۔ اب اردو پر آنا ہی پڑا اسے
    پر بچپن میں تو ہم ملے ہی نہیں تھے ایسی خواہش کیسے پالی تم نے؟۔
    اسکی اداکاری دھری رہ گئ تھی سر اٹھا کر ایک ہی سانس میں بول گئ۔
    میں نے بڑی بڑی انہوںی خواہشیں پالی ہیں۔
    واعظہ کا انداز ہنوز تھا۔۔ آنکھیں چندی کھول کر استہزائیہ انداز میں ہنسی
    جیسےجیکی چین کے ساتھ ہیروئن آنے کی خواہش۔۔
    فواد خان سے ملنے کی خواہش۔ اور تو اور ہیری پوٹر کے نویں پارٹ میں ایما واٹسن کی جگہ لینے کی خواہش بھی۔
    یہ جو دل ہے نا۔۔
    اس نے ترچھی نظر سے فاطمہ کو دیکھتے اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔۔
    شمشان گھاٹ ہے آرزوئوں کا؟۔
    یہ مکالمہ یقینا اسکا اپنا نہیں تھا مگر پھر بھی فاطمہ کو تعجب ہوا۔۔ ۔پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔۔
    شمشان گھاٹ کیوں؟ قبرستان کیوں نہیں؟
    اچھا سوال ہے۔
    واعظہ ہنسی۔۔ پھر گلاس میں بچا کچھا مشروب بھئ حلق میں انڈیلا ۔۔ انتہائی برا منہ بنایا جیسے جانے کوئی کڑوا کسیلا زائقہ منہ میں دوڑ گیا ہو۔۔
    اسلیئے کہ قبرستان میں خاموشی ہوتی ہے۔۔ وہ فاطمہ کی جانب زرا سا جھک کر رازداری سے بولی۔
    جبکہ یہاں۔۔ اس نے ڈرامائی سا وقفہ لیا تھا فاطمہ جی جان سے متوجہ ہو چکی تھئ یہی اسکی ڈرامائی حس کو تقویت دے رہی تھئ۔۔
    یہاں بھانبھڑ جل رہے۔۔ خواہشوں کے تل تل جل کر مرنے سے آہ و فغاں بلند ہو رہی ہے۔۔
    اس نے آہ و فغاں پر دونوں ہاتھ اٹھا کر کرلانے کا تاثر دیا تھا۔۔
    فاطمہ اسے یونہی ایک ٹک دیکھے گئ۔
    واعظہ کے لئے یہ ردعمل غیر متوقع تھا۔۔ کیا فاطمہ متاثر نہ ہوئی تھی۔۔
    جبکہ فاطمہ سنجیدگئ سے پوچھنے لگی
    بھانبڑ کیا ہوتے۔؟
    واعظہ نے سر پیٹنے والے انداز میں دوبارہ کائونٹر پر سر دھاڑ سے دے مارا۔ پھر زرا سا سر اٹھا کر سہلانے لگی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اوئے سنو لڑکے۔۔
    طوبی بڑے بڑے شاپر اٹھائے تیز تیز قدم اٹھاتی پکاری۔۔اسکی رہائشی عمارت بس چند قدم ہی دور تھی مگر پھر بھی اگر اتنے قریب بھی کسی کی مدد مل جائے تو کیا برا۔۔ اور مدد بھی اگر قریب قریب چھے فٹ کی ہو۔ اور جان پہچان والی بھی تو ہر پاکستانی کی طرح اس نے اپنے حلق کا بھرپور استعمال کیا۔۔ وہ عمارت کے داخلی راستے سے اندر داخل ہو رہا تھا طوبی نے اپنی سب توانائیاں خرچ کرکے رفتار تیز کی اور پکارا
    پہلی دو آوازیں تو مخاطب تک نہ پہنچیں۔ جس سست رو انداز میں چل رہا تھا اسکا اور طوبی کا فاصلہ کم سے کم ہوتا جا رہا تھا پھر ایسے نظر انداز کرنے کی تک کیا بنی؟۔
    عمارت کے بچوں کے چھوٹے سے میدان سے ہوتے اب سیڑھیوں کی طرف مڑتے پہلا قدم جیسے ہی جن نے سیڑھی پر رکھا کسی نے اسکے کندھے پر بے تکلفی سے ہاتھ مار کر اسکا رخ موڑا تھا۔۔ بھونچکا جن گھبرا کر سیدھا ہوا ۔۔ وہ کل والی بڑی آنکھوں والی لڑکی اسے گھورتی سانسیں بحال کرتی جانے کیا کہے جا رہی تھی۔۔ اس نے ہینڈز فری کھینچی۔۔ خاطر خواہ فائدہ نہ ہو سکا اب وہ جو کہہ رہی تھی سنائی تو دے رہا رھا مگر سمجھ ابھی بھی نہیں آرہا تھا۔
    دے؟
    حد ہے ٹونٹیاں لگائی ہوئی تھیں تم نے؟ جبھی تو میں کہوں سن کیوں نہیں رہے تم۔۔ پکار پکار کر میرا گلا بیٹھ گیا۔
    اچھا پکڑو یہ۔۔
    اس نے بڑے سے دو شاپر اسکو زبردستی تھما دیئے۔۔ سانس لینے کو رکی تو جے ہن شاپر سنبھالتا بے چارگی سے بولا۔
    ٹونٹیاں؟ دے؟ ہنگل ؟ آر انگلش پلیز۔۔
    انگلش؟ طوبی نےاسے سر تاپا ٹٹولتی نظروں سے گھورا
    بہن سے بھی انگریزی میں بات کرتے ہو؟۔
    اسے غصہ آگیا تھا۔۔
    دے؟۔ جے ہن مخمصے میں پڑا ۔۔
    آہجومہ ہنگل ۔
    کیا ہنگل۔ کانٹ یو اسپیک ان اردو؟
    طوبی حیران ہی تو رہ گئ۔۔
    نو۔ جے ہن بے چارگی سے بولا
    تو تم اپنی بہن سے کیسے بات کرتے ہو؟
    طوبی انگریزی میں بولی تو جے ہن نے سادگی سے کندھے اچکا دئیے
    دے؟ جے ہن چونکا۔۔ ایکدم زاتی سوال
    ہنگل میں۔ وہ اور کیا کہتا ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیڑھیاں چڑھتے طوبی کے اندر کا سارا تجسس بھلل بھلل باہر آنے لگا تھا۔ ہے جن اس سے ایک قدم آگے اسکے سارے شاپنگ بیگ اٹھائے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔۔
    تو تم دونوب بہن بھائی ہنگل میں بات کرتے ہو۔۔
    اس نے بہت سوچ کر جملہ بولا تھا انگریزی میں اور بڑے غور سے جے ہن کی شکل دیکھی۔ اسکے چہرے پر بلا کی سادگی اور معصومیت تھی۔۔
    ہاں۔ کبھئ کبھار انگلش میں بھی۔۔ اسکی انگریزی اچھی نہیں ۔میں اکثر اسے پڑھا دیتا ہوں انگریزی ۔۔ ویڈیو کال پر۔
    وہ ہنس کر بتا رہا تھا۔ طوبی نے دھیان نہ دیا اسکے پاس بہت سے سوال اکٹھے ہو چکے تھے۔
    بس تم دونوں بہن بھائی رہتے ہو یہاں یہ واعظہ لوگ کزن ہیں تمہاری؟ تمہارے والدین اداس ہوجاتے ہوں گے نا دونوں بچے دوسرے شہر رہتے ہیں۔۔ ویسے تمہاری بہن کی شکل تم سے بالکل نہیں ملتی اسکی آنکھیں بڑی بڑی ہیں۔۔ تمہارے ابو پر گئ ہوگی؟
    طوبی نے اپنی ساری انگریزی جھاڑ دی تھئ اور ہے جن ہکا بکا مڑ کر دیکھ رہا تھا
    دے؟ کونسی بہن؟بڑی آنکھوں والی؟ کونسے ابو پر ؟
    یور بائولوجیکل سسٹر عزہ۔۔۔ کل جب تعارف ہوا تھا اس نے یہی تو بتایا تھا کہ تم اسکے بھائی ہو۔۔ بھائی نہیں ہو اسکے؟
    طوبی نے آنکھیں پھاڑیں۔۔
    جبھئ میں سوچ رہی تھی کہ اسکا چندی آنکھوں والا بھائی کیسے ہوا؟
    طوبی نے انگریزی میں بھرپور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے سرتاپا گھورا۔۔
    ہے جن کے زہن میں کل کا واقعہ تازہ ہوا اور یہ بھی کہ کل کونسی لڑکی نے تعارف کروایا تھا جس کے بعد طوبی اسکی جانب مڑی تھئ
    دے۔۔ اسکی شکل میرے پاپا سے ملتی ہے۔میرے آہبوجی نے پاکستانی خاتون سے شادی کی تھئ۔۔
    اس کا زہن بروقت چلا تھا۔۔اگر اسکی محسن نے جھوٹ بولا تھا تو کوئی وجہ رہی ہوگی۔۔
    ہیں۔ طوبی کی بڑی آنکھیں اور بڑی ہوئیں
    چندی آنکھوں والے ابو سے شکل ملنے والی لڑکی کی خالص پاکستانی شکل۔۔ یہ اس نے کہا نہیں بس سوچا تھا لیکن سوال چہرے پر چار سو چالیس والٹ کے بلب کی طرح چمک اٹھا تھا ہے جن کیلئے پڑھنا مشکل نہ تھا۔ زبان دانتوں تلے دبا کر جھٹ بات بدلی
    آندے۔ میری آہموجی نے ایک پاکستانی مرد سے شادی کی تھی۔۔
    طوبی کی آنکھیں اپنے حجم میں واپس آنا شروع ہوئیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلامو علیکم خالہ
    دروازہ ایک سات آٹھ سال کی بچی نے کھولا تھا انہیں دیکھ کر تپاک سے سلام کیا ۔۔
    وعلیکم السلام۔۔ عزہ نے جھک کر اسکا گال چھوا۔۔
    گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی بچی خالص پاکستانی شکل۔
    یہ کس کی بچی ہے۔ نور اچنبھے میں پڑی ۔
    واعظہ کے رشتے دار ہونگے۔۔ ۔ابیہا کہتی ان دونوں کے بیچ سے ہوتئ فلیٹ میں داخل ہوئی راہداری پر ہی اسے لائونج میں ایک ناقابل توقع نا قابل فہم نا قابل یقین منظر دیکھنے کو ملا ۔ ہکا بکا ہی تو کھڑی رہ گئ اسکی معیت میں آتی الف عشنا پھر عزہ اور نور بھی انہی تاثرات کے ساتھ آتی گئیں اور ہکا بکا ہوتی گئیں
    ڈاکٹر عروج خالص پنجابی عورتوں کے انداز میں سر پر دوپٹہ باندھے قالین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی تھیں۔ گود میں ایک بچے کو زبردستی تھپک تھپک کر سلانے کی ناکام کوشش کرتےہوئے ساتھ ہی کشن پرسر رکھے لیٹی بچی کے اوپر کمبل درست کررہی تھی۔۔ بچی غالبا سو چکی تھی مگر بچے کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا سو بار بار احتجاجی چیخ مار کر بچی کی نیند میں بھی خلل ڈال رہا تھا۔
    عروج اتنے بچے اکٹھے کیسے؟
    ابیہا کا جملہ ابھی ادھورا تھا کہ کہنا تھا کہ عروج اتنے بچے اکٹھے کیسے ہوگئے فلیٹ میں مگر غلط فہمی ایسے ہی تو پیدا ہوتی الفاظ کے انتخاب میں لاپروائی اختیار کرنے سے
    عروج آدھے جملے سے بننے والی معنی اخذ کرکے چراغ پا ہوگئ تڑخ کر بولی
    کیا مطلب میرے تھوڑی ہیں حد ہے کچھ بھی کہتی ہو۔۔ ۔
    ارے میرا مطلب تھا۔۔ ابیہا نے سمجھانا چاہا
    جو بھی مطلب ہو مجھے غرض نہیں۔۔ عروج روہانسی ہو چلی تھی
    ایک تو فاطمہ کی بچی بچے میرے سر ڈال کر نو دو گیارہ ہوگئ اگر سنبھالنے نہیں ہوتے تو بچے پیدا کیوں کرتے ہو؟؟؟ وہ عمیمہ سے بھی دردناک انداز میں چیخی تھی
    عزہ اور نور تڑپ کر اسکے دائیں بائیں آموجود ہوئیں
    یہ بچے فاطمہ لائی ہے؟ عزہ کو اسکی بات سے یہی مطلب سمجھ آیا تھا
    مگر فاطمہ لائی کہاں سے؟ نور کی حیرانی بجا تھی
    عروج نے کچھ کہنے کو منہ کھولا۔کہ الف کی قطیعت بھری آواز سنائی دی
    فاطمہ کے تو نہیں ہونگے اتنا تو پتہ ہے ۔
    بڑی اہم بات بتائی؟ ابیہا طنزیہ ہنسی تھی ساتھ ہی اندازہ بھی لگا لیا
    یہ اسکے بھائی کے بچے ہونگے۔۔ ۔
    فاطمہ کے بھائی یہیں رہتے ہیں؟ عشنا کو حیرانی ہوئی
    عروج نے بھنا کر انکی غلط فہمی دور کرنی چاہی مگر ابھی بھی بس منہ کھول کر رہ گئ کیونکہ نور نے اسے موقع ہی نہ دیا۔۔
    نہیں فاطمہ تو اکیلی رہتی یہاں یہ واعظہ کے بچے ۔۔۔
    پھر خیال آیا تو رک کر تصحیح کی۔۔
    یہ واعظہ کے بھائی کے بچے ہونگے۔۔
    نہیں انکو تو میں پہچانتی ہوں انکے بس دو بیٹے ہیں بڑے شرارتئ ہیں دونوں مجھ سے تو کافی دوستی ہے انکی۔۔
    ابیہا نے کہا تو عروج نے پھر منہ کھولا کچھ کہنے کو پر اس بار صائم ہمکنے لگا۔۔ اس ساز کا بجنا اچھی نشانی نہیں تھی سو سب سے پہلے صائم کے مصدق اسے تھپکنے لگی زینت انکے پاس آکر بڑی دلچسپی سے انکی باتیں سن رہی تھئ۔۔
    آپ کہاں ملیں ان سے؟ عشنا کو تجسس ہوا
    آتے رہتے تھے ویک اینڈ تو یہیں گزارتے تھے دونوں بچےاپنی آنو کے پاس۔ پھر جب تم سب یہاں آکر رہنے لگے تو جگہ کی کمی کی وجہ سے آنا کم ہو گیا انکا
    ابیہا تفصیلا بتا کر عبایا اتارنے لگی۔۔
    ہممم اب تو ایک ہے جن کی جگہ کتنی مشکل سے نکالی ہے ہم نے۔
    عزہ نے ہاں میں ہاں ملائی۔۔ اس نے بھی عبایا اتارنا شروع کردیا تھا۔۔ تھکن سے برا حال تھا
    تو کیا یہ بچے ہمارے ساتھ رہیں گے؟
    نور کو خدشہ ستایا۔۔
    ہیں عروج۔۔ الف نے ڈر کر عروج کا کندھا ہلا کر پوچھا جوابا وہ سشسسس کرتی اسے چپ ہونے کا اشارہ کرنے لگی صائم نے تھک کر آنکھیں بندکی تھیں ابھی ۔۔
    یار میں اور ابیہا فاطمہ پہلے ہی تین بندے ہیں ڈبل بیڈ پر انکو کہاں کھپائیں گے؟ عشنا روہانسی ہوئی۔
    میں آپکے پاش سو جائوں گی۔۔ زینت کو عزہ پسند آگئ تھی۔۔ لاڈ سے اسکا بازو تھام کر بولی تو عزہ کو اس پر پیار ہی آگیا۔۔
    ویسے ہے پیاری۔۔
    عزہ نے زینت کی ناک چھوکر دلار سے کہا
    بیٹا آپ کس کی بچی ہو۔
    یہی مناسب لگا ابیہا کو کہ اسی سے پوچھ لے۔۔
    انکی۔۔
    اس نے مزے سے دروازے کی جانب اشارہ کر دیا۔۔
    دروازے سے داخل ہوتے ہے جن کو دیکھ کر ان سب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔۔
    انکی؟ ابیہا نے مڑ کر تصدیق چاہی بچی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
    سب کی حیرانگی دوچند ہوگئ تھی ہے جن چھے لڑکیوں کی خود پر جمی حیرانگی بھری نگاہوں سے بری طرح سٹپٹا چکا تھا۔۔ البتہ بچی کا اشارہ اس سے ایک قدم پیچھے آتی طوبی کی جانب تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب تو میرے اندر بھی بھانبڑ جل رہے۔۔
    فاطمہ نے کائونٹر پر پورا بازو پھیلا کر سر ٹکایا۔۔
    واعظہ بھی اسی ہی انداز سے کائونٹر پر دھری تھی۔۔
    ویٹرس نے تاسف سے ان دونوں کو دیکھا پھر قریب آکر بولی
    آپ کو مزید ڈرنک دوں؟
    آندے۔۔ واعظہ نے سر اٹھا کر سرخ سرخ آنکھوں سے گھورا۔۔
    تم چاہتی ہو ہم ہوش کھو دیں؟
    آندے۔۔ ویٹرس سٹپٹائی۔
    تین گلاس پی کر ہی میرا دماغ چکرا رہا ہے اور تم ایک اور پیش کر رہی ہو آہجومہ۔۔ ؟
    واعظہ ڈولتے انداز سے کائونٹر کا سہارا لیتی اٹھی مگر قدموں نے ساتھ نہ دیا اسی طرح واپس اسٹول پر آبیٹھی۔۔ فاطمہ نے فورا اسے سہارا دے کر گرنے سے بچایا۔۔
    ہوش میں مکمل وہ بھی خود نہ تھی۔۔ خود بھی لڑکھڑا کر رہ گئ
    ایسے پیش آتی ہو تارکین وطن کے ساتھ۔۔ہم سات سمندر پار اسلیئے آئیے کہ تم ہمیں پلا پلا کر مدہوش کردو۔۔ ہیں۔۔
    بیٹھ کر واعظہ پورے زور سے چلائی۔۔
    ایک لمحے کو کلب کی ہلچل میں بھی سناٹا چھایا۔۔
    سب مڑ مڑ کر دیکھنے لگے تھے۔۔ ناچتے قدم رکے تھے انکے۔۔
    واعظہ کو بھی احساس ہوا کچھ زیادہ ہو گیا۔
    اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ گلاس تھامے ایک کونے میں باتوں میں مصروف سیہون سر جھٹکتا اپنی گرل فرینڈ سے معزرت کرتا انکے پاس چلا آیا
    مانا صدمہ بڑا ہے مگر اس طرح ہوش کھو دینے کا کوئی فائدہ نہیں جائو دونوں گھر جائو گھر جا کر تسلی سے حل سوچو۔۔
    نو نیور۔۔ فاطمہ کو اسکا مشورہ قطعی پسند نہ آیا۔
    سو ہاتھ اٹھا کر فورا انکار کیا
    سیہون گھور کر رہ گیا۔۔
    آندے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہم دونوں۔۔
    واعظہ کی آنکھیں بھر آئیں۔۔ لڑکھڑاتی زبان سے ٹوٹ کر لفظ نکل رہے تھے۔۔
    ہم دونوں واپس۔۔ پاکستان۔۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا فاطمہ نے تڑپ کر اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔۔ واعظہ اور فاطمہ کی نظریں ملیں دونوں فرط جزبات سے دیکھتے دیکھتے ضبط کا بندھن کھو بیٹھیں اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر روپڑیں۔۔ جانے فلموں ڈراموں میں کیسے ایسے موقعوں پر نہریں جاری ہو جاتی ہیں ان دونوں کے تو بلکنے پر بھی آنکھیں خشک ہی رہیں۔ سیہون دانت ہیستا انکو گھور رہا تھا۔۔ ویٹرس آنکھوں میں ہزار سمندر روکے ترس کھاتی نظروں سے دیکھ رہی تھی انہیں۔
    آہجومہ ۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا۔۔
    اس سے رہا نہ گیا تو کہہ بیٹھی۔
    تم ۔۔ دونوں خونخوار سئ ہو کر اسکی جانب مڑیں۔
    تمہاری وجہ سے یہ سب ہوا ہے ۔۔ فاطمہ اردو میں چلائی تھی۔۔
    ایک تو ہم پہلے ہی دکھی ترین اوپر سے تم نے ہمیں یہ پلا دیا۔
    واعظہ نے اپنا خالی گلاس کائونٹر سے اٹھا کر پٹخا۔
    ایک تو بندہ روتا پیٹتا آئے اس کلب اوپر سے یہ زہریلا مواد پلا کر اسکا دکھ دوبالا کردیتی ہو تم کیا دشمنی تھئ ہم سے بولو ہیں جواب دو۔۔
    فاطمہ چلا رہی تھی۔۔ تو واعظہ کا بھی غم و غصے سے برا حال تھا۔ویٹرس کانپ کانپ گئ۔۔ انکا بل کائونٹر پر رکھتی کئی قدم پیچھے ہو کر جھک جھک کر چھے سو ہمنیدا کہنے لگی۔۔ واعظہ نے ہاتھ سے بل اپنی طرف کرکے رقم دیکھی تو آنکھین پھٹنے کو آگئیں۔
    نئے سرے سے غصہ چڑھ گیا تھا۔
    دو ہزار وون ضائع کردئیے ہمارے۔۔ جانتی ہو پاکستانی کتنے روپے بنتے؟
    ویٹرس انکی زبان سے انجان تھر تھر کانپ رہی تھی۔ سیہون سر پکڑ رہا کبھی ادھر ادھر دیکھ رہا اسے لگ رہا تھا آج ٹھیک ٹھاک پٹنے والا ہے وہ
    کتنے بنتے۔۔ فاطمہ نے دانت کچکچا کر ویٹرس کو گھورتے ہوئے پوچھا۔ واعظہ نے دماغ لڑانا چاہا مگر اتنا حساب اسے آتا ہوتا تو میٹرک۔۔ والی بات۔۔۔۔ کھسیا کر تیز ہو کر بولی
    مجھے نہیں پتہ مگر کافی زیادہ ہی بنتے ہونگے۔۔
    اتنے زیادہ پیسے ضائع کرادئیے ہمارے۔
    فاطمہ نے تنتنا کر کائونٹر پر ہاتھ مارا سارے گلاس لرز کر سیدھے ہوئے۔۔ شکر ہے کوئی توازن کھو کر زمین بوس نہ ہوا۔
    مجھے سخت حیرت ہو رہی ہے آپ دونوں کودو گلاس سے نشہ کیوں چڑھ گیا ہے۔۔ آہجوشی۔۔ انکو روکیں نا۔۔
    ویٹرس کو کچھ نہ سمجھ آیا تو سیہون سے منت بھرے انداز میں بولی۔
    اب اگر تم دونوں اپنے حواسوں میں واپس نہ آئیں تو میں ۔۔ سیہون نے زچ ہو کر دھمکی دینی چاہی جوش جزبات میں کچھ زیادہ ہی زور سےانگریزی میں بول دیا۔۔ایک تو انگریزی اوپر سے فل والیم۔ اس بار بچے کھچے کلب کے لوگ جو ابھی تک متوجہ نہ ہوئے تھے انکی جانب کامیابی سے ہو گئے
    ہاں ۔۔ واعظہ اور فاطمہ دونوں ہمہ تن گوش ہوئیں۔
    سیہون کو چند لمحے سوچ کر بھی سمجھ نہ آیا ان چنڈالوں کو کیا دھمکی دے۔
    تو میں یہ گلاس اپنے سر پر دے ماروں گا۔۔
    اس نے اپنے ہاتھ میں تھامے وائن گلاس ہی دھمکانا چاہا۔
    فاطمہ اور واعظہ دونوں کے چہرے پر بدمزہ سے تاثرات در آئے۔ یہ۔تو کھودا پہاڑ نکلا چوہا والا معاملہ ہوا
    اتنےسے وائن گلاس سے اس بلیک بیلٹ کی کھوپڑی پر خراش تک نہ آئے گی۔ جو سر پر تربوز پھوڑتا رہا ہو۔
    فاطمہ نے منہ بنا کر کہا۔
    وائن گلاس کے پیسے دینے پڑیں گے اگر اسے خراش آگئ۔۔ کیونکہ اسکی گرل فرینڈ نے تو رونا پیٹنا مچا کر اسے اسپتال لے جانا ہے۔۔
    واعظہ نے دور کھاجانے والی نظروں سے گھورتی اسکی گرل فرنڈ کو دیکھتے ہنکارا بھرا۔
    دونوں اطمینان سے بیٹھی صورت حال کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔
    بولو مار لوں اپنے سر پر۔۔ دونوں کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر سیہون بلبلایا۔۔ ڈے جے نے موسیقی بند کر دی تھی سب لوگ اس ڈرامے کا ڈراپ سین دیکھنے کو بےتاب تھے۔۔
    شنگو یا کھوجو ۔( سہیلی چلو چلیں)
    فاطمہ نے بھی دزدیدہ نظروں دے ماحول کا جائزہ لیکر اسے مشورہ دیا۔۔
    دے۔۔ واعظہ نے جھومتے ہوئے ہی ٹٹول کر پرس نکالا
    بل ۔۔ واعظہ دھاڑی تھئ۔۔ ویٹرس کا ہاتھ کپکپا سا گیا۔۔ ڈرتے ڈرتے بل اسکی جانب بڑھایا۔۔
    واعظہ نے گھور کر اسے دیکھتے بل کے پیسے گن کر نکال کر رکھے۔
    آہجومہ ۔۔۔ ہاتھ کے اشارے سے اس نے لڑکی کو پاس بلایا۔
    وہ ڈرتے ڈرتے آگے ہوئی تو واعظہ اسکے کان میں حلق کے بل چلائی ۔۔
    آئیندہ ہم آئیں تو ہرگز ہمیں ٹماٹر کا جوس اور جنسنگ چائے مت دینا سمجھ آئی۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔
    کلب سے نکل کر تازہ ہوا میں دونوں نے گہری گہری سانس لی۔۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ سیول کی رونقیں ابھی بھی بحال تھیں لوگ جوق در جوق کلب میں داخل ہورہے تھے۔۔ دونوں تیز تیز قدم اٹھاتی کلب کی گلی سے نکل کر اہم سڑک کی طرف چلی آئیں۔
    یار مے کی بو کتنی بری ہوتی میرا تو دم الٹنے کو آگیا۔۔ اتنی بدبو دار چیز لوگ پی کیسے لیتے۔۔
    فاطمہ نے برا سامنہ بنا کر کہا تھا۔۔
    واعظہ اسکا سہارا لیئے لڑکھڑا رہی تھی۔۔
    یاک اتنا برا ذائقہ۔۔ الٹی آرہی اب مجھے۔۔
    وہ ابکائیاں لے رہی تھی۔۔
    مجھ پر نہ کر دینا۔۔
    فاطمہ نے ڈر کر بازو چھڑایا۔
    واعظہ نے اسکا بازو چھوڑا اور جلدی سے سڑک کے کنارے رکھے کوڑے دان پر جا جھکی۔۔ اتنی بڑی الٹی آئی تھی اسے۔۔
    فاطمہ پریشان ہو کر اسکے پاس چلی آئی اور اسکی پشت سہلانے لگی۔۔
    یار کہا تھا میں نے مت پیو وہ کڑوا سیال۔ مگرتم نے کہا دو ڈرنک کے بعد جتنا پیو فری ہے اب دیکھا ۔۔ گرم ہوتا وہ قہوہ ۔۔انکو تو عادت ہوتی الم غلم پینے کی۔۔
    فاطمہ کو اس پر غصہ آرہا تھا۔۔
    واعظہ اسکا سہارا لیکر سیدھی ہوئی۔۔
    یار شغل ہی تو لگا رہے تھے ہم اندازہ ہی نہ ہوا۔۔
    ویسے ٹماٹر کا جوس بھی کوئی اچھا خیال نہیں۔۔ ہم تو ٹماٹر کو بس پیس کر ہنڈیا میں ڈالتے اسکا وہی کام ٹھیک۔۔ آیو۔۔ فاطمہ کو اس جوس کا زائقہ یاد آیا تو جھر جھری سی لی۔۔
    میری توبہ جو آئیندہ کوئی نیا شربت یا جوس آزمایا کوریا کا۔۔
    اس نے عہد ہی کر لیا جیسے۔
    پھر کیا واپسی کا ارادہ باندھ لیا ہے تم نے۔۔
    واعظہ بیگ سے ٹشو نکال کر چہرہ پونچھتے بظاہر سر سری سے انداز میں کہہ رہی تھی مگر فاطمہ کا جیسے دل ہی اچھل کر حلق میں آگیا ۔۔
    جھٹ بولی۔۔
    اللہ نہ کرے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ نہ کرے کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔
    عزہ تڑپ کر بولی۔۔
    طوبی نے تاسف سے اسے دیکھا۔۔ بے چاری حالات کی سنگینی چھپانا چاہ رہی سیدھی سی بات کون اپنے گھر کی بات یوں کسی کے سامنے کھول کر رکھتا ہے۔۔
    ابیہا نے چائے لا کر اسکو تھمائی۔۔ اس نے شکریے کے ساتھ قبول کی۔۔
    عزہ اسے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اسکے برابر ہی جے ہن بیٹھا معصوم سی شکل بنائے کبھی اسے دیکھتا کبھی طوبی کو۔۔
    عروج پیر پٹختی تیار ہوتی پھر رہی تھی۔۔
    کسی کام سے باورچی خانے میں آئی تو طوبی کی گود میں چہکتے صائم کو گھور کر رہ گئ۔۔
    اب کیسا چہک رہا میں تو جیسے بیٹھی چٹکیا ں کاٹ رہی تھی اسے ساری دوپہر۔
    وہ بڑ بڑاتی پیر پٹختی اپنے لیئے ٹفن تیار کر رہی تھی۔۔ نور کمرے میں تھئ البتہ الف بھی تیار یوں میں مگن تھی اسکا آج شو تھا۔۔ ہاں اسکے چکر فاطمہ اور واعظہ والے کمرے کے زیادہ لگ رہے تھے۔۔
    اتنی چہل پہل طوبی کے اعصاب پر برا اثر ڈال رہی تھی۔
    زینت اور عبیرہ منے لائونج کے منے ٹی وی کو دیکھنے میں مگن تھیں کوئی جاپانی اینیمیڈ سیریز کوریا ڈب ہو کر آ رہی تھی۔ سمجھ تو کیا ہی آنا تھا بچیوں کو مگر پھر بھی عروج نے جز بز ہو کر ابیہا کو اشارے سے ٹی وی کا چینل بدلنے کو کہہ دیا۔ ابیہا کو اشارے سمجھ ہی نہ آتے تھے۔ سو جوابا اشارے سے اسے یہی سمجھانے لگی۔
    ہق ہاہ۔
    طوبی نے چائے کی چسکی لیکر کپ ہر فن مولا میز پر ٹکایا جس پر ابیہا نے گندم کے بسکٹس کی پلیٹ لا سجائی تھی اسکی تواضع کے لیئے۔
    مجھے جے ہن نے سب بتا دیا ہے۔ کیسے تمہاری امی اور ابو کے درمیان زبان ثقافت رہن سہن الگ ہونے کی وجہ سے جھگڑے بڑھے اور بات علیحدگی تک آپہنچی۔۔
    طوبی ہرگز چسکے نہیں لے رہی تھی بلکہ اسکا سچ مچ دل انکے دکھوں کی تفصیل جان کر خون کے آنسو رو پڑا تھا۔ ابیہا جو اسکے ساتھ بیٹھی عروج کی جانب متوجہ تھی چونک کر عزہ کو دیکھنے لگی جسکی بڑی بڑی آنکھیں ماتھے تک آپہنچی تھیں۔
    میرے والدین میں زبان ثقافت رہن سہن الگ ہونے کی وجہ سے جھگڑے۔
    اس کا منہ حیرت سے وا ہو گیا تھا۔ میرے والدین تو آپس میں سگے چچا زاد ہیں۔۔مشترکہ خاندانی نظام کی بدولت رہے بھی ایک گھر میں ۔ اسکا زہن اس حقیقت کو ماننے سے قاصر تھا
    دیکھیں۔ عزہ بے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیر کر اسکی غلط فہمی دور کرنی چاہی۔۔ مگر طوبی نے موقع نہ دیا۔
    اتنی کم عمری میں والدین سے الگ ہو کر رہنا جب کہ کوئی اور بڑا بہن بھائی بھی نہیں مگر تم دل چھوٹا نہ کرو۔ مجھے اپنی بڑی بہن ہی سمجھو۔
    طوبی جزباتی ہو چلی تھی۔ آنکھ میں فرط جزبات سے آموجود ہونے والے آنسو پونچھتئ عزہ کی جانب کھسک آئی۔
    اپنے آپ کو کبھی اکیلا نہ سمجھنا میں ہوں اب تمہارے ساتھ۔ اور تمہارا بھائی۔۔
    اس نے جے ہن پر نظر ڈالی جو اسکی اپنی جانب توجہ دیکھ کر سٹپٹا اٹھا تھا عزہ ہکا بکا سن رہی تھی۔
    تمہاری امی کے ساتھ رہ کر بڈھسٹ ہو چلا ہے اسے دین کی راہ ہم دونوں مل کر دکھائیں گے۔ ہم اسکے دل میں ایمان کی شمع روشن کریں گے۔ دیکھنا بہت جلد یہ مکمل مسلمان بن جائے گا ہم اسکی مدد کریں گے۔
    سنو جے ہن آج سے میں بھی تمہاری بڑی بہن ہوں ٹھیک؟ کوئی بھی مسلہ ہو کوئی بھی کام ہو بلا جھجک کہنا مجھے۔ جے ہن سے مخاطب وہ انگریزی میں ہوئی تھئ۔
    جے ہن کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں سر ہلا رہا تھا عزہ کو کچھ بہت بڑی غلط فہمی پیدا ہوتی دکھائی دے رہی تھی سو کھنکار کر گلا صاف کر کے اس نے فورا دور کرنی چاہی۔۔
    دیکھیں۔
    انکی باتوں سے بے نیاز عروج کی نظر ٹی وی پر پڑی تھی۔
    جو منظر دکھائی دیا اس سے ضبط کی طنابیں ہاتھ سے چھوڑ بیٹھی۔ دانت کچکچا کر دھاڑی
    ابیہا کی بچی اتنی دیر سے کہہ رہی ہوں بند کرو ٹی وی۔ فورا۔سمجھ نہیں آئی میری بات۔
    اس کی دھاڑ پر لائونج کے جملہ نفوس سہم کر رہ گئے
    دونوں بچیاں ماں سے جا لپٹیں تو ابیہا گھبرا کر ریموٹ ڈھنڈنے لگ گئ چھوٹے سے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتی نکلتی الف دہل کر آئینہ چھوڑ بیٹھی۔۔
    اور عزہ جو غلط فہمی دور کرنا چاہ رہی تھی اسکا بھی دھیان بٹ گیا۔
    توبہ ہے عروج کتنا چلاتی ہو۔ الف چڑ گئ تھئ۔
    اب عروج اور الف میں گولا باری شروع ہو چکی تھی۔۔
    عزہ ان میں صلح صفائئ کرنے اٹھ کھڑی ہوئی طوبی نے چائے کا کپ اٹھا کر بیٹی کو تسلی دی بس چائے پی کر چلتے ہیں گھر۔۔
    اور ابیہا۔۔
    وہ ریموٹ ڈھونڈ رہی ہے نا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حصہ دو۔۔
    تیسری بیل پر دروازہ کھلا تھا۔۔ داخلی دروازے کی نہیں فون کی
    ابیہا جارحانہ انداز میں دروازہ کھول کر گھور رہی تھی۔۔ واعظہ نے اندر داخل ہونا چاہا تو اس نے بنا لحاظ کندھے سے پکڑ کر واپس دھکیل دیا ۔۔
    اس گھر کے دروازے بند ہیں تم دونوں پر جہاں اتنا وقت گزارا وہیں رات گزارو جا کر۔۔
    اس کے تیور کڑے تھے
    نائٹ کلب میں۔۔ فاطمہ نے واعظہ کے کان میں سرگوشی کی۔
    ابھی ایک ہی۔تو بجا ہے؟ ہم سحری سے پہلے آتو گئے ہیں۔
    سحری ہی تو لینے میں دیر ہو گئ۔۔
    واعظہ نے گڑبڑا کر بات بنائی۔۔
    اچھا پھر کیا لیا؟
    ابیہا اس جھانسے میں آنے والی نہ تھی۔۔
    وہ ۔۔ واعظہ سٹپٹائی فاطمہ کا البتہ ایسے موقعوں پر خوب دماغ چلتا تھا جھٹ بولی
    وہی تو۔۔ کچھ نہیں ملا نا چنے نا نان نا پائے۔۔ اب کافر تھوڑی رمضان میں سحری تک دیگیں چڑھا کر رکھتے مایوس لوٹ آئے۔۔
    دنیا جہان کی معصومیت اسکے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔
    واعظہ اسے دیکھ کر پھسلتے پھسلتے بچی تھی۔۔ واقعی ۔۔پھسلی۔ سیدھا کھڑا ہونا تو آتا ہی نہیں تھا اسے انکی باتوں کے دوران پائوں کو گھسی لگا رہی تھی سینڈل پھسل ہی گئ۔۔ سیدھی دروازے سے ٹکرائی مگر ابیہا ہوشیا ر تھی بہانے سے اسکے گھر میں گھسنے کی کوشش کو فورا پسپا کرتے ہوئے دروازہ مزید بھیڑ دیا اور دانت کچکچا کر بولی
    کسی اور کو بے وقوف بنانا۔۔ ابیہا تپ گئ تھئ
    کوریا میں تم لوگ سحری کے لیئے نان چنے پائے ڈھونڈنے نکلی تھیں۔۔
    ہاں وہ ملتی ہے نا گنگنم اسٹریٹ میں کئی پاکستانی ریستوران ہیں نا۔۔
    فاطمہ اپنے موقف سے انچ بھر پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھی
    ابیہا نے ان دونوں کو باری باری دیکھا دونوں جتنی معصوم شکل بنا سکتئ تھیں بنا چکی تھیں ۔۔ابیہا بھی لڑکی تھی۔۔ یہیں ہی کیسے پگھل جاتی انگلی اٹھا کر وارننگ دی
    تم دونوں پاکستان میں نہ ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو ۔ حد مچا دی ہے صاف بتا رہی ہوں آئندہ دس بجے تک گھر میں نا پہنچیں تو یہ دروازہ نہیں کھلے گا بلکہ تم لوگوں کا سامان بھی یہیں پڑا ملے گا ڈھونڈ لینا کوئی نیا ٹھور ٹھکانہ رہنا باہر ہی سمجھ آئی۔ ؟۔۔
    دے۔۔ دونوں نے سعادتمندی سے سر ہلایا۔۔
    ابیہا کڑے تیور کے ساتھ ایک طرف ہو ئی تو دونوں جان چھٹی سو لاکھوں پائے کے مصدق اندر دوڑی آئیں
    آرام سے ہے جن سو رہا ہے۔۔
    ابیہا نے آواز دبا کر ٹوکا تھا۔۔
    سشش واعظہ اور فاطمہ دونوں وہیں جم گئیں۔۔
    ہے جن زمین پر سلیپنگ بیگ بچھائے کسی کیٹر پلر کی طرح اس میں ملفوف مدھم خراٹے لے رہا تھا۔۔

    اب سونے کا کیا فائدہ سحری ہی بنانا شروع کر دیتے ہیں۔۔
    فاطمہ نے کہا تو واعظہ نے بھی گھڑی دیکھ کر یہی مناسب سمجھا۔۔
    تینوں باورچی خانے میں دبے قدموں سے چلتی آئی تھیں۔۔
    چھت کے بلب جلانے کی بجائے آرائشی مدھم روشنی والے چولہے کے پاس والا اور کینبٹس کے نیچے لگے بلبوں سے کام چلایا۔ پھر پلٹ کر چور نظروں سے دیکھا کیٹر پلر کے منہ پر ہلکی سی روشنی پڑ رہی تھی۔۔
    مگر کسمسایا تک نہ تھا ۔۔
    واعظہ تم ایسا کرو ادھر آکھڑی ہو کام تو نہیں کر سکتی ہو اس بلب کے آگے آڑ بن کے کھڑی رہو کم از کم اسکے منہ پر روشنی نہ پڑے۔۔
    یہ ابیہا تھی سرگوشئ کے انداز سے بولتے ہوئے ۔۔ واعظہ کے مجروح کندھے سے اسے پکڑ کر اسے ہے جن کی جانب پشت کر کے کھڑا کر دیا۔۔
    ہیں۔۔ اتنئ فکر۔۔ واعظہ کی آنکھیں پھٹی تھیں۔۔ ابیہا نے کوئی توجہ نہ کئ اور مزے سے چائے کا پانی لینے سنک کی طرف بڑھ گئ۔۔
    واعظہ نے پلٹ کر دیکھا تو ہے جن پر روشنی کی لکیر سی پڑی جھٹ مڑ کر آڑ بنا کر کھڑی ہوگئ۔۔
    فاطمہ نے پراٹھوں کے پیڑھے بنانے شروع کیئے۔۔
    ابیہا چائے چڑھا کر اب آملیٹ کیلئے پیاز کاٹ رہی تھی واعظہ باورچی خانے کے بیچ میں جے ہن کی آڑ بنی کھڑی تھی۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔
    سوہو نے اپنی نئی تصویر انسٹا پر لگائی تھی۔۔ اسی چوہیا جیسی ہیروئن کے ساتھ۔ رچ میں والی۔ الف بڑے شوق سے دیکھ رہی تھی۔۔ سوہو کا انسٹا پر کوئی فین اکائونٹ نہیں تھا خالص زاتی آئی ڈی ۔ جس میں اسکے رشتے دار اور کچھ قریبی کولیگز ہی بس تھے۔ بمشکل تین سو کے قریب پیروکار تھے جن میں اسکی ڈالی گئ تصویروں پر پانچ دس سے زیادہ پسندیدگیاں نہیں تھیں۔
    پھر بھی ڈیڑھ سو مراسلوں کو ایک ایک کر کے کھولا آئی ڈیز پر سب نے ہی تقریبا سوہو کے ساتھ والی تصویر شائع کر رکھی تھئ وہ ہر مراسلہ کھولتی اس کوپسند کرنے والے افراد کا کھاتہ کھول کر دیکھتی کیوں؟ اچھا سوال ہے۔ یہ ہے اصلی نسلی پاکستانیت جو کہیں نہ کہیں سے اپنی چھب دکھا جاتئ ہے ہماری شخصیت میں۔ تو جناب جاسوسی کا سب سے مستند اور کامیاب ادارہ آئی ایس آئی پاکستان کا ہی کیوں ہے؟ کیونکہ ہم پاکستانی بال کی کھال نکالنے ٹوہ لینے تفتیش کرنے اور تحقیق کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔۔ تو الف کا بھی یہی حال۔۔
    اگر یہ سوہو کی اصل آئی ڈی ہے تو ہو سکتا ہے سیہون نے بھی زاتی استعمال کے لیئے الگ آئی ڈی بنا رکھی ہو جسے کوئی اور نہ جانتا ہو اور اتفاق سے وہ سوہو کی کوئی تصویر پسند کر لے ۔ اور الف اس سے اسکی آئی ڈی تک پہنچ جائے اسے میسج بھیجے سوہو کی تمیز دار پرستار پیغام بھئ بڑا فلسفیانہ انداز کا بھیجے گی
    زندگی میں جب سب مل جاتا ہے تو سب مل جانے کی وجہ ڈھونڈنی چاہیئے۔
    اس نے یہ سوچا تھا۔ کتنا اعلی جملہ تھا الف خود پر مغرور سی ہوئی۔۔ ایسا پیغام بھیجا ہوگا کسی نے بھلا
    سیہون بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکی کا پیغام پڑھ کر چونک جائے گا۔۔ سوچ میں پڑ جائے گا آخر سب مل جانے کہ وجہ کیا ہے؟ کچھ سمجھ نہ آئے گا تو الف کوہی۔جوابی سوال کرے گا۔۔
    مسکرائے جا رہی ہے کیا وجہ ہوسکتی ہے بھلا؟
    یہ سوال سیہون نے نہیں عزہ نے اپنے بیڈ پر آلتی پالتئ مار کر بیٹھتے ہوئےنور سے پوچھا تھا۔۔ وہ حسب عادت بیڈوں سے زرا فاصلے پر اپنی وہی ہر فن مولا میز پر لیپ ٹاپ سجائے بیٹھی تھی۔۔
    الف کا دماغ خراب ہو گیا ہے لگتا ہے۔۔ نور نے عزہ کے کہنے پر الف پر نگاہ کی تو اسے بیڈ پر نیم دراز موبائل تکتے مشکوک انداز میں مسکراتے پایا جھٹ فتوی داغ دیا۔
    الف ان دونوں سے بے نیاز ایک اور آئی ڈی کی سیر کر رہی تھی۔۔
    تصویر میں سیہون ہی تھا مگر نام ہنگل میں لکھا تھا۔۔
    سخت پرائیویسی تھی تہتر پیروکار تھے۔۔ اور باون مراسلے۔۔
    اس نے بیزار ہو کر واپس جانا چاہا کہ دل نے ایک دھڑکن چھوڑ دئ۔۔ اسکا وجدان چیخا یہی ہے سیہون۔
    وہ بے اختیار اٹھ بیٹھی اور خوشی سے چلا اٹھی۔
    عزہ نور مل گیا سیہون۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
    عشنا منہ کھول کر جمائی لیتی چپل گھسیٹتی سٹر پٹر کرتئ کمرے سے نکلی۔
    کتنئ جلدی سوا دو ہو گئے ابھی تو۔
    وہ با آواز بلند کہتی ان تینوں کی جانب بڑھی
    ہاش سشسسسس۔
    تینوں کی جان پر بن آئی ۔۔ ہونٹوں پر انگلی رکھتی سٹپٹاتی ایک نظر ہے جن کو دیکھتیں ایک کڑی نگاہ اس پر۔
    باقی جملہ بے چاری کے حلق میں گھٹ گیا۔۔ دزدیدہ نظروں سے انکی تنبیہہ پر لائونج میں پڑے اس جہازی کیٹر پلر پر ڈالی۔۔ جن کی نیند میں خلل پڑا اس نے کسمسکا کر کروٹ بدل لی تھی ۔ عشنا کی جان میں جان آئی۔
    اب احتیاط سے سہج سہج کر چلتئ انکے پاس آئی۔۔ تینوں اسے کڑے تیوروں سے گھور رہی تھیں
    ہم لوگوں نے تو روزہ رکھنا ہے اسلیئے اٹھے ہوئے ہیں اس بے چارے نے تو اسکول جانا ہوگا ۔۔ اسکی نیند خراب نہیں کرنی۔
    ابیہا نے متانت سے سمجھایا تو عشنا شرمندگی سے سر جھکا گئ
    سورئ۔۔ مجھے پتہ نہیں تھا۔۔
    وہ بھی سرگوشی میں بولی۔۔
    کوئی بات نہیں۔۔ فاطمہ مسکرا دی۔۔
    وہ لوگ بے حد احتیاط سے کام کر رہی تھیں۔۔ تبھی فاطمہ نے پیڑا اٹھایا اسے بیلا اور ۔۔۔
    اور۔۔
    تھپ تھپ ہتھیلی پر بڑھانے لگی۔۔ واعظہ ابیہا عشنا تینوں نے مڑ کر کیٹر پلر کو دیکھا وہ ساکت پڑا تھا۔۔
    سکھ کا سانس لیتی تینوں سیدھی ہوئی تھیں کہ ۔۔ کوئی حلق کے بل چلایا۔۔
    عزہ نور مل گیا سیہون۔۔
    کیٹر پلر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔۔ واعظہ ابیہا دانت پیس کر رہ گئیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الف نے وہیں سے چھلانگ لگائی تھی۔ نور دھک دھک کرتے دل سے اپنی جگہ سے ہل بھی نہ پائی تھی اپنا عزیز لیپ ٹاپ فورا بنف کیا تھا اسے لگا تھا سیدھا اسی کے اوپر کریش لینڈنگ کرے گی مگر غنیمت اسکے پاس آگری تھی پکے فرش پر اس ننگے پائوں چھلانگ پر ایک اور چیخ نکلتی مگر ابھی جوش ہی بہت تھا عزہ بھی مارے تجسس قریب اٹھ آئی
    یہ دیکھو۔ اس نے فخریہ انداز میں موبائل لہرایا
    کمنٹس کھلے تھے تصویر سوہو کی تھی اس پر کمنٹ تھا بھی کیڑے مکوڑے والا۔۔عزہ اور نور دیکھ کر بھی نہ سمجھ سکیں اسے الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگیں۔
    یہ کیا کیڑے مکوڑے دکھا رہی ہو۔۔ نور بے زار ہوئی۔۔
    یہ دیکھو۔۔
    الف نے سی ٹرانسلیشن پر کلک کیا تھا
    جملہ کچھ ایسا بنا اب۔۔
    ہمارے سرپرست اعلی فرشتے خاصی آگ لگا رہے۔۔
    Our guardian angel is on fire
    دونوں اب بھی نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھ رہی تھیں۔۔
    الف نے سر پیٹ لینا چاہا۔
    دیکھو۔۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر انہیں سمجھانے کو تیار ہوئئ
    سوہو کا مطلب ہو تا سرپرست ۔۔ سوہو خود کو ایکسو کا سرپرست کہتا ہے۔ خود سے نہیں کہہ رہی اسکا انٹرویو دیکھا تھا۔۔ ( انکی مشکوک نظروں کے جواب میں اس نے صفائی بھی دی پھر جملہ جاری رکھا)
    تو ایکسو کا سرپرست آگ لگا رہا ہے یہ کمنٹ اس آئی ڈی نے کیا ہے اور سوہو نے جوابا اسے یہ جو نشان بنا کر دیاہے اسکا مطلب ہا ہا ہا ۔ کورین ہا ہا میں ہ کی آواز والے کورین حرف کو ہی بس لکھ ڈالتے۔۔ یعنی یہ جو کوئی بھی ہے سوہو کا قریبی ہے اور سرپرست کہہ رہا تو یقینا ایکسو کا ہی کوئی رکن ہے۔ اور دیکھو۔۔
    وہ پر جوش انداز میں بتاتی اب موبائل میں اسکی آئی ڈی کھول رہی تھی۔ عزہ اور نور نے ایک دوسرے کو ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں
    فارغ ہو گئ ہے لڑکی دماغ سے پکا۔۔
    یہ دیکھو۔ آئی ڈی سامنے آچکی تھی
    یہ کس کا بایاں رخ ہے؟ وہ دبے دبے جوش سے سرخ چہرہ لیئے تھی۔
    عزی نے ہاتھ بڑھا کر موبائل ہاتھ سے لیا منے سے گول ڈی پی میں سا آدھے دھڑ کا بایاں رخ دکھائی دے رہا تھا۔۔ مگر یہ سیہون ہی ہے ؟ یہ پہچاننا ناممکن تھا۔۔ اس نے اسکرین شاٹ لیکر زوم بھی کیا مگر تصویر مزید دھندلا گئ جبکی الف داد چاہنے والے انداز مین پوچھ رہی تھی
    ہے نا ۔۔ سیہون ہے نا؟۔
    تبھھی دروازہ کھلا ابیہا کڑے تیوروں کے ساتھ کھڑی تھی
    کیا شور مچا رکھا ہے۔۔ کسی کا خیال ہے ؟ کوئی سو رہا ہے باہر۔۔ وقت دیکھو اور اپنا والیم دیکھو۔۔
    وہ دروازہ بند کرتئ آواز دباتی بھنائی
    کون سو رہا ؟ اٹھائو سحری کا وقت ہو گیا ہے چلو بنائیں سحری۔۔
    نور کی وقت دیکھو پر سیدھا گھڑی پر نظر گئ تھی سو ہڑبڑا کر اٹھی
    ہے جن ۔ اس نے تو روزہ نہیں رکھنا نا۔
    ابیہا نے کہا تو سب نے کدو ہلائے۔۔ واقعی۔
    جوش میں سب بھول گئ تھیں ۔
    ناشتہ بنائو پونے تین ہو رہے۔۔ عزہ بھی گھڑی دیکھ کر حواس باختہ ہوئئ۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سب کچن کے سلیب کے گردجمع اسٹولز پربراجمان تھیں
    درمیان میں ایمرجنسی لائیٹ رکھی تھئ جس کی روشنی کے آگے کارن فلیکس کے جہازی ڈبے سے آڑ بنا رکھی تھی تاکہ ہے جن پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا سالن پراٹھے دہی آملیٹ گرم بھاپ اڑاتی چائے پرلطف سحری ۔۔
    واہ جیو۔۔ فاطمہ۔۔
    پہلا نوالہ لیتے ہوئے ابیہا نے سرگوشی میں چٹخارہ بھرا۔۔
    گومو ویو۔۔ نور نے بھی شکریہ ادا کیا
    ویسے کل سے ہم بھی مدد کرائیں گے مجھے اچھا نہیں لگ رہا ایسے منہ اٹھا کر سحری کرنے آجانا۔
    الف شرمندہ ہوئی۔ وہ سب آپس میں آواز دبا کر ہی بات کر رہی تھیں۔۔
    کوئی بات نہیں۔۔ اتنا زیادہ کام نہیں تھا بس پراٹھے بنائے ہیں چائے ابیہا نے اور آملیٹ عشنا نے بنایا ہے۔
    فاطمہ کبھی کسی اور کے کیئے کام کی توصیف وصول نہیں کر سکتی تھی۔ سو تفصیل سے بیان داغا
    اسکے انداز پر سب کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئ تھی
    ہماری امی نے کوئی کام نہیں کیا۔ عزہ واعظہ کو چھیڑنے لگی
    بے چاری واعظہ سے ایک ہاتھ سے کام کرواتے اچھے لگتے ہم۔۔
    ابیہا نے ترس بھری نگاہ ڈالی تھی واعظہ پر۔۔ اس نے بھی فورا مظلومیت طاری کی شکل پر۔۔
    دوستئ نے ویسے سے سب سے اہم کام کیا ہے۔۔
    عشنا نے شرارت بھرے انداز میں کہا تو واعظہ گھورنے لگی۔۔ اب سب یقینا اسکا مزاق اڑانے والی تھیں۔۔
    کیا؟۔ نور متجسس ہوئی
    اس بلب کے سامنے آڑ بن کر پورا آدھا گھنٹہ کھڑی رہی تھیں تاکہ ہے جن کے منہ پر اسکی روشنی نہ پڑسکے۔۔
    عشنا کا انداز مزاق اڑانے والا نہیں تھا ۔۔ اسے قدر تھی واقعی آدھا گھنٹہ ۔۔
    ہیں لغت؟۔ الف بے یقینی سے دیکھنے لگی۔۔
    یار تم لوگ واقعی اتنا سوچتے ہو۔۔
    نور نے مڑ کر بے خبر سوتے کیٹر پلر کو دیکھا۔۔
    سوچنا تو چاہیئے ویسے ہمیں۔۔ عزہ نے قائل ہونے والے انداز میں کہاتھا۔۔
    رمضان تو ہے ہی ایک دوسرے کا احساس کرنے کا نام۔۔
    وقت کیا ہے ویسے سحری کا ۔ ابیہا نے پوچھا تو واعظہ کی۔نگاہ فورا گھڑی پر گئ۔ تین بج کر پانچ منٹ ہونے کو تھے۔۔ اسکی سحری ختم ہو چکی تھی سو پانی پیتی فورا برش کرنے کی نیت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    تین بج کر چھتیس منٹ ہے وقت کافی وقت ہے واعظہ۔۔
    اسے اٹھتے دیکھ کر فاطمہ نے تسلی دینی چاہی۔۔
    میں نے سحری کر لی ہے ۔تم لوگ کھائو۔۔
    وہ سہولت سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ فاطمہ نے مزید کچھ کہنا چاہا مگر ابیہا نے آنکھ کے اشارے سے روک دیا۔
    یار ویسے اسطرح بول بول کر تو حلق میں خراش پڑ رہی ہے۔۔
    نور کو کہتے ساتھ ہی کھانسی لگ گئ آواز دبا دبا کر کھانستی۔۔ الف نے جھٹ پانی کا گلاس تھمایا دو تین گھونٹ پی کر ہی تھمی۔۔
    یار بات سنو یہاں پر گرمی تو اتنی زیادہ نہیں مگر روزہ ہے بڑا لمبا۔۔سات بج کر سینتیس منٹ پر افطار ہوگا۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آپ سات بج کر سینتیس منٹ تک کچھ کھائیں پئیں گی ہی نہیں؟ اسطرح تو کمزوری ہو جائے گی آپکو۔۔ یہ تو بہت مشکل عبادت ہے۔۔
    نرس نے اتنا بڑا منہ کھول کر حیرانی کا اظہار کیا تھا۔۔
    وہ سحری کے لیئے دو روٹی اور سالن گھر سے ڈبے میں لائی تھی۔۔ سحری کے وقت گرم کرکے اپنی ایک دوست ڈاکٹر کے اسپتال سے ملحق ڈورم میں چلی آئی تھی۔۔ دو بیڈوں کا اسکے اپنے گھر کے غسل خانے جتنا ہی ڈورم تھا جس میں بیڈوں کے بعد بس چلنے کی گنجائش تھی بس۔ وہ ایک بیڈ پر ٹک کر کھانے لگی تھی۔ اسکی سہیلی تو ڈیوٹی پر تھی مگر اسکے ناشتہ شروع کرتے ہی اسکی سہیلی کی روم میٹ چلی آئی پہلے تو حیران رہ گئ کہ یہ کونسا کھانے کا وقت۔۔ نائیٹ ڈیوٹی والے تو عموما کھا کر آتے اور صبح ناشتہ کرتے۔۔ اسے تفصیل سے بتانا پڑا مگر اگلی مطمئن نہ ہو سکی۔ جھٹ سوال داغا۔۔
    عروج نوالہ بناتے ٹھنڈی سانس لیکر رہ گئ۔۔
    یہاں تو موسم اچھا ہے۔۔ پاکستان میں تو چوالیس ڈگری پر بھی لوگ بھوک پیاس برداشت کر رہے ہونگے۔۔ امی اٹھی ہونگی ناشتہ بنا رہی ہونگی سب گھر میں جاگ رہے ہونگے۔ تازہ لسی میں بناتی تھی اب جانے۔۔
    وہ سوچ کر ملول سی ہوئی
    خدا اتنا ظالم نہیں ہوتا کہ آپکو بھوکا پیاسا رکھ کر مانے۔۔ وہ تو آپ سے بہت پیار کرتا ہے آپ اس سے مانگیں تو یونہی دے دیتا ہے اسکیلئے آپکو سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کی قطعی ضرورت نہیں۔ کوئی بڑی خواہش ہے جو پوری کروانے کے لیے روزہ رکھ رہی ہو؟۔۔
    عروج اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔ سحری کا وقت تنگ ہو رہا تھا اس نے جلدی سے کافی کا گھونٹ بھرا۔۔ یوں تو سحری میں پینی نہیں چاہیئے مگر کوریا میں گرمی کے نام پر درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ تیس تک جاتا ہے اور اس وقت تو آرام سے منفی میں تھا سو ایک طرح سے سرد ی کے ہی روزے تھے پیاس شائد نہ لگتی اتنی ہاں ٹھنڈ سے بچنے کو کافی ضرورئ تھی ۔۔ وہ لے تو دو روٹیاں لائی تھی مگر ایک کے بعد دوسری کی جگہ نہ تھی زبردستی کرکے کہ ضائع نہ ہو اس نے آدھی مزید کھا ڈالی تھی۔
    اکیلے اپنوں سے اتنی دور سحری اسکا دل اور آنکھیں دونوں بھر آئی تھیں۔۔
    نرس نے اسے ملول دیکھا تو جانے کیا سمجھی۔۔ قریب آکر بیڈ کنارے ٹکتے دلگیری سے بولی۔
    سب سے بڑھ کر آپ کو آپ کے ہی کیئے گئے اعمال کا صلہ ملتا۔۔ اچھے اعمال کرو اچھا صلہ ملا ملے گا برے اعمال کا برا۔۔ مانگنے کیلئے تو بس سچی نیت اور پر خلوص دل درکار ہوتا ۔ سچے دل سے مانگو منت پوری ہوگی۔۔ سو بنا کھا پی کر اپنے جسم کو تکلیف مت دو۔۔ اسکو اچھی حالت میں واپس کرو گی تب ہی تو بدھا خوش ہو کر اگلی دفعہ بھی دنیا میں بھیجیں گے میری یہ شاگرد بہت اچھی طرح دنیا میں رہتی ہے اسکو دوبارہ بھی بھیج دیتا ہوں۔۔
    اسکا انداز ناصحانہ نہیں تھا ۔ بے حد نرم سے انداز میں میٹھئ زبان سے کہہ رہی تھی۔اسکے گول سے چہرے پر دھیمی سی مسکان تھی۔ وہ بحث کرنے والے انداز میں نہیں کہہ رہی تھئ وہ اپنے انداز سے اسکی غلطی کو نرمی سے جتا رہی تھی۔۔
    عروج اسے دیکھتے ہوئے کھو سی گئ۔۔
    یہ۔۔ یہ۔ انداز مسنگ ہوتا ہے ہمارے عالموں میں۔ چھوٹتے ہی کسی کو غلط ثابت کرو انداز میں سختی ہو تو وہ غلط ثابت ہو نہ ہو آپ سے متنفر ضرور ہو جاتا ہے۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قسط چار حصہ تین
    صبح سب کی سب جمائیآں لے رہی تھیں۔سوتے سوتے چار بج گئے تھے گو نماز پڑھ کر سونا چاہیئے تھا مگر پہلے روزے میں سب نے خود کو رعائیت دی تھی۔ آگے انشااللہ عادت بن جائے گی نماز پڑھنے تک جاگنے کی۔ ابیہا فیس واش اور کریم اٹھائے باہر نکلی ٹھٹکی۔
    پیچھے پیچھے اپنی دھن میں نکلتی عشنا سیدھی اسی سے جا ٹکرائی۔
    سوری۔
    وہ فورا معزرت خواہانہ انداز میں بولی مگر ابیہا متوجہ نہ تھی۔ ٹھٹکی کھڑی تھی عشنا نے اسکی نظروں کے تعاقب میں لائونج میں دیکھا تو وہ بھی ٹھٹک گئ۔
    عروج تھکی تھکی سی داخلی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی
    صبح بخیر۔ اف بہت تھک گئ۔۔
    ایک تو اسوقت ہے جن ہوتا ہی نہ تھا گھر پر صبح صبح اٹھ کر نکل جاتا تھادوسرا عروج کے منہ سے ویسے بھی اونچی آواز شدید غصے میں ہی کبھی نکلتئ تھی آج تو ویسے بھی روزہ تھا سو آواز کی گھن گھرج معمول سے بھی کم تھئ سو بڑے آرام سے کہتی انکے پاس چلی آئی۔ ٹس سے مس نہ ہوتی دونوں ساکت کھڑی لائونج میں بچھے بڑے سے کیٹر پلر کو دیکھ رہی تھیں۔ اسے انکا انداز غیر معمولی لگا۔ دھیرے سے عشنا کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
    خیریت۔۔
    عشنا چونکی۔۔ ابیہا بھی۔۔
    ہے جن حسب معمول سات بجے نہیں اٹھا۔۔ اوپر سے بالکل بے سدھ پڑا ہے سانس لیتا بھی محسوس نہیں ہو رہا۔
    ابیہا نے خاصے پریشان انداز میں کہا تو عروج نے سر پیٹ لیا
    ارے چار فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہو کر اگر اسکی سانسوں کا زیر بم محسوس ہوگا تو یقینا پریشانی والی بات ہے کہ وہ زور زور سے سانس لے رہا ہے کوئی مسلہ ہے اسکے ساتھ۔ ۔ایک عام صحتمند انسان اتنی زور سے سانس نہیں لیتا کہ میلوں دور اسکا جسم ہلتا نظر آئے۔
    عروج نے کہا تو دونوں قائل ہونے والے انداز میں سر ہلا گئیں
    ہاں یہ بھی ہے۔
    دونوں مطمئن ہو کر کچن کی جانب بڑھ گئیں۔۔
    روزہ نہیں تم لوگوں کا؟ عروج نے انکا رخ دیکھتے آواز لگائی دونوں نے ہی مڑ کر ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر گھورا۔
    اور اشارے سے ہے جن کا سونا جتایا۔ عروج نے بھی جوابا اشارے سے ہی معزرت کی۔
    دونوں کچن کے سنک کی جانب بڑھی تھیں۔ آج چونکہ واعظہ نے بھی یونی جانے کا احسان کرنے کا ارادہ باندھا تھا سو باتھ روم مصروف تھا۔ وہ دونوں منہ دھونے ادھر چلی آئی تھیں۔
    عروج کندھے اچکا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی کہ خیال آیا۔۔رکی پھر پلٹ کر کیٹر پلر پر نظر جما دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرا خیال ہے میں نا ہی سمجھوں آج کے لیئے۔
    یہ نہیں اٹھنے والی۔
    نور نے تیسری بار تقریبا عزہ کو جھنجھوڑا تھا مگر وہ اوں آن کر کے دوبارہ کمبل میں گھس گئ۔ تو ٹھنڈی سانس لیکر بولی موبائل کی موسمی ایپ میں درجہ حرارت دیکھا تو آنکھیں کھل گئیں
    ۔ منفی۔۔ مطلب حسرت ہی رہے گی کوریا میں گرمیوں کے موسم کی جب صبح اٹھو منفی
    وہ بڑبڑائی۔۔
    سونے دو۔ ویسے بھی اسکی ہنڈرڈ پلس ہی حاضری ہوگی۔
    اپنئ تو کلاس لیتی ہی ہے اپنی اس چندی انکھوں والی سہیلی کے ساتھ بھی اسکی کلاس لینے چلی جاتی ہے۔
    الف نے ہرگز بھی متاثر ہونے والے انداز میں نہیں کہا تھا۔
    بلکہ انداز اسکی عقل کا ماتم کرنے والا تھا
    خیر اسکے باوجود بھی اسکی اٹھتر فیصد تک ہی گئ حاضری۔
    نور کو یاد تھی عزہ کی کارکردگی۔۔
    الف نے کندھے اچکائے۔۔ گلابی لانگ ٹاپ اور جینز پہن کر وہ نک سک سے تیار اب آئینے کے سامنے گھوم گھوم کر اپنا سراپا جانچ رہی تھی۔ ایکدم ٹھیک اعلی۔ فراگی جیسا نہیں۔ بلکہ الف کا اپنے زاتی انداز کا ہلکا گلابی اسکارف اسکے گول سے چہرے پر ٹھیک ٹھاک جچ رہا تھا۔ لیکن مطمئن نہیں تھئ۔ دوبارہ اسکارف چھیڑنے لگی تو نور نے گہری سانس بھری اپنے سر پر ٹکے لمبے سے اسکارف کا کونا پکڑا نقاب بنائی اور اپنا بستہ اٹھا کر نکلنے کو بالکل تیار ہو گئ۔ جبکہ الف کو اپنے انداز کا اسکارف بالکل نا بھایا تھا سو اب فراگی انداز میں۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیٹر پلر میں واقعی معمولی جنبش تک نہ تھی۔ عروج نے وہم سمجھ کر سر جھٹک کر کمرے کی جانب بڑھ جانا چاہا پھر رک گئ چند لمحے تزبزب سے دیکھا پھر اسکے اندر کی ڈاکٹرنی نہ رہ پائی۔
    اپنا بیگ کائوچ پر اچھالتی وہ دھیرے سے چلتی آئی اور کیٹر پلر کے پاس گھٹنے کے بل آبیٹھئ
    زپر اوپر تک چڑھائے بمشکل ہلکی سی دراڑ سانس لینے کیلئے چھوڑی ہوئی تھئ۔ اس نے زپر پکڑ کر نیچے کیا تو اندر سے گرمی کی جیسے لو سی نکلی۔ سرخ چہرے سرخ آنکھیں زرا سی کھول کر ہے جن نے دیکھا پھر نقاہت سے بند کر دیں۔
    عروج نےاسکی پیشانی چھوئی تو جل رہی تھی۔
    اسے تو تیز بخار ہو رہا۔۔ اس نے پریشانی سے کہتے ایمرجنسی ڈکلیئر کر دی تھی۔
    واعظہ ابیہا فاطمہ۔۔ جلدی آئو ادھر۔۔ اسے شدید بخار ہو رہا ہے۔
    یہ اسکی وہی مخصوص والیم والی آواز جو ایسے ہی موقعوں پر ہی نکلتی تھی۔ اور کافی زور سے نکلتی تھئ۔ نیم بے ہوش ہوتا جن بھی آنکھیں کھول بیٹھا تھوڑی سی مزید طاقت ہو تی تو نہ صرف اٹھ بیٹھتا بلکہ اپنی عروج انی کو بچانے کیلئے کسی بھی طوفان سے ٹکرا جاتا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زرا سی آنکھ کھول کر جن نے دیکھا تو آٹھ سروں کو اپنا پریشانئ سے معائنہ کرتے پایا۔ وہ اس وقت واعظہ کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔۔ نور الف طوبی عشنا اسکے بیڈ کے پیتھیانے کھڑئ تھیں تو ابیہا اسکے سرہانے بیٹھی اسکے ماتھے پر پٹیاں رکھ رہی تھی۔ عروج جمائیاں لیتی ساتھ والے بیڈ پر بیٹھئ وقت دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے ایک ٹیکہ لگا دیا تھا پندرہ منٹ تک بخار کم ہو جانا چاہیئے تھا۔ فاطمہ عروج کے پاس تکیہ بازو میں دبائے آلتی پالتی مارے بیٹھی جھوم رہی تھی نیند سےپاس ہی صائم بھی بے خبر سو رہا تھا طوبی اسکے زرا سا کسمسانے پر اسے تھپک دیتی تھئ۔ ۔ واعظہ غائب تھئ عزہ دوسری جانب سے اسکے سرہانے بیٹھئ اسے جانے کیوں گھور رہی تھئ۔۔ طوبی کو دیکھ کر اسے خیال آیا۔ یہ پڑوس والی انی کیوں آئیں۔ اس نے زہن پر زور ڈالا تو کچھ دیر پہلے کا منظر تازہ ہوا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا کسے؟۔
    واعظہ تولیہ سے منہ پونچھتی گھبرا کر باہر نکل آئی۔
    الف اور نور گھبرا کر بھاگی آئیں عزہ البتہ محض بڑ بڑا کر کروٹ بدل گئ۔ سخت دل نہ سمجھو بڑ بڑائی پتہ ہے کیا تھی
    پینا ڈول دے دو نا ۔۔ چلا ئو مت۔ اب خر خر ہلکے خراٹے گونج رہے تھے
    عروج کے قریب ترین عشنا اور ابیہا تھیں سو وہ جائے وقوعہ پر پہنچ چکی تھیں۔۔
    واعظہ۔ میڈیکل باکس لیکر آئو اسکا بخار بہت تیز لگ رہا ہے مجھے۔ ابیہا برف ڈال کر ایک پیالے میں پانی بنا لائو۔
    عشنا تم اندر سےکمبل اٹھا لائو۔
    عروج نے سب کو مصروف کر دیا تھا جلدی جلدی ہدایت دے کر وہ اب اسکی نبض دیکھ رہی تھی۔ واعظہ اور ابیہا سرعت سے مڑی تھیں۔
    ہم بچ گئے۔۔ نور نے الف کے کان میں سرگوشی کی۔جانے عروج نے سن لیا یا اسکی شامت آئی ہوئی ہی تھی۔
    نور جائو طوبی کے گھر اسکے شوہر اس وقت گھر پر ہونگے بلا کر لائو انہیں اسے بیڈ پر لٹانا ہوگا زمین سے تو اور ٹھنڈ چڑھے گی اسے۔۔
    عروج مصروف سی اسکے سلیپنگ بیگ کا زپر کھول رہی۔تھی۔ جن میں واقعی جیسے جان نہ تھی۔
    بے سدھ پڑا تھا۔
    نور دانت پیستی پیر پٹختئ دروازے کی جانب بڑھی الف البتہ مسکراہٹ چھپا تی عروج کی مدد کروانے لگی۔۔
    عشنا نے دھیرے سے سر کھجایا۔۔
    دبلا سا تو ہے اٹھا سکتے ہیں ہم ہی۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
    دبلا سا تو ہے ہم سہارا دے کر اٹھا لیتے ہیں۔۔
    لائونج کے بیچ میں کھڑی طوبی نے کہا تھا تو وہ سب اسے دیکھ کر رہ گئیں۔۔
    عروج نے تھرما میٹر میں بخار دیکھا ایک سو تین سے بھی اوپر جا رہا تھا ایک سو تین اعشاریہ پانچ چھے۔
    واعظہ اسے فکر مندی سے دیکھ رہی تھئ۔
    عروج وقت ضائع کیئے بنا اپنے بیگ سے پین اور پیپر نکال کر دوائیں گھسیٹنے لگی۔۔
    یہ اسکے ہاسپٹل کی پرچی تھی۔ کوریا میں مخصوص نسخے کے بنا دوا لینا ناممکن تھا اس نے بھی بس بخار کی دوا لکھی تھی
    ہم ایمبولینس نا منگوا لیں۔۔ پرچی تھامتے واعظہ نے کہا تو عروج اسے دیکھنے لگئ۔
    میں تم پر شک نہیں کر رہی مگر پرایا بچہ ہے بخار بھی تیز ہے اگر میڈیکل اسٹور سے دوا نہ دی گئ تو؟
    واعظہ نے وضاحت کی تو وہ ایک لمحے کو سوچ میں پڑگئ۔
    اسکو اندر تو لے جائو زمین سے تو اور ٹھنڈ چڑھ رہی ہوگی
    طوبی نے کیا تو وہ دونوں چونکیں۔

    یہ * تو دو دن کیلئے شہر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔ نور نے بتایا تو مجھ سے رہا نا گیا ۔۔ایک۔طرف سے تم لوگ کندھے پکڑ لو میں ادھر سے ٹانگیں پکڑ لیتی ہوں۔۔
    طوبی نے جیسے چٹکی بجاتے ہی مسلئہ حل کیا۔۔
    صائم کو گود میں لیئے دھیرے دھیرے تھپکتی نور نے آنکھیں پھاڑ کر کیٹر پلر کے حجم کو دیکھا پھر طوبی کو۔۔
    کندھے سے اٹھانے والے زیادہ وزن اٹھاتے ہیں۔۔
    الف واعظہ کے کان میں منمنائی۔۔
    عروج اور واعظہ ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہی تھیں۔۔
    جن ہوش میں تو تھا مگر اسکے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی اسکے سر پر کیا کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔۔
    جن ہمت کرو اٹھ سکتے ہو ؟ عروج نے دھیرے سے اسے ہلا کر ہنگل میں پوچھا۔۔
    دے۔۔
    بمشکل آواز نکلی تھی اسکی۔ ہمت کرکے اٹھنے لگا تو واعظہ نے آگے بڑھ کر اسے اٹھ کر بیٹھنے میں مدد کی۔
    شاباش ہمت کرو ادھر کمرے میں چلو۔
    واعظہ اسکی ہمت بندھا رہی تھی۔۔
    عروج کو تھوڑا سا عجیب لگ رہا تھا مگر وہ بیمار تھا باقی ہر بات اس بات کے آگے غیر اہم تھی۔۔
    اس نے آگے بڑھ کر سہارا دیا ایک جانب سے واعظہ اور دوسری جانب سے عروج اسکو سہارہ دے کر اٹھا ئے تھیں۔
    انی کین چھنا۔۔
    اسے خود بھی ایسے سہارہ لینا اچھا نہیں لگ رہا تھا سو نقاہت بھری آواز میں بھی منع کر رہا تھا
    چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائو ۔۔
    ابیہا ہدایت دیتی آگے بڑھ کر دروازہ کھولنے لگی۔
    ہے جن کو چکر سا آیا بے دم سا ہونے کو تھا۔۔ واعظہ ایک بازو سے سہارا دئیے تھے گرنے ہی لگی طوبی نے فورا آگے بڑھ کر واعظہ کی جگہ لے لی۔
    عزہ کہاں ہے بھائی کی اتنی طبیعت خراب ہے ۔۔
    طوبی کو اسکی بہن کی بے حسی پر غصہ ہی آگیا تھا۔۔
    سارئ کزنیں خوار ہو رہی ہیں سگی بہن صاحبہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہیں۔۔ غصہ آنے والی بات تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔
    بڑئ بہن ماں کی جگہ ہوتی ہے۔ ماں کی طرح اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھتی ہے اور تمہارے کونسا دو درجن بہن بھائی ہیں لے دے کر ایک ہی ہے ۔ ارے بھائی کا خیال رکھو اسے پیار جتائو تاکہ یہ تمہارے روییے سے متاثر ہو کر لوٹ آئے ۔ تمہیں اچھا لگے گا جنت میں تمہارے ساتھ تمہارا بھائی نہ ہو ؟
    طوبی کا انداز سمجھانے والا تھا۔ عزہ نے دانت کچکچا کر جن کو دیکھا۔ جو آنکھیں موندے پڑا تھا۔۔کمبل سینے سے تھوڑا نیچے کیا اسے شائد گھبراہٹ ہو رہی تھی۔ عزہ نے کھینچ کر اوپر کیا بس نہیں تھا منہ بھی ڈھانک دیتی۔ اسکی وجہ سے طوبی نے نہ صرف اسے سوتے میں جگایا تھا بلکہ ڈانٹا بھی تھا تبھی اب انداز بدل کر سمجھا رہی تھئ۔
    کین چھنا۔۔
    میں ٹھئک ہوں۔۔
    بمشکل خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر اس نے تسلی دینی چاہی۔ عزہ جمائیاں لیتی اسکے سرہانے بیٹھی تھی۔ اسکا بخار کم ہو رہا تھا پسینہ آرہا تھا وہ گھبرا کر کمبل ہٹا کر بازو نکالتا یہ واپس درست کردیتی۔اس وقت تو غصہ آرہا تھا اتنا ڈانٹا تھا طوبی نے چھوٹے بھائی کا خیال نہیں کرتی ہو اتنا تیز بخار تم مزے سے سو رہی ہو بس کان نہین پکڑے تھے اسکے باقی ہر طرح سے چنگی بھلی بستی کی تھی۔۔ جن نے بھنا کر بازو کمبل سے نکالا تھا عزہ نے سرعت سے کمبل درست کر دیا ۔۔
    کین چھنا انی۔۔
    وہ بے چارہ گھگھیایا تھا۔۔
    ایسے کیسے کین چھنا۔۔ ابیہا جھلائی۔۔ اسکے سر پر رکھی پٹئ اٹھا کر برف والے پانی کے پیالے میں ڈبوئی اور اس میں ڈوبی پٹی اٹھا کر اسکے سر پر رکھی۔
    ایک سو تین بخار تھا تمہیں۔ عروج بر وقت نہ دیکھتی تو۔
    وہ باقائدہ آنکھیں نکال کر اسے گھور رہی تھی۔ جن کیا کہتا آنکھیں موند لیں۔
    کچھ کھا لو تاکہ دوا پلائی جا سکے۔
    واعظہ ایک ہاتھ سے اسکے لئیے دلیئے کا پیالہ بنا کر لائی تھی۔ اسکے پاس آکر بیٹھتے ہوئے فکر مند انداز میں کہا۔
    عروج اسکے کان میں آلہ گھسیڑ کر بخار دیکھ رہی تھی۔
    اب سو سے کم ہو چکا تھا۔
    روزہ تو نہیں رکھا ہوا نا اس نے۔۔ طوبی نے تسلی کرنا چاہی۔
    یہ کیوں رکھے گا روزہ۔
    نور نے کہا پھر زبان دانتوں تلے دبا لی۔ عزہ کا بھائی۔
    ہاں یہ تو بے چارہ ۔۔ طوبی تاسف سے بولی۔۔
    ابیہا نے جن کو سہارا دے کر بٹھایا بیڈ کے سارے تکیئے اسکی پشت پر سہارہ دینے کے لیئے لا ٹکائے۔ اسے اٹھتے دیکھ کر عزہ بھی جان چھٹی سو لاکھوں پائے کے مصدق اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اس بات سے انجان طوبی بغور دیکھ رہی تھی اسکا رویہ۔
    اور طوبی کو عشنا۔۔
    عزہ تو گئیو۔۔
    وہ الف کے کان میں بڑ بڑائی تھی۔ الف سو فیصد متفق تھی۔
    ٹیکا لگنے سے وہ اٹھ کر بیٹھ تو گیا تھا مگر ابھی کمزوری تھئ۔۔ واعظہ نے پیالہ اسکی گود میں کشن رکھ کر رکھ دیا تھا۔۔ مگر چمچ اٹھاتے اسکے ہاتھ میں واضح کپکپاہٹ تھئ۔ ابیہا فورا بڑھنے کو تھی ہائے منا بھائی کھا بھی نہیں پا رہا۔ کہ طوبی نے عزہ کو کہہ دیا۔
    عزہ تم کھلا دو بھائی کو۔۔
    میں کیوں۔۔
    وہ بدکی۔ طوبی نے تاسف سے گھورا
    بھائی بدھ مت ہو یا ہندو بھائی ہی ہوتا کیسی لڑکی ہے بھائی سے لگائو ہی نہیں اسے۔۔
    طوبی سوچ کر ہی رہ گئ۔۔
    جن انکی۔بات سے بے نیاز دلیہ کا پہلا چمچ منہ میں ڈال رہا تھا۔۔
    سب کی سب عزہ کو دیکھ رہی تھیں سب نے آنکھوں میں اسے گھرکا ہی تھا۔۔ وہ گہری سانس لیکر بیٹھ گئ اور جن کے ہاتھ سے پیالہ چھیننے والے انداز میں کھینچ لیا۔۔
    جن بھونچکا رہ گیا تھا مگر کھا جانے والی نظروں سے گھورتی عزہ چمچ بھر کر اسی کے آگے بڑھا رہی تھی۔
    اس نے اپنا کیا دھرا سوچنا چاہا آخر اسکو اسکی کس بات نے اتنا آگ بگولہ کیا تھا
    ایٹ۔۔ ( کھائو) عزی نے دانت پیس کر کہا تو وہ گھبرا کر منہ کھول گیا۔ پورا چمچہ بنا پھونکے عزہ نے منہ میں دیا تھا اسے ۔۔ بے چارہ بھاپ اڑاتا منہ سے نگلنے لگا۔۔ ابیہا کو ترس آیا تھا تو نور کو اسکی لال بھبوکا شکل دیکھ کر ہنسی۔۔
    بلکہ عشنا اور الف بھی منہ چھپا کر ہنسی تھیں۔
    طوبی البتہ بڑے دلار سےانگریزی میں بولی۔
    کتنے خوش قسمت ہو تم بہنیں خدمت کو تیار کھڑی ہیں تمہاری بس اب زیادہ خدمت مت لینا جلدی سے ٹھیک ہو جائو۔۔
    دے۔۔ یس۔۔
    وہ گڑبڑایا۔
    یہ ساتوں بہنیں ہیں میری ۔۔وہ سر جھکا کر بولا
    گھمسامنیدہ انئ۔۔
    اسکا معصوم سا انداز عزہ نے دلیہ میں چمچ کا گھوٹا لگایا۔
    آیا بڑا میرا بھائی۔ اس نے اس بار بھر کر چمچ اٹھایا
    سات بہنیں ؟ طوبی چونکی۔۔ سیون کیوں؟
    عزہ ، الف، نور ، عروج ، عشنا ، فاطمہ ، ابیہا اور واعظہ کل آٹھ لڑکیا ں ہوئیں ان میں سے کسے بہن کے عہدے سے سبکدوش کیا اس نے۔
    وہ سوچ میں پڑی۔
    آٹھ وی آر ایٹ۔۔
    وہی بھرا ہوا چمچ اس نے جن کے منہ میں گھسیڑا۔۔
    اس نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔ یہ نوالہ بھی چبائے بنا حلق میں سیدھا اترا تھا۔۔
    میں بہت خوش قسمت ہوں میر ی آٹھ بہنیں ہیں بلکہ آپکو ملا کر اب تو نو ہو گئی ہیں۔
    جن کے لیئے اگلا چمچ تیار تھا مگر جن جھکائی دے گیا بڑے ادب سے مشکور ہوا تھا طوبی نہال ہی ہوگئی۔
    یس ۔میں بھی تمہاری بڑی بہن ہوں۔ مت بھولنا۔۔ اچھا میں اب گھر چلتی ہوں کسی چیز کی ضرورت ہو مجھے بتا دینا ٹھیک میں افطاری کے بعد چکر لگائوں گی تمہاری طبیعت پوچھنے۔
    وہ جن کے قریب آکر بڑے پیار سے اسکی پیشانی کے بال سمیٹ کر سر سہلا کر بولی
    دے انئ۔
    وہ بھی جوابا دل سے مشکور ہوا۔
    اور بہن کو مزید پریشان مت کرنا دوا ئیں وغیرہ وقت پر لینا سمجھے۔
    وہ واقعی ہی بڑی بہن بن چلی تھی۔ ہدایتیں نصیحتیں کرکے صائم کو گود میں اٹھاتی رخصت ہوئی تو عزہ نے اسکے جانے کا اطمینان کرکے پیالے کا آخری چمچ دلیہ کا سمیٹتی جن کے منہ میں گھسیڑ کر عزہ غرائی تھئ۔۔
    یہ کس نے شوشا چھوڑا تھا کہ جن میرا بھائی ہے سچ سچ بتا دو۔
    وہ دیکھ جن کو رہی تھی مگر مخاطب اردو میں ان ساتوں سے تھی جن کچھ سمجھنے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں چمچ منہ میں دبائے دیکھ رہا تھا
    تم نے خود ہی تو کہا تھا۔۔
    عروج نے جمائی لیتے ہوئے اٹھنے کا ارادہ باندھا۔۔
    میں نے بس اتنا کہا تھا جب طوبی آپی نے پوچھا یہ بھائی ہے تو ہاں۔ میرا بھائی ہے۔ مگر آگےسے اتنی بڑی کہانی کس نے بنا دی کہ میرے والد نے کسی بڈھسٹ آنٹی سے شادی کی ہے ان میں علیحدگی ہوچکی میں والد کے ساتھ رہ کر مسلمان اور یہ والدہ کے ساتھ رہ کر بڈھسٹ ہو چلا ہے وغیرہ وغیرہ ابھی اتنا لمبا واعظ دیا ہے آپی نے کس طرح اسکا خیال کرکے میں اسے مسلمان ہونے پر مائل کروں۔
    عزہ جھٹکے سے اٹھ کر چلائی تھی کافی دیر سے دبا غصہ تھا جو یوں پھٹ پڑی۔
    واعظ کیا ہوتا؟ عشنا الف کے کان میں گھسی
    وہی جو لغت دیتئ رہتی ہے اکثر۔
    الف نے اطمینان سے سینے پر بازو لپیٹے
    میدان سج چکا تھا اب یقینا گھمسان کا رن پڑنے والا تھا واعظہ اور عزہ کے بیچ
    اگر تم مجھ پر شک کر رہی ہو تو یہ کام واقعی اس بار میرا نہیں۔۔
    واعظہ ٹھنڈی سانس بھر کر فاطمہ کے پاس ٹکی جو اب مکمل ٹن ہو چکی تھی واعظہ کے پاس بیٹھتے ہی تکیہ پر سر جھکائے جھکائے ہی اس پر لڑھک گئ۔۔ واعظہ نے بمشکل آگے ہو کر اسے خود پر لدنے سے بچایا تو وہ اسکی پشت پر بیڈ پر لڑھک گئ۔
    عروج بیڈ سے اتر کر چپل ڈھونڈ رہی تھی ارادہ اب لمبی تان کر سونے کا تھا۔۔
    اور کسی کا زہن اتنا نہیں چلتا امی۔ عزہ کو شک نہیں یقین تھا۔۔
    کچھ اندازہ ہے رمضان چل رہا اتنا بڑا جھوٹ کیسے نبھائیں گے ہم؟ اوپر سے یہ جو بھائی کو مسلمان کرنے کا ٹاسک طے کر دیا ہے طوبی آپی نے اسکا کیا کریں گے؟
    وہ دونوں بازو کمر پر ٹکائے لڑنے والے انداز میں دوبدو تھئ
    عروج کی چپل نہیں مل رہی تھی اکڑوں بیٹھ کر بیڈ کے نیچے دیکھنے لگی
    نور نے واعظہ کی شکل دیکھی تھکن واضح تھی اسکے چہرے پر اتنئ کہ اپنی صفائی بھی نہیں دے رہی تھی وہ فاطمہ کے پاس جگہ بنا کر لیٹنے کو تھی۔جن ابھی بھی چمچ منہ لیئے موضوع گفتگو جاننے کی کوشش کر رہا تھا
    ویو؟ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟
    اس سے رہا نہ گیا توچمچ پیالے میں رکھ کر ابیہا سے پوچھ ہی لیا
    یار لغت کی تو طوبی سے ملاقات ہی نہیں ہوئی ہے دوبارہ آج جا کر ملی ہے اس نے کب کہانی جا ڈالنی تھئ۔
    نور نے کہا تو واعظہ بس تائیدی نظروں سے دیکھ کر رہ گئ۔
    یہ ہوچھ رہی ہے کس نے کہانی بنائی ہے والدین کی علیحدگی اور مزہب والی۔ ابیہا نے بتایا تو وہ عزہ کو دیکھتا اسکے متوقع ردعمل کو سوچنے لگا۔ لگ یہی رہا تھا سچ سن کر بال وال نوچ دے گی اسکے
    تو پھر کس نے ڈالی یہ کہانی۔ طوبی آپی نے خود سے تو یہ سب نہیں سوچا ہوگا نا؟ عزہ کا شک دور نہ ہوسکا تھا
    ہے جن نے گلا کھنکار کر ہمت باندھئ پھر ڈرتے ڈرتے کہہ ڈالا۔۔
    میں نے کہا تھا۔ اس نے انگریزی میں کہہ کر سب کو بھونچکا کر ڈالا تھا۔ عروج چپل بیڈ سے نکالتی رک کر اسے دیکھنے لگی عزہ کا منہ کھلا رہ گیا تھا واعظہ نے تھک کر آنکھیں بند کر لیں تھیں ایک تو رات کو سوئی نہ تھی اوپر سے روزے کی الگ سستی چڑھ رہی تھی میری آہموجی اگلے ہفتے آرہی ہیں سیول میں نے یونہی باتوں باتوں میں بتایا تھا انکو تو وہ پوچھنے لگیں آہموجی کے بارے میں میں نے سچ ہی بتایا تھا تو بولیں پھر اگر آہموجی کورین ہیں تو آپکی شکل کس سے ملتی ہے
    آپ نے انہیں بتایا تھا کہ میں آپکا بھائی ہوں تو مجھے لگا آپ نے کسی وجہ سے ہی کہا ہوگا مجھے آپکی بات رد کرنا مناسب نہ لگا ۔ تومیں نے بس یہی کہا تھا کہ میرے والد پاکستانی تھے اور والدہ کورین سو میری بہن کی شکل والد صاحب سے ملتی ہے۔ ہمارے والدین میں علیحدگی ہو گئ ہے میں اور میری بہن یہاں تعلیم مکمل کرنے کی غرض سے رہ رہے ہیں۔
    جے ہن نے بتایا تھا پھر سر جھکا لیا تھا انداز ایسا ہی تھا جیسے کہہ رہا ہو جو چاہو سزا دے لو۔
    عزہ نے اپنا سر تھام لیا۔
    یک نہ شد دو شد۔ دو چندی آنکھوں والے بھائی اور اب ایک بڑئ آنکھوں والی بہن ۔۔ ایک امی آنے والی ہیں میر اتو کوریا میں خاندان اکٹھا ہوتا جا رہا ہے۔ اب کل کو ماموں چاچو بھی ڈھونڈ لانا امی تم میرے۔۔
    کہتے کہتے وہ بھنا کر واعظہ کو کھا جانے والے انداز سے گھور کر بولی تھی۔
    اچھا۔۔
    واعظہ نیند میں تھی۔۔ اسکی فرمائش سن کر غنودگی میں ہی حامی بھر لی تھی۔ الف اور نور کھی کھی کرنے لگیں تو عروج کے زہن میں جھماکا سا ہوا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دیسی کمچی قسط چار حصہ چار۔
    دوپہر کے چار بجے آنکھ کھلی تھی اسکی۔ دوا کھا نے سے خوب گہری نیند آئی تھی۔ مگر اب شائد دوا کااثر کم ہو رہا تھا سر میں خوب درد ہو رہا تھا اور گلا بھی بند محسوس ہو رہا تھا۔ وہ کسمسا کر پوری ہمت مجتمع کر کے بیڈ کا سہارا لیتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ کمرے میں نیم تاریکی تھی ۔ درمیان کے ڈبل بیڈ پر وہ اکیلا سو رہا تھا جبکہ بائیں جانب سنگل بیڈ پر واعظہ اور فاطمہ لپٹ کر کمبل میں گھسی سو رہی تھیں۔ وہ دل ہی دل میں کافی شرمندہ ہوا تھا۔ اسے پائے خانے جانے کی حاجت تھی سو کافی احتیاط سے بنا آواز
    کیئے بستر سے اٹھا تھا۔۔ دائیں جانب کونے میں باتھ روم کا ہی شائد دروازہ تھا۔۔ اس نے آہستگی سے اسے کھولنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ دروازہ کھٹ سے کھلا اور اسکی ستواں ناک سیدھا دروازے کا نشانہ بنی سی کرتا ناک دباتا پیچھے ہوا ۔۔ یہ ابیہا تھی۔ فورا شرمندہ ہوئی
    اوہ سوری۔۔ لگی تو نہیں۔۔
    وہ آواز دبا کر سرگوشی والے انداز میں ہی بولی تھی۔
    آندے۔۔ کین چھنا۔۔ چے سو ہمنیدہ
    نہیں ۔ٹھیک ہوں۔ معزرت
    وہ سٹپٹا چکا تھا۔۔جھک جھک کر بولا
    وہ مجھے باتھ روم جانا تھا۔۔
    وہ سرخ چہرے سے سر جھکا کر بولا جیسے کوئی بڑا جرم سرزد ہوگیا ہو۔
    تم جاتے بھی ہو؟ ابیہا بے ساختہ ہنسی
    آج تک تو گھر میں باتھ روم استعمال کرتے نہیں دیکھا۔۔
    وہ اردو میں ہی محظوظ ہونے والے انداز میں بولی۔
    دے۔۔ وہ کچھ نہ سمجھا منہ اٹھا کر بٹر بٹر دیکھنے لگا
    آندے۔۔ گپشیدہ
    نہیں جائو۔۔
    وہ ایک طرف ہو کر اسے راستہ دیتے ہوئے الماری کی جانب بڑھی۔۔ اسے نماز پڑھنی تھی سو الماری سے جائے نماز وغیرہ نکالنے لگی۔
    جن تیزی سے اندر گیا تھا۔ اور چند ہی لمحوں میں واپس بھی آگیا۔
    انی۔۔
    ابیہا جائے نماز نکال کر پلٹی تو وہ مسمسی سی شکل بنائے کھڑا تھا
    دے؟ وہ سوالیہ ہوئی
    انئ۔۔ وہ۔۔
    وہ جھجکا۔۔ پھر رک کر تیزی سے کہہ دیا
    انئ اندر ٹوائلٹ رول تو ہے ہی نہیں۔۔ ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عشنا نور الف عزہ لائونج میں قطار سے جائے نماز بچھائے نماز پڑھ رہی۔تھیں
    ابیہا کمرے سے نکلی تو انہیں دیکھ کر پیار ہی آگیا۔۔
    اسکی جانماز بچھانے کی جگہ نہیں تھی سو کائوچ پر رکھتی کچن میں وضو کرنے بڑھ گئ۔
    نماز کے انداز میں دوپٹہ لپیٹ کر جب تک آئی عشنا فارغ ہو چکی تھی اسے دیکھ کر فورا جگہ خالہ کر دی۔
    یہاں کوریا میں جائے نماز کا ملنا آسان نہیں تھا اگر کوئی پاک قالین وغیرہ خریدنے بھی نکلو تو اس پر جانوروں وغیرہ کی تصاویر ہوتی تھیں ۔ انکو ایک جاپانی لڑکی ایک بڑی نئی واٹر پروف نماز کا بتایا تھا۔ جاپان میں خاص قسم کی واٹر پروف میٹیریل سے بنی نماز جو اتنی تہہ ہو جاتی تھی کہ جیب میں آجائے بنائی جاتی ہے۔ نہایت پتلے میٹیریل کی ہونے کی وجہ سے سجدہ کرنا ایسے ہی ہوتا تھا جیسے زمیں پر ہی کر رہے ہوں۔ انہوں نے آن لائین منگوا لی تھیں۔ پھر بھی اگر کسی کو وہم ہو کہ جانے اس میٹیریل پر سجدہ جائز ہے یا نہیں تو جامع مسجد سے خرید لائی تھیں وہ دو جا ء نمازیں بھی۔ اس وقت لائونج میں دو وہی عام استعمال کی جاء نمازیں تھیں دو جاپانی۔ ابیہا خاص جامع مسجد سے خریدی جاء نماز ہی پر پڑھا کرتی تھی۔
    عشنا فارغ بیٹھنے کی بجائے قرآن کھول کر کائوچ پر بیٹھ گئ تھی۔۔
    ہے جن کمرے سے نکلا تو ٹھٹک سا گیا۔اسے سمجھ نہ آیا کہاں جائے ۔۔ باہر نکل جانے کی ہمت نہ تھی۔۔ اور صبح نو بجے کا دلیہ کھایا ہوا تھا سو اب بھوک بھی لگ رہی تھی۔ عشنا نے قرآن پڑھتے ہوئے اسکی موجودگی کا احساس کر کے سر اٹھایا تھا۔۔
    کیا ہوا؟
    عشنا نے اس سے سر کے اشارے سے ہی پوچھا تھا وہ ہلکے سے نفی میں سر ہلاتا باورچی خانے کی جانب بڑھ گیا
    عزہ نے جیسے ہی سلام پھیرا عشنا نے اسے پیر سے ٹہوکا دیا۔۔
    جائو دیکھو تمہارا بھائی شائد بھوکا ہو رہا ہے۔۔
    عزہ نے خشمگیں نظروں سے گھورا تو اس نے سر سے کچن کی جانب اشارہ کیا۔ عزہ نے مڑ کر دیکھا تو جن فریج کھولے کھڑا تھا۔۔
    وہ سر جھٹک کر جاء نماز سمیٹتی دوپٹہ ٹھیک کرتی کچن میں چلی آئی۔۔ جن فریج میں آدھا گھسا ہوا تھا۔
    آہٹ پر سر اٹھا کر دیکھا پھر فورا گھبرا کر سیدھا ہوا
    وہ میں کچھ کھانے کو دیکھ رہا تھا۔۔
    اسکا چہرہ ابھی بھی ہلکا سرخ ہو رہا تھا آواز بھی بھاری ہورہی تھی۔۔
    عزہ نے ٹھنڈی سانس لی
    کیا کھائو گے ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چکن کے رات کے بچے سالن میں اس نے چاول ڈال کر دم دے دیا تھا۔۔ خالص کورین انداز کے لجلجے چاول بنے تھے۔پانی کا اندازہ ہی غلط ہو گیا تھا۔۔ چاولوں نے بس اتنی عزت رکھ لی تھی کے پگھل کر ساگودانے کی شکل اختیار نہ کی تھئ۔ کچھ کچھ کھیر جیسا پلائو تھا اگر کھیر کے چاولوں کو گھوٹا نہ لگایا گیا ہو۔۔ اگر یہ عزہ نے امی کے سامنے بنا کر رکھے ہوتے تو امی نے ٹھیک ٹھاک باتیں سنانی تھیں۔۔
    مگر سامنے جن تھا۔ اسکی بھوک کا خیال کرکے اسکی انی نے دس منٹ میں چاول دم دئیے تھے وہ مخصوص کوریائی انداز میں شکر گزار ہوا تھا
    چھائے موکے سبنیدا۔۔
    سلیب پر پلیٹ رکھ کر عزہ نے چاپ اسٹکس اسکے سامنے سجائیں تو وہ ممنون انداز میں بولا۔ابیہا نماز سمیٹ رہی تھی اس نے اونچی آواز میں اسی سے پوچھ لیا
    ابیہا چھائے موکے سبنیدا کا کیا مطلب ہوتا ہے۔
    میں پیٹ بھر کر کھائوں گا۔۔
    ابیہا سے پہلے جن نے جواب دیا تھا۔۔
    آئی ایم سوری مجھے انگریزی میں کہنا چاہیئے تھا۔
    وہ شرمندہ بھی ہوا تھا۔
    عزہ کو اسکا انداز دلچسپ لگا دھیمی سی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آہی گئ تھئ۔۔ اس نے فریج سے پانی کی بوتل اور گلاس بھئ اسکے سامنے لا رکھا۔۔ ڈھیلا پلائو اسکی طبیعت پر اچھا اثر ڈال رہا تھا حلق دکھ رہا تھا اور اسے ان چاولوں کو کو کیا چکن کو بھی چبانے کی زحمت نہیں کرنی پڑ رہی تھی۔ ایک تو پہلے ہی رات کو جب ابیہا نے بنایا تھا تو گوشت اتنا گل گیا تھا کہ بکھر رہا تھا اب تو مزید پلائو میں پک کر گھٹ گیا تھا۔۔
    وہ سر بھی نہیں اٹھا رہا تھا ۔۔ چھوٹے چھوٹے نوالے چاپ اسٹک سے بناتا نگلتا۔۔ عزہ کا بھائی۔
    صبح یقینا وہ کافی غصہ کر گئ صاف صاف اسے نہ بھی کہا ہو کچھ تو بھی اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اسکی بنائی کہانی عزہ کو کافی گراں گزری ہے۔۔
    عزہ پانی رکھ کر جانے لگی تو وہ اسے پکار بیٹھا
    انی۔۔
    عزہ رک کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
    انی میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔
    اس نے بڑی ہمت کر کے کہا تھا۔۔
    دے؟۔ عزہ نے ہنگل میں ہی کہا تھا۔۔ انداز نرم سا ہی تھا۔۔ جن کی ہمت بندھی
    چاپ اسٹکس پلیٹ میں رکھ کر وہ کھڑا ہو گیا تھا۔۔
    عزہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی۔۔ جن اسکے بالکل سامنے آکر آدھے قد تک جھکا روائتی کورین انداز سے۔۔۔
    میں نے آپ سے منسلک جھوٹ بولا میں اسکیلئے آپ سے تہہ دل سے معافی مانگتا ہوں۔۔ میرا مقصد ہرگز بھی آپکو دکھ پہنچانا نہیں تھا۔ پھر بھی اگر میری وجہ سے آپکو کوئی تکلیف پہنچی ہو تو معزرت۔۔
    چھے فٹ سے نکلتا قد معصوم سی چندی آنکھوں وال جن جھک کر معزرت کر رہا تھا۔۔
    کچھ بھی تھا بے ضرر بچہ تھا معصوم سا۔۔ یقینا کسی اچھے خاندان کی اچھی تربیت کا حامل۔
    عزہ کو اسکے انداز پرہنسی بھی آئی اور پیار بھی۔۔
    اٹس اوکے۔۔ مسکراہٹ ضبط کر کے اس نے کہا۔۔ ہے جن کی جان میں جان آئی مگر تبھئ پیچھے سے ابیہا فٹ سے بولی جان کر انگریزی میں تاکہ دونوں سمجھ سکیں۔۔
    ہم پاکستانی معزرت تب قبول کرتے جب غلطی کرنے والا ہمارا کوئی کام کرکے دیتا ہے
    ابیہا کے کہنے پر دونوں چونک کر اسے دیکھنے لگے
    مطلب؟
    دونوں اپنی اپنی زبان میں بولے تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باورچی خانہ ابل رہا تھا لوگوں سے۔۔ سلیب پر سے سر شروع ہو رہے تھے منے کچن میں میلے کا سماء تھا۔ سلیب پر ٹرے رکھے اسٹول پر ٹک کر
    ڈھیروں ڈھیر مٹر جن اور عشنا بیٹھے چھیل رہے تھے۔ جبکہ انکے ساتھ ہی نور بیٹھی پالک کاٹ رہی تھی۔
    میٹھے دانے مزے سے جن منہ میں ڈال رہا تھا عادت عشنا کی بھی یہی تھی مگر روزہ تھا اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    عزہ ابیہا فاطمہ نور سب افطاری کی تیاریوں میں لگی تھیں
    ویسے انی آپ نے چھلے ہوئے مٹر کیوں نہ لیئے۔ ؟
    جن نے میٹھے دانے منہ میں ڈالتے بات برائے بات کہا تھا۔
    مگر ابیہا کے زہن میں کوئی پرانا واقعہ تازہ ہوا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ عشنا اور طوبی سودا سلف لینے اکٹھے نکلی تھیں۔۔
    بچے عروج کے پاس چھوڑ کر۔۔
    حسرت سے انہیں جاتے دیکھتی عروج نے کلمہ پڑھ لیا تھا جانے بعد میں موقع ملے نہ ملے۔۔
    سپر اسٹور میں پھرتے انہیں بچت کے ایسے ایسے گر معلوم ہوئے کہ چودہ طبق روشن ہوگئے۔۔
    طوبی انکوہر گام پر نیا گر سکھاتی تھی۔۔
    ابیہا نے یونہی ٹوتھ پیسٹ اٹھا لیا۔۔ تو تڑپ کر اسکے ہاتھ سے لیا۔۔
    ایسے ہی کوئی ٹوتھ پیسٹ نہیں اٹھا لیتے۔۔ منہ میں ڈالنا ہے اسے اجزا ء دیکھا کرو۔ کہیں اس میں جانوروں کے اجزا شامل تو نہیں۔
    اسکی بات پر ابیہا نے ٹھنڈی آپ بھری۔۔ پانچ ہزار وون کی خریداری وہ بے گھرمیٹرو اسٹیشن پر سونے والے افراد میں بانٹ آنا یاد آیا۔۔ خاص طور پر وہ اسکا پسندیدہ ترین فیس واش ۔۔ قسم سے ایک دانہ نہیں تھا اسکے چہرے پر کیسی ملائم جلد ہوتی تھی جب سے فیس واش بدلا ہے۔۔
    اس نے بے چاری سی شکل بنا کر گال پر ہاتھ پھیرا۔۔ تین ابھرے دانے محسوس کیئے جا سکتے تھے۔۔
    طوبی ٹوتھ پیسٹ کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ رہی تھی کچھ انگریزی میں نہیں تھا بس کچھ کوڈز تھے جو پڑھے جا سکتے تھے۔۔ عشنا نہ سمجھنے والے انداز میں ٹوتھ پیسٹ کے ڈبے کا پوسٹ مارٹم ہوتے دیکھ رہی تھی
    آپ کیا دیکھ رہی ہیں۔ تجسس عروج پر پہنچا تو پوچھ ہی بیٹھی بے چاری۔
    یہ دیکھو کوڈ۔ طوبی نے فاتحانہ انداز میں ٹوتھ پیسٹ کا ڈبہ لہرایا۔۔
    یہ کوڈ ہوتے ہیں جن سے پتہ چلتا ٹوتھ پیسٹ کن اجزا سے بنا ہے۔ ان میں ایک کوڈ ہوتا جو سور کے ریشوں کی نشاندہی کرنا وہ کوڈ جس بھی چیز پر لکھا ہو وہ ہرگز نہیں خریدنی چاہیئے۔۔
    ٹوتھ پیسٹ میں سور؟
    عشنا کے چہرے پر الجھن در آئی۔
    کونسا کوڈ۔ ابیہا بھی ڈبے پر جھک آئی
    یہ دیکھو نا۔ تین پانچ آٹھ سات لکھا ہوا ہے یہ اور یہ نو بارہ اٹھا رہ ۔۔ طوبی نے دکھایا۔۔
    تو یہ کوڈ جس میں ہو اس میں سور ہوتا ہے؟
    ابیہا نے آنکھیں پھاڑیں
    نہیں ایسا ہی ایک کوڈ ہوتا جو سور کے لیئے مخصوص ہوتا ہے یہ تو میں دکھا رہی تھی کہ کوڈ یہاں لکھے ہیں۔۔
    طوبی کھسیائی۔۔
    تو سور کے ریشوں والا کوڈ کیا ہوتا۔۔
    عشنا کا سوال منطقی تھا۔۔
    وہ تو مجھے یاد نہیں۔۔ طوبی بے چاری ہوئی۔
    اف۔۔ عشنا اور ابیہا بال نوچنے کو تیار ہوئیں تھیں اپنے اپنے۔۔
    گوگل کر لو نا جلدی سے ہم کوڈ دیکھ دیکھ کر چیزیں خریدیں گے۔
    طوبی نے چٹکی بجا ئی۔۔
    ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔ عشنا اور ابیہا کو بھی خیال۔پسند آیا۔۔
    لائو اپنا موبائل۔۔
    تینوں نے اکٹھے کہہ کر کر ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔
    تینوں کی خالی ہتھیلی سامنے تھی۔
    میرا تو موبائل چارجنگ پر لگا ہے گھر میں۔
    یہ بھی تینوں اکٹھے ہی بولی تھیں
    اف۔۔ تینوں نے ہی اکٹھے ہی اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فلیش بیک سے واپس آتے ہی نور فاطمہ عزہ چلائیں۔۔
    اس بات کا بغیر چھلے مٹر لینے سے کیا تعلق۔۔
    افوہ آگے بھئ تو دیکھو۔۔
    عشنا اور ابیہا جھلائیں۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹوتھ پیسٹ واپس رکھ دیا گیا تھا۔۔ شک کی بنا پر۔۔
    اب حلال ٹوتھ پیسٹ کہاں ڈھونڈیں گے؟۔
    عشنا ابیہا کے کان میں منمنائی۔۔
    آگے رمضان ہے ہمیں حرام حلال کے معاملے میں زیادہ محتاط رہنا پڑے گا۔۔
    یہ جواب طوبی کی جانب سے آیا تھا۔۔ گو اس نے سنا بھی نہیں تھا سوال وہ ان سے ایک قدم آگے خالی ٹرالی لیئے چلتی کہہ رہی تھئ۔ یونہی بر سبیل تزکرہ۔۔
    ابیہا نے اثبات میں گردن ہلائی۔۔ یقینا وہ متفق تھی۔
    عشنا نے حسرت سے ٹوتھ پیسٹ والے ریک کو دیکھا پھر مارے باندھے انکےہم قدم ہوئی۔
    پھر اگلے آدھے گھنٹے میں درجنوں چیزیں ٹرالی میں آ آکر اپنے مقام پر واپس جا پہنچیں۔نہ صرف حلال حرام دیکھا جا رہا تھا بلکہ کفائت شعاری بھی ملحوظ خاطر رکھی جا رہی تھی۔
    کالی پتی کے دو ڈبے لینے پر ایک جن سنگ چائے کا ساشے مفت۔ برانڈ گیا بھاڑ میں سب سے پہلے بچت۔
    کیچپ کے بڑے والے پائوچ پیک کے ساتھ چھوٹی سا پیکٹ تھا چیز اللہ جانے کیا تھئ مگر مفت تھی اٹھا لو۔
    بے بی پائوڈر بے بی لوشن تک لے لیا۔۔
    یہ لوگ بچوں کی۔چیزوں میں یہ سب نہیں ملاتے ہونگے
    طوبی نے فتوی دیا تھا۔۔
    لوشن شیمپو صابن کسی عجیب سے نام۔کا ٹرالی میں بھر لیا۔ ایک۔عدد لٹو اور جھنجھنا اس پورے سامان کو خریدنے کا تحفہ تھا
    شیونگ کریم کے ساتھ ریزر مل رہا تھا۔
    یہ بھی لے لو۔۔ آفر ہے ساتھ۔۔ طوبی چہک کر کہتی آگے بڑھی۔۔ ابیہا نے جھٹ اٹھا لیا۔۔
    عشنا نے جتاتی نظروں سے گھورا تو کھسیا کر واپس بھی رکھ دیا۔۔
    عشنا کا اب واقعی بال وال نوچ لینے کا پروگرام بن چکا تھا۔۔
    دالیں لوبیہ ہی بس بھر بھر کر اب تک ٹرالی کی زینت بنا تھا۔
    فیس واش کی بجائے بیسن کلو بھر زیادہ لے لیا۔۔
    اس سے جلد شفاف ہو جاتی ہے۔۔ بلکہ اسکے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہیں بس زرا سا بیسن ۔۔
    کیا ماہرہ خان کہتی ہوگی بس زرا سا لکس جو ابھی طوبی نے کہا جیسے کہا۔۔ واہ آہ۔۔
    ٹوائلٹ کلینر ڈش واش لیکیویڈ ہی بس انہوں نے بنا تحقیق کیئے لیا۔ گھوم گھوم کر ٹانگیں شل ہو چکی تھیں۔
    گوشت کے حصے پر حلال کا نشان لگے گوشت کے لفافے اٹھاتے اٹھاتے بھی طوبی کے ہاتھ رکے تھے۔
    ان پر ٹیگ لگا ہوا ہے یہ تو پکا حلال گوشت ہے۔۔
    عشنا روہانسی ہو چلی۔۔
    وہ تو ٹھیک ہے۔ مگر کہیں یہ ٹیگ اسٹور والوں نے یونہی خود ہی لگا نا دئیے ہوں بیچنے کیلئے۔
    طوبی شش و پنج کا شکار تھی۔۔
    کوریا میں ہیں ہم ۔۔
    عشنا کی آواز جوش میں بلند ہو چلی تھی۔
    ایسے آئیڈیاز بس پاکستانیوں کو ہی آتے ہیں۔ اور انہیں تو ٹیگ بھی لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے کھلے عام گدھے کا گوشت بیچتے اور کتے کا پکا کر کھلاتے ہیں۔۔
    ابیہا اور طوبی منہ کھولے اسکی تقریر سن رہی تھیں

    ان دونوں کو چھوڑ کر عشنا آگے بڑھی گوشت کے لفافے ڈالے ٹرالی۔گھسیٹ کر سامان بھرا اور تن فن کرتی کائونٹر پر بل بنوانے بڑھ گئی۔
    سبزیاں تو لی ہی نہیں۔۔
    ابیہا کو سبزیوں والے حصے کو دیکھ کر یاد آیا۔۔
    فروزن سبزیاں لوگی؟
    طوبی حیران ہوئی۔ اور ابیہا پریشان۔۔
    یا خدایا۔ فروزن سبزیوں میں بھی سور ملا ہوسکتا کیا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہاں فریزر میں رکھی مہینوں پرانی سبزیوں میں جالی لپیٹ کر مہنگا بیچتے ہیں ۔ یہاں سے لو تازہ سبزیاں۔ یہ بازار ہمارے گھر سے بھی قریب ہے۔۔
    طوبی کی فخریہ پیشکش۔ کوریا کی خالص سوغات دیسی انداز کی سبزی منڈی۔ جہاں جگہ جگہ ٹھیلوں پر سبزیاں استراحت فرما رہی تھیں۔ تنگ سی گلی جس میں اتنا رش کہ کی کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔
    کولڈ اسٹوریج میں کم از کم بھی چھے مہینوں پرانی سبزیاں اور پھل ہوتے۔ہیں یہاں سے لو تازہ سبزیاں میں نے ایک آنٹی سے دوستی کی ہے پوری مارکیٹ سے دس وون کم لیتی ہیں مجھ سے ۔۔
    ڈھیروں ڈھیر شاپر تینوں اٹھائے رش میں جگہ بنا رہی تھیں۔
    ایک ادھیڑ عمر انکل بڑی سی مچھلی اٹھائے عشنا سے ٹکراتے گزرے۔عشنا نے گھور کر دیکھنا چاہا پاکستان ہوتا تو پٹ جاتے انکل مگر یہ کوریا تھا مڑ کر دیکھا بھی نہیں انہوں نے خراماں خراماں چلتے گئے۔ ویسے ایک بات یہ بھی تھی کہ ٹکرانے میں ٹھرک سے زیادہ تنگ سڑک کا قصور تھا سو وہ ضبط کر ہی گئ۔
    سبزیوں کی ڈھیروں دکانیں ٹھیلے گزارتے وہ بازار کا سینہ چیرتی بازار کے اختتام پر جہاں سے آگے سمندری جانوروں کی منڈی شروع ہو رہی تھی جا پہنچی تھیں۔ بیچ بیچ میں کئی بار ابیہا نے بتانا جتانا چاہا بھی سبزیاں نظر آنا شروع ہو گئی ہیں چلو لے لیتے ہیں مگر طوبی کی رفتار تیز گام کو مات دے رہی تھی یہ دونوں سامان اٹھائے ہانپتی کانپتی اسکے پیچھے رواں دواں تھیں۔
    ستر کے قریب وہ بالکل بوڑھی پھوس خاتون تھیں جو عام منڈی کی نسبت پورے دس وون کم میں تازہ سبزی دیتی تھیں۔۔ وجہ بھی انہیں فوری معلوم ہوگئ تھی۔ انکی چھابڑی کے پاس ہی ایک بڑی سی سمندری۔حیات کی دکان تھی چھوٹے چھوٹے ٹبوں میں کیکڑے آکٹوپس مچھیلیاں جھینگے تیر رہے تھے انتہائی ناقابل برداشت پانی اور مچھلیوں کی ملی جلی بو پھیلی تھی۔ ابیہا اور عشنا کا ایک دم جی مکدر ہوا تھا۔ آنٹی ۔زمین پر کپڑا بچھائے ٹوکریوں میں سبزیاں رکھے وہ ایک بڑا سا ڈنڈا جسکے آگے پھلتروں سے لگے ہوئے تھے کپڑے کے گیلا کر کر کے سبزیوں کو مار مار کر تازہ کیئے ہوئے تھیں۔ اب اگر کوئی یہاں ہمت کرکے کھڑا رہ۔کرسبزی تلوا لے تو ازراہ ہمدردی آنٹی کم از کم آدھا کلوسبزی مفت والی پیشکش بھی دیتیں تو کم ہی تھا۔۔
    ایک کلو گوبھی ، بینگن آلو پیاز ٹماٹر ۔۔
    طوبی انکی پوری چھابڑی نہ صرف خود خرید رہی تھی بلکہ انکو بھی خریدوا رہی۔تھی۔ تھوڑی تھوڑی سب سبزیاں بچی تھیں واقعی انکا ٹھیلا ختم ہونے کو تھا ۔۔
    طوبی نے ایک۔نظر بڑی سی ٹوکری میں ڈھیر مٹروں کو دیکھا ۔
    سات آٹھ کلو تو ہونگے ۔۔
    اس نے اندازہ لگایا۔۔
    آدھے میں لے لیتی ہوں آدھے تم لوگ لے لو۔
    طوبی نے جھٹ سے یہ بھی حل نکال لیا ۔
    ٹھیک۔۔ وہ ان دونوں سے تائید چاہ رہی تھی۔ دونوں ہی اپنے اپنے کندھے سے اپنی اپنی ناک بند کرتی بے حال جواب دینے کی حالت میں نہ تھیں۔ہاتھوں میں خریداری کے شاپر تھے نا۔۔ طوبی مطمئن ہوئی اور آنٹی نہال۔۔
    ایک بات اور۔
    گھومتے پھرتے چلتے بچت کرنے گنگم کے بیچوں بیچ میں پہنچی تھیں یہاں سے واپس گھر ٹیکسی میں جاتے ہوئے وہ ساری بچتیں ٹھکانے لگ گئی تھیں جو اتنا گھوم گھوم کر کی گئ تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اندازہ غلط تھا ۔۔ بیس وون سستے دس کلو مٹر۔
    سبزی منڈی سے مٹر سستے خرید لیئے تھے انکے حصے میں آئے پور ے پانچ کلو۔۔
    اتنے مٹر نہ کھائے جا سکتے تھے سوتازہ مٹروں کو شاپر میں ڈال کر فریز کرنے تھے اور دس کلو مٹر چھیل کر فریز کرنے میں مدد درکار تھی ابیہا کو۔ ہیں نا ہم سچے پکے پاکستانی چھلی فروزن فوڈ استعمال کرنے کی بجائے تازہ سبزیاں خریدنے والے۔۔
    ہے جن نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا
    ہنسی تو نور اور عزہ کو بھی آئی تھی مگر عشنا اور ابیہا کے دکھی تاثرات دبانے پر مجبور کر گئے ۔۔
    چھے بج چکے تھے ایک گھنٹہ تھا۔۔ پہلی کھیپ کے چھیلے گئے مٹر دھل کر ہنڈیا میں گل رہے تھے فاطمہ اسے دیکھ رہی تھی جانے کونسی منحوس گھڑی تھی جب اسکے منہ سے نکلا تھا
    میں پلائو اچھا بناتی ہوں۔
    اب چکن پلائو چنے پلائو مٹر پلائو سبزی پلائو وغیرہ بناتے وہ اسی گھڑی کو کوسا کرتی تھی۔۔ ابیہا ویسے اسکی مدد کرا رہی تھی ہاں پکوڑے بھی فاطمہ اچھے بناتی تھی۔۔
    سو۔ فاطمہ پکوڑوں کے لئے بیسن گھولنے لگی تو ابیہا فروٹ چاٹ کیلئے فروٹ کاٹنے لگی۔
    اسٹار بری ایو کاڈو کاٹتے اسے امرود بے انتہا یاد آرہے تھے۔۔
    نور پالک کے پتے اور آلو کاٹ رہی تھی۔
    عزہ شربت بنا رہی تھی۔ لیموں کی شکنجبیں
    سب سے پہلے واعظہ نے ٹوکا تھا۔۔
    سارے دن کے روزے کے بعد شکنجبیں گلا پکڑا جائے گا۔۔
    عزہ نے سر جھٹکا۔
    سنو سب کی کرو دل کی۔۔
    وہ مگن چینی گھول رہی تھی۔
    عروج اور الف تیار ہوتی پھر رہی تھیں افطاری شائد انکی راستے میں ہی ہوتی۔۔ کیونکہ الف کا شو تھا آج اور عروج کی نائٹ ۔۔
    اور واعظہ ایک ہاتھ سے کام کرتی اچھی لگتی بھلا سو وہ اپنے یو ٹیوب چینل پر ویڈیو ڈال رہی تھی اب کیسی کونسی ویڈیو ڈالتی۔ اسکو آپ یو ٹیوب پر بد تمیز جنکشن لکھ کر ڈھونڈیں تو جو عجیب و غریب نا سمجھ میں آنے والا مواد ملے سمجھ جائیں اسی کا بنایا ہوا ہے۔۔
    میری ویڈیو پر کمنٹ آیا ہے۔۔
    منے لائونج میں آلتی پالتی مارے بیٹھی وہ ہر فن مولا میز پر اپنا لیپ ٹاپ رکھے خوشی سے اچھل ہی تو پڑی۔۔
    بہت اچھی ویڈیو ہے گائے کا دل چاہ رہا کہ گائے۔۔ ہر گائے کو گانے کا شوق ہوتا ہے شائد کیونکہ گائے کے
    زکر سے مجھے جوائے یاد آگئ۔۔
    وہ اور ابیہا اکٹھے بولی تھیں۔۔
    پھر چونک کر واعظہ اسے گھورنے لگی تھی تو ابیہا سمیت سب کھلکھلا کر ہنسی تھیں۔۔
    تمہارے اس ففٹے چینل پر جو گنتی کے سبسکرائبر ہیں وہ ہم ہی تو ہیں ۔۔ تمہیں سمجھنا چاہیئے تھا کہ یہ ہم میں سے ہی کسی نے ترس کھا کر کمنٹ کیا ہوگا۔۔
    ابیہا جان کر اسے چڑانے کو بولی۔۔ اور وہ چڑ بھی گئ۔
    بہت زہر ہو تم ۔ اب یہ بجھا ہوا جگنو بھی تمہاری آئی ڈی ہے ۔۔
    حد ہے ۔۔ مٹا رہی ہوں کمنٹ۔
    اس نے جھٹ ڈیلیٹ کیا۔۔
    خبر دار جو تم نے ڈیلیٹ کیا ایک تو اتنا وقت لگا کر میں نے تمہارا چینل ڈھونڈا اپنی نئی آئی ڈی سے دانتوں پسینہ آگیا تھا مجھے پھر کمنٹ کیا بجائے میرا احسان مند ہونے کے آگے سے ڈیلیٹ کر رہی ہو۔
    ابیہا ایو کاڈو کاٹتے کاٹتے ہی تڑپ کر چھری ہاتھ میں لیئے اسکے سر پر بولتی آئی۔۔
    مگر بے سود وہ ڈیلیٹ کر چکی تھی۔
    فائیو جی کی رفتار انٹر نیٹ ایکسپلورر بھی اڑتا تھا وہ آرام سے ہوم پر کلک کر چکی تھی۔۔ اب چڑانے والے انداز میں آنکھیں پٹپٹا رہی تھی اسے دیکھتے
    ابیہا نے دانت کچکچا کر گھورا پھر اس پر پل پڑی۔۔
    کائوچ سے کشن کھینچ کر اسے سنبھلنے کا موقع دئیے بنا دھڑا دھڑ ٹھکائی کر رہی تھی۔۔
    انی پٹے جا رہی ہیں۔ انکو اپنا بچائو تو کرنا چاہیئے۔۔
    انکی چیخ و پکار پر ہے جن نےپلٹ کر دیکھا تو تاسف سے کہے بنا نا رہ سکا۔۔
    یہ اکثر ابیہا کے ہاتھوں پٹتی ہے کوئی نئی بات نہیں۔۔
    نور نے کندھے اچکائے۔۔
    جھگڑا کس بات کا ہے۔۔؟ ہے جن بے چارگی سے بولاتھا۔۔
    انکی اردو میں ہونے والی گفتگو اسکے اوپر سے گزری تھی۔۔
    اسے چھوڑو تم یہ چکھ کر بتائو زیادہ کھٹا تو نہیں۔۔
    عزہ نے شکنجبین بنا لی تھی سو چکھا کر ذائقہ ٹھیک ہے یا نہیں معلوم کرنا چاہ رہی تھی۔۔
    گلاس میں گھونٹ بھر شربت ڈال کر اسکی۔جانب بڑھایا۔
    دے؟ وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہا تھا۔۔
    نور ہنسی۔
    انگریزی میں بتائو اسے۔۔
    وہ پالک کاٹ چکی تھی ٹرے اٹھا کر جانے لگی کہ خیال آیا۔۔ مڑی۔۔
    جن نے عزہ کے ہاتھ سے گلاس لیا ۔۔
    نور نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا ابیہا اپنے دھیان میں فریج کھولنے جا رہی تھی جب اسکی نظر جن پر پڑی۔۔
    جن نے مسکرا کر گلاس تھاما۔ ہونٹوں سے لگایا۔
    ناہیں۔۔ سلو موشن میں دیکھا جاتا تو اندازہ لگایا جا سکتا تھا یہ چیخ بر وقت نور کے منہ سے نکلی تھی ۔۔ ابیہا کے ہاتھ سے دہی کا پیالہ جو اس نے رائتہ بنانے کیلئے فریج سے نکالا ہی تھا چھوٹا تھا۔۔
    الف کا لپ اسٹک لگاتے ہاتھ بہکا تھا گال کے کنارے تک لکیر بن گئ تھئ۔۔ عروج زمین پر پڑی چھری اٹھانے جھکی تھی وہیں جھکی رہ گئ۔۔
    ابیہا واعظہ کو کشن مارتے مارتے ٹھٹکی
    عشنا اور فاطمہ بس اس بے وقت چیخ سے دہل کر رہ۔گئیں
    عزہ بڑے غور سے جن کو گھونٹ بھرتئ دیکھ رہی تھی۔
    جس نے گھونٹ مسکراتے بھرا تھا مگر نگلتے تک اسکی چندی آنکھیں مزید میچ گئیں تھیں اور وہ بے ساختہ جھر جھری لے بیٹھا تھا۔۔
    کھٹا زیادہ ہے۔ ؟ اسکے تاثرات دیکھتے ہوئے عزہ کا اندازہ سو فیصدی درست تھا۔ جن کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے
    میں اور چینی ملاتی ہوں پھر۔۔
    وہ سمجھ کر چینی ملانے اٹھ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جاری ہے۔۔

    انی آپ لوگ سارا دن کھانا نہیں کھائیں گی؟
    جن کے انداز میں حیرانگی تھی۔۔
    قسط چار حصہ پانچ

    منے لائونج میں دسترخوان بچھا ہوا تھا

    پکوڑے فروٹ چاٹ دہی بڑے مٹر پلائو شکنجبین کا بھرا ہوا جگ اور کھجور ۔ اہتمام سے افطاری کا سامان سجا کر سب اسکے آگے تمیز سے آلتی پالتی مار کر بیٹھی تھیں۔

    ان سب نے دعا کے انداز میں ہتھیلیاں جوڑی تھیں۔ افطاری سے قبل روزے کی حالت میں جو بھی دعا مانگئ جائے قبول ہوتی ہے ویسے تو دعا خالصتا ذاتی معاملہ ہوتی ہے مگر چلیں ایک نظر ڈال لیں کون کیا دعا مانگ رہا ہے۔

    عزہ۔۔

    یا اللہ پلیز پلیز میرا پراجیکٹ اپروو ہو جائے زیادہ سے زیادہ جی پی اے بنے اس موٹےامریکی لڑکے کا تو پراجیکٹ اپروو بھی نہ ہو جو مجھے چڑا رہا تھا۔۔

    پھر خیال آیا۔۔

    نہیں یہ تو بد دعا ہو جائے گی۔۔ توبہ توبہ۔

    اسکا بھی اپروو ہو جائے اس نے میرا دل بڑا جلایا ہے۔۔ مگر دل کڑا کرکے معاف کیا ۔۔

    اس نے دل کڑا کرنا چاہا مگر ہوا نہیں ۔۔ وہ منظر آنکھوں میں تازہ ہونے ہی لگا تھا کہ ۔ اف رمضان ۔۔

    فاطمہ۔۔

    اللہ میاں اس سال تو اس پینڈو عادل کی شادی ہو ہی جائے اسکی امی کو کوئی امریکا پلٹ لڑکی کا رشتہ مل جائے آمین میری جان چھٹ جائے کسی طرح ہر مہینے دو مہینے بعد جو امی پر زور ڈالنے آجاتی ہیں اوپر سے امی ہر بار مجھے منانے لگ جاتی ہیں۔ اس سے تو بہتر میں یہاں کسی چندی آنکھوں والے سے شادی کرلوں مسلمان کر کے۔۔

    وہ آنکھیں بند کرکے دعا مانگ رہی تھی یہاں اس نے تنفر سے سر جھٹکا تھا

    کسی چندی آنکھوں والے کے دل میں ایمان روشن ہو سکتا ہے اس پینڈو میں تمیز کی شمع روشن ہونا ممکن نہیں۔

    آمین۔۔

    عشنا۔۔

    اللہ میاں میرے لیئے اچانک سے کوئی وسیلہ بنا دے ڈھیر سارے پیسے مل جائیں میں لی منہو کے فین کلب کا حصہ بن سکوں اسکی فیس کا انتظام کر دیں اللہ میاں۔

    پھر خیال آیا۔۔

    اور میری یونی کی فیس کا بھی اسکالر شپ مجھے ملتی نظر نہیں آرہی ہے ۔۔ بے چارگی سے سوچا گیا

    ابیہا۔۔

    اللہ میاں عجیب سی خواہش ہے مگر آپ تو سب جانتے ہیں ۔۔ جی چھانگ ووک کو مسلمان کر دیں پلیز۔۔ پلیز۔

    اور آپ جانتے ہیں نا اسکا مسلمان ہونا کیوں ضروری ہے میرے لیئے۔

    بے چارگی در آئئ۔ اب ایک ہی دفعہ میں کیا کیا قبول کروائے ۔۔ پہلے مسلمان تو ہو جائے اگلی دعا اسکے بعد۔۔

    نور۔

    یا اللہ میاں تین بار ان کوڈنگ کر لی اس بار تو کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے آپ ہی کسی طرح کچھ ٹھیک کردیں اور سیومی کے بوائے فرینڈ کی آئی ڈی ہیک کرنی ہے معاف کر دیجئیے گا ایڈوانس میں ہی۔۔ سیومی کو اس نے بہت رلایا ہے بس اسی لیئے سبق سکھانا ہے مجھے۔۔

    واعظہ۔۔

    یا اللہ میاں آپ کو تو پتہ نا میری نیت بس میری مدد کیجئے گا ۔۔۔۔

    ہے جن۔۔

    یہ ہے جن کو کیا ہوا۔۔ اپنی چندی آنکھیں پوری کھولے بٹر بٹر ایک ایک کی شکل کے زاوئیے بنتے بگڑتے دیکھ رہا

    سات بج کر سینتیس منٹ ہو گئے ۔۔

    سب نے افطاری کی دعا پڑھ کر کھجور کی جانب ہاتھ بڑھایا۔۔

    یہ افطاری کا وقت ہے۔ ہم نے صبح فجر کے وقت جو کھایا پیا اسکے بعد اب ہم اس وقت افطار کر رہے ہیں روزہ۔۔

    واعظہ اسکی حیرت بھانپ کر سمجھانے لگی۔

    اچھا اچھا۔۔

    جن نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔۔ کھجور کو ڈرتے ڈرتے چکھا پھر زائقہ پسند آگیا اسے۔

    ویسے سال میں ایک آدھ دن ایسا گزارنا پی چاہیئے۔۔ اسے یہ خیال پسند آیا تھا۔

    ہم ایسے پورے تیس دن گزارتے ۔۔آج پہلا دن تھا اب اگلے پورے مہینے ہمارا یہی معمول رہے گا۔

    نور نے کہا تو وہ چبانا بھول گیا۔

    مطلب؟ آپ لوگ کل بھی سا را دن بغیر کچھ کھائے پیئے گزاریں گی؟ ایسے تو بیمار پڑ جائیں گی۔۔اسے تشویش ہوئی

    ایسا نہیں ہوتا۔ واعظہ مسکرائی۔

    روزے کے بہت فائدے ہوتے ہیں ۔

    مثلا ۔۔

    جن ہمہ تن گوش ہوا ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہم جھوٹ نہیں بولتے کوئی گناہ کا کام نہیں کرتے

    دھوکا نہیں دیتے۔ بھوکے رہتے تو غریبوں کی بھوک کا احساس ہوتا ۔۔ پھر ہم نرم دل ہو جاتے

    سوچ سوچ کر الف نے بتایا۔۔ وہ اور ژیہانگ اسٹوڈیو میں ہی تیار بیٹھے تھے۔ ژیہانگ پلے لسٹ کے گانے اور سب مائک دیکھ رہا تھا جبکہ وہ اپنے مائک کو ہٹا کر جگہ بنائے لنچ باکس کھول کر بیٹھئ تھئ۔ افطاری کا وقت ہوتے ہی اس نے دعا مانگ کر کھجور اٹھا لی تھی۔ ژیہانگ اسکی پھرتی دیکھ کر مسکرایا تو اس نے وضاحت کی کہ میرا روزہ تھا صبح سے۔

    روزے میں کھانے پینے کے سوا اور کیا کیا ہوتا۔۔

    وہ شائد تھوڑا بہت جانتا تھا رمضان کے بارے میں سو سیدھا سوال پوچھ ڈالا تھا۔۔

    ہم سارا دن کوئی گناہ نہیں کرتے۔۔

    وہ یوں تو پوری تقریر کر سکتی تھئ مگر ابھی افطاری اہم کام تھا سو اسی پر توجہ تھی اسکی۔

    وہ گھر سے پکوڑے کھجور اور مٹر پلائو لنچ باکس میں لائی تھئ۔ آٹھ بجے اسکا پروگرام شروع ہو جانا تھا بیس منٹ میں افطاری ختم کرنی تھی سو وہ خاصی جلدی جلدی منہ چلا رہی تھی۔

    بڑے غور سے سنتا ژیہانگ چونکا۔۔

    بس روزے کے درمیان۔۔ باقی وقت ضرورت نہیں پڑتئ؟

    اسکا سوال خاصا غور طلب تھا۔

    الف کا نوالہ چباتا منہ رکا۔۔

    نہیں منع ہو بعد میں بھی رہتا۔۔ مگر روزے میں سختی سے منع ہوتا تو خود ہی انسان بعد میں بھی اچھی باتوں کا عادی۔ہو۔کر رک جاتا ہے۔ اور نہ رکنے والے روزے میں بھئ نہیں رکتے بعد کی تو بعد کی بات۔۔

    اس نے کہا تو ژیہانگ نے کندھے اچکا دئیے۔۔

    ویسے مجھے حیرت ہے چین سے ہمیں اتنی کالز کیوں آتی ہیں۔۔۔ اسکی پلیٹ سے کھجور اٹھا کر کھاتے ژیہانگ کو اچھو سا ہوا۔مگر الف مگن بول رہی تھی

    ۔ اس دن پروڈیوسر انکل بھی حیران تھے اس سے پہلے

    کبھی انہیں بین القوامی سامعین نے فون کر کے پروگرام میں دلچسپی ظاہر نہیں کی ۔ لسن کوریا کی پچھلے ہفتے کی ریٹنگ آٹھ گئ۔

    ایویں ہی۔ امریکی بھی تو کال کر رہے تھے ہمیں۔ اور وہ کیا نام تھا ۔۔۔ ژیہانگ سوچ میں پڑا اس بار اچھو لگنے کی باری الف کی تھئ پھندہ ہی لگ گیا۔ پانی کا گلاس اٹھا کر ہونٹوں سے لگا لیا۔۔

    مارٹن کہ کیا وہ بندہ تو جیسے ہمارا برینڈ ایمباسیڈر ہے۔

    جسے دیکھو کال کرکے بتا رہا تھا کہ ہمیں مارٹن نے بتایا آپکے پروگرام کا بہت اچھا ہے۔ اور الف بہت اچھی باتیں کرتی ہے الف کی آواز اچھی ہے ژیہانگ بھی ٹھیک ہی ہے۔

    ژیہانگ کہہ کر ہنسا تھا۔

    ویسے۔ چینی بھی بس کچھ ہی جملے دہرا تے۔

    ژیہانگ بہت اچھی باتیں کرتا اور الف کی آواز بہت اچھی۔

    ژیہانگ نے مزید کہہ کر براہ راست الف کی آنکھوں میں جھانکا۔۔ وہ سٹپٹا سی گئ۔حالانکہ اس بات پر سٹپٹانا ژیہانگ کا ہی بنتا تھا۔

    سو تم کورین نہیں ہو۔

    الف کسی نتیجے پر پہنچ گئ تھی۔ مشکوک نظر سے دیکھتے تائید چاہی۔

    ژیہانگ مسکرا دیا۔ اسکی چندی آنکھیں لکیر ہی بن گئیں جیسے۔

    الف نے سر ہر چپت ہی لگا لی۔

    اب تک تو کورین اور غیر کورین میں پہچان کر ہی لینی چاہیئے تھئ مجھے۔

    کیا بتاتی تھی واعظہ

    ۔ وہ اردو میں بولتے ہوئے سوچ رہی تھی ظاہر ہے ژیہانگ کو اردو تھوڑی آتی ہوگی سو آرام سے اسی کی شکل دیکھ کر سوچ ڈالا بلکہ بول بھی ڈالا۔

    میں نے ایک پہچان نکالی ہے کورین جاپانی اور چینیوں کی۔۔

    واعظہ مخصوص انداز میں اسے تصور میں بتا رہی تھی۔۔ (فلیش بیک)

    جنکی آنکھیں بہت زیادہ کھلتی ہوں کہ جن کا پپوٹا نظر ہی نہ آئے جاپانی ہوتے۔

    جن کی نسبتا کم کھلیں اور کبھی کبھار پپوٹا بھی دکھائی دے جائے تو وہ ہوئے کورین

    جنکی انہی نقوش کے ساتھ بس گزارے لائق آنکھیں کھلیں اور ہنستے ہوئے تو بالکل بند لکیر سی نظر آئے وہ ہوتے ہمارے پڑوسی چینی۔

    مگر آئی کین ناٹ ہگ یو کے ہیرو ہیروئن کی تو بہت آنکھیں کھلتی ہیں۔۔۔ ابیہا نے فلیش بیک میں بھی چمچ مار نا ضروری سمجھا۔۔

    ہاں تو چین بھی تو بہت بڑا ہے جو ہانگ کانگ والے اور جاپان کے قریب والے علاقے کے لوگ انکے نقوش بھی جاپانیوں جیسے ہی ہیں نا۔اور فلموں ڈراموں میں تو ویسے بھی حسین چہروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔۔

    واعظہ اپنی بات جھٹلائے جانا پسند نہیں کرتی تھی سو اگلی وجہ پیش بھی کر دی۔

    اگر اس کلیئے ( تھیوری) کو سچ مانا جائے تو یہ شکل سے صاف چینی لگتا ہے میں نے پہلے کیوں نہیں پہچانا۔۔ جبھی تو چینی کالیں کر کر تھک رہے انہیں کیا پڑی لسن کوریا ایف ایم سننے کی جس میں انگریزی باتیں اور کورین گانے سننے کو ملتے ہوں۔۔

    وچ تھیوری؟۔

    ژیہانگ نے اسکا فلیش بیک تو نہیں دیکھا تھا ہاں اسکا تجزیہ سن لیا تھا۔

    واعظہ کی تھیوری۔۔

    الف روانی میں بتاتے بتاتے چونکی۔۔

    ہائو ووڈ یو نو ؟۔۔ ( تمہیں کیسے پتہ چلا)

    تمہیں اردو سمجھ آتی ہے؟

    الف کا منہ گز بھر کھل گیا تھا۔۔ دنیا جہان کی حیرت اس پر عود کر آئی تھئ۔۔

    ایکچوئیلی۔

    ژیہانگ سٹپٹایا ۔۔ جلدی سے بات بنانے ہی والا۔تھا کہ پروڈیوسر صاحب چہکتے ہوئے دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھول کر داخل ہوئے۔۔ وہ محاورتا نہیں حقیقتا بلیوں اچھل رہے تھے۔۔

    بڑی خبر سنو۔۔ سی ہون اگلے ہفتے ہمارے شو میں آنے کو تیار ہو گیا ہے۔ فرانس کے فیشن شو میں حصہ لیکر واپس آنے پر کسی بھی ریڈیو ٹی وی چینل پر پہلی بار اسکا انٹر ویو نشر ہوگا۔ ہم نے اسے سب سے پہلے اپروچ کیا ہے اور پتہ ہے کتنے اسپانسرز ہم سے خود رابطہ کر رہے ہیں۔ ہمارا چینل راتوں رات نمبر ون ہو جائے گا۔۔ ایکسولز ہمارے پروگرام کی ریٹنگ کو اڑا کر رکھ دیں گے۔

    وہ ادھیڑ عمر انکل اسٹودیو میں پھدکتے عجیب لگ رہے تھے۔

    اچھا سیہون۔ ژیہانگ نے مسکرا کر سر جھٹکا۔۔ وہ کورین گانے کم ہی سنتا تھا

    کیا سیہون؟

    الف کا سکتا ٹوٹا تھا۔۔

    یاہو وہ دونوں ہاتھ پھیلا کر کھڑے ہوتے ہوئے جھومی تھی چیخی پھر بس نہ چلا تو خوشی کے مارے اچھلنا اور کودنا شروع کر دیا چئیر ایک طرف کر کے چھلانگ مار کر میز پر چڑھ گئ۔۔مائک کھینچ کر سیہون کی طرح جھومم جھوم کر کال می بے بی گا دیا

    پروڈیوسر صاحب اور ژیہانگ منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔

    اف آئی ایم سو ہیپی۔۔ خوشی ی ی ی ی سے پاگل ہو نہ جائوں میں۔

    وہ دوپٹہ لہرا کر جھومی میز اسکا وزن نا سہار سکی اور وہ الٹ کر نیچے آگری۔

    پروڈیوسر صاحب اپنی ساری خوشی بھول بھال منہ کھولے بٹر بٹر اسکی شکل دیکھ رہے تھے۔۔ ژیہانگ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

    کیا ہوا ؟ خوشی نہیں ہوئی تمہیں۔۔

    دے؟۔

    الف چونک کر اپنے حال میں واپس آئی۔۔ تو وہ سب اسکا تصور ہی تھا۔۔اس پر اوس سی آگری۔۔ ایک خالص پاکستانی لڑکی ایسے خوش ہو بھی کیسے سکتی بھلا۔۔ سکتہ ہی ہوا تھا اسے سیہون کا انٹر ویو ۔۔ اسکی آنکھوں میں پانی تیزی سے جمع ہوا۔۔ پروڈیوسر صاحب کے ہاتھوں کے طوطے اڑے۔ الف کے نین کٹورے بھرے پھر چھلک بھی پڑے

    سیہون اف۔ میں اسکی اتنی بڑی پرستار ہوں۔۔ مجھے اتنا شوق تھا۔۔

    لو پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع۔

    ایکسو کی فین میٹنگ کیلئے پیسے جمع کرتی ہوں کپڑوں کی شاپنگ کے سارے پیسے ضائع ہونے کے باوجود میں نے ان پیسوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔

    وہ روتی ہوئی کہہ رہی تھی۔

    اور اب۔۔ میں خود ہی انکا انٹرویو لوں گی۔ اف خدایا۔۔

    میرا دل بھر آیا ہے بہت شکریہ اللہ میاں۔۔

    اس نے میز پر بازو رکھے منہ چھپا کر روئے گئی۔

    کین چھنا۔۔ پروڈیوسر صاحب کا بس نہیں تھا اسکے ساتھ بیٹھ کر رونا شروع کر دیں۔

    ژیہانگ نے اشارے سے انہیں جانے کو اور اطمینان کر لینے کو کہا۔۔ انہوں نے گھڑی دیکھی شو شروع ہونے میں تین منٹ ہی تھے۔۔

    اور الف کہہ رہی تھی۔

    سیہون کا انٹرویو مگر میں کہوں گی کیا؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مگر میں کہوں گا کیا؟۔۔

    موبائل کان سے لگائے جن نے بے چارگی سے کہا۔۔

    کچھ بھی آپ بہت اچھا بولتی ہیں میں آپکا بہت بڑا پرستار ہوں کسی گانے کی فرمائش کر دینا کہنا کال می بے بی لگا دیں۔۔

    نور نے اسکرپٹ بتادیا پورا۔

    منے لائونج میں سے افطاری کا سامان سمٹ چکا تھا

    ابیہا برتن دھو رہی تھی واعظہ اندر کمرے میں تھی جن کو اپنے یہاں رہنے کا تاوان ادا کرنا تھا یعنی الف کے شو میں کال کرنی تھی۔ نور عزہ فاطمہ عشنا اسکو گھیرے بیٹھی تھیں۔۔ بیچ میں چوکور تکیہ رکھ کر فون رکھا ہوا تھا جسکا اسپیکر آن تھا۔ لائن مصروف تھی سو آٹو ری ڈائلر لگا کر سب ہمہ تن گوش تھے۔

    مگر میں نے تو آج تک کبھی انکا شو نہیں سنا۔

    جن نے بے چاری سی شکل بنائی

    جھوٹ بولنا نا اب سچ مچ سنا تو تعریف تھوڑی کر سکو گے۔۔

    یہ عزہ تھئ۔۔ نور اور فاطمہ بےساختہ ہنسیں

    رمضان میں جھوٹ۔

    عشنا کو گناہ کا ڈر ستایا۔۔

    ہم تھوڑی بول رہے۔ بلکہ سچی بات تو یہ کہ میں جان کر فون نہیں کر رہی رمضان میں جھوٹ اور دھوکا دہی کا گناہ بھی زیادہ ہوتا۔

    نور نے ہاتھ جھاڑے۔۔

    بالکل صحیح۔ عشنا نے ہاں میں ہاں ملائی۔۔

    ہیں۔ تو آپ لوگ مجھ سے کیوں گناہ کر وا رہی ہیں۔۔

    جن ڈر کر بدک کر پیچھے ہوا

    مسلمان ہو؟

    فاطمہ نے کان سے پکڑا اسے واقعی۔۔

    نونا کان تو چھوڑیں۔۔

    جن بلبلایا۔۔ شائد زور سے پکڑ لیا تھا گال سرخ ہونے لگے تھے۔ عزہ جز بز سی ہوئی جانے کیوں

    بولو مسلمان ہو؟۔فاطمہ نے کان نہ چھوڑا بلکہ اس بار چبا چبا کر بولی

    آندے۔۔ نو۔۔

    تو پھر ؟ تمہیں تھوڑی گناہ ملے گا ۔۔ فاطمہ نے کان چھوڑا۔۔

    ہاں مگر بدھا کہتے انسان کو اسکا کرما فورا ملتا ہم جہاں کچھ غلط کہتے کرتے فورا ہماری پکڑ ہوجاتی ہے

    وہ اپنے دین کے مطابق بولا تھا۔۔

    یعنی کل کو تم کبھی ریڈیو پر بیٹھے ہوگے تو کوئی فون کرکے تمہاری بھی جھوٹی تعریفیں کرے گا۔۔

    عشنا فورا سمجھ گئ۔۔ نور فاطمہ عزہ کھلکھلا کر ہنسیں تو وہیں جن جھینپ کر کھسیایا۔۔ پھر سر کھجاتے ہوئے بولا

    ہاں ہم جو کرتے ویسا ہی ہمارے ساتھ ہوجاتا۔۔ تو۔ٹھیک ہے کر لیتا ہوں جھوٹی تعریف۔۔

    وہ بھی کم نہیں تھا سو احسان دھر کر بولا تھا۔۔

    لیکن میں ایکسو کی تعریف نہیں کروں گا پکا آرمی ہوں۔

    بلڈ سویٹ اینڈ ٹئیرز سننا ہے مجھے فرمائش کرکے۔۔

    آرمی؟۔واقعی؟ رئیلی جھنچا؟ فاطمہ چیخ ہی تو پڑی جن ڈر کر پہچھے کو کھسکا۔۔ وقت رک سا گیا تھا

    آرمی اور ایکسول کی خونخوار جھڑپیں ٹویٹر پر جنگ تو معمول کی بات مگر کلبوں کے ارکان کی آپس میں لڑائی آرمی اور ایکسول کے درمیان خونخوار تصادم کئی پرستار زخمی یہ معاملہ اس وقت پیش آیا جب مشہور ایوارڈ شو کیلئے پرستار اپنے پسندیدہ بینڈ کیلئے بینر اور پلے کارڈ اٹھا کر مارچ کرتے ہوئے گنگم اسٹریٹ میں آمنے سامنے آگئے۔۔ دونوں گروہوں کے درمیان نعرے لگاتے لگاتے جوش میں چیزیں پھینکنے کی شروعات ہوئیں ۔ کئی پرستار زخمی ہو چکے ہیں تعدار پچاس تک پہنچ چکی ہے

    مشتعل پرستاروں کو پولیس نے گرفتار بھی کر لیا ہے پولیس کی مداخلت کے بعد اب حالات معمول کے مطابق ہیں پولیس کی جانب سے پرستاروں کو پر امن رہنے کی ہدایت

    کے بی ایس نیوز کی چندی آنکھوں والی نیوز کاسٹر فاطمہ کے کندھے کے پاس سے پردے پر خبریں سنا رہی تھی۔۔

    جھماکا چند لمحوں پر محیط تھا ۔۔انی ایکسول ہیں کیا؟

    اس نے ڈرتے ڈرتے تھوک نگلا۔۔

    دے۔۔ ہاں۔۔ وہ سر بھی ہلا رہا تھا

    وقت دوبارہ چل پڑا تھا۔۔

    یاہو زبردست ۔۔ فاطمہ نے خوشی سے نعرہ لگایا تھا۔۔ نور اور عشنا بد مزہ سی ہوئیں۔ ڈرامے تو پھر چلو ٹھیک مگر کے پاپ کیلئے اتنا پرجوش کوئی کیسے ہو سکتا۔

    میں بھی آرمئ ہوں ۔۔

    کون پسند سب سے زیادہ۔۔ اسکا جوش کم نہ ہوا تھا۔۔

    کسکی آواز۔۔

    ت۔۔تائی ہیونگ۔۔ جن کی سانس بحال ہوئی تھی۔۔ مگر پھر بھی اٹک کر ہی بولا ۔جانے اب اگلی کوکی کی فین ہوئی تو۔۔

    تائیہونگ میرا بھی پسندیدہ ترین ہے۔۔

    فاطمہ خوشی سے پھولے نا سما رہی تھی۔۔

    دے۔۔ زبردست۔۔ شکر ہے کوئی تو آرمی آیا۔۔ جن آرمی ہے۔۔ ابیہا۔۔

    وہ بہت پرجوش تھئ وہیں سے چیخ مار کر باورچی خانے میں کھڑی ابیہا کو بتایا۔۔ابیہا نے جوابا مسکرا کر سر ہلا دیا۔۔

    آپ لوگوں کو کون پسند ۔ جن کا اعتماد بحال ہو چکا تھا

    اور فون پر کنکشن بھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔م۔مم۔۔۔۔۔۔

    اور جناب جب سے ہم نے اعلان کیا ہے کہ سیہون ہمارے شو میں آنے والے ہیں تب سے کالرز کا تانتا بندھ گیا ہے

    ایکسول شدید پرجوش ہیں اور اپنے پیغامات ریکارڈ کروا رہے ہیں ہمارا ایکسٹینشن نمبر اب سے چونیس گھنٹے چالو رہے گا زیادہ سے زیادہ انوکھے سوال پوچھنےوالے کالرز کو ترجیح دی جائے گی۔۔

    پورے شو میں الف بس یہی۔جملے دہرا رہی تھی۔۔ ابھی بھی دہرا کر مائک ایک۔طرف کر کے بیٹھ گئ۔ ژیہانگ نے اگلی کال لے لی تھی۔۔

    کیونکہ آج کورین عوام بن بادل برسات کی۔طرح برسی تھی اتنے کالرز تھے کہ۔کال ملنا مشکل تھا کورین زبان سے ناواقفیت کی بنیاد پر الف کا ان سے بات کرنا ممکن نہ تھا

    ژیہانگ کے میدا تیدا کرتے رشک سے دیکھ رہی۔تھئ۔۔

    کیسا تین تین زبانیں بولتا ہے پتہ نہیں لوگ کہاں سے دماغ لاتے۔یہاں تو سال ہونے کو آرہا رہتے ایک۔لفظ کورین نہیں آتی۔ اور یہ چین میں رہ کر کورین انگریزی سیکھے بیٹھا ہے۔

    وہ بےد ھیانی میں اسی پر نگاہ جمائے بیٹھی تھی۔

    اور کبھی کبھی تو لگتا اردو بھی سمجھ لیتا۔ ارے ہاں میں نے اس وقت کیا بولا تھا کلیہ۔۔ہاں واعظہ کے ٹوکنے پر اب اردو ہی۔نکلتی ہے منہ سے اس نے تھیوری کہا اسے کیسے۔۔

    وہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھی۔۔

    ژیہانگ اسکی نظریں محسوس کرکے خیر سگالی انداز میں مسکرا دیا وہ کسی کورین کالر سے بات کر رہا تھا۔۔

    نہیں میں نے ہی تھیوری کہہ دیا ہوگا اب چینی کو اردو کیوں آنے لگی بھلا ہم ہی انگریزی کا تڑکہ بلکہ مکس دال ہی بنا ڈالتے اردو کی۔۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر سیدھی ہوئی۔

    لیٹس موو ٹو آر نیکسٹ کالر۔۔

    آننیانگ شنگویا۔۔

    ژئہانگ نے کہا مگر آواز صاف نہ تھی پھر کھڑ کھڑ کے بعد صاف آواز آئی۔۔

    لسن کوریا میں خوش آمدید۔ آپکی کال مل چکی ہے۔۔

    ژیہانگ نے متوجہ کرنا چاہا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کوئی بھی نہیں۔۔ کے پاپ میں تو قطعی دلچسپی نہیں مرا شور لگتا ایک لفظ سمجھ آتا نہیں اوپر سے چیخ چیخ کر گاتے۔۔

    عشنا نے بے لاگ تبصرہ کیا۔۔

    اب ایسی بھی بات نہیں میوزک اچھا ہوتا ہے۔

    عزہ نے ٹہوکا دیا۔ ایسے بے لاگ کم از کم کورین کے سامنے تو نہیں کہنا چاہیے نا۔۔

    تو بندہ خالی موسیقی تو نہیں سنتا نا۔۔

    عشنا نے منہ بنایا۔۔

    اس دن گانا سن رہی تھی بس لگ رہا چیخیں مار رہے ہیں دو تین لڑکے مل۔کر۔۔ پتہ نہیں ایکسو تھے کہ بی ٹی ایس۔۔

    ایکسو ہونگے۔۔۔ فاطمہ نے جملہ اچکا۔۔ انکے گانے سنو تو درجن بھر ارکان ہیں ایک ایک جملہ گاتے تو گانا ختم جبھی نا سمجھ آتا نہ کچھ اور نرا شور۔ تائیونگ کی آواز سنو اتنی گہری میٹھی ہے بندے کا دل دھک۔دھک کرنے لگتا اسکے تان کھینچنے پر۔۔

    خیر اب ایسی بھی۔بات نہیں۔۔

    ابیہا رہ نہ سکی نلکا بند کرتی دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی ادھر چلی آئی۔۔

    کائی اتنا اچھا ہے۔۔

    شکل ہی زیادہ پسند آپکو اسکی ابیہا۔۔

    فاطمہ نے منہ بنایا۔۔ ابیہا کھسیائی۔۔ بات تو سچ تھی۔۔

    دماغ ٹھیک ہے تمہارا۔۔ ایک دنیا ایکسو کی دیوانی ہے اور تم ایسے کہہ رہی ہو۔ تم لوگ آرمی ہوتے ہی ایسے ہو۔۔

    بد تمیز اجڈ۔ ایکسو کے پائوں کی دھول بھی نہیں بی ٹی ایس۔

    الف چیخی تھی۔۔ ژیہانگ جو کال کاٹنے ہی جا رہا تھا اسکو پرے کرتی وہ خم ٹھونک کر میدان میں آئی تھی۔۔ ژیہانگ ہکا بکا تھا صرف وہی نہیں جن بھی اور

    وہ سب بھی۔۔ پھر چپ ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگیں۔۔ یہ کب آئی واپس۔

    جن سب سے پہلے آواز کے منبع تک پہنچا مگر۔۔

    فاطمہ نے جھپٹ کر فون اٹھایا۔۔

    کیا کہا تم نے بی ٹی ایس ایکسو کے پائوں کی دھول کیوں ہونے لگے ؟ ایکسو البتہ بی ٹی ایس کے آگے برساتی بدبودار کیڑے ہیں۔۔ اور جو کہنا مجھے کہو آرمی کو بیچ میں مت لائو۔تم ایکسول جیسے نہیں ہیں ہم جو۔۔

    ایکسول اور آرمی میں جنگ چھڑ گئ تھی۔۔ پہلے انگریزی پھر اردو انجام پنجابی پر ہوا تھا۔۔

    کوریا ئی پروڈیوسر بال نوچ رہا تھا ژیہانگ غصے سے کف اڑاتئ الف کے پاس نہیں جا پا رہا تھا اور عین اسی وقت سسٹم کنٹرول کرتی ٹیم بے تحاشہ کالز آنے کی وجہ سے سسٹم کو جام ہوئے بے بسی سے دیکھ رہی تھی۔۔

    کال کٹ نہیں رہی تھی اور نامعلوم زبان میں لڑتی دو لڑکیاں کوریا میں براہ راست نشر ہو۔رہی تھیں۔۔ پروگرام۔کو کورین آج بڑی دلچسپی سے سن رہے تھے۔ پوری گفتگو میں بس آرمی اور ایکسول سمجھ آرہا تھا۔۔

    ابیہا عشنا عزہ نور کف اڑاتی فاطمہ کو سنبھالنا چاہ۔رہی تھیں۔ مگر فاطمہ اگر انکے قابو آجاتی تو اسکے سیکھے تائیکوانڈو کی کھلی بے عزتی تھی۔ جن البتہ وہی کر رہا تھا جو ایسے موقع پر ہم کرتے۔۔

    ہاں دعا۔۔ کال۔کٹ جانے کی دعا۔۔

    اختتام چوتھئ قسط کا۔

    desi-kimchi-urdu-web-novel-episode-5-5.html

  • Desi kimchi Episode 3

    دیسی کمچی

    قسط تین۔۔ 

    یار اس میں چمک ہوئی تو ہے۔۔ 

    ابیہا نے کہا تو نور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاپ اسٹکس سے بنےگھر کو دیکھنے لگی۔۔ 

    مجھے تو ایک قمقمہ بھی جگمگاتا نظر نہیں آرہا۔ 

    نور گھر کو ہی اٹھا کر دیکھنے لگی۔۔ 

    ٹھہرو بہت کم روشنی ہے میں کمرے کی۔بتیاں بجھا کر دکھاتی ہوں۔  

    ابیہا کہہ کر فٹ سے اٹھی اور سوئچ بورڈ سے سب بتیوں کے سوئچ بند کر دئیے۔۔ کمرے میں گھپ اندھیرا ہو جاتا اگر نور کا لیپ ٹاپ نہ دمک رہا ہوتا۔۔ 

    نور نے گھور کر دیکھا وہ بجائے بتیاں جلانے کے بھاگ کے اسکے سامنے آبیٹھی اور لیپ ٹاپ بھی اوپر سے ہاتھ مار کر بند کر دیا۔۔ 

    یہ تو گھپ اندھیرا ہو گیا۔۔ 

    ابیہا کی آواز آئی بس نور کو تصویر نظر نہ آئی۔۔ نور بیٹھی دانت پیس رہی تھی۔۔ 

    ابیہا کی بچی گھپ اندھیرے میں سرکٹ کیسے جوڑوں گی؟۔۔ اس نے بھنا کر ہاتھ نچایا تو چاپ اسٹکس کے گھر کو لگ گیا۔۔ ایک منا سا جھماکا ہوا۔۔

    اوئے۔۔ 

    نور چونکی۔۔ 

    پھر گھر کے سرکٹ میں چاپ اسٹک سے دو تین پاکستانی انداز کی تھپکیاں دیں ۔۔ ایک قمقمہ جل بجھ کرتا تھک کر ٹمٹمانے لگا۔۔ 

    جل گیا۔۔ ابیہا نے خوش ہو کر تالی بجائی۔۔ 

    نور کا بس نہیں تھا گھر میں ہی گھس کر دیکھ لے آخر چمکا کیا ہے۔۔ 

    نیم اندھیرے میں دونوں اس چھوٹے سے گتے سے بنے گھر میں جگمگ کرتا قمقمہ دیکھ رہی تھیں۔۔

    یار یہ تھوڑی سی روشنی ہوئی تو ہے۔۔ 

    نور نے مایوسی سے گھر میں دمکتا ننھا قمقمہ دیکھا جو ایک کمرے کی دیوار تک کو روشن کر سکنے میں ناکام رہا تھا۔۔ 

    ہم نے گھر تو پورا جوڑ دیا ہے اب یہ ڈی سی پاور سپلائی وغیرہ عزہ جوڑ لے گی ہم اتنا ہی کر سکتے تھے۔۔ 

    ابیہا نے بھی ہار مان کر موبائل ایک طرف رکھ دیا۔۔ یو ٹیوب سے ویڈیوز کھول کھول کر طریقہ کار دیکھ دیکھ کر عزہ کے بنائے گھر سے چھوٹا مگر نیا گھر بنا دیا تھا مگر اب مسلئہ یہ تھا کہ اس گھر میں بجلی کا ربط کیسے دیں۔۔ 

    ڈی سی انور ٹر۔۔ 

    نور  نے ہار نہ مانتے ہوئے اپنے لیپ ٹاپ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔۔ 

    تم لوگ روح بلا رہی ہو۔ ؟

    فاطمہ انکے سر پر آکھڑی ہوئی۔۔ 

    امی۔۔ ہائے اللہ۔۔ 

    دونوں اچھل کر چیخی تھیں۔۔ 

    واعظہ گھبرا کر سوئچ بورڈ کی طرف بڑھی مگر پائوں بڑے زور سے ہر فن مولا میز سے ٹکرایا جس پر لیپ ٹاپ شان سے براجمان تھا۔۔ وہیں سی کرتی بیٹھ گئ۔ 

    اف اللہ ابھی دم نکل جاتا میرا فاطمہ کی بچی۔۔ 

    ابیہا نے دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ فاطمہ کی ٹانگوں پر دو ہتھڑ جمائے۔۔ 

    اف ابیہا کتنا بھاری ہاتھ ہے۔۔ فاطمہ تڑپ کر سہلاتی اسکے پاس ہی گر سی گئ۔۔ 

    اتنا دبے پائوں کیوں آئی ہو تم لوگ اور وقت دیکھا ہے؟ پاکستان میں نہیں ہو تو کیا گھر واپس بھی نا آئو گی ؟۔ نور نے حواسوں میں آتے ہی ملگجے اندھیرے میں ہی کلاس لی۔۔ 

    اف بتیاں کیوں بجھائے بیٹھی ہو؟ اتنی زور کی۔چوٹ لگی ہے مجھے۔۔ 

    واعظہ بھی قریب ہی کہیں بیٹھی کراہی۔۔ 

    افوہ ہم سرکٹ جوڑ رہے تھے دیکھو انورٹر کام کر نے لگا۔۔نور نے خوش ہو کر تالی بجائی۔۔ 

    توبہ ہے رات کے ایک۔بجے بھی چین نہیں تم لوگوں کو۔۔ 

    الف بڑبڑاتی کمرے سے برآمد ہوئی۔۔ باہر گھپ اندھیرا 

    کیا ہوا لائٹ چلی گئ؟۔۔ 

    اس نے پوچھا تو ابیہا ہنسی۔۔ 

    پاکستان میں نہیں ہو تم ۔۔ لائٹ بند کی ہوئی ہے جلا لو۔۔ 

    فاطمہ نے چڑ کر کہا تھا۔   

     شور کم کرو عزہ اٹھ جائے گی ہم صبح اسے اس گھر کو دکھا کر بھونچکا کر دیں گے۔۔۔ 

    یہ نور تھئ اسکی اپنی ہی خوشیا ں تھیں۔۔ 

    تبھی روشنی کا جھماکا ہوا۔۔ 

    کسی نے ساری بتیاں جلا دی تھیں ۔۔ ان سب نے مڑ کر دیکھا تو عزہ تھئ

    الف جو سوئچ بورڈ کی۔طرف بڑھ رہی تھی وہیں رک گئی۔۔ عزہ حیران پریشان کھڑی سامنے کسی کو دیکھ رہی تھی۔۔الف نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو وہ بھی ہکا بکا سی ہو کر دو قدم پیچھے ہوئی

    تم لوگ روح بلا رہے تھےنا؟آگئ۔۔الف نے سرسراتی آواز میں کہا۔۔ 

    نہیں ہم تو گھر۔۔ ابیہا نے کہتے سر اٹھایا تو سراسیمہ رہ گئ۔۔ 

    لیکن کوئی روح آگئ ہے ۔۔

    ابیہا کے منہ سے نکلا تھا۔۔ واعظہ اور فاطمہ اچنبھے سے دیکھ رہی تھیں انہیں ابییہا بھاگ کر عزہ کے پاس آئی تھی۔۔

    کیا کہہ رہی ہو۔۔ واعظہ پائوں سہلاتے حیران دیکھ رہی تھی۔۔

    نور نے حیران ہو کر کہتے مڑ کر دیکھا پھر حلق کے بل چلائی۔۔ 

    آآا۔۔ 

    وہ گھبرا کر ابیہا سے جا لپٹی۔۔ 

    بھاگو فاطمہ لغت۔۔ چڑیل۔۔ 

    لا حول ولا قوت۔۔ 

    الف نے حواس قابو میں کرتے ہوئے زور سے کہا۔ 

    فاطمہ اور واعظہ نے پلٹ کر دیکھا تو بری طرح چونک کر تھوڑا سا سہہ مگر پیچھے کو کھسکی تھیں۔۔

    لمبا سا براق سفید ٹاپ سفید ہی جینز کے ساتھ پہنے عشنا خود بھی انکے ردعمل سے سہمی سی کھڑی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب بیدار تو ہو ہی گئیں تھیں سب سو چائے کا دور لازمی تھا۔ سب ننھے لائونج میں دائرہ بنا کر بیٹھ گئیں تھیں بیچ میں چپس رکھے تھے جو عزہ نے چپکے سے اپنے قریب کر لیئے تھے۔۔ 

    یار ویسے براق سفید لباس میں اجنبی شکل گھر میں کھڑی نظر آئے تو انسان نے اسے بھوت ہی سمجھنا ہے۔۔ مگر تمہیں چڑیل کہا اسکیلئے معزرت خواہ ہوں۔۔ 

    شان بے نیازی قابل دید تھی نور کی۔۔ عشنا سے کہہ کر سر جھٹکا پھر چائے کا کپ ہونٹوں سے لگا لیا۔۔ 

    میں معزرت خواہ ہوں میری وجہ سے آپکو تکلیف ہوئی۔۔ 

    عشنا نے شرمندہ سے انداز میں سر جھکا کر معزرت کی تھئ۔۔ الف کو چائے کا گھونٹ بھرتے اچھو ہوا۔۔ 

    اتنی اردو۔۔ ایک اور واعظہ۔۔ 

    وہ زیر لب بڑ بڑائی۔۔ 

    اور جو مجھے الٹے سیدھے نام دئیے ہیں اسکی معزرت کون کرے گا۔ واعظہ نے بنا لحاظ کائوچ سے کشن اٹھا کر نور پر اچھالا۔۔ وہ بروقت جھکائی دیتے کپ بچا گئ۔۔ 

    سوری سوری۔۔ بالکل زہن میں نہیں رہا تمہیں منہ پر لغت کہہ گئ معزرت۔۔ 

    اس نے بھی جوابا سفید جھنڈی لہرا دی۔۔ 

    منہ پر یعنی پیٹھ پیچھے مجھے لغت ہی کہتی ہو تم۔۔۔ 

    واعظہ کو شدید صمہ پہنچا تھا۔۔ 

    یار واقعی نور اب منہ پر تو الٹا سیدھا نام لینا بد تمیزی ہے۔  اب عزہ واعظہ کو امی کہتی اسکے روک ٹوک کرنے کی وجہ سے مگر واعظہ کو آج تک پتہ نہیں چلا۔۔ 

    یہ ابیہا تھی۔۔ 

    عزہ نے ماتھا پیٹ لیا۔۔تو الف اور نور کھل کر ہنسی تھیں۔۔عشنا کا منہ کھلا تھا تو ابیہا کو بول چکنے کے بعد احساس ہوا کیا کہہ گئ سو چپ کر کے اپنی چائے پر دھیان کیا۔ ۔

    عزہ تم بھی۔۔ واعظہ کہے بنا بس گھور رہی تھی۔۔ 

    یہ چپس۔۔ 

    اس نے کھسیا کر چپس کی پلیٹ اسکی جانب بڑھائی۔۔ 

    یہ منایا جا رہا تھا اسے۔۔ 

    واعظہ بھنا کر اٹھنے لگی تو سب اس سے چمٹ گئیں۔۔ 

    اچھا نا خفا تو نہ ہو۔۔ بھئ اب تم امائوں کی طرح ہمارا خیال رکھو گی تو امی ہی کہوں گی نا تمہیں۔ عزہ لاڈ سے اسکو ساتھ لگا کر بولی تو نور کو بھی معزرت خواہانہ جملہ سوجھا۔۔ 

    تو اور کیا ہر لفظ بولتے تم ٹوک کر اسکی اردو بتائو گی تو لغت ہی کہوں گی نا میں تمہیں۔۔ 

    اور ابھی تو میں نے بتایا ہی نہیں جب تم میرے براہ راست پروگرام میں کال کر کے جھوٹی تعریفیں کرتی ہو میری تو میں تمہیں کیا کہتی۔۔ 

    الف نے کہا تو واعظہ تو واعظہ باقی سب بھی اسکو منہ کھول کر دیکھنے لگیں۔۔ 

    وہ اپنی دھن میں کہہ رہی تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہاں تو واعظہ ہے نا تمہارا الہ دین کا چراغ اسی کو رگڑو۔۔ مجھے اس وقت بہت کام ہیں میں تمہارے فالتو پروگرام میں کال کر کے جھوٹی تعریفیں نہیں کرنے والی۔۔

    عروج اس بھورے امریکی کو گھورتے ہوئے فون کان سے لگائے تھئ۔۔ 

    اخیر کوئی چپکو آدمی تھا۔۔ کہاں اسے اسامہ بن لادن کی بہن سمجھ کر ڈر رہا تھا کہاں ابھی ایک ٹک میٹھی میٹھی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مجھے؟ اس نے نرس کو دیکھتے حیرت سے پوچھا تھا جوابا وہ سر ہلا کر بولی 

    دیح۔۔ 

    اچھا۔۔ وہ الجھن سے اپنا لیب کوٹ پہنتی اسکے ساتھ چل پڑی۔۔ نرس اسے ایک پرائویٹ روم کے پاس لا کر چھوڑتی جھک کر سلام کرتی آگے بڑھ گئ۔ 

    اس نے ہلکے سے دستک دی تو گاڑھے امریکی لہجے میں کسی نے کہا تھا۔

    کم ان۔۔ 

    وہ اندر داخل ہوئی تووہی امریکی مریض جسکے آپریشن میں اس نے مدد کی تھی  بیٹھا بیڈ ٹیبل  پرسوپ کا پیالہ رکھے سوپ پی رہا تھا اسے دیکھ کر کھل سا گیا۔۔ اتنا کہ عروج لمحہ بھر کو گڑ بڑا ہی گئ۔۔اتنی خوشی تو کبھی آئینہ دیکھ کر  مجھے خود تک نہ ہوئی۔اس نے سوچا

    ۔ پیا لہ چھوڑ چھاڑ مسکرا کر سر جھکا کر بولا

    ہیلو ڈاکٹر عروج۔۔  

    ہیلو۔۔ اب کیسی طبیعت ہے آپکی۔۔ 

    وہ آگے بڑھ کر اسکی۔فائل دیکھنے لگی

    بالکل ٹھیک ہوں۔۔ جب سے آپکے ہاتھوں نے میرے دل کو چھوا ہے یوں لگتا میرا دل اب دوبارہ جوان ہو گیا ہے۔۔یا یوں کہہ لیں ۔۔

    واٹ؟۔ عروج اسکی لن ترانی پر پوری آنکھیں کھول کر چلائی۔۔ 

    آہستہ۔۔ ابھی دل اتنا بھی توانا نہیں ہوا میرا۔۔ 

    وہ کراہ کر فورا دل تھام گیا تھا۔۔ 

    اس دن آپکو دیکھ کر سچ تو یہ مجھے آپ پر بنیاد پرست مسلمان ہونے کا گمان ہوا تھا۔۔ 

    دل تھامے وہ رقت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔ 

    یوں لگا تھا آپ مجھے امریکی ہونے کی وجہ سے اپنی نفرت کا نشانہ بنا دیں گی۔۔ مجھے کوئی غلط ٹیکا لگا دیں گی۔۔ وہ اب اپنے بازو میں خیالی ٹیکا گھونپ رہا تھا۔  عروج منہ کھولے تھی مگر ماسک سے باہر تھوڑی دکھائی دے رہا تھا خیرہے۔  

    یا میری ڈرپ نوچ کر پھینک دیں گی ۔۔ وہ اب ڈرپ نکال رہا تھا۔۔ خیالی۔۔ 

    یا کچھ نہیں کچھ نہیں تو مجھے غیر ضروری دوا کی خوراک دے کر ابدی نیند سلا دیں گی۔۔ 

    وہ ابدی نیند پر بیڈ پر گرنا چاہتا تھا مگر ابھی ایک سو ساٹھ ڈگری والا ہی اینگل بنا پایا تھا کہ میز اس پر الٹنے ہی لگی تھئ عروج نے جلدی سے آگے بڑھ کر میز کو توازن دیتے تھاما ۔۔ وہ بری طرح جلتے بچا تھا اب نہارتی نظروں سے دیکھنے لگا

    لیکن آپ تو میرے لئیے جیزز کا بھیجا خاص مسیحا نکلیں۔۔ میری جان بچائی ابھی بھی بچا لی۔۔ 

    آپ میرے لیئے خدا کا بھیجا خاص فرشتہ ثابت ہوئیں ہیں مس عروج۔  بلکہ آپ تو خدا۔۔

    بس۔۔ عروج سے مزید سننا محال ہوا۔۔ ہاتھ اٹھا کر اسے بریک لگائی۔۔میز کو ٹکا کر  دونوں ہاتھ جیب میں ڈال کر کڑے لہجے میں بولی

    میں ڈاکٹر ہوں میرا فرض تھا ۔۔ اور آپکے آپریشن میں میں نے بس سرجن کی معاونت کی تھی اگر آپ واقعی اتنے مشکور ہیں تو میں سرجن کم کو بھیج دیتی ہوں انکا شکریہ ادا کر لیں۔۔ 

    آپکی آواز بھی آپکی طرح میٹھی ہے۔۔ یقینا آپ بہت اچھ دل کی ہو گی۔۔ گو آپ مستقل ماسک پہنے رہتی ہیں میں آپکی شکل تو نہیں دیکھ سکتا مگر مجھے یقین ہے آپ اپنی آواز کی۔طرح خوب صورت ہی ہونگی۔۔ 

    وہ میز پر کہنیاں ٹکائے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ سجائے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ 

    تبھی ڈاکٹر کم دستک دیتے اندر چلے آئے۔۔ وہ نرس کے ساتھ رائونڈ پر نکلے تھے شائد۔  نرس ٹرالی میں دوائیں رکھے مریض کے سرہانے کی جانب بڑھی اور ڈاکٹر صاحب مسکراتے عروج کی جانب۔۔

    ہاں تو مل لیئے ڈاکٹر عروج سے آپ۔۔ وہ خوشدلی سے مریض سے انگریزی میں میں۔۔۔مخاطب تھے۔۔

    مریض نے نرس سے بی پی چیک کرواتے زور و شور سے گردن ہلائی۔۔

    عروج میں نے بتایا انہیں کہ آپ نے آپریشن میں کتنی مدد کروائی تھی میری۔ 

    وہ مزید کہہ رہے تھے 

    تو یہ آپکا کارنامہ ہے۔۔ عروج نے ہونٹ بھینچے۔

    دراصل مجھے نرس نے بتایا تھا اس مریض نے آپکے ساتھ تعصب برتتے ہوئے علاج کروانے سے انکار کیا تھا سو۔۔ میں نے انکو جتانا ضروری سمجھا ڈاکٹر روج۔۔  

    وہ ہتھیلی کی آڑ کرتے ہوئے اس سے ہنگل میں مخاطب ہوئے تھے۔۔ 

    دے۔۔ وہ سر جھکا کر بولی۔۔ 

    گھمسامنیدہ سن بینیم۔۔ ۔۔( شکریہ جناب)

    اس نے کوریائی انداز میں جھک کر کہا تو ڈاکٹر کم زور زور سے ہاتھ ہلانے لگے۔۔ 

    آنیو آنیو۔۔ ( نہیں )۔۔ 

    مطلب شکریہ کہنے کی ضرورت نہیں۔۔ کوریا میں اگر آپ احسان مند ہو کر کسی کا شکریہ ادا کریں تو وہ آگے سے نہیں نہیں کہتا ہے مطلب جیسے ہم کہتے جوابا کوئی بات نہیں۔۔ وہ بس نہیں کہہ کر ہی گزارا کرتے۔۔ 

    ڈاکٹر کم مجھے رات کو سینے میں درد اٹھ جاتا ہے کیا ایسا ممکن کہ آپ رات کو مجھے دیکھ جایا کریں ۔۔ 

    مریض نے معصوم سی شکل بنائی

    ابھئ بھی ہو رہا کہیں درد۔۔ ؟۔ ڈاکٹر کم فورا معائنے کو تیار ہوئے۔۔ 

    نہیں بس رات کو ہوتا۔۔ 

    میری تو ڈیوٹی ختم ہونے والی ہے۔ ڈاکٹر عروج آپ کی رات کی ڈیوٹی ہے نا۔۔ 

    اثبات میں سر ہلاتے عروج اس وقت کو یاد کر رہی تھی جب اس مریض کی زندگی اور موت کا فیصلہ کیا جاسکتا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    کمرشل بریک ختم ہونے والی ہے کمرشل بھی نہیں ملے آج تو ہمیں زیادہ پلیز کچھ کر دو نا عروج۔۔ 

    واعظہ فاطمہ کوئی فون نہیں اٹھا رہی ابیہا نے صاف انکار کرکے فون ہی بند کردیا اب تم ہی میرا آخری سہارا ہو۔۔ 

    الف فون کان سے لگائے بس نہیں تھا فون سے ہی عروج کو کھینچ لے۔۔ نظر لمحہ بہ لمحہ گزرتے وقت پر تھئ

    یقینا دوسری جانب ہٹلر کی جا نشین ہی رہی ہوگی کوئی اتنی منتوں کے بعد تو شائد ہٹلر بھی پورا شو سننے بیٹھ جاتا۔۔۔ 

    ژیہانگ تاسف سے اپنی ساتھی میزبان کو دیکھا تھا۔۔ 

    نائیٹ ڈیوٹی کا بار سہتی عروج چڑ گئ۔۔ 

    وہی امریکی مریض چہرے ہر ہزار معصومیت سجائے بازو اوپر کیئے بی پی کا معائنہ کروانے کو آستین اوپر چڑھائے تیار بیٹھا تھا وہ ایک ہاتھ سے فون کان پر لگائے ایک ہاتھ سے بی پی اپریٹس کی اسٹرپ لپیٹنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔ مریض اسکی الجھن دیکھ کر بھی مجال ہے جو سرموق جنبش بھی کرنے کو تیار ہو۔۔

    مسجمے کی طرح ساکت سانس تک روکے 

    بیٹھا تھا۔۔ 

    اب کیا کروں ہاسپٹل میں بیٹھی ہوں ایک ٹھرکی مریض کا بی پی دیکھ رہی اسی سے بات کرادوں ؟۔۔ 

    تنگ آکر اس نے کندھا اچکا کر دوسرا ہاتھ بھی خالی کیا اور لپیٹ دیا۔۔ 

    انگریزی آتی ہے اسے تو کروا دو۔۔ زرا جو تم پگھلی ہو۔۔ ترس بھی نہیں آرہا بہن کی نوکری دائو پر لگی ہے۔۔ 

    وہ روہانسی ہو چلی تھی۔۔ 

    اینی پرابلم ڈاکٹر عروج۔۔ 

    مریض نے آنکھ پٹ پٹائی۔۔ عروج اسے گھورنے لگی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الہ دین کا چراغ۔۔ 

    واعظہ روہانسی ہوئی۔ 

    پتہ ہے اس نے کال کی اسکے بعد پے در پے ہمیں اتنی ساری انگریزی لوگوں کی کال آئی لوگ امریکہ میں بیٹھ کر ہمارا شو سن رہے تھے۔  انٹر نیٹ پر۔۔ ہا نا مزے کی بات

    اس نے خوش ہو کر تالی بجائی۔۔ 

    مزے کی؟ عجیب بات ہے

    ابیہا نے ٹوکا۔۔ 

    امریکی انٹرنیٹ پر کوریا کے ایک غیر معروف ریڈیو شو کی غیر معروف میزبان کا شو نہ صرف سن رہے تھے بلکہ اس میں کال بھی کر لی دوسرے ملک میں مانا امریکی دنیا میں عجیب حرکتوں کی وجہ سے مشہور ہیں مگر یہ تو عجیب ترین بات ہے۔۔ 

    ابیہا نے پوری تقریر جھاڑ دی تھی۔۔ 

    عزہ اور عشنا نے ہاں میں ہاں ملائی تو الف تپ ہی تو گئ۔  

    تمہیں لگتا میں جھوٹ بول رہی؟ واقعی امریکیوں نے ہی کال ملائی تھی ہمارے پاس نمبردکھائی دیتے ہیں۔۔ اور ایسی بھی کوئی بات نہیں ہمیں چینیوں نے بھی کال کر کرکے شو کی کامیابی پر مبارکباد دی۔۔ انہیں زیادہ انگریزی تو آتی نہیں بس چند جملے سب بول رہے تھے۔۔ مگر۔۔ 

    الف کا جوش سے منہ سرخ ہو چلا تھا ایسا کیسے ہو گیا کہ اسکی بات پر یقین ہی نہیں ہورہا کسی کو۔۔

    اسے نئی دلیل سوجھی تھی۔۔ 

     اب امریکی چلو نہ یقین کرو چین تو پڑوسی ہے کوریا کا ہم نہیں انڈین پروگرام دیکھتے۔۔  ؟

    کیونکہ ہمیں انکی زبان سمجھ آتی ہے۔  نور نے جتایا۔۔ 

    چینیوں کو کورین سمجھ نہیں آتی۔۔ ایکسو گروپ بینڈ بھی ہر گانا چینی ورژن الگ شائع کرتا ہے خاص ان مداحوں کیلئے۔  واعظہ نے بھی بحث میں حصہ لیا

    اچھا میں پوری لسٹ کی نقل اٹھا کر کل لیکر آئوں گی دیکھنا تم سب ۔۔ 

    وہ منہ پر ہاتھ پھیرتی اٹھی۔  پیر پٹختی کمرے کی جانب بڑھی۔۔

    ہر چیز کو اتنا سنجیدہ کیوں لیتی ہو ۔۔ اس کو 

    خفا ہو کر جاتے دیکھ کر ابیہا نے آواز لگائی تو فاطمہ نیند میں کسمسائی۔۔ وہ ساری گفتگو کے دوران جانے کب کشن سر کے نیچے ٹکائے بے خبر ہو چلی تھی۔۔ سچی بات تو یہ عشنا بھی آنکھیں مل رہی تھی مگر وہ سب اتنا مگن گپیں ہانک رہی تھیں کہ کہنا بد اخلاقی لگا ورنہ گھڑی سوا چار بجا رہی تھی

    یہ تو ٹن ہے۔۔ واعظہ نے اسکا کندھا تھپکا تو وہ واقعی بے خبر ہوگئ۔  

    عزہ اپنے گھر کا سرکٹ کھولے تھی نور اپنا لیپ ٹاپ بند کر رہی تھی یعنی اسکا سونے کا ارادہ بن چکا تھا۔  

    چلو عشنا کم از کم آج کیلئے نرم آرام دہ بستر تمہارا ہوا۔۔ 

    واعظہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی تو ابیہا نے بھی تقلید کی۔۔ 

    گھڑی نے پونے پانچ بجائے تھے جب عزہ کا گھر جگمگا اٹھا تھا۔۔ 

    یس۔۔ وہ خوش ہوگئ۔  

    یہ دیکھو پورا روشن 

    وہ کہتے ہوئے اپنی کارکردگی دکھانے مڑی تو پتہ چلا اکیلی بیٹھئ ہے۔بس ایک فاطمہ کو کارپٹ پر سوتا پایا باقی عوام کب کی۔رخصت ہوچکی تھی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہارا پڑھنے پڑھانے پر زیادہ یقین نہیں ہے ۔۔؟۔۔ 

    تین دن کلاس ہوتی ہفتے میں اس میں بھی چھٹی کر لیتی ہو حاضری کم۔ہو جائے گی۔۔ 

    سستی سے سر کھجاتی بارہ بجے اٹھ کر آتی واعظہ کو دیکھتے ہی عروج نے آڑے ہاتھوں لیا۔۔ 

    یہ کونسا وقت ہے چپس کھانے کا ؟۔  میں پکوڑے بنانے کیلئے آلو لیکر آئی تھی دو دن بعد رمضان ہے کچھ خبر ہے؟۔ 

    واعظہ کی اسکے سامنے رکھی فرنچ فرائز کی بھاپ اڑاتی پلیٹ پر نظر پڑی تو الٹا اسکو لتاڑ ڈالا۔۔ 

    اور یہ کامیاب زندگی کا اصول ہے جب آپکے پاس جواب نہ ہو تو اگلے سے الٹا ایسا سوال کرو کہ وہ لاجواب ہو کر رہ جائے۔۔ 

    عروج کھسیائی۔۔ 

    ناشتے کا وقت ہے ابھی سو کر اٹھی ہوں۔۔ 

    ناشتے میں فرنچ فرائز کون کھاتا۔۔ وہ منہ بناتی فریج کھول کر دیکھنے لگی۔۔ 

    تم بھی کھالو۔۔ 

    اس نے زرا سا پلیٹ کھسکا کر اسے بھی دعوت دی۔۔ کیونکہ اسے یقین تھا وہ نہیں کھائے گی۔۔ واعظہ کو چپس پسند نہیں تھے بلکہ آلو کی کوئی بھی چیز پسند نہ تھی اور عروج کو اتنا ہی آلو پسند تھے۔۔ 

    ویسے یہ لڑکی کون ہے۔  کہا ں ٹکری؟۔  

    عروج نے عشنا کو کمرے کے کھلے دروازے سے کھڑکی میں کھڑے باہر جھانکتے دیکھا تو پوچھ بیٹھی

    یار رات کو ملی ہے ۔۔۔ 

    واعظہ کا انداز سر سری سا تھا۔ 

    وہ سا س پین چولہے پر رکھ کر چائے چڑھا رہی تھی۔۔ 

    ہوں۔۔ عروج کا انداز سوچتا ہوا سا تھا۔۔ 

    فاطمہ کہاں ہے؟ موصوفہ جا ب پھر چھوڑ چکی ہیں۔۔ 

    یعنی اس بار کرائے کی امید نہ ہی رکھوں۔۔ 

    واعظہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔ 

    فاطمہ تو گھر میں نہیں ہے میں جب اٹھی تو بس یہ لڑکی ہی جاگ رہی تھی باقی سب جا چکی تھیں

    عروج نے بتایا تو واعظہ سوچ میں پڑی۔۔ 

    یار رمضان سر پر ہے ہم عید پر اس بار ہنبک نہ بنوا لیں؟۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    گنگنم اسٹریٹ میں وہ چندی آنکھوں والا جوڑا ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گھوم رہا تھا۔۔ ہر دکان پر تو لڑکی اٹک جاتی کبھی کوئی ٹاپ پسند آگیا توکبھی کوئی میک اپ کی دکان نظر آگئ۔۔  کبھی جھمکے کبھی گھڑی کچھ نہیں کچھ نہیں تو بڑھیا کے بال دیکھ کر ٹھنک گئ۔ 

    مجال ہے جو کنجوس مکھی چوس لڑکےنے اسے کچھ دلایا ہو۔  ہر جگہ سے ونڈو شاپنگ کر کے باہر۔۔ 

    کاٹن کینڈی کے ٹھیلے پر پر شائد سستا ہونے کی وجہ سے رک کر اسے دلا ہی دیا۔۔ اب دونوں کاٹن کینڈی اپنی اپنی لہرا کر میدا نیدا کر رہے تھے۔۔ 

    میدا نیدا ویسے تو کوئی خاص حرکت ہے نہیں بس وہ کوریائی زبان میں اتنا آتا کہ بس یہی یا د رہ جاتا ۔۔ 

    چلتے چلتے پارک میں گھس گئے۔۔ انکے پیچھے مناسب فاصلہ رکھتی نور فٹ پاتھ پر چل رہی تھی۔۔ دو رویہ چیری بلاسم کے درخت پھول بکھیر رہے تھے۔۔ ہلکی ہلکی سرد چلتی ہوا۔۔ گرمی تو نام کو نہ تھی سو وہ مزے سے گھوم رہے تھے اور اتنا چلنے کی عادت نور کو نہ تھی۔۔ وہیں دم دے گئ۔۔ 

    خدایا ٹانگیں نقلی ہیں کیا انکی پوری گنگم اسٹریٹ پیدل گھوم لی اب بھی اتنی توانائی باقی کہ پارک۔۔ 

    چلتے چلتے کالے غلاف میں لپٹا وجود ہانپ اٹھا۔۔ 

    پاس سے گزرتے چندی آنکھوں والے اسے گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔۔ 

    گلے میں کیمرہ لٹکائے وہ مکمل طور پر اپنے آپ میں مگن تھی۔۔ 

    چھوگیو۔  ۔

    اسے اچانک کسی نے مخاطب کیا تھا۔۔ 

    چھوگئو۔۔یعنی عزت سے مخاطب کیا تھا۔۔ ایکسکیوز می۔۔کی طرح

    دے۔۔ وہ پلٹ کر دیکھنے لگی۔۔ 

    ایک تصویر بنا دیں ہماری۔۔ 

    وہ ایک اور چندی آنکھوں والا جوڑا تھا خوب گورا سا۔۔ لڑکی نے اسکرٹ پہن رکھی تھی  اسکی آنکھیں وہیں جم گئیں۔۔ مطلب اتنا کچھ پہن کر میں کپکپا رہی اور یہ۔؟۔۔ 

    چھوگیو؟۔ لڑکے نے اسکے سامنے چٹکی بجائی تو وہ چونکی۔۔ 

    دے۔۔ اس نے انکے ہاتھ سے موبائل لیکر حسب منشا دو تین تصویریں بنا دیں۔۔ ایک اپنے اچھے والے کیمرے میں بھی کھینچ کر دستی انکو ہوائی ربط سے بھیج دی۔  جھک جھک کر شکریہ ادا کرتے وہ آگے بڑھے اور وہ اپنے دھندے پر واپس۔۔ 

    پ

    اتنے بڑے پارک میں انکو ڈھونڈنا۔۔ 

    وہ ایک۔نظر دوڑا کر ہی ہار مان کر پلٹنے کو تھی جبھی اسکا فون بجا۔۔۔ 

    یہ۔۔ اس نے فون دیکھا پھر ادھر ادھر دیکھا۔۔ 

    کونسا پیچھے کا منظر بہتر رہے گا۔۔ اسکے پاس چند سیکنڈ تھے بس۔۔

    امی ویڈیو کال کیوں پسند ہے آپکو اتنی۔۔ 

    بے وقت کال نے اتنا بھونچکا کیا کہ سلام نہ دعا چھوٹتے ہی کہہ بیٹھی۔۔ آگے بھی روائتی پاکستانی امی تھیں۔۔ 

    نہ سلام نہ دعا ساری تمیز کوریا میں بیچ کھائی ہے ؟۔۔ 

    سوری امی۔۔ وہ کھسیائی۔۔ 

    غضب خدا کا انجان ملک میں تنہا جوان لڑکی سو وہم ستاتے میرا بس چلے تو چوبیس گھنٹے کی ویڈیو کال ملائوں۔۔امی جزباتی ہو چکی تھیں۔۔ چوبیس گھنٹے کی۔۔ 

    نور دل ہی دل میں کراہی۔۔

    شکل تک دیکھنے کو نہیں ملتی منہ پر نقاب چڑھا کر بیٹھئ رہتی۔ ارے ماں کو کبھی شکل تو دکھا دو۔۔ ہٹائو نقاب۔۔ 

    انہوں نے ڈپٹا تو وہ بے بسی سے بولی

    امی گھر نہیں ہوں میں۔نقاب نہیں ہٹا سکتی

    جب دیکھو گھر نہیں ہوں سوتی بھی یونیورسٹی میں ہو کیا؟ آجائو بس واپس بہت ہوگیا ۔۔ جو پڑھنا یہیں پڑھو۔۔بتائو زرا اتنا سا منہ نکل آیا ہے تمہارا۔۔ 

    امی پر رقت طاری ہونے لگی تھی اور نور کو ہنسی آگئ۔۔ پارک پر اسکی مستقل نظر تھی امی کو تسلی دیتے بھی آنکھیں گردش میں تھیں

    نظر کہاں آرہا ہے میرا منہ امی حد کرتی ہیں اتنی فکر نہ کیا کریں میری۔۔ 

    ہاں تو دکھا دو نا ماں سے بھی پردہ کرنا شروع کر دیا ہے۔۔ حد ہے وہاں اس جب بات کی ساحل کنارے توبھی منہ پر نقاب چڑھایا ہوا تھا۔ عجوبہ ہیں ہماری صاحبزادی پردہ دار بوا۔۔ تم۔۔

    اسے نظر آگئے تھے دونوں۔۔ دور ایک سنگی نشست پر بیٹھے وی کا نشان بناتے اپنی تصویر خود لیتے۔

    یار ایک تو یہ وی انکی شناختی علامت لگتا ہے۔۔ ہر تصویر میں ایک ہی۔حرکت ۔۔ عاجز نہیں آجاتے۔۔؟

    اس نے منہ بنا کر سوچا۔۔ 

    اچھا میں ایسا کرتی ہوں آپکو گھر جا کر ویڈیو کال کرتی ہوں شکل دیکھ لیجئیے گا ٹھیک خدا حافظ۔۔ 

    اس نے جلدی سے کہہ کر فون بند کر دیا ۔۔ اب تماشا شروع ہونے ہی والا تھا۔ 

    اس نے اب تک کی ساری کھینچی تصویریں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھیں اور اس لڑکے کو ٹیگ کیا تھا چند منٹ لگے تھے۔۔ 

    پہلا تبصرہ اسکی ہی محبوبہ کا تھا۔۔ 

    تھی تو ہنگل سی ٹرانسلیشن کیا تو عجیب سا جملہ بنا۔۔

    تمہارے گھر میں بندھا کتا میرا پالتو ہے۔۔ جیسا کچھ۔۔ 

    شائد یہی لکھا تھا اس نے۔۔ 

    اس لڑکے کو بھی شائد ویڈیو کال ہی آئی تھی۔۔ اس نے تھوڑا گھبرا کر نو ہی کرنا چاہا تھا کہ لڑکی نے اسےہاتھ سے موبائل چھین کر کال وصول کر لی۔۔ 

    دے؟ اسکی دے اس نے اس سے کافی فاصلے پر کھڑے ہو کر بھی آسانی سے سن لی تھی لڑکے کے کان کا پردہ جانے سلامت رہا ہوگا کہ نہیں

    اس مسکراتی لڑکی میں اچانک جان سینا کی روح آسمائی تھی۔۔ بپھری شیرنی کی طرح اسکی۔جانب بڑھی 

    ناپھودا۔۔ 

    شہہ بال ۔۔ جیہرال۔۔ 

    وہ چندی آنکھوں والی لڑکی بے دریغ گالیاں دیتے اس چندی آنکھوں والے لڑکے کی اپنے پرس سے ٹھکائی کر رہی تھی۔۔ 

    انکے گرد لوگ جمع ہو رہے تھے۔۔ 

    دور نقاب پوش کالے عبایا میں کھڑی لڑکی انکی تصویر کھینچ کر اپلوڈ کر رہی تھی ہیش ٹیگ۔۔ 

    پنگا نہیں چنگا ۔۔۔ 

    دیسی کمچی قسط تین

    دوسرا حصہ

    یار ویسے مجھے ایک بات بہت پسند ہے کوریا کی پبلک ٹرانسپورٹ۔ اب ہماری کتنی بچت ہو جاتی ہے گھر سے اسٹاپ بھی قریب ہے۔۔ اور یونی سے بھی پیدل کا راستہ ورنہ پاکستان میں تو وین لگانی پڑتی تھی۔۔ اور اسکول اور کالج کے دو سال سب سے پہلے مجھے پک کرتا تھا سب سے آخر میں میں ڈراپ ہوتی تھی۔۔ پورے ڈیڑھ گھنٹے وین میں۔۔ 

    یونیورسٹی سے نکلتے ہوئئ عزہ پر پبلک ٹرانسپورٹ کی اہمیت آشکار ہوئی تھی۔۔ وہ ابیہا اور الف اکٹھے ہی آتی جاتی تھیں ہوتی تو نور بھی ساتھ مگر آج نہیں تھی۔۔ تینوں ہم قدم تھیں۔۔ 

    گھنٹہ تو ہمیں بھی لگ جاتا گھر پہنچتے۔ اور تم گھر کے دروازے پر اترتی تھیں محترمہ ۔۔ ابیہا نے یاد دلایا تو وہ کندھے اچکا گئ۔ 

    ہاں مگر وہاں ایسے گھومنا بھی تو محال تھا نا۔۔ الف نے منہ بنایا۔۔ تبھئ پاس سے گزرتئ چندی آنکھوں والی آنٹی بغور ان تینوں کے حلیئے کو دیکھتی گزریں

    ہاں ۔۔۔ یارکیسا لوگ گھور گھور کر دیکھتے ہیں ہمیں۔۔ 

    ابیہا بڑ بڑائی تو الف سمجھی پاکستان کی بات ہو رہی۔۔ 

    ہاں کبھی کبھی ٹھرکی عوام ٹکر جاتی ہی تھی مگر شکر ہے یہاں کوئی گھور گھور دیکھتا نہیں گزرتا۔۔ 

    الف جوش سے بولنا شروع ہوئی پھر آواز مدھم ہوتی چلی گئ۔۔ اس بار باقاعدہ دو چندی آنکھوں والے لڑکے گھورتے گئے تھے انہیں۔۔ مگر انکے دیکھنے میں حیرت نمایاں تھی۔۔ 

    یار سال ہونے کو آرہا ابھی تک لوگ ہمارے عبایا سے مانوس نہیں ہوئے۔۔ عزہ نے ٹھنڈی سانس بھری۔ 

    یار ا س دن میں نے ایک نئے ڈرامے کی جھلک دیکھی اس میں ہیروئن برقعہ پہنے پھر رہی تھی۔۔ 

    ابیہا کو مس ہمورابی کا ٹریلر بروقت یاد آیا تھا بڑا خوش ہو کر بتایا۔۔ 

    ہیں ؟ مسلمان بنی ہے ؟ کون ہے؟۔۔

    عزہ اور الف کو بھی دلچسپی ہوئی 

    گوارا ہے ۔۔ لڑکا نہیں پتہ بڑا پیارا ہے مگر۔۔ پتہ نہیں کیا کہانی مگر لڑکی نے نقاب تک کیا ہوا تھا۔۔ 

    ابیہا نے آنکھیں میچ کر جوش سے بتایا۔ 

    بس دو دن بلکہ اب تو ایک دن ہی رہ گیا آگے رمضان ہے کے ڈرامے ایک مہینے کیلئے ٹا ٹا با ئے بائے۔۔ 

    عزہ نے ٹھنڈی سانس بھر کر بتایا۔۔

    کیوں؟ افطار کے بعد تو دیکھ سکتے۔۔ ابیہا کو اسکا خیال پسند نہ آیا۔۔ 

    ہاں تو اور کیا معصوم سے ڈرامے ہوتے ہم افطار کے بعد دیکھ سکتے۔۔ الف نے بھی ہاں میں ہاں ملائئ۔۔ عزہ کو اعتراض کوئی نہیں تھا اس نے بس یونہی بات کی تھی۔۔ 

    تینوں چلتے چلتے اسٹاپ پر پہنچ گئیں۔۔ دو تین لڑکیاں اسٹاپ پر بنی سنگی نشست پر براجمان تھیں۔۔ 

    انہیں دیکھ کر سسمٹ کر رخ پھیر لیا۔۔ 

    تینوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔

    یار یہ کیا ہے۔۔ ابیہا کی نگاہ تبھی بس اسٹینڈ پر لگے اشتہار پر پڑی۔۔ بھاگ کر اسکے قریب جاکر پڑھنے لگی۔۔ نشستوں پر براجمان لڑکیاں اسکو اپنے اوپر آجھکتے دیکھ کر بھونچکا رہ گئیں مگر وہ اپنی دھن میں تھی لڑکی کا سر دھیرے سے ایک طرف کر کے جی چھانگ ووک کی تصویر اور اس پر لگی عبارت پڑھنے کی۔ناکام کوشش کرنے لگی۔۔ پورا اشتہار ہنگل میں تھا۔ 

    کیا کررہی ہو؟ لڑکی نے بد مزا سا ہو کر اسے پیچھے کیا۔

    یہ کیا لکھا ہے ۔۔۔ ابیہا نے بے تابی سے اس کا کندھا ہلایا۔۔ 

    لڑکی نے برا سا منہ بنا کر مڑ کر اپنے سر کے اوپر لگے اشتہار کو دیکھا پھر مڑ کر ساتھی لڑکی کوکان میں کچھ بتایا دونوں اب ابیہا کو دیکھ کر ہنس رہی تھیں۔۔ 

    پلیز بتا دیں۔۔ ابیہا ان سے ہنگل میں ہی مخاطب تھی۔۔ 

    جب اتنی ہنگل بولنی سیکھ لی ہے تو پڑھنی بھی سیکھ لو۔۔ 

    لڑکی مفت مشورے سے نوازتی اپنا بیگ اٹھا کر کھڑی ہوگئ۔۔ اسکی بس آگئ تھی دونوں انہیں تمسخر سے دیکھتی ہوئی بس میں چڑھ گئیں۔۔ ابیہا مایوسی سے انہیں دیکھ کر رہ گئ۔۔

    انکو کیا ہوا تھا؟۔۔ عزہ اور الف ابیہا کے دائیں بائیں آکھڑی ہوئیں۔۔ 

    پتہ نہیں ہنگل پڑھنی نہیں آئی ابھی تک مجھے ووکی کا اشتہار پڑھنے کا کہہ دیا تو مزاق اڑاتی چلی گئیں۔ پتہ نہیں کیا لکھا ہے یہ؟۔۔ 

    وہ مڑ کر حسرت سے اسکے پوسٹر پر ہاتھ پھیرنے لگی جیسے ہاتھ پھیرنے سے تو ہنگل کے حروف بول پڑیں ہم یہ لکھے ہیں موصوفہ۔۔ 

    کسی اور سے پڑھوا لیتے ہیں۔ 

    الف سے اسکی مایوس شکل نہ دیکھی گئ۔۔ 

    ٹھہرو۔۔ 

    وہ آگے بڑھ کر اشتہار کونوچ کر اتارنے کی کوشش کرنے لگی۔۔ عزہ بھی اسکی مدد کرنے کو آگے ہوئی۔۔ 

    ایک تو کوریا والے بڑی پکی گوند سے چپکاتے ہیں۔۔ ابیہا اشتہار نوچتے جھلائی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چپ چپ تو محسوس ہی نہیں ہو رہی ۔۔ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اسے۔۔

    عروج ہاتھ گیلے کیئے ملتی ہوئی غسل خانے سے نکلی۔ 

    کمرے میں بس نور ہی بیڈ پر لیپ ٹاپ کھولے آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی۔۔ 

    کسے چپ چپ کرنا تھا؟۔ اس نے کی بورڈ پر انگلیاں چلاتے مصروف انداز میں پوچھا۔۔ 

    سینی ٹائزر کو لگ رہا پانی ہاتھ پر مل رہی ہوں۔۔ عروج الجھن سے اپنے ہاتھ دیکھ رہی تھی۔۔ نور چور سی ہوئی۔۔ ڈرتے ڈرتے سر اٹھایا مگر ابھی عروج پر انکشاف ہوا نہیں تھا۔۔ 

    ہاں تو ایکسپائر ہو گیا ہوگا۔۔ دوسرا لے لو۔۔ 

    اس نے تھوک نگل کر دزدیدہ نظروں سے اسے دیکھتے مشورہ دیا۔۔ 

    پوری شیشی ہے بھری۔۔ مجھے تو لگا تھا آدھی رہ گئ ہوگی مگر یہ تو کافی بچا ہوا ہے۔۔ 

    وہ شیشی ہلا ہلا کر اندازہ لگا رہی تھی۔ 

    خراب جو ہوگیا یے۔۔اسکو پھینکو نیا لے لو۔۔ 

    نور نے اسے منانا چاہا مگر عروج کا ارادہ اپنی حلال کی کمائی کو یوں ضائع کرنے کا نہیں تھا۔۔ 

    ایسے ہی ۔۔ میں اسے جا کر فارمیسی والے کے منہ پر ماروں گی۔۔ دو نمبری کرتا ہے۔۔ پانی بھر کے دے دیا۔۔ یہ پاکستان تھوڑی۔۔فارمیسی کا لائیسنس کینسل ہو جائے گا ۔۔ 

    وہ کہتی یوں جوش سے دروازے کی طرف بڑھی جیسے ابھی جا رہی ہو فارمیسی والے کی شکایت کرنے۔۔ 

    ارے رکو۔۔ نور اچھل کر بیڈ سے اتری اور بھاگ کر اسے کندھے سے جا لیا۔۔ 

    دیکھو اسکی سیل تم نے خود کھولی تھی نا۔۔ فارمیسی والے کا کیا قصور یہ تو کمپنی کا مال ہی غلط آیا ہے نا۔ 

    نور نے کہا تو عروج اسے گھورنے لگی۔۔ 

    پھر بات سمجھ آئی۔ تو سر ہلا کر بولی

    ہاں۔۔ مجھے اسکی صارف مددگار میں شکایت کرنی چاہیئے۔ وہ پلٹ کر بیڈ کی جانب فون اٹھانے بڑھی۔۔ نور اچھل کر اسکے سامنے آگئ

    تم نے استعمال کر تو لیا تھا سا را بس تھوڑا سا ہی تو بچا تھا آدھی بوتل تک۔۔ اسکی کیا شکایت کرنی۔۔ دفع کرو۔ ایکسپائر ہوگیا ہوگا نیا لے لو۔۔ 

    نور نے حتی المقدور کوشش کرتے ہویے اسے باز رکھنا چاہا۔ 

    آدھا بھی سہی۔۔ اتنی جلدی ایکسپائر تو نہیں ہو جانا چاہیئے نا۔۔ اب کل دو ڈیڈ باڈیز کو چھونا پڑا مجھے۔۔ انکے مردہ ہونے کی تصدیق کرنی تھی ۔۔ ڈیوٹی بھی ختم ہونے والی تھی ہاتھ دھویا مگر سینیٹائزر سے دھونا بھول گئ۔ گھر آکر اسی سے ہاتھ دھوئے تھے اگر یہ ایکسپائر ہو گیا ہوا ہے تو اس نے تو۔۔ ابھی عروج نے اتنا ہی بتایا تھا نور کے زہن میں صبح کا منظر لہرایا۔۔ وہ یونیورسٹی جانے کو تیار کھڑی تھئ جب عروج نے باتھ روم سے آواز لگائئ۔۔ 

    یار عزہ میری تولیہ زمین پر گر گئ ہے نئی پکڑاتی جائو۔

    اس نے مصروف سے انداز میں سامنے پڑی اپنی تولیہ ہی اٹھا کر اسے تھما دی تھی اور باہر نکل گئ تھی۔۔

    اس نے خوفزدہ ہو کر آنکھیں میچ لیں کانوں پر ہاتھ رکھ کر چیخ اٹھی۔۔ 

    نہیں۔۔ 

    کیا ہوا۔۔ عروج گھبرا کر اسے تھامنے کو بڑھی۔ 

    نہیں دور رہو۔۔ 

    وہ بوکھلا کر پیچھے ہوئی۔۔ 

    مجھے مت چھونا۔۔ پہلے بتائو تم نہائی تو تھیں نا گھر آکر؟ 

    وہ گھبرائے ہوئے انداز میں اس سے تصدیق چاہ رہی تھی۔ 

    ہاں نہائی تھی صبح تم سے ہی تو تولیہ مانگی تھی۔۔ 

    عروج نے معصومیت سے بتایا اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا اسے اچانک ہوا کیا۔۔ 

    چلو۔۔ نہا لیں پاک ہو گئیں مگر جراثیم۔۔ ۔وہ زیر لب بڑ بڑا رہی تھی۔۔ 

    میری تولیہ۔۔ اس نے متلاشی نظروں سے تولیہ کو کمرے مین تلاشا۔۔ 

    وہ رہی۔۔ ابھی تم ہی تو ہاتھ پو نچھ رہی تھیں اس سے۔۔ عروج نے کرسی کی جانب اشارہ کیا جس کی ہتھی پر سوکھنے کی نیت سے لٹکائی تھی۔ 

    میرے ہاتھ۔۔ وہ بوکھلا کر باتھ روم کی جانب دوڑی

    اسے کیا ہوا۔۔ عروج الجھن سے اسے دیکھتی جھک کر بیڈ سے فون اٹھانے لگی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ آپ کیا کر رہی ہیں۔۔

    کسی نے شستہ انگریزی میں ان سے پوچھا تھا۔۔ تینوں چونک کر مڑیں تو ایک چندی آنکھوں والا گورا سا لڑکا چہرے پر ماسک پہنے ان سے مخاطب تھا۔۔۔ 

    وہ تینوں سنگئ نشست پر گھنٹنے کے بل چڑھی اشتہار کھرچ رہی تھیں۔ دفتری اوقات کا وقت نہیں تھا جبھی اس وقت رش نہیں تھا بلکہ اس وقت اسٹاپ پر بس وہ تینوں ہی تھیں۔ تینوں فورا سیدھی ہو کر بنچ سے اتر گئیں۔۔ ہمارے یہاں تو عموما چور ڈاکو ہی چہرہ چھپاتے مگر کوریا میں اکثر لوگ دھوپ سے بچنے یا گرد و غبار سے بچنے کو ماسک پہن لیتے ہیں مگر یہ لڑکیاں کسی اور قسم کا ماسک پہنے تھیں ۔۔ ماسک والا لڑکا الجھن میں پڑا تھا۔ 

    وہ ہم یہ اشتہار اتار رہے تھے۔۔ ابیہا نے اسے ہنگل میں بتانا چاہا

    آپکو یہ اشتہار پسند ہے؟۔وہ لڑکا ہنگل میں ہی بولا 

    دے؟۔ ابیہا نے فورا سر ہلایا۔ 

    ماسک والے لڑکے کو ہنسی آگئ تھی۔۔ ماسک کے نیچے یہ اتنی بڑی گالوں کو چیرتی مسکراہٹ در آئی تھی۔۔ 

    تو آپ اسے اتارنے کی بجائے تصویر کھینچ لیں اس کی۔۔ 

    اس نے ابیہا کے ہاتھ میں پکڑے موبائل کی جانب اشارہ کرکے کہا تو ابیہا کھسیانی سی ہوئی یہ تو خیال ہی نہیں آیا۔ 

    یہ کیا کہہ رہا ہے۔ عزہ نے ابیہا کو کہنی ماری۔ 

    مجھے نہیں پتہ۔۔ ابیہا صاف مکر گئ۔۔ 

    یہ گیلا کر کے اترے گا۔۔ پانی ہے آپکے پاس؟ ۔۔ وہ آگے بڑھ کر اشتہار کو چھو کر دیکھنے لگا۔۔ 

    آنیمیتا۔۔(نہیں) ابیہا نے جواب دیا تو الف اس کے بازو پر چٹکی بھر کر بولی۔۔ 

    اشتہار اتروانے کی بجائے اس سے کیوں نہیں پوچھتی ہو کہ کیا لکھا ہوا ہے؟۔۔ 

    ابیہا کے بھی دماغ کی گھنٹی بجی۔۔ یہ بھی خیال نہ آیا کیوں بھلا؟۔ 

    لڑکے نے ماسک چہرے سے نیچے کیا اپنا انگوٹھا منہ میں لیکر گیلا کیا اب اشتہار کے کونے پر رگڑا۔۔ کونا اکھڑ آیا۔۔ 

    اور ابیہا عزہ اور الف کو کراہیت ہوئی۔

    اب اگر یہ اشتہار اتار بھی دے تو کون پکڑے گا اس اشتہار کو۔۔عزہ کی بات میں وزن تھا ابیہا متفق تھی البتہ 

    الف اسے دیکھ کر سوچ میں پڑگئی کہاں دیکھا ہے اسے۔۔۔

    چھوڑیں اسے۔ مت اکھاڑیں۔ کیا آپ پڑھ کر بتا سکتے ہیں یہ کیا لکھا ہوا ہے؟۔ 

    عزہ نے سیدھا سیدھا پوچھ لیا اس سے انگریزی میں۔۔

    جی ضرور۔۔ اس نے فورا ہاتھ روکے۔۔ اشتہار اکھڑ تو رہا تھا مگر پھٹ بھی رہا تھا۔ وہ ہاتھ جھاڑتا سیدھا ہوا۔۔ 

    یہ جی چھانگ ووک کی پھین میتنگ( فین میٹنگ) کا اشتہار ہے۔۔ وہ رکا۔۔اسکی انگریزی بہت رواں نہیں تھی مگر بات سمجھا سکتا تھا۔۔ 

    ابیہا کی سانس بھی رکی۔۔فین میٹنگ جی چھانگ ووک کیا اسے دیکھ سکنا ممکن ہے۔ وہ خیالوں کی رو میں بہکنے کو تھی۔۔ 

    مگر یہ پرانا اشتہار ہے چھے مہینے پرانا ۔۔ اس نے مسکرا کر انگریزی میں ہی بتایا۔۔ 

    ابیہا کے اوپر یاسیت چھائی۔ نقاب منہ پر ہونے کے باوجود بھی آنکھوں سے چھلکتی مایوسی اس سے مخفی نہ رہ سکی۔

    بیانئیے۔ وہ کوریائی انداز میں معزرت کرتا ان سے اجازت لیتا آگے بڑھ گیا۔ 

    یار اسکو میں نے کہیں دیکھا ہے۔ الف اسکی چوڑی پشت کو نظروں میں رکھے رکھے بولی۔ گرے پینٹ اور آف وائیٹ لائننگ والی فل آستینوں والی شرٹ کو اس نے موڑ کر کہنی تک چڑھایا ہوا تھا۔۔ 

    سب ہی تو اسی شکل کے ہیں۔۔۔ عزہ نے ہاتھ جھاڑے۔۔

    دور سے اسے بس آتی دکھائی دے رہی تھی۔

    ہاں مجھے جی چھانگ ووک کی شکل کا لڑکا ٹکرا تھا پچھلے سال مال میں پھرتے۔۔ جب میں اسے سب بتا چکی کہ میں نے کے ٹو ہیلر کتنی بار دیکھا ہےا سکے پیچھے تب اس نے مجھے بتایا میں جی چھانگ ووک نہیں آگے سے ہنس بھی رہا تھا کمینہ۔۔ دل تو کیا تھا دانت ہی توڑ دوں اسکے۔۔ 

    ابیہا کو پچھلے سال کا واقعہ پوری جزئیات کے ساتھ یاد آیا تھا۔۔ بلبلا کر بتانے لگی۔ عزہ زور سے ہنسی تھی۔ 

    یہ تو صحیح بستی ہوئی پھر تو آپکی۔ وہ ابیہا کو کندھا مار کر چھیڑنے لگی۔ ابیہا بھنا کر اسے پیچھے کرنے لگی

    الف ابھئ بھی اسی لڑکے کو ہی دیکھ رہی تھی۔ سڑک کنارے لاپروائی سے کھڑا ادھر ادھر دیکھتے فون پر بات کر رہا تھا۔۔ 

    کا ش کبھی یونہی چلتے پھرتے سیہون ہی مل جائے۔۔

    اسے گھورتے جانا کافی غلط بات تھئ سو آہ بھر کر اس نے یونہی اپنا موبائل کی اسکرین روشن کرکے وقت دیکھا۔ ایکسو انگوٹھے اور انگلی والا دل بنائے بڑے انداز سے دیکھ رہے تھے اسکرین پر۔ 

    مانوس چہرے۔۔ اسکے زہن میں جھماکا سا ہوا۔ 

    اس نے چونک کر نظر اٹھائی۔ اس لڑکے کے پاس ٹیکسی آ رکی تھئ۔۔ اس لڑکے کا آدھا چہرہ دکھائی دے رہا تھا اب۔۔

    اسکے کانوں میں واعظہ کی آواز گونجی تھی۔۔ اسے بتا رہی تھی 

    یار رچ مین شروع ہوا ہے تمہارے کیا نام ہے اس لڑکے کا یار۔۔ وہ پیشانی مسل رہی تھی۔ 

    یار وہ جو ایکسو والا لگتا گال میں پان دبا کر بیٹھا ہے ہونٹ بھینچ کر جو بولتا ہے۔۔

    اس نے نشانی بتا کر بجھوانا چاہا۔۔ 

    سو ہو۔۔ الف فورا پہچان گئی تھی۔۔ 

    سو۔۔ ۔۔ اسکے لب ہلے۔۔ اس لڑکے نے ٹیکسی کا دروازہ کھولا

    سو ہو۔ اس کے لبوں سے ہلکی سی آواز نکلی۔ لڑکا ایک ٹانگ اندر کر کے آدھا بیٹھا ہی تھا۔۔ اس نے اپنی ساری ہمت مجتمع کر کےجوش کی انتہا پر خوش ہوتے پکار لیا۔ آواز نکلی۔۔ اور کیا پاٹ دار آواز نکلی۔۔ 

    سوووہو۔۔۔۔ 

    بس کے پائدان پر پیر رکھنے کو اٹھاتی ابیہا اچھلی تھی۔ 

    عزہ دہل کر ہاتھ سے موبائل چھوڑ بیٹھی تو آدھا بیٹھا سوہو آواز کے منبع کو جانے بنا بھی گھبرا کر وہیں اسی انداز میں جم کر مڑ کر دیکھنے لگا۔۔ 

    سفید جینز لمبا سا کلیجی رنگ کا لمبا سا کرتا اور ساتھ ہمرنگ لمبا سا لہراتا پردہ۔ ( دوپٹہ) سر پر سفید اسکارف باندھے وہ لڑکی بھاگتی ہوئی اسکی جانب آرہی تھی اور پیچھے اسکے دو کالے لمبے لبادے پہنے لڑکیاں پورے چہرے پر نقاب بس آنکھیں ہی نظر آرہی ہوں۔۔ 

    سو ہو۔۔ سر۔ اس کوپھر آواز آئی تھی۔۔ 

    وہ دھپ سے نشست پر ٹکا۔۔اسکی پرستار ایسے حلیئے میں تو نہیں ہوتی ہیں۔ اور یقینا ابھی ہونے والی گفتگو انکو بھڑکا دینے والی نہیں تھی۔۔ پھر اس طرح بھاگ کر آنے کا مقصد۔

    چلیں؟۔ ٹیکسی ڈرائیور مڑ کر اس سے پوچھ رہا تھا۔۔

    ایک ٹانگ سڑک پر دھرے وہ شش و پنج میں تھا آیا دروازہ بند کر کے ٹیکسی ڈرائیور کو ٹیکسی بھگانے کا کہے یا۔ ۔۔ ۔یا کا موقع ختم ہوا۔۔ وہ تینوں اسکے سر پر آپہنچی تھیں

    پھولی سانسوں کو برابر کرتی الف بمشکل جوش و خروش سے سرخ چہرے کے ساتھ کہہ پائی تھی۔۔ 

    آپ آپ۔۔ ہو۔۔ ( سانسیں چڑھی ہوئی تھیں اسکی) سو ہو ہیں نا؟۔۔ سوہو ہو۔۔ سو۔۔ وہی والے وہ رچ ۔۔ والے میں آپکی ۔۔۔۔ بلکہ ایکس۔۔ ہوووو ۔۔ کی ہی۔ الف کوخود پتہ نہیں تھا اسکے منہ سے کیا نکل رہا۔۔ اور پھر ایسے موقع پر انگریزی بھئ کہیں بھاگ جاتی ہے۔۔

    تین لڑکیاں اجنبی حلیے میں اجنبی زبان میں جانے اس سے کیا کہہ رہئ تھیں۔ 

    اسکے چہرے پر سراسیمگی سی چھائی تھی تھوک نگل کر اس نے پوچھنا چاہا۔۔ 

    دے؟ واٹ ڈڈ یو سے؟۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاری ہے ۔۔

    دیسی کمچی قسط تین

    حصہ سوئم

    اس نے صبح سے تین جگہ انٹر ویو دئیے تھے۔۔ تینوں انٹر ویو اسکی زندگی کے یادگاری انڑویو تھے۔۔

    گلاس ڈور دھکیلتے ہوئے فاطمہ بڑے اعتماد سے کمرے میں داخل ہوئی۔۔ یہ کوریا کی مشہور موبائل کمپنی کے صارف مددگار کال گاہ( کال سینٹر) کا مرکزی دفتر تھا۔۔ 

    بڑی سے میز پر تین افراد براجمان تھے ایک ادھیڑ عمر مینجر ایک نسبتا جوان لڑکا اور ایک خاتون۔۔ 

    آننیانگ ہاسے او۔۔ 

    فاطمہ نے جھک کر کوریائی انداز میں مسکرا کر سلام کیا۔ آموکچھورو ۔۔( برائے مہربانی)

    انجے سے ہیو۔۔ 

    ( تشریف رکھئیے)

    اھیڑ عمر چندی آنکھوں والے نے بڑی تمیز سے کہا تھا

    دیح؟۔۔ دے۔۔ 

    وہ سمجھی نہیں تو انہوں نے اشارے سے بیٹھنے کا کہہ کر جملہ دہرایا۔۔ 

    تھینکس ۔۔ وہ سر ہلا کر بیٹھ گئ۔

    اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔۔ چندی آنکھوں والا اس سے خالص ہنگل میں پوچھ رہا تھا۔۔ 

    جی۔۔ اسکے منہ سے اردو نکلی تھئ۔۔ 

    ٹھیل اش شم تھن آبائوٹھ یو۔۔

    نسبتا جوان خالص کوریائی لہجے میں اس سے انگریزی میں پوچھ رہا تھا۔۔ 

    ٹیل اس سم تھنگ ابائوٹ یو۔۔ 

    ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔۔ 

    اچھا۔۔ اس بار اسکا زہن چلا تھا۔ پھر چلتے چلتے پاکستان جا پہنچا۔۔ 

    وہ اس انٹرویو سے پہلے پاکستان میں دیئے جانے والے انٹرویو میں پہنچ گئ۔۔ دفتر کم و بیش وہی تھا ۔مگر سامنے چندی آنکھوں والے کے بجائے بڑی آنکھوں والا گندمی رنگت والا تقریبا جوان بندہ اس سے شستہ انگریزی میں مخاطب تھا۔۔ 

    سو ٹیل می سم تھنگ ابائوٹ یو۔۔ 

    فاطمہ نے گہری سانس لی ۔ پہلا انٹرویو تھا وہ تھوڑا سا گھبرائی ہوئی تھی۔۔ تھوک نگل کر بولنا شروع کیا

    میرا نام فاطمہ ہے میں۔ 

    ابھی اتنا ہی بتایا تھا اگلے نے فورا ٹوک دیا۔

    انگلش پلیز۔ وی نیڈ گڈ اسپوکن انگلش ایز یو نو۔۔۔۔۔۔۔۔ 

    آگے لمبا سا فراٹے دار انگریزی میں دیا جانے والا واعظ تھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ امریکی اسکول سسٹم میں جو بچے پڑھ رہے ہیں وہ آدھے تیتر آدھے بٹیر ہیں اردو انہیں بس اتنی ہی آتی کہ اپنے ملازم سے اپنا زاتی کام کروا سکیں سو اگر آپ انہیں انگریزی پڑھانا چاہتی ہیں تو آپکو فراٹے سے انگریزی بولنا آنا چاہیئے ۔ لکھنے میں بھلے آپ کو دو سو لفظوں کا مضمون لکھنا آتا ہو۔ انگریزی ادب میں ماسٹر کی فرسٹ ڈویژن میں ڈگری لے رکھی ہو 

    سب بے کار ہے۔۔ انگریزی بولنا فی زمانہ کامیابی کی دلیل ہے ورنہ آپ زلیل ہیں خوار ہیں ہم جیسوں کے آگے۔ 

    اسکی لمبی تقریر نے گھبرائی ہوئی فاطمہ کی رہی سہی انگریزی بھاپ بنا کر اڑا دی تھی۔۔ 

    اس نے سر جھکا کر کہا تھا ۔۔

    جی۔۔ 

    زندگی کا پہلا انٹرویو۔ 

    انگریزی مادری فادری زبان نہ ہونے کے باوجود اس نے سیکھی تھی پڑھی تھئ اسے آتی تھی بولنی بھی آتی ہوتئ اگر اسکے والدین امریکی ہوتے برطانوی ہوتے اسکے آباواجدا دانگریزوں کی غلامی سے نجات کیلئے لڑے نہ ہوتے ابھی بھی غلام ہوتے انگریزوں کے تو کیوں نہ آتی ۔۔ مگر ستر برس قبل اسی تنازعے پر علیحدہ وطن بنا کر انہوں نے انگریزی اور انگریزوں سے نجات حاصل کرنا چاہی تھی۔۔ مگر نجات مل نہ سکی تھی۔۔ انکی زہین فطین اولاد جس نے انگریزی ادب گھول کر پیا تھا انگریزی طوعا کرہا کیا مجبورا و شوقیہ بھی سیکھی۔۔مگر بولتے تو آپ وہی زبان ہیں نا جو آپکے ارد گرد بولی جاتی ہو جو آپکے اردگرد لوگ سمجھتے ہوں۔۔ جو آپ بچپن سے استعمال کرتے ہوں۔۔ اور پاکستانی معصوم بچی کو انگریزی پڑھا دی سکھا دی سمجھا دی اب بلوانا بھی ضروری کیا؟ کم از کم بولنے کی تو پابندی نا لگائو۔۔ صد افسوس۔ 

    اسے بڑی تہزیب کے ساتھ جواب دیا گیا تھا کسی بھی بڑے ادارے میں جائو کم از کم زلیل کرکے نہیں نکالا جاتا اتنا احسان کر دیتے ہیں پڑھے لکھے لوگ۔۔ خیر اس دن اس نے تہیہ کیا تھا انگریزی بولنا بھی سیکھے گی۔۔ 

    اسکو اپنے پل پل کی محنت مشقت یاد تھی۔۔ 

    گھنٹوں بیٹھ کر بور سے بور سی این این بی بی سی فاکس نیوز کی خبریں سنی تھیں ہر طرح کی ہارر ایکشن انگریزی فلم دیکھی تھی گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر انگریزی بول بول کر اسپوکن انگریزی بہتر کی تھی۔۔ جنون ہو گیا تھا اسےجو اس ایک انٹر ویو میں ہوا ہے وہ آئندہ نہ ہونے پائے۔۔ اور کامیاب بھی رہی۔انگریزی کی بنیاد پر دبئی کے ایک کال سینٹر میں نوکری مل گئ اسے۔۔ وہ جانتی تھی کیسے اپنے گھر والوں کو ضدیں کرکے منایا کس طرح روئی جھگڑی کھانا پینا چھوڑا مگر ضد منوا لی۔۔ دبئی میں د ومہینے نوکری کرکے ہی اسکا کم از کم نوکری کا شوق اترا تھاوہی خاندان والے جو اکیلی لڑکی کو اتنی دور بھیجنے پر سو سو باتیں بنا رہے تھے دھڑا دھڑ اسکیلیئے رشتے بھیجنے لگے مگروہ اب اس ماحول سے نکل آئی تھی سو واپسی ناممکن تھی۔ اسے ایک کوریا میں موجود کسی فلاحی ادارے میں نوکری کا اشتہار ملا۔۔ لمبا چوڑا نام۔ تھا این جی او کا ۔ دبئ آگئ تھئ تو آگے کوریا جانا کیا مشکل تھا۔۔کوریا میں ہنگل کے جانے بغیر جانا مشکل تھا۔ سو اس نے کے پاپ کے ڈرامے دیکھنے شروع کیئے۔ مگر ہنگل اور انگریزی میں ایک بنیادی فرق یہ آیا تھا انگریزی وہ کنڈر گارٹن سے پڑھ اور سیکھ رہی تھی صرف بولنا مشکل تھا ۔ جبکہ ہنگل بولنا پڑھنا سیکھنا سمجھنا۔۔ کچھ بھی آسان نہ رہا تھا خیرکسی طرح ۔۔اسے نوکری مل گئ تھی۔۔ وہ دبئی سے کوریا آگئ۔۔ لیکن۔۔ یہاں آکر احساس ہوا انجمن میں نوکری کرنا آسان کام نہیں۔۔ زہنی بیمار کرنے لگا تھا اسے۔۔کام۔ سارا دن مخصوص موضوعات پر مقالے ڈھونڈنا لکھنا دنیا کی بے ثباتی کیا خوب آشکار ہوئی تھی وہی ہنستا مسکراتا ڈراموں والا خوش لوگوں والا کوریا کدھر ہے؟ شوہروں کے ظلم و ستم کا شکار خواتین،بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیاں، نوکری کی تلاش میں فلپائن جا کر غلط ہاتھوں میں پڑ کر زندگی برباد کروا لینے والے کوریائی۔۔چین میں شادیاں کر کے واپس آجانے والے انکو ڈھنوڈتے انکے اپنے۔ شمالی کوریائی محاجرین اور ان پر گزری ظلم و ستم کی داستانیں اسکے سامنے آجاتیں۔۔جن کو اسے مضامین کی شکل دینی ہوتی تھی جو پھر انکی دفتری ویب سائٹ اور ماہناموں میں چھاپا جاتا۔ تین چار مہینے میں ہی اسکی بس ہوگئ۔۔ اس نے شد و مد سے نوکری ڈھونڈنا شروع کی مگر اس سے پہلے کہ دوسری نوکری ملتی اسکو نوکری سے نکال دیا گیا۔ وجہ اسکا لکھا ایک مقالہ بنی جس میں اس نے شمالی کوریائی محاجروں کی صرف مشکلات کا زکر کیا تھا۔ خالصتا سچائی۔۔ فرق صرف اتنا تھا کہ شمالی کوریا میں رہتے ہوئے جو مشکلات آئیں انکے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا میں انکے ساتھ ہوا برا سلوک بھی لکھ ڈالا۔ اسکا لکھا مضمون پہلے دیکھا جانا چاہیے تھا مگر ایڈیٹر صاحب کا اس پر اندھا اعتماد کہہ لو یا کام چوری وہ سیدھا چھپ گیا ماہنامے میں۔ بس دفتر ہل گیا اسکو اظہار وجوہ کا نوٹس آیا پھر بحث ہوئی اور آخر میں فاطمہ کے اندر کی دوٹوک بولنے والی لڑکی انگڑائی لیکر جاگ اٹھئ۔۔ 

    المختصر نوکری گئ۔ ویزا کا مسلئہ پڑا پاکستانی ایمبیسی کے چکر لگے وہیں اسکی ملاقات واعظہ سے ہوئی تھی۔

    واعظہ جسکے بھائی ایمبیسی میں اچھے عہدے پر فائز تھےوہ کسی کام سے انکے پاس آئی ہوئی تھی جب فاطمہ کا مسلئہ اسکے سامنے آیا۔ وہ ایمبیسی کے روئیے کو سخت تنقید کا نشانہ بنائے خوب غصے میں اسکے بھائی پر برس اٹھی تھئ۔ نڈر۔۔ بااعتماد۔ غلط بات پر ہتھے سے اکھڑجانے والی فاطمہ واعظہ کو پسند آگئ۔ بھائی اسکا جانے کیسے ضبط کیئے تھا۔ وہ اسکو سمجھا رہا تھا کہ اگر اسے یہاں نوکری نہیں ملتی تو یہاں رہنا مشکل ہوگا بہتر ہوگا وہ پاکستان واپس چلی جائے جب واعظہ نے ہاتھ اٹھا کر اپنے بھائی کو روکا اور اسے لیکر باہر لان میں لے آئی۔ اسکا مسلئہ سنا تسلی دی اور پھر حل کرنے کی کوشش بھی۔۔ تب اسے پتہ چلا ۔ واعظہ کے بھائئ بھابی کوریا میں ہی رہتے تھے اپنے بچوں کے ساتھ اور وہ الگ ایک اپارٹمنٹ لیکر سہیلی کے ساتھ رہتی تھئ۔۔ اس نے نا صرف اسکا رہائش کا مسلہ حل کیا بلکہ کہہ سن کر اسکی جاب بھی لگوا دی ایک مقامی انگریزی اخبار میں ڈیٹا انٹری اسکا کام ہوتا تھا سارا دن ٹائیپ کرتے نیوز پڑھتے سناتے کبھی کبھار سوشل میڈیا استعمال کر لیتی تھی۔۔ ایک دفعہ اسے تنبیہہ ملی اور دوسرئ بار نوکری سے برخواستگی کا خط۔۔ 

    ہق ہاہ۔ 

    جس پر اتنا کچھ ہو گزرا ہو اسے نوکری کا شوق نہیں رہتا۔ اب مجبوری تھی اسکی۔ 

    چند لمحوں میں کئی مہینے کی کہانی گھومی تھی اسکی نظروں کے سامنے۔۔ 

    میرا نام فاطمہ ہے ۔ میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ میں کوریا میں نوکری کیلئے آئی ہوں ۔ میں نے ایم اے انگلش کیا ہے پاکستان کی مشہور یونیورسٹی سے۔۔ ( کونسا جا کر تصدیق کریں گے۔مانتے تو ہیں نہیں پاکستانی ڈگریوں کو ہونہہ۔ ) اس نے فراٹے سے انگریزی بولتے ہوئے دل میں ہی سوچا تھا۔ 

    ساتھ ساتھ مجھے کمپوٹر کی بنیادی معلومات ہیں۔ بلکہ گریجوایشن تک اختیاری مضمون بھی رہا ہے کمپیوٹر۔۔

    میں دبئی گھوم چکی ہوں وہاں کال سینٹر میں نوکری کرتی تھئ مگر چونکہ میں مہم جو اور تجربے کرنے شوقین لڑکی ہوں سو مجھے وقت گھما کر یہاں لے آیا۔۔ میں یہاں ایک این جی او کے ساتھ منسلک رہی ہوں میری محنت اور قابلیت نے مجھے مشکل ترین اس نوکری میں سرخرو کیا۔۔ ( اور کیا بتائوں)۔ میں ہر طرح کے ماحول میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ مددگار طبیعت ہے میری جتنی محنت سے کام کرتی ہوں اتنے ہی خلوص سے اپنے کام کرنے والے ساتھیوں کے ساتھ پیش آتی ہوں۔ یہ سب تفصیلات اس سی وی میں میں نے شامل بھئ کی ہیں۔۔ 

    وہ بات ختم کر کے مسکرائی تھی۔۔ تینوں باقائدہ منہ کھولے ششدر سا اسے دیکھ رہے تھے۔ یہ ریل گاڑی اس تھوڑی بہت انگریزی جاننے والے کے بھی سر پر سے گزری تھی یقینا۔ اسکا چہرہ بتاتا تھا۔۔ فاطمہ دل ہی دل میں مغرور سی ہوئی خود کو خیالی تھپکی بھی دے ڈالی۔ شاباش چھکے چھڑا دئیے۔۔نوکری پکی تمہاری انکےخاندان میں کسی نے اتنی انگریزی بولی پڑھی نا سنی ہوگی کیا یاد کریں گے فاطمہ سے پالا پڑا ہے۔۔ 

    اسکا سی وی لیکر ادھیڑ عمر شخص نے بغور دیکھا تھا۔۔ چھے مہینے میں دو نوکریاں بدلنے والی فاطمہ۔ دونوں ہی نوکریاں اور انکا تجربہ انہیں درکار نہ تھا مگر خیر۔ وہ بڑے ادارے والے بات۔ یاد آئی؟۔۔۔۔ 

    ہنگل آرا۔۔۔۔؟۔۔۔۔ کوٹ اسکرٹ پہنے خاتون نے پہلو بدل کر اس سے پوچھا تھا۔۔ 

    ہنگل سمجھ آتی ہے؟۔۔ 

    اتنا تو سمجھ آگیا تھا۔ اسے۔۔ 

    دے۔۔ اس نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیری۔۔ دل دھک دھک کرنے لگا تھا۔ 

    آپکی انگریزی اچھی ہے مگر ہمیں انگریزی صارفین سے اتنا واسطہ نہیں پڑتا۔ اس مددگار کال سینٹر میں عموما کوریائی لوگ ہی کال کرتے یا رابطہ کرتے ہیں۔ سو ان کی مدد کرنے کیلئے ضروری ہے آپکو ہنگل بھی آتی ہو۔ 

    نسبتا جوان والے ٹو پیس میں ملبوس لڑکے نے شائستگی سے اسے انگریزی میں بتایا تھا۔۔ 

    مگر اشتہار پر تو آپ نے انگریزی بولنے کو ترجیح دیں گے لکھا تھا۔ 

    فاطمہ بگڑ گئ۔ ناحق وقت ضائع کیا میرا۔۔ 

    اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر تینوں کے انداز مزید شائستہ ہوئے۔۔ 

    درست فرمایا اکثر یہا ں پر غیر ملکی صارفین آتے تو انگریزی ہم نے ترجیح رکھی تاکہ ہم انکو بھی سہولت دے سکیں مگر ہمارا واسطہ زیادہ تر ہنگل بولنے والے صارفین سے ہی پڑے گا۔ 

    اس نے مزید مسکرا کر شائیستگی سے بتایا۔۔ 

    بیانئیے۔ ادھیڑ عمر والے چندی آنکھوں والے انکل نے معزرت خواہانہ انداز میں اس سے کہا۔ 

    اورینن ہنگ کھوکمینے سنوہے کوشیہئے تا۔۔ 

    ہم کوریائی قومیت رکھنے والوں کو ترجیح دیں گے۔۔ 

    فاطمہ گہری سانس لیتےواپس جانے کیلئے۔ اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    رکھیں جی اپنے لوگوں کو۔ آپ ہم لوگوں جیسے تھوڑی ہیں۔ ہمارا واسطہ غیر ملکیوں سے ککھ نہیں پڑتا مگر ہماری ترجیح انگریزی بولنے والے ہوتے ۔۔ عجیب ہی حال ہے۔۔ 

    وہ اردو میں خود کلامی کر رہی تھی۔ وہ تینوں اب بھی ہمہ تن گوش تھے۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عجیب صورت حال تھی۔۔ واعظہ نور اور عشنا منے لائونج میں آلتی پالتی مارے بیٹھی گود میں کشن دبائے اس پر تھوڑی جمائے بیٹھی عروج کو ادھر سے ادھر چکور کی طرح چکر کاٹتے دیکھ رہی تھیں۔۔ عروج منے سے لائونج میں بھی ادھر سے ادھر ٹہلتےصارف مددگار پر کال ملائے برس رہی تھی۔۔ 

    آپ لوگوں کی صحت سے کھیل رہے ہیں ۔ سینی ٹائزر ایکسپائر ہوگیا اسکا مطلب پتہ ہے؟ میں ڈاکٹر ہوں ایک سے ایک خطرناک بیماریوں میں مبتلا مریضوں اور لاشوں سے واسطہ پڑتا میرا اگر مجھے کوئی سنگین بیماری لاحق ہو گئ تو؟۔۔ 

    مجھے خبر ہوتی عروج اتنا کھڑاگ پھیلائے گی تو میں تمہاری آنکھیں پھوٹ جانے دیتی اسکا سینی ٹائزر نہ اٹھاتی۔

    نور نے دھیرے سے واعظہ کی جانب جھک کر سرگوشی کی تھی۔۔ واعظہ نے دانت پیس کر اسے گھورا تھا۔۔ کچھ کہنے کو منہ کھولا ہی تھا کہ ساتھ بیٹھی عشنا نے اسکو بازو سے پکڑا اور بڑی معصومیت سے بولی

    بات سنیں انکی اتنی اچھی ہے کورین ان سے کہیں مجھے بھی کورین سکھا دیا کریں میں انکو پے کروں گی ۔۔ مجھے ہنگل آجائے تو نوکری آسانی سے مل جائے گی۔ 

    واعظہ نے اب اسکو جواب دینے کی نیت سے منہ کھولا تھا کہ نور جو اسکے بائیں جانب بیٹھی تھی اسکا بازو دبوچ کر بولی۔

    کیا خیال ہے ہم ابھی جا کر اسٹور سے نیا سینی ٹائزر نہ لائیں۔۔ 

    ابھی بھی یہ سوچا ہی تھا اس نے۔۔ واعظہ نے پھر دانت پیس کر کچھ کہنا چاہا۔۔ 

    بتائیں نا۔۔ یہ مجھے سکھا دیں گی ہنگل؟ میں نوکری ملتے ہی انکو منہ مانگے پیسے دوں گی۔ پلیز۔ 

    عشنا اسکا دایاں بازو دبوچ کر منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔ 

    دونوں اسکے دائیں بائیں بیٹھی تھیں۔۔ 

    پاکستان سے ہوں جبھئ کہہ رہی ۔غیر ملکیوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں آپ لوگ؟۔ ابھی پاکستان ہوتا تو ملاوٹ زدہ سینی ٹائزر فروخت کرنے پر آپکا اریسٹ وارنٹ جاری ہو جاتا بلکہ آپکی کمپنی کی سیل ہی بند کر دی جاتی تحقیقات مکمل ہونے تک۔۔ کم از کم

    عشنا اور نور کی خیر تھی۔۔ واعظہ باقائدہ پورا منہ کھول کر اسے دیکھنے لگی۔ عروج کی چلتے چلتے اس پر نظر پڑی تو کھسیا کر گھوم گئ۔ 

    دوسری جانب لڑکی منمنا کر اسے کہہ رہی تھی۔۔ 

    ہم آپکی شکایت درج کر رہے ہیں مگر آپ نے حکومتی ادارے میں کال ملائی ہے کمپنی میں نہیں سو ہمیں آپکی شکایت پر کام کرنے میں وقت درکار ہے۔ 

    دے۔۔ عروج کو بھی اندازہ ہوا زیادہ ہی جزباتی ہوگئ میں۔۔

    سو لہجہ دھیما کیا۔ 

    یار تم روکتی کیوں نہیں ہو عروج کو۔۔ ہزار دو ہزار وون کہ چیز پر اتنا فس۔۔۔ 

    نور کا بس نہیں تھا واعظہ کو ہی اٹھا کر عروج کے سر پر بجا دے۔۔ 

    فس ؟ ۔۔ واعظہ نے فورا اسے ٹوکنااور متبادل اردو لفظ بتانا چاہا کہ عشنا نے کھینچ لیا۔۔ 

    یہ کیا کہہ رہی ہیں؟۔ آپ ساتھ ساتھ بتائیں بھی تو لغت۔ 

    عشنا اسکا دایاں بازو کھینچے اشتیاق بھری نظروں سے عروج کو روانی سے ہنگل میں میدا نیدا کرتے دیکھ رہی تھی۔ 

    دے۔۔ گھمسامنیدہ۔۔ 

    عروج نے شکریہ کہہ کر آخر کار فون بند کر دیا۔ 

    شکایت لگا دی میں نے۔ اندھیر کھاتا تھوڑی ۔۔ پاکستان ہوتا تو برداشت کر جاتئ مگر کورینوں کو میں کرپشن کرنے نہیں دے سکتی۔۔ 

    عروج فخر سے جتا کر اترائی۔۔ 

    ہاں کورینوں کا تو سماج سدھار ٹھیکہ لے رکھا تم نے۔ کیا تھا اگرتھوڑی سی غیر معیاری چیز استعمال کرنا پڑ گئ۔۔ باقی تو ہر چیز خالص ملتی ہے با احسان فراموش۔۔ سہہ جاتیں شکایت ضروری تھئ کیا۔۔ نور اس پر چڑھ دوڑی تھی۔۔ عروج اسکے غصے کی وجہ سمجھنے سے قاصر منہ کھولے دیکھ رہی تھی۔۔

    تم کیوں اتنا غصے میں آرہی ہو ؟ تمہاری شکایت تھوڑی کی ہے ۔۔ اور یہ کمپنی تمہارے سسرالیوں کی نہیں ہے جو آگ لگ رہی تمہیں۔

    یہ شکایت کر رہی تھیں؟۔ کیا خراب ہوگیا انکا؟ عشنا نے اسکا بازو ہلایا۔ 

    خدا نہ کرے جو میرے سسرالی کورین ہوں تم لوگوں کی طرح اوپائوں پر کرش نہیں ہوتے مجھے۔ سمجھیں۔۔

    نور کو اسکا طعنہ تیر کی طرح لگا تھا۔۔ بلبلا کر کھڑی ہوگئ عروج کے سامنے۔۔ 

    اب یہ کیا معاملہ کرش ہوتے ہیں ہمیں تو کیا ہمارے سسرالی کورین ہونگے۔ نور کچھ بھی کہتی ہو۔۔ 

    عروج کے زہن میں جانے کیوں سیونگ رو لہرا گیا۔۔ خدا نہ کرے دل میں کہتی دہل کر جوابا حملہ کیا تھا اس نے۔ 

    واعظہ اوپا تو لی من ہو کو کہتے نا؟ انکو بھی لی من ہو پسند ہے؟

    عشنا اوپا کے نام پر بس اسی کو جانتی تھی سو واعظہ کے کان میں منمنائی۔۔ واعظہ پھر منہ کھولنے کی کوشش ہی کر کے رہ گئ کیوںکہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوتی جارہی تھیں۔۔ 

    تم نے شروعات کی تھی۔ میرے سسرالی کورین بنا کر۔ واعظہ سچ بتا دو اسے اس سے پہلے کے اسکے سسرالی اسکی شکایت کی تحقیقات کرنے آجائیں۔۔ 

    نور واعظہ کا کندھا ہلا رہی تھئ۔۔ 

    یہ لوگ تو لڑنے لگیں آپ انکو سمجھائیں۔۔ 

    عشنا واعظہ کا دوسرا کندھا ہلا رہی تھی۔۔ 

    اس نے جوابا کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا کہ عروج تنتانی اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔۔ 

    دیکھ رہی ہو بار بار کورینز کو میرا سسرالی کہے جا رہئ اس سے کہو زبان سنبھال لے۔۔ 

    اور تم اپنے آپ کو اتنی سی بات کا کتنا بتنگڑ بنا لیا تم نے۔۔ نور کو بھی غصہ آگیا تھا۔۔ 

    عشنا واعظہ سے کہہ رہی تھی

    واعظہ آپکو بیچ میں پڑنا چاہیے۔۔ 

    چپ۔۔ 

    واعظہ کی برداشت کی حد تمام ہوئی دونوں ہاتھ اٹھا کر حلق کے بل چلائی پھر تڑپ کرگود میں رکھے کشن پر منہ چھپاگئ۔۔ درد کئ شدید لہریں اٹھی تھیں اسے تینوں اپنی بات بھول کر اسکی جانب لپکیں۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سوہو کو بس فین لفظ ہی سمجھ آیا تھا سو وہ مسکراتا ٹیکسی سے اتر آیا تھا۔۔ 

    یہ تینوں تمیز سے راستہ دیتی پیچھے ہٹ گئیں۔۔ 

    میرا نام الف ہے یہ عزہ اور یہ ابیہا۔۔ 

    الف کا چہرہ خوشی سے تمتما گیا تھا نہایت جوش بھرے انداز سے مخاطب تھی۔۔ اسے تو ایکسو شدید پسند تھے ہی عزہ اور ابیہا بھی زندگی میں پہلی بار کسی فنکار کو اتنا قریب سے سامدنے دیکھ رہی تھیں خوش تو ہوئی تھیں مگر لحاظ تینوں کو مانع تھا۔ 

    سوہو مسکرا کر آننیانگ کہتا جھکا تھا جوابا ان تینوں نے بھی کوریائی انداز میں جواب دیا مگر ہاں سر ہی جھکایا بس

    ہم آپکی بہت بڑی فین ہیں۔۔ ایکسول ہمارا پسندیدہ ترین بیںڈ ہے۔۔ الف نے کہتے ہوئے عزہ کو کہنی ماری تھی عزہ کی پسلی میں لگی بلبلا اٹھی مگر سر اثبات میں ہلا دیا۔۔ویسے بھی جو سامنے ہو وہی پسندیدہ ترین پرستاروں کی یہ قسم سب سے بے ضرر اور اچھی ہوتی ہے۔۔ 

    ۔۔اور آپکا ڈرامہ بھی ہم شوق سے دیکھ رہے ہیں بہت اچھی اداکاری کرتے ہیں آپ۔۔ رچ مین میرا پسندیدہ ترین ڈرامہ ہے۔۔

    گھمسامنیدہ۔۔ وہ خوش دلی سے مسکرا دیا۔۔ 

    وہ محتاط انداز میں سڑک پر بھی نظر ڈال رہا تھا۔۔ 

    اسکارف اور عبایا والی لڑکیاں یقینا فاصلے پر ہی رہتیں۔۔ مگر اگر کوئی مقامی پرستار ٹکر جاتے تو اسکیلئے مصیبت بن جاتی۔۔

    ابیہا نے اپنی ڈائری نکال کر اسکی جانب بڑھائی۔۔ 

    آٹوگراف پلیز۔۔ 

    شیور۔۔ وہ خوشدلی سے اسکے ہاتھ سے لیکر کر آٹوگراف لکھنے لگا۔۔ 

    آپ کس ملک سے ہیں۔۔ انڈیا سے؟ اس نے یونہی بات برائے بات پوچھا تھا

    نہیں اسکے پڑوسی۔۔۔ پاکستان۔سے۔۔ تینوں اکٹھے بول پڑیں تھیں۔۔ وہ ہلکے سے ہنسا۔ 

    آپ لوگ جانتے ہیں مجھے جان کر خوشی ہوئی۔۔ انڈیا گیا تھا میں تو وہاں تو لوگ جانتے بھی نہیں تھے ایک مقامی نے تو مجھے اپنا کیمرہ تھما کر تصویر بھی بنوا لی تھی مجھ سے۔۔ 

    وہ ہنس کر بتا رہا تھا۔۔

    جاہل لوگ۔ عزہ کوغصہ آگیا تھا ۔۔۔

    کوئی ایکسو سے بھی یہ سلوک کرتا؟۔۔

    پرانی بات ہے تب شائد ایکسو اتنا مشہور نہیں تھے۔ 

    اس نے نرمی سے وضاحت کی تھی۔۔ 

    بہرحال آپ سب سے مل کر خوشی ہوئی۔۔ 

    اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر الوداعی کلمات ادا کرنے چاہے 

    تینوں شش و پنج میں مبتلا ہو کر ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کیوں اتارا کاسٹ زیادہ ٹارزن بننے کا شوق تمہیں۔۔

    عروج نے پے در پے دو تین چپتیں اسکے سر پر لگا دیں تھیں۔۔ مجروح ہاتھ دفاع کو اٹھاتی واعظہ دوبارہ رکوع میں چلی گئ تھئ۔۔ 

    ہائے مارو تو نہیں پہلے ہی تکلیف میں ہے۔۔ 

    نور اسے بچانے کو آگے ہوئی۔ واعظہ آنکھوں میں آنسو بھرے معصوم سی شکل بنائے سر اٹھا کر دیکھنے لگی اسے۔۔ 

    عشنا اسکیلئے پانی کا گلاس بھر کر لائی تھی۔

    سچ میں اتنا غصہ آرہا ہے ۔مجھے۔ دوائیں بھی نہیں کھا رہی ہوگئ یہ موٹی۔۔ 

    عروج کو بالکل ترس نہ آیا۔۔ اسکے گھٹنے پر لات جما دی۔۔ 

    ہائے موٹی تو نہ کہیں ٹھیک ہیں بہت پتلی بھی لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں۔۔ 

    واعظہ کی جانب پانی کا گلاس بڑھاتی عشنا کو بھی ترس آگیا تھا۔۔ واعظہ نے شکریہ کہہ کر گلاس تھاما نور واعظہ کا کاسٹ لگا بازو دھیرے سے سہلا رہی تھی۔۔ تو عشنا دنیا جہان کا ترس اور ہمدردی آنکھوں میں سمائے اسے دیکھ رہی تھئ۔۔

    عروج کو ان دونوں پر غصہ آگیا تھا ہاتھ بڑھا کر گلاس واعظہ سے چھین کر غٹا غٹ چڑھا گئ۔۔ 

    میں اور پانی لاتی ہوں۔۔ عشنا اٹھ کر جانے لگی تو واعظہ نے اسے ہاتھ سے روک دیا۔۔

    یہ باقی سب آئی کیوں نہیں ابھی تک فاطمہ بھی غائب ہے۔

    عروج کا جملہ منہ میں ہی۔تھا کہ تینوں چیخیں مارتی ہوئی داخل ہوئیں۔۔ 

    عروج واعظہ فاطی۔۔ الف بے تابئ سے پکاری۔۔

    سنو آج پتہ ہے کیا ہوا۔ابیہا نے تجسس میں ڈالنا چاہا۔

    ۔ ہمیں سو ہو ملا۔۔ عزہ نے جھٹ بتا دیا۔۔

    تینوںکے برعکس یہ تینوں بالکل آرام سے انہیں دیکھتی رہیں۔۔ 

    تو؟۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    طوبی بیٹے کو گود میں لیئے دلیہ کھلا رہی تھی جب اچانک چیخوں کی آواز سے دہل کر اسکے ہاتھ سے چمچ چھوٹ گیا۔۔ 

    یا اللہ خیر پڑوس میں کیا ہوگیا۔۔ 

    دہل کر اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔۔ 

    اسکا بیٹا ماں کی توجہ بٹتے دیکھ کر ہمکنے لگا تھا۔۔ 

    اسکی۔ دونوں بچیا ں ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہی تھیں۔ 

    میں ابھی آتی ہوں بھائی کا دھیان رکھنا ۔۔ 

    وہ بیٹے کے منہ میں نپل ڈال کر احتیاط سے صوفے پر بٹھاکر بچیوں کو ہدایت کرنے لگی۔۔ 

    جی مما۔۔ 

    بچی نے تابعداری سے سر ہلایا۔ 

    یہ دوپٹہ ٹھیک کرتی عجلت میں دروازہ کھولتی باہر نکل آئی۔۔ کھلے سے گولائی میں بنے کاریڈور میں پانچ فلیٹوں کے دروازے کھلتے تھے جن میں دو خالی تھے ایک ساتھ والے میں آیک چھڑا چھآنٹ لڑکا رہتا جو رات گئے ہی واپس آتا تھا یہ آواز یقینا سامنے والے فلیٹ سے آئی تھی۔ 

    وہ تیزی سے بنا سوچے دروازہ کھٹکانے کی نیت سے بڑھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کیا پھر کیا کیا تم لوگوں نے؟۔۔ ملایا ہاتھ سوہو سے؟

    عروج نے حیرت بھری چیخ ماری تھی۔۔ 

    ہاتھ ملا لیا؟ یار فنکار ہیں تو کیا ہوا ہیں تو لڑکے۔۔ 

    نور کو شاک لگا تھا۔۔ 

    میں نے آج چھٹی کیوں کر لی۔۔ ہر اہم واقعہ میری غیر موجودگی میں ہی کیوں پیش آتا ہے

    واعظہ افسردہ ہوئی۔ 

    آپ کل چلی جائیے گا کیا پتہ کل پھر وہاں آجائے۔۔ 

    عشنا نے فورا ساتھ لگا کر تسلی دی۔۔

    روز تھوڑی آئے گا وہ فارغ تھوڑی ۔۔ 

    الف نے برا ہی مان لیا اسکا سوہو ایکسو اتنے فارغ تھوڑی وہ تو اگر انکی شکل اور انداز غیر ملکی نہ ہوتا تو وہ تھوڑی ان سے مخاطب ہوتا اپنے راستے جاتا۔۔ 

    لیکن ہاتھ نہیں ملانا چاہیئے تھا۔ 

    نور کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔۔ 

    ابے ایسا سمجھتی ہو ہمیں۔ ہاتھ کیوں ملاتے ہم؟ کوریا میں ہیں تو کیا ہوا ہیں تو پاکستانی مسلم لڑکیاں ہم۔

    ابیہا تنک کر بولی تھی۔۔ 

    وہ خود احتیاط سے کام لے رہا تھا اس نے ہماری جانب ہاتھ بڑھایا ضرور تھا مگر اس ہاتھ میں موبائل تھا۔۔ 

    وہ ہم سے اجازت مانگ رہا تھا کہ ہمارے ساتھ سیلفی بنوالے۔

    عزہ نے سنجیدگی سے کہا تو سب یقین نہ کرنے والے انداز میں گھورنے لگیں

    آئی بڑی سیلیبریٹی تم لوگ وہ تم لوگوں کے ساتھ تصویر بنوانے کیلئے پوچھ رہا کم پھینکو اب تو مجھے شک ہو رہا سوہو ہی تھا کہ کوئی راہ چلتا بے وقوف بنا گیا تم لوگوں کو۔۔ 

    نور نے کہا تو عزہ اور ابیہا ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں اب کیسے یقین دلائیں واقعی ایسا ہی ہوا تھا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ لوگ برا نہ منائیں تو کیا میں اپنی پاکستانی پرستاروں کے ساتھ تصویر بنا سکتا اسکو میں اپنے پروفائل پر لگانا چاہتا ہوں۔۔ ایک میسج کے ساتھ۔۔ 

    سوہو کے کہے گئے الفاظ پر انہیں یقین نہ آیا تھا۔۔ تینوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگیں۔۔

    اس نے ٹیکسی ڈرائیور کو مڑ کر معزرت خواہانہ انداز میں انتظار کرنے کو کہا ۔۔ پھر مسکرا کر انہیں جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگا۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ دیکھو۔۔ خاموشی سے موبائل میں لگئ الف نے سوہو کا انسٹا گرام کھول کر سامنے دکھایا ۔۔ سب اسکے موبائل پر جھک آئیں۔ 

    ایک اسکارف سر پر لپیٹےلڑکی دو پورے برقعے نقاب میں ملبوس لڑکیا ں ان سے ایک قدم آگے کھڑا مسکرا کر سیلفی لیتا سوہو۔۔ 

    آج میرا دن خوشگوار تھا شوٹ سے واپسی پر سر راہ مجھے ایکسو کی پاکستانی پرستار ملیں ۔ مجھ سے مل کر انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا مگر انکے انداز سے جھلکتئ تہزیب اور لحاظ مجھے بہت متاثر کر گیا ۔۔ مجھے پرستار تو پوری دنیا کے ملے ہیں مگر مجھے یہ ماننا پڑے گا ان پرستاروں سے سیلفی کا تقاضہ میں نے کیا تھا۔۔ 

    مجھے پاکستان کی انتہائی با تمیزمسلمان لڑکیوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی تھئ۔ مجھے اب پاکستان جانے کا شوق ہوا ہے میں ایسے مزید ایکسو کے پرستاروں سے ملنا چاہتا ہوں۔۔ 

    اسلام و علیکم پاکستان۔

    اتنا پیارا پیغام وہ بھی اپنے پسندیدہ ترین فنکاروں میں سے ایک کی۔طرف سے۔۔ ان سب کی آنکھیں بھر آئیں۔۔

    پاکستان کا کتنا خوبصورت تاثر پڑا تھا ان پر ۔۔ 

    یار ہمیں اندازہ نہیں ہوتا مگر ہمارا اٹھایا ہر قدم پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ ابھی اگر ہم بھی باقی دنیا کے فینز کی طرح ہو جاتے اسکو گھیر لیتے سیلفی کا تقاضا کر تے تنگ کرتے چھونے کی کوشش کرتے یا جب اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا تھا تو اپنی تہزیب بھول کر اس سے ہاتھ ملا لیتے تو۔۔۔۔۔ 

    الف نے جزباتی انداز میں کہا تھا۔ 

    صحیح کہہ رہی ہو۔۔ عروج نے اپنی آنکھیں پونچھیں۔۔ 

    مجھے آج فخر ہو رہا ہے اپنی تربیت پر اپنے پاکستانی ہونے پر۔۔ 

    یہ ابیہا تھی۔۔ 

    ہمیں تو سیلفی لینے کا دھیان بھی نہیں آیا تھا سچی ہم پرجوش ہی اتنے تھے۔۔ عزہ ہنسی۔۔ 

    لیکن ہم نے اچھے الفاظ میں بس اپنی پسندیگی جتائی تھی چھچھوری حرکتیں نہیں کی تھیں جیسے باقی سب کرتے۔۔ 

    الف نے جتانا ضروری سمجھا۔۔ 

    سیلفی کا دھیان نہ آنا تو حماقت تھی تم لوگو ں کی اب آتو گراف کون لیتا سب سیلفی لیتے ہیں۔ نور منہ بنا کر بولی

    یار آٹو گراف تو دکھائو۔ 

    عروج کو یاد آیا ۔۔ 

    کیوں دکھائوں ؟ ہم تو نقلی سوہو سے مل کر آئے ہیں نا۔۔ 

    الف نے چڑایا۔۔ ابیہا اپنا بیگ کھول رہی تھئ۔ نور اس کے کندھے سے جھول کر جیسے بیگ میں گھس کر ہی آتو گراف دیکھنے لگی تھئ۔۔ عزہ اور عشنا بھی جملے بازی کرتی ہنس رہی تھیں۔۔ 

    پانچوں چھے یوں میں دھکم پیل مچی ہوئی تھی

    واعظہ چوٹ نہ لگ جائے احتیاط سے ان سے تھوڑا سا پیچھے ہٹتئ صوفے کا سہارا لیکر اٹھ کھڑی ہوئی۔ 

    ایک دو تین۔۔ 

    اسے ملا کر سات لڑکیاں ہوئی تھیں۔۔ 

    اب یہ آٹھویں کہاں ہے؟۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

    اگلی جھلک 

    اف اللہ میرا تو روزہ ہے اتنا چلا مارا ہے ۔۔ افطار سے پہلے لگ رہا میں افطار ہو جائوں گی۔۔ 

    نور نے چمکتے سورج کو ہاتھ کی آڑ کرکے دیکھا تھا۔۔110

    دیسی کمچی قسط تین

    حصہ چار

    شام سے تھوڑا پہلے وہ ہنگن دریا کے پاس آئی تھی۔۔ وہ نسبتا سنسان گوشہ ڈھونڈ کر بنچ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر دریا کو گھورنے لگی۔  

    دور چلتی فیریز نے دریا کے سکوت میں دراڑیں ڈال دی تھیں۔۔ لہریں بن رہی تھیں ہلکی ہلکی سی۔۔ کنارے پر

    دریا کےحسب معمول ٹھیک ٹھاک رش تھا۔۔ اور اسے اس وقت چڑ آرہی تھی لوگوں سے۔۔ تبھئ اسکے فون کی بیل گنگنا اٹھی۔۔ 

    امی۔۔ 

    اس نے بیزاری سے کاٹ دیا۔۔ 

    چند لمحوں کے بعد دوبارہ بیل بجی۔۔ 

    کیا ہے۔۔ تکلیف مجھے بات نہیں کرنی کسی سے۔

    فون اٹھا کر اس نے حلق کے بل چلا کر کہا تھا ۔۔ سامنے سے گزرتی لڑکی ڈر کر ہاتھ سے کاٹن کینڈی چھوڑ بیٹھی۔۔ اسکا ہاتھ تھام کے چلتے اسکے محبوب  نے گھور کر دیکھا تھا اسے اس  لیئے نہیں کہ اس کی چند وون کی کاٹن کینڈی گرا دی تھی بلکہ اسلیئے کہ اسکی منی کو ڈرا دیا۔۔

    کے ہسیکی۔۔ 

    لڑکی بڑبڑا ئی۔۔ 

    فاطمہ تنتنا کر اٹھ کھڑئ ہوئی۔  فون کان سے ہی لگا تھا۔ 

    تم کے ہسیکی ۔۔ تمہارا یہ للو بوائے فریںڈ ہوگا کے سیکی۔  

    بلکہ تم خود پاگل ۔۔ ساری چڑ نکلی۔۔ جملوں میں ۔ سرخ بھبوکا چہرہ غصے سے تن فن کرتی یقینا وہ جو کہہ رہی تھئ ان کے اوپر سے گزرا تھا مگر الفاظ نہ سمجھنے کے باوجود فاطمہ کے لہجے کے شعلے ان کی سماعتوں سے گزر کر دل و دماغ تک پہنچ گئے تھے۔۔ 

    چندی آنکھوں والا جوڑا اب چندی آنکھوں والا نہیں رہا تھا دونوں کی آنکھیں حجم سے دگنی کھل چکی تھیں بلکہ منہ بھی پورا کھول کر اسے دیکھ رہے تھے۔  

    کھوجو۔۔ 

    لڑکے نے حوا س بحال ہوتے ہی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر نکلنے کی کی۔۔ 

    بس ؟ اور نہیں کہنا کچھ۔۔ گالی تو زبان پر اٹکی پڑی منہ کھلا باہر گری۔۔ بد تمیزکہیں کی۔۔  کیا کہا تھا میں نے تمہیں۔۔ جو گالئ دی مجھے۔۔ 

    وہ حلق کے بل چلائی تھی۔۔ واعظہ نے تڑپ کر فون کان سے پیچھے کیا تھا۔ چندی آنکھوں والا جوڑا بھاگا تھا

    انکو تیز تیز قدم اٹھا کر جاتے دیکھ کر بھی اسکا پارہ نیچے نہ آیا تھا۔۔ 

    دریا پر بیٹھئ ہو۔۔ 

    واعظہ نے گہری سانس لی۔ اس نے فیری کی آواز سن کر اندازہ لگایا تھا

    نہیں مریخ پر بیٹھی ہوں۔   ظاہر ہے کوریا کا ویزا لگا ہوا ہے وہیں ہونگی ہونو لولو تو ہونے سے رہی اور فکر مت کرو بہت جلد واپس جانے والی ہوں۔۔ رہنا آرام سے اماں میری۔۔ 

    اچھا ٹھیک ہے۔۔ واعظہ کا اطمینان عروج پر تھا۔۔

    وہ کچن میں ایک ہاتھ سے چکن دھو رہی تھی۔ کندھے پر فون ٹکا کر اس سے بات بھی کر رہی تھی۔۔کاسٹ دوبارہ چڑھ چکا تھا اور عروج کی سختی سے ہدایت تھی اتارا تو دوسرا بازو بھی توڑ دے گئ۔  

    کیو ں فون کیا ہے تم نے۔۔

    اسکا لہجہ دھیما پڑا۔۔

    چکن پلائو بنا دو آکر۔  دل کر رہا ہے کھانے کا۔۔

    عروج تو بھوکی ہی جا رہی ہے ہاسپٹل بے چاری باقی سب کی کوکنگ  کا تو پتہ تمہیں۔ 

    واعظہ دنیا جہان کی معصومیت اور بے چارگی لہجے مین سمو کر بولی تھی۔  

    اچھا آرہی ہوں۔۔ 

    فاطمہ کا پارہ ایکدم سے چڑھنا چاہیئے تھا مگر اتنی ہی تیزی سے نیچے آیا تھا۔۔ 

    ٹھیک۔۔ واعظہ نے فون بند کیا تو وہ گہری سانس لیکر وہیں بنچ پر بیٹھ  گئ۔۔

    ہنگن ریور پر چہل پہل تھی۔ لوگ ہنس رہے تھے خوش تھے کہیں لوگ خاندان کے ساتھ دریا کی ریت پر بیٹھے پکنک منا رہے تھے تو درجنوں جوڑے دریا کنارے چہل قدمی کر رہے تھے۔  

    وہ بیزاری سے بیگ اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاگل تو نہیں ہو۔۔ 

    عزہ کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔۔ 

    اپنے کارنامے کی روداد بتا کر نور نے داد چاہنے والے انداز میں دیکھا تھا مگر ان سب کا ردعمل اسکی توقع کے بالکل بر عکس تھا۔۔ 

    عروج اوور آل پہنتی کمرے سے نکلی تھی جب نور کا قصہ اپنے بام پر پہنچا تھا سو وہ وہیں رک کر کھڑے کھڑے اسکارف وغیرہ ٹھیک کرنے لگی تھی۔  الف چائے کے برتن سمیٹ کر ٹرے اٹھائے کھڑی تھی سن وہ بھی رہی تھی مگر ارادہ تھا کچن میں برتن بھی رکھ آئے اب کچن دور ہی کتنا تھا ویسے بھی نور کا جوش کے مارے آواز کا درجہ بلند ہی تھا۔ سو جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئ۔۔ 

    ابیہا  منہ کھولے اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔۔ عزہ کی طرح ۔۔ منا لائونج ابھی تک آباد تھا ان سب سے۔۔

    پاگل کی اس میں کیا بات۔  

    نور کو انکے ردعمل سے لگا کچھ غلط ہو گیا ہے۔  

    کچن میں نلکا بند کرکے واعظہ اطمینان سے مڑی۔

    سائبر کرایمزاینڈ کنٹرول کے بارے میں سنا ہے آپ نے محترمہ نور؟ پاکستان میں نہیں ہیں آپ۔ آپکے اس چندی آنکھوں والے کی ایک شکایت پر کہ آپ نے غیر قانونی طور پر اسکی آئی ڈی کھول کر اسکی زاتی معلومات کی تشہیر کی ہے۔۔ نہ صرف پرچہ کٹ سکتا آپکے خلاف بلکہ گھر سے آپکو اٹھا کر لے جائیں گے پولیس والے اور پھر کوریا کی جیل کی سیر بھی کر لینا۔  

    ہیں۔  

    نور تو نور الف ٹرے پکڑے ہکا بکا اسکی جانب مڑی۔  

    واقعی واعظہ؟

    واعظہ نے ہیرو کی طرح کا بے نیاز انداز بناتے ہوئے سینے پر بازو لپیٹنے چاہے پھر ناکام ہو کر بازو سہلا کر رہ گئ  

    تم ٹرے رکھ دو یہ نہ ہو کہ انڈین ہیروئنوں کی طرح اسے چھوڑ بیٹھو۔۔ ایک ایک کپ ہی ہے بس سب کے نام کا بے کپے رہ جائیں گے۔ 

    عروج نے الف کو ٹوکنا ضرور ی سمجھا۔  ۔

    ہیں واعظہ۔  

    ہاں یہ سب سے ہلکا پھلکا کام ہے جو ہو سکتا باقی اگر وہ جزباتی نفسیاتی بندہ ہوا بیر باندھ لیا تو اسکے لیئے آئی پی ایڈریس سے تمہارے گرد و نواح کا اندازہ لگا کر تمہارے گھر تک آپہنچنا مشکل نہیں ہوگا اور پھر یہاں ہے ہی کون ہم لڑکیاں سب الگ الگ وقت پر اپنے اپنے کام سے جاتی ہیں۔ تم سے بدلا لینے پر تل گیا تو۔  

    نور نے تھوک نگلا۔

    یہ عروج تھی۔۔ بظاہر سرسری انداز میں کہہ کر 

    دنیا جہان کی سنسنی لہجے میں سمو کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔۔ الف ٹرے سمیت عزہ ابیہا اور نور اسکے چہرے پر مزاق کی رمق تلاشنے مڑی تھیں۔ 

    سارا دن پکا سا منہ بنا کر زندگئ موت کی خبر دینے والی عروج کو بھی اپنے تاثرات چھپانے نہ آتے تو کسے آتے۔۔ بے نیازی سے اپنی کلائی پر گھڑی باندھنے لگی۔ 

    واعظہ کو البتہ کوئی مجبوری نہ تھی سو رخ پھیر پر باقاعدہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی۔

    ایسا نہیں ہو سکتا۔  نور نے جھٹلانا چاہا۔۔

    کیوں ؟ تم ہیک کر سکتی ہو تو بے چارہ اپنی آئی ڈی ریکور بھئ نہیں کر سکتا ؟ عروج کا انداز ہنوز تھا۔۔ 

    پھر بھی۔۔ میں نے ایسا بڑا کیا کر دیا۔  اس نے پوری کلاس کے سامنے میرے عبایا کا مزاق اڑایا تھا اتنی بستی ہوئی تھی میری سب ہنس رہے تھے مجھ پر یہ جو کورین ڈراموں میں بلنگ کا سین دکھاتے نا بالکل ویسا ہی سین ہوا تھا میرے ساتھ۔۔ 

    نور کی بولتے بولتے آواز بھرا گئ تھی۔۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کمپیوٹر لیب میں سب اپنے اپنے کمپیوٹر پر جھکے مصروف تھے۔  سر نے آئی ٹی کا پراجیکٹ دیا تھا جسکی کل آخری تاریخ تھی سو جن جن نے آجکا کام کل پر ٹالا تھا وہ سب دھڑا دھڑ کی بورڈ بجا رہے تھے۔۔

    وہ مطمئن انداز میں اپنا کام کرکے پرزینٹیشن بنا کر سیو پر کلک کر نے ہی لگی تھی جب اسے اسکی کلاس فیلو کی آواز آئی تھی۔۔اس سے دو تین اسٹیشن دور بیٹھی اسے پکار رہی تھی۔۔  

    نور یہ دیکھ دو۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا۔  

    اس نے کہا تو وہ سر ہلاتی اٹھ آئی۔۔ وہ اپنی انسٹا کی آئی ڈی کھولے بیٹھئ تھی۔۔اسکی تصویر پر کسی نے عربی میں تبصرہ کیا ہوا تھا۔۔ ایک تو جب سے کے پاپ کے ڈرامے مشہور ہوئے تھے ان جیسے درجنوں کورینز بھی مشہور ہو گئے تھے ۔ ایک دو کے پاپ ویڈیو یا ڈراموں کی جھلکیاں ڈال کر دنیا بھر سے پیروکار اپنی آئی ڈی پر اکٹھے کیئے تھے اب ٹک ٹاک ایپ سے روز ہی کوئی نہ کوئی ویڈیو بنا کر شئیر کرتی تھی سو ہر طرح کا تبصرہ بھی ملتا تھا۔۔ 

    مجھے نہیں پتہ۔۔ نور کہہ کر کندھے اچکا کر پلٹی ایک طالب علم اسکے اسٹیشن کے پاس سے ہنستا ہوا اٹھا تھا۔اسکی سرسری نظر پڑی تھئ کہ سوہری نے اسکا ہاتھ تھام لیا 

    پلیز یہ تو دیکھ دو سی ٹرانسلیشن پر کلک کیا ہے۔ 

    وہ لجاجت سے پوچھ رہی تھی۔۔ 

    کورینز ہم لوگوں کی طرح کنڈر گارٹن سے انگریزی نہیں پڑھتے ہمارے پرائمری پاس بچوں کو انکے بیچلرز لیول کے طلبا سے زیادہ انگریزئ آتی ہے ۔ عام بول چال میں بہت سے اپنی بات سمجھا سکنے جتنی انگریزی جاننے کے باوجود وہ انگریزی پڑھنے لکھنے میں کہیں نہ کہیں سٹپٹا جاتے۔  نور نے گہری سانس بھر کر پڑھنا شروع کیا۔۔ 

    If you are dates then I am sacred. So fight to cow and till date awsome so i am cheer ful garden so dates are good. Hahahah انتئ کلبی

    نور نے تین بار دھرایا مگر زہن متن سمجھنے سے قاصر تھا۔۔انگریزی بھی اپنی مرضی کی ترجمہ کی تھی ٹرانسلیٹر نے۔۔ 

    ہاں انتی تم ہوتا اور کلب کتے کو کہتے ۔۔ اتنی عربی اسے آتی تھی۔  

    وہ یہی سمجھا کر پلٹنے کو تھی کہ انکے جرمن پروفیسر بڑے زوردار انداز میں چلائے تھے۔۔ 

    یہ کس کا ہے؟۔۔ کون بیٹھا تھا یہاں؟

    وہ ایک اسٹیشن کی۔جانب اشارہ کرکے کہہ رہے تھے۔ 

    سب طلبا سناٹے میں آکر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو چکے تھے۔نور بوکھلا کر اپنے اسٹیشن کی جانب بڑھی تو اندازہ ہوا وہ اسی کے اسٹیشن کے پاس کھڑے چلا رہے تھے۔

    سر واٹ ہیپنڈ۔۔ اس نے پوچھا تو انہوں نے ہونٹ بھینچ کر اسکے اسٹیشن کے مانیٹر کی جانب اشارہ کیا۔  

    اس نے اسکرین پر دیکھا تو وہیں جم گئ ۔۔ اسکرین پر جاپانی کوئی سائیٹ کھلی تھی جو اخلاقیات سے کافی عاری تصاویر دکھا رہی تھئ۔۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے ونڈو بند کی تھئ۔ پچاس ساٹھ طلبا اسکی جانب متوجہ تھے۔ 

    سر خود تو سر سے پائوں تک لپٹ کر آتی ہے اور شوق ایسے ہیں۔۔ 

    اس لڑکے نے زور سے کہہ کر ساتھی دوست کے ہاتھ پر ہاتھ مارا تھا۔ اسکے دوست ہنس پڑے تھے جرمن سر چند لمحے اسے دیکھ کر پلٹ گئےتھے۔ نور کادل کیا تھا زمین پھٹے اور وہیں سما جائے۔۔ 

    لیزا سوہری اٹھ کر اسکے پاس آئی تھیں۔۔ وہ کرسی گھسیٹ کر اس پر ڈھے سی گئ۔۔ 

    کیا ہوا۔؟ وہ دونوں اس سے پوچھ رہی تھیں۔ اسے خود نہیں پتہ تھا ۔۔ جانے کون ان چند منٹوں میں اسکے اسٹیشن پر آکر یہ گھٹیا حرکت کر کے گیا تھا۔۔ 

    وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر میز پر کہنیاں ٹکائے تھی جب اسکے زہن میں جھماکا ہوا تھا۔وہ جب 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر تو صحیح کیا تم نے۔۔ بلکہ اسے دو ایک خود بھی لگانی چاہیئے تھیں۔ پتہ لگتا اسے پنگا کس سے لیا ہے اس نے۔۔ 

    ابیہا جزباتی انداز میں ہاتھ نچا کر بولی تھی۔۔ الف اور عزہ نور کے دائیں بائیں آ بیٹھی تھیں ۔۔الف نے نور کاسر اپنے کندھے سے بھی لگا لیا تھا۔۔نور کا رونے کا ارادہ ہرگز نہیں تھا مگر جزباتی ہو کر رو ہی پڑی۔ عروج کو افسوس ہوا شرارت میں اسے یونہی رلا دیا۔  مگر وقت کم تھا سو تیزی سے خدا حافظ کہتی بیرونی دروازے کی جانب بڑھی ۔دھاڑ سے دروازہ کھولا۔ پھر اتنی ہی زور سے اسکے منہ سے چیخ نکلی تھی۔۔ بری طرح ہاتھ جھٹکتے وہ دو تین چیخیں اور مار گئ

    ماتھے پر سرخ ہوتی پٹی گال سوجا ہوا آنکھ کے نیچے نیل کا نشان ہاتھ میں چھوٹا سا بیگ پکڑے معصوم سی شکل بنائے جے ہن بوکھلا کر دو تین قدم پیچھے ہوا تھا

    نونا۔۔۔۔ کین چھنا۔۔ وہ بے چارہ بوکھلا اٹھا تھا تبھی اسکی نظر زمین پر پڑی۔ اسے اسکے چیخنے کا منبع سمجھ آیا ۔  وہ بھی تیزی سے اندر کی جانب بڑھا۔۔

    آخ وہ اسکی جانب دیکھے بغیر واپس پلٹی اسکی چیخوں سے بوکھلائی سب کی سب لابی میں بھاگی آئیں

    کیا ہوا۔۔ عزہ کا دل دھڑ دھڑ کر رہا تھا

    بھاگو یہا ں سے زمین پر چھ۔۔ 

    عروج بد حواس ہوئی ان کو بھی پیچھے کو دھکیل رہی تھی۔ 

    کیا ہوا۔۔ 

    واعظہ باورچی خانے سے دوڑی آئی ابیہا۔۔ اور الف عروج کو پکڑ رہی تھیں

    وہ وہاں۔۔عروج کے منہ سے لفظ بھی نہیں نکل رہے تھے۔۔

    الف چلائی ۔۔

    کون ہے۔۔  

    پھر خیال آیا انگریزی میں بولی۔۔ 

    ہو از دئیر۔۔یہ سوچے بنا لابی تھی ہی دو تین قدم کی خود وہ لائونج کے سرے پر موجود تھئ۔۔

    ابیہا عروج کو تسلی دے رہی تھی ساتھ واعظہ کو کہہ رہی دیکھو کون ہے دروازے پر۔۔ اتنے ہنگامے میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی

     نور کو یہی لگا تھا وہ لوفر گھر آپہنچا ہے بھاگ کر کمرے میں گھسی بیڈ سے کیمرہ اٹھایا اور لمحہ بھر بھی ضائع کیئے بنا ریکارڈ نگ آن کرتی باہر بھاگی۔۔

    عزہ ہمت کر کے کاریڈور کی جانب بڑھی تو عروج کے اس بری طرح خوفزدہ ہوجانے کی وجہ وہ سفید ٹی شرٹ اور نیلی جینز میں ملبوس زخم زخم ہوا کھڑا لڑکا سمجھی۔  

    سٹی گم ہوئی دو قدم پیچھے ہوئی۔  

    کورین بھوت تو بڑے دیدہ دلیر ہیں اتنی روشنی میں بھی دکھائی دے رہے۔۔ 

    اسکا دل پسلیاں توڑ کر باہر نکلنے کو آگیا۔۔ 

    پیچھے ہو عزہ ہٹو۔۔ 

    عروج ابیہا سے لگی تھر تھر کانپتی چلائی۔  

    ہوا کیا ہے۔۔ ۔واعظہ انکو پیچھے کرتی لابی میں آئی سامنے جے ہن کھڑا سپر مین والا پوز دے رہا تھا۔  

    ہٹو ہٹو۔۔ 

    نور مووی بناتی نکلی تھی سب کو سامنے سے ہٹاتی واعظہ کے پاس آ کھڑی ہوئی الف نے کاریڈور کی بتی جلا دی تھئ۔۔

    تیز چمکتی روشنی میں ٹوٹا پھوٹا سپر مین کھڑا تھا۔  اسکو ویڈیو بناتے دیکھا تو وی کا پوز دیا پھر اپنے جوتے کی جانب اشارہ کیا وہ کیمرے کا رخ اسکے چہرے سے سینے پر کرتی نیچے لائی ٹانگیں شروع ہوئیں ختم بھی پھر جوتا کیمرے کا رخ جوتے پر جیسے ہی ہوا اس نے پائوں اٹھا دیاوہ وہی مخلوق تھی جس سے دنیا کی تقریبا ساری ہی لڑکیاں ڈرتی ہیں ۔۔ ہاں چھپکلی۔ جے ہن کے جوتے کے نیچے آکر اسٹیکر بنی ہوئی اسکی لاش سے خون تو نہ نکلا

    موٹی موٹی آنکھیں پھسی ہوئی تھیں۔۔ 

    نور کیمرہ ایک طرف کرتئ ابکائی روکنے لگی۔۔

    تبھئ کسی نے بے تابی سے دروازہ بھی کھٹکا دیا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دروازے پر تھی میں نے دروازہ کھولا تو اسی پر ہاتھ پڑا وہ اچھل کر نیچے گری اور میرے پیچھے ہی آنے لگی تھی۔۔ 

    عروج کی آنکھیں سوجی تھیں گلا بیٹھ گیا تھا۔۔ وہیں لائونج کے صوفے پر اسے بٹھا کر ابتدائی طبی امداد دی جا رہی تھی۔۔ 

    نونا اتنا چھوٹا دل آپ تو ڈاکٹر ہیں۔۔ 

    ہے جن کہے بغیر نہ رہ سکا۔۔ جوابا عروج نے اسے بری طرح گھورا۔

    لاشوں سے ڈر نہیں لگتا صاحب ۔۔ چھپکلی سے لگتا ہے۔  

    واعظہ نے اپنا مجروح ہاتھ عروج کے کندھے ہر ٹکاتے ہوئے ڈائلاگ مارا تھا۔عروج نے جوابی حملہ کرنا چاہا مگر مجروح بازو کو دیکھ کر رہ گئ۔  ۔ ہے جن کی بات ان دونوں کے سوا بس ابیہا کو سمجھ آئی سو اس نے واعظہ کے ڈائلاگ کا حظ اٹھاتے ہنسنا ضروری سمجھا۔  

    ہے جن کو اب انکی بات سمجھ سے باہر سو وہ طوبی عشنا الف نور عزہ سب خاموشی سے دیکھ رہی تھیں۔۔ 

    آپ سب یہیں رہتی ہیں۔۔ 

    طوبی کو تعجب ہوا تھا ۔۔ 

    وہ سب چونکی تھیں۔۔ اسکو تو بھول ہی گئی تھیں۔۔ صوفے اور لائونج کے مختصر کارپٹ پر سب کہیں نہ کہیں ٹکی بیٹھی تھیں تو کھڑے صرف دونوں مہمان ہی تھے۔ 

    جی۔ 

    عزہ کو مہمان داری کا خیال آیا ۔۔ 

    آپ بیٹھیں۔۔ چائے پیئیں گئ؟

    نہیں میں بس اب چلوں گی بچے اکیلے ہیں گھر میں۔۔ 

    یہ بھائی ہے آپکا۔  ؟ اسے تجسس ہوا تھا ہے جن کو دیکھ کر۔۔ 

    جی۔ میرا بھائی ہے۔  

    عزہ نے سب کو زحمت سے بچا لیا تھا۔ 

    دل ہی دل میں بڑ بڑائی بھی۔۔ سب چندی آنکھوں والے بھائی ہیں میرے۔

    اوہ اچھا۔۔ شکل ملتی ہے۔۔ طوبی نے بغور اسکی چندی آنکھیں دیکھیں۔  وہ بے چارہ سٹپٹا کر جھکا۔ 

    آننیانگ۔  ۔

    عزہ بل کھا کر رہ گئ۔۔ میری چندی آنکھیں؟۔۔ 

    ویسے خوشی ہوئی جان کر کہ پڑوس میں ہم وطن رہتی ہیں۔ یہی سوچ رہی تھی کہ کل سحری کے وقت اکیلی اٹھوں گی لگتا ہے مگر شکر ہے دوسراہٹ ہوئی۔۔ 

    طوبی کو واقعی خوشی ہوئی تھی۔۔ بہت خلوص سے عزہ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا تھا

    جی ۔۔ اس نے بھی جوابا خوشگوار ہی انداز سے مصافحہ کیا۔۔ 

    اسکے بعد نیچے کارپٹ پربیٹھی ابیہا ، الف ، نور صوفے پرعشنا۔۔وہ ہاتھ ملا ملا تھکی سو عروج کو اشارے سے ہی خدا حافظ کہہ دیا واعظہ نے بھی ہاتھ بڑھا دیا تھا مگر نظر انداز ہوا۔۔ اس نے سر جھکا کر واپس کھینچا۔۔ 

    خداحافظ کہہ کر نکلتے ہوئے فاطمہ سے بھی ملاقات ہوگئ۔  

    سلام دعا کرکے نکلتے وہ چکرا کر سوچ رہی تھی۔  

    بچوں کو یہاں چھوڑ کر میں کل شاپنگ پر جا سکتی ہوں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ سب کچن میں جمع تھیں۔  ننھا کچن ابل رہا تھا۔۔ اتنا کہ چاولوں کو دم لگاتی فاطمہ بھنا گئ۔۔ 

    پیچھے ہٹو ابھئ دیگچی مجھے پر آرہتی۔۔ 

    اس نے غصے سے ابیہا کو کہا تو وہ اس سے تھوڑا ہٹ کر ماربل سلیب سے جا ٹکی۔

    واعظہ عشنا نور الف اور عزہ بیچ میں گھیرا ڈال کر کھڑی تھیں۔۔ 

    عروج ہاسپٹل کے لیئے انکی گول کچن دائرہ کانفرنس کو دیکھتی سر جھٹکتی نکلی تھی۔

    ہے جن منے صوفے پر دراز بازو آنکھوں پر دھرے پڑا تھا۔۔ 

    جانے جاگ رہا تھا کہ نہیں مگر کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑتا تھا۔ اسے کونسا سمجھ آرہا تھا کیا بول رہی ہیں مگر بول مسلسل رہی تھیں گرما گرم بحث چل رہی تھی مگر کیوں؟

    دو کمرے ان میں دو ڈبل بیڈ اور ایک سنگل بیڈ ۔ چار چار لڑکیاں ان میں پوری نہیں پڑتی ہیں تم ایک عدد لڑکا بھی گھسا رہی ہو گھر میں۔ ؟ کیوں کیوں کیوں۔۔ 

    یہ ابیہا تھئ۔۔ بس نہیں تھا گنجا ہی کر دے واعظہ کو۔  

    صحیح کہہ رہی ہیں۔  

    الف نے سر ہلایا۔۔ 

    تو میں اسے کمرہ تھوڑی دینے کو کہہ رہی ۔ واعظہ سٹپٹائی۔

    پھر تو بس کیبنٹس ہی ہیں دیکھ لو اگر جگہ ہو تو۔۔ 

    فاطمہ نے سرسری سے انداز میں کیبنٹ کھولتے ہوئے کہا تھا۔  عشنا اسکے قریب ہی کھڑی تھی تو اپنی جھونک میں کیبنٹ میں جھانک لیا۔  فاطمہ نے گھور کر دیکھا پھر پتی کا ڈبہ نکال کر کیبنٹ پورے زور سے بند کی۔  صوفے پر سویا بنا پڑا ہے جن لرزا تھا

    آرام سے۔۔ ٹوٹ جائے گی۔۔ 

    نور نے موبائل میں لگے لگے ٹوکا۔

    کیبنٹس میں کوئی کیسے رہ سکتا بھلا۔  الف حیران ہوئی۔  

    پھر یہ کچن کائونٹر پر سلادینا بستر لگا کر۔۔ 

    ابیہا نے چڑ کر کہا تھا۔۔ 

    ویسے وہ لائونج میں بستر لگا کر سو سکتا ہے صوفہ چھوٹا ہے بے چارہ پورا نہیں آرہا۔  

    عشنا نے ترس کھاتئ نظروں سے ہے جن کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

    ہاں وہی تو کہہ رہی۔  بس ایک  مہینے کی بات ہے اسکا سمیسٹر مکمل ہو جائے گا تو ظاہر ہے پھر تو کالج میں داخلہ لے گا ابھی تو اسکول بھی اسکا یہیں سے قریب ہے۔

    بہت خوددار بچہ ہے۔۔ 

    بچہ؟ چھے فٹ کا؟۔۔ نور نے آنکھیں پھاڑیں

    یار ہم سب میں تو سب سے چھوٹا ہے ۔

    الف کو بھی اس کی مجروح حالت پر ترس آیا تھا۔۔ 

    مگر آگے رمضان ہے ہم عبادت کریں گے کیسے ہم ایک کافر کو گھر میں گھسا لیں؟ 

    فاطمہ نے حسب عادت لگی لپٹی رکھے بغیر کہا تھا۔۔ 

    ہم اسے گھر میں جگہ دے رہے ہیں ۔ اسکے عقائد اپنانے نہیں لگے۔  

    عزہ نے سنجیدگئ سے کہا تھا۔۔ واعظہ اسے نثارہوتی نظروں سے دیکھ کر رہ گئ۔۔ 

    صبح اسکول شام کو جاب پر بس رات سونے کیلئے آئے گا 

    یہاں لائونج میں ایک کونے پر اسکا بستر لگا دیں گے ہم ۔ بالکل تنگ نہیں ہونگے ہم۔ 

    واعظہ کا انداز منانے والا ہو گیا تھا۔۔ 

    مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ چھوٹے بھائی جیسا ہی ہے ۔۔ 

    عزہ نے ہاتھ اٹھا کر جیسے اسکے حق میں ووٹ دیا۔۔ 

    مجھے بھی۔۔ 

    نور موبائل میں بری طرح لگی تھی شائد سنا بھی ٹھیک سے نہیں ہوگا مگر ہامی بھر لی

    تم عشنا۔۔  

    واعظہ نے مدد طلب نظروں سے دیکھا۔

    ابیہا فاطمہ نظروں سے اسے گھور گھور کر نہیں کا اشارہ کر رہی تھیں وہ بے چاری گڑ بڑا کر رہ گئ۔

    میں وہ۔۔ کوئی بات نہیں۔۔ اس نے کہہ ہی دیا۔ واعظہ خوش ہو کر الف کی جانب مڑی۔۔ اور تم۔وہ امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔

    میری ایک شرط ہے۔  اگر  

    الف نے ہاتھ اٹھا کر کہا تھا۔۔۔فاطمہ ابیہا اور واعظہ نے ٹھنڈی سانس بھری تھی۔۔ اسکے بتائے بنا بھی اسکی شرط وہ جانتی تھیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ویسے حد ہی تھی۔  ایک چھپکلی پر اتنا ڈر گئ۔۔ 

    عروج مریضہ کے کان سے آلہ نکال کر بخار دیکھتیکر زیر لب بڑ بڑائی۔۔

    ہائش۔۔ ایک سو تین۔۔ اسکی آنکھیں کھلیں۔۔ 

    چندی آنکھوں والی وہ ادھیڑ عمر کی خاتون بخار سے تپ رہی تھیں۔۔ بے چینی سے سر پٹختے ہائے ہائے کر رہی تھیں اپنی زبان میں۔۔

    نرس انکے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھو۔۔ 

    وہ نرس کو ہدایت دیتی خود انکی ہسٹری دیکھنے لگی۔۔

    چھوگیو۔۔ 

    انہوں نے زرا سا سہارا لیکر اٹھتے اسکی کلائی تھام لی۔۔ 

    گرم انگلیوں کا لمس وہ چونک کر مڑی۔

    چھنن بونئے کھننل مانیاگو شپھل چھیتا گرے چھوریل پھنا رگو پوتھا کھپ شتھے آگو کھن یو گیاریگے چھونا ہیئے


    지난 번에 그녀를 만나고 싶을 때 제 딸에게 저를 방문하라고 부탁하십시오. 그녀에게 전화 해.

    ٹوٹتی آواز کے ساتھ غنودگی میں جاتے جاتے وہ اسے کہہ گئیں۔۔ انکی گرفت کمزور پڑی تھی اسکی کلائی پر۔

    جی۔ ۔۔ عروج کو انکا لہجہ کچھ سمجھ آیا کچھ نہیں۔۔ 

    انکی سانسوں کی آواز مدھم ہوئی تھی دل کی دھڑکن بتاتی مشین ایک دم سے شور کرنے لگی  تھی۔۔ ںرس ایک دم مستعد ہوئی تھی۔ 

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔