Desi Kimchi Episode 6


اس کے رائونڈ پر آتے ہی وارڈ میں کھلبلی مچ گئ۔ خالی ہو جانے والے تین بستروں پر پانچ نرسیں نائٹ ڈیوٹی کو سو کر پورا کررہی تھیں۔ آجکل اسپتال میں کوئی خاص رش نہیں تھا سو انکو فرصت کے لمحات مسیر آئے تو کمر سیدھی کرنے لیٹ گئیں ۔ اسکو اندر آتے دیکھ کر ہڑبڑاہٹ میں اٹھیں تو ایک نرس تو بیڈ سے ہی گر گئی۔۔ عروج انہیں دیکھ کر سر جھٹک کر آگے بڑھ گئ۔ اسے فالتو میں رعب جمانے کا کوئی شوق نہیں تھا ۔ اسکا رخ سیدھا اپنے کیبن کی جانب ہوا تھا۔ آرام سے کیبن میں آکر اس نے لیپ ٹاپ آن کیا اورپڑھنے بیٹھ گئ۔
ڈاکٹر روج آپ سے ملنے کوئی آیا ہے۔
وارڈ بوائے نے آکر اسے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا۔
کون؟ اسکا سوال یقینا منطقی تھا مگر وارڈ بوائے کی شکل پر جو انگریزی میں جواب سوچنے کی گھبراہٹ طاری ہوئی تو ٹھنڈی سانس بھر کر لیپ ٹاپ بند کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
وزیٹرز وارڈ میں تو نہیں آ سکتے تھے سو اسے ہی ریسیپشن پر جانا تھا۔
چندی آنکھوں والی دبلی پتلی سی پیتیس چھتیس برس کی پرانے گھسے ہوئے کپڑوں میں ملبوس بنچ پر بیٹھی ہاتھ مسل رہی تھی۔ لاکھ عروج نے یادداشت پر زور ڈالا مگر اس کا تعارف ذہن کے پردے پر روشن نہ ہوا۔
آننیانگ۔ عروج نے آگے بڑھ کر اسے سلام کیا تو وہ گھبرا کر اٹھ ہی کھڑی ہوئی
آننیانگ۔ آگے تیز تیز ہنگل کی گٹ پٹ تھی جو عروج کے سر پر سے گزری۔ دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر جانے وہ کیا کیا بتا رہی تھی سمجھا رہی تھی۔عروج نے چند لمحے اسکے چپ ہونے کا انتظار کیا مگر اسکی رام کہانی لمبی تھی شائد۔ اسے ٹوکنا پڑا۔
آہجومہ۔۔ معزرت میری ہنگل اتنی اچھی نہیں کہ آپکی ساری بات سمجھ سکوں۔ ٹھہر ٹھہر کر بات کیجئے۔
اس نے انگریزی میں کہا تھا مگر ہاتھ کے اشاروں سے کچھ کچھ بات وہ آہجومہ سمجھ ہی گئ۔
دے۔ ایسے جھک کر سر ہلایا جیسے سب بھیجے میں گھس چکا ہے۔ جھٹ اپنی اسکرٹ کی جیب سے ایک لاکٹ نکال لیا اور دائیں بازو کو کہنی سے بائیں بازو سے تھام کر دائیں ہتھیلی اسکے سامنے بڑھا دی۔ یہ کوریائی مخصوص انداز تھا تمیز سے کسی کو چیز دینی ہو تو دائیں ہاتھ سے اگر چیز دے رہے ہوں تو بائیں ہاتھ سے کہنی چھو کر ادب سے جھک کر دیتے ہیں۔عروج نے کچھ سمجھتے کچھ نا سمجھتے تھاما
لیکن۔ وہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ لاکٹ کا کیا کروں
یہ آپ بوڑھی خاتون کو دے دیجئے گا۔
وہ انگریزی میں کہہ کر آنسو پونچھتی اسے کچھ مزید کہنے کا موقع دیئے بغیر جلدی سے مڑ گئ۔
ارے ۔۔سنو۔ عروج ہائیں ہائیں کرتی رہ گئ آہجومہ نے تو دوڑ ہی لگا دی۔ عروج نے بھی اسکے پیچھے دوڑ لگانا چاہی مگر اپنی ہیل کے باعث صرف چاہ کر ہی رہ گئ ۔ اگلی کینوس شوز میں بھاگ کھڑی ہوئی۔ اس نے لاکٹ کی ساخت پر غور کیا دل کی شکل کا لاکٹ جس پر چھوٹا سا لاک تھا اس نے چھوا تو نازک سا لاکٹ دو حصوں میں بٹ گیا ایک تو اسی لڑکی کی تصویر تھی دوسری ۔۔۔۔وہ چونک اٹھی
ارے۔ یہ تو وہی بوڑھی خاتون ہیں۔ وہ اپنی مریضہ پہچان گئ تھی۔
اس سے کوریائی زبان میں ہر بار جب وہ معائنہ کرنے جاتی تو کچھ کہتی تھیں آخری بار اسے کہنے کے بعد جو بے ہوش ہوئیں ابھی تک کومے میں تھیں۔ اسے تو سمجھ نہیں آیا تھا کہ کیا کہا انہوں نے اس نے اپنی ساتھی نرس سے ذکر کیا تو وہ اداس سی شکل بنا کر بولی یہ صرف آپ سے نہیں ہر اس شخص سے یہی جملہ دہراتی ہیں کہ میری بیٹی کو بلا دو اس سے کہو مجھ سے آخری بار مل لے میں اس سے ملنا چاہتی ہوں۔ ہم نے انکے اہل خانہ سے رابطے کی ہر ممکن کوشش کی ہے انکے فارم پر بس ایک ہی نمبر لکھا ہے جو بند ہوتا ہے۔
عروج کو افسوس سا ہوا۔ جان کنی کا عالم تھا انکا یقینا انکے گردے ختم ہو چلے تھے ڈائلیسز پر ذندہ تھیں اور نجانے بلند فشار خون اور کون کونسی بیماری لاحق تھی انکو یقینا بیٹی کو یاد کرکے اس سے مل کر ہی دنیا سے جانا چاہ رہی ہوں گی۔
نجانے اسے کیاہمدردی کا دورہ پڑا کہ انکا فارم نکلوا کر اس نمبر کو اپنے موبائل سے ڈائل کر لیا۔ آگے جو بھی خاتون تھی یقینا اسپتال کا نمبر بلاک کر چکی تھی تبھی بند ملتا تاہم اس کا نمبر اٹھا لیا اور جب عروج نے اس سے اپنا تعارف کروایا تو فٹ سے فون بند کر دیا اس نے تھک کر لمبا سا درد بھرا پیغام اسکی ماں کی حالت اور اسپتال کا پتہ لکھ بھیجا۔ تو آج خود وہ ملنے آئی اور یہ چین دے کر بھاگ گئ۔
اس لاکٹ سے ماں کی ممتا کو کیا تسلی ہونی ہے۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر لاکٹ کوٹ کی جیب میں ڈال لیا۔ فی الحال تو وہ خاتون ہوش میں تھیں ہی نہیں۔۔ لاکٹ دکھانے کا فائدہ نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون کالز کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ ژیہانگ کو لمحہ بھر کی فرصت نہ تھی سیہون نے انگریزی میں بات کرنے سے صاف انکار کیا تھا۔ دو ایک سوال کرکے الف چپ سی ہوگئی۔ جب ژیہانگ کو اسکا سوال ہنگل میں ترجمہ کرکے پوچھنا پڑا۔ جوابا سیہون نے جواب دیا تو براہ راست پروگرام ہونے کے باعث ژیہانگ فوری ترجمہ نہ کر سکا تاہم جیسے ہی پروگرام میں وقفہ آیا باقائدہ الف کی جانب مڑ کر سیہون کا جواب لفظ بہ لفظ دہرایا۔
مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ میں کوئی بہت الگ اور مختلف زندگی گزار رہا ہوں۔ یہ لڑکے میرا خاندان بن چکے ہیں میری پہچان میری شناخت بس ایکسو بوائے بینڈ ہے اور اس سے الگ میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ یہ میری زندگی ہے اس سے الگ اگر کبھی میں نے کوئی لمحہ بھی جیا ہے تو مجھے یاد نہیں۔

الف سیہون کو دیکھ کر رہ گئ۔ سوال گندم جواب چنا تھا۔ اس نے پوچھا تھا۔ سیہون کو زندگی سے اب مزید کیا چاہیئے۔
وہ وقفے کے دوران مراقبے میں چلا گیا تھا۔ وہ زندہ دلی خوش مزاجی سے اپنے پرستاروں سے بات کرنا جیسے اسکا کوئی سوئچ ہو جو وقفے کے دوران بند ہو جاتا ہو اور پروگرام شروع ہوتے ہی آن ہو کر اس میں زندگی کی لہر دوڑا دیتا ہو۔
اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے ان پر اپنی چندی آنکھیں جمائے ہونٹ بھینچے بیٹھا تھا
الف کے ذہن میں بے شمار سوال مچل رہے تھے مگر وہ خود پر ضبط کیئے بیٹھی تھی۔ سوائے کالرز کے سوالوں کے جو کچھ بھی پوچھ رہے تھے انکے پاس ایک سوال نامہ بنا رکھا تھا جو سی ہون کے مینیجر نے درجنوں سوال کاٹ کر مخصوص کی اجازت دی تھی اور ابھی بھی اسٹوڈیو کے باہر بیٹھا تھا پروڈیوسر کے ساتھ ۔ اسکے ہاتھ میں مائک تھا جس
سے جڑا ایک آلہ اسکے کان میں اسکی آواز سیہون کو سنا رہا تھا۔۔ وہ اور ژیہانگ جانتے تھے کہ دیوانے پرستاروں جنہوں نے طرح طرح کے سوال کیئے تھے کوئی سیہون کی پسندیدہ خیالی لڑکی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا تو کسی کو یہ غرض تھی کہ کسی طرح سیہون کی کامیابی کا راز جان لے ان سب سوالوں کے جوابات سیہون کا مینیجر دے رہا تھا ۔ ایسا بھی ہوا کہ اسکی طویل بات کی وجہ سے سیہون فوری جواب نہیں دے پایا تو ایک طویل خاموشی کا وقفہ آنے لگا تو ژیہانگ یا الف کوئی نہ کوئی بات بنا کر پروگرام کو آگے بڑھاتے رہے۔ اسکا دل چاہا تھا کہ پوچھے سیہون خوش ہے؟ مگر یقینا یہ جواب بھی اسکا مینیجر ہی دیتا ، وہ جاننا چاہتی تھی کہ تین سال بڑے بھائی کے ساتھ سیہون کا رشتہ کیسا ہے ، اسکے والدین اسکی کامیابیوں پر کیسا محسوس کرتے کیا وہ ایکسو کے لڑکوں کے درمیان بھائی کو یاد نہیں کرتا ، کیا واقعی بیکہیون اسکے بھائی جیسا ہے مگر پچیس برس کی عمر کے سیہون کی شکل پر اس وقت پچاسی برس کے کسی زندگی سے اکتائے ہوئے انسان والی بیزاری سجی تھی جسے وہ ریڈیو پروگرام ہونے کے باعث چھپانے کی کو شش بھی نہیں کر رہا تھا۔ اپنے پرستاروں کو ہنستے مسکراتے پیغام دیتے ہوئے بھی یہ تاثر اسکے چہرے سے نہیں گیا تھا۔ جانے کیوں وہ اپنے پسندیدہ ترین فنکار سے مل کر خوش نہیں ہوئی تھی بلکہ اسکو ٹھیک ٹھاک اداسی سی محسوس ہوئی تھی شائد سیہون کے چہرے پر چھانے کی وجہ سے اس پر بھی اثر ہوا تھا۔
پروگرام ختم کرکے سیہون نے لمحہ بھر کا بھی انتظار نہیں کیا تھا اور اٹھ کھڑا ہوا تھا ژیہانگ کے الودعائیہ کلمات جاری تھے اور وہ دروازہ کھول کر باہر بھی نکل گیا۔ریڈیو پروگرام کے درمیان دروازہ کھلنے اور لمحہ بھر کی ہی سہی پس منظر آواز کا نشر ہو جانا گناہ کبیرہ تصورکیا جاتا ہے مگر جانے وہ کیوں اتنا بیزار تھا۔ الف اس سے ایکسو کا فوٹو البم سائن کروانا چاہتی تھی جو اس نے خاص کر سیہون کیلئے بنایا تھا جس میں ایکسو میں سیہون کے شامل ہونے سے لیکر اب تک کی تقریبا جو جو بھی اسے یادگار تصویر ملی تھی اس نے بڑی محنت اور شوق سے سجائی تھی۔ کوئی سیلفی کوئی بات وہ سفید ٹی شرٹ جس پر اس نے سیہون کا اپنا پسندیدہ ترین انداز چھپوایا تھا اس پر وہ سیہون کا دستخط لیکر اسے
فیبرک پینٹ سے امر کر دینا چاہتی تھئ سب دھرا رہ گیا۔
اسکو بےتابی سے سیہون کو اٹھ کر جاتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش منہ کھلا رہ جانے والا منہ مایوسی سے بند کرنا ژیہانگ سے چھپا نہ رہ سکا۔
باہر سیہون مینیجر سے کافی نا خوش نظر آتا ہلکا سا مکا بنا کر ہتھیلی پر مارتا کبھی بالوں میں اضطراری انگلیاں چلاتا۔
شیشے کی دیوار کے پار وہ سیہون پر ہی نگاہ جمائے تھی
سنو ؟ تم نے جو سیلفی لینی تھی، ٹی شرٹ پر دستخط اور وہ البم جو تم نے اسے دینا تھا کیا ہوا؟ ژیہانگ نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر متوجہ کیا تو وہ چونکی۔
وہ شام سے جب سے آئی تھئ بے انتہا پرجوش تھی بڑے شوق سے اس نے ژیہانگ کو دکھائی تھیں چیزیں ۔ وہ یہی اسے جتا رہا تھا۔
سیہون مجھے اچھے مزاج میں نہیں لگ رہا تھوڑا سا بیزار ہے۔
اس نے جواندازہ لگایا تھا وہ غلط نہیں تھا۔
بے چارہ پیرس سے آج دوپہر ہی پہنچا ہے وہاں ٹھیک ٹھاک تھکا ہوگا نان اسٹاپ اسکو سیدھا ائیر پورٹ سے یہاں لے آیا گیا دو گھنٹے ہم نے سر کھایا ہے اور اسکی وین بھی خراب ہوگئ ہے جتنی دیر یہاں شو چلتا رہا پروڈیوسر نے اسسٹنٹ پروڈیوسر کو اسکی وین لیکر بھیجا ہوا تھا ورکشاپ اور وہ ابھی تک واپس نہیں آیا۔۔ یہ تو بہت برداشت سے کام لے گیا میں تو چین بھی جاتا ہوں واپس تو دو دن تک جہاز سے اترنے کے بعد جیٹ لیگ کا بہانہ کرکے گھر سے نہیں نکلتا۔
ژیہانگ نے پوری تفصیل سے اسے بتایا۔۔ وہ حیرت سے سنتے ہوئے دوبارہ سیہون کی جانب متوجہ ہوئی ۔
تمہیں کیسے پتہ ۔۔۔اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا
تو ژیہانگ ہنس دیا
اس لیئے کہ یہ میٹنگ ارینج میرے سامنے کروائی گئ تھی اور سیہون کا استقبال میری ہی ذمہ داری تھا۔ پروڈیوسر انکے ٹیم مینجیر کا اچھا دوست نہ ہوتا تو جتنا یہ بےزار یہاں آیا ہے کبھی نہ آتا یہاں۔ اسے ایجنسی نے ذبردستی بھیجا ہوگا۔
واقعی بے چارےکے ساتھ اچھا تو نہیں ہوا۔اسے ہمدردی محسوس ہو رہی تھئ۔ حسب عادت وہ اردو میں بڑبڑائی۔
ژیہانگ ہنس کر کچھ کہنے لگا کہ خیال آنے پر زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
پروڈیوسر صاحب اسٹوڈیو کا دروازہ کھول کر اندر چلے آئے
ژیہانگ ایک مدد درکار تھئ تمہاری۔۔ وہ ژیہانگ سے کہہ رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ کو سیہون کا میسج آیا تھا اور وہ سرعت سے انکو الف کا ریڈیو شو سنتے چھوڑ کر دبے پائوں باہر نکلی۔
سیہون انکی عمارت کے نیچے داخلی دروازے کے باہر کھڑا جوتے سے زمین کرید رہا تھا۔
کیا ہوا اب۔ وہ خاصی بیزار شکل بنائے اسکے پاس آکھڑی ہوئی۔
کل صبح 10 بجے یونین کونسل کے کچھ ممبران آئیں گے مجھ سے اور تم سے ملنے سو تمہیں آج رات میرے اپارٹمنٹ میں ہی گزارنی ہوگئ۔
سیہون نے بنا تمہید باندھے اسکے سر پر بم پھوڑا۔۔ وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔
کیا کس خوشی میں بھئ؟ میں کوئی تمہارے ساتھ واتھ نہیں جانے والی۔ ڈھیلی ڈھالی گلابی سویٹ پینٹ اور اپر میں ملبوس وہ ہڈ سر پر چڑھائے دونوں ہاتھ ہڈ کی جیبوں میں ڈالے زور زور سے سر نفی میں ہلا رہی تھی۔
سہون کیلئے اسکا ردعمل بالکل غیرمتوقع نہیں تھا۔ وہ چپ چاپ گھورتا رہا
اب ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ دیکھو یہ صرف کاغذی رشتہ ہے اسکو ہم چند مہینوں میں ختم کرنے والے ہیں یہ اپارٹمنٹ میں رہنا بہت ذیادہ ہے۔ میں صبح آجائوں گی ملنے۔
فاطمہ کو اسکی نگاہیں کافی چبھی تھیں۔۔
اور میں کونسلروں کو اپنی بے روزگار بیوی کے صبح صبح کہاں چلے جانے کی کہانئ گھڑ کر سنائوں گا؟
وہ دانت کچکچا کر بولا
تو کہہ دینا میں دوسرے شہر گئ ہوں اب کیا شادی کے بعد بیویاں کہیں آتی جاتی نہیں ہیں؟ میکے گئ ہوں کہہ دینا
فاطمہ اسکی عقل پر ماتم کرنے والے انداز میں بولی ۔
تم نے شادئ کا جو معاہدہ دستخط کیا ہے اسکی شرائط یاد ہیں ؟؟؟ ہم دونوں میں سے کوئی بھی چھے مہینے سے قبل بیرون ملک سفر نہیں کر سکتا دوسرے شہر بھی نہیں جا سکتے جب تک ہمارے کائونسلنگ کے چھے ہفتوں کے کم از کم بارہ سیشن پورے نہیں ہو جاتے۔
اس نے چبا چبا کر یاد دلایا۔
یاد ہے مگر اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم فالتو گٹ پٹ سنیں انکی۔ فاطمہ نے ناک چڑھائئ۔
ہم پابند ہیں کیونکہ ہم عام جوڑا نہیں ہیں ۔ ہم نے شادی کے معاہدے پر دستخط کیئے ہیں۔ سیہون کو وہ ٹیڑھی کھیر لگ رہی تھی سو اسے ہی سمجھداری سے کام لینا تھا گہری سانس لیکر خود کر ٹھنڈا کر کے بولا
کیوں بھئ سب شادی شدہ لوگوں کو یہ ایسے باندھ لیتے ہیں فالتو معاہدوں میں چھے مہینے کہیں نہ جائو انکے فالتو کونسلروں کے واعظ سنو۔؟ جبھی کوریا میں بنا شادی کے رہنے کا رواج پڑ رہاہے۔
وہ ہاتھ نچا نچا کر اونچا اونچا بولی تھی۔ گارڈ اندر اپنے کیبن سے نکل کر انہیں گھورنے لگا۔
کون ہے یہ آگاشی۔ ( یہ لڑکی کون ہے؟) وہ سیہون سے مخاطب تھا انداز تھا کہ بیٹا لڑکی چھیڑ رہے ہو یہیں مرغا بنا دوں گا۔ سیہون نے کھا جانے والی نظروں سے فاطمہ کو گھورا
یہ میری بیوی ہے ہم لڑ نہیں رہے بحث کر رہے ہیں تکلیف کیلئے معزرت
وہ جھک جھک کر بولا تو بھی چوکیدار مشکوک نگاہوں سے گھورتا رہا۔
کیا کہہ رہے ہو؟ اسے اس پر بھی تکلیف تھئ۔ قریب آکر کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر پوچھ رہی تھی۔
یہ دیکھیں ثبوت۔ اس نے جیب سے کاغذ نکال کر تھمایا
وہ واقعی جیب میں ثبوت لیکر گھوم رہا تھا۔ فاطمہ کو سمجھا نے کیلئے لایا تھا یہاں ثبوت کے طور پر دکھانا پڑ گیا۔
چوکیدار اسے خوب گھما گھما کر دیکھ رہا تھا۔
فاطمہ نے جھپٹ لیا
یہ یہ کیا تم نکاح نامہ لیکر گھوم رہے ہو، مقصد کیا ہے تمہارا مجھے کمزور احمق لڑکی مت سمجھنامیں وقت پڑنے پر جان لے بھی سکتی ہوں۔ فاطمہ غضبناک ہوئی
مارو ماردو مجھے اس عذاب میں مجھے ڈال دیا ہے اب میرے پاس یہی راستہ رہ گیا ہے تم ابھی مار دو ورنہ بعد میں میری گرل فرینڈ تو مار ہی دے گی مجھے۔
اسکی بھی جھلاہٹ کی وجہ سے ٹھیک ٹھاک آواز اونچی ہو چلی
چوکیدار کو سچ مچ یقین ہوا کہ میاں بیوی ہیں کھنکار کر دونوں کو آرام سے بات کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے چلتا بنا
سیہون کو غصے میں دیکھ کر تھوڑا خائف ہو کر چپ ہوئئ۔
سیہون چلانے پر نادم سا ہو کر رخ پھیر کر پیشانی سہلانے لگا۔
چند لمحے خود کو سنبھال کر وہ مڑا تو فاطمہ اسکیلئے قریبی ڈسپنسر سے پیپر کپ میں پانی لیئے کھڑی تھئ۔۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ژیہانگ سیہون کو اوپر ریسٹ روم میں لیکر آیا تھا اسکے لیئے وی آئی پی روم خالی کروایا گیا تھا۔ پروڈیوسر صاحب نے خاص ژیہانگ کی ذمہ داری لگائی تھی کہ اسکا خیال رکھے ۔اسکی وین ٹھیک نہیں ہوئی تھی اسے اسی میں اپنے گھر جانا تھا سو انتظار کے بغیر چارہ نہ تھا۔ سیہون مینیجر سے ٹھیک ٹھاک خفا ہوا تھا ، مینیجر سر جھکائے سن رہا تھا جب پروڈیوسر صاحب کے کہنے پر ژیہانگ نے سیہون کو اوپر کمرے میں جاکر آرام کی پیشکش کی۔ سیہون ایکدم چپ ہوا تھا اپنے مینیجر کے برعکس اسکا رویہ ژیہانگ سے بہت مروت بھرا تھا۔ کمرے کی بتی جلا کر اے سی آن کرکے ریموٹ اسے تھمایا ۔۔
کچھ کھائیں گے آپ ؟
اس کے پوچھنے ہر سیہون کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
نہیں شکریہ۔ جواب مختصر تھا۔ وہ سر ہلا کر اسے آرام کی تاکید کرتا ہوا باہر نکل آیا۔ سیہون نے اسکے نکلتے ہی بتی بجھائی تھئ اور لمبے جہازی کائوچ پر گر سا گیا۔
کمرے کے باہر ہی الف کھڑی تھی۔
ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیگ تھامے منتظر۔
آئو تم لے لو آٹو گراف سیلفی جو بھی فارغ ہے ابھی اور اکیلا بھی۔
ژیہانگ نے فورا مڑ کر دروازہ کھولنا چاہا مگر الف نے روک دیا۔
تھکا ہوا بھی۔۔۔۔۔ میں انتظار کر لیتی ہوں۔
وہ واقعی پرستار تھئ اور اسکو اپنے پسندیدہ ستارے کی فکر بھی تھئ۔ ژیہانگ نے سمجھ کر کندھے اچکا دیئے۔
وہ لابی میں رکھے صوفے کی جانب بڑھ گئ۔ اسے یہاں بیٹھ کر سیہون کا انتظار کرنا تھا۔ ۔۔ ژیہانگ نے لمحہ بھر سوچا پھر تیز تیز قدموں سے لفٹ کی جانب بڑھ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوریا میں پچھلے کچھ سالوں سے بہت سے غیر ملکی اور کوریائی باشندے شادی کر رہے ہیں۔ کچھ جزبات سے مجبور ہو کر کچھ ہمارئ طرح رہائش اختیار کرنے کیلئے۔ کوئی محض ایک اپارٹمنٹ شئیر کرنے کی وجہ سے بنا کسی رشتے کے والدین بن گئے۔ ان تمام صورتوں میں دو مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہوئے جن میں رہن سہن بودو باش اور سب سے بڑھ کر زبان کا فرق حائل رہا ۔
جھگڑوں میں بچوں کی دعوے داری سرفہرست رہی۔ نا ماں ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہوتئ نا باپ۔ حکومت کو ایسے معاملوں میں نہ صرف ثالثی کرانی پڑی بلکہ ایسے بچوں کو سرپرستی میں بھی لینا پڑتاہے ۔
سیہون اور وہ قریبی پارک میں آئے تھے ۔ بنچ پر بیٹھ کر وہ اسے تفصیل سے بتا رہا تھا۔ اسکی آخری بات پر وہ نگاہ چرا گئ تھی۔ایسے بھی والدین ہوتے ہیں بھلا؟ وہ حیران ہوئی سیہون اسکی حیرانگئ کے برعکس اپنی بات جاری رکھے تھا۔
اسلیئے ان تمام مسائل سے بچنے کیلئے جو جوڑے جن میں ایک ساتھی غیر ملکی ہواور وہ وقتی جذبات یا کسی اور مجبوری کے تحت ایک ہونا چاہتے ہیں انکیلئے نیے سرے سے قانون سازی کی گئ یے۔جس میں بہت شقیں ہیں اسکو سمجھنا آسان نہیں سو کئی ادارے اس طلاق کی شرح کو کم کرنے کیلئے حکومتی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں ۔ایسے ادارے سے منسلک ہو کر شادی کا معاہدہ انکے بنائے معاہدے پر پابند رہتے ہوئے نسبتا آسان ہوتا ہے اسلیئے میں نے ایسے ہی ایک نیم سرکاری ادارے کی مدد لی۔انکے معاہدے کی رو سے۔ ایسے جوڑوں کو کائونسلنگ کےلیئے ادارے سے منسلک ہونا پڑتا ہے یہ نئے شادی شدہ جوڑوں کو نا صرف مفید مشورے دیتے ہیں بلکہ ایک پروگرام کے تحت کوریا میں آنے والے غیر ملکیوں کو ہنگل سکھانے کا بھی اہتمام کرتے ہیں ۔ یہ کائونسلرز چھے مہینے تک جوڑے پر نظر رکھتے ہیں انکے جھگڑے سلجھاتے ہیں انکی قانونی مدد کرتے ہیں۔ ایسے جوڑے خاندان شروع نہیں کر سکتے کم از کم چھے مہینے تک جب تک یہ ادارہ انکو سند نہ عطا کرے ۔ ایسا سرٹیفیکیٹ جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اس جوڑے نے تمام شرائط سمجھ لی ہیں اور ان میں کسی قسم کا بڑا اختلاف نہیں تب جا کرخلاصی ہوگی۔ جو اس رشتے کو نبھانا چاہیں مبارک جو الگ ہو جانا چاہیں انکی طلاق میں مدد بھی یہی کریں گے ۔ یہ ہفتے میں دو بار ملنے آئیں گے جوڑے سے ایک دفعہ بتا کر ایک بار کبھی بھی۔ اسی لیئے چھے مہینے تک جوڑا پابند ہے کہیں جانے آنے کیلئے۔ اگر جانا بھی ہو تو یہ مطلع کر کے جائیں گے۔ پھر ملک کے جس حصے میں جائیں گے وہاں کوئی کونسلر انکو منتخب کردیا جائے گا۔
سیہون بولتے بولتے جیسے تھکا۔
میں نے واعظہ کو اس سب کے بارے میں بتایا تھا مگر شائد اس نے تمہیں نہیں بتایا۔
بتایا تھا۔ فاطمہ نے سر جھکایا۔ مگر میرے پاس فی الحال اور کوئی راستہ نہیں تھا میرا ویزا ختم ہو جاتا تو مجھے ڈی پورٹ کر دیا جاتا ۔۔ جبکہ میں نہیں جانا چاہتی میں نے اسے کہا تھا مجھے ہر شرط منظور ہے۔۔۔
میں اگر تمہاری جگہ ہوتا تو واپس چلا جاتا۔ سیہون کہے بنا نہ رہ سکا۔
فاطمہ نے اس پر تیکھی نگاہ ڈالی تو وہ وضاحت کرنے لگا
جیسا واعظہ بتاتی تم پاکستانی لڑکیاں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتئ ہو وہ تم لوگوں کا خرچہ بھی اٹھاتے ہیں شادی کرواتے ہیں سیٹل کرواتے ہیں تمہیں کیا پڑی ہے اتنے مہنگے سیول میں جبکہ تمہارا یہاں کوئی کیریئر بھی نہیں ہے پڑھ بھی نہیں رہی ہو اتنا خجل خوار ہوکر یہاں رہنے کی؟
پاکستان میں رہو آرام سے جا کر وہ تمہارا اپنا ملک ہے۔۔
یوں پرائے دیس۔
اس سے مزید فاطمہ کی نگاہ برداشت نہ ہوئی تو چپ کر گیا۔
تم کبھی لڑکی رہے ہو اپنی 27 سالہ زندگی میں؟
فاطمہ کا سوال کم انداز ذیادہ تیکھا تھا۔ وہ حیران سا سر نفی میں ہلا گیا
تم نے کبھی لڑکی بن کر زندگی گزاری ہے؟ کبھی پاکستان جا کر رہے ہو؟
جواب ظاہر ہے نفی میں سر ہلاتے جانا ہی تھا۔
تم نے کبھی پاکستان میں لڑکی کی زندگی نہیں گزاری ہے ۔ تم کبھی بھئ میری جگہ نہیں ہو سکتے۔
وہ قطعی سے انداز میں کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔
سہون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *