قسط 7
آہٹ پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ژیہانگ تھا۔ ہاتھ میں ایک بڑا سا شاپر پکڑے۔ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو ژیہانگ نے اسے ہی شاپر پکڑادیا۔ برگر چپس اور جوس کا پیکٹ تھا۔ اس کھانا دیکھ کر احساس ہوا کہ پیٹ میں تو چوہے دوڑ رہے ہیں۔ پروگرام کے دوران روزہ افطار کرتے وقت تو بس ایک کھجور منہ میں ڈال لی تھی پھر دوبارہ مصروف ہو گئی تھئ۔ ارادہ یہی تھا چھٹی کے بعد گھر جا کر ایک ہی دفعہ کھائے گئ۔ چپس فرائیڈ تھے اچھی طرح پیک ہوئےجوس بھی مکس فروٹ تھا۔ اس نے چپس اور جوس نکالا اور شروع ہو گئ۔ کچھ پیٹ میں گیا تو حواس بحال ہوئے۔۔
شکریہ ژی۔ اس نے جھٹ شکریہ بھی ادا کر دیا۔ اسکا نام اچھا خاصا زبان میں وٹ ڈال دیتا تھا سو سب اسے ژی ہی کہتے تھے۔
ژیہانگ۔ اس نے برگر کھاتے ہوئے جتایا۔ وہ اسکے برابر ہی ایک نشست چھوڑ کر بیٹھ گیا تھا
ژیہانگ۔ اس نے صحیح تلفظ سے بولا تھا۔ وہ مسکرادیا۔
برگر تو کھائو ٹھنڈا ہو جائے گا۔ اس نے یاد کرایا ۔ الف سوچ میں پڑی۔ یوں صاف صاف کہنا نا مناسب تھا اسے شک۔تھا کہ برگر جانے حلال ہے کہ نہیں اب ژیہانگ لے کر آیا تھا اسکا یقینا احسان تھا۔
کافی ہے ابھی کیلئے میرے لیئے اتنا۔ یہ گھر لے جائوں گی۔ اس نے مبہم انداز میں کہا۔ گھر لے جا کر جے ہن کو کھلا یا جا سکتا تھا۔ چپس صاف ہو چکے تھے جوس ختم ہوگیا تھا اور وہ کہہ رہی تھی ۔ ژیہانگ کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔
رمضان میں جھوٹ؟ اس نے جتایا۔ الف پوری گھوم گئ اسکی جانب۔ آنکھوں میں بے تحاشہ حیرت دیکھ کر وہ جتانےوالے انداز میں بولا۔
کھا لو حلال ہے خاص کر مسلم ریستوران سے لیکر آیا ہوں جبھی اتنی دیر لگی مجھے۔ سارا دن روزے سے رہی ہو اب بے ہوش نہ ہو جانا بھوک کے مارے۔
وہ دھیرے سے کہہ کر اپنا خالی ہو جانے والا جوس کا پیکٹ اور برگر کا ریپر شاپر میں سمیٹتے ہوئے اٹھا اور کچھ فاصلے پر رکھے ڈسٹ بن میں ڈالنے اٹھ گیا۔
الف نے برگر کا شاپر نکالا تو اسکے ریپر کے ایک کونے میں حلال لکھا تھا۔
ژیہانگ۔ اس نے جان کر بلند آواز میں کہا۔۔ وہ چونک کر پلٹ کر دیکھنے لگا
شکریہ۔ اس نے کہہ کر بلا تکلف بڑا سا نوالہ لیا۔ واقعی بھوک میں اتنا بڑا برگر کہاں گیا اسے پتہ نہ چلا۔ البتہ کھا پی کر بے حد دل سے خدا کا شکر ادا کیا تھا اس نے۔
سیہون کا مینیجر تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا آیا اور دھاڑ سے دروازہ کھول کر کمرے میں گھس گیا۔ اسکے ہاتھ میں شائید سیہون کے کپڑے تھے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اسکے پیچھے بھاگے۔
سیہون کے سر پر دھماکے سے دروازہ کھلا تو لمحہ بھر اسے سمجھ بھی نہ آیا کہ وہ کہاں ہے۔ مینیجر نے ساری بتیاں جلا دی تھیں۔اسے آنکھیں مسلتے اٹھتا دیکھ کر جلدی سے بولا
چلیں شوٹ کروا لیں گاڑی آنے ہی والی ہے۔ پھر آپ اپنے گھر چلے جائیے گا۔
کونسئ شوٹ۔ اسکی پیشانی پر کئی بل پڑے۔
اس پروگرام کی؟ دونوں وی جے اورپروڈیوسر کے ساتھ تصویریں بنوا لیں پریس ریلیز جاری کرنی ہیں اور انسٹا گرام بھی اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ اٹھیں دو گھنٹے ہوچکے ہیں ان لوگوں نے آپکو اٹھا یا ہی نہیں میں کہہ کر گیا تھا کہ جب تک گاڑی ٹھیک نہیں ہوتی شوٹ وغیرہ سب کروالیں۔ آپ نے بھی سارا وقت سونے میں برباد کردیا۔اور بھی کام ہیں مجھے ۔ اب مجھے بھی دیر۔۔
یہ وہی مینیجر تھا جو سر جھکا کر سیہون کی ڈانٹ سن رہا تھا نیچے؟ الف کو اسکی چلتی زبان دیکھ کر یقین نہ ہوا۔ ایک تو کورین عام بات بھی ایسے کرتے کہ غصے میں لگتے اس وقت تو مینجر کے تاثرات بھی خاصے کڑے تھے۔ دروازے پر الف اور ژیہانگ کو دیکھ کر اسکی چلتی زبان کو فوری بریک لگی تھئ۔ سیہون بےز اری سے اٹھ بیٹھا۔
نیند نے اسکو تازہ دم ابھی بھی نہیں کیا تھا مگرہاں کچھ بہتر محسوس کر رہا تھا۔
آپ یہ کپڑے پہن لیجئے۔۔ نہایت ادب سے جھک کر مینیجر اسے کپڑے تھما رہا تھا کہیں سے لگ نہیں رہا تھا یہ وہی بندہ ہے جو اکیلے میں قریب قریب سیہون پر چلا رہا تھا۔
سیہون نے ایک نگاہ غلط بھی اس پر ڈالے بنا کپڑے تھامے اور ملحقہ باتھ روم میں گھس گیا۔ الف نے سوچا پھر ہاتھ میں پکڑا البم اسکے مینیجر کی جانب بڑھانے لگی
یہ آپ سیہون کو دے دیجئے گا۔
مینجرنے سرہلا کر البم تھامنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ژیہانگ نے بیچ میں سے اچک لیا۔ دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا
میرا خیال ہے نیچے چلتے ہیں وہاں شوٹ کے بعد خود دے لینا یہ سیہون کو ذیادہ اچھا لگے گا۔۔
سیہون کو پتہ نہیں اچھا لگے گا بھی نہیں ٹھیک ٹھاک تو مزاج برہم ہے اسکا۔
الف مایوسی سے بڑبڑا کر رہ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون کوریا کے مشہور برانڈ کی شرٹ اور ڈریس پینٹ پہن کر چہرے پر نہایت خوشگوار مسکراہٹ لیئے شوٹ کروا رہا تھا۔ انکی ٹیم کے ساتھ تو شوٹ دس منٹ بھی نہیں لگے ہونگے مکمل بھی ہو گئ تھی اب نجانے کون کون سے پوز بنوا رہا تھا فوٹو گرافر۔ ذرا دیر کی بے زاری سے بالکل مختلف اس وقت سیہون ایک مکمل سیلیبریٹی کے روپ میں تھا۔نہایت متحمل مزاج اور خوشگوار سی شخصیت۔
فوٹو گرافر اسکی ہر طرح ہر رخ سے تصویر لیکر اسکا شکریہ ادا کرنے لگا تو سیہون کےچہرے کی مسکراہٹ ویسے ہی غائب ہوئی تھی جیسے کسی نے بٹن دبا دیا ہو۔
چلیں۔ مینجر مستعدی سے اسکو کوٹ پہنانے لگا۔
چلو الف۔ ژیہانگ اسکے برابر ہی کھڑا تھا ایکدم اسے اپنے ساتھ آنے کا کہتا سیہون کی جانب بڑھا۔ الف حیرانگی سے اسکی پھرتی دیکھ رہی تھی۔ لمبا دبلا سا ژیہانگ لمبے ڈگ بھرتا سیہون سے جا ملا تھا۔ ہاتھ ملاتے ہوئے شستہ ہنگل میں جانے اس نے کیا کہا کہ سیہون مڑ کر اسے ہی دیکھنے لگا وہ خائف سی ہو کر سست قدم اٹھاتی انکی جانب بڑھی
اسلام و علیکم۔
اس سے قبل کے وہ سلام کرتی سیہون اسکے قریب آنے پر مسکرا کر سر جھکا کر بولا تھا۔
جی۔ وہ بھونچکا سی رہ گئ۔ پھر گڑ بڑا کر وعلیکم السلام بولی
ژیہانگ نے مجھے بتایا آپ پاکستان سے ہیں اور میری بڑی فین ہیں مجھے نہیں پتہ تھا کہ ایکسو کو پاکستان میں بھی پسند کیا جاتا ہے۔ بہرحال خوشی ہوئی جان کر۔
شستہ انگریزی میں سیہون اس سے مخاطب تھا۔ الف اتنی حیران ہوئی کہ اردو انگریزی سب بھول گئ
اس نے بڑے شوق سے آپکو دینے کیلئے البم بھی بنایا ہے دکھائو الف۔
ژیہانگ اسکی کیفیت سمجھ کر مدد کو آیا۔
اچھا واقعی؟ دکھائیں۔۔ سیہون جانے واقعی حیران و خوش تھا یا بن رہا تھا۔ الف اب شائد کبھی نہ جان پائے۔یہ سیلیبریٹیز بہت اچھے اداکار ہیں انکو اپنے تاثرات چھپانے میں ملکہ حاصل تھا۔
آپکو دیر ہو رہی ہے۔۔ مینجر منمنایا ۔ عوام کے سامنے مینیجرز سے ذیادہ بے ضرر مخلوق کوئی نہ تھئ۔ الف کو اس وقت وہ ذہر لگ رہا تھا۔
الف نے البم بڑھایا سیہون نے بڑے شوق سے اسکے ہاتھ سے لیا اور فورا کھول کر دیکھنے بھی لگا۔ اسکے ڈیبیو سے لیکر اب تک کی سب تصاویر تھیں یہاں تک کے اسکے بچپن کی بھی۔ بچپن کی تصویر پر اسکا صفحے پلٹتا ہاتھ رک سا گیا۔ اپنی بچپن کی تصویر دیکھ کر اسکی آنکھیں جھلملائی تھیں یا الف کو وہم سا ہوا۔ اس نے اسکی آنکھوں کو غور سے دیکھا۔
بہت اچھا تحفہ ہے یہ بہت شکریہ۔ مینجر ایک البم لے آئیں گاڑی سے۔
سیہون نے البم بند کرتے ہوئے مینجر کو حکم دیا۔ وہ چیں بہ چیں ہوتا ہوا البم لینے چل دیا
میں ابھی گھر جا رہا ہوں یہ البم دیکھ کر میری آہموجی اور آہپھا( امی ابو) مجھ سے بھی ذیادہ خوش ہونگے اس میں سے بہت سی تصاویر تو میں نے دیکھی بھی آج ہیں۔ بہت شکریہ الف۔
نرم سے انداز میں بولتا ہوا سیہون ۔ الف فرط مسرت سے بے ہوش سی ہونے لگی۔
ایک سیلفی ہم لے لیں میں جانتا ہوں آپ تنگ ہو رہے ہوںگے لیکن وہ آفیشل شوٹ تھی ہم دونوں اپنی بھی یادگار رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ برا نہ مانیں ۔
ژیہانگ نے کہا تو وہ ہنس دیا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑا سا شاپر لہراتی گنگناتی الف۔ اسٹاپ سے اپنی بلڈنگ تک آتے درجنوں مرتبہ بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ روکتی آئی تھی۔ دل چاہ رہا تھا جیسے بچپن میں خوب خوش ہوکر بل کھاتی تھی اچھل اچھل کر کود کود کر بھاگتی تھی بالکل ویسے ہی بل کھائے۔ مگر۔۔ پھر بھی داخلی دروازے پر وہ گول چکر کھا ہی گئ۔ اپنی دھن میں لابی میں آگے بڑھتی فاطمہ سے بری طرح ٹکرائی دونوں اس حادثے میں الٹ کر گری تھیں۔ اسکے ہاتھ سے گر کر شاپر پھٹ گیا تھا سب چیزیں بکھر گئیں مگر الف چنداں بدمزہ نہ ہوئی
سوری۔ ۔ مسکراتے ہوئے سر اٹھا کر دیکھا تو فاطمہ کو ہونٹ بھینچے گھورتا پایا۔ اسکی مسکراہٹ سمٹ گئ۔
سوری۔۔۔ وہ سنجیدہ سی ہو کر اکڑوں بیٹھ کر چیزیں سمیٹنے لگی۔
ایکسو کی سائینڈ البم اس نے جھٹ جھاڑ کر سینے سے لگا لی۔ جیسے پتہ نہیں کتنی متبرک چیز گرا دی ہے۔ فاطمہ کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی تھی۔ ایکسو کی مرچنڈائز ، ایکسو کا پین ،کسٹمائز ڈائری ، کی چین ، سیہون کے کارٹونک شکل کا اسٹف ٹوائے، انکی لائٹ اسٹک ، سیہون کے خوب صورت سے پوز والی ٹی شرٹ جس پر اسی نے تازہ تازہ ابھی سائن کر کے دیا تھا۔
وہ تیزی سے سب سمیٹ رہی تھی مگر شاپر پھٹ جانے کے باعث سب ہاتھ میں ہی اٹھا کر لے جانا پڑتا اوپر سے اسکا بیگ۔ فاطمہ نے لمحہ بھر سوچا پھر اسکی آدھی چیزیں اٹھا کر بے نیازی سے لفٹ کی جانب بڑھ گئ۔
احسان بھی احسان دھر کے کرےگی یہ بلی۔ الف نے دانت پیسے پھر چیزیں سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ فاطمہ اسکے لیئے لفٹ روکے کھڑی تھی۔ وہ اندر داخل ہوئی تو مطلوبہ فلور کا بٹن دبایا
الف نے فاطمہ کا شکریہ ادا کرنا چاہا مگر اسکے چہرے پر ناقابل فہم قسم کے تاثرات تھے اسکی ہمت نہ پڑی۔ گھر میں دونوں آگے پیچھے داخل ہوئیں۔ نوراورعزہ منے لائونج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں اسے دیکھ کر دونوں چیخ پڑیں
کیسا رہا انٹرویو تم نے دیکھا سیہون کو؟تصویر کھینچی بات کی ؟ تم تو انٹرویو میں بول ہی نہیں رہی تھیں۔
نور اور عزہ نے تابڑ توڑ حملے شروع کیئے دونوں بے حد پرجوش تھیں اور الف بھی۔
ہاں سیلفی بھی لی اور یہ دیکھو ایکسو کا تازہ ترین سائیںڈ البم۔۔
الف نے البم لہرایا تو دونوں اچھل کر کھڑی ہوگئیں پھر تینوں نے باقاعدہ دھمال ڈالنا شروع کر دیا تھا منا لائونج لگتا تھا انکے شور سے اڑ ہی جائے گا۔ فاطمہ اسکی چیزیں صوفے پر رکھتی اپنے کمرے میں آگئ۔ واعظہ اپنے بیڈ پر دراز کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی عشنااپنا گلہ بیڈ پر پھیلا ئے نوٹ گننے میں مصروف تھئ۔۔
آگئ الف؟ ہینڈز فری میں بھی شائد واعظہ تک آواز گئ تھی جبھی وہ ایک کان سے اتار کر پوچھنے لگی
ہاں۔ فاطمہ نے دھیرے سے سر ہلایا۔
تمہیں کیا ہوا ؟ واعظہ نے اسکی شکل پر بارہ بجے دیکھ کر موبائل ایک طرف رکھ دیا۔
سیہون سے مل کر آئی ہوں۔ فاطمہ کا انداز ایسا تھا جیسے ابھی رو دے گئ۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔
سیہون بہت بہت سویٹ ہےاتنا سویٹ کہ کیا بتائوں ۔۔
الف چہک رہی تھئ۔ عزہ نور اور وہ لائونج میں آلتی پالتی مارے بیٹھی سیہون کے دیئے ہوئے تحائف کا پوسٹ مارٹم کر رہی تھیں۔
گائوں جا رہا تھا اپنے۔۔۔ مینجر بار بار ٹوکے جلدی کریں۔ اس نے ڈانٹ دیا آرام سے ہمارے ساتھ تصاویر بنوائیں مجھے اور ژیہانگ دونوں کو ایکسو کی کسٹمائز شرٹس اسٹکس ڈائری اف اوپر سے جو میں شرٹ لیکر گئ تھی اسے بھی الگ سائن کر دیا اور ایکسو کی شرٹس الگ دیں ۔ ایکسو پھر ایکسو ہیں اپنے پرستاروں سے دل سے پیار کرتے ہیں ۔اف آج مجھے اتنا فخر ہوا ایکسول ہونے پر ۔۔
وہ آنکھیں میچ کر جیسے اس وقت ایکسو کے کانسرٹ میں ہی موجود تھئ۔
پتہ ہے ایکسو کی فین مینٹنگ ہے اگلے ہفتے اس میں بھی انوائٹ کیا ہمیں۔
اسکے پاس ابھی بھی بتانے کو بہت کچھ تھا۔ عزہ اور نور ہمہ تن گوش تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری وجہ سے وہ بھی پھنس چکا ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے میں اسکے ساتھ اپارٹمنٹ شئیر نہیں کر سکتی۔ مجھے اتنا گلٹ ہو رہا ہےپھر ۔ اسکی گرل فرینڈ ذرا سا شک ہونے پر اس نے یاد ہے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا تھا سائیکو بن گی تھی اسے شئیر کرنے کا سوچ کر نہ کہ میں سچ مچ اسکے بوائے فرینڈ سے شادی کر چکی ہوں وہ کیا کیا قیامت نہیں مچائے گی سوچو۔
فاطمہ ابیہا اور عشنا کے مشترکہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔ عشنا گنتی بھول چکی تھی اب آنکھیں اور منہ کھولے بیٹھی کبھی فاطمہ اور کبھی واعظہ کو دیکھتی۔
کیا واقعی؟؟ فاطمہ نے سیہون سے شادی کر لی ہے۔
حیرت کی انتہا پر وہ تصدیق کی خاطر پوچھ رہی تھی۔
فاطمہ نے ٹھںڈی سانس بھر کر سر جھکا لیا تو واعظہ نے دانت پیس کر گھورا۔
آہستہ۔یہ بات اس کمرے سے باہر نہیں جانی چاہییے سمجھیں۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
ہم نے کس کو بتانا ہے بھلا۔ عزہ برا مان گئ اتنی بار الف نے یہ بات دھرائی کہ نور بھی چڑ گئ
ایسا ہی تھا تو ہمیں نہ بتاتیں ۔۔
میرے بھی تو پیٹ میں نہیں ٹک رہا تھا۔
الف کھسیائئ۔
یار ویسے یہ سیلیبریٹیز کتنے خوش نظر آتے ہیں کون جانے اس لگژری لائف اسٹائل کی کیا قیمت ادا کرتے ہیں وہ۔
نور اداس سی ہوگئ۔
تو اور کیا۔ مینجر عوام کے سامنے کیسا میسنا گھنا معصوم بنا ہوتا ہے سیہون پر چلا رہا تھا، اور بے چارہ ائیر پورٹ سے بھوکا پیاسا آیا تھا ہم نے اسے پروگرام کے دوران اسنیکس دیئے یقین کرو سامنے سے اٹھا لے گیا کہ یہ ویٹ بڑھادیں گے اسنیکس نہیں کھانے اور جب سیہون نے کہا۔۔۔
الف کو جاتے وقت کہا گیا سیہون کا جملہ یاد آیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ژیہانگ اور وہ سیہون کو اسکی وین تک چھوڑنے آئے تھے۔
الف۔ وین میں بیٹھتے بیٹھتے سیہون کو جانے کیا یاد آیا کہ الف کو مخاطب کر ڈالا
آپکو زندگی سے کیا چاہیئے؟
الف گڑبڑائی۔
وہی سب جو سب کو چاہیئے ہوتا محفوظ مستقبل ، اچھا کیریئر پیسہ پیارا ساتھئ وغیرہ
اسکی بولتے بولتے سانس پھول گئ تھئ۔
سیہون مخصوص انداز میں ذرا سا مسکرایا
اس سب سے ذیادہ ایک انسان کو جانتی ہو کیا چاہیئے ہوتا ہے؟
وہ براہ راست اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
ذہنی و قلبی اطمینان۔۔ اور مجھے بس وہی چاہیئے۔
وہ کہہ کر ان کو الوداع کہتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا۔ پہلے سے تیار مینجر نے لمحہ بھر کی بھی دیر نہ ہونے دی جھٹ چلا دی تھی گاڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کسی صورت پاکستان نہیں جانا چاہتی ہو واپس تمہارے پاس اسکے سوا کوئی راستہ نہیں کہ تم سیہون کے ساتھ اسکا اپارٹمنٹ شئیر کرو۔
واعظہ کا انداز قطعی تھا۔
میں ایک انجان اجنبی کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ کیسے شئیر کر سکتی ہوں دماغ خراب تو نہیں ہو گیا تمہارا؟
فاطمہ غضبناک ہو کر چلا اٹھئ
آہستہ بولو۔ واعظہ نے گھبرا کر دروازے کی۔جانب دیکھا تو بند تھا پھر بھی آواز باہر جا سکتی تھئ سو دانت پیس کر بولی
“یہ سب سوچ کر ہی میں نے سیہون کا انتخاب کیا تھا۔ میں اسے سات سال سے جانتئ ہوں ہائی اسکول سے ہم دوست ہیں ۔ پیپر میرج کیلئے مناسب ماہانہ پیسے دینے سے ایک سے ایک جاب لیس لڑکا مل سکتا تھا مگر میں ان میں سے کسی پر اعتبار نہیں کر سکتی تھئ۔ سیہون کو ہائی اسکول سے صرف اور صرف اس ہی جھنڈولے بالوں والی پر کرش ہے اور اب شدید محبت۔ اگر میں نے اس سے منت سماجت نہ کی ہوتی تو وہ آج کل میں اس سے شادی کرنے والا تھا۔ اب تمہاری وجہ سے اسکی شادی چھے ماہ ٹل چکی ہے۔ جب تک وہ تمہیں طلاق نہیں دے گا وہ دوسری شادی نہیں کر سکتا ۔ اور چھے مہینے سے قبل تم دونوں طلاق فائل نہیں کر سکتے سو اب جو ہو چکاہے اسی کے حساب سے اپنا نہیں تو اسکی قربانی کا خیال کرکے اسکو مزید مشکل میں مت ڈالو پلیز۔ “
اسے چبا چبا کر بتاتے آخر میں اسکا انداز منت بھرا ہوچلا تھا۔ فاطمہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔
مجھے واپس چلے جانا چاہییے تھا میں سب کو بہت بڑی مشکل میں ڈال چکی ہوں۔
اس نے بے آواز رونا شروع کر دیا تھا۔ واعظہ اور عشنا اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات سنو ژیہانگ کس خوشی میں تمہارے ساتھ اتنا کر رہا ہے؟
لائن تو نہیں مار رہا۔۔ اسکے قصے میں مستقل ژیہانگ کی مدد اور خیال سنتے ہوئے نور کو یہ انوکھا خیال نہیں سوجھا تھا عزہ بھی یقینا یہی پوچھنے والی تھئ۔ اسکی شکل پر لکھا تھا۔ تڑ تڑ چلتی الف کی زبان رکی تھی۔ گڑبڑا کر جھٹ نفی میں زور زور سے سر ہلانے لگئ۔
نہیں کہاں۔ بس وہ اچھا والا اوپا ہے جیسے سب اوپا ہوتے۔۔ خیال کرنے والے مدد کرنے والے بس ایویں
اوپا کورین ہوتے ہیں وہ تم نے خود بتایا تھا کہ چینی ہے۔۔
عزہ نے فورا غلطی پکڑی
اوفوہ۔۔ وہ جھلا اٹھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے جن کو خاموشی سے کمرے میں بیٹھے بغور سنتے دیکھ کر طوبی کے اندر سرشاری سی دوڑ گئ تھی۔ کارپٹ پر صوفے سے ٹیک لگائے کشن بازو میں لیئے وہ مگن تھا۔ ۔ گرم گرم چائے کا بھاپ اڑاتا کپ ساتھ چکن نگٹس اسکے سامنے رکھتے ہوئے اس نے دل ہی دل میں اسکی معصوم صورت کی بلائیں لے ڈالیں۔
اب سب چھوڑو یہ کھا لو پہلے۔
طوبی کے کہنے پر وہ چونکا۔ ٹی وی پر جو چل رہا تھا اسکو تو شائد اس نے سنا بھی نہیں وہ تو کسی اور گہری سوچ میں گم تھا۔ گڑبڑا کر وہ سیدھا ہوا۔ طوبی نے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بند کر دیا۔
نونا آپ بھی لیں۔ معاف کیجئے گا۔
اس نے طوبی کو بھی کھانے کی پیشکش کی پھر رمضان کا خیال آیا تو شرمندہ سا ہوگیا۔ مگر طوبی نے اسکی پلیٹ سے نگٹس اٹھا کر منہ میں ڈال لیئے
روزہ کھل چکا ہے۔ تم اتنے غور سے مگن سن رہے تھے کہ افطاری کے وقت تمہیں بلانے آئی تو پھر تمہیں مخاطب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
طوبی نے مسکرا کر بتایا۔ تو وہ خجل سا ہوگیا۔
وہ ہایونگ چلے گئے مسجد۔ اس نے جھجکتے ہوئے طوبی کے شوہر کا پوچھا۔
ہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے گئے ہیں۔ تمہیں کوئی کام تھا۔ ہے جن نے کچھ سوچتے ہوئے نفی میں سر ہلا دیا۔
رمضان کے کتنے دن رہ گئےہیں۔ اس نے اگلا سوال داغ دیا تھا۔
تین یا چار روزے رہ گئے پھر عید ۔ تم ہمارے ساتھ عید منائو گے نا؟ میں تمہارے لیئے اپنے ہاتھوں سے کرتا کاڑھ رہی ہوں بس مکمل ہونے ہی والا ہے تم وہ پہن کر جب عید ملو گے تو تمہیں تمہاری پسند کی عیدی دوں گی۔
طوبی نے پیار سے دیکھتے ہوئے اسے کہا تو وہ اسکی محبت پر مسکرا کر سر ہلانے لگا۔ طوبی کو خیال آیا۔
لیکن سنو تمہیں کیا پسند ہے؟ میں بھی تمہاری بڑی نونا ہوں بلا تکلف فرمائش کرو مجھ سے سمجھے۔ وہ لاڈ بھرا رعب جھاڑ رہی تھی۔ ہے جن خوش سا ہوگیا
آپ واقعی جو میں مانگوں گا دیں گئ
ہاں کیوں نہیں۔ طوبی نےلمحہ بھر کا بھی توقف نہیں کیا تھا۔ ہے جن کی آنکھین جانے کیا سوچ کے چمک اٹھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتام جاری ہے

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *