قسط 9
دروازہ کھٹکا کر وہ تھوڑا سا ہٹ کر کھڑی ہو گئ تھی۔ کیونکہ دروازے پر ایک بڑی سی مکڑی لٹک رہی تھی۔
مانا گھر کے باہر کا حصہ ہے مگر صفائی ہی کرلیتا ہے بندہ۔ دیوار سے لگ کر فاطمہ نے کوفت سے سوچا تھا۔
بیل دیئے تقریبا 5 منٹ ہو چکے تھے اس نے عشنا کے موبائل میں وقت دیکھا۔ وال پیپر پر لی من ہو مسکرا رہا تھا
اف۔ ایک یہ الگ مصیبت۔ وہ جھلائی صبح کا واقعہ ذہن میں تازہ ہوا۔۔
اسکے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر بیڈ پر گر چکا تھا مگر وہ اتنی خوش قسمت نہ تھی کہ بیڈ پر گرتی نتیجتا بیڈ کا کنارا پیٹ میں لگا تھا گھٹنے سیدھا زمین میں۔ آہ۔۔ وہ کراہ کر گھٹنا سہلاتی بمشکل اٹھی ٹٹول کر فون کان سے لگایا
انی خیریت تو ہے چیخی کیوں؟ عشنا پریشان پوچھ رہی تھی فاطمہ بھناگئ۔
تم بتائو میں خود کو کیسے کال کر رہی ہوں اور تمہارا موبائل میرے ہاتھ میں کیا کررہا؟
فاطمہ بھنائی تو وہ کھسیا کر بولی
وہ صبح نکلتے ہوئئ غلطی سے سائیڈ ٹیبل سے آپکا فون اٹھا لائی سوری۔ میں بس کلاس آف ہوتی ہے تو گھر آتی ہوں ہاں وہ سیہون بار بار فون کر رہا ہے کہہ رہا کہ آپ سے کام ہے میں نےاسکا نمبر میسج کیا ہےدیکھ لیں ۔۔ کہتے ہی ٹھک بند فون ۔۔
ہیلو ہیلو۔۔ عشنا۔ ہائیں۔ فاطمہ موبائل گھور کر رہ گئ۔
پیٹرن بنا ہوا تھا اسکے موبائل پر درجن دفعہ بھی دیکھ لے تو کھول نہیں سکتی تھی پے در پے تین میسج آئے ۔
اس نےجھلا کر اسے فون ملانا چاہا اپنے نمبر پر تو پیٹرن منہ چڑانے لگا۔۔
نفسیاتئ ۔۔ نفسیاتئ ہیں سب یہاں کوئی نارمل نہیں۔ وہ بیڈ کا سہارا لیکر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفسیاتی نہیں کسی پاگل کا کام ہوسکتا۔ میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔ جق میرے بال کاٹ دیئے۔ اب میں یونیورسٹی کیسے جائوں گی اس ہیئر اسٹائل کے ساتھ۔
آئینہ دیکھ دیکھ کر نور کے بین جاری تھی۔
تم تو عبایا کرکے جاتی ہو کسی کو کیا پتہ چلنا ۔ عروج جمائی لیتی ہوئی اپنے بیڈ کی جانب بڑھی تو نور نے بھی اپنا کدو جیسا سرہلایا۔
وہ تو ٹھیک مگر گھر میں تو عبایا نہیں پہن کر پھرتی ہوں میں تم لوگ تو دیکھو گی، مزاق اڑائیں گی سب میرا۔ آن ۔۔۔۔۔۔
دیکھو کیسی لگ رہی ہوں ۔۔ نور نے پلٹ کر الف سے پوچھا تو وہ اپنے موبائل کو دیکھتے ہوئے بڑ بڑائی
عجیب۔بلکہ عجیب ترین
عروج اور نور نے باقائدہ منہ کھول کر اسے دیکھا تو وہ اپنے ہی دھیان میں موبائل انہیں دکھا کر بتانے لگی
دیکھو کیا عجیب اسکرہن شاٹ بھیجا ہے فاطمہ نے۔ ایل اور اے ساتھ 1 2 3 بھی سمجھ نہیں آیا۔
فاطمہ گھٹنا سہلاتی کمرے میں داخل ہوئی
یار عروج میرا نمبر ملائو عشنا کی بچی میرا موبائل لے گئ ہے اپنا چھوڑ گئی ہےاور اسکے موبائل میں پیٹرن لگا۔۔
بولتے بولتے نور پر نظر پڑی تو باقی جملہ منہ میں رہ گیا۔ بے ساختہ ہی دو قدم پیچھے ہو کر دل پر ہاتھ رکھ گئ
تمہیں کیا ہوا۔ ۔۔
آں ہاں۔۔۔۔۔۔۔نور نے دوبارہ تان بلند کی جبکہ الف سمجھ کر اپنا موبائل اسکو دکھانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھڑی کھڑی تھک گئ تو اپنا بیگ دیوار سے لگا کر اسی پر بیٹھ کرعشنا کے موبائل میں کوریائی کچھ جملے جو اس نے عروج کی مدد سے ڈائونلوڈ کی گئ ایپ سے سیکھے تھے انکو دھرانے لگی۔ جو اسے ان کونسلروں کو سنانے تھے تاکہ وہ شک نہ کریں اس پر۔
پھر جانے کب آنکھ ہی لگ گئ۔
اپنی ہی دھن میں تیز تیز قدموں سے چل کر آتا سیہون اپنے فلیٹ کے آگےپڑی بوری سے ڈر کر دو قدم پہچھے ہو۔
آہش۔ ۔۔۔۔
سیہون کے ساتھ آئی خاتون بھی اچنبھے سے دیکھ رہی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونیورسٹی سے نکلتے وقت موسم ابر آلود تو تھا ہی اب باران رحمت بھی برسنے لگی۔ اپنے اسٹاپ پر اتر کر اس نے شکر کیا کہ پھوار تیز نہیں پاس چھتری تک نہیں تھی اسکے۔
میں بھی کورین آہجومہ بن گئ ہوں۔ چھتری لیئے بنا ایسے موسم میں نکل آئی ہوں۔ مجھے تو قسمت بھی ایسی کہ کوئی اوپا نہیں ٹکرنے کا بس یہ چھوٹا بلا پیچھے پڑا ہے۔
اس نے بیگ کو کندھے پر بدلتے ہوئے موبائل کو گھورا۔
انی میں اسٹاپ پر ہوں آپ کہاں ہیں؟
ہےجن کا پیغام۔۔
جھوٹا۔وہ چلتے چلتے اسٹاپ سے تھوڑا آگے ہو گئ تھی سو مڑ کر دیکھا تو اسٹاپ پر بس ایک ادھیڑ عمر عورت بارش سے بچنے کو شیڈ میں بیٹھی تھی۔
کوئی ضرورت نہیں اسٹاپ پر رکنے کی میں گھر پہنچنے والی ہوں۔
اس نے میسج لکھا پھر جھوٹ لگا تو مٹا کر موبائل عبایا کی جیب میں ڈال لیا۔ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی وہ ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز اپنی دھن میں چل رہی تھی۔ مین روڈ سے اپنی عمارت کی جانب ذیلی سڑک پر مڑتے ہوئے اس نے بالکل بھی دھیان نہ دیا کہ آج موسم کی وجہ سے کچھ ذیادہ ہی سنسانی سی تھی۔۔
ہائے کتنے دن ہو گئے ہم کہیں گھومنے نہیں گئے۔ عزہ اداس سی ہوگئ۔ رمضان میں کسی میں ہمت ہی نہیں ہوتی بس عید پر واعظہ سے کہوں گی ہم دوبارہ سمندر کنارے جائیں گے۔
اس نےسوچ کر چٹکی بجائی۔
سارے رمضان ثواب کما کر عید پر سمندر کنارے جا کر گناہوں کی ٹوکری دوبارہ بھر لینا۔
واعظہ کا خیالی پیکر اسکے کندھے کے پاس سے بولا تھا۔
اوہ۔ وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔ عید پر تو نہیں چلو پھر عید پر امیوزمنٹ پارک چلیں گے۔ اس نے فورا خیال بدلا اور فون نکال کر اس خیال کو سکھیوں کے ساتھ بانٹنے لگی مگر فون پر دس کے قریب پیغامات تھے۔ سب کے سب ہے جن کے۔
نونا کہاں ہو ؟
مجھے ایک لڑکی ۔۔
اس نے اتنا ہی پڑھا تھا کہ کسی نے اسکے منہ پر سختی سے رومال جمایا وہ بھونچکا سی ہوئی مگر رومال میں یقینا بے ہوشی کی دوا تھئ کہ کیا اسکا ذہن تاریکی میں ڈوبنے لگا۔ مگر مکمل بے ہوش ہونے سے قبل اسے ہے جن کے چیخنے کی آواز آئی تھی اسے ہی پکار رہا تھا وہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکی اسے سیدھا اندر لے آئی تھی۔ اندر ماحول ہی کچھ اور تھا ایک جانب بڑا سا اسٹوڈیو جسکا سیٹ اسے جانے کیوں جانا پہچانا لگا۔ وہ پہچان لیتی اگر اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی وہ آہجومہ اسے موقع دیتی۔ اس نے سیدھا اسے لابی میں گھما پھرا کر ایک بڑے سے دفتر میں لا کھڑا کیا تھا۔ ایک خوبصورت سی کوریائی آہجومہ شان سے کرسی پر براجمان فون پر بات کررہی تھی اسے دیکھ کر کچھ کہہ کر فون جھٹ بند کر دیا۔
یہ لیں آگئ ہیں یہ موصوفہ۔ وہ آہجومہ تعارف کراایسے رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو پکڑو جانے نا دینا۔
آننیانگ۔ واعظہ نے کوریائی انداز میں جھک کر سلام کیا۔
جوابا وہ مسکرا کر جواب دیتے ہوئے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگی۔
دو کپ چائے لے آئو۔
آندے۔ وہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔ کوریائی قہوہ پی کر اسے منہ کا ذائقہ خراب کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ دونوں خواتین اسے حیرت سے دیکھنے لگیں تو اس نے جلدی سے بات بنائی۔
وہ آج گرمی ہے نا تو جوس پسند کروں گی۔
اس نے کہا تووہ خاتون مسکرا دیں۔ اپنی اسسٹنٹ کو جوس لانے بھیج کر فرصت سے اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔
کبھی ایکٹنگ کی ہے؟ در اصل تمہاری ایجنسی نے تمہاری جو تفصیلات بھیجی تھیں اس میں تمہارے اپنے ملک میں کافی ڈرامے کرنے کا درج تھا۔عرب انٹرٹینمنٹ میں شائد ابھی بھی کوئی ڈرامہ چل رہا ہے تمہارا۔
جی واعظہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
میں عربی نہیں ہوں نہ ہی کوئی اداکارہ۔ میرا خیال ہے آپکو غلط فہمی ہوئی ہے کوئی۔ میں تو یہ ٹیکو کیئر میں انٹرویو دینے آئی ہوں۔
اس نے مزید کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کیلئے کارڈ نکال کر انکی جانب بڑھایا۔
آہجومہ نے اچنبھے سے دیکھتے ہوئے کارڈ پکڑا۔
ٹیکو کیئر۔مگر یہ تو ٹیکو کیئر کا دفتر نہیں۔ یہ تو ٹی سی این کمپنی کا دفتر ہے۔ مشہور کیبل ٹی وی نیٹ ورک
جی؟
واعظہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے جن کی سانس پھول رہی تھی۔بھاگم بھاگ اسٹاپ پر پہنچنے کی وجہ سے۔چند لمحے تو سانس بحال کرنے میں ہی لگ گئے اسے۔ پیٹ میں بل پڑ رہے تھے وہ رکوع کے انداز میں جھکا سانس بحال کر رہا تھا۔۔اسٹاپ پر عزہ نہیں تھی بس ایک ادھیڑ عمر خاتون بیٹھئ تھیں
آہجومہ پندرہ نمبر۔۔ بس ۔۔۔۔۔آہ۔۔۔ آچکی ہے؟؟؟؟
پھولی سانسوں سے اس نے بمشکل پوچھا تھا۔
خاتون نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔
سیکی۔ شٹ۔ وہ کندھے پر بیگ ٹھیک کرتا سیدھا ہوا۔
متلا شی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو وہ اسے موڑ مڑتی دکھائی دی۔
آہش۔۔ اس نے دوبارہ دوڑ لگا دی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واقعی ۔۔۔
پھر منہ کھول کر معاہدے کا کاغذ پڑھنے لگی۔
یعنئ ایک قسط کے ملین وون۔ یعنی۔ وہ حساب کتاب کرتے ہی چکراسی گئ۔ نفیس سے فرنیچروالے اس بڑے سے دفتر میں وہ اور آہجومہ جنکا نام لی سونگ تھا بیٹھی تھیں۔ روایتی باس کی کرسی کی بجایے وہ اسے لیکر نرم سے صوفے پر آبیٹھی تھی ۔ اپنا مدعا بیان کرکے اب مسکرا کر اسکے جواب کا انتظار کر رہی تھی۔
پر میں تو یہاں۔۔ اس نے تھوک نگل کر کچھ کہنا چاہا مگر اس لڑکی نما عورت جو کم ازکم بھی اسکی امی کی عمر کی ہوگی مگر اتنی نازک اور حسین ۔۔
میں جانتی ہوں مگر مجھے عربی نقوش کی لڑکی چاہیئے ہمارے ڈرامے کی ڈیمانڈ ہے یہ ۔ہم عربی فوک داستان کا اور کوریائی فوک داستان کا فیوژن بنا رہے ہیں۔ ہم یوں تو کسی بھی عربی اداکارہ کو چن لیتے لیکن ہمیں نیا چہرہ اور انگریزی زبان پر عبور رکھنے والی لڑکی درکار ہے۔ تم سوچ لو پیسے بہت ملیں گے۔ کم ازکم ایک انٹرنی سے تو ذیادہ۔
تم فورا فیصلہ نہ کرو۔ یہ کمپنی ہمارے دفتر کے بالکل مخالف مغربی سمت میں ہے۔چاہو تو وہاں بھی قسمت آزما سکتی ہو۔ یہ میرا کارڈ ہے۔ مجھے کل شام تک سوچ کر بتا دینا۔
وہ نرم سے انداز سے اسے کارڈ پکڑاتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
کوریا کی چوٹی کی ہدایت کارہ ٹی سی این کی مینجنگ ڈائریکٹر۔ اور ڈرامہ ںیٹ فلکس کے تعاون سے بن رہا ہے۔
اسے کارڈ دیکھ کر ہی اپنا آپ کوریا کا سپر اسٹار لگنے لگا تھا ریڈ کارپٹ پر اونچئ ایڑھی کی سینڈل پہن کر ٹک ٹک کرکے لمبی سی سرخ میکسی میں چلتی واعظہ اپنے پرستاروں کو ہاتھ ہلا ہلا کر جواب دے رہی تھی۔ اسکے بال کٹ چکے تھے چھوٹی سی باب کٹنگ اور ماتھے پر فرینج ۔۔
اس نے پریشانی سے پیشانی چھوئی۔ اسکے بالکل مقابل ہے جن آکر ایک لمبی سی بالوں کی لٹ لہرا رہا تھا۔
بس میں زور دار جھٹکا لگنے پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔
اس نے چونک کر کھڑکی کے باہر دیکھا تو اسکا اسٹاپ آچکا تھا۔وہ جھٹ اپنا بیگ سنبھالتی بس سے اتری تھی
عزہ ذیادہ ہی سوچتی ہے۔ ان بچوں کے اسکولوں میں فینسی ڈریس شو ہوتے رہتے ہیں لڑکی بن رہا ہوگا تو ایکسٹینشنز خرید لایا ہوگا۔ کتنی لمبی کہانی لکھ بھیجی مجھے ہے جن نے جانے کس کے بال کاٹ دیئے۔
اسے سوچ کر ہی ہنسی آگئ۔بھلا ہے جن ایسا کر سکتا؟وہ پاگل تھوڑی ہے۔
اس نے ذرا سا سر اٹھایا تو وہی ہے جن پاگلوں کی طرح سڑک پر بھاگتا دکھائی دیا۔
یہ ۔ اسے لگا مغالطہ ہوا ہے اسے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے جن کو بھی لیکر جائییے گا میں اسے بلا کر لاتی ہوں
میاں کو نہا کر سفید کڑ کڑاتا کرتا پہن کر نکلتے دیکھ کر اس نے دل ہی دل میں بلائیں لے ڈالیں تھیں۔
کنگھئ کرتے دلاور کے ہاتھ اسکی بات پر ٹھٹکے
میں لے تو جاتا ہوں مگر اسے نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کروں گا آج بھئ۔ وہ وہاں جا کر قرآن کا انگریزی ترجمہ کھول کر پڑھتا رہتا ہے جتنی دیر میں نماز پڑھتا ہوں اور کل تو سورہ النساء پڑھتے اتنا مگن تھا کہ میں نے اسے چلنے کو کہا تو کہتا ہے آپ جائیں میں بعد میں خود چلا جائوں گا۔
وہ ہرگز بھی متاثر ہونے والے انداز میں نہیں بتا رہے تھے مگر طوبی بے طرح خوش ہوگئ تھی۔
ہے جن کو میں پکا مسلمان بنا لوں گی۔ دیکھنا آپ۔ طوبی نے عزم سے دلاور کو بتایا۔
مسلمان ہونا صرف یہ نہیں کہ وہ تمہارے ساتھ مروت میں خطبہ سن لیتا یا میرے ساتھ تمہارے زبردستی بھیجنے پر مسجد چلا جاتا ہے۔ ایک پورا نظام زندگی ہے طوبی۔ یہاں کے بچے جس آزادانہ زندگی کے حامل ہیں وہ کیونکر مسلمان ہوکر پابندیوں سے پر زندگی اختیار کرے گا؟
دلاور نے اسکے سر پر انڈوں کی ٹوکری توڑی تھی
ہاں تو مسلمان باپ ہے اسکا اسکی رگوں میں خون تو مسلمانوں کا ہے۔ اس کا دل بدل سکتا ہے۔
طوبی کا انداز ضدی ہوا۔
یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ اس باپ کو خیال کرنا چاہیئے نا جس نے اپنی اولاد کو چھوڑ رکھا ہے نہ بیٹی پاس نہ بیٹا۔مجھے تو یہ فیملی ہی سمجھ نہیں آئی اگر ماں مسلمان نہیں ہوئی تھی تو شادی کیوں کی؟ دو بچے بھی ہوگئے ماں کا دل نہ پگھلا بیٹی کیلئے وہ باپ کو دے دی خود بیٹا رکھ لیا ۔ باپ کو فرق بھی نہیں پڑا بیٹا غیر مسلم ہوگیا باپ سے الگ ہو کر کیا انڈین ڈرامے میں ٹوئسٹ ہوتے ہیں جو انکی کہانی میں ہیں۔
دلاور الجھن بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔ مگر طوبی نے جیسے کان پر سے مکھی اڑائی
ایک۔یہی مسلئہ ہے آپ مردوں میں ہر بات پر شک رہتا ہے ہر کسی کو تفتیشی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ بھئ مرد تو شادی کر سکتے ہیں غیر مسلم سے بھی۔
طوبی نے کندھے اچکائے
غیر مسلم سے نہیں صرف اہل کتاب سے وہ بھی جو کافر نہ ہوں ۔اور کفر ہوتا ہے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا۔ اور۔فی زمانہ ایسا عقیدہ رکھنے والے اہل کتاب بھی ناپید ہو چکے ہیں۔
دلاور نے جتانے والے انداز میں تصحیح کی تو کمرے سے نکلتی طوبی نے سر جھٹکا
بھئی جو بھی ہو ہے جن کے والد نے جو بھی غلطی کی مجھے سروکار نہیں مجھے تو اس بچے میں سچ مچ اپنا چھوٹا بھائی نظر آتا ہے میں اسے جہنم کا ایندھن تھوڑی بننے دوں گی۔
اپنے دل ہی دل میں مصمم ارادہ کرتی وہ اپنے فلیٹ سے باہر نکل آئی رخ سیدھا واعظہ کے اپارٹمنٹ کی جانب تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور سے اس نے اس کالے شیشوں والی واکس ویگن کو نہایت دھیمی رفتار سے عزہ کے موڑ مڑتے ہی اسٹارٹ ہوتے اور اسی موڑ کی جانب مڑتے دیکھا تو قدموں میں بجلی کی سی تیزی دوڑ گئ۔ پوری جان لڑا کر وہ برستی بارش کی پروا نہ کرتے ہوئئ دوڑ پڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتام ۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *