قسط بارہ
وہ کمرے میں جانے کیلئے اٹھی تھی۔ ابھی کمرے کا دروازہ کھولنے کیلئے ہینڈل پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ وہ خاتون آندے آندے کہتی ہوئی آئیں۔ اس نے مڑ کر سیہون کو دیکھا تو وہ کندھے اچکا گیا۔ اسے دروازے پر روک کر سیہون کو بھی اسکے پاس لا کھڑا کیا تھا انہوں نے پھر باورچی خانے کی درازیں کھول کھول کر جانے کیا تلاشتی رہیں پھر کچھ نہ کچھ مل ہی گیا انہیں تو خوشی خوشی دوڑی چلی آئیں۔
ایک طشتری میں تھوڑے سے پھول چراغ اور جانے کونسی جڑی بوٹیاں رکھ کر وہ اسکی نظر اتار رہی تھیں
تلسئ تو اس وقت گھر سے نکلی نہیں چراغ تو بدھا کے مندر سے کل واپسی پر ایک بچ کر آگیا تھا۔ مگر میری اچھی نیت کا خیال رکھنا میں بس تمہاری روایت کے مطابق تمہارا استقبال کرنا چاہ رہی ہوں۔
خاتون اسے جانے کیا کہہ رہی تھیں۔
سیہون نے ترجمہ کیا۔ تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ مڑ کر پھر ہینڈل کی جانب ہاتھ بڑھایا توایک اور آندے سنائی دیا۔ اس نے سخت چڑ کر سیہون کو دیکھا۔
ایک پلاسٹک کے چھوٹے سے پیالے میں وہ اب چاول ڈال کر لائی تھیں اسے دروازے کی چوکھٹ میں رکھ دیا۔
گھر میں داخل ہوتے وقت تو میں یہ رسم پوری نہ کر سکی لیکن اب تم لوگوں کمرے میں داخل ہونے لگے ہو تو اسے ٹھوکر مار کر رسم پوری کر لو۔۔
وہ کلش گرانےوالی رسم پوری کرنا چاہ رہی تھیں۔ سیہون نے گہری سانس لیکر ترجمہ کیا۔
کیا میں یہ چاولوں کے پیالے کو ٹھوکر ماروں ۔؟ میرے خدا اتنی بڑی رزق کی بے حرمتی نہیں کر سکتی میں۔۔ فاطمہ بدک گئ۔ سیہون تو سمجھا تھا کہ وہ آرام سے رسم پوری کرکے کمرے میں چلی جائے گی جان چھٹ جائے گی اسکی مگر یہاں تو وہ بدک کر کھڑی ہوگئ تھی
کیا کہہ رہی ہے یہ۔ آنٹی کو دستی ترجمہ درکارتھا۔
ایک تو وہ تمہیں بہو سمجھ کر تمہاری تہزیب و رواج کے مطابق استقبال کرنا چاہ رہی ہیں اور تم نخرے دکھا رہی ہو۔ وہ بھنا گیا۔۔
بالکل نہیں یہ ہماری تہزیب و رواج نہیں کہ رزق کو ٹھوکر ماریں کبھی چاول تو چھوڑ نمک کا دانہ بھی زمین پر گر جائے امی ڈانٹ کر کہتی تھیں اٹھائو نہیں تو قیامت کے دن تو پلکوں سے چننا پڑ جائے گا۔ نا کہ میں روزے میں چاولوں کو پیروں سے ٹھوکر ماروں۔
اف۔ سیہون بال نوچنے کو آگیا۔
اور یہ بتائو تمہاری امی کو یہ سب کیسے پتہ ہے؟ پچھلے جنم میں ہندونی تو نہیں تھیں۔ فاطمہ کو شک گزرا۔
ہرگز نہیں یہ انکی پہلی زندگی ہے۔ سیہون نے بھنا کر جتایا
پھر؟ فاطمہ کو جواب درکار تھا۔ اب سہولت سے خالص پاکستانی پنجابن کے انداز میں کمر پر ہاتھ رکھ کر دوبدو ہوئی۔
آہموجی انڈین فلمیں اور ڈرامے کورین سب ٹائٹلز کے ساتھ بہت شوق سےدیکھتی ہیں۔ ہمارے گائوں میں ایک لوکل سینما ہے جس میں وہ فلموں کو کورین سب ٹائٹل اور کبھی کبھار ڈبنگ کے ساتھ بھی دکھاتے ہیں۔انڈین فلمیں بہت پسند ہیں انکو وہاں سب کا مل۔جل کر ایک۔ساتھ رہنے کا ماحول بہت پسند ہے۔ اسلیئے وہ تمہیں خوش کر دینا چاہتی ہیں۔
سیہون چہرے پر مسکراہٹ سجائے انگریزی بول رہا تھا۔ خاتون کو یہی تاثر جا رہا تھا کہ دونوں یونہی آپس میں کوئی بات کر رہے ہیں۔
کرو نا۔ خاتون نے پھر اسے ٹھوکر مارنے کو کہا تو وہ مناسب الفاظ میں منع کرنے لگی تھی کہ
میں کر دیتا ہوں۔ سیہون نے کہتے ہوئے ٹھوکر مار کر کلش گرانا چاہا بروقت فاطمہ نے تائیکوانڈو کی ٹرک آزما کر ٹانگ اڑا کراسکی پنڈلی میں زوردار لات مار کر اسکی ٹانگ روک دی وہ منہ کے بل گرتے بچا تو خشمگیں نظروں سے گھورنے لگا۔
میں رزق کو ٹھوکر مارنے نہیں دے سکتی سمجھے۔۔ اس نے دانت کچکچا کر کہا پھر یکسر بدلے ہوئے نرم سے تاثرات کے ساتھ خاتون کی جانب پلٹی۔
یہ سب کی ضرورت نہیں بلکہ آپ آج یہاں رہیں گی تو انہی چاولوں سے آپکو اپنے ہاتھ کا بہترین پلائو بنا کر کھلائوں گی۔
اس نے پیالہ اٹھا کر بہت تمیز سے انکو تھماتے ہوئے کہا تھا۔
سیہون نےترجمہ کیا تو انکی آنکھیں جھلملا گئیں ۔
سر ہلا کر جیسے انہوں نے اجازت دی جھٹ فاطمہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور سکھ کا سانس لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کچھ بھی یاد نہیں میں نے تو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں کسی نے پیچھے سے میری ناک پر رومال رکھا تھا اور میرا زہن مائوف ہو گیا تھا۔
عزہ کا بیان پولیس اہلکار ریکارڈ کر رہے تھے۔ وہ سب ہےجن کے کمرے میں ہی موجود تھے۔ عروج ساری رات کی شفٹ لگا کر فی الحال صوفے پر گری ہوئی تھی ۔ ہے جن بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا ساری رات کے آرام کے باعث وہ اب کافی بہتر لگ رہا تھا۔ عزہ بھی صبح ہی اٹھی تھی۔ واعظہ اور عزہ ہےجن کے پاس ہی کھڑی تھیں۔
اہلکار نے ہنکارہ بھرا۔ پھر اگلا سوال داغ دیا
ہمیں جائے وقوعہ سے ایک نقاب ملا ہے۔ بھاگتے ہوئے کسی کا گرا تھا ۔ اسکی شکل آپ تینوں میں سے کسی نے دیکھی۔؟
میں تو ایک سے بھڑا ہوا تھا ہاں واعظہ نونا نے جب دوسرے کو ماراتو اسکے منہ سے نقاب گرا تھا ۔ میں نے جب اسے دیکھا تو وہ اپنے اپر سے چہرہ ڈھانپ چکا تھا مگرمجھے یقین ہے انہوں نے دیکھا ہے اسکا چہرہ۔
ہے جن نے کہا تو عزہ اور دونوں اہلکار چونک کر اسکی جانب متوجہ ہویے۔ واعظہ گڑبڑا سی گئ۔
مگر انہوں نے تو اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے شکل بھی نہیں دیکھی۔ اہلکار کھردرے سے انداز میں بولا۔ واعظہ کا رنگ فق ہوگیا تھا۔
آپ نےتو دیکھا ہے نا آپ پہچان لیں گی نا نونا۔ ؟ ہے جن شستہ ہنگل میں اس سے مخاطب تھا۔اسکا رنگ واضح طور پر بدلا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حد ہے کیا مصیبت مول لے لی ہے میں نے۔
اس نے جھلا کر اپنا پرس بیڈ پر پھینکا۔ اور خود باتھ روم میں گھس گئ۔ منہ پر خوب چھپاکے مار مار کر غصہ ٹھنڈا کیا۔
ایک کے بعد ایک۔ اوپر سے یہ کورین انڈین ڈراموں کو دیکھتے ہیں مطلب کوئی آخری حد ہے حماقت کی۔ ہم پر تو زبان ایک ہونے کی وجہ سے ہندوستانی مواد مسلط رہا یہ کس خوشی میں گائو ماتا، کلش سیندور جانے کیا کیا سیکھ رہے ہیں۔ حد ہوگئ انڈین فلمیں یہاں چل رہی ہیں۔ پاکستانی پتہ نہیں کہاں سوئے پڑے وے ۔ ہمارے ڈرامے چلیں تو اس سب بکواسیات کو بھول جائیں۔ وہ بڑ بڑاتے ہوئے منہ جھاگوں جھاگ کر کرکے مل رہی تھی۔
پاکستانی ڈرامے دیکھے ہوتے تو یوں راتوں رات بیٹے کے بیاہ رچانے اور بہو لا دینے پر بہو کی آرتی اتارنے کی بجائے اسے دھکے دے کر باہر نکالتیں کہاں کلش گروا رہی ہیں مجھ سے۔۔اور بیٹے کا تو فٹا فٹ اپنی بہن کی بیٹی سے نکاح پڑھوا دینا تھا۔ویسے کوریا میں دو شادیوں کی اجازت تو نہیں۔۔
منہ پر چھپاکے مار کر آئیںے میں چہرہ دیکھا تو ٹھنڈے پانی سے چہرہ جم کر سفید پڑ چکا تھا سیہون کی رنگ کے حساب سے بہن ہی لگ رہی تھی اب
کہاں سے میں انڈین لگی انکو اتنی تو گوری سی ہوں۔۔
۔۔ وہ چند لمحے خود کو دیکھتی ہی رہ گئ۔ ایک چھوٹی سی ہاتھ میں پہننے والی گھڑی آئینے کے نیچے کارنس پر پڑی تھئ۔ اس نے اٹھا کر دیکھی تو برانڈڈ قیمتی رسٹ واچ تھئ۔مگر وقت ابھی برا ہی بتا رہی تھی سوا سات۔ قریبا آدھا گھنٹہ تھا۔۔افطار میں۔
بھوک لگ رہی ہے اب تو۔ افطار کر کے ہی اب نماز پڑھوں گی۔وہ جسمانی سے ذیادہ ذہنی طور پر تھکن سے نڈھال ہوئی وی تھئ۔
افطارئ بنائوں جا کے؟ وہاں تو اس وقت کوئی نہ کوئی بنا چکی ہوتی ہے افطاری۔ وہیں رہتی اگر پتہ ہوتا کہ آج یہاں آنٹی آرہی ہیں۔وہ خود پر ترس کھاتی باہر نکلی سیہون بیڈ پر کہنی آنکھوں پر ٹکائے لیٹا ہوا تھا۔
اب تم کیا کر رہے ہو یہاں۔ ؟ جھلاہٹ تو سوار تھی ہی ۔ اتنی زور سے چیخی کہ سیہون گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
کیا مسلئہ ہے تمہارے ساتھ آرام سے بات نہیں کر سکتی ہو؟۔ وہ بھی بگڑکر بولا
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اسکا انداز ہنوز تھا
اپنے کمرے میں آرام کر رہا ہوں اور کیا ۔
وہ دوبارہ دراز ہو گیا۔ آنکھیں بھی بند کر لیں
تو پھر میرا کمرہ کونسا ہے ؟ بتائو میں وہاں چلی جاتی ہوں۔
فاطمہ نے کہا تو وہ چند لمحے آنکھیں بند کیئے کیئے پرسکون ہوتا رہا پھر آنکھیں بند کیئے کیئے ہی بولا
دو ہی کمرے ہیں اس گھر میں دوسرے میں آہموجی ہیں۔ وہ کل شام چلی جائیں گئ تو اپنا سامان وہاں رکھ لینا۔
اور آج ؟ ہم دونوں ایک کمرہ شئیر کریں گے؟ دماغ تو نہیں خراب ہے تمہارا۔ میں ایک اپارٹمنٹ شئیر کرنے پر بالکل راضی نہیں تھی تمہارے ساتھ کجا ایک کمرے میں ناممکن۔ میں ایک منٹ یہاں نہیں رکوں گئ۔ تمہاری آہجومی ۔۔۔۔
وہ تن فن کرتی اپنا بیگ اٹھانے لگی تو وہ ساری برداشت و تحمل ایک طرف رکھ کر گرجا
اسی لیئے صبح سے بار بار فون کرتا رہا تھا کہ تم آج وہیں رہو آج آہموجی آرہی ہیں۔ مگر تم نے ایک بار بھی فون ریسیو نہیں کیا ایک اور نمبر میسج کیا تم نے اس پر الگ میسج بھیجا مگر جواب دور تم الٹا مجھے سرپرائز دینے یہاں موجود تھیں۔
اسکے بیگ اٹھاتے ہاتھ تھمے۔ عشنا کا خطرناک سا پیٹرن تصویر دیکھ کر تو اس نے کھول لیا تھا مگر اسکا پیغام ہنگل میں تھا یقینا یہ سیہون کی غلطی تھی۔ ابھی انگریزی میں بھیجا تو اس نے پڑھ لیا تھا مگر اس سے قبل والا میسج دیکھ کر اسے تو یہی لگا کہ بلا رہا ہے سو عشنا کو بتا کر وہ بھاگم بھاگ یہاں آپہنچی تھی۔
اس نے موبائل نکالا دو تین غلط کوششوں کے بعد اسکا موبائل انلاک ہو ہی گیا تھا۔ سو اسکا پیغام نکال کر موبائل اسکی جانب بڑھا دیا۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتا موبائل۔تھام کر دیکھنے لگا۔ ایک پیغام ہنگل میں دوسرا انگریزی میں تھا۔
چھے سو۔۔ وہ کہتے کہتے رکا پھر انگریزئ میں بولا
آئیم سوری۔ مگر پلیز میری مجبوری سمجھو۔میں اپنی آہموجی کا دل نہیں دکھا سکتا۔ انہوں نے آہبوجی کے بعد بہت مشقتوں سے مجھے اور چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش کی ہے۔ مجھ سے انکو بہت امیدیں ہیں۔یہ انکا بے لوث پیار ہی ہے جو میری اچانک بیوی کو اتنا مان دے رہی ہیں۔تم آج کسی طرح گزارا کر لو۔ میں ادھر زمین پر بستر کر لوں گا۔۔وہ منتوں پر اتر آیا تو وہ چپ سی ہوگئ۔ پھر کہے بغیر نہ رہ سکی۔
اس سے تو بہتر تھا تم آنٹی کو سچ بتا دیتے کہ یہ بس کاغذی شادی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں منہ کھولے دیکھ رہی تھیں۔۔
عشنا بٹر بٹر گھورتی انکی نگاہوں سے تنگ سی آگئ
کیا ہو گیا اسکو موقع ملا ہے وہ کسی کے ساتھ اپارٹمنٹ شیئر کر سکتی ہے تو کر رہی ہے۔
مگر کون کس کے ساتھ؟ کون ہے اتنا مہربان جو بے روزگار لڑکی کواپارٹمنٹ دے رہا ہے ۔۔ نورحیران بلکہ پریشان ہو چلی تھئ۔
ویسے اچھا ہی ہوگاآرام سے رہے گی ہم لوگ کیسے مرغیوں کی طرح اتنے لوگ اکٹھے ٹھنسے ہوئے رہتے ہیں ۔۔ الف کو رشک آیا۔
بتائو نا کون دے رہا ہےاسے مفت میں جگہ؟ نور نے شانہ ہلادیا عشنا کا۔
دے رہا ہے؟ عشنا نے چونک کر پوچھا۔
میں نے تو نام بھی نہیں لیا آپکو کیسے پتہ کہ وہ کسی لڑکے کے ساتھ رہے گئ؟اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
میں نے تو بس اتنا کہا ہے اسکو ایک اور اپارٹمنٹ میں رہنے کی جگہ مل گئ ہے تو اب وہ وہیں رہے گی۔
کیا لڑکے کے ساتھ رہے گی؟ نور کی آنکھیں پھیل گئیں۔۔
دیکھیں میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔
عشنا گھبرا اٹھی۔
ابھی تو کہا ہے۔ دیکھو رمضان چل رہا ہے جھوٹ مت بولوسچ بتائو وہ کسی لڑکے کے ساتھ رہے گی اب سے؟ نور کا انداز اگلوانے والا ہو چلا تھا۔
رمضان ہے جبھی تو جھوٹ نہیں بول سکتی۔ عشنا بے چارگی سے بولی۔ اور سچ بتا بھی نہیں سکتی فاطمہ اور واعظہ جان نکال دیں گئ میری۔ آخری جملہ منہ ہی منہ میں بدبدا گئ۔
توبہ کیا ہے زور سے بولو نا ۔ الف نے اسکا کندھا ہلایا
بھئ فاطمہ سے خود پوچھو نا مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو۔ اتنی فکر ہے تو میرے نمبر پر فون کرو بات کرکے اسی سے پوچھ لو مجھے پریشان مت کرو۔ عشنا جھلا ہی گئ۔
میں کیوں پوچھوں۔ آگے میری اسکی بول چال بند ہے۔ میرے ایکسو کو کیا کچھ نہیں کہا تھا اس نے۔ الف کو اپنے رستے زخم یاد آئے تو دکھی ہوگئ
تم دونوں کی صلح نہیں ہوئی؟ نور حیران ہوئی۔
اس دن تو اکٹھے آئی تھیں بلکہ فاطمہ تمہارا آدھا سامان اٹھا کر لائی تھی ہم تو سمجھے تھے دوستی ہوگئ ہے تم۔لوگوں کی۔
نور نے حیرت سے کہا تووہ نظر چراگئی۔۔
ہاں مگر بات تو نہیں کی ہم نے آپس میں۔
پھر بھی پانچ دن بعد عید ہے تم لوگوں کی لڑائی بڑھتی ہی جا رہی ہے تین دن سے ذیادہ ناراضگئ نہیں رہنی چاہیئے رمضان میں تو انسان اور نرم دل ہو جاتا اور لڑائی ہوئی کس فالتو بات پر ہے تم دونوں کی ایکسو بی ٹی ایس دونوں کوریا کے پاپ میوزک بینڈ ہیں۔ انکے گانے پسند کرو ٹھیک ہے مگر یہ کیا دیوانگی ہے کہ ان فنکاروں کیلئے لڑنے مرنے پر اتر آنا جو آپکو جانتے تک نہیں۔ انکی موسیقی کا لطف لو بس کافی ہےانکو پاگلوں کی طرح آئیڈل بنا لینا حماقت ہے وہ بھی میری تمہاری طرح عام انسان ہیں تھوڑے اچھے تھوڑے برے۔ ہاں انکو دکھایا ایسے جاتا کہ لگتا ہے دیوتا ہیں وہ نرم دل مکمل سے انسان۔ مگر حقیقت میں وہ بھی کبھی غصے میں آتے ہونگے کبھی ان سے بھی دل دکھتا ہوگا کسی کا۔ جنگ کوک ایسا سیہون ویسا۔ تم لوگوں کو کیا پتہ وہ کیسے۔ جب انکی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انکو پتہ نہ ہواور وہ قدرتی ردعمل ہی دیں۔ کیا پتہ جو یہ رئیلیٹی شوز چلتے ہیں ان گروپ کے انکے بھی اسکرپٹ بنتے ہوں اس پر وہ اداکاری ہی کرتے ہوں ہمیں لگتا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر جان چھڑک رہے اصل میں کیا خبر انکے تعلقات جانی دشمن جیسے ہوں۔ مگر اپنے پرستاروں کو ان لوگوں نے اپنے ساتھ مصروف رکھا ہوا ہے فالتو ویڈیوز سے۔
نور ان دونوں کو کب سے یوں سمجھانا چاہ رہی تھی آج جاکے موقع ملا تھا۔ سو سب حقیقتیں کھل کر بیان کر ڈالیں۔ الف تو نہیں عشنا البتہ سر جھکا گئ تھی۔
ایویں۔ سیہون اور بیکہوں سچ مچ دوست ہیں ہر کنسرٹ میں انکی ایسی کلپس ہوتی ہیں اب ہروقت تو اداکاری نہیں کر سکتے۔ الف کیلئے ابھی یہ سب ہضم کرنا مشکل امر تھا۔۔۔
جنکا روزگار ہی اسی سے وابستہ ہو وہ کیوں نہیں کر سکتے اداکاری ؟۔ نور کا سوال کڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے افطاری کیلئے چکن پلائو اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ خاتون کو سیہون کی دیکھا دیکھی آہموجی کہا تو وہ جیسے واری صدقے ہو اٹھیں۔
میز پر کھانا لگا کر وہ خود سیہون کو بلا کر لائی۔ وہ لیپ ٹاپ پر لگا ہوا تھا جب اس نے کھانا لگنے کا بتایا
آجائو کھانا کھا لو پلائو بنایا ہے چکن کا میں نے۔اور شکریہ حلال ٹیگ والا۔چکن لانے کیلئے۔۔
وہ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بنا سر ہلا کر بولا
جائو کھائو تم نے صبح سے نہیں کھایا ہوگا میں بعد میں کھا لوں گا۔۔
وہ ہونٹ بھینچے کھڑی گھورتی رہی۔ اسے شائد احساس ہوا کہ کیا نگاہ اٹھائی تو دروازے پر کھڑی گھورتی فاطمہ کو دیکھ کر جھٹ لیپ ٹاپ بند کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
خوشبو دار ہلکے سے زردئ مائل سفید کھلے کھلے چکن پلائو کا دانا دانا الگ تھا اور مہک رہا تھا۔
ان دونوں کے آگے چاپ اسٹکس رکھی تھیں۔
ڈش سجی تھی پلیٹیں بھی۔ اس نے انتظار کیا پھر خود ہی آگے بڑھ کر خاتون کی پلیٹ میں چاول نکالے اور خوب بڑی سی بوٹی بھی۔ انکی آنکھیں جھلملا گئئں مگر فاطمہ بے نیازی سےان پر توجہ کیئے بنا اپنی پلیٹ میں چاول نکال رہی تھی۔
چھائے موکے سبندا۔خاتون نے کہا تو وہ جوابا سیہون کو دیکھنے لگی۔ اس نے ترجمہ کیا۔
میں خوب پیٹ بھر کر کھائوں گی۔
ہم تو میزبان کا شکریہ ادا کرتے ہیں دعوت پر یہ تو کھانا ختم کرکے شرمندہ کردینے کا ارادہ باندھے ہیں۔
وہ دانستہ اردو میں بڑ بڑائی۔ اب آہجومہ سیہون کو دیکھ رہی تھیں کہ ترجمہ کرے۔ سیہون کندھے اچکا کر رہ گیا اسکی۔جانے بلا کیا بڑ بڑا رہئ ہے۔
اس نے چاپ اسٹک سے چاول اٹھائے تو وہ پھسلتے چلے گئے ۔۔ ایک۔بار دو بار۔اس نے آہموجی دیکھا تو وہ بھئ
بے چارگی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔ دونوں نے فاطمہ کو دیکھا جو مزے سے چمچ بھر کر منہ میں رکھ رہی تھی۔
یہاں کوریائی ثقافتئ فرق نظر آرہا تھا انکے نزدیک چاول کم گلے تھے جو ہمارے یہاں جڑے ہوئے اور پھوہڑ پن کی علامت سمجھے جاتے جب کہ وہ خاص کر چاول ذیادہ گلا کر انکو لبٹیوں کی شکل میں گھوٹ لیتے جس سے چاپ اسٹکس سے انکا چھوٹا سا لوتھڑا بنا کر کھانا آسان ہوتا ہے۔ سیہون خاموشی سے چمچ لینے اٹھ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیہون زمین پر کیمپنگ بیڈ بچھا کر سوگیا تھا۔ بیڈ کراوئون سے ٹیک لگائے وہ نیم دراز آگے کا لائحہ عمل طے کرنے اور سوچنے میں مصروف تھئ۔
اب مجھے ذاتی پسند نا پسند ایک طرف رکھ کر کوئی بھی چھوٹی بڑئ جاب کر لینی چاہیئے۔ سیہون کو تو میں پیسے دیئے بغیر یہاں نہیں رہ سکتی ۔ واعظہ کی بات اور تھی۔ واعظہ کو جانے عشنا نے بتایا کہ نہیں۔۔۔اس نے جوش میں سائیڈ ٹیبل سے موبائل ااٹھایا۔۔ پھر وقت دیکھ کر رک گئ گیارہ ہو رہے تھے۔سحری کیلئے اٹھنے والے اس وقت سو رہے ہوتے ہیں یہ سوچ کر موبائل دوبارہ اسی جگہ رکھا۔۔
۔آہجومہ جانے کیا کیا کہتی رہی ہیں یہ کمینہ خود تو آکر سو گیا مجھے پھنسا کر انکے پاس۔ بس دے دے ہی کرتی رہی ہوں ویسے۔مجھے ہنگل بھی اب سیکھنے کیلئے کسی اکیڈمی میں داخلہ لینا چاہیئے۔ مگر اسکے لیئے تو پیسے درکار ہیں۔ اف۔ پاکستان ہی چلی جائوں۔ مگر وہ گنجا عمران ابھی تک اس نے شادی نہیں کی امی نے اس سے نہیں تو کسی اور سے پکا شادی کرا دینی میری اگر پاکستان گئ تو۔ لیکن میں یہاں کیا کر رہی ہوں؟؟؟ وہ سوچ میں پڑی۔
نہ میرے پاس ڈھنگ کی جاب نہ ہی کوئی بڑی ڈگری۔ پڑھائی شروع کردوں دوبارہ۔ یہاں ہی شادی نہ کر لوں۔
اسے اچھوتا خیال سوجھا تو جزبات میں سیدھی اٹھ بیٹھی۔
سیہون کے ہلکے ہلکے خراٹے گونج رہے تھے۔ سیہون پر نگاہ پڑی تو ہونٹ بھینچ لیئے۔
ویسے کر تو لی ہے شادی اب تو اگلے چھے مہینے دوسری شادی بھی نہیں کر سکتی۔ میں تو شادی کر ہی نہیں سکتی یہاں کونسا میرے لیئے درجن بھر رشتے موجودہیں۔ وہ خود ہی اپنے خیالوں پر لعنت بھیج کر رہ گئ۔
اوپا ہوتے تو بڑے زبردست ہیں یہ سیہون بھی اتنا چلائی ہوں اس پر مجال ہے جو ماتھے پر بل بھی آئے زرا سا غصہ کیا بھی تو دس بار سوری بولا۔ احمق۔ اسکو تو وہ میری پیری ٹھیک الو بنا سکتی ہے۔ کتنی لائوڈ لڑکی تھی ویسے۔ آہش۔ کیسا گال پر چماٹ مار دیا ۔ ایک بار تو اسکے بھی منہ پر ویسی چماٹ مارنی ہے مجھے موقع ملے تو سہی۔ اس نے مصمم ارادہ کیا۔
کیا کچھ سوچے جارہی ہوں موبائل پاس نہ ہو تو بندہ بس سوچ سوچ کر ہی مر جائے۔ اب یہ عشنا کے موبائل میں کیا کروں فیس بک کا پاسورڈ تک یاد نہیں بس موبائل میں لاگ ان رہتی ہے میری تو۔ اس نے سائید ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔ پیٹرن بدل کر لاک ہی ختم کر دیا۔ ایک دو ایپس کھول کر دیکھیں۔
کل پہلی فرصت میں موبائل تو جا کر واپس کروں۔ اسکا موبائل تو سام سنگ کم لی من ہو برانڈ زیادہ لگ رہا ۔ ہر طرف منہو کی تصویریں۔ بے کار۔ وہ اکتا کر رکھنے ہی لگی تھی کہ نیا پیغام آیا۔ اس نے یونہی کھول لیا
پیغام انگریزی میں تھا ۔ شکریہ ادا کیا گیا تھا کہ انٹرنیشنل لی من ہو کے فین کلب کیلئے اپلائی کرنے پر ۔ اسے شامل کر لیا۔گیا تھا۔ کچھ رقم موصول وصول ہو چکی تھی کچھ مزید طلب کی گئ تھی اور رقم کے آخر میں لکھے صفر گننے شروع کیئے تو آنکھیں کھل سی گئیں۔ پھر تھوڑا سا منہ بھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل آپ پولیس اسٹیشن آجائیں ہم آپکو کچھ مشتبہ افراد کی تصاویر دکھائیں گےان میں سے شناخت کر لیجئے گا آپ۔
اہلکار نے کہا تو وہ بمشکل اثبات میں سر ہلا گئ۔
کرم۔ اہلکاروں نے ہلکا سا جھک کر اجازت چاہی ۔۔ انکے نکلتے ہی عزی واعظہ کی جانب مڑی
کیا واقعی تم نے دیکھا ہے؟ پہچان لو گی۔
آہا ۔ آں۔۔ وہ۔۔ وہ ہتھیلیاں مسلنے لگی۔
ہاں مجھے پتہ ہے میں نے خود دیکھا ہے نونا نے اسکو مار کر جھکایا تو اسکےچہرے سے نقاب سرک گیا تھا۔ نونا نے دیکھی ہے جھلک اس نے کہنی سے منہ ڈھانپ لینا چاہا تھا مگر نونا جب دوبارہ دیکھیں گی تو پہچان لیں گی۔ ہے نا؟۔ ہے جن روانی میں ہنگل بول کر اس سے تائید چاہ رہا تھا۔
پہچان ہی نہ لے۔ میرے کولیگ نے اسکی اتنی مدد کی جب لاسٹ ٹائم یہ کاسٹ لگوانے آئی تھی اس سے اتنی باتیں کیں اور کل دوبارہ ملا تو اسکو بالکل یاد نہیں تھا وہ۔
عروج انگڑائی لیکر اٹھتے ہوئےانگریزی میں بولی۔۔۔
ہیں؟ ہے جن حیران ہوا تو عزہ بھی اسے چونک کر دیکھ رہی تھی۔
کل جا ئوں گی پولیس اسٹیشن۔ دیکھو کیا ہوتا۔ وہ انکی۔نظریں محسوس کر کے خود کو سنبھالتی ہوئی بات بدل گئ۔ کچھ دن تم چھٹی کر لو عزہ جب تک ملزمان کا کوئی سراغ نہیں مل جاتا۔
ویسے عجیب نا تجربہ کار ہی لوگ تھے ۔ جب عزہ نونا کا نقاب ہٹ گیا تو بجائے انکو گاڑی میں ڈالنے کے آپس میں باتوں میں لگ گئے جبھی تو تھوڑا سا مجھے وقت ملا ان پر حملہ کرنے کا ۔۔ایک کہتا یہ دیکھو دوسرا بولا جو بھی ہے لے چلو۔یعنی۔ وہ بولتے بولتے چونکا۔
ہاں ابھی تم پولیس والوں کو بھی یہی بتا رہے تھے ۔ واہ میں کوئی فالتو تونہیں۔ جو بھی ہے لے چلو۔
عزہ نے کندھے اچکا کر واعظہ سے تائید چاہی مگر وہ اسے یوں دیکھ رہی تھی جیسے اسکے سر پر سینگ اگ آئے ہوں اس نے سٹپٹا کر عروج کو دیکھا تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی اس نے ہے جن کی جانب رخ کیا تو وہ اس پر سے نگاہ ہٹا کر بولا۔
جب عزہ کا چہرہ دیکھا تو رک سے گئے تھے پھر بولے جو بھی ہے لے چلو۔۔۔۔۔۔یعنی وہ کسی اور کو لینے آئے تھے؟؟؟
تینوں نے کم و بیش یہی جملہ بولا تھا وہ بھی اکٹھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتام قسط 12۔۔
جاری ہے۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *