kehkashaan dekh tri anjuman tabaan main|Urdu Romantic Poetry| romaanwi shayari

انکی پلکوں پہ لرزتا ہوا تارا تو نہیں

میری مایوس امیدوں کا سہارا تو نہیں 

مست موجوں میں نہاں کوئی اشارہ تو نہیں 

کسی امڈے ہوئے طوفان نے پکارا تو نہیں 

نکھری نکھری سی نظر آتی ہے شام مہتاب 

اس نے الجھی ہی زلفوں کو سنوارا تو نہیں 

ٹوٹ کر کھو جو گیا ظلمت شب میں ہمدم

یہ کہیں میری ہی قسمت کاستارہ  تو نہیں

ہم نے مانا کہ ہے مضبوط بہت ہمت دل 

پھر بھی، گرداب ہے گرداب ، کنارہ تو نہیں 

چاندنی جھوم اٹھی رقص میں آیے انجم 

آپ کے لب پر کوئی شعر ہمارا تو نہیں 

کہکشاں ، دیکھ ، تری انجمن تاباں میں 

کوئی میرے بھی مقدر کا ستارہ تو نہیں 

لطف آیے گا طوفان کے تھپیڑوں میں یہ کیوں 

انہیں موجوں میں کہیں اپنا کنارہ تو نہیں 

اشک مسلے ہوئے جذبات کا آیئنہ ہے 

اشک موتی تو نہیں ، اشک ستارہ تو نہیں 

بات یہ اور ہے پہو نچوں نہ اگر منزل تک 

تھک کے بیٹھا تو ضعف سے ہارا تو نہیں 

نذر کر سکتا ہوں دو پھول عقیدت کے شمیم 

میرے پاس افسر اسکندر و دارا تو نہیں 

از قلم زوار حیدر شمیم

Rating
https://urduz.com/desi-kimchi-episode-1/

aankh main aansoo lab pe tabassum

آنکھ میں آنسو ، لب پہ تبسم 
اف وہ ترا انداز تکلم 


کتنا ہی بدلے رنگ زمانہ 
ہم ہوں یہی ہم ، تم بھی یہی تم 


آہ تھی لب تک آتے آتے 
دل میں اٹھی موج تبسم 


دل اور ایسی درد کی دنیا 
ایک قطرے میں اتنا تلاطم

کتنا سہانا موسم آیا 
مست گھٹائیں دل میں تلاطم 


درد کی ماری کویل کوک 
سیکھ لیا غنچوں نے تبسم 


نہر کنارے ہولے ہولے 
اٹھلاتی موجوم کا ترنم 


آؤ شمیم ایک نغمہ چھیڑیں
کس عالم میں کھویے سے ہو تم 


آگئی پھر کیا یاد کسی کی 
کیوں بیٹھے ہو چھپ چھپ گم سم 


از قلم زوار حیدر شمیم

https://urduz.com/aitraaf/
urdu short story
https://desikimchi.com/park-eun-bin-doesnt-impress-her-fans-in-new-netflix-series-a-look-at-her-performance-in-cast-away-diva-2/
urdu reviews of asian dramas

woh tabassum yaad aaya ro diye|urdu sad poetry broken heart|

وہ تبسم یاد آیا رو دیے
کوئی غنچہ مسکرایا رو دئیے


ذہن میں لہرا گئیں زلفیں تری 
ابر جب گھر گھر کے آیا رو دئیے


جئے اپنے غم کا نغمہ مل گیا 
گیت یوں مطرب نے گیا رو دئیے  


درد سا دل میں اٹھا آنکھیں بھر آیئں 
یاد نے تیری رلایا رو دئیے  


شغل یہ ہے فصل گل میں اے شمیم 

آنکھ پھڑکی دل بھر آیا رو دئیے

از قلم زوار حیدر شمیم

Rating
https://desikimchi.com/bequeathed-2024-kdrama-urdu-an-in-depth-review/
https://youtu.be/4JjAewAwwYE?si=BqShvRHg5hgQKi6x

dil kay behlanay koi kia kia nahi krta koi

موت کی آس  نہ جینے کا سہارا کوئی 
اس طرح بھی نہ ہو محروم تمنا کوئی 

تھر تھراتے ہوئے لب ، آنکھ میں نم ،دل میں خلش 

اس پہ زد ، چھیڑیے عشرت کا ترانہ کوئی 


اپنے ہی درد سے فرصت ہے جہاں میں کسی کو
کیا سنے درد بھرے دل کا فسانہ کوئی 


ہم نے ، تو خیر کیا آپکے وعدوں پہ یقین 
دل کے بہلانے کوئی کیا کیا نہیں کرتا کوئی


یوں تو کسی کو نہیں الفت میں وفا کا دعوی
ہو بھی پایا  ہے زمانے  میں کسی کا کوئی 


مجھ کو مجبور کیا ترک تمنا پہ شمیم 
لب پہ آیا بھی نہ تھا حروف تمنا کوئی 


از قلم زوار حیدر شمیم

https://desikimchi.com/believer-2018-korean-action-movie-urdu-review/
https://urduz.com/instalkerinstagramstalker/

kon hay jis pe koi raaz muhabbat kholain


کون ہے جس پہ کوئی راز محبت کھولیں 

رات بھر جاگ لیں جی بھر کے تڑپ لیں رو لیں 

لٹ گیا شوق کہ ہو جائے ہمارا بھی کوئی 

چھن گئی چہ کے ایک بار کسی کے ہولیں 

گل و گلزار سے لمحوں کی سلگتی یادوں 

دو اجازت تو ذرا آنکھ جھپک لیں سو لیں 

خود ہی گھڑ لیتے ہیں آج اسکی وفا کے قصے 

چند لمحوں کیلئے یوں ہی ذرا خوش ہو لیں 

بار خاطر  ہے خاموشی بھی تکلم کی طرح 

ہائے کیا بات کریں ہائے کہاں چھپ ہو لیں 

دل نہ بھلے سہی دنیا تو بہل جائے گی 

تلخی دل میں ذرا تلخی دوراں گھولیں 


از قلم زوار حیدر شمیم

junoon nawaz ishaaron main dil nahin lagta

جنوں نواز اشاروں میں دل نہیں لگتا 
ترے بغیر بہاروں میں دل نہیں لگتا 


ہی ہے بار سماعت نوائے ساز نشاط 
نذر نواز نظاروں میں دل نہیں لگتا 


چمن اجڑے کا منظر نظر میں رقصاں ہے 
خزاں کے بعد بہاروں میں دل نہیں لگتا 


قسم ہے لذت صد اضطراب طوفان کی 
سکون بدوش کناروں میں دل نہیں لگتا 


مہیب شب کے گزرنے کے کچھ  سہارے ہیں 
وگرنہ چاند ستاروں میں دل نہیں لگتا 


سہارے ڈھونڈ کے جیتا ہوں تیرے کہنے سے 
یہ بات الگ کہ سہاروں میں دل نہیں لگتا 


از قلم زوار حیدر شمیم

ghuncha o gul nay subah say paiyay chand tabassum chand adaain

غنچہ و گل نے صبح سے پایے چند تبسم چند ادائیں 

میرے ذہن میں بھی لہرایے چند تبسم چند ادائیں 

اپنی نظر اور وہ رخ زیبا صرف جنوں ہے ایسی تمنا 

ہم تو ہیں آنکھوں  میں بسایے چند تبسم چند ادائیں 

کردے معاف اے روٹھنے والے ، ہم نہ تھے گل کو دیکھنے والے 

گل نے ترے مکھڑے سے چرایے چند تبسم چند ادائیں 

انکو دیکھے ہوگی مدت آنکھوں میں محفوظ ہیں اب تک 

چند اشارے چند کنایے چند تبسم چند ادائیں 

یونہی نہ تھیں یہ آنکھیں جنکو بھیگی بھیگی دیکھ رہے ہو 

کل تھے انہیں آنکھوں میں سمایے چند تبسم چند ادائیں 

اف یہ آل صبح گلستان یائے یہ شام سوز فراواں 

ہائے وہ جن راس نہ آئے چند تبسم چند ادائیں 

پھر ہوں اسی محفل میں غزل خواں، ساری فضا ہے رقصاں رقصاں 

نام پہ مرے اس نے لوٹائے چند تبسم چند ادائیں 

ہم نے شمیم اس دل کو سنبھالا دے کے فریب تازہ بہ تازہ

حاصل سوز عشق بتائے چند تبسم چند ادائیں 

از قلم زوار حیدر شمیم

kahan kay sheehsa o sehba kahan kay paimaanay


کہاں کے شیشہ و صہبا کہاں کے پیمانے 
تری نذر سے تراشے گیے ہیں فسانے 


حقیقتوں سے ہیں دلچسپ تر کچھ افسانے 
وگرنہ جلوہ حسن اب نہیں کہ دیوانے 

خرد  سے دور ، رموز جنوں سے سے بیگانے 
خدا کی شان کہ مشہور ہیں وہ فرزانے 

پئے بغیر جو ہوش و خرد کو لوٹ نہ لیں 
مری نظر میں ٹھہرتے نہیں وہ پیمانے 

چرا کے لے گیے ایک سوزش خفی دل میں 
وہ یے تھے مرے سوز دروں کو جھٹلانے 

ابھی حرام نہ کر حسن دوستی کہ ابھی 
خدا کے فضل سے آباد ہیں صنم خانے 

ہمیں نے منہ نہ لگایا کہ سر چڑھئیں نہ کہیں
تھے ورنہ ہم سے بھی مانوس چند پیمانے 

شمیم وضع  کریں عشق کے نیے انداز 
جنوں کو کر گیے بدنام چند دیوانے  

از قلم زوار حیدر شمیم

Is rang main bhi lutf e baharaan ki taraf dekh


اس رنگ میں بھی لطف بہاراں کی طرف دیکھ 
آنکھیں ہیں تو زخموں کے گلستان کی طرف دیکھ 

مجبوری و بربادی انسان کی طرف دیکھ 
سکوں پر مچلتے ہوئے ایمان کی طرف دیکھ

درویشی شاہانہ رنداں کی طرف دیکھ 
سینوں میں دہلتے ہوئے ایمان کی طرف دیکھ 

افسوں بہاراں کی حقیقت پہ نظر کر 
گلزار سے منہ موڑ بیاباں کی طرف دیکھ 

ہے مرے سوا تجھ پہ بھی حرف آنے کا ساماں
کونین کے داتا مرے داماں کی طرف دیکھ 

تا چند   اسیری    طلسمات   تبسم 
اشکوں پہ نظر کر دل سوزاں کی طرف دیکھ 

اے ناظر صد گردش جام مئے رنگیں
یک لحظہ کبھی گردش دوراں کی طرف دیکھ 

گر جائے گا نظروں سے فروغ مہ انجم 
تابانی اشک سر مژگاں کی طرف دیکھ 

ہمدردی آفاق مجھے بخشنے والے 
اے کاش مری تنگی داماں کی طرف دیکھ 

اک ان نہ سن دوری منزل کا فسانہ 
منزل پہ نذر رکھ دل جولاں کی طرف دیکھ

سرمایہ نازش ہی سہی ماضی زریں  
امروز تو رنگ چنستاں کی طرف دیکھ 

از قلم زوار حیدر شمیم

khizaan tau khair khizaan thi

خزاں تو خیر خزاں تھی ، خزاں کو کیا کہئے 

مگر جفایے بہار جواں کو کیا کہئے 

کلی کلی کا جگر بجلیوں نے پھونک دیا 

کرشمہ نگہ باغباں کو کیا کہئے 

غبار راہ بھی کافی تھا رہبری کے لئے 

ہو عزم خام تو پھر کارواں کو کیا کہئے 

روایت ستم غیر خوب ہے لیکن 

حقیقت ستم دوستاں کو کیا کہئے 

بسا ہو زہر جب افکار ہی کی رگ رگ میں 

زباں بھی کیا کرے طرز بیاں کو کیا کہئے  

از قلم زوار حیدر شمیم