تڑپ رہی ہیں حقیقتیں جن کو حاصل کائنات کہئے
مگر تڑپ کو تڑپ نہ کہئے تڑپ کو رقص حبات کہئے
بجا کہ ہے صبح نو کے چہرے پہ شام کی تیرگی سی لیکن
وہ دن بتائیں تو دن سمجھئے وہ رات کہدیں تو رات کہئے
بضد میں اس پر آج سنئے جفائے دور خزاں کا شکوہ
مصر وہ اس بات پر کہ رنگینی گلستان کی بات کہئے
امیر غربت کچل کے رکھدے تو صرف تفریح دل سمجھئے
غریب شکوہ کے تو اسکو بہت بڑی واردات کہئے
کہاں وہ آزادیاں چمن کی کہاں اسیری قفس کی لیکن
اسے بھی احسان جانئے فکر آشیاں سے نجات کہئے
میں شہد حاضر کروں جو کوزہ میں زہر قاتل سمجھئے اسکو
وہ زہر شیشوں میں بھر کے دے دیں تو اسکو آب حیات کہئے
از قلم زوار حیدر شمیم
ستمگر بہ زعم ستم مسکرائے
خدا جانے کیوں اہل غم مسکرائے
کوئی تازہ دھوکہ ہے یا قرب منزل
راہ شوق کے پیچ و خم مسکرائے
میسر کہاں سب کو ایسا تبسم
جفاؤں کے جھرمٹ میں ہم مسکرائے
بہ زعم عمل مسکرائی تمنا
تمنا پہ لوح و قلم مسکرائے
ہمیں جانتے ہیں جو گزری ہے دل پر
ترا ساتھ دینے کو ہم مسکرائے
بہت زور مارا اندھیروں نے شب بھر
ستارے مگر دمبدم مسکرائے
از قلم زوار حیدر شمیم
وہ جیسا بھی ہے چمن ہے چمن کو کچھ نہ کہو
مرا وطن ہے یہ ، میرے وطن کو کچھ نہ کہو
نہ دیکھا جائے مرا دکھ تو پھیر لو نظریں
تبسم سمن و نسترن کو کچھ نہ کہو
ہے حکم دار مرے شکوہ جفا کا جواب
وہ کم سخن ہے مرے کم سخن کو کچھ نہ کہو
خدا کو طعنہ دو تخلیق اہرمن پہ ضرور
مگر خدا کیلیے اہرمن کو کچھ نہ کہو
لہو کے گھونٹ پیو خوبی نسب کہو
خزاں نصیب بہار چمن کو کچھ نہ کہو
جو تشنہ ہیں وہ رہیں سیر جو ہیں اور پئیں
یہی چالان ہے یہاں کا چالان کو کچھ نہ کہو
شمیم مرا فسانہ سنو سنو ، نہ سنو
مگر مجھے مرے طرز سخن کو کچھ نہ کہو
از قلم زوار حیدر شمیم
سیر حرم و دیر سے بیزار کھڑے ہیں
میخانے کے در پر کی دیں دار کھڑے ہیں
وہ سلسلہ اہل جنوں کب ہے سوئے وار
دم انکا غنیمت ہے جو دو چار کھڑے ہیں
پھر اہل خرابات میں ہیں زیست کے آثار
پھر تاڑنے والے پس دیوار کھڑے ہیں
رندوں کو تو کافی ہے ترا حسن نذر بھی
کچھ اہل خرد ہوش سے بیزار کھڑے ہیں
یہ طور نہ دن اہل تقدس کا فسوں بھی
ڈوبے جو رسوا سر بازار کھڑے ہیں
یہ شوق کا مدفن ہے یہ منزل تو نہیں ہے
منزل پہ جو آ پہو نچے ہیں بیزار کھڑے ہیں
از قلم زوار حیدر شمیم
ہمیں سے یہ گلزار پھولے پھلے ہیں
ہمیں پر خزاؤں کے پہرے لگے ہیں
کوئی رہبری میرے کس کام آتی
مری منزلیں منزلوں سے پرے ہیں
امنگوں پہ آیی بہار اور گئی بھی
مگر زخم دل ہیں کہ ابھی بھی ہرے ہیں
ہمیں کم مذاق عمل کہنے والے
ہمیں راہ میں راہنما مل گیے ہیں
کہاں ہم کہاں تم کہاں وہ زمانے
مگر دل اب بھی بڑے آسرے ہیں
نہیں گل تو کانٹوں سے دامن سجا لو
کہ یہ بھی بہاروں کے پالے ہوئے ہیں
از قلم زوار حیدر شمیم
جو ہو تخریب انجام ایسی تعمیر جہاں کیوں ہو
نہ لرزے جس سے خود بجلی وہ مرا آشیاں کیوں ہو
ہم ایک دن خود بہ فیض جذب دل منزل کو جالیں گے
کوئی گم کردہ منزل رهنمایے کارواں کیوں ہو
زمین کی گردشیں بھی جب مٹا سکتی ہیں انسان کو
بتا اے خالق کونین دور آسمان کیوں ہو
ہمیں تم کو بے شک جور کے قابل بنایا ہے
بجا کہتے ہو پھر شکوہ نہ ہو کچھ لب پہ ہاں کیوں ہو
خجل ہوں ان خیالوں سے جو لب پر لا نہیں سکتا
نہ ہو جب ازن گویائی تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
کہو ذوق دل آزاری تمہارا خیر سے تو ہے
شمیم خستہ دل پر آج اتنے مہربان کیوں ہو
از قلم زوار حیدر شمیم
جنوں کی راہ میں مشکل تو کوئی بات نہیں
شمیم سخت ہے منزل ہے تو کوئی بات نہیں
فریب راہبراں سے میں دل گرفتہ ہوں
وگرنہ دوری منزل تو کوئی بات نہیں
ہزار شکر فضائے چمن نکھر تو چلی
ہوا ہے خون مرا دل تو کوئی بات نہیں
یہ دیکھنا ہے کہ طوفان ہے کتنے پانی میں
حصول دامن ساحل تو کوئی بات نہیں
خدا کے بندوں پہ ایمان ہے کس قدر یارو
فقط خدا کے ہو قائل تو کوئی بات نہیں
یہ دیکھ شمع میں کتنے سہاگ جلتے ہیں
نشاط گرمی محفل تو کوئی بات نہیں
سلام سختی راہ وفا کے غماذو
سلامت آرزوّے دل تو کوئی بات نہیں
از قلم زوار حیدر شمیم
صاف نہ کہئے دل کی بات
آپ ہمارے ! جھوٹی بات
دکھ دینا نہیں فخر کی بات
کہہ نہ سکے اتنی سی بات
اپنے پرائے سارے خفا ہیں
بھولے سے کہہ دی سچی بات
جھوٹ کہا کہنے والے نے
آپ اور اتنی اوچھی بات
ہم اور آپ کے جور کا چرچہ
یونہی بات سے نکلی بات
جی نہ سکے تو مر ہی رہیں گے
عشق سے توبہ جھوٹی بات
چھپ رہے تو دل جلتا ہے
اور جو کہہ کر کھوئی بات
ہم اور آپ کی دل آزاری
کہہ گئے لب پر آتی بات
ہائے وہ لہجے کی شیرینی
اپنی جیسی پیاری بات
کون خوشی سے دل دیتا ہے
ہوگئی ہونے والی بات
آس کے دیپک رات کے تارے
سوز مسلسل آج کی بات
ہاں تمہیں میرے درد سے نسبت
جاؤ ، سدھارو ، اچھی بات
از قلم زوار حیدر شمیم
یہ ہجوم رنگ و نکہت ، تیرے حسین اشارے
مری سو آرزوئیں کہیں جاگ اٹھیں نہ پیارے
ہیں بھری بہار میں بھی ، مری زیست کے سہارے
وہی بھولی بسری یادیں وہی گمشدہ نظارے
یہ بہار نور و نغمہ ، وہی ہم ، وہی شب غم
وہی صبح کا تصور ، وہی ڈوبتے ستارے
ہے نوید موسم گل ترا نغمہ تبسم
تری نبض کی حرارت مری آہ کے شرارے
مرے دل کی دھڑکنوں کو ابھی رائیگاں نہ سمجھو
ابھی ہوش میں ہے شبنم ، ابھی جاگتے ہیں تارے
ہوئے منتشر جو تارے چنے دامن سحر نے
جو بکھر گئے ہیں سپنے انھیں کون اب سنوارے
کہیں ہم تو کون مانے کہ ہیں اپنے قاتلوں میں
وہی حسن و ناز والے وہی مہرباں ہمارے
از قلم زوار حیدر شمیم
آنکھ میں آنسو ،لب پہ تبسم
آنکھ میں آنسو لب پہ تبسم
اف وہ ترا انداز تکلم
کتنا ہی بدلے رنگ زمانہ
ہم ہوں یہی ہم ، تم بھی یہی تم
اہ تھی لب تک آتے آتے
دل میں اٹھی تھی موج تبسم
دل اور ایسی درد کی دنیا
ایک قطرے میں اتنا تلاطم
کتنا سہانہ موسم آیا
مست گھٹائیں دل میں تلاطم
درد کی ماری کوئل کوکی
سیکھ لیا غنچوں نے تبسم
نہر کنارے ہولے ہولے
اٹھلاتی موجوں کا ترنم
آؤ شمیم اک نغمہ چھیڑیں
کس عالم میں کھویے سے ہو تم
آگئی پھر کی یاد کسی کی
کیوں بیٹھے ہو چپ چپ گم سم
از قلم زوار حیدر شمیم




