bala say ghair lia andheron bagolon nay

بلا سے گھیر لیا اندھیروں بگولوں نے

مرے جنوں کو ہوا دی ہے چند پھولوں نے

خراب حال ہو تم بھی ، مگر نصیبوں سے

مجھے تو دن یہ دکھایا میرے اصولوں نے

بہار رنگ سمن زار ہے مری منزل

یہ بات الگ ہے کہ الجھا لیا ببولوں نے

بکھر گئی ہیں کیوں یونہی اتنی پنکھڑیاں

بھری بہار کو طعنہ دیا ہے پھولوں نے

چمن تلک تھی سب اہل چمن کی دلداریاں

قفس میں اس بندھائی ہے کچھ بگولوں نے

ہزار اصول ہوئے جذب شوق پر صدقے

ہزار نام دیے شوق کو اصولوں نے

وفا سے مضحکہ اہل جور بھی دیکھا

وفا کے نغمہ سراؤں نے دل ملولوں نے

از قلم زوار حیدر شمیم

niyat ho doobnay ki tau imkaan nayay nayay

نیت ہو ڈوبنے کی ، تو امکان نئے نئے 

اٹھتے ہیں ساحلوں سے بھی طوفان نئے نئے 

وحشت نئی نئی ، کبھی ارماں نئے نئے 

دل ہے تو دل بہلنے کے ساماں نئے نئے 

پیمانے ریزہ ریزہ ، خرابے کھنڈر کھنڈر 

اب ہیں بھری بہار کے عنوان نئے نئے 

ہاں یہ مقام ہے کہ چلیں چارہ گر کے پاس

دل ڈھونڈتا ہے درد کے ساماں نئے نئے 

غیروں کی دشمنی ہے بڑی عامیانہ چیز 

میری خرابیوں کے ہیں عنوان نئے نئے 

پینے کے بعد حضرت واعظ کا زور نطق

جسے ہوئے ہیں آج مسلمان نئے نئے 

ایک ترک  عشق پر ہی نہیں داستاں تمام  

دل ہے تو ٹوٹنے کے بھی امکان نئے نئے 

پھولوں کا شوق اور خار و شرار و برق 

ہمراہ درد آئے ہیں درماں نئے نئے

مستی بھری گھٹا نہ سہی ابر غم سہی

ارماں بہ خیر زیست کے ساماں نئے نئے 

آوارہ نکہتیں کبھی پابند خوش نوا 

کھلتے ہیں گل بنام بہاراں نئے نئے 

دشمن کا دل جلے کہ ہمارا لہو شمیم 

ہم ہیں تو روشنی کے بھی ساماں نئے نئے 

از قلم زوار حیدر شمیم

sach ko sach na bahanay ko bahana samjhain

سچ کو سچ اور نہ بہانے کو بہانہ سمجھیں

تم  ستاؤ  ہمیں ہم جور زمانہ سمجھیں

غیر کو غیر یگانے کو یگانہ سمجھیں

یہ تو جب ہو کہ ذرا رنگ زمانہ سمجھیں

جھوٹ کو جھوٹ فسانے کو فسانہ سمجھیں

وہ بھی دن آئے کہ اسرار زمانہ سمجھیں

ہم تو انساں کو دکھی دیکھ کر ہنسنے سے رہے

آپ سمجھیں غم دوراں کو فسانہ سمجھیں

ہم ہیں جو دیتے ہیں آہوں کو ہنسی کا آہنگ

کم ہیں جو غم کو مسرت کا خزانہ سمجھیں

دھڑکنیں ہر دکھے دل کی ہیں میرے سینے میں

میں کہوں اپنی تو لوگ اپنا فسانہ سمجھیں

آپ اٹھائیں تو سہی درد کا پرچم لے کے

اہل دل جتنے بھی ہیں شانہ بشانہ سمجھیں

ہے مرا شعر مرے درد کی تصویر شمیم

آپ سے نوحہ ، کہ نعرہ ، کہ ترانہ سمجھیں

از قلم زوار حیدر شمیم

qataaقطعہ 

قطعہ 
وہم رنگیں سے لو لگاۓ ہوئے 
سوز دل کے دیے جلائے ہوۓ

چار و ناچار جی رہا ہوں میں 
ہر سہارے سے جی چرائے ہوۓ

انکی الفت کا بھی زمانہ تھا 
اب زمانہ ہوا بھلائے ہوئے

از قلم زوار حیدر شمیم

Rooh inqilaab روح انقلاب 

روح انقلاب 

مرے قدم  میں مے و تو و شباب کی روح 

ترا خیال ہے مرے خیال و خواب کی روح 

ہر انقلاب بہاراں تری نگاہ کے ساتھ

ترا شباب ہے کل عالم شباب کی روح 

گناہ شوق مسلسل سزا سے بے خبری 

شباب روح ہے انکی یہ ہیں شباب کی روح 

نہ چاہیے مجھے الطاف کی خنک بارش 

میں پا گیا ہوں تری گرمی عتاب کی روح 

ملا رہے ہیں نگاہیں فلک کے تاروں سے 

نہاں ہے خاک کے ذروں میں آفتاب کی روح 

یہ چرچے ہیں   کہ گیا   دور اضطراب مگر 

سکوں کی آڑ میں اب بھی ہے اضطراب کی روح 

بہار  تازہ  کی  آمد  کا  غلغلہ    بھی  ہے 

خزاں رسیدہ بھی ہے شبنم و گلاب کی روح 

ضیائی روپ میں خونخوار   ظلمتیں ! توبہ 

وہ ظلمتیں کہ لرزی ہے آفتاب کی روح 

تمیز ثروت و غربت کے کالے پردوں میں 

مچل رہی ہے نئی  صبح انقلاب کی روح 

ہر اک زرہ بے حس کو بخشتی ہے تڑپ 

بلند عزم ہے پستی میں آفتاب کی روح 

فنا نہ ہوگا مذاق بلند    پروازی 

بدل سکے گا نہ کنج قفس عقاب کی روح 

سنبھل کے دامن جرات نہ چھوٹنے پائے

سکوں میں ڈھال کے رہے گی اس اضطراب کی روح 

ضمیر روشن و فکر بلند و عزم صمیم 

انھیں میں چڑھتی ہے پاروں انقلاب کی روح 

از قلم زوار حیدر شمیم

Tum se pehle kabhi shikwa tha na ab hay koi

تم سے پہلے کبھی شکوہ تھا نہ اب ہے کوئی 

میں جو برباد ہوا ہوں اسکا تو سبب ہے کوئی 

ہنس تو دیتے ہیں کئی جاننے والے ہم پر 

ورنہ مڑ کر بھی نہ دیکھیں تو عجب ہے کوئی 

آج پھر گم خرابات سے رقصندہ دلی 

آج پھر شہر میں تقریب طرب ہے کوئی 

اور ہیں جن کو مرے غم سے سروکار نہیں 

سن ترے آنکھ چرانے کا سبب ہے کوئی 

کوئی کھائے نہ ترس ہاتھ دعا کو اٹھے 

دوست جھجکے یہ سمجھ کر کہ طلب ہے کوئی 

پرسش حال ہے یا مجھ کو گمان گزرا ہے 

تم ہو ے ہمدمو یا خواب طرب ہے کوئی 

یہ سر آشفتہ سا ‘ وارفتہ سا ‘ گم سم سا شمیم 

یہ منجملہ ارباب ادب ہے کوئی 

از قلم زوار حیدر شمیم

wafa sirf qisay kahani talak hay

وفا صرف قصے کہانی تلک ہے، وفا ایک نے در حقیقت نہیں کی 
ہوس  نے تقدس  کا روپ  دھارا کسی نے کسی سے محبّت نہیں کی 

کھلے زخم پھولوں بھری محفلوں میں ، جلے دیپ پلکوں پہ 
تنہائیوں میں 
گوارہ کیا سب بارے حوصلے سے ، تمہیں بھول جانے کی ہمت نہیں کی 

بہ زعم وفا یا بہ نام محبّت ستم بھی اک انداز جانا کرم کا 
انھیں ہم سے اب یہ شکایات ہی ہے کہ ہم نے کبھی کچھ شکایت نہیں کی 

محبّت کی راہوں میں کانٹے ہی کانٹے گلوں کے عوض ہم نے چھانٹے ہی کانٹے 
ہے زخموں سے سینہ گلستاں گلستاں ہواؤں بہاروں کی منت نہیں کی 

وفا کی تو کانٹوں کو دل سے لگایا خلش کو بھی خوشبو کی ہمسر بنایا 
گھڑی دو گھڑی کو جو دامن  سجا دیں کبھی ایسے پھولوں کی حسرت نہیں کی 


از قلم زوار حیدر شمیم