Blog

  • Salam Korea Episode 27

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi


    قسط 27

    صبح اسکی کافی دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ اتوار تھا گوارا تو رات آئی ہی نہیں۔کسلمندی سے اس نے کروٹ بدلی حسب معمول ہوپ اٹھ کر بیڈ سے جا چکی تھی۔
    اس لڑکی کو نیند کیوں نہیں آتی۔ اس نے بڑبڑاتے ہوئے دوبارہ کروٹ بدلی اور سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر دیکھنے لگی۔
    ایک عدد پیغام آیا ہوا تھا۔ اس نے کھولا اور پڑھا
    پھر حیرت سے اس پیغام کو دیکھتی رہی۔
    انگریزی پیغام موصول ہوا تھا جس میں خوشخبری دی گئ تھی کہ اسے نوکری پر رکھ لیا گیا ہے۔منگل دوپہر اسے
    ایک بڑے سے سپر اسٹور میں بلایا گیا تھا جہاں اسکو مناسب تفصیل بتا کر ملازمت کے گھنٹے پورے کرنے تھے۔۔
    وہ تحیر سے دیکھتی اٹھ بیٹھئ۔ ۔ اسے یوں بیڈ پر جمے دیکھ کر باتھ روم سے نکلتی ہوپ نے ناک چڑھا کر پوچھا تھا۔
    کیا ہوا؟ کسی لڑکے نے ڈیٹ کی آفر کر دی؟
    دے ؟ وہ چونکی۔
    ہوپ نے ناک چڑھا کر دوبارہ اپنی بات دہرائی
    آنی۔
    اس نے نفی میں سر ہلایا پھر موبائل اسکو دکھایا۔
    یہ دیکھو مجھے جاب مل گئ۔
    ہوپ نے میسج پڑھا پھر ناک چڑھا کر بولی
    اسپیم میسج ہے۔ یونہی کوئی پیغام بھیجے گا جاب ملنے کا اور تم مان لو گی؟ غیر ملکی طلباء کو آف کیمپس نوکری کی اکثر اجازت نہیں ہوتی او راگر یونیورسٹی سے اجازت لے بھی لو تو نوکری کوئی دیتا نہیں ہے۔ سب ان معاملوں میں پڑنے سے گھبراتے ہیں۔
    ہوپ کی طویل توجیح۔ وہ چند لمحے منہ کھولے اسکی شکل دیکھتی رہ گئ۔
    کونسی یونیورسٹئ ؟ میں تو کسی یونیورسٹی کا حصہ نہیں
    اریزہ نے کہا تو وہ مزید ڈرانے لگئ
    پھر تو پکا اسپیم میسج ہے۔ لوگ بڑے بڑے فراڈ کرتے ہیں یوں میسج کرکے بلا کر غائب بھی کر سکتے ہیں اور۔۔

    مگر یہ وہی نمبر ہے جس پر رابطہ کرکے میں انٹرویو دینے گئ تھی۔اس نے بات کاٹی اس کا جوش دھیما پڑچکا تھا۔
    پھر مبارک ہو۔
    ہوپ کا انداز ہنوز تھا۔ٹھس سا۔ لاتعلقی سے کہتے وہ کمرے سے نکل گئ۔
    وہ دوبارہ میسج پڑھنے لگی۔پھر اکتا کر موبائل ایک۔طرف رکھتی فریش ہونے باتھ روم میں گھس گئ۔ نہا دھو کر باہر آئی تو ہوپ کچن کی میز پر بیٹھی اہتمام سے چاول اور سوپ تناول فرما رہی تھی۔
    وہ اسے قصدا نظر انداز کرتی فریج کھولنے لگی۔
    چاول پکے ہوئے ہیں تم کھا لو۔ میں نے ذیادہ پکا لیئے۔
    خاصا غیر متوقع جملہ ہوپ کے منہ سے نکلا تھا۔ وہ باقائدہ مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ ہوپ کو اندازہ تھا جبھی نگاہ بھی نہ اٹھائی۔
    سادہ ابلے چاول سادہ چکن سوپ ساتھ کمچی۔ ابلے چاول پر کمچی ڈال کر منہ میں رکھتئ اور سوپ کا چمچ منہ میں بھر لیتی۔
    وہ آٹا نکال کر پراٹھا بنانے لگی۔
    چاول سادہ ہیں چکن نہیں ڈالا گیا اس میں۔نا ہی سور کا گوشت ہے۔
    طنز میں ڈوبی آواز اسکی پشت سے ابھری تھی۔
    میں ناشتے میں چاول نہیں کھا سکتی۔ زندگی میں کبھی نہیں کھائے۔ ہمارا ناشتہ الگ ہوتا ہے باقی دن کے کھانوں کا اہتمام بالکل مختلف ۔۔
    اریزہ نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی۔
    ناشتہ ، کھانا نہیں ہوتا کیا؟
    ہوپ حیران ہوئی تھی۔
    برصغیر کے لوگوں خاص کر پاکستانیوں کیلئے تو ناشتہ اہتمام پر مشتمل الگ ہی ہوتا ہے دن کے باقی وقت کے کھانوں سے۔
    اریزہ کے کہنے پر ہوپ نے کندھے اچکائے پھر خاموشی سے کھانے میں مگن ہوگئ۔
    اریزہ ناشتہ بنا کر ناشتہ کرنے بیٹھی تو کافی میکر بج اٹھا۔
    ہوپ ناشتہ ختم کرچکی تھی۔ سو فورا اٹھ گئ۔ کافی بنا کر ایک کپ اسکے برابر میں بھی رکھ دیا۔
    اسکو اتنی حیرت ہوئی کہ نوالہ چبانا بھول گئ۔
    ہوپ تھوڑی شرمندہ سی ہوئی۔
    تم مجھے ہمیشہ ناشتے کیلئے دعوت دیتئ ہو سو آج میں نے سوچا احسان اتار دوں۔
    کھردرا انداز وہ چاہ کر بھی بدل نہ پائی تھی۔۔ یہ ہوپ اسے حیران کرنے پر تلی تھی۔ سادہ سے گرے اپر ٹرائوزر میں ملبوس بالوں کا جوڑا سا بنائے میک اپ سے بے نیاز وہ کل کی نسبت اس وقت بالکل سادہ تھی مگر اسے اچھی لگی۔ ہر وقت کا پھولا منہ اس وقت پچکا ہوا تھا شائد اسلیئے۔
    اسکو اپنی اس مثال پر خود ہی ہنسی آگئ۔ جلدی سے سر جھکا لیا۔ نوالہ پھنس پھنس گیا اسے کھانسی سی آگئ۔
    یہ لو۔ ہوپ نے گلاس بھر کر پانی اسکی جانب بڑھایا۔
    آج ہوپ اسے حیران کرنے پر تلی تھی۔
    پانی کا گھونٹ بھرا تو منہ خراب ہوگیا۔
    ایک تو یہ لڑکی سدھر ہی نہیں سکتی۔ چائے سے ذرا سا ہلکا گرم پانی تھا۔ اس نے برا سا منہ بنا کر گلاس رکھا۔ پانی سے ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
    کیا ہوا ٹھنڈا ہوگیاپانی؟
    ہوپ نے معصومیت سے پوچھا جوابا وہ چڑ گئ۔
    کسی کو اچھو لگے تو کیا اسے کھولتا پانی پلاتے ہیں۔ جانے تمہیں مجھ سے کیا پرخاش ہے ہر وقت عاجز کرنے پر تلی رہتی ہو۔
    وہ یقینا اتنی متحمل مزاج نہیں تھی جتنا کورینز کے سامنے بنی ہوئی تھی اس وقت کی حرکت نے اسے اتنا تپایا کہ اس نے ساری مروت بالائے طاق رکھ دی۔ اسکے یوں غضب ناک ہونے کی ہوپ کو توقع نہ تھئ۔وہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
    بیان مگر ہم شمالی کورین تو خاص کر تیز گرم پانی پیتے ہیں۔ یہاں جنوبی کورینز بھی نیم گرم پانی پیتے ہیں ہم لوگ ٹھنڈا پانی کم ہی پیتے ہیں۔ میں نے جلدی میں اپنی بوتل سے پانی دے دیا تھا ۔۔
    اس نے میز پر رکھے اپنے فلاسک نما بوتل کی جانب اشارہ کیا۔ بوتل کا ڈھکن ابھی ہٹا ہوا تھا ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔
    کیوں؟ ۔اسکا موڈ خراب ہوگیا تھا اب آسانی سے ٹھیک نہ ہونا تھا۔
    کوئی سزا ملی ہوئی ہے کیا۔ ہمیشہ گرم پانی پیو اور جہنم کے مزے لو۔
    اسکا لہجہ خراب تھا۔ہوپ نے اسکی شکل دیکھی اور جواب دیئے بنا اپنا کپ اٹھا کے چلتی بنی۔ اس نے ناک چڑھا کر محترمہ کی بے نیازی ملاحظہ کی۔
    اس لڑکی کو لگتا ہے ٹھیکہ ملا ہوا ہے میرا موڈ برباد کرنے کا۔ جتنی شکل پیاری ہے اسکا آدھا پونا اخلاق بھئ اچھے ہوتے تو کیا بات تھی۔
    اب اس نے بڑ بڑ ہی کرنی تھی ناشتہ کرتے ہوئے۔ نیا نوالہ منہ میں ڈالا ۔۔
    ہمیشہ ٹھنڈے پانی کے فوائد سنے گرم پانی کا تو ہمیشہ سنا جہنمیوں کو پلایا جائے گا کھولتا ہوا پانی۔ ایک تو بندے کو پہلے ہی اعمال کی وجہ سے یقین نہ ہو کہ۔جنت نصیب ہوگی الٹا دنیا میں بھی جہنم کے مزے لوٹنے لگو۔ واہ۔
    وہ سرجھٹک جھٹک کے ناشتہ کر رہی تھی۔
    ہوپ نے لائونج میں صوفے پر دراز ہو کر ٹی وی آن کر لیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ تو لی گروپ کے زیر انتظام سپراسٹور ہے۔
    گوارا اسے پہلے دن خود اسٹور چھوڑنے آئی تھی۔
    کتنا بڑا ہے نا۔اس کو اسٹور پسند آیا تھا۔گوارا اسکا ہاتھ تھامے ڈھونڈ ڈھانڈ کے اس نئے امریکی سیریل کی تشہیر کے لیئے لگائے گئے اسٹال پر لے آئی۔ وہی ادھیڑ عمر انکل کھڑے تھے ساتھ ایک دو اور بھی شائد اسکی طرح کے ملازمین تھے۔
    اوکے ڈئیرفائٹنگ۔
    گوارا نے مٹھی بنا کر اسے دکھایا۔
    لڑوں ؟ ۔ اریزہ حیران رہ گئ۔
    میرا مطلب ہے گڈ لک۔ گوارا نے سرپیٹ لیا۔
    اوہ اچھا۔شکریہ۔
    وہ سنبھلی۔
    اچھا واپسی پر بھی اسی طرح بس میں آجانا ٹھیک اور کوئی بھی مسلہ ہو بتا دینا۔
    وہ اب جانے کی تیاری میں تھی۔ اریزہ نے سر ہلا کر تسلی کرائی وہ اسکے گلے لگتی ہاتھ ہلاتی بھاگ گئ۔
    وہ گہرا سانس لیکر اسٹال کے پاس چلی آئی۔
    چند منٹ کی مختصرسی انکی تربیت کی گئ جس میں انکا کام صرف بچوں کو بلا کر سیریل چکھانے پر مشتمل تھا۔اس بڑے سے مال پلس مارٹ پر کئی منزلیں تھیں۔اسے اسی منزل کے اسٹال کو سونپ دیا گیا تھا۔ یہاں کئی غیر ملکی برانڈز کی دکانیں تھیں۔ ایک لڑکا اسکے ساتھ کھڑا تھا۔ جو دیکھنے میں ہی بمشکل اسکول جانے والا لگتا تھا۔
    آننیانگ۔ اس نے جھک کر بڑی تمیز سے سلام کیا تھا۔
    جوابا وہ بھی ہلکے سے سر جھکا کر مسکرا دی۔
    پھر تمام وقت وہی لڑکا بچوں کو سیریل کھانے پر مائل کرتا رہا اور وہ سیریل کے ڈبے کھول کر دودھ میں گھول گھول کر دیتی رہی۔ چھے گھنٹے کی شفٹ اور اتنا بورنگ کام۔ جمائیاں آنے لگیں اسے تو وہ لڑکا اسکے لیئے کافی لانے کا کہہ کر اٹھ کر چلا گیا۔

    چاکلیٹ ونیلا اور اسٹرابری ۔اتنی پیاری خوشبو آرہی تھی کہ دل کیا ذرا سا چکھ تو کم از کم لے۔ مگر ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رک گئ۔ ایپرن کمپنی کے لوگو والا اس نے پہن رکھا تھا اسٹال اسٹفڈ ٹوائئز اور غباروں سے سجا تھا پھر بھی بچے منہ بنا کر آتے اور کھا کر منہ بنا کر ہی چلے جاتے۔
    نونا کافی۔
    لڑکے نے کافی لا تھمائی۔
    گومو وویو۔
    وہ شکر گزار ہوئی۔
    میرا تو ٹارگٹ پورا ہو گیا ہے اب میں چلتا ہوں ابھی ایک گھنٹہ ہے آپ اپنے پچیس ڈبے پورے سیل کر لیں۔ آل۔رائٹ۔۔۔۔ مجھے امید ہے 25 ڈبوں کا سیل ٹارگٹ پورا کر لیں گی آج آپ۔۔ فائٹنگ۔
    وہ صرف اسی کیلئے کافی لایا تھا۔ مزے سے یہ سب کہتا مسکرا کر یقینا اسکی بے وقوفی کا مزاق اڑا رہا تھا۔
    وہاٹ ؟
    اسے سمجھ نہ آیا۔ یہ کیا کھیل کھیل گیا وہ۔
    ہم دونوں کو پچیس پچیس سیریل کے ڈبے سیل کرنے تھے
    میں نے ستائیس ڈبے بیچ دیئے ہیں میری طرف سے یہ دو سیلز آپ رکھ لیں۔ اچھا میں ذرا کلیئرنس کروا لوں۔
    وہ کہہ کر رکا نہیں الٹے پیروں مینجمنٹ کے دفتر کی جانب بڑھ گیا۔
    اتنے گھنٹوں سے ان بچوں کیلئے سیریل بنا بنا کر اسکے ہاتھ شل ہو گئے تھے اور یہ چپکے چپکے ان سے جانے کیا گٹ پٹ کرتا سب سیلیز اپنے نام کر گیا تھا۔ جتنی دیر میں اسے سارا معاملہ سمجھ آیا وہ رفوچکر ہو چکا تھا۔
    ہمارا ٹارگٹ بھی تھا یہ مجھے پتہ کیوں نہ چلا۔
    وہ روہانسی سئ ہوگئ۔
    یہ سب سیلز اسکی اکیلے کی کیسے بن گئئیں وہ انہی سوچوں میں کلس رہی تھئ کہ دو تین ننھے منے چندی آنکھوں والے بچے اسکے اسٹال پر رکھے بڑے بڑے کارٹونک اسٹینڈز کے شوق میں بھاگے آئے تھے۔۔ اب اچھل اچھل کر اپنی زبان میں جانے کیا کہہ رہے تھے
    اتنے معصوم گورے گورے پیارے بچے۔ اسکا دل موم سا ہوا۔ سب جھٹک کر وہ جی جان سے متوجہ ہوئی۔انکا نام پوچھا سب بٹر بٹر شکل دیکھنے لگے۔۔
    کیسی تعلیم دیتے ہیں بچوں کو ایک لفظ انگریزی کا نہیں آتا۔ خیر اس عمر میں ہمیں بھئ نہیں سمجھ آتا تھا مگر نیم سن کر نام تو بتا ہی دیتے تھے۔
    اسے کوریا کے تعلیمی نظام پر غصہ آیا۔ وہ چھوٹی سی پانچ چھے سال کی بچی اچھل اچھل کر کائونٹر سے سب بائول گرانے پر تلی تھئ۔ اس نے دانت کچکچاتے تحمل سے روکنے کی۔خاطر اس دو پونیوں والی گڑیا کی پونیاں پیار سے چھوئیں جس پر خاصی نفرت سے بچی نے گھورا اور ہونہہ کرتی بھاگ کھڑی ہوئی۔۔
    ارے۔۔ وہ حیران ہی رہ گئ اسکے ردعمل پر۔۔ دوسرے بچے کو کائونٹر سے چمچ چاہیئے تھا۔۔
    میں بنا کر آپکو چکھاتی ہوں۔۔ اریزہ نے تسلی دیتے ہوئے دودھ کا پیکٹ کھولا۔۔اور ایک۔ننھے پیالے میں سیریل گھولنے لگی۔
    ایک تین چار سال کا شیطان کائونڑ پر رکھے ڈبوں کو اچھل اچھل کر ہاتھ مار رہا تھا۔۔ اریزہ نے جھلا کر اسے اسکے اپر سے پکڑ کر اٹھا کر ایک طرف کیا جوابا اس نے غصے میں نہ صرف گھورا بلکہ ریں ریں کرتا ماں کی طرف شکایت لگانے بھاگا۔۔
    شکل کے جتنے پیارے ہیں اتنے ہی آفت کے پرکالہ بچے ہیں۔ کوریا کو بھی چین کی طرز پر ایک بچے کی اجازت والی پالیسی اپنانی چاہیئے۔
    اریزہ نے بڑبڑانے والے انداز میں کہا پھر پھسلا کر بچوں کو چکھانے لگی۔ جتنے شوق سے ہبڑ تبڑ سب چٹ کر گئے اسے لگا یہی بچے اسکا 25 سیلز کا ٹارگٹ پورا کر دیں گے۔
    بیٹا اپنی آہموجی کو بلا کر لائو ۔۔
    اس نے پیار سے کہا تھا جوابا وہ آٹھ نو سالہ بچہ منہ چڑا کر بھاگ اٹھا۔
    کمینہ بچہ۔۔ وہ روہانسی ہو چلی تھی۔ تین اور بچے آن کھڑے ہوئے
    وہ ابھی دو سیریل کے بائول بنا کر سیدھی بھی نہ ہوئی تھی کہ ایک کڑخت سی پینتیس چھتیس سال کی عورت اسی ننھے شیطان کا ہاتھ پکڑے چیختی چنگھاڑتی اس پر چڑھ دوڑی۔۔
    زبان انجان مگر کف اڑاتا انداز۔۔۔
    بلا بلا بلا۔۔
    ایکسکیوز می۔ آئی کانٹ انڈراسٹیںڈ واٹ یو آر سیئنگ۔۔ میم پلیز کام ڈائون۔۔
    اسکی منت سماجت کچھ کام نہ آئی۔۔ آنٹی کا دماغ خراب ہوا وا تھا۔۔
    چند لمحے تو اس نے سنا۔مگر جب ارد گرد سے گزرتے صارفین بھی چسکے لینے کھڑے ہوئے اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔۔ انگریزی گئ بالائے طاق۔۔ اور اردو فر فر نکلی۔۔۔ ایک نہ چھوڑی دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر وہ دوبدو ہوئی
    اوہ محترمہ۔۔ بہت ہوگئ۔ میں چپ ہوں تو بولے چلی جارہی ہو ۔حد ہوگئ زبان ہے یا قینچی کتر کتر چل رہی ہے۔ خود ایسی ہو جبھی بچہ بھی تمہارا بدتمیز ہے ظاہر ہے اس نے تم سے یہی سب سیکھا ہوگا۔ آنکھیں کیوں پھاڑ رہی ہو یہ بنٹوں جیسی آنکھیں باہر گر پڑیں گی اتنا کھلتی ہوتیں تمہاری آنکھیں تو بیٹے کے کان مڑورتیں مجھ پر نہ چڑھ دوڑتیں۔
    آہجومہ کی آنکھوں کے ساتھ منہ بھی کھل چکا تھا۔ انجان زبان میں جانے وہ لڑکی کیا کہے جا رہی تھی۔۔ مگر جو بھی کہہ رہی تھی انداز سے لگ رہا تھا اب کہے گی کم ہاتھ ذیادہ چلائے گی۔۔
    اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میرے سامنے تم بھی ایسے ہی اپنی زبان میں گٹ پٹ کیئے جا رہی تھیں۔۔اب سنو۔ نہیں سمجھ آرہی نا یہی پچھلے دس منٹ سے کہہ رہی تھی انگریزی بول لو بی بی تمہاری بکواس سمجھ نہیں آرہی مگر نہ جی۔۔ بک بک بک بک دماغ خراب کرکے رکھ دیا میرا
    دے۔۔ کیا کہہ رہی ہو تم؟۔ آہجومہ کی گھن گھرج کم ہوئی۔۔ بھیڑ چھٹنے لگی۔۔ مینجرمنہ کھولے سامنے کھڑا تھا۔۔
    اریزہ نے جھٹ دانتوں تلے زبان دبالی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مارکیٹنگ کا پہلا اصول ہوتا ہے کہ کسٹمر ہمیشہ صحیح ہے۔
    مینجر صاحب اسے لیکچر دے رہے تھے۔
    کسٹمر بھی وہ جو اگر سمجھنے سمجھانے والی عمر میں نہیں۔ بچوں کے ساتھ ہمیں بہت تحمل سے کام لینا پڑتا ہے وہ بات سمجھ نہیں سکتے ہمیں انکو بہلا کر پھسلا کر منانا پڑتا ہے۔ اگر بچے آپ سے ڈریں گے تو آپ انکو اپنی چیز کیسے بیچیں گے؟ جھلاہٹ بے زاری غصہ بچے نہیں سمجھتے۔ اور یہ وہ چیزیں ہیں جو آپ کبھی کسٹمر کو نہیں دکھا سکتے کیونکہ اس سے آپ نے پیسہ نکلوانا ہے۔ پیسہ صرف شیریں لب و لہجے اور تحمل سے ہی آپ کسی کی جیب سے نکلوا سکتے ہیں۔یوں سمجھو ہم وہ ڈاکو ہیں جو گن پوائںٹ کی بجائے مسکراہٹ سے لوگوں کو لوٹتے ہیں۔۔
    کوئی حیرت نہیں آپ ایک ڈبہ بھی نہ بیچ پائیں۔
    ایک تو اس ہائی اسکولر نے چونا لگایا۔ اوپر سے اتنی بے عزتی کے بعد ملنے والے اس لیکچر کی وجہ سے اسکی شکل پر دنیا جہان کی بے چارگئ چھا گئ تھی جبھی بولتے بولتے چارلس نرم پڑا
    آپ ایسا کریں ابھی گھر جا کر آرام کریں۔ کوئی اچھی سی مووی دیکھیں موڈ اچھا کریں کل خوشگوار سےموڈ کے ساتھ آئیے گا۔۔
    یہ اس نے رعائیت کی تھی۔ ورنہ اصولا تو کسٹمر سے بدتمیزی کے نام اسکے مینجر نے اسکو اسٹال اور لڑکی دونوں کو اسٹور سے باہر لے جانے کا حکم سنایا تھا۔ چارلس کہہ سن کر معاملہ دبا کر آیا تھا اریزہ کو یہ لیکچر اسٹور کے باہر کھڑے کھڑے دے کر رخصت کیا خود دوبارہ اسٹورمیں گھس گیا تھا آج کے دن اسےہی مغز کھپائی کرنی تھی یہاں۔۔
    شکریہ۔۔ اریزہ کے منہ سے جب تک یہ لفظ نکلا وہ پلٹ چکا تھا۔۔
    ہاف۔۔ اس نے آہ بھری تھی۔۔ اسٹور تو اتنا خنک نہیں تھا مگر باہر بلا کی سرد ہوا تھی۔سورج کا نام و نشان نہ تھا۔۔اکا دکا دکانیں کھلی تھیں وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھانے لگی۔۔
    کوریا میں جاڑا آچکا تھا۔ ستمبر کی خنکی پاکستان کے دسمبر کے برابر چل رہی تھئ۔
    سڑک پر ٹریفک معمول سے کم تھا فٹ پاتھ پر پھر ایک دو لوگ چل رہے تھے۔۔ وہ البتہ دکانوں کے آگے پختہ سروس روڈ پرمٹر گشت کر رہی تھی۔ پہلی جاب پہلا دن اور پہلی ہی بے عزتی اسے کافی محسوس ہوئی تھی۔۔
    پانی کا قطرہ اسکے کندھے پر آکر گرا تو اس نے چونک کر جھاڑا۔۔ ایک لانگ کوٹ اندر ہائی نیک نیچے فلیٹ شوز اسکے باوجود سرد ہوا کپکپائے دے رہئ تھی اسے۔۔ اسے میٹرو اسٹیشن تک پیدل جانا تھا جو کم از کم بھی پچیس منٹ کی دوری پر تھا۔۔ وہ اپنے قدموں پر نگاہیں جمائے ارد گرد سے بے نیاز چلے جا رہی تھی۔۔
    ایک اور قطرہ اسکے کوٹ پر آٹھہرا تو اس نے چڑ کربمشکل زرا سا سر اٹھا کر اوپر دیکھنا چاہا بادل خوب گھر گھر کر آئے تھے۔ ایکدم چھما چھم برس اٹھے وہ بھاگ کے دکانوں کے باہر شیڈ میں گھسی
    ۔کیا کروں۔ کسے فون کروں۔
    وہ سوچ میں پڑی۔ گوارا تو سورہی ہوگی۔ ایڈون۔
    اس نے جلدی سے ایڈون کو کال ملائی کال جا رہی تھی مگر وہ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔
    وہ بھی تو جاب پر ہوگا۔۔ اسے رونا آنے لگا۔
    بارش چھما چھم برس رہی تھی اسکے بال گیلے ہونے لگے تھے۔۔
    اس نے ادھر ادھر دیکھا تو سامنے رہائشئ عمارت نظر آئی۔
    وہ بھاگ کر اس میں گھس گئ۔ گلاس ڈور سختی سے بند تھا تاہم اسے تھوڑا سا شیڈ مل گیا۔۔
    کوئی ہے۔۔ اس نے کھٹکانا چاہا۔ برف ہوئے ہاتھ زور بھی نہ لگا سکے۔ اسکی سانس پھولنے لگی۔۔
    تبھئ بڑے زور سے بجلی کڑکی تھی۔ اور وہ وہیں دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئ۔
    سب ٹھیک ہے۔مجھے ڈر نہیں لگ رہا۔ بارش بالکل ڈرائونی نہیں ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چھتری کے باوجود بارش نے اسے گیلا کردیا تھا۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنی رہائشی عمارت کی جانب بڑھا۔ گلاس ڈور کے ساتھ یقینا کوئی ہوم لیس شیڈ بیٹھا تھا بارش سے بچنے کیلئے۔ وہ دھیان دیئے بنا کوڈ دبا کر دروازہ کھولنے لگا اندر آکر دروازہ بند کیا تو عجیب سا احساس ہوااس نے مڑ شیشے کے پار دیکھا۔ کندھوں پر بکھرے بالوں سے اندازہ ہوتا تھا لڑکی ہے۔ کسی بے گھر کے حساب سے اچھے لباس میں ملبوس تھی۔ اکڑوں بیٹھی ہل ہل کر کچھ بڑ بڑا بھی رہی تھی۔ اس نے سوچا مڑ کر چلا جائے مڑ بھی گیا تھا مگر تبھی زور سے بجلی کڑکنے پر اس لڑکی نے جیسے ڈر کر زور زور سے بولنا اور ہلنا شروع کر دیا تھا۔ وہ نظر انداز کر نہ سکا۔
    چھوگیو۔ وہ چھتری دروازے کے پاس اسٹینڈ میں ٹکاتا اسکے پاس چلا آیا۔ قریب آکر نرم سی آواز میں اسے متوجہ کرنا چاہا۔
    نامانوس سی آواز اس نے چونک کر سامنے دیکھا۔۔ چندی آنکھوں والا اجنبی مگر مانوس دکھائی دیتا چہرہ۔
    ارے آپ۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔
    یہ کون ہے اجنبی ۔ ۔۔ نہیں اجنبی نہیں۔۔ کہاں دیکھا ہے اسے۔۔
    اس کی آنکھیں اصل حجم سے دگنی ہو چلی تھیں۔۔چندی آنکھوں والے نے خاصی دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا کہاں اس ملک میں حیرت کے اظہار کے طور پر بھی آنکھیں کھل نہیں پاتیں تو کہاں یہ لڑکی اپنی موٹی موٹی آنکھیں پھاڑ کر پانڈا بن چلی تھی۔۔۔۔
    وہ سٹپٹا کر جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئئ۔
    سامنے تڑاتڑ برستی بارش تھی۔ اور یہ۔
    آریزہ۔۔ رائٹ آپ اریزہ ہو نا؟
    علی نے پہچان لیا تھا۔ اب خود بھی اٹھ کر اسکے مقابل آن کھڑا ہوا۔
    پرسوں ہی آپ سے ملاقات ہوئی تھی غالبا آپ نے پہچانا نہیں مجھے۔
    اسے حیرت تھئ۔ اسکی شخصیت اتنی غیر متاثر کن تو نہ تھی کہ کوئی لڑکی اس سے پہلی ملاقات میں اچھا تعارف حاصل کرنے کے بعد یوں بھول جائے۔
    کین چھنا۔ آئیے اندر آجائیں۔یہ سامنے میرا فلیٹ ہے۔
    اسکی آنکھوں میں شناسائی کی رمق آہی گئ تھی مگر وہ متذبذب تھی۔۔۔
    ہتھیلیاں مسل کر برستی بارش کو یوں دیکھنے لگی جیسے گزارش کر رہی ہو کہ رک جائو مہربانی ہوگی۔
    علی مسکرا دیا۔
    موسم انسانوں کی گزارش پر بدلا نہیں کرتے۔
    اسکی بات پر اریزہ نے ترچھی سی نگاہ ڈالی اس پر۔
    دو گھنٹے بعد رکے گی بارش۔۔۔۔
    اس نے جتایا۔ اریزہ گہری سانس لیکر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی میز پر بیٹھا وہ مکمل طور پر مگن تھا تحفہ پیک کرنے میں۔ تحفہ اچھی طرح پیک کرنے کے بعد اس نے دل لگا کر کارڈ لکھا تھا۔ کارڈ کو اس پر چپکایا۔۔۔ بکے اسے راستے سے لینا تھا مگر اس سے قبل۔۔ وہ سوچ میں پڑا کیا چیز رہ گئ۔
    نونا نے پیچھے سے اچانک آکر تحفہ اٹھا لیا۔ ہایون نے سٹپٹا کر انکو دیکھا پھر انکی پھرتی کے آگے ہار مان کر صبر سے انکے ردعمل کا انتظار کرنے لگا۔ وہ دل میں ہی پڑھ رہی تھیں مگر چہرے پر پھیلی حیرت اسکو مسکرانے پر مجبور کر گئ۔ نونا بھی نا ٹھیک ٹھاک شرمندہ کرادیتی ہیں کبھی کبھی۔ وہ نچلا لب دانتوں سے دبائےسوچ رہا تھا۔
    یہ دن یقینا معجزاتی تھا کیونکہ اس دن ایک پری نے دنیا میں آنکھ کھولی۔
    کیا تم جانتی ہو تمہارا ہونا بھی کسی کو خوش کردیتا ہے دوست اور تمہارا خوش ہونا تو خوشی کی انتہائین محسوس کرا دیتا ہے کسی کو۔۔۔۔ اور وہ کسی میں ہوں۔
    میری جانب سے سالگرہ مبارک ہو
    اریزہ۔۔
    وہ نام پڑھ کر واضح طو رپر چونکی تھیں۔
    یہ؟
    وہ جوابا کھل کر مسکرا دیا۔
    تم جس لڑکی کو پسند کرنے لگے ہو وہ اریزہ ہے؟
    وہ شدید حیران تھیں۔
    دے۔ اس نے اعتراف کر لیا تھا۔
    مگر مجھے تو لگا تم یو آنہ۔سے میرا مطلب ہے ہوپ کیلئے تم اتنی محنت کر رہے تھے اور۔۔
    وہ حیرت کے مارے جیسے گنگ سئ ہوگئ تھیں۔
    ہوپ؟ نہیں نونا میں بس اسکی مدد کرناچاہ رہا تھا۔ میں نے اسکو اس نگاہ سے نہیں دیکھا۔
    ہایون کا انداز قطعی تھا
    مگر وہ جو نازک سی لڑکی جسکا سہارا بننے کو دل کرے والا آئیڈیلزم تھا تمہارا وہ تو ہوپ۔۔
    ہا ہا ہا۔ ہایون زور سے ہنسا۔۔
    آئیڈیلزم ۔۔ کیا یاد کرادیا۔ تب میں ایسا ہی سوچتا تھا۔ تب مجھے نہیں معلوم تھا کہ محبت انسان سے ہوتی اسکی شخصیت سے نہیں۔ ہوپ بہت مضبوط شخصیت کی مالک لڑکی ہے اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔
    اور اریزہ ؟ مجھے تو وہ بھی کافی بااعتماد لڑکی لگی تھی۔
    نونا الجھن ذدہ ہوئیں۔
    اریزہ۔ وہ سوچ میں پڑا۔ اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
    یہ وہ انڈین لڑکی ہے نا جس نے مجھے اسکارف دیا تھا
    گنگشن کو یاد آیا۔
    پاکستانئ ۔ ہیونگ سک نے تصحیح کی۔۔
    اسے انڈین کہو تو برا مان جاتی ہے۔۔
    پھر پرپوز کیا اسے؟ گنگشن کے پوچھنے پر وہ منہ لٹکا کر بولا
    ابھی تو نہیں۔ مجھے جاننا ہے وہ بھی کیا میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہے کہ نہیں۔۔
    ہاف۔۔ گنگشن نے سر تھام لیا۔۔
    اچھا نونا آپ کے بریو ہارٹس کب پرفارم کر رہے میں نے کب سے بکنگ کروائی ہوئی ہے آپ سے ستمبر آ تو گیا ہے

    ستمبر والا سیشن تو ٹل چکا اب اگلے مہینے ہی ہوگا جو بھی ہوگا۔ فنکشن ساتھ تمہاری اسپیشل میٹنگ ہوگی جب ہماری آرگنائزیشن کے ساتھ انکا ڈنر ہوگا تو تمہارا پاس بنوا دوں گی تم بنفس نفیس مل لینا ان سے۔۔
    دو پاس ۔۔ ہیون نے یاد دلایا۔
    ڈن۔۔ گنگشن مسکرائی ۔۔
    ہایون گفٹ اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    وہ نک سک سے تیار تھا انکی لائی وہی والی شرٹ پہنے جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا اپنی پہلی ڈیٹ پر پہننا۔۔

    یوآنہ واقعی بہت بد قسمت ہو تم۔۔
    گنگشن نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکے موبائل کی چارجنگ ختم تھی وہ اپنا چارجر اندر سے لے آیا تھا۔ وہ وہیں لابی میں کھڑی اسکا انتظار کرتی رہی ۔
    ہایون کا نمبر ہے ویسے میرے پاس۔
    اس نے پیشکش کی۔
    نہیں میں ٹیکسی بلوا کر چلی جائوں گی۔
    اس نے سہولت سے انکار کیا تھا۔ موبائل کو قریبی کائونٹر پر چارجنگ پر لگا کر موبائل آن کرنے لگی۔
    موبائل چند لمحوں بعد ہی آن ہو گیا تھا۔
    لابی کے ایک کونے میں ملاقاتیوں کیلئے صوفے رکھے تھے۔
    یہاں موسم خاصا خنک تھا۔
    یہ بالکل سامنے میرا فلیٹ ہے آپ چاہیں تو اندر چلیں یہاں موسم کافی سرد ہے۔
    خود وہ اندر سے کپڑے بدل آیا تھا۔ اپر پہنے اسے ٹھنڈ سی لگ رہی تھی۔ اور وہ لڑکی۔ بارش سے بال تھوڑے گیلے ہو چکے تھے
    وہ تیسری دفعہ کہہ رہا تھا مگر وہ اندر آنے کو تیار نہ تھی۔
    نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔ اس نے سہولت سے منع کردیا ۔۔
    ایپ فوری طور پر کھول کر وہ رائڈ ڈالنے لگی کہ خیال آیا۔
    کس علاقے میں کس عمارت کا پتہ ڈالے؟ ۔
    اس نے بلا ارادہ اپنے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی کا ناخن دانتوں تلے کچل دیا۔
    گوارا سے پوچھتی ہوں۔ اس نے فورا گوارا کو کال ملائی ۔
    پہلے کورین میں پھر انگریزی میں آپریٹر بولی
    آپکا ملایا ہوا نمبر دوسری لائن پر مصروف ہے۔
    علی کے دانت بجنے لگے تھے۔ اپنے دونوں بازو سینے پر لپیٹے اس نے ذرا سا سکڑ کر جسم گرم کرنا چاہا۔
    گوارا کے بعد اگلا نام ہایون ہی آیا تھا اسکے ذہن میں۔ جھٹ اسے فون ملا دیا۔ دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا تھا۔
    اسلام و علیکم۔
    خوشگوار انداز اور اس نے جواب بھی نہ دیا سوال کر ڈالا۔
    وہ مجھے گوارا کے فلیٹ کی لوکشن بتا دو میں نے ٹیکسی منگوانی ہے۔
    کہاں ہو ؟
    میں ؟ وہ مڑ کر علی کودیکھنے لگی۔
    وہ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑ کر گرم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سرخ ناک سرخ ہوتے گال۔
    اسے اسکی شکل دیکھ کر ترس ہی آگیا۔
    بے چارہ مروت میں کھڑا ہے باہر لابی میں۔ ویسے کیوں کھڑا ہے۔ چارجر دے کر چلا جاتا اندر۔ میں جاتے وقت دے جاتی اسکا سونے کا چارجر

    اسے اسکی مروت پر ہنسی ہی آگئ۔ ایک چارجر کے پیچھے کھڑا ٹھٹھر رہا ہے۔
    اسی وقت علی کی اس پر نظر پڑی اس نے فورا مسکراہٹ دبا لی۔
    وہ ہایون پوچھ رہا ہے یہ کونسی جگہ ہے۔
    اریزہ کے کہنے پر وہ دیکھ کر ہی رہ گیا۔
    حد ہےسردی میں یہاں جمتے ہوئے موبائل چارج کر سکتی ہے میرے موبائل سے ہایون کو کال کر لیتی۔
    اس نے دانت پیستے قریب آکر فون لیا اسکے ہاتھ سے۔
    ہایون کو بتا کر اس نے فون بند کر دیا تھا۔۔
    یہ کیا آپ نے فون بند کردیا مجھے رائڈ بک کرنی تھی وہ لوکیشن پوچھ رہا تھا بس۔
    وہ جھنجھلائی
    ہایون کہہ رہا ہے وہ آرہا ہے آپکو لینے۔
    ہایو ۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئ۔ اب ظاہر ہے اسے آنے سے روکا نہیں جا سکتا تھا۔
    آپ کا شکریہ کافی زحمت ہوئی آپکو۔ آپ جاسکتے ہیں میں ہایون کا یہیں انتظار کرلوں گئ۔
    اس نے دور پڑے صوفوں پر نگاہ کی۔ اتنی دیر سے چوکنا کھڑی تھی۔ بیٹھنے کا خیال تک نہ آیا اس وقت تو تھکن کے مارے برا حال تھا۔
    ٹھیک ہے۔ علی کی برداشت بھی تمام ہو رہی تھی۔ پھر بھی مسکرا کر الوداعی انداز میں سر جھکاکر کرم کہتا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
    اریزہ نے چند لمحے متزبزب سے انداز میں اسکو جاتے دیکھا پھر جب برداشت ختم ہوتی محسوس ہوئی تو آواز دے ڈالی۔
    ایکسکیوز می۔
    وہ فورا رکا تھا اور پلٹ کر دیکھنے لگا۔
    وہ کیا میں آپکا بیت الخلا استعمال کر سکتی ہوں۔
    اس نے کافی جھجک کر پوچھا تھا۔
    ہایون کچھ ہی دیر میں آنے والا تھا یہاں یقینا اب وہ اس کے فلیٹ میں جا سکتی تھی۔ احتیاطی تدابیر مکمل تھیں۔
    اس نے بمشکل اپنی در آنے والی مسکراہٹ روکی۔
    جی ضرور۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دو گھنٹے چھما چھم برس کر سب واپسی کے راستے مسدود کردینے والی بارش ایکدم ہی رک بھی گئ تھی۔ اسکی نوکری کا پہلا دن ہی یادگار بن چکا تھا۔ ہایون اسے جب تک لینے پہنچا تھا تب تک آٹھ بج چکے تھے۔ صبح گیارہ بجے ناشتہ کیا تھا۔ دوپہر سے نوکری شروع تھی۔ اب گیارہ بج چکے تھے۔ اس وقت آنتیں الٹ پلٹ چکی تھیں۔ بھوک سے برا حال تھا۔ مگر کیا ہو سکتا تھا۔ صبر سے چپ کرکے بیٹھی رہی
    اس نے دوسری تیسری دفعہ موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔تو ہایون سے اسکی بے چینی چھپی نہ رہ سکی۔
    کین چھنا۔۔۔۔
    ہایون نے پوچھا تو وہ فورا نفی میں سر ہلاگئ۔
    نہیں کچھ نہیں۔
    سیول کے راستوں کی خبر تو نہ تھی اسے۔ پھر بھی اتنا اندازہ ہو رہا تھا کہ آج گوارا کے گھر کا راستہ کافی دور ہو گیا تھا۔یا اسے لگ رہا تھا۔
    جیسے ہی عمارت کے باہر اس نے گاڑی روکی وہ فورا اتری تھی۔
    اریزہ۔ اسے پھرتی سے اندر جاتے دیکھ کر اس نے آواز لگائی۔
    وہ بنا بولے مڑ کر دیکھنے لگی۔ انداز ایسا تھا کہ بولو پھر میں جائوں۔
    وہ گاڑی سے اتر کر پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولنے لگا۔
    اندر سے ایک چھوٹا سا بکے اور تحفہ نکال کر اسکے پاس چلا آیا۔
    سالگرہ مبارک ہو اریزہ۔ جیو ہزارو سال ہر سال کے دن ہوں ہزار۔
    نا مانوس لہجے میں اٹک اٹک کر اس نے سچ مچ یہی کہا تھا۔ وہ تحیر سے اسے دیکھتی رہ گئ۔
    اتنا حیرت سے کہ وہ سٹپٹا ساگیا۔
    کیا ہوا غلط بول گیا معاف کرنا۔وہ یہ میں نے گوگل سے ڈھونڈ کے جنگل یاد کیا تھا گوگل کے مطابق سالگرہ پر برصغیر کے لوگ یہی گانا گاتے ہیں۔
    وہ صفائئ دینے والے انداز میں بولا۔
    اریزہ نے بکے اور تحفہ تھامنے کیلئے ہاتھ نہیں بڑھایا تھا۔
    ابھی پانچ منٹ ہیں بارہ بجنے میں مگر میں چاہتا تھا آج کے دن کی وش سب سے پہلے میں کروں تمہیں۔ تمہارے سب دوستوں سے پہلے۔
    اسکا ردعمل اسکے کیلئے بالکل غیر متوقع تھا۔ سب جملے سب باتیں جو اس نے سوچیں تھیں اور سوچا تھا اس تحفے کے ساتھ ہی اسے پرپوز کر دے گا سب کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ وہ بالکل ساکت سی کھڑی ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی۔
    اریزہ۔
    وہ سب کہہ سن کے چپ ہو چکا تھا تو پکار بیٹھا۔
    ہوں۔ وہ چونکی۔
    چھوٹا سا بکے اور ایک درمیانے سائز کا تحفے کا باکس لیئے۔وہ منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
    اسکی آنکھیں بھر آئیں۔
    ہونٹ بھینچ کر اس نے امڈنے والے آنسوئوں کو روکنا چاہا۔
    شکریہ۔ اس نے کوریائی انداز میں ذرا سا جھک کر اس سے بکے اور تحفہ تھاما۔
    آر یو آل رائٹ۔
    اسکی ہمیشہ تازہ دم رہنے والی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔ خاصی تشویش سے اس نے پوچھا۔
    دے۔۔ وہ قصدا مسکرائی۔
    گھمسامنیدہ۔۔( شکریہ) گھپشیدہ (چلو ساتھ چلیں )

    اتنے دنوں میں الوداعی کلمات تو وہ سیکھ چکی تھی مگر استعمال کم ہی کرتی تھئ۔ اس وقت کہہ کر فورا مڑ گئ تھی۔
    ہایون نے اسے روکنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ضرور مگر پھر واپس کھینچ لیا۔
    چھوگیو۔
    اس نے دھیرے سے کہا تھا جو وہ یقینا سن بھی نہیں پائی تھی۔
    تم نے کہا ہے میرے ساتھ چلو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تو دونوں شائد سو چکی تھیں۔سب بتیاں بجھا کے۔
    وہ وہیں لائونج میں بتی جلا کے بیٹھ گئ۔
    گلابوں او رنجانے کونسے ہلکے پیلے رنگ کے پھولوں سے سجا وہ سادہ مگر بے حد خوبصورت گلدستہ تھا۔اسے ہر لڑکی کی طرح پھول بے حد بھاتے تھے۔اس وقت بھی یہ بکے دل چھو گیا تھا اسکا۔ اس نے کارڈ اٹھایا۔ چیری بلاسم کے درخت کے نیچے روائتی کورین لباس میں ملبوس وہ لڑکی کوئی روائتی ساز بجا رہی تھی۔ اور دھیرے سے ہوا چلنے پر اس پر چیری بلاسم کی برسات ہوگئ تھی۔ ڈوبتے سورج کا منظر دریا کنارہ۔ اور اس پر لکھی کورین تحریر۔جو یقینا اسکی سمجھ سے بالاتر تھئ۔
    اس نے کارڈ کھولا اندر نہایت خوبصورت لکھائی میں انگریزی متن تحریر تھا۔
    پری۔ اسے ہنسئ آگئ۔
    بچے ایسے کارڈ لکھتے ۔ ایک توکورینز کو انگریزی بھی تو نہیں آتئ۔ گوگل کیا ہوگا ہایون نے۔
    اس نے اندازہ لگایا۔ پھر احتیاط سے تحفہ کھولنے لگی۔ ایک نہایت قیمتی دکھائی دینے والے ڈبے میں کوئی غیر ملکی پرفیوم تھا۔
    اس نے فورا اپنی کلائی پر چھڑکا۔
    نفیس سی خوشبو۔ اسے معطر کر گئ۔
    اسے یہ تحفہ بے حد پسند آیا تھا فورا اس نے خود پر چھڑک لیا۔
    پسند اچھی ہے ہایون کی۔ اسے اتفاق ہوا۔
    تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔
    صارم تھا۔
    اسکے فون اٹھاتے ہی گنگنانے والے انداز میں بولا۔
    ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ڈئیر اریزہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔
    جیو ہزارو سال ہر سال کے دن ہوں بس تین سو پینسٹھ بھئی۔ اب ہزارو سال کیوں کہوں ہم سب مر جائیں تم اکیلے جی کر کیاکروگئ۔
    وہ مخصوص مسخرے پن سے بولا وہ ہنس دی۔
    واقعی یہ گانا گوگل پر سب سے ذیادہ مشہور ہے کیا؟
    شکریہ۔ تم بھئ جیتے رہو خوش رہو۔
    مختصر جواب دیا گیا۔۔
    ہیں خیریت؟ اتنئ تمیز سے مبارکباد وصول کی شکریہ بولا آج سورج کہاں سے نکلا ہے دیکھو باہر کھڑکی میں جھانک کر۔
    اسکا مسخرا پن جاری تھا وہ منہ بنا کر بولی۔
    کوریائی وقت کے حساب سے رات بارہ بجے کا اندازہ لگاکر وش کرنے تک کا دماغ چلایا تو کیا دماغ بس اتنا چل کر بند ہوگیا تھا ؟ رات بارہ بجے کوریا میں بھی سورج نہیں نکلا ہوتا ہے۔
    ہاں یہ لڑکی اریزہ ہی ہے۔ یقین آگیا ۔ کل بھئ مشرق سے ہی سورج نکلے گا میں وہی حیران اتنی عزت سے بات کر رہی ہے اریزہ ہی ہے یا نہیں۔
    صارم اسکا موڈ اچھا کرنے کو خاص طور پر اسکی سالگرہ والے دن ضرور سب سے ذیادہ مسخرا پن دکھاتا تھا اسے۔
    ویسے سب سے پہلے وش کیا نا میں نے؟ ریمائنڈر لگا رکھا تھا۔ اب ظاہر ہے اتنی اہم تو ہو نہیں جو یاد رکھے تمہیں کوئی۔۔۔۔
    وہ نان اسٹاپ بول رہا تھا۔
    اور تمہاری وہ فارغ سہیلی سے پہلے وش کیا نا؟ پچھلی بار تو ایک گھنٹہ باتیں کرتی رہی تھی تم سے فون پر میں جاگ جاگ کے تھک گیا تھا۔
    اس نے دزدیدہ نگاہوں سے بکے اور تحفے کو دیکھا۔ اسکی زندگی میں اچھا تکون تھا۔ اسکو سالگرہ پر مبارکباد دینے والے بس دو ہی لوگ رہتے تھے ہمیشہ۔ پہلے سنتھیا اور صارم اور اب ہایون اور صارم۔ سنتھیا نے تو شائد بھلا ہی دیا تھا اسے۔
    ہیلو ؟ اسکی مسلسل خاموشی سے تنگ آکر بولا۔
    تم گھر پر نہیں ہو کیا ؟
    اس نے بات بدل دی۔
    ہاں یہاں دیگوں والے کے پاس آیا ہوا ہوں کل کے لیئے ۔۔
    روانی میں بولتے بولتے وہ دانتوں تلے زبان دبا گیا۔
    دیگوں کا آرڈر دینے۔
    اریزہ نے جملہ یوں مکمل کیا جیسے پوچھ رہی ہو۔
    ہاں۔ صارم نے گہری سانس لی۔ کئی آنسو اریزہ کے چہرے پر آن پھیلے۔
    اب اداس مت ہو جانا تم۔ تمہاری سالگرہ کا دن پہلے ہے۔ اور ہر انسان کو اپنی سالگرہ پر خوش ہونے کا پورا حق ہوتا ہے بلکہ میرے حساب سے تو فرض ہے اپنی سالگرہ والے دن خوش ہونا۔۔ کل کیلئے اچھا سا پلان بنائو دوستوں کے ساتھ گھومو پھرو خوش رہنا۔ اور میری طرف سے اپنی پسند کا اچھا سا تحفہ لے لینا سن رہی ہو نا۔۔
    ہوں۔ اسکی آنکھیں رواں ہو چکی تھیں۔ مگر وہ صارم کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔
    اچھی بات ہے پورے پانچ روپے بھیجے ہیں میں نے۔
    صارم نے چڑایا۔ کوئی پہچھے سے آکر اس سے شائد کچھ پوچھنے لگا تھا اس نے اجازت چاہی
    اوکے میں کل بات کرتا ہوں پھر اپنا خیال رکھنا سدا خوش رہو خدا حافظ۔ ۔۔
    خدا حافظ۔
    اسکی آواز صارم تک پہنچ بھئ نہ پائی تھی۔ اس نے موبائل ایک طرف رکھا پھر چہرہ ہتھیلیوں سے صاف کرتی اٹھ گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آہجومہ ۔۔ وہ ننھا سا چھے سات سال کا بچہ اسکا دامن کھینچ رہا تھا۔۔
    اتنا پیارا بچہ تھا وہ اسٹول پر بیٹھی اسکو کافی پیار سے دیکھ رہی تھی بچہ بھی ترنگ میں آکر جانے کیا کیا اسے بتا رہا تھا وہ بس سر ہلا رہی تھی۔ بچہ اسے اپنی شرٹ پکڑ کر جانے کیا بولا۔ وہ بس مسکرا دی بچہ کھلکھلا کر ہنس دیا۔
    کیوٹ۔ اس نے اسکے بھرے بھرے گول گالوں پر چٹکی بھری
    ہنستے ہنستے بچہ سنجیدہ ہوا پھر اس کو جانے کیا اشاروں اور ہنگل میں بتانے لگا
    دے؟۔ وہ اسکی بات سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔
    کھلا تو دیا تھا اسے پورا پیالہ سیریل کا کھا گیا تھا۔ ماں کوئی دس منٹ پہلے اسے ڈھوںڈتی آئی اسے باقائدہ منہ میں چمچ دے نوالے دیتے دیکھ کر اسکو جھک جھک کر سلام کرتی بھاگ گئ۔ یقینا اسے اب اطمینان سے شاپنگ نصیب تھی۔
    مگر اریزہ کا اطمینان رخصت ہوچکا تھا۔ بچے کھانے آتو رہے تھے سیریل مگر ماں کو کھینچ کر خریدوانے ایک۔بھی نہیں آیا تھا۔۔ پچیس دور پانچ پیک بھی نہ بکے تھے۔۔
    اب عجیب سی زبان میں بچہ جانے کیا کہے جا رہا تھا
    اس نے پینٹ کی جانب اشارہ کیا تو اسے کچھ اندازہ ہوا
    آندے۔۔ اس نے جھٹ اسے روکنا چاہا چندی آنکھوں والا گورا چٹا بچہ منہ بسورنےگا۔۔
    ٹوائلٹ۔ ٹوائلٹ گو ٹو ٹوائلٹ
    اس بچے کو اسکی بات سمجھ نہ آئی بھاں بھاں کر کے رونے لگا اسکا گرےلانگ ٹاپ کا دامن کھینچ کر بولتا
    آہجومہ۔۔اور ریں ریں شروع
    کہاں رہ گئ تمہاری ماں۔۔ اس نے بے بسی سے سوچتے ہوئے اسٹول سے اٹھ کر اچک اچک کر پنجوں کے بل اسٹور پر نگاہ دوڑائی اتنا بڑا اسٹور تھا اوپر سے سب کی کم و بیش ایک جیسی شکل ۔ تبھی اس کو ایک مانوس چہرہ نظر آیا۔۔
    اگلا بھی اسٹور میں شائد اسی کو تلاش رہا تھا اسے دیکھ کر اسکی چندی آنکھیں چمکیں اور وہ سیدھا اسکی جانب بڑھتا آیا۔۔
    آننیانگ ۔۔ ہیون نے قریب آکر پرجوش انداز میں سلام کیا۔
    آنناینگ۔۔ شکر ہے خدا کا تم آگئے دیکھو یہ بچہ جانے کیا کہہ رہا ہے۔۔
    اریزہ اسکے رونے پر روہانسی ہوچلی تھی۔۔ اب تو آس پاس سے گزرتے لوگ متوجہ ہونے لگے تھے
    کیا ہوا ننھے ساتھئ۔۔ ہیون نے اکڑوں بیٹھ کر اس سے پوچھا جوابا بچہ جو اریزہ کی ٹانگوں سے چمٹا ہوا تھا اسے بتانے لگا اپنا مسلئہ اور ساتھ ہی مسلئے کا حل بھی نکال لیا۔۔
    بچہ اپنے کپڑے گیلے کر نے لگا تھا۔۔ اریزہ نے احساس ہوتے ہی اسے خود سے جھٹ دور کرنا چاہا مگر وہ چمٹا ہوا تھا اس سے اپنے کارنامے سے اریزہ کے جوتے اور پینٹ کے پانچے بھی خراب کر دہئے۔
    آہش۔۔ اس نے جھلا کر اسے دور کیا۔۔
    ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔ ابھئ تو اتنا پیار کر رہی تھی اب اچانک۔۔
    میرے خدایا۔۔ سارے کپڑے ناپاک کر دیئے اوپر سے یہ جوتے واحد لانگ شوز تھے میرے پاس۔۔ا
    سکے لانگ شوزبھی بمشکل ٹخنے تک کے تھے۔
    جھلا کر مٹھیاں بھینچتے تنتنا کر چیخی تھی۔۔ بچہ سہم کر جا کر ہیون سےلپٹ گیا۔۔
    اب اس سے تو نہ لپٹو۔۔
    اسکی آنکھیں ابل آئی تھیں۔
    کین چھنا۔۔ ہیون نے اسے پیار سے اپنے ساتھ لگا لیا۔
    بچہ سہم کر رونا بھی بھول۔گیا۔۔
    اسکے کپڑے گیلے ہیں ہیون۔۔
    اریزہ نے اسے انگریزی میں بتانا چاہا۔۔
    ہیون اسکو گھن کھاتے دیکھ کر بچے کو اٹھا کر اس سے ہنگل میں ماں کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔ بچے نے اشارے سے دور کھڑی کائونٹر پر بل بنواتی عورت کا بتایا تو وہ اریزہ کو انتظار کرو کہہ کر آگے بڑھ گیا۔۔
    اتنا بڑا بچہ ہو کے بھی کہیں بھی۔۔ اوپر سے ہیون نے گود میں اٹھا لیا یاک۔۔
    اس نے جھر جھری سی لی۔۔ کائونٹر کے پاس ٹھیک ٹھاک پانی کھڑا ہو گیا تھا وہ چند لمحے بے بسی سی دیکھتی رہی ڈیوٹی ختم ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔۔
    میں ایک گھنٹہ ایسے کھڑی نہیں رہ سکتی۔
    اس نے سوچ کر فیصلہ لیا اور اسٹال سمیٹنے لگی۔۔
    تبھی ایک آہجومہ بڑا سا پوچھا لیکر صفائی کرنے آگئ۔۔
    اس نے مڑ کر دیکھا تو محترمہ نے اسے ایک۔جانب ہونے کو کہا اور پوچھا پھیر کر پانی پوچھے سے سوتھ دیا۔۔
    پانی نہیں استعمال کریں گی آپ۔۔؟
    اریزہ کو آج شائد سارے ہی کلچرل شاک ( ثقافتی دھچکے)لگنے تھے
    دے؟۔ انمحترمہ کو انگریزی بھی نہیں آتی تھی آنکھیں اور منہ کھول کر دیکھ رہی تھیں
    صاف کر تو دیا ہے تم اپنے جوتے اتارکر یہ جوتے پہن لو۔
    اگر اتنی الجھن ہو رہی ہے ویسے۔ واٹر پروف ہوتے ہیں یہ جوتے۔۔
    ہیون اسکیلئے اسٹور سے سلیپر اٹھا لایا تھا اب مسکرا کر کہہ رہا تھا
    وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوکری تو نوکری ہوتی ہے۔ پیر پٹخ کر ایک گھنٹہ ایسے کھڑے نہ رہنے کا ارادہ کر کے بھی وہ ڈیوٹی پوری کر کے باہر نکلی تھی۔
    سلیپرز شاپر میں ڈال کر وہ انہی شوز میں ہی ہیون کے ساتھ باہر نکلی۔تھی وہ مطمئن سے انداز میں اسکے ساتھ چل رہا تھا جبکہ اسے اس کے کپڑوں سے بھی کراہیت آنے لگی تھی۔۔
    رات کے آٹھ بج رہے تھے سردی بڑھتی جا رہی تھی
    تم نے کھانا نہیں کھایا ہے نا چلو میں آج تمہیں ایک انڈین ریستوران میں لے چلتا ہوں۔۔
    اسکا موڈ خوشگوار تھا۔۔
    آندے میں گھر جائوں گی ۔۔
    اس نے بے ساختہ انکار کیا تھا۔
    کھانا تو کھا لو۔۔ ہیون اسکے انداز پر حیران ہوا
    نہیں مجھ سے کھایا نہیں جائے گا میں پہلے نہائوں گی پھر کچھ اور کروں گی۔ تمہیں بھی نہانا چاہیئے گھر جا کر ۔۔ اس بچے نے سو سو کی تھی اپنی پینٹ میں جسے تم نے مزے سے گود میں اٹھا لیا تھا۔۔
    اس نے صاف کہا تو ہیون حیران سا رہ گیا
    تو کیا ہوا۔ قدرت کا نظام ہے سب سو سو کرتے ہیں وہ تو بچہ تھا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے وہ بچے سے کچھ گندا جانور بن گیا تھا اپنی پینٹ میں سو سو کر کے۔۔
    ہیون کو اسکے انداز پر ناگواری سی محسوس ہوئی تھی
    یہ بات نہیں ہے۔اریزہ نے صفائی پیش کرنی چاہی جسے اس نے ناگواری سے کاٹ دیا
    ایسی ہی بات ہے تم اس بچے کے سو سو کر دینے پر چراغ پا ہو گئی تھیں اسے اتنی سختی سے خود سے دور کردیا تھا کہ وہ سہم گیا تھا کیا ہوا اگر اس نے کپڑے گیلے کر دیئے بچپن میں ایسا ہو جاتا ہے تم سے بھی ہو ہوگا کبھی۔۔
    ہیون کو اپنی آئیڈیل لڑکی کا ایسا بے رحمانہ انداز برا لگا تھا بلکہ دکھی بھی کر گیا تھا
    مگر سو سو گندی چیز ہے اپنے کپڑے گندگی سے خراب کر لیئے تھے اس نے میرے بھی کپڑے خراب کر دیئے ہیں اور تمہارے بھی۔ خود بھی تو وہ کپڑے بدلے گا نا ہمیں بھی بدلنے چاہیئے۔۔
    اب نجس کا انگریزی میں کیا ترجمہ ہوتا اسکی لغت ہار گئ تھی پھر بھی اس نے اپنا ماضی الضمیر سمجھانے کی پوری کوشش کی۔
    ہیون ہونٹ بھینچ کر دوسری جانب دیکھنے لگا تھا
    اریزہ کو اسکا انداز کافی محسوس ہوا۔ اتنے عرصے میں پہلی۔بار ہیون کی پیشانی پر ناگواری کی ایک شکن آئی تھی۔
    اچھا میں چلتی ہوں۔ وہ آہستہ سے کہہ کر بس اسٹیشن کی جانب رخ موڑ گئ تبھی بے ساختہ ہیون نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
    میرے ساتھ چلو میں ڈراپ کر دوں گا۔۔
    اسکے متوجہ ہوتے ہی لمحہ بھر میں اس نے ہاتھ چھوڑ بھی دیا تھا
    اریزہ نے کچھ کہنا چاہا پر ہونٹ بھینچ گئ۔۔ ہیون کہہ کر رکا بھی نہیں تھا گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے بلڈنگ کے باہر ڈراپ کر کے چلا جائے گا مگر وہ جب اسکے ساتھ لفٹ میں آیا تو وہ سوالیہ۔نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
    گوارا نے کہا ہے اوپر آئو۔
    اس نے جیسے صفائی دی۔ وہ شرمندہ سی ہوگئ۔ ظاہر ہے گوارا کا تو وہ دوست تھا۔اگریہاں اسے چھوڑنے آیا ہے تو اس نے یقینا بلایا ہوگا اوپر۔ ہایون مکمل موبایل میں مگن تھا۔ وہ بھی لاتعلق سی کھڑی رہئ ۔۔ منزل آگئی تھی۔ اسے اپنے آپ سے بھی کراہیت آرہی تھی جبکہ ہایون بالکل مطمئن نظر آتا تھا۔ وہ الجھن بھرے انداز سے اسکو دیکھے جا رہی تھی۔ ہایون کو اسکی نظریں جانے محسوس ہی نہ ہوئیں وہ بالکل بے نیازی سے اسکے ساتھ چلتا آیا۔اریزہ نے آگے بڑھ کرفلیٹ کا لاک کوڈ دبایا۔
    دروازہ کھولتے ہی ایک زور دار نعرے کے ساتھ اسکا گوارا نے استقبال کیا۔
    ہیپی برتھ ڈے ٹو یوہیپی برتھ ڈے ڈئیر اریزہ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔
    وہ گنگنا کر چپ ہوئی۔
    گوارا ہوپ یون بن کم سن سب موجود تھے۔ رنگین ٹوپیاں پہنے غبارے تھامے پارٹی پاپرز بجاتے اسکے کتنے نئے دوست بن چکے تھے اسے آج احساس ہوا۔
    سبھئ نے ہاتھ میں تحفے تھامے ہوئے تھے۔گوارا کے چپ ہونے پر باقی سب نے تان بلند کی تھی۔ لہک لہک کر کورس میں گاتے کورین نغمہ۔
    سینگئ چوکھا ہمبندا سینگی چوکھا ہمبندا سارانگھیئے اوری اریزہ سینگئ چوکھا ہمبندا۔۔
    (سالگرہ مبارک ہو ہمیں تم سے محبت ہے اریزہ )
    جھومتے ہوئے گوارا اسکے قریب آئی تھی اور گلے لگ گئ۔
    تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا آج سالگرہ ہے تمہاری۔ ہم سب ایک دوسرے کی سالگرہ کا خوب اہتمام کرتے ہیں۔
    یون بن ایک تحفہ اسکی جانب بڑھاتے کہہ رہا تھا۔
    گھمسامنیدہ۔
    اتنی محبتیں پاکر اسکی پھر آنکھیں بھر آئی تھیں۔
    ہوپ کم سن نے بھی اسکو تحفے تھمائے۔

    چلو اندر آئو کیک کاٹیں۔
    گوارا اسے اندر آنے کو کہہ رہی تھی۔ اس نے ایکدم سے ہاتھ چھڑایا۔
    میں پہلے فریش ہولوں۔
    کچن کئ کائونٹر ٹیبل پرکیک اور تھوڑا بہت تواضع کا سامان رکھا ہوا تھا مگر وہ اس وقت کسی اور ہی الجھن میں تھئ۔
    ٹھیک ہے ۔۔ گوارا فورا پیچھے ہوگئ۔ وہ تیزی سے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
    وہ سخت الجھن محسوس کر رہی تھی جبھی سیدھا کمرے میں آئی تھی آکر کپڑے نکالے اور باتھ روم میں گھس گئ
    نہا کر سویٹ پینٹ اور شرٹ پہن کر نکلی تو سب اسکے انتظار میں بیٹھے تھے۔
    آئی ایم سوری۔
    وہ شرمندہ سی ہوگئ۔
    اس وقت اتنی ٹھنڈ میں نہالیا بیمار نہ پڑجانا۔
    گوارا ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
    بس وہ۔ اس سے جواب نہ بن سکا۔ ہایون اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ خفگئ بھری نظریں۔وہ نگاہ چرا کر میز کی۔جانب بڑھ آئی۔
    یون بن کم سن ہایون ہوپ سب میز کے گرد جمع تھے۔
    اس نے ان سب کی تالیوں اور دعائوں میں کیک کاٹا۔ گوارا نے سب کیلئے پلیٹ میں سرو کیا۔
    اریزہ تحفے دیکھو۔
    گوارا کو جلدی تھئ۔
    اس نے گوارا کا گفٹ سب سے پہلے کھولا۔
    ایک مشہور کورین برانڈ کی میک اپ کٹ تھی پرس میں رکھنے والی دلکش اور نازک سی۔
    شکریہ۔
    وہ میک اپ کی ذیادہ شوقین تو نہ تھی مگر اسکا تحفہ اسے بے حد پسند آیا تھا۔
    کم سن نے چاکلیٹ باکس دیا تھا۔
    اتنی جلدی میں یہی مل سکا تھا۔ دوپہر کو گوارا نے بتایا تھا۔ آئیندہ اچھا تحفہ لینا ہو تو سالگرہ سے ایک آدھ پہلے یاد دہانی کرادینا۔
    اسکا مخصوص انداز تھا سنجیدگی سے مزاق کیئے جانا
    وہ اسکے چہرے پرمزاق کی رمق تلاش کر نے میں ناکام ہوئی۔۔
    دے۔ اس نے سر ہلا دیا۔ اسکی تابعداری پرکم سن بے ساختہ مسکرایا تھا۔۔
    بھئ یہ میک اپ کٹ گوارا نے مجھ سے ہی منگوائی تھی اور میں اور گوارا الگ الگ تھوڑی تو یہ تحفہ مشترکہ سمجھو ہماری طرف سے۔
    یون بن نے ہاتھ جھاڑ کر کہا تھا۔
    کنجوس انسان۔ گوارا نےاپنی پلیٹ ست کیک کا پیس ہی اٹھا کراسے دے مارا جسے اس نے ڈھٹائی سے چہرے پر کھا کرکریم پر انگلی پھیر کر چاٹ لی۔
    ویسے ہی کیک بھی میری طرف سے سمجھو۔
    ہوپ کا تحفہ سب سے مختلف اور منفرد تھا۔
    لکڑی کی کنگھی گول سی جس پرایک کوریائی لڑکی بنی تھی ۔ کنگھئ کے دانے لہریے دار اور قدرے لمبے تھے یوں جیسے اسی لڑکی کے بال بکھر رہے ہوں ہوا سے۔
    اس نے فورا کنگھئ سے اپنے سر پر پھیری۔
    شکریہ ہوپ بہت خوبصورت ہے۔
    اس نے تحفہ دیا تھا یہی بڑی بات تھی۔
    یہ وہی کنگھئ نہیں جو تم استعمال کرتی ہو ؟
    گوارا نے کہا تو ہوپ بھنا گئ۔
    ہرگز نہیں یہ ویسی ضرور ہے۔ مگر میں نے استعمال شدہ چیز نہیں دی اسے۔ کہو تو لا کر دکھا دوں۔
    اسکا غصہ یوں بھی ناک پر۔دھرا رہتا تھا۔
    ہاں جائو۔ گوارا کو بھی اسے تپانے میں الگ مزا آتا تھا۔وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی
    مجھے یقین ہے۔
    اریزہ نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر روکا۔
    ہایون نے تحفہ نہیں دیا۔ یون بن کو یاد آیا۔
    ہایون نے تو رات کو ہی وش کردیا تھا بکے اور فرنچ پرفیوم کے ساتھ۔
    گوارا نے لائونج کی سنٹرل ٹیبل کی جانب اشارہ کیا جہاں اس نے گلدستہ سجا رکھا تھا۔
    اسی کے کارڈ کو پڑھنے سے مجھے پتہ لگا تھا کہ آج اریزہ کی سالگرہ ہے۔ اس نے تو بتایا بھی نہیں تھا ہمیں۔
    گوارا نے کہتے کہتے شاکی انداز سے اسکی جانب دیکھا۔
    ہر کوئی تھوڑی تمہاری طرح اپنی سالگرہ کا اعلان کرتا پھرتا سب سے زبردستی تحفے وصول کرتا ہے
    یون بن نے کہا تو گوارا حسب عادت چڑ گئ۔
    میں نے ایسا کب کیا۔ الٹا تم نے سرپرائز کے چکر میں میرا سالگرہ کا دن میری برسی کا دن بھی بنا دینا تھا۔ الٹے پرینکس سوجھتے بس تمہیں۔
    تم مر کے تو دیکھتیں۔
    یون بن دل پر ہاتھ رکھ کر جیسے آہ بھر رہا تھا۔
    پھر کیا کرتے تم ۔گوارا نے آستین چڑھائی۔
    میں تمہارے مرنے کے بعد تمہاری سالگرہ ہی مناتا۔
    اس نے فورا پینترا بدلا تھا۔
    گوارا دانت پیس کر رہ گئ۔ اسے گوارا کا موڈ ایکدم ٹھیک کرنا آتا تھا۔
    دونوں کی ہنگل کی بحث اسکے سر پر سے گزری تھی۔
    وہ دیکھ تو رہی تھی انہیں مگر صاف نظر آتا تھا ذہن کہیں اور ہے۔
    اریزہ ۔۔کم سن نے پکارا تو وہ ایکدم کسی خیال سے چونکی۔
    ہوں۔۔
    گھر والے یاد آرہے ہیں؟
    کم سن نے نرمی سے پوچھا۔
    تمہاری سالگرہ پر کافی اہتمام ہوتا ہوگا۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ تمہیں یہاں تنہائی محسوس نہ ہوسکے۔
    وہ مزید کہہ رہا تھا۔ وہ پھیکی سی مسکراہٹ سے بولی۔
    نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔مجھے اچھا لگا آپ سب کا یہ اہتمام۔
    تمہارے یہاں سالگرہ کیسے مناتے ؟ باقی سب کی طرح کیک کاٹ کر ؟ میرا مطلب کیک کاٹا جاتا ہے دنیا بھر میں پاکستان میں بھی یہی رواج ہے؟
    یون بن بھی متوجہ ہوا۔
    ہاں۔ اسکا جواب مختصر تھا۔
    اریزہ تم تو اکلوتی ہونا سالگرہ پر خوب اہتمام ہوتا ہوگا پارٹی ہوتی ہوگی گفٹس ملتے ہوں گے تمہیں ہے نا؟
    گوارا بھی دلچسپی سے پوچھ رہی تھئ۔
    آنی۔
    اسکا چہرہ پھیکا پڑا۔
    میری سالگرہ پر کوئی اہتمام نہیں ہوتا۔ میں کبھئ سالگرہ نہیں مناتی۔
    چہرہ بے تاثر رکھنے کی بھرپور کوشش بھی اسے ناکام ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سب مکمل طور پراسکی جانب متوجہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
    کیوں؟ یون بن حیران تھا۔
    ہایون نے گہرا سانس لیا۔
    تو یہ وجہ تھی رات اسکی سالگرہ کی مبارکباد کی وصولی پر اسکا رنگ کیوں اڑ گیا تھا۔
    اسکی سالگرہ والے دن ہی تو ۔۔۔۔
    اسے جزئیات سے یاد آیا تھا۔ اتفاق سے اس دن کم سن کے سی وی دکھانے پر اس نے چپکے سے اسکی سالگرہ کا دن نوٹ کر لیا تھا مگر یہ بات اسکو یاد نہ رہی تھی۔۔
    وہ دھیرے سے بتا چکی تھئ سب اپنی اپنی جگہ افسردہ سے ہوگئے تھے۔ ہوپ کو پہلی دفعہ اسکے چہرے کی ویرانی محسوس ہوئی سو اسکے قریب آکر بیٹھ گئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھر ان سب نے اسکو ہنسانے کی خاطر اتنے جتن کیئے تھے۔۔۔
    لائونج میں میز ایک طرف کرکے جگہ بناکر وہ سب بیٹھ گئے تھے۔
    آج ہم سب ایک ایک ایسا کام کریں گے جو اریزہ کو ہمیشہ ہماری یاد دلائے۔
    گوارا نے اعلان کیا تھا۔
    مرجائو پھر۔
    یون بن نے مسخرے پن سے کہا ۔ گوارا نے بنا لحاظ چپت لگائی سر پر اسکے۔
    چونکہ ہنگل میں کہا تھا سو اریزہ ہوپ کا بازو ہلا کر پوچھنے لگی کیا کہا۔
    دعا دی ہے جیو ۔۔
    ہوپ نے جان چھڑائی۔ اریزہ نے لفظ یاد کرلیا تھا اب اسے صرف کسی اچھی جگہ استعمال کرنا تھا۔
    ۔ ہایون اور کم۔سن نے مل کر گانا گایا۔ کورین گانا سمجھ تو نہیں آیا مگر دونوں کی آواز میں سر تھا کم سن میز بھی ساتھ ساتھ بجا رہا تھا۔
    ایک جگہ پر تو یوں لگنے لگا دو کی بجائے بس ایک انسان گا رہا ہے۔
    یون بن اور گوارا نے کپل ڈانس کیا تھا۔ تھک ہار کر کم سن اور یون بن نے اجازت چاہی تھی۔ ہایون نے روکا مگر دونوں رکے نہیں۔
    گوارا برتن سمیٹنے لگی۔ ہوپ لائونج کی حالت درست کرنے میں لگ گئ۔ تبھئ اطلاعی گھنٹی بجی
    ہایون ہی اٹھ کر گیا واپسی پر اسکے ہاتھ میں بڑا سا پیکٹ تھا۔
    بریانی آرڈر کی تھی میں نے۔ ایک پاکستانی ریستوران سے ارادہ تو وہیں جا کر کھانے کا تھا مگر تم تیار نہ ہوئیں۔۔
    وہ اپنے پچھلے موڈ کے برعکس بالکل پہلے کی طرح ازلی مہربان سے انداز میں بول رہا تھا۔۔ شاپر کچن کائونٹر پر رکھا تو گوارا برتن دھوتی بھاگی آئی۔
    چاول شاپر۔کھولتے ہی وہ بے ساختہ خوش ہوئی تھی۔
    اتنے سارے۔
    اس نے سوالیہ۔نگاہوں سے دیکھا۔ہایون نے کندھے اچکا دیئے
    سب کیلئے منگوائے تھے مگر کم سن اور یون بن رکے ہی نہیں۔
    اس نے بھی اسکے سامنے والی کرسی سنبھال لی۔
    گوارا نے ڈسپوزایبل پیک ہی اسکے سامنے کر دیئے۔ ہوپ بھی یہیں چلی آئی۔
    اریزہ نےپیک دیکھا تو چاول اسکی ضرورت سے کافی ذیادہ تھے۔
    وہ پلیٹ لینے اٹھی تو ہایون نے جانے کیا سمجھا وضاحت دینے لگا
    میں نے ہاتھ دھو لیئے تھے اور کھانا شاپر سے نہیں نکالا تھا۔۔
    اریزہ اسکے اس طرح کہنے پر شرمندہ سی ہوگئ۔ یقینا اس نے آج اوور ری ایکٹ کر دیا تھا اتنی بد مزاجی دکھائے بغیر بھی وہ گھر آکر نہا کر پاکیزگی حاصل کر سکتی تھی۔
    وہ زبان دانتوں تلے دباتی ریک سے پلیٹ لیکر آئی
    وہ یہ۔چاول بہت ذیادہ ہیں میں پہلے ہی الگ کر دوں تو کوئی اور بھی کھا لیگا۔۔
    اس نے وضاحت کی۔۔ دیگچی پیالے میں مل کر کھانے والے کورینز کو اسکی کھانا جھوٹا کرنے والی اصطلاح کیا خاک سمجھ آنی تھی۔
    اس نے خاموشی سے پلیٹ خالی کرنی شروع کر دی۔ وہ چمچ استعمال کر رہی تھی جبکہ ہایون ہوپ اور گوارا چاپ اسٹکس سے کھا رہے تھے۔ کھاتے کھاتے ہایون کے کپڑوں پر چاول گرے۔۔ اسکی بلا ارادہ اسی پر توجہ تھی۔
    اریزہ نے بے ساختہ سر جھکا لیا۔ اب اگر وہ ان کپڑوں سے اٹھا کر کھا لیتا تو یقینا اسکا ہی دل برا ہونا تھا۔۔
    ہیون نے ایک نظر اسکے جھکتے سر کو دیکھا پھر کپڑوں پر سے چاول اٹھا کر میز پر رکھ دیئے۔
    میں چلتا ہوں۔
    اس سے مزید کھایا نہیں گیا۔ وہ یکدم ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
    کیا ہوا؟ کینچھنا۔۔ گوارا اسکے یوں اٹھنے پر حیران سی ہوئی مگر وہ بیانیئے پھر ملتے ہیں کہتا ہوا اٹھ کر ہی چلا گیا۔۔
    ہوپ بھی ایکدم سے کھانا چھوڑ کر اٹھ گئ۔
    اب اسے کیا ہوا۔ گوارا نے اس سے پوچھا تھا۔
    پتہ نہیں۔۔
    کہتے ہوئے بھی اسے احساس ہوا تھا کہ کہیں نہ کہیں اسے پتہ ہی ہے۔

    خیر تمہارے لیئے تو ہفتے بھر کی بریانی کا انتظام ہوگیا۔
    گوارا شرارت سے کہنی مار کر بولی۔
    پانچ چھے پیکٹ۔ اس نے اس بڑے سے شاپر کو دیکھا
    ہفتہ۔کیا مہینے بھر چل جائیں گے یہ تو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نماز پڑھ کر دوپٹہ تہہ کرکے الماری میں رکھ کر وہ سیدھا بیڈ پر گری تھی۔۔ کافی تھکن بھرا دن تھا اسکیلئے۔۔ اس نے موبائل اٹھایا 80 فیصد بیٹری۔۔بیڈ پر کمر کے نیچے تکیئے لگئے وہ۔پرسکون سے انداز میں ٹیک لگا ئے بیٹھ گئ
    سارا دن موبائل استعمال نہیں کیا۔۔
    یہ دن بھی آنا تھا ۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
    اسکرین کا تالا کھولا بابا کا میسج آیا ہوا تھا
    سالگرہ مبارک ہو بیٹا۔ جیتی رہو خوش رہو۔۔
    اسکی آنکھ بھر آئی۔
    زندگئ میں پہلی دفعہ وہ اتنی دور ہوئی تھی کہ انہیں موبائل پر وش کرنا پڑا اور اس نے سارا دن موبائل دیکھا تک نہیں۔۔

    اس وقت کا اندازہ لگایا رات کا آخری پہر ہوگا۔۔ کال نہیں کی جاسکتی تھی۔۔

    سنتھیا نے اسے میسج تک نہ کیا تھا۔
    اتنی کٹھور کیوں ہوگئ ہے وہ۔
    اس نے بلاگ کھول لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی میں آپ اپنا پیدائش کا دن خود منتخب نہیں کر سکتے۔ نا ہی یہ منتخب کر سکتے کہ اس دن آپ ہمیشہ خوشیاں پائیں گے۔ یہ دن ہر اس گزرتے ٹھہرتے دن کی طرح کا عام سا دن ہے۔ کبھی خوشیوں بھرا کبھی اداسی کا سبب۔ اہم ہے بس وہ خالص محبت جو اس دن آپکے قریبی لوگ آپ پر نچھاور کردیں ۔۔۔ اگر کبھئ محبت ملے تو خوش ہو لینا چاہیئے یہ سوچے بغیر کہ آج سے قبل کتنی ملی یا آئیندہ جانے ملے نا ملے۔۔۔
    مجھے آج بہت محبت ملی ہے۔ امید ہے اگلے سال بھی ملے اس سے اگلے سال بھی اس سے اگلے سال بھی۔۔۔۔ آج کسی ذیاں کا حساب نہیں رکھنا۔۔ آج بس میرا خوش ہونے کا دن ہے ۔میں خوش ہوں۔۔ سچی۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پہلا کمنٹ
    یوں کہو نا آج سالگرہ ہے۔ سالگرہ مبارک ہو۔۔
    دوسرا کمنٹ۔
    ایڈمن پیدا ہوتے ہی اتنا فلسفہ جھاڑ دیا۔ تمہاری پیدائیش کے دن پر تم تو خوش ہو۔اور کوئی خوش ہوا کبھی؟ ایسے ہی پوچھا۔
    تیسرا کمنٹ۔۔
    مگر میں خوش نہیں ہوں کل بائک چوری ہوگئ میری۔۔
    چوتھا کمنٹ۔
    شاباش لڑکی۔۔ یہی چاہیئے تھا بس ۔۔
    صارم تھا یہ۔۔
    وہ۔مسکرا دی۔ اسی کیلئے یہ بلاگ لکھا تھا شکر ہے پڑھ لیا۔اب یقینا سوجائے گا آرام سے۔
    پانچواں کمنٹ۔۔
    سالگرہ مبارک ہو۔۔ کچھ محبتیں چھن جانے کادکھ سارے جہاں کی خوشیوں پر بھاری ہوتا ہے خدا کرے ایسا دکھ کبھی آپکو نہ ملے۔۔
    علی۔۔
    اس نے گہری سانس لی اور جواب لکھنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاہ۔ مل چکاہے ۔ مگر جو لوگ آپکو ہرحال میں خوش دیکھنا چاہتے ہیں انکی۔محبتیں چھن جانے والی محبتوں کا متبادل نہ سہی مگر انمول ہوتی ہیں۔ ان محبتوں کی قدر کیجئے جو نصیب ہیں۔ ان پر صبر کریں جو چھن چکی ہیں جینے کا یہی۔طریقہ ہے۔۔
    بلاگر کا جواب غیر متوقع تھا۔
    اس نے دو تین بار پڑھا پھر بلاگ بند کرکے وی چیٹ پر آئے عبدالہادی کے پیغامات دوبارہ پڑھنے لگا۔
    میری خاطر ایک بار مل کر تو دیکھو۔ اچھی لڑکی ہے سمجھدار۔ پیاری۔ بس مل۔لو کوئی زبردستی نہیں
    اس نے چند لمحے سوچا پھر لکھ بھیجا۔
    ٹھیک ہے۔ آپ۔ملاقات کا دن او روقت طے کرکے بتا دیجئے گا۔
    انہوں نے فورا میسج پڑھا تھا۔او رجواب بھیجا۔
    واقعی۔ سچ۔کیسے مان گئے میری بات
    وہ۔بے یقین تھے۔
    کسی نے کنوینس کیا ہے مجھے۔
    وہ ذرا سا ہنسا۔۔
    کس نے؟
    وہ متجسس ہوئے۔۔
    Aree z thoughts
    اس نے بلاگ کا نام ہی لکھ بھیجا۔
    یہ کون ہے ؟
    وہ حیران تھے
    جو بھی ہے مگر اس نے میری الجھن میں ہمیشہ میری مدد کی ہے۔۔ مجھے اسے شکریہ کہنا چاہییے۔۔
    اس نے زیر لب کہا تھا۔ اور بلاگ کھول کر کمنٹ لکھنے لگا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آج سونے کا ارادہ نہیں ہے کیا ؟ محترمہ آپکو نوکری پر جانا ہے کل۔
    گوارا ہاتھ پونچھتی باتھ روم سے نکلی اسکوموبائل میں مگن دیکھ کر شرارتا جملہ چست کر دیا
    وہ بلاگ بند کرکے اب اپنے والدین کی اچھے وقتوں کی کھینچی گئ تصویر دیکھنے میں مگن تھی۔
    ابا یاد آرہے ہیں۔
    اس نے منہ بسور کر موبائل اسکی۔جانب کیا۔
    دکھائو۔۔ وہ بڑے شوق سے تصویر دیکھنے اسکے پاس آبیٹھی
    تم ابا کہتی ہو اپنے آہبوجی کو؟
    آہبوجی؟ ۔۔۔ اریزہ نے سوالیہ انداز میں دیکھا
    والد محترم۔۔ گوارا نے وضاحت کی۔
    ہم لوگ ابو جی کہتے ہیں۔یہ تو ملتا جلتا ہے۔ وہ پر جوش ہو۔کر اٹھ بیٹھی
    ابھی تو ابا کہہ رہی تھیں۔۔
    گوارا اسکے انداز پر۔ہنسی
    ہاں میں پاپا کبھی لاڈ میں بابا اور پیٹھ پیچھے ابا کہہ دیتئ ہوں۔۔
    اریزہ نے کہا تو وہ اسکے ہاتھ سے موبائل لیکر تصویر دیکھنے لگی۔
    یہ تمہاری آہموجی ہیں؟ میرا مطلب والدہ۔۔
    وہ بڑے غور سے دیکھ رہی۔تھی
    ہاں۔۔ اریزہ نے چچ کیا۔ اسی شکل کی جوانی والےدور کی جیتی جاگتی تصویر وہ خود تھئ۔
    کافی ینگ لگتی ہیں نا انکی۔جلدی شادی ہو گئ تھی یہاں میک اپ میں پھر بڑئ لگ رہی ہیں یہ شادی کی تصویر ہے نا آگے کرو انکی عام حلیئے میں تصویر دیکھو تو میری بڑی بہن لگتی ہیں۔۔
    وہ بہت شوق سے بتا رہی تھی۔ گوارا اسکی پرجوش انداز پر باقی تصویریں بھی دیکھنے لگی۔
    رنگوں سے بھرا پس منظر زرق برق لباس مسکراتے چہرے۔۔
    سنتھیا سرخ لباس میں خوب میک اپ کیئے اسکے ساتھ کھڑی تھی ساتھ روائتی انداز میں سرخ جوڑے میں ملبوس لڑکی
    یہ لڑکی تو سنتھیا لگ رہی ہے ساتھ کون ہے؟
    وہ پہچان نہیں پائی۔
    اریزہ کھل کر ہنستی چلی گئ۔ گوارا اسکے انداز پر نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی
    پہچانا نہیں؟ ہنستے ہنستے وہ محظوظ انداز میں پوچھ رہی تھی
    ہوپ کمرے میں داخل۔ہوئی تو گوارا کو موبائل میں تفتیشی انداز میں جھکی تھی ساتھ بیٹھی اریزہ ہنسے جارہی تھی
    کیا ہوا واٹس سو فنی؟
    وہ حسب عادت سر سری سے انداز میں کہہ کر بیڈ پر چڑھی مقصد صرف اپنی موجودگی کا احساس دلانا تھا کہ جگہ خالی۔کرو میں نے سونا۔ مگر اس وقت گوارا گمبھیر مسلئے میں الجھی تھی وہ دونوں کے درمیان سوتی تھی اور اسوقت دونوں سر جوڑے بیٹھی تھیں۔
    یار کون ہے ؟ یہ تو سنتھیا ہے کوئی انڈین ہیروئن ہے؟ انکو ہی ایسا لباس پہنے دیکھا۔۔
    گوارا ہار ماننے کو تیار نہیں تھی ایک اور غلط اندازہ اریزہ تو لوٹ پوٹ ہوگئ
    انڈین ہیروئن کیوں ہونے لگی ؟ میرے گھر میں ۔۔
    یہ دیکھو ہوپ یہ لڑکی کون ہے؟ یہ ڈریس تو میں نے دیپیکا کو پہنے دیکھا تھا۔۔ گوارا نے موبائل ہوپ کی جانب بڑھایا
    کیا ؟ اریزہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھئ
    ہوپ نے ایک۔نگاہ تشویش میں مبتلا اریزہ پر ڈالی دوسری گوارا پر پھر اپنے مخصوص پہیلیاں بجھانے والے انداز میں بولی۔۔۔
    سنتھیا کے ساتھ کون ہوسکتاہے۔؟۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انوشکا ۔ اسکا نام انوشکا شرما ہے۔
    گوارا نے اسے اپنی ویبو آئی ڈی پر کسی بھارتی سہیلی کی ڈی پی پر لگی ہوئی تصویر اسے نکال کر دکھائی۔
    برائڈل میگزین کا کوئی کور تھا ۔۔
    واٹ ایور۔ اتنے مشکل نام۔ہیں توبہ۔ گوارا نے سر جھٹکا
    انوشکا یا دیپیکا اس سےفرق نہیں پڑتا مگر یہ اس ڈیزائنر نے میرے ساتھ دھوکا۔کیا ہے۔۔
    اریزہ سال۔بھر بعد اپنی شادی کا دن یادکرکے روہانسی ہو چلی تھی
    مجھے پانچ لاکھ کا یہ بکواس انوشکا کی اترن لہنگا کاپی کر کے دیاتھا۔ کہتی ہے اس نے خاص میرے لیئے تیار کروایا ہے ایسا دوسرا پیس نہیں دنیا میں جھوٹی دغا باز کہیں کی۔
    وہ مٹھیاں بھینچ رہی تھی
    گوارا اور ہوپ کی آنکھیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے
    اتنا مہنگا کام وہ بھی اس نے چوری کیا اسٹائل۔۔
    وہ دانت کچکچا رہی تھی۔
    اتنا مہنگا جوڑا دوست کی شادی کیلئے بنوایا؟ پاگل ہو؟ اتنا تو سنتھیا بھئ تیار نہیں ہوئی وی۔
    گوارا نے کہا تو وہ جھلا کر بولی
    دوست کی تھوڑی اپنی شادی کیلئے بنوایا تھا اف اس وقت
    کیسے اماں ابا کا پیسہ اڑاتے ذرا نہیں سوچا کرتی تھی کہ کمانا کتنا مشکل کام ہے۔۔ آج کمر ٹوٹ گئ کھڑے کھڑے تو
    بولتے بولتے اسکی گوارا پر نظر گئ تو چپ کر گئ
    گوارا کے چہرے پر گہرئ سنجیدگی چھا گئ تھی
    مجھے لگا تھا سنتھیا اور ایڈون کی شادی کی تصویرہے۔ مگر تم۔۔ تم کیا شادی شدہ ہو؟
    گوارا کی الجھن عروج پر تھی
    ہاں۔۔ اریزہ نے گہری سانس لی۔
    یہ میری شادی کی ہی تصویر ہے۔ اور میں پاکستان کی ان 80 فیصد احمق لڑکیوں میں سےایک ہوں جو ایک دن کیلئے ایک۔جوڑے پر کروڑوں بھئ خرچ کر نے کو تیار ہوسکتی ہیں۔ مگر سچ میں پچھتا رہی ہوں۔ اب دوبارہ تو میں یہ کبھی نہیں پہنوں گی۔اور اس سیمز کی تو گردن مروڑوں گئ جا کر۔۔
    وہ۔تصور میں مٹھی میں اسکی گردن ہی پکڑے تھی
    تم ویسے پیاری بہت لگ رہی تھیں اس جوڑے میں
    ہوپ نے دل سے کہا تھا جانے کیسے وہ ایکدم ہلکی پھلکی سی ہو کر بولی تھی وہیں گوارا کے دل پر منوں بوجھ آپڑا تھا۔ ہوپ کے بے ساختہ تعریف کرنے پر اریزہ۔جھینپ۔کر کچھ کہہ رہی تھی تو وہیں ہوپ کا۔انداز بھی سکھی سہیلیوں جیسا ہوچلا تھا اتنے عرصے میں پہلی۔بار ہوپ نے سرد مہری۔کی نادیدہ دیوار ڈھا دی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاور لیکر وہ آئینے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا
    برش رکھتے اپنے سپید سے ہاتھ پر نگاہ پڑی تو دوپہر کا منظر تازہ ہوچلا
    اس نے بلا ارادہ ہی اریزہ کو ہاتھ پکڑ کر روکا تھا احساس ہونے پر چھوڑ بھئ دیا تھا ہاتھ پھر بھی اریزہ اپنا ہاتھ یوں الگ کیئے بیٹھی تھی گاڑی میں جیسے کسی گندی چیز سے چھو گیا ہو۔۔ اسکے بچے کو دور کر دینے میں جس کراہیت کا دخل تھا وہی کراہیت اسے ہیون کے پاس سے بھی آئی تھی۔۔ اسکے اندر کہیں کچھ ٹوٹا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔

    Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ?Rate us below

    Rating
  • Ab thori woh zamanay hain k kahai wohi chahye

    اب تھوڑی وہ زمانے ہیں کہ کہیں وہی چاہیئے۔۔
    ہمیں اس دنیا سےکچھ بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

    دو چار خواہشوں کی ہماری چھوٹی سی فہرست تھی
    پرزندگی سے وہی ملا جس پہ کہا اب نہیں
    چاہیئے۔۔

    واعظ نے گزاری ہے زندگی بلک بلک کر مانگتے جسے۔۔ 

    اسی جنت نے ٹھکرایا زاہد تو بہت ہیں یہ اب نہیں
    چاہیئے۔۔

    کہتے ہیں ملے گا سب اس جہان میں اس جہان میں تو بس۔۔
    چند سانسیں ہیں ملی اس سےبھی ہیں تنگ اور اب
    نہیں چاہیئے۔۔

    احباب مختصر کلام مختصر اب حاصل وصول کا تذکرہ کیا کرنا
    ہمیں اور  لوگ تو کیا ہمیں تو ہم بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

    ہم نئے مزاج میں ڈھل چکے ہیں محفلوں سے اکتائے ہیں ۔۔
    ہم رونقوں  ہجوم سے دورہیں اور تنہائی بھی اب نہیں چاہیئے۔۔

    از قلم ہجوم تنہائی۔

  • Salam Korea Episode 26

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi
    قسط 26

    urdu poetry,
urdu shayari,
sad poetry in urdu
love poetry in urdu
jaun elia
allama iqbal poetry
poetry in urdu 2 lines
urdu shayri
sad poetry in urdu 2 lines
ahmad faraz
ghalib shayari
attitude poetry in urdu
sad quotes in urdu
funny poetry in urdu
romantic poetry in urdu
allama iqbal shayari
best poetry in urdu
bewafa poetry
sad shayari urdu
islamic poetry in urdu
barish poetry
poetry in urdu attitude
ghalib poetry
allama iqbal poetry in urdu
attitude quotes in urdu
poetry in urdu text
deep poetry in urdu
sad poetry in urdu text
love shayari urdu
ghazal in urdu
urdu poetry in urdu text
mirza ghalib shayari
love poetry in urdu romantic
urdu shayari on life
rekhta shayari
jaun elia poetry
iqbal shayari
deep lines in urdu
sad love poetry in urdu
urdu poetry sms
best shayari in urdu
death poetry in urdu
funny shayari in urdu
dosti poetry in urdu
father quotes in urdu
birthday poetry in urdu
poetry status
eid poetry
Hajoom e tanhai poetry,
Vaiza zaidi poetry,
jaun elia shayari,
urdu poetry text copy,
attitude poetry in urdu 2 lines text,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
munafiq poetry,
mirza ghalib poetry,
romantic shayari in urdu,
allama iqbal ki shayari,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
poetry in urdu 2 lines attitude,
john elia sad poetry,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
john elia shayari,
2 line urdu poetry copy paste,
dukhi poetry,
heart touching quotes in urdu,
mohsin naqvi poetry,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
friendship poetry in urdu,
muhabbat poetry,
urdu sher,
one line quotes in urdu,
dosti shayari urdu,
sad poetry status,
narazgi poetry,
judai poetry,
ghalib shayari in urdu,
faiz ahmad faiz shayari,
barish poetry in urdu,
urdu one line caption copy paste,
wasi shah poetry,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
urdu poetry status,
islamic poetry in urdu 2 lines,
jon elia poetry,
funny poetry in urdu for friends,
attitude shayari in urdu,
allama iqbal poetry in urdu for students,
Zawwar haider poetry,
mohabbat shayari urdu,
jaun elia sad poetry,
sad poetry sms,
urdu poetry written,

urdu novels,urdu novels,
urdu poetry,
urdu afsanay,
urdu statuses,
urdu shayari,
sad poetry in urdu,
love poetry in urdu,
poetry in urdu 2 lines,
urdu shayri,
sad poetry in urdu 2 lines,
ahmad faraz,
romantic poetry in urdu,
best poetry in urdu,
bewafa poetry,
sad shayari urdu,
barish poetry,
poetry in urdu text,
deep poetry in urdu,
sad poetry in urdu text,
love shayari urdu,
ghazal in urdu,
urdu poetry in urdu text,
love poetry in urdu romantic,
urdu shayari on life,
deep lines in urdu,
sad love poetry in urdu,
urdu poetry sms,
best shayari in urdu,
very sad poetry in urdu images,
novels in urdu pdf,
urdu books,
bewafa poetry in urdu,
best urdu novels,
urdu poetry text copy,
urdu shayari in english,
shero shayari urdu,
romantic shayari in urdu,
heart touching poetry in urdu 2 lines sms,
sad poetry sms in urdu 2 lines text messages,
2 line urdu poetry copy paste,
famous urdu novels,
beautiful poetry in urdu,
udas poetry,
muhabbat poetry,
urdu sher,
barish poetry in urdu,
most romantic love poetry in urdu,
khamoshi poetry,
love poetry in urdu text,
sad poetry sms in urdu 2 lines,
sad poetry in urdu 2 lines about life,
ahmed faraz poetry,
mohabbat shayari urdu,
sad poetry sms,
urdu poetry written,
love poetry in urdu romantic 2 line,
attitude poetry in urdu text,
heart touching poetry in urdu,
sad ghazal in urdu,
2 line urdu poetry romantic sms,
ahmad faraz poetry,
poetry about life in urdu,
urdu words for poetry,
urdu poetry copy paste,
urdu poetry in english,
ahmad faraz shayari,
bewafa shayari urdu,
love poetry in urdu 2 lines,
urdu ghazal poetry,
poetry in urdu 2 lines deep
sad lines in urdu,
faraz shayari,
urdu words for shayari,
urdu sad poetry sms in urdu writing,
dard poetry,
happy poetry in urdu,
urdu love poetry for her,
faraz poetry,
ali zaryoun shayari,
shayari in urdu words,
very sad shayari urdu,
ishq poetry in urdu,
urdu shayari images,
2 lines poetry,
new poetry in urdu,
urdu poetry in hindi,
urdu poetry lines,
one line poetry in urdu,
poetry on beauty in urdu,
one line poetry in urdu text,
muskurahat poetry,
sad poetry in urdu 2 lines without images,
mohabbat poetry in urdu,
nice poetry in urdu,
best love poetry in urdu,
muhabbat poetry in urdu,
best lines in urdu,
deep love poetry in urdu,
beautiful shayari in urdu,
urdu sad poetry sms,

novel

urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books,
islamic books urdu,
udas naslain pdf,
urdu poetry books,
urdu novel online reading,
jasoosi digest,
novel novels in urdu,
urdu audio books,
top urdu novels,
romance novel best novels in urdu,
wasif ali wasif books pdf,
urdu language books pdf,
tahir javed mughal novels,
urdu digest pdf,
naseem hijazi books,
best books to read in urdu,
ashfaq ahmed books pdf,
dastak novel,
a hameed novels,
psychology books in urdu,
bano qudsia novels,
pakeeza anchal romantic novel,
pyasa sawan novel,
free urdu novels,
anchal digest novels,
raqs bismil nove,l
urdu poetry books pdf,
new novel 2021 in urdu,
urdu novels 2021,
love story novel in urdu,
urdu history books,
raja gidh read online,
jasoosi novel,
urdu love novels list,
pakistani novels in urdu,
urdu historical novels,
romance novel famous urdu novels list,
romance novel urdu novels list


سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔
اDesi Kimchi seoul korea based Urdu web travel Novel ALL EPISODES LINKS
    salam korea episode 26

    گنگشن نونا اور اسے آج ایڈمن صاحب سب بتا دینا چاہتے تھے۔گنگشن کا ذہن این جی او کے نئے ایونٹ میں الجھا تھا تو وہ کسی اور ہی کے خیال میں الجھا تھا اتنا کہ سامنے سے پیر پٹخ کر آتی اس لڑکی کو دیکھ کر بھی اسے اسی کسی کا ہی خیال ذہن میں کوندا تھا۔ پروٹوکول کی وجہ سے وہ اپنے خیال کئ تصدیق کیلئے جا نہ سکا۔ گنگشن انی اور چار دیگر اسٹاف ارکان کے ساتھ وہ سیدھا اس ایڈور ٹائزنگ کمپنی کے مالک کے دفتر میں آئے تھے۔ انکی کیمپین کو وہ خود ذاتی طور پر دیکھ رہے تھے کیوں؟ وجہ نئی چھوٹی کمپنی۔ اگلا بندہ اٹھ کے سیٹ سے کھڑا ہوگیا تھا۔
    آننیانگ ہاسے او۔ نونا۔۔
    آننیانگ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ یونی کیوں نہیں گئے؟
    حسب عادت نونا نے جھاڑنا شروع کردیا۔ کم سن کان دبا کر مسکراتے ہوئے سب اسٹاف کو جانے کا اشارہ کرتا ہوا انہیں اپنے آفس کے ایک جانب لگے صوفوں کے پاس لے آیا۔

    نونا اب یہ نہیں تعلیم مکمل کرتا آپ کچھ بھی کر لیں۔
    ہایون نے صوفے پر اطمینان سے بیٹھتے ہوئے کہا۔
    آنی ۔۔ نونا میں پڑھوں گا پکا آج کل تو یونیورسٹی میں مڈز کے بعد کی بریک ہے۔ آپ بتائیں کیا پیئیں گی
    نونا مسکرا دیں۔
    کھانا کھاتے ہیں اکٹھے۔ میری لنچ کے بعد میٹنگ ہے سو وقت کم ہے۔۔ جلدی سے آرڈر کرو۔
    دے۔ کم سن فورا سر ہلاتا اٹھا اور اپنے انٹرکام سے آرڈر کرنے لگا۔
    ہایونا تم نے انکی ایڈورٹائزمنٹ کا پروپوزل فائنل کیا تھا نا دیکھ لینا۔ اسکی ٹیم سے بھئ مل لینا۔
    نونا کو کام یاد آنے لگے۔
    جانے دیں۔ یہ اسکا پہلا پراجیکٹ ہے یقینا جان لڑا دے گا مجھے اتنا دماغ لگانے کی کیا ضرورت۔
    ہایون کا جواب نپا تلا تھا۔ کم سن پر نگاہ جمائے وہ بہت پیار سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے اسکی صلاحیتیوں پر پورا یقین ہو۔نونا مسکرا دیں پھر کچھ یاد آیا تو اپنے بیگ سے کچھ نکالنے لگیں۔کم سن فون بند کرکے انکے پاس ہی چلا آیا۔
    کم سنا بہت خوبصورت سیٹ اپ ہے تمہارا۔ تم نے اچھا فیصلہ کیا اپنی آبائئ زمین بیچ کر اس کاروبار کو شروع کرنے کا مگر میرا مشورہ یہی ہے پڑھائی ادھوری نہ چھوڑنا سمجھے۔
    وہ بڑے پن سے نصیحت کر رہی تھیں وہ مسکرا کر سر ہلا کر رہ گیا۔
    اچھا یہ تمہارا کارڈ ۔۔
    انہوں نے نوید مسرت کے الفاظ سے سجا منگنی کی دعوت کا کارڈ نکال کر اسکی جانب بڑھایا
    آپ نے ضائع ہی کیا کارڈ نونا اس نے تو آنا ہی تھاویسے بھی میرے ساتھ۔
    ہایون نے کہا تو نونا ہنس پڑیں۔ پھر شرارت بھرے انداز میں بولیں۔
    ہاں ہے تو گھر کی بات مگر سی ای او صاحب بن چکے ہیں یہ اب انکو پروٹوکول تو دینا پڑے گا۔
    نونا آپکے کے لیئے تو ہمیشہ میں چھوٹا بھائی ہی رہوں گا
    کم سن جھینپ سا گیا۔
    یہ تو ہے۔ ہایون کے سب دوستوں کے کارڈز اپنی نگرانی میں بھجوائے ہیں۔ خاص کراسکی گرل فریںڈ کو تو خود اپنے ہاتھوں سے کارڈ دیا ہے۔
    اسکی بات پر ہائون تو ہایون کم سن بھی آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگا۔
    تم کیا سمجھے مجھے پتہ نہیں میں ۔ نونا محظوظ انداز میں مسکرائیں۔
    اس نے وعدہ بھی کیا ہے کہ آئے گی۔۔۔ بلکہ گوارا سے بھی کہا ہے اسے ضرور لیکر آئے۔ اجنبئ تو نہیں وہ میرے لیئے مگر ۔اپنی گرل فرینڈ کی حیثیت سےاسے ضرور مجھے ملوانا۔ سمجھے
    انکی بات پر ہایون کے چہرے پر واضح خوشی دوڑی تھی۔
    کم سن بھی مسکرا دیا۔
    نونا کا فون آنے لگا تو وہ معزرت کرتی اٹھ گئیں۔کم سن اچھل کر اسکے برابر میں آن بیٹھا۔
    یہ کب ہوا مجھے کیوں نہیں بتایا۔
    کوئی نہیں ہوا ایسے ہی نونا اندازے لگا رہی ہیں۔
    ہایون نے دامن بچانا چاہا
    درست اندازے۔ کم سن نے جتایا تو وہ ہنس دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھانا وانا کھا کر نونا تو اٹھ کر چلی گئیں یہ دونوں دفتر میں ہی رہے۔کم سن کی ایڈورٹائزنگ کی ٹیم نے اپنا پلان سلائیڈز پر دکھایا جسے کم سن دلچسپی سے جبکہ وہ بیزاری سے دیکھتا رہا۔
    ہم فری سیمپلنگ اور ٹیسٹنگ کا ایونٹ بھی آرگنائز کر رہے ہیں۔ مختلف مارٹس اور شاپنگ سینٹرز میں ایک ایک ٹیم بھیجیں گے۔جو بچوں کو متاثر کرنے کیلئے مختلف چھوٹے چھوٹے گیمز کھلائیں گے انعام میں انکو سیریل کے سیمپلز دیئے جائیں گے۔
    اسکا ٹیم لیڈر بتا رہا تھا۔کم سن نے فورا ٹوکا۔
    اتنی فری سیمپلنگ کریں گے تو لوگوں کو خریدنے پر مجبور کیسے کریں گے۔ اس کا بجٹ کٹ کریں۔مشہور سب مارٹس کی بجائے لی گروپ کے زیر انتظام مارٹس اور مالز کو بس اس میں شامل کریں۔ بلکہ جو آل ریڈی ایونٹ چل رہے ان میں ہی یہ سب ایڈجسٹ کریں۔
    کم سن نے انکی پوری دو سلائیڈ مسترد کی تھیں۔دونوں سٹپٹا کر دیکھنے لگے۔
    ہایون نے گردن گھما کر دیکھا۔
    کیوں منع کر رہا ہے؟ کرنے دے جو کر رہے ہیں۔
    تمہارے باپ کا پیسہ لگارہے ہیں اس لیئے منع کر رہا ہوں جوتمہیں منع کر نا چاہیئے تھا
    ہایون نے گردن کھجائی پھر کندھے اچکا دیے۔ پوری میٹنگ میں وہ مزید کچھ نہ بولا۔
    ابھی سارا سیٹ اپ چھوٹا تھا سو یہ میٹنگ سی ای او صاحب کے کمرے میں ہی ہوئی۔ پراجیکٹر بھی اسی ایک کونے میں لگا تھا۔
    ٹیم لیڈر اٹھ کر گئے تو ایچ آر والا بندہ اٹھ آیا۔ ادھیڑ عمر انکل آتے ہی رونے لگے۔ ہایون نے ناٹ اگین والے انداز میں دیکھا۔
    سر ہمیں اپنی کمپنی کے اشتہارات پر مزید پیسہ خرچنا چاہیئے۔ ٹیم لیڈر نے پروموشنل کیمپین کیلئے 25 افراد مانگے تھے ہمیں سی وی ہی پانچ موصول ہوئے جن میں سے چار کو تو ہم نے رکھ لیا ہے ۔ مگر سر نئی کمپنی پر پارٹ ٹائمر بھی بھروسہ نہیں کر رہے ابھی۔
    خوش شکل اور نوجوان لوگ بھرتی کیئے ہیں نا۔
    کم سن نے سرسری سے انداز میں کہتے فائل تھامی
    وہ چندی آنکھوں والے انکل سر جھکا گئے۔
    اپنی کمپنی کے پارٹ ٹائمرز کی فہرستیں بھجوادیتا ہوں۔ انکو استعمال کرلو۔
    ہایون کا مفت مشورہ۔
    ایم ڈی صاحب آپکے والد آپکی ان نوازشوں کے صلے میں آپکو امریکہ اور میری کمپنی کو پاتال میں بھجوا کر دم لیں گے۔
    کم سن ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر سی ویز الٹنے پلٹںے لگا۔ دو ادھیڑ عمر شکل سے عادی بدمعاش لگتے تھے دو ہائی اسکولر تھے۔
    ریجئکٹ کسے کیا ہے؟
    کم سن نے سرسری سا پوچھا۔
    جب ان سب کو رکھ لیا ہے تو اسے بھی رکھ لینا تھا۔
    انکل نے فائل کے صفحے پلٹ کر آخری سی وی دکھایا
    اب یہ ریکوروٹمنٹ والے کام کیوں کر رہے ہو سی ای او ہو ان آہجوشی پر چھوڑو نا جو جسے رکھیں جسے نکالیں۔ تم ایک ایک سی وی دیکھا کروگے
    ہایون اسکے ساتھ باہر جانا چاہ رہا تھا جبکہ کم سن ایک کے بعد ایک کام نکال کر نمٹانے میں لگا تھا
    ظاہر ہے یہی سب کریں گے مگر تم بھول رہے ہو میری بے بی کمپنی ہے ۔ ایچ آر کا الگ ڈیپارٹمنٹ ہے ہی نہیں میرا ۔ آہجوشی اورمیں ہی ایک ایک بندہ سوچ سمجھ کر رکھ رہے ہیں۔
    ہایون کو بتا کر اس نے آخری سی وی دیکھا پھر ہایون کو۔
    اسکو کیوں نہیں رکھا اتنی تو پیاری سی ہے۔
    کم سن کا انداز واضح بدلا تھا آہجوشی سٹپٹا گئے
    وہ یہ فارن اسٹوڈنٹ ہے انکو آوقات کار او راجازت کا بھی مسلئہ ہوتا ہے اور۔۔
    ہایون اس سی وی کو دیکھو اورتم فیصلہ کرو ہم اسے رکھیں نہ رکھیں۔
    کم سن نے فائل اسکی جانب بڑھا دی۔ہایون حیران ہوا مگر تھام لی۔ سی وی پڑھتے ہی ٹون بدل گئ۔ حاکمانہ انداز میں بولا۔
    جو بھی مسلئہ ہو اسکو رکھیں۔
    مگر سر بہت مسلئے ہوتے ہیں اس طرح کے طلباء کو ہنگل تک تو ڈھنگ سے آتی نہیں ہے۔
    سیکھ لے گی۔کم سن ہائیر ہر۔
    ہایون تیز ہو کر بولا۔
    کم سن نے ٹھنڈی سانس لی۔
    اب تو کلائینٹ کی سفارش ہے پراجیکٹ بھی انکا۔رکھ لیں اسکو۔
    مگر سر۔۔۔ آہجوشی نے پھر کہنا چاہا تو اس بار ہایون ڈپٹ کر بولا۔
    سی ای او کی سفارش ہے آپ ٹال نہیں سکتے۔
    آہجوشی نے گردن جھکا لی اور سلام کرکے نکل گئے نکلتے ہوئے بڑ بڑا رہے تھے۔ سی ای او کی سفارش ہے وہ بھی ایک معمولی سیلز گرل رکھنے کیلئے تھیبا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھیبا۔۔ تھیبا۔ یہ دیکھو اریزہ
    گوارا بھاگی بھاگی آئی تھی۔ وہ کچن میں کھڑی اپنے لیئے کافی بنا رہی تھی اسکے ایکدم سے پیچھے آکر شور کرنے پر چونک کے مڑی۔
    کیا ہوا ؟ اسکے پوچھنے پر گوارا نے موبائل اسکرین اسکے سامنے کردی۔
    اسکی اور ایڈون کی ریستوران کی ویڈیو چل رہی تھی۔
    یہ ٹرینڈنگ پر نمبر ون چل رہی ہے۔ اور نیچے کمنٹ دیکھو تمہارے اور ایڈون کے کپل کی تعریفوں کے پل باندھ رہے سب۔ اتنی گوری لڑکی اتنے کالے لڑکے کے ساتھ۔ محبت واقعی وجود رکھتی ہے۔ او ریہ کمنٹ دیکھو۔
    وہ جزباتی ہوئی پڑی اسکرال کرکے نیچے دکھا رہی تھی۔ سب ہنگل میں کمنٹس تھے۔ اس نے بیزاری سے پیچھے کیا۔
    میں اور ایڈون کبھی کپل نہیں تھے نا ہوسکتے ہیں کبھی۔
    جانتی ہوں۔گوارا نے منہ بنایا۔۔
    مگر ایڈون سے اس نے جب پوچھا کہ تم اسکے نامجا شنگو ( بوائے فرینڈ کا ہنگل لفظ) ہوتو وہ مسکرا کر دے کہہ رہا ہے۔
    یہ بندہ ٹھیک ہی نہیں ہے جبھی تمہاری سہیلی ہر وقت مرچیں چباتی رہتی ہے۔
    گوارا کا تجزیہ کتنا درست تھا۔ اسے لگتا تھا سنتھئا اور اسکے بئیچ کی سردمہری دوسروں کو اگر محسوس بھی ہوئی ہوگی تو وجہ نہیں پتہ ہوگئ۔ اسکا منہ اتر سا گیا۔
    دفع کرو اسے۔ گوارا اسے اداس دیکھ ہی نہیں سکتی تھی۔
    چلو ہم کپڑے منتخب کریں ہم نونا کی منگنی میں کیا پہنیں ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ بھئ پہن لوں گی نونا کیا ضرورت ہے اس شاپنگ کی۔ نونا نے ایک بے حد خوبصورت آسمانی میکسی ڈریس اس سے لگایا تووہ منت بھرے انداز میں کہہ اٹھی۔
    ہرگز نہیں۔ وہاں ایک سے ایک حسین اور طرحدار لڑکی آئے گی تمہیں ان سے مقابلے پر ہرگز بھی کم نہیں لگنا چاہئے۔ ہر لڑکے کی نظر نہ سہی مگرکم ازکم جس لڑکے کی نظر تم پر ٹھہرے وہ ہٹا نہ پائے۔
    نونا اپنے مخصوص اندا زمیں کہہ کر شرارت سے مسکائیں۔
    تمہارے لیئے لنچ کرتے ہی بھاگم بھاگ آئی ہوں۔ اور تم نخرے کر رہی ہو جائو سیدھی طرح اسکو پہن کر دکھائو مجھے۔
    وہ اب بڑی بہنوں والے رعب سے بولیں۔تو ہوپ کو تھامنا پڑا۔
    جتنی دیر میں وہ تیار ہو کر آئی وہ جلدی جلدی دو تین فون سن چکی تھیں۔ ابھی بھئ بات کر رہی تھیں اسے دیکھا تو بات بھول گئیں ۔ وہ میکسی اسکے جسم پر پوری فٹ تھئ۔ وہ بے حد دبلی ہونے کے باوجود اچھی لگ رہی تھی۔ اسنے بال مخصوص انداز میں جوڑا بنا رکھے تھے جو کام کے دوران اسکے لیئے بہتر رہتے مگر اس وقت وہ جوڑا بھی اچھا لگا
    تھیبا تم تو پری لگ رہی ہو۔ وہ فون پر خدا حافظ کہتی اسکی جانب لپک کر آئیں۔ ہوپ جھینپ کر خود کو آئینے میں دیکھنے لگیں۔قیمتی لباس نے واقعی اسکی شخصیت کو نکھار ڈالا تھا۔
    صحیح کہتے ہیں لباس انسان کے پر ہوتے ہیں۔ اب تم پرواز بھرنے کیلئے بالکل تیار ہو۔
    انہوں نے محبت سے کہتے اسکے بال سنوارے۔
    مگر اڑان بھرنے کیلئے منزل کا تعین بھی تو ضروری ہوتا ہے نا۔ خالی سفر صرف تکان دیتا ہے۔
    اسکا قنوطئ پن باز نہ آیا۔ اسکی اثر انگیز شخصیت کے کسی کونے میں چھپ کر بیٹھا بھی ایکدم پوری شخصیت پر حاوی ہو چلا تھا۔ وہ چپ سی رہ گئیں۔
    ہوپ مسکرا دی۔
    شکریہ انی۔ میں اپکے احسانوں تلے دبتی جا رہی ہوں مگر مجھے۔ وزن بالکل نہیں محسوس ہوتا۔۔ اسکی پیمنٹ میں خود کروں گی۔۔ میرے پاس پیسے ہیں۔
    اس نے کہا تو وہ مزید اصرار ترک کر گئیں۔ وہ مڑی تو انہوں نے گہری سانس لیکر دل سے دعا دی اسے۔
    میری دعا ہے تم اپنی زندگی کا ایک بہتر رخ بھی دیکھنے کے قابل ہو جائو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکا ذہن دھیرے دھیرے بیدار ہوا تھا۔ پپوٹے اتنے بھاری ہو رہے تھے کہ کوشش کرنی پڑی کھولنے کیلئے۔ اس نے کسمسا کر اپنے بھاری ہوتے سر کو تھامنا چاہا تو کسی نے اسکا بازو تھام کر کچھ ٹوکا۔ اجنبی آواز ناقابل فہم الفاظ۔
    اس نے آنکھیں کھولیں تو چندی آنکھوں والی نرس کا مسکراتا چہرہ سامنے تھا۔
    کین چھنا آگاشی؟
    وہ جانے کیا پوچھ رہی تھی۔
    اس نے پھر اٹھنا چاہا۔
    ڈرپ لگی ہوئی ہے لڑکی۔ احتیاط کرو۔ اس بازو کو نہ اٹھائو۔
    اسکا بازو بیڈ سے لگائے اس نے ہنگل میں کہا تھا۔ پھر جب احساس ہوا کہ اسکی بات وہ سمجھ نہیں پارہی تو مڑ کر اسٹول پر بیٹھے اونگھتے ایڈون سے بولی
    محترم انکو اپنئ زبان میں بتائیں۔
    ایڈون آواز پر فورا نیند بھگاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    اسکا ایک بازو نرس کی مضبوط گرفت میں تھا وہ دوسرے بازو سے سہارا لیکر اٹھ بیٹھی۔نرس نے جلدی سے اسکی پشت پر تکیہ لگایا۔
    لیٹی رہو۔ ڈرپ لگی ہوئی ہے تمہیں۔۔
    وہ فورا اٹھ کے اسکے پاس آیا تھا۔
    کیا ہوا مجھے؟
    اسے یاد نہیں آیا وہ یہاں کیسے کیوں آئی ؟
    تمہیں یاد نہیں؟ وہ الٹا پوچھنے لگا۔
    کیسی طبیعت ہے۔ اس کا انداز معمول سے ذیادہ نرم تھا۔
    اس نے سر ہلایا۔
    ٹھیک ہوں میں۔۔۔
    اسکے ہونٹ خشک ہو رہے تھے بمشکل بول پائی۔
    پانی۔
    ایڈون نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کی بوتل اٹھاکر دی تو وہ کئی گھوںٹ بنا سانس لیئےحلق میں اتارتی چلی گئ۔ لگ رہا تھا برسوں سے پیاسی ہے۔
    آپ انکو کچھ کھلائیں پلائیں۔ تاکہ ہم مزید دوا دے سکیں۔
    نرس مطمئن ہو کر تاکید کرتی چلی گئ۔
    شکر ہے ۔تم نے تو مجھے ڈرا دیا تھا۔
    ایڈون گہری سانس لیتا اسکے بیڈ پر ٹکتے ہوئے بولا۔
    ساری رات ہوش نہیں آیا تمہیں۔ ان لوگوں نے نیند کی دوا تک نہیں دی پھر بھی تم سوتی رہیں۔ مجھے سخت پریشانی ہورہی تھی۔ کیا۔کھائو گئ؟ سیب کاٹ کر دوں؟
    وہ نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی پھر ایک خیال سا کوندا۔۔
    تت تم۔ مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟ کیا ہوا مجھے۔۔۔
    ایڈون نے سائیڈ ٹیبل سے چھری اور سیب اٹھایا اور اسکے لیئے کاٹنے لگا۔
    بھول گئ ہو کیا اپنی حالت؟ یہ لو کھائو
    اس نے ایک پھانک اسکی جانب بڑھائی
    اس نے ذہن پر زور دیا تو جو پہلا خیال ذہن میں آیا اتنا روح فرسا تھا کہ وہ وحشت زدہ سی ہوگئ۔
    میں اسپتال میں ہوں۔۔ مم میں کیوں اسپتال میں ہوں۔
    اس نے پریشان سا ہو کر خود کو ٹٹولا۔۔
    ۔ تم نے ۔ مجھے سے پوچھے بنا ہمارا بچہ۔۔۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
    ۔۔ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو۔ تم نے مار دیا اسے۔۔وہ ایکدم بپھر کر چلائی۔
    اس نے اپنا کنولا لگا ہاتھ بھلا کر ایڈون کا گریبان پکڑ لیا۔
    بولو۔ تم نے ابارشن کروادیا نا۔ کیسے کر سکتے ہو تم ایسا۔ تم نے ۔۔ کیوں کیا۔
    کیا ہوگیا ہے پاگل ہوگئ ہو۔ خون نکل رہا ہے تمہارا
    وہ گھبرا گیا۔ اسکی ڈرپ نکل گئ تھی خون تیزی سے بہہ نکلا تھا مگر اسکو کسی تکلیف کا احساس نہیں تھا جنونی کیفیت میں اسے جھنجھوڑنے لگی۔
    نکلنے دو مجھےتم جواب دوتم کون ہوتے ہو اسے مارنے والے۔ منع کیا تھا نا۔تم نے کیوں کیا ایسا۔
    اس نے دیوانہ وار اس پر ہاتھ چلائے تھے۔
    وہ بے ربط بول رہی تھی اور رو پڑی تھی۔ ایڈون سن سا رہ گیا ۔
    وہ ہاتھا پائی بھی نہ کرسکی ایک زور دار چکر آیا تھا اسے۔
    ہوش کرو سنتھیا۔ وہ اسکی حالت سے خود بری طرح گھبرا گیا۔ اس کے ہاتھ سے چھری چھوٹ گئ۔اسکو تھامنا چاہا اس نے نفرت سے جھٹکا۔
    مر نے دو بلکہ مجھے بھئ مار دو تمہارا مسلئہ میں ہوں۔ یہ بچہ مسلئہ نہیں تھا۔ تم مجھ سے محبت ہی نہیں کرتے تمہیں اس سے بھی محبت نہیں تھی۔ ۔۔ اس نے لپک کر چھری اٹھائی۔ ایڈون نے اسکے دونوں ہاتھ تھام لیئے۔تبھئ شائد شور سن کر دروازہ کھول کر تیزی سے نرس اور ڈاکٹر اندر آئے تھے۔ اندر کا منظر دیکھ کر وہ تیر کی طرح ایڈون کی جانب بڑھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون اسکو سہارا دے کراسکے کمرے تک لایا تھا۔
    وہ اتنی شرمندہ تھی کہ ایڈون کو دیکھ بھی نہ پا رہی تھی۔۔ اس نے شاپر میز پر رکھا اور خاموشی سے دروازہ کھول کر جانے لگا۔
    ایڈون۔
    اس نے پکار تو لیا وہ رک بھی گیا مگر سمجھ نہ آئی اب کیا کہے۔ معزرت کرے ۔۔
    ایڈون چند لمحے اسکے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر مڑکر دیکھنے لگا وہ اس سے نظر نہ ملا سکی۔
    میں آج چھٹی کروں گا۔ اپنے کمرے میں ہی ہوں تھوڑا آرام کرلوں پھر آئوں گا تم بھی تھوڑا آرام کرلو۔
    اسکی شرٹ خون سے بھری تھی۔۔۔ وہ نظریں جھکا کر سر ہلا کر رہ گئ۔ وہ دروازہ بند کرتا چلا گیا تو گہری سانس لیکر وہ سیدھی لیٹ گئ۔۔
    اسکے ذہن میں رات کا منظرجزئیات سے روشن ہوا تھا۔۔
    ویڈیو دیکھنے کے بعد غصے سے پاگل ہوتے ہوئے وہ چند لمحے خود پر قابو پانے کی کوشش کرتی رہی ۔ پھر فیصلہ کرکے اٹھی ۔۔
    رات کا دوسراپہر شروع ہونے کو تھا یقینا اب تک ایڈون واپس آچکا ہوگا وہ صبح تک کا انتظار نہیں کر سکتی تھی اتنے غصےمیں۔ تن فن کرتی تیزی سے کمرے سے نکلی اور سیدھا جا کر ایڈون کا دروازہ پوری قوت سے بجا دینا چاہا مگر دماغ سائں سائیں کرنے لگا۔ ایک ہلکی دستک سی پڑ سکی۔ اس نے پوری جان لگا کر دروازہ کھٹکایا دو ضرب ہی میں اسکی بس ہونے لگی اسکو یاد نہیں تھا کہ اسکے منہ سے لفظ نکل رہے تھے یا آواز ڈوب گئ تھی۔
    دروازہ کھولو ایڈون۔ ایڈون باہر نک۔۔ لو۔۔
    اسکے ہفت اقلیم نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔ کمرے لیپ ٹاپ پر کام کرتا نامانوس دستک پر منہ بنا کر اٹھا اور دروازہ کھول دیا وہ اسکی نگاہوں کے سامنے ہوش و خرد سے بےگانہ ہو کر گری تھی۔ اسے سنبھالنے کو لپکتے بھی اسکا سر دیوار سے جا لگا تھا۔۔
    آخری منظر جو اسے یاد تھا وہ ایڈون کا دروازہ کھول کر اپنی جانب بڑھتے دیکھا بس۔
    اسکا بئ پی بہت ہائی ہوگیا تھا۔ بروقت اسپتال پہنچنے کی وجہ سے وہ نقصان سے بچ گئ تھی۔۔ اسکے جزباتی پن نے اسکی طبیعت پر تو جو اثر ڈالا سو ڈالا انکوتھانے میں رپورٹ بھی کردیا گیا تھا۔پولیس اہلکار اسکا اسپتال میں بیان لیکر گئے ۔ اب اسکو خراش بھی اگر پہنچتی تو ایڈون دھر لیا جاتا۔ پولیس نے ہزار سوال کرکے مطمئن ہونے کے بعد اسکی جان بخشی کی تھئ۔تو ڈاکٹرنے لمبی چوڑی احتیاط بتائی تھی۔ ساتھ ہی حسب توفیق ایڈون کی کھنچائی بھی کی تھی۔ ایڈون ایک لفظ اپنی صفائئ میں نہیں بولا تھا۔ وہ اتنی شرمندہ تھی کہ معزرت بھئ نہ کرسکی۔
    اس وقت بھی بحر شرمندگی میں غرق لیٹی یہی سب سوچے گئ۔
    اسکا فون بج اٹھا تھا۔ بیڈ کے کنارے پڑا۔ اس نے اٹھا کر دیکھا تو امی کالنگ۔ ماں کی کال اسے نعمت غیر مترقبہ لگی تھی۔ فورا فون اٹھایا اورخود بھی اٹھ بیٹھی
    ہیلو۔ اسکی آواز سنتے ہی وہ بولتی چلی گئیں
    کیسی ہو بیٹا۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔ میرا اتنا دل گھبرا رہا تھا رات سے فون کررہی ہوں۔ ایڈون سے بات کی تو اس نے کہا تم سو رہی ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمہاری۔؟ اتنی دیر سے سو رہی تھیں؟
    سوال پہ سوال بے تابئ پریشانی۔ ماں کا دل تھا خبر ہوگئ تھی شائد۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگیں۔
    خوامخواہ فکر کرتی ہیں۔ٹھیک ہوں میں۔ بالکل۔
    کھا پی رہی ہو نا ڈھنگ سے ؟ آواز سے تو ٹھیک نہیں لگ رہیں۔ نزلہ ہورہا ہے؟ آواز بیٹھی بیٹھی لگ رہی ہے۔
    وہ اسکی توجیہہ سے بالکل مطمئن نہ ہوئیں۔
    ہاں تھوڑا موسم بدلا ہے تو شائد۔ تھوڑا گلے میں۔۔
    اسکو دل چاہا وہ ماں کے گلے لگ جائے۔ کئی آنسو اسکے گالوں پر پھیلتے چلے گئے۔ اس سے جملہ مکمل نہ ہوسکا۔
    دیکھا۔ وہ فورا بولیں۔
    ۔ مجھے پتہ تھا۔ آئیسکریم کھائی ہوگی؟ گلا بند ہوگیا نا ؟ فورا ڈاکٹر کو دکھائو بخار ہو جاتا ہے ایک تو تمہیں معمولی۔نزلا زکام میں بھی۔ سوپ بنا کر پیئو۔ تمہارے پاپا بتا رہے تھے وہاں موسم بہت ٹھنڈ ہو چکا ہے۔
    وہاں ٹھنڈ پڑی۔
    بمشکل دھیمی آواز میں وہ بول پائی۔
    کہاں یہاں تو ابھی پنکھے چل رہے ہیں۔ اچھا سنو یخنی پیو خود تو کیا بنائوگئ بازار میں انسٹنٹ ساشے ملتے ہوں گے وہ بنا کر پی لو۔۔ بلکہ اریزہ سے بات کرائو میں اس سے کہتی ہوں تم مت نکلنا ٹھنڈ میں باہر ایڈون سے کہو ڈاکٹر کے ہاں لے جائے
    گئ تھئ ڈاکٹر کے پاس ابھی آئی ہوں۔۔۔۔۔
    اس نے تسلی دینا چاہی۔وہ اور پریشان ہوگئئں۔
    تم تو آسانی سے ڈاکٹر کے پاس جانے کو بھی تیار نہیں ہوتیں
    کیا ہوا ہے ذیادہ طبیعت خراب ہوگئ ہے؟ بخار ہے؟
    امی آپ بہت یاد آرہی ہیں۔۔۔ آئی مس یو امی۔ ۔
    وہ بات کاٹ کر بولی۔ اسکی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شائد ڈانٹ پڑ جاتی مگر اس وقت اسکے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ وہ ٹھٹھک گئیں۔
    تم ٹھیک تو ہو نا بیٹا۔ آجائو واپس وہاں اکیلا رہنا مشکل ہو رہا ہے تو۔
    نہیں آسکتی امی۔ وہ سسکیاں لے کر روپڑی۔
    ارے رو کیوں رہی ہو بیٹا۔ اریزہ سے بات کرائو میری وہ بتائے گی تم مجھے نہیں بتا رہی ہو نا اپنی طبیعت۔
    وہ بےتحاشا پریشان ہو گئیں۔وہ چند لمحے بے آواز روئے گئ۔ امی بے قرار سی ہوگئیں۔
    کیا ہوا بیٹا ؟ پریشانی ہے کوئی ؟ کوئی بات ہے تو بتائو ؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ ایڈون سے جھگڑا ہوا۔
    نہیں امی۔ اسے انکو اطمینان دلانے کیلئے خود پر قابو پانا پڑا
    بس وہ طبیعت خراب تھئ او رآپکا فون آگیا بس تھوڑا جذباتی۔۔
    اس نے سسکی بمشکل روکی۔
    ہاں میرا دل بے چین تھا۔ مستقل تمہاری طرف دھیان جا رہا تھا۔ وہی ہوا طبیعت خراب تھی تمہاری۔۔
    انکو اپنے اندازے کی درستگی پر ناز ہو رہا تھا تو سنتھیا کو حیرت ہورہی تھی۔
    آپ کو میری فکر ہو رہی تھی ۔
    اس کے انداز میں حیرت تھئ امی برا مان گئیں۔
    پریشان تھی میں۔ ماں کے دل کو خبر ہو جاتی ہے جب اسکے بچے پر کوئی پریشانی بیماری آئی ہو تو۔ ماں کے دل کو بے چینی لاحق ہو جاتی ہے جب تم خود ماں بنوگی نا تو پتہ چلے گا۔ایک ماں کے دل کی دھڑکن بچے کے ساتھ ہی جڑی ہوتی ہے۔ ماں ہونا آسان بات تھوڑی ہے۔ اپنی زندگی تو بس عورت ماں بننے سے قبل تک جیتی ہے اسکے بعد تو بس ماں کی زندگی چلتی ہے۔ ماں کی ذمہ داریاں چلتی ہیں۔ ۔ خیر تم ابھی فورا دوائیں کھائو جو ڈاکٹر نے دی ہیں۔ اور خالی پیٹ نہ کھانا ایک تو تم ضدی ہو بیماری میں کھانے پینے سے بھی بھاگتئ ہو۔ اور
    امی۔ آئی لو یو۔
    اس نے پھر بات کاٹ دی۔۔ امی نے حیرت سے فون کو دیکھا۔ سنتھیا ایسے جزباتی اظہار کرنے والوں میں سے نہ تھی۔ شائد پہلی دفعہ کہا تھا اس نے یہ جملہ بھی۔ انکا ذہن بہت تیزی سے تانے بانے بننے لگا تھا ۔ وہ سوچ میں پڑیں پھر سنبھل کر بولیں۔
    آئی لو یو ٹو بیٹا۔ اچھا چلو شاباش کچھ کھائو دوا پیو میں پھر گھنٹے ایک تک کال کروں گی۔ پریشان کردیا ہے تم نے مجھے بیٹا۔
    آپ سو جائیں میں ٹھیک ہوں۔ وہاں تو بہت رات ہو رہی ہوگی۔
    اس نے بے دردی سے چہرہ ہاتھ کی پشت سے پونچھا۔
    ہاں یہاں ڈیڑھ بج رہا یے مگر بیٹا اب نیند تھوڑی آئے گی۔ تم چلو اٹھو شاباش دوا کھائو اور نیند آئے تو سو جانا میں اریزہ کو فون کرلوں گی۔
    نن نہیں۔۔ اس نے فورا کہا پھر احساس ہوا تو بات بنائی
    امی وہ اتنا پریشان رہی ہے میرے ساتھ ۔ اب شائد وہ بھی سونے لگی ہے۔ آپ مجھے ہی فون کر لیجئے گا میں ابھی سوئوں گی نہیں۔
    اچھا چلو ٹھیک ہے اپناخیال رکھنا۔ خدا حافظ۔
    انہوں نے بھئ ذیادہ بحث نہ کی۔ فون رکھ دیا۔ وہ دوبارہ لیٹ گئ۔ اس کا ذہن ماں کی کہی باتوں میں اٹک سا گیا تھا۔
    ماں کے دل کو۔خبر ہو جاتی ہے۔۔۔
    ماں کی زندگی۔۔۔
    ماں بنو گئ تو پتہ لگے گا۔
    اس نے کروٹ بدل لی۔۔ مگر سوچیں کروٹ بدلنے سے بدل تھوڑی جاتی ہیں۔اور وہ سوچ رہی تھی۔
    ایک شادی شدہ جوڑا جو محبت کرتے ہیں ایک دوجے سے انکو اپنی اولاد کا کتنا انتظار ہوتا ہے کتنی محبت پھوٹتی ہے اس بچے کیلئے مگر محبت میں مبتلا جوڑے کو اپنی ہونے والی اولاد سے محبت نفرت سے قبل جو جذبہ محسوس ہوتا ہے وہ خوف کا ہوتا ہے۔ اسکو بھی خوف آیا تھا۔ کیا ردعمل ہوگا دنیا کا گھر والوں کا ایڈون کا ۔۔۔۔۔ پھر ایڈون کو کھودینے کا خوف پر وقت گزرتے اسکے اندرتبدیلی سی آرہی تھی۔ وہ خوف سے بتدریج محبت میں مبتلا ہوتی جا رہی تھی۔۔ماں کا دل بدلتا جا رہا تھا پر باپ کا دل کیوں نہیں بدلا ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اپنے کمرے میں آکر بستر پر گرا تھا۔آج جو کچھ ہوا تھا اس نے اسے اندر سے ہلا دیا تھا۔ کسی چیز کو بنا دیکھے محسوس کیئے اسکی موجودگی سے انکاری ہوجانا آسان ہے مگر۔
    اس نے اپنے اپر کی جیب سے ایک چھوٹی سی تصویر نکالی۔ یہ سنتھیا کا الٹرا سائونڈ تھا۔ اس تصویر میں ڈاکٹر نے مٹر کے دانے جتنا جو گول سا دائرہ دکھایا تھا وہ اسکی اولاد تھا۔ اسکا ہونے والا بچہ۔۔ اس تصویر کو غور سے دیکھتے دیکھتے بھی اسکے دل میں کوئی الگ سا جزبہ پیدا نہ ہوسکا تھا۔ اسکی عمر ذمہ داریاں اٹھانے کی نہ تھی افئیر چلانے کی تھی۔ جتنی آسانی سے اس نے معاشرتی حدود و قیود سے آزادی حاصل کی تھی اتنی آسانی سے وہ اس سزا کو قبول نہیں کر پارہا تھا۔۔ ہاں یہ بچہ اسے اپنی سزا ہی محسوس ہوا تھا۔
    تصویر دیکھتے فلم کی طرح اسکے ذہن میں اسپتال کے مناظر گھوم گئے تھے۔ سنتھیا جانے واقعی اس بچے سے محبت کرنے لگی تھی یا محض اسکو باندھ لینا چاہتی تھی جو ابارشن پر رضامند نہ تھئ۔ایک تیسرا بھی رخ تھا جس پر اسکا دھیان نہ گیا تھا۔
    اس نے تصویر یونہی سائیڈ ٹیبل پر ڈالی۔ وہ اپنے ہلکے وزن سے ٹک نہ سکی نیچے گرگئ۔ اس نے کروٹ بدل لی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوپ جانے کہاں تھی۔ وہ دونوں نک سک سے تیار ہو چکی تھیں۔گوارا نے اسکا اناڑی پن محسوس کرکے خود اسکا میک اپ کر دیا تھا۔ گوارا نے لانگ اسکرٹ اور خوبصورت جھالر والا بلائوز پہنا تھا۔ اس نے بھی گوارا جیسا ہی لباس زیب تن کیا تھا بس رنگ کا فرق تھا۔ اچھے وقت کی کی گئ شاپنگ کام آگئ تھی۔ یون بن گاڑی لے آیا تھا ان دونوں کے انتظار میں بیٹھا لائونج میں مکھیاں مار رہا تھا۔
    کتنا وقت لگائو گی دونوں۔ وہ بور ہو کر آوازیں دے رہا تھا۔
    بس تیار ہوگئے۔گوارا اپنا پرس سنبھالتی آواز لگانے لگی۔
    اریزہ نے بھی اپنا پرس تھاما اور خود پر طائرانہ نگاہ ڈالتی گوارا کے ساتھ باہر نکلی۔
    کیوپتا۔( دلکش) ۔۔ واضح طور پر یون بن ٹھٹکا تھا۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
    گوارا اترا سی گئ۔ مگر اسکی نظروں کا تعاقب کیاتو یہ بے ساختہ تعریف اریزہ کو دیکھ کر کی گئ تھی۔۔۔ اریزہ جھینپ سی گئ۔ اتنے دن میں اتنی ہنگل سیکھ ہی لی تھی۔
    تم پر تو مغربی لباس کافی جچتا ہے۔ تم ایویں ہی اپنے پرانے روائتی لباس کو ترجیح دیتی ہو ۔ ہے نا گوارا
    اسکا انداز سادہ سا تھا۔ کھلے دل سے سراہتے ہوئے اس نے گوارا سے تائید چاہی تھی۔
    بالکل۔ مگر مجھے یہ اپنے قومی روائتی لباس میں بھی اتنی ہی پیاری لگتی ہے۔ اور یہ اپنے قومی روائتی لباس کو شوق سے پہنتی ہے یہ بات اور اچھی لگتی ہے۔
    گوارا نے پیار سے کہتے اسے ساتھ لگایا۔ اریزہ بلش سی ہوگئ۔ زندگی میں پہلی دفعہ اتنے تعریف سننے کو ملی تھی اسے سمجھ نہ آیا کیا کرے۔ اسکے چہرے پر پھیلتی سرخی کو ان دونوں نے تعجب سے دیکھا تھا پھر اکٹھے ہنس پڑے
    یار یہ کتنی سادہ سی ہے بلش ہوگئ ہے اپنی تعریف سن کے۔۔
    یون بن نے جان کے ہنگل میں کہا تھا۔
    اریزہ بہت مختلف اور اچھی لڑکی ہے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے ایک پرخلوص دوست پائئ ہے۔
    گوارا نے کھلے دل سے کہا۔ یون بن نے مسکرا کر اسکو دیکھا
    تھائی نیئے۔(شکر ہے) تمہیں اپنے جیسی لڑکی تو ملی۔ اب اس دوستی کو کھونا مت۔ میں تمہاری سہیلی بنے بنے تھک چکا ہوں ۔۔
    اس نے ہنستے ہوئے کہا تو گوارا مکا دکھانے لگی۔
    یہ ذیادتی ہے تم دونوں میرے سامنے اپنی زبان میں بولےجا رہے ہو جانے کیا کیا۔ یقینا میری برائی ہو رہی ہے ۔۔ یہ گوارا نے میرا تیز میک اپ کر دیا نا۔ میں ابھی منہ دھو کے آتی ہوں۔
    ان دونوں کو اسکو ہی دیکھ دیکھ باتیں کرتے دیکھ کر اسے غلط فہمی ہونی ہی تھی۔ منہ بنا کر پلٹنے لگی تو گوارا نے فورا اسکے بازو میں ہاتھ ڈال کر روکا
    ہم تعریف کر رہے ہیں پھابو۔( پاگل) خبر دار جو میری اتنی محنت برباد کی۔ اتنی پیاری لگ رہی ہو۔ ہے نا یون بن
    اس نے تائید چاہی۔ یون بن نے مسکرا کر سر ہلایا۔ پھر اسکی جانب ذرا سا سرگوشیانہ انداز میں جھک کر بولا
    بالکل۔ مگر۔۔۔۔۔ تم سے کم ۔۔۔۔۔
    گوارا نے حیرت سے اسے دیکھا اسکا چہرہ غماز تھا کہ اس نے دل سے تعریف کی ہے۔
    گوارا مسکرا دی۔
    تم بھی بہت پیارے لگ رہے ہو۔
    پھر اسکو ڈراپ کرکے ہم ڈیٹ پر چلیں۔
    یون بن نے فورا موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا۔
    خیال برا نہیں۔ گوارا فورا مان گئ۔
    ناٹ اگین ۔ اریزہ چڑ گئ۔ بھنا کر پیر پٹخ کر اندر جانے لگی
    گوارا اور یون بن دونوں اسے منانے لپکے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیوٹیشن تنقیدی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ گنگشن ہنس دی
    بہت اچھا میک اپ ہے اب مطمئن ہو جائو میں بھی مطمئن ہوں۔
    وہ پھر برش لیکر اسکی تھوڑی پر پھیرنے کو تھی کہ اس نے ہاتھ تھام لیا۔
    کوریا کے چوٹی کے سیلون کا اسٹاف اسکو تیار کرنے پر معمور تھا۔ گنگشن کےسامنے دیوار گیر آئینہ تھا۔ خود پر سرسری سی نگاہ ڈالتی اٹھی۔ اسکے لیئے خاص کر قد آدم آئینے بھی لگائے گئے تھے۔دو لڑکیاں فورا مستعد ہوئیں وہ ایک آئینے کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔
    اسکا روپ نکھر کر آیا تھا۔ پچھلی منگنی کی دفعہ بھی یہی لوگ تھے جن کے ماہرانہ ہاتھوں نے اسکو تیار کیا تھا اب بھی۔ نہ اس وقت اسے کوئی خوشی کی رمق محسوس ہوئی تھی نا اب۔ ہاں اب اتنا دکھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ اسے یاد تھا پچھلی دفعہ تیارہو کر آئینہ دیکھتے وہ رو پڑی تھی۔ اتنا ذیادہ کہ اسکا میک اپ دوبارہ کرنا پڑگیا تھا۔ او ر اب۔
    وہ آئینے سے ابھرتے بے تاثر چہرے والے عکس کو دیکھتی رہی۔
    میں وقت کے ساتھ ڈھیٹ ہوتی جا رہی ہوں۔
    اسکے منہ سے بلا ارادہ نکلا تھا
    دے۔؟اسکی مددگار چونکی۔
    آنیا۔ اس نے اپنے کندھے پر بکھرے گھنگھریالے کیئے گئے بال جھٹکے۔ بیچ ویوز کرلز نے ( سمندر کی لہروں جیسے گھنگھریالے ) اسکے چہرے کے نقوش کو نکھار بخشا تھا۔ وہ سر جھٹک کر دوسری جانب تیار ہوتی ہوپ کے پاس چلی آئی اسی ٹیم سے اس نے ہوپ کا بھی میک اپ کروایا تھا۔
    اسکا میک اپ بھی آخری مراحل میں تھا۔اسکی کھنچی ہوئی آنکھوں کو بڑا دکھانے کیلئے آنکھوں کے کنارے پر سایہ ڈالنے کیلئے گہرے رنگوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ جس سے اسکی آنکھیں بڑی بڑی لگنے لگی تھیں۔ وہ معمول سے کہیں ذیادہ مختلف اور اچھی لگ رہی تھی۔
    تھیبا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا تم اتنی خوبصورت لگ سکتی ہو۔
    گنگشن کی بے ساختہ تعریف بھی اسے خوش نہ کر سکی۔ بمشکل اپنے چہرے کے تاثرات بدل کر مسکرائی
    شکریہ انی۔
    آج تو تم ضرور کسی کی نظروں میں آئوگی۔ڈیٹ کی آفر تو پکا کوئی کرے گا سب کڑوی یادیں بھول کر بس کھلے دل سے قبول کرنا
    وہ پیار سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی تھیں۔ ہوپ انکے انداز پر ہنس پڑی۔
    انی آپ کا پیار اپنی جگہ مگر ہوپ کو جھوٹی ہوپ تو نہ دیں۔۔
    دیکھ لینا۔ انی کو یقین تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن اسکی بےتابی پر مسکراہٹ لبوں میں دبائے محظوظ انداز میں دیکھ رہا تھا۔ لی گروپ کے اگلے مالک کی حیثیت سے اس سے خود آ آکر ملنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔ جسے فہمائشی مسکراہٹ سجائے بھگتنا اسکی مجبوری تھی۔ مگر بڑے بڑے صنعتکاروں اداکاروں اور چند ایک پارلیمان کے ارکان کی موجودگئ میں بھی اسے بس ایک فرد کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ ایک جانب بار کا انتظام تھا۔ جہاں قیمتی سے قیمتی شراب مہمانوں کو پیش کی جا رہی تھی۔ ہلکی موسیقی میں بہت سے لوگ جوڑی بنائے رقص کر رہے تھے۔ اور وہ بے تابی سے مانوس چہرہ کھوج رہا تھا۔ گردن گھما گھما کر۔ کم سن کونے میں بار کے پاس ہی بیٹھا مشروب نوش کر رہا تھا۔ اٹھ کر اسے بازو سے کھینچ لایا۔
    بیٹھ جائو تھک جائوگے۔ جس نے جب آنا ہوگا تب ہی آئے گا تم ٹہل ٹہل کر کسی کو بلا نہیں سکتے۔
    منگنی کی تقریب شروع ہونے والی ہے ابھی تک نہیں آئی گوارا نا ہی یون بن
    وہ جھلایا۔۔ کم سن مسکرا دیا۔
    اتنا انتظار گوارا اور یون بن کا اسے یقینا نہیں تھا۔
    لگتا ہے آنے والوں کو آنے کی جلدی نہیں۔ تمہاری یہ سب بےتابئ یکطرفہ تو نہیں؟
    کم سن نے اسکی دکھتی رگ دبا دی تھی۔ اس نے شاکی نگاہوں سے دیکھا۔
    ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ نونا کی کال آگئ۔
    دے۔ اس نے کم سن کو گھورتے ہوئے کال اٹھائ ۔ کم سن رخ موڑ کر مسکراتا ہوا گھونٹ بھرنے لگا۔
    سر اٹھا کر سامنے دیکھو ایک زبردست سا سرپرائز ہے۔ تمہارے لیئے۔
    نونا کی دھیمی مگر کھلکھلاتی سی آواز۔ اس نے سر اٹھایا ۔۔نونا اور جون من کے نام نیک خواہشات سے سجا بینر اور گلدستے تھامے دو لڑکیاں جوڑے کے آگے آگے چلتی آرہی تھی۔ جو دلکش لڑکی سب سے نمایاں مسکرا رہی تھی وہ جانی پہچانی تھی۔ بے حد مختلف مگر دلکش۔۔
    وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ گنگشن اور جون من ایک دوجے کا ہاتھ تھامے سہج سہج کر چلتے جب بیچ اسٹیج پر پہنچے تب ان دونوں لڑکیوں نے انکو گلدستے پیش کیئے اوپر سے ہلکے سے پٹاخے کے ساتھ رنگ برنگی پنیوں اور
    پھولوں کی برسات ہوئئ۔
    ایک بے حد رومان پرور ماحول میں جب دلہا اور دلہن کو ایک دوجے کے سوا کسی پر توجہ دینے کا موقع بھی نہیں ملتا نونا گردن گھما کر اسے دیکھ رہی تھیں چہرے پر بڑی شرارتی سی مسکراہٹ تھی۔ اس کی نگاہ ہوپ پر گئ تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ شائد پہلی بار مسکرا کر۔۔۔
    آگئ۔ کم سن کی دھیمی سی آواز ۔کم سن کی اسٹیج اورہایون کی جانب پشت تھی۔ وہ سنتے ہی چونک کر فورا سے پیشتر مڑگیا۔ گوارا کے سنگ ہال میں داخل ہوتی اریزہ بہت اشتیاق سے اسٹیج کی جانب دیکھتی کچھ بول بھئ رہی تھی۔ ساتھ یون بن بھئ تھا۔ مگر اسے شائد گوارا بھئ ٹھیک سے نظر نہ آئی۔ ہوپ کی مسکراہٹ واضح طور پر پھیکی پڑ گئی تھئ۔ ہایون کافی عجلت میں اسکی جانب بڑھا تھا۔ اسکا کسی نے ہاتھ تھام لیا۔کوئی پرانا ساتھی اس سے ملنے لگ گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گلدستے سنبھالتے جیسے ہی وہ ہال میں داخل ہوئے سب بتیاں دھیمی پڑ گئیں
    کیا ہوا لائیٹ چلی گئ؟ یہاں بھی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے؟
    اسے پاکستانی ہونے کے ناطے پہلا خیال یہی آیا۔
    پاور ٹرپ ہوا ہوگا۔
    گوارا نے اندازہ لگایا۔ تو یون بن نے اسکا سر گھمایا اسٹیج کی جانب۔۔ اوراطلاع دی۔
    دلہا دلہن کے استقبال کیلئے بتیاں بجھائی گئ ہیں۔ ۔۔۔
    فلڈ لائٹس کے گول چکر گنگشن نونا اور انکے دلہا کا حصار باندھے تھے۔ اوپر سے گرتی پھولوں کی پتیاں۔ مبہوت کردینے والا منظر تھا۔ بے ساختہ اسکے منہ سے وائو نکلا۔
    پھر گلدستہ گوارا کے کندھے پر مار کر بولی
    دلہا دلہن آگئے گوارا کی بچئ تم نے بکے بنوانے میں اتنا وقت لگوا دیا ہمیں دیرہوگئ۔
    ہال میں نیم اندھیرا کرکے خاص جگمگایا گیا تھا اسٹیج کو۔ سب ادھر ہی متوجہ تھے۔ وہ لوگ بھی اسی جانب بڑھ آئے۔
    دلہا دلہن ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنا رہے تھے۔ ایک لڑکی نے آگے بڑھ کر ان دونوں کو مائک دیا۔ مختصر جملے۔ ساتھ نبھانے کا عزم کرکے دلہا نھ مسکرا کر بازو لمبا کرتے دلہن کو تکلف سے ساتھ لگایا۔ ۔ اسکے بعد دونوں نے مسکراتے ہوئے جھک کر سب کا شکریہ ادا کیا اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اسٹیج سے نیچے اتر آئے۔ مہمانوں سے ملتے آمد پر شکریہ ادا کرتے اس جوڑے کی منگنی کی تقریب تمام ہوگئ تھی۔۔ ہلکی موسیقی دوبارہ چالو ہو گئ تھئ۔
    ہاہ۔
    اسکا منہ کھلا اور پھر حیرت کے مارے کھلا ہی رہ گیا۔اس نے موبائل میں وقت دیکھا۔ تقریب کا وقت تھا رات نو بجے۔ اس وقت سوا نو ہو رہے تھے۔ اس نے مایوسی سے نظر گھمائی۔ بڑا سا ہال۔ایک جانب ڈانس فلور تھا جو اس وقت تقریبا خالی تھا۔ کچھ اسٹیج کے قریب آن کھڑے ہوئے تھے۔ دلہا دلہن اس ہجوم میں غائب ہو چکے تھے۔ ایک ایک کے پاس خود جا جا کر جھک جھک کے سلام کرتے دلہا دلہن تو۔ دوسری جانب میزیں لگا کر بوفے کا انتظام تھا۔ قطارمیں لمبی لمبی کھانے سے سجی میزوں پر اکا دکا لوگ اپنی پلیٹ میں گنی چنی چیزیں رکھ رہے تھے۔ کوئی جلدی نہیں کوئی ہڑبونگ نہیں سب سوکھے منہ دلہا دلہن کے ساتھ گپوں میں لگے تھے جیسے یہاں کھانے ہی نہیں آئے ہوئے۔
    بس؟ یہ کیا؟ سب ختم ؟۔۔۔۔اتنئ وقت کی پابندی۔ اتنی سادہ رسموں سے پاک تقریب۔ یہ کیسے نان مسلم ہیں۔
    اسے دھچکا لگا۔
    یہ کیا۔؟ اس نے دانت کچکچائے۔۔
    ہم خالی اسٹیج دیکھنے آئے ہیں۔ اس نے برابر کھڑی گوارا کا بازو کھینچا۔
    ایسی ہوتئ ہے منگنی بھلا اس سے ذیادہ رونق اور ہلا گلا میرا پہلا دودھ کا دانت ٹوٹنے پر ۔۔۔۔
    بڑبڑ کرتے کھینچ کر ساتھ لگاتے ہی اسے ایکدم کچھ نامانوس سا احساس ہوا۔ اس نے جلدی میں جوبازو کھینچا وہ خاصا مضبوط تھا اور کوٹ میں ملبوس تھا۔ اس نے سٹپٹا کر نگاہ اٹھائی اپنے برابر کھڑے وجود کو دیکھا۔جو خوب لمبا سا چندی آنکھوں والا تھا۔ بہت حیرانی سے اس بے تکلفانہ مڈبھیڑ کو دیکھ رہا تھا۔
    اوپس۔ سس۔
    اس نے فورا بازو چھوڑا۔ سوری بولتے بولتے خیال آیا کہ ہنگل میں کہنا چاہیئے۔
    چھے۔۔ سو۔
    ( سوری کو کیا کہتے ہنگل میں۔ اس نے ذہن کے گھوڑے دوڑائےبس چھے سو ہی یاد آیا۔ آگے کیا تھا؟ )
    تھیبا۔۔ اس نے گردن جھکا کے کہا۔ مخاطب کی چندی آنکھیں تھوڑی سی کھل گئیں۔
    آنیا۔۔۔۔ اس نے نفئ میں گردن ہلائی۔۔ آنیانگ۔۔دے۔
    ۔ آندے
    ۔ جھنچائے او۔
    اس نے جلدی جلدی سب ہنگل لفظ بول ڈالے جو جو یاد آئے۔
    کیہہ سیکی۔۔
    چندی آنکھیں ابلنے کو تیار ہوئیں۔ اریزہ کو اسکے تاثرات دیکھ کر یاد آیا کہ یہ کوئی اچھا لفظ نہیں تھا۔۔ اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔
    آنیا ۔۔ ۔۔ اسے یاد آگیا۔سو اس بار قدرے اعتماد سے بولی۔ اور سر جھکانا بھول گئ۔
    سارانگھیئے او۔۔۔۔
    چندی آنکھوں والے کی آنکھوں میں تیرتی حیرت نے رنگ بدلا تھا۔آنکھیں مائل با شرارت ہوئی اور وہ ہنسی روکنے میں ناکام ہوتے ہوئے قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔ وہ حیرت سے اسے ہنستے دیکھ رہی تھی۔
    اسکے قریب آتے دلہا دلہن اور ہایون نےبھی حیرت سے اسکا جملہ بھی سنا تھا اور علی کا ردعمل بھی دیکھا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم تو سمجھے ہم نےاپنی منگنی کی تقریب میں مزید دو دلوں کو ملا دیا ہے مگر افسوس یہ ایک غلط فہمی نکلی۔
    گنگشن اریزہ کا پیش کیا بکے تھامے شرارت سے علی کو کہہ رہی تھئ۔ جوابا وہ بمشکل مسکرایا۔
    ویسے ہم کورینز سوری تھینکس جتنی انگریزی سمجھ لیتے ہیں پھر بھئ مشورہ ہے بنیادی ہنگل سیکھ لو آگاشی۔
    جون من نے ہلکے سے ہنس کر جتایا۔ وہ پزل سی کھڑی ہتھیلیاں مسل رہی تھی۔ اتنی ساری شرمندگی اسکے حصے میں آگئ تھئ
    اریزہ۔ اریزہ نام ہے اسکا۔
    نونا فورا بولیں۔
    اریزہ تم مغربی لباس میں بہت جچ رہی ہو۔ مجھے لگا تھا تم آج کی تقریب میں بھی اپنا روائتی لباس ہی پہن کر آئو گی۔
    نونا نے بہت پیار سے کہا تھا۔ وہ مسکرا دی۔
    یہ گوارا کی ضد تھی۔ ویسے آپ بھی بہت اچھی لگ رہی ہیں۔
    اس نے دل سے تعریف کی تھی۔ نونا اسکو بس جوابی تعریف سمجھیں۔سو دھیان نہ دیا۔
    تم لوگوں نے کھانا کھایا ؟ ہایون اپنے مہمانوں کا خیال رکھنا
    نونا کو اب مہمان نوازی کی فکر تھی۔ ہایون نے اثبات میں سرہلادیا
    ۔ دلہا دلہن کی پکاریں پڑ رہی تھیں۔ دونوں نے اجازت چاہی۔
    علی نے بھئ اب رخصت چاہی ۔
    اوکے اب مجھے بھی چلنا چاہیئے۔ مس اریزہ علی۔ علی نام ہے میرا۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔۔
    علی نے اسکی مشکل سمجھ کر شستہ انگریزی میں بتایا۔
    اریزہ کھسیا سی گئ۔
    آئی ایم سوری۔ اسکے منہ سے ہائے ہیلو کی جگہ پھسلا اور وہ مزید سٹپٹا بھئ گئ۔علی اسکی گھبراہٹ سمجھ کر مسکرا دیا
    دراصل اریزہ کو ہنگل نہیں آتی ہے ابھی اسے کوریا آئے ذیادہ وقت بھی نہیں ہوا۔
    ہایون نے وضاحت دی۔
    میں سمجھ سکتا ہوں۔ اور کیسا لگا کوریا اور کورینز ؟
    اس نے اسکی شرمندگی کم کرنے کیلئے بات بڑھائی
    اچھا ہے۔ خوبصورت ملک ہے ۔کورینز بھئ اچھے ہیں۔
    اس نے نپا تلا ہی جواب دیا۔
    مگر آپکو یہ تقریب پسند نہیں آئی۔
    علی اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا تو وہ تھوڑا اعتماد بحال کرکے بولی۔
    آنیا بس میں حیران ہو رہی تھی۔ ہمارے یہاں منگنی میں بھی لمبی تقریب چلتی ہے۔ رسمیں ہوتی ہیں۔ وغیرہ تویہ سب بہت سادہ تھا میرے لیئے۔
    ہاں میں نے بھئ سنا ہے پاکستانی اور انڈین شادیوں میں بہت ہلہ گلہ ہوتا ہےمگر کبھی اتفاق نہیں ہوا کسی شادی کا حصہ بننے کا۔۔ وہاں کرسچن بھی یہ سب رسومات کرتے ہیں؟
    علی کے سوال پر وہ سوچ میں پڑی۔ سنتھیا اسکی دوست تھی اور کبھی اس نے اسکے خاندان کی کسی شادی میں حصہ نہیں لیا تھا مگر ہاں سنتھیا کی منگنی کی تقریب کا حصہ بنی تھی کم و بیش ایک جیسا ہی ماحول تھا۔ ویسے ہی دیسی لوگ زرق برق لباس۔اور طعام کا اہتمام۔۔۔
    ہاں۔ اس نے سوچ کر سر ہلایا تھا۔
    آپ کیا کرتے ہیں؟
    اس نے یونہی سوال کر لیا تھا۔
    میں نے فنانس میں ماسٹرز کیا ہے۔ آج کل ایک نیم سرکاری ادارے میں پڑھاتا ہوں مختلف مضامین۔ وہیں سے عربی سیکھ رہا ہوں۔۔۔
    فنانس میں ماسٹرز کے بعد ٹیچنگ؟ ۔۔ اریزہ حیران ہوئی تھی۔
    دراصل۔۔ علی نے جانے کیا جواب دیا تھا۔ ان دونوں کو یقینا ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت میں مگن ہوتے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ ہایون ان دونوں کو چند لمحے باتیں کرتے دیکھ کر خاموشی سے ان کے درمیان سے ہٹ گیا تھا۔ہوپ کی اس سے توجہ ہٹ نہ سکی تھی۔ اس کو یوں خاموشی سے جگہ چھوڑتے دیکھ کر وہ اسکی جانب بڑھی تھی کہ کسی نے اسکو مخاطب کر لیا۔
    آگاشی آپ ہوپ ہیں نا ؟
    وہ کوئی ادھیڑ عمر چندی آنکھوں والا مرد تھا اس سے نہایت تمیز سے پوچھ رہا تھا۔
    دے۔ وہ سر ہلا کر آگے بڑھنا چاہ۔رہی تھی۔
    آپ کا انٹرویو دیکھا تھا میں نے بہت اچھا بولتی ہیں آپ۔ کیا کر رہی ہیں آپ آجکل؟
    وہ مزید بات بڑھانے کے موڈ میں تھا۔ ہایون کا رخ ہال سے باہر جانے والے دروازے کی۔طرف تھا وہ بے چین سی ہوئی۔
    کچھ خاص نہیں ایکسکیوز۔۔ وہ معزرت کرنا چاہ رہی تھی کہ اس شخص کے اگلے جملے پر۔ٹھٹھک گئ
    وہ کہہ رہا تھا۔
    آپ بہت خوبصورت ہیں۔ آپ میں اعتماد بھی ہے میری ایک ایڈ ایجنسی ہے اس میں آپ ماڈلنگ کرنا چاہیں گی ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اف مجھے افسوس ہو رہا ہے اتنی فلمی سچوایشن مجھ سے مس ہوگئ۔
    گوارا اسکی زبانی ہی احوال سن کے ہنسے جا رہی تھی۔
    پہلی ملاقات اور لڑکی کا اظہار محبت۔ ۔۔
    شٹ اپ۔اریزہ چڑی گوارا اسکے انداز پر اور ذور سے ہنسی

    بوفے اسٹائل تھا ایک کونے سے اس نے اپنی پلیٹ میں جو جو چیزیں بھرتی جا رہی تھی اسکو دیکھ کر اسے الجھن آنے لگی تھی۔ کیکڑے ، چھوٹی چھپکلیوں کی طرح کی مچھلیاں آنکھوں سمیت تلی ہوئی آکٹوپس ، کھانے میں ویج نان ویج سی فوڈ ائیٹمز تھے اور گوارا سی فوڈ کی شوقین۔ سو اسکا ارادہ یہاں سے آگے جانے کا نہ تھا۔
    پہلی ملاقات۔ وہ سوچ میں پڑی تھئ کہ گوارا نے اسکا بازو ہلایا۔
    اریزہ وہاں ویج آئٹمز ہیں۔ تم وہاں سے کچھ لے لو۔
    گوارا کے ہلانے پر وہ چونکی پھر سرہلا کر اس جانب بڑھ گئ۔
    ویجیٹیبل سوپ تھا اشتہا انگیز۔ اس نے وہ لے لیا۔ سبزیوں کا پلائو تھا جس پر مشرومز سجے تھے۔ وہ دھیرے دھیرے بڑھتی گئ۔دو تین طرح کی سلاد تھیں۔ مشروم اسٹیک وائٹ ساس پاستا اور سبزیوں کی بھجیا۔ تھوڑا تھوڑا لیکر وہ گوارا کی جانب پلٹی تو ذہن میں جھماکا ہوا۔
    علی کی شکل جانی پہچانی کیوں لگی ؟ یہ وہی تو تھا جس نے میٹرو اسٹیشن میں اسکی مدد کی تھی۔ جبھی اسے دیکھا دیکھا لگا۔
    میم آپ ادھر آئیے۔
    ایک بیرا مئودب سا اسکے پاس آکر انگریزی میں بولا
    کیوں ؟
    اسکا فون بجنے لگا بیرے نے سہولت سے اسکے ہاتھ سے پلیٹ تھام لی۔ وہ حیران ہوتی اپنے کندھے سے لٹکتے چھوٹے سے پرس سے فون نکالنے لگی۔
    کالر کا نام پڑھ کر وہ چونکی۔ بیرا اسکی پلیٹ پاس سے گزرتے دوسرے بیرے کو تھما چکا تھا جو لیکر آگے بڑھ گیا۔
    ارے؟ میں کھانے جا رہی تھی۔۔ وہ ہکا بکا تھی گھور کر بیرے کو دیکھا وہ جوابا سر جھکا گیا۔ ۔ فون بجے جا رہا تھا اس نے اٹھالیا۔
    بیرا اس سے تھوڑا فاصلے پر ہو کر اسکے فون سے فارغ ہو جانے کا انتظار کرنے لگا۔
    کیسی ہو بیٹا ؟ سنتھیا کی امی بہت پیار سے پوچھ رہی تھیں۔
    ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں؟ اس نے بھی جوابا خوش اخلاقی سے احوال پوچھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیرا اسے ایک فلورنیچے لایا تھا۔ بڑا سا ہال نیم تاریک تھا
    دھیمی چلتی موسیقی سامنے ایک بڑی سی میز پر بس روشنی تھی۔اس روشنی میں دمکتا مانوس چہرہ وہ بلا جھجک اس جانب چلی آئی۔
    ہایون اسکو آتے دیکھ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا تھا۔ بیرے نے اسکے لیئے کرسی احتیاط سے کھینچی ۔ وہ حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔
    اب جائو تم۔ ہایون نے بیرے سے کہا وہ دھیرے سے جھک کے پلٹ گیا۔
    یہ۔ اریزہ میز پر نظر دوڑاتی حیران کھڑی تھی
    بیٹھو۔ وہ اسکی حیرانی پر مسکرایا۔
    وہ متعجب سی اسے دیکھتی ٹک گئ۔
    میز اسکے سب پسندیدہ کھانوں سے سجی تھی۔ بریانی مٹن کڑاہی نان چائینئز پلائو کھیر گول گپے دہی بھلے سموسہ۔۔ رس ملائی۔ وہ ابھئ دل بھر کے حیران بھی نہ ہو پائی تھی کہ
    دوبیرے پھر انکے سر پر آن کھڑےہوئے تھے
    ایک تولیہ ہینڈ واش کی بوتل ، منرل واٹر کی بوتل اور دوسرا ایک خوبصورت سی پیتل کی صراحی کی شکل کا کوئی برتن لیئے کھڑا تھا۔
    یہ؟ اس نے حیرانی سے ہایون سے پوچھا
    ہاتھ دھولو۔ ہایون مسکرایا۔
    اس کا منہ بھی کھل گیا تھا۔
    اس نے جھجکتے ہوئے ہینڈ واش ہاتھ میں لیا۔ شہزادیوں کی طرح اسکے ہاتھ اس دھلوائے گئے تھے۔ وہ یقینا یہ خواب دیکھ رہی تھی۔
    مجھے تمہاری پسند کا ذیادہ پتہ تو ہے نہیں۔ یہ پلائو کڑاہی اور بریانی آرڈر دینے کے بعد ریستوران والوں سے کہا جو بھی خاص ہو مینیو میں بھجوا دیں۔ امید کرتا ہوں تمہیں پسند آئے گا۔
    ہایون نے وضاحت کی۔
    یہ بہت سارا کھانا ہے۔۔۔۔ ہایون اور اسکی کیا ضرورت تھی۔ وہ ناراض ہوئئ
    ضرورت کیوں نہیں تھی۔ تم بھوکی رہتیں ؟
    ہایون الٹا اس سے پوچھنے لگا۔
    نہیں پر میں کچھ نہ کچھ کھا لیتی اتنا اہتمام۔
    وہ متذبزب تھی۔ ہایون نے بات کاٹ دی
    تم تو کورین کھانے کھاتی ہی نہیں ہو۔مجھے پتہ ہے یہ بات جبھی تمہاری پسند کے کھانے منگوائے ہیں اب شروع کرو۔۔
    اسکا انداز لاپروا تھا۔ وہ اس سب اہتمام کو معمول کا حصہ قرار دینے پر تلا تھا۔
    اریزہ کو اسکے خلوص پر شبہ نہ تھا سو مسکرا کر سر ہلا دیا۔ یوں دوستوں کو زیر بار کرنا اسکو پسند نہ تھا او ریہ بھی سچ تھا ہایون اگر یہ اہتمام نہ کرتا تو شائد وہ بھوکی رہتی۔
    تمہارا سب سے پسندیدہ پکوان کونسا ہے ؟ وہ بات بدلنے کو پوچھ رہا تھا۔
    یہ۔ کہتے ساتھ ہی
    اس نے سب سے پہلے گول گپے کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا
    ہایون نے اسے کھٹے پانی میں ڈبو کر کھاتے غور سے دیکھا۔ بہت چٹپٹا تھا پانی۔ اسکو خوب مزا آیا مگر مرچوں سے آنکھیں سرخ ہو چلیں۔۔
    اس میں ڈبو کر کھائو ۔۔ وہ اسے سکھا تے سکھاتے ایک اور گول گپا منہ میں بھر چکی تھی۔ چنے چٹنی بھرا بڑا سا گول گپا۔
    ہایون نے جھجکتے ہوئے گول گپا کھانا چاہا وہ پٹاخ سے پانی میں گرا اسکے کوٹ تک پانی کے چھینٹے آئے۔ اسکی خدمت پر معمور بیروں نے بمشکل مسکراہٹ دبائی۔
    گول گپا کئی گول گپوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ اس نے چمچ سے اٹھا کر کھایا تو رات میں تارے بھی دکھائی دیئے اور کائنات کے نئے بلیک ہول بھی
    بری طرح کھانستے ہوئے اسے اچھو ہوچلا تھا
    اریزہ نے جلدی سے رس ملائی ایک پیالے میں نکال کر اسکی جانب بڑھائی۔
    ٹھنڈی میٹھئ رس ملائی منہ میں گھل کر مرچوں کا ذائقہ مندمل کر گئ منہ میں چین پڑا۔
    تم مت کھائو گول گپے تمہارے بس کی بات نہیں۔
    اریزہ نے چھیڑا تھا۔خود وہ گول گپے میں چنے اور چٹنی بھر رہی تھی۔
    ہایون نے ایک نظر اسکو دیکھا پھر اپنے پاس رکھی رس ملائی کو۔ گول گپا اٹھایا اس میں چنے بھرے ایک رس ملائی توڑ کر بھری رس ملائی کے دودھ میں ڈبویا اور منہ میں رکھ لیا۔ اریزہ کا گول گپے سے بھرا منہ تھوڑا سا کھل سا گیا۔
    گول گپے میں رس ملائی بھر کر کھانا ؟ اس ثقافتی جھٹکے نے اسکو ششدر کر دیا۔ ہایون نے مزے لیکر کھایا اور چٹخارا بھرا۔
    ماشیچتا۔ ( مزےدار)
    اریزہ نے بمشکل اپنا گول گپا نگلا۔
    واقعی بہت مزے کا کھانا ہوتا ہے پاکستانی۔ تم لوگ کتنے گول گپے کھاتے ہو؟ ایک وقت میں
    وہ گول گپے کو ایک وقت کا کھانا سمجھا تھا۔
    درجن ایک تو اریزہ جیسی لڑکی بھی بنا ڈکار مارے کھا سکتی تھی ۔ اس نے جواب دینے کی بجائے کھٹا پانی پرے کیا اپنی رس ملائی کا پیالہ اٹھایا ۔گول گپے میں رس ملائی بھری اور منہ میں رکھ لیا۔ زندگی میں پہلی بار گول گپے کو رس ملائی میں ڈبو کر کھایا تھا اور اب سے آئیندہ وہ یہ دونوں چیزیں ملا کر کھانے والی تھی۔
    یہ تو واقعی بہت مزے کا لگ رہا ہے۔
    وہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
    کیا مطلب تم لوگ اسکو ملا کر نہیں کھاتے ؟ ہایون کو حیرت ہوئی
    ہرگز نہیں اور کسی پاکستانی کےسامنے دوبارہ یہ کرتب کرنا بھی نا توہین ہے یہ گول گپے کی مگر۔۔
    وہ ڈرامائی انداز میں کہتے کہتے رکی پھر منہ میں گول گپا رکھ کر چٹخارا لیکر بولی
    مزے کی توہین ہے۔
    ہایون اسکے انداز پر ہنس پڑا تھا۔
    اور بتائو اور کونسی چیز تم ملا کر کھائو گے۔ اس نے اکسانے والے انداز میں کہا ہایون بھی دلچسپی سے پکوان کی جانب متوجہ ہوا۔
    یہ پائرامڈ بریانی میں ملا کر کھانا کیسا لگے گا؟
    پائرامڈ؟ وہ ہونق ہوئی۔
    یہ تکونا پائرامڈ کی طرح کا ہے نا۔وہ اب سموسے کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر دکھا رہا تھا۔
    سموسہ کہتے ہیں اسے۔ اس نے بتایا پھر ایکدم پرجوش ہوئی۔
    اس میں بریانی بھرتے ہیں۔ وہ اب سموسے کا پیٹ چاک کرنے لگی۔
    دونوں کھا کم کھیل ذیادہ رہے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں مگن اور خوش نظر آرہے تھے۔ ہال کنارے سیڑھیوں سے اترتے ہی ان پر نظر پڑی تھی اسکی۔ وہ ہایون کا پتہ کرتی ادھرچلی آئی تھئ مگر یہ نہیں پتہ تھا کہ ہایون یہاں اکیلا نہیں تھا۔اریزہ بھی ساتھ تھی۔ جہاں اوپر والی منزل پر رنگ و بو کا سیلاب تھا رونقیں تھی مہمان تھے بڑے بڑے لوگ تھے وہ یہاں تھااس منزل کی سب دلکشیوں سے دور اریزہ کے ساتھ خوش
    کم از کم ہوپ کو تو وہ دونوں اکٹھے مطمئن اور مکمل لگے تھے۔ اس نے اپنے ہاتھ میں تھما کارڈ مسل ڈالا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا گھر نہیں آئی تھی شائد آئے بھی نا۔ ہایون اسے اپارٹمنٹ تک چھوڑ کر گیا تھا۔ وہ جمائی لیتی اندر آئی تھی۔ بیڈروم میں ہوپ سورہی تھی۔ وہ احتیاط سے کپڑے اٹھاتی فریش ہونے باتھ روم گھس گئ۔ نہا کر نکلی تو کافی کی طلب محسوس ہوئی۔ اپنے لیئے کافی کا مگ بنا کر ٹیرس میں چلی آئی۔ خنک ہوا گرم کافی سیول کی روشنیاں اس نے بلاگ اپڈیٹ کرنا شروع کردیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہو آیا آپکے کہنے پر بھائی کی منگنی پر۔ اب خوش۔
    اس نے گھر آتے ہوئے بس میں بیٹھ کر میسج لکھ کر بھیجا
    اچھی بات ہے۔
    فوری جواب آیاتھا۔
    اب دوسری بات کب تک مانوگے؟
    وہ ہار ماننے والے نہیں تھے۔
    آج ایک لڑکی نے مجھے آئی لو یو کہا تو ہے۔۔ اسی سے کرلیتا ہوں شادی۔
    اس نے لکھ کر بھیجا تھا جوابا لمحہ بھر کا ہی توقف ہوا ہوگا کال آگئ۔ انکے جزباتی پن پر اسے ہنسی آگئ تھی۔ فون اٹھاتے ہی بنا سلام دعا انہوں نے پوچھا۔
    واقعی؟ کون ہے کیسی ہے ؟ ہاں کہا اسے؟
    ایک ہی سانس میں وہ سارے سوال کر گئے۔
    شادی میں ملی تھی ۔۔ اس نے جان کے بات ادھوری چھوڑی۔
    آج؟ وہ حیران ہوئے۔
    ہاں۔ آج۔ وہ پوری طرح انکے اتائولے پن سے حظ اٹھا رہا تھا
    اوہ۔ وہ تھوڑا مایوس ہوئے۔مگر امید زندہ تھی ابھی
    تمہیں پسند آئی کیسی لڑکی ہے؟
    ہاں اچھی ہے پیاری ہے۔
    اس نے مختصر ہی جواب دیا
    پھر اس سے ملاقات کرو پرکھو۔ کیا پتہ یہی وہ لڑکی ہو جو۔۔
    وہ کہہ رہے تھے اس نے انکو بریک لگائی۔
    ملاقات کا کوئی چانس نہیں دوبارہ۔
    کیوں نہیں؟ وہ حیران ہوئے
    اس نے آئی لو یو بولا تو یقینا تم اسے پسند آئے ہو جبھی تو بولا نا ؟ یا تم جھوٹ بول رہے ہو۔
    وہ پل میں جان گئے جوابا وہ ہنس دیا
    جھوٹ نہیں بولتا میں۔ جب مسلم نہیں تھا تب بھی کبھی جھوٹ نہیں بولا اب تو نا ممکن ہے۔
    پھر ۔ وہ مصر تھے۔اسے ہنسی مزاق چھوڑ کر حقیقت بتانی پڑی۔
    اس نے واقعی آئی لو یو کہا مگر وہ ایک غلط فہمی تھی۔۔ اسکی ہنگل اچھی نہیں تو معزرت کی جگہ سارانگھیئے کہہ گئ۔
    اوہ۔ انکا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
    کوئی چانس ہے ؟ انہوں نے ہار نہ مانی۔
    میں غیر مسلموں کی منگنی کی تقریب میں گیا تھا وہ لڑکی بھی کرسچن تھی سو نو چانس ایٹ آل۔۔
    اس نے قطیعت سے کہا تو وہ گہری سانس بھر کے بولے
    چلو کم از کم کفر تو ٹوٹا۔۔ پڑ جائے پتھر میں جونک بھی کبھی نہ کبھی۔ ۔۔۔ جوابا وہ خاموش رہا تو وہ بھی بات بدل گیے
    ۔اچھا یہ بتائو کچھ کھایا ہے ؟
    آنیا۔۔ وہاں نان ویج آپشن میں بھی پورک فلیور تھا۔ اب گھر جائوں گا تو کچھ بنا کے کھائوں گا۔
    اس کو بھوک لگ رہی تھئ۔ عبدالہادی کو اندازہ ہوگیا تھا۔
    تو پھر ایسا کرو۔اپنے گھر کے راستے سے ایک اسٹاپ پہلے اتر جائو یہاں آئو ہم نے آج گوشت بھونا ہے۔
    انہوں نے دعوت دی تو اس نے تکلفا بھی انکار نہ۔کیا۔
    دے۔
    کال۔بند کرکے اس نے یونہی سیل فون دیکھا۔ وال پیپر پر اسکی اور رچل کی تصویر تھی۔
    سارانگھیئے او۔
    رچل ہمیشہ اسے پرجوش انداز میں کہا کرتی تھی۔ اور سچ تو یہ تھا اسکے سوا اور کسی کے منہ سے یہ جملہ سننے کی تمنا نہ رہی تھی۔
    سارانگھیئے۔
    اس نے زیر لب دہرایا۔

    تبھی بلاگ اپڈیٹ آئی تھی۔۔ اس نے گرد ونواح میں نگاہ۔کی ابھی اسٹاپ آنے میں وقت تھا بلاگ پڑھا جا سکتا تھااس نے وہی کھول لیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی کڑوےمیٹھے کھٹے پھیکے تھوڑے مرچیلے پکوان سے سجی میز کا نام ہے۔
    آپکا پسندیدہ پکوان بھی کبھی آپکو ناپسندیدہ ذائقے سے نواز سکتاہے اب یہ آپ پر ہے مرچیں لگنے پر سی سی کریں یا کوئی میٹھا ذائقہ زبان پر رکھ کر اس تکلیف کو زائل کر دیں۔
    آپکا ہر حال میں ساتھی پانی ہی ہوتا ہے جو ہر ذائقے کو مندمل کرکے نئے ذائقے چکھنے کیلئے آپکی زبان کو تیار کر دے۔
    آج مجھے بھی میرے پسندیدہ پکوان گول گپے نے زبان کو تیکھے پن سے چھلنی کیا اورپتہ ہے اسی میز پر موجود رس ملائی نے میرے گول گپے کے ساتھ مل کر میری زبان کو مرہم بھی دے دیا۔
    ساتھ ہی رس ملائی بھرے گول گپے کی تصویر تھی جسے چٹکی سے تھاما گیا ہوا تھا۔
    تو حاصل بحث کیا ہوا۔ زندگی کی میز پر سب ذائقے ہیں فرق صرف اپنے پسندیدہ پکوان سے ذرا بھر کو نگاہ ہٹا کر کسی دوسرے ذائقے کو چکھنے پر خود کو آمادہ کرلینا ہی اصل جینا ہے۔۔
    کھاتے پیتے جیو۔
    ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پہلا کمنٹ۔
    شرم نہیں آتی ہم ہاسٹل باسیوں کو مرغن کھانے دکھاتے؟
    دوسرا کمنٹ
    یہ ڈنر سوٹ میں جو دھندلا پکوان نظر آرہا اسکا کیا نام ہے کبھی پاکستان میں ایسا دکھائی نہ دیا۔
    ہیں۔۔۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ تصویر کو۔ذوم کیا تو میز کے پکوان کی تصویروں میں جو اس نے تقریبا سب ہی اپلوڈ کر دی تھیں پیچھے پس منظر میں آئوٹ آف فوکس بھی پورا ہایون نظر آرہا تھا۔
    کمال کی نگاہ ہے۔ اس نے بے ساختہ داد دی
    تیسرا کمنٹ
    سموسے میں بریانی بھرنا زندگی جینا ہے تو میں پودینے کی چٹنی میں کھیر ڈال کر کھانا بہتر سمجھتا ہوں۔
    سب نے خوب اس کی میز کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔۔ اسے ہنسی آئی۔
    چوتھا کمنٹ
    سب سے اچھا نیا ملا جلا ذائقہ کس کا بنا سچ بتانا ؟
    اس نے دیانت داری سے ہی جواب دیا۔
    رس ملائی بھرا گول گپا۔۔ یہ یقینا بہترین تجربہ تھا
    پانچواں کمنٹ
    یہی سب کھانا تھا تو کوریا گئے ہی کیوں ہو؟۔۔
    یہ دہائی کسی دکھے دل سے نکلی تھی۔ اسے ہنسی آگئ۔
    چھٹا کمنٹ۔
    یہ جگ میں آپ ہو؟
    ہیں۔ اسے کمنٹ سمجھ نہ آیا۔ غور کیا تصویر کو۔ذوم کیا تو پتہ چلا ہر احتیاط کے باوجود کہ اسکی اپنی کوئی تصویر نہ آنے پائے اس گول گپے کو چٹکی میں بھرنے والی تصویر میں میز پر رکھا جگ اسکا مکمل عکس منعکس کر رہا تھا۔ ہلکا سا دھندلا مگر موبائل اٹھائے ہاتھ اور اسکا چہرہ۔ اب جس نے اسے دیکھا ہوا ہو اس کیلئے پہچاننا آسان تھا ۔ دھندلی تصویر تھی اس نے تصویر ڈیلیٹ کرنے کی بجائے مختصر۔جواب لکھا۔۔
    ہاں۔۔۔
    اور ٹھنڈی ہوتی کافی کی جانب متوجہ ہوگئ۔۔
    کل پکا سنتھیا سے ملنے جائوں گی۔ جانے کتنی بیمار ہوگئ ہے جو آنٹی تشویش ذدہ ہوگئیں۔ اس نے کہیں آنٹی کو بتا تو نہ دیا۔
    سوچ اتنی کٹیلی تھی کہ وہ بے دھیانی میں گرم گھونٹ لے بیٹھی۔۔
    سی کرکے کپ پیچھے کیا۔
    احمق لڑکی۔۔
    وہ بڑبڑاکررہ گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد
    جاری ہے۔

    Kesi lagi apko Salam Korea ki qist? Rate us below

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

    Desi kimchi seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi
  • Kesay main apni zaat ki islaah kia karoun

    Kesay main Apni zaat ki islaah kiya keroun…
    Yehan tau sharafat k roz paimanay badaltay hain…
    کیسے میں اپنی ذات کی اصلاح کیا کروں
    یہاں تو شرافت کے روز پیمانے بدلتے ہیں۔

    Jhukatay tau hain sir sajday main hum ay khuda…
    Roz sajda kerny k apne bahanay badaltay hain…
    جھکاتے تو ہیں سر سجدے میں ہم اے خدا
    روز سجدہ کرنے کے اپنے مگر بہانے بدلتے ہیں

    IShq kamil main mubtila hain youn tasawer e jana k…
    Nigah k mehwar nahi badaltay hain nishanay badalty hain…
    عشق کامل میں مبتلا ہیں یوں تصور جاناں کے
    نگاہ کے محور نہیں بدلتے ہیں اور نشانے بدلتے ہیں

    Azim e safar hain matloon mizaaji na samjho humadi…
    Usi manzil ki talash main hain bus rahain  badaltay hain…
    عازم سفر ہیں متلون مزاجی نہ سمجھواسے ہماری
    اسی منزل کی تلاش میں ہیں بس راہیں بدلتے ہیں

    Khumaar in ankhoun main kam hay tau na samjo momin…
    hum peena nahi chortay hain may khanay badaltay hain…
    خمار ان آنکھوں میں کم ہے تو نہ سمجھو مومن
    ہم پینا نہیں چھوڑتے ہیں صرف مے خانے بدلتے ہیں
    Ahwal jo poch lia us ne  tau younhi khush feham hua dil…
    Badla tau nahi woh faqat fursat k zamanay badaltay hain…
    احوال جو پوچھ لیا اس نے تویونہی خوش فہم ہوا دل
    بدلا تو نہیں وہ فقط فرصت کے زمانے بدلتے ہیں

    Yeh soch k usko apna samajhnay ki ghalti ki hay…
    Apnay apne rehtay hain haan begaanay badaltay hain…
    یہ سوچ کے اسکو اپنا سمجھبے کی غلطی کی ہے
    اپنے اپنے رہتے ہیں ہاں بےگانے بدلتے ہیں

    Kesay shanasaoun say apna daman bachaya jayay humdum…
    hum tau khana badosh bhi nahi jo roz thikanay badaltay hain…

    کیسے شناسائوں سے اپنا دامن بچایا جائے ہمدم
    ہم تو خانہ بدوش بھی نہیں جو روز ٹھکانے بدلتے ہیں

    Napasand krty hain shayri hajoom ki islye bhi bazauq…
    hum Tanhai per hi likhtay hain sirf Alfaz badaltay hain…

    ناپسند کرتے ہیں شاعری ہجوم کی اس لیئے بھئ با ذوق
    ہم تنہائی پر ہی لکھتےہیں  صرف الفاظ بدلتے ہیں۔

    by hajoom e tanhai

  • Aeyina web drama script

    آئینہ
    ویب ڈرامہ اسکرپٹ

    پہلا منظر

    کلاس روم کا منظرہے۔ ایک نہایت خوبصورت مرد جسکی عمر لگ بھگ تیس پینتیس برس ہوگی بارہویں کی طلباء کو میتھس پڑھا رہا ہے۔بچیوں کے چہرے پر دبی دبی مسکان ہے۔ایک طالبہ نے تصویر بنائی ہے۔ دوسری طالبہ اس تصویر کو دیکھ کر ہنسی روک رہی ہے۔ پڑھاتے پڑھاتے استاد نے مڑ کر دیکھا۔تصویر میں استاد کی ٹائی پن جو اس نے قمیض کی جیب میں اٹکا رکھی ہے بطور خاص نمایاں کرکے بنائی گئ ہے

    جہانزیب: کیا ہو رہا ہے۔؟چوتھی رو میں بیٹھئ دو لڑکیاں مستقل دبی دبی ہنسی ہنس رہی تھیں۔
    اس نے آواز پر فورا مڑ کر دیکھا
    ان دونوں کے سوا سب کی توجہ بلیک بورڈ کی طرف تھی۔ وہ دبے قدموں انکے سر پر جا کھڑا ہوا
    جہانزیب مسکراہٹ دباتے ہوئے: یہ آرٹ کلاس نہیں ہے ۔ تبسم ۔میتھس پر دھیان دو ۔۔ پچھلےٹیسٹ میں غالبا تمہارے سو میں سےاسی نمبر تھے نا؟
    تبسم او رتانیہ کورس میں : سوری سر
    جہانزیب : آئندہ میں اپنی کلاس کے دوران ایسے فن پارےبناتے نہ دیکھوں سمجھیں دونوں؟
    بھاری آواز پر دونوں لڑکیاں گھبرا گئیں ۔جہانزیب نے پھرتی سےوہ کاغذ اٹھا لیا دونوں لڑکیوں کا رنگ فق ہو گیا۔
    کاغذ پر اسکی تصویر بنی ہوئی تھی۔ بڑی بڑی آنکھیں کشادہ پیشانئ جس پر گھنے بالوں کا گچھا تھا۔گندمی رنگت ہلکی سی داڑھئ جسکے خوبصورت خط بنے ہوئے تھے۔ ساتھ ہی اس پر عنوان تھا۔ تانیہ کے خوابوں کا شہزادہ
    تانیہ اورتبسم کا رنگ فق ہو چکا تھا سر جھکا کےرہ گئیں
    تبسم تانیہ سر جھکائے:جی سر
    جہانزیب: ویسے اسکیچنگ اچھی کر لیتی ہو اسکو میں رکھ رہا ہوں۔۔شکریہ
    تانیہ : بال بال بچے مجھے تو لگا تھا سر غصے میں آجائیں گے
    تبسم: میری تو جان نکل گئ تھئ۔ سر کو اپنی تصویر دیکھ کر غصہ آنا چاہیئے تھا
    تانیہ : سر بہت سویٹ ہیں یار ہمیں ایسی شرارت انکے ساتھ کرنی نہیں چاہیئے تھی۔
    تبسم : ہاں یار اب تو مجھے بھی شرمندگی ہورہی ہے۔۔
    جہانزیب نے غور سے اپنی تصویر کو دیکھا پھر مسکرا کر بولا
    اسکی بات پر تانیہ اور تبسم نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ بے نیازئ سے دوبارہ بلیک بورڈ کی جانب بڑھ گیا
    تانیہ تبسم کے کان میں کھسر پھسر کرنے لگی


    دوسرا منظر
    اگلی کلاس فری تھی۔وہ یونہی باہر نکل آیا تو کینٹین کی جانب جاتی مس ربیعہ پر نظر پڑی۔تیز قدم اٹھاتا انکے پاس چلا آیا
    مس ربیعہ درمیانے قد کی خوش شکل خاتون ہیں۔ اسکے اس طرح اچانک آواز دے کر سامنے آکھڑےہونے پر حیران ہیں۔۔

    جہانزیب: کیسی ہیں آپ مس ربیعہ آج صبح سے دکھائی نہ دیں کہاں تھیں۔
    ربیعہ: میں کلاسز لے رہی تھی۔
    جہانزیب مس ربیعہ کے بالکل سامنے آکھڑا ہوا ہے وہ چونک کے دیکھ رہی ہیں
    یوں لگتا ہے وہ تھوڑی نالاں ہوئی ہیں
    جہانزیب :چلیں اب تو ملاقات ہوگئ ہے۔ ویسے مجھے آپ جیسی میچیورخاتون سے یہ امید نہیں تھی کہ آپ میری کل والی بات پر مجھ سے شرمانے لگیں گی۔ اور مجھ سے چھپتی پھریں گی
    ربیعہ ناگواری سے: ایسی کوئی بات نہیں ہے۔میں نے کل ہی آپکو جواب دے دیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف پروفیشنل تعلق ہے ان سب باتوں کی گنجائیش نہیں نکلتی۔ میں چلتی ہوں۔
    جہانزیب ہنستے ہوئے: ارےآپ تو برا مان گئیں۔ یہی تو آپکو بتانا چاہ رہا تھا بہت جلدی میں کل آپ نے انکار کر دیا آپکو تھوڑا سوچنے کیلئے وقت لینا چاہیئے تھا۔
    ربیعہ: مجھے ضرورت نہیں میں اپنا فیصلہ آپکو بتا چکی ہوں۔

    جہانزیب: یہ میری کلاس کی بچی نے میری تصویربنائی ہے۔ اسکے نزدیک میں اسکے خوابوں کا شہزادہ ہوں۔۔ ہنسی آئی مجھے دیکھ کر۔ پھر ذہن میں سوال لہرایا کہ۔۔۔۔
    میں شکل و صورت کا لاجواب ہوں اچھی نوکری کرتا ہوں عادات کا بھی اچھا ہوں تو آخر ربیعہ نے میرے پرپوزل پر فوری انکار کیوں کردیا ۔۔ہوں؟
    سختئ سے کہہ کر ربیعہ آگے بڑھنے کو تھی کہ اسکی نگاہوں کے سامنےپرچہ لہرایا جہانزیب نے۔وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
    اس نے ہاتھ پیچھے کرکے پرچے کو بغور دیکھا۔
    ربیعہ : آپکو ان بچیوں کو ڈانٹنا چاہیئے تھا انہیں ایسا فضول مزاق نہیں کرنا چاہیئے تھا
    جہانزیب: ہاں ڈانٹنا تو چاہیئے تھا مگر میں ڈانٹ سکا نہیں۔ بس مجھے یہی خیال آیا کہ آخر مجھ میں ایسی کیا کمی ہے جو ربیعہ نے لمحہ بھر بھی سوچے بنا انکار کردیا
    پھر اپنے چہرے کے ساتھ پرچہ لگا کر معصوم سا بن کے پوچھنے لگا۔ربیعہ حیرت سے دیکھنے لگی
    ربیعہ: میں آپکو بتا چکی ہوں ہمارے خاندان میں خاندان سے باہر شادی کا رواج نہیں پھر میری منگنی بھی ہو چکی ہے۔ مجھے بار بار آپکے سامنے یہ دہراتے اچھا نہیں لگ رہا پلیز آئیندہ ہم اس موضوع پر بات نہیں کریں گے۔
    جہانزیب مایوسی سے: کیا کمی ہے مجھ میں ؟ آپ گھر والوں سے بات تو کرکے دیکھیں۔ انہیں بتائیں کہ آپکو میری صورت اپنے ہم پلہ بہتر انسان مل چکا ہے آپ۔مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہیں وہ یقینا مان جائیں گے۔
    ربیعہ تھوڑا جھلاتے ہوئے:دیکھیں آپ اچھے انسان ہیں یوں اپنی اور میری انسلٹ مت کیجئے۔
    ربیعہ شرمندگی سے:

    جہانزیب : کیا وجہ ہے جو آپ انکار کر دیتی ہیں یوں سختی سے۔۔ میں خوش شکل پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہوں ۔ آپکو پسند کرتا ہوں کیا آپکو۔۔۔
    ربیعہ: بس کیجئے ۔ختم کریں اس تماشے کو ۔ میں آپکو صاف صاف کہہ چکی ہوں مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں۔بار بار میرا راستہ روک کر مجھے پریشان مت کیا کریں۔
    جہانزیب : ربیعہ میں واقعی تم کو پسند کرتا ہوں
    اسکے ضدی انداز ہر ربیعہ بری طرح غصے میں آچکی ہے۔ سر جھٹک کر آگےبڑھنے کو تھی کہ اس نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔
    ربیعہ نے آگ بگولا ہو کر ہاتھ چھڑایا اور سختی سے بولی
    ربیعہ :میں نہیں کرتی ہوں آپکو پسند سمجھے آپ
    جہانزیب : ربیعہ
    بات تو سنو ربیعہ
    ربیعہ سختی سے کہہ کر رکی نہیں وہ پکارتا رہ گیا۔

    تیسرا منظر
    ربیعہ اپنے فلیٹ میں بیٹھی ناخنوں پر نیل پالش لگا رہی ہے اسکی سہیلی اپنے لیپ ٹاپ میں لگی کوئی کام کر رہی ہے۔

    سونیا: تمہیں اب اسکی شکایت پرنسپل سے کر دینی چاہیئے۔مستقل تمہارے پیچھے پڑا ہوا ہے الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے ایویں تمہیں بدنام کر دے گا
    ربیعہ: یار بس یہی سوچ کر رک جاتی ہوں اچھا انسان ہے۔ سادہ سا ہے بس۔ مجھے پرپوز کرنے سے پہلے اچھا کولیگ تھا اچھی طرح بات کرتا تھا اب اچانک۔۔۔۔
    سونیا لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے یونہی بولی
    ربیعہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا پھر گہری سانس
    لیکر بولی

    ربیعہ کا فون بجنے لگا تو اس نے فون اٹھا کر دیکھا پھر نو کرکے ایک طرف رکھ دیا
    سونیا: وہی تھا۔۔
    ربیعہ :ہاں
    سونیا: وہ تمہاری گڈ بکس میں آنا چاہ رہا تھا جبھی اتنا اچھا بنا ہوا تھا اب اپنی اصلیت دکھا رہا ہے۔ بتائو گرائونڈ میں تمہارا ہاتھ پکڑ رہا ہے تمہیں تنگ کر رہا ہے آوازیں دے رہا ہے۔حد کردی ہے اس نے۔ لوگوں نے کتنی باتیں بنائی ہوں گی۔ضروربچوں نے بھی دیکھا ہوگا۔
    ربیعہ : یار میں پہلے ہی پریشان ہوں۔ صبح سے بار بار فون کر رہا ہے تنگ کر رہا ہے جانے مجھ سے چاہتا کیا ہے۔ عاجز کر دیا ہے اس نے مجھے
    سونیا : ویسے شکل و صورت کا کیسا ہے۔؟
    ربیعہ : شکل و صورت میں کیا اعتراض کروں تم جانتی ہو میں سطحی سوچ رکھنے والی لڑکی نہیں ہوں۔مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا مگر اسکے بارے میں عجیب عجیب باتیں مشہور ہیں اور سچ تو ہے کچھ حد تک درست بھی ہیں۔کوئی کہتا یے احساس کمتری کا شکار ہے کوئی کہتا ہے غصے میں پاگل ہو جاتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں جو اس نے مالی بابا کو مارا تھا مجھے تو سچی بات ہے یہ بندہ نارمل نہیں لگتا۔ پرنسپل صاحب کا رشتے دار نہ ہوتا تو سیدھا کیس ہوتا اس پر۔
    سونیا : دیکھو ہوتا ہے کچھ لڑکے ہوتے ہیں غصہ ور ہو سکتا ہے اسے غصے پر اپنے قابو نہ ہو لوگ وقت کے ساتھ بدل بھی تو جاتے ہیں اور احساس کمترئ والی بات عجیب کہی۔ اتنی کم عمری میں پی ایچ
    ڈی کی تیاری کرنے والا خوش
    شکل ایک سیکیور نوکری کرنے والا احساس کمتری کا شکار کیوں ہوگا۔۔ مجھے تمہاری بات کی سمجھ نہیں لگی
    ربیعہ: تم کس خوشی میں مجھے کنوینس کرنے میں لگ گئ ہو۔میں اس سے ہرگز شادی کرنا نہیں چاہتی نہ کروں گی سمجھیں۔۔
    سونیا: وہی تو جاننا چاہ رہی ہوں۔ مجھے پتہ ہے تمہاری کوئی منگنی ونگنئ نہیں ہوئی وی اور دیہاتی کزن ہیں سارے تمہارے ان میں سے کسی کے پلے بندھنے کی بجائے اگر یہاں کوئی ویل ایجوکیٹڈ بندہ پرپوز کر رہا ہے تو کیا ضرورت ہے تمہیں فالتو میں انکار کرنے کی ۔
    اسکا فون پھر بج اٹھا۔ سونیا نے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور آلتی پالتی مار کر بیٹھی اور اشتیاق سے پوچھنے لگی
    میسج : ربیعہ بس ایک بار فون اٹھا لو
    آخری بار میری بات سنو
    کیوں تم ایسے کر رہی ہو۔۔
    ربیعہ ؟
    تم ہو وہاں
    کیا کمی ہے مجھ میں کیوں ایسے کر رہی ہو میرے ساتھ
    سونیا:یہ تو دیوانہ ہوا پڑا ہے۔
    ربیعہ:سائیکو ہے۔
    میسج: کیوں میرے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے۔
    کیوں ہر لڑکی مجھے انکار کر دیتی ہے۔۔
    کیوں ؟
    بتائو بولو جواب دو۔
    تم لڑکیاں کیوں ایسے کر تی ہومیرےساتھ
    سونیا میسج ٹائپ کرتے ہوئے:
    باقی لڑکیوں کا تو آپ ان سے ہی پوچھیں میں آپکو جواب دے چکی ہوں میری منگنئ ہو چکی ہے ۔۔
    میسج: تو توڑ لو نا میری خاطر
    سونیا:یا اللہ کیا چیز ہے یہ لڑکا۔
    ربیعہ : اب سمجھ آئی کیوں میں نے چھوٹتے ہی انکار کیا اور منگنی والا جھوٹ بولا
    کئی میسجز آچکے ہیں۔۔
    سونیا: تم اب اسکو کوئی جواب نہ دینا ذیادہ تنگ کرے تو کل یہ سب میسجز دکھا کر ایڈمن میں کمپلین کردینا۔۔
    ربیعہ : لگتا ہے اب یہی کرنا پڑے گا
    موبائل اب تواتر سے پیغامات سے بج رہا تھا
    ربیعہ نے جھلا کر موبائل اٹھایا پھر میسج دیکھ کر سونیا کے حوالے کر دیا ۔سونئا نے میسجز پڑھے تصویر دیکھئ پھر پریشان سی ہو کر اسے دیکھنے لگی

    چوتھا منظر۔
    ربیعہ تھکی تھکی سی گھرکا لاک کھولتی اندر داخل ہوئی ہے۔اندر داخل ہوتے ہی چونک گئ ہے۔ پورا کمرہ تحفوں سے بھرا ہوا ہے۔ غبارے اور پارٹی پاپرز ٹیڈی بیئرز وہ خوشگوار حیرت سے آگے بڑھتئ ہے سامنے ایک بڑا سا بھالو ہے وہ جیسے ہی اسے چھونے لگتی ہے اسے ہٹا کر ایکدم جہانزیب بھالو کے پیچھے سے نمودار ہوتا ہے۔ وہ گھبرا کے پیچھے ہوتی ہے۔

    جہانزیب : سالگرہ مبارک ہو ربیعہ۔ تم جیو ہزارو سال خوش رہو ربیعہ۔۔ میرے ساتھ۔۔جہانزیب مسکراتے ہوئے اسکے سامنے آتا ہے ایک ہاتھ میں کیک اور دوسرے ہاتھ میں بکے لہراتا ہوا خوشگوار موڈ میں ہے۔
    ربیعہ : یہ کیا حرکت ہے اور تم اندر کیسے آئے؟ربیعہ ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے۔۔
    جہانزیب: تمہاری سہیلی کی مہربانی سے اندر آسکا۔
    ربیعہ: سونیا ۔۔۔
    جہانزیب دلفریب مسکراہٹ سے لائونج کے ایک کونے کی جانب اشارہ کرتا ہےوہ مڑ کر دیکھتی ہے تو جیسے روح فنا ہونےلگتی ہے۔
    ربیعہ: سونیا ۔۔۔
    جہانزیب: ٹھیک ہے وہ۔ بس مجھے اندر آنے نہیں دے رہی تھی اس لیئے اسکے ہاتھ پائوں باندھ کے بٹھانا پڑا۔ اچھا ہے۔ ہم آرام سے اب بات کر لیں گے۔۔
    ربیعہ: مجھے تم سےکوئی بات نہیں کرنی دفع ہو جائو تم یہاں سے۔۔
    جہانزیب۔سنجیدہ ہوتے ہوئے: مگر مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔
    سونیا اس کونے میں بیٹھی ہے منہ ہاتھ پائوں سب بندھے ہوئے ہیں۔
    ربیعہ اسکی جانب بڑھتی ہے جہانزیب اسکا بازو تھام کے روک دیتا ہے۔
    ربیعہ : ہاتھ چھوڑو میرا۔۔
    سونیا۔۔سونیا۔۔
    جہانزیب:یہ لو اس سے کاٹ لو ۔۔۔
    سونیا: بچائو۔۔۔ بچائو کوئی ہے؟
    جہانزیب :چپ کرکے بیٹھو اگر آواز نکالی تو گلا کاٹ دوں گا
    ربیعہ:پلیز اسے کچھ مت کہو۔ چھوڑ دو اسے۔اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے۔۔
    جہانزیب: وہی تو کہہ رہا ہوں اسکا کوئی تعلق نہیں اس معاملے سے پھر بھی بات نہیں کرنے دے رہی گلا کاٹ دیتا ہوں اسکا۔۔ چپ کرتی ہو کہ نہیں ؟
    سونیا گھٹی گھٹئ چیخیں مار رہی ہے۔۔ ایکدم چپ ہو جاتی ہے۔
    ربیعہ تڑپ کر رو دی: تت تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہو کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا؟
    ربیعہ تنفر سےہاتھ چھڑا کر سہیلی کی جانب بھاگتی ہے۔ خلاف توقع جہانزیب اسکو آرام سے دیکھتا رہتا ہے۔ وہ آگے بڑھ کر سہیلی کے ہاتھ پائوں کھولنے کی کوشش کرتی ہے منہ سے کپڑا ہٹاتی ہے۔ گرہیں اتنی سخت ہیں کہ کھل نہیں پاتیں ۔جہانزیب آگے بڑھ کر اکڑوں بیٹھتے ہوئے چھری آگے بڑھاتا ہے۔دونوں ڈر کے پیچھے ہوتی ہیں۔
    جہانزیب کو چھری بڑھاتے دیکھ کر سونیا ایکدم سے چلا چلا کر پکارنے لگتی ہے۔جہانزیب جھلا کر سونیا کا منہ بند کرکے گردن پر چھری رکھتا ہے۔ ربیعہ تڑپ اٹھتی ہے۔
    دونوں گھبرا کر رونے لگتی ہیں
    جہانزیب: وہی تو ۔۔ وہی تو بتانا چاہ رہا ہوں میں ۔مگر نا تم سننے کو تیار ہوتی ہو نا یہ مجھے سکون سے بات کرنے دیتی ہے۔۔
    ناراضگئ سے گھورتے ہوئے۔
    ربیعہ:مم میں سنتی ہوں بولو۔ اسکو چھوڑ دو۔ پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔
    جہانزیب : میری بات سنو گی نا؟
    ربیعہ: ہاں ہاں پلیز اسے چھوڑ دو۔
    جہانزیب: بالکل خاموش بیٹھنا سمجھیں تم ورنہ گردن اڑا دوں گا۔
    جہانزیب فیصلہ کن نظروں سے اسے اور سونیا کو دیکھتا ہے جو خوف کے مارے کانپ رہی ہے پھر گردن چھوڑ دیتا ہے وہ گھبرا کر ربیعہ سے جا لپٹی ہے۔
    سونیا نے سر ہلایا۔
    جہانزیب : اب میں بولوں سنو گی نا؟
    ربیعہ زو رو شور سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے۔۔
    : ہا ۔۔۔ ہاں ۔۔
    ربیعہ اسے اپنے ساتھ لگائے سامنے بیٹھی ہے جہانزیب آرام سے ان دونوں کے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتا ہے
    جہانزیب دھیرے سے مسکرایا: میں کل ساری رات سوچتا رہا کہ تم نے مجھے سیدھا سیدھا انکار کر دیا کیونکہ میں نے کبھی تمہیں بتایا ہی نہیں کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔
    تھوڑا عجیب ہے تمہاری سہیلی کے سامنے اپنا اقرارمحبت کرنا مگر خیر۔
    سونیا: مم میں چلی جاتئ ہوں۔
    جہانزیب: تمہیں سمجھ نہیں آتی چپ کرکے بیٹھو۔ایک لفظ اور بولیں تو تمہارے چھرا گھونپ دوں گا۔
    ربیعہ: اب نہیں بولے گئ۔ پلیز۔چھری نیچے کرلو۔
    سونیا فورا اٹھنے لگتی ہے۔ جہانزیب آگ بگولا ہو کر غراتا ہے۔ دونوں کی جان نکل جاتی ہے۔
    ربیعہ: اب نہیں بولے گئ۔ پلیز۔چھری نیچے کرلو۔
    جہانزیب: سارا موڈ خراب کردیا۔کہاں تھا میں ؟
    ہاں ربیعہ میں پچھلے چار سال سے تم سے محبت کر رہا ہوں۔ تم سے منسوب ایک ایک چیز میں نے سنبھال کر رکھی ہے۔تمہارا ایک ایک تحفہ سینے سے لگا رکھا ہے۔
    ربیعہ : میں نے کبھی تمہیں تحفہ نہیں دیا۔
    جہانزیب : تم بھول رہی ہو تم نے بہت بار تحفہ دیا ہے مجھے۔سب سنبھال کر رکھے ہیں میں نے دکھاتا ہوں
    اسے ایکدم کچھ یاد آتا ہے تو ایک بڑا سا شاپنگ بیگ اٹھالاتا ہے۔
    اور اس میں سے ایک چیونگم نکالتا ہےچیونگم پگھل چکی ہے ریپر رنگ بدل چکا ہے۔
    ہاں ایک منٹ۔
    یہ دیکھو۔یاد آیا تمہیں؟ آج سے چار سال پہلے جب تم پہلی بار مجھ سے ملیں ۔جاب کا پہلا دن تم نے پورے اسٹاف کو یہ چیونگم دی۔ آج تک اسکو سنبھال کر رکھا ہے میں نے۔تمہارا پہلا تحفہ تھا یہ۔کیسے استعمال کر لیتا میں۔
    ربیعہ: یہ سب کو دی تھی میں نے صرف تمہارے لیئے نہیں تھی۔
    جہانزیب: جانتا ہوں اسکے باوجود میں نے اسکو سینے سے لگا کر رکھا ہے۔ اور یہ جوس کا ڈبہ۔ تمہیں یہ جوس ایک طالبہ نے دیا تھا۔اس دن میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم نے مجھے دے دیا تھا۔ میں اسکو کھولنا تو دور پی بھی نہ
    سکا۔
    ربیعہ:تم پاگل ہو گئے ہو۔۔
    جہانزیب: ہاں لیکن تمہارے پیار میں۔
    او ریہ ٹیچرز ڈے پر تم نے یہ کارڈ دیا تھا۔ بچوں سے خاص طور سے بنوا کر۔ میں اس دن آیا بھی نہیں تھا تم نے اگلے دن جب میں آیا تو مجھے دیا ۔ تم مشرقی لڑکی ہو ایکدم سے اقرار تو نہیں کر سکتی تھیں۔اس کارڈ کا متن پڑھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ یہ تمہارے دل کی آواز ہے۔۔
    ربیعہ: بچوں نے خود بنایا تھا میں نے ان سے نہیں بب بنوایا تھا
    جہانزیب: چلو مان لیا۔۔۔( مسکراتے ہوئے)
    یہ پیسٹرئ۔ یہ تو تم نے مجھے میری سالگرہ والے دن دی تھی۔ پچھلےچار سال سے سنبھال کر رکھی ہے۔
    ربیعہ: پاگل ہو گئے ہو ۔یہ ہٹائو سڑ چکی ہے یہ۔پھینکو اسے۔
    جہانزیب: تبھی تو ۔ یہ سڑ گئ تھی جبھی میں نے تم سے کہا تھا میری سالگرہ پر مجھے کوئی کھانے پینے کا تحفہ نہ دیا کرو اور تم نے مجھے اگلے سال یہ ٹائ پن دی تھی مجھے۔میں ٹائی نہیں باندھتا ہوں مگر ٹائی پن جیب سے لگا کر رکھتا ہوں ہمیشہ۔۔
    پلاسٹک کے خوبصورت سےٹرانسپیرنٹ باکس میں پیسٹری سڑ چکی ہے۔دونوں کو ابکائی آگئ ہے ناک پر ہاتھ رکھتی پیچھے ہوئیں
    ربیعہ : میں نے تمہیں تمہارے کہنے پر تحفہ دیا تھا۔
    جہانزیب: تم۔۔ اف سن کے اچھا لگ رہا ہے تمہارے منہ سے۔ اچھی بات ہے اب ہم میں یوں اجنبیوں کی طرح آپ جناب والا تعلق تو رہا نہیں ہے۔
    ربیعہ: تم نے کہہ دیا جو کہنا تھا اب چلے جائو یہاں سے۔
    جہانزیب: ابھی کہاں دل کی بات کہہ پایا۔۔ ربیعہ یہ پین یہ چاکس یہ تمہارا ڈسپوز ایبل گلاس تم نے مجھے آج تک جو کچھ بھئ دیا ہے میں اسے پھینکنے کی ہمت نہیں کرسکا تو سوچو تمہیں زندگی سے نکلتا دیکھ کر مجھ پر کیا بیت رہی ہوگی۔ ؟ میری جان نکل رہی ہےربیعہ۔ میں کوئی ایسا ویسا انسان تو نہیں ہوں تم ایک بار مجھ پر اعتبار تو کرو ایک بار مجھے اپنا
    سونیا : دور رہ کر بات کرو۔
    وہ بولتے بولتے جزباتی ہو کر انکے قریب چلا آیا ربیعہ کےگال پر ہاتھ رکھنا چاہا تو سونیا نے جھٹک  دیا۔ جہانزیب نے بنا لحاظ تھپڑ ماردیا وہ دور جا گری ربیعہ تڑپ کر اسکی جانب بڑھی جہانزیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر جانے نہ دیا
    ربیعہ: نہیں ۔ سونیا۔ دور ہٹو تم اس سے
    جہانزیب: مجھے اس میں کوئی دلچسپی ہے بھی نہیں۔ 
    سونیا: دور ہٹو تم ربیعہ سے مین تمہارا سر پھاڑ دوں گی
    جہانزیب : تمہارا گلا ہی کاٹ دیتا ہوں میں۔ ہمیں بات ہی نہیں کرنے دے رہی ہو تم
    سونیا : ربیعہ
     
    ربیعہ : نن نہیں پلیز اسے مت کہو کچھ۔ پلیز۔میں سن رہی ہوں۔
     
     
    جہانزیب : اب تم آرام سے پڑی رہو سونیا ہمیں تنگ مت کرنا ہم اہم بات کررہے ہیں۔
     
    جہانزیب نے غرا کر کہا اور سونیا کو بازو سے کھینچ کر اسکی گردن پر چھری رکھی ربیعہ نے ہاتھ جوڑ دیئے۔جاہنزیب نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سونیا کو اس بار سونیا کے دوبارہ ہاتھ باندھے اور اسے اپنے پاس بٹھا لیا اس بار اسکو دھکا دے کر زمین پر لٹا دیا۔ ربیعہ چپ سی ہوگئی وہ اطمینان سے اب سونیا کی گردن پر چھری رکھے ہے
    ربیعہ : میں نے تمہاری ساری بات سن لی ہے اب پلیز تم چلے جائو یہاں سے۔
    جہانزیب: تم کہو تو دنیا سے چلا جائوں پتہ  ہے ربیعہ تمہارےلیئے میں دنیا کا سب سے اچھا انسان بن جانا چاہتا ہوں
    ربیعہ : تم ایسا کیوں کر رہے ہو
    جہانزیب: میں تمہارے لیئے خود کوبدل سکتا ہوں ربیعہ  ایک موقع دو مجھے میں مانتا ہوں
    ربیعہ : میں نے تمہاری ساری بات سن لی ہے اب پلیز تم چلے جائو یہاں سے۔
    جہانزیب: تم کہو تو دنیا سے چلا جائوں پتہ  ہے ربیعہ تمہارےلیئے میں دنیا کا سب سے اچھا انسان بن جانا چاہتا ہوں
    ربیعہ : تم ایسا کیوں کر رہے ہو
    جہانزیب: میں تمہارے لیئے خود کوبدل سکتا ہوں ربیعہ  ایک موقع دو مجھے میں مانتا ہوں
     
    میں بچپن سے اتنا اچھا لڑکا نہیں تھا کافی شرارتی  تھا۔سب کو بہت تنگ کرتا تھا کلاس کا سب سے لمبا لڑکا ہوتا تھا۔ اور میری کلاس میں ایک بچہ ہوتا تھا بالکل مجھ سے مختلف سب سے چھوٹے قد کا سیاہ رنگت والا بچہ








     
    ربیعہ بے چارگی سے سونیا کو دیکھتی ہے اسکی آنکھوں میں آنسو ہیں وہ کانپ رہی ہے

    پانچواں منظر۔۔

    کلاس روم کا منظر ہے چندپانچویں جماعت کے بچے کلاس میں شور و غل مچاتے پھر رہے ہیں سب بچے اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہیں کلاس میں سب سے پیچھے ایک کالا سیاہ چھوٹے سے قد کا بچہ سب کو بٹر بٹر دیکھ رہا ہے۔ پھر بیگ سے اپنا لنچ باکس نکالتا ہے نوڈلز ہیں اسکے لنچ باکس میں ۔ ایک بچے نے بیگ سے لنچ باکس نکالا مگر شائد بودے گیا ہے سو برا  سا منہ بنایا اور دوسرے بچوں کو اس لنچ باکس سے تنگ کرنے لگاکلاس کا سب سے لمبا خوبصورت لڑکا اپنے دوستوں کے ساتھ گیند سے کھیلتےشغل لگاتے ہوئے دیکھتا ہے پھر اپنے دوست کو آنکھ مارتا اسکے پاس چلا آتا یے۔

    بچہ : اوئے کالو یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو آئو ہمارے ساتھ کھیلو نا۔
     
    کالو : نن نہیں مجھے نہیں کھیلنا۔
     

    دوسرا بچہ: کیوں ابھی تک ٹانگ میں درد ہو رہا ہے ؟ جس پر بال لگی تھی۔
    بچے نے لنچ باکس کھولا ہے اور چند بچے اسکے سر پر آن کھڑے ہوئے ہیں
    پہلا بچہ :کیا کرتے ہو اسکو پہلے بھی چوٹ لگا دی تھی جبھی تو بے چارہ ہمارے ساتھ کھیلنے نہیں آتا۔کیوں کالو ناراض ہو نا  ہم سے؟
    کالو : نن نہیں تو۔



    تیسرا بچہ : تم ناراض ہو جبھی تو ہمارے ساتھ نہ کھیلتے ہو نا کھاتے ہو
    کالو : نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں
    لمبا لڑکا : پھر ہمارے ساتھ کھائو نا کیا لائے ہو تم؟
    کالو: نوڈلز

    بچے نے اسکی ٹانگ پر لات سی ماری۔ وہ تڑپ کر سہلانے لگا
    لمبا لڑکا:چکھائو کیسے بنے ہیں۔
    دوسرابچہ : ہمم مزے کا ہے۔۔
    لمبا بچہ : سب کھا گئے تم سب اب یہ بے چارا کیا کھائے گا۔چلو اپنا لنچ باکس شئیر کرو کالو کے ساتھ
     
    انہوں نے اسکا لنچ باکس چھین لیا۔اور سب مزے لے لے کر کھانے لگے۔
    لمبے لڑکے نے آنکھ ماری تو دوسرا بچہ معصوم بن کر لنچ باکس نکال کر دکھانے لگا
    کالو: یہ اچھا نہیں ہے سڑا ہوا ہے۔
    لمبا بچہ: ہم اتنے پیار سے تمہیں اپنا لنچ باکس دے رہے ہیں تم کہہ رہے ہو سڑا ہوا ہے کھانا کتنی بری بات ہےکالو
    دوسرا بچہ: دل توڑ دیا۔
    کالو: نہیں یہ واقعی سڑا ہوا ہے میں نہیں کھا سکتا
    لمبا بچہ : تم ہمیں دوست ہی نہیں سمجھتے ہمارا لنچ نہیں کھارہے ہم بھی تمہارا لنچ واپس کرتے ہیں ۔
    دوسرے بچے : ہاں ہا ں ہم بھی تمہارے نوڈلز واپس کرتے ہیں
    کالو : نن نہیں۔ میں کھا لیتا ہوں
     
    لمبا بچہ : اوئے کالو تمہارے نوڈلز تھوڑے سے بچ گئے ہیں کیا کریں انکا ؟
    دوسرا بچہ : کالو کے تو ابھی تک بال ہی نہیں آئے اسکے بال بنا دیتے ہیں
    لمبا بچہ : ہاں یہ ٹھیک رہے گا کالو ریپنزل
     
    دوسرا بچہ : ریپنزل ریپنزل
    سب بچے الٹی کرنے کی ادااکاری کرنے لگے حلق میں انگلی ڈال کر کالو گھبرا کر لنچ باکس سے نیا نوالہ بنانے لگتا ہے
    سب بچے اسے کھاتے دیکھنےلگتے ہیں اور منہ چھپا کر ہنستے ہیں کالو کو الٹی  آنے لگتئ ہے تو پانی کی بوتل منہ سے لگا لیتا ہے لمبا بچہ بچے ہوئے نوڈلز سب اسکے سر پر ڈال دیتے ہیں

    چھٹا منظر

    جہانزیب ماضی سے حال میں آیا ہے ربیعہ اور سونیا پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں جہانزیب مسکرایا۔

    ویسے ہی سونیا پڑی ہوئی ہے ربیعہ دیوار سے لگی اسے حیرت اور خوف سے ملی جلی کیفیت میں دیکھ رہی ہے
    جہانزیب : میرے بچپن کی بات سن کر کافی حیران لگتی ہو۔ بچپن معصوم سادہ ہوتا ہے اچھے برے کی سمجھ نہیں ہوتی ہے۔ مجھے اب احساس ہوتا ہے اس بچے کے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے۔ وہ تو کافی ڈر جاتا ہوگا۔ اسکا اتنی بے عزتی کے بعد دل کرتا ہوگا کہ کبھی اسکول واپس نہ آئے جہاں اسکا کوئی دوست کوئی ہمدرد نہیں۔
     
    یقینا اس بچے کا بھی دل کرتا ہوگا وہ سب کے ساتھ کھیلے باتیں کریں مگر وہ جب جہاں میرے ساتھ کھیل میں شامل ہونے کی کوشش کرتا میں اسکو مارتا اسکا مزاق اڑاتا سب بچوں کو ڈراتا کہ اگر اس سے بات کی تو میں ناراض ہو جائوں گا میرے ڈر سے کوئی بچہ اسکے پاس پھٹکتا بھی نہ تھا وہ تنہارہ گیا تھا۔ وہ اکثر کلاس میں اکیلا بیٹھا روتا تھا پر مجھے اس پر ترس نہیں آتا تھا میں اسکا مزاق اڑاتا اس بچے اس بچے کا تو دل کرتا ہوگا نا اسکول کی چھت پر چڑھ کر نیچے کود جائے

    جہانزیب: بہت برا لڑکا تھا نا میں
     
    وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا ۔ جزباتی انداز میں اضطراری حرکتیں کرتا وہ ہاتھوں کو ہلا ہلا کر صورتحال بیان کر رہا تھا۔چھت پر چڑھنے پر بازو اونچا کرکے ہوا میں بازو سے سیڑھیاں چڑھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ پہلے چڑھا پھر وہاں سے کودنے کا اشارہ کرتے ہوئے ایکدم سے منہ کے بل سامنے باقایدہ اچھل کر کودا اور زمین پر اوندھا لیٹ ہی گیا۔




    ربیعہ اور سونیا بھونچکا سی اسے دئکھ رہی تھیں جو انکے سامنے اوندھا لیٹا ہوا تھا ایکدم سے سر اٹھا کر دیکھاپھر کہنی زمین پر ٹکا کر اپنے ہاتھ کی ٹیک لیکر تھوڑی ٹکائی اور آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے مسکرا کر دیکھنے لگا
    ربیعہ : ہاں۔ میرا مطلب نن نہیں ۔۔ تم چھوٹے سے تھے بچے شرارت کرتےہیں
    جہانزیب : یہ شرارت لگ رہی ہے( چلاتے ہوئے)
    یہ بدتمیزئ تھی۔ اس بچے کا سکون سے پڑھنا محال کردیا تھا میں نے اتنا تنگ کیا تھا اسے شرارت کہتے ہیں؟ اس بچے نے اسکول کی چھت سے چھلانگ لگا دی تھی۔ اسکی ٹانگ ٹوٹ گئ تھی میری وجہ سے ۔ آج تک لڑکھڑا کر چلتا ہے وہ اور تم کہتی ہو شرارت تھئ؟
     
    وہ اوندھا لیٹا ایکدم بھڑک اٹھا تھا ۔ ربیعہ اور سونیا بری طرح ڈر گئ تھیں۔۔
     
    ویسے وہ بچہ ذیادہ جزباتی ہو گیا احمق ۔ شرارت ہی تو تھی۔ یہ مگر میں بڑے ہو کر بھی نہ بدلا۔
    وقت کے ساتھ میں بڑا ہواتو اور ہینڈسم ہوتا گیا میرا قد بھی بہت اونچا گیا اور شکل و صورت تو پہلے ہی اچھی تھی ۔
    مجھے ایک لڑکی پسند کرنے لگی۔  سچ بتائوں تو میں دل پھینک بھی تھا۔  ( آنکھ مارتے ہوئے)
     
    وہ کف ڑا رہا تھا غصے سے۔ پھر ایکدم موڈ بدل لیا۔
    ایکدم ٹھنڈا ہو کر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ رکھ کر بولا
     
    اس لڑکی نے میرے بہت نخرے اٹھائے۔ مجھے مہنگے مہنگے تحفے دیتی تھی چار سال اس نے میرے ساتھ گزارے اور ایک دن بھی کینٹین کا بل میں نے نہیں دیا بے چاری بہت محبت کرتی تھی مجھ سے۔میں نے سختی سے کہہ رکھا تھا اسے کہ وہ میری گرل فرینڈ ہے اس بات کا یونیورسٹی میں کسی سے ذکر نہ کرے ورنہ میں دوسری لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ
    کیسے کرتا۔
    ربیعہ ۔۔۔۔
    ربیعہ : ہ ہاں۔ 
    جہانزیب : تم سوچ رہی ہوگی میں یہ سب تمہیں کیوں بتا رہا ہوں؟
    ربیعہ : کک کیوں
    جہانزئب : میں زندگی کی نئی شروعات تمہارے ساتھ سب سچ بتا کر کرنا چاہتا ہوں کل کو کوئی تمہیں میرے بارے میں الٹی سیدھی بات بتائے تو تم مجھ سے بدگمان نہ ہو۔ اور ہمیشہ مجھ پر بھروسہ کرو
     
    سونیا : پ پھر کیا ہوا؟ میرا مطلب اس لڑکی کے ساتھ تم نے کیا کیا ؟
    جہانزیب :اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا میں نے
     ایکدن فائنل سے کچھ پہلے وہ اپنی گاڑی پھولوں اور غباروں سے سجا کر لائی
     
    وہ رینگتا ہوا ربیعہ کے پاس آنے لگا وہ ڈر کر پیچھے ہوئی سونیا نے اسکو اسکے پاس جاتے دیکھا تو گھبرا کر ٹوکا۔وہ گھورکر دیکھنے لگا پھر شرمندہ سے انداز میں بولا

    ساتواں منظر

    اس خوبصورت لڑکے کی آنکھوں پر پٹی رکھے اسے چلاتی ہوئی پارکنگ لاٹ تک لائی

    جہانزیب : یہ یہ گاڑی دکھانے لائی ہو تم مجھے احمق ۔۔ دس دفعہ کی دیکھی ہوئی ہے۔
    لڑکی : چابئ لو اور ڈگی کھولو
     
    جہانزیب :کیوں بھئ؟پھر کوئی تحفہ لے آئی ہو میرے لیئے
    گاڑی کھڑی ہے اور لڑکی  لڑکے کی آنکھوں پر پٹی باندھے اسے چلا کر لائی ہے ۔ گاڑی کے پاس لا کر اسکی آنکھوں سے پٹی ہٹائی۔
     
    کیا بکواس ہے یہ؟ یہ سب کیا ہے ؟
    لڑکی : میرے دل کی آواز میں سچے دل سے تم سے محبت کرنے لگی ہوں آئی لو یو متین
     
    ڈگی کھولنے پر کئی غبارے جو سیٹ سے بندھے ڈگی میں بھرے تھے ایکدم باہر نکلے غباروں کے ساتھ ایک بینر بھی نکلا جس پر سرخ رنگ سے آئی لو یو لکھا تھا۔ ایک بڑا سا ٹیڈی بئیر باہر جھانکتے ہوئے ایک بڑا سا بوکے دکھانے لگا
    جس پر کارڈ او رانگوٹھی کا کیس بھی چپکا تھا۔ول یو میری می؟
    جہانزیب: دماغ خراب ہوگیا ہے کیا تمہارا؟ پاگل ہو گئ ہو کیا چار دن تم پر ترس کھا کر ذرا سی بات چیت کیا کرلی تم اپنی اوقات بھول گئیں ؟ کالی گٹھی گنجی لڑکی آئینہ تو دیکھ لیتیں ایسی بات کرنے سے پہلے۔ تم ہو کیا؟ اس قابل ہو کہ میرے جیسے خوبصورت لڑکے کے ساتھ برابر میں کھڑی بھی ہو سکتی ہو۔ اپنی اوقات میں رہنا سیکھو۔ ایڈیٹ نان سنس
    سارا موڈ خراب کردیا
     
    لڑکی : گڑگڑاتے ہوئے : میری بات تو سنو
    جہانزیب : ہاتھ مت لگانا مجھے
    اس نے طیش میں آکر منہ پر تھپڑ مار دیا

    آٹھواں منظر

    دونوں لڑکیاں اسے تاسف سے دیکھ رہی ہیں وہ یونہی اوندھا لیٹا ہوا ہے دونوں لڑکیاں  پسینے پسینے ہوئی وی ہیں  سونیا بھی اٹھ بیٹھی ہے اس نے اپنے ہاتھ کھول لیئے ہیں اور وہ ربیعہ کو اشارے کر رہی ہے

    جہانزیب : میں نے بہت غلط حرکت کی اس دن۔ مجھے اس لڑکی پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے تھا اتنا گھٹیا میں کیسے ہو گیا
    پوری یونیورسٹی میں اسکی کیا عزت رہ گئ ہوگی۔
    کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی ہوگی۔ سب اسکو دیکھ کر مزاق اڑاتے ہوں گے۔ وہ روتی ہوگی اسکا دل چاہا ہوگا کہ وہ اپنی کلائی کی رگیں کاٹ لے


    ربیعہ : نن نہیں ۔۔رک جائوایسا مت کرو متین
    اس نے اپنا چہرہ بازوئوں میں چھپا لیا ہے۔چند لمحے یونہی پڑا رہا پھر ایکدم سے اٹھ بیٹھا۔او رہچکیاں لے
    لے کر رو پڑا۔۔









    بولتے بولتے اس نے ہاتھ میں پکڑی چھری اپنی کلائی پر رکھی ربیعہ اور سونیا کے منہ سے چیخ نکلی۔۔
    جہانزیب نے ایک دم چونک کر اسے دیکھا:
    کیا کک کیا کہا تم نے مجھے۔۔
    ربیعہ : مم متین۔ یہی نام ہے نا تمہارا؟
    جہانزیب : نن نہیں میں متین نہیں ہوں میں جہان جہانزیب ہوں ۔۔
     
    وہ ایکدم پاگلوں کی طرح چلاتا اٹھ کھڑاہوا۔
    ربیعہ او رسونیا بھی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں ۔۔
    جہانزیب دونوں ہاتھوں میں سرتھامے ادھر ادھر ڈکراتا چلاتا پھر رہا تھا کہ اسکی نگاہ لائونج میں لگے آئینے پر پڑی۔
    جہانزیب ہوں میں متین نہیں۔ جہانزیب جہان
     
    گنجا سا سیاہ رنگت والا بد شکل سا چھوٹے قد کا بد صورت لڑکا کھڑا تھا۔
     
     
    اسکی ساری زندگی لمحے میں آنکھوں میں گھوم گئ۔اسکول میں پڑھاتا بدصورت ٹیچر اسکی کارٹون نما بنی تصویر جس میں اسے مزیدبد صورت دکھایا گیا تھا اسکول کی چھت سے کودتا بچہ ، یونیورسٹی میں لڑکی کے ہاتھوں تھپڑ کھاتا لڑکا
    منہ پر شادی سے انکار کرتی لڑکی ربیعہ
     
    جہانزیب : آگے بڑھ کر آئینے پر ہاتھ رکھتا : میں میں تو متین ہوں۔
     
    ربیعہ : مم متین آئیم سوری
    جیانزیب : ربیعہ تم متین سے شادی کروگی؟

    ربیعہ نفی میں ہچکچاتے ہوئے سر ہلاتے ہوئے۔ متین سر ایسے ہلاتا ہےجیسے سب سمجھ گیا ہے پھر طائرانہ نگاہ پورے فلیٹ پر بکھری چیزوں پر ڈالتا ہاتھ کے اشارے کرتا جیسے وہ یہ سب پھیلاوا کرنے پر شرمندہ ہے سر جھکاتا چلا جاتا ہے۔ اسکی ایک ٹانگ میں واضح لڑکھڑاہٹ ہے۔

    ختم شد

  • URDU WEB TRAVEL NOVEL Salam Korea Episode 25

    Salam Korea
    by vaiza zaidi

    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.Salam Korea urdu web travel novel episode 25
    Salam Korea urdu web travel novel episode 25


    قسط 25
    کوریا کے سب سے مہنگے برانڈ کے منگنی کے جوڑے دیکھتی گنگشن کو جون من کے سنگ منگنی کا لباس خریدنے میں نام کا بھی اشتیاق محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ ایک بے حد اکتا دینے والا دن تھا اسکے لیئے۔ انکی ڈیزائنر ہلکان ہو رہی تھی دونوں کیلئے رنگوں کا انتخاب کرنے میں۔ انگوری رنگ کی وہ میکسی جس کی آستینیں اور گلے دلکش کٹ ورک سے سجی تھی اس نے یونہی اٹھا کر منتخب کر لیا تھا۔ جون من سنجیدگی سے اسکی غیر دلچسپی دیکھ رہا تھا۔
    میم یہ ہلکا آسمانی ذیادہ دیدہ زیب ہے اسی انداز میں مگر اس پر موتیوں اورپتھروں کا کام بھاری ہے۔
    ہچکچاتے جھجکتے ہوئے انکی شادی کے انتظامات دیکھنے پر معمور لڑکی بولی تھی۔ ایسا کوئی بھی مشورہ دینے کا مطلب ہوتا تھا ان نک چڑھے پیسے والے لوگوں کی سب توپوں کا رخ اپنی جانب کرنا مگر وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔ جب بجٹ میں کسی قسم کی کوئی قدغن نہ تھی تو اگر کم خاندان کی ناک کٹ پھٹ جاتی اگر انکی ہونے والی بہو ایسے جوڑے کا انتخاب کر لیتی جو پچھلے سال کی بہار کا سب سے ذیادہ مشہور ڈیزائن تھا اور کم و بیش ہرخاص و عام شادی میں دلہنوں کا پہلا انتخاب رہا تھا۔
    ٹھیک ہے وہی کردو۔
    گنگشن نے بڑے آرام سے مان لیا۔کیرل چند لمحے تو بے یقینی سے دیکھتی رہ گئ۔
    آپ اسکو زیب تن کرکے دیکھ لیں تاکہ ناپ وغیرہ کی کمی بیشی دور کروائی جا سکے۔
    وہ آدھی جھک کر کہہ رہی تھی۔
    اچھا۔ وہ بنا چوں چراں کیئے لباس اٹھا کر اندر کمرے میں بدلنے چل دی۔
    جون من نے گہرے نیلے رنگ کے جو کم وبیش کالا ہی دکھائی دیتا تھاڈنر سوٹ کا انتخاب کیا تھا۔۔
    گنگشن لباس بدل کر آئی تھی۔ وہ خود کو آئینے میں ہر انداز سے دیکھ رہا تھا کہ پشت سے اسکا عکس ابھرتا دیکھ کر چونک کے ایک جانب ہوا۔ یہ اسکو آئینہ دیکھنے کا موقع دینے کی نیت سے کیا گیا تھا۔
    کیسا ہے۔؟ گنگشن کا انداز سادہ تھا
    اچھا ہے۔ وہ گڑبڑا کر بولا۔
    گنگشن نے سر ہلایا اور فورا کپڑے بدلنے مڑگئ۔۔۔جیولری جوتوں تک کا انتخاب اس نے فوری او رنپے تلے وقت کے اندر کیا تھا۔ خاموشی سے اکٹھے کھانا کھایا تھا۔ اسکے گھر ڈراپ کیا تو جھک کر سلام کرتی وہ شکریہ ادا کرتی اندر چلی گئ۔
    تو آہبوجی نے ایک اور کامیاب بزنس ڈیل کر لی ہے۔
    اسکو نظروں میں رکھتے ہوئے وہ بڑبڑایا تھا پھر گاڑی اسٹارٹ کر لی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باہر داخلی دروازے پر اطلاعی گھنٹی بج رہی تھی۔ ہوپ بیڈ پر پیر پسارے لیٹی موبائل استعمال کررہی تھی اسکے برابر بیٹھئ
    گوارا اپنے چہرے کو چھو چھو کر دیکھ رہی تھی۔ اسکے نقوش میں نمایاں فرق آچکا تھا۔ اسکے ہونٹوں کے گرد ٹیکے لگا کر پٹھے اکڑا دیئے گئے تھے۔ اب وہ بول رہی تھی تو تھوڑی اور بانچھوں کے گرد کا حصہ ہلنے کو تیار نہ تھا۔ پتلی تماشا میں وہ آسانی سے حصہ لے سکتی تھی ذیادہ محنت بھی نہ کرنی پڑتی۔
    بیڈ سے نیچے کارپٹ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی اریزہ اپنے دھلے ہوئے سوکھے کپڑے تہہ کر رہی تھی اور احتیاط سے ڈھیر لگا رہی تھئ۔ اسے دیکھ کر تاسف سے ٹوکا
    اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ کہتی تھی نا پڑو سرجری کے چکر میں پہلے بہتر شکل تھی تمہاری
    اریزہ نے محاورتا نہیں حقیقتا اس محاورے کا انگریزی ترجمہ کیا تھا۔
    چڑیاں کھیت پورا چاہ کر بھی نہیں کھا سکتیں۔
    گوارا نے پہلا اعتراض یہی جڑا۔
    اور ابھی تو کھیت کو پانی دیا گیا ہے فصل دیکھنا کتنی شاندار ہوگی جب کٹائی کا وقت آئے گا۔ وہ اتراکربولی۔
    تب تک تم بدصورت قراردی جا چکی ہوگی۔۔۔
    اریزہ تمہارا فون کانپے جا رہا ہے۔
    ہوپ نے سائیڈ ٹیبل سے جھر جھر کی آواز نکالتے اسکے فون کو گھورا
    خیر ہے نظر انداز کرو۔
    اریزہ نے مسکرا کر کندھے اچکائے۔
    یار گوارا میری جاب ڈھونڈو نا کچھ کرکے۔
    اریزہ نے کہا تو گوارا نے سر پر ہاتھ مارا
    اوئے ایک ڈھونڈی ہے نا۔ ایک بچوں کے سیریل کی تشہیر کرنی ہے مفت کھلانا ہے اسٹور میں ایک ہفتے کا اسٹال لگنا ہے ٹھہرو میں نے تصویر کھینچئ تھی اشتہار کی بھیجتی ہوں کاکائو آن کرو۔
    گوارا نے موبائل ڈھونڈا تکیئے کے نیچے بیڈ سائیڈ پھر بیڈ کے نیچے جھانکا۔ ہوپ نے منہ بناتے ہوئے کروٹ لی تو کمر میں چبھا جھلا کر گوارا کے پاس پٹخا۔ گوارا نے اس موبائلی توہین پر کچھ کہنا چاہا مگر اریزہ نےآواز نکالنے بنا چمکارا پچکارا۔ چپ برداشت کرو۔۔وہ گھور کر۔رہ۔گئ۔
    اطلاعی گھنٹی پھر بجی
    تم دونوں کے کان بند ہیں کیا گھنٹی کی آواز نہیں آرہی۔
    ہوپ چڑ کر بولی۔
    مکین تم بھی ہو اس گھر کی جا کر دیکھ لو کون آیا ہے۔
    گوارا فورا چڑی۔۔
    مجھ سے ملنے آج تک نہ کوئی آیا ہے نا آئے گا۔ تم دونوں کے ہی ملنے والے آتے ہیں جا کردیکھو بھی تم دونوں ہی۔
    ہوپ کے کہنے پر گوارا تنک کر بولی۔
    جب ہمارے ملنے والے ہیں تو جتنی دیر باہر کھڑے گھنٹی بجاتے رہیں تمہیں کیا۔
    اریزہ چوکنا ہو کر اٹھ بیٹھی۔ دونوں نے اب اسکے بعد ہاتھا پائی ہی شروع کرنی تھی۔ گھنٹئ پھر بجی۔ ہوپ نے کینہ توز نظروں سے گھورتے کان پر ٹونٹیاں چڑھا لیں۔
    اسکا برتائو یقین کرو مجھے جتنئ آگ لگاتا کسی دن میں نے اپنے ساتھ اسکو بھئ جلا مارنا ہے۔
    گوارا نے دانت کچکائے۔
    اے ذیادہ دانت نہ کچکچائوسب فلر بہہ جائیں گے تمہارے یہ نہ ہو ہونٹ بھئ نیچے آن گرے جتنا پھولا ہوا ہے۔
    اریزہ اسے چھیڑتی بیڈ سے کود کر اترتے باہر بھاگی تھی گوارا نے بنا لحاظ پاس پڑا تکیہ مارا تھاا سے جو اگر وہ اتنی پھرتی نہ دکھاتی تو یقینا کمرپر لگتا۔
    وہ منہ چڑاتی ہنسی روکتی دروازہ کھولنے چلی آئی۔ حسب عادت بنا کیمرے میں دیکھے کھولا ۔۔ ایڈون فون کان سے لگائے اسے ہی کال ملائے تھا۔ اسکو دیکھ کر کال بند کرکے مسکرا کر بولا۔
    اسلام و علیکم کیسی ہو۔
    وہ اتنی حیران ہوئی کہ دیکھتی رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریلنگ سے بازو ٹکائے وہ دونوں ہاتھوں میں پیشانی ٹکائے دھیرے دھیرے انگلیوں سے اپنی کنپٹیاں مسل رہا تھا۔
    اریزہ بھونچکا سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
    اب تم ہی بتائو میں کیا غلط کہہ رہا ہوں۔
    وہ اریزہ کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پا رہا تھا۔ دانستہ رخ موڑے تھا۔ اس نے یہی کہا تھا کہ ضروری بات کرنی ہے تو اریزہ اسے ٹیرس میں لے آئی تھی اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ضروری بات یہ ہوگئ۔ وہ حیرت کے مارے گنگ سی اسکی شکل دیکھے گئ۔
    اس بچے کا ہمارے معاشرے میں کوئی مقام نہ ہوگا۔ ہم واپس جا کر سب کو کیا جواب دیں گے۔ مگر وہ کچھ سوچنا سمجھنا نہیں چاہتی۔ مجھے کہہ رہی ہے شادی کر لو یہاں۔ میں کر لوں تو گھر کیا بتائوں گا کہ کیوں اتنی عجلت میں شادی کر لی؟ میں سوچ نہیں سکتا تھا وہ اتنی حماقت دکھائے گی۔۔ اسکو ذرا اپنی عزت کا اپنے والدین کی عزت کا خیال نہیں ہے۔
    تمہیں تھا اپنا یا اپنے والدین کی عزت کا خیال۔
    وہ چٹخ کر بولی۔ ایڈون نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔ اسکا منہ بالکل سرخ ہوگیا تھا۔
    جو بھی ہوا ہے اس میں تمہاری برابر کی ذمہ داری بنتی ہے۔ تم سارا قصور اسکے کھاتے میں ڈال کر بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔
    میں نے کب انکار کیا ۔ہوئی ہے مجھ سے بھی غلطی۔ تو اس معاملے کا حل بھی تو میں ہی نکال رہا ہوں۔ اسے سمجھائو عقل سجھائو یہ بات اتنی سادہ اور آسان نہیں جتنا وہ سمجھ رہی ہے۔
    اسکے انداز میں بے چارگی تھی۔
    تم اسے قتل کرنے پر مجبور کر رہے ہو۔ اگر یہ بچہ۔ وہ رک سی گئ۔ جتنا بھی روشن خیال بن لے یہ موضوع ۔۔۔۔وہ ایڈون سے کیسے بات کر سکتئ تھی کھل کر۔
    ابھی اتنا وقت نہیں گزرا ہے ۔ وہ اسکی ادھوری بات سمجھ کر بولا۔
    تم چلو ذرا دیکھو اسکی حالت تم خود بھی یہی مشورہ دوگی اسے۔ اسکی طبیعت اسکا مزاج کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔
    وہ رسان سے کہہ رہا تھا۔ اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ عبدالھادی سے ملنے آیا ہوا تھا۔ انکی بیگم کسی سے ملنے گئ ہوئی تھیں دونوں بچیاں گھر میں تھیں سو عبدالہادی انکا خیال رکھنے کو گھر میں ہی تھے۔ اسکو بچیوں کے پاس بٹھا کر خود کچن میں کھانا گرم کررہے تھے۔
    اپنا حق نہ چھوڑو ابھی تم جزباتی ہوئے ہو مگر پیسہ اس دنیا کی اٹل حقیقت ہے۔ وہ گھر تمہارے والدین کے نام ہے تم اس کی وراثت کے حقدار ہو علی۔
    وہ مجھے وراثت کا حق نہیں رہائش کی اجازت دے رہے ہیں۔
    اس نےبلاکس سے ایک اونچی عمارت کھڑی کر دی تھی۔
    دونوں بچیاں بلاکس سے اسکے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ بالترتیب چار اور آٹھ سال کی بچیاں خاصی تمیز دار تھیں۔ نقوش چپٹے تھے مگر ناک ماں کی طرح کھڑی کھڑی سی تھی۔عمارت کھڑی ہوئی تو اگلا کھیل اسکے سامنے تھا۔
    جو بھی ہے۔ تم اپنا موجودہ اپارٹمنٹ کرایے پر دے سکتے ہو معقول آمدنی کا انتظام ہو جائے گا۔
    وہ مشورہ دے رہے تھے۔۔ علی استہزائیہ ہنسی ہنس کر رہ گیا
    آپس میں وراثتی لوٹ مار چل رہی ہے۔جو میرے باپ دادا نے اپنے بھائیوں سے چھینا اب انکے بھائی ان سے چھین رہے میں ان کا شریک بن کر اپنے گناہوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
    ۔اب اسے بچوں کا پزل جوڑنا تھا۔ دونوں تندہی سے لگی ہوئی تھیں۔
    تم پھر بھئ بھائی کی شادی میں ضرور جانا۔وہ تاکید کر رہے تھے
    حرام کھانا ہوگا وہاں شراب کا دور ہوگا غیر مسلموں کی قابل اعتراض محفل میں جائوں۔
    وہ گنوا رہا تھابولتے بولتے ایکدم سے پیچھے ہوا اگر نہ ہوتا تو عین سر پر انکا پھینکا ہوا ربڑکا دستانہ پڑتا۔۔
    ہزار بار سمجھایا ہے حالت جنگ میں نہ ہوں تو غیر مسلموں کی خوشی غمی میں شریک ہونے میں حرج نہیں ہمیں ان سے حسن سلوک سے پیش آنے کی ہدایت ہےتمہیں وہاں حرام کھانے شراب پینے انکی مشابہت اختیار کرنے کی اجازت نہیں پر تمہارے جانے سے اگر وہ خوش ہوتے ہیں تو تمہیں جانا چاہیئے۔ رسول ص کی بیٹی باپردہ ہونے کے باوجود یہودی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے گئ تھیں کیونکہ یہودی خود چل کر آیا تھا دعوت دینے۔
    وہ فل آن لیکچر دینے کے موڈ میں تھے۔ علی ہنس دیا۔
    کائونٹر پر کھڑے پیاز بھی اسی تیزی سے کاٹ رہے تھے جتنا تیزی سے اسے لیکچر سنا دیا تھا۔
    وہ لوگ یہودی نہیں ہیں۔ بدھ متی ہیں۔ کسی آسمانی مزہب سے تعلق نہیں انکا۔
    ان دونوں کی بحث میں بچیاں اسکی توجہ بٹتے دیکھ کر اسکا بازو ہلا کر متوجہ کرنے لگیں۔
    تمہارا چچا ذاد ہے۔ تم اسکے کافی قریب تھے وہ اسی مان کے ساتھ بلاوا دینے آیا تھا تمہیں۔ تم بدلے ہو وہ نہیں۔
    عبدالہادی رسان سے کہہ رہے تھے۔اسکی آنکھوں کے سامنے بچپن سے آج تک کی اسکی۔کئی یادیں تازہ ہو گئیں اکٹھے باسکٹ بال کھیلنا سائکلنگ کرنا اسکے امریکہ جانے تک ان دونوں کی دوستی مثالی ہوا کرتی تھی وہ حقیقتا اسکو بڑے بھائیوں والا پیار دیتا تھا۔۔
    جواب دو؟ عبدالہادی کی جھلائی آواز پر وہ چونکا۔
    دے؟ اسکے انجان بننے پر وہ گھور کر رہ گئے۔
    میں پوچھ رہا ہوں تمہاری بات کروں میں آمنہ کی بھانجی سے؟
    کیا بات کرنی ہے۔؟ وہ قطعی نہ سمجھا۔
    شادی کیلئے ملوانا چاہ رہا ہوں بھئ ۔۔ وہ جھلائے
    میں آپکو بتا چکا ہوں میں شادی نہیں کرنا چاہتا رچل کے بعد مجھے دنیا میں کسی لڑکی میں کوئی دلچسپی نہیں رہ گئ ہے۔
    اس نے قدرے سخت انداز اپنایا۔ اور جان کے رخ بدل کر پزل جوڑنے میں جت گیا۔
    دلچسپی پیدا ہو جائے گی۔ مریم سے ملو خوبصورت ہے پڑھی لکھی ہے۔ایک دو بار ملاقات کرو دلچسپی ہوجائے گی تمہیں بھی۔۔ وہ اسے منا لینا چاہتےتھے۔

    آپکو کیا لگتا ہے میں اتنا سطحی لڑکا ہوں کہ دو ایک بار کسی لڑکی سے ملوں گا اور رچل کی جگہ کسی انجان لڑکی کو دے دوں گا۔
    وہ بد لحاظی سے بولا تھا۔ وہ اسکے ضدی انداز پر مسکرا دیئے۔ اوپن کچن سے اپنے کام نپٹاتے وہ اسے دیکھتے گفتگو جاری رکھےتھے۔ لائونج میں بیٹھا علی خفا خفا سا دکھائی دیتا تھا۔
    رچل کی جگہ کسی کو نہ دو کسی اور کیلئے دل میں خود بخود جگہ بن جائے گی۔ اور جس کو تمہاری زندگی میں آنا ہوگا وہ ایک دن میں یہ جگہ بنا لے گی ایک دن میں کئی بار مل کر یا کئی دن میں ایک بارمل کر بھی۔
    انکی بات پر علی کا دل چاہا بد تمیزی سے جتا دے سب آپ جیسے نہیں ہوتے۔ زندہ بیوی بیٹی کے ہوتے ہوئے بھی نئی دنیا بسا لی او رمطمئن بھی رہے۔
    علی کا مزاج بھانپ کر فی الحال انہوں نے اس بات کو یہیں ختم کردیا
    یہ دیکھو بس چار پزل رہ گئے انکو صحیح لگادیں گے تو تصویر مکمل ہو جائے گی۔ مگر باقی پزل ہیں کہاں۔
    آخری پزل کا ٹکڑا لگا کر بھی تصویر مکمل نہ تھی۔
    یہیں ہوگا۔
    دونوں بچیاں آگے پیچھے مڑ کر کھلونوں میں ہاتھ مارنے لگیں
    علی میں ذرا دکان سے دودھ لے آئوں۔ وہ معزرت خواہانہ انداز میں کہتے ہوئے باہر جانے کو تیار کھڑے تھے
    آپ بیٹھیں میں لے آتا ہوں۔ وہ فورا اٹھنے لگا۔
    دونوں بچیوں کا منہ بن گیا۔
    میری بچیوں کا موڈ خراب نہ کرو پزل حل کرو۔
    انہوں نے شفقت بھرے انداز میں کہا تو وہ خجل سا ہوگیا۔
    دے۔ بیٹھیئے۔
    بڑی والی فاطمہ نے باقائدہ اسکا ہاتھ تھام کر واپس بٹھایا۔ سارا اٹھ کر اپنا گھوڑا گھسیٹ لائی۔۔
    یہ دیکھیں میرا گھوڑا
    وہ اتنے شوق سے دکھا رہی تھی اسے اشتیاق جتانا پڑا۔ ناچار واپس بیٹھ گیا۔ پزل بناتے وہ مکمل مگن تھا جب فاطمہ نے اچانک اسکا ہاتھ تھاما وہ چونک کر دیکھنے لگا وہ تھوڑی خوفزدہ سی اسکی پشت کی جانب اوپر سر اٹھا کر دیکھ رہی تھی۔ اس نے حیران ہو کر مڑ کر دیکھا تو چندی آنکھوں والی اس لڑکی کو اس نے کینہ توز نظروں سے گھورتا پایا۔
    سارا بھی اپنے گھوڑے سے اتر اسکے کندھے سے آن لگی۔
    تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟
    دونوں ہاتھ کمر پر رکھے وہ جرح کرنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
    وہ بچیوں کا سر تھپکتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    میں یہاں اکثر آتا ہوں۔ آپ بیٹھیں آہجوشی باہر گئے ہیں آتے ہی ہوں گے۔
    کیسے باپ ہیں انجان آدمی کے پاس بچیاں چھوڑ کر چلے گئے۔۔
    اسکا انداز طنز بھرا تھا۔ وہ سلگ کر رہ گیا
    میں انجان نہیں ہوں۔
    باپ توپتہ مجھے انکا کون ہے تم کون ہو پھر کیا ان کی ماں ہو؟
    وہ طنز سے ہنسی۔ وہ کوئی سخت سا جواب دینے لگا تھا کہ داخلی دروازے پر کھٹ پٹ سے توجہ بٹ گئ۔
    کون آیا ہے علی ۔
    عبدالہادی دروازے پر جوتے دیکھ کر پوچھتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ جی ہائے کو دیکھ کر بے ساختہ خوشی انکے چہرے پر پھیل گئ۔
    تم کب آئیں ؟ کیسی ہو بیٹا۔ ؟ وہ فورا اسکے پاس آئے
    ابھی آئی ہوں۔ اس کا انداز لیا دیا تھا۔ ناگواری تھوڑی کم تھی وہ اسی پر خوش ہوگئے
    بیٹھو بہنوں کے پاس میں تمہارے لیئے کچھ کھانے کو لاتا ہوں ۔ وہ خوشی کا اظہار کرتے کچن کی جانب بڑھے۔
    میں بیٹھنے نہیں آئی ہوں۔ مجھے اپنے کمرے سے کچھ لینا تھا۔ وہ بے نیازی سے کہتی ماسٹر بیڈ روم کے مقابل اپنے بیڈروم کی جانب بڑھ گئ۔ عبدالہادی کچھ کہتے کہتے رکے۔ جی ہائے کو دروازہ کھولتے ہی جھٹکا سا لگا تھا۔
    گلابی بنک بیڈ گلابئ دیواریں اسٹفڈ ٹوائز سے سجا وہ کمرہ اب اسکا نہیں رہا تھا۔ عبد الہادی تیزئ سے اسکی۔جانب بڑھے۔ وہ صدمے کی سی حالت میں کھڑی بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔
    بیٹا وہ جگہ کی کمی کے باعث بچیوں کا کمرہ الگ کرنا پڑا تمہاری چیزیں سب اسٹور میں الماری میں احتیاط سے رکھی
    وہ لجاجت سے کہتے اسکا ہاتھ تھامنے لگے اس نے سختی سے جھٹک دیا۔ اور پلٹ کر بجائے اسٹور روم جانے کے سیدھی باہر نکلتی چلی گئ۔
    عبدالہادی اسکے پیچھے لپکے۔ علی کو اپنی موجودگی یہاں کافی عجیب محسوس ہوئی تو اس نے بھی باہر کی راہ لی۔
    چھوٹے سے کمپائونڈ کے آگے ٹیکسی سے اترتی عبایا میں ملبوس آمنہ عبدالہادی کو دیکھ کر وہ لمحہ بھر رکی ۔۔ عبایا کے باوجود بھی اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ انکے یہاں مزید ایک پھول کھلنے کی تیاری ہے۔ اس نے مڑ کر بھرپور شاکی نظر ان پر ڈالی تھی۔
    عبدالہادی مجرم سا خود کو محسوس کرتے نگاہ چرا گئے۔ آمنہ نے کوریائی انداز میں جھکنے کی بجائے ذرا سا سر خم کرتے اسے سلام کیا تھا۔ جوابا وہ انکو مکمل نظر انداز کرتی انکی ہی چھوڑی ہوئی ٹیکسی میں بیٹھ گئ۔
    آئو علی کیسے ہو بڑے دنوں کے بعد آئے۔
    آمنہ خوش دلی سے اس سے مخاطب تھیں۔ وہ سٹپٹا کر عبد الہادی کو دیکھنے لگا جو چند قدم آگے بڑھ کر اس ٹیکسی پر حسرت بھری نگاہ جمائے کھڑے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نہ وہ میرے ساتھ رہنے کو تیار ہوتی ہے نا ماں کے پاس جاتی ہے.جب یہ گھر لیا تھا میں نے بڑے شوق سے اسکے لیئے یہ کمرہ سیٹ کیا تھا کچھ عرصہ رہی بھی میرے ساتھ فاطمہ سے پیار کرتی تھئ پھر سارا پیدا ہوئی تو جانے کیا ہوا کہ الگ رہنے کی ٹھان لی۔۔ میں اسکا کمرہ کسی صورت بھی بچیوں کو نہ دیتا مگر بچیاں بڑی ہو رہی ہیں اور آمنہ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی مجھے مجبورا کمرہ الگ کرنا پڑا۔یقین مانو ایک ایک چیز اسکی احتیاط سے اسٹور روم میں رکھی ہے۔ اور وہ آج بھی یہاں آکر رہنا چاہے تو میں بچیوں کا کمرہ خالی کردوں گا اسکے لیئے۔ پہلی اولاد ہے میری اسکا مقام ہی الگ ہوتا ہے دل میں۔ ہے نا۔
    عبدالہادی دھیمے انداز میں خود کلامی کے سے انداز میں بات کر رہے تھے۔ دونوں بچیاں کمیونٹی پارک میں جھولوں کے پاس دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔ وہ انہی پر نگاہ جمائے تھے۔علی نے خاموشی سے انکی بات کو سنا تھا اور جواب دینے سے احتراظ کیا تھا اسی طرح جیسے سوال بھی نہ کیا تھا کوئی۔
    جب جی ہائے پیدا ہوئی تھی تو میں اور ہانا بہت خوش تھے۔ ہم نے ایک ایک چیز اسکی شوق سے دل سے خریدی تھی۔ ہانا کہتی تھی اسکی شکل مجھ سے ملتی ہے اور میں کہتا تھا ہانا کے بچپن کی ہوبہو تصویر ہے۔اب ہانا اسے دیکھ کر میری بات مان گئ ہوگی بالکل جی ہائے ہانا کی شکل ہے۔
    انہوں نے اپنا پرس نکال کر بڑے اشتیاق سے تصویر پر ہاتھ پھیرا۔چار پانچ سال کی جی ہائے کو گود میں لیئے کھڑے ایک بازو ہانا کے کندھے پر رکھے وہ محبت سے ساتھ لگائے تھے۔ وہ تصویر پر انگوٹھا دھرے تھے جس سے تصویر آدھی چھپ سی گئ تھی اوپر سے تصویر ایک مکمل خوشحال چندی آنکھوں والے گھرانے کی تھی۔ علی نے ایک نظر دیکھا۔۔ انہوں نے انگوٹھا ہٹا دیا تھا۔ اب مکمل تصویر تھی مگر ایسی جیسے دو تصویروں کو اوپر نیچے فریم میں جوڑا گیا ہوا۔ اب جو تصویر تھی اس میں عبایا پہنے ایک عربی نقوش کی خاتون انکے برابر کھڑی تھی۔ ایک چند ماہ کی بچی گود میں لیئے خوش باش سی اور چند سال کی منہ بنا کر رونے کو تیار بچی کو گود میں لیئے خوش باش کھڑے اسی محبت سے اپنی دوسری بیوی کے کندھے پر بازو پھیلائے محبت سے ساتھ لگائے۔ اس نے چونک کر سر اٹھا کر انکی شکل دیکھی پھر کچھ کہتے کہتے رک کر رخ موڑ کر سامنے دیکھنے لگا۔
    تم سوچ رہے ہو کہ میں دوغلا انسان ہوں ۔ دو خاندانوں سے جڑا ہوں پہلی بیوی بچی کی محبت کا دعوی کرنے والا کھوکھلا انسان جو اپنی دوسری بیوی بچوں کے ساتھ بھی خوش باش زندگی گزار رہا ہے۔
    انکی بات پر وہ پلٹ کر انکی شکل دیکھنے لگا۔ اسکے چہرے کی حیرت غماز تھی کہ وہ حرف بہ حرف اسکی سوچ پڑھ گئے ہیں۔ وہ مسکرا دیئے۔
    میں ہانا سے محبت کرتا تھا کرتا ہوں۔ میں نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ بھی اسلام قبول کر لے۔ جی ہائے بھی ۔ جی ہائے کر بھی لیتی مگر ہانا کو بالکل گوارا نہیں تھا اس نے خلع مانگ لئ تھی۔ میں روتا تھا راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعا مانگتا تھا کہ اسکا دل بدل جائے وہ بھی مسلمان ہو جائے۔ میرا گھر مجھے بہت عزیز تھا۔ایکدن سجدے میں روتے روتے ایکدم سے میرا دل ٹھہر سا گیا۔ یہی خواہش ہانا کی بھی تو ہوگی۔ تو کیا وہ۔۔۔
    آپکو پھر محبت ہوگئ؟
    وہ بات کاٹ کر بولا۔ عبدالہادی چپ ہوگئے۔
    یہ سوال میں نے بھی کیا تھا عالم دین سے جب ہانا سے طلاق کے بعد میں اس گھر میں اکیلا تنہا رہا ۔ بہت سوچا زندگی میں اب میرے لیئے کوئی خوشی باقی نہ رہی ہے۔ اب میں کبھی خوش نہ ہوپائوں گا۔ جانتے ہو جواب میں انہوں نے کیا کہا تھا مجھے۔
    علی ہمہ تن گوش تھا۔مگر اسکی آنکھوں کی بے چینی ان سے مخفی نہ رہ سکی۔
    شادی کرلو عبدالہادی۔ اللہ کی رضا کیلئے تم نے اپنا پچھلا تعلق ختم کیا ہے اللہ تمہیں نئے رشتوں سے خوشیاں فراہم کردےگا۔ وہ اپنے اوپر کسی کا احسان نہیں رکھتا۔ وہ احسان کرنے والوں میں سے ہے۔
    سننے میں بہت اچھا ہے مگر کیا محبت بھی دوبارہ ہوتی ہے۔
    وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا نے اسے پورا روٹ لکھ کر دیا تھا ایک ایپ بھی انسٹال کروادی تھی جس سے وہ اپنے مطلوبہ مقام تک جانے کیلئے کب کونسی ٹرین کا انتخاب کرنا تھا یہ سب رہنمائی دی جاتی تھی۔ پھر بھی وہ الجھن بھرے انداز میں اسٹیشن پر کھڑی آتے جاتےلوگوں کو اس چار رویہ داخلی راستے سے گزرتے دیکھ رہی تھی۔ چپس یا ٹوکن بھی تھے پلاسٹک کے جو کرائے کی رقم کے بعد ملتے تھے انکو ڈالا جا سکتا تھا یا اسکینر سے کارڈ استعمال کیا جا سکتا اس کارڈ میں پیسے ڈلوا لیتی تھی گوارا۔اسکو بھی بنوا دیا تھا ۔۔۔ بس ایک راڈ تھا جو اسکے راستے کی دیوار بنا تھا۔
    اس نے کارڈ چھوایا۔ عجیب ٹیں ٹیں کرکے رک گیا راڈ ہٹا ہی نہیں۔ اس نے دوسری بارکارڈ چھوایا۔ تیسری بار۔۔
    اس وقت یہاں رش ہو رہا تھا۔ اسکے پیچھے قطار بننے لگی تھی۔ اسے خفت محسوس ہو رہی تھی۔ اسکے پیچھے کھڑی لڑکی نے آہش۔ چچ۔ اور ایک دو مزید بیزارکن آوازیں نکالیں جن کا یقینا ہنگل میں کوئی مطلب تو ہوتا ہوگا۔ پھر پلٹ کر دوسری رو کی جانب بڑھ گئ
    ایک دن تو ساتھ چلی آتی۔ پہلا انٹرویو ہے میراکسی بھی جاب کیلئے ہنگل تک نہیں آتی مجھے۔
    اسے گھبراہٹ کا دورہ بس پڑنے کو ہی تھا۔
    وہ واپس پلٹی۔ اسکے پیچھے ایک چندی آنکھوں والا لڑکا کھڑا یقینا اسکے فارغ ہونے کے انتظار میں تھا۔
    سوری۔ وہ کہتی فورا ہٹ گئ آگے سے۔
    اس نے کارڈ چھوایا راڈ فوری طور پر ہٹ گیا۔ اریزہ آنکھیں پھاڑ کر اس مشین کے اس تعصب کو دیکھنے لگی۔
    مس آپ کا کارڈ ختم ہو چکا ہے۔ آپ ٹکٹ لے سکتی ہیں۔
    وہ چندی آنکھوں والا یقینا نیکی کے موڈ میں تھا۔ خالص امریکی لہجے میں انگریزی ۔ منہ پر کالا ماسک چڑھائے وہ تھا تو چندی آنکھوں والا ۔ اریزہ نے مڑ کر ادھر ادھر دیکھا۔ اسے ٹکٹ کہاں سے بنوائے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ گھبراہٹ اسکے چہرے سے ہویدا تھی ۔ چاروں طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ ایک آدمی تو چلتے چلتے اس سے ٹکراتا گزر گیا۔ اسکو زور کا جھٹکا لگا تھا۔ ٹکرانے والے نے محسوس بھئ نہ کیا موبائل پر جھکا آگے کسی اور سے بھی ٹکرایا ہوگا۔۔۔وہ متزبزب ہوئی واپسی کا ارادہ باندھ لے یا یہ کڑوا گھونٹ پی لے۔
    اسے آگے جا کر جانے کیا خیال آیا تو مڑ کر دیکھنے لگا۔۔
    وہ داخلی راستے میں بیچ میں رکی ادھر ادھر شائد ٹکٹ کائو ٹر تلاش رہی تھی۔۔ وہ مڑ کر اسکے پاس چلا آیا۔۔
    ادھر۔ اس نے اشارے سے بتایا۔
    گومو وویو۔۔ کائونٹرسامنے تھا۔۔ وہ۔ہی اندھی ہوئی پڑی تھی۔۔ یا فیصلہ نہ کرپائی تھی۔
    شکریہ۔
    اس نے فیصلہ لے لیا۔ ٹکٹ لے ہی لے۔ کوئی مرد وزن کی تشخیص نہ تھی نہ الگ الگ رو کا کھڑاگ اسکے آگے کھڑے لڑکے اور آدمی نے اپنی باری اسے دینے کی کوشش نہ کی۔ البتہ اپنا ٹکٹ بنواتے فورا جگہ خالی کرتے گئے۔ ترقی یافتہ ملک کے ترقی کی دوڑ میں بھاگتے دوڑتے مصروف لوگ۔۔۔ اسکی باری آگئ کارڈ ریچارج ہوا
    میٹرو تک جانے کیلیئے داخلی راستے پر لوہے کی راڈ لگئ تھی۔۔ اس نے کارڈ چھوایا اس بار تو ٹیں کی آواز بھی نہ آئی۔ مگر راڈ بھی نہ ہٹا۔
    کیا مصیبت ہے۔ وہ جھلانے ہی لگی تھی کہ ایک ہاتھ سامنے آگیا۔۔
    اس نے چونک کر دیکھا وہی لڑکا مسکرا رہا تھا۔۔
    اس نے جھجکتے کارڈا سکے ہاتھ پر رکھابتو اس نے اسکے ابھرے نقش کو مشین سے چھوادیا۔۔وہ اس بار کارڈ ہی الٹا رکھ رہی تھی۔
    اسے خفت سئ محسوس ہوئی ۔ وہ اگر ذرا دھیان دیتی تو خود ہی یہ بات سمجھ آجاتئ۔ ٹن کی آواز سے کھل گیا تھا۔۔
    وہ پار ہوئی تو علی بھی اسکے پیچھے پیچھے ہی آرہا۔۔
    میرے خدا۔ اتنے لوگ۔۔ وہ ٹھٹک سی گئ۔۔ پورا اسٹیشن کسی مچھلی بازار کا نقشہ پیش کر رہا تھا اتنے لوگ۔
    ٹرین آکر رکی۔ سب دوڑ کر چڑھے۔۔ ٹرین بھی اتنی ہی کھچا کھچ بھری تھی۔۔ وہ جھجک کر رک گئ۔۔علی چونکہ پیچھے تھا تو اس نے بھی اگلی ٹرین کا انتظار ہی بہتر سمجھا
    دو منٹ بعد دوسری آئی وہ اس میں بھی سوار نہ ہو سکی۔۔علی لپک کر چڑھا۔ وہ اسکے پیچھے آرہی تھی وہیں رک گئ۔ علی کی یونہی نظر پڑی تو وہ وہیں پیچھے کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ بھی حیران ہوتا اتر آیا۔
    بہت رش ہے۔۔ وہ جیسے صفائی پیش کرنے لگی۔۔
    اگلی ٹرین بھی خالی نہیں ہوگی۔۔ علی نے جتایا
    وہ ۔۔مجھے اتنے رش کی عادت نہیں۔۔ وہ کھسیا گئ۔۔
    انڈین ہو آپ۔۔ اس نے دلچسپی سے دیکھا۔۔بلیک جینز پر بلیک ہی لانگ ٹاپ اور بلیک اور گرے پرنٹد بڑا سا اسکارف گلے میں ڈالے وہ گول سے چہرے والی لڑکی انڈین کے حساب سے کافی صاف رنگ کی مالک تھی۔
    نہیں۔۔ اس نے تنک کر فورا تردید کی۔۔
    میں پاکستانئ ہوں۔۔
    علی اسکے انداز پر ہنس دیا۔۔
    میں امریکہ میں کافی عرصہ رہا ہوں کسی انڈین کو پاکستانئ سمجھ لو یا پاکستانی کو انڈین برا کیوں مان جاتے۔۔ اس نے لطیف پیرائے میں کہا اریزہ سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
    پاکستان میں اتنا رش نہیں ہوتا۔۔ میٹرو میں؟۔
    تیسری ٹرین کا دروازہ بند ہو رہا تھا انکے سامنے۔۔
    اسے حیرانگی ہوئی
    اریزہ چونکی۔۔
    پاکستان میں میٹرو ٹرین ہی نہیں ہوتی۔۔ وہ بڑ بڑائی۔۔
    لاہور میں اب بن جائے شائد۔۔
    اسے اردو میں بڑبڑاتے وہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔ اسے وضاحت کرنی پڑی۔۔
    ہوتا ہے رش۔۔ مگر عوامی آمدورفت کے زرائع میں خواتین اور حضرات کی نشستین علیحدہ ہوتی ہیں اس طرح تنگ جگہوں پر ٹکرائے بنا جہاں گزارا نہیں اسکی عادت نہیں۔۔
    اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔۔
    اگلی ٹرین آئی تو اسے بولا۔۔
    میری پیروی کرو۔ وہ تیز قدم اٹھاتا راستہ بناتا رہا وہ اسکے پیچھے پیچھے چڑھ گی ٹرین میں کافی ہجوم تھا اسی نے آگے بڑھ کر کھڑکی کے پاس جگہ بنا کر اسے کھڑا کیا خود پیٹھ موڑ کر دیوار بن کر کھڑا ہو گیا۔ماسک لگائے اس لڑکے کی آنکھیں شہد رنگ کی تھیں۔ ۔اسکے بالوں کا رنگ بھی شہد رنگ ہی تھا۔ خلاف توقع اس لڑکے نے دوبارہ مڑ کر اسے نہ دیکھا۔
    ایپ کے مطابق اب اگلے اسٹیشن پر اسے اترنا تھا۔ وہ اترنے کودروازے کی جانب بڑھی تو اس لمبی مخلوق نے ٹرین کے رکتے ہی اپنے لانبے بازوکا استعمال کرتے پنکھا چلا کر اسکیلئے راستہ بنا دیا تھا یہاں وہ آرام سے اتر گئ۔۔ پھر مڑ کر بولی۔۔
    شکریہ۔۔ پھر خیال آیا۔۔ تھینک یو۔۔
    ٹرین کے بند ہوتے شیشے کےدروازے سے وہ دیکھ رہا تھا۔
    گومو وویو۔۔ اسکو اب خیال آیا تو آدھا جھک کر اسے ہنگل میں کہا۔۔ اسے آواز تو نہ پہنچی ہوگی مگر اس نےسر ہلا دیا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسٹوڈنٹ ویزا ۔۔
    اس چندی آنکھوں والے نے سرتاپا اسے دیکھا تھا وہ سٹپٹا سی گئ۔
    اسٹوڈنٹس کےتو ورکنگ آورز ہوتے ہیں۔ پورا ہفتہ آپ کام نہیں کرسکتیں۔ پھر ضمانت بھئ چاہیئے ہوگی ہمیں آپ کو ہم رکھ بھی لیں تو ہمیں ایک اور ملازم رکھنا پڑے گا۔ ہمیں کسی صورت وارے میں نہیں۔۔ سب سے بڑھ کرہمارا نشانہ بچے اور خواتین ہیں اس سیریل کو خریدنےکیلئے۔ آپ کیسے رضامند کر پائیں گی کورین عوام کو یہ سیریل خریدنے کیلئے جب آپکو ہنگل آتی ہی نہیں ہے۔؟
    اس نے شستہ انگریزی میں تعارف کرایا اپنا تو اس چندی آنکھوں والے نے بدمزہ شکل بنائی تھی اسے تب ہی اندازہ ہوگیا تھاکہ یہاں دال نہیں گلنے والی۔
    آپ اپنا سی وی چھوڑ جائیں اگرکوئی ویکنسی ہوئی ہمارے پاس تو ہم آپکو فون کر لیں گے۔
    انہوں نے چھٹی بھی کردی اسکی۔ادھیڑ عمر اس چندی آنکھوں والے کی بے مروتی عروج پر تھی۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔
    آجکا دن ہی برا ہے۔ وہ یہی سوچ سکی۔ بنا خدا حافظ کہے وہ خاصی چڑی ہوئی کمرے سے نکلی۔راہداری میں چند چندی آنکھوں والے سامنے سے آرہے تھے وہ ان پر نگاہ غلط ڈالے بنا تن فن کرتی باہر نکل گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا کو اسکی شکل دیکھتے ہی پتہ لگ گیا تھا کہ جاب نہیں ملی۔ دروازہ کھولتے ہی اسکےتیور دیکھتی کان دباتی ایک سائیڈ میں ہوگئ تھی۔ وہ حسب عادت اندر داخل ہوگئ تو خیال آیا پلٹی راہداری میں رکھے جوتے کے ریک پر سے جوتے بدلے پھر لائونج میں صوفے پر آکر ڈھیر ہوگئ۔
    تم نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ یہاں جاب حاصل کرنے کیلئے ضمانت بھی چاہیئے ہوگی۔ اور کہاں کیا تعلیم حاصل کر رہی یہ بھی بتانا پڑے گا اورتو اور ہنگل نہیں آتی تو فٹے منہ کہہ کر کھڑے کھڑے نکال بھی دیا کریں گے۔
    گوارا نے پانی کا گلاس لا کر دیا تو وہ تھامتے ہوئے پھٹ پڑی
    ہاں تو یونیورسٹی کارڈ دکھانا تھا نا۔اور ضمانت میں ہوں نا تمہاری
    گوارا ہنسی دباتئ اسکے برابر آن بیٹھی۔
    وہ گھورتئ پانی کا گلاس ختم کرنے لگی۔ ایک سانس میں پی کر سامنے میز پر رکھا تو ایک سوبر سا گرے رنگ کا کارڈ توجہ کھینچ لے گیا اسکی۔
    انگریزی میں دعوت نامہ تھا کسی منگنی کا۔
    یہ کس کا ہے؟ پورا دعوت نامہ پڑھ کر اس نے گوارا سے پوچھا تھا۔
    ہوپ کا ہوگا میرا تو نہیں ہے۔ گوارا نے کندھے اچکائے۔
    وہ ابھی الٹ پلٹ کر دیکھ ہی رہی تھی کہ ہوپ نے جھپٹا سا مارا۔
    یہ میرا کارڈ ہے۔ تم لوگوں کا کارڈ ہایون دے گا۔
    وہ کہہ کر واپس مڑ چکی تھی۔
    ہایون کیوں دے گا ؟ کس کا منگنی کا کارڈ ہے؟
    گوارا پوچھ رہی تھی مگر جواب دینا گوارا نہ کیا ہوپ نے ۔ وہ کمرے میں گھس چکی تھی
    گوارا گھور کے رہ گئ
    میں اسکو کسی دن ٹیرس سے نیچے پھینک دوں گی دیکھنا۔
    گوارا نے دانت کچکچائے۔ اریزہ بھونچکا سی ابھی بھی اپنے ہاتھ پھیلائے بیٹھی تھی جیسے کارڈ ابھی بھی اسکے ہاتھ میں ہو۔
    میں تمہاری مدد کروں گی اس دن۔ اریزہ نے ہونٹ بھینچ کر ہاتھ نیچے کیئے۔۔۔۔
    آج اسے بھی تپا دیا تھا ہوپ نے۔ گوارا نے حیرت سے اسکا جواب سنا پھر مسکراہٹ دباتی اسے کندھا مار۔کر بولی
    اچھا میں آج بلائنڈ ڈیٹ پر جا رہی ہوں چلوگی؟
    گوارا نے کہا تو وہ مڑ کر آنکھیں پھاڑ کر اسے گھورنے لگی۔
    مزاق کر رہی ہو؟
    اسے یقین نہ آیا
    بالکل نہیں سو فیصد سنجیدہ ہوں۔ گوارا کھلکھلائی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گہرے نیلے رنگ کا وہ گھٹنوں تک کا سلیو لیس فراک تھا جس کے ساتھ اس نے بلیک ٹائٹس پہن لی تھیں۔ سلیو لیس میں اسے پردے کی فکر تو جو تھی سو تھی ٹھنڈ بھی لگنی تھی سو گوارا سے بلیک اوپن سوئیٹ بلائوز لے کر پہنا تب بھی مطمئن نہ ہوئی تو اپنا بلیک اسکارف بھی گلے میں ڈال لیا۔
    کہو تو ایک کمبل بھی ساتھ رکھ لوں تمہارے لیئے۔
    بال بناتی گوارا چڑ کر بولی تھی تو وہ معصومیت سے کہنے لگی
    اوپن ائیر میں جانا ہے تو رکھ لو پلیز مجھے سردی لگ رہی ہے پہلے ہی۔
    اسکی بات پر گوارا نے بنا لحاظ اپنے ہاتھ میں پکڑا برش اچھالا۔ سلیکون کا برش ٹھک سے اسکے ماتھے پر لگا تھا اسے چوٹ تو کیا لگنی تھی پرانی یاد تازہ ہوگئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حسب معمول سنتھیا آئی ہوئی تھی اسکے بیڈ پر اوندھی لیٹی میگزین کے ورق پلٹتی ماڈلز پر تبصرے کر رہی تھی۔ وہ سنگھار میز کے سامنے بیٹھی بال بنا رہی تھئ۔
    یار یہ دیکھو پکا کرسمس پر میں نے یہ ڈریس بنوانا ہے۔ ایسا ہی بنوانا ہے
    وہ ایک خوبصورت سے پیچ رنگ کے فراک اور چوڑی دار پر ریجھ چکی تھی۔ وہیں سے میگزین اسے لہرا کر دکھانے لگی۔
    لباس واقعی پیارا تھا ماڈل بھئ ۔ مگر ماڈل نے خاصا گہرا گلا بنا آستین کے ساتھ پہن رکھا تھا۔پیچھے پورا ڈوریوں کا کام تھا۔
    یہ بنوالینا مگر ایسا نہیں۔ اس نے رسان سے کہتے اسکی توجہ قابل اعتراض لباس پر دلائی۔
    کیوں کیا برائی ہے ۔ میں نے ایسا ہی بیک لیس بنانا ہے۔۔۔
    وہ ٹھنک کر بولی پھر اسے چھیڑنے کو ایک آنکھ دبا کر کہا۔ فرنٹ لیس بھی ۔
    ہاں اب یہی گل کھلانے رہ گئے۔خبردا رجو ایسا سوچا بھئ۔ خاک میں ملا دو میری ناک برسوں کی بنی بنائی عزت مٹی میں رول دے گی یہ لڑکی توبہ۔
    اریزہ بھی اسی کی منہ بولی بہن تھی۔ پکا سا منہ بنا کر بین ڈالنے لگی۔سنتھیا نے منہ بنایا پھر چٹخارہ لیکر بولی
    زندگئ میں کبھئ موقع ملا نا تو پکا میں نے بھی گل کھلانا ہے۔
    میں تمہیں کوئی گل کھلانے ہی نہیں دوں گی۔
    اریزہ نے تاک کے نشانہ لیا برش کا سیدھا اسکے سر پر بجا۔ وہ وہیں اپنا سر تھام کے دہری ہوگئ
    ہائے مار ڈالا ظالم۔
    وہ اتنی زور سے دہائی دے رہی تھی کہ وہ سب مستی بھول بھال بھاگ کر اسکے پاس بیڈ پر آگئ جو تڑپ کے اٹھی بیٹھی اب دونوں ہاتھوں میں سر تھامے ہائے ہائے کر رہی تھی۔
    سوری سو سوری۔ زو رسے لگ گیا۔ اسکا سر تھامے وہ شرمندگی سے ڈوب مرنے کو تھی۔
    نہیں گلاب کی پنکھڑی چھوائی ہے تم نے۔ سنتھیا ہاتھ نیچے کرکے گھورنے لگی۔ اسکی پیشانی سرخ ہونے لگی تھی۔
    ایک معصوم سی سلیو لیس پہننے کی خواہش کا اظہار کیا تم نے سر ہی پھوڑ ڈالا میرا۔
    اریزہ کا خفت سے سرخ چہرہ دیکھ کر اسے شرارت سوجھی
    آئیم رئیلی ویری سوری یار۔ وہ آگے بڑھ کر اسکا سر سہلانا چاہ رہی تھی مگر سنتھیا نے دور کردیا
    رہنے دو۔
    زخم دے کر سہلانا دوستوں کی ہے ادا ٹھہری ۔۔ ہمیں عدو ہی بھاتے ہیں ایسے چارہ گر سے۔۔
    وہ لہک لہک کر شعر پڑھ رہی تھی جو شائد کہا بھی موصوفہ نے ابھی ابھی خود ہی تھا۔ اسکے وزن سے اریزہ نے اندازہ لگایا تھا۔
    برش کہاں گیا میرا۔ اریزہ نے ادھر ادھر برش کی تلاش میں ہاتھ مارا
    ہاں برش سنبھال لو میرا سر گیا بھاڑ میں
    اسکی طوطا چشمی پر سنتھئا نے آہ بھری۔ برش اسکے پہلو میں ہی پڑا تھا۔ اریزہ نے جھپٹا اور اچھی خاصی زور سے اپنی پیشانی پر دے مارا۔ سنتھیا کی آنکھیں حیرت سے پھیل سی گئیں۔ اریزہ دوسری بار برش اپنے سر پر مارنے ہی والی تھی کہ اس نے فورا اسکا ہاتھ تھام کر برش لیکر ایک طرف پھینکا۔پھر غصے سے بولی
    پاگل ہوگئ ہو یہ کیا حرکت ہے؟
    میری وجہ سے گومڑا بن گیا ہے تمہارے۔۔ اریزہ نے تاسف سے اسکی پیشانی دیکھی۔
    تو تم میری وجہ سے اپنے سر میں بھئ گومڑا ڈال لوگی؟ سنتھیا چڑی
    ایک تو مجھے مار کر زخمئ کیا اوپر سے اب خود کو تکلیف پہنچا کر مجھے ہی گلٹی کرارہی ہو۔
    وہ بھنا رہی تھی اریزہ ہنس پڑی
    خیر وہ پٹائی تو تم ڈیزرو کرتی تھیں۔ گل جو کھلانے جا رہی تھیں۔ اریزہ کا انداز شرارت بھرا تھا۔
    میں تمہارے ہوتے گل کھلا ہی نہیں پائوں گی۔ سنتھیا کو دکھ ہوا۔
    میں گل کھلانے ہی نہیں دوں گی تمہیں۔ اریزہ نے مزے سے کہا
    پھر بھی کھلایا تو؟ ۔۔۔سنتھیا کو اس بحث میں مزا آرہا تھا اریزہ سوچ میں پڑی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا ہوا زور کا لگ گیا؟ ۔۔۔ پر یہ تو سیلیکون کا ہے۔۔
    گوارا اسکا رنگ اڑتا دیکھ کر گھبرا سی گئی زمین سے اٹھا کر برش اپنی پیشانی پر مار کر دیکھا اریزہ اسکی بات پر اپنی سوچ سے چونکی اسے اپنے ماتھے پر برش مار کر چیک کرنے دیکھا تو ہنسی ہی آگئ۔ اسے ہنستا دیکھ کر گوارا کی تشویش دور ہوئی
    کیا ہوا تھا تمہیں؟ وہی میں کہوں سیلکون برش سے چوٹ کیسے لگ گئ تمہیں۔ ؟ کیا سوچ رہی تھیں؟
    اس نے پکڑ لیا تھا اسے۔ اریزہ قصدا سر جھٹک کر بولی
    کچھ نہیں ایسے ہی سنتھیا یاد آگئ تھی مجھے۔
    ہوں۔گوارا نے ہنکارا بھرا۔
    تم تو اسے یاد کر رہی ہو وہ تو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ تمہیں یاد بھئ نہ کرتی ہوگی۔
    وہ اب ہلکا پھلکا سا میک اپ کر رہی تھی۔
    تمہیں جی ہائے یاد آتی ہے۔۔ اریزہ کو یونہی خیال گزرا۔
    ہاں۔ اس کا انداز سادہ تھا۔
    جی ہائے لوگوں کو زندگئ سے نکال باہر کرنے میں ماہر ہے۔ میری اسکی دو تین سال کی دوستی اسکو بھلانے میں وقت نہیں لگا ہوگا۔ خاصی خود غرض لڑکی ہے۔
    وہ صاف گوئی سے بولی۔
    تمہاری اسکی لڑائی ہوئی ہے کیا ؟ اس دن آئی تھی تو مجھ سے بھی سیدھی طرح بات نہ کی اور اتنے دنوں سے آئی بھی نہیں۔ اریزہ کو اب یاد آیا کہ کافی دن ہوچکے ہیں جی ہائے سے سرے سے ملاقات نہ ہوپائی تھی۔
    کس بات پر لڑائی ہوئی ہے تم دونوں میں؟
    گوارا کا بات ٹال دینے کا ارادہ تھا۔مگر اریزہ نے آگے بڑھ کر کندھا ہلا کر پوچھا تو اسے بتانا پڑا
    کہہ رہی تھی کہ تم سے دوستی چھوڑ دوں۔ یا تم سے دوستی رکھوں یا اس سے۔
    مگر اس نے ایسا کیوں کہا؟ اسے حیرت ہوئی ۔اسکی تو جی ہائے سے کبھی لڑائی بھی نہ ہوئی تھی۔
    کیونکہ تم مسلمان ہو یہ اسے پتہ لگ گیا تھا۔ اور وہ ہر مسلمان سے نفرت کرتی ہے۔۔۔۔
    گوارا بیڈ پر سے بیگ اٹھاتی جانے کو بالکل تیار کھڑی تھی۔
    کیوں؟ اریزہ کی حیرت عروج پر تھی۔
    لمبی کہانی ہے چلو راستے میں بتاتی ہوں۔
    گوارا نے اسے چلنے کا اشارہ دیا تو وہ بھی کندھے پر بیگ درست کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بڑے سے نائیٹ کلب میں داخل ہوتے ہوئے اس نے خاصی بیزاری سے گوارا کو دیکھا جو اسکے تاثرات دیکھ کر ہنس پڑی تھی۔
    ہوپ اپنی دوسری جاب پر جا چکی ہے اکیلی فلیٹ میں تم نے ٹامک ٹوئیاں ہی مارنی تھیں یہاں تھوڑا اچھل کود کرلو انجوائے کرلو۔
    گوارا نے اسکو منانے والے انداز میں کہا تھا۔ پھر اسکا ہاتھ تھام کر اندر لے آئی۔ اندر ڈانس فلور پر خوب رونق لگی تھی۔
    ایڈون اور ہایون سامنے ہی بار کائونٹر کے قریب لگے اونچے اونچے اسٹولز کے قریب کھڑےباتیں کر رہے تھے۔ وہ سیدھا انکے پاس لے آئی تھی۔ ہایون ڈرنک ہی کر رہا تھاانہیں دیکھ کر واضح طور پر اسکے چہرے پر رونق نظر آئی تھی۔ گوارا آگے بڑھ کر اسکے گلے لگتے کان میں بولی
    تمہارا کام پورا کیا جوابا مجھے کیا ملے گا؟
    ہایون ہنس دیا تھا۔ ایڈون اریزہ سے حال احوال پوچھ رہا تھا۔
    کونسا جوس لوگئ۔ ؟ ایڈون نے اریزہ سے پوچھا پھر اسکے لیئے پلٹ کرکائونٹر کی جانب بڑھ کر ویٹر کو آورڈر دینے لگا
    تمہارا سرپرائز تمہارے پیچھے ہے۔
    ہایون نے کہنے پر اس نے الجھن بھرے انداز میں پیچھے دیکھا تو یون بن کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس نے فورا منہ بنایا۔
    بکواس۔۔ وہ منہ بنا کر جانے لگی تو یون بن اسکے سامنے آگیا
    کب تک ناراض رہو گی۔ یون بن مسمسی سی شکل بنائے اسکا راستہ روکے کھڑا تھا
    اگلے جنم تک۔ وہ اتنی آسانی سے ماننے کو تیار نہ تھی۔
    مگر میں تب تک تمہیں ناراض نہیں رکھ سکتا۔
    اس نے اسکو کھینچ کر اپنے قریب کیا اور ایک خوبصورت سی چین لہرائی۔ گوارا کی ناراضگی مدہم پڑنے لگی۔ جی کے نام کا لاکٹ تھا جس کا وایے وہ خود پہنے تھا۔ گوارا کے گلے میں لاکٹ ڈالا تو وہ خود بخود جی سے مقناطیسی کشش کے ذریعے چپک سا گیا۔ گوارا کی آنکھوں میں ستارے سے اتر آئے تھے۔ بس اتنی ہی ناراضگی رہی تھی دونوں میں۔
    انہیں بے دھیانی سے دیکھتی اریزہ کے چہرے پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئ۔ سر جھٹک کر رخ موڑا تو بہت دلچسپی سے ہایون کو خود کو تکتا پایا۔ وہ جھینپ سی گئ۔
    یہ دونوں ہائی اسکول سے ایسے ہی ہیں۔ ہر مہینے دو بار بریک اپ ہوتا ہے انکا اور اسی طرح یون بن تحفہ دے کر منا لیتا ہے۔
    ہایون نے بتایا تو وہ سر ہلا گئ۔
    یون بن اور گوارا ڈانس فلور کی جانب بڑھ گئے تھے۔
    ایڈون نے جوس کا گلاس لا کر تھمایا تھا اسے۔ اس نے شکریہ کہہ کر گلاس تھام لیا۔
    سنتھئا کیسی ہے۔ اریزہ نے پوچھا تو ایڈون شکوہ کناں انداز میں بولا
    ایک کام کہا تھا تم سے۔
    اریزہ شرمندہ سی ہوئی
    کل جائوں گئ سنتھئا سے ملنے فکر نہ کرو۔
    یار یہ پاکستان تھوڑی ہے ہزار لیگل کمپلیکیشنز ہیں اور۔ وہ دانستہ زرا سا رخ موڑ کر اور آواز دبا کر بولا تھا۔ دونوں اردو میں بات کرتے مگن ہو چکے تھے۔ ہایون چند لمحے تو دیکھتا رہا پھر پلٹ کر اپنے لیئے ڈرنک بنوانے لگا۔ہوپ نے گہری نگاہ ڈالی تھی اس پر۔
    آننیانگ۔
    آننیانگ۔۔ ہایون کا انداز گرمجوشی سے خالی تھا۔
    تم اب مدہوش ہو جائوگے بہت پی رہے ہو۔
    ہوپ نے جانے کیوں ٹوکا تھا۔
    پیا مدہوش ہونے کیلئے جاتا ہے۔ وہ ہنس کر ٹال گیا تھا۔
    تم سنائو کوئی مسلئہ تو نہیں ہو رہا انکےساتھ رہنے میں۔ گوارا تھوڑی۔ٹیڑھی کھیر ہے ۔۔
    میں اریزہ کے بھی ساتھ رہتی ہوں۔ ہوپ نے جتایا۔
    وہ اسکے لیئے شراب میں سوڈا ملا رہی تھی۔
    اریزہ بہت سادہ سی لڑکی ہے اسکے ساتھ تمہاراآتشیں مزاج
    بھئ پانی ہوجاتا ہوگا۔
    اسکا مشروب بن چکا تھا۔ اس نے اب یہ گلاس اٹھا کر خود بھی اٹھ جانا تھا یہاں سے۔
    پیٹرول بھی دیکھنے میں پانی جیسا ہی ہوتا ہے مگر آگ سے مل کر اسے ٹھنڈا کرنے کی بجائے بھڑکا دیتا ہے۔
    وہ چندی آنکھوں والی لڑکی جانے کیوں زہر خند سی ہوئی تھی۔ ہایون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم ویسے یہاں کیسے آگئیں یہ جگہ تمہارے لیئے نہیں ہے۔
    ایڈون نے بات کرتے کرتے ادھر ادھر دیکھ کر ٹوک ہی دیا۔
    اکیلی رہتی پھر اپارٹمنٹ میں ہوپ بھی جاب پر گئ ہوئی تھی گوارا نے یہاں آنا تھا۔ اسی لیئے۔
    اسے صفائی دینے کی ضرورت تو نہ تھی مگر جانے کیوں اسے ان کلبوں وغیرہ میں گھٹن سی محسوس ہوتی تھی۔اس وقت بھی اسے اپنا آپ تیزی موسیقی پر بے ہنگم انداز میں ناچتے لوگوں میں ٹھیک ٹھاک مس فٹ محسوس ہو رہا تھا۔
    آئو باہر چلتے ہیں۔ ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلا گئ۔ باہر نکل کر اس نے تازہ فضا میں گہری سانس لی تھی۔ اندر حبس سا تھا باہر کی نسبت یا شائد ماحول کا فرق اسے الجھن میں مبتلا کر رہا تھا اسے باہر آکر سکون سا محسوس ہوا۔
    کھانا کھایا ہے تم نے؟
    وہی اسکا ازلی خیال رکھنے والا انداز۔
    نہیں۔۔ جواب حسب توقع تھا۔ وہ مسکرا دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا نے یونہی ڈانس کرتے ہوئے مڑ کر دیکھا تو ہایون ایک کونے میں اکیلا بیٹھا پی رہا تھا وہ یون بن کو بتاتی بھاگ کر اسکے پاس آئی تھی۔
    تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟ اریزہ کہاں ہے؟
    اسکی بات پر ہایون پھیکی سی ہنسی ہنس دیا
    ایڈون اور اریزہ باہر چلے گئے ہیں۔
    کیا ؟ وہ چیخ ہی تو پڑی۔
    کیوں جانے دیا اسے؟ تم اب یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو جائو اسکے پیچھے۔
    گوارا کو حیرت ہورہی تھی ہایون نے مزید ایک گھونٹ بھرا۔
    تم مدہوش ہوگئے ہو ؟
    اسکے سنٹ سے انداز پر گوارا کو شک ہوا۔
    ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسے ایڈون نے جیسے قید تنہائی کی سزا دے ڈالی تھی۔ وہ سارا دن اکیلی کمرے میں پڑی رہتی ۔ایڈون اسکے لیئے باقاعدگی سے کھانا لے آتا تھا۔ مگر وہ یوں تنہارہتے اکیلے پڑے پڑے بے تحاشا ذہنی طور پر تھک سی گئ تھی۔
    ابھی بھی پڑے پڑے اس نے وقت دیکھا تو رات کے نو بج رہے تھے۔ ایڈون اس وقت تک واپس آچکا ہوتا تھا۔ یہی سوچ کر وہ اٹھی۔ بن اور دودھ پڑا ہوا تھا مگر اسکا بالکل کھانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ اس نے دروازہ کھولا تو لابی میں سے خنک ہوا کا جھونکا آیا تھا۔ وہ کچھ بحالی محسوس کر رہی تھی۔ دروازہ احتیاط سے لاک کرکے وہ ایڈون کے کمرے کے پاس آئی۔ کمرہ بند تھا بڑا سا تالہ منہ چڑا رہا تھا۔ وہ بیزار سی ہو کر باہر نکل آئی۔ موسم بدلتا جا رہا تھا۔ اب پہلے سی گرمی نہ تھی ۔ پھر بھی اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔
    اپنے اندر اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے بھٹی سی جل رہی ہو۔ اسکو بھوک بھی لگ رہی تھی مگر پیسے بھی نہ تھے پاس۔ اس نے موبائل نکال کر ایڈون کو کال ملالی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ریستوران جانا پہچانا لگ رہا ہے۔
    اریزہ نے گردن گھما گھما کر دیکھا۔
    تمہیں یاد نہیں جب وہ کورین لڑکا ہمیں مارنے دوڑا تھا تب ہم اسی ریستوران میں ہی تو آکر چھپے تھے۔
    ایڈون نے کہا تو اسکے دماغ کی بتی جلی۔
    آہاں۔ اس نے گردن گھما کر دیکھا تو کچھ فاصلے پر وہ میز تھی جہاں وہ اس دن بیٹھےتھے۔ اس وقت وہاں ایک چندی آنکھوں والا جوڑا بیٹھا تھا۔۔
    یہاں کا مالک مسلمان تھا نا۔ اسے یاد آیا
    ہاں۔ مگر یہاں مینیو میں کھانا سب کورین ہے۔ ایڈون مینیو کھولے بیٹھا تھا۔اسکا فون بار بار تھر تھرا رہا تھا اس نے بیزار ہو کر سائلنٹ کیا اور پلٹ کر رکھ دیا۔ اب اسکرین روشن ہو بھی رہی تھی تو نظر نہیں آرہی تھی۔
    بیف سوپ اسپائیسی چکن فرائئ اور ابلے ہوئے چاول ۔ مکمل کوریائی مینیو۔
    ایڈون نے ہی آرڈر دیا تھا۔ ایک جانب اوپن کچن میں خانساماں کھانا پکاتے دکھائی دے رہے تھے۔
    ہمیں حلال گوشت چاہیئے ہوگا۔
    ایڈون نے تاکید کی تو ویٹر سر ہلاتا چلا گیا۔
    تم نے کیا سوچا ہے آگے پڑھنے کا ؟ ایڈون نے برسبیل تذکرہ پوچھا وہ جواب دینے ہی لگی تھی کہ اچانک زور زور سے کسی کے بولنے کی آواز پر چونک گئ۔ ان سے کچھ فاصلے پر ایک یوٹوبر زور زور سے بولتا ویڈیو بنا رہا تھا۔ شائد فوڈ وی لاگر تھا۔ کھانے پر رواں تبصرہ کرتا وہ ایک ایک میز کے پاس جا کر ان سے رائے طلب کر رہا تھا۔
    کیسا لگا آپکو یہاں کا حلال گوشت؟ وہ پوچھ رہا تھا۔
    ذائقے میں کوئی فرق نہیں حلال گوشت کا ذائقہ بھی عام گوشت جیسا ہی ہوتا ہے۔
    ایک لڑکی بتا رہی تھی
    مجھے تو خالص کورین بیف کا ہی ذائقہ محسوس ہوا۔
    ایک ادھیڑ عمر آدمی انٹرویو دے رہا تھا
    اریزہ دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
    انکی۔باتیں تو سمجھ نہیں آرہی تھی البتہ انکا انداز بڑا دلچسپ تھا۔پورے جملے میں اسے بس حلال ہی سمجھ آرہا تھا۔ وہ یو ٹیوبر ایک ایک میز کے پاس جا کر ان سے رائے طلب کر رہا تھا۔
    یہ کیا پوچھ رہا ہے؟
    وہ ادھر دیکھتی پوچھ ایڈون سے رہی تھی
    یہ پوچھ رہا ہے حلال گوشت اور عام گوشت میں آپکو ذائقے میں کیا فرق محسوس ہوا؟
    ایڈون نے ترجمہ کردیا۔ تبھی وہ لڑکا مڑا اب اسکا رخ انکی
    جانب تھا۔۔
    بہت فرق ہوتا ہوگا۔ اریزہ کو یقین تھا
    یہ سب کہہ رہے ہیں کوئی فرق نہیں محسوس ہوا۔
    ایڈون ہنسا۔ وہ لڑکا ان سے اگلی میز والوں کا انٹرویو لے رہا تھا۔
    اوہ یہ اب ہمارے پاس آئے گا۔ وہ ایکدم سیدھی ہوئی ۔
    ایڈون دونوں بازو میز پر رکھے اسی کو دیکھ رہا تھا
    آنے دو ہم بھی رائے دے دیں گے کہ حلال گوشت کیسا ہوتا ہے ذائقے میں۔
    ایڈون نہ چونکا نہ گڑبڑایا اطمینان سے بولا۔ اریزہ کی مسکراہٹ سمٹ سی گئ۔ لڑکی اپنے اوپر پڑتی نگاہ پہچان لیتی ہے۔ اسےایڈون کا یوں اس پر نظریں جمانا پسند نہیں آیا تھا۔
    میں ہنگل سیکھ رہا ہوں اس وقت اکیڈمی جاتا ہوں آج چھٹی تھی میری۔ تم بھی سیکھ لو یہاں ہنگل کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔ ایڈون بات بدل گیا تھا۔
    کھانا سرو ہو نےلگا تھا وہ چپ ہی رہی۔ سبزیوں اور گوشت سے بھرا ہوا سوپ ساتھ سادے چاول ۔ اب ان دونوں کا میل ملاپ کیسے کرنا تھا وہ ایڈون کو دیکھنے لگی۔ایڈون سوپ کے پیالے میں چاول ڈال رہا تھا۔اس نے ڈرتے ڈرتے تقلید کی
    سوپ میں چاول ڈال کر کھانا زندگی میں پہلی بار کھانے جا رہی تھی۔ اس نے چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔ مختلف مگر خوش ذائقہ تھا سوپ۔ گوشت تھوڑا بساندھ بھرا تھا۔ ہری گوبھی نارنجی گاجر شملہ مرچ ہری پیاز نے گھل مل کر کھانے کا ذائقہ اچھا کر ہی دیا تھا۔
    نوالہ لیکر اس نے جیسے سکھ کی سانس لی۔ اسے پسند آگیا تھا اس نے برملا اظہار کیا
    یہ تو واقعی مزے کا ہے۔
    ایڈون مسکرایا
    تم نہ بھی کہتی تو پتہ چل جاتا تمہارے تاثرات سے۔
    وہ کہہ گیا۔ اریزہ جھینپ گئ۔
    ایک تو جانے کونسے لوگ ہوتے جن کے چہرے کے تاثرات انکے قابو میں ہوتے ہیں ۔مجھ سے تو بالکل تاثرات نہیں چھپائے جاتے اپنے۔ وہ خفا تھی خود سے۔
    خالص ہوتے ہیں وہ لوگ جنکو آپ چہرہ دیکھ کر پڑھ سکیں۔ یہ خوبی ہے تمہاری پاگل
    ایڈون نےٹوکا اسکا انداز اتنا شفقت بھرا تھا جیسے دادا ابا تعریف کر رہے ہوں۔
    جی سمجھ گی داداجان۔ وہ چڑی تھی ایڈون نے کھل کر ہنستے اسکی چڑ پر حظ اٹھایا تھا۔ گلاس وال سے سڑک پر کھڑے ہایون نے ان دونوں کو بہت غور سے دیکھا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون اسکی کال کاٹے گیا تو وہ خود ہی ہمت کرکے اندر آئی اپنے پرس سے کچھ پیسے نکالے اپر پہنا اور قریبی سیون الیون میں چلی آئی۔
    گرمئ میں سوپ نوڈلز کھانا ایک کاردشوار لگا تھا مگر ریمن کے علاوہ وہ اورکیا کھائے پورے کنوینئسن اسٹور میں اسکی مٹھی میں دبے پیسوں کے حساب سے بس ریمن کھانے کی ہی اوقات تھی اسکی۔ اس نے بیزاری سے کپ اٹھایا ریپر اتار کر اس میں ڈسپنسر سے گرم پانی بھرا ساتھ چاپ اسٹکس تھیں چمچ اسے خریدنا پڑتا ۔ سو چاپ اسٹکس اٹھائے ایک کونے والی میز کی جانب بڑھ گئ۔
    کم سن اپنی بھانجی کو گود میں لیئے کنوینیئس اسٹور آیا تھا۔
    اسکوکپ آئیسکریم دلائی۔ بچی فورا کھانے کو مچلی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی بیٹھنے کی جگہ ہو تو اسے بٹھا دے کہ بیزار سی شکل بنائے ایک کونے میں میز کرسی پر بیٹھی سوپ کے اٹھتے دھوئیں پر نگاہ جمایے سنتھئا پر نظر پڑی تو اسکے پاس ہی چلا آیا
    آننیانگ کیسی ہو؟
    وہ اسکے سامنے آن بیٹھا۔ اپنی چھوٹی سی بھانجی کو اس نے سہولت سے میز پر بٹھا دیا تھا۔ بچی نے بلا تاخیر لڈ ہٹا کر آئیس کریم کھانا شروع کردی
    ٹھیک ہوں۔تم کیسے۔ وہ اپنے کسی خیال سے چونکی تھی۔
    سو ذرا سا بیزاری سے ہی جواب دیا تھا۔
    کیا ہوا ہے تمہیں ؟ بیمار ہو؟
    اسکی رنگت اتنی پیلی ہو رہی تھی کہ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا وہ اسکے پوچھنے پر سٹپٹا سی گئ
    نہیں تو۔ کیوں۔
    اسکی گھبراہٹ کو اس نے پوری طرح محسوس کیا تھا۔
    کمزور لگ رہی ہو۔پھر ایڈون سے لڑائی ہوئی ہے؟
    اس نے یونہی پوچھا تھا۔
    نہیں سب ٹھیک ہے۔
    وہ سر ہلا کر کپ نوڈلز پر جھک گئ۔چاپ اسٹکس سے کھولتے ہوئے بھاپ اڑاتے سوپ سے نوڈلز نکال کر کھانے کی کوشش میں اسکے ہونٹ بری طرح جلے تھے۔ وہ ایکدم بلبلا کر سیدھی ہوئی۔ بچی کی اسکی جانب پشت تھی وہ مڑکر اسے غور سے دیکھنے لگی۔ اپنی آئسکریم بھی اسکی جانب بڑھا دی۔ بمشکل سال بھر کی بچی تھی گوری چٹی دو پونیاں بنائے آئسکریم اسکے پورے منہ پر لگی تھی ۔ بہت شوق سے کھا رہی تھی پھر بھی آئسکریم اور چمچ اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔
    ہم اسکے ساتھ عموما سوجو پیتے ہیں مگر تم لوگوں کو جانے شراب سے کیا الرجی ہے۔ خیر یہ لو سوڈا۔
    کم سن اٹھ کر کین سوڈا لے آیا تھا لا کر اسکے سامنے رکھا۔ ساتھ ہی پلاسٹک کے کانٹے کا بھی پیکٹ تھا۔ خود اپنے لیئے اس نے سوجو لی تھی۔
    سنتھیا نے فورا کین کھول کر منہ سے لگا لیا تھا۔
    بچی اب کم سن کی جانب آئسکریم بڑھا رہی تھی۔
    کم سن نے ایک چمچ لیکر اس بچی کو چوما تھا۔ سنتھیا کو ایک درد سا اپنے دل میں اٹھتا محسوس ہوا تھا۔
    بچے تو ایسے ہی ہوتے ہیں راہ چلتے ملیں تو پیار آجائے مگرایڈون کے چہرے پر اس ذکر سے کتنی بیزاری اور اکتاہٹ آجاتی ہے۔ کیا صرف اسلیئے کہ وہ اس وقت اس بچے کے لیئے ذہنی طور پر تیار نہیں یا اسے سرے سے میرے اور اس بچے میں دلچسپی نہیں۔۔ نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ اچانک ہوا ہے یہ سب اسلییے وہ ایسے۔۔۔۔۔
    بے خیالی میں کم سن پر نظر جمائے وہ اور ہی سوچوں میں گم تھی۔
    کم سن کی اس پر نظر پڑی تو اسکی غائب دماغی محسوس کر لی۔ کانٹے کا ریپر کھول کر کانٹا اسکی جانب بڑھایا
    یہ لو چاپ اسٹکس سے کھانے میں اور منہ جلالوگی۔
    کم سن کے کہنے پر وہ چونک کے خجل سی ہوئی۔
    شکریہ۔ اس نے کانٹا تھام لیا۔ کانٹے سے چھوٹے چھوٹے لقمے بناتی وہ تیزی سے کھا رہی تھی جیسے بہت بھوک لگی ہو۔ وہ یقینا اس وقت یا تو پریشان تھی یا بھوکی۔ یا دونوں کم سن کا اندازہ تھا۔ خیر دونوں ہی صورتوں میں وہ بالکل اسے منہ لگانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی یہ اندازہ ہوگیا تھا۔
    کرم۔ کہہ کر کم سن اٹھنے لگا۔ بچی کو احتیاط سے گود میں اٹھا کر مڑا جب اسے پیچھے سے سنتھیا کی آواز سنائی دی۔
    یہ بچی کون ہے۔
    اس نے سر اٹھا کر دئکھا تو سامنے جگہ خالی تھی۔ کم سن جانے لگا تھا بتا کر یا بنا بتائے اسے اب احساس ہوا تھا۔ جبکہ وہ جاتے جاتے رک گیا۔
    یہ میرے باپ کی بیوی کی بیٹی کی بیٹی ہے۔
    اسے شرارت سوجھی تھی۔ مسکراہٹ دبا کر اسکی جانب مڑ کر سنجیدگی سے بولا
    سنتھیا واقعی چکرا گئ۔ ذہن میں حساب لگا کر تھوڑا خفگی سے بولی
    تمہاری بھانجی۔ بہن کی بیٹی ہوئی نا۔
    سنتھیا کو اسکے اتنے دور کا رشتہ بتانے پر حیرت ہوئی تھی۔
    کم سن ہنسا۔
    میرے باپ کی بیوی میری ماں نہیں ہے اور بیٹی میرے باپ کی بیٹی نہیں ہے تو یہ میری بہن کی بیٹی تو کہیں سے نہ ہوئی نا۔
    اس نے سمجھایا۔ سنتھیا اسے گھورتی رہی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھا پی کر اٹھنے ہی لگے تھے جب گوارا کا فون آیا تھا ۔
    کہاں ہو؟ ہم گھر جانے لگے ہیں۔
    وہ چھوٹتے ہی بولی تھی۔
    میں تو پتہ نہیں۔ اس کو سمجھ نہ آیا کیا جگہ بتائے۔
    گوارا لوگ گھر جانے لگے ہیں پوچھ رہی ہے میں کہاں ہوں۔
    کیا بتائوں؟ وہ ایڈون سے پوچھ رہی تھی۔
    گوارا کو بتا دو تمہیں میں گھر چھوڑ دوں گا۔
    ایڈون نیپکن سے منہ پونچھتے اطمینان سے بولا۔
    کہہ تو ایسے رہے ہو جیسے لینڈ کروزر کھڑی ہے باہر تمہاری۔
    اریزہ نے ٹوک دیا۔ واپس لوکل ہی جانا تھا تو بلا وجہ ایڈون کو چکر لگوانے کا فائدہ
    تم نے لینڈ کروزر میں ہی جانا ہے تو ٹھیک ہے ارینج کر لیتے ہیں۔
    وہ کہاں ہاتھ آنے والا تھا۔ اریزہ اسے گھور کر رہ گئ
    گوارا تم جائو میں آجائوں گی گھر۔ اس نے یہی کہہ دیا
    اچھا سنو ہایون وہیں ہوگا اسے کہہ دیتی ہوں تمہیں لے آئے گا۔
    گوارا نے یہی بتانا تھا اسے۔ اسکا جواب سنے بنا کال بند بھی کردی۔
    ارے ۔۔ نہیں۔۔ رہنے دو۔ اریزہ کے کہنے تک کال ختم ہوچکی تھی۔
    چلو چلیں۔ ایڈون اٹھ کھڑا ہوا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی گلی میں داخل ہونے تک
    کم سن ساری کہانی سناتا آیا تھا۔ وہ اپنے بیزار مزاج کے برعکس اس وقت سب بھول بھال کے دلچسپی سے سنتی آئی تھی۔ بات ختم ہونے پر تاسف سے بولی
    مجھے حیرت نہیں ہوئی۔ ہمارے یہاں بھی سوتیلے بھائیوں کے ایسے ہی خوفناک قصے مشہور ہیں۔جانے لوگ جائداد کے پیچھے اتنے تنگ دل کیوں ہو جاتے ہیں۔
    انسان بنیادی طور پر خود غرض ہوتا ہے۔ شراکت بٹوارا اسکے پسند ہی نہیں بس لوگوں کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں کچھ کے نزدیک زمین جائداد اتنی اہم ہے تو کسی کے نزدیک لوگ ۔
    کم سن رسان سے بولا ۔ اسکی بھانجی اسکے کندھے سے لگی اونگھ رہی تھی وہ قدم اٹھاتے اسے دھیرے دھیرے تھپک رہا تھا۔
    اسکا پہلا تاثر اسے یاد تھا بے نیاز خود میں مگن لاپروا دکھائی دینے والے کم سن کا یہ بھی رخ تھا۔ سچ ہے انسان کے بارے میں درست اندازہ لگانا آسان نہیں۔
    گلی کی اسٹریٹ لائیٹ اتنی کم تھی کہ عجیب پر اسرار سی لگ رہی تھی۔ جاتے وقت تو اسے احساس نہ ہوا مگر اس وقت یہ اندھیرا نظر انداز کرنے والا نہ تھا۔اس نے سوچ کے جھرجھری سی لی۔ اگر کم سن نہ ہوتا تو وہ اکیلی آرہی ہوتی یہاں۔۔
    تمہاری سوتیلی والدہ کا گھر یہاں سے قریب ہے۔
    اس کا گوشی وون آگیا تھا۔ کم سن کا گھر نہیں آیاتھا جبکہ وہ ساتھ یہی کہہ کر آیا تھا کہ اسکا گھر قریب ہے۔
    یہاں سے تو نہیں کنوینئس اسٹور سے قریب تھا۔
    وہ سادگی سے بولا۔
    ہیں تو پھر تم یہاں اس راستے کیوں آگئے؟
    وہ حیران ہو کر بولی۔
    تمہیں چھوڑنے آیا ہوں ۔ کم سن کا جواب مختصر تھا۔ اسکی بھانجی سو چکی تھی۔
    اب تم واپس جائو گے۔ ؟ اسکا انداز جرح کرنے والا تھا
    یہاں سے بھی راستہ ہے آگے سے دوگلیوں بعد تھوڑا لمبا روٹ ہے ۔ کرم
    وہ بچی کی وجہ سے ذرا سا سر جھک کر الوداعیہ کہتا جانے لگا۔
    شکریہ۔ اس نے زور سے کہا۔
    کم سن کے لیئے یہ غیر متوقع تھا سو پلٹ کر حیرت سے دیکھا ۔ وہ مسکرادی۔
    اس نیم تاریک گلی میں اکیلے آنا واقعی مشکل ہوتا میرے لیئے۔ شکریہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایڈون اسے ٹیکسی میں خود چھوڑنے آیا تھا۔اسکی زحمت پر دل ہی دل میں ممنون ہوئی تھی۔ ٹیکسی کا کرایہ دینے کی کوشش بھی ایڈون نے ناکام کردی۔
    ابھی مجھے بھی واپس جانا ہے اسی ٹیکسی میں۔ ایڈون کا بہانہ بوگس لہجہ اٹل تھا۔ وہ سر ہلاتی گاڑی سے اتر آئی۔ ٹیکسی آگے بڑھ گئ تو پیشانی مسلتی وہ کمپائونڈ کی جانب بڑھی۔
    ہایون کی گاڑی ٹیکسی گزرنے کے بعد وہاں چند لمحے رکی تھی۔ تیز تیز قدم اٹھاتئ اریزہ اندر چلی گئ تو اس نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ بس اسٹاپ سے پیدل آتی تھکے تھکے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوپ کے پاس سے گزرا تھا ہایون اور اسے دیکھا تک نہ تھا۔
    اسکے قدم مزید سست ہوتے گئے۔
    اریزہ پر اسے جی بھر کر رشک آیا تھا۔۔
    کچھ ذیادہ ہی غیر اہم ہوں میں ۔۔ اس نے یاسیت سے سوچا۔
    سست روی سے چلتی جب وہ اوپر پہنچی تب تک اریزہ کپڑے بدل کر کچن میں کھٹر پٹر کر رہی تھی گوارا بھی کچن کائونٹر کے پاس بیٹھی اسے کوئی قصہ سنا رہی تھی ۔ اسے دیکھ کر اریزہ نے خیر سگالی مسکراہٹ دیتے ہوئے پوچھا تھا۔
    کافی پیوگی؟
    نہیں ۔ یہ سونے کا وقت ہے اور تم دونوں بھی پی کر میرے سر پر بک بک کرنے کی بجائے اس وقت کمرے میں آنا جب خاموشی سے سونے کا ارادہ ہو۔
    بے مروتی تو ختم تھی اس وقت تو بدلحاظی بھی عروج پر تھی۔ انہیں باتیں سناتی وہ انکا جواب سننے رکی نہ تھی۔دھاڑ سے دروازہ کھولتی کمرے کے اندر
    اسکو اٹھا کر ٹیرس سے لٹکادوں؟
    گوارا نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
    تم لٹکانا میں اسکا ہاتھ تھام لوں گی۔ تو تم چھوڑ دینا اسے
    اریزہ نے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے اسکی شکل دیکھی۔
    کیوں؟ گوارا حیران ہوئی۔
    کیونکہ پھر اسکا سارا وزن میرے ہاتھ میں ہوگا اور ایک جھٹکے سے میں اپنا ہاتھ چھڑا لوں گی۔
    وہ دانت کچکچا کر بولی گوارا قہقہہ لگا کر ہنسی
    سچی۔ یار پہلے تو اسکے ساتھ ہمدردی ہوئی تھی تھوڑی مجھے مگر یہ بد لحاظ بدتمیز لڑکی کسی اچھے جزبے کے قابل ہی نہیں ہے۔
    اس نے دانت کچکچائے۔ کمرے کا کھلا دروازہ دھاڑ سے بند ہوا تھا۔
    اسکی لن ترانی شاید نہیں یقینا اسکے کانوں تک پہنچ چکی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا اور وہ اسے مزید تنگ کرنے کی بجائے کافی پینے ٹیرس میں چلی آئی تھیں۔ خنک سی ہوا گرم گرم کافی سیول کی جگ مگ روشنی۔ طبیعت پر اچھا اثرڈال رہی تھیں۔
    یار سیول میری جان ہے۔ یہاں کی بات الگ ہی ہے۔
    گوارا نے ریلنگ پر کہنیاں ٹکا کر اس ہوا کو گہری سانس لیکر خود میں سمویا پھر کافی کا گھونٹ بھرنے لگی۔ کم و بیش اسی پوز میں کافی کا مگ تھامے اریزہ نے اسکو یاددلانا ضروری سمجھا
    یہی بات آخری بار اپنے گائوں کے بارے میں کہی تھی تم نے۔
    ہاں تو کیا ہوا۔ گوارا ڈھٹائی سے ہنسی۔۔
    میری جان سیول بھی ہے اور میرا گائوں بھی۔ سچی اریزہ اب جب میں گائوں جائوں نا تم بھی چلنا میرے ساتھ ۔بہت خوبصورت جگہ ہے قسم سے۔۔ اپنا باغ دکھائوں گی۔ ہے تو ویسے ٹھیکےکا مگر ہم اپنے باپ کا ہی سمجھتے ہیں ۔ رضاکارانہ طور پر ایک دن کام کرتے ہیں اور دل بھر کر تازہ پھل توڑ کر کھاتے ہیں۔ نارنگیوں کی کاشت ہوتی ہے وہاں۔ سچی گائوں کی زندگی کا مزا ہی الگ ہے
    گوارا خیالی طور پر اپنے گائوں میں پہنچ چکی تھی۔ چمکتی آنکھیں دبا دبا جوش۔
    ضرور چلوں گئ ۔میں نے آج تک گائوں نہیں دیکھا۔
    اس نے تو یونہی بات کی تھی مگر گوارا حیران رہ گئ
    کیوں پاکستان میں گائوں نہیں؟
    ہیں۔ پاکستانی کی ستر فیصد آبادی گائوں کی رہائشی ہے۔ مگر ہمارے کوئی عزیز وغیرہ بھی گائوں کے رہنے والے نہیں۔ سب شہروں میں بسے ہیں۔
    اس نے وضاحت کی ۔ گوارا سر ہلا کر رہ گئ جغرافیہ میں اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
    اریزہ نے اسے غور سے دیکھا۔
    گائوں کی گوری کی اصطلاح پر ہرگز بھی گوارا نہیں اترتی تھی۔ کسی طور وہ سیول کی رہائشی شہری لڑکی سے کم نہ تھی۔اسے اپنے گائوں سے تعلق پر کوئی احساس کمتری نہ تھا۔۔ فخر اسکے لہجے سے چھلکتا تھا اپنے گائوں کا حوالہ دینا اسکے لیئے قابل فخر تھا ایک ہم لوگ ہیں ۔ کسی کا گائوں سے تعلق ہے اسے پینڈو کہتے اسکے لہجے کا تمسخر اڑاتے۔اسے افسوس ہوا ۔ ہم لوگ خاصی اخلاقی برائی کا شکار ہیں۔
    اچھا ہاں یاد آیا۔ وہ کافی پیتے پیتے یاد آنے پر چونکی۔۔
    وہ کارڈ گنگشن نونا کی منگنی کا تھا۔ ہوپ کو تو براہ راست انہوں نے کارڈ دیا ہایون نے میرے اور تمہارے لیئے دعوت نامہ دیا ۔ مجھے تو خیر جھونگے میں دیا۔ وہ بلاتا بھی نہ تو میں نے جانا تھا۔ وہ ہنسی۔
    میں نے کہا بھی میں تمہیں بتا کر لے آئوں گی منگنی میں
    خیر تمہارے لیئے بطور خاص کارڈ دیا اس نے اسے لگا تھا کارڈ نہ دیا تو تم جائوگئ نہیں۔ سو باقائدہ دعوت ہے آپکو آنسہ اریزہ ۔۔
    وہ شرارت سے بول رہی تھی اریزہ کھسیا گئ۔ اسکا اندازہ درست تھا۔ چاہے وہ نونا کی منگنی کا ہی کارڈ کیوں نہ ہوتا وہ نہ جاتی یوں منہ اٹھا کے بنا دعوت۔۔
    کب ہے؟ اریزہ نے پوچھا تو وہ سوچ میں پڑی
    تاریخ تو نہیں پتہ مگراسی ہفتے ہے۔ شائد آخرمیں۔
    پتہ ہے مجھے دل سے خوشی ہوئی ہے انکی شادی کا سن کے۔ انکے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔
    کیا ہوا ہے انکے ساتھ؟ اریزہ کو حیرت ہوئئ
    وہ تو خاصی خوش باش نظر آتی ہیں۔
    ہاں ہیں تو وہ بہت مثبت شخصیت کی مالک۔ گوارا نے سر ہلایا۔
    انہوں نے اپنے ساتھ بیتے ماضی کو سر پر سوار نہیں کر رکھا۔
    دراصل یہ گنگشن نونا کی دوسری شادی ہو رہی ہے۔ انکی پہلی شادی جب ہم ہائی اسکول میں تھے تب ہوئی تھی۔
    گوارا بتا رہی تھئ۔۔ اریزہ حیرت سے سن رہی تھی۔ ایسے بھی ہوتا ہے دنیا میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دو گھنٹے قبل۔۔۔

    ایڈون ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ وہ بیزار سی ہوکر واپس اپنے کمرے میں چلی آئی۔ وقت گزاری کیلئے موبائل آن کر لیا۔ نیٹ فلیکس اچھے وقتوں میں سبسکرائب کیا ہوا تھا
    بیزاری سے اس پر ڈرامہ یا فلم ڈھونڈتی رہی مگر کسی میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ اس نے یونہی یو ٹیوب کھول لیا۔ موبائل پر لوکیشن آن تھی۔ سو سارے کوریائی مواد ہی نیوز فیڈ میں آرہے تھے۔
    ایک تو یو ٹیوب کا ملک کیوں بدل گیا۔ ؟ پھر اپڈیٹ آئی ہوگی مصیبت۔
    اس نے جھلا کرویڈیوز اوپر نیچے کیں لائیو ٹرینڈنگ پر ایک ویڈیو چل رہی تھی۔ جو اسکا انگوٹھا لگنے سے چل پڑی۔
    وہ کوئی کورین یوٹیوبر تھا جو ایک ریستوران میں لوگوں سے کھانے پر رائے لے رہا تھا۔ ایک چندی آنکھوں والے کا انٹرویو لیکر وہ مڑا
    یہاں بیٹھا ہے ایک غیر ملکی جوڑا جو مزے لیکر کورین آکس بلڈ سوپ کھا رہا ہے ۔۔

    آئیے ان سے پوچھتے ہیں انکو حلال کھانا کیسا لگا ؟
    مگر پہلے ہم ان سے اجازت لے لیں۔
    کیمرے کا رخ زمین کی جانب تھا ۔
    ہم لائیو جا رہے ہیں موکجا چینل کی۔جانب سے کیا آپ ہماری اس براہ راست ویڈیو کا حصہ بنیں گے؟
    وہ بڑی تمیز سے انگریزی میں پوچھ رہا تھا۔
    اوکے سیمز فائن ٹو می۔
    مانوس آواز ویڈیو پر کانٹے کا بٹن دبا کر بند کرتے کرتے وہ رکی تھی۔ کیمرے کا رخ اب اس غیر ملکی جوڑے کی جانب کر دیا گیا تھا۔
    وہ بے یقینئ سے دیکھتی اٹھ بیٹھئ۔
    دونوں چہرے مانوس تھے۔ اور اکٹھے بھی تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے

    Kesi lagi Apko aaj ki Salam Korea ki qist? Rate us below

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

  • Salam Korea Episode 24

    Salam Korea
    by vaiza zaidi

    seoul korea based urdu web travel novel featuring seoul korea salam korea episode 24 by vaiza zaidi
    Salam Korea Episode 24


    قسط 24
    اسکا فون بجے جا رہا تھا کافی دیر سے۔ گوارا باورچی خانے میں کھڑی کافی بنا رہی تھی جب مسلسل بجتی گھنٹی سے تنگ آکر کمرے میں آئئ۔۔ اریزہ بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھے تھی۔ نگاہیں اپنے سامنے اہتمام سے رکھے فون پر ہی تھیں۔جو بجے جا رہا تھا بجے جا رہا تھا۔
    شاباش اعلی۔ سامنے فون رکھا ہے بج رہا ہے تم بیٹھی دیکھ رہی ہو۔ اٹھائو نا
    وہ جھلائی
    بجنے دو۔ نہیں اٹھانا۔
    وہ منہ پھلا کر بولی۔
    گوارا نے ایک نظر دیکھا اور آگے بڑھ کر اٹھا لیا۔اریزہ ایکدم الرٹ ہوئئ
    خبردار مت اٹھانا۔۔
    اس نے انگلی اٹھا کر دھمکی دینے والے انداز میں کہا۔
    گوارا نے اسے گھور کر دیکھا۔
    فون میں ایک سہولت یہ ہوتی ہے کہ فون کی بیل بند کردی جائے تاکہ فالتو شور نہ ہو دوسری سہولت ناپسندیدہ کال کو نظر انداز کرنے کیلئے اسے بلاک کرنے کی بھی۔
    اس نے اسکا فون سائلنٹ کرکے نگاہوں کے سامنے لہرایا۔
    جانتی ہوں۔ اس نے سر جھکالیا
    مگر بلاک نہیں کر سکتی۔ بھائی ہے اور اٹھا نا بھی نہیں چاہتی کیونکہ اس خبیث بھائی نے رج کے زلیل کیا ہے مجھے۔
    اسے شدید غصہ آیا ہوا تھا۔
    گوارا ہنس پڑی۔
    اچھا چلو آئو ہم مل کر ٹیرس میں گپیں مارتے ہوئے کافی پئیں۔۔۔
    اس کے بہلانے والے انداز پر وہ منہ پھلاتی اٹھ گئ۔تبھی موبائل پھر بج اٹھا تھا۔ اس نے سرسری سی نگاہ ڈالی اس بار پاپا کی کال تھی سو لپک کر فون اٹھا لیا۔
    اب کیوں اٹھا لیا فون ؟ گوارا نے آنکھیں پھاڑیں۔
    پاپا ہیں۔
    اس نے بتا کر فورا فون اٹھا لیا۔
    اسلام و علیکم پاپا کیسے ہیں؟
    اس کے جوش و خروش سے ظاہر تھا وہ کتنا یاد کر رہی تھی باپ کو۔ گوارا کے ساتھ کمرے سے نکل کر اسکا ارادہ لائونج میں بیٹھنے کا تھا وہیں مڑی مگر وہاں صوفے پر ہوپ دراز کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی سو پھر یو ٹرن لیتی ٹیرس میں آگئ۔
    صارم جلا بھنا بول رہا تھا۔
    پتہ تھا تمہارے ہاتھ میں فون ہوگا پھر بھی نہیں اٹھا رہی تھیں۔
    حد ہوتی ہے اریزہ اتنا کمینہ پن۔۔۔
    اس سے بھی ذیادہ۔ تمہارا فون نہیں اٹھا رہی تھی تو سمجھ نہیں آئی کہ تمہاری منحوس آواز بھی سننا نہیں چاہ رہی ڈھیٹ بن کے پاپا کے نمبر سے بھی فون ملا لیا۔
    اسکی بات کاٹ کر وہ بنا لحاظ بولتی چلی گئ۔
    تم ہوگئ منحوس لڑکی ایک تو سب تمہاری فکر میں پاگل ہو رہے تمہارے مزاج ہی۔۔
    جوابا وہ بھنایا مگر پاپا نے اسکے ہاتھ سے فون لے لیا۔
    اچھا بس میری بیٹئ کو کچھ نہ کہوجائو تم اپنی خالہ سے کہو چائے بنا کر بھیجیں میرے لیئے۔
    اس کو پہلی فرصت میں چلتا کیا وہ انہیں شاکی نظروں سے دیکھتا پیر پٹختا چلا گیا۔
    باپ کی حمایت اسے ڈھیر ساری خوشی دے گئ تھئ اتنی بڑی مسکراہٹ اسکے چہرے پر آگئ تھی۔
    کیسی ہو بیٹا۔۔ اطمینان سے اپنی اسٹڈی روم کی میز پر آک ربیٹھتے وہ فکرمندی سے پوچھ رہے تھے۔
    میں ٹھیک ہوں پاپا۔۔ مس یو سو مچ۔
    وہ اب ٹیرس میں ٹہل ٹہل کر وہ فون پر بات کررہی تھی۔ ہوا میں اچھی خاصی خنکی محسوس ہونے لگی تھئ۔
    مس یو ٹو بیٹا۔ آجائو بیٹا واپس اگلے سمسٹر میں پھر آجانا۔۔
    پاپا سے اس نے کچھ نہیں چھپایا تھا۔۔
    واپس آنا مشکل ہو جائے گا پاپا۔ کیونکہ آئی مس یو ٹو۔۔
    اسکی آواز بھرا گئ۔۔
    تو کوئی بات نہیں یہیں پڑھ لینا بیٹا میں تمہاری ماں کو سمجھادوں گا جب تک میری بیٹی کی تعلیم مکمل نہیں ہوگی اسکی شادی وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ہوگا ۔۔
    وہ اسے منا رہے تھے مان بھی جاتی اگر اسے ایک فیصد بھی اپنی ماں پر بھروسہ ہوتا
    وہ بہت ضدی ہیں آپ انہیں کتنا روکیں گے۔۔۔ پتہ ہے پاپا یہاں میں نے جاب شروع کر دی ہے خود بس سے آتی ہوں جاتی ہوں۔ شاپنگ بھی کر لیتی ہوں اور اب مجھے راتوں کو ڈرائونے خواب بھی نہیں آتے۔ یہاں گھومتے پھرتے یہ ڈربھی نہیں لگتا کہ کہیں کوئی دھماکا ہوجائے گا۔
    بیٹا جاب کی کیا ضرورت پڑ گئ۔ میں اور پیسے بھجوا دیتا ہوں ۔ وہ تڑپ ہی اٹھے۔۔
    پاپا بات ضرورت کی نہیں ہے مجھے چوزہ بن کے زندگی نہیں گزارنی وہاں اکیلے گاڑی میں بھی نکلنے نہیں دیتی تھیں امی میں یہاں سکون سے ہوں پاپا۔ میرا بس چلے تو یہیں رہ جائوں کبھی واپس نہ آئوں۔۔
    اسکے انداز میں جو بے چینی اور بےزاری تھی یقینا انکے غلط رویوں نے ہی پیدا کی تھی وہ اس وقت اسے جتنا بھی بلا لیں وہ آ بھی جائے تو بھئ یقینا دل سے ان سے خفا ہی رہے گی اور وہ اس سے اتنے شرمندہ تھے کہ اسکے دل سے ہلکا سا بھی ملال مٹ جانے تک اسکو چھیڑنا نہیں چاہتے تھے۔۔
    ملنے تو آیا کروگی نا مجھ سے؟ انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تواسے بھی احساس ہوا کیا فضول بکے جا رہی ہوں۔
    میں آجاتی ہوں پاپا اگلے سمسٹر کیلئے اپلائی کردوں گی ۔۔
    وہ فورا شرمندہ ہوئی
    اسکے فورا پیترا بدلنے پر وہ ہنس دیئے۔
    اچھا بس اتنئ فرمانبرداری کی ضرورت نہیں۔ یہ بتائو ہاسٹل کب چھوڑنا ہے؟ مائکل کا فون آیا تھا مجھے بتا رہا تھا رہائش الگ کرنی پڑے گی کہہ رہا تھا اریزہ اور سنتھیا اکٹھے رہیں تو اطمینان رہے گا ایڈون کوئی گھر یا اپارٹمنٹ کا انتظام کرے گا تو دونوں بہنیں مل کر رہیں۔ تم دونوں ایک ہی جگہ انتظام کرنا تاکہ مجھے بھی اطمینان رہے اور پیسوں کی فکر مت کرنا جتنے چاہیئے ہوں بتا دینا۔ میں بھجوا دوں گا۔ ٹھیک ہے۔۔ ۔۔۔۔ بولتے بولتے انہیں طویل خاموشی کا احساس ہوا
    ہیلو اریزہ۔۔ وہ سمجھے کال۔کٹ گئ ہے
    جی بابا۔۔ وہ چونکی۔
    کیا ہوا بیٹا چپ کیوں ہو گئیں؟ سب ٹھیک ہے نا؟ کوئی مسلئہ تو نہیں۔ وہ حسب عادت پریشان ہو گئے۔
    نہیں ۔ ٹھیک ہے میں ویسے انتظام کر چکی ہوں۔ میری ایک کورین دوست ہے اسکا اپارٹمنٹ ہے۔ کرایہ بھی مناسب ہے۔ سنتھیا کا مسلئہ نہیں ایڈون ہے اسکے ساتھ۔
    اس نے لمحہ بھر ہی سوچا۔ جتنے مائکل انکل اور بابا کے تعلقات تھے کچھ بعید نہیں تھا وہ سر ہوجاتے جبکہ اب اسے سنتھیا کے ساتھ اپارٹمنٹ شئیر کرنا ناممکن لگ رہا تھا۔
    بیٹا تو سنتھیا کو اپنے ساتھ ایڈجسٹ کر لو نا۔ مائکل کافی فکر مند تھا۔اسے سنتھیا کی فکر ہو رہی تھی۔ لا ابالی سی ہے اریزہ سمجھدار ہے اسکے ساتھ رہے گی تومجھے اطمینان رہے گا میں نے کہا میری یہی رائے اریزہ کے بارے میں ہے سنتھیا سمجھدار بچی ہے اریزہ کے ساتھ رہے گی تو مجھے اطمینان رہے گا۔ وہ ہلکے پھلکے انداز میں ہنس کر بتا رہے اریزہ کا منہ اتر گیا۔
    بابا آپ نے انکو ایسے ہی کہہ دیا۔۔
    اسے برا لگا تھا کم از کم اسکے بارے میں ایسا کسی اور کے سامنے نہیں کہنا چاہیئے تھا۔
    بالکل نہیں۔ وہ مسکرا دیئے۔مزاق کر رہا تھا بیٹا۔
    اسکو کیوں کہتا جبکہ مجھے پتہ ہے میری بیٹی بہت سمجھدار اور ذمہ دار ہے۔ اس پربھروسہ ہے مجھے جبھی تو اتنی دور بھیج دیا ۔ انکے لہجے میں فخر بول رہا تھا۔
    واقعی پاپا آپ ایسا سمجھتے ہیں۔۔ وہ سنجیدہ سی ہوگئی۔۔
    بالکل۔ سو فیصد۔ انکے انداز میں تیقن تھا۔
    میری بیٹی ایک ذہین سمجھدار مضبوط شخصیت کی مالک لڑکی ہے۔ مجھے اس پر فخر ہے۔۔۔
    انکا مضبوط لہجہ تھا۔ جانے وہ اس کو جتا رہے تھے یا سچ مچ ایسا سمجھتے تھے۔ وہ اندازہ نہ لگا پائی۔
    اچھا خیر سنتھیا کو اپنے ساتھ رکھنا مائکل نے بہت تاکید کی ہے مجھے۔
    انہیں خیال آیا تو پھر تاکید کر ڈالی۔
    بابا سنتھیا شائد میرے ساتھ رہنے پر نہ مانے۔ وہ اب کافی بدل گئ ہے پھر اسکا خیال رکھنے کو ایڈون ہے نا۔ وہ اسکو کسی اچھی جگہ۔۔
    اس سے مزید جھوٹ نہ بولا گیا۔ جوابا بابا چپ ہوگئے تھے۔ پھر چند لمحے توقف سے بولے۔
    بیٹا ایڈون اسکا خیال رکھتا ہوگا مگر مائکل نے مجھے خاص تاکید کی ہے۔ وہ اسکا منگیتر ہے خاندان کا لڑکا سہی مگر رشتوں کی نزاکتیں ہوتی ہیں۔۔ اب اس نے مجھے خاص تاکید کی ہے کہ تم سنتھیا کے ساتھ رہو تو کوئی وجہ ہوگی نا۔
    انکی بات پر اسکے ذہن میں پچھلے کئی مہینے کے واقعات گھوم سے گئے۔۔
    تمہاری سہیلی ہے تم بچپن سے واقف ہو اس سے اسکے ساتھ رہنا آسان ہوگا تمہارے لیئے بھی۔ اپنی اس کورین سہیلی سے کہو نا اسکی بھی جگہ بنا لے اپنے گھر میں۔ پیسے کی فکر نہ کرنا بس بیٹا۔۔۔۔
    ٹھیک ہے بابا۔ کہتی ہوں اسے۔
    وہ مزید کیا بحث کرتی۔
    اچھا جاب کہاں کی ہے؟ کیا کام ہے؟
    انہیں خیال آیا۔۔ وہ سٹپٹا سی گئ۔
    بس وہ۔۔ یہ۔ بابا وہ چھوٹی سی جاب ہے۔ ری۔۔ ریسسیپشن پر کھڑا ہونا ہے ایک چھوٹی سی کمپنی ہے۔
    کچھ نہ کچھ سوجھ گیا۔
    اچھا ۔۔ انکو پسند تو نہ آیا مگر قصدا ناگواری کا اظہار نہ کیا
    چلو جب تک فارغ ہو کر لو پھر جیسے ہی پڑھائی شروع ہو چھوڑ دینا۔ ٹھیک ہے خود کو ہلکان کرنے کی ضرورت نہیں۔
    انہیں اب اسکی فکر ہو رہی تھئ۔
    ٹھیک ہے۔ بابا ۔۔ وہ مسکرا دی۔
    اچھا چلو اپنا خیال رکھنا اور صارم سے خفا نہ ہوا کرو تم فون نہیں اٹھا رہی تھیں اتنا پریشان ہوا وا تھا۔ پیار کرتا ہے بھائی بس ایسے ہی چھیڑا کرتے ہیں انکی باتوں کو دل پر نہیں لگاتے۔
    انہوں نے لگے ہاتھوں ہلکی پھلکی کلاس بھی لے لی
    ٹھیک ہے بابا۔ اپنا خیال رکھیئے گا ۔۔ اس نے بھی بحث نہ کی۔
    جی خدا حافظ۔۔۔
    فون بند کرکے دانت کچکچا کر ٹہلنے لگی۔
    کمینہ بابا نے ذکر تک نہیں کیا پلاٹ کا اس کو ذیادہ درد اٹھ رہے تھے۔ مجھے ایویں گلٹی کرا دیا۔ اب تو جھوٹ بھی بول دیا کہ۔جاب کر رہی ہوں۔ اب تو پیسے منگوانے سے بھی گئ۔
    یہاں تو موسم۔۔ اس نے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔
    بادل چھا رہے تھے۔ خنک سی چبھنے والی ہوا۔
    یہاں تو گرمیاں بھئ سردیوں سے کم نہیں۔ ایک میں گدھی تھوڑا سا جغرافیہ ہی پڑھ آتی کیسا موسم ہوتا کوریا کا دو چار موٹے جوڑے لے آتئ سردیوں کے نہ سہی لان کی بجائے کاٹن کے ہی لے آتی۔
    موبائل ہاتھ میں گھماتئ سست روی سے چکر کاٹ کے مڑی تو گوارا کافی کے مگ تھامے حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
    تم بول بول کے سوچتی ہو ؟
    نہیں۔۔ وہ کھسیائئ۔ بس اپنی اردو کوہوا لگا رہی تھی مجھے لگ رہا انگریزی بول بول کے میرا منہ جمتا جا رہا ہے۔۔
    اس نے باقائدہ اپنے گال تھپتھپا کر کہا تھا۔
    تو کورین سیکھو نا۔
    گوارا کا مشورہ وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    پھر مستقل خراش رہنے لگے گی گلے میں۔ دو تین تو سر نکلتے ہیں سیدھے گلے کے۔ ورنہ مفہوم ہی بدل جاتا ایک ہی لفظ کا۔ قدر کرو پاکستانیو اردو کیسی آرامدہ زبان ہے نہ گلے کی آوازیں الگ الگ نکالنے کی ضرورت نا منہ ٹیڑھا کرنے کی ۔۔
    گوارا نےاس کی خاموشی سے اکتا کر خود ہی کوئی نئی بات شروع کردی۔ ہاں ا س بار یہ سب گفتگو اس نے ذہن میں ہی سوچئ بولنے کی غلطی نہ کی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بے خبر سو رہا تھا جب مسلسل بجتی گھنٹی کی آواز پر اسکی آنکھ کھلی۔ چند لمحے تو سمجھ بھی نہ آیا کہ کہاں ہے۔ پھر سستی سے سائیڈ ٹیبل کا لیمپ جلاتا اٹھا۔ شام کے آٹھ بج رہے تھے۔ وہ تقریبا چار گھنٹے سے سو رہا تھا۔ مکمل پرسکون نیند نے اچھا خاصا طبیعت کو بشاش کر دیا تھا۔ اپنے بازو کھینچتا وہ باہر آیا اپنے لائونج کی بتی جلائی بالوں میں ہاتھ پھیرتا لابی میں آیا دروازہ کھولا جی مکدر ہوگیا۔
    کم من جون اسکا چچا ذاد بھائی کھڑا مسکرا رہا تھا۔
    آنیانگ۔ اسکے چہرے کے تنے تاثرات سے حظ اٹھاتا وہ اسکی دعوت کا انتظار کیئے بنا بےتکلفی سے اندر چلا آیا۔۔
    اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر دروازہ بند کیا۔ لابی میں رکھے شو ریک سے جوتے بدلتا وہ سیدھا اندر چھوٹے سے لائونج میں چلا آیا تھا۔ تھری پیس سوٹ میں وہ نک سک سے تیار ہو کر یقینا اسکے گھر کا جائزہ لینے نہیں آیا تھا مگر اس وقت طائرانہ نگاہ اسکے پورے گھر پر ڈال رہا تھا
    یہ تو شروع ہوتے ہی ختم ہوگیا۔
    لائونج کے بیچ کھڑا وہ استہزائیہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    بس یہ لائونج اور ایک کمرہ ۔۔۔ تم رہ لیتے ہو اتنی سی جگہ میں؟
    اسکی حیرت حد سے سوا تھی۔ وہ سامنے کھلے دروازے سے اسے بیڈ روم میں جھانک رہا تھا۔
    ایک ادھربھئ ہے کمرہ۔
    دروازے ساتھ ساتھ ہی تھے جانے تجاہل عارفانہ تھا یا اسے ستانا مقصود۔ وہ بتا کر اوپن کچن میں چلا آیا۔ گھر میں دشمن بھی چلا آئے تو مہمان نوازی فرض ہے۔ وہ فریج سے اورنج جوس نکالنے لگا۔
    ہوں۔ اس نے ہنکارا بھرا۔ دوسرےکمرے کا دروازہ ذرا سا کھول کے جھانکا۔
    خالی ہے یہ تو۔ اسے حیرانگئ ہوئی۔
    علی خاموشی سے کائونٹر ٹیبل پر گلاس میں جوس بھر کر رکھنے لگا۔ وہ اپنا تفتیشی دورہ مکمل کرکے ادھر ہی چلا آیا۔
    بس ایک ہی کمرے میں سامان ہے تمہارے ۔ اور یہ ٹی وی بھی چھوٹا سا ہے۔۔
    من جون کرسی کھینچ کر بیٹھتے بھرپور حیرت کا اظہار کر رہا تھا۔
    ہاں بس اتنے ہی پیسے تھے میرے پاس آہستہ آہستہ دوسرے کمرے کا سامان بھی ڈال دوں گا۔
    علی کے انداز میں بے نیازی تھی۔ اسکے چہرے پر اتنا اطمینان تھا کہ من جون دیکھ کر رہ گیا۔
    تم اپنے کمرے کا سامان لا سکتے ہویہاں۔ تمہارا کمرہ ابھی بھی استعمال نہیں ہوتا لاکڈ ہے۔ تمہاری چیزیں ہیں لے آئو۔
    اسے حقیقتا افسوس ہوا تھا۔ اتنے چھوٹے تو انکے سرونٹ کوارٹرز بھی نہ تھے۔
    چیزیں ہی توہیں۔ ماں کو لا نا سکا اس گھر سے چیزیں کیا کرنی ہیں۔
    علی نے ذرا سا ہنس کر کہا تھا۔ وہ بخوبی طنز سمجھ گیا تھا۔
    میں نے آہبوجی سے کہا تھا کہ تمہاری امی کی میت تمہارے حوالے کردیں۔ مگر وہ مانے نہیں۔ انہیں اپنی ساکھ بہت عزیز ہے۔
    اسکا انداز صفائی دینے والا تھا۔
    اب تو ویسے بھی یادگار گھر میں رکھی ہیں باقیات انکی۔ تم چاہو تو وہاں سے انکی باقیات لیکر دفنا دو جہاں دل چاہے۔ تمہارا قبر بنانے کا خواب بھئ۔۔۔۔۔

    پلیز۔ انکے جلنے کا ذکر مت کرو۔۔ علی نے جیسے اذیت سے آنکھیں میچ لیں اسکی کنپٹی کی رگیں ابھر آئی تھیں۔ وہ سمجھ نہیں سکتا تھا اسکا کرب۔
    اسکے ایکدم ٹوکنے پر خاموش ہوتو گیا مگر دزدیدہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ علی نے مالٹے کے رس کا گلاس اسکی جانب بڑھا دیا۔ اس نے حیرت سے دیکھا تھا۔ سوجو ، کولڈ ڈرنک یا ہلکی پھلکی کوئی دوسری شراب کی جگہ جوس۔۔۔ وہ بلا ارادہ سوال کر گیا
    تمہارا بالکل ارادہ نہیں ہے واپس اپنے مذہب پر آنے کا؟
    اسکے پوچھنے پر علی نے جواب نہ دیا۔ دوسرا گلاس اٹھا کر اپنے لیئے بھی پیکٹ سے جوس نکالنے لگا۔۔
    کیسے آنا ہوا۔
    وہ اب تھوڑا بے مروت بن کے کہہ رہا تھا۔
    اس نے ایک گھونٹ لیا۔۔
    شادی کا بلاوا دینے آیا ہوں۔
    اس نے جیب سے کارڈ نکال کر سامنے رکھا۔
    علی نے اس سادہ مگر قیمتی گرے کارڈ کو نگاہ بھر کر دیکھا
    گنگشن اچھی لڑکی ہے۔۔تم خوش رہو گے اسکے ساتھ۔ پر کوشش کرنا وہ بھی خوش رہ سکے تمہارے ساتھ۔
    اسکی بات پر جون من نے ابرو اچکا کے دیکھا اسے۔
    تمہارے نئے مذہب میں ادب آداب کی جگہ نہیں؟ تم مجھے ہیونگ کہتے تھے آپ جناب کرکے بات کرتے تھے تین سال بڑا ہونے کا کافی لحاظ تھا تمہیں میرا اب خاصے بے مروت ہو چلے ہو۔
    اس نے ڈانٹ ہی دیا۔
    یہ میری بشری کمزوری ہے اسکو میرے مزہب کی تبدیلی سے نہ جوڑیں۔
    علی جل بھن ہی گیا۔ ایک تو اسکے مزاج کے ہر رخ کو اسکے مزہب سے جوڑا جاتا تھا۔
    رہی بات لحاظ کی تو آپ بہتر جانتے ہیں ادب لحاظ صرف میری بول چال میں تھا میں پہلے ذیادہ بد تمیز اور سر پھرا تھا۔
    اسکی بات پر جون من کو ہنسی سی آگئ۔علی یونہی خفا خفا دیکھتا رہا۔
    خیر۔ اس کی ناراضی محسوس کرکے وہ صلح جویانہ انداز میں بولا۔
    میں نے آہبوجی سے بات کی ہے۔ تم مزہب تو جائداد میں حصہ نہ ملنے کے باوجود بدلنے کو تیار نہیں ہو۔ مگر بہر حال تم میرے بھائئ ہو۔ مجھے تمہارا یوں یہاں ایسے مشکل زندگی گزارنا گوارا نہیں ہے۔ میرے بس میں ہوتا تو تمہارا حصہ پورا تمہیں دلواتا مگر جب تک میرے ابا زندہ ہیں ایسا ناممکن ہے بہر حال تم اپنا گھر لے سکتے ہو۔ وہ میں تمہارے نام کر دیتاہوں۔ چاہو تو بیچ کر اپنا کوئی کام شروع کرلو یا وہیں رہنا شروع کردو مرضی ہے تمہاری۔
    بات ختم کرکے انہوں نے ایک سانس میں جوس پی کر گلاس ایک جانب رکھا۔ علی حیران سا اسکی شکل دیکھ رہا تھا۔
    سوچ لو۔ اسکی حیرانئ پر وہ مسکرا دیا۔
    میں اتنا برا نہیں ہوں جتنا سمجھتے ہو تم مجھے۔
    وہ کہہ ہی گیا۔
    اچھا میں چلتا ہوں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا
    شادئ اگلے ہفتے ہے۔ آنا ضرور۔۔
    اسکے کہنے پر علی سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    میں چلتا ہوں۔ وہ گہری سانس بھرتا داخلی دروازے کی جانب بڑھا۔ اسکو حقیقتا افسوس ہوا تھا۔ اتنے چھوٹے گھر میں بنا سہولتوں کے رہنا یقینا علی کے لیئے مشکل ہوگا۔ اتنا ضدی ثابت ہوگا وہ اپنے نئے مزہب کیلئے انہوں نے سوچا نہ تھا۔
    ہیونگ۔ ( بھائی )وہ جوتے بدل رہا تھا جب اسے اپنے پیچھے علی کی آواز سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔
    مجھے گھر نہیں چاہیئے۔ گھر لوگوں سے ہوتا ہے۔ مجھے اگر کچھ دینا ہے میرا بھائی دے دیں مجھے۔
    اسکا جملہ ۔۔ جون من اسے چند لمحے حیرانگی سے دیکھتا رہ گیا۔ علی مسکرا دیا تو چونک کر اثبات میں سر ہلا دیا۔
    مگر گھر والی بات پر غور کرنا۔ وہ جاتے جاتے بھئ ایک بار پھر یاد دہانی کر گیا تھا۔ علی بھی مزید بحث کی بجائے خاموشی سے سر ہلا کر رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح اسکی آنکھ کھلی تو چند لمحے سمجھ بھی نہ آ سکا کہاں ہے۔دھیرے دھیرے ذہن بیدار ہونا شروع ہوا تو ایک کراہ سی منہ سے نکل گئ۔ اس نے سائیڈ ٹیبل کا سہارا لیا اٹھ بیٹھی۔ سرہانے پانی کی بوتل اور گلاس رکھا تھا جمائی روکتے ہوئے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا نیند میں تھی یا لاپروائی کر گئ گلاس نیچے گر گیا۔ پلاسٹک کا گلاس اس نے جھک کر اٹھایا تو اٹھاتے ہوئے خیال ہی نہ رہا جگہ تنگ ہے سر سیدھا میز کے کونے سے لگا تارے ناچ سے گئے۔
    آہ۔ وہ گلاس چھوڑ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئ۔ موٹے موٹے آنسو جھٹ پٹ آنکھوں میں اتر آئے چند لمحے اپنی بے بسی پر وہ بے آواز روتی رہی پھر ہچکیاں بندھ گئئیں۔ درد سے ذیادہ اپنی حالت زار اسے رلا گئ۔
    تبھئ دروازے پر دستک ہوئئ۔۔ ایک دو۔ اس نے گھٹنوں میں منہ دیا اور گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔
    تبھئ کسی نے ہینڈل گھمایا دروازہ کھلتا چلا گیا۔ ایڈون سر پکڑ کر رہ گیا۔ہاتھ میں پکڑا شاپر میز پر رکھا پھر شروع ہی ہوگیا۔۔
    یہ کیا تم نے دروازہ لاک ہی نہیں کیا ہوا ؟ سنتھیا ہم اب ہاسٹل میں نہیں ہیں ہر قماش کا انسان رہتا ہے یہاں۔ ویسے تو ہاسٹل میں بھی۔ بولتے بولتے اسکی نگاہ اس کے سسکتے وجود پر پڑی تو گھبرا کر پاس آیا۔
    کیا ہوا ؟ رورہی ہو ؟ کیا ہوا سنتھیا؟
    وہ بری طرح پریشان ہو کر اسکے بازو ہٹا کر چہرہ دیکھنے لگا۔ رو رو کے سوجی آنکھیں سرخ چہرہ کیا کیا برے خیال نہ آگئے۔
    بتائو نا سنتھیا کیا ہوا ہے ایسے کیوں رو رہی ہو۔
    اسکی گھبراہٹ کے مارے آواز کانپ گئ۔ رونے دھونے سے فرصت ملی تو سنتھیا کو کلیجے میں ٹھنڈ پڑی محسوس ہوئئ۔ وہ یقینا اکیلی نہیں تھی یہاں۔ایڈون سے سب گلے جاتے رہے اس وقت اسکی پریشان صورت دیکھ کر۔ دل کو تسلی ہوئی تو آنسو پونچھ کر بولی
    اتنا تنگ کمرہ ہے گلاس گر گیا اٹھانے لگی تو پورا میز کا کونہ سر میں گھس گیا۔
    وہ رندھے گلے سے بولی تو وہ بے اختیار ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔
    دکھائوکہاں چوٹ لگی۔
    وہ اسکا سر سہلانے لگا۔ سنتھیا کی کراہ سی نکل گئ فورا اسکا ہاتھ ہٹایا
    آہ۔ شائد گومڑا پڑگیا ہے۔ سنتھیا خفت بھرے انداز میں بولی۔
    اچھا چلو اٹھو منہ ہاتھ دھو لو۔ ادھر لابی کے آخر میں واشرومز بنے ہیں۔ میں کچھ ناشتے کا سامان لایا تھا کھالو ۔ دس بج رہے ہیں مجھے گیارہ بجے ڈیوٹی پر پہنچنا ہے مجھے دیر ہو رہی ہے آکر بات کرتا ہوں اور۔۔ اسے خیال آیاتو جیب سے والٹ نکال کر کچھ پیسے نکالے۔
    یہ پیسے رکھو دوپہر میں سامنے سیون الیون ہے وہاں سے کچھ لیکر کھالینا۔ اسکے ہاتھ میں پیسے تھما کر وہ عجلت میں ہی پلٹنے لگا۔
    اوکے بائے
    سنو۔وہ بے تابی سے پکار بیٹھی۔ وہ جوابا بولے بنا مڑ کر دیکھنے لگا۔
    میں سارا دن یہاں ا س کمرے میں اکیلی بیٹھی رہوں گئ؟
    اسے حقیقتا سوچ کے گھبراہٹ ہوئی۔
    سامنے پارک ہے وہاں گھوم آنا اچھا میں چلتا ہوں بائے۔
    وہ مشورہ دیتا ٹھہرا ہی نہیں۔ سنتھیا کے لب نیم وا ہو کے رہ گئے۔
    میں سارا دن یہاں اس کمرے میں اکیلے۔ وہ گھبرا کے اٹھ کھڑی ہوئئ۔
    ہاتھ میں پکڑے پیسے اپنا بیگ اٹھا کر اس میں ڈالے ۔بیگ سے ٹوتھ پیسٹ اور فیس واش لیکر باہر نکل آئی۔ لمبی راہداری کے آخر میں کچھ روشنی دکھائی دے رہی تھی وہ اندازے سے چلتی ادھر چلی آئی۔ یہاں ایک جانب خواتین کے لیئے ٹوائلٹس بنے تھے دوسری جانب مردوں کیلئے۔ اس نے جھجکتے دروازہ کھولا تو اندر بس چار کیبن تھے جن میں بیت الخلا تھا دوسرے چار کیبن غسل خانے کے تھے۔ اسوقت سب خالی ہی تھے۔ یقینا صبح جانے والے تیار ہو کر جا چکے تھے۔الجھن کے مارے کتنے لمحے سوچنے میں گزر گئے۔۔
    منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو راہداری میں کمرے سے کوئی نکل کر جا رہا تھا۔وہ اپنا ٹوتھ پیسٹ اور فیس واش اٹھا لائی تھئ۔ مرے مرے قدموں سے چلتی اپنے کمرے کے قریب آئی تو دروازہ کھلا تھا۔پوری راہداری میں سے بس یہی دروازہ کھلا تھا۔ نکلنے والا یقینا اسکے کمرے سے نکلا تھا۔ اس کے اندر بجلی سی بھرگئ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی تو ایک لمحے کو چکرا گئ۔ اسکا پورا بیگ الٹا پڑا تھا وہ لاکٹ ٹاپس چھوٹی موٹی جیولری ایک چھوٹے سے پائوچ میں اپنے بیگ میں رکھے تھے پاوئچ غائب تھا اسکا والٹ خالی تھا اس نے مڑ کر میز پر دیکھا تو شاپر بھی الٹا ہوا تھا۔لوٹ کر لے جانے والا اسکا ناشتہ بھی لے جا چکا تھا۔
    نہیں۔ اسکی آنتیں بھوک سے پلٹیاں کھا رہی تھیں۔وہ پوری قوت سے دوڑتئ باہر نکلی تھی۔ کمپائونڈ تک مگر کسی زی نفس کا نام و نشان بھئ نہ تھا۔ وہ بے بسی سے سر پکڑ کر رہ گئ ۔۔
    فون کروں ایڈون کو۔ صحیح ناراض ہوگا مجھ سے کہہ کر بھی گیا تھا کمرہ لاک رکھا کرو
    اسکی ذرا سی لاپروائی اسے ٹھیک ٹھاک مہنگی پڑنے والی تھئ۔ کیا کروں اس نے ذہن کے گھوڑے دوڑانے چاہے تو ایک بار پھر ساکت رہ گئ۔
    اسکاچاکلیٹ بن تک چرا لے جانے والا موبائل خدا واسطے تھوڑی چھوڑ کر گیا ہوگا۔
    وہ الٹے پیر واپس آئی اس بار اسکے کمرے کے باہر دو لڑکیاں کھڑی تھیں۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتئ انکے پاس آئی۔
    ہے کیا کررہی ہو یہاں۔
    اس کا لہجہ سخت ہوگیا نا چاہتے ہوئے بھی۔ اسکی انگریزی سن کر دونوں چندی آنکھوں والیاں سٹپٹا سی گئیں۔
    یہ تمہارا کمرہ ہے ؟ ایسے کھول کر مت جایا کرو چوری ہو جائے گئ۔
    ایک نے ہنگل میں اسے سمجھایا اسکے سر پر سے گزرا۔
    کیا ؟ اسکو پہلے ہی جھلاہٹ چڑھ رہی تھی۔
    روم اوپن، ڈینجرش۔ تھیوز ہیئر۔
    دوسری نے اپنی ہائی اسکول کی سیکھی سب انگریزی الٹ دی۔
    اوہ۔ سنتھیا کچھ ٹھنڈی پڑی۔
    دے۔ گھمسامنیدہ۔
    اس نے جھک کر شکریہ ادا کردیا اس مفت مشورے کا۔
    آنیانگ۔ دونوں اب الوداعیہ انداز میں کہہ کر منتظر کھڑی تھیں
    آنیانگ۔ اس نے بھی سر جھکا لیا۔۔ اب جائو بھی۔ اسے الجھن ہوئی انکو یوں کھڑے دیکھ کر۔
    دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر کچھ کہا پھر منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنس دیں۔ سنتھیا نے گھو رکر دیکھا۔
    اندر جائو۔ ان سائئڈ گو۔
    دونوں ہاتھ کے اشارے اور جو جو لفظ سمجھ آرہا تھا بول کے اسے اندر جانے کا کہہ رہی تھیں۔ اوہ۔ اسکے دماغ کی بتی روشن ہوئئ۔
    ظاہر ہے اس تنگ راہداری میں کھڑی وہ انکا راستہ روکے تھی۔
    سوری۔ رئیلی سوری۔
    وہ کھسیا کر فورا کھلے دروازے سے اندر گھسی۔ دونوں لڑکیاں ہنس کر ہاتھ ہلاتی آگے بڑھ گئیں۔ اس نے جھلا کر دروازہ بند کیا۔
    کمرے میں اسکے کپڑوں کے بیگ جوں کے توں ان چھوئے رکھے تھے یقینا اسکو انکو کھولنے کا موقع نہیں ملا تھا۔آہ۔ اسکے منہ سے حقیقتا آہ نکل گئ۔ موبائل ڈھونڈنے کی بھی کوشش نہ بستر پر گر سی گئ
    صبح چوٹ نے رلا دیا اب بھوک کی وجہ سے آنسو آرہے تھے اس نے آنکھوں پر بازو رکھا او رتسلی سے رونے لگئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ گوارا کیلئے ناشتہ بنا رہی تھی۔ کائونٹر ٹیبل پر بیٹھی اورنج جوس کی چسکیاں لیتی اپنے موبائل میں وہ نوٹس پڑھ رہی تھی۔
    سب تمہاری غلطی ہے اچھی بھلی مجھے عادت تھی ناشتہ نہ کرنے کی تم نے ڈال دی۔ ورنہ میں دو وقت کھانے پر چلتی ہوں دوپہر اور رات۔ اب دیکھ لو تمہیں میرے لیئے ناشتہ بنانا پڑ رہا ہے۔ ویسے میں خود بھی بنا سکتی ہوں ناشتہ مگر سختی سے میری ڈرماٹولوجسٹ نے کہا ہے گرمی کے دھوپ کے قریب بھئ نہ جانا۔ جبھی یہ ڈھاٹا خرید کے لائی ہوں۔
    اس نے کرسی پر سے ڈھاٹا اٹھا کر دکھایا۔ کیپ جمع اسکارف تھا بڑا سا جس میں نقاب بھئ بنا ہوا تھا۔ اس نے اکثر لڑکیوں کو یہاں یہ پہنے دیکھا تھا۔ پی کیپ کے اندر فل پردہ جھولتا تھا آگے سے منہ ڈھکتا صرف آنکھیں نظر آتیں اور پیچھے سے بال ڈھکنے کیلئے اسکارف ۔۔
    اسکو ہم ٹوپی والا برقعہ کہتے ہیں بس اندر ٹوپی گول ہیٹ جیسی ہوتی ہے۔
    اریزہ نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا۔
    یہ کوریا کی ایجاد ہے۔ گوارا اترائی۔
    ہم نے بہت سی چیزیں دی ہیں ایشیاء کو۔ لڑکیوں کی جلد نازک ہوتی ہے باہر کے موسم ا س پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لڑکوں کی سخت جلد کو دھوپ کی سختیاں کملا دیتی ہیں ہم لڑکیوں کو تو اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ منہ بال ڈھک کر نکلنا چاہیئے باہر۔
    گوارا کی بات پر اسے ہنسی ہی آگئ۔۔۔ اچھی تقریر تھی پردے کے حق میں۔
    تھیبا۔ یہ تو ٹاپک میں نے پڑھا ہی آج ہے۔ ڈیفیوژن آف اننوویشن۔ یہ کیا بلا ہے بھئی۔ وہ اب ہنگل میں شروع تھی۔
    دفع دور ۔۔ ویسے بھئ دو چار وائیوا لے کر یونیورسٹی والوں نے کونسا میرا جی پی اے بڑھا دینا ہے ۔
    وہ اب آدھی ہنگل آدھی انگریزئ ملا جلا کر بول رہی تھی۔
    خوامخواہ زحمت کر رہی ہو نیا کچھ پڑھنے کی جو پڑھا ہوا اسی کے نوٹس پر دھیان دو وائیوا کی ہی تیاری ہوجائے۔
    اسکے سامنے پراٹھا آملیٹ رکھتے اریزہ نے کہا تو
    اس نے فورا موبائل ایک طرف رکھ دیا۔ اور رغبت سے ناشتہ کرنے لگی۔
    اریزہ اپنا ناشتہ گرم چائے کا کپ لیکر مقابل آبیٹھی۔ تبھئ تیار ہو کر کمرے سے ہوپ نکلی تھی۔ ان پر نگاہ غلط ڈالتی سیدھا رخ باہر کی جانب تھا۔ وہ داہنے پیر پر ذرا کم وزن ڈال رہی تھی۔ ایک بار کے بعد دوبارہ جانے اس نے خود پٹی کی بھی تھی کہ نہیں۔ افسوس ہوا اسے اپنی لاتعلقی پر
    یونا۔ اریزہ اسے بے اختیار پکار بیٹھی۔ جوابا اس نے ترچھی نگاہ ڈالی پھر جواب نہ ملنے پر مڑ کر کر گھورا
    یونا۔ اریزہ کو توقع نہ تھی کہ۔مڑ کر دیکھے گئ سو خوش ہو کر دعوت دی
    آئو ناشتہ کرکے جائو۔ اب کیسی طبیعت ہے تمہاری۔پائوں ٹھیک ہوا۔؟۔
    ایک تو یہ اریزہ کا سوشل ورک۔ گوارا ہنگل میں بڑبڑائی
    یوآنہ نام ہے میرا اور میرے لیئے ناشتہ مت بنایا کرو کتنی دفعہ کہا ہے تمہیں۔
    وہ جھلائی اور پیر پٹختی سی واپس آئی انکے پاس۔
    بیان۔( معزرت) یوآنہ۔
    اریزہ نے جیسے ڈر کر فورا تصحیح کی۔ اور پلیٹ اسکی جانب کھسکا دی۔ وہ کونسا کورین تھی نام بولنے میں زبان رواں تھئ مگر نام سمجھ بھی تو آئے ۔یوآنہ اس بات پر بھی اس سے لڑ سکتی تھی۔
    یہ پھر وہی بنایا ہے اس دن والا۔۔ یو آنہ کا انداز تفتیشی تھا۔
    اریزہ کچھ نہ بولی۔ گوارا نے گہری نگاہ سے یوآنہ کو دیکھا جو بظاہر جھلائی سی گرم پراٹھے پر آملیٹ پھیلا کر رول بنا رہی تھی۔ رول بنا کر اسکو دیکھ کر بولی
    میرے لیئے زحمت مت کیا کرو مجھے بالکل کسی سے اپنا کام کروانا پسند نہیں۔
    اریزہ نے سر ہلادیا۔ اور چائے کا کپ اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگی
    آننیانگ۔۔
    وہ کہہ کر تیز تیز قدم اٹھاتی چلی گئ۔ اریزہ کا پورا پراٹھا لیکر۔
    آ بیل مجھے مار، پائوں پر کلہاڑی مارنا ، حلوائی کی دکان پر دادا جی کی فاتحہ۔ اور ناجانے کتنی ضرب المثل اسے یاد آکے رہ گئیں۔
    اور وہ کونسا محاورہ تھا۔ دوستی بھی بری دشمنی بھی۔ مگر کس کی۔
    گوارا نے اپنی پلیٹ اسکی جانب بڑھا دی۔۔آدھا پراٹھا بچا تھا۔
    یہ لو میں کھا چکی۔ وہ ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی
    ارے میں اور بنا لوں گی۔ ا س نے انکار کرنا چاہا وہ سہولت سے منع کر گئ
    اسی کو کھالو مجھے پتہ ہے تم اور نہیں بنائو گی۔
    وہ ہنس کر بولی تو اریزہ کھسیا کر سر ہلا گئ
    اچھا میں چلتی ہوں۔ وہ اپنا بیگ اٹھانے لگی۔ آننیانگ۔
    سارا دن پڑا تھا اسکے پاس کرنے کو کچھ بھی نہ تھا۔ اس نے سستی سے نوالہ توڑا۔
    گوارا جاتے جاتے مڑی ۔۔ اسکی بیزار شکل دیکھی تو خیال آیا
    تم کوئی جاب کیوں نہیں کر لیتیں۔ ؟
    ہاں کرنی ہے نا جاب۔ وہ ایکدم پرجوش ہوئی۔
    بلکہ میں تو کہنے والی تھی مجھے کہیں جاب دلوا دو میں اپنا خرچہ خود اٹھانا چاہتی ہوں۔ اگلے سمسٹر کا۔
    اسکی بات پر گوارا نے اطمینان سے جواب دیا
    ٹھیک ہے کل میری کمپنی میں آجانا میں ایم ڈی رکھ لوں گی تمہیں۔
    کیا؟ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔ گوارا زور سےہنس پڑی۔
    مزاق نہ اڑائو۔ اریزہ کو برا لگ گیا۔
    میں تو مشورہ دے رہی تھی میں کونسا ایل جی کی مالک ہوں سہیلی۔ جو جھٹ سے کہیں جاب لگا دوں تمہاری۔
    اس نے آگے بڑھ کر اسکے پھولے گال پر چٹکی بھری
    اریزہ گھور کے رہ گئ۔
    اچھا دیکھتی ہوں کوئی آتے جاتے پارٹ ٹایم جاب کے ایڈز دیکھتی آئوں گئ آتے وقت پریشان نہ ہو مگر بنا ہنگل سیکھے جاب کرنا مشکل ہوگا تمہارے لیے۔۔پہلے بتا دوں۔ یہاں کسی کو ایک لفظ انگریزی نہیں آتی۔
    اس نے ڈرایا۔
    ہمم۔ وہ کیا کہتی آگے سے۔
    اوکے میں کسی ہنگل کلاسز کا بھی پتہ کرتی ہوں تم سارا دن فری ہوگئ جاب کے ساتھ ہنگل بھی سیکھ لینا۔ فکر نہ کرنا۔اوکے بائے۔
    وہ عجلت میں بولتی ڈھاٹہ چڑھاتی خدا حافظ کہتی بھاگ گئ۔
    خدا خدا کرکے تھوڑی انگریزی بہتر ہوئی ہے تو نیا کھڑاگ کورین سیکھو۔
    وہ سوچ کے رہ گئ۔
    اگلا نوالہ ذرا بڑا لیا ۔۔ اب احساس ہوا کہ وہ آدھا پراٹھا اتنی فراخ دلی سے کیسے اسے دے گئ۔ اس کا منہ بنا۔
    نمک آملیٹ میں ذیادہ تھا۔ اپنے لیئے نئے سرے سے ناشتہ کیا بناتئ وہی ختم۔کرنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    روتے روتے آنکھ لگ گئ تھی کہ کیا۔ فون بجنے پر آنکھ کھلی۔
    وہ چند لمحے حواس ہی بحال کرتی رہ گئ۔ پھر اٹھ بیٹھی۔ باہر کھڑکی سے اسٹریٹ لائیٹ کی روشنی اندر آرہی تھی۔
    وہ ہڑبڑا سی گئ۔ جانےوہ اتنا وقت سوتی رہی یا بھوک سے بے ہوش ہو گئ۔ فون لگاتار بجے جا رہا تھا۔ اسکی جیسے جان میں جان آئی۔ادھر ادھر دیکھا بستر تکیہ ہٹا کر دیکھا۔ ٹٹول کر بتی جلائی فون بجنا بند ہو گیا۔
    اف۔
    فون بج رہا تھا یعنی چوری ہونے سے بچ گیا مگر اس چھوٹی سی کٹیا میں جانے کہاں چھپا تھا۔ دوبارہ کچھ وقفے سے بجنا شروع ہوا۔آواز کا منبع اس نے تلاشتے ہوئے نیچے دیکھا تو بیڈ اور میز کے بالکل کنارے اوندھا پڑا تھا۔یقینا رات کو تکیئے کے پاس رکھ کر سوئی اور وہ پھسل کر گر گیا نیچے۔
    اسے جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ جھٹ سینے میں بھینچ لیا۔
    فون ابھئ بھئ بج رہا تھا۔ اس نے خداوند کا شکر ادا کرکے سینے پر صلیب بنائئ اور فون اٹھا لیا۔ بابا تھے۔
    کیسی ہو کہاں تھیں نا کوئی جواب نہ بات دوپہر سے فون کر رہا ہوں ۔۔
    چھوٹتے ہی وہ ڈانٹنے لگے۔
    وہ سو رہی تھی کیسے ہیں آپ۔ وہ بات بدل گئ
    میں ٹھیک ہوں یہ بتائو انتظام کیا ایڈون نے کسی اپارٹمنٹ کا؟ میں نے اریزہ کے پاپا سے بھی بات کر لی ہے تم اور اریزہ مل کر رہنا ایک جگہ۔ اسکے ساتھ ہوگی تو مجھے اطمینان رہے گا۔
    بابا میں بچی تھوڑی ہوں۔ وہ چڑ گئ
    میرے لیئے تو بچی ہی ہو۔ وہ مسکرائے
    اریزہ تو جیسے دادی اماں ہے میری۔ وہ بحث میں لگ گئ
    ایک سے بھلے دو ہوتے ہیں بیٹا۔ وہ اسکی کج بحثی سے تنگ سے ہوئے۔
    اچھا چھوڑو یہ سب یہ بتائوکیا ارادے ہیں اگلے سمسٹرکا بیٹھ کے انتظار کرنے کی بجائے کوئی چھوٹا موٹا کورس کرلو۔
    وقت ضائع نہ کرو۔ ایڈون بتا رہا تھا اس نے کورین سیکھنی شروع کردی ہے تم بھی سیکھو۔
    بابا۔ وہ ایکدم ٹوک کر بولی۔
    ہاں بولو۔ وہ بھی ہمہ تن گوش ہوئے
    بابا وہ ایڈون کا بھی رہائش کا مسلئہ ہے میں اور اریزہ اسکو بھی اپنے فلیٹ میں رکھ لیں۔
    اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔۔
    ایڈون تو بتا رہا تھا کہ اس نے کسی کمرے کا انتظام کر لیا ہے تمہیں نہیں بتایا؟ ویڈیو کال کی تھئ اسے میں نے اس نے دکھایا ٹھیک تھا ایک چھڑے چھانٹ کیلئے کہہ رہا تھا ایسا ہی کمرہ ڈھونڈ دے گا تمہیں میں نے صاف منع کیا۔ اسے۔۔میری بیٹی ایسی فضول سی جگہ نہیں رہ پائے گئ۔
    گوشئ وون کہتے ہیں اسے۔
    اس کے منہ سے بمشکل آواز نکلی۔
    ہاں وہی۔گوشی جو بھی ہے۔ نام جیسا بھی ہو مجھے تو بالکل جگہ پسند نہیں آئی۔ دیکھا نہیں تھا تم نے بالکل چھوٹا سا کمرہ اس سے بڑا تو باتھ روم ہے ہمارا۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم اتنے تنگ سے کمرے میں نہیں رہ پائوگئ اسے کہہ دیا میں نے پیسوں کی فکر نہ کرے۔ لڑکوں کا کیا ہے آنکھیں بند کرتے ہیں تو سڑک کنارے بھی سو سکتے ہیں۔ تمہیں ویسے بھئ گرمی ذیادہ ہی لگتی ہے۔
    اسکے بابا کا لہجہ محبتوں سے چور تھا۔ اس نے چور نگاہ اپنے گرد ڈالی اور سر جھکا لیا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بیزاری سے لائونج میں بیٹھی چینل پر چینل بدل رہی تھی۔ گوارا کا میسج آیا تھا۔ اس نے فون اٹھا کر دیکھا
    میں رات کو دیر سے آئوں گئ۔
    اس نے بنا جواب دیئے فون صوفے پر رکھ دیا۔
    ہوپ بھی دس بجے تک ہی آتی تھی۔ اکیلے ڈھنڈار فلیٹ میں ٹھیک ٹھاک بوریت اور قنوطیت محسوس ہو رہی تھی۔ سو سو کے تھک چکی تھی اس وقت ۔ ٹی وی پر کوئی گیم شو ریپیٹ ٹیلی کاسٹ ہو رہا تھا ہنگل میں مزاق اڑاتے وہ ایک لفظ سمجھے بنا بس دیکھ رہی تھی۔
    میرا تو دن ہی نہیں گزر رہا ۔ اس نے وال کلاک کی جانب دیکھا سات بج رہے تھے۔ صبح کا آدھا پراٹھا کھایا ہوا تھا اس وقت بھوک بھی لگ رہی تھی۔ اس نے ٹی وی بند کیا اور ڈھیلے ڈھیلے قدم اٹھاتئ کچن میں چلی آئی۔
    دالیں لوبیا سب کچھ تھا چاول بھئ تھے۔ مگر ان سب کو پکانے کیلئے کوئی مصالحہ نہ تھا۔
    اس نے ایک دفعہ گوارا سے پوچھا تھا تم مصالحے وغیرہ نہیں خریدتی ہو تو وہ ہنس کر بولی
    کمچی سے لیکر سادے سالن چٹنیاں ہر چیز کے تیار ڈبے ملتے وہ بھئ گوشت کے اضافی ذائقے کے ساتھ ضرورت ہی نہیں ہے الگ سے لینے کی۔
    اس وقت بھی الماری میں قطار سے ڈبے سجے تھے چٹنیوں مربوں کےمگر اسکے لیئے ایکدم بےکار تھے۔
    ٹماٹر ادرک لہسن پیاز بھئ موجود تھا مگر نمک مرچ ہلدی و دیگر مصالحے ندارد تھے۔
    کیا عذاب ہے۔۔۔۔ وہ جھلا کر رہ گئ۔
    رائس ککر میں چاول پکانے چھوڑے۔ مسور کی دال چڑھائی۔
    ساتھ لہسن کی چٹنی بنانے کیلئے لہسن کوٹ لیئے۔ نمک کے نام پر اجینو موتو تھا۔ چمچ بھر کر ڈالتے ڈالتے ہاتھ روک لیا۔
    نمک تو خرید ہی لائو ساتھ ٹماٹر اور جو کوئی مصالحہ ملا۔
    اس نے ارادہ باندھا۔
    وہ سویٹ شرٹ اور ٹرائوزر میں ملبوس تھی۔ اس حلیئے میں باہر جانے کو دل نہیں مانا ۔ اس وقت اہتمام سے اپنا لان کا جوڑا نکالا تیار ہو کر باہر آئی دال کا چولہا بند ہی کردیا۔ اب باہر نکلنا ہی تھا تو گوشت ڈھونڈا جا سکتا تھا وہ بھی حلال۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے پاس حلال گوشت نہیں ہوتا۔
    مسکرا کر اس سیون الیون والی لڑکی نے بتایا تھا۔
    ویسے یہ ہوتا کونسا جانور ہے آپ مجھے اسکا ہنگل نام بتائیں تو میں بتا دیتی ہوں ویسے ہمارے پاس خنزیر ، گائے ، بکرے گدھے مرغئ سب کا گوشت موجود ہے۔
    ایک چھوٹا سا پمفلٹ نکال کر اس نے ایک ایک پر انگلی رکھ کر اسے بتایا۔
    گھمسامنیدہ۔۔ اب حلال نامی جانور بتائو اسے۔
    اس نے بس سادہ نمک خریدا اور شکریہ ادا کرکے قیمت اداکرکے نکل آئی۔
    کیسے ناشکرے ہیں ہم یہ نمک کیسا ہم دھڑلے سے استعمال کرتے ہیں فریج سے برف نکالنی ہے نمک چھڑک دو ،چیونٹیان بھگانی نمک چھڑک دو کوئی ناپسندیدہ مہمان آجائے اسکے جاتے وقت چوکھٹ پر چھڑک دو کسی کے زخموں تک پر چھڑکنے کو تیا ررہتے یہاں مٹھی بھر پیسوں میں چٹکی بھر نمک خریدیں نا تو زندگی بھر نمک سوائے کھانے کے کہیں استعمال نہ کریں۔غرارے بھی بس گرم پانی کے کرلیں اتنا مہنگا نمک۔۔ چلتے چلتے ٹھوکر سی لگی۔تو خود کو کوس بھی لیا
    جہنم میں جائو اریزہ۔۔
    ¹وہ سر جھٹکتی سوچتی جا رہی تھی جب کوئی چلتے چلتے اسکے ہم قدم ہوا۔۔
    سلام۔ کیسی ہو۔۔؟۔۔
    وہ چھوٹتے ہی پوچھ رہا تھا۔
    ایک تو یہ ہایون۔۔اردو میں احوال بھی پوچھنا سیکھ لیا۔ ایک میں ہوں نام کی ہنگل نہ سیکھ پائی۔
    اسکی سوچ اسکے چہرے پر لکھی تھی۔
    ٹھیک ہوں۔۔ ۔ تم کیسے ہو۔
    اس نے مروتا پوچھا۔
    تم لگ تو نہیں رہی ہو۔۔ منہ کیوں پھلایا ہوا ہے۔
    وہ دوستانہ انداز میں پوچھنے لگا۔
    میں نے ۔ اس نے فورا منہ پر ہاتھ رکھا۔
    میرا پیدائشئ ہی اتنا ہی بڑا منہ ہے۔
    اچھا۔۔ ویسے چھوٹا ہوا ہے تھوڑا۔ کبھی غور سے آئینہ نہیں دیکھا۔
    اسکا انداز سرسری تھا ۔۔
    اریزہ کا پورا منہ کھلا
    یہ کیا اسے باڈی شیمنگ کی گئ تھئ اور اسے یقینا برا ماننا چاہیئے تھا۔ وہ حیرانی کے مارے سوچتی ہی رہ گئ کیا ردعمل دے۔
    ویسے مجھے یقین تو تھا کہ تم آج کے دن کے حساب سے تیار ہوئی ہوگی جتنے تم سب لوگ جزباتی ہو مگر تم منائوگی کس کے ساتھ۔ تمہارے دوست واپس چلے گئے جو یہاں ہیں وہ تم سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔
    وہ چلتے چلتے بائیں جانب گلی میں مڑ گیا۔ وہ بے دھیانی میں اسکے ساتھ ہی مڑ چکی تھی۔
    کون ؟ کون لڑتا رہتا ہے مجھ سے ؟
    اسے حقیقتا سمجھ نہ آیا۔
    تمہاری سہیلی۔ وہ یقینا تمہاری دوست نہیں ہے۔تمہیں اس سے دور رہنا چاہیئے۔ بجائے اسکے کہ رویا کرو اسکی باتوں پر۔
    وہ چلتے چلتے رک کر اسکے مقابل آکر جتانے والے انداز میں بولا۔
    وہ سٹپٹا سی گئ۔ اپنی طرف سے منہ ہاتھ دھو کرواپس آئی تھی میز پر ۔باقی لوگ ہایون کو تنگ کرنے میں مگن تھے ہوٹنگ کر رہے تھے اس نے تو یہی سمجھا تھا کسی نے دھیان بھی نہیں دیا اسکی متورم آنکھوں پر مگر وہاں ہایون ہی اس پر دھیان دیئے تھا۔۔
    ویسے مسلئہ کیا ہے اسکے ساتھ۔ اچانک ہی۔ کہاں تو اتنی شیر و شکر تھیں تم دونوں کہ گمان ہوتا تھا کہ
    وہ اگلوانے کے موڈ میں تھا اس سے قبل اپنی غلط فہمی دوبارہ دہراتا اس نے بات کاٹ دی۔
    ہم لڑتے رہتے ہیں ۔ بچپن کی دوست ہے وہ میری ہمارا تعلق تمہاری سوچ سے ذیادہ گہرا ہے۔
    اسکی بات پر وہ کندھے اچکا کر ایک طرف ہو کر اسکے ہم قدم ہو لیا
    میرا خیال ہے کہ تعلق گہرا ہونے کا تعلق دل سے ہوتا ہے وقت سے نہیں۔ کبھی مختصر عرصے کی رفاقت انسان کو ذیادہ قلبی دوستی سے نواز دیتی ہے کبھی سالوں کے تعلق لمحوں میں ٹوٹ جاتے ہیں۔
    وہ تو یونہی کہہ رہا تھا مگر بات گہری تھی۔ انگریزی میں کوئی بات کہی جائے تو ذیادہ ہی گہری لگتی ہے۔ وہ بات کے فسوں میں کھوئی تھی جب اچانک چلتے چلتے اسکے سامنے گاڑی کا کھلا دروازہ آگیا۔ وہ چونک کے ایک طرف ہوئی۔
    ہایون اس سے ایک قدم آگے ہو کر پنسجر سیٹ کا دروازہ کھولے ہوئے تھا اسکے لیئے۔۔
    وہ حیران سی اسکی شکل دیکھنے لگی تو وہ ہنس کر بولا
    میں تمہارے گھر ہی آنے والا تھا پر تم میرے ساتھ میرے گھر ہی آگئ ہو۔۔۔
    اسکی بات پر چونک کے اس نے اردگرد دیکھا۔ وہ واقعی رہائشی بلاک کی جانب آچکی تھی ہایون کی ہمراہی میں ۔یہاں سے تو واپسی کا راستہ بھی نہیں آتا تھا اسے۔ اسے ٹھیک ٹھاک خفت سئ محسوس ہوئی۔ وہ ہایون کے بنگلے کے سامنے کھڑے تھے۔
    اندر آنے کو کہتا پرتم پورک کھاتی نہیں ہو۔ گھر میں پورک اسٹیک ہی بنا ہوا ہے۔
    وہ بول رہا تھا مگر اسے سنائی نہیں دے رہا تھا اپنی ذہن کم کم چلانے کی عادت پر غصہ ہی بہت تھا
    مر جائو اریزہ۔ اسے شرمندگی سے گڑمرنے کو دل کیا۔
    بیٹھو۔ نا۔ اس نے ٹوکا تو وہ مرے مرے انداز میں گاڑی میں بیٹھ گئ۔ ہایون گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آن بیٹھا
    میں نے چائینیز نہیں کھانا اور میری جانب سے دعوت ہوگی میں پے کروں گی۔
    اریزہ نے گاڑی میں بیٹھ کر شرطیں رکھیں۔۔
    سیٹ بیلٹ باندھ لو۔۔ ہایون نے جیسے سنا ہی نہیں۔۔
    اریزہ نے گھور کر دیکھا۔۔
    ہم پاکستانی ڈرائیونگ کرتے نہیں باندھتے۔ پسنجر سیٹ کو سیٹ بیلٹ بندھوا رہے۔ آئے بڑے۔۔
    وہ بڑ بڑائی۔۔ مگر مڑ کر سیٹ بیلٹ کھینچ لی۔
    وے؟۔۔ وہ پوری طرح متوجہ تھا
    اسے ترجمہ کرکے بتانا پڑا۔۔
    واقعی؟۔۔ وہ حیران پریشان رہ گیا۔۔
    ہاں۔۔ ہم اسلام آباد داخل۔ہوتے ہوئے پھر یاد سے بیلٹ باندھ لیتے مگر پنڈی میں سب چلتا۔۔ اور لڑکی ڈرائیو کر رہی ہو تو بالکل بھی نہیں روکتے جب تک کوئی بڑامسلئہ کھڑا نہ کر لو۔
    وہ مزے لے کر بتا رہی تھی۔
    واقعی۔۔ لڑکیوں کیلیئے کوئی قانون نہیں؟۔ وہ حیران تھا
    اب یہ بھی نہیں۔۔ اریزہ سٹپٹائی۔۔
    جبھی تمہاری ڈرائونگ ٹھیک بھی نہیں
    وہ جیسے نتیجے پر پہنچ گیا۔۔
    اس دن جب ہم واپس آرہے تھے تو مجھے تم سب کا ایک حصے میں گھر پہنچنا مشکل لگ رہا تھا۔۔
    ڈولتی گاڑی کا منظر اسکے زہن کے پردے پر لہرایا۔۔
    اریزہ کھسیائی۔۔
    ایسی بھی کوئی بات نہیں میں بہت اچھی ڈرائونگ کر لیتی ہوں۔۔ اسے برا لگا تھا
    اس دن اگر تم میرے ہی ساتھ نہ ہوتیں تو میں یہی سمجھتا تم پی کر چلا رہی ہو۔۔
    وہ سراسر مزاق اڑا رہا تھا
    پہلی بار بائیں ہاتھ والی ڈرائونگ والی گاڑی چلا رہی تھئ عادت ہی نہیں مجھے اسکی جبھی ایسا ہوا۔ اس نے منہ پھلا کر صفائی پیش کی۔۔
    کیا مطلب ؟۔۔ وہ سمجھا نہیں
    پاکستانی گاڑیوں میں یہ سب کچھ یہاں اس والی نشست پر ہوتا۔ اس نے اشارے سے گئیر اسٹیرنگ سب کو اپنے سامنے رکھا۔۔
    رائٹ ہینڈ ڈرائیو۔۔ وہ سمجھ گیا۔۔
    ہاں۔۔ اریزہ نے سر ہلایا۔۔
    اسے جانے کیوں ہنسی آگئ۔۔ کھل کر ہنستا گیا۔۔ اریزہ اسے حیرانئ سے دیکھ رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریستوران کے باہر کھڑی وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھئ۔ ہایون نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔ وہ بے تحاشہ مشکور ہوئی۔۔ہایون کی معیت میں اندر داخل ہوئی۔تو سچ مچ آنکھیں بھر آئیں۔۔
    میز کرسیاں تو عام ریستوران جیسے ہی تھے مگر ایک کونے میں مینار پاکستان کا قد آدم ماڈل رکھا تھا جس سے روشنی پھوٹ رہی تھی کیا خوبصورت لیمپ تھا دوسرے کونے میں فیصل مسجد کے ڈیزان کا لیمپ سجا تھا
    دل سے میں نے دیکھا پاکستان ۔۔ دھیمی آواز میں چل رہا تھا
    پورا ریستوران سبز اور سفید قمقموں غباروں جھنڈیوں اور انہی رنگوں کی آرائشوں سے سجا تھا
    ایک جانب چودہ اگست کی مناسبت سے قمقمون سے جشن آزادی مبارک لکھا تھا
    آج چودہ اگست ہے۔ اسکی آنکھیں بھرا گئیں۔ کیا کیا منصوبے بنائے تھے یوں چودہ اگست منائیں گے سفید لباس زیب تن کریں گے اور جھںڈا گلے میں ڈال کر۔۔۔ اور جب سچ مچ یہ دن آیا تھا تو سب جدا بھئ ہو چکے تھے اور بھول بھی گئے۔
    اسکا دل اداس ہو گیا تھا۔انکے لیئے پہلے سے ریزرویشن ہوئی وی تھی سو سیدھا اسی میز پر لا بٹھایا تھا ہایون نے۔
    اسلام و علیکم۔۔ پاکستانی ویٹر نے جھک کر ان دونوں کو سلام کر کے انکے سامنے میز پر مینیو کارڈ رکھا
    مجھے تو کوئی اندازہ نہیں بس ایک بار یہاں چکن کڑاہی کھائی ہے۔۔ سو تم اپنی پسند سے کچھ بھی منگوا لو مگر۔۔ وہ رکا۔۔
    اریزہ جو سر ہلاتی مینیو کارڈ پر نظر دوڑا رہی تھی۔۔ چونک کر دیکھنے لگی۔۔
    کل دوبارہ اس پر نظر پڑی تھی تو مجھے فورا خیال آیا تمہارا سو یہ دعوت میری جانب سے ہی ہوگی۔۔ منظور۔۔ وہ منوانے والے انداز میں دیکھ رہا تھا۔۔
    وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گئی۔۔
    اس نے چکن کڑاہی اور بریانی ہی آرڈر کی تھی۔۔ ساتھ ایک مختصر سی تاکید بھئ۔
    دل سے میں نے دیکھا پاکستان دوبارہ لگا دیں۔
    ویٹرسر ہلا کر مڑ گیا تھا۔ وہی گانا دوبار لگ گیا تھا۔ وہ بلا ارادہ گنگنا بیٹھی۔ ہایون کے چہرے پر محظوظانہ مسکراہٹ در آئی۔ تو وہ کھسیا کر بولی۔
    یہ گانا بہت پسند ہے مجھے۔
    ہایون نے سر ہلا دیا۔ پھر پورا گانا سن کر ہی خیال آیا کہ ہاتھ دھو لینا چاہیئے۔
    میں ابھی ہاتھ دھو کے آتی ہوں۔۔ وہ بتا کر ریسٹ روم چلی گئ۔۔
    ویٹر کھانا لگا رہا تھا جب اسکی واپسی ہوئی۔۔
    نان کی بجائے اس نے توے والی روٹی منگوائی تھی۔۔ گرم گرم روٹی دسترخوان میں لپٹی کتنے دن بعد نصیب ہوئی تھی۔۔
    ہیون نے دیکھا تو وہ سالن نکال کر روٹی دسترخوان سے نکال رہی تھی۔ ہایون ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے رک گیا۔۔
    کیا ہوا۔۔ اریزہ نے پوچھا۔۔
    تمہارے اس کھانے کو تو ہاتھ سے کھانا پڑے گا تو ہاتھ دھلے ہونے چاہیئں۔۔
    اس نے تائد چاہی۔۔
    میں ہاتھ دھونے ہی گئ تھی۔۔ تم نے دھونا تو تم بھی دھو آئو۔۔
    اریزہ نے روٹی دوبارہ لپیٹ کر رکھ دی۔۔ وہ سر ہلاتا اٹھ گیا۔۔ ہاتھ دھو کر آیا تو وہ اسکے انتظار میں ہاتھ روک کر بیٹھی تھی۔۔
    بیانئے ۔۔ اس نے فورا معزرت کی۔۔
    کوئی بات نہیں۔۔ وہ اسکا انتظار ہی کر رہی تھی ہیون نے اپنے لیئے کھانا نکالا تو وہ وہ مزے سے بسم اللہ پڑھ کر شروع ہو گئ تھی۔۔ اسکو نوالا بنانے میں مشکل آرہی تھئ وہ دز دیدہ نظرون سے اریزہ کو دیکھتا۔۔ اریزہ چھوٹے نوالے بنا رہی تھی خوب چبا کر کھا رہی تھی۔۔ ساتھ ساتھ جو ڈش خود اٹھاتی اسکی پلیٹ مین بھی تھوڑا سا ڈال دیتی۔۔
    اس نےبریانی نکالی تو چمچ کی بجائے وہ بھی ہاتھ سے ہی کھانے لگی۔۔ ہایون اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا۔۔ وہ بہت نفاست سے نوالا بنا رہی تھی۔۔
    وہ بہت رغبت سے کھا رہی تھئ۔۔
    ۔۔ ہیون کی نظروں کا احساس ہوا تو جھجک کر ہاتھ نیچے کیا۔
    وہ چمچ تھا تو۔۔ وہ کھسیا کر ہاتھ پونچھنے لگی۔
    آنیو۔ ہیون نے فورا روکا۔
    تم جیسے کھاتی ہو ویسے ہی کھائو۔۔ جس میں تمہیں آسانئ ہو۔۔ بلکہ میں بھی کوشش کرتا ہوں۔۔ اس نے بھی چمچ رکھ دیا۔۔
    جس طرح اریزہ کیلیئے چاپ اسٹک سے نوالہ بنانا مشکل ہو رہا تھا اسی طرح ہایون بھی منہ تک لے جانے میں کتنے ہی نوالے گرا چکا تھا۔۔
    ایسے۔۔ اریزہ مسکراہٹ دبا کر اسے نوالہ بنانا سکھانے لگی۔
    بیک گرائونڈ میں وہی ملی نغمہ بجے جا رہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کھانا کھا کر باہر نکلے تو اسے کون نظر آگئ۔۔
    آئیسکریم کھائیں۔۔ اس نے پوچھا۔۔
    ہیون کون شوق سے نہیں کھاتا تھا یہی بتانے کو منہ کھولا مگر اریزہ نے موقع نہیں دیا۔
    اس بار بھاگ کر گئ۔۔ خود خرید کر لے آئی۔۔
    ہیون اسکی پھرتی دیکھ کر رہ گیا۔۔
    مجھے کون بہت پسند پاپا تو کون کی مشین خریدنے لگے تھے مگر امی آڑے آگئیں۔۔
    اس نے منہ بنا کر بتایا۔۔
    امی۔۔ ہیون پاپا تو سمجھ گیا تھا۔۔
    آہمو جی۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔ اسکی کون پگھلنے کو تھئ۔۔
    اسکو یہاں سے چاٹو۔۔ پگھل رہی ہے ایسے۔۔
    اریزہ نے فورا اسکو توجہ دلائی۔۔
    پھر اپنی کون کو کونے سے زبان لگا کر گویا اسے عملی طور پر سکھایا کیسے کون کھاتے۔۔
    تمہارے آہبو جی تم سے بہت پیار کرتے ؟۔۔ اس نے بات برائے بات پوچھا۔۔
    بہت زیادہ میں لاڈلی ہوں انکی۔ اس نے اترا کر بتایا تھا۔۔
    اور آہمو جی۔۔ ہایون اسکے بچوں جیسے انداز پر مسکرا رہا تھا۔۔
    وہ نہیں کرتیں۔۔ پیار مجھ سے۔ اسکا انداز خفا خفا سا ہوگیا۔
    کیوں۔ ہیون چونکا۔ اریزہ کی ماں بھی کیا اسکی ماں کی طرح سوتیلی ہے۔۔
    انکو بھائی پیارا تھا ۔۔ وہ بھائی کے ذکر پر اداس سی ہوئی۔۔
    بچپن کی کوئی یاد تازہ ہوئی تھی۔۔
    ہائے میرا حماد چلا گیا۔۔ آپا۔
    خالہ سے لپٹ کر بلکتی اسکی ماں وہ خالہ کی آمد کا سن کر بھاگتی آئی تھی ڈرائنگ روم میں ابھی دروازے پر ہی تھئ کہ ماں کے بین سنائی دیئے۔۔
    ایک بیٹا تھا میرا بس آپا۔۔ خدا کو لینا تھا تو بیٹی لے لیتا۔۔ میرا بیٹا کیوں چھین لیا ۔۔ ہمارا اکلوتا سہارا تھا بڑھاپے کا میرا جوان بیٹا چلا گیا آپا۔
    ماں کے بین اسکا دل چیر گئے تھے۔۔ ماں صدمے میں تھی حواس کھو رہی تھی مگر وہ بھی تو ایک بارہ سال کی بچی ہی تھی ان جملوں کو سہہ نہ سکی رو پڑی بھلا نہ سکی آج تک یاد تھے
    پاگل مت بنو صفیہ۔۔ خدا کی امانت تھی اس نے لے لی شکر ادا کرو اریزہ بچ گئ۔۔ وہ بھی تو وہیں تھی۔
    یہی تو کہہ رہی آپا وہ بھی تو وہیں تھی۔۔ میرا حماد کیوں چلا گیا۔۔ میرا ایسا سلجھا ہوا تابعدار بیٹا۔۔
    ماں کے بین نہ تھمے۔۔
    ہوش کر و صفیہ۔۔ مت فضول بکو۔۔ خدا کا لاکھ شکر ہے گود خالی نہ ہوئی تمہاری۔۔بیٹی تو بچ گئ۔۔ اسکی شکل دیکھو حوصلہ پکڑو۔۔ خالہ نے ڈپٹ دیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکو آئیسکریم کھانے کا طریقہ سکھاتی لڑکی اب اپنے ہاتھ خراب کر چکی تھی سوچوں میں گم ہو کر۔۔
    ہیون اسکی سوچیں تو نہیں پڑھ سکتا تھا مگر سوچیں تکیلف دہ ہی تھیں اتنا تو اسکا چہرہ پڑھ گیا تھا سو بات بدل کر بولا۔۔
    تم نے کبھئ یہ کھیلا ہے۔۔ اس نے تھوڑی دور ایک کائو نٹر کی جانب اشارہ کیا۔۔
    کیا؟۔۔
    اریزہ چونکی۔۔
    ادھر آئو۔۔ وہ اسے کہتا آگے بڑھا اریزہ نے بھی تقلید کی۔۔
    وہ ایک چھوٹا سا کیبن تھا جس میں چھوٹے چھوٹے اٹفڈ ٹوائز گڑیائیں بھالو ، سینڈیز اور چھوٹے موٹے تحائف پڑے تھے۔۔ کیبن شیشے کا تھا اسکے آگے ایک چھوٹا سا ہنڈل بنا ہوا تھا اس ہینڈل سے متصل ایک آہنی پنجہ سا لٹک رہا تھا اس ہینڈل سے وہ پنجا ہلتا جلتا تھا انہیں اپنی مرضی کا تحفہ اٹھا کر باہر نکالنا تھا اس آہنی پنجے کے زریعے۔۔ یہ جتنا آسان لگ رہا تھا اتنا تھا نہیں۔۔ چند سیکنڈ کے بعد پنجا کھل جاتا تھا انکو چاہے وہ راستہ پورا کر چکا ہو یا نہین۔۔ ہیون اسکیلیئے ایک دو پونیوں والی گڑیا اٹھانے کی کو شش کر تا رہا۔۔
    اسے ایک چھوٹا سا گڈا پسند آگیا تھا۔۔
    اس نے ہایون کا خوب مزاق اڑا کر اس سے ہینڈل چھین لیا تھا۔۔ تین ناکام کو ششوں کے بعد چوتھی بار وہ کامیاب ہوئی تھی۔۔ اس نے وہیں اچھلنا شروع کر دیا تھا۔۔ اس نے حقیقتا چڑا چڑا کر اسکی ناک میں دم کر دیا تھا اتراہٹ سے اسکا برا حال تھا۔۔
    پہلی بار کھیلا ہے میں نے۔۔ اس نے جتایا
    تم عظیم ہو بھئی۔۔
    اس نے ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔۔
    اریزہ اس گڈے کی مختلف انداز میں تصویریں کھینچ رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورے شہر کی روشنیاں اسکی نگاہوں کے سامنے تھیں۔ دامن کوہ سے کبھی اسلام آباد شہر کا شام میں نظارہ کرو تو لگتا ہے جیسے ایک بڑی سی جھیل میں روشنی کے دیئے تیر رہے ہوں۔ مگر یہاں نام سان ٹاور کے قریب بنے اس بڑے سے پارک کی بالکونی سے سیول شہر کو دیکھتے اسے لگا تھا کہ ستاروں کی بارات اتر آئی ہو اسکے آنگن میں۔ سیول کی فلک بوس عمارتیں اور ان سے پھوٹتی روشنیاں۔ وہ مبہوت سی ہوگئ تھی۔ اوپر ٹاور تک کیبل کار تھی جسکا الگ سے ٹکٹ لینا پڑتا۔ اس نے یہیں کھلی فضا کو ترجیح دی تھی۔ پھر وقت بھی کم تھا کیبل کار بند ہی ہونے والی تھی۔
    تم مجھے بتا دیتیں میں چھٹی لیکر آجاتا۔
    ایڈون نے اسکو کوک تھمائی اس نے چونک کر کین اسکے ہاتھ سے لے لیا۔۔۔
    اسکا جواب سنتھیا دانستہ ٹال گئ۔ اسے ہلکی ہلکی سرد ہوا کو سہتے یہاں ملگجے اندھیرے میں کھڑے ہو کر شہر کی روشنیاں دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔ اس وقت وہ بس اس لمحے میں جینا چاہ رہی تھی۔
    کتنی ہی دیر گزر گئ۔ دونوں خاموشی سے برابر برابر کھڑے بس سامنے دیکھ رہے تھے اپنی اپنی سوچ میں گم۔
    کتنی ہی دیر کے بعد جانے کس تکلیف دہ سوچ کو ٹالنے اس نے سر جھٹک کر دائیں جانب دیکھا تو ایڈون کو بھی کسی گہری سوچ میں گم پایا۔
    کیا سوچ رہے ہو۔
    اس نے پوچھا تو ایڈون نفی میں سر ہلانے لگا۔
    کچھ خاص نہیں۔
    تمہیں پتہ ہے میں کیا سوچ رہی تھی۔
    سنتھیا نے ناز سے کہا تھا۔۔ جوابا ایڈون نے پوچھا ہی۔نہیں چند لمحے انتظارکے بعد وہ خود ہی بولی۔
    میں سوچ رہی تھی کہ آج سے پانچ سات سال بعد بھی ہم دونوں یہاں آئے ہوں یونہی کھڑے اس نظارے کو دیکھ رہے ہوں یہی موسم ہو یہی شہر ہو بس ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لحظہ بھر رکی۔ پھر ایڈون کو دیکھ کر بولی
    ہم دونوں خاموش نہ ہوں۔۔۔۔
    ایڈون گہری سانس لیکر ریلنگ پر بازو ٹکا کر اپنی پیشانی سہلانے لگا۔
    پانچ سات سال بعد کی بجائے ابھی کا سوچو۔ لگ رہا ہے بارش ہوگی ہمیں اب چلنا چاہیئے۔
    ایڈون آسمان کو دیکھتے ہوئے بولا۔ ہلکے ہلکے بادل چھا رہے تھے۔
    آج چودہ اگست ہے۔ یاد ہے پچھلے سال اس دن ہم پنڈی میں چھت پر سے جھنڈیاں اتار رہے تھے۔ بارش جو شروع ہو گئ تھی۔
    سنتھیا کا دل واپس اسی کٹیا میں جانے کا نہیں کر رہا تھا۔
    سو بات بدل گئ۔
    کتنا مزا آتا تھا جھنڈیاں لگانے کا سب سے بڑا پرچم لگانے کا۔ یہاں تو سب کیلئے عام سا دن ہے۔
    وہ بور سے انداز میں بولی۔
    جھنڈیاں لگانے کونسا ہماری حیثیت بدل جاتی تھی۔ رہتے ہم وہی اقلیت کے اقلیت تھے۔ پوری جھنڈے کا چھوٹا سا حصہ۔ جتنا کھل کے یہاں پھر رہے رات کے دس بج رہے کسی کو جوابدہ نہیں ہم یہاں وہاں آزادی سے اتنی رات کو کسی پبلک پلیس پر گھوم سکتے تھے ہم پاکستان میں ؟
    ایڈون میں اتنی تلخی پاکستان کیلیے پاکستان میں رہتے بھی تھی یا اب اچانک پیدا ہوئی تھی وہ درست اندازہ نہ لگا سکی۔ الجھن بھرے انداز میں پوچھنے لگی
    تمہیں کوریا پاکستان سے ذیادہ پسند ہے؟
    اب میں اس وقت کوریا پاکستان کے موازنے کے موڈ میں نہیں ہوں مگر اتنا کہوں گا پاکستان میں بےجا پابندیاں ہمیں اقلیت ہونے کی وجہ سے سہنی پڑتی ہیں وہ ملک مسلمانوں کیلئے ہی ہے بس۔
    ایڈون نے ہاتھ جھاڑے۔۔۔
    خیر۔۔۔میں بہت تھک گیا ہوں۔ جاب اسکے بعد اکیڈمی اس وقت دل کررہا تھا بس بستر ہو اور میں سوجائوں۔ ہنگل کے سبق روز کے روز ملتے ان مشقوں کو دہرانا اور یاد کرنا پڑتا ہے۔ آج تو وقت نہیں ملنا مجھے۔۔ اسی لیئے یہاں آنے سے منع کر رہا تھا۔
    وہ سرسری سے انداز میں بتا رہا تھا۔ تھکن اسکے انداز سے واضح تھی۔
    مگر تمہیں میری فرمائش پر یہاں آنا پڑگیا۔
    وہ فورا چڑی تھی۔ ایڈون ہونٹ بھینچ کر رخ موڑ گیا۔ اسکی یہ حرکت اسے مزید غصہ دلا گئ۔ وہ پھٹ سی پڑی۔
    کوئی اندازہ ہے تمہیں میں نے سارا دن کیسے گزارا ایک تنگ کوٹھری میں بند۔ بھوک سے آنتیں پلٹ رہی تھیں میری۔ مگر گھٹن کا احساس سب پر حاوی تھا۔ مجھے لگ رہا تھا ساری دیواریں مجھ پر آن گریں گی۔ مجھ سے ایک گھنٹہ اس گوشی وون میں گزارنا مشکل ہے کجا وہاں رہناسانس نہیں آرہی تھی مجھے ۔
    ایڈون یونہی رخ موڑے کھڑا تھا اس نے آگے بڑھ کر اسے کندھے سے پکڑ کر اپنی جانب موڑا۔
    ۔ ایک بات تو بتائو بابا اتنے پیسے بھیج رہے ہیں کہ فلیٹ لیا جاسکے مگر تم منع کیئے چلے جا رہے ہو۔
    اتنا دشوار ہے تمہارے لیئے ایک کمرے کا فلیٹ ارینج کرنا؟ یا تم مجھ سے اتنے عاجز ہو کہ میرے ساتھ رہنا گوارا ہی نہیں ہے۔۔
    مجھ میں اس وقت تم سے لڑنے کی بھی ہمت نہیں ہے سنتھیا۔
    وہ عاجز سا ہو کر بولا۔
    تمہیں احساس کیوں نہیں ہو رہا کہ میں گوشی وون میں نہیں رہ سکتی۔
    وہ بے بسی سے رو پڑی۔ اسے کوئی سخت سا جواب دیتے دیتے رہ گیا ایڈون۔
    میں کچھ پیسے بچانا چاہ رہا تھا۔۔ تم نے فیصلہ کرنا ہے اس بچے کیلئے۔ اگر اس معاملے کو ختم کرنا ہو تو بھی اور اگر تم اسکو ۔۔ وہ بولتے بولتے رک گیا۔ پھر دھیرے سے اسکے کندھے تھام کر اپنے مقابل کرلیا۔ سنتھیا نے آنسوئوں بھری نگاہیں ا س پر جما دیں۔
    ہمیں اسکی پرورش کیلیے بھی پیسے چاہیئے ہوں گے۔ ہم اپنے والدین سے پیسے نہیں مانگ سکتے اس سب کیلئے۔۔۔ تم نے کیا سوچا ہے ؟ کیا کرنا۔
    میرا فیصلہ؟ وہ چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی۔
    ہاں۔ ایڈون نے تھوک نگلا۔
    تم جو بھئ فیصلہ کروگی مجھے منظور ہوگا۔ اگر تم چاہتی ہو ہم اپنے والدین کو اعتماد میں لے کر یہاں شادی کر لیں تو بھی اور اگر تم چاہو تو ہم اس معاملے کو خاموشی سے ختم کر لیں گے۔
    سنتھیا نے لمحہ بھر سوچا۔
    میں اس بچے کو پیدا کرنا چاہتی ہوں۔
    ایڈون کو لگا کہ پورا سیول لمحہ بھر کیلئے تھم گیا تھا اسکے لیئے۔۔۔۔
    …………………………….
    وہ اسے اپارٹمنٹ کے باہر چھوڑ کر گیا تھا۔ اس نے کہا بھئ کوئی بات نہیں میں چلی جائوں گی۔۔ مگر وہ اسے چھوڑنے اوپر تک آیا تھا۔۔
    گوارا ابھی گھر نہیں لوٹی تھی۔۔ وہ کمرے میں آئی تو ہوپ بیڈ پر بے خبر سو رہی تھی۔۔اس کے پائوں کے زخم پر پپڑی آچکی تھئ مگر اتنی خشک کہ لگتا تھا ابھی خون چھلک پڑے گا۔ اس نے لمحہ بھر سوچا۔ گوارا کے پاس چوٹ پر لگانے والی دوا پڑی تو تھی ۔ اس نے اٹھا کر احتیاط سے ٹیوب سے اسکے زخم پر دوا لگا دی تھی۔ ہوپ ذرا سا کسمسائی وہ فورا پیچھے ہٹی۔کچھ بعید نا تھا کہ یوں دوا لگانے پر لات ہی مار دے۔ اس نے اسکے دوبارہ گہری نیند میں جانے کا انتظار کیا اور ایک رومال لاکر اسکے پائوں کے نیچے بچھا دیا۔ سب کاروائی کرکے فریش ہونے باتھ روم گھس گئ۔ نہا دھو کر تازہ دم ہو کر نکلی تو تھکن سے براحال تھا۔ گوارا کا انتظار کرنے کی بجائے وہ آکر لیٹ گئ۔۔ اب بلاگ اپڈیٹ کرنے کی باری تھی۔۔
    زندگی میں پہلی بار کوئی کھیل کھیلا اور انعام بھی جیتا ہے۔ اس نے یہی عنوان دیا۔۔
    اور اس گڈے کی سب تصویریں لگا دیں۔
    کمنٹ آرہے تھے اس نے کھولا
    پہلا کمنٹ : آج کے دن کے حوالے سے تو کچھ پوسٹ کرتیں تم
    دوسرا کمنٹ: انعام یہ ہے تو کھیل بھی کوئی گھٹیا سا ہوگا
    تیسرا کمنٹ: پاکستانی ہو کر اتنی محنت کی۔ اندر تار ڈال کر نکال لینا تھا۔
    چوتھا کمنٹ : اس مشین پر ایک پتھر مارتیں ایک گڈے کی بجائے سب مل جاتے دکان کھول لیتیں اپنی تم
    پانچوان کمنٹ: بارش شروع ۔ چودہ اگست ہو اور بارش نہ ہو نا ممکن۔
    چھٹا اسی کمنٹ کا جواب کھول کھول کر سب پوچھ رہے تھے کس شہر کی بات کر رہے کہاں ہو رہی ہے بارش۔
    اور ہایون پیغام بھیج کر پوچھ رہا تھا
    کونسا گانا تھا جو وہاں چل رہا تھا سن کے مزے کا لگا تھا۔
    اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ ۔ جھٹ گانا یوٹیوب پر ڈھونڈ کر اسے لنک بھیجا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہیون کو اسکے اتنی جلدی جواب بھیجنے کی توقع نہیں تھئ۔۔
    جلدی جواب دینے والے بھی نعمت دوست ہوتے۔۔ اس نے سوچا۔۔ اسکا بھیجا گانا لگانے لگا پھر خیال آیا۔
    یاہ آئی ایم آلاییو۔۔ مورم اسکول کا او ایس ٹی ۔۔ وہ یہی گانا سن رہا تھا یہی اسے بھی بھیج دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیغام۔کی گھنٹی بجی۔۔
    اس نے کھول کر دیکھا تو کوئی لنک تھا
    اس نے فورا کھولا جیسے ہی موسیقی کی آواز بلند ہوئی ڈر کر بند کر دیا۔ ہوپ بے خبر سو رہی تھی۔۔ اس نے اٹھ کر سائڈ ٹیبل سے ہنڈز فری نکال کر کانوں میں ٹھونس لی پھر دوبارہ چلایا۔۔
    چند لمحے سن کر وہ لب ہلانے لگی
    یاہ آئی ایم آل رائٹ۔۔ آگے کچھ اور ہی زبان تھی۔۔۔ سمجھ نہیں آرہا تھا مگر سننے میں اچھا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔

    Kesi lagi apko Salam Korea ki aaj ki qist ? Rate us below

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔

  • Salam Korea Episode 23

    Salam Korea
    by vaiza zaidi

    قسط 23
    ڈیڈا مجھے پیسے چاہیئیں نا۔۔
    وہ چڑ کر بولی تھی۔
    وہی تو پوچھ رہا ہوں بیٹا کیوں ؟ ایڈون کو میں اچھے خاصے پیسے بھجوا چکا ہوں تم اس سے لو نا۔
    ڈیڈا کے جواب پر وہ غصے میں بھر گئ۔
    میں آپکی بیٹی ہوں ایڈون نہیں۔ اسے کیوں بھجوائے ہیں۔۔مجھے پیسے چاہیئیں ہیں میں اب کیا ایڈون سے مانگتی پھروں گی؟
    ہاں تو کیا حرج ہے۔ اسکے برعکس وہ رسان سے بولے۔
    ایڈون بتا رہا تھا کہ اسکالر شپ ختم ہو گئ ہے تو میں نے اگلے سمسٹر کے بلکہ اگلے دو سمسٹر کے پیسے تمہارے اورایڈون دونوں کیلئے بھجوائے ہیں اور جیب خرچ بھی بھیجا ہے۔ ایڈون سے پوچھو تو سہئ۔
    اسکے لیئے یہ انکشاف نیا تھا۔
    ایڈون کو آپ نے ۔۔ وہ حیرت کے مارے جملہ بھی پورا نہ کرسکی۔
    ہاں بیٹا۔ اور سنو میں چاہتا ہوں تم اپنی ڈگری مکمل کرو۔۔ بس پڑھائی پر دھیان دو۔ اریزہ کے ساتھ مل کر کوئی فلیٹ لے لو ایڈون کو کہا ہے کوئی فلیٹ ڈھونڈے ۔ تم لوگوں کیلئے۔ بس تم دونوں اکٹھی رہنا مزید کسی کو ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ ٹھیک ہے۔ اور مزید جتنے پیسے چاہیئئے ہوں بتا دینا میں بھجوا دوں گا۔ اچھا ابھئ میری ایک اہم میٹنگ ہے۔۔
    بولتے بولتے انکی نگاہ کلائی میں پہنی گھڑئ پر پڑی تو ایکدم عجلت میں بولے
    ڈیڈا۔ ڈیڈا پلیز مزید پیسے مجھے ڈائریکٹ بھجوائیں مجھے ایڈون سے لینا اچھا نہیں لگتا۔
    اس نے جلدی سے ٹوکا۔
    اچھا اچھا۔ دیکھتے ہیں۔۔ اچھا بیٹا اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔
    وہ جلدی میں تھے جبھئ ٹالنے والے انداز میں ہی بولے اور فون رکھ دیا۔
    وہ اپنے موبائل کو دیکھ کر رہ گئ۔
    اسکا ذہن بری طرح الجھ رہا تھا۔ ایڈون کے پاس اتنے پیسے تھے کہ وہ آرام سے فلیٹ لیکر رہ سکتے تھے پھر بھی۔۔
    اسکی سوچ اس بات پر آکر اٹک سی گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شاہزیب اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ اتنی حیرانی سے کہ وہ شرمندہ سا ہو کر سر جھکا گیا۔
    مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ ہے۔ وہ بمشکل اتنا ہی کہہ سکا۔۔
    شاہزیب کے ماتھے پر شکنیں سی پڑ گئیں۔
    اب مسلئہ یہ ہے کہ پیسے میرے پاس بس اتنے ہیں کہ میں ابارشن کا خرچہ کر سکتا ہوں مگر اسکے بعد بھی فوری طور پر اسے پاکستان نہیں بھیجا جا سکتا۔ میں یہاں گوشی وون میں رہ رہا ہوں اسکو کہاں رکھوں گا۔۔ بہت مشکل میں ہوں میں یار۔
    وہ دونوں ہاتھوں میں سر دیئے بیٹھا تھا۔ پریشانی اسکی شکل سے ہویدا تھی۔ مگر اس پر رتی برابر بھی شاہزیب کوترس نہ آیا۔ دل کر رہا تھا اس وقت اسکی اتنی ٹھکائی کرے کہ دماغ ٹھکانے پر آجائے۔
    وہ دونوں اس وقت ہاسٹل کے احاطے میں لگے باغیچے میں بنچ پر بیٹھے تھے۔
    کچھ تو بول ۔۔ گالیاں ہی دے دے۔
    اپنے ذہن کی الجھی سوچوں سے گھبرا کر اس نے کہا تھا۔ شاہزیب اسکی پوری بات سن کر بالکل چپ رہ گیا تھا۔ ایک لفظ نہ بولا تھا۔ کچھ کہہ سن لیتا تو شائد اس وقت اسکی جو ذہنی کیفیئت تھی کہ دل کر رہا تھا یہیں گڑ مر جائے تو شائد اسی میں کچھ افاقہ ہوجاتا۔ شاہزیب کی خاموشی تو جیسے سنگسار کر رہی تھی۔
    شاہزیب اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    سنتھیا اتنا کوئی ناقابل عمل حل نہیں بتا رہی۔ تم دونوں با شعور ہو۔ بجائے اسکے کہ اتنے کھڑاگ میں پڑو ایک فلیٹ لو اکٹھے رہو یہاں کسی چرچ میں شادی کرلو گھر میں بتا دینا کہ اکٹھے رہنا تھا اسلیئے ایسا کرنا پڑا۔
    شاہزیب بہت سنبھل سنبھل کر بولا تھا۔ ایڈون اسے گھور کر رہ گیا۔
    شادی رچا لوں ؟ گھر والوں کو کیا بتائوں ؟ کہ اب مجھ سے ٹکے کی امید نہ رکھیں میں یہاں شادی کر چکا ہوں اسکو چلانے کیلئے جو بھی چھوٹی موٹی نوکری ملے گی کروں گا بھاڑ میں گئ پڑھائی میری بھاڑ میں گیا کیرئر اب مجھے اپنے بیوی بچے پالنے ہیں بس۔
    وہ اتنا جھلا کر بولا تھا کہ شاہزیب اسکی شکل دیکھنے لگا۔
    یہ سب کرنے سے پہلے سوچنا تھا۔
    اسکا دل چاہا کہہ دے مگر بچپن کی دوستی کا لحاظ کر گیا۔
    عجیب مصیبت میں پھنس گیا ہوں میں۔ الٹا ایک وہ سنتھیاہے۔ نا اپنی عزت کا خیال ہے نا میری۔ بچہ پالنا چاہتی ہے۔ اس کی امیر زندگئ کی وہ فینٹیسی ہے بس کہ بچہ ہمارے پیار کی نشانی ہے ۔ اس بچے کی پیدائش پر جو سوال اٹھیں گے اس کی طرف دھیان نہیں جا رہا اسکا۔ بس شادی شادی کی رٹنی
    بل شٹ۔
    وہ سوجو کے گھونٹ بھر رہا تھا۔ بوتل کیاری میں پھینکتا جیبوں میں ہاتھ ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
    اسکو ابارشن کیلئے الگ منانا ہے۔ سمجھ نہیں آرہی اسے میری ایک بھی بات۔ ایک دل تو کر رہا سیدھا پاکستان بھجوا دوں وہاں جا کر اپنے ماں باپ کو فیس کرے گی نا تو ساری فینٹسی ناک کے راستے نکل جائے گی خود ابارشن پر راضی ہو جائے گی جب احساس ہوگا یہ بچہ نہیں مصیبت گلے پڑ گئ ہے۔
    اریزہ کو پتہ ہے؟ ۔۔۔۔۔ شاہزیب کو خیال آیا۔
    پتہ نہیں۔یار۔ وہ ویسے بھی گوارا کے گھر گئ ہوئی ہے۔ اس سے بھی سنتھیا لڑ کر بیٹھی ہے۔ ہر کسی سے تو لڑ رہی ہے۔ عجیب بدمزاج ہوئی وی ہے۔
    وہ۔بیزاری سے منہ بنا کر بتا رہا تھا۔
    پھر بھی۔ اریزہ اسکی بچپن کی دوست ہے۔ ایسے دوستی تھوڑی ختم ہو جاتی ذراسئ لڑائی سے۔ تم اریزہ سے بات کرلو۔ وہ سنتھیا کو سمجھا سکتی ہے۔
    شاہزیب کی بات میں وزن تھا۔ ایڈون نفی میں سرہلاتے کچھ کہتے کہتے رک سا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سالک نے اپنا سارا سامان سمیٹ لیا تھا۔ ایڈون کمرے میں داخل ہوا تھا تو اسکا حصہ ایکدم خالی سا محسوس ہوا۔
    تم لوگ جلد بازی کر رہے ہو میں پھر کہوں گا۔
    یون بن اور سالک بحث میں الجھے تھے۔
    کوریا کا تعلیمی نظام ایشیا ء کا سب سے بہترین تعلیمی۔نظام ہے۔ ہمارے یہاں تو امریکہ تک سے لوگ پڑھنے آتے ہیں۔ جنوبی ایشائی ممالک کیلئے تو کوریا میں اتنی اسکالر شپس آتی ہیں لوگ یہاں سے تعلیم حاصل کرکے اپنا کیئریر بنا لیتے ہیں۔ چند مہینوں کی تو بات ہے بس۔
    یون بن سمجھا رہا تھا۔ سالک اپنے کپڑے سوٹ کیس میں رکھ کر اسے بند کرتا سیدھا ہوا
    او بھائئ ہم یہاں صفر سے اپنی ڈگری شروع کریں ایسی اسکالر شپ کا انتظار کریں جو ملے نہ ملے چانس کی بات ہے کم ازکم اپنی یونی واپس جائوں گا تو اسی سمسٹر کا امتحان تو دے سکوں گا نہیں تو پچھلے دو سال کے جی پی اے کی بنیاد پر اگلے سمسٹر سے ریگولر ہوجائوں گا۔
    بائیس سال کا ہو رہا ہوں اسی طرح گریجوایشن میں پھنسا رہوں گا تو کب نوکری کروں گا کب گھر کا خرچہ اٹھانے کے قابل ہوئوں گا۔
    سالک نے تفصیل سے بتایا تووہ الٹا حیران ہو گیا۔
    تم کیوں اٹھائو گے؟ تمہارے والدین بہن بھائی کچھ نہیں کرتے؟
    سالک گہری سانس لیکر رہ گیا۔
    ہم پاکستانی ہیں۔ ایک کماتا ہے دس بیٹھ کر صرف کھاتے ہیں۔
    ایڈون نے انکی بات اچک لی تھی۔ اردو میں بولا سالک گھور کر رہ گیا
    مگر وہ ایک کمانے والا اپنی اولادوں کی پڑھائی کا سب خرچ خود اٹھاتا بھئ ہے تو اولاد کا فرض بنتا ہے سود سمیت اپنے والدین کا احسان اتارنا۔ میں اتنا خود غرض نہیں بن سکتا کہ یہاں نئے سرے سے تعلیمی سلسلہ شروع کروں اور انکو دو کی بجائے چار سال مزید انتظار کروائوں۔۔
    سالک کی بات پر ایڈون کے چہرے پر سایہ سا لہرا گیا۔ اس نے تو یونہی بات کی تھی اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا مگر ایڈون کو لگا جیسے اسکے الفاظ اس پر کوڑے کی طرح برس اٹھے ہوں۔۔
    تم آنا کبھی پاکستان پورا پنجاب گھمائوں گا اور کشمیر وغیرہ بھی بہت خوبصورت وادیاں ہیں پاکستان میں منی سوئٹزر لینڈ ہے ہمارا پاکستان۔
    سالک خوش دلی سے یون بن کو دعوت دے رہا تھا
    عجیب بات ہےکبھئ سنا نہیں ایسا۔۔ یون بن کندھے اچکا کر بولا
    چلو تم لوگ اب دو تین دن کے ہی مہمان رہ گئے ہو تو کم از کم سونا تو دیکھ لو ہمارا۔ کل چلتے ہیں سونا خوب مزے کریں گے۔
    یون بن نے اتنے اشتیاق سے کہا تھا کہ وہ انکار نہ کرسکا۔
    ٹھیک ہے کل چلیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تصویر کھنچ گئ تھی گردہ تھوڑی چوری کر لیا تھا میں۔نے۔۔
    اریزہ سخت خفا تھی۔۔بڑ بڑاتے ہوئے چیزیں سمیٹ رہی تھی۔۔ وہ اور گوارا اسکے کمرے میں سامان سمیٹنے آئی تھیں۔۔
    گوارا تو آرام سے سنتھیا کے بیڈ پر پائوں پھیلا کر لیٹ گئ اور موبائل استعمال کرنے لگی اریزہ البتہ اوپر چڑھ گئ تھی۔۔ اسکا لیپ ٹاپ تک یہیں تھا کپڑے ودیگر سامان پر گرد کی تہہ جم رہی تھی۔۔ اسکو بے ساختہ وہ پہلا دن یاد آیا جب وہ اور سنتھیا اس کمرے میں آکر خوشی سے اچھل پڑی تھیں۔ اور گوارا نے ناک چڑھا کر جانے کیا تبصرہ مارا تھا انکے منہ پر۔۔
    اسکے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔۔
    تمہیں پتہ ہے بریو ہارٹ کا لیڈ سنگر تھا وہ جو ہمارے ساتھ جہاز میں بیٹھ کر آیا تھا تبھی تو اسکے استقبال کیلئے اتنے رپورٹر جمع تھے ائر پورٹ پر۔۔
    وہ اوپر گرل سے جھانک کر بڑے شوق سے سنتھیا کو بتا رہی تھی۔۔ سنتھیآ بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھی نیل پالش لگاتے بے نیازی سے بولی
    ہوگا سنگر اپنے لیئے ہمارے لیئے تو عام سا چینی تھا ہم کیا جانیں اسے
    کورین۔۔ چینی نہیں ہے وہ بے چارہ۔۔ اریزہ ہنسی
    کیا فرق ہے دونوں کی آنکھیں کھلتی نہیں چاہے چینی ہو یا کورین۔۔ میرئ لیئے تو بڑی آنکھوں والا سلونا سا لڑکا کافی ہے اسکے سوا کسی کو نہیں دیکھنا مجھے۔۔
    وہ ادا سے کہتی لہرائی
    یاک ۔۔ اریزہ نے بے ساختہ الٹی کرنے والے انداز میں ناک چڑھا کر کہا تھا۔۔ زہر لگتی ہو ایسے کہتی
    ہائے بس ایڈون کو پیاری لگوں میں بس باقی دنیا کی خیر ہے۔۔
    وہ لہرا کر بستر پر گر ہی گئ۔۔
    ہاں جی اب ہم کہاں نظر آئیں گے تم پریمیوں کو۔۔
    اریزہ نے آہ بھری
    تم تو نظر آرہی ہو اور بہت ذیادہ نظر آرہی ہو وہ بھی اسکو جسکی آنکھیں نظر نہیں آتیں۔۔ سنتھیا نے چسکے لینے والے انداز میں کہا تو اریزہ نے چونک کر گرل کے دونوں راڈوں کے درمیان سے گردن باہر نکال کر نیچے جھانکا۔۔
    کون ؟ کسے ؟؟
    ہیون کو اور کسے۔۔ ہیون اب اریزسک ہورہا ہے ۔۔۔ خود ہی بتا رہی تھیں اپنی بہن تک سے ملوایا کھانے کھلائے او راس انگریزنی سے بھی لڑا تمہارے لیئے دال میں کچھ کالا تو ہے۔۔
    سنتھیا کھلکھلائی تو اریزہ منہ کھولے سنتی رہ گئ۔
    ارے ارے کیا بکے جا رہی ہو۔۔ اس نے غصے سے جلدی سے مڑ کر اپنے بیڈ سے تکیہ اٹھا کر مارنا چاہا مگر گردن پھنس گئ۔۔
    ہائے اوئی۔۔ اسکی آہ و فغاں اتنی بلند تھی کہ سنتھیا گھبرا کر بیڈ پر کھڑئ ہوگئ اسکی صرف گردن باہر تھی باقی جسم بیڈ پر اتنی مضحکہ خیز لگ رہی تھی کہ سنتھیا کی ہنسی چھوٹ گئ
    ہنسو مت اوپر آکر میری گردن چھڑائو۔۔ اریزہ بلبلائی تو وہ بمشکل ہنسی روکتی اوپر بھاگی آئی جیسے ہی قریب آکر اریزہ کو چھڑانا چاہا اریزہ نے سہولت سے گردن باہر نکال کر اسے گردن سے پکڑ کر بیڈ پر گرلیا۔۔ دونوں کی ہنستے ہنستے تکیوں سے لڑائی ہوئی پھر دونوں ہی اکثر شرارت سے گردن وہاں سے لٹکا کر لیٹ کر ہنستی رہی تھیں۔۔
    ہوگیا ؟ گوارا نے اوپر آکر پوچھا تووہ جو بے خیالی میں ویسے ہی گردن پھنسائے لیٹی تھی اٹھ بیٹھی۔۔۔ اسکا سوٹ کیس بھر چکا تھا لیپ ٹاپ اور دیگر چھوٹا موٹا سامان اس نے سمیٹ کر رکھ لیا تھا۔۔
    ہاں بس کپڑے سمیٹ لیئے میں نے۔ اور۔۔ اسے خیال آیا تو کیبنٹ کھول کر دیکھنے لگی ۔۔ اسکے ذخیرہ کیئے گئے بسکٹ چپس پاپ کارن ویفرز سب وہیں ان چھوئے موجود تھے۔۔۔ وہ گہری سانس بھر کر انہیں بھی نکالنے لگی۔۔
    نیچے تو تمہاری سہیلی نے سب سمیٹ لیا ہے ۔کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ کہاں گئ ہے رہنے ؟۔۔
    گوارا اسکے بیڈ پر اوندھئ لیٹی گرل سے گردن نکالے نیچے جھانک رہی تھی۔۔
    پتہ نہیں۔۔ اس نے باقی چیزیں سوٹ کیس میں رکھ کر اسے بند کیا پھر ایک بڑا سا ویفر کا پیکٹ کھولتی گوارا کے برابر اسی کے انداز میں لیٹ گئ۔۔ گردن اور ہاتھ گرل سے باہر نکال کر اسے ویفر آفر کیا جسے جوابا اس نے بھی گرل سے ہاتھ نکال۔کر قبول لیا۔۔
    تمہاری اسکی دوستی اتنی پکی ہوتی تھی کہ میں اور جی ہائے رشک کرتے تھے۔ ہمیشہ اکٹھے کھاتی پیتی تھیں اتنا وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ نظر نہیں آتی تھی جتنا تمہارے ساتھ۔۔تبھی تو ہیون گے سمجھا تھا تم لوگوں کو۔۔
    مت یاد کرائو مجھے۔۔ اریزہ نے منہ بنایا تو گوارا کھلکھلا کر ہنس دی۔۔
    پتہ ہے ہم دونوں تمہارےاور یون بن کے رشتے پر رشک کرتے تھے۔ایسا خونخوار اور سر پر سوار ہونے والے رویئے کے باوجود وہ کیسا تمہارے آگے پیچھے پھرتا تھا اف رشک آتا تھا۔۔ سنتھیا کی تو تم دونوں کے پیچھے ایڈون سے لڑائی بھی ہوئی کہ تم تو میرا اتنا خیال نہیں رکھتے۔۔ وہ ہنس کر بتا رہی تھی گوارا کی مسکراہٹ دھیمی پڑ گئ
    میں واقعی ڈومینیٹنگ تھی اس رشتے میں۔ اس نے سنجیدگی سے پوچھا تو جوابا اریزہ نے ویفر سے بھرے منہ کے ساتھ زور و شور سے سر اثبات میں ہلایا۔۔
    گوارا ہلکا سا ہنسی۔۔
    چلو یعنی اب وہ کھل کر سانس لے سکتا ہے۔ میرے بعد۔
    مطلب۔۔ اریزہ نے چونک کر دیکھا۔۔
    مطلب ہم دونوں نے رشتہ ختم کر لیا ہے۔۔ گوارا نے بہت آرام سے بتایا۔۔ اریزہ چیخ پڑی سر گرل سے لگا۔۔
    آرام سے۔۔ گوارا نے اسکا ماتھا سہلایا
    کیوں؟؟؟؟؟ کیوں کیا بریک اپ ؟ تم دونوں ساتھ اتنے جچتے تھے۔۔
    اریزہ کو واقعی دکھ ہوا
    اچھا۔۔ گواراکا انداز محظوظانہ تھا۔۔
    اسے لگتا تھا میں اسکے حواسوں پر سوار ہونے کی کوشش کرتی ہوں اور مجھے لگتا تھا وہ مجھ سے چھوٹتا جا رہا ہے اسے تھام کر رکھتے رکھتے تھکنے لگی تھی میں۔۔
    تم محبت نہیں کرتی تھیں اس سے۔۔
    اسکے اطمینان بھرے انداز نے اریزہ کو بہت حیران کیا تھا
    محبت مجھےتو لگتا تھا اسکے دور جانے سے میں مر ہی جائوں گی۔۔ گوارا کے لہجے میں دکھ چھلکا تھا
    پھر ؟؟؟ تم دونوں کی اگر لڑائی ہوئی ہےتو ہم صلح کرادیتے ہیں۔۔
    اریزہ کے کہنے پر گوارا نے بہت غور سے اسکی شکل۔دیکھی۔۔۔
    اسے جی ہائے کا ردعمل یاد آیا تھا جس نے ناک چڑھا کر۔کہا تھا۔۔
    دفع کرو۔کوریا میں لڑکے بھرے پڑے ہیں اس بار کسی اچھی ڈیٹنگ ویب سائٹ کو سرچ کر کے ڈھنگ کا لڑکا ڈھونڈنا۔۔
    اسکے دل پر کیا گزر رہی تھی اسکا اسے ادراک تک نہ ہوا تھا۔۔جبکہ اریزہ ٹھیک ٹھاک سنجیدہ اور پریشان تھی اسکے لیئے۔۔ دوستی یہی تو ہوتی ہے اپنا بن جانا اپنا سمجھنا۔۔
    ہیلو؟۔ اریزہ نے اسے چپ خود کو گھورتے دیکھ کر چٹکی بجا کر متوجہ کیا۔۔
    گوارا نے گہری سانس لی۔۔
    تمہیں پتہ ہے محبت ایسے ہی کسی گرل میں گردن پھنسانے جیسا ہے۔۔ ہمارا سر پھنسا ہوتا خود کو چھڑا نہیں پاتے لگتا ہے کبھئ گردن نکل نہیں پائے گی مگر۔
    ۔ اس نے کہتے کہتے رک کر احتیاط سے سر سکیڑ کر دونوں راڈوں کے درمیان سے گردن نکالی۔۔
    یہ ہمارا گمان ہوتا ہے ۔ہم اپنی گردن آرام سے نکال۔سکتے ہیں۔۔ ایسے۔۔
    وہ سیدھی ہو کر بیٹھ کر ہنسنے لگی۔۔
    ارے۔۔ اریزہ جو بے دھیانی میں گردن موڑے اسے دیکھ رہی تھی بھول گئ کہ کہاں گردن پھنسائی ہوئی ہے ایکدم سے مڑنے سے زور کا جھٹکا لگا۔۔
    آہ۔۔ وہ تڑپ کر وہیں سر گرا گئ۔۔
    کیا ہوا۔۔ گوارا فورا اسکی گردن چھڑانے آئی۔۔
    کبھی کبھئ گردن نکالنا مشکل بھی تو ہو جاتا ہے۔۔
    اریزہ نے منہ بسورا ۔۔گوارا زور سے ہنس پڑی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون کے ساتھ اسی گوشی وون کی عمارت میں داخل ہوتے اسکے قدم من من بھر کے ہو چلے۔ تنگ سی راہداری آج بھی خالی تھی۔اسکا بڑا سا اٹیچی گھسیٹتا اور چھوٹا بیگ کندھے پر لٹکائے ایڈون اس سے چند قدم آگے ہو کر ایک کمرے کا دروازہ کھول کر اند رداخل ہو بھی گیا وہ ابھی اس طویل نیم تاریک راہداری کے آغاز میں ہی کھڑی تھی۔ ایڈون نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بھناتا ہوا کمرے کے دروازے سے سر نکال کر بولا۔
    آئو بھی وہاں کیوں رک گئیں۔۔
    اسکا سخت لہجہ وہ فورا تیز تیز قدم اٹھاتی چلی آئی۔
    وہی چھوٹا سا اسٹور نما کمرہ جس پر بس ایک بنچ نما بیڈ تھا سامنے رائٹنگ ٹیبل کے نام پر دیوار گیر الماری کا ہی ایک سرا تھا ایک چھوٹی سی کھڑکی اور بس ۔
    یہ تمہارا کمرہ تو نہیں ہے۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا۔
    ایڈون کا کمرہ اتنا خالی نہ تھا۔ اس کمرے میں سوائے بستر تکیئے سب خالی تھا۔
    ہاں تو یہ میں نے کب کہا کہ میرا کمرہ ہے۔ ایڈون اسکا اٹیچی دیوار کی طرف کرکے کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا۔۔ میرا کمرہ نمبر 25 ہے تمہارا 17 سب سے قریب ترین یہی کمرہ خالی تھا۔ میں نے کوشش کی کہ اپنے کمرے کے قریب والے کسی کمرے کے مکین کو منا لوں مگر یہاں ذیادہ تر لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں منہ پر دروازہ بند کیا سب نے میرا بس یہ ایک کورین لڑکی جو اس کمرے میں رہتی تھی وہ اتفاق سے کہیں اور منتقل ہو رہی تھی سو یہ کمرہ مل گیا ورنہ اوپر کسی فلور۔۔
    وہ تفصیلا بتاتا بیڈ پر گر سا گیا۔ اسکا بھاری اٹیچی اٹھانا آسان کام نہ تھا۔
    میرا دم گھٹ رہا ہے۔ یہاں تو مجھے سانس بھی نہیں آرہی۔
    سنتھیا نے بے تابی سے اسکی بات کاٹی۔۔ اسکا چہرہ پسینے میں تر ہو چکا تھا۔ کمرے کا دروازہ بند ہونے اور ایک باتھ روم جتنی تنگ سی جگہ میں دو نفوس کی موجودگی اس کی حالت واقعی خراب ہونے لگی تھی۔ ایڈون سرعت سے اٹھا۔ کمرے کی اکلوتی کھڑکی کے پٹ کھولے۔
    میں یہاں ایگزاسٹ فین لگوادیتا ہوں۔۔
    وہ کہتے ہوئے مڑا تو سنتھیا دروازہ پورا کھول کر راہداری میں منہ نکال کر گہری سانس لے رہی تھی۔
    کھول تو دی ہے کھڑکی ادھر آکر بیٹھو۔ ایڈون اسکا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بٹھانا چاہتا تھا مگر اس نے جھٹک دیا۔
    یہ یہ سرنگ۔۔ تمہارا کمرہ پھر راہداری کے شروع میں ہے یہاں تو کوئی ہوا کا گزر بھئ نہیں ہے اتنی سی کھڑکی۔ میرا باتھ روم اس سے بڑا ہوتا تھا۔۔
    سنتھیا کی سانس ابھی بحال ہوئی تھی جبھئ الٹ ہی تو پڑی۔
    مانا عجیب لگتا ہے اتنی چھوٹی جگہ میں رہنا مگر بس ایک دو دن پھر عادت ہو جائے گی۔
    ایڈون نے سبھائو سےسمجھانا چاہا۔
    مجھے عادت نہیں ہو سکتی۔ اس کمرے میں بدبو ہے گھٹن ہے اور یہ جگہ۔ میں یہاں بالکل نہیں رہ سکتی ۔ وہ نفی میں سر ہلاتی کمرے سےباہر نکل آئی۔
    ایڈون ہونٹ بھینچ کر دروازہ برابر کرتا اسکے پیچھے چلا آیا۔وہ تیز قدم اٹھاتئ کمپائونڈ سے بھی باہر آکر لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔
    ایڈون نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسکے پاس آنے کی بجائے سیدھا سڑک پار کرکے اسٹور میں گھس گیا۔
    وہ حیرت سے اسے دیکھتی کمپائونڈ کے باہر بنے گرین ایریا کی کیاری پر ٹک گئ۔
    چند لمحوں بعد اسکے سامنے منرل واٹر کی بوتل لہرائی تھی۔ اس نے بلا توقف ڈھکن کھول کر بوتل منہ سے لگا لی او رغٹا غٹ چڑھا تی چلی گئ۔
    یہاں کی زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ ہم جیسے طلباء اسی طرح کے گوشی وون یا ہاسٹل وغیرہ میں ہی گزارا کرتے ہیں۔
    ایڈون کا انداز نرم سا تھا۔
    اوپر سے تمہیں کیا لگتا ہم اکٹھے یہاں شادی کرکے رہ بھی لیں تو اس بچے کے سو خرچے ہوں گے تعلیم ہماری ادھوری ہے اسکے دودھ پیمپر وغیرہ کا خرچہ کہاں سے پورا کریں گے؟
    وہ بس اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    تمہیں بچے بالکل پسند نہیں۔
    اس کے کہنے پر ایڈون ہونٹ بھینچ کر رہ گیا
    یہ بات نہیں ہے۔ ابھی نہیں چاہیئے۔ابھی اور بہت کچھ کرنا ہے ابھی سے اس جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتا۔ او رتم خود تم اس وقت ایک بچہ پالنے کی پوزیشن میں ہو؟ سو کام ہوتے ہیں ماں کے۔ اپنی زندگئ اپنی نہیں رہتی بچے کے کھانے پینے ہر ضرورت کا خیال رکھنا پڑتا ہے ایکدم سے وہ پل نہیں جاتا اور اس بچے کو کیری کرنا۔ آٹھ نو مہینے بندھ کر اس بچے کو سینچ ۔۔۔
    بس کرو۔
    وہ جھلا کر ٹوک گئ۔ پانی کی وہ پوری بوتل خالی کرچکی تھی۔ اس وقت یہاں کا موسم بالکل بھی گرم نہیں تھا پاکستان کے مقابلے میں مگر اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بھٹی میں بیٹھی ہے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ ایڈون مزید کچھ کہتا مگر اس وقت اسکی حالت واقعی قابل رحم تھی۔
    مجھے کسی ہوٹل کسی سونا میں چھوڑ دو۔ میں ابھی یہاں اس دڑبے میں رہنے کیلئے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں۔
    اس نے کہہ ہی دیا۔ ایڈون ہنکارہ بھرتا اٹھ کھڑا ہوا
    میں کسی قریبی ہوٹل کا پتہ کرتا ہوں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یون بن اور کم سن نے حقیقتا دوستی نبھا دی۔ انکو سیول کی خوب سیر کرائی۔ ٹرک آئی میوزیم لے گئے۔ جہاں مختلف نگاہوں کو دھوکا دینے والے سیٹ بنے تھے۔ سیدھے فرش پر کھڑے ہونے کے باوجود یوں لگ رہا تھا کہ وہ چھت سے الٹے لٹکے ہیں۔ ایک سیٹ میں عام سائز کی چھت بھی تصویر میں یوں دکھائی دیتی تھی جیسے وہ کسی چھوٹی نیچی چھت کے نیچے جھکے ہوئے کھڑے ہیں۔
    انکو کوریا کے عجائب خانے میں لے گئے جن میں لگے بتوں کو دیکھ کر سالک اور شاہزیب ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے
    یہ آٹھویں صدی کا بادشاہ تھا۔ کم سن تعارف کرا رہا تھا۔ ساتھ لمبا چوڑا نام بھی بتایا جو انہیں یاد نہ رہا مگر یہ یاد رہا کہ انکے بادشاہوں کے کرتوت بالکل بھی شریفانہ نہ تھے۔ تصاویر میں انکے دور کی جو خوبیاں لکھی تھیں اور جو منظر کشی تھئ دونوں کے چہرے لال ہوگئے۔
    آئو تمہاری تصویر لوں۔
    کم سن ایک بت کے ساتھ خاصی بے تکلفی سے کھڑا ہو کر تصویر بنوا رہا تھا اسکی تصویر لیتے ہوئے یون بن نے شاہزیب کو بھی دعوت دی۔
    نہیں بہت شکریہ میں یہاں فوارے کے ساتھ بنوا لوں گا۔ اس نے سہولت سے منع کردیا۔
    ۔ان برہنہ اسٹیچوز کے ساتھ تصویر بنا بھئ لیتا تو لگاتا کہاں دکھا کسے پاتا۔ الٹا جوتے الگ پڑتے۔
    سالک سر کھجا رہا تھا۔
    یار یہاں لڑکیاں بھی تو آتی ہوں گی انکو شرم نہیں آتی؟
    ان دونوں کے برعکس یون بن اور کم سن خاصے فخریہ انداز میں مسکرا کر تصاویر بنوا رہے تھے۔
    ہمارا ارادہ تم لوگوں کے ساتھ جیجو آئی لینڈ بھی جانے کا تھا سمسٹر بریک میں مگر موقع ہی نہیں رہا۔
    یون بن کو افسوس ہو رہا تھا۔
    کوئی نہیں میں پڑھ لکھ کر افسر بن کر تم لوگوں سے ملنے آئوں گا سیول۔
    سالک نے تسلی دی۔ ان سے ذیادہ خود کو۔ اس وقت تو لگ رہا تھا کہ جیسے دنیا کی سب منحوسیتیں ان سے جڑ گئ ہیں جبھئ پاکستان واپس جانا پڑ رہا ہے۔۔
    آپ لوگ آئیے گا نا پاکستان ہم آپکو پاکستان گھمائیں گے۔ وہاں بھی سب کچھ ہے سیول کی طرح
    شاہزیب نے خوش دلی سے دعوت دی۔
    سوجو ہے ؟
    کم سن نے گھونٹ بھر کر جتانے والے انداز میں پوچھا تھا۔
    سالک اور شاہزیب ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گئے۔
    یار انکو میں نے سونا دکھانا تھا انہوں نے سونا نہیں دیکھا ہوا۔
    یون بن کو خیال آیا تو کم سن فورا ہی تیار ہوگیا
    ایسی بات ہے تو چلو چلیں
    وہ سب ایک ساتھ سونا آئے تھے۔۔ وہاں کا نظام دیکھ کر انکی آنکھیں پھٹنے کو آگئی تھیں۔۔
    ایک قطار سےبنے ہوئے بھاپ والے کمرے نہانے کیلئے گرم حمام ۔۔ کم سن نے بے تکلفی سے کپڑے لٹکا کر ایک جانب لگے سلیب کا رخ کیا تو دونوں سٹپٹا کر سیدھا باہر نکل آئے۔۔
    اوئے آہستہ تولیہ نہ گرا لینا اپنی۔۔ کم سن انکی بوکھلاہٹ پر کھل کر ہنسا تھا۔۔
    ایک بند کمرے میں مختصر تولیہ میں لپٹ کر بھاپ کا غسل لینا۔
    کم سن اور یون بن تو آرام سے بنچ پر اچھی طرح ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر گئے ان دونوں کو پانچ منٹ میں گھبراہٹ ہونا شروع ہوگئ جب ایک ایک مسام سے پسینہ پھوٹ نکلا
    پینے کے لیئے بھاپ اڑاتا چنبیلی کا قہوہ ۔
    یار گرمئ ذیادہ ہے مجھے تو پسینے آگئے ہیں۔
    شاہزیب نے شکایت کی تو یون بن اطمینان سے چسکی لیکر بولا
    اسیلیئے تو یہاں آئے ہیں۔ جسم سے پسینہ بہہ نکلنے کا مطلب جسم سے فاسد مواد کا اخراج ہے۔ اس سے اندرونی تو جو صفائی ہوگی بیرونی طور پر بھی جلد ایسی کھل اٹھے گی کہ پاکستان جا کر بھئ یاد کروگے کہ سونا میں پسینہ بہا کر کتنے تازہ دم ہوئے تھے۔
    ہمیں اتنا پسینہ بہانے کیلیے سونا جانے کی ضرورت نہیں ہم دہی لینے بھی گھر سے نکلتے تو پسینے میں نہا کر واپس آتے ہیں۔
    شاہزیب نے ماتھے سے بہتی دھاریں انگلی سے جھٹکیں۔
    میں چھچھوندر چھچھوندر سا محسوس کر رہا ہوں۔
    سالک گھبرا کر اٹھ ہی گیا۔
    مجھے یہ قہوہ بچا لینا چاہیئے نہا کر جسم پر ملوں گا اتنے پسینے کے بعد صرف صابن مجھ سے دوسروں کو نہ بچا سکے گا۔
    شاہزیب نے قہوہ پینے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔
    میں نہیں مزید جیتے جی جہنم کے مزے لوٹ سکتا۔ سالک کمرے سے ہی نکل گیا۔ مگر الٹے قدموں ہی واپس ہوا۔
    وہ باہر وہ۔
    اسکے منہ سے گھبراہٹ کے مارے لفظ ہی نہ نکل پائے
    کیا ہوا۔
    اسکی گھبراہٹ پر یہ تینوں چونک کے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
    وہ باہر۔۔ باہر سب ۔۔۔ سب نہا رہے ہیں۔
    اٹک اٹک کر جب تک جملہ مکمل کر پایا تینوں جست لگا کر دروازے سے باہر جھانکنے پہنچ چکے تھے۔۔
    شاہزیب کی آنکھیں کھل سی گئیں۔۔
    گائوں میں دوست یار مل کر ٹیوب ویل پر جا کر خوب ادھم مچاتے تھے مگر ان کے ساتھ بھی یوں نہانے کا تصور نہیں تھا۔۔ وہ بھی بچپن کے لنگوٹیا یار تو پھر اکٹھے نیکر پہن کر نہا لیں یوں اچانک پرائے ملک میں انجان لوگوں میں نہانا۔۔
    اجتماعی غسل کیا جا رہا تھا باہر۔ چھوٹے چھوٹے حوض بنے تھے جن میں دو سے تین لوگ اکٹھے پانی میں بیٹھے چنبیلی کا قہوہ پی رہے تھے ان حوض کے باہر چھوٹے چھوٹے تھڑوں پر مختلف عمر کے بوڑھے بچے جوان بیٹھے ایک دوسرے کی پیٹھ مل رہے تھے۔ایک جانب شاور لگے تھے مگر شاور کے باہر کسی قسم کے پردے کا کوئی نظام نہ تھا۔
    ان کے باہر آتے ہی دو نوجوان گھس گئے تھے پانچ شاور تھے اکٹھے۔۔
    کم سن اور یون بن کو کچھ خاص نظر نہ آیا ایک تھڑےکی جانب بڑھتے ہوئے ان دونوں کو بھی ایک دوسرے کی پیٹھ ملنے کا مشورہ دے ڈالا۔
    ہم واپس کمرے میں چلیں ؟
    شاہزیب نے تھوک نگلا۔ سالک گھور کے رہ گیا۔ یہ دونوں ایک کونے میں بیٹھ کر رش کم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ کافی انتظار کے بعد پتہ لگا کہ یہ انتظار لا حاصل تھا۔
    پورا سیول شائد آج ہی یہاں نہانے آن پہنچا تھا۔
    یون بن کم سن نہا کر فارغ ہو آئے یہ دونوں ایک کونے میں بیٹھے رہے۔
    تم لوگ نہا لو ورنہ آج رات میرا اور یون بن کا سونا مشکل ہو جائے گا تم دونوں ہم دونوں کے ہی روم میٹ ہوتے ہو۔
    کم سن نےکہا۔۔
    میں ان سب کے سامنے نہیں نہا سکتا۔ ہاسٹل چلو وہاں چاہے برف والے پانی سے نہانا پڑے مجھے منظور ہے۔
    سالک نے صاف انکار کیا۔
    یون بن نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا پھر کندھے اچکا دیے
    ہم سے شرم آرہی ہے تو میں نہا چکا اب جتنے بھی لوگ ہیں انجان ہیں اندر۔۔ نہا ضرور لو ورنہ جتنا پسینہ نکال کے آئے ہو میں نے اپنے روم میں بنا نہائے تم دونوں کو گھسنے نہیں دینا۔۔
    یون بن کا انداز وارننگ دینے والا تھا۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر سر ہلاتے اندر گھس گئے۔۔
    پھر۔جتنی دیر شاور لیا چندی آنکھوں والوں کو آنکھیں پھاڑ کر گھورتے پایا۔۔
    قسم سے مجھے آج سے پہلے نہاتے ہوئے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ میں دیکھا جا رہا ہوں۔۔
    شاہزیب نے آنکھیں بند کر لیں۔
    میں تو جیسے خود پر ٹکٹ لگا کر اسٹیج پر نہانے کا عادی ہوں۔۔
    سالک نے دانت کچکچائے۔۔
    یہ تھا کہ پانی وافر تھا صابن شیمپو بھی جی بھر کر نہائے۔۔
    جب تولیہ لپیٹ کر باہر نکل رہے تھے تو پیچھے کوئی ہنگل میں کسی کو کہہ رہا تھا
    پتہ نہیں کونسے جاہل ملک سے ہیں کپڑے پہنے پہنے نہا لیئے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا کا پہلا سیشن تھا۔ اسکے ساتھ آتے اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وقت کتنا لگے گا۔ اسکوباقائدہ اسٹریچر پر لٹا کے اندر لے جایا گیا تھا۔ جانے کیا کچھ کرنا تھا۔ دو تین ایسے دورے مزید لگنے تھے اسکے بعد آپریشن ہونا تھا۔ایک چندی آنکھوں والی سے فیشل کروا کر اپنی شکل میں کوئی خاص تبدیلی لائے بنا وہ فارغ ہو کر باہر آگئ۔ جانے اسے کتنی دیر لگنی تھئ۔ وہ باہر ریسپیشن کے سامنے بنے انتظار گاہ میں آن بیٹھی۔ اس نے انتظار گاہ میں بیٹھے بیٹھے وہاں موجود آٹھ دس فیشن میگزین کھنگال لیئے کیونکہ ہنگل پڑھ تو سکتی نہ تھی۔ بس ورق پلٹتی رہی۔ اکتا کر سب سمیٹ کر واپس ریک میں رکھنے لگی تو ایک میگزین انگریزی میں دکھائی دیا اس نے غنیمت سمجھ کر اٹھا لیا۔
    یونہی صفحے پلٹتے اسے مانوس چہرے دکھائی دیے۔ یوآنہ اور گنگشن انی کی مسکراتے ہوئے انگلیوں سے وی بنائے ہوئے تصویر۔
    وہ بہت شوق سے اس سے منسلک مضمون پڑھنے لگی۔
    ابھی آدھا ہوا ہوگا کہ فون بج اٹھا ۔
    صارم کالنگ۔
    اس نے خوش ہوکر میگزین ایک طرف رکھ کر فون اٹھایا۔
    ابھی تمہیں ہی یاد کر رہی تھی۔ چھوٹتے ہی بولی۔ صارم پر مطلق اثر نہ ہوا
    جھوٹئ۔ کبھئ تو سچ بولا کرو۔
    ابھی تم مجھے ہی یاد کر رہے تھے۔ اس نے جملہ بدل لیا۔
    ہاں وہ تو میں کر رہا تھا ۔ جبھی تو فون کیا۔ خلاف توقع وہ آرام سے مان گیا۔
    اچھا یہ۔بتائو کیسی ہو؟کہاں ہو؟ہاسٹل میں بیٹھئ مکھیاں مار رہی ہو ہے نا۔
    اسے اپنے اندازے پر یقین تھا۔
    نہیں ایک بیوٹی کلینک آئی ہوئی ہوں۔ اس کے جواب میں فورا اگلا سوال حاضر تھا
    اکیلی؟ وہ حیران ہوا تھا
    نہیں دوست کے ساتھ آئی ہوں اسے ٹریٹمنٹ کروانا تھا۔
    پتہ ہےوہ چہرے کی سرجرئ کراکے نقوش بدلوا رہی ہے اپنے۔۔ وہ تفصیل بتانا چاہ رہی تھی مگر صارم بات بدل گیا
    دفع کرو اسے یہ بتائو پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟ وہ یقینا فرصت سے تھا۔۔
    سب اے ون بہت اچھے پیپرز ہوئے میرے۔
    وہ میگزین ایک جانب رکھ کر پہلو بدل کر بولی۔
    میں سب جانتا ہوں۔ ذیادہ بنو مت۔ اس نے ڈپٹ کر کہا۔
    جب پتہ ہے تو پوچھ کیوں رہے ہو۔ وہ منہ بنا کربولی
    تم نے کیا سوچا ہے ؟ کب واپس آرہی ہو؟
    اس نے بلا تمہید سوال کیا
    میں چاہے مجھے چار سال لگ جائیں ڈگری لیکر ہی واپس آئوں گی۔
    وہ اطمینان سے بولی
    تمہاری جگہ دنیا کی کوئی اور لڑکی کہتی تو یقین آجاتا مگر تم سے نہ ہو پائے گا۔سو شرافت سے ٹکٹ کٹائو واپس آکر ڈگری مکمل کرو۔ سال ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔
    وہ رعب سے بولا تھا مگر وہ پہلے کونسا کبھی اسکے رعب میں آئی تھی جو اب آتئ۔۔
    میرے سال ہیں میری مرضی ضائع کروں یا جو بھی کروں تمہیں کیا۔ وہ ضدی پن سے بولی
    خالہ خالو بہت اکیلے ہوگئے ہیں۔اریزہ ۔۔ وہ ناصحانہ انداز میں ٹوکنے لگا
    اکلوتی اولاد ہو تم بالکل احساس نہیں اپنے والدین کا تمہیں۔ کوئی اندازہ ہے خالہ کتنی کمزو رہو گئ ہیں۔ اکیلی ہو گئی ہیں سارا دن بولائی بولائی پھرتی ہیں۔
    کیوں تم ہو نا کمپنی دیا کروانہیں۔ وہ جتا کر بولی۔
    اور امی مجھےبرابھلا کہنے کیلئے ہی یاد کر رہی ہوں گی کہ کاش یہاں ہوتی تو دو چار صلواتیں سنا کر جی ٹھنڈا کر لیتی اپنا ۔۔
    شرم کرو۔ماں ہیں تمہاری۔ صارم کو تھوڑا غصہ آیا۔
    مجھے افسوس ہے۔ وہ بلا ارادہ کہہ گئ۔
    اریزہ۔ بس کرو۔ بہت ہوگیا ڈرامہ۔ اب سب ٹھیک ہو گیا ہے نا اب تو طنز چھوڑدو۔۔
    صارم نے اچھے خاصے غصے سے ڈانٹ دیا۔ وہ چپ رہی۔۔وہ پھر شروع ہی ہوگیا۔
    بالکل خالہ خالو کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ سکالر شپ ختم ہو چکی ہے اب وہاں رکنے کی کیا تک ہے؟ کوئی اندازہ ہے تمہیں بنا اسکالر شپ کے وہاں رہنا کتنا بڑا خرچہ ہے ہاسٹل کی فیس سمسٹر کی فیس کھانے پینے کا خرچ اوپر سے پچھلے دو مہینے سے تم اتنی بڑی رقمیں مزے سے منگوا رہی ہو کس خوشی میں؟ تمہارے ابا کے پاس کوئی قارون کا خزانہ نہیں ہے۔ انکی حق حلال کی کمائی ہے۔ تمہیں کوئی احساس۔۔
    میرے ابا کی کمائی ہے مجھ پر نہیں خرچ کریں گے تو کس پر خرچ کریں گے؟ تم فکر نہ کرو انکے پاس ابھی بھی اتنا ہے کہ تمہارے خرچے میں کمی نہیں آئے گی میری وجہ سے۔
    وہ سوچ کے کم ہی بولتی تھی صارم کے سامنے تو کبھی بھی زبان اور دماغ کا رابطہ بحال نہ رکھا ابھی بھی چڑی تو ایک نہ رکھی اسکی۔ جوابا وہ خاموش ہوگیا۔
    اتنا خاموش کہ اسے باقائدہ فون کان سے ہٹا کر دیکھنا پڑا کہ آیاکال جاری ہے کہ کٹ گئ۔
    اریزہ۔ میری بات ٹھنڈے دل سے سنو۔
    چند لمحے چپ رہ کر بولا۔
    خالو نے تمہارے نام سے جو پلاٹ بک کروایا تھا اسے بیچنے کا کہا ہے مجھ سے۔ اشد ترین ضرورت میں بھی انہوں نے کبھی اسے نہیں بیچا۔ اب تمہاری پڑھائی اور دیگر اخراجات کیلئے وہ اگر بیچنے لگے ہیں تو تمہیں انکو روکنا چاہیئے۔ واپس آجائو خالو نے وعدہ کیا تو ہے تم سے ڈگری مکمل ہونے سے قبل تمہاری شادی کا سلسلہ نہیں چلائیں گے پھر اب کیا مسلئہ ہے ؟ کیوں ڈر کے کوریا میں چھپی بیٹھی ہو ؟
    اسے خاموشی سے شرافت سے سنتے اسے غلط فہمی ہوئی تھی کہ اسے بات سمجھ آرہی ہے۔
    بول لیا جو بولنا تھا ؟ اب چپ۔کرکے سنو میرے بابا نے میرے لیئے پلاٹ بک کروایا اسے میری خوشی کیلئے بیچ رہے ہیں یہ میرا اور میرے بابا کا معاملہ ہے تم اپنے کام سے کام رکھو سمجھے۔
    وہ بولتے بولتے آخر میں غیر ارادی طور پر کافی زور۔سے کہہ گئ۔ خاموش کاریڈور میں گپ چپ اپنے کام میں مصروف رسیپشنسٹ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی تھی۔ اسکی آواز گونج گئ تھی جبھئ سر کے اشارے سے معزرت کرکے وہ رخ موڑ گئ۔ گلاس وال سے ٹریفک سے رواں دواں سڑک روشنیوں کی جگمگاہٹ مںظر بدلا تو موڈ بھی بدل گیا
    پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ ۔۔ صارم جھلایا
    تمہارا آخر مسلئہ کیا ہے؟ بڑی کوئی طرم خان ہو نا بڑا پڑھنے کا شوق ہے جیسے تمہیں۔
    ہے شوق مجھے تمہیں کیاپتہ ؟ وہ چٹخ کر بولی۔
    او رابا کو پیسوں کا مسلئہ ہے تو ان سے کہو مت بھیجا کریں مجھے پیسے میں یہاں پارٹ ٹایم جاب کرکے خود اپنا خرچہ اٹھا لو ں گئ۔ ان سے نہیں ماںگوں گئ۔ بچا لو تم اپنے خالو کا پلاٹ۔
    جاب کرلوں گی۔ صارم نے نقل اتاری۔ جاب کروگی وہ بھی تم جیسی لڑکی۔ ذرا بتائو اتنے مہینے سے سیول میں ہو اپنی یونیورسٹئ کا راستہ یاد؟ گئ ہو کبھی سیول میں کہیں بھی اکیلے؟ اپنے بل پر یہاں پنڈی میں یونیورسٹی تک اکیلی جا نہیں سکتی ہو اجنبی ملک میں اپنے بل پر جاب کروگی جیسے میں تمہیں جانتا نہیں نا۔۔
    یہ جو کوریا بیٹھی ہو وہ بھئ سنتھیا کے بل پر۔ وہاں کوریا میں بھی سنتھیا گئ ہے تو تم تیار ہوئیں ورنہ سنتھیا کے بنا جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔وہاں بھی مجھے پکا یقین سنتھیا کا بازو پکڑ کر چلتی ہوگی۔مان لو۔ تم ایک بزدل اور بونگی لڑکی ہو۔ دو قدم اپنے بل پر جس سے چلنا محال ہے۔ بڑے بڑے خواب دیکھے ہوں تو شخصیت میں بڑی بڑی تبدیلیاں لانی پڑتئ ہیں۔ تمہارے بارے میں تو مجھے پکا یقین ہے ٹکے کی بھی گرومنگ نہ ہوئی ہوگی تمہاری۔ ابھئ بھی سنتھیا ہے نا بیٹھی تمہارے پاس ۔۔۔اسی کے ساتھ آئی ہو نا۔ کب بڑی ہوگی تم اریزہ؟
    وہ دونوں ایک دوسرے کو اس سے بھی ذیادہ سناتے تھے مگر اس وقت یہ سب سننا اس کا ذہن سن سا ہو گیا۔ آنکھیں پانی سے لبا لب بھر گئیں۔ تو یہ تھی اسکی شخصیت دوسروں کی نظر میں۔ اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔
    بولو ہے نا سنتھیا پاس تمہارے تم اکیلے تو اپنے ہاسٹل سے کلاس روم بھی نہ جاتی ہوگی مجھے پکا یقین ہے۔اچھا بات کرائو میری سنتھیا سے شائد اسکے منہ سےسن کر کوئی میری بات تمہارے دماغ میں گھس جائے۔
    صارم اسے اتنی آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا۔
    سن۔۔ س۔۔ اس نے بتانا چاہا مگرمنہ سے لفظ کی جگہ سسکی سی نکلی۔ اس نے بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
    ہیلو اریزہ۔ بات سنو۔ صارم کو بھی شائد احساس ہوا ذیادہ بول گیا ہے۔
    اس نے فون کاٹ دیا۔ دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔ یہ حقیقت تھی کہ وہ یہاں اتنے عرصے میں کبھی اکیلے کہیں نہ گئ مگر ایسا بھئ نہ تھا کہ وہ کہیں جا نہ سکتی تھی۔ اسے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کی گوارا کے ساتھ آ جا کے بھی عادت نہ پڑی تھی مگروہ ٹیکسی میں تو گھوم سکتی تھی۔یہ الگ بات کہ کبھی کوشش نہ کی۔ اپنے شہر میں واقعی اس نے کبھی ان تجربوں کو کرنے کا نہ سوچا پر اس لیئے کہ وہاں اسکے منہ سے بات نکالنے کی دیر ہوتی بابا خود اسے پک اینڈ ڈراپ دیتے تھے وہ مصروف ہوں تو لاکھ صارم اسکو نخرے دکھاتا رہے پر خیال بہت رکھتا تھا۔ اسکی کبھی کوئی فرمائش ٹالی نہ تھی۔ اسے احساس نہیں ہوا آنسو تواتر سے اسکے گال پر بہتے چلے گئے تھے۔ ہوا کے جھونکے سے میگزین کا ورق پلٹا تھا۔ اگلے صفحے پر یو آنہ کی بڑی سی تصویر تھی۔ اس نظم کے ساتھ جو اس نے بین القوامی سطح پر ہونے والی اس تقریب میں پڑھی تھی۔ اس نظم کی تعریف کئی بین القوامی سطح پر شہرت رکھنے والے شعرا نے کی تھئ وہی نظم جسے یوآنہ نے اپنے لیئے ہوپ قرار دیتے ہوئے اپنا نام ہوپ رکھ ڈالا تھا۔۔ ۔ وہی نظم جسکا ترجمہ انگریزی میں اسکے پروفیسر نے کیا تھا۔وہی نظم جو اس گڈ فارنتھنگ لڑکی اریزہ نے لکھی تھی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میرے خدایا مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا تم اپنا فیشل کروانے کے بعد بھی میرا انتظار کرتی رہو گی تین گھنٹے تک کہا تو تھا کہ چلی جانا واپس۔
    گوارا کلینک میں اسے انتظار میں بیٹھا دیکھ کر حیران رہ گئ تھی۔
    بس تھوڑاسا انتظار کرنا پڑا مجھے خیر ہے۔ اریزہ مسکرا کر اپنا بیگ اٹھاتئ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    ضرورت نہیں تھی نا۔ میں تو اسلیئے لائی تھی کہ میرے پیکج کے ساتھ فیشل مینی کیور پیڈی کیور ایک بندے کا فری تھا تو تمہارا بھلا ہوجائے تمہیں یہاں بے بی سٹنگ کرنے تھوڑی لائی تھی ۔پھابو (احمق )لڑکی
    تو کیا ہوا۔ اگرمیں نے انتظار کر بھی لیا تو۔
    اریزہ چڑ کر بولی۔
    ہوا کچھ نہیں خفا کیوں ہو رہی ہو مجھے شرمندگی ہو رہی تھی کہ میری وجہ سے تمہیں اتنا فالتو بیٹھنا پڑا۔
    اسکا موڈ بگڑتے دیکھ کر گوارا کو حیرانگی ہوئی۔
    مجھے اندازہ نہیں تھا کہ باہر کہاں سے کونسی سواری مل سکے گی۔
    گوارا کو کیا پتہ کہ اسکا دماغ کس بات نے خراب کیا ہے یہی سوچ کر ذرا موڈ بہتر کیا۔ سر جھکا کر من من کرنے لگی ۔ کیلنک سے نکل کر سڑک پر آنے تک اس سے سر اٹھایا نہ جا سکا۔ اپنا آپ دنیا کا احمق ترین انسان لگ رہا تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ خیال ستا رہا تھا کہ یہاں بھی وہ اکیلی آنے جانے لائق نہ تھی۔
    وہاں تو مجھےخود کو یہ مارجن دینے کا موقع مل جاتا تھا کہ زمانہ خراب کوئی لوفر لفنگا نہ ٹکر جائے یہاں تو کوئی سر اٹھا کر دیکھتا بھی نہ تھا۔ پھر بھی۔ دراصل تم واقعی ہی ایک کم ہمت بزدل پیراسائٹ نما لڑکی ہو ورنہ پاکستان میں لڑکیاں کیا اکیلی گھر سے نہیں نکلتیں۔۔وہ یہی سوچتی خود کو کوس رہی تھی۔
    گوارا تیز قدم اٹھا رہی تھی ایکدم رک کر پلٹی تو اریزہ سے ٹکراتے ٹکراتے بال بال بچی۔
    یہ دیکھو سامنے بس اسٹاپ تھا۔۔گوارا نے دائیں جانب تھوڑے ہی فاصلے پر بنا بس اسٹاپ دکھایا۔
    چلو چلیں۔ وہ بولی تو گوارا نے کندھے اچکائے
    ابھی تو ہایون آرہا ہے لینے ان سب کا کسی ہوٹل میں ڈنر کا پروگرام ہے میں نے کہا یہاں سے پک کر لے ہمیں۔۔
    اس نے کہتے ہوئے اپنی گردن سہلائی۔۔
    وہ گوارا کو دیکھ کر رہ گئ۔ ابھی ہی خیال آیا تھا اسے کہ اب پکا بچت کرنی ہے۔
    وہ سر جھکا کر مرے مرے قدم اٹھا رہی تھی تبھی وہ گاڑی اسکے سامنے آن رکی۔۔
    دیکھی دیکھی لگ رہی ہے۔ اس نے گاڑی پہچان کر ڈرائور تلاشا تبھی گاڑی کا شیشہ نیچے ہوا اندر سے چمکتی دمکتی مسکراتی شکل۔۔
    کھا جا۔
    ہایون دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔۔۔۔
    آج پکا میں اپنابل خود دوں گئ۔ اس نے مصمم ارادہ کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایسے پر تعییش ریستوران میں بیٹھ کے بندہ ویسے ہی خود کو غریب غریب سا محسوس کرنے لگتا ہے۔
    یون بن مسخرے پن سے بولا تھا۔ سالک شاہزیب ایڈون اور سنتھیا سب بڑے شوق سے ریستوران کی آرائش کو دیکھ رہے تھے۔
    ہایون کہاں چلا گیا ؟
    کم سن کوئی فون کال سننے اٹھ کر گیا تھا واپس آیا تو ہایون کی غیر موجودگی فورا محسوس کی بیٹھتے ہی پوچھا۔
    گوارا اور اریزہ کو لینے بھیجا ہے اسے۔ ایڈون نے بتایا۔
    یار ویسے ہایون کو ہم نے تو خوار کرکے رکھا ہوا ہی تھا اب پاکستانی بھئ اسکے ساتھ یہی سلوک کرنے نہیں لگے؟
    کم سن نے ہنس کر یون بن سے ہنگل میں کہا۔۔
    جی ہائے کو نہیں بلایا۔
    سنتھیا نے یون بن سے پوچھاتھا۔
    فون کیا تھا مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ یون بن نے کندھے اچکا کر لاپروائئ سے بتایا۔
    یار ویسے یہ والا ریستوران انتہائی لگژرئیس ہونے کے باوجود سرینہ سے چھوٹا ہی ہوگا ۔
    سالک نے گردن گھما کر متاثر نہ ہونے والے انداز میں تاسف سے سر ہلایا۔
    یہ ویسے ہوگا اسی کے لیول کا۔
    ایڈون نے اندازہ لگایا۔
    پھر بھی۔ سرینہ کا تو ہال اس سے بھی دگنا ہوگا یہاں سے وہاں تک نگاہ نہیں ٹھہرتی سرینہ میں برقی قمقمے آرائیش پینٹنگز سب بہت آعلی ہے وہاں کا۔
    سالک نے کہا تو ایڈون پوچھے بنا نہ رہ سکا
    تم تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے سرینہ میں پل کر بڑے ہوئے ہو۔
    واحد سرینہ ایسا اعلی درجے کا ہوٹل ہے جسکی زیارت سالک کو نصیب ہوئی ہے ایک ایگزیبیشن میں شرکت کا موقع ملا تھا سالک کو زندگی میں اب بقیہ زندگی اسی کا ذکر کرتے گزرے گئ۔
    شاہزیب کے مزاق اڑانے والے انداز پر سالک تپ کر اسکو جملہ ختم ہونے تک کئی دو ہتھڑ لگا چکا تھا مگر وہ ڈھیٹ ہنستے ہنستے جملہ مکمل کرکے ہی چپ ہوا تھا۔
    کیا ہوا ۔۔ کیوں مار رہے ہو
    انکی اردو میں گفتگو میں یون بن کو بھی دلچسپی ہوئی
    کہہ رہا ہے یہ ہوٹل پاکستان کے اعلی درجے کے ہوٹل میں سے تین چار نکل آئے۔
    شاہزیب نے اپنی مرضی کا۔ترجمہ کیا
    واقعی ؟
    یون بن حیران رہ گیا۔
    ہاں ہمارے یہاں زمین بہت ہے خاص کر امیروں کیلئے
    ایڈون منہ بنا کر بولا
    اچھا ویسے کوریائی عموما تعمیرات میں جگہ کم ہی خرچ کرتے ہیں ہمارے تاریخی محلات بھی جگہ کے اعتبار سے بہت بڑے نہیں ہوتے جتنے انڈینز کے ہوتے میں نے ایک شو دیکھا تھا کچھ کوریائی فنکار انڈیا گئے تھے وہاں جو تاج محل تھا اتنا بڑا تھا کہ میں حیران رہ گیا تھا دیکھ کے انڈینز اتنے کھلے محلوں میں رہتے تھے۔
    یون بن نے کہا تو سالک اور شاہزیب تڑپ نہیں گئے
    وہ مسلمانوں کی تعمیرات تھیں۔ اور تاج محل گھر نہیں تھا کسی کا۔۔ شاہزیب اب بر صغیر کی تاریخ یون بن کے گوش گزار کرنے کے موڈ میں تھا۔
    انکی بحث سے اکتا کر سنتھئا نے ایڈون کا بازو ہلایا
    مجھے بھوک بھی نہیں ہے اور یہاں بور بھی ہو رہی ہوں ہم واپس چلیں۔
    پاگل تو نہیں ہو؟ ایڈون نے گھرکا
    میں انکو دعوت دے کر پروگرام بنا کر لایا ہوں اور میں ہی چلا جائوں؟ واپس جا رہے ہیں یہ لوگ کچھ تو کرٹسی نبھائو۔
    ایڈون نے ڈانٹ ہی دیا۔
    اس دعوت کا بل تم دوگے۔ سنتھیا نے کٹیلی نگاہوں سے دیکھا
    ظاہرہے۔ ایڈون لاپروا تھا سنتھیا جل گئ۔
    ہر وقت تو روتے ہو پیسے نہیں ہیں اتنے بڑے ہوٹل کا بل کہاں سے پےکروگے؟
    سنتھیا کے کہنے پر ایڈون نے گھبرا کر سالک شاہزیب کو دیکھا۔
    انہوں نے کہہ کر کانفرنس ارینجمنٹ کروائی تھی یہ وی آئی پی لائونج تھا ۔بڑی سی دو میزوں جتنا گھیر تھا جس پر یون بن کم سن سالک شاہزیب ان سے قدرے فاصلے پر سہی مگر دوسرے کمرے میں تو نہ بیٹھے تھے کہ سن نہ پاتے۔ اس وقت زور و شور سے بحث میں الجھے تھے ورنہ یقینا یہ گوہر افشانئ سن ہی لیتے۔
    کیا ہو گیا کیسی باتیں کرتی ہو اور فکر نہ کرو تمہارے پیسے خرچ نہیں کر رہا اپنی پارٹ ٹائم جاب کی کمائی اڑائوں گا خوش۔
    ایڈون دانت کچکچا کر سخت لہجے میں بولا تھا۔ بس نہیں تھا کہ تنے ابرو اور بدمزہ تاثرات بنائے بیٹھی سنتھئا کا دماغ درست کردے۔
    پھر بھئ یہاں لےکے ہی کیوں آئے ہو یہ دونوں کھا لیں گے حرام کھانا ؟
    اسے اب نئی فکر لاحق تھئ۔
    تمہارا مسلئہ نہیں یہ۔ اس نے بات ہی ختم کردی ۔
    کوئی ایک آدھ تصویر ہی بنا دو میری تاکہ آئیندہ زندگی میں سرینہ کے علاوہ کسی اور ہوٹل کا نام بھی لے سکوں۔
    سالک نے دہائی دی تو شاہزیب یون بن فورا اسکے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے
    ہاں چلو یاد گار رہے گا۔ ایڈون بھی اٹھ گیا۔ سنتھیا کا منہ کھل سا گیا۔ اس نے کچھ کہہ کر روکنا چاہا مگر وہ دانستہ اسے نظر انداز کرگیا۔ سب اٹھ کر ہال کے ایک جانب لگی دیوار گیر پینٹنگ کی طرف بڑھ گئے۔ کم سن موبائل میں لگا ہوا تھا میسج ٹائپ کرکے یونہی اسکی جانب دیکھا تو جانے کیا خیال آیا اپنے اور اسکے بیچ رکھی دوکرسیوں کا فاصلہ ختم کرتا اٹھ کر اسکے دائیں جانب والی کرسی پر آن بیٹھا۔
    اس ہوٹل کا بل ہم نے آج تک پے نہیں کیا ۔ہم ہمیشہ ہایون کی مفت دعوت اڑاتے ہیں۔
    وہ بے دھیانی میں دونوں ہاتھ سینے پر لپیٹے شعلہ بار نگاہوں سے انہیں پوز بناتے دیکھے جا رہی تھی جب اپنے قریب یہ گمبھیر آواز سن کر اچھل پڑی۔ پہلے چونکنا پھر حیرت کے مارے آنکھیں پھاڑ کر دیکھنا۔ کم سن کو اسکے تاثرات پر ہنسی ہی آگئ۔
    تمہیں کیسے پتہ لگا ہم کیا بات کر رہے ہیں؟
    اندازہ لگایا آدھے جملے میں تو انگریزی بولی ہے ہوٹل بل پے تو تکا مار لیا اور نشانے پرلگا۔ ویسے تم لڑکیاں اتنی کنجوس کیوں ہوتی ہو؟
    اس نے چھیڑا تھا وہ چڑ بھی گئ
    کیونکہ ساری کفایت شعاری لڑکے ہمارے سامنے ہی دکھاتے ہیں۔ خود جہاں مرضی خرچ کرلیں۔
    اپنے ہی خرچ کرتے ہیں نا تم اپنے پیسے دل بھر کر جہاں مرضی آئے خرچ کیا کرو
    کم سن نے معاملہ ہی سلجھا دیا۔سنتھیا اسکی بات پر کمر کس کے میدان میں اتر آئی۔۔
    ہم پاکستانئ ہیں یہ میرا تیرا ہمارے یہاں نہیں ہوتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیوں کیا حرج ہے اس میں؟
    ہایون نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔
    حرج ہے نا۔ جب یہ کھانا میرے لیئے میرے نام سے لیا جا رہا ہے تو پے بھئ میں ہی کروں گی مجھے ہی کرنا چاہییے نا۔
    اریزہ ضدی لہجے میں بولی۔
    مگر یہ دعوتی کھانا میرے ہوٹل پر جائے گا میری جانب سے دعوت ہوگئ تو اس میں تمہارے پے کرنے کی کیا تک بنتی ہے۔
    اسے کہنا پڑا۔
    میں آرڈر دےکر گیا تھا کہ واپسی پر پک کرلوں گا۔یہ پانچ لوگوں کا کھانا ہے اچھا خاصا بل ہے۔
    پھر بھی مجھ سے میری پسند پوچھ کر جو بریانی سیخ کباب اور تکے پیک کروائے ہیں انکا بل تو مجھے ہی دینا چاہییے نا۔
    اس نے اپنے فرمائشی پیکٹ والا شاپر علیحدہ کیا۔وہ اس وقت ایک پاکستانئ ریستوران میں کھڑے بحث کر رہے تھے۔
    کائونٹر پر کھڑا وہ انڈین لڑکا ان دونوں کی بحث پر مسکراہٹ دبا رہا تھا۔
    عجیب ضدی ہو۔ ہایون چڑا۔
    ہاں ہوں ضدی۔ اس نےپرس سے کارڈ نکال کر فورا بڑھایا۔
    میرا بل میں خود پے کروں گئ۔۔
    کارڈ سوائپ کرواکے وہ اب خاصی مطمئن تھی۔ ہایون نے گھورتے ہوئے بقیہ بل پے کیا شاپر اٹھانے لگا تو وہ آرام سے اسکے ساتھ مڑ کر جانے لگی۔
    اپنے شاپر تو اٹھا لو۔ اس نے اپنے شاپر بھی نہ اٹھائے تھے۔ ہایون نے ٹوکا تو بے نیازی سے بولی
    ہاں اٹھالائو۔۔ اس دن برا مان گئے تھے نا شاپر کیوں نہیں اٹھوایا تم سے اب اپنا شوق پورا کرلو۔
    ہایون اسے دیکھ کر رہ گیا۔ اسکے دونوں ہاتھوں میں خاصے بڑے پیکٹس تھے۔ اس تیسرے کیلئے اسکو مشکل سے جگہ بنانی پڑی۔ اتنا احسان اریزہ نے کردیا تھا تیز قدم چل کر پہلے ریستوران کا دروازہ اسکے لیئے کھولا پھر پہلے سے پہلے گاڑی کی جانب بڑھ گئ۔ اسے ڈرائیونگ سیٹ کی جانب جاتے دیکھ کر اس کو بے ساختہ ہنسی آگئ تھی۔ سر جھٹکتا وہ پچھلئ سیٹ کا دروازہ کھول کر گوارا کے برابر میں پیکٹ رکھنے لگا جو اریزہ پر ہنس رہی تھی۔
    تم ہمیشہ بھول جاتی ہو یہاں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہے۔ اریزہ ناکام ہو کر گھوم کر واپس فرنٹ سیٹ پر آن بیٹھئ۔ اس وقت خفت سے منہ سرخ ہوگیا تھا۔
    ہاں تو کیا کروں ہمیشہ ادھر ہوتی ہے ہمارے یہاں پسنجر سیٹ۔
    وہ منہ پھلا کر بول رہی تھی۔
    ہایون دروازہ بند کرکے گھوم کر آکر ڈرائونگ سیٹ پر آکر بیٹھتے بولا۔۔
    ویسے اب تک تو کوریا کی عادت ہو جانئ چاہیئے اتنا عرصہ ہوگیا ہے۔
    گوارا پیکٹس سے خوشبو سونگھ رہی تھی۔
    پاکستانی جہاں جاتے اپنا اثر چھوڑ آتے ۔۔۔پاکستان گئے بنا بھئ تم ایکدن پسنجر سیٹ پر ڈرائیونگ کرنے بیٹھ سکتے ہو۔۔
    اریزہ کا انداز چیلنج کرنے والا تھا ہایون ہنس کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
    پاکستانی ۔۔اثر۔۔ اسٹرینج۔
    اف ویسے مجھے لگتا ہے اریزہ جاتے جاتے مجھے آدھا پاکستانی کر جائے گی اتنی مزے کی خوشبو آرہی ہے میں نے یہی کھانا ہے میرے لیئے کورین کیوزین آرڈر نہ کرنا۔
    اس نے ایک پیکٹ ذرا سا کھول کر کباب نکال لیا۔
    اور مزے لیکر کھانے لگی۔
    یہ اریزہ کا پیکٹ ہے اسکو نہ کھولو اسکی پیمنٹ بھی اسی نے کی ہے۔
    ہایون نے صرف اسے جتانے کو ٹوکا۔
    ہاں تو دوست بھی تو میری ہے ۔ تم اپنے پیکٹ سنبھال کے رکھو بلکہ گوارا اسے بھی چکھائو اسکو بھی پتہ چلنا چاہیئے دوستوں کی ٹریٹ کا ذائقہ کیا ہوتا ہے۔
    وہ کیوں پیچھے رہتی چڑانے کو بن بن کے بولی پھر مڑ کر گوارا سے کہتے اسے جتانے والی نظروں سے دیکھتے کہنے لگی۔
    پتہ ہے گوارا ابھی مجھے کہہ رہا تھا بل ذیادہ ہے میں دیتا ہوں پیسے۔ آیا بڑا امیرباپ کی اولاد۔
    جملہ تھوڑا بے عزتی والا تھا مگر انگریزی میں اتنا برا نہ لگا۔
    ہاہا ۔۔۔۔وہ کھل کے ہنسی۔۔
    ویسے ہایون چکھ کر دیکھو کیا ذائقہ ہوتا دوستوں کی ٹریٹ کا ورنہ تو بے چارہ ہمیشہ ہمیں ہی کھلاتا آیا ہے۔
    گوارا واقعی اب اریزہ کی سہیلی تھی اسکے ساتھ مل کر چڑانے لگی۔ ہایون انکی باتیں سنتا ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ڈرائونگ پر توجہ مرکوز کیئے تھا۔
    اور خوشبو سونگھو میرے بابا کے پیسوں کی چیز کی ۔۔
    اریزہ نے گوارا کا ہاتھ تھام کر اسکے آس پاس لہرایا۔
    سرموق فرق نہ پڑا تھا ہایون پر۔گوارا ہنس دی
    اسکو کبھی چڑا نہیں سکتے ہم ۔ ہائی اسکول سے دیکھ رہے اسے اسکو غصہ کرتے تو دور چڑتے بھی نہیں دیکھا کبھی۔ اتنا ٹھس انسان کوریا میں بھی نہیں دیکھ پائوگئ اریزہ یہ انمول پیس ہے ہمارا۔
    شکریہ اس تعریف کا۔
    وہی معمول کی مسکراہٹ وہ بے نیازی سے ذرا سا سر جھکا کے کورنش بجا لایا تھا۔
    اریزہ نے غور سے دیکھا۔ واقعی غصہ تو دور ذرا سی جھلاہٹ چڑ تک اسکے چہرے پر نہ آپائی تھی۔ اتنا ٹھنڈا میٹھا مزاج یا تو بے حسی تھئ یا بے نیازی۔ گاڑی سگنل پر رکی تھی۔ اس نے اطمینان سے سر گھما کر اسکی آنکھوں میں جھانک کر پوچھا
    کیا ہوا۔
    آنیا۔ وہ سر نفی میں ہلا گئ۔
    گوارااب چکھائو مجھے میں بھی چکھوں کسی اور امیر ذادی کے باپ کے پیسے کا ذائقہ۔
    اسے نظروں میں رکھ کر وہ شرارتا گوارا سے مخاطب تھا۔ گوارا نے جھٹ ایک پیس نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔
    اس نے چکھا ہھر سر ہلا کر بولا۔
    واقعی اچھا ذائقہ ہے کھا کر مزا آیا۔
    اریزہ سٹپٹا سی گئ۔ سگنل کھل گیا تھا مگر اس نے اطمینان سے پہلے کباب ختم کیا پھر ڈیش بورڈ سے ٹشو کھینچ کر اطمینان سے صاف کرنے لگا۔ پیچھے کھڑی گاڑی ہارن پر ہارن دے رہی تھئ۔
    ہایون گاڑی چلا لو اب اس نے باہر نکل کر مارنا ہے ہمیں۔۔
    گوارا پوری پیچھے مڑ کر ڈرائیور کو اشارے سے صبر کرنے کا کہتی ہایون سے مخاطب تھی۔
    اریزہ نے بھی رخ بدل کر سامنے سڑک پر نگاہ جما دی تھی۔
    میں نے کوئی دل دکھانے والی بات تو نہیں کی تھی۔
    اسکا ذہن کسی کی آنکھوں کی تحریرپڑھنے میں الجھ گیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سالک شاہزیب کے ساتھ یادگار تصاویر بنواتے اسکی نگاہ سنتھیا اور کم سن پر پڑی تھی۔ دونوں جانے کیا باتیں کر رہے تھے کہ سنتھیا کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔ بہت دنوں کے بعد یہ ہنسی اسکے چہرے پر اتنی کھلی تھی کہ یون بن نے انکو مخاطب کرکے تصویر کھینچ لی اور وہ گردن موڑے سنتھیا کو ہی دیکھ رہا تھا یہی پوز اسکا تصویر میں کھنچ گیا۔
    ہایون کی گاڑی آتے دیکھ کر سیکیورٹئ گارڈز مستعد ہوئے تھے انکو کھانا اندر بھجوانے کی ہدایت کرتا وہ انکو اپنی رہنمائی میں اندر وی آئی لائونج تک لایا تھا۔ یون بن کم سن نے دور سے ہی دیکھ کر ہاتھ ہلا دیا تھا وہ جوابا مسکرا کر وش کرتا انکے پاس چلا آیا۔
    آنیانگ۔ یون بن نے گرم جوشی سے گوارا کو جتانے والے انداز میں سلام کیا جواب اس نے منہ بنا کر ہی دیا تھا۔
    پھر بریک اپ ہوگیا تم دونوں کا۔ کم سن چوکنا ہوا۔
    تمہارا چانس پھر بھی نہیں۔ ہایون نے اسکے برابر بیٹھتے سرگوشی کی تھی۔۔۔
    کم سن نے ذرا برا نہ مانا بلکہ ہنس کر ٹال گیا۔ ہایون نے حیرت سے اسکا ردعمل دیکھا پھر کندھے اچکاگیا۔
    گوارا اور اریزہ سب سے مل ملا رہی تھیں سنتھیا نے اریزہ کے سلام کو قصدا نظر انداز کیا تو گوارا اسکا ہاتھ تھام کے ہایون کے برابر آن بیٹھی۔
    اریزہ کل ہم جا رہے ہیں دوپہر کی فلائٹ سے۔
    سالک نے بطور خاص اطلاع دی۔
    اچھا۔ وہ اداس سی ہوئی۔ مجھے بے حد افسوس ہو رہا ہے کاش ہم سب مل کر یہاں سے ڈگری لیکر ہی جاتے۔
    اس نے یونہی کہا تھا۔
    ہم لیکن کچھ نہ کچھ تو لےکر جارہے ہیں ۔۔ سالک نے کہا
    اچھی یادیں اچھے دوست۔
    ہاں یار ویسے ہم کورینز اتنی آسانی سے گھلتے ملتے نہیں مگر لگتا ہے پاکستانیوں سے ہمارے ڈی این اے میچ ہوتے ہیں۔
    فضا میں ڈی این اے( بی ٹی ایس کا گانا) ہی چل رہا تھا سو یون بن نے اسی کا حوالہ دے ڈالا۔
    تم لوگوں نے آرڈر دے دیا تھا نا ؟
    ہایون کو مہمان نوازی کا خیال آیا۔
    ہاں اب ذرا ہدایت کردو کہ جلدی آجائے۔ کم سن کو بھوک لگی تھی۔ ہایون نے بیرے کو بلانے کا اشارہ کیا مگر انکا آرڈر خو دہی آرہا تھا۔دو بیرے مستعدی سے کھانا لگانے لگے اسٹیک نوڈلز سوپ سادے چاول کمچی فرائیڈ رائس سوشی اور کئی کھانوں کے تو نام بھی ان لوگوں کو نہیں آتے تھے۔ ساتھ چکن بریانی کڑاہی سیخ کباب اور تکے ۔۔ فضا میں کھانے کی خوشبو اتنی تیزی سے پھیلی تھی اور میز سجنے پرایڈون نے تھوک نگلا۔۔
    اتنا سب تو ہم نے آرڈر نہیں کیا تھا۔ سالک حیران تھا
    اس نے اور شاہزیب نے خالص سبزیوں کی ترکاری اور سبزیوں کا ہی پلائو منگوایا تھا۔مگر خالص پاکستانی کھانے دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی تھی۔
    یہ ہمارے دوست کی مہربانی ہے کھلا کھائو بنا سوچے اپنے باپ کا ہوٹل سمجھو۔
    یون بن لہرا کر بولا تھا۔
    چھائے موکے سبندا۔
    کم سن نے باتوں کی بجائے سیدھا کھانے کی طرف دھیان دیا۔
    سبزیاں رکھی رہ گئیں کورین اور پاکستانی اپنے اپنے دیس کے کھانوں پر ٹوٹ پڑے۔
    کم سن نے چکن تکے کی جانب چاپ اسٹک بڑھائی تو ایڈون نے پورک اسٹیک اٹھا لیا۔
    اجنبئ گوشت کی کچی پکی بو۔
    سنتھیا کو ابکائی سی آگئ۔۔
    وہ ایکدم کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    کیا ہوا۔ وہ سب خاموش ہو کر دیکھنے لگے۔
    کیا ہوا۔
    مجھے واشروم۔ اس سے بولا بھی نہ گیا۔ ابکائی اتنی شدید تھی کہ فورا منہ پر ہاتھ رکھتی مڑ گئ
    ہایون نے فورا ایک ویٹر کو اسے واشروم کا راستہ دکھانے کی ہدایت کی۔
    سنتھیا نے یونہی ایڈون کو دیکھا اسے لگا تھا شائد وہ پیچھے آئے گا۔مگر ایڈون سر جھکائے مکمل کھانے کی طرف مگن تھا۔
    سنتھیا کو ڈاکٹر کو دکھائو اسکی طبیعت خراب لگ رہی ہے۔ کھانا بھی ڈھنگ سے نہیں کھایا ہے۔
    اسکی پلیٹ میں چاول جوں کے توں تھے۔ جبھی سالک نے ہمدردی سے کہا۔
    کوئی نہیں ٹھیک ہے وہ بالکل۔ ذرا سی بد ہضمی ہوئی ہوگی اسے۔
    ایڈون نے جتنا عجلت میں صفائی دی تھی شاہزیب نے گہری نگاہ ڈالی تھئ اس پر۔
    اریزہ تمہیں جانا چاہیئے تھا اسکے ساتھ۔
    شاہزیب نے کہا تو وہ جز بز سی ہوگئ۔
    اگلی بندی سلام کا جواب تک نہیں دے رہی وہ کہاں تک۔یکطرفہ دوستئ نبھائے
    کوئی ضرورت نہیں آجائے گئ ابھی۔ تم آرام سے کھانا کھائو اریزہ
    ایڈون نے کہا تو وہ جو اٹھنے کا ارادہ۔کرنے ہی۔لگی تھی ترک کردیا۔
    کیوں ضرورت نہیں۔ سہیلی ہے اریزہ اسکی اتنی طبیعت خراب ہو تو اسے پوچھنا چاہیئے۔ چاہے ناراضگی ہی کیوں نہ ہو۔ شاہزیب ڈپٹنے والے انداز میں بولا تھا
    کیا بحث چل پڑی ہے تم لوگوں میں۔
    گوارا نے حیران ہو کر پوچھا تو اریزہ اٹھ ہی گئ
    میں سنتھیا کو دیکھ آئوں۔
    ایڈون سے نوالہ چبانا مشکل ہو گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنتھیا واشروم میں بیسن میں جھکی تھی۔ اس نے دھیرے سے قریب آکر اسکی پشت سہلائی
    کیا ہوا۔
    سنتھیا فورا بیسن کا نل کھول کر بہانے لگی۔ کھایا پیا تو کچھ خاص تھا نہیں۔ذرا سا انار کا جوس تھا وہ بھی نکل گیا۔ اس وقت تو ناتوانی سے اسے چکر آرہے تھے۔
    کچھ نہیں ٹھیک ہوں میں۔
    بے نیاز کھردرا لہجہ بنانے میں بھی اسکی آواز کانپ سی گئ۔
    تم یہاں کیوں آگئیں۔جائو کھانا کھائو۔
    اجنبی سرد سا انداز۔ اریزہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    اس نے اریزہ کے پاس سے ہو کر گزر جانا چاہا کہ لہرا گئ اس سے قبل کہ پورے قد سے زمین پر آگرتی اریزہ نے اسے بڑھ کر سنبھال لیا۔
    تم بھی جارہی ہو سالک اور شاہزیب کے ساتھ ؟
    اس نے اتنئ دیر سے ذہن میں مچلتا سوال پوچھ ڈالا۔
    نہیں ۔ سنتھیا نے اپنا آپ چھڑایا۔
    تمہیں کیا لگا تھا میں بھی چلی جائوں گی میں ایڈون کو اکیلا یہاں تمہارے پاس چھوڑ کر کبھی نہیں جائوں گئ۔
    اسکا انداز اتنا ہتک آمیز تھا کہ اریزہ کے تن بدن میں آگ سی لگ گئ
    مطلب کیا ہے تمہارا اس بات سے ؟
    وہی جو تم سمجھی ہو۔
    وہ کہہ کر رکی نہیں۔ تیز تیز قدم اٹھاتئ باہر نکل گئ۔
    کتنا گروگئ اور تم ۔۔۔۔۔۔میری نظروں سے۔
    اریزہ بلبلا کر چلائی تھی۔ اسکی آواز پر لحظہ بھر ہی سنتھیا کے قدم رکے تھے پھر متوازن چال چلتی آگے بڑھ گئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنتھیا کو آتے دیکھ کر ایڈون کی جان میں جان آئی تھی۔ اس وقت اسکی طبیعت بالکل ٹھیک لگ رہی تھی۔ یہ لوگ کھانے پر انتظار کر رہے تھے ۔
    چلو ایڈون چلتے ہیں اب۔
    اس نے قریب آکر کھڑے کھڑے ہی ایڈون سے کہا تھا۔
    ہاں چلتے ہیں کھانا تو کھا لو۔
    ایڈون میزبان تھا یوں اٹھنا اسے اچھا نہ لگا۔
    میں اکیلی چلی جاتی ہوں پھر۔
    اسکی سچ مچ دوبارہ کھانے کی بو سے طبیعت خراب ہو رہی تھی۔ سو کہہ کر رکی نہیں۔
    جائو ایڈون تم ۔۔
    سالک نے اسے کہا تو وہ متذبذب سا اٹھا۔
    میں پھر اپنا کارڈ دے جاتا ہوں۔ وہ اپنا والٹ نکالنے لگا۔
    کیا کر رہے ہو بل کی فکر نہ کرو ہم پے کردیں گے تم جائو سنتھیا کے پاس۔
    شاہزیب نے اپنایئت سے گھرکا
    میری جانب سے دعوت تھئ۔ وہ ابھئ بھی متامل تھا
    ابھئ سنتھیا کے پیچھے جائو اس نے کھانا بھی نہیں کھایا اسے کھلائو بھئ کچھ یہاں کی فکر نہ کرو۔
    شاہزیب نے اٹھ کر زبردستی والٹ واپس رکھوا کر بھیجا اسے۔اسے خود بھی سنتھیا کی فکر ہو رہی تھی سو معزرت کرتا اسکے پیچھے لپکا۔
    ویسے یہ خیال کسکا تھا بریانی لانے کا؟
    سالک نے بریانی سے انصاف کرتے ہوئے یونہی پوچھا
    تم لوگ کہاں کھاتے ہو کورین کھانے اسی لیئے لے آیا۔
    جواب کم سن کی طرف سے آیا تھا۔
    اریزہ تو بالکل بھئ کھانا نہیں کھاتی اس لیئے اسے لینے جاتے ہوئے مجھے خیال آیا۔
    ہایون نے سادگی سے بتایا۔
    ہاں لیکن یوں باہر سے کھانا لانے کی اجازت ہوتی ہے یہاں؟
    شاہزیب نے پوچھا تو یون بن کم سن گوارا نے پہلے ہایون کی شکل دیکھی۔
    آنیا۔ تینوں نے نفی میں گردن ہلائی۔۔
    یہ لا سکتا ہے ۔۔ کم سن نے ہایون کو ٹہوکا دیا۔
    اس نے سب کی نظریں محسوس کرکے کانوں پر ہاتھ رکھ کر سر جھکا لیا۔
    کیونکہ۔ گوارا نے معنی خیزی سے کم سن کی شکل دیکھی۔ پھر تینوں نے ٹائمنگ ملائی۔۔ شاہزیب اور سالک حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
    یہ ہایون کے باپ کا ہوٹل ہے۔۔
    وہ کورس میں کہہ کر ٹھٹھہ مار کر ہنسے تھے۔
    ہایون کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ یہ ان سب کا کورس میں جتانا ہائی اسکول کے ذمانے سے تھا۔ اب تک جتنئ مرتبہ بھی یہاں آیا تھا اس میں نوے فیصد دفعہ تو ان سب نے مل۔کر یہ تان لگائی ہی تھی۔ اور اسکا ہمیشہ یہی ردعمل ہوتا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیسن پر پانی بہا کر اسے صاف کرتے اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ بے آواز کئی آنسو چہرے پر بھی پھسل آئے تھے۔
    کیا گناہ ہے میرا۔ میں نے تو کبھی نہیں چاہا تھا کہ ایڈون مجھے۔۔
    بڑبڑاتے ہوئے بھی اسکے الفاظ آنسوئوں میں گم ہوئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میٹھا بن اور سوڈا لا کر اس نے سائڈ ٹیبل پر رکھا مگر سنتھیا یونہی کہنی میں منہ ڈھانپے سیدھی لیٹی رہی بیڈ پر۔
    یہ کھڑکی تو کھول لو۔۔ اس نے آگے بڑھ کر کھڑکی کھول دی۔ دروازہ بند کرکے کرسی جو میز کے نیچے اندر گھسی ہوئی تھی کھینچ کر اسکے مقابل بیٹھ گیا۔
    اب اٹھو بھی۔ تمہارا پسندیدہ بن ہے۔ جسکے اندر چاکلیٹ بھری ہوتی ہے۔
    اس نے بچوں کی طرح بہلایا۔
    اس نے کہنئ ہٹا کر اسکی شکل دیکھی۔ پھر بیڈ کا سہارا لیتی اٹھ بیٹھی۔
    بھوک سے اسکا برا حال تھا۔سو ایڈون کے ہاتھ سے بن لیکر اس نے اس نے تیزئ سے کھانا شروع کردیا۔
    ایک بن جانے کہاں گیا۔ وہ احتیاطا دو لایا تھا ۔ دوسرا بھی اسکی جانب بڑھا دیا۔
    دونوں بن ختم کرکے اس نے ایک سانس میں سوڈا چڑھا لیا تھا۔
    تم نے اریزہ کو بتایا اس بارے میں۔
    وہ جتنی جلدی واپس آگئ تھی اسے یقین تھا کہ نہیں بتایا ہوگا پھر بھی تسلی کرنئ چاہی۔
    اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
    ہر گزرتا دن تمہارے لیئے مزید مشکل ہوگا۔ابارشن کے کچھ قوانین ہوتے ہیں ہمارے پاس صرف یہ آخرئ ایک ہفتہ ہے۔ اگر یہ ہفتہ گزر گیا تو ۔۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ خاصا پریشان دکھائی دیتا تھا۔ اتنے دنوں میں پہلی باراسکا لہجہ اسکے لیئے فکرمند سا لگا۔
    تمہارے لیئے مجھ سے شادی کرنا اتنا بڑا مسلئہ کیوں ہے؟
    ہم اکٹھے رہ سکتے ہیں ہم گھروالوں کو بتا کریہاں شادی کر۔۔۔
    سنتھیا نے اسکو نرم پڑتے دیکھ کر منانا چاہا۔
    پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ؟
    وہ جھلا گیا۔کرسی پیچھے کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    ہم اب شادی کر بھی لیں تو والدین سے کیسے چھپائیں گے کہ یہ جھنجھٹ شادئ کے بعد ہوا ہے؟ اور کس زبان میں سمجھائوں تمہیں کہ اس بچے کا مستقبل کیا ہوگا ؟ لوگ کتنی باتیں بنائیں گے تم فیس کر سکوگئ معاشرے کو؟ یہاں ہمیں ہمارے والدین نے بھروسہ کرکےبھیجا تھا کیا جواب دیں گے ہم انکو۔
    اسکے سوال نہیں پتھر تھے جو اس پر برس رہے تھے۔
    ۔مختصر سے گوشی وون میں ٹہلنے کی بھی جگہ نہ تھی۔ وہ بس کھڑا کھڑا پیرپٹخ سکتا تھا بس۔
    ہم یہیں رہ لیں گے نہ ہمیشہ۔
    اس کی آنکھیں ڈبڈبا سی گئیں کمزور سی آواز نکل پائی
    کب تک یہاں چھپ کر بیٹھیں گے کبھی تو پاکستان جانا ہوگا
    جوابا وہ خاصے زور سے چلایا تھا۔
    ہم کچھ بھی کر لیں ہیں تو پاکستانی۔ اس معاشرے کا حصہ کیسے فیس کریں گے اپنے گھروالوں دوستوں رشتے داروں کو؟ تم اکلوتی ہو میری تو آگے ابھی دو چھوٹی بہنیں بھی ہیں انکا کیا ۔۔۔
    سنتھیا کے لب نیم وا سے ہوئے۔ اسکے پاس دلائل تھے طعنے تھے اپنے حق میں وہ تقریر جھاڑ دیا کرتی تھی وہ تو چپ سہہ جانے والی لڑکی نہ تھئ۔ مگر آج اسے احساس ہوا تھا کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ؟ اس پر فردجرم عائد ہو چکی تھی۔
    مختلف موقعوں پر کہے ایڈون کے جملے کانوں میں گونجے تھے جہاں پاکستان صرف مسلمانوں کا ملک تھا اس معاشرے میں قوانین اسلامی طرز کے تھے جن سے انکا کوئی تعلق نہیں تھا وہ ایک غیر مسلم اکثریتی ملک میں تھے یہاں وہ فضول رواج پابندیاں نبھانےکی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔
    مگر اب سب بدل چکا تھا۔ ” ان “سے غلطی ہوئی تھی اور پاکستانی معاشرے میں غلطی کی ذمہ داری صرف “عورت “کو اٹھانئ پڑتی ہے۔سزا عورت کا مقدر ہوتی ہے۔ چاہے وہ اپنے حق میں تقریر جھاڑے چیخے چلائے یا خاموشی سے سر جھکا کر مان لے۔۔
    اس نے سر جھکا لیا۔ اب سزا ہی اسکو ملنی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون ان دونوں کو ائیر پورٹ چھوڑنے آیا تھا۔ کم سن اور یون بن بھئ ہمراہ تھے۔ ان سب سے گلے ملتے تصویریں بنواتے سالک شاہزیب دونوں آبدیدہ ہو گئے تھے۔
    ہم اگلی گرمیوں میں پاکستان آئیں گے پکا
    یون بن نے سالک کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا تھا۔
    ہاں ضرور تم لوگوں کو شمالی علاقہ جات دکھائیں گے۔ سالک بھی جوابا گرمجوشی سے بولا۔
    ویسے یار پاکستان میں حالات خراب کیوں ہیں؟
    کم سن نے یونہی پوچھا سالک اسکو جواب دینے لگ گیا
    پھر کیا سوچا؟
    شاہزیب دانستہ ایڈون کا ہاتھ تھام کے ایک۔طرف ہو گیا۔۔ شاہزیب کے اپنائیت سے پوچھنے پر ایڈون ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔
    یار ابارشن ہی کروانا ہے۔ شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑ سکتا۔ مگر سنتھیا کا جانے کیا دماغ خراب ہے اتنی سی بات اسکی عقل میں نہیں گھس رہی
    سارے ششکے شادی والے ہی چاہیئں مگر شادی نہیں کرنی تجھے۔ شاہزیب چڑ کر کہہ ہی گیا۔ ایڈون شاکی نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
    ڈر رہی ہو گی۔ وہ بھی۔ اسکا بھی تو پہلا تجربہ ہے۔ تو تو پھر مجھ سے بات کر سکتا ہے وہ تو اریزہ کو بھی سب بتا نہیں سکتی تھوڑا اسکو بھئ سمجھنے کی کوشش کرو۔
    شاہزیب کو اس کی شکل دیکھ کر ترس آگیا۔ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے والے انداز میں بولا۔ ایڈون سر ہلا کر رہ گیا۔
    ایک بار دوسرے حل کے بارے میں بھی سوچنا۔ جان لینا گناہ کبیرہ ہے۔ وہ ہے تو تمہارا بچہ۔ اس سے جتنا چڑ رہے ہو ۔۔
    یار۔ ایڈون نے بیزاری سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔
    برسوں کی شادی کے بعد منتوں مرادوں والا بچہ نہیں ہے یہ۔ یہاں یہ سب آسان لگ رہا ہے پاکستان جائوں گا نا تو یہی بچہ میرے گلے کا پھندہ بنا دیا جائے گا۔ میری دو بہنیں ہیں اتنا خود غرض ہو نہیں سکتا میں۔
    شاہزیب نے گہری سانس لی۔ ایڈون رخ موڑے اب سالک وغیرہ کو دیکھ رہا تھا جن کی بحث زور و شور سے جاری تھئ۔
    اور سنتھیا ؟ تیرے ان فیصلوں کو جھیلنا اسے ہے۔
    شاہزیب کی بات پر وہ مڑ کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہ کرسکا۔
    تجھے پتہ ہے میرے بابا ہمیشہ مجھے تیری مثال دیتے تھے۔ ایڈون جیسے بنو لائق سمجھدار ذمہ دار۔ ایڈون ایسا بیٹا ہے جس سے باپ اپنا بوجھ بانٹ سکتا ہے۔ او رمیں ہمیشہ کہتا تھا بابا وہ بے حد پرخلوص او رمحبت کرنے والا اچھا دوست بھی ہے۔
    ایڈون مڑ کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔
    تو واقعی لائق بھی ہے اچھا دوست بھی ہے۔ مگر تیری سمجھداری صرف تیرے اپنے معاملے تک ہے اور ذمہ دارتو تو بالکل بھی نہیں ہے۔ تو بس ایک خود غرض انسان ہے۔ تو اب بھی اپنے آپ کو بچا لے گا۔
    شاہزیب کا چہرہ سپاٹ تھا۔دور کھڑے سالک پر نظر جمائے وہ بے تاثر لہجے میں بولا۔ ایڈون ساکت سا کھڑا اسے سن رہا تھا۔ شاہزیب نے گھڑی دیکھی فلائٹ کا وقت ہونے لگا تھا۔ اس نے اپنا بیگ کندھے پر درست کیا پھراسکی جانب دیکھے بنا ہی بولا
    یقینا تجھے کسی مدد یا مشورے کی ضرورت نہیں ہاں البتہ پھر بھی میری دعائیں تیرے ساتھ ہیں۔۔
    ایڈون کچھ کہنا چاہتا تھا مگر شاہزیب نے موقع نہ دیا اس سے گلے تک نہ لگا رخ پھیر کر سیدھا آگے بڑھ گیا۔ ایڈون سناٹے میں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔

    Kesi lagi apko Salam Korea ki yeh qist ? Rate us

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

  • girti hue ek dewar e shehar

    girti hue ek dewar e shehar ro ro youn pukaari thi…
    maira qasoor nahi tha koi mjh main eent kachi thi…

    mujh se lipati k bail boli khokhli ho rehi ho tum ander se…
    dab gae mery bojh se aaj ,sun uski tau jar sachi thi…

    mery saye main dunya k sataye jandaar kae kurlatay thay…
    sunti thi chup rehti thi main dardo se kae basi rachi thi…

    wo kora kerkat jo mujh pe phainka, jantay ho aziz boht tha mjhe
    chun k bhar lety thay pait wo bacho k liye maas machi thi…

    kitna royii mujhse lipat k sarak pe bechti thi phool jo…
    majboor si masoom se wo tau choti se ek bachi thi…

    kisi ki aankh ka tara tha mery samne khoon me tar hua…
    jab us k lahoo k chentay ayay mujh me qayamat si aik machi thi…

    main dhay rehi thi un bato se mujh pe jo tum likh jatay thay…
    ab gir gae hun tau heran ho hotay meri halat tau achi thi…

    az qalam Vaiza Zaidi aka Hajoom E tanhai

    گرتی ہوئی ایک دیوار شہر رو رو یوں پکاری تھی۔۔
    میرا قصور نہیں تھا کوئی مجھے میں اینٹ کچی تھی۔۔۔

    مجھ سے لپٹی کے بیل بولی کھوکھلی ہو رہی ہو تم اندرسے۔۔۔
    دب گئ میرے بوجھ سے آج ،سن اسکی تو جڑ سچی تھی۔۔

    میرے سائے میں دنیا کے ستائے جاندار کئی کرلاتے تھے۔۔
    سنتی تھی چپ رہتی تھی میں دردوں سے کئی بسی رچی تھی۔۔

    وہ کوڑا کرکٹ جو مجھ پر پھینکا ، جانتے ہو عزیز تھا بہت مجھے۔۔
    چن کر بھر لیتے تھے پیٹ وہ بچوں کیلئے ماس مچھی تھی۔۔

    کتنا روئی مجھ سے لپٹ کر سڑک پر بیچتی تھی پھول جو۔۔
    مجبور سی معصوم سی وہ تو چھوٹی سی ایک بچی تھی۔۔

    کسی کی آنکھ کا تارا تھا میرے سامنے خون میں تر ہوا
    جب اسکے لہو کے چھینٹے آئے مجھ میں قیامت سی ایک مچی تھی

    میں ڈھے رہی تھی ان باتوں سے مجھ پر جو تم لکھ جاتے تھے۔
    اب گر گئی ہوں تو حیران ہو ہوتے کہ میری حالت تو اچھی تھی۔۔

    از قلم واعظہ زیدی المعروف ہجوم تنہائی۔۔

  • gham ko naghmaat banaatay guzri dard ki dhoom machatay guzri

    غم کو نغمات بناتے گزری
    درد کی دھوم مچاتے گزری

    سوۓ ارمان جگاتے گزری
    شوق کو شعلہ بناتے گزری

    دل امیدوں سے بساتے گزری
    جسے ویرانہ سجاتے گزری

    منزل شوق کہیں ہوتی بھی
    منزلوں خاک اڑاتے گزری

    نوجوانی تھی کہ آنچل کی ہوا
    ہوش میں آتے ہی آتے گزری

    انھیں چھو آیی کہیں موج بہار
    پھول ہی پھول کھلاتے گزری

    نیند آئی نہیں یاد آئیے گئی
    رات بھر جان جلاتے گزری

    اب بھی فردوس تخیل ہے وہ عمر
    جو تیرے درد کے ناتے گزری

    از قلم زوّار حیدر زیدی شمیم