Blog

  • Salam Korea Episode 22

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi


    قسط 22

    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea. Bookmark : urduz.com kuch acha perho Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy Episode urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books
    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.

    میں واپس پاکستان جا رہا ہوں۔۔۔۔
    وہ سر جھکائے اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا ادھر ادھر دیکھے بنا سیدھا اپنے بیڈ پر اوندھا جا لیٹا تھا۔ سالک نماز پڑھ رہا تھا وہ اسکے آگے سے ہی گزر کر آگیا تھا۔ سالک نے سلام پھیر کر اسے بتایا تھا۔ پھر جاء نماز تہہ کرکے دراز کھول کر اس میں ڈال لی۔
    اس نے یہ پورٹ ایبل جاء نماز کے بارے میں سداکو سے سنا تھا۔جاپانی مسلمان ایک پانی کا اثر نا محسوس کرنے والی جاء نماز جیب میں لیئے پھرتے ہیں اور جب جہاں نماز کا وقت ہو صرف وضو کیلئے پانی ڈھونڈنا پڑتا تھا کہیں بھی پاک جگہ بچھا کر نماز پڑھ لی۔
    ایڈون پر مطلق اثر نہ ہوا۔ یون بن اپنے بیڈ پر لیٹا لیپ ٹاپ میں کچھ دیکھ رہا تھا۔سالک نے گہری سانس لی اس بار قریب آکر ایڈون کو ذرا سا ہلا کر متوجہ کیا۔ وہ بازو میں منہ چھپائے تھا۔۔ سر اٹھا کر گھورنے لگا۔۔
    اس کی سرخ سرخ سی آنکھیں دیکھ کر سالک کو یہی لگا پھر پی آیا ہے سو فورا پیچھے ہوا۔۔
    پی نہیں ہے میں نے۔
    وہ اکھڑ سے انداز میں ہی بولا۔
    اور کل تک تو بڑے دعوے تھے یہاں رہ کر محنت مزدوری کروں گا پڑھائی کا خرچہ خود نکال لوں گا اب کیا ہوا؟
    وہ اٹھ بیٹھا۔
    یہاں چار سال لگیں گے واپس جائوں گا تو دو سال میں ڈگری مکمل ہوگی۔ بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔
    سالک رسان سے کہتا اپنے بیڈ پر آن بیٹھا۔
    اور شاہزیب؟
    وہ بھی واپسی کا سوچ رہا ہے۔ تم بتائو تم نے کیا فیصلہ کیا؟ ہم تو اسی ہفتے واپس جا رہے ہیں کم از کم وہاں جا کے امتحان تو دے سکیں گے۔ سنتھیا نے بھی واپس جانا ہو تو بتا دو تینوں اکٹھے کی فلائٹ لے۔۔۔
    وہ نہیں جا ئے گی ۔۔۔۔۔ وہ تیزی سے بات کاٹ کر بولا۔
    وہ تو کہہ رہی تھی کہ واپس جانا چاہتی ہے۔
    سالک نے یونہی کہا تھا۔۔ مگر ایڈون بھڑک گیا۔۔
    اب نہیں جا نا چاہتی تم کیا زبردستی ساتھ لیکر جائوگے؟
    نہیں۔۔ سالک گڑبڑا سا گیا۔
    سوری۔ ایڈون نے اپنے پیشانی مسلتے معزرت کی۔
    اسکی پریشانی اسکے چہرے سے ہویدا تھئ۔
    کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا؟
    سالک نے دلگیری سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔
    آنیا۔۔۔۔کین چھنا۔۔۔۔ میرا مطلب نہیں۔۔ ٹھیک ہے سب۔
    وہ روانی میں ہنگل میں کہہ بیٹھا پھر تصحیح کی۔
    دیکھا تم بھی روانی میں ہنگل بولنے پر آگئے۔۔ ہم کورین اپنا رنگ چڑھا ہی دیتے ہیں۔۔
    یون بن نے ہنس کر مزا لیا تھا۔ دونوں مستقل اردو میں بول رہے تھے سو وہ بےدھیان تھا مگر اپنی مادری زبان کا لفظ بلکہ جملہ چونکا ہی گیا اسے۔۔
    مطلب؟ ایڈون نے تیوری چڑھائی۔رواں انگریزی میں بولا۔
    کیا اثر ڈالا ہے تم لوگوں نے مجھ پر؟
    تم پر ہی نہیں ہم سب پر اثر ڈالتے ہیں۔ایک دنیا کورین ڈراموں کی پرستارہے لوگ شوقیہ ہنگل سیکھتے ہیں اور کوریا تو جو آئے اسے سیکھنی پڑہی جاتی تم لوگوں کی طرح یہاں انگریزی نا ہونے کے برابر ہی استعمال ہوتی ہے۔
    اسکا انداز سادہ تھا مگر خاصے فخرسے بتا رہا تھا۔
    پتہ ہے چین میں ہنبق شوق سے پہنے جانے لگے ہیں خاص کوریا کے بنے ہوئے ایکسپورٹ ہوتے ہیں حالانکہ انکا روائتی مشرقی لباس ذرا سا مختلف ہے کڑھائی اور رنگوں کے اعتبار سے۔۔
    خود تمہیں تو کبھی روائتی لباس پہنے نہ دیکھا۔
    سالک نے فورا ٹوکا۔ وہ نماز ہمیشہ لباس بدل کر شلوار قمیض میں ہی پڑھتا تھا۔ابھی بھی اسی میں ملبوس تھا۔
    یار ہنبق بڑا مہنگا لباس ہے اور غیر آرام دہ بھی۔ اف سوچ کے حیرا نی ہوتی اتنے پرتوں والا موٹا ریشمی لباس کیسے پہنتے تھے پرانے زمانے میں۔ وہ لیپ ٹاپ بند کرکے ایک طرف رکھتا انگڑائی لیتا بیڈ سے اترا۔۔رخ باتھ روم کی جانب تھا۔۔ وہ کافی دیر سے زبانی امتحان کی تیاری ہی کر رہا تھا ۔۔
    کچھ پڑھ بھی لو ہمارا تو بیڑا غرق ہوگیا تمہارے تو امتحان چل رہے ہیں نا۔
    سالک نے ٹوک ہی دیا۔ اس وقت فارغ پھرتے سب ہی زہر لگ رہے تھے۔
    پڑھ ہی تو رہا تھا۔وہ حیران ہوا۔
    لیپ ٹاپ میں۔سالک اس سے زیادہ حیران ہوا۔
    ہاں۔ ساری تیاری انٹرنیٹ سے کرتا ہوں دو درجن کتابیں پڑھنے کی بجائے مخصوص ٹاپکس پر آرام سے اہم مواد مل جاتا ہے۔ انٹرنیٹ ایج ہے دوست اب کتابوں کا زمانہ گیا۔
    وہ واقعی ایک ترقی یافتہ ملک کا باشندہ تھا۔
    ہم انٹرنیٹ پر بھروسہ نہیں کر سکتے اس پر بھروسہ کر بھی لیں تو بجلی پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔ اس پر بھروسہ کر لیں تو جو لیپ ٹاپ نصیب ہوتا ہے ہمیں وہ۔۔
    سالک جوش سے خطاب ہی کرنے لگا تھا
    چپ کرو سالک۔ ہر وقت بولتے رہتے ہو دماغ خراب کر دیا۔
    ایڈون ایکدم سے چلایا ۔۔ وہ دونوں چپ ہو کر دیکھنے لگے اسے۔
    کیا کہا اس نے۔ یون بن نے اشارے سے پوچھا۔۔
    کیا ہو گیا ہے ایڈون ۔۔۔۔۔پریشان ہو
    سالک برا ماننے کی بجائے الٹا فکرمند سا پوچھ رہا تھا۔
    پاگل ہو گیا ہوں۔ وہ کھسیا کر پیر پٹختا دونوں کے بیچ سے ہو کر باتھ روم میں گھس گیا۔
    اے میں جا رہا تھا۔
    بیچارہ یون بن پیچھے سے پکار کر رہ گیا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح اسکی معمول کے مطابق ہی آنکھ کھلی تھی۔۔
    اٹھ کر اس نے پہلے ہوپ کو دیکھا رات جس کروٹ سوئی تھی اسی کروٹ پڑی تھی گڑبڑا کر اسکی ناک کے آگے انگلی رکھ کر تسلی کی کہ سانس چل رہی ۔۔ پٹ آنکھیں کھول کر ہوپ نے گھورا تھا۔۔
    ہائش۔۔ اسکے گھورنے پر گوارا بھنا کر رہ گئ۔۔
    اپنے اوپر سے کمبل ہٹاتی مسہری سے اتری۔۔
    دروازے کی چوکھٹ میں کھڑے ہو کر لائونج میں جھانکا تو کم سن لائونج کے صوفے پر کمبل میں سکڑا پڑا تھا۔۔
    تین لوگوں کا ناشتہ بنانا پڑے گا ۔۔
    اس نے بیزاری سے سر کھجایا
    تبھی اپنے پیچھے آہٹ ہوئی ہوپ غسل خانے کا دروازہ کھول رہی تھئ۔
    اے رکو میں پہلے جائوں گی ۔۔ گوارا چیخی۔۔
    ہوپ نے بے زاری سے اسے دیکھا اور غڑاپ سے دروازہ کھول کر گھس گئ ۔۔
    آہش۔۔ گوارا بلبلا کر دوڑی تبھی داخلی دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔۔
    آہش۔ دانت کچکچاتی دروازہ پکڑ کر بے بسی سے غسل خانے کے بند دروازے کو دیکھتی رہی۔
    تبھی دوبارہ اطلاعی گھنٹی بج اٹھی۔۔
    صبح صبح کون آگیا۔ کم سن بھی کمبل کی قبر سے کسمسا کر نمودار ہوا ۔
    اب گوارا کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔۔ صبر سے کام لیتی دروازہ کھولنے چلی آئی۔۔
    بنا حفاظتی بین میں دیکھے دروازہ کھول ڈالا۔۔
    دنیا کے کسی انسان کو اسوقت دیکھ کر اسے خوشی نہ ہوتی جتنی ابھی نواردکو دیکھ کر ہوئی تھی۔۔
    اریزہ شا۔۔
    وہ بھاگ کر اس سے لپٹ گئ۔۔
    اریزہ بھونچکا رہ گئ تھی تو کم سن اور ہایون بھی منہ کھولے اسکی بے تابی دیکھ رہے تھے
    اس نے چٹا چٹ گال چوم لیے۔۔
    کہاں رہ گئیں تھیں میں نے اتنا یاد کیا۔۔
    وہ دوبارہ اسکے گلے لگ گئ تھئ
    پوگو شپو؟۔۔ اریزہ نے سوالیہ نظروں سے ہایون کو دیکھا۔۔
    تم تم اسے یاد کر رہی تھیں یقینا کوئی کام ہوگا ؟
    ہایون نے جزباتی گوارا کی لگاتار بولی جانے والی ہنگل کا ترجمہ کرنے کی بجائے سیدھا اسی سے پوچھ لیا۔۔
    گوارا نے گھور کر دیکھا پھر سیدھی ہوئی۔۔
    تم نے ناشتہ تو نہیں کیا ہوگا۔۔ چلو آج ہم پاکستانی ناشتہ کرتے ہیں۔۔ تمہارے ہاتھ کے پراٹھے کھائے بہت دن ہو گئے۔۔
    اسکی چالاکی پر ہایون اور کمسن بھونچکا رہ گئے تو اریزہ نہال ہو چلی۔۔
    ہم تو ناشتہ کر کے آئے ہیں میں تمہارے لیئے جھٹ پٹ بنا دیتی ہوں۔۔
    اس نے مسکرا کر بتایا تو گوارا جیسے دوبارہ جی اٹھی۔۔
    ہایون سر جھٹکتا اریزہ کا بیگ گھسیٹتا اندر لے آیا۔۔
    اریزہ وقت ضائع کیئے بنا سیدھا باورچی خانے کی جانب بڑھی۔
    ہوپ اٹھ گئ۔۔۔
    کم سن نے یونہی پوچھا تھا مگر گوارا نے ٹھیک ٹھاک گھور ڈالا۔۔
    وہ کھسیا کر کان دباتا اٹھ کر کمبل تہہ کرنے لگا۔۔ ہایون اسکا بیگ کمرے میں رکھ کر اریزہ کے پاس چلا آیا۔۔
    میں کوئی مدد کرائوں۔۔؟۔۔
    اریزہ پیاز کآٹتے چونکی۔۔
    نہیں۔۔ ٹھیک ہے۔۔ بس پیاز ہی کاٹنی تھی۔۔
    اسکی آنکھیں جل رہی تھی۔۔ سرخ ناک آنکھوں میں آنسو۔۔ دگرگوں حالت کے ساتھ بھی مسکرا کر منع کر رہی تھی
    لائو دو مجھے۔۔ ہایون نے اسکے ہاتھ سے چھری لے لی۔
    اریزہ نے جھینپ کر ہاتھ فورا پیچھے کیا مگر ہایون لاپروا سا تھا۔۔
    آرام سے اسکے ہاتھ سے پیاز چھری لے کر ماربل سلیب پر ایک کونے میں ٹک کر تندہی سے پیاز کاٹنے لگا۔۔ وہ کسی ماہر خانساماں کی طرح کھٹ کھٹ چھری چلا رہا تھا۔
    اریزہ نے متاثر ہو جانے والے انداز میں اسکی تیزی کو دیکھا۔
    آٹا گندھا ہوا نہیں تھا۔۔ اس نے ایک پیالے میں نکال کر گوندھنا شروع کیا ۔۔
    یہ کیا کر رہی ہو۔۔ یہ کم سن تھا اسے دیکھ کر حیرانی سے پوچھ رہا تھا۔۔
    آٹا گوندھ رہی اس سے پراٹھا بنائوں گی کھائو گے تم بھی؟۔۔ ۔اس نے مصروف سے انداز میں کہہ کر دوبارہ مکیاں لگائیں۔۔
    وائو۔۔ ہاں کھائوں گا میں بھی۔۔
    یہ تو پریشانی سے نجات دینے والی ترکیب ہے۔۔ غصہ آئے تو آٹا گوندھ لو خیالی مکے مارو غصہ ٹھنڈا پڑے تو آرام سے پیٹ بھر کر کھائو بھی۔۔ وہ ہنس کر کہہ رہا تھا
    یہ تو ہمیں کبھی خیال ہی نہ آیا۔۔ مکے لگاتی اریزہ کے ہاتھ رکے۔۔
    پھر جیسے بجلی ہی بھر گئ ہو اس میں۔۔
    ہایون اور کم سن منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔۔
    وہ آرام سے مکے لگا کر فارغ ہوئی تو مزاج بھی مزید بہتر ہو چکا تھا۔۔
    ناشتہ بنا کر اس نے اہتمام سے میز پر چنا ہایون اور کم سن اسکے ساتھ ساتھ لگے رہے وہ پراٹھے ڈالتی تو ہایون آملیٹ بنا رہا تھا کم سن نے میز پر دیگر ناشتے کا سامان چن دیا تھا
    ہوپ اور گوارا میز پر ناشتے کے انتظار میں انکی کارکردگی ملاحظہ کرتی رہیں۔۔ ۔گھی میں تر بتر پراٹھا اور انڈہ جہاں گوارا نے شوق سے نوالہ بنایا وہاں ہوپ جھجکی اور کم سن مدد طلب نظروں سے ہایون کو دیکھ کر رہ گیا۔۔ اسکی حالت ہایون کو محظوظ کر گئ کھل کر ہنس دیا۔۔
    کیا ہوا۔۔ پانی رکھتی اریزہ مڑ کر دیکھنے لگی۔
    کم سن کو اچھا لگا ناشتہ۔۔ وہ بھی مستی کے موڈ میں تھا
    واقعی۔۔ اریزہ اشتیاق سے اسے دیکھنے لگی۔۔ ۔
    ہاں۔۔ وہ گڑبڑا کر جلدی سے نوالہ منہ میں رکھ گیا۔۔
    میں اور بنائوں پراٹھا؟۔ اریزہ نے پوچھا تو ہوپ اور کم سن اکٹھے ہی بول پڑے
    آنیو۔۔ نہیں۔۔ کافی ہے۔۔
    گوارا اور ہایون کھلکھلا کر ہنسے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    .” “Motherhood: All love begins and ends there.”
    وہ ایک بے حد پیاری ماں بیٹے کی ویڈیو تھی بچہ گھٹنیوں چلتا ہمک ہمک کر ماں کو بلا رہا تھا ماں خود آگے بڑھنے کی بجائے اسکے سے کچھ فاصلے پربیٹھی اسکو بلا رہی تھی۔ بچہ نے جیسے ہی رونے والا منہ بنایا اس نے لپک کر گود میں اٹھا لیا۔
    شئیر کا بٹن دباکر اس نے پہلے کیپشن لکھا۔۔
    ایک اسٹیٹس شئیر ہو چکا تھا۔ دوسرا ایک بے حد پیارےانگریز آٹھ نو ماہ کے بچے کی تصویر اپلوڈ کی جس پرعنوان میں بڑا بڑا لکھا تھا۔۔
    “Children are the anchors that hold a mother to life.
    وہ اپنے بستر پر لیٹی موبائل استعمال کر رہی تھی جب ایڈون کی کال آئی۔ چند لمحے اسکرین کو دیکھنے کے بعد ہونٹوں پر آئی مسکراہٹ دباتے اس نے کال ریسیو کی۔
    کیا کر رہی ہو؟
    ایڈون کی گمبھیر آواز وہ ایکدم الرٹ سی ہوئی
    کچھ نہیں فیس بک پر اسٹیٹس ۔۔۔
    وہی دیکھ رہا ہوں ۔۔۔ ایڈون نے بات کاٹ دی۔
    تم کیا ساری دنیا کو بتانا چاہتی ہو کہ تم۔ وہ بری طرح بگڑا تھا۔۔۔
    اس کو تپتے دیکھ کر اسکے جلتے دل کو قرار سا آیا۔۔ جتا کر بولی۔۔

    میں ساری دنیا سے زیادہ دیر چھپا بھی نہیں سکتی۔
    ایڈون چند لمحے چپ رہ گیا پھر سنجیدگی سے بولا۔
    باہر آئو۔
    کیوں۔ وہ کہتے کہتے رک سی گئ
    اچھا۔۔ اس نے مزید بات نہ کی فون ہی بند کردیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دس منٹ بعد وہ باہر آئی تو ایڈون گیٹ کے پاس ہی کھڑا تھا۔
    بے چینئ اسکے انداز سے مترشح تھی۔
    فکر تو ہے میری۔ اسکے اندر اطمینان کی لہر سی دوڑی۔
    وہ تیز تیز قدم اٹھاتئ اسکے پاس آکھڑی ہوئی۔
    میں نے ٹیکسی منگوائی ہے آتی ہوگئ۔۔
    نا سلام نہ دعا اسے دیکھ رک چھوٹتے ہی بتایا۔اسکا منہ بن گیا۔
    کہاں جانا ہے؟
    اسپتال اور کہاں۔ ایڈون کا جواب نپا تلا تھا۔
    کیوں۔ وہ بدکی۔۔
    کیوں کا کیا مطلب۔ جوابا وہ تیوری چڑھا کر بولا۔
    اسپتال جا کر مکمل چیک اپ کروائو اور کیا۔
    اسکا انداز ہرگز بھی فکر کرنے والا نہیں تھا۔ سنتھیا سناٹے میں آگئ۔
    مکمل چیک اپ کے بعد ہی فیصلہ ہوسکے گا نا آگے کیا کرنا۔۔
    اس نے کوشش سے اپنے لہجے کو مدھم کیا مگر انداز ہنوز ہی تھا۔ بیزار سا۔۔
    تمہیں میری بات کا یقین نہیں؟
    وہ صدمے سے چور لہجے میں بولی۔
    تم نے وہ گولیاں استعمال نہیں کی تھی نا جو میں نے لا کر دی تھیں۔
    ایڈون کا انداز تفتئشئ سا تھا۔
    کتنی بار کہوں کی تھیں ۔مستقل استعمال سے بیمار بھی ہوگئ تھئ کبھی احساس ہوا تمہیں میرا؟
    سنتھیا چڑ گئ۔
    تھوڑی بہت تو ہوتی ہے طبیعت اوپر نیچے تم نے یقینا کھانئ چھوڑی تھیں تبھی تو یہ مسلئہ کھڑا ہوا ہے نا۔۔
    وہ اپنی بات پر قائم تھا۔
    وہ اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گئ۔
    یہ مسلئہ نہیں بچہ ہے ہمارا۔ ہمارے پیا۔۔۔۔
    او شٹ اپ۔ یہ اسٹار پلس والے ڈائلاگ نہ دہرانا میرے سامنے۔ فی الحال میں شدید پریشان ہوں۔ اس مصیبت سے کیسے نکلنا اسکو بھئ مجھے ہی دیکھنا ہوگا۔
    وہ سامنے سے آتی ٹیکسی دیکھ کر بڑبڑاتا ڈرائیور کو ہاتھ ہلانےلگا۔۔
    اب آئو بھی۔ چند قدم بعد اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی جگہ سے ہلی بھی نہیں ہے تو جھنجھلا کر ٹوکا۔ وہ ضبط کرتی اسکے پیچھے چلی آئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یون بن اور گوارا کا کہیں جانے کا پروگرام تھا۔یون بن اسے لینے آیا تو کم سن نے بھی اجازت چاہی تھی اسکو لگا تھا ہایون بھی چلتا بنے گا مگر خلاف توقع وہ آرام سے انکو رخصت کرتا جانے ہنگل میں انکو کیا کہتا کیا سنتا دروازہ بند کرکے واپس چلا آیا۔۔
    وہ حسب عادت برتن سمیٹ رہی تھی۔ احتیاط سے سب سمیٹ کر سنک میں ڈالے تو ہایون اسکے پاس آگیا۔۔
    لائو میں کرتا ہوں۔۔ اس نے سہولت سے گلوز اٹھا کر پہنے
    میں کر لوں گئ رہنے دو مدد کی ضرورت نہیں۔۔
    اسکے سب جملے اس نے ایک کان سے سنے دوسرے سے نکالے اریزہ ٹھنڈی سانس بھر کر ہٹ گئ۔۔ اسے برتن دھوتے چھوڑ کر کمرے میں جا بیٹھنا بھی بد اخلاقی ہوتی سو وہیں کائونٹر کے پاس اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔۔
    ہلکی گلابی ٹی شرٹ بلو جینز میں ملبوس کالے ایپرن کو کمر سے باندھے وہ بہت تندہی سے برتن دھو رہا تھا۔۔ اس کا ارادہ تو نہیں تھا مگر بڑی جانفشانی سے اسکا جائزہ لے ڈالا۔ گوری چٹی رنگت کلین شیو میں کیا کسی لڑکی کی نازک جلد ہوگئ جو اسکی لگ رہی تھئ۔ اسکے بال بھی بہت خوبصورت سے تھے وہ بھی شہد رنگ کے۔ عموما کوریائی لوگوں کے بال کالے ہوتے ہیں مگر اسکے نہیں تھے اب اگر ڈائی کیئے تھے تو حیرت کی بات نہیں تھی کوریا میں لڑکے بھی اپنی ظاہری شخصیت نکھارنے پر خوب توجہ دیتے تھے۔ اسکی نظریں ہایون کو اپنی پشت پر محسوس ہوئی تھیں سو اس نے پلٹ کر اچٹتی سی نگاہ ڈالی وہ واقعی متوجہ تھی۔
    یہاں تمہیں ٹھنڈ لگنئ شروع نہیں ہوئی؟
    ہایون نے گردن موڑ کر یکدم ہی پوچھا۔۔
    کہنیاں کائونٹر پر ٹکائے ہتھیلی پر تھوڑی جمائے وہ اتنے انہماک سے ملاحظہ کر رہی تھی کہ بری طرح گڑبڑا گئ
    ہاں نہیں۔۔ ہاں وہ میرا ارادہ ہے شاپنگ پر جانے کا۔۔
    وہ یونہی پہلو بدل کر بلا وجہ کائونڑ کی چیزیں چھیڑنے لگی۔۔
    ہایون کے چہرے پر بڑی خوبصورت محظوظ مسکراہٹ در آئی۔۔
    تم لوگ سردیوں میں بھی اپنا روائتی لباس ہی پہنتی ہو؟۔
    وہ برتنوں کو نتھار تے ہوئے بے نیازی سے پوچھ رہا تھا
    ہاں ہم لوگ روائتئ ہی لباس زیادہ پہنتے ہیں۔
    اریزہ کی خفت زائل تو نہیں ہوئی تھی مگر کب تک شرمندہ رہ سکتی تھی سو سنبھل کر جواب دیا۔
    پھر بھی تمہیں یہاں کی سردیوں کیلئے خریداری کرنی پڑے گی۔ گرم کوٹ وغیرہ
    ہایون نے کہا تو وہ کچھوے کی طرح گردن لمبی کر کے بیٹھ گئ
    وہ تو مجھے بھی پتہ مگر پیسے بھی تو ہوں۔وہ حسب عادت اردو میں بڑبڑائی
    تم پاکستان میں جاب کرتی تھیں؟
    ہایون کو اسکے جواب میں دلچسپی تو بہت تھی مگر اسکا انگریزی ترجمہ کرنے کا ارادہ نہ دیکھ کر دوسرا سوال داغ دیا
    نہیں۔ اس نے کندھے اچکائے۔
    کبھی ضرورت نہیں پڑی ۔ پاپا نے کافی اچھا جیب خرچ دیا ہمیشہ۔۔ اسکے لاپروا انداز پر وہ مسکرا دیا
    کافی امیر ہوگی پھر تم۔ میرے پاپا مجھے اچھا جیب خرچ دیتے تھے ہمیشہ اور اس بات پر میں ہمیشہ بلنگ (bullying) کا شکار رہا۔ میرے دوست مجھ پر نہ صرف رشک کرتے تھے بلکہ ٹھیک ٹھاک بے عزت بھی کرتے آئے ہیں۔ ہڈ حرام کہتے تھے مجھے
    کیوں۔ اریزہ نے آنکھیں پھیلائیں۔۔
    یہ کہ میں باپ کے پیسے پر عیش کرتا ہوں خود کچھ نہیں کرتا۔ آج اپنے جیسی لڑکی کے بارے میں جان کر اچھا لگا
    وہ شرارت سے مسکرایا۔ اریزہ ہنس دی
    اس لحاظ سے تو ہر پاکستانی لڑکی ہی ہڈ حرام ہوئی۔۔
    ہم لڑکیاں خاص طور سے پیرا سائٹ جیسئ زندگی گزارتی ہیں پاکستان میں۔ کھانا پینا پڑھائی اور پھر شادی سب والدین کی ذمہ دارئ۔۔
    اریزہ کا انداز ہرگز رشک بھرا نہیں تھا مگر پھر بھی ہایون متاثر ہوگیا۔۔
    واقعی ایسا ہے؟ تھیبا(زبردست)۔ پاکستانی لڑکیاں خوش قسمت ہیں پھر تو۔ ہمم۔ مجھے پاکستان کا نام بھی نہیں پتہ تھا مگر اب سوچتا ہوں کبھی وہاں کی بھی سیر کروں ۔ تم سمسٹر ختم ہونے تک پاکستان جائوگی تو میں بھی چلوں گا۔۔
    وہ تولیئے سے ہاتھ پو نچھتا ہوا اسکے مقابل آبیٹھا
    میرے ساتھ۔۔ وہ حیران ہوئی۔
    میرا بس چلے تو یہیں رہ جائوں۔ ۔ اردو میں بڑبڑاتے ہوئے اس نے سر جھٹکا۔ہایون مکمل طور پر اسکی جانب ہمہ تن گوش تھا
    میرا ابھی تو کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں جاب کروں گی سمسٹر کی فی جمع کروں گی خود اپنا خرچہ اٹھائوں گی۔۔
    وہ پکے عزم سے بولی۔
    تم نے کہیں جاب تلاش کی؟ ہایون کا سوال منطقی تھا ۔
    آں ہاں نہیں۔ میرا مطلب۔۔ وہ گڑبڑا گئ۔۔
    ادھوری تعلیم کے ساتھ بلو کالرجاب ہی ملے گی۔۔
    ویسے جاب ملنا کوریا میں آسان نہیں ہے۔ لوگ جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں
    ہایون کا انداز جتانے والا تھا۔۔ وہ چڑی بھی۔۔
    ایڈون ہے نا ڈھونڈ دے گا کوئی۔۔ وہ حسب عادت اردو میں ہی بولی۔۔ ہایون اسے اسی طرح دیکھتا رہا تو وہ تھوڑی کھسیائی
    ایڈون ول فائنڈ آ سوٹ ایبل جاب فارمی۔۔ اسے یقین تو تھا مگر پھر بھئ کچھوے کی طرح گردن لمبی کر کے بیٹھ گئ
    میں بھی ڈھونڈ سکتا ہوں۔
    ہایون نے جتانے والے انداز میں کہا تھا۔
    تم تو خیر مجھے مینجر بھی لگوا سکتے ہو سناہے کافی کمپنیاں ہیں تمہارے ابا کی۔ وہ کہہ کر ہنسی۔ ہایون مسکرا دیا۔
    ہاں تو تم نے مینجر بننا ہے؟
    وہ سنجیدگی سے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا۔
    آں۔ آنیا۔۔ اس نے گڑ بڑا کر نفی میں سر ہلایا۔
    ایسے ہی مزاق کر رہی تھی میں۔
    توبہ ہی ہے کورینز میں حس مزاح نام کو نہیں۔۔ وہ جان کر اردو میں بولی۔۔
    حس ؟ ہایون سوالیہ انداز میں دیکھ رہا تھا۔۔
    وہ سر تھام گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ریسیپشن کے قریب صوفے پر بیٹھا تھا۔ کبھی اٹھتا ایک چکر لگاتا پھر بے چین سا واپس آکر بیٹھ جاتا۔
    تبھی ریسیپشن پر اسکا نام پکارا گیا۔
    دے۔ وہ فورا اٹھ کر آیا۔
    آپ ادھر چلے جائیں۔ کمرہ نمبر 8۔۔
    بمشکل انگریزی میں اٹک اٹک کر بتا پائی تھی۔
    وہ سر ہلاتا اسی جانب بڑھ گیا۔ دھیرے سے دروازہ کھٹکا کر اجازت ملنے پر داخل ہوا۔۔اپنے کرسی پر براجمان سامنے میز پر رکھے مانیٹر کی جانب متوجہ ڈاکٹرنئ سہولت سے اسے دیکھ کر اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگی۔
    اسلام وعلیکم۔۔ عادتا اسکے منہ سے نکلا تھا۔خجل سا ہو کر وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا
    سنتھیا اسکے برابر والی کرسی پر سر جھکائے ہی بیٹھی تھی۔
    میں تو آگاشی کو کہہ رہی تھی تم بہت چھوٹی سی ہو مگر تمہیں دیکھ کر لگتا تم بھی ذیادہ عمر کے نہیں ہو۔
    وہ مسکرا کر بولی۔ ان دونوں سے چند ہی سال بڑی ہوگی۔
    ایڈون چیں بہ چیں سا ہوا۔۔
    بہر حال پیار کا بچہ ہے یقینا بہت عزیز ہوگا تم دونوں کو سو خوب خیال رکھنا ہے اچھا کھانا پینا ہے۔ ابھی تو سب ٹھیک ہے۔۔ بس معمول کا چیک اپ کرواتی رہنا۔۔ یہ کچھ طاقت۔۔۔۔
    اس سے آگے بھی وہ رواں ہنگل میں بولے گئی مگر سنٹ سے بیٹھے ایڈون کی سماعتیں سائیں سائیں ہی کر رہی تھیں۔
    اسے شک تھا کہ شائد سنتھیا نے اسکو تنگ کرنے کیلئے جھوٹ بولا ہے۔ اگر یہ سچ تھا تو۔۔۔۔
    اس تو نے حقیقتا اسکے ہاتھ سے طوطے اڑا دیئے تھے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح کے وقت۔۔۔۔۔
    دروازہ ہلکے سے کھٹکا کر جی ہائے اندر داخل ہوگئ تھی۔۔ کمرہ خالی۔تھا ہاں غسل خانے سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔ سنتھیا یقینا شاور لے رہی تھی وہ ہاتھ میں پکڑا پائوچ اسکی سائیڈ ٹیبل پر رکھتے رکھتے رک کر اسکے بیڈ پر ہی بیٹھ کر اسکے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگی
    سنتھیا تولیہ سے سر رگڑتی باہر نکلی تو اسے بیڈ پر بیٹھے دیکھ کر چونک گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باہر چلیں۔ ہایون برتن دھو کر ہاتھ تولیہ سے خشک کرتا اسکے سامنے آبیٹھا
    ہوپ یقینا اندر دوبارہ سو چکی تھی۔ وہ فورا ہاں کہتے کہتے جھجک سی گئ۔ ایک لمحے کو بند دروازے پر نگاہ کی تو دوسری نظر سامنے دیوار پر لگی گھڑی پر کی۔ ڈیڑھ بج رہا تھا پورا دن باقی تھا گوارا سے کچھ بعید نہیں تھا کہ واپس آتی بھی نہ یا رات گئے تک ہی آتی پڑھنا تو تھا نہیں ۔۔ ہزار وجوہات تھیں اس مخلصانہ پیشکش کو خوشی خوشی قبول لینے کی مگر پھر بھی جانے کیوں اسے جھجک سی محسوس ہورہی تھی۔۔
    ہایون پوری توجہ سے اسے دیکھ رہا تھا اور جواب کا منتظر تھا۔۔
    ہوپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ہمیں اسے اکیلے چھوڑنا نہیں چاہیئے۔۔ اسے یہی جواب سوجھا۔۔ ہایون مسکرا دیا جیسے اسے اس سے اسی جواب کی توقع ہو۔
    جیسے تمہاری مرضی۔۔ ہایون گہری سانس لیکر اٹھ کھڑا ہوا تھا شائد جانے کیلئے ہی۔
    تبھی دروازہ کھول کر ہوپ باہر نکلی اریزہ کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے ہایون سے مخاطب ہوئی
    تمہاری بہن فون نہیں اٹھا رہی ہے میرا وجہ جان سکتی ہوں؟
    ہایون اس سے اس سوال کی توقع نہیں کر رہا تھا فوری طور پر سمجھا بھی نہیں
    دے؟ کیا؟ اسکے منہ سے پھسلا تھا
    تمہاری بہن گنگشن پچھلے کئی دنوں سے میرے بارہا فون کرنے کے باوجود میرا فون نہیں اٹھا رہی ہے میں نے انجان نمبر سے بھی اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو میری آواز پہچان کر اس نے فون بند کر دیا۔ تم میری ابھی اسی وقت اس سے بات کروا سکتے ہو؟
    اسکا انداز سادہ نہیں بلکہ کسی حد تک سخت تھا ۔ہایون کو کافی برا بھی لگا وہ اسکے باپ کا نوکر نہیں تھا جس سے وہ اتنے تحکمانہ انداز میں بات کرے مگر پھر بھی اپنی فطری رواداری نبھا کر نرم سے انداز میں بولا تھا
    ایسی بات نہیں وہ کوریا میں ہیں ہی نہیں چین گئ ہوئی ہیں دو ہفتے ہو رہے ہیں وہ مصروف ہوں گی آئیں گی تو رابطہ کر لیں گی تم سے۔۔
    اس نے اپنی طرف سے بڑا مفصل جواب دیا تھا مگر ہوپ اسے یونہی گھورتی رہی
    تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ گھر نہیں جانا تمہیں؟ نہ گوارا ہے نہ یون بن کس کیلئے رکے ہو یہاں۔؟
    اس نے چبھتے ہوئے لہجے میں بہت طنزیہ انداز میں پوچھا تھا ہایون کے تن بدن میں جیسے آگ سی لگ گئ تھی
    تم سے مطلب نہیں۔وہ اس کے منہ لگنا نہیں چاہ رہا تھا
    ہوپ کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ یہ مسکراہٹ طنزیہ نہ تھی بلکہ اسکے چہرے کے تنے نقوش اس مسکراہٹ سے نرم سے پڑ گئے تھے۔ اسکے کھال منڈھےزرد گالوں پر یہ مسکراہٹ بہت بھلی لگی تھی
    کیا ہوا۔۔ خاموشی سے دونوں کی اجنبی زبان میں گفتگو سنتی انکے تنے تاثرات سے اریزہ کو بس یہی اندازہ ہوا کہ یقینا کوئی بحث چل رہی ہے دونوں کے درمیان سو پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔۔
    تم دونوں لڑ رہے ہو؟
    آنیو۔۔ ہایون نے فورا اپنےتاثرات بدلے
    نہیں کچھ نہیں۔ میں پہلے جاتا ہوں۔۔
    وہ قصدا ہوپ کی طرف سے رخ پھیرتا اسے الوداعی انداز میں جھک کر بائے کہتا تیزی سے باہر نکل گیا
    تم کیا کر رہی ہو یہاں بیٹھئ؟
    ہوپ جانے کس خیال میں تھی بڑی سہولت سے اسکے سامنے اسٹول کھینچ کر بیٹھ کر پوچھنے لگی
    اریزہ اسکے اپنائیت بھرے انداز پر حیران بھی ہوئی اور خوش بھی یقینا اسکے دل میں جمی گرد اڑی تھی جو آج اسے اریزہ سے خیر سگالی کا خیال آیا
    کچھ خاص نہیں ہایون نے برتن دھوئے اورساتھ ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے۔۔۔
    اریزہ نے بھی جوابا گرم جوشی سے ہی جواب دیا تھا
    تمہیں برتن دھونے نہیں آتے ہیں؟ ہوپ اس کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔۔ اریزہ کا انداز لاپروا سا تھا ابھی بھی بات بڑھانے کو بڑے آرام سے ہنس کر بتانے لگی
    مجھے تو سب کام آتا ہے کھانا برتن ۔ میری امی تو ہٹلر تھیں اس معاملے میں انہوں نے ڈانٹ ڈانٹ کر سب سکھایا ہے مجھے۔
    یہ جو ابھی تم نے بنایا تھا یہ کیا تھا؟ ہوپ نے اسکی بات کاٹ کر پوچھا تھا
    یہ ۔۔۔۔ اریزہ ہنسی
    یہ پراٹھا ہوتا ہے آٹے کو گوندھ کر بناتے ہیں اسے کافی مشکل کام ہے اچھا پراٹھا بنانا وہ بھی گول ۔۔ پتہ ہے جب پہلی بار میں نے پراٹھا بنایا تو سری لنکا کے نقشے جیسا بنا تھا۔۔
    وہ زورسے ہنسی
    سری لنکا کا نقشہ؟ ہوپ اسکے انداز پر مسکرا کر پوچھ رہی تھی
    سر ی لنکا کا ںقشہ نہیں پتہ ؟ بتاتی ہوں۔ وہ کائونٹر کے پاس ہی رکھا اسٹکی نوٹ کا پیڈ اور پین کھنیچ کر باقائدہ نقشہ بنانے لگی۔۔
    ایسا ہوتا ہے۔ مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا کیسا ہوتا ہے میرے بھائی نے مزاق اڑاتے ہوئے بتایا مجھے ایسے ہی بنا کر اور پہلی بار میری امی نے میری حمایت میں اسے ڈانٹا کہ پہلی دفعہ بنایا ہے۔مزاق نہ اڑائو ورنہ تو وہ بہت لاڈلا ہے انکا اسکے آگے تو اپنی سگی بیٹی کو نہیں پوچھتی ہیں۔ اور بابا انہوں نے تو مجھے پانچ سو روپے دیئے تھے بہت چڑایا پھر میں نے اسے۔۔۔
    وہ بہت جو ش و خروش سے قصہ سنا رہی تھی ہنس رہی تھی عادتا تالی مار کر بات کر رہی تھی۔۔
    اسے دیکھتے دیکھتے ہوپ کی آنکھوں میں پانی اترنے لگا۔ منظروں پر منظر بدلے ایک منظر حاوی رہا گلابی چہرے والی لڑکی کی بے فکر ہنسی اسکو آئینے میں اپنا چہرہ دکھائی ہی نہ دیا بس وہ چہرہ حاوی رہا۔ اس نے دھیرے سے آئینے پر ہاتھ پھیر کر اس عکس کو مٹا کر اپنا عکس تلاشا۔۔ خیالی عکس دھندلاتا گیا ایک فاقہ زدہ محنت کش شمالی کوریائی محاجر لڑکی کا عکس گہرا ہوتا گیا۔ کھنچی ہوئی آنکھیں کھال منڈھے ہوئے زرد گالوں پر ٹکی تھیں۔ انتہائی خشک اور روکھے پتلے سے کندھوں تک آتے بال شانوں پر بکھرے تھے۔ ناک بھدی سی تھی تو ہونٹ پتلے پتلے چھوٹے سے۔ان ہی نقوش پر اگر گال بھرے ہوتے تو بھی شائد کچھ پیاری لگتی۔۔ اس نے یاسیت سے اپنا چہرہ دیکھا
    یہ یہ کمی ہے مجھ میں۔ خوش باش ہنستے کھیلتے چہروں کو اس اداس آنکھوں والی فاقہ زدہ گالوں والی بد صورت سی یوآنا میں کیا دلچسپی محسوس ہونی ہے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن اسکیلئے پھل اور کچھ جوسز وغیرہ لیکر آیا تھا۔لا کر اسکے بیڈ کی سائڈ ٹیبل پر دھر دیئے
    آننیانگ۔۔ بہت ادب سے جھک کر سلام کیا تھا اس نے
    ۔ ہوپ اسے دیکھ کر رہ گئ۔۔ دو دن بستر پر اینڈتے ہوئے وہ بری طرح تھک چکی تھی۔ سو چادر ایک طرف کرتی اٹھ بیٹھی۔۔
    جتنی تیزی سے وہ اٹھی تھی کم سن نے ڈر کر سائڈ ٹیبل سے دونوں شاپر اٹھا لیئے۔ہوپ نے حیرانگی سے اسکی حرکت دیکھی۔۔
    وہ ۔۔ مجھے لگا تم انہیں اٹھا کر پھینکنے والی ہو۔۔ وہ خود بھی کھسیا گیا تھا۔۔ اتنی معصومیت بھری بے چارگی سے بولا کہ بے ساختہ ہی ہوپ کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔۔
    میں کم از کم کھانے پینے کی کوئی چیز کبھی نہیں پھینک سکتی۔۔
    وہ دھیرے سے کہتی اٹھ کر اپنی چپل ڈھونڈنے لگی۔۔
    کیوں۔ کم سن کے منہ سے بھی بے ساختہ ہی پھسلا تھا۔۔ اسکا جواب دینے کا ہرگز ارادہ نہیں تھا۔پیروں میں چپل پھنساتی وہ چپل گھسیٹتی باتھ روم کی جانب بڑھ گئ۔۔ کم سن نے گہری سانس لیکر دونوں شاپر وہیں ٹکائے اور خود بھی گہری سانس لیتا باہر نکل آیا۔۔
    گوارا اور اریزہ اوپن کچن کے کائونٹر پر کہنیاں ٹکائے اسٹول پر بیٹھئ اسی کی جانب متوجہ تھیں۔۔
    کیا ہوا انکار کر دیا اس نے لینے سے؟ دونوں نے ہی سوال کیا تھا مگر اپنی اپنی زبان میں۔۔
    اقرار نہیں کیا مگر انکار بھی نہیں کیا۔ خیر رکھ دیا میں نے اسکی سائڈ ٹیبل پر کھا ہی لے گی۔۔
    وہ کندھے اچکاتا انکے پاس ہی آبیٹھا۔۔اس نے دانستہ جواب انگریزی میں ہی دیا تھا
    میں نے اس لیئے کہا کہ یہاں رکھی ہوئی کوئی چیز استعمال نہیں کرتی اور لائے ہی تم اسی کیلئے تھے۔۔اگر اسے نہیں وصولنے تو انکار بھی تمہیں ہی کرے۔۔ گوارا نے صفائی دینا ضروری سمجھا۔۔
    کیا کر رہی ہے۔؟ اریزہ کو تجسس ہوا۔۔
    واش روم گئ ہے ۔ کم سن نے بتایا تو گوارا تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ہاہ ٹوائلٹ رول تو ختم ہے۔ میں تبھی تو کہہ رہی تھی میرے ساتھ گروسری شاپنگ پر چلو۔
    باتھ روم میں تو ہوگا۔ یہاں کوئی اضافی کیبنٹ میں نہیں رکھا ہوا۔۔ اریزہ نے تسلی دینی چاہی۔۔
    وہاں بھی نہیں ہوگا کیونکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں گئ تھی واش روم اور میں ختم کرکے آئی تھی جبھی تو تمہیں کہہ رہی تھی ساتھ چلو شاپنگ پر۔ گوارا کے چہرے پر واقعی پریشانی تھی۔۔
    تبھی انکے پیچھے کافی زور سے کمرے کا دروازہ بند ہوا تھا۔۔
    تینوں نے چونک کر دیکھا ۔۔
    یقینا یہ ہوپ تھی اور اب ٹوائلٹ رول کا متبادل انتظام کر رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم خیریت۔۔ سنتھیا سنبھل کر خوش اخلاقی سے پوچھ رہی تھی۔
    جی ہائے کا انداز اسکے بالکل برعکس تھا۔ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا۔۔
    تم مسلمان ہو؟
    نہیں: سنتھیا اسکے انداز پر الجھ سی گئ۔۔
    پھر؟ جی ہائے تفتیشی انداز میں بولی تھی
    عیسائئ۔۔ کیوں؟ سنتھیا کو اسکا انداز اچھا نہیں لگا تھا مگر دو دن سے جس طرح وہ اسکا خیال رکھ رہی تھی اس کا لحاظ کرکے نرمی سے جواب دیا۔
    اور اریزہ؟ جی ہائے کا انداز ہنوز تھا۔۔
    وہ مسلمان ہے ۔ سنتھیا الجھ کر تولیہ گرل پر لگاتئ اسکے پاس چلی آئی۔ بیڈ پر بیٹھی جی ہائے ایکدم سے تنک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    ہائش۔۔ مجھے پہلے اندازہ کیوں نہ ہوا۔۔ اس نے جھلا کر پائوچ پوری قوت سے بیڈ پر اچھال دیا۔۔
    یہ۔۔ یہ تو اریزہ کا ہے۔ اسکے انداز سے الجھتی سنتھیا نے فورا پہچان لیا تھا۔ آگے بڑھ کر پائوچ اٹھایا تو پٹخنے سے اسکا کلچ ٹچ کی آواز سے کھل گیا۔ اللہ کے نام کا پیارا سا لاکٹ اس میں سے باہر آگیا تھا۔۔
    اوہ احتیاط سے اسے بلا ارادہ چوم کر واپس ڈال کر پائوچ بند کرکے مڑی تو جی ہائے کو خشمگیں نظروں سے خود کو گھورتے پایا۔
    گوارا جانتی ہے کہ اریزہ مسلمان ہے؟
    اسکی تفتیش ختم نہیں ہوئی تھی۔۔
    جانتئ ۔۔ وہ کہتے کہتے رکی۔۔ مسلئہ کیا ہے آخر؟ اریزہ مسلمان ہے تو کیا ہوا؟ اس نے کیا بگاڑا ہے تمہارا جو یوں غصے میں ہو۔
    ہائش۔۔ جی ہائے سر پکڑ کر گھوم گئ۔۔
    یقینا گوارا نہیں جانتی ہوگی مجھے اسے بتانا پڑے گا وہ اپنے گھر میں مسلمان کو رکھے ہے احمق بے وقوف لڑکی۔
    وہ ہنگل میں زیر لب بڑبڑا تی پیر پٹختی باہر نکل گئ۔۔
    ارے سنو ۔۔ پیچھے سے سنتھیا اسے پکار کر رہ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاسٹل کی جانب سے پیغام آیا تھا۔ ایک نئی مصیبت اسکے سامنے تھی۔۔
    یہ ہاسٹل صرف ان طلباء کیلئے ہے جو یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اگر آپ کسی موجودہ ڈگری سے منسلک نہیں ہیں تو برائے مہربانی اپنا انتظام کیجئے۔کیونکہ آپکا کمرہ دوسری طالبہ کو دے دیا جائے گا۔۔
    مسکرا کر چندی آنکھوں والی اس لڑکی نے کمپیوٹر پر اسکی ساری تفصیلات دیکھ کر اسکے سر پر انگریزی میں بم پھوڑا۔
    وہ چند لمحے اسے یونہی دیکھتی رہی ۔ چندی آنکھوں میں رحم اتر آیا جانے کس مشکل سے گزر رہی ہے بے چاری۔۔
    آپ کے پاس ابھی چند دن ہیں اپنا کہیں اور انتظام کر سکتی ہیں۔اگلا سمسٹراگلے پیر سے شروع ہوگا طلبا یقینا ہفتے کے آخر تک ہی آئیں گے۔آج منگل ہے تو آپ کے پاس ابھی چار دن ہیں۔۔ اس نے بڑے خلوص سے مشورہ دیا تھا۔مگر ہنگل میں ۔ اسکے خاک پلے پڑتا۔۔ کم سن اتفاق سے اپنی فیس جمع کروانے آیا تھا اسے دیکھ کر اسکے پاس آکھڑا ہوا اس سے پہلے کہ متوجہ کر پاتا کلرک کے سر پر پھوڑے بم کے زیر اثر اسے ساکت کھڑے دیکھا تو لبوں پر مسکراہٹ دبا کر اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔۔
    وہ بری طرح چونکی۔۔
    آہجوشی ۔ آپ انکو انگریزی میں بتا سکتے ہیں کہ انکو اپنے رہنے کا الگ انتظام کر نا ہوگا یونیورسٹی صرف یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو ہی ہاسٹل میں رہائش دیتی ہے۔
    چندی آنکھوں والی نے دوبارہ اتنی ہی تفصیل سے بتایا تھا۔ اسکی انگریزی ختم ہوگئ تھی سنتھیا کی ہمت کی طرح۔۔
    کم سن نے اثبات میں سر ہلاکر مطلوبہ معلومات انگریزی میں دہرا دیں بمعہ اسکا مشورہ ۔
    دے۔ سنتھیا گہری سانس بھر کر پلٹ گئ۔
    کم سن نے اپنا فارم اور پیسے کلرک کی جانب بڑھائے ۔۔ سنتھیا باہر کی جانب گلاس ڈور دھکیلتی جا رہی تھی۔ اس نے لمحہ بھر سوچا کلرک کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نظر انداز کرکے اپنا فارم اور پیسے واپس شولڈر بیگ میں ڈال سنتھیا کے پیچھے دوڑ لگا دی۔ وہ خلاف معمول خاصے تیز قدم اٹھا رہی تھی۔
    بس اسکی کمی تھئ۔۔ اس نے بیزاری سے سوچا
    چلتے چلتےاس نے شکوہ کناں نگاہ آسمان پر ڈالی۔
    کیا مجھے معافی نہیں مل سکتی؟؟؟
    اسکی آنکھیں بھر گئیں۔بے دردی سے آنکھیں رگڑ لیں تبھی کوئی اسکے بالکل سامنے آن کھڑا ہوا۔۔
    ہائے۔۔ کم سن بھرپور انداز سے مسکرایا۔۔
    ہائے۔۔ وہ کسی اور ہی موڈ میں تھی اسکے پاس سے ہو کر آگے بڑھنے کو تھی ۔ اسکا ارادہ بھانپ کر کم سن نے اسکو بازو سے تھام کر روکا۔اس بےتکلفی پر سنتھیا نے گھور کر دیکھا تھا مگر مقابل ڈھیٹ بن گیا۔۔
    کیسی ہو؟ اسکے پرتپاک انداز میں پوچھنے پر بھی وہ ٹھس سی اسے دیکھتی رہی۔
    کم سن اسکے ناک بھنوئیں چڑھانے پر اسکا بازو چھوڑ کر کھل کر ہنس دیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس کورین ریستوران میں کم سن لیکر آیا تھا۔ لانے کی وجہ اسکے سامنے ریسیپشن پر کھڑا تھا۔
    وہ دانستہ نظر چرا کر ایک کونے میں کرسی سنبھال گئ۔ کم سن کو لگا تھا وہ بھی سیدھا ایڈون کے پاس جائے گی۔ وہ کندھے اچکا کر اسکے پاس آبیٹھا۔
    کیا کھائو گی؟
    جواب ندارد تھا۔
    یہاں کا پورک اسٹیک بہت اچھا ہوتا ہے ایڈون تو کھا چکا ہے اسے پسند بھئ آیا تھا تم کھائو گئ۔؟
    وہ نرم سے انداز میں پوچھ رہا تھا۔۔
    ۔ سنتھیا نے اثبات میں سر ہلایا۔
    کم سن اطمینان سے کرسی پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں پر تھوڑی ٹکا کر اسکے بیزار بیزار سے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔ اسکے دیکھنے کے انداز نے ٹرے لیکر آتے ایڈون کو ٹھٹکا دیا تھا سنتھیا البتہ بے نیازی سے گلاس وال کے باہر سڑک پر نظر جمائے بیٹھی تھی۔
    ایڈون نے پٹخنے کے انداز میں ٹرے دونوں کے درمیان رکھی تھی۔ اس افتاد پر دونوں اچھلے تھے۔ سنتھیا نے گھور کر دیکھا تھا اسے۔۔
    کم سن اسکا لال بھبوکا چہرہ دیکھ کر محظوظ سے انداز میں مسکرایا۔ پھر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا۔۔
    تم دونوں کے جو بھی اختلافات ہیں یہاں بات کرکے دور کرسکتے ہو۔۔ میں نے انکل سے کہہ دیا ہے ایڈون جتنی دیر یہاں بات کرے گا اتنی دیر اسکی زمہ داری میں اٹھا لوں گا۔۔
    وہ ہاتھ کے اشارے سے ایڈون سے اسکا ایپرن مانگ رہا تھا۔۔ ایڈون کیلئے اسکی یہ آفر قطعی غیر متوقع تھی۔ ہکا بکا کھڑا دیکھ رہا تھا۔ کم سن نے ابرو اچکائے تو میکانکی انداز میں اپنا ایپرن کھول کر اسکے تھما دیا ۔۔ وہ معمول کے سے انداز میں اسکا ایپرن اپنی کمر کے گرد لپیٹتا نئے آنے والے صارفوں سے آرڈر لینے چل دیا۔۔
    ایڈون گہری سانس لیتا اسکے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔۔
    سنتھیا اسے مسلسل نظروں میں رکھے تھے۔۔ ایڈون اسکی نظریں خود پر گڑی محسوس کر رہا تھا۔۔ احتیاط سے اپنے پلیٹ میں اس نے کھانا نکال کر پلیٹ سنتھیا کی جانب بڑھا دی۔۔
    سنتھیا یونہی چپ گھورتی رہی۔۔
    کھانا تو شروع کرو۔۔ گھورنے کا شغل کھانے کے دوران بھی جاری رکھ سکتی ہو۔ ایڈون نے ہلکا پھلکا انداز اپنایا تھا۔۔
    ہم یہاں کیوں ہیں ایڈون؟ سنتھیا کا سوال ایڈون کے لئے غیر متوقع تھا۔ وہ سمجھا نہیں تھا سنتھیا نے دوٹوک بات کرنے کی ٹھان لی۔۔
    ڈگری ہم لے نہیں رہے چھے مہینے یہاں ضائع کرنے کی بجائے پاکستان واپس چلتے ہیں۔تم نے اگر مزید پڑھنا تو وہاں پڑھ سکتے ہو۔ میں مدد کروں گی تمہاری ہر طرح سے ہم شادی کر لیتے ہیں۔۔
    سنتھیا کے جملے اسکے اندرونی انتشار کے عکاس تھے۔
    ایڈون ٹھٹک کر اسے دیکھنے لگا۔
    مجھے نکاح کرنا ہے۔ مجھ سے اب مزید یہ گلٹ برداشت نہیں ہوتا۔ ایڈون۔۔ اسکا انداز بھرا گیا تھا۔۔
    کیسا گلٹ؟ ایڈون نے تجاہل عارفانہ سے کام چلانا چاہا۔۔
    تم اچھی طرح جانتے ہو میں کیا کہہ رہی ہوں۔
    سنتھیا بےتابئ سے دونوں ہاتھ میز پر مار کر چلا اٹھی تھی۔۔ ارد گرد کئی گردنیں انکی۔جانب مڑی تھیں۔۔ ان سے کچھ فاصلے پر میز صاف کرتا کم سن چونکا تک نہ تھا۔۔ تندہی سے میز چمکاتا رہا تھا۔
    آرام سے۔ ایڈون ناگواری چھپا نہ سکا۔۔ ڈپٹ دیا۔۔
    تم کیوں عدم تحفظ کا شکار رہتی ہو۔ ؟تمہیں کیوں لگتا ہے ہم نے کچھ غلط کر ڈالا ہے۔ ہم نے کچھ دنیا سے الگ انوکھا نہیں کیا منگنی ہو چکی ہے ہماری محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے جلد شادی کر لیں گے ۔ تم صرف گرل فریںڈ نہیں فیانسی ہو میری ۔ ارے گرل فرینڈ بوائے فریںڈ تو رہتے اکٹھے ہیں ہم نے تو بس کبھی کبھی ساتھ وقت گزاراہے۔ یہاں اس معاشرے میں عام بات ہے یہ ۔۔تم پاکستان میں رہ کرقدامت پسند ہوگئ ہو بس۔
    سختی سے کہتے کہتے ایڈون کا انداز آخر میں سمجھانے والا ہو چلا تھا۔
    ہم پاکستانئ ہی ہیں ایڈون ہم کوریا میں رہ کر بھی وہیں کہیں زہنی طور پر پھنسے ہیں۔ یہ سب مطالبات تم پاکستان میں کرتے تو مر کر بھی ہاں نہ کرتی مگر یہاں اس دوسرے ملک کے خمار میں میں اپنی حد پار کر گئ ہوں۔ اور تمہاری نظروں میں اپنا پہلے سا مقام بھی کھو بیٹھی ہوں۔۔۔ سنتھیا آج کھل کر سب کہہ دینا چاہتی تھی۔۔ اسکے گالوں پر آنسو بہہ نکلے تھے۔
    ایسی بات نہیں ہے۔ ایڈون اسکی آنکھیں لبا لب بھری دیکھ کر نرم پڑا۔
    کھانے کی ٹرے ایک طرف کر کے اسکے میز پر دھرے ٹھنڈے یخ ہاتھ تھام لیئے۔
    اگر اس وقت کی بات کرتی ہو تو میرا بھی کسی لڑکی کے اتنا قریب جانے کا پہلا موقع تھا ۔ مانتا ہوں ہم معاشرتی طور پر ابھی ایک نہیں ہوئے مگر ہم نے جو کیا وہ گناہ نہیں تھا ہم مسلمان تھوڑی ہیں جو ایسی فالتو روایات میں الجھیں ۔رہا شادی کا سوال تو ہماری شادی طے ہے آپس میں ہی ہوگی ۔ آج یا جب کبھی۔
    پاکستان چلو میں یہاں نہیں رہنا چاہتی۔ بھلے وہاں جا کر پڑھائی مکمل کرو یا جو بھی کرو مگر میرے ساتھ واپس چلو۔
    سنتھیا ضدی انداز میں بولی۔
    میں تو میں تم اب واپس جا سکتی ہو؟ یہ جو مصیبت ۔
    وہ روانئ میں بول گیا احساس ہواتو جملہ ادھورا چھوڑا۔
    جب تک اس مسلئے کا حل نہیں نکل سکتا ہم واپس نہیں جا سکتے۔نا تم نا میں۔۔
    یہی حل تو بتا رہی ہوں۔ہم یہاں شادی کر لیتے ہیں۔ہم گھر والوں سے کہہ دیں گے ہمیں اکٹھے رہنا تھا ہاسٹل سے ہم دونوں کو نکال دیا گیا تھا وغیرہ۔۔ یہی بہترین راستہ ہے۔
    وہ سمجھا رہی تھی ایڈون بری طرح چڑ گیا۔۔
    پاگل تو نہیں ہوگئ ہو تم؟ یہ ڈھول ہمیشہ کیلئے گلے میں لٹکا کر پھرنا ہے تم نے؟
    سنتھیا اسکے جھلاہٹ بھرے انداز کو ساکت سی دیکھتی رہ گئ۔

    اس نے گہری سانس لیکر سنتھیا کے ہاتھ تھامتے ہوئے سمجھانا چاہا
    میں دو دن سے صرف اسی معاملے کا حل سوچ رہا ہوں۔
    میرے پاس کچھ پیسے ہیں کچھ اوور ٹائم کرکے سیو کروں گا۔ کچھ تم کوئی بہانہ بنا کر پاکستان سے منگوائو۔
    اسکا انداز اسکی باتیں ۔سنتھیا خالی الذہنی سے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔
    کیوں؟
    ہم اس معاملے کو ختم کرا لیتے ہیں۔ آئیندہ احتیاط کریں گے۔بس۔۔ آئی پرامس آئیندہ تم پر کوئی مشکل وقت نہیں آنے دوں گا۔۔
    اسکا ہاتھ سہلاتے وہ سبھائو سے کہہ رہا تھا۔
    کیا مطلب۔ سنتھیا ایکدم سناٹے میں آگئ۔۔
    تم اسے۔۔۔۔
    وہ بات مکمل نہ کرپائئ۔
    تو اور کیا۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کتنی بڑی ذمہ داری ہے؟
    ابھی میری تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ ہم شادی بچوں کے چکر میں کیسے پڑ جائیں۔۔ ابھی ذیادہ دیر نہیں ہوئی ہے۔۔ سنتھیا مجھے اپنا کیرئر بنانا ہے یہاں تعلیم مکمل کرکے میں یہاں ہی سیٹل ہونا چاہتا ہوں پاکستان میں رکھا کیا ہے ؟ نا۔۔
    اسکی آگے کی لمبی تقریر ہزار بار کی سنتھیا نے سنی تھی جبھی اسکی بات کاٹ کر بولئ۔
    میں اس قتل کا حصہ نہیں بنوں گی ۔۔۔ چاہے کچھ ہو جائے۔۔
    ایڈون ہکا بکا رہ گیا تھا ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اسکے ایک کئی منزلہ عمارت کے باہر لایا تھا۔دو زینے چڑھ کر اس نے ایک فلیٹ کا دروازہ کھولا تھا۔ سامنے ایک لمبی راہ داری تھی اتنی تنگ کہ بس ایک درمیانی جسامت کا انسان دیواروں سے بچتا سیدھا چل سکے۔ راہد اری میں دروازے ہی دروازے آمنے سامنے تھے ایک دو تین چار آمنے سامنے دروازوں کو وہ بلا ارادہ گننے لگی۔
    تبھی ایک ہلکی سی کھڑک کے ساتھ سامنے بائیں جانب کا دروازہ کھلا تھا ایک لحیم شحیم افریقی حبشی نکلا تھا۔ یقینا اسے باہر جانا ہوگا راہداری کے آغاز پر وہ کھڑے تھے اسے راستہ دینے کی غرض سے انکو یقینا باہر نکلنا چاہیئے وہ واپس مڑنے کو تھی جب ایڈون نے اسکا ہاتھ تھام کر ایک دروازے میں چابی گھما کر کھول دیا۔ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو انکے داخل ہوتے ہی ختم ہو گیا تھا۔ اسکو اندر داخل ہو کر ایک جانب سرعت سے ہونا پڑا تھا ایڈون نے احتیاط سے دروازہ بند کیا۔ بمشکل اسکے گھر کے باتھ روم جتنا کمرہ جس میں ایک جانب ٹرین کے برتھ جیسا بیڈ تھا دوسری جانب ایک چھوٹا سا کائونٹر تھا جس پر لیپ ٹاپ رکھنے کے بعدبس دو کتابوں کی جگہ تھی۔ اوپر راڈ لگے تھے جن پر ایڈون کے کپڑے لٹکے تھے۔
    بیٹھو۔۔ ایڈون نے اسے بیڈ پر بیٹھنے کا ہی کہا تھا اور تو کہیں کوئی جگہ نہ تھی ہر چیز منہ پر آ رہی۔تھی اسکا دم گھٹنے لگا تھا۔
    باہر چلیں۔۔کھینچ کر سانس لیتے ہوئے وہ بس یہی۔کہہ سکی۔۔
    وہ اسے قریبی پارک لے آیا تھا۔۔اسے ایکدم تازگی اور سکون کا احساس ہوا تھا۔ایڈون اسکیلئے کافی لیکر آیا تھا اپنے لیئے سیول کی مشہور زمانہ سوجو۔
    کوریا کا موسم بالکل بدل چلا تھا جہاں اس تنگ کمرے میں اسے شدید گھٹن کا احساس ہورہا تھا وہاں اس کھلی فضا میں گھگھی بھی بندھنے لگی تھی۔۔
    کافی کا گھونٹ بھر کر اسکی گرمائش اندر اتارتے ہوئے اس نے گہری سانس لی تھئ
    گوشی وون۔ کہتے ہیں اسے۔ غریب محنت کشوں کے لیئے رات گزارنے کا ٹھکانہ ۔بیڈ سونے کیلئے۔ الماری کپڑوں کیلئے۔ باقی رات کو کوریا میں تو فٹ پاتھ پر بھی سویا نہیں جا سکتا سو یہ کافی سے زیادہ ہے ایک انسان کیلئے۔۔
    سالک اور شاہزیب واپس جا رہے ہیں مجھے بھی ہاسٹل سے نکلنا پڑے گا۔ اپنی رہائش کا یہ انتظام کیا ہے میں نے۔۔ اس تنگ راہدارئ کے آخر میں ہئ باتھ روم ہیں جو مشترکہ ہیں۔۔
    گہری سانس لیکر ایڈون نے کہنا شروع کیا ۔ اس تمہید کا مقصد اسے بخوبی سمجھ آرہا تھا
    میں تمہاری بات مان کر شادی کر بھی لوں تو تمہیں کہاں رکھوں گا ؟ پاکستان جا کر یہ حقیقت بتا کر ہمیں ہمارے والدین معاف بھی کردیں تو ہمارا کیا مستقبل ہوگا ۔ ا س بچے کا کیا مستقبل ہوگا۔ پاکستان میں ہم اقلیت ہیں متوسط طبقے کی اقلیت۔ ہمارے لیئے وہاں پر مواقع محدود ہیں میرےباپ نے ساری زندگی پیسہ پیسہ جوڑا اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر مجھے پڑھا یا۔ مجھ سے چھوٹی دو بہنیں ہیں مجھے انکورخصت کرنا ہے ابا کا سہارابننا ہے۔ وہاں نہ میں ایسی نوکری کرکے اتنا کما سکتا ہوں کہ اپنا خرچ اٹھا سکوں نہ مجھے ایسی کوئی امید نظر آتی ہے کہ پڑھائی مکمل ہونے کے بعد وہاں میرے لیئے کوئی نوکریوں کا ڈھیر پڑا ہوگا کہ میں چن کر زندگی عیش سے گزار سکوں۔ وہاں مسلمان بے روزگار پھر رہے ہم تو۔۔۔
    اس نے گہری سانس لی۔
    یہ سب باتیں تمہارے لیئے نئی ہوں گی۔ تمہارے بابا بہت امیر ہیں مگر میں ان کے ٹکڑوں پر کتنا عرصہ پل سکوں گا ۔
    یہاں بھیجتے ہوئے تمہارے بابا نے مجھے کہا تھا کہ باہر کےملک کی ڈگری لیکر آئو تب ہی یہاں کہیں کہہ سن کر اچھی جگہ لگوا سکوں گا۔ وہ مجھے اپنے ہم پلہ بنانا چاہتے ہیں میں ان کو کیسے جا کر کہوں کہ۔۔۔
    سنتھیا چند لمحے سوچتی ہی رہ گئ۔ وہ تمام ڈر خوف واہمے حقیقت بن کر سامنے تھے جنہوں نے اسکی مہینوں سے راتوں کی نیند اڑا رکھئ تھی۔ حقیقت بس اتنی سی تھی۔ وہ ایڈون کے ارادوں سوچوں خیالوں میں کہیں نہیں تھئ۔ اس بات کو سوچ کر اسکا دم رکنے لگتا تھا۔یوں لگتا تھا کہ وہ مرہی جائے گی۔
    اپنے ماں باپ اپنی بہنوں یہاں تک کے اسکے باپ تک کی فکر تھی ایڈون کو مگر ایک بار بھی شائد اس نے یہ نہ سوچا تھا کہ سنتھیا پر اسکے فیصلوں کا کیا اثر ہوگا۔۔ اسے جتنا بھیانک لگتا تھا سوچنے میں یہ انکشاف وہ آج سمجھ آگیا تو کتنے آرام سے بیٹھئ تھی۔ کچھ بھی تو نہ ہوا نہ دل بند ہوا نہ ہی وہ پھوٹ پھوٹ روئئ۔
    اس نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنی چاہی
    مڑکر ایڈون کے بے حد قریب اپنا چہرہ لائی ایڈون نے اچنبھے سے اسے دیکھا تھا۔کیا وہ چاہ رہی تھی ؟ ایڈون نے گہری سانس لیکر سوجو کی بوتل رکھی اور مڑ کر اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا۔ وہ پہل کرنا چاہ رہا تھا سنتھیا نے سرعت سے اسکا ہاتھا ہٹایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ایڈون ہم اپنے راستے الگ کر لیتے ہیں۔ اس کا انداز سخت سا تھا
    ایڈون سر جھٹک کر رہ گیا۔
    اس نے چند لمحے انتظار کیا۔ مگر ایڈون پارک پر نگاہ جمائے سوجو کے گھونٹ بھررہا تھا۔
    سنتھیا ضبط کھو کر بے آواز رو پڑی۔ اس سے سسکیاں چھپانے پلٹ کر جانا چاہا تب ایڈون کی اسے آواز آئئ
    میں رات کو فون کروں گا۔ اٹھا لینا۔۔
    اس نے رک کر سنا تھا پھر رکی ہی نہیں۔ تیزتیز قدم اٹھاتئ پارک سے نکلتی چلی گئ اور ایڈون کی زندگی سے بھی۔اپنی دانست میں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاسٹل آکر وہ جلے پیر کی بلی کی طرح ادھر سے ادھر ٹہل رہی تھی۔زندگئ میں پہلی دفعہ اسکی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ تھا اور وہ اریزہ سے مشورہ بھی نہیں کر سکتی تھی۔
    اریزہ کو اس حقیقت کے بارے میں بتانے کیلئے بہت ہمت درکار تھی۔
    خداوند بتائیں میں کیا کروں۔ ؟
    وہ تھک کے بیڈ پر گر سی گئ۔
    پاکیزہ مریم آپ تو جانتی ہیں نا یہ مرحلہ میرے لیئے کتنا مشکل ہے۔ میں نے گناہ کر لیا ہے۔ مجھے سنگسار کر دیں گے سب۔۔ وہ تکیے میں منہ دے کر رو پڑی۔
    میں یہاں نہیں رہ سکتی میں واپس نہیں جا سکتی۔ میرے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔۔ کیا کروں میں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ گوارا اور ہوپ کے ساتھ صوفے پر لائین سے بیٹھئ ڈرائی فروٹ اڑا رہی تھی ۔۔گوارا اور ہوپ سوجو اور چکن اڑا رہی تھیں۔بھاپ اڑاتا لال لال مصالحے سے بھرپور تلا ہوا چکن جس پر کالی ساس تھی سرخ کٹی ہوئی مرچ سنگ جانے کیا کچھ تھا۔۔خوشبو اتنی اچھی تھی کہ نگاہ بھٹک گئ اسکی۔ جلدی سے خود کو گھرک کر اس نے کاجو منہ میں رکھا۔۔
    بری بات۔۔ حرام ہے چاہے جتنا بھی اشتہا انگیز لگ جائے یہ ۔۔۔۔۔۔۔
    ونگز اٹھا کر کھاتے گوارا نے پھر اسے پوچھنا چاہا۔
    ذرا سا چکھ کے تو دیکھو۔ چکھنے سے تھوڑی تمہارا ایمان جاتا رہے گا۔۔
    آنیا۔ اس نے زور و شور سے نفی میں سر ہلایا۔ ہوپ نے تیکھی نگاہوں سے دیکھا۔
    اب چکن بھئ حرام ہے اسکے مزہب میں کیا۔
    اس نے واضح طو رپر۔گوارا سے پوچھا تھا مگر اس نے جواب دینے کی بجائے ٹی وی پر۔نگاہ جما دی۔
    ہوپ ہونٹ بھینچ کر نئئ سوجو کی بوتل کھولنے لگی۔
    انہوں نے ٹی وی پر لیجنڈ آف بلو سی لگایا ہوا تھا۔ اریزہ کو ڈائلاگز سمجھ تو نہیں آرہے تھے مگر کہانی کردار سب انوکھے اوپر سے اعلی درجے کی اینیمیشن وہ بھی بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی گوارا اسکیلئے مترجم کے فرائض انجام دے رہی تھی۔
    یہ لڑکا بہت خوبرو ہے۔ اریزہ نے کہا تو گوارا زور سے ہنس دی۔
    پتہ ہے آدھا کوریا مرتا ہے اس پر ای منہو نام ہے مگر یہ اسکا آخری ڈرامہ ہے اسکے بعد بے چارہ چلا جائے گا ملٹری۔۔ اسے تاسف ہوا تھا
    کیوں؟ ملٹری کیوں جا رہا اگر اسے اتنا فیم مل چکا ہے پیسہ بھی خوب ہوگا اسکے پاس۔
    اریزہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ مارنے لگی ہے بلکہ پورا چھتہ اپنے اوپر الٹنے والی ہے۔
    شمالی کوریا کئ وجہ سے پورے جنوبی کوریا کے لڑکوں پر ملٹرئ میں تین سال گزارنا فرض ہیں۔ہر وقت جنگ مسلط کرنے کو تیار ہیں ہم پر جبھی حکومت چاہتی ہے کہ ہمارے جوان ان سے نمٹنے کو تیار رہیں
    گوارا اسکی جانب جھکتے ہوئے رازدارانہ انداز میں بتا رہی تھی مگر والیم نہ نہ کرتے بھی اتنا تھا کہ پاس ہی بیٹھی ہوپ نے آرام سے سنا تھا۔۔
    اور جنوبی کوریا کی وجہ سے شمالی کوریا کی خواتین پر بھی ملٹرئ کی پابندئ ہے۔ جب ہم سے جنگ ہوگی تو ہماری عورتیں گھروں مین بیٹھی اپنے اوپائوں کی لاشوں پر بین نہیں کریں گی بلکہ جنگ کے میدان میں ایسے اوپائوں کی لاشیں گرا رہی ہوں گی۔
    چبھتے کڑخت انداز میں اس نے اتنے تنفر سے کہا تھا کہ گوارا اور اریزہ حق دق دیکھتی رہ گئیں۔گوارا کو تو لی منہو خون میں ڈوبا پڑا نظر آرہا تھا تو اریزہ کو خون سائرن دھماکا کیا کیا نا نظروں میں گھوم گیا۔۔
    ہماری وجہ سے؟۔ گوارا ہوش میں آکر تن کر بیٹھی۔
    تم لوگ ہو بیمار ذہن بس جنگ و جدل زہن پر سوار ہے بھوک سے مر رہے ہو مگر اپنے اس دوٹکے کے کنگ کے تلوے چاٹ رہے ہو جس نے اپنی حکومت قائم رکھنے کیلئے تم سب کو اپنا بے دام غلام بنا رکھا ہے تو ہم پر چڑھائی کے الگ خواب دیکھتا ہے۔
    تم لوگ تو بیمار ذہن نہیں ہو نا۔ پھر کیوں مارنا چاہ رہے ہو ہم بیمار ذہنوں کو۔ کیوں جنگ کی تیاریوں میں لگے ہو کیوں
    ہوپ بھی سیدھی ہو بیٹھی۔۔
    باس اسٹاپ اٹ۔ پاگل ہو گئ ہو کیا تم دونوں؟
    اریزہ جو بائیں جانب بیٹھی تھی اٹھ کر دونوں کے بیچ میں آکر بیچ بچائو کرانے کی کوشش کرنے لگی۔۔
    ہم اگر جنگئ جنونی ہوتے تو تم شمالی کوریائی محاجروں کو پناہ نہ دیتے اپنے ملک میں۔ یہاں میرے ملک میں سکون سے بیٹھ کر ٹی وئ دیکھ رہی ہو اپنے ملک میں ہوتیں تو کسی کچرے دان سے خوراک چن رہی ہوتیں
    شٹ اپ۔ ہوپ حلق کے بل چلائی اس نے گوارا پر ہاتھ اٹھا دیا تھا جسے اریزہ نے پکڑ کر گوارا کو بچایا تھا۔۔
    تم ہوتی کون ہو۔ مجھ پر ہاتھ اٹھانے والی۔۔ گوارا بپھر کر آگے بڑھئ۔۔
    بس کر جائو پلیز۔۔ بس خدارا ۔۔ اریزہ کا بس گوارا پر ہی چل رہا تھا اس سے لپٹ کر اسے ہی سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔۔اب دونوں زبانی گولہ باری کے ساتھ ہاتھا پائی پر بھی اتر آئیں
    دونوں کے بیچ اریزہ کا حلیہ بگڑ گیا تھا۔ ہوپ کے تھپڑ گوارا تک پہنچے نہ تھے مگر وہ بل۔کھا کر اسے مارنے دوڑ رہی تھی۔
    تم لوگوں کئ وجہ سے ہم نہ صرف بھوکے مر رہے ہیں بلکہ پیٹ کاٹ کر جنگ کیلیئے تیاریاں کرتے رہتے ہیں۔۔ مگریاد رکھنا بھرا پیٹ جنگ نہیں کرتا جب ان خالی پیٹ والوں سے مقابلہ ہوا نا تو۔۔
    ہوپ نے بیچ بچائو کراتی اریزہ کو جھٹکا ۔۔
    بس کر جائو تم۔ اس بار اریزہ چلائی تھی۔۔
    اسکے بال۔بکھر چکے تھے دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتے اسکو خاصی خراشیں آچکی تھیں۔۔ بازو گوارا کے لمبے ناخنوں سے چھل گیا۔ تو ہوپ کا کرارا ہاتھ بھی کئی جگہیں سرخ کر گیا تھا۔
    گوارا اور ہوپ دونوں چپ سی ہو کر دیکھنے لگیں
    جنگ نہ ہوگئ ٹافی ہوگئ دونوں لڑ رہی ہو جنگ کیلئے۔ آمنے سامنے ہو کر لو فیصلہ مارو ایک دوسرے کو مگر جیتے گی صرف جنگ اور مرے گی انسانیت۔ مزہب ایک زبان ایک ملک بھی کبھی ایک تھا کبھی سوچا بھی ہے تفرقات ہوتے کیا ہیں۔ مجھ سے پوچھو ۔مزہب زبان زمین ،ذات پات کا فرق ، برادری کا فرق ، رہن سہن ، بودوباش ، ثقافت طرز رہائش۔ اتنے تفرقات ہیں میرے ملک میں اورتم لوگ ایک سرحد کے فرق پر مرنے مارنے پر تل جاتی ہو۔
    اریزہ کی بات ابھی ختم نہ ہوئی تھی مگر ہوپ نے تنفر سے بات کاٹ دی۔
    تم کچھ نہیں جانتی ہو بیچ میں نہ بولو کبھی جنگ دیکھی ہے؟ میں نے دیکھی ہے خانہ جنگی خون خرابہ ایک نوالے کے پیچھے قتل ہوتے بات کرتی ہو۔ مجھے اب کسی بات سے فرق نہیں پڑتا۔ جنگ سے ایسے عیش و آرام میں پلے لوگ ڈرتے ہیں میرے جیسے ملٹرئ ٹرینڈ نہیں۔۔
    ہوپ کی آنکھوں میں بے خوفی تھی مگر اریزہ متاثر نہ ہوئی
    تم ۔۔۔۔ بہت فخر ہے جنگ سے نہیں ڈرتیں یا ملٹری ٹرینڈ ہو۔ اس سب کا فائدہ کیا ہے تمہیں؟ یہاں ایک دوسرے ملک میں پناہ گزین ہو تم اور جو ملک تمہیں پناہ دے رہا ہے کھلا پلا رہا ہے اس سے نفرت ہے تمہیں؟؟؟؟
    اریزہ کا سوال ہوپ سے دوٹوک تھا۔ ہوپ سے کوئی جواب نہ بن پڑا چپ سی رہ گئ ۔اریزہ نے روئے سخن اب گوارا کی جانب موڑا
    ترقی یافتہ ملک میں ہر طرح کا عیش و آرام میسر ہے تمہیں زیب دیتا ہے کسی کو اسکی کمیوں پر طنز کرنا ۔مانا تمہیں سب میسر رہا ہے مگر جس کو یہ سب سہولتیں میسر نہیں اس سے ہمدردی دور تم اسے چڑا رہی ہو۔ جو باتیں شمالی کوریا کی بتاتی ہو اسکا ایک فیصد بھی سچ ہے تو کیا تمہیں اپنے جیسے خدو خال اپنے جیسی بود و باش ہم زبان لڑکی سے ہمدردی محسوس نہیں ہوتی جو کسی طور تم سے کم نہیں مگر حالات کی ستائی ہے۔ تمہیں اسکے ساتھ ہمدردی سے پیش نہیں آنا چاہیئے؟
    اب سر جھکانے کی باری گوارا کی تھی۔۔
    مجھے تم دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تم دونوں کو آپس میں کوئی اپنائیت محسوس کیوں نہیں ہوتی۔۔
    اتنی لمبی تقریر جھاڑ کر وہ جیسے تھک کر بولی تھی۔۔
    نہیں ہوتی۔ گوارا فٹ سے بولی۔
    ہوپ اور اریزہ نے گھور کر دیکھا اسےتو اس نے جیسے ڈر کر جملہ مکمل کیا
    میرا مطلب تھا کہ اس سب کے باوجود اپنائیت مجھے تم سے محسوس ہوتی ہے جو شکل ، رہن سہن بودوباش زبان مزہب سب میں الگ ہے۔ سارانگھیئے اریزہ۔۔
    اس نے اریزہ کو اپنے ساتھ لگایا۔۔ہوپ نے گہری سانس بھری اور رخ پھیر کر اندر جانے کو تھی کہ اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
    بس کرو لڑنا۔ ہم ایک ساتھ رہ سکتے
    جی ہائے نے دھاڑ سےداخلی دروازہ کھولا تو وہ سب چونک کر دیکھنے لگیں۔۔
    آئو جی ہائے آنیانگ۔ اریزہ خیر مقدمی انداز میں بولی
    ہاں آئو جی ہائے تم بھی۔۔ ہم لڑ ہی رہے ہیں تم بھی حصہ ڈال لواپنا۔۔
    گوارا جان کر ہوپ کو چڑانے کو بولی جو اسے گھور کر دیکھتی اریزہ سے ہاتھ چھڑا نے لگی۔
    ۔۔ جی ہائے کے تاثرات تنے تنے ہی تھے جیسے واقعی لڑنے آئی ہو۔ اریزہ کو اسکے برعکس کافی خوشی ہوئی تھی دیکھ کر آگے بڑھ کر ملنا چاہا مگر جی ہائے کے چہرے پر اتنے سخت تاثرات تھے کہ رک سی گئ
    گوارا سے ملنے آئی ہوں۔ بے رخی سے اس نے کہا تھا۔
    کین چھنا؟ خیریت غصے میں لگ رہی ہو ؟
    گوارا نے فکرمندی سے پوچھا۔
    آنیا۔ بالکل خیریت نہیں۔ میری زندگی میں منحوسیت نے ڈیرا جما لیا ہے پچھلے کئی سال سے خیریت کیسے ہو سکتی ہے۔
    وہ چبا چبا کر ہنگل میں بولی۔
    پتہ تو لگے کیا ہوا؟ ۔۔ گوارا کے ماتھے پر ناگواری کی شکن در آئی۔
    اریزہ کو انکی۔گفتگو مکمل سمجھ تو نہ آئی مگر اندازہ ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔
    کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا؟
    اریزہ نے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا تو وہ جھٹکے سے ہاتھ چھڑا گئ۔
    تم لوگ جہاں ہو وہاں خیریت ہو سکتی ہے؟
    انگریزی میں اسے جھاڑ کر وہ گوارا سے ہنگل میں بولی
    پہلے اس شمالی کوریائی محاجر اب یہ پاکستانی لڑکی تمہیں کوئی اندازہ ہے کن طوفانوں کو اپنے گھر میں بسائے ہو؟
    تمہیں میرے گھر کے اٹھتے طوفانوں سے کوئی مطلب نہیں۔
    اس بے وجہ تقریر پر گوارا چڑ کر بولی۔
    جی ہائے چند لمحے گھورتی رہی۔۔ پھر ناک چڑھا کر اریزہ کی جانب دیکھے بنا سر خم کرکے بولی
    اور تم اپنی رہائش کا نیا بندوبست کرو۔۔ اپنا ہاسٹل سے سامان اٹھالینا کمرہ خالی کرنا ہوگا سنتھیا نے کہا تھا بتادوں تمہیں۔۔۔
    اور یہاں کا بھی بستر گول سمجھو۔۔
    سخت سے انداز میں کہہ کروہ گوارا کو بازو سے کھینچتی کمرے کی طرف بڑھتئ چلی گئ ۔۔
    یہ تمہیں کہہ کر گئ ہے؟ وہ پلٹ کر ہوپ سے پوچھنے لگی تو پتہ لگا وہ اکیلی ہی لائونج میں کھڑی ہے ہوپ انکی گفتگو کے درمیان پلٹ کر شائد ٹیرس چلی گئ تھئ۔
    سنتھیا نے اسکو بھی کچھ کہہ دیا ہےکیا ۔ اریزہ کو دکھ ہوا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو؟ گوارا نے اسکی بےتکی بات پر حیرانی سے دیکھاتھا۔
    توکیا ؟ !کیا تمہیں نہیں پتہ مسلمان کیسےہوتے ؟ یہ جادوگر ہوتے ہیں دن میں کئی کئی بار عبادت کرتے ایسا اورکسی مزہب میں ہوتاہے؟ دھیرے دھیرے انکو دیکھنے سے آپ بھی ان کا اثر قبولنے لگتے ہیں۔ میرے آہبوجی باقاعدہ زیر اثر آکر اپنے دوست کا مزہب اختیار کرگئے کتنی کوشش کی انہوں نے مجھے اور آہموجی کو بھی مسلمان کرنے کی ۔ آہموجی الگ نہ ہوتیں تو شائد ہم دونوں کو بھی وہ اپنی طرح پاگل کر دیتے۔
    ہر وقت میرے گھر میں عربی گونجتی تھی۔ تم اس ٹراما کا تصور بھئ نہیں کرسکتیں جس سے میں اور آہموجی گزرے۔
    دیکھنا اس کی چیزوں میں بھی یقینا کوئی جادوئی لاکٹ ہوگا۔ کوئی کتاب۔ کوئی تعویز۔
    وہ جنونی انداز میں کہتی اریزہ کے بیگ کی جانب بڑھی۔ اسکے بیگ کی زپ کھول کر اسکے سب کپڑے نکال کر بیڈ پر اچھالنے لگئ اسکا پرس الٹ دیا۔ گوارا بھونچکا سی اسکا جنونئ انداز دیکھ رہی تھی۔
    اسکے ہاتھ سے اریزہ کا بیگ چھین کر اسکی چیزیں چھین کر واپس ڈالتے ہوئے کہنے لگی
    آئیگو۔۔ جی ہائے آ۔۔ سب انسان ایک جیسے نہیں ہوتے سب مسلمان ایک جیسے نہیں ہوتے اور تمہارے آہبوجی مانا چاہتے تھے تم لوگ مسلمان ہو جائو مگر ایک اس بات کے علاوہ وہ کتنے اچھے تھے تم لوگوں کا کتنا خیال رکھتے تھے ہر خرچہ اٹھاتے تھے اور ابھی بھئ دو سال ہو رہے تمہیں ان سے ملے ہوئے پھر بھی وہ ہر تہوار تم کو تحائف بھیجتے ہیں تم پاکٹ منی استعمال کرو نا کرو تمہارے اکائونٹ میں پیسے ڈلواتے ہیں ۔۔۔۔
    سب کچھ پیسہ نہیں ہوتا میری مام میرا پورا خرچہ اٹھاتی ہیں مجھے انکے پیسے کی ضرورت نہیں۔۔
    جی ہائے نے غصے سے اسکی بات کاٹی۔۔
    تمہارے آہبو جی مسلمان ہو گئے تم لوگوں کو بھی مسلمان ہونے پر زور دینے لگےاسکا اریزہ سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں بنتا ۔۔ تمہاری چڑ بالکل بلا جواز ہے۔۔
    گوارا چیزیں سمیٹ کر واپس انکو انکی جگہ پر رکھتی قطعی انداز میں بولی۔۔۔
    اریزہ تم کو بھی اپنے جیسا کر لے گی اور اسکا اثر میں دیکھ بھئ رہی ہوں تم اریزہ تو اریزہ مسلمانوں کے خلاف بھی ایک لفظ نہیں سن سکتی ہو۔۔ پوری دنیا ان متعصبی مسلمانوں سے عاجز ہے اور تم۔۔۔ جی ہائےشائد اپنی بات اچھی طرح سمجھا نہیں پا رہی تھی۔۔ گوارا نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ہاتھ پکڑ کر اپنے برابر بیڈ پر بٹھا کر بولئ
    دیکھو اریزہ پیدائشی مسلمان ہے وہ تمہارے آہبوجی کی طرح ایکدم سے کسی مزہبی جنون کا شکار نہیں ہوئی ہے۔۔ اسکے جو بھی عقائد قوائد اور روایات ہیں انہیں وہ بس خود اپنے اوپر لاگو کرتی ہے وہ مجھے یا ہوپ کو کبھی مجبور نہیں کرتی ۔ تم تو اریزہ کی مجھ سے پہلے دوست بنی تھیں اسے اتنا نہیں جان پائیں؟ وہ تو اسکارف تک نہیں لیتی ۔۔ بالکل بھی بنیاد پرست نہیں ہے وہ یار۔۔
    ہے ۔۔ یہ لوگ ہوتے ہیں بظاہر جیسے بھی نظر آتے ہوں اندر سے کٹر ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے…جی ہائے چلا کر بولی
    تو نہ بدلے اسے کیوں بدلنا ہے تمہیں؟
    گوارا نے زچ ہو کر کہا۔
    وہ تمہیں بدل دے گی۔ بلکہ بدل رہی ہے۔ تم اسکی حمایت کر رہی میں کیا کہہ رہی کچھ فرق نہیں پڑ رہا تمہیں۔ وہ تمہاری دوست ہے یا میں۔۔
    وہ جھنجھلا اٹھی۔
    تم دونوں میری دوست ہو ۔ گوارا رسان سے بولی۔
    یا تو وہ دوست ہوگئ یا میں۔فیصہ کرو۔ ابھی اس کو گھر سے نکالو۔۔۔ میں ایک مسلمان لڑکی کو کسی طور برداشت نہیں کر سکتی مجھے پتہ ہوتا تو میں۔۔۔ وہ جزباتی پن سے کہہ رہی تھی۔۔
    گوارا نے اسکا اتنا چڑتے کئی بار دیکھا تھا ہمیشہ رسان سے اسکا پارہ نیچے لانے کی کوشش کی تھی ابھی بھی یہی کرنے لگی۔۔
    تحمل سے کام لو جی ہائے۔ بیٹھو۔۔
    میں یا وہ ایک فیصلہ کرو۔۔ نکالو اسے اپنے گھر سے
    وہ۔حلق کے بل چلائی۔
    میں تمہارے اس پاگل پن کی وجہ اسے اپنے گھر سے نہیں نکالنے والی۔
    وہ بھی چڑگئ۔
    جی ہائے کو بالکل توقع نہ تھی کہ وہ آگے سے یو ں بے مروتی سے کہہ دے گی۔
    چند لمحے صدمے کی حالت میں اسے دیکھتی رہ گئ۔
    بات سنو ۔۔ گوارا نے گہری سانس لیکر آگے بڑھ کر اس کے کندھے تھامنے چاہے۔
    چھے سو۔۔ اس نے اسکے ہاتھ جھٹک دیئے تن فن کرتی کمرے کا دروازہ حقیقتا اپنے پیچھے آتی گوارا کے منہ پر بند کیا۔
    ہائش۔۔ گوارا نے فورا دروازہ کھولا مگر تیز تیز قدم اٹھاتی۔ جی ہائے داخلی دروازہ بھی کھول کر نکل رہی تھی۔ سامنے ہایون تھا ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔
    بیانیئے۔۔ وہ سنبھل کر جھک کر معزرت کرنے لگا۔۔
    ہونہہ۔۔ وہ سر جھٹکتی رکی نہیں باہر نکلتی چلی گئ۔۔وہ اس وقت سننے کے موڈ میں نہ تھی۔ سواسے اسکےحال پر چھوڑ کر وہ ہایون کواندر آنے کا کہنے لگی۔۔
    جانے دو اسے تم آئو اندر دروازہ بند کردینا۔
    گوارا کا انداز خیر مقدمی تھا اور نارمل بھی۔
    ہایون جو بلا ارادہ پرسوچ انداز میں جی ہائے کو لفٹ کی جانب پیر پٹختے جاتے دیکھ رہا تھا چونک اٹھا
    پھر لڑائی ہوگئ تم دونوں کی؟ اب کتنے دن بول چال بند رہے گی۔۔
    شکرو۔ (چھوڑو ) تمہیں ان تفصیلات کو جاننے کی ضرورت نہیں۔ آئو کھانا کھائو گے؟۔۔ اسکا رخ کچن کی جانب تھا جب اریزہ کی زور دار آواز آئی دونوں ٹیرس کی جانب بھاگے اریزہ بے چاری سی شکل بنائے بمشکل ہوپ کو سنبھالے کھڑی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند ثانیئے قبل۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جی ہائے گوارا کو جانے کیا چلا چلا کر بتارہی تھی باہر تک آواز آرہی تھی۔۔ وہ چند لمحے سوچ میں پڑی پھراندر جانے کا ارادہ ترک کرکے باہر ٹیرس میں چلی آئی۔
    یہ کتیا۔۔ مجھے کہتی ہے میں انکے ٹکڑوں پر پل رہی ہوں
    مجھے کسی کی مدد نہیں چاہیئے۔ میں کچھ بھی کر سکتی ہوں خود ۔۔ اور مجھ پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں سمجھ آئی میں اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں۔۔
    لڑکھڑاتے لہجے میں بڑ بڑاتی ہوپ کہہ کیا رہی تھی یہ تو اریزہ کو سمجھ نہ آیا تاہم اسکے بعد ہچکیاں لے کر رونے لگی تو ترس آگیا۔۔ اندر جانے کا ارادہ ترک کرتی وہ اسکے پاس آکھڑی ہوئی۔۔
    تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
    اسکا انداز دوستانہ تھا
    دیکھ رہی ہوں اتنی بجلی یہاں جلا کر ضائع کرتے وہاں میرے گائوں میں پورے دن میں پانچ گھنٹے بجلی آتی۔۔ ان سے کہو بند کریں ہم رات بھر بنا بجلی رہتے ہیں ۔۔ بند کرو بتیاں سول۔۔
    ہوپ اسکے پاس آکھڑے ہونے پر اپنی طرف سے چلائی تھی مگر آواز اتنی نکل نہ سکی ۔۔
    اریزہ کو اسکی ہنگل پلے نہ پڑی مگر انداز سے یہ لگا اسے اسکا پاس آنا ناگوار گزراہے۔۔ شراب کی ناقابل برداشت بو اسے ابکائی لینے پر مجبور کر گئ۔۔
    ہوپ نے اسکو خود سے دور ہٹتے دیکھا تو ہاتھ میں پکڑی بوتل اٹھا کر اس پر اچھال دی۔۔ وہ بروقت پیچھے ہٹی بوتل اسکے دونوں پیروں کے درمیان ٹوٹ کر چور ہوئی ایک کانچ کا ٹکرا اسکی ایڑھی کے پاس کھب سا گیا۔۔
    سی۔۔ وہ تڑپ کر وہیں اکڑوں بیٹھئ شکر ہے ٹکڑا چھوٹا سا تھا اس نے چٹکی سے نکال کر اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔۔
    پاگل ہو تم کیا ؟ ایک دنیا کو غم لاحق ہیں یوں دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچاتا پھرتا کوئی۔ اور شراب سے تکلیف کم ہوئی ہے یا مزید دماغ خراب ہوا ہے تمہارا دل تو کر رہا مکا مار کر یہ پھینی ناک اور پچکا دوں تمہاری۔۔
    اسکی انگریزی کہیں پیچھے رہ گئ تھی اردو میں اسے سنایا ہوپ بھی اسکے پاس اکڑوں بیٹھ گئ چندی آنکھیں بڑی بڑی کر کرکے معصومیت سے پوچھا
    ویو؟ کیا ہوا؟بوتل ٹوٹ گئ؟
    ٹھہرو میں اور لاتی ہوں اتنئ سارئ لائی ہوں تم بھئ پی لینا۔۔
    لڑ کھڑاتی ریلنگ کا سہارا لیکر وہ اٹھنے لگی تو ہاتھ کانچ پر ہی رکھ کر وزن دے کر اٹھ گئ۔۔ اس سے ذیادہ زور سے چیخ اریزہ کے منہ سے نکلی تھی۔۔
    نہیں۔۔۔ اس نے اٹھ کر سے تھاما ۔۔۔
    پھی ۔۔پھیہہ۔ ہوپ اپنا کانچ کھبا ہاتھ دیکھ کر بڑ بڑائی۔۔ پھر لڑکھڑاتی آواز میں بولی۔۔
    کین چھنا۔۔ (کوئئ بات نہیں)
    کین چھنا کی بچی۔۔ اریزہ نے دانت کچکچائے
    اسکا ہاتھ پکڑ کر کھبا ہوا کانچ کا ٹکڑا نکالا۔۔ خون فوارے کی طرح نکلا تھا ۔۔ اریزہ کو یہ ٹکڑا اپنے ہاتھ میں کھبا محسوس ہوا تھا۔۔ ہوپ نشے میں تھی پھر بھی تڑپ سی گئ ۔ پھیہہ آہمونی پھیہ۔۔
    کہتی وہ لہرا کر اریزہ کے بازو میں جھول گئ۔۔
    گوارا۔۔ اریزہ حلق کے بل چلائی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زخم بہت گہرا نہیں تھا۔۔ ہایون اسے احتیاط سے اٹھا کر کمرے میں لے آیا تھا بستر پر لٹا کر زخم کی پٹی بھی اسی نے کی تھئ۔۔ ہوپ بالکل بے سدھ تھی۔ ہایون ڈریسنگ کرکے ہاتھ دھونے باتھ روم گھسا تو اریزہ ہوپ کو کمبل اڑھاتی بتی بجھاتئ باہر نکل آئی۔۔ گوارا باورچی خانے میں چاول دم دے رہی تھی اریزہ نے دوپہر کو چنے کی دال بنائی تھی اس وقت ان چاولوں کے ساتھ اسے ہی کھانے کا ارادہ تھا تو گوارا پورک اسٹیک کے ساتھ چکن نوڈل سوپ اڑانا چاہتی تھی۔۔فضا میں گوشت بھننے کی بو پھیلی تھی۔
    کونسا گوشت ہے یہ۔۔ اس نے تندہی سے گوارا کو گرل کرتے دیکھ کر یونہی پوچھا تھا
    خنزیر۔ گوارا نے سرسری سا کہا پھر خیال آیا تو مڑ کر اریزہ کے تاثرات غور سے دیکھنے لگی۔۔
    خنزیر کا نام سن کر بلا اردہ اس نے جھر جھری سی لی تھی۔۔
    ہیون ہاتھ پونچھتا آیا تو گوارا میز ترتیب دینے لگی۔۔ اریزہ نے اپنی دال چاول کی پلیٹ بنائی پھر اٹھ کر لائونج کے صوفے پر جا بیٹھی۔۔
    کیا ہوا ؟ ہیون نے کہا تو اس سے فوری بہانہ نہ بن سکا۔۔ گڑ بڑا سی گئ۔۔
    وہ۔۔ اس نے سوچا پھر ٹی وی آن کر لیا۔۔
    وہ سوچا ٹی وی دیکھتے ہوئے کھائوں۔۔ تم لوگ کھائو۔۔
    وہ لوگ جو بھی کھا رہے ہوں اس سے مطلب تو نہیں تھا مگر فضا میں رچی گوشت کی بو اوپر سے ایک ایسا حرام جانور جس کے بارے میں بچپن سے صرف برا ہی سنا اسے کھاتے دیکھ کر اریزہ کو لگا تھا الٹی نہ بھی آئی تو بھی اسکے تا ثرات بگڑ جائیں گے۔۔ لہذا دوری بھلی۔۔
    ہیون کا رخ اریزہ کی جانب ہی تھا بڑی فرصت سے اسے دیکھنے لگااریزہ ٹی وی میں منہمک تھی گوارا گہری سانس لیکر بولی۔۔
    آج جی ہائے آئی تھی اسے آج پتہ چلا کہ اریزہ مسلمان ہے۔۔ بہت بگڑی مجھ سے بھی لڑی کہ اریزہ مجھے بھی مزہب بدلوا دے گی اسکے پاپا کی طرح مزہبی جنونی پن دکھا کر اور۔۔۔
    اچھا۔۔ ہیون کا انداز لاپروا سا تھا
    وہ بڑی رغبت سے اسٹیک کھا رہا تھآ
    تو؟؟؟ ۔ اسے تو میں نے جھٹلا دیا مگر کچھ کچھ اسکی باتوں میں سچائی ضرور تھی۔۔ اریزہ کافی کٹر ہے اپنے مزہب میں اب ہم پورک کھا رہے ہیں تو وہ دیکھو دور جا بیٹھی ہے کبھئ بھی ڈرنکس میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتی ابھی اس کے اوپر الکوہل گر گئ تو کپڑے بدل کر پائوں دھو کر بیٹھی ہے۔۔۔۔

    گوارا جانے کیا سمجھانا چاہ رہی تھی ہایون نے سکون سے سنتے ہوئے چاپ اسٹکس ایک جانب رکھ دیں۔۔
    اسکے مزہب میں تو منع ہے پورک مگر میں صرف پسند نہ ہونے پر بہت سی سبزیاں کھاتا ہی نہیں ہوں۔ خاص کر بروکولی پکی ہو تو مجھ سے اسکی بو برداشت نہیں ہوتی ایسے ہی میز سے اٹھ جاتا ہوں۔ شراب مجھے پسند ہے مگر ایسا بھئ ہوا ہے کہ ایک بار چالیس سال پرانی قیمتی شراب پیتے ہوئے میرے کپڑوں پر گر گئ مجھ سے وہ بو اتنی ناقابل برداشت ہوگئ کہ مدہوش ہونے کے باوجود میں شاور کے نیچے جا کھڑا ہوا تھا تب یون بن نے ہی میری مدد کی تھی۔۔ وہی تمہارا بوائے فرینڈ نام تو سنا ہوگا۔۔
    آخر میں وہ شرارت سے کہہ کر مسکرایا۔۔ گوارا بے ساختہ ہنس پڑی۔۔
    تمہیں پتہ ہے مجھے تم چٹکیوں میں ہر بات اڑا کر ہنستے اچھے لگتے ہو۔ مگر ہر بات اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ خیر سچی بات ہے تمہیں اریزہ سوٹ کرتی ہے میری دعا ہے کہ تم دونوں جلد از جلد محبوب جوڑا بن جائو ۔۔ آمین۔۔
    چاپ اسٹکس رکھ کر دونوں ہتھیلیاں آپس میں جوڑ کر بدھا سے مانگنے کے مخصوص انداز میں گوارا نے خلوص دل سے دعا دی تھی۔۔ ہیون محظوظ سے انداز میں ہنستا چلا گیا۔۔
    پھابو۔۔ بالکل سادھو سنت لگی ہو کہتے ہوئے۔ یہی کام شروع کردو بہت پیسہ ہے سنا ہے پجارنوں کو لوگ بہت چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔۔
    وہ مزاق اڑا رہا تھا مگر گوارا کو اس پر غصہ ہی نہ آیا الٹا
    خود بھی اسکے کھل کر ہنسنے پر ساتھ دینے لگی۔ ٹی وی دیکھتی اریزہ نے چونک کر دونوں کو ہنستے دیکھا۔۔
    لگتا ہے میں سارے ہی کپلز کو ٹوٹتے دیکھ لوں گی کوریا میں اب یہ دونوں ساتھ۔۔ سوچتے سوچتے وہ غیر ارادی طور پر ہیون کو دیکھنے لگی ۔۔۔ وہ بہت ہنستا تھا مگر اس وقت دل سے ہنس رہا تھا یہ اسے اتنے دنوں میں پہلی بار شائد لگا تھا۔۔ ۔ ہیون کی ہنستے ہنستے نظر پڑی تھی اسکی نظریں محسوس کرکے اسے ہاتھ ہلانے لگا گوارا بھی پلٹ کر اسے دیکھنے لگی تھی اور تب ہی اریزہ کا مسکراتا چہرہ پھیکا پڑتا گیا۔۔ بدقت رخ بدلتے وہ اس ایک نگاہ پر بعد میں بہت پچھتائی تھی۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر میں حسب معمول خاموشی کا راج تھا۔ وہ گہری سانس بھرتا سیدھا کمرے میں آیا تھا۔۔ کوٹ اتارے بغیر بیڈ پر دھپ سے گرا۔۔۔۔جانے کونسی سوچ چہرے پر مسکراہٹ بن کے بکھری تھی جس نے اطمینان بھر دیا تھا اسکے اندر۔۔ وہیں ویسے ہی آڑا ترچھا پڑے جانے کب وہ گہری نیند میں ڈوب چلا تھا۔۔ پرس کندھے پر لٹکائے تھکے تھکے قدموں سے گنگ شن کی اپنے کمرے میں جاتے ہوئے اسکے کمرے کےنیم وا دروازے پر پڑی تھی۔ موسم بدل چلا تھا بوئلر چالو نہیں ہو ئے تھے پھر بھی خنکی کا راستہ کھول کر سونا بیماری کو دعوت دینا ہی تھا قریب آکر اندر جھانک تو بیڈ پر ترچھا پڑا نظرآیا۔۔
    یہ لڑکا آہش۔۔ وہ سر جھٹکتی اسے سیدھا کرنے کے ارادے سے اندر آئیں مگر جب اسکے چہرے پر نگاہ پڑی تو گہری نیند میں بھی اسکی پرسکون مسکان انکے اپنے چہرے پر بھی مسکراہٹ دوڑا گئ۔۔ احتیاط سے کہ اسکی نیند نہ کھل جائے اسے کمبل اڑھاتی وہ دروازہ بند کرتی باہر نکل آئیں۔۔
    تم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے شمالی کوریائی محاجروں کا؟ جانتی بھی ہو تم نہ صرف اپنی زندگی بلکہ میری کاروباری ساکھ سے بھی کھیل رہی ہو ۔۔
    پشت پر سے آہبوجی کی دھاڑ پر وہ لمحہ بھر کو ٹھٹکی تھیں۔۔ پھر مڑ کر بڑے اطمینان سے جواب دیا تھا۔۔
    میری زندگی کی آپکو فکر تو ہے نہیں ہاں یقین یہ دلا سکتی ہوں کہ آپکی ساکھ کو اپنی زندگی سے ذیادہ اہم سمجھتے ہوئے کوشش یہی کرتی ہوں کہ مر کر بھی اسے نقصان نہ پہنچنے دوں۔۔
    تم بھول رہی ہو کہ میں تمہارا باپ ہوں۔۔
    آہبوجی کےماتھے پر تفکر کی لکییر ابھری تھی لہجہ دھیما بھی پڑا تھا۔۔
    میری بدقسمتی۔۔ وہ بڑبڑائیں
    جانے تم دونوں بہن بھائی کس مٹی کے بنے ہو یہ عیش آرام سب اسی کاروبار کی بدولت ہے جس کو ملیا میٹ کرنے پر تلےہو تم دونوں۔۔ سوچا ہے کبھی کہ
    آہبوجی۔۔ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر روکا
    آئیندہ کبھی آپکا نام استعمال نہیں کروں گی۔۔ مجھے بارڈر پر اریسٹ کیا جا رہا تھا جبھی مجھے آپکا نام اور ساکھ کو استعمال کرنا پڑا ۔۔ اگر میں محاجرین میں سے ایک سمجھی جاتی تو مجھے جنوبی نہیں شمالی کوریا بھیج دیا جاتا ۔۔ مجھے اپنی زندگی کا ڈر نہیں تھا مگر جن کو بچانے کیلئے اتنے پاپڑ بیلے انکو واپس اسی جہنم میں نہیں پھینک سکتی تھی
    ۔ مگر آپ سے وعدہ ہے آئیندہ آپ سے کوئی مدد نہیں مانگوں گی۔۔
    مجھے تمہاری یقین دہانیاں نہیں چاہیئیں۔۔ آہبوجی چڑ گئے تھے۔۔
    ہیون کے کمرے کے باہر کھڑے ہوکر اس گفتگو کو جاری رکھنے کا مطلب اسکی نیند خراب کرنا ہی تھا جبھی وہ بات ختم کرکے چلی جانا چاہتی تھیں۔۔
    اگر تم یہ سب اسلیئے کر رہی ہو کہ میں اس شمالی کوریائی لڑکے سے تمہاری شادی کردوں تو ۔۔۔
    وہ جانے کیا کہنے لگے تھے گنگشن کو زور سے ہنسی آگئ
    اوفوہ ۔۔ وہ بات ختم ہوگی تھی اب میں اپنے لیئے نہیں جیتی فالتو وہم نہ پالیں۔ ایسا کچھ نہیں۔۔ سو جائیں رات ہو گئ ہے۔۔
    ہا ہا ہا۔۔ وہ ہنسی روکتی اپنے کمرے کی جانب بڑبڑاتی بڑھ گئی۔۔
    شادی ہائش۔۔ اچھا مزاق کرتے ہیں۔۔
    آہبوجی کا جملہ انکے منہ میں ہی رہ گیا۔۔
    میں کروا دیتا ہوں پر۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا کہ جا کر اپنی انا بالائے طاق رکھ کر ایڈون کو کہے کہ میرے رہنے کا انتظام کردو۔۔
    بس دو دن ۔۔۔
    پلیٹ میں چمچ سےچاول ادھر ادھر کرتی وہ کھانا بھول چکی تھی۔۔
    کم سن اپنی ٹرے بنا کر بیٹھنے کی مناسب جگہ ڈھونڈ رہا تھا جب اسکی نگاہ اکیلی بیٹھی سنتھیا پر پڑی۔ اس نے لمحہ بھر کو سوچا پھر وہیں چلا آیا کرسی گھسیٹ کر اسکے سامنے ٹرے رکھ کر بیٹھ گیا تب بھی اس نے سر نہ اٹھایا۔۔
    سنتھیا کی دھڑکن لمحہ بھر کو تھمی۔۔ پھر سر اٹھائے بغیر بولی۔۔
    مجھے ہاسٹل چھوڑنا پڑے گا جب تک دوبارہ ہمارا سیشن نہیں شروع ہوتا اب میرے لیئے اگلے چھے مہینے کیلئے رہائش کا انتظام کرو۔۔
    دے؟ ۔۔۔ کم سن کو کچھ پلے نہ پڑاتو حیرانی سے بول اٹھا
    فرائڈ رائس کا چمچ بھر کر منہ میں رکھتے ہوئے اس نے سر اٹھایا تو ٹھیک ٹھاک حیرت کا جھٹکا لگا۔۔ منہ میں رکھا نوالہ چبانا بھول گئ۔۔
    وہ یہی سمجھی تھی کہ ایڈون ہے۔۔
    تم کیا کہہ رہیں تھیں؟۔ کم سن دوستانہ انداز میں پوچھ رہا تھا
    کچھ نہیں۔۔ وہ سنبھل کر بولی تبھی حلق میں پھندا سا لگ گیا۔۔ بری طرح کھانستے اسکی سانس بند ہونے لگی۔۔
    کم سن نے جلدی سے پانی کا گلاس بھر کر اسکی جانب بڑھایا۔ بے تحاشہ کھانستے اسکی حالت غیر ہونے لگی تھی شائد بوٹی کا کوئی ٹکڑا سالم حلق میں پھنس گیا تھا۔۔ اسکا چہرہ سرخ ہو چلا تھا بمشکل پانی پیا کچھ کھانسی تھمی۔۔ کم سن اپنا کھانا چھوڑ کر اسکی جانب جی جان سے متوجہ تھا۔۔
    کین چھنا؟ ۔۔ آئی مین آر یو آل رائٹ نائو۔۔
    سنتھیا نے بمشکل سر ہلایا۔۔ آنکھوں سے سیل رواں جاری تھا۔۔
    ایکسکیوز می۔۔ وہ کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی
    کھانا تو کھالو۔۔ کم سن کے کہنے پر وہ بس نفی میں سر ہلا کر جانے لگی
    بات سنو ۔۔ تم ابھی کیا کہہ رہی تھیں؟ ہاسٹل ، سیشن۔۔ تمہیں رہائش کا مسلئہ ہے نا؟
    کم سن کو باقی بات تو سمجھ نہ آئی مگر اس دن ہاسٹل کی بات چونکہ اسکے سامنے ہوئی تھی سو وہ ٹھیک اندازہ لگا بیٹھا۔۔
    سنتھیا نے لمحہ بھر سوچا۔۔
    پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دریا کنارہ شام کا منظر ہلکی سرد ہوا۔۔ سکوت و سکون۔ اور وہ کھڑی نئے سال کی آتش بازی دیکھ رہی تھی ۔ رنگ پٹاخوں کی آوازوں کے ساتھ آسمان پر بکھر رہے تھے۔ وہ مسحور سی ہو کر دیکھ رہی تھی جبھی کوئی اسکے برابر آکھڑا ہوا۔۔ اس نے من پسند انسان کی موجودگی محسوس کرتے ہی مسکرا کر دیکھا جوابا وہ بھی مسکرا دیا تھا۔۔
    اسکی مسکراہٹ سمٹ سی گئ
    پٹ آنکھیں کھلی تھیں اسکی۔۔ کمبل اپنے اوپر سے ہٹاتی وہ ایکدم اٹھ بیٹھی ۔ اسکے برابر ہی ہوپ بے خبر سوئی تھی تو ڈبل بیڈ کےدوسرے کنارے گوارا ترچھی پڑی سو رہی تھی۔۔
    کیا بکواس خواب دیکھا ۔۔ وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ۔۔ سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا صبح کے پانچ ہو رہے تھے۔۔ گلاس ونڈو پر پردے پڑے تھے پھر بھی اندازہ ہو رہا تھا باہر روشنی کے آثار نہیں۔۔
    اس نے دوبارہ کمبل تان کر سونا چاہا۔۔پھر شیطان پر لعنت بھیجتی اٹھ بیٹھی۔۔ ہمت کرکے اٹھی وضو کیا نماز پڑھ کر دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے۔۔ بس میرے حق میں جو بہتر ہو وہ ہو۔۔
    دعائئں قبول ہو جائیں تو نئی خواہشیں پیدا ہونے تک لوگ ایسے ہی بے نیازی سے دعا میں خیر مانگتے پھر اگر فیصلے آسمان سے ہی آئیں تو دعائیں بدل کر ضد باندھ لیتے ہیں۔۔ فی الحال تو اریزہ کا دل غنی تھا سو خود کو مومن سمجھتی نماز لپیٹ کر رکھتی وہ باہر نکل آئی۔۔ سورج نکلنے تک اب اس نے سونے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔۔۔ باہر ٹیرس میں آکر ٹہلنے لگی۔ اپنے گھر میں تو ٹیرس پر جانے کون کون سی ہوائی مخلوق کا اندیشہ رہتا تھا کوریا میں آکر جیسے ہر خوف پیچھے رہ گیا تھا۔۔۔
    چڑھتے سورج کو دیکھتے ہوئے اسکے اندر عجیب سی سرشاری بھرتی جا رہی تھی۔۔۔
    اس سے کچھ بلاک دور کوئی اپنے کمرے سے ملحق ٹیرس پر کھڑا اسی منظر کو دیکھتے مسکرا رہا تھا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چکراتے سر کے ساتھ وہ باورچی خانے میں کھڑی سوپ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ سبزیاں ڈالتے بیف ڈالتے ہوئے وہ کئی بار انہیں لگا تھا کہ سوپ سمیت زمین بوس ہوگی مگر بچت رہی۔ گوارا اور اریزہ کہنیاں میز پر جمائے ہاتھوں کے پیالے میں چہرہ ٹکائے اسے بڑے اطمینان سے دیکھ رہی تھیں۔
    مجھے لگتا ہے آج بنا ناشتے کے جانا ہی میرے لیئے بہتر رہے گا۔۔ گوارا اکتا کر بولی پھر اریزہ کے کندھے پر چپیڑ مار دی
    آہ۔۔ اریزہ نے تڑپ کر بازو سہلاتے گھورا۔۔
    وے۔۔؟؟؟؟(کیا؟)
    تم نے مجھے ناشتے کی بری عادت ڈال دی ہے ورنہ اچھی بھلی یونیورسٹی تک ہمیشہ بنا ناشتے کے گئ ہوں۔۔
    وہ دانت کچکچا رہی تھی۔۔
    یہ لو۔۔ لہراتئ ہوپ نے سوپ کا بھرا پیالہ انکے سامنے لا رکھا۔۔
    کھائو۔ آج ناشتہ میری طرف سے۔۔ وہ مسکرا کر کہتی کرسی پر گری ۔۔
    تم مدہوش ہی رہا کرو اخلاقیات بہتر ہو جاتی ہیں تمہاری۔۔
    گوارا کہنے سے باز نہ آئی۔۔ اسکے بنائے سوپ کا بھر کے چمچ چٹخارہ بھی لیا۔۔
    میں مدہوش نہیں ہوں۔۔ ہوپ چڑی۔۔ کانپتے ہاتھوں سے چمچ منہ تک جاتے جاتے میز پر آبشار گرا چکا تھا۔۔
    اریزہ اپنا ناشتہ بنانے کے ارادے اٹھی تو ہوپ نے اسکو بازو سے تھام لیا۔۔
    تم کھائو نا میں نے تمہارے لیئے بھی بنایا ہے۔۔
    میں ناشتے میں انڈہ کھائوں گی۔۔ وہ نرمی سے کہتی ہاتھ چھڑاتی ناشتہ بنانے کی نیت سے کائونٹر کی جانب بڑھ گئ۔۔
    یہ کبھی میرے ہاتھ کا نہیں کھاتی۔۔ شمالی کوریا والے کم ذات ہیں کیا اسکی نظر میں۔۔
    ہوپ ہونٹ لٹکا کر شکایتی انداز میں گوارا سے بولی۔۔
    ہاں بلکہ یہ تو انہیں دہشت گرد بھی سمجھتی ہے۔۔ گوارا نے مزید تیلی لگاتے کہا۔۔
    اچھا؟ ہوپ کی آنکھیں پھیلیں۔۔ پھر پلٹ کر چلائی
    تم مجھے دہشت گرد سمجھتئ ہو؟ تم خود ہوگئ دہشت گرد کیہ سکی۔۔۔(پاگل کتیا)۔۔
    اریزہ کو نہ اسکا چلانا سمجھ آیا نہ جملہ ہاں کیہہ سکی سمجھ آیا۔۔ غصے میں بھر کر اسکی جانب بڑھی
    تم خود ہوگی کیہہ سکی۔۔ پاگل جاہل کمینی عورت ۔ جتنا خیال کرو تمہارا اتنا دماغ الٹ رہا ہے باہر سردی میں مرنے پڑنے چھوڑ دینا چاہیئے تھا یا اس گیلری سے ہی ٹن حالت میں گر مر جاتیں ٹھیک رہتا۔۔
    اریزہ دانت کچکچا کر بولی تو۔۔ گوارا اور ہوپ دونوں چپکی رہ گئیں۔۔
    اس نےکیا کہا بتائو مجھے۔۔ ہوپ ہوش میں آکر گوارا کا بازو ہلا رہی تھی۔۔
    اس سے کیا پوچھ رہی ہو مجھ سے پوچھو۔۔ لعنت بھیج رہی ہوں تم پر۔۔ اس نے باقاعدہ ہاتھ کی پانچوں انگلیاں کھول کر دکھایا اسے اریزہ نے ساری تقریر اردو میں ہی جھاڑی تھی تو ہوپ ہنگل میں گٹ پٹ کر رہی تھی دونوں کو ککھ ایک دوسرے کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔
    اب یہ کیا ہے۔۔ یہ لڑ رہی ہے مجھ سے یا ہاتھ ہلا رہی ہے کوئی کل سیدھی ہے اسکی میں اسکی پھین ( فین) ہوں کیا جو مجھےگریٹ کر رہی ہے۔۔ ہوپ کو غصہ آرہا تھا
    گوارا کو اریزہ پر پیار ہی آگیا ۔۔ لڑنا بھی نہیں آتا اسے آگے بڑھ کر اسے پیار سے ساتھ لگا لیا۔۔ اریزہ کی آنکھیں ابلنے کو تھیں۔۔
    بیانئئے۔ ان دونوں کو چمٹتا دیکھ کر ہوپ کو بھی شرمندگی ہوئی آگے بڑھ کر وہ بھی ساتھ لگ گئ۔۔
    عجیب ہے لڑ رہی تھی یا پیار جتا رہی تھی۔ کیہہ سکی ہی کہا تھا اس نے یا میں نے غلط سن کر اتنا کچھ سنا ڈالا۔۔
    اریزہ بھی نرم پڑگئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگست شروع ہوتے ہی ہوا کی خنکی بڑھنا شروع ہوگئ تھی۔۔
    وہ اور گوارا شاپنگ کرنے نکلی تھیں۔ گوارا اسے جن مالز میں لیکر پھر رہی تھی وہ بس اسے دیکھ کر رہ گئ۔ کئی کئی ہزار وون کے جوڑے وہ بھی آدھے ادھورے۔۔ گوارا نے لانگ کوٹ لیا اسے بھی پسند آیا۔۔ کالے رنگ کا تھا ہر لباس کے ساتھ چل جاتا مگر جب قیمت دیکھی تو ایکدم بکواس سا لگنے لگا۔۔ گوارا نے ایک لحظہ اسے دیکھا پھر برا سا منہ بنا کر سیلز گرل سے کہنے لگی
    کوئی نیا ڈیزائن تو لائے نہیں کھول کر بیٹھے ہیں بوتیک حد ہوتی ہے اب میری سہیلی سخت بیزار ہورہی ہے اور میں شرمندہ یہ سب پٹے ہوئے ڈیزائن ہیں پچھلے سال ہی امریکہ میں آچکے اف۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں اریزہ۔۔
    ریل گاڑی کی رفتار کو مات دیتی گوارا کی زبان اریزہ منہ کھولے ہی بس دیکھ کر رہ گئ۔۔ سیلز گرل بیانئے بیانئے کہتی دو مرتبہ گوارا اور دو ہی مرتبہ اریزہ کے سامنے جھکی تو گوارا شان بے نیازی سے اسے نظر انداز کرتی اریزہ کا ہاتھ تھامتی دکان سے باہر نکل آئی۔۔
    آئو یہاں سب بکواس مال ہے میں تمہیں کسی اچھی جگہ لیکر جاتی ہوں۔۔
    اریزہ کچھ سمجھتے نہ سمجھتے چل پڑی ۔۔
    گنگم آسٹریٹ کے مشہور زمانہ کچھ کچھ پنڈی کے راجہ بازار سے مشابہہ بازار میں گوارا نے اسے لا کھڑا کیا تو وہ اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھے بغیر نہ رہ سکی۔۔
    یہ اچھی جگہ ہے؟ اس نے اردو میں ہی کہا تھا
    کھاجو۔۔ ( چلو) گوارا کی شان بے نیازی عروج پر تھی۔۔
    رائس ڈرنک ، پھلوں سبزیوں کے ٹھیلوں سے بچتے بچاتے سڑک چھاپ کھانے پینے کی ریڑھیوں سے تنے بازار میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی مگرگوارا تیز قدموں سے جگہ بناتی اسے ایک تنگ گلیوں والے بازار لے آئی جہاں گرم کپڑوں کی دکانوں کو دیکھ کر اسے بالکل یہ خیال جاتا رہا کہ کوریا میں کھڑی ہے۔ دکانداروں کی شکل نہ دیکھو تو بالکل موتی بازار کا نقشہ تھا۔۔ اور قیمتوں میں ان بڑے مالز سے بالکل آدھے کا فرق۔۔ گوارا کو وہی پرانے پٹے ہوئے ڈیزائن کا لانگ کوٹ اسکن کلر میں مل گیا تھا ۔۔ اور ویسا ہی ڈارک برائون میں بڑے شوق سے اریزہ نے لیا۔۔ اتنے مہینوں سے بچت کر کرکے اور گھر سے سردیوں کی شاپنگ کی مد میں آتے ہی وقت جتنے پیسے لائی تھی سب اڑا دئیے۔۔
    یہ ضرور لو اریزہ پچھلے سال کا ڈیزائن ہے میں نے لیا تھا مگر سچ پوچھو سب سے بہترین رہا یہ۔ گوارا نے گھٹنوں تک کا موٹا فوم بھرا جیکٹ جسے دیکھتے لگتا کہ کمبل لپیٹ کر پھر رہے ہوں۔ اس نے فی الحال تو کوریا میں کسی کو پہنے نا دیکھا تھا ۔۔ سو سہولت سے منع کر دیا۔۔
    بالکل اچھا نہیں لگ رہا یہ مجھے۔ اتنا موٹا پہن کر گائو تکیہ لگوں گی میں۔۔
    گائو تکیہ؟ گوارا سمجھی نہیں۔۔
    تکیہ گول موٹا۔۔ اریزہ نے سمجھانا چاہا۔۔
    اسکی نا پسندیدگی دیکھ کر اس نے واپس رکھ دیا۔۔
    شام ہو رہی تھی۔ سیول کی رونقیں بڑھنا شروع ہو گئ تھیں۔۔
    تنگ گلی میں یکدم روشن ہوتے برقی قمقمقے اسے دلکش لگے تو فورا اس نے تصویر کھینچ کر دستی بلاگ پر چڑھا دی۔۔
    اس عنوان کے ساتھ۔
    سیول میں شام طمطراق سے جلوہ افروز ہوتے ہوئے۔۔۔
    کیا کر رہی ہو؟ گوارا نے شاپنگ بیگز سنبھالتے ہوئے پوچھا
    بلاگ ہے میرا اس پر تصویر لگا رہی ہوں۔۔
    اریزہ نے سرسری سے انداز میں کہا۔۔
    دھیان سے لگانا کسی انجان چہرے کی تصویر نہ آنے پائے۔۔ کوریا میں سخت قوانین ہیں کسی کی بلا اجازت تصویر لگا دی نا تو جرمانہ اور قید بھی ہو سکتی ہے۔ انڈو پاک کے برعکس کورینز بالکل کیمرے میں آنا پسند نہیں کرتے۔۔ بلکہ سخت ناراضگی کا اظہار بھی کر سکتے اب اس آہجومہ کو دیکھو گھور رہی ہے تمہیں یہ سمجھ کر کہ تم نے اسکی تصویر تو نہیں لے لی۔ گوارا کے کہنے پر اس نے نظر کی تو واقعی سامنے ایک پانچ چھے سالہ بچے کا ہاتھ تھامے ایک خاتون کو درشت نظروں سے گھورتا پایا۔۔
    ان دونوں کو اپنی جانب دیکھتا پاکر وہ انکی جانب بڑھ آئی
    آننیانگ ہاسے او۔۔ دونوں نے گڑبڑا کر اکٹھے سلام۔کیا
    آننیانگ آہجومہ۔۔ مجھے یہ شک گزرا کہ آپکی کھینچی گئ تصویر میں کہیں میں اپنے بچے کے ساتھ تو نہیں آگئ۔اگر ایسا ہے تو کیا آپ اپنے موبائل سے میری تصویر ضائع کرنا پسند کریں گی؟
    انتہائی سخت لہجے میں وہ آہجومہ مخاطب تھی۔۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پہلا کمنٹ۔۔
    راجہ بازار کی تصویر لگا کر سیول کہہ رہی ہو پاگل سمجھا ہمیں کیا؟
    دوسرا کمنٹ
    ایک تو چینی بہت آگئے ہیں پاکستان میں کل کو ہم ہی غیر ملکی لگا کریں گے پاکستان میں
    تیسرا کمنٹ
    سیول کیا ہے کوئی نیا برانڈ ہے کیا؟
    چوتھا کمنٹ
    کل میں نے بھی استنبول کی تصویر پوسٹ کی تھی۔۔ ہیش ٹیگ
    نائٹ لائف کے ساتھ ۔۔
    پانچواں کمنٹ
    اوئے ایڈمن یہ چندی آنکھوں والا کون ہے؟
    نیوز فیڈ انگوٹھے سے گزارتے ہوئے اس کمنٹ پر چونکی۔۔
    تصویر کو زوم کیا تو فٹ پاتھ پر اپنی دھن میں گزرتے اس راہ گیر کی تصویر بے حد واضح تھی۔۔
    اپنی طرف سے تو میں نے یہ تصویر دیکھ بھال کر لی تھی کہ کسی کورین کا چہرہ نہ آئے۔
    یہ کون آگیا ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ تو میں ہوں۔۔
    بلاگ دیکھتے وہ بری طرح چونکا تھا۔۔ کل گنگم اسٹریٹ گھومتے ہوئے وہ کسی کے کیمرے میں آگیا تھا۔۔ وہ کسی بھی اور کوئی نہیں یہی ایڈمن جس کو وہ کئی مہینوں سے فالو کر رہا تھا۔۔ یعنی وہ اسکے اتنے قریب ہے۔۔ اسی شہر میں۔۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔۔
    جاری ہے۔۔

    Kesi lagi apko salam Korea ki aaj ki qist ? rate us below

    Rating
  • Salam Korea Episode 21

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi

    قسط 21
    گھر پہنچتے پہنچتے وہ ٹھیک ٹھاک بھیگ چکا تھا۔ مگر زرا سا بھی بد مزہ نہ ہوا تھا۔۔
    اسکے چہرے پر محسوس کی جا سکنے والی سر شاری تھی۔ کمرے میں آکر وہ کپڑے نکالنے لگا تھا جب اسکی یونہی بیڈ پر نظر پڑی۔۔ ایک بڑا سا شاپنگ بیگ دھرا تھا۔۔
    نونا۔ وہ چونکا پھر خو شی سے تقریبا بھاگتا ہوا انی کے کمرے میں آیا۔۔
    دروازہ کھلا تھا وہ بیڈ پر بیٹھی لیپ ٹاپ کھولے کسی کام میں مگن تھیں۔۔
    نونا۔۔ وہ خوشی سے انکے پاس چلا آیا۔
    ہایونا
    وہ فورا لیپ ٹاپ ایک طرف رکھ کر اٹھیں۔۔
    وہ۔جھجک کر پیچھے ہوا۔
    کپڑے گیلے ہیں۔۔
    ہاش۔۔ انہوں نے اب دیکھا ۔۔
    اتنے بھیگے کیوں ہو؟۔۔ کہاں تھے؟۔ میرے خدا کپڑے بدلو فورا ورنہ بیمار پڑ جائو گے۔۔ وہ جزباتی ہو کر اٹھ کھڑئ ہوئیں۔۔ بلکہ جلدی سے الماری سے اپنا تولیہ نکال کر اسکا سر خشک کرنے لگیں۔۔
    آپ فکر نہ کریں میں ٹھیک ہوں۔۔ اس نے تسلی کرانی چاہی مگر وہ یونہی فکرمندی سے اسکے بال رگڑتی رہیں۔۔
    حد ہے ابھی تک بارش میں بھیگنے کا چسکا ختم نہیں ہوا۔۔ چلو جلدی سے کپڑے بدل کر آئو میں کافی بناتی ہوں تمہارے لیئے۔۔ وہ کتنے دنوں بعد ایسے ڈانٹ کھا رہا تھا۔۔ اس نے انی کو اپنے بازو کے حلقے میں لےلیا اور پیشانی چوم لی۔۔
    بہت یاد کیا آپکو نونا۔
    انی کا دل موم سا ہو گیا۔۔
    میں نے بھی۔۔ انہوں نے اسکے سینے پر سر رکھ دیا۔۔
    پرانی یاد دونوں کے زہنوں میں تازہ ہوئی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ۔لان میں اکیلا بال سے کھیل رہا تھا۔۔ اسکی ذاتی ملازمہ کسی کام سے اٹھ کر اندر چلی گئ وہ یونہی مگن کھیلتا رہا ۔۔۔ تبھی موسم نے تیور بدلے تھے۔۔ یکا یک ہی تیز بارش شروع ہو گئ تھی۔
    وہ فورا اٹھ کر اندر بھاگا تھا۔۔ مگر داخلی دروازہ سختی سے بند تھا اس نے ہینڈل گھمانا چاہا مگر کھلا نہیں۔۔
    آہجومہ۔۔ وہ دروازہ پیٹ پیٹ کر بلا رہا تھا۔۔ جانے کہاں تھی جو سن نہ سکی۔۔ تبھی باہر کار پورچ میں ایک گاڑی آکر رکی تھی ۔۔۔
    وہ بھاگ کر ادھر چلا آیا۔۔ ارادہ ڈرائور سے کہنے کا تھا کہ دروازہ کھول دے۔۔ مگر اس سے پہلے وہ کہہ پاتا۔۔ ڈرائور اپنی طرف کا دروازہ کھول کر نیچے اترا اور جلدی سے چھتری کھول کر اسکی سوتیلی ماں کے لیئے سایہ بناتا پچھلا دروازہ۔کھولنے لگا۔۔
    اسکی ماں نے دروازہ کھلنے پر ایسی ترچھی نظر اس پر ڈالی وہ سہم کر ایک قدم پیچھے ہو گیا۔۔
    وہ اپنی اونچی ہیل سے کھٹ کھٹ کرتی تیزی سے گھر کے اندر جانے لگیں۔۔ وہ بھی پیچھے ہو لیا۔
    وہ ایکدم ہی چلتے چلتے رکیں۔۔ وہ جو انکے بالکل پیچھے پیچھے چل رہا تھا اپنی جھونک میں ان سے ٹکرا کر الٹ کر گرپڑا
    ہاش ۔۔ وہ بری طرح بھنائیں۔۔
    ایک یہ۔۔ یہاں کیا کر رہا۔۔ کتنی بار کہا ہے اسے میری نظروں کے سامنے مت آنے دیا کرو۔۔ اٹھو اور دفع ہو یہاں۔ سے۔۔
    پیار سے اٹھا کر بہلانا تو دور نفرت سے اتنی زور سے جھڑکے جانے پر اسکی آنکھیں لبا لب آنسوئوں سے بھر گئیں۔۔ وہ تیزی سے اٹھا اور باہر بھاگتا چلا گیا۔۔
    ہائش۔۔ اب یہ کہاں جا رہا جائو اسے پکڑو۔۔
    انکے سر میں درد ہو گیا تھا۔۔وہ بیزاری سے حکم دیتی سر پکڑ کر اندر چلی گئیں۔۔
    ڈرائور نے اسے تھوڑی ہی دور میں جا لیا تھا۔۔ وہ چھتری پکڑ کر اسکے پیچھے بھاگا تھا تب بھیگ گیا تھا وہ تو اس موسلا دھار بارش میں شرابور ہو چکا تھا۔۔
    ڈرائور اسے کندھے سے پکڑ کر لایا تھا اور لائونج میں لا کر چھوڑ دیا تھا۔۔
    وہ جہاں جہاں قدم رکھ رہا تھا پانی کے نشان بنتے جا رہے تھے۔۔
    وہ سہمتا ہوا اپنے کمرے میں آیا تو گنگشن اسکے بیڈ پر بکھرے کھلونے سمیٹ رہی تھی۔۔
    آہٹ پر مڑ کر اسے دیکھا ۔۔
    کہاں تھے تم۔۔ اور۔ وہ پریشان ہو کر اسکے پاس چلی آئی۔۔
    تم تو بالکل بھیگ گئے ہو ۔ اف۔۔ بارش میں کھیل رہے تھے۔۔ حد ہے ایسے تو بیمار پڑ جائو گے
    ہایون جو اس سے ڈانٹ کی توقع کر رہا تھا اسکے جھلانے پر ہی رو پڑا۔۔
    ارے
    وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلا کر جھٹک رہی تھی۔۔
    اسکے رونے پرتڑپ سی گئ۔۔
    میں ۔ تو بس۔۔ ڈانٹ تھوڑی رہی تھی۔۔ مت رو۔۔
    اس نے اسکے آنسو پونچھے تو وہ اسکے سینے سے لگ کر اور رونے لگا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جس بھائی کو بانہوں میں بھر کر بہلاتی تھی آج اتنا بڑا ہو گیا تھا کہ اسکے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔
    اس نے بے ساختہ بہہ نکلنے والے آنسو پونچھے۔۔
    اور سر اٹھا کر ہایون کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔
    اسکے بر عکس ہایون خوشگوار سے موڈ میں تھا۔
    خیر ہے آج میرا بھائی خوش ہے۔۔
    اس نے پیچھے ہو کر ہلکے سے کندھا مار کر چھیڑا
    وہ کہیں اور دیکھتا کہیں اور گم تھا۔۔ اسکے کندھے کے لگنے سے کراہ کر ہوش میں آیا۔۔
    میری نونا جو آئی ہیں خوش تو ہونگا۔۔
    وہ۔کہاں پکڑائی دینے والا تھا مزے سے بات بدل دی
    اچھا جائو کپڑے بدلو فورا۔۔ انہوں نے فورا بڑی بہن والا رعب جمایا تو وہ ہنستا ہوا سر ہلاتا چلا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کمرے میں آکر اس نے پہلے اسی شاپنگ بیگ کو کھولا۔۔ بے حد خوبصورت ڈریس شرٹس تھیں ۔۔ اس نے ٹی پنک نکالی اس پر ایک نوٹ چسپاں تھا۔۔
    یہ تمہاری پہلی ڈیٹ کیلیئے ہے تاکہ لڑکی تم پر لٹو ہو جائے پہلی نظر میں۔۔
    وہ بے ساختہ ہنسا تھا۔۔ پھر ان سب کو احتیاط سے الماری میں رکھ کر ایک ٹی شرٹ نکال کر باتھ روم گھس گیا۔۔
    کپڑے تبدیل کر کے جب وہ کچن میں آیا تو نونا بھاپ اڑاتے دو مگ اپنے سامنے میز پر رکھے اسکا انتظار کر رہی تھیں۔۔
    واہ۔۔ آہش۔ بہت جچ رہے ہو۔ خیر بھائی کس کے ہو ۔۔ انہوں نے کالر جھاڑے۔۔
    اس نے بھی ہنس کر خراج وصول کیا تھا۔۔
    میں نے ہر شرٹ پرپرچی لگا دی ہے تمہاری پانچ ڈیٹس کیلیئے ۔۔ ان کو ویسے ہی سلسلہ وار پہننا ۔۔۔ چھٹی ڈیٹ تک لڑکی مکمل فدا ہو چکی ہو گی تم پر۔
    انہوں نے اتنے دعوے سے کہا کہ کافی کا گھونٹ بھرتے اچھو ہوگیا۔
    کپ رکھ کر اس نے زوردار قہقہہ لگایا تھا۔۔
    نونا آپ کیا کیا سوچتی رہتی ہیں۔۔ وہ ہنسے گیا۔۔
    صرف تمہارے بارے میں سوچتی ہوں۔۔ وہ پیار سے اس پر نظر جمائے تھیں۔۔
    میرے بعد تم تو بالکل اکیلے رہ جائو گے۔ کوئی لڑکی پٹا لو اب جو تمہارا خیال رکھے میرے بعد۔۔
    وہ بہت سنجیدگی سے کہہ کر گھونٹ بھرنے لگیں۔۔
    ہایون کا منہ تک جاتا کپ وہیں تھم گیا۔۔
    وہ آنکھیں کھول کر انہیں دیکھ رہا تھا۔
    نونا۔۔ ۔ اس نے پکارا تو وہ چونکیں۔۔ انکے لہجے کی سنجیدگی ہایون کے چہرے پر سنگینی کی صورت سجی تھی۔
    آپ پھر کہیں جا رہی ہیں؟۔۔
    وے؟۔۔ وہ بات کا اثر زائل۔کرنے کو جان کر تھوڑے تیز انداز سے بولیں۔۔
    کیا؟۔ ہمیشہ بہن پر انحصار کرنا تم نے بڑے ہو جائو گرل فرینڈ بنائو زندگی کا لطف اٹھائو۔۔ اور ویسے بھی میں کب تک یہاں ہوں کل کو مرمرا گئ تو کیا کروگے تم۔۔
    وہ اپنی طرف سے بات سنبھالتے مزید خراب کر گئیں۔۔
    وہ اٹھا اور پاس آکر انکے قدموں میں اکڑوں آبیٹھا۔۔
    نونا ۔۔ ایسا مت کہیئے گا دوبارہ۔۔ میرا آپکے سوا ہے ہی کون آپ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتیں۔۔ کہیں نہیں جائیں گی۔۔ میں جانے ہی نہیں دوں گا۔۔
    انکا گھٹنا تھامے وہ روہانسا ہو چلا تھا۔۔ بالکل آٹھ سال کے ہایون کی طرح لگا تھا۔۔
    پھابو۔۔ پاگل ہوئے ہو۔۔ انکی بھی آنکھ بھر آئی
    کہیں نہیں جا رہی میں۔۔ ایسے ہی۔۔ حد ہےمجھے بھی جزباتی کر دیا۔۔۔ آہبوجی نے پکڑ کر جلد شادی کردی میری تو۔۔ میں ویسے چین جانے کی بات کر رہی تھی۔۔ انہوں نے پیار سے اسکا سر تھاما تو وہ انکی گود میں ہی سر رکھ گیا۔۔
    نونا میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ آپ اب دوبارہ نہیں جائیں گی ۔
    ارے۔۔ وہ اسکے بچکانہ رویئے پر حیران سی ہوئیں۔۔
    چین نہ جائوں؟۔۔ میرا آدھا کام تو وہیں کا ہوتا۔۔
    چین بے شک جائیں۔ مگر وعدہ کریں۔۔
    اس نے اپنی چھوٹی انگلی انکے آگے کی۔
    پکا وعدہ کریں۔۔ آئندہ شمالی کوریا جانے کا سوچیں گی بھی نہیں۔۔ وہ انکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
    میں۔۔ انکی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔۔۔ یہ بات تو انکی تنظیم کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔۔وہ جھٹلانا چاہتی تھیں مگر ہایون کی آنکھوں میں دیکھ کر جھوٹ نہ بول سکیں۔۔
    وہ دھڑلے سے وعدہ بھی نہ کر سکیں۔۔ انکے ہاتھ کانپ سے گئے تھے۔۔ ہایون نے انکے ہاتھ کی لرزش بھانپ کر اپنے مضبوط ہاتھ سے نرمی سے تھاما اور اپنے دوسرے ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی بڑھا کر وعدہ بھی لے لیا تھا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح وہ گوارا کے ساتھ یونیورسٹی آئی تھی۔۔ ایڈون وغیرہ بھوک ہڑتال پر جا رہے تھے وہ بھی ساتھ ہولی
    وہ پانچوں پلے کارڈ اٹھائے انتظامیہ کے دفتر کے باہر دھوپ میں کھڑے تھے۔۔ آتے جاتے طلبا دیکھ کر معاملہ پوچھتے پھر ہمدردی جتا کر آگے بڑھ جاتے۔۔
    صبح سے شام ہو چلی تھی ۔ انتظامیہ نے جھوٹے منہ نہ پوچھا تھا۔۔ اتنی بڑی یونیورسٹی کے اگر پانچ لوگ دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنا رنگ جلا بھی رہے تو کسی کو کیا فرق پڑتا۔۔
    گوارا واپسی پر پوچھنے آئی تھی اس سے ساتھ چلنا ہے۔۔ ہایون بھی اسکے ساتھ ہی تھا
    نہیں میں انکے ساتھ احتجاج کروں گی۔۔ تم جائو۔
    تمہیں کیا لگتا تم پانچوں کے یہاں بھوکے کھڑے رہنے سے انتظامیہ اپنا فیصلہ بدل۔لے گی؟۔
    گوارا انکو حقیقت کا آئینہ دکھانا چاہ رہی تھی۔۔
    دیکھ لیتے ہیں۔۔ وہ مسکرا دی۔۔ اور کیا کہتی۔۔
    تمہیں تو شاپنگ بھی کرنی تھی۔۔ گوارا نے یاد دلایا۔۔
    آج نہیں کروں گی ۔۔ اریزہ کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ۔۔
    اچھا جے ہائے سے کوئی اپر وغیرہ لے لینا میرے بھی جیکٹ وغیرہ پڑے ہونگے۔۔ گوارا کو یاد آیا۔۔
    اریزہ کاٹن کے کرتا پاجامہ میں ملبوس تھی۔۔ دھوپ میں کھڑی تھی اسکی حدت اچھی لگ رہی تھی مگر سرد ہوا ایکدم سے جھر جھری دلا دیتی تھی۔۔ وقفے وقفے سے۔۔
    جی ہائے ہے کہاں۔۔ نظر نہیں آئی مجھے۔۔ اریزہ کو خیال آیا۔ تو پوچھ لیا۔۔
    ٹرپ پر گئ ہے شام تک آجائے گی۔۔ چلو اچھا میں چلتی ہوں آج تو ہایون ڈراپ کر دے گا۔۔
    اس نے شرارت سے ہایون کے بازو میں بازو حمائل کر کے ہلکے سے کندھا مارا تو وہ چونکا۔۔
    دے؟۔۔ کیا۔۔ ہاں۔۔ ٹھیک ہے۔۔
    وہ گڑبڑا سا گیا تھا۔۔
    گوارا کھل کھکھلا کر ہنسی تو وہ اسے گھور کر رہ گیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اتنے بے رحم تو ہماری یونی والے بھی نہیں تھے۔۔
    کتنے احتجاج کیئے ایک گھنٹے میں ہی انتظامیہ بلا لیتی تھی مزاکرات کیلیئے۔۔ سالک نے مایوسی سے کہا۔۔
    تب ہم جون کی شدید گرمی میں دھوپ میں کھڑے تھے۔۔ اور وہ ایک گھنٹہ یہاں ایسے موسم میں کئی دن کھڑے رہنے کے برابر تھا۔
    شاہزیب نے ہنس کر مزاق اڑایا تھا۔۔
    پھر بھی یار۔۔ مجھے نہیں لگتا ان لوگوں کو کوئی فرق پڑے گا۔ سالک نے کہا تو ان میں سے کسی کی جھٹلانے کی ہمت بھی نہ ہوئی۔۔
    نظر آرہا تھا ۔ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے تئیں انکے تمام اخراجات کو اگلے سمسٹر میں ضم کر کے انکے نقصان کا مداوا کر چکی تھی۔۔
    یار کہنے کو بس چند مہینے ہیں مگر میرے ماں باپ میری ڈگری کا دن گن گن کر انتظار کر رہے ۔۔ انہیں لگتا میں کوئی ڈگری لے لوں گا تو اچھی نوکری مل جائے گی اپنے باپ کی طرح کلرکی سے ہی ریٹایر ہونے کی بجائے چار پیسے کما لوں گا۔۔
    یہ تلخی شاہزیب کے لہجے سے چھلکی تھی۔۔
    ایڈون نے گہری سانس بھری اور اپنے ہاتھ میں پکڑا پلے کارڈ ایک طرف رکھتا وہیں کیاری سے ٹک کر بیٹھ گیا۔۔
    میں سوچ رہاواپس گیا تو نہ یہاں کا رہوں گا نہ وہاں کا۔۔ یہیں کوئی فل ٹائم نوکری ڈھونڈتا ہوں۔ ڈگری نہ سہی کوریائی وون تو کما سکوں گا۔۔
    سالک نے بھی خیال ظاہر کیا۔۔
    اتنا کیوں جزباتی ہو رہے ہو تم لوگ۔۔ سنتھیا جو خاموشی سے ایک طرف بیٹھی تھی چڑ کر بولی۔۔
    پاکستان میں پڑھ ہی تو رہے تھے ہماری یونیورسٹی تو وہیں کی وہیں ہے تعلیم ہی حاصل کرنی کر لینا جا کر وہاں۔۔ ایویں ضد کرنے سے کیا فائدہ۔۔ الٹا یہاں آکر سیر ہی کرنے کو ملی ہے نقصان کیا ہوا ہے۔۔
    یہ اسکا نظریہ جس پر ان چاروں نے تاسف بھری نظروں سے گھورا تھا اسے۔۔
    میں تو تھک گئ۔۔ بھوک بھی لگ رہی ہے۔۔ کچھ لائوں تم لوگوں کیلیئے بھی۔۔
    وہ بے نیازی سے اٹھی اسکا پوچھنا بھی کسی کا موڈ بہتر نہ کر سکا۔۔ سب نے جواب ہی نہ دیا تو وہ سر جھٹکتی ہاسٹل کی طرف بڑھ گئ۔۔
    کیا واقعی ہم یہاں بس سیر کیلیئے آئے تھے؟۔۔ ایڈون نے ہنس کر پوچھا تو وہ سب جوابا مسکرا بھی نہ سکے۔۔
    لڑکیوں کو کیا فرق پڑتا۔۔ شاہزیب چڑا۔
    انہوں نے تو ڈگری لے کر بس شادی کرنی ہوتی پھر وہ ڈگری جسیسی بھی ہو جہاں کی ہو۔۔ ہم لوگ خوار ہوئے ہیں۔۔ نہ یہاں کے ہو سکے نہ وہاں کے رہے۔۔ چھے مہینے ضایع ہوئے سمجھو۔۔ کیسے یہاں پارٹ ٹائیم نوکری کر کرکے پیسے بچا رہا تھا کہ اگلے سمسٹر تک کا خرچہ نکل آئے مزید ماں باپ پر بوجھ نہ بنوں اکلوتی اولاد تو نہیں دو بہنیں ہیں میری ماں سے ہزار وعدے کرکے آیا تھا یہاں آئوں گا تو ڈگری کے ساتھ یہیں سیٹل ہوجائوں گا۔۔تب جا کر بہن کیلیئے رکھا زیور اٹھا کر دے دیا مجھے۔ اب۔۔
    سالک کئ آواز بھرا گئ۔۔
    یہاں پڑھائی نہیں ہوگی تو ویزہ بھی ختم ۔۔۔۔ نئے سرے سے۔۔ پھر پتہ نہیں داخلہ ملتا بھی ہے دوبارہ کہ
    شایزیب کو خیال آیا۔۔
    چھے مہینے تک یہاں رہیں گے کس بل بوتے پر؟۔۔ وہ شاخ ہی نہیں رہی بچوں جس پر آشیانہ تھا۔۔ ایڈون کو صدمے کی انتہا پر ہنسی آرہی تھی۔۔ شائد خود اپنے اوپر ہی۔۔۔
    دو تین دن دیکھ لیتے ہیں احتجاج کرکے بھی نہیں تو بوریا بستر سمیٹنا شروع کردو۔ ایڈون کا انداز تلخ سا تھا۔۔
    یہاں داخلہ اپنے بل پر لینا اتنا آسان نہیں ہوگا۔۔۔ ایک سوچ مجھے یہ بھی آئی تھی کہ ٹھیک ہے کسی طرح یہاں وقت گزار لیتے ہیں اگکے سیشن کا انتظار کر لیتے ہیں۔۔ مگر۔۔ دوسرے ملکوں سے آنے والے بہت طلبا ہیں یہاں فلپائن جاپان چین تائوان سنگاپور انڈیا۔۔ بہت ٹف مقابلہ ہوگا۔۔ شاہزیب مایوسی سے بولا۔۔
    اپنے بل پر داخلے کا خرچہ بھی اٹھانا آسان نہیں یہاں تو یونئورسٹئ کی اسکالر شپ پر آئے تھے جب وہ ہی نہیں تو۔۔ ایڈون تھکے تھکے انداز میں بولا۔۔
    ٹھنڈ ہونے لگی ہے اور اندھیرا بھی ہو رہا ہے اریزہ تم بھی جائو اب ہاسٹل میں آرام کرو۔۔ ہم ہیں یہاں۔۔
    وہ اب اریزہ سے مخاطب تھا۔۔
    ہاں یار تم کیوں خوار ہو رہی ہو جائو ۔ سالک نے بھی کہنا ضروری سمجھا۔۔
    اریزہ تو افورڈ کر سکتی ہے اسکو اسکالر شپ سے تو فرق نہیں پڑتا۔۔ اسکے بابا مشہور ایڈوکیٹ ہیں۔۔ شاہزیب نے ہنس کر چھیڑا تھا۔۔
    ہاں انکو کیا فرق پڑتا سنتھیا کو ہی دیکھ لو اسکو اجازت دلوانے کیلیئے اسکے اماں ابا سے میں لڑا تھا ۔۔۔ ایڈون کا انداز استہزائیہ ہوا۔
    اسکو شائد فرق نہیں پڑتا مگر مجھے بہت پڑتا ہے۔۔ اریزہ خلا میں نظر جمائے بولی تھی۔۔
    تم لوگوں کو لگتا میری تو شادی ہو جانی ہے مجھے پڑھ لکھ کر کیا کرنا۔۔ میرے گھر والوں کو بھی یہی لگتا۔۔ مجھے تو لگتا میں پیدا ہی شادی کرنے کیلیئے ہوئی تھی۔۔ میری زندگی کا اور تو کوئی مقصد ہی نہیں ہے۔۔ اسکا انداز استہزائیہ ہوا آخر میں ہنس ہی پڑی۔
    میرا بھائی جب مرا تھا مجھے اپنے بابا کے الفاظ یاد۔۔
    اپنے دوست سے کہہ رہے تھے۔۔
    میری کمر ٹوٹ گئ۔۔ میرا بیٹا مر گیا۔۔ میرا خواب مر گیا۔۔ وکیل بننے سے پہلے ہی مر گیا۔۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے۔۔
    اور تب میں نے سوچا اگر بھائی کی جگہ میں مر جاتی تو پاپا کیا کہتے؟۔۔
    اب مجھے پتہ ہے کیا کہتے۔۔
    میری بیٹی مر گئ۔۔ اب اسکی شادی کیسے کروں گا ۔۔
    رخصت ہونے سے پہلے ہی مر گئ۔۔
    وہ قہقہہ لگا کر ہنسی تھی۔۔ ہنستی گئ۔۔ ہنستے ہنستے آنکھوں میں پانی ہی آگیا۔۔
    یہ تینوں خاموش اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
    مجھے کبھی نہیں لگا میں لڑکی ہوں کچھ کمی ہے مجھ میں بلکہ مجھے تو بہت اچھا لگتا تھا میں لڑکی ہوں۔۔ مگر ابھی تم لوگوں کی باتیں سن کر مجھے لگا میں تو بالکل بے کار سی چیز پہوں۔ تم لوگوں سے تم سے وابستہ لوگوں کے خواب ہیں امیدیں ہیں۔۔ بھروسہ ہے تم انکی امیدوں پر پورا اتروگے۔۔ مجھے سے تو میرے والدین کو بھی کوئی امید کچھ نہیں بالکل بوجھ ہوں میں۔۔ ان پر انحصار کرنے والی کوئی بھی چیز جس کو ٹھکانے پر رکھنا ہی بس انکی زمہ داری ہے۔۔ بس ۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    میں واپس گئ۔ تو میری شادی ہو جائے گی۔۔ کوئی رشتہ دیکھ رکھا ہے میرے والدین نے۔۔ مجھے کیا فرق پڑتا۔۔ اسکی آواز بھرا گئی تو رکی نہیں تیز تیز قدموں سے چلتی ہاسٹل کی طرف بڑھ گئ۔۔
    کاش میں بھئ لڑکی ہوتا۔۔ شادی کی فکر والدین کرتے آرام سے ٹھاٹ سے گھر بیٹھتا۔۔ بچے پالتا۔۔ ابھی تو جو حال ہے زندگی کا اگلے دس پندرہ سال بس پیسے کمائوں گا تب کہیں جا کے میری شادی کی باری آئے گی۔۔
    یہ سالک تھا منہ بنا کر کہہ رہا تھا۔۔
    یہ تو سچ مچ چاہتا ہے کہ لڑکی بن جائے؟۔۔ تجھے رشک آیا ہے اریزہ پر۔۔شاہزیب نے سنجیدگی سے پوچھا تو وہ فورا نفی میں سر ہلا گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے لیپ ٹاپ کھولا تھا۔۔

    اگرماتم ہوتیتو ازے پاٹا لے تی۔۔ وہ سوچ سوچ کر ٹائپ کر رہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم لوگ رات یہیں گزارو گے۔۔
    یایون اور یون بن ان سے ملنے آئے تھے۔۔ وہ تینوں کیمپ لگائے بیٹھے تھے۔۔ مگر موسم سرد ہوتا جا رہا تھا۔۔ تینوں جیکٹ چڑھائے ہوئے تھے۔۔ہایون نے گرم گرم کافی کے مگ تھمائے تینوں بس شکر گزار نظروں سے دیکھنے لگے۔۔
    رات تک تھوڑی ٹھنڈ ہوجائے گی۔
    اپنا مگ تھامے انکے پاس ہی بیٹھتے ہوئے ڈرا رہا تھا۔۔
    خیر ہے کشمیر میں موسم ٹھنڈا ہی ہوتا تھا اتناہی ۔ سالک نے مکھی اڑائی۔۔
    بالائی پنجاب بھئ ٹھنڈا ہی ہوتا۔۔ شاہزیب نے خود کو تسلی دی۔۔
    لڑکیوں کو احتجاج کرنے میں دلچسپی نہیں۔۔۔
    ہایون نے پوچھا تو سالک فورا بولا
    وہ ہم لڑکوں میں کیا کرتیں ۔۔ہم تو یہیں پائوں پسار کر سو جائیں گے۔۔
    کیا مطلب۔۔ کام۔تو انکا بھی ہے تم لوگ اپنا گرم بستر چھوڑ کر بیٹھے ہو تو وہ بھی بیٹھ سکتی ہیں تمہارے ساتھ۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
    بیٹھی ہوئی ہی تھیں۔۔ رات ہونے لگی تو بھیج دیا انکو۔۔
    ایڈون نے وضاحت کی۔۔
    نہیں بھیجنا چاہیئے تھا۔۔ یون بن نے گھونٹ بھرا۔۔
    انتظامیہ پر زور پڑتا لڑکیوں سے۔۔ کم سن نے کہا تو شاہزیب تنک کر بولا۔۔
    کیوں۔۔؟۔۔ جب ہم ہیں تویہاں پر۔۔ اور لڑکیاں اتنی ٹھنڈ میں رات کو یہاں بیٹھئ ہوتی تو لعنت تھی ہمارے لڑکے ہونے پر۔۔ ہمارا کلچر یہ نہیں کہ لڑکیوں کی آڑ لیں۔۔
    تم لوگ لڑکیوں کو بہت قیمتی جانتے ہو نا۔۔ بہت خیال رکھتے ہو لڑکیوں کا۔۔
    ہایون کے کہنے پر شاہزیب اور ایڈون ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
    خیال۔۔
    ہم قیمتی نہیں کمزور سمجھتے ہیں۔خیال نہیں رکھتے یہ سوچتے ہیں کہ ان سے یہ کام ہوگا نہیں۔۔ حقیقت کتنی الٹ تلخ تھی اسے کہنے کی ہمت دونوں میں نہیں تھی۔
    ہاں تم لوگ لڑکیوں کا باہر نکلنا پسند نہیں کرتے سمجھ گیا۔۔
    کم سن سر ہلا کر بولااس کا انداز طنزیہ نہیں تھا۔۔ مگر تینوں کو چبھا۔۔
    ایسی بھی بات نہیں لڑکیاں سب کام کرتیں بس ہم اپنی خواتین کا احترام کرتے ان سے مشقت لینا پسند نہیں کرتے۔۔
    ایڈون نے تیز لہجے میں جواب دیا تھا۔۔
    ہمارے یہاں بھی ایسا ہی ہے۔۔ مگر تم لوگ کچھ زیادہ ہی سخت ہو۔۔ یون بن نے صاف گوئی سے کام لیا۔۔
    ہمیں فخر ہے اس پر۔۔ سالک نے جتانے والے انداز میں کہا۔۔
    اچھا چھوڑو۔۔ یہ دونوں تو شائد ڈرنک نہ کریں مگر تم تو کر سکتے ہو کچھ پی لو۔۔ ایسے تو تم لوگ بیمار پڑ جائو گے۔۔ کم سن انکے خیال سے کہہ رہا تھا۔۔
    نہیں یار۔ انکے ساتھ ہوں انکی طرح ہی ساتھ رہوں گا۔۔ ایڈون نے سہولت سے انکار کر دیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنے ڈورم کا دروازہ کھولتے کھولتے وہ رک گئ۔۔
    آہٹ پر سنتھیا نے چونک کر دروازہ دیکھا مگر اریزہ احتیاط سے دروازہ بند کرتی جی ہائے کے دروازے کی طرف بڑھ گئ۔۔ دوسری دستک پر جی ہائے کی آواز آئی تھی۔۔
    آجائو۔
    وہ اندر داخل ہوئی تو جی ہائے کتابیں کھولے بیٹھی تھی اسے دیکھ کر حیران رہ گئ۔۔
    تم ۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو؟۔۔ گھر نہیں گئیں؟۔۔
    نہیں۔۔ وہ۔مختصر کہتی اسکے پاس ہی آبیٹھی
    عجیب حالت ہوئی وی ہے۔
    کچھ بھی نہیں پڑھا پریکٹس میں اتنی مصروف تھی۔۔ اب جا کر موقع ملا۔۔ تم نے تو تیاری کر رکھی ہوگی ساری۔۔
    وہ انجانے میں اسکی دکھتی رگ پر ہی ہاتھ رکھ رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ وہیں جی ہائے کے پاس ہی باتیں کرتی کرتی سو گئی تھی۔۔ صبح اسکی آنکھ کھلی تو دیکھا جی ہائےاس پر کمبل ڈال کر خود گوارا کے بیڈ پر سوئی ہوئی تھی۔۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اٹھ کر اپنے ڈورم میں چلی آئی سنتھیا سوئی ہوئی تھی وہ آرام سے اپنے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گئ فریش ہو کر باہر نکلی تو سنتھیا اسکے ہی انتظار میں شائد بیٹھی تھی۔
    اس نے اسے قصدا نظر انداز کیا اور سیڑھیاں چڑھ گئ۔۔
    تمہاری امی کا فون آیا تھا مجھے کہہ رہی تھیں کہ تمہیں منائوں تم شادی کیلیئے رضا مند ہو جائو۔۔ میں نے انہیں نہیں بتایا یہاں کیا ہوا مگر مجھے لگتا تمہیں ہاں کر دینی چاہیئے لڑکے کی تصویر واٹس ایپ کی ہے میں نے تمہیں دیکھ لو پھر فیصلہ کرو۔۔ یہاں تو ہمارا بوریا بستر گول ہونے ہی والا ہے۔۔
    خشک بے تاثر انداز مگر اس نے اپنی طرف سے دوستی نبھا دی تھی۔۔
    بن مانگے مشوروں کا شکریہ آئندہ کیلیئے اپنے کام سے کام رکھو۔۔ اریزہ نے جوابا اس سے بھی سرد لہجے میں کہا۔۔
    سنتھیا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئ۔۔ زخمی سی۔
    انکار کی وجہ کیا ہے۔۔ کوئی پسند ہے کیا تمہیں۔۔
    وہ باز نہ آئی۔۔ اریزہ کی آواز تھوڑی اونچی ہوئی۔
    تم سے مطلب اپنے کام سے کام رکھو۔۔
    اس بار واقعی لڑکا اچھا ہے تمہیں انکار نہیں کرنا چاہیئے۔۔
    سنتھیا نے پھر کہا۔۔
    سمجھ نہیں آتی بات تمہیں کہہ رہی ہوں میں اپنے کام سے کام رکھو۔۔
    اریزہ بری طرح چلائی۔۔
    سنتھیا نے بالکل اثر نہیں لیا۔۔
    تم جب کسی کو اس نظر سے نہیں دیکھتیں تو کسی کو بھی زندگی میں شامل کر لینے میں تمہیں اعتراض کیا ہے۔
    سنتھیا بس کر جائو مجھے تم سے کسی قسم کی بات نہیں کرنی تمہیں سمجھ کیوں نہیں آرہی یہ بات ۔۔اریزہ ضبط کھو بیٹھی تھی۔۔
    جی ہائے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئ۔۔
    کیا ہوا۔۔ سب ٹھیک تو ہے۔۔ وہ۔واقعی پریشان تھی۔۔
    سنتھیا بت بنی زمین پر کہیں نگاہ ٹکائے بیٹھی تھی۔۔ اریزہ بیچ ڈورم میں کھڑی ہاتھ میں تولیہ پکڑے کف اڑا رہی تھی۔۔
    یہ دیکھو جی ہائے۔۔
    سنتھیا کے زہن میں جانے کیا سمائی تھی موبائل اٹھا کر بیڈ سے اتر آئی جی ہائے کو تصویر دکھانے لگی۔۔ اریزہ کے تلوے سے لگی سر پر بجھی۔۔
    کون ہے یہ آہجوشی۔۔
    جی ہائے نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
    اریزہ کا مستقبل کا فیانسی۔۔
    سنتھیا مسکرائی۔۔ اریزہ تن فن کرتی سیڑھیاں اتری اور اسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر پھینک دیا۔۔
    حد میں رہو سنتھیا بہت برداشت کرلیا میں نے تمہیں۔۔ اس نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی
    تم اچھی ہو تمہاری قسمت بھی اچھی ہے
    مجھے تم پر رشک آتا ہے اریزہ۔۔ سنتھا نے زرا برا نہ مانا
    مسکرا کر بولی انداز حسرت بھرا تھا۔۔
    مجھے تم پر ترس آتا ہے۔۔ کیا تھیں اور کیا بن گئ ہو۔
    اریزہ نے ترکی بہ ترکی کہا۔۔
    تمہاری وجہ سے ۔۔ میں جو بھی بن گئ اسکی وجہ بس تم ہو۔۔
    سنتھیا نے آرام سے کہا تھا مگر اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
    کیا میری وجہ سے ہاں۔۔ کیا ۔ کیا کیا کیا ہے میں نے۔۔
    اریزہ بپھر کر اسکی جانب بڑھی۔۔ جی ہائے بے اختیار اسکے آگے آگئ۔۔ سنتھیا ہلی بھی نہیں اپنی جگہ سے۔۔
    میں نے ایڈون کو کہا تھا واپس چلنے کو مگر وہ تیار نہیں ہے۔ صاف بولا میں جانا چاہتی ہوں تو چلی جائوں۔ کیوں میں کیوں جائوں؟ یہاں تم دونوں کو چھوڑ کر۔؟
    تم چلی جائو۔ تم کیوں نہیں جاتیں اگر تمہیں ایڈون میں کوئی دلچسپی نہیں تو شادی کیوں نہیں کرنے کو تیار ہو؟۔۔ مجھ پر ترس نہیں آتا تمہیں۔ ایڈون کےدل میں جگہ بنانے کیلیئے کیا کیا نہیں کرگئ مگر تم۔۔۔۔۔ ۔ اور تم تم جاتی بھی نہیں ہو ہماری زندگی سے اچھی بھلی شادی ہوگئ تھی کیوں نہیں گئیں کینڈا ۔۔ کیوں واپس آگئ ہو ہم دونوں کے بیچ۔۔
    سنتھیا نقاہت بھرے انداز میں بلک اٹھی۔۔ اس میں اتنی سکت بھی جیسے نہ تھی کہ چلا سکتی۔۔
    بس کر جائو سنتھیا بس۔۔
    یہ دوسری بار تھا سنتھیا نے اسے ایسے طعنے دہیئے تھے آج وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔ بری طرح بپھر کر وہ اسکی جانب بڑھی تھی جی ہائے۔۔ پوری طاقت لگا کر اسے روکا۔۔
    کیا ہو گیا ہے تم دونوں کو کس بات پر لڑ رہی ہو۔۔
    جی ہائےہلکان ہو رہی تھی۔۔

    بہت پیار کرتا ہے وہ تم سے۔۔ کیوں اسکو ٹھکرا دیا تم نے تم ہاں کر دیتیں خدا جانتا میں بیچ سے ہٹ جاتی۔۔ تم نے اسے مجھے سونپ کر اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔۔ میرے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا۔۔ مجھے مل کر بھی وہ نہیں مل سکا ہے اریزہ۔۔
    وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔۔ اریزہ کے اعصاب ڈھیلے پڑے۔۔
    یہ کیا کہہ رہی ہو ۔۔ اسکے۔منہ سے مری مری آواز نکلی۔۔
    سب جانتی ہوں میں۔۔ میں سب۔۔ میں بھی اس دن وہیں موجود تھی۔۔
    وہ بلک کر کہتی بیڈ پر بے دم ہو کر بیٹھ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ خاموشی سے آکر انکے پاس دھوپ میں بیٹھ گئ تھی۔۔
    تینوں کے علاوہ یون بن ہایون اور سداکو بھی موجود تھے۔۔
    ہایون۔نے اسے دیکھ کر فورا فروٹ جوس اسکی جانب بڑھایا۔۔
    اس نے لرزتے ہاتھ سے تھاما۔۔ وہ سن سے دماغ کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔
    ہایون نے اسکی غائب دماغی فورا پڑھ لی تھی۔۔ اور ایڈون نے بھی۔۔
    واٹ ہیپنڈ۔۔؟۔۔ ایک لڑکی نے پاس آکر ہمدردی سے انکے احتجاج کی وجہ پوچھی تھی۔۔
    وہ سر اٹھا کر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔
    ایڈون نے آگے بڑھ کر رواں انگریزی میں اسے مدعا بتایا۔
    وہ ہمدردی کے دو بول بول کر آگے بڑھ گئ۔۔
    ایڈون بار بار اسے دیکھ رہا تھا۔۔ شاہزیب اور سداکو باتیں کرنے میں مگن تھے۔۔ سالک موبائل پر جھکا تھا یون بن نے اسکی بے چینی محسوس کر لی تھی۔۔
    کیا ہوا ہے؟۔۔
    اس نے پوچھا ایڈون بس دیکھ کر رہ گیا۔۔
    کیا بتائے؟۔۔
    اریزہ ۔۔ اس نے سوچ کر اسے پکار ہی۔لیا۔۔
    اریزہ چونک کر متوجہ ہوئی۔۔
    وہ سنتھیا سو رہی ہے کیا ابھی تک وہ کیوں نہیں آئی۔۔
    اس نے جھجک کر پوچھا۔۔
    اریزہ اسے دیکھتی رہی ۔
    دیکھتی گئ۔۔ ایڈون کو نہ جانے کیا ہوا نظر چرا گیا۔۔ یون بن نے ایڈون کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
    ہایون اریزہ کے برابر آبیٹھا۔۔
    دیکھتے دیکھتے اریزہ کی آنکھیں لبا لب بھر گئ تھیں۔۔ ہایون قصدا اسے آڑ دیتا بیٹھا۔
    تبھی انتظامیہ سے ایک آدمی انکے پاس چلا آیا۔۔
    آننیانگ واسے او۔۔
    اس نے جھک کر سلام کیا یہ سب اسکی۔جانب متوجہ۔ہو گئے تھے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں اندازہ ہے آپ سب کتنے مایوس ہوئے ہونگے۔۔
    یقین جانیئے ہم بھی بہت ہوئے ہیں۔۔ ہم ہرگز بھی یہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان سے آنے والے طلبا کسی طور کسی دوسرے ملک سے آنے والے طلبا سے زہانت میں کم ہیں۔۔
    ہم نے آپ سب کو داخلہ دیتے ہوئے اس چیز کو مد نظر رکھا تھا ہم ایک بالکل الگ تہزیب سے قابل افراد کا انتخاب کر رہے ہیں۔۔ ہم بہت دکھی ہیں کہ آپکی یونیورسٹی کے ساتھ ہمارا الحاق ممکن نہ ہو سکا۔۔ جو طلبا ہم نے وہاں بھیجے تھے انکی پاکستانیوں کے بارے میں بہت اچھی رائے رہی وہ وہاں تعلیم حاصل کرتے ہوئے مطمئن تھے مگر وہاں کے حالات کی بنا پر ہمیں یہ مشکل فیصلہ لینا پڑا۔۔ ان طلبا کے والدین ہر قیمت پر ان کو واپس بلانا چاہتے تھے چاہے وہ سیمسٹر میں پیچھے رہ جائیں۔۔
    یہاں ہم نے انکو فوری طور پر ایڈجسٹ کیا ہے۔ہم آپ سب کو بھی یہی پیکج دینا چاہتے ہیں حالانکہ آپکی یونیورسٹی آپ سب کو واپس بلا رہی ہے مگر ہم پھر بھی آپ سب کیلیئے مزید ایک سہولت دے رہے ہیں ۔۔۔کوریا بہت سی اسکالرشپس فراہم کرتا ہے طلباء کو آپ ان میں سے کسی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ یقین جانیئے مشکل طریقہ کار نہیں بس آپکو چند مہینے صبر سے کام لینا ہوگا۔ اور آپ یہاں اپنے بل پر داخلہ لینا چاہیں تو بھی ہمارے دروازے آپ سب پر کھلے ہیں۔
    مگر ہمیں معیار کو بھی مد نظر رکھنا ہے آپ سب اگلے ہائی اسکول گریجوایٹ اسسیسمنٹ ٹیسٹ کو پاس کریں یہ آپ کو یہاں کی بیچلرز ڈگری حاصل کرنے کیلیئے لازمی پاس کرنا ہوگا۔۔دو سال کوریا میں تعلیم حاصل کریں ہم آپ سب کو ڈگری ضرور دیں گے مگر اس سیمسٹر کیلیئے معزرت آپکو اگلے سیمسٹر سے ہم ریگولر کر دیں گے۔۔ اس سیمسٹر کے سارے اخراجات ہم برداشت کر سکیں گے۔ آپ چا رسال یہاں تعلیم حاصل کریں ہم آپکو یونیورسٹی کی جانب سے ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے مجھے امید ہے آپ سب کو ہماری یہ مخلصانہ کوشش پسند آئے گی۔۔
    چندی آنکھوں والا وہ ادھیڑ عمر انسان بے حد شائستہ انداز میں مخاطب تھا۔۔ ان چاروں نے سر جھکا لیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انہیں وہیں شام ہو گئ تھی۔۔ اپنا احتجاجی کیمپ سمیٹ کر بھی وہ سب وہیں بیٹھے تھے۔۔

    ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا سوائے خاموشی سے انکی۔بات ماننے کے۔۔
    ایڈون نے گہری سانس لیکر کہا۔۔
    یہ تو دنیا میں ہم۔جہاں بھی جاتے دو سال کم ازکم پیچھے ہو جاتے تعلیم میں کوئی ہماری ڈگری کو مانتا ہی نہیں۔۔ انہوں نے ہم پر احسان دھر کر بھی یہی کیا ہے۔۔
    شاہزیب چڑا ہوا تھا۔۔
    ان ماہ و سال سے اگر فرق پڑتا ہے تو جائو واپس۔۔ اپنی یونیورسٹی سے۔پڑھو۔۔ بچا لو اپنے چھے ماہ اور ہم لوگوں سے چھے مہینے پہلے ڈگری لیکر بےروزگار پھرو۔۔
    ایڈون نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔۔
    شاہزیب ہونٹ بھینچ گیا۔۔
    سالک نے آہ بھری
    انکا ٹیسٹ جانے کیسا ہوگا پاس بھی کر پائیں گے کہ نہیں۔۔
    جاہل تو نہیں ہیں ہم۔
    اریزہ چڑی
    کر لیں گے ہم سب بہترین گریڈز لیکر یہاں تک پہنچے ہیں۔
    انکا بھی امتحان دیکھ لیتے ہیں۔۔
    گھر والوں کو بتانے کی ضرورت نہیں ویسے بھی اسکالر شپ ختم ہوجانے کے باوجود یونیورسٹی ہم سے اخراجات میں سہولت دے ہی رہی ہے۔۔ بس اب کرنا یہ ہے کہ ابھی سب جاب ڈھونڈو چھے مہینے تک اگلے کم از کم دو سیمسٹر تک کے پیسے جمع کرنے کا ٹارگٹ رکھواسکالر شپ مل جائے تو بھلا چنگا مگر وہ سب چانس پر ہی ہے نا۔ ۔۔ اب سیمسٹر بریک تک تو ہم فل ٹائم جاب بھی کر سکتے ہیں۔۔
    ایڈون اگلا لائحہ عمل بھی ترتیب دے چکا تھا۔۔
    ٹھیک کہہ رہا ہے ایڈون۔۔
    اریزہ نے تائید کی۔۔
    ویٹر سویپر والے ہی کام ملیں گے۔۔
    سالک نے منہ لٹکایا۔۔
    ٹھہر تیرے لیئے میں نئی کمپنی لانچ کرتا ہوں ۔۔ شاہزیب نے مزید چڑایا۔
    میں نے آئی کام کیا ہے تھوڑا بہت اکائونٹس سنبھال سکتا ہوں۔۔
    سالک کو یاد آیا۔۔
    تیرے جیسے لوگوں کیلیئے تھری ایڈیٹس میں کیا کہا گیا ہے۔۔
    شاہزیب ہنسا
    ایڈون اور اریزہ نے کورس میں کہا۔۔
    گدھے۔۔
    سالک گھور کر رہ گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یون بن گوارا جی ہائے ہایون کم سن سداکو۔۔
    سب امتحان دے رہے تھے۔۔ پوری کلاس کا جہاں پیپر پر سر جھکا تھا ان سب کی نظریں بھٹک بھٹک کر خالی نشستوں پر جا رہی تھیں۔۔
    پیپر دے کر باہر نکلے تو سداکو نے مایوسی سے کہا
    مجھے حیرت ہورہی ہے اتنے اچھے اسائنمنٹس اور پریزنٹیشن دینے والوں کو امتحان دینے کے لیئے نا اہل قرار دے دیا ۔۔ دنیا بہت بے رحم ہے۔۔
    یون بن اس سے متفق تھا سو سر ہلا کر رہ گیا۔۔
    میں سوچ رہا ہوں انکو اس سیمسٹر کی فیس تو چلو اگلے سیمسٹر میں ضم کر دی مگر اسکالر شپ تو ختم ہوگئ یہ لوگ کیسے یہاں اخراجات پورے کریں گے۔۔
    کم سن نے پر سوچ انداز میں کہا۔۔تو ہایون چونک کر دیکھنے لگا۔۔
    یہاں کوریائی زبان نہ آتی ہو تو جاب حاصل کرنا نا ممکن ہی سمجھو۔۔
    سداکو نے کندھے اچکائے۔۔
    میں جانتا ہوں کتنی مشکل سے میں نے نوکری حاصل کی ہے ایک ریستوران میں وہ بھی جب کوئی غیر ملکی آتا تب ہی مجھے کارآمد سمجھ کر انگریزی بولنے کیلیئے آگے کر دیا جاتا ورنہ سارا وقت برتن دھوتے گزرتا ہے میرا۔۔
    کم سن نے دھیرے سے اسکا کندھا تھپتھپایا
    بچے تو نہیں ہیں ایڈون وغیرہ کر لیں گے کچھ نہ کچھ اب تو انکو یونیورسٹی آنے کی ضرورت نہیں مجھے یقین ہے کہیں جاب ہی ڈھونڈ رہے ہونگے۔۔
    یہ جی ہائے تھی۔۔
    گوارا نے بھی تائید کی۔۔
    ہاں مجھے بھی جہاں تک اندازہ ہوا ہے پاکستانی اپنا کام خود کرنے والے خوددار ہوتے ہیں۔۔یہ لوگ کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔۔
    یون بننے کہا تو سب سر ہلاگئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آپ کے پاس کچھ وون ہونگے؟۔۔ راہ چلتی ایک کورین دوشیزہ کو روک کر سالک انتہائی معصوم شکل بنا کر کہہ رہا تھا ۔
    جی؟۔۔ اسکی سمجھ میں اردو خاک پتھر آتی۔۔
    وون ۔۔ سکے۔۔۔ اس نے سکے کا اشارہ کیا۔۔
    چینج آنٹی۔ کوائین۔۔۔
    وہ نوٹ لہراتا اس سے منت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔
    وون
    وہ جانے کیا سمجھی نوٹ تھام کر بیگ کھنگالنے لگی۔۔
    ہائے اللہ کیا کر رہی ہو یہ اکلوتا نوٹ ہے میرے پاس ۔۔۔
    مگر اسے اتنی ہی مالیت کے سکے نکالتے دیکھا تو جان میں جان آئی۔
    شکر ہے مجھے لگا تھا تم۔میرا اکلوتا نوٹ بھی لے بھاگوگی۔۔
    وہ رونے پیٹنے کو آگیا۔۔
    دوشیزہ کا دل پگھل ہی گیا۔
    یہ لو۔۔
    اس نے بیگ میں مٹھی بھر کر کوائین نکال کر تھما دیئے۔نوٹ بھی بڑھا دیا۔
    سالک نے پہلے نوٹ چھینا پھر چلر تھامے۔۔
    گومو وویو۔۔
    اس نے کوریائی انداز میں جھک جھک کر سلام کیا لڑکی مسکرا کر جانے کیا بولتی آگے بڑھ گئ۔۔ یہ فاتحانہ انداز میں مٹھی میں بھرے کوائن چھنکاتا کچھ فاصلے پر وینڈنگ مشین کے پاس کھڑے گھورتے اپنے ہم وطنوں کے پاس آیا۔۔
    بہت برکتی نوٹ ہے میرا دس دفعہ تڑوانے کی کوشش کر چکا ہوں مگر ہمیشہ ثابت واپس آجاتا ہے میرے پاس۔
    وہ اترایا۔۔
    ایسی مسکینیت طاری کر کے فقیروں کی طرح مانگ رہا تھا شرم کر۔۔
    شاہزیب نے اسکا سر بجایا۔۔
    تو ؟۔ وہ بھنایا۔۔
    غیر ملکی ہی غیر ملکیوں کے کام آتے وہاں کوئی چندی آنکھوں والا چائینیز تم سے پیسے مانگتا نہ کرتے تم مدد
    سالک سینے پر چڑھ کر بولا
    چائینیز کی کرتا نا یہ تو کورین ہیں اور یہ پاکستان میں اتنا آتے بھی نہیں۔۔
    ایڈون بھی بحث میں شامل ہوا
    ہاں تو آجائیں یہ بھی میں بھی کسی کورین کو ادھار دے دوں گا۔۔
    سالک لاپروا تھا۔
    لے لیں ڈرنک جس کے انتظار میں ہم یہاں کھڑے۔۔
    اریزہ نے طنزیہ کہا تو سالک گڑ بڑا کر مشین کی طرف بڑھا۔۔
    کونسی لینی ہے اریزہ۔۔
    وہ مشین کا معائنہ کر رہا تھا۔۔ ایک کوائن ڈال کر خواتین پہلے کے اصول پر عمل پیرا ہوا۔۔
    اریزہ نے فروٹ جوس پر انگلی رکھی۔
    تھوڑی ہی دیر میں کھٹ کی آواز کے ساتھ کین جوس نیچے دراز سے برآمد ہوا۔
    پھر سالک کوائین ڈالتا گیا سب باری باری ڈرنک اٹھا تے رہے خود اسکی باری آئی تو کوائین ختم ہو چکے تھے۔۔
    ٹھہر۔۔
    ایڈون نے اپنی ڈرنک سے بڑا سا گھونٹ بھر کر اسے تھمایا۔۔
    پھر مشین کے کئی بٹن دبا کر ٹھوکر ماری درجنوں کوائن نیچے آن گرے۔۔
    تو یہ پہلے نہیں کر سکتا تھا؟۔۔ ایویں احسان لیا اس گوری کا۔۔
    سالک نے کہہ کر اسکے دیئے کین کو منہ سے لگانا چاہا ایڈون نے لپک کر اس سے چھینا۔
    نکال اپنے لیئے ڈرنک۔۔ وہ اپنی ڈرنک بانٹنے کو تیار نہیں تھا
    سالک نے ایک ایک کوائن چنا۔۔
    اپنی ڈرنک لی
    اور کسی نے کوئی اور ڈرنک لینی؟۔۔
    اس نے پوچھا تو مگر ان سب نے نفی میں ہی سر ہلایا۔۔
    اس نے اپنی ڈرنک لے کر بقیہ سب کوائین مشین میں واپس ڈال دیئے۔۔
    اور جھک کر مشین سے بولا۔۔
    گھمسامندہ۔۔ شکریہ۔۔
    ایڈون شاہزیب اور اریزہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔
    وہ البتہ مزے سے گھونٹ بھر رہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کاش میں مچھلی ہوتا بھلے پاکستانی ہی مچھلی ہوتا۔۔
    مزے سے تیرتا رہتا ۔۔۔۔
    شاہزیب نےحسرت سے مگن تیرتی مچھلیوں کو دیکھا

    وہ سب لائن سے ایکوریم سے ناک چپکائے کھڑے تھے۔۔
    ہم میں سے کوئی تمہیں کھا چکا ہوتا پھر۔۔
    ایڈون نے کہا تو اس نے مزید تشریح کی
    ابے میں چھوٹی موٹی مچھلی تھوڑی ہوتا وہیل ڈولفن تو ہوتا ہی۔۔
    تو تم اندھے ہو چکے ہوتے ہم جتنا اپنے ساحلوں پر گند مچا کے رکھتے ۔۔
    اریزہ نے کہا تو وہ منہ بنا کر ایکوریم سے پشت کر گیا۔۔
    یار ہم اتنے گندے برے کیوں ہیں۔۔
    اس نے سابقہ انداز میں ہی کہا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کرائوکے روم میں ان سب نے چیخیں مار مار کر کمرہ سر پر اٹھایا ہوا تھا۔۔ سامنے بی ٹی ایس کا ڈی این اے چل رہا تھا۔ ساتھ ساتھ شاہزیب اور ایڈون
    سیٹی بجے گی کھیل جمے گا تالی بجے گی گا رہے تھے۔
    کہہ کیا رہا ہے۔۔
    اریزہ نے غور کیا ۔۔
    پٹ یور۔۔ اسکی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں۔۔
    سالک اور اریزہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر جھٹ نظر چرا کر منہ پھیر کر بیٹھ گئے۔۔
    میں نے بھی گانا۔۔ اریزہ نے کہا تو ایڈون جو اچھل کود کر کر کے تھک چکا تھا جھٹ مائک اسے تھما کر صوفے پر آگرا
    آسومی منچھو جی آنا ۔۔۔ اس نے ڈھونڈ کر نکالا
    پلے ہونا شروع ہوا تو ساتھ ساتھ گانے لگی۔۔
    اوئے تمہیں یہ گانا آتا ہے۔۔
    شاہزیب نے حیرت سے چیخ ہی مار دی۔۔
    اریزہ نے اترا کر دیکھا۔۔
    پھر جتنی دیر گاتی رہی وہ اسکے دھرائے جملے دھراتے رہے وہ بھی اپنی مرضی کے الفاظ میں
    کہہ کیا رہا ہے یہ۔۔
    ایڈون کو تجسس بھی تھا۔۔
    اریزہ نے کندھے اچکا دیئے۔۔
    اداس گانا لگائو ہم جاتے جاتے رو ہی لیں۔۔
    یہ سالک کی فرمائش تھی۔۔
    اس نے سیڈ سانگ میں سے ایک لگا دیا
    کسی لڑکی نے رونا شروع کر دیا تھا۔۔
    سب باقائدہ آنسو پونچھ پونچھ کر روتے رہے۔۔۔
    مت رو میری بہن اللہ اس جیسا ہی اور دے گا۔۔
    شاہزیب نے باقائدہ اسکرین پر روتی لڑکی کے آنسو بھی پونچھ دیئے۔۔
    اوئے یہ گانا سنا ہوا لگ رہا۔۔
    ایڈون چونکا۔۔
    پہلی نظر میں کیسا جادو کر دیا کی دھن بج رہی تھی۔
    اف یہ کوریا سے چرایا تھا انڈین نے۔۔
    آخر انہوں نے ایسا گانا تلاش ہی لیا جسکی دھن پر انہیں ہندی گانا یاد تھا پھر وہ سنگر اپنی زبان میں اور یہ سب اردو میں اسی دھن پر گاتے رہے۔۔
    چونتیس فیصد انکا نتیجہ آیا تھا ظاہر ہے گا کم چیخیں زیادہ مار رہے تھے۔۔
    سڑک پر چاروں اکٹھے چل رہے تھے۔ اریزہ درمیان میں تھی۔۔ جب آتے جاتے لوگ انکو باقائدہ گھور گھور کر جانے لگے تو دو دو کر کے آگے پیچھے چلنے لگے۔۔
    جب کوئی بات بگڑ جائے جب کوئی مشکل پڑ جائے۔۔
    اریزہ کا اترا منہ دیکھ کر سالک میدان میں اترا
    اوئے پاکستانی اداس گانا گا کوئی انڈین گا کے دل اور نہ جلا سارے انڈین امتحان دے رہے ہم پاکستانیوں سے ہی دشمنی نکالی ہے انہوں نے۔۔
    شاہزیب رو ہی تو پڑا۔۔
    سالک نے فورا پینترا بدلا
    ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے ہاں جیتیں گے۔۔
    تینوں بن پیئے جھوم رہے تھے۔۔ اریزہ انکے ساتھ ساتھ چلتی اداس ہو رہی تھی۔۔
    کیسا بھی ہو اندھیرا۔۔
    ایڈون اسکے آگے آگے چلتے ایکدم۔مڑ کر فلمی سے انداز میں اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔۔
    دور نہیں سویرا۔۔ شاہزیب اسکے دائیں جانب سے مسکرا کر گاتا ہوا آیا۔
    لڑنا ہے کورین سے۔۔ ہماری پڑھائی کے دشمنوں سے
    یہ سالک تھا اسکو جگہ نہیں ملی تو اکڑوں بیٹھ گیا اور سر اٹھا کر اسے دیکھتے آنکھیں پٹ پٹا رہا تھا
    جینا ہے سر اٹھا کر ظلم و ستم مٹا کر۔۔
    ایڈون نے راہ چلتے ماں کا ہاتھ پکڑ کر جاتے بچے کی کاٹن کینڈی چھین کر اریزہ کو چلتے چلتے تھمائی
    بچے کی ماں گھورتی آگے ہوئی تو اریزہ نے منہ بنا کر رونے کو تیار ہوتے بچے کو جلدی سے تھما کر اسکے پیار سے سر کے بال بھی چھیڑے۔۔
    دنیا حسین بنائیں۔۔ پاس دلوں کو لائیں۔۔
    سامنے سے آتے لڑکے اور لڑکی کے گرد وہ تینوں گھوم گھوم کر بازو پھیلائے ناچ رہے تھے۔۔
    پاکستان میں یہ کام کرتے تو پٹ ہی جاتے۔۔ ان دونوں کورین کپل نے بے حد حظ اٹھایا اور کچھ سمجھتے نہ کچھ نہ سمجھتے جھک کر شکریہ ادا کرتے ہاتھ ہلاتے آگے بڑھتے گئے۔۔
    اریزہ کوہنسی آہی گئ۔۔
    آنگن آنگن خوشیاں بانٹیں۔۔
    سالک دونوں ہاتھ پھیلائے پیچھے سے آرہا تھا سب رک کر اسے دیکھ رہے تھے اس نے ترنگ میں آ کر پاس سے گزرتے لڑکے اور اپنا خالی کیا ہوا کین تھمایا۔۔
    وہ بے دھیانی میں پکڑ گیا پھر اسی کے اوپر اچھالتا
    بچھی سا تنفر سے جاتے جاتے انہیں گھورتے ہوئے کہا۔۔
    سالک نے دونوں بازو آگے کر کے منہ پر لگنے سے بچایا تھا۔۔ تینوں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے۔۔
    یہ کوئی گالی دے کر گیا ہے نا۔۔ بچھی دین
    شاہزیب نے نیا لفظ سیکھنا چاہا۔
    ہیں گالی دی ہے۔۔ سالک کو غصہ آگیا۔۔پلٹ کر چلایا
    اوئے الو کے پٹھے گالی کس کو دی ہے۔کمینے رک۔۔
    اگلاپکار پر واقعی جاتے جاتے رک کر مڑا۔۔
    قد میں سالک سے تین چار انچ بڑا اب غور کیا تو خوب ڈیل ڈول والا نکلا
    او او۔۔
    سالک ٹھٹکا۔۔
    آننیانگ ۔ گومو وویو۔۔ کہہ سیکی ۔۔ بچھی دن۔۔
    اسے جتنی کورین آتی تھی ہاتھ ہلا کر مسکراتے جھاڑ دی۔۔
    کہہ سیکی کم سن انکو اکثر کہتا تھا۔اس نے وہ بھی جڑ دیا
    یہ بھئ بھول گیا آخری لفظ اسی سے سنا تھا۔۔
    اگلا تلملا کر پلٹا۔۔ اسے بھاگ کر واپس آتے دیکھ کر ان چاروں کے ہاتھوں سے طوطے اڑے۔۔
    بھاگو۔۔ سالک کہہ کر رکا نہیں تھا۔۔
    تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ہاتھ ہلا ہلا کر کورین میں جانے کیا کیا کہتے اس لڑکے کے ڈیل ڈول کو پھر سالک کی پیروی میں ہی عافیت جانی۔۔
    بھاگتے بھاگتے جب جب پیچھے مڑ کر دیکھا وہ سانڈ انکے پیچھے ہی آرہا تھا۔۔
    کسی ریستوران میں گھس لوگوں کے بیچ مار نہیں پائے گا۔۔
    ایڈون اور اریزہ سب سے پیچھے تھے اریزہ ہی رہ جاتی پیچھے سو ایڈون بھاگتے بھاگتے اسکیلیئے رفتار کم کرتا برابر ہوا پھر دماغ اسکا ہی چلا
    آگے آگے بھاگتے شاہزیب نے آئو دیکھا نا تائو اگلا جو بھی ریستوران آیا اسمیں گھس گیا سالک اسکے پیچھے یہ دونوں بھی پوری جان لڑا کر گھس ہی گئے۔۔
    بھاگ کر سب سے اندر جاکر کونے کی میز پر دھم سے گرے۔۔ چاروں کو سانس نہیں آرہی تھی۔۔ شاہزیب نے ہی ہمت کر کے جگ اٹھایا پہلا گلاس بھر کر اریزہ کی۔جانب بڑھایا خود جگ ہی منہ سے لگا لیا۔۔
    گہری گہری سانسیں لیکر اریزہ نے پانی منہ سے لگایا۔۔
    چھوٹا سا ریستوران تھا مگر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔
    وہ لڑکا گلاس وال سے باہر سڑک پر غصے سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا اسے شائد پتہ نہیں چلا تھا کہ وہ ریستوران میں گھسے ہیں یا اسکے بالکل ساتھ زیلی سڑک پر۔۔
    سالک کی نظر پڑی تو فورا سیٹ سے کھسک کر نیچے ہو گیا۔۔شاہزیب نے یہ نہیں دیکھا اس نے ایسا کیوں کیا خود بھی گھس گیا۔۔
    جی آپکا آرڈر۔۔
    موئودب سا شیف کے یونیفارم میں سر پر ٹوپی پہنے کوئی تمیز سے آکر اریزہ سے پوچھ رہا تھا
    پانی پیتی اریزہ چونکی۔۔
    جو یہ لوگ۔۔
    وہ۔کہتی ہوئی ان کی طرف متوجہ ہوئی تو پتہ چلا اکیلی میز پر بیٹھی ہے تینوں غائب۔۔
    یہ کہاں گئے وہ بوکھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ویٹر نے اسے گھبرا کر کھڑا ہوتے دیکھا تو مسکرا کر آنکھ کے اشارے سے نیچے ہیں بتایا۔۔
    وہ سمجھ کر جھکی تو تینوں گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھے تھے۔۔
    نکلو باہر ۔۔ اریزہ چڑی۔۔
    پہلے دیکھو باہر سے وہ لڑکا چلا گیا؟۔۔
    یہ سالک تھا
    وہ گہری سانس لیکر اٹھی پھر باہر دیکھ کر انہیں تسلی کرائی اب گلاس ڈور سے باہر کوئی کھڑا نظر نہیں آرہا تھا۔۔
    تینوں خیر کا کلمہ پڑھتے اوپر آ ہی گئے۔۔ شیف بڑے تحمل سے کھڑا تھا۔۔
    کچھ آرڈر دے ہی لیتے ہیں بھوک لگ رہی ہے ۔
    شاہزیب نے مسمسی سے شکل بنائی۔۔
    یہ تو کورین ریستوران ہے کسی پاکستانی یا انڈین چلتے۔۔
    سالک منمنایا
    تو کیا سبزیاں منگوا لیتے ہیں۔۔ ایڈون نے انہیں چھیڑا ہی تھا۔۔
    یار میرے خاندان میں آج تک کسی نے اتنی سبزیاں نہیں کھائی ہونگی جتنی چھے مہینے میں کوریا نے کھلا دی ہیں۔۔ حلال کے چکر میں گوشت کو ترس گیا ہوں
    سالک کی مظلومیت عروج پر تھی۔
    آپ ہمییں سبزیوں اور چاول کا کچھ لا دیں۔
    ایڈون نے شستہ انگریزی میں کہا۔۔
    حلال فوڈ ہے ہمارے پاس۔۔
    اس شیف کو پورے جملے میں بس حلال ہی سمجھ آیا تھا۔۔ مسکرا کر بولا تو شاہزیب کو اسکی چندی آنکھوں پر پیار ہی آگیا۔۔
    واقعی۔ وہ تینوں بے تابی سے بولے۔۔
    جی حلال گوشت ملتا ہے ہمارے ریستوران میں آپ دیکھ لیں زیادہ تر یہاں مسلمان ہی کھانا کھانے آئے ہیں یہ مکمل حلال ریستوران ہے۔۔
    اس نے اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے بتایا تو چاروں مڑ کر دیکھنے لگے۔۔ کچھ پاکستانی کچھ چندی آنکھوں والے کچھ حجاب کیئے بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکیاں مختلف قومیتوں کے مگر چھوٹی بڑی داڑھی والے مرد کچھ کلین شیو۔۔انہوں نے پہلے غور ہی نہیں کیا تھا۔۔
    بیف اسٹیک کورین رائس کمباپ جس میں سی ویڈ کی بجائے گندمی روٹئ میں چاول اور سبزیاں لپیٹے تھے۔۔ کچھ سپرنگ رول جیسا ہی بن گیا تھا۔۔
    ان چاروں نے سیر ہو کر کھایا۔۔
    یار مزے کا ہے کورین کھانا بھی۔۔
    اریزہ نے دل سے تعریف کی۔۔
    ہاں دیکھو بھلا حلال ریستوران ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔۔ ایویں بھوکے مرتے رہے۔۔ یون بن کو دکھائوں گا یہ۔۔
    شاہزیب نے کہا تو ایڈون ہنسا
    پاگل انہیں کیا پتہ ہوتا وہ تھوڑی حلال ریستوران ڈھونڈتے ہونگے۔۔
    یہ بھی ہے۔۔
    سالک نے تائید کی۔۔
    ویسے یہاں ویٹر نہیں ہیں شیف ہی خود پکا کر لا لا کر رکھ رہے۔۔
    اس نے تھوڑے فاصلے پر اوپن کچن میں کام کرتے دو تین شیف کو دیکھا۔۔ سب چندی آنکھوں والے تھے۔۔
    ایویں ماموں تو نہیں بنا رہے شکلیں تو انکی چندی ہی ہیں ۔۔ ایویں حلال کہہ کر کھلا دیا ہمیں۔۔
    سالک کو نئی فکر لاحق ہوئی۔
    ایسا نہیں ہوتا۔۔ ایڈون نے تسلی دی۔۔
    وہ سب کھا چکے تھے۔۔ سو اب دل۔پشوری کو بک بک لازم تھئ۔
    اسی شیف کی کام کرتے کرتے ان پر نظر پڑی چاروں اسی پر نگاہ جمائے تھے۔۔ وہ اپنا فرائی پین ساتھی کو تھما کر مسکراتا ہوا انکے پاس چلا آیا۔۔
    آپ لوگ کولڈ ڈرنک لیں گے؟۔۔ یا چائے۔۔
    چائے مگر پہلے ہمیں یہ بتاییں یہ واقعی حلال گوشت ہی تھا؟۔۔ شاہزیب نے سیدھا سیدھا پوچھ لیا
    جی بالکل۔۔۔ علی مسکرا دیا۔۔
    آپ فکر نہ کریں۔۔۔ یہ ریستوران کا مالک مسلمان ہے اس نے یہ ریستوران بنایا ہی اپنے جیسے مسلمان بھائیوں کیلیئے ہی ہے حلال کھانے کی فراہمی کیلیئے بنایا ہے۔۔
    نہ صرف گوشت حلال ہے بلکہ پکانے والے تینوں شیف بھی مسلمان ہیں۔۔ اس نے مزید تسلی کرانی چاہی
    سائونڈز گڈ۔۔
    اریزہ نے مسکرا کر کہا۔۔
    اللہ برکت دے اس ریستوران کے مالک کے رزق میں۔۔
    اس نے کہا تو شیف اسے الجھن سے دیکھنے لگا۔۔
    دے؟۔۔ وہ شائد جاننا چاہ رہا تھا کیا کہا ہے اس نے
    یہ کہہ رہی ہے۔۔ ایڈون نے حسب عادت مترجم کے فرائض نبھائے۔۔
    اوہ شکریہ آپکا۔۔
    وہ باقائدہ اریزہ کی طرف مڑ کر جھک کر شکریہ ادا کرنے لگا۔۔
    اریزہ اتنی دیر سے اسے دائیں رخ سے دیکھ رہی تھی تھوڑا سا چونکی۔۔
    او بھائی وہ تمہیں نہیں مالک کو دعا دے رہی ہے۔۔
    سالک نے چمچ مارنا ضروری سمجھا۔۔
    اریزہ اتنا شکریہ ادا کر رہا اسے بھی دعا دے دو۔۔
    وہ پہلا جملہ انگریزی دوسرا اردو میں بولا۔۔
    اس سے پہکے اریزہ کچھ کہتی اس نے دوبارہ جھک کر بتایا۔۔
    میں ہی مالک ہوں اس ہوٹل کا ۔۔ علی نام ہے میرا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ چاروں دریا کنارے بنچ پر بیٹھے تھے۔۔ رات کے نو بج رہے تھے۔۔
    امتحانوں میں وقت کیسا بھاگتا اورآج کیا کچھ نہیں کر لیا ہم نے پھر بھی نو ہی بجے ہیں ابھی بس۔۔
    اریزہ اکتائی۔۔
    زندگی میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا جن امتحانوں کو ہم کوستے تھے ان سے بھاگتے ایکدن بیٹھے امتحان نہ دے سکنے پر اداس رو رہے ہونگے۔۔
    ایڈون ہنسا۔۔پھر بتانے لگا
    کل تین جگہ جانا ہے انٹرویو دینے ایک جگہ سیلز مین کیلیئے ایک جگہ ویٹر کے لیئے ایک ورکشاپ میں گاڑیاں دھونے کیلیئے۔۔ سیلز گرل کی جاب کروگی اریزہ ایک سپر اسٹور میں؟
    سپر اسٹور میں۔۔ وہ چونکی۔۔وہ تھوڑا ہچکچا گئ
    اریزہ کو کیا ضرورت ہے جاب کرنے کی۔۔ سالک ہنسا
    میری مانو تو گھر جائو پڑھائی مکمل کرو شادی کرو ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے یہاں کی ہو یا وہاں کی تم نے کونسا نوکری کرنی۔۔
    یہ شاہزیب تھا۔۔
    ویسے تو تمہیں ضرورت نہیں مگر وقت گزارنے کیلیئے برا نہیں جاب کرنا یونیورسٹی تو جانا نہیں سارا دن گھر میں بور ہونے سے بہتر ہے۔۔
    ایڈون نے سینجیدگی سے کہا۔۔
    ٹھیک ہے۔۔
    شاہزیب کے جملے اسے بری طرح کھلے تھے۔۔
    اسکے لیئے فیصلہ کرنا آسان ہو گیا۔۔
    چلو نو بج گئے ہوسٹل جاتے جاتے دس ہو جائیں گے۔۔اٹھو
    ایڈون نے کہا تو شاہزیب اور سالک منمنائے
    کیا کرنا ہاسٹل جا کر سب پڑھائی میں لگے ہونگے دیکھ کر دل جلتا اور یونی پر لعنت بھیجنے کا دل کرتا۔۔
    مرو یہیں رہنا رات بھر یہیں مرنا سردی میں۔۔
    ایڈون بھنایا
    ہاں یہیں رہوں گا میں مروں گا بھی پھر روح بھٹکے گی میری کسی چندی آنکھوں والے کو چین سے یہاں بیٹھنے نہیں دوں گا چٹکیاں کاٹا کروں گا یہاں آنے والوں کے۔۔
    سالک چلا چلا کر کہتا دونوں ہاتھ پھیلا کر دریا کی طرف رخ کیئے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا۔۔
    کورین بھی سوچیں گے کن سے پنگا لے لیا ہے۔۔
    اریزہ ہنس کر بولی
    سنو کوریو۔۔بھگتو ہمیں ۔ شاہزیب بھی ترنگ میں آکر اٹھ کھڑا ہوااور اسکے پاس جاکر اسی کی طرح ہاتھ پھیلا کر چلایا۔۔
    ۔ اگر تم لوگ ہمیں نہ نکالتےتو ہم آرام سے ڈورم میں بیٹھے پڑھائی کر رہے ہوتے۔۔ اب ہم نیندیں حرام کریں گے تم لوگوں کی۔۔
    سن رہے ہو۔
    دونوں چلا رہے تھے۔۔
    یہ دونوں دیوانے ہو چلے ہیں۔۔ چلو تمہیں گھر چھوڑ دوں کہاں جائو گی ڈورم یا گوارا کے گھر؟۔۔
    ایڈون نے پوچھا تو وہ پر سوچ انداز میں اسے دیکھنے لگی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تصویر میں سے خاتون چلا چلا کر اسے آوازیں دے رہی تھیں۔۔
    گوارا کی بچی۔۔ اٹھو مرو دیکھو کون ہے دروازے پر۔۔ ایک تو تمہارے کرتوت ایسے کہ اکیلی پڑی ہو سب دوستیں بھاگ گئیں نا چھوڑ کر ۔۔ سدھر جائو یہ کونسا وقت ہے سونے کا رات بھر کیا کروگی۔۔
    وہ چلا چلا کر تھک کر کھانسنے لگیں۔۔
    گوارا بے خبر سوئی ہوئی تھی جب مسلسل بجتی اطلاعی گھنٹی اسے بیدار کر ہی گئ۔۔
    اریزہ دیکھو کون ہے۔۔
    اس نے لیٹے لیٹے ہی آواز لگائی۔۔ پھر یاد آیا اریزہ تو گھر پر ہے ہی نہیں۔۔۔ منہ بنا کر چادر ایک طرف کرتی اٹھ کھڑی ہویی۔۔ بے زاری سے چپل گھسیٹ گھسیٹ کر چلتی جمائی لیتی دروازہ کھولنے لگی
    کون۔۔ اس نے سیدھا دروازہ کھولا تھا پھر اسکی آنکھیں پوری کھل گئ تھیں۔۔
    تم۔۔
    پیلی پھٹک رنگت نڈھال سی شکل ہوپ کو کم سن سہارا دیئے کھڑا تھا۔۔
    کیا ہوا تمہیں۔۔وہ پوچھ رہی تھی۔۔
    اندر تو آنے دو۔۔
    کم سن نے کہا تو وہ جھٹ سے ایکطرف ہو گئ
    ہوپ نے کم سن سے بازو چھڑانا چاہا مگر اسکی گرفت مضوط تھی۔ اسکے احتجاج کی پروا نہ کرتے ہوئے بھی اسے کمرے تک لایا۔۔ گورا پیچھے پیچھے آئی۔
    بیڈ کے قریب آکر اس نے ایکدم سے دونوں ہاتھ چھوڑ دیئے۔۔ وہ لہرا کر بیڈ پر بے دم سی ہو کر بیٹھی۔۔
    یہ حال ہے تمہارا ایک قدم چل نہیں سکتیں اوپر سے ضدی اتنی ہو ۔۔
    وہ بھنایا۔۔ پھر اپنا اپر اوپر کر کے بازو کی خراشیں دیکھنے لگا جو اسے ناخنوں سے آئی تھیں۔۔
    تمہیں کیا اس سے میں جیوں مروں گروں اٹھوں۔۔
    نحیف آواز میں بھی وہ بالکل برداشت کرنے کو تیار نہ ہوئی ۔۔ اسکے چہرے پر تکلیف نمایاں تھیں آنکھوں کے کنارے بھیگ چلے اس نے آنکھیں میچ لیں جیسے کسی ازیت کو سہا ہو۔۔
    کیم چھنا۔۔ گوارا بھی تڑپ کر آگے بڑھی۔۔
    مجھے معاف کردو۔۔ اگر میری وجہ سے تکلیف پہنچی ہے ۔۔۔ کم سن گڑ مرنے کو آگیا۔۔
    ہوپ نے کوئی جواب نہیں دیا خاموشی سے چادر اوڑھتی لیٹ گئ سر تک تاک لی۔۔
    کیا ہوا۔ہے اسے؟۔۔ کہاں ملی یہ تمہیں دو دن سے تو گھر بھی نہیں آئی۔۔
    گوارا سٹپٹا گئ تھی۔۔
    کم سن نے گہری سانس لی پھر ہاتھ میں پکڑے دوائیوں کے شاپر اسے تھمائے۔۔
    یہ اسکی۔دوائیاں ہے۔۔ اسپتال میں تھی دو دن سے۔۔ مجھے سڑک۔کنارے بے ہوش ملی تو اسے میں ہی لیکر گیا تھا۔۔
    اس نے تسلی دلانے کو تفصیل سے بتایا مگر گوارا کی تسلی ہو نہ سکی۔۔
    کیا ہوا ہے اسے۔؟۔۔
    ہوپ نے بے چین سا ہو کر کروٹ بدلی۔۔
    کم سن نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر گوارا کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا پھر اسکے ساتھ چلتا ہوا اسے کمرے سے باہر لے آیا۔۔
    بخار ہے کمزوری ہے۔۔ ڈاکٹر نے مکمل آرام کرنے کو کہا ہے یہ مجھے منع کر رہی تھی مگر میں نے اسکے اسٹور کے مالک سے بات کر لی ہے ایک ہفتے کی چھٹی دلوا دی ہے اسے ۔۔ یہ دوائیں پابندی سے کھانی ہیں اس نے ساتھ فروٹ یخنی بھی ۔۔ میں ابھی جاتے ہوئے دے کر جائوں گا۔باقی یہ دوائیں سنبھال لو کچھ طاقت کے سیریل ہیں ان میں کچھ کھانے کو تیار نہیں ہوتی مگر یہ اسے ضرور ٹھنسا دینا ۔۔ وہ آخر میں چڑا۔۔
    ضرور آخر کو میری اکلوتی بیٹی ہے پورا خیال رکھوں گی اسکا۔۔
    گوارا بھنا اٹھی۔۔
    مجھ سے موصوفہ سیدھے منہ بات تک نہیں کرتیں ہیں۔۔ اریزہ پھر اسے قابو کر لیتی ہے اس سے بھی لڑ چکی ہے۔۔ یہ عجیب آہجومہ۔۔
    میں تو اسکا باپ لگتا ہوں نا جو مجھے شکایتیں لگا رہی ہو۔۔
    وہ بھی چڑا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کمرے سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر سیدھا جی ہائے کے کمرے میں آئی تھی۔۔ سنتھیا واش روم میں تھی یا باہر پتہ نہ چلا۔اسکا سامنا کرنے کودل نہیں کر رہا تھا
    ۔۔ جی ہائے کہاں گئ۔۔ کمرہ خالی ڈھنڈار دیکھ کر اس نے سوچا۔۔
    بریو ہارٹ کا لیڈ سنگر جگمگاتی مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اتنا پیارا وال پیپر تھا وہ بے ساختہ مسکرا دی۔۔
    ایک تو تمہیں مجھے تمہارا ایم پی تھری یا جو بھی وہ بلا ہے واپس کرنا ہے ۔۔ کہاں ملو گے تم ۔۔
    وہ اسکے وال پیپر سے مخاطب تھی۔۔
    ہایون کہہ تو رہا تھا ستمبر میں کانسرٹ ہے تمہارا کل ملتا تو یاد دہانی کراتی ہوں۔۔ وہ اسے تسلی دے کر لیپ ٹاپ آن کرکے بلاگ کھولنے لگی تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔
    ہایون کالنگ۔
    وہ ششدر رہ گئ۔۔
    بڑی عمر ہے تمہاری۔۔
    وہ مسکرا کر رہ گئ۔۔
    ہے۔۔ وہ بے ساختہ کہتے کہتے رکی۔۔
    اسلام و علیکم۔۔
    اس نے مسکرا کر سلام کیا۔۔
    وعلیکم السلام۔۔
    وہ بھی خوش دلی سے جوابا بولا۔۔
    کیسی ہو؟۔۔
    ٹھیک یو؟۔۔
    وہ لیپ ٹاپ پر اپنی فیس بک آئی ڈی کھولنے لگی۔۔
    کیا کر رہی ہو؟۔۔
    وہ باتوں کے موڈ میں تھا
    کچھ خاص نہیں بلاگ کھول رہی کچھ بک بک کروں گی پھر سو جائوں گی۔۔ تم کیا کر رہے ہو۔۔
    اس نے یونہی پوچھا۔۔
    میں۔۔ اس نے پیٹ پر دھرے لیپ ٹاپ کو دیکھا۔۔ جس کی اسکرین کافی حیران کن ویب سائٹ کھلی دکھا رہی تھی۔۔
    تمہارا بلاگ بھی ہے؟۔ اردو میں ہے؟۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
    آہ ہاں نہیں۔۔ مکس سا ہے۔۔ آدھا اردو میں آدھا انگریزی میں۔۔
    وہ گڑ بڑائی۔۔
    میرا بلاگ اردو میں تو نام کا ہی ہے۔۔
    وہ بڑ بڑائی
    مجھے ایڈریس دو میں بھی سیر کروں گا۔۔
    اس نے بڑی دلچسپی سے کہا تھا۔۔
    اریزہ نے فورا بتا دیا۔۔
    ہایون نے فورا بک مارک کیا تھا ۔۔
    اچھا یہ بتائو۔موڈ کیسا ہے تمہارا۔۔ میں نے سنا تھا تم لوگوں نے اسسیسمنٹ ٹیسٹ دینے کی حامی بھر لی ہے۔۔
    ہاں۔۔ وہ گہری سانس لیکر بولی۔۔
    اور کیا کرتے۔۔ مجبوری کا نام شکریہ۔۔
    واٹ مجبوری؟۔ وہ چونکا۔۔
    مجبوری؟۔۔ اریزہ سوچ میں پڑی۔
    ایک تو یہ اچھا میری انگریزی ووکیبلری کا امتحان لیتا رہتا۔ وہ بڑ بڑائی مگر ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔۔
    جھٹ دوسری ٹیب میں گوگل کھولا اور میں مجبوری سرچ کیا۔۔
    سمجھ گیا۔۔ ہایون نے کہا تو وہ چونکی۔۔
    میں نے گوگل کر لیا تھا۔۔ وہ بتا رہا تھا۔۔
    ہممم۔ اریزہ نے ہنکارہ بھرا۔۔
    ایک تو کورین انٹر نیٹ ایکسپلورر ہی استعمال کرتے خود کروم استعمال کر رہی تھی وہ عادتا۔۔
    ہاں یہ ماننے والی بات تھی انٹر نیٹ کی رفتار تھی کہ گولی دھڑ ھڑ سب ٹیب کھلتی جا رہی تھیں۔۔
    میں مدد کر سکتا ہوں ٹیسٹ کیلیئے تم مجھے کبھی بھی رابطہ کر سکتی ہو۔۔
    وہ پورے خلوص سے کہہ رہا تھا۔۔
    شکریہ ۔۔ وہ بھی مسکرا دی۔۔
    یہ بتایو تمہارا امتحان کیسا ہوا؟۔
    اچھا تھا۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
    اللہ کامیاب کرے ۔۔ اس نے دل سے دعا دی۔۔ ہایون بے ساختہ ہنسا۔۔
    ہنسے کیوں۔۔ وہ برا مان گئ
    ایسے ہی اچھا آئسکریم کھائوگی؟۔ آجائوں لینے؟۔۔
    اس نے پوچھا تو وہ گڑ بڑا گئ۔۔
    اس وقت۔۔ اس نے لیپ ٹاپ میں وقت دیکھا۔۔
    دس بج رہے تھے۔۔
    ظاہر ہے۔۔ وہ الٹا حیران ہوا۔۔
    نہیں میں تو سونے لگی۔ اور ویسے بھی میں ہاسٹل میں ہوں گوارا کے گھر نہیں۔۔
    اچھا۔۔ وہ تھوڑا مایوس ہوا۔۔
    یونیورسٹی تو جانا نہیں وہاں کیا کر رہی ہو۔۔
    وہ برامان گیا۔۔
    زلیل ہو رہی ہوں اور کیا۔۔
    وہ بھی چڑ کر بولی۔۔ صبح کی یاد تازہ ہوئی۔۔
    زالیل۔۔
    وہ اس سے مطلب پوچھنے کی بجائے بول کر سرچ کر رہا تھا۔۔
    رک۔جائو۔۔ وہ گھبرا گئ۔۔
    اسکو سرچ مت کرنا ۔اس نے سختی سے منع کیا۔۔ جانے کیا مطلب نکلے وہ سٹپٹا کر اردو میں بولی۔
    ہایون اسکے انداز پر ہنسا ۔
    کیا یہ برا لفظ ہے۔۔ اس نے واقعی تلاش ترک کر دی۔۔
    آہ۔۔ ہاں۔۔ میرا مطلب میں بتا دیتی۔۔ اسکا مطلب انسلٹ۔۔
    اسے سوجھ ہی گیا جواب۔۔
    کس نے انسلٹ کی ہے۔۔ وہ سنجیدہ ہوگیا۔۔
    تم صبح کافی اپسیٹ تھیں بتائو مجھے کسی نے کچھ کہا ہے کیا۔۔ ؟۔
    نہیں وہ۔۔ تمہیں کیسے پتہ چلا میں اپ سیٹ تھی۔۔
    وہ الٹا حیران ہوئی
    تمہارا چہرہ اترا ہوا تھا صبح ۔۔ ڈورم سے ائی تھیں۔۔ پھر سنتھیا نے کچھ کہا ہے؟۔ تم اسکو شٹ اپ کال کیوں نہیں دیتیں۔۔ وہ دوست نہیں ہے تمہاری کونسا دوست آپکا ہر وقت دل دکھاتا رہتا۔۔مسلہ کیا ہے اسکے ساتھ کس بات پر لڑتی ہے تم سے۔۔
    اسے جانے کیوں غصہ آگیا تھا
    اریزہ چپ ہی رہ گئ۔۔
    میں نے انجانے میں اسے کافی تکلہف پہنچا دی ہے۔۔ اور اسکے سامنے رہ کر شائد اسے مزید دکھی بھی کر رہی۔۔ تم صحیح کہہ رہے تھے مجھے یونی جانا نہیں تو واپس گوارا کے اپارٹمنٹ چلے جانا چاہیئے مجھے۔۔
    میں کل تمہیں پک کر لوں گا تم اپنا سامان سمیٹ لینا۔ اور ڈورم چھوڑ ہی دو بے وجہ خرچہ ہے ۔۔
    تم زحمت مت کرو۔۔ اس نے منع کرنا چاہا
    کوئی بات نہیں۔۔ بس تم کل تیار رہنا ۔
    اس نے قطیعت سے کہا تو اسے سر ہلانا پڑا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا چولہے کے آگے کھڑی سوپ بنا رہی تھی۔۔
    کم سن میز پر بیٹھا سبزیاں کاٹ رہا تھا۔۔
    مس یو اریزہ۔۔
    اس نے سر اٹھا کر مظلوم سی شکل بنائی۔۔
    جب سے تم میری زندگئ میں آئی ہو کھانا پکانا لگانا میں بھول سی گئ ہوں۔واپس آجائو بس بہت ہو گیا۔۔
    وہ ٹھنک رہی تھی۔۔
    کم سن نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسکے انداز پر مسکرا دیا۔۔
    بخار سے زیادہ تو مضمحل لگ رہی تھی۔۔
    وہ چونک کر پلٹی۔۔ کم سن کے سبزی کاٹتے ہاتھ رکے۔۔
    بس بخار ہی ہے کوئی سنگین بیماری میں مبتلا تو نہیں ہے؟۔ اسے سچ مچ تشویش تھی۔۔
    کم سن نے چند لمحے سوچا پھر فیصلہ کر کے بتا ہی دیا
    اسکا کچھ عرصہ حمل ضائع ہوا ہے۔ اسکو اندرونی پیچیدگی کا سامنا ہے ۔۔ بہت کمزور ہے اچھی خوراک اور آرام کی ضرورت ہے۔۔
    گوارا کا منہ کھلا رہ گیا تھا
    وے؟ میں نے لگ رہا کچھ غلط سن لیا دوبارہ کہو۔۔
    اسے یقین نہ آیا۔۔
    کم سن چپ ہی رہا ایک نظر اسے دیکھ کر دوبارہ سبزیاں کاٹنے لگ گیا۔۔
    میرے خدا۔۔ میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا یہ شادی شدہ ہوگی۔۔
    وہ پر سوچ نظروں سے اسکے کمرے کے بند دروازے کو دیکھ رہی۔تھی جیسے آر پار ہی تو نظر آجائے گا
    شادی شدہ تو ہوگی ہی۔۔ یا بوائے فرینڈ چھوڑ گیا اسے۔۔
    وہ ڈوئی لہرا رہی تھئ۔
    عجیب۔۔۔
    شمالی کوریائی لڑکی ہے وہ ہم سے بھی زیادہ قدامت پرست ہوتے وہاں شادیاں بھی جلدی کر دی جاتی ہیں اسکے شوہر کو تو شاید خبر بھی نہ ہو۔۔
    کم سن نے بھی اندازہ ہی لگایا۔۔
    ہاں یہ تو ہے۔۔
    عجیب بات ہے مگر مجھے اس لڑکی کیلیئے دل میں کچھ کچھ محسوس ہو رہا۔۔ شائد ترس آرہا ہے۔۔
    گوارا نے کہا تو کم سن کو اسکے منہ بنا کر کہنے پر ہنسی ہی آگئ۔۔
    ہمدردی ہو رہی ہے تمہیں۔۔
    اس نے جتایا۔۔
    جو بھی ہے مگر مجھے لڑکیوں کیلیئے ایسےجزبات محسوس ہونے نہیں چاہیئے۔۔ اس دن اریزہ رو رہی تھی میرا دل کٹ رہا تھا آج یہ بیمار ہے مجھے دکھ ہو رہا ۔۔ یہ کوئی صحتمندانہ رویہ نہیں۔۔یون بن بچا لو اپنی گرل فرینڈ کو۔۔
    وہ باقئدہ آخر میں سر اونچا کر کے چیخ بھی لی۔۔
    آرام سے ۔۔ جاگ جائے گی۔۔
    کم سن نے فورا ٹوکا۔۔ وہ سر ہلا کر موبائل دیکھنے لگئ۔۔
    امتحان ختم ہوں جان چھوٹے۔اوہ نو۔۔ آج اکتیس جولائی تھی ۔
    گوارا چیخ ہی پڑی
    ہاں۔۔ کم سن نے اطمینان نے سے کہا پھر چونکا۔۔
    میں برباد ہوگئ۔ ۔
    آہ ۔۔ ہا آہ۔۔ وہ وہیں زمیں پر سر پکڑتی دھاڑے مارتی بیٹھ گئی۔۔
    مجھے تو یاد ہی نہیں تھا۔۔ ہائے مجھے تو اسائمنٹس بھی اریزہ یاد کراتی تھی۔۔ اس نے آج مجھے نہیں اٹھایا تو میں تو اٹھئ بھی نہیں۔۔۔
    کم سن کو اب صورت حال کی سنگینی کا اندازہ ہوا
    تمہارا پرچہ رہ گیا۔۔ کیا؟
    اس نے افسوس سے پوچھا۔۔
    میرا آج ڈرما ٹولوجسٹ سے اپائنٹمنٹ تھا میں نے یاد دہانی کیلیئے یاد رکھا تھا مجھے جس دن پرچہ دینا تھا اس سے ایک دن پہلے شام کو ڈاکٹر سے ملنا تھا۔۔ میرا اتنی مشکل سے ملا اپائنٹمنٹ کینسل ہو گیا۔۔
    وہ سینے پر ہاتھ مار کر آنسوئوں سے رو رہی تھی۔۔
    ہائے مجھے یاد کیوں نہ رہا۔۔
    کم سن جو گھبرا کر اپنی کرسی سے اٹھ گیا تھا واپس بیٹھا پلیٹ سے گاجر اٹھا کر کترتے طنز سے بولا
    میں سمجھا پرچہ ضائع ہو جانے پر رو رہی ہو۔۔
    پرچہ ضائع ہو جاتا کاش امتحان تو دوبارہ دے لوں گی۔۔ اف کوریا کی تین بہتریں ڈاکٹروں میں سے ایک ہے کم از کم بھی چھے مہینے پہلے اپائنٹمنٹ لینا پڑتا۔۔ اف ایک ایک دن میں نے گن گن کر گزارا تھا۔۔
    اسکا دکھ کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
    چولہے پر چڑھے سوپ نے احتجاج کیا تو اسے رونا موقوف کرکے اٹھنا پڑا۔۔
    اف مجھے چکر آرہے ہیں۔۔
    اس نے سوپ میں چمچ چلاتے ہوئے کہا پھر لہرا بھی گئی۔۔
    کم سن اسکے بالکل پیچھے آکھڑا ہوا تھا۔۔ اسی سے ٹکرا کر سیدھی ہوئی۔۔
    یہ دیکھو۔۔
    اس نے ایک ہاتھ میں پلیٹ پکڑی تھی شاید یہی تھمانے اٹھا تھا۔۔ اور دوسرے ہاتھ سے موبائل میں کھنچی تصویر اسے دکھانے لگا۔۔
    پھوٹ پھوٹ کر روتی بکھرے بالوں میں آنسوئوں سے گیلے چہرے کے ساتھ بھی وہ کافی دلکش لگ رہی تھی۔۔
    اپنے سحر میں وہ خود ہی مبہوت ہوگئ۔۔
    یہ میں ہوں۔۔ اس نے لپک کر موبائل تھاما
    ہاں ایسی بہتی موٹی بھدی ناک تمہاری ہی ہے اس تصویر نے مجھے بھی قائل کر لیا ہے تمہیں واقعی پلاسٹک سرجری کرا لینی چاہیئے۔۔
    سنجیدگی سے بولتے جملے کے اختتام تک وہ گوارا کے دو تین مکے کھا چکا تھا پھر بھی ہنستے ہنستے بات مکمل کر ہی لی۔۔
    زہر انسان ہو تم ۔۔۔ مار کر دل ٹھنڈا نہ ہوا تو زبانی گولا باری کا سہارہ لیا
    وہ ہنسے گیا۔۔
    پیسے کتنے کم رہ گئے ہیں تمہارے۔۔
    وہ چھیڑنے سے باز نہیں آیا
    بقیہ تم دو گے۔۔ وہ بھنا کر سوپ میں چمچ چلانے لگی
    دے بھی سکتا آج تو میرا بھی دل پگھل گیا ہے۔۔
    وہ کہہ کر فورا پیچھے ہوا۔۔ گوارا اسے اندازے کے عین مطابق مارنے دوڑی تھی۔۔
    گر جائیں گی۔۔ اس سے مار کھاتے اس نے ٹیڑھی ہو جانے والی پلیٹ بمشکل بچائی۔۔ گوارا بھی گھورتی سیدھی ہوئی
    یہ لو۔۔ کم سن نے سبزیاں تھمائیں تو اس نے بھی سوپ میں ڈال دیں پھر چمچ چلاتے نخوت سے بولی

    میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا میرے جیسی لڑکی ایک دن کسی شمالی کوریائی جاسوس کیلیئے سوپ بنارہی ہوگی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سنتھیا کے ساتھ صبح ناشتہ کرنے نیچے ہال میں آئی تھی۔۔ اس سے مرضی پوچھ کر اسکا ناشتہ لینے اٹھی تو اریزہ بھی بوفے سے ناشتہ اٹھاتی دکھائی دی۔۔ سبزیوں کا سوپ تھاجس میں نوڈلز ڈالے ہوئے تھے۔۔ ساتھ سادے چاول تھے اس نے ایک پلیٹ میں سادے چاول لیئے تھے ساتھ ایک پیالہ سوپ۔
    وہ اپنی اور سنتھیا کی پلیٹ بنا چکی تب بھی اریزہ کو پر سوچ نظروں سے سوپ میں چمچ چلا چلا کر دیکھتے پایا۔۔
    اس میں گوشت نہیں ہے ہاں چکن کا ٹیسک میکر ڈالا ہوا ہے۔۔
    اس نے اسکی الجھن دور کی۔ اریزہ اچھل ہی تو پڑی۔۔
    کہاں تھیں تم رات بھر میں انتظار کرتی رہی تمہارا۔۔
    وہ پیالہ وہیں رکھ کر اسکے پاس چلی آئی۔۔
    تم کہاں تھیں رات بھر ۔ جے ہی نے الٹا اسی سے سوال کیا۔۔
    میں تمہارے کمرے میں اور تم۔۔ اریزہ نے حیران ہو کر پوچھا
    میں ہاسٹل سے ملحق کلینک میں سنتھیا کے ساتھ تھی۔
    جی۔ہائے بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔
    کیوں۔؟۔وہ بھونچکا ہوئی
    اچھا۔۔ یہ دوسرے ٹرے کس کیلیئے لیکر جا رہی ہو۔۔ اریزہ کی اسکے ہاتھوں پر نظر پڑی تو پوچھ لیا
    یہ سنتھیا کی ہے ۔۔ اسکی کل سے طبیعت خراب ہے بخار ہے میں اسی لیئے رات بھی اسکے پاس ہی رکی۔۔
    جے ہی نے کہہ کر غور سے اریزہ کا چہرہ دیکھا۔۔
    جس کے تاثرات یکدم سپاٹ پڑ گئے تھے۔۔
    اوکے۔۔ اس نے مختصرا کہا پھر پلٹ کر جانے لگی
    ناشتہ نہیں کر وگی؟۔۔ جے ہی نے ٹوکا۔۔
    میں گھر جا کر کر لوں گی گوارا کے ساتھ۔۔
    وہ کہہ کر رکی نہیں تھی۔۔
    اس نے ناشتہ لا کر رکھا تو سنتھیا شکر گزار ہوئی۔۔
    گومو وویو۔۔
    اس نے مسکرا کر کہا تو جی ہائے مسکرا دی۔۔ ماضی کی یاد تازہ ہوئی۔۔
    اریزہ نے ناشتہ نہیں کیا؟۔۔ چاول کھاتے بظاہر سر سری سے انداز میں اس نے پوچھا۔۔
    نہیں چلی گئ وہ۔۔ بتایا تو تھا اسے تمہارہ طبیعت کا
    جے ہی بھی سرسری ہی انداز اپنایا۔۔
    میری طبیعت کا سن کر بھی پوچھنے نہیں آئی۔
    وہ دھیرے سے بولی۔۔ جی ہائے کو اسکی بات اردو میں ہونے کی وجہ سے سمجھ نہ آئی سو کندھے اچکا کر ناشتہ کرنے میں مگن ہوگئ۔۔
    اگزیم کیسے جا رہے تمہارے۔۔
    اس نے سر اٹھا کر ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔۔
    اچھے ہمیشہ کی طرح۔۔
    وہ پر اعتماد انداز میں بولی۔۔
    سنتھیا اسکے انداز پر ہنسی۔۔
    اریزہ بھی اتنی ہی پر اعتماد رہتی ہے اگزیمز کی اسے کبھی فکر نہیں ہوتی ۔۔ بلکہ وہ تو پر جوش ہو جاتی ہے کوئی حیرت نہیں جو وہ اتنی بر ی طرح مایوس ہوئی ہے ۔۔
    سنتھیا کے کہنے پر جی ہائے نوالہ چباتے بہت غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔
    اریزہ تمہاری بہت اچھی دوست ہے نا۔ تم اسے پسند کرتی ہو تو منا کیوں نہیں لیتی دور کرو اپنا جھگڑا۔۔
    جی ہائے نے کہا تو سنتھیا مسکرا کر بولی۔۔
    میں اسے پسند نہیں کرتی۔۔ بلکہ۔۔وہ رکی۔۔
    میں اس سے محبت کرتئ ہوں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے پارکنگ میں گاڑی سے ٹکے ہایون کو محو انتظار پایا۔۔
    اسے دیکھ کر وہ فورا سیدھا ہوا تھا۔۔
    آننیانگ۔۔ اریزہ نے سلام کیا
    اسلام و علیکم۔۔۔ ہایون بھی اسکے ساتھ ہی بولا۔۔
    دونوں اس اتفاق پر ہنس پڑے۔۔
    کیسی ہو۔۔
    کیسے ہو۔۔
    ابھی بھی دونوں اکٹھے بولے تھے۔۔
    اف۔۔
    چلو۔۔ ہایون نے کہا تو
    اریزہ سر ہلاتی گاڑی کے فرنٹ ڈور کی طرف بڑھی۔۔
    ہایون مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
    وہ فرنٹ سیٹ کی طرف گئی پھر سر پر ہاتھ مار کر واپس آئی۔۔ ہایون نے لبوں پر مسکراہٹ دباتے پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا۔۔
    اب تم پسنجر سیٹ کی طرف کیوں کھڑے تھے۔۔
    اس نے بھنا کر اپنی کھسیاہٹ مٹائی۔۔
    وہ کچھ نہ بولا احتیاط سے دروازہ بند کر کے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آیا۔۔ اب وہ کھل کر مسکرا رہا تھا۔۔ بیٹھتے ہی سیٹ بیلٹ لگائی
    اریزہ کو بھی ہنسی آگئ۔
    وہ گاڑی اسٹارٹ کرتے کرتے رک کر اسے دیکھنے لگا۔۔
    کیا ہوا؟۔۔
    وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔
    سیٹ بیلٹ۔۔
    اس نے ٹوکا۔۔
    اف ۔۔ ایک تو یوں بندھ کر بیٹھنا کتنا برا لگتا۔۔
    وہ اردو مین بڑ بڑاتی مڑ کر سیٹ بیلٹ کھینچ کر لگانے لگی۔۔
    کم از کم ایک فائدہ ہوگا اب تم پاکستان جا کر بھی سیٹ بیلٹ لگایا کرو گی۔۔
    ہایون اترا کر بولا۔۔
    تم پاکستانیوں کو ہلکا لے رہے ہو۔۔ ہم فطرتا باغی ہیں۔۔
    وہ بھی شرارت سے ہنسی۔۔
    تم کورین کو جان لو۔۔ مستقل مزاج ہوتے ۔۔
    وہ ترکی بہ ترکی بولا۔۔
    ناشتہ کیا ہے تم نے؟۔۔
    اس نے پوچھا تو اریزہ فورا نہیں کہتے کہتے رک گئ۔۔
    ہاسٹل میں کیا کھایا ہوگا۔۔ چلو ناشتہ کرتے ہیں۔۔
    وہ خود ہی بولا۔۔
    کیا کھائیں گے۔۔
    اریزہ منہ بنا کر بولی۔۔
    کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اچھا کھانے کے پیچھے ندیدی ہو جائوں گی۔۔حسب عادت وی آدھی انگریزی آدھی اردو زبان ملا کر بولی
    واٹ ندیدی۔۔؟۔۔
    ہایون نے دلچسپی سے پوچھا۔۔
    ایک تمہیں کیا ہر بات کا مطلب جاننا ہوتا۔۔ وہ ابھی بھی اردو میں چڑی۔۔
    سچ بتائو اردو تو نہیں سیکھ رہے ہو پاکستان جا رہے ہو؟۔۔ دھماکے ہوتے ہیں وہاں۔۔ دو دن نہیں ٹک پائو گے۔۔ دوڑے دوڑے واپس آئو گے ۔
    وہ انگریزی میں اسے ڈرا رہی تھی۔۔
    ہایون کھل کر ہنسا۔
    تم لوگ بولتے ہی اتنا ٹھہر ٹھہر کر ہو۔۔ میں نے انڈین موویز بھی دیکھی ہیں مگر قسم لے لو زرا جو کوئی ہندی کا لفظ جان پایا۔۔ تم سے کئی لفظ سیکھ لیئے۔
    پٹاتی۔۔ پاگل۔۔ کھانا کھانا ۔۔ندیدی۔۔ دماغ ۔۔ ظارف(ظرف)۔۔ عقل۔۔ وہ گنوا رہا تھا اریزہ کی آنکھیں بڑی سے بڑی ہوتی جا رہی تھیں۔۔
    تمہیں انکا مطلب پتہ؟۔۔
    کچھ کا ظارف کا مطلب نہیں پتہ۔۔ گوگل کیا تھا مگر کچھ خاص سمجھ نہیں آیا۔۔ اور ندیدی کو آج گوگل کروں گا۔
    وہ اطمینان سے بتا رہا تھا۔۔
    مجھے تو اتنے دن میں بس گومو وویو اور آننیانگ ہی یاد ہوئے۔
    وہ متا ثر ہوئی۔۔
    سارانگھئے بھئ سیکھ لو۔۔
    وہ موڑ کاٹ رہا تھا۔۔ اریزہ نے اسے لبوں پر مسکراہٹ دباتے دیکھا تو مشکوک ہوئی۔۔
    کوئی گالی ہے یہ؟۔ ویسے یہ سب جو لفظ تم نے مجھ سے سیکھے ہیں ان میں ایک بھی گالی نہیں۔۔
    اس نے جتایا۔۔
    مگر مجھے اردو کی گالیاں بھی آتی ہیں۔۔
    ہایون ہنسا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اسے ایک غیر ملکی ریستوران لایا تھا۔۔
    سبزیوں کے سینڈوچ کیک اور فروٹ سیلڈ ساتھ فریش اورنج جوس۔۔
    ناشتہ سب میٹھا میٹھا تھا مگر مزے کا تھا۔۔
    دونوں خاموشی سے کھا رہے تھے۔۔
    اسکو اردومیں کیا کہتے۔۔
    وہ ایووکاڈو کانٹے میں پھنسائے تھا۔۔
    یہ وہاں ہوتا ہی نہیں ہے۔۔
    وہ ہنسی۔۔
    واقعی۔۔ وہ حیران ہوا۔۔
    اسٹاربری بھی وہاں اب کاشت ہونے لگی ہے ورنہ ہم بس فلیور اور کین پر گزارا کرتے تھے۔۔
    اس نے کندھے اچکائے۔۔
    وہاں کونسا پھل ہوتا۔؟۔۔
    آم مالٹا کیلا سیب انار ۔۔ وہ سلاد میں سے ایک ایک چن کر اسے بتا رہی تھی۔۔
    یہ سب یہاں بھی ہوتا ہے تمہیں زیادہ فرق نہیں لگا ہوگا یہاں آکر۔۔
    وہ جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا پوری آنکھیں کھولے اس سے تائید چاہ رہا تھا۔۔
    ہمم۔ وہ سمجھی نہیں ویسے ہی کندھے اچکا دیئے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یونیورسٹی کے کیمپس کی طویل مگر سنسان سی راہگزر پر لیمپ پوسٹ کی مدہم روشنی میں نپے تلے قدم اٹھاتے ٹہلتے اس نے درجنوں دفعہ ایڈون کا چہرہ تکا تھا۔
    وہ بالکل۔خاموشی سے اسکا ساتھ دے رہا تھا۔ گا ہے بگا ہے اسکی اپنی جانب اٹھتی نگاہ محسوس کرنے کے باوجود بھی چپ ۔۔ اتنا چپ کے سنتھیا کو۔جھلاہٹ سی ہونے لگی۔
    میرے بابا تمام پڑھائی کا خرچ اٹھا لیں گے کیوں اتنا پریشان ہو رہے ہو۔
    اس نے کہہ ہی دیا۔ ایڈون نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔
    مگر مجھے انکل آنٹی پر بوجھ نہیں بننا۔ وہ ویسے ہی ہماری فیملی پر بہت احسان کر چکے ہیں۔
    اسکا انداز قطعی سا تھا۔
    ہم ہاسٹل کی بجائے کوئی کمرہ دیکھ لیتے ہیں۔ قریب ہی کہیں۔
    سنتھیا نے ایکدم سے کہا تھا۔
    کیوں؟ اور تم کیوں رکنا چاہ رہی ہو؟ دو سال ضائع ہو جائیں گے تم جاکر اپنی ڈگری تو مکمل کرلو۔
    تم کیوں رکنا چاہ رہے ہو۔ سنتھئا چڑ کر بولی۔
    تم نے پڑھائی مکمل کرکے گھر کا خرچہ اٹھانا ہے میرے ماں باپ کا احسان بھی نہیں لینا تو یہاں دو سال ضائع کرنے کی بجائے اپنا وقت اور پیسہ کیوں نہیں بچاتے؟
    وہاں ڈگریاں لیکر لوگ بے روزگار پھر رہے ہیں یہاں دو سال میں سیٹ ہونے کی کوشش کروں گا۔ کچھ کمالوں گا کچھ جوڑوں گا۔یہاں کی ڈگری ہوگئ تو کوئی اہمیت بھی ہوگی ڈگری کی۔
    سنتھیا کے برعکس وہ رسان سے سمجھا رہا تھا۔
    تم یہاں آنے تک کو تیار نہیں تھیں۔ یہاں ہاسٹل میں رہنا مشکل تھا تمہارے لیئے تم تو آرام سے اپنی ڈگری مکمل کرو نا جا کے۔
    میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔
    وہ ضدی پن سے بولی۔
    پھر وہی بات۔ وہ تھوڑا جھلایا۔
    ہم نے ساتھ ہی رہنا ہے زندگی ساتھ گزارنی ہے۔اور مجھے اسی لییے مستقبل کا سوچنا ہے۔ وہاں میرے لیئے مواقع محدود ہیں۔
    بابا پیسے بھیجتے تو ہیں۔ ہم کوئی چھوٹا سا فلیٹ لیکر رہ سکتے ہیں۔
    سنتھیا کے کہنے پر وہ یوں دیکھنے لگا جیسے اسکا دماغ چل گیا ہو۔۔
    کیا ہو گیا ہے؟ ہم اکٹھے ایک گھر لیکر کیسے رہ سکتے ہیں۔ گھر والے الٹا لٹکا دیں گے ہمیں۔
    وہ ہلکے پھلکے انداز میں بات گھمانے کی غرض سے بولا۔
    کیوں انکو کیا پتہ چلے گا؟ ۔ وہ رک کر اسکا بازو تھام کر بولی۔
    سنتھیا کیا بے وقوفی کی۔باتیں کر رہی ہو۔
    ایڈون کو غصہ آنے لگا تھا۔
    ہم شادی کر لیتے ہیں نا۔ ۔ چرچ میں چل کر۔ پھر تو گھر والے اعتراض نہیں کریں گے۔
    جانے اسکے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔ ایڈون زچ ہوگیا
    کیا خناس سمایا ہے دماغ میں۔ ۔اور شادی کہاں سے آگئ ؟
    اکیس سال کے ہیں ہم بس ابھی۔ شادی وادی کے چکر میں کم از کم میں تیس ایک سال کی عمر تک پڑوں گا۔ ابھی مجھے پڑھنا ہے کیریئر بنانا ہے۔ اور تم بھئ ان فضول باتوں میں لگنے کئ بجائے۔۔۔۔۔
    کیوں؟ اکیس سال کی عمر میں ہم ایک ہو سکتے ہیں تو شادی کیوں نہیں کر سکتے؟
    وہ اسکا بازو چھوڑ کر ایکدم سے چلائی۔
    ایڈون لمحہ کو چپ سا ہوا۔
    محبت کرنے افئیر چلانے اور۔۔ وہ بولتے بولتے لحظہ بھر رکی۔۔ الفاظ لبوں تک آ کر دم توڑ گئے۔۔
    سب چیزوں کیلئے عمر مناسب ہے شادی مگر اگلے دس سال بعد کرنئ کیوں۔۔
    کیا ہوا ہے تمہیں اتنی جھلاہٹ اتنا غصہ کیوں آرہا ہے تمہیں۔
    ایڈون حیران سا ہو کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے پوچھنے لگا۔
    ہم دونوں پاکستان چلیں گے یا یہیں شادی کرکے اکٹھے رہیں گے۔ اب تم فیصلہ کرو کیا کرنا۔
    وہ ضدی پن سے بولی۔
    نہ میں پاکستان جائوں گا نہ ابھی شادی کروں گا۔ پاگل ہوئی ہو کیا تم
    اسے غصہ آگیا تھا۔
    کیوں تم مجھ سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتے۔
    وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر بولی
    شادی شادی۔۔ کوئی اندازہ ہے کوریا کتنا مہنگا ملک ہے۔ تعلیم دونوں کی ادھوری ہے۔ خرچہ کہاں سے اٹھائیں گے۔
    اسکو ٹھیک ٹھاک تپ چڑھ چکی تھی۔
    میں بابا سے کہوں گی وہ۔ذیادہ پیسے بھیج دیاکریں گے۔
    اسکا انداز ہٹیلا تھا۔
    مرضی تمہاری جتنے پیسے منگوائو جیسے مرضی خرچ کرو۔
    ایڈون نے گہری سانس لیکر خود کو۔پرسکون کیا۔
    تم مجھے پاکستان واپس بھیج کر یہاں اکیلے کیوں رہنا چاہتے ہو۔
    اسکا انداز غصہ دلانے والا تھا
    بھاڑ میں جائو تم ۔میں تمہارے بھلے کو۔کہہ رہا تھا آگے مرضی تمہاری۔ نہیں جانا نہ جائو۔
    وہ اپنی طرف سے بات ختم کرکے واپس ہاسٹل جانے کو مڑا۔ چند لمحے اسے لمحہ بہ لمحہ خود سے دور جاتے دیکھتی سنتھیا بے چین سی ہوئئ۔۔۔
    یوں لگا وہ اسکی زندگی سے بھی نکلتا جا رہا ہے۔
    ایڈون۔۔
    اس نے حلق کے بل پکارا۔
    ایڈون چلتے چلتے رکا۔۔۔
    اسکی پشت تکتے اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیل ڈالا۔
    میں پریگننٹ ہوں۔۔
    اس نے چلا کر کہا تھا۔ ایڈون کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔ بے اختیار مڑ کر دیکھا۔
    میں ہمارے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔ اب تو تم مجھ سے شادی کرلوگے نا؟۔۔۔
    سنتھیا مسکرا کر پوچھ رہی تھی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔

    Kesi lagi Salam Korea ki yeh qist ?Rate us

    Rating
  • Salam Korea Episode 20

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi

    قسط20

    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea. Bookmark : urduz.com kuch acha perho Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy Episode urdu adab, urdu digests, raja gidh, urdu novels list, raqs e bismil novel, novels in urdu pdf, urdu books, best urdu novels, famous urdu novels, free urdu digest, naseem hijazi, best urdu novels list, raja gidh pdf, urdu books library, new urdu novels, jangloos, list of urdu books, urdu story books, bano qudsia books, pdf urdu books, famous urdu novels list, best pakistani novels in urdu, urdu stories pdf, naseem hijazi novels, urdu novels online, udaas naslain, best urdu novels pdf, latest urdu novels, short novels in urdu,, romantic story urdu, urdu best books, best urdu books to read, pakeeza anchal online reading, ismat chughtai books, urdu digest novels, urdu books online, urdu literature books
    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea. Bookmark : urduz.com/ kuch acha perho Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy

    صبح سورج کی کرنیں اسکے منہ پر پڑیں تو اسکی آنکھ کھلی۔۔ اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دی تھیں۔۔ سیدھا لیٹے لیٹے اسکی گردن اکڑ گئ تھی۔۔ اس نے کراہ کر اپنی گردن سیدھی کی اور سہلانے لگا۔۔ سر کھجاتا سیدھا ہوا تو چونکا۔۔ وہ اپنے بیڈ سے نہیں اٹھا تھا۔۔ اس نے چونک کر برابر میں نگاہ کی۔ وہ ابھی بھی بے خبر سوئی تھی۔شاپر کو کسی ٹیڈی بئر کی طرح سینے سے لگائے بچوں کی طرح پرسکون اور گہری نیند سوتی بے حد معصوم سی لگ رہی تھی۔
    وہ اسےیونہئ دیکھتا رہ گیا تھا۔۔
    اسکا الارم بجا تھا آٹھ بج گئے تھے۔۔ وہ چونک کر ہڑ بڑا کر فون اٹھانے لگا۔ فورا بھی بند کرتے کرتے بھی اتنا شور مچ چکا تھا کہ اس سلیپنگ بیوٹی کی آنکھ کھل ہی گئ۔۔
    کسمسا کر اس نے آنکھیں کھول دی تھیں۔۔
    پہلی نظر ہایون پر ہی پڑی تھی۔۔
    اس کی پوری آنکھیں کھل۔گئیں۔۔ارد گرد اجنبی ماحول دیکھا وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔
    گڈ مارننگ۔۔ ہایون نے خوشگوار مسکراہٹ سے اسے وش کیا۔۔
    میں گاڑی میں ہی سو گئی تھی۔۔ وہ حیران ہوئی۔
    ہاں۔۔ ہایون اسکی حیرت پر ہنسا۔۔
    تو اٹھا دیتے۔۔ وہ بولتی اب گاڑئ سے باہر جھانکتی جگہ پہچان رہی تھی۔۔ یہ گوارا والی بلڈنگ تو نہیں تھی۔۔
    بہت کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اس نے سادگی سے کہا تو وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگ گئی۔۔
    میں بڑبڑائی تو نہیں۔۔۔ اسکے لب نیم وا سے ہوئے۔۔اپنی گہری نیند سے اسے یہی خوف لاحق رہتا تھا
    بےفکر رہو سمجھ نہیں آیا مجھے جو بھی کہا تم نے۔۔ وہ اسکی حیران نگاہوں کو محظوظ سے انداز میں دیکھ رہا تھا۔
    شکر ہے۔ اس نے سکھ کا سانس لیا۔
    یہ ویسے کونسی جگہ ہے؟ اس نے اچک اچک کر باہر دیکھا۔جدید طرز کا خاصا بڑا بنگلہ تھا۔۔
    یہ میرا گھر ہے۔۔ چلو فریش ہو جائو۔ ناشتہ۔کر لو پھر تمہیں گھر چھوڑ آتا ہوں۔۔
    وہ سہولت سے کہتا اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکال کر کھڑا ہو گیا۔۔
    وہ انکار کرنا چاہتی تھی مگر اس نے موقع نہیں دیا تھا سو خاموشی سے خود بھی باہر نکل آئی۔۔
    گومو وویو۔۔
    اسے نکلتے دیکھ کر ہایون اسکی رہنمائی کو اسکے آگے چلنے لگا۔۔ جب اس نے جھک کر اسے کہا۔۔
    وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا تو اریزہ کو احساس ہوا۔۔
    نہیں۔۔ آنیو۔۔ اسکی ار دو اور ہنگل آپس میں ٹکرا گئیں۔۔
    معزرت۔۔ اس نے انگریزی کا سہارا لیا۔
    میری وجہ سے تمہیں کافی تکلیف اٹھانی پڑی۔۔۔ وہ سوچ سوچ کے بول رہی تھئ ہایون نےاسکی بات اچک لی
    گاڑی میں سوئے۔۔ زندگی میں پہلی بار اپنے ہی گھر کے گیراج میں۔
    وہ سنجیدہ ہوا۔ اریزہ فق چہرے سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
    ایم سوری۔ وہ حقیقتا شرمندہ ہوئی۔۔
    وہ سنجیدگی بھلا کر ہنس پڑا۔۔
    جسٹ جوکنگ چلو اندر تو چلو۔
    اریزہ نے سر ہلا کر اسکی تقلید کی۔
    اسے اندازہ تو تھا ہایون امیر ہے مگر اتنا امیر۔۔
    کیا عالیشان گھر تھا اسکا۔۔ تین ملازموں نے محض اندر لاونج تک آتے جھک کر سلام کیا تھا۔۔ قیمتی فرنیچر اور پچاس انچ ایل ای ڈی سے سجا لائونج دیدہ زیب فانوس بیچوں بیچ جھول رہا تھا۔۔
    ۔۔ کوریائی طرز تعمیر میں بنا گھر جو وسیع و عریض ہونے کے باوجود جگہ کے لحاظ سے شائد اسکے ہی۔گھر کے برابر ہوگا۔۔ مگر قیمت کے لحاظ سے ہر چیز انمول ہی لگ رہی تھی۔۔ وہ بہت شوق سے اسکا گھر دیکھ رہی تھئ۔۔ ہایون نے اسکی دلچسپی دیکھی تو اسے تعارف کراتا لایا یہ اس طرف کچن ہے یہ اس طرف لابی اور پچھلے لان کا دروازہ وہاں گلاس وال سے سوئمنگ پول بھی نظر آرہا تھا۔۔ سیڑھیاں چڑھ کر ایک جانب انی کا کمرہ تھا دوسری جانب اسکا وہ سر ہلا رہی تھی۔۔

    Shop Amazon – Create an Amazon Baby Registry

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اسے مہمان کمرے میں لے آیا تھا۔۔
    تم فریش ہو جائو۔۔ اسے دیکھتے خیال آیا۔۔ تو ایک منٹ رکنے کا کہہ کر پلٹ گیا۔۔
    وہ یونہی کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔ کھلا ڈلا سا کمرہ تھا نہ فرنیچر کی زیادتی نہ کمی مناسب سا آرام دہ بیڈ ایک جانب صوفے بڑی بڑی فرنچ ونڈو جن پر سے بھاری پردے ہٹے تھے اور باریک پردوں سے چھن چھن کر آتی دھوپ کمرہ کو روشن کر رہی تھی۔۔
    یہ لو۔۔ وہ ہینگ ہوا جوڑا لایا تھا۔
    گرے اور پنک کنٹراسٹ لانگ اسکرٹ اور لانگ سا بلائوز ساتھ ہی میچنگ پرنٹڈ اسکارف ۔۔
    یہ ۔۔ وہ حیران رہ گئ۔۔
    نونا کے ہیں۔۔ اس نے مسکرا کر بتایا۔۔
    شکریہ۔۔ اسکا شاور لینے کا دل کر تو رہا تھا۔۔
    تم فریش ہو جائو میں بھی فریش ہو کر آتا ہوں۔۔ وہ کافی با ادب تھا۔۔
    اریزہ اسکی میزبانی سے کافی متاثر ہوئی تھی۔۔
    باتھ روم بھی کافی کھلا ڈلا تھا۔۔
    ایک جانب باتھ ٹب شیمپو کنڈشنر نجانے کیا کیا پراڈکٹس۔۔ وہ رشک سے دیکھتی رہی۔۔
    نہا کر تیار ہو کر باہر نکلی بال تولیہ سے خشک کیئے۔۔
    زندگئ میں پہلی بار مغربی طرز کی لانگ اسکرٹ پہنی تھی سو خود کو آئنے میں گھوم گھوم کر دیکھ رہی تھی۔۔
    اسکارف ۔۔ ہاتھ میں پکڑتے اسے ہنسی سی آئی۔۔
    اسکا دوپٹہ کافی مشہور ہوتا جا رہا تھا۔۔ اس نے اپنے کپڑے تہہ کر کے ڈریسنگ ٹیبل سے ایک شاپر نکال کر اس میں رکھے جب اسکے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔۔
    یس۔ اسے اندازہ تھا ہایون ہی ہوگا۔ اسکا اندازہ درست تھا۔۔
    ہایون کی معیت میں وہ کچن میں چلی آئی۔۔
    اسے بتا دو کیا کھانا۔۔ ملازمہ اسکے سامنے جھک کر مئودب ہوئی۔۔

    میں خود بنا لوں ناشتہ؟۔۔ اس نے مڑ کر ہایون سے اجازت مانگی تھی۔۔

    ………………………………………………………..
    ہایون نے ملازمہ کو بھیج دیا تھا۔۔ ملازمہ اسکی فرمائش کردہ سب اشیاء فراہم کر کے ہی گئ تھی۔
    وہ تندہی سے آٹا گوندھ رہی تھی۔۔ ہایون کچن میں ہی موجود میز کرسی پر بیٹھا مٹھی پر تھوڑی جمائے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔۔
    تم نے اس دن جو کھائی تھی نا وہ روٹی تھی۔ اسے ہم روٹی کہتے۔۔ آج اس پر گھی بھی ہوگا تو یہ بن جائے گا پراٹھا۔۔
    وہ اسے بتاتئ بھئ جا رہی تھی۔۔
    آملیٹ کھاتے ہو نا؟۔ اس نے مڑ کر پوچھا۔۔ ہایون نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
    میرے ہاتھ کا کھا کے دکھائو تو مان جائوں۔۔ وہ کہتے ہوئے زور سے ہنسی تھی۔۔
    کیوں؟۔۔ ہایون نے پوچھا تو وہ مزے سے بولی۔۔
    دیکھنا۔۔ ویسے میں تمہارے لیئے علیحدہ آملیٹ بنائوں گی۔۔
    اس نے ایک انڈے میں پیاز پنیر اور نمک مرچ ڈال۔کر پھینٹ دیا تھا۔ اب جلدی سے پراٹھے تل رہی تھی۔۔ اس نے ہاتھ پر پراٹھا بڑھا کرفرائی پان پر ڈالا۔تو ہایون کو لگا اس نے ہاتھ ہی رکھ دیا ۔۔
    دیکھ کر۔۔ وہ بے ساختہ چلایا اور بھاگ کر قریب آیا۔
    اریزہ زور سے ہنسی

    دیکھنا میں ابھی اسے ہاتھ سے ہی پلٹ دوں گی۔۔
    اس نے گردن اکڑائی پھر ہاتھ سے ہی پلٹ کر دکھایا۔۔
    وہ ایک بڑے سے فرائینگ پین میں تل رہی تھی ۔۔
    ہمارا توا ہوتا۔۔ یہاں تو شائد نہیں ہوتا ہوگا۔۔ اسکے ایسے کنارے نہیں ہوتے۔۔ یہاں آکر فرائینگ پین پر پراٹھے بنا بنا کر عادت ہو گئ ہے۔۔
    اس نے اسکا پراٹھا بنا کر ایک طرف رکھ دیا۔۔
    پھر اسکیلئے آملیٹ تل کر میز پر سجا کر رکھ دیا۔۔
    شروع کرو گرم گرم میں تب تک اپنا بنا کر آتی۔ہوں۔۔
    اس نے کہا تو ہایون نے اصاف منع کر دیا۔۔
    تم بھی بنا لو اکٹھے ناشتہ کریں گے۔۔
    ٹھنڈا اچھا نہیں لگے گا۔۔ اریزہ نے کہا تو وہ الٹا حیران ہو گیا۔۔
    گرم کیسے کھایا جائے گا؟۔۔ اسکو ہاتھ سے کھانا ہے نا؟۔۔
    اب بحث بے کار تھی اس نے بس سر ہلا دیا۔۔ ایک طرف ابلتے دودھ میں پتی ڈالی ایک طرف پراٹھا ۔۔ وہ پوری طرح مصروف تھی اسکی پھرتی ہایون کافی حیران سا دیکھ رہا تھا۔۔
    اب بننے لگا تھا اریزہ کا آملیٹ۔۔
    اس نے ٹماٹر پیاز کاٹ کر تیل میں گرم کیا۔۔ تھوڑی سے پیاز تل گئ تو ہری مرچ کاٹ کرچھڑک دی اب بھر بھر کر نمک مرچ ڈلا۔۔ ہایون کی آنکھیں پھیل کر بر صغیر کے لوگوں جیسی ہو گئیں۔۔
    تھوڑی پنیر اوپر سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے ڈالی گھی پہاز ٹماٹر گھی چھوڑ چکے تو اس نے علیحدہ سے اوپر انڈہ توڑ کر ڈال دیا۔۔ جب تھوڑا سا فرائی ہو گیا تب زردی توڑ دی۔۔
    ہم اسکو پھینٹ کر ڈالتے جیسے ابھی تم نے میرے لیئے بنایا۔۔ وہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔۔
    ہم بھی۔۔ مگر یہ۔میری خاص ترکیب ہے
    ۔ اریزہ کھلکھلائی۔۔ انڈہ تیار ہو چکا تھا بھاپ اڑاتا انڈا پراٹھا۔۔ اس نے جلدی سے دو کپ چائے نکالی اور میز پر لا۔کر سجا دی۔۔
    چلو۔۔ بسم اللہ۔ اس نے مصروف سے انداز میں کہتے بھاپ اڑاتے پراٹھے کا نوالہ توڑا اپنے گرم گرم آملیٹ سے نوالہ بنایا منہ میں رکھا ساتھ ہی چائے کا بھی گھونٹ بھر لیا۔۔
    ہایون اسے دیکھ رہا تھا تو اس نے منہ چلاتے ہوئے اس سے آنکھوں سے اشارے سے پوچھا کیون نہیں کھا رہے۔۔
    اس نے اریزہ کی دیکھا دیکھی نوالہ بنا کر منہ مین رکھ لیا۔۔ کافی جھجکتے ہوئے نوالہ منہ میں ڈالا تھا مگر اتنا برا کوئی تجربہ نہ ہوا۔۔ چائے کے نام پر جو دودھ پتی بنا کر دی تھی وہ بھی ذائقے میں بری نہیں تھی۔۔
    اچھا ہے۔۔ اسے واقعی مزے کا لگا تھا۔۔
    وہ مسکرا دی۔۔ وہ مگن سے انداز میں ناشتہ کر رہی تھی جب ہایون نے نوالہ توڑ کر ہاتھ بڑھا کر اسکی پلیٹ سے نوالہ بنا لیا۔۔
    اریزہ چونکی پھر اپنی پلیٹ تھوڑا سا اسکی جانب کھسکا دی۔۔
    اس نے نوالہ چبایا پھر اسکے منہ کے زاوئے دیکھنے والے تھے۔۔ اس نے چبا کر نگل ہی لیا مگر اسکی آنکھیں سرخ ہو گئیں بری طرح کھانسی لگ گئ۔۔
    کین چھنا۔ اریزہ گھبرا کر خیریت پوچھنے لگی۔۔
    ۔ اسے بہت زور کا پھندا لگا تھا۔۔ وہ اٹھنا چاہ رہا تھا شائد فریج سے پانی لینے۔۔
    بیٹھو میں پانی لاتی ہوں۔۔
    وہ جلدی سے اٹھ گئ۔۔ گلاس بھر کر لائی اتنی ہی دیر میں اسکا کافی براحال ہو گیا تھا۔۔
    اریزہ نے گلاس تھمایا تو ایک سانس میں پو را پی گیا تھا۔۔
    اتنی مرچیں تم کیسے ۔۔ وہ کہہ کر پھر کھانسنے لگا۔۔
    اسکے منہ میں ابھی بھی آگ سی لگی تھی۔۔
    بیانئے۔۔ وہ شرمندہ ہوئی۔۔
    مجھے میری امی بھی کافی ڈانٹتی ہیں اتنی ہری مرچ نہ کھایا کرو۔۔
    ہایون ابھی بھی منہ کھول کھول کر ہانپ رہا تھا۔۔
    ایک۔منٹ۔۔ اسے خیال آیا۔۔ جھٹ سے نوالہ توڑا
    میز پر موجود پنیر سے نوالہ بنا کر اسکے منہ میں دے دیا۔
    پنیر منہ میں گھلی تو مرچیلہ ذائقہ مندمل ہونا شروع ہوا۔۔
    اسکے سرخ ہوتے چہرے کی رنگت بحال ہونا شروع ہوئی۔۔
    گومو وویو۔۔ وہ کافی شکر گزار ہوا۔
    اریزہ مسکرا دی۔۔
    یہ ویسے کافی گھی والا ناشتہ نہیں؟۔۔ میرا مطلب ۔۔ وہ گڑ بڑایا۔۔ برا نہ مان جائے اسکے علاقے کی پسندیدہ خوراک کو ٹوکنا۔۔
    تم لوگوں کی صحت اچھی ہوگی۔۔
    اریزہ ہنس دی۔۔
    ہم موٹے ہوتے۔۔ سب کے اتنے اتنے پیٹ باہر۔۔
    اس نے مزاحیہ انداز میں کہا تو ہایون بھی ہنس پڑا۔۔
    مگر یہ ہے بہت مزے کا یہ الگ بات مجھے آج جم میں زیادہ دیر کام کرنا پڑے گا۔۔ وہ آدھا پراٹھا کھا کر چھوڑ چکا تھا۔۔ اریزہ البتہ مزے لے کر پراٹھا ختم کر رہی تھی۔۔ اس نے بڑی تمیز سے انڈا سمیٹا تھا آخری نوالے میں۔۔
    ہایون سے چائے بھی ختم نہیں ہو رہی تھی۔۔
    چھوڑ دو اگر نہیں پی جا رہی۔۔ اریزہ نے اسکی مشکل سمجھ لی تھی
    نہیں۔۔ وہ کھسیایا۔۔
    پھر چائے ختم کر ہی لی۔۔
    میں کمرے سے موبائل لے آئوں چارجنگ پر لگا ہے پھر چلتے ہیں۔۔ اس نے کہا تو اریزہ نے سر ہلا دیا۔۔ وہ موبائل لینے چلا گیا تو اس نے حسب عادت میز سمیٹنی شروع کر دی۔۔
    جھوٹے برتن اٹھا کر سنک میں رکھ رہی تھئ جب کوئی ایکدم سے آکر اسکے پیچھے کچھ بولا۔۔
    گنگشن۔۔
    اسے پورے جملے میں بس یہی سمجھ آیا۔۔
    وہ فورا پلٹی۔۔
    وہ شائد ہایون کی امی تھیں۔۔ گوری چٹی لانگ سکرٹ اور بلائوز میں ملبوس اسے دیکھ کر حیرت سے گنگ ہی ہو گئیں۔۔
    تم کون ہو۔۔وہ ابھی بھی ہنگل میں ہی بولی تھیں۔۔
    اسلام و علیکم۔۔ اس نے سر کو ہلکا سا خم دے کر پر تپاک سلام جھاڑا۔۔
    وہ اور حیران ہوئیں۔۔
    اسے خیال آیا۔۔
    آننیاگ ہاسے او۔
    اس نے اب کوریائی طرز کا جھک کر سلام جھاڑا۔
    میں ہایون کی کلاس فیلو ہوں۔ اریزہ نام ہے میرا۔۔
    اس نے انکی الجھن دور کرنا چاہی۔۔
    آپ شائد اسکی والدہ۔۔ وہ اندازہ لگا رہی تھی جب اسے عجیب سی نظر سے دیکھتے دیکھتے وہ یکدم پلٹ کر سیڑھیوں سے اتر کر انکے پاس آتے ہی ہایون کو گھورنا۔۔ شروع کر دیا تھا
    مجھے آج تک شک ہی تھا تم لی جیانگ کے بیٹے ہو مگر آج تم نے ثابت کر ہی دیا۔۔ تیسری دنیا کی تیسرے درجے کی لڑکی ہی ملی تھی عیاشی کرنے کیلیئے اوپر سے اسے اٹھا کر گھر بھی لے آئے۔۔
    وہ حلق کے بل چلائی تھیں۔۔ ہایون کا چہرہ ایکدم سرخ پڑا تھا۔۔
    دفع ہو جائو ابھی اور اسی وقت اس لڑکی کو لے کر اور آئندہ جو بھی عیاشی کرنی ہو گھر کے باہر کرکے آنا سمجھے۔۔
    اریزہ کو انکا ایک لفظ سمجھ نہیں آیا تھا مگر انکا طیش سے سرخ پڑا چہرہ اور زہر زہر لہجہ غماز تھا کہ وہ اسکی یہاں موجودگی پر ہی چراغ پا ہوئی ہیں۔۔
    ہم جا ہی رہے ہیں۔۔ اس نے لب بھینچ کر کس طرح اپنے طیش پر قابو کیا تھا وہی جانتا تھا۔۔
    آنٹی ہایون کی کوئی غلطی نہیں وہ بس میں۔۔ اس نے صفائی دینی چاہی وہ غصے سے بل کھاتی اسے مڑ کر گھورنے لگیں تو باقی الفاظ اسکے منہ ہی میں دم توڑ گئے زہن صفا چٹ ہو گیا۔۔
    وہ شاید انگریزی سمجھ بھئ نہیں سکتی تھیں۔۔
    چلو اریزہ۔۔ ہایون اسے کہتا تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکلتا چلا گیا۔۔
    وہ سٹپٹا کر ہاتھ مسلتی دیکھتی رہ گئ۔۔ وہ خاتون اب بھی اسے شرر بار نظروں سے گھور رہی تھیں۔۔
    خدا حافظ۔۔
    اس نے کہہ کر بڑھنا چاہا۔۔ پھر خیال آیا۔۔مڑی۔
    گڈ بائے۔۔
    وہ یونہی کھڑی گھور رہی تھیں۔۔
    آننیانگ واسے او۔۔
    اب جاتے ہوئے اور کیا کہتے ہنگل میں یاد نہیں تھا سو سلام بھیج دیا۔۔ جوابا انہوں نے زور سے ہونہہ کی اور ہیل کی ٹک ٹک کرتی چلی گئیں۔۔
    بنیادی غصہ ور تاثرات کافی ملتے جلتے میں پاکستانیوں اور کورین کے۔۔
    اس نے با آواز بلند سوچا پھر خود بھی انکی طرح ہونہہ کرکے مڑ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ تمہاری امی تھیں؟۔۔ اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
    ہاں بھی نہیں بھی۔۔ وہ سوچ کر رہ گیا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا
    اس نے جواب نہیں دیا۔۔
    بات سنو۔۔ اس نے اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔۔
    وہ شائد ناراض ہو گئی ہیں ۔۔ میں انکو بتانا چاہ رہی تھی مگر شائد انہیں انگریزی سمجھ نہیں آتی۔۔ ہم دونوں چل کر انکی غلط فہمی دور کر دیتے ہیں۔۔
    اریزہ نے سادہ سے انداز میں کہا تھا مگر ہایون کا جیسے دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔۔
    کیا اسے پتہ چل گیا ان محترمہ نے کیا کیا کہہ ڈالا ہے۔۔؟
    کیسی غلط فہمی۔۔ اس نے دھڑ دھڑ کرتے دل سے پوچھا

    جیسے وہ شائد برا مان گئی ہیں تم اپنی لڑکی کلاس فیلو کو صبح صبح گھر میں ناشتہ کرا رہے ہو۔۔ پاکستانی امی بھی ہوتیں تو ایسے ہی برا مان جاتیں ۔بلکہ شائد اگر یہاں کوئی پاکستانی امی ہوتیں تو طمانچہ بھی لگا دیتیں۔۔ اس نے خیال ظاہر کیا۔۔
    میں انکو بتا دیتی ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔
    ہایون کی جان میں جان آئی تھی۔۔ سو موڈ بحال ہوا شرارت سے اسکا جملہ اچک لیا۔۔
    کہ ہم نے اکٹھے رات گزاری ہے گاڑی میں۔۔
    کیا؟۔۔ وہ چیخی۔
    واٹ ۔۔۔ نہیں میرا مطلب ہاں نہیں ایسا۔۔
    وہ گھبرا گئ تھی۔۔ ہایون زور سے ہنس دیا۔۔
    مزاق کر رہا تھا۔۔
    اریزہ گھور کر رہ گئ۔۔
    بھول جائو۔۔ وہ کوئی اور بات کر رہی تھیں۔۔
    اس نے گہری سانس لےکر گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی۔۔
    ……………………………………………………….

    وہ اور ہایون سیدھا یونیورسٹی آئے تھے۔ گاڑی سے اتر کر دروازہ بند کرتے اسکی یونہی گاڑی کی آرام دہ نشست پر نگاہ پڑی تو دانت کچکچا کر بولی
    تمہاری تو ۔ میری توبہ جو آئیندہ اس گاڑی میں بیٹھئ۔ اور دروازہ دھاڑ سے بند کردیا۔ گاڑی لاک کرکے گھوم کے آتے ہایون نے حیرت سے اسے دیکھا تو وہ بری طرح شرمندہ ہوگئ۔
    معزرت۔ وہ غلطی۔ سے۔
    اوہ تمہارا سامان۔
    ہایون کو یاد آیا تو آگے بڑھ کر پچھلی نشست سے سودا اٹھانے لگا۔۔۔
    اریزہ کو سخت خجالت محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے شاپر نکالے ضرور مگر اسکو پکڑائے نہیں۔
    اسکو ہاسٹل لیکر جانا ہے آئو میں پہنچا دیتا ہوں۔
    آنیا۔ اس نے فورا منع کیا۔۔
    میں اٹھا لوں گی۔ ہلکے سے شاپر ہیں۔
    اس نے اصرار کرنا چاہا مگر وہ سہولت سے منع کرکے آگے قدم بڑھانے لگا۔ اسے ناچار تقلید کرنی پڑی۔
    اتنا ویل مینرڈ ہے یہ اتنے امیر خاندان کا چشم و چراغ ہے یا لے پالک بیٹا ہے۔ آنٹی تو اتنی بد لحاظ اور خرانٹ ہیں۔ یقینا اسکے بابا نیک انسان ہوں گے۔
    اس لانبے بانس جیسے لڑکے کو دیکھتے اس نے یونہی سوچ لیا تھا۔ہایون نپے تلے قدم اٹھا رہا تھا۔ یقینا اس پر احسان کر رہا تھا۔ ورنہ یوں ۔۔۔
    بس اب مجھے دے دو۔
    اس نے ایکدم سے آگے آکر فیصلہ کن انداز میں کہا۔
    ہایون ٹھٹک کر رکا
    مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا یوں تم میرا سامان اٹھائو۔
    اسکا انداز ایسا جارحانہ تھا کہ جیسے گن پوائنٹ پر اس سے سامان چھین لے گی۔ ہایون نے حیران ہوتے ہوئے شاپر اسکی جانب بڑھا دییئے۔
    گوما وویو۔
    اس نے ہلکا سا سر جھکا کے کوریائی انداز میں کہا تو ہایون کو بے ساختہ ہنسئ آگئ۔
    آہش۔ مجھے لگا تھا اب تم یقینا میرے سر پر کچھ اٹھا کے دے ماروگئ۔
    کیوں بھلا۔ اس کو برا لگا۔ ایک تو اتنی تمیز سے شکریہ ادا کیا۔
    میں پاگل ہوں کیا جو۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی جب اسے کسی نے پکارلیا۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو ایڈون اور سالک سامنے سے آرہے تھے اسے دیکھا تو دوڑ کے قریب آئے۔
    کہاں تھیں تم اریزہ؟ اتنے پریشان تھے ہم سب۔
    دونوں کے چہرے سے پریشانی ہویدا تھی۔
    کیوں کیا ہوا؟ وہ حیران ہوئی۔
    گوارا آئی تھئ ہمارے پاس کہ تم کو یقینا اسکی روم میٹ نے کچھ کہہ دیا ہے اور تم غصے میں واپس آگئ ہو مگر سنتھیا بتارہی تھی تم ہاسٹل بھی واپس نہیں آئیں۔ کہاں رہ گئ تھیں ؟
    ایڈون نے بتفصیل بتایا تو وہ سٹپٹا سی گئ۔
    فون تک بند جا رہا ہے تمہارا ہم اتنے پریشان تھے کہ ابھی پولیس میں جانے والے تھے۔
    سالک نے جتایا تو وہ اپنے بیگ میں فون ٹٹولنے لگی۔ فون کی شائد چارجنگ ختم ہوگئ تھئ یا ویسے ہی مسنگ کر رہا تھا۔
    اریزہ کو بھوک لگی تھی سو کھانا لینے باہر آگئ تھی۔ میں نے کہا دیر تو ہو رہی ہے سو یونیورسٹی ہی آگئے سیدھا۔
    ہایون نے اسکی مشکل آسان کی۔ دونوں چونکے۔پھر اس سے ہاتھ ملا کر مصافحہ بھی کر لیا۔
    اوہ۔ گومو ووئو۔ ایڈون متشکر ہوا پھر اریزہ سے اردو میں بولا۔ مگر یار بتا کے تو جانا چاہیئے تھا گوارا بہت پریشان تھی تمہاری وجہ سے۔
    ایڈون کی باہ پر تو وہ سچ مچ شرمندہ ہوگئ۔
    یہ میری غلطی ہے میں گوارا سے بات کر لیتی ہوں۔
    وہ شرمندہ لگ رہی تھی۔ ایڈون نے اسکے ہاتھ سے شاپر لے لیے۔
    کیا لینا ایسا ضرورئ تھا۔ آئیندہ لسٹ بنا دیا کرنا ہم سامان پہنچا دیں گے ہاسٹل۔۔ یوں نکلنے کی ضرورت نہیں۔ ایڈون کا خیال رکھنے والا موڈ آن ہو چکا تھا۔ اب وہ اردو بول رہا تھا ہایون کو بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔ سو چپ ہی رہا۔
    چلو چلیں ۔ ایڈون سالک کہتے آگے ہوئے ہایون اور اریزہ نے بھی تقلید کئ۔۔ اریزہ کا اسکارف سبک ہوا سے اڑنے لگا تو وہ ذرا سا رکی۔ ہایون بھئ رکا ایک نظر ان دونوں پر ڈالی پھر اسکی جانب ذرا سا جھک کربھنچی آواز میں بولا
    اب تمہاری فیمنسٹ ایگو دھاڑے نہیں مار رہی کہ لڑکا تمہارا سامان اٹھا رہا ہے۔
    اریزہ نے سرعت سے سر اٹھایا وہ یقینا تپا تپا کھڑا تھا۔دانت کچکچا کر بولتا اسکی سفید رنگت میں سرخی سی گھل رہی تھی ۔ اب تک شائد پہلی بار اس کو مسکرائے بنا نارمل انسان جیسا دیکھا تو شرارت کی رگ پھڑک اٹھی۔ آواز دبا کر رازدارانہ انداز میں بولی
    یہ پاکستانی لڑکے ہیں۔ بوجھ اٹھانے کے عادی ہیں کیونکہ ہم انکے ساتھ گدھے سا ہی سلوک کرتے ہیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈورم میں واپس آکر وہ سامان ٹھکانے لگانے لگی۔ سنتھیا واش روم میں سے نکلی تو حیران رہ گئ۔
    تم کہاں چلی گئ تھیں۔
    وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھئ۔ جوابا اریزہ اسے دیکھ کر ان دیکھا کرتی سیڑھیوں کی جانب بڑھی سنتھیا نے پیچھے سے آکر اسکو بانہوں میں بھر لیا۔
    تم کل والی بات پر ناراض ہونا۔ آئی ایم سوری۔
    اریزہ چپ ہی رہی۔
    سنتھیا اسکی بچپن کی دوست تھی اسکی رگ رگ سے وہ واقف تھئ۔ اسکی غلطی نہ بھی ہو تو اریزہ کو منانے کیلئے وہ معافیاں مانگ سکتی تھی اب تو سچ مچ اس نے دل دکھا دیا تھا۔ اسکی بچپن کی دوستی یآد کرکے بھی اریزہ کیلئے اپنا غصہ فوری طور پر ختم کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
    تم کل واپس ہاسٹل بھی نہیں آئیں۔ گوارا بتا رہی تھی تم اسکے فلیٹ سے بھی چلی گئیں تم کہاں تھیں۔ میں اتنا پریشان ہورہی تھی۔
    وہ اس سےلگے لگے ہی بولے جا رہی تھی اریزہ نے خود کو چھڑایا
    بے فکر رہو ایڈون کے ساتھ نہیں تھی میں۔
    اسکا انداز سخت ہی تھا۔ سنتھیا گڑ مرنے والی ہوگئ۔۔
    میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ میں پریشان ہوگئ تھی سچی۔ اریزہ مججے معاف کردو اگر میں نے تمہارا دل دکھا دیا ہے۔ مجھے آجکل خود سمجھ نہیں آرہی ہے مجھے کیا ہوگیا ہے۔ میں ایکدم سے غصے میں آجاتی ہوں۔ میرا بس نہیں چلتا۔۔ کچھ بھی کہہ جاتی ہوں۔ میں شائد پاگل ہوگئ ہوں۔
    وہ کہتے کہتے ایکدم جزبات سے مغلوب ہو کر رو پڑی تھی۔
    مجھے سمجھ نہیں آرہی خود اپنی۔
    اریزہ اسے چند لمحے دیکھتی رہی تو دل پگھل ہی گیا۔ آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔
    …..

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جولائی شروع ہوتے ہی کورین مختلف میلے منعقد ہونا شروع ہو گئے تھے۔ قدیمی ثقافتی ہفتے میں یون بن اور گوارا کی پرفارمنس تھی یونیورسٹی کی سطح پر ہی پروگرام تھا یون بن اور گوارا اپنے مخصوص کوریائی ثقافتی لباس میں ملبوس ڈرامے کی تیاری کر رہے تھے۔۔ کم سن اور اریزہ اسٹیج پر آلتی پالتی مار کر بیٹھے انکی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔۔
    شہزادی۔۔ تمہاری دنیا اور میری دنیا بہت الگ ہے۔۔
    ہماری حیثیتیں ہمیں ایک ہونے نہیں دے گیں۔۔
    یون بن محافظ کے لباس میں ملبوس تلوار زمیں پر ٹکائے کھڑا بے بسی سے کہہ رہا تھا۔۔
    مگر میرا دل ٹوٹ کر جو بکھر رہا اسکا کیا۔۔ گوارا بلک اٹھی تھی۔۔
    خود کو سنبھالیئے شہزادی صاحبہ۔۔
    محافظ نے پشت کر لی تھی۔۔
    گوارا اسکی پشت سے سر ٹکا کر بلک اٹھی۔۔
    ہاش۔۔ یون بن کسمسا کر آگے ہوا۔۔
    گوارا گد گدی ہو رہی ہے۔۔ اس نے کھلکھلا کر کہا تھا
    گوارا نے اسکو جکڑ لیا اور گد گدی کرنے لگی۔۔ دونوں ہنس ہنس کر بے حال ہوگئے۔۔
    تم دونوں اسٹیج پر بھی یہی کرنا۔۔ چوتھی بار دیکھ رہا یہیں آکر ہنس پڑتے ہو دونوں۔تم دونوں کو اس ڈرامے میں رکھا کس نے تم لوگ اسے بھئ ذلیل کرائوگے۔ کم سن اور اریزہ انکے بر عکس سنجیدگی سے چپس کھاتے دیکھ رہے تھے انہیں۔۔
    انہیں غیر سنجیدہ دیکھ کر کم سن نے بلا لحاظ ڈانٹا۔۔
    نہیں یہ انکے سامنے سنجیدگی سے کر رہا تھا یہ تم لوگوں کو دکھاتے ہوئے مستی کر رہا ہے۔ ہم نے اتنی ریہرسل کی ہے کہ سب رٹ گیا ہے ہمیں۔
    گوارا نے اسکو دھپ لگاتے ہوئے صفائی دی۔۔
    مجھے تو اس بکواس کہانی کو ڈرامہ ٹائز کرنا ہی فلاپ خیال لگ رہا۔۔ یون بن ہنسی روکتا منہ بناتا انکے پاس ہی آکر دھم سے بیٹھ گیا۔۔
    گوارا کو بھی اندازہ ہوا اب مزید کوئی تیاری نہ ہو پائے گی سو اس نے بھی تقلید کی۔۔
    تم دونوں بے حد پیارے لگ رہے ہو اس لباس میں۔۔
    اریزہ کو انکی باتیں تو سمجھ نہ آئیں سو جو محسوس کیا کہہ دیا۔۔
    تمہیں تو پسند آنا ہی ہے یہ لباس ۔۔ خود بھی تو شامیانے لپیٹے پھرتی ہو۔۔ گوارا نے ہنس کر چڑایا۔۔
    اریزہ ناک پھلا کر رہ گئ۔۔
    گوارا گرمی سے پاگل ہو رہی تھی۔۔ اپنے ہنبک کی لمبی گھیر دار آستین کو پنکھے کی طرح جھل۔رہی تھی۔۔
    اریزہ نے حسب عادت موبائل میں درجہ حرارت دیکھا پھر گہری سانس لے کر اسے دیکھنے لگی۔۔
    گوارا کے گال گلابی ہورہے تھے۔۔
    ہم اے سی اتنے درجہ حرارت پر چلاتے ہیں۔۔
    اس نے چوبیس درجہ حرارت والا صفحہ اسکے سامنے لہرایا۔۔ گوارا نے اسکا موبائل جھپٹا اور نیچے کرکے اسکے نشان زدہ شہر راولپنڈی کا درجہ حرارت دیکھا آرام سے پینتالیس ۔۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں۔۔
    یار یہ کیا ہے۔۔؟۔۔ جبھی تو اسے گرمی نہیں لگتی یہاں۔۔ وہ اب جل رہی تھی اریزہ سے۔۔
    تم تصویریں لے رہی تھیں ابھی ہماری دکھائو۔
    گوارا کو اب تصویریں دیکھنی تھیں۔ سو موبائل اسکی جانب بڑھا کر بولی۔
    اریزہ نے گیلری نکال کر واپس تھما دیا ۔۔ اس نے اچھی خاصی تصویریں لی تھیں۔ وہ سب ایک ایک کرکےدیکھ رہی تھی
    دکھائو۔۔ یون بن اور کم سن کو بھی دلچسپی ہوئی۔ تینوں اسکے موبائل پر جھکے تھے۔۔
    اریزہ یونہی چپس کھاتی دیکھتی رہی۔۔ سوائپ کرتی گوارا ٹھٹکی تھئ سر اٹھا کر اسے دیکھا
    یون بن نے ہنگل میں کچھ کہا گوارا کو اس نے مزے سے سر ہلا دیا۔۔ کم سن بھی شائد اسے کچھ کہہ رہا تھا۔۔ پھر اس نے اریزہ کو دیکھا ۔۔پھر واپس اپنی جگہ آبیٹھا۔۔
    کیا ہوا۔ اریزہ نے پوچھا ابھی کم سن کچھ کہنے ہی لگا تھا
    بس۔۔ یون بن نے گوارا کے ہاتھ سے موبائل چھین کر اریزہ کو تھما دیا ۔۔ وہ گھورتے ہوئے گوارا کو کچھ کہہ رہا تھا۔۔
    گوارا نے جوابا منہ بنا کر کچھ جواب دیا۔۔
    اریزہ نے نہ سمجھتے ہوئے موبائل دیکھا۔۔ اسکی دلہن بنی تصویر سامنے تھی۔۔ سنتھیا اسکے کندھے سے جھول رہی تھی۔۔
    یہ تو دلہن کا اوتار ہے نا ؟۔۔ گوارا نے تائید چاہی۔۔
    اریزہ نے گہری سانس لی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
    تم شادی شدہ ہو؟۔۔ گوارا حیرت سے چیخی
    طلاق یافتہ بھی۔۔ اریزہ مسکرا دی۔۔
    یون بن نے ٹوکا۔۔
    تمہیں اسکی ذاتی زندگی سے کیا۔لینا دینا۔
    کم سن بغور اریزہ کو دیکھ رہا تھا۔۔ وہ آرام سے آلتی پالتی مارے بیٹھی تھی۔۔ انداز میں کوئی یاسیت مایوسی کا دکھ نہیں تھا۔۔
    کون احمق تھا جس نے اتنی حسین لڑکی کو چھوڑ دیا۔۔
    گوارا کہے بغیر نہ رہ۔سکی۔۔
    اس بار اریزہ کی مسکراہٹ غائب ہوگئ۔۔
    میرا مطلب بڑی بڑی آنکھیں ستوان ناک ایسی صورت تو نایاب ہوتی ۔ اتنی پیاری ناک ۔۔۔ گوارا حسب عادت اسکی ناک کو دیکھتے کھو گئ۔۔
    میری ایسی ناک کیوں نہیں بنائی ؟؟۔ اسے پھر شکوہ ہوا خدا سے۔
    اریزہ ہنس دی۔۔
    یہاں نایاب ہوگی پاکستان میں سب کے ایسے ہی خدو خال ہوتے۔۔
    اسکا انداز بے نیاز تھا۔۔
    تمہاری ناک تمہارے چہرے پر ٹھیک لگتی اپنے بے کار احساس کمتری سے نکلو۔۔ کم سن نے ڈانٹ ہی تو دیا اسے۔۔
    ہایون کی گرل فرینڈ یاد تمہیں؟۔۔ یون بن کو خیال آیا۔۔
    اتنی پیلی دھنسے ہوئے گالوں والی اسکی ناک اسکے چہرے پر ہاتھی کی سونڈھ جیسی لگتی اس کو دیکھو اور عبرت پکڑو بہت بہتر شکل ہے تمہاری۔۔ یون۔بن کو ہوپ یاد آئی۔۔
    ہوپ؟۔ وہی تو ہے میری نئی کرائے دار۔۔ گوارا نے منہ بنایا۔۔
    اس شکل کے ساتھ اسکے نخرے عروج پر ہیں۔۔ سیدھے منہ بات نہیں کرتی کچھ بھئ کہو تو بد مزاج لڑکی لڑنے لگتی۔۔ تبھئ تو مجھے اسی پر شک ہوا تھا کہ اس نے کچھ ایسا کہا جو اریزہ ناراض ہو کر چلی آئی فون بھئ نہیں اٹھا رہی مرا
    گوارا تپی ہی تو بیٹھی تھی۔۔ شروع ہو گئ۔
    ناحق تم نے اسے برا بھلا کہا بے چاری۔ اریزہ کو ترس بھی آرہا تھا۔
    کم سن جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
    کیا ہوا۔۔ تینوں چونک کر اسے دیکھنے لگے۔۔
    میں زرا ہاسٹل جا رہا کچھ کام۔۔ اس نے بمشکل بہانہ بنایا۔۔
    ٹھیک ہے۔۔ اس نے سر ہلایا تو وہ لمبے ڈگ بھرتا نکل گیا۔۔
    اسے کیا ہوا۔۔ گوارا نے حیرانی سے اسے جاتے دیکھا۔۔
    یون بن بھی اٹھ کھڑا ہوا
    میں بھی کپڑے تبدیل کر لوں بہت گرمی لگ رہی۔۔
    میں بھی آتی ہوں۔ گوارا بھی فورا اٹھی۔۔
    آخری بار تمہارے کہنے پر ایسے کسی بے کار ڈرامے میں حصہ لے رہا ہوں۔۔ یون بن نے کہا تو وہ چڑ ہی تو گئ۔۔
    دفع ہو جائو نام۔کٹوا لو اپنا مجھ پر مزید احسان نہ دھرو۔۔
    اس نے بھنا کر کہا یون بن کا کام ہو گیا تھا۔۔مزید چڑانے کو معصومیت سے بولا۔۔
    اب تو کر لیا احسان ۔۔
    مرو۔۔ دونوں لڑتے بھڑتے اسٹیج کے پیچھے سنگھار کمرے میں چلے گئے تھے۔۔
    ہاش۔۔ اس نے چپس کا خالی پیک بیگ میں ڈالا اور خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے جھوم کر شہزادی کی کہانی کو اپنے ہاتھوں اور بازوئوں کے اشاروں سے بیان کرنا شروع کیا۔۔
    وہ آج جینز اور گلابی لمبا سا کرتا پہنے تھی۔ گلابی دوپٹہ لہرا لہرا کر وہ کبھی شہزادی کے ڈرے سہمے انداز کو بیان کرتی کبھی محافظ کے اکھڑ کھردرے رویے کو۔
    جب محافظ اسکے بازو میں دم تو ڑ گیا تو وہ جیسے تھک کر گری اور سسک اٹھی۔۔
    اتنی دیر گھوم گھوم کر ناچنے سے اسکی سانس پھول گئ تھئ۔۔ کتنی ہی دیر وہ بیٹھی سانس بحال کرتی رہی۔۔ یونہی سر اٹھایا تو دوبارہ سانس رک گئ۔۔
    ایڈون سالک شاہزیب ہایون کم سن سب اسکے سامنے شائقین کی نشستوں کے پاس کھڑے تھے۔۔
    کم سن نے فورا تالیاں بجا کر اسکی حوصلہ افزائی کی تھی۔۔ ہایون نے دز دیدہ نظروں سے ان تینوں کو دیکھا جنہوں نے تالیاں بجانے کی زحمت نہیں کی تھی۔۔ اس نے اپنے بھی اٹھتے ہاتھ نیچے کر لیئے۔۔ اریزہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔
    یہ رقص کی کونسی قسم تھی؟۔۔ کوئی کہانی بیان کر رہی تھیں نا تم دکھی سی۔۔ ہیرو مر گیا۔۔ مجھے بس اتنا سمجھ آیا۔۔
    کم سن انکے بر عکس کافی خوشگوار انداز میں اسکے پاس اسٹیج پر چڑھ آیا۔۔ اسکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر وہ بولا۔
    کتھک۔۔ اس نے دھیرے سے جواب دیا۔۔ اسکی اتنی مہارت تھی کہ وہ سمجھ گیا پوری کہانی۔۔ اسے کافی حیرت ہوئی۔۔
    ہمم ۔۔ کم سن نے سر ہلایا۔۔ اور اپنا ہاتھ بڑھایا تھا اسے سہارا دے کر اٹھنے کو۔۔
    اریزہ نے ایک نظر اسکی پھیلی ہتھیلی کو دیکھا پھر زمین کا سہارا لیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ کمر پر ایک کندھے سے گزار کر باندھا دوپٹہ کھول کر سینے پر پھیلاتے وہ خود کو درجنوں بار کوس چکی تھی۔۔
    لعنت ہی ہو تم پر اریزہ۔۔ بس نہ چلا تو بڑبڑا بھی گئ۔۔
    کم سن نے حیرت سے اسکے محتاط انداز کو دیکھا
    پھر خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔باقی تینون بھی اوپر چڑھ آیئے۔۔
    تم ویسے اچھا ڈانس کر لیتی ہو۔۔ سالک نے سادہ سے انداز میں کہا تھا۔۔ اریزہ نے ہونٹ بھینچ لیئے۔۔ وہ تو خود کو اکیلا سمجھ کر شروع ہو گئی تھی۔۔
    کیا خبر تھی سب سر پر آن دھمکیں گے۔۔
    ایڈون کو اندازہ تھا تعریف اسے مزید چلو بھر پانی میں ڈبو دے گی۔۔سو اپنے توصیفی الفاظ منہ میں ہی دبا کر بات بدل گیا۔
    ہم تینوں اس کلچرل ویک میں پاکستانی جھنڈا لہرائیں گے اور ترانہ گائیں گے۔۔ یہ دیکھو لائٹس لائے ہیں ہم
    ایڈون نے اسے شاپر تھمایا۔ ہری اور سفید امتزاج کی وہ لائٹ اسٹکس بے حد خوبصورت تھیں۔ وہ بہت شوق سے دیکھ رہی تھی۔۔
    کسٹمائز ہیں پانچ بنوائیں ہیں ہم نے کہہ کر ان لائٹس میں سے چاند تارا بنتا ۔۔ سالک نے خالی دیوار پر روشنی کا چاند تارے والا سایہ سا دکھایا۔
    کتنے پیسے ہوئے؟
    اریزہ نے فورا پوچھا تو ایڈون چڑ گیا
    بس پیسے دینے لگ جائو تم بہت مہنگی ہیں یہ کروڑ روپے کی۔۔۔
    اسکے چڑنے کی وجہ سمجھ نہ آسکی اسے۔ سالک اور شاہزیب نے بھئ ایڈون کے غصے کو حیرانی سے دیکھا۔
    انکےبدلے ہم سب کو ڈنر کرادینا۔
    سالک نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
    اس میں جھنڈا تو ہے نہیں۔۔ اس نے سب چیزیں احتیاط سے واپس ڈالتے ہوئے پوچھا۔۔
    ۔ شاہزیب کے ہاتھ میں بھی شاپر تھا۔۔
    ہم جھنڈے بھئ پانچ لائے ہیں یہ رہا تمہارا پرچم اور بیج ۔۔ شاہزیب نے ایک بڑا سا شاپر لا کر اسکو تھمایا۔۔ اس نے شاپر ایڈون کو واپس کرتے ہوئے شاہزیب کا دیا شاپر بڑے شوق سے کھولا۔۔ کمسن اور ہایون بہت حیرت سے انکے جوش و خروش کو دیکھ رہے تھے۔۔
    تم لوگ جھنڈے کو دیکھ کر اتنے پرجوش کیوں ہو؟
    ہایون کہے بغیر نہ رہ سکا۔۔
    ہم بہت احترام کرتے ہیں جھنڈے کا کبھی پاکستان آکر دیکھنا۔۔ بلکہ اگست میں دیکھنا ہم یہاں بھئ اپنا قومی اس سے بھی ذیادہ جوش و خروش سے منائیں گے۔
    سالک نے فخریہ انداز میں کہا۔۔ اریزہ مگن چیزیں دیکھ رہی تھی۔۔
    کئی گز کا بڑا سا پرچم ساتھ ایک چھوٹا سا کیس تھا۔۔ اس نے کھولا تو نہایت خوبصورت ایر رنگ تھے جن پر چاند اور ستارہ لڑیوں میں جھول رہا تھا۔۔ ایک چھوٹا سا پرچم کا ہی بیج بھی تھا۔۔ اسکے نیچے لڑی میں پاکستان کے انگریزی حروف تہجی جھول رہے تھے۔۔
    اف بہت خوبصورت۔۔ وہ فدا ہی تو ہو گئی تھی۔۔
    تھینک یو سو مچ۔۔
    یہ شاہزیب کا آیڈیا تھا۔۔ آرڈر دے کر بنوایا ہے۔۔
    ایڈون نے کہا تو وہ متاثر سے انداز میں بولی۔۔
    واہ ۔۔۔۔ کمال۔۔۔
    کمال؟۔۔ ہایون نے فورا پوچھا۔۔
    کمال مطلب۔۔۔ ایڈون سوچ میں پڑا۔۔
    اریزہ نے پرچم نکال کر دوپٹے کے انداز میں اوڑھا۔۔ یہ دوپٹے کے حساب سے تھوڑا بڑا تھا۔ وہ کھولتے کھولتے تھوڑا پیچھے ہوئی۔۔ پرچم پیر میں آنے لگا پیر نہ لگ جائے وہ ایکدم پیچھے ہو کر لہرائی۔ ایڈون ساتھ ہی کھڑا تھا۔۔
    ارے۔۔ اسکے دیکھتے دیکھتے ہی وہ دھپ سے گر کر جیسے فرش پر بیٹھ ہی گئ۔۔
    گرے گی یہ ۔۔ پکڑو۔
    کم سن کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
    ہایون بھی بات بھول کر ایک قدم آگے ہوا۔ جیسے سہارا دینا چاہتا ہو مگر وہ جب تک آگے ہوا حادثہ رونما ہو چکا تھا۔۔
    کین چھنا ۔۔ اس نے فورا پوچھا۔۔
    ہاں۔۔ اریزہ نے سر ہلایا۔۔ خفت زدہ سی ہوئی تو تھی ۔مگر سنبھل کر خود ہی کھڑی ہوئی اور پرچم چوم کر تہہ کرنے لگی۔۔
    ایڈون سیدھا کھڑا رہا تھا۔۔
    میں قریب کھڑا ہوتا تو تمہیں گرنے نہ دیتا۔۔ کم سن نے حیرت سے ایڈون کو دیکھتے ہوئے اریزہ سے کہا تھا۔۔
    کوئی بات نہیں مجھے چوٹ نہیں لگی۔۔
    اریزہ بے نیازی سے کہتی شاپر سمیٹ رہی تھی۔۔ پرچم چوم کر شاپر میں ڈال دیا۔
    یہ کیا کر رہی ہو۔۔ ہایون نے کہا تو وہ مسکرا دی۔۔
    پرچم پیر کے نیچے آگیا تھا۔۔ اسکی تحقیر ہو گئ تھی۔ ہم اسے بہت مقدس چیز کی طرح برتتے ہیں اسلیئے
    چوما۔۔
    اس نے تفصیل سے بتایا۔۔ ان دونوں نے بے یقینی سے لڑکوں کو دیکھا۔۔ تو انہوں نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔۔
    عجیب۔۔ دونوں کے منہ سے اکٹھے نکلا۔۔
    یہ لوگ ہنس دیئے۔۔
    اریزہ تم وقت پر آنا۔۔ ہم سب مل کر ترانہ گائیں گے۔۔ سداکو بھی ہمارا ساتھ دےگا۔۔
    سالک نے کہا تو اسے خوشگوار حیرت ہوئی
    واقعی۔۔؟۔۔
    ٹھیک ہے۔۔ اسے کیا اعتراض ہونا تھا۔۔
    اریزہ معزرت کرتی اسٹیج سے اتر کر گوارا کے پاس ڈریسنگ روم میں چلی گئ۔۔
    اریزہ کو کتھک آتا ہے مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔ شاہزیب کا مخاطب ایڈون تھا اس نے اردو میں ہی کہا تھا۔۔
    تمہیں کیوں اندازہ ہوتا ؟۔۔ وہ ابھی بھی کر اسی لیئے رہی تھی کہ اکیلی تھی اسے اندازہ نہیں تھا ہم اچانک آجائیں گے۔۔ کتنا شرمندہ ہوگئ تھی۔۔ سالک نے فورا ٹوکا۔
    اریزہ کو اچھا نہیں لگا تھا نا ہمارا اسے ڈانس کرتے دیکھ لینا۔ ہایون نے اچانک ہی ان سے پوچھا تھا۔۔
    تینوں چونک گئے تھے۔۔
    ہاں۔۔ آیڈون نے گہری سانس لیکر کہا۔۔
    کیوں؟۔ کم سن مزید حیران ہوا۔۔
    وہ لڑکیوں کا ڈانس کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا اسلیئے۔ وہ اکیلے کر رہی تھی اسے اندازہ نہیں تھا ہم آجائیں گے۔۔ ایڈون نے انکو بتایا۔۔
    اس میں کیا برائی ہے۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
    بس کچھ لوگ پسند نہیں کرتے۔۔ سالک نے سرسری سے انداز میں کہا۔۔
    ہاتھ پکڑنا بھی؟۔ کم سن نے غور سے ایڈون کو دیکھا۔۔
    ایڈون جو جھک کر شاپر ایک طرف رکھ رہا تھا چونکا۔۔
    میں نے ابھی اریزہ کے آگے ہاتھ بڑھایا اسے سہارا دینے کو اس نے نہیں تھاما ابھی وہ گر ہی گئ تم اسے تھام کر سہارا دے سکتے تھے مگر تم سیدھے کھڑے رہے مجھے لگا تھا اس نے میرے اجنبی ہونے کی وجہ سے میری مدد نہ لی مگر تم تو اسکے ہم وطن ہو۔۔
    کم سن کو بہت حیرت ہوئی تھی سو پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔۔
    پاکستانی لڑکیاں ہاتھ نہیں ملاتیں۔۔ لڑکوں سے۔۔ اگر ایڈون اسے تھام لیتا تو اسے گرنے سے زیادہ برا لگتا اسلیئے ایڈون نے اسے تھامنے کی کوشش نہیں کی۔۔
    ایڈون نے جواب دینے کیلیئے منہ کھولا ہی تھا کہ شاہزیب نے فورا کہا۔۔
    مگر سنتھیا تو ہاتھ ملا لیتی میں نے اس سے کئی بار ہاتھ ملایا ہے۔۔ کم سن نے جھٹلایا۔ ایڈون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔۔ شاہزیب بھی کچھ کہتے کہتے رک گیا۔۔
    سنتھیا اسکارف بھی نہیں لیتی۔۔ ہایون کو یاد آیا۔۔
    سنتھیا۔۔ کرسچن ہے۔۔ ایڈون نے گہری سانس لی
    اریزہ مسلمان ہے۔۔ یہاں مزہب کا فرق آگیا ہے۔۔
    اسلام میں ایسی معمول کی بہت سی چیزیں ہیں جو منع ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہایون اور کم سن بے حد حیران ہوئے تھے۔۔

    ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سفید لانگ ٹاپ اور جینز ساتھ سفید ہی لانگ شرگ اپنے گھنے سیاہ بال کھول رکھے تھے۔۔ خراماں خرامان چل کر آتی سنتھیا۔۔ شاہزیب اور سالک نے سفید شلوار قمیص پہنی تھی ساتھ سبز کیپ پہن رکھی تھی انکا ارادہ ہرے پٹکے پہننے کا تھا مگر وہ مل نہ سکے تھے سو سبز کیپ پہن رکھی تھی اور کیپ کے شیڈ پر جھنڈے کا چھوٹا سا بیج لگایا ہوا تھا۔ انکے حلیے سجاوٹ طلبا کو متوجہ کر رہی تھی کئی طلبا ان سے جھنڈیاں اور بیج لینے آپہنچے تھے تو کئی انکی تصویریں بنا رہے تھے ایک ہلچل سی تھی۔۔ ایڈون نے خود تو سفید جینز پہنی تھی مگر اسکو ہری سادی سی ٹی شرٹ مل گئ تھی اسکو ہری کیپ نہیں مل سکی تھی سو سفید کیپ پہنےتھا۔ اایڈون اسے آتے دیکھ کر فورا اسکی جانب متوجہ ہوا مسکرا کر اپنی چیزیں چھوڑ چھاڑ خود بھی اسکی جانب بڑھنے کو تھا جب اسے سالک کی آواز آئئ
    یار کتنا پر وقار انداز ہے اسکا۔۔ یار واقعی اسکی شخصیت میں کوئی بات ہے۔۔
    اس نے چونک کر مڑ کردیکھا تھا مگر سالک کا مرکز نگاہ کوئی اور ہی تھا اس نے اسکی نظروں کے تعقب میں دیکھا تو نظر پلٹنا بھول گئ۔۔
    سفید لانگ فراک ٹاپ اور ٹایٹس کے ساتھ اس نے بڑا سا جھنڈا دوپٹے کی طرح اوڑھ رکھا تھا بالوں کی ڈھیلی سی پونی ہوا سے اڑتا اسکا فلک کانوں میں جھولتے ستارہ و ہلال سفید سادا سی سینڈل میں اسکا اٹھتا ہر قدم نپا تلا تھا۔
    اسکا ٹاپ۔۔ اس نے پلٹ کر سنتھیا پر نظر ڈالی تھی۔
    وہ بالکل ویسا ہی ٹاپ پہنے تھی۔۔ مگر سنتھیا جتنی مغربی طرز کی بجائے دوپٹے سے وہ بالکل پاکستانی کسی فراک اور تنگ پاجامے میں ملبوس لگ رہی تھی۔۔
    سنتھیا خود کو مرکز نگاہ جان کر جہاں اترائی تھی وہیں اسکی نظروں کا زاویہ بدلتے دیکھ کر تھم سی گئ ۔۔
    پلٹ کر دیکھا تو کینہ توز نظریں خود بخود نرم پڑ گئیں۔۔
    سفید ٹاپ میں جہاں اریزہ کی گوری رنگت دمک اٹھی تھی وہاں اسی لباس میں اسکا رنگ مزید دھیما پڑ گیا تھا ۔۔ اس نے استہزائیہ سا مسکرا کر اپنا سانولا ہاتھ دیکھا۔۔ تو میں کچھ بھی کر لوں کچھ بھی۔۔ میں تمہارئ برابری نہیں کر سکتی۔۔ تلخ سوچ نے زہر خند مسکراہٹ چہرے پر سجا دی۔
    اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو ایڈون درمیانی فاصلہ ختم کرتا عین اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔
    اسکو دیکھتے عجیب سا احساس ہوا تھا۔۔
    رنگ روپ ثانوی چیز ہے تاثرات چہرے کو خوبصورت یا بد صورت بناتے ہیں۔۔ اس زہر خند سی مسکراہٹ میں اریزہ بھی شائد اسے زہر ہی لگتی۔ ایڈون نے اسے گہری نظر دیکھ کر سوچا تھا
    جی ہائے کہہ رہی تھی تمہاری طبیعت خراب تھی؟۔۔ کیا ہوا تھا؟۔۔ اسکی دو دن بعد ملاقات ہو رہی تھی وہ متفکر تھا۔۔
    سزا ملی تھی۔۔ تھوڑا جلدی مل۔گئ ۔۔ وہ مسکرا کر کہتی اسے ایک نظر دیکھ کر شاہزیب وغیرہ کی جانب بڑھ گئ۔۔
    اے۔۔ کیا مطلب ہوا اس بات کا۔۔ سنتھیا۔۔ وہ حیران ہو کر اسے پکار رہا تھا اس نے یکسر نظر انداز کیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔
    ………………………………………………..
    کم سن یون بن گوارا جی ہائے ہایون اپنی نشستوں سے پاکستانی جھنڈے انکے لیئے لہرا رہے تھے۔ دیگر طلبا انکو دلچسپی سے پاکستان پاکستان والا نغمہ گاتے دیکھ رہے تھے۔۔
    ایڈون سالک شاہزیب اورسداکو ادب سے اسٹیج پر کھڑے گا رہے تھے۔۔ ہایون تو انکی ویڈیو بھی بنا رہا تھا۔۔
    ایڈون کی آواز سب سے اچھی تھئ۔ مصرعہ وہی اٹھاتا تھا بعد میں یہ سب کورس گاتے گانے کے بعد ۔۔ سب نے سر کو ہلکا سا خم دے کر اٹھایا تو وہ سب پر جوش انداز میں تالیاں بجانے لگے تھے۔۔
    ہایون نے ویڈیو بند کر دی۔ انکے لیئے فراخ دلی سے سب نے تالیاں بجائی تھیں۔ وہ سب خوشی سے سرخ چہرے لیئے انکے پاس آئے تھے۔ گوارا اور یون بن کی پرفارمنس ہو چکی تھی۔ سو وہ سب باہر نکل آئے۔ اب مزید طلباء کی پرفارمنس میں انکو دلچسپی نہ تھی۔

    گوارا اور یون بن نے اپنی پرفارمنس کی خوشی میں کیک منگوایا تھا۔ مگر ان لوگوں کو سرپرائز دینے کیلئے آرڈر دے کر جھنڈے کی شکل کا بڑا سا کیک بنوایا تھا۔آدھا کورین جھنڈا آدھے کیک پر پاکستانی۔۔۔۔
    اریزہ پاکستان تو تم لوگ کھاتے ہی رہتے ہوگے اب کوریا کھاکے بتائو کیسا لگا ۔ گوارا حصے کر رہی تھی کیک کا ٹکڑا بڑھاتے ہنس کر بولی
    گوارا کے کہنے پر وہ پانچوں مسکرا کر رہ گئے۔ خاصا ذو معنی جملہ تھا۔۔اریزہ بھی اسکی مدد کرانے لگی۔
    پاکستانی جھنڈے کا ٹکڑا سب سے پہلے اس نے سداکو کو دے کر شکریہ ادا کیا جوابا وہ خوشدلی سے مکمل جاپانی انداز میں تقریبا آدھا جھک سا گیا۔۔ سب طلبا بہت شوق سے کیک کو تبرک۔کی طرح وصول رہے تھے
    ۔۔ کوئی رہ۔تو نہیں گیا۔۔ کیک کا بس ایک۔چوتھائی حصہ بچا تھا جب اریزہ نے اٹھ کر آواز لگائی
    سب خوش گپیوں میں مگن تھے کسی نے سنا بھی تو جواب نہ دیا وہ کندھے اچکا کر ایک چھوٹا سا ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈالنے لگی تھی کہ ہایون سامنے آگیا۔۔
    کوریا والا حصہ بھی تھوڑا سا بچا تھا تھوڑا سا پاکستان کا جھنڈا۔۔ ان لوگوں نے بہت تمیز سے کھایا تھا۔ سب نے کھا بھی لیا اور بچا بھی تھا۔
    مجھے بھئ پاکستان کھانا ہے۔۔ اسکئ مخصوص مسکراہٹ۔۔
    وہ سر ہلا کر ٹکڑا میز پر رکھ کر مزید حصے کرنے لگی۔۔
    تم نے اس مغربی طرز کے لباس کو بھی روائتی رنگ دے دیا۔۔ وہ ہنس کر کہہ رہا تھا۔
    اریزہ مسکرا دی۔۔
    اریزہ خود کو نمایاں کرنا جانتی ہے۔۔
    سنتھیا نے خاصے طنزیہ انداز میں انکی گفتگو میں حصہ لیا۔۔
    اریزہ مڑ کر حیرت سے اسکی شکل دیکھنے لگی۔
    ہر کسی کو یہ ہنر نہیں آتا۔ ۔۔۔ سک نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تھا۔ اریزہ ایک چپ سو سکھ کے تحت اسے مکمل نظر انداز کر دینا چاہتی تھی۔۔جانے کیا مسلئہ تھا اسکے ساتھ۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔
    بہت اچھی لگ رہی ہو اریزہ۔۔ یہ ایڈون تھا۔۔ سنتھیا کو چبا چبا کر کچھ بولتے دیکھ کر سیدھا انکے پاس آگیا تھا۔۔
    اریزہ یوں ہوگئی جیسے سنا ہی نہیں۔۔
    اریزہ ایڈون نے تعریف کی ہے تمہاری شکریہ ہی کہہ دو۔۔ سنتھیا نے جیسے اسے جان کے چڑایا۔۔
    اریزہ نے نظر بھر اسے دیکھا۔۔ اسکے دیکھنے پر سنتھیا چند لمحے تو تمسخر بھرے انداز میں دیکھتی رہی پھر جب لگا کہ مزید اریزہ کی آنکھوں میں جھانکا تو شائد رو دے گی تو خود کو سنبھالتی زور سے اریزہ سے ٹکرا کر کندھا مارتی آگے بڑھ گئ۔
    ایڈون نے ہونٹ بھینچ کر اسکی حرکت کو دیکھا اور پکارتا ہوا اسکے پیچھے نکل گیا۔۔
    اریزہ جھٹکے کےلیئے تیار نہیں تھی بری طرح لڑکھڑا کر گرنے لگی خود کو بچانے کو ہاتھ بڑھایا تو ہایون کے بازو کو ہی دبوچ بیٹھی۔۔
    سوری۔۔ سنبھلتے ہی اس نے معزرت کی
    آنیا۔۔۔ اٹس اوکے۔۔ وہ بھی ناگواری سے ان کو ہی جاتے دیکھ رہا تھا سنبھل کر فورا اسکی شرمندگی دور کی۔

    ……………………….۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سب اس مشہور پاکستانی ریستوران آئے تھے۔۔
    چکن کڑاہی کباب بریانی تکے دل بھر کر منگوائے تھے۔۔ یہ ٹریٹ پاکستانیوں کی جانب سے تھی۔۔ سنتھیا کے علاوہ سب موجود تھے سداکو بھی۔۔
    وہ سب خوب شوق سے پاکستانی کھانے کھا رہے تھے۔۔ واپسی پر لڑکوں کا ڈرنک کا پروگرام بن گیا اریزہ کافی تھک چکی تھی مگر گوارا کا موڈ نہیں تھا ابھی واپسی کا۔۔
    دریا کنارے چل کر پیتے ہیں۔۔ کیا خیال ہے۔۔ یہ یون بن نے کہا تھا۔۔
    سب کو اسکا خیال کافی پسند آیا تھا۔۔
    سب گاڑی میں بھر کر جب دریا کنارے پہنچے تو رات کے گیارہ ہو چکے تھے۔۔
    ہوا میں خنکی آچکی تھی۔۔ کوریائی باشندوں نے تو شراب کے کین خریدے تھے یہ پاکستانی کوک پر گزارا کر رہے تھے یہاں تک کے ایڈون نے بھی کوک ہی لی۔۔
    شاہزیب اور سالک نے اسے کہا بھی شراب لے لو۔۔ مگر اس نے نظر انداز کر دیا۔۔
    اسے سنتھیا کی کافی فکر ہو رہی تھی دوپہر میں وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر ہاسٹل چلی گئی اسکا فون بھی نہیں اٹھا رہی تھی۔۔ اریزہ سے ہاسٹل جا کر اسکی خیریت پوچھنے کا کہنے کی اب ہمت نہیں تھی۔۔ جی ہائے بھی ہاسٹل نہیں گئ تھی۔۔یہ سب یہاں پارٹی کرنے آئے تھے۔۔ہانگان پارکس اس دریا کے کنارے خاص کر پکنک کے ارادے سے آئے لوگوں کیلئے ایک بہترین تحفہ تھے۔ سب سیول باسی بدلتے موسموں کا مزا لینے یہاں بڑے شوق سے رات گئے پارٹی کرتے ہیں۔دریا کنارہ صاف شفاف ریت ایک جانب چہل قدمی کے رستے دوسری جانب بنچز۔۔ انکا ارادہ رات گئے ہی اٹھنے کا تھا۔ کم سن کو شوق اٹھا تھا پانی میں پائوں لٹکا کر بیٹھنے کا سالک نے بھی اسکی دیکھا دیکھی پائوں ڈال لیئے مگر تھوڑی ہی دیر میں اسکی بس ہو گئ۔۔
    کیا ہوا۔۔ کم سن نے پوچھا تو وہ منہ بنا کر بولا۔۔
    اتنا ٹھنڈا پانی ہے۔۔ ہوا بھی خنک ہے تم لوگوں کو ٹھنڈ نہیں لگتی یا گینڈے کی کھال لگوا کر آئے ہو اوپر سے۔۔
    اس نے اتنا چڑ کر کہا تھا کہ ان سب نے کھل کر قہقہہ لگایا۔۔
    ابھی سے ٹھنڈ۔۔ آگے جب برف پڑے گی تو کیا کروگے؟۔۔ ہایون نے مزاق اڑایا تھا۔۔
    کم ازکم جیکٹ وغیرہ تو پہنی ہوگی۔۔ اس نے کان سے مکھی اڑائی۔۔
    تھوڑی سی پی۔لو اگر زیادہ ٹھنڈ لگ رہی۔۔ کم سن نے خلوص سے اپنا کین اسکی جانب بڑھایا۔۔
    نہ بابا۔ وہ اچھل کر پیچھے ہٹا جیسے اسے بچھو پکڑانے کی کو شش کی گئ ہو۔۔
    گوارااور جی ہائے لڑکوں کے پاس بیٹھی ڈرنک کر رہی تھیں ۔ یہ لوگ کوئی کورین کھیل کھیل رہے تھے۔ انتاکشری کی طرح کا۔ لفظ سے لفظ جوڑتے تھے اور غیر متعلقہ لفظ بولنے والے کو ماتھے پر انگوٹھے اور انگلی ملا کر ٹھونگا مارتے۔ لڑکے لڑکی کی تشخیص نہ تھی۔ بنا لحاظ جی ہائے کو مار رہے تھے۔ جوابا وہ بھی پوری جان لگا کر مارتی سب کی پیشانیاں سرخ ہو چکی تھی۔ وہ ہمیشہ یسو پنجو کھیلتے بھی اس مار کٹائی سے سخت اکتاتی تھئ۔ اسکے حصے کی مار بھی صارم کو کھانی پڑتی تھئ۔ کزنز میں۔ اسے انہیں دیکھتے اپنے خاندان کی تقریبات یاد آنے لگیں جب سب کزنز مل کر یسو پنجو یا انتاکشری کھیلتے تھے مگر پٹائی میں کبھی انکے میل کزنز نے لڑکیوں کو مارا نہیں تھا۔ انکو سزا کے طور پر چائے بنانے بھیج دیتے تھے اور تب جو بنا لحاظ لڑکے ایک دوسرے کی ٹھکائی کرتے تھے وہ الگ ہی شغل ہوتا تھا۔ ۔وہ تھوڑی دیر انکے پاس بیٹھ کر بور ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ گاڑیاں کافی دور پارک کرنی پڑی تھیں اتنی دور جا کر اکیلے بیٹھنا گاڑی میں مناسب نہیں لگا اس کو ہلکی ہلکی ٹھنڈ لگ رہی تھی۔۔ اس نے موبائل میں درجہ حرارت دیکھا تو آنکھ کچھ زیادہ ہی بڑی کھل گئ۔۔ چودہ بلکہ اپ ڈیٹ کیا تو گیارہ ڈگری ہی رہ گیا۔۔
    میرے خدا۔۔ ستمبر تک تو قلفی جمنے لگے گی مجھے سردیوں کی شاپنگ کر لینی چاہیئے۔۔
    اس نے سوچا۔۔ ابھی کیا کروں۔۔ اس نے پہلے سوچا جا کر واپس لڑکوں کے پاس بیٹھ جائے مگر انکے قہقہے اور مستی کی آوازیں سن کر ارادہ بدل کر مخالف سمت آہستہ آہستہ ٹہلنے لگی۔۔
    ہایون کی گھونٹ بھرتے اس پر نظر پڑی تھی۔۔
    سرسراتے ہیولے کے کپڑے ہی کپڑے نظر آرہے تھے۔۔ اس نے جھنڈے کو شال کی طرح لپیٹا ہوا تھا۔۔ آہستہ آہستہ چلتی وہ اکیلی اندھیرے میں گم ہو رہی تھی۔
    اسے دیکھتا وہ بھی اسی اندھیرے میں گم ہورہا تھا۔۔
    ہے نا۔۔ یون بن نے کندھے پر ہاتھ مار کر اس سے تائید چاہی تھی۔۔ وہ سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
    میں آتا ہوں۔۔ اس نے اخلاقا بتایا تھا مگر وہ سب اپنی خوش گپیوں میں مگن تھے ۔۔
    وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اریزہ کے پاس چلا آیا۔۔
    کیا ہوا ٹھنڈ لگ رہی ہے؟۔ اس نے پوچھا تو وہ چونک کر کھسیا سی گئ۔۔
    ہاں۔۔
    ہایون ہنسا۔۔ کین سے گھونٹ بھرنے لگا پھر خیال آیا تو کین جھک کر زمین پر رکھ دیا۔۔ سیدھا ہوتے ہوئے جانے کیا خیال آیا اسے چھیڑنے کی غرض سے بولا۔۔
    اگر سردیاں ہوتیں تو میں جیکٹ اتار کردیتا مگر میں نے بس یہ شرٹ ہی پہنی ہوئی ہے۔۔ کہو تو اتار کر دوں۔۔
    اسکا انداز شرارت بھرا تھا۔۔
    خبر دار۔۔ اس نے فورا وارننگ دی۔۔
    مجھے زہر لگتے وہ لڑکے جو بنا شرٹ گھومتے۔۔
    ہایون نے کھل کر قہقہہ لگایا۔۔
    میں برا نہیں لگتا۔۔ سکس پیکس ہیں میرے بہت سمارٹ ہوں میں۔۔
    لگتا تو نہیں۔۔ اس نے منہ بنا کر اسے غور سے دیکھا۔۔
    لمبا سا دبلا سا ہایون۔۔ سکس پیک والے تو اتنے موٹے مسلز والے ہوتے۔۔
    اسے غور سے خود کو دیکھتا پایا تو شرارت سے شرٹ کے بٹن کھولنے لگا۔۔
    یقین نہیں آرہا دکھاتا ہوں۔۔ اس نے واقعی اریزہ کے نا نا کرنے کے باوجود شرٹ کے بٹن کھول دیئے۔۔
    یہ دیکھو۔۔ اسکی بظاہر دبلی جسامت کے برعکس اسکے پیٹ کے مسلز صحیح اکڑے ہوئے تھے۔۔ اس نے اپنی بنیان تھوڑی اونچی کر کے باقاعدہ مسلز سانس پھلا کر دکھایا۔۔
    اریزہ بس دیکھ کر رہ گئ۔۔
    یقین آیا۔۔ وہ بچوں کے سے اشتیاق سے پوچھ رہا تھا۔۔
    ہاں۔۔ اسے بے ساختہ صارم پھر یاد آیا تھا۔۔ شروع شروع میں جم لگا کر روز اس سے تصدیق کرواتا تھا دیکھو میرے پیکس بنے یا نہیں۔۔ اور اسکے بن بھی گئے تھے تب بھی وہ نفی میں سر ہلا کر اسے چڑاتی تھی۔۔ صارم کی بات یاد کرکے اسکے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئ۔۔ بالکل اسی طرح کرتا تھا۔۔
    مرتی ہیں لڑکیاں میری جسامت پر۔۔ وہ مزید اترایا۔۔
    کوئی نہیں۔۔بالکل بھی متاثرکن نہیں ہو تم۔۔ اسے تو عادت تھی چڑانے کی۔۔ مسکراہٹ دبا کر لاپروا بن گئ۔۔
    ہاہ۔۔ وہ حیران رہ گیا۔۔
    وہ لاپروا بنی دوبارہ آہستہ آہستہ ٹہلتی آگے بڑھی۔۔
    وہ بھی حیرت کے دریا مین غوطہ زن اسکے پاس آیا۔۔
    ہے ۔۔ ابھی کوئی اور لڑکی ہوتی تو مر جاتی مجھ پر میری کشش میرا حسن تمہیں قدر نہیں۔۔
    وہ مایوس ہوا۔۔
    شرٹ لیس لڑکے کو دیکھ کر پاکستانی لڑکیاں نہیں مرنے لگتیں۔۔ وہاں چھے مہینے ہم لڑکوں کو ایسے ہی دیکھتی ہیں۔۔
    اس نے کانوں سے مکھی اڑائی۔۔
    ہایون کی حیرانی دو چند ہوگئ
    مطلب؟۔۔ مجھے تو لگا تو مسلم قدامت پسند ہوتے۔۔ وہ جھجک کر بولا۔۔
    اریزہ گڑبڑائی۔۔
    ہاں مگر وہاں گرمی پڑتی تو مرد اکثر گھروں میں بنا قمیض گھومتے گرمی میں۔۔ مگر سب نہیں۔۔
    وہ۔کھسیا سی گئ تھی روانی میں منہ سے نکلا تھا۔۔۔
    پڑھے لکھے گھروں میں ایسا کم ہوتا۔۔ جیسے میرا گھر میرے پاپا صارم وغیرہ کبھی کم کپڑوں میں نہیں گھومتے۔۔ اسکے زہن کے پردے پرشارٹس پہنے گھومتا صارم لہرایا۔ اس نے آنکھ میچ لی۔۔
    کیا سوچتا ہوگا۔۔ پاکستانی ننگے پھرتے۔۔
    اسے خیال ہی آیا تھا مگر ہایون نے سوچ بھی لیا اور تصدیق چاہی۔
    اوہ گرمی بہت پڑتی ہے وہاں۔۔ ۔۔ گرمی میں تو پھر خواتین کا لباس بھی ویسا ہی ہوتا ہوگا نا۔۔
    نہیں۔۔ وہ چیخ پڑی۔۔
    حد ہے۔۔ یہ اس نے نفی میں سر ہلاتے اردو میں کہا تھا۔۔ وہ ہایون کو گھور رہی تھی۔۔ جو اسکے ایکدم چلانے پر حیران دیکھ رہا تھا۔۔
    ایسا ہی لباس ہوتا گرمی میں بھی۔۔ اس نے اپنے لباس کی جانب اشارہ کر کے بتایا۔۔ پھر خیال آیا جینز اور ٹاپ پہنے کھڑی ہے۔۔
    میں جو لمبے دوپٹے اور لمبی قمیض پہنے ہوتی نا جیسے۔۔ وہ سوچ میں پڑی۔۔
    جیسے میں یونیورسٹی تیار ہوکر آتی نا ویسا
    سمجھ گیا۔۔ اس نے اسکی مشکل دور کی۔۔
    مگر میرا مطلب یہاں بھی لڑکیاں گرمیوں میں فراک شارٹ اسکرٹ وغیرہ پہنتی ہیں مگر جب آگے سردیاں آئیں گی تو انکا لباس سردیوں کی مناسبت سے ہوگا۔۔ تم لوگ گرمی میں بھی اتنا لپیٹ کر میرا مطلب برا مت ماننا مگر گرمی نہیں لگتی کم از کم یہ پردہ۔۔ ۔۔ ا سے مراد اسکی دوپٹہ تھی۔۔
    اوپر سے نہ اوڑھو۔۔
    ہمیں عادت ہے۔۔ اریزہ نے مختصر جواب دیا اور مسکرا دی۔۔
    مجھے تو یہاں اتنا کچھ پہن کر بھی ٹھنڈ لگ رہی۔۔۔ اس نے دور بیٹھی گوارا اور جی ہائے کو دیکھا دونوں ہی گھٹنوں تک کی فراک جیسے ٹاپ میں ملبوس تھیں۔

    اسے جھر جھری لیتے دیکھ کر ہایون مسکرا یا۔۔
    گاڑی میں چل کر بیٹھو گی؟۔۔
    اس نے پوچھا تو وہ ایکدم ہاں کہتے کہتے رکی۔۔ سب باہر بیٹھے تھے ایویں کیا سوچتے۔۔ وہ ہایون کے ساتھ گاڑی میں اکیلی بیٹھی تھی۔۔
    آنیو۔۔ اس نے فورا انکار کیا۔۔ حالانکہ وہ کوریا میں تھی ان سب نے دھیان بھی نہیں دینا تھا اس پر۔۔
    تیزتیز واک کر لو جسم گرم ہو جائے گا۔ آجائو۔۔
    ہایون کہہ کر مڑا اور واقعی تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔۔ ہیں۔۔ وہ پہلے تو نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی پھر خیال آیا توخود بھی رفتار بڑھا لی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈیڑھ بجے کے قریب وہ لوگ اپارٹمنٹ میں پہنچی تھیں۔۔ہاسٹل تو بند ہوچکا تھا۔
    اف بہت تھک گئ سیدھا بستر پر گروں گی۔۔
    گوارا با آواز بلند کہتی داخل۔ہوئی۔۔
    شش۔۔ اس نے ٹوکا مگر گوارا نے سنا نہیں۔۔ اپارٹمنٹ میں ملگجا اندھیرا تھا۔۔ یعنی ہوپ سو چکی تھی۔۔
    اف ویسے مزا بڑا آیا ہے نا اریزہ۔۔ گوارا اسی انداز میں اونچی آواز میں کہتی کمرے میں داخل ہوئی اور بتی بھی جلا دی۔۔اسکے پیچھے پیچھے آتی وہ ٹوکنے کو منہ کھول کر ہی رہ گئ۔۔
    روشنی کے جھماکے ہوپ نیند سے جانے کیا سمجھی یکدم اٹھ بیٹھی۔۔ جی ہائے نے اسکی شکل دیکھی تو گوارا کو ایک کندھے پر جما دی
    شرم کرو۔
    تم جنوبی کوریائی لوگوں میں تمیز نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی کیا۔ جانور میں بھئ دوسرے جانور کیلئے خیال ہوتا ہے۔۔
    ہوپ بھنا کر بولی۔
    گوارا اور اریزہ ایک دوسرے کو نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھ کر رہ گئیں۔۔ جی ہائے نے ہونٹ بھینچے۔۔
    گوارا کی غلطی ہے اسے برا کہو پورے جنوبی کوریا کو کیوں لپیٹ میں لے لیا۔۔
    کیا کہہ رہی ہے یہ؟۔۔ اریزہ نے پوچھا تو وہ کندھے اچکا گئ
    مجھے کیا پتہ۔۔
    ہوپ کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھئ۔۔

    کین چھنا؟۔۔ گوارا نے پوچھا مگر وہ بال سمیٹتی اٹھنے لگی۔
    اریزہ نے سائڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس بھر کر اسکی جانب بڑھایا۔۔
    معزرت گوارا کو یقینا دھیان نہیں رہا کہ تم سورہی ہو۔۔
    ہوپ نے اسکی معزرت کو خاصے اچنبھے سے دیکھا مگر گلاس پکڑلیا۔
    شکریہ۔۔ وہ سنبھل کر اب انگریزی میں بولی۔۔
    تم چینی زبان بھی جانتی ہو۔۔ بیڈ پر بیٹھ کر سینڈل اتارتی ہوئی گوارا نے سرسری سے انداز میں پوچھا تھا۔۔ ہوپ سن سی رہ گئ
    ہیں۔۔ یہ چینی زبان تھی؟۔۔ اریزہ بھی حیران ہوئی۔۔ جی ہائے نے ناک چڑھائئ۔
    ہاں ورنہ ابھئ گھمسان کی جنگ چھڑتی۔۔
    جبھی میں کہوں تھوڑا بہت تو سمجھ آجاتی ہنگل یہ ابھی کیا کہہ رہی تھی ایک لفظ پلے نہیں پڑا۔۔
    ہوپ ساکت سی بیٹھی تھی۔۔
    اب انکا کیا ردعمل ہوگا۔۔ اسکا دل سوکھے پتے کی طرح لرزرہا تھا۔۔
    نارتھ کورین ڈیفیکٹر۔ شمالی کوریائی محاجر ۔ یا اسپائی۔جاسوس جو بھی سمجھیں گی نفرت ہی کریںگی۔۔ اس نے سوچا۔۔
    تم لوگ کتنے با صلاحیت ہوتے ہو کتنی زبانیں جانتے ایک میں احمق آج تک انگریزی بھی اچھی طرح سیکھ نہیں پائی۔۔ اریزہ نے منہ بنایا۔۔ وہ کمرے کے اکلوتے صوفے پر گر کر سینڈل اتارتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔
    ہم سے مراد تمہاری کس سے ہے؟۔۔
    شمالی کوریائی سے یا جنوبی کوریائی سے؟۔۔ جی ہائے بڑے جتانے والے انداز میں ایک نظر ہوپ کو دیکھ کر اس سے مخاطب ہوئی۔۔
    مطلب۔۔ اریزہ سمجھی نہیں۔۔
    مطلب اگر جنوبی کوریا کی بات کرو تو ہم بس ہنگل جانتے انگریزی اتنی جانتے کہ کام آجائے بس وہ بھی اگر ہم پر زبردستی تدریس میں شامل کرکے نہ سکھائی جائے تو اتنی بھی نہیں آتی۔۔ ہاں شمالی کوریا کی بات الگ یہ لوگ اپنے ملک سے بھاگ کر ارد گرد کے ممالک جا پہنچتے وہاں کی زبان سیکھ جاتے تو نکالے جاتے پھر بھاگتے تو کسی نئے ملک جاتے وہاں کی زبان سیکھنی پڑتی ۔۔ گوارا کا انداز تھوڑا عجیب تھا۔۔ ہوپ کے چہرے کے زاویئے بن بگڑ رہے تھے۔۔
    تم شمالی کوریائی ہو؟۔۔ اریزہ بس اتنا ہی سمجھی ہوپ سے پوچھا۔۔ ہوپ نے چونک کر اسکی شکل دیکھی صرف تجسس تھا۔۔ یونہی پوچھ رہی تھی شائد وہ۔۔ اسے ناگواری کا شائبہ تک نہ ہوا۔۔
    ظاہر ہے۔۔ اسکی شکل دیکھ کر نہیں لگتا۔۔
    جواب جی ہائے کی جانب سے آیا تھا
    کیا ہے میری شکل کو؟۔۔ ہوپ تپ کر اسکی جانب مڑ
    پیلی پھٹک ہے رخسار کی ہڈیاں نکلی ہوئی ہیں۔۔ جیسے فاقہ کشی کرتی رہی ہوآنکھیں الگ بے رونق ہیں۔۔ گوارا کا انداز سادہ سا تھا
    گوارا۔۔ اریزہ نے حیرت سے ٹوکا یہ کس طرح بات کر رہی تھی۔۔
    گوارا مطمئن سے انداز میں بازو سینے پر لپیٹ کر جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
    شکر ہے جیسی بھی ہوں اپنی شکل پر مطمئن ہوں۔۔ اپنی غلافی آنکھوں چپٹی ناک پر مجھے کوئی شرمندگی نہیں کہ پلاسٹک سرجری کا سوچ لوں
    تم۔۔ گوارا کے تن بدن میں آگ لگ گئ تھی۔۔
    تمہاری جرات۔۔ وہ دانت پیس رہی تھی
    سچ کڑوا لگا نا۔۔ مجھے اپنے شمالی کوریائی باشندے ہونے پر اپنے مخصوص نقوش پر فخر ہے ۔میں محنت کش مھر خود دار لڑکی ہوں اپنی زندگی کی جنگ خود لڑنے والی بہادر میں تم جیسی باربی سے کہیں بہتر ہوں جس کو دنیا کی ہر نعمت میسر ہے مگر اسکی لالچ ختم نہیں ہورہی۔۔ جو اپنی شکل اپنے وطن اپنے نقوش پر فخر کرنے کی بجائے ان پر شرمندہ ہے۔۔
    بکواس بند کرو تم۔۔ گوارا تپ کر اس پر ہاتھ اٹھانے بڑھی۔۔
    کیا ہوگیا ہے کس بات پر لڑ رہی ہو۔۔ اریزہ گھبرا کر دونوں کے بیچ آئی۔۔ دونوں ہنگل میں لڑ رہی تھیں اسے پلے نہ پڑا تھا۔۔
    میں شمالی کوریائی محاجر ہوں کوئی اعتراض ہے؟۔۔ ہوپ اریزہ کی آنکھوں میں جھانک کر مضبوط لہجے میں بولی۔۔
    آنیو۔۔ اریزہ بمشکل سر ہلا کر بولی۔۔
    جئ ہائے ناک سکوڑ کر سونے کیلئے جی ہائے کی خالی کی گئ جگہ پربیڈ پر دراز ہوگئ۔

    .———————————————————————————————-

    ہوپ کرائے دار تھئ۔ جی ہائے اپنا حق وصول کر چکی تھی۔ بیڈ پر دونوں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں۔۔ اریزہ نے حسرت سے بیڈ کو دیکھا۔۔ گوارا کو آداب میزبانی سب یاد تھے سو اسے اور اریزہ کو لائونج میں بستر بچھا کے سونا پڑا۔۔
    صبح معمول کے مطابق تھی۔۔ مگر خنک۔۔ وہ رات کو خنکی کے باعث کپکپا رہی تھی مگر ہمت نہیں تھی اٹھ کر کچھ ڈھونڈ کر اوڑھنے کی۔۔ اوڑھتی بھی کیا۔۔ پھر جانے کب آنکھ لگی کچھ پتہ نہیں چلا صبح الارم پر پہلا احساس یہی ہوا ابھی تو آنکھ لگی تھی۔۔ اس نے کسمسا کر انگڑائی لی اور سستی سے اٹھ گئی۔۔ منہ ہاتھ دھو کر سب سے پہلے ٹیرس میں چلی آئی۔۔ کالے بادل چھائے تھے دھوپ کا نام و نشان تک نہیں تھا۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔۔ وہ کانپتی دروازہ بند کرتی اندر چلی آئی۔۔ کمرے میں جھانکا تو جی ہائے بے خبر سو رہی تھئ۔
    ناشتہ بنایا میز پر رکھ رہی تھی تب تک گوارا اور جی ہائے بھی سٹر پٹر کرتی چلی آئیں۔
    صبح بخیر۔۔ اس نے جتنی خو شدلی سے کہا تھا گوارا کا اتنا ہی مرے مرے انداز میں جواب آیا۔۔ وہ نیند سے جھوم رہی تھی۔۔

    آج یونیورسٹی جانے کا دل نہیں کر رہا۔۔ جمائی روکتی وہ سستی سے بولی۔۔
    رات کی اتری نہیں سر گھوم رہا۔۔ اس نے سر تھاما۔۔
    اریزہ مسکرائی۔۔
    رات کا منظر تازہ ہوا زہن میں۔۔
    تو چڑھی ہوئی تھی موصوفہ کو۔۔ اس نے دل میں سوچا۔۔
    ہینگ اوور سوپ تو بنانا آتا نہیں سر درد ہم پاکستانیوں کے خیال میں ہوتا ہی چائے پینے کیلیئے ہے تو یہ لو۔۔ اس نے بھاپ اڑاتا مگ سامنے رکھا آملیٹ اور پراٹھے پہلے ہی میز پر موجود تھے گوارا نے بھی پھر تکلف نہیں کیا۔۔ جی ہائے نے پراٹھے دیکھ کر منہ بنایا تو اسکے سامنے ڈبل روٹی لارکھی۔
    کوئی حیرت نہیں تم یہ سب کھا کھا کے ہی اتنی موٹی ہو۔
    جی ہائے نے بلا لحاظ ٹوکا۔ اریزہ جو پراٹھے کا نوالہ توڑ رہی تھی خفت زدہ سی ہوگئ۔
    گوارا نے جی ہائے کو ٹہوکا دیا۔ اس نے بھنوئیں اچکائیں جیسے پوچھ رہی ہو کیا ہوا۔۔
    میں یہاں جب آتی ہوں تب بس ناشتہ کرتی ہوں ہاسٹل میں تو ڈبل روٹی ہی کھاتی ہوں۔
    اس نے جانے کیوں صفائی دی۔
    جی ہائے لاپروائئ سے گوارا کی پلیٹ سے آملیٹ اٹھا کر دو سلائس میں رکھتئ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    میں تو چھٹی نہیں کر سکتی آگے ہی حاضری کم ہوجانی میری سو چلتی ہوں۔۔
    رکو میں بھی چلتی ہوں مجھے بھی یونیورسٹی جانا۔۔
    اریزہ نے کہا تو اس نے غور سے دیکھا۔
    جب تک تیار ہوگی تم تب تک میں یونیورسٹی پہنچ چکی ہوں گئ۔ تم آتی رہنا مجھے ہاسٹل سے اسائنمنٹ اٹھانی ہے دیر ہورہی مجھے۔ آنیانگ
    وہ اپنے ازلی بے نیاز اور تھوڑے بے مروت انداز میں کہہ کر چلتی بنئ۔ اریزہ خاصی حیران تھی اسکے رویئے پر۔
    دفع کرو۔ تم بھئ چھٹی کرلو۔۔
    گوارا کا آملیٹ تو جا چکا تھا اس نے نوالا چائے میں ڈبو کر منہ میں رکھا۔
    اریزہ نے اپنا آملیٹ اسکی جانب بڑھا دیا۔
    وہ شمالی کوریائی جاسوس چلی گئ صبح صبح ۔۔ چند لقمے لے کرگوارا کے حواس بحال۔ہوئے۔۔
    تم اسے یہ کہہ رہی تھیں ۔۔ جبھی رات کو اسکے تن بدن میں آگ لگ گئ تھی۔۔ اریزہ نے گھورا تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔
    پاگل ہے وہ۔ مجھے پہلے سے پتہ تھا وہ شمالی کوریائی باشندہ ہے۔ ہایون نے بتا دیا تھا مجھے۔۔ ایویں بے وجہ ٹینٹرم پیدا کر رہی تھی۔۔ اس نے سر جھٹکا۔۔
    اسے اسکا طعنہ یاد آیا۔۔ تو منہ بن گیا۔۔
    وہ تھوڑی سی دبلی زیادہ ہے مطلب یہاں سب لڑکیاں عموما بھرے بھرے گال کی ہوتی ہیں مگر پھر بھی مجھے نہیں لگا تھا وہ غیر ملکی ہے۔۔ خیر ہمیں تو چینی جاپانی بھی ایک جیسے لگتے اور کورین تو ہم جانتے ہی نہیں ہم چینی ہی سمجھتے ہر چپٹی ناک والے کو۔۔ اریزہ سادہ سے انداز میں کہہ کر ہنسی
    کیا مطلب چپٹی ناک۔۔ ہمارے نقوش اچھے نہیں ہوتے تم لوگوں کی نظر میں۔۔ گوارا کا لہجہ تیز ہوا۔۔
    کیا ہو گیا میں نے ایسا کب کہا۔۔ اریزہ حیران ہی تو رہ گئ۔۔
    دنیا کی پر امن ترین قوم ہیں ہم اور خوبصورت بھی ایک دنیا ہمارے یہاں کے اداکاروں پر مرتی ہے یہاں کے حسن یہاں کی ثقافت کی دیوانی ہے۔۔ تم کہتی ہو ۔۔ ہاش۔۔
    وہ طنزیہ انداز میں کہتی جتاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    کون۔۔ شمالی کوریائی یا جنوبی کوریائی۔۔ جہاں تک میری معلومات ہیں دونوں ملک پہلے ایک ہی تھے ان میں ایک ہی قوم بستی۔۔
    اریزہ کو اسکے انداز پر غصہ آگیا تھا سو جتاکر بولی۔۔
    گوارا لمحہ بھر چپ رہ گئ۔۔
    باقی اگر واقعی خدا لگتی کہوں تو تم بہت خوبصورت ہو کم ازکم پلاسٹک سرجری کی تمہیں ضرورت نہیں۔
    پھر چاہے یہ بات تم میرے منہ سے سنو یا ہوپ کے بس چڑنے کی بجائے سمجھ لو۔۔
    وہ اطمینان سے ناشتے کے برتن اٹھا نے لگی۔۔
    گوارا چپ ہو کر اسے گھورنے لگی تھی۔۔
    تم بہت خطرناک ہو۔۔ تمہیں کل ہماری ساری باتیں سمجھ آگئی تھیں۔۔
    اریزہ کو ہنسی آگئ تھی۔
    اسکا صرف اندازہ تھا جو درست نکلا۔۔ کل ہوپ نے اسے اسکی شکل پر طعنہ مارا بالکل ویسے ہی جیسے گوارا اسکی شکل کا تمسخر اڑا رہی تھی۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خوب سارا شاور لے کر سب تکان جیسے اتر گئ تھی۔
    وہ گنگنا تا ہوا کمرے میں چلا آیا۔۔ آئینے میں دیکھتے ہوئے بال بناتے ہوئے اسے جانے کیا ہوا۔۔ خود کو ہر زاویئے سے دیکھنے لگا۔۔
    ہینڈسم تو میں ہوں۔
    شرٹ لیس لڑکے کو دیکھ کر پاکستانی لڑکیاں نہیں مرنے لگتیں
    اریزہ نے منہ چڑایا تھا۔۔
    وہ بے ساختہ ہنس دیا۔۔
    مجھے پوچھنا چاہیئے تھاپاکستانی لڑکیوں کو پٹانے کیلیئے کیا کرنا چاہیئے۔۔
    وہ زیر لب بڑ بڑا کر مسکرا دیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مسکرا دینا چاہیئے۔ اریزہ نے کہا تو گوارا اسے اچنبھے سے دیکھنے لگی۔۔
    بس؟۔۔ میرا مطلب ۔۔ بس کوئی لڑکا تم پر مرنے لگے تو بس تمہارے سامنے مسکرایا کرے۔۔ کافی ہے۔۔
    گوارا بھئ حیران تھی اریزہ اسکے تاثرات دیکھ کر ہنس پڑی۔۔
    ہاں مجھے غصہ ور لوگ نہیں پسند ۔۔ وہ کندھے اچکا کر بولی۔۔
    گوارا زور سے ہنسی۔۔
    مجھے لگا تھا تم اتنی ساری شرطیں بتائو گی لمبا ہو گورا ہو ایسے بات کرتا ہو اتنا خیال رکھنے والا ہو مزاحیہ ہو وغیرہ ۔۔ اس نے اپنے ہنسنے کی خود ہی وضاحت کر دی۔۔ اریزہ سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
    ویسے یون بن کی مسکراہٹ بہت قاتلانہ ہے۔۔ جی ہائےنے آنکھ ماری۔۔
    آا۔۔ اریزہ نے ناک چڑھائی۔۔
    اپنی سہیلی کے سہیلے میں کبھی دل چسپی نہ لوں میں۔۔ اس نے روانی میں اردو میں کہا۔۔ پھر چپ سی رہ گئ۔۔
    اس دن سنتھیا نے بھئ تو سر پر ہاتھ رکھوا کر پوچھا تھا۔۔
    ایڈون کرسچن ہے اور تمہارا منگیتر ہے۔ تم صرف یہی سوچا کروباقی سب فضول سوچیں اپنے ذہن سے نکال دو۔یہی بہتر ہے۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا کہا تم نے۔۔ ؟۔ گوارا سمجھی نہیں سو اسکا کندھا ہلا کر پوچھنے لگی
    میں کہہ رہی تھی میں اپنی دوست کے بوائے فرینڈ میں کبھی بھی دل چسپی نہ لوں۔۔
    گوارا مسکرا دی۔۔
    مجھے یقین ہے۔۔ تم ایسی ہی ہو۔ اس نے اتنے تیقن سے کہا کہ اریزہ حیران ہو کر دیکھنے لگی وہ پھر بات بدل گئ۔۔
    تمہیں ٹھنڈ کیوں ابھی سے لگنے لگی ہے۔۔ وہ کافی حیران تھی۔۔ اریزہ جو ٹیرس پر سرد ہوا سے تھوڑا خنکی محسوس کرنے کی وجہ سے بلا ارادہ بار بار خود کو سکیڑ رہی تھی کھسیا گئ۔۔
    ہمارے یہاں اسکو ٹھنڈ میں شمار کیا جانے لگتا ہے۔۔
    اسکی ناک بھی چالو ہو گئ تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم آج یونیورسٹئ آئی ہو؟۔۔
    گوارا نہانے گھسی تو وہ آرام سے بیڈ پر لیٹ کر کینڈی کرش کھیلنے لگئ۔۔
    اسکو اطلاع آئی تھی کہ نیا پیغام آیا مگر اس نے انگوٹھے کے دبائو سے اطلاع کو ایک طرف کر دیا۔۔ اسکے چار موقعے ضائع ہو چکے تھے آخری چل رہا تھا اخیر کوئی منحو س سطح تھی کھیل کی تیس سیکنڈ میں اوپر سے گرتے پھلوں کو پار کروانا تھا ۔۔
    تبھئ شائد پیغام بھیجنے والے سے صبر نہ۔ہوا۔۔
    ہایون کالنگ لکھا آیا موبائل وہیں جم گیا۔۔
    آہ ۔۔ اس نے بے چارگی سے موبائل کو دیکھا۔۔
    پھر کال اٹھا لی۔۔
    ہیلو۔۔
    آننیانگ واسے او۔۔
    ہائے۔۔
    ہایون کا ہمیشہ کا کھلکھلاتا انداز ۔۔اسکے پر جوش زندگی سے بھرپور انداز پر اسکی بیزاری بھی کم ہوئی مسکرا کر اٹھ بیٹھی۔۔
    ہائے۔۔
    کیسے ہو۔۔ اس نے احوال پوچھا۔۔
    جوابا اس نے خوشدلی سے بتایا
    ٹھیک ٹھاک۔۔ ویسے تم پاکستانی کال اٹھاتے ہوئے ہیلو ہی کہتے ہو؟۔۔
    ہاں۔۔ اس کو سمجھ نہ آیا۔۔
    اچھا۔۔ وہ رکا تو اسے خیال آیا۔۔
    ہم اسلام و علیکم کہتے ہیں۔۔
    اس نے وضاحت کی۔۔
    تم نے مجھے تو سلام نہیں کیا میں اچھا انسان نہیں؟۔۔ کہ مجھے عزت دو تم۔۔
    وہ مایوس ہوا۔۔
    نہیں ایسی بات نہیں بس وہ یہاں انگریزی بولنے کے چکر میں۔۔ وہ کافی شرمندہ ہوئی تھی۔۔اسکے کلاس فیلو جاننے والے اسلام وعلیکم کہہ کر ہی کال ریسیو کرتے تھے اور اسے سچ مچ عادت ہی نہیں تھی۔۔ ہیلو سے کام چلاتی ہاں کوئی بڑا ہوتو کال وصول کر لینے کے بعد سلامتی بھی بھیج دیا کرتی تھی۔۔ دوسرے ملک آئو تو احساس ہوتا کتنی انگریزی اور انگریز ہم میں گھس چکے۔۔
    مزاق کر رہا تھا۔۔
    اسے سنجیدہ ہوتے دیکھ کر اس نے فورا صلاح کا جھنڈا لہرایا۔۔
    آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئیں؟۔۔
    وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔۔
    ایسے ہی۔۔ موڈ نہیں ہوا۔۔ وہ جھک کر بیڈ کے نیچے سے چپل ڈھونڈنے لگی۔۔ ایک تو سامنے تھی دوسری ٹھوکر سے بیڈ کے نیچے چلی گئ تھی وہ اکڑوں بیٹھ کر نیچے سے ہاتھ بڑھا کر اسے کھینچنا چاہ رہی تھی۔۔ مگر ہاتھ پہنچا نہیں اس نے تھوڑا سا سر بھی نیچے کیا۔۔اور آگے ہونے لگی۔۔
    تمہیں پتہ ہے پہلے مڈٹرم کےمتحانات کیلیئے فہرست آج شائع ہوئی ہے اور اس میں تم سمیت باقی تمام پاکستانی طلبا کا نام نہیں۔۔ آج ایڈون
    کیا۔۔ وہ چیخ کر سیدھی ہوئی سر پٹی سے لگا بس جیسے دو ٹکڑے ہی ہو گیے ہوں۔۔مگر خبر کہیں زیادہ تکلیف دہ تھی۔۔
    وہ۔رو ہانسی ہو چلی۔۔
    کیوں۔ ہم نے تو سب اخراجات ادا کر دیئے تھے یونیورسٹی کی تمام تر ۔۔
    اسکی آنکھیں لبالب بھر گئیں۔۔
    وہ۔۔ وہ کہتے کہتے رکا۔۔
    بات یہ نہیں۔۔ در اصل یونیورسٹی تم لوگوں کو ۔۔
    اسے سمجھ نہ آیا کیسے بتائے۔۔
    وہ تم لوگوں کی جو پاکستان کی یونیورسٹی ہے نا وہ بین القوامی سطح پر جانی نہیں جاتی۔ تو یونیورسٹی وہاں سے پڑھے گئے دو سال کو یہاں مان نہیں رہی مطلب تم۔لوگوں کی گریجوایشن تب مکمل ہوگی جب تم لوگ چار سال یہاں پڑھوگے ۔۔
    سو تم سب طلبا کے نام پہلے سمسٹر میں شامل کر لیئے گئے ہیں جو اگلے تین مہینوں بعد نیا طلبا کا گروہ آئے گا انکے ساتھ۔ تمام اخراجات وہ اس سمسٹر میں ضم کر دیں گے۔۔
    وہ مکمل تفصیل ایڈون سے لیکر آیا تھا۔۔
    ایسے کیسے۔۔ ہماری یونیورسٹی نے بھی اس یونیورسٹی کے طلبا کو وہاں چوتھے سمسٹر میں ہی قبول کیا ہے۔۔
    وہاں جانے والے تمام طلبا واپس آچکے ہیں۔۔ کوئی بم دھماکا ہوا تھا لاہور میں تو سیکیورٹی کی وجہ سے۔

    لاہور میں؟۔۔ وہ چیخ پڑی
    مگر ہماری یونیورسٹی تو اسلام آباد میں ہے۔۔ حد ہے ایسا کیسے کر سکتے کوئی انسانیت ہے تم لوگوں میں ۔۔ ڈرپوک کہیں کے ہم بھی تو رہ رہے ہیں وہاں۔۔ موت یہاں نہیں آئے گی؟۔۔ سو سال جیو گے۔۔ وہ پھٹ پڑی تھی۔۔ بولتے بولتے آواز بھی بھرا گئ۔۔ ہایون چپ سنتا گیا۔۔یونیورسٹی کی انتظامیہ کا گلا دبا دے۔۔
    مت رو پلیز۔۔ ایڈون وغیرہ سب بات کر رہے ہیں آج سارا دن وہ انتظامیہ سے بات کرتے رہے ہیں پریشان مت ہو کوئی حل نکل آئے گا۔۔
    تین مہینے ہمارے ضائع۔۔ ایسا کیسے کر سکتے۔۔
    وہ اردو میں بول رہی تھی۔۔
    ہمارا تو پورا سال ضائع ہوگیا نا۔۔ اسکے دکھ کی کوئی انتہا نہ تھی۔
    اریزے شا۔۔ ہم کچھ حل نکال لیں گے۔۔ احتجاج کر لیں گے سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ تم مت پریشان ہو۔۔
    اسے سمجھ تو نہیں آرہا تھا مگر اسکا رونا تو سمجھ سکتا تھا اسے اپنی طرف سے جو تسلی دے سکتا تھا دے رہا تھا۔۔
    بہت برا کیا ہے حد کر دی۔۔ ہم چھوٹے ملک سے ہیں تو ہمارے پاس کیا دماغ نہیں۔۔ ہم عقل میں کم ہیں۔ ایسا ترقی یافتہ ملک ہونے سے بہتر ہے ہمارا غریب ملک۔۔ ہونہہ۔۔
    اسکو غصے میں سمجھ بھی نہیں آرہا تھا کیا کہے۔۔
    ہم انکے چندی آنکھوں والوں کو پڑھا رہے یہ ہمیں انکار کر رہے۔
    واٹ ۔۔ انگریزی میں بولو نا ظرف واٹ؟۔۔
    وہ بے چارہ بنا سمجھے بس سنے جا رہا تھا۔۔
    تمہارا سر۔۔
    اسے اب احساس ہوا اسکے سارے جملے ضائع گئے۔۔ سو تپ کر چیخی اور کال بند کر کے موبائل بیڈ پر اچھال دیا۔۔
    گوارا نہا کر بال جھٹکتی کمرے میں آئی تو اسکا لال بھبوکا چہرہ دیکھ کر حیران رہ گئ۔۔
    کیا ہوا؟۔۔ رو کیوں رہی ہو۔۔
    تم ہزار دفعہ کہا ہے میری جوتی کو ٹھوکر مار کر بیڈ کے نیچے مت کیا کرو اب بیچ میں پہنچ چکی ہے تمہیں گھسیڑ کر نکالوں اب میں۔۔
    وہ حلق کے بل چلائی۔۔
    کیا؟۔۔ گوارا کو بس بیڈ سمجھ آیا اسکے پورے جملے میں۔۔
    کیا ہوا بیڈ کو۔۔ وہ بے چاری بیڈ کو چھو کر دیکھ رہی تھی۔
    یہ تو حال اپنی زبان کے علاوہ ایک لفظ کچھ سمجھ نہیں آتا بنتے بڑے طرم خان ہو۔۔ جاہل۔۔
    وہ چڑ کر۔کہتی پیر پٹختی کمرے سے نکل گئ۔۔
    کیا ہوا ۔۔
    گوارا نے اسکے پیچھے آواز لگائی۔

    پھر پر سوچ نظروں سے بیڈ کو۔دیکھنے لگی۔

    دیکھنے میں تو ٹھیک ہی۔لگ رہا ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمہاری طبیعت آج ٹھیک نہیں لگ رہی تم گھر چلی۔جائو۔۔
    اسکو تھکے تھکے انداز میں ٹرے اٹھا کر کائونٹر پر رکھتے دیکھ کر اسکے مینیجر نے ہمدردی سے کہا۔۔
    جی۔۔ اسے لگا شائد سننے میں غلطی ہوئی ہے۔۔
    میں کہہ رہا ہوں تم گھر چلی جائو آرام کرو۔۔ اس نے نرم سی مسکراہٹ کیساتھ بات دہرائی۔۔
    مگر۔۔ وہ ہچکچائی۔۔
    جائو جائو۔۔ آج ویسے بھی موسم اعتدال میں نہیں تیز بارش کا امکان ہے ایسے موسم میں کون باہر نکل کر یہاں برگر کھانے آئے گا۔۔ گھر بھجوانے والے ہی زیادہ آرڈر آئیں گے وہ تو سونگ جانگ وغیرہ دیکھتے ہیں۔۔ جائو آج تمہاری چھٹی۔۔
    وہ لاپرواہ سے انداز میں کہتا مڑ کر برتن سمیٹ کر سنک میں رکھنے لگا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیوں پڑی ہوئی ہو زمین پر کتیا۔۔ کسی نے زور دار لات مار کر اسے جگایا تھا۔۔
    اسکے پیٹ میں درد کی شدید لہریں اٹھی تھیں وہ جو پہلے ہی زمیں پر پڑی تھی مزید دہری ہو گئ۔۔ ۔
    کیا ناٹک کر رہی ہو۔اٹھو یہاں سے۔۔ اور میرے لیئے چائے بنا کر لائو۔۔ کیا پکایا ہے تم نے کتیا۔۔
    وہ چندی آنکھوں والا ادھیڑ عمر آدمی غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔
    وہ آنسو پونچھتی اٹھنے لگی
    اتنی ٹھنڈ میں زمیں پر کیوں پڑی تھی کتیا مر مرا جاتی تو کون زمہ دار ہوتا کوڑے میں بھی نہیں پھینک سکتا تھا سیدھا مجھ پر کیس بنتا کیوں مری ہوئی تھی یہاں دروازے پر۔۔
    اسکے اٹھتے ہی زوردار تھپڑ اسکے گال پر جما کر وہ پھر غرایا تھا۔۔
    میں۔۔ اس نے گھومتے سر کو تھام کر نگاہ دوڑائی۔۔ وہ گھر کے داخلی دروازے کے بالکل سامنے راہداری پر پڑی ہوئی تھی۔۔
    کیوں ۔۔ اس نے سوچنا چاہا۔
    اب بھونک کیوں نہیں رہی۔۔ اس جلاد صفت انسان نے اسکے بال پکڑ لیئے تھے۔۔
    اسے تبھی یاد آیا۔۔
    وہ باہر برف باری ہو رہی تھی۔۔ اس نے سسکتے پوئے بتایا بتائے بنا چارہ نہ تھا۔۔
    گھر میں کچھ پکانے کو نہ تھا سودا لینے گئ تھی۔۔
    ٹھنڈ لگ گئ۔۔ گھر آئی تو چکرا کر گر گئ۔۔
    اس نے ٹھوٹی پھوٹی جتنی بھی چینی زبان آتی تھی اس میں ماضی الضمیر بتانے کی پوری کوشش کرنے لگی۔۔
    بے ہوش ہو گئ تھی۔۔ اب اٹھی ہے؟۔۔ ایک اور تھپڑ اسکا گال دہکا گیا۔۔
    کچھ پکایا بھی نہیں ہوگا۔۔ اب میں بھوکا مروں تمہاری وجہ سے۔۔ آگے مغلظات بکنا شروع۔۔
    میں ابھی سوپ بنا لیتی ہوں۔۔اسکی آواز میں لرزش تھی۔۔
    وہ کانپ رہی تھی۔۔ اسکے ڈر سے زیادہ ٹھنڈ سے ایک معمولی بوسیدہ سویٹر پہنے تھی۔۔ جس میں سوراخ ہو چکے تھے۔۔ یہ وہ واحد تحفہ تھا جو اسے پچھلے دو سالوں میں ایک بار شیانگ جو کی ایک گرل فرینڈ نے ترس کھا کر اسے دے دیا تھا۔۔
    جائو مرو باورچی خانے میں ۔۔آدھے گھنٹے میں کھانا تیار ہونا چاہیئے۔۔
    اس نے تحکمانہ انداز میں کہا تو وہ جلدی سے سر ہلاتی زمین پر گرے سودے کے شاپر سمیٹتی کچن میں دوڑ گئ۔۔ کم از کم وہاں حرارت تو ہوگی۔۔
    جلتی لکڑیوں پر پکتی ہنڈیا کے نیچے سے نکلتی آنچ پر اپنے سپید ہاتھ سینک کر اپنے گال پر لگاتی تو تکلیف سے آنکھ بھر آتی۔
    کھانا بنا کر ٹرے میں لگا کر کمرے میں آئی تو وہ جلاد سو چکا تھا۔۔ اس نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔
    پھر مسکرا دی۔۔
    یعنی آج میری چھٹی۔۔ وہ زیر لب مسکرائی اور وہیں زمیں پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ کر جلدی جلدی سوپ اور نوڈلز کھانے لگی۔۔
    یہ دو سالوں میں اسکی گن کر پانچویں چھٹی تھی۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔
    کیا ہوا ۔۔ مینجر نے اسکے تشویش سے کندھے سے ہلایا پھر فکرمندی سے اسکا ماتھا چھو ا۔۔
    اسکئ پیشانئ گرم تھی۔۔ وہ کسی ٹرانس سے واپس حواسوں میں آئی۔۔
    تمہیں تو کافی تیز بخار ہے لڑکی۔۔ حد کرتی ہو۔۔ وہ اسے تھام کر قریبی اسٹول پر بٹھانے لگا۔۔
    بتایا کیوں نہیں؟۔۔ ایک میسج کر دیتیں مجھے اور آرام کرتیں۔۔ کچھ کھایا ہے؟۔۔ وہ شیانگ کی ہی عمر کا ہوگا چندی مگر کھنچی ہوئی آنکھوں والا۔ادھیڑ عمر مرد مگر کتنا مختلف سا تھا دیکھنے میں نہ نقوش مین کڑختگی نہ آواز میں درشتگی۔۔۔ اسکے نرم رویے سے اسکی آنکھیں بھر آئیں۔۔
    زیادہ طبیعت خراب ہو رہی ہے؟۔۔وہ اور سٹپٹا گیا۔۔
    یہ جونگ آئے تو ۔میں اسے فون کرتا ہوں وہ آئے تو اسٹور اسکے حوالے کرکے تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں۔۔
    آنیو آہجوشی۔۔ ۔۔ اس نے دونوں آنکھیں سختی سے رگڑ ڈالیں اور زبردستی مسکرا دی۔۔
    کیم چھنا۔۔
    نہیں صاحب میں ٹھیک ہوں۔۔
    بس بخار ہے میں گھر جا کر دوا کھا لوں گی۔۔
    وہ اٹھنے لگی تو مینجر نے اسکو کندھے سے پکڑ کر واپس بٹھا دیا۔۔
    نہیں تم اتنے تیز بخار میں کیسے جائو گی۔ بخار دیکھنے والا آلہ ہوتا تو تھا میری دکان پر یہ۔لڑکے ہلڑ بازی کرتے میری چیزوں کے ساتھ کبھی وقت پر نہیں ملتا کچھ۔۔ وہ اسے بٹھا کر تیزی سے اپنے کاونٹر کی جانب بڑھا اوردرازین الٹ پلٹ کرنے لگا۔۔ ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر آلہ لے آیا اسکے کان میں گھسیڑا ۔۔
    مجھے پتہ ہے میرا بخار اتنا زیادہ نہیں ہے آپ یونہی پریشان ہو رہے آہجوشی۔۔
    اس نے ایک مرتبہ پھر اطمینان دلانا چاہا تھا۔۔مینجر ان سنی کر کے بخار دیکھنے لگا پھر اسکی کھنچی ہوئی چندی آنکھیں اپنے حجم سے دگنی ہوگئیں۔۔
    ایک سو دو بخار۔۔ میں ابھی جونی کو بلاتا ہوں۔ ۔۔وہ سیدھا فون کی جانب بڑھا۔۔ پھر رک گیا۔۔
    بلکہ ایسا کرو تم یہیں رکو میں ٹیکسی لے کر آتا ہوں جون جانے کب آئے میں دکان بند کر دیتا ہوں۔۔ ٹیکسی تک تو چل۔لو گی۔۔ ہم سیدھا اسپتال چلتے ہیں۔۔
    وہ حواس باختہ ہوگیا تھا۔
    ایک سو دو بخار ہے بس۔۔ پڑی تو ایسے تھی بستر پر جیسے مرنے لگی ہے۔۔ کسی نے تھرما میٹر اسکے ہی منہ پر دے مارا۔۔
    وہ چونکی۔۔
    نہیں۔۔ بھئی۔۔ اتنا بخار کوئی بڑی بات نہیں ہوتا۔۔ میں خود چلی جائوں گی ڈاکٹر کے پاس۔۔ وہ یکدم اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ یہ آہجوشی تو دیوانگی میں جانے کیا کر ڈالے۔۔ وہ سوچ کر رہ گئ۔۔
    اور شائد تھرما میٹر خراب ہے آپکا مجھے تو معمولی حرارت ہے بس۔۔ اس نے جان کر بشاش انداز اپنایا۔۔
    میں بس تھوڑا آرام کرنا چاہتی ہوں اجازت ہو تو گھر چلی جائوں۔۔ اس ہفتے کے آخر پر اوور ٹائم لگا لوں گی۔۔
    اس نے تسلی دینے والے انداز میں کہا تو وہ منہ کھول کر ہی دیکھ کر رہ گیا۔۔
    ایکدم اتنی طراری ایک سو دو بخار کے بعد تو نقاہت ہو ہی جاتی ہے۔۔ تھرما میٹر ہی خراب ہوگا
    ٹھیک ہے۔ وہ اجازت طلب انداز میں دیکھ رہی تھی۔۔
    ٹھیک ہے۔۔ اس نے اور کیا کہنا تھا۔۔ وہ مخصوص کوریائی انداز میں جھک کر الوداعی کلمات ادا کرتی رخصت ہوئی تو اس نے ہاتھ میں پکڑا آلہ اپنے کان میں لگا لیا۔۔
    کئی درجے کم ایک عام آدمی کی سطح کا نقطہ بتا رہا تھا۔۔۔۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC

    وہ ٹیرس میں ٹہلتی اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب گوارا اسکا فون اٹھائے چلی آئی۔۔
    اس نے توجہ نہ کی۔۔
    بج رہا ہے اٹھا لو۔۔ گوارا نے اسکے تیور دیکھ کر ڈرتے ڈرتے ہاتھ بڑھایا۔۔ اسکو لگا کہیں اس بار فون اٹھا کر عمارت سے نیچے نہ پھینک دے۔۔ اس نے گہری سانس لے کر فون اسکے ہاتھ سے لیا۔۔
    امی۔۔ وہ نام دیکھ کر چونکی۔۔ اسے جانے کیوں مسرت ہوئی تھی۔۔ صحیح ہے ماں کے دل کو خبر ہو جاتی ہے اولاد پریشان ہے تو۔۔
    اسلام و علیکم ۔۔ اس نے بے تابی سے فون اٹھایا۔۔
    وعلیکم السلام ۔۔۔ کیسی ہو؟۔۔ امی نے عام سے انداز میں پوچھا۔۔ تین مہینے بعد بیٹی سے بات کر رہی تھیں یہ ڈر بھی تھا کہیں دوبارہ غصے میں نہ آ جائے
    ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں۔۔ اسکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔ بعد امی کو یاد آگئی میری۔۔ دل تو کیا جتا دے۔۔
    میں بھی ٹھیک ہوں۔۔ پڑھائی کیسی جا رہی ہے تمہاری۔۔؟۔۔
    انہوں نے پوچھا تو مگر جواب میں دلچسپی نہ تھی
    ٹھیک۔۔ ابھی بس اتنا منہ سے نکلا تھا انہوں نے بات کاٹ دی۔۔
    یہ بتائو چھٹیاں کب ہیں تمہاری؟۔۔بہت اچھا رشتہ آیا ہے تمہارا تم کب تک آرہی ہو بتا دو تو ہم یہاں تاریخ رکھ لیں۔۔ تمہارے بابا کے دوست کا بیٹا ہے۔ ہم تو مطمئن ہیں۔۔ پڑھائی کا کیا ہے ہوتی رہے گی۔۔ وہ کینڈا میں رہتا ہے وہیں جا کر مکمل کر لینا۔۔ کب سے چھٹیاں ہیں تمہاری؟۔۔۔
    صاف انکار کردیں مجھے نہیں کرنی شادی۔۔
    وہ بری طرح جھلا ئی۔۔
    کیا مطلب ہے؟۔۔ ہم مطمئن ہیں کر رہے ہیں طے رشتہ اب تو لڑکا اتنا بڑا بھی نہیں دلاور سے کہتی ہوں تصویر بھیج دے گا تمہیں۔۔ وہ اور جھلا کر بولی تھیں۔۔
    کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں نے انکار کر دیا اب کوئی بات نہیں ہوگی۔۔ آئندہ مجھے فون بھی کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔
    اس نے غصے سے کہہ کر فون کاٹ دیا
    جان نہیں چھٹنی میری۔۔ آخر کیوں۔۔ میرا ہر کام خراب ہو ایسا کیوں لکھا ہے آپ نے میری قسمت میں۔۔ وہ آسمان کو دیکھ کر چلا اٹھی ۔۔ ڈھیر سارے آنسو گالوں پر پھیلتے چلے گئے تھے۔۔ وہ بے دم ہو کر وہیں زمین پر بیٹھ گئ۔۔ اور گھٹنوں میں منہ دے کر رونے لگی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈور بیل کی آواز پر گوارا نے دروازہ کھولا تھا۔۔
    ہایون تھا۔۔
    اریزہ کہاں ہے۔۔ اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔۔
    ٹیرس میں ہے۔۔
    گوارا نے حیران ہوتے ہوئے بتایا۔۔
    کیوں آخر کیوں ۔۔ اریزہ کے چلانے پر
    دونوں بھاگ کر ٹیرس میں آئے تو وہ بیچوں بیچ بیٹھی گھٹنوں میں منہ دیئے سسکیاں لے کر رو رہی تھی۔
    کیا ہوا کین چھنا؟۔۔ گوارا بھاگ کر اسکے پاس آئی
    کوئی کیم چھنا نہیں۔۔
    مر جائوں بس میں کچھ دنیا میں میرے لیئے نہیں ہے۔۔ وہ اور زور سے کہتی بلک اٹھی۔۔
    کیا ہوا۔ بتائو تو سہی۔۔ گوارا تڑپ گئ اسے بلکتے دیکھ کر۔۔
    اسکو ابھی کوئی فون آیا تھا اسکے بعد سے ۔۔ گوارا نے پریشان کھڑے ہایون کو بتایا۔
    کہیں کوئی ڈیتھ تو نہیں۔۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے خیال ظاہر کیا۔۔ وہ ہنگل میں کہہ رہی تھی۔۔
    نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔۔ ہایون یہی سمجھا اسکے فون کے بعد سے رو رہی۔۔ بات تو بڑی تھی مگر رونا اسکا حل نہیں تھا۔۔
    اریزہ ہم کچھ کر لیں گے فکر مت کرو۔۔ اس نے اپنے طور پر تسلی دینی چاہی
    کیا کر لوگے ؟۔۔ وہ جھلا کر سر اٹھا کر بولی۔۔
    یہاں پڑھوں نہ پڑھوں ڈگری ملے نہ ملے کوئی فرق نہیں پڑتا میرے خواب میرے ارادے کسی کیلیئے اہم نہیں بس کسی طرح کوئی کاٹھ کا الو میرے سر پر سوار ہو جائے بس۔۔ میری خواہشیں کس کےلیے معنی رکھتیں۔۔ بس ہو جائے گی شادی میری۔۔۔ دھڑا دھڑ رشتے آرہے میرے شادی ہو رہی طلاق ہو رہی پھر شادی طے مزاق ہوں میں کیا؟۔۔ موجود بھی نہیں وہاں اور میرا ر شتہ طے کر کے اطلاع دے رہے مجھے۔۔ ایسا تو جانوروں کے ساتھ ہوتا انسان بھی نہیں سمجھتے کیا مجھے۔۔
    بھرائی آواز میں رو رو کر وہ چلائی تھی۔۔ گوارا اور ہایون دم بخود اسے دیکھ رہے تھے۔۔
    کیا کہہ رہی ہے کچھ اندازہ ہے تمہیں۔۔ گوارا نے دھیرے سے ہایون کی جانب جھک کر سرگوشی کی۔۔
    آنیو۔۔ وہ بے بسی سے نفی میں سر ہلا کر بولا۔۔
    تبھی تیز بارش شروع ہو گئ۔۔
    وہ یونہی بلک رہی تھی۔۔ انداز کسی ضدی بچے کے جیسا تھا جو محروم رہ گیا ہو۔۔
    اریزہ اندر چلو بھیگ جائو گی۔۔ تمہیں تو صبح بھی سردی لگ رہی تھی۔۔ گوارا نے آگے بڑھ کر اسے اٹھانا چاہا۔۔ اس نے ضدی بچے کی طرح خود کو چھڑایا۔
    چھوڑ دو مجھے کہیں نہیں جانا مجھے۔۔
    وہ اتنی دل برداشتہ تھی کہ انگریزی کی بجائے مستقل اردو میں بات کر رہی تھی۔۔ گوارا کو جملے تو نہیں انداز سمجھ آگیا گہری سانس لے کر اسے اٹھانے کا ارادہ ترک کردیا۔۔ مڑ کر ہایون سے کہنے لگی۔۔
    تم۔تو اندر چلو۔۔ ابھی بہت پریشان ہے تھوڑی دیر تک جی ہلکا ہوگا تو اندر آجائے گی۔۔
    ہایون نہ اسکی جانب متوجہ ہوا نہ ہی اسکی بات کا جواب دیا۔۔ وہ اریزہ کو دیکھے جا رہا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا جا کر یونیورسٹی والوں کا منہ کچل دے۔۔
    گوارا نے ایک نظر اسکی نگاہ کا محور دیکھا۔پھر زمین پر پڑا موبائل اٹھا کر اندر چلی آئی۔ وہ دونوں یقینا اس وقت ٹیرس پر ہوتے ہوئے بھی کہیں اور تھے۔۔ اس کے لب وا ہوئے پھر لب بھینچ کر اندر چلی آئی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکے بس میں بیٹھتے ہی بار ش شروع ہو گئی تھی۔۔ موسلا دھار بارش تھی۔۔ اسکے آدھے گھنٹے کے سسفر میں نہ کم ہوئی نہ رکی یہاں تک کے اسکے بس سے اترنے تک کا وقت آگیا۔۔ اس نے بے بسی سے اس بے رحم آسمان کو دیکھا۔
    اسٹاپ سے رہائشی عمارت تک جاتے جاتے وہ مکمل بھیگ چکی تھی۔اسکا بخار جانے تیز ہوا تھا یا کم مگر بھیگ کر جسم کپکپانے لگا تھا۔۔ دور دور تک خالی سڑک اور تیز بارش۔۔ مارکیٹ تک بند تھی یا مالکان اندر دبک کر بیٹھے تھے۔۔ نہ بندہ نہ بندے کی زات اسکو زور دار چکر آیا تھا۔۔ سنبھل سنبھل کر بھی وہ لہرا کر پورے قد سے نیچے آرہی تھی تبھی شائد اسکا نگران فرشتہ آگے بڑھ کر اسے تھام گیا تھا۔۔ ڈوبتے زہن کے ساتھ بھی اس نے آنکھیں کھول کر تھام لینے والے کا چہرہ دیکھنا چاہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انتظامیہ کچھ بھی سننے کو تیار نہیں۔۔
    ایڈون نے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا تھا۔۔
    وہ سب باہر کیفے میں اکٹھا ہوئے تھے۔۔ سالک اور شاہزیب بھی کم پریشان نہیں تھے۔۔ یون بن انکی ہمت بندھانے اٹھ آیا تھا۔۔ سب کے سامنے گرم کافی رکھی تھی مگر کسی نے ایک گھونٹ تک نہ بھرا تھا۔۔
    تم لوگوں کی یونیورسٹی کیا کہتی ہے؟۔۔ یون بن نے کہا تو ایڈون بس دیکھ کر رہ گیا۔
    ابھی تو رابطہ کیا ہے آگے ویک اینڈ ہے پیر کو جواب آئے گا اگر کوئی آیا تو ۔۔ اور منگل سے امتحانات شروع ہیں۔۔ سالک نے کہا تو وہ تسلی بھرے انداز میں کہنے لگا۔۔
    تم لوگ فکر مت کرو۔۔ کل پھر بات کرتے ہیں نہیں تو احتجاج کرنا ایسا کیسے کر سکتے تم لوگوں نے ہمارے ساتھ پڑھا ہے ہمارے ساتھ ہراسائنمنٹ مکمل کی ہے ایسے کیسے وہ سب ختم کر سکتے۔۔ تم لوگ احتجاج کرو میں بھی ساتھ دوں گا۔۔ اس کے پر خلوص انداز پر تینوں کا دل بڑھا تھا۔۔ وہ مسکرائے تو یون بن بھی مسکرا دیا۔
    تم نے کہہ دیا یہی بہت ہے۔۔ شاہزیب کو دل سے قدر تھی۔۔
    آج کا ڈنر میری طرف سے۔۔ ایڈون نے کہا تو سالک اٹھ کھڑا ہوا۔۔
    تم لوگ کھائو مجھے بھوک نہیں۔۔ وہ جانے لگا تھا۔۔
    کہاں جا رہا۔۔ شاہ زیب کو اندازہ تھا اسکی پریشانی کا۔۔
    اسکے چہرے سے ہویدا تھی۔۔
    تیرے بھوکے رہنے سے مسلہ حل نہیں ہو جائے گا۔۔
    ایڈون نے لاپروائی سے کہہ کر ویٹر کو اشارے سے بلایا۔۔
    مجھے واقعی بھوک نہیں ۔۔ وہ منمنایا
    بیٹھ اور کھا ۔ شاہزیب نے ہاتھ پکڑ اسے کھینچ کر واپس بٹھایا۔۔ یون بن خاصی حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
    کیا کہا تم نے؟۔
    میں نے اسے کہا کہ بیٹھو اور کھا کے جائو۔۔
    شاہزیب نے انگریزی میں وضاحت کی تو اسکی حیرت دو چند ہوگئی۔
    کھا کا مطلب ہوتا جائو۔۔ دفع ہو۔۔ اس نے بتایا تو تینوں زور سے ہنس دیئے۔۔
    ہم نے ہنگل نہیں اردو بولی ہے اور اردو میں کھا اسکا مطلب ہوتا کھائو ۔۔ ایڈون نے وضاحت کی تو یون بن حیرانی سے بولا۔۔
    کافی عجیب ہے یہ تو۔۔
    کم سن کہاں ہے صبح سے نظر نہیں آیا۔۔ شاہزیب کو خیال آیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سوپ چاول کمچی۔۔ ساتھ اسکا لایا ہوا گوشت انہون نے سٹیک بنا کر سامنے رکھا۔۔ کھانے کے لیئے زمین سے تھوڑی سی اونچی چوڑی سی پیڑھی پر کھانا چنا گیا تھا۔۔ وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھا کھانے کا انتظار کر رہا تھا۔۔ وہ جھک کر فورا شروع ہو گیا تھا۔۔انہوں نے پیار سے دیکھا اسے۔۔
    بہت عمدہ ہے۔۔ چھائے موکے سبندا۔
    میں ٹھیک ٹھاک کھائوں گا۔۔اس نے روائتی انداز میں انکو شکریہ ادا کیا۔۔ مسکراتے مسکراتے انکی آنکھیں بھر آئیں۔۔
    ابھی کل کی ہی بات لگتی پانچ سالا کم سن انکے ہاتھوں سے نوالے لینے کی ضد کرتا وہ بے حد احتیاط سے چاپ اسٹکس سے ایک نوالا چاول اسکے منہ میں ڈالتیں وہ منہ میں بھر کر بیٹھا رہتا وہ فورا ایک چمچ سوپ بھر کر اسکے سامنے کرتیں وہ جلدی سے منہ کھول کر سوپ بھی بھر لیتا۔۔ پورا منہ بھر کر اپنے بھرے بھرے گالوں کو پھلا کر چھوٹا سا پانڈا ہی تو لگتا تھا۔۔وہ اسکا ماتھا چوم لیتی تھیں۔۔
    وہ بہت رغبت سے کھا رہا تھا۔۔
    اوروہ بہت رغبت سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔
    یہ رکھ لیجئے۔۔ کھانا کھا کر اس نے اپنے ہڈ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر انہیں ایک بھورا کاغذی لفافہ نکال کر تھمایا۔۔ نوٹوں سے پھولا ۔۔ انکی مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔
    تم اپنی شکل دکھا جاتے ہو یہی بہت ہے۔۔ میری بیٹی اتنا کما لیتی ہے کہ ہمارا گزارہ ہو سکے بیٹا۔۔
    انکی آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔
    میں جانتا ہوں۔۔ وہ آہستگی سے بولا۔۔
    مگر یہ آپکے بیٹے کی طرف سے ہے۔۔ چھوٹو کا مکمل علاج کروائیں یوں بار بار بخار آنا صحیح بات نہیں۔۔ اس نے دزدیدہ نظروں سے دور پنگھوڑے میں لیٹے ننھے فرشتے کو دیکھا جو نیند میں گم تھا۔۔اسکی سانسوں کی نا ہمواری محسوس کی جا سکتی تھی۔۔
    میں سگی ماں تو نہیں ہوں تمہاری مگر مجھے فخر ہے میں تم جیسے بیٹے کی ماں ہوں۔۔ انکے کہتے ہوئے لب کپکپا گئے تو کم سن نے آگے بڑھ کر انکو سینے سے لگا لیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔۔ ہلکی ہلکی بارش شروع ہوئی تو فورا وہ کریانے کی دکان میں گھس کر چھتری خرید لایا۔۔ قطرہ قطرہ برستی بارش چھتری پر گر رہی تھی۔ وہ عیاں چھتری لایا تھا۔۔ ٹرانسپیرنٹ۔۔ جس میں سر اٹھا کر دیکھو تو بارش چہرے پر برستی تھی مگر گیلا نہیں کرتی تھی۔۔
    موسم بدلنے لگے تو پہلی بارش دل پر برستی ہے۔۔
    اس نے کہیں سنا تھا۔۔ ابھی بھی سر اٹھا کر بار ش کو دیکھتے ہوئے یوں مسکرایا جیسے بارش کو جتا رہا ہو دیکھ لو میرا کچھ بگاڑ نہیں پائیں تم۔۔
    اسکا یہ احساس وقتی تھا۔۔ وہی بار ش جو اسکا کچھ نہیں بگاڑ پا رہی تھی کسی کو شرابور کر چکی تھی۔۔
    وہ لمحہ بھر کو رکا۔۔ سامنے ہلکے سے رنگ کی لانگ اسکرٹ اور بلائوز میں ملبوس وہ لڑکی اپنے شرگ میں سمٹتی شائد کانپ بھی رہی تھی۔۔ لحظہ بھر کو لہرائی تو وہ ایک دم بھاگ کر اسکی جانب بڑھا۔۔اسکے پہنچتے پہنچتے بھی وہ بے دم سی ہو کرزمین پر آرہی مگر وہ وقت پر پہنچ گیا تھا۔۔ اسے بروقت تھام کر اس نے کھڑے قد سے گرنے سے بچا لیا تھا۔۔ تبھی بجلی چمکی تھی اس لڑکی کے چہرے کے خد و خال نمایاں ہوئے تھے۔۔ کم سن اسے پہچان گیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جانے کتنی دیر بعد اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔ اس کے پپوٹے اتنے بھاری ہورہے تھے کہ آنکھ کھولتے ہی فورا بند کر لی۔۔ چند لمحے پلکیں جھپکنے کے بعد اسکی آنکھیں کھل ہی گئیں۔۔ ٹیوب لائٹ کی روشنی پورے کمرے کو روشن کیئے ہوئے تھی۔۔ مگر کمرہ یہ کونسا تھا۔۔ اس نے زہن پر زور ڈالنا چاہا۔ بہت نا مانوس سا ماحول تھا۔۔۔ اسے جاگتے دیکھ کر تھوڑے فاصلے پر صوفے پر بیٹھا کم سن فورا اٹھ کر اسکے پاس آیا۔۔
    کین چھنا۔۔ (تم ٹھیک ہو)۔۔
    دے۔۔(ہاں۔۔)۔
    اس نے دھیرے سے کہہ کر اٹھنا چاہا۔۔ مگر کمزوری کی وجہ سے اٹھ بھی نہ سکی۔۔
    لیٹی رہو۔۔ ڈرپ لگی ہوئی ہے۔۔ کم سن نے فورا روکا۔۔
    اور احتیاط سے اسکے سر کے نیچے تکیہ ٹھیک کرنے لگا۔۔
    ڈاکٹر کہہ رہے تھے کمزوری بہت ہے تمہیں اوپر سے بخار بھی۔۔ جبھی طبیعت زیادہ خراب ہو گئ۔۔
    وہ بتا رہا تھا۔۔
    کتنا خرچہ ہو گیا ہوگا۔۔ وہ بیزاری سے بڑ بڑائی۔۔
    آواز اتنی مدھم تھی کہ کم سن سن بھی نہ سکا۔۔
    دے؟۔۔ وہ۔پورے کا پورا سوالیہ نشان بنا۔۔
    اندے۔۔ وہ اور بیزار ہوئی اپنی بائیں کلائی کو غور سے دیکھنے لگی۔۔ کنولا لگا ہوا تھا۔۔ اس نے دایاں ہاتھ بڑھا کر جیسے ہی آسے کھینچ کر نکال دینا چاہا کم سن نے اسکا ارادہ بھانپ کر اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔۔
    تھوڑی سی ڈرپ رہ گئ ہے۔۔ صبر کرو۔
    اسکا انداز ڈانٹنے والا تھا۔۔
    وہ شدید بد مزہ ہوئی۔۔
    مجھے نہیں لگوانی ڈرپ اسکو نکالو۔۔ مجھے گھر جانا۔۔ وہ یکدم جھلا گئ۔۔
    مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟۔۔ ہر وقت اتنا چڑی ہوئی کیوں رہتی ہو۔۔ جبھئ خون نہیں بن رہا تمہارا۔۔ کم سن بھی چڑ گیا تھا۔۔
    تمہیں کیا۔۔ میرا خون بنے جلے میں جیوں مروں۔۔ وہ اور بری طرح چڑی۔۔
    اتنے لوز ٹیمپر کے ساتھ تم آرٹسٹ کیسے بن گئیں؟۔۔
    آرٹسٹوں میں تو غصہ اور جھلاہٹ ہوتی ہی نہیں ہے۔۔
    وہ بالکل غصہ بھول کر دلچسپی سے اسکی شکل دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے لال بھبوکا ہو چلی تھی۔۔
    کہاں بنی۔۔ ؟۔۔ کوئی نہیں ہوں میں آرٹسٹ۔۔ اور ہاتھ چھوڑو میرا۔۔
    اس نے غصے سے پاگل ہوتے ہوئے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔۔ تنتنا کر اٹھ بیٹھی دوبارہ۔کنولا نوچنے کیلیئے ہاتھ بڑھایا۔۔ اور دوبارہ ہی کم سن نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دونوں کپڑے بدل کر اسکے سامنے بیبے بچے بنے صوفے پر بیٹھے تھے۔۔ اور گوارا انہیں کینہ توز نظروں سے گھورتی بھرے ہوئے کافی کے مگ تھما رہی تھی۔۔
    دونوں دانستہ اس سے نظریں چرا کر کپ تھامنے لگے تھے دونوں ہی کو اکٹھے چھینک آئی تھی۔۔
    مطلب حد ہے ۔۔اس نے بھنا کر کپ سامنے میز پر رکھا۔۔
    اسکو تو یہاں کے موسم کا اندازہ نہیں تمہاری عقل کو کیا ہوا تھا۔۔ ؟۔ یہ درجہ حرارت دیکھو۔اس نے اپنے سیل فون سے درجہ حرارت نکال کر دکھایا۔۔ ہایون تو حیران نہیں ہوا اسے اندازہ تھا مگر اریزہ کی آنکھیں پھیل گئیں
    دس ڈگری۔۔ اس میں تو ہم پنڈی والے دو سوئیٹریں چڑھا چکے ہوتے۔۔ آں چھی۔۔ دسمبر میں جاتا وہ بھی رات کو اتنا ۔۔
    بات مکمل کر کے دونوں کی شکل دیکھی تو دونوں کی شکلوں کے تا ثرات زرا بھر نہ بدلے تھے۔
    اب ترجمہ کرو کیا کہا۔۔ دونوں نے کورس میں کہا تھا۔۔
    وہ کھسیا گئ۔۔
    کچھ نہیں میں کہہ رہی تھی۔۔ اتنی ٹھنڈ تو ہم خاطر میں ۔ آہ چھی۔۔ نہیں لاتے۔۔
    اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔۔
    اچھا۔۔ دونوں حیران ہوئے۔۔
    تمہارے یہاں برف باری ہوتی۔۔؟۔۔
    ہاں۔۔ اسکے زہن میں مری آیا تھا۔۔ مگر دونوں کچھ اور سمجھے۔۔
    اچھا واقعی۔۔ پھر تو میں ایویں زیادہ فکر کر رہی تھی تم تو ٹھنڈ کی عادی ہوگی ہی۔۔ گوارا کا انداز سادہ تھا۔۔
    اریزہ نے ایک اور چھینک مار لی تھی۔۔
    ویسے کیا ارادہ ہے تم لوگوں کا۔۔ واپس چلے جائو گے؟۔۔ گوارا نے کہا ہایون فورا بولا
    واپس کیوں جائیں گے۔۔ ڈگری۔لیئے بغیر۔۔ اصول کی بات ہے یونیورسٹی کو بات سے پھرنا نہیں چاہیئے۔۔ ان لوگوں نے وہی سب پڑھا ہے ویسے ہی پڑھا ہے جیسے ہم تم نے پھر انکے ساتھ اتنی زیادتی کیسے کر سکتے۔۔
    ہاں مگر یہاں سے گئے طلبا بھی تو واپس آئے ہیں۔۔ انکے بھی تواتنے مہینے ضائع ہو گئے۔۔
    یونیورسٹی انکو اسپیشل دو مہینے کا کورس کروا رہی جسکے بعد وہ اگلے سمسٹر سے ریگولر طالب علم تصور کیئے جائیں گے۔۔ہایون نے کہا تو اریزہ کو ٹھیک ٹھاک صدمہ سا لگا۔۔ سایہ سا لہرا گیا اسکے چہرے پر۔۔ یعنی ہم پاکستانیوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ۔۔ اپنے طلبا کیلئے کتنا سوچ رہے اور ہم۔۔
    انکو بھی تو انکی یونیورسٹی واپس بلا لے گی نا۔۔ گوارا نے کہا تو ہایون ایک دم چپ ہوا۔۔
    ظاہر ہے جب یہ یونیورسٹی انکو داخلہ نہیں دے گی تو یہ واپس اپنے ملک اپنی یونیورسٹی تو جائیں گے نا۔۔ وہ بھی یقینا اپنے طلبا کیلیئے کچھ نہ کچھ کریں گے ہی تم یونہی پریشان ہوگیئں اریزہ اپنے ملک جاکر آرام سے تعلیم مکمل کرنا کوئی وقت ضائع نہیں ہوگا دیکھنا۔۔ گوارا نے اپنی جانب سے اسے بھر پور تسلی دی تھی
    اللہ نہ کرے ایسا ہو۔ اریزہ بے ساختہ کہہ اٹھی۔۔
    مجھے نہیں جانا واپس۔۔ اب واپس گئ تو۔۔ وہ سوچ کر ہی خوفزدہ ہو کر نفی میں سر ہلانے لگی۔۔
    کیا؟۔۔ گوارا سمجھی نہیں
    تم واپس نہیں جانا چاہتیں۔۔ ہیون نے دھیرے سے اس سے پوچھا۔۔
    نہیں۔۔ اس نے فورا نفی میں سر ہلایا۔۔
    مطلب۔۔ وہ اب دوبارہ انگریزی میں بولی۔۔
    میرا یہاں بہت اچھا وقت گزرا ہے مجھے یہاں رہنا پڑھنا بہت اچھا لگتا مجھے تم لوگوں جیسے اتنے پیارے دوست ملے ہیں میں نے نہیں جانا۔۔ اریزہ نے کہا تو گوارا کا دل موم سا ہوا اٹھ کر اسکے پاس آبیٹھی اور اسکا ہاتھ تھام لیا
    سچی بتائوں مجھے بھی سن کر بالکل اچھا نہیں لگا مجھے بھی تم بہت اچھی لگتی ہو بالکل میری بہن کی طرح عزیز ہو گئ ہو مجھے میں بھی تم سے دور نہیں ہونا چاہتی۔۔ اس نے کہا تو اریزہ اسکے گلے ہی لگ گئ۔۔
    ہم سب مل کر تم لوگوں کے لیئے لڑیں گے فکر مت کرو۔۔ فائیٹنگ۔۔ ہے نا ہیونا۔۔
    اریزہ کے کندھے پر تھوڑی رکھ کر وہ ہایون کو دیکھ کر تائید چاہ رہی تھی۔۔
    ہایون جو اپنے ہی کسی دھیان میں تھا مسکرا دیا۔۔
    تمہیں نہیں جانے دینا میں نے۔۔ اس نے دھیرے سے اریزہ کو دیکھتے ہوئے ہنگل میں کہا تھا۔۔ اریزہ کی تو پشت تھی اس جانب پھر وہ ہنگل سمجھ بھی نہیں سکتی تھی ہاں گوارا ضرور چونکی تھی۔۔
    ہاں تو اور کیا ایسے کیسے واپس بھیج سکتے ہمیں کوئی نہیں جا رہی میں واپس۔۔ اریزہ اسکے کندھے پر تھوڑی جمائے بڑ بڑا رہی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بالکل نہیں جا سکتیں ابھی تم۔۔ حالت دیکھی ہے اپنی تم نے خون کی شدید کمی ہے تم میں۔۔ زرا سا بخار بھی اس وقت کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا اندازہ ہے تمہیں ۔۔ہاں کل جب باقی ٹیسٹ کروا لوگی تو اس کی روشنی میں اگر تمہیں بہتر سمجھ کر اجازت دی تو علیحدہ بات ہے ورنہ ہلو گی بھی نہیں تم بستر سے۔۔ سمجھ آئی۔۔
    وہ کم سن سے کلائی چھڑوا رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ چھوڑو مجھے گھر جانا جب گشت پر نکلی خاتون طبیب معائنے کی غرض سے آئی تھی۔ اسکو ٹھیک ٹھاک جھاڑ دیا تھا بچکانہ ضد پر۔۔ وہ جہاں خائف ہو کر چپ ہوئی وہیں زیر لب مسکراتے کم سن کو دیکھ کر جھلاہٹ دو چند ہوئی۔۔
    ہائش۔۔ اس لڑکی کا بخار پھر بڑھ رہا ہے۔۔ اسکے کان سے آلہ لگا کر دیکھتی وہ سر پکڑ کر رہ گئ۔۔
    اسکی ڈرپ دیکھ کر نرس کو ہدایت دینے لگی۔۔
    اسکو ایک انجیکشن تیار کرنے کا کہہ کر دوبارہ متوجہ ہوئی۔۔
    مجھے اندازہ ہے تم کمزور ہی اتنی ہو جبھی اتنی پیچیدگیاں ہوگئی ہیں۔۔ اپنا خیال رکھا کرو۔۔ خوب کھائو پیو۔۔
    تم اسکا خیال نہیں رکھتے ٹھیک سے۔۔ وہ اب مڑ کر کم سن سے کہہ رہی تھی۔۔
    کیسے بوائے فرینڈ ہو ابارشن کے بعد اسکی خوراک پر دھیان نہیں دیا تھا۔۔؟۔۔
    اسکی بات پر کم سن بری طرح چونکا تو وہیں ہوپ سنٹ سی رہ گئ تھی۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اریزہ روٹی بنا رہی تھی ۔۔ گوارا اور ہایون لائونج میں ہی آمنے سامنے صوفے پر بیٹھے موبائل میں مگن تھے۔۔
    کتنی عجیب بات ہے نا۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا میں نے کبھی کہ کسی دن میں رات کو بیٹھ کر کسی ایسے ملک کے باشندے کے ہاتھ کا پکا دیسی کھانا کھانے کا انتظار کر رہی ہوں گی جس ملک کا نام بھی اب سے کچھ عرصہ پہلے تک سنا بھی نہ تھا۔۔
    گوارا بظاہر موبائل پر انگلیاں چلاتی سرسری سے انداز میں خود کلامی کر رہی تھی۔۔
    زندگی ایسے ہی حیران کرتی ہے۔۔
    ہیون مسکرایا تھا۔۔
    تم نے سوچا تھا کبھی ۔۔ کہ کب کہاں کسکو ایسے دل دے بیٹھو گے ؟۔۔گوارا کا وار اچانک تھا۔۔ وہ لمحہ بھرکو تھم سا گیا۔۔
    آنیو۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔
    وہ گڑ بڑایا۔۔
    گوارا موبائل سے نگاہیں اٹھا کر اسے محظوظ سے انداز میں دیکھنے لگی
    جھٹلا رہے ہو جبکہ ابھی میں نے تو بس اندازہ لگایا ہے کسی کا نام تو لیا ہی نہیں۔۔ اس کا انداز چوری پکڑنے جیسا تھا۔۔
    کہہ تو ایسے رہی ہو جیسے نام پتہ ہے تمہیں۔۔ وہ مکرگیا بے نیازی سے دوبارہ موبائل میں جت گیا۔۔
    مجھے پتہ ہے۔۔ گوارا جتا نے والے انداز میں بولی۔۔
    کیا ہے۔۔نام۔۔ اس نے مسکراہٹ دبائی۔۔
    زور سے پکاروں گی۔۔ گوارا چیلنج کر رہی تھی۔۔
    چلو۔۔ وہ بھی مزے لے رہا تھا۔۔
    اریییزااااااا۔۔۔ اس نے فورا گردن گھما کر کچن میں مصروف اریزہ کو زور دار آواز دے ڈالی۔۔ ہیون کی بے نیازی رخصت ہوئی یکدم سیدھا ہو بیٹھا وہیں اریزہ اس غیر متوقع نقارے سے ڈر کر اچھل ہی تو پڑی ہاتھ میں پکڑی پلیٹ چھوٹ گئی۔۔
    گوارا نے دونوں کےردعمل کا خوب حظ اٹھایا زور زور سے ہنسی ہنستے ہنستے دہری ہوگئ۔۔
    کیا۔۔ اریزہ اس بے وجہ ہنسی پر حیران گھور رہی تھی
    کچھ نہیں پوچھنا تھا کتنی دیر ہے کھانے میں۔۔ ہنستے ہنستے ہی بمشکل وضاحت کی پھر ہنسنے لگی۔۔
    بن گیا ۔۔ تم۔بھی نا۔۔ ڈرا ہی دیا مجھے۔۔ آجائو ہاتھ دھو لو گرم گرم روٹی ہے۔۔ اس نے جھک کر پلیٹ اٹھا کر سنک میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔۔
    گوارا ابھی بھی ہنسے جا رہی تھی ہیون بھی اسکے انداز پر اب مسکرانے لگا تھا۔
    اسے کیا ہوا کیوں ہنسے جا رہی۔۔ اریزہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔
    آنیو۔۔ نیور مائنڈ۔۔ ہیون نے تسلی کرائی گوارا تو فورا کرسی گھسیٹ کر آبیٹھی ہایون ہاتھ دھو کر آیا۔۔
    بسم اللہ پڑھ کر نوالا توڑتے ہوئے اسے خیال آیا۔۔
    ہوپ نہیں آئی ابھی تک۔۔
    ہاں اب تک تو آجاتی ہے۔۔ گوارا بھی چونکی۔۔
    بارش رکنے کا انتظار کر رہی ہوگی کہیں۔۔ ہیون نےخیال ظاہرکیا تو گوارا نے بھی تائید کی۔۔
    ہاں بارش بھی تو لگاتار ہو رہی ہے۔۔تم بھی رات یہیں رک۔جائوہیون پیدل آئے ہو نا۔۔ کیا بھیگتے ہوئے گھر جائو گے۔۔ گوارا نے کہا تو اس نے لاپروائی سے سر جھٹکا
    سیول کے لوگ اگر بارش کو سیٹھنا شروع کریں تو سب کام چوپٹ ہوجائئں۔۔ چلا جائوں گا۔۔ کوئی مسلہ نہیں۔۔
    تمہارے خیال سے کہہ رہی تھی۔۔ گوارانے اسکے کان میں سرگوشی کی۔۔
    وہ اسکا صحیح بینڈ بجانے والی تھی۔۔ ہیون ہنس کر رہ گیا۔۔
    پھر شروع ہو گئے ۔۔ جان کے ہنگل میں بول رہے ہو نا ۔۔ اریزہ نے چڑ کر دونوں سے کہا۔۔
    وے؟۔۔ دونوں کورس میں بولے۔۔
    وے۔۔ اس نے انکے ہی انداز کی نقل اتاری
    ویسے سچ بتائوں تم دونوں ساتھ بیٹھے زیادہ اچھے لگ رہے ہو تم دونوں کی جوڑی زیادہ سج رہی ہے۔۔ میری مانو تو اپنے والے کو چھوڑو اسے پٹا لو۔۔
    اریزہ اتنی سنجیدگی سے ہاتھ ہلا ہلا کر کہہ رہی تھی دونوں منہ کھول کر اسے دیکھ رہے تھے۔۔
    کیا کہہ رہی ہو۔۔ دونوں پھر اکٹھے بولے تھے
    دیکھ لو ۔۔ زہنی ہم آہنگی بھی ہے تم دونوں میں۔۔
    اس نے ثبوت بھی دے دیا۔۔
    ویسے اگر میں تم ہوتی نا تو یون بن کی بجائے اسے پٹاتی۔۔ شکل کا بھی اچھا ہے عادتیں بھی اچھی اوپر سے امیر کبیر۔۔ گھاس ہی گھودی ہے تم نے۔ وہ مزے سے نوالے لیتے ہوئے کہے جا رہی تھی۔۔ کبھی گوارا کو دیکھتی کبھی ہیون کو۔۔ دونوں البتہ آنکھیں پھاڑے اسے گھور رہے تھے۔۔
    ویسے مزے کی بات بتائوں۔۔ یون بن اور ہایون کو شروع شروع میں فرق نہیں کر پاتی تھی۔۔۔انکی شکل کتنی ملتی ہے۔۔
    قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔۔
    خیر اس وقت تو مجھے سب ہی ایک جیسے لگتے تھے کاربن کاپی ایکدم۔۔ وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگی۔۔
    گوارا نے جھک کر ہیون سے کہا
    اس روٹی میں کچھ ہے یا سالن میں آئل کی بجائے الکوہل ڈال بیٹھی ہے یہ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر بک جھک کر ٹیکا ٹھونک کر چلی گئی تو ہوپ نے بھی سیدھا لیٹ کر آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔
    وہ جو ڈاکٹر کے جانے کے بعد اس سے پوچھنے کے ارادے سے اٹھ آیا تھا اسے آنکھیں بند کرتا دیکھ کر وہیں تھم گیا۔۔ یقینا وہ بات کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔ اسکی پلکوں میں لرزش نہیں تھی۔۔ اگر اسکے سامنے آنکھیں نہ بند کی ہوتیں تو وہ یہی سمجھتا کہ گہری نیند سو رہی ہے۔۔ وہ ٹھنڈی سانس بھرتا واپس مڑا پھر ٹھٹک کر پلٹ کر دیکھنے لگا۔۔
    اس ساکت پڑی گڑیا سی لڑکی کی آنکھوں سے قطرے نکل نکل کر تکیئے میں جزب ہو رہے تھے۔۔ وہ بے آواز مگر زارو قطار رو رہی تھی۔۔

    Find the perfect fit with Prime Try Before You Buy

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ دونوں گیارہ بجے کے قریب سونے لیٹی تھیں۔۔ اسکی طبیعت کے پہش نظر گوارا نے کمبل نکال دیا تھا۔۔ دو گولیاں نگل کر وہ کمبل میں گھس گئی تھی۔۔
    چھائے چھائو۔۔
    شب بخیر۔ دونوں نے اپنی اپنی زبان میں ایک دوسرے کو کہا پھر اپنی حرکت پر ہنس دیں
    وہ حسب عادت بلاگ کھولنے لگی تبھی اسے ایک پیغام موصول ہوا
    پاپا تھے۔۔
    پڑھائی پر دھیان دو پریشان مت ہونا وہی ہوگا جو تم چاہو گی۔۔ تمہاری امی کو منع کر دیا ہے میں نے ۔۔ کال کرتا مگر شائد اب تک تو تم سو چکی ہوگی اپنا خیال رکھنا پاپا کی جان پاپا مس یو
    اس کے اوپر سے کوئی بوجھ ہٹا تھا۔۔ وہ جزباتی سی ہو کر اٹھ بیٹھی دو تین بار پڑھا پیغام پھر خوش ہو کر زور سے تالی بجا نے کو تھی کہ پاس سوئی گوارا کے خیال سے رک گئ۔۔ وہ لمحوں میں بے خبر ہوتی تھی۔۔ ابھی بھی کروٹ لیئے خر خر کر رہی تھی۔۔
    مس یو ٹو پاپا۔۔ وہ موبائل چوم بیٹھی۔۔
    زہن ہلکا پھلکا ہوا تو بلاگ لکھنا اور آسان ہوا۔۔
    رم جھم برستی بارش۔۔
    قطرہ قطرہ مجھ میں اترتے
    سب کثافتیں سمیٹ کر۔۔
    کیسے تازہ دم سا کر گئ ہے مجھے
    جیسے یہ بارش
    میرے دل کا احوال جانتی ہے
    مجھے خود میں سمیٹ کر
    کہتی ہے۔۔
    دل ہلکا کر لو
    اور میں اپنا آپ اسکے سامنے کھول کر
    جی بھر کر روئی
    اپنے سب آنسو بارش کے پانی میں بہا تے میں
    ہلکی پھلکی ہوگئ
    جیسے اس بارش سے بڑھ کر میرا کوئی غم خوار نہیں
    جیسے یہ بارش ہے میری
    سہیلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پہلا کمنٹ
    ایڈمن خیر ہے سموگ سے برا حال ہوا پڑا اس بار تو بارش لگتا ہو گی ہی نہیں
    دوسرا کمنٹ
    جی بھر کر رونا ہے بارش ہی نہیں ہوتی ہے میرے شہر میں
    تیسرا کمنٹ
    بارش تو ہو نہیں رہی تم رو رو کر ہی سموگ بہا دو کتنے لوگ بیمار ہو رہے ہیں
    چوتھا کمنٹ
    اچھا یہ تمہارے آنسو بہہ رہے تھے بارش کے ساتھ میری گلی کا گٹر جبھی بند ہو گیا
    پانچواں۔۔
    میرا تو رزلٹ آگیا میں نہیں رویا تم کیوں رو رہی ہو۔۔
    چھٹا کمنٹ۔۔
    انگریزی ترجمہ پلیز۔۔
    یہ وہی عجیب سے نام والا علی
    اس نے سوچا اب اسکا کیا انگریزی ترجمہ کرے
    اس نے جب تک سوچ سوچ کر ترجمہ کیا کوئی من چلا کر چکا تھا ترجمہ
    اور ترجمہ ایسا تھا کہ پہلے تو سوچا غصہ کر لے ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    Its raining cats and dog
    But pouring inside me drop by drop
    Cleansing polution inside me
    Made me feel fresh
    As this rain knows whats bothering me
    So it hugged me
    And say light ur heart
    And i opened my heart
    Cried my tears mixed with rain
    I becam light weight
    As this rain is my girl friend
    علی نے پوری نظم پڑھی خوب انگریزی تھی۔۔ نیچے ایڈمن نے بھی کمنٹ کیا تھا بہت مزاحیہ۔۔ ساتھ غصے والا اسمائیلی
    اس نے جوابا لکھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دس میڈ مائی ڈے ۔۔
    وہ مسکرادی۔۔
    مجھے خوشی ہے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بارش اب موسلا دھار نہیں ہو رہی تھی ہلکی ہلکی بوندا باندی سرد ہوا دور دور تک بارش سے دھلی شفاف تارکول کی سڑک اکا دکا گزرتی گاڑی اسٹریٹ لائیٹ کی روشنی اور ایک اجنبی راہوں کا مسافر ۔۔۔
    دھیرے دھیرے چلتے ہوئے اسے کوئی جلدی نہ تھی۔
    جانے کیا کیا سوچ دماغ میں آ رہی تھی کہ ضبط کرتے کرتے بھی وہ ہنس پڑا تھا۔۔ اسکے بالوں پر بارش کے قطرے ٹھہر سے گئے تھے۔۔ اس نے کسی خیال کو جھٹکا پھر رک کر آسمان کو دیکھنے لگا۔۔
    ننھی ننھی بوندیں چہرے پر گر رہی تھیں اور اسکے اندر خوشیوں کا نیا جہان آباد ہو رہا تھا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔۔
    جاری ہے۔۔۔

    Kesi Lagi apko salam korea ki yeh qist? Rate us below

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ 

    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟ 

    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے 

    Desi Kimchi ..

    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد

    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

  • Salam Korea Episode 19

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi
    قسط 19

    urdu novel salam korea episode 19 featuring  seoul korea a urdu korean fan fiction by desi kimchi
    Salam Korea Episode 19

    صبح کسی نے جھٹکے سے اسے دور پھینکا تھا جس سے اسکی آنکھ کھلی۔۔
    اس نے دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا تو ہوپ تھی وہ شائد سوتے میں اس سے لپٹ گئ تھی اس نے اٹھتے ہوئے اسکا بازو بے دردی سے اپنے اوپر سے بنا اسکے سوئے ہونے کا لحاظ کیئے پھینکا تھا۔۔
    اسکا تنفس تیز ہوگیا تھا۔ دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی
    وہ بس شاکی نظروں سے دیکھ کر رہ گئی۔ ہوپ یوں تھئ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں بیچ میں سونے کی وجہ سے وہ پائینتی سے اتر رہی تھی بنا مڑ کر دیکھے باتھ روم میں گھس گئ۔۔ اریزہ نے انگڑائی لے کر کندھے سیدھے کیئے۔ وہ کافی پھیل کر سونے کی عادی تھی اس وقت اسے اپنا عالیشان کمرہ بے حد یاد۔ آیا تھا۔۔ آنکھ کھل تو گئی تھی اس نے موبائل اٹھا کروقت دیکھا۔ ۔۔ پاپا کی مس کال بھی پڑی تھی۔۔ اس نے وقت کا اندازہ لگایا سو گئے ہونگے ۔ وہ مایوس سی ہو کر اٹھ گئ۔۔
    اسکو گرمیاں کہتے یہ لوگ۔ اسے بستر سے نکلتے ہی خنکی کا احساس ہوا۔۔ اس کا جوڑا سامنے کرسی پر پھیلا تھا اس نے گوارا کا سویٹ سوٹ پہن رکھا تھا جو ڈھیلا ڈھالا تو اتنا زیادہ نہ تھا مگر لانبا تھا۔ اس نے باتھ روم کے دروازے سے کان لگائے ۔۔ ہوپ شائد شاور لے رہی تھی۔۔
    اسکا انتظار کرنے سے بہتر اسے یہی لگا ناشتہ بنا لے۔۔ گوارا بے سدھ سو رہی تھی جانے کب رات کو آکر وہ بستر پر آن سوئی۔ اس نے باہر آکر دیکھا تو یون بن غائب تھا۔ یقینا صبح صبح دونوں کی آنکھ کھلی ہوگی۔ البتہ صوفے پر کمبل پھیلے تھے۔ اس نے انکو سمیٹ کر تہہ لگائی کیبنٹ میں رکھا او رخود کچن میں چلی آئی۔ ۔۔ اس نے دو کے حساب سے ناشتہ بنایا۔۔ ہوپ عجیب سی ہی لڑکی تھی جانے کھائے نہ کھائے اس نے یہی سوچا تھا اس سے پوچھ لے گی اس نے ناشتہ میز پر لگایا تو وہ تیار ہو کر کمرے سے نکلی۔۔
    فریج خالی ڈھنڈار پڑا تھا انڈے تھے بس اس نے آملیٹ بھی تیار کر دیا۔۔
    ہوپ۔۔ وہ سیدھا داخلی دروازے کی جانب جا رہی تھی اس نے پہچھے سے آواز دی تو چونک گئ
    میں نے ناشتہ بنایا ہے کر لو۔ پراٹھا شائد تمہیں پسند نہ آئے مگر آملیٹ بھی ہے وہ تو کھاتی ہی ہوگی۔۔
    اس نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا۔۔
    میرے لیئے کیوں؟۔۔
    اسکا سوال کڑا تھا
    میں اپنے اور گوارا کیلیئے بناتی ہوں اب تم بھی ہو تو تمہارے لیئے بھی بنا دیا۔۔ اریزہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی
    میں احسان لینا پسند نہیں کرتی آئندہ مت بنانا۔۔ وہ کہہ کر رکی نہیں۔۔ دھپ دھپ کرتی نکل۔گئی۔۔
    حد ہی ہے۔۔ وہ چڑ گئ۔۔ اتنے نخرے ۔۔۔
    کمرے میں گورا کو جگانے آئی تو وہ بیڈ پر نہیں تھی۔۔
    گوارا۔۔ باتھ روم کا دروازہ کھلا تھا
    آخ۔ آہغ۔۔
    قے کرنے کی آواز آرہی تھی۔۔
    گوارا تم ٹھیک تو ہو۔
    وہ بھاگتی ہوئی باتھ روم میں آئی اگلا منظر اسکی طبیعت خراب کر گیا۔۔
    گوارا ٹوائلٹ بول پر جھکی دونوں ہاتھ سے اسی کا سہارہ لیئے قے کر رہی تھئ اسکے لانبے ریشمی بال پوری سیٹ پر بکھرے پڑے تھے
    یہ کیا کر رہی ہو۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔۔
    آہ۔۔ وہ سیدھی ہو کر وہیں بیٹھ گئی۔۔
    ٹوائلٹ بول پر بازو ٹکائے وہ نڈھال سی ہو رہی تھی۔۔
    میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔ مجھے الٹی آرہی ہے۔۔
    کہتے کہتے وہ پھرٹوائلٹ بول پر جھک گئ
    آخ۔۔ اریزہ نے منہ پھیر لیا۔۔
    اس میں کیوں کر رہی ہو الٹی بیسن میں کیوں نہیں کر رہیں۔۔
    اسکا دل اسکو سہارا دینے کا بھی کر رہا تھا اور کراہیت بھی آرہی تھی۔۔
    گوارا نے حیرت سے اسکو دیکھا جیسے اسکی عقل پر شک کر رہی ہو۔۔ پھر فلش کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
    سنک بند ہو جاتا احمق۔۔ گوارا دیوار کا سہارا لے کر چل رہی تھی
    ہاتھ تو دھو لو۔۔
    اریز کی اپنی مجبوری۔۔
    کیوں؟۔ گوارا کو اسکا۔انداز عجیب لگا۔۔ وہ اسکے پاس آئی تو اریزہ ایک قدم پیچھے ہو گئ
    وومیٹنگ چھوت کی بیماری نہیں ہوتی۔۔ کل شائد کوئی چیز ایسی کھا لی جو ہضم نہ ہوئی ۔۔ لی اسلیئے طبیعت خراب ہو رہی ہے۔
    وہ تھکے تھکے انداز میں بتا رہی تھی
    پیا کم تھا تم نے کل۔ اریزہ نے ٹوکا۔۔ اورتم نے ٹوائلٹ بول پکڑا ہوا تھا جراثیم ہوتے اس میں اس طرح اور بیمار پڑو گی ہاتھ دھو۔۔
    اریزہ نے اصرار کیا تو وہ حیران ہو کر اسکو دیکھتی مان گئ۔۔ سنک میں ہاتھ دھو لیئے۔۔
    میں ویسے گٹر میں ہاتھ نہیں۔چلا رہی تھی۔۔
    صابن سے ہاتھ دھو کر اس نے جتایا۔۔
    پھر بھی گندا ہوتا ٹوائلٹ بول۔ہم کبھی الٹی کم ازکم اس میں نہیں کرتے۔۔
    اریزہ نے کہا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
    باہر نکل کر بیڈ پر گرنے والے انداز میں دراز ہوئی۔ وہ مزاق اڑا رہی تھی
    میں صاف ستھری بچی ہوں فلش کر کے سب بہا کر نکلی ابھی سنک میں یہی کام کرتی تو سنک بند ہو جاتا۔۔
    تو کھول لیا جاتا ہے سنک اگر بند ہو بھی جائے تو۔۔
    اریزہ دھیمے سے بڑ بڑائی
    منہ کا اتنا حترام تو کرنا چاہیئے۔۔ اریزہ اردو میں بڑ بڑا رہی تھی۔
    کیا کہہ رہی ہو؟۔۔ گوارا کو اسکی ناگواری پر حیرت ہوئی۔۔
    کچھ نہیں۔۔
    اریزہ نے ٹالنا چاہا
    تم کہہ رہی تھیں ہم۔۔
    اس نے ہم پر زور دیا۔۔
    الٹی ٹوائلٹ بول میں نہیں کرتے پھر کہاں کرتے ہو تم لوگ؟۔۔
    وہ اسی بات پر اٹک گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آہخ آغ۔۔ سنتھیا بیسن پر جھکی الٹی کر رہی تھی۔۔۔۔ ایڈون اسکی الٹی کی آواز سن کر باتھ روم کا ہلکا سا دروازہ ناک کرکے پوچھنے لگا۔
    کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے؟
    آہاں۔ اس کے منہ سے نقاہت کی وجہ سے بہت ہلکی سی آواز نکلی۔ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو ایڈون دروازے کے باہر ہی کھڑا تھا بے چینئ چہرے سے عیاں تھی
    کیا ہوا الٹی کیوں آرہی تھی تمہیں؟
    وہ دھیرے سے اسکی پیشانی چھوتے پوچھ رہا تھا۔
    پتہ نہیں کل وہ جو چاول کھائے شائد وہ لڑ گئے مجھے۔ مرچیں بہت تھیں شائد ۔۔
    وہ تھکے تھکے انداز میں بتاتی کمرے میں آکر بیڈ پر ڈھے سی گئ۔
    یہ ایک درمیانے درجے کا موٹیل تھا جہاں انہوں نے گزشتہ رات گزاری تھی۔ اب تو ان دونوں کیلئے یہ معمول کی بات ہو گئ تھی۔ ایڈون کی پریشانی اسکو طمانیت عطا کر گئ تھی۔ یقینا ایڈون کو اسکی پروا ہونے لگی تھی تو بہت جلد وہ ایڈون کی محبت کی بھئ بلا شرکت غیرے مالک بن جائے گی۔ وہ سوچتے سوچتے مسکرا دی۔
    ایڈون نے ناشتہ منگوا لیا تھا ٹرالی گھسیٹ کر بیڈ کی جانب لاتے اس پر نگاہ پڑی تواسکی مسکراہٹ کا الٹا اثر ہوا۔
    کیا ہوا؟ مسکرا کیوں رہی ہو۔ اسکے انداز میں تشویش تھی۔
    سنتھیا اٹھ بیٹھی۔
    ایسے ہی۔۔ کیا ہے ناشتے میں ۔ وہ ٹرے کا جائزہ لینے لگی۔ چیز آملیٹ بریڈ مکھن چاکلیٹ بن ہاٹ کافی
    وہ ایک پیس اٹھا کر ا س پر مکھن لگانے لگی۔سلائس کھاتے یونہی ایڈون کی جانب دیکھا تو وہ بہت سنجیدگی سے اس پر نگاہ جمائے بیٹھا تھا۔ اس نے ابرو اچکا کر اس سنجیدگی کی وجہ اشارتا پوچھنا چاہی۔
    تمہیں جو گولیاں لا کر دی تھیں میں نے کھاتی رہی ہو؟
    ایڈون کے سوال پر وہ نوالہ چبانا بھول گئ۔
    آئئ مین طبیعت بس آج خراب ہوئی ہے یا پہلے بھی کبھی ۔۔
    اس نے جملہ ادھورا چھوڑا۔اسکے انداز میں فکر سے ذیادہ جواب حاصل کرنے کی بے تابی تھئ۔ سنتھیا پلک جھپکائے بنا اسے دیکھے گئ۔ اس سوال کا مقصد اسے بخوبی سمجھ آگیا تھا مگر ایڈون کی گھبراہٹ اسکی سمجھ سے بالاتر تھئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا ہنسے جا رہی تھی
    ہنسنے کی کیا بات۔۔ اریزہ کو برا لگ رہا تھا
    کچھ نہیں۔۔ تم لوگ کی صفائی کی عادتیں کافی عجیب ہیں۔ ٹوائلٹ پیپر استعمال نہیں کرتے مگر ٹوائلٹ بول کے جراثیم سے ڈرتے ہو ہا ہا۔۔ ۔
    مجھے لگتا ٹوائلٹ پیپر استعمال کرنا جراثیم کو ذیادہ دعوت دیتا۔۔
    اریزہ یکدم سنجیدہ ہوئی۔۔
    اچھا چھوڑو۔۔
    گوارا نے اسکا موڈ بگڑتا دیکھا تو سفید جھنڈی لہرائی
    اس وقت مجھے دوا چاہیئے لا دوگی؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میڈیکل اسٹور تو قریب تھا وہ آرام سے آگئ۔۔ مگر اصل امتحان اب درپیش تھا
    ریسیپشن پر کھڑی نازک سی لڑکی نے مسکرا کر جھک کر اسے خوش آمدید کہا تھا۔
    مجھے دوا چاہیئے الٹی کی۔۔
    اریزہ نے کہا تو وہ مسکرا دی۔۔
    اریزہ کو اندازہ ہوا اسے ککھ سمجھ نہیں آئی۔۔
    میڈیسن۔۔۔
    وہ یونہی دیکھتی رہی پھر ہنگل میں کچھ بولی۔۔
    میڈیشن ۔۔ اس نے کوریائی انداز کی نقل کی۔۔
    دے۔ اس نے سر ہلایا۔۔
    کونسی؟۔۔ اب اس نے اشاروں سے بھی کام لیا۔۔
    وومیٹنگ۔۔
    اریزہ نے کہا اس بار وہ بے بسی سے مسکرائی
    وومیٹنگ۔۔ اریزہ نے اشارے سے بتایا۔۔ اشارے نہایت تہزیب یافتہ انداز میں کیئے گئے۔۔
    ہائی بلڈ پریشر کی گولی کا پتہ سامنے تھا۔۔ مگر ساتھ ہی جانے کیا ہنگل میں کہے جا رہی تھی۔۔
    صد شکر تھا دوا پر ہنگل کے ساتھ انگریزی میں بھی کچھ لکھا تھا۔۔
    یہ نہیں۔۔ اس نے پڑھ کر واپس کر دیا۔۔
    مجھے ۔۔ اسکے زہن میں جھماکا ہوا۔۔
    دوا کا نیا پتہ تھا سو اس پر لکھی عبارت پڑھی جا سکی۔ مگر اگر جان کر ایسے استعمال کیا جائے کہ دوا نکالنے کے بعد انگریزی ہدایات بالکل نہ پڑھی جا سکیں۔ اس نے فورا بیگ کھنگالنا شروع کیا۔۔ ایک دوا کا خالی پتہ اسکے پاس موجود ہونا چاہیئے
    ہے گرل ۔ وہ اسے ان متوجہ کر رہی تھی۔۔
    یہ نہیں مجھے الٹی کی دوا چاہیئے۔۔ اسے ہاتھ روک کر دوبارہ اسی تگ و دو میں جتنا پڑا۔۔
    اس نے اس بار منہ سے آواز نکال کر تھوڑی سی زبان بھی نکال کر کافی مزاحیہ انداز میں بتایا۔۔ لڑکی بے ساختہ ہنسی۔۔

    بد ہضمی کی دوا درکار ہے۔اور او آر ایس بھی دے دو۔۔
    کسی نے آگے بڑھ کر اسکی مشکل آسان کی۔۔ نووارد کا انداز بتا رہا تھا مسکراہٹ کا گلا گھونٹ کر بظاہر سنجیدگی سے کہا ہے۔۔ اریزہ نے مڑ کر دیکھا ہایون تھا اریزہ کو دیکھ کر وہ مسکرایا۔۔تو ارییزہ کھسیانی ہوئی سیدھی ہوئی۔۔
    دے۔۔ لڑکی دوا لینے مڑی
    اسلام و علیکم۔۔ اس نے مسکرا کر اسے وش کیا۔
    وعلیکم السلام۔۔۔۔اریزہ نے فوری جواب دیا۔
    کیسی ہو۔ وہ مزید پوچھ رہا تھا۔۔
    ۔ اریزہ کا منہ کھلا۔۔۔
    ٹھیک۔۔ تم۔۔
    تم۔ وہ سوچ میں پڑا۔۔۔۔
    یہ لیجئے۔۔ لڑکی مطلوبہ دوائیں لے آئی تھی۔۔
    گومو وویو۔۔ یہ بھی۔۔ وہ دوبارہ بیگ میں گھس گئ تھی۔۔
    مجھے سر درد کی دوا دیجئے گا۔ہایون نے کنپٹی مسل کر کہا
    یہ والی دوا بھی۔۔ اس نے ریپر ڈھونڈ نکالا تھا۔۔ جھٹ سے اسے دوا کا خالی پتہ دیا۔۔
    یہ؟۔۔ اس لڑکی نے حیرانی سے اسکی شکل دیکھی۔۔
    جی۔۔ اریزہ کو سمجھ نہ آیا اسکا انداز۔
    اس نے ہایون کے سامنے اسکی سر درد کی گولی رکھی اور اسکے سامنے مطلوبہ دوا کا پتہ۔۔
    وہ شکریہ ادا کر کے اٹھانے لگی تو اس لڑکی نے دوا پر ہاتھ رکھ کر اسے کچھ بتایا۔۔
    معزرت؟۔۔ اریزہ کو سمجھ نہ آیا۔۔ دوا خرید کر مڑتا ہایون بھی رک کر اسے دیکھنے لگا۔۔
    وہ لڑکی اسکو پکار رہی تھئ۔
    اسے یقئنا مترجم درکار تھا۔۔
    یہ تم استعمال کرتی ہو؟
    ہایون نے پوچھا تو وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگی۔۔
    جی؟۔ اس کے منہ سے جی ہی نکلا
    وہ لڑکی ہنگل میں گٹ پٹ کیئے جا رہی تھی۔ ایک تو سیول میں درجنوں تو لہجے چلتے ہیں۔ اگر وہ ٹھہر ٹھہر کر بولتی تو شائد کچھ اسکے پلے پڑتا مگر اسکی تیز گام اسکے سر پر۔سے گزری وہ سوالیہ نگاہوں سے ہایون کو دیکھنے لگی۔
    یہ برتھ کنٹرول میڈیسن کی ایک قسم ہے اسکو ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کیجئے اسکا زیادہ استعمال آپکو ماں بننے کی صلاحیت سے محروم کر سکتا ہے یہ دوا آپکو ڈاکٹر کی مستند پرچی کے بغیر نہیں دی جا سکتی ہے۔۔
    ہایون نے ترجمہ کیا تو اریزہ سناٹے میں آگئ تھی۔۔
    اس نے دوا کو بے یقینی سے اٹھا کر دیکھا خالی ہوا پتہ اور یہ نیا پتہ یقینا ملتے جلتے تھے۔۔ دوا کی نئی پیکنگ میں انگریزی ہدایات بھی درج تھیں۔۔
    آگاشی؟۔۔ اس لڑکی نے اسے مخاطب کرکے متوجہ کیا۔۔
    آپ لینا چاہتی ہیں یہ دوا؟۔۔ ڈاکٹر کی مستند پرچی۔۔
    وہ مزید کہہ رہی تھی۔۔
    نہیں۔۔ اریزہ نے سختئ سے منع کیا۔۔
    پھر خیال آیا تو انگریزی میں بتایا۔۔
    نہیں میرا خیال ہے کوئی غلط فہمی ہے۔۔ اس نے سنبھل کر بات بنائی۔ ہایون اسے کافی غور سے دیکھ رہا تھا۔۔
    گومو وویو۔۔
    اس نے قیمت ادا کر کے اسکا شکریہ ادا کیا ۔۔ ہایون بھی شائد اسکی وجہ سے ہی کھڑا تھا ادائگی کرکے اسکے ساتھ ہی نکل آیا۔
    تمہاری طبیعت اب کیسی ہے؟ رات کو نیند ٹھیک سے آئی۔
    اسکے ہم قدم چلتا وہ خیریت دریافت کر رہا تھا۔
    ہاں ۔ ٹھیک ہوں میں۔ وہ اپنی سوچوں میں الجھی تھی چونک کے جواب دیا۔۔
    سر کیلئے بھی ائنمنٹ لے لیتیں۔۔
    اس نے کہا تو اس نے لاپروائی سے سر ہلایا۔۔۔
    اسکے ہم قدم خاموش چلتے جانا۔۔ اسے الجھن سی آئی۔
    تم میرے ساتھ کیا گھر تک۔۔
    وہ جھلا کر کہنے ہی لگی تھی۔۔ آدھا جملہ منہ میں روکنا پڑا
    تبھی وہ کرم کہتا بائیں جانب مڑ نے لگا۔اسکی آدھی بات پر چونک کر رک کر پوچھنے لگا۔۔
    دے؟
    آنیا۔ وہ کھسیائی۔ گڈ بائے۔
    اس نے ہاتھ ہلایا۔۔ ساتھ سر بھئ۔
    بائے۔۔ ہایون مسکرا کر ہاتھ ہلاتا گلی میں مڑ گیا۔اس گلی میں ڈھلوان تھی وہ کافی تیز قدم اٹھاتا جا رہا تھا۔
    ہوں اسکا شائد یہیں قریب ہی گھر ہے جبھئ پیدل گھوم رہا۔۔
    اس نے شائد پہلی دفعہ اسے۔ ٹریک سوٹ میں دیکھا تھا۔ ورنہ تو ہر وقت نک۔سک سے تیار ہی رہتا تھا۔۔۔ مگر بلیک ٹریک سوٹ بھی اسکی شخصیت کا ایک ہی تاثر دکھا رہا تھاوہ بھی۔ قیمتی۔۔
    اس نے چپکے سے خود پر نگاہ ڈالی۔
    گوارا کے پاجامے کی ٹانگیں لمبی تھیں اس نے موڑے تو دونوں پانئچے تھے مگر اب ایک سیدھا ہو چکا تھا۔ ایک اونچا ایک نیچا پائنچہ۔ اس نے جلدی سے سڑک کنارے اس دکان کی گلاس وال میں خود کو دیکھا۔ بکھرے سے بالوں کو اس نے کیچر میں سمیٹا تھا کنگھی کی زحمت نہ کی تھی۔ ہڈ سر پر چڑھا لیا تھا جو کب گرا اسے پتہ نہ لگا۔ زحمت منہ دھونے کی بھی نہ کی تھی۔ گوارا کیلئے دوا لینے نکلتے اسی کا اپر اٹھایا تھا سو اسکے اپرکی زپ بند نہ ہوسکتی تھی۔گوارا تو شائد ہوا پھانکتی تھی مگر وہ مہینہ بھر روزے رکھ کر بھی بیس سے بس انیس ہی ہوپائی تھئ۔ گرے اپر گلابی سویٹ سوٹ پر جچتا اگر کھلی زپ سے اسکی شرٹ نا جھانک رہی ہوتی۔ پاجامہ بھی صاف لگتا تھا کسی کا پہنا ہے۔
    اس نے پیر جھٹک کر دوسرا پائنچہ بھی نیچے کر لیا۔
    شکر ہے میرابوائے فرینڈ نہیں کوئی ورنہ اس حلیئے میں دیکھ کر پکا بریک اپ کرلیتا مجھ سے۔
    اس کو پہلی دفعہ سنگل ہونے پر خوشی ہوئی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا اسکا بنایا ہوا دلیہ کھا رہی تھئ جب وہ مرے مرے قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی۔۔ اوپن کچن میں سلیب ٹیبل پر تمیز سے کرسی پر بیٹھی وہ بڑے سے بائول میں کھا رہی تھی۔۔ اس دیکھ کر بمشکل بھرا ہوا منہ خالی کر کے بےتابی سے بولئ۔۔
    اتنی دیر؟۔ پتہ مجھے ایک اور الٹی آگئ اتنی دیر میں۔۔ اس بار بیسن میں کی۔۔۔ جا کر دیکھ لو۔۔ نرا پانی ہی تھا۔۔
    گوارا کا انداز اتنا معصومانہ تھا کہ اتنے برے موڈ میں بھی وہ ہنس دی
    ہاہ۔۔ گوارا بھی ہنسی۔۔
    ویسے مزے کا ہے دلیہ شکریہ اریزہ شا۔۔
    وہ ممنون ہوئی۔۔
    یہ لو۔۔ اس نے دوائیں سامنے رکھیں اور او آر ایس نکال کر اسکے لیئے جگ بھر کر بنانے لگی۔۔
    اسکا بنایا ناشتہ یخ ہو چکا تھا ۔
    اس نے جگ لا کر اسکے سامنے رکھا اور اپنا
    ناشتہ مائکروویو میں گرم کرنے لگی۔۔
    تم بنا ناشتے کیئے میرے لیئے دوا لینے چلی گئیں اور دلیہ بنا کے گئیں۔ ۔۔ گوارا منہ تک چمچ لے جاتے ہوئے تھمی۔۔
    اریزہ نے سرسری سا ہوں کیا۔۔ مایکروویو کا ٹائیمر چل رہا تھا وہ اسکے سامنے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ گوارا نے چمچ بائول میں رکھ دیا
    کیا ہوا کھا کیوں نہیں رہیں۔۔؟۔۔ اریزہ نے حیرت سے اسے دیکھا جو نوالہ چھوڑ کر اب اسکے بنائے جگ سے او آر ایس انڈیل کر پی رہی تھی۔۔
    تم نے مجھے اپنا بہت زیر بار کر دیا ہے۔۔ تمہارا بے حد شکریہ۔۔
    اس نے پی کر گلا س رکھا اور اسکے سامنے سر جھکا کر کہنے لگی۔۔
    آہش۔۔ اریزہ ہنسی۔۔ اسے لگا وہ مزاق کر رہی ہے۔۔
    مگر اس نے سر اٹھایا تو وہ بے حد سنجیدہ دکھائی دے رہی تھی۔
    ارے۔۔ اریزہ کا منہ کھلارہ گیا تھا۔۔
    تم واقعی دل کی بے حد اچھی لڑکی ہو۔جی ہائے تم پر فدا ہو گئ تھی تو مجھے لگا تھا وہ کچھ زیادہ ہی محسوس کررہی ہے مگر تم واقعی بہت خاص ہو۔۔ مجھے خوشی ہے ہم دیر سے سہی مگر دوست بن چکے ہیں۔۔ گوارا مزید کہہ کر مسکرائی
    اریزہ پورا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ مائکرو ویو کی گھنٹی بجی تو گوارا اسکے اٹھنے سے پہلے اٹھی اور ناشتہ لاکر اسکے سامنے سجا دیا۔۔ پھر گھوم کر واپس اپنی جگہ آبیٹھی۔۔ اریزہ کندھے اچکا کر رہ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غیر مانوس ماحول میں اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔ چند لمحے تو سمجھ بھئ نہ آیا کہاں ہے۔۔ اس نے فورا اٹھنا چاہا۔۔ مگر سر میں اتنی شدید درد کی لہریں اٹھیں کہ کراہ کر واپس تکیے پر گر سی گئ۔۔ اس نے پیشانی پر بندھی پٹی کو محسوس کیا تو اسے یاد آیا وہ ہاسٹل کی سیڑھی پر چکرا کر گرنے کو تھی سو مدد کو اریزہ کو آواز دی تھی۔ تو اریزہ آگئ تھی کیا ؟
    اریزہ۔۔ اس نے بے ساختہ زور سے پکار لیا۔
    اسکے بیڈ کے پیتھیانے بیٹھی وہ لڑکی موبائل میں مگن تھی۔ اسکی آواز پر چونکی ۔ مگر وہ اریزہ نہیں تھی۔۔
    کین چھنا۔۔ اس کو جاگتے دیکھ کر وہ اٹھ کر اسکے پاس آئی تھی۔۔
    تم ٹھیک ہو؟۔۔ جی ہائے نے سر پر ہاتھ مار کر انگریزی میں کہا۔۔
    اس نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔پھر اٹھ کر ماحول پر نگاہ کی۔ وہ انکے ہاسٹل کا کیلنک تھا۔ وہ اس وقت اسی کیلنک کے بیڈ پر لیٹی تھی۔ دوسرا بیڈ برابر ہی تھا اور خالی تھا۔ بیڈ کے گرد پردے برابر تھے۔ ڈاکٹرنی شائد کسی اور طالبہ کو دیکھ رہی تھی ہلکی ہلکی ہنگل میں گفت و شنید کی آواز اسے پردے کے دوسری جانب سے آرہی تھیں۔
    تھائی نیے۔ اس نے گہری۔سانس لی۔۔

    کیا ہوا ہے مجھے۔۔ سنتھیا نے پوچھا۔۔
    تمہیں یاد نہیں؟۔ تم گر گئ تھیں چکرا کر؟۔۔
    جی ہائے حیران ہوئی۔۔
    مجھے یاد ہے میں سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔ سنتھیا بے چین سی ہوئی۔۔
    ہاں تم سیڑھی پر بے ہو ش ہو گئ تھیں۔شکر ہے میں نے بروقت آکر تمہیں پکڑ لیا ورنہ بارہ چودہ سیڑھیاں نیچے جا گرتیں۔ ویسے۔ آج میری طاقت کا کافی امتحان لیا تم نے۔۔
    اس نے منہ بناتے ہوئے اپنے کندھے کو سہلایا۔۔
    مجھے کیا ہوا ہے؟ مجھے چکر کیوں آئے؟ ڈاکٹر کیا کہتی ہے
    سنتھیا بے چین سی ہوئئ وہ بھی اسے سنجیدگی سے تفصیل بتانے لگی۔۔
    تم نے کوئی ایسی دوا لی ہے جس سے تمہاری یہ حالت ہوئی ہے۔۔ ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کروانے کو کہا۔۔ اس نے یہ بھی خیال ظاہر کیا ہے کہ شائد کوئی پیچیدگی نہ ہوگئ ہو۔۔۔ اس نے ٹھہر ٹھہر کر بولتے ہوئے بغور اسکا چہرہ پڑھا۔۔
    سنتھیا نے سر جھکا لیا۔
    اب اگر بہتر محسوس کر رہی ہو چلیں؟۔۔ ٹیسٹ تو اب کل ہی ہو سکیں گے۔۔ جے ہی غیر ارادی طور پر آنکھیں مسل رہی تھی۔۔سنتھیا نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ پلٹ کر کرسی کی پشت سے ٹکا اپنا ہڈ نکال کر پہننے لگی۔
    یقینا اسکو کافی زحمت ہوئی ہوگی اسکی وجہ سے۔۔
    اس نے سوچا۔۔
    جی ہائے اپنا بیگ سمیٹ رہی تھی جب اسے سنتھیا کی ہلکی سی آواز سنائی دی۔۔
    شکریہ جی ہائے۔ ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جی ہائے اسے سہارا دیتی کمرے میں چھوڑ گئی تھی۔۔ ساتھ پھلوں کا کین جوس اور دلیہ جو اسے سمجھ آیا خرید کر لائی تھی۔۔ اس نے ممنونیت سے اسے دیکھا تھا۔۔ جانے وہ کیا سمجھی۔ صفائ دینے لگی۔۔
    میں نے ابھی اریزہ کو نہیں بتایا ۔۔ بتا دوں؟۔۔ اکیلی ہو طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔۔
    نہیں۔ اس نے جلدی سے کہا تھا۔۔ انداز میں نا گواری نہیں تھی۔۔
    جی ہائےنے گہری سانس لی۔۔ اس کو یہی امید تھی ۔
    خیر مجھے کال۔کر لینا کوئی بھی چیز چاہیئے ہو تو۔۔ میں نیچے ہال میں پریکٹس کرنے جا رہی ہوں۔۔
    اس نے مزید کہا تو سنتھیا سر ہلا گئ۔۔ جی ہائےاسے آرام کرنے کا کہتی دروازہ بند کرکے چلی گئ تووہ بھی بیڈ پر لیٹ ہی گئ۔ فی الحال مزید جاگنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔۔ اسکے فون کی بتی جلی مانوس نام دیکھ کر اس نے بند کر دیا۔۔ اس وقت وہ اسکے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ اس نے گہری سانس لیکر آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات کے آٹھ بج رہے تھے۔۔ اس نے گوارا کیلیئے ڈھیلی کھچڑی بنائی تھی۔۔ اسے کا فئ پسند آئی۔۔
    بہت مزے کی ہے۔۔ اس نے چٹخارا بھرا۔۔
    وہ کافی شوق سے کھا رہی تھی۔۔
    بنا چٹنی کے نہ سلاد بس دہی۔۔ اسے تو کافی پھیکا لگ رہا تھا۔۔۔
    بس کوئی پھیکا سا بے ذائقہ محلول اندر جا رہا تھا۔۔
    تبھئ تھکی تھکی سی ہوپ اندر داخل ہوئی ۔۔ نہ سلام نہ دعا ارادہ سیدھا کمرے میں گھسنے کا تھا۔۔
    ہوپ آجائو ہمارے ساتھ کھانا کھا لو۔۔
    یہ اریزہ تھی۔گوارا نے گھور کر دیکھا تھا اسے۔۔
    بندی کے نخرے عروج پر جاتے جا رہے آئی بڑی گوریو کی شہزادی۔۔ وہ بڑ بڑا کر رہ گئ۔
    ہوپ جاتے جاتے رکی پھر کچھ سوچ کر انکے پاس چلی آئی۔۔ بیگ سے فرائی چکن کا ایک پیکٹ نکال کر میز پر رکھ دیا۔
    مجھے بھوک نہیں تم لوگوں نے کھانا ہو تو کھا لو۔۔ وہ کہہ کر پلٹنے لگی۔۔
    میری طبیعت ٹھیک نہیں اور اریزہ چکن نہیں کھائے گی۔۔ ہاں اگر تم نے کھانا ہو تو آجائو گرم ہیں چاول۔۔
    گوارا نے کہا تو اس نے تصحیح کی۔۔
    چکن نہیں ہے پورک اسٹیک ہے۔۔
    کیا۔؟۔۔ اسکا رکھا شاپر اریزہ اٹھا کر میز پر جگہ بنا کر رکھ رہی تھی۔ بری طرح چونک کر چھوڑ دیا ہاتھ سے۔۔یہ غیر ارادی حرکت تھی۔۔ پورک پکڑ لیا تھا اسے اپنا ہاتھ گندا لگا۔۔ شاپر میز سے ٹکراتا زمین بوس ہو گیا۔ اریزہ بری طرح خفت زدہ ہوئی۔۔
    بیانیئے۔۔ اس نے فورا معزرت کی۔۔
    تم سے گرا نہیں تم نے اسے چھوڑا ہے ۔۔ جیسے یہ کھانے پینے کی چیز نہیں کوئی غلیظ چیز پکڑا دی ہو میں نے تمہیں۔۔ شرم آنی چاہیئے تمہیں ایسا کرتے ہوئے۔۔
    ہوپ اسے گھورتے ہوئے جیسے غرائی تھی۔۔
    تم غیز ضروری ردعمل دے رہی ہو۔۔ چھوٹ گیا ہے اسکے ہاتھ سے شاپر میں ہی ہے اٹھا لو۔ گوارا نے ناگواری سے اسے ٹوکا۔
    میں اٹھا دیتی ہوں۔۔ اریزہ نے فورا جھک کر اٹھانا چاہا ہوپ نے سختی سے اسے پیچھے کر دیا۔۔
    اٹھا لوں گی میں۔ اس نے جھک کر اٹھایا
    اور اریزہ کی جانب جان کر بڑھایا۔۔
    یہ لو۔ اسے سنبھال کر رکھ دو۔۔
    وہ اسے نظروں میں لیئے تھی۔
    اریزہ نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔۔
    تم خود رکھ لو ادھر۔۔ اس نے سادہ سے انداز میں کہا۔۔
    ان دونوں کو بحث میں پڑتا دیکھ کر گوارا اٹھ کھڑی ہوئی ارادہ سفید جھنڈی لہرانے کا تھا مگر ہوپ نے موقع نہیں دیا۔۔
    دیکھا ۔۔ وہ اب گوارا کی جانب مڑی اور جتا کر بولی۔۔
    یہ اسکو گندا سمجھ کر ہاتھ نہیں لگا رہی تھی۔۔
    وجہ پوچھ سکتی ہوں میں؟۔۔ وہ اریزہ کی جانب پشت کیئے کیئے گوارا کو دیکھتے ہوئے مخاطب اریزہ سے ہی تھی۔۔
    واقعی اریزہ؟۔۔ گوارا حیران ہوئی۔۔
    اریزہ نے سر جھکا لیا۔۔
    جواب نہیں تمہارے پاس؟۔ ہوپ استہزائیہ ہنسی۔۔
    اسلیئے کہ میں لائی ہوں؟۔۔ یا اس لیئے کہ۔۔
    وہ جانے کیا کہنے والی تھی اریزہ نے اسکی مضبوط لہجے میں بات کاٹ دی۔۔
    اسلیئے کہ میرے مزہب میں پورک کھانا منع ہے۔۔
    کھانا تو دور اسکو ہاتھ لگانا چھونا بھی پسند نہیں کیا جاتا۔ مجھ سے ابھی جو ہوا۔۔ وہ غیر ارادی حرکت تھی۔۔ میں سچے دل سے معزرت خواہ ہوں۔۔
    گوارا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
    ہاہ اش۔ ہوپ زور سے قہقہہ لگا کر ہنسی۔۔
    مزہب میں منع۔۔ ؟۔۔ کبھی بھوک سے پاگل ہو رہی ہوتو کیا تب بھی نہیں چھووگی۔۔ ؟۔ جب بھوک لگتی ہے نا بس کھانا درکار ہوتا۔۔ پھر چاہے زمیں سے چن کر گندم کے دانے منہ میں بھرو یا کوڑے سے گلا سڑا نکال کر کھائو۔ کھانا پڑتا۔۔
    اسکا لہجہ نہایت تلخ تھا۔
    تب بھی میری کوشش ہوگی میں پورک نہ کھائوں۔۔
    اریزہ کا انداز ہنوز تھا۔۔
    پھر دعا کرنا کبھی بھوکی نہ پھرو۔ مزہب کہیں پیچھے رہ جاتا ایسی کیفیت میں۔۔ وہ شاپر اٹھا کر فریج میں رکھتی اسے جتا کر کہتی کمرے میں گھس گئ۔۔
    اب یہ کیا تھا۔۔ گوارا نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا۔
    اریزہ بھی الجھن بھرے انداز سے ہی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
    پتہ نہیں۔۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔۔
    بیٹھو کھانا کھائو۔۔ اریزہ کرسی گھسیٹ کر دوبارہ بیٹھ گئ۔۔
    گوارا نے بھی تقلید کی۔۔ اس بار اریزہ منہ بنائے بغیر نوالے نگلنے لگی۔۔ گوارا نے ایک نظر اسے دیکھا پھر زہن میں در آنے والا سوال پوچھ بیٹھی۔۔
    تم مزہب کی بات کر رہی تھیں۔۔ اسلام پورک کھانے سے منع کرتا۔۔ ۔
    اریزہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔۔ وہ ہمہ تن گوش تھی۔۔
    ہاں۔۔ اریزہ نے آہستہ سے جواب دیا۔
    خفا تو نہیں۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے نگاہ اٹھا کر گوارا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
    جبھی جی ہائے کے پاپا اس دن خفا ہو گئے تھے۔
    وہ ہنگل میں بڑبڑائی۔
    کس دن؟
    وہ سوالیہ۔ہوئی۔
    آہش۔ گوارا نے چمچ پلیٹ میں رکھا اور سیدھی ہو بیٹھی۔
    یہ لڑکی بہت کمینی ہے۔۔ خیر دفع کرو اسے۔۔۔۔ویسے اریزہ۔ تم ہر وقت اسکارف سر پر نہیں لیتیں۔۔ مسلمان لڑکیاں تو سر ڈھکتی ہیں نا کرسچن نن کی طرح۔۔ تم بس تہوار والے دن سر پر دوپٹہ لیتی ہو۔
    اسکا انداز دلچسپی بھرا تھا۔۔
    ہمم۔ اس نے ہنکارہ بھرا۔۔
    میں اسکارف نہیں لیتی۔۔ مگر ویسے کو شش کرتی لباس اسلامی انداز کا ہی ہو۔اس نے جز بز سا ہو کر سر پر ہاتھ پھیرا۔۔ بال تھوڑے کھردرے سے محسوس ہو رہے تھے۔
    ہممم۔ وہ پر سوچ انداز میں سر ہلانے لگی۔۔

    مجھے ویسے کرسچن ننز کافی انسپایر کرتی ہیں۔۔ انکی مسکراہٹ انکا نرم سا بولنے کا انداز اچھا لگتا۔۔
    آج تک بس دو ایک۔بار ہی گئ ہوں میں چرچ اچھا لگا تھا جا کے۔۔۔ وہ اسے سادگی سے بتا رہی تھی۔۔
    اس نے دوبارہ کھچڑی کے نوالے منہ میں بھرنا شروع کر دیئے تھے۔۔
    اریزہ منہ میں بھرے چاول چبانا بھول گئ۔۔
    ایک دو بار بس۔۔ اس نے بمشکل نگل کر حیرانی سے دیکھا۔۔
    ہوں۔۔ گوارا مطمئن تھی۔۔
    تمہیں ڈانٹ نہیں پڑتی گھر والوں سے؟۔۔ میرا مطلب اگر میں نماز نہ پڑھوں دو دن تو امی تو مجھے بہت ڈانٹتی ہیں ابھی اگر انہیں پتہ چلے میں یہاں عبادت اتنی ٹال جاتی تو میری پٹائی کر دیں۔۔ آکر۔۔ اریزہ نے کہا تو گوارا بے ساختہ ہنسی۔۔
    میری آہموجی بھی شائد ایسا ہی کریں مگر بدھا اتنے ظالم ہرگز نہیں۔۔ سو مجھے پتہ میرا کارما میرا انتظار کر بھی رہا ہو تو اتنا ہی ہوگا کہ میں برداشت کر سکوں۔۔ گوارا نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔۔
    اریزہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہی تو اس نے وضا حت کی۔۔
    میں اتنا کم گرجا گھر اسلیئے گئی ہوں کیونکہ میں عیسائی نہیں بدھ متی ہوں ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح اسکی آنکھ الارم سے نہیں کھلی تھی۔۔اکثر نہیں کھلتی تھی۔ وہ بجتے سروں کو نیند میں بھی سن رہی تھی دھیما سا پیانو۔ اسکے ڈاکٹر نے یہ دھن تجویز کی تھی۔ اس الارم سے اسکی آنکھ بنا کسی جزباتی دھچکے کے کھلتی تھی۔ اور نہیں بھی کھل۔پاتی تھی۔ اسنوز پر مستقل بجتا الارم اسے لوری دے رہا تھا۔
    اتنے دھیمے سروں کا الارم لگانے کا کیا فائدہ ہے اریزہ۔۔ گوارا نے اسے ہلاکر جگایا تھا۔۔
    اٹھ جائو ہمیں دیر ہو گئی ہے۔۔ وہ شائد شاور لے کر نکلی تھی جلدی سے اسے اٹھا کر ہیئر ڈرائر سے بال سکھانے لگی۔۔ وہ کسلمندی سے اٹھ کر جمائی لیتی اٹھ بیٹھی۔۔ چادر اپنے اوپر سے ہٹا کر ایک طرف کی تو ہاتھ یوآنا سے ٹکرایا۔۔
    ہیئر ڈرائیر کی گھوں گھوں سے بے نیاز وہ خراٹے لے رہی تھی۔۔
    یہ آج گئ نہیں۔۔ اریزہ احتیاط سے اٹھتی اسکے قریب آکر سرگوشی میں پوچھنے لگی۔۔
    جب میں اٹھی تھی تب اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو تھا۔۔ گوارا نے اسکی احتیاط کے بر عکس آرام سے کہا تھا۔۔ اریزہ نے زبان دانتوں تلے دبا کر فورا ہوپ کودیکھا جو اسکی آواز سے کسمسا کر کروٹ بدل رہی تھی۔۔
    آہستہ ۔۔ اس نے سرگوشی میں ہی گوارا کو ٹوکا۔۔
    کتنا سوئے گی جانا نہیں کیا آج اسے۔۔ گوارا بے نیازی سے بال جھٹک رہی تھی۔۔ اریزہ سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ۔۔
    آج چھٹی ہے میری۔۔ اس نے بڑ بڑا کر جواب بھی دے دیا۔۔
    اریزہ نہا کر باہر آئی تو گوارا نک سک سے تیار لائونج میں اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔
    چلیں۔۔۔ اسے آتے دیکھ کر وہ فٹ سے کھڑی ہوگئ۔۔
    ایک منٹ اریزہ اسکو کہتی فریج کی طرف بڑھئ۔۔
    کچھ بھی نہیں ہے فریج میں سوائے تمہارے پسندیدہ پورک اسٹیک کے۔۔ گوارا نے شرارت سے ہانک لگائی۔۔ اریزہ فریج کھولتے کھولتے رک کر اسے گھورنے لگی۔۔
    راستے میں کچھ لے لیں گے۔۔
    اس نے تسلی بھی دی
    ہاہ۔۔ وہ گہری سانس لیکر رہ گئ۔۔
    وہ سویٹ پینٹ شرٹ میں ہی ملبوس تھی۔
    تمہیں کوئی اپنا ڈریس دوں۔
    گوارا نے فراخ دلی سے پوچھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس کا سفر اسے ایک مرحلہ لگتا تھا۔ عادت ہی نہ تھی کھڑے ہو کر سفر کرنے کی اور صنف قوی کو ڈھٹائی سے بیٹھے دیکھنے کی۔ آج تو وجہ بھی تھی اسکے پاس۔ ریشمی کرتا پاجامہ لانبا دوپٹہ پوری بس مڑ مڑ کر دیکھتی محسوس ہو رہی تھی اسے۔
    گوارا ہم ٹیکسی نہ کرلیں ؟ کرایہ میں دے دوں گی۔
    وہ گوارا کے کان میں منمنائی۔
    اتنی امیر ہو تو مجھے اچھا سا ناشتہ کرادینا کینٹین میں۔
    گوارا کی اپنی منطق تھئ۔
    وہ چیں بہ چیں ہوگئ۔
    خدا خدا کرکے اسٹاپ آیا۔ تو اس نے سکھ کی سانس لی۔
    آئیندہ میں ویک اینڈ پر تمہارے گھر نہیں آئوں گی۔ مجھ سے یہ بس کا سفر نہیں ہوتا بالکل بھی۔۔
    وہ عید کا جوڑا ہی پہنے تھی۔
    گوارا نے کان پر سے مکھی اڑائی۔ اور سیدھا کنوینیئٹ اسٹور گھس گئ۔
    چاکلیٹ بن کافی سینڈوچ۔
    اس نے اپنی پسند سے چیزیں اٹھائی تھیں۔ اریزہ ریک کے ساتھ قد آدم آئینے میں خود کو دیکھتی سر پر دوپٹہ درست کر رہی تھی۔
    فالتو میں پریشان ہو رہی ہو اتنے بھی بال نہیں جلے تمہارے کے سر ڈھکنے کیلیے پریشان ہوتی رہو۔ مجھے تو لگا تھا چندیا نظر آرہی ہوگی تمہاری مگر غنیمت ہے۔۔
    گوارا کے زور شور سے بولنے پر وہ اچھل پڑی پھر ادھر ادھر دیکھتے اسے ایک لگا بھی دی۔
    آہستہ بولو۔
    ہائے۔۔ گوارا کھلکھلائی۔
    کیا ہوا تم چھپانا چاہتی ہو کہ کل تمہاری سہیلی نے اسٹریٹنر سے تمہارے بال جلا دیئے۔
    اس نے شرارت سے ٹہوکا دیا۔ وہ بھنا کر رہ گئ۔
    ویسے تمہیں یقین ہے اس نے جان کے نہیں جلائے؟
    گوارا ایکدم سنجیدہ ہو کر بولی۔
    ظاہر ہے۔ باتیں کرتے وہ بے دھیان ہوگئ تھی بس۔
    اسکے یقین سے کہنے پر گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔
    اچھی بات ہے اگر ایسا ہے۔
    اس نے بحث نہ کی۔ دونوں پیمنٹ کرکے باہر نکلیں تو راہ چلتی اس آہجومہ نے بڑا غور سے ان دونوں کو دیکھا پھر سر ہلاتی جانے کیا بڑبڑارہی تھیں۔
    اریزہ غیر ارادی طو رپر اپنے کپڑے ٹھیک کرنے لگ گئ۔
    آج تو مجھے بھی دنیا پلٹ پلٹ کر دیکھ رہی ہے۔ گوارا نے اسکے بازو میں ہاتھ ڈال کر شرارت سے کہا۔
    تمہیں دیکھ کر لگ رہا ہے جوزن ایرا کی شہزادی جدید کوریا میں آکر حیران پریشان سی کھڑی دیکھ رہی ہے۔۔۔
    اریزہ جھینپ سی گئ۔
    ویسے تم اپنا وزن تھوڑا کم کیوں نہیں کر لیتیں۔ اتنی کیوٹ ہو مگر میرے جیسی بھاری بھرکم لڑکی کے کپڑے تمہیں نہیں آپائے۔۔
    اسکے سنگ قدم اٹھاتی گوارا روانی میں کہہ رہی تھی۔۔ اریزہ نے اسکے چہرے کو غور سے دیکھا۔ وہ تمسخر نہیں اڑا رہی تھی ۔
    اریزہ کو صبح کی وہ پریڈ یاد آئی۔
    اس نے سنتھیا کے جتنے کپڑے پہن کر دیکھے وہ بہت تنگ نہ تھے مگر کوئی سلیو لیس تھا کسی کا گلا گہرا تھا کوئی مہین تھا۔ اور وہ پہن بھی لیتی تو اسکو پہن کر یہاں گھومنا اسکے لیئے یہاں جوزن ایرا کی شہزادی بن کے پھرنے سے ذیادہ مشکل تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلاس شروع ہونے والی تھی سو اسے سیدھا یونی آنا پڑا۔ ورنہ ارادہ یہی تھا کہ ہاسٹل جا کر پہلے کپڑے بدل لے۔ حسب توقع اسکے کلاس میں داخل ہوتے لمحہ بھر کو خاموشی سی چھائی۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے سنتھیا کو ڈھونڈنا چاہا وہ پیچھے کی کرسیوں پر ایڈون کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس نے بھی پیچھے جانا چاہا مگر جی ہائے نے پکار لیا۔ وہ پہلی رو میں بیٹھی تھی۔ گوارا اور وہ اسی کے پاس آن بیٹھیں۔۔
    پیاری لگ رہی ہو۔ چھوٹتے ہی وہ بولی اریزہ مسکرادی۔ ۔۔ یہ سر پر دوپٹہ کیوں لے رکھا ہے؟ ۔
    اسے تجسس تھا۔
    اسکے بال جل گئے اسٹریٹنر سے۔ گوارا نے اس سے پہلے جواب دیا۔
    تم۔ جیلسی بلی تم نے ہی جلائے ہوں گے۔ اس نے بلا لحاظ گوارا کے سر پر چپت لگائی۔
    جی نہیں اسکی سہیلی نے۔۔
    گوارا نے باقائدہ پیچھے کی جانب اشارہ کرکے بتایا۔ اریزہ نے اسکا ہاتھ تھاما۔۔
    غلطی سے جل گئے۔ اریزہ نے دانت کچکچا کر گوارا کو گھورا۔ پھر بات بدلنے کو بولی۔
    تمہارا ویک اینڈ کیسا گزرا ؟ گائوں گئ ہوئی تھیں نا۔
    بڑا مزا آیا۔ دو دن خوب ہلا گلا کیا ہم نے پورک باربئ کیو کیا۔ گوارا تم چلتیں سچی اتنا مس کیا میم۔۔
    حسب توقع اسکا ذہن بدل گیا تھا۔ وہ جانے کیا قصہ سنانے لگی۔ اس نے گہری سانس لیکر ذرا سا مڑ کر پیچھے دیکھا تو لمحہ بھر کو ٹھٹک سی گئ۔ سنتھیا رخ موڑئ تیکھی نگاہوں سے برابر بیٹھے ایڈون کو دیکھ رہی تھی۔اسکی نگاہوں کا تعاقب کرتے ایڈون پر نگاہ گئ تو سن سی رہ گئ۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلاس کے بعد سنتھیا بہت تیزی سے ایڈون کے ساتھ نکلی تھی۔ اس نے پیچھے جانا چاہا تو گوارا نے کسی بات میں الجھا لیا سب کلاسز لینے کے بعد وہ ہاسٹل کے کمرے میں آئی تو سنتھیا کمبل منہ تک تانے لیٹی تھی۔
    اس نے دھیرے سے قریب آکر پکارا۔
    سنتھیا۔۔
    جوابا وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔
    اسکا فون بج اٹھا تھا۔ اس نے جھٹکے سے کمبل ہٹا کر موبائل اٹھآ کر دیکھا ایڈون کالنگ دیکھ کر آف کرکے ایک طرف رکھ دیا۔ اور دوبارہ منہ تک کمبل تان لیا۔
    جی ہائے بتا رہی تھی کہ تمہاری طبیعت خراب ہے ؟ کیا ہوا۔
    وہ دھیرے سے اسکے بیڈ پر بیٹھ کر پوچھنے لگی۔
    کل چکر آگئے تھے بس۔ اب ٹھیک ہوں۔۔۔
    اس نے مختصر ہی جواب دیا۔
    کچھ کھایا ہے آج؟
    وہ فکرمندی سے پوچھ رہی تھی۔
    سنتھیا نے کمبل چہرے سے ہٹا کر غور سے اسے دیکھا۔
    کیا ہوا؟۔۔ وہ اسکے یوں دیکھنے پر حیران ہوئی۔
    تم یہاں آکر عجیب سی حرکتیں نہیں کرنے لگی ہو؟ اتنا نمایاں اور الگ دکھائی دینے کا شوق پہلے تو نہیں تھا تمہیں۔
    سنتھیا کے بے مروت انداز سے ذیادہ کڑوے کسیلے الفاظ اسکا دماغ گھما گئے۔
    کیا بکواس کر رہی ہو۔ ؟ وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    صحیح کہہ رہی ہوں۔۔۔ اتنا تو پاکستان میں تم سر پر دوپٹہ لیکر نہیں پھرتی تھیں۔ اتنا کام والا عید کا جوڑا کبھی پاکستان میں یونیورسٹی پہن کر نہیں گئیں۔ مزا آرہا تھا نا تمہیں جب سب گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔۔
    سنتھیا بھی اٹھ کر بیٹھ گئ۔
    اریزہ نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا مگر سنتھیا نے موقع نہ دیا۔
    کیا ۔۔۔۔
    ویسے کامیاب رہی ہو توجہ حاصل کرنے میں۔۔۔ سب کی بھی اور ایڈون کی بھی۔ ایک ٹک دیکھ رہا تھا تمہیں۔۔
    شٹ اپ۔ اریزہ حلق کے بل چلائی۔
    اپنی گھٹیا سوچ کو اپنے تک محدود رکھومیرے بارے میں زبان سنبھال کر بات کرو۔ اور ایڈون کی ساری توجہ بھی تمہیں مبارک ہو مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ایڈون کی توجہ کی۔ جتنا تمہارے سر پر ایڈون سوار ہے ہروقت ان سیکیور رہتی ہو اور الٹی سیدھی باتیں سوچتی رہتی ہو پاگل ہو جائو گئ اسطرح تم ۔۔۔۔۔۔
    کیوں؟ تم ایڈون کو پسند نہیں کرتیں؟ مجھے کہتی تھیں نا کہ ایڈون بہت سمجھدار ڈیسنٹ لڑکا ہے۔ مجھے اسکے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے۔
    سنتھیا اب قدرے رسان سے پوچھ رہی تھئ۔
    ہاں تو تمہارے لیئے ہی کہا کرتی تھی ہمیشہ مجھے رتی برابر بھئ تمہارے اس ایڈون میں دلچسپی نہیں سمجھیں۔ وہ کہتی پیر پٹختی اوپر جانے لگی
    مگر تم میرے لیئے کبھی ایسی چیز پسند نہیں کرتیں جو تمہیں اپنے لیئے پسند نہ ہو۔۔۔ یقینا ایڈون تمہیں بھی پسند تھا ورنہ تم مجھے کبھی اس سے منگنی نہ کرنے دیتیں۔۔۔
    اسکی بات پر سیڑھیاں چڑھتی اریزہ ٹھٹک کے رکی تھی۔
    تم بھئ کہیں نہ کہیں اسے پسند کرتی تھیں۔
    سنتھیا کو لگا اسکا تیر نشانے پر لگا ہے۔
    ہے نا۔ اگر وہ کرسچن نہ ہوتا مسلمان ہوتا تو کیا تم اسکے بارے میں سوچتیں؟؟؟
    سنتھیا بیڈ سے اترکر اسکے پیچھے آن کھڑی ہوئی۔
    تم پاگل تو نہیں ہو گئ ہو؟ کیسی فضول باتیں کر رہی ہو تم۔
    اریزہ بھنا کر مڑی۔
    سنتھیا نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔
    میری قسم کھا کے بتائو اگر وہ مسلمان ہوتا تو کیا تم سوچتیں اسکے بارےمیں۔؟؟؟
    اریزہ سن سی اسکی شکل دیکھتی رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح اسکی آنکھ سورج کی روشنی منہ پر پڑنے سے کھلی تھی۔ اس نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا تو آنکھیں پوری کھل گئیں۔ گیارہ بج رہے تھے۔ اسکی چھٹی ہوگئ تھی بیٹھے بٹھائے۔ وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی بیڈ سائیڈ کی ریلنگ سے نیچے جھانکا سنتھیا کا بستر سمٹا ہوا تھا۔ یقینا وہ تیار ہو کر یونیورسٹی جا چکی تھی۔
    وہ تاسف سے سر پر ہاتھ مارتی نیچے اتری۔ فریش ہو کر اپنا بیگ اٹھاتئ باہر نکل آئی۔ ایک آدھ کلاس تو مل ہی جاتی۔۔۔۔۔
    ابھئ ڈیپارٹمنٹ کی جانب جا ہی رہی تھی کہ گوارا پیچھے سے آکر اسکے کندھے سے جھول گئ۔
    اریزہ اریزہ پلیز ہیلپ می۔ صرف تم ہی مجھے اس مصیبت سے نکال سکتی ہو۔۔
    وہ آنکھیں پٹپٹاتی امید بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس عالی شان کاسمیٹک سرجری کے کلینک کے باہر کھڑی اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔ گوارا کان دباتی اسکا ہاتھ پکڑ کر اندر لے آئی تھی۔
    جی ہائے کبھی نہ آتی میرے ساتھ اپائنٹمنٹ لینے کیلئے۔ پلیز بس میں تھوڑی نروس ہو رہی ہوں۔ تم بس میرے ساتھ رہو کچھ نہ کرنا۔۔۔
    وہ۔منت بھرے انداز میں بول رہی تھی۔ اریزہ نے آہ بھری۔
    اگلی اپائنٹمنٹ بک کروانے کیلئے اسکے پاس کیش کی بھی کمی تھی۔ اریزہ نے کو ہی پیمنٹ کرنی پڑی۔ فی الحال تو چندی آنکھوں والی اس چٹی ڈاکٹرنی کے پاس یہ قربانی کی بکری لائی گئ تھی ۔ اس نے فوٹو شاپ کرکے گوارا کا چہرہ کمپیوٹر پر دکھا کر ناک چڑھا کر کہا
    آپکی آنکھوں کے اوپر پپوٹے بنوانے کی ضرورت ہے۔اور آپکے چہرے پر بہت چربی ہے ہم اسے گھلا کر تکونی شکل دیں گے۔ ہوںٹوں پر ہم فلوئڈ بھر کر موٹا کریں گے اور کچھ فلرز آپکے ماتھے پر دینے پڑیں گے اس سے آپکا چوڑا ماتھا کم لگے گا اور ابرو اچکنے سے آنکھیں بڑی بڑی لگنے لگیں گی۔ ناک ہم سلیکون کی بنائیں گے جو ابھری ہوئی ہوگی۔۔
    نہایت پیشہ ورانہ انداز میں بتاتے اس نے جب مانیٹر گھما کر انکی جانب کیا تو اریزہ اچھل پڑی۔
    یہ کون ہے؟
    میں ہوں احمق۔ گوارا نے دانت پیسے۔
    کچھ کچھ خلائی مخلوق کے نقوش سے مشابہہ گوارا کی ایک نئی صورت سامنے تھی۔ اسکی آنکھیں ابھی کھنچئ ہوئی تھیں تصویر میں پھٹی پھٹی سی لگ رہی تھیں۔ گال جو بھرے بھرے گلابی سے تھے مدقوق بڑھیا کی طرح دھنسے دھنسے تھےگول چہرہ وی کرنے کے چکر میں نوکدار تھوڑی نکال دی تھی جس سے وہ با آسانی کاغذ کاٹ سکے ۔۔صرف ناک بہتر لگ رہی تھی۔ مگر اس ناک کا مطلب تھا اصل ناک کی ہڈی پر مکمل سلیکون کی نئی ناک جمانا۔
    خدایا۔ تم اپنی شکل اتنی بگاڑ نے کے پیسے بھی دوگی۔؟
    وہ بلبلا کر گوارا کی جانب مڑی۔
    میں دیکھو جوائے لگنے لگوں گی۔۔
    گوارا شاد تھی۔ جوائے کی تصویر نکال کر دکھائی۔
    اریزہ کی آنکھیں پھیلتی چلی گئیں۔
    تمہاری اس حسینہ اس جوائے کوبریسز لگوانے کی ضرورت ہے۔سارے دانت باہر ہیں۔ اور تم اپنی شکل کی کیوں دشمن بنی ہوئی ہو۔ اتنی پیاری صورت ہے۔
    وہ منتوں پر اتر آئی۔ دونوں کو انگریزی میں گٹ پٹ کرتے دیکھ کر ڈاکٹرنی خوامخواہ متاثر ہونے لگی۔
    ذرا کورین بیوٹی معیار کی رو سے دیکھو۔ عام بے حد عام ترین شکل ہے میری پھینی ناک چھوٹی آنکھیں چھوٹا سا دہانہ۔ میں بد صورت مینڈکی ہوں مجھے ہر صورت خوبصورت شہزادی بننا ہے۔
    گوارا نے اپنے چہرے کے خدو خال باری باری دبا کر اپنی پھبتی اڑائی۔
    اور یہ تمہارے ہوںٹ چیر دیں گی؟
    اریزہ بھنائئ۔
    نہیں مگر موٹے تو کر دیں گی نا۔ اندر مائع ڈال کر۔
    گوارا نے منہ کھولے بٹر بٹر گھورتی ڈاکٹرنی کو دیکھ کر اسکو ٹہوکا دیا۔۔
    آپ بھی اگر سرجری کروانے میں دلچسپی لیں تو میں آپکو بھی اچھی تجاویز دے سکتی ہوں۔
    ڈاکٹرنی نے رواں ہنگل میں کہا تھا مگر اریزہ کو کچھ کچھ پلے پڑنے لگی تھی ہنگل۔
    تیز ہو کر بولی۔
    ہا ں بتائو ذرا میری صورت میں کیا تبدیلی لائو گی اچھی خاصی حسینہ ہوں میں۔
    اس نے محاورتا آستینیں چڑھائی تھیں۔
    آپ ادھر دیکھیں۔ اس نے مونیٹرکے ساتھ ایک اسٹینڈ سے جڑے کیمرے کی جانب اشارہ کیا۔
    اریزہ نے گھورتے ہوئے تصویر کھنچوا لی۔ گوارا ہنسی ضبط کر رہی تھی۔ ڈاکٹرنی انہماک سے اپنے مانیٹر کو گھورتے ہوئے جانے کیا کلک کرنے میں لگئ تھئ۔
    میری شکل ہر لحاظ سے مجھے پسند ہے۔ یہ چاہے جتنی بھی کوشش کر لیں اس شکل میں مزید تبدیلی نہیں لا سکتیں۔
    اس نے گوارا کو چیلنج کیا۔
    سہیلی تم ابھی اپنا نیا روپ دیکھو پھر پوچھوں گی۔
    گوارا کا انداز مزاق اڑاتا سا تھا۔
    چند ڈرامائی لمحوں کے بعد ڈاکٹرنی نے اسکرین کا رخ اسکی جانب کیا۔
    ایک نہایت دلکش کھڑے کھڑے نقوش کی حسینہ اسکی نگاہوں کے سامنے تھی۔
    کم چاگیا۔ گوارا او روہ اکٹھے دہل اٹھیں۔۔ بس اریزہ کے منہ سے کم چاگیا کی جگہ
    ہائے اللہ۔۔۔ نکلا تھا۔۔
    یہ کون ہے۔ اریزہ کے منہ سے سرسراتی سی آواز نکلی۔
    یہ آپ ہی ہیں۔۔ ڈاکٹرنئ نے یقین دلایا۔ بس تھوڑی سی تبدیلی آپکے خد و خال میں لائی ہوں۔ آنکھیں تو ٹھیک ہیں آپکی مگر دھنسی ہوئی ہیں دو تین سیشنز میں حلقے کم ہونگے آپکےنیز آپکی ناک غیر ضروری طور پر لمبی ہے اور پھیلی ہوئی بھی ہے اسکو ستواں کرسکتے ہیں اور آپکے چہرے میں بھی گوارا کی طرح چربی بہت ہے ہم اسکو گھلا کر رخسار کی ہڈی نمایاں کر دیں گے اور آپکی تھوڑی پر جو گڑھا بن رہا ہے ہم اسے بھی برابر کر سکتے ہیں ساتھ ہی یہ جو آپکے ہونٹ ہیں۔
    بس۔۔ اریزہ سے اپنی شکل کی اتنی برائیاں برداشت نہ ہوئیں۔
    اچھی خاصئ ہی ہوں میں مجھے اپنی شکل بدلوا کر نئی شکل نہیں چاہیئے۔ ذرا بنا تدوین والی تصویر دکھائیں۔ انیس بیس کا ہی فرق ہوگا ا سمیں اور اس میں۔
    اس نے ہاتھ نچاکر دھڑلے سے کہا۔ یہ تو ماننے والی بات تھی کہ اس نے ماننا نہیں تھا۔
    ڈاکٹرنی نے کندھے اچکا کر اسکی تصویر سامنے کردی۔
    پھولا غبارے جیسا منہ چھوٹی دھنسی ہوئی آنکھیں۔ عینک لگانے کی وجہ سے حلقے نمایاں تھے اس وقت تو لینز لگائے تھئ مگر دیکھنے سے پتہ لگتا تھا کھوپے چڑھانے کی عادی ہے۔ ناک جسے وہ پاکستان میں ستواں ہی سمجھتی تھی پھیلی اور بیٹھی لگ رہی تھی۔ اور تھوڑی۔۔
    دراصل ابھی کونسا وہ تصور کھنچوانے آئی تھی۔ بس سامنے دیکھ کر کھنچوا لی۔ گوارا سے بحث کی ساری اکتاہٹ اسکے چہرے پر جمئ تھی اس نے اپنی زندگی میں اپنی اتنی بکواس تصویر کبھئ نہ کھنچوائی تھی۔
    اس کی ساری طراری ہوا ہو گئ۔ روہانسی سی ہو کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اردو میں بڑبڑائی۔
    امی اتنئ بدصورت بیٹی ہوئی آپکے یہاں۔۔۔۔۔ صحیح نیندیں اڑیں ہیں آپکی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگلے کئ گھنٹے انہوں نے گوارا کی شکل سدھارنے میں لگائے۔ ابھی کوئی مائع نہیں بھرنا تھا ابھی بس ٹیسٹ ہونے تھے کسی قسم کی جلدی بیماری تو نہیں انکی لگائی جانے والی چیزوں کے کسی اجزا سے کوئی الرجی تو نہیں۔ ساتھ ساتھ گوارا کے حلقے دور کرنے اور جلد کی تیاری کیلئے جانے کون کون سے محلول گھول گھول کر لگائے جاتے رہے۔ جنکو بیس بیس منٹ بعد اتارا جاتا تھا۔ وہ جمائی لے لے کر بے حال ہو گئ۔ چھے بجے جب وہ انتظار والے صوفے پر سو ہی گئ تھی تب ایک حسین سی لڑکی نے پاس آکر اسکو ہلایا۔
    چلو اریزہ اب چلیں۔
    میں کیوں کسی اجنبی۔
    اریزہ نے جمائی لیتے ہوئے کہنا چاہا کہ میں کیوں کسی اجنبئ کے ساتھ جائوں بھلا کہ جھٹکا سا لگا۔
    گوارا نے ایک ادا سے بال جھٹکے۔
    تم تو ایکدم بدل گئ ہو۔ وہ حیرانی سے بولی۔
    انہوں نے آپریشن کردیا؟ ۔۔ اسکو واقعی یہی لگا تھا۔
    ارے نہیں۔ ابھی تو بس فیشل اور اسکن پالش ہوئی ہے میری ۔
    گوارا نے وضاحت کی۔
    میری مانو تو تمہارے لیئے یہی کافی ہے۔ اریزہ نے پھر اسے سمجھانا چاہا۔
    خالی پیٹ نصیحتیں نہیں۔ گوارا نے ہاتھ اٹھا کر کہا وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔ گوارا او روہ قریبی ریستوران آئی تھیں
    چونکہ تم نے آج میری وجہ سے اتنا وقت برباد کیا سو آجکی دعوت میری طرف سے۔ گوارا کافی ترنگ میں تھی۔ اس نے سر ہلا دیا۔
    جاجا میان منگوایا تھا اس نے نوڈلز ہمراہ کالا لوبیا۔ اسکے لیئے کہہ کر خاص الگ بنوایا جس میں گوشت کا ذرہ بھی نہ ہو۔
    یہاں نان ویج آپشنز ہوتے ہیں ورنہ ہم جاجا میان سور کے گوشت کے بنا ادھورا سمجھتے ہیں۔۔۔ گوارا نے نوڈلز کو کالے سیاہ شوربے میں گھما کر لطف لیکر کھاتے ہوئے بتایا۔ اریزہ نے ڈرتے ڈرتے چکھا۔
    لوبیا وہ ہمیشہ چاول کے ساتھ کھاتی تھی یا ابلے لوبیے پر چاٹ مصالحہ چھڑک کر ابھی تو کالے لوبیے کے اس سالن میں سوائے لہسن کے اسے کوئی مصالحہ محسوس نہ ہوا اوپر سے گندم کے لمبے لمبے نوڈلز۔ جن کو Chewy گوارا نے کہہ کر بنوایا تھا۔ اسکے نزدیک تو ابھی کچے ہی رہ گئے تھے۔ اس نے نمک دانی اٹھا کر آدھی چھڑک ڈالی۔
    ویسے تمہاری تھوڑی کافی مختلف سی ہے۔ تھوڑی پر گڑھا کیوں ہے؟ چوٹ لگی تھی کیا بچپن میں۔
    گوارا کے سوال پر اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
    اس نے اپنی تھوڑی چھوئی۔
    یہ خوبصورتی بلکہ خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں پورا فنکاروں کا خاندان ہے جن کے ہر فرد کے تھوڑی پر ایسے ڈمپل ہے اور وہ خوبصورت بھی ہیں سب۔
    اس نے جاجا میان چھوڑا موبائل اٹھالیا۔ اب اسکو جاوید شیخ کا پورا خاندان دکھانا بنتا تھا۔
    واقعی ؟ عجیب بات ہے۔ مجھے تو لگا تھا کوئی بچپن کی چوٹ ہے تمہاری۔
    گوارا لاپروائی سے کہہ کر نوڈلز کھا رہی تھی۔ اریزہ نے موبائل نکال کر اسکے منہ پر سامنے کردیا۔ گوارا ڈر کر زرا سا پیچھے ہوئئ۔ پھر حیران ہو کر مومل شیخ کی انسٹا اسکرال کرنے لگی۔
    واقعی یہ تو ان سب کے چہروں میں ہے سب کے سب کیسے آپریشن کرواتے بے چارے۔۔
    گوارا کے تبصرے پر وہ سر تھام کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم بہت کم کھاتی ہو ویسے ۔۔گوارا نے کھانے کے بعد اسکی پلیٹ آدھی بھرئ دیکھ کر کہا تھا۔
    بقیہ پیک کروالوں؟ گوارا نے پوچھا تھا مگر اس نے منع کردیا یہاں تازہ گرم کھانا دشوار تھا بعد میں تو بالکل دل نہ کرتا۔ اسکے صاف انکار پر گوارا کندھے اچکا کر رہ گئ۔
    اب کیا ہاسٹل جائو گئ میرے ساتھ میرے فلیٹ میں چلو کل اکٹھے یونی چلیں گے۔ ۔۔۔
    گوارا نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ دونوں تھکی ہوئی واپس آئی تھیں سو بیڈ پر گرتے ہی غافل ہوگئیں۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گیارہ بجے ہوپ کے آنے پر اسکی آنکھ کھلی تھی۔۔
    وہ اسے تھوڑا سا دھکیل کر اپنے لیٹنے کی جگہ بنانا چاہ رہی تھی۔۔
    وہ اٹھ بیٹھی۔ ہوپ کو شرمندگی ہوئی ۔۔
    بیانتا۔ اس نے اتنا دھیمی آواز میں کہا تھا کہ مڑ کر سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر وقت دیکھتی اریزہ نے سنا ہی نہیں۔۔
    وہ اپنی جانب سے چادر کھسکا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    ہوپ ٹھنڈی سانس لیتی سونے لیٹ گئ۔ اریزہ اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔۔ منہ دھو کر واپس آئی تو کمرے میں اجنبی بو کا احساس ہوا وہ سر جھٹکتی باہر نکل آئی۔۔۔ ذرا سا جاجامیان ہضم ہوچکا تھا۔ اب کافی بھوک لگ رہی تھی۔۔
    یونہی کچن میں آکر جھانکاڈھنڈار فریج سامنے تھا۔۔
    اس نے مایوسی سے کیبنٹس کھنگالیں۔۔ ایک میں سے بس ایک گندم کا بسکٹ ملا۔۔
    ہاہ۔۔ وہ روہانسی ہو چلی تھی۔۔
    گوارا کو بھوک نہیں لگتی ۔۔ اس نے رشک سے کمرے میں جھانک کر گوارا کو میٹھی نیند سوتے دیکھا تھا۔۔
    کسمسا تک نہیں رہی تھی بے سدھ تھی۔۔
    نہیں اسی کو وقت بے وقت بھوک لگتی۔۔ کتنے بسکٹس لائی تھی میں نے تو ایک آدھ ہی کھایا ہوگا۔۔ اس کو یاد آیا۔۔
    سب ختم کر دیئے۔۔ چلو کوئی نہیں لائو بھی تو۔۔ وہ چڑ رہی تھی۔۔
    یونہی ٹہل ٹہل کر بھوک بھگاتی رہی۔۔ ٹی وی کھول لیا۔۔ بھوک میں ٹی وی بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔ لگتا بھی کیسے ایک لفظ پلے نہیں پڑ رہا تھا کیا بول رہے۔۔
    اس نے سر تھام کر وال کلاک پر نظر دوڑائی۔۔
    روپیٹ کر سوا گیارہ ہوئے تھے۔۔
    اف۔۔ اسے رونا ہی تو آگیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اس گیمنگ ذون میں بیٹھا پب جی کھیل رہا تھا جب اسے موبائل پر پیغام ملا۔
    زندگی تم پر اس سے زیادہ بھی مہربان کیا ہوگی۔۔
    خوش قسمت انسان ہمیں تو نہ جلا۔۔
    یہ یون بن تھا۔۔
    خوش رہو ہمیشہ۔مبارک ہو۔
    کم سن کا پیغام آیا
    اگر تمہارا گرل فرینڈ والاعہدہ خالی ہے تو میں اپلائی کرنا چاہتی ہوں۔ آگے منہ چڑاتا اسمائیلی
    یہ جی ہائےتھی۔۔
    خدا کرے اس سے بھی زیادہ مہربان ثابت ہو آئندہ زندگی تمہاری آمین۔۔
    جون جے۔۔
    آہش۔۔ اسکا چکن ڈنر تو ہوا ہوگیا تھا۔ اس نے لاگ آئوٹ کیا اور سہولت سے۔موبائل کی اطلاعات دیکھنے لگا۔
    اسکے موبائل میں مبارکباد کے پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔۔
    مجھے بھئ تو پتہ لگے کہ آخر مجھ پر ایسی کیا آفت نازل ہوئی ہے جو سب مبارکباد دے رہے ؟
    اس نے کم سن کو چڑ کر پیغام بھیجا۔جوابا اس نے ایک نوٹیفیکشن کی تصویر بھیجی۔
    اسکے باپ نے ایک کاسمیٹک کمپنی خرید ی تھئ۔ مکمل حقوق اور کوریا کی تمام فرنچائزز اور شاپس کی چین۔ وہ بیٹھے بٹھائے اسکا مینجنگ ڈائریکٹر بن چکا تھا۔
    وہ اسکرال کرتا اٹھ کر باہر نکل آیا۔ اسکی چم چم کرتی ہندائی آونتے سےچار ہائی اسکولر ٹیک لگائے سیلفیاں لے رہے تھے۔
    ایک اسکے دروازے پر یوں ہاتھ رکھے تھا جیسے ابھی بس کھول کر بیٹھنے لگا ہے۔
    اسکے ساتھئ نے تصویر کھینچ کر آواز لگائی
    تھیبا۔۔ تم ہی مالک لگ رہے ہو اس گاڑی کے۔۔
    میرے خاندان کی سات پشتوں میں کسی کے پاس یہ گاڑی نہ ہوگی۔
    وہ لڑکا مسخرے پن سے بولا۔
    کیسے ہو سکتی لانچ ہی اسی سال ہوئی ہے۔ دوسرے ساتھی نے ہنس کر اسکی بات آگے بڑھائی۔
    جانے کون خوش نصیب بڈھا مالک ہے اسکا۔ پوری جوانی لگا کر اس قابل ہوا ہوگا اس کو خریدنے کے۔
    ایک لڑکے نے رشک سے اسکی گاڑی کے بونٹ پر ہاتھ پھیرا۔
    بڈھے یہ گاڑی کیوں لیں گے۔ کسی امیر باپ کی حرامخور اولاد یہاں گیم کھیلنے آئی ہوگی اس میں بیٹھ کے۔
    دوسرے نے اختلاف کیا۔
    اس تبصرے نے اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا انکے پاس چلا آیا۔
    تم سب اسکے ساتھ پوز مارو میں سامنے سے تصویر لے دیتا ہوں۔۔
    اسکی آفر پر سب حیران ہو کر اسے دیکھنے لگے مگر اسے سنجیدہ دیکھ کر ایک نے اپنا موبائل اسے تھما دیا۔ وہ سب ہنستے مسکراتے پوز دینے لگے۔
    ان سب کی تصویر کھینچ کر اس نے موبائل واپس کیا۔
    گوما وویو ہیونگ۔
    ان سب نے جھک کر شکریہ ادا کیا۔ ان میں سے ایک جو شائد انکے گروپ کالیڈر تھا خیر سگالی انداز میں مسکراتے اپنا تعارف کرانے لگا۔
    میں ہان گیول یہ میرا دوست ہے جون یہ ایڈورڈ اور یہ سنگ ہو ۔۔ اور آپ۔
    میں۔ اس نے لمحہ بھر سوچا۔پھر مسکرا کر بولا۔

    امیر باپ کی حرام خور اولاد۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
    جب بھوک لگتی تو بس کھانا درکار ہوتا پھر چاہے زمین سے گندم کا دانہ چن کر کھائو یا گلا سڑا کوڑے دان سے اٹھا کر کھائو۔۔
    پھر دعا کرنا کبھی بھوکی نہ پھرو۔۔
    ہاش۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں سر جکڑا۔۔
    بد دعا دی تھی کیا اس نے۔۔ اس نے چڑ کر کمرے کے بند دروازے کو گھورا۔۔
    گھر میں کتنی بار رات کا کھانا کھائے بغیر سوئی ہوں اور آج۔۔
    اسے خود پر بھی غصہ آرہا تھا۔۔۔
    اریزہ بھوکی مت سو انڈا بنا کر لائی ہوں۔۔ ۔۔
    وہ تکیئے میں منہ دیئے پڑی تھی۔۔ جب صفیہ خفا خفا سی اسکیلیئے ٹرے سجا کر لائی تھیں۔۔
    کیا ضرورت تھی۔۔ کہا تھا نا میں نے میں سو جائوں گی۔۔
    اسکا غصہ کم نہیں ہوا تھا چڑے چڑے انداز میں اٹھ بیٹھی ۔۔
    خالی پیٹ نیند بھی نہیں آئے گی پتہ مجھے۔۔ انہوں نے ٹرے اسکے سامنے بیڈ پر رکھ کر گھورا۔۔اور خود بھی سامنے بیٹھ کر اسکیلیئے نوالہ بنانے لگیں۔۔
    وہ یونہی خفا خفا دیکھتی رہی انہوں نے نوالہ بنا کر اسکے منہ میں ڈالا۔۔
    ایسے وہ کبھی بنا پراٹھا آملیٹ نہ کھاتی مگر بھوک تھی کہ کیا اسے کافی لذیذ لگا۔۔ ایک نوالہ دے کر انہوں نے ہاتھ کھینچ لیا۔۔
    بس ایک نوالے کی محبت تھی۔۔
    وہ چباتے ہوئے بولی۔ صفیہ نظر انداز کر گئیں۔۔
    ایک دنیا میرے ہاتھ کےکھٹے بینگن کی تعریف کرتی کبھی کھا کر تو دیکھو۔۔ فٹ سے نہ کر دیتی ہو۔۔
    انہوں نے ابھی بھی ڈانٹنا ضروری سمجھا۔۔
    مجھے نہیں پسند بینگن آپ ہر دوسرے دن بنا لیتی ہیں۔۔
    بھوک ہر چیز پر غالب تھی۔۔ وہ مر بھکوں کی طرح تیز تیز نوالے بنا کر کھا نے لگی تھی۔۔
    آرام سے کھائو۔۔ انہوں نے محبت سے اپنی نخریلی بیٹی کو دیکھا۔۔ جو دھڑا دھڑ نوالے بنا کر منہ میں ڈالے جا رہی تھی
    ایک ہفتے بعد بنائے تھے میں نے آج۔ انہوں نے تصحیح ضروری سمجھی۔
    اریزہ کا منہ بھرا تھا سو سر جھٹک کر رہ گئ۔۔
    اتنی بھوکی ہورہی تھیں۔۔ مگر ایک انڈا نہیں بنا کر کھا رہی تھیں۔۔
    میں سو جاتی ابھی۔ اس نے ماننا تھوڑی تھا۔۔
    ہاں پتہ مجھے کوئی نیند نہیں آرہی تھی تمہیں۔۔ انہوں نے جتایا تو وہ کھسیانی ہوئی
    آپکو بھی تو نہیں آرہی تھی۔۔ اس نے کہا تو صفیہ گہری سانس لیکر بولیں۔۔
    بچے بھوکے ہوں تو ماں نہیں سو سکتی۔۔ ابھی قدر نہیں ہے تمہیں جب میں نہیں ہونگی تو یاد آئوں گی۔۔ کیسے ماں خدمت کرتی تھی جوان بیٹی کی۔۔ وہ طنز سے باز نہ آئیں۔۔
    اریزہ کا پیٹ بھر گیا تھا سو موڈ خوشگوار ہو گیا تھا لپک کر ان کے پاس آئی اور کندھے سے لٹک کر جھولا کر بولی۔۔
    آپ ہمیشہ ہونگی میرے ساتھ مجھے پتہ ہے میرے نخرے اٹھانے کو۔۔ وہ شرارت سے کہہ رہی تھی
    اور نوے فیصد پاکستانی مائوں کی طرح وہ اپنی بیٹی کے لاڈ سے چڑیں۔۔
    پرے ہٹو کیا بچپنا ہے۔۔ دم گھٹ رہا میرا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آہ۔۔ ساڑھے گیارہ۔۔ ہوئے تھے۔۔
    بھوک سے آنتیں پلٹ رہی تھیں۔۔
    تھوڑا سا چل کر ہی مارکیٹ ہے ۔۔ میں لے آتی ہوں کچھ کھانے کو۔۔ وہ مصمم ارادہ کرکے اٹھی۔۔
    گوارا کو اٹھا لیتی ہون تھوڑا سا غصہ ہی کرے گی نا۔۔
    اس نے سوچا تو تھا مگر اب گوارا کے سر پر کھڑے اسکے خراٹے سنتے ہمت نہ ہوئی اسے جگانے کی۔۔ گوارا۔۔ اس نے آہستہ سے پکارا۔۔
    وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔ البتہ ہوپ نے بڑبڑا کر کروٹ بدلی۔
    کیا بھنگ پی کر سوئئ ہو۔ اس نے دانت کچکچا کر پوچھا۔ گوارا ٹن تھی۔ اس کی بیڈ سائیڈ ٹیبل پر نگاہ گئ تو سر پیٹ کر رہ گئ سوجو سجی تھئ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ابھی پونے بارہ ہی تو ہوئے ہیں۔۔ اتنی لڑکیاں پھر رہئ ہوتی ہیں باہر یہ پاکستان تھوڑی۔۔
    وہ دھیرے دھیرے چلتی خود سے باتیں کرتی جا رہی تھی۔۔
    وہ اکیلی لڑکی تھی اس پوری سنسان گلی میں۔۔
    خائو۔۔
    اسٹریٹ لائٹ جل تو رہی تھیں مگر بیچ بیچ میں کہیں تھوڑا سا اندھیرا مل ہی جاتا تھا۔۔
    پتہ ہے یہاں ایک بار اتنی رات کو آتے ہوئے ایک عورت ملتی ہے ۔۔ ہیونگ سک کہیں آس پاس بولا تھا
    اس کے قدم تھمے۔۔
    اس دن رات کے ایک بج رہے تھے ابھی تو بارہ بھی نہیں بجے۔۔ اس نے فورا خود کو تسلی دی۔۔
    اس نے بلا ارادہ گھڑی دیکھی بارہ بس بجنے ہی کو تھے
    کوریا میں تھوڑی بھوت ہوتے ہوں گے اور ہونگے بھی تو پاکستانی لڑکی میں کیا دلچسپی ہوگی انہیں یہاں تو ایک سے ایک حسین لڑکی ہے پہلے سے ہی۔۔
    وہ۔خوف دور کرنے کو خود سے باتیں کر تی جا رہی تھی۔۔
    تبھی کسی چیز کے دھپ سے گرنے کی آواز آئی
    وہ۔خوفزدہ سی ہو کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
    آئو۔۔ وہ کوئی بلی تھی غراتی ہوئی اسکے آگے سے بھاگتی بائیں جانب نکلتی گلی میں گھس گئ۔۔
    اسے چند لمحے لگ گئے سانس بحال کرنے میں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیون الیون کوریا کے تقریبا ہر علاقے میں ہوتے تھے۔ یہاں تو بس دو گلیوں بعد ہی تھا۔ گلیوں کے برعکس سڑک پر کافی روشنی تھی مگر چہل پہل نہیں تھی۔ یہی غنیمت تھا وہ فورا اس سیون الیون میں گھس گئی۔۔
    اب میں کم از کم ایک پیک بسکٹ کا چھپا کر رکھوں گی۔۔وہ عزم کر رہی تھی۔۔
    بھلا بتائو۔۔ رات کے بارہ بجے میں اکیلی یہاں سپر اسٹور میں۔ خواب میں بھی کبھی نہیں سوچا تھا میں نے۔۔ پاپا کو پتہ چلے تو ابھی واپس بلا لیں۔۔ انجان ملک انجان لوگ ۔۔۔ میں یہاں آدھی رات کوسڑک پر پھر رہی۔۔ایسے تو کبھی اپنے ملک میں اکیلے رات کو نہیں نکلی میں
    اس نے اچک اچک کر اسٹور پر نظر دوڑائی۔۔
    اکا دکا لوگ تھے وہ بھی مذکر کائونٹر پر بھی لڑکا تھا۔۔
    خیر۔۔ اس نے گہری سانس بھری
    اپنے ملک میں مجھے اس وقت اکیلے باہر نکلنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔ کبھی بھوک لگی بھی تو گھر سے کچھ نہ کچھ نکل آتا فریج تو کبھی خالی ہوتا ہی نہیں تھا۔۔
    وہ بڑ بڑاتی باسکٹ اٹھاتی کائونٹر کی طرف بڑھی۔۔
    اپنے اعتماد کو بحال کرنے کیلیئے وہ سر گھما گھما کر اسٹور پر نظر دوڑا رہی تھی۔۔
    کبھی بہت دل۔کیا بھی تو صارم کے ساتھ گاڑی میں جاتی تھی آئسکریم کھانےکمینہ انکار کرتا تھا مگر ہمیشہ میری ضد کے آگے ہار ماننا ہی پڑتی تھئ اسے اسے صارم کی یاد آئئ۔۔
    سارا راستہ بولتا تھا مگر لے جاتا تھا۔۔
    ۔۔ اسے یاد آیا تو لمحہ بھر کو اسکے قدم تھمے۔۔
    مس یوصارم۔۔۔۔
    اسکی آنکھ بھر آئی۔۔ اس نے ہتھیلی کی پشت سے آنکھ صاف کی۔۔
    ہو از صارم۔ کسی نے آہستہ سے پوچھا تھا۔۔
    وہ بری طرح چونک کر مڑی
    ہایون ہاتھ میں کین پکڑے مسکرا کر اسکے قریب کھڑا پوچھ رہا تھا۔۔
    اسے اسکے ڈر جانے کی امید نہیں تھئ۔۔
    بیانئے۔۔ اس نے فورا ہاتھ اٹھا کر معزرت کی۔۔ پتہ چلے یہیں بے ہوش ہو گرے۔۔
    نہیں۔۔ وہ۔خجل سی ہوئی۔۔ ایسا بھی کیا۔۔ اسے خود پر غصہ آیا۔۔۔
    وہ بس میں مگن تھی اپنے آپ سے باتیں کرنے میں۔۔ اس نے کھسیا کر صفائی دی
    اور مجھے افسوس ہوا مجھے اردو کیوں نہیں سمجھ آتی۔۔
    وہ زیر لب مسکراہٹ دبا کر بڑبڑایا۔

    ہوں۔۔ اریزہ کو سنائی نہ دیا تو متوجہ ہونے والے انداز میں دیکھنے لگی۔۔
    آہش نتھنگ۔۔ تمہیں نہیں لگتا اشیا خوردونوش خریدنے کیلیئے یہ وقت کافی نا مناسب ہے۔۔
    وہ بات بدل گیا۔۔
    سب ختم ہوا وا تھا۔۔ وہ بے چارگی سے بولی۔۔
    مجھے شدید بھوک لگ رہی تھی۔۔ سو کچھ کھانے کو لینے آئی ۔۔ اب آہی گئ تواور چیزیں خرید لیں۔۔
    اسکے ذہن میں کل کا ناشتہ تھا سو انڈے میدہ دودھ بھی خرید لیا تھا۔
    ہمم۔ وہ کیا کہتا۔۔
    کندھے اچکا دیئے۔۔
    تمہیں کولڈ ڈرنک اتنے پسند کہ اتنی رات کو خریدنے نکل پڑے۔۔
    اس نے اسکے ہاتھ میں پکڑا کین دیکھ کر ٹوکا۔۔
    آنیو۔۔ وہ چونکا۔۔
    یہ کولڈ۔۔ وہ کہنے جا رہا تھا کولڈ ڈرنک نہیں شراب ہے۔۔
    پھر خیال آیا تو سر ہلا دیا بس۔۔
    ہاں مجھے کافی پسند ہیں ڈرنکس۔۔ وہ مسکرا دیا۔۔
    ایک تو یہ خرم شہزادہ۔ ہر وقت کی مسکراہٹ۔ مگر اس وقت مضمحل سئ مسکراہٹ تھئ۔
    اریزہ اسے غور سے دیکھتی کچھ کہتے کہتے رک سی گئ۔
    تم۔۔ ۔۔
    دے؟۔۔ وہ اسے جواب طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
    کچھ نہیں۔۔ بھول جائو۔۔ وہ سر جھٹک کر اسکے مزید کسی سوال سے بچنے کو کائونٹر کی طرف بڑھ گئ۔۔
    مجھے کیا۔ میرے مسلئے کم ہیں۔ بڑبڑاہٹ۔
    ہایون نے حیرانی سے دیکھا اسے۔۔
    کائونٹر والےلڑکے نے دو شاپر بنا دیئے۔ ابھی کھانے کی اشیاء پر بوجھ نہ بنے اسلیئے۔ ہایون نے خود ہی آگے بڑھ کر بھاری والا شاپر اٹھا لیا۔
    وہ دونوں آگے پیچھے اسٹور سے نکلے ۔۔
    شکریہ۔۔ اس نے باہر نکلتے ہی سہولت سے شکریہ ادا کر کے شاپر لینا چاہا۔۔
    آئو میں گھر تک چھوڑ دیتا ہوں تمہیں۔۔ اس نے شاپر واپس نہیں کیا۔۔
    کوئی بات نہیں گھر قریب میں چلی جائوں گی۔۔اریزہ کو اچھا نہیں لگ رہا تھا اسکی مدد لینا۔۔
    بارہ بج چکے اکیلی سنسان گلی سے جائوگی مناسب نہیں۔۔
    اس نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
    آئی بھی تو تھی تم پریشان نہ ہو۔۔
    وہ بھی اڑ گئ ۔۔
    نہیں آنا چاہیئے تھا۔۔ اس نے دھیرج انداز اپنایا۔۔
    بہر حال آئو۔۔ میں گاڑی میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔
    کیوں۔۔ وہ بھنائی۔۔
    کوئی بھی نہیں ہے اور میں بچی تھوڑی ہوں۔۔
    تم میری وجہ سے کیوں خوار ہو رہے۔۔
    اسے بھوک لگی تھی سو چڑ چڑی ہو رہی تھی
    بچی نہیں ہو پھر بھی بات عقل میں نہیں گھس رہی۔
    وہ بھی چڑا۔۔
    رات کا وقت سنسان علاقہ ہے۔۔ تمہیں اکیلے نہیں جانے دے سکتا۔۔ یہ پاکستان نہیں کوریا ہے۔۔ مجھے نہیں پتہ پاکستان کتنا محفوظ ہے وہاں ایسے رات گئے پھرنا عام بات ہوگی مگر یہاں اس وقت مجھے بہتر نہیں لگتا تم اکیلی جائو۔۔
    آئو۔۔
    اسکا انداز تھوڑا سخت ہوا تھا۔۔
    یہ کوریا ہے جبھئ اس وقت یہاں باہر ہوں۔پاکستان میں تو سوچ بھی نہیں سکتی۔۔ خیر پاکستان میں مجھے نکلنے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔۔ وہ سوچ کر رہ گئ۔۔ اسے شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر وہ مزید بولا۔۔
    میں گاڑی ساتھ لایا ہوا ہوں اسلیئے کہہ رہا چلو اس میں چل کر بیٹھو۔۔ ورنہ تمہارے ساتھ تمہارے حسب خواہش پیدل چھوڑ آتا تمہیں۔۔
    وہ اسے بالکل صارم لگا تھا زمہ دار اور خیال رکھنے والا۔۔
    اس سے چڑ کر بھی اسکیلیئے پریشان ہونے والا۔۔
    وہ خاموشی سے آگے بڑھ آئی۔۔
    وہ اسکیلیئے دروازہ کھولنے پیسنجر سیٹ کی۔طرف بڑھا تھا تو وہ اپنی جانب سے پسنجر سیٹ سمجھ کر ڈرائونگ سیٹ کی طرف بڑھی تھی۔۔
    تم ڈرایئو کر وگئ؟۔۔ ہایون نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔
    اس نے ہونق سی ہو کر دیکھا۔۔
    پھر خیال آیا تو سر پر ہاتھ مارتی گھوم کر اسکے پاس آئی۔۔
    ایک تو یہ لیفٹ ہینڈ ڈرائیو۔۔ وہ بڑ بڑائی۔۔ ہایون نے بے ساختہ در آنے والی مسکراہٹ دبائی۔۔
    ایک شاپر اس نے پچھلی سیٹ پر رکھا دوسرا اس سے لینے کو پلٹا تو وہ چیزاور ویجیٹیبل سینڈوچ اور کوئی بن اپنی گود میں شاپر دھرے نکال رہی تھی۔
    اسے جانے کیا خیال آیا۔ پلٹ کر اسٹور میں گھس گیا۔۔
    جلدی جلدی سینڈوچ کی دو تین چکھیاں مار لیں تو کچھ دل کو قرار آیا۔
    ہیونگ سک گھوم کر آکر ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔۔
    ۔۔ خالی سوکھےسینڈوچ نگلنا مشکل ہو رہے تھے۔۔اس نے بیریوں والی ڈرنک لی تھی۔ اسکا ذائقہ کافی اچھا تھا۔ اس نے بوتل کھول کر گھونٹ بھرا۔ ہایون نے کچھ کہنے کو لب کھولے۔
    یہ لو۔۔تم۔بھئ کھائو۔۔۔ اس نے فورا دو سینڈوچ اسکی جانب بڑھا دیئے۔۔
    اسکا ارادہ صاف انکار کا تھا مگر پھر احساس ہوا اس نے بھی رات کو کھانا نہیں کھایا تھا۔۔ سو شکریہ ادا کرکے لے لیا۔۔
    دونوں اتنے بھوکے تھے کہ خاموشی کھائے گئے۔۔
    خالی کین کپ اس نے علیحدہ ایک شاپر میں ڈال دیئے تھے۔
    یہ کونسی گاڑی ہے؟ اسکی سیٹیں کافی آرام دہ ہیں۔ بندہ لانگ ڈرائیو میں آرام سے سو سکتا ہے۔۔
    اس نے دلچسپی سے گاڑی کا جائزہ لیا۔
    کھیا۔۔ ہایون ماڈل نمبر بھی بتانے لگا تھا مگر اریزہ کو دلچسپی نہ تھی۔
    مجھے اتنی بھوک لگی تھی کہ مجھے نیند بھی نہیں آرہی تھی۔۔
    اریزہ نے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔ گلیوں سے راستہ پیدل کا تھا مگر گاڑی سے یقینا اسے گھوم کر جانا پڑتا سڑک کے راستے وہ گاڑی موڑ کر سڑک پر لے آیا۔
    اب آجائے گی یہ ڈرنک جو پی لی۔ یہ کس نے تجویز کی تھی تمہیں؟
    گوارا نے اسکے ساتھ پی تھی مزے کی لگی کیوں؟ الکوحل ہے اس میں؟
    وہ بھونچکا ہوئی ہایون ہنس دیا
    نہیں۔ مگر یہ بنیادی طور پر دوائی ہےایٹی ڈیپریسنٹ میڈیسن اکثر لوگ جنہیں نیند نہ آنے کی شکایت ہو اسے پیتے ہیں تو سو جاتے ہیں۔یہ ذہن پرسکون کرتی ہے۔
    مجھے نیند نہ آنی ہوتی تونیند کی گولی بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ پاتی۔ پیپرز میں خاص کر جاگنے کیلئے کافی بناتی تھی سنتھیا جبکہ میں بنا کافی پیئے بھی ساری رات جاگتی اور سنتھیا سو جاتئ کافی پی کر بھی۔ وہ مزے لیکر بتا رہی تھی۔
    اسکی بات پر ہایون حیران ہو کر کچھ کہنے والا تھا کہ
    تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔۔
    نونا ۔۔
    اس نے فون دیکھا تو فورا ایک طرف گاڑی لگا کر روک دی۔۔
    نونا کیسی ہیں آپ۔۔ وہ بے تابی سے فون اٹھا کر بولا
    بالکل ٹھیک۔۔ انی کھلکھلائیں۔۔
    بہت بہت مبارک ہو۔ میرا منا بھائئ اب ایم ڈی بن گیا ہے۔ کیا مجھے ہان کاسمیٹکس کی خریداری پر ڈسکائوںٹ ملا کرے گا۔ ۔۔ وہ شرارت کے موڈ میں تھیں۔۔۔
    اس نے کن اکھیوں سے اریزہ کو دیکھا وہ اسکی جھجک محسوس کرکے دانستہ رخ بدل کر سر سیٹ پر ٹکا گئ۔ ۔۔ وہ گاڑی سے اتر آیا۔۔
    بالکل نہیں۔ آپ مجھ سے ملے بتائے بغیر چین چلی گئیں؟۔ وہ شکوہ کر رہا تھا۔۔
    یقینا اسکا لمبی بات کا ارادہ تھا اس نے سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بھی موند لیں ایسا کرتے اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ۔۔
    کوئی پہلی بار تھوڑی آئی ہوں۔۔ انہوں نے پیار سے کہا۔۔
    پھر بھی اور مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے آپ نے آہبو جی کی بات کیوں مان لی۔۔ آپ ایک بات پھر انکو اپنی زندگی سے کھیلنے دیں گی؟
    نونا چپ سی رہ گئیں۔
    آپ کی وجہ سے آہبوجی نے یہ کمپنی میرے نام کی ہے نا۔
    اسکا تیر نشانے پر لگا تھا نونا جز بز سی ہوگئیں۔
    دیکھو مجھے سچ مچ کم خاندان سے جڑنے میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ امیر کبیر ہیں اور ان سے جڑ کر لی گروپ مزید توسیع حاصل کرے گا۔
    اور آپ۔ ہایون نے بے صبری سے ٹوکا۔
    کھیون ہیونگ ابھی بھی آپکے انتظار میں ہیں۔ انکو آپ ایک بار پھر مایوس کردیں گئ؟
    ہایونا۔ وہ ایک دم ڈپٹ کر بولیں۔
    تم سے میں کہہ چکی ہوں ہم کھیون وون کے بارے میں دوبارہ بات نہیں کریں گے سمجھ نہیں ائی تمہیں۔۔
    کیوں؟ وہ جوابا انہی کے انداز میں بولا۔
    ہیونگ نے ابھی تک شادی نہیں کی وہ آپکے انتظار میں ہیں کیوں آپ انکو دوسری بار بھی چھوڑ دینا چاہتی ہیں۔
    میں نے کبھی اسکو اپنا انتظار کرنے کو نہیں کہا۔ اور میں دوبارہ شادی کرلوں یہی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔ انکا انداز قطعی تھا۔
    کل تک تو آپکا دوبارہ شادی کرنے کا ارادہ تک نہ تھا اب اچانک ؟
    اب اچانک میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ میں دوبارہ شادی کر لوں۔
    تاکہ وہ مزید میرا انتظار نہ کرے۔۔ اگلہ جملہ وہ سوچ کر رہ گئیں۔۔ پھر سنبھل کر ایک دم اپنی جون میں واپس آکر بولیں۔
    ہایونا اتنا نہ سوچا کرو۔ باقی واپس آکر بات کرتی ہوں بس دو دن میں واپس آرہی میری جان بس پریشان مت ہو میں بالکل ٹھیک ۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔
    انہوں نے اسے مزید کچھ بھی کہنے سننے کا موقع دیئے بغیر فون رکھ دیا۔۔
    آہش۔ وہ بس فون کو دیکھ کر رہ گیا۔
    ہمیشہ ایسا ہی کرتی ہیں۔ بچہ تو نہیں ہوں میں اب۔۔ اسے غصہ آرہا تھا۔۔ دل کیا فون اٹھا کر سڑک پر دے مارے۔ چند لمحے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ مزاج بگڑ چکا تھا سو خاموشی سے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔
    اپنے پورچ میں لا کر گاڑی کھڑی کرکے اترا توگاڑی لاک کرتے ایکدم سن سا رہ گیا۔ وہ تو بھول ہی گیا تھا کہ اریزہ اسکی گاڑی میں بیٹھی ہے۔ اس نے اندر جھانکا وہ سیٹ تھوڑی نیچے کرکے پرسکون سو رہی تھی۔
    آگیا گھر۔۔ اس نے مڑ کر متوجہ کرنا چاہا تو دیکھا وہ بے خبر سو چکی تھی۔۔
    گود میں شاپر پر دونوں ہاتھ ٹکائے سیٹ پر سر رکھے خراٹے لے رہی تھئ۔۔
    اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے ہلانا چاہا۔ پھر خیال آیا۔ اچانک گہری نیند سے اٹھانا ایسے انسان کو جسے پینک ڈس اوڈر ہو منع کیا جاتا ہے۔
    اریزہ۔۔ اس نے تھوڑا سا اونچی آواز میں پکارا وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔
    اس نےگاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کی گاڑی کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔ وہ سوتے میں سہم سی گئ۔ ایک دم سے سرخ آنکھیں کھولی تھیں۔ اسکا تنفس تیز سا ہوا۔
    اریزہ اس نے پکارا اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔ وہ چند لمحے اسکی شکل دیکھتی رہی۔ مگر ان نظروں میں پہچان نہیں تھی۔
    کین چھنا۔اس نے دھیرے سے اسکا ہاتھ تھپکا۔۔

    پندرہ سالہ اریزہ کو سوتے میں ڈر لگا تھا۔ وہ لرز رہی تھی۔ اسکے ماں باپ اکثر رات کو اٹھ کر اسکے کمرے میں آتے تھے۔ اگر وہ خواب میں ڈر رہی ہو تو اسے تھپکتے تھے۔۔
    سو جائو اریزہ۔۔خواب تھا بس یہ۔۔۔۔
    جبین دھیرے دھیرے اس کے کان میں سرگوشی کر رہی تھیں۔ انکئ آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسکے برابر بیٹھی وہ دھیرے دھیرے اسکا کندھا تھپک رہی تھیں۔۔
    امی۔۔ وہ سسکی۔۔مم ۔۔۔ مجھے بچالیں۔۔
    اس نے سوتے میں ہاتھ بڑھا کر ماں کو پکارا تھا۔
    میں یہیں ہوں میری جان۔
    جبین نے اسکے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں میں مضبوطئ سے جبین کاہاتھ پکڑا۔۔ اسے یک گونہ اطمینان نصیب ہوا تھا۔ماں اسکے آس پاس تھی۔ اب کوئی فکر نہیں۔۔
    اریزہ اب لرز نہیں رہی تھئ۔ ۔ جبین کتنی دیر اسکے برابر اپنا ہاتھ اسے تھمائے بیٹھی بے آواز روتی رہی تھیں۔۔۔ خواب تھا یا حقیقت ادراک نہ ہوسکا۔۔
    اریزہ نے اسکا ہاتھ مضبوطئ سے تھام کر آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔
    اس نے ایک نظر ادھر ادھر دیکھا۔ پھر بے چارگی سے اسے دیکھنے لگا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔۔
    جاری ہے۔۔

    Kesi lagi apko Salam Korea ki qist ?Rate us below

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

  • Salam Korea Episode 18

    Salam Korea
    by Vaiza Zaidi

    سلام کوریا قسط 18

    New Urdu Web Travel Novel : Salam Korea Featuring Seoul Korea.
Bookmark : urduz.com
kuch acha perho
Salam Korea is urdu fan fiction seoul korea based urdu web travel novel by desi kimchi. A story of Pakistani naive girl and a handsome korean guy
Episode 
urdu adab,
urdu digests,
raja gidh,
urdu novels list,
raqs e bismil novel,
novels in urdu pdf,
urdu books,
best urdu novels,
famous urdu novels,
free urdu digest,
naseem hijazi,
best urdu novels list,
raja gidh pdf,
urdu books library,
new urdu novels,
jangloos,
list of urdu books,
urdu story books,
bano qudsia books,
pdf urdu books,
famous urdu novels list,
best pakistani novels in urdu,
urdu stories pdf,
naseem hijazi novels,
urdu novels online,
udaas naslain,
best urdu novels pdf,
latest urdu novels,
short novels in urdu,,
romantic story urdu,
urdu best books,
best urdu books to read,
pakeeza anchal online reading,
ismat chughtai books,
urdu digest novels,
urdu books online,
urdu literature books
    Salam Korea Episode 18

    کم خاندان کی یادگاری آخری آرام گاہ ۔۔۔
    کسی عجائب گھر کی طرح انکی آخری سات پشتوں کے ہر فرد کی آخری آرام گاہ جس میں بڑے سے لان میں درجنوں خوش رنگ پھولوں کے کنج تھے تو ایک قطار میں درخت بھئ آب و تاب سے کھڑے تھے۔ ہر درخت کے ساتھ زمین پر ایک تختی لگی تھی۔ جس پر کسی مرحوم یا مرحومہ کیلئے توصیفی کلمات پیدائش اور وفات کی تاریخیں درج تھیں۔۔۔اونچے اونچے ان درختوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ مرحوم مرحومہ کو دنیا سے گئے بھی ایک طویل عرصہ ہوچکا ہے۔ کچھ بالکل نئے پودے بھی تھے
    کچھ کے نام کے پودے مرجھا گئے تھے انکی جگہ تازہ پودے لگائے گئے تھے۔اس بڑے سے لان کے دائیں جانب ہال نما عمارت تھی جس کے اندرچہار اطراف دیوار گیر شوکیس بنے ہوئے تھے ۔ہر شوکیس میں ایک چھوٹے چوکور خانے میں مرحوم یا مرحومہ کی باقیات کورین روائتی مرتبان میں سجی تھی ساتھ اہل خانہ کی پسند کے مطابق انکی تصویر اکیلی یا اہل خانہ کے ہمراہ فریم میں سجی تھی۔ ملاقاتی پھولوں کا گلدستہ اسی خانے میں سجا دیتے۔۔ وہ کتنی ہی دیر سے وہ اس شوکیس کے سامنے کھڑا بے بسی سے اپنی ماں کی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔ باقی شوکیسوں کے برعکس اسکی ماں کی تصویر سجی تھی۔اسکے برابر والے خانے میں اسکے باپ کی باقیات اور انکی تصویر تھی۔ دونوں خانوں میں اس کا خاندان احوال چارٹ میں بھی ذکر نہ تھا
    پہلے اسکے باپ کے خانے میں اسکی بچپن کی اپنے باپ کے ہمراہ بیس بال کیپ پہنے خوبصورت تصویر سجی تھی۔وہ اسکی ماں نے ہٹائی تھی۔ اور اب اسکی ماں کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اسے کاٹ کے الگ کردیا گیا تھا۔
    اس آرام گاہ کی دیکھ بھال پر معمور ملازم اسے دیکھ کر سیدھا اسکے پاس چلا آیا تھا۔ ادب سے جھک کر کورنش بجا لایا۔ جوابا وہ بمشکل سر کے اشارے سے جواب دے سکا۔
    آپ کیلئے تازہ پھولوں کا گلدستہ منگوا دوں۔
    اسے خالی ہاتھ کھڑا دیکھ کر اس نے فورا اپنی خدمات پیش کیں۔
    پھول ۔۔۔ اس نے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھا۔ پھر خیال آیا۔
    پھول ہاں کم از کم وہ پھول تو لا سکتا تھا۔ مگر وہ یونہی یہاں خالی ہاتھ جھلاتا چلا آیا۔
    اس نے خانے کے شیشے پر دھیرے سے ہاتھ رکھ کر جیسے اپنی ماں کا لمس محسوس کرنا چاہا۔
    یہ مرتبان چھوٹا سا نہیں ہے؟
    اسکے جواب کا منتظر ملازم اسکے سوال پر چونکا
    دے؟؟۔ وہ سمجھ نہ سکا اسکا مطلب۔
    میری ماں کا قد بہت اچھا تھا۔ پانچ فٹ سات انچ۔مجھے ۔۔
    اسکے گلے میں آنسوئوں کا گولہ سا اٹکا۔ آواز بھرا سا گئ۔
    مجھے اچنبھا ہے کہ انکی باقیات اتنے سے مرتبان میں کیسے سمٹ پائیں۔
    جملہ مکمل کرتے اس نے اسی شیشے پر سر ٹکا دیاتھا۔ اسکے بے آواز آنسو بہہ نکلے تھے۔
    سچ پوچھیں تو یہ مرتبان آدھے خالی ہی ہیں۔سیمیٹری سے انسان بس ذرا سی راکھ دھول بن جاتے ہیں آگ اتنی ہی بے رحم ہے۔
    ملازم یہی سمجھا تھا کہ اسے وہم ہورہا ہے کہ اسکی والدہ کی باقیات ضائع ہوئی ہیں وغیرہ سو انداز سادہ سا صفائی دینے والا ہی تھا۔ مگر اسکے جملے پر علی خود پر ضبط کھو بیٹھا۔ قدموں سے جیسے جان سی نکلتی گئ۔ وہ وہیں گھٹنوں کے بل گر سا گیا تھا۔
    اس آگ سے آپکو بچانا چاہتا تھا یہ آگ آپکو لپیٹ لے گئ آہماں۔۔
    وہ مٹھیاں بھینچے بلک بلک کر رو نے لگا۔ ملازم بے چارگی سے اسے دیکھتا رہا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایڈون اسے اور اریزہ کو اس مشہور ہندوستانی ملبوسات کی دکان پر لایا تھا۔ رنگوں کی بہتات جھلمل ملبوسات دونوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ انگرکھے، لہنگا چولی سے لیکر راجستھانی فراک ساڑھیاں۔ سب کچھ بے حد خوبصورت تھا۔مگر سارا جوش آدھے گھنٹے میں ختم ہوچکا تھا۔
    اریزہ کو راجستھانی فراک پسند آئی پشواز کی جامنی نیلے امتزاج کی خوب گھیر والی فراک جس پر سنہرا کام تھا دیدہ زیب اور سادہ ساتھ سنہرا ہی چوڑی دار ۔۔ مگر گلا آگے پیچھے سے خوب گہرا۔ اس گہرے ترین گلے پر پیچھے بس ایک سنہری ڈوری تھی۔
    سیلز گرل نے اسکی دلچسپی بھانپ کر اس جوڑے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے شروع کردیئے۔
    آپکا رنگ اتنا صاف ہے یہ تو خوب کھلے گا آپ پر۔اس کی آستین دیکھئے اس پر کام دیکھیں۔ آپکے سڈول گورے بازو اس میں دمکیں گے۔
    چلو چھٹی ہوئی۔ آستین مکمل سی تھرو تھی وہ بد دل سی ہوئی۔
    آپ پہن کر دیکھ لیں۔
    اس نے اکسایا۔ وہ ابھی بھی شش و پنج میں تھی۔
    سنتھیا نے نارنجئ پٹے ہوئے سلور کام والی مختصر سی سلک کی قیمض اور غرارہ پسند کیا تھا۔ اسی وقت چینجنگ روم میں جا کر پہن بھی آئی۔
    اسکے نازک وجود پر یہ لباس خوب بیٹھا تھا۔ وہ قد آدم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھ رہی تھی۔
    اریزہ فراک اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہی تھی جب ایڈون کی آواز پر چونک کر مڑی۔۔۔
    سنتھیا یہ آف وائٹ کام والا لو نا یہ ذیادہ پیارا ہے۔ یہ اورنج تو اوور سا لگ رہا ہے۔
    اسکا انداز سادہ سا تھا۔ وہ بھی دل ہی دل میں متفق ہوئی۔ واقعی یہ لباس اتنا اچھا نا تھا۔ دور سے ایسے لگ رہا تھا جیسے آگ سی لگی ہو۔ شائد کچھ لوگوں کو ایسا رنگ ایسے کام کے ساتھ پسند آتا ہوگا جبھی تو ڈیزائنر نے یہ ڈئزائن کیا مگروہ کچھ لوگ اس وقت دکان میں موجود نہ تھے کم ازکم۔ وہ جل کر اریزہ کے پاس چلی آئی۔
    اریزہ بتائو یہ کیسا لگ رہا ہے مجھ پر ۔
    وہ یقینا تعریف سننا چاہ رہی تھی۔
    اریزہ نے سرتاپا اسے دیکھا پھر متاثر ہوجانے والے انداز میں بولی۔
    بہت سلم بہت اسمارٹ لگ رہی ہو یار۔ روزے رکھ رکھ کر میں اتنی پتلی نہ ہوسکی جتنئ تم لگ رہی ہو بالکل ماڈلز کیے جیسی ۔۔
    اس نے دل سے بے ساختہ تعریف کی تھی مگر سنتھیا پر اوس سی آن گری۔ بس دبلی پتلی؟ وہ تو تھی ہی مگر یہ لباس کیا اس پر جچ رہا بس شکل نہ دیکھو تب؟ اس نے بلا ارادہ اپنےملبوس پرہاتھ پھیرا۔ اپنے سانولے ہاتھوں کو اس گہرے نارنجی رنگ پر مزید سنولاتا دیکھا تو جھٹ سے ریلنگ پر سے ایک ہنگر اٹھاتی اندر بدلنے چلی گئ۔ اریزہ نے ابھی وہی ہینگر لگایا تھا اب پلٹ کر دوسرے لباس دیکھنے لگی۔
    گلابی اور پیچ کے امتزاج کا ڈبل بریس کرتا پاجامہ ساتھ سنہری کام والا دوپٹہ تھا۔ ڈھیلا ڈھالا۔ سادا سا۔ بس گلے سے دامن تک سنہرئ کام والی پٹی آرہی تھی۔ اس نے قیمت پوچھی تو نہایت انکساری سے سیلز گرل نے جواب دیا۔
    ساڑھے تین لاکھ وون ۔۔
    ساڑھ۔۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
    سونے کی تاروں کا کام کیا ہوا ہے کیا ؟
    اس نے طنز نہیں کیا تھا حقیقتا یہی سمجھی تھی۔ ڈیزائنر ڈریس ہے کچھ بعید نہیں۔
    آنیا۔
    وہ بوکھلائی۔
    یہ بھی عجیب معاملہ۔تھا۔ ہندوستانی دکان کورین باجی نوکر تھیں اور انہیں انگریزی خوب اچھی آتی تھی۔
    آپ چاہیں تو قسطوں میں ادائیگئ کر لیں۔
    اس نے اسے مشکل میں دیکھا تو مدد کو بولی۔۔
    آندے۔ ا س نے گہری سانس لی۔
    اسی وقت موبائل میں ایکسچینج ریٹ دیکھا۔ گو کورین وون لاکھوں میں ہوں تو پاکستانئ عدد میں آدھے بن جاتے مگر ۔۔۔۔
    اس نے موبائل کائونٹر پر رکھا اور والٹ میں جھانکنے لگی۔
    کیا میں اس فضول خرچی کی متحمل ہو سکتی ہوں۔
    وہ شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔
    کیا ہوا ؟ پیسے کم پڑ گئے کیا؟
    ایڈون اسکے پاس آکھڑا ہوا ۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میچنگ سینڈلز ائیر رنگز انہوں نے خوب دل کھول کر شاپنگ کی تھئ۔ اسے سب شاپنگ تھما کر ٹیکسی میں بٹھا کر ایڈون اور سنتھیا خود آگے کہیں چلے گئے۔۔ سنتھیا کا موڈ تھوڑا سا آف تھا پھولا ہوا تھا۔ وہ سر جھٹکتی ٹیکسی میں بیٹھ گئ ۔ ٹیکسی نے اسے ہاسٹل کے باہر اتارا تھا۔تین اسکے تین ہی سنتھیا کے بڑے بڑے شاپنگ بیگز ۔۔ وہ سنبھالتے سنبھالتے ہلکان سی ہونے لگی۔ راہداری سے ہاسٹل کی سیڑھیوں تک درجنوں لڑکیاں گزریں مجال ہے کسی نے اپنی خدمات پیش کی ہوں۔ بے مروت لڑکیاں۔ وہ دانت پیستی سیڑھیاں چڑھتی اوپر آئی سانس وانس پھول چکی تھی۔ شاپنگ کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی وسط میں ڈھیر کی پھر تھک کر سنتھیا کے بیڈ پر گر سی گئ۔
    اف توبہ۔ ایسے بے مروت لوگ نہ دیکھے۔ ابھی پاکستان ہوتا تو۔۔۔۔
    وہ چڑ کر اٹھ بیٹھی۔ سنتھیا کے شاپنگ بیگز اسکی الماری میں رکھ کر اپنے بیگز لیکر وہ اوپر چلی آئی۔
    سب بیگز نکال کر بیڈ پر پھیلائے۔
    بلاگ پر اسٹیٹس لگانا تھا سو ابھئ بس شاپنگ بیگز کی تصویریں چاہیئے تھیں۔ اس نے ایک انداز سے سب کو لگاکر بیگ سے موبائل نکالنے کیلئے بیگ کھولا۔ ہاتھ ڈالا۔ چیزیں نکلتی گئیں۔والٹ، گھڑی ، پین ، ہینڈزفری، شاپنگ کی رسید ائیررنگز، لاکٹ نہیں نکلنا تھا تو موبائل نہیں نکلا۔
    اسکے ہاتھوں کے طوطے کبوتر سب اڑ گئے۔
    آخری بار موبائل اس نے نکالا تھا کورین وون کی پاکستانی روپے میں قیمت کا اندازہ کرنے اور۔ کائونٹر پر رکھا۔ پھر اٹھایا۔۔ نہیں ۔۔
    اسکی روح فنا ہوئی۔ موبائل بس رکھا ہی تھا اٹھایا نہیں۔۔
    وہیں کائونٹر پر چھوڑ دیا۔ وہ صدمے کی حالت میں دل تھامتی وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھتی چلی گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیلز گرل نے اسکی شکل دیکھتے ہی فون نکال کے سامنے رکھ دیا تھا۔
    گومو وویو۔ فون لیکر وہ کوریائی انداز میں رکوع میں ہی چلی گئ تھی۔ دو تین بار جھک جھک کے شکریہ ادا کیا۔
    وہ اسکے انداز پر مسکرا دی۔
    پرس سنبھالتی موبائل کو حقیقتا سینے سے لگائے وہ دکان سے باہر نکلی تھی۔ اتنے دنوں میں پہلی بار اکیلی خود پر بھروسہ کرکے نکلی تھی۔ ٹیکسی سے آئی تھی۔ اوراب پھر ٹیکسی لینی تھی۔ اب چونکہ موبائل ہاتھ میں تھا سو آرام سے ٹیکسی منگوا سکتی تھی۔ خراماں خراماں دکان سے نکل کر حسب عادت ادھر ادھر دیکھے بنا سڑک کی جانب رخ کیا۔ سر ایک کھمبے سے بندے سے ٹکرایا تھا موبائل ہاتھ سے چھوٹا گول گول چکر کھا کر لمحہ بھر کو چمکا پھر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ بھونچکا سی اس افتاد پر اپنے موبائل کو روہانسی انداز میں دیکھتی رہ گئ۔
    ٹکرانے والا بیان کہتا نکل لیا تھا۔
    اتنئ منحوسیت؟؟؟
    وہ دلگرفتہ سی موبائل اٹھا کر دیکھنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے لگا تھا ہم عید کے دن بھی یونیورسٹی جا رہے ہوں گے۔
    کانوں میں میچنگ ائیر رنگ ڈالتے اریزہ نے ہنس کر کہا تھا۔
    ہاں شکر ہے ہفتے کی عید پڑی ہے۔ پاکستان میں کب ہے عید؟
    سنتھیا بالوں کو ہیئر ڈرائیر سے سوکھا رہی تھی۔
    شائد کل اور پشاور والوں نے تو آج منا لی ہوگی۔ جانے کیا مزا آتا ہے ہر سال یہ تفریق پیدا کرکے۔
    وہ جھلائی ۔۔سنتھیا مسکرا دی۔
    یہاں بھی تو دیکھو عید منا رہے ہیں بنا کسی جھگڑے کے۔
    وہ مزید کہتی آئینے کے سامنے سے ہٹ گئ۔ اب سنتھیا کے تیار ہونے کی باری تھی۔۔۔
    سرمئی فراک اسکا کھلا گہرا گلا ۔۔۔ سنتھیا کے لانبے بال احتیاط سے ایک طرف کرکے آگے کیئے پھر اسکے گلے کے پیچھے ڈوریاں کس کر گرہ لگادی۔۔
    شکریہ۔ سنتھیا نے سر جھٹک کر کہتے بال پیچھے کر لیئے۔۔کمر تک لانبے سنتھیا کے گھنے سیاہ بال اسکی پشت کو ڈھانک گئے۔
    یار میرے بال اسٹریٹ کر دو پیچھے سے۔
    نا اسکے سنتھیا جیسے گھنے سلکی بال تھے نا اسکے جتنے لمبے کہ بنا ان کے ساتھ دو دو ہاتھ کیئے وہ تیار نہ ہو سکتی تھی۔۔۔ سومنت بھرے انداز میں بولی۔
    سنتھیا نے اپنا میک اپ ادھورا چھوڑا اور اسکے ہاتھ سے اسٹریٹنر لیکر بال اسٹریٹ کرنے لگی۔
    دو تین بار دوپٹہ الجھا تو دوپٹہ اتار کر رکھ دیا ایک طرف۔
    گو سامنے اریزہ ہی تھی اور اس وقت تو سر جھکائے بیٹھی موبائل میں مگن تھی پھر بھی اسے جھجک سی آئی۔
    یار یہ گلا کچھ ذیادہ گہرا ہے۔ تم ہی کھڑی ہو جائو میں اس سے ذیادہ نہیں جھک سکتی۔
    وہ جھکتے جھکتے رکی۔ پھر جھلا کر بولی
    اریزہ نے سر اٹھا کر اسکی جھلائی شکل دیکھی پھر ہنستی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    یہ لو۔ یہ ڈریس لیتے لیتے میں نے اسی وجہ سے چھوڑا تھا۔
    اسکی بات پر سنتھیا کے ہاتھ جہاں تھے وہاں رک سے گئے۔
    کیا مطلب؟ وہ چونک سی گئ۔
    یہ ڈریس لینے لگی تھی میں مگرایک تو گلا اتنا گہرا ہے آگے پیچھے سے۔ اوپر سے آستینیں الگ سی تھرو۔جبھئ واپس رکھ دیا تھا آ۔۔
    اسٹریٹنر اسکی چندیا پر گرم گرم لگا توجملے کے آخرمیں چیخ سی پڑی۔
    اوہ۔ سوری ۔۔ سنتھیا نے سٹپٹا کر ہاتھ پیچھے کیا۔ اسکے سر کے بیچوں بیچ میں سے بالوں کی موٹی سی لٹ سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
    ہاہ۔ سنتھیا کی بچی سر جلا دیا میرا۔
    وہ تڑپ کر اپنا سر سہلاتی وہیں بیٹھ گئ۔
    آئم سو سو سو ری۔ اس کو کچھ سمجھ نہ آیا۔ اریزہ کی آنکھوں میں ضبط کے باوجود آنسو آگئے تھے۔ سنتھئا کو کچھ سمجھ نہ آیا تو گلاس میں پانی لاکر سر پر چھڑکنے لگی۔
    آئم سو سوری۔اریزہ بالکل غلطی سے ہوا سو سوری۔
    وہ معزرت کرتی روہانسی سی ہوگئ۔
    اٹس اوکے۔۔ شکر ہے بال نہیں جل گئے۔ بس تھوڑی سی جلن ہے۔
    اسے اتنا پریشان ہوتا دیکھ کر اریزہ الٹا اسے تسلی دینے لگی۔
    سنتھیا نے دزدیدہ نگاہوں سے اسکا سر دیکھا پھر سر جھکا لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں تیار ہو کرباہر نکلیں تو ہاسٹل کے گیٹ تک درختوں تک نے منہ کھول کر انہیں دیکھا تھا۔ کچھ لڑکیاں تو انہیں خلائی مخلوق سمجھ کر انکے راستے سے بھی ڈر کر ہٹ گئیں۔ رہی سہی کسر گیٹ سے باہر نکل کر پوری ہوگئ۔
    سالک شاہزیب ایڈون کے ساتھ یون بن کم سن ہایون اور گوارا بھی کھڑے تھے۔ گوارا تو دوڑ کر انکے پاس آئی۔
    یہ۔ یہ تم لوگوں نے بھارتی لباس پہنا ہے؟ اف میں نے بھی پہننا تھا۔ کہاں سےلیا۔ کتنا پیارا ہے۔ وہ کھلے دل سے تعریف کر رہی تھی۔
    اور یہ کیا ہے۔ اس نے بڑی حیرت سے اریزہ کے سر پر جمے دوپٹے کو چھوا۔
    اسکو سر پر بھی لیتے ہیں۔
    سنتھیا نے حفظ ماتقدم کے طور پر اسکا ہاتھ پیچھے کردیا۔
    ہاں ایسے انڈین برائڈز سر پر لیتی ہیں نا۔ گوارا کی معلومات پکی تھیں۔
    چلو آدھے ہایون کی گاڑی میں آدھے یون بن کی گاڑی میں چلیں گے۔
    ایڈون انکے قریب آکر بولا۔۔
    اریزہ کو سچ مچ اپنا آپ دلہن لگنے لگا تھا۔ اس وقت وہ مرکز نگاہ تھی۔ اس نے سٹپٹا کر گھورا
    ان لوگوں کو ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت تھی۔
    انکو ساتھ لے جانے پر مفت میں سواری مل رہی ہے اور کیا چاہیئے۔
    ایڈون شرارت سے بولا۔
    چلو آجائو سارے۔
    یون بن بلا رہا تھا
    اریزہ تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔
    اس نے بے تکلفی سے جملہ چسپاں کیا۔ یہی جملہ کسی دیسی نے کہا ہوتا تو برا مان جاتی اس وقت بھی اچھا تو نہ لگا مگر ہونٹ بھینچ گئ۔
    تمہارا ہبئ بہت لکی ہے۔ سونے پر سہاگہ۔ اس کا سارا موڈ غارت ہوا۔
    نو ڈائوٹ تم پیاری لگ رہی ہو۔
    ہایون نے بھی اسے سراہنا فرض سمجھا۔
    اریزہ پیارئ لگ رہی ہو۔
    سالک شاہزیب دونوں جان کے باری باری انگریزی میں بولے۔
    ہاں سچ میں پیاری لگ رہی ہو
    گوارا دل سے بولی۔
    ایڈون بھی انکی شرارت میں شامل ہوگیا۔۔
    اریزہ تم ۔۔
    اریزہ حقیقتا اپنا پرس گھما کر اسے لگانے لگی تھی کہ وہ بچتا ہنستا ہوا بھاگا۔ وہ سب اب اریزہ کو ہوٹ کررہے تھے۔ اسکے گرد دائرہ بنا کر تالیاں بجاتے اسی جملے کی گردان کر رہے تھے۔ اریزہ کا ہنستے ہوئے اور کچھ خفت سے منہ سرخ ہو چکا تھا۔
    سنتھیا نے گہری سانس لی۔ یہاں موجود سب لوگوں کو وہ شائد نظر بھئ نہیں آرہی تھی اریزہ کے سامنے۔
    اس نے یونہی اپنا موبائل نکال کر وقت دیکھا تبھی کوئی اسکے قریب آگیا اس نے چونک کے سر اٹھایا۔
    سنتھیا تم پیاری نہیں۔۔۔ کہنے والا ذرا سا تھما۔۔
    حسین لگ رہی ہو۔
    چندی آنکھوں والا وہ لڑکا ماتھے پر بکھرے بال وہ شائد اس سے دوسری بار مخاطب ہوا ہوگا۔ وہ اتنی حیران رہ گئ کہ بس ٹکر ٹکر دیکھتی رہی۔
    کم سن اسکی حیرانی پر مسکرادیا۔ بھر پور مگر سادہ سی مسکراہٹ وہ نا سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھتی رہی وہ سر جھٹکتا مڑا ان کی ہلڑ بازی سے بے نیاز سب سے پہلے جا کر ہایون کی گاڑی کے پاس جا کھڑا ہوا۔
    ہایون نے اسے دیکھ کر فورا گاڑی انلاک کردی تھی۔
    آئو سنتھیا۔
    ایڈون پکار رہا تھا اسے۔ اریزہ اور گوارا باتیں کرتی یون بن کی۔گاڑی کی۔جانب بڑھ چکی تھیں۔۔ وہ سر جھٹکتی ایڈون کے پاس چلی آئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عید کی مناسبت سے پاکستانی سفارت خانے میں تقریب کا اہتمام تھا۔ ایک جانب کھانے پینے کی چیزوں کے اسٹالز تھے روائتی پاکستانی پکوان کی خوشبو چار سو پھیلی تھی تو دوسری جانب پاکستانی آرٹس اینڈ کرافٹس کے اسٹال سجے تھے۔ کچھ فنکار پرفارم کرنے آئے تھے۔ پاکستانی کمیونٹی اور مسلم کمیونٹی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی و غیر ملکی بھی بڑی تعداد میں رونق میلہ دیکھنے آئے ہوئے تھے۔ ۔۔۔ یہاں آکر انکو اندازہ ہوا تھا کہ کوریا میں صرف وہ چار پانچ لوگ ہی بس پاکستان سے نہیں آئے تھے بلکہ ایک بڑی تعداد موجود تھی۔۔۔ وہ پانچوں ذیادہ تیار ہو کر آئے تھے اپنی جانب سے مگر یہاں تو رنگ و بو کا سیلاب آیا ہوا تھا۔۔۔۔
    اف گوارا کو ضرور وئک اینڈ پر گائوں جانا تھا ورنہ اسے تو ضرور دکھاتئ میں پاکستانی لباس بلکہ اسے بھی پہنواتی میں۔
    اریزہ کو افسوس ہو رہا تھا۔ اور اس سے ذیادہ سنتھیا کو اسے دیکھ دیکھ کر۔
    سوری اریزہ۔
    ہاسٹل سے یہاں تک کے سفر میں جانے کتنے ہزار دفعہ وہ یہ دہرا چکی تھی کہ اریزہ کو جھنجھلانا پڑا
    تمہارے سوری کہنے سے میری چندیا کی جلن ختم ہورہی ہے نا جلے ہوئے بالوں کی جگہ چمکدار گھنے لمبے بال اگ آئے ہیں سو اپنا سوری اپنے پاس رکھو۔
    اریزہ کے جملوں پر اسکا مزید منہ اتر گیا۔
    اریزہ شرمندہ ہوگئ۔
    اچھا نا بس کرو۔ وہسے بھی تم نے اتنا اچھا دوپٹہ سیٹ کیا ہے میرے سر پر کہ ناممکن ہے کسی کو پتہ لگے کہ میرے بالوں کا کیا حشر ہوا ہے۔
    وہ دانستہ ہنسی ۔۔ سنتھیا بھی مسکرا دی۔ درجن بھر پنیں ٹھونک کر اس نے دوپٹہ اسکے سر پر ٹکا دیا تھا اور سچ تو یہ کہ دوپٹے کے ہالے میں اسکا چہرہ مزید سنہرا لگ رہا تھا۔
    یہ لو سویاں۔ پھر نہ کہنا کہ عید پر سویاں کھانے کو نہ ملیں۔
    ایڈون نے ڈسپوزایبل پیالہ لا کر اسے تھمایا۔
    میرے لیئے؟ سنتھیا سوالی ہوئی۔
    یار اس اسٹال پر سب سے ذیادہ رش تھا یہ کورینوں سے پاکستانی کھانے کھائے نہیں جا رہے سب سی سی کرتے سویوں پر ٹوٹ پڑے یہ آخری پیالہ تھا ۔ میں نے شکر ہے کھایا نہیں تھا ورنہ یہ بھی نہ بچتا۔
    ایڈون ہنس ہنس کر بتا رہا تھا۔ سنتھیا کا منہ بن گیا۔
    کوئی نہیں اتنی ذیادہ ہے یہ ہم سب کھا سکتے ہیں۔یہ لو سنتھیا۔
    اریزہ نے چمچ اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو وہ درشتی سے بولی۔
    تم کیا چاہتی ہو ہر چیز مجھے تمہاری چھوڑی ہوئی ہی ملا کرے۔ مجھے نہیں چاہیئے۔
    ارے۔ اسکی۔بات پراسکا منہ کھلا رہ گیا۔
    ایڈون کی پیشانی پرناگواری کی کئی شکنیں پڑ گئیں۔
    جنہیں دیکھ کر اسکو مزید غصہ آگیا ۔۔ تن فن کرتی آگے بڑھ گئ۔
    اسے کیا ہوا۔
    اریزہ کو سمجھ نہ آیا اسکا غصہ۔
    پاگل ہوگئ ہے اور کیا ہوا۔ ایڈون جل کر بولا۔ پھر خود کو گہری سانس لیکر پرسکون کرنے کی کوشش کرتا اسکے پیچھے چل پڑا۔
    اس نے کندھے اچکا کر بڑا سا چمچہ لیا ابھی منہ میں رکھا ہی تھا فون بج اٹھا اس نے بے دھیانی میں چمچ منہ میں ہی رکھے رکھے چھوٹے سے پرس سے موبائل نکال کر مزے سے دیکھنے لگی کہ کس کی کال ہے کہ کلک کی سی تصویر کھنچنے کی آواز پر چونک سی گئ۔
    اس پر کوئی فلیش آیا تھا اور تصویر کھنچ گئ تھی۔ یا شائد وہم ہوا تھا۔منہ میں چمچہ لیئے وہ صدمے سے چمچ منہ سے نکالنا بھول گئ۔
    سر اٹھا کے ادھر ادھر دیکھا۔ وہ داخلی حصے میں کونے میں کھڑی تھئ کچھ فاصلے پر اسٹالز تھے لوگ یہیں سے گزر کر آ جا رہے تھے۔ کئ فوٹرگرافر وی لاگرز آئے ہوئے تھے کیمرہ تھامے کئی صحافی اس تقریب کا احوال محفوظ کر رہے تھے۔ دو تین تو سامنے ہی تھے ایک نے فوری اسے اپنی جانب دیکھتا پا کر رخ بدلا تھا۔ اسے یہ اتفاق نہ لگا۔
    ہیلو ۔۔ اریزہ۔ صارم اسکی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے پر پکار رہا تھا۔
    صارم۔
    وہ روہانسی ہوئی۔ چمچ منہ سے نکال کر غصے میں پھینک ہی دیا۔
    میری تصویر کھنچ گئ ہے او رمجھے پتہ بھی نہیں کہ کس نے کھینچئ۔
    تو کیا ہوا۔ صارم حیران ہوگیا۔
    کون ہے میں چھوڑوں گی نہیں اسے۔۔۔ اسکا غصہ بے قابو ہونے کو تھا۔
    بعد میں بات کرتی ہوں تم سے۔
    اس نے فون بند کرکے بیگ میں رکھا اور اپنی تصویر کھینچنے والے فوٹوگرافرکی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔
    تیز تیز قدم اٹھاتی اسکا رخ سیدھا اسی چندی آنکھوں والے ڈی ایس ایل آر تھامے لڑکے کی جانب تھا جو اسکو دیکھ کر رخ بدل گیا تھا۔
    اریزہ ادھر۔۔۔
    ہایون اسکے ایکدم سامنے آگیا جانے کیا کہنے لگا تھا اس نے اپنے ہاتھ میں تھاما پیالا اسے تھمایا اور تن فن کرتی آگے بڑھی۔۔
    ہایون نے حیرت سے اپنے ہاتھ میں تھمایا ہوا پیالہ دیکھا پھر مڑ کر اسے دیکھا۔
    لمحہ بھر کو ہی ہایون نے توجہ بھٹکائی تھی اسکی۔اور وہ لڑکا نظر سے اوجھل ہوگیا تھا۔ ایکدم بھیڑ میں گھس کر غائب۔۔وہ بیچ راستے میں کھڑی متلاشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھئ۔
    کیا ہوا۔ ؟ ہایون نے پوچھا
    وہ ۔۔ وہ لڑکا ۔۔ اس نے میری تصویر کھینچ لی۔ وہ بھی اتنی بری۔۔ ۔ میں اسکی جان نکال دوں گئ۔
    وہ مٹھیاں بھینچ کر بولی۔
    کس نے۔ ہایون فورا سنجیدہ ہوا۔
    وہ ادھر کھڑا تھا۔ بلو اپر پہنے تھا۔ہڈ سر پر لیا ہوا تھا۔ مجھے دیکھ کر بھیڑ میں گھس گیا۔
    ہایون نے لمحہ بھر بھی تاخیر نہ کی تیز تیز قدم اٹھاتا بھیڑ کی جانب بڑھا۔ وہ بھی اسکے پیچھے بھاگئ آئی۔ چند لمحے لگے تھے اسے ڈھونڈنے میں۔ وہ اب ایک پاکستانی کپل کی تصویر بنا رہا تھا۔ جو گول گپے کھا رہے تھے۔
    ہایون اسکے سر پر جا پہنچا۔۔۔
    یہ لو۔ اس نے پیالہ اسکی جانب بڑھایا ۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے کیمرہ ایک ہاتھ میں لیکر دوسرے ہاتھ سے تھام گیا۔۔
    وے؟ ۔۔۔ وہ پوچھ رہا تھا۔ ہایون نے اسکے ہاتھ سے کیمرہ چھین کر فورا تصویریں دیکھنی شروع کردیں۔ وہ لڑکا حیران پریشان اسے دیکھ رہا تھا۔وہ دبلی پتلی جسامت کا اوسط قد کا حامل لڑکا تھا اسکے مقابلہ ہایون کا چھے فٹ سے اوپر قد اور جارحانہ انداز۔وہ قدرتی طور پر رعب میں آگیا تھا۔
    ویو؟کیا مسلئہ ہے آپکے ساتھ۔
    چوری چھپے تصویر کھینچتے ہو لڑکیوں کی شرم نہیں آتی۔ ؟ میں تمہیں پولیس کے حوالے کردوں گی۔ سمجھے۔
    اریزہ کی بھاگتے سانس پھول چکی تھی۔ مگر لڑکا وہی تھا۔ قریب آتے ہی اس پر چڑھ دوڑی۔۔ مگر اردو میں ۔وہ بے چارہ حیران پریشان اس افتاد پر بھونچکا سا کھڑا بٹر بٹر دیکھے جا رہا تھا۔
    کیا کہہ رہی ہو آگاشی۔
    ہایون نےجلدی جلدی اسکی پچاس سے اوپر تصویریں دیکھ لیں۔ مگر اسے اریزہ نظر نہ آئی۔
    اس نے اریزہ کو آنکھوں سے اشارہ کیا کہ بس کرے۔
    اسکا کیمرہ ہی توڑ دو تاکہ باز آجائے یہ۔
    اریزہ مزید تیز ہو کر بولی۔۔ ۔ ہایون نے کھسیانی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسکی جانب کیمرہ بڑھایا۔
    میں یہاں کا سرکاری فوٹوگرافر ہوں اس تقریب کے اہم مناظر عکس بند کرنے کیلئےمجھےبلایا گیا ہے خاص طور پر ۔۔۔۔
    وہ گلے میں لٹکا کوئی کارڈ دکھاتا درشتی سے بولا۔۔۔
    تم ہوتے کون ہو میرے کیمرے کو ہاتھ لگانے والے۔
    اس نے سارا رعب لحاظ بالائے طاق رکھا اور مڑ کر انتظامیہ کے اہلکاروں کو بلانے لگا۔ اتفاق یا بد قسمتی
    گول گپے ہی کھا رہے تھے شائد انہی کی تصویر بھی بنا رہا تھا وہ۔
    سیکیورٹی۔۔ ادھر آئو۔
    اس کے پکارنے پر منہ میں گول گپے بھرے وہ چندی آنکھوں والے اہلکار فورا متوجہ ہوئے۔ اس سے قبل کہ وہ یہ چند قدم کا فاصلہ طے کرتے ہایون نے کیمرے کا بڑا سا اسٹریپ اسکے گلے میں ڈالا اریزہ کا ہاتھ تھاما اور دوڑ لگا دی۔
    ہائیں۔ اریزہ بھونچکا سی اسکے ساتھ کئی قدم دوڑ گئ۔۔
    میری تصویر۔۔
    اریزہ نے ہاتھ چھڑاتے کہا۔ تو اس نے رک کر اسکا ہاتھ چھوڑا۔ اہلکار اس لڑکے تک چکے تھے اب معاملہ دریافت کیا جا رہا تھا۔
    ہایون نے گہری سانس بھری اور پھر دوڑ لگائی۔ فوٹوگرافر اسے دوبارہ اپنے روبرو دیکھ کر ابھی صرف حیران ہی ہو پایا تھا۔
    یہ میری دوست کا ہے۔ اس نے اسکے ہاتھوں سے سویوں کا پیالہ چھینا۔۔
    بیانئے۔۔ بیانمیتا۔۔
    معزرت بے حد معزرت۔
    جھک کے کہتا وہ واپس بھی اتنی ہی تیزی سے آیا تھا۔ اریزہ بھونچکا سی کھڑی اسکی پھرتی دیکھ رہی تھی۔
    بھاگو وہ پیالہ تھامے بھاگتا ہوا آیا تھا۔ اریزہ نے اسکے پیچھے دوڑ کر آتے اہلکاروں کو دیکھا پھر خود بھی دوڑ لگادی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بھاگتے بھاگتے دونوں کانسرٹ والے حصے میں گھس گئے تھے۔ یہاں بھیڑ بھی تھی اور شور بھئ۔اسٹیج کے قریب بس دو رویہ بیٹھنے کا انتظام تھا باقی پورا لان کھلا تھا۔ جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں کھڑے ہو کر پروگرام سے حظ اٹھا رہےتھے۔ ۔ کوئی ابھرتا ہوا کامیڈین اردو میں مزاحیہ خاکہ پیش کر رہا تھا۔ یہاں بڑی تعداد میں جنوبئ ایشیائی شکلیں تھیں سو یہاں گم جانا آسان تھا۔۔ اریزہ کی سانس پھول گئ تھی۔۔وہ وہیں ایک کونے کی طرف بڑھ گئ۔ ہایون نے بھی اسکی تقلید کی۔ بھیڑ میں گزرتے ایک جوڑا باتوں میں مگن ہاتھ میں کپ آئس کریم پکڑے تھا اس نے آرام سے ان چھوئے والے کپ سے چمچ اٹھا لیا۔ پیالے میں رکھ کر پیالہ اسکی جانب بڑھا دیا۔
    تصویر۔
    ہایون نے یقینا طنز کیا تھا۔
    تصویر۔ اریزہ نے آنکھیں پھاڑیں۔ یہ اچھا انکے بولے الفاظ یاد کر لیتا تھا۔۔ کمپیوٹر کہیں کا۔
    اسکے کیمرے کو اچھی طرح دیکھا میں نے۔ ہایون اس بار انگریزی میں بولا۔ کوئی ایک تصویر بھی تمہاری نہیں۔۔
    اتنی سی دیر میں سب دیکھ لیا؟ اریزہ مشکوک تھی۔
    ہاں تو دو سال لگاتا ۔۔ وہ منہ بنا کر بولا۔
    کھائو۔۔ اس نے پیالہ اسکی جانب پھر بڑھایا۔
    آنیا۔ اس نے سر ہلادیا۔
    جانے دو مجھے نہیں کھانا۔۔ اسکا موڈ خراب ہو رہا تھا۔ ہایون نے کندھے اچکا دیئے پھر خود کھانے لگا۔
    سویٹ نوڈلز پہلی بار کھائے ہیں مزے کے ہیں۔
    وہ چسکے لے رہا تھا۔
    اریزہ نے کچھ کہنا چاہا پھر ہوںٹ بھینچ گئ۔ اس نے متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ نہ سالک نہ شاہزیب نہ ہی ایڈون اور سنتھیا کوئی بھی تو دور دور تک نظر نہ آرہا تھا۔
    اس کا منہ پھول گیا۔
    اسکا فون اب دوبارہ بج رہا تھا۔ بابا کالنگ۔ وہ ایکدم خوش سی ہوگئ۔۔
    عید مبارک بابا۔
    اس نے خوشی سے زور دار آواز میں کہا۔ اسکی آواز سن کر بے ساختہ انکے چہرے پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئ۔
    عید مبارک بیٹا۔ کیسی ہو ؟
    میں ٹھیک ہوں آپ کیسے۔؟
    وہ محبت سے بولی۔
    میں بھئ ٹھیک ہوں۔اور میری گڑیا تیار ہوئی عید پر؟
    جی بابا۔۔ اس نے کہتے زور و شور سے سر ہلایا۔
    چلو پھر میں ویڈیو کال کرتا ہوں۔
    انہوں نے کہا تو اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔ اس نے ایک کان پر ہاتھ رکھا ہوا تھا تب بات سن پا رہی تھی۔
    بابا ہینڈز فری نہیں ہے پاس اور میں یہاں باہر آئی ہوئی ہوں شور بہت ہے ہاسٹل جا کے بات کرتی ہوں ۔۔
    چلو ٹھیک ہے میں ابھی جاگ ہی رہا ہوں اچھا آرام سے جب وقت ملے فون کر لینا۔۔
    وہ بھی فورا مان گئے اسکے پیچھے سے آتا شور انکو بھی سنائی دے رہا تھا
    اوکے بابا لو یو بائے۔
    اس نے فون کو باقائدہ چوم کر خدا حافظ کہا۔ کال بند کرکے سر اٹھایا تو ہایون کو دلچسپی سے محظوظ انداز میں دیکھتا پایا۔
    بوائے فرینڈ تھا ؟
    دے؟ اسکی آنکھیں ابلیں۔
    جی نہیں والد تھے میرے۔ اس نے ناک چڑھا کر بتایاپھر جتایا۔
    حدہے پہلے سنتھیا کو میری گرل فریںڈ بنا دیا اب بابا کو۔۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کے علاوہ انسان کی زندگی میں اور بھی رشتے ہوتے ہیں۔
    تو سنگل ہو یعنی؟
    اس نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا۔۔۔
    اس نے سر جھٹکا پھر اپنی سیلفی لینے لگی۔
    ٹوٹی اسکرین پر تصویر کے دو حصے ہو رہے تھے۔
    کیا خبر تھی فون ٹوٹ جائے گا کچھ پیسے ہی سیو کرلیتی۔
    اسے خود پر غصہ آیا۔۔
    لعنت ہو مجھ پر۔ اس ڈریس میں جھونک دیئے اتنے پیسے۔
    اس نے اپنے کپڑوں پر جھلا کر ہاتھ مارا۔
    کیا ہوا ؟ سب ٹھیک ہے؟
    اس کی بڑبڑاہٹ اسے سمجھ تو نہ آئی تھی مگر جھلاہٹ نے پوچھنے پر مجبور کر دیا تھا۔
    کچھ نہیں۔ آئی مین۔ آنیا۔
    اس نے سر جھٹکا۔
    تصویر بنانئ ہے؟ لائو میں بنا دوں؟
    وہ سیلفی ہی لے رہی تھی جبھی اس نے اندازہ لگایا۔ اس نے بھی اندھا کیا چاہے دو آنکھیں فورا موبائل اسے تھما دیا۔
    پوری لینا۔ پورا ڈریس آنا چاہیئے۔
    اس کو بابا کو ڈریس بھی دکھانا تھا اور اسکے پیسے بھی بتانے تھے۔
    مجھے پہلے خیال کیوں نہ آیا۔ اسکی آنکھیں چمک گئیں۔ ہایون اسکے موبائل میں اسی کو فوکس کر رہا تھا۔
    بابا کو قیمت بڑھا کے بھئ تو بتائی جا سکتی تھی۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ اسٹیج کی۔طرف ہی روشنی ذیادہ تھی اسٹیج کے بائیں جانب پھولوں کا کنج تھا
    ادھر آئو۔
    وہ اسکو کہتی تیزی سے اس کونے کی جانب بڑھی۔ ہایون کا منہ کھلا رہ گیا۔ اسے لگا تھا اسکے پل پل بدلتے تاثرات تصویریں بنوانے کیلئے ہی تھے۔ وہ دو تین اسکے موبائل میں کھینچ چکا تھا۔
    خاموش تصویریں کلک تک کی آواز اسکے فون میں بند تھی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکے ہاتھ میں فون بھی بند ہو گیا۔
    اریزہ پھولوں والی باڑ کے پاس جا کھڑی ہوئی۔
    آئو نا۔ وہ پکا ررہی تھی۔ ہایون نے اسکے موبائل کا آن کا بٹن دبایا مگر وہ آن ہوا ہی نہیں۔
    اریزہ ذرا سا ترچھئ ہو کر کھڑی پوز بنا رہی تھی۔ ایک بازو کہنی سے ترچھا کرکے دوسرے ہاتھ سےنزاکت سے ہاتھوں میں ہاتھ تھامے بالکل ماڈلز کی طرح۔
    اس نے مسکراہٹ دباتے اسکی تصویر کھینچی۔
    ایک ایسے۔
    اب اس نے رخ بدلا تھا۔۔ تبھی اسکی نگاہ فاصلے پرسامنے سے آتےیون بن گوارا پر پڑی۔ گوارا اسے دیکھتے ہی ہاتھ ہلانے لگی تصویر بنانا بھول کر وہ زور و شور سے ہاتھ ہلاتی مسکرائی تھی۔ یہی منظر تصویر میں قید ہو گیا تھا۔
    بس کافی ہے۔ چلو وہاں چلیں۔
    اس نے فورا پینترا بدلا تھا۔ ہایون نے کندھے اچکا کر اسکا موبائل اسے واپس کر دیا۔ اور جوابا اس نے شکریہ بھی کہنا ضروری نہ سمجھا تھا تیزی سے گوارا کی جانب بڑھ گئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہنگن دریا کے مشرقی کنارے اسے سنتھیا ضد کرکے لائی تھی۔ دریا کنارے بنے واکنگ ٹریک پر اس وقت بس وہی دونوں تھے۔ یہاں قدرے فاصلے سے لیمپ پوسٹ تھے جن کی روشنی خاصی ناکافی تھی پراسرار اور ملگجے اندھیرے سےسجے اس ٹریک سے نیچے نشیب تھا پھر گھنی جھاڑیاں تھیں اسکے نیچے چلتا ہوا دریا۔ فضا میں جھینگروں اور اوپر سے گزرتے پل پر رواں ٹریفک کا شور تھا۔
    سنتھیا کو یہاں آکر یک گونہ سکون سا ملا تھا۔
    اتنا تیار ہو کر یہاں لے آئی ہو کوئی ہوائی مخلوق عاشق ہوگئ نا تو مجھے ہی اٹھا کر سیدھا دریا میں پھینک دے گی۔
    ایڈون نے محتاط سے انداز میں اسے یہاں آنے پر ہی ٹوکا تھا مگر سنتھیا بے نیازی سے بولی
    میں نے صلیب پہن رکھی ہے۔ ہمارے قریب بھی کوئی نہیں آسکتا۔
    پھر بھی یہ وقت یہاں آنے کیلئے مناسب نہیں ہے۔ ہم اجنبی ملک میں ہیں۔ یہاں کا ہمیں ماحول کا پتہ نہیں۔
    ایڈون نے سمجھانا چاہا تو وہ چڑ گئ
    پاکستان سے تو ذیادہ محفوظ ہے۔۔ اور جو تمہیں عید ملن چھوڑ کر آنے کا دکھ ہو رہا تو راحت فتح علی خان نہیں آنے والے تھے وہاں ۔ اور باقی کوئی سنگر تمہارا پسندیدہ نہیں تھا۔۔
    وہ بحث کے موڈ میں تھئ۔ ایڈون نے خاموشی کو بہتر جانا۔۔
    کتنی ہی دیر وہ دونوں خاموش ایک لفظ بولے بنا ٹہلتے رہے کہ سنتھیا خود سے لڑتے لڑتے تھک گئ۔ ٹریک کے ساتھ بنت سنگی بنچ پر خاموشی سے جا بیٹھی۔ ایڈون کو دو تین قدم چلنے کے بعد احساس ہوا کہ وہ ساتھ نہیں۔مڑ کر دیکھا تو وہ سنگی بنچ پر سر جھکائے دونوں ہاتھ ٹکائے ہارے ہوئے انداز میں بیٹھئ تھی۔ اس نے ذرا دھیان سے دیکھا اسے۔
    سرمئی جامنی نیلے امتزاج کی اس فراک میں وہ نہایت نازک سی لگ رہی تھی۔ لانبا دوپٹہ اس نے کندھے پر ایک جانب ڈال رکھا تھا۔ اسکے بال گھنے سیاہ سیدھے اور کمر تک آتے تھے اس وقت بھی پشت پر آبشار سی بکھری تھی۔ ہلکے پھلکے میک اپ میں وہ اس وقت کافی حسین لگ رہی تھی۔ مگر اسکا دل بالکل خاموش سا تھا۔
    جانے کیوں اسکے ساتھ یہ ہونے لگا تھا۔ اسکے پاس باتیں ختم سی ہوگئ تھیں۔سنتھیا اسکے ساتھ اکیلے وقت گزارنا چاہتی تھی باتیں کرنا چاہتی تھی مگر جانے کیوں اسکا ذہن بالکل خالی ہوجاتا تھا۔ کوئی بات کوئی چیز ذہن میں آتی ہی نہ تھی وہ کسی روبوٹ کی طرح اسکا ساتھ دینے کی کوشش کرتا تھا۔ اسے اپنی اس کیفیت سے خود خوف آنے لگا تھا۔
    سنتھیا کو جانے اسکی نظروں کا احساس ہوا تھا یا یونہی اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چونک کر سنبھل کر مسکراتا اسکے پاس چلا آیا۔
    بس تھک گئیں۔۔۔ ابھی تو ہمیں واپس بھی جانا ہے
    وہ ہلکے پھلکے سے انداز میں کہتا اسکے برابر آن بیٹھا۔
    ہمم۔۔ وہ قصدا مسکرائی۔
    بھوک لگی؟ مجھے تو بہت ذوروں کی لگ رہی ہے۔ کیا کھائو گی؟
    ایڈون نے پوچھا تو وہ سر جھٹک کر بولی
    مجھے کورین کھانے نہیں کھانے کسی انڈین ریستوران چلتے ہیں۔
    ہمم۔ چلو اریزہ کو بھی ساتھ لے لیں گے۔ اب تو تقریب بھی ختم ہونے والی ہوگی۔
    وہ روانی میں کہتا اٹھا سنتھیا ہونٹ بھینچ کرچند لمحے سوچ کر بولی
    اریزہ گوارا وغیرہ کے ساتھ ہے یقینا انکے ساتھ چلی جائے گی ہاسٹل ہم دونوں چلتے ہیں نا بس۔
    اس نے کوشش کرکے اپنا بولنے کا انداز سادہ سا ہی رکھا تھا۔
    ایڈون نے گہری سانس لیکر اسکے تاثرات دیکھے پھر سر ہلا دیا۔
    ٹھیک ہے چلو۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خلاف توقع ان سب کو اس تقریب میں خاصا مزا آیا تھا۔ گوارا نے سندھی اجرک بڑے شوق سے خریدی تھی اب اپنے آف شولڈر ٹاپ کے اوپر کاندھوں پر ڈالے مزے سے پوز بنوا بنوا کر تصویریں کھنچوا رہی تھی۔ یون بن نے بھی سندھی ٹوپی خریدی تھی اس وقت جینز شرٹ کے اوپر یہی پہنے تھا۔ گھنے بال ماتھے پر بکھرے تھے۔ جو ٹوپی کے اگلے کٹائو سے جھانک رہے تھے۔کم سن کا چاٹ کھانے سے برا حال ہوا وا تھا سالک اور شاہزیب اسکا مزاق اڑا رہے تھے۔ ہایون گوارا کا فوٹو گرافر تھا۔ تصویریں کھینچ کھینچ کے وہ تھک گیا تھا یون بن بھی تھک گیا تھا مگر گوارا کی ہمت جوان تھی۔ وہ سب اس وقت باہر آچکے تھے پارکنگ کے قریب سڑک پر شغل جاری تھا۔ وہ تھوڑا بے چین سی ہو رہی تھی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ان سب کا واپسی کا ارادہ نہیں تھا۔
    اچھابس اب ہم چلتے ہیں۔ ہایون نے آخر اسکے اس فوٹو سیشن کا اختتام کردیا۔
    چلو پھر آجائو میری گاڑی کی سواریوں۔
    یون بن نے نعرہ لگایا پھر بندے گن کر پوچھنے لگا۔
    ایڈون اور اسکی گرل فرینڈ کہاں ہیں؟
    وہ دونوں کب کے جا چکے ہیں۔
    شاہزیب نے بتایا تو وہ پریشان سی ہوگئ
    سنتھیا کہاں چلی گئ مجھے چھوڑ کر؟
    اسکے ایکدم پریشان ہونے پر سالک نے اسے تسلی دی۔
    تو کیا ہوا ہم تو ہیں نا۔ چلو یار اب چلیں۔ وہ اب شاہزیب کم سن وغیرہ سے کہہ رہا تھا۔
    چلو۔ کلب چلتے ہیں۔ یہ مشورہ ہایون کا تھا جس سے سب نے اتفاق کیا۔
    ہاں ٹھیک ہے۔ وہ سب پر جوش سے ہوئے
    ہم گاڑیاں نکال کر لاتے ہیں۔
    یون بن اور ہایون پارکنگ کی جانب بڑھ گئے۔
    گوارا تم تو گھر جائوگی نا ؟
    اس کو واحد امید گوارا ہی لگی۔ اسکے پاس آکر امید بھرے انداز میں پوچھا۔
    نہیں کیوں بھلا۔ کل چھٹی ہے اتنی جلدی گھر جا کر کیا کرنا اس شمالی کوریائئ لڑکی کو دیکھوں جا کر یار قسم سے بھوتنی ہے پوری۔ گھپ اندھیرے میں بیٹھی رہتی ہے ہر بات کا الٹا جواب سڑی سی شکل بناکر دیتئ عجیب نفسیاتی سی ہے۔ ہایون نے سفارش نہ کی ہوتی تو پکا۔۔
    مجھے گھر جانا ہے۔ اریزہ نے اسکی بات کاٹ کر بے تابی سے بتایا۔
    دیوار پھلانگنی آتی ہے؟
    گوارا سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔
    نہیں کیوں؟ وہ اس بے محل سوال پر الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگی
    اسلیئے کہ رات کے گیارہ ہو رہے ہیں ۔ ہاسٹل میں مین گیٹ دس بجے بند ہوجاتا اسکے بعد جا کر یا تو اپنی بستی کروا کر یو لگوا کر اندر جا سکتے یا دیوار پھلانگ کر ۔۔
    گوارا بے نیازی سے بولی
    پھر۔
    اسکے تو ہوش اڑ گئے۔ گھبرا کر پوچھا۔
    پھر یہ کہ میرے ساتھ چلنا فلیٹ پر۔مگر ابھی پہلے کلب چلو۔ میرا اتنی جلدی واپسی کا کوئی موڈ نہیں۔
    یون بن گاڑی موڑ کر لے آیا تھا وہ اسکا ہاتھ تھامتی بولی تو اریزہ نے بھی بے چارگی سے خود کو حالات کے حوالے کردیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلب میں گوارا کا ہاتھ تھامے وہ کسی ننھی بچی کی طرح ہی داخل ہوئی تھی۔ داخلے سے لیکر راہداری سے گزرتے مین ڈانسنگ فلور تک لوگ ہی لوگ تھے مگر انکے لیئے سرعت سے راستہ بنتا جا رہا تھا۔لوگ پہلے چونک کے دیکھتے پھر گھورتے پھر فورا ایک قدم پیچھے ہو جاتے۔ وہ بری طرح سٹپٹا گئ تھئ۔ گوارا اسکے برعکس لاپروا سی تھی۔ اس نے ڈانسنگ فلور پر جا کر ہی اسکا ہاتھ چھوڑا تھا۔ او رخود بھی جھومنے لگی۔ یون بن سالک شاہزیب ہایون سب ڈانسنگ فلو رپر آچکے تھے۔ اجنبی دھن پر مگن ناچتے۔ اسے ایکدم یہ سب بہت برا اور عجیب سا لگا۔ ابھی کل تک رمضان تھا روزے رکھ رہے تھے عبادت میں مشغول تھے اور آج عین عید کے دن یہاں سب بھول بھلا کر ناچنا۔
    وہ پلٹ کر ڈانس فلور سے اتر آئی۔ ڈسکو لائٹس ملگجی روشنی اسے اس منزل پر ہی شدید گھٹن ہونے لگی تھی۔
    وہ انکو نظروں میں رکھتے ہوئے ہی فلور سے دور سجی نسبتا کونے میں رکھی میز کرسی پر آن بیٹھی۔
    اسے شدید نیند آنے لگی تھئ۔ سحری کے بعد سونے کی عادت تھی رات کو نیند بھی دیر سے آئی تھی۔ اس وقت تو سر میں دھماکے سے ہونے لگے تھے۔
    اس نے دونوں کہنیاں میز پر ٹکا کر اپنا چہرہ بازوئوں میں چھپا لیا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ ایک پاکستانی ریستوران تھا۔ جس نے عید کی۔مناسبت سے نا صرف ریستوران کو آرائشی قمقموں سے سجا رکھا تھا خاصا ڈسکائونٹ دے رکھا تھا۔ کوئی وائوچر بھی تھا ایڈون کے پاس کھانا خاصا سستا اور ذائقے دار تھا۔ سنتھیا کا مزاج اب بہتر ہوگیا تھا۔مستقل بولتے ہوئے اس نے
    بریانی چکن کڑاہی خوب دل بھر کے کھائی۔ پھر خیال آیا۔
    اریزہ کو بھی لے آتے ہم اسے بریانی کھانے کا دل کر رہا تھا۔
    وہ بے دھیانی میں بول گئ تھئ۔ ایڈون نے ایک گہری نگاہ ڈالی تھی اس پر بولا کچھ نہیں۔ وہ پھر بھی شرمندہ سی ہوگئ۔
    خجل ہو کر بات بدل گئ۔
    بابا نے عیدی بھجوائئ ہے؟ کہہ رہے تھے تمہیں بھیجیں گے۔
    ہاں۔ ایڈون نے مختصر کہہ کر ویٹر کو بل لانے کا اشارہ کیا۔
    وائو۔۔ مل گئ کتنی ہے؟ وہ بچوں کی طرح خوش ہوئئ۔
    ہم کل جیجو آئی لینڈ چلیں ۔میں نے کبھی جزیرہ نہیں دیکھا۔ سنا ہے خاصئ خوبصورت جگہ ہے۔
    ہم ابھی کہاں جائیں گے یہ سوچو۔ ایڈون نے اسکے انڈوں کی ٹوکری کو سر پر سے بے دردی سے گرادیا
    کیوں؟ اسکا سوال بجا تھا۔
    محترمہ ہم لیٹ ہو چکے ہیں۔ہاسٹل کے دروازے ہم پر بند ہو چکے ہیں۔گیارہ بج رہے ہیں۔
    ایڈون نے اپنی کلائی اسکی نگاہوں کے سامنے کی۔ نئی چمکتے ڈائل والی گھڑی ۔ سنتھیا نے نگاہ چرا لی۔
    پھر۔
    ایڈون نے اپنی پیشانی مسلی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈانس فلور پر ناچتے جھومتے اسے اس لڑکی نے خود آکر ڈانس کی آفر کی۔ سنہری رنگت والی چندی آنکھوں میں نشے کا خمار تھا۔ اسکے ساتھ ناچتے ہوئے وہ ہوش کھو رہی تھی۔ اس نے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے ڈانس فلور سے باہرلا کر ٹیبل پر لا بٹھایا۔ پاس سے گزرتی ویٹرس کو اسکے لیئے پانی لانے کا کہا۔ وہ وہیں میز پر سر رکھ کر ڈھے سی گئ۔
    سومیا۔
    کوئی لڑکی اسکا نام پکارتی اسکے پاس آئی۔
    ہایون اسے اسکو سنبھالنے کا اشارہ کرتا خود کم سن کو ٹیکسٹ کرنے لگا
    میں جا رہا ہوں گھر تم نے چلنا ہے۔
    چند ہی لمحوں میں جواب آیا تھا۔۔
    آندے تم جائو میں یہیں ہوں۔
    اس نے گہری سانس لی۔ اسکا دل کلب سے جلدی بھر جاتا تھا جانے کیوں۔ شائد وہ سنگل تھا اسلیئے۔ مگر بہت سے سنگل لوگ بھی یہاں ہلڑ بازی کرتے ناچتے گاتے حظ اٹھاتے ہی تھے۔
    تم ایک بوڑھی روح ہو ہایون۔ جوزن ایرا کے باسی جسکو آج سے کئی سو سال قبل پیدا ہونا تھا مگر لیٹ ہوگیا۔
    نونا اسکے کان کھینچتے اکثر یہ جملہ کہتی تھیں۔ ابھی بھی ذہن میں انکے الفاظ گونجے تو وہ ذرا سا ہنس کر سر جھٹکنے لگا۔
    پیدا تو خیر مجھے ابھئ بھی نہیں ہونا چاہیئے تھا بلکہ کبھی بھی نہیں ہونا چاہیئے تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گڑیا۔یہاں سو گئیں۔
    کسی کی نرم سی آواز اسکے کان میں گونجی تھی۔ اس نے کسمسا کر اس نرم سے لمس کو محسوس کیا تھا۔
    اتنے آرام سے ہلاتے رہو گے تواٹھے گی ہی نہیں۔ کتنی بار کہا ہے اسکو اپنے کمرے میں جا کے سویا کرے جانے اس صوفے پر کیسا نشہ ہے اسکول سے آکر بھی یہیں سو جاتی ہے۔
    امی اسے اٹھاتے جھلا کر بول رہی تھیں
    چھوڑیں امی سونے دیں۔ میں اسے گود میں اٹھا کر چھوڑ آتا ہوں۔
    حماد نے نرمی سے اسکو بازوئوں میں اٹھایا تھا
    سات آٹھ سالہ اریزہ کو گود میں اٹھا کر اسکے بستر پر لے جا کر بہت احتیاط سے لٹادیا تھا۔
    اس نے کسمسا کر ذرا سی آنکھ کھول کر دیکھا۔ حماد کا مسکراتا چہرہ نگاہوں کے سامنے تھا۔
    سو جائو ۔۔۔۔ اس نے پیار سے تھپکا۔
    اس نے دوبارہ آنکھیں بند کیں پھر گھبرا کر کھولیں۔ حماد کی پیشانی سے خون کی لکیر سی اسکے گال تک بہتی چلی آئی۔ مسکراہٹ دھیمی پڑتی گئ۔ دھوئئیں کے بادل سے اسکے اورحماد کے بیچ حائل ہونے لگے
    اس نے پکارنا چاہا ۔۔ اسکی زبان گنگ سی ہوگئ۔ بری طرح خوفزدہ ہو کر اس نے پکارنا چاہا۔ کہ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سرسری سی طائرانہ نگاہ کلب پر ڈالتا باہر نکلنے کو تھا کہ عجیب سا احساس ہوا۔ وہ بڑھتے بڑھتے رک کر پلٹ کر دیکھنے لگا۔۔ نیم تاریک اس کونے میں گلابی دوپٹے سے ڈھکاشناسا وجود۔میز پربازوئوں میں سر رکھے اسے مغالطہ ہوا تھا کہ کیا اسے لگا وہ کانپ رہی ہے۔ اس نے پلٹ کر گوارا وغیرہ کو دیکھا وہ سب ڈانس فلور پر ناچنے میں مگن تھے۔
    وہ کچھ سوچ کر اسکے پاس چلا آیا۔
    ہلکے سے گلا کھنکار کر پوچھا۔
    اریزہ شا۔ گھر جانا ہے ؟
    اسکے سوال کے جواب میں کوئی ردعمل سامنے نہ آیا تھا۔
    اریزہ۔۔
    اس نے جھک کر اسکو دیکھنا چاہا۔
    اسکا چہرہ چھپا ہوا تھا دوپٹے میں۔ مگر اسکو دیکھنے پر اندازہ ہوتا تھا وہ لرز رہی ہے۔
    حم۔ حماد۔ بھ۔ بھائی۔
    وہ شائد کچھ بڑبڑا بھی رہی تھی۔۔
    اریزہ۔۔۔
    اس نے ذرا سا جھک کر اسکا کندھا ہلایا۔
    اسکی ایکدم سے آنکھ کھلی تھی۔ ملگجا اندھیرا۔ نا مانوس ماحول شور۔ اسکی سانس بند ہونے لگی۔ وہ خواب سے جاگ کر بھئ جاگ نہ سکی تھی۔
    اریزہ۔
    ہایون نے جھک کر اسے ہلایا۔وہ ایکدم جھٹکے سے اٹھی اسکا بازو اس نے پوری قوت سے دور کیا تھا۔ اسکے منہ سے گھٹی گھٹی سی آوازیں نکلی تھیں جیسے وہ چلانا چاہ رہی ہو۔مگر آواز نہ نکل رہی ہو۔
    حم۔۔ ۔۔ وہ پکار رہی تھی مگر لفظ منہ سے نکل نہیں رہے تھے۔
    اریزہ۔ اسکی حالت سے گھبرا کر اس نے اسکو کندھوں سے تھامنا چاہا مگر اس نے بری طرح اسکو جھٹک کے پیچھے کیا۔ اسکا ہاتھ ہایون کی ناک پر لگا تھا۔ مگر وہ پھر بھی اسے تھامنے آگے بڑھا۔ اسکو سانس لینے میں سخت دشواری کا سامنا ہو رہا تھا۔ بری طرح ہانپتے ہوئے اس نے کھڑا ہونا چاہا مگر آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔
    اریزہ۔
    وہ اسکے قریب آنے پر مزید بوکھلا رہی تھی۔ اس بار اس نے اسے تھامنے کی کوشش کرنے کی بجائے پکارنے پر اکتفا کیا۔فل بجتی موسیقی میں اسکو کافی زور لگا کر پکارنا پڑ رہا تھا۔
    اریزہ ۔۔ اریزہ۔۔۔اس نے زرا زور سے پکارا۔
    اس تیسری آواز پر اس نے پہچانا تھا اسے۔ اسکی آنکھوں میں شناسائی کی رمق دیکھ کر وہ ہمت کرکے اسے تھامنے بڑھا مگر لمحہ بھر کی ہی بات تھی ہانپتے ہوئے وہ لہرائی سہارے کیلئے کرسی کو تھامنا چاہا مگر ناکام ہوتے کھڑے قد سے لہرا کر زمین پر گر سی گئ۔ہایون دم بخود سا اسے گرتا دیکھ رہا تھا۔
    کین چھنا۔ وہ گھبرا کے اسکی جانب بڑھا۔ پھر خیال آیا۔تو انگریزی میں بولا۔
    آر یو آل رائٹ؟ اریزہ؟
    ہایون نے آگے بڑھ کر سہارا دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا وہ خالی خالی۔نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بڑے سے سیون الیون کے باہر سجی میز کرسی پر وہ بیٹھی اپنی ہتھیلیاں مسل رہی تھی۔ ہایون بنانا ملک اور چیز سینڈوچ خرید کر لایا لا کر اسکے سامنے میز پر رکھا۔
    اس نے خجل سا ہو کر سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھی۔ ہایون نے سفید براق اپر پہن رکھا تھا۔ اسکا ہاتھ لگنے سے اسکی نکسیر پھوٹ گئ تھئ۔ اسکے اپر پر خون کے کئی چھوٹے چھوٹے دھبے تھے۔۔
    اس نے ناک کے نتھنے میں ٹشو رول کرکے رکھا ہوا تھا۔
    بیانئے۔ اس نے کہتے ہی سر جھکا لیا تھا۔
    بیانئے خود سے کہو پہلے۔۔۔ وہ تیز ہو کر بولا۔
    تمہیں پتہ ہے کتنا ذیادہ بی پی لو تھا تمہارا۔ بیہوش ہوتے ہوتے بچی ہو۔ کھانا نہیں کھایا ہوا تھا کیا تم نے؟
    اس نے سر جھکائے جھکائے ہی نفی میں سر ہلایا
    ہائش۔ اسکو اندازہ تھا۔ بس سر پیٹ کر رہ گیا۔
    چلو یہ کھائو۔ پیور ویج ہے۔
    اس کے تسلی دلانے پر اس نے سینڈوچ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
    بھوک تو اسے واقعی لگ رہی تھی۔ مگر یہ خواب جانے کب اسکا پیچھا چھوڑنے والے تھے۔ اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔ جتنا وہ خود کو مضبوط بنانا چاہتی تھی اتنا کمزور پڑ جاتی تھئ۔
    ہایون نے اپنے لیئے کاربونیٹڈ ڈرنک لیا تھا۔ اسکے مقابل بیٹھ کر وہ گھونٹ گھونٹ ختم کرنے لگا۔
    تم ڈرائونا خواب دیکھ رہی تھیں؟
    ہایون کو اپنا وقت یاد آگیا تھا سو نرمی سے پوچھا
    اریزہ نے سر مزید جھکا لیا۔ یقینا وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔
    تم لوگ عید کیسے مناتے ہو؟ میرا مطلب ہے پاکستان میں بھی کانسرٹ میں جاتے ہو ؟ ایسے ایونٹس ہوتے ہیں وہاں؟
    وہ بات بدلنے کی غرض سے پوچھ رہا تھا۔
    نہیں۔ وہاں ہم رشتے داروں کے گھر ملنے ملانے جاتے ہیں۔ دوستوں سے ملتے ہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بناتے ہیں۔ اور۔۔
    اس نے سوچنا چاہا مگر احساس ہوا۔ پچھلی کئی عیدیں بیڈ پر اینڈتے امی کی صلواتیں سنتے گزاری ہیں۔ سنتھیا آجاتی تھی تب وہ بستر سے طلوع ہوتی تھی۔ تب امی کو اور غصہ آتا تھا۔ جب تیار ہو کر دونوں نیچے تو آجاتی تھیں مگر ڈائٹنگ کے نام پر انکی پکائی ایک چیز کو ہاتھ لگانے کو تیار نہ۔ہوتی تھیں
    ناقدری ہو تم۔ ارے نصیب والوں کو عید کےدن اتنی نعمتیں نصیب ہوتی ہیں اور تم ناشکری کرتی ہو۔ اچھے سے اچھا کھانے کو موجود ہے پورا مہینہ اسکی رضا کیلئے بھوک ماری ہے تو آج اسکی نعمت کا شکر اداکرو۔۔ نماز پڑھو جی بھر کھائو خوش ہو۔ مگر یہ آج کل کی نسل ہی ایسی ہے۔ انکا سوچو جو عید کے دن بھی فاقے کررہے ہوتے ہیں کتنوں سے خوش نصیب ہو کیا یہ شکر کا مقام نہیں؟ نعمتوں سے منہ موڑنا ناشکری ہوتا ہے کسی دن عید پر اپنے ہاتھوں سے منہ میں نوالے ڈالنے والی ماں پاس نہ ہوگئ تو احساس ہوگا۔
    ہر دیسی ماں کی طرح آخر میں وہ ایموشنل بلیک میلنگ پر اتر آتی تھیں۔اور وہ دونوں انکے دائیں بائیں کندھے پر جھک کر انکے گال چوم لیتی تھیں۔
    اچھا نا صارم سے کہیں پہلے ہمیں گھما لائے پھر ہم پکا رات کو یہ سب کھائیں گے۔ وعدہ۔
    کرما تھا یا مکافات عمل اسکے سامنے آگیا تھا۔ عین عید کے دن بھوک سے نڈھال ایک اجنبی کی عنایت ۔۔۔ اس نے جھر جھری سی لی تھی۔
    تمہیں پینک ڈس اوڈر( Panic disorder) ہے؟
    ہایون نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے اچانک پوچھا تھا۔ وہ بری طرح چونک کے دیکھنے لگی تھی اسے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اریزہ میری ناک دیکھو مجھے لگ رہا ہے مزید ڈھے گئ ہے۔۔
    لفٹ میں لگے شیشے میں اپنا چہرہ دیکھتی گوارا پریشان ہو اٹھی تھئ۔ اس نے شیشے سے ناک چپکا رکھی تھی۔ جبھی یہ وہم ہو رہا تھا۔
    نہیں بالکل ٹھیک ہے ادھر مت دیکھو۔
    اریزہ نے اسکوبمشکل پیچھے کیا وہ لہرا کر دوبارہ شیشے پر آرہی اسکا منہ سیدھا شیشے پر لگتا جبھی اس بے فورا اپنی ہتھیلی آگے کردی۔ ٹھک سے اسکی ناک اسکی ہتھیلی پر لگی تھی۔
    اس طرح مدہوش ہونے میں کیا مزا آتا ہے تم لوگوں کو۔
    وہ خاصا چڑ کر بولی تھی۔
    جوابا یون بن ہنسا تھا۔
    یہ گوارا ایسے ہی کرتی ہے۔ میں تومدہوش نہیں ہوتا۔
    وہ کہہ کر ہایون کے کندھے پر سر ٹکا گیا۔
    ہایون یار اس لفٹ سے کہو اوپر جائے یہ دائیں جانب جارہی ہے۔۔
    اریزہ نے تاسف سے دیکھا۔۔ ہایون اسکی جھلاہٹ پر ہنس دیا۔
    میں نے پہلی دفعہ کسی کو کوئی ایسا تہوار مناتے دیکھا ہے جس میں شراب کا عمل دخل نہیں تھا۔
    ہایون نے کہا تھا۔ اسے لگا تھا اریزہ کوئی وضاحت دے گی مگر وہ چپ رہی۔ تبھی لفٹ کا دروازہ کھل گیا۔ گوارا جو ابھی تک اسکی ہتھیلی سے ناک چپکائے کھڑی تھی ایکدم سے لفٹ کا دروازہ کھلتے ہی باہر نکلنے لگی
    ارے رکو۔ اریزہ فورا مستعد ہوئی مگر تب تک وہ لفٹ کے باہر دراز ہوچکی تھی۔ ہایون نے یون بن کو چھوڑا او رآگے بڑھ کر اسے اٹھانے لگا۔
    گوارا نے ہڑبڑا کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
    میری ناک گر گئ۔
    کوئی نہیں گری لگی ہوئی ہے منہ پر۔
    اریزہ چڑ کر بولی۔
    یون بن اور ہایون اسے اور گوارا کو اپارٹمنٹ تک چھوڑنے آئے تھے۔ گوارا مکمل طور پر مدہوش تھی۔۔ یون بن بھئ جھوم رہا تھا مگر اسکا حال اتنا خراب نہ تھا۔ ہایون گوارا کو سہارا دیئے تھا
    اریزہ میری ناک گر گئ باہر اٹھا لائو۔۔۔۔سیلیکون کی ہوگی۔۔
    بہت۔۔
    گوارا دہائی دے رہی تھی۔
    ابھی اصلی ہی ناک ہے تمہاری اور لگی ہوئی ہے منہ پر تمہارے۔
    نہیں گر گئ وہاں گری تھی میں نا تو۔۔ لا کر لگا دو واپس۔ میں لاتی ہوں
    وہ دہائیں دے رہی تھی۔ ہایون نے اسے صوفے پر لا کر بٹھا یا تواٹھ کر جانے لگی۔
    اریزہ کو اسکی بات پر اس بار ہنسی ہی آگئ تھی۔ ہلکے سے اسکی ناک دبا کر تسلی دی۔
    یہ لو لگا دی واپس۔
    تھائی نیئے۔اس نے اپنی ناک چھو کر تسلی کی۔ پھراطمینان ہوا تو دوبارہ بیٹھی۔۔ پھر خیال آیا تو بیٹھے بیٹھے رکوع میں اریزہ کے سامنے جھک گئ۔
    گوما وویو اریزہ۔۔ تم بہت اچھی ہو میری ناک واپس لگا دی۔
    ہایون نےیون بن کا کندھا تھپتھپایا۔
    اچھا میں جا رہا ہوں تم نے چلنا ہے۔
    جوابا یون بن مزید صوفے پر ںیم دراز ہو گیا۔
    آنیا۔۔ بالکل ہمت نہیں۔۔۔
    اس نے کہہ کر آنکھیں بھی بند کر لیں۔ اریزہ گوارا کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    گوارا اندر کمرے میں چل کر لیٹ جائو۔۔
    دے۔ ( اچھا) اٹھتی ہوں۔۔
    وہ اسکا چہرہ تھپتھپا رہی تھی گوارا نے بات سمجھ کر اٹھنا چاہا مگر لہرا کر دوبارہ گر گئ صوفے پر۔ اریزہ اسے اٹھانے کے چکر میں خود بھی گرتے گرتے بچی تھی۔
    اریزہ انکو یہیں چھوڑ دو۔۔
    ہایون نے کہا تو وہ سر ہلاکر رہ گئ۔ ہایون نے ہلکا سا سر جھکا کر کہا
    کرم۔۔۔۔۔۔
    یہ اسکا خدا حافظ کہنے کا انداز تھا۔۔ وہ اسکی جانب دیکھنے سے احتراظ برت رہی تھی سو بس سر جھکانے پر اکتفا کیا۔
    ہایون کو نکلتے نکلتے یاد آیا تو مڑا۔ وہ جو اپنی جھونک میں سر جھکائے اسکئ پہچھے آرہی تھی ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
    یہ یون بن کی گاڑی کی چابی ہے دے دینا اسے۔
    اسنے جیب سے چابی نکال کر اسے تھمائی
    دے۔ اس نے سر نہ اٹھایا۔
    ہایون کے نکلتے داخلی دروازہ لاک کرکے جب مڑی تو گوارا اور یون بن خراٹے بھر رہے تھے۔اس نے چابی سامنے میز پر رکھی۔ لائونج کی کیبنٹ سے کمبل نکال کر ان دونوں پر ڈالا۔ مڑ ی تو دل اچھل کر حلق میں آگیا۔
    ہائے اللہ۔۔ اس نے فورا دل پر ہاتھ رکھا تھا۔
    سامنے دروازے میں ہوپ سرخ آنکھیں لیئے گھور رہی تھی۔
    ابھی مزید کوئی اس ویک اینڈ سوپ کی قسط آنی ہے یا میں اب سو جائوں؟
    دے ؟
    اتنی ہنگل آتی ہوتی تو کورین ہی ہوتی وہ۔ آنکھیں پھاڑیں۔ ہوپ نے چڑ کر اس بار اپنی بات کا انگریزی ترجمہ کیا۔
    آنیا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
    یہ آخری قسط تھئ۔
    اس نے اپنی جانب سے تسلی دی تھی۔ مگر وہ گھورتی ہوئی پلٹی اور دھماکے سے دروازہ بند کیا۔
    گوارا چونک کے اٹھی تھی۔
    اوہ۔۔ اریزہ میری ناک باہر ہی رہ گئ ۔۔ وہ اب لڑکھڑاتی اٹھی اور دروازے کی جانب جانے لگی۔
    اریزہ نے دانت کچکچا کر گھونسا بنا کر اس کمرے کے دروازے کو دکھایا جس میں ابھی ہوپ گھسی تھی ۔۔
    آنیا۔ میں نے لگا دی ناک واپس گوارا۔
    اس سے قبل گوارا دروازہ کھول کے باہر نکل جاتی وہ کہتی ہوئی فورا اسکے پیچھے بھاگئ۔ جوابا گوارا باہر جاتے جاتے رکی احساس تشکر سے اسکی جانب پھر جھک گئ۔
    گوما وویو تم بہت اچھی ہو اریزہ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چہرے پر کالے نقاب چڑھائے بالوں پر کالے ہی پی کیپ۔
    وہ تینوں ہاسٹل کی دیوار پرسے کود کر نیچے اترے تھے۔ کیمپس لان میں ہو کا عالم تھا۔ اونچے اونچے درخت ملگجا اندھیرا جھینگروں کی آوازیں۔مگر یہ وقت ان چیزوں پر غورکرنے کا نہیں تھا۔ہاسٹل کا داخلی دروازہ بند تھا۔کم سن نے ہلا جلا کر دیکھا بند تھا۔ حسب عادت سالک آگے بڑھ کر کارڈ سوائپ کرنے لگا تو کم سن نے اسکا بازو پکڑ کر پیچھے کیا
    تمہیں کیا لگتا میرے پاس کارڈ نہیں۔ رات کے تین بجے کارڈ سوائپ کروگے تو کیا بچوگے تم؟ آخری بندہ کون داخل ہوا اسکا ریکارڈ بن جائے گا پھابو۔
    اسکے ڈانٹنے پر سالک ہونق ہو کر پوچھنے لگا
    پھر کیا کریں۔
    کم سن اسے دیکھ کر رہ گیا۔
    اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر ہاسٹل کے پچھلے حصے کی جانب انہیں لیکر آیا۔ ایمرجنسی سیڑھیوں کے اختتام پر ممٹی سی بنی تھی وہاں رات گزاری جا سکتی تھی۔
    مگر دروازے پر موٹا تازہ تالا تھا۔ تازہ اسلیئے کہ نیا نیا لگتا تھا۔
    شاہزیب نے ادھر ادھر دیکھا پھر کیاری کے کنارے سے بڑا سا پتھر اٹھا کر لایا۔ اس سے قبل کے دروازے کے تالے پر پوری قوت سے مار کر توڑ ڈالتا کم سن نے جیب سے چابی نکالی اور تالا کھول دیا۔
    دونوں منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے۔
    کھاجا۔ کم سن نے مسکرا کر انکو آنے کا اشارہ کیا۔ چار منزلہ سیڑھیاں چڑھ کر ٹیرس سا تھا۔ وہاں ایک کونے میں پیٹی سی رکھی تھی۔ اس نے پیٹی سے تین کمبل نکالے ۔۔
    واہ یہاں تو پورا انتظام ہے۔
    سالک متاثر ہونے والے انداز میں بولا
    یہ اضافی کمبل وغیرہ یہاں رکھے جاتے تھے ۔ یہ جگہ ہم نے اتفاقا دریافت کی تھی۔ ورنہ اب تو اضافی سامان کیلئے ہاسٹل میں علیحدہ اسٹور بن چکا ہے۔ یہاں تو کوئی آتا بھی نہیں۔۔۔۔میں یون بن اور اکثر ہایون بھی ہمارے ساتھ یہاں چل کرتا ہے۔ کم سن نے بتایا تو شاہزیب نے سر ہلایا۔
    میرے ہاسٹل میں سالک اور ایڈون بھی اکثر ایسے دھاوا بولتے تھے۔ میرے کمرے میں ہر چیز تین کے حساب سے ہوتی تھی۔
    ایڈون کو تم لوگوں کے ساتھ اتنا دیکھا تو نہیں ہے ایک لڑائی کے بعد دوستی ختم ہوگئ ہے تم لوگوں کی۔
    کم سن ٹیرس کی ریلنگ سے کمر ٹکاکر سگریٹ سلگا رہا تھا
    نہیں رویہ تو اسکا ٹھیک ہے ہمارے ساتھ بس وہ اب سنتھیا کو ذیادہ وقت دیتا ہے۔ دینا بھی چاہیئے۔ گرل فریںڈ ہے آخر۔
    شاہزیب کا انداز سادہ سا تھا۔
    ہممم۔ یون بن بھی اب ہمارے ساتھ کم گوارا کے ساتھ ذیادہ نظر آتا ہے۔
    کم سن متفق تھا۔۔۔
    ایک بات پوچھوں؟ سالک دیوار سے ٹیک لگائے کمبل اوڑھے سکون سے بیٹھا تھا۔
    کم سن نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔ یہ اشارہ تھا کہ کیا پوچھنا ہے؟
    تمہیں گوارا کے بعد کوئی لڑکی پسند ںہیں آئی؟ میرا مطلب تم اتنے وجیہہ ہو یہاں اتنی پیاری لڑکیاں ہیں پھر ابھی تک سنگل کیوں ہو ؟
    سالک نے سیدھا سوال کیا۔ کم سن ہنس پڑا۔
    مجھے تو پسند آجائے گی اسے میں پسند کیسے آئوں گا ؟۔ نہ میں ہایون کی طرح کا امیرزادہ ہوں نہ یون بن کی طرح کھاتے پیتے گھر کا۔۔۔ اپنے اخراجات پورے کیسے کروں جس کا دماغ یہ سوچتا رہتا ہو وہ محبت کا کھڑاگ کیسے پال سکتا ہے۔
    اسکے سوال میں دم تھا۔ سالک متفق ہو کر سر ہلانے لگا۔
    صحیح کہہ رہے ہو۔
    غلط کہہ رہے ہو۔
    شاہزیب نے فورا نفی کی تھی۔ کم سن اور سالک دونوں نے حیران ہو کر اسے دیکھا۔
    محبت کا کھڑاگ پالا نہیں جاتا محبت ہو جاتی ہے۔ اگر یہ اختیاری معاملہ ہوتا تو غریب ہمیشہ سوچتے رہ جاتے صرف امیر ہی محبت کیا کرتے۔ شاہزیب کا انداز فلسفیانہ تھا۔
    ہاں اس بے چارے کے حالات تو تم سے بھی خراب پھر بھی محبت ہوگئ تھی اسے۔
    سالک نے اسکا مزاق اڑایا تھا۔ شاہزیب نے پاس پڑا کمبل اٹھا کے اسکے منہ پر مارا تھا۔
    بکواس کیے جا بس۔ وہ ہنسے گیا۔ شاہزیب کا منہ سرخ ہو رہا تھا۔۔
    اچھا پھر کیا ہوا ۔۔۔
    کم سن کو دلچسپی ہوئی۔
    اسکا مزہب مختلف تھا۔ بلکہ مزہب نہیں فرقہ کہنا چاہییے۔ اس بے چارے کی ہمت بھی نہ ہوئی اسے پرپوز کرنے کی۔ ابا کا ڈنڈا ذیادہ خطرناک تھا۔ اسکے نزدیک۔
    ابا کا ڈنڈا؟۔۔۔ کم سن بھونچکا سا ہوا۔
    یہ لوگ با محاورہ انگریزی ترجمہ نہیں کیا کرتے تھے بس روز مرہ کی عام گفتگو کا جو ترجمہ بنے وہی چپکا دیتے پھر جو چل سو چل۔۔۔۔
    ابھی بھی ابا کے ڈنڈے کو ابا کا ڈنڈا ہی کہا تھا انگریزی میں۔
    میرا مطلب ہے ابا نے مار مار کر بھرکس بنا دینا تھا سخت مزہبی ہیں اسکے ابا۔
    سالک نے وضاحت کی۔
    والد نے تو شادی نہیں کرنی تھی۔
    کم سن کو یہ منطق سمجھ نہ آئی۔
    خیر اس لڑکی نے کونسا مان جانا تھا۔۔
    شاہزیب نے گہری سانس لیکر کہا۔
    بس اتنی آہیں نہ بھر ۔۔۔۔پہوا کچھ ذیادہ ہی خنک لگنے لگی ہے
    سالک کو اپنے مزاق پر افسوس بھی ہوا خوامخواہ اسے اداس کردیا۔ شاہزیب اسکے کندھے پر سر رکھ کر دراز ہو گیا تھا۔ اب اگر ہمدردی مل رہی تھی تو کیوں نہ پرسکون ہو کر سو ہی جایا جائے۔سالک اب اس پر کمبل ڈال رہا تھا۔
    کم سن نے کندھے اچکا کر رخ بدل لیا۔
    ان لوگوں کو تو آپس میں جتنی انسیت ہے انکو گرل فرینڈ ملنی بھئ نہیں ہے۔۔
    یہ اسکا خیال تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جو اللہ کی وحدانیت پر یقین نہیں لائے وہ کفر کی حالت میں ہی انتقال کر گئے۔ جس نے زندگی بھر اللہ کو نہ پہچانا اسکے لیئے مرنے کے بعد بخشش کی دعا کرنا نہ کرنا بے معنی ہے۔۔
    وہ ان عالم دین کے پاس اپنی ماں کے ایصال ثواب کے لیئے اپنائے گئے طریقے کے بارے میں پوچھنے آیا تھا۔۔آخر کیا طریقہ اختیار کرے؟ مگر انکا جواب مفصل اور توقع کے برخلاف تھا۔اس وقت وہ اپنے گھر کے بڑے سے کمرے میں بیٹھے تھے۔ اس جیسے کئ نو مسلم اور دیگر ممالک کے مسلم طلباء انکا لیکچر لینے آئے تھے۔ فرشی نشستوں پر ایک علمی مجلس جاری تھی۔۔ ایک بندہ سوال کرتا ۔ سب خاموشی سے سنتے تھے۔ اب اسکی باری تھی اپنے ذہن سے سب شکوک و شبہات دور کرنے کی۔
    وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے ہونٹ بھینچے انکے سامنے بیٹھا ضبط کے کڑے مرحلے سے گزر رہا تھا۔
    اللہ نے اپنے رسول ص کو سرکش کافروں کیلئے دعا کرنے سے بھی منع کیا تھا۔ انکو جہنم کا عزاب دیا ہی جانا ہے اسکو ٹالا نہیں جا سکتا۔ تمہاری ماں تمہارے لیئے بے حد عزیز سہی مگر چونکہ کفر کی حالت میں دنیا سے گئ ہے اسکے لیئے تم چاہے قرآن بخشو یا کچھ بھی اس تک اسکا ثواب نہیں پہنچے گا۔۔۔ ان مفتی صاحب نے رسان سے سمجھایا تھا۔
    مگر میں اپنی بیوی کیلئے بھی فاتحہ خوانی کرواتا رہا ہوں۔
    اس نے صفائی دینی چاہی۔
    تمہاری بیوی مسلمان تھی؟
    انہوں نے الٹا سوال کیا۔ اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلادیا
    یہی معاملہ اسکے ساتھ بھی ہے۔
    انہوں نے لگی لپٹی رکھے بنا کہا۔ وہ مایوس سا ہو کر اٹھا آیا۔
    عبد الھادی اسکا گھر کے باہر انتظار کر رہے تھے۔
    وہ خاموشی سے پسنجر سیٹ پر آن بیٹھا۔
    وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے کی بجائے رخ موڑ کر اسے تکنے لگے۔ وہ بے حد مایوس اور آزردہ نظر آرہا تھا۔
    کیا کہا انہوں نے؟
    وہ پوچھے بنا نہ رہ سکے۔ اس نے جوابا آہ بھری او رنشست کی پشت سے سر ٹکا لیا۔
    کہتے ہیں کوئی فائدہ نہیں انکے ایصال ثواب کیلئے کچھ بھی کرنے کا۔ آپ غلط تھے۔ مجھے رچل کیلئے بھی فاتحہ خوانی نہیں کرانی چاہیئے تھی۔
    عبدالھادی گہری سانس لیکر سیدھے ہو بیٹھے۔
    جب میں بڈھسٹ تھا تو مجھے ایک امید ہوتی تھی اس زندگی میں کچھ برا ہوا بھی تو میں دوبارہ دنیا میں آئوں گا۔ یہ نہ سہی اگلی زندگی اچھی ہوگی اچھے اعمال کروں گا تو میرے ساتھ اچھا ہوگا برا کروں گا تو برا۔ اسلام نے تو مجھ سے یہ امید ہی چھین لی ہے کہ شائد میں دوبارہ کبھی ہمیشہ کیلئے بچھڑ جانے والے اپنے پیاروں کو دوبارہ دیکھ بھی پائوں گا۔
    تلخی سے کہتے اسکی آواز ڈوبتی سی گئ۔ اس نے چند لمحے ہونٹ بھینچ کر خود پر قابو پانے کی کوشش کی پھر مڑ کر ان سے پوچھنے لگا۔
    میری ماں جہنم میں جائے گی میری بیوی بھی۔ میرا عقیدہ ہے کہ میں اپنے ہر گناہ کی سزا پاکر بھی اپنے ایمان کی وجہ سے جنت میں جائوں گا۔ تومیں ان دونوں سے تو ہمیشہ کیلئے بچھڑ گیا نا ؟میں تو انکے لیئے دعا بھئ نہیں کر سکتا۔ ۔۔۔۔ مجھے اجازت نہیں۔۔۔
    عبد الھادی نے خاموشی سے سامنے دیکھتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کر دئ۔ گاڑی کو پہلے تھوڑا سا پیچھے کیا پھر گاڑی سیدھی کرکے دائیں جانب موڑ کر سڑک پر لے آئے۔۔۔۔۔
    دنیا میں ہمیں سب سوال ہاں یا نہیں میں نہیں ملتے۔ کبھی کبھی سوچ کا زاویہ موڑنا پڑتا ہے تھوڑی لچک دکھانی پڑتی ہے۔ وہ زرا سا رکے۔۔ علی بے تاثر چہرہ لیئے سامنے سڑک پر نگاہ جمائے تھا۔ وہ اندازہ نہ لگا سکے کہ وہ سن رہا ہے کہ نہیں۔۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی۔۔
    کیوں؟ کیونکہ اللہ ہمیں خود سے اچھی امید رکھنے کا کہتا ہے۔ کہتا ہے دعا مانگو میں تقدیر بدلنے پر قادر ہوں۔
    امید اور دعا ایک مسلمان کی زندگی کا بہترین اثاثہ ہوتے ہیں۔
    نا امیدی تو کفر ہے بیٹا۔۔۔ اللہ بہت بے نیاز ہے۔۔۔ کیا خبر وہ تمہاری دعائیں تمہاری ماں کے حق میں قبول لےکیا خبر تمہارا دعائیں مانگنا خدا کو اتنا پسند آئے کہ وہ تمہیں وہ سب دے دے جو تم مانگو۔ حقوق اللہ تو اللہ کا معاملہ ہیں۔ اس سے کیا بعید کہ معاف کردے۔ تم اس امید پر عمل جاری رکھو صلہ اللہ کی مرضی۔
    وہ کندھے اچکاکر بولے۔
    مفتی صاحب کہتے ہیں کافروں کیلئے دعا کرنے کیلئے اللہ نے رسول ص کو منع کیا تھا۔
    وہ بے چین سا ہوا۔۔
    بے شک۔ مگر وہ اللہ اور رسول ص کا معاملہ تھا۔ جن سرکش کافروں کیلئے ہدایت کی دعا کیلئے منع کیا گیا تھا انہوں نے سرکشی اور ایزا رسانئ کی ہر حد پار کی تھئ۔۔۔۔ان جیسے تو مسلمان بھی ہو سکتے ہیں جو نام کے مسلمان ہوں منافق ہوں دل کہیں جھکتے ہوں زبان کچھ اور کہتی ہو جنہوں نے دنیا میں انسانوں کو بانٹ رکھا ہو فساد مچا رکھا ہو انکے قول فعل میں تضاد ہو جو کافر نہ سہی منافق ہوں۔ اور کافر اور منافق جہنم میں سب سے نچلے درجے پر اکٹھے کر دیئے جائیں گے۔ ایسے مسلمان اور کافر میں فرق ہے بھی تو کیا فائدہ؟ اسی طرح دنیا میں کوئی ایسے بھی کافر ہوں گے جن سے لوگوں کو فیض پہنچا جن کے لیئے کسی کے دل سے دعا نکلی ہو جن کا ایک عمل انکے لیئے صدقہ جاریہ بن گیا ہو جن کی اپنی بندوں پر رحم کرنے کی عادت اللہ کو اتنا خوش کردے کہ وہ ان پر رحم کردے انہیں جہنم کا ایندھن نہ بنائے۔
    قیامت تک کی مہلت ہم سب کو دی گئ ہے۔ اگر ہاں اور نہیں پر جہنم دوزخ کا فیصلہ ہونا ہوتا تو قیامت کا انتظار کیوں سیدھا مرنے کے بعد دوزخ یا جنت میں کیوں نہیں پہنچا دیئے جاتے ؟ اسی لیئے کہ شائدکسی کاایسا کوئی ایسا عمل ہو جو قیامت تک ثواب کا سلسلہ جاری رہے اور اسکے گناہوں کا پلڑا ہلکا پڑ جائے۔
    وہ جو کہنا چاہ رہے تھے انہیں علی کی شکل دیکھ کر اندازہ نہیں ہوپایا کہ وہ اپنی بات سمجھانے میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں۔ سو مزید کچھ بھی کہنے کا ارادہ ترک کردیا۔ علی خاموشی سے سامنے دیکھ رہا تھا۔ سامنے سیدھی سڑک تھی۔
    مگر سیدھی سڑک پر کب کہاں سے کوئی رکاوٹ آجائے کیا خبر تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔۔
    جاری ہے

    Kesi lagi apko Salam Korea ki qist ?Rate us below

    Rating

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

  • Mujhse hazaron hain tau dhond le baqi

    mujse hazaron hain tau dhond le baqi..
    mujsa kahan milayga mujhse na poch…

    yaar zinda sohbat baqi tau sun meray yara..
    mera poch le kisi se mera mujhse na poch…

    zindagi hay so guzaar li mer jata gr waqt aata …
    kesi guzri kiun ker guzri ye mujhse na poch…

    Dhond leti hay mujhay dunya gum nahi hua main…
    nahen milta main kisi se kisi ka mujhse na poch…

    Haal pochta houn tau samjhte hen koi matlab hay unse…
    be matlab pochta houn kiun yeh mujhse na poch…

    azaar dunya kay keh ker khuda se mangta hun dua ye…
    mujhse jinhain azaar hain pohanchay unka mujhse na poch…

    hazar baar kaha mene tanhai main mjhe rehny do…
    hajoom se dil derta hay ab kiun woh mujhse na poch…

    by Hajoom E Tanhai

    مجھ سے ہزاروں ہیں تو ڈھونڈ لے باقی
    مجھ سا کہاں ملے گا مجھ سے نہ پوچھ

    یار زندہ صحبت باقی تو سن میرے یارا
    میرا حال پوچھ لے کسی سے مجھ سے میرا نہ پوچھ

    زندگی ہے سو گزار لی مر جاتا گر وقت آتا۔۔۔
    کیسی گزری کیونکر گزری اب یہ مجھ سےنہ پوچھ

    ڈھونڈ لیتی ہے مجھے دنیا گم نہیں ہوا میں
    نہیں ملتا میں کسی ، کسی کا مجھ سے نہ پوچھ

    حال پوچھتا ہوں تو سمجھتے ہیں کوئی مطلب ہے ان سے
    بے مطلب پوچھتا ہوں کیوں یہ مجھ سے نہ پوچھ۔۔۔

    آزار دنیا کے کہہ کر خدا سے مانگتا ہوں دعا یہ
    مجھ سے جنہیں آزار ہیں پہنچے انکا مجھ سے نہ پوچھ

    ہزار بار کہا میں نے تنہائی میں مجھے رہنے دو
    ہجوم سے دل ڈرتا ہے اب کیوں وہ مجھ سے نا پوچھ۔

    از قلم ہجوم تنہائی

  • sirf tujh se manga tha aik baar main nay tujhay

    صرف تجھ سے مانگا تھا ایک بار میں نے تجھے
    ….میں در در بھیک مانگنے والا تو نہیں تھا
    سوال میرے پر نہ جھڑکا نہ دیا خود کو مجھے تو نے
    ….میں یوں ترے در سے ٹلنے والا تو نہیں تھا
    اس نے بہانہ یہ کیا دنیا تیاگ نہ سکوں گا میں لیکن
    لڑتا نہیں پر میں دنیا سے ڈرنے والا تو نہیں تھا
    چھپاتے رہے اپنی سر خوشی مجھ سے کیوں میرے دوست
    میں غمگین سہی ان کی خوشیوں سے جلنے والا تو نہیں تھا
    احباب بھی بنتے گئے وقت کے ساتھ حصہ ہجوم کا
    تنہائی میں سوچا بن ان کے میں مرنے والا تو نہیں تھا

    از قلم ہجوم تنہائی

  • Salam Korea Episode 17

    salam korea
    by vaiza zaidi

    Salam Korea Episode 17

    قسط 17
    اس نے جلدی جلدی جو سمجھ میں آیا بیگ میں ڈالا ویسے تو بیگ تیار کر ہی لیا تھا اس نے پھربھی ابھی لگ رہا تھا دو تین چیزیں یہیں چھوڑ جائے گی۔
    گوارا کو ہلا کر اپنے جانے کا بتایا وہ اوں آں کرکے سوگئ۔
    ایڈون نے اسکے فون پر مس کال دی تو جلدی سے اپنا پرس بیگ اٹھاتئ وہ باہر نکل آئی۔ لفٹ آنے میں وقت تھا وہ یونہی سر گھما کے ادھر ادھر دیکھتی رہی۔ لفٹ کے سامنے ہی دائیں جانب اوپر کو جانے والی سیڑھیاں تھیں جن پر آج اسکی نظر پڑی۔ یعنی اس سے اوپر بس چھت تھی۔
    اسکا دل کیا کہ سیڑھی چڑھ کر چھت دیکھ آئے مڑنے ہی لگی تھی کہ لفٹ آگئ۔ ایڈون اسکے انتظار میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔وہ اسے گھور کر رہ گئ۔
    تم مجھے کل بتا دیتے کہ اس سے رابطہ نہیں ہو پارہا۔ حد ہے۔ مجھے تو لگا تھا تم دونوں ویک اینڈ گزارنے گئے ہوئے ہو۔
    جانا تو تھا مگر۔وہ قصدا بات ادھوری چھوڑ کر رہ گیا۔ پورا راستہ وہ دل ہی دل میں دعائیں پڑھتی آئی۔ سر پر دوپٹہ رکھ کر آیت الکرسی چاروں قل جو سمجھ آیا آنکھیں بند کرکے سنتھیا کو تصو رکرکے پھونک بھئ دیا۔ایڈون اسکے برابر ہی بیٹھا تھا۔ اس نے اسکی حرکت دیکھی مگر بولا کچھ نہیں۔
    ٹیکسی سے اتر کر ایڈون گھوم کر اسکے پاس آیا۔ وہ اس وقت ہاسٹل کے گیٹ پر کھڑے تھے۔۔
    تم مجھے کال کر دینا میں تمہیں خود اچھا سا ناشتہ کروا کر ڈراپ کروں گا وعدہ۔۔
    روزہ ہے میرا۔
    ایڈون کی آفر پروہ چڑ کر بولی پھر ۔ سر جھٹکتی تیز تیز قدم اٹھاتی وہ سیدھا ہاسٹل کی جانب بڑھ گئ۔ اسکو فکر ہو رہی تھی سو بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ ڈالیں اوپر آنے سے اسکی سانسیں پھول چکی تھیں۔۔ وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔ دروازہ کھولا تو سنتھیا کو آرام سے بیڈ پر دراز کانوں میں ہنڈز فری چڑھائے پائوں ہلاتے ہوئے گانے سننتے گنگناتے اور کوئی کتاب پڑھتے پایا۔۔
    کھٹکے پر بھی سر نہ اٹھایا۔ اریزہ اسے گھور کر رہ گئ۔
    فون کہاں ہے تمہارا؟۔۔ اس نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ پلیئر میں سے سن رہی تھی ۔۔اس نے آگے بڑھ کر اسکی ہینڈ فری کھینچی۔۔ سنتھئا نے گھور کر دیکھا۔
    فرصت مل گئ واپسی کی۔۔۔ خیال آگیا میرا۔ کوئی اندازہ ہے پچھلے تین دن سے اکیلی پڑی ہوں اس کمرے میں۔
    وہ الٹا اریزہ پر چڑھ دوڑی۔ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
    ارے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ میرے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوئیں کہ ایڈون کے ساتھ جانا ہے۔ اور ایڈون کے ساتھ گئ بھی نہیں۔ وہ بے چارہ اتنا پریشان ہو رہا تھا مجھے لیکر آیا ہے کہ تمہارے حالات دریافت کروں۔
    وہ تیز ہو کر بولی۔
    تمہیں ایڈون لیکر آیا ہے؟ وہ چونکی۔ اسے خوشگوار سی حیرت ہوئی۔
    ہاں۔ وہ دھم سے اسکے بیڈ پر گری۔
    اوپر سے اتنا پریشان کردیا کہ تین دن سے تم فون نہیں اٹھا رہیں پورا راستہ دعائیں پڑھتی آئی ہوں ابھئ سیڑھیوں پر۔
    اسکی سانس بولتے بولتے پھول گئ۔
    ابھئ سیڑھیوں پر بھی بھاگتی آئی۔ میرا تو ابھی سے حلق خشک ہوگیا۔
    اسکی دہائیاں جاری تھیں
    میں پانی لاتی ہوں۔یہ وہ اٹھنے کو تھی اریزہ نے اسکے گھٹنے پر چپت لگا دئ
    روزہ ہے میرا۔
    اوہ ہاں۔ اسے بھی یاد آیا رمضان چل رہا سو اطمینان سے دوبارہ بیٹھ گئ
    پھر لڑائئ ہوئئ ہے تم دونوں کی؟ اریزہ کہنی کے بل اسکے تکیے پر ٹک کر بولی
    نہیں۔ وہ دامن بچا گئ
    پھر فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں اسکا؟۔
    اریزہ کی تفتیش جاری تھی۔
    سنتھیا چپ سی ہوگئ۔
    اسکوسر جھکائے دیکھ کر وہ سیدھی ہوبیٹھی
    کیا ہوا سنتھیا ؟ سب ٹھیک تو ہے نا۔
    وہ دونوں ہاتھ گود میں رکھے ناخن پر سے نیل پالش کھرچتی گہری سوچ میں گم تھئ۔چند لمحے بعد گہری سانس لیکر بولی
    اریزہ مجھے لگتا ہے ایڈون مجھ سے پیار نہیں کرتا۔مجھے لگتا ہے میں اسکے اوپر مسلط ہوں وہ بور ہوتا ہے میرے ساتھ۔۔۔
    اس نے ایسا کہا۔ اریزہ کو غصہ آگیا۔
    سمجھتا کیا ہے وہ خود کو۔ ایک سے ایک لڑکا مل سکتا ہے تمہیں۔ اس سے کہو اپنے نخرے اپنے پاس رکھے۔ بلکہ تم کہو اسے تم بور ہوتی ہو اسکے ساتھ۔
    وہ ایکدم اتنا بھڑک کر بولی تھی کہ سنتھیا کو ہنسی ہی آگئ۔۔
    اسے ہنستے دیکھ کر بھی اریزہ کا غصہ کم نہ ہوا
    تمہارا مسلئہ پتہ ہے کیا سنتھیا تم بہت ہی ذیادہ سویٹ ہو۔ اسی لیئے وہ تمہیں فار گرانٹڈ لے رہا ہے۔
    وہ نتیجے پر پہنچ گئ۔سنتھیا کو اس کے یوں بھڑک اٹھنے پر پیار ہی آگیا۔
    اس نے ایسا کہا نہیں ہے۔ پاگل۔ ایسا کوئی کہہ سکتا بھلا۔
    اس نے ہنس کر بات آئی گئ کرنی چاہی۔
    پھر تم نے بیٹھے بیٹھے کہانی بنا لی،؟ اریزہ کا ارادہ اسے اب آڑے ہاتھوں لینے کا تھا۔
    پتہ ہے ابھئ جان نکلی پڑی تھی اسکی مجھے لینے خود آیا کہ جا کر سنتھیا کو دیکھو۔ اور تم یہاں اکیلی بیٹھی الٹے سیدھے اندازے لگا رہی ہو۔ فون کرکے خیریت بتائو اپنی اب اسے۔
    اسے ہلکا سا ڈانٹتئ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    میں ذرا اسائنمنٹ دیکھ لوں تمہاری تیار ہے؟اریزہ اس سے پوچھ رہی تھی مگر اس نے جواب نہ دیا
    سنتھیا فون میں لگی تھی اسے اب اریزہ اور ایڈون کو انبلاک کرنا تھا۔۔۔۔
    فون پر انبلاک کرتے ہی ایڈون کی کال آگئ تھی۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں تیار ہو کر اسائنمنٹ سب مٹ کرانے چلی آئیں۔ یونیورسٹی کی داخلی سڑک پر ۔۔ کوئی تقریب کا سماء تھا۔۔ کافی سارے طلبا مختلف ماسک پہنے رنگین لباس میں ملبوس تھے کوئی بے رنگ رین کوٹ پہنے تھا تو کوئی چھتری لیئے گھوم رہا تھا۔ سب ایک دوسرے پر واٹر گن سے رنگدار پانی پھینک رہے تھے۔ غباروں میں پانی بھر کر ایک دوسرے پر اچھال رہے تھے۔۔
    خوشی ہنسی قہقہے۔
    یہ ہولی۔منا رہے ہیں۔
    سنتھیا کو حیرت ہوئئ۔
    ان میں دیسی شکلیں بھی تھیں مگر ذیادہ تر چندی آنکھوں والے ہی تھے۔
    انکا بھئ کوئی کلر فیسٹول ہوتا ہے لگتا ہے۔
    اریزہ نے کندھے اچکا دیئے۔ دونوں راستہ بدل کر ڈیپارٹمنٹ چلی آئیں۔ جی ہائے اور گوارا یہیں تھیں۔
    تم بنا بتائے چلی آئیں میں ایک گھنٹہ تمہیں اپارٹمنٹ میں ڈھونڈتی رہی ۔ ٹیرس سے نیچے جھانکا کہیں گر گرا تو نہیں گئیں ٹوائلٹ بول تک میں ڈھونڈا تمہیں۔ مگر یہ جی ہائے فلش کر چکی تھی مجھے تو لگا تھا۔
    گوارا کا مسخرا پن عروج پر تھا۔ جی ہائے ہنس رہی تھی
    اریزہ نے بے تکلفی سے اسکا بازو دبوچا۔
    کیا کہا مجھے فلش کر دیا جی ہائے نے۔
    اس نے اسی کا سکھایا دائو چلایا تھا۔ وہ بھی حیران رہ گئ
    واہ اریزہ تم تو بہت جلدی سیکھ گئیں۔
    جی ہائے متاثر ہوئی۔۔۔
    بس یہی تو میرا کمال ہے۔
    اریزہ کہہ کر ہنسی گوارا اور جی ہائے دونوں نے ساتھ دیا۔غیر محسوس طریقے سے سنتھیا ان سے چند قدم پیچھے رہ گئ تھی۔تینوں ہنستی بولتی بڑھتی گئیں۔
    وہ دانستہ رک کر دیکھنے لگی شائد اریزہ پلٹ کر دیکھ لے اسکی غیر موجودگی محسوس کرکے۔
    کیسی ہو۔
    ایڈون اسکے کانوں کے پاس گنگنایا۔ وہ دہل سی گئ مگر بظاہر منہ بنا کر بولی
    میں تو اچھی ہوں بس مجھے لوگ اچھے نہیں ملتے۔
    ایڈون اسکے طنز پر آہ بھرتا اسکے برابر ہوا۔
    بس ایک میں ہی تو برا ہوں باقی سب کو کیوں برا کہہ رہی ہو۔
    وہ مزاق میں بات اڑانے کے موڈ میں تھا۔
    ہاں باقی سب نے کیا کیا ہے۔ سنتھیا سوچ کے رہ گئ۔
    بس ایک میں۔۔
    اسکا ذہن سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔
    پھر کیا سوچا ہے؟
    ایڈون جانے کیا بول رہا تھا اسکی بے توجہی محسوس کرکے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجا کر بولا۔
    کس بارے میں۔۔
    وہ چونکی۔
    لو پوری بات کردی میں نے تم سن نہیں رہیں؟ عید پر ہم سب پلان کر رہے ہیں گھومنے جانے کا۔ کیا خیال یےعید کی شاپنگ کے بارے میں۔ کب چلنا؟
    ایڈون نے دہرایا تو وہ کندھے اچکا کر بولی
    نئ شاپنگ کی کیا ضرورت ہے اتنے کپڑے تو لائی ہوں میں۔
    کیوں وہاں تو عید پر نئے کپڑے بنواتئ ہی تھیں۔
    ایڈون نے ٹوکا
    تو وہاں سب تیار ہوتے تھے اسلیئے ہمیں بھی ہونا پڑتا تھا۔ اب یہاں کونسا سب عید منائیں گے۔یہاں تو شائد اریزہ بھی شاپنگ نہ کرے ہم آئوٹ اینڈ آڈ لگیں گے تیار ہو کر۔
    وہ کندھے اچکا کر بولی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیوں لگیں گے آئوٹ اینڈ آڈ۔
    اریزہ تیز ہو کر بولی۔
    بلکہ میں سوچ رہی ہوں کہ ہم پاکستان سے ڈریس منگوائیں۔ ایک جیسا۔ کیسا؟
    وہ دونوں اسائنمنٹ جمع کر وا کر واپس ہاسٹل آرہی تھیں۔
    جتنے میں آئے گا اس سے بہتر یہاں کسی اچھے برانڈ سے شاپنگ کرلو۔
    سنتھیا کی بات میں وزن تھا۔۔
    چلو کچھ کرتے ہیں اسکا بھی۔
    اسکے بھی بات دل کو لگی۔۔۔ سر ہلانے لگی۔
    ویسے یہاں گرمی بھی ذیادہ گرم نہیں سردی کیسی ہوتی ہوگی۔
    اریزہ کو ہوا سرد سی لگی۔ تو اپنے بازو سہلاتے ہوئے حیرت سے بھری دھوپ کو گھورنے لگی
    برف پڑتی ہے یہاں۔ سنتھیا نے یاد دلایا۔
    یار پھر تو ہمیں اسکے لیئے بھی شاپنگ کرنی ہوگی۔
    اریزہ معصوم بنی۔۔ سنتھیا گھور کر رہ گئ۔ تبھی گوارا کی کال آگئ۔
    وہ چلتے چلتے ایکدم رک گئ۔ سنتھیا اپنی جھونک میں کئ قدم آگے بڑھ گئ پھر مڑ کر گھورنے لگی۔
    ابھی اسی وقت۔۔۔ ٹھیک ہے۔
    اریزہ اسے نظروں میں رکھے گوارا سے پوچھ رہی۔تھی۔ جانے آگے جواب کیا تھا اس نے دے ( اچھا)کہتے ہی فون بند کر دیا۔
    کیا ہوا۔ سنتھیا متجسس ہوئی۔۔
    گوارا وغیرہ لوتے ورلڈ ٹاور جا رہے ہیں کہہ رہی تم دونوں بھی آجائو۔
    لوتے ورلڈ؟ لوٹے ورلڈ ہوتا تو بات بھی تھی یہ۔لوتے کیا نام ہوا۔ ؟
    سنتھیا۔ نام پر ہی اٹک گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لوٹے کہتے اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ واقعی قدیم کسی ظروف کی شکل کی عمارت کھڑی ہوگی انکی نظروں کے سامنے۔
    ان دونوں نے ٹیکسی سے اتر کر کمپائونڈ کے گرین ایریا سے سر اٹھا کر جب اس عمارت کو دیکھنا شروع کیا تو سر اونچا ہوتا گیا ہوتا گیا۔ٹوپی پہنی ہوتی تو پکا گر جاتی۔
    بیس اکیس بائیس۔
    وہ دونوں اسکی منزلیں گن رہی تھیں
    ایک سو تئیس مزنلہ عمارت ہے یہ کوریا کی سب سے اونچی عمارت۔ ۔
    جی ہائے نے انکی معلومات میں اضافہ کیا۔
    ایک سو ت۔۔ دونوں حق دق سی رہ گئیں۔
    گلدان کی طرز کی اس شان و شوکت والی عمارت کا نظارہ مسحور کن تھا۔ سورج کی پڑتی دھوپ میں شیشوں سے رنگ ہی رنگ منعکس ہورہے تھے۔
    اصل مبہوت کردینے والے مناظر یہاں سے نہیں ایک سو ستراہویں منزل سے دکھائی دیں گے۔
    گوارا نے کہا تو سنتھیا حیران ہوگئ
    کیوں؟ باقی منزلیں خالی ہیں اسکی؟
    گوارا کا منہ کھلا رہ گیا۔
    پہلے ہم جائیں گے سترہویں فلور ہینگ آئوٹ کے بعد جائیں گے کچھ پیٹ پوجا کرنے سو لڑکیوں کمر کس لو اور میرے پیچھے آئو۔
    جی ہائے انکی گائیڈ بن جانے کو تن من دھن سے تیار تھی۔
    اسکے مارچ پاسٹ شروع کرتے ہی ان دونوں نے بھی تقلید کی۔ شکر یہ تھا کہ ہفتے کا کام کا دن ہونے کے باعث رش کم تھا۔ بس کچھ غیر ملکی ہی اس اونچی ترین عمارت کی سیر کو آئے تھے۔ وہ دونوں دلچسپی سے انٹیریر دیکھ رہی تھیں مگر گوارا اور جی ہائے کو اوپر جانے کی جلدی تھی۔ انکا رخ سیدھا لفٹ کی جانب تھا۔
    تم میں سے کسی کو اونچائی سے خوف تو نہیں آتا ؟
    لفٹ کا بٹن دباتے جی ہائے کو خیال آیا۔
    ایک سو ستراہویں منزل تک پہنچیں گے زندگی میں پہلی بار پھر سوچیں گے۔
    اریزہ سنتھیا کے کان میں منمنائی
    آنیا۔ اس نے دھڑلے سے کہا۔ جی ہائے اور گوارا ایک دوسرے کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرنے لگیں۔
    موشن سکنس؟ ۔۔ ( تیزی سے حرکت کرنے پر چکر آنے کی بیماری)
    آندے۔ سنتھیا نے زور و شور سے گردن ہلائی۔
    اگر آج تم نے مجھ پر الٹی کی تو تمہیں ایک سو ستراہویں منزل سے نیچے پھینک دوں گی۔
    اریزہ نے دانت کچکچائے۔ وہ ڈھیٹ بنی مسکراتی رہی۔ لفٹ آچکی تھی ۔ لفٹ میں داخل ہوتے ہی خوبصورت پھول بوٹوں کی آتش بازی دیواروں پر رنگ بکھیر رہی تھی۔ ہلکی نیلگوں روشنی میں ایک دم جھماکے سے اینیمیشن کےمناظر بدلے۔
    وائو۔ وہ دونوں باقائدہ دیوار چھو کر اسکے رنگ محسوس کر نے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔
    اس دیوار پر دیکھو سب سے پیاری اینیمیشن یہاں ہے۔ گوارا نے اریزہ کا باقائدہ کندھوں سے پکڑ کر رخ موڑا۔
    اس جانب شیشے کی دیوار تھی جس سے گرائونڈ فلور تک چمکتا دمکتا صاف نظر آرہا تھا۔ مگر گولی کی رفتار سے اوپر سے اوپر جاتے گراوئونڈ فلور ننھے منے نقطوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔
    اس نے تھوک نگلا۔
    یہ نظارہ یکدم اور اچانک سامنے تھا۔ اسکا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا تھا۔
    کیا ہے اس جانب مجھے بھی دکھائو۔
    سنتھیا اسکے کندھےپر تھوڑی رکھ کر جھانکنے لگی وہ سرعت سے سیدھی ہوئی اسے بھئ گھما کر رخ بدل دیا۔
    کچھ خاص نہیں فضول اینیمیشن ہے اس طرف کی۔
    وہ سنتھیا کی الٹیاں نہیں سہہ سکتی تھی۔۔ سو جلدی جلدی دھیان بٹایا۔۔
    ارے دیکھنے تو دو سنتھیا حیران تھی۔ لفٹ آچکی تھی دروازہ کھلتے ہی اریزہ اسکا ہاتھ تھامتی باہر نکل آئی۔ انکی تیزی پر گوارا اور جی ہائے منہ کھول کر انہیں دیکھتی رہ گئیں۔
    یہ اب تک کا سب سے پھسپھسا ردعمل تھا اتنا پھسپھسا تو سیول کے باسی بھی پہلی بار یہاں آکر نہیں دیتے۔ وہ دونوں تیز تیز قدم اٹھاتی سیدھا گلاس وال کی جانب بڑھی تھیں۔ شیشے کی شفاف دیوار سے سیول شہر کا اونچائی سے نظارہ بے حد دلکش تھا۔ اونچی اونچی عمارتوں اور شفاف سڑکوں کے جال سے لیکر دور آسمان تک تیرتے بادل سب جیسے ہاتھ بھر کے فاصلے پر تھا۔
    یہ تو لگ رہا ہم آسمان میں کھڑے ہیں۔
    اریزہ مسحور سی ہو کر بولی۔
    ہاں یہاں سے پورا سیول دیکھا جا سکتا ہے پوری 360 ڈگری کے زاویئے سے۔۔
    جی ہائے نے لمبی طویل راہداری کی جانب اشارہ کرتے دکھایا۔ اس منزل پر مکمل شیشے کی دیواریں تھیں۔ وہ بھی صاف شفاف۔
    کچھ غیر ملکی باشندے کیمرہ اٹھائے تصویریں وغیرہ بنا رہے تھے باقی کورین ہی تھے۔ مگر منظم سے اپنے کام سے کام رکھتے تصویریں بناتے خوش گپیاں کرتے۔ ایک چھوٹا سا پانچ چھے سال کا بچہ غبارہ تھامے دیوار پر ہاتھ رکھے پتہ نہیں کیا گٹ پٹ کرتا اپنے ماں باپ سے کہہ رہا تھا وہ ہنس ہنس کر جواب دے رہے تھے۔
    اس بچے کو ڈر نہیں لگ رہا؟
    سنتھیا نے رشک سے کہا۔۔
    کیوں ڈرنا کیوں ہے بچے نے؟ تمہیں جو دیکھ لیا۔
    اریزہ نے مزاق اڑایا۔
    نہیں اتنی اونچائ سے مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ سنتھیا منمنائی۔۔
    مجھےتو الٹی آرہی ہے ۔۔
    اریزہ کا رنگ اڑا اڑا سا ہوا

    نہ کرنا روزہ ٹوٹ جائے گا۔
    سنتھیا کو فکر ہوئی۔پھر اطمینان سے بولی
    میرا روزہ نہیں ہے

    ۔ اریزہ منمنائئ۔۔پھر کر لو الٹی تم جو کام ہے۔
    ویسے مجھے حیرت ہورہی ہے ہم دونوں بڑےخطرناک قسم کے ردعمل کئ توقع کر رہے تھے مگر تم دونوں تو بالکل نہیں ڈریں یہاں آکر۔
    گوارا کو اپنے پرینک کے ضائع جانے کا افسوس ہوا۔
    ڈرنے کی کیا بات ہے سامنے دیوار ہے شیشے کی ہے تو کیا ہوا۔
    اریزہ نے مضبوط بن کر کہا گویا تسلی بھی دی خود کو۔
    نہیں دیوار سے نہیں لوگ اس فرش پر کھڑا ہوتے ڈر جاتے بڑے بڑوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں نیچے دیکھتے۔
    جی ہائے ہنس کر بولی
    کیوں فرش سے کیا ڈرنا ۔۔ سنتھیا سمجھی نہیں۔
    فرش بھی تو گلاس کا ہے نا۔
    گوارا نے وضاحت کی۔ دونوں نا سمجھنے والے انداز میں اسکی شکل دیکھنے لگیں۔
    اس نے ابرو کے اشارے سے مسکرا کر نیچے دیکھنے کو کہا۔۔
    اریزہ اور سنتھیا نے اکٹھے نیچے جھک کر دیکھا۔۔ روح فنا ہونا ، ہاتھوں کے طوطے اڑ جانا اور مزید محاورے ذہن میں آنہیں پائے۔ دونوں کی آنکھیں پھٹ سی گئیں تیورا کر دونوں اسی فرش پر کانپتی ٹانگوں لرزتے وجود کے ساتھ ڈھے سی گئیں۔ کیونکہ اس منزل پر صرف دیواریں ہی نہیں فرش بھی آر پار دکھائی دینے والے شیشے کا تھا۔ ایک سو ستراہویں منزل سے صاف دکھائی دیتا گرائونڈ فلور اس پر چلتے لوگ بس نقطے ہی حرکت کرتے دکھائی دے رہے تھے۔
    انکو پتہ ہی نہ چلا تھا ؟
    جی ہائے حیران ہوئی۔
    پاکستانی لڑکیاں ڈر کر چیختی نہیں ہیں ۔ گوارا انکے پھسپھسے ردعمل سے نتیجہ اخذ کر رہی تھی۔
    دونوں کے چہرے سفید تھے ہونٹ تھر تھر کانپ رہے تھے منہ سے آواز ہی نہ نکل سکی۔
    چلو اٹھو یہ فرش پکا ہے آج تک ٹوٹا نہیں سیکنڑوں لوگ روندتے ہیں اسے۔
    جی ہائے نے تسلی دیتے آگے بڑھ کر انہیں اٹھانا چاہا۔
    ہاں شاک پروف۔۔
    گوارا نے تسلی دینا چاہی مگر شائد آج اس فرش کو سب سے بڑا شاک ملنا تھا۔
    زور دار پھٹنے کی آواز تھی۔ اس بے خوف بچے کا غبارہ پھٹ گیا تھا۔اچانک مگر شیشے کے فرش پر بیٹھی اریزہ سنتھیا کو لگا فرش تڑخ گیا۔ دونوں کے منہ سے اکٹھے زوردار چیخ نکلی۔ اسکی پیروی میں دوسری تیسری ۔۔ پھر چیخوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا۔ پوری منزل کے لوگ پہلے بھونچکا ہوئے پھرگڑبڑائے پھر اسی شیشے کے فرش پر بھگدڑ سئ مچئ ۔کوئی لفٹ کی جانب بھاگا کوئی سیڑھیوں کے کسی نے اپنے بچے ڈھونڈے۔۔ انتظامیہ کے اہلکار بگٹٹ آوازوں کے منبع کی جانب بھاگے۔ فرش کے بیچوں بیچ ایک دوسرے کے گلے لگ کر آنکھیں بند کرکے چیخیں مارتی ان لڑکیوں کی چیخوں سے لگتا تھا آج فرش ہی نہیں دیوار کے شیشے بھئ تڑخ جائیں گے۔
    گوارا جی ہائے ان دونوں کو سنبھالنے میں ہلکان ہو رہی تھیں جو نا ایک دوسرے سے الگ ہو رہی تھیں نا چیخنا کم کیا تھا۔ دونوں کے کان اب سن ہو چکے تھے اور انکے ساتھ ساتھ گوارا اور جی ہائے کے بھی۔
    تجربے نے گوارا کا تجزیہ غلط ثابت کر دیا تھا۔ پاکستانی لڑکیاں کسی سے کم نہیں ڈر کر چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا سکتی ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لوتے ورلڈ ٹاور کی انتظامیہ کے دفتر میں انکی ٹیم کا ایک ایک فرد چوکنا اور مستعد انکی خدمت میں حاضر تھا۔ انکو بڑے سے صوفے پر بٹھایا گیا تھا چھوٹے چھوٹے شال نما کمبل اوڑھے وہ دونوں خفت سے سرخ چہرے لیئے بیٹھی تھیں ۔اریزہ تو خیر بیہوش ہوگئ تھی ایک آدھ چیخ کے بعد مگر وہ تو ہوش و ہواس میں ہی ابتدائئ طبی امداد حاصل کر رہی تھی۔ یہاں لا کر سب سے پہلے تو انہیں ہلایا جلایا پھر ریسکیو ٹیم بلا لی گئ۔ اریزہ کو تو ڈرپ ھی لگا دی ۔اسے جوس پر ٹرخادیا۔۔ اب ۔تو خیر اریزہ بھی ہوش میں آگئ تھی۔ روزہ تو ٹوٹ ہی گیا تھا سو صبر سے شرمندہ ہورہی تھی

    کوریا کی ایمرجنسی سروس 119 کی ٹیم انکا فشار خون دیکھ رہی تھی۔ جوس کے ڈبے سے دھیرے دھیرے گھونٹ بھرتی ان دونوں کو اس وقت پر افسوس ہو رہا تھاکہ فرش سچ مچ کیوں نہیں تڑخ کر ٹوٹا۔ اوپر سے گوارا اور جی ہائے کا بجتا ریکارڈ۔
    بیانتا۔۔
    گوارا اور جی ہائےنے جانے کونسی دفعہ معزرت کی تھی۔ دونوں سخت شرمندہ تھیں۔اس وقت انکے سامنے ہاتھ مسلتی شرمسار سی کھڑی تھیں۔
    ۔ڈاکٹر نے ان دونوں کا فشار خون دیکھنے کے بعد ایک ایک ٹیکا ٹھونکا تھا۔ اب اپنا فرسٹ ایڈ باکس بند کر رہے تھے۔
    آپ دونوں اب اسپتال چل کر مکمل معائنہ کروالیں ۔۔۔
    انکو اچھی طرح ٹھونک بجا کے دیکھنے کے باوجود بھی شائد انکو تسلی نہ ہوئی۔
    ہنگل میں دیئے گئے اس مشورے پر دونوں نے سوالیہ نگاہوں سے سہیلیوں کو دیکھا۔
    جی ہائے نےترجمہ کیا۔
    آندے۔ کین چھنا۔ دونوں فٹ سے دونوں ہاتھ اٹھا کر اطمینان دلانے لگیں۔ کین چھنا کا مطلب ٹھیک ہے، ضرورت نہیں، خیر ہے کوئی بات نہیں وغیرہ کے ضمرے میں استعمال ہوتا ہے۔ ان دونوں کی دودھ پیتی ہنگل اس وقت بالکل گنگ ہوئی تھی سو بس اسی جملے کی گردان کرتی چلی گئیں۔۔
    119 والے جھک جھک کر سلام کرتے اپنا سامان سمیٹتے چلے گئے۔ انکا جوس ابھی بھی ختم نہ ہوپایا تھا۔ تبھئ وہ ادھیڑ عمر انتظامیہ کا اہلکار اپنے دو چیلوں کے ہمراہ انکے سامنے آ کر جھک جھک کر بولنے لگا
    ہم بہت شرمندہ ہیں۔ لوتے ورلڈ کی انتظامیہ ایسی کسی بھی شرارت کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہے۔ یقین جانیئے ہم نئے آنے والے سیاحوں کو خود رہنمائی فراہم کرتے ہیں تاکہ کسی کمزور دل کے فرد کو اچانک دھچکا نہ پہنچے۔ ہماری ایک سو سترہویں منزل بین القوامی اصولوں کے مطابق تیار کی گئ ہے اور بالکل محفوظ ہے۔ یہ ٹوٹ نہیں سکتی ہم اسکا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ہمارا اس منزل کو بنانے کا مقصد سیاحوں کو اونچی عمارتوں سے دلکش نظارے دکھانے او رتفریح کا نیا انداز روشناس کرانے کا تھا۔ہرگز کسی کی دل آزاری ہمارا مقصد نہیں ۔ ہم شرمندہ ہیں کہ آپکو اس ذہنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔۔
    وہ انتظامیہ کا کوئی اونچا افسر تھا ادھیڑ عمر کا نرم سے تاثرات والا چندی آنکھوں کے ساتھ کہتے ہوئے آدھا جھک گیا تھا۔ اسکی تقلید میں اسکے ہمراہ موجود دیگردو نوجوان افسران بھی آدھے جھک گئے۔ جھکے رہے۔
    انکی کمروں میں درد نہیں ہوتا؟
    اریزہ نے سنتھیا کے کان میں سرگوشی کی۔
    جتنی دیر سے جھکے ہیں لگتا ہے آج تو ضرور ہوگا۔
    سنتھیا نے پیشن گوئی کی۔
    دونوں حیرت سے انہیں دیکھے جا رہی تھیں جو جھکے تھے تو سیدھا ہونا بھول گئے تھے۔
    کین چھنا ۔۔ گوارا انکو سرگوشی میں ہنگل میں جانے کیا بتا رہی تھئ۔
    کیا کہہ رہی ہے یہ۔ پورے جملے میں بس کین چھنا سمجھ آیا۔
    سنتھیا نے حیرت سے دیکھتے کہا۔
    یہ لوگ سیدھے کیوں نہیں ہو رہے۔
    اریزہ نے جی ہائے سے پوچھا۔ وہ الگ اشارےکررہی تھی۔
    دونوں کو سمجھ نہ آیا مگر اریزہ کو انکا جھکے رہنا برا لگ رہا تھا۔۔
    آپ سیدھے ہو جائیں آپکی کمر میں درد ہو جائے گا۔
    شستہ انگریزی میں اریزہ نے کہا تو تینوں گہری سانس لیتے سیدھے ہوئے۔
    کین چھنا۔۔ چھے سو ہمبندا۔۔
    گوارا اور جی ہائے اب ان تینوں سے جھک جھک کر معزرت کر رہی تھیں۔
    ان انکل سے سلام دعا کرکے دونوں خراماں خراماں دروازہ کھول کر جانے لگیں کہ۔خیال آیا تو مڑ کر۔دانت پیس کر بولیں۔۔
    کھاجا۔۔
    اوہ۔ دونوں جوس کے ڈبے سنبھالتی فورا اٹھ کر انکے پیچھے بھاگی تھیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک چینی ریستوران میں کھانا کھا کر وہ سب دوبارہ چارج ہوچکی تھیں۔
    چلو اب اچھی سی مووی ہوجائے۔
    سنتھیا نے کہا تو اریزہ بھی پرجوش ہوگئ۔
    ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔ کوئی اچھی سی فلم دیکھتے ہیں۔
    ان دونوں کے پرجوش ہونے پر جی ہائے سٹپٹا کر گوارا کو دیکھنے لگی۔
    ٹھیک ہے۔۔ چلتے ہیں۔وہ یقینا جی ہائے کا اشارہ نہ سمجھی۔ اریزہ سنتھیا بھی مکمل حمایتی تھیں
    ان سب کو پرجوش دیکھ کر اس نے جھجک بالائے طاق رکھ دی۔ ہنگل میں گوارا کو دانت پیس کر بتایا
    یہ جو سب سے ذیادہ پرجوش ہے نا فلم دیکھنے کو اس نے لوتے ورلڈ سے لیکرچینی ریستوران تک کہیں ایک پیسہ نہیں نکالا ٹیکسی کے کرایوں تک میں میرے یا تمہارے پیسے لگے ہیں۔
    مگر کھانے کا بل تو اریزہ نے پے کیا نا۔
    گوارا نے دانستہ مسکرا کر اسے آنکھوں سے اشارہ کرتے گھرکا کہ یہ وقت مناسب نہیں اس بات کا۔
    ہاں اریزہ میں ہے یہ تمیز مگر ابھی ہی فیصلہ کر لو ٹکٹس کون لے گا پاپ کارن کون کیونکہ میرے پاس صرف دو ٹکٹس کی گنجائش ہے۔
    اس نے کندھے اچکا دیئے۔
    کیا ہوا کیا مسلئہ ہے۔
    اریزہ اور سنتھیا کو انکا لہجہ سمجھ نہیں آرہا تھا پھر بھی اتنا اندازہ ہوا کہ پیسوں کی بات ہورہئ ہے۔
    گوارا نے دانت پیس کر گھورا پھر دانستہ مسکرا کر اریزہ سے بولی
    نہیں وہ بس جی ہائے کو اپنی پینڈنگ اسائنمنٹس یاد آرہی ہیں۔ میں نے کہا مل جل کر کرلیں گے۔۔
    نہیں میں یہ کہہ رہی تھی کہ میرے پاس اب ذیادہ پیسے نہیں بچے ہیں اب ہمیں مل جل کر ہی پیمنٹ کرنی پڑے گی۔
    جی ہائے نے تنک کر صاف صاف کہہ ڈالا۔
    اوہ۔ اریزہ اور سنتھیا سنجیدہ ہوگئیں۔
    اسکا مطلب ہے اب ہمیں تمہیں خدا حافظ کہہ کر واپس بھیج دینا چاہیئے ہم تینوں بس فلم دیکھنے چلیں۔
    سنتھیا جیسے سارا معاملہ سمجھ گئ۔
    ہوں چلو ٹھیک ہے جی ہائے آننیانگ۔
    اریزہ نے بھی تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔باقائدہ ہاتھ ہلا کر خدا حافظ بھئ کہہ دیا۔
    جی ہائے تو جی ہائے گوارا بھی بھونچکا سی ان دونوں کی بے مروتی کو دیکھتی رہ گئ ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سب ٹائٹلز پڑھ کر فلم دیکھنا یا فلم دیکھتے ہوئے سب ٹائٹلز کو جلدی جلدی پڑھنا دونوں ہی بیزار ہوگئیں۔ کوئی رومانوی فلم تھی۔ موٹے سے گول گپے جیسے منہ والی ہیروئن اور تھوڑا سا ہی اس سے بڑا چھوٹا سا ہیرو۔ان دونوں نے جمائی لیتے ایک دوسرے کو ملتجی نظروں سے دیکھا پھر مڑ کر اکٹھے جی ہائے اور گوارا کو کہنا چاہا کہ چلیں۔ مگر ان دونوں کے برعکس وہ دونوں بری طرح مگن تھیں فلم میں۔ جانے کیا کہانی چل رہی تھی کچھ پلے نہ پڑ رہا تھا اوپر سے چیخ چیخ کے بولتے لوگ اچانک ہائش۔ یاآآا۔۔۔ اور جھنچا کہتے تو دل اچھل کر انکا بھی حلق میں آجاتا۔
    دونوں کے پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ فلم کے اختتام پر جی ہائے اور گوارا انکی جانب متوجہ ہوئیں تو دونوں ایک دوسرے کے سر پر سر ٹکائے خراٹے بھر رہی تھیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سینما سے باہر نکلتے جی ہائے اور گوارا نے خوب مزاق اڑایا تھا۔۔
    ہمیں لگا تھا ہم کوئی انگریزی فلم دیکھیں گے۔
    اریزہ نے کہا تو سنتھیا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
    ہاں تو اور کیا۔۔۔
    سچی محبت کی کہانی تھی ہائے تم لوگوں نے محبت کی ہی نہیں ورنہ محبت کی اپنی زبان ہوتی ہے۔
    گوارا جھوم کے لہراکر بولی
    کیہہ سوری (گوبر ) کونسی محبت دکھائی دی تمہیں۔ ؟ ایک کس سین اس میں بھی ہیرو نے برستی بارش میں ہیروئن کی چھتری چومی۔
    جی ہائے چمک کر اعتراض کرنے لگی۔
    تو تمہارے خیال میں انسان محبت میں صرف جسمانی تعلق بناتا ہے؟۔گوارا نے اس سے سوال کیا
    میرا خیال ہے جسمانئ تعلق بنانے کیلئے ہی محبت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے
    جی ہائےکندھے اچکا کر بولی۔
    اف کتنی منتقمانہ سوچ ہے تمہاری۔ محبت وجود سے ہوتی ہے جسم سے نہیں۔فلم غور سے دیکھتیں تو ہیرو کا ہیروئن کیلئے پیار سمجھ آتا تمہیں۔ گوارا نے ناک چڑھائی
    تم اور یون بن ایسی بدھا والی تارالدنیا محبت کرتے ہو جیسے؟ جی ہائے نے مزاق اڑایا گوارا کھسیانی سی ہوئی۔
    ہاں تو ہمیں اپنا رشتہ قائم کرنے میں وقت لگا تھا یونہی۔تھوڑی ہم۔۔۔ وہ چلتے چلتے رک۔کر ان لوگوں کے سامنے آکھڑی ہوئی۔
    تم دونوں بتائو ہم میں سے کون صحیح کہہ رہا؟
    مجھے کبھی محبت نہیں ہوئی ۔
    اریزہ نے کندھے اچکائے۔
    سنتھیا لمحہ بھر کو سوچ میں پڑی۔اسکے ذہن میں اپنا اور ایڈون کا تعلق گھوم گیا۔ اسکے لاکھ محبت کا دم بھرنے کے باوجود بھی اسے ایڈون کو اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے مشرقی روائیتوں کو توڑنا پڑا ہی تھا۔
    محبت جسم سے ہو نہ ہو محبت میں جسم آہی جاتا ہے۔۔۔۔۔
    گہری بات۔ گوارا متاثر ہوئئ۔
    یہی بات دوسرے لفظوں میں میں نے کہی ہے۔ جی ہائے ہنسی۔ ۔۔۔ اسکی بات پر سنتھیا کے قدم رک سے گئے۔ وہ نا سمجھنے والے انداز میں ساکت سی کھڑی رہ گئ۔ اسکے رکنے کا نوٹس لیئے بنا ان دونوں کا جھگڑا جاری تھا۔ چلتے چلتے اسکے اور انکے درمیان چند قدم کا فاصلہ آنے لگا
    کوئی نہیں تم تو اپنے ابا کی دوسری شادی کے بعد انتہا پسند ہوگئ ہو ورنہ محبت کا بے حد خوبصورت رخ بھی ہوتا ہے۔
    گوارا نے اسکے کندھے پر ہاتھ مار کر جان کر ہنگل میں کہا۔
    میرے آہبجوجی کا ذکر مت کیا کرو میرے سامنے موڈ خراب ہوجاتا ہے میرا۔
    حسب توقع وہ چڑ گئ۔
    ہاں تو اور کیا وجہ ہے تمہارئ ایسے ایبنارمل خیالات کی۔
    تائی من؟ ہیں بولو یاد آتا ابھی بھئ کیا؟ پہلا پیار۔۔
    وہ جان کے چھیڑ رہی تھی۔ جی ہائے نے اپنا بیگ گھما کر اسے مارنا چاہا۔ وہ جھکائی دے گئ۔ اور منہ چڑاتی بھاگ اٹھی۔ جی ہائے اسے مارنے کو دوڑ پڑی۔۔
    ان دونوں کی نوک جھونک سمجھ نہ آنے کئ باوجود بھی اریزہ انکی لڑائی کا۔لطف لے رہی تھی بے پروا سڑک کنارے چلتے چلتے وہ دونوں دوڑنے لگیں ۔۔ نہ کسی نے رک کر گھورا نہ برا سمجھا۔ دو لڑکیاں اپنی مستی شرارت کرتی کافی دور جا کر بھی گتھم گتھا تھیں ۔جی ہائے اسے اپنے بیگ سے پیٹ رہی تھی گوارا ہنستے ہنستے جھکائی دے رہی تھی۔
    دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اریزہ رشک سے دیکھ رہی تھی انہیں۔
    اریزہ۔۔۔ سنتھیابھاگ کے اسکے ہم قدم ہوئی۔
    تمہیں واقعی محبت نہیں ہوئی کبھی؟
    مجھے؟ وہ چونکی۔ کس سے ہوتی؟
    کسی سے بھی اسکول کالج یونیورسٹی کتنے ہی تو لڑکے بڑھے تھے تمہاری جانب۔۔۔
    ہوتی تو تمہیں پتہ ہوتا۔
    اس نے کندھے اچکا کر آرام سے کہا۔
    مجھے تو سجاد سے بھی محبت نہ ہوپائی تھی۔ حالانکہ کہتے نکاح کے دو بول محبت پیدا کردیتے ہیں دل میں۔
    اسکا جواب مفصل تھا۔ وہ لوگ اب تیز قدم اٹھا کر جی ہائے اور گوارا کے پاس جا رہی تھیں۔۔
    تمہاری رخصتی ہو جاتی تو ہوجاتی تمہیں محبت ہے نا؟
    سنتھیا کے سوال پر اریزہ نے ابرو چڑھا کر دیکھا۔
    کیا سننا چاہ رہی ہو؟ ۔ وہ اس جرح کا مطلب پوچھ رہی تھی سنتھیا اپنی بات کا مطلب بتانے لگی۔
    مطلب ہو جاتی نا محبت جب اکٹھے رہتے ساتھ رہتے تعلق بنتا لگائو پیدا ہوجاتا۔
    لوگ سالوں ساتھ رہتے شادی کرتے ان میں محبت لگائو پیدا ہی نہیں ہو پاتا یا ختم ہو جاتا ہے آخر طلاق بھی تو لوگوں کی ہوتی ہےنا۔۔۔
    اریزہ کا انداز سادہ سا تھا۔سنتھیا چپ کر گئ۔گوارا اور جی ہائے انکا انتظار کر رہی تھیں۔ انہوں نے کیب روک رکھی تھی۔
    پالی پالی۔ گوارا ہاتھ کے اشارے سے اورچلا۔کر۔انہیں جلدی آنے کو کہہ رہی تھی۔ ان دونوں نے بھی بحث ختم۔کرکے قدموں کی رفتار بڑھا دی۔ان دونوں کی طرح بھاگنے کی کوشش نہ کرسکیں۔ انکو یوں لڑھکتے آتے دیکھ کر گوارا نے گہری سانس لی
    بندہ بھاگ لیتا ہے یہ دونوں بہت سست ہیں۔
    جی ہائے نے بھئ ناک چڑھا کر کہا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوارا ان تینوں کو ہاسٹل بھیج کر وہ اپنے اپارٹمنٹ آئی تھی۔ پورا اپارٹمنٹ تاریکی میں ڈوبا تھا شائد ہوپ نہیں آئی تھی۔کاریڈور میں شو ریک پر ایک اجنبی جوڑی تھی تو مگر وہ دھیان دیئے بنا چپل بدلتی بتیاں جلاتی اپنی دھن میں کمرے میں داخل ہوئی۔۔ اس نے بتی جلائی تو دل تھام کر وہیں گر سی گئ۔ ایک زور دار چیخ منہ سے نکلی۔
    کم چاگیا۔
    گھپ اندھیرا کیئے ہوپ بہت سکون سے بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھی موبائل استعمال کر رہی تھی۔ اسکے چلانے پر ناگواری سے اسے دیکھا۔
    تم کیا بھوتوں کی طرح پورے گھر میں اندھیرا کیئے بیٹھی تھیں۔
    دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    تم کیا پورے گھر میں چراغاں کرتی داخل ہوئی ہو
    بجلی کا بل نہیں آتا تمہارا؟
    جوابا وہ ترکی بہ ترکی بولی۔
    آتا ہے میں گھپ اندھیرا کرکے ڈرنے ڈرانے کی۔بجائے اسکا بل ادا کرنے پر یقین رکھتی ہوں۔
    وہ۔بھی چبا چبا کر بولی۔ گوارا نے بے نیازی سے اسکا جملہ نظر انداز کیا پھر اپنے فون پر نگاہ جما لی۔
    پہلی لڑکی دیکھی یے جو اندھیرے میں اتنے سکون سے بیٹھی تھی۔ کوئی ڈر نہیں لگ رہا تھا اسے کیا۔۔۔
    وہ بڑبڑ کرتی صوفے پر سے کپڑے اٹھانے لگی۔
    اسکی بات پر بظاہر بے نیازی سے بیٹھی ہوپ نے ذرا کی۔ذرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
    وہ شاید نہانے جا رہی تھی کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں گھسس گئ۔۔۔
    ڈر۔ اس نے سوچا۔ اندھیرے سے کیا ڈرنا۔
    جس نے دنیا دیکھ رکھی ہو اسکے نزدیک اندھیرا سب سے کم خوفناک چیز ہوتا ہے۔ دنیا میں سب سے خوفناک انسان ہی ہیں۔۔۔ کاش کہ تمہیں کبھی تجربہ نہ ہو اس چیز کا۔
    بڑبڑا تے ہوئے اس نے فون ایک جانب رکھا اور کروٹ لیکر آنکھیں موند لیں۔ دس منٹ بعد گوارا جب نہا کے باہر نکلی تو وہ گہری نیند میں تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آہبوجی واپس آچکے تھے۔۔ اسے انکو ایک۔مہینے کی کارکردگی بتانی تھی۔۔ وہ بیزار سا انکے سامنے بیٹھا تھا۔ انکا سیکٹری اسکے برابر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔ وہ سر سری نظر ڈال کر دو تین فائلیں بھگتا کر رکھ چکے تھے۔۔
    گنگشن کتنی بار دفتر آئی ہے؟۔ وہ سیکٹری سے پوچھ رہے تھے۔۔
    ہفتے میں تین بار آیا کرتی تھیں۔۔ سیکٹری نے بتایا تو وہ جانے کیوں ہایون پر نظریں گاڑ بیٹھے۔۔
    تم امریکہ نہیں جائو گے؟۔۔ انداز انکا تحکمانہ نہیں تھا وہ بس پوچھ رہے تھے۔۔
    آنیو۔ اس نے مختصر جواب دیا۔۔
    دفتر سنبھالنے کا بھی ارادہ نہیں؟۔۔
    انداز ہنوز تھا۔۔
    دے۔۔ (جی)۔۔ اس نے مزید سر جھکا لیا۔۔
    گنگشن کا رشتہ میں نے ڈاریکٹر کے بیٹے سے طے کر دیا ہے ۔۔۔ وہ بتا رہے تھے۔۔
    ہایون نے مٹھئ بھینچی۔اطلاع نئ نہیں تھی۔۔ اسکو اس دن نونا اور انکے درمیان ہونے والی گفتگو یاد تھی۔۔
    آپ مجھے سیڑھی بنائے بغیر بھی کاروبار کے بلاشرکت غیرے عظیم آسمان کو چھوتے ہیں مزید اور کتنا اوپر جانا چاہتے؟۔۔میں دوسری بار اپنی زندگی آپکے ہاتھوں کھلونا بننے نہیں دے سکتی۔۔
    انی کی آواز بھرائی تھی۔۔ شائد روئی بھی ہونگی مگر اسکا باپ پگھلنے والوں میں سے نہیں تھا۔۔
    پھر مجھے ہایون کا رشتہ ڈاریکٹر کی بیٹی سے طے کرنا پڑے گا۔۔ مگر ہایون کے شیئرز تمہارے شیئرز سے کہیں زیادہ ہیں۔۔ میں ڈائریکٹر کے ہاتھ میں کمپنی نہیں دے سکتا۔۔ اس احمق لڑکے کو کاروبار کی الف بے بھی معلوم نہیں۔۔ ڈاریکٹر سمدھی بننے کے بعد کب کونسا پتہ پھینکے کیا خبر۔۔ انہوں نے تفصیل سے اپنے ذہن میں چلنے والی جمع تفریق نونا کو سمجھائی۔۔
    نونا تاسف سے اپنے لالچی باپ کو گھور رہی تھیں۔
    مجھ سے تو آپکو محبت نہیں مگر ہیون سے تو کرتے ہیں نا۔۔ اسکے خواب کیوں اپنی مادہ پرست طبیعت کے ہاتھوں پامال کر رہے ہیں۔۔ وہ ضبط سے بولیں۔۔
    مجھے کسی کو تو سہارا بنانا پڑے گا۔۔ اپنے چچا زاد بھائی کو کچھ تو ضمانت دینی پڑے گی۔۔ وہ کیسے اپنی مکمل حمایت مجھے دے گا بنا کوئی فائدہ اٹھائے۔۔ وہ سخت چڑے۔۔ انکے بچے جانے کس پر پڑے تھے جزباتی احمق۔۔
    اگر تم مان جاتی ہو تو ٹھیک۔۔۔۔ مجھے ہیون کے نام سب شئیرز واپس لے کر تمہارے نام کرنے ہونگے۔۔ جو تمہاری ماں کا دیرینہ خواب ہے۔۔
    پھر تم کسی دن بھی ہاتھ پکڑ کر اسکو اس گھر سے نکال دینا۔۔۔ بلکہ نہیں یہ کام تمہاری ماں کر لے گی۔۔ ٹھیک ہے جائو۔۔
    وہ بے نیازی سے کہہ کر رخ موڑ کر سگار جلانے لگے۔۔
    انی ساکت سی بیٹھی انہیں دیکھ رہی تھیں۔۔
    آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔ بیٹا ہے وہ آپکا۔۔
    ایسا بس میں سمجھتا۔۔ تمہاری ماں اسے میرا بیٹا بھی ماننے کو تیار نہیں۔۔ آج اگر میں مر جائوں تو اسکی۔اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔۔
    تم اچھی طر ح جانتی ہو۔۔ وہ کن اکھیوں سے دیکھتے سگار کے کش لیے جارہے تھے۔۔
    آپ ہیون کو بے دخل نہیں کریں گے۔۔ انی تڑپ کر انکے سامنے آکھڑی ہوئی تھیں۔۔
    میں نہیں کرنا چاہتا۔ مگر ہیون اگر میری بات مان کر شادی کے لیئے رضامند ہو بھی جاتا تو بھی اسکی بلا شرکت غیرے والی جائداد میں حیثیت نہیں رہنے دے سکتا۔۔ سب اس عیاش آدمی کے پاس چلا جائے گا بیٹی داماد کی صورت۔۔ انہوں نے کھل کر اپنی بے بسی بیان کی۔۔ انی انہیں دیکھتی رہ گئیں۔۔
    ٹھیک ہے۔۔ میں راضی ہوں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سنا تم نے ؟ آہبوجی کو لگا وہ سن نہیں رہا۔
    جانتا ہوں۔۔ اس نے اپنی مٹھی بھینچی۔۔
    ضبط سے اسکی کنپٹی کی رگ ابھر آئی تھی۔۔
    میں اسکے نام کے شئرز تمہارے نام کر رہا ہوں۔۔ اسطرح تمہاری حیثیت بڑھ جائے گی۔۔ میں چاہتا ہوں تم ڈائریکٹرز کا اعتماد جیتو اور منتظم اعلی کا عہدہ سنبھال لو۔۔ وہ سرسری سے انداز میں کہے جارہے تھے۔۔
    اور اگر میں یہ دونوں کام آپکو کرنے نا دوں تو۔۔
    اس نے انکو تحریک دینے والے انداز میں کہا۔۔
    لی اسے غور سے دیکھتے رہے۔۔
    پھر مسکرا دیئے۔۔
    مرضی تمہاری۔۔ روک سکو توروک لو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ نونا کے کمرے میں پکارتا آیا تھا۔
    نوکرانی انکے کمرے کی صفائی کر رہی تھی۔۔ آہٹ پر چونک کر مڑی پھر جھک کر ادب سے سلام کیا۔۔
    انی کہاں ہیں؟۔ اس نے پوچھا۔۔
    وہ تو کل شام کی فلائٹ سے چین گئ ہیں۔۔ نوکرانی نے بتایا
    کیا۔؟۔۔ وہ حیرانی سے چیخ ہی تو پڑا۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ حسب عادت منہ ہاتھ دھو کر باتھ روم سے نکلی تھی۔ سنتھیا بیڈ پر بیٹھی اپنا والٹ نکالے جانے کس جمع تفریق میں لگی تھئ۔ وہ اپنے ڈورم کی سیڑھی چڑھنے لگی تو اس نے پکارا۔۔
    اریزہ ادھر آئو۔
    وہ سعادتمندی سےرخ بدل کر اسکے بیڈ پر آن بیٹھی۔
    یہ لو۔۔
    اس نے چند کرنسی نوٹ اسکی۔جانب بڑھائے۔
    یہ کیا ؟
    وہ۔قطعی نہ سمجھی۔
    آج کھانے کے پیسے بھی تم نے دیئے پھر فلم کا ٹکٹس ، اسنیکس او رواپسی کا کرایہ بھی۔ میں اتنی گھامڑ کہ والٹ لیئے بنا ہی تمہارے ساتھ چل۔پڑی۔
    سنتھیا نے وضاحت کی تو اریزہ برا مان گئ۔
    تو کیا ہوا۔ اب تم مجھ سے حساب کتاب رکھو گی؟
    یہ بات نہیں مگر ہم چاروں اکٹھےگئے تھے ان دونوں نے بھی تو حصہ بٹایا نا میرے لیئے ہر بار تم نے ادائیگی کی تو مجھے شرمندگی ہورہی ہے۔
    سنتھیا نے کہا تو وہ اسکے ہاتھ سے پیسے اور والٹ دونوں چھین کر اس میں پیسے رکھنے لگی۔
    مانا آپ بہت بڑے بیوروکریٹ کی اکلوتی بیٹی ہیں آپکو پیسے کی کمی نہیں مگر دوستی میں حساب کتاب نہیں لانا چاہیئے۔
    رکھو یہ پیسے اپنے پاس۔ اور یہ بتائو عید کی شاپنگ کرنے کب جانا ہے؟
    وہ اسے ڈانٹ کر بات بھی بدل گئ سنتھیا نے کچھ کہنا چاہا پھر سر ہلا کر بولی۔
    ایڈون سے پوچھوں گئ۔
    کیوں ایڈون سے کیاپوچھنا ؟ ہم چاروں چلیں گے نا کتنا مزا آیا نا گرلز ڈے آئوٹ میں۔ ہم لڑکیاں ہی لڑکیاں بس پورا شہر گھوم آئیں۔۔ کل گوارا سے کہوں گی۔۔
    اریزہ کو آج بہت مزا آیا تھا۔ سنتھیا مسکرا دی۔۔
    ٹھیک ہے۔۔۔۔
    آج جو تصویریں لی ہیں مجھے بھیجو میں انسٹا پر تو لگائوں۔ وہ۔ہدایت کرتی اٹھ گئ۔ سنتھیا بیڈ درست کرتی نیم دراز ہوئی سب تصویریں چن کر بھیجیں اسے پھر ایک پیغام بھی لکھ ڈالا۔
    ابو پیسے چاہیئیں عید کی شاپنگ کرنی ہے۔
    جواب سرعت سے آیا تھا۔اورغیر متوقع بھی۔
    بھیجے ہیں نا بیٹا عید کی شاپنگ کروانے کا کہہ کر ہی ایڈون کو اس سے کہو نا شاپنگ کرا لائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سالک شاہزیب ایڈون اس بڑی سی چھابڑی نما عارضی دکان کے سامنے کھڑے شرٹس اور جینز پسند کر رہے تھے۔
    ایک ہی دکان پر کھڑے رنگ ڈیزائن وغیرہ کی ذیادہ فکر کیئے بنا۔۔ وہ اور سنتھیا بیزاری سے ان لوگوں کی “شاپنگ” دیکھ رہی تھیں۔گنگنم کی مشہور مڈل کلاس مارکیٹ جس میں حقیقتا کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔پنڈی کے راجہ بازار کی طرح تنگ گلیاں اور آدھی آدھی گلی تک استراحت فرماتی دکانوں کے آگے بڑی بڑھی چھابڑیاں اور ٹھیلے۔ سوئی سے ہاتھی تک یہاں بک رہا تھا۔خیر سچ مچ کا ہاتھی نہیں محاورتا کہا۔ ان دونوں سے دو ایک لوگ ٹکرا کر گزرے تو بھنا کر سنتھیا بولی۔۔
    بس بھی کرو ساری دکان خریدنی ہے؟
    آگے پیچھے اور بھی دکانیں ہیں کم از کم ایک آدھ تو چیز کہیں اور سے لے لو۔
    اریزہ بھئ ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
    کیا ضرورت ہے۔ یہ فرسٹ کاپی بیچ رہا ہے سستی سستی شرٹس ہیں یہ سب۔
    ایڈون نے آترا کر بتایا۔ چینجنگ روم تو تھا نہیں۔۔ سالک نے وہیں شرٹ اتار کر اپنے سائز کی شرٹ نکلوا کر پہنی۔
    ٹی پنک شرٹ پہن کر موبائل میں اپنا بوتھا دیکھ کر سالک اتراکر پوچھنے لگا
    یہ کیسی ہے؟ ۔۔ جوابا دکاندار شاہزیب ایڈون کے ساتھ جملہ راہ گیروں تک کو منہ کھولے گھورتا پایا تو سٹپٹا سا گیا۔
    کیا ہوا۔ ؟
    پینٹ بھئ بدل لے یہیں کھڑے کھڑے۔ ایڈون نے دانت کچکچایے۔ اریزہ سنتھیا قصدا رخ موڑ گئیں۔
    یار پینٹ کے ساتھ مسلئہ ہے میں نے آج۔
    اس سے قبل کہ وہ بھانڈ اپنا مسلئہ بھی فل والیم میں بتاتا شاہزیب نے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔
    ایڈون کو بھئ اسکی ٹی پنک شرٹ پسند آئی۔
    ویسے یہ کلر اچھا لگ رہا ہے اس پر۔
    تو تو بھی لے لے۔ سالک نے کندھے اچکائے۔ اچھا ہے عید کے دن دونوں بھائی ایک جیسے کپڑے پہنے ہوں گے۔
    ایڈون اس جیسی شرٹ اٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر دیکھنےلگا پھر ہنس کر بولا۔
    اس میں تو میں اور کالا لگوں گا۔
    توپھر یہ اورنج لے لے۔ تاکہ اندھیرے میں بھی دور سے چمکے تو۔
    شاہزیب نے حقیقتا گہرے نارنجی رنگ کی شرٹ اٹھا کے تھمائی جوابا وہ گھور کر رہ گیا۔
    یار کرتا پاجامہ یاد آرہا ہے مجھے یہاں ملتا تو ہوگا۔
    سالک کو عید کی یاد ستائی۔
    عید کی نماز جینز پہن کر پڑھوں گا میں کیا ؟ اسے دکھ ہو رہا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گرے کرتا جو کمر سے تھوڑا سا ہی نیچے آرہا تھا ہمراہ سفید کھڑا پاجامہ پہن کر وہ انکے سامنے آیا تو بے ساختہ وہ دل سے خوش ہو کر ماشا اللہ کہہ بیٹھے۔
    بہت وجیہہ بہت پیارے لگ رہے ہو ماشا اللہ۔
    انہوں نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم لی
    علی جھینپا جھینپا سا تھا انکے ردعمل پر۔ اسے آج بطور خاص اصرار کرکے عبدالہادی نے اپنے گھر بلایا تھا۔ اور عید کا جوڑا تھمایا تھا بلکہ ابھی پہن کر دکھانے پر اصرار بھی کرنے لگے۔ تاکہ کمی بیشی دور ہوسکے۔۔۔
    اسکی کیا ضرورت تھی۔ ؟ میرے پاس بہت سے کپڑے ہیں۔۔۔
    وہ کہے بنا نہ رہ سکا۔
    کیسے ضرورت نہ تھی؟عید پر کیا پرانے کپڑے پہنتے ؟
    وہ بگڑ کر بولے۔
    بیٹا رمضان کے بعد عید کا دن مسلمانوں کیلئے اللہ کا تحفہ ہے۔ اس دن خوش ہونا صاف کپڑے پہن کر سجدہ شکر ادا کرنا سنت نبوی ص ہے۔ پورا مہینہ عبادت کرکے اپنا نفس سنوار کر عید کے دن سچی خوشی محسوس کرنا ہم پر فرض ہے بیٹا۔
    یہ لباس ہے کونسا۔؟ کچھ کچھ کیمونو( جاپانی روایتی لباس) جیسا ہے
    ویسے یہ ترکی لباس ہے۔ میری ترک بیوی نے خاص ترکی سے منگوائے تھے یہ کرتے پاجامے۔ میں اپنا دکھائوں۔
    انہیں اچانک خیال آیا تو بچوں جیسی خوشی سے بولے۔
    جی دکھائیے۔۔
    وہ مسکرا دیا۔ وہ خوشی خوشی اپنا لباس لینے اندر کمرے میں چلے گیے۔ وہ یونہی طائرانہ نظر کمرے پر ڈالتا صوفے پر ٹک گیا۔ اسکو تبھی موبائل پر پیغام آیا تھا۔
    کھول کر پڑھتے ہی وہ ایکدم اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
    یہ دیکھو میرے اور تمہارے کرتے میں بس ایمبرائیڈری کا فرق ہے تھوڑا سا ہم عید پر صحیح باپ بیٹا لگیں گے تیار ہو کر۔۔
    وہ کرتا پہن کر خوشگوار انداز میں بولتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔۔
    علی نے بے چین سی نگاہ ان پر ڈالی۔ وہ بھی ایکدم سنجیدہ سے ہوگئے
    کیا ہوا؟۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں بھاگم بھاگ اسپتال پہنچے تھے۔ یہ اسپتال اسکے ٹرسٹ کا حصہ تھا۔ ریسیپشن پر سے ہی انہیں وی آئی پی پروٹوکول ملا تھا۔۔ انتظامیہ کا اہلکار انہیں سب تفصیل بتاتا آئی سی یو تک لایا تھا۔ ۔ اسکی ماں کی اچانک طبیعت خراب ہوگئ تھئ۔ گھر میں کافی دیر تکلیف میں پڑے رہنے کے بعد وہ ہوش وحواس سے بے گانہ ہوگئی تھیں تب ملازمہ کسی کام سے اندر آئی تو انکو بیہوش پڑے دیکھ کر اس نے ایمرجنسی سروس بلائی۔۔ فوری اسپتال پہنچانے کے باوجود ابھی انکی حالت خطرے سے باہر نہ تھی۔ اسکے چچا اور اسکے چچا کا بیٹا آئی سی یو کے باہر ہی کھڑے تھے اور اسکو دیکھ کر خاصے بدمزا بھی ہوئےتھے۔
    اب کیا لینے آئے ہو؟ماں اکیلی گھر میں بیمار پڑی رہی تمہیں احساس نہ ہوا تمہارے ہوتے ہوئے بھی ہم تمہاری ماں کو اسپتال لائے علاج کروا رہے تمہاری اب کیا ضرورت باقی رہ گئ ہے۔ جائو اپنے نئے رشتے نبھائو۔ اپنے نئے باپ کے ساتھ۔
    اسکے چچا نے لتاڑ کر رکھ دیا۔ آخری جملے پر ان دونوں کو ایک جیسے ملبوس میں دیکھ کر طنزیہ انداز حقارت بھرا ہوگیا تھا۔ عبدالہادی خفت زدہ سے ہوگئے۔ جبکہ علی سر جھکا کے کھڑا سنتا رہا۔ ایک لفظ صفائی میں نہ بولا۔
    کچھ اندازہ ہے ہمارے ہاتھ سے سارا کاروبار نکل رہا ہے؟ ایک تمہارے غلط فیصلے نے تمہاری ماں کے سب شئیرز ڈبو دیئے ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے ۔
    کوئی سننے لگے تو سنانے والوں کی تو چاندی ہوجاتی ہے۔ سو وہ اسکی ماں کی بیماری سے کاروبار تک پہنچ گئے۔
    اپنی ماں کی بیماری میں اسکے پاس نہ ہونا میری غلطی ہے اس پر میں خاموشی سے آپکی سخت سست سن سکتا ہوں مگر کاروبار اور اس سے جڑے معاملات سے میں خود کو الگ کر چکا ہوں اسکا تذکرہ کرنے کیلئے یہ وقت ویسے بھی مناسب نہیں۔۔
    اسکے دو ٹوک جواب پر وہ دانت پیس کر رہ گئے
    ہائش۔ ہمیشہ یہی خود سری دکھا کے تم نے بھابی کا دل دکھایا اور اب کاروبار بھی ڈبونے چلے ہو۔۔ جانے تم جیسی اولاد۔۔
    وہ بڑ بڑا رہے تھے انہیں نظر انداز کرکے وہ آئی سی یو سے نکلتے ڈاکٹر کی جانب لپکا۔
    شدید ذہنی دبائو کے باعث انکا فشار خون بہت بلند ہو گیا تھا۔
    ہم تک پہنچنے میں انکو بہت دیر لگ گئ۔ ہم پوری کوشش کرنے کے باوجود بھئ انکو بچا نہ سکے۔۔ بیانیئے۔۔
    ڈاکٹر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے افسوس بھرے انداز میں بتایا تھا۔۔۔ وہ ساکت سا کھڑا اسکو دیکھتا رہ۔گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان لڑکوں کی جوتوں کپڑوں سمیت مکمل شاپنگ میں ایک گھنٹہ لگا ہوگا اسکے بعد ان دونوں کو انکی پسند کی چیزیں خریدنے میں ساری شام خرچ ہوگئ۔
    مگر وہ تینوں بڑے تحمل سے شاپر اٹھائے انکے ہمراہ دکانیں جھانکتے پھرے۔ ہر دکان پر ایک تو مناسب لباس اکا دکا تھے جو تھے وہ ان دونوں کو پسند نہ آتے ناک چڑھا کر باہر نکل آتیں۔اب تو تنگ آکر ان تینوں نے بھی انکی مدد کرانی شروع کر دی۔۔ سالک ہینگ ہوئی اسکرٹس نکال کر اسکے سامنے لہرانے لگا۔ سیلز گرل سٹپٹائی سی اسکے ساتھ ساتھ آئی تھی۔
    اسکرٹ پہنوں میں عید کے دن۔۔
    اریزہ بھنائی۔
    کوئی حرج نہیں لانگ اسکرٹس بھی ہیں یہاں۔
    شاہزیب نے گھاگھرے کی طرز کی اسکرٹ اسے دکھائی۔
    یہ بھی لمبا کرتا لگ رہا ہے۔
    سالک ہینگرز سیلز گرل کو تھما کر اب ڈمی کے لانگ ٹاپ کو لہرا کر دکھا رہا تھا۔
    ایڈون اور سنتھیا دکان میں کے ایک کونے میں گھسے الگ ڈسپلے کے کپڑے چھانٹ رہے تھے۔
    سرمئی گلابی امتزاج کی وہ چھوٹے چھوٹے پھولوں والی سلیو لیس میکسی تھی۔ سنتھیا اور ایڈون نے ایک ساتھ اسکی جانب ہاتھ بڑھایا۔ سنتھیا نے ہاتھ پیچھے کیا۔
    یہ دیکھو اریزہ یہ تم پر سوٹ کرے گی۔۔۔۔۔
    ایڈون ہینگر اٹھا کر اریزہ کی جانب بڑھا جو قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی ہلکے نیلے رنگ کا ٹاپ خود سے لگا کر دیکھ رہی تھئ۔
    ایڈون نے اسے سوٹ تھمایا تو وہ خود سے لگا کر دیکھنے لگی۔۔۔
    ٹاپ واقعئ خوبصورت تھا۔۔ مگر خاصا فٹنگ والا۔ یقینا اسکو پھنس جاتا۔۔۔۔
    اس نے کالر سے سائز دیکھا پھر پاس کھڑی سیلز گرل سے بولی
    اسکا کوئی بڑا سائز ہے؟
    آندے۔ فری شائز۔
    ٹوٹی پھوٹی انگریزئ ہنگل میں دونوں ہاتھ ہلا ہلا کر اس نے بات سمجھا ہی دی۔
    آجائے گا اریزہ اتنے روزے تو رکھتی رہی ہو۔۔
    شاہزیب نے کہا تو وہ گھور کر رہ گئ۔
    اندر چینجنگ روم ہے آپ وہاں جا کر پہن کر دیکھ لیں۔
    سیلز گرل نے کہا تو وہ متزبزب ہوئی۔
    سنتھیا۔ اس نے سنتھیا سے مشورہ کرنا چاہا مگر وہ چینجنگ روم کی جانب ہی بڑھ رہی تھی۔ وہ ٹاپ اٹھاتی ان کیبنز کی طرف بڑھ آئی۔ سنتھیا اسکے برابر والے کیبن میں ہی تھی۔ اس نے کپڑے بدلے اور آئینے میں خود کو دیکھنے لگی۔
    میکسی اسے آ تو گئی مگر بہت چست تھی۔
    اریزہ مجھے بھی دکھانا میکسی۔
    سنتھیا نے آواز لگائی تو وہ سٹپٹا سی گئ۔۔۔
    سنتھیا چینج کرکے اب اسکے کیبن کے باہر کھڑی تھی۔
    اس نے دروازہ کھولا سنتھیا کا منہ کھلا۔
    تم کیا کر رہی تھیں اتنی دیر سے کپڑے ہی نہیں بدلے ؟
    وہ حیران ہوئی۔ اریزہ میکسی بدل چکی تھی۔
    یہ لباس میرے لیئے نہیں بنا۔ تمہیں شائد آجائے۔ اس نے احتیاط سے سنتھیا کے ساتھ لگایا تو دبلی پتلی سنتھیا کو واقعی وہ لباس اتنا چست نہ ہوتا جتنا اس پر لگا تھا۔
    سنتھیا نے لمحہ بھر سوچا پھر وہ میکسی لیکر کیبن میں گھس گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تیار ہو کر وہ باہر نکلی تو اریزہ اسکے انتظار میں باہر کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر جیسے منہ کھلا رہ گیا
    اف بہت بہت پیاری لگ رہی ہو تم۔
    اس نے چٹا چٹ گال چوم لیئے۔ سنتھیا سرخ سی ہوگئ۔
    چلو ایڈون سامنے ہی کھڑا ہے منہ کھلا رہ جائے گا اسکا۔ اسکو دھکیل کر کہتی وہ شرارت سے کان میں منمنائی۔ سنتھیا نے قدآدم آئینے میں خود کو دیکھا تو اعتماد سا چال میں آگیا۔ سہج سہج کر چلتی باہر آئی تو سب سے پہلے ایڈون کی ہی اس پر نظر پڑی۔
    ایک لمحے کو تو حیران ہوا پھر تاثرات پر قابو پا لیا۔
    کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔
    وہ اسکے سامنے ہی جا کھڑی ہوئی۔
    آ ہاں۔ اچھی لگ رہی ہو مگر یہ رنگ تھوڑا ڈارک نہیں؟۔
    وہ بے ساختہ بولا سنتھیا کا منہ اتر سا گیا۔
    کیا ہوا میں اس میں کالی لگ رہی ہوں
    اسے یہی گمان گزرا۔۔
    آں۔۔ نہیں ۔۔ اچھی لگ رہی ہو اسمارٹ۔ تم لائٹ کلرز لیتی ہو نا اسلیئے بس ۔۔
    وہ سنبھل کر مسکرا کر بولا۔
    سنتھیا کو اسکی وضاحت مطمئن نہ کرسکی مڑ کر آئینے میں اپنا سراپا دیکھنے لگی۔
    گہرے رنگوں میں اسکی رنگت مزید گہری لگ رہی تھی۔ اس نے آئینے میں منعکس ہوتا اریزہ کا عکس دیکھا جو ڈسپلے سے ایک اور ٹاپ اٹھا کر اپنے ساتھ لگا کر دیکھ رہی تھی۔ ہلکے سے عنابی رنگ کا۔ جو اس کی گوری رنگت پر جچ رہا تھا۔ خیر اسکا رنگ صاف ہی اتنا تھا ہر رنگ جچتا تھا اس پر ۔۔
    وہ کپڑے بدلنے کیبن میں واپس گھس گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لڑکے انکو ہاسٹل کے باہر چھوڑ کر خود آگے چلے گئے تھے۔ ان دونوں نے عید کا جوڑا نہیں لیا تھا۔
    میں نے کہا تھا نا۔ ہم لڑکیاں لڑکیاں مل کر چلتے مزا بھی آتا اور جی ہائے اور گوارا دونوں کو دیکھا ہے انکی ڈریسنگ کتنی اعلی ہوتی ہے دونوں ہی میچنگ وغیرہ کا خوب دھیان رکھتی ہیں۔
    اریزہ کمرے میں داخل ہونے تک سیر حاصل تبصرہ کرتی آئی۔
    مگر مجھے دوبارہ ایڈون کے ساتھ ہی جانا پڑے گا۔ وہ مسکرا دی
    کیوں؟ اریزہ سوالیہ ہوئی
    وہ اسلیئے کہ ابو نے پیسے ایڈون کو ہی بھجوائے ہیں عید کی شاپنگ کیلئے۔
    وہ اطمینان سے کہتی بیڈ پر دھپ سے گر گئ۔ پھر پھر کر تھکن ہوگئ تھی۔
    یہ کیا بات ہوئی۔ اریزہ کمر پر ہاتھ رکھ کر جرح کرنے لگی۔
    تمہارے ابو پیسے ایڈون کو کیوں بھجوا رہے؟
    ایڈون سمجھدار ہے لڑکا ہے ذیادہ بہتر سنبھال سکتا۔
    وہ متفق تھی یا نہیں اس بات سےمگر بظاہر اسکو یہی صحیح لگ رہا تھا۔
    ںو وے۔اپنا پیسہ اپنے ابا کا پیسہ انسان خود ہی صحیح طرح خرچ کر سکتا ہے۔۔ پاپا کہتے ہیں یہ میرے۔ انہوں نے مجھے یہی سکھایا۔
    ۔چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی لینی ہوتی تھی نا تو پاپا مجھے پیسے دیتے چاہے امی یا صارم کے ساتھ ہی کیوں نہ جائوں۔ ایک بار بس میں نے شکایت لگائی تھی پاپا کو کہ امی نے مجھے چیز نہیں لینے دی کہ پیسے ختم ہوگئے بس پھر پاپا نے کبھی میری پاکٹ منی بھی امی کے ہاتھ نا دی مجھے۔
    وہ ہنس ہنس کر بتا رہی تھی۔
    تمہارے پاپا تم سے بہت پیار کرتے ہیں نا۔ سنتھیا مسکرا دی۔
    ہمیشہ سے۔ جب حماد بھائی زندہ تھے نا تب بھی پاپا کی میں لاڈلی ہوتی تھئ۔ حماد بھائی کے بعد تو بہت ذیادہ ہی پاپاپیار کرنے لگے ہیں۔ ۔۔۔
    وہ بولتے بولتے رکی۔۔ پھر قصدا ہنس کر بولی
    شائد ایک ہی اولاد باقی رہ گئ ہوں میں اسلیے۔
    اچھا ایمو ہونے کی نہیں ہو رہی۔ سنتھیا فورا اٹھ بیٹھی۔
    یہ سوچو آخر ہم کیا کریں۔عید کے کپڑے تو ہمیں یہاں پسند نہیں آرہے۔ پھر ۔؟
    سنتھئا کی بات میں دم تھا۔اریزہ بھی اسکے پاس آن بیٹھی
    یار ویسے انڈیںز تو دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں یہاں بھی انڈینز ہوں گے نا۔ کیا پتہ یہاں بھی کپڑے بکنے آتے ہوں۔۔
    اریزہ کے کہنے پر سنتھیا ہنسی۔۔
    کون پہنتا ہوگا یہاں۔ مجھے نہیں لگتا یہاں بھارتی کپڑے بکتے ہوں گے۔
    سنتھیا نے نفئ میں گردن ہلائی۔
    سرچ کرتے ہیں۔اریزہ نے فورا موبائل نکال لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    روایتی کورین انداز میں آخری رسومات انجام دی جا رہی تھیں۔ قد آدم گلدستے جن پر بڑے بڑے بینر چسپاں تھے آنجہانی ینگ سومی کیلئے تعزیتی کلمات سے سجے۔ الوداعی رسومات کمیونٹی ہال میں ادا ہونی تھیں۔ ہال کمرے میں ینگ سومی کی خوبصورت تصویر فریم کرکے چبوترے پر رکھی تھی ارد گرد تعزیت کیلئے آئے لوگوں کی جانب سے پھول اور پھل رکھے تھے۔ لوگ بدھ متی عقائد کے مطابق تصویر کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اپنی نیک تمنائوں کا اظہار کرتے پھر ایک دو رسمی کلمات ایک کونے میں سر جھکائے بیٹھے علی کا کندھا تھپکتے ادا کرتے اور چلے جاتے۔ دوسرے ہال کمرے میں ضیافت کا انتظام تھا۔ چھوٹی چھوٹی چوکیوں پر کورین طرز کے سات رنگ کے کھانے تھے قیمتی شراب سے مہمانوں کی تواضع کی جا رہی تھی۔ شہر کے متمول لوگ اس جنازے میں شریک تھے۔ کالے تھری پیس سوٹوں کا جیسے میلہ لگا ہوا تھا۔
    کم جون جے۔۔
    آنے والے نے خاصے تکلف سے اسے مخاطب کیا تھا۔
    اس نے خالی خالی نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ لی گروپ کا خاندان تعزیت کیلئے آیا تھا۔ وہ اپنے سن سے ذہن کے ساتھ بھی اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ اس خاندان سے اسکے چچا کا خاندان جڑنے والا ہے تو یقینا انکو تعظیم دینا اس پر فرض تھا۔ سو میکانیکی انداز میں اٹھ کھڑا ہوا
    آہجوشی لی نے رسمی سے انداز میں اسکا کندھا تھپکا ۔۔۔
    بہت افسوس ہوا بیٹا۔ شائد یہی قدرت کی مرضی تھی۔ تمہاری ماں بہت محنتئ اور قابل انسان تھی یقینا اسکا جانا ہم سب کیلئے بہت بڑا نقصان ہے۔
    لی روائتی جملے دہرا رہے تھے۔ انکے برابر کھڑا ہایون بالکل خاموش سرجھکائے کھڑا تھا۔وہ رسمی کلمات ادا کرنے اور سماجئ روابط نبھانے میں بالکل اناڑی تھا۔ابھی بھی باپ کی تنبیہی نگاہوں سے نگاہ چرا کر آہجومہ سومی کی تصویر کی جانب بڑھ گیا۔ روائتی طریقے سے سجدہ کرنے کے بعد وہ فورا ہی جانے کو تیار ہوئے تھے۔۔
    اسکے چچا انکا سایہ بنے ہوئے تھے۔ بہت اصرار سے انکو ضیافت کیلیے لے گئے بلایا تو ہایون کو بھی تھا۔ مگر وہ دانستہ پیچھے رہ گیا۔ علی دوبارہ میکانکی سے انداز میں دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھا تھا۔ سرمئی ترک لباس میں ملبوس علی روائتی کورین ماتمی سیاہ لباس زیب تن نہیں کیئے تھا۔اسکا لباس ملگجا بے ترتیب تھا۔ چہرے پر آنسوئوں کے مٹے مٹے نشان تھے بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ الجھا ٹوٹا سا دکھائی دے رہا تھا۔ہایون اسکے کندھے پر دھیرے سے تسلی آمیز انداز میں ہاتھ رکھتا برابر آن بیٹھا۔۔
    علی نے چونک کر آنسوئوں سے بھری نگاہیں اٹھا کر دیکھا پھر سر جھکا لیا۔۔۔۔۔
    میری آہمونی کو جلا دیا انہوں نے۔ میری ایک نہ سنی۔۔
    وہ ضبط کھو کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں اپنی ماں کی لاش کو جلانا نہیں چاہتا۔۔
    وہ حلق کے بل چلایا تھا۔ کم گروپ کے آبائئ گھر کے ڈرائنگ روم میں ہونے والی اس ملاقات میں اسکے چچا انکا بیٹا ، انکا وکیل اور اسکی ماں کا وکیل سب موجود تھے۔
    اسکی ماں کے وکیل نے اسکی ماں کی وصیت سنائئ تھی جس میں جائداد کے بٹوارے اور جون جے کو قانونی طور پر اس جائداد ، انکی کمپنی کے شئیرز اور ا س وسیع و عریض بنگلے جس میں وہ سب اس وقت موجود تھے کی ملکیت سے اسکی ماں کی جانب سے عاق کر دیا گیا تھا۔۔۔
    مزہب کی تبدیلی کے باعث کم سو می اپنے بیٹے سے شدید ناراض تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ انکا بیٹا انکے عقیدے پر پلٹ آئے۔ اس لیئے انہوں نے ناراضی کے اظہار کے طور پر اپنی منقولہ و غیر منقولہ تمام جائداد سے اپنے اکلوتے بیٹے جو ن جے کو عاق کر دیا تھا۔ تا وقتیکہ کہ وہ اپنے مزہب پر واپس آکر اپنی پرانی شناخت بحال نہ کرلے۔ دوسری صورت میں یہ گھر کم گروپ کے وارثین میں تقسیم کیا جائے گا۔
    جون جے سپاٹ تاثرات سے انکی ساری باتیں سنتا رہا تھا۔ اسکے چچا اور کزن دونوں کو اس سے اتنی شرافت کی امید نہ تھی۔ خاموشی سے اپنے ہاتھ سے اپنے حق سے دستبرداری کے تمام کاغذوں پر اس نے دستخط کیئے تھے۔
    مگر جب وکیل نے اسکی ماں کی وصیت کے مطابق بدھ متی عقائد سے انکی لاش کو جلانے کا حکم نامہ سنایا تو وہ تڑپ اٹھا تھا۔
    مگر تمہاری ماں کی یہی وصیت ہے کہ اسے اسکے عقائد کے مطابق ہی رسومات ادا کرکے دفنایا جائے۔
    اسکے چچا کو اسکے اعتراض کرنے پر حیرت ہوئی تھی۔
    میں بیٹا ہوں انکا۔ میں انکی قبر بنوانا چاہتا ہوں۔۔۔ میں اپنی ماں کو جلا کر راکھ نہیں ہوتے دیکھ سکتا ۔مجھے انکا مرقد چاہیئے جہاں میں جا کر اپنی ماں سے مل سکوں۔ پھول نچھاور کر سکوں۔
    وہ جزباتی ہو کر بولا۔
    یہ تو کوئی مسلئہ نہیں۔ ہم انکو اپنے خاندانی یادگارگھر میں ہی جگہ دیں گے جہاں جدی پشتی ہمارے بڑوں کی باقیات سجی ہیں۔ تم جایا کرنا اپنی ماں سے ملنے پھول رکھنے۔
    نا چاہتے ہوئے بھی آخر میں انکا انداز طنزیہ ہوگیا تھا۔۔
    میں وارث ہوں انکا۔۔ انکا اکلوتا بیٹا میری مرضی میں اپنی ماں کا جنازہ جلائوں یا دفنائوں آپ کو اس زمین جائیداد سے دلچسپی ہے نا یہ سب آپکی ہوئی مجھےمیری ماں کا جنازہ چاہیئے۔۔
    وہ ضدی انداز میں بولا۔ جوابا اسکے چچا طیش میں آکر اٹھ کھڑے ہوئے۔
    تم کس ماں کی بات کر رہے ہو جسکے آخری وقت میں تم اسکے ساتھ نہ تھے؟ کمپنی ڈوب گئی تم نے پروا نہ کی یہ صدمہ تمہاری ماں کی جان لے گیا اور تم کہتے ہو ت وارث ہو اسکی لاش کے کوئی حق نہیں تمہارا اس جنازے پر وہ ہمارے خاندان کی بہو ہے او رہم اسکو اپنے آبائی یادگارگھر کا حصہ ہی بنائیں گے۔
    کونسا خاندان؟ وہ چٹخ کر بولا۔
    میرے باپ کو ساری عمر تو آپ نے اپنابھائی نہ مانا۔ انکو دادا جان کی غلطی سمجھا اب کس منہ سے۔
    اسکا جملہ ابھی منہ میں تھا کہ اسکے چچا کا بھرپور تھپڑ خاموش کرواگیا اسے
    یہ پہلی اور آخری بار ہے جو تم نے یہ دہلیز پار کی ۔ میں تمہیں تمہاری ماں کی رسومات میں آنے سے نہیں روکوں گا مگر اب تم یہاں ایک پل نہیں رک سکتے۔۔
    انہوں نے تنفر سے کہہ کر حقیقتا اسے اپنے سیکیورٹی گارڈز سے دھکے دے کر نکلوایا تھا۔
    مجھے صرف میری ماں چاہیئے۔ خدا کا واسطہ ہے مجھے میری ماں دے دو۔ مجھے اور کچھ نہیں چاہیئے۔
    وہ تڑپا تھا مچلا تھا گڑگڑایا تھا۔۔مگر۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میری ماں کو راکھ بنا دیا انہوں نے۔۔ وہ ہایون کے کندھے پر سر رکھے بلک اٹھا تھا۔۔
    میری ماں کو راکھ کردیا۔ مجھے قبر نہیں بنوانے دی۔ اس راکھ کو بھی دفنانے کی اجازت نہیں مجھے۔ میری ماں کو جلا دیا۔۔
    وہ بے ربط بولتا بین کر رہا تھا۔ ہایون چپ سا اسے سنتا رہا۔ یوم بن کم سن بھی آگئے تھے۔ ان دونوں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا تھا۔۔ وہ روئے جا رہا تھا اور یہی جملے دہرائے جا رہا تھا۔۔۔
    میری ماں کو کتنی تکلیف دی انہوں نے۔۔۔
    وہ بڑبڑانے والے انداز میں ہچکیاں لے رہا تھا۔
    ہایون بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    مری ہوئی ماں کو جلایا یا دفنایا کیا فرق پڑتا۔ اسکو مری ہوئی ماں کی۔تکلیف اتنی محسوس ہو رہی تھی اور وہ۔۔
    وہ گھبرا کر اپنی ٹائی ڈھیلی کرتا باہر نکل آیا۔ اسے اندر ایک دم سے بہت گھٹن سی محسوس ہونے لگی تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عبد الھادی اسکے ساتھ اسکے گھر آئے تھے۔پچھلے تین چار دن سے اس نے کپڑے تک نہ بدلے تھے نا کھانا ڈھنگ سے کھایا تھا۔ انہوں نے اسے کپڑے بدلنے بھیجا۔ اور خود کھانا گرم کرنے لگے۔۔جب کافی دیر وہ کمرے سے باہر نہ آیا تو وہ تشویش میں مبتلا ہو کر کمرے میں چلے آئے۔
    اس نے شاور لے لیا تھا۔ کپڑے بدل لیئے تھے مگر بیڈ کی پٹی سے سر ٹکائے زمین پر بیٹھا اپنی ماں کی تصویر چومتا رو رہا تھا۔ وہ تاسف بھرئ نگاہوں سے دیکھ کر رہ گئے۔ پھر دھیرے سے اسکے برابر بیڈ پر آن بیٹھے۔ پیار سے اسکے سر پر ہاتھ پھیر کرکہنے لگے
    صبر کرو آدل ( بیٹا)۔ جانے والے کبھی واپس نہیں آتے۔ ہمیں انکے بغیر جینا سیکھنا ہوتا ہے۔ یوں رو رو کر ماں کے دل کو بے چین نہ کرو بیٹا۔ اپنے اکلوتے بیٹے کو یوں غم سے نڈھال دیکھ کر انہیں تکلیف ہوتی ہوگئ۔۔
    وہ مجھ سے نفرت کرنے لگی تھیں۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔اسکی چندی آنکھیں سوج چکی تھیں۔ چہرہ سرخ اور ستا ہوا تھا۔ انکادل کٹ کر رہ گیا۔ اور وہ کہہ رہا تھا۔
    مجھے عاق کردیا تھا۔ انہوں نے مجھے کبھی واپس گھر نہ آنے دیا۔ اپنے جنازے تک پر سے میرا حق ختم کردیا۔ اپنی ماں کو آخری بار چھو بھی نہ سکا میں۔۔۔ وہ مجھے سے ناراض چلی گئیں۔ میں انہیں منا نہ سکا۔۔۔۔
    مائیں ناراض نہیں ہوتیں بیٹا۔ ماں توبے لوث محبت کرتی ہے۔اللہ نے اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے ماں کی محبت کی مثال دی ہے بیٹا۔ تمہیں جائداد سے عاق کرنا صرف تمہیں واپس بلانے کی کوشش تھئ کہیں زمین جائداد جاتے دیکھ کرہی سہی تم پلٹ آئو بس۔۔۔۔
    مجھے کچھ نہیں چاہیئے تھا بس مجھے میری ماں کا وجود دے دیتے۔اسکو راکھ نہ بناتے میرے پاس انکی ایک نشانی ایک قبر ایک سلسلہ ربط رہ جاتا کاش۔۔
    اس نے کہتے ہوئے تھک کر انکے گھٹنے سے سر ٹکادیا۔
    میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ آہجوشی۔ میرا اس دنیا میں کوئی اپنا نہیں رہا۔۔ میں تنہا رہ گیا۔۔۔۔۔میرے پاس جینے کی کوئی وجہ نہیں رہی آہجوشی۔۔۔۔
    اسکے بین انکا بھی دل چیرے دے رہے تھے
    انہوں نے جھک کر اسکے چہرے پر سے آنسو صاف کیئے۔۔
    ایسا نہیں سوچتے بیٹا۔ ہم اکیلے کبھی نہیں ہوتے اللہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔دیکھنا وہ تمہارے لیئے زندگی میں جینے کی نئی وجہ پیدا کردے گا۔
    وہ تسلی آمیز انداز میں بولے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے سبزی کے سینڈوچ بنا کر سحری کی تھی۔ کافی کا مگ بنا کو واپس ڈورم میں آئی تو سنتھیا ابھئ بھی گہری نیند میں تھی۔ وہ کافی کی چسکیاں لیتے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے بئڈ پر آن بیٹھی۔
    کھلی ترچھی چھت تک مکمل گلاس وال سے آسمان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ چاند کی آخری تاریخیں تھیں سو نا ہونے کے برابر باریک سا چاند تھا۔
    وہ غور سے اسے دیکھتئ رہی۔ تبھئ اسکو میسج آیا تھا۔
    صارم تھا۔
    اس نظم نے کہیں دل پر وار کیا ہے تم بھی پڑھو۔

    کاہے کی تگ و دو میں پھنساتے ہو خود کو .
    ایک دن تیرا یہاں نام و نشان بھی نہیں رہنا …

    قائم ذات بس ایک ہی ہو گی باقی ابد تک …
    تو نے نہیں رہنا ہے میں نے بھی نہیں رہنا

    آسمان کو تسخیر کرنے کی کوشش ہیں سب کرتے …
    سنا ہے ایک دن ہم نے زمیں میں بھی نہیں رہنا …

    دشواریاں جڑی ہیں اسی زندگی سے اگر ہجوم …
    ایک دن تو تجھے یہاں زندہ بھی نہیں رہنا …

    کہنے کو کہتے رہیں گے سبھی بہت کچھ …
    سننے کے مگر قابل اب ہم نے نہیں رہنا …

    آیے تھے اکیلے یہاں جانا بھی ہو گا تنہا …
    بس دنیا کا چونچلا ہے کہ تنہا نہیں رہنا …
    دنیا کا چونچلا ۔۔
    اسے ہنسی آگئ۔ مگر نظم واقعی دل کو لگی تھی۔۔
    کاہے کی۔تگ و دو۔۔۔
    وہ زیر لب بڑبڑائئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔۔

    سلام دوستو۔کیا آپ سب بھی کورین فین فکشن پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟
    کیا خیال ہے اردو فین فکشن پڑھنا چاہیں گے؟
    آج آپکو بتاتی ہوں پاکستانی فین فکشن کے بارے میں۔ نام ہے Desi Kimchi ..
    دیسئ کمچی آٹھ لڑکیوں کی کہانی ہے جو کوریا میں تعلیم حاصل کرنے گئیں اور وہاں انہیں ہوا مزیدار تجربہ۔۔کوریا کی ثقافت اور بودوباش کا پاکستانی ماحول سے موازنہ اور کوریا کے سفر کی دلچسپ روداد
    پڑھ کر بتائیے گا کیسا لگا۔ اگلی قسط کا لنک ہر قسط کے اختتام میں موجود یے۔۔

  • Ejaad a short urdu afsana

    ایجاد

    آج مجھے تقریباً دس سال بعد اسکی صورت نظر آئ تھی
    میں اشیاء خوردونوش کے ایک بڑے کریانے سے خریداری کر رہا تھاجب مجھے وہ دکھائی دیا
    سرف کا لفافہ اٹھاتا ہدایت اللہ
    میرا بچپن کا دوست …
    لمبی داڑھی سفید بال پیشانی پر سجدے کا نشان چہرے پر بڑھاپے کی جھریاں سجی تھیں کندھے تھوڑا سا جھک گیے تھے مگر چہرے پر ووہی ملاحت تھی میں اسے دیکھ کر بے حد خوش ہو گیا تھا
    سو پر جوش انداز میں اسکی جانب بڑھا
    ارے ہدایت اللہ کیسے ہو ؟
    وہ مجھے دیکھ کر چونکا پھر بے حد خوش دلی سے میری جانب بڑھا
    اسلام و علیکم کیا حال ہیں ؟
    ہم بغل گیر ہوئے
    وعلیکم السلام .. میں ٹھیک ٹھاک تم نے اپنا کیا حلیہ بنا رکھا ہے بالکل بوڑھے لگ رہے ہو ؟
    میں کہے بغیر نہ رہ سکا
    اس نے ہنس کر مجھے دیکھا
    میں حسب عادت پتلون قمیض میں ملبوس تھا بال اسکی طرح سفید نہیں چھوڑے تھے

    با قاعدگی سے رنگتا ہوں داڑھی ہمیشہ سے منڈوا رکھی تھی اور اب تو جدید دور سے ہم آہنگ ہو کرروز ورزش کی بھی عادت ڈال رکھی تھی سو پیٹ کمر سے لگا تھا اسکی طرح توند نہیں تھی میری سو میں اس وقت اسکے ساتھ کھڑا اس سے کہیں کم عمر دکھائی دیتا تھا
    بس اب تو بڑھاپا ہی آیئگا جوانی تو کب کی گزر چکی ہے
    اس نے ہنس کر بات ٹالی
    ایسا بھی نہیں … مجھے اختلاف تھا
    تم سناؤ فراز بیٹا کیا کر رہا ہے ؟آخری بار تو اسکی اور حارث کے کالج ختم ہونے کی تقریب میں ملاقات ہوئی تھی ہماری ؟
    وہ میری عادت سے واقف تھا ابھی میں نے اسکو واعظ دینا تھا کہ انسان کو اپنا خیال رکھنا چاہیے بڑھاپا ایک ذہنی کیفیت ہے اسے خود پر طاری کر لینا نری حماقت ہے وغیرہ وغیرہ سو فورا بات بدل دی
    ہاں دس سال ہو گیے … میں نے ٹھنڈی سانس بھری
    بس اسکے بعد اسے وظیفہ مل گیا تھا امریکا چلا گیا تھا آجکل ناسا میں نوکری کر رہا نجانے کتنی نیی نیی تحقیقات کا حصہ ہے اب تک کئی نئی سائنسی اصطلاحات کا اضافہ کر چکا ہے طبیعات میں ابھی کچھ عرصۂ پہلے اسے اسکی خدمات کے اعتراف میں امریکی دانش کدہ سے سند بھی ملی ہے ماشااللہ سے
    کہتا ہے وہاں آجائیں اسکے ساتھ رہیں مگر ہم دونوں میاں بیوی تیار نہیں ہوتے یہاں بیٹیاں ہیں ہاں بس سال چھے مہینے بعد ہم مل آتے ہیں
    میں نے سینہ پھلا کر بتایا تھا
    ماشااللہ … الله اور کامیابیاں عطا کرے والدین کو ہمیشہ اسکی جانب سے اچھی نوید ملے
    وہ ہمیشہ کی طرح خوش ہوا تھا سن کر وہ بھی فراز کو اپنے بیٹے کی طرح ہی چاہتا تھا ..
    تم سناؤحارث کیسا ہے وہ کیا کر رہا ہے آجکل؟
    میں نے اسکے بیٹے کا احوال دریافت کیا تو اسکی مسکراہٹ پھیکی سی پڑ گئی
    اس نے تو مدرسہ سے عالم بننے کے نصاب میں داخلہ لیا تھا اب تو عالم بن چکا ہے اپنا مدرسہ چلا رہا ہے اب تو فتوے بھی دیتا ہےکچھ عرصے سے اسکے اور مرے درمیان فقہی اختلاف ہو گیا ہے کافی دن سے ملاقات اس سے میری بھی نہیں ہی ہے کہتا ہے آپ کے نظریات دین کے صحیح عکاس نہیں ہیں تبدیل کیجیے کچھ اسکی دینی اصطلاحات سے مجھے شدید اختلاف ہے بس… کچھ ایسے ہی معاملات ہیں
    وہ ہنس دیا تھا

    Kesa laga aapko yeh afsana? Rate us below

    Rating
  • Salam Korea Episode 16

    Salam Korea
    by vaiza zaidi
    قسط 16

    Salam korea episode 16 a seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi urdu novels by hajoom e tanhai
    Salam korea episode 16 a seoul korea based urdu web travel novel by vaiza zaidi

    آج اس نے الارم تک جاگ کے ہی وقت گزارا۔ گوارا بے خبر سوئی ہوئی تھی۔ وہ اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ پراٹھا بنایا انڈا تلا۔ کافی بنائئ۔ اچھی طرح سحری کرکے خوب پانی پیا ۔ نیت کی۔ نیند تو آ نہیں رہی تھی۔ سو ٹیرس میں چلی آئی۔
    بیس بائیس منزلہ اس عمارت سے سیول کی روشنیاں خوب دلفریب نظارہ لگ رہی تھیں۔ اونچئ اونچئ عمارتوں پر جلتے قمقمےسے۔ ہوا سبک اور سرد تھئ۔ اس کا مگر یہاں سے جانے کو دل نہ کیا۔ ارادہ اب نماز پڑھ کر ہی سونے کا تھا۔
    کیا کر رہی ہو۔۔
    گوارا اونچا اونچا بولتی اسکے پاس چلی آئی
    کچھ نہیں ۔۔ اریزہ نے مسکرا کر دیکھا۔
    سیول کی روشنیاں دیکھ رہی تھی۔
    گوارا ہنسی۔۔
    یہ منظر مجھے متاثر نہیں کرتا۔ مجھے پہاڑ پسند۔۔ بہتا جھرنا۔ ہو اور ساتھ من پسند ساتھئ۔۔ ہائے۔۔
    اس نے آنکھیں بند کر کے بازو پھیلا کر مزا لیا۔۔ اریزہ اسکے انداز میں بازو پھیلا کر ریلنگ پر پائوں پھنسا کر کھڑی ہوگئ۔۔
    کیا کر رہی ہو۔۔ گوارا نے آنکھیں کھولیں تو رنگ فق ہو گیا اسکا۔ گھبرا کر بازو سے پکڑا اسے
    ۔۔بیس منزلہ عمارت ہے یہاں سے گریں تو قیمہ بن جائے گا تمہارا۔۔وہ مضبوطی سے جکڑ کر بولی۔۔ اریزہ اسکے برعکس مزے سے آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی۔۔
    تصور کرو سامنے بہتا جھرنا ہے اور ایک خوشگوار سبزہ زار میں کھڑی ہو۔۔
    ریلنگ پر کھڑے ہونے سے ریلنگ اسکے پیٹ سے نیچے تھی۔۔
    اسطرح کھڑے ہو کر جھرنا نہیں سمندر کا خیال آئے گا۔۔اور یہاں کوئی ہینڈسم جیک میرا ہاتھ بھی نہیں تھامے کھڑا کہ میں بے فکر رہوں مجھے گرنے نہیں دےگا۔۔ گوارا نے تقریر جھاڑ دی۔
    اترو نیچے۔۔
    وہ ڈپٹ رہی تھی۔۔
    اسکی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ اریزہ ہاتھ چھڑا نہ سکی اسے اتر نا ہی پڑا۔۔
    کتنی جان ہے تم میں۔۔ وہ منہ بنا کر کہہ رہی تھی۔۔
    گوارا ہنسی۔
    بیٹا تربیت لی ہوئی ہے میں نے رضاکار ہوں۔۔ ابھی ایسے ہی نہیں پکڑا تھا نیچے ٹانگ بھی پھنسا لی تھی اگر تم چھوٹ جاتیں تو تمہیں پکڑے ہونے کی وجہ میں نے بھی جھٹکا کھا کر تمہارے ساتھ نیچےآنا تھا۔۔
    اس نے نیچے اپنی ٹانگ کی جانب اشارہ کیا۔۔ اریزہ نے دیکھا تو داد دے کر رہ گئ۔۔
    اس نے ریلنگ کے دو راڈوں کے درمیان پائوں پھنسا رکھا تھا
    اف کتنی ٹیلنٹڈ لڑکی ہو تم۔۔ اریزہ متاثر بھی ہوئی۔
    بے حد۔ اس نے گردن اکڑائی۔۔
    تم ہاتھ بھی مجھ سے نہیں چھڑا سکیں۔۔ گوارا کو یاد آیا۔۔
    مجھ سے ہاتھ چھڑانا آسان نہیں مگر پھر بھی ایک لڑکی سے ہاتھ نہیں چھڑا سکتی ہو کل کو کسی لڑکے نے پکڑ لیا تم تو آسان شکار ثابت ہوگی اسکیلیئے۔۔ گوارا اب سنجیدگی سے کہہ رہی تھی۔۔
    ایویں۔۔ جرائت کسی کی میرا ہاتھ ایسے ہی پکڑ لے۔۔
    اریزہ نے اکڑ کر کہا۔
    تمہارے یہاں پر ورٹ نہیں ہوتے؟۔۔ گوارا نے کہا تو وہ ایکدم چپ ہوکر دیکھنے لگی۔۔
    میرا مطلب ہے ہو سکتا ہے تمہیں کبھئ ضرورت نہیں پڑی ہو مگر تمہیں اپنا بچائو کرنا تو آنا چاہیئے۔۔ گوارا نے وضاحت کی ۔۔
    میں تمہں سکھا سکتی ہوں۔ گوارا نے کہا تو اریزہ سوچ میں پڑی۔۔
    دیکھو۔۔اگر کوئی تمہارا ہاتھ پکڑ لے تو ایسے کلائی کرو۔۔ وہ اسے کلائی گھما کر دکھا رہی تھی۔۔
    ہاتھ میں فورا پسینہ آتا ہے گرفت کبھی بھی کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو ہاتھ چھٹ جاتا۔۔ سو کوئی بھی کبھی حملہ کرے تو اپنے دونوں ہاتھ شکنجے میں پھنسنے مت دو۔۔
    وہ اسے پکڑ کر جھکا رہی تھی۔۔
    پیٹ میں کہنی مارو۔۔
    تھوڑی پر سر مارو۔۔
    وہ اسے پٹخنی دے کر گرا رہی تھی اور اس پٹخنی کو روکنے کا طریقہ بھی بتا رہی تھی۔
    ایک منٹ۔۔۔۔
    اریزہ کو خیال آیا
    تم کہہ رہی ہو ہاتھ میں پسینہ آتا تو ابھی اگر میں گرنے لگتی تو تم سے تو چھٹ جاتی ۔۔۔
    اچھا سوال۔۔ گوارا کی سانس پھول رہی۔تھی۔۔ سینے پر دھیرے دھیرے سہلا کر اس نے سانس بحال کی۔۔
    ایک تو تم سیدھی کھڑی تھیں گر نہیں رہی تھیں بالفرض اگر گرنے لگتیں۔۔ تو میں تمہاری کلائی تھامے تھی دوسرا ہاتھ میرا خالی تھا اس سے میں نے تمہاری کمر یا بازو سے پکڑنا تھا ۔۔ جیکٹ اچھا آپشن تھوڑی مہلت مل جاتی سب سے بڑھ کر تم نے خود ہاتھ پائوں چلا کر مجھے کہیں نہ کہیں سے تھامنا تھا ایسی صورت حال میں انسان کا اپنا خودکار مدافعتی نظام متحرک ہو جاتا۔۔
    گوارا نے تفصیل سے بتایا۔۔
    اور گرفت آپکی کلائی کا کام ہے۔۔ ابھی اس کمزور کلائی سے تو تم مضبوط گرفت کرنا تو دور مجھ سے ہاتھ چھڑاتے بھی زخمی ہو سکتی ہو۔۔
    گوارا نے شرارت سے اسکی کلائی پکڑ کر چھیڑا۔۔
    اریزہ نے فورا چھڑانا چاہا۔۔ مگر چھڑا نہیں پائی۔۔ وہ اسکا ہاتھ تھامے اسکی کوشش کو محظوظ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    تم لڑکی نہیں ہو۔
    اریزہ کو یقین ہو چلا تھا۔روہانسی ہو کر بولی گوارا قہقہہ لگا کر ہنسی تھی اسکی بات پر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میٹرو کے چلنے کا وقت ہوا خاکروب صفائیاں کرتے پھر رہے تھے جب چہل پہل سے اسکی آنکھ کھلی۔۔
    اس نےکسمسا کر اٹھتے ہوئے اپنے اردگرد نگاہ کی۔۔
    رات کو اسکے ساتھ دو عورتیں ایک بچہ دو کم عمر لڑکے ایک ادھیڑ عمر مرد ایک ہپی بھی بستر لگا کر سویا تھا مگر اس وقت وہ اکیلی لیٹی تھی۔۔ وہ شرمندہ سی ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    پوچھا لگاتے ایک خاکروب نے اسکو دیکھا مگر کچھ کہا نہیں۔۔
    وہ ایک۔خالی کارٹن زمین پر بچھا کر لیٹی تھی باقی سب کا روز کا معمول تھا سو کسی کے پاس سلیپنگ بیگ تھا تو کوئی ہوا بھرنے والا۔گدا بچھائے تھا یہ کارٹن اسے بوڑھی عورت نے ازراہ ہمدردی اپنا پہش کیا تھا۔۔
    وہ کارٹن سمیٹنے لگی تو کئی نوٹ اسکے ہاتھ لگے۔۔
    اسے اچھی طرح یاد تھا کارٹن بالکل خالی تھا جب اس نے جھاڑ کر بچھایا تھا۔
    وہ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھ رہی تھی۔۔
    جبھی کوئی اسکے قریب سے گزرتے سکا اچھال گیا۔۔
    اس نے چونک کر سر اٹھایا۔۔ وہ کوئی کالج کا طالب علم تھا بیگ کندھوں پر لٹکائے مڑ کر دیکھنے بنا اسے بھیک دے گیا تھا
    تمہارے ہی ہیں آتے جاتے لوگ رکھ جاتے ہیں بے گھر افراد کے سرہانے اکثر۔۔
    وہ خاکروب اسے سنٹ سا بیٹھے دیکھ کر قریب آکر بولا۔ وہ کچھ نہ بولی ٹکر ٹکر دیکھتی رہی
    تم کو آج پہلی بار یہاں دیکھا نئی آئی ہو اس شہر میں؟
    وہ یونہی پوچھ رہا تھا۔
    اسکی آنکھ سے آنسو بہہ نکلے۔۔
    مت رو ۔۔ اسکا دل پسیج گیا۔۔
    میں بھکاری نہیں ہوں۔۔ وہ کہتے زار زار رو پڑی
    ارے ۔۔ وہ موپ دیوار سے ٹکا کر اسکے سامنے دوزانو بیٹھا
    بھکاری نہیں لگتی ہو جبھی لوگ مدد کر رہے۔۔ روز کے آنے جانے والے بھکاریوں کو دھتکار دیتے ہیں دیکھا یہاں کوئی نہیں بیٹھا ہوا۔۔ تم مشکل میں لگتی ہو جبھی لوگ پیسے بھی دے گئے بھیک نہیں مدد ہے یہ
    اس نے گھٹنوں میں سر دے لیا۔۔
    اپنے ہی الفاظ کانوں میں گونجے آئندہ بھیک اسے دیجئے گا جسے ضرورت ہو۔۔ تو کیا وہ بھی بھیک منگوں میں سے ہو گئ ہے۔۔ اسے اپنی بے بسی پر غصہ بھی آرہا تھا۔۔
    آہش۔۔
    وہ تاسف سے دیکھ رہا تھا
    ایک عورت کو تو خود میں نے کہتے سنا۔۔ بےچاری اچھے گھر کی لگتی ہے۔۔ یہ دو ہزار وون کا نوٹ اس نے تمہارے ہاتھ کے نیچھے دبایا تھا۔۔
    وہ چونک کر سر اٹھا کر دیکھنے لگی تو وہ یقین دلانے والے انداز میں سر ہلانے لگا۔۔
    واقعی۔۔ اس نے ایسا ہی کہا تھا۔۔پھر میں نے یہ کارٹن کے نیچے دبا دیا تھا کہ ہوا سے اڑ نہ جائے۔۔
    وہ اسے بہتر محسوس کرانا چاہ رہا تھا۔۔ اس نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔۔ سادہ سا پینتیس چھتیس سال کا کوریائی نقوش کا حامل مرد جس کے چہرے پر سوائے سادگی کے کچھ نہ تھا۔۔ اسکی ہمدردی اسے جانے کیوں بری نہ لگی۔۔ اس نے سر ہلا دیا۔۔ پھر گھٹنوں کو تھامتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
    اس نے پیسے مٹھی میں بھر کر اپنے اپر کی جیب میں ڈال لیئے تھے۔۔
    کچھ کھائو گی؟۔۔ اسے اٹھتے دیکھ کر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔
    میرے پاس تھوڑا سا چاولوں کا کیک ہے دوں؟۔۔ اس کی خاموشی پر اس نے مزید کہا۔۔
    وہ آنسو پونچھتی مسکرا دی۔۔
    گومو وویو۔۔ پیسے ہیں میرے پاس کچھ کھا لیتی ہوں میں۔۔
    یہ کارٹن ادھر سیڑھیوں کے پاس رکھ دوں گا رات کو وہیں سے لے لینا۔۔
    وہ سر ہلا کر کارٹن اٹھانے لگا تو خیال آیا ۔۔ ہوپ مڑ کا جانے لگی تھی کہ اسکی بات پر ٹھٹھک گئ۔۔
    وہ سادہ سے انداز میں کہہ کر اب کارٹن تہہ کر رہا تھا۔۔
    وہ بس دیکھ کر رہ گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہاسٹل کے برعکس گوارا کے فلیٹ میں گزارے روزے بہتر گزررہے تھے۔ اس نے گوارا کے سامنے اعتراف بھی کیا۔۔
    تم ہاسٹل چھوڑو یہیں رک جائو۔ گوارا اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق فورا بولی
    اریزہ ہنس دی۔ اسے اب پیر کو ہی جانا تھا یونی سو اطمینان تھا۔ لیکن چیزیں پورے کمرے میں پھیلا رکھی تھیں سو اپنے بیگ میں سمیٹ سمیٹ کر رکھ رہی تھی۔
    ایک تو تمہیں کرایہ دینا پڑے گا دوسرا بس کا کرایہ بھی۔ مانا میرے آہبوجی بہت پیسے بھیجتے مگر اڑانا مجھے زیب نہیں دیتا۔ انکی محنت کی کمائی ہے۔
    اسکی بات پر گوارا جو موبائل میں لگی تھی فون ایک طرف رکھ کر بیڈ پر آلتی پالتی مارتے سیدھی ہو بیٹھی۔
    سب مسلم والد ایسے ہوتے ہیں؟ بیٹیوں پر پیسہ خرچ کرنے والے۔
    سب والد ہی ایسے ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کیلئے۔ مسلم غیر مسلم کی کیا تفریق۔
    اریزہ کو اسکا سوال عجیب سا لگا۔
    ہممم۔ گوارا ہوں کرکے چپ ہوگئ
    تمہارے والد تمہارا خرچہ نہیں اٹھاتے؟
    اریزہ سوال کرتے ہی زبان دانتوں میں دبا گئ۔ اسے یوں پوچھنا نہیں چاہیئے تھا۔
    نہیں۔ گوارا کا انداز سادہ سا تھا۔ اسکی جھینپی سی شکل کو دیکھ کر مسکرا کر بولی
    میرے سگے باپ کا انتقال ہو چکا ہے۔ انکی انشورنس وغیرہ سے آہموجی نے ریستوران بنا رکھا ہے گائوں میں۔ اور یہ فلیٹ تھا انکا۔اپنے والد کی شفقت تو یاد نہیں مگر شائد باپ کا کام ہی بچوں کو فائنینشلی سپورٹ فراہم کرنا ہوتا ہے۔اب جی ہائے کو ہی دیکھ لو۔اسکے بابا اس پر کھلا پیسہ خرچتے ہیں۔ مگر وہ اسکی خاطر اسکی امی سے صلح نہیں کر سکتے تھے۔ اسکو دکھ ہی اسی بات کا بس۔
    وہ سرسری انداز میں بتاتئ اٹھ کر باتھ روم میں گھس گئ۔
    اریزہ بیگ سمیٹتے سمیٹتے رک کر بیڈ پر بیٹھ گئ۔
    اسکے بابا تو اسکے بہت لاڈ اٹھاتے تھے۔شائد ہی کوئی فرمائش ہوگی اسکی جو انہوں نے ٹالی ہو۔ اسکے منہ سے بات نکلنے کی دیر ہوتی تھئ اور وہ اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ رات بارہ بجے وہ انکے ساتھ جا کے آئس کریم کھا کے آتی تھی۔ اسکے پاس مہنگے سے مہنگا فون ہوتا تھا۔۔ یہاں بھی وہ مہینے کے درمیان میں ہی پیسے ختم کرکے مزید کی فرمائش کر دیتی تھی۔۔۔ اسکو شدت سے وہ پل یاد آئے جب وہ رات کو انکے ساتھ بیٹھ کر کافی پیتےانکو لمبے لمبے سہیلیوں کے اسکول کے قصے سناتی تھی۔ اسکی سب سہیلیوں کے نام یاد تھے انہیں۔ سنتھیا اسکی سہیلی نہیں بہن ہے یہ انہوں نے اسے سمجھایا تھا۔
    اس نے پلٹ کر بیڈ سے اپنا فون اٹھایا اور فورا میسج ٹائپ کرنے لگی
    پاپا۔ آپ بہت یاد آرہے ہیں مجھے۔ مس یو۔ اور ڈھیر سارا لو یو۔
    جوابا فوری انکا پیغام آیا تھا۔
    مس یو ٹو بیٹا۔ اور پیسے چاہیئے ہیں؟؟؟
    وہ شرمندہ سی ہوگئ۔
    نہیں پاپا بس مس یو اینڈ لو یو۔۔
    اس بار پیغام نہیں انکی کال آگئ تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جی ہائے پریکٹس کر رہی تھی وہ دونوں آلتی پالتی مارے بیٹھی اسے دیکھ رہی تھیں
    وہ ربن سے کرتب کر رہی تھی۔۔ ہوا میں تیرتی سبک خرامی سے اڑتی پھر زمین پر اسکے پائوں آہستہ آہستہ یوں آ اترتے جیسے کوئی دھیرے سے اسے اٹھا کر رکھ دیتا ہو۔۔
    اریزہ محویت سے دیکھ رہی تھی اور گوارا اسکی محویت دیکھ رہی تھی۔
    شفاف گلابی جلد ستواں ناک بڑی بڑی آنکھیں میک اپ کے نام پر کاجل تک نہیں تھا۔ اپنے روائتی سرخ رنگ کے لباس میں ملبوس وہ توجہ کھینچ لینے والا حسن رکھتی تھی۔۔
    سوائے نقش مختلف ہونے کہ وہ خود بھی کافی پیاری بلکہ حسین کوریائی لڑکی تھی مگر جب انسان خود ہی اپنی شکل کو نا پسند کر بیٹھے کوئی کیا اسے اسکے حسن کا احساس دلائے۔۔
    اسکی پریکٹس ختم ہوئی اریزہ نے اسکے لیئے زور زور سے تالیاں بجائیں تب وہ چونکی۔ جے ہی جھک کر اس سے داد وصول رہی تھی۔۔
    چڑھی سانسوں کے ساتھ دھپ سے جی ہائےاسکے پاس آگری۔۔ اف پانی۔۔ اس نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی مگر وہ خالی ہوچکی تھی۔۔ اف۔ اس نے پیاسی نظروں سے ہال کے ایک کونے میں لگے کولر کو دیکھا۔۔
    گوارا پانی بھر کے لادو۔۔
    اس نے منت بھرے انداز میں گوارا کو کہا۔۔
    وہ وہیں اسکے بیگ پر پھیل گئ۔۔
    پانی چاہیئے۔۔ اریزہ نے اندازہ لگایا۔۔ جے ہی نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
    میں لا دیتی ہوں۔۔ اریزہ فورا اٹھی۔۔
    میرے لیئے بھی۔۔ گوارا نے اپنی بوتل بھی نکال کر تھما دی
    شرم کرو۔۔ جی ہائے نے گھورا مگر وہ ڈھٹائی سے ہنسی
    اریزہ دو بوتلیں بھر کر لائی تھی۔۔
    جی ہائے تم آجائو نا میرے فلیٹ میں اپنے ابا کے پیسے میرے منہ پر مار دیا کرنا کرائے کی مد میں ساتھ ایک اور بندی ہوجائے تو میری کتنی بچت ہونے لگے۔۔
    گوارا کا بچت موڈ آن تھا۔
    جی ہائے نے اثبات میں سر ہلایا
    خیال اچھا ہے ان سے کرائے کے نام پر مزید پیسے نکلوانے کا موقع بھئ مگر روز جو مجھے اس منحوس ہال میں آکر پریکٹس کرنئ ہے اسکا کیا۔
    یار مجھے شکل ٹھیک کرنی ہے ابھی اس اریزہ کو ہی دیکھ لو کیسی ستواں ناک ہے اور میری دیکھو پھینی۔
    گوارا نے دہائی دی
    اف اسکے عجیب دکھ۔۔
    کوئی بتائے اسے اصل دنیا کے مسلے کیا ہیں۔۔ جی ہائےمزاق اڑا رہی تھی۔۔
    ماں باپ ہیں بہن بھائی ہیں مگر اسے اکیلا رہنا پسند ہے۔ خیال رکھنے والا بوائے فرینڈ ہے مگر اسکو ناک تک عاجز کیئے رکھتی۔۔ جاب نہیں کرتی ہے مگر خرچے بڑھا رکھے ہر دوسرے دن چھوڑ چھاڑ جیب خرچ اپنے والدین سے منگواتی مگر یہ بہت دکھییا ہے بے چاری۔۔ جب اسے ان سب دکھوں سے فرصت ہوتی تو آئنہ دیکھ کر اچھی بھلی شکل میں عیب ڈھونڈ کر روتی
    جی ہائےگنوا گنوا کر زلیل کر رہی تھی اریزہ حیران اسکی شکل۔دیکھ رہی تھی گوارا ہنسے جا رہی تھی۔۔
    میں پیسے نہ منگوایا کروں تو میری ماں میرے باپ کے پیسوں سے کما کر اپنے سوتیلے بچوں پر خرچ کردے۔ سب۔
    وہ ہنستے ہوئے بولی۔

    سدھر جائو آہجومہ زندگی سبق سکھانے پر آتی تو بہت برا رگڑا لگتا ہے۔۔
    جو بھی۔۔ اس نے کان سے مکھی اڑائی۔۔
    پھر بتانے لگی۔
    میں نے نوٹس بورڈ پر اشتہار لگایا ہے صبح سے تین کالز آچکی ہیں مگر سب لڑکوں کی۔
    اب ایک کمرے کے فلیٹ میں میل روم میٹ تو رکھنے سے رہی۔۔ ساتھ وہ بھی ایک نازک اندام حسینہ اسکی بھی حفاظت میرے زمے ۔۔ویک اینڈ پر ہی سہی
    گوارا نے شرارت سے کہا تو اریزہ ںے تصدیق کرنی چاہی
    میری بات کر رہی ہو۔۔
    گوارا اور جے ہی کھلکھلا کر ہنس پڑیں
    یار یہ مجھ تک سے ہاتھ نہیں چھڑا سکی۔۔ گوارا مزاق اڑا رہی تھی۔۔
    واقعی۔۔ جی ہائے حیران ہوئی۔۔ اریزہ خفا ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی
    تو اور کیا ایسے کانپ رہی تھی۔۔ گوارا نے مبالغہ آرائی سے کام لیا۔
    میرا مزاق نہ اڑائو۔۔ اریزہ کا موڈ خراب ہوا۔۔
    ارے ۔ ناراض مت ہو۔۔ وہ اسے خفا بھی نہیں دیکھ سکتی تھیں۔۔ ہنستے ہوئے
    ۔ دونوں نے ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچ لیا۔ وہ ایکدم سے گرتے گرتے انکے ساتھ دھم سے آبیٹھی تھی دونوں اب پیٹ پکڑ کر ہنس رہی تھیں کیونکہ
    وہ اس بار بھی ان سے ہاتھ نہ چھڑا پائی تھی۔۔ اس نے گھورا انہیں پھر خود بھی ہنسنے لگی۔۔
    ہال کے نیم وا دروازے سے اس نے جھانک کر ان خوش باش چہروں کو غورسے دیکھا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تھکے تھکے قدموں سے گھر میں داخل۔ہوئی تھیں۔۔ آہموجی باہر نکلنے کو تیار تھیں۔۔ وہ جھک کر سلام کرتی اپنے کمرے کی طرف مڑنے لگیں جب آہموجی کو جانے کیا خیال آیا رک کر پکار لیا۔۔
    گنگشن۔۔
    آہموجی نے پکارا تھا وہ چند لمحے مڑ بھی نہ سکیں۔۔
    دے۔۔ وہ خو د کو سنبھال کر پلٹ آئیں۔۔
    تم کہاں سے آرہی ہو؟۔۔
    وہ ٹٹولتی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
    دفتر سے۔۔ انہوں نے مختصر جواب دیا۔۔
    کس دفتر سے؟۔۔
    آہموجی تفتیش کے موڈ میں تھیں انہوں نے بیزاری سے کہا
    اپنے۔۔
    اپنے کونسے ؟۔۔ وہ بھنائیں۔۔
    کیا پوچھنا چاہ رہی ہیں آپ۔۔ وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولیں۔
    لی گروپ سے آرہی ہو نا؟۔۔
    انی نے پیشانی مسلی
    میں جانتی ہوں جھوٹ مت بولنا۔ انہوں نے ٹوک دیا۔۔
    ہیون تھوڑی دیر پہلے ہی اپنا اسپورٹس بیگ لے کر نکلا ہے ظاہر ہے وہ دفتر نہیں گیا ہوگا۔
    گنگشن گہری سانس لے کر رہ گئیں۔۔
    تم سے میں نے بس ریکارڈ مانگا تھا اتنا تو کر سکتی ہو۔۔ وہ شرمندہ کر دینے والے انداز مین بولیں۔۔
    انی خاموش رہیں۔۔
    اس لڑکے کے پیچھے تم اپنی ماں کی نافرمان ہوتی جا رہی ہو۔۔
    وہ ضبط کھو کر چلائیں۔۔
    آوارہ عورت کا ناجائز بچہ ہے وہ کون جانے تمہارا بھائی ہے بھی نہیں۔۔ کل کو بلا شرکت غیرے ہر چیز کا مالک بنا دے گا اسے تمہارا باپ تب تمہیں اپنی ماں کی بات یاد آئے گی۔۔
    گنگشن زور سے ہنس دیں۔۔
    مالک بنے گا نہیں ہے وہ مالک ۔۔۔
    انہوں نے جتایا۔۔ آہموجی ہونہہ کہہ کر رہ گئیں۔۔ وہ زور دے کر بولیں۔۔
    ۔ وہ نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا۔۔ یہ سب میرا کبھی نہ تھا نہ ہوگا۔۔ آہبوجی اپنی محنت کبھی کسی اور کے ہاتھ میں نہیں سونپیں گے۔ ساری جائداد کمپنی دور ایک معمولی سب کمپنی دان نہ کر۔سکے اپنی بیٹی کا گھر بچانے کیلیئے آپ جانے کس غلط فہمی میں ہیں۔۔
    وہ کہہ کر سر جھٹکتی چلی گئیں تھیں۔۔
    آہموجی کی فراخ پیشانی شکنوں سے پر ہو گئ۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن اور ہیون بالنگ کر رہے تھے
    کم سن نے بورڈ دیکھا ہیونگ سک پندرہ پوائنٹس سے
    آگے تھا
    بال میں تین انگلیاں پھنسا کر اس نے جتاتئ نظروں سے دیکھا تو کم سن ہنس دیا
    وہ انداز سے جھکا نشانہ باندھا اپنےبازو کے زور سے بال کو اسکے راستے پر لڑھکایا بال ریڑھتی گئ اور سیدھا درمیان سے بوتلوں سے ٹکرائی ساری کی ساری بوتلیں ڈھیر ہوگئیں۔۔
    یس۔۔ اس نے زور سے چیخ مار کر مٹھی بنا کر ہوا میں لہرائی۔۔
    کم سن کی باری ختم ہو چکی تھی اسکور بورڈ ہیونگ سک کی جیت کا جشن منا رہا تھا
    اس نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔۔
    ہیون پسینے پسینے ہو رہا تھا اس نے سائڈ سے تولیا اٹھا کر اسکی جانب اچھالی۔۔ وہ منہ بازو پونچھتا اسکے پاس صوفے پر آگرا۔
    اف تھک گیا۔۔
    کم سن نے اسکو پانی کی بوتل پکڑائی خود بھی اسکے ساتھ بیٹھ کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
    تو اگر جان کر ایک شاٹ مس نہ کرتا تو میں آج بھی نہ جیت پاتا۔۔
    بوتل منہ سے لگاتے اس نے سرسری سے انداز میں کہا کم سن کو پانی پیتے اچھو لگ گیا۔۔ کھانستے کھانستے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔۔ وہ پورے دھیان سے پانی پی رہا تھا۔۔
    کم سن سر جھٹک کر رہ گیا
    تمہارا کام کر دیا تھا میں نے ایک دو دن میں پیپرز مل جائیں گے تمہیں۔۔
    اسے اچانک خیال آیا تو سیدھا ہو کر بتانے لگا۔۔
    گومو وویو۔۔ وہ مشکور ہوا
    غلامی کر اب میری بقیہ زندگی۔۔ اس نے طنز سے گھورا
    کم سن زور سے ہنسا۔۔
    احسان مند شکریہ ہی ادا کرتے میری دعا ہے تمہیں کبھی کسی کا احسان مند نا ہونا پڑے۔۔ تم نہیں جانتے مگر تم نے میرا بہت بڑا کام کیا ہے۔۔
    کم سن سنجیدہ ہو کر کہہ رہا تھا۔۔ اس نے ہیون کی جانب دیکھنے سے احتراز برتا تھا۔۔ مگر کم سن کو دیکھے بغیر بھی وہ جانتا تھا ایسا اس نے آنکھوں میں در آنے والی نمی کو چھپانے کیلیئے کیا ہے۔۔
    کم سنا۔۔ ہیونگ سک نے مخاطب کیا تو وہ اسکی جانب گھوم گیا۔۔
    سارنگی اے۔۔ (میں تم سے پیار کرتا ہوں)
    کم سن نے پوری آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔
    ہیونگ سک اسکی حیرت پر مسکرایا۔۔ پھر بات ہی بدل گیا۔۔
    جون جے سے ملنے جارہا ہوں چلو گے؟۔۔
    ہیون نے کہا تو کم سن نے اسے غور سے دیکھا
    کیوں؟۔۔جا رہے ہو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں اسکے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے بیل بجا رہے تھے۔ تین چار بار کے بعد دروازہ کھلا۔۔ جون جے انکے آگے جھک سا گیا۔۔
    اسلام و علیکم۔۔
    معزرت بے حد معزرت تم لوگوں کو انتظار کرنا پڑا۔۔ میں نماز پڑھ رہا تھا آئو اندر آئو۔۔
    وہ خوشدلی سے دونوں کو گلے لگا کر ملا ۔۔
    آننیانگ واسے او۔۔ کم سن کو اسکے سلام کا جواب سمجھ نہ آیا تو اپنی زبان میں ہی سلام کر دیا۔۔
    آننیاگ واسے او۔۔ اس نے فورا جواب دیا۔۔ انکو ہمراہ لیئے سیدھا لائونج میں لے آیا۔۔ لاونج میں ایل ای ڈی تھا اور بےحد آرامدہ صو فے بچھے تھے۔۔
    کیا لوگے ۔۔
    وہ آداب میزبانی نبھا رہا تھا۔۔ دونوں نے اکٹھے شرارت سے کہا۔۔
    وہسکی۔
    جون جے ہنس دیا۔
    وہ تو نہیں ہے۔۔ تازہ جوس ہے لے آتا ہوں۔۔ وہ انکو بیٹھنے کا اشارہ کرتا کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔
    ہیون نے اسکے فلیٹ کا جائزہ لیا۔۔ بس ضرورت کا سامان تھا نہ بے حد پر تعیش تھا نہ بالکل خالی۔۔ اسکو اسکا کمرہ یاد آیا۔۔
    اس پورے فلیٹ جتنا بس اسکا کمرہ تھا۔۔۔سامان سے اٹا ہوا۔۔ اسکی وارڈروب کسی مہنگی برانڈ کے اسٹور سے کم نہیں تھی نک سک سے درست رہنا مہنگے کلون استعمال کرنا اسکا شوق تھا۔ اور اس وقت۔۔ سادہ سے ٹرائوزر شرٹ میں ملبوس ہلکی ہلکی شیو بڑھی ہوئی وہ انکےلیئے اپنے ہاتھوں سے اورنج جوس نکال رہا تھا۔۔
    یہ وہی بندہ ہے جو جھک کر اپنے جوتے کےتسمے تک نہیں باندھنے کو تیار ہوتا تھا ۔۔ اتنا نخریلا تھا۔۔
    کم سن نے اسکی جانب جھک کر سرگوشی کی۔ تبھی جون جے کی اس پر نظر پڑی تو مسکرا کر بس دو منٹ میں آیا کا اشارہ کیا۔۔
    ہیون نے ہلکے سے ہنکارہ بھرا۔
    جون جے تین گلاس بنا کر ٹرے میں سجا لایا۔۔ سہولت سے انہیں تھما کر انکے مقابل آبیٹھا۔۔
    میں نے کھانا آرڈر کیا ہے تم لوگ کھا کر ہی جانا ۔۔ اس نے خلوص سے دعوت دی
    دونوں نے سر ہلا دیا۔۔
    یہ کیا ہے۔۔ ہیونگ سک کو ٹی وی کے پاس رگ سا بچھا نظر آیا۔ تھا تو قالین جیسا ہی مگر قالین پر کوئی تصویر سی بنی تھی۔۔
    اوہ۔۔ جائےنماز میں جلدی میں سمیٹنا بھول گیا۔۔
    جون جے سر پر ہاتھ مارتا اٹھا
    اس پر کیا بنا ہے؟۔۔ کم سن کو بھی تجسس ہوا۔۔
    جون جے اٹھ کر تہہ لگا رہا تھا اسکے پوچھنے پر کھول کر دکھانے لگا۔۔
    یہ محراب بنی ہے عموما مسجد اسی طرح کی ہوتی اس پر نماز پڑھی جاتی ہے۔۔ ۔۔ جون جے نے تہہ کر کے ریک میں رکھ دی۔۔
    میرا روم میٹ تو چادر بچھا کر نماز پڑھتا۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
    کون؟۔۔ ہیونگ سک بھی چونکا
    شاہزیب۔۔ کم سن نے بتایا تو وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔
    چادر میں بھی پڑھ سکتے مگر یہ مخصوص ہوتی تو بس اسی کام کیلیئے رکھی جاتی چادر تو کہیں بھی استعمال ہو سکتی۔۔ جون جے کو سمجھ نہ آیا کیسے افادیت بتائے۔۔
    دونوں نے پھر مزید سوال بھی نہ کیا۔۔
    اور کیا ہو رہا ہے۔ ہیون سے تو ملاقات ہو جاتی تم کیا کر رہے ہو آجکل پینٹنگ کا شوق کیسا جا رہا۔۔
    جون جے نے پوچھا تو کم سن پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔
    کب کی چھوڑ دی پینٹنگ۔۔۔
    کیوں۔۔ جون جے حیران ہوا۔۔
    لمبی کہانی ہے۔۔ کم سن نے ٹالنا چاہا۔۔
    ہیون بے نیازی سے گھونٹ بھر رہا تھا۔
    چلو جیسے تمہاری مرضی۔۔ جون جے نے بھی اصرار نہ کیا۔۔
    تم نے کھانے میں کیا آرڈر کیا ہے۔۔ سبزیاں منگوائی ہیں تو مجھے بالکل بھوک نہیں پہلے بتا رہا۔۔
    ہیون نے لگی لپٹے رکھے بغیر کہا۔۔
    جون جے زور سے ہنسا۔۔
    نہیں حلال ریستوران سے کھانا منگوایا ہے ہے کوریائی کھانا مگر بیف اور چکن ہے ساتھ نوڈلز۔۔
    ہیونگ سک مطمئن ہوا۔۔
    تم لوگ کھا سکتے ہو بیف اور چکن۔۔ کم سن حیران ہوا۔۔
    تم لوگ مطلب۔۔ جون جے سمجھا نہیں
    یار مسلم کھا سکتے۔۔ اس نے وضاحت کی۔۔
    میرے کچھ دوست ہیں مسلم جو کبھی ہمارے ساتھ کہیں جا کر گوشت نہیں کھاتے۔۔ اگر تم کسی ریستوران کا کھا سکتے ہو تو بتائو میں انہیں بتائوں گا۔
    ہاں ۔۔ ضرور۔۔ اس نے فورا حامی بھری پھر چونکا
    تمہارے مسلمان دوست ہیں؟
    اسکے زہن میں خطبے میں سنے الفاظ گونجے
    یہود اور نصارئ تمہارے کبھی دوست نہیں ہو سکتے۔۔
    ہاں۔۔ پاکستان ایک ملک ہے اسلامی وہاں سے آئے ہیں۔۔ کچھ ایکسینچ اسٹوڈنٹس۔۔ہماری اچھی خاصی دوستی ہے ان سے اچھے لوگ ہیں۔۔
    ہیون نے بھی بتایا تو وہ کندھے اچکا گیا۔۔
    اچھی بات ہے۔
    تبھی باہر دروازے کی اطلاعی گھنٹی بجی۔۔ کم سن کے دماغ میں بھی گھنٹی بجی۔۔
    اس نے غور سے جون جے کو دیکھا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شاہزیب اور ایڈون یونہی رات کو چہل قدمی کرنے نکلے تھے یہ داخلی سڑک تھی سو اکا دکا کوئی گاڑی گزرتی تھی۔ وہ فٹ پاتھ پر چل رہے تھے سڑک شفاف تھی فٹ پاتھ صاف تھا۔ اردگرد صفائی سے ماحول کتنا اچھا لگ رہا تھا۔
    ۔کاش پاکستان میں بھی لوگ صفائی کا خیال کر لیں
    نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے موازنہ کر ڈالا۔ اور دکھ سے سوچا۔۔۔
    ۔۔ ایڈون نے کسی کو فون ملا کر دیکھا تھا موبائل بند تھا۔۔
    آہش۔۔ اس نے سر جھٹک کر موبائل واپس جیب میں ڈال۔لیا۔۔
    یار یہاں کا موسم کتنا اچھا ہے
    ۔ شاہزیب نے دونوں ہاتھ اپر کی جیب میں گھسیڑ کر کندھے اونچے کرکے خنکی کو اپنے اندر سمونا چاہا۔۔
    یہاں سب کچھ ہی اچھا ہے۔۔سکون ہے آزادی ہے۔۔
    ایڈون نے سادہ سے انداز میں کہا تھا۔۔
    شاہزیب نے چلتے چلتے رک کر اسے دیکھا تھا۔۔
    ایڈون ایک بات پوچھوں ؟۔۔ زاتی سوال ہے نہ بتانا چاہے تیری مرضی۔۔
    اس نے حفظ ماتقدم کےطور پر پہلے ہی کہہ دیا۔۔ ایڈون باقائدہ اسکی جانب مڑ کر گھورنے لگا۔۔
    تو کب سے اتنا تمیز تہزیب والا ہوگیا۔۔ پوچھ نہیں بتانا چاہوں تو تیرا۔ وہ رکا۔۔
    اگلوا نہیں سکتا مجھ سے۔۔ اس نے کیا لفظ کھایا تھا شاہزیب بخوبی سمجھ کر ہنسا۔۔
    نہیں اگلوانا کچھ نہیں تجھ سے تیرا کچھ بھئ مجھ سے چھپا نہیں۔۔
    شاہزیب نے کہا تو ایڈون نے فورا دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر جیسے ڈر کر خود کو اس سے چھپایا
    کیا بک رہا ہے۔۔
    شاہزیب نے کھڑی لات اسکے جمائی۔۔
    وہ سی کرتا ٹانگ سہلانے لگا۔۔
    سنتھیا جان گئ ہے اریزہ کے بارے میں ؟۔۔
    اس نے سیدھا سوال کیا۔۔
    ایڈون ایکدم سنجیدہ ہوا۔۔
    پھر گہری سانس لے کر سر اثبات میں ہلا دیا۔۔
    تجھے میں نے کہا تو کبھی بھولے سے بھی اسکو مت بتانا
    شاہزیب کا دل۔کیا اس احمق کے زور سے کان کے نیچے جما دے۔۔ دانت پیس کر بولا تھا
    ایڈون نے کوئی جواب نہ دیا۔۔
    ۔۔ جبھی ناراض ہے تم سے فون بھی اٹھا رہی۔
    اس نے پھر پوچھا۔۔
    اس بات پر نہیں ناراض۔ اس پر منا لیا تھا میں نے اسے۔۔ اب بس ہر وقت شک کرتی رہتی مجھ پر
    کچھ بولوں تو کہتی تم مجھ سے جلدی چڑ جاتے ہو ابھی اریزہ ہوتی تو تمہارا رویہ ایسا نہ ہوتا۔۔
    خاموش ہوں تو اسے لگتا اریزہ کی یادوں میں گم ہوں کوئی بھی بات ہو گھوم پھر کر اریزہ کے نام پر آجاتی۔۔ ۔ تنگ آگیا ہوں۔ یار کتنا تو خیال کرتا ہوں میں اسکا کیا کچھ نہیں کرتا اسکے لیئے پھر بھی۔۔
    وہ پھٹ پڑا تھا۔۔حقیقتا بال نوچ لینے والا حال تھا اسکا
    تین دن سے یونیورسٹی نہیں آرہئ فون بند کیا ہوا ہے
    مت پوچھو فکر مند بھی ہوں اور غصہ بھی آرہا ہے مجھے۔۔ لگ رہا میں پاگل ہو جائوں گا۔۔
    شاہزیب کو اس پر ترس آرہا تھا۔۔
    اونچا لمبا ایڈون بچوں کی طرح روہانسا ہو چلا تھا
    اریزہ سے پوچھنا تھا۔۔ شاہزیب نے کہا تو ہونٹ بھینچ گیا
    اس سے پوچھا تو کہہ رہی تھی میں گوارا کے ساتھ رہ رہی ہوں۔ اسکے گھر۔۔
    کیا۔۔ شاہزیب حیرت سے چیخ پڑا
    ہاں۔ ایڈون تھک کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔۔
    شاہزیب مجھے لگتا ہے مجھے سنتھیا سے منگنی نہیں کرنی چاہیئے تھی میں نے جلد بازی سے کام لیا ہے۔۔
    وہ تھکے تھکے انداز میں بولا
    یار کپلز میں لڑائی ہو جاتئ ہے تھوڑا جیلس ہو گئ ہے تحمل سے کام لے ٹھیک ہو جائے گی ۔۔
    شاہزیب نے سمجھانا چاہا وہ استہزائیہ ہنسا
    مجھے لگا تھا ہر گزرتے دن کے ساتھ اریزہ کیلیئے میرے جزبات سرد ہو جائیں گے ۔ میں سنتھیا کی طرف متوجہ ہوتا جائوں گا۔۔ مگر الٹ ہو رہا۔
    تو جانتا ہے میں شکل پر مرنے والا سطحی لڑکا نہیں ہوں۔۔ اس نے شاہزیب سے تائید چاہی شاہزیب خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔۔
    مگر وہ ہے بہت الگ بہت اچھی بہت ۔۔ اس نے تھک کر سر جھکا لیا۔۔
    اگر میں عیسائی نہ ہوتا تب بھی وہ مجھے ایسے صاف انکار کر دیتی؟۔۔ کم از کم ایک بار تو سوچتی نا میرے بارے میں۔۔
    وہ جانے کیا جاننا چاہ رہا تھا۔۔
    وہ مسلمان ہے یہ جان کر بھی تو محبت کر بیٹھا نا۔ ؟۔۔
    محبت مزہب سے بالا تر ہوتی ہے انسان سے ہوتی ہے۔۔ اسے اگر تیرے بارے میں سوچنا ہوتا تو سوچ چکی ہوتی سب سے بڑھ کر ۔۔ وہ تیری قسمت میں ہوتی تو یا تو مسلمان پیدا ہوتا یا وہ عیسائی پیدا ہوئی ہوتی۔۔ سب سے الگ یہ تو مانتا ہے نا ایک۔طاقت ہماری عقل سمجھ سے بالاتر اور قوی ہے
    ۔۔ اس نے شہادت کی انگلی سے آسمان کی جانب اشارہ کیا۔۔
    باقی سنتھیا کیلیئے یہ روڈ سائڈ رومیو اور بالی ووڈ سے متاثر ہتھکنڈے استعمال مت کر وہ جو اتنا رومانوی انداز اپناتے اداکاری کرتے پردے پر ہی اچھا لگتا یہ کام انہیں آتا۔۔ تو اگر کرنا چاہے گا تو اوپری لگے گا کیونکہ تو اداکار نہیں۔۔ اپنے آپ کر وقت دے سنتھیا کو بھی۔
    اس طرح خود پر بھی جبر کر رہا اور سنتھیا کو مزید چڑا رہا ہے۔۔
    شاہزیب نے الفاظ کے چنائو میں بے حد احتیاط سے کام لیا تھا پھر بھی ایڈون سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا وہ بخوبی سمجھ گیا تھا کس جانب اشارہ ہے شاہزیب کا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں جانتا ہوں۔۔
    چاپ اسٹکس سے اسٹیک کا ٹکڑا اٹھا کر لاپروائی سے کھاتے ہوئے جون جے نے کہا تھا
    تم جانتے ہو پھر بھی؟
    کم سن اور ہیون چونکے۔
    دونوں ہاتھ روک کر گھور رہے تھے۔۔
    جون جے نے انکو ہکا بکا دیکھا تو ہنس کر بولا
    کھانا تو کھائو۔۔
    پھر آرام سے پانی گلاس میں بھر کر گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔۔
    دونوں اسکی ہدایت کے بر عکس اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔ اس نے گلاس میز پر رکھ دیا۔۔ اور انکی حیرت بھری آنکھوں میں جھانک کر بولا
    مجھے خوشی ہے میرے اتنے مخلص دوست ہیں۔ گومو وویو۔۔ تم دونوں خاص طور پر مجھے مطلع کرنے اپنے وقت کو صرف کر کے یہاں آئے مجھے دلی قدر ہے
    مگر۔۔ وہ رکا پھر گہری سانس لے کر بولا
    اب میں اپنا پرانا رہن سہن سب کچھ بدل چکا ہوں اب مجھے نہ اس جائداد میں دلچسپی ہے نہ ہی میں اس کمپنی کیلیئے کچھ بھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں میری جاب میری روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کیلیئے کافی ہے۔۔
    اور تمہاری والدہ۔۔ کیا وہ بھی ایسا ہی سوچتی ہیں۔۔
    ؟۔۔ کم سن نے سیدھا سوال کیا
    اسکے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ در آئی
    انکو تو بہت دلچسپی ہے اس جائداد میں۔۔
    اگلا جملہ اس نے منہ ہی منہ میں کہا
    مجھ سے بھی زیادہ عزیز ہے انہیں تو۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واپس آتے ہوئے گاڑی میں دونوں اسی کے بارے میں سوچ رہے تھے
    ابھی جزباتی ہو رہا کچھ عرصے بعد احساس ہوگا اسے۔۔
    کم۔سن نے ہیونگ سک سے کہا۔۔
    ہوں۔۔
    ہیون متفق تھا۔۔
    مجھے جب میرے بھائیوں نے ہاتھ پکڑ کر نکال باہر کیا تھا تب میں کتنا خوار ہوا تھا جون جے بھی جانتا۔۔ یون بن اور تم نہ ہوتے تو شائد میں کبھی سنبھل نہ پاتا۔۔ جزباتی سہارہ تو ایکرف تم دونوں نے مجھے پیسے سے بھی بہت سہارہ دیا سڑک پر آگیا تھا میں تو۔۔
    کم سن کا انداز تلخ ہوگیا تھا جیسے سب منظر ایکدم آنکھوں کے سامنے آگئے تھے
    ہیون خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا
    عجیب مزہبی ہوا ہے۔۔ دنیا چھوڑ بیٹھا ہے۔۔ یہ وہی جون جے ہے نا موزے بھی برانڈڈ درکار تھے اسے اور اب اس وقت جو شرٹ پہنے تھا اسکا رنگ اڑا ہوا تھا یہ تو دو سے تیسری بارتو بہترین براںڈڈ لباس بھی زیب تن نہیں کرتا تھا۔۔
    وہ واقعی حیران تھا۔۔
    تم کچھ نہیں کہو گے؟
    وہ شائد اکیلے حیراں ہو ہو کر تھک گیا تھا جبھی اسے بھی بولنے پر اکسانے لگا۔۔
    کیا بولوں۔۔ جون جے اب پرانا جون جے نہیں ہے بدل چکا تبدیلی کی وجہ مزہب ہے۔۔۔۔۔ کیا نیا اس میں۔۔
    وہ اکتایا تھا۔۔
    سچ پوچھو تو جو اسکی عادتیں تھیں اچھی نہیں تھیں اب زیادہ نرم مزاج ہو گیا ہے۔۔ کم سن نے مزید رائے دینا ضروری سمجھا۔
    مگر یار حیران کردینے والی بات ہے
    وہ ہیون کی جانب باقائدہ مڑ کر بولا
    مزہب تو سب کا ہی کوئی نہ کوئی ہوتا سب مزہب اچھائی کی ہی تعلیم دیتے بس یہ مسلمان اتنے کٹر کیوں ہوتے ہیں۔۔ ؟۔۔
    کون جانے ۔۔۔ کون جانے ہیونگ سک نے کندھے اچکائے تبھی اسے مانوس سا جھنڈا دکھائی دیا۔۔
    وہ کوئی ریستوران تھا جسکی پیشانی پر وہ چمک رہا تھا۔ اس نے زہن کے گھوڑے دوڑائے۔۔
    کہاں دیکھا۔۔
    روتی لڑکی پریزنٹیشن۔۔
    دنیا کی واحد مسلمان ایٹمی قوت۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-
    موبائل میں کتنی ہی دیر اس نے وہ چہرہ تکتے وقت بتا دیا تھا سنہری دھوپ میں دمکتا سنہرہ چہرہ
    سرد ہوا سے گلابی ہوتا چہرہ۔۔ بات بات پر مسکرا دینے والا خرم شہزادہ۔
    یہ انی نے بھجوائے ہیں۔۔
    جھوٹ روانی سے بولتا۔۔

    اسکے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ آگئ
    تو تم پر ترس کھایا جا رہا تھا بس ۔۔
    اور کیا ۔وہ دھیرے سے۔ بڑ بڑائی
    دے؟
    اسکے پاس بیٹھی عورت سمجھی کہ اس سے مخاطب ہے۔۔ سو اس سے پوچھنے لگی۔
    وہ متوجہ بھی نہ ہوئی یونہی دیکھتی رہی۔۔
    بس اسکے اسٹاپ سے آگے آچکی تھی جب بریک لگنے پر اسکے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹا تھا۔۔اس نے چونک کر بس کی کھڑکی سے جھانکا
    آہجوشی یہ تو میانگ اسٹاپ نہیں۔۔
    اس نے پکار کر ڈرایور سے پوچھا
    وہ گزر چکا ہے۔۔ ڈرایور نے جواب دیا تو وہ سر پر ہاتھ مار کر اٹھی
    میں بس یہیں اتر رہی ہوں۔۔ وہ بتاتی بس سے نکل آئی۔۔
    باہر نکل کر اس نے لمبی کولتار سڑک کر گھور کر دیکھااس نے اندازہ لگایا
    اب تمہیں اگلے آدھے گھنٹے تک روندنا ہے مجھے۔ تھوڑا احساس کر لینا۔۔
    وہ سڑک سے مخاطب تھئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن کو ڈراپ کر کے واپس آہی رہا تھا کہ شاہراہ پر ہیون کو دائیں جانب داخلی گلی میں مڑتا کوئی مانوس چہرہ دکھائی دیا اس نے فورا انتہائی دائیں جانب ایکدم سے موڑ کر روکی تھی۔۔
    وہ گاڑی سے نکل کر تقریبا بھاگتا ہوا گلی میں داخل ہواتھا۔۔ اتنےرش میں بھی اسے وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتئ بائین جانب ایک۔دکان میں گھستی دکھائی دی۔
    وہ تیزی سے لپکا
    روزمیری مساج اینڈ سپا۔ اس نے رک کر دکان کی پیشانی پر موجود عبارت پڑھی۔
    وہ کاونٹر پر کھڑی تھی۔۔
    ای جی آ۔۔
    اسکے دو بارہ غائب ہونے کے ڈر سے وہ زور سے پکار بیٹھا
    ہوپ بری طرح چونک کر مڑی تھی چابی اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جاپڑی تھی۔۔
    ہیون درمیانئ فاصلی لمبے ڈگ بھر کر طے کرتا اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔
    کہاں چھپ گئی تھیں؟۔۔تم۔۔
    اس نے جھک کر چابی اٹھائی اور مڑ کر جانے لگی
    ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
    ہوپ۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔ اسکے چہرے کی مخصوص مسکراہٹ زائل ہوئی وہ اپر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اجنبی سے انداز میں کہہ رہا تھا
    ہوپ نے مڑ کر اسے بغور دیکھا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تمہیں میرا نام کیسے پتہ چلا۔؟
    کافی کارنرمیں کائونٹر سے ہیون دو کافی بنوا کر اسکے سامنے ٹرے لیئے آ بیٹھا تو اس نے زہن میں کلبلاتا سوال پوچھ لیا۔۔
    ایک بلیک کافی ایک کریمی کیپیچینو۔۔
    اس نے خود ہی بلیک کافئ اٹھا لی۔۔ ہیون نے حیرت سے اسے دیکھا مگر وہ بے نیازی سے گھونٹ بھر کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
    تمہارے ڈاکومنٹس سے دیکھا تھا۔۔ اس نے بتایا تو اسے یاد آیا۔۔ ایبسٹریکٹ آرٹ کے سیمپلز کیساتھ اس نے سی وی اور کور بھی بھجوایا تھا ۔۔
    احمقانہ سوال پوچھنے سے باز نہ آئیں۔۔ کیا لگا تھا اسے خواب آیا تھا ۔۔ وہ خود کو گھرکنے لگی۔۔
    تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں؟۔۔ تمہیں جاب آفر ہوئی تھی۔۔ کوئی وجہ تھی نا جو بار بار رابطہ کرنا چاہ رہا تھا۔۔ تم نے خود رابطہ کیا تھا اس نمبر پر؟
    اسکا انداز سخت نہیں تھا۔۔ اسے شائد سختی سے بات کرنا آتا ہی نہیں تھا۔۔ اتنا نرم اور دھیما انداز تھا کہ وہ کوئی سخت جواب نہ دے سکی۔
    نہیں کیا ۔۔ اس نے ہونٹ بھینچے۔۔
    مجھے پتہ تھا۔۔ وہ سرجھٹک رہا تھا
    تم نے وہ سامان واپس بھجوایا کیوں؟۔۔
    وہ بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا
    کیونکہ میں بھکاری نہیں ہوں۔۔ بھیک نہیں چاہیئے تھی مجھے۔ تم نے مجھ پر ترس کھا کر وہ سامان دیا انی تو جانتی بھی نہیں تھیں اس بارے میں۔۔
    وہ تیز لہجے میں بولتی گئ۔ ہیونگ سک خاموشی سے دیکھتا رہا۔۔
    میں تمہاری مدد کرنا چاہتا تھا میرے خلوص سے دیئے گئے تحفے کو غلط رنگ دے رہی ہو۔۔
    خلوص۔۔ وہ استہزائیہ ہنسی۔۔
    اچھا مزاق ہے۔۔ وہ کڑوی کافی کے گھونٹ بھر رہی تھی ۔۔

    ہیون چپ سا ہو گیا۔۔ کریمی کیپیچینو کا جھاگ بیٹھتا جا رہا تھا۔ اس نے کپ اٹھا لیا۔۔ دونوں سر جھکائے ایک دوسرے کو دیکھنے سے بھی گریزاں گھونٹ بھر رہے تھے۔۔
    کافی پی کر وہ اٹھنے لگی تھی جب ہیون نے اسے نظروں میں رکھتے ہوئے کہا۔۔
    میری ایک دوست اسی بلڈنگ میں رہتی ہے اسے کرایہ دار درکار ہے۔ تمہیں نسبتا کم قیمت میں اچھی جگہ رہائش مل سکتی ہے ۔ کیا تمہیں دلچسپی ہے؟۔۔
    وہ صاف انکار کر دینا چاہتی تھی۔۔ مگر
    بھیک نہیں مدد ہے یہ۔ کسی کے الفاظ کانوں میں گونجے۔
    دے۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔ ہیونگ سک مسکرا دیا۔
    بھیک بھی تو وصول کی ہی ہے میں نے مدد بھی سہی۔۔ اس نے تلخی سے سوچا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ویک اینڈ پر وہ کھینچ کھانچ کر حسب معمول جی ہائے کو بھی لے جانے آئی تھئ۔
    ایک تو یہ ہفتہ وار ہجرت مجھ سے ذبردستی کرواتی ہو۔
    جی ہائے بڑ بڑا رہی تھی گوارا آرام سے اسکے بیڈ پر بیٹھی پائوں جھلا رہی تھی۔
    سنتھیا سے بھی پوچھ لوں۔ اریزہ کو خیال آیا۔
    ہاں پوچھ لو۔
    گوارا نے فراخدلی سے کہا۔
    ۔اریزہ ڈورم میں سنتھیا سے ملنے گئ مگر ڈورم خالی تھا۔ وہ گہری سانس بھر کر اسے فون ملانے لگی۔
    فون بند تھا۔ یقینا وہ پھر ایڈون کے ساتھ کوئی پروگرام بنا چکی تھئ۔ وہ دروازہ بند کرتی واپس چلی آئی۔ تینوں اہتمام سے اپارٹمنٹ میں داخل ہوتے چلائیں۔
    اس ویک اینڈ ہم خوب چل کریں گے ایک لمحہ بھی فالتو نہیں بیٹھنابس۔۔ اس آموختے کو دہراتے صرف ایک گھنٹے بعد ہی
    جی ہائے اریزہ اورگوارا تینوں برابر لیٹی اپنے اپنے موبائل میں لگی ہوئی تھیں۔ جی ہائے حسب عادت گیم کھیل رہی تھی اریزہ اپنا بلاگ کھولے تھی تو گوارا چپکے چپکے آہستہ آواز میں یون بن سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرنے میں مگن تھی۔۔
    آہش۔۔
    اس نے مزے سے کروٹ لی کہنی جی ہائے کو لگی اسکا چانس گر گیا
    اس نے بھنا کر گوارا کو گھورا
    بیانئے ۔ اس نے لبوں کی بے آواز جنبش سے آنکھیں سکیڑ کر معزرت خواہانہ شکل بناتے جواب دیا تھا۔۔وہ تپ کر اٹھ بیٹھی اسکے ایکدم اٹھنے سے اریزہ جو اسکے ساتھ ہی لیٹی اسکا بازو لگا اریزہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹا اور زمین پر جا پڑا
    سوری۔ جی ہائے فورا معزرت خواہ ہوئی
    اریزہ گہری سانس بھر کر لیٹے لیٹے ہی جھک کر موبائل اٹھانے لگی۔۔
    اس پاگل کو شوق تو بڑا ہے کرایہ دار رکھنے کا ہم تین کو یہ بیڈ پورا نہیں پڑتا ایک اور کو اپنے سر پر بٹھائو گی؟۔۔
    جی ہائے کہتے کہتے بیڈ سے اٹھی۔۔ ایسی آواز گوارا کے کان میں فورا پہنچتی تھی۔۔
    فورا فون کان سے ہٹا کر بولی۔
    جب تیسری کرایہ دار آئے گی تو تم مت آنا نا ویک اینڈ پر ۔۔ جگہ پوری پڑ جائے۔۔گی۔۔ اسکے آدھے جملے میں ہی جی ہائےنے اسکے پیتھیانے پڑا کمبل اٹھا کر اسکے منہ پر گولا بنا کر دے مارا۔ گوارا جھکائی دے کر بھی بچ نہ پائی جوابا سرہانے سے تکیہ اٹھا کر جی ہائے کو مارا۔۔ اس نے بازو آگے کر کے روکنا چاہا تکیہ اسکے بازو سے ٹکرا کر اریزہ کے موبائل تھام کر واپس آتے ہاتھ پر پڑا اسکے ہاتھ سے پھر موبائل چھوٹ کر زمیں پر گر گیا۔
    تمہاری تو۔۔ اریزہ کی بے نیازی رخصت ہوئی تلملا کر وہی تکییہ جی ہائے کو کھینچ کر مارا بس پھر جسے طبل جنگ بج گیا۔ ایک دوسرے کو تکیہ سے مار مار کو تکیوں کا انجر پنجر ٹیڑھا کر دیا۔۔
    پٹ پٹا کر تینوں بے دم ہو کر بیڈ پر گریں اور کھلکھلا دیں
    یار بڑا مضبوط تکیہ ہے۔۔
    اریزہ نے بازو میں دبایا تکیہ سر کے نیچے رکھا
    ہاں یار فلموں ڈراموں میں تو اس لڑائی کےبعد فر نکل کر ہوا میں اڑنے لگتا ہے۔۔ جی ہائےنے بھی حیران ہو کر تکیہ الٹا
    گوارا کو ایک فر اڑتا دکھائی دیا تو روہانسی ہو کر اپنا تکیہ ٹھیک کرنے لگی۔۔
    میرا اکلوتا تکیہ پھٹ گیا۔۔ اسکا دکھ دیدنی تھا۔۔
    اسکے تکیے کا ایک کونا پھٹ کر فر اڑا رہا تھا۔۔
    سی لو ٹھیک ہو جائے گا۔۔ جے ہی اور اریزہ سب بھول بھال مدد کو آئیں
    زہریلی عورتوں۔۔ وہ دانت پیسنے لگی۔۔
    جے ہی کھلکھلائی۔
    ویسے فلمی سین ہو تو گیا۔۔ تھوڑا سا سہی فر نکل آیا۔۔
    اریزہ نے فر اٹھا کر ہوا میں اڑایا۔۔
    جے ہی کو شرارت سوجھی گوارا کا تکیہ کھینچ کر اس چھوٹے سے سوراخ کو پورا بھنبھخ کیا اور مٹھی بھر کر فر اڑایا۔۔
    گوارا چلاتی تکیے کو بچانے دوڑی مگر جی ہائے اور اریزہ نے اسکا تکیہ قبضے میں لیکر فر اڑانا شروع کر دیا۔۔ گوارا انکے تکیوں پر لپکی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہیون اور ہوپ گوارا کے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے تھے
    گوارا کافی صفائی پسند ہے میں نے اسکا اپارٹمنٹ کبھی گندا نہیں دیکھا۔۔
    ہیونگ سک تعارف کروا رہا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورا کمرہ کسی مچھلی بازار کا نقشہ پیش کر رہا تھا
    بیڈ کی چادر زمیں پر لوٹ رہی تھی پورے کمرے میں فر اڑ رہا تھا تکیےخالی ہو چکے تھے اور کاوچ پر پڑے دھلے کپڑوں کا ڈھیر بھی اس لڑائی کا حصہ بن چکا تھا۔۔ ٹی شرٹ سکرٹ بھی ایک دوسرے کو گولا بنا کر ماری جا رہی تھیں۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی دوستیں ویک اینڈ پر آجاتئ ہیں مگر کبھی کبھی ۔۔ ایک تو کورین ہے دوسرئ پاکستانی لڑکی ہے مگر وہ بھی اچھی ہے سادہ سی۔۔ وہ بھی جھگڑالو نہیں ہے تمہاری اس سے بھی اچھی نبھ جائے گی۔۔
    اس نے مزید کہہ کراطلاعی گھنٹی بجائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے کمزور کہہ کر مزاق اڑا رہی تھیں وہی ہو نا تم دونوں۔۔
    جی ہائے بیڈ پر اوندھی پڑی تھی اسکے اوپرگوارا تھی اور ان دونوں کو نیچے دبائے اریزہ ان کی کشن سے دھنائی کر رہی تھی دونوں کا چہرہ لال ہو چکا تھا ہنسنے کی وجہ سے دونوں بے دم ہوئی پڑی تھیں جبھی اریزہ کو کھلا موقع ملا تھا۔ گوارا نے کھسک کر نکلنا چاہا تو اریزہ نے فورا اسکی ٹانگ پکڑی
    کدھر؟۔۔
    گوارا پھولی سانسوں سے ہانپتی بولی
    اطلاعی گھنٹی بجی ہے۔۔
    اس وقت۔۔
    اریزہ اور جی ہائے دونوں نے بیک وقت گھڑی کو دیکھا۔۔
    رات کے ساڑھے گیارہ ہو رہے تھے
    اس وقت کون ہو سکتا۔۔
    دونوں سنجیدہ ہو کر سیدھی ہوئیں
    دیکھ کر ہی پتہ لگے گا۔۔
    گوارا نے کندھے اچکائے اور جانے لگی تھی۔ دونوں بیڈ سے کود کر اسکے پاس آئیں اور دائیں بائیں اسکا بازو تھام گئیں
    کیا ہے۔ وہ جھلائی
    یون بن تو اس وقت آیا نہیں ہم تینوں کا اس شہر میں کوئی جاننے والا نہیں۔۔ کون آیا ہوگا ۔۔ جی ہائے گھبرائی
    اس دن جو انگریزی فلم دیکھ رہے تھے جی ہائے اس میں ایسے ہی رات بارہ بجے گھنٹی بجی تھی نا۔۔
    اریزہ کو غلط موقع پر ڈرائونی فلم یاد آئی تھی
    گوارا سٹپٹا کر دونوں کی شکل دیکھ رہی تھی
    اور جب ہیروئن نے دروازہ کھولا تو کوئی نہیں تھا
    جی ہائے نے کہا تو گوارا نے مکھی اڑائی
    جب کوئی نہیں تھا تو ڈرنے کی کیا بات
    ڈرنے کی بات تب تھئ جب وہ دروازہ بند کرکے کندھے اچکا کر مڑی تو اسکے بالکل پیچھے
    اریزہ نے لرزتی ہوئی آواز میں بتانا چاہا
    تبھی گوارا کو اپنی کمر میں سر سراہٹ ہوئی
    کیا تھا پیچھے۔۔ گوارا کو بھی ڈر لگا
    چڑیل کھڑئ تھی۔ اریزہ نے کانپتی آواز میں بتایا تھا۔۔
    فلم تھی۔۔ گوارا نے ان سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی
    تینوں لائونج میں کھڑی ایک دوسرے سے لپٹی تھر تھر کانپتے دروازے کو گھور رہی تھیں جیسے آر پار نظر ہی تو آجائے گا۔۔
    تبھی پھر گھنٹی بجی اس بار تواتر سے دو مرتبہ بجی ٹرن۔۔ گوارا کے فون کی گھنٹی اچانک بجی تھی تینوں ڈر کر چیخ پڑیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ آج دروازہ کیوں نہیں کھول رہی۔۔ ہیون نے الجھن سے دوبارہ گھنٹی بجائی۔
    سو رہی ہوگی۔۔
    ہوپ نے کہا تو وہ نفی میں سر ہلا گیا
    دس منٹ پہلے اس نے ایس این ایس پر اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کیا ہے۔۔ اس نے وضاحت کی
    ایس این ایس سوشل میڈیا کیلیئے کورین یہ لفظ استعمال کرتے ہیں social networking site
    ہیونگ سک نے فون ملالیا تھا
    تبھی اسے بند دروازے سے نسوانی چیخ بلکہ چیخیں سنائی دیں
    اس نے گھبرا کر دروازہ پیٹ دیا
    اریزہ۔۔ اریزہ گوارا۔۔ ٹھیک تو ہو تم لوگ۔۔
    ہوپ بھی متوحش ہو گئ تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ تو ہیون کی آواز ہے۔۔ تینوں ایکدم خاموش ہوئیں گوارا نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔۔
    ہیون ایک لڑکی کے ہمراہ کھڑا تھا
    ٹھیک تو ہو تم ؟۔۔ اس نے گھبرا کر پوچھا تھا گوارا سر ہلاتی سوالیہ نظروں سے لڑکی کو دیکھ رہی تھی
    ہوپ نے گوارا کو دیکھا پھر ہیون کو گھورنے لگی
    یہ تنگ دل لڑکی۔ کرایہ کم کرے گی؟ ذرا سا چینی دینے میں جان نکل گئ تھی اسکئ۔
    وہ چینی زبان میں بڑبڑائی تھئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انھیں لے کر وہ لاونج میں آئی تو اریزہ اور جی ہائے سٹپٹاتی بال درست کرنے لگیں۔۔ اریزہ کو احساس ہوا کہ دوپٹہ پاس نہیں تو ایک قدم پیچھے ہو کر جی ہائےکی آڑ میں ہو گئ۔۔
    آننیاگ واسے ہو۔۔
    جی ہائے نے مسکرا کر جھک کر سلام کیا تو ہوپ مسکرا دی۔۔
    گوارا ہیون کو نظروں میں لیئے تھی اور ہیون
    یہ گوارا ہے یہ جی ہائے اور یہ۔۔ اس نے اچک کر جی ہائےکے پیچھے چھپتی اریزہ کو تلاشا۔۔
    اریزہ۔۔
    اب چھپنا بد تہزیبی تھی اس نے کھسیا کر جی یائے کے پیچھے سے جھانک کر اشارے سے سلام کیا۔۔
    آپ سب یہاں رہتی ہیں؟۔۔ ہوپ نے پوچھا
    آنیو۔۔ میں تو بس ہفتے کا آخر گزارنے آئی ہوں ۔۔ آپ آجائیں گی تب تھوڑی۔۔ جی ہائے گڑ بڑا بولی تو گوارا نے اسکے پائوں پر پائوں مار کر گھورا
    یہ میری دوست ہے اریزہ بھی ویک اینڈ ہم اکٹھے گزارتے ہیں۔
    گوارا نے جتانے والے انداز میں کہا تھا
    ہوپ بخوبی اسکے ماضی الضمیر کو سمجھ گئی تھی
    یعنی اگر یہاں رہنا تو تم بھی اعتراض مت کرنا۔۔
    ٹھیک ہے تم اسے کمرہ دکھا دو آرام کرو ہوپ کوئی مسلہ ہو تو مجھے پیغام بھیج دینا تم لوگ بھی آرام کرو رات کافی ہو گئ ہے۔۔ ۔ میں اب چلتا ہوں۔۔ پھر ملتے ہیں۔۔ ہیون نے بات کرتے کرتے گھڑی دیکھی تو عجلت میں نکلنے کی کی۔۔
    کمرہ۔۔ ؟۔ہوپ نے اپنا مختصر بیگ کا ہینڈل تھام کر پوچھا تو تینوں کھسیا کر نظر چرا گئیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کمرہ اسکی توقع کے برعکس تھا
    پورا کمرہ فر سے بھرا تھا چیزیں بکھری پڑیں تھیں فرش پر کپڑے بچھے پڑے تھے بستر آدھا بیڈ پر آدھا نیچے گرا پڑا تھاوہ کمرے میں داخل ہو کر ہکا بکا رہ گئ تھی۔۔ یہ تینوں قصدا سر جھکائے اسکی جانب دیکھے بغیر اندر داخل ہوئیں جس کے ہاتھ جو پڑا وہ اٹھا کر سمیٹنے کی سعی کرنے لگی
    یہ۔ اسکے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا
    وہ بس ہم شغل میں۔۔۔ جی ہائے نجانے کیوں کھسیانی ہوئی جارہی تھی۔۔
    بیانئے بس ہم ابھی صاف کر دیتے ہیں۔۔
    گوارا نے گھور کر جی ہائے کو دیکھا۔
    پھر بڑبڑائی
    بندہ اتنا بھی حلیم الطبع نہ ہو۔۔
    ہوپ منہ کھولے دیکھتی ایک قدم پیچھے ہوئی تو کوئی چیز اسکی جوتی کے نیچے چرمرا کر ٹوٹ گئ
    اس نے سٹپٹا کر پائوں ہٹایا تینوں اسکی جانب ہاتھ روک کر متوجہ ہوئیں۔۔
    اس نے بیگ رکھ کر جھک کر اپنے قدموں میں روندی جانیوالی چیز کی باقیات اٹھائیں
    جانے کیا تھا پلاسٹک کا۔۔ کیکڑے جیسا
    میرا کیچر۔۔ اریزہ نے بکھرے بالوں والے سر کو ٹٹولا جیسے یقین نہ آرہا ہو یہ اسکا معصوم کیچر ہی داغ مفارقت دے گیا ہے۔۔
    اوہ ۔۔ ہوپ نے چٹکی سے کیچرکو پکڑ کر دیکھا۔۔
    یہ تو اب نہیں لگ پائے گا۔۔ اریزہ نے مایوسی سے کیچر کو گھورا۔۔
    ہم اسے تھوڑی دیر تک صاف کر لیں گے اگر تب تک تم نے فریش ہونا تو یہ باتھ روم ہے۔۔ گوارا نے آداب میزبانی نبھائے۔۔
    ہم ویسے ہمیشہ ایسے گند مچا کر نہیں رہتے۔۔
    اریزہ نے دوستانہ انداز میں تسلی دی
    ہاں اور ایسا پاگل پن بھی ہم پر روز روز سوار نہیں ہوتا۔۔ جی ہائےنے بھی صفائی دی
    ویک اینڈ پر ایک نفسیاتی آئئ ہے ورنہ میں اور اریزہ شرافت سے رہ رہے تھے
    گوارا ہوپ سے مخاطب نہیں تھی جی ہائے کو گھورتے ہوئے چبا چبا کر بولی
    کیا میں نفسیاتی۔۔ جوابا وہ زور سے چلائی اور گوارا کی شرٹ جو تہہ لگا کر رکھنے لگی تھی گولا بنا کر اسکے ہی منہ پر ماردی۔۔
    تمہاری تو۔۔ گوارا نے تلملا کر کشن اس پر پھینکا
    خدا کا واسطہ دوبارہ شروع نہ ہوجانا۔۔ اریزہ سر پکڑتی بیچ بچائو کرانے بڑھی
    اس نے شروع کیا ہے دوبارہ گوارہ چلائی
    اس نے پہلے مجھے نفسیاتی کہا ابھی بتاتی ہوں نفسیاتی کیسے ہوتے۔۔ وہ آستین چڑھا کر اسکی جانب بڑھی
    بس کرو جانے دو۔۔ اریزہ بیچ بچائو کرانے میں ہلکان ہو رہی تھی
    ان تینوں کو دوبارہ پوری توانائیوں سے بھڑتے دیکھ کر ہوپ کے چہرے پربھئ بے ساختہ مسکراہٹ در آئی تھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح اسکا لگاتار فون بج رہا تھا جس سے اسکی آنکھ کھلی۔۔ جی ہائے اور ہوپ زمین پر بستر لگا کر سوئی تھیں وہ اور گوارا بیڈ پر۔ ابھی گوارا اس کے کندھے پر جھکی بازو اسکے گرد حمائل کیئے لپٹ کر سو رہی تھی۔۔ اس نے احتیاط سے بازو نکال کر اسکے سر کے نیچے تکیہ رکھا۔۔ پھر اٹھ کر موبائل دیکھنے لگی۔۔
    ایڈون کالنگ۔۔ اس نے پوری آنکھیں کھول کر تعجب سے دیکھا۔۔
    تینوں بے خبر سوئی پڑی تھیں وہ سائلنٹ کر کے احتیاط سے بے آواز قدم اٹھاتی باہر نکل آئی
    ہیلو۔۔ اس نے فون اٹھایا تو ایڈون چھوٹتے ہی بولا
    کہاں ہو؟۔۔
    ابھی تو گھر ہوں آج پہلی کلاس گیارہ بجے ہے تو۔۔
    وہ جمائی لیتے بتارہی تھی مگر ایڈون نے عجلت میں بات کاٹ دی
    گوارا کے فلیٹ میں ہو؟۔۔ میں بس دو منٹ تک پہنچ رہا ہوں۔۔ جلدی سے تیار ہو جائو۔۔
    وہ بے تاب تھا۔۔ شائد گاڑی میں ہی تھا اس نے اسکی آواز کے ساتھ میں ٹریفک کے شور کی آمیزش محسوس کی
    مگر کیوں۔۔؟۔۔
    وہ بگڑی۔۔ ابھئ آٹھ بجے وہ کیوں پہنچ جائے یونی۔
    سنتھیا تین دن سے فون نہیں اٹھا رہی وہ یونیورسٹی بھی نہیں آئی ہے۔ بہت پریشان ہوں میں پلیز تم ہاسٹل جا کر اس سے مل لو مجھے بس خیریت جاننی ہے اسکی پلیز اریزہ۔۔
    وہ کتنا پریشان تھا اسکی آواز سے مترشح تھا۔
    اوہو تو بتا تو رہی ہوں سو رہی ہوگی نا گیارہ ۔۔۔
    اس نے بتانا چاہا مگر ایڈون نے پھر بات کاٹ دی۔
    اٹھا دینا نا اسے۔ پلیز پلیز مجھے بہت فکرہو رہی ہے۔
    وہ حقیقتا منت پر اتر آیا تھا۔۔
    اچھا۔۔ ٹھیک ہے۔۔
    اس نے حامی بھر کر فون رکھ دیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ خود بھی پریشان ہوگئ تھئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان تینوں کو ہال میں دیکھ کر اطمینان سا ہوا تھا۔ اپنے موبائل میں اس نے ایڈون کا میسج دوبارہ نکالا۔۔
    میں کم سن کے ساتھ ہوں۔
    جوابا اس نے لکھا تھا
    سچ بولو۔
    جوابا اس کا فوری پیغام یہ آیا تھا۔
    اریزہ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں۔اب خوش۔
    وہ یقینا چڑ کر جھوٹ بول رہا تھا۔۔
    اب ایڈون کی تلاش بے معنی تھی۔ وہ آرام سے بیگ کندھے پر درست کرتی یونیورسٹی سے نکل آئی۔۔۔۔
    شام کے دھندلکے سیول پر چھا رہے تھے۔ گہما گہمی ہجوم۔
    وہ بس اس سب میں کھو جانا چاہتی تھی۔
    اریزہ کے سوا اسکی بھی کوئی دوست نہ تھی۔ گوارا اور جی ہائے بھی یقینا اریزہ کی ہی سہیلیاں تھیں۔ اریزہ کو اسکے بغیر اکیلا پن محسوس نہیں ہوتا ہوگا مگر وہ تنہا تھی۔
    اسکے پاس بس دو ہی تو لوگ تھے ایڈون اور اریزہ۔۔ اور وہ ان دونوں سے ہی دور جانا چاہ رہی تھی۔
    جانے باقی دنیا کی لڑکیاں ڈپریشن میں کیا کرتی ہیں۔ پاکستانی لڑکیاں تو بس سوائے تکیئے میں منہ دے کر رونے کے اور کچھ بھئ کرنے کی عادی نہیں۔۔یہاں یوں سڑک پر آ پھرنے کی آزادی تھئ سو آ کر بھی کچھ سوجھ نہ رہا تھا کہاں جائے کیا کرے۔
    کیا کروں۔ وہ حقیقتا سڑک کنارے کھڑی یہی سوچ رہی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تنگ سی گلی میں بارہ سیڑھیاں اتر کر وہ گھر تھا۔ پرانا مگر اچھی حالت میں بنے اس گھر کا سامنے کا حصہ تو بڑا سا تھا شائد صحن وغیرہ تھا۔ پھولوں سے لدی بیل سے دیوار تقریبا چھپ سی گئ تھی۔ لکڑی کا مختصر سا دروازہ تھا جس کو کھولا تو سامنے واقعی کھلا صحن تھا جس کے بیچوں بیچ چبوترہ سا تھا پرانے زمانے کے کوریائی گھرانوں کا لازمی جز۔ صحن میں بھئ بڑا سا درخت تھا سامنے دو سیڑھیاں چڑھ کر دو کمرے تھے۔ ایک دائیں جانب کونے میں کچن تھا۔ غسل خانہ بھئ اسی طرف تھا۔
    سوہائیو تو بچہ تھامے خاموشی سے اندر گھس گئ۔ وہ البتہ کم سن کا بازو تھام کر شکر گزار نظروں سے دیکھنے لگیں
    گوما وویو۔
    انکے کہنے پر کم سن نے شائد سنا نہیں یا نظر انداز کر گیا
    اندر چلیں آہمونی بارش ہونے والی ہے۔
    وہ جلدی میں کہتا اندر گھس گیا۔انہوں نے بھئ تقلید کی۔
    دونوں کمروں میں ضرورت کا سب سامان تھا۔ برآمدے میں فریج بھئ رکھا تھا۔
    سوہائیو نے کمرے کا دروازہ کھول کر بتی جلا دی تھی۔
    سامنے چھوٹا سا صوفہ میز رکھے تھے بائیں جانب اندر ڈبل بیڈ تھا ایک جانب دیوار گیر الماری اور سنگھار میز۔ وہ تنقیدی نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔ کم سن اور ایم سیانگ بھئ یہیں چلے آئے۔
    یہاں سے سوہائیو کو آرام سے بس مل جایا کرے گی اپنے دفتر تک کی۔ اسٹاپ قریب ہی ہے۔۔۔ اور قریب ہی ڈے کئیر سینٹر بھی ہے وہاں آرام سے بچے کو چھوڑا جا سکتا ہے۔
    ڈائپر وغیرہ کا کارٹن میں نے لا کر رکھ دیا ہے باقی جس چیز کی ضرورت ہو بتا دینا ۔۔
    وہ مزید بتا رہا تھا۔ سوہائیو بچے کو بستر پر لٹا کر کندھے سے لٹکتے بیگ سے اسکے لیئے دودھ کی بوتل نکالنے لگی۔۔ مکمل نظر انداز۔۔۔
    اور آپ کو اب اسپا جانے کی بالکل ضرورت نہیں۔ راشن مہینے بھر کا موجود ہے۔ آپ بس آرام کریں۔
    یہ خیال بھرے جملے اس نے روانی سے بولے تھے اور کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔ وہ جو شکریہ ادا کرنا چاہ۔رہی تھیں ہونٹ بھینچ گئیں۔
    آگے بڑھ کر زور دار دھپ سوہائیو کے لگائی
    بھائئ اتنا خیال کر رہا تھا پھوٹ دیتیں کیا کیا چاہیئے۔
    سوہائیو انکے دو ہتھڑ پر سخت بدمزہ ہوئی
    بھائئ نہیں ہے وہ میرا۔ نا آپکا بیٹا ہے۔ اس سے احسان یا بھیک ملی ہے ہمیں۔ ہمیں اپنی اوقات یاد رکھنی چاہیئے اور منہ کھول کھول کر فرمائیشیں نہیں کرنی چاہییں۔اور یہ بھیک اور احسان بھی آپ نے لیا ہے۔ میں اپنا خرچہ خود اٹھا سکتی ہوں یہ آپ ہیں جو چند دن عیش کی زندگی گزار کر اب غربت کو سہہ نہیں پارہی ہیں۔۔
    وہ بولی تھی تو بولتی چلی گئ تھی۔ سختی کڑواپن بے نیازی اسکی ذات کا خاصہ تھی مگریوں بنا لحاظ وہ منہ در منہ سنا دے گئ انکے گمان میں نہ تھا۔ ایم سیانگ سخت خفت زدہ سی اسکی شکل دیکھتی رہیں۔
    اس نے انکے عقب میں کھڑے کم سن کو دیکھا تو زبان کو بریک سی لگی۔ مگر وہ یہا ں اپنی خوشی و مرضی سے نہیں آئی تھی یقینا یہ بات کم سن کے علم میں ہونی چاہیئے۔ مگر اس طرح پتہ لگے وہ یہ بھی نہ چاہتی تھی۔ جھلاہٹ میں فیڈر بیڈ پر پٹختی وہ ایک طرف ہو کر کمرے سے ہی نکلتی چلی گئ۔

    ایم سیانگ بھئ مڑ کر کم سن کی شکل دیکھ کر شرمندگی سے سر جھکا گئیں۔۔
    یہ کچھ پھل ہیں ۔ وہ دو تین شاپر پکڑے تھا۔
    وہیں سینٹرل ٹیبل پر رکھ دیئے۔
    کرم۔۔ ( چلتا ہوں)۔۔
    گوما وویو۔
    اس سےقبل وہ دوبارہ عجلت میں نکل جاتا انہوں نے شکریہ ادا کر ڈالا
    تم نے مجھے بیٹوں کی طرح سہارا دیا ہے۔ تمہارا بہت شکریہ۔۔
    وہ مزید بھی کچھ کہتیں۔۔
    میں نے بس آپکے کیئے گئے احسان کا بدلہ چکایا ہے۔ اور بس۔۔
    حساب برابر سمجھیں۔۔۔
    وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔ ایم سیانگ گہری سانس لیکر اسے جاتے دیکھ کر رہ گئیں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ لڑکا ناچتے ہوئے بار بار اسے چھوئے جا رہا تھا۔۔ اس نے دو ایک بار اسکا ہاتھ کندھے سے جھٹکا۔۔ پھر بھی وہ باز نہ آیا تو پیر پٹختی ڈانس فلور سے اتر آئی۔ کائونٹر پر بیرے نت نئے کرتب دکھاتے شراب کے پیگ بنا رہے تھے۔
    مجھے سادہ جوس دیں۔
    اس نے انگریزی میں کہا جو کائونٹر کے دوسری جانب کھڑے بیرے کوبالکل سمجھ نہ آئی۔
    سامنے ٹرے میں پھل کٹے رکھے تھے ٹوتھ پکس پروئےایک ایک نوالے جتنے کٹے ہوئے۔ سیب ایوا کاڈو جیک فروٹ ، پیچ ، اور اسٹابریز۔
    ایپل جوس۔
    اس نے فروٹ کی ٹرے سے باقائدہ سیب اٹھا کر اسے دکھایا
    دے۔
    وہ سر جھکاتا اسکی فرمائش پوری کرنے چل دیا۔
    وہ کائونٹر پر کہنیاں ٹکا کر اس اونچے سے اسٹول پر ٹک گئ۔ اسکا موبائل بجے جا رہا تھا۔اس نے بیزاری سے اٹھا کر دیکھا۔
    ایڈون کالنگ۔ اس نے فون کاٹا پھر کچھ سوچ کر فون بند ہی کردیا۔۔
    اسکا جوس آگیا تھا۔
    اس نے ایک سانس میں پی کر رکھا۔ پیسے رکھے اور جانے لگی۔ ۔تبھئ اسکا ہاتھ کسی مضبوط گرفت میں آگیا تھا۔۔
    اسکے برابر بیٹھے اس کورین لڑکے نے اسکا ہاتھ تھام کر روکا تھا۔
    اس نے سخت غصے میں مڑ کر دیکھا۔۔
    موبائل؟ ۔۔
    وہ اشارے سے کائونٹر پر رکھے موبائل کی جانب توجہ دلا رہا تھا۔
    اس نے ہونٹ بھینچے اپنا ہاتھ چھڑا کر تن فن کرتی پلٹی موبائل اٹھایا اور پلٹ کر جانے لگی۔ پھر خیال آیا۔
    مڑ کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔
    شراب کے گھونٹ بھرتے کم سن نے سوالیہ انداز میں بھنوئیں اچکائیں۔۔ جیسے پوچھ رہا ہو کیا ہوا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سادہ سی بات ہے۔ اس نے جھوٹ بولا۔
    کم سن بے نیازی سے بولا۔
    وہ اسکے سامنے اسٹول پر چڑھ کر بیٹھی اسے گھو ررہی تھی۔۔۔
    گوما وویو۔ اتنی پتے کی بات تو مجھے سمجھ بھی نہ آنی تھی۔
    وہ تپی ہوئی تھی۔ کم سن ہنس دیا۔
    تمہیں یہ سوچنا چاہیئے کہ اس نے جھوٹ بولا کیوں۔ آیا وہ جان چھڑا رہا ہے یا جان بچا رہا ہے۔
    اسکے سوال میں وزن تھا۔ وہ سوچ میں پڑی۔
    جان چھڑا رہا تو جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں تھی اسے۔
    وہ مزید بولا۔ سنتھیا اسے چونک کے دیکھنے لگی۔
    جان بچارہا تھا۔ وہ اگرشاہزیب یا سالک کا نام لیتا تو وہ یقینا اگلا فون انہیں کھڑکاتی۔ کم از کم اریزہ کے ساتھ نہیں تھا یہ کافی نہیں تھا اسکے لیئے۔ ؟ اسے خود اپنی کیفیت نہیں امجھ آرہی تھئ۔
    ویسے تم پاکستانی لڑکیاں اتنی وفادار ہوتی ہو کہ ابھی تمہارا بوائے فرینڈ یہاں ہے بھئ نہیں تم سے جھوٹ بھی بولتا ہے مگر تم اسکی غیر موجودگئ میں بھی ڈرنک نہیں کر رہیں۔
    کم سن کو واقعی حیرت تھی۔
    میں ویسے بھی نہیں پیتی۔ اور نہ پینے کا تعلق ہرگز ایڈون کے منع کرنے سے نہیں ہے۔
    وہ تیز ہو کر بولی۔
    پھر کس سے ہے؟ تمہارا بھی مزہب منع کرتا ہے۔؟ کم سن نے یونہی پوچھا۔۔
    ایسی کوئی بات نہیں۔ میں چاہوں تو ابھی پی سکتی ہوں۔۔
    اس نے ٹرے سے ایک شاٹ اٹھا لیا۔
    اپنے ہونٹوں تک لائی۔۔اور جتانے والے انداز میں اسے دیکھ کر واپس رکھ دیا۔
    یہ کیا تھا۔ وہ ہنس پڑا۔۔
    یہ میری قوت ارادی ہے۔ اجنبئ ملک میں اجنبی لڑکے کے سامنے پی کر بہکنا میں افورڈ نہیں کر سکتی۔
    وہ صاف گوئی سے بولی۔
    یعنی ابھی تم ایڈون کے ساتھ ہوتیں تو پی لیتیں۔
    وہ دلچسپی سے اسے دئکھ رہا تھا۔گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک کی سادہ سی گلابی فراک میں ملبوس تھی۔ اسکا رنگ گہرا سانولا تھا مگر لانبا قد بڑی بڑی آنکھیں ستواں ناک نازک سے نقش۔۔ اس میں کچھ ایسا تو تھا جو نگاہ کھینچ لے اپنی جانب ۔۔ خاص کر اسکے لمبے سیدھے بال جنکی اس نے اس وقت چوٹی کر رکھی تھی۔ مغربی لباس کے ساتھ خالص دیسی بالوں کا انداز۔ وہ بے حد سمٹ کر پروقار سے انداز میں بیٹھی تھی۔۔وہ بلا شبہ یہاں موجود سب لڑکیوں میں منفرد سی لگ رہی تھئ۔
    ہاں۔
    اس نے بلا توقف جواب دیا۔
    ایڈون کو پتہ ہے تم اس اجنبی ملک میں اجنبی لڑکے کے ساتھ بیٹھی ہو؟
    وہ محظوظ سے انداز میں سوال کر رہا تھا۔۔۔ سنتھیا فورا جواب میں کچھ کہنے لگی تھی کہ احساس ہوا۔ چپ سی رہ گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کم سن اسے ہاسٹل تک چھوڑنے آیا تھا۔۔۔۔
    شکریہ ۔۔۔
    وہ سیدھئ اندر جانے لگی تھی بروقت خیال آیا۔ کوریائی انداز میں جھک کر شکریہ ادا کیا۔
    کم سن مسکرا دیا۔۔۔وہ بھئ جوابا مسکرا دی۔۔۔ اپنے ڈورم کا دروازہ کھولتے اسکا اندازہ تھا اریزہ آچکی ہوگی مگر خالی کمرہ اندھیرے میں بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔
    آج تو واپس آجانا چاہیئے تھا۔ اسے غصہ ہی آگیا۔ پلٹ کر جی ہائے کے کمرے کا دروازہ دھڑدھڑا ہی دیا۔۔۔ کوئی جواب نہ آیا توناب گھمادی۔ ۔ کمرہ لاکڈ تھا۔۔۔
    جی ہائے کمرے میں نہیں ہے۔۔ گوارا کے ساتھ گئ ہوئی ہے۔
    پاس سے گزرتی لڑکی نے گاڑی ہنگل میں اسے بتایا۔۔
    پورے جملے میں بس جی ہائے اور گوارا ہی سمجھ آئے۔
    وہ دانت پیستی کمرے میں واپس آئی۔ بیگ اٹھا کر بیڈ پر پھینک دیا۔
    پھر خود بھی دھپ سے بیڈ پر آن گری۔۔۔
    موبائل آن کیا۔ ایڈون کا نمبر بلاک کیا اریزہ کا نمبر بلاک کیا۔
    کم سن کی مسڈ کال پڑی تھی اسکا نمبر احباب فہرست میں شامل کیا نام لکھا۔۔۔ اس نے اسٹیٹس لگا رکھا تھا۔ مکمل ہنگل میں۔
    اس نے کاپی کیا۔۔۔۔۔۔۔
    انکی لازمی ہنگل کی کلاس میں ابتدائی ہنگل سکھانے کیلئے ایک ایپ انکے استاد نے سب کو انسٹال کروائی تھئ۔
    اس نے اس ایپ میں جملہ ڈالا۔ ترجمہ ہوا۔
    لکھا تھا۔۔

    Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..

    Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..
English heart broken qoutes
    Life is all about cutting ties, not making the knot stronger..

    دل کو لگا۔۔۔۔
    اس نے اپنا بھی یہی اسٹیٹس لگا لیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے

    Kesi lagi apko aaj ki salam korea ki qist? Rate us

    Rating