بھاری سامان اٹھاتا مزدور ہانپتا ہوا سیدھا ہوا مجھے سے بولا۔۔
باجی اس چوکی کو صاف کر لیں بہت جالے ہیں۔۔
اب میں اس پھیلے سامان کے ساتھ جھاڑن کہاں ڈھونڈتی۔۔
آپ اسکو ایسے ہی لے جاکر رکھ دیں میں خود صاف کر لوں گی۔۔
اس نے چپ ہو کر اٹھالیا۔۔ آگے بڑھ کر اسے فرش پر کوئی پرانا کپڑا ملا اس سے اٹھا کر جھاڑ نا شروع کر دیا۔۔
میں نے کہا بھی رہنے دیں۔۔
آپکا کام ہی آسان کر رہا ہوں۔۔ اس نے کہا
میں چپ ہو گئ۔۔
اس نے جھاڑا اور دوبارہ چوکی اٹھاتے ہوئے جانے کیا خیال آیا ہنس کر بولا۔۔
باجی آج تک اپنی گھر والی کیلیئے اتنا وزن نہیں اٹھایا ۔۔
Blog
-
Salam Korea Episode 32
Salam Korea
by Vaiza Zaidi
قسط 32
Salam Korea Episode 32 بے خبر سوتے میں جانے موبائل کو کیا تکلیف پہنچی تھی کہ بجتا چلا گیا۔ہر سام سنگ صارف کی طرح اس مارننگ گلوری کو سن کر اسکو غصہ چڑھا تھا رونا آیا تھا نیند ٹوٹنے پر کوستے ہوئے موبائل اٹھایا اور غصے سے بڑبڑائی
الارم کیوں بج رہا ہے؟ اس نے بند آنکھوں کو بمشکل تھوڑا سا کھول کر الارم بند کیا۔ ساتھ جانے کیا پیغام جل بجھ کر رہا تھا اس نے پروا نہیں کی۔ کروٹ بدل گئ۔
گوارا نے تقریبا ایک بجے کے قریب اٹھایا تھا اسے
کیا ہےسونے دو۔
وہ بڑ بڑا کر کروٹ بدل گئ
دے؟ گوارا کو سمجھ نہ آیا مگر نیند کے خمار میں ڈوبی اریزہ کا ترجمے کا کوئی ارادہ نہیں تھا
اچھا سنو میں بھی جا رہی ہوں باہر۔ تمہارا ناشتہ کرنے کا بھی ارادہ نہیں کیا؟ ایک بج رہا ہے۔۔
ایک بجنے کا سن کر اس نے پٹ آنکھیں کھول دی تھیں
کہاں جا رہی ہو؟
وہ اٹھ بیٹھی۔۔
سونا جا رہی ہوں کل پیکنگ پھر پرسوں گائوں ۔اس بار کرسمس گائوں میں ہی کروں گئ ہر سال میری اماں کوستی ہیں مجھے کہ میں ہاتھ نہیں بٹاتی۔
خیر ہے دسمبر ابھی شروع ہی ہوا ہے اور تم کرسمس تک وہاں رہوگئ میں کہا کروں گی اتنے دن یہاں۔۔۔۔
اس چنڈالنی کے ساتھ۔ اس نے چنڈالنی پرکچھ ذیادہ ہی زور ڈال دیا۔
واٹ چنڈ۔
گوارا کی زبان بل۔کھا گئ چنڈالنی کہتے۔
سونا کیوں جانا ہے ؟ اس نے حیرانگی سے پوچھا تھا گوارا نے کندھے اچکا دیئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھٹھرا دینے والی سردی کے برعکس اندر نرم گرم ماحول لوگوں کے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ کوئی گرم پانی سے نہا کے آرہا تھا تو کوئی بھاپ اڑاتے کمرے میں پسینے نکال رہا تھا۔ ایک جانب خواتین کا انتظام تھا۔
گوارا باتھ گائون پہن کر اور اسے زبردستی پہنواکر سونا باتھ میں لے آئی ۔
کمرے میں بھاپ جمع تھی۔ کچھ نوجوان لڑکیاں خوش گپیوں میں مگن تھیں کچھ آنکھیں بند کیئے نیم دراز تھیں۔
اسے کچھ بھی تھا سردی یہاں بہت لگ رہی تھی۔ جبھی اس نرم گرم ماحول میں آکر اسے اچھا لگا تھا۔
آدھا پونا گھنٹہ پسینہ بہا کرشاور لیکر باہر آئیں تو ٹھیک ٹھاک تازہ دم محسوس کر رہی تھیں۔
تواضع کیلئے ابلے انڈے اور قہوہ موجود تھا۔
اس کو ابلے انڈے پسند تھے مگر اکٹھے ایک سے ذیادہ کھانے کا کبھی اتفاق نہ ہوا تھا مگر وہاں سب جیسے انڈے سے پیٹ بھر رہے تھے۔وہ دلچسپی سے سب پر نظر دوڑا رہی تھئ۔
یہاں سب سونا ضرور جاتے ہیں؟
اریزہ کا انداز سوالیہ تھا۔
ہاں کوریا میں رواج ہے۔ فل باڈی مساج سے ساری تھکن اتر جاتی ہے تم تیار ہی نہیں ہوئیں اب گائوں جا کر آہموجی سے کروائوں گی مساج۔
گوارا کو افسوس ہوا۔ اریزہ کان کھجا کے رہ گئ۔
بھلے خواتین ہی مساج کر رہی تھیں پھر بھی اسے مناسب نہ لگا۔
ہمارے یہاں رواج نہیں ہے یوں مساج کا۔ اس نے کہہ دیا
مساج ضروری ہوتا ہے چلو بہت سے ممالک میں رواج نہیں مگر سونا تو تقریبا سب ممالک میں ہوتے ہیں اپنے اپنے انداز کے۔
اریزہ نے کندھے اچکا دیے۔
تم لوگ نہیں سونا جاتے؟ جانا چاہیئے۔ سردیوں میں تو جلد کے مردہ خلیئے اتارنے ہی چاہیئے۔ یہاں کورینز تو ہر صورت سونا ضرور جاتے ہیں۔
گوارا کی حیرت دیکھنے لائق تھی۔ جیسے پاکستانئ گندے رہتے ہوں۔وہ چڑ کر بولی
ہم۔نہا ہی اچھی طرح لیتے ہیں۔ الگ سے ایسے صفائی کی ضرورت نہیں ہوتی ہمیں۔
اس نے چڑایا۔ گوارا برا مانے بغیر بولی
اچھا یہ بتائو تم لڑکیاں وہاں کیسے وقت گزارتی ہو؟
وہ جو پوچھنا چاہ رہی تھی اریزہ کو بتاتے ہچکچاہٹ سی ہوئی۔ تھوڑی دیر مناسب جواب سوچنے کے بعد بس یہی کہا
گھر میں۔
وہ تو ظاہرہے۔ میرا مطلب تھا تفریح کیلئے کیا کرتی ہو؟ وہاں کلبز وغیرہ ہیں۔
نہیں۔ اس نے سوچا پھر سچ سچ کہہ دیا۔
پھر؟ گوارا ہمہ تن گوش تھی
اچھا یہ بتائو تم کیسے وقت گزارتی تھیں وہاں؟
بس صبح یونیورسٹی دوپہر کو گھر آتی تھی نماز وغیرہ پڑھ لی پھر گھر کے کام صفائی کھانا بنانا وغیرہ کبھی بہت دل کیا تو صارم کے ساتھ باہر جا کر آئیسکریم کھا لی۔یا سردیوں میں سوپ پینے چلےگئے۔ سردیوں میں رشتے دار وغیرہ آجاتے ہیں تو انکے ساتھ گھومنے پھرنے کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔
ورنہ گھر میں۔
وہ شرمندہ سے انداز میں بتا رہی تھئ۔ کیا بتاتی وہاں لڑکیوں کی تفریح کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔
تمہاری دوستیں ہیں ؟ انکے ساتھ نہیں کہیں جاتیں؟
گوارا بہت سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی۔
ہیلو ہائے تو بہت سی لڑکیوں سے ہے۔ دوستی بس سنتھیا کے ساتھ تھی۔ اسکے گھر چلی جاتی تھی یا کبھی ہم دونوں مل کر بازا رچلی جاتی تھیں وہ بھی کبھی کبھار ورنہ اپنی شاپنگ کیلئے تو امی کے ساتھ جاتی تھی میں۔
اسے یقین ہوچلاتھا کہ گوارا اسے ٹھیک ٹھاک گیا گزرا سمجھ رہی ہے۔
تم جاب نہیں کرتی تھیں نا وہاں تو پیسے کون دیتا ہے تمہیں شاپنگ کیلئے؟ گوارا کو نہ جانے کیا دلچسپی تھئ
بابا۔ اس نے مختصرا کہا۔ وہ موضوع بدلنا چاہ رہی تھی
میں اپنی امی کے ساتھ آخری بار شاپنگ پر سیونتھ کلاس میں گئ تھئ۔ اسکے بعد سے آج تک کبھی موقع نہیں ملا۔ ہائی اسکول سے مختلف جاب کرنا شروع کردی تھیں میں نے۔پڑھائی کاخرچ اٹھانے کے بعد کبھی اتنے پیسے بچے نہیں کہ خوب ساری شاپنگ کر سکوں۔ بس ضرورت کی ایک آدھ چیز لیتی تھی۔ پھر گوشی وون میں رہ رہ کر پیسہ پیسہ جوڑا یونیورسٹی میں ایڈمیشن کیلئے۔ تب خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میرے بابا کا انتقال ہوگیا۔ انکی انشورنس سے خوب پیسہ ملا تو آہموجی نے اپارٹمنٹ لیا مگر وہ اسے کرایے پر چڑھانا چاہتی تھیں۔ میں نے تب ضد کی اور یہاں آگئی۔ ورنہ اسکا کرایہ بھی میری آہموجی نے اپنے نئے بچوں پر خرچ کرنا تھ۔ا۔
نئے بچوں پر؟ وہ اسکی اصطلاح پر حیران ہوئی
میرا بس ایک بھائی ہے۔چار سال چھوٹا۔ بس باقی آہموجی نے جب دوسری شادی کی تو آہجوشی سے دو بچے ہوئے انکے ابھی اسکول میں پڑھتے ہیں۔آہجوشی کا ایک بیٹا میرا ہم عمر ہے۔ اپنی ماں کےترکے سے ملنے والا ایک پیسہ اس نے آہموجی کو نہیں دیا۔ اپنا کاروبار کر رہا ہے مگر نا آہجوشی کو ایک پیسہ دیتاہے نا آہموجی کو۔ میرا بھائی آہجوشی کا ہاتھ بٹاتا ہے انکے ریستوران میں مگر اسکی تعلیم کا خرچہ تک وہ نہیں اٹھاتے۔ اسکے لیئے وہ الگ جاب کرتا ہے۔ تو اس فلیٹ کی رقم میں اپنے سوتیلے بہن بھائیوں پر کیوں خرچ کروں؟ یہ بس میرا اور میرے بھائی کا ہے۔ جب اسکی یونیورسٹی کی باری آئے گی وہ یہاں میرے ساتھ رہے گا پڑھے گا۔
گوارا نے عزم کیا۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھ کر وہ حیران سی رہ گئ تھی۔
اسکی پڑھائی کا۔خرچ؟ اریزہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔
اس نے جمع کیا ہے کچھ ۔ وہ بہت ذہین ہے ٹیوشنز پڑھاتا ہےاور کچھ پیسہ میرے پاس بھی ہے۔
پتہ ہے ماڈلنگ شروع کی تھی میں نے۔ تصویر میں میری ناک اورہونٹ اچھے نہیں آتے تھے۔ اس پر مجھے ایجنسی نے ریجیکٹ کر دیا۔ پورے دو سال پیسے جمع کیئے میں نے کہ آپریشن کروالوں۔
وہ اپنی انتہائی مہنگی ناک چھو کر بولی۔
ماڈلنگ کا موقع تو دوبارہ ملے توتھوڑا بھائی کےکام آجائیں گے پیسے۔ ارے تم نے ابھئ تک انڈہ۔ختم نہیں کیا؟ بولتے بولتے اس پر نظر پڑی جو ادھ کھایا انڈہ تھامے بغور اسکی باتیں سن رہی تھی۔
خود اس نے چار انڈے کھالیئے تھے۔
میں بس یہی ایک کھائوں گئ۔ اس نے کہتے ہوئے باقی ماندہ انڈہ منہ میں رکھ لیا۔
چلو باہر چل کر گھومتے پھرتے ہیں۔۔
گوارا ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
گنگنم میں گھومتے باتیں کرتے ٹھیلوں سے کھانا چکھتے وہ دونوں بے فکری سے پھر رہی تھیں۔
گائوں جانے کیلئے وہ کچھ تحفے خریدنا چاہ رہی تھی۔ چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے چاکلیٹس بورڈ گیمز بہن کیلئے گڑیا بھائی کیلئے ریموٹ کنٹرول گاڑی۔ دوسرے بھائی کیلئے خوب پیارا سا ہڈ اور سویٹ سوٹ۔ماں کیلئے اونی لانگ اسکرٹ۔ باپ کیلئے بھی ایک سوئٹر خرید ی۔
تم بھی کچھ لے لو۔ اس نے اریزہ کو آفر کی۔
اس نے سوچا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔ گورا نے اسکے اور اپنے لیئے ایک جیسی لانگ فراک لی۔
کرسمس دور ہے مگر کرسمس تک میں یہاں نہیں ہونگی۔ سو اسلیئے ایڈوانس تحفہ ۔۔
اریزہ کے نہ نہ کرنے پر اس نے اصرار سے تھمایا۔
تم آنا نا گائوں۔ بلکہ میں کرسمس سے پہلے ایک پارٹی رکھوں گئ سب آئیں گے تم بھئ آنا۔ کرسمس میں تو سب اپنے اپنے خاندان کے ساتھ مصروف ہوتے ہیں۔ اسلیئے میرا ارادہ پہلے ہی پارٹی کرنے کا ہے۔
دیکھتے ہیں۔ اس نے ٹالا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح نیند سے بیدار ہوتے ہی مانوس سی خوشبو نے اسکو جگا دیا تھا۔ مسکرا کر بستر سے اٹھتے وہ بنا آہٹ کیئے کچن میں چلا آیا تھا۔ حسب توقع سنتھیا ایپرن باندھے پراٹھا بنا رہی تھی ۔ ایک جانب نان اسٹک پین میں پیاز نرم ہو رہی تھی۔ وہ دبے پائوں اسکے قریب آیا اور اسکو پیچھے سے جا کر بانہوں میں بھر لیا۔ اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکادی۔۔
کیا کر رہی ہو میری جان۔
سنتھیا مسکرا دی۔
پراٹھا بنا رہی ہوں۔ پیچھے ہو پراٹھا جل جائے گا۔ اس سے خود کو چھڑاتے وہ جلدی سے آگے بڑھ کر پراٹھا پلٹنے لگی۔ سنہری سنہری گول سا پراٹھا۔ اسکی بھی بھوک چمک اٹھی تھئ۔
میں آملیٹ بنا دیتا ہوں۔ اس نے آگے بڑھ کر پین تھاما۔
گومو ووئو۔ سنتھیا شکر گزار ہوئی۔ ایڈون نے بھنوئیں اچکا کر دیکھا تو وہ کھسیا کر ہنس دی ۔ایڈون بھی ہنس دیا
شکریہ۔۔ ایک تو کورینز نے گومو وویو زبان پر چڑھا دیا ہے۔ ویسے یہاں رہ رہ کر اچھی کورین آجائے گی ہمیں۔
پراٹھا اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھتے وہ مصروف سے انداز میں بولی۔
تمہیں کورین بولنی آجائے گی اور کورینز کو پراٹھے کھانے آجائیں گے۔ ایڈون نے پہلے سے حل شدہ انڈوں کا آمیزہ فرائی پین میں انڈیلا۔
اس دن گوارا بتا رہی تھی کہ وہ ناشتے میں پراٹھا کھا کے آئی ہے۔ اسے اریزہ نے بنا کر دیا تھا۔
وہ سادہ سے انداز میں بتا رہا تھا۔ سنتھیا کے تاثرات کھردرے سے ہو گئے ۔ ہاٹ پاٹ اٹھا کر وہ میز پر رکھنے لگی۔ پلیٹیں بھاپ اڑاتئ چائے کا کپ ۔۔ ناشتے کے سب لوازم مکمل تھے۔
لو جی آگیا انڈہ۔ میرے ہاتھ کا بنا انڈا کھائو گی کیا یاد کروگی۔
وہ خاصا خوش تھا اپنی کارکردگی پر۔ سنتھیا اسکو دیکھ کر ہنس پڑئ
زندگئ میں پہلی بار تلا ہے انڈہ اور بالکل صحیح تلا۔
وہ داد چاہ رہا تھا۔
شکریہ جناب میں مشکور ہوں آپ نے اتنی زحمت کی میرےلیئے۔ وہ بھی ہلکے پھلکے انداز میں کہتی اسکے مقابل آ بیٹھی۔
ویسے تمہیں آٹا کہاں سے مل گیا۔ یہاں۔ نوالہ بناتے یونہی ایڈون نے پوچھا۔
یہاں شائد جو پہلے لوگ رہنے آئے تھے انکو بیکنگ کا شوق تھا۔ میدہ کارن فلور ونیلا ایسسنس سب کچھ بچا ہوا تھا کیبنٹ میں پڑا تھا۔
اس نے کہا تو ایڈون سر ہلا گیا۔
تم مجھے کسی کا چھوڑا ہوا کھلا رہی ہو۔ وہ مستی میں بول گیا۔
خود بھئ یہی چھوڑا ہوا کھا رہی ہوں۔ سنتھیا نے گھورا۔
مجھے چھوڑا ہوا کھانے کی عادت نہیں ۔۔ ایڈون نے چڑایا
مجھے بھی چھوڑا ہوا اپنانے کی عادت نہیں تھی۔ سنتھیا نے لمحہ بھر توقف کیئے بنا کہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے لیئے جان بھی دے دوں تو تم مجھ پر یقین نہیں کروگی ہے نا۔ میں کیا کروں ایسا کہ تمہارا شک دور ہو جائے۔ نام تک نہیں لیتا میں ۔ خود کو اتنا سمجھاتا ہوں۔ مگر اریزہ۔۔ سوری سنتھیا میرے منہ سے نکل گیا نام سوری۔۔۔۔ اس نے سسکیاں بھرنا شروع کردیں۔
بار کے باہر ایک دکان کے آگے رکھے آرائشی بڑے سے غبارے والے بھالو کے سامنے دو زانو بیٹھا بین کر رہا تھا۔
کم سن نے گھور کر یون بن کو دیکھا۔
مجھے گوارا کے ساتھ ڈنر پر جانا ہے ورنہ یہ کارخیر خود انجام دیتا۔ اسکے گھر کا پتہ بھی نہیں تھا ورنہ ٹیکسی میں بٹھا کے بھیج دیتا۔
یون بن نے صفائی دی۔ کم سن دانت پیسنے لگا۔
یہیں پڑا رہنے دیتے جوان آدمی ہے مر تھوڑی جاتا۔
کم سن کے کہنے پر یون بن نے بہت حیرت سے اسکی شکل دیکھی وہ تھوڑا کھسیا گیا۔
یہ دوست ہے ہمارا۔
اس نے جیسے یاد دلایا۔
شاہزیب سے دوستی تھئ میری اس سے کبھی نہیں بنی میری اور اب تو۔۔
وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
اچھا میں خود چھوڑ آئوں گا اسے مجھے بتادو اسکا پتہ۔
یون بن خفا تو نہیں ہوا مگر انداز تھوڑا کھردرا ہوگیا تھا۔
چھیسو(جانے دو)
تم جائو گوارا ناراض ہو رہی ہوگی دیر ہونے پر۔ میں چھوڑ آتا ہوں اس سوغات کو۔
اس نے ہونٹ بھینچے۔ پھر اس نے یون بن کو بھیج کر خود بھئ ایک ٹیکسی روکی ۔ ایڈون کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ بٹھایا ۔
سنتھیا کو میری بالکل پروا نہیں ہے۔ وہ میری گرل فرینڈ نہیں رہی ہے وہ بس اب بچے کی ماں ہے۔اس بچے کے پیچھے مجھ سے بھی ناطہ توڑنے کو تیار ہے۔ بچے تو اور ہو جائیں گے ہے نا۔ مجھ پر اس بچے کو فوقیت دینا غلط ہے نا۔ وہ مجھ سے پیار کرتی ہے ناہے نا
ایڈون کم سن کے کندھے پر سر رکھے پوچھ رہا تھا۔ کم سن کی جانے بلا ۔ وہ اپنی بات دہراتا سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔
ماں تو پھر ایسی ہی ہوتی ہے نا۔ ماں کیلئے سب سے اہم اسکا بچہ ہوتا ہے۔ آپ اپنی گرل فرینڈ کے بچے سے محبت جتائیں وہ یقیناآپ سے خوش ہوجائے گی۔
اتنی دلگیری سے ڈرائیور نے جواب دیا کہ کم سن چونک کے شکل دیکھنے لگا۔
تمہیں سمجھ آرہی ہے یہ کیا کہہ رہا؟
کم سن کے پوچھنے پر وہ تھوڑا گڑبڑا سا گیا۔
جی وہ چھے سو ہمبندا ( مجھے معاف کیجئے گا) میں حد سے بڑھا۔
شستہ ہنگل میں ڈرائیور نے جواب دیا۔
اس نے کیا کہا ہے ابھی؟ کم سن نے پوچھا۔
ڈرائیور سوچ میں پڑا پھر ترجمہ دہرا دیا۔کم سن نے گھور کر ایڈون کو دیکھا۔
کہہ سیکی۔ اسکے منہ سے بے ساختہ ہی گالی نکلی تھی۔
ڈرائیور کو ہنسی آگئ۔ پھر فورا ہی ہونٹ بھینچ لیئے۔ کم سن نے اسے بھی گھورا۔
تم پاکستانی ہو؟
میں پاکستانئ ہوں۔ ایڈون کی جانب سے جواب آیا وہ اب دوبارہ اسکے کندھے پر سر رکھ اونگھ رہا تھا۔
اس نے چڑ کر پرے کیا اسے وہ سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگا۔
تم بھی پاکستانی ہو ؟
کم سن پھر پوچھ رہا تھا۔
آنی۔ بیک ویو مرر میں کم سن کو متوجہ دیکھ کر ڈرائیور نے جواب دیا۔
میں بھارتی ہوں۔ مگر ہندی سمجھ سکتا ہوں۔ یہ پاکستانی ہیں؟
اس نے پوچھا تو کم سن نےسر ہلا دیا۔
آپکے دوست ہیں؟
دے۔ مختصرہی جواب دیا۔
کیا نام ہے انکا؟
ڈرائیور جتنی دلچسپی سے پوچھ رہا تھا کم سن کو اتنی ہی بیزاری ہو رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون۔
اسکے پسینے چھوٹ رہے تھے۔ بی پی شائد ہائی ہو گیا تھا۔ رو رو کے سوجی ہوئی آنکھیں اکھڑی سانسیں۔ اسے لگا تھا اسکا آخری وقت قریب آچکا ہے۔وہ ہمتیں مجتمع کرکے اسکے کمرے کے دروازے تک آئی تھئ۔ ہلکا سا تھپتھپا کر اس نے پکارا مگر آواز ڈوب رہی تھی اسکی۔
دو تین دفعہ تھپتھپانے پر بھی دروازہ نہ کھلا تو وہ بے دم سی ہو کر واپسی کو مڑی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کو تھکی ہاری وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوئی تھیں۔ ہوپ کہیں تیار ہو کر جا رہی تھی ۔ روز مرہ کی گھسی جینز اور شرٹ کی بجائے کالی لانگ اسکرٹ ٹاپ اور ٹخنوں سے تھوڑا سا اوپر تک کے کورٹ شوز پہنے چھوٹا سا پرس کندھے پر لٹکائے۔دونوں کا بلا ارادہ منہ کھل سا گیا تھا۔ انکو نظر انداز کرتے اونچی ہیل کو کھٹ کھٹ کرتی وہ انکے پاس سے گزر کر جانے لگی
کدھر جا رہی ہو؟
اریزہ نے کہنی کمر میں گھسیڑ دی تھی گوارا کے کہ مت پوچھو پھر بھی مجال ہے جو اس نے اثر لیا ہو۔ دھڑلے سے اسے کہنی سے تھام کر روک ڈالا۔
وہیں جہاں اریزہ جا رہی ہے۔ خشک سے انداز میں کہہ کر اس نے جھٹکے سے کہنی چھڑائی تھی۔ ردعمل کے طور پر پوری قوت سے دروازہ بند کرتی گئ۔
ہائش۔ گوارا بھنا کر اسکے پیچھے مارنے کو دوڑی مگر اریزہ نے کھینچ کھانچ لیا۔
کیا کہہ رہی تھی؟
اریزہ کو تجسس بھئ تھا۔ دونوں نے ہنگل میں ہی گفت و شنید کی تھی سو اسکے سر پر سے گزرا
اسکا جملہ دہراتے دہراتے گوارا ٹھٹک کر رکی۔
تمہارا ہیون کے ساتھ کانسرٹ میں جانے کا پروگرام تھا نا؟
ہاں وہ تو ہفتے کی رات کو ہے کانسرٹ۔ وہ آرام سے انگڑائی لیتی صوفے پر گری۔
تو؟ آگاشی آج ہفتہ ہی ہے ؟
کمر پر ہاتھ رکھ کر گوارا نے جتایا تو وہ چونکی۔
ہیں ؟ واقعی؟
وہ اچھل پڑی۔ اپنا موبائل اٹھا کر دیکھا تو ریمائنڈر صبح بجتا رہا تھا۔۔ ساتھ ہیون کی چار مسڈ کالز جو دن بھر میں وقفے وقفے سے تھیں۔ ایک پیغام بھی تھا
میں پندرہ منٹ میں آرہا ہوں۔ پیغام آئے دس منٹ ہو چکے تھے
کیا ہوا۔۔ اسکا بھونچکا انداز کافی دیر تلک نہ بدلا تو گوارا بھی تشویش میں مبتلا ہو کر اسکے پاس آبیٹھی اور کندھا ہلانے لگی۔
میرا فون سائلنٹ پر تھا سارا دن ۔۔۔۔ اریزہ روہانسی سی ہوگئ
تو کیا ہوا؟ میری یون بن سے لڑائی ہوتی ہے تو میں بھی فون سائلنٹ کر دیتی ہوں۔
گوارا نے اطمینان سے انگڑائی لی۔تبھی آطلاعی گھنٹی گنگنا اٹھی
ہیون ہوگا۔شٹ میں تو تیار بھی نہیں ہوئی۔ اریزہ جیسے سر پر پائوں رکھ کر اندر کمرے میں بھاگی
ہیون۔ گوارا نے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھا تبھی دوبارہ گھنٹی بج اٹھی۔ وہ مارے باندھے دروازے پر چلی آئی۔
تھیبا۔ دروازہ کھولتے ہی اسکے منہ سے نکلا تھا۔
جدید ترین رواج کے مطابق اونچے سے برانڈ کے اپر جیکٹ اور جینز میں ملبوس نک سک سے بال درست کیئے خوشبوئوں میں بسا ہوا ہیون اسکے انداز پر خجل سا ہو کر سر پر ہاتھ پھیرنے لگا
ٹھیک لگ رہا ہوں؟ ۔ اس نے یونہی پوچھا۔ گوارا کچھ کہنے کی بجائے ایک طرف ہوگئ ہیون راستہ پا کر اندر چلا آیا۔
یون بن کو تم پر ترجیح دینے پر افسوس ہو رہا ہے مجھے۔
گوارا مایوسی سے سر ہلاتی دروازہ بند کرنے لگی۔
انیس بیس ہی ہیں ہم دونوں لوگوں کو ہم ایک شکل کے لگتے ہیں۔
ہیون نے چھیڑا تو گوارا نے برا سا منہ بنایا
تم پھر بیس ہی ہو نا۔ ویسے انی نے کانسرٹ میں میرا داخلہ بند تو نہیں کیا ہوا ہوگا ہے نا؟ اور اگر دیگر جوڑے جائیں تمہارے ساتھ تو وہ کوئی ہرجانہ بھی نہیں کرنے کاارادہ رکھتی ہوں گی۔ ہے نا؟ ایسے ہی معلومات کیلئے پوچھ رہی ہوں۔
اس نے اطمینان سے چبا چبا کر کہا تھا۔ ہیون کے چہرے پر خفت سی پھیل گئ۔
بیانیئے۔ اس نے سیدھا سیدھا معزرت کی۔
اسکے انداز پر گوارا قہقہہ لگا کر ہنس دی۔
تم بہت پیارے ہو۔ خدا کرے اریزہ آسانی سے مان جائے۔ آج تو پکا پرپوز کر دینا بہترین موقع ہے۔
وہ اسکی تواضع کے خیال سے کہتی ہوئی کچن میں چلی آئی۔
چونکہ ہنگل میں بات کر رہی تھی لہذا آرام سے بولتی رہی بنا پروا کیئے۔
تمہیں بھی یہی لگتاہے نا کہ وہ انکار کر دے گی۔
ہیون سنجیدہ سا ہو کر اسکے پاس چلا آیا۔
اسکے لیئے کافی میکر میں کافی بناتے اسکے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے تھے۔
اس نے پلٹ کر دیکھا تو کائونٹر ٹیبل سے ٹکا ہیون جیبوں میں ہاتھ ڈالے مضطر سا نظر آیا
وہ بہت مختلف سی لڑکی ہے۔ جتنا تم دونوں ساتھ پھرتے ہو ساتھ رہتے ہو کوئی اور لڑکی ہوتی تو یقینا اب تک تمہیں یقین ہو چکا ہوتا کہ وہ تم میں دلچسپی لیتی ہے۔مگر اسکے ساتھ چوبیس گھنٹے رہنے کے باوجود میں پر یقین نہیں ہو کر کہہ سکتی کہ وہ تمہیں الگ نظر سے دیکھتی ہے کہ نہیں تم
اس نے گہری سانس لیکر بات ادھوری چھوڑ دی۔
میری دعا ہوگی کہ تم دونوں اکٹھے ہو جائو خوش رہو۔
اس نے آگے بڑھ کر اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تو وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا
لیکن تم اسکے مخالف ردعمل کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار رہنا۔
اسکی بات نے ہیون کی ہنسی نچوڑ سی لی تھی۔
ہوں۔ اس نے دھیرے سے سر ہلا کر نظر چرا لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لمبا سفید انرہائی نیک جو اسکی کمر سے تھوڑا نیچے تک آرہا تھا پہن کر اوپر سے بریو ہارٹ کی ٹی شرٹ پہنی۔ جو میڈیم سائز ہونے کے باعث ڈھیلی ڈھالی سی تھی اس پر۔ گلے میں اونی اسکارف ڈالا۔ لانگ بلیک اوورکوٹ بلیک جینز اور بلیک ہی ہیل والے جوتے پہن کر وہ خود کو گھوم گھوم کر ہر زاویئے سے دیکھ رہی تھی۔ کراس باڈی چھوٹا سا فان بیگ جس میں موبائل وغیرہ رکھا تھا۔ ایک چھوٹا سا کارڈ کا بیگ جس میں پلیئر اور لائٹ اسٹک کو بڑے اہتمام سے ڈبے میں بند کرکے رکھا تھا۔
بال برش کرکے چہرے پر کریم لگائی تو مرچیں سی لگنے لگیں۔ ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک لگا کر وہ تیار ہو کر باہر نکلی تو ہیون اور گوارا کچن کائنٹرکے پاس اطمینان سے اسٹول پر بیٹھے کافی اڑا رہے تھے۔
کیسی لگ رہی ہوں۔ اسکو کمرے سے نکلتے دیکھ کر گوارا فورا متوجہ ہوئی اس نے اسی سے پوچھا
اچھی لگ رہی ہو مگر کیا بہت سردی لگ رہی ہے تمہیں؟
گوارا نے اچنبھے سے کہا تھا۔۔ وہ اسکے ہائی نیک اور سکارف کو تعجب سے دیکھ رہی تھئ۔
ہاں ۔۔۔۔کیوں؟ وہ گڑبڑائی
یہ اسکارف بالکل ضروری نہیں۔اور لانگ کوٹ میں شرٹ تو چھپا ہی لی ہے تم نے۔
وہ اسکے پاس آکر اسکے کپڑے ٹھیک کرنے لگی۔ اس نے اسکے گلے سے اسکارف نکال دیا تھا۔۔ اب کوٹ اتروا رہی تھی۔
اوہ خدایا ہائی نیک بھی پہن رکھی ہے۔ وہ بھرپور تعجب کا اظہار کر رہی تھی۔
ٹھہرو میں اپنی جیکٹ لا کر دیتئ ہوں۔ وہ اسکا کوٹ اور اسکارف صوفے پر رکھتی اندر کمرے میں چلی گئ۔
اس کے انداز پر خجل سی ہوتی ہوئی اس نے چہرے پر در آنے والی لٹیں کانوں کے پیچھے اڑسیں۔ یونہی نظر اٹھا کر دیکھا تو ہیون اسی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے دیکھے جا رہا تھا مگرانداز اتنا سادہ سا تھا کہ اسے برا نہ لگا۔
یہ شرٹ ڈھیلی ہے نا تمہیں۔ میں کہہ رہا تھا۔ اس نے جتایا اور مڑ کر کافی ختم کرنے لگا۔
اسکے کہنے پر وہ چونکی۔ اسکارف لانگ کوٹ اتارنے کے بعد اسے خیال ہی نہیں رہا تھا کہ وہ بنا دوپٹے کے کھڑی ہے۔
یہ لو۔ اس نے خوبصورت سا گلابی جیکٹ اسے لا تھمایا تھا فٹنگ والا پتلا سا جو اسکی کمر تک آرہا تھا اوپر فر اور پھلتروں کا دلکش امتزاج تھا۔ کندھے پر ستارے دمک رہے تھے۔
اسکو اسکے ہلکا ہونے پر اعتراض سا ہوا۔ پہنتے ہوئے منمنا کر کہنا چاہا۔
ٹھنڈ لگے گئ۔
بہت گرم ہے یہ اور آج اتنی ٹھنڈ بھی نہیں پانچ ڈگری ہے بس۔ میں تو بس ہائی نیک پہنتی اسکی ضرورت بھی نہ پڑتی مجھے۔
گوارا نے گھرکتے ہوئے اسے پہنایا۔
پانچ ڈگرئ۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔
اتنے میں تو پنڈی میں میں بستر سے نہیں نکلتی دو سوئٹریں چڑھا کر کافی یا سوپ اندر انڈیلتی رہتی تھی۔ تم لوگ اوپر سے کوئی گیںڈے کی کھال لگوا کر اترے ہو۔آج جیسے کینچلی اتر رہی تھی اندازہ ہوا مجھے۔
وہ گوارا کو گھورتے ہوئے بولے جا رہی تھی۔ مگر گوارا نے دھیان نہ دیا۔ کونسا دھیان دینے سے اسکی اردو سمجھ آجانی تھئ۔
دے لو جتنی مرضئ گالیاں مگر پہن کر یہی جائوگی تم۔
گوارا نے کہا تو وہ منہ بنا کر بولی
گالیاں نہیں دے رہی میں۔ گالیاں نہیں دیتی میں۔ اتنا پتہ نہیں چلا ابھی تک میرے بارے میں۔
اس نے منہ پھلا کر کہا تھا۔ گوارا اسکے انداز پر ہنس پڑی
تمہارے میک اپ بگڑنے کا خدشہ نہ ہوتا تو ابھی اس بات پر تمہارے گالوں میں کوچی کوچی کرنا تھا میں نے۔
وہ اسکے گالوں پر اشارے سے چٹکیاں کاٹ رہی تھی
اچھی بات ہے ہاتھ نہ لگائو۔ مگر میں نے میک اپ کیا نہیں ہے۔
اس نے زبان چڑائی۔
کھوجے ما۔ گوارا نے یقین نہ کرتےہوئے اسکا گال چھوا اور حیران رہ گئ۔
واقعی تم نے میک اپ نہیں کیا؟ اسکی حیرت کی انتہا نہ رہی۔
تمہارے گال بلش کیوں ہورہے؟ اس نے باقائدہ اسکے گال چھوئے۔
آئی لائنر تک نہیں لگایا۔
وہ جیسے بے ہوش ہونے کو تھی۔
بس لپ اسٹک لگائی ہے۔ مجھے میک اپ کرنا آتا ہی نہیں ہے۔ سنتھیا کبھی کبھی تیار کردیتی تھی مجھے آئی لائنر لگاکر یونی جاتے ہوئے مجھے وہ بھی لگانا نہیں آتا۔ کبھی برابر نہیں لگتا۔
اس نے صاف گوئی سے کہا تھا۔
ہائش میں تو بنا میک اپ گھر سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی کیسی لڑکی ہے یہ۔
وہ اب ہنگل میں واویلا کر رہی تھی۔
پیاری ۔
ہیون مگ رکھ کر اٹھا۔ اسکے کان کے پاس سرگوشی کی۔ اریزہ ان دونوں کو منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
چلیں؟ ۔ اس نے پوچھا۔تو ہیون نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بڑے سے کمیونیٹی ہال کے سامنے رنگ و روشنیوں کا میلہ سا لگا تھا۔ پارکنگ انکو کافی دور ملی تھی۔ بس حد نگاہ تک گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔
اندر شائد کانسرٹ شروع ہوچکا تھا سیٹیوں چیخوں اور موسیقی کا بے ہنگم شور باہر تک سنائی دے رہا تھا۔
ہم بریو ہارٹ سے کانسرٹ سے پہلے ملیں گے یا بعد میں؟
ہیون کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتے ہوئے اس نے پوچھا۔
ہوں۔ وہ جیسے اپنے کسی دھیان سے چونکا۔
کیا ہوا؟ کہاں گم ہو ؟
اسکی غائب دماغی پر وہ ہنس دی
کہیں نہیں کیا کہہ رہی تھیں؟
اس نے سنبھل کر پوچھا۔۔
میں پوچھ رہی تھی ہم بریو ہارٹ سے کانسرٹ سے پہلے ملیں گے یا بعد میں۔ میرا مطلب ہم کانسرٹ میں اسکو لیکر تو نہیں پھریں گے نا؟
اس نے بیگ لہرایا۔
تمہیں کانسرٹ سننے میں کوئی دلچسپی نہیں؟
ہیون کو اسکے انداز پر واقعی حیرت ہوئی
بالکل نہیں۔ اس نے بلا توقف سر ہلایا
کیا فائدہ سننے کا جب سمجھ کچھ نہیں آنا۔ نہ زبان نا کچھ اور۔ہاں دھن اچھی ہوتی ہے اور آوازیں بھی بریو ہارٹ کی اچھی ہیں پر کیا مزا جب سمجھ ہی نہ آئے کیا کہہ رہے ہیں۔
وہ روانی میں کہتی گئ۔
ان آٹھ مہینوں میں تمہیں بالکل بھی ہنگل سمجھ نہیں آنی شروع ہوئی۔؟ لوگ تو روانی سے بولنے لگتے ہیں اتنے عرصے میں تو۔
ہیون نے کہا تو وہ کندھے اچکا گئ
سیکھیں تب نا۔مجھے نہ ضرورت ہے نا خواہش۔ انٹرنیشنل اسکول میں پڑھ رہی تھی وہاں انگریزی میں ہی پڑھا رہے تھے تو سیکھ کر کیا کرنا تھا۔
سیکھ لو زبان سیکھنا کام آجاتا ہے۔ کسی کی بات سمجھنے کے کسی کو سمجھنے کے۔
اسکا لہجہ جملے کے آخر تک دھیما ہوتا گیا۔
اریزہ نے دھیان نہ دیا۔ سامنے سے کئی ہائی اسکولرز یونیفارم میں شائد اسکول سے واپسی پر بھاگے آرہے تھے سب کے پاس بریو ہارٹس کی لائٹ اسٹکس تھیں
بھاگو چلو دیر ہوگئ ہے۔ وہ انکے پاس سے جوش میں ایک دوسرے کو کہتے گزرے
وہ ہونٹ بھینچ گیا
بریو ہارٹ کوریا کے ٹاپ بینڈز میں سے ایک ہیں۔ انکے گانے دنیا بھر میں ٹاپ رینکنگ میں آتے ہیں۔ امریکہ یورپ ہر جگہ انکی۔زبان سمجھ نہ آنے کے باوجود انکے گانے شوق سے سنے جاتے ہیں انکے پچھلے کانسرٹ نے تو امریکہ میں ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انکے ایک ایک رکن کی علیحدہ فین فالوونگ ہے۔ لوگ ایک جھلک دیکھنے کیلئے دنیا بھر سے کوریا آتے ہیں۔صرف انکو اس چیریٹی کانسرٹ میں ایک گانا گانا تھا اور یہ سب ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ بکے ہیں لوگ دوپہر سے یہاں اندر آنا شروع ہوگئےتھے۔ انکی سب سے آخری پرفارمنس ہوگی جو اب سے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہوگی مگر دیکھو لوگ انکے لیئے کتنے پرجوش ہیں۔
اس نے انہی کی جانب اشارہ کیا تھا۔
اریزہ اسے الجھن سے دیکھ رہی تھی۔ اس بے وقت بریو ہارٹ کی مدح سرائی کی وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔
اور صرف یہی نہیں کورین ڈرامے دنیا بھر میں ذوق و شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ لیجنڈ آف بلو سی دنیا بھر میں کئی زبانوں میں ترجمہ کرکے دیکھایا جا رہا ہے۔ لوگ شوقیہ ہنگل سیکھتے ہیں ان ڈراموں اور گانوں کے پیچھے۔ اور
بولتے بولتے وہ یکدم ہی خاموش ہوا
اریزہ جز بز سی ہورہی تھی۔ یقینا اسے اسکی بات بری لگ چکی تھی۔ اتنے عرصے میں شائد پہلی بار وہ تھوڑا غصے میں آگیا تھا تب بھئ اسکا انداز بدتمیزانہ نہیں ہوا یقینا اسکا بڑا پن ہے اگر وہ برا مان بھی گیا ہے تو اسے معزرت کر لینی چاہیئے۔ یہی سوچ کر وہ بول اٹھی۔
میں معزرت خواہ ہوں شائد تمہیں میرا یہ کہنا کہ ہنگل سیکھنے کی خواہش ہے نا ضرورت برا لگا ہے۔ مگر اس سے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ ہنگل کوئی بری زبان ہے یا کچھ بے عزتی کرنا مقصود تھا۔ میں تو بس ۔۔
اب دیکھو تم اور میں دونوں ہی ایک تیسری زبان میں آرام سے بات کر لیتے ہیں۔ اب میں تمہیں اردو سیکھنے کو تو نہین کہہ سکتی۔تمہیں کیا ضرورت ہے اردو سیکھنے کی جب تمہارا اردو سے کوئی واسطہ ہی نہیں پڑنا۔ اب اسکا یہ مطلب تھوڑی کے اردو بےکار یا بری زبان ہے بس اسکا مطلب یہ ہے کہ۔
ہیون ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا۔ وہ اسے ایک پزل کہ طرح لگی تھی ۔ ایسا لگا تھا کہ جیسے وہ پہلی بار اسے دیکھ رہا ہے۔
مجھے اردو میں دلچسپی ہونے لگی ہے۔ میرا دل کرتا ہے ایکدن میں اس زبان کو سمجھنے لگ جائوں۔ میں سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تمہارے منہ سے نکلے ایک ایک لفظ کو۔ تمہارا دل نہیں کرتا ؟ کبھی میں کچھ اپنی زبان میں بھی بولوں تو تمہیں سمجھ آجائے۔
اسکی بات پر وہ اسے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتی رہ گئ۔ منہ پھلائے شکوہ کرتا کیا بچوں والا انداز تھا۔ کیا وہ اس بات پر اس سے خفا ہو رہا تھا کہ اسے ہنگل کیوں سمجھ نہیں آتی؟
تم مجھے ویسے ہی ترجمہ کر دیتے ہو اگر کوئی اور بھی ہنگل بولے تو۔ او رخود تو تمہاری انگریزی اتنی اچھی ہے کہ۔
اریزہ کئ وضاحت اسے مزید غصہ دلا گئ تھی۔
چھیسو۔ (چھوڑو)
اس نے تیزی سے کہا اور اپنے قدموں کی رفتار بڑھا لی ۔ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اسکے پیچھے لپکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لسٹ ہاتھ میں لیئے۔ کانوں میں اییئر پیس لگائے جسکا چھوٹا سا مائک گال تک آرہا تھا۔ وہ ادھر ادھر پھرتی ہدایتیں دے رہی تھی۔
اگلا لائن اپ بریو ہارٹ کا تھا۔ میک اپ روم میں جھانک کر اس نے انکی۔موجودگی کا یقین کرنا چاہا مگر وہاں بس کچھ ڈانسرز موجود تھے۔
بریو ہارٹ چیکڈ ان۔
اسکے کان میں سرگوشی ہوئی وہ چوکنا سی ہو کر لابی میں نکل آئی۔ استقبالیئے کی جانب جاتے ہوئے شیشے کی دیوار سے اسے بریو ہارٹ ایک بڑی سی کالے شیشوں والی وین سے اترتے دکھائئ دیئے۔ اپنے مینجرز اور گارڈز کے ہمراہ شاہانہ انداز میں۔ گنگ شن اور انکی این جی او کے منتظم اعلی نے خود انکا استقبال کیا تھا اور پھول پیش کیئے تھے۔جسے انکے مینجر نے قبول کرکے فورا ہی ڈرائور کو گاڑی میں تھما دیئے تھے۔
شکریہ آپ کے تعاون کا۔
گنگ شن روایتی انداز میں جھک کر کہہ رہی تھی۔
جوابا انہوں نے بھی انکساری کا مظاہرہ کیا۔
میک اپ روم نمبر 5 خالی کردیا جائے۔ اور بریو ہارٹ کو قہوہ بھی پیش کیا جائے۔
اس نے مائک میں کہا۔
گنگ شن انکو اندر لا رہی تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر رہنمائی کی انکو لابی میں روم نمبر پانچ تک پہنچا کر جب انکے گارڈز دروازے پر رکے تو وہ بھی گنگشن کے ساتھ اندر جانے کی۔بجائے وہیں رک گئ۔۔۔اسکا کام یہیں تک تھا۔ اس نے فورا مائک نیچے کیا اور ائیر پیس کان سے نکال کر جیب میں رکھ
اسکے سرد سے انداز نے گارڈز کو بھی شائد متاثر کیا تھا۔۔
ایک نے جھک کر دوسرے کے کان میں سرگوشی کی
عجیب خشک سی لڑکی ہے۔بڑی سے بڑی تنظیم کے بھی ملازم ہوں بریو ہارٹ کے پرستار نہ بھی ہوں تو بھی کم از کم انکو دیکھ کر گرم جوشی کا مظاہرہ ضرور کرتے ہیں۔
کم از کم تصویر تو ضرور ہی۔بنواتے ہیں۔ یہ تولکی کے مسکرا کر دیکھنے پر جوابا مسکرائی تک نہیں۔
ہاں واقعی میں بھی یہی نوٹ کررہا تھا۔
دوسرے نے بھئ ہاں میں ہاں ملائی۔
ان دونوں کی آوازیں اسکے بھی کان میں پڑی تھیں۔
تمتماتے چہرے کے ساتھ فہمائشی مسکراہٹ سجائے گنگ شن انکے کمرے سے نکلیں۔ اسکو دیکھ کر اسکی جانب چلی آئیں۔
ارے میں پکار رہی تھی۔ ائیرپیس کہاں ہے تمہارا۔
انہوں نے پوچھا تو وہ جیب میں سے نکال کر دکھانے لگی۔
ارے ۔۔ یہ دیکھو یوسب کے ساتھ سیلفی لی ہے میں نے کتنی پیاری آئی ہے۔ وہ خوش سی تھیں موبائل سے تصویر نکال کر دکھائی۔ وہ مسکرا دی۔
مائک سے مستقل تمہیں بلا رہی تھی۔ تمہیں تصویر بنوا لیتیں بریو ہارٹ کے ساتھ اسکے بعد تو بہت مصروف ہو جائیں گے۔ موقع نہیں ملنا۔ چلو تمہاری تصویر بنوا دوں۔
وہ اسکا ہاتھ تھام کر مڑنے لگیں ۔ اس نے دھیرے سے ہاتھ چھڑا لیا
رہنے دیں انی۔ ضرورت نہیں۔ اور۔کوئی کام ہے تو بتا دیں۔
تم نے آج میرا آدھا کام نپٹا دیا اسکے لیئے میں تمہارا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔بس اب کچھ نہیں۔کانسرٹ سنو اور ہاں ڈنر ساتھ کرنا ہے ہمارے پورے دس بجے ہال نمبر 4 میں آجانا۔ یہ پاس رکھنا اپنے پاس
انہوں نے اپنے پرس سے ایک پاس نکال کر اسے دیا۔
جائو شاباش موسیقی کا لطف اٹھائو۔ وہ پیار سے اسکا گال چھو کر کہہ رہی تھیں۔ تبھی انکا موبائل بج اٹھا
ہاں ہیون۔۔۔ وہ کان سے لگا کر یکدم ہی لابی کی۔جانب بڑھ گئیں۔
انی وہ۔ وہ کچھ پوچھنا چاہ رہی۔تھی مگر موقع ہی نہ مل۔سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجنبی زبان مگر دلفریب دھن وہ مارے باندھے آئی تھی اور اس وقت بالکل مگن سن رہی تھی۔ اسٹیج کے بالکل دائیں جانب انتظامیہ کے زیر اہتمام پہلی رو میں لگی نشستیں ۔
وہ انکو بس ایک جانب سے دیکھ رہی تھی۔ تین طرفہ اسٹیج تھا مگر ساری ہلڑ بازی سامنے تھئ۔ وہاں سب نوجوان لڑکے لڑکیاں کھڑے تھے اچھل رہے تھے شور مچا رہے تھے۔سیٹیں اس تھوڑے سے قطعے سے پیچھے تھیں مگر اب لگتا تھا سب ہی سیٹوں پر بیٹھنے کو تیار نہیں۔ یہ بریو ہارٹ نہیں تھے۔ انکی باری ابھی نہیں آئی تھئ مگر لگتا تھا یہ بھی مشہور ہیں کافی۔ اوپن ائیر نہ ہونے کی وجہ سے وہاں ٹھنڈ بالکل نہیں تھی۔ منک کوٹ اتارنے کا وہ سوچ رہی تھی۔ پسینہ آنے سے جسم میں الگ چن چنئ سی مچ گئ تھی۔ کبھی بازو سہلاتی کبھی گردن۔ مگر اس سب کے باوجود اسے مزا آرہا تھا۔
گلو کار گاتے گاتے انکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر ہاتھ ملانے لگتے تو شور کان پھاڑنے لگتا۔۔۔۔
وہ بہت شوق سے انکی ہلڑ بازی دیکھ رہی تھی۔
انکی۔جانب سے انتظامیہ کے ارکان اور دیگر ملازمین اور ڈانسر گروپ اکٹھے ہی دوڑے چلے آئے۔ نشستوں کو۔نظر انداز کرکے سب اسٹیج کے قریب ہاہو کار میں مصروف ہو گئے۔۔ اسکو جو تھوڑی بہت ایک رخ کی شکل دیکھنے کو مل رہی تھی وہ بھی ختم۔ اسکو شدید خارش ہو رہی تھی پیٹ میں۔ چپکے سے سہلا کر بازو منک کوٹ کے اوپر سے ہی رگڑ دیا۔ اب سامنے بس پشتیں تھیں ناچتے لوگوں کی۔
اس نے بد مزہ سا ہو کر رخ پھیرا تو احساس ہوا ہیون اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
آئو ادھر چلیں۔
اس نے اسٹیج کے سامنے والی جانب اشارہ کیا۔ تو وہ اثبات میں سر ہلا کر اٹھ گئ۔ بےتحاشہ ہجوم میں بھی ہیون راستہ بناتا رہا۔ اسکا لمبا قد اسکی نشانی تھی۔ تبھی اسے دھکا سا لگا۔ سوری۔ مقابل کے کہنے سے پہلے زرا سا سر خم کرکے اس نے معزرت کر ڈالی مگر وہاں پروا کسے تھی۔ جھومتے چلاتے خوشی سے پاگل ہوتے لوگ۔ وہ سرجھٹک کر پرس سنبھالتی سیدھی ہوئی۔ اور ہیون لمحہ بھر میں نگاہوں سے اوجھل۔۔۔
اجنبی زبان اجنبی شکلیں۔ ایکدم سے اسکو لگا جیسے وہ بالکل تنہا سی رہ گئ ہے دنیا میں۔۔
تبھی دھماکا سا ہوا تھا۔۔ اور اسکا دل جیسے تھم سا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آننیانگ۔۔۔
اسٹیج کے قریب ہی دوسری جانب انتظامیہ کے مخصوص لباس میں ملبوس ہوپ نے اسے بھرے مجمعے میں بھی ایک نگاہ میں پہچان لیا تھا۔ جگہ بناتی وہ سیدھی اسکے پاس آئی۔
آننیانگ۔ وہ چونکا۔ مسکرایا۔ اور بس۔ مڑ کر جانے کیا اچک اچک کر دیکھنے لگا۔
ساری باتیں کہیں کھو گئیں۔ اسکے چہرے پر سایہ سا لہراگیا۔
آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔ جھٹکے سے مڑ کر واپس جانے لگی تو اسٹیج کے قریب لگے آرائشی قمقموں کے بکھرے تاروں سے الجھ کر لڑکھڑا گئ۔ گرنے سے بچتے بچتے بھئ وہ گھٹنے کے بل زمین پر آرہی۔
اسٹیج پر اور اسٹیج کے نیچے دنیا کے لوگ مگن تھے کسی نے غور بھی نہ کیا۔
کین چھنا؟
مانوس آواز۔ اس نے بےدردی سے آنکھیں رگڑلیں۔
دے۔ سہارے کیلئے بڑھے ہاتھ کو نظر انداز کرتے وہ خود ہی اپنے بل پر اسٹیج کا سہارا لیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
اسکے گھٹنے چھل سے گئے تھے۔۔۔ہیون نے اسکی ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھا تو نظر انداز نہ کر پایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسکا ہاتھ تھام کے اندر لے آیا۔ لابی میں لگے صوفے پر بٹھا کر خود اندر داخل ہو گیا۔
گھٹنوں سے خون بہت نہیں بہہ رہا تھا مگر کھال اتر جانے سے مرچیں سی لگ رہی تھیں۔اور یہ مرچیں اس تکلیف کے آگے کچھ نہ تھیں جو اسکی آنکھوں میں آنسو بھر رہی تھی۔
وہ اندر انتظامیہ سے پلاسٹر مانگ کر لایا تھا۔
اسکے سامنے اکڑوں بیٹھ کر اس نے خود اسکے گھٹنے پر پلاسٹر لگایا تھا۔ جانے کیوں اسکا دل خوش فہم سا ہو گیا تھا۔
پلاسٹر لگا کر وہ ایکدم سر اونچا کر کے اسکی نگاہوں میں دیکھ کر مسکرایا تو وہ گڑ بڑا سی گئ
بہادر لڑکی ہوتم اتنئ معمولی چوٹ پر ایسے روتے نہیں۔ یہ لو۔
جیب سے لالی پاپ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا تھا۔
اسکے لب استعجاب سے نیم وا سے ہوئے۔
لو نا۔ ہیون نے پھر کہا تو اس نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر تھام لیا۔ اس نے شائد بچپن میں بھی کبھی لالی پاپ نہ کھایا تھا۔ مگر اس وقت جانے کیوں اسکا دل کیا کھانے کا۔ فورا ریپر اتار کر منہ میں رکھ لیا
ہیون اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ وہ اسکی جانب دیکھنے سے دانستہ احتراز کر رہی تھی۔
اب درد تو نہیں ہو رہا۔چند ثانیئے بعد اسے پھر مانوس آواز سنائی دی تھئ۔
ریسیپشن پر رکھے ٹشو باکس سے کئی ٹشو نکال کر وہ لایا تھا۔ اب اسکی جانب بڑھاتے ہوئے نرمی سے پوچھ رہا تھا
گوماپسمنبدہ۔( شکریہ)
اس نے مسکرا کر تھاما۔۔
تھائینئے تم مسکرادیں۔ میراخیال ہے چوٹ لگنے پر بڑوں کو بھی لالی پاپ دے کر بہلایا جا سکتا ہے۔ شکر ہے جب نرس نے مجھے پلاسٹر کے ساتھ لالی پاپ دیا تو میں نے واپس نہیں کیا۔ وہ سمجھی تھی کہ کسی بچے کو چوٹ لگی ہے۔
وہ مخصوص نرم سےمگر سرسری سے انداز میں اسے بتا رہا تھا۔اسکے لالی پاپ کا ذائقہ ایکدم بدل کر تلخ ہونے لگا تھا۔
میں نونا کو بتا دیتا ہوں کہ تم آرام سے بیٹھو وہ کسی اور کو تمہاری ذمہ داری دے دیں گی۔۔
وہ اپنی طرف سے اسکو تسلی دے کر مصروف سے انداز میں کال ملانے لگا تھا۔
آننیانگ۔فون پر بات کرتے کرتے اس نے اخلاقا اسے سر کے اشارے سے خدا حافظ کہا اوراندر بڑھ گیا۔
ٹشو ہاتھ میں ہی تھے۔ اب آنکھوں پر بند باندھنے کی وجہ نہیں رہی تھی سو اس نے اس سیلاب کو بہہ جانے دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹیج کے قریب آرائشی غبارے پھاڑتے ہوئے بریو ہارٹس کے ارکان کا استقبال کیا گیا تھا۔
شور چیخیں بے ہنگم موسیقی اچھلتے کودتے لوگ۔
اسکا ایکدم دم سا گھٹنے لگا تھا۔ ایک اور زور دار پٹاخہ چھوٹا تھا اور گھپ اندھیرا سا چھایا تھا اسکی آنکھوں کے سامنے۔
آگ خون اندھیرا گنگ سی بچی۔۔۔۔۔ وہ ایکدم سے بارہ سال قبل پہنچ چکی تھئ۔ ڈوبتے دل کے ساتھ اسکے قدموں نے اسکا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا۔ وہ اکڑوں بیٹھتی چلی گئ نا سمجھ میں آنے والا شور بلند ہوا تھا اسے دھکا لگا تھا وہ توازن برقرار نہ رکھ پائی تھی۔ کسی کے قدموں تلے اسکا ہاتھ آیا تھا۔ ایک سسکاری سی اسکے منہ سے نکلی۔
بند ہوتی آنکھوں کے سامنے اسکا بھائی تھا ملگجے اندھیرے میں مسکراتا آگے بڑھتا اور پھر سب دھواں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی دوبارہ کانسرٹ کی جانب آیا تب ہی بریو ہارٹ اسٹیج پر آنے لگے تھے۔ ایکدم ہی رونق دس گنا بڑھی تھی۔ اسکو انتظامیہ نے دروازہ استعمال کرنے سے روکنا چاہا تھا مگر وہ انکو پاس دکھاتا اندر آگیا تھا۔رش دگنا ہو چکا تھا مشکل وہ راستہ بناتا اسٹیج کے قریب جانے لگا۔۔ ایکدم سے اسٹیج کی آرائشی بتی پھٹ گئ تھی۔ شیشے سے اڑ کر آگے کھڑے لوگوں پر آئے تھے۔ لمحہ بھر کو سب گھبرا کر پیچھے ہوئے۔ کچھ گرے کچھ بچے۔ چیخیں شور۔۔۔۔
آگاشئ۔۔
دو تین لڑکیاں تھیں جو چیخ چیخ کر پکار رہی۔تھیں۔ اسکا دل جانے کیوں زور سے دھڑک اٹھا تھاوہ تیزی سے اس جانب بڑھا۔ انتظامیہ کے چند رضا کار سب کو تحمل سے کام لینے کو کہہ رہے تھے۔
اس نے لوگوں کو ہٹا کر جب قریب جا کر دیکھا تو لمبا پھیلا بازو جسکی آستین گلابی منک کوٹ۔
وہ بے تابی سے آگے بڑھا۔۔ وہ اریزہ ہی تھی۔ مکمل بے ہوش منہ کے بل زمین پر گری ہوئی۔ وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اونچائی ذیادہ تو نہیں تھی مگر وہ بھد سے گری تھی۔ گھٹنے سخت زمین پر لگے تھے۔ پائوں مڑ گیا تھا۔ زمین پر۔ خشک گھاس اور سخت زمین۔ اسکی آنکھوں میں آنسو بھر گئے۔ اندر جاتے غیر معمولی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا تو تیزی سے بھاگتا اسکے قریب آیا تھا۔ وہ فورا اٹھ کر کھڑی بھی ہو گئ۔
چوٹ تو نہیں لگی؟
کسی نے اسے شانوں سے تھاما۔
مانوس آواز اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔
پریشان سا گھبرایا ہوا مانوس چہرہ۔
ساری بہادری ہوا ہوگئ۔ موٹے موٹے آنسو گالوں پر پھسل آئے۔ وہ بری طرح رودی ۔
ارے کہاں چوٹ لگئ ہے دکھائو۔
اس نے گھٹنوں پر سے فراک ہٹائی دونوں گھٹنے چھل گئے تھے پیر بھی مڑ گیا تھا۔ وہ اور زو رسے رو پڑی۔
بہادر بچے روتے نہیں۔
اسکے آنسو صاف کرتے حماد بھائئ اسے بہلا بھی رہے تھے۔
یہ جیسے ٹانک تھا حماد بھائئ کا۔ وہ فورا سسکیاں دبانے لگی
میں رو تو نہیں رہی۔
آٹھ سالہ اریزہ منہ بسورتے کہہ تو رہی تھی مگر آنسو پھسلے چلے آرہے تھے۔ اس نے گود میں اٹھا کر اسے ل
لان کی کرسی پر لا بٹھایا اندر سےروئی پائوڈین لاکر زخم صاف کیا پلاسٹر لگایا ۔
وہ بہادری سے آنسو ضبط کیئے رہی۔
کیوں چڑھی تھیں درخت پر؟ بلی۔
اب ڈانٹنے کی باری تھی مگر چوٹ کے پیش نظر نرمی سے پوچھا گیا۔
وہ طوطا تھا ۔ اسے پکڑ کر پالنا تھا۔ سنتھیا نے کہا تھا۔
اس نے اشارہ کرکے بتایا۔ انکےلان میں امرود کا درخت تھا۔ ہزار بار منع کرنے کے باوجود بھی دونوں بچیاں اس پر چڑھنے کی کوشش کرتی پائی جاتی تھیں۔
سنتھیا کہاں ہے؟
حماد نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔
سنتھیا پچھلے صحن کی طرف جاتی راہداری میں سے گرد ن نکال کر۔جھانک رہی تھی۔
وہ آپ سے ڈر کر چھپ گئ۔ اریزہ نے بتایا تو وہ اسکو دیکھ کر رہ گیا۔
ادھر آئو۔
اسکے رعب سے بلانے پر وہ ڈرتی ڈرتی آئی۔
دیکھا نا درخت سے گرنے کتنی چوٹ آتی ہے۔اسلیئے سب بڑے منع کرتے ہیں درخت پر چڑھنے سے۔ مگر تم دونوں بات نہیں سنتی ہو۔
حماد بھائی کا رعب ہی بہت تھا۔ اس نے سر مزید جھکا لیا۔
آئیندہ درخت پر چڑھیں تو دونوں کی پٹائی کروں گا۔
اسکے کہنے پر اریزہ جو ہونٹ بھینچے مسکراہٹ ضبط کر رہی تھی ایکدم زور سے ہنس دی۔ سنتھیا اور حماد نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔
تم کیوں ہنس رہی ہو۔
آپ کبھی نہیں پٹائی کرتے۔ آپ تو اتنا پیار کرتے ہیں امی سے بھی بچاتے ہیں مجھے۔آپ کبھی پٹائی نہیں کرسکتے۔
اس نے یقین سے سر ہلایا۔
اسکی بات پر حماد کو ہنسی آگئ تھی۔ اسے ہنستے دیکھ کر سنتھیا کو بھی شہہ ملی۔
حماد بھائئ طوطا پکڑ دیں وہ ادھر بیٹھا ہوا ہے۔
سنتھیا کے کہنے پر اریزہ بھی اٹھ کر اسکی ٹانگوں سےلپٹ کر ضد کرنے لگی۔
ارے خوامخواہ۔ حماد نے ڈانٹنا چاہا۔
پلیز پلیز۔ اتنا پیارا طوطا ہے۔
دونوں ضد کرنے لگیں۔۔
دونوں کا ہاتھ تھام کر انہیں قریبی مارکیٹ لایا تھا۔
طوطا اتنا پیارا پرندہ ہے اڑتا پھرتا ہے اپنی مرضی سے کھاتا ہے پیتا ہے اسے پنجرے میں قید تھوڑی کرنا چاہیئے۔
دونوں کو آئیسکریم تھمانے تک وہ سمجھاتا رہا تھا۔ دونوں نے آئسکریم تھام کر ضد چھوڑ دی تھی۔ مزے لیکر آئیسکریم کھاتے اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو حماد بھائی اسے دور جاتے دکھائی دییے۔
کہاں جا رہے ہیں حماد بھائی۔ وہ بے چینی سے بولی
مجھے کیا پتہ۔ سنتھیا کا دھیان آئسکریم کی جانب تھا۔
حماد بھائی۔ وہ بے تابی سے پکارتی انکے پیچھے بھاگی۔
جانے وہ تیزی سے کیوں چلے جا رہے تھے۔
حماد بھائی۔ اس نے پوری طاقت لگا کر آواز دی ۔۔
ایک دوسری تیسری اسکی پکار جیسے ان تک پہنچی ہی نہیں۔ اسکی آئسکریم چھوٹ چکی تھی انکے پیچھے بھاگتے بھاگتے انکے دور چلے جانے کے احساس نے اسکو جیسے توڑ دیا وہ بسورنے لگی ۔
حماد بھائی رک جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نامانوس سا احساس۔ سرمیں شدید درد کی لہر اٹھی۔ اس نے کراہ کر آنکھیں کھولی تھیں۔ تیز چمکتی روشنی نے نگاہیں چندھیا دیں۔ اس نے فورا آنکھیں دوبارہ بند کر لیں۔ گنگ شن کھڑی ملازم کو ہدایتیں دے رہی تھیں جب اس پر نگاہ پڑی تو بات ادھوری چھوڑ کر اسکے پاس چلی آئیں۔
اریزہ شا۔ نونا اسکا دھیرے دھیرے گال سہلا رہی تھیں۔۔
اسکے حواس بحال ہونا شروع ہوئے۔۔
کین چھنا۔۔ ؟؟؟ وہ پیار سے اسے جگاتے ہوئے پوچھ رہی تھیں
نونا انگریزی میں پوچھیں اسے سمجھ نہیں آئی ہوگی بات۔
ہیون کی آواز تھی یہ۔ اس نے پہچان لی تھی۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو انی نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بیٹھنے میں مدد کی۔
اوہ ہاں۔ آر یو اوکے اریزہ؟
جی۔۔ اس کے منہ سے بلا ارادہ نکلا تھا۔۔۔
انی مسکرا دیں۔
سویٹ جی۔ تھینک گاڈ یو آر اوکے۔ میں پریشان ہو گئ تھی۔
انہوں نے اسکے بال سنوارے۔ اسکے حواس قابو میں آرہے تھے اس نے طائرانہ نگاہ ڈالی تو احساس ہوا وہ اس وقت کسی ہال نما کمرے میں ہے لمبے صوفے پر اسے لٹایا گیا تھا۔ انی دو تین سوٹڈ بوٹڈ این جی او کے ملازم اور ایک سفید اوور آل پہنے اسٹیتھسکوپ گلے میں لٹکائے کھڑا ڈاکٹر جو یقینا اسکے انتظار میں ہی تھا۔ اسے دیکھ کر مطمئن سا ہو کر انی سے ہنگل میں پوچھنے لگا۔
ہیون۔۔ اس نے گردن موڑ کر ڈھونڈنا چاہا وہ اسکے سرہانے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اریزہ ڈاکٹر صاحب پوچھ رہے ہیں تم اپنا ہاتھ ہلا کر دیکھو انگلیاں بھی۔۔۔۔
اس نے میکا نکی انداز میں ہدایات پر عمل کیا۔
ہلکی سی سسکی سی نکلی تھی۔ اسکی انگلیاں بری طرح چھل گئ تھیں ان پر پائوڈین اور کوئی سفید سی دوا لگائی تھی۔ مگر یقینا انگلیاں فریکچر ہونے سے بچ گئی تھیں۔
تم پہلے بھی بے ہوش ہوتی رہی ہو کبھی؟
سوال نے اسکو گڑبڑا سا دیا تھا۔
ایک دو دفعہ۔ اس نے جھوٹ بولا تھا یہ اسکی شکل پر لکھا تھا۔
ابھی تمہارا بی پی چیک کرنا ہوگا۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔
کہیں بہت ذیادہ درد تو نہیں ہو رہا۔
پہلے ڈاکٹر کچھ بولتا پھر گنگ شن دہراتیں۔ اسکا مکمل چیک اپ کرکے نجانے کیا کیا پوچھ کر مطمئن ہو کر ٹلا تھا ڈاکٹر۔
اس طرح بے ہوش ہونا صحیح بات نہیں احتیاطا مکمل چیک اپ کرانا چاہیئے۔ انکے بازو میں بھی سرخ الرجی سی ہے اسکا بھی اثر ہو سکتاہے۔
ڈاکٹر ہدایتیں دیتا چلا گیا۔
گنگ شن نے جھک جھک کر شکریہ ادا کرتے ہوئے رخصت کیا۔ پھر اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔
کیا لڑکی پریشان کرکے رکھ دیا۔ اتنا کور ہو کر آنے کی کیا ضرورت تھی اتنئ سردی تو نہیں تھی۔ ہائی نیک انر اوپر سے منک کوٹ پسینے پسینے ہو رہی تھیں تم جبھی بی پی بھی لو ہوگیا ہوگا تمہارا۔
انی بےتکلفی سے اسکے برابر آکر بیٹھیں تو وہ چونک سی گئ۔ اسکا منک کوٹ اتارا جا چکا تھا بلکہ ٹی شرٹ بھی موٹی ہائی نیک کی آستینیں بھی اوپر تک چڑھائی ہوئی تھیں۔
ڈاکٹر تو کہہ رہا تھا کہ ہائی نیک بھی اتاریں اسکا دم گھٹ رہا ہوگا۔مگر ہیون نے سختی سے منع کیا کہ تم برا مان جائو گی اٹھ کر۔ حالانکہ اس وقت تمہاری جو حالت تھی ہم سب گھبرا گئے تھے۔
انی کے کہنے پر اس نے سر مزید جھکا لیا تھا۔
اور یہ الرجی کیسے ہوئی تمہیں۔ پوری گردن سرخ ہو رہی ہے تمہاری اور بازو بھی۔
وہ تشویش بھرے انداز میں اسکے بازوکو چھو کر دیکھ رہی تھیں۔
میری ایک دوست بہت اچھی ڈرما ٹالوجسٹ ہے میں اس سے اپائنٹمنٹ لے دیتی ہوں تم چیک اپ کروا لو۔ اس طرح کی الرجیز کو ہلکا نہیں لینا چاہیئے۔
وہ بالکل بڑی بہنوں کی طرح اسکی فکر کر رہی تھیں۔ اسکی آنکھیں بھرنے لگی تھیں۔
یہ پی لو۔
ہیون نے انرجی ڈرنک اسکی جانب بڑھایا۔
اس نے بلا تامل تھام کر پینا شروع کردیا۔ حلق ایکدم خشک سا ہو رہا تھا۔۔۔۔
چند گھونٹ پی کر کچھ توانائی بحال ہوتی محسوس ہوئی۔
انی ہم گھر جاتے ہیں آپ اپنا انتظام دیکھ لیں۔
وہ یقینا کافی مصروف ہونگی اریزہ کو ہیون کے کہنے پر شرمندگی سی ہوئی۔
نہیں بس سب ہوگیا۔ آج ہوپ نے بہت مدد کرائی میری ۔اب بس ایک چکر لگائوں گی ڈائننگ ہال کا سب مہمان کھانا تو کھا۔۔
کہتے کہتے خیال آیا تو چونکیں
ارے تم لوگوں نے کھانا تو کھایا نہیں ہوگا۔میں یہاں بھجواتی ہوں۔
نہیں انی آپ رہنے دیں۔ اریزہ ویسے بھی یہاں کا کھانا نہیں کھائے گی۔
ہیون نےسہولت سے منع کیا۔ دونوں کیا باتیں کر رہے تھے سمجھ تو نہیں آیا اسے مگر اپنے نام پر وہ سر اٹھا کر انہیں دیکھنے لگی تھی۔
انی وہ بریو ہارٹ۔ وہ انکو مجھے کچھ دینا تھا
اسے یاد آیا تو ادھر ادھر متلا شی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
وہ تو چلے بھی گئے۔ انکے پاس وقت کم تھا ۔ تم بے ہوش رہی ہو۔تو وقت کا اندازہ نہیں ہوا تمہیں۔
ہیونگ سک نے کہا تو وہ مایوس سی ہوگئ۔
کوئی بات نہیں اگلی دفعہ سہی۔ پکا تمہاری سیلفی بنوائوں گی انکے ساتھ۔ وہ تو ہماری این جی او کیلئے بہت فنڈز دیتے ہیں۔ان سے ہمارے کئی کانسرٹس کا کانٹریکٹ ہے۔ تم دل چھوٹا مت کرو پھر ملوادوں گی تمہیں۔
انی یہی سمجھیں کہ وہ پرستار ہے انکی۔ جبھی باقائدہ کندھا تھپتھپا کر تسلی دینے لگیں۔
اسے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔ شدید ترین۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی رہائشی عمارت کے باہر روکتے ہوئے اس نے گردن موڑ کر اریزہ کو دیکھا ستے ہوئے چہرے کے ساتھ سرنگاہیں جھکائے وہ اتنی گہری سوچ میں تھی کہ منزل پر پہنچ جانے پر بھی نہ چونکی۔
اریزہ شا۔ کچھ کھا لیتیں طبیعت بہتر ہو جاتی۔
اس نے نرمئ سے پھر ٹوکا تو وہ چونک اٹھی۔
سامنے نگاہ پڑی تو جلدی سے اپنی جانب کا دروازہ کھول کر اتر گئ۔
اسکی پھرتی پرہیون دیکھتا ہی رہ گیا۔
گاڑی سے اتر کر ایکدم سے سرد ہوا سر پر لگی تھی۔مگر وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی۔
چند لمحے اسے دیکھ کر وہ بھی اپنی جانب کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا تھا۔
تیز تیز قدم اٹھا کر اسکے برابر ہوا۔
مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی۔کل
اسکے اچانک پاس سے آواز ابھری تو وہ اچھل سی پڑی۔ چونک کر سر اٹھایا تو ہیون جو اسے ہی دیکھ رہا تھاایکدم چپ سا رہ گیا۔
اسکی آنکھوں سے تواتر سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ بے آواز رو رہی تھی زاروقطار۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوم کشمیر کی تقریب تھی اسکول میں۔ علامتی خون آلود سفید لباس پہنے اسٹیج پر کچھ بچے نظم پڑھ رہے تھے۔ کچھ لاشیں بنے پڑے تھے۔
میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایکدن۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک بچی کشمیری لباس پہنے لاشوں کے اوپر بین کرنے کی اداکاری کر رہی تھی۔
منظر دیکھتے ہی دیکھتے بدلا تھا اندھیرے میں ڈوبا تھا خون چیخیں ایمبولنس کے سائرن۔۔
اور پہلی رو میں بیٹھی دسویں جماعت کی طالبہ بے ہوش ہو کر لڑھک گئ تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب لڑکیاں کالج کے زیر تعمیر ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھی موبائل پر کال ملا ئے تھیں۔ بوائے فرینڈ ایک کا تھا کن سوئیاں لینے پانچ اس پر جھکی تھیں۔ہنستی کھیلتی مسکراہٹ دباتی سرگوشیاں کرتی لڑکیاں۔۔
جلدی بات کرو۔۔ کوئی آنہ جائے ۔۔۔ ایک کو تشویش ہوئی
آج جمعہ ہے آج تو مزدوروں کی بھی چھٹی ہے کون آئے گا یہاں۔
دوسری نے تسلی دی۔
تبھی زور دار آواز کیساتھ کوئی بلاک گرا تھا۔۔۔
ہلکی ہلکی سی چیخیں ابھریں۔ سب چونکی سنبھلیں ۔بس ایک طالبہ بے آواز بے ہوش ہو کر پڑی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں قریبی کنوینیئس اسٹور پر چلے آئے تھے۔ اسکو بھوک بھی لگ رہی تھی۔ خود تو وہ ریمن لے کر آیا تھا اریزہ کیلئے سینڈوچ لیکر آیا تھا۔ شدید بھوک میں یہ بھی نعمت سے کم نہیں تھا۔سینڈوچ کے ساتھ گرم گرم کافی نے نا صرف گرمائش دی تھی بلکہ تازم دم بھی کر دیا تھا۔
اس نے کھا پی کے منہ صاف کیا۔ تو ہیون جو اسے ہی دیکھ رہا تھا اسے دیکھ کر مسکرا دی۔
یہ بتائو روئی کیوں تھیں۔۔۔
اس نے فورا سوال کیا تھا۔ وہ بہانہ سوچنے لگی تو اس نے ٹوک دیا
سوچنے کی ضرورت نہیں کوئی بہانہ سچ بتائو یا کہہ دو میں بتانا نہیں چاہتی۔
اسکے دو ٹوک کہنے پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔
مجھے اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا۔ میں اتنی کمزور کیوں ہوں۔ اس بات پر۔ دنیا کی لڑکیاں کیا کیا نہیں کرتیں مائونٹ ایورسٹ سر کر لیتی ہیں اور میں۔
وہ زرا سا استہزائیہ انداز میں ہنسی۔
زرا سا ۔۔۔ وہ رکی۔ ہیون نے چند لمحہ انتظار کیا مگر وہ خاموش ہی رہی۔
تم روئئ کیوں ہو ؟ درد ہو رہا ہے ہاتھ میں؟
ہیون کے پوچھنے پر وہ نفی میں سر ہلا گئ۔
اسکے دائیں ہاتھ کی تینوں انگلیوں پر بینڈج ٹیپ لگی تھی۔ شائد خراشیں گہری تھیں۔
بے ہوش ہونے پر۔
اس نے کہہ دیا۔
ہیون نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگا۔
بے ہوش تم یقینا پہلی دفعہ نہیں ہوئیں۔ کم از کم میرے سامنے دوسری دفعہ ہوئی ہو۔۔۔ مجھے لگا تھا تمہارا بی پی لو ہوا ہے۔ مگراس وقت تم اصل میں تم اندھیرے کی وجہ سے گھبرائی تھیں۔ اس بار میں سمجھ نہیں پایا۔ اتنا اندھیرا نہیں تھا وہاں۔ تو یا شائد شور وغل یا گھٹن۔۔اور حماد کون ہے؟ تم بے ہوشی میں کسی کو۔پکار رہی تھیں۔
اسکے دعوے سے کہنے پر وہ ایکدم چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حماد میرے بھائی کا نام ہے۔
پیدل اسکے ساتھ قدم اٹھاتے وہ اسے بتا رہی تھی۔
مجھے اتنا دردناک حادثہ دیکھنے کی وجہ سے ایک خوف لاحق رہتا ہے۔ میں اندھیرے میں بالکل نہیں رہ پاتی۔ کوئی اچانک پٹاخہ بھی پھوٹ جائے تو میں اس رات اس منظر میں پہنچ جاتی ہوں۔۔ مجھے اپنا بھائی کبھی کبھی اتنا یاد آتا ہے کہ خوابوں میں دیکھتئ ہوں اسے۔ ہنستے کھیلتے باتیں کرتے۔ بچپن کی یادیں۔ اور پھر اچانک سب غائب ہوجاتا ہے۔
اسکی آواز بھرا گئ تھئ۔ وہ بے ربط بول رہی تھی ۔ ہیون بالکل خاموشی سے سن رہا تھا۔
ایسے کسی خواب سے جاگ کر میں گھنٹوں روتی ہوں۔
میری ذر اسی چوٹ پر تڑپ جانے والا بھائی نظر نہیں آتا مجھے۔میرا دل کرتا ہے۔
آنسوئوں کا گولا سا گلے میں اٹک گیا۔ وہ خاموش ہو گئ۔ اسکے ہمراہ وہ بھی خاموشی سے قدم بڑھاتا رہا ۔ کمپائونڈ میں آنے تک وہ خود پر قابو پاچکی تھی۔
تم اب گھر جائو میں چلی جائوں گی۔
اس نے قصدا مسکرا کر کہا۔
ہیون خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھتا رہا۔
آج میں نے کافی پریشان کیا ہے بیان۔ اور شکریہ ہر چیز ہر بات کیلئے شکریہ۔ گڈ نائٹ۔
ہیون چند لمحے اسے یونہی گھورتا رہا پھر بنا کچھ کہے پلٹ گیا۔ اریزہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سوچا۔
وہ خواب تھا کہ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پے در پے فون کالز آرہی تھیں ایڈون کے موبائل میں۔ ایڈون بالکل بے سدھ ہو چکا تھا۔ اسکو کندھے پر لاد کر بمشکل کمرے تک لاتے اسکی کمر ٹوٹنے کی نوبت آگئ تھی۔ شکرہے کمرہ شروع ہی میں تھا۔لاک کھول کر اسے اسکے بیڈ پر لٹا کر وہ کمر سیدھی ہی کر رہا تھا۔جب ڈرائور آکھڑا ہوا دروازے پر۔اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا
یہ آپکا گاڑی میں رہ گیا تھا۔
وہ اسکا والٹ تھامے تھا۔
کم سن اسے شکر گزار نظروں سے دیکھ کر رہ۔گیا۔ پیمنٹ کرتے شائد اس نے سیٹ پر ہی گرادیا تھا۔
فون بجے جا رہا تھا۔
کم سن نے اسکی جیکٹ ٹٹول کر فون نکالا ۔
اٹھا لیں کیا پتہ کوئی اہم کال ہو۔
ڈرائور نے کہا تو وہ شش و پنج میں پڑ گیا۔
انگریزی میں نام جگمگا تو رہا تھا
اٹھا تو لوں مگر مجھے سمجھ کیا آئے گی کیا کہا ہے؟
کم سن کی بات میں دم تھا۔
لائیں میں بات سنتا ہوں۔ ڈرائور نے فون ہاتھ سے لے لیا۔
ہیلو۔
اسکے ہیلو کہنے پر دوسری جانب سے لگاتار کچھ کہا گیا تھا۔
دیکھیں یہ جن کا فون ہے وہ اس وقت ہوش میں نہیں ہیں۔
جی۔ نہیں بس انہوں نے پی ذیادہ لی ہے۔ جی۔ کون ؟ کیا ؟ سنتھیا؟ اچھا اسی ڈورم میں ہے؟ اچھا ہم دیکھ لیتے ہیں۔ ٹھیک ہے ہم پولیس کو اطلاع دے دیتے ہیں۔جی بھگوان پر۔بھروسہ رکھیں جی جی۔ ٹھیک ہے۔ آپ یہاں اگر کوئی اور آپکے جاننے والے ہیں انکو بھی اطلاع دے دیں۔ جی۔ ہیلو۔ ہیلو۔
فون بند ہونے تک ڈرائیور ٹھیک ٹھاک پریشان لگنے لگا تھا۔
نام ادھوری بات۔۔۔۔ کم سن نے بے تابی سے سوال کیا
کیا ہوا؟
کوئی سنتھیا ہے انکی ماتا جی تھیں کہہ رہی تھیں اسی گوشی وون میں ہیں۔ وہ بھی انہوں نے خود کشی کر لی ہے۔۔۔۔
اسکا جملہ پورا ہونے تک کم سن بجلی کی سی تیزی سے اسے ایک طرف کرتا کمرے سے نکلا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔
Kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ?
-
Salam Korea Episode 31
salam korea
by vaiza zaidi
salam korea episode 31 قسط 31
ایڈون اسکے ساتھ اتنی خاموشی سے قدم بڑھا رہا تھا کہ اسکا دل ڈوبنےلگا تھا۔ وہ یقینا اس وقت غصے میں تھا۔ اور غصہ آنے والی بات بھی تھی۔ مگر اسے بھروسہ تھا خود پر کہ وہ منا لے گی۔ یقینا وہ اسکو سمجھ جائے گا اسکی کیفیت اسکے احساسات سب سمجھ لے گا۔ وہ خفا ہوگا تو وہ اپنی انا پس پشت ڈال کر اسے ہر قیمت پر منا لے۔ سب سن لے گی خاموشی سے بنا برا مانے۔ وہ جو کہے گا جو کرے گا سب سر جھکا کر مانتی جائے گی ۔ رات بھر وہ بس یہی سب سوچتی رہی تھی۔ ایڈون واپس نہیں آیا تھا۔ وہ کتنی دیر انتظار کرتی رہی۔ رات میں کئی بار آنکھ کھلی۔ اس نے اٹھ کر بستر سے اتر کر دیکھا کمرہ بالکل خالی تھا۔جانے کب تک یونہی ٹہلتی رہی ۔ کھانا ٹھنڈا کھالیا۔ صبح کہیں جا کر آنکھ کھلی تو ایڈون کو سامنے صوفے پر محو انتظار پایا تھا۔ اسکی آنکھ کھلتے دیکھ کر وہ فقط اتنا بولا تھا
تیار ہو جائو گھر چلیں۔۔
اور وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گئ۔ گوشی وون میں آکر جیسے ہی وہ بیڈ پر بیٹھی وہ فورا دروازہ بند کرکے چلا گیا تھا۔
وہ جو اسے پکارنا چاہ رہی تھی ایکدم چپ سی رہ گئ۔
اسے بھوک لگ رہی تھی۔ وقت بے وقت بہت ذیادہ بھوک لگنا شروع ہوچکی تھی۔ اس وقت بھی اسے لگ رہا تھا کہ آنتیں باہر آجائیں گی۔
اس نے بے تابی سے سائیڈ کارنر پر رکھے شاپر کو کھنگالا بمشکل ایک آدھا سیںڈوچ ملا اور سیب۔ اسے خبر ہوتی تو کل کی چیزوں میں سے کچھ بچا لیتی۔
اس نے جلدی جلدی وہ سب کھا لیا سیب کا آخری لقمہ لے رہی تھی جب دروازہ کھول کر ایڈون اندر داخل ہوا۔ اسے یوں تیزی سے کھاتے دیکھ کر لمحہ بھر کو ٹھٹک ہی گیا ۔ وہ ایک بڑا سا کھانے پینے کی چیزوں سے بھرا شاپر تھامے تھا۔
میں یہ کھانا لینے گیا تھا۔ اور کچھ کھانا ہے؟
اس نے شاپر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلا گئ۔ اس نے خود ہی شاپر کارنس پر ٹکا دیا۔
بلیک اور گرے اپرمیں ملبوس وہ کافی تھکا تھکا دکھائی دے رہا تھا۔دونوں ہاتھ اپر کی جیبوں میں ڈالتے ہوئے وہ گہری سانس لیکر اسکی جانب مڑا۔ وہ جو بے دھیانی میں اسے تکے جا رہی تھی گڑبڑا کر رخ پھیر گئ۔۔ ایڈون چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھرجیسے الفاظ ترتیب دے کر نہایت خشک اور روکھے انداز میں بولا
مجھے تم سے بات کرنی ہے۔ سنجیدگی سے بنا جزباتی پن دکھائے اگر تم سننے کو تیار ہو تب ہم بات کریں گے اب مجھے بتائو کب بات کرنا مناسب رہے گا تمہارے لیئے۔ ؟
اسکے انداز نے حقیقتا اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹیں دوڑا دی تھیں۔وہ سر اٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔ دل جیسے سکڑ کر واپس پھیلا تھا۔
اسکی ہراساں سی شکل دیکھ کر بھی اسکے انداز میں کوئی نرمی نہ آسکی تھی۔ وہ سب مروتیں رخصت کر چکا تھا۔
شام کو بات کر لیتے ہیں۔ وہ کہہ کر جانے لگا تو سنتھیا بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی۔
نن۔ نہیں۔کہو جو کہنا ہے۔ میں تمہاری ہر بات سننے کو تیار ہوں۔مجھے اندازہ ہے تم بہت خفا ہو۔ ہونا بھی چاہیئے۔ میں خود کو تمہاری جگہ رکھ کر دیکھوں تو تم غلط بھئ نہیں لگتے۔ کہو جو کہنا تم نے ۔ میں چپ ہو کر سنوں گی۔
سنتھیا کا انداز بولتے ہوئے ملتجیانہ سا ہوگیا تھا۔ ایڈون نے غور سے اسکی شکل دیکھی۔ اسکی رنگت کافی مدہم پڑ گئ تھی وہ بیمار ہی لگ رہی تھی۔ چہرہ غیر معمولی سرخ تھا اور انداز پشیمانئ بھرا تھا۔ وہ قابل ترس لگ رہی تھی۔ اسے لیکن کوئی نرم جزبات اسکی شکل دیکھ کر دل میں ابھرتے نہ محسوس ہوئے۔
واقعی؟ اس نے جیسے تصدیق چاہی۔ سنتھیا سر جھکا گئ
واقعی تم خود کو۔میری جگہ رکھ کر سوچ سکتی ہو؟ کوئی اندازہ ہے تم نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ کتنا بڑا دھوکا دیا ہے تم نے مجھے؟
وہ آواز دباتے دباتے بھی جیسے غرایا تھا۔ سنتھیا کے قدموں سے جان نکلنے سی لگی وہ دھپ سے بیڈ پر بیٹھ گئ۔
سنتھیا خدا جانتا ہے میں نے اپنی غلطی مانی۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔
ایڈون جیسے پھٹ پڑا۔
سنتھیا مزید سرجھکا گئ۔۔۔
جو ہوا اس میں اپنی زمہ داری سے جان نہیں چھڑائی۔ تمہارا ساتھ دینا چاہا۔ یہ سمجھا کہ جوکچھ بھئ ہوا ہے اس میں میری بھی اتنی ہی غلطی ہے۔ جبھئ تمہیں اکیلا نہیں چھوڑا۔ تمہیں سمجھایا منایا تم پر زبردستی اپنا فیصلہ نہیں تھوپا۔ اتنے دنوں سے دن رات دیکھے بنا گدھے کی طرح کام کیا پیسہ پیسہ جوڑا اپنے والدین سے مجبوریوں کے رونے رو کر پیسے منگوائے تمہارے والدین کے بھیجے پیسے دانتوں سے پکڑے صرف اسلیئے کہ جو غلطی ہو گئ ہے اسکو سدھار دوں۔ اور تم نے میرے ساتھ کیا کیا؟
وہ چلا اٹھا۔ سنتھیا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
میں سمجھ۔۔ سکتئ۔۔
اس نے کہنا چاہا مگر ایڈون اسکی بات کاٹ کر چلایا۔
تم سمجھ ہی تو نہیں سکتی ہو کچھ بھی۔ کوئی اندازہ تک نہیں ہے تمہیں احساس تک نہیں ہے میرا میرے مستقبل کا میری ان تمام ریاضتوں کا۔ تم نے سب برباد کردیا ہے۔ تم نے مجھے برباد کردیا ہے۔
اسکی بات پر وہ شدتوں سے روپڑی۔ ہچکیاں لیتے بمشکل اپنی صفائی دینی چاہی
میں نے دیکھا تھا۔ مانیٹر پر۔ وہ کچھ تو ہے ۔ وہ۔ جو ہے وہ اب ہے ۔ اسکو محسوس کرتی ہوں میں۔ وہ ہے ۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو بھی ایڈون کا غصہ کم نہ کرسکے۔ ہنوز اسئ انداز میں چلا اٹھا۔
ہاں اسے محسوس کرتئ ہو جو ابھی دنیا میں آیا نہیں اور میں جو جیتا جاگتا کھڑا ہوں میرا کوئی خیال کوئی احساس ہے تمہیں۔
گن پوائنٹ پر نہیں لیکر گیا تھا اس اسپتال تمہیں۔۔ اپنے ایمان سے بتائو کوئئ کمی آنے دی تمہیں؟ کھانے پینے ہر چیز کا خیال رکھا بہترین کلینک کا انتظام کیا سب جمع پونجی جمع کروائی تھی ۔او رتم ۔۔۔
وہ تلملا کر پیشانی مسلنے لگا۔۔۔ سنتھیا یونہی روئے جارہی تھئ۔ کتنے لمحے یونہی انکے بیچ دبے پائوں گزرتے گئے۔
اپنی غلطی سمجھ کر اپنی ذمہ داری سمجھ کر مجھے جو حل نظر آیا وہ میں نے حل نکالنا چاہا تھا۔ مگر تم نے سب برباد کر دیا۔
وہ خود پر قابو پا کر متوازن مگر بے رحم لہجے میں مخاطب ہوا تھا۔ سنتھیا کی سانس رک سی گئ۔
تم نے مجھے اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ میں تمہاری نظر میں کیا ہوں میری بات کی کتنی اہمیت ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہم دونوں مزید اس رشتے کو نبھا سکتے ہیں۔ تم نے مجھ میں اور اس بچے میں اس بچے کو منتخب کیا ہے
وہ سفاک سے انداز میں بولا۔ سنتھیا رونا بھول کر سراٹھا کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
اب تم جانو اور یہ بچہ۔
اس نے چبا چبا کر کہا تھا۔
میں اس کی ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ تمہیں ماں بننے کا شوق ہے ماں بن کر پالو اب اسے۔ مجھ سے اب اسکا کوئی تعلق نہیں۔ اب تم فیصلہ کرو کیا کرنا۔ یہاں رہ کر چھوٹئ موٹی جاب کرکے اپنا خرچہ نکالو یا پاکستان واپس چلی جائو تمہاری مرضی۔ ہاں جب تم اپنے والدین کو بتانے لگو گی کہ یہ بچہ کس کا ہے میں مان لوں گا یہ میرا ہی ہے۔۔۔ مگر اب بس مجھ سے اس سے ذیادہ کسی چیز کی توقع مت رکھنا۔ میں نے جو اور جتنا کرنا تھا کر لیا۔
سنتھیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی اتنی گنگ سی ہو کر جیسے اسے بولنا ہی بھول گیا ہو۔
تمہاری امی کا فون آیا تھا۔ دوبارہ بھی آئے گا۔ تم اچھی طرح سوچ لو۔ کیا کرنا تم نے۔
وہ کہہ کر اس پر نگاہ غلط ڈالتا دروازہ کھول کر باہر جانے لگا۔ سنتھیا ساکت سی بیڈ پر بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔ اس نے مڑ کر جیسے آخری تنبیہہ کی۔
آخری بات۔ ریفنڈ سے پہلے 48 گھنٹے کا وقت ہے اگر دوبارہ اپائنٹمنٹ لینا ہوا تو بتا دینا۔ میں بھول جائوں گا وہ سب کچھ جو آج میں نے کہا ہے۔۔۔۔
وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔ اس پرنگاہ ڈالتا دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا تھا۔
وہ کتنی ہی دیر اپنے لرزتے ہاتھوں پر نگاہ جمائے بیٹھی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان سب کیلئے اس نے پراٹھے بنائے تھے۔ ہیون یون بن گوارا اور تو اور ہوپ نے بھی خاموشی سے دیسی ناشتہ ہی کیا تھا۔
ہوپ ناشتہ کرکے فورا اٹھ گئ تھئ۔ اسے شائد آج جلدی جانا تھا۔ البتہ گوارا یون بن اور ہیون آرام سے ناشتہ کرکے یونیورسٹی جانے کیلئے تیار ہوئے۔
تم آج آرام کرلو آج نہ جائو جاب پر۔
ہیون جیکٹ پہنتا اسے مشورہ دے رہا تھا۔ ۔
گوارا بھی نے تائید کی۔
ہاں اریزہ آج آرام کرو۔ کل اتنی برفباری کھائی ہے بخار نہ چڑھوا لینا۔
میں بیزار ہو جائوں گی اکیلی گھر میں۔
اریزہ کی اپنی مصیبت تھی۔
اوپر سے ہوپ بھی چلی گئ ہے اکیلے کیسے وقت گزاروں گی ۔ میں گھر میں اکیلی کبھی نہیں رہی۔
اریزہ کے کہنے پر گوارا حیران رہ گئ۔
ہیں ؟ واقعی؟
ہاں مجھے عادت نہیں ہے ۔ اکیلے رہنے کی۔
وہ سر جھکا کے بولی
ہیون اسکے بچکانہ انداز پر مسکراہٹ دبا کر بولا
اچھا تو پھر چلو یونیورسٹی تم پھر پھرا لینا ہم کلاس لیکر جب فارغ ہونگے تو اکٹھے لنچ کر لیں گے۔
ہیون کے پروگرام بنانے پر گوارا نے بڑی جتانے والی مسکراہٹ سے دیکھتے اسکے کندھے پر ہلکا سا مکا لگا دیا۔ہیون کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئ تھی۔ یون بن خود کو خاصا احمق سمجھ رہا تھا۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا ۔میں دو منٹ میں آئی۔۔ وہ فورا تیار ہونے کمرے کی۔طرف بھاگی۔
مجھے لگتا ہے تمہاری مدد مجھے ہی کرنی پڑے گی۔
گوارا کا انداز معنی خیز تھا۔
اگر تمہیں اسکی کسی مدد کی ضرورت ہے تو اپنا کام تمام ہی سمجھو
یون بن نے حسب عادت گوارا کو چھیڑنے کی نیت سے کہا تھا مگر گوارا اور ہیون دونوں نے ہی اسے اتنی ملامتی نظروں سے گھورا کہ گڑ بڑا سا گیا۔
ہائیش۔۔
دونوں کھا جانے کو تیار تھے۔ اس نے سٹپٹا کر کان کھجایا۔
مجھے یہ تو نہیں پتہ کیا کام ہے تمہارا مگر جو بھئ ہے ہو جائے خدا کرے ورنہ گوارا مجھے قتل کردے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے لان میں چھوڑ کر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئے تھے۔ موسم خنک تھا ہلکی دھوپ نکلتی اور بادل چھا جاتے وہ وہیں راستے پر ٹہلنے لگی۔ کیمپس دیکھ کر اسکو جانے کیوں اداسی سی محسوس ہورہی تھی وہی درخت وہی عمارتیں وہ اور سنتھیا گوارا اور جی ہائے کی شکل ہر لڑکی میں دیکھتئ تھیں۔ کیسے جے ہی نے اس سے دوستی بڑھائی کیسے ایکدم اجنبی بن گئ۔۔
ہیون او رکم سن کو تو دونوں جڑواں بھائی سمجھتی تھیں۔کیسے ہیون اور وہ بھاگے تھے شاہزیب کو پٹنے سے بچانے ۔۔۔اور گوارا کتنی تیز مزاج سخت سی لگتی تھی ۔ وہ سہولت سے ان دنوں کو یاد کررہی تھئ۔
ہم لمحوں کے قیدی ۔۔
جن لمحوں میں ہم خوش ہوئے
ان لمحوں کی یاد میں۔۔
جن لمحوں میں اداس ہوئے۔۔
ان لمحوں کی یاد میں۔۔
اب ہم ہیں رہتے۔۔۔
نئی کسی یاد کی جگہ
اب ان لمحوں کو یاد کرتے ہیں
ہم جیتے ہیں۔۔ایسے کہ کبھی
ہنس لیتے ہیں۔۔تو کبھی۔
رو پڑتے ہیں۔۔
ہم قیدی اپنے آپ کے۔۔
اپنے ہی جزبات کے۔۔
لمحوں کو ہی الزام دیتے ہیں۔۔
اس نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں کی تصویر کھینچئ۔ یہاں بیٹھ کر وہ اور سنتھیا گھنٹوں یہاں پھرتے لوگوں کو دیکھتے وقت گزار لیتی تھیں۔۔۔ مگر آج وہاں کوئی بھی نہیں تھا بلکہ آج یونیورسٹی ہی خالی خالی سی تھی جبھی اسکی یادوں کا جہاں آباد ہوگیا تھا۔۔
بے طرح اداس ہوتے اس نے تصویر کھینچی ڈیپارٹمنٹ کے نام کو دھندلا کرکے اپلوڈ کر دی۔۔ ساتھ یہ نظم بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈھلتی شام کو دن کی روشنیاں دکھانے کا مطلب؟
پہلا کمنٹ۔۔
اتنی صاف ستھری کونسی یونیورسٹی ہے بھئ؟
دوسرا کمنٹ۔۔
مت یاد کرائو یونیورسٹی خدا خدا کر مڈز ختم ہوئے ہیں اب کچھ دن سکون سے رہنے دو
تیسرا کمنٹ۔۔۔
ہائش۔۔
اس نے بے زار ہو کر کہا پھر چونک اٹھئ
میں کب سے ہائش کہنے لگی کورینز کی طرح۔۔
اس نے ہونٹوں پر ہاتھ ہی رکھ لیا۔۔
اپنی تصویر بھی لے لوں ۔۔ اس نے سوچا پھرکھڑے ہو کر ڈیپارٹمنٹ کی جانب پشت کر کے دو تین سیلفیاں بنا لیں۔۔
پتہ تو لگے اس یونیورسٹی میں کبھی میں بھی جایا کرتی تھی۔۔
اس نے بڑ بڑاتے ہوئے فیس بک پر شئیر کیں یہ تصویریں
صارم نے فورا لائک کی تھیں۔۔
کمنٹ بھی کر دیا مس یو۔۔
اس نے بھی جوابا مسکرا کر می ٹو لکھ دیا۔۔
کیا کر رہی ہوں میں یہاں۔۔
وہ دونوں بازو پھیلا کر خوب زور کی انگڑائی لیکر بڑ بڑانے لگی۔۔ اکا دکا طلبا وہ بھی کافی فاصلے پر تھے وہ یونہی۔بے زاری سے قدم اٹھانے لگی
پتہ نہیں مجھے پڑھنے کا شوق تھا بھی کہ نہیں۔ بس شادی سے بھاگ رہی تھی۔ اب تو ٹل گئی۔ ڈگری بھی ٹل گئ ان کی مہربانی سے۔۔
اس نے ڈیپارٹمنٹ کو کینہ توز نظروں سے گھورا۔۔
اب یہاں رکنے کی کوئی وجہ نہیں ۔۔ لڑکے بھی یہاں نوکری کے چکر میں بھی نہیں رکے سنتھیا بھئ بدل چکی ہے۔ مجھے بھی اب یہاں سے چلے جانا چاہیئے۔ پاپا کہہ تو رہے تھے مجھے ڈگری مکمل کرنے دیں گے۔۔ اس نے گہری سانس لی۔
سورج کی حدت نہ ہونے کے برابر تھی۔ اچانک سرد ہوا کا جھونکا اسے جھر جھری لینے پر مجبور کر گیا۔۔
۔ یہاں سردی بھی بہت ذیادہ ہے۔۔ جو مجھے بالکل پسند نہیں۔۔
مگر میں یہاں سے شائد ابھئ جانا نہیں چاہتی۔۔
وہاں تعلیم مکمل کرکے شادی ہوجائے گئ۔ یہاں تعلیم مکمل کرکے واپس جائوں گی تو بھی شادی ہوجانی ہے۔
اف۔ سوچوں نےسر میں درد کر دیا۔
اللہ میاں۔۔ وہ سر اٹھا کر آسمان کو مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگی
کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ کیوں ہوں میں یہاں؟؟؟؟؟
وہ جھلا رہی تھی خود سے الجھ رہی تھی۔۔
تبھی جوابا اس پر بوندیں آگری تھیں۔ اس نے جیب سے رومال نکال کر چہرہ پونچھا اور بھاگ کر ڈیپارٹمنٹ کی گیلری کے نیچے آکھڑی ہوئی۔ دیکھتے دیکھتے تیز بارش شروع ہوگئ تھی۔۔۔
ابھئ اگر پنڈی ہوتا تو امی سے پکوڑے بنوا تی کافی پیتی۔ پکوڑے کھائے کتنے دن ہوگئے۔۔ اور امی۔۔ اسکا دل سکڑا
اتنی ناراضگی اتنی چڑ کے باوجود ماں کی یاد نے اسے اداس سا کر دیا تھا۔۔۔ وہیں ستون سے سر ٹکا کر کھڑی بارش کا نظارہ کرنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاگ کی اپڈیٹ دیکھ کر اس نے فورا نوٹیفیکیشن کھولاتھا۔کسی یونیورسٹی کی تصویرتھی نام کی جگہ کو جان کر دھندلا کیا تھا۔۔
اس نے کمنٹ کر کے موبائل جیب میں ڈال لیا۔ گھر جانے کی اسے کوئی جلدی نہیں تھی مگر ایک کام کرنا تھا ہاسٹل میں آکر ایک پیکٹ کسی لڑکی کی امانت اسے دینی تھی۔۔کائنوٹر پر طالبہ کا نام بتا کر امانت دے کر وہ باہر نکلا تو موسم اپنا تیور بدل چلا تھا۔ چھما چھم برستی بارش اور آج تو چھتری بھی نہیں تھی پہلے تو یہی سوچا نکل جائے مگر آج لیپ ٹاپکا بیگ بھی اسکے کندھے پر سوار تھا۔ سو بارش کے رکنے کا انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔۔ وہ سر جھٹکتا بر آمدے کی جانب بڑھ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا موبائل بجا تھا ۔۔ کسی نے اسکی پوسٹ پر کمنٹ کردیا تھا۔۔اس نے پڑھا پھر سوچ میں پڑ گئ۔۔ لکھا تھا۔۔
یادیں جینے کا سہارا ہوتی ہیں۔ ہم یاد بھی نہ رکھیں تو کیا کریں گے جن لمحوں کو گزار چکے جو کبھی واپس بھی نہ آئیں گے چلو کم از کم ہم انہیں یاد ہی کر کے خوش ہو لیں۔۔
خوبصورت بات۔۔ اسکے دل کو چھو گیا تھا یہ تبصرہ سو جھٹ کمٹ کھول کر جواب لکھا۔۔
اور جب میں یہاں سے جائوں گی تو یقینا میرے پاس یاد کرنے کیلئے سب کچھ اچھا اچھا ہوگا۔۔
لڑاکا سی پل پل بدلتی ہوپ، من موجی مگر دل کی بے حد اچھی گوارا ، جے ہی جس نے میرا بہت ساتھ دیا ، ہیون اور کم سن جنکی شکلیں اتنی ملتی تھیں کہ ہم دھوکا کھا جاتے تھے، اور گنگ شن انی جنکو دیکھ کر ہی انسان کو خوشگوار احساس ہوتا انکی مسکراہٹ یقینا ہیون کو بات بات پر مسکرانے کی عادت انہی سے پڑی ہے ۔۔۔ ہر وقت مسکراتا رہتا ہے سوتے میں بھی مسکراتا ہوگا ۔۔ وہ سوچ کر ہنس دی۔۔
اسکی ہنسی سے کسی کے بڑھتے قدم رک گئے تھے زرا کی ذرا مڑ کر دیکھا تو اسکا چہرہ دیکھ کر پہچان کر ملنے چلا آیا۔۔
آننیانگ۔۔ نرم بھاری آواز پر اس نے سر اٹھایا تو آنکھوں میں شناسائی کی چمک دوڑ گئ۔۔
آننیانگ۔۔ اس نے بہت اخلاق سے مسکرا کر جواب دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بار بار گھڑی کی جانب دیکھ رہا تھا۔اسکی بے چینی سداکو سے چھپی نہ رہ سکی اسکی پریزنٹیشن کیلئے نام پکارا گیا تو اٹھ کر بولا۔۔
مجھے تھوڑا سا مزید وقت دیجئے تب تک آپ مجھ سے اگلے طالب علم کی پریزنٹیشن لے لیجیئے۔۔
ہیون نے مشکور نگاہوں سے دیکھا اسے۔پریزنٹیشن دے کر وہ بھاگا بھاگا ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکلا تو بارش زور و شور سے برس رہی تھئ۔۔
وہ اریزہ کے خیال سے بھاگا بھاگا آیا۔ گرائونڈ خالی تھا یقینا وہ بارش سے بچنے اندر ڈیپارٹمنٹ چلی گئ ہوگی اس نے سوچ کر رابطہ کرنے کی غرض سے اسے کال ملانی چاہی تبھی گیلری میں کھڑی اریزہ کی۔جھلک دکھائی دی۔۔ وہ کسی بات پر ہنسی تھی اسکا مخاطب کوئی اونچا لمبا سا مرد تھا۔۔
اسکی مشہور زمانہ مسکراہٹ جانے کیوں سکڑ سی گئ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپکے کپڑے امانت ہیں میں انکو دھلوا کر آپکو واپس کر دوں گئ ۔۔
اسے اسکئ شکل دیکھ کر فورا یاد آیا تھا۔ علی قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔
میں آپ سے کپڑے مانگنے تو نہیں آیا۔
اسکے ہنس کر کہنے پر وہ خجل سی ہوگئ۔
کلاسز ختم ہوگئیں ہیں تمہاری؟۔۔
علی نے یونہی پوچھا تھا بات برائے بات۔
میں اب یہاں نہیں پڑھتی ہماری ڈگری روک دی گئ ہے۔ اب اگلے سمسٹر سے نئے سرے سے داخلہ لوں گی۔
اریزہ نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا تھا۔۔
اوہ کیوں خیریت؟ علی حیران ہوا۔۔
ہمارا طلبا کا تبادلے کا۔پروگرام تھا مگر لاہور میں کوئی بم دھماکا ہوگیا تو انکے طلبا واپس چلے آئے پھر ہمارے یہاں رہنے کی وجہ نہ رہی۔ اب یہ کہتے ہیں ایک ٹیسٹ پاس کرکے یہاں کئ مساوی سند لے کر ہی ہم آگے یہاں پڑھ سکتے ہیں۔
اریزہ کا انداز سادہ سا تھا مگر علی کو واقعی افسوس ہوا۔
اوہ مجھے افسوس ہوا اچھا نہیں ہوا یہ۔ پھر پڑھ رہی ہو؟ دو ہفتے بعد ہی امتحان ہوگا۔سی ای ایس اے ٹی کا۔
علی نے کہا تو وہ پریشان ہی ہوگئ
ہیں واقعی؟ مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا۔ کب امتحان ہے؟
علی اسکے انداز پر ہنس دیا۔
میں ایک مقامی اکیڈمی میں اسی امتحان کی تیاری کروا رہا ہوں آج کل میں داخلے بند ہونے والے ہیں اگر تمہارا ارادہ ہو تو میں مدد کر سکتا ہوں۔
ہاں ہے نا میرا ارادہ۔۔ وہ جھٹ بولی۔۔ تم مدد کروگے میری؟
ہاں کر دوں گا لیکن ہیون کے ہوتے تمہیں میری مدد کی ضرورت نہیں۔ بہت پڑھاکو اور ذہین ہے۔ہمیشہ سے ٹاپر رہا ہے۔
اچھا؟ اریزہ حیران ہوئی۔
اس نے کبھی بتایا نہیں۔
وہ ایسا ہی ہے۔ اپنی ہر خوبی کو چھپا کر رکھتا ہے۔ انتہائی خیال رکھنے والا اور محبت کرنے والا لڑکا ہے۔ دوستی میں جان دینے والا ایک لڑکی پر اکتفا کرنے والا پیارا سا لڑکا۔
علی نے تو تعریفوں کے پل ہی باندھ دیئے۔
اریزہ کا تھوڑا سا منہ حیرت سے کھلا پھر وہ کھل کر ہنس پڑی۔
ویئو؟ (کیا ہوا) علی حیران ہوا
تم ایسے تعریفیں کر رہے ہو جیسے ہمارے ملک میں رشتہ کرانے والی خواتین لڑکے کی تعریفیں کرتی ہیں۔ کہ بس وہ کہیں تولڑکی والے جھٹ ہاں کر دیں۔
وہ ہنسے جارہی تھی۔۔ اسکی بات سے ذیادہ اسکے محظوظ انداز نے علی کو بھی ہنسا دیا۔
ہنستے ہنستے اسکی آنکھیں لبا لب بھر گئیں۔۔رنگ سرخ پڑ گیا۔
وہ گال تھپتھپاتی اپنے ہینڈ بیگ سے ٹشو نکالنے لگی۔
تبھی اسکے سامنے ٹشو آگیا ۔۔ اس سے پہلے علی نے ٹشونکال کر اسکی جانب بڑھا دیا تھا۔۔ وہ دھیرے سے شکریہ کہتی آنکھیں صاف کرنے لگی۔
ایک تو میں جب ذیادہ ہنستئ ہوں رو پڑتی ہوں۔
اس نے صفائئ پیش کی۔ علی کی مسکراہٹ سکڑسی گئ۔
میں بھئ۔ اس نے دھیرے سے کورین میں ہی کہا تھا۔ اریزہ کا دھیان کہیں او رتھا ورنہ ضرور پوچھتی مطلب۔
اسکا آج کل کا یہی شغل تھا ہر نیا کورین لفظ سیکھنا۔۔
تمہیں ذیادہ انتظار تو نہیں کرنا پڑا میرا؟ ہیون تیز تیز قدم اٹھاتا آیا تھا۔۔
نہیں میں بارش کے مزے لے رہی تھی۔
آننیانگ۔ علی نے مسکرا کر سلام کیا۔
آننیانگ۔ اس نے زرا سا سر جھکا کر جواب دیا۔
چلیں۔ وہ اب اریزہ سے مخاطب تھا
علی کو اسکا انداز ہمیشہ سے تھوڑا الگ لگا۔
تیز برستی بارش کو نظر انداز کرتا ہیون لمبے ڈگ بھرتا پارکنگ کی جانب بڑھ گیا۔ اریزہ نے حیران ہو کر دیکھا پھر مڑ کر ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں علی۔۔ کہتی مسکرا کر اسے ہاتھ ہلاکراسکے پیچھے لپکی۔
دونوں کو ٹھنڈ نہ لگ جائے بھیگتے جا رہے ہیں۔۔
دونوں ہاتھ کوٹ کی جیب میں ڈال کر علی نے ان کو نظروں میں رکھ کر سوچا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پارکنگ تک آتے وہ دونوں بری طرح بھیگ چکے تھے۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھتے تک ہیون نے اسکو بالکل نظر انداز کیا تھا۔ لانگ کوٹ اتار کروہ فورا گاڑئ میں گھس گئ۔ وہ جامنی ہائی نیک اور کالی جینز میں ملبوس تھئ۔ لانگ کوٹ کی وجہ سے اسکا سراپا چھپ سا گیا تھا لیکن اب جب بھیگ جانے کی وجہ سے اتارا تو جہاں کوٹ نے اسکے اندرونی کپڑے بچا لیئے تھے وہاں اب جسم سے چپکی ہائی نیک اسے جانے کیوں شرمندگی سی ہونے لگی۔ کوٹ گود میں رکھ کر اس نے دز دیدہ نگاہوں سے کو دیکھا جو گیلے کپڑوں سے بے نیاز بے حد سنجیدگی سے سامنے دیکھتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا۔ سامنے دیکھتے دیکھتے ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکی گود میں رکھا کوٹ اٹھا کر پچھلی نشست پر اچھال دیا۔
کیا فائدہ اسے اتارنے کا جب گیلا گود میں رکھ کر باقی کپڑے بھی گیلے کرنے ہیں۔۔
اس نے اپنے تند انداز کے برعکس کافی نرم سے انداز میں کہا تھا۔
اریزہ ہونٹ کاٹ کر رہ گئ۔
ہیون نے ہیٹر آن کر دیا تھا پھر بھی اسے پے در پے کئی چھینکیں آگئیں۔۔
ہیون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستانئ ریستوران کے سامنے گاڑی رکی تو اس نے سوالیہ نگاہ سے اسے دیکھا۔ وہ لاپروا سے انداز میں گاڑی سے اترا اپنا کوٹ بھی اتار کر پچھلی نشست پر ڈال دیا۔ اسے بھی گاڑی سے اترنا پڑا۔ریستوران میں داخل ہوتے ہوئے گلاس ڈور میں اپنے سراپے کو دیکھ کر وہ رک سی گئ۔
اس نے بہت ذیادہ وزن کم کر لیا تھا اپنا۔ بالکل سائز زیرو ہوچکی تھئ۔
اوہ خدایا۔ یہ میں اتنی پتلی کیسے ہوگئ؟
اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا
ہیون نے آگے بڑھتے اسکو ہم قدم نہ پایا تو مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ وہ سٹپٹا کر سر جھٹکتی اسکے پیچھے دوڑئ۔۔
بارش کی وجہ سے لوگ بہت کم تھے۔
کھانے کے ساتھ سوپ کا بھی آرڈر دیا تھا ہیون نے
مگر سوپ پینے کے بعد اسکا پیٹ بھر سا ہی گیا۔ بریانی کی مقدار جوں کی توں دیکھ کر نے تعجب سے دیکھا
کیا ہوا ؟ پسند نہیں آئی۔۔؟
اچھی ہے مگر سوپ پینے کے بعد اب یہ کھائی نہیں جا رہی۔
اریزہ نے اپنی پلیٹ میں تھوڑے سے ہی چاول نکالے تھے مگر اب وہ بھی نہیں کھائے جا رہے تھے۔ دھیرے دھیرے ٹونگتے اسکے ارادہ پلیٹ صاف کر نے کا۔تھا۔
ہیون مسکرا دیا۔
نہ کھا کھا کے تمہاری بھوک بھی کم ہوگئ ہے اور وزن بھی۔
ہیون کی توجہ پوری اپنی پلیٹ پر تھئ۔ اریزہ نے چونک کر سر اٹھایا۔
اس نے شائد دیکھ لیا تھا اسے خود کو آئینے میں دیکھتے۔۔
کھاتی میں پہلے بھی ذیادہ نہیں تھی پھر بھی جانے کیوں گپلو سی تھی۔ شکر ہے تھوڑی اسمارٹ ہوگئ ہوں۔
وہ خجل۔سی ہوئی
تم گپلو سی ذیادہ اچھی لگتی ہو۔ تمہیں دوسری لڑکیوں کی طرح ڈھانچہ بننے کی ضرورت نہیں ۔۔
اس کے کہنے پر اریزہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا اسکو نظروں میں رکھے اسکا اندازسادہ تھا
مجھے سب بہت ٹوکتے تھے کہ میں موٹی ہوں۔ خالہ نے تو شرط ہی رکھ دی تھی کہ وزن کم کروں۔ کیا کیا نہ جتن کیئے میں نے اور صارم نے کہ میرا وزن کم ہو جائے جب سب کچھ چھوڑ دیا تو وزن کم ہو گیا۔۔
وہ وقت اسے آج بھی اداس کر گیا تھا۔ بولتے ہوئے اسکی اداسی لہجے میں بھی اتر آئی تھی
صارم؟مطلب؟
ہیون پوری دلچسپی سے سن رہا تھا
میرا بھائی۔ ہے تو میری خالہ کا بیٹا ۔۔مگر میرے والدین کا لے پالک بیٹا بھئ ہے۔ خالہ کو کیا کہوں انگریزی میں۔ وہ سوچ میں پڑی۔
یہ وہی بھائی ہے جو بم دھمکے میں بچھڑ گیا تھا؟
ہیون نے پوچھا تووہ تڑپ سی گئ
خدا نہ کرے۔۔ پھر انگریزی میں بتانے لگی
وہ میرا اصل بھائی۔تھا حماد۔ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا ۔ ٹھہرو میں دکھاتئ ہوں۔
وہ بڑے شوق سے موبائل نکال کر اسے حماد کی تصاویر دکھانے لگی۔
حماد کی اسکی بچپن کی بہت تصاویر اس نے موبائل میں رکھی تھیں۔ ہیون بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
ایک اسکی اور صارم کے بچپن کی تصویر آئی۔ تو بہت شوق سے اسے دکھانے لگی۔ جھولے پر بیٹھے دو ننھے منے آٹھ دس سال کے بچے دو پونیاں کیئے فراک پہنے بچی اریزہ کا بچپن لگ رہی تھی
یہ ہے صارم ۔اریزہ نے دکھایا تو ہیون حیران ہوا
یہ اتنا چھوٹا ہے؟ مجھے لگا تھا تھوڑا بڑا ہوگا تم اسکے ہاتھوں بلنگ کا شکار ہوتئ رہی ہو ؟ ڈانٹ دیتیں مجھے موٹا مت کہا کرو۔
ہیون کو جیسے غصہ ہی آگیا تھا۔ وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی
ارے یہ تو پرانی ہے ساتھ میں بیٹھی ہوں ٹھہرو میں نئی کوئی دکھاتی ہوں۔
اس نے آگے کرکے اپنی پچھلی سالگرہ کی۔تصویر اسے دکھائی شرارت سے اسکے سرکے پیچھے انگلیاں کھڑی کر کے سینگ بناتا صارم اور ہنس کر سیلفی لیتی وہ خود۔
اس نے صارم کو دیکھا ہی نہیں۔
اسکی تو بہت سی تصویریں ہوتی تھیں میرے پاس مگر یہاں آکر موبائل بدلا توبس کچھ اہم اہم تصویریں ہی میں نے اس موبایل میں ڈالی۔تھیں
اس نے جلدی جلدی تصویریں آگے پیچھے کیں آگے بس ایک ہی دو اور تصویریں تھیں۔ ان میں سے ایک پر ہیون واضح چونکا مگر وہ تب تک سوائپ کر چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد وہ کھلی فضا میں باہر صحن میں سیڑھیوں پر آبیٹھا تھا۔ ہلکی ہلکی دھوپ بے حد اچھی لگ رہی تھی وہ بے حد ہلکا پھلکا سا خود کو محسوس کر رہا تھا
سو تم نے کیا سوچا ۔ امام صاحب اسکے برابرآبیٹھے۔
علی نے چونک کر انہیں دیکھا وہ جواب طلب نگاہوں سے دیکھ رہےتھےوہ صاف جواب دیتے دیتے رک کر بات پلٹ گیا
جی ہائے ہاسٹل میں نہیں تھی میں نے ریسیپشن پر آپکا دیا سامان دے دیا تھا۔
ہاں اسے مل گیا تھا۔ آج کوریئر کے ذریعے اس نے واپس بھی بھجوا دیا۔
وہ زرا سا ہنسے۔
جب وہ آپ کےتحائف واپس بھجوا دیتی ہے تو آپ کیوں دیتے ہیں؟ وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھا۔ امام صاحب مسکرائے۔
وہ بیٹی ہونے کا حق جتاتی ہے ناراض رہ کر میں باپ ہونےکا فرض نبھاتا ہوں اسے منانے کی ہر کوشش کر کے۔
جانتےہو اسکے سوا میری دو اور بیٹیاں ہیں اب۔ مگر جب جب انکےلیئے کچھ لیتا ہوں یاوہ مجھ سے فرمائش کرتی ہیں میرے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ وہ اداس سے ہو گئے۔
پھر تم نے کیا سوچا۔لیلی کے بارے میں۔ اچھی سمجھدار لڑکی ہے۔ ہاں زبان کا مسلئہ ہو سکتا ہے مگر وہ کورین سیکھ رہی ہے یہاں ہی نوکری کرنی ہے اس نے۔ میری بیوی کی بھانجی ہے سو میں اسکی ہر قسم کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ نماز روزے کی پابند ہے۔کہو تو بات چلائوں؟ ۔ وہ آج فیصلہ کروا لینا چاہتے تھے اس سے۔
مل سکتا ہوں میں اس سے؟۔ اس نے سادہ سے انداز میں پوچھا وہ بے طرح خوش ہو گئے۔ ہمیشہ کی طرح شادی سے انکار کرنے والا کم از کم ملنے پر تو مانا۔۔
کیوں نہیں۔ اسکی اجازت تو مذہب بھی دیتا ہے تم مل کر دیکھ بھال کر فیصلہ لو۔ اور ہاں میری گاڑی لے جانا۔۔ بسوں میں دھکے نہ کھاتے جانا خبر دار جو اسکے اپنی یہ تھکی شکل دکھا کر ڈرایا۔۔
وہ آخر میں مسخرے پن سے بولے۔ علی نے سر جھٹکا۔
یہ تھکن مجھ میں سرائیت کر چکی ہے آہجوشی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ پر انڈین برائڈز کی برائڈ کلیکشن دیکھ رہا تھا۔
ایک کے بعد ایک سرخ جوڑے میں ملبوس دلہنیں ۔
وہ بے چین سا ہو کر لیپ ٹاپ ایک۔طرف رکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔ چند لمحے یوں ادھر ادھر دیکھتا رہا جیسے سمجھ نہ آیا ہو کیوں اٹھاہے۔ کچھ سوچ کر اس نے جھک کر سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولی ۔ اس میں ایک خوبصورت پیکنگ میں ڈیزائنرپائوچ رکھا تھا۔ اس نے اٹھایا پھر دوبارہ واپس رکھ کر دراز ہی بند کردی۔
اتوکے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھامتا بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے سنی ہی نہیں۔
نونا ایک اور مرتبہ کھٹکا کر دھیرے سے دروازہ کھولتی اندر چلی آئیں۔
ہیونا وہ انکے قریب آکھڑے ہونے پر بھی نہ چونکا توانہیں پکارنا پڑا۔
دے۔ وہ چونک کر سیدھا ہوا۔
یہ لو میں پاس دینے آئی تھی۔
انہوں نے ہاتھ میں پکڑا بیگ اسکی جانب بڑھایا۔
وہ یونہی تھام کر اندر کھول کر دیکھنےلگا تو بریو ہارٹ کے کنسرٹ کے وی آئی پی پاسز ساتھ لائٹ اسٹکس بھی تھیں۔
وہ اب سمجھا تھا نونا نے کیا دیا ہے اسے۔
گوما وویو۔
اسکے چہرے پر تھکی تھکی سی مسکراہٹ در آئی تھی
کیا ہوا کچھ الجھے سے دکھائی دے رہے ہو۔
نونا تشویش سے پوچھتی اسکے پاس آبیٹھیں۔
آندے۔ بس یونہی۔
اس نے قصدا اپنا انداز بشاشت بھرا بنایا۔ کھسک کر شاپر سائیڈ ٹیبل پر ٹکانے لگا۔
اریزہ کے ساتھ جائو گے نا۔ انہوں نے اشتیاق سے پوچھا تھا۔اس نے سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا
کل بہترین موقع ہے کسنرٹ کے بعد کہیں ڈنر کرو اچھا سی رنگ خریدو اور سیدھا سیدھا پرپوز کردو۔
انی ہتھیلی پر سرسوں جمانے پر تلی ہوئی تھیں۔وہ پھیکی سی ہنسی ہنس دیا۔
اتنئ جلدی کیا ہے ۔۔
ہے نا جلدی۔ گنگشن تیز ہو کر اسکے کندھے پر چپت مار کر بولیں
یہ چینی ہندوستانی بہت جلدی شادیاں کر لیتے ہیں۔ میری دو تین انڈین فرینڈز ہیں تم سے بھی چھوٹی ہونگی اور سب شادی شدہ یہ پاکستانی بھی تو انکے ہی پڑوسی ہیں شادی جلدی کرتے ہونگے اس سے قبل کہ اسکو کوئی اور پرپوز کرلے تم کرلو۔
انی کی بات پر وہ خالی خالی سے انداز میں ہی دیکھتا رہ گیا۔
اور اگر وہ شادی شدہ ہوئئ تو؟
اسکے کہنے پر گنگشن کا جوش دھیما پڑا۔
ایسا کیوں سوچا تم نے؟ اچھا سوچو ۔ کوئی شادی شدہ نہیں ہوگی وہ اور سنگل بھی ہوگئ ورنہ کسی نا کسی کے ساتھ گھومتئ پھرتی نظر آجاتئ تمہیں اتنے مہینوں سے۔۔۔
انی کی بات پر وہ بے چین سا ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔
دیکھو اگر ایسا کچھ ہوا بھی تو کل اس سے پوچھ کر کلیئر کر لینا۔ اور پھر اپنے قدم روک لینا۔ سادہ بات۔ سوچ سوچ کر الٹا پریشان ہونے سے کیا حاصل؟
وہ اسکی گھبراہٹ سمجھ گئ تھیں۔
نونا میں اب قدم روک نہیں پائوں گا۔ میں اسے بہت پسند کرنے لگا ہوں ۔ اور اسکی زندگی میں جو بھی رہا ہو مجھے فرق نہیں پڑتا اب میں بس رہنا چاہتا ہوں۔
وہ اتنے جزب سے کہہ رہا تھا کہ گنگشن اسے دیکھتی رہ گئیں۔ اسکی آنکھوں میں ستارے سے اتر آئے تھے۔ ویسے ہی جیسے ان سے اظہار محبت کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دیکھ اسے رہی تھیں نگاہوں میں چہرہ کوئی اور اتر آیا تھا
میں اب سے ہمیشہ تمہاری زندگی کا حصہ بن کے رہنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے گڑبڑا کر سر جھٹکا۔
ایسا ہی ہوگا۔ انہوں نے پر یقین انداز میں کہا۔
اچھا کل میں صرف خوشخبری ہی سننا چاہتی ہوں سمجھے تم۔
انہوں نے مان سے کہا تو وہ بھی سر ہلا کر ہنس دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا اور یون بن مال میں گھوم رہے تھے۔ دوبارہ ملنے کی خوشی میں یون بن اسکو خوب شاپنگ کرا رہا تھا۔ہاتھ میں ڈھیروں برانڈ ز کے شاپرپکڑے وہ دونوں اب ایلیویٹر کی جانب بڑھ رہے تھے۔
تم گائوں اتنے دن کیلئے کیوں جا رہی ہو؟ ایک ویک اینڈ گزارنا کافی نہیں؟ پورا سمسٹر بریک گائوں میں گزار کر کیا کروگی۔
یون بن ہونٹ لٹکا کر بولا تو وہ ہنس دی۔
میری آہموجی کا موسم بدلنے پر سیزن لگتا ہے ہمارے گائوں پر لوگ برسات کی طرح برستے ہیں۔ ایسے موقع پر انکو سنبھالنے میں مدد سے میرا پورا سال بھر کا خرچہ آرام سے نکل آتا ہے اتنا منافع ہوتا ہے ہمیں۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں تم بھی چلو وہاں ۔
گوارا کے کہنے پر وہ منہ بنا گیا۔ وہ دونوں احتیاط سے ایلیویٹر پر چڑھے۔ بیچ دوپہر کا وقت ہونے کے باعث اس وقت لوگ بہت کم تھے۔ سو دونوں آرام سے بحث میں الجھے رہے
مجھے اگلے سمسٹرکی فیس نکالنی ہے پارٹ ٹائم جابز سے۔سب چھوڑ چھاڑ کر کیسے چلوں۔
اگلے سمسٹر سے یاد آیا میرے بھائی کا بھی اسی یونیورسٹی میں داخلہ کروانا ہے کوئی سفارش کا انتظام کر سکتے ہو؟ جیسے اپنی دفعہ کیا تھا۔
وہ ٹہوکا دے کر بولی تو وہ چڑ گیا۔
میرےاتنے کم مارکس نہیں تھےمیرٹ پرنام آیا تھا۔
تو تم ایویں اپنے اس پروفیسر خالو کے آگے پیچھے پھرتے رہے انکے پالتو کتے کو ایک مہینے ویٹنری لے جا کر ٹیکے ٹھنکواتے رہے۔ سب فالتوکام ۔۔
وہ اور بھی کہتی مگراتنا بڑا منہ پھول گیا تھا یون بن کا کہ وہ ہنسی نا روک سکی۔
ہاں تو اب نہیں ہے میرا باپ یونیورسٹی کا ٹرسٹی اچھے نمبروں کے باوجود بھی خواریاں کاٹنی پڑیں مجھے۔
گوارا مڑ کر کچھ کہتی مگر سیڑھیاں ختم ہو گئ تھیں سو اترنا پڑا۔
ہیون۔۔ سامنے مشہور برانڈ کے جیولری شاپ سے نکلتے ہیون کو دیکھ کر وہ ٹھٹک سی گئ۔
ہاں اسکے پاپا ٹرسٹی ہیں مگر ہیون کے مارکس تو بہت ہی شاندار تھے اسے تو سفارش کی ضرورت نہیں تھی
جونتائی اپنی ہی دھن میں بولتا چلا گیا۔
ہیون۔لمحہ بھر لگایا تھا گوارا نے سوچنے میں پھر اپنی اونچی ہیل میں ہی بھاگ کھڑی ہوئی ہیون تیز قدم اٹھاتا مال سے خروج کے بیرونی دروازے کی جانب بڑھ رہا تھا
یون بن کئ اب اس پر نگاہ پڑی پہلے سوچا پکارے پھر گوارا کو شاپنگ بیگز اٹھائے پھرتی سے تقریبا دوڑ کر سامنے والی دکان کی طرف جاتے دیکھا تو ارادہ ملتوی کرتا ہوا اسکے پیچھے ہو لیا۔ گوارا نے دکان میں داخل ہوتے ہی سیدھا کائونٹر کا رخ کیا تھا۔
ابھی جو سفید ٹی شرٹ میں لمبا سا نامجا ( لڑکا)یہاں سے نکلا ہے اس نے انگوٹھی خریدی ہے نا؟
اسکے اتنا وثوق سے آنکھوں میں ہزار دلچسپی کے رنگ لیئے پوچھنے پر وہ گڑبڑا سی گئ۔
دے؟ اسکا انداز استفہامیہ تھا
ہے نا؟
گوارا نے تصدیق چاہی۔
دے۔ ( ہاں) اس بار جواب اثبات میں تھا۔
گومو ویو۔ وہ اتنا بے ساختہ خوش ہو کر شکریہ ادا کرنے لگی کہ سیلز گرل بھی مسکرا دی
کونسی خریدی ہے۔ وہ اب کائونٹر پر شیشے میں سجی خیرہ کن ہیرے جڑی انگوٹھیوں کی جانب متوجہ تھی
یہ۔ سیلز گرل نے ڈسپلے پر سجی نہایت نازک مگر دلکش سی دو برابر لکیر کی شکل میں جڑے ہیروں سے مزین انگوٹھی اسے دکھائی اتنئ نازک بنت تھی کہ جیسے دو الگ راہیں اتفاقیہ آ ملیں انکے ملاپ کو ایک نسبتا بڑے ہیرے نے جوڑا تھا۔
اف کتنئ خوبصورت ہے۔ وہ فدا سی ہوگئ۔
ہیون کی پسند بہت اچھی ہے۔ وہ بے اختیار کہہ اٹھئ۔
یہ سب سے نیا ڈیزائن ہے آیا ہے ہمارے پاس۔ انکو فورا ہی پسند آگئ تھئ یہ ویسے وہ نامجا۔۔
وہ تھوڑا سا جھجکی
آپکا بوائے فرینڈ ہے؟ اس نے ہنس کر اندازہ لگایا
آندے۔ یون بن ایکدم آگے ہو کر بولا۔
میں ہوں اسکا بوائے فرینڈ۔
اسکے اس طرح کہنے پر گوارا نے منہ بنا کر اسے دیکھا۔
وہ میری چھنگو کا نامجا چھنگو ہے۔ ہونے والا
گوارا نے بتایا۔ تو سیلز گرل تو سر ہلا کر انگوٹھی واپس رکھنے لگی مگر یون بن بھاڑ سا منہ کھول کر رہ گیا۔
کیا کس کا۔
اسکے انداز پر گوارا منہ ہی منہ میں بدبدائی۔ مڑ کر الوداعی کلمات کہتی اپنے شاپرز سنبھالتی جونتائی کو بازو سے پکڑ کر باہر نکل آئی۔ یون بن کے دونوں ہاتھ شاپرز سے بندھے تھے سو احتجاج بھی نہ کر پایا گھسٹتا چلا آیا اسکے ساتھ۔
سب کہانی اسکو سنانئ تھی کیا۔ ۔
اس نے گھرکا۔
ہیون انگوٹھی لے رہا کونسی لے رہا کس کیلئے لے رہا یہ سب میں ہی تو پوچھ اور بتا رہا ہوں نا سب کو۔
وہ بھنایا۔ پھر اندازہ لگا کر پوچھا۔
ویسے تمہاری کونسئ دوست کا نامجا شنگو ہے؟ وہ جی ہائے
آنی ۔۔ گوارا نے مسکرا کر نفی میں گردن ہلائی۔۔
وہ ہوپ؟
لڑاکو کھنچی ہوئی آنکھوں اور چوڑے ماتھے والی خدایا اس پر مر مٹنے سے پہلے ہیون مر مٹ کیوں نہ گیا۔
اس نے رونا رویا۔۔۔
جی نہیں وہ بڑی بڑی آنکھوں گلابی رنگت تھوڑی پر ڈمپل والی میری سہیلی اریزہ کو پسند کرتا ہے۔
گوارا نے کہہ کر فخریہ سے انداز میں یوں دیکھا اسے جیسے داد چاہ رہی ہو۔ اور یون بن وہ حیران رہ گیا تھا۔ بے تحاشا حیران۔
مگر وہ تو۔۔
اسے اریزہ سے اپنی گفتگو یاد آئی۔۔اس نے کان کھجایا۔
وہ تو شادی شدہ ہے۔
اس نے زیر لب کہا تھا۔
گوارا نے مگر پھر بھی سن لیا تھا۔
تمہیں کیسے پتہ چلی یہ بات؟
اس نے فورا پکڑ لیا تھا۔
اس نے خود بتایا تھا۔ یون بن گڑبڑایا۔
اس نے مجھے بھی بتایا تھا مگر اتنے مہینوں میں اس نے کبھی اپنے شوہر سے بات نہیں کی۔ گوارا سوچ میں پڑی
یا تمہارے سامنے بات نہیں کی۔۔
یون بن نے جملہ مکمل کیا تو گوارا چونک کے اسکی شکل دیکھنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سارا دن بستر پر پڑی صرف سوچتی رہی تھی۔
اسکو اپنے جسم میں بالکل توانائی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ بستر سے اترے گی تو چکرا کر گر پڑے گی۔
اس نے کھانا کھا لیا تھا مگر کتنی دیر چلتا اسے اب بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے اٹھ کر شاپر ٹٹولا ۔ سیب کیلا وہ بھی ایک ایک ہی پڑا تھا۔ اس نے اپنا پرس الٹ لیا ۔ بمشکل ایک بڑا نوٹ اور ریز گارئ ملی۔
تو اب ایڈون اسے بھوک کی مار مار رہا ہے۔
اس نے تلخی سے سوچا۔
پھر دھیرے سے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔
وہ کچھ بھی کر لے مگر اس بچے کی خود جان نہیں لے سکتی تھئ۔ ایک گناہ کے بعد دوسرا بڑا گناہ کرنے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔
تمہیں کیا لگتا تم مجھے سپورٹ نہیں کروگے تو کیا میں بھوکی مر جائوں گئ۔ میرے ماں باپ زندہ ہیں۔
اس نےتنفر سے سوچا۔
اکلوتی بیٹی ہوں میں انکی۔ وہ مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ میں سب خود انہیں بتا دوں گی۔ پھر دیکھتی ہوں تم کیسے مجھ سے دامن چھڑا سکو گے۔
اس نے ایک فیصلہ کرکے اپنا فون اٹھایا اور ماں کو کال ملا لی۔ دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا۔ وہ اپنا ہر کام چھوڑ کر اس سے بات کرتی تھیں۔
ہیلو ممی۔۔
اسکی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
ہاں بیٹا کیسئ ہو۔ مشفقانہ انداز۔
آپ جاگ رہی ہیں ابھی تک۔۔
اس نے وقت دیکھا۔ ساڑھے نو ہو رہے تھے یعنی پاکستان میں ڈیڑھ بج رہا ہوگا۔ اسکو شرمندگئ سی ہوئی بنا وقت کا اندازہ لگائے فون کھڑکا دیا۔
ہاں بیٹا بس آج تمہارے ڈیڈا کے دوست کے بیٹے کی منگنی تھئ۔ بارہ تو وہیں بج گئے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچے ہیں تو تمہارے ڈیڈا نے کافی کی فرمائش کردی اب انکو دے کر آئی ہوں کمرے میں تو میری بیٹی کا فون آگیا۔
وہ پیار سے تفصیل بتا رہی تھیں۔ انکا انداز لفظ لفظ محبتوں سے چور تھا۔ اسکا دل ڈوبنے لگا۔ اسکی مسلسل خاموشی پر انہوں نے خود ہی موضوع بدلا
تم سنائو اریزہ کیسی ہے۔ تم لوگوں کو اکیلے رہتے کوئی مسلئہ تو نہیں ہورہا۔؟
ماں۔
اس نے بلبلا کر ٹوکا۔
مجھے شدید بھوک لگ رہی ہے ممی۔
وہ کہتے ساتھ ہی رو پڑی۔
تو کھانا کھائو نا بیٹا؟ ممی پریشان ہو گئ تھیں۔
ممی مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئ ہے۔
وہ روتے ہوئے بے ربط بول رہی تھی۔
کیا ہوا بیٹا مجھے بتائو میرا دل ہول رہا ہے۔۔ ممی کی پریشانی بھری آواز اسکے الفاظ منہ میں اٹکنے لگے
میں نے اپنا بہت نقصان کر لیا ہے ممی۔
کتنا بڑا پیسے چاہیئے؟
انکا ذہن بس اتنے نقصان تک ہی رسائی کر سکا۔
مجھے بتائو کتنے؟ مت فکر کرو ڈیڈا بھجوا دیں گے میری جان روئو مت۔ آج تک کبھی کچھ کہا ہے ہم نے نقصان کرنے پر۔ بتائو کتنے پیسے چاہیئیں؟؟
ممی ۔۔ اسکی ہچکیاں بندھ گئیں۔
ممی پیسہ اس نقصان کا مداوا نہیں کرسکتا۔ میں نے خود کو برباد کرلیا ہے ممی۔۔
اسکی بات اسکا بلکنا ممی سناٹے میں آگئ تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا لدی پھندی داخل ہوئی تھی۔ اریزہ فورا مدد کو آئی تھی۔ اسکا سامان کمرے میں پہنچا نے میں مدد کرانے لگی۔
تم اتنا سامان اٹھا کر کیسے آئی ہو ؟
ہوپ نے ناک چڑھا کر پوچھا تھا۔
یون بن دروازے تک سب سامان رکھ کر گیا ہے۔ نامجا شنگو کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے۔
گوارا کھلکھلا کر اترائئ۔ اریزہ مسکراہٹ دباتے اسکے شاپروں کو اٹھا کر بیڈ کے ساتھ ٹکانے لگئ۔
سامان ڈھونا جانوروں کا کام ہوتا ہے اور میرے خیال میں ۔ انسان کو اپنا بوجھ اتنا بڑھانا ہی نہیں چاہییے کہ اسے کسی سماجی جانور( انسان) کی مدد لینی پڑے۔
ہوپ اور اپنے بے وقت کے قنوطئ پن سے باز آجائے۔
گوارا نے شاپر اٹھا کر اطمینان سے بیڈ پر نیم دراز ٹیک لگائے بیٹھی ہوپ کے سینے پر دے مارا۔
چپ۔کر بے تکی لڑکی۔
کہہ سیکی۔
گالی دیتی ہوئئ وہ سیدھی ہوئئ۔
شاپر واپس گوارا کو مارنے لگی تو اس نے ہاتھ اٹھا کر روکا
تمہارے لیئے ہی ہے وہ سوئٹر۔
ہوپ دانت کچکچاتے ٹھٹکی۔ شاپر کھول کر دیکھا تو سرمئی سے رنگ کی بے حد خوبصورت سوئٹر نکلی۔
وائو بہت پیاری ہے۔
اریزہ نے فورا تعریف کی۔
اور یہ تمہارے لیئے۔
گوارا نے آگے بڑھ کر سب سے بڑا تکیئے جیسا شاپر اسکی جانب بڑھایا۔
یہ کیا تم میرے لیے رضائی لائی ہو۔؟
وہ حقیقتا یہی سمجھی تھی۔ پھر ہوپ کو چڑانے لگی۔
دیکھ لو تم سے ذیادہ گوارا میری اچھی دوست ہے تمہارے لیئے تو بس ایک سوئٹر آئی ہے میرے لیئے پوری رضائئ۔
بولتے ہوئے اس نے پورا شاپر کھولا پھر ہکا بکا رہ گئ۔
اس کی لن ترانی پر گوارا او رہوپ دونوں ہنس دیں۔
یہ کیا تم میرے لیئے بھی یہ بھالو والا جیکٹ لے آئیں
اس نے روہانسا سا ہو کر کھولا
وہ بڑا سا موٹا فوم والا گھٹنوں تک کا پیراشوٹ جیکٹ تھا۔ آجکل کوریا میں ہر دوسرا لڑکا لڑکی یہی پہنے پھر رہے تھے وہ بھئ ہڈ چڑھا کرسر پر تو بالکل لگتا کہ برفانی کالے بھالو پھر رہے ہیں۔
جی بالکل۔ ہوپ کے پاس بھی یہ جیکٹ ہے اور میرے پاس بھی صرف تمہارے پاس نہیں تھا سو اب ہم تینوں بھالو بن کے سوپ پینے چلیں گے۔
گوارا نے کھڑے کھڑے پروگرام بنایا۔
کیوں؟ مجھے بالکل اچھے نہیں لگے یہ بندہ موٹا بھی لگتا ہے اور کارٹوں بھی۔
اریزہ نے ناک چڑھائئ
اور شدید سردی برفباری میں گرم بھی رہتا ہے۔ ہوپ نے جملہ جوڑا۔
تو اور کیا اتنی ٹھنڈ میں مجھے تو یہ خوف ہو رہا تھا کہ کسی دن یہ اکڑی ہوئی واپس آئے گئ۔
گوارا دھپ سے بیڈ پر گری
بہت تھک گئ میں آج۔اریزہ کافی تو پلوا دو مجھے۔
تم نے ویسے کیوں تحفہ لیا ہے میرے لیئے۔
ہوپ کی عدالت لگ گئ تھئ۔ گوارا کی جانب رخ کرکے وہ گاڑھئ ہنگل میں بولی۔ اریزہ باہر نکلتے نکلتے واپس پلٹ آئی۔
دونوں جب اپنی مادری زبان میں بات کرنے لگتی تھیں تو اختتام ہمیشہ ہاتھا پائی ہی پر ہوتا تھا۔
گائوں جا رہی ہوں اپنے خاندان والوں کیلئے تحفے لیئے تو دوستوں کیلئے بھئ لے لیئے۔
گوارا نے جان کر انگریزی میں جواب دیا۔
میں دوست کب بنی تمہاری۔۔
ہوپ کہاں باز آنے والی تھی۔
ہوپ کبھی کسی کے پر خلوص انداز میں کوئی مہربانی کرنے پر اسکا صرف احسان مند بھی ہوا جا سکتا ہے ہر تحفےکو سختی سے ٹھکرایا نہیں جاتا ہے۔
اریزہ نے گوارا کو جواب دینے کی زحمت سے بچا لیا تھا۔
ہوپ چند لمحے دیکھتی رہی۔ پھر دھیرے سے بولی
شکریہ۔ آج بڑے عرصے بعد کسی نے مجھے اپنا سمجھ کر تحفہ دیا ہے۔
اسکی بات پر اریزہ بھی چپ ہی رہ گئ۔
تم دونوں بیٹھو میں سب کیلئے کافی بنا کر لاتی ہوں۔
چند لمحے لگے تھے وہی ہموار لہجہ اور سپاٹ انداز وہ اپنا چکی تھی۔
میں۔ اریزہ نے کہنا چاہا مگر وہ بجلی کی تیزی سے اسکے پاس سے ہو کر گزرتی چلی گئ۔
اریزہ کندھے اچکا کر گوارا کے پاس بیڈ پر چڑھ کر بیٹھ گئ
جانے دو اسے ہمارے سامنے رونا نہیں چاہتی وہ۔
گوارا کے کہنے پر وہ سر ہلا گئ۔
تم کب واپس آئوگی۔ اسےسوچ کے اداسی ہو رہی تھی۔
میں کرسمس نیو ائیر سب منا کر واپس آئوں گی۔ گوارا نے انگڑائی لی۔ اریزہ نے اداس سی شکل بنا لی تھی
کل سے یہ جیکٹ پہن کر جانا یہ نہ ہو کہ اکڑی ہوئی واپس آئو۔
گوارا نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا تھا۔
یہ تو مجھے گھٹنوں سے بھی نیچے تک آرہی ہے۔۔
اریزہ پہن کردیکھنے لگئ بیڈ پر کھڑے ہو کر جب دیکھا تو واقعی اسکے گھٹنوں سے بھی نیچے تک آرہا۔تھا جیکٹ
ہاں تو یہ ہوتا ہی اتنا بڑا ہے تاکہ ٹھنڈ نہ لگے۔
گوارا نے کہا تو وہ اچھل کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کودی۔ بڑے سے آئینے میں وہ واقعی بھالو۔ہی۔لگ رہی تھی۔
کیسی لگ رہی ہوں؟ وہ۔آئینے میں گوارا کے عکس کو دیکھ کر پوچھ رہی تھی جو اسکی پشت پر تھی۔
پیاری۔
میں کیسی لگتی ہوں تمہیں؟ گوارا نے جوابا پوچھا۔
پیاری۔
اور ہوپ؟ وہ اس سے پے در پے سوال کر رہی تھی
وہ بھئ۔
اور جی ہائے۔۔
وہ بھی ۔ اس نے روانی میں کہا پھر منہ پھلا کر بولی
تھوڑی سی بری ہے وہ۔
اور کم سن۔۔ سوال ختم نہیں ہوئے تھے۔
پیارا ۔۔
اور۔یون بن۔ گوارا کے کہنے پر۔وہ مڑ کر۔گھورنے لگی
تم۔میرے ساتھ ریپڈ فائر کھیل رہی ہو؟
ہاں ۔گوارا نے آرام سے مان لیا پھر ٹوک دیا
تم نے ٹیمپو توڑ دیا اب دوبارہ مگر وقت ضائع کیئے بنا جواب دینا۔
اوکے۔ وہ کندھے اچکا کر بیڈ پر چڑھ گئ
پسندیدہ پھول؟ ?favourite flower
گوارا اسے تولتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
گلاب۔۔ Rose
پھل؟ ?Fruit
آم۔۔ Mango
اریزہ کو۔مزا آرہا تھا اس کھیل میں۔
ایکٹر؟ ? actor
فواد خان….. Fawad Khan
ملک۔۔ Country
پاکستان ۔ Pakistan
تمہیں کوریا پسند نہیں؟
گوارا نے سوال بدلا
You dont like Korea?
اچھا ہےکوریا۔ Korea is good
صاف اچھا موسم اچھے لوگ….
its clean nice people are good
Do you like rain?
yes
تمہیں بارش اچھی لگتی ہے؟
ہاں۔۔۔
Does it rain in Pindi?
yeah alot
پنڈی میں بارش ہوتی ہے؟
بہت ذیادہ۔۔
Are you sleepy?
No..
تمہیں نیند آرہی ہے؟
نہیں۔۔
Are you hungry?
yeah little bit
بھوک لگ رہی ہے؟
ہاں تھوڑی سی۔۔
Are you thirsty?
yes
پیاس لگ رہی ہے؟
ہاں۔۔
Are you divorced?
yes..
تمہیں طلاق ہوگئ ہے؟
ہاں۔
وہ روانی میں بول کر چونکی۔ ۔
ہیں کیا؟
گوارا مسکرا دی۔ کمرے میں ٹرے میں کافی بنا کرداخل ہوتی ہوپ کے ہاتھ سے ٹرے دھڑام سے گری تھی۔ تینوں مگ گر کر چکنا چور ہو گئے تھے۔ چھناکے کی آواز پر وہ دونوں چونک کےمتوجہ ہوئیں۔
جلی تو نہیں؟
اریزہ سب سے پہلے بھاگ کے اسکے پاس آئی تھی۔ ہوپ نے کانپتے ہاتھوں کو چھپانے کی سعی کرتے ایکدم سے مگ کے ٹکڑے اٹھانے کیلئے ہاتھ بڑھادیئے۔
پاگل ہوئی ہو کیا ؟ اریزہ چیخی
کرچیاں چبھ جائیں گی تم مجھے دکھائو ہاتھ پائوں تو نہیں جلے
اسکو ٹٹولتی اریزہ فکرمندہ تھی۔
گوارا نے ایک نظر ان دونوں پر ڈالی پھر دانستہ رخ موڑ کر لیٹ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حسب معمول وقت پورا ہونے پر اپنے گرد لمبےگھٹنوں تک کے پھولے پھولے جیکٹ کو پہنتی باہر نکلی تھی۔ پھر بھی یخ بستہ ہوا نے جھر جھری سی دلا دی تھی۔
ناک چالو ہوئی تو اس نے سرد ہوا کو گھورتے ہوئے کہہ ڈالا
سنو کوریا تمہاری یہ سردی مجھے بالکل پسند نہیں آئی۔ اچھا۔ تھوڑی کم ٹھنڈ پھیلائو۔
ساتھ سے گزرتی اسی طرح ملفوف سی چندی آنکھوں والی نے حیرت سے اسے ہوا سے لڑتے دیکھا تھا۔ مگر وہ بے نیازی سے لہرا کر آگے بڑھ گئ۔
اسکا ارادہ بس سے جانے کا تھا۔ تھوڑا سا پیچھے اتر کر ایک دو چیزیں خرید لیتی۔ وہ یہی سب منصوبہ بناتی بس اسٹاپ پر چلی آئی۔
وین سے جائوں؟ ہرگز نہیں مجھے چھوڑ کر آئوبائک پرصارم۔
اٹھو۔
وہ کمبل میں گھسے بے خبر سوتے صارم کو مکے لاتیں مار کر اٹھا رہی تھئ۔
خدا کی قسم مجھے بخار ہو رہا ہے جبھی تو آج میں چھٹی کر رہا ہوں۔ دیکھو۔
اندر سے سرخ چہرے کے ساتھ منمناتی آواز نکلی تھی صارم کی
آکر سو جانا نا پھر۔ واپسی کا مسلئہ نہیں ایڈون سنتھیا چھوڑ دیں گے ابھی چھوڑ آئو نا اچھے بھائی نہیں۔ میرا آج کوئز ہے ورنہ کبھی نہ کہتی خود بھی چھٹی کر لیتی
اسکی شکل پر ترس آیا تو اسکا انداز بھی منت بھرا ہو چلا تھا
تم وین سے کیوں نہیں چلی جاتیں صرف ایک اسٹاپ دور ہو تم لڑکی۔ کونسا دو ویگنیں بدل کر جانا ہے تمہیں۔
وہ اسکے اصرار پر تھوڑا چڑا
تمہیں پتہ ہے نا مجھ سے بسوں ویگنوں کا سفر نہیں ہوتا کہیں کی کہیں پہنچ جائوں گئ۔ اوپر اتنے لوگوں میں بھر کر کیسے جائوں گی۔
اسکی اپنی مجبوری تھئ۔
دو ٹکٹ لینا آگے بٹھائیں گے۔ڈرائور سے کہہ دینا اور کسی کو آگے نہ بٹھائے۔
اس نے کہہ کر کمبل منہ تک تان لیا۔ وہ بے بسی سے چپ چاپ کھڑی رہئ ۔ چند لمحے کوئی سن گن نہ ملی تو اس نے دھیرے سے کمبل سر پر سے نیچے کیا وہ چپ چاپ کھڑی زمین کو جوتے کی نوک سے ہلکے ہلکے کرید رہی تھی۔
میرا کارپٹ خراب نہ کرو۔
وہ بھناتا ہوا اٹھ بیٹھا۔
اسکا اترا چہرہ بھی تو نہیں دیکھ سکتا تھا منہ پھلاتا کمبل اتار کر ایک طرف کرتے ہوئے چپل ٹٹولنےلگا۔ اریزہ کھل سی اٹھی
گاڑی بابا لے جا چکے ورنہ کبھی نہ کہتی تمہیں۔
احسان ماننا بھی تو سرشست میں نہ تھا۔
اس نے گھور کر دیکھا۔
شرٹ پینٹ استری کرکے دو میری بلکہ صرف شرٹ کر دو کل والی جینز سے ہی کام چلا لوں گا۔
وہ ہدایت دیتا اٹھنے لگا۔
کیوں ٹھیک ہیں کپڑے مجھے اتار کر واپس آکر سونا ہی تو ہے۔ وہ سمجھی نہیں
اب تمہاری وجہ سے اٹھ کر یونیورسٹی کا منہ دیکھوں تو کلاس بھی نا اٹینڈ کر لوں ۔ قسم سے اتنی طبیعت خراب ہے میری اور۔۔۔۔۔۔۔۔
تبھئ بس کے زورد ار ہارن سے وہ چونکی۔ یہ اسکی مطلوبہ بس تھی سو بیگ سنبھالتی لپک کر چڑھی۔
بس لبا لب بھری تھئ۔ ترقی یافتہ ملک کے ترقی یافتہ شہریوں میں مرد و زن کی تفریق نہ تھی ۔ کام کاجو نوکری پیشہ طلباء بوڑھے جوان سب ہی کھڑے تھے کوئی نشست خالی نہ تھی۔ وہ ایک لڑکی کے پاس گھس کر کھڑی ہوئی تو آگے پیچھے مرد ہی مرد بھرتے گئے۔ اگلے اسٹاپ پر وہ لڑکی بھی اتر گئ۔ طرح طرح کے لوگ اجنبی بولی اوپر سے سب مردوں میں گھرئ اس نے سمٹ کر اردگرد نگاہ دوڑائئ اسکے بالکل دوتین ہائی اسکول کے طلبا ء تھے ایک شائد ان میں لڑکی بھی تھئ مگر حلیہ سب کا ایک سا تھا بڑی بڑی جیکٹیں وہ آپ میں مگن تھے تو اسکے دائیں جانب ایک ستائیش اٹھائیس سال کا جوان شائد دفتر سے واپس آرہا تھا لیپ ٹاپ کندھے سے لٹکائے مکمل طور پر سامنے کھڑکی سے باہر دیکھتا اسکا لیپ ٹاپ دو ایک بار اسکی کمر سے ٹکرایا تو اس نے بنا اریزہ کے ٹوکے ہی لیپ ٹاپ کو اپنے جسم سے مزید قریب کر لیا تھا۔ موٹئ گھٹنوں تک کی پھولی سی جیکٹ میں وہ کسی بھی طرح کسی سے چھونہیں رہی تھی پھر بھئ عجیب سا احساس دامن گیر تھا۔ وہ لیپ ٹاپ والا لڑکا اگلے اسٹاپ پر اترنے کو جگہ بنانے لگا تو وہ یک قدم پیچھے ہوئی تبھئ اس نے مڑ کر دیکھا تو ادھیڑ عمر وہ بوڑھا شخص مسکرایا۔ اسکی مسکراہٹ اتنئ عجیب لگی اسے کہ اسے اپنے اس احساس کو جھٹلانے کی اب ہمت نہ ہوئی۔ بس دوبارہ چلنےکو تیار تھی کہ۔ وہ بوکھلا کر پکاری۔
اہجوشی۔
اسکی پاٹ دار آواز پر پوری بس متوجہ ہوئی۔
وہ مجھے بھی یہیں اترنا۔ وہ اتنے دنوں میں آتے جاتے اتنا بولنا سیکھ گئ تھئ۔ اسکی بات پر وہ ہائی اسکولر فورا سمٹ کر جگہ بنا گئے تھے۔ وہ بس سے اتنی تیزی سے اتری کہ لڑکھڑا گئ۔
بس اس کے اترتے ہی لمحہ بھر کی دیر کیئے بںا چل پڑی تھی
وہ چند لمحے اس جاتئ بس کو ہی دیکھتی رہ گئ۔
سب میسر ہے نا جبھی نخرے ہیں جس دن میں نہیں ہونگا نا اس دن ایک وین کیا دس بسیں بدل کر بھی جائو گی۔
صارم بائک چلاتا اسے سنا رہا تھا۔
پھولی سانسوں کو ہموار کرتئ وہ بس پھر اسی سوچ پر اٹک گئ تھئ
میں آخر یہاں کیا کر رہی ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آخر یہاں کیا کر رہا ہوں۔
اس دلکش مراکش حسن کی شاہکار شہد رنگ آنکھوں شہد رنگ بالوں والی لڑکی کو دیکھتے سوچ رہا تھا۔
نہایت پر اعتماد دراز قد تیکھے نقوش سیاہ جینز اور چست مسٹرڈ ہائی نئک میں ملبوس بلیک ہی لانگ کوٹ جس کے سب بٹن کھلے تھے۔ اسکے سینے پر جھولتی سونے کی موٹی زنجیر ریستوران کی روشنیوں کی جھلملاہٹ منعکس کر رہی تھی۔ اپنے کمر تک آتے لمبے سیدھے بال اس نے کھول رکھے تھے جو اسکے دائیں کندھے پر آبکھرے تھے مگر وہ اس سے بے نیاز کافی کی چسکی لیتے ہوئے اپنی تعلیم و تربیت پر مفصل لیکچر جھاڑ رہی تھی۔
میں نے کبھئ نہیں سوچا کہ ایک لڑکی ہو کر میں یہ کام نہیں کر سکتی وہ کام نہیں کر پائوں گی۔ مجھے خود پر بھروسہ اور یقین ہے جبھئ اس اسکالر شپ کیلئے میں نے جی جان سے محنت کئ۔ جینڈر اسٹڈیز کو عموما لوگ جنسیات سے تعبیر کرتے ۔
تو جنسیات کیا جینڈر اسٹڈیز کو ہی نہیں کہتے۔
اس نے بات برائے بات کہا تھا۔
یہی تو مسلئہ ہے۔ ایک مکمل مضمون اور ایک موضوع کو آپ کبھی ایک سا نہیں سمجھ سکتے۔ میرے تحقیقی مقالے کا مقصد اسی فرق کو واضح کرنا ہے اور۔
وہ جانے کیا کیا کہہ رہی تھی۔ وہ غائب دماغی سے سنتا بس کافی ختم کرنے کے بعد اٹھنے کا کوئی اچھا سا بہانہ سوچ رہا تھا۔
تبھئ ایک پھولی سی گھٹنوں تک کی جیکٹ ریستوران میں داخل ہوئئ۔اسکی توجہ خود بخود اسکی جانب ہوگئ تھی۔
مجھے ایک برگر چاہیے جس میں سبزیاں ہوں بس اس میں کوئی الگ سے ساس بھی مت ڈالیئے گا اور ساتھ کافی۔
وہ آرڈر کرکے اب نگاہ گھما کر خالی جگہ ڈھونڈ رہی تھی۔
اسکے بالکل برابر والی میزخالی تھی وہ سیدھی وہیں آکر بیٹھی گئی۔ اسکے دائیں جانب اسکی موجودگئ سے انجان۔
وہ لڑکی جب اپنی تمام تر قابلیت جھاڑ چکی تب اسے احساس ہوا کہ مخاطب کی توجہ بٹ چکی ہے سو تھک کر کافی کا کپ اٹھا لیا۔
آپ پڑھانے کے سوا کیا کرتے ہیں میں مشغلہ پوچھنا چاہ رہی ہوں۔
اسکا انداز تھوڑا سا خشک ہو چلا تھا۔
علی چونکا۔
کچھ نہیں۔۔جاب ریستوران دونوں کام محنت طلب ہیں نماز وغیرہ کے سوا وقت بچتا نہیں عربی کی آن لائن کلاس لیتا ہوں بس۔
اس نے اس تئیس منٹ کئ ملاقات میں یہ پہلا طویل جملہ بولا تھا۔ مخاطب نے ہوں کہنے پر اکتفا کیا۔ وہ تھوڑی بدمزہ ہوچکی تھی۔ اگر علی کی ظاہری شخصیت پرکشش نہ ہوتی تو شائد وہ اسکی عدم دلچسپی اور کسی حد تک روڈ بدمزاج انداز بھانپ کر دس منٹ میں ہی اٹھ کھڑی ہوتی۔
اس نے اپنے بالوں کو کندھے سے جھٹکا تو وہ بنا سوچے کہہ بیٹھا
آپ اسکارف نہیں کرتیں۔
نہیں۔ نہ ہی زندگی میں کبھی کرنے کا ارادہ ہے۔وہ اپنا پرس سنبھالتی مسکرا کر کہتی اٹھ کھڑئ ہوئی
یہ تو لازمئ ہوتا ہے مسلمان لڑکیوں پر۔ ؟
اسکا ارادہ بحث کا نہیں تھا۔ مگر وہ بھڑک کر انگریزی میں چبا چبا کر بولی۔
آپ کو اس بات پر زیادہ توجہ دینی چاہیئے کہ مسلمان لڑکوں کیلئے کیا لازم و ملزوم ہے لڑکیوں کی قبر انکا اپنا معاملہ ہوگی۔ آپ اپنی آخرت کی فکر کیجئے۔
اسکے تھوڑا اونچی آواز میں کہہ اٹھنے پر اردگرد سے کئی لوگ چونک کر انہیں دیکھنے لگے تھے۔
آننیانگ۔ وہ جھٹکے سے بیگ کندھے پر ڈالتی ہائی ہیل پر ٹک ٹک کرتی چلی گئ۔
وہ ان سب کی نگاہوں کا مرکز خود کو محسوس کر رہا تھا۔
اس میں سبزیاں ہی ہیں نا بس؟ گوشت تو نہیں
اٹک اٹک کر ہنگل بولتی اریزہ کی بات پر وہ چونک کر دوبارہ اسکی جانب دیکھنے لگا تھا۔
آندے ۔ وہ ویٹرس سرو کرکے حسب روایت جھک کر سلام کرتی چلی گئ۔
اسے کافئ زور سے بھوک لگ رہی تھی سو سینڈوچ اٹھا کرفورا کھانا شروع کر دیا تھا۔
ہائے۔ ہائو آر یو؟
وہ اٹھ کر اسکی میز کے سامنے آکھڑا ہوا
نوالہ چباتے ہوئے اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو شناسائی کی واضح لہر اسکے چہرے پر دوڑ گئ۔
وہ بہت چھوٹے نوالے لیتی کھا رہی تھی جبھی فورا سر کے اشارے سے جواب دیتی نوالہ جلدی سے چبا کر نگل گئ
ہائے آپ کیسے ہیں۔؟ ۔ بیٹھیئے۔
اس نے سینڈوچ پلیٹ میں رکھ لیا تھا ۔ علی اسے بغور دیکھ رہا تھا۔ وہ مکمل غیر ملکی تھی۔
آپ کو لگتا ہے کوریا راس نہیں آیا ابھی تک ۔ وہ خود ایک جیکٹ میں ملبوس اسکے اتنا ملفوف ہونے پر شائد چوٹ کر رہا تھا۔ وہ خفیف سی ہوئی۔
مجھے اتنی سردی سہنے کی عادت نہیں شائد اسلیئے۔۔
آپ بھی لیجئے۔ اس اخلاقا ایک اسکی جانب پلیٹ کو بڑھا دیا۔
معزرت اس میں جو ساس ڈالی گئ ہے اس میں بڑا حصہ سور کے گوشت کا ہوتا ہے میں نہیں کھا سکتا۔
اس کو عادت ہو چکی تھی تفصیل سے بتانے کی۔ اسکی بات پر اریزہ چونکی
نہیں بھئ۔ یہ سبزیوں کا سینڈوچ ہے اس میں گوشت نہیں۔ پورک تو میں خود نہیں کھاتی۔
گوشت نہیں مگر اس میونیز کے ساتھ جو مصالحے دار چٹنی ذائقہ بڑھانے کیلئے ڈالی گئ ہے اسکو پورک میں ہی پکایا جاتا ہے۔
اس نے باقائدہ سینڈوچ کھول کر اسے دکھایا۔
لال چٹنی جو ذائقے میں بہت اچھی لگی اس میں سور؟
وہ سینڈوچ پلیٹ میں رکھ کر فورا کھڑی ہو گئ۔
آگاشی ۔ اس نے اسی ویٹرس کو پکارا۔
میں نے کہا بھی تھا مجھے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے اس میں سور کہاں سے آگیا؟
اسکے قریب آتے ہی وہ مٹھیاں بھینچ کر چلا اٹھی۔
چھے سو ہمنبندا۔
اگلی جھک جھک کر معزرت کرنے لگی۔
میں نے صاف کہا تھا مجھے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے اس میں گوشت وہ بھی سور کا کیوں ہے؟
اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ تھی۔
اسکو غصے میں دیکھ کر علی چوکنا سا ہوا۔
آئیم سوری۔
لڑکی کی انگریزی اس لفظ کے بعد ختم ہوگئ تھی۔ وہ۔یقینا کوئی ہائی اسکولر تھی ۔ کم عمر سی سہم سی گئ۔ بات تو انگریزی کی سمجھ گئ مگر جواب دینا نہ آیا۔ تو سر جھکا لیا۔
یہ کہہ رہی ہے اسے سبزیوں کا سینڈوچ چاہیئے آپ نے اسے یہ ساس ڈال کر کیوں دیا؟
علی نے ترجمہ کیا۔
جی وہ اس سبزیوں کے سینڈوچ میں ہم کوئی نہ کوئی ساس استعمال کرتے ہیں ۔ اس وقت بھی میں نے پوچھا تھا لال چٹنی ڈال دوں تو انہوں نے ہامی بھر لی تھی۔
وہ بے چارگی سے صفائی دینے لگی۔
کیا کہہ رہی ہے یہ؟ اریزہ علی کی۔جانب گھومی۔ اس نے اشارے سے تحمل سے کام لینے کو کہا۔ اور اس لڑکی کی۔جانب متوجہ ہوا۔
مگر یہ چٹنی تو سورکے گوشت کے ساتھ بنتی ہے نا؟
علی نے پوچھا۔ تو وہ سر۔جھکا گئ۔
چھے سو ہمبندا۔ ( معزرت خواہ ہوں)
مگر اس میں سے گوشت کے ریشے نکال دیئے تھے اور کھمبیاں ڈال دی ہیں ہم نے۔ یہ خاص ساس ہماری پہچان ہے خاص کر اس سینڈوچ اور اس ذائقے کیلئے لوگ دور دور سے ہمارے ریستوران آتے ہیں۔ یقین جانئے یہ کسی بری شے سے نہیں بنی ہے۔
اس نے جھک جھک کرمعزرت کرنے کے بعد تفصیل سے صفائئ پیش کی۔ اسکی ہنگل اریزہ کے سر پر سے گزرتے دیکھ کر علی ہی مدد کو آیا اور ترجمہ کیا۔
مگر اس ساس میں ڈالا کیا جاتا ہے؟
وہ سر پیٹ لینے کو تھی۔ اپنا۔
لال مرچ ، سویا ساس ، چینی، سرکہ، ہڈیوں کا سوپ۔۔۔
اجزاء بتاتے ہوئے علی تھما۔ وہ ابھی بھی جانے کیا کیا بتا رہی تھی۔
کس جانور کئ ہڈیوں کا سوپ؟
وہ سر پکڑ گئ
سور نہ بھی ہو بکرا، مرغی مچھلئ گائے میں بنا حلال ہوئے کسی جانور کا گوشت نہیں کھا سکتی بھئ۔
اسکا چہرہ دیکھنے والا تھا طیش سے سرخ بے بسی سے مٹھیاں بھینچتی۔ اور شائد رونے کا بھی ارادہ بن رہا تھا۔اگر نہیں بھی تو بھی شکل سے یہی لگ رہا تھا۔
میں بہت معزرت خواہ ہوں آپکےلیئے سادہ چیز سینڈوچ لے آتی ہوں اس کی بے شک آپ ادائیگی بھی واپس لے لیں۔
وہ بچی شائد اریزہ کی طرح ہی رونے کو تیار لگ رہی تھی۔
آپ جائیں۔ علی نے اسے جانے کو کہا تو وہ پھر جھک کر معزرت کرتئ چلی گئ۔
کونسا گوشت تھا اس میں ؟
وہ تفتیشی انداز میں پوچھ رہی تھی۔ علی گہری سانس لیکر رہ گیا۔
مجھے اتنی بھوک لگ رہی تھی کہ اتنا ذیادہ کھا بھی گئ۔ حد ہے۔
وہ بڑ بڑ کر رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس میں تیرا گھاٹا میرا کچھ نہیں جاتا ذیادہ پیار ہو جاتا تو میں سہہ نہیں پاتا۔
دھیمی بجتی آواز ریستوران کا خوابناک سا ماحول گرم گرم روٹی اور چکن کڑاہی۔ ویٹر نے لا کر ان کی میز پر رکھی تو علی نے اسے شروع کرنے کی دعوت دی۔
میرا واقعی کچھ کھانے کا ارادہ نہیں ہے۔
وہ منہ پھلائے تھئ۔ علی کو ہنسی آگئ۔ اس نے روکنے کی کوشش بھئ نہیں کی۔
تم مزاق اڑا رہے ہو میرا؟
وہ اٹھ کھڑی ہوئئ۔
اسکے تیور کڑے تھے۔
ہرگز نہیں۔ بیٹھو بیٹھو۔ اسے بھڑکتے دیکھ کر وہ فورا ہنسی روک کر اپنے مخصوص اچھے بچے والے انداز مین واپس آیا۔ وہ خفا خفا سی دوبارہ بیٹھ گئ
مجھے بس تمہارے معصوم تاثرات نے ہنسا دیا۔ اتنا غصہ پورک کھا لینے پر یقینا تم جانوروں سے بہت پیار کرتی ہوگئ۔امریکہ میں تو بہت سے لوگ جانوروں کی فارمنگ اور وہاں ہونے والے جانوروں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کی وجہ سے سبزی خور ہوجاتے ہیں مجھے نہیں پتہ تھا پاکستانی بھی
اس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو وہ چٹخ کر بولی
مجھے ہرگز ایسا کوئی مراق نہیں
اچھا غصہ تھوک دو۔ اب یہ پاکستانی ریستوران ہے یہاں چکن ہی ہے سور نہیں کھانے سے کیا ناراضی۔
اس نے صلاح جویانہ انداز میں کہا تو اریزہ کو غصہ تھوکنا پڑا۔ اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ پھر علی اسکا کون لگتا تھا جو اسے نخرے دکھاتئ۔ سو دل مار کر کھانا ٹونگنے لگی۔
کھانے کے بعد میٹھے میں آج کی سگنیچر ڈش رس ملائی تھی۔ سو علی نے وہی منگوا لی۔ رس ملائی ہرگز بھی ذائقے دار نہیں تھی بلکہ منہ میں چبانے لائق سخت تھی۔ اسے ذرا پسند نہیں آئی اسکا برملا اظہار بھی کردیا۔
بالکل مزے کی نہیں اتنی سخت ہے اورمٹھاس بھی کم ہے۔ ایسی رس ملائی کھلائیں گے کورین کو تو وہ پاکستانی کھانے خاک پتھر کھانے آئیں گے۔
وہ بڑ بڑائی تو علی بے ساختہ ہنس دیا۔
یقین کرو کورینز کو نہیں پتہ کہ رس ملائی کو نرم اور ذیادہ میٹھا ہونا چاہیئے ہمیں یہ ایسے بھی پسند آئی ہے۔
اسکے کہنے پر وہ کندھے اچکا کر رہ گئی۔
واپسی پر علی اسے خود ڈراپ کررہا تھا۔ مکمل سنجیدگی سے سڑک پر نگاہ جمائے ڈرائیو کر رہا تھا۔ اس نے ایک نظر اسے بغور دیکھا۔ تصویر میں وہ جتنا شاندار لگتا تھا اصل میں اس سے کہیں ذیادہ لگ رہا تھا۔ ہلکی ہلکی شیو بڑھی ہوئی تھی جو اسکے گورے چہرے پر بری نہیں لگ رہی تھی البتہ رف اور ٹف سی لک آرہی تھی اسکی۔گول سا بیضوی چہرہ چندی مگر بڑی آنکھیں باریک لب مکمل کوریائی نقوش۔ مگر لہجہ امریکی تھا انگریزی بولنے کا۔
ہیون کے نقوش تیکھے ہیں۔ آنکھیں کھنچی سی اور چہرہ بھی گول سا نہیں۔ شائد اسکی والدہ کے نقوش ملنے سے۔ وہ بلا ارادہ تفصیلی تقابلی جائزہ لے بیٹھی۔
میں ہیون کو کہاں سے یاد کرنے بیٹھ گئ۔
خود پر اسکی توجہ محسوس کرکے علی یونہی اسکی جانب دیکھ کر مسکرا دیا۔ تو وہ کھسیا کر رخ بدل گئ۔
مجھے بہت شرمندگی ہورہی ہے میں پہلی دفعہ آپکو جتنی زحمت دے چکی اسکا شکریہ بھی ڈھنگ سے ادا نہیں کر پائی اور مزید احسان چڑھا لیا ہے آپکا۔
ونڈ اسکرین پر نگاہ جمائے وہ صاف گوئئ کہتی گئ۔
ڈونٹ بی سو فارمل۔ تم ہیون کی دوست ہو اور ہیون میرا ۔اس ناطے ہم میں جان پہچان کا رشتہ ہے اور جانے کل کو اس سے گہرا رشتہ بن جائے کیا خبر وقت کا۔ جملے کے آخر تک اسکی آواز دھیمی ہوگئ تھی ۔
آپکئ انگریزی بہت اچھی ہے۔ لہجہ بالکل امریکی ہے آپکا۔ بات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے آپکی بہ نسبت باقی کورینز کے۔
خاموش رہنے کی عادت نہ تھی اسکی بات پر دھیان بھی نہیں دیا تھا کہ چونکتی۔ جھٹ اگلا سوال جڑ دیا۔
میں امریکہ میں رہا ہوں اسکولنگ وہیں کی ہے ہائی اسکول میں تھا جب واپس آیا پھر ہائی اسکول کوریآ سے مکمل کیا پھر دوبارہ امریکہ چلا گیا تھا اپنی فیانسی کے ساتھ شائد اسلیئے۔
اس نے اپنی طرف سےتفصیلی جواب دے کر اسکا تجسس دور کرنا چاہا۔
وہ مزید کوئی سوال پوچھتی مگر اسکا فون بج اٹھا تھا
گوارا تھئ پوچھ رہی تھی کہ کہاں ہو کب تک واپسی ہے۔
بس گھر پہنچنے ہی والی ہوں پانچ منٹ میں۔خیریت؟
ہاں بس کھد بد ہو رہی تھی ۔۔ وہ ہنسی۔۔۔
تفصیل جاننے کی۔ چلو گھر آئو جلدی۔
اس نے فون بند کر دیا تھا۔ اریزہ جو وجہ پوچھنے والی تھی کندھے اچکا کر رہ گئ۔
عمارت کے قریب گاڑی رکی تھی۔وہ سرعت سے اتر کر ڈرائیونگ سیٹ کے پاس آئی۔۔
شکریہ اور زحمت کیلئے معزرت۔
انتہائی رسمی انداز مگر جھک کر کوریائی انداز میں بولی تھی۔
اسکے منہ سے ہنگل دلچسپ لگتی تھی۔
وہ ہنس پڑا۔ اس بے موقع ہنسی پر وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
آئیندہ کچھ بھئ کھانے لگو تو یہ جملہ بولنا
ہیم پیگو چھوسے او۔ اس کا مطلب ہوتا ہے سور نکال کے دو۔ سور ایک اچھا گوشت سمجھا جاتا ہے کوریا میں اور خاص کر غیر ملکیوں کو دیکھ کر مہمان نوازی کے لیئے خاص کر ہیم پیش کیا جاتا ہے یہ انکی جانب سے خلوص کا اظہار تھا۔ ابھی بھی جو سینڈ وچ تم کھا رہی تھیں یہ اس ریستوران کی سگنیچرفوڈ تھئ اور خاص تمہیں خوش کرنے کو مہنگا والا ساس ڈال کر تمہیں دیا گیا تھا۔ اب یہ اس بے چاری کی قسمت کہ تمہیں سور کا ذائقہ نہیں پسند۔ بہر حال ایک کوریائی ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ انکی پوزیشن کلیئئر کر دوں ۔
اس نے سادہ سے انداز میں وضاحت کی تو وہ مسکرا دی۔
ذائقے کی بات نہیں یہ منع ہے ہمیں کھانا لیکن بہر حال یہ بات سب تو نہیں جانتے۔ خیر شکریہ آئیندہ میں یاد رکھوں گی۔
ہیم پیگو چھوسے او۔۔
اس نے تائید چاہی۔ اور غیر متوقع طور پر درست تلفظ سے کہا۔
دے۔ وہ سر ہلا کر بولا۔
ہیم پیگو چھوسے او۔ اور کچھ ہنگل کا یاد کروں نا کروں یہ پکا یاد کرلوں گی۔
وہ بار بار دہرا رہی تھی۔
اوکے ٹیک کیئر گڈ نائٹ۔وہ مگن سے انداز میں ہاتھ ہلا کر کہتی جواب کا انتظار کیےبنا کمپائونڈ کی جانب بڑھ گئ۔
وہ گڈ بائے کہتا خفیف سا ہو کر چپ ہو گیا۔
ہیم پیگو چھوسے او؟؟؟؟
وہ گاڑی چالو کر رہا تھا جب اس نے پیچھے سے پکار کر ایک بار پھر تصدیق چاہی
وہ حیران ہو کر سر ہلا گیا وہ کمپائونڈ سے پکار کر پوچھ رہی تھی۔
دے۔ جوابا اس نے بھی آواز لگائی۔
میں پکا یاد رکھوں گی اب اسے۔
ہیم پیگو چھوسے او۔
وہ وہیں سے اونچی سی آواز میں کہہ رہی تھی۔
اسے اسکے بچکانہ سے انداز پر ہنسی آگئ
اچھی بات ہے گڈ لک۔ اس نے پکار کر کہا تو وہ بھی ہنس کر مڑ گئ
دلچسپ لڑکی ہے۔
گاڑی ریورس کرتے ہوئے بھی اسکے چہرے پر محظوظ سی مسکراہٹ تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریزہ۔
کمپائونڈ میں اندر داخل ہوتے ہوئے اسے مانوس پکار سنائی دی۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو ہیون مسکراتا ہوا اسکے پاس چلا آیا۔ وہ بھئ مسکرا دی۔ جانے کیوں مگر اس وقت اسے دیکھ کر خوشی سی ہوئی تھی۔
جاب سے آرہی ہو؟ کیسا گزرا دن؟
لانگ کوٹ میں ملبوس جیبوں میں ہاتھ ڈالے آج اسکا انداز معمول سے ہٹ کر سنجیدہ سا تھا۔
ہاں ۔ اسے تھوڑی دیر پہلے کی کوفت یاد آئی تو دن کا زکر گول کر ڈالا۔
کہیں باہر ڈنر کریں۔
ہیون کے کہنے پر اس نے کلائی میں بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالی ساڑھے آٹھ بج رہے تھے اسکا تو لنچ ڈنر اکٹھے ہو چکا تھا۔ ۔
میں تو کھانا کھا کر آئی ہوں۔
اسکے جواب پر ہیون نے یوں سر ہلایا جیسے اسکا جواب متوقع ہو اسکے لیئے۔
پھر کافی؟
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ بھر بھر رس ملائی کھا کر آئی تھی ٹھنڈ میں کافی کی پھر بھی جگہ نہیں تھی مگر وہ صاف انکار نہیں کر سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے ایک بڑے سے مال میں بنے بریو ہارٹ کے مرچنڈائز اسٹور لیکر آیا تھا۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا اسے۔
اس ویک اینڈ پر بریو ہارٹ کا چیریٹی کنسرٹ ہے ۔ ہم دونوں اسکی پہلی قطار میں ہونگے۔ انکے پرستار پہلی رو کیلئے ایک دوسرے کی جان بھی لے سکتے ہیں۔ اس قطار میں میں اور تم انکی کنسٹمائز مرچنڈایز کے بغیر گئے تو ہمیں گھور گھور کر ہی کھا جائیں گے۔
اس کے الفاظ کے برعکس انداز بے حد سنجیدہ تھا۔ اسے ہنسی آگئی تھی۔ ہیون نے اسکو ہنستے دیکھا تو مسکرا دیا۔
اندر جہاں ہی اور تھا۔ بریو ہارٹ کی ویڈیوز کے مخصوص سیٹ بنے تھے جن پر جا کر انکے ارکان کے مخصوص پوز کے ساتھ پرستار تصویریں بنوا رہے تھے ایک جانب ٹی شرٹس جن پر بریو ہارٹس کے ممبران کی تصاویر لگی تھیں تو دوسری جانب کسٹمائز پوسٹرز جن پر آپ اپنی مرضی کے الفاظ لکھوا کر انکے کنسرٹ میں جھوم جھوم کر لہرا سکتے تھے۔ جھنڈے بیجز اسٹفڈ ٹوائز کی چینز ڈائریز میوزک البمز جن پر انکے اپنے ہاتھوں سے آٹو گراف ہوئے تھے۔ وہ بے حد دلچسپی سے سب چیزیں دیکھ رہی تھی۔ اسکی دلچسپی دیکھ کر وہ تفصیل سے ان چیزوں کے بارے میں لکھے کارڈز جن پر تفصیلات ہنگل میں لکھی تھیں اسے ترجمہ کر کرکے سنانے لگا۔
یہ گٹار وہ ہے جو سائی چھونگ انکا چینی بینڈ ممبر ایک کانسرٹ میں بجا رہا تھا اسکی اسٹرنگ ٹوٹ گئ تھی اور اسکا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا۔ اس پر اسکے خون کے قطرے ہیں۔ یہ ایک پرستار نے لاکھوں وون میں خرید کر یہاں رکھوایا ہے تاکہ دیگر پرستار دیکھ سکیں۔ اسلیئے اس پر برائے فروخت کا بورڈ نہیں یہ ایک پرستار کی عقیدت ہے ۔۔
ہیون کے بتانے پر وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔ شیشے کے باکس میں سجا وہ عام سا گٹار تھا مگر اسکی مالیت انمول ہو چکی تھی خون کے زرات کی وجہ سے۔
کہاں ہے خون۔ اس نے دیکھنے کے چکر میں باکس سے ناک چپکا دی۔
یہ یہاں ۔۔ کارڈ پڑھ کر اسٹرنگ کے جوڑ کے پاس اور گٹار کے پیٹ پر ننھے ننھے خون کے ذرات جو بہت غور کرنے پر بھی بمشکل دکھائی دے رہے تھے انگلی کے اشارے سے دکھائے۔ اور بنا اس اشارے کے وہ دیکھ بھی نہ پاتی مگر اب بھورے ہوتے دھبے دکھائی دے گئے تھے۔
واہ۔۔ واقعی خون لگا ہوا ہے ہیون وہ ابھی بھی بے خیالی میں ناک چپکائے بچوں کی طرح خوش ہورہی تھی۔
ہیون اسکو دیکھتے ہنسا پھر ہنسی تھمی دیکھتا ہی رہ گیا۔
حد ہے گانے سنو بس ۔ اتنا کافی نہیں الٹا یہاں انکے خاندان کا شجرہ تک لکھ ڈالا خون گٹار تصویریں شرٹیں لائٹس سب ہیں ابھی تک البمز نہیں دیکھنے کو ملیں۔ ہم پاکستانی تو بس ذیادہ سے ذیادہ بس البم خریدتے یا کوئی ائک آدھا کنسرٹ ہوا تو جا کر دیکھ لیا بس۔ اب یہ کیا پاگل پن ہوا
وہ حسب عادت ناک چڑھا کر بولتی گئ۔ تائید چاہنے والے انداز میں اسکی جانب دیکھا تو اسے بس ہونٹ ہلتے دکھائی دیئے بات سمجھ نہیں آئی۔
دے؟ وہ سوالیہ ہوا۔
اسکی غائب دماغی محسوس کرکے وہ ہنسی
تم بھی انکے فین تو نہیں خون دیکھ کر دکھ کے مارے بولتی بند ہوگئ۔
وہ اسے چھیڑ رہی تھی۔
نہیں مجھے سولو سنگرز ذیادہ پسند ہیں۔ اسطرح کے بینڈز میں گانا کم گلوکاروں کا ایکسپوژر ذیادہ رہ جاتا ہے۔ سادہ سا لو سانگ بھی درجن آوازوں کے ساتھ سننے کو ملتا ہے تو اسکا اثرزائل سا ہوتا جاتاہے۔
وہ خلاف عادت آج بے حد سنجیدہ سا تھا۔ہر بات سے اسکا اظہار ہو رہا تھا۔ اس نے کندھے اچکا دیئے۔
میں نے گانے کبھی اتنے غور سے نہیں سنے۔ بس جو اچھا لگا سنا گانے بھی کوئی غور کرنے والی چیز ہیں۔
وہ سرجھٹک رہی تھی۔ ہیون خاموش ہو رہا ۔
لائٹ اسٹکس بینرز اور ٹی شرٹس خرید کر جب کائونٹر پر آئے تو اسکا بل اسکی توقع سے کہیں ذیادہ بن چکا تھا۔
اس نے اپنا پرس کھولا تب تک ہیون کریڈٹ کارڈ سیلز گرل کی جانب بڑھا چکا تھا۔
گھمسامنیدہ۔
سیلز گرل جھک کر شکریہ ادا کر رہی تھی۔ اس نے شاپرز اٹھانے کو ہاتھ بڑھائے تو ہیون نے اسے اٹھانے نہیں دیئے۔ گاڑی میں لا کر سب چیزیں پچھلی سیٹ پر ڈھیر کرکے وہ گاڑی لاک دوبارہ کرکے مڑا۔
ادھر ایک بہت اچھا کیفے ہے چلو اس میں بیٹھ کر کافی پیئیں۔
نہیں۔ اس نے سہولت سے انکار کر دیا۔ مجھے رش سے الجھن آرہی ہے۔
وہ جتنی سنجیدہ نظر آرہی تھی اسے اسکی بات پر یقین کرنا پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی سے اتر کر ہیون پچھلی سیٹ سے اسکے لیئے خریدئ ٹی شرٹس لائٹس وغیرہ کا شاپر الگ کرکے اسے دینے لگا تو اس نے تھاما ہی نہیں۔
مجھے انکی قیمت بتائو کیا بنی۔ اور اسکی قیمت مجھ سے لینے کا وعدہ کرو تب میں انکو ہاتھ بھی لگائوں گی۔
اسکا انداز بے حد سنجیدہ تھا
کین چھنا میں بھی تو جا رہا ہوں کانسرٹ میں مجھے۔۔
ہیون نے کہنا چاہا مگر وہ بات کاٹ گئ۔
اسکا مطلب ہے میں انکو نہیں لے سکتی۔ آننیانگ
وہ جھک کر خدا حافظ کہتی مڑ گئ۔
اریزہ شا۔
وہ اسکے پیچھے بھاگا۔ اسکو آگے آکر جا لیا۔
کیا ہو گیا ہے یہ ہم نے ساتھ جانے کیلئے ہی تو لیئے ہیں اور کیا ہم دوست نہیں ہیں؟ میں تحفہ نہیں دے سکتا تمہیں کیا؟
اسکے انداز میں اپنایئت بھری خفگی تھئ
دوستی برابری کی سطح پر ہوتی ہے۔ تم مجھے کتنی بار زیر بار کر چکے ہو کبھی لنچ پر مجھے پیسے نہیں دینے دیتے مجھے یہ تحفہ لینا اپنی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کے برابر لگ رہا ہے میں نے تو آج تک کوئی تحفہ نہیں دیا تمہیں۔
اسکا انداز بچکانہ ہو گیا تھا ہیون کھل کر ہنس دیا۔
اتنی سی بات۔ ٹھیک ہے مجھے اب تم سے اچھا سا تحفہ چاہیئے۔ وعدہ کرو۔ مجھے میری سالگرہ پر تحفہ دوگی میری پسند کا۔
اس نے اپنی چھوٹی انگلی اسکی جانب بڑھائی۔
وہ تحیر سے دیکھنے لگی۔ ہیون منتظر تھا۔
ہمارے یہاں جب کٹی کرنی ہوتی ہے تب ایسے انگلی ملاتے ہیں۔
اس نے منہ بنایا۔
کٹئ؟ ۔۔۔ وہ سوالیہ ہوا۔
مطلب تعلقات ختم کرنے کا اعلان ناراضگئ کا اظہار کرنے کیلئے ہم ایسے بچپن میں انگلی ملا کر منہ پھیر لیتے تھے۔
اس نے بتفصیل بتایا
ہیں وہ کیوں؟ وہ حیران ہوا۔ اس نے فورا ہاتھ واپس کر لیا۔
عجیب بات ہے۔ اچھا کلچرل شاک دیا۔ ہم کوریا میں پکا وعدہ کرنے کیلئے پنکی پرامس کرتے ہیں۔ مگر چلو میں تمہاری زبان پر اعتبار کرتا ہوں مجھے اچھا سا تحفہ چاہیئے۔ یاد رکھنا۔
اس نے اپنائیت بھری دھونس کے ساتھ اسکو تھیلے تھمائے۔
کب ہوتی ہے تمہاری سالگرہ۔ ؟
اس کو اب تحفہ لینے کی فکر ہو گئ تھی۔
بہت جلد ۔ وہ مسکرا دیا۔
آچھا اب اندر جائو تمہیں پہلے ہی ٹھنڈ بہت لگتی ہے۔
اس نے ٹوکا تو اسے بھئ احساس ہوا خنکی کا۔ سر ہلا کر خدا حافظ کہتی تیزی سے اندر بڑھ گئ۔ وہ وہیں کھڑا اسے نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتا رہا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفٹ میں اوپر جانے کا بٹن دبا کر اس نے یونہی موبائل جیب سے نکال کر دیکھا تو پانچ مسڈ کالز اور پندرہ پیغامات پڑے ہوئے تھے سب کے سب گوارا کے۔
کہاں ہوں ابھی تک پہنچیں نہیں؟
پانچ منٹ میں آرہی تھیں؟
کیا جواب دیا تم نے یہ ہی بتا دو؟
اچھا جواب دینے کا وقت بھی نہیں۔
اسکا مطلب ہے خوب مزے کیئے جا رہے ہیں۔
ٹھیک ہے میں سمجھ گئ ہاں ہوگئ۔۔
مبارک ہو ۔میں بہت خوش ہوں تم دونوں کیلئے۔۔۔۔
اسے ان تمام پیغامات کا کوئی سر پیر سمجھ نہیں آیا۔
لگتا ہے پی کے ٹن ہوئی وی ہے۔
اس نے یہی میسج لکھا
آر ئو ڈرنک۔
پھر لفٹ کا دروازہ کھلنے پر میسج ڈیلیٹ کردیا۔ اپارٹمنٹ کے سامنے آکر پاسورڈ سے دروازہ کھول کرتھکے تھکے انداز میں اندر داخل ہوئی تو سامنے لائونج کی دیوار پر لگا وال کلال سوابارہ بجا رہا تھا۔
آہ۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر رہ گئ۔
مجھے صحیح سیول کی ہوا لگ گئ ہے۔ سوا بارہ بجے یہاں میں کیسا آرام سے باہر گھومتی رہی ہوں۔ جبھی تو میرا واپس پاکستان جانے کا دل ہی نہیں کر رہا۔
وہ خود کو ملامت کرنا چاہ رہی تھی مگر سچ تو یہ ہے یہاں رہنے کا مزا بہت آرہا تھا۔
سب خریداری کے تھیلے اٹھا کر وہ دبے قدموں کمرے میں داخل ہوئی احتیاط سے صوفے پر ڈھیر کر کے کمر سیدھی ہی کی تھی کہ ملگجے اندھیرے میں ایک ہیولہ سا سامنے کھڑانظر آیا۔
ڈر کے مارے چیخ گھٹ ہی گئ سینے میں۔
ہوپ نے آگے بڑھ کر سوئچ آن کرکے کمرے میں روشنی کردی۔
تمہیں کیا ہوا۔
سانس بحال کرتی وہ دل پکڑ کر صوفے پر ہی آن بیٹھی تھی۔
ڈرا دیا تم نے۔ سوئی کیوں نہیں صبح نوکری پر نہیں جانا؟
اسکا لہجہ کڑخت ہو گیا تھا۔ بندہ کب تک ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار بن کے رہ سکتا ہوپ جیسی لڑکی کے ساتھ۔
رات بارہ بجے انجان ملک میں انجان لڑکوں کے ساتھ گھومتے ڈر نہیں لگا اپنے گھرکے اندھیروں سے خوف آرہا۔ صحیح دوغلی لڑکی ہو۔
اسکا انداز اور الفاظ اتنے سخت تھے کہ اسکے تن بدن میں آگ سی لگ گئ۔
تمہارے ساتھ مسلئہ کیا ہے۔ سیدھے منہ بات کرنے کی۔تمیز نہیں سکھائی کسی نے شمالی کوریا میں؟
وہ بھی اسے آج طعنہ دے ہی گئی۔ ہوپ کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ دوڑ گئ۔
اتنئ زندگی شمالی کوریا میں نہیں گزری جتنی اسکے گرد ممالک میں گزری ہے۔ یہ سب لہجے کی کڑواہٹیں ترقی یافتہ ممالک کے تمیز دار باشندوں کی دین ہیں۔ مگر شمالی کوریا کی ایک تربیت آج تک میرے ساتھ ہے۔ منافقت نہیں ہوتی مجھ سے۔جو کرتی ہوں سینہ ٹھونک کر کرتی ہوں۔
اسکئ یہ سب تقریر کا سیاق و سباق حوالہ متن کچھ بھی تو سمجھ نہ آیا تھا اسے۔ اسکی تحیر سے پھیلی آنکھوں میں طنز سے جھانکتی وہ باتھ روم کی جانب مڑ گئ۔
مطلب کیا ہے تمہارا ۔ بات پوری کرکے جائو۔
وہ پیچھے مٹھیاں بھینچ کر چلائی تھی ہوپ کو اسکے یوں طیش میں آنےسے جانے کیوں ٹھنڈ سی پڑی تھی کلیجے میں۔ پھر بھی باتھ روم کا دروازہ بند کرکے وہ بے آواز رودی تھی۔
میں بہت نرم انداز سے پیش آتئ رہی ہوں تمہارے ساتھ جسکا تم بہت ناجائز فائدہ اٹھا چکی ہو۔ آئیندہ میرے ساتھ بد تمیزی کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا سمجھیں۔
وہ حلق کے بل چلائی۔ اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی گوارا کو اسکی طیش بھری آواز نے چونکا دیا۔ ہاتھ میں پکڑے شاپر لیئے وہ بھاگ کر اندر اسکے پاس آئی تھی۔
کیا ہوا۔
یہ ہوپ ۔ میں اسے قتل کردوں گئ کسی دن۔ دیکھنا۔
دانت کچکچا کر کہتی سرخ بھبھوکا چہرے کے ساتھ وہ رو رہی تھئ۔ غصے کی شدت میں مٹھیاں بھینچ کر غصے کے مارے رودے کوئی۔ اس سے ذیادہ معصومانہ غصہ کیا ہو سکتا ہے۔ گوارا کے چہرے پر مسکراہٹ سی آگئ۔ پیار بھری۔
دفع کرو اسے ادھر آئو۔
اسے بچوں کی طرح اپنے ساتھ لگا کر وہ اسے باہر لے آئی۔
اسکا غصہ تم نہیں سمجھ سکتیں ۔اسکو نظر انداز کیا کرو بس۔ اسکے پیچھے اپنا اچھا گزرا دن برباد کرنے کی ضرورت نہیں۔
وہ اسکو سمجھاتئ بجھاتی کچن میں لے آئی۔ شاپرز کچن کائونٹر پر رکھ کر پہلے ٹشو رول لا کر سامنے رکھا۔ وہ سوں سوں کرنے لگی۔
مجھے لگا ہم آج خوب باتیں کریں گے رات کو نیند تمہیں آنی نہیں باتیں سننے کو میں ہی ہوں سو کچھ اچھا کھانے پینے کا انتظام ہونا چاہییے۔
یہ رہے حلال چپس ٹیگ دیکھ کر لائی ہوں ترکی کے بنے ہیں۔ اس نے جھٹ پٹ تیار ہونے والے چپس دکھائے ساتھ اپنی کارکردگی بھئ جتائی۔
، یہ کریکر تبوکی یہ فرائی چکن اسپیشل ایک پاکستانی ریستوران سے لیکر آئی ہوں۔ میرے لیئے یہ خاص والی کولڈ ڈرنک تمہارے لیئے سفید والی ۔
وہ بول بول کر چیزیں ٹھکانے لگانے لگی۔ اپنے لیئے وہ پورا کریٹ لیکر آئی تھی۔
اریزہ ٹھس سی بیٹھی رہی۔ وہ فریج بند کرکے مڑی تو اسے منہ پھلائے کہنیاں میز پر ٹکائے خفا خفا سے انداز میں میز کو گھورتا پایا۔
اب مجھے دکھائو جو ہیون سک نے دیا ۔۔ وہ مسکرا کر اسٹول کھینچتی اسکے سامنے آبیٹھی۔
مجھے اندازہ نہیں تھا کوریا میں لوگ پاپ موسیقی کو سننے کے ساتھ دیکھنا پہننا بھی پسند کرتے ہیں۔
وہ گہری سانس لیکر سیدھی ہوئی۔
اسکی بے تکئ بات پر گوارا نے اچنبھے سے دیکھا اسے۔
وے؟ آئی میں واٹ۔
اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا پھر فورا انگریزی میں بولی۔
ہیون نے مجھے دو لاکھ وون کے گفٹس دیئے۔۔
اریزہ نے منہ لٹکایا گوارا کی آنکھیں حیرت سے کھلیں۔
ارے نہیں۔۔ اس نے کم کرکے بتائی ہوگی کم از کم بھی پانچ لاکھ وون کی تھی۔خیر کیسئ لگی تم نے قبول لیا؟
وہ جانے کیوں پرجوش ہوئی۔
ہاں ظاہر ہے۔ اس نے گہری سانس لی مگر مجھے ہیون سے اتنا مہنگا تحفہ لینا اچھا نہیں لگا میں نے منع کیا لیکن اب سوچ رہی ہوں اسکا بدلہ مہنگا تحفہ دے کر اتار دوں۔ تم میری مدد کروگی نا اسکے لیئے اچھا سا تحفہ لینے کیلئے؟ اریزہ نے آس سے پوچھا
بالکل۔۔۔۔ وہ فورا اثبات میں سر ہلا کر بولی۔
مگر مجھے دکھائو تو کیا دیا اس نے۔اس نے بہت شوق سے پوچھا اسکا اشتیاق دیکھ کر وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔
لاتی ہوں۔ مگر مجھے لگتا نہیں مجھے فٹ آئے گی۔
کیوں اتنے تو پیارے ہاتھ ہیں تمہارے۔
گوارا نے کہا تو ہونٹ بھینچتی اٹھ گئ۔
بس ہاتھ ہی پتلے پیارے ہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا بنا پلک جھپکائے اسے دیکھے جا رہی تھی وہ تھوڑی سی گھبرائئ۔
کیا ہوا بہت چپکا ٹائٹ سا لگ رہا ہے نا۔
وہ جانے کیوں جھینپ سی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی شرٹ کے اسٹال میں میں میڈیم سائز نکال کر اس نے دیکھی پھر دوبارہ تہہ کرکے رکھتے بڑا سائز اٹھا لیا۔
ساتھ آئینے میں خود سے لگا کر ابھی دیکھ ہی رہی تھی کہ ہیون نے ٹوک دیا۔
اپنے ساتھ گوارا کو بھی گھسانا ہے اس ٹی شرٹ میں؟
دے؟ اسکی بے سروپا بات پر اس نے حیرانی سے گھورا۔
اس نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسمال سائز اٹھا کر اسے پکڑایا۔
یہ تمہیں آئے گی۔
آندے۔ وہ بے ساختہ بولی۔
انٹرنیشنل میں تو کبھئ مجھے لارج سے کم نہیں آتا۔ میں یہاں کی لڑکیوں کی طرح ہوا ہوائئ نہیں ہوں۔
وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولی۔
ہیون نے اسکوشرٹ ہاتھ میں تھمائی اور ایک جانب اشارہ کرکے بولا۔
یہ لو وہاں فٹنگ روم ہے جا کر پہن کر دیکھ لو۔
میں۔۔ یہاں۔
وہ گڑ بڑا سی گئ۔
ہاں ادھر جا کر پہن کر دیکھ لو ٹرسٹ می یہی سائز ہے تمہارا۔
ہیون کے دعوے سے کہنے پر وہ دانت کچکچا کر رہ گئ
میں یہاں۔۔ اس نے طائرانہ نگاہ دوڑائی تو کئی لڑکیاں چینجنگ روم میں جا کر ٹی شرٹ بدل چکی تھیں اب انہی ٹی شرٹس میں گلوکاروں کے قد آدم پوسٹرز کے ساتھ تصویریں بنوا رہی تھیں۔
جائو؟ ۔ اسے تزبزب میں پڑا دیکھ کر زور دینے والے انداز میں بولا۔
وہ میں تو کبھی اس طرح باہر چینج نہیں کرتی۔
اس نے جی کڑا کرکے کہہ دیا۔
کیا مطلب تم لوگ فٹنگ دیکھے بنا خرید لیتے ہو کپڑے؟
وہ اتنا حیران ہوا کہ وہ سٹپٹا گئ۔
نہیں پاکستان میں بھی مالز وغیرہ میں چینجنگ روم ہوتے ہیں۔ اس نے صفائئ دئ۔
بس میں استعمال نہیں کرتی۔
بالکل ہی گائودی سمجھ رہا ہوگا مجھے۔ وہ دھیرے سے بڑ بڑائی۔
کوریا ایک محفوظ ملک ہے اور یہ ایک مشہور کمپنی کا اپنا آئوٹ لیٹ۔ یہ بالکل محفوظ ہے دیکھو اور لڑکیاں بھی تو جا رہی ہیں۔
وہ جانے کیا سمجھا اسے تسلی دینے لگا۔
جائو یہ دونوں لے جائو۔
وہ کشمکش کا شکار دونوں شرٹس تھام گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چینجنگ روم میں خود کو دیکھتے وہ حیران ہی رہ گئ تھی۔
اسمال سائز بالکل جیسے اسکے لیئے بنا تھا۔
اسکا اندازہ کتنا صحیح تھا۔ میں کتنی اسمارٹ ہوگئ ہوں۔
وہ آئینے میں خود کو بے حد خوشی سے دیکھ رہی تھی۔
وائو۔ صارم کیسا مجھے موٹی موٹی کہتا رہتا تھا۔ اور میں یہ تین چیزیں چڑھا کر کیسا گول گپا بن کے پھرتی رہی ہوں یہاں۔ ہا ہا ہا۔ کوئی مجھ سا بھی احمق ہوگا۔ میری تو رخسار کی ہڈی بھی نکل آئی ہے۔
وہ اب اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
وزن کم کرو کسی طرح کے طعنے سننے والی اب سائز زیرو ہو چکی تھی
اف ۔ اس نے جھٹ دو تین تصویریں کھینچ ڈالیں۔
اسے گئے کافی دیر ہو چلی تو اس نے دروازے پر آکر دستک دی۔
اریزہ شا۔
دے۔
وہ پوز مارتی سیدھی ہوئی۔
آرہی ہوں۔
خود کو ایک بار پھر آئینے میں دیکھا تو سنجیدہ سی ہوتی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی تصویر اسکرال کرتے گوارا نے موبائل سے نگاہ اٹھا کر سامنے کھڑی اریزہ کو غور سے دیکھا۔
تصویر کے برعکس اس وقت وہ تھوڑی ڈھیلی شرٹ پہنے تھی۔
تمہیں یہ اسمال سائز ہی خریدنا چاہیئے تھا۔ یہ والا بڑا ہے۔
گوارا نے کہا تو وہ مسکرا کر اپنی جگہ آ بیٹھی
یار وہ بہت فٹ ہو جاتا۔
تو اس میں اتنی اچھی لگ رہی تھیں۔ ۔ گوارا نے کہا تو وہ کریکر اٹھا کر منہ میں رکھتے بولی۔
مجھے اپنا آپ اجنبی سا لگ رہا تھا۔
کیوں؟ گوارا کا سوال حاضر تھا
کوئی بڑی وجہ نہیں۔ اسکا انداز ٹالنے والا تھا۔
اچھا یہ بتائو ہیون نے کچھ کہا تمہیں؟
گوارا نے بھی اصرار نہیں کیا بات بدل دی۔
ہاں۔ اس نے گردن ہلائی۔
کیا۔۔۔ گوارا کا اشتیاق عروج پر تھا۔
اس نے کہا ہے کہ وہ میری پڑھائی میں مدد کرے گا۔ اور ہنگل سیکھنے میں بھی۔ پتہ ہے۔ تالی بجا کر خوش ہو کر کہتی وہ نیا کوئی قصہ سنانے لگی تھی۔
گوارا نے گہری سانس بھر کر اسے دیکھا پھر کین کھول کر شراب نگلتے ہوئے ہمہ تن گوش ہو گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے کیا سوچا ہے امتحان کی تیاری کے بارے میں۔
ڈرائیو کرتے ہوئے اس نے اچانک پوچھا تھا۔
ہاں۔ کچھ نہیں۔ ایڈون کہہ رہا تھا کہ وہ کسی اکیڈمی سے ہنگل کا کورس کرنے لگا ہے ساتھ امتحان کی تیاری بھی۔وہ اسکے گوشی وون سے قریب ہے اب مجھے تو وہ دور پڑے گا تو سوچ رہی تھی اس ویک اینڈ پر کسی
وہ دلچسپی سے گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی انداز جتنا سرسری تھا یقینا اس ویک اینڈ پر یہ کام ٹلنے ہی والا تھا۔
سگنل لال ہوا تو اس نے گاڑی روکتے ہوئے باقائدہ جھاڑ پلائی۔
بہت کم وقت ہے یہاں کے بچے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں تم ذیادہ آسان سمجھ رہی ہو۔
میں پڑھائی سر پر سوار نہیں کرتی ۔
اس کا انداز لاپروا تھا۔
ہیون نے مڑکر پچھلی نشست سے ایک شاپر نکال کر اسکی جانب بڑھایا۔
اس میں پراسپیکٹس ہے اور فارم گوارا کی مدد سے بھرنا کل لازمی اسکو جمع کروانا ہے۔
پکڑو۔ اریزہ کو حیران بلکہ بھونچکا بیٹھے دیکھ کر ٹوکا تو اس نے بوکھلا کر تھام لیا۔اور لفافے سے نکال کر دیکھنے لگی
فارم ہنگل کے ساتھ انگریزی میں بھی تھا۔
ہیون مزید بھئ کچھ کہہ رہا تھا
یہ تمہارے اپارٹمنٹ والی ہی روڈ پر پانچ منٹ کی واک پر اکیڈمی ہے۔ ایک غیر ملکی تنظیم کی غیر ملکیوں کی مدد کیلئے بنائی گئ اکیڈمی ہے۔ اس سے تم یہاں کے مروجہ معیار کے مطابق امتحان کو دینے کے قابل ہو سکو گی۔
کل تیار رہنا صبح میں پک کرلوں گا۔
مگر۔ اس نے شکریہ کہنا تھا مگر منہ سے کیا نکلا
ایڈون خود تیاری کر رہا ہے باقی بھی کر رہے ہوںگے ایک تم ہی سکون سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہو۔
اسکا انداز اپنایئت بھری ڈانٹ۔ وہ چپ ہی رہ گئ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یون بن اسے حیرت سے دیکھتا رہا۔
ایڈون نے سر جھٹکا پھر ہنکارا بھر کر کلب کی رونقوں پر نگاہ ڈالنےلگا۔
وہ دونوں ایک کلب میں آئے تھے۔
اور تمہیں لگتا ہے وہ تمہاری اس دھمکی سے ڈر کر ابارشن کروانے پر راضی ہوجائے گی۔
ہاں۔ ایڈون کا جواب مختصر تھا۔
تم اسکو کھانا بھی نہیں دے کر آئے ۔۔
یون بن کو افسوس بھئ ہوا
اسکو نوالے بنا بنا کر کھلاتا رہا ہوں جبھی اسے صورت حال کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہورہا ہے۔ ذرا سی بھوک سے مر نہیں جائے گی اتنا خود مختار ہونے کا شوق ہے تو پوری طرح خود مختار ہو میرے کندھے پر بندوق رکھ کر تو نہ چلائے نا۔ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے اتنی مشقت برداشت کر پاتی ہے۔۔ پاپا کی پرنسس نے کبھی ہل۔کر پانی نہیں پیا۔۔ بچہ پالیں گی ہونہہ۔
ایڈون کی تقریر کا ایک لفظ اسکے پلے نہیں پڑا تھا۔ ایڈون کو تھوڑی سئ چڑھ گئ تھی۔ اردو میں سب کہہ گیا یون بن کا یہی خیال تھا کہ یقینا اول فول بک رہا تھا۔۔ لہراتا ہوا وہ۔ڈانس فلو رکی جانب بڑھ گیا تھا۔ گوری چمڑیوں میں وہ دور سے چمک رہا تھا۔
بوتل دور کھسکا کر رکھتے ہوئے اس نے اپنا گلاس اٹھا کر گھونٹ بھرا۔
ناچتے ہوئے ایڈون کو کسی نے کندھے سے پکڑ کر دھکیلا تھا۔ دھڑام سے وہ فرش پر گرپڑا تھا۔
یہ پاکستانئ صحیح آئوٹ اینڈ آڈ ہیں۔
یون بن نے ایڈون پر نگاہیں جمائے ہوئے تبصرہ کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں نائٹ بلب کی مدھم روشنی پھیلی تھی۔ گوارا بے خبر سو رہی تھی۔ ہوپ کے بھی ہلکے ہلکے خراٹے گونج رہے تھے۔ ایک بس وہی جاگ رہی تھی ۔ موبائل میں اوپر نیچے کرتے جب بری طرح تھک گئ تو آہستہ سے اٹھ کر ٹیرس میں چلی آئی۔ سخت سردی نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔ وہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔ مگر اندر جانے کا دل نہ کیا۔ سامنے ایک چمکتا دمکتا سیول تھا۔ رات کے ساڑھے تین بجے بھی ننھے قمقموں کی طرح روشن شہر کی بتیاں۔
وہ سحر زدہ سی دیکھ رہی تھی۔
موبائل اٹھا کر تصویر بنائی۔ اصل کا عشر عشیر بھی نہ تھا۔
اس نے پھر بھی بلاگ پر لگا دی۔
ہاتھ سے چھٹتے لمحوں کی زنجیر تھامے
وہ اجنبی شہر میں کھڑی لڑکی
کیا دیکھتی ہے
کوئی بتائے اسے آج تو کل بن جائے گا
کہ کل تو پھر آجائے گا
یہ سعی بے کار ٹھہرے گی
لمحے کہاں قید ہو پاتے ہیں
ازل سے گزرتے رہے ہیں
چھوڑو جانے دو۔۔
اب مٹھی سے خون رسنے لگا ہے۔۔۔
وہ لکھ کر ہنسی تھئ۔ کیا لکھا ہے۔ اتنا قنوطی پن کہاں سے آیا اسے خود معلوم نہ تھا اسکے بلاگ کے پرستاروں کو بھی معلوم نہ تھا۔ دھڑا دھڑ پیغامات آنےلگے تھے
پہلا کمنٹ
کیا ہوا؟ اداس ہو ؟
دوسرا
اوئے یہ تو میری پڑوسن نکلی پچھلی چھت پر میں کھڑا ہاتھ ہلا رہا ہوں
ہیں۔
اس نے آنکھیں پھاڑیں۔
کونسی چھت اس نے باقائدہ گردن گھما گھما کر دیکھا۔ آگے بس کالونی تھی جن میں سے کسی کی چھت اس دیو ہیکل عمارت کے آس پاس بھی نہ آ سکتی تھی اور دور مین شہر کا نظارہ۔
بس ما ردی چول۔
اس نے یہی جواب لکھا۔
تیسرا
اوئے ایڈمن کو فرسٹ ایڈ دو جا کے کوئی۔ زخمی ہوگی ہے بے چاری
چوتھا
اس نےلمحہ لمحہ زنجیر کیا۔۔ زخم اٹھائے
میں نے لمحہ لمحہ سمندرکیا اوران پر جہاز چلائے۔
آگے ہنستا ہوا اسمائیلی
یہ صارم تھا۔ وہ بے ساختہ ہنستی چلی گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ سمجھ نہیں آیا اجنبی زبان ہے لیکن جب اداس تھا تو اس بلاگ پر لکھ دیتا تھا اپنا حال آج خوش ہوا ہوں سو میں بھی یہیں لکھ دینا چاہتا ہوں۔ آج میں نے عام انسانوں جیسی زندگی جینی چاہی آج ڈیٹ پر گیا آج ڈیٹ کو ڈچ کرکے ایک دلچسپ لڑکی سے ملا اسکے ساتھ کھایا ہنسا اس وقت اسکو سوچ رہا ہوں تو اداس نہیں ہوں۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے لکھا تھا۔ جواب لمحہ بھر کے توقف سے آگیا تھا
اچھی بات ہے۔ جیتے رہو خوش رہو۔
اسکو یہ دعا اچھی لگی وہ جواب لکھ کر کروٹ بدل گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دراز کھول کر اس نے انگوٹھی کا کیس نکالا۔
کیا کروں کل؟ وہ زیر لب بولا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب میں مجھے آپکو بھی یہی کہنا چاہیئے مگر آج نہیں کہوں گا آجکی یہ دعا بس مجھے لگے آمین۔۔
وہ اسکا عجیب سا جواب پڑھ کر ناک چڑھا گئی
ہاں آپ خوش رہیں میرا کیا۔ مجھے تو میری اماں بھی دعائیں نہ دیتی ہوں گی آپ نے کیا دینی۔
اس نے موبائل کا تالہ لگا کر ٹرائوزر کی جیب میں ڈالا اور اندر کی جانب بڑھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ? Rate us below
-
Salam Korea Episode 30
Salam korea
by Vaiza Zaidi
salam korea episode 30 قسط 30
Surat No 22 : سورة الحج – Ayat No 5
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّنَ الۡبَعۡثِ فَاِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ مِنۡ مُّضۡغَۃٍ مُّخَلَّقَۃٍ وَّ غَیۡرِ مُخَلَّقَۃٍ لِّنُبَیِّنَ لَکُمۡ ؕ وَ نُقِرُّ فِی الۡاَرۡحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ نُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرۡذَلِ الۡعُمُرِ لِکَیۡلَا یَعۡلَمَ مِنۡۢ بَعۡدِ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ وَ تَرَی الۡاَرۡضَ ہَامِدَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ وَ اَنۡۢبَتَتۡ مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍ ۢ بَہِیۡجٍ ﴿۵﴾
لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور وہ بے نقشہ تھا یہ ہم تم پر ظاہر کر دیتے ہیں اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں پھر تمہیں
بچپن کی حالت میں دنیا میں لاتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو ، تم میں سے بعض تو وہ ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دئیے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے تو دیکھتا ہے کہ زمین ( بنجر اور ) خشک ہے پھر جب ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے ۔
Surat No 23 : سورة المؤمنون – Ayat No 14
ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ ﴿ؕ۱۴﴾
پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا پھراس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کر دیا پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا ، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کر دیا ۔ برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسم صبح سے ہی ابر آلود تھا۔ آج شائد پہلی برفباری بھی متوقع تھی۔ مگر وہ موسم کی شدت سے بے نیازقبرستان میں رچل کی قبرکے پاس گھاس پر بیٹھا تھاقبر بالکل زمین برابر تھی۔ بس کتبے لگے تھے جن پر رچل کا مکمل نام اسکا مختصر تعارف اور اسکے والدین کی جانب سے محبت کے اظہار کے طور پر چند جملے درج تھے۔ جس دن تم ہماری زندگی میں آئی تھیں خوشی کا اصل مطلب ہم نے تب جانا تھا ہم تمہارے جانے کے غم کو مسترد کرکے اسی خوشی میں جی رہے ہیں کہ ہمیں مختصر عرصے کیلئے سہی حقیقی خوشی نصیب ہوئی۔ چین سے رہو ہماری پیاری بیٹی ۔۔
یہ عبارت وہ ہمیشہ پڑھتا تھا۔ پھر بھی کبھی اکتایا نا تھا مگر آج پڑھ کر کسی کمی کا احساس ہوا اسے۔
بس۔۔ اسکا ذکر جانے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا یا سہوا غلطی ہوگئ وہ اسکی بیوی بھی تو تھی۔ وہ اگر لکھواتا تو کیا لکھواتا۔
اس نے سوچنا چاہا۔
وائس نوٹ کب کا بند ہو چکا تھا۔
۔عبدالھادی نے اسے انسان کی پیدائش اور اسکے دوبارہ اٹھ جانے پر قرآن کا ترجمہ بھیجا تھا۔وائس نوٹ میں۔
اس نے گہری سانس لی ائیر پوڈ کانوں سے نکال کر اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیئے۔ ۔ قبرستان میں اکا دکا لوگ تھے۔
اس نے اپنے لائے ہوئے ٹیولپ کے گلدستےکو اسکے سرہانے رکھا تھا۔ اسکے کتبے کے ساتھ رکھے پھول۔ اس نے سر جھٹکا۔
تو ہم انسان ایک خون کے لوتھڑے سے بنے ہیں۔ جب ایک قطرہ خون سے ہمیں ہڈیوں گوشت پوست میں ڈھالا جا سکتا ہے تو پھر چاہے ہم زمین کی گود میں گل کر مٹی ہوجائیں یا آگ میں جل کر راکھ ہو جائیں۔ جب کہیں تھے نہیں بنا دیئے گئے تو جب ایک زندگی گزار کر ختم ہوں گے تو اس اپنے وجود کے اس زندگی میں اپنے نشان چھوڑنے والے کیسے ختم ہو سکتے ہیں۔ بس ایک کن ہوگا اور ہم سب اپنی اصل حالت میں واپس آجائیں گے۔
ایک بار بے چین روتے ہوئے علی کا کندھا تھپکتے عبدالہادی نے تسلی دی تھی۔
او راس نے سر اٹھا کر پوچھا تھا۔
مجھے قیامت کے دن کا اب زندگی بھر انتظار رہے گا جب آپکی بات سچ ہوگی تو میں دیکھوں گا رچل کو
واپس پہلے سا ہنستا مسکراتا مگر ایسا نہ ہوا تو؟
قیامت پر یقین ایمان کا حصہ ہے احمق۔جزبات میں بہہ کر اپنے ایمان کو متزلزل نہ کرو۔
انہوں نے اپنے ازلی نرم سے انداز میں گھرکا۔
وہ کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ دس ہزار بار یہاں آچکا ہوگا مگر کبھی اسے رچل کی قبر دیکھ کر رچل کے وہاں موجود ہونے کا احساس نہیں ملا تھا۔
زمین کے اوپر چلتا بولتا انسان جتنا حقیقت لگتا ہے زمین کے نیچے دفن انسان خواب تخیل ہی بن کے رہ جاتا ہے۔ یوں جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔کوئی وہم کوئی احساس بس۔ یادیں ۔ایسے انسان کی جسے دوبارہ کبھی دیکھ بھی نہ پائیں گے۔
اس نے سر اٹھا کر آسمان کے تیور دیکھے تو واپسی کا ارادہ باندھنا ہی پڑا۔ ہوا کی خنکی ایکدم بڑھ گئ تھی۔ وہ مفلر گردن پر درست کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا کہ خیال آیا۔ واپس مڑ کر گلدستے سےایک پھول نکال کر رچل کی قبر پر رکھا۔ پھر اپنے راستے میں آنے والی ہر قبر پر ایک ایک پھول رکھتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ لوگوں نے اچھی طرح سوچ لیا ہے؟
ڈاکٹرنی نے خالص پیشہ ورانہ انداز میں ان دونوں سے
سوال کیا تھا۔ اسکی رپورٹس اسکے ہاتھ میں تھیں۔ان پر نظر دوڑاتے جتنا سرسری انداز میں پوچھا تھا اسکا مطلب یہی بنتا تھا کہ یہ صرف ایک فارمیلیٹی تھی۔۔ سنتھیا کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہونے لگے۔ایڈون اسکے برابر ہی کھڑا تھا۔ ۔ایڈون نے اسکا ہاتھ ہلکے سے دبایا۔ اور مضبوط لہجے میں بولا
دے۔۔ ( ہاں)
ٹھیک ہے آپ یہاں انتظار کیجئے۔ڈاکٹرنی نے اس سے کہا تھا اور سنتھیا کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتی اس کمرے میں گھس گئ۔ ایک دو میڈیکل کی طالبات بھی اسکے ہمراہ تھیں۔ سنتھیا نے گھبرا کر ایڈون کو دیکھا
میں یہیں باہر انتظار کر رہا ہوں بالکل پاس ہوں تمہارے۔ بالکل گھبرانا نہیں ٹھیک ہے۔
ایڈون نے اسکے یخ ہوتے ہاتھ تھام کر اسکی آنکھوں میں جھانکتے تسلی دی۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
آئی لو یو۔ ایڈون کے کہنے پر وہ ہلکے سے مسکرادی
آئی لو یو ٹو۔
اب جائو۔ ایڈون نے کہا تو وہ سر ہلاتی اندر کمرے میں داخل ہو گئ۔ سامنے ہی بیڈ سا لگا تھا ۔ ایک نرس فورا
اسکی مدد کو آگے بڑھی تھی۔ ڈاکٹرنی ایک بڑی سی اسکرین پر ہونے والے آپریشن کا طریقہ کار ان طالبات کو سمجھا رہی تھی۔ کچھ سلائیڈز تھیں۔ اور ایک اینیمیٹڈ ویڈیو بھی۔
اپنی زبان میں سمجھاتئ اس ڈاکٹرنی کی ایک بات اسکے پلے نہ پڑی تھی۔ وہ دھڑ دھڑ کرتے دل کو سنبھالتی بمشکل بیڈ پر نرس کی مدد سے دراز ہوئی۔ نرس نے سب سے پہلے اسکا بلڈ پریشر دیکھا۔ پھر تسلی آمیز انداز میں بولی
کین چھنا آگاشی۔
اس نے سر ہلایا۔
کیسی ہو لڑکی؟ ڈاکٹرنی مسکرا کر اسکے پاس آئی۔
ٹھیک ہوں۔ اس نے جتنے فق ہوتے چہرے کے ساتھ کہا تھا اس سے وہ ٹھیک بالکل نہیں لگی تھی۔
میرا نام ڈاکٹر رودا ہے تمہارا کیا نام ہے پیاری لڑکی۔
وہ شستہ انگریزئ میں اس سے باتیں کرتی ہوئی آپریشن کی تیاری کر رہی تھی
سنتھیا ۔ اسکی آواز مدہم تھی ڈاکٹرگلوز چڑھا کر ان لڑکیوں کی جانب متوجہ ہوئی۔
ہمیں اس آپریشن کیلئے ویڈیو کی اجازت نہیں ملی نہ ہی کسی مرد طالب علم کو اندر آنے کی اجازت ملی ہے۔
اور یہ تم دونوں کیلئے بے حد اچھا ہے کھل کر سوال کر سکتی ہو اور ذیادہ سے ذیادہ سیکھ سکتی ہو۔
وہ روانئ میں ان سے بھئ انگریزئ میں بول گئ
بلڈ پریشر جب تک نارمل نہیں ہوگا ہم سن نہیں کریں گے ۔
میم ابھی تو ابتدائی سطح ہے اس سطح پر بچہ تو نہیں ہے نا مطلب ابھئ تو بس ذیادہ سے زیادہ دل بننا شروع ہوا ہوگا۔
اس طالبہ نے سوال کیا تھا۔ سنتھیا بھی مکمل طور پر انکی جانب متوجہ تھی۔
ڈاکٹرنئ نے آلہ سنتھیا کے پیٹ سے لگا کر انکو مانیٹر میں موجودہ شکل دکھائی
ہم اس ابتدائئ شکل کو فیٹس کہتے ہیں۔۔ ابھی شکل تو نہیں بن پائی مگر سلسلہ تو شروع ہو چکا ہے۔ اب اندر ایک نئی زندگئ کی بنیاد پڑ چکی ہے۔یہ ایسا ہی ہے کہ آپ نے بیج بویا اس میں سے کونپل پھوٹ گئ اب اگر آپ اس بیج کو اکھاڑ پھینکیں گے تو وہ پنپنے گا نہیں اور اگر اسے بڑھنے کا موقع دیں گے تو وہ تنا ور درخت بھی بن جائے گا۔ کون جانتا مستقبل۔
ڈاکٹرنئ مکمل ہنگل میں سب تفصیل بتا رہی تھی۔
اسکا دھیان ہٹا تھا کہ نرس نے اسکو ٹیکا ٹھونک دیا
تھا۔ وہ ایکدم سے اٹھ بیٹھی۔
یہ اسکرین مجھے بھئ دکھائو۔
اس نے بے تابی سے انگریزی میں کہا تھا۔
دے؟ ۔ طالبات حیرانی سے دیکھنے لگی تھیں اسے مگر ڈاکٹر نے شائد اسکا اشارہ سمجھ لیا جبھی مانیٹر کا رخ ترچھا کر کے اسکو دکھایا۔
یہ یہ ابھی تو کچھ بھی نہیں ہے ۔۔ ہے نا۔
اس نے بے تابی سے انگریزی میں پوچھا اسے تسلی درکار تھئ شائد۔
ڈاکٹر نے اسے غور سے دیکھا۔ اسے یقینا اب اپنی بات دہرانی پڑنی تھئ۔۔ اس نے گہری سانس لیکر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔
یہ ابھی کچھ تو ہے سنتھیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موسم کی پہلی برفباری متوقع ہے لڑکیوں۔ پہلے ہی بتا دوں آج خوب سنبھل کر رہنا کسی بھی ایرے غیرے نتھو خیرے سے ٹکرا نا جانا نا فالتو بحث میں پڑنا۔ خاص کر شام چار بجے کے بعد۔
گوارا ناشتے کی میز پر بیٹھی پراٹھا انڈا اڑاتئ اعلان کر رہی تھی۔ اریزہ نے پراٹھا توے پر ڈالتے ہوئے حیرت سے مڑ کر پوچھا
کیوں۔۔؟؟
ایویں ڈرامے۔
ہوپ نے منہ بنا کر کافی کا مگ منہ سے لگایاوہ ایگ رول چاول اور کمچی کے ساتھ کھا رہی تھی۔
گوارا نے اسکا ایک ایگ رول اچک لیا۔
کیونکہ یہ کوریا کی بہت پرانی ریت ہے اور میرا دل سے اس پر اعتقاد ہے کہ موسم کی پہلی برفباری میں مخالف صنف کے ساتھ ہو تو اس سے محبت ہو جاتی ہے۔
منہ میں ایگ رول بھرے وہ بمشکل بتا پائی۔
اریزہ اپنا ناشتہ لیکر انکے پاس چلی آئی۔
میں تو بھئی آج گھر میں ہی ہوں مگر تم دونوں اونگے بونگے لڑکوں سے نا پٹ جانا ۔ پہلی برفباری خطرناک ہوتی ہے دل والوں کیلئے۔۔ دل کہیں اٹک ہی جاتا ہے۔
وہ آج فل موڈ میں تھی۔
واقعی؟ تو پھر منع کیوں کر رہی ہو۔ اچھا ہے ہوپ کو آج کوئی اچھا سا لڑکا ٹکر جائے۔ اریزہ نے کہا تو حسب توقع ہوپ منہ بنا گئ
بکواس یے یہ۔ شمالی کوریا میں ہم پہلی برفباری کیا آخری برفباری تک برفباری میں صرف پناہ ڈھونڈتے
ہیں محبوب نہیں۔
ہاں تو وہاں نا ۔یہاں کی بات کر رہی ہوں۔
گوارا نے سر جھٹکا۔
کیوں یہاں کی برف گرم ہوتی یے؟ ۔ہوپ نے تمسخر اڑایا۔
ہائش۔ گوارا نے سر پیٹ لیا جیسے
اس لڑکی میں کوئی حس چھو کر نہیں گزری۔ بھئ سیدھی بات ایک جنوبی کوریائی ذمہ دار شہری لڑکی ہونے کے ناطے بتانا میرا فرض تھا۔برفباری میں کسی اونگے بونگے سے ٹکر کر محبت نہ کر بیٹھنا ہو جاتی ہے محبت میں زندہ مثال ہوں۔اسکی۔
اس نے بے چاری سی شکل بنائی ۔ ہوپ اور اریزہ دونوں کھانا وانا بھول کر اسکی شکل دیکھنے لگیں۔
کیسے۔۔
وہ مزید ترنگ میں آگئ۔
کرسی پیچھے کر کے لہرا لہرا کر بولی
آج سے چار بلکہ پانچ سال قبل ایک معصوم سیدھی سادی لڑکی جو چپکے چپکے اپنے سن بے کو پسند کرتی تھی اسکول سے واپسی پر اپنے راستے سڑک کنارےسر جھکائے چلتی جا رہی تھی۔۔
وہ باقائدہ اپنی آگے سے کھلی سوئٹر کو لپیٹ کر سکڑ
کر سر جھکائے چلی۔ اریزہ کی پشت پر آگئ تھی وہ نوالہ پلیٹ میں رکھ کر بھرپور اشتیاق سے مڑ کر دیکھنے لگی۔
یک نہ شد دو شد۔
ہوپ نے تاسف سے اس احمق کو دیکھا جو ایسے متوجہ تھی جیسے گوارا اسے ملک کے اہم راز بتانے والی ہے۔
تھمو ذرا۔ ہوپ نے اپنا سر خود ہی چپت مار کر بجایا
پکی نارتھ کورین ہوں میں بھی۔ یہاں بھی ملکی راز ہی مثال کے طور پر سوجھے۔
موسم سازش پر اترا تھا۔ پہلی برفباری متوقع تھی۔ لڑکی کو گھر جانے کی جلدی تھئ۔۔
ہاتھوں کے اشارے سے ڈرامہ بازی کرتی گوارا جیسے فل فارم میں تھی۔
پھر۔
اریزہ کا اشتیاق دیدنی تھا۔
کہ اچانک کہیں سے ایک اجنبی بندر کی شکل کا ہائی اسکولر چار لڑکوں سے بھاگتا پٹنے سے بچتا اس سے آٹکرایا۔
بیان۔ وہ لڑکی اسکے دھکے سے دھپ سے گھٹنوں کے بل گری۔ لڑکے کے پاس موقع تھا کہ کہہ کر دوبارہ
چوتھا گئیر لگاکے بھاگے اور مڑ کر نہ دیکھے۔
مگر۔
گوارا نے ڈرامائئ وقفہ لیا۔
مگر۔۔ اریزہ کی آنکھیں بڑی ہوئیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھٹنوں کے بل گری تھی۔یون بن گرتے گرتے بچا تھا۔ اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑی تھیں۔ اس نے تھوک نگلتے اس لڑکی سے معزرت کرکے بھاگ جانا چاہا
بیان۔
اسکے عجلت میں معزرت کرنے پر گھٹنا سہلا کر اٹھنے کی کوشش کرتی گوارا نے خفگی سے سر اٹھا کر گھورا
سردی سے سرخ ہوتی ناک آنکھوں میں چوٹ لگنے سے پانی اتر آیا تھا چہرے پر اڑتی آوارہ لٹیں اسکے کندھے تک آتے بالوں کی اونچی پونی ہوا سے اڑی تھی اور یون بن کے ہوش اڑے تھے۔ جی نہیں۔ اسکو دیکھ کر نہیں بلکہ لمحہ بہ لمحہ بھاگ کے قریب آتے لڑکوں کو دیکھ کر۔
گوارا کو اس انتہائی نازک صورتحال میں بھی سہارا دینے رکا اسکو ہاتھ پکڑ کر اٹھنے میں مدد کی اور بھاگ کھڑا ہوا مگر افسوس۔ چند قدم ہی آگے بڑھا ہوگا کہ پیچھے سے آتے چار لڑکوں نے اسے گھیر لیا تھا۔
دے مکا وہ لات۔ گوارا ششدر سی اسکی اپنی آنکھوں کے سامنے درگت بنتی دیکھ رہی تھی۔ اسکی ناک سے خون پھوٹا اور سڑک کنارے گزرتی پولیس وین نے آواز لگائئ۔
کیا کر رہے ہو تم لوگ۔ لڑکے اسکو وہیں فٹ پاتھ پر چھوڑ کر بھاگے تھے۔ وہ فٹ پاتھ پر بیٹھا اپنی چوٹیں سہلا رہا تھا جب گوارا انسانی ہمدردی کے تحت اسکے قریب آئی اور اپنا صاف ستھرا رومال اسکی جانب بڑھایایون بن نے حیرت سے دیکھا ۔مگر رومال تھام لیا
چند لمحوں میں ہی روئی کے گالے ان دونوں پر آن برسے تھے۔
کین چھنا؟
یہ گوارا نے نہیں پولیس والے نے پوچھا تھا۔ گاڑی سے اتر کر اسکے پاس آئے تھے یون بن کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور یون بن وہیں چاروں شانے چت ہو گیا تھا۔
شائد گوارا بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بات تو پولیس والے نے کی تھی تمہیں اس سے محبت ہونی چاہیئے تھی۔
ہوپ نے اسکی رومانوی کہانی کا کیا انجام کیا تھا۔ گوارا نے دانت کچکچائے۔
عقل کی دشمن۔ جب برف گر رہی تھی تو میں اور یون بن ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ اور تبھی میرا سن بے والا کرش بھاپ بن کے اڑا اور یون بن کی محبت برف بن کر میرے دل پر آجمی۔
اس نے آہ بھر کر دل پر ہاتھ رکھا
اریزہ واپس گھوم کر ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئ تھی۔
بہر حال سچ کہتی ہوں اس جادوئی لمحے میں کچھ تھا پہلی برفباری کا اثر ورنہ مجھے یون بن سے تو کبھی محبت نہ ہوتی جتنا دل پھینک اور لفاظ ہے۔
گوارا نے سارا الزام محبت موسم کے سر ڈال کر ہاتھ جھاڑ لیئے۔
شکر ہے ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔
اریزہ نے کندھے اچکائے۔
محبت نہیں ہوتی؟ گوارا حیران ہوئی
برفباری نہیں ہوتی۔۔۔
ہوپ نے جملہ مکمل کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ صوفے پر اسکا جیکٹ پڑا تھا وہ اٹھا کر پہننے لگئ۔
اریزہ نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی۔
ہوتی ہے پاکستان میں بھی برفباری اریزہ نے خود بتایا تھا ہے نا اریزہ۔۔
گوارا نے کہا تو وہ جز بز سی ہو کر سر ہلانے لگی۔
واقعی؟ ہوپ کو یقین نہ آیا۔ خود اریزہ سے پوچھنے لگی۔
آ۔۔ ہاں۔ وہ گڑبڑا سی گئ۔
تمہیں دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ برفباری کی عادی ہو۔۔ برفباری ہونی ہے اور تم یہ تیار ہوئی ہو۔
اس نے اریزہ کئ جانب اشارہ کیا جو اس وقت وولن فراک پہنے بیٹھئ تھئ۔ ساتھ اونی ہی لیگنگ تھا۔ جبکہ ہوپ ہائی نیک کے اوپر گھٹنوں تک کا بڑا سا پیرا شوٹ جیکٹ پہن رہی تھی۔ جسے دیکھ کر اسے پہلا خیال یہی آیا تھا کہ کوئی اسکو بھئ خرید سکتا ہے۔
ہاں اریزہ لانگ کوٹ پہن کر جانا بلکہ ایک سوئیٹر اور پہن لو۔
گوارا فکر مند ہوئی۔
اتنا گرم فراک ہے مجھے ذرا ٹھنڈ نہیں لگ رہی۔
اس نے اطمینان دلانا چاہا۔
بوائلر چل رہا احمق باہر نکل کر دیکھو تو پتہ لگے کتنی ٹھنڈ ہے
گوارا نے ڈانٹ دیا۔
باہر نکلتے وقت کوٹ لے لوں گی۔۔ اس نے تسلی کرائی
کتنی دیر ہے تمہیں اور؟
ہوپ نے کہا تو وہ ناشتہ ختم کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
چلو خیریت سے جائو دونوں۔ خدا تم دونوں کو اچھے لڑکے ٹکرائے آمین۔
گوارا نے جیسے صدق دل سے دعا دی۔ اس دعا پر اریزہ نے ہنس کر اسکو دیکھا تھا۔ ہوپ کے چہرے پر بھی کوئی بھولی بھٹکی مسکراہٹ در ہی آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حسب معمول آکر اپنا اسٹال سیٹ کر رہی تھی۔
مینجر اسے دیکھ کر بھاگا بھاگا آیا۔ جانے کونسا بے نم کہہ رہا تھا مطلب میڈم محترمہ کہہ کر اسکا احوال انگریزی میں پوچھا۔۔
میں ٹھیک ہوں شکریہ۔
وہ کافی شرمندہ ہو رہی تھی اسکے رویئے سے۔ جوابا مینجر کی ساری انگریزی مک گئ جھک کر سلام کرتا واپس ہواپھر سینڈوچ اور گرم کافی کا کپ اسکو بھجوا دیا۔
اس نے سینڈوچ کھول کر دیکھا تو سبزیاں اور ساتھ چکن بھی تھا اس نے احتیاط سے ایک طرف رکھ دیا۔
کیوں آئی ہو آج تم ؟
کم سن کمر پر ہاتھ رکھے کھڑا گھور رہا تھا۔
تاکہ تمہیں میری تنخواہ خود گھر لاکر نہ دینی پڑے۔
اس نے آرام سے کہا۔ کم سن اسے کھڑا گھورتا رہا۔
گردن ٹھیک ہوئی تمہاری؟
اسکے باس کو فکر بھی تھئ اسکی۔ وہ مسکرا دی
میں بالکل ٹھیک ہوں۔ ذرا سا ہی جلن ہے اب بس۔
اچھی بات ہے۔ اور آرام سے پانچ بجے تک چلی جانا آج برفباری کا امکان ہے۔
کم سن کے کہنے پر اسکے لب وا ہوئے مگر تبھی مینجر کم سن کو بلانے آیا تو وہ چپ ہی کر گئ۔ آج بھی ذیادہ تر مفت ہی کھا پی کے بچے چلے گئے سیلز کا ٹارگٹ پورا نہیں ہوا اسکا۔
چار بجے اسکے دوسرے باس سر پر کھڑے تھے۔
چلو گھر چھوڑ دوں تمہیں۔
اسے ہنسئ آگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگ پڑھ نہیں رہے ہو ؟
ہایون اسی بچوں کی اونچی والی کرسی پر بیٹھا کافی کا کپ تھامے منہ پھلائے اسے گھور رہا تھا اس نے اسکا موڈ بدلنے کی خاطر پوچھا تھا۔
امتحان ہو رہے ہیں۔۔
منہ پھلانے کے باوجود اس نے جواب دیا تھا۔
ہیں۔ اس کو شدید حیرت ہوئی ۔۔
کوئی فکر وکر نہیں پالتے تم لوگ امتحانوں کی؟ مزے سے نیااسٹارٹ اپ شروع کیا جا رہا ہے چھٹیاں کی جا رہی ہیں اور یہاں بیٹھ کر کافی پی جا رہی ہے۔
اس نے گھورا۔
یونیورسٹی امتحانوں کی کیا فکر؟ وہ الٹا اسے حیران ہو کر دیکھنے لگا۔
امتحانوں کی ہی تو فکر ہوتئ یے۔ اچھے گریڈ جی پی اے کیلیئے پریزنٹیشنز اسائنمنٹس سب مکمل کرنی ہوتی ہیں۔
اس نے کہا تو وہ سر جھٹک کر بولا
ہائی اسکول تک فکریں پالی ہیں تاکہ اچھی یونیورسٹی میں داخلے کیلئے نام آجائے۔ ہائی اسکولرز یہاں کے فکریں بھی پالتے ہیں۔ فیل ہو جائیں تو خودکشی بھی کر بیٹھتے ہیں مگر تب اتنئ پریشانی اٹھانے اور ذیادہ سے زیادہ ہنر سیکھنے ، اچھے گریڈ حاصل کرنے کا پھل یونیورسٹی کی سطح پر ملتا ہے۔ اچھا پروفائل بن چکا ہوتا ہے اچھی یونیورسٹی کی سب سہولتیں ملتی ہیں پھر راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔۔۔
تم لوگوں کا کیا حساب ہے؟ اس نے برسبیل تذکرہ
پوچھا
ہاں۔ وہ چونکی پھر گڑبڑا سی گئ۔ بے خیالی میں وہ اسکی تھوڑی پر پڑنے والے نیل کو ہی دیکھے گئ تھی۔ اسکے گورے چٹے چہرے پر دور سے دمک رہا تھا۔ اس کو افسوس ہونے لگا تھا اسکی وجہ سے بے چارہ سنتھیا کے ہاتھوں پٹ گیا۔ بات تو سنی ہی نہیں۔۔
کیا سوچ رہی تھیں۔
وہ اسکی غائب دماغی پر مسکرا کر پوچھنے لگا۔
ککچھ نہیں۔ وہ کرسی پر سیدھی ہو بیٹھی۔ کافی اسکی ختم ہونے لگی تھی۔ اس نے کپ خالی کرکے میز پر ٹکایا
چلو تمہیں گھر چھوڑ دوں۔
ہایون اٹھ کھڑا ہوا۔
ابھئ وقت ہے میری چھٹی ہونے میں۔ اریزہ نے سہولت سے انکار کیا
میں نےاس دن صرف مزاق کیا تھا۔ میں بہت سنجیدگی سے یہ نوکری کرنا چاہ رہی ہوں۔ مجھے جاننا ہے میں کتنی محنت کر سکتی ہوں مجھ میں کوئی ہنر ہے بھی یا نہیں میں نے خود مختار ہونا ہے ۔ میں اپنی محنت کی تنخواہ لیکر جانا چاہتی ہوں۔ ۔ تم دونوں اگر اسی طرح میرے ساتھ خاص الخاص والا
برتائو کروگے تو میں خود کو کیسے آزما پائوں گی۔
اس نے اتنا تفصیلی جواب دیا تھا کہ ہایون چپ ہی ہوگیا۔
اچھا ٹھیک ہے۔ کل سے ہوجانا خود مختار مگر آج طوفان متوقع ہے۔ برفباری ہونے والی ہے اور سب سے بڑھ کر میں آگیا ہوں تمہیں لینے سو آج چلو ۔
ہایون کے اصرار پر اس نے خفگی سے گھورا۔
وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔
اس نے چڑ کر بھالو اٹھا کر اپنی جگہ رکھا۔
بالکل بابا لگ رہے ہو ۔ وہ بھی مجھے مرغی کی طرح پروں میں چھپا کر رکھتے رہے اور مجھ سے توقع یہ رہی کہ میں تیس مار خان بن جائوں۔
اسٹول سمیٹ کر رکھے اسٹال میں۔ اور پٹخ پٹخ کر ڈبے ترتیب دیئے۔
دو درجن لوگ میرا خیال رکھنے میرا لاڈ اٹھانے میرے گرد موجود رہیں گے تو خاک پتھر مجھ میں اعتماد آئے گا۔ پہلے دن مجھے لگا تھا کبھی اکیلے آنے جانے کی ہمت نہیں آئے گی مجھ میں مگر اتنے دنوں سے آرہی ہوں نا اکیلی۔
گندے پیالے ڈسپوز آف کرنے کیلئے اس نے شاپر میں سب کوڑا ڈالا ۔۔
واپسی پر تو خاص طور سے صبح پھر چلو ہوپ ہوتی مگر نہیں۔ کوئی مجھے تناور درخت بننے ہی نہیں دے رہا۔۔ رکھو سب بنا کے مجھے چھوئی موئئ کا پودا۔ پیراسائٹ ۔دوسروں پر انحصار کرنے والا پیراسائٹ۔ کرنے والی پیراسائٹ۔
اردو میں اونچا اونچابڑبڑا کر اس نے سب کام ختم کیئے تھے ۔ موبائل پرس میں رکھا کندھے پر لٹکا کے وہ جانے کو بالکل تیار ہوکر مڑی۔
انداز ایسا تھا جیسے کہہ رہی اب خوش چلو مرو
تم اردو بولنا یاد کرتی ہو نا۔
ہایون نے کہا تو وہ ایکدم ٹھنڈی ہوئئ۔
ہاں۔ اس نے بلا توقف سر ہلایا۔
مجھے اجنبئ زبان بول بول کے تھکن ہو جاتی ہے۔
اس نے ناک چڑھائی۔ پھر ہنس کر بولی
مگر ایک فائدہ ہوتا ہے غصہ آنے پر جتنی بھی بڑ بڑ کرلی سمجھ ہی نہیں آئی ہوگی تمہیں۔
ہایون چند لمحے اسے دیکھتا ہوا سنجیدہ ہو گیا۔ انتہائی سنجیدگی سے کہہ کر وہ مڑا
چلیں۔
اسکا انداز۔ وہ ٹھٹکی۔ برا مان گیا کیا یہ
وہ زیر لب بڑبڑائئ
اسے کیا لگا میں اسے گالیاں دیتئ رہی ہوں۔
سنو ہایون۔وہ اسکے پیچھے بھاگ کے آئی۔
گلاس ڈور کھولتے ہی سرد ترین ہوا کا جھونکا اسکی ناک سے ٹکرایا۔ہایون کے ہم قدم ہونے کے چکر میں تیز چلنے سے اسکی سانس پھول گئ ۔ چھے فٹ سے نکلتے قد والا ہایون بڑے قدم اٹھا رہا تھا۔ وہ بھاگ کے اسکے مقابل آگئ۔ ہایون ایکدم رکا
ہایون میں تمہیں گالیاں والیاں نہیں دے رہی تھی۔میں دیتی ہی نہیں ہوں غصے میں گالیاں اور بھی کچھ برا نہیں کہہ رہی تھی تمہارے۔
بولتے بولتے اسکی ناک پر کوئی چیز آکر گری ہایون مڑکر اسے کچھ کہنے لگا تھا مگر وہ آنکھیں بھینگی کرکے ناک کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے انگلی کی پور سے ناک پر سے اس روئی کے گالے کو اٹھانا چاہا تو وہ پانی کی بوند سا بن گیا۔ایک کے بعد دوسرا تیسرا
سفید سفید روئی کے گالے ان کے گرد بارش کی طرح برس اٹھے تھے۔
وائو۔ برفباری ہے یہ تو۔
وہ بے طرح خوش ہوگئ تھی دونوں ہاتھ پھیلا کر اس نے برف ہتھیلیوں میں بھر لینا چاہی۔ ۔ ہایون نے گہری سانس لیکر آسمان کو دیکھا۔
اس موسم کی پہلی برفباری وہ اریزہ کے ساتھ دیکھنا چاہتا تھا اور قدرت نے اسکا بھرپور ساتھ دیا تھا۔
او خدایا۔ وہ بے طرح خوش سی برف کے گالوں کو مٹھی میں بھر رہی تھی۔ وہ ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے پہلی بار برفباری دیکھ رہی ہو۔۔ اب تو سڑک کنارے پر برف کی چادر بچھ جانی تھی اور
ہوا تیز تھی برفباری رک گئ۔
بس ۔ اس کو شدید مایوسی ہوئی
ہایون ہنس دیا۔
اتنی سی برفباری پر اتراتے ہو تم لوگ۔ ہمارے یہاں برف سے سب ڈھک جاتا یے اتنی ہوتی ہے۔
وہ کمر پر ہاتھ رکھے جتا رہی تھی۔
راولپنڈی میں؟
ہایون نے پوچھا تو وہ گڑبڑا سی گئ۔
اتنی سی برفباری کو ہوا بنایا ہوا تھا ۔ جائو تم میں آرام سے ڈیوٹئ پوری کرکے چلی جائوں گی خود ہی۔
وہ جان کے ڈپٹ کر بولی تاکہ بات بدل جائے۔
ہایون نے سر ہلا دیا۔
جیسے تمہاری مرضئ۔
وہ کہہ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تو وہ سکھ کا سانس لیتی واپس مارٹ کی طرف مڑی
کچھ ذیادہ ہی دماغ تیز ہے اسکا ۔ سرسری سا نام بتایا تھا اپنے شہر کا ابھی تک یاد رکھے ہوئے ہے۔ اب سینٹڈ scented lake نالہ لئی نا گوگل کرنے بیٹھ جائے۔
اسے خفت محسوس ہو رہی تھی۔ اور اسکا بہترین حل یہ تھا کہ اب کم از کم ہایون کی آج دوبارہ شکل نہ دیکھی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہایون نے گاڑی میں بیٹھتے ہی سب سے پہلےموبائل نکال کر راولپنڈی کا درجہ حرارت گوگل کیا تھا۔26 ڈگری تھا۔
اس نے اگلی تلاش نالہ لئی کی ہی کی تھئ۔
اسکے چہرے کی ہمہ وقت چھائی رہنے والی مسکراہٹ گہری ہوتئ چلی گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج موسم کی پہلی برفباری ہے۔
پردے کھڑکی سے ہٹاتے ہوئےنرس نےاسے اطلاع دی تھی۔
کچھ چاہیئے ہو تو یہ بٹن دبا دینا۔
ٹوٹی پھوٹئ انگریزئ میں وہ اسے سمجھاکر نکل گئ تھئ۔
وہ پرائیویٹ کمرے میں لیٹی تھی۔ اسکی ڈرپ ختم ہونے میں ایک گھنٹہ تھا۔۔۔
وہ شیشے کی کھڑکیوں سے باہر برستی سفید بارش کو خالی خالی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
ایڈون بڑا سا شاپر لیئےگھبرایا ہوا داخل ہوا۔
کیا ہوا سب خیریت ہے نا؟ تم یہاں کیوں ہو؟ تم ٹھیک ہو نا ؟ کوئی گھبرانے والی بات تو نہیں۔۔۔
اس نے پے در پے کئی سوال کر ڈالے۔
میں ٹھیک ہوں۔
اس نے مہین سی آواز میں کہا تھا۔
شکر ہے ۔۔ یہ لو میں تمہارے لیئے گائے کے گوشت کا سوپ لایا ہوں۔ کورین بیف ہے یہ۔ کہتے ہیں یہ سب سے بہترین گوشت ہوتا ہے یہاں کا۔
وہ اسکے لیئےمریضوں والی میز بیڈ کے ساتھ جوڑ رہا تھا۔پھر شاپر سے بھاپ اڑاتا کھانا نکال کر اسکے سامنے رکھنے لگا۔ وہ بمشکل بائیں ہاتھ کے بل پر زور ڈال کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی
رکو۔ ایڈون نے اسکو آگے بڑھ کر سہارا دے کر بٹھایا۔ اسکی کمر میں تکیہ بھئ لگا دیا۔ اس نے طائرانہ نگاہ ڈالی میز پر کھانا سج چکا تھا۔
بھنا ہوا گوشت الگ تھا اور گوشت کاسوپ الگ۔ جس
میں نوڈلز بھی تیر رہے تھے ساتھ سیب کے جوس کے ڈبے مکس فروٹ کا کین۔۔
اسے گزشتہ رات یاد آئی تو آنکھ بھر آئی۔ کتنا بد قسمت بچہ تھا یہ۔ کل اسکی ماں اسکا بوجھ اٹھاتئ بھوک سے نڈھال تھی اور آج اس اسکے سامنے طعام سجا تھا۔
کھائو۔۔
ایڈون نے دانستہ اسکے گالوں پر پھیل آنے والے آنسو کو نظر انداز کیا۔
اس نے اپنا ڈرپ والا داہنا بازو اونچا کیا۔ وہ کیسے کھانا کھا سکتی تھی جب تک ڈرپ لگی تھی۔
میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے کھلاتا ہوں۔
ایڈون نے سمجھ کر کانٹے میں نوڈلز پروئے گوشت کا ٹکڑا پرو کر اسکی جانب بڑھایا۔ اس نے منہ کھولا تو احتیاط سے نوالہ کھلادیا ۔
اب چمچ میں سوپ بھر کر اسکی جانب بڑھا رہا تھا۔
اس نے سوپ بھی پی لیا مگر چباتے ہوئے اسکی آنکھوں سے مزید آنسو پھسل آئے
بس بس رونا نہیں۔ تمہاری طبیعت خراب نہ ہو جائے اب کچھ مت سوچو کھانا کھائو اور آرام کرو ۔ میں اس روم کی بھی ادائگی کردیتا ہوں رات یہیں رکو
صبح چلیں گے۔۔
ایڈون نے اٹھ کر اسکے سائیڈ ٹیبل سے ٹشو بکس سے کئی ٹشو نکال کر احتیاط سے آنسو پونچھے
وہ اب اسکے سب نخرے اٹھانے کو تیار تھاآخر وہ اسکی گرل فرینڈ تھی۔ہاں اپنے ناجائز بچے کی ماں کی دفعہ اسکی پروا کرنے والی طبیعت بے حسی تلے جا سوئی تھی۔۔
وہ وہئ سنتھیا تھئ۔ چند گھنٹوں میں سنتھیا بدل تو نہیں گئ تھئ یا واقعی بدل گئ تھئ؟
وہ میز پیچھے کرتی بیڈ پر سیدھی لیٹ گئ۔
اچھا تھوڑی دیر بعد کھا لینا کھانا میں ڈاکٹر سے پوچھ کر آتا ہوں کوئی دوا وغیرہ ابھی تو بس نرس کے بتانے پر کہ تم یہاں ہو سیدھا یہاں چلا آیا۔
ایڈون نے زبردستئ مناسب نہ سمجھی۔
کوئی طاقت کا سیرپ بھی لکھوا لاتا ہوں۔ تمہیں کمزوری محسوس ہو رہی ہوگی۔
وہ چند لمحے رکا رہا تھا شائد وہ جوابا کچھ بولے مگر وہ بالکل خاموش کھڑکی سے پار دیکھ رہی تھی۔ وہ دروازہ بنس کرتا نکل گیا۔۔ باہر رات ہو چکی تھی اور برفباری پورے زور و شور سے جاری تھی۔ طوفان آچکا تھا بس کمرے میں اسکا شور اور ٹھنڈ محسوس نہیں
ہو رہی تھی۔ اس نے کمبل اونچا کیا اور اسی طرف کروٹ لے لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔
ٹارگٹ سیل کے چارٹ پر اپنی آج کی سیلز کی تعداد لکھتے اس نے آہ سی بھری تھی۔
آج معمول سے بھی کم لوگ تھے۔ اسکی چھٹی تک تو تقریبا سب خالی ہوچکا تھا۔
وہ پھر بھی اپنا وقت پورا کرکے ہی اٹھی۔ کوٹ کندھے پر درست کیابیگ لٹکایا خراماں خراماں چلتی باہر آئی تو بے ساختہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔
اسٹور تو اتنا خنک نہیں تھا مگر باہر بلا کی سرد ہوا تھی۔سات بجے اتنی سنسانئ تھی کہ جیسے دس بج رہے ہوں۔۔اکا دکا دکانیں کھلی تھیں وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھانے لگی بس اسٹاپ بالکل خالی تھا وہ اکیلی ہی تھی بس ۔ سرد ہوا اتنی ٹھٹھرا دینے والی تھی کہ وہ بیٹھتے بیٹھتے رک گئ۔ بس چارٹ کی ایل ای ڈی میں اسکی بس پندرہ منٹ بعد کی تھی۔ اس نے سوچا کیا کرے۔۔ سڑک پر ٹریفک معمول سے کم تھا فٹ پاتھ پر پھر ایک دو لوگ چل رہے تھے۔۔ وہ دکانوں کے آگے پختہ سروس روڈ پر چلی آئی۔
میٹرو سے چلی جاتی ہوں ۔ میٹرو میں کم ازکم انتظار تک ٹھنڈ تو نہیں کھانی پڑے گی۔
اس نے فیصلہ لیا اور تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
روئی کا ٹکڑا اسکے کندھے پر آکر گرا تو اس نے چونک کر جھاڑا۔۔ ایک لانگ کوٹ اندر ہائی نیک نیچے فلیٹ اسکے باوجود سرد ہوا کپکپائے دے رہئ تھی اسے۔۔ وہ اپنے قدموں پر نگاہیں جمائے ارد گرد سے بے نیاز چلے جا رہی تھی۔۔ کورٹ شوز اسے لگ رہا تھا اس نے پہنے ہی نہیں ہیں پائوں یخ ہو رہے تھے
اس کا برفباری میں یوں باہر اکیلے پھرنے کا پہلا تجربہ تھا۔ برف اتنی تیزی سے گر رہی تھی کہ اسکا کوٹ بھیگ چلا تھا۔۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا مارکیٹ پیچھے چھٹ چکی تھی۔ ذیلی سڑک سنسان تھی اب رہائشی علاقہ شروع تھا دونوں اطراف اونچئ عمارتیں گھر بنے تھے سڑک پر اسکے سوا کوئی نہ تھا۔۔
اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگی۔ برفباری خاموشی سردی سنسانی
کیا کروں ۔۔ واپس مارکیٹ جائوں۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو مارکیٹ سے اتنی دور آچکی تھی کہ وہ اسٹور نظر بھی نہیں آرہا تھا۔۔
سردی ناقابل برداشت ہوچلی تھی۔ اس نے بیگ میں فون تلاشا
تبھی بس سڑک سے گزری تھئ۔
شٹ ۔ وہیں رک کر انتظار کر لیتی۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا
ٹیکسی منگوا لیتی ہوں۔
وہ سوچ میں پڑی۔
برف سر پر پڑ رہی تھی اسکے بال گیلے ہونے لگے تھے۔۔
فون دیکھتے چلتے اسے پتہ ہی نہ لگا کب فٹ پاتھ ختم ہوگیا اسکا پیر پھسلا اور وہ گھٹنے کے بل سڑک پر گری۔ تارے ناچ گئے تھے حقیقتا اسکی آنکھوں کے سامنے۔
امی۔ وہ وہیں گھٹنا پکڑ کر رو پڑی۔ سڑک پر پانی تھا شائد۔ وہ مکمل بھیگ گئ تھئ۔اور موبائل ۔ اس نے تڑپ کر موبائل ڈھونڈا ۔ اسکے برابر ہی پڑا تھا مگر بند ۔
اس نے بےتابئ سے اٹھایا۔ اسکا آخری سہارا ہچکی لیکر بند ہوگیا تھا۔۔
نہیں۔ پلیز نہیں۔
موبائل کی منتوں پر اتر آئی مگر وہ بھی ڈھیٹ تھا آف رہا۔۔
سر پر گرتی برف سائیں سائیں کرتی برفانی ہوا وہ فٹ
پاتھ پر ہتھیلی ٹکا کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔ درد کی شدید لہر اٹھی تھی ٹانگ میں۔۔
وہ ٹانگ پکڑ کر دہری ہوگئ۔
جب کوئی اسکے سامنے آن کھڑا ہوا۔
ڈاکو، چور؟
اس نے خوفزدہ نگاہیں اوپر اٹھا کر دیکھا
اسٹریٹ لائٹ کی مدھم روشنی میں دمکتا سفید چہرہ چندی آنکھیں اپر کا ہڈ سر پر چڑھائے وہ نامانوس شکل نہیں تھی۔
انسان ۔ نہیں اس وقت تو فرشتہ ہی بن کر آیا تھا۔
کین چھنا۔۔
پھر شائد اسکے اجنبئ نقوش دیکھ کر انگریزئ میں پوچھا گیا۔
آر یو آل۔رائٹ۔
نرمی سے پوچھا گیا۔
اس نے دھیرے سے نفئ میں سر ہلادیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس سے اتر کر وہ اپنی دھن میں چلتاجا رہا تھا جب اس کی نظر اس پر پڑی تھی۔ لانگ کوٹ کورٹ شوز تیز تیز قدم اٹھاتی اس لڑکی کو دیکھ کر اس کو پہلا
خیال یہی آیا تھا
گیلی سڑک برفباری میں اتنی پھسلن اور ہیل والا جوتا
پکا گرے گی۔
ابھی اتنا ہی سوچا تھا کہ اس کے سامنے وہ لڑھک گئ۔
اسے بے ساختہ ہنسی آئی ۔ پھر افسوس بھی ہوا
اسے لگا تھا وہ کپڑے جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوگی۔
جدید دور کی لڑکی۔ خود اٹھنے سے پہلے موبائل ٹٹول کر دیکھ رہی تھئ کہ ٹانگ بھلے ٹوٹ جائے موبائل کو کچھ نا ہو۔اسکے پاس سے گزر کر وہ سیدھا نکل آیا تھا مگر چند قدم بعد یونہی مڑ کر دیکھا تو وہ گھٹنا سہلاتی سر جھکائے وہیں بیٹھئ تھی۔ شائد اسے ذیادہ چوٹ لگ گئی ہے یہی سوچ کر وہ پلٹ آیا۔
آنکھوں میں آنسو بھرے سرخ آنکھیں سرخ ناک چڑھا کر اس نے گردن ہلا کر جواب دیا تھا۔
اس نے لمحہ بھر سوچا پھر اسکو سہارا دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا۔ مقابل بھی اسی کے قبیل کی تھی۔ ٹھیک ٹھاک وقت لگا کر سوچ سمجھ کر اسکا ہاتھ تھام کر سہارا لیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلی دفعہ باتھ روم دیکھا اس بار اسکے ساتھ اسکے کمرے کے بیچ کھڑی تھی۔ وہ سہارا دے کر لایا تھا۔
اسے بیڈ پر بیٹھنے کا کہہ کر وہ الماری کی جانب بڑھ گیا۔
آپ تشریف رکھیے۔
اس نے ایک نظر بے داغ سفید براق بچھی چادر کو دیکھا پھر بیٹھنے کا ارادہ ترک کردیا۔ اسکے کپڑے گیلے ہو چکے تھے۔یقینا اسکا بیڈ خراب ہوجاتا۔
یہ اسپرے کر لیں گھٹنے پر اس سے فوری درد کھنچ جائے گا۔
اس نے ایک اسپرے کین نکال کر اسے دیا۔
ادھر باتھ روم ہے آپ اسے استعمال کر لیجئے گا۔
اس نے سویٹ شرٹ اور پاجامہ نکال کر بیڈ پر رکھتے ہوئے خاصی تمیز سے کہا تھا۔
اس نے سر ہلا کر شرٹ اٹھائئ۔ عجیب سا احساس ہوا تو پوری تہہ کھول کر دیکھی ۔پھر علی کو دیکھا۔
اس نے خاصی باڈی بنا رکھی تھی۔ اسکی شرٹ اتنی چوڑی تھی کہ اس میں آرام سے دو اریزہ آجاتیں۔اسکے کپڑے اسے کہاں آئیں گے۔
اس کی آنکھیں اصل حجم سے دگنی ہو چلی تھیں۔۔چندی آنکھوں والے نے خاصی دلچسپی سے یہ منظر دیکھا تھا کہاں اس ملک میں حیرت کے اظہار کے طور پر بھی آنکھیں کھل نہیں پاتیں تو کہاں یہ لڑکی اپنی
موٹی موٹی آنکھیں پھاڑ کر پانڈا بن چلی تھی۔۔۔۔
۔
علی اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر وضاحت کرنے والے انداز میں بولا۔۔
میرے گھر کوئی خاتون نہیں ہیں۔ سو ابھی آپ یہی پہن لیں میں آپکے کپڑے ڈرائر کردوں گا۔
آپکے کپڑے بالکل بھیگ گئے تھے۔ ۔ آپ کو سردی لگ رہی ہوگی آپ یہ اٹیچ باتھ روم یوز کرلیں۔
اور چینج کر لیں
وہ نرمی سے کہتا باہر نکل گیا۔۔
اریزہ نے جھر جھری سی لی۔۔ گھن کھا کر نہیں سردی سے۔۔ اسکو ہلکا ہلکا بخار بھی محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے جھجکتے ہوئے کپڑے اٹھائے تبھی اسکی نگاہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھی تصویر پر پڑی۔
تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر آگے بڑھی۔ تصویر اٹھا کر دیکھنے لگی۔ علی کے ساتھ بے حد خوش شکل چندی آنکھوں والی لڑکی کا کھلکھلاتا ہوا پوز تھا۔
میرے گھر میں کوئی خاتون نہیں تو یہ کون ہے؟ مرد
اس نے ناک چڑھائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کپڑے بدل کر فریش ہوکر باہر نکلی تو کمرہ خالی۔تھا۔۔
اس کے کپڑے اسے بہت ڈھیلے نہیں تھے ہاں لمبے تھے ۔۔ اس نے آستینوں اور پائنچوں کو تھوڑا تھوڑا موڑ لیا تھا۔۔ اسکا مفلر بھی نم تھا۔اس نے اسپرے کیا تھا۔ درد میں نمایاں کمی آئی تھئ مگر لنگڑانا ابھی باقی تھا۔ وہ دائیں ٹانگ پر کم بوجھ ڈالتی ہوئی جھجکتی باہر نکل آئی۔۔ وہ تصویر والی باجی اگر واپس آجاتیں تو اپنے ان کے بیڈ روم میں اسے دیکھ کر کچا چبا جاتیں۔ یہی سوچ کر اس نے اسکا انتظار کرنے کی بجائے باہر آنا مناسب سمجھا۔
ایک کمرے اور لائونج پر مشتمل چھوٹا سا اپارٹمنٹ مختصر سامان سے سجا تھا۔ اوپن کچن میں کائونٹر پر بھاپ اڑاتا سوپ رکھا تھا ۔۔لائونج میں سامنے ہی علی کچے چاول ٹرے میں پھیلائے کارپٹ پر اکڑوں بیٹھا انہیں۔ الٹ پلٹ کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر ٹرے وہیں چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
آئیے۔۔وہ یقینا اچھا میزبان تھا۔ اسکیلئے کرسی گھسیٹ کر اسکے بیٹھنے کے بعد خود اوون کی جانب بڑھ گیا۔۔ میز پر دو پیالے دھرے تھے۔ چکن سوپ جس میں نوڈلز تیر رہے تھے۔بیف اسٹیک۔ اس نے اوون سے نکال کر گرما گرم سامنے رکھا۔۔پھر معزرت خواہانہ انداز میں بولا۔۔
معزرت میرے گھر میں پورک نہیں ہوتا ہے۔ مگر مجھے امید ہے آپکو سوپ اور اسٹیک پسند آئے گا۔۔
یوں بن بلائے مہمان بن کر کھانا کھانے بیٹھ جانا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔
وہ میرا خیال ہے مجھے ڈنر گھر جا کر ہی کرنا چاہیئے۔ آپکو پہلے ہی بہت زحمت دے دی ہے میں نے۔۔
لنچ؟ علی مسکرایا۔۔
آپ ڈنر کر لیں کیونکہ باہر جتنی شدید برفباری ہے آپ بریک فاسٹ ہی اب گھر پر کر سکیں گی۔۔
جی؟۔ اریزہ کا منہ کھلا رہ گیا۔
میرے پاس گاڑی نہیں ہے اور ٹیکسی آپکو اس موسم میں ملنا مشکل ہے۔
علی کا انداز سادہ سا تھا۔ اریزہ مرے مرے انداز میں دوبارہ بیٹھ گئ۔
باہر بہت موسم خراب ہے؟ اریزہ نے پوچھا تو وہ سر ہلا کر رہ گیا۔
اسٹیک کا پیس کرکے چاپ اسٹکس سے اٹھاتے اسکی نظر پڑی تووہ منتظر نظروں سے ہی دیکھ رہی تھی۔
خراب تو نہیں کہہ سکتے معمول کی برفباری ہے مگر سڑک پر برف سے راستہ بند ہے برفباری تھمے گی تو راستہ صاف کیا جائے گا۔ آپ کھانا تو کھائیے
۔علی نے ٹوکا تو وہ گہری سانس بھر کر رہ گئ۔ بھوک کا احساس شدید تھا سو وہ مزید بحث میں پڑنے کی بجائے خاموشی سے کھانے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقفے وقفے سے وہ اریزہ کو فون کرنے کی کوشش کرتی رہی تھی ۔ ایسا تو پہلے کبھی نہ ہوا تھا کہ اسکا فون اتنی دیر تک بند رہے۔۔ وہ اب پریشان ہونے لگی تھی۔۔ کچھ سمجھ نہ آیا توہایون کو کال ملا دی۔
وہ گھر آکر چینج کرکے سکون سے بستر میں گھسا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا جب گوارا کی کال آئی۔
یوبو سیو۔۔
اس نے مصروف سے انداز میں فون اٹھایا۔
ہایون اریزہ تمہارے ساتھ ہے؟
گوارا چھوٹتے ہی بولی۔
آنی۔ ( نہیں ) کیوں کیا ہوا؟
گوارا لمحہ بھر کو چپ ہی رہ گئ
یار وہ اسکا شام سے کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔ مارٹ سے تو سات بجے تک چھٹی ہو جاتئ ہے۔وہ ابھی تک گھر نہیں آئی دس بج رہے ہیں۔ ۔۔ فون بھی بند جا رہا ہے اسکا۔۔
کیا؟ اور یہ تم اب بتا رہی ہو مجھے تم ۔ تو بتاتی بھی نہ مجھے؟؟؟؟۔ وہ چیخ پڑا تھا
مجھے لگا تھا تھوڑی دیر تک آجائے گی مگراب دس بجنے کو ہیں وہ ابھی تک نہیں آئی فون بھی بند جا رہا ہے۔۔ ۔۔ گوارا خائف ہو گئ تھی
اسپتالوں کی ایمرجنسئ سے پتہ کرنا تھا کوئی حادثہ نہ ہوگیا ہو۔۔
گوارا چپ ہی رہی۔۔ اسے یہ خیال نہ آیا تھا ۔۔
ہائش۔۔ ہیونگ سک نے فون بند کردیا۔۔ چند لمحے سوچا پھر اپنا جیکٹ اٹھا کر باہر بھاگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے گیارہ ہو رہے ہیں۔۔
فون تو کر دیتی جانے کہاں رہ گئ ہے۔
گوارا بے چینی سے ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی۔
ہوپ بیڈ کرائون سے ٹیک لگائےکافی پی رہی تھئ۔
فون بھئ کام نہیں کر رہا۔۔ وہ جھلا کر دھپ سے بیڈ پر بیٹھی ہوپ جو اسی وقت گھونٹ بھرنے لگی تھی گرم گرم کافی چھلک کر اسکے ہونٹ جلا گئ۔۔
آہش۔۔ اس نے کپ سائیڈ پر رکھ کر اپنا گریبان جھاڑا۔۔
پھر اسے گھورنے لگی۔ گوارا کو پہلی بار اتنا سنجیدہ اور پریشان دیکھا تھا سو غصہ دبا کر اسے سمجھانے لگی
بچی تو نہیں ہے برفباری کی وجہ سے کہیں رک گئ ہوگی۔ آجائے گئ۔۔
وہ یہاں کسی کو نہیں جانتی پہلی جاب تھی اسکی وہاں سے سات بجے کی۔نکلی ہے۔ابھی تک گھر نہیں آئئ۔ تم نہیں جانتی ہو وہ تو لوکل سفر بھی کرنے کی عادئ نہیں ہے۔ راستے اسکو نہیں آتے۔ جانے کہاں کس حال میں ہوگی۔ وہ تو یہاں کی زبان بھئ نہیں جانتی انجان ملک ہے اسکیلئے۔۔
گوارا اسکی ماں کی طرح پریشان ہو رہی تھی۔
پھر بھی جو لڑکی دوسرے ملک آکر رہ رہی ہے پڑھ رہی ہے وہ اتنی بے وقوف تو نہیں ہوگی۔ کہ۔۔ ہوپ کو اسکی تشویش جانے کیوں بہت بری لگی۔۔
تمہیں ذرا فکر نہیں ہو رہی اسکی؟
گوارا کو واقعی اسکی سخت دلی پر حیرت ہوئی۔۔
وہ بچی تھوڑی ہے۔۔۔ ہوپ نے بے نیازی سے کافی کا گھونٹ بھرا۔۔
اتنی شدید برفباری ہورہی ہے باہر مائنس میں ٹمپریچر ہے کوئی آپکے گھر کا فرد گھر سے باہر ہو اس سے رابطہ بھی نہ ہو پارہا ہو تو کیا فکر نہیں ہونی چاہیئے؟ حیرت ہے تم پر۔۔ اتنئ سخت دل کیسے ہو؟
گوارا نے شرمندہ کرنا چاہا جوابا وہ کھل کر ہنستی
چلی گئ
تم جسے بتا رہی ہو اسے اپنے 5 عدد بہن بھائی ماں باپ کا کوئی اتا پتا نہیں ۔۔۔ زندہ ہیں یا مرچکے۔۔ فکر ؟؟؟؟ فکر بس ترقی یافتہ ملکوں کے پیٹ بھر کے تین وقت کھانا کھانے والے باشندوں کا مشغلہ ہے۔۔ ایسی فکریں پیٹ پالنے کی فکریں پالنے والے نہیں پالتے۔۔ وہ ایک ایک جملے پر زور دے کر بولی تھی۔
ہنسنے کے بعد اسکا لہجہ تیز اور تلخ ہوگیا تھا اسکے جملوں میں محسوس کی جانے والی کاٹ تھی۔
گوارا چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھتی رہی۔
یہ منفی 8 ڈگری یہ؟؟؟ اس نے موبائل پر موسم کی اپڈیٹ دیکھ کر طنزیہ موبائل اسکے سامنے لہرایا۔۔
منفی 12 ڈگری میں بس ایک سوئٹر پہن کر جب میں گھر سے نکلی تھی تو ہم چار افراد تھےماں اور ہم تین بہن بھائی۔ برف سے ڈھکی منجمد جھیل پر قدم اٹھاتے تھے تو لگتا تھا اگلا قدم جھیل سے چپکا رہ جائے گا۔۔ پیچھے گولیوں کی بوچھاڑ کرتے سرحد پر تعینات فوجی تھے تو آگے چینی افواج ہمارے قریب آنے پر ہتھکڑیاں لیئے گرفتار کرنے کو موجود تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برف پوش وادی میں منجمد جھیل پر گرتے پڑتے قدم
اٹھاتے چار نفوس نشانہ باندھنے والا بھی رک کر دیکھنے لگا تھا۔۔
ماں اور تین بچے جن میں دو تو شائد دس سال سے بھی کم عمر تھے ایک کو سینے سے چپکائے وہ عورت پوری قوت سے بھاگ رہی تھی جیسے اس ملک سے نکل جانے پر ایک۔خوشحال زندگی اسکی منتظر تھی۔۔
اس نے بندوق نیچے کر لی۔ اسکی دیکھا دیکھی اسکے ماتحت نے بھی۔۔
اتنی مشقت سے اس سردی میں بھاگ رہی ہے وہاں چینی انکو پکڑ کر صبح ہی واپس بھیج دیں گے۔۔ پھر جو انکا حال ہوگا اس سے بہتر ہے ابھی ہی گولی کھا کر مر جائیں۔۔
ماتحت نے اسے جو کہا یا کہنا چاہا وہ سیاق و سباق کے ساتھ روز اول سے ان سب پر عیاں تھا۔
مرنے والوں کیلئے دعا کی جاتی ہے گولی نہیں ماری جاتی۔۔
اس نے گہری سانس لیکر رخ موڑ کر بیرک کی جانب بڑھنے لگا۔۔ماتحت نے بھی تقلید کی۔۔
بیٹا مر چکا ہے اسکا۔۔ اسے پھینک دے تو بھاگنا آسان ہوجائے اسکیلئے۔۔
ماتحت نے یونہی تبصرہ کیا تھا۔۔ وہ مزید انکو دیکھتا
مگر سردی بہت تھی واپسی ہی مناسب تھی۔۔
آہمونی۔۔ بھاگتے بھاگتے یو آنہ گرپڑی تھی ۔ برف پر بھاگنا آسان ہوتا ہے بھلا؟۔ مگر موت سے بھاگنا ہو تو انسان کانٹوں پر بھی بھاگ سکتاہے۔یو آنہ کی پکار پر چھوٹے بیٹے کو سینے سے لگائے بھاگتی ماں رکی بھی نہ تھی۔۔
نونا۔۔ اسکی بہن ماں سے ہاتھ چھڑاتی رک گئ۔ پلٹ کر اسکے پاس آئی۔۔ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اسکو اٹھانے کی کوشش کرتی۔۔ مینا۔
نیلے پڑے ہاتھ پھٹی فراک اور پھٹا ہوا سوئٹر۔
اسکا دل کٹ گیا۔۔ بے اختیار اس نے اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ ماں کا پرانا سوئٹر اسے اتنا کھلا تھا کہ با آسانی اسکی آٹھ سالہ بہن اس میں سما گئ۔۔ اسے ساتھ لگا کر اس نے سوئٹر کے بٹن بند کیئے۔ ماں چند قدم دور رکی گود میں لیئے ڈھائی سالہ انکے بھائی کو تکے جا رہی تھی۔ پھر جھک کر اسے برف پر لٹایا۔۔ وہ بڑی سی شال جس میں اس بچے کو لپیٹے تھے اپنے گرد پھیلا کر انہیں بلانے لگی۔۔
یوانہ چیخ پڑی۔۔
آہمونی۔ یہ کیا کیا۔۔ چھوٹے کو بخار تھا اسے برف پر لٹا دیا۔۔
ایکدم سے بھاگ کر اسکے پاس جانا چاہا تو بھول بیٹھی ابھی لاڈ میں بہن کو اپنے ساتھ سوئٹر میں گھسایا تھا۔۔ دونوں بری طرح الٹ کر برف پر گریں۔۔ ماں بھاگتی انکے پاس آئی۔۔
یوآنہ مینا ٹھیک ہو تم لوگ؟
ماں نے جلدی سے یوآنہ کو اٹھایا۔۔
لو یہ چادر تم اوڑھ لو اوراپنا سوئٹر مینا کو دے دو۔۔
ماں جلدی جلدی اسکا سوئٹر اتار کر مینا کو پہنانے لگی۔۔ سردی نے چوٹ کا درد بھی بھلا دیا تھا۔۔ یو آنہ ماں کی بات سنے بغیر بھائی کی جانب بھاگی۔۔ چندی آنکھوں نیلے ہونٹ والا اسکا بھائی ساکت برف پر سیدھا سیدھا لیٹا تھا۔۔
اس نے پیشانی چھوئی ۔۔
ماں اسکا بخار اتر گیا آہمونی۔۔
ماں نے بے تاثر انداز میں اسکی بہن کا ہاتھ پکڑا اور کھڑئ ہوگئ۔۔
یہ مر بھی گیا ہے یو آنہ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھیل پار کرتے انہیں صدیاں بیتی تھیں۔۔ برفباری پھر شروع ہو گئ تھی۔۔ پلٹ پلٹ کر دیکھتئ وہ بھائی کی لاش جب تک نظر آتی رہی رک رک کر دیکھتئ رہی۔
پھر برف نے اسکے بھائی کی قبر بنا دی ہوگی اسکا منظر تو طوفانی ہوا اور برف کے بگولے نے دھندلا دیا تھا۔۔
سردی کی شدت انکیلئے اچھی ثابت ہوئی یا بری وہ فیصلہ نہ کر سکیں۔ سردی ان سے انکا بھائی چھین چکی تھی تو بارڈر پر تعینات فوجی بیرکوں میں جا گھسے تھے۔ وہ کب سرحد پار کر گئیں پتہ نہ لگا انہیں۔ چلتے چلتے تھک کر چور ہونے کے باوجود بھی وہ تینوں رکی نہ تھیں۔ نیچے چینی وادی میں بنے گھروں کی چمنیوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔۔ وہ بس دھوئیں کے تعاقب میں چلتی گئیں۔ صبح کی پیلی دھوپ میں وہ ایک درخت سے کمر ٹکائے سستانے بیٹھیں اور جانے کب سو گئیں۔۔
نامانوس سے احساس نے انہیں بیدار کیا تھا۔۔
آہجومہ۔۔ ایک چندی آنکھوں والا ادھیڑ عمر شخص انکی ہی زبان میں انہیں پکار رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کال بیل کی آواز نے اسکی سوچوں کا تسلسل توڑا تھا۔۔ گوارا ہیون کو کال ملائے بیٹھئ تھی آواز پر دوڑئ دوڑی گئ دروازہ کھولنے ۔۔ سامنے یون بن کھڑا تھا۔۔
خوشی تو کیا ہونی تھی اسے دیکھ کر الٹا تیوری چڑھ
گئ۔ اسے بھی اس استقبال کا اندازہ تھا۔۔۔
کیوں آئے ہو؟ گوارا کا انداز پھاڑ کھانے والا تھا
آئی مس یو۔۔ اس نے گہری سانس بھر کر کہا تھا
وے؟ گوارا کے لیئے خاصا غیر متوقع تھا یہ اظہار۔۔
دے۔۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا تھا۔۔
یو آنہ نے سخت بد مزا سی شکل بنا کر دیکھا تھا۔۔ وہ گوارا کے پیچھے آئی تھی۔ بہر حال اتنی بھی سخت دل نہیں تھی جتنا سب سمجھ بیٹھے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چائے پیوگی۔۔
وہ خاطر مدارت میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہ رہا تھا۔۔کھانا ختم ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
اس نے جھٹ اثبات میں سر ہلایا پھر بلا توقف نفی میں۔۔
بنا زبان ہلائئ سرسے جواب دیتی اریزہ کافی دلچسپ لگی تھی اسے۔۔
چائے پی لو سردی کم لگے گئ۔۔
اس نے کوریائی قہوہ ہی ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا۔۔
اریزہ کی ناں ہاں میں نہ بدلی۔۔ وہ کھانسی سے مر بھی رہی ہوتی تو کھانسی کا شربت نہیں پیتی تھی کھانسی کے شربت کے ذایقے والا قہوہ چسکے لیکر پینا
ناممکن۔۔
اس نے سوچ کر جھر جھری لی ۔۔ مگر چہرے پر پورا جملہ لکھا تھا۔۔اسکے۔۔
علی کو اسکے چہرے میں کوئی اور چہرہ دکھائی دیا۔۔ ایسا آئینے جیسا دل کے جزبات چہرے پر کوئی بھی آرام سے پڑھ لے۔۔ سب لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں یا اسکو ہی بس لڑکیوں کی یہی قسم ٹکر جاتی تھئ۔۔
اسے مستقل اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ تھوڑی گڑبڑا سی گئ۔ اسکا انداز ٹھرکیاںہ نہیں تھا صاف لگ رہا تھا ذہن کہیں اور ہے۔۔
اس نے کھنکار کر متوجہ کرنا چاہا۔۔
چھوگو۔ ( مرو) ۔۔ ( چھوگیو : ایکسکیوزمی)
وہ فورا سنبھلا۔اور حیران ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگا۔میں نے ایسا کیا کہا جو مرنے کا کہنے لگی۔
۔ دے۔۔
۔علی نے سوچا۔۔اسکی ہنگل اسکو ہمیشہ مشکل میں ڈالتی تھئ سو فورا خود ہی بول اٹھا۔
وہ اگر آپکو اپنے گھر والوں کو کانٹیکٹ کرنا ہو تو لیںڈ لائن وہ رہی۔۔ اس نے شستہ انگریزئ میں کہہ کر لائونج کی جانب اشارہ کیا۔۔
دے۔۔ اریزہ اپنی بات بھول گئ۔ اسکے ہاتھ کے اشارے
کے تعقب میں مڑ کر دیکھا تو چاولوں کی ٹرے پر نظر پڑی۔۔
پیلے چاولوں پر کالی کالی سی چیز۔۔ وہ سرعت سے اٹھی۔۔
وہ کالی کالی چیز مانوس سی لگ رہی تھی۔۔
اس نے جھپٹ کر اٹھایا تو اسکا فون تین حصوں میں بٹا پڑا تھا۔۔ فون کور اسکرین پروٹیکٹر چکنا چوراور بیچ میں فون۔۔
یہ۔۔ وہ روہانسی سی ہوگئ۔۔
گرم کھولتا پانی کپ میں ڈال کر قہوہ بناتا علی اسکے پاس ہی چلا آیا ۔
یہ بھیگ گیا تھا۔۔ میں نے فورا آف کردیا تھا تھوڑی دیر ڈرائر سے بھی سوکھایا ہے اب آن کرکے دیکھو انشا اللہ آن ہوجائے گا۔۔
پورے جملے میں اسے بس انشا اللہ سمجھ آیا تھا۔۔
اسکو موبائل کی پڑی تھی۔۔
جلدی سے آن کیا چند لمحے آن ہو کر بند ہوگیا۔
بیٹری ختم ہوگئ تھی۔۔ وہ وہیں کارپٹ پر بیٹھ گئ۔۔
علی تھوڑا سا سٹپٹا سا گیا۔۔ پہلے سوچا جانےدے پھر کہہ ہی بیٹھا۔۔
وہ آپ اس سے ہٹ کر یہاں بیٹھ جائیں۔۔
اسکے اشارہ کرکے کہنے پر اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہ موٹا سا رگ تھا مگر تھوڑا سا مختلف۔اس پر مسجد بنی تھی۔۔
یہ تو جاء نماز ہے۔۔ ۔ وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
دے؟۔ علی کو اسکی زبان نہ سمجھ آئی۔
بیان۔۔ ۔۔ اس نے سوری کہہ دیا۔۔
کوئی بات نہیں۔ آپ نے اگر کسی کو اپنی خیریت کی اطلاع دینی ہے تو دے دیں۔۔
علی نے کہا تو وہ الجھن بھرے انداز میں دیکھنے لگی۔
فارنرز کے لیئے یہاں کے لوگ کافی مشکوک رہتے ہیں خاص کر اگر آپ ہاسٹل یا اپارٹمنٹ کرائے پر لیکر رہیں۔ اگر آپکو اپنی مالک مکان کو گھر والوں یا کسی دوست کو اطلاع دینی ہے تو یہ لینڈ لائن استعمال کر لیں
اس نے تفصیل سے دہرایا۔۔تو وہ چپ رہ گئ
میرے لیئے یہاں کون پریشان ہوگا۔ اس نے سوچا۔
گوارا۔
اسکے دماغ کی بتی روشن ہوئی۔
مگر اس سے رابطہ کیسے کروں فون نمبر تو سب فون میں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ پریشان نہ ہوں تھوڑا سا صبر سے کام لیں۔۔ہم نے پٹرولنگ کو مطلع کر دیا ہے کسی بھی علاقے سے کوئی اطلاع ملتی ہے تو ہم آپکو مطلع کر دیں گے۔۔
وہ اس وقت پولیس اسٹیشن میں بیٹھا تھا ۔آفیسر نے اسکی درخواست پر فوری کام کیا تھا۔۔ اب تسلی دے رہا تھا۔۔
آپ دیکھیں باہر کتنی شدید برفباری ہے۔ وہ ایک غیرملکی ہے یہاں کے راستے زبان یکسر اجنبی ہیں اسکیلئے وہ اس برفباری میں بھٹک نہ رہی ہو آپ اسے ڈھونڈیے
دیکھیں ہم نے ہاسپٹلز میں اطلاع دے دی ہے ایمرجنسی میں فی الحال آپکی بتائی گئ معلومات کے مطابق ایسی کوئی غیر ملکی لڑکی نہیں آئی ہے۔ اور برفباری شدید ہے ایسے میں یقینی طور پر کسی ریستوران ہوٹل یا سرائے میں پناہ لے رکھی ہوگئ ایسے موسم میں رعائیت کر دیتے ہیں خاص کر غیر ملکیوں کے ساتھ۔ آپ اتنے فکر مند نہ ہوں۔
لب لباب یہ تھا خدارا ہوش کے ناخن لو سر نہ کھائو
آپ نے سیل فون سے ٹریس کی لوکیشن؟؟؟
اس نے بے تابئ سے سوال کیا۔
سیل فون آف ہے آخری بار جس ٹاورسے سگنل ملے ہیں
وہ مین کنگنم ہے ۔۔ یہاں سے رہائشی علاقہ قریب ہے۔ یقینا انہوں نے اسی علاقے میں کہیں کسی گھر میں پناہ لے لی ہوگی برف۔۔۔
اسکا جملہ مکمل ہونے سے پہلے بجلی کی تیزی سے ہیونگ سک نے اپنا موبائل اور چابی اٹھائی تھی اور باہر بھاگا تھا۔۔
آفیسر ہکا بکا دیکھتا رہا۔۔
اب اتنی برفباری میں نکلا ہے ایک اور ایکسنڈنٹ کی رپورٹ تیار کرنی پڑ جانی ہے ہمیں۔۔
وہ بڑ بڑا کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی نے اپنا موبائل چارجنگ سے نکال کر چارجر میں اسکا موبائل لگا دیا تھا۔۔
گونو وویو۔۔
اس نے شکریہ ادا کیا تو علی ہنس پڑا۔
گومو وویو۔۔
اس نے کوریائی لہجے میں دہرایا۔۔ جوابا اریزہ نے تھوڑا سا برا مانتے ہوئے بالکل صحیح انداز میں لہجے کی نقل کی۔۔
واہ۔۔ تمہارا لہجہ کافی رواں ہے۔۔ فارنرز کیلئے صحیح ادائیگی مشکل کام ہوتا ہے۔۔۔ علی جانے سچ مچ متاثر
ہوا تھا یا یونہی بات بڑھانے کو لگا ہوا تھا۔۔
آپکی انگریزی رواں ہے ورنہ یہاں کے لوگوں کا لہجہ پینڈو سا ہوتا یے۔۔
وہ بھی روانی میں کہہ گئ۔۔
پینڈو؟؟ اسے سمجھ نہ آیا۔
اب پینڈو کو انگریزی میں کیا کہیں گے۔۔ وہ بڑ بڑائی
نتھنگ۔۔ ذیادہ دماغ پر زور دینا اسے کبھی پسند نہیں رہا تھا۔۔
تم اگر چاہو تو اندر کمرے میں جا کر آرام کر لو۔۔
علی نے کہا تووہ چونکی
ساڑھے گیارہ بج رہے تھے یقینا یہ اسکے آرام کا وقت تھا۔ وہ شرمندہ ہو گئ
آپ آرام کر لیں اپنے کمرے میں جا کر آرام سے میں بس موبائل چارج ہو جائے تو جانا چاہوں گی۔آپ میری وجہ سے اپنی نیند نہ خراب کریں۔
اسے خیال آیا ایک کمرے کے اپارٹمنٹ میں وہ یقینا اسکی وجہ سے بے آرام تھا۔۔
میں انسومینیا کا شکار ہوں میں سوتا نہیں ہوں۔ علی سادہ سے انداز میں بتاتا چائے کا خالی کپ رکھنے اوپن کچن میں چلا گیا۔۔
آپ کیا کرتے ہیں؟؟؟ اس کو خیال آیا۔۔
بزنس ماسٹرز ہوں۔ وہ مسکرایا
ساتھ گیسٹ لیکچرر ہوں ایک اکیڈمی میں ساتھ ساتھ ایک ریستوران شروع کیا ہے جس میں حلال کورین فوڈ پیش کی جاتی ہے۔۔ یہ جو ابھی اسٹیک کھایا ہے آپ نے خالصتا کوریائی ٹچ کے ساتھ میری ذاتی ترکیب سے بنا ہے۔۔
پھر تو آپکا ریستوران چلتا ہی نہیں ہوگا۔۔
اس نے جھٹ خیال ظاہر کیا
کیوں؟۔ وہ حیران ہوا۔۔
حلال فوڈ مسلمان ڈھونڈتے ہیں اور یہ ٹھہرا نان مسلم ملک۔۔ مانگ ہی نہیں ہوگی اس طرح کے کھانے کی۔۔
اس نے وجہ بھی بتادی۔۔
علی نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا وہ۔ کھانے کے برتن سمیٹ رہا تھا ساتھ ساتھ اس سے باتیں بھئ کر رہا تھا۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے خوب چلتا ہے۔دراصل۔ مسلمان حلال کے سوا نہیں کھاتے مگر نان مسلم کو تو حلال حرام سے فرق نہیں پڑتاوہ حلال فوڈ بھی کھا لیتے ہیں بلکہ ۔۔ میرے ریستوران میں تو اکثر وی لاگر حلال فوڈ کھانے آتے ہیں اور انکے ریمارکس پر میرے ریستوران پر کسٹمرز بھئ کافی بڑھے ہیں۔۔
اچھا بڑی بات ہے۔۔ اس نے کندھے اچکائے۔۔
ایک بار تو مجھے ایک کسٹمر نے آکر حلال پورک اسٹیک کی فرمائش بھئ کی۔۔
وہ ہنستے ہوئے بتانے لگا۔
اریزہ بھی ہنس پڑی۔۔اسکا موبائل جان پکڑنے لگا تھا۔ اس نے فورا بٹن دبا کر آن کردیا
آپ سوچ رہی ہوں گی اسمیں ہنسنے کی کیا بات ۔۔ در اصل مسلمان پورک نہیں کھاتے۔ مکمل منع ہے انکیلئے پورک کھانا۔ حلال فوڈ سے مطلب کوئی نیا فلیور نہیں ہوتا بلکہ جانور کی گردن کی رگیں کاٹ کر اسکی جان لینا وہ بھی اسم الہی کے ساتھ۔۔ اسے حلال کرنا کہتے ہیں۔۔
اس نے تفصیلی جواب دیا تھا۔
میں جانتی ہوں۔۔ میں بھی۔۔ اریزہ نے بتانا چاہا تبھئ اسکا موبائل بج اٹھا۔۔
اس نے آگے بڑھ کر نام دیکھا لکھا تھا
ہیون کالنگ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے میں وہ اسکے سامنے تھا۔
تم ٹھیک ہو،؟۔
وہ فکرمند تھا
بالکل۔ ان صا حب نے بہت خیال رکھا میرا۔اس کے کہنے پر ہیون کو خیال آیا
شکریہ یار ۔۔
بیٹھو کافی پی لو۔۔۔
وہ محظوظ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔
پریشان حال بکھرے بال جن پر برف بھی پڑی تھی۔ اتنا اجڑا پجڑا ہیون نامانوس تھا اسکیلیئے۔۔
نہیں۔ بس اب چلتے ہیں ہم۔ ہیون نے کہا تو اریزہ نے مڑ کر کوریائی انداز میں جھک کر آننیاگ واسے او کہا۔
علی نےاسے اسی کے انداز میں جواب دے کر ہیون کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور جان کر ہنگل میں بولا۔
مجھے اندازہ ہوتا تو سب سے پہلے تمہیں اطلاع دیتا۔ پھر بھی تمہیں مجھ سے بات کرکےاطمینان ہوجانا چاہیئے تھا اتنی برفباری میں ڈرائیو کرکے یہاں آئےہو۔ یہ لڑکی دوست سے کچھ ذیادہ ہے ہے نا؟۔۔
اسکا انداز چھیڑنے والا تھا۔۔
ہیون جھینپ سا گیا۔۔
بہت ذیادہ۔۔
اس نے سچے دل سے کہا تھا۔۔
دونوں ہی ہنس دیئے۔۔ انکے ہنسنے پر اریزہ نے مڑکر
دیکھا
فیس بک پر جانے کس صدی کی تصویر لگائی ہے اصل میں تو ٹھیک ٹھاک وجیہہ اور مہربان سا ہے۔۔۔
اس نے سوچا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم مجھے کال کر لیتیں ۔۔ آج تو برفباری بھی یکدم سے بہت شدید شروع ہوگئ ہے۔۔ اسکیلئے دروازہ کھولتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔گاڑی میں بیٹھ کر اس نے سب سے پہلے ہیٹر آن کیا تھا۔۔
معزرت۔۔ وہ بس کہہ کر چپ ہوگئ۔۔
بندہ ویدر فارکاسٹ ہی دیکھ لیتا ہے۔گرم کپڑے پہن کر نکلتا ہے۔۔ ابھی سیول میں شدید سردی پڑنی شروع بھی نہیں ہوئئ۔۔ اوپر سے موبائل بند گوارا وہاں الگ پریشان ہو رہی ہے۔۔ ہم سب کو فکر یہ تھی کہ راستے نہیں یاد یہاں کے۔ہنگل بھی نہیں آتی تمہیں۔۔ کسی مصیبت میں نہ پھنس گئ ہو۔۔اور ہمارا اندازہ صحیح نکلا۔ چوٹ اندرونی ہے یا خون بھی نکلا؟
وہ یقینا کافی پریشان ہوا ہوگا جبھی نان اسٹاپ بولتا گیا۔۔ اسے اپنی غلطئ کا اندازہ تھا
نہیں خون نہیں نکلا۔
اس نے دھیمی آواز میں جواب دیا
بہت قسمت اچھی تھی جو جون جے مل گیا۔۔ ایک تو رج کے شریف اوپر سے انگریزی بھی آتی ہے اسے۔۔۔ تم۔۔
بولتے بولتے اسکی نظر اریزہ پر پڑی تو یکدم چپ ہو رہا۔۔ وہ آنکھیں پونچھ رہی تھی۔ ۔ وہ چلا نہیں رہا تھا اسے عادت ہی نہیں تھی پھر جملے بھی سخت نہ تھے اسکا رو پڑنا غیر متوقع تھا۔۔ برفباری کی شدت میں کمی آچکی تھی۔اس نے راستے میں ایک۔طرف کرکے گاڑی روک دی۔۔ آنسو پونچھتے سر اٹھایا تو چونکی۔۔ مڑ کر ہیون کو دیکھنے لگی۔۔
وہ اسکے متوجہ ہونے کا ہی منتظر تھا۔۔ فورا معزرت کرنے لگا۔۔
بیانیئے۔ میں شائد زیادہ بول گیا۔۔
اریزہ چپ چاپ اسے دیکھتی گئ۔۔ اسکے چہرے پر فکر پریشانی خیال کیا کچھ نہ تھا اسکے لیئے۔۔ اسے تو لگا تھا یہاں اسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے جبکہ یہاں اسکیلئے پریشان ہونے والا دوست تھا فکر کرنے والی بہن جیسی گوارا بھی تھی۔۔اسکے اپنے دوست سہیلی جانے کہاں تھے کیا کر رہے تھے۔۔اسکی آنکھیں لبا لب بھر گئیں۔۔
نہیں تمہیں معزرت کرنے کی ضرورت نہیں۔
وہ اور شرمندہ ہوگئ
بس وہ مجھے شرمندگی ہورہی ہے میری فالتو سی ضد کی وجہ سے تمہیں اتنی زحمت ہوئی آئم سوری۔۔
برفباری سردی تنہائی کیسے انسان کو بےبس کرتی ہے وہ بخوبی جانتا تھا۔۔ وہ اسی تکلیف میں مبتلا کسی اور کو سہارا دینے کو بڑھا۔۔ اریزہ نے اسی وقت رخ پھیر کر ڈیش بورڈ پر رکھے ٹشو باکس سے دھڑا دھڑ ٹشوز نکال کر آنسو پونچھ ڈالے۔۔
میں سوچ بھئ نہیں سکتی تھی برفباری دیکھنے کا شوق میرا ایسے تکلیف دہ انداز میں پورا ہوگا۔۔
وہ روانی میں چڑی چڑی سی بولی۔۔
ہیون کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی۔ رخ پھیر کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔۔
اریزہ کو یاد آئیں اپنی بڑکیں سینٹڈ نالہ برفباری ۔۔ اسے خفت سی محسوس ہوئی۔۔مگر مقابل ہیون تھا ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریزہ۔۔
لپٹ کر کہہ رہی تھی۔۔۔یوآنہ کمرے سے اٹھ کر آئی تھی انہیں لائونج میں بخیریت دیکھ کر سر جھٹکتی واپس کمرے میں جا گھسی سر تک کمبل بھی تان لیا۔
تمہیں پتہ ہے کتنا پریشان تھی میں تمہارے لیئے۔۔
سوری۔۔ وہ اور کیا کہتی۔۔
اور یہ کیا پہن رکھا ہے۔ وہ اس سے دور ہو کر جائزہ لینے لگی۔۔
وہ یہ۔۔ اریزہ ایکدم سرخ پڑ گئ۔۔
برفباری سے کپڑے گیلے ہوگئے تھے تو جون جے نے اسے اپنے کپڑے دیئے تھے۔۔ ہیون کی جانب سے جواب آیا تھا۔۔
اور تم تم بھی لے لیتے جون جے سے کپڑے۔ یہ بوتھا کپڑے پہنے بیماری کو دعوت دے رہے ہو۔۔ سچ بتائو اریزہ یہ سڑک پر دیوانہ وار پکارتا تو نہیں پھر رہا تھا تمہیں جو اتنا بھیگا ہوا ہے۔
گوارا نے اسکو تادیبی نظروں سے دیکھتے بلا لحاظ تبصرہ جڑا تھا۔۔ ہیون ایکدم سرخ پڑا تھا تو یون بن نے منہ پھیر کر مسکراہٹ ضبط کی۔۔ اریزہ نے اب غور کیا تھا۔ اسکی جیکٹ بال سب گیلے تھے۔۔
ہاں تو تین اسپتالوں کے چکرلگائے پولیس اسٹیشن کا الگ دورہ کیا۔ میرے لیئے کوئی چھتری لیئے اوپا
تھوڑی کھڑ ا ہوتا تھا۔۔
ہیون تیز ہو کر بولا تھا۔۔ خفت سے لال چہرے پر بگڑ کر بولتا اسکا بس نہیں تھا گوارا کو کچا چبا جائے۔۔ اریزہ کو بھی بے ساختہ ہنسی آگئ تھی جسے اس نے چھپانے کی کوشش نہ کی۔۔ یون بن اپنے دوست کی مدد کو آیا۔
چلو میں اپنے کپڑے دوں تمہیں۔۔ یون بن اسے بازو سے پکڑ کر کھینچ لے گیا۔۔
یون بن ؟ اریزہ کا چہرہ سوالیہ نشان بنا۔۔
ہم میک اپ بریک اپ کرتے رہتے ہیں۔۔۔ گوارا ہنس دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح مطلع صاف تھا۔۔دھوپ نکل آئی تھی۔۔ اسکے سوا سب گہری نیند میں تھے۔ وہ اپنے آپکو بالکل تازہ دم محسوس کر رہی تھی ۔۔ ساری رات اسے بالکل نیند نہ آئی جیسے ہی پو پھٹنے لگی احتیاط سے بیڈ سے اتری اور کمرے سے باہر نکل آئی۔ یون بن اور ہیون لائونج میں بستر بچھائے بے خبر تھے۔۔ وہ باہر ٹیرس میں چلی آئی۔ سورج نکل رہا تھا۔ وہ بڑے غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔ دھلا دھلایا سیول اور نکلتا ہوا نارنجئ سورج ۔۔ اس نے جھٹ تصویر کھینچی۔۔
ہر برفباری کے بعد ایک چمکیلا سورج منتظر ہوتا ہے۔ بس ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ برفباری سہہ جائیں ۔۔
اس نے لکھ کر تصویر چڑھا دی۔۔
اسکے بلاگ پر اس وقت لوگ نہیں تھے۔۔
اس نے بور سا ہو کر بلاگ بند کر دیا۔ تبھی بلاگ کی اطلاعی گھنٹی بجی تھی۔۔
موسم باہر کے تو بدلتے رہتے ہیں اندر مگر کوئی موسم ٹھہر جائے توکیا کیا جائے۔۔ ؟؟؟
علی۔۔۔۔
یہ۔اس وقت جاگ رہا ہے؟ واقعی انسومینیا ہے کیا اسے۔۔
اسے حیرت ہوئی تھی۔
میرے اندر کا موسم خود اداس سا ہے تمہیں کیا مشورہ دوں۔۔
اس نے گہری سانس لی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ پہلی بار تھا کہ بلاگر نے اسکو جواب نہیں دیا تھا۔۔ علی چند لمحے انتظار کرتا رہا پھر موبائل بیڈ پر رکھتا بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
کمرے کی کھڑکی سے پردےہٹا کر نکلتے سورج کو
دیکھنے لگا۔۔ سول کا سورج تصویر سے کہیں ذیادہ دلکش لگ رہا تھا۔۔
وہ کتنی ہی دیر ابھرتے سورج کو دیکھتا رہا۔۔ سورج کی نرم گرم سی دھوپ اسکے اندر جمی برف پگھلا نے لگی تھی مگر ابھی اسے احساس نہیں ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔
جاری ہے۔۔
kesi lagi apko salam korea ki yeh qist ? Rate us below
-
Salam Korea Episode 29
salam korea
by vaiza zaidi
قسط 29
salam korea episode 29 آجکا بس کا سفر خوشگوار تھا۔ رش کم تھا یا اسکی قسمت اچھی تھی بیٹھنے کی جگہ مل گئ۔ بس سے اتر کر اس نے سب سے پہلے اپنا کندھا تھپکا
شاباش اریزہ ۔ تم خود مختار ہو تی جا رہی ہو۔
بس اسٹاپ کی تصویر کھینچی اسی وقت بلاگ پر لگائی
صبح کا وقت جاب شروع مجھے اچھی سی دعا دو سب کہ آج کا ٹارگٹ میں پورا کر لوں۔
سر جھکائے لکھتے ہوئے چلتے چلتے اپلوڈ کیا سر اٹھایا ٹھک سے مارٹ کی گلاس وال سے سر لگا کھسیا کر سر سہلاتے وہ خراماں خراماں چلتی اندر داخل ہوئی۔
اپنے اسٹال کو سیٹ کیا سکون سے کھڑی ہوئی پھر اگلے دو تین گھنٹے خاموش یونہی کھڑی رہی مجال ہے جو کوئی آیا ہو سیریل لینے۔ ایک خاتون آئیں بھی تو گھنٹہ اسے یہ سمجھانے میں لگ گیا کہ یہ سیریل ڈائٹ سیریل نہیں بچوں کیلئے ہے۔
دے۔۔ اس سے اچھی طرح بات سمجھ کر اپنے بچے کا پرام دھکیلتی آگے بڑھ گئ۔
محترمہ بچے کیلئے تو لے لیں۔
اس نے پکار کر کہا مگر وہ ان سنی کر گئ۔ اسکا منہ بننے لگا۔
حد ہے ویسے انکو پہلے اشتہار وغیرہ چلانے چاہیئے تھے پھر فری سیمپلنگ کرتے یہاں کی عورتوں کو تو انگریزئ بھی نہیں آتئ ۔ اس نے منہ بنایا۔
تبھی ایک چار پانچ سال کا بچہ اسکے لانگ ٹاپ کے دامن کو کھینچ کر اسے متوجہ کرنے لگا
گورا چٹا گول مٹول اس نے بے ساختہ اسکے گال پر چٹکی سی بھر لی۔
یہ کھانا۔ اس نے کچھ اشارے اور ہنگل سے سمجھایا اس نے بھی جھٹ اسے اٹھا کر بچوں والی کھانے کی کرسی پر بٹھایا اور پیالہ بنا کر اسکے آگے رکھا۔ بجائے کھانے کے وہ ٹکر ٹکر دیکھنے لگا۔
کھائو نا۔
اس نے چمکار کر کہا۔
تبھی اسکا موبائل بج اٹھا۔ ایڈون کا میسج تھا مختصر مگر سنجیدگی سے بھرپور
تمہاری ہر طرح کی مدد کا میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں بہت شکریہ۔
انگریزی میں پیغام تھا۔ اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔
اتنے دنوں سے روز سوچتی تھی کہ سنتھیا سے ملنے جائے مگر اس نوکری کی وجہ سے فرصت کہاں تھی۔ اس نے شرمندگی سے سر کھجایا۔
آج پکا جائوں گی اس سے ملنے۔ اس نے مصمم ارادہ کیا۔ سر اٹھایا تو اس ننھی مخلوق کو بسورتا پایا۔ چمکارا
کیا ہوا؟ ۔۔
وہ۔۔ اب اس نے انگلی کے اشارے سے کہا تو اس نے اسکی انگلی کی سیدھ میں دیکھنے کو اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکائی۔ اس ننھی مخلوق کا اشارہ اس چھوٹے سے ٹیڈی بئیر کی جانب تھا جسے پانچ پیکٹ اکٹھے لینے والی خاتون کو تحفتا دینا تھا۔ ٹیڈی بئیر ابھی تک سب یونہی سجے بیٹھے تھے۔ کسی نے لیا بھی تو ذیادہ سے ذیادہ دو پیک لیئے۔
اس نے گہری سانس بھر کر ٹیڈی بئیر اتار کر اسے تھمایا اس نے نہایت خوشی سے ٹیڈی بئیر تھاما اور پیالہ آگے کھسکا دیا۔
یہ بھی کھا لیتے مزے کا ہے۔
اس نے پیالہ اٹھاتے ہوئے یونہی چمچ بھر کر منہ میں رکھ لیا۔
واقعی مزے کا تھا۔ ہلکا پھلکا سا میٹھا فلیور شائد ونیلا تھا۔
اسکے تاثرات نے بچے کو للچایا جھٹ منہ کھول لیا۔ اپنا چمچہ اس نے لمحہ بھر سوچا پھر ایک طرف رکھ کر نیا چمچ نکال کر اس کو چمچ بھر کر کھلایا ۔
بچے نے اطمینان سے چبایا اور نگل کر روتی صورت بنا لی
کیا ہوا مجے مجے کا ہے۔۔
اسکے ہاتھ پائوں پھول گئے۔
جھٹ خود ایک چمچ کھا کر تالی بجائی جیسے کھا کر بہت خوشی ہوئئ ہو۔
مجے مجے کا۔۔
بچے نے دہرایا پھر ہمکنے لگا
اب کیا کروں تمہارے ساتھ کھانا وانا ہے نہیں رونے کو تیار بیٹھے ہو۔ چاہ کیا رہے ہو۔ اب یہ ٹیڈی بئیر بھی لے تو لیا۔
وہ اس سے سنجیدگئ سے پوچھ رہی تھی۔
بچے نے اسکی سب اردو خاموشی سے سنی چمچ بھر کر منہ میں رکھا اور اسے پھر اشارہ کرنے لگا زور زور سے تالی بجا کر
کیا ؟ میں بھئ بجائوں؟
وہ حیران ہوئی ۔ ہلکی سی تالی بجائی بچے نے خوش ہو کر قلقاری ماری ۔ پھر چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔
مجے مجے کا۔
اس کے منہ سے مجے مجے کا اتنا مزے کا لگا کہ اسکی ساری کلفت دور ہوگئ۔ اسکے نوالہ لینے پر اس نے خوش ہو کر تالی بجائئ۔ پھر اس بچے نے پورا پیالہ ختم کیا اور ہر نوالے پر اس سے تالی بجوائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے اسٹال سے کچھ ہی فاصلے پر موجود اسٹاف کے کیبن کی گلاس وال سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ہاتھ میں کین پکڑے وہ پینا بھولے ہوئے تھا۔کم سن اس سے کچھ فاصلے پر اپنی ریوالونگ چئیر پر بیٹھا اسکے دو سینئر افسران سے بریفنگ لے رہا تھا۔ ان دونوں نے بات کے دوران اس کی جانب تھوڑا حیران ہو کر دیکھا تھا۔ اس میٹنگ میں اصل کام ہایون کا ہی تھا مگر وہ یوں بے نیاز کھڑا رہا تھا۔ کم سن نے اسکی جانب دیکھا پھر گہری سانس لیکر ان دونوں کو جانے کا کہہ دیا۔ دونوں جھک جھک کر اس کو سلام کہتے نکل گئے تو وہ دبے قدموں اسکے پاس آیا اور جان کے ایکدم سے اسکے کان کے پاس بولا
تم پہلے بتاتے تو میں سی سی ٹی وی کی پوری چھے گھنٹے کی ریکارڈنگ بھجوا دیتا بلکہ کہو تو کل سے یہاں کہیں ہڈن کیمرہ لگوا دوں لائیو دیکھ لیا کرنا اسے۔
ہایون اسکے ایکدم سے کان پر بولنے پر کان سہلانے لگا۔
اتنی دیر میں بس ایک بچہ ہی کھا رہا ہے سیریل ۔ یہ سیریل بکتا نظر نہیں آرہا مجھے تمہارا ٹارگٹ اسکی وجہ سے پورا نہیں ہوگا تو میں پیسے نہیں دوں گا۔
نہایت سنجیدگی سے اس نے کہا تو کم سن نے اسکو تادیبی نگاہوں سے گھورا۔
اسکو بکوانا کوئی مسلئہ نہیں مگر یہ بتائو تمہیں میرا ٹارگٹ پورا نہ ہونے کی فکر ہے یا اسکے؟
کم سن بھئ ایک کائیاں تھا۔
تمہارا ٹارگٹ بھئ اسکا ٹارگٹ پورا ہونے سے ہی جڑا ہے۔
ہایون بھی اتنی آسانئ سے ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔
کم سن نے شاکی نگاہ ڈالی اور اپنی جیب سے موبائل نکال لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بچے کو کھاتے دیکھ کر کئی بچے آجمع ہوئے تھے۔ انکی والدائیں بھی۔ دھڑا دھڑ اسکے ڈبے بکے۔ وہ والا ٹیڈی اس نے خوش ہوکر یونہی اس بچے کو تھما دیا تھا۔ وہ بے تحاشا خوش ہوا تھا۔ اسکی ماں جھک جھک کے گھمسامنیدہ کہتی گئ تھئ۔ پانچ ڈبے رہ گئے تھے بس۔ وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔ پہلا دن تھا ٹارگٹ پورا ہونے کا۔ شائد۔ ابھی تین گھنٹے مزید تھے پانچ تو بک ہی جاتے۔
وہ مطمئن ہوگئ ۔ ایک سوچ یہ بھی آئی کہ یہ پانچ خود خرید لے۔کیونکہ۔ اس نے دزدیدہ نگاہوں سے ٹیڈی بئیر کو دیکھا پھر پلاسٹک ریپ سے سجا ٹیڈی بئیر اٹھا لیا۔
یہ بہت ہی پیارا تھا۔ گول مٹول سا بڑی بڑی آنکھیں کھول کر دیکھتا۔
وہ چند لمحے اس کو دیکھتی رہی پھر واپس رکھ کر مڑی تو سامنے کائونٹر پر نسبتا دو بڑے بچے آبراجمان ہوئے تھے۔ چندی آنکھوں کے ساتھ معصومیت سے تکتے۔ ایک نے بچکانہ آواز میں ہنگل میں فرمائش داغئ
آہجومہ ہمیں سیریل کھلائو۔
آہجومہ کو خاک سمجھ آئی ہوگی اس سے انگریزی میں بولو۔
ایک نے دوسرے کو ٹوکا۔ تو دوسرے نے جیسے سمجھ کر سر ہلایا
آہجومہ پلیز ۔۔
ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا انگریزی میں کہ آہجومہ آگ بگولا ہوگئیں۔
اس نے دونوں ہاتھ کمر پر ٹکا کردانت کچکچا کر پوچھا۔
آہجومہ کسے بولا؟
وہ لڑنے کیلئے تیار تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھئ ذیادہ دیر نہیں ہوئی تھی۔ دونوں کے باہمی اجازت نامے کے ساتھ مکمل معائنے کے بعد دو دن بعد کی انکو آپریشن کی تاریخ دے دی گئ تھی۔ نہایت پیشہ ورانہ انداز میں ڈاکٹر نے ان کو سب تفصیل بتائی تھی۔ ایڈون ہر بات پر سر ہلاتارہا تھا۔ وہ اسکو چپ سی دیکھ رہی تھی۔ ایڈون مطمئن بلکہ خوش کہنا مناسب ہوگا لگ رہا تھا۔ کلینک سے نکل کر باہر آتے بس میں بیٹھتے اسکے ایک ایک قدم پر ایڈون نے اسکا خیال رکھا تھا۔ جیسے وہ کانچ کی بنی ہو۔ اسے اسکی یہ توجہ احتیاط خیال کھلا تھا مگر اس نے ظاہر نہ کیا۔ ایڈون پورا راستہ بولتا آیا تھا۔
آج کی تو چھٹئ ہوگئ اب کل جاکر پرسوں کی چھٹی مانگوں گا تو جانے دیں گے کہ نہیں خیر کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا لوں گا۔ تم فکر نہ کرنا میں تمہارے ساتھ ہی آئوں گا۔
وہ ان سنی کرکے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ آج سورج نکلا ہوا تھا نرم گرم سی دھوپ اچھی لگ رہی تھی اسکو نیند سی آنے لگی۔ کہ ایڈون کی اگلی بات نے اسکی آنکھیں پٹ سے کھول دیں۔
میں نے اریزہ کو شکریہ کہہ دیا تھا۔ میسج پر۔ کال بھی کروں گا۔بلکہ آپریشن کے بعد ہم دونوں اریزہ سے ملنے جائیں گے۔
کیوں؟ اسکا کس بات کا شکریہ؟
وہ فورا مڑ کر پوچھنے لگی۔
اسی کے سمجھانے پر مانی ہو نا میں نے ہی اس سے کہا تھا بات کرے تم سے شائد تمہیں اسکی بات سمجھ آجائے۔ ۔ ورنہ میں تو سمجھا سمجھا کر تھک گیا تھا تم سن ہی نہیں رہی تھیں۔
ایڈون کا انداز سادہ سا تھا۔
تم نے اریزہ کو سب ۔۔
اس نے تاسف سے دیکھا۔ ایڈون نے اب اگلی بات شروع کردی تھی اس نے رخ موڑ لیا۔
میرے پاس ویسے پیسے تو ہیں مگر آپریشن کے خرچے کے بعد بالکل ختم ہو جائیں گے۔ ایڈوانس لینے کی کوشش کروں گا دیکھو کیا بنتا۔
بس انکے اسٹاپ سے کہیں پہلے رکی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا
سنتھیا حیرت سے اس سے پوچھنے لگی
یہ ہمارا اسٹاپ تو نہیں ۔
یہاں کچھ کام ہے۔
وہ اسکا ہاتھ تھامنے کو ہاتھ بڑھائے تھا۔ اس نے اسکا سہارا لے لیا۔ ایڈون اسے گنگم کے بازار میں لیکر آیا تھا۔ سوئی سے ہوائی جہاز تک بچوں کے ہی سہی دنیا کی ہر چیز بک رہی تھی۔ وہ بہت اشتیاق سے دیکھتی آئی۔ پورا بازار چلا کر وہ اسے ایک دکان کے پاس لایا تھا۔ نئی پیکنگ میں تھوک کے حساب سے سویٹ پینٹ شرٹس سرما کے جیکٹس اپر ہر قسم اور ڈیزائن کے موجود تھے۔
دو سویٹ سوٹس ایڈون نے خود ہی ڈھیلے ڈھالے اسکے لیئے منتخب کیئے ایک جیکٹ اسے پسند آگئ ۔
یہ کوٹ ذیادہ گرم لگ رہا ہے۔ ایڈون نےکوٹ اٹھا کر اسکے ساتھ لگایا ۔ کوٹ واقعی کافی موٹا اور لانبا تھا گھٹنوں تک آتا۔
اس نے جیکٹ واپس رکھ دی۔ ایڈون نے دونوں شاپر اٹھا لیئے تھے۔
دکان میں ٹاپس بھی تھے ٹائٹس بھی۔ وہ بس دیکھ کر ایڈون کے ساتھ آگے بڑھ آئی
اب جوتوں کی باری تھی۔ ایڈون کو جوگرز پسند آرہے تھے جبکہ اسے کورٹ شوز۔ اس نے جوگرز ہی لے لیئے۔
یہ گرم رہیں گے ۔ ایڈون نے بتایا وہ سر ہلا کر رہ گئ۔
اسکو شدید تھکن ہو رہی تھی۔ سردی بھی لگنے لگی تھی۔ اس وقت وہ جینز اور گرمیوں کے اچھے وقت کے لیئے ٹاپ میں ملبوس تھئ اوپر سے اس نے ایڈون کا جیکٹ پہن رکھا تھا جو اسے اب سردی کیلئے ناکافی لگنے لگا تھا۔
ایڈون کو خود بھئ شائد سردی لگنے لگی تھی۔
سوپ پیوگئ؟
چلتے چلتے اس نے پوچھا اس نے بس سر ہلایا۔ اسکی ناک سرخ ہوگئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راستے سے کچھ پھل جیسے د وتین کیلوں اور دو تین سیب کی پیکنگ گلوکوز انرجی ڈرنک دودھ ایک ٹانک بھی ڈاکٹر نے لکھا تھا ۔ سب چیزیں لا کر اس نے اسکے کمرے کی میز پر رکھی تھیں۔ کمرے میں حبس تھا اس نے فورا جیکٹ اتاری اور بیڈ پر بیٹھ گئ۔
اور بھئ کچھ چاہیئے ہو تو بتا دینا۔
اسکی شاپنگ کے بیگز اس نے میز کے نیچے بنی جگہ میں گھسا دیئے تھے۔ پھر ہاتھ جھاڑ کر اپنا اپر اتارا۔
یہ تم رکھ لو رات کو سردی لگے تو پہن لینا۔ اس نے اسکے تکیئے کے پاس رکھتے ہوئے ہدایت کی پھر جیکٹ اٹھا کر نکلنے لگا۔
رات کیلئے کچھ کھانے کو لانا ہوگا بس اب۔
اس نے کہا تو ایڈون نے مڑ کر یوں دیکھا جیسے کہہ رہا ہو اس سب کے بعد رات کو بھی کھانے کی پیٹ میں جگہ ہوگی؟
سات بج تو رہے ہیں کھا کر سوجانا ویسے میں اکیڈمی سے واپسی پر دیکھوں گا کوئی کیک رس وغیرہ لیتا آئوں گا۔
وہ جانے لگا تو اسےپھر خیال آیا۔
سوئٹر تو کوئی لی نہیں۔تم اپر دے جائو گے تو خود کیا کروگے؟ یہاں ٹھنڈ بہت ہے اور بس یہ دو ہی سویٹ سوٹس ہوںگے میرے پاس۔ مجھے ڈریس لینا تھا۔ میں پاپا سے کہتی ہوں اور پیسے بھجوادیں۔
سنتھیا کی بات پر وہ سر کھجا کر رہ گیا۔
ابھی گزارا کر لو۔ انہوں نے شاپنگ کے پیسے جو بھجوائے تھے یہ وہی خرچ ہو رہے ہیں۔ مزید مانگو گی انکو شک ہوگا کیوں چاہیئیں۔ وہ یہی سمجھ رہے ہیں تم فلیٹ لیکر رہ رہی ہو اریزہ کے ساتھ جسکی وہ خاصی رقم بھجوا چکے ہیں۔
تو کیا ہوئی وہ رقم؟ خرچ تو نہیں کی ہے تم نے میری شاپنگ پر۔
وہ ایکدم تیز ہو کر بولی۔
کتنی دفعہ سمجھائوں یہ جو مصیبت مول لی ہے اس سے چھٹکارے کیلئے بچا رکھے ہیں۔ کوئی اندازہ ہے کتنی ایڈوانس پیمنٹ کی ہے اور کتنے آپریشن میں پیسے لگیں گے؟
وہ جھلا ہی گیا۔ سنتھیا ایکدم چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنے لگی تو اسے اپنے لہجے کا احساس ہوا خود پر قابو پاتا گھٹنوں کے بل اسکے سامنے آن بیٹھا دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام کر سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا
مجھے اندازہ ہے کپڑے سویٹر جیکٹ اس سب کی فوری ضرورت ہے مگر ابھی گزارہ کر لو۔ بس چند دن کی بات ہے۔ تم اسکے بعد پاکستان چلی جانا آرام کرنا جب تک اگلے سمسٹرکی باری آئے گی تب تک تمہاری صحت بھی بحال ہو جائے گی۔ پھر چاہو وہیں ڈگری مکمل کرلو یا یہاں کی اسکالر شپ کیلئے دوبارہ اپلائی کر دینا۔
مجھے پاکستان نہیں جانا۔
اس نے ضدی انداز میں کہہ کر ہاتھ چھڑائے۔
یہاں خود تم سے رہا نہیں جا رہا اس لیئے کہہ رہا ہوں۔۔
وہ زچ ہوا مگر انداز ابھئ بھی نرم سا ہی تھا۔
نہ یہاں رہنے سہنےکا آرام ہے نہ کھانے پینے کا اور۔
اس نے بات کاٹ دی۔
تو میں یہاں رہنے کا کہہ بھی نہیں رہی۔ جب میں ابارٹ کروا لوں گئ تو میں بھی کہیں بھئ جاب کر لوں گی ہم اچھی جگہ لیکر رہ سکیں گے اکٹھے۔۔
اس نے اتنا ہی کہا تھا ایڈون بحث بےکار سمجھتے بات ختم کرنے والے انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا
وہ سب بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔ فی الحال بس اپنی صحت پر فوکس کرو اس مصیبت سے جان چھڑائو پھردیکھا جائے گا کیا کرنا ہے۔
مصیبت کونسی مصیبت۔ اسکی برداشت ایکدم تمام ہوئی
بچہ ہے یہ ہمارا جسے تم مستقل مصیبت کہے چلے جا رہے ہو۔
وہ طیش میں آکر اسکے مقابل آکھڑی ہوئی۔
ایڈون نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
کھانا کھا لینا میں چلتا ہوں۔ وہ کہہ کر مڑنے لگا سنتھیا نے اسکو کندھے سے کھینچ کر روکا پھر گریبان پکڑ کر بولی۔
سچ بتانا مجھے اگر میری جگہ یہاں اریزہ کھڑی ہوتی تو کیا تب بھی تم اس بچے کو مصیبت سمجھتے؟ اس سے جان چھڑانا چاہتے؟ بولو جواب دو۔
وہ ہذیانی انداز میں اسکا گریبان پکڑکر پوچھ رہی تھی۔ اسکا لال بھبھوکا چہرہ ایڈون نے ضبط سے اپنا گریبان چھڑوانا چاہا۔
فضول باتیں مت سوچا کرو۔ اب کھانا کھائو مجھے جانا ہے مجھے دیر۔۔
ہرگز نہیں مجھے جواب چاہیئے۔ مجھے بتائو اگر یہ میری جگہ اریزہ کا بچہ ہوتا تو کیا کرتے تم ؟
ایڈون خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسکی خاموشی اسے مزید مشتعل کر رہی تھئ۔اس پر جیسے جنون طاری ہو گیا۔
بتائو کیا کرتے۔ بتائو مجھے کیا کرتے۔ مصیبت کہتے اسے بھی؟ یوں جان سے مروادیتے؟ بولو بولتے کیوں نہیں۔ مروا دیتے اس کا بچہ؟اریزہ کا بچہ بھی ہوتا مصیبت؟
اسکے حلق میں چلانے سے خراش پڑنے لگی تھی۔ گھٹئ گھٹئ آواز میں وہ جو منہ میں آرہا تھا بولے جا رہی تھی۔بدستور اسکا گریبان اسکے شکنجے میں تھا۔ ایڈون نے خود کو چھڑوانا چاہا تو شرٹ کا بٹن ٹوٹ کر گرگیا۔
طیش کی ایک لہر اسکے رگ و پے میں دوڑ گئ۔
نہیں۔ اس کا قطعی انداز سنتھیا سکتے میں آگئ جیسے۔
اس کے گریبان پر گرفت بھی ڈھیلی پڑ گئ۔ مگر ایڈون کی بات ختم نہیں ہوئی تھی۔
اسکی نوبت ہی نہ آتی وہ کبھی مجھے بنا کسی رشتے اپنے قریب نہ آنے دیتی۔
وہ کہہ کر رکا نہیں دھاڑ سے دروازہ کھولتا باہر نکل گیا تھا۔ اسکی جیکٹ دروازے کے پاس گر گئ تھی۔ اس نے سائیں سائیں ہوتے دماغ سے جھک کر جیکٹ اٹھانی چاہی مگر وہ ہاتھ میں آئی ہی نہیں دروازہ بند کرنا چاہا ہاتھ پائوں کانپ رہے تھے وہ وہیں دروازے کا سہارا لیئے بیٹھتی چلی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے ہے تو مزے کا ۔۔
کم سن نے چٹخارہ لیا تھا۔ ہایون بھی مستقل کھاتے ہوئے تائید میں سر ہلا رہا تھا۔
ہے نا ۔ وہ یوں خوش ہوئئ جیسے اسکا سارا کمال ہو۔
توایسا کرو تم دونوں دو دو ڈبے لے لو آرام سے گھر جا کر خوب کھانا۔
اس نے فوری موقع سے فائدہ اٹھایا۔چٹکی بجا کر بولی۔
بلکہ ہایون تم تین خریدنا۔
کیوں ہایون تین کیوں خریدے؟ کم سن حیران ہوا
کیونکہ ہایون اچھا لڑکا ہے۔
اس نے بے نیازی سے کہا۔ ہایون مسکراہٹ دباتا اٹھ کھڑا ہوا۔
میں بھئ بہت اچھا لڑکا ہوں ۔ کم سن کی ناک پر لڑ گئ۔
مجھے کیا پتہ۔ اس نے معصومیت سے کندھے اچکائے۔
بس پانچ ڈبے رہ گئے ہیں آج کے ٹارگٹ میں اگر ہو جائیں تو میں جلدی چھٹی لیکر کہیں جا سکتی ہوں۔
یہ بات ہے چلو میں پانچوں لے لیتا ہوں۔
ہایون نے سرسری سئ نگاہ اسٹال پر ڈالی اور جیب سے بٹوہ نکالنے لگا۔
دیکھا کتنا اچھا دوست ہے میرا۔ اریزہ کا انداز چڑانے والا تھا۔
تھیبا زندگی میں پہلی بار میں کسی کو اپنی ہی چیز پیسوں سے لیتے دیکھ رہا ہوں۔
اس نے ہایون کو چڑایا ۔۔
دوستی تو نبھانی پڑے گی نا۔
ہایون نے ہنگل میں ہی جواب دیا۔ اریزہ چڑ گئ۔ ناک چڑھا کر گھورنے لگی دونوں کو۔
شروع ہوگئے دونوں گٹ پٹ۔اب پکا ہنگل سیکھنی پڑے گی جانے کیا بول رہے۔
یہ بات ہے تو میں بھی بتاتا ہوں کتنا اچھا دوست ہوں میں۔
کم سن بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ اور جیب سے فون نکال کر کال ملا لی۔
ہاں جون ووننا یہ اس اسٹال پر جو لڑکی ہے یہ ہماری دوست ہے اسکا خوب خیال رکھا کرو اور اسکے اس ہفتے کے سب ٹارگٹ پورے لگا دینا اور آج کیلئے اسکو دو گھنٹے پہلے چھٹی بھی دے دو۔
ہنگل میں کہہ کر وہ یوں اریزہ کی جانب مڑا جیسے داد چاہ رہا ہو ۔۔
اب خوش؟۔۔
اسکے کہنے پر اریزہ نے منہ بناکر کندھے اچکا دیئے
اسکو کیا پتہ تم نے کیا کہا ہے۔ ہایون کو ہنسی آگئ ۔ کم سن بھی کھسیا گیا
جون وونا بھاگا بھاگا آیا تھا۔ جھک جھک کے ہایون اور کم سن کو سلام کیا پھر اس کو شستہ انگریزی میں عزت و احترام سے دو گھنٹے قبل جانے کی اجازت بھی دی۔
مس اریزہ آپکا آج کا ٹارگٹ پورا ہو چکا ہے اب آپ چاہیں تو گھر جا سکتئ ہیں۔ ابھئ کچھ کھانا پینا پسند کیجئےگا ؟
اریزہ کا منہ کھلا ۔ گوارا کی پہلے دن اسے یہاں چھوڑنے آنے پر کہی بات ارے یہ تو لی مارٹ ہے۔ لی مارٹ لی ہایون۔ اور یہ کم سن۔ اس نے فون کرکے بلایا وہ کڑیاں ملا رہی تھی۔
اب بتائو کہاں جانا ہے تمہیں؟
ہایون نے پوچھا تو وہ چونکی۔
سنتھیا سے ملنے۔
سنتھیا سے؟ کم سن چونکا۔
پتہ ہے کہاں رہتی ہے۔ ؟ ہایون نے پوچھا تو اس نے معصومیت سے نفی میں سر ہلایا۔
مجھے پتہ ہے۔
کم سن نے ہاتھ اٹھا کر بتایا۔
میں لے چلتا ہوں۔
ہایون نے دانت کچکا کر گھورا تو اس نے مزید معصوم سی شکل بنا لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہایون ڈرائیو کر رہا تھا کم سن اسکے برابر بیٹھا تھا۔جبکہ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھئ ٹیڈی بئیر کو بانہوں میں لیئے دونوں کو گھور رہی تھی۔
مت گھورو سچی میں نے تمہارے پورے ہفتے کے ٹارگٹ پورے کروائے ہیں۔ پوچھ لو ہایون سے۔
کم سن جیسے اس سے ڈر کر بولا۔
ہاں سچ کہہ رہا ہے۔ ہایون نے بھی تائید کی۔
سی ای او سفارش کر رہا ہے وہ بھی اتنی چھوٹی ملازمت کیلئے ۔ کم از کم بھی ڈبل فگر تنخواہ میں کوئی مینجر وینجر بنانا چاہیئے تھا مجھے۔
اسکو یہ قلق تھا۔ ہایون اور کم سن نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس دیئے۔
کوریا میں بڑے سخت قوانین ہیں سفارش پر قابلیت کے پیمانے کا خون کرکے نوکری ملی ہے اب خوب دل لگا کر کام کرنا۔
کم سن نے سنجیدگی سے نصیحت کی۔
مگر میں پاکستانئ ہوں۔ اب اتنی تگڑی سفارش کے بعد تو اب مجھ سے کام وام کی امید مت رکھنا۔ کل میں چھٹی کروں گی پرسوں مجھے اس ہفتے کی تنخواہ گھر پہنچا دینا۔
وہ شاہانہ انداز میں کہتی شہزادیوں کی طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئ۔
ہیں؟ کم سن کی آنکھین ابل گئیں۔
مس میں باس ہوں آپکا۔ نکمے پن پر کھڑے کھڑے نوکری سے نکال سکتا ہوں۔۔
کم سن کا انداز ۔۔ اریزہ کہنے لگی تھئ کہ میں مزاق کر رہی تھی کہ ہایون نے ڈرائو کرتے گردن موڑ کر گھورا
اور میں تمہارا ۔اسکو دھمکی دی تو کانٹریکٹ کینسل سمجھو۔
کم سن ہکا بکا ہوا تھا تو اریزہ محظوظ ہو کر زور سے ہنسی تھی۔
اوکے میم۔
کم سن نے مسمسی سی شکل بنا کر جیسے مہر ثبت کی ۔
گوشی وون آچکا تھا۔ تینوں گاڑی سے اترے تو کم سن اجازت طلب کرنے لگا۔
اس پہلی راہداری میں چوتھا کمرہ ہے ایڈون کا اس سے پوچھ لینا سنتھیا کا کمرہ کونسا ہے۔ اچھا ۔کرم۔میں پہلے جاتا ہوں۔
کہاں۔ ہایون نے ٹوکا۔
یہ دونوں سہیلیاں باتیں کریں گی میں کیا کروں گا میری تو ایڈون سے خاص دوستی بھی نہیں ؟ میرے ساتھ رہو۔
تم اسکو واپس بھی چھوڑ کر آئو گے؟ کم سن حیران ہوا۔
ہاں ۔۔۔۔
اسکے کہنے پر کم سن ایک نظر اریزہ پر ڈالی اور سر ہلادیا۔
یقینا مجھ پر کوئی کمنٹ پاس کر رہے ہیں۔ اف آج میں نے چولیاں بھی تو خوب ماری ہیں ہمیشہ بک بک کرنے کے بعد پچھتاتئ ہو تم اریزہ۔
وہ دل ہی دل میں خود کوکوس کررہ گئ
چلو اریزہ۔ ہایون کے نرم سے انداز میں کہنے پر وہ چونکی۔ نیم تاریک راہداری ایڈون کے کمرے کا دروازہ کئی بار دستک دینے کے بعد بھی نہ کھلا۔
لگتا ہے کمرے میں ہے نہیں۔ کم سن نے خیال ظاہر کیا۔
میں سنتھیا کو فون کرتی ہوں۔
اریزہ نے کہا تبھئ سامنے سے سنتھیا آتی دکھائی دی۔ سر جھکائے سویٹ پینٹ اور شرٹ میں ملبوس بکھرے بال ہاتھ میں کوئی پیالہ اور کین تھامے ہوئے شائد کچن سے کھانا گرم کرکے لائی تھئ۔
ان سے کچھ فاصلے پر دروازہ کھول رہی تھی۔
سنتھیا ۔۔ اریزہ اسے پکارتی فورا اسکی جانب لپکی۔ سنتھیا نے اسے دیکھا پھر تیزی سے دروازہ کھول کر اندر گھسنے لگی ارادہ اسکے منہ پر دروازہ بند کرنے کا تھا۔
کیسی ہو۔ اریزہ نے اسے جا لیا۔ دروازہ بند کرنے کیلئے ہاتھ خالی ہونا ضروری تھا۔مجبوری۔۔۔ جواب دینا پڑا
ٹھیک ہوں۔ اس نے سرد سے انداز میں کہا۔
مجھے ایڈون نے بتایا تھا تمہاری طبیعت کے بارے میں۔
وہ اسے اندر بلا نہیں رہی تھی دروازے میں جمی کھڑی تھی۔ اریزہ کو عجیب سا لگا۔
تم ایڈون کی جان کیوں نہیں چھوڑتی ہو؟
وہ چٹخ کر بولی جیسے۔
کیا مطلب ہے اس بات سے۔ اریزہ کی پیشانی پر بل پڑا۔
تم مجھے اور ایڈون کو ہمارے حال پر چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟ کیوں پیچھے پڑی ہوئی ہو ہمارے۔ اتنا ایڈون کا خیال تھا تو ایک بار مجھے کہا ہوتا میں خود بیچ سے ہٹ جاتی ۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو؟
اریزہ ہکا بکا رہ گئ
صحیح کہہ رہی ہوں۔
وہ ایکدم چلا اٹھی۔
کتنے ؟ کتنے لڑکے چاہیئے تمہیں آخر۔ شاہزیب سالک ایڈون اور اب یہ دونوں تمہارا دل کیوں۔۔۔
بس کر جائو سنتھیا ۔۔ اریزہ کے صبر کا پیمانہ۔لبریز ہوا۔
تم بس کر جائو اریزہ ۔ جینے دومجھے چین سے۔ کیوں آتی ہو میرے اور ایڈون کے بیچ۔ بند کردو اپنا یہ جھوٹا شرافت کا ناٹک۔
کیا ہوا ۔۔ کم سن اور ہایون بھاگ کر انکے پاس آئے تھے۔
کیا ناٹک کیا ہے میں نے بولو؟ جو منہ میں آرہا ہے بولے جا رہی ہو۔
اریزہ کی طیش کے مارے آواز کانپ رہی تھی۔
ناٹک ہی تو کرتی آئی ہو آج تک تم۔ ہر کسی کو متوجہ کرنے کا فن آتا ہے۔پاکستان میں جینز نہیں پہنتی تھیں تم ؟اور یہاں دوپٹہ لہراتی تھیں اب کہاں گیا ہےتمہارا دوپٹہ؟
بولو۔
وہ جارحانہ انداز میں اسکی جانب بڑھئ اریزہ اس رکیک الزام پر سنٹ سئ کھڑی رہ گئ۔ اس وقت اس نے لانگ کوٹ پہن رکھا تھا مگر جب مال میں کوٹ کی ضرورت نہیں تھی تو ہلکا سا لیلن کا بڑا سا اسکارف اس نے لے رکھا تھا ٹاپ پر بھی اس وقت بھی کوٹ کے اندر وہ اسکی گردن کے گرد لپٹا ہوا تھا۔
ہایون ایکدم سے اریزہ کا ہاتھ تھام کر بولا
چلو اریزہ ۔۔
یہ۔۔ یہ کون ہے تمہارا بھائی ؟ کس حیثیت سے تھاما ہے اس نے تمہارا ہاتھ۔؟ تف ہے اریزہ تمہارے دوغلے پن پر۔۔
وہ اتنا چیخ کر بول رہی تھی کہ لابی میں دروازے کھلنے لگے۔ اریزہ کے جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
پھٹئ پھٹی آنکھوں سے زہر اگلتی سنتھیا کو دیکھتے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب رکیک الزامات اسکی بچپن کی بہن جیسی دوست اس پر لگا رہی ہے؟
سنتھیا کام ڈائون۔ اندر چلو۔ بیٹھ کر بات۔۔
کم سن کو سمجھ نہ آیا تو سنتھیا کو ہی روکنے لگا۔
ہاتھ مت لگانا مجھے۔ سنتھیا ںےکہا تو اردو میں تھا وہ نا سمجھ کر بھئ رک ہی گیا۔
اگر تھوڑی سی بھئ غیرت ہو تم میں تو دوبارہ مجھے اپنی شکل نہ دکھانا سمجھیں۔
اسکی آواز چلانے سے پھٹ سی گئ۔ کم سن کو لگا اسکے کان کا پردہ پھٹا نہیں تو ذرا سا چر ضرور گیا ہے۔
اب دفع ہو جائو یہاں سے۔
اس نے غصے سے بے قابو ہو ہاتھ میں پکڑا بائول اریزہ کو دے مارا۔ بائول تو ڈس پوز ایبل پیک میں تھا مگر گرم گرم نوڈلز اسکے اوپر آئے تھے۔
اریزہ ششدر سی اپنی جگہ جم کے رہ گئ تھی۔ اسکی گردن پر جتنا سوپ گرا تھا اس نے جلا دیا تھا مگر اسے اس جلن کا احساس بھی نہ ہوا تھا۔
چلو نا اریزہ۔ ہایون اسکا ہاتھ تھام کے کھینچ رہا تھا کم سن بے قابو ہوتی سنتھیا کو شانت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
جائو نا جاتئ کیوں نہیں ہو۔
اس نے تلملا کر ہاتھ میں پکڑا کین بھی اسے دے مارا ۔ اریزہ پر سکتہ سا تھا ہایون اسے بچانے کو بیچ میں آیا تو کین سیدھا اسکی تھوڑی بجا گیا تھا۔
ہایون کو کین لگتے دیکھ کر سنتھیا جیسے ہوش میں آئی۔ ایک۔نظر لابی میں جمع ہوتے مجمعے پر ڈالی۔
یہ کیا ۔۔کچھ سمجھ نہ آیا تو اندر کمرے میں گھس کر دروازہ بند کرلیا۔
اریزہ کو ہایون زبردستی کھینچ کر لے گیا تھا۔
کیا ہوا۔ کون لوگ تھے یہ؟
کم سن ان سب کے سوالوں سے جان چھڑاتا جھک جھک کے معزرت کرتا باہر بھاگا
ہایون اریزہ کو لیکر زن سے گاڑی بھگا لے گیا تھا۔ وہ سوچ میں پڑا کہ انکے پیچھے جائے یا واپس
پھر سر جھٹک کر دائیں جانب گلی میں مڑ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈرائی کلینر کو کوٹ دے کر وہ قریبی دکان میں گھس گیا تھا۔ دو کین لیکر واپس گاڑی میں آیا تو فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اریزہ ابھی بھی رو رہی تھی۔ ٹشو سے رگڑ رگڑ کر اس نے اپنی ناک سرخ کرلی تھی۔ آنکھیں سوج گئ تھیں۔ بالکل سرخ سیب بن چکی تھی۔
تمہیں یقین ہے کہ تمہاری گردن محفوظ رہی ہے کوٹ کی وجہ سے؟ تمہیں جلن نہیں ہورہی؟
ہایون نے اسے کین تھمایا تو وہ فورا سر ہلانے لگی
نہیں میں ٹھیک ہوں۔
آواز بھرائی ہوئی تھی۔
دکھائو ۔ اس نے آگے بڑھ کر شائد دیکھنا چاہا تھا
نہیں۔ اس نے سختی سے کہہ کر اپنا اسکارف مزید لپیٹ لیا تھا۔
اچھا ٹھیک ہے۔
ہایون نے کندھے اچکا دیئے۔ وہ کین کھول رہی تھی اسکی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔
اس نے اپنا کین کھول کر اسکی جانب بڑھا دیا۔
شکریہ۔ مدہم آواز۔
اخلاقیات میں پی ایچ ڈی۔ اتنے تنائو میں بھی اسے شکریہ کہنا یاد رہا۔ مگر اس بات پر اسے غصہ ہی آیا۔
انسان کو اچھا ہونا چاہیئے مگر اتنا اچھا بھی نہیں بننا چاہیئے۔
انداز خفگئ بھرا تھا۔
ہایون کی بات پر وہ ایکدم چونک کر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
کیا یہ بھئ اسکو کوئی طعنہ دینے لگا ہے۔ اسکو پہلا خیال یہی گزرا تھا۔
اس سے بڑھ کر آپکی کمزوری کیا ہوگی کوئی آپکا سر توڑ دے مگر آپکے ہاتھ کی ہڈی سلامت رہے۔
ہایون نے اسکی آنکھوں میں جھانک کے کہا تھا۔ وہ اس وقت پہیلیاں بجھوا نہیں سکتی تھی یونہی خالی خالی نگاہ سے دیکھتئ رہی۔
کہاوت ہے یہ۔اس نے گہری سانس لیکر سمجھایا۔۔
اسکا مطلب ہوا کہ انسان اپنا سر بچانے کیلئے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرتا ہے۔ اگلی بندی بولے جا رہی ہے تم چپ سن رہی ہو وہ ہاتھا پائی پر اتر آئی اور تم اس سے پٹ گئیں۔ چوہے کو بھی موت کا ڈر ہوتا ہے تو وہ بلی کو کاٹ لیتا ہے۔۔ مشہور کورین کہاوت ہے۔ یہ اریزہ۔۔ وہ تمہاری دوست نہیں ہے۔ پہلے ہوگی کبھی مگر اب بالکل بھی نہیں یہ بات اب تو سمجھ لو تم۔
اگر میں بیچ میں نہ آتا تو اس نے بھرا ہوا کین پوری طاقت سے تمہارے منہ پر دے مارا تھا۔
وہ دانت کچکچا رہا تھا غصے کے مارے مٹھی بھینچ رہا تھا۔ اس نے اتنے مہینوں میں ہایون کو غصے میں نہیں دیکھا تھا ہلکا پھلکا چڑتا بھئ تھا تو ذیادہ دیر کیلئے نہیں۔
اگر لڑکی نہ ہوتی نا تو میں۔۔۔
بڑبڑاتاہایون اسکی شکل دیکھتے وہ چونکی۔
اسکی تھوڑی پر نیل سا پڑ گیا تھا۔ اسکے گورے چٹے چہرے پر نیلا دھبا۔۔ شائد کٹ بھی پڑا تھا ایک سرخ سا نشان بھئ جیسے خون نکلا ہو۔۔ اس نے شائد ڈس انفیکٹ کیا تھا جبھئ دوا کی خوشبو آرہی تھی
آئئ ایم سوری۔
اس نے سر جھکا لیا۔
ہر بات کیلئے میں معزرت خواہ ہوں میری وجہ سے آج جو کچھ بھئ تمہیں سہنا پڑا اسکے لیئے بھی میں بہت شرمندہ ہوں۔ واقعی سوری۔
ڈونٹ بی۔ ہایون جز بز سا ہوا۔
دفع کرو اس سب کو۔ چلو کسی اچھی جگہ ڈنر کرتے ہیں۔
اس نے بات بدلنی چاہی۔
میں اب گھر جائوں گی۔ اریزہ کا انداز قطعی تھا۔ پھر تمام راستہ وہ گا ہے بگا ہے اس پر نگاہ ڈالتا رہا مگر وہ بالکل رخ موڑے کھڑکی سے باہر جھانکتی رہی۔ عمارت کے کمپائونڈ میں گاڑی رکتے ہی وہ بنا ایک لفظ کہے گاڑی سے اتر کر تیز تیز قدم چلتی اندر بڑھ گئ وہ جو اس کو کچھ کہنا چاہ رہا تھا ہونٹ بھینچ کر گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گوارا لائونج میں بیٹھی ڈرامہ دیکھ رہی تھی اسے دیکھ کر فورا ویلکم کیا۔
آننیانگ ۔۔ مگر اسکی شکل دیکھی تو ریموٹ پھینک کر بھاگ کر اسکے پاس آئی
کیا ہوا تمہیں۔؟؟؟
کچھ نہیں۔ اس نے مسکرا کر کہنا چاہا مگر ناکامی ہوئی جانے کہاں سے پھر ڈھیروں آنسو پھسل آئے۔ گوارا کے شانے سے سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
ہوپ کچن میں کھڑی کافی بنا رہی تھی۔ چھوڑ چھاڑ کر انکے پاس چلی آئی۔
آئو بیٹھو۔ بمشکل اسے سہارا دے کر گوارا نے صوفے پر بٹھایا۔
کیا ہوا؟
ہوپ بے نیازی ظاہر کرنے کے چکر میں نہایت سخت انداز میں پوچھ رہی تھی۔ گوارا نے ناپسندیدہ نگاہ ڈالی۔
پانی لیکر آئو دیکھ نہیں رہیں ہلکان ہو رہی ہے رو رو کے۔
اسکے ڈانٹ کے کہنے پر وہ سچ مچ رعب میں آگئ بھاگ کے میز سے اپنی بوتل سے پانی نکالنے لگی پھر خیال آیا تو وہیں چھوڑ کر فریج سے پانی کی بوتل نکال کر لائی۔
اریزہ کو گلاس بھرکر تھمایا تو وہ ایک سانس میں پورا پی گئ۔
کیا ہوا؟ پرس چھن گیا ؟
کوئی لفنگا مل گیا ؟
چھیڑا کسی نے؟
ٹارگٹ پورا نہیں کیا آج کا؟
گوارا کے ہر انداز پر اس نے بس نفی میں سر ہلایا
پھر کیا ہوا ایکسیڈنٹ؟
گوارا نے تشویش ذدہ سا ہو کر اسے ٹٹولا توبے ساختہ اسکی سسکی سی نکل گئ۔
کیا ہوا۔ گوارا اسکا کوٹ اتروانے لگی۔
اسکی گردن سے کندھے تک پوری جلد سرخ سی ہو رہی تھی ہلکے ہلکے آبلے بھی پڑ رہے تھے۔
یہ کیا ہوا ہے؟
اسکی چیخ سی نکل گئ تھی دیکھ کر۔ ہوپ گہری سانس لیکر پلٹ گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں بیڈ پر بیٹھی تھی کاٹن کی ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ پہنے ہاتھ میں جوس کا ڈبہ تھا جس کے اسٹرا سے وہ چسکیاں لے رہی تھی۔ اور حیرت بھری نگاہوں سے ہوپ کو دیکھ رہی تھی جو تندہی سے اسکی گردن سے کندھے تک کسی دیسی چینی دوا کا لیپ کر رہی تھی۔
گوارا اس سے کچھ فاصلے پر مختصر سی جگہ میں چکر پر چکر لگاتی دانت کچکچا رہی تھی۔
اف خدایا تولیہ بن گئ ہے گردن تمہاری مجھ سے تو دیکھی بھی نہیں جا رہی ۔۔ یہ دوست ہے تمہاری؟ کٹنی ہے دشمن ہے۔ دشمن کو بھی جلانے سے پہلے بندہ دو بار تو سوچ لیتا ہے۔ ظالم بے رحم۔
چلو کل تم میرے ساتھ سنتھیا کو ایسا سبق سکھائوں گی کہ یاد رکھے گی۔ سمجھا کیا ہوا ہے اس نے خود کو؟ گرم کھولتا سوپ تم پر انڈیل دیا۔ پاگل ہوگئ ہے کیا ؟
اسکے سر پر سوپ الٹ کر آتے ہیں۔۔
بولتے بولتے قریب آکر پھراسکی گردن دیکھی اور زور و شور سےتلملانے لگی
۔ توبہ مجھ سے تو تمہارے زخم دیکھے بھی نہیں جا رہے۔ ہائش۔
گوارا کا واقعی بس نہیں تھا کہ سنتھیا کا منہ نوچ آئے۔
مجھے اس جلن سے ذیادہ تکلیف اسکے الزامات سے پہنچی ہے۔ اسکے لفظوں کا وار ذیادہ کاری تھا۔
اریزہ کی بات پر گوارا نے آنکھیں پھاڑیں۔
نا کرو بھیگئ تولیہ بن گئ ہے تمہاری جلد یہ بڑے آبلے ذرا آئینے میں دیکھو۔
آئینہ دیکھنے کے قابل نہیں چھوڑا سنتھیا نے۔
اریزہ اردو میں بولی تھئ۔
ہوپ اطمینان سے دوا کا ڈھکن لگا کر بولی
شکر کرو کہ چہرہ بچ گیا ورنہ جلے کا داغ چہرے سے مشکل سے جاتا ہے۔
بڑا تجربہ۔۔
گوارا طنز سے کہتے کہتے رکی۔ ہوپ جھک کر دوا لگا رہی تھی سیدھی ہوئی تو ایکدم گوارا کے سامنے اسکا چہرہ تھا۔ چند لمحے وہ بس اسے دیکھتی رہ گئ۔
پیچھے ہو۔
اسکا ہٹنے کا ارادہ نہ دیکھ کر ہوپ نے چڑ کر کہا تو وہ چپ سی ایکدم سائیڈ پر ہوگئ ۔ ہوپ پیالہ اٹھا کر شائد کچن کی طرف گئ تھی۔
ابھئ بھئ جلن ہو رہی ہے؟
وہ احتیاط سے اسکے برابر بیٹھی۔
ٹھنڈ پڑ گئ ہے۔ یہ جو بھی دوا تھی بہت اچھی تھی۔ ورنہ تو بہت جلن تھی۔
اریزہ کو اسکی فکر پر پیار آگیا دوا اچھی تھی مگر اسکا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ جلن بالکل نہیں ہو رہی تھی۔
گوارا نے اسکو اپنے ساتھ لگا لیا۔
تم اسکی باتوں پر دکھی مت ہو۔ اسکے کہنے سے کیا ہوتا۔۔ وہ جو چاہے سمجھے جو چاہے کہے۔ اس سے تمہاری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
یہ اسکی پچھلی بات پر دی جانے والی ایک بے حد پر خلوص تسلی تھی۔
ہم اسی لیئے ڈرتے ہیں نا کسی کی الزام تراشی پر کہ لوگ ہمیں غلط سمجھیں گے برا بھلا کہیں گے مگر یہاں کوئی تمہیں جج نہیں کرنے والا ۔
یہ ہوپ تھی۔ ہاتھ دھو کے آئی گیلے ہاتھ جھٹکتی۔ ان دونوں کو ایس اجنبی انداز میں گھور کر اشارے سے ہی الگ ہونے کوکہا۔ دونوں الگ الگ کناروں پر ہو گئیں ۔ وہ ان دونوں کے بیچ سے ہو کر بیڈ پر دراز ہو گئ۔
اریزہ اور سنتھیا نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اشارے سے پوچھنے کو کہا دونوں نے ہونٹ بھینچے پھر پلٹ کر ہوپ کے دائیں بائیں آ لیٹیں۔
ہوپ یہ تمہارے دائیں گال سے گردن تک جو نشان ہے یہ برتھ مارک نہیں؟
اریزہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔
نہیں جلنے کا نشان ہے۔ میرے شوہر نے مجھ پر ابلے چاول پھینکے تھے پیچ سمیت۔
ہوپ کو اندازہ تھا کہ دونوں کو شدید کھد بد ہوگئی ہوگی۔ یہ نشان اسکے گال کے بیچ میں نہیں تھا۔ مارنے والے نے چہرے کا نشانہ نہیں لیا تھا۔
ویسے شوہر کہنا نہیں چاہیئے ۔ وہ صرف خریدار تھا۔ ایک لکھ پتی چینی جس نے شمالی کوریا کی لاچار عورت سے چند یو آن کے عوض یوآنہ خریدی تھی۔
اتنے عرصے میں پہلی بار یوآنہ ان پر کھلی تھی اور بس اتنا ہی ۔ اتنا بول کر اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔ مطلب سونے دو مجھے تنگ مت کرنا مگر چند ہی لمحوں بعد کھولنی پڑی تھیں۔ اسکے دائیں کندھے پر اریزہ اور بائیں کندھے پر گوارا نے سر رکھ کر اسے سینڈوچ بنا ڈالا تھا ۔ وہ کسمسائی مگر انکی گرفت مضبوط تھی۔ اور یہ صرف چند لمحوں کا جذباتئ دبائو نہیں تھا وہ دونوں اس سے لپٹ کر ہی سوئی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بے خبر سو رہی تھی حسب عادت کمرہ لاک کیئے بنا۔ وہ چند لمحے اسے یونہی کھڑا دیکھتا رہا پھر اس پر کمبل درست کرتا کھڑکی بند کرکے باہر نکل آیا۔۔۔
ایڈون۔۔
اس نے آواز پر مڑ کر دیکھا تو عمارت کا منتظم کھڑا اسے بلا رہا تھا۔ رات کے بارہ بجے پہلے اس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی ہی دیکھی تھی۔
ادھر آئو مجھے ضروری بات کرنی ہے۔
وہ اسے اپنے کیبن نما دفتر میں لیکر آیا تھا۔ وہ الجھن میں تھا ا س غیر معمولی رویئے کی وجہ کیا ہے۔ مگر اس نے مزید ایک لفظ کہے بنا ایک ویڈیو لیپ ٹاپ پر لگا کر دکھائی تھی۔ سیکیورٹی فولڈر میں شام کی ویڈیو۔
اسکو ایڈمن نے پورا سی سی ٹی وی فوٹیج دکھایا تھا۔
یہ لڑکی تمہارے ساتھ ہے ۔ ہم نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ شائد ہنگل نہیں جانتی ۔ یہ راہداری یہاں رہنے والے سب لوگوں کی مشترکہ راہداری ہے۔ یہاں ذیادہ تر ایکسچینج اسٹوڈنٹس اورمزدور طبقہ رہتا ہے جنکو اپنے سارے دن کی نہایت تھکا دینے والی مصروفیات کے بعد صرف آرام عزیز ہوتا ہے۔یوں شور ہنگامہ کرکے نا صرف ہمارے مہمانوں کے آرام میں خلل ڈالا گیا ہے بلکہ راہداری میں گندگی بھئ پھیلائی گئ ہے۔ ہم ایسا رویہ بالکل بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔
نہایت کڑخت لہجے میں جس طرح وہ بولا تھا اس سے کسی قسم کی معافی ملنے جیسی اچھی امید رکھنا عبث تھا۔
ایڈون نے گہری سانس لیکر سر جھکا لیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے صبح گوارا او رہوپ دونوں نے نہیں جگایا تھا ۔ ان دونوں کے چلے جانے کی اسے خبر بھی نہ ہو سکی تھی۔ آنکھ کھلی تو ڈھائئ بج رہے تھے۔ کسمسا کر آنکھیں کھولیں تو چند لمحے سوچنا پڑا کہ آنکھ کھلی کیوں؟
مستقل تھرتھراہٹ پر۔ وہ ایکدم اٹھ بیٹھی اسکے ادھر ادھر کمبل اتار کر بیڈ پر ہاتھ مار کر ڈھونڈنے لگی تکیئے کے نیچے سے موبائل کی اسکریں جل بجھ کر رہی تھی۔ اس نے ہاتھ مار کر موبائل نکالا تو ہایون کالنگ لکھا آرہا تھا۔
اوہ گاڈ۔ فون ہاتھ میں تھامے وہ سر پکڑے تھی۔
کل پتہ لگا کہ اپنے دوست کے ہاں نوکری کر رہی ہوں اور آج فورا چھٹی کرلی ۔ کیا سوچتا ہوگا کہ پاکستانی واقعی نکمے
اس نے سر جھٹکا
ہیلو۔
اس نے کال وصول کرکے موبائل کان سے لگایا
سلام اریزہ کیسی ہو ؟ ٹھیک ہو؟ فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں؟
ہایون کے انداز سے پریشانی جھلک رہی تھی۔
آئی ایم سوری وہ میری آنکھ نہیں کھل سکی۔ پکا میں نے آج چھٹی نہیں کرنی تھی جانے گوارا نے مجھے کیوں۔۔
وہ وضاحت دینا چاہ رہی تھی ہایون نے بات کاٹ دی
میں باہر کھڑا ہوں دروازہ کھولو۔
اوہ۔ وہ فون رکھ کر فورا اٹھی کہ سامنے سنگھار میز کے آئینے پر نگاہ پڑی۔ ڈھیلی سی کاٹن ٹی شرٹ اور پاجامہ میں ملبوس۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر اپنا وولن اسکارف اٹھا کر گلے میں ڈالتی باہر آئی ہایون دو مرتبہ مزید اطلاعی گھنٹی بجا چکا تھا۔
اس نے دروازہ کھولا تو وہ کھڑا گھور رہا تھا۔
پندرہ منٹ ہو رہے ہیں مجھے یہاں کھڑے۔
سوری۔ وہ کھسیائی۔
ہایون سر جھٹکتا اندر چلا آیا۔ ہاتھ میں پکڑا بڑا سا شاپر صوفے پر رکھا
یہ لو تمہارا کوٹ۔ دیکھ کر تسلی کرلو کوئی نشان وغیرہ تو نہیں رہ گیا۔ اور ایک بات بتائو۔
ہایون ۔مڑ کر اسے پھر گھورنے لگا۔
کل پوچھ پوچھ کے تھک گیا تم نے مجھے بتا کر نہیں دیا کہ جلی ہو۔۔۔
اتنی ذیادہ نہیں جلی۔۔ وہ کہنا چاہ رہی تھی
اور یہ کیا کیا ہے؟
اس نے آگے بڑھ کر اسکی گردن سے اسکارف احتیاط سے اتار دیا
اسکے لیئے اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ ششدر سی رہ گئ۔
اسکے برعکس وہ نارمل سے انداز میں اسے ٹوک رہا تھا
وولن اسکارف جلی ہوئی جلد پر نہیں رکھتے کسی نے اتنا نہیں بتایا کبھی تمہیں۔ سردی لگ رہی ہے تو بوائلر کا ٹمپریچر بڑھا لو۔
اس نے اسکارف صوفے پر اچھال دیا تھا۔
اور یہ کیا لگا رکھا ہے اس پر؟
وہ اب اسکی گردن غور سے دیکھ رہا تھا۔ دوا نے جلد پر گہرا سیاہ رنگ چھوڑا تھا ۔
میں جلن کیلیے کریم لایا ہوں اسکو صاف کرو اور کریم لگائو ۔۔ پھابو( احمق) نشان رہ جائے گا ان دیسی ٹوٹکوں سے۔
اس نے بڑے سے شاپر میں سے ایک چھوٹا شاپر نکال کر اسے تھمایا۔وہ شش و پنج میں کھڑی شاپر تھام گئ۔
میں لگا دوں؟
اس نے اسکی آنکھوں میں جھانکا تو وہ سٹپٹا کر بولی
آنی۔ میں لگا لوں گی خود ہی دوا۔
جائو شاور لیکر آئو میں انتظار کر رہا ہوں۔ بہتر ہے کسی ڈاکٹر کو دکھا لیا جائے پہلے ۔
اسکی ضرورت نہیں ہے۔ میں ٹھیک ہوں۔
اریزہ نے کہنا چاہا
اب مجھے تمہاری کسی بات کا یقین نہیں جائو میں انتظار کر رہا ہوں۔ ایک گھنٹے بعد کا اپائنٹمنٹ لیا ہے جائو جلدی کرو۔
وہ اطمینان سے گھوم کر صوفے پر آبیٹھا سامنے میز سے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بھی آن کرلیا۔
وہ جز بز سی ہوئئ مگر نہانے چلی گئ۔ نہا کردوبارہ کاٹن کی ہی شرٹ نکال کر پہنی۔ ساتھ جینز چڑھائی۔ ہلکی ہلکی سردی محسوس ہو رہی تھی مگر برداشت کی جا سکتی تھی۔ اس نے اپر پہنا اور باہر نکل آئی۔ ہایون اسکا انتظار کرتا اونگھ گیا تھا۔
اس نے ٹی وی کی آواز آہستہ کی اور کچن میں آکر کھانا بنانے لگی۔ گوبھئ پکاکر روٹی ڈال رہی تھی جب شائد اسکی تھپ تھپ سے یا یونہی کافی دیر سونے کے بعد خود ہی ہایون کی آنکھ کھل گئ۔
تم نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں۔ وہ سر کھجاتا خفا ہوتا ہوا اسکے پاس آیا۔
تم اتنی گہری نیند سو رہے تھے اسلیئے۔
وہ روٹی اتار کر رومال میں لپیٹتئ آرام سے بولی۔
اتنی مشکل سے اپائنٹمنٹ لیا تھا پاپا کا ریفرینس استعمال کرکے۔
وہ خفا ہو رہا تھا۔
میں ٹھیک ہوں خوامخواہ پریشان ہو رہے ہو۔ چلو کھانا کھالو صبح کا ناشتہ کیاہوگا۔
اریزہ کے کہنے پر اسے بھوک کا احساس ہوا تھا۔ گوبھی خالص پاکستانی انداز میں بنی تھئ۔ اسے کوریا میں مصالحے تو نہیں مل سکے تھے من پسند البتہ چکن تکہ مصالحہ مل گیا تھا مشہور پاکستانی برانڈ کا اسی کے ڈبوں کا اسٹاک کر لیا تھا۔ ہر چیز میں یہی مصالحہ حسب ضرورت ڈال دیتی تھی ابھی بھی تکہ مصالحے میں بنی گوبھی ۔پھیکی بنی تھئ۔
ہایون کو منفرد ذائقہ خاصا پسند آیا تھا۔ جبکہ وہ مارے باندھے کھا رہی تھی۔
کافی مزے کی ہے یہ۔
ہایون کے کہنے پر اس نے محض مسکرانے پر اکتفا کیا۔۔
تمہیں کورین کھانے بالکل اچھے نہیں لگتے؟
ہایون کو جانے کیا خیال آیا تھا۔
نہیں۔ وہ بے ساختہ نہیں کہہ گئ پھر خیال آیا تو وضاحت دینے والے انداز میں بولی۔
میں گوشت خور ہوں مجھے سبزیاں ذیادہ پسند ہی نہیں ہیں کم مصالحوں میں پکی تو بالکل پسند نہیں آتیں۔ شائد یہاں جتنی سبزی کھائئ پسند نہیں آئی۔
ہایون نے سر ہلا دیا۔ دونوں نے خاموشی سے کھانا ختم کیا۔ وہ برتن سمیٹنے لگی تو ہایون کافئ بنانے کھڑا ہو گیا۔
وہ سب برتن دھو کر جب تک فارغ ہوئی ہایون اسکے مڑنے پر اسکا کپ اسے تھمانے لگا۔
بن گئ۔ وہ حیران ہوئی۔
کل تیار رہنا میں ری شیڈول کروائوں گا اپائنٹمنٹ۔
ہایون سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔اسے اسکا پھر احسان لینا اچھا نہیں لگا۔
ہایونا بالکل ضرورت نہیں ہے۔ میں ایکدم ٹھیک ہوں واقعی۔
اس نے تو سادہ سے انداز میں کہا تھا مگر ہایون کے چہرے پر یکدم جو مسکراہٹ در آئی اور آنکھوں میں سو واٹ کے بلب روشن ہوئے اس پر وہ حیران سی اسکی شکل دیکھنے لگی۔
ہایونا۔ اس نے زیر لب دہرایا۔ جیسے محظوظ سا ہوا ہو اپنے کافی کے کپ سے چسکی لیتے اسے لگا اس نے اپنی گہری ہوتی مسکراہٹ کپ کے پیچھے چھپائی ہے۔
سب تم سے مخاطب ہوتے وقت ہایونا ہی کہتے ہیں نا۔تمہارا نام ہایونا ہے نا۔
اس نے تائید چاہی تو وہ ہنس پڑا
ہایون لی ہایون نام ہے میرا۔ ن پر ختم ہونے والے ناموں کے ساتھ بے تکلفی سے پکارتے وقت ہم لوگ نا ساتھ لگا دیتے ہیں جیسے سیہونا یوآنا سوہیونا وغیرہ۔ یہ قریبی لوگوں سے قربت جتانے کا ایک انداز ہے
معزرت۔ اس نے فورا بیانئے کہا۔
مجھے نہیں پتہ تھا۔ میں نے تو جیسے سب کہتے ویسے ہی نقل کی۔ سوری اگر برا لگا۔
برا کیوں لگے گا مجھے۔ اس نے مان سے ٹوکا۔
سب دوست ایک دوسرے سے بے تکلفانہ انداز میں ہی مخاطب ہوتے ہیں۔ بلکہ مجھے تو اچھا لگا۔ اب ہم پکے دوست بن گئے ہیں۔ ویسے پاکستان میں دوست کیسے پکارتے ہیں ایک دوسرے کو۔۔
وہ آرام سے کچن کارنر میز کی کرسی سنبھالتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
ہم۔وہ سوچ میں پڑی۔
( صبح صبح یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوتے ہی اس نے سنتھیا سے ہاتھ ملاتے ہوئےکہا۔
کیسی ہو کتی؟
اگلی دفعہ وہی منظر اس بار اسے غصہ آیا ہوا تھا۔
سنتھو کی بچی
اس سے اگلی دفعہ
کمینئ سنتھو۔
اس سے اگلی بار سنتھیا نے اسے پکارا تھا۔ وہ کلاس کی طرف جا رہی تھی کسی نے آواز دی۔
اریزووو۔
اس نے سر جھٹکا۔ جانے کون ہے اریزو جس بہری کو بلایا جا رہا ہے۔
ارییییز ۔۔۔۔۔
اف بد تمیز لوگ یونیورسٹی میں جاہلوں کی طرح پکارتے۔
اس بار دوسری طرف سر جھٹکا گیا۔
آری ۔۔۔۔
اس بار آواز قریب سے آئی تھی۔۔ وہ مگن چلے گئ جب سنتھیا نے جھلا کر کندھے پر مارا
ڈوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈوری؟ وہ کندھا سہلاتی مڑی بھاگ کر آنے سے اسکی سانس پھول چکی تھی اور خفگئ سے گھور رہی تھی۔
بہری۔ ڈوری کب سے پکار رہی ہوں تمہیں۔
تم نے کب پکارا؟ ۔ وہ الٹا حیران ہوئی۔
ابھی ۔۔ اف حلق خشک ہو گیا پکار پکار کے۔
سنتھیا سانسیں بحال کرنے میں لگی تھی۔ بمشکل بتایا
مجھے ایک بار بھی آواز نہیں آئی کسی نے اریزہ کہا ہو۔
وہ حیران تھی۔
پیار سے پکار رہی تھی چار نک نیم دے دیئے تمہیں ۔۔
سنتھیا کے کہنے پر وہ پھیکی سی مسکراہٹ سے بولی
مجھے تو کوئی نک نئم سے نہیں پکارتا۔
پھر خیال آیا تو مسکراہٹ سمٹ سی گئ۔
ہاں میرے بھائئ اکثر مجھے پیار سے آروووو کہہ دیتے تھے۔۔ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آروووو۔ ہوں اچھا نام ہے یہ بھی۔
ہایون نے سر ہلایا۔
ویسے پاکستان میں بھئ لاڈ سے نام کے آخر میں الف یا چھوٹی ی لگا دیتے جیسے کمال سے کمالا رشید سے شیدا بلال سے بالا یا
بلو۔ وائو بھئ لگا دیتے۔
اسے ادراک ہوا۔
اور کبھی نام کو بیچ سے آدھا کر دیتے۔ جیسے نعمان سے نومی وقار سے وکی وغیرہ۔ لڑکیوں کے بھی نام بدل دیتے جیسے میری ایک کزن کا نام مہرالنساء ہے اسے ہم مہرو کہتے ہیں ۔۔ایک دفعہ کیا ہوا اسکی ٹیچر نے مجھے بلاکر اسکی شکایت لگائئ آپ مہرالنساء کی کزن ہیں آپکو پتہ ہے اس نے اپنا میتھ ٹیسٹ اپنے والدین کو دکھایا ہی نہیں ۔
میں نے کہا کون مہرالنساء میں کسی مہرالنساء کو نہیں جانتی
انکو اتنا غصہ آیا اسی وقت مہرو کو بلاکر ڈانٹا کہ تم نے جھوٹ بولا کہ یہ تمہاری کزن ہے اور وہ بے چاری رو پڑی کہہ رہی کہ تم نے کیسے کہہ دیا کہ میں تمہاری کزن نہیں ۔۔
وہ اپنی دھن میں یادداشت کھنگال رہی تھی کہ خیال آیا تو شرمندہ ہوگئ۔
ہایون چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ خاموشی سے سن رہا تھا اسے۔
میں بھی کیا کہانیاں سنانے بیٹھ گئ۔ اسے سچ مچ خفت سی ہوئی
نہیں مجھے سننے میں مزا آرہا تھا ۔
ہایون نے یقینا اسکا دل رکھا تھا وہ اتنا ہی مہزب تھا۔ یہ خیال قوی تھا اریزہ کیلئے۔ وہ زبان دانتوں تلے دباتی کافی ختم کرنے لگی۔
اچھا سنو کل بھی جاب پر نہیں جانا سمجھیں ۔ اور تیاررہنا۔ ڈاکٹر۔
وہ کپ رکھتا جانے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
ہایون مجھے ضرورت ہوگئ تو میں خود چلی جائوں گی ڈاکٹر کے پاس یا گوارا کے ساتھ تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس نے سادہ سے انداز میں ہی کہا تھا مگر ہایون برا مان گیا۔
میں لے جائوں گا تو کیا برا ہوجائے گا؟
اچھا نہیں لگتا مجھے اتنا تم پر انحصار کرنا۔
اس نے صاف کہہ دیا۔
پہلے ہی تم میری وجہ سے کافی تکلیف اٹھا چکے ہو۔ میں اور تمہارے اوپر انحصار نہیں کرنا چاہتی۔ خاص کر کل کے بعد۔ کل تم مجھے چھوڑنے گئے تھے اور کین کھا آئے ۔۔۔
کل کیلئے تو میں بہت ذیادہ شرمندہ ہوں۔ بلکہ تم بتائو تم نے ڈاکٹر کو دکھایا تمہارے چہرے پر کہیں نشان نہ رہ جائے۔
اسے جیسے فکر بھی ہو رہی تھی۔ ہایون بنا ایک لفظ کہے اسے دیکھتا رہا۔ پھر گہری سانس لیکر بولا۔
میں دوست نہیں ہوں؟
ہو ۔۔ آف کورس اچھے دوست ہو۔ اسی لیئے میں نہیں چاہتی مزید تمہیں زحمت دینا۔ سو پلیز ذیادہ اصرار نہ کرو۔
اس نے اپنی طرف سے بات ختم کردی تھی۔ مگر ہایون چپ کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ اسے الجھن سی ہوئی۔
کیا ہوا۔
وہ چپ ہی رہا۔ اسے لگا اسے مزید وضاحت دینی چاہیئے۔
دیکھو۔ مانا سیول میرے لیئے اجنبی شہر ہے مگر میں یہاں رہ رہی ہوں تو اب اپنا ہر کام مجھے خود ہی کرنا چاہیئے نا ہر وقت میں تم پر اور گوارا پر انحصار کرکے تو نہیں رہ سکتی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ معمولی سی چوٹ ہے۔مجھے نہیں لگتا مجھے ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ میں تو اس سے بڑی چوٹیں سہہ چکی ہوں۔
اس کا مخصوص بلا تکان بولنے والا موڈ پہلی دفعہ سنتھیا اور ایڈون کے سوا کسی کے سامنے آن ہوا تھا۔ وہ انگریزی میں رواں نہیں تھی سو یہاں آکر لمبے جملے بولنا باتیں کرنا اس کیلئے مشکل ہوتا تھا مگر اس وقت تو وہ زبان کا فرق بھلا بیٹھی تھئ۔
میرے تو ایک بار گرم چاولوں کی پیچ پائوں پر گر گئ تھئ۔
اس نے آنکھیں خوب کھول کر واقعے کی سنگینی کا احساس دلانا چاہا تھا
ایک میرے ساتھ ذرا سا ڈاکٹر کے پاس جانے سے بچنے کیلئے اتنی لمبی توجیحات۔ تم مجھے دوست سمجھتی ہی نہیں ہو۔
وہ خفا ہو چلا تھا شائد۔
دوست سمجھتی ہوں اسی لیئے زحمت دینا نہیں چاہتی۔
وہ کہہ کر مسکرا دی تھی۔وہ یونہی اسے دیکھتا رہا۔
اسکی نگاہوں میں خفگی تھی۔ اریزہ جز بز سی ہوئی۔ اب یہ بھی کوئی ناراض ہونے والی بات ہے۔
اوہ وائو۔ کیا منظر ہے۔اریزہ اور ہایون ۔ واہ رومینٹک ڈیٹ چالو ہے بھئ۔
گوارا لاک کھول کر اندر داخل ہوئی تھئ۔ انکو دیکھ کر لمحہ بھر کا بھی وقفہ کیئےبنا جملہ چست کردیا۔
شٹ اپ۔
اریزہ نے اسکی بے وقت کی راگنی پر گھورا
جوتے ریک میں اتار کر وہ چپلیں بدلتی کھلکھلاتی ان کے پاس چلی آئی۔
مزاق کر رہی ہوں۔کیسے ہو ہایونا۔ ؟ آج یونی نہیں آئے۔ ؟
وہ ہایون سے مصافحہ کرر ہی تھی۔
ہاں اج چھٹئ کئ تھوڑا کام تھا۔
ہایون نےہنکارا بھرا تو وہ قصدا اسکو کندھا مار کر ہنگل میں بولی
ہاں دیکھ رہی ہوں کافی اہم کام تھاتمہیں۔ہوا کہ نہیں؟
گوارا کی شرارتئ نگاہیں اسے کھوج رہی تھیں۔
آنی۔ میں بس جا رہا تھا۔ کرم۔
وہ مزید اسے چھیڑنے کا موقع دیئے بنا جان چھڑا کر باہر نکل گیا۔ گوارا کچن میں دیگچیوں میں جھانک رہی تھی۔
گوبھئ اٹھا کر پوچھنےلگی۔
اریزہ یہ کھالوں ؟
ہاں۔ یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے۔
اریزہ کے کہنے پر وہ چاول نکال کر رائس ککرمیں لگانے لگی۔ اب چاول پکنے تک اس نے کچھ اسنیکس اڑانے تھے۔ کیبنٹ کھول کر کریکر نکالتی اسکے پاس آن بیٹھی۔
کافی پیوگی بنائوں؟
اریزہ نے پوچھا تو نفی میں سر ہلانےلگی
ہرگز نہیں۔ بھوک مر جائے گی کھانا کھائوں گی پہلے۔ آج ہوپ نے چاول نہیں بنائے؟
وہ اریزہ سے پوچھ رہی تھی۔
آنی( نہیں )کہاں آئی ہے وہ ابھی۔ آکرتو سب سے پہلے چاول ہی چڑھاتئ ہے۔
اس نے لاپروائی سے کہہ کر کپ خالی کرنے کی نیت سے بڑا سا گھونٹ بھرا۔
ہیں ؟ وہ نہیں ہے گھر میں یعنی ۔ تم دونوں اکیلے فلیٹ میں ڈیٹ ہی مار رہے تھے۔
گوارا نے چھیڑنے والے انداز میں ہی کہا تھا۔ اسکا آخری گھونٹ حلق میں اٹک سا گیا۔ بمشکل نگل کر کپ رکھا ۔ اسے اچھو ہوتے ہوتے بچا تھا۔ذرا سا کھانس کر فورا بولی
ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ آیا تھا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جائے۔ مگر میں نے منع کردیا ۔ اچھا نہیں لگتا اسکا احسان لینا۔
اسے لیکن اچھا لگا ہوگا تمہارا خیال کرنا جبھئ تو آج اسائنمنٹ جمع کروانے یونی جانے کی بجائے تمہیں دیکھنے یہاں چلا آیا۔
گوارا اسے کریدنا چاہ رہی تھی۔ اسکی گہری نگاہوں سے وہ تنگ سی ہوئی
ہی از جسٹ فرینڈ۔ جیسے کل تم فکر مند ہوئیں ویسے ہی وہ بھی ہوا جبھی خیریت پوچھنے چلا آیا ۔تم نےاسکو ڈیٹ بنا دیا۔
اس کو تھوڑا غصہ آرہا تھا۔ گوارا نے گہری سانس لی۔
تو تمہاری جانب سے ایسی کوئی بات نہیں ہایون صرف دوست ہے۔ اور اگر ہایون تمہیں دوست سے ذیادہ سمجھنے لگے تو ؟
کیا ہوگیا ہے گوارا۔ وہ جھلا اٹھئ۔
وہ تمہارا بھئ دوست ہے تم سے ملنے نہیں آتا کیا؟ مجھ سے ملنے آگیا تو اسے ڈیٹ بنا دیا تم نے۔ یہ تو منافقت ہوئی
ریلیکس۔ ایسے ہی کہہ دیا اتنا غصہ آنے کی کیا بات ہے۔
گوارا فورا سیز فائر کرنے لگی۔
ہایون اچھا لڑکا ہے۔ہائی اسکول سے جانتی ہوں اتنا مہذب اور دھیمے مزاج کا وجیہہ لڑکا ہے۔ اگر وہ تم میں دلچسپی لینے لگے تو یہ کوئی بری بات تھوڑی ہے۔ بلکہ اگر وہ تمہیں پرپوز کرے تو سب سے ذیادہ خوشی مجھے ہوگی تم دونوں مجھے دل سے عزیز ہو۔
گوارا کا انداز اتنا پرخلوص تھا کہ وہ مزید غصہ نہ کر سکی۔
مگر ایسا ہو نہیں سکتا۔
اسکا انداز قطعی تھا گوارا بے ساختہ چونک کے پوچھنے لگی
کیوں؟ تم کسی اور سے کمیٹڈ ہو ؟ آئی مین پاکستان میں۔
تم نے تو کہا تھا ڈیورسڈ ہو؟
اف گوارا۔۔
اسے اسکی بے چینی پر ہنسی ہی آگئ۔ کپ اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
پکی اس وقت تم پاکستانی آنٹی لگی ہو۔اتنی متجسس وہی رہتی ہیں پاکستانی لڑکیوں کی زندگی کے بارے میں۔ شادی ہوئی؟ منگنئ ہوئی کب کرنے کا ارادہ ہے جیسے سوال تو وہ لڑکی کے سلام کے جواب میں پوچھ لیتی ہیں ۔۔ اور المیہ یہ ہے کہ عموما ہمیں جواب دینے بھی پڑتے ہیں۔
اسکے اتنئ باتیں سنانے پر گوارا بدمزہ نہ ہوئی بلکہ کریکر میں رکھ کر اطمینان سے بولی
ایشائی آہجومہ سب ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ تمہیں کبھی اپنی اماں کی دوستوں سے ملوائوں تو تمہارے ننھیال ددھیال کی بھی سب معلومات اکٹھی کرلیں گی تم سے پہلی ملاقات میں ہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح8 بجے تیار رہنا۔ میں نے کل چھٹی کی بات کر لی ہے۔ رات کو جلدی سو جانا ۔ میں بھئ آکر سو جائوں گا۔ کل کا دن کافی ہیکٹک ہوگا ہمارے لیئے۔
طویل پیغام۔
وہ کنوینئیس اسٹور میں بیٹھئ بیزاری سے اوپر نیچے کرتے جانے کتنی دفعہ اس پیغام کو پڑھ چکی تھی۔
چکن نوڈلز سامنے پڑے ٹھنڈے ہو رہے تھے۔
اسکی پیشانی پر پسینہ آرہا تھا۔
اس نے یو ٹیوب کھولا۔
abortion process
اس نے کتنی ہی دیر ہوگئ مختلف ویڈیوز دیکھنے میں جانے کتنا وقت بتایا ۔۔ تبھئ اسکے سامنے وہ ویڈیو آئی۔ بنا کسی مکالمے کے صرف ہلکی سی موسیقی کے ساتھ وہ چھوٹی سی ویڈیو تھی
اسکی آنکھوں سے کئ آنسو ٹپکے تھے۔ اسکا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔۔ ویڈیو بند ہوگئ تھی اگلی ویڈیو چالو ہو چکی تھی مگر وہ بالکل بے دھیان تھئ ۔ تبھئ کسی نے میز پر ہلکے سے دستک دی ۔
وہ ایکدم چونک کے سیدھی ہوئی۔ موبائل اسکئ ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔
یہ ریمن کی توہین ہے کہ اسکو سامنے رکھ کر کھانا بھول جایا جائے۔
کم سن مسکرا کر کہتے اسکو سوپ نوڈلز کی جانب متوجہ کرنا چاہ رہا تھا مگر اب اسکی شکل دیکھ کر سنجیدہ سا ہو گیا۔
آئیم سوری ۔ وہ بس نوڈلز ۔۔ کرم
وہ سٹپٹا سا گیا تھا۔
یہ آپ لینا چاہیں تو لیں لیں میں نے اسکو کھایا نہیں ہے۔
سوپ نوڈلز میں گرم پانی ڈال کر اسکا ڈھکن اس نے بند کر رکھا تھا تاکہ نوڈلز گل جائیں۔
مگر اس وقت وہ کچھ کھانے کے موڈ میں نہیں تھی۔ سو اٹھ کھڑی ہوئی۔
آنی۔ کم سن نے انکار کرنا چاہاپھر ہنس کر بولا
انکو اتنی دیر ڈھک کر نہیں رکھا جاتا ہے یہ لجلجے ہو چکے ہوں گے اب کھانے کے قابل نہیں رہے ہوں گے۔
کم سن کے کہنے پر وہ کندھے اچکاکر موبائل اٹھاتئ اسکے برابر سے ہو کر جانے لگی
دو قدم چلی ہوگی کہ اتنی زور کا چکر آیا کہ فورا سہارے کیلیے اسی میز کو تھامنا پڑگیا۔
کم سن نے فورا کرسی کھینچ کر اسکے آگے کی۔ وہ فورا بیٹھ گئ۔
کھانے سے منہ نہیں موڑنا چاہییے۔
اس نے اسکا نوڈلز کا پیالہ اسکی جانب بڑھا دیا۔ اس نے سر جھکا لیا۔ ڈھکن ہٹا کر ایک دو نوالے لے ہی لیئے۔اسکا بی پی لو ہو رہا تھا۔ پھر بھئ نوڈلز کا ذائقہ اتنا ناگوار لگ رہا تھا کہ اس سے مزید کھایا نہ جا سکا۔
کچھ اور کھائوگی؟
کم سن بھانپ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اس کنوئینس اسٹور میں ہر طرح کا پراسسڈ کھانا موجود تھا۔ وہ بھاگ کر بن لے آیا جس میں اندر چاکلیٹ بھری ہوئی تھی۔
سنتھیا نے ایک نظر اسکے چہرے پر ڈالی پھر ہونٹ کاٹنے لگی
شکریہ۔ اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں آپکو گھر تک چھوڑنے آئوں؟
کم سن اس سے پوچھ رہا تھا۔اس نے ہونٹ بھینچ لیئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیول میں رات گہری ہورہی تھی فضا میں محسوس کی جانے والی خنکی تھی۔۔ لمبا کوٹ تو وہ پہنے ہی تھئ کم سن کا مفلر لپیٹ کر کم سن کے پیچھے چلتی وہ اسکو بس ایک موٹا سا ہڈ والے اپر میں ملبوس دیکھ کر رشک بھی کر رہی تھئ تو جھر جھری بھی لے رہی تھی 5 ڈگری میں اسکی جوانی کا عالم یہ تھا کہ بس ایک اپر۔۔
گینڈے کی کھال ہے کیا اسکی ۔ ایک سویٹر میں مزے سے گھوم رہا ادھر میری اس کوٹ میں بھی گگھی بندھ رہی ہے۔
اسکے پیچھے چلتے وہ بڑ بڑا رہی تھی۔
کھاتے بھی تو کیا کیا عجیب گرم چیزیں ہیں اندر سےگرم رہتے ہیں اوپر سے وہ بدمزہ جنسنگ کا قہوہ۔۔
اسے ایڈون کے ساتھ پیا گیا قہوہ یاد آیا جسے پی کر اسے لگا تھا جو اندر ہے بھی وہ بھی باہر آجائے گا۔۔آنتوں سمیت۔۔
جبھی اتنا سکون سے۔۔
اسکی مستقل بڑ بڑ پر کم سن نے مڑ کر اسے دیکھا تو وہ گڑبڑا کر سر جھکا گئ۔
وہ اسے ایک درمیانے درجے کے مکان میں لیکر آیا تھا۔ تنگ سی گلی جس کی کم ازکم پندرہ سیڑھیاں چڑھ کر ذیلی گلی میں داخل ہوئے دونوں اطراف پختہ مگر پرانےمکانات تھے۔ اس مکان کا باہر بس داخلی دروازہ تھاجس کو دیکھ کر لگتا تھا بس مرلہ ڈیڑھ کا گھر ہوگا۔۔ کم سن دستک دینے کی بجائے سیدھا دروازہ کھول کر اندر گھس گیا تھا۔ وہ چند لمحے جھجک کر باہر ہی کھڑی رہ گئ۔ اپنے پیچھے اسکی غیر موجودگئ کا احساس ہوتے ہی کم سن پلٹ کر واپس بھی آیا۔۔
کم ان۔۔ اس نے کہا تو وہ متزبزب سی اسے دیکھے گئ۔۔
کیا بتائوں اسے اتنا چھوٹا مکان دیکھ کر ہی گھبراہٹ ہو رہی ہے مجھےتو گوشی وون سے جھر جھری آرہی تھی یہ بھئ اتنا ہی بڑا ہوگا ۔۔ وہ سوچ کے رہ گئ
۔۔ کم سن منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا تو اسے قدم بڑھانا پڑا۔
اسکی توقع کے برعکس دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی اچھا خاصا صحن تھا جس کے بیچوں بیچ کوریائی طرز کا تخت رکھا تھا جس پر ڈھیر ساری بند گوبھی پر مصالحہ لگا کر بڑی بڑئ طشتریوں میں پھیلا کر رکھاتھا فضا میں تیز مصالحوں کی مہک رچی تھی۔ ایک جانب باورچی خانہ تھا سامنے برآمدہ سا تھا اور دو کمروں کے بند دروازے نظر آرہے تھے۔ باورچی خانے کی چمنی سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ کم سن بے تکلفی سے باورچی خانے میں گھس گیا۔۔ وہ بھی اسکے پیچھے چلی آئی۔۔
ایک پختہ عمر کی مضبوط جسامت کی خاتون جن کے سر کے سب بال براق سفید تھے زمین پر پٹرے پر بیٹھئ جھک کر اسٹو پر سوپ بنا رہی تھیں۔ کم سن نے اکڑوں بیٹھ کر انکو بانہوں میں لے لیا تو وہ بری طرح چونک کر مڑیں پھر جیسے کم سن کو دیکھ کر نہال ہوگئیں خوشی کا بے ساختہ اظہارکرتے انہوں نے کم کو بھینچ لیا تھا۔۔
اتنے دنوں بعد آئے تم۔۔ انکی پلکیں بھیگ چلی تھیں۔
مصروف تھا مگر بھولا نہیں تھا آپکو۔۔ کم سن کا انداز بھی اسکے معمول کے لیئے دیئے رہنے والے انداز سے یکسر مختلف تھا۔۔ بے حد پیار سے وہ مخاطب تھا۔۔
وہ بوڑھئ خاتون نہال سی اٹھیں
چلو اندر چلو میں سوپ لیکر آتی ہوں۔ کم سن کو ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے انکی نگاہ دروازے پر ایستادہ سنتھیا پر پڑی تو حیران سی نظروں سے دیکھنے لگیں۔۔
اسلام و علیکم۔۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا سر جھکا کر سلام کرتی سنتھیا آہجومہ کو مزید متحیر کر گئ
اب انکا سلام تو مجھے سیکھ چکے ہونا چاہیئے تھا کچھ ذیادہ ہی احمق ہوں میں۔
اسے انکی حیرانی شرمندہ کر گئ
دے۔۔ انکو جواب سمجھ نہ آیا کہ کیا دیں تو بس اسی کی طرح سر جھکا کر دے بول دیا۔۔
کم سن محظوظ انداز میں مسکرادیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لکڑی کے فرش پر لکڑی کی چھوٹی سی تپائی رکھ کر انہوں نے کھانا پیش کیا تھا۔وہ اور کم سن آمنے سامنے زمین پر آلتی پالتی مارے بیٹھے تھے اس نے کھانے کا جائزہ لیا۔ سادے ابلے چاول چکن سوپ ساتھ کمچی اور انڈے کے رول۔۔۔ان دونوں کے سامنے کھانا رکھ کر وہ گھٹنوں کے بل شرمندہ شرمندہ سی بیٹھ گئیں۔۔
بیانئیے۔۔( معزرت) کھانے کا وقت تھا اور مجھے خبر نہ تھی تم مہمان کو لے کر آئوگے ورنہ کم از کم گوشت ہی بنا لیتی۔۔ پورک پڑاہوا تو تھا گھر میں۔۔
انکو معزرت خواہانہ انداز میں خود سے مخاطب دیکھ کر سنتھیا نے سوالیہ نگاہوں سے کم سن کو دیکھا۔۔۔
کوئی بات نہیں آہمونی۔ میں ٹھیک ٹھاک کھانا کھائوں گا۔
چھائے موکے سبندا
کم۔سن نے سنتھیا کو ترجمہ کرکے بتانے کی بجائے سیدھا آہجومہ کو جواب دیا تھا۔۔اس نے بنا تکلف اپنے پیالے میں سوپ نکالا اور چاول ان میں ڈال کر کھانے لگا۔
آہجومہ اور کم سن خوب آرام سے کھا رہے تھے۔
اتنے دنوں میں اسے یہ تو اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ لوگ سوپ سادے چاولوں کے ساتھ کھا لیتے ہیں مگر سفید سا یہ سوپ دیکھنے میں بالکل بھی خوش رنگ نہیں تھا۔ اسے کہیں کھا کے الٹی نہ آجائے۔ وہ شش و پنج میں تھی۔
اگر الٹی آجائے تو بھاگ کے دروازے تک جانے میں کتنا وقت لگ جائے گا۔ وہ اندازہ لگا رہی تھی۔
کم سن نے اسکا چاولوں کا پیالہ اپنی جانب کھینچا اپنے چمچ سے چاول بھرے سوپ میں ڈبو کر کھا لیا۔ اسکی اس حرکت پر وہ حیران سی اسے دیکھے گئ
کچھ الگ نہیں ان میں سادہ کھانا ہے اطمینان سے کھا سکتی ہو اب۔
اسکا انداز طنزیہ نہیں تھا۔ سادہ سے انداز میں اسے جو مناسب لگا اس طریقے سے اسکی تسلی کروائی تھی۔
وہ حد درجہ شرمندہ ہوئی۔ ۔
وہ میں۔
وہ بے خیالی میں اردو میں ہی وضاحت کرنے لگی تھی کہ خیال آیا انگریزی میں کہے۔ یا ۔۔۔ یا پھر جانے دے۔
کورینز جھوٹے ووٹے کا خیال نہیں کرتے آرام سے ایک دوسرے کو انسان سمجھتے انکے کھانے میں حصہ بٹا لیتے بنا گھن کھائے اسکے ساتھ کوئی خاص سلوک نہیں ہوا تھا۔ پھر بھی جھوٹا۔۔ اس نے جھجکتے ہوئے اپنا چمچ اٹھایا۔ کم سن اس پر سے دھیان ہٹائے کھانا کھانے میں مگن تھا۔
آگاشی۔ کھانا شروع کرو۔ کیا ہوا پسند نہیں آیا کچھ اور بنا لائوں؟
آہجومہ فکرمند ہو رہی تھیں۔
اس نے سوالیہ نگاہوں سے کم سن کو دیکھا۔
تمہیں پراسسڈ فوڈ نہیں کھانی چاہیئے اس حالت میں۔ اس لئےمجھے بہتر یہی لگا تھا کہ تم گھر کا بنا کھانا کھا لو شائد بہتر محسوس کرو۔ بیان ( معزرت) اگر تمہیں کھانا پسند نہیں آرہا ہے تو کوئی بات نہیں۔ میں تمہیں واپس چھوڑ آتا ہوں۔
کم سن کے کہنے پر وہ چونک سی گئ۔ کھانا ناپسند کیسے آتا چکھے بغیر۔ مگر حالت سے اسکی کیا مراد؟
کھانے کی بو حواسوں پر چھا رہی تھی۔ اس نے جھجکتے ہوئے نوالہ بنا ہی لیا
یہ کورین نہیں نا تو اسکو شائد ہمارے یہاں کا کھانا پسند نہیں آرہا۔ آپ کھانا سمیٹیئے گا نہیں میں اسکو چھوڑ کر آکر کھانا کھائوں گا۔
کم سن کہہ کر اٹھنے کو تھا کہ آہجومہ نے پیار بھری نظروں سے دیکھتے اس لڑکی کی جانب اشارہ کیا۔
وہ پاکستانی سانولی سی لڑکئ جسے اس نے سوچ سوچ کر کھانا کھاتے دیکھا تھا جب بھی کھاتے دیکھا اس وقت خاصی رغبت اور تیزی سے چاول کھا رہی تھی۔ کورینز کی طرح۔
وہ مسکرا کر اپنے کھانے کی جانب متوجہ ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا لگتی ہیں تمہاری؟
واپسی پر وہ کم سن سے پوچھ ہی بیٹھئ۔
یہ میری والدہ ہیں۔۔
اسکا جواب مختصر تھا۔
سنتھیا کو جھٹکا لگا ۔
واقعی؟ تمہاری والدہ؟۔۔ اسکا مطلب تم بھی یہاں رہتے ہو؟ وہ الجھی۔۔
انکی انگریزی سمجھنےکی کوشش کرتی ہوئی وہ سادہ سی دیہاتی کوریائی نقوش کی خاتون کی معمولی سی بھی شباہت کم سن میں نہ تھی۔۔
نہیں میں اپنے اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں۔ یہ اپنی بیٹی کیساتھ رہتی ہیں۔نہ یہ میرے ساتھ رہنے کو تیار ہوتی ہیں نہ میں انکے ساتھ۔۔
کم سن کو اندازہ تھا کہ اب سوالوں کی بوچھاڑ ہوگئ سو اپنی جانب سے تفصیل سے جواب دیا۔۔
یہ کیا بات ہوئی۔ کیسی والدہ ہیں بیٹےکے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں اور تم کیسے بیٹے ہو بہن اور ماں کو ساتھ رکھو۔۔ انکو یہاں اس بڑھاپے میں ایسے چھوٹے گھر میں رکھ چھوڑاہے۔۔ اسکا اندز جھاڑ پلانے والا تھا۔۔ کم سن دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا
تم سب پاکستانئ ایسے ہوتے ہو۔ بال کی کھال نکالنے والے۔ دوسروں کی زاتی زندگی میں دلچسپی لینے والے انکو یوں ڈانٹ دینے والے ؟؟؟
سنتھیا کیلئے اسکا ردعمل غیر متوقع تھا بری طرح سٹپٹائی
اس میں باقی پاکستانیوں کو کیوں لے آئے ؟
وہ میں۔۔ ایسے ہی پوچھ بیٹھئ۔ معزرت۔
وہ چڑ گئ۔ آجکل اسے کافی جلدی چڑ چڑھ جاتی تھی۔
۔۔ نہ بتائو جو مرضی کرو مجھے کیا۔۔
سنتھیا اردو میں بڑ بڑائی۔۔خاموشی سے ہم قدم چلتے
کم سن نے چند لمحے انتظار کیا کہ وہ ترجمہ کرے مگر اسکا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا۔۔
ویسے اگر تم مجھے ایک ذاتئ سوال کا جواب دو تو میں تمہیں اس بات کا جواب دے سکتا ہوں۔۔
سنتھیا نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی
تم پاکستان کیوں نہیں چلی جاتیں؟
کم سن کا انداز سادہ سا تھا۔۔
تم سے مطلب۔۔ حسب توقع وہ چڑ گئ۔۔
کم سن سر جھٹک کردوبارہ خاموش ہوگیا۔ سیڑھیاں سنتھیا کیلئے کے ٹو کا پہاڑ بن گئیں۔ کئی بار ریلنگ پکڑی ۔ شکر ہے اترائئ تھئ۔ اسکی سانس پھول رہی تھی پسینے چھوٹ گئے تھے۔ کم سن اسکے برابر بظاہر بے نیازی سے چل رہا تھا مگر درحقیقت اس پر مکمل توجہ تھی۔ سنتھیا نے کن اکھیوں سے اسکو کئئ بار دیکھا۔ ایک ماتھے پر شکن تک نہ تھی۔ وہ دانستہ اسکے ساتھ آہستہ چل رہا تھا
یونہی چلتے آخر سفر تمام ہوا تھا۔ گوشی وون کے کمپائونڈ میں آکر اس نے کم سن کا شکریہ ادا کرنا چاہا۔
کھانا بے حد لذیذ تھا۔ آج کافی رغبت سے کھایا میں نے۔ تم اپنی والدہ کا شکریہ ادا کرنا میری جانب سے۔
لیکر میں گیا تھا تمہیں ۔
کم سن نے جتایا
تمہارا بھی بہت بہت شکریہ۔
وہ اسکی شرارت سمجھ کر مسکرا دی
شب بخیر۔
وہ کہہ کر مڑی تو کم سن کو جانے کیا سوجھی ایکدم بولا
ویسے ایک بات پوچھوں۔
سنتھیا رخ موڑ کر اسے دیکھنے لگی ۔۔ کم سن ایک قدم آگے بڑھ کر اسکی آنکھوں میں جھانک کر بولا
آج والا سوپ ذیادہ گرم تھا یا کل والا؟
وہ ایکدم سناٹے میں آئی تھی۔ کم سن ہلکے سے مسکرایا پھر ہاتھ ہلا کر شب بخیر کہتا چلا گیا۔
وہ چند لمحے اسے جاتے دیکھتئ رہی پھر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اسکا دیا مفلر ابھی بھی اسکی گردن میں ملفوف تھا۔ اس نے اتار کر تکیئے پر اچھال دیا۔ اسکی سائیڈ ٹیبل پر ایک بڑا سا شاپر تھا۔ شائد ایڈون کچھ کھانے پینے کی چیزیں رکھ گیا تھا۔ وہ ان پر نگاہ غلط ڈالتی سیدھا بستر پر لیٹ گئ۔ بہت دنوں بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا اسکو نیند آرہی تھی۔ شدید گہری نیند۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شدید درد سے اسکی پیشانی تر ہوگئ تھی۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا آرہا تھا جب ڈاکٹر نے دھیرے سے اسکے گال تھپتھپا کر اسکو جگایا۔
اٹھ کر دیکھو کتنا پیارا بچہ ہے۔
ڈاکٹر نے اسکو اجنبی زبان میں جانے کیا کہا تھا وہ کچھ سمجھتے کچھ نہ سمجھتے اٹھ بیٹھی۔ ڈاکٹر نے کمبل میں لپٹا ننھا سا وجود اسکی بانہوں میں تھمایا۔
چھوٹا سا دہانہ میچئ ہوئی آنکھیں گول چہرہ گورا چٹا سا گل گوتھنا سا بچہ ننھئ ننھی مٹھیاں کھولتا بند کرتا غوں غاں کرکے جانے ماں سے کیا راز و نیاز کر رہا تھا۔ ۔ اس نے کمبل پیچھے کرکے اسکی مٹھی میں اپنی انگلی تھمانی چاہی اسکی مٹھی ایکدم سرخ ہو گئ تھی۔ گاڑھا سرخ خون اسکی انگلی تر کرنے لگا اس نے گھبرا کر انگلی چھڑائی بچہ ایکدم سے سرخ سا ہو گیا گہرا گاڑھا خون بچے کی پیشانی سے پھوٹا۔ اسکا پورا چہرہ رنگین ہوا
اس نے گھبرا کر ڈاکٹر کو دیکھا
یہی چاہتی تھیں نا تم مار دیا ہم نے اسے۔
چندی آنکھوں والی وہ ڈاکٹرنئ اردو میں غرائی تھی اس کے ہاتھ میں ایک بڑی سی آری تھی اس نے تیزی سے ہاتھ اونچا کیا اور اس بچے کے سر کی جانب چلا دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایکدم گھبرا کر اٹھی تھئ۔ آنکھ کھلی تو احساس ہوا کہ اپنے ہی کمرے میں ہے۔ کمرے میں ہلکی روشنی ہو رہی تھی۔ وہ پیشانی مسلتی اٹھ کر بیٹھ گئ۔ چند لمحے تو سانسیں بحال کرنے میں لگ گئے ۔ ایڈون کچھ شاپر اٹھائے اندر داخل ہو رہا تھا۔
اٹھ گئیں تم؟ چلو جلدی سے ناشتہ کرلو ۔ ہلکا پھلکا سا ہی کھانا ہے۔ تاکہ طبیعت خراب نہ ہو۔
وہ بولتا ہوا شاپر سائیڈ ٹیبل پر رکھنے لگا۔
یہ کیا رات کو کھانا نہیں کھایا تم نے؟ بھئ یہ لاپروائی مت کیا کرو۔
وہ نرمی سے کہتا پلٹ کر اسے دیکھنے لگا تو چونکا۔
کیا ہوا۔ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟ وہ قریب آکر اسکی پیشانی چھو کر دیکھنے لگا۔
میں ٹھیک ہوں۔ پانی۔ خشک لبوں پر زبان پھیرتے وہ بمشکل کہہ پائی۔
ایڈون نے فورا گلاس میں پانی بھر کر تھمایا۔ وہ اتنی پیاسی ہو رہی تھی کہ ایک سانس میں پی گئ
ایڈون گلاس واپس رکھ کر اسکے برابر بیٹھ گیا۔ اسکو پیار سے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے لیا۔
مجھے اندازہ ہے تم بے حد گھبرا رہی ہو گی۔ میں نے سب معلومات لے لی ہیں۔ کوئی گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ معمولی سی سرجری ہے بس۔ میں ہر پل تمہارے ساتھ رہوں گا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں کچھ غلط ہونے نہیں دوں گا آئی پرامس۔ آئی لو یو سنتھیا۔
اسکے سر پر تھوڑی رکھے وہ تسلی دے رہا تھا۔عجیب بات یہ تھی کہ اسکے ان الفاظ سے واقعی اسکا دل ٹھہر سا گیا۔ اس نے گہری سانس خارج کرتے آنکھیں موند لیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے۔
Kesi lagi Aapko salam korea ki yeh qist? Rate us below
-
Salam Korea Episode 28
Salam Korea
by Vaiza Zaidiقسط 28
اسکی صبح خوشگوار ہوئی تھی۔ اتنے دنوں میں پہلی بار اس نے گوارا اور اریزہ سے پہلے بیدار ہو کر ناشتہ بنایا۔۔
بناتے ہوئے گنگناتی بھی رہی تھی۔ گوارا جمائی لیتی کمرے سے نکلی تو کچن میں اسے دیکھ کر بھونچکا سی رہ گئ آہٹ کیئے بنا واپس دوڑی آنکھیں ملتی اریزہ کو ادھ سوئی کیفیت میں ہی کھینچ کر کچن کے باہر لاکھڑا کیا۔
اسکی آنکھیں پٹ سے کھلی تھیں تھوڑا تھوڑا منہ بھی۔۔
آہٹ پر ہوپ نے مڑ کر دیکھا تو دونوں کو ہکا بکا دیکھ کر مسکرا کر بولی
آجائو میں نے ناشتہ بنا دیا ہے تم دونوں کا آئو مل کر کرتے ہیں ناشتہ۔
اب دونوں کا منہ بھاڑ سا کھلا رہ گیا تھا۔۔ ہوپ کھسیا کر مسکرا دی
سنکے ہوئے توس چیز آملیٹ بھاپ اڑاتی کافی کے مگ۔ وہ دونوں ناشتے پر ٹوٹ پڑی تھیں۔
آج کیسے خیال آگیا تمہیں؟۔ گوارا پوچھے بنا نہ رہ سکی
آج مجھے تھوڑی دیر سے جانا تھا۔۔ ہوپ نے قصدا لاپروا انداز اپنایا۔۔
اچھی بات ہے کاش تمہیں روز دیر سے جانا ہوا کرے۔۔
گوارا کھلکھلائی۔۔
اریزہ توس کھاتے کسی گہری سوچ میں گم تھی
گوارا نے ٹہوکا دیا
کیا سوچ رہی ہو۔۔
جاب کا سوچ رہی مجھ سے بچے سنبھلتے نہیں اور کل تو ایک بچے نے مجھ پر سو سو بھی کر دیا ۔۔
اسکے کہنے پر گوارا کو اچھو لگا۔۔
واقعی ۔۔ وہ بے ساختہ ہنسی تھی۔۔
اریزہ نے بے چاری سی شکل بنائئ۔۔
پہلی جاب بہت مشکل ہوتی ہے۔ میری بھی پہلی جاب سیلز گرل کی تھئ اور کبھی ٹارگٹ پورا نہیں کر پائی تھئ۔۔ چینی تو پیسے کے معاملے میں بالکل رعائیت نہیں برتتے۔۔آدھی تنخواہ ملتی تھی مجھے۔۔ ہوپ نے کہا تو وہ دونوں سنجیدہ ہوگئیں
ہوپ تمہارے گھر والے کہاں ہوتے ہیں؟ اریزہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا
پتہ نہیں ۔ اب تو زمین کے اوپر ہوتے ہیں یا نیچے یہ بھی معلوم نہیں مجھے۔
وہ لاپروا سے انداز میں کہتی اٹھ کر برتن سمیٹنے لگی
کافی دکھی لگتی ہے یہ مجھے۔۔
گوارا کا انداز ترس کھانے والا تھا
تمہارے پیرنٹس کہاں ہوتے گوارا؟اریزہ کے پوچھنے پر اسے اچھو سا لگا۔ کافی کا مگ رکھ کر اسے حیرت سے دیکھنے لگی
تمہیں انکا خیال کیسے آگیا۔ مجھے نہیں آتا۔۔
وہ ہنسی مگر اریزہ کو جواب طلب نظروں سے دیکھتا پا کر بتانے لگی
گائوں میں ۔ بلکہ گائوں کم قصبہ ہے بلکہ شہر ہی سمجھ لو وہاں تھوڑی سی زمین پر کاشتکاری کرتے ہیں آہبوجی۔ آہموجی ڈھابہ چلاتی ہیں وہاں۔
اور بہن بھائی؟ اریزہ فل انٹرویو موڈ میں تھی
دو بہنیں ایک بھائی ہے سب پڑھ رہے ہیں اسکول میں بھائی اگلے سال یہاں آجائے گا میرے پاس اسکی یونیورسٹی شروع ہو جائے گی۔
تم تو ان سے ملنے بھی نہیں جاتی ہو۔۔ اریزہ کا انداز حیران ہونے والا تھا
سمسٹر اینڈ پر جاتی ہوں نا اس بار نہیں گئ اب مڈ بریک ہوگی اگلے ہفتے تو گھر جائوں گی۔
گوارا کافی ختم کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ہیں تم چلی جائو گی گھر تو میں کیا کروں گی یہاں اکیلی ۔
اسے نئی فکر سوار ہوئی۔۔
اکیلی کیوں میں ہوں نا یہاں۔ ہوپ اسکو کہہ رہی تھی گوارا نے اسے آنکھوں آنکھوں میں ہنس کر میں اشارہ کیا
اریزہ بمشکل مسکرا کر بڑ بڑائی
اسی کا تو ڈر ہے۔۔
مگر یار میں کیسے مارٹ جائوں گئ؟ مجھے تو راستہ بھی یاد نہیں ہوا ہے۔
اسکی فکر بجا تھی گوارا سوچ میں پڑی۔
آٹھ بجے ہیں ابھی تمہاری ڈیوٹی ایک کے بعد ہے ابھی سے چھوڑ بھی آئوں تو کیا کروگی چار پانچ گھنٹے۔۔
میں کسی قریبی پارک میں بیٹھ جائوں گئ۔
وہ جانے کیلئے تیار تھی۔ گوارا نے اسے دیکھا۔پھر ہوپ سے بولی
ہوپ تم اریزہ کو ساتھ لے جائو۔ اسکو روٹ سمجھا دینا بس کا۔
گوارا کے کہنے پر اریزہ کی آنکھیں ابل پڑی تھیں۔ اس سے قبل کہ کچھ کہہ پاتی ہوپ کا جواب اسکی آنکھوں کو مزید کھول گیا تھا مزید آنکھیں نہ کھل سکیں تو تھوڑا سا منہ بھی کھل گیا۔
وہ کہہ رہی تھی۔
ہاں کیوں نہیں۔ اکٹھے چلتے ہیں۔ میرا اسٹور مارٹ کے قریب ہی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوپ اسکے ساتھ ساتھ خاموشی اور لا تعلقی سے چل رہی تھی ۔گوارا کے ساتھ وہ میٹرو ٹرین میں گئ تھی اسکا راستہ مخالف تھا۔ ہوپ اسکو میٹرو اسٹیشن کی جانب رخ کرتے دیکھ کر بس اتنا بولی
بس سے جانا ذیادہ بہتر رہے گا۔۔
وہ اسکے ساتھ بس کی جانب بڑھ گئ۔۔ بس کارڈ اسکا بنا ہوا نہیں تھا سو وہ اپنا پرس کھنگالنے لگی۔ اسکے پیچھے رش بننے لگا ہوپ کارڈ کو آٹومیٹک مشین سے لگا کر لمحے بھر میں آگے بڑھ گئ۔
مس آپ ۔ راستہ چھوڑ دیجئے بعد میں اترتے ہوئے پیسے ڈال دیجئے گا ۔
نہایت شائستہ انداز میں ڈرائور نے ٹوکا تھا وہ بھی انگریزی میں۔ اس نے چونک کے سر اٹھایا وہ کوئی جوان سا ہی چندی آنکھوں والا آدمی تھا سلیقے سے سنورے بال استری شدہ یونیفارم ۔ سچ پوچھو تو حسن میں کسی کورین اداکار سے کم نہیں تھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ سے اسے کہہ کر وہ اب رخ بدل گیا تھا۔ وہ فورا ایک۔طرف ہوئی۔ ریزگاری وہ ہمیشہ الگ جیب میں رکھتی تھی۔ جب مسافرچڑھ گئے تو وہ آگے بڑھ کر اس صندوق میں پیسے ڈالنے لگی۔
آہجوشئ میں نے پیسے ڈال دیئے ہیں۔
اس نے متوجہ کرنا چاہا مگر وہ بس اسٹارٹ کر چکا تھا سو سڑک پر نگاہ جمائے بس اونچی آواز میں بولا
دے۔
وہ اسکے اخلاق سے خوامخواہ میں متاثر ہو گئ۔ بس کھچا کھچ بھر گئ تھئ ذیادہ۔تر طلبا ء تھے مخصوص وردی چڑھائے۔ اس نے بےتابی سے ہوپ کو تلاشا۔ پھر اس رش میں بھئ زبردستی سب کو دھکے دے کر جگہ بناتی ہوپ تک پہنچ گئ۔ ہوپ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی جو اسکے پاس آکر اب مطمئن ہوگئ تگئ۔
کھچا کھچ بھری بس جس میں سنبھل کر اسے کھڑے ہو کر جانا تھا۔ گو آگے پیچھے طلباء ہی تھے۔ مرد و زن بلا امتیاز کھڑے تھے۔ بس کا اسٹاپ آتا تو خوب دکھم پیل نچا کے اترتے۔مگر چونکہ ذیادہ تر اسکول کے یونیفارم میں تھے لڑکے لڑکیاں وہ ناگواری کے احساس کو جھیل گئ۔ ہوپ بظاہر لاتعلق مگر اس پر گاہے بگاہے نظر رکھے تھے۔ اسکا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔
۔ بس نے اسے عین اس مارٹ کے سامنے اتارا تھا۔۔ یہ آسان تھا اسکے لیئے مگر کیا بس میں روز اتنا ہی رش ہوتا ہے یہ سوال اطمینان غارت کیے تھا۔
بس سے اتر کر قدم بڑھاتے ہوئے وہ یونہی بات برائے بات بولی
یہ ذیادہ آسان رہا میرے لیئے بس کا نمبر یاد رکھوں گی اب۔
تمہاری چھٹی کب ہو گی۔ وہ ہوپ سے پوچھ رہی تھی۔
واپسی پرمیں دوسری جاب پر جائوں گی۔ تم نے نوٹ کرلیا نا بس نمبر اسی میں واپس چلی جانا۔
ہوپ سمجھ گئ تھی اسکی مشکل۔
آ۔ اسکا منہ کھلا
اس نے نوٹ نہیں کیا تھا۔ نا ہی ابھی اسکے ساتھ ساتھ چلتے یہ احساس ہوا تھا کہ جو مارٹ اسے سامنے فورا نظر آگیا تھا اب ہوپ کے ساتھ چلتے چلتے وہ اس سے دور نکل آئی ہے۔
وہ مجھے واپسی پر تو مدد چاہیئے ہوگی اگر تم ۔۔
اس کی شکل دیکھ کر بولتے بولتے باقی جملہ منہ میں ہی رہ گیا۔ تو وہ بنا تاثر چہرے پر لائے بولی
واپسی کی بعد کی بات ہے ابھی بھی تم نے میرے ساتھ جانا ہے کیا؟
اس نےچند بلاک پیچھے رہ جانے والے مارٹ کی جانب اشارہ کیا۔
اریزہ خفت زدہ سی ہوکر رک گئ ہوپ سر جھٹک کر تیز تیز قدم اٹھاتی آگے بڑھ گئ۔۔
اخیر بونگی ہوں میں۔ اندھوں کی طرح چل کر آئی ہوں میں۔
۔ وہ دانت کچکچا کر رہ۔گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریں ریں کرتے بچوں میں وہ پھر گھری کھڑئ تھی۔۔ شکل ایسی بنی ہوئی تھی کہ اب روئی یا تب۔ ہیون اسے دیکھ کر مسکراہٹ ضبط کرتا اسکے پاس چلا آیااآننیانگ۔۔
اس نے پرتپاک انداز میں بچوں کو مخاطب کیا تھا۔۔ بچے ہم زبان کو دیکھ کر اسکی جانب بھاگے تھے۔ وہ بہت خندہ پیشانی سے انکو جھیلتے ہوئے جانے کیا گٹ پٹ کر رہا تھا۔۔
پھر وہ اطمینان سے اسٹول پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئ کہنی کائونٹر سے ٹکا کر دلچسپی سے اسے دیکھنے لگی۔ہیون نے پورے بیس ڈبے بکوا دیئے۔ اتنا ہینڈسم لڑکا وہ بھی قیمتی جیکٹ برانڈڈ جینز جوتے پہنے خواتین جوق در جوق اسکے اسٹال پر آئی تھیں۔
اوپا اوپا کی صدائیں۔ اور ہینڈسم آہجوشی کہہ کہہ کر اسکے بازو سے لٹکی جا رہی تھیں۔
ایک خاتون نے ہنستے ہنستے ساتھ کھڑے لڑکھڑا کر اسکے کندھے پر سر ہی رکھ دیا۔ وہ ناگواری سے دیکھ کر سیدھی ہوئی۔ بے ساختہ کڑخت سے انداز میں ڈپٹ کر پکار بیٹھی
آہجومہ۔
ہنستی آہجومہ ٹھٹک کر اپنے جامے میں واپس آئیں تو ہیون بھی ایکدم تیر کی طرح سیدھا ہوا
اگر آپ دو ڈبے لیں گی تو آپکو یہ بائول اور اسپون بھی ملے گا۔۔ اس نے دانت کچکچا کر کہا تھا
دے؟۔ وہ سمجھ نہ پائیں دوبارہ آنکھیں پٹپٹا کر ہیون کو جواب طلب نظروں سے دیکھنے لگیں۔
اس نے مسکرا کر ترجمہ کیا۔۔
وہ خوشی خوشی چار پیکٹ لے گئیں۔
لو بھئ تمہارا آج کا تو ٹارگٹ پورا ہوگیا۔۔ ہیون نے خوشگوار سے انداز میں اسکے پاس آکر پیسے جمع کرائے
شکریہ۔ مگر میں خود بھی کر لیتی یہ تمہیں زحمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔
اس کے رکھائی سے کہنے پر اسکا روشن چہرہ بجھ گیا۔۔
ہاں جانتا ہوں۔ وہ سنبھل کر اسکے ساتھ اسٹال سمیٹوانے لگا۔
اریزہ کو جانے کیوں غصہ آرہا تھا۔
ساری دنیا کے لڑکے ٹھرکی ہی ہوتے ہیں جتنے بھی شریف دکھائی دے جائیں۔۔ لڑکی گود میں آگرنے کو تیار ہوگی توخود اسکے سامنے لیٹ ہی جائیں گے۔۔
وہ سوچتے ہوئے چیزیں پٹخ رہی تھی۔ ہیون دھیرے سے ایک جانب ہو گیا وہ اسٹال سمیٹ کر کیش جمع کرانے کائونٹر پر چلی گئ۔۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسٹور میں چیزیں کارٹن سے نکال کر احتیاط سے ریک میں لگاتے یونہی اسکی نگاہ گلاس وال سے باہر پڑی۔ چھے بج رہے تھے۔ آسمان پر بارش کے آثار تھے ہوپ کی آسمان پر نظر پڑی تو فورا خیال آیا۔ جلدی سے سامان وہی چھوڑ کر کائونٹر کے پاس چلی آئی۔ اسٹور کا مالک ٹی وی پر بیس بال کا میچ دیکھنے میں مگن تھا۔
آہجوشی میں آج جلدی جا سکتی ہوں؟
اسکی فرمائش اتنی غیر متوقع تھئ کہ وہ حیرت سے دیکھنے لگا۔
میں جلدی جلدی سب چیزیں ریک میں لگاکر جائوں گی۔
اس نے تسلی دینی چاہی۔
آ۔ آنئ۔ ٹھیک ہے جائو تم۔ سامی ( ہیلپر)لگا دے گا باقی کارٹن۔جائو تم سب خیریت ہے نا۔
آہجوشی پر شفقت انداز میں پوچھ رہے تھے۔
دے۔ حسب توقع جواب مختصر تھا۔
نہایت چابک دستی سے کام کرنے والی ایماندار اس لڑکی نے پچھلے چھے مہینوں میں ایک چھٹی نہ کی تھی ابھی بھی شفٹ ختم ہونے میں صرف پینتالیس منٹ ہی باقی تھے اسکو اس نے بخوشی اجازت دی تھی۔
وہ تیزی سے اپنا بیگ اٹھاتی اسٹور کی جیکٹ او رکیپ کھونٹی پر لٹکاتی باہر آئی تو آہجوشی نے باقاعدہ آواز دے کر روکا۔
ہوپ شی۔
وہ مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی۔
بارش ہونے والی ہے چھتری لے جائو۔
وہ نئی پیکنگ والی چھتری اسکی جانب بڑھا رہے تھے۔ اسکی آنکھوں میں حیرت اتر آئی تھئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیش جمع کروا کر وہ متلاشی نظروں سے اسٹور میں اسے دیکھنے لگی۔ نظر نہ آیا تو حیران سی اسٹور سے باہر نکل آئی۔ وہ کچھ ہی فاصلے پرچھتری تھامے سڑک کنارے کھڑا زمین کوجوتے کی نوک سے کھود رہا تھا۔۔وہ اسے دیکھتی رہی دیکھتے دیکھتے جانے کیا ہوا بری طرح بوکھلا کر رخ موڑ لیا۔ تبھئ اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی بس اسٹاپ کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔ اسکا حیرت سے منہ کھلا رہ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارش کی بوندیں تڑا تڑ برسنے لگی تھیں۔تیز تیز قدم اٹھا کر ہوپ مارٹ تک آئی تھی۔ اریزہ شائد ابھی باہر نہیں نکلی تھی۔ وہ وہیں شیڈ میں رک کر انتظار کرنے لگی۔
اریزہ نکلی تو وہ فورا مستعد ہوئی مگر اریزہ کہیں اور ہی متوجہ تھی۔ اسکی نظروں کا مرکز شخص ابھئ بے نیاز تھا۔ وہ پلٹ کر مخالف سمت جانے لگی
ہایون کی اریزہ پر نگاہ پڑی تو بھاگ کے اسکی جانب بڑھا۔
ان دونوں کو دیکھتے ہوئے چھتری کی اوٹ کے باوجود اسکا چہرہ گیلے ہونے لگا تھا۔
اسکے اندر بھی بارش ہونے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریزہ۔۔ اسکےپکارنے پر بھی وہ نہ رکی تو وہ برستی بارش میں بھی بھاگ کر اسکے برابر پھر مقابل آن رکا
کیا ہوا ہے سنائی نہیں دے رہا تھا میں پکار رہا تھا ؟ ساری بھیگ گئیں
اس نے حیرت بھری خفگی سے اس پر چھتری کی۔ ذرا سی دیرمیں وہ خاصی بھیگ گئ تھی۔ اپنے بیگ کے اسٹریپ کو سختی سے تھامے وہ قصدا نگاہ چرائے تھی۔
چلو میں گھر ہی جا رہا ہوں تمہیں بھی ڈراپ کردیتا ہوں۔
ہایون نے کہا تو وہ منع کرگئ
نہیں کیا ضرورت ہے میں بس سے چلی جائوں گی۔
وہ بس اسٹاپ کے قریب پہنچ چکے تھے۔ وہ کہہ کر اسکے برابر سے ہو کر تیزی سے بس اسٹاپ کے شیڈ میں آکھڑی ہوئی۔ بس آ کر رکی تھی۔ اسٹاپ پر بارش کی وجہ سے رش تھا۔ جلدی جلدی کئی سواریاں چڑھ گئیں۔ہایون ہونٹ بھینچے دیکھتا رہا۔جگہ خالی ہونے پر وہ قریبی بنچ پر ٹک گئ
بس اپنی منزل کی جانب رواں ہو گئ تھی
وہ گہری سانس بھرتا اسکے برابر آن بیٹھا۔ چھتری بند کرکے نشست سے ٹکائی۔اور اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔
کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں۔ وہ رخ موڑ گئ۔
مجھ سے کسی بات سے خفا ہو ؟
اسکی بات۔ بیگ کے اسٹریپ پر اسکی گرفت مزید سخت سی ہوگئ۔
کیوں۔خفا ہوں گی۔ ہم میں ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی
سردی کی وجہ سے شائد اسکی آواز کانپ سی گئ۔ وہ قصدا مسکرا کر اسکی جانب رخ کرکے بولی۔
اسکے ہونٹ نیلے ہو چلے تھے اور ناک سرخ۔ کندھوں تک آتے بال اونچئ پونی میں قید تھے مگر گہرے سیاہ بالوں پر پانی کے قطرے جیسے جم سے گئے تھے۔
پھر میرے ساتھ گاڑی میں کیوں نہیں چل رہیں۔ ؟
اسکا سوال دوٹوک تھا۔
کیا ضرورت ہے مطلب مجھے روز آنا جانا ہوگا بس میں آتے جاتے عادت ہونی چاہیئے نا ۔ پھر بس اسٹاپ گھر سے بھی قریب ہے بس اسلیئے۔
اسکی۔لمبی تاویل پر وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا
کونسی بس پر جائو گی؟
سامنے سے بس آرہی تھی وہ جواب دینے کی بجائے اٹھ کھڑی ہوئی۔
لو بس آگئ۔ اب تم جائو۔ آننیانگ۔
وہ کہہ کر آگے بڑھنے کو تھی۔ہایون بھی اٹھ کھڑا ہوا۔چھتری کھول کر تانی اسکو اپنے پیچھے آتا محسوس کرکے وہ جھلائی
تم جائو نا کیوں بارش میں یہاں ٹھنڈکھا رہے ہو۔ ۔
وہ سٹپٹا رہی تھی۔ بس کا دروازہ کھل چکا تھا۔
کونسی بس پکڑنی پتہ ہے؟ یہ بس تمہارے گھر سے بالکل مخالف راستے جاتی ہے۔
ہایون کی بات پر وہ ٹھٹک کر رکی تھی۔
آگاشی؟ جانا ہے؟
بس کے کھلے دروازے سے ڈرائیور آواز لگا رہا تھا۔
آنی۔ معاف کیجئے گا۔
ہایون نے جھک کر معزرت کرتے ہوئے کہا تھابس آگے بڑھ گئ۔
چلو میں گھر چھوڑ دوں۔
وہ نرمی سے بولا۔
مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا روز روز تمہاری مدد لینا۔ مانا تم امیر ہو اتنی بڑی گاڑی ہے افورڈ کر سکتے ہو مگر مجھے احسان لینا بالکل پسند نہیں۔میں ٹیکسی کر لوں گی تم جائو ۔
وہ ضدی لڑکی شیڈ سے باہر کھڑی بارش میں بھیگتی بحث کر رہی تھی۔
کیوں ؟ دوست نہیں ہوں میں کیا ؟ دوستوں کا احسان لینا گناہ ہے کیا ؟
ہایون نے مان بھرے انداز میں پوچھا۔وہ نہیں کہتے کہتے رک گئ۔
پھر بھئ۔ مجھے اچھا نہیں لگتا۔
وہ جانا نہیں چاہ رہی تھی ہایون کئی قدم آگے بڑھ کراسکے قریب چلا آیا۔برستی بارش پر چھتری نے فورا آڑ کی تھی۔ اسکے کلون کی خوشبو محسوس کرکے اسکے دل کی دھڑکن جیسے تھم گئ۔ ہایون کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا۔
اس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر چھتری تھمائی۔
میں گاڑی لیکر آتا ہوں ۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔تیز تیز قدم اٹھاتا گاڑی لینے چلا گیا تھا۔
اس کو جاتے دیکھتے ہوئے اس کی چھتری ہتھیلی سے چھوٹنے لگی تھی۔ ہونٹ بھینچ کر ناک چڑھا کر بولی
احمق ۔ میں شیڈ میں کھڑی ہو لیتی اب خود بھیگتا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سارا دن اکیلے کمرے میں بند رہ رہ کر وہ عاجز آگئ تھئ۔ بیزاری سے اپنے چھوٹے کمرے میں چیزیں ادھر سے ادھر کرنے کے باوجود بھئ جب وقت کٹ کے نا دیا تو وہ اپر پہنتی باہر نکل آئی۔ باہر کمپائونڈ میں آکر احساس ہوا تھا کہ اتنے چھوٹے تنگ کمرے میں وہ باہر کے موسم کی شدت کا ایک فیصد بھئ نہیں پا رہی تھی۔ پوری سڑک گیلی تھی۔ شائد بارش ہو کر رکی تھی ۔اتنی شدید برفانی ہوا چل رہی تھی کہ وہ بے ساختہ جھر جھری سی لیکر رہ گئ۔ ایک پل کو سوچا پلٹ جائے مگر ہمت نہ تھی دوبارہ اس قبر نما کمرے میں جانے کی سو قریبی سیون الیون چلی آئی۔ نوڈلز سوپ بڑے شوق سے بنا کرکھانے بیٹھی ہی تھی کہ ابکائی سی آئی۔پہلی دوسری۔ اس نے سوپ ایک طرف کردیا۔دل بری طرح متلا رہا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسٹور سے نکل کر سیدھا گوشی وون جانا چاہ رہی تھی مگر فاصلہ میلوں پر محیط ہو گیا جیسے۔
یا خدا۔۔ اسکا سر بری طرح چکرا گیا اس سے قبل کہ وہ چکرا کر وہیں سڑک پر ڈھیر ہو جاتی کسی نے بے حد نرمی سے اسے تھام لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون اسے سہارا دے کر آسکے کمرے تک لایا تھا۔
تمہیں کہا تو ہے جو چاہیئے ہوا کرے مجھے بتا دیا کرو۔ ابھی باہر گر جاتیں تو؟ اتفاقا ہی میری نظر پڑ گئ ورنہ۔۔۔
ایڈون اسے ڈانٹ رہا تھا مگر انداز میں فکر تھی۔اسے ڈورم کی تنگ راہداری مزید تنگ لگنے لگی۔ اگر باہر موسم سرد محسوس ہو رہا تھا تو اندر یہاں گرمی لگنے لگی تھی۔ سر ابھئ بھی چکرا رہا تھا ۔۔
بیڈ پر بیٹھتے ہی اسے کمرے کی گھٹن اور گرمی بے حد محسوس ہو نے لگی تھی۔
میرا دم گھٹ رہا ہے مجھے باہر جانا ہے۔
وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایڈون اسے بس دیکھ کر رہ گیا
مجھے شدید گرمی لگ رہی ہے۔سانس بھی ٹھیک سے نہیں آرہا۔
اسے ایڈون کا دیکھنا محسوس ہوا تھا جبھی اپنی کیفیت بتاتے روہانسی سی ہوگئ۔
باہر اچھی خاصی ٹھنڈ ہے۔ کم از کم کچھ گرم کپڑے تو پہن لو۔
وہ خود جیکٹ پہنے تھا اسکے کہنے پر اس نے فورا اپنے اٹیچئ کی جانب ہاتھ بڑھایا پھر کچھ سوچ کر رک سی گئ۔
اسکے پاس گرم کپڑے نہیں تھے۔ ایک آدھ سوئٹر بھی نہیں۔یہی سوچا تھا جب سردیاں آئیں گی تو یہیں سے لے لے گی۔ اسے متذبزب دیکھ کر ایڈون نے گہری سانس بھری۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون اسے قریبی عوامی پارک لیکر آیا تھا۔ اپنی جیکٹ اسے پہنا کر وہ خود اس وقت بس ایک اپر میں ملبوس تھا جو سردی کیلئے ناکافی تھا جبھی ہڈ بھی سر پر چڑھا لیا تھا۔ اسے بھئ جیکٹ پہن کر بھئ سردی لگ رہی تھی ۔ سرد ہوا نے طبیعت پر اچھا اثر ڈالا تھا۔ اسکا موڈ خوشگوار ہونے لگا
اس اتوار چلنا کچھ گرم کپڑے لے لینا۔یہاں برفباری ہوتی ہے برفبارئ سے قبل کا موسم بھی تمہاری برداشت سے ذیادہ سرد ہوگا۔
سرخ ہوتی ناک کو ٹشو سے پونچھتے ایڈون نے اسکے چہرے کے خوشگوار تاثرات کو تھوڑا حیرانی سے دیکھا تھا۔
ایڈون مجھے پینگ دو گے ؟
جھولے دیکھ کر اسکا بے ساختہ پینگ لینے کو دل کرنے لگا۔ اسکی بات تو شائد اس نے غور سے سنی بھی نہ تھی۔ بچوں کی طرح ٹھنک کر فرمائش کرنے لگی۔
ایڈون بنا چوں چراں کئے اسکے ساتھ جھولے کی جانب چل پڑا۔ وہ احتیاط سے سنبھل کر بیٹھ گئ تو وہ دھیرے دھیرے پینگ دینے لگا۔
کتنے عرصے کے بعد جھولے پر بیٹھی ہوں۔نانو کے جھولا جھولا تھا آخرئ بار یاد ہے انہوں نے خاص ہمارے لیئے برآمدے میں جھولا ڈالا تھا۔ میں اور تم تپتی دوپہر میں بھی جھولا جھولتے رہتے تھے۔
سرد ہوا میں گہری سانس بھر کر وہ خوش سی ہو گئ تھی۔ چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی ۔۔ بچپن کی یادیں ذہن پر دستک دینے لگیں۔
ہمم۔۔ ایڈون مختصرا بولا۔
تم کتنی اونچی پینگ دیتے تھے میری چیخیں نکل جاتی تھیں۔
مگر مزا بھی بڑا آتا تھا لگتا تھا آسمان چھو لوں گی اتنی اونچی پینگ لی ہے۔۔
اسے یاد آیا۔
آسمان؟ ایڈون ہنسا
تم ڈرپوک ذیادہ تھیں۔ورنہ وہ اس جھولے سے چھوٹا ہی تھا۔
ایڈون نے جتایا تو وہ خفیف سی ہوگئ
مگر تم ہمیشہ سے ہی بہادر تھے۔ کھڑے ہو کر جھولا لیتے تھے۔میں سوچتی تھی تم مجھے سے دو سال بڑے ہو نا اسلیئے بہادر ہو۔ میں بھی جب بڑی ہوں گی تو ایسے ہی کھڑے ہو کر جھولا لیا کروں گی اور مجھے ڈر بھی نہیں لگے گا۔
وہ ہنس پڑی۔
کبھی کھڑےہو کرپینگ لی بڑے ہونے کے بعد ؟
وہ اب ایڈون سے پوچھ رہی تھی۔
نہیں۔ ایڈون کو بہت زور کی جمائی آئی تھی۔
ہمیں لگتا ہے ہم بڑے ہو کر بہادر ہوجائیں گے جبکہ بڑے ہو کر مزید ڈرپوک ہو جاتے ہیں۔ ویسے تم بچپن میں تو میرے چیخنے منتیں کرنے پر بھی آہستہ پینگ نہیں دیتے تھے اب تو بس ہلا رہے ہو جھولا۔۔
وہ پیر اونچے کیئے تھک گئ۔تو مڑ کر خفگی بھرے انداز میں بولی
ابھئ تو الٹی چکر آرہے تھے اب اونچی پینگ چاہیئے۔ اول تو تمہیں جھولا ہی نہیں جھولنا چاہیئے کوئی مزید کھڑاگ نہ کھڑا کردینا۔ آگے ہی پولیس میں تصویر لگوا دی ہے میری کچھ ہو ہوا گیا تو شامت پکی ہے۔۔
وہ جتانا چاہتا نہیں تھا مگر منہ سے پھسل گیا۔ یہ بھی سچ ہے اسکا دل کافئ دکھا ہوا تھا۔شائد وہ کھل کر معزرت کر لیتی تو دل صاف ہو جاتا ۔
سنتھیا چپ سی رہ گئی۔ ایڈون کو بھی احساس ہوا کہ ذیادہ بول گیا سو سنبھل کر بات بدلنی چاہی
اب بہتر ہوگئ ہے طبیعت تو گھر چلومجھے صبح جلدی اٹھ کر انٹرویو دینے جانا ہے ۔۔
اسکے جملے تیر کی طرح لگے تھے اسے چٹخ کر بولی
تمہیں لگ رہا میں مکر کر رہی؟ میری واقعی طبیعت خراب تھی۔ میرا سچ مچ دل گھبرا رہا تھا۔
اب تو ٹھیک ہو گیا نا ؟ اب تو گھر چلو مجھے شدید نیند آرہی ہے صبح آٹھ بجے کا اٹھا ہوا ہوں۔
ایڈون زچ سا ہو رہا تھا۔وہ ہونٹ بھینچ کر اٹھ کھڑی ہوئی
چلو۔
اسکا انداز خفا خفا سا ہی تھا۔ اس وقت منانے کا مطلب اگلا آدھا پونا گھنٹہ مزید یہیں گزرنا تھا سو جان کے نظر انداز کردیا۔ گوشی وون تک وہ بالکل خاموشی سے آئی۔ ایڈون اپنے کمرے کے سامنے رک گیا تھا۔وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلی آئی۔ کمرے میں آکر جیکٹ اتار کر رکھنے لگی تو اتارنے میں جیب میں کوئی ریپر چرمرایا اس نے بے تابی سے جیب میں ہاتھ ڈالا وہ چھوٹی سی چاکلیٹ تھی۔ اس نے نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر جھٹ نکال لی پہلا لقمہ ہی لیا تھا کہ ایڈون نے دروازہ کھول لیا۔
ابھی بھئ لاک نہیں کیا کمرہ کب۔۔
وہ بڑبڑاتا داخل ہوا تھا اس پر نگاہ پڑی تو جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
وہ اپنی جیکٹ لینے آیا تھا۔ وہ مربھکوں کی طرح چاکلیٹ کھا رہی تھئ۔ شرمندہ سئ ہوگئ۔
وہ مجھے ۔۔ بھ۔ اس سے بھی جملہ مکمل نہ ہوسکا۔سر جھکا لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے انسٹنٹ نوڈلز بھاپ اڑاتے اسکے سامنے لا کر رکھے تھے۔ تین چار سیب کا پیکٹ اور کیک رس۔
انسٹںٹ نوڈلز کو وہ بے چارگی سے دیکھ کر رہ گئ تھی۔
ذیادہ اس لیئے نہیں لایا ہوں کہ فریج تو ہے نہیں خراب ہو جائیں گے۔ اس نے ایک جملہ کہنے میں دو بار جمائی لی تھی۔ وہ جو کہنے جا رہی تھی موسم توسرد ہو چکا ہے ایکدم چپ کر گئ۔
اچھا میں چلتا ہوں لاک کر لینا۔۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھتا مڑ گیا تھا۔ جیکٹ پہنے گرم ٹوپی سر پر ٹکائے۔
خدا حافظ۔ اس کے منہ سے اتنی مدھم آواز نکلی تھی کہ شائد ایڈون نے سنی بھئ نہ ہو۔ شدید بھوک لگ رہی تھی اور نوڈلز تو اسے کبھی پسند نہ رہے تھے ۔ جب سے کوریا آئی تھی اتنے نوڈلز کھائے کہ مزید ناپسند ہو گئے۔ بھوک لیکن ظالم شے ہے۔ چند لمحے بھاپ اڑاتے نوڈلز کے پیالے کو دیکھتے ہوئے آہ بھر کر نوالہ لینا پڑا۔ بے تابئ سے پیالے سے کئی لقمے لے ڈالے۔۔۔ تبھی کھڑکی کا کھلا پٹ ہوا سے ہلا تھا۔ وہ پیالہ کارنس پر ٹکاتی کھڑکی میں آن کھڑی ہوئی۔ باہر یکا ئک موسم بدلا تھا۔ تیزہوا کے ساتھ بارش کی تیز پھواریں۔ لمحوں میں سڑک جل تھل ہو گئ تھی۔ اسکی آنکھیں بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے کمپائوںڈ میں ڈراپ کرکے وہ تیزی سے گاڑی نکال لے گیا تھا۔ سارا راستہ ان میں کوئی بات نہ ہوئی تھی۔ وہ تھکے تھکے قدم اٹھاتی اپارٹمنٹ میں آئی تھی۔ گوارا کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی۔
ہوپ نہیں آئی؟ گوارا نے اس سے پوچھا تھا۔
نہیں میں تو ہایون کے ساتھ آئی ہوں۔
وہ جوتے بدلتی اندر چلی آئی۔
لو مجھے تو کہہ رہی تھی میں اریزہ کولینے جا رہی ہوں۔ میں نے فون کیا تھا اگر وہ نہ لینے جائے تو میں تمہیں لینے آجائوں۔
گوارا کی۔بات پر وہ کمرے کا ہینڈل کھولتے کھولتے رکی۔
کیوں میں چھوٹی بچی ہوں کیا خود نہیں آسکتی ؟
وہ بلا وجہ چڑی
تم بچی نہیں ہو مگر بچوں کی طرح راستوں سے بے نیاز میرے ساتھ چلتی ہو اتنے دن میرے ساتھ یونی گئ ہو عادت جان گئ ہوں میں تمہاری شرط لگاکے کہتی ہوں تم اتنے دن جانے کے باجود یونیورسٹی اکیلے میٹرو سے نہیں جا سکتیں تمہیں روٹ ہی یاد نہیں ہوگا۔
گوارا کا انداز مزاق اڑانے والا نہیں تھا۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کے اسکے پاس چلی آئی۔
واقعی۔ میں اتنئ احمق کیوں ہوں۔
احمق نہیں پیمپرڈ ہو۔
گوارا نے اسکی پیشانی پر ٹھونگا بجایا۔۔
پھر پریشان ہو کر بولی۔
یہ کیا تم تو پوری بھیگی ہوئی ہو جائو فورا کپڑے بدلو۔
مروگی سردی میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہا کر کپڑے بدل کر نکلی تو ہوپ بستر پر دراز نظر آئی۔
کافی پیو گی؟
اس نے پوچھا مگر ہوپ نے جواب نہ دیا یونہی ساکت پڑی رہی۔ وہ کندھے اچکا کر باہر نکل آئی۔
گوارا کمچی نکال کر ریمن بنانے لگی تھی۔ وہ انسٹںٹ کافی کا ساشے نکالنے لگی۔
کھانا نہیں کھائو گی ؟ بریانی رکھی ہے۔
گوارا کو اب اسکی بھوک کی فکر ہوئی۔
ایک تو تمہیں نخرے اٹھانے والے فورا مل جاتے ہیں۔ مجھ سے خالو سے تو چلو بنتا یہ سنتھیا او رایڈون تک ماں باپ والا خیال کیوں رکھتے ہیں تمہارا۔
صارم اسکو کندھا مار کر بولا۔
جوابا وہ چمک کر بولی۔
تو تم کیوں جلتے ہو۔چلو ہیں تو سہی میرا خیال رکھنے والے ورنہ تم نے میری اماں پر قبضہ کر رکھا ہے ان سب کی بجائے ایک میری اماں مجھ سے رتی برابر لاڈ کر لیتیں نا توگوارا نے پیچھے سے آکر ہلکی سی دھپ لگائی تھی اسکی پشت پر۔۔
کھانا کھا لو لڑکی کہاں گم ہو
ہوں۔ نہیں ابھی بھوک نہیں۔
وہ چونک کے حال میں واپس آئی اور اپنا کافی کا کپ بنانے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ٹیرس کے شیڈ کے نیچے سکون سے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی سامنے برستی بارش دیکھ رہی تھی۔
اتنا بھیگ کے آئی ہو اب یہاں سردی میں بارش دیکھنے بیٹھ گئیں۔پکا خودکشی کا پروگرام ہے۔ کہو تو گلا دبا دوں۔۔
گوارا فل سائز پیالہ بھرے ریمن بنا کر لائی تھی۔ اسے سردی سے ڈراتی خود بھئ اسکے برابر آن بیٹھی تھی۔ پیالہ ایک طرف رکھ کراسکی گردن پر ہیڈ لاک لگا دیا
چھڑانے کی کوشش کرتی وہ پھڑپھڑا کر رہ گئ پھر جل کر گالی دے دی۔
کمینی۔
گوارا جیسے شاد ہوگئ گالی سن کے لہک کے دہرایا
کمینی۔۔ پھر سر ہلا کر بولی
پہلا لفظ سیکھنے لگی ہوں اردو کا اور مجھے پکا یقین ہے اسکے معنی اچھے نہیں یہ کوئی گالی ہے ہے نا۔
وہ تائید چاہنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔ اریزہ کو ہنسی آگئ۔
آنی۔ اسکا مطلب ہے اچھی لڑکی۔
اس نے چکمہ دینا چاہا۔ گوارا حسب عادت سڑک سڑک کر نوڈلز سے منہ بھر چکی تھی۔ چبا کر نگلنے کئ درمیان مشکل سے وقت نکال کر بولی
اچھی لڑکی کا متضاد کمینی لڑکی۔ تو اس گالی کا مطلب ہے کمینی۔ ہے نا۔
گوارا کا ذہن بہت چلتا ہے۔ اسے ماننا پڑا۔ ہنس کر سر ہلا گئ۔
گوارا تکا درست لگنے پر خوش ہوگئ۔
ایسے ہی تو نہیں میں کہتی گوارا کے جی میں جینیئس کا عنصر ہے۔ میرے نام میں ہی جینئس پن ہے۔
کب کہتی ہو ایسا۔ اریزہ نے کان سے پکڑا۔
اکثر اب غور کرنا۔ وہ ڈھٹائی سےآنکھ مار کر ہنسی۔
اف مجھے بھی بارش بہت پسند ہے۔ پتہ ہے بارش میں میرا دل مچل مچل جاتا ہے نوڈلز کھانے کو اور ساتھ سوجو ہو تو کیا ہی بات۔ مگر بدقسمتی سےسوجو ختم ہے مگر ریمن اف۔۔ اخیر حد کی لذیز ہے زندگی اس وقت میرے لیئے۔
گوارا کے کہنے پر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔
مجھے بھئ ۔ سنتھیا تو اتنا مزاق اڑاتی تھی کہتی تھی کیسی لڑکی ہو بارش میں پکوڑے کھائے جاتے ہیں۔
گلگلے تلے جاتے ہیں او رتم نوڈلز چبانے کی شوقین ہو۔ مجھے کبھی بھی بہت گلے ہوئے نوڈلز نہیں پسند ۔ ربڑ جیسے چبانے پڑیں ویسے پسند ہیں۔
اریزہ کے کہنے پر گوارا نے حیرت سے دیکھا۔
میں کبھی ریمن ذیادہ نہیں گلاتی چبانے والے اچھے لگتے ہیں ۔۔
یہ دیکھو۔ اس نے پیالہ اریزہ کی جانب بڑھایا۔
وہ بے دھیانی میں اسکی چاپ اسٹکس کی جانب ہاتھ بڑھانے لگی تھئ کہ ایکدم خیال آیا۔ پھر اسکی چاپ اسٹکس سے تھوڑے سے نوڈلز اٹھا کر واپس رکھ کر نارمل سے انداز میں بولی
ہاں واقعی۔ تمہارے نوڈلز لجلجے (soggy) سے نہیں ہوئے نوڈلز۔
کھا کر دیکھتیں نا۔ گوارا نے اصرار کیا
میں کھانا کھا چکی ہوں تم کھائو۔
اس نے سہولت سے انکار کیا۔ تو گوارا اسے پرسوچ سے انداز میں دیکھنے لگی۔
تم کبھی ہماری پلیٹ سے کھانا نہیں لیتیں تمہیں لگتا ہم کچھ غلط سلط کھاتے ہیں؟
اسے شائد برا لگ گیا تھا اریزہ کو اپنی بے اختیاری پر افسوس ہوا۔ انجانے میں اسکا دل دکھا دیا تھا شائد۔
نہیں یار ایسی بات نہیں۔ بس گوشت حرام ہوتا ہے نا اسلیئے احتیاط کرتی ہوں۔مانا سور حرام ہے مگر یہ ریمن چکن فلیور ہے ۔اریزہ یہ تو چکھ سکتی ہو۔ مجھے تمہارے اصول سمجھ نہیں آتے ۔نوڈلز پسند ہیں تمہیں پھر بھی انکو کھانے سے انکار کر رہی ہو۔ حالانکہ چکن فلیور ہے یہ
گوارا کے کہنے پر وہ چند لمحے اسے دیکھنے لگی۔
جانے دو ۔
اس نے سر جھٹکا اورکھانے لگئ۔
یقینا وہ بھی خفا ہونے لگی تھی۔ اتنی سی بات پر؟ اریزہ کو افسوس ہوا۔
تمہیں پتہ ہے کوریا میں موسم نے رخ بدلا ہے۔ بارشوں میں سات فیصد تک کمی آئی ہے۔۔ ایسا چلتا رہا تو جانے اگلے چند برسوں میں کتنی موسمیاتی تبدیلی آجائے۔
وہ فکرمند سے انداز میں کہہ رہی تھی۔ اریزہ نے گردن موڑ کر اسکی شکل دیکھی۔ خفگی کا دور تک شائبہ نہ تھا وہ بالکل آرام سے اگلا موضوع شروع کر چکی تھی۔۔
ہمارے گائوں میں بارش ہوتی ہے نا تو۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے شہر میں بارش ہوتی ہے جب بھی۔۔
میرے شہر میں بارش ہوتی ہے جب بھی۔۔
میرا تکیہ بھیگ جاتا ہے۔۔۔۔
سنتھیا اسکے بیڈ پر دراز موبائل استعمال کررہی تھی۔ کہ شعر وارد ہوا جھوم کے شاعرانہ انداز میں تکیہ کھینچ کر اس کو آغوش میں دبوچ کر آنکھیں میچ کر بولی۔
تو بارش سے قبل بستر اٹھا لیتیں نا پھوہڑ ۔
اریزہ اپنے کمرے کی بڑی سی فرنچ ونڈو میں بیٹھی ٹیرس کا نظارہ کرتی آنکھیں میچ کر بولی تھی۔ اس کھڑکی میں اس نے بابا سے کہہ کر چبوترہ بنوایا تھا جس پر نرم آرام دہ کائوچ سا بنا ہوا تھا۔ یہ اسکی پسندیدہ جگہ تھی بیٹھنے کی کشن سے کمر ٹکائے وہ دونوں سہیلیاں گھنٹوں یہاں بیٹھ کر باتیں کیا کرتی تھیں۔سنتھیا نے اسکے بیڈ پر رکھا کشن اٹھا کر اسے دے مارااور دانت پیس کر بولی۔
شعر تھا یہ میرا۔۔ ٹانگ توڑ دی میرے شعر کی۔
بے وزن تھا۔
کشن کا وار کڑا تھا سیدھا سر پر لگا تھا سو بدلا فرض ٹھہرا گھور کر بے نیازی سے بولی۔
سارا وزن تمہارے پاس جو ہے میرا شعر تو بھوکا مررہا ہے۔ کوئی پکوڑے شکوڑے ہی بنا دو۔۔بھوک لگ رہی ہے۔
سنتھیا کونسا کم تھی۔ فورا بدلا لیا۔
ہاں تو جائو نیچے کچن ہے دل بھر کر پکوڑے بنانا اور میرے لیئے دو نوڈلز کے پیکٹ بھی بنا لانا۔ اور سنو ذیادہ نا گلانا۔ چبانے والے ہوں بس۔
اریزہ کے حکم شاہی پر اسکی آنکھیں ابل پڑیں ۔
میں مہمان ہوں تمہارے گھر آئی ہوں شرم کر لو بجائے اسکے کہ میری خاطر مدارت کرو الٹا مجھ سے فرمائشیں کر رہی ہو۔۔
ہاں تو تمہیں غیر تھوڑی سمجھتی ہوں میں۔ بنا لائو نا نوڈلز بہن نہیں ہو۔ چھوٹی بہن ہو نا میری۔
اریزہ نے منت بھرے انداز میں کہا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
ایک پیکٹ بنائوں گئ۔ ایک کافی ہوتا ہے نرا فیٹ ہوتے ہیں نوڈلز۔
اس نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا۔
اچھا اچھا ایک ہی بنا لائو بارش ختم ہونے سے قبل۔
اریزہ کی اگلی ہدایت تیار تھئ۔
دنیا بارش میں پکوڑے کھاتی ہے گلگلے تلتی ہے ایک تم ہو نوڈلز چبانے کی شوقین۔
ہائے بارش میں نوڈلز کتنا مزا دیتے تم کیا جانو۔ میرا دوسرا پیار ہیں نوڈلز۔۔
وہ جھوم کر بولی۔ تو سنتھیا جو چپل پہن رہی تھی چونکی
دوسرا؟ پہلا کون ہے بھئ؟
میرا پہلا پیار ہیں۔بارشیں دل کرتا بس ہوتی رہیں ہوتی رہیں میں دیکھتئ رہوں ۔۔
اس نے لمحے بھر کا بھی توقف نہ کیا تھا جواب دینے میں۔
ایک ہفتے سے تو لگاتار ہو رہی ہیں۔اور کتنی بارشیں کروانی ہیں۔اور ابھئ تو جتنی تیز ہو رہی ہے نا اس سے نالہ لئی ابل جاناہے۔
سنتھیا کو بھی بارش پسند تھی مگر اریزہ جتنی جنونی نہ تھی۔ ابھئ بھی اسکا مزاق اڑاتی اسکے برابر آن بیٹھی بڑی فکر ہے نالے کی۔ جیسے تم تو نالہ لئ کے اوپر رہتی ہو۔
اریزہ نے گھورا۔
ہاں تو اسکے ارد گرد رہنے والے بھی تو میرے تمہارے جیسے انسان ہیں کتنی مصیبت اٹھانی پڑتی ہوگی انہیں۔۔
سنتھیا نے کہا تو چھیڑنے کیلئے تھا مگر اریزہ سنجیدہ ہوگئ
واقعی۔۔ یہ تو سوچا ہی نہیں تھا میں نے۔ ۔ بس اب اور بارش نہ ہو اللہ کرے۔
جھٹ دونوں ہتھیلیاں پھیلا کر دعا مانگنے لگی۔
کیا چیز ہو تم اریزہ۔ جیسے دعا کرنے سے فورا رک جائے گی۔ ایڈی تسی لاڈلی آسمان والوں کی۔
سنتھیا کی اسکو دیکھ کر ہنسی چھوٹ گئ۔ وہ اسکا مزاق اڑا رہی تھی۔
اریزہ ہتھیلیاں نیچے کرکے غور سے باہر جھانکنے لگی۔
بارش تواتر سے برس رہی تھی۔
اسکے چہرے پر واضح مایوسی چھانے لگی۔
واقعی بارش تو رکنے والی نہیں لگ رہی۔نالہ لئی ابل جائے گا۔
توبہ ہے اریزہ اب اداس نہ ہو جانا ویسے ہی کہا تھا۔ ایک تو تم فورا ہی ایمو ہو جاتی ہو۔
سنتھیا کو اپنے مزاق پر افسوس ہوا۔ تو آگے ہو کر اسکے گلے میں بانہیں ڈال لیں۔مگر اریزہ کا قنوطی موڈ آن ہوچکا تھا۔ یاسیت سے بولی
نہیں یار واقعی۔ میں تو یہاں سکون سے گھر میں بیٹھی بارش کے مزے لے رہی جانے کتنے لوگوں کو اس بارش سے یہ پریشانی ہو رہی ہوگی کہ انکے گھر پانی نہ آجائے۔ اور۔
خدا کا واسطہ ہے۔ ہر چیز کو اتنی گہرائی سے سوچنا چھوڑدو۔ زندگئ ایسے نہیں گزرتی۔ ہر وقت دوسروں کی فکر میں رہو گی تو خود خوش کب ہو پائو گئ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے۔۔
گوارا نے اسکی بے توجہی محسوس کرکے ہلایا۔تو وہ چونک اٹھی۔
تم نے نہیں سنا نا میں نے کیا قصہ سنایا ؟
گوارا کو یقین تھا۔اس نےشرمندگی سے سر ہلایا۔
بکواس سا ہی قصہ تھا جانے دو۔ تم کس کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔
وہ مائل بہ شرارت ہوئئ۔
سنتھیا۔ اس نے بلا توقف کہا تھا۔گوارا چپ ہی رہ گئ۔
مجھے یاد آرہی ہے وہ۔ مگر اسے کیا میں بالکل یاد نہیں آتی؟
اسے جیسے دکھ ہو رہا تھا۔
تم مل لو جا کے اس سے ۔ مجھے ویسے حیرت ہورہی ہے وہ لڑکی دیکھتے ہی دیکھتے بدلی ہے۔ کہاں تو تم دونوں میں اتنا پیار تھا کہ میں اور جی ہائے حیران ہوتے تھے اور۔
گوارا کے کہنے پر وہ بھی جوابا بات کاٹ کے پوچھ بیٹھی۔
جی ہائے یاد نہیں آتی تمہیں؟
آتی ہے۔ گوارا نے بھی بلا توقف جواب دیا۔
تم نے اسے منانے کی کوشش بھی نہ کی ؟
اریزہ کرید رہی تھئ۔
کی تھی۔ مگر وہ مجھ سے بات تب کرے گی جب میں تمہیں اس گھر سے نکل جانے کا کہوں گی۔ یہ اس نے شرط رکھی ہے جو ظاہر ہے میں نہیں مانوں گی۔
اسکا انداز قطعی تھا۔
تم مجھے چھوڑ سکتی تھیں وہ تمہاری پرانی دوست ہے۔
اریزہ کے کہنے پر اس نے بغور اسے دیکھا۔ پھر جتا کر بولی۔
دوست نیا پرانا نہیں پرخلوص ہوتا ہے۔
گوارا کے کہنے پر وہ چپ سی ہوگئ۔
ویسے سنتھیا تمہیں کیوں یاد آرہی؟ اس دن ایڈون بھی آیا تھا ملنے سے اس نے کچھ کہا کیا؟
گوارا کو لگا تھا وہ خود ہی اسے بتا دے گی مگر اس کا ایسا ارادہ نہ تھا شائد جبھی پوچھ لیا۔
اریزہ برستی بارش پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔ وہ خالی پیالہ لیکر اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اندر جانے کو مڑی تب اسے پیچھے سے اریزہ کی آواز آئی۔
ایڈون چاہتا ہے میں سنتھیا کو منائوں کہ وہ ابارشن کروالے۔
کیا ؟
اسکے منہ سے حیرت بھری چیخ سی برآمد ہوئی تھی۔
کیوں ؟ وے؟
یہ تو انکا پہلا بچہ ہے نا ؟ کیسے سوچ سکتا ہے وہ ایسا۔۔
گوارا کے پے در پے سوال وہ حیران ہی تو رہ گئ۔ اسکا ردعمل بالکل غیر متوقع تھا۔
تمہیں پتہ تھا اس بات کا کیسے؟؟؟
اریزہ یہیں اٹک گئ۔۔
گوارا نے کندھے اچکائے۔
ہاں یون بن نے بتایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنوکر لگا ہوا تھا اس نے سیدھا نشانہ لیا تھا۔ سفید بال ہایون کی ہاف بال کو اچھال کر دور کرتی راستہ بناتی سیدھا میز کی جیب میں گئ تھی۔کوئی اور موقع ہوتا تو ہایون نے شور ڈال دینا تھا مگر اس وقت بظاہر میز پر ہی نظر جمائے وہ مکمل طور پر کہیں اور گم تھا
یون بن نے اسکی بے توجہی محسوس کرکے فورا فائدہ اٹھایا اور اپنی دو تین گیندیں سیدھی غائب کر لیں۔
تم ہار گئے ہایون۔
کم سن جو سوجو پیتے ہوئے سکون سے کائوچ پر دراز میچ دیکھ رہا تھا یون بن کی آواز پر چونک کر مڑا۔
ہیں واقعی؟
دے ؟ ہایون چونکا پھر مسکرا کر سر ہلاتا ہوا کم سن کے پاس آن بیٹھا۔
سامنے میز پر سوجو اور ووڈکا رکھے تھے۔ اس نے سوجو بھر کر گلاس منہ کو لگا لیا۔
تم واقعی ہار گئے؟ یقینا یون بن نے بے ایمانی کی ہوگی۔
کم سن حیرت کے مارے اٹھ بیٹھا ۔ یون بن دانت نکالتا انکے پاس فلور کشن گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے کندھے اچکا کر بولا
میں ماہر ہوتا جا رہا ہوں۔ تم یہ بھی کہہ سکتے تھے۔
نہیں تمہیں میں کبھی یہ نہیں کہہ سکتا۔ بچپن سے آج تک تم کسی چیز میں ماہر نہیں ہو نا بن سکتے ہو کیونکہ تمہیں سوائے لڑکیوں کے کسی چیز میں دل لگانے کی عادت ہی نہیں ہے۔
کم سن نے ناک چڑھا کر کہا تو یون بن نے کھل کر قہقہہ لگایا۔
بات تو سچ ہے۔مگر یہ ہمارا چیمپئین کہاں کھوتا جا رہا ہے؟ مجھے لگ رہا ہے اسکو بھی کسی سے پیار ہوتا جا رہا ہے۔
وہ آنکھیں مٹکا کر قافیہ ملا کر بولا۔
ہایون نے ایک نظر اسے دیکھا پھر گلاس بھرنے لگا۔
ڈرائیو کرنا ہے ابھی تمہیں۔
کم سن نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔ وہ رک بھی گیا۔ ہاتھ میں تھاما جام واپس میز پر رکھ دیا۔
میں ویسے ہایون پر رشک کرتا ہوں۔ کتنا سیلف کنڑول ہے اس میں۔ کوئی شراب ہاتھ سے رکھ سکتا ہے بھلا وہ بھی کسی کے کہنے پر۔
یون بن اسکا مزاق اڑا رہا تھا سراسر
میرے کہنے پر ہر کسی کو یہ اعزاز حاصل بھی نہیں ہو سکتا۔
کم سن نے جتایا۔
میں تو گوارا بھئ اگر میرے ہاتھ میں آیا جام واپس رکھنے کو کہے تو نہیں رک سکتا۔ فی الحال اس سے ذیادہ اہم اور محبوب میری زندگی میں اور کوئی نہیں۔
وہ کندھے اچکا کر اپنے لیئے جام بنانے لگا۔۔
ایڈون جاب کیلئے کہہ رہا تھا تمہارے دفتر میں کوئی سین بن سکتا ہے اسکا ؟
یون بن نے کہا تو کم سن سوچ میں پڑا۔
ہاں چاہیئے تو ہیں۔ اس سے کہنا آکر مل لے۔ وہ کر کیا رہا ہے آجکل۔ ؟
پھنسا ہوا ہے اپنے مسلئوں میں دو جابز کر رہا ہے مگر پیسے کم پڑ رہے ہیں۔۔
یون بن سرسری سے انداز میں ذکر کر رہا تھا۔
ایڈون کو بھی واپس چلا جانا چاہیئے تھا۔ اور ساتھ اسکی منگیتر کو بھی یہاں انکو دوبارہ ایڈمیشن لیکر نئے سرے سے پڑھائی شروع کرنی ہوگی سالک شاہزیب دونوں اسی لیئے رکے نہیں کہ دو سال ضائع ہو جائیں گے۔
کم سن کے کہنے پر یون بن کچھ کہتے کہتے رکا۔ پھر ہایون کوبغور دیکھتے ہوئے بولا۔
اریزہ بھی تو نہیں گئ۔ اسے کم از کم ضرور چلے جانا چاہئے۔ بے کار میں یہاں وقت ضائع کر رہی ہے۔
کم سن فورا بولا
اریزہ جاب کر رہی ہے ہمارے یہاں۔
ہایون چپ بیٹھا تھا بے تاثر چہرے کے ساتھ وہ اسکے چہرے سے اندازہ نہ لگا سکا۔
مجھے تو لگتا ہے اریزہ ایڈون کی وجہ سے نہیں گئ۔
یون بن کی بات پر ہایون نے چونک کے اسے دیکھا تھا۔
یون بن نے مسکراہٹ چھپانے کو گلاس منہ سے لگا لیا۔
کم سن الجھن آمیز انداز میں دیکھنے لگا۔
کیوں؟ بھلا ۔
کیونکہ اریزہ اور ایڈون ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔
یون بن نے جیسے دھماکا کیا تھا۔ہایون کا رنگ واضح طور پر بدلا تھا۔
کییہہ سوری۔ ( کیا بکواس ہے)
ہایون تپ کر بولا تھا
مجھے ایڈون نے خود بتایا ہے۔ نشے میں دھت ہو کر وہ اریزہ کا نام پکار کر رو رہا تھا۔ شاہزیب بھی ساتھ تھا۔ بول تو وہ اپنی زبان رہا تھا مگر جس طرح شاہزیب نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا اور چپ کرادینا چاہا اس سے میں نے اندازہ لگایا اور یہ بالکل غلط اندازہ نہیں ہے۔
یون بن نے بتایا تو کم سن سر کھجانے لگا۔
اچھا واقعی حیرت ہے۔ سنتھیا کو نہیں پتہ کیا ؟ اگر ایسی بات ہے تو اسے ان دونوں کے بیچ سے ہٹ جانا چاہیئے۔
وہ مزید بھی کچھ کہتا مگر خاصی آواز کے ساتھ
ٹھک کرکے ہایون نے گلاس میز پر خالی کرکے رکھا تھا کہ دونوں خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگے۔
میں پہلے جاتا ہوں ۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا
کیا ہوا۔ ہایون؟ چڑھ تو نہیں رہی؟ ڈرائیو کرلوگے؟
کم سن نے ہاتھ تھام کر روکنا چاہا۔
کین چھنا ( ٹھیک ہے) وہ ہاتھ چھڑاتا تیز تیز قدم اٹھانا باہر نکل گیا
اسے کیا ہوا؟ کم سن نے حیران ہو کر یون بن سے پوچھا۔ جوابا وہ بوتل سے اگلا جام بناتے لاپروائئ سے بولا
پیار۔۔ اسکو اریزہ اور ایڈون والی بات ہضم نہیں ہوئی
کم سن نے اسے گھور کر دیکھا۔
یہ جو سب کہانی بنائی ہے خود سے بنائی ہے نا؟
تھوڑی سئ۔ یون بن نے آنکھ ماری۔
کیا چیز ہو تم۔ کیا ضرورت تھی۔ ایویں۔ کم سن سر جھٹک کر اپنا جام اٹھا کر منہ سے لگانے لگا۔
کہانئ میں صرف اتنا میں نے شامل کیا ہے کہ اریزہ بھی ایڈون کو پسند کرتی ہے۔ اریزہ کا پتہ نہیں۔ وہ اگر کرتی بھی ہوگئ تو اپنی سہیلی کے پریگننٹ ہونے کا سن کے پیچھے ہٹ گئ ہوگئ۔ یہ میرا اندازہ۔
اسکی بات ادھوری رہ گئ تھی کیوںکہ کم سن کو اچنبھے کے مارے اچھو ہوا تھا منہ میں بھری شراب کی پھوار نکلی تھی جو سیدھا اسکے منہ پر آئی تھی۔
کیا؟
وہ حیرت کے مارے آنکھیں کھولے گھور رہا تھا۔
کیا کیا ؟ سارے شاک آج ہی لگنے۔ ساری شراب ضائع کردی۔
یون بن اپنے چہرے ہر ہاتھ پھیرتے بھنا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس اسٹیشن میں بیٹھے اسے اور کوئی نام ذہن میں نہ آسکا ۔ یون بن کو کال کی تو وہ آدھے گھنٹے میں پہنچ گیا تھا۔ اپنے والد کے اثر رسوخ کا استعمال کرکے وہ اسے چھڑا کر ہی اسٹیشن سے نکلا تھا۔ پولیس نے اسے ہر اسپتال کے چکر لگنے پر رپورٹس کی نقل جمع کروانے کی ہدایت دی تھی۔
تمہار ابہت بہت شکریہ۔ میرے ذہن میں مدد کیلئے تمہارے سوا کوئی نام نہ ذہن میں آیا۔
ایڈون کی آواز بھرا رہی تھی۔ یون بن اسے لیکر قریبی کنوینس اسٹور لے آیا تھا۔ اسے باہر کھلی فضا میں بٹھا کر اسکے لیئے سوجو اور ریمن لیکر آیا
ا س نے بھاپ اڑاتے ریمن کو ایک نظر دیکھا تھا پھر سوجو اٹھا لی تھی۔
اگر سنتھیا تیار نہیں تو تم ابارشن کروانا کیوں چاہتے ہو۔؟
یون بن حیران ہوا تھا۔۔
تم پاکستانی معاشرے کو نہیں جانتے۔ یہ بچہ ہم دونوں کیلئے پاکستان داخلہ بند کروادے گا۔ میرے والدین مجھ سے قطع تعلق کرلیں گے۔ سنتھیا کے والدین اسکو اپنا بھی لیں تو بھی میری شامت آجائے گی۔ سب سے بڑھ کر ابھی میری عمر کیا ہے تعلیم ادھوری ہے میں بچے کا کھڑاگ کیسے پال سکتا ہوں وہ بھی ایسا بچہ۔
ایڈون جیسے پھٹ پڑا تھا۔ ایک ایک ممکنہ مسلئہ جو وہ سنتھیا کو سناتا رہا سب اسکے گوش گزار کیا وہ بھی خاموشی سے سنتا رہا۔
کہہ تو صحیح رہے ہو۔ یون بن نے سر ہلایا۔
بہت جلدی ہے۔ سنتھیا نہیں جانتی کیا اپنے اس فیصلے کےمضمرات۔
جانتئ کیوں نہیں ہے۔ بس ضد سوار ہے اسے۔ اس بہانے وہ مجھے عاجز کرنا چاہتی ہے بس۔ اپنی زندگی دائو پر لگا رہی ہے ساتھ میری بھی۔۔
وہ دانت کچکچا رہا تھا۔
میں اور گوارا ہائی اسکول میں تھے جب ایکدن گوارا نے آکر مجھے بتایا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ میں بالکل ایسے تمہاری طرح گھبرایا تھا پریشان ہوا تھا ۔ پھر جب میں نےگوارا کی شکل دیکھی تو وہ مجھ سے بھی ذیادہ گھبرائی پریشان تھی۔ میرے نزدیک سب سے اہم چیز جانتے ہو کیا بن گئ تھئ؟
یون بن نے ریمن کا پیالہ گھسیٹ کر اپنی جانب کر لیا تھا۔ ایڈون سوالیہ نگاہ سے دیکھنے لگا
گوارا کی پریشانئ دور کرنا۔ میں نے اسے گلے لگایا تسلی دلاسے دیئے سمجھایا اتنا کہ وہ مسکرادی۔اسے لگنے لگا اسکی ساری پریشانئ میں نے اپنے سر لے لی ہے۔
وہ نوڈلز سے منہ بھر کے چبا رہا تھا۔ اچھا خاصا بد تمیزی سے کھاتا یون بن ساتھ بول بھئ رہا تھا۔ ایڈون نے اسے دیکھ کر سرجھٹکا۔
کروایا تو ابارشن ہی نا بن رہا ہے سادھو۔
اس نے سوچا تھا۔
ہم اکٹھے کلینک گئے تھے ٹیسٹ ہوئے اور نتیجہ آنے میں دو دن لگے۔ ہمیں پتہ لگا کہ گوارا کا محض یہ اندازہ تھا اور وہ پریگننٹ نہیں تھی۔
ہم کافئ احمق تھے چند سال قبل تک۔ وہ ہنسا۔
ان دو دنوں میں ہم نے اپنے بچے کی شادی تک بھئ سوچ لی تھی اور ابارشن کا فیصلہ بھی لے لیا تھا۔
ایڈون اس بار چونک کے دیکھنے لگا تھا۔ یون بن مسکرادیا۔
محبت سے منائو گے تو مان جائے گئ ۔۔
نہیں اریزہ کبھئ نہیں مانے گی۔ ایڈون روانی میں بولا پھر ٹھٹک کر درستگی گی
سنتھیا نہیں مان رہی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایڈون نے گہری سانس لی۔ اور اٹھ بیٹھا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد اٹھ گیا۔ رخ سنتھیا کے کمرے کی جانب ہی تھا۔ اس نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا گیا۔ اس احمق لڑکی نے پھر لاک نہیں کیا تھا۔ کھڑکی کی چوکھٹ پر کہنیاں ٹکائے باہر جھانکتی وہ دھیرے سے دروازہ بند کرتا اسکے پیچھے آن کھڑا ہوا تو احساس ہوا بے آواز رو بھی رہی تھی۔چوکھٹ پر دھرا اسکا سانولا ہاتھ بارش کی پھوار سے نم ہورہا تھا مگر وہ بے حس سی دنیا و مافیہا سے بے خبر کھڑی تھی۔ اسکی آمد کا جانے احساس ہی نہ ہوا تھا یا نظر انداز کر گئ تھی۔ اس نے مگر اسکےلرزتے وجود کو بہت احتیاط سے اپنی بانہوں میں لے لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں زندگئ بھر صبح دوپہر شام بریانی کھا سکتی ہوں۔
اسے یاد تھا ایک دن ترنگ میں آکر اس نے صارم سے کہا تھا
اس وقت ناشتے کی میز پر بیٹھی بریانی سے پلیٹ بھرے وہ یہی سوچ رہی تھئ کہ انسان کتنا ناشکرا ہے۔ چار دن لگاتار صبح دوپہر شام بریانی گرم کرکے کھا کھا اسکا دل اوب گیا تھا۔
پہلا دن بریانی کی پلیٹ ناشتے میں گرم کی چٹخارے لیکر کھائی۔ گھر واپس آکر پھر بریانی کھائی خدا کا شکر ادا کیا۔ رات کو کھائی۔ صبح کھائی۔ اگلے دن دوپہر کو کھائی رات کو کھائی پھر ہوپ کا بنایا ناشتہ کھایا پھر بریانی آج ہوپ گھوڑے بیچ کے سو رہی تھی گوارا جا رہی تھی اسے بریانی کھاتے دیکھ کر بولی۔
تمہاری تو موج ہوگئ کہو تو اگلے ایک ہفتے کا بھی اسٹاک کردوں بریانی کا ؟
شرارت سے ہنستی وہ اسکی شکل دیکھتی سراسر مزاق اڑا رہی تھی۔ اس نے جل کر بھر کر چمچ منہ میں رکھ لیا۔ تیار ہو کر بے مقصد پھرتی رہی ہوپ کا اٹھنے کا ارادہ نہیں لگتا تھا۔ ایک دو بار کمرے میں گئ مگر موصوفہ بے سدھ تھیں۔
آخر جب ساڑھے گیارہ ہونے لگے تو قریب جا کر ہلا بھی دیا۔
کیا ہوا۔ اس نے اپنی سرخ سرخ آنکھیں اس پر جمائیں۔
آج نوکری پر نہیں جانا ؟ اریزہ کے پوچھنے پر اس نے بمشکل جواب دیا اور کروٹ بدل لی جواب تھا
نہیں۔۔
بتاتو دیتیں۔ وہ روہانسی ہوگئ۔ اتنی دیر سے اسکے اٹھنے کا انتظار کرتے اس نے بے مقصد ٹہلتے وقت گزار دیا۔ اب جانے دیر ہی نہ ہو جائے۔ وہ لشتم پشتم بیگ سنبھالتی اپارٹمنٹ سے نکلی تھی۔
کاکائو ایپ سے اس نے اپنی منزل کا تعین کیا تھا۔ بس اسٹاپ تک تو آگئ تھی یہاں سے اب بس کونسی پکڑنی تھی ۔ وہ گومگو میں تھی۔ ایک لڑکی شارٹ اسکرٹ پہنے تیار شیار بے نیازی سے کھڑی موبائل استعمال کر رہی تھی۔ اس نے اسی سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔
چھوگیو( معاف کیجئے گا) یہ اس جگہ پر کونسی بس جائے گی۔
اس نے ذرا کی ذرا اسکی رواں انگریزی کو دیکھا پھر شستہ انگریزی میں بولی۔
میں انگریزی نہیں سمجھ سکتی۔
دے ؟ اسکا منہ کھلا وہ موصوفہ سر جھٹکتی بس میں سوار ہو گئیں۔
آگاشئ بس میں سوار ہونا ہے؟ ڈرائور پوچھ رہا تھا ۔۔
اس نے بس نمبر دیکھا پھر نفی میں سر ہلا دیا۔
بس کا دروازہ بند ہوا اور بس آگے بڑھ گئ۔ ایپ میں صرف ہنگل لکھی تھی ۔
کیا مصیبت ہے۔ وہ بھنائئ۔
دھوپ اس وقت تیز تھی کل کے برعکس موسم خشک اور سرد ہو چکا تھا۔۔ اب کیسے جائوں ٹیکسی لوں؟ جانے کتنا کرایہ لگے میرے پاس تو ابھی پیسے بھئ نہیں پاپا نے بھجوائے یا نہیں پتہ نہیں۔
وہ منہ بناتی اسٹاپ کے شیڈ میں بنچ پر آن بیٹھی۔ لی منہو کی کوئی فین میٹنگ کا اشتہار تھا۔اتنا اصلی دکھائی دے رہا تھا پورے قد کا پوسٹر نہیں تھا۔ پیٹ تک کا تھا مگر انسانی قد کے حساب سے ہی تھا دور سے دیکھو تو لگے کھڑا ہی ہے لی منہو۔ مگر اسکی ٹانگیں نہیں ہیں۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا پھر پوسٹر کے پاس آکھڑی ہوئئ۔ پہلی تصویر ۔۔ناکام کوشش۔۔ ذرا سا زاویہ بدلا دوسری تصویر یہ بھی ناکام۔ غلطی کہاں ہو رہی تھی۔ اب سمجھ آئی۔ ذاویہ دیکھ کر ذرا سا لی منہو کی جانب جھکا کر سیلفی لی تو تصویر اتنی شفاف اور اصلی لگی کہ خود حیران رہ گئ لگ رہا تھا اس نے لی منہو کے ساتھ ہی تصویر کھنچوائی ہے۔
کراپ کر لوں تو ڈینگئیں مار سکتی ہوں صارم کے آگے۔ وہ سب بھول بھال کے اگلی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ دستی کراپ کی موبائل لاک کرکے ترنگ میں مڑی تو بس سے اترتے کئی لوگوں کو دبی دبی ہنسی اسے دیکھ کر ہنستے پایا۔
وہ کھسیا گئ۔ بال کان کے پیچھے اڑس کر ایک ہلکی سی چپت بھی لگا لی خود کو۔
چھٹی کر لیتی ہوں۔ اجنبئ شہر میں اجنبئ بس میں بیٹھ کر اجنبی منزل پر اترنے سے تو بہتر ہے۔
یہ سوچنا تھا کہ ہلکی پھلکی ہوکر واپسی کیلئے مڑی۔ تو ایکدم ترنگ میں مڑنے سے وہ سامنے سے آتے اس چندی آنکھوں والے سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
چھے سو۔۔
بولتے ہوئے زبان دانتوں تلے دبا لی۔ ایک تو یہ بندہ زندگی بھر جب کبھی کورین میں معزرت کروں گئ یہ بندہ ذہن میں آن وارد ہوگا۔ علی کے چہرے پر اسکا گریز سمجھ کر بے ساختہ مسکراہٹ در آئی۔
اس دفعہ آپ درست لفظ کا ہی انتخاب کر رہی ہیں۔
اسکا انداز سادہ تھا مگر وہ ناک چڑھا گئ۔
سوری۔
ہے تو لڑکا ہی نامعلوم اسکے نرم رویئے سے کیا مطالب نکال لے۔ یہاں کے تو لڑکے ہیں بھئ ٹھرکی۔ سوچتے ہوئے ذہن میں کل کی ہایون کی حرکت تھی۔
اٹس اوکے۔ وہ مسکرا دیا۔ وہ اسکے برابر سے ہو کر آگے بڑھ آئی۔
بس جو کوئی بھی تھی اسکی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئ۔ شائد اسے ٹھہرے وقت ہو گیا۔تھا۔
اس نے بس تو نہیں کل والا ڈرائیور پہچان لیا تھا۔
آہجوشی۔ وہ پکاری اور بس کے پیچھے تھوڑا سا بھاگی بھی۔ مگر بس کی رفتار بڑھ ہی گئ۔ آگے بڑھتے علی نے حیرت سے اسے دیکھا۔
شٹ۔ وہ مٹھیاں بھینچ رہی تھی۔
پانچ منٹ بعد دوسری بس آجائے گئ۔
اس نے تسلی دینے کو کہا تو وہ جھلا گئ۔
مگر مجھے کیسے پتہ لگے گا کہ کونسی بس پکڑنی ہے۔ ابھی تو یہ کل والے ہی بھائی میرا مطلب ہے کل والا ہی ڈرائور تھا۔مجھے یہی بس پکڑنئ تھئ۔
اسکی منطق پر وہ اسے یوں دیکھنے لگا جیسے اسکے سر پر سینگ ہوں۔
ڈرائور کون یاد رکھتا میرا مطلب بس نمبر یاد کرتے ہیں نا۔
بھئ مجھے نہیں یاد نا بس نمبر گوارا نے بتایا تھا بھول گئ۔ وہ بچوں کی طرح منہ پھلا کر بولی تھی۔
کہاں جانا ہے آپکو۔ علی مسکراہٹ دبا کر پوچھنے لگا۔ اس نے لمحہ بھر سوچا پھر موبائل میں بک مارک ہوئی منزل اسے دکھائئ۔
یہ ۔ یہ جگہ ہے لی شاپنگ کمپلیکس مگر مجھے یہ نہیں پتہ کونسی بس وہاں جائے گئ۔
علی اسکا موبائل لیکر آگے بڑھ گیا۔ وہ بھاگ کے پیچھے آئی وہ بس اسٹاپ کے شیڈ آکر ایک جانب گلاس وال پر ڈیجیٹل روڈ میپ میں روٹ دیکھ رہا تھا۔ بس کی آمدو رفت کے اوقات بمعہ روٹ ہنگل اور انگریزی دونوں زبانوں میں موجود تھے۔
یہ دس منٹ بعد بس نمبر 11 آئے گی آپ اس میں سوار ہو جائیئے گا۔ ابھی بس نمبر 15 آنے والی ہے۔
اس نے انگریزئ میں بتاتے ہوئے موبائل واپس کیا۔ وہ ششدر کھڑی تھی۔ چونکی۔
گھمسائےو۔۔۔ وہ پھر شائد کچھ غلط بول گئ تھی کیونکہ مخاطب کے چہرے پر محظوظ مسکراہٹ آئی تھی۔ اس نے فورا انگریزی پر تبدیل کیا خود کو
آنیا۔ ۔شکریہ۔
ہلکا سر جھکا کے شکریہ کہا ۔
مائی پلیژر۔کرم۔ اس نے بھی اجازت چاہی۔ کندھے پر لیپ ٹاپ بیگ ٹھیک کرتا وہ پیدل آگے بڑھ گیا تھا۔
اسے دور جاتے دیکھ کر اس نے گہری سانس لی پھر اس دو بالشت کی اسکرین کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی
میری آنکھیں واقعی پھٹو ول ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی کسلمندی سے کروٹ بدلتے آنکھ کھلی تو کھڑکی سے آتی مدہم روشنی میں نک سک سے درست ایڈون شاپر احتیاط سے اسکے سرہانے رکھتا نظر آیا۔
اٹھ گئیں۔وہ خوشگوار انداز میں مسکرایا۔
ہمم۔۔ وہ انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھئ۔
تم اتنی صبح صبح کہاں جا رہے ہو۔
جمائی لیتے ہوئے اس نے پوچھا تو ایڈون ہنس دیا
صبح؟ بارہ بج رہے۔ آنکھ ہی نہیں کھلی میری صبح ایک جگہ جانا تھا انٹرویو دینےمس ہو گیا اب ڈیوٹی پر۔جا رہا ہوں۔ تم بتائو ٹھیک سے سوئیں۔۔۔
اسکے پوچھنے پر وہ جھینپ سی گئ۔
سر ہلا کر جواب دیا۔ اسکے چہرےکی رنگت ایکدم سرخ پڑ گئ تھی۔ ایڈون مسکرا دیا
اچھا یہ کچھ ناشتے کا سامان ہے ناشتہ کرلینا میں چلتا ہوں۔
وہ دھیرے سے اسکے سر کے بال بکھیرتا ہوا بولا۔
ہممم۔ وہ قصدا نگاہ چرا رہی تھی۔
اوکے خدا حافظ۔ وہ کہتا ہوا احتیاط سے دروازہ بند کرتا چلا گیا تب اس نے سر اٹھایا۔ کمرے میں دھوپ کی روشنی پھیلی تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔ کل۔کی نسبت اس وقت طبیعت کی سب کثافت دور تھی۔ بھوک کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ وہ یونہی دیکھنے کیلئے کہ ناشتے میں سامان کیا ہے شاپر میں جھا نکنے لگی۔ چیز کیک کریم چیز چیز سینڈوچ دودھ پیکٹ اسے ایکدم بو چڑھی تھی ۔ ابکائی سی آئی۔ وہ فورا پیچھے ہوئی اسکا سب کھایا پیا جیسے باہر آنے کو تھا روکنے کی کوشش کرتی وہ دروازے کی جانب بڑھی مگر الٹی رک نہ سکی۔ دروازہ خراب ہو گیا۔ پے در پے دو الٹیاں۔
اسکا وجود کانپنے لگا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باتھ روم جا کر چہرے پر چھپاکے مارے تو طبیعت کچھ بحال ہوئی۔ پوچھا لاکر صفائی بھی خود کرنی پڑی۔ کمرے میں ناگوار بو پھیل گئ تھی۔ پنکھا ونکھا تو تھا نہیں اس نے کھڑکی اور دروازہ کھولا خود پوچھا واپس رکھ کر واپس آئی تو لابی سے گزرتے ان دو لڑکیوں کو واضح طور پر اسکے کمرے سے باہر گزرتے ہوئے ناک بند کرتے اور بڑبڑاتے دیکھا۔ کمرے میں آکر والٹ میں پیسے دیکھے۔ یا تو کچھ باہر سے لیکر کھا لیتی یا ؟ اس نے دوسرے آپشن کا سوچا۔ اسٹور جا کر ائئر فریشنر خریدا کمرے میں ڈھیر سارا اسپرے کیا۔ شاپر پر بھئ کر دیا۔ بھوک کے مارے دم نکلنے لگا تھا۔ چیز سینڈوچ کو سانس روک روک کے کھایا مگر دودھ پیتے ہوئے پھر ابکائی سی آنے لگی ۔ اس نے دودھ رکھ دیا۔ اسکی بھوک بھی ختم نہ ہوئی تھی طبیعت بھی بے حد بوجھل ہو رہی تھئ اور جزباتئ طور پر بھی سہارا درکار تھا۔
وہ وہیں گھٹنوں میں منہ دے کر گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔
آپ اپنا کھانے پینے کا خوب خیال رکھیں آپ بہت کمزور ہیں۔
ڈاکٹر کی ہدایت ۔۔۔
وہ بستر پر گر سی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میز پر طرح طرح کے کھانے سجے تھے بریانی مٹن کڑاہی نان سلاد شاہی ٹکڑے کسٹرڈ۔وہ ہرپلیٹ سے تھوڑا تھوڑا چکھتی ہوئی بریانی پر رکی۔۔ وہ بریانی پر کسٹرڈ ڈال کر مزے لیکر کر کھا رہی تھی۔
اس نے کروٹ بدلی۔
اریزہ اسکے لیئے فروٹ کیک لائی تھی کافی کے ساتھ۔
چلو ہم کمرشل چلتے ہیں گول گپے کھانے۔
اس نے پھرکروٹ بدلی۔
بخار چڑھ چکا تھا اسے سرد ہوا ٹھٹرارہی تھی اس نے جسم سکیڑ کر خود کو گول مول کرلیا تھا۔
تیسرا خواب تھا۔
وہ ایک چھوٹا سا بچہ تھا جو اسکی گود میں رو رہا تھا۔اسکے ہاتھ میں فیڈر تھا اس نے اس بچے کو پلانا چاہا مگر بوتل یکا یک خالی ہوگئ۔
بچہ مزید زور و شور سے رو پڑا۔
بتائو کہاں سے پورا کروں میں اسکا خرچہ۔ میری بات مان لیتیں تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔
ایڈون چلا رہا تھا۔
سنتھیا یہ تم نے کیا کیا تم نے ہمیں کسی کو منہ دکھانے لائق نہ چھوڑا۔ بیٹا۔ میری ایسی تربیت تو نہ تھی۔۔ امی رو رہی تھیں۔
نہیں امی وہ تڑپ کر انکی جانب بڑھی۔پس پردہ بچے کے رونے کی آواز حاوی تھی۔
بیٹا ہم نے تو بھروسہ کرکے بھیجا تھا تمہیں۔۔ تم تو میری اچھی بیٹی تھیں۔
بابا ایکدم بوڑھے لگنے لگے تھے۔
بابا ایڈون ۔۔ ایڈون بھی تو۔
اس نے صفائی میں جانے کیا کہنا چاہا تھا۔۔ کیا وہ یہ بتا رہی تھی کہ قصور وار ایڈون بھئ ہے۔۔
یہ بچہ فساد کی جڑ ہے۔ ایڈون غصے سے بچے کی جانب بڑھا تھا۔
نہیں ایڈون چھوڑو۔۔۔
وہ خواب سے حقیقت میں واپس آئی تھی۔اسے روکتے ایک۔جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ پسیینے پسینے ہو رہی تھی کمرے میں ابھی بھی روشنی تھی۔ جانے وہ کتنی دیر سوئی مگر اسکی آنکھیں کھل گئ تھیں۔جن باتوں سے وہ نگاہ چرائے تھی جن حقیقتوں سے قصدا دھیان ہٹا رکھا تھا وہ خواب میں آکر اسے جھنجھوڑ گئ تھیں۔
اسے نہیں یاد تھا کہ اس نے کبھی لگاتار روزے رکھے ہوں۔ کبھی بہت دیر بھوک برداشت کی ہو۔ وہ تو اریزہ سے ذیادہ کھا جاتی تھی اسے لگتا نہیں تھا اس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھاتی تھی۔ اسے سردی کبھی نہیں لگتی تھی اریزہ کو ٹھنڈ ذیادہ لگتی تھی وہ اسکا مزاق اڑاتی تھی مگر یہاں سردی اسکی جان لینے پر تل گئ تھی۔ اس نے کبھی کٹھنائیاں نہیں جھیلی تھیں ہر مسلئے ہر پریشانی کا حل بابا نکالتے تھے ماما لاڈ اٹھاتی تھیں بابا کی تو وہ جان تھی۔ اسکی کبھی کوئی فرمائش نہ ٹالی تھی۔ یہاں تک کے ایڈون کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونے کے باوجود انہوں نے اسکی خوشی کو مقدم جانتے ہوئے خود بہن سے بات کی تھئ۔ او راس نے کیا کیا تھا۔ انکی تربیت پر سوالیہ نشان لگا دیا؟ انکی محبتوں پر ایک محبت کو حاوی کردیا۔ اپنے لیئے خود مسلئے پیدا کر لیئے تھے۔
وہ۔گھبرا کر بستر سے اتری۔ کھڑکی سے فراٹے سے ہوا آرہی تھی۔ اس نے پورا زور لگا کر اسے بند کیا۔ کھڑکی کی چوکھٹ پر ہاتھ رکھتے کل کا منظر تاذہ ہوا تھا۔ایڈون اسکے پیچھے آکھڑا ہوا تھا وہ جان کے انجان بنی تھی۔ اس نے رات یہیں گزاری تھی ۔۔۔۔وہ اپنی ماں باپ کی تربیت ایڈون کے پچھلے رویئے سب بھلا گئ تھی۔ یاد تھا تو بس اتنا کہ ایڈون کو نہ کھو دے کہیں۔ مگر کیا اس نے ایڈون کو پا لیا تھا ؟ ایڈون اسکو مستقل ابارشن پر اکسا رہا تھا ناراض ہو رہا تھا غصہ کرتا تھا۔اسے بھی ضد ہوگئ تھی کہ جب قصوروار وہ اکیلی نہیں تو کچھ مضمرات ایڈون بھی بھگتے مگر نقصان میں کون رہا ؟ وہ خود۔ اس وقت وہ اپنی ماں کے پاس ہوتی تو وہ اسے زمین پر پیر نہ رکھنے دیتیں۔۔ وہ اب انکو اپنا چہرہ تک دکھانے جوگی نہ رہی تھی۔
بھوک کمزوری سردی ایڈون کی سردمہری ان تمام۔محاذوں سے لڑتے وہ پریگننسئ کی سب کٹھنائیاں کیسے جھیلے گی کسی بڑے یا تجربہ کار کی مدد کے بنا ؟خود سے لڑتے خود سے سوال کرتے وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کے وہیں چکرانے لگی۔ بیڈ تک جانے کی کوشش میں بے خیالی میں اپنے ہی بیگ سے ٹھوکر لگی تھی۔ پائوں کے انگوٹھے کا ناخن شائد ہل گیا ہوگا۔ درد کی شدید لہر نے اسے لپیٹ میں لیا تھا۔بمشکل کارنس کا سہارا لیتی بیڈ تک آئی تو صبح یا پیا آدھا دودھ کا ڈبہ اچھل کر زمین پر آگرا۔ بقیہ بچا دودھ فرش رنگین کر گیا تھا۔ اسے رونا آگیا تھا۔ اس کی صفائی کیلئے بھئ اسے خود ہمت کرنی تھی۔
میں یہ سب نہیں جھیل سکتی۔ نہیں ۔۔ اس نے بے بسی سے سر ہلایا۔
بہت مشکل ہے یہ سب۔۔
میں نہیں کر سکتی یہ۔۔
اس سے جو فیصلہ ایڈون اتنے دنوں میں نہ کرواسکا وہ اس نے چند لمحوں میں کر لیا تھا۔
تکیئے کے پاس سے فون اٹھا کر اس نے فوری میسج ٹائپ کیا تھا۔
ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ لے لو میں ابارشن کیلئے تیار ہوں۔۔
پیغام ایڈون کو جیسے ہی سینڈ ہوا چند لمحوں میں ہی جواب آگیا تھا۔۔
جواب تھا
۔واقعی؟؟؟؟
موبائل پر اسکی گرفت سخت ہوگئ تھی۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد۔
جاری ہے۔۔۔kesi lagi apko salam korea ki yeh qist? rate us below
-
Main youn tau houn yaheen kaheen
میں یوں تو ہوں یہیں کہیں
سچ کہوں تو ہوں کہیں نہیں
میرا پتا بتاتے ہیں وہ لوگ
جنہوں نے دیکھا مجھے کہیں نہیں
میرے ملال مجھے جینے نہ دیں
مر سکوں نہ میں اس ملال میں
میری قدر تو میں خود نہ جان سکا
میری وقعت بھی اب کہیں نہیں
میرے شور و شر سے بے زار تھے
میرے اپنے مجھ سے بد گمان تھے
میں چپ ہوا تو پریشان ہیں
میرا شور تھا کہیں نہیں
مجھے معنی عشق معلوم نہیں
مجھے آداب وفا بھی یاد نہیں
میں الفتوں سے مکر ہوں گیا
میرا دنیا میں کوئی کہیں نہیں
مجھے غرور تھا اپنی ذات پر
اپنی شخصیت اپنے کردار پر
خودی کو روند گیا ہوں خود ہی
میرا اپنا آپ اب کہیں نہیں
اب پوچھ لے ہجوم بھی
کہاں گیے اپنے اور احباب بھی
کیا بتاؤں میں تنہائی میں بھی
میرے اس پاس کہیں نہیںاز قلم ہجوم تنہائی
-
Behak janay ka nuskha day humain koi
behak janay ka nuskha day humain koi…
peenay ko peeyay hain hum ne jaam boht…
khaloos ki keemat lagatay hain humare woh…
khud unki tau tawajo k bhi hain daaam boht…
asar se intezaar kertay rehay thay jis mehman ka…
aaj nahi aya kehta hay ho gae hay shaam boht…
seeta ki matti ka kasoor tha jo lipat rehi thi pairo se…
nazar nazar ki baat hay go dunya main hain raam boht…
hum unki pairawee main nikal gayay hain usi rastay pe…
lutnay kay shauqeen hain werna us nager main hain gaam boht…
hajoom main tanhai se bachna muhaal hota yun k…
tanhai ko hajoom se hain ab bhi kaam boht…by hajoom e tanhai
بہک جانے کا نسخہ دے ہمیں کوئی۔۔
پینے کو پیئے ہیں ہم نے جام بہت۔۔۔خلوص کی قیمت لگاتے ہیں ہمارے وہ۔۔
خود انکی تو توجہ کے بھی ہیں دام بہت۔۔۔عصر سے انتظار کرتے رہے جس مہمان کا۔۔
آج نہیں آیا کہتا ہے ہوگئ ہے شام بہت۔۔سیتا کی مٹی کا قصور تھا جو لپٹ رہی تھی پیروں
سے۔۔
نظر نظر کی بات ہے گو دنیا میں ہیں رام بہت۔۔۔ہم انکی پیروی میں نکل گئے ہیں اسی رستے پر۔۔۔
لٹنے کے شوقین ہیں ورنہ اس نگر میں ہیں گام بہت۔۔۔ہجوم میں تنہائی سے بچنا محال ہوتا یوں کہ۔۔
تنہائی کو ہجوم سے ہیں اب بھی کام بہت۔۔۔
از قلم ہجوم تنہائیRate us below
behak janay ka nushkha