Tag: desi urdu novels

  • Desi Kimchi Urdu Web Travel novel Episode 64 Finale

    آخری قسط
    سیول کی نیم گرم سی خوشگوار دوپہر چہل پہل سے بھرپور تھی۔ ایک کے بعد ایک قیمتی گاڑی اس عمارت کے پارکنگ کی جانب آئے چلی جا رہی تھی۔ جسکا مطلب تھا یقینا کسی نئے شو کی شوٹ جاری ہے۔ انکی گاڑی ایس این انٹرٹینمنٹ کے دفتر کے باہر کب سے رکی تھی۔ خاموشی سے گاڑیوم کو آتے جاتی دیکھی فاطمہ نے آہ بھری پھراس نے ایک نظر سیہون کو دیکھا دوسری نظر عمارت پر ڈالی پھر سر جھکا لیا۔۔
    میں تمہارے لیئے ریڈ کارپٹ بچھوائوں ؟
    سیہون نے طنزا کہا
    مجھے فون کرکے بلانے کی کوئی اچھی وجہ نہیں ہے یقینا بستی کرنے کیلئے بلایا ہوگا..
    وہ بے چارگی سے بولی
    کوریا میں ملازمین کے حقوق سے متعلق قوانین سخت ہیں۔ بنا کوئی کیس چلائے وہ تمہیں نوکری سے نکالیں گے تو انکو ٹھیک ٹھاک۔جرمانہ ہوگا انہوں نے تمہیں اگر نوکری سے نکالنا بھی ہوا تو پہلے تم سے سب بات کرکے جتنے تمہارے بقایاجات بنتے ہیں وہ واپس کریں گے پھر
    سیہون نےبتفصیل بتایا مگر بے چین فطرت بات کاٹ گئ
    ہاں تو مجھے پیسے نہیں چاہیئیں۔ بےعزت ہو کر پیسے کیا کرنے۔
    جائو جا کر پہلے اس پروڈیوسر سے ملو تو۔ پروڈیوسر نے کال کی ہے تمہیں ایچ آر نے نہیں۔ اور بے عزتی اسی پروڈیوسر نے کی تھی؟
    سیہون نے پوچھا تو اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا
    چلو میں بھئ چلتا ہوں۔
    وہ اب یہی کہہ سکتا تھا۔
    رئیلی۔ وہ ایکدم جیسے خوش ہوئی۔ سیہون گھور کر رہ گیا
    پھر گاڑی لاک کرکے اسے فاطمہ کے ساتھ اندر آنا پڑا۔ ریسیپشن پر ہی اسکو روک دیا گیا۔
    یہ میرے ہسبینڈ ہیں مجھے نہ جانے کس مقصد کیلئے بلایا ہے میں ہرگز یہاں محفوظ محسوس نہیں کر رہی اسکو ساتھ لیکر ہی جائوں گئ آپ بتادیں پروڈیوسر کر کہ اگر ملنا ہے تو میرے ہسبینڈ بھی میرے ساتھ آئیں گے۔۔
    رواں انگریزی کی تیز گام اگلی کو خاک پتھر سمجھ نہیں آیا۔ جھک جھک کر معزرت کرتے ہوئے بات دہرانے لگی
    آپ بنا اپائنٹمنٹ کے اندر نہیں جا سکتے۔۔
    دیکھو۔ فاطمہ اسکا ڈیسک ناک کرکے دوبارہ شروع ہونے کو تھی کہ اس نے نرمی سے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
    میں باہرانتظار کر لیتا ہوں تم جائو۔
    وہ کہہ کر رکا نہیں سیدھا انتظار کیلئے لگے صوفوں کی جانب بڑھ گیا۔
    وہ دانت پیستی پیر پٹختی اندر آئئ۔ تیسرے فلور پر لمبی راہداری پروڈیوسر سیکشن کے نام سے مخصوص تھئ جس کے دونوں اطراف کمرے تھے۔ جن کو پروڈیسرز روم کہا جاتا تھا۔ پروڈیوسرز روم کے باہر تختیاں لگی تھیں۔ اس نے اپنے پاس میسج میں لکھے نام کی مدد سے تختیاں پڑھنی شروع کی تین چار کمروں کے بعد مطلوبہ کمرے کا دروازہ کھولنے ہاتھ بڑھایا تبھی دروازہ کھلا تھا۔ پلستر لگا بازو احتیاط سے دروازہ کھولنے کے باوجود اسکی ناک پر دروازہ لگا تھا
    اوہ سوری۔ مانوس لہجہ فاطمہ نے ناک سہلاتے گھورا
    تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
    وہ انہوں نے بلایا تھا۔ وہ نجانے کیوں گڑبڑایا۔
    کیوں؟ بستی کرنے کیلئے کہ ہم نے دھوکا دیا انہیں۔ پتہ تھا مجھے۔ میں مزید بستی نہیں کرواسکتی بتا دینا ٹاٹا۔۔
    وہ کہتے فورا پلٹی
    نہیں ۔ ایسی بات نہیں۔
    اس نے فورا روکا۔
    انہوں نے ڈانٹنے کیلئے نہیں بلایا۔ اس نے کان کھجایا
    پھر کس لیئے بلایا ہے؟۔
    وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر جرح کے موڈ میں تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ملٹری میں ان لسٹ ہونے لگا ہوں۔
    وہ دونوں باہرپھولوں کے کنج کے پاس رکھے سنگئ بنچ پر بیٹھے تھے۔۔ خاموش سامنے چلتی سڑک پر نگاہ جمائے۔۔
    میں نئے ڈرامے میں ہیروئن آنے لگئ ہوں۔
    اس نے بھی جوابا بے تاثر انداز میں جواب دیا
    فاطمہ کا کیا کروں۔۔۔۔
    طلاق دے دو آٹھ نو مہینے تو ہو ہی گئے ہیں۔
    واعظہ کے کہنے پر اس نے ہونٹ بھئنچ لیئے۔
    اور گھر۔
    کہتے ہوئے اسکا لہجہ ڈولا تھا۔ واعظہ نے اسکی جانب نگاہ تک نہ کی سڑک کو گھورتی رہی
    گھر لوگوں سے ہوتا ہے۔ وہ مکان ہے۔۔ چاہو تو فاطمہ سے کہو وہیں رہے اسے بھی رہائش درکار تو ہے۔
    واعظہ کے مشورے پر اس نے گردن گھما کر واعظہ کو دیکھا
    تم ۔۔ تم کیا کروگی؟ تمہاری لیز بھی ختم ہو گئ ہے نا۔ تم کیوں نہیں فاطمہ کے ساتھ رہ لیتیں۔۔
    میرے پاس مکان ہے۔ اور میں اس مکان کے مکین کون ہوں گے طے کر چکی۔
    وہ سابقہ انداز میں بول رہی تھی۔
    تم کیوں نہیں گئیں ناروے؟
    اس نے اپنی دوستی کا فائدہ اٹھاتے سیدھا سوال کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم کیوں نہیں چلتیں ہمارے ساتھ ناروے۔۔
    اسکی ماں نے زچ ہو کر پوچھا۔ کمرے میں سامان بکھرا ہوا تھا۔ وہ کپڑے تہہ کر کرکے اٹیچی کیس میں لگا رہی تھیں۔
    وہ بھی مدد کروا رہی تھی مگر اسکی ماں کو اسکے ہاتھ سے تہہ شدہ جوڑا لیتے ہوئے بھئ غصہ آرہا تھا۔ چھین کر اٹیچی میں پٹخا۔
    آپ سب ناروے جا رہے ہیں کیوںکہ آپکا بیٹا بہو ناروے جارہے ہیں آپ کیوں نہیں رک جاتیں یہیں۔
    جوابا وہ بھی جیسے تنگ آکر بولی۔۔
    نا ناروے ہمارا ملک ہے نا کوریا۔ یہاں آ رہنے کا فیصلہ بھی تمہارے بھائی کی نوکری کی وجہ سے کیا تھا اب ناروے جانے کی وجہ بھی یہی ہے۔
    وہ دو ٹوک انداز میں بولیں۔
    میری نوکری بھی یہیں ہے میں ناروے جا کر کیا کروں گی؟
    میں بھئ نوکری چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتئ۔ آپ چاہیں تو بیٹی کے پاس رہ سکتی ہیں۔
    جوابا اس نے بھی صاف صاف کہا۔
    نوکری تم وہاں بھی کر سکتی ہو۔ کونسا کوئی بہت اہم کیریئر ہے تمہارا۔ پڑھائی ادھوری چھوڑ رکھی ہے نا زندگی میں کوئی ایم ہے ناگول پھر بھی پتہ نہیں کوریا سے کیا محبت ہوگئ ہے کہ اسکو چھوڑ کر نہیں جانا۔۔
    حقیقتا اگر وہ اسکا دماغ درست کر سکتیں تو یہیں دو تین اسکے کان کے نیچے لگا دینے تھے تھپڑ۔۔
    وہ جوابا کچھ نہ بولی آرام سے بیڈ پرسے تکیہ کھئنچ کر سر کے نیچے رکھا اور نیم دراز ہو گئ۔ چند لمحے وہ کھڑی اسے گھورتی رہیں۔۔
    اس چندی آنکھوں والے کی فکر ہے نا؟۔
    انہوں نے زچ ہو کر پوچھا۔
    خاندان کا حصہ بنا تو لیا ہے ہم نے اور کیا کریں اسکے لیئے۔ ؟؟؟
    اسے خاندان کا حصہ سمجھ بھئ لیں۔۔ کیونکہ وہ اب اس خاندان کا حصہ ہے۔۔
    اسکے انداز میں ضد تھی۔۔۔۔ انہوں نے مزید بحث میں پڑنا مناسب نہیں سمجھا
    پھر جیسے تمہاری مرضی۔ چاہے اس گھر میں رہو یا اسی فلیٹ کی نئی لیز بھر دو۔ مگر اب میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی۔۔ مجھے جتنا جو کہنا سمجھانا تھا سمجھا چکی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    تم اتنی ضدی کیوں ہو۔ سیہون نے پوچھا تھا۔ جواب اسکے اپنے پاس بھئ نہیں تھا۔تبھئ اسکا فون بج اٹھا۔۔
    واعظہ واعظہ کی بچی کہاں ہو تم۔۔
    چھوٹتے ہی وہ اتنی زور سے بولی کہ اسے فون کان سے دور کرنا پڑا۔
    باہر احاطے میں۔
    اسکے بتاتے ہی اس نے جھٹ فون بند کر دیاتھا۔
    اس نے کندھے اچکا کر فون واپس بیگ میں رکھ دیا۔
    فاطمہ دوڑتی ہوئی آئی اتنی تیز کہ انہیں بھی گزار گئ۔ اب آگے لب سڑک کھڑی دائیں بائیں دیکھتئ انہیں ڈھونڈ رہی تھی۔
    یہ تمہیں ڈھونڈ رہی ہے۔ سیہون نے پوچھا وہ اثبات میں سر ہلا کر اٹھ کھڑی ہوئئ۔ سیہون نے بھئ تقلید کی۔۔ اس نے پیچھے سے جا کر اسکا کندھا تھپتھپایا۔ وہ تیزی سے مڑی پھر اس سے لپٹ کر گول گول گھماڈالا اسے۔
    مجھے سیکنڈ فی میل لیڈ کی آفر ہوئی ہے۔ منہ مانگی سیلری کے ساتھ۔ آدھئ شوٹ کوریا میں آدھی مصر میں۔۔ اف مجھے مصر کی بھی سیر کرنے کو ملے گا اتنئ خوش ہوں میں اتنی خوش۔۔۔۔۔
    وہ خوشی کے مارے پاگل ہو رہی تھی۔ واعظہ کو چکر آگئے مگر اس نے نہیں چھوڑا۔ہنستے ہنستے اسکی آنکھیں منہ سب سرخ ہو چلا تھا۔
    اور مجھےبھی ولن کا کردار ملا ہے۔ انکو رواں ہنگل بولتا عربی چہرہ درکار تھا۔
    خاور سیہون کے ساتھ چلتا آیا خوشی خوشی بتا رہا تھا۔
    وہ فاطمہ کی طرح خوب اچھل کود نہیں کر رہا تھا مگر خوشی اسکے چہرے سے پنہاں تھئ۔
    سب کاسٹ فائنل ہوچکی ہے پتہ ہے اسی عبداللہ والے ڈرامے کا سیزن ٹو اپروو ہوا ہے اس میں پرانے زمانے کی کہانی ہوگی کہ عبداللہ اور لیلی آخر عربی ہوتے ہوئے کوریا میں جوزن ایرا میں کیا کر رہے تھے۔
    خاور چمکتے چہرے کے ساتھ بتا رہا تھا۔
    اور پتہ ہے اس کی کہانی میں ٹویسٹ کیا ہے۔ فاطمہ اسکا بازو ہلا کر بتا نے لگی۔
    ابھئ اسکرپٹ پڑھا ہے نہیں پورا ٹوئسٹ کیا پتہ ہے تمہیں۔
    خاور نے چھیڑا۔۔
    پڑھانہیں انہوں نے کہانئ تو بتائی ہے۔ فاطمہ واعظہ کو چھوڑ خاور سے بحث میں الجھ گئ۔
    تم نے بھی ہاں کر دی اس سیریل کیلئے۔
    سیہون نے خاو رسے بات کاٹ کرپوچھا
    ہاں تو اور کیا۔ اس شکل کے ساتھ اس ٹوٹے پھوٹے وجود کے ساتھ کبھی پاکستان میں ڈرامہ آفر نہ ہوتا مجھے اوپر سے بین القوامئ پراجیکٹ مل رہا ہے۔ ناشکری کرتامیں۔
    اتفاق کئ بات ہے شہزادہ لنگڑا تھا سو میں فٹ بیٹھا کردار میں۔
    وہ ہنس کر اپنا مزاق اڑا رہا تھا
    شہزادے کو گونگا بھی ہونا چاہیئے تھا تم کیا ہر وقت لنگڑا لنگڑا کہتے رہتے ہو خودکو۔
    فاطمہ اسکے خودترسی والے انداز پر چڑی۔
    قسم سے آج پہلی بار اپنے لنگڑے ہونے پر رشک آیا ہے۔
    وہ اس وقت واقعی خوش تھا انجوائے کر رہا تھا
    سیہون گہری سانس لیتا واعظہ کے ساتھ آکھڑا ہوا۔
    کہانی کیا ہے یہ تو بتائو
    سیہون نے کہا تو فاطمہ پر جوش سے انداز سے بتانے لگئ۔
    بھئ بات یہ ہے کہ کہانی ہےگوریو کے ایک بادشاہ کی جس نے مصری شہزادی سے شادی کر لی ۔ اب مصری شہزادی جب گوریو آئی تو اسکے بچے تو چونکہ گوریو کے بادشاہ کے تھے تو کورین نقوش کے بچے عربی میں بات کرتے ہیں کیونکہ انکی ماں مصری ہے اور مصری شہزادی کے بھائی کی شادی گوریو کے بادشاہ کی بہن سے ہوئی اب یہ بہن مصر میں جا کر جب رہی تو اسکے مصری نقوش کے بچے کوریائئ زبان میں بات کرتے ہیں۔ اب جو مصری بیوی کا بیٹا ہے۔
    فاطمہ خوب جوش و خروش سے بتا رہی تھی۔
    نہیں جی مصری بیوی کا بیٹا نہیں ہے وہ یہی تو کہانی ہے اصل۔
    خاو رنے ٹوکا۔ جوابا فاطمہ نے پورے زور سے جرح کی
    جی نہیں جی تم کورین آہجومہ کے جس کی شادی مصری شہزادے سے ہوگی اسکے بیٹے ہوگے
    نہیں بھئ مجھے تو ولن بننا ہے اصل میں تو وہ مصری بیوی کا بیٹا۔۔
    دونوں زور و شور سےبحث میں الجھے تھے۔۔
    تم کیا بنو گی؟
    سیہون نے اپر کی۔جیب میں ہاتھ ڈالتے گہری سانس لیکر اس سے پوچھا۔۔
    وہی مصرئ شہزادے کی بیٹی جسکا بھائئ ہوگا لنگڑا ولن۔۔
    واعظہ نے بھی سیہون کی طرح اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ گھسا لیئے۔
    سامنے فاطمہ اور خاور زور شور سے بحث کرنے کے بعد اب ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس رہے تھے جانے کس بات پر مگر جیسے دل سے ۔۔۔۔۔۔بہت خوش ہو کر اور یہ دونوں رشک سے انہیں دیکھتے سوچ رہے تھے۔
    ہم اب ایسے خوش کیوں نہیں ہوپاتے؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈیڑھ مہینے بعد۔
    اس نے رش میں بمشکل جگہ بناتے گھستے آواز لگائی
    ہٹو بچو رزلٹ دیکھنا ہے مجھے۔
    بے کار زحمت کی۔ کیونکہ کالے لمبے عبایا میں سر منہ سب ڈھکے عزہ کو دیکھتے ہی بھیڑ چھٹنے لگی تھی۔ الف اسکا ہاتھ تھامے ساتھ ساتھ دوڑ رہی تھی۔ نوٹس بورڈ پر اسکی اور عزہ دونوں کی ڈگریوں کی لسٹیں برابر لگی تھیں۔ پہلی سے درمیان اور آخر الف نے پوری لسٹ گزار دی نام ہی نہیں تھا اسکا۔
    یہ کیا ؟ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
    یہ کیا تمہارا نام کیوں ہے انجینئرنگ والی لسٹ میں۔ عزہ دوسری جانب پریشان تھئ۔ اس نے دوبارہ لسٹ میں نگاہ کی تو عزہ خان ۔نظر آیا۔ دونوں جزباتی ہو کر ایک دوسرے کی ڈگری کا رزلٹ دیکھ رہی تھئں۔
    اف عزہ ادھر ہے تمہاری لسٹ سوشل سائنسز میں میرا نام ڈھونڈو۔
    میرا نام ہے اس میں۔ عزہ لپک کر اسکی جانب آئئ۔
    ہاں اور میرا۔
    الف اب اپنے بائیں جانب لسٹ پر جھکی تھی۔
    ہاں تمہارا تو پڑھ لیا تھا میں نے ساتویں نمبر پر ہے۔
    اپنی لسٹ پر اپنے نام پر انگلی رکھے عزہ سیلفی بنا رہی تھی۔
    یہ تصویر لے کس کی رہی ہے آنکھیں نظر آرہی ہیں اسکی تو بس۔
    چندی آنکھوں والی نے بد مزہ ہو کر اپنی سہیلی کے کان میں سرگوشی کی۔
    سنو ایک میری اور میری سہیلی کی بھی تصویر لے دو
    ایسے کمنٹس کا بہترین بدلہ اور کیا ہو سکتا تھا۔جھٹ الف نے اپنا موبائل تھمایا اسی لڑکی کو او رعزہ کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
    پھر تاریخ گواہ ہے ان لڑکیوں کو پندرہ بیس منٹ تک پچیس تیس تصویریں کھینچنے کے بعد خلاصی مل سکی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الف ہنس ہنس کر اپنا کارنامہ سنا رہی تھی۔ ساتھ ساتھ پیکنگ بھی جاری تھی۔ الف اور عزہ نے کمرہ تلپھٹ کر رکھا تھا۔
    عشنا کمرے میں آئی تو ہر طرف دوپٹے کپڑے ہی بکھرے نظر آئے۔
    تم لوگ کیا دان کرنے لگے ہو۔یہ کپڑے۔
    اسے سچ مچ یہی خیال آیا تھا۔
    یہ دان کروں۔ عزہ نے اپنا گلابی دوپٹہ لہرایا۔ پورے دوپٹے میں جگہ جگہ چھید تھے۔ جیسے سوراخ کیئے گئے ہوں خاص طور پر۔۔۔
    میں خود تو سب دوپٹے سینت سینت کر رکھتی رہی یہ الف کی بچی میرے ہر دوپٹے کو اپنے کپڑوں سے میچ کرکے حجاب بناتئ رہی دیکھو پنین ٹھونک ٹھونک کے کیا حال کردیا ہےاسکا۔
    وہ اپنے پسندیدہ ترین دوپٹے کا یہ حشر دیکھ کر رودینے کو تھی
    ہاں ذرا سا دوپٹے میں چھید ہو گئے اتنا تپ رہی ہو اور جو میں اتنا کام آتی رہی ہوں اسکا کیا۔
    الف کھسیاہٹ چھپانے کو چڑھ دوڑی
    کونسا کام آئی ہو ؟ گنوانا ذرا۔
    عزہ حیرانئ سے گھورنے لگی۔
    وہ۔۔۔ الف نے سوچنا چاہا۔ مگر ظاہر ہے سچ مچ بھی جن کاموں میں کام آئی وہ ذہن سے سلیٹ ہو چکے تھے۔
    احسان کرکے جتنا کمینے لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ میں نہیں بتاتی۔ وہ سرعت سے کہہ کر رخ موڑ گئ
    اور دوسروں سے زبردستی خود پر احسان کروانے والے کیا ہوتے؟
    عزہ کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ جبھی بیڈ پر چھلانگ مار کر اسکی گردن دبوچی۔
    دونوں کی بے ہنگم چیخ و پکار۔۔ عشنا نے دو ایک بار دہرایا
    جلدی کر لیں واعظہ نے روم لاک کرنا ہے۔۔ مگر دونوں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھیں۔
    وہ میں بتانے آئی تھی کہ واعظہ کہہ رہی ہے دس منٹ میں وہ فلیٹ لاک کرکے چلی جائے گی چاہے آپ دونوں اس میں ہوں یا نہ ہوں۔
    عشنا انکی جنگ و جدل کے تھمنے کے انتظار میں کب تک کھڑی رہتی سو گلا پھاڑ کر اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
    اف۔۔۔آہستہ۔۔ عزہ کراہی۔۔
    کان سائیں سائیں کر نے لگا میرا۔۔الف نے کان سہلایا۔۔
    آرام سے سنتی کہاں ہیں آپ لوگ۔اب جلدی جلدی پیکنگ کر لیں۔
    وہ سابقہ انداز میں ہی چیخی۔
    دونوں نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے پھر اسکے کان پکڑنے دوڑیں۔۔ عشنا چوکنا تھئ۔ جبھئ بھاگ کھڑی ہوئی۔ منے لائونج میں واعظہ ویڈیو کال پر لگی تھئ اسکے ہی پیچھے آن چھپی۔ الف اور عزہ اسکے پیچھے۔ واعظہ گول۔گول گھوم گئ۔۔
    یہ میرا کارڈیگن ہے ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک۔گئ تھی میں۔۔
    عروج اپنی کلاس میں بیٹھئ چیخ ہی توپڑی۔
    اب یہ میرا ہو چکا۔ عروج بہن۔ عزہ نے اسٹائل مارا اور زو رسے کھلکھلائی۔
    کوئی نہیں الف کو دو یہ مجھے واپس کر دے گئ۔
    عروج شیر ہوئی عزہ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا جبھئ منہ چڑانے لگی۔
    یار جلدی کر لو میری ٹرین ہے دو گھنٹے میں تم دونوں کو ڈراپ کرکے مجھے جانا ہے۔
    واعظہ بے چاری منت کرنے والے انداز میں بولی۔
    جا رہے ہیں جا رہے ہیں۔
    الف نے تسلی دی اور ان دونوں کو۔کھینچ کھانچ کر کمرے میں لے گئ۔
    اچھا الف سے کہنا مجھے بتا دے کب آرہی ہے میں ملوں گی اس سے۔
    عروج نے کہا تو واعظہ کو ہنسی آگئ۔
    فی الحال تو وہ اور ذکریہ پاکستان جا رہے ہیں۔ دیکھو وہاں کیا حالات بنتے۔ واعظہ نے کہا تو وہ سر ہلانے لگئ
    ویسے الف سے مجھے توقع نہیں تھی کہ اتنا اسٹینڈ لے گی۔۔
    مجھے بھی ۔۔ واعظہ نے بھئ سرہلایا۔۔
    چلو پھر بات کرتے ہیں ابھئ میری کلاس شروع ہونے والی ہے بائے۔
    ٹیچرکو اندر آتے دیکھ کر اس نے جلدی سے فون بند کر دیا۔
    کال بند کرکے واعظہ کمرے میں آکر جھانکنے لگی۔ ان دونوں نے اٹیچی بند کر لیئے تھے اب عزہ عبایا کر رہی تھی۔
    شکر ہے کم از کم اب ڈورم میں کچھ ہو جائے میرے دوپٹے غائب نہیں ہوا کریں گے۔۔ ایک فائدہ تو ہوگا چندی آنکھوں والیوں کے ساتھ رہنے میں۔۔
    حجاب کرتی عزہ پھر الف کو چڑ ارہی تھی۔
    اور اگر ان میں سے کوئی فائیو منٹ کرافٹ دیکھتی ہوتئ ہوئی تو ؟
    عشنا کے اس بے موقع سوال پر تینوں نے حیرت سے دیکھا
    بھئی وہ فائیو منٹ کرافٹ والے اسکارف دوپٹے شال وغیرہ سے ڈریس ہی بنانا سکھا تے ہیں نا۔
    اس کی وضاحت پر الف کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
    نیٹ ہی بند کر دوں گئ موبائل ہی توڑ دوں گی اپنی رو م میٹس کے بلکہ اسی دوپٹے سے گلا گھونٹ دوں گئ۔۔
    عزہ چلبلا اٹھی۔
    یعنی اگلے سیزن میں ہم تم سے ملنے جیل آیا کریں گے۔
    الف نے چھیڑا۔۔عشنا بھی ساتھ دینے لگی۔
    واعظہ گہری سانس لیکر انکے اٹیچی کھینچنے لگی۔
    یونہی ہنستے باتیں کرتے وہ باہر نکلی تھیں۔ واعظہ فلیٹ پر طائرانہ نگاہ ڈالتی کمرے لاک کرتی باہر نکلی تو سامنے والے فلیٹ سے چندی آنکھوں والی اہجومہ کو نکلتے دیکھ کر
    تینوں رک کر اسے دیکھنے لگیں وہ گڑبڑا کرسر جھکا کر بولی
    آننیانگ ۔ جوابا ان تینوں نے مروتا بھئ آننیانگ نہیں کہا۔
    یار عجیب سا نہیں لگ رہا اس فلیٹ سے چندی آنکھوں والی کو نکلتے دیکھ کر۔۔
    عزہ نے کہا تھا مگروہ سب متفق تھیں۔ سو سر ہلاتی لفٹ کی جانب بڑھ گئیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اینچیون ائیرپورٹ پر جتنی مرتبہ دیسی کمچی کی لڑکیاں آئی ہیں کورین حکومت کو کورین ائیر پورٹ کی اتنی ترویج کرنے پر ہمارا وظیفہ باندھ دینا چاہیئے۔
    عزہ نے الف کو گلے لگاتے ہوئے ہنس کر کہا تھا۔ پھر اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
    الف اور ذکریہ آج پاکستان جا رہے تھے۔ سو واعظہ عشنا اور عزہ انہیں چھوڑنے ائیر پورٹ تک آئی تھیں۔
    اسکی بات پر ژیہانگ ہنسا۔ اور صرف وہ ہی ہنسا۔ جبھی ہنس کر کھسیا سا گیا۔
    الف رو رہی تھئ۔ عشنا عزہ کے باری باری گلے لگ کر۔
    اور تم۔
    واعظہ گلے لگنے آگے بڑھی تو وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر بولی۔
    گھورتے ہوئے۔ واعظہ حیرت سے دیکھنے لگی۔
    تم نہ ہوتیں تو جانے میں کیا کرلیتی اپنی زندگی کے ساتھ۔ تھینک یو واعظہ مجھے میری زندگی کے سب سے اہم فیصلے کرنے میں میری مدد کرنے کیلئے۔ سدا خوش رہو۔
    اور۔۔
    اسکی آگے کی تقریر واعظہ نے گلے لگ کر روک دی۔
    ائیر پورٹ پر اندر آتے تک وہ مڑ مڑ کر دیکھتی رہی تھی۔ یہاں تک کے ژیہانگ کو۔نرمی سے ٹوکنا پڑا
    پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتے آگے سے ٹھوکر نہ کھا لینا۔
    اس نے تو سادہ سے انداز میں کہا مگر الف رک سی گئ تھی۔
    بات میں دم تھا۔ جہاز میں بیٹھ کر سیٹ بیلٹ لگا کر بیٹھتے جانے اسے کیا خیال آیا کہ مڑ کر اس سے پوچھنے لگا۔۔
    واعظہ نے تمہاری کیا مدد کی تھی؟
    واعظہ نے۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئ۔
    واعظہ کا ہی فون تھا۔۔۔ دراصل۔۔ وہ پوری بات بتانے لگی کہ ژیہانگ چیخ پڑا
    کیا؟وہ جس فون کی بیٹری ختم ہوچکی تھی اور بار بار بات کٹتی رہی؟
    الف نے محظوظ انداز میں سر اثبات میں ہلایا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس دن۔۔۔۔۔
    فون بجے جا رہا تھا۔ اس نے مندی مندی آنکھیں کھولیں۔۔ ملگجے اندھیرے میں کچھ سجھائی نہ دیا بس تکیئے پر پڑا فون جل بجھ کر رہا تھا۔ انجان نمبر۔۔
    رات کے تیسرے پہر۔اگر کال آرہی تھی تو یقینا ڈیڈا ہوں گے۔ اسکا نمبر تو سوائے ڈیڈا کے بس ایک انسان کے پاس تھا۔
    اس سے رات کے تیسرے پہر اسکی یاد کیوں ستانے لگی۔ وہ دل کی خوش فہمی پر سر جھٹکتا موبائل اٹھانے لگا
    موبائل تکیے پر ہی پڑا تھا۔ انجان نمبر اس نے بے دلی سے ریسیو کرکے ہیلو کہا۔
    ہیلو ذکریہ۔۔۔ میں الف بول رہی ہوں۔ آواز تھی کہ منتر وہ اچھل کر اٹھ بیٹھا۔تبھی کال بند ہوگئ۔
    وہ چند لمحے اسکرین کو بے یقینی سے دیکھتا رہ گیا۔
    دھڑ دھڑ۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن جیسے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔
    خواب سا لگا تھا مگر۔ اس نے نےبے تابی سے کال۔لاگ کھول کر کال ملائی۔
    پہلے جاپانی پھر انگریزی میں اسے ایک ہی ریکارڈنگ سنائی دی آپکے مطلوبہ نمبر سے فی الوقت رابطہ ممکن نہیں۔
    وہ دم بخود سا فون ہاتھ میں لیئے بیٹھا تھا۔
    پانچ دس منٹ یا شائد پانچ دس صدیاں گزری تھیں جب اسکا فون دوبارہ بجا تھا۔
    ہیلو۔ اس نےبے تابئ سے فون اٹینڈ کیا
    ہیلو الف ۔۔ اسکی آواز شائد اتنی کم نکلی تھی کہ الف نے سنا نہیں وہ تیزی سے بستر سے اترا اور کھڑکی کی جانب بھاگا۔ کھڑکی کھول کر گیلری میں آگیا۔
    سگنل نہ رک رہے ہوں۔ کہیں کال نہ کٹ جائے۔۔
    ہیلو ذکریہ۔ کیسے ہو۔ الف نے جھجکتے ہوئے پوچھا تھا
    ٹھیک ہوں تم کیسی ہو۔
    اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے
    میں بھی۔ وہ کہہ کر چپ سی ہوگئ۔۔ چند لمحوں کا وقفہ آیا تھا ان کے بیچ۔
    الف۔۔
    ذکریہ۔
    دونوں اکٹھے بولے اور اکٹھے ہی چپ۔ہوگئے۔۔
    فون بھی بند ہو گیا۔۔
    وہ پاگلوں کی۔طرح کال ملانے لگا مگر بار بار ایک ریکارڈنگ۔۔
    تبھئ ایک اور نمبر سے کال آئی۔
    الف۔۔ تم سے آتے ہوئے ایک سوال کیا تھا میں نے۔۔۔تم مجھ س۔۔۔
    اسکی آواز میں ہلکی سی تھراہٹ سی آئی تھئ
    ہیلو ژیہانگ کیسے ہو بیٹا۔
    آگے ڈیڈا تھے۔۔
    ہیلو ڈیڈا ۔۔ آپ۔۔ اسکو سمجھ نہ آیا کیا بولے۔۔ دل تھا کہ پسلیاں توڑ کر باہر نکل آنے کو بےتاب تھا
    کیسے ہو بیٹا۔فلائٹ کنفرم ہو گئ تمہاری؟ مجھے وقت بتادو میں اپنے بیٹے سے ملنے کیلئے سب کام سے فارغ ہو کر ۔۔۔۔
    وہ آگے جانے کیا کہہ رہے تھے اس نے بے تابی سے بات کاٹ دی
    ڈیڈا بعد میں ۔۔ بعد میں بات کرتا ہوں۔ ابھئ مجھے بہت ضروری کام۔ہے۔۔۔
    اس نے کہہ کر جواب سنے بنا کال کاٹ دی۔
    اسکا فون پھر بج اٹھا تھا۔ دھڑ دھڑ کرتے دل سے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔
    ہیلو الف۔
    الف نے لمحہ بھرکا بھی توقف نہ کیا۔۔
    ہاں۔۔۔۔ ژیہانگ میں الف بول۔رہی ہوں۔۔ میں ۔۔۔
    آگے پھر فون کٹ چکا تھا۔۔
    واعظہ کی بچی فون کٹ گیا دوبارہ
    الف چیخی۔۔ واعظہ نے کان کھجایا۔۔
    بل ایکسیڈ ہوگیا ہوگا۔۔ تم نمبر لیکر اپنے فون سے کال کرلو۔۔
    مفت مشورہ۔۔ وہ کھا جانے والی نظروں سے اسکا بند فون لہرا رہی تھی۔
    چارجنگ پر لگا کر پہلے آن کیا فون نمبر لیا اب اپنے فون سے ڈائل کرنے لگی۔
    رات کا پہر اسکا بنا شرٹ جسم ٹھنڈی ہوا سے کپکپایا تھا۔ خنکی گرمی کا احساس اسے اب ہونا شروع ہوا تھا۔۔
    جان لیوا انتظار۔ فون ہاتھ میں لیئے گیلری میں کھڑا ژیہانگ جیسے سولی پر لٹکا تھا۔۔
    اس نے جلدی سے میسج ٹائپ کرکے بھیجنا چاہا تبھی دوبارہ کال آئی۔تھی۔ یہ۔نمبر۔ ڈیلیٹ کرنے کے باوجود ازبر تھا۔
    ہیلو الف۔
    ہیلو۔ ذکریہ۔ وہ اسکے بے تابانہ پکارنے پر جھجک کر بولی۔
    کیا۔۔ دوبارہ کہو۔۔
    اسے وہم ہوا شائد اسکی سماعتیں دھوکا دے گئیں۔ یہ رات کا خواب تو نہیں۔اس نے سر اٹھا کر آسمان پر نگاہ کی۔
    الف جوابا ہنسی تھی۔
    میں نے کچھ نہیں کہا۔۔
    ذکریہ۔۔ ذکریہ کہو میں سننا چاہتا ہوں۔۔
    اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔۔
    ذکریہ۔۔کیسے ہو۔۔ وہ جھجکتے ہوئے بولی۔
    اس چھوٹے سے لفظ۔ نے جیسے ٹوکیو کے نیلے آسمان کے سب ستارے اس پر برسا دیئے تھے۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔ شکر الحمد اللہ۔ اسکا دل سجدہ شکر بجا لایا۔
    کیا ہوا۔۔ ذکریہ تم سن رہے ہو؟ بولو۔
    ٹھیک ہوں بالکل ٹھیک۔۔ کتنے لمحوں کے توقف کے بعد وہ بولا تھا۔
    موبائل نے بیپ بیپ کی تھی۔ اس بار ژیہانگ کے فون کی بیٹری مک گئ تھئ۔
    الف نے حیرت سے اپنے موبائل کو دیکھا
    عزہ عشنا اور واعظہ اسکے سامنے بیٹھی منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھیں
    کال کٹ گئ۔۔
    کوئی بات نہیں تمہارا نمبر مل تو گیا نا اسے اب وہ کال بیک کر لے گا۔
    عزہ نے تسلی دینی چاہی۔
    مگر وہ۔۔۔ اسے اندیشے ستا رہے تھے۔
    کہیں ایسا تو نہیں وہ۔جان کے کال کاٹ رہا ہو۔
    الف لرزتئ آواز میں بولی۔واعظہ بھنا گئ۔
    بدگمان ہونا تو کوئی پاکستانی لڑکیوں سے سیکھے۔ دونوں دفعہ تمہارے ہاتھوں میں میرا موبائل بند ہوا ہے وہ کہاں سے کال کاٹ رہا ؟ اسے تمہیں ایوائڈ کرنا ہو تو کال ہی نا اٹھائے اب۔
    واعظہ نے جھاڑ پلائی تو اسکی عقل میں بھی کچھ کچھ بات گھسی۔
    وہ دوبارہ فون ملانے لگی۔ کال نہیں مل رہی تھی۔
    لگتا ہے اب اسکے موبائل کی بیٹری ختم ہو گئ ہے۔
    عشنا نے خیال ظاہر کیا۔ عزہ کو بھی تشویش ہوئی
    وہ چارجنگ پر لگا کر کال ملا لے گا اتنی عقل ہوگی اس میں بھئ۔
    واعظہ چڑی۔
    وہ بھی کال ملا رہا ہوگا تم۔بھی ملا رہی ہو جبھی نہیں مل رہی اب تھوڑا رکو۔۔۔
    عزہ نے کہا تو وہ موبائل گود میں رکھ کر بیٹھ کر انتظار کرنے لگی۔
    اب وہ کال ملارہا ہوگا۔
    اس نے سوچا۔۔
    جبکہ ان سے میلوں فاصلے پر۔ٹوکیو کے ہوٹل کی گیلری میں وہ موبال سینے سے لگائے وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔ جب گڑ گڑا کر دعا کرنے پر دعا قبولیت کا درجہ پا جائے تو سب سے پہلے شکر ادا کرنا چاہیے۔ وہ یہی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
    اب اسکے بعد اس نے فون اٹھا کر دیکھناتھا تو پتہ لگتا کہ اسکا موبائل ہی بند ہو چکا ہے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنا اٹیچئ گھسیٹ کروہ ہانپ ہانپ۔گئ تھی۔ اسکے وہیل چل۔کیوں نہیں رہے۔ یہ خیال اسے کمرے کے بیچوں بیچ لا کھڑا کرنے کے بعد آیا تھا۔ سو جھک کر جب اٹیچی کو۔دیکھا تو اسکے وہیل کا لاک ہی نہیں ہٹا ہوا تھا۔ سر پر۔ہاتھ مار کر رہ۔گئ۔ اٹیچی کو چھوڑ کر طائرانہ نظر کمرے پر ڈالی۔ دو بیڈ کا ڈورم تھا۔ صاف ستھرا ۔ جیسے کوئی کبھی رہا ہی نہ ہو۔ سامان ہی نہ تھا۔ بس چادر تکیئے کمبل تہہ ہوئے وے اور دو عد د میزیں ۔
    گہری سانس لیکر مڑی تو دل اچھل کر۔حلق میں آگیا۔
    ہائے اللہ۔
    سامنے اٹیچی پکڑے عشنا کھڑی تھی اسکے یوں ڈر جانے پر گڑبڑا اٹھئ۔
    تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ عزہ حیرانی سے بولی۔
    وہ مجھے یہی ڈورم الاٹ ہوا ہے ۔۔ آپکو بھی۔
    اس نے۔مصنوعی حیران ہونا چاہا مگر عزہ کے گھورنے پر کھسیائئ۔۔
    آپکے پیچھے پیچھے ہی تو آرہی تھی آواز بھی دی آپ نے سنا نہیں۔ اسکا وہیل بھی گھس گیا آپکو یہ بھی بتایا تھا کہ اسکا لاک کھول لیں۔
    وہ اب جھک کر اسکا اٹیچی ٹٹول کر۔دیکھ رہی تھی۔ عزہ چپ چاپ کھڑی تھئ
    آپکو اچھا نہیں لگا میرا اس روم میں آنا۔
    وہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھتی سیدھی ہوئی
    عزہ نے نفی میں سر ہلایا۔ اس سے قبل کے عشنا اور مایوس ہوجاتئ اس سے لپٹ کر گول چکر کھا گئ
    صرف اچھا نہیں بہت بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اف میں تو سوچ کے پریشان تھئ کیسی روم میٹس ہوں گئ نان مسلم۔کے ساتھ رہنا آسان تھوڑی ہے۔ اف شکر ہے تم ہو۔ اب سکون سے رہ سکوں گی میں پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔
    عزہ اس سے الگ ہو کر اب اپنا اسکارف کھولنے لگی۔ ذہن سے بوجھ سرکا تھا اور عشنا کے ذہن پر بوجھ پڑ گیا تھا
    عزہ ہنسی۔۔
    نان مسلم کے ساتھ رہنے میں آپکو مسلئہ ہے ؟
    عشنا نے سنجیدگئ سے پوچھا۔۔
    ہاں تو اور کیا نماز روزہ کرنا آسان نہیں رہتا میں نماز کی وجہ سے پاکیزگی صفائی پر۔کمپرومائز نہیں کر سکتی سو شکر ہے خدا کا عشنا کو میرا روم میٹ بنا دیا۔
    عزہ صاف گوئی سے بولی۔
    عشنا کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔ لمحہ تھمی۔۔پھر سنجیدہ سے انداز میں بولی۔۔
    میرا نام عشنا نہیں روجا ہے روجا جھانگیانی۔ اور میں ہندو ہوں۔۔۔۔
    اسکی۔بات پر عزہ جہاں کی۔تہاں پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی رہ گئ تھی اسے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ملٹری ان لسٹمنٹ میں ان جیسے بہت سے جوڑے الوداع کرنے آئے ہوئے تھے۔
    کوئی اپنے شوہر سے گلے لگ کر رو رہی تھی۔ کوئی اپنی بیوی کو تسلیاں دے رہا تھا۔ کچھ اپنے والدین کے ساتھ آئے تھے مگر ان سب کی دلچسپی کا مرکز وہ جوڑا تھا۔ گھنگھریالے بالوں والی بڑی بڑی آنکھوں والی شہد رنگت لڑکی اور چندی آنکھوں والا وہ گورا لمبا لڑکا۔لڑکی رواں انگریزی میں بین کر رہی تھی۔
    میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گئ۔ مجھے اتنی عادت ہوگئ ہے میکسما کافی کی۔۔ کون بنا کے دے گا مجھے۔ ایکسپریسو تو ذہرلگتی ہے مجھے۔ کیا سوجھی تھی ملٹری ان لسٹ کروانے کی۔ میرے بارے میں بھئ نا سوچا کیا کروں گی میں تمہارے بعد۔
    آنکھیں ٹشو سے پونچھتی ناک رگڑتئ فاطمہ ۔۔ سیہون اسے دیکھ کر مسکراہٹ دبا رہا تھا جبکہ آس پاس کھڑے لوگ رشک اور دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔
    مجھے اکیلے گھر میں ڈر لگتا ہے۔ کتنی بار بتایا تھا تمہیں۔
    سوں سوں۔ شاکی۔نظریں
    یہ بولی نا اصل بات ۔اکیلے گھر میں ڈر لگتا ہے۔ بس اس لیئے یہ سب ڈرامہ چل رہا۔
    سیہون نے جان بوجھ کے چھیڑا وہ۔حسب توقع چڑ گئ۔
    ڈرامہ لگ رہا؟ جان نکلی پڑی ہے میری۔ اتنا بڑا گھر ہے۔ دوسرے کمرے میں تو جب تم نائٹ شفٹ پر ہوتے تھے تب بھی آوازیں آتی رہتئ تھیں میں تو جبھی ڈر کر واعظہ کے پاس بھاگ جاتی تھئ۔
    ہاں۔ وہ چڑ گیا۔ کوریا کے بھوتوں کو اور تو کوئی کام نہیں فاطمہ کو ڈرانے آئیں گے۔ کوئی بھوت ووت نہیں ہوتا یہاں۔
    تم آرام سے رہو وہاں اور شوٹنگز پر دھیان دو۔ یہ بہت اچھا موقع ملا ہے تمہیں گنوا مت دینا کیئریر بن جائے گا۔
    وہ لگے ہاتھوں سمجھانے بھی لگ گیا۔ اسے اسکی متلون مزاجی سے یہی ڈر لگا رہتا تھا کہ یہ کام۔بھی مستقل نہیں کرے گئ۔
    تین کس سینز ہیں اس ڈرامے میں میں نے تو منع کردیا میں نہیں کر سکتی۔
    اس نے صاف کندھے اچکائے
    کیا؟ ۔ سیہون چیخ ہی پڑا۔
    تم پھر جاب لیس ہو؟
    اس کے چلانے پر اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔
    لیکن تمہارا شکریہ ہوم لیس نہیں ہوں۔۔۔
    فاطمہ نے مسکراہٹ دبائئ۔
    دل تو کر رہا کھڑے کھڑے طلاق دے دوں ہوم لیس بھی ہو جائو تم۔
    اس نے ہنگل میں دانت کچکائے۔ فاطمہ کے تو ظاہر ہے سر پر سے گزرا مگر ساتھ سے گزرتے ان آہجوشی نے چونک کر دیکھا پھر تسلی دینے والے انداز میں کندھا تھپکا۔
    شانت رہو بیٹا۔ وہ بھی تمہارے جانے سے گھبرا رہی ہوگئ۔
    انکے اس مفت کے گیان پر وہ انہیں دیکھ کر رہ گیا
    تم فکر نہ کرو۔ تین مہینے کا راشن ہے گھر میں میں تب تک کوئی نوکری ڈھونڈ لوں گی تم دل جمعی سے تربیت مکمل کرو۔ اللہ حامی و ناصر ہو تمہارا
    اسکے کندھے کو تھپتپا کر اس نے شرارتی سے انداز میں تسلی و تشفی دئ۔ وہ گھورتا ہوا اپنا بیگ اٹھانے لگا۔ مائکرو فون پر ان تمام نئے ان لسٹ ہونے والے نوجوانوں کو ہال میں جمع ہونے کی ہدایت نشر ہورہی تھی۔
    واعظہ نہیں آئی تم سے ملنے۔ اسکے تنے تنے تاثرات ذایل کرنے کو۔اس نے بات بدلی۔
    واعظہ کل مل کر تو گئ ہے اسے آج گائوں جانا تھا۔۔
    اس نے رسان سے بتایا۔ بس اتنا ہی۔غصہ ہوتا تھا اسکا اب سب بھول کر آرام سے بات کر رہا تھا۔
    فاطمہ مسکرا دی۔ اس غیر مذہب کا انسان کتنا اچھا انسان تھا کوئی اس سے پوچھتا۔ دوستی نبھانے والا خیال رکھنے والا متحمل مزاج انسان۔ مزہب ہی تو سب کچھ نہیں ہوتااچھا انسان ہونا بھی تو اہم ہے اور یقینا سیہون بے حد اچھا انسان تھا۔ جس سے مل کر اسے خوشی ہوئی تھی۔
    سیہون نے اندرجاتے جاتے مڑ کر دیکھا تو اس نے زور و شور سے ہاتھ ہلا دیاجوابا وہ بھی مسکرا کر ہاتھ ہلاتا اندر کی۔جانب بڑھ گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دھیان سے لڑکی۔۔۔
    وہ اپنے دھیان میں کانوں میں ہینڈز فری لگائے چلتی جا رہی تھی جب اچانک کسی نے اسکا بازو کھینچ کر ایک جانب کیا۔ وہ بے دھیانی میں سڑک پار کرنے والی تھی جبکہ ابھی سگنل گرین ہی تھا۔
    تھینک یو۔ اس نے جھک کر شکریہ ادا کیا۔ وہ ایک سیاہ فام لڑکی تھئ جو اسکے جھک کر شکریہ ادا کرنے پر ہنس دی
    کورین ہو؟
    دے۔ عروج کھسیائی عادت ہی کوریا کی ایسی پڑی تھی۔
    تم نے آپریشن کرایا ہے آنکھیں کافی بڑی بڑی ہیں تمہاری۔
    وہ بےتکلفی سے پوچھ رہی تھی۔ عروج نے گہری سانس لی۔۔
    ماسک پہنے ہونے کی وجہ سے بس اسکی آنکھیں ہی دکھائی دے رہی تھیں۔
    میں کے ڈرامہ کی فین ہوں کئی سالوں سے بس کے ڈرامہ ہی دیکھتی ہوں۔
    وہ لمحوں میں بےتکلف ہوئی۔
    میں نے کورین بھی سیکھنی شروع کی ہے۔ میرا نام سیرا ہے۔ اور تم
    وہ اب کورین میں بات کرنے لگی تھی۔
    عروج۔ اسکو اندازہ ہو رہا تھا کہ سیرا کو جواب میں ذیادہ دلچسپی نہیں ہے۔وہ پورا راستہ اسکے ساتھ بولتی آئی۔وہ فزیکل ایجوکیشن کی تھی سو اسکا ڈیپارٹمنٹ مختلف تھا وہ اسکے ساتھ کیمپس تک بولتی آئی
    یونیورسٹی سے ملحق ہی اسپتال تھا جہاں اسکا آج اسکا پریکٹیکل ڈے تھا۔۔۔پہلا دن پریکٹیکل ڈے کا وہ گھبرائی ہوئی بھئ تھی اور پرجوش بھئ۔ اپنی حاضری لگوا کر اپنے گروپ کے دیگر طلباء کے ساتھ اس بڑے سے ہال روم میں چلی آئی۔ سامنے بڑا سا روسٹروم تھا پراجیکٹر تھا اور قطار سے چار پانچ نشستیں تھیں جن کے آگے میز پر لیپ ٹاپ کھلے پڑے تھے۔یقینا یہاں ڈاکٹرز کی ٹیم آکر بیٹھتی۔ سب پیچھے پیچھے جا کر بیٹھ رہے تھے وہ سب سے آگے والی نشست پر آکر بیٹھی۔بیٹھتے ہی سب سے پہلا کام اس نے سیلفی لینے کا ہی کیا تھا۔
    اس نے بلیک لمبا سا کوٹ مفلر پہنا تھا گلے میں لاکٹ ڈالے اسے کھول کر۔دکھاتے ہوئے سیلفی لی تھی۔ پیچھے اسکا کیمپس۔نظر آرہا۔تھا۔ تصویر کا مرکز لاکٹ تھا۔ ۔ لاکٹ پر باہر کی۔جانب نگ تھا اور اسے کھولو تو اندر پوری آیت الکرسی تھی۔
    اللہ نے آج مجھے بچایا۔ صبح آتے ہوئے ایکسڈنٹ ہوتے ہوتے بچا میرا۔ تھینکس ٹو سئیونگ رو اتنا پیارا تعویز مجھے دیا۔۔۔
    یقینا اللہ کے کلام کی برکت نے مجھے محفوظ رکھا۔۔
    اس نے گروپ میں میسج کیا تھا۔ یہی لکھ کر۔ کسی نے نہیں دیکھا تھا ابھئ۔ شائد سو رہی ہوں گی۔۔ اس نے دوبارہ اپنی تصویر کھول لی۔۔ عجیب سا احساس ہوا۔
    اس نے چونک کر تصویرکو دیکھا ۔۔پھر ذوم کی۔ بیک گرائونڈ میں نیلا اپر پہنے وہ لڑکا اس سے کافی فاصلے پر پیچھے کی نشست پر بیٹھا تھا۔
    عروج کو ہی دیکھتا۔ چندی آنکھوں والا۔ سیونگ رو۔
    اس نے اپنا لاکٹ مٹھی میں دبا لیا۔
    میری مدر مسلم تھیں۔ یہ میری ماں کا لاکٹ ہے۔۔۔ مجھے لگا تھا۔۔۔
    اسکے کان میں سیونگ رو کے الفاظ گونجے۔
    تو یہ اتفاق بھی ہونا تھا۔۔
    اس نے گہری سانس لی۔۔ سامنے ڈاکٹرز کی ٹیم آ رہی تھی انکا لیکچر اس وقت اسکے لیئے ذیادہ اہم تھا سو سنبھل کر سیدھی ہو۔کر بیٹھ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بوسن میں دوپہر ہو رہی تھی جب وہ اس مشہور مندر میں پہنچی تھی۔ گیروا لباس میں ملبوس بہت سے گنجے بچے اس وقت مندر کے صحن میں آسن مارے بیٹھے گیان میں مگن تھے۔
    وہ۔مندر کے احترام میں جوتے اتار کر ایک جانب رکھ کر سیڑھیاں چڑھ آئی۔ سامنے مندر تھا چینی اور کوریائی ملی جلی ثقافت کا امتزاج ۔ شہتیروں والی چھت لکڑی کی رنگ برنگی کھپچیوں سے جسکی آرائش ہوئی تھی۔ وہی مخصوص بیضوی نوکدارچھتیں۔ ایک جانب چڑھاوئوں کیلئے جگہ بنی ہوئی تھی۔ اس نے اپنے بیگ سے وہ باکس نکال کر احتیاط سے وہیں رکھ دیا۔ اندر مندر میں کچھ بدھ مزہب کے پیروکار بڑے سے بدھا کے بت کے آگے سجدے میں جھکے تھے۔ آتی سردیوں کی خشک۔ہوا۔۔۔ کچھ ہی دنوں میں برفباری کا آغاز ہوجانا تھا۔
    اس نے دور سے ہی دیکھاپھر پلٹ کر وہیں سیڑھیوں کے پاس بیٹھ گئ۔ چلنے سے کندھے پر لٹکے بیگ کا بوجھ دگنا لگ رہا تھا
    اس نے اتار کر ایک جانب رکھ دیا۔
    تبھی کوئی پیچھے سے آکر اسکے کندھے سے جھول گیا۔
    نونا۔۔۔۔ کتنے دنوں بعد آئی آپ۔ مجھے بھولتی جا رہی ہیں نا آپ۔ وہ اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکائے شکوہ کر رہا تھا۔
    وہ مسکرا دی۔ مگر بولی کچھ نہیں۔ ہے جن خفا خفا سی شکل بنائے گھوم کے اسکے برابر آن بیٹھا۔
    سرخ لباس۔ سر کے بال بس نہیں منڈوائے تھے ورنہ مخصوص۔ وہ مکمل بدھ مت کے پیروکاروں کے حلیئے میں تھا۔
    ہوگیا تمہارا گیان؟ ۔۔ اس نے پوچھا جوابا اس نے پورے جوش سے گردن ہلائی
    ہاں اور آج تو میں مکمل یکسو ہوگیا تھا۔بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں۔دل ایکدم صاف ہوگیا ہے کوئی غصہ نہیں رہا اس میں۔۔
    وہ جزب کے عالم میں بول رہا تھا۔
    غصہ بھی ہونا چاہیئے ہم انسان ہیں اپنی فطری جبلت کو دبا کر ہمیں صرف نقصان ہوتا ہے۔ سو تمہارے آج کے غصے کا کوٹہ میں پورا کر دیتی ہوں۔
    اطمینان سے کہتے اس نے بیگ سے ایک پراسپیکٹس نکال کر اسکے ہاتھ میں تھمایا۔ ہےجن کے تاثرات ایکدم بدلے تھے۔ کچھ خفگی سے اسے گھورنے لگا۔
    میں دیکھنا بیچ میں پھر ڈگرئ چھوڑ دوں گا۔
    فارم فل کرو۔
    اس نے مکھی اڑائئ۔۔
    وہ دانت پیستا فارم کھولنے لگا۔ کوئی اور اسکے پاس آپشن ہی نہیں تھا۔
    نام لکھتے لکھتے اسکا ہاتھ رکا۔۔۔
    ذیدی ہےجن۔ اس نے گہری سانس لے کر لکھا۔
    گارجین واعظہ ذیدی۔
    سبجیکٹس ۔۔۔ وہ روانی سے فارم فل کر رہا تھا۔
    اپنا بیگ اٹھا لائو ہم آج ہی چلیں گے سیول۔
    اس نے اگلا حکم صادر کیا۔
    میں مونک ہی بنوں گا۔ جیسے ہی بالغ ہوا نا واپس یہیں آکر دھونی رما کے بیٹھوں گا۔
    وہ ضدی انداز میں بولا۔
    مگر تب تک میں تین سال ہیں ان تین سالوں تک میں قانونی طور پر تمہاری بڑی بہن اور سرپرست ہوں تم میری مرضی کے بغیر یہاں پر بھی نہیں مار سکتے۔
    اسکے انداز میں رعب تھا۔
    سیول میں رہوں گا کہاں۔ وہ جیسے عاجز ہو کر پوچھ رہا تھا
    میرے پاس میرے گھر۔
    اسکا جواب فوری اور مکمل تھا۔ وہ مجبور ہو کر فارم اسکی جانب بڑھاتے اٹھ کھڑا ہوا۔
    میں آپکے کہنے پر اپنے تکلیف دہ ماضی کو بھلا کر آپکو اپنا سب کچھ مان کر ساتھ چل رہا ہوں مگر کیا آپ کو میرے ماضی کی وجہ سے کسی مسلئے کا سامنا نہیں ہوگا ؟ مجھے بار بار سمجھانے کی بجائے ایک بار آپ خود بھی سوچ لیں کہ۔۔۔
    جلدی کرو۔ دو گھنٹے میں سورج ڈوبنے لگے لگا میں اندھیرے میں ڈرائیو کرتے سمتوں کا تعین درست نہیں کر پاتی۔
    وہ اسکو بریک لگانے کیلئے نری بکواس کر رہی تھی۔
    اچھا ہے بھول جائیں سیول کا رستہ ہم یہیں بھٹکتے رہ جائیں۔ جا رہا ہوں بیگ لانے۔۔ وہ پیر پٹختا واپس جا رہا تھا۔اس نے منہ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی۔۔۔
    وہ سچ مچ تن فن کرتا جا رہا تھا۔
    اس لڑکے میں ایسا کیا ہے جو تم سب اس سے اتنی بری طرح محبت میں مبتلا ہوگئیں۔
    اسکا دان کیا ہوا باکس نگاہوں کے سامنے لہرایا اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
    جونگ وون دلکشی سےمسکرادیا
    عزہ اور طوبئ دونوں اسکے اسکول پہنچی تھیں تفصیلات جاننے کہ یہ کہاں ہے کدھر گیا ۔۔
    واعظہ نے ترچھی نظر ڈالی اس پروہ اسکی آنکھوں میں لکھا سوال پڑھ چکا تھا جبھی تسلی دینے والے انداز میں بولا۔
    ۔ شکر ہے میں نے پکا کام کیا تھا۔ ویسے تمہیں اسکا نام بھی بدلوا لینا چاہیئے تھا آسانی رہتی۔
    اسکی ان تمام باتوں کے جواب میں اس نے سامنے نظر جما لی تھی۔ نیلے پہاڑوں پر سنہری دھوپ کیا خوبصورت منظر تھا۔ چاروں اطراف پہاڑوں کے بیچ یہ مندر کسی چراغ کی طرح روشن نظر آتا تھا۔ اس نے لمحہ بھر اسکے ردعمل کا انتظار کیا پھر ٹھنڈی سانس بھر کر باکس اسکے برابر رکھتا لیکر۔ آن بیٹھا۔
    اسکے سوتیلے باپ کے کیس کا آج فیصلہ ہوگیا ہے۔ عمر قید حالانکہ سزائے موت ہونی چاہیئے تھی۔ خیر بھاری جرمانہ اتناہے کہ ہے جن آرام سے عیش بھری زندگی گزار سکتا ہے۔
    ہے جن ان پیسوں کو کبھی استعمال نہیں کرے گا۔۔وہ اسکے بچپن و معصومیت کے قتل کا خراج ہے۔۔ واعظہ نے کہا تو وہ متفق انداز میں سر ہلانے لگا۔
    جانے کس قسم کا انسان تھا۔ معصوم بچے کے ساتھ کیا کیا نہ کیا۔ اسکو فحش مواد میں استعمال کیا اس سے جسم فروشی کروائی اب پیسہ اسکےپاس بہت ہے مگر ساری زندگی جیل میں سڑے گا کہہ سکی۔۔ اس نے گالی دی۔۔
    خیر اسکی ویڈیوز اسکے سب ریکارڈز ضائع کروادیئے ہیں میں نے۔ اسی لیئے کہہ رہا تھا کہ اسکا نام بھی بدل جائے تو ماضئ کی پرچھائیں کبھی اسکا تعاقب نہیں کرےگی۔ اسکی بات سے واعظہ متفق نہ تھئ۔اسکی جانب مڑ کر آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
    میں چاہتی ہوں وہ خود سے اپنی شناخت سے بھاگے مت۔ ہےجن کے ساتھ غلط ہوا تھا ہےجن غلط نہیں تھا۔ اسے نیانام اسلیئے نہیں دیا کہ کوئی پرانا واقف کار ملے تو وہ نا نظریں چرائیں نا بھاگے بلکہ اعتماد سے اپنا تعارف کرائے یہ خواہش ہے میری۔۔۔
    بہت محبت کرنے لگی ہو اس سے آئیم جیلس۔ اس نے تاسف سے کہتے دونوں بازو لمبے کرکے پیچھے زمین پر جما دیئے اور سر اونچا کرکے اوپر بادلوں بھرا آسمان دیکھنے لگا۔ چھن چھن کر آتی دھوپ چہرے پر سیدھی پڑ رہی تھی۔
    اسکی بات پر واعظہ نے گھور کر دیکھا پھر ساتھ پڑا باکس اٹھا کر دیکھنے لگی۔ اند ر وہی ہیئر پن آب و تاب سے جگمگا رہی تھی۔
    ٹریکر لگا ہے اس میں کیا اسکو جہاں میں چھوڑ کر آئوں تم پہنچ جاتے۔ وہ چڑے ہوئے انداز میں کہہ رہی تھی جونگ وون قہقہہ لگا کر ہنسا پھر محظوظ انداز میں بولا
    یہ خیال سچ مچ مجھے نہیں آیا۔ کاش آجاتا۔ ۔محترمہ یونیک آئیٹم ہے اسکو جہاں بھی بیچنے جائے گا کوئی مجھے کال آئے گی اس باکس پر ٹریکر کوڈ ہےجو میری خریداری رسید پر بھی چسپاں ہے۔ اور۔۔۔
    معلوم ہےیہ مہنگی چیز ہے۔ وہ بات کاٹ گئ۔
    جبھی آہجومہ کے علاج کیلئے انکے سرہانے رکھ آئی تھی۔ وہ اور آئٹم سمجھیں عروج نے دیا ہے اسی کو واپس کردیا۔
    علاج کروالیتیں شائد بچ جاتیں۔۔
    اسٹیج تھری کینسر تھا بچنا مشکل ہی تھا اور انکا سارا خرچہ این جی او نے اٹھا لیا تھا میری تمہیں ذیادہ سپر وومن بننے کئ ضرورت نہیں۔ اتنا خلوص سے دیا تحفہ جہاں مرضی آتی آگے دے دیتی ہو۔ خبردار جو اب اسکو کسی کو دینے کا سوچا بھی۔
    وہ بھڑک کر بولا ۔ اس نے سر جھٹکا جیسے اسکی جوتی کو بھی پروا نہیں ۔ پھر باکس سے پن نکال کر گود میں رکھی۔ اپنے کندھوں سے نیچے تک آتے بال لپیٹ کر جوڑا بنایا اور پن لگا لی۔ ہلکی ہلکی ہوا سے جو بال اسکے منہ پر آن بکھر رہے تھے اب شرافت سے جوڑے میں قید ہوگئے تھے۔
    اگلا ٹاسک کیا ہے تمہارا۔۔۔
    اس نے برسبیل تذکرہ پوچھا تھا۔۔۔ جوابا اس نے مڑ کر دیکھا بیگ اٹھائے ہے جن انکی طرف ہی آرہا تھا۔ دھپ دھپ کرتا منہ پھلائے اب موسم کے لحاظ سے موٹا سا اپر بھی پہن لیا تھا
    اسکو مونک نہیں بننے دینا۔دنیا کو ترک کردینے کی خواہش دنیا دیکھنے سے پہلے پال بیٹھا ہےسو اسکو دنیا دکھانی ہے۔
    اور تم؟تم کیا کر رہے ہو آجکل۔
    وہ بات بدلتے ہوئے اب اسکے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ اس کے مڑ کر دیکھنے پر جونگ وون بھی گردن گھما کر دیکھنے لگا تھا۔اب اسکے سوال پر رخ موڑ کر سامنے پہاڑوں پر نظر جما کر دھیرے سے بولا
    میں سونے کا بننے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے چونک کر اسکی شکل دیکھی ۔ وہ مکمل سنجیدگی سے سامنے پہاڑوں کو تک رہا تھا۔۔
    اسکی بات پر وہ چند لمحے اسکی شکل دیکھتی رہی پھرمسکرا کرسر اثبات میں ہلا کرخود بھی سامنے کے منظر پر نگاہیں جما دیں۔ کتنے ہی پل یونہی خاموش سے گزرتے چلے گئے مگرہر گزرتے پل کے ساتھ اسکی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئ تھی اورپہاڑوں سے نگاہ ہٹا کر اسکو تکتے جونگ وون کی بھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 63

    قسط 63
    غضب کا جذباتئ منظر تھا۔ طوبی اور دلاور اکٹھے کمرے میں داخل ہوئے تھے جب آہٹ پر دونوں نے نگاہ اٹھا کر دروازے کو دیکھا تھا۔ دلاور بے تابئ سے اسکے پاس آئے تھے۔۔ فاطمہ ایک طرف ہو گئ۔
    وہ بستر پر چت لیٹا تھا۔ اسکی پسلی میں ہیئر لائن فریکچر تھا اور بائیں بازو میں پسلتر سو وہ ہلنے جلنے سے عاری تھا۔۔ ورنہ شائد ابھی بھی بھاگ کھڑا ہوتا۔ بھائی کی آنسوئوں میں ڈبڈبائی آنکھیں وہ جوابا آنکھیں بند کرگیا۔
    اتنے ناراض ہو کہ اب میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔
    دلاور نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں شکوہ کیا تھا اس نے تڑپ کر آنکھیں کھول دیں
    نہ۔۔ نہیں۔بھا۔۔ اس نے دائیں جانب زور دے کر اٹھنا چاہا مگر سینے میں اٹھتی ٹیس کی وجہ سے اٹھ بھئ نا سکا۔ دلاور نے آگے بڑھ کر اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا
    بھائئ سے کوئی ایسے ناراض ہوتا ہے بھلا۔
    وہ محبت سے چور انداز میں پوچھ رہے تھے۔
    بھیا۔ وہ رو پڑا تھا۔ کتنے لمحے وہ اسکی پیشانی پر ہونٹ لگائے روئے چلے گئے۔
    طوبی نے دھیرے سے آکر انکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک کر سیدھے ہوئے۔
    بہت پچھتائے ہیں تم پر ہاتھ اٹھا کر۔ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا انہوں نے تمہیں۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کے روتے پچھتاتے رہے ہیں۔۔
    طوبی بتا رہی تھئ۔ اس نے حیران ہو کر بھائی کی شکل دیکھی۔ وہ مسکرا دیئے
    عذاب ہوگیا میٹرک۔۔۔۔گھر سے بھاگ لیئے تمہاری یہ حالت نہ ہوتی تو میں نے ڈنڈے سے پٹائی کرنی تھئ پہلے تمہاری۔ اماں بہنوں کسی کا نا سوچا تم نےخود کو گم کر لیا۔ جانتے ہو اماں کی کیا حالت۔
    طوبئ مخصوص انداز میں ڈانٹے جا رہی تھئ کہ دلاور نے اسکا ہاتھ تھام کر جیسے اسکو کچھ بتانے سے روکا۔
    کیا ہوا اماں ٹھیک ہیں؟
    حسب توقع وہ پریشان ہو گیا۔۔
    ٹھیک ہیں سب ٹھیک۔ تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ اب تم ہمارے ساتھ پاکستان چلو سب سے خود ملو۔ تم نے میرے ساتھ ان سب کو بھئ سزا دی ہے یوں ہم سے دور ہو کر جانتے ہو مانو کتنا یاد کرتی ہے تمہیں۔ اس نے تو اپنے بیٹے کا نام بھی خاور رکھا ہے۔
    دلاو رمحظوظ مسکراہٹ سے بتا رہے تھے
    مانو کی شادی ہوگئ۔ ؟ اسکے ذہن میں تو دو چوٹیاں کرکے اسکول جاتی منی سی مانو تھی اتنا وقت گزر گیا۔۔۔ اسکے دل میں ہوک سی اٹھئ۔
    ہاں۔ طوبی مسکرا دی۔
    زینت بھئ بڑی ہوگئ ہوگئ۔
    خاور کے انداز میں حسرت سی تھی۔ دلاور نے پیار سے اسکا ہاتھ تھپکا۔۔
    بس جلدی سے ٹھیک ہو جائو۔۔ زینت سے ملوائیں گے اور بھی دو سرپرائز آچکے ہیں دنیا میں ایک اور بھی آ۔۔۔
    دلاور ہلکے پھلکے انداز میں بولے تو طوبی جھینپ کر انکو ٹہوکا دے گئ۔
    سر میں درد ورد تو نہیں ہو رہا۔ ڈاکٹرکو بلائوں۔
    دلاور کو خیال آیا چوبیس گھنٹوں بعد ہوش میں آیا ہے۔
    نہیں۔۔ اس نے منع کرنا چاہا مگر فاطمہ کو بھی بہتر یہی لگا کہ ڈاکٹر کو بلوا لے۔
    میں ڈاکٹر کو بلا لاتی ہوں بہتر ہے وہ معائنہ کر لیں۔
    اتنی دیر سے خاموش سے ایک کونے میں کھڑی فاطمہ مستعد ہوئی۔
    میں بلا لاتا ہوں۔ دلاور اٹھنے لگے تو اس نے نرمی سے منع کر دیا۔۔
    میں جاتی ہوں۔ وہ کہہ کر رکی نہیں۔ دلاور کے پاس کھڑی طوبی کو خیال آیا تو فورا اسکے پیچھے کمرے سے نکل آئی
    فاطمہ۔
    طوبی کے پکارنے پر وہ چونک کر مڑی
    صبح تم سے بات کا موقع نہیں ملا اور میں۔۔۔ وہ انگلیاں چٹخا رہی تھی۔
    مجھے معاف کردو۔ میں نے تم سے بہت بدتمیزی کی برا بھلا کہا۔۔ تم معزرت کرنے آئیں تو بھی ۔۔۔۔ آئیم سوری فاطمہ۔
    طوبی غلطی کرکے اکڑنے والوں میں سے نہیں تھی۔ دل صاف ہوا تو فورا اپنی غلطی سمجھ لی اور معافی بھی مانگ لی۔
    طوبی آپکو معزرت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
    آپکی جگہ کوئی بھی ہوتا تو شائد ایسا کرتا۔۔
    فاطمہ شرمندگی محسوس کرنے لگی۔
    تمہاری جگہ بھئ کوئی بھی ہوتا تو شائد ایسا کرتا۔
    طوبی نے جتایا تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس دیں۔۔
    اب آپکے اور دلاور بھائی کے درمیان سب غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔ نا؟ وہ واقعی اپنے بھائی کو ہی ڈھونڈ رہے تھے۔ آپ ایویں شک کر رہی تھیں۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ کھسیا کر سر ہلانے لگی
    مجھے انہیں سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی۔میں نے انکو کیا کچھ الٹا سیدھا بولا تب بھی مجھے صفائئ دیتے رہے۔ بہت احمق ہوں میں۔۔
    طوبی کو آج اپنے میاں پر بہت پیار آرہا تھا۔۔
    فاطمہ نے سرہلایا
    ہممم۔
    کیا ؟ طوبی چونکی۔ کس بات پر تائید کر رہی ہے۔۔
    وہ میرا مطلب میں ذرا ڈاکٹر کو بلالائوں ۔۔ وہ فورا وہاں سے رفو چکر ہوئی۔ اسکے اور طوبی کے ستارے شائد ملتے ہی نہیں تھے ۔۔ طوبی سر جھٹک کر رہ گئ

    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے لگا تھا آپ مجھے ڈھونڈ لیں گے ۔۔۔
    اس نے شکوہ کناں انداز میں دلاور کو دیکھا تھا۔۔
    میں جانے کتنی دیرسڑک پر پڑا رہا تھا۔ پولیس کی گاڑی نے مجھے مردہ سمجھ کر ملتان کے اسپتال پہنچایا تھا۔ کئی دن علاج ہوا۔ مجھے لگا تھا آپ مجھے ڈھونڈنا نہیں چاہتے اسلیئے واپس گائوں آنے کی بجائے میں ملتان میں ہی رہنے لگا۔۔
    محنت مزدوری بھی نہیں کر پارہا تھا پائوں کا زخم خراب ہو رہا تھا میرے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔ ایکدن کھانے کے بھی نہیں تھے۔ایک ٹرک کے نیچے آکر زندگی تمام کردینی چاہی سو وہ بھئ ممکن نہ ہوسکا۔
    اس نے آنکھیں میچ لیں۔ بے بسی کی انتہا تھی اس دن جب پورے دو دن سے ایک کھیل تک اڑ کر اسکے منہ میں نہ گئ تھی۔ سیدھا کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا سردی الگ جان نکالے تھی جب وہ بنا سوچے سمجھے اس تیز رفتار ٹرک کے سامنے آن کھڑا ہوا۔۔ ایک ہفتے میں دنیا میں کھو جانے کے سب شوق نکل گئے۔ دنیا سے ہی دل اٹھ گیا تھا اسکا۔
    ٹرک ڈرائیور نے بروقت بریک لگا کر ٹرک کچے میں اتار لیا تھا۔ اسے ہلکی سی ضرب آئی تھی ۔ ٹرک ڈرائیور غصے سے بھرا اترا تھا
    مرنا تھا تو نہر میں کودتا میری زندگئ کیوں عذاب میں ڈالنے لگے تھے ۔۔ اس نے بلا۔لحاظ دو تین تھپڑ لگائے تھے اسے
    لوگ اکٹھے ہونے لگے کسی نے اسکے ظالم شکنجے سے بمشکل اسے چھڑایا تھا۔ ٹرک ڈرائور پشتو میں اسکی پشتوں تک کو گالیاں دے رہا تھا
    سالا خود تو مرتا سب نے یہی کہنا تھا ٹرک ڈرائیور نے نیچے دے دیا۔
    اسکو سمجھا بجھا کر الگ کرتے لوگوں میں ایک وہ شخص بھی تھا جو ٹرک کے یوں اچانک موڑکاٹنے کے باعث اپنی گاڑی کچے میں اتار چکا تھا ۔ جو ٹرک ڈرائیور کی بجائے اس کم عمر لڑکے کے پاس آیا تھا جسکے پائوں سے خون بہہ رہا تھا ہونٹ تھپڑوں سے پھٹ چکا تھا اور منہ سوج رہا تھا۔ وہ ان تکلیفوں کے ساتھ اٹھنے کی دو ناکام کوشش کر چکا تھا۔
    اسکو ہاتھ دینا ذرا۔ اس نے پاس سے کھڑے کسی شخص کو کہا تھا۔ اس کا ذہن تاریک ہوتا جا رہا تھا پھر بھئ اس نے نظر بھر کر اس مسیحا کو دیکھا تھا
    ایک چالیس پینتالیس سال کا ڈاکٹر جس کے چہرے پر مہربان سی مسکراہٹ تھی۔
    اسکے زخم میں پس پڑ گئ تھئ۔ پندرہ دن وہ اسپتال میں بے ہوش پڑا رہا تھا۔ بخار اتنا تھا کہ ڈاکٹر کو اسکے بچنے کی امید تک نہ تھی۔ ہوش میں آنے پر سب سے پہلے اس ڈاکٹر نے اسکے گھر والوں کو اطلاع دینے کیلئے اسکا اتا پتہ پوچھنا چاہا تھا۔۔
    پندرہ یہ اور پانچ سات دن ملتان بیس پچیس دن۔ ایک مہینہ تقریبا
    وہ ڈاکٹر کی ٹکر ٹکر شکل دیکھے گیا۔
    بیس دن میں اسکے گھر والوں نے اسکو نہیں تلاشا کسی اخبار میں اشتہار نہ دیا پولیس میں رپورٹ نہ درج کروائئ کوئی سن گن نہ لی تو اب وہ کس منہ سے ان سے رابطہ کرے جو اسکو اتنے گرے ہوئے کردار کا سمجھتے ہیں کہ اپنی بھابی پر بری نظر رکھتا ہے۔
    کس گائوں سے ہو؟ نام کیا ہے تمہارا ؟ بولو بھی
    ڈاکٹر نےاسکی مستقل خاموشی سے تنگ آکر پوچھا۔
    عبداللہ۔ میرا اپنا کوئی نہیں میں دنیا میں بالکل تنہا ہوں جبھی خود کشی کرنے جا رہا تھا۔
    اس نے زندگی میں پہلی بار جھوٹ بولا تھا۔ دھڑلے سے بولا تھا اور اسکے بعد کبھی سچ نہ بولا۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاور ۔۔۔
    وہ پکارتی اپنے دھیان میں اٹھی تھی اسکا دوپٹہ جلتے ہوئے چولہے پر جا پڑا۔ دوپٹے نے ایسی ایکدم آگ پکڑی کہ وہ ہواس باختہ سی ہو کر باہر بھاگئ۔ دلاور اسکی چیخ پر پلٹے تھے۔تب تک اسکا پورا جسم شعلوں کی لپیٹ میں آچکا تھا۔
    انہوں نے آئو دیکھا نہ تائو اسکو بھینچ لیا تھا دیوانوں کی طرح پکارا جانے کون پانی لایا کون کمبل وہ انکے بازوئوں میں بے ہوش ہو چکی تھی۔
    انکو اس وقت کسی چیز کا کوئی ہوش نہیں تھا۔ گاڑی توتھی انکے پاس مگر انکے ہاتھ پائوں کانپ رہے تھے۔ محلے سے انکے بچپن کا دوست انکی گاڑی چلا کر انکو ملتان لے کر گیا۔ بہت ذیادہ تو نہیں جھلس گئ تھئ طوبی مگر پھر بھی ہوش آتے دو دن لگے تب تک پولیس نے اس معاملے سسرال کی جانب سے بہو کو جلا مارنے کی کوشش قرار دے دیا تھا۔
    طوبی کے گھروالے بھی ان پر شک کر رہے تھے۔ دو دن حوالات میں گزرے انکے انکو خاور کا خیال آیا بھی تو یہی لگا کہ طوبی کا سن کے واپس آچکا ہوگا۔
    بمشکل پولیس کیس سے جان چھڑائی طوبی کو اسکے میکے چھوڑا گائوں واپس آئے اماں بہنوں کی سختی سے کلاس لی اور اس معاملے کی ہوا بھی طوبی کو نہ لگنے دی کہ خاور کس وجہ سے گھر سے بھاگا ہے۔ انہوں نے خاور کو ڈھونڈا شروع کیا تو نشتر اسپتال میں اسکے داخل رہنے کا علم ہوا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کتنا پچھتایا تھا میں جب پتہ لگا تم ان ہی دنوں نشتر میں زیر علاج تھے جن دنوں میں طوبی کی وجہ سے اسپتال کے چکر کاٹ رہا تھا۔ جانے کیا مصلحت تھئ کہ ہمارا سامنا نہ ہوا۔
    دلاور نے گہری سانس لیکر سر اٹھایا۔ خاور نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
    تمہیں لگا میں تم پر شک کربیٹھا تھا؟ نہیں پگلے۔ بھائی ہو تم میرے چھوٹے بھائی گود میں لیکر پھرتا تھا تمہیں ۔۔ تمہیں نہیں جانتا ہوں گا؟ سوال کرتا تم سے؟ اور طوبی۔ کیا میں اپنی بیوی کو نہیں جانتا ہوں گا۔ کوئی صفائی مانگنے کا مطلب تو اپنے آپ کو جھٹلانا ہوا۔۔
    خاور کی آنکھیں بھر آئیں۔
    بہر حال۔ ایک اس دن کے بعد اماں پل پل پچھتائی ہیں تم پر شک کرنے پر۔ پہروں روتی خود کو کوستی رہی ہیں۔ بہت بیمار رہنے لگی ہیں اب۔ تمہاری یاد نے انکو اندر ہی اندر کھا لیا ہے۔
    مجھے معاف کر دیجئے بھیا۔ وہ رو پڑا
    میں خود کو بھابئ کا سامنا کرنے پر تیار نہیں کر پایا تھا۔ حوصلہ ہی نہیں پڑا۔۔
    طوبئ کو اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی میں نے۔ تم
    بھی اب اسکا ذکر کبھی زبان پر نہ لانا۔ دلاور نے اپنے ہاتھوں سے اسکے آنسو پونچھتے تنبیہہ کی۔ اس نے اثبات میں سر ہلاکر انکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کمرے کے باہر دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی طوبی نے فاطمہ کو ڈاکٹر کے ہمراہ آتے دیکھا تو آنکھیں پونچھتی سیدھی ہوئی۔
    ڈاکٹر اور فاطمہ کمرے کے اندر چلے گئے مگر وہ دانستہ راہدارئ سے ہو کر باہر کھلی فضا میں نکل آئی۔۔
    ایسا ممکن تھا کہ مجھے خبر نہ ہوتی۔ میری ساس کتنا تو اونچا اونچا بولتی ہیں۔ پورا جھگڑا اس نے بنا دقت باورچی خانے میں سنا تھا۔ یونہی تھوڑی وہ گھبرا کر باہر بھاگی تھی کہ دوپٹہ جلا بیٹھئ۔ جب آگ کی لپٹوں میں گھری تھئ تو بس ایک لمحہ ۔۔ ایک لمحہ اسے ہمیشہ کیلئے دلاور کا اسیر کر گیا تھا۔ وہ پریشانی جو دلاور کے چہرے پر اسکو دیکھ کر در آئی تھئ ۔ جیسے انکے جسم سے کسی نے روح کھینچ لی ہو۔ اسکے شعلوں سے جلتے جسم کو انہوں نے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ اپنے آپ سے ذیادہ اس سے محبت کرنے والے دلاور سے اسے کیا محبت نہ ہوتی؟ اور دلاور پوچھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔
    اسے سوچ کے ہنسی آگئ ۔۔۔ سیول میں شام اتر رہی تھی اندھیرا بڑھ رہا تھا مگر اسکے گرد شام ہونے سے جل اٹھنے والی روشنیاں اس اندھیرے سے کہیں ذیادہ تھیں۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسپتال سے چھٹی ملتے ہی وہ اسے اپنے گھر لے آئے تھے۔ ۔ اس کی پسلی پر چوٹ آئی تھی ہیئر لائن فریکچر تھا بازو میں پلستر تھا۔ ہلکی تکلیف تھی مگر وہ وہیل چئیر استعمال کرنے پر۔راضی نہ ہوا۔۔۔۔ دلاور نے اسکو سہارا دے کر لائونج میں صوفے پر۔بٹھایا۔طوبی فورا باورچی خانے میں اسکے لیئے یخنی بنانے چلی گئ۔۔ دونوں بچیاں بھاگ کر اسکے پاس آئی تھیں۔۔
    یہ زینت ہے ۔اور یہ گڑیا۔ دلاور نے تعارف کرایا تو بچیاں باپ کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگیں۔
    بیٹا یہ آپکے چاچو ہیں۔ دلاور نے سمجھ کر بتایا۔
    مگر انکی تو آنکھیں چندی نہیں ہیں۔
    زینت نے سنجیدگی سے باقائدہ اپنی آنکھیں آدھی میچ کر پوچھا۔
    ہیں۔ اسکی۔بات پر دلاور اور خاور دونوں بھونچکا ہوئے
    تیجون چاچو اور ہے جن ماموں کی تو آنکھیں چندی تھیں یہ بھی اگر ہمارے چاچو ہیں تو انکی آنکھیں آپ جیسی کیوں ہیں۔
    وہ اتنئ سنجیدگئ سے پوچھ رہی تھی کہ دلاور تو دلاور اوپن کچن سے انکی۔باتیں سنتئ طوبی کا بھئ منہ کھل گیا۔
    یہ تو بڑے سے ہیں۔ چاچو تو ہائی اسکول کے ہوتے ہیں۔
    گڑیا نے بھی اپنی معلومات جھاڑنا ضروری سمجھا۔۔
    آپ کون ہیں۔
    وہ دونوں خاور کے دائیں بائیں آن کھڑی ہوئیں۔
    بیٹا یہ آپکے سگے والے چاچو ہیں۔ طوبی نے وضاحت کرنی چاہی۔
    سگے والے کون سے ہوتے ؟ گڑیا نے سوال داغا۔
    بیٹا یہ آپکو چاچو خود سمجھائیں گے۔ دلاور مزے سے کہہ کر چلتے بنے۔ خاور نے حیران ہو کر انہیں دیکھا۔ وہ بے نیازی سے کچن میں چلے آئے۔
    یہ آپ کے بازو کو کیا ہوا۔ زینت اسکا پلستر چھو کر پوچھ رہی تھی۔
    یہ دونوں دماغ کھا جائیں گی خاور کا۔
    طوبی ہنس کر بولی ۔۔دلاور نے ہلکا سا مسکرانے پر اکتفا کیا۔ طوبی نے گوشت نکال کر سنک کے پاس رکھا تھا اور خود پیاز لہسن چھیل رہی تھی۔
    کھانا پکا ہوا ہے ؟
    انہوں نے پوچھا۔۔
    ہاں یخنی پلائو ہی بنا لوں گی ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے۔
    طوبی نے کہا تو وہ سر ہلا کر گوشت دھونے لگے۔
    کوئی اور وقت ہوتا تو شائد طوبی روکتی مگر ابھی پیاز لہسن اٹھا کر کائونٹر پر رکھ کر انکے پاس کھڑے ہو کر چھیلنے لگی۔
    اماں سے ویڈیو کال پر بات کرادی تھی خاور کی؟اس
    نے سرسری سا پوچھا۔
    ہاں ۔۔ رو رہی تھیں بہت کہہ رہی تھیں فوری پاکستان آئو۔مگر اب فورا تو یہ سفر کے قابل نہیں ہو سکتا۔ ٹھیک ہو جائے تب ہی بھیجیں گے اسے۔
    اور خود آپ کا جانے کا ارادہ نہیں؟۔۔۔۔
    طوبی کے پوچھنے پر وہ ایک نظر اس پر ڈال کر رسان سے بولے
    کانٹریکٹ ختم ہونے میں تین مہینے ہیں ارادہ یہی ہے کہ رینیو کرنے کی بجائے ہم پاکستان ہی چلیں۔
    انکی بات پر لہسن چھیلتی طوبی کا ہاتھ رک سا گیا۔
    آپ صرف گڈو کو ڈھونڈنے کوریا آئے تھے؟
    اس نے سیدھا سوال کیا۔
    ہاں۔ انکا جواب مختصر اور فوری تھا۔
    وہ چپ سی ہوگئ۔
    مگر اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیئے کوریا میں رہ بھی سکتا ہوں۔
    وہ جیسے اسکا ذہن پڑھ گئے تھے۔
    گوشت دھو کر ایک طرف رکھا نل بند کیا۔ طوبی اداس سی لگنے لگی تھی۔
    تمہارا کوریا میں دل لگ گیا ہے؟
    انہیں حیرت ہوئی تھئ اسکی اداسی دیکھ کر۔
    میرا گائوں میں دل نہیں لگتا۔ وہاں کی زندگی بہت مشکل ہے کیا ۔۔۔ وہ رک کر ہمت کرکے انکی شکل دیکھ کر پوچھنے لگی
    کیا اایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم پاکستان میں شہر میں کسی رہنے لگیں۔۔
    وہ امید بھری نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
    ہو سکتا ہے اگر تم یہ چاہتی ہو تو ایسا ہی ہوگا۔
    وہ مسکرا کر بولے طوبئ کا چہرہ تمتما اٹھا۔
    واقعی۔
    اسکے انداز میں بے یقینی تھی۔ دلاور ہنس دیئے۔ طوبی بے یقینی سے ابھی بھئ انکو بٹر بٹر تکے جا رہی تھی۔
    ہاں اب یہاں دو دو تو نہیں رکھ سکتا۔۔قانون ہی نہیں۔ تمہیں پاکستان بھجوانا پڑے گا نا۔ تو تمہاری بھئ ماننی پڑے گئ۔
    وہ چھیڑ رہے تھے اور وہ چڑ بھئ گئ۔
    پوچھ کے دیکھیں سچی محبت کرتی ہے تو اسے پاکستان لےجائیں نا۔ ذرا آپکے گائوں جا کر رہ کر دکھائے۔
    یہ کیا معیار ہوا؟ وہ۔حیران ہوئے
    یعنی جو پاکستان مین میرے گائوں میں رہتی آئی ہے وہ سچی محبت کرتی ہے مجھ سے۔ ؟
    وہ بھولپن سے پوچھ رہے تھے۔ طوبی گھور کر رہ گئ۔
    بولو نا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ طوبی رخ موڑ کر کیبنٹ کھول کر کھڑی ہوگئ۔ دلاور چند لمحے انتظار کرتے رہے پھر بولے
    اچھا ایک کپ چائے بنا دو سر میں درد ہو رہا ہے۔ وہ کہہ کر کچن سے باہر نکلنے لگے تب طوبی کی آواز آئئ۔
    محبت نہ کرتی ہوتی تومجھے آپکو کھو دینے کا خوف لاحق ہوتا بھلا۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے انکے سوال کا جواب دیا تھا۔۔۔۔ سب باتیں کہہ کر جتائی نہیں جا سکتیں مگر کبھئ کبھی کہہ ڈالنا بھئ اچھا ہوتا ہے۔ گیارہ سالہ ازدواجی زندگئ میں طوبی کی جانب سے پہلا اقرار محبت ملا تھا انکو اور شائد آخری بھی مگر انکے لیئے اتنا کافی تھا۔۔ وہ پلٹے بنا بھی جانتے تھے اس وقت طوبی کے چہرے پر کونسا رنگ ہو گا جبھئ ذرا سا مسکرا کر آگے بڑھ گئے۔۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ ایک مہینے میں اتنی چھوٹئ کیسے ہوگئ۔
    الف بھونچکا سی اس سیامی بلی کو دیکھ رہی تھی۔۔ بلی نے اس تبصرے پر اپنی کنچوں جیسی آنکھوں سے اسے گھورا جیسے سب سمجھ آیا ہو اسے پھر سر جھٹک کر اسکی گود سے نکلی اور سامنے راہ داری میں گم ہوگئ۔وہ ژیہانگ کے پسندیدہ بلیوں والے کیفے میں آئے تھے۔اس وقت بھی انکے گرد صوفے کے آس پاس بلیاں پھر رہی تھیں ایک سفید جھاگ جیسے بالوں والی بلی صوفے کے ہتھے پر بیٹھئ تھی جبکہ یہ سیامی بلی اسکے پیروں کے پاس بیٹھئ تھئ۔ اس نے اسے پیار سے اٹھا کر گود میں بٹھا لیا تھا۔ مگر شائد بلی کو اسکا یہ لاڈ ذیادہ پسند نہیں آیا۔
    یہ وہ والی بلی نہیں ہے۔ ژیہانگ ہنسا۔
    اور بلی ایک مہینے میں بڑی تو ہو سکتی مگر چھوٹی نہیں ہو سکتئ۔ اسکے جتانے پر وہ کھسیائئ۔
    وہ تمہاری والی سیامی بلی خاصی بڑی تھی یہ اسی نسل کی تھی شائد۔
    وہ والی مر گئ ۔۔۔۔ژیہانگ کے چہرے پر اداسی سی چھائئ۔۔ میں نے آتے ہی ریسیپشن سے اسکے بارے میں پوچھا تھا۔
    اوہ۔ الف۔ سر ہلا کر رہ گئ۔ اسے بلیوں سے کوئی خاص شغف نہ تھا مگر ژیہانگ کا اس بلی سے غیر معمولی لگائو ڈھکا چھپا نہ تھا اس سے۔۔۔۔
    میں شائد واپس کوریا کبھی نہ آتا یہ بلی بھی کبھی مر جاتی مگر میں واپس بھئ آیا اور وہ بلی بھی مر چکی ہے مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ وہ خود مجھے دیکھتے ہی میرے پاس آجاتی تھی۔ ایک بار تو ایک کپل کی گود میں بیٹھی تھی۔ اچھل کر میرے پاس آگئ۔ وہ لڑکی اٹھ کر میرے پاس آئی بلی لینے مگر کینڈی اسکے پاس جانے کو تیار نہ ہوئی۔ کینڈی نام رکھا ہواتھا کیفے والوں نے اسکا۔۔
    ژیہانگ اسے بتا رہا تھا وہ بغور سن رہی تھی۔
    خاموش رہنے والا ژیہانگ پچھلے تین چار دن سے مستقل بول رہا تھا جانے کون کون سئ باتیں احساسات اسے الف کے ساتھ شئیر کرنے تھے۔ بچپن کے قصے امریکہ کی باتیں۔ وہ جیسے سب اپنے اندر دبائے بیٹھا تھا۔ اب اسے الف کی صورت روزن ملا تھا اپنے اندر کی گھٹن باہر نکالنے کا۔
    سفید بلی بے چین سی ہوئی اچک کر نیچے کودی اور ژیہانگ کے صوفے پراسکے پاس آن بیٹھئ۔
    ژیہانگ نے اس بلی کو پیار سے اٹھا کر گود میں بٹھا لیا۔
    تمہارے گھر والے مان جائیں گے۔۔۔
    اس نے اتنا اچانک پوچھا تھا کہ بلا ارادہ اسکے منہ سے بھی سچ ہی پھسلا۔۔
    نہیں۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلیئے بھیجا تھا اسے کوریا۔ پورے خاندان کی مخالفت مول لیکر الف کے ابا نے الف کی ضد پوری کی۔ایک تو ان موئی یونورسٹئوں کو کیا وظیفے دینے کا شوق ہے چلو ملک میں ہی کسی دوسرے شہر بھئج دیں نہیں اٹھا کے کوریا بھیج دیا نام بھی نہیں سنا تھا کہ اس نام کا کوئی ملک بھی ہے۔۔۔ وہ بولتے بولتے سانس لینے رکیں۔
    بھوک ہڑتال کرکے اپنی ضد منوائی تب تو جانے کیا وعدے کرتی رہی کہ بس یہ بات مان لیں زندگی بھر کوئی فرمائش نہیں کروں گئ جو کہیں گی مانوں گی اب سب بھول گئ۔
    (آہ۔۔۔۔ )
    ۔ اتنا اچھا ہے واصف منہ بھر کے انکار کیا اور میں ایسی سیدھی ماں کہ شک بھئ نہ کیا کہ ایسی ویسی بھئ کوئی بات ہو سکتئ ہے۔
    انہیں الف سے ذیادہ خود پر غصہ آرہا تھا۔
    آنٹی وہ کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہے یقین کیجئے۔ واعظہ منمنائی۔۔ یہ موقع بھئ بمشکل ملا تھا اسے۔
    منے لائونج منی میز پر ٹرائی پوڈ میں موبائل سجائے بیٹھی واعظہ ویڈیو کال پر الف کی امی سے بات کر رہی تھی۔ جو پہلے تو خوب برسیں ان پر اب لتے لے رہی تھیں۔الف کے عشنا اور عزہ اسکئ دائیں بائیں بیٹھئ تھیں۔
    بتائو کوریا میں چینی لڑکا ٹکر گیا۔ وہ بھی جسکا نا کوئی آگا نا پیچھا جانے مسلمان ہے بھی یا نہیں۔ ماں باپ تک نہیں میں اپنی بیٹی کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں کبھی نہ دوں۔ نا زبان ایک نا قوم۔۔وہ سانس لینے رکیں واعظہ نے منہ کھولا کچھ کہنا چاہتی تھی شائد مگر موقع نہ مل سکا۔
    تم نے بھئ نہ بتایا مجھے۔ اچھا خود کو الف کی بہن کہتی ہو بہن کو گڑھے میں گرنے سے نہ روکا۔ انہوں نے روئے سخن عزہ کی طرف موڑا۔ ۔ عزہ گڑبڑا سی گئ۔
    آنٹئ ایسی بات نہیں الف بالکل بھی مجھے اپنی بہن جیسی نہیں سمجھتئ ہماری تو بلکہ اکثر کام نہ کرنے پر لڑائی ہوتی رہتئ ہے ابھی پرسوں بھئ۔
    عزہ کی اس حق گوئی پر واعظہ اور عشنا نے بھی الف کی امی کے ساتھ اسے گھور کر دیکھا۔
    چلو خوب رہی۔ اچھا بدلہ لے لیا۔ میں کہتی ہوں اسکو کل ہی جہاز مین بٹھا کر واپس بھیجو ابھی معاملہ اسکے ابو کےکانوں میں نہیں پڑا ورنہ وہ خود آکر اسکا دماغ درست کر دیں گے ۔ صاف بتائو الف کو کہ مانا دوسرے ملک میں بیٹھی ہے مگر اپنے ماں باپ کو بے بس نہ سمجھے۔۔۔۔ٹانگ توڑ دوں گئ اسکی خود کو سمجھتی کیا ہے۔
    ہے کہاں ابھی بات کرائو میں خود دماغ درست کروں اسکا۔ پڑھنے بھیجا تھا اسے یہ سب کرنے نہیں۔۔۔۔
    وہ بولتے بولتے ہانپنے لگیں۔
    واعظہ نے موقع غنیمت جانا۔
    آنٹی وہ لڑکا سچ مچ اچھا ہے آپ دیکھیں تو سہی بات کریں مل کر دیکھیں پھر فیصلہ کریں۔
    میرے بھائئ کے بیٹے سے اچھا نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے فیصلہ سنایا۔ الف سے بات کرائو کہاں ہے یہیں کہیں چھپی بیٹھی باتیں سن رہی ہے نا سامنے آنے کو کہو اسے۔
    انکے دعوے سے کہنے پر وہ تینوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں۔۔
    کہیں اس موئے کے ساتھ تو نہیں۔
    انکی شکل دیکھ کر انہیں یہ یقین تو آیاکہ الف گھر پر نہیں مگر دوسرا خیال ذیادہ جان لیوا تھا۔۔۔
    نہیں۔ یونی گئ ہے سچی صبح تیارہو کر۔ عشنا نے بتایا
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میونگ دونگ کی گلیوں میں پھرتے اسے خیال آیا
    سیول میں کوئی چینی کیفے ہے ؟
    ہاں کیوں۔ ژیہانگ چونکا۔
    مجھے چینی ثقافت کا بالکل نہیں پتہ۔ چینی کھانوں کا سنا وہ بھی بس فرائیڈ رائس کھائے مگر ہمیشہ اپنے مصالحے ڈال کر ورنہ پھیکا سا کھایا نہیں جاتا مجھ سے۔
    اس نے ناک چڑھا کر کہا تو ژیہانگ ہنس دیا۔
    جب چینی کھانا پسند ہی نہیں تو کیفے کا کیوں پوچھ رہی ہو؟
    کورین روائتئ کیفے جائو تو کورین ثقافت کے رنگ نظر آتے ہیں چینی کیفے میں چینئ بود وباش کی چھاپ ہوگئ میں نے سنا ہے یہاں چائنہ ٹائون ٹائپ جگہ ہے جہاں چینی اتنی تعداد میں رہتے ہیں کہ وہاں کورین اجنبی محسوس کرتے ہیں۔۔
    چلیں وہاں۔
    وہ بولتے بولتے یکدم پرجوش ہوئئ۔
    ژیہانگ کو اسکی ایکسائٹمنٹ پر ہنسی آئی
    ہاں ایسا علاقہ سیول میں ہے مگر وہاں لڑکیاں نہیں جاتیں۔
    اس نے اسکی خوشی کے غبارے میں سے ہوا نکال دی۔
    الف مایوس سی ہوئی۔۔۔۔
    پھر۔۔۔۔
    پھر۔ ژیہانگ نے ایک نظر اطراف پر ڈالی پھر اسکی آنکھوں میں چمک سی لہرائئ۔۔
    ایک جگہ ہے جہاں ہم جا سکتے ہیں۔۔
    اس چینئ کیفے میں داخل ہوتے ہی جو پہلا لفظ اسکے منہ سے نکلا تھا وہ تھا وائو۔
    سرخ دیواروں والے اس کیفے میں داخل ہوتے ہی ایک بڑا سا ڈریگن منہ سے پنیوں کے شعلے نکالتا چھت سے یوں لٹکا تھا جیسے اڑ رہا ہو۔ بڑے بڑے سرخ چینی کاغذ کے غبارے۔
    دھیرے دھیرے ہلتے تو زمین پر مختلف ڈیزائن بنتے بگڑتے جانے انکے اندر قمقمے لگے تھے یا اوپر مگر زمین پر یوں ستارے بکھرے تھے جیسے آسمان انکے اوپر الٹ گیا ہو۔
    ایک جانب بڑے بڑے بت رکھے تھے مخصوص چینی مرتبان جن پر گڑیا بنی ہوئی تھی سب سے چھوٹی اس سے بڑی ایک تو اسکے قد جتنی تھی۔
    سامنے چینی طرز کے چبوترے بنے تھے جس پر بیٹھے لوگ قہوے کا لطف لیتے خوش گپیوں میں مگن تھے۔ دھیمے سروں میں بجتی چینی کلاسیکی موسیقی۔
    وہ دونوں ایک کونے والے تخت کی طرف بڑھ گئے۔
    چینی مخصوص لباس میں ملبوس وہ لڑکی چست سی سرخ ہی گلا بند میکسی پہنے انکے پاس آرڈر لینے چلی آئی۔
    مینیو کارڈ مکمل طور پر چینی اور کورین میں تھا۔
    اس نے منہ بنا کر ژیہانگ کی جانب بڑھا دیا
    اس میں انگریزی بھی ہے۔ اس نے شرارت سے اسکو صفحہ پلٹ کر دکھایا اس نے مینیو جھپٹنا چاہا مگر وہ جھکائی دے گیا۔
    میں تمہیں آج اپنی پسند کا ناشتہ کراتا ہوں۔
    اس نے کہا تو پھر الف نے ضد نہ کی۔
    اس نے قہوہ اور مٹھائئ منگوائی تھی دو تین طرز کی۔۔
    جہاں تک الف کو سمجھ آیا۔ لڑکی آرڈر لیکر چلی گئ تو اس نے اپنے ذہن میں کلبلاتا سوال کر ڈالا
    ژیہانگ تم لوگوں کو تو حلال کھانے پینے میں کافی مشکل ہوتی ہوگئ چین میں تو سب پتہ نہیں کیا کیا کھاتے۔۔
    وہ اتنی سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی کہ ژیہانگ جس نے شرارتا جواب دینے کیلئے منہ کھولا مگر اسکی شکل دیکھ کر ارادہ بدل دیا۔
    ہم مسلم اکثریتی صوبے میں رہتے تھے۔ وہاں 80 فیصد تک مسلمان ہیں۔ کبھی زندگئ میں موقع ملا تو تمہیں اپنے شہر کی سیر کرائوں گا۔ وہاں نان کلچے سالن سب ملتا ہے۔ اور ہمارے علاقے میں کھانا پھیکا نہیں ہوتا۔۔ ہم خوب چٹپٹا کھانا پسند کرتے ہیں۔ وہاں مسجدیں بھی ہیں اور وہاں لمبی داڑھی والے بوڑھے بھی ہوتے ہیں۔ بس لباس انکا چینی ہوتا ہے باقی سب مسلمانوں والا انداز ہے۔۔
    اس نے اپنی طرف سے خوب تشفی کرائی جانے وہ مطمئن ہوئی یا نہیں مگر مزید بولی نہیں۔۔
    تم گھبرا تونہیں رہیں ہو۔۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ اس سے قبل کہ وہ جواب دیتئ انکا مطلوبہ آرڈر آگیا تھا۔
    کھانا تھا کہ خوشبوئوں کا جھونکا۔۔ مگر یہ خوشبو پکوان کی نہیں تھی۔۔چنبیلی اور گلاب کے عطر کی تیز خوشبو۔۔ اتنی تیز کے اسے اپنے ذہن پر سوار ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔روائتی چینی ظروف میں دو چھوٹئ چھوٹئ کیتلیاں اور گھونٹ کے برابر کی چھوٹی پیالیاں۔ ساتھ سفید براق چھوٹے چھوٹے پیڑے تھے ایک پلیٹ میں سرخ گول سی کوئی چیز چاپ اسٹکس میں پروئی ہوئی تھی۔ اس نے سب سے پہلے وہی اٹھایا ان کا شیرہ سخت ہو رہا تھا ایک اسٹک میں پانچ دانے۔۔
    یہ کیا ہے۔ ؟ اس نے دلچسپی سے پوچھا۔
    چکھ کر بتائو کیسا ہے۔ یہ میرا پسندیدہ ترین ہے۔ ۔
    ژیہانگ نے کہا تو اس نے جھٹ ایک دانہ منہ میں رکھ لیا۔ منہ میں کچھ عجیب سا شیرے کا سا ذائقہ گھلا جو اسکی زبان کے ذائقے کو قطعی نہیں بھایا۔ اس نے تیزی سے چبا کر اپنے چہرے کے تاثرات درست کیئے۔
    انگور۔۔اس کو چبانے پر پھل تو پتہ لگ گیا۔
    ہاں یہ انگور ہیں انکو مخصوص شیرے میں ڈبو کر فریز کیا جاتا ہے۔یہ سادہ چینی کا شیرہ نہیں ہوتا اس میں دارچینی اور دو ایک اجزا اور بھئ ملائے جاتے ہیں یہ ہم بہت شوق سے کھاتے ہیں مگر لگتا ہے تمہیں بالکل پسند نہیں آیا۔
    ژیہانگ نے محظوظ انداز میں کہا تو وہ کھسیانی سی ہوگئ
    نہیں یہ مزے کا ہے۔۔۔ بس تھوڑا مختلف ذائقہ ہے۔۔ اس نے کہا ضررو مگر شرافت سے پلیٹ میں واپس رکھ دیا۔سفید پیڑے برفئ کے جڑواں بھائی تھے مگر برفی کے مقابلے میں کہیں نرم منہ میں گھل جانے والے۔ اسے یہ پسند آئے۔
    اسکے ساتھ قہوہ لو پسند آئے گا تمہیں۔
    ژیہانگ خود بڑے شوق سے انگور کھا رہا تھا مگر اسکے لیئے فورا قہوہ نکالنے لگا۔ گلابی کھولتا ہوا قہوہ۔۔
    گلاب کے پھولوں کی خوشبو ۔۔ یہ قہوے میں سے آرہی تھی
    یہ کس چیز کا قہوہ ہے اس نے بڑے شوق سے قہوے کی پیالی تھامی
    گلاب کا۔
    ژیہانگ کے جواب سے پہلے وہ گھونٹ بھر گئ۔
    یہ ذائقہ بھی اسے مایوس کر گیا۔ لگا منہ میں گلاب بھر لیا ہو۔ زندگی میں کبھی عرق گلاب استعمال بھی کیا تو ملتانی مٹی میں ملا کر منہ پر ملا یا آنکھیں دکھنے پر آنکھوں میں ڈال لیا۔ اب اسکو گرم گرم گھونٹ بھر کے پینا۔ خوشبو اتنی تیز محسوس ہو رہی تھی کہ اسکو بری لگنے لگی۔
    ژیہانگ اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔
    یہ دوسری کیتلئ کس چیز کے قہوے کی ہے۔ اس نے دوسرا قہوہ فوری چکھنا چاہا شائد ذائقے کی تبدیلی کیلیئے۔
    ظروف بے حد خوبصورت تھے اسے وہ کیتلی بہت پیاری لگی۔اس پر ایک جانب پورا مور پر پھیلائے کندہ تھا۔
    یہ والا قہوہ نسبتا پیلا تھا۔ مگر چنبیلی کی خوشبو۔
    اس نے ڈرتے ڈرتے چکھا ۔ یہ اسے اچھا لگا تھا۔
    یہ مزے کا ہے۔۔ اسکا ذائقہ مانوس ہے میرے لیئے۔ اس نے ذہن پر ذور ڈالا
    ہاں وہ مشہور برانڈ کی جیسمن گرین ٹئ ۔ جیسا ذائقہ ہے۔ گرین ٹی بہت پیتی تھی میں تب چکھی تھئ یہ والا ذائقہ یاد مجھے۔
    وہ کہتے ہوئے پیڑے کے ساتھ گرین ٹی پی رہی تھی۔
    کیا ہوا۔ چپ کیوں ہو گئے۔
    اسکی خاموشی پر وہ پوچھ رہی تھی۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔
    کیا مماثلت ہے ؟ ساتھ بیٹھ کر کھانا تک نہیں کھا سکتے۔ وہ چینی نجانے کیا الا بلا کتے بلی کھاتا ہوگا۔ اور الف وہ تو چینی پلائو تک شوق سے نہیں کھاتی میں تو حیران ہوں یہ چینی ٹکر کہاں گیا اسے۔
    الف کی امی ابھئ بھئ ویڈیو کال پر تھیں۔ واعظہ نے انکو اپنا کمرہ عشنا عزہ کا کمرہ گھوم گھوم کر دکھایا۔ ایکدم پلٹی تو عزہ اور عشنا جو اسکے پیچھے پیچھے اس پریڈ کا حصہ تھیں ٹکرا ہی گئیں اس سے۔ اس نے گھور کر دیکھا۔
    دونوں کھسیانئ ہوکر اسکے دائیں بائیں ہوگئیں
    آگئیں تم دونوں واپس ؟ الف کو کہہ دو یوں چھپنے کی ضرورت نہیں سامنے آئے میرے ۔۔
    اسکی امی کا پارہ ہائی تھا
    آنٹی گھر پورا دکھا دیا کہیں نہیں ہے الف۔
    سچئ۔ عزہ اور عشنا کورس میں بتاتئ اسکی مدد کو آئیں۔۔
    کہاں گئ کیا وقت ہو رہا کوریا میں۔۔ ابھی تک یونی سے واپس نہیں آئئ۔۔
    انکے سوال پر اب تینوں زچ ہونے لگیں تبھئ اطلاعی گھنٹئ بج اٹھئ۔
    عشنا نے بھاگ کر کیمرے میں دیکھا اسکی آنکھیں اپنے حجم سے دو گنا بڑی ہو گئیں۔
    کون ہے۔ عزہ اور واعظہ اسکے پیچھے لائونج میں آئیں عشنا جوابا کیمرے کے سامنے سے ہٹ گئ۔ کیمرے میں واضح ہوتے دو چہرے۔
    فاطمہ وہاں موجود نہ ہوتے ہوئے بھی اسکے کان پر چیخی۔۔
    الف تمہاری بیٹی نہیں ہے آنٹی کی ہے آنٹی پریشان ہوں سمجھ آتا ہے۔ الف انکی پریشانی کا احساس کرے تم آنٹی کی بیٹی نہیں ہو الف ہے اسے انکی پریشانی کا احساس کرنے دو۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے اپنی زندگی جیو تمہاری اپنی بھی ایک الگ ذات ہے۔کبھی اسکا بھی سوچ لیا کرو۔
    فیصلہ ہو گیا۔ اس نے گہری سانس لی اور دروازہ کھولنے چل دی۔۔
    ہائے واعظہ۔ شکر ہے تم گھر پر ہو۔ ہم باہر۔۔۔۔
    واعظہ نے دروازہ کھولتے ہی موبائل کا فرنٹ کیم کھول کر ہاتھ بڑھا کر اسکے سامنے کیا تھا جبکہ وہ اسکی شکل دیکھتے گرمجوشی سے کہہ رہی تھی مگر جملہ اسکی امی کی آواز پر ادھورا رہ گیا
    الف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی امی پکار کر دل تھام کر رہ گئیں۔۔۔ اونچے لمبے سفید چندی آنکھوں والے ژیہانگ کے ساتھ کھڑی الف۔ یہ منظر دیکھ کر انکی زبان گنگ سی ہوگئ۔۔
    امی۔۔۔۔
    اس کیلئے بھی یہ غیر متوقع تھا سو سٹپٹا کر اس نے ژیہانگ کو دیکھا ژیہانگ نے اسے۔
    اسلام و علیکم آنٹئ۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔
    ژیہانگ نے سنبھل کر واعظہ کے ہاتھ سے موبائل لے لیا تھا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پورے دیسی کمچی کے سفر میں تمہارا موبائل الف کے معاملے میں کام آیا ہے۔
    عزہ نے کہا تو واعظہ گھور کر رہ گئ۔
    وہ تینوں کچن کائونٹر پر لائن سے پیر لٹکائے بیٹھی تھیں۔ سامنے چولہے پر چاول دم پر لگے تھے۔۔
    میرے موبائل میں مجھے افسوس ہے کہ دو گھنٹے آنٹی سے ویڈیو کال کرنے کے بعد پھر بیٹری ختم ہونے والی ہے۔
    واعظہ نے گہری سانس لی۔
    ہاں یار۔ ہم نے اتنی دیر آنٹی سے بات کی پھر یہاں آکر چکن پلائو کی تیاری کی اب دم بھی ختم ہونے والا تمہارے موبائل کی بیٹری ختم نہیں ہوئی۔
    عشنا کو بھی حیرت ہوئی۔
    میں ویسے اپنا موبائل یوں کسی کے حوالے نہیں کر سکتی حالانکہ میرےموبائل میں کچھ بھی ایسا ویسا نہیں ہوتا نا میرا افئیر چل رہا پھر بھئ ایک ان سیکیورٹی سی محسوس ہوتی ہے موبائل پاس نہ ہو۔
    عزہ نے سلاد کی پلیٹ سے کھیرا اٹھاتے یونہی کہا تھا کہ واعظہ کو جیسے کرنٹ سا لگا۔ ایکدم سے کود کر اتری۔
    کیا ہوا۔ وہ دونوں حیران ہو کر پلٹیں جبکہ واعظہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگئ جہاں اندر ژیہانگ اور الف الف کی امی سے بات کر رہے تھے۔ اسکے دھاڑ سے دروازہ کھولنے پر دونوں چونک کر اسے دیکھنے لگے۔
    وہ ویڈیو کال پر نہیں تھے بلکہ ژیہانگ ڈبل بیڈ پر بیٹھا تھا اور الف واعظہ کے سنگل بیڈ پر اسکے مقابل بیٹھی تھی۔
    یوں دھاڑ سے دروازہ کھولنے پر اب وہ تھوڑی خجل سی ہوئی
    وہ میرا موبائل۔۔
    ہاں وہ اسکی بیٹری ختم ہو گئ تھی میں نے چارجنگ پر لگا دیا۔ الف نے سوئچ بورڈ کی جانب اشارہ کیا ۔
    اوہ۔ اسکی جان میں جان سی آئی۔
    بات ہو گئ تمہاری امی سے مان گئیں؟
    وہ موبائل کی جانب بڑھتے بر سبیل تذکرہ پوچھ رہی تھی
    امی سے ژیہانگ نے ہی بات کی میری تو وہ کچھ سننے کو تیار نہیں۔ اس بے چارے کو بھی سخت سست سنائی ہے۔
    ژیہانگ کے بے انتہا سنجیدہ سے چہرے پر نگاہ ڈالتے وہ ہلکے پھلکے سے انداز میں بولی۔
    ہمم۔واعظہ موبائل دیکھ رہی۔تھی۔ مانوس نام کا پیغام آیا ہوا تھا۔ مگر ان ریڈ تھا۔۔۔۔
    پریشان نہ ہونا ژیہانگ پاکستانی والدین ہم مزہب ہم ذات ایک خاندان بھی ہو تواپنے بچوں کی پسند کی شادی پر راضی نہیں ہوتے تم دونوں کے معاملے پر تو کافی کچھ الگ الگ ہے۔
    اس نے تسلی دینے کو کہا تھا مگر ژیہانگ اٹھ کھڑا ہوا۔
    میرا خیال ہے تم ایک بار پھر سوچ لو۔ مجھے تمہارا انکار اور اقرار دونوں قبول ہوں گے۔
    جانے کیا بات تھی وہ یہ کہہ کر جانے ہی لگا تھا۔
    اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔
    ژیہانگ۔
    الف کی جگہ واعظہ نے اسے یوں جاتے دیکھ کر پکارا
    وہ رک کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
    کھانا ۔۔ کھانا کھا کر جانا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ آداب میزبانی نبھارہی تھی۔۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واپسی پر وہ اسے نیچے تک چھوڑنے آئی تھی۔ لفٹ میں داخل ہوتے نکلتے وقت۔ کمپائونڈ میں آتے وہ وقفے وقفے سے اسکے چہرے پر نگاہ ڈالتی جیسے اسکے تاثرات سے اسکے سوچیں پڑھ لینا چاہ رہی تھی۔ مگر وہ بالکل سپاٹ چہرے کے ساتھ خاموشی سے چل رہا تھا۔
    عمارت سے باہر آکر ژیہانگ نے ہی خاموشی توڑی
    تم اب اندر جائو۔۔۔ اسکے کہنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا مگر اندر جانے کو مڑی نہیں۔ ژیہانگ نے لمحہ بھر انتظار کیا پھر جانے لگا
    ژیہانگ۔ اس نے ہمت کرکے پکار لیا
    مجھے معلوم ہے امی نے آج تمہیں کافی کچھ سنا دیا۔ میں انکی جانب سے معافی مانگتی ہوں۔۔۔ تم ناراض مت ہو۔۔
    اسکی بات پر وہ پلٹ کر اسکو دیکھنے لگا
    میں ناراض نہیں ہوں۔ وہ سب کچھ غلط نہیں کہہ رہی تھیں۔۔۔
    ہمارے مزہب ایک سہی مگر ہم میں بہت ثقافتی تفاوت ہے۔ الف۔ ہم تو ایک میز پر بیٹھ کر ایک کھانا تک نہیں کھا سکتے۔تم میرے ساتھ چینی طعام نہیں کھا سکیں میں تمہارے ساتھ چکن پلائو کھاتے ہوئے ۔۔۔اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔
    ہم ایک زبان بول رہے ہیں۔ہم مزہب ہیں۔ رہا کھانا تو ایک گھر میں رہنے والوں کی پسند الگ ہوسکتی ہے۔
    الف نے فورا دلیل دی۔
    پھر بھی الف۔ تم اپنے فیصلے پر پچھتانے نا لگو۔
    اسے یہی خدشہ ستا رہا تھا
    میں نے تم سے رابطہ کرنے میں بیس دن لگائے جانتے ہو کیوں۔ صرف تم سے رابطہ نہ کرنے کی وجوہات سوچتے۔۔
    یہ سوچتے کہ تم سے رابطہ ختم ہونے کے بعد میری زندگئ کیسی ہوگئ میں کیا کروں گئ۔۔
    اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا۔
    مگر صرف ایک لمحے میں جب مجھے لگا تم سے سب رابطے ختم ہوگئے ہیں تو مجھے احساس ہوا کہ تم سے رابطہ نہ کرنے کی سب وجوہات بوگس ہیں۔۔۔
    آسے ایک ٹک دیکھتے ژیہانگ کے چہرے پر دھیمی سی مسکان آن سجی
    مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ تم مجھ سے کبھی محبت کا اظہار کروگی۔
    وہ ہنس دیا الف گڑبڑا سی گئ
    میں نے۔ابھی بھی نہیں کیا۔ ۔۔۔ اس نے زبان دانتوں تلے دبائی
    کوریا آکر بہت بولڈ نہیں ہوگئ میں۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا۔
    ژیہانگ کھل کر ہنسا۔ تو وہ اور چڑ گئ
    ہاں خود تو بڑے یا یانگ ہیں نا۔ فون بھئ میں کروں اظہار بھی میں کروں آئے بڑے۔ نخرے۔۔ پڑے سو رہے تھے بھاڑ میں جائے الف رابطہ کرے نہ کرے۔ کوئی فرق نہیں۔۔
    اسکی چلتی زبان کو ایکدم بریک لگی تھی جب ژیہانگ دو قدم اسکی جانب بڑھ کر گھٹنے کے بل آن بیٹھا۔۔جیب سے مخملیں کیس نکال کر کھول کر اسکی جانب ہاتھ بڑھاتے وہ پوچھ رہا تھا
    میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں الف مجھ سے شادی کروگی؟
    بیک گرائونڈ میوزک کوئی نہیں تھا پر الف کے گرد شہنائیاں سی بجنے لگی تھیں۔
    ۔گیلری سے جھانکتی عزہ حیرانی سے واعظہ سے پوچھ رہی تھئ
    اظہار محبت تو اب کیا ان دونوں نے اس دن فون پر بات کیا کی تھئ؟؟؟؟
    اگلی قسط میں کھلے گی یہ کہانی بھی۔
    واعظہ تاسف سے دیکھ رہی تھئ۔ ان دونوں کا یہ اہم موقع اور اچھا ہو سکتا تھا ابھی تو بالکل روایتی انجام کردیا۔
    4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
    ختم شد۔
    جاری ہے۔۔

  • Desi Kimchi Episode 60

    قسط 60
    عزہ نے الف کو کندھے سے لگایا ہوا تھا وہ اس سے لپٹی چہکوں پہکوں رو رہی تھی عشنا دلاسے کیلئے کبھی اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتی کبھی دزدیدہ نگاہوں سے واعظہ کو دیکھتی مگر کچھ کہنے کی ہمت نہ پاتی خود میں۔ واعظہ سکون سے انکے مقابل دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹکا کر کندھے اچکائے آلتی پالتی مارے بیٹھی انکی حرکات ملاحظہ کر رہی تھی۔
    ہم پتہ کرلیں گے اسکا نمبر رونا تو بند کرو۔ عزہ زچ ہو گئ چپ کراتے۔
    کیسے وہ اپنی شناخت سب سے چھپا کے یہاں رہ رہا تھا کوئی نہیں جانتا کچھ بھی اسکے بارے میں ریڈیو تک پر جو پتہ اور نمبر ہے وہ بھی اب اسکے رابطے کا ذریعہ نہیں۔اس نے۔۔۔۔ الف کی آواز بیٹھ گئ تھی۔۔ ۔۔ہچکی۔۔۔ اس نےصرف مجھے اپنا کانٹیکٹ نمبر دیا تھا۔شاکی نگاہ واعظہ پر
    کیوں بھئ؟ اپنے ملک میں ڈاکا ڈال کر نکلا تھا کیا؟ یا قتل ؟عشنا چونکی
    قتل کرکے بھئ لوگ اس طرح دوسرے ملک روپوش ہو جاتے ہیں۔
    اسکی قیاس آرائی پر بھنا کے الف نے گھورا
    نہیں بھئ وہ یوریغ۔۔ کیا نام بتایا واعظہ۔ عزہ نام پر اٹکی ۔واعظہ نے بتانے کیلئے منہ ہی کھولا تھا کہ جلد باز لڑکی نے کہا۔۔
    دفع کرو نام کو وہاں چین میں مسلمان جو چینی حکومت کے خلاف لڑنے لگے تھےاس کریک ڈائون کی وجہ سے اسے ملک سے بھاگنا پڑا۔ مجاہد ہے وہ ۔۔ ہے نا۔۔
    اس نے تصدیق چاہی۔
    ریاست کے خلاف اٹھنے والا مذہبی گروہ۔طالبان سمجھ لو۔
    واعظہ نے غور سے الف کو دیکھتے چھیڑا جوابا وہ حسب توقع بھڑک اٹھی
    کوئی نہیں۔مظلوم ہے وہ اس نے کہیں کوئی بم دھماکے نہیں کیئے الٹا اسکا پورا خاندان لا پتہ ہے کوئی نہیں جانتا چینی فوجی کہاں لے گئے انہیں۔۔۔۔ ہچکی۔ ۔۔ انہیں ڈھونڈتے ہوئے بھی کبھی اس نے غلط راہ اختیار نہیں کی۔ نا اسلحہ اٹھایا نا دھماکے کیئے۔ اور چین سے بھی بہت محبت کرتا ہے وہ۔
    اچھا۔
    واقعی طالبان تھا وہ چینی لڑکا۔
    عشنا واعظہ کےپاس کھسک آئی۔اور سرگوشی میں پوچھنے لگی۔
    الف کو دل میں درد ہوتا محسوس ہونے لگا تھا۔
    عزہ نے اسے گھٹنوں میں منہ دیتے دیکھا تو گھبرا کر بولی
    یار کال ملائو۔
    نمبر تو ڈیلیٹ ہو گیا۔عشنا بھولپن سے بولی۔۔ واعظہ نے گہری سانس لی اور اپنا موبائل اٹھا کر نمبرملانے لگی۔
    اوہو ایمبولنس کو 1122 کو یہ تو بے ہوش ہونے لگی ہے۔
    عزہ کی پریشانی پر الف نے سر اٹھاکر گھورا۔ اس وقت کم از کم اسپتال جانا وہ افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔
    1122 کونسا نمبر ہے۔۔ عشنا حیران تھی۔
    پنجاب پاکستان کی ایمرجنسی سروس ہے بی بی تم کوریا میں بیٹھی ہو۔ یہاں 119 ملاتے ہیں
    واعظہ نے یاد دلایا
    ااوہ اچھا میں ملاتی ہوں۔عشنا نے اپنا موبایل اٹھایا۔۔
    اوفوہ کسی کو فون مت کرو۔الف جھلا کر چیخی۔عشنا کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا۔۔ کیا کرتی ہیں۔وہ اپنا دل سنبھالنے لگ پڑی۔۔
    چلو رہنے دو۔اس نے منع کر دیا۔۔۔۔ عزہ کی رننگ کمنٹری ٹھیک ٹھاک گراں گزر رہی تھی۔ اسے
    فون ایک۔طرف رکھ کر واعظہ سیدھی ہو کر بیٹھی
    ایک۔بات تو بتائو۔۔۔ ایک دن کے بعد ویسے بھی اسکا یہ والا رابطہ نمبر بھی ختم۔ہو جانا تھا فیصلہ تم۔کر چکی تھیں پھر نمبر ڈیلیٹ ہونے پر یہ رونا دھونا کیوں۔۔۔
    واعظہ کی بات میں دم تھا الف نے سر اٹھا کر دیکھا تینوں جواب طلب نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔
    میں فیصلہ ہی تو نہیں کر پارہی تھی۔ کل تک سوچنا چاہتی تھی اور۔ وہ بے بسی سے بولی
    کل تک کیا سوچنا؟ ایک دفعہ ایک بار سوچو چینی لڑکا جس کا مستقبل کا کوئی پتہ نہیں اپنی شناخت چھپا کر دوسرے ملکوں میں چھپتا پھر رہا ہے نا اسکے ماں باپ کا اتا پتہ نہ دوست رشتے دار مکمل اجنبی ہے وہ تمہارے لیئے چند مہینے کی شناسائی پر اس پر مکمل بھروسہ کر سکتی ہو؟۔
    واعظہ نے اسکے حالات کا تجزیہ کر ڈالا تھا۔ الف کا تو جانے کیا فیصلہ تھا۔ عزہ اور عشنا کو یہ سراسر گھاٹے کا سودا لگ رہا تھا۔
    الف نے آنکھیں میچ لیں۔ کہیں مسکراتا کہیں بولتا کتنے خوبصورت پلوں میں اسکا چہرہ نگاہوں کے سامنے آن رہا تھا۔ اجنبی دیس میں اجنبی قومیت کے لڑکے کے ساتھ بھی جانے کیوں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
    اس نے آنکھیں کھولیں۔
    اتنا رونا دھونا مچانے کے بعد یوں بٹر بٹر واعظہ کو گھورتی الف کو دیکھ کر عزہ او رعشنا ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔
    پھر بھی واعظہ تمہیں نمبر ڈیلیٹ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ کم از کم آخری بار گڈ بائے ہی کہہ لیتی۔
    عزہ نے خود کو الف کی جگہ رکھ کر سوچا تو یہی خیال آیا اسے۔
    واعظہ نے سر پیٹنے والے انداز میں دیکھا اسے
    جس گلی جانا ہی نہیں اسکے کوس کیا گننے۔ عشنا گنگنائی۔
    تو تمہارا فیصلہ کل کی جگہ آج ہوگیا الف۔ تھینکس می لیٹر۔
    واعظہ اپنا موبائل اٹھاتی اسے جتاتی نظروں سے دیکھتی اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی۔
    ہاں۔۔۔۔ الف نے ایکدم سے مضبوط آواز میں کہا تھا۔ واعظہ رک کر پلٹ کر دیکھنے لگی۔
    میں اس پر مکمل بھروسہ کر سکتی ہوں۔ اس نے آنسو پونچھتے ہوئے مضبوط انداز میں کہا۔
    مجھے وہ ہی چاہیئے۔۔۔۔۔ میں اسے کھونا نہیں چاہتی۔
    واعظہ نے بغو راسکی شکل دیکھی۔ کچھ دیر پہلے والا تذبذب اسکے چہرے سے غائب تھا۔
    اب تو کھو چکی ہو واعظہ نے نمبر ڈیلیٹ کر دیا ہے الف۔
    عزہ نے یاد دلایا۔
    وہ جاپان تو گیا ہے ٹوکیو کا ایک ہوٹل ہے جس میں ٹھہرا ہے میں اسکو ڈھونڈ لوں گی۔ کتنے کوئی ہوٹل ہوں گے جاپان میں۔ایک ایک کو کال کرکے پوچھوں گی۔
    وہ ایک دم پرعزم ہوئی
    ایک دن میں کتنوں کو کال کر لوگی
    واعظہ ہنسی۔ الف چپ سی ہو کر اسکی شکل دیکھنےلگی۔
    واعظہ نے اپنا موبائل انلاک کرکے کال ملائی
    یہ لو بات کر لو اس سے۔۔
    واعظہ نے اپنا فون اسکی جانب بڑھادیا۔ الف ششدر سی اسکی شکل دیکھ رہی تھی
    نمبر دیکھ کر کے ہی ڈیلیٹ کیا تھا ۔۔ وہ مسکرائی۔۔۔ عزہ اور عشنا کا بھی منہ کھلا رہ گیا۔
    فون کی بیل جا رہی تھی۔ ہلکی سی گڑگڑاہٹ کے بعد کسی کی نیند میں ڈوبی آواز آئی۔۔۔ جانی پہچانی آواز۔
    ہیلو۔
    ۔ الف کا سکتہ ٹوٹا اس نے لپک کر فون اسکے ہاتھ سے لے لیا۔
    ہیلو۔ ذکریہ۔۔۔۔ الف کی آواز تھی کہ جادوئی منتر۔وہ اچھل کر اٹھ بیٹھا۔
    الف۔۔۔
    الف نے سکھیوں کو پیٹھ دکھائی اور جھپاک سے کمرے میں گھس گئ۔
    عزہ اور عشنا نے مڑ کر کمر پر بازو ٹکا کر واعظہ کو۔گھورا
    حد ہے رات کے تین بجے یہ سب کیا کھڑاگ تھا بھئ؟
    عزہ بھنائی۔
    بیان۔واعظہ ہنسی۔
    یہ الف کی بچئ سے فیصلہ ہو ہی نہیں رہا تھا سومجھے مدد کرنی پڑی۔ اور اس ڈرامے باز کو دیکھو مجھ سے وعدے لے رہی تھی کہ کسی کو بتانا نہیں اور تم سے لپٹ کر سب رٹو طوطے کیطرح رام کہانی سنادی ساری۔
    واعظہ نے کہا تو عزہ تلملا کرکمرے کیطرف جانےلگی
    کیا؟ہم سے سب رازچھپانے تھے ایک میں پاگل کندھے سے لگا کر تسلیاں دے رہی چپ کرا رہی پوچھتی ہوں ابھی اس سے۔۔
    وہ آستین چڑھا کر کمرے کی طرف بڑھی تو عشنا نے بازو سے پکڑ کر روکا
    جانے دو بعد میں نمٹ لینا ابھی اسکا مسلئہ حل ہونے دو۔
    عشنا کے رسان سے کہنے پراس نے منہ پھلا کر واعظہ کو دیکھا جو منے صوفے پر اطمینان سے ںیم دراز تھئ۔
    ویسے دو منٹ میں واپس آنے والی ہے یہیں میرے موبائل میں چارجنگ نہیں بالکل بھی۔
    واعظہ الف کا موبائل لہراتی مسکرا کر بولی۔۔ اندر سے الف چیخی تھی
    واعظہ کمینی فون بند ہو گیا تمہارا۔۔
    اسکی پکار پرواعظہ تلملائی
    اوئے گالی کس کو دے رہی ہو۔
    تمہیں۔ الف کمرے سے نمودار ہوئی عزہ اورعشنا ٹھٹھہ مار کر ہنسیں۔۔ ان دونوں کے ہنس پڑنے پر واعظہ خود بھی ہنس دی۔
    کیوں ہنس رہی ہو تم لوگ مزاق اڑا رہی ہو میرا
    الف کو نیا دکھ لگ گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ کی صبح آنکھ نہیں کھلی۔ وہ تو جاتے جاتے سیہون نے دروازہ بجایا تو مندی مندی آنکھوں کے ساتھ سر کھجاتی اٹھی کاہلی سے دروازہ کھولا سامنے سیہون نک سک سے تیار کھڑا تھا۔
    آج چھٹی ہے کیا تمہیں؟ دفتر نہیں جانا۔۔ سیہون کے پوچھنےپر اس نے جمائی لیتے ہوئے سوچا پھر نفی میں سرہلایا
    نہیں آج دفتر نہیں جانا۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا پھر ذرا سا چونکی۔۔
    دفتر کیوں نہیں جانا؟؟؟؟ جانا۔۔ ہے۔۔ دفتر جانا ہے۔
    انگریزی میں ہولہ خبطو کی۔طرح بولتی وہ سر پر ہاتھ مار کر پلٹی
    کیا مطلب جانا ہے یا نہیں۔ سیہون کف بند کر رہا تھا اسکے انداز پر مصروف انداز میں ہی کمرے میں جھانک کرپوچھنے لگاجو الماری سے کپڑوں کا ڈھیر نکال کر بیڈ پر۔پھینک رہی تھی۔
    نہیں جانا ، میرا مطلب پرانے دفتر نہیں جانا مگر جانا ہے ایک جگہ انٹرویو ہے میرا۔ نو بجےاف۔۔ میں نے تو کپڑےپریس بھئ نہیں کیئے۔شاور بھی لینا بہت کام۔۔
    وہ ایک لانگ اسکرٹ بلائوز گولا بنا کر سینے سے لگائے باہر بھاگی مگر بیڈ سے الجھ کر گرتے گرتےبچی
    لائو میں پریس کردوں۔ سیہون نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اس سے کپڑےمانگے
    نہیں میں کر لوں گی۔۔ اس نے مروتا کہا
    تم شاور لے لو میں پریس کر دیتا ہوں جلدی تیار ہو جائو تو میں گاڑی میں ڈراپ کردوں گا مجھے آج جلدی نہیں ۔۔
    اس نے اصرار کیا وہ سچ مچ متامل تھی اچھا تو نہیں لگتا نا اس سے اپنے کام کروانا۔
    دو نا، اب میں شاور تو نہیں لے سکتا تمہاری جگہ
    سیہون نے کہا تو اس پر گھڑوں پانی پڑا۔ کھسیا کر اسے کپڑے تھماتی باتھ روم کی۔جانب بھاگی۔
    تیار ہو کر فائل اور پرس تھام کر باہر نکلی تو سیہون لائونج میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا۔اسے آتے دیکھ کر ٹی وی بند کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
    وہ پہلے اپارٹمنٹ سے باہر نکلی پیچھے سیہون سب لاک کرتا آیا اسکے ساتھ لفٹ میں داخل ہوتے ہی اسے پہلے جانے کا رستہ دیتا پیچھے جان کےرکا۔ گاڑی تک آتے اسکے لیئے دروازہ اپنی گاڑی کی چابی میں لگے آٹو میٹک بٹن سے پہلےکھولا۔ کیونکہ وہ اس کے ساتھ چلتے ایک قدم تیز ہو کر پسنجر سیٹ کی طرف بڑھ گئ تھی۔
    گاڑی میں آکر بیٹھنے کے بعد بھی مروتا پہلے اس سے پوچھا
    اب چلیں۔اسکے جوابا سر ہلانے پر ہی گاڑی اسٹارٹ کی۔
    جانے لڑکے ان باتوں پر غور کرتے ہیں یا نہیں مگر یہ چھوٹی چھوٹی سی باتیں حرکتیں لڑکیوں کےلیئے کتنی اہمیت رکھتی ہیں۔ سلجھا ہوا انداز ساتھ چلتی خاتون کو یوں عزت دینا اہم سمجھنا اسکا ذرا سا خیال رکھ لینا۔۔۔۔ یہ سب لڑکیوں کو کتنا پسند آتا ہے اگر اسکو پتہ چلے تو۔۔۔ اس نے چور سی نگاہ سڑک پر مکمل توجہ دیئے احتیاط سے ڈرائیو کرتے سیہون پر ڈالی۔۔۔۔
    وہ مکمل آفس بوائے والے حلیئے میں تھا گلابی شرٹ ٹائی آستینیں ذرا سا موڑ رکھی تھیں مگر مضبوطئ سے سٹئیرنگ تھامے بے نیاز بیٹھا وہ گورا چٹا چندی آنکھوں والا لڑکا جس کے چہرے کی جلد اسکے اپنے چہرے سے ذیادہ شفاف تھی۔
    بے وقوف میری۔ اتنا ہیرےجیسا لڑکا ٹھکرا دیا۔
    وہ بڑبڑا اٹھی
    دے۔۔۔مجھ سے کچھ کہا۔سیہون چونک کرپوچھنےلگا۔
    آنی۔۔ فاطمہ نے زبان دانتوں تلے دبا لی
    شکر ہے اردو میں ہی بڑبڑائی۔ وہ دل ہی دل میں شکرادا کرنے لگی۔
    اس نے مطلوبہ جگہ گاڑی روکی تو وہ شکریہ ادا کرکے اترگئ۔
    واپس کیسے آئو گئ؟ سیہون کے پوچھنے پر وہ سوچ میں پڑی۔
    سیول کے اس علاقے سے اسکی کوئی واقفیت نہیں تھی مگر میٹرو اسٹیشن تو سب جگہ ہوتے ہی ہیں اور کچھ نہیں تو بس ۔۔ ٹیکسی تھوڑی مہنگی پڑتی۔۔
    یہاں ۔۔ اس نے گردن موڑ کر چاروں طرف دیکھا۔ دور کچھ فاصلے پر بس اسٹاپ نظر آگیا مطمئن ہو کر بولی۔
    بس سے۔
    سیہون نے اسے ایک نظر غور سے دیکھا پھر سر ہلا دیا
    کرم۔۔ سر کے اشارے سے الوداع کہتا وہ گاڑی آگے بڑھا گیا۔۔
    اکیڈمی لب سڑک تھئ اور خاصی بڑی عمارت تھی یقینا بڑا سیٹ اپ تھا انکا۔ وہ اللہ کا نام لیکر سیدھا اندر گھس گئ۔ ریسپشن پر اپنا نام بتا کر جیسے ہی اپنا سی وی نکالنا چاہا تو احساس ہوا کہ بس پرس ہی پاس ہے۔۔۔گاڑی سے مزے سے ہاتھ جھلاتی نکل آئی تھی۔
    چندی آنکھیں منتظر تھیں۔۔
    چھے سو ہمبندا۔۔ وہ جھک کر معزرت کرتی بھاگتی ہوئی باہر آئی۔ سیہون گاڑی لیکر نکل چکا تھا۔ سڑک رواں تھی۔ وہ پھولی سانسوں کو ہموار کرتی ہونٹ کاٹنےلگی۔
    بنا سی وی کے آنٹرویو دوں؟ اس نے سوچا۔۔
    میں ہوں فاطمہ احمد۔ دے بھئ سکتی ہوں انٹرویو خالی خولی۔
    وہ عزم کرتی پلٹی سیہون سامنے کھڑا گھور رہا تھا۔فائل ہاتھ میں لیئے دانت کچکچا کربولا۔
    حد ہوتی ہے لاپروائی کی بھی ویسے انٹرویو دینے آئی ہو اور اپنا سی وی ہی بھول آئیں۔ ۔ آگے یو ٹرن بھی اتنا دور ہے گاڑی وہ سامنے لگا کے بھاگتا ہوا آیا ہوں۔۔
    اس نے دور سڑک کی جانب اشارہ کیا۔ فاطمہ کھلکھلا کر ہنسی
    شرمندہ ہونا تو سیکھا ہی نا تھا۔سیہون اسے گھورتا رہا پھر اسکی ڈھٹائی پر خود بھی ہنس دیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انٹرویو دینے جو لوگ آئے ہوئے تھےان میں غیر ملکی بس وہی تھی۔ آپس میں سب گٹ پٹ لگے جانے کیا کہانیاں سنا رہے تھے۔فاطمہ نے ایک ترچھی نگاہ ان سب پرڈالی۔ انٹرویو تین تین لوگ دینے جا رہے تھے۔جب اسکی باری آئی تو ایک پی ایچ ڈی اسکالر چالیس کے قریب تھا ایک لڑکی جو دیکھنے میں ہائی اسکول کی ہی لگتی تھی۔ ان دونوں کے آگے اسکا چانس پکا تھا سو خود بخود اعتماد آیا گردن میں سریا۔
    پہلے بھائی جان بولے۔۔
    گٹ پٹ گٹ پٹ۔۔
    پھر باجی۔۔۔۔۔
    گٹ پٹ گٹ پٹ۔۔۔
    اب انٹرویو پینل میں بیٹھے وہ پچاس کیا اسی کے پیٹھے میں ناک چڑھائےبیٹھےانکل بلکہ دادا جی۔۔
    گٹ پٹ گٹ پٹ۔۔
    ٹون۔۔۔۔۔۔ اسکا دماغ سائیں سائیں ہوا۔
    جانے کیا پوچھ رہے تھے اس نے گہری سانس لی۔پینل میں بیٹھے وہ تین مرد ایک خاتون اسکے ہمراہ انٹرویو دینےآئے دونوں امیدوارسب اسے دیکھ رہے تھے۔
    اس نے اپنے اعتماد کے غبارے سے ہوا نکلتی دیکھی تو جھٹ سیدھی ہو کر بیٹھئ۔
    ہائی آئی ایم فاطمہ احمد۔ ۔آگے طویل انگریزی بیان تھا جس میں اسکے بچپن سے آج تک قابلیت کے گاڑے گئے جھنڈوں کی تفصیل تھی۔لہجہ، اعتماد متاثرکن تھا یہ الگ بات اس بار اسکی گٹ پٹ ان سب کے سرپرسے گزری تھی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ انٹرویو دے کر نکلی ہی تھی کہ باس کی کال آئی۔ کافی چلا رہے تھے فورا سیٹ پر پہنچنے کی ہدایت۔ وہ حیران تو ہوئی مگر بھاگم بھاگ پہنچنا پڑا۔
    کہاں غائب ہیں آپ؟صبح سے شوٹ رکی ہوئی ہے کوئی اندازہ ہے آپکو ہمارا کتنا نقصان ہوا ہے۔ اب فوری۔طور پر سلمی اور عبداللہ کا سین ریڈی کروائیں۔۔۔ اسکرپٹ اسکے ہاتھ میں تقریبا پٹخا تھا۔۔ خوب بک جھک کر تن فن کرتے ہدایت کار صاحب سیٹ کیجانب بڑھ گئے
    پر میں تو کھاوا کو سب سمجھا کے گئ تھی کہاں ہے کھاوا۔
    اسے سخت غصہ آیا۔ ایک دن دو چار گھنٹے اسکی روپوشی کوراز نہ رکھ سکا۔
    اس نے پاس سے گزرتے اسپاٹ بوائے کوروک کرکھاوا کا پوچھا۔
    ٹوٹی پھوٹئ انگریزی میں اس نے اسےسمجھا ہی دیا
    کھاوا کو پولیس پکڑ کر لے گئ ہے۔۔
    وہ شاک کی کیفیت میں کھڑی رہ گئ۔
    پر۔کیوں؟؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیٹ پر موجود سو ڈیڑھ سو بندہ خاموش اپنی اپنی جگہ کھڑا تھا۔ہدایت کار اس پر چلا رہا تھا عبد اللہ اسے شانت ہونے کا کہہ رہا تھا سلمی بے نیازی سے اپنی کرسی پر بیٹھی میک اپ ٹھیک کرتے ہوئے آئینے میں دیکھتے ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈال دیتی تھی۔
    وہ بیچوں بیچ سر جھکائے کھڑی سب سن رہی تھی۔
    تم لوگ دو ٹکے کے آجاتے ہو منہ اٹھا کے کوریا اوپر سے فراڈ بھی کرتے ہو۔ ایک پاکستانی یہاں خفیہ کیمرے لگا رہا دوسری اسکی ساتھی یہاں جھوٹ بول کر نوکری کر رہی ہے۔ کام چور نکمی۔ کچھ اندازہ ہےمیرا کتنا نقصان ہوا ہے۔دل تو کر رہا۔۔
    وہ شائد اسے مارنے کو دوڑتا مگر عبداللہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسے پکڑ کر کھینچ کھانچ کر لے گئے۔
    مانا اسکی لمبی تقریر کا صرف حوالہ متن ہی سمجھ آسکا تھا اسے پھر بھی یوں سب کے سامنے اتنی بے عزتی اسکی اپنی ہی غلطی تھی مگر۔ اس سے نگاہ اور سر اٹھایا نا جا سکا۔ ستے ہوئےچہرے کے ساتھ پلٹتے بھی اسکو اپنی پشت پر سیکنڑوں نگاہوں کے تیر گڑتے محسوس ہو رہےتھے۔کندھےبھن بھن کےبوجھ سے جھک رہے تھے۔
    واعظہ بھاگتئ ہوئی سیٹ کی طرف آئی تھی۔ اسے باہر آتے دیکھ کر رکی مگر وہ اسکے پاس سے گزر کر آگے بڑھ گئ۔۔واعظہ کچھ نہ سمجھتے اسکےپیچھے لپکی۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تفتیشی افسر نے گہری سانس لیکر اپنےساتھی کو دیکھا۔
    وہ بالکل خاموش سر جھکائے بیٹھا تھا انکے مقابل۔۔
    چہرے پر اتنا تنائو تھا کہ جیسے وہ دانتوں پر دانت جمائے بیٹھاتھا۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرےمیں پھنسائے۔۔ ایک ہاتھ میں بینڈج تھی شائد کوئی۔زخم رہا ہو اس وقت مٹھی کی سختی کی وجہ سے وہ سفید پٹی سرخ ہونے لگی تھی۔ مگر اسکے چہرے پر کوئی تکلیف نہیں تھئ۔۔
    ہو سکتا ہے اسے ہماری زبان سمجھ نہ آتی ہو۔۔
    اسکے ساتھئ نےخیال ظاہر کیا تو اس نے اپنےلیپ ٹاپ کا رخ اسکی جانب کر دیا۔
    کھاوا احمد کا مکمل بائو ڈیٹا انکے سامنے تھا اسکا پاسپورٹ ویزا اسکا ورک پرمٹ ، عربی، انگریزی ، ہنگل کے ساتھ ویتنامی زبان بھی درج تھئ۔
    تعلق پاکستان سے مگر۔۔ افسر نے الجھن بھرے انداز میں دیکھا۔۔ جب بات بھی سمجھ آرہی ہے تو یہ کچھ بولتا کیوں نہیں۔ بڑے سےبڑا مجرم بھی اپنی صفائی تودیتا ہے۔۔
    پانی کا گلاس اسکے برابر رکھا تھا مگر پچھلے دو گھنٹوں سے اس نے گھونٹ نہیں بھرا تھا۔
    آپ پیر کی دوپہر ڈریسنگ روم نمبر 7 میں کس کام سے گئے تھے؟
    ہنگل میں پوچھا گیا سوال۔۔اسکے ذہن نے فوری تشریح کی مگر۔۔۔۔
    افسر حیران تھا۔ جوابا اس لڑکے نے پلک بھی نا جھپکی۔
    توں ایس ویلے ووہٹی دے کمرے وچ کی لین گیا سی؟
    مشکوک لہجہ سوال اس بار پنجابی میں پوچھا
    اس سوال کو وہ جھٹک نہ پایا تھا اس نے اپنے بالوں کو دونوں مٹھیوں میں جکڑ لیا۔
    نہیں۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔
    وہ وہاں نہیں تھا وہ اس وقت پاکستان کے ملتان سائیڈ کے چھوٹے سے گائوں میں تھا جہاں اس سے یہ گھنائونا سوال کرنے والے غیر نہیں تھے۔
    وہ ان یادوں کو مٹا دینا چاہتا تھا جبھی ہذیانی انداز میں اپنا سر میز پر ٹکراتے بال نوچتے چلانے لگا تھا۔ پے در پے خود کو تھپڑ مارتے اس لڑکے نے ہتھ کڑی لگی ہونے کےباوجود خود کو ٹھیک ٹھاک زخمی کر لیا تھا۔ دونوں افسر بھاگے اس نے اپنے آپ کو کرسی سمیت گرا لیا تھا کرسی سے بھی وہ دیوانوں کی طرح سر مار رہا تھا۔۔دیکھتے ہی دیکھتے خون نکل آیا تھا۔ دونوں افسر اسکے ہاتھ پکڑ کر سنبھالتے ہوئے ہلکان ہو گئے۔۔ تو وہ انکے ہاتھوں میں ہی بے ہوش ہو کر ڈھیر ہو گیا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چل کرو یار۔ اس بڈھے کی بھی حالت ٹائٹ ہوئی وی تھی اتنا نقصان ہوا ہے اسکا پاگل ہوا وا تھا جبھی اتنا بولا تم دل پر کیوں لے رہی ہو۔ اور کھاوا کا غصہ بھی اس نے تم پر نکال دیا۔ خود سوچو دوران شوٹ اسکو پولیس پکڑ کر لے گئ وہی ان سب کو ڈائلاگ یاد کرواتا تھا دو ایک گھنٹےشوٹ اس وجہ سے رکی رہی پھرتم کو بلایا تو تم نے بھی صاف صاف سب سچ بتا دیا کہ تمہیں عربی نہیں آتئ اب یہ تو اس دنیا کا اصول ہے اپنی غلطی مانو سچ بولو اور دنیارج کے ذلیل کرتی ہے۔ واعظہ نے فلسفہ جھاڑا۔ مگر فاطمہ ٹھس سی بیٹھی رہی
    ہنگن دریا کنارے ہمیشہ کی طرح فاطمہ اپنا ڈپریشن دریا برد کرنے آئی تھی۔ اور اسکی مدد کو ای جی سے معزرت کرکے اس سے اپنے لیئے خوب ساری لعن طعن سن کر اپنا ڈپریشن بہانے واعظہ بھی پیچھے پیچھے آئی تھی۔ اس نے ریڑھی سے چھلی لی تھی ابلی ہوئی چیز میں ڈوبی اور ساتھ لال چٹنی سی تھئ۔ واعظہ چٹخارے لے کر کھا رہی تھی جبکہ فاطمہ کی پلیٹ ان چھوئی اسکے برابر رکھی تھی۔
    ہنگن پر رات اتر چکی تھی۔ نمائشی بتیوں میں نیلا پانی ساکت تھا وہ دونوں بنچ پر بیٹھی اس پر نگاہ جمائے تھیں۔۔
    مجھے نہیں لگتا کہ مجھے اکیڈمی میں نوکری ملے گی۔ وہاں سب اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ پی ایچ ڈی تو کوئی ایم فل میرا سادا ایم اے انگلش کسی کام کا نہیں۔۔۔ جوابا وہ بولی بھی تو کیا بولی۔
    تمہیں اکثر غلط ہی لگتا ہے سو اپنے اندازوں پر مت جائو بالکل غلط ہوتے ہیں۔
    واعظہ نے بھٹہ کھا کر ہاتھ جھاڑے۔۔
    یہ نوکری بھی گئ۔ مجھے خدا واسطے سیہون رکھ بھی لے تو بھی اگلے چار پانچ سال میں میری زندگی کیا ہوگی واعظہ۔۔؟
    پانی پر نگاہ جمائے وہ برابر بیٹھی واعظہ سے پوچھ رہی تھی
    مجھے کیاپتہ مجھے کونسا کشف ہوتے۔۔واعظہ نے کندھے اچکائے۔
    مجھے ہاتھ دیکھنا بھی نہیں آتا۔ اس نے منہ لٹکایا۔

    میرے ہاتھ میں بنا دیکھے بھئ مجھے پتہ ہے ایک لکیر بے عزتی کی بھی ہےوہ بھی خوب گہری لمبی سی۔۔
    فاطمہ نے استہزا سے اپنی سپید ہتھیلی نگاہوں کے سامنے پھیلائی۔۔
    میرے ہاتھ میں بد قسمتی کی لکیر ایسی ہی لمبی گہری ہے۔
    واعظہ نے بھی ہنس کر اپنی ہتھیلی اسکی ہتھیلی کے ساتھ ملائی یوں کہ دعا کی طرح اٹھے ہاتھ لگنے لگے۔
    وہ دعا مانگنے ہی لگی تھی کہ۔واعظہ نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔
    واعظہ۔۔ میں کیا کروں؟ میں پاکستان نہیں جانا چاہتئ۔
    وہ بےبسی سے اسکی جانب رخ کرکے بولی۔۔واعظہ جو اسکی پلیٹ اٹھا چکی تھی گڑبڑا کر اسکی جانب بڑھانے لگی۔۔ مگر اسے کھانےمیں دلچسپی نہ تھی۔
    کوریا بہت اچھا سہی مگر یہاں آپ بنا نوکری نہیں رہ سکتے۔۔ میں سیہون کی شکل دیکھتی ہوں مجھے شرمندگی ہوتی ہے۔ تمہاری شکل دیکھتئ ہوں تو ۔۔۔ وہ کہتے کہتے رک گئ
    کیا میری شکل دیکھتی ہو تو کیا؟ واعظہ ایکدم الرٹ ہوئی۔یقینا کوئی الٹا کمنٹ کرنے لگی ہے کمینی ایک تو اسکی خاطر۔اس نے غصے میں بڑی چکھ مار لی بھٹے میں۔۔
    سچ بتائوں۔ فاطمہ اسکی شکل غور سے دیکھتے ہوئئ بولی
    ہاں سچ بتائو۔
    وہ لڑنے کو تیار ہوئی۔۔ جلدی جلدی منہ چلا کر نگل کر خالی کیا۔
    تمہاری شکل دیکھتئ ہوں تو مجھے تسلی سی ہوتئ ہے۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ سر ہلا کر بولی جیسے سمجھ گئ۔۔
    ہاں یہی تسلی نا کہ کوئی اور بھی ایسا ہے جو تم سے ذیادہ منحوس ہے۔
    فاطمہ نے رخ موڑ کر ہنگن دریا پر نگاہ جما دی۔۔پھر دھیرے سے بولی۔۔
    مجھے تسلی سی ہوتی ہے کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔کوئی ہے جو مجھے اس وقت بھئ میسر ہوگا جب دنیا میں کوئی میرے ساتھ نہ ہوگا۔
    اسکا دھیرے سے کیا گیا اعتراف واعظہ کو حیرت میں مبتلا کر گیا۔
    پتہ ہے تم دنیا کی وہ واحد انسان ہوجواگر کہے فاطمہ اس دریا میں کود جائو تو فاطمہ آنکھیں بند کرکے کود جائے گی اسے پتہ ہوگا کہ یقینا میرے لیئے کچھ اچھا ہی سوچا ہے تم نے۔
    وہ مسکرا رہی تھی۔۔
    محظوظ سے انداز میں۔ واعظہ کی حیرت بھری نظریں اسے خود پر جمی محسوس ہو رہی تھیں۔
    میں مزاق میں بھی کودنےکو کہہ سکتی ہوں اتنی اندھی تقلید مت کرنا میری۔
    واعظہ نے ہاتھ اٹھا کر وارننگ دی
    فاطمہ ہنس کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    کیا ہوا کودنے جا رہی ہو۔
    واعظہ نے جلدی سے بھٹہ پلیٹ میں رکھا۔
    فاطمہ گھور کر رہ گئ۔۔ پھر خیال آیا
    ویسے واعظہ یہ کھاوا کیا واقعی میں ایسا ہے؟واقعی ای جی آ کے روم میں کیمرہ اسی نے رکھا تھا؟
    واعظہ نے کندھے اچکائے
    پتہ نہیں۔۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ بھی گیا تو ہے کمرے میں مگر ضرورئ تو نہیں کہ بس وہ ہی گیا ہو۔ کیمرہ کوڈ توڑے گی پولیس ڈیٹا ریکور ہو تو اصل مجرم سامنے آئے گا۔
    تمہیں پتہ ہے مجھے وہ ایسا نہیں لگتا۔۔ فاطمہ نے پریقین انداز میں کہا۔
    تم اور تمہارے غلط اندازے۔ واعظہ نے مکھی اڑائی۔۔
    نہیں یار لڑکیوں کو پتہ لگ جاتا ہے لڑکا انکو کس نظر سے دیکھ رہا ہے۔اسکی نظروں سادہ ہی ہوتی ہیں۔۔ وہ مجھے ایسا ویسا لڑکا نہیں لگتا۔۔
    فاطمہ اپنی بات پر قائم تھی۔۔۔۔واعظہ نے اپنی بقیہ چھلی کو دیکھا پھر اسے ختم کرنے میں مشغول ہوگئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سب جگہ پتہ کرلیا کوئی ہے جن نہیں ہے یہاں۔۔۔
    تیجون نے کہا تو دونوں نے سر پیٹ لیا۔
    ارے یہاں نہیں ہے وہ تو اپنے آبائی گائوں ہے ہمیں اس گائوں کا پتہ جاننا ہے وہ یہاں اسکے اسکول سے لیکر دو۔
    طوبی بھنائی تو تیجون نے منہ پھلا لیا۔غصے سے بھی اور فرائی چکن سے بھئ۔دونوں بڑے صبر سے اسکے غبارے جیسے منہ کو خالی ہوتے دیکھنے لگیں۔
    آپکو پتہ ہے گرد و نواہ میں کتنے ہائی اسکول ہیں سرکاری و غیر سرکاری اوپر سے ہے جن نام کےکتنے لڑکے ہوںگے۔اتنا بڑا سیول ہے۔ ۔۔ تصویر ہی کم از کم ہوتی تو ڈھونڈ دیتا میں۔۔
    تیجون نے نہایت بے چارگی سے کہا تو وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔
    یار۔ عزہ نے بے چارگی سے طوبی کو دیکھا۔ تیجون نے ایک نظر اس نقاب پوش لڑکی کو دوسری نظر طوبی کو دیکھا پھر اپنے برگر کی طرف متوجہ ہوگیا۔
    وہ لوگ اس وقت مشہور فاسٹ فوڈ ریستوران میں بیٹھے تھے
    ان دونوں نے تو یہاں سے کیا ہی چکن کھانا تھا اس موٹے تیجون کو ڈیل منگوا کر دی جسے۔ڈکارنے کے بعد اس نے یہ عظیم انکشاف کیا تھا۔ خود دونوں اپنی ڈرنکس کے اسٹرا ڈرنکس میں گھما گھما کے مدو جزر بنا رہی تھیں۔۔
    تصویر ہوتئ تو مسلئہ کیا تھا ہم تصویر دکھا کے خود ڈھونڈ لیتے۔
    طوبی چڑی تو تیجون کان دبا گیا۔
    یار طوبی جی یہ تو واقعی مسلئہ ہے۔ہم ہے جن کو ہر۔جگہ اپنا فوٹوگرافر بنا لیتے تھے جہاں جاتے اس سے تصویر کھنچواتے کبھی اسکی تو تصویر کھینچی ہی نہیں ہم نے۔
    عزہ کو اچھا خاصا گلٹ ہوا۔
    واقعی۔ طوبی بھی شرمندہ ہوئی۔
    میں بھی سارا دن اسکو جانے کیا کیا۔بتاتی سمجھاتی تھی۔بھائئ کہتی تھئ کبھی اسکی تصویر تک نہ لی۔۔۔ نگاہوں کے سامنے ہی تو تھا کیا۔خبر تھئ کبھی تلاشنا پڑ جائے گا اسے۔
    وہ یاسیت سے بولی
    آپ۔دونوں کی۔بات سمجھ تو نہیں آئی مگر لگتا ہے یہ لڑکا کوئی بڑا نقصان کرکے بھاگا ہے جو آپ۔اتنی دکھی ہیں۔میری مانیں تو پولیس میں شکایت لگائیں۔ایسے آپ دونوں جیسی غبی نظر آنے والی خواتین کو اکثر ہائی اسکولر الو بنا جاتے ہیں۔
    الفاظ کا چنائو ٹھنڈی بستی وہ بھی انگریزی میں۔۔
    تیجون کے الفاظ کا ہتھوڑا سر پر پڑا تو جوابا دونوں چلائیں۔۔
    شٹ اپ۔
    میں تو آپکے بھلے کیلئے کہہ رہا تھا۔
    وہ ڈر ہی توگیا۔۔
    ویسے آپ لوگ لڑکے ڈھونڈنے کے علاوہ اور کیا کام کرتے ہیں۔
    اسکے سوال پر اچنبھے سے طوبی نے گھورا
    مطلب۔
    مطلب ایک لڑکا آپ ڈھونڈ رہی ہیں ایک لڑکا آپکے میاں۔۔
    لڑکے اسمگل کرتے ہیں کیا آپ لوگ
    کہتے ساتھ ہی وہ بروقت جھکائی دے گیا۔کیونکہ جہاں بیٹھا تھا وہاں طوبی کی بھری کولڈ ڈرنک والا پیپر کپ آن گرا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دو دن لگے تھے پولیس کو تفتیش مکمل کرنے میں۔ کیمرہ لگانے والا کھاوا نہیں تھا بلکہ پروڈکشن ٹیم کا ایک عارضی ملازم تھا جو فوری طور پر منظر سے غائب بھی ہو چکا تھا۔
    دو دن حراست میں رکھنے کے بعد اسکو گھر جانے کی اجازت ملی۔ سر پر پٹی بندھی تھی۔ہاتھ پر پٹی۔۔ کلائیوں پر نیل چہرے پر نیل۔ اور ان میں سے ایک زخم بھی پولیس والوں کا دیا نا تھا۔ تفتیشی افسر نے اسے نفسیاتی علاج کے ادارے کا کارڈ دیتے بڑے خلوص سے اسے وہاں جانے کا مشورہ بھئ دیا تھا۔ اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔ اور باہر نکل آیا۔
    اپنے ہر لڑکھڑاتے قدم کے ساتھ اسکی اپنی زندگی سے اچھی امید بھی ختم ہو رہی تھی۔ ایسے موقعے جب وہ دنیا میں خود کو اکیلا تنہا ناکارہ محسوس کرتا تھا وہ خود کو شراب کے نشے میں گم کر لیتا تھا۔ مگر آج اسے شراب بھی پینے کو دل نہیں کر رہا تھا۔۔بلکہ آج تو اسکا جینے کو بھی دل نہیں چاہ رہا تھا ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ تو اپنے فلیٹ چلی گئ وہ جب گھر پہنچی تودلاور صارم کو گود میں لیئے کھڑے تھے۔
    اسلام و علیکم۔ اس نے سلام کیا تو چونکے۔ شفقت سے جواب دیا پھرپوچھنے لگے
    گھر میں کوئی تقریب ہے؟ میرا مطلب کوئی خاص پروگرام؟
    جی؟ وہ سمجھ نہ پائی۔
    وہ طوبئ کئی گھنٹوں سے آپکے گھر ہے۔ بچیاں بھی وہیں ہیں۔صارم سو رہا تھا تو اب جاگ کے ماں کو یاد کر رہا ہے۔میں بیل کر رہا ہوں ۔مگر اندر شور ہے کوئی سن نہیں رہا
    وہ بیٹے کو تھپکتے بے چارگی سے بولے۔
    اوہ۔ وہ یقینا کافی دیر سے کھڑے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر انلاک کیا۔۔
    میں طوبئ کو۔۔ وہ کہنے لگی تھی کہ طوبی کو بھیجتی ہوں
    آپ اسکو بھی اندر لے جائیں۔۔ کہہ کر انہوں نے اپنا گول مٹول بیٹا اسے تھما دیا۔ وہ۔ہڑبڑا سی گئ شکر ہے گرا نہیں۔۔
    دراصل مجھے کہیں بہت ضروری جانا ہے طوبی کو بتا دیجئے گا مجھے دیر ہو سکتی ہے۔
    وہ کہہ کر رکے نہیں معزرت کرتے لفٹ کیطرف بڑھ گئے۔
    اس نے اب غو رکیا ان پر تو اپر اور جینز پہنے وہ تیار ہی کھڑے تھے باہر جانے کو۔۔ وہ دروازہ بند کرتی بچے کو اٹھائے اندر چلی آئی۔۔
    گھرمیں میلے کا سماء تھا۔سب لائونج میں جمع تھیں۔ ٹی وی پر کورین موسیقی چل رہی تھی مگر دھیمی آواز میں۔ جانے بیل کیوں نہ سنائی دی۔ اس نے بیل چیک کی تو بیل ہی۔بند تھی۔مین ڈو رکا کیمرہ بھی بند۔وہ انکو گھور کر رہ گئ۔ عشنا الف عزہ طوبی لیپ ٹاپ منی میز پر رکھے اسکے گرد آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں سب کے ہاتھوں میں چاول کی پلیٹیں تھیں جس میں سے بریانی اڑائی جا رہی تھی۔ ۔بچیاں شائد کھا چکی تھیں کیونکہ انکے سامنے رکھی پلیٹیں خالی تھیں اور وہ ان تینوں کے موبائل میں گیمز کھیلنے میں مگن تھیں۔اسکی آمد کا نوٹس بس ان بچیوں نے لیا وہ بھی اتنا کہ اچٹتی نگاہ ڈال کر گیم میں مگن ہوگئیں۔
    اس نے آگے بڑھ کر انکی دلچسپی کا منبع جاننا چاہا۔ لیپ ٹاپ پر جھانکا ابیہا سرخ ساڑھئ پہنےکانوں میں ہینڈز فری لگائے لہک لہک کر باتیں کر رہی تھیں۔ اسکو دیکھ کر وہی سب سے پہلے چلائی
    واعظہ کی بچی فون کیوں نہیں اٹھاتی تم اتنی کالیں کی تمہیں۔
    اسکے چلانے پر سب کئ گردنیں گھومیں۔
    اس نے موقع غنیمت جانتے طوبی کو اسکا بیٹا تھمایا۔۔ اس نے جلدی سے اپنی پلیٹ ایک طرف رکھی۔
    ویڈیو کال کر رہی تھیں میں گلی میں ویڈیو کال اٹینڈ کرتی کیا۔
    اسکی بات میں دم تھا وہ کھسیائئ۔ پھر جوش سے کہنےلگی۔
    اچھا سنو میں نے ان سے کہا ہے ہم ہنی مون پر کوریا آئیں گے۔ تم سب سے ملوں گی میں۔
    تم ہنی مون پر ہی نہیں آئی ہوئی ہو ؟
    عزہ کو حیرانی ہوئی
    ہاں یہ تو اسلام آباد ہے نا ہم مری تک جائیں گے کاغان ناران کی بجائے میں نے ان سے کہا ہے وہ پیسے بچائیں اور کوریا گھمائیں مجھے۔
    وہ اٹھلائی۔
    شیفون کی سرخ ساڑھی پہنے وہ اسلام آباد کے کسی ہوٹل میں بیٹھی تھی۔ ہاتھ لمبا کرکےباتیں کرتی پیچھے لیپ ٹاپ پر کام۔کرتے اسکے سنجیدہ صورت گندمی رنگت والے میاں ذرا سا مسکرائے تھے۔ واعظہ کی طرح۔
    ہیں سچی۔ عشنا عزہ طوبی خوش ہوئی تھیں۔
    کاغان ناران جانا اور کوریا چلے آنے میں فرق نہیں؟ کوسٹ کی بات کر رہی۔
    الف نے ذرا سا واعظہ کی جانب جھک کر سرگوشی کی۔
    واعظہ نے ذرا سا نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ سمجھ کر چپ ہوگئ ابیہا خوش ہی اتنی تھی۔
    ویسے اسکا میاں اچھا ہے سڑیل نہیں ہم سب سے ملوایا ہے سلیقے سے بات کی اس نے۔ طوبی کو بیٹا چین لینے نہیں دے رہا تھا تو اسے اٹھاکراٹھتے ہوئے اس نے واعظہ کو بتایا۔۔
    ہاں طوبی دلاور بھائئ کہہ کر گئے ہیں وہ کسی ضروری کام سے جا رہے ہیں دیر سے آئیں گے۔
    واعظہ کو یاد آیا تو فورا بتایا۔
    طوبی جوابا سر ہلاتی کچن کی طرف بڑھ گئ۔صارم کو بھوک لگی ہوئی تھی اسکی پیٹ پوجا ضرورئ تھی۔۔۔
    واعظہ تم نے میری شادی کی تصویریں دیکھیں ؟میں نے واٹس ایپ کی تھیں۔۔ابیہا کو جانے کیا یاد آیا۔
    واعظہ کو وہ پونے چار سو تصویریں یاد آئیں جن کو کوریا کے تیز ترین انٹر نیٹ نے جھٹ پٹ ڈائونلوڈ کر دیا تھا اسکے فون میں رات کے چار۔بجےادھوری نیند سے جاگ کر انسان اپنی شادی کی تصویریں نہ دیکھے کجا کسی اور کی۔ مگر مروت بھی کوئی چیز تھئ۔
    جھٹ اثبات میں سر ہلایا۔۔ طوبی نے چاولوں کی بھری پلیٹ اسے لا تھمائی جو اس نے شکریئے سے قبول کر لی۔
    وہ جو ولیمے والی تصویر ہے ہماری اس کو دیکھ کر بتائو کونسے ہیرو لگ رہے۔۔پکا پہچان جائوگی میرے فیورٹ ہیرو کی جھلک ہے ان میں۔ اف سچی لگن تھی میری۔۔۔۔عزہ اور عشنا نے ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔
    ٹھہرو دکھاتی ہوں۔اس نے پلٹ کر بیڈ پر پڑا میاں کا فون اٹھایا۔ اسکے وال۔پیپر پر اسکے ولیمے کی ہی تصویر تھی
    گندمی رنگت لمبے چوڑے بھائی آلو ارجن سے مشابہت رکھتے تھے۔
    بس تھوڑا ڈارک ورژن ہیں۔ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی وہ آواز دبا کر بول رہی تھی۔
    نہیں تو اچھا خاصا گورا ورژن ہیں تو۔۔ الو ارجن تو بہت ہی کالا۔ہے۔۔
    عشنا بول پڑی۔ ان سب نے گھور کر دیکھا تو کھسیا کر پلیٹ پر جھک گئ۔ابیہا نے شائد سنا نہیں ۔۔۔
    لہرا کر پتہ نہیں کیا بتا رہی تھی مگر آواز کچھ ذیادہ ہی دبا لی تھی اتنی کہ انکو سنائی نہ دی۔
    کیا کہہ رہی ہو سنائی نہیں دے رہا۔ عزہ نے بتانا چاہا وہ بد مزا ہوگئ۔
    لو پورا قصہ سنا دیا۔ اب دوبارہ نہیں سنا رہی یہ پھول کر کپا ہو جائیں گے اتنی تعریفیں کر رہی ہے بیوی تو فداہے مجھ پر۔۔ وہ بات بات پر ہنس رہی تھئ۔۔
    اچھا سنو میں بتا رہی تھئ ووکی۔۔
    تعریفیں تھیں تو سن کر کیا کرنا تھا جبھی الف نے ٹوک دیا
    نام کیا ہے دلہا بھائی کا جو انکو ان ان کہہ رہی ہو۔
    نام تو انکا کبیر ہے۔ وہ مسکائی۔۔۔
    میں نے بتایا انکو آپکی شکل میرے فیورٹ ایکٹر سے ملتی ہے۔۔
    الو ارجن؟۔۔ عشنا نے جیسے انعام لینا تھا صحیح بوجھ کے۔۔
    ارے نہیں الو۔ارجن بھی پسند ہے مجھے مگر یہ تو میرے فیورٹ ترین ہیرو کے ہم شکل ہیں۔بوجھو ذرا۔۔
    ابیہا نے کہا تو وہ سب دیگر سائوتھ انڈین ہیروز کی شکل ذہن میں لانے لگیں۔
    اوفوہ کیا ہوگیا ہے جی چھانگ ووک سے نہیں ملتی انکی شکل۔۔
    اسکے کہنے پر ان سب کو با جماعت اچھو ہوا تھا۔ مگر ابیہا بے حد سنجیدہ تھی
    میں توانکو وکی کہتی ہوں اب ووقی کہوں گی تو ایویں شک میں نہ پڑ جائیں۔ کل بھی ہنس رہے کہ کبیر نام کا یہ نک نیم دنیا میں میں پہلی لڑکی ہوں گی جس نے بنایا۔
    اور پتہ ہے۔۔
    ابیہا کوئی نیا قصہ شروع کر چکی تھی الف نےاپنے موبائل کی اسکرین کو دیکھا سیہون جگمگا رہا تھا مگر انلاک کرو تو اندر وال پیپر پر ژیہانگ کی تصویر تھی۔ دونوں چندی آنکھوں والے سہی مگر بالکل معمولی سی بھی شکل نہیں ملتی تھی۔ ایک اسے پسند تھا اپنی شکل کی وجہ سے دوسرے سے محبت ہوگئ تو شکل اچھی لگنے لگی تھی۔۔
    اس نے مسکرا کر موبائل واپس لاک کر دیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دوبارہ اسی نیم۔تاریک عمارت کے باہر لابی میں کھڑے تھے۔ انہیں لانے والا وہ۔چندی آنکھوں والا لڑکا بضد تھا کہ انکو۔صحیح جگہ لایا ہے۔
    میں یہاں آچکا ہوں اوپر کے سب فلور دیکھے ایک ایک اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکا کر پوچھا ہے۔ یہ پتہ ضرور آپ کھوج نکالتے ہیں مگر یہاں وہ لڑکا نہیں رہتا۔
    دلاور بمشکل اپنی جھلاہٹ پر۔قابو پا رہے تھے۔ چندی آنکھوں والے کو انکی بے چینی نظر آرہی تھی اسے ہمدردی بھی تھی
    دیکھیں بنا اتا پتہ دیئےوہ لڑکا یہاں کوئی مستقل توکیاعارضی نوکری بھی حاصل نہیں کر سکتا۔اگر وہ یہاں نہ بھی رہتا ہو تو جو شخص یہاں رہتا ہے وہ کم از کم اسے اتنا ضرور جانتا ہوگا کہ اسکی ضمانت دے رہا ہے کچھ نہیں وہ اسکا موجودہ پتہ بتا دے گا۔
    اسکی بات انہیں سمجھ آگئ جبھی چپ کر گئے۔
    دروازہ مستقل۔کھٹکانے پر بھی نہ کھلا تو وہ آگے بڑھ کر برابر والے فلیٹ کا دروازہ کھٹکا کر پوچھنے لگا ۔۔ دلاور پر امید تو نہ تھے مگر ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصدق اسی دروازے سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔۔
    گھسیٹ گھیسٹ کر چلنے کی آواز پر انہوں نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔
    نیم تاریک راہ داری میں انسانی وجود کا احساس ہوتے ہی بلب روشن ہوتا تھا۔
    گھسٹ گھسٹ کی آواز وہ واضح ہوتے ہیولے کو آنکھیں سکوڑ کر دیکھتے گئے۔ نووارد کے قدم جم گئے تھے۔
    جسے وہ پچھلے دس سالوں میں ہر گلی کوچے ہر شہر۔ہر ملک میں ڈھونڈتے پھرے وہ انکی نگاہوں کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔۔ کچی عمر کے نقوش اب پختہ ہو چکے تھے انہیں برسوں بعد بھی اپنے ماں جائے کو پہچاننے میں چند لمحے لگے تھے بس۔۔
    انکے لب بے آواز ہلے تھے۔ انکے درمیان فاصلہ تھا اتنا کہ انکی آواز نہ پہنچ سکےقرب اتنا کہ انکے نقوش پہچانے جا سکیں۔
    خاور۔۔
    کھاوا نے آنکھیں سکوڑ کر دیکھا۔ آج وہ دنیا کے کسی بھی شخص کسی بھی انسان کا سامنا کرنا نہیں چاہتا تھا کجا کہ اسکا اپنا سگا بڑا بھائی۔ وہ پلٹا اپنی پوری جان لگا کر بھاگ کھڑا ہوا۔۔ دلاور لحظہ بھر ٹھٹکے ۔ انکا بھائی لڑکھڑا رہا تھا تیز بھاگ نہیں پا رہا ۔۔۔۔ انکے قدم چلنے سے انکاری ہوئے
    خاور۔ انہوں نے اپنی پوری جان لگا کے آواز دی۔مگر وہ رکا نہیں۔۔ خاور۔ وہ پکارتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگے۔ لمبا کاریڈور کاریڈور سے آگے احاطہ۔۔سامنے ذیلی سڑک۔ وہ اندھا دھ۔ند بھاگا تھا۔ شام کا وقت تھا رش نہیں تھا اگے چوراہا تھا بس وہاں پہنچ کر وہ ایک بار پھر کھو جانا چاہتا تھا مگر اسکا ماضی اسکے پیچھے دوڑتا آرہا تھا پکارتا۔۔ اس نے اپنی رفتار مزید بڑھائی سڑک پر چلتی ٹیکسی کو ہاتھ دیا مگر ذیلی گلی سے نکلتی وہ گاڑی سیدھی اس سے آن ٹکرائی تھئ۔ وہ بونٹ پر گرا کچھ زخم کھلے گاڑی کے ٹائر چرچرائے اور وہ دوسری جانب پکی سڑک پر گرا۔ نیم تاریکی میں بھی تازہ نکلتا سرخ سیال سڑک پر پھیلتا دور سے دکھائی دے رہا تھا۔۔ دلاور کھڑے کھڑے جیسے زندہ درگور ہو گئے تھے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 59

    قسط 59
    وہ اور واعظہ اکٹھے بس سے اتری تھیں۔۔۔ اسٹاپ سے آگے دو گلیوں کا پیدل کا راستہ تھا جس کے فٹ پاتھ پر خراماں خراماں چلتے وہ ہمیشہ نان اسٹاپ بولتی اور واعظہ سنتی تھی۔
    یار کوریا دن بہ دن گرم نہیں ہوتا جا رہا ہے؟ ان دنوں تو ہماری قلفی جم جاتئ تھئ۔۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ رسان سے بولی۔
    اب تمہیں یہاں رہنے کی عادت پڑ گئ ہے۔۔۔
    میں جب این جی او میں کام کرتی تھی نا تب ایک رپورٹ آئی تھی کہ کوریا میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے موسم دن بہ دن گرم ہو رہا ہے ایک دن پاکستان جیسا موسم ہو جائے گا۔۔۔۔
    اسے واقعی فکر ہو رہی تھی۔
    ہممم۔
    جواب مختصر تھا۔
    پاکستان میں بھی گرمی ہی آرہی ہے جب یہاں موسم گرم ہوگا تو وہاں تو گرم ترین ہی ہو جائے گا۔ میں یہیں رہا کروں گئ۔ گرمی تو بالکل پسند نہیں۔ پسینہ آجاتا ہے دھوپ میں۔
    اس نے س رپر چمکتے سورج کو پیار سے دیکھا۔
    یہاں سن کس ہی کرتا ہے پاکستان میں تو سورج عمران ہاشمی۔
    اسکی بات پر واعظہ نے ترچھی نگاہ ڈالی تو وہ جملہ ادھورا چھوڑ گئ۔
    پتہ ہے میرے ایک کزن کا نام بھی عمران ہے۔۔۔
    اچھا۔۔۔
    قدم بہ قدم منزل قریب ہو رہی تھی اسکی اوٹ پٹانگ باتیں مزید بڑھ رہی تھیں۔
    انکی بھی شادی نہیں ہوئی ۔۔ امی چاہتی تھیں ہماری آپس میں ہو جائے مگر انکی شکل ہی عمران ہاشمی جیسی ہوتی تو مان جاتی انکی شکل نانا پاٹیکر سے ملتی ہے۔ بولتے تو بالکل
    میرا کی طرح ہیں۔ بن بن کے۔۔
    فاطمہ کو پہلی بریک فون کال سے لگی تھی۔
    واعظہ ذہن میں نانا پاٹیکر کے چہرے پر میرا کی آواز ڈب کرتی رہ گئ۔
    یوبوسیو۔
    اس نے انجان نمبر دیکھ کر لہک کر فون اٹھایا۔
    آگے گٹ پٹ کورین تھی۔ حسب عادت خوب اونچی آواز۔ واعظہ کے تصور کو بھئ بریک لگی ۔۔۔
    چھے سونگیو ( معاف کیجئے گا) وہ کہنے ہی والی تھی میں معزرت خواہ ہوں کورین سمجھ نہیں سکتی اچھی طرح وغیرہ کہ واعظہ نے فون جھپٹ لیا۔ واعظہ رواں ہنگل میں فاطمہ بن کے بولی تھی۔
    دے۔۔ پہلا تاثر جی۔۔۔
    دے۔۔۔ دوسراتاثر حیرت بھری خوشی
    دے۔ دے۔۔ آ دے۔۔ ۔۔۔۔ تیسرا تاثرہاں ہاں کیوں نہیں۔۔
    گھمسامنئیدہ۔ دے۔۔ آننیانگ۔۔
    فون بند کرتے وقت تک چہرے پر چار سو چالیس والٹ کے بلب جگمگ کرنے لگے تھے۔
    مبارک ہو۔ وہ فورا اسکے گلے لگ گئ۔
    خیریت۔ فاطمہ سمجھ نہ پائی۔
    تمہیں انٹرویو کیلئے بلایا ہے ڈاکٹر جانسن اکیڈمی آف لنگوئسٹکس اینڈ لینگوئج میں۔ بین القوامی طلباء کیلئے ایک پرائئوٹ اکیڈمئ ہے یہ انگلش ٹیچر کے طور پر۔۔۔
    واعظہ نے اسے گول گول گھما دیا تھا۔
    ہیں مگر کیوں؟ فاطمہ کو حیرت اور اعتراض دونوں ہوئے
    میں نے تو اپلائی بھئ نہیں کیا تھا۔
    اسکی حیرت بجا تھئ۔
    میں نے اپلائی کیا تھا تمہاری طرف سے۔ واعظہ نے اسکی پیشانئ بجائئ۔
    اب کل اچھی طرح تیار ہو کر انٹرویو دینے جانا۔
    واعظہ کے کہنے پر اس نے آنکھیں سکوڑ کر اسے دیکھا ۔۔ اب اسے گول گول گھمانے کی باری اسکی تھی
    سچ میں تم نے مجھے بہن بھائیوں کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ بلکہ کبھی کبھی تو ماں کی بھی۔ اتنا خیال کیسے رکھ لیتی ہو میرا۔
    فاطمہ اس سے لپٹ کر ہانکے جا رہی تھی
    پاس سے گزرتی ان بوڑھی کورین خاتون نے خاصے ناگوار انداز سے انہیں گھورا۔
    ماں ہے یہ میری۔
    فاطمہ نے ہنگل جھاڑی۔
    اس بار وہ منہ ہی منہ میں شائد گالیاں بھئ دینے لگی تھیں۔
    اب ان آنٹی سے پنگا لینے کی کیا ضرورت تھی۔ واعظہ کو ہنسی آگئ۔
    تاکہ میری واعظہ ہنس دے خوش ہو جائے۔
    فاطمہ نے پیار سے اسکے گال پر چٹکی لی۔ آئی ہوئی ہنسی بھی سمٹنے لگی اسکے چہرے سے۔۔
    چلو دیر ہو رہی ہے۔ وہ رخ پھیر گئ۔ فاطمہ اب کل کے کپڑے منتخب کرنے لگی۔
    میں کل ریڈ ٹاپ پہنوں گی۔ریڈ میں نے آج تک انٹرویو میں نہیں پہنا یقینا لکی ثابت ہوگا۔
    اسکی اپنی ہی منطق تھئ۔۔۔ ا
    واعظہ نے سر جھٹکا۔ سامنے سے محتاط قدم اٹھاتا کھاوا چلا آرہا تھا۔ اس نے بغو ردیکھا وہ تھوڑا سا لڑکھڑا کر چلتا تھا۔ اتنا ذیادہ کہ شائد پہلی نظر میں دیکھنے والوں کو احساس ہو جاتا ہو اتنا کم کہ اسے اتنی دفعہ دیکھ کربھئ پتہ نہ لگ سکا۔
    کندھے پر سے کراس میں ایک چھوٹا سا بیگ لٹکائے گرے اپر جو اب اسکی پہچان بن چکا تھا مگر کالی سیاہ پینٹ جو لشکارے ما ررہی تھی سر پر بلیک کیپ ایک ہاتھ پر سفید پٹی باندھے۔ وہ سرجھکائے ہوئے تھا اسکو پکارنا ہی پڑا ۔
    اوئے کھاوا۔ اس نے وہیں سے پکارا وہ چونک کر رک گیا۔
    اچھا پھر ملتے ہیں بائے واعظہ۔ وہ جلدی جلدی اسے الوداع کہتی بھاگتی ہوئی کھاوا کے پاس آئی
    یہ ہاتھ کو کیا کرلیا۔ ا س نے بنا سلام دعا سوال داغا تھا۔ وہ مسکرا دیا۔
    اسلام و علیکم کیسی ہو آپ؟
    اسے آداب یاد تھے مگر۔
    وعلیکم السلام یہ کیا کیا ؟ لڑے ہو کسی سے؟
    فاطمہ نے دھرایا تو وہ جانے کس دھیان میں تھا سچ بول گیا۔
    وہ سوجو کی بوتل پٹخ دی تھی زمین پر وہ ٹوٹ کر ساراکانچ ہاتھ میں۔۔ بولتے بولتے احساس ہوا توزبان دانتوں تلے دبا لی
    تمہیں سوجو کی بوتل دیکھ کر شرارتیں کیوں سوجھتی ہیں اس دن بوتل میں تھوک دیا اب بوتل زمین پر پٹخ دی۔ بے چاری بوتل۔۔ وہ ہمدردی سے کہتے ہوئے اسکی پٹی دیکھنے لگئ۔۔
    بڑئ آئی بے چاری بوتل۔ وہ چڑ گیا۔ بے چارہ میں کہو۔ میں تو سو بھی گیا تھا صبح آنکھ کھلی شکر ہے ذیادہ گہرا زخم نہیں تھا ورنہ ساری رات خون بہتا اور صبح تک ۔۔
    اچھا صبح صبح منحوس باتیں نہیں کرتے ۔ وہ فورا ٹوک گئ۔
    منحوس دن گزرتا۔ چلو آج عبداللہ کی شکر ہے کوئی شوٹ نہیں۔ بس لیلی کو دیکھنا ہوگا۔ لیلی ویسے اچھی لڑکی ہے۔ عبداللہ سے تو لاکھ درجے بہتر ہے۔
    وہ بولتے ہوئے چلنے لگی تو کھاوا نے بھئ تقلید کی۔ اسکے ہم قدم چلتے کھاوا نے ایک نظر اسکے مطمئن چہرے پر ڈالتے سوچا
    اس لڑکی میں کچھ تو ایسا ہے کہ ۔۔۔۔ س نے غور سے اس گھنگھریالے بالوں والی لڑکی کو نگاہوں میں بھرا۔۔
    کہ۔ اس نے گھبرا کر نگاہ جھکا لی۔
    مجھ جیسے انسان کوکوئی حق نہیں۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ای جی آ کی شوٹ چل رہی تھی وہ ایک کونے میں بیٹھی جمائیاں لے رہی تھی۔ اسکے شیڈول کے مطابق آج اسکو ایک مقامی برانڈ کے نئے کھلنے والے اسٹور کی افتتاحی تقریب میں جانا تھا۔ آج کچھ ذیادہ ہی نیند آرہی تھی۔ ای جی آ شوٹنگ میں بری طرح مصروف تھی۔ اس نے سوچا پھر چپکے سے کھسک لی۔ سیدھا وہ ای جی آ کے میک اپ پلس چینجنگ روم میں آئی تھی۔
    کونے میں رکھے صوفے پر اس نے ای جی کا فروالا کوٹ تکیئے کے طور پر سر کے نیچے رکھا ایک چھوٹا سا کمبل ای جی آ عموما اپنی ٹانگوں پر ڈالنے کے لئے پاس رکھتئ تھی اسی کو اوڑھا۔ لمحوں میں بے خبر ہوگئ۔ کافئ دیر بعد آنکھ کھلی تو کافی تازہ دم ہو چکی تھی۔
    کمبل ایک طرف رکھتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھی۔ موبائل چیک کیا تو ایک مسڈ کال پڑی تھی بس سیہون کی۔
    اسکا کال بیک کا ارادہ نہ تھا سو اطمینان سے اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوکر بال سنوارنے لگی۔ویٹ وائپس سے چہرہ صاف کیا۔ مگر سونے کے آثار نہ مٹے۔ چہرہ سوجا سوجا لگ رہا تھا۔ اس نے گہری سانس لی پھر پورا میک اپ کرنے لگئ۔ چھوٹا آئینہ اٹھا کر ٹچ اپ کیا تیار ہو کر خود پر مطمئن سئ نظر ڈالتی وہ اپنا موبائل اٹھا کر مڑی ہی تھی کہ عجیب سا احساس ہوا۔اس نے پلٹ کر شیشہ اٹھا لیا۔ میک آپ آسانی سے ہو سکے اسکے لیئے جو چھوٹا شیشہ رکھا تھا مسلسل اس سے ہی میک اپ کیا تھا اس نےاسکے گرد بٹن برابر ننھے ننھے سے ایل ای ڈی لگے تھے تاکہ چہرے پر روشنئ پڑتی رہے ان ننھے ننھے قمقموں میں سب جل رہے تھے بس ایک شائد خراب تھا۔ اس نے اس خراب والے بٹن کو غور سے دیکھا۔ پھر اس شیشے کو پلٹ کر زمین پر پوری قوت سے دے مارا۔
    دروازہ کھول کر آتی ای جی آ دہل گئ
    کم چھاگیا۔ دھڑ دھڑ کرتے دل کو تھامتے اس نے الجھن بھری نگاہوں سے واعظہ کو دیکھا جو شیشہ توڑنے کے بعد اس شیشے کے فریم کو ٹٹول رہی تھی۔ ایک ننھا سا قمقمہ۔دیگر قمقموں سے مختلف تھا۔ وہ اسے چٹکی سے پکڑ کر روشنی کی طرف کرکے اونچا کرکے دیکھ رہی تھی۔ ای جی آ ساکت سی ہوگئ۔ وہ ایک ننھا سا کیمرہ تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چینل مینجر ڈائکریکٹر اسٹاف اسسٹنٹ پروڈیوسرسب اس کمرے میں جمع تھے۔ انکی ٹیلنٹ کمپنی کے مینجر بھی آچکے تھے۔
    جب تک آپ اس کیمرے کو نصب کرنے والے کا پتہ نہیں لگا لیتے ہم مزید کوئی شوٹ جاری نہیں کر سکتے۔
    انکی کمپنی کے مینجر نے دوٹوک اعلان کیا تھا۔ ای جی آ کی آنکھیں سوجی ہوئئ تھیں۔ جانے کیا اسکینڈل اسکے انتظار میں تھا۔
    بالکل ہم اس کیمرے کی جڑ کا پتہ لگائیں گے اس کا ڈیٹا بھئ نکلوائیں گے مگر یہ دونوں کاموں کیلئے وقت لگتاہے۔۔
    پروڈیوسر نے متانت سے سمجھانا چاہا
    ٹھیک ہے جتنا وقت لگے گا اتنے وقت شوٹنگز کینسل سمجھیں۔
    سر جان بے لچک انداز میں بولے تھے۔
    دیکھیئے ہم بالکل اس معاملے کو ڈھیلا نہیں چھوڑ سکتے ہم ضرور پتہ لگائیں گے سخت سزا بھئ دیں گے لیکن شوٹ جاری رکھئے ڈرامہ آن ائیر جا رہا ہے ہمارے شوٹنگز کے دن پیک ہیں ہم ایک دن۔۔
    ڈائرکٹر اور پروڈیوسر کی حالت پتلی تھی مگر مینجر صاحب بری طرح گرجے
    ہماری کمپنی کی اداکارہ کے ڈریسنگ روم میں کیمرہ لگا ہوا ہے جانے کس قسم کی ویڈیوز بنائی جا چکی ہیں ان ویڈیوز کا کوئی بھی غلط استعمال ہوسکتا ہے اور آپ کہہ رہے ایسے غیر محفوظ ماحول میں ہم اسکو کام کرنے پر مجبو رکریں۔
    ان ویڈیوز کے ذمےدار کا پتہ لگائیں پھر مزید کوئی بات ہوگی۔
    دیکھیں یہ اتنا آسان کام نہیں یہاں لابی میں کیمرہ لگا ہے۔ ہمیں اسکے فوٹیج نکال۔کر دیکھنے پڑیں گے۔ پھر اس کمرے کی چابی آپکی اداکارہ کے مینجر کے پاس ہے یا اسٹاف مینجر کے پاس۔جب تک شوٹ جاری ہے یہاں ان دونوں کی اجازت کے بغیر کوئی نہیں آسکتا۔ صفائی تک آپکی مینجر اپنی نگرانئ میں کرواتی ہے۔
    چینل مینجر نے سارا ملبہ واعظہ پر ڈال دیا ۔۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی۔
    جی بالکل۔ عموما ایسے اسکینڈلز میں مینجرز وغیرہ ہی کسی نہ کسی طرح شامل ہوتے ہیں اور آپ نے تو ایک غیر ملکی پر اتنا بھروسہ۔۔۔
    ڈائرکٹر کو۔جیسے کمک ملی۔تھی۔
    دیکھیں آپ ہماری ملازم پر الٹے سیدھے الزام لگانے کی بجائے اپنے ملازمیں سے پوچھ گچھ کریں۔ ہم غیر ملکی مینجر رکھیں یا ہنگگ ہمارا مسلئہ ہے۔
    مینجر صاحب کڑک کر بولے
    اور واعظہ کے پاس چابی نہیں ہے میرے پاس ہے۔
    ای جی آ بھی تلملا گئ۔
    خود کو بچانے کا اچھا طریقہ ہے کہ دوسروں پر ملبہ ڈال دو۔۔ چابی میرے پاس ہوتی ہے اور ابھی بھی مجھ سے چابی لیکر ہی واعظہ آکر یہاں سوئی تھی۔اور صرف ہمیں چابی تو نہیں دے رکھی ہوگئ آپ لوگوں نے ماسٹر کی کس کے پاس ہوتی ہے صفائی کا نگران کون ہے ان سے پوچھیں آپ۔ کون آخری بار آیا تھا یہاں۔ کون ایسا انسان آیا جس کا کوئی کام نہیں اس کمرے میں۔
    ای جیا کی باتوں کا انکے پاس جواب نہیں تھا۔۔ آئیں بائیں شائیں کرتے نظریں چرانے لگے۔ واعظہ اسکو دیکھ کر رہ گئ۔ اسے بولنے کی ضرورت بھی نہ پڑی تھی۔ ۔۔۔۔اور ای جیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ایک ٹھرکی انسان ہوں۔ لڑکیاں تاڑنا میرا مشغلہ ہے۔ مجھے دیکھتے ہی لعنت بھیجا کریں آپ ۔۔
    عبداللہ نے لہک لہک کر کہا تھا۔ اسکی ویڈیو بناتے فاطمہ نے بمشکل ہنسی روکی۔
    اسکو بھیجو مجھے بھی۔ عبداللہ کے چہرے پر اشتیاق تھا
    ہاں کیوں نہیں۔ فاطمہ نے زور و شور سے سر ہلاتے اپنا موبائل لاک۔کرکے بیگ میں ڈال لیا تھا۔ وہ دونوں اس وقت سیٹ پر ہی ایک کونے میں میز کرسی پر۔بیٹھے تھے۔ بلکہ بیٹھی تو بس فاطمہ تھی۔ اسے بیٹھا دیکھ کر۔خود ہی وہ ادھر چلا آیا تھا۔
    ابھی۔۔ وہ اتنا بھی احمق نہیں تھا۔۔
    ہاں مگر میں اسکو اپنے انسٹا پر اپلوڈ کرکے ٹیگ کروں گی آپکو۔
    فاطمہ نے یقین دلایا۔
    میرا انسٹا گرام نکالو۔ اس نے مڑ کر عربی میں اپنے مینجر کو کہا۔ وہ بھاگا بھاگا موبائل لیئے آیا۔
    اپنا انسٹا گرام نکالو۔
    عبداللہ کے کہنے پر اس نے مرے مرے انداز میں اپنا پروفائل انسٹا پر۔ڈھونڈ کے اس سے فالو کروایا۔
    میں بھی ٹیگ کروں گا ویڈیو میں تمہیں۔ وہ مزید کہہ رہا تھا۔
    چہرے پر سو واٹ کے بلب یوں جل رہے تھے جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔
    کھاوا لیلی کو مکالمے یاد کروا رہا تھا دور سے اسکی بے زار شکل بنائے بیٹھی فاطمہ اور مسلسل بات سے بات نکال کر اسکا دماغ کھاتے عبداللہ پر پڑی۔ لیلی کو مکالمہ یاد کرنے کا کہہ کر وہ ادھر ہی چلا آیا۔
    تمہارے آنکھیں خوبصورت ہیں فاطمہ۔ وہ وائن کی چسکیاں لے رہا تھا۔۔
    فاطمہ چیں بہ چیں سی ہوئی۔۔
    پاکستانی لڑکیاں سب ہی اتنی خوبصورت ہوتی ہیں یا بس ایک تم میں ہی الگ سا حسن نظر آتا ہے مجھے۔
    عبداللہ نے کہتے ہوئے اسکا ہاتھ بھئ پکڑ لینا چاہا تھا۔وہ سرعت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    خوبصورت تو آپ بھی ہیں مگر جانتے ہیں شراب پیتے ہوئے بدشکل۔ترین انسان لگتے ہیں اور بہک کر تو اور بھی گھٹیا۔
    اسکے ہاتھ کو۔گھورتے وہ چبا چبا کر بولی۔
    عبداللہ نے کھل کر قہقہہ لگایا ۔۔
    تم بہت دلچسپ لڑکی ہو۔ میں نے تمہارے جیسی لڑکی نہیں دیکھی۔۔۔ ہا ہا ہا۔
    وہ ہنستا گیا۔ فاطمہ جز بز سی اسے دیکھتئ رہی۔ اس نے اپنی طرف سے بے عزت کرکے رکھا تھا مگر مقابل بھی کوئی ڈھیٹ انسان تھا
    ادھر دیکھو کتنی خوبصورت سرخ سرخ سی شراب ہے پیاری دلکش۔ میں اسے پیتے ہوئے برا کیسے لگ سکتا ہوں۔
    اس نے معصوم۔سی شکل بنائی۔
    یہی دلکش شراب مسلمانوں کیلئے پینا حرام بھی قرار دیا گیا ہے۔ اگر آپ نام کے بھی مسلمان ہیں تو یہ بات آپکے علم میں ہوگی ہی۔
    وہ چڑ کر کہتے اپنا بیگ اٹھا کر کندھے پر لٹکا کر جانے لگی عبداللہ نے ٹانگ سیدھی کرکے اسکا راستہ روکا۔ وہ الجھ جاتی بروقت سنبھلی۔
    مجھے تو کسی نے یہ بھی بتایا تھا کہ حوریں جنت میں ملا کرتی ہیں تم دنیا میں کیسے آگئیں۔
    عبداللہ آنکھیں پٹپٹا رہا تھا۔اسے اپنی ساری برداشت رخصت ہوئی محسوس ہوئئ
    تمہیں دنیا میں تمہارے کرتوتوں کا عذاب دینے آئی ہوں۔ اس نے چبا چبا کر کہتے اسکی ٹانگ کو ٹھوکر لگانی چاہی مگر وہ چوکنا تھا۔تیزئ سے پیر سمیٹتا اٹھااور اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔
    مجھے لڑکیوں کا نخرا پسند ہے مگر لڑکیوں کو بھولنا نہیں چاہیے کہ وہ فطرتا نازک پیدا کی گئ ہیں۔ اس نے مسکرا کر اسکی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔
    فاطمہ کی پیشانی شکن آلود ہوئی۔ اس نے مٹھی بھینچی۔۔
    عبداللہ۔ عبداللہ۔ مسلئہ ہوگیا ہے تمہارے سین میں آواز تو ریکارڈ ہی نہیں ہو سکی۔
    کھاوا بولتا ہوا آیا تھا فاطمہ کی طرف توجہ کیئے بنا اس نے عبداللہ کوبازو سے پکڑ کر کھینچ ہی لیا تھا۔
    کون سے سین میں۔۔
    وہ بازو چھڑا رہا تھا یقینا اسے یہ۔دخل۔درمعقولات بری لگئ تھی۔ اسکا مینجر بھئ تیزی سے لپکا۔ مگر کھاوا نے مہلت نہ دی
    ادھر تو آئو۔ وہ اسے کھینچ کر ساتھ ہی لے گیا۔ فاطمہ نے ایک نظر ان دونوں کو دور جاتے دیکھا پھر اپنی بھینچی ہوئی مٹھی میز پر مار دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ای جی آ گھر جانے کو تیار نہ تھی۔ بلکہ بضد تھی کہ سی سی ٹی وئ فوٹیجزبھی دیکھے گی۔ چینل والوں کے پاس کوئی چارہ نہ تھا سوائے ٹیپیں نکلوا کر خاص اسٹوڈیو روم میں پلےکروائیں۔ سیکیوریٹئ روم سے اگر یہ بات لیک ہو جاتی تو ای جی آ سے ذیادہ چینل کو مصیبت پڑ جاتی۔
    اسٹاف میمبرز خاکروب کے سوا بس ایک ہی شخص داخل ہوا تھا اس ڈریسنگ روم میں۔ گرے اپر اور پرانی سی جینز میں ملبوس۔
    ای جی آ نے فورا پہچان لیا تھا۔ واعظہ نے چونک کر ای جی آ کی شکل دیکھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چھٹی کے وقت وہ حسب عادت باہر نکل کر احاطے میں لگی پھولوں کی کیاری پر آن بیٹھئ۔
    واعظہ کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔اسٹاپ تک وہ اکٹھی ہی جاتی تھیں بس بھی ایک تھی بس اسٹاپ اسکا پہلے آتا تھا۔۔
    کھاوا باہر نکلا تو اسکو دیکھ کر اسکے پاس ہی چلا آیا۔۔
    ہیلو ہیلو۔ کیا ہورہا ہے۔
    مچھلی پکڑ رہی ہوں۔
    فاطمہ بے نیازی سے بولی۔وہ شرمندہ سا ہوکر کان کھجانے لگا۔
    کوئی جواب نہ آیا تو فاطمہ نے سر اٹھا کر دیکھا پھر موبایل کی اسکرین اسکی جانب کرکے دکھایا۔
    وہ کوئی آن لائن گیم کھیل رہی تھی۔شارک خود تھئ اور مچھلیوں کا شکار کرتی سمندر کے اندر پھر رہی۔تھی۔
    اوہ اچھا۔ کھاوا ہنس دیا۔
    تمہاری جان چھوڑ دی عبداللہ نے ۔۔ آج تو دن کے وقت ہی ٹن ہوا پھر رہا تھا۔ اتنی شراب پیتا ہے ڈائلاگ کیسے یاد کرتا ہے؟۔
    اسے واقعی حیرت تھئ اس بات کی۔
    عادی ہے۔ اور ہولڈ بھی اچھا کرتا ہے۔ آسانی سے بہکتا نہیں ہے۔ ویسے ہینگ اوور سوپ بھی دے کر آیا ہوں اسے۔ سو گیا تھا۔۔ وہیں ڈریسنگ روم میں۔
    کھاوا لاپروائی سے بولا۔ اس نے داہنی ٹانگ پر ذیادہ وزن ڈال رکھا تھا۔ جبھئ پہلو بھی بدل رہا تھا۔ سیہون نے گاڑی پارک کی تھئ سامنے۔ اسے دیکھ کر مسکرایا
    وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    تم۔گھر جائو گے؟
    ہاں ارادہ تو یہی ہے۔ وہ پہلو بدلتا سرسری سے انداز میں بولا۔
    آنیانگ ہاسے او۔ سیہون نے قریب آکر سلام کیا
    آننیانگ۔ کھاوا نے بھئ جھک کر جواب دیا
    واعظہ کہاں ہے کب سے فون کر رہا ہوں اٹھا نہیں رہی۔میرا فون۔
    سیہون نے بلا تمہید پوچھا۔
    پتہ نہیں میرا بھی نہیں اٹھا رہی ہے مصروف ہوگی۔فاطمہ نے کندھے اچکائے۔
    بہت ہٹیلی ہے یہ لڑکی۔ اب ناک سے لکیریں کھنچوائے گئ کیا مجھ سے۔ ۔ سیہون کو غصہ آرہا تھا۔ جبھئ کھاوا کے سامنے ہنگل میں بڑبڑا گیا۔
    کھاوا نے سوالیہ نگاہوں سے فاطمہ کو دیکھا ۔ وہ سمجھ کر تعارف کرانے لگی۔
    کھاوا یہ سیہون ہیں میرے شوہر اور سیہون یہ کھاوا ہیں میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔
    اس نے شستہ انگریزی میں تعارف کرایا تھا۔
    نائس ٹو مئٹ یو۔ سیہون نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا۔ کھاوا نے تھامتے ہوئے تصحیح کروانا چاہا۔
    واعظہ کے ہسنبڈ۔۔؟
    فاطمہ ہنسی۔ سیہون کے چہرے پر جھینپی سی مسکراہٹ در آئی۔
    ہیں تو میرے مگر واعظہ سے انکی بہت دوستی ہے۔ دراصل بچپن کے دوست ہیں یہ ایک دوسرے کے۔ انفیکٹ یہ آج مجھے نہیں واعظہ کو ہی لینے آئے ہیں ۔۔۔
    فاطمہ نے کہا تو سیہون شرمندہ سا ہوگیا۔
    گاڑی میں آیا ہوں ظاہر ہے تمہیں بھی ساتھ لے کرجاتا۔
    تم نے کہاں جانا ہے کھاوا؟ آئو ہم تمہیں بھی چھوڑ دیں۔۔
    فاطمہ نے کہا تو وہ چونک کر سنبھلا۔
    نہیں شکریہ۔۔ میں ذرا ابھی پارٹ ٹائم جاب پر جائوں گا۔
    چلو جیسے تمہاری مرضی پھر ملتے ہیں۔۔۔ فاطمہ نے کہا تو وہ سر ہلاتا ان دونوں سے معزرت کرتا تیزی سے بس اسٹاپ۔کی۔طرف چل۔پڑا۔
    اسکو کوئی چوٹ لگی ہے کیا ؟
    سیہون نے پوچھا تو وہ۔جانے کیوں چڑ گئ۔
    ایک تو اسکا ذرا سا لڑکھڑا کر چلنا فورا سب نوٹس کر لیتے اس ایک ذرا سی کمی کے سوا وہ اچھا خاصا انسان ہے اسے خود اتنا احساس نہ ہوگا کہ اسے چلنے میں مسلئہ ہے جتنا دوسرے محسوس کرتے ہیں۔
    سیہون نے منہ کھول کر اسکی تقریر سنی۔
    ویسے ہی پوچھ لیا مجھے لگا کوئی تازہ چوٹ ہے۔ تم تولڑنے کو تیار ہو۔ پاکستانی لڑکیاں سبھی لڑاکو ہوتی ہیں کیا۔
    سیہون نے جان کے چھیڑا۔
    پاکستانئ لڑکیاں لڑاکو ہوں نہ ہوں دنیا بھر کے لڑکے شر پسند ہوتے ہیں ہر وقت لڑکیوں کو برا بھلا کہنے کو تیار۔
    وہ کیوں پیچھے رہتی چمک کر بولی۔۔ سیہون نے محظوظ ہو کر قہقہہ لگایا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات کے گیارہ بجے وہ واپس آئی تھی۔ آج دروازے پر ڈانٹنے والی نہ ابیہا تھی نا عروج اس نے دستک دینے کو ہاتھ بڑھایا پھر رک کر پاس کوڈ لگانے لگی۔ اندر شائد سب سوگئ تھیں۔ لائونج میں ملگجا اندھیرا تھا۔ اس نے بھئ لائٹ جلانے کی کوشش نہ کی۔ لائونج میں جما دینے والی سردی تھی۔ اس نے حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھا مگر سردی کا منبع سمجھ نہ آیا۔ پہلے کمرے کا دروازہ کھول کر اند رجھانکا۔ عزہ اور عشنا ڈبل بیڈ پر بے خبر سو رہی تھیں۔ تیسرا بیڈ خالی تھا۔ اس نے احتیاط سے دروازہ بند کردیا۔
    اپنے کمرے کا دروازہ کھولا صاف شفاف بستر بے شکن چادر۔ اس نے دروازہ بند کرکے لائونج کی لائٹ جلا دی۔ لائونج خالی تھا۔ الف یا تو گھر نہیں آئئ۔۔ یا۔ اس نے بازو سکیڑے۔ گیلری کا دروازہ نیم وا تھا۔ اف اس نے فورا آگے بڑھ کر بند کرنا چاہا تو چونکی۔ گیلری میں ریلنگ پر دونوں کہنیاں رکھے اپنے ہاتھوں پر نگاہ جمائے الف گہری سوچ میں گم تھئ۔
    خودکشی کا ارادہ ہے تو سردی میں کانپ کانپ کر مرنے سے بہتر ہے چھلانگ لگا لو۔۔۔
    اسکے مفت مشورے پر الف چونکی پھر جب بات سمجھ آئی تو پلٹ کر گھورا بھی۔
    صحیح کہہ رہی ہوں۔ کم ازکم بھی پانچویں منزل پر ہو پکا گر کر مروگی بچنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ واعظہ نے گلاس ڈور سے ناک چپکائی
    بکواس نہ کرو۔ وہ چڑ گئ۔
    بکواس ایک تو مرنے کے آسان طریقے بتا رہی ہوں۔ واعظہ برا مان گئ۔
    تم کیوں مارنا چاہ رہی ہو کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا وقت پر۔کرایہ تک۔دیتی ہوں۔
    الف بھنائئ۔۔
    اب کیسے دو گئ؟ ریڈیو کی نوکری تو چھوڑ دی۔
    واعظہ نے جتایا۔ وہ واعظہ کو دیکھ کر رہ گئ
    کر لوں گی کچھ نہ کچھ۔ وہ بڑبڑانے والے انداز میں بولی
    کیا ؟ آواز نہیں آئی۔ واعظہ نے گلاس ڈور سے کان باہر نکالا۔
    کرلوں گی کچھ نہ کچھ جان چھوڑدو میری ۔۔
    وہ بری طرح چلائی۔ واعظہ کو اپنا کان گلاس ڈور سے باہر نکالنے کے فیصلے پر افسوس سا ہوا۔ ٹھنڈا اور سن اکٹھے ہوا تھا
    اچھا۔۔ آآآاااا۔ وہ کان سہلاتے ہوئے گھورنے لگی۔
    وہ دیکھو ژیہانگ۔
    اکدم اسکے پیچھے چونک کر دیکھتے اس نے پکارا۔ الف اسے یونہی گھورتی رہی۔
    اچھا جا رہی ہوں۔ کافی پیئو گئ؟
    واعظہ پسپائی اختیار کرتی دروازہ بند کرنے لگی۔
    اس نے جواب دینے کی بجائے رخ پھیر لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دو کپ کافی بنا کر اس نے دزدیدہ نظروں سے لائونج میں آلتی پالتی مارے کارپٹ پرصوفے کی نشست سے ٹیک لگائے بیٹھی الف کو دیکھا جو کچن کی جانب رخ کیئے اسے ہی گھور رہی تھی۔
    اس نے تھوک نگلا۔
    کپ لاکر اسے تھمایا اور خود اسکے برابر آبیٹھئ۔
    تم نے یہ بات اور کسی کو تو نہیں بتائی۔
    کافی کا گھونٹ لیتے الف نے تشویش ذدہ انداز میں اس سے پوچھا
    بس اپنے بلاگ پر لکھا ہے اسکے بارے میں ایک یوٹیوب ویڈیو بنائی ہے کمپنی کی جانب سے میڈیا کو دیا جانے والا بیان بھئ میں نے لکھا ہے۔ واعظہ نے گھونٹ بھرتے ہوئے سرسری انداز میں بتایا۔
    کیا؟ الف کو خاک پتھر سمجھ نہ آیا۔
    یہی کہ ای جی آ کی طبیعت خراب ہے اسلیئے وہ شوٹنگز سے گیپ لے رہی ہے۔ واعظہ نے بتایا تو وہ اپنا سر پیٹنے والے انداز میں بولی
    تمہاری اس ای جیا پیجیا کی نہیں میں اپنی اور ژیہانگ کی بات کر رہی ہوں۔
    واعظہ نے بڑا سا گھونٹ بھرا پھر کپ ایک طرف رکھتی اسکی جانب مکمل رخ موڑ کر بیٹھ گئ۔
    تم خود چلتا پھرتا اشتہار بنئ ہوئی ہوکٹھ کھنی بلی بنی سب کو پنجے مار رہی ہو کھانا پینا چھوڑ رکھا ہے سردی میں کھڑی آہیں بھر رہی تھیں اس سے تو صاف اندازہ ہو رہا ہے محترمہ کو محبت ہوگئ ہے۔۔۔
    واعظہ نے کہا تو وہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔
    یہ سب اتنا واضح تھا سب پر۔ اس نے سر کھجایا
    خیر اب تم میرا کریڈٹ تو نہ دو سب کو۔ واعظہ برا مان گئ
    سو فیصد شیو رتو کوئی نہیں تھی اور جس نے اندازہ بھی لگایا اسے یہی لگا ایکسو کا کوئی ممبر ہوگا بلکہ سیہون ہوگا۔
    یہ تو میں نے حکیمی کا نسخہ آزما کر اصل معاملہ پکڑا
    وہ فخریہ بولئ۔
    حکیمی نسخہ؟ الف ہکا بکا رہ گئ
    ہاں نا ۔۔ اس نے کافی کا مزید بڑا سا گھونٹ بھرا یعنی اب لمبی بات تھی۔ الف ہمہ تن گوش تھی۔ واعظہ رازدارانہ انداز میں اسکے قریب آکر سابقہ والیم میں ہی بولی
    ایک بار ایک لڑکا تھا اس نے تمہاری طرح کھانا پینا چھوڑ دیا مگر تمہاری طرح لڑنے بھڑنے۔۔ (الف کی گھوری)
    کی بجائے گم صم سا ہوگیا۔ بڑا علاج کرایا اسکے والدین نے افاقہ نہ ہوا۔ وہ اسے ایک حکیم کے پاس لے کر گئے۔ حکیم صاحب نے اسکا معائنہ کیا بیماری کی تشخیص نہ کر سکے۔ اسکی نبض پکڑی یا پتہ نہیں دل پر ہاتھ رکھا یاد نہیں۔ اب انہوں نے اس علاقے کی سب غیر شادی شدہ لڑکیوں کے نام لینے شروع کیئے۔ ایک نام پر اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔ بس حکیم صاحب سمجھ گئے موصوف اس لڑکی سے محبت کربیٹھے ہیں۔ واعظہ قصہ سنا کر داد چاہنے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
    اور تم نے یہ قصہ فضول میں کیوں سنا دیا مجھے۔ الف کے تیور کڑے تھے
    بھئ یونہی اس دن ائیر پورٹ پر یونہی اچانک میں نے ژیہانگ کو پکارا تو سوائے تمہارے کسی نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔تو سیدھا نتیجہ نکلا کہ۔۔ واعظہ نے کہا تو اس نے دانت پیسے
    میرے سوا اور کون ژیہانگ کو جانتا ہے ان میں سے ظاہر۔ہے میں نے ہی مڑ کر دیکھنا تھا۔
    وہ اپنے حفاظتی خول میں بند ہونے کی تیاریوں میں تھی۔ واعظہ نے اپنے مگ کو۔دیکھا کافی۔یخ ہونے لگی تھئ۔
    اس نے کافی ختم کی کپ رکھا اٹھ کھڑی ہوئئ
    اچھا بھئ معزرت مجھے غلط فہمی ہوئئ۔وہ کہہ کر جانے کو تھی کہ الف نے ہاتھ پکڑ لیا۔
    ایسا ہی ہے۔ اور مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔
    اس نے جیسے تھک کر اعتراف کیا۔
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ وہ۔جھٹ فل چارج سی ہو کر واپس بیٹھ گئ۔
    ۔ محبت ہوگئ ہے وہ بھئ ایک۔عدد چینی لڑکے سےچینی یعنی کافر لڑکا۔۔ اور تم پاکستانی اورمسلمان لڑکی۔ نہیں ایک ہوسکتے۔ مگر محبت ہو گئ ہے۔
    اس نے انگلیوں کے اشارے سے ایک اور الگ کرکے جیسے اسے میتھ پرابلم کی طرح مسلئہ حل کرتے سمجھانا شروع کیا۔
    تم ایک ایسا دروازہ کھول چکی ہو جسکے آگے دیوار ہے۔ تم نے ایسے پل پر قدم رکھ دیئے ہیں جو بیچ میں سے ٹوٹا ہوا ہے۔ تمہیں واپس ہی پلٹنا ہے۔
    واعظہ کا anylsis جاری تھا۔الف نےہونٹ بھینچ لیئے۔
    پی کر تو نہیں آئی ہے یہ آج۔ اسے سچ مچ یہی شک گزرا تھا۔

    محبت کو بند گلی کہتے ہیں۔ یعنی ایک بند گلی میں آکھڑی ہوئئ ہو، سامنے کوئی راستہ نہیں محبت میں ناکامی مقدر میں لکھی جا چکی ہے دنیا کے سب مسلئوں میں سے سب سے اہم پیچیدہ مسلئہ درپیش ہے تمہیں مگر
    واعظہ کی۔لن ترانی جاری تھی اس نے اسکے بتدرینج بڑھتے والیم پر گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا پھر اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
    افوہ یہ سب پتہ ہے مجھے مگر ایک بات اس میں تصحیح کر لو ژیہانگ مسلمان ہے۔ ذکریہ نام ہے اسکا۔
    اس نے دانت کچکچاتے ہوئے بتایا
    بند گلی ایک سراب تھا سامنے تو راستہ ہے منزل کا۔ مگر ہو سکتا ہے سراب یہ راستہ ہو اصل میں گلی ابھی بھی بند ہے
    واعظہ نے فورا پینترا بدلا۔
    مطلب۔الف چونکی۔
    اگر وہ تمہاری خاطر مسلمان ہوا ہے تو ہو سکتا۔۔۔
    واعظہ نے کہا تو وہ بات کاٹ گئ
    وہ مسلمان ہی ہے۔ اسکا چینی مسلم اکثریتی صوبے سے تعلق ہے۔۔۔
    تو پھر۔ واعظہ نا سمجھنے والے انداز سے اسے دیکھنے لگی۔
    تم نے یوریغوار کا نام سنا ہے؟ مسلم۔اکثریتی علاقہ جو چینی کمیونسٹ ںظام سے متصادم ہوا اور اسکو نہایت شدت پسندی سے نمٹا جا رہا ہے۔ ژیہانگ ان متاثرین میں سے ایک ہے جسے شدت پسند سمجھ کر بیگار کیمپ میں لے جایا گیا۔اسکے باپ ماں چچا تایا سب کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے اسکو۔ وہ اپنی شناخت چھپا کر جی رہا ہےاور انکو ڈھونڈ رہا یے۔ وہ تو اپنا نام۔تک نہیں بتا سکتا۔ ۔اسکا اصل نام ذکریہ ہے اس نام کو چین میں رکھنا ہی غیر قانونی قرار دیاجا چکا ہے۔
    الف بتاتے بتاتے روہانسی سی ہوگئ۔
    اس وقت کہاں ہے وہ ؟ واعظہ نے پوچھا۔
    جاپان میں ہے۔ 21 جولائی کو واپس امریکہ چلا جائے گا۔ اس نے مجھے اپنا نمبر دیا تھا جاپان کا رابطے کا۔ 21 جولائی کے بعد میرے پاس اس سے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا۔
    وہ بے بسی سے بولی۔
    تو اسلیئے دن گنتے کیلنڈر برباد کیا تھا۔ بے چاری عزہ۔
    وہ بڑبڑائی۔
    کیا ؟ الف سن نہ پائی۔۔
    تمہارے پاس صرف ایک دن بچا ہے ؟ واعظہ نے موبائل میں دن دیکھا۔ انیس جولائی2019۔۔۔
    تم نے فیصلہ کیا۔۔
    واعظہ کا انداز دوٹوک تھا۔
    اس نے ہلکے سے نفی میں سر ہلایا۔ پھر دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا۔
    مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔
    اپنا موبائل دو۔ اس نے الف کا موبائل اٹھایا
    انلاک کرو۔ اس نے الف کی۔جانب بڑھایا۔
    الف نے میکانکی انداز میں اسے کھول کردیا
    اس نے کانٹیکٹ لسٹ کھولی۔
    زکریہ کے نام سے دو نمبر تھے۔
    ایک کے آگے ذکریہ جاپان لکھا ہوا تھا۔
    یہ ہے؟ اس نے نمبر نکال کر اسے دکھایا۔ اس نے سر ہلایا
    واعظہ نے نمبر کو غور سے دیکھا پھر ایڈٹ میں جا کر ڈیلیٹ کر دیا۔
    مسلئہ ختم ۔ ذکریہ نکل چکا تمہاری زندگی سے۔۔
    اس نے لاپروا سے انداز میں کہتے اسے موبائل واپس تھمایا۔ الف ششدر سی بیٹھئ رہ گئی
    تم نے؟ ۔اسکے منہ سے بمشکل نکل سکا
    میں نے ذکریہ کا نمبر ڈیلیٹ کردیا اب چاہے اکیس جولائی آئے نہ آئے مسلہ ختم۔ اپنا موبائل اٹھاتے وہ کندھے اچکاتے بولی۔
    اسکی انگلیاں موبائل پر چلی تھیں اور اسکے دل پر جیسے چھریاں چلی تھیں۔ دل رک سا گیا تھا اسکا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد۔
    جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 58

    قسط نمبر 58
    یہ ۔۔۔۔ واعظہ نے آگے بڑھ کر انکو سیدھا کیا۔ انکے سر پر سے ہلکا ہلکا خون نکل رہا تھا ۔ اسکے ہاتھ خون سے بھر گئے۔ وائپر تھامے فاطمہ بالکل ساکت کھڑی تھی۔ اسکو اپنی فوری ردعمل دکھانے کی اچھی خاصی بڑی سزا ملی۔تھی۔
    کیا ہوا۔ بے ہوش ہو۔گئے۔ عروج تیزی سے آگے بڑھی
    عزہ میری فرسٹ ایڈ کٹ لائو۔
    اس کا جملہ مکمل ہونے سے قبل ہی عزہ اندر دوڑی۔تھی۔ وہ آنکھیں دیکھ رہی تھی۔
    ایکدم خاموشی چھانے پر طوبی دہل سی گئ۔ تیزی سے دروازہ پورا کھولتی بھاگتی ہوئئ آئی تھی۔ سامنے بے ہوش پڑے دلاور اور انکو اٹھاتی۔
    دلاور۔ وہ بری طرح گھبرا کر انکو ہٹاتئ آئی۔ دلاور۔ اس نے اکڑوں بیٹھ کرانکو اٹھانے کی کوشش کی۔
    عروج نے روکنا چاہا مگر وہ بہت ذیادہ گھبرائی ہوئی تھی
    کوئی 911 کو فون کرو کیا کردیا اب تم لوگوں نے۔۔ بولتے ہوئے اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ فاطمہ نے گھبرا کر واپیر پیچھے کیا۔ مگر طوبئ کی نظر پڑ گئ۔
    تم نے ان کو مارا۔۔۔۔ کیوں۔؟ وہ۔کوئی چور ڈاکو تھے جو تم نے اتنی بے رحمی سے مارا۔ وہ تو چیخ و پکار سن کر۔ مدد کرنے۔۔
    اسکی غصے کے مارے آواز پھٹ رہی تھی
    ۔ میری غلطی ہے مجھے انہیں بھیجنا نہیں چاہیئے تھا۔وہ بے تحاشا رو پڑی۔
    طوبی معمولی چوٹ ہے۔ریلیکس آپکی طبیعت خراب ہو۔جائے گئ۔
    واعظہ نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینی چاہی اس نے ہاتھ جھٹک دیا۔ طوبی دیوانئ سی ہوئی تھی۔ دلاور کو بار بار اٹھنے کا کہتئ۔
    دلاو راٹھ جائیں پلیز۔ میں سب کچھ بتا دوں گی ویسا نہیں جیسا آپکو ۔۔ اٹھ جائیں۔ وہ بلکنے لگی تھی۔ عشنا دوڑ کر پانی لینے بھاگی۔ فاطمہ وائپر دیوار سے لگا کر اپنا فون ڈھونڈنے لگی
    عزہ فرسٹ ایڈ باکس لے آئی تھئ۔عروج نے واعظہ کو اشارہ کیا ۔۔ اس نے سر ہلایا۔ وہ طوبئ کے بالکل پیچھے ہو کر بیٹھ گئ اپنے بازو بھی پھیلا لیئے
    عروج نے اسپرٹ سے زخم صاف کیا ہی تھا کہ دلاور کراہے۔۔ انہیں شائد ہو ش آرہا تھا۔
    ہاتھ مت لگائو ایمبولنس بلائو میں خود انکو اسپتال لیکر جائوں گی۔
    طوبی نے عروج کو بھی پرے کردیا۔
    طوبی دیکھنے تو دیں۔ عروج منمنائئ
    ہمیشہ تم لوگوں کی جب جب مدد کرنی چاہی ہے میرے شوہر کو تم لوگوں نے اسپتال پہنچا کر دم لیا ہے۔ اب کچھ نہیں کرنا تم لوگ دو رہٹو۔پاس مت آنا انکے۔
    طوبئ پر کوئی جزباتئ حملہ ہوا تھا۔ چلا چلا کر بولتے وہ کف اڑانے لگی تھئ۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیورا کر پیچھے کو گری واعظہ نے اپنی جان لگا کر اسکو خود پر لے لیا سر دیوار میں نہ لگنے دیا۔۔
    دلاور سر پکڑتے اٹھ کر بیٹھنے لگےانکا زخم دیکھتی عروج نے سرعت سے مریض بدلا۔ استھیٹسکوپ کانوں سے لگاتی بی پی اپریٹس اٹھا کر طوبی کی۔جانب بڑھی
    بی پی شوٹ کر رہا ہے انکا فوری اسپتال لے جانا پڑے گا۔
    واعظہ ایمبولنس کو کال کرو۔
    عروج اسکی آنکھیں چیک کرتے ہوئے گھبرا کر بولی
    بلا لی ہے۔ایمبولنس۔۔
    طوبی۔ دلاور اپنا سر بھول کر طوبی کی۔طرف لپکے تھے۔
    کیا ہوا۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بر وقت طوبی کو طبی امداد مل۔گئ۔تھی۔ ورنہ خدانخواستہ۔کوئی بڑا نقصان بھی ہو سکتا تھا۔۔طوبی کو چوبیس گھنٹے انڈر آبزرویشن رکھنا تھا۔ اسے روم میں شفٹ کروانے واعظہ اور فاطمہ گئیں تو عروج دلاور کے سر پر ٹانکے لگوانے لے گئ۔
    فاطمہ نے اپنی جان لگا دی تھی جبھی وائپر نے انکے سر پر گہرا زخم کر دیا تھا۔ چار ٹانکے آئے اور انکو بھی دوا دے کر سلا نے کا مشورہ دیا گیا۔
    طوبی کو پرائیوٹ روم شفٹ کروا کر وہیں ایک صوفے پر تکیہ کمبل۔دے کر دلاور کو سونے کیلئے لٹوا دیا۔
    عزہ بچوں کو دیکھ لے گی آپ لوگ فکر نہ کریئے گا۔
    عروج کو یہ سادہ سا جملہ۔کہتے بھی ٹھیک ٹھاک شرمندگی ہوئی تھی۔
    طوبی بہت جزباتی ہو گئ تھی اگر اس نے کچھ الٹا سیدھا کہہ دیا ہے میں آپ سے معزرت چاہتا ہوں۔
    دلاور کے کہنے پر ان تینوں نے سٹپٹا کر ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔ فاطمہ نے تھوک نگلا پھر ایک قدم آگے ہو کر ٹھہر ٹھہر کرکہنے لگئ۔
    میں بھی معافی چاہتی ہوں۔ مجھے اتنا بنا سوچے سمجھے ردعمل نہیں دینا چاہیئے تھا۔ میری وجہ سے آپکو طوبی کو۔اتنی تکلیف اٹھانی پڑی۔۔ آئیم رئیلی ویری سوری۔۔
    وہ شکل سے اتنی شرمندہ نظر آرہی تھی کہ جیسے ابھی رو دے گئ۔
    دلاور متانت سے مسکرا دیئے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ تینوں کافی کے مگ لیئے داخلی کاریڈور میں چلی آئیں۔ باہر سورج نکل چکا تھا ہلکی ہلکی دھوپ۔ شفٹ تبدیلی کا وقت تھا یہاں خوب چہل پہل تھی۔ تاز دم چہرے تیار شیار ڈاکٹر نرس و دیگر اسٹاف اس میں یہ تینوں۔ تینوں رات کے ڈھیلے ڈھالے ٹرائوزر شرٹ میں ملبوس تھیں جو ٹھیک ٹھاک ملگجے ہو رہے تھے۔ ایمبولنس کے ساتھ تیزی سے نکلتے وقت جس کو جو کارڈیگن ہڈ شال ملی اوڑھ لی عروج نے اپر کا ہڈ سر پر چڑھایا تھا اور ماسک پہن رکھا تھا مگر ان دونوں کے چہرے رت جگے کے سب آثار دکھاتے ستے ہوئے تھے آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں۔
    ویٹنگ ایریا کے بنچ پر بیٹھے جب آتے جاتے لوگ ان تینوں کو لا علاج مرض میں مبتلا مریض سمجھ کر تاسف سے دیکھ کر گزرنے لگے تو فاطمہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر آنکھیں مسلنے لگی ۔۔
    تم جائو تمہیں پیکنگ بھئ کرنی ہوگی۔ میں رکتی ہوں یہاں۔
    صبح کے سات بجنے کو تھے ۔ عروج نے بڑی سی جمائی لی۔ اگر ماسک نہ ہوتا تو حلق میں لٹکتا کوا تک نظر آتا۔
    سات بجے پیکنگ تو کیا کرنی تھی سر میں درد ہو رہا تھا سونا چاہ رہی۔تھی سو مروتا بھئ انکار نہ کیا۔
    ٹھیک ہے۔ پھر میں چلتی ہوں۔ عروج نے کہا تو واعظہ
    میں بھی چلتی ہوں آٹھ بجے ای جی آ کو پک کرنا ہے۔
    واعظہ نے گھڑی دیکھی تو وہ بے چاری سی شکل بنا کر بولی۔
    تم تو نا جائو میں اکیلی کیسے۔ اور دیکھا تھا نا طوبی کو کیسے خونخوار نظروں سے گھورا تھا مجھے۔ میں نے انکے میاں کو اس حال میں پہنچایا ہے میری تو شکل دیکھ کر انکا بی پی دوبارہ بڑھ جائے گا۔
    ہاں تو غلطی تمہاری ہی ہے۔ میں نہیں گئ دفتر تو ای جی آ مجھے کھا جائے گی۔ طوبی شائد تم پر رحم کھا کے ای جی آ نے تو میرا خون پی جانا ہے۔ اسکا ایک ایک منٹ پلانڈ ہے۔
    واعظہ کی اپنی مجبوری تھی۔ فاطمہ نے بے چارگی سے دونوں کو دیکھا تبھی سامنے عروج کی۔نظر سامنے ریسپیشن پرکھڑے دلاور اور طوبی پر نظر پڑی۔۔ وہ شائد چیک آئوٹ کروا رہے تھے۔واعظہ انکی جانب بڑھنے کو تھی کہ عروج نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
    چیک آئوٹ کروا کر طوبی اور دلاور اسپتال سے سیدھا باہر نکل گئے تھے۔
    چلو پھر اب ہم بھی گھر چلتے ہیں۔ واعظہ نے گہری سانس لیکر کہا تبھی اسکا فون بج اٹھا۔۔ نامعلوم نمبر تھا۔
    اس نے فون اٹھایا۔۔
    یوبوسیو۔
    ہیلو واعظہ ؟ بیٹا ہم لوگ گھر جا رہے ہیں طوبی کو۔ہوش آگیا ہے۔ آپ لوگ فکر مند نہ ہونا۔ آپ لوگ گھر چلی گئ ہو۔نا؟ میں آپکو اسپتال میں ڈھونڈ رہا تھا پر ملے نہیں۔میں نے ریسیپشن پر پیغام بھی چھوڑا تھا۔
    جی۔
    واعظہ اور کیا کہتی۔ گہری سانس لیکر کررہ گئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیٹ پر پہنچ کر بھی اسکا موڈ سخت خراب تھا۔ صبح کی شفٹ میں شوٹنگ تو اتنی ہی ہوتی تھی مگر پھٹیک بہت ذیادہ ہوتی تھی۔ دن کے وقت سب جیسے فل چارج ہو کر پھرتے تھے۔ ایسے ایسے کام اس سے کہے جاتے تھے کہ دل کرتا تھا انکے سر پر بھی وائپر بجا دے۔ ابھی بھی عبداللہ کو بلیک کافی اور لیلی کو ملک کافی چاہیئے تھی۔ دونوں کیلئے وہ کافی بنا کر لائی مگر دیتے وقت گڑبڑ کر دی عبداللہ کو ملک کافی اور لیلی کو بلیک کافی دے دی۔ عبداللہ نے تو صبر شکر کرکے پی لی مگر لیلی نے پہلا گھونٹ بھرتے ہی الٹی کی۔
    یہ۔کیا ہے ؟ اس نے پیپر کپ کا ڈھکن اٹھا کر اندر جھانکا پھر منہ بنا کر اس سے کہا۔
    کافی ہے اور کیا۔ وہ ویسے ہی آج تپی ہوئی تھی۔ جوابا لیلی مے بحث کی بجائے کپ اسی کو تھما دیا۔ ۔لڑکے تو جھوٹا موٹا پی ہی لیتے اس نے ڈھکن لگا کر لپ اسٹک کا نشان صاف کیا اور یہ کپ عبداللہ کو دینے چل دی۔ عبداللہ کا میک اپ چل رہا تھا کپ سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا تھا ۔ اس نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا یقینا اس نے پی ہی نہیں ہوگی۔ خوشی خوشی اسکا کپ سامنے رکھ کر پہلے سے رکھا کپ اٹھایا ۔
    میں نے بلیک کافی کہا تھا ویسے۔ مجھے میک اپ سے دیر ہو رہی تھی سو ابھی تو پی لی مگر آئندہ مجھے بلیک کافی ہی لا کر دینا۔
    عبداللہ نے اچٹتی نگاہ ڈالتے ہوئے اس کو کہا۔ اسکو اسکی شستہ عربی خاک سمجھ آتی الٹا اردو میں اس پر بگڑی
    ندیدے جب پسند ہی نہیں تھی تو کافی ختم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ اب مجھے پھر تیسرے فلورکا چکر لگانا پڑےگا۔۔
    بڑ بڑ کرتے کپ اٹھا کر تن فن کرتی ڈریسنگ ایریا سے نکلی۔۔
    انکی عربی کتنئ اچھی ہے ان عربی اداکاروں سے بہتر عربی بول گئ ہے۔ لہجہ سننے میں اسکا ذیادہ اچھا ہے۔
    اسکے بالوں کا ہیئر اسٹائل بناتے اس چندی آنکھوں والے میک اپ آرٹسٹ نے اپنے برابر دوسرے اداکار کا میک اپ کرتے میک اپ آرٹسٹ کو کہا۔
    جوابا وہ بھئ سر ہلانے لگا۔
    انکی زبان تو مختلف سی ہے سننے میں یہ لڑکی اگر ہنگل میں نہیں بولی تو کس زبان میں بول کے گئ ہے۔ اور بولی کیا ہے؟
    عبداللہ الگ بڑبڑایا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
    کھاوا ڈسپنسر سے گرم پانی مگ میں ڈال رہا تھا جب وہ پیچھے سے آکر بولی۔ کھاوا اچھل پڑا۔
    کافی بنا رہا ہوں پیئو گئ؟
    اس نے دو بن ہاتھ میں لیئے ہوئے تھے ایک اسے تھما دیا۔
    ہاں۔۔ مختصر جواب وہ مسکرا کر دوسرا مگ اٹھانے لگا
    فاطمہ منہ بنا کرکونے سے اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گئ۔ یہ والے بن اسے بھئ کافی پسند تھے سو مروتا بھی انکار نہ کیا
    ہم لوگوں کو کیسا چھوٹا کچن دے رکھا ہے باقی اسٹاف کا کتنا بڑا کیفے ہے۔
    اسے اب کچن کے چھوٹا ہونے پر اعتراض تھا
    ایک تو باقی سب مستقل ملازم ہیں ہم کانٹریکٹ والے مظلوم۔دوسرا کیفے سے تم بھی پے کرکے چیزیں لے سکتی ہو یہاں یہ کافئ مفت ہے ہمارے لیئے بس ذرا سا خود بنانی پڑتئ وہاں یہی سب کوئی گھول کر دے گا اور دگنی قیمت وصولے گا
    اسکے مقابل بیٹھتے ہوئے وہ بالتفصیل بتا رہا تھا۔ اس نے یونہی اسکا جائزہ لے ڈالا۔ نک سک سے تیار ڈریس پینٹ شرٹ میں تازہ شیو خوشبوئوں میں بسا ہوا۔ وہ عام دنوں میں خاصےرف حلیے میں آتا تھا۔ گھسی ہوئی جینز گرے اپر یا کبھی ڈینم جیکٹ۔ ایک دن تو سویٹ پینٹ شرٹ میں ہی آگیا تھا تب ہدایت کار نے ڈانٹا بھئ تھا اسے۔ جوابا ساری ڈانٹ کھا کے سر جھکا کے بولا۔
    لیٹ ہوگیا تھا۔ تیار ہو کر آتا تو یہاں کئی کام رک جاتے میرے اس حلیئے میں آنے سے کوئی کام نہیں رکا بس میں ذرا سا برا لگ رہا ہوں تو آپ نے جو ہوم لیس آہجوشی والا منظر کرنے کیلئے جس ایکسٹرا کو بلانا ہے ان کی جگہ مجھے رکھ لیں۔۔
    اور انہوں نے واقعی ایسا کیا۔ ایکسٹرا کی پیمنٹ بھی ملی اور ڈانٹ بھئ ٹل گئ۔ اسے سوچ کے ہنسی آگئی۔۔ اسے ہنسی ضبط کرتے دیکھ کر کھاوا چونکا۔
    کیا ہوا برا لگ رہا ہوں؟ ۔مجھے پتہ ہے یہ پنک شرٹ ہم طر صغیر کے کالے کلوٹے لڑکوں پر نہیں جچے گی۔ کہا تھا یون سب کو۔ کوئی اور شرٹ دے دے۔
    وہ سچ مچ پریشان ہوگیا تھا۔
    ارے۔ فاطمہ نے حیران ہو کر اسکو دیکھا۔ گلابی رنگ تو اب دیکھا اس نے۔ ویسے برا نہیں لگ رہا تھا۔ بلکہ رنگ صاف صاف سا لگ رہا تھا اسکا۔ ویسے بھی وہ کالا نہیں تھا ایسے لگتا تھا جیسے رنگ جھلسا ہوا ہو اسکا۔ گندمی رنگ جو اکثر سورج دیوتاکی مہربانی سے لڑکوں کا باہر پھر کر ہوجاتا ہے
    نہیں بالکل برے نہیں لگ رہے ہو۔بلکہ اچھے لگ رہے ہو۔ ہینڈسم۔
    فاطمہ کے کہنے پر وہ اسے چونک کر دیکھنے لگا تھا۔مگر وہ سادہ سے انداز میں کہہ کر مگ منہ سے لگا چکی تھی۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئ۔
    کیا چیز تھی یہ لڑکی بھی۔
    خوش بھی ہو۔۔ ڈیٹ پر جانا ہے آج؟
    اسکی مسکراہٹ فاطمہ سے چھپی نہ رہ سکی۔
    ڈیٹ۔کافی پیتے اسے اچھو سا لگا۔۔۔ ایکسٹرا کے طور پر آنا ہے ایک منظر میں پیچھے سے گزرنا ہے ہیرو کے۔اسکے لیئے بھئ انکو سوٹڈ بوٹڈ ایکسٹرا چاہیئے۔
    وہ استہزائیہ ہنسا۔
    اوہ اچھا۔ مجھے لگا اتنا تیار ہو کر آئے تو یقینا کسی لڑکی وڑکی کا چکر ہوگا۔
    فاطمہ نے کندھے اچکائے تو کھاوا مسکرا دیا
    مجھے کون احمق ڈیٹ کرے گی۔
    کیوں؟ اچھی بھلی جاب ہے اوپر سے مجھ سےبھی اتنے پیسے اینٹھ لیتے ہو۔
    فاطمہ نے جتایا تووہ برا مان گیا
    حق حلال کا لیتا ہوں اسے اینٹھنا نہیں کہتے۔اتنے کام تو کرتا ہوں تمہارے۔۔ ان کورینیوں سے عربی مکالمے بلوانا آسان کام ہے کوئی
    فاطمہ نے گہری سانس لی۔۔۔۔
    بالکل نہیں۔ کوریا میں تو کوئی بھی کام آسان نہیں۔ سانس لینا بھی۔۔ اور میں تو سب کام خراب کرنے میں ماہر ہوں
    اس نے منہ لٹکا لیا۔
    خیریت آج تو آہیں بھری جا رہی ہیں۔ گھر میں سب ٹھیک؟
    کھاوا نے فورا نوٹس کیا۔فاطمہ نے سوچا پھر گلا کھنکار کر سیدھی ہو کر بولی
    مجھے ایک بات بتائو۔اگر آپ رات کواپنے گھرمیں کسی کو چوری چھپے آتے دیکھیں آپ کا پہلا ری ایکشن کیا ہوگا۔۔

    ڈنڈا ماروں گا سر پر۔ کھاوا فورا بولا۔
    بالکل یہی قدرتی ردعمل ہوتا ہے نا۔ مگر میں نے ڈنڈا مارا ہے تو میں مجرم بن گئ ہوں۔ مجھے اتنا برا بھلا کہا اور خفا بھی ہوگئی طوبی۔
    طوبی؟ تم نے لڑکی کے سر پر ڈنڈا مارا ۔۔۔کھاوا بھونچکا سا رہ گیا
    نہیں اسکے شوہر کے سر پر۔ پھٹ گیا چار ٹانکے آئے۔فاطمہ نے منہ پھلایا۔ کھاوا کو ہنسئ آگئ۔
    پھر غصہ تو بنتا ہے تمہاری سہیلی کا۔۔ وہ مزاق اڑا رہا تھا۔
    ویسے وہ تمہارے گھر چوری چھپے آئے ہی کیوں؟ انکی بھی غلطی ہے۔ وہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔
    میری بھی غلطی ہے۔ بے چارے جب بھی ہماری مدد کو آتے ہیں ٹوٹ پھوٹ کر واپس جاتے ہیں دلاور بھائی۔
    کھاوا چونکا مگر فاطمہ نے دھیان نہیں دیا دوسرا قصہ شروع کر چکی تھئ
    پتہ ہے اس سے پہلے ایک بار ہم نے انکو ۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں اکٹھے جلدی نکلی تھیں تاکہ جلدی گھر جا سکیں۔ کھاوا اسئ وقت باہر سے کوئی بڑا سا شاپر لیئے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا آرہا تھا۔
    اس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔ جوابا وہ بھی مسکرا کر سر ہلاتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔ دونوں ہاتھوں میں شاپرپکڑے تھا
    ایک تو اس بے چارے کے اتنے چکر باہر کے لگواتے ہیں۔ اس دن تو اتنا بڑا بورڈ اٹھا کے لا رہا تھا اکیلے میں نے مدد کرائی اسکی۔ تم لوگ اسکو اتنا چلایا تو نہ کرو۔
    واعظہ نے بھی اسے دیکھا تھا شائد جبھی کہہ رہی تھی۔
    کیوں یہ کونسا سی او لگا ہوا ہے یہ سب کام ہی کرتے ہیں اسسٹنٹ۔ اور یہ لوگ تو باہر کے کام مجھے بھی کہہ دیتے ہیں مگر میں نے کبھی کرکے نہیں دیا ہمیشہ کھاوا کو بھیجتی ہوں۔
    فاطمہ نے کہا تو واعظہ اسے دیکھ کر رہ گئ۔
    یہاں کے لوگوں کو ایک تارک وطن سے ہمدردی ہونی تم تو ہم وطن ہونے کا تھوڑا خیال کر لیا کرو۔ بے چارہ اتنی مشکل سے چلتا ہے۔
    واعظہ کے کہنے پر وہ حیران ہو کر ایک قدم آگے ہو کر سامنے آگئ
    کون مشکل سے چلتا ہے؟
    کھاوا۔ واعظہ اسکے سامنے آنے پر بد مزہ ہوگئ تھی سو منہ بنا کر بولی
    کھاوا مشکل سے چلتا ہے؟ کیا کہہ رہی ہو۔فاطمہ حیران ہی تو رہ گئ
    تم نے کبھی اسے چلتے نہیں دیکھا کیا۔؟ واعظہ الٹا اس کی حیرانی پر حیران رہ۔گئ۔
    ایک پیر ذرا سا دبا کے چلتا ہے۔میں نے پوچھا تھا اس سے کہہ رہا تھا کالج میں تھا تو ایک بار اسکا بائک ٹرک کے نئچے آگیا تھا۔ ٹانگ بھی ٹوٹ گئ تھی جب سے ذرا۔۔۔
    فاطمہ کی آنکھیں پوری کھل سی گئیں۔۔ اسکی حیرت ذدہ شکل دیکھ کر واعظہ نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
    حد ہے اتنی دوستی ہے اس سے اپنے سب کام کرواتی ہو تم نے اسے غور سے نہیں دیکھا۔
    فاطمہ بھونچکا سی کھڑی تھئ۔
    نہیں واقعی۔کبھئ دھیان نہیں دیا میں نے۔
    اچھا چلو ڈھائی بج رہے ہیں ہمیں گھر جانے میں بھی وقت لگے گا۔
    وہ شاک میں جمی کھڑی تھی تو واعظہ کو ہی اسکا بازو پکڑ کر کھینچنا پڑا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ سب با جماعت اسے ائیر پورٹ چھوڑنے آئی تھیں۔
    عزہ کی آنکھیں نم تھیں۔
    عشنا کی بھی۔ الف کی بھی
    واعظہ کی آنکھیں سرخ تھیں۔۔
    فاطمہ کی بھی۔
    ہر تصویر میں آدھوں کی آنکھیں ہی دیکھنے کو ملی تھیں مگر ائیر پورٹ پر بھئ انہوں نے طویل فوٹو سیشن کرایا تھا۔پاس سے گزرتے ایک کورین لڑکے سے اپنے گروپ فوٹو بنوائے تھے۔ اسکی فلائٹ کا وقت نہ ہوجاتا تو اگلے دو گھنٹے بھی بس انکا کیمرہ پکڑے تصویریں بناتے گزرتے اسکے۔ وہ معزرت کرتا وقت بتاتا بھاگا تب وہ لوگ تھوڑا ٹھنڈی پڑیں۔عروج کا کیمرہ تھا وہ سب ا س پر چڑھ آئیں دکھائو کیسی آئیں ۔۔
    امریکہ جا کے سب تصویریں بھیجوں گی فکر ناٹ۔
    مجھے سب سے پہلے وہ جو مجسمے کے ساتھ میری تصویر ہے بس وہ دکھا دو۔
    عزہ نے کہا تو عروج نے اسکی ناک کو چٹکی میں دبایا
    ہر تصویر میں تو ننجا ٹر ٹل بنی ہو شکل تو آئی نہیں ہے پرجوش ایسے ہو۔جیسے پورٹ فولیو شوٹ کروایا ہے۔
    اسکی ٹھنڈی بستی پر جہاں اس نے منہ بنایا وہیں وہ سب کھل کر ہنسی تھیں۔
    مجسمہ بھئ اسکے عبایا میں اپنی شکل چھپاتا رہا یے شرما شرما کر۔
    فاطمہ نے اسکے پوز کا مزاق اڑایا یہ۔تصویر اسی نے بنائی تھی۔ مجسمہ کے چہرے پر اسکی خوب گھیر والی آستین نقاب بناگئ تھئ ہوا سے اڑ کر۔
    ویسے عروج امریکہ میں تو کوریا سے کہیں ذیادہ تعصب ہے تم وہاں بھئ عبایا کروگئ؟
    عشنا نے پوچھا تو عروج سر جھٹک گئ
    اکھاڑ لیں جو اکھاڑنا ہے میں نے انکی وجہ سے نقاب کرنا تو نہیں چھوڑنا۔
    اس کا انداز اٹل تھا۔ اس وقت بھی وہ گلابی اسکارف اور گلابی ہی فیس ماسک لگائے تھے لانگ گرے کوٹ اور جینز میں وہ کافی سوبر سی لگ رہی۔تھی۔ ہاں اسکارف کی وجہ سے مسلم شناخت کی جا سکتی تھئ۔
    پھر بھی عروج اپنا بہت خیال رکھنا وہاں کے حالات مسلمانوں کیلئے بالکل اچھے نہیں۔
    واعظہ نے سنجیدگی سے کہا تو وہ سر ہلانے لگئ۔
    مجھے اندازہ ہے۔ میں احتیاط کروں گی۔ اس نے اطمینان دلایا پھر سب کی شکلیں دیکھیں اداس ہو رہے تھے چہرے سب کے وہ ہاتھ مل کر بولی
    یار قسم سے دل کر رہا تھوڑا بہت رو لوں مگر مجھے اتنی خوشی ہے امریکہ جانے کی کہ آنسو ہی نہیں آرہے۔
    ماسک کے اندر یقینا بتیسی باہرتھی اسکی۔ آنکھیں چمک رہی تھیں او رخوشی سے چندی ہو رہی تھیں۔
    پہنچو گی کب؟ عزہ نے سوں سوں کرتے پوچھا۔
    یار صبح چھے ساڑھے چھے تک ۔۔ اگر موسم نے کوئی پنگا نہ کیا تو ذیادہ سے ذیادہ دس گھنٹے لگیں گے۔ عروج کہہ کر ذرا سا رکی
    سچ میں تم لوگ بہت یاد آئو گی۔ زندگی میں اتنا مستی مزاق کبھی نہیں کیا جتنا تم لوگوں کے ساتھ مزا آیا۔ میں۔۔
    اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ عزہ اسکے گلے لگ گئ۔ اسکے اوپر سے الف بھئ عشنا بھئ۔ فاطمہ اور واعظہ نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر اس مینار سے وہ بھی لپٹ گئیں
    ہم اتنے بہناپے کے ساتھ رہے کہ مجھے احساس ہی نہ ہوا کہ اپنی فیملی سے اتنا دور رہ رہی ہوں ۔ مجھے تم سب بہنوں کی طرح عزیز ہو گئ ہو۔ میں ویڈیو کال کیا کروں گی تم سب کو۔۔
    عروج جزباتی ہوئی وی تھئ۔
    میں نے کبھی تم میں سے کسی کا دل دکھایا ہو تو معزرت۔
    بس کبھی کبھار شور مچانے پر ڈانٹ دیتی تھی تم لوگوں کو۔
    اسکے لیئے بھی سوری۔۔ اور سینی ٹائزر کیلئے تھوڑا ٹچی ہوتی تھی۔ اسکے استعمال پر بھی اگر کبھی کسی کو روکا ٹوکا ہو تو سوری۔ اور اپنا ڈینم عبایا۔ وہ میں نے دھو کر بالکونی میں ڈالا تھا۔ اف مجھے تو اٹھانا یاد ہی نہیں رہا۔
    عروج کو کیسے بے درد وقت یاد آیا تھا۔
    عروج اب تم جارہی ہو تو مجھے چھپانا اچھا نہیں لگ رہا۔میں اکثر جب تم نائٹ کرکے آتی تھیں اور بے سدھ سو جاتی تھیں تو تمہارا ڈینم عبایا یونی پہن جاتی تھی۔ تم میرے واپس آنے کے بعد بھئ بمشکل اٹھتی تھیں تو تمہیں کبھی پتہ نہ چل سکا۔
    عزہ نے حفظ ماتقدم کے طور پر اور زور سے جپھی مار لی۔ وہ پھڑک کے رہ۔گئ۔
    تمہارا سینی ٹائزر تو خیر ہم سب استعمال کرتے تھے۔ ایک بار تو نور نے تمہارے سینیٹائزر میں پانی بھر کے رکھ دیا تھا۔
    الف نے انکشاف کیا۔
    کیا۔ عروج مزید پھڑپھڑائی۔ مگر ان سب کی گرفت مضبوط تھی۔ اس نے بھی خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔
    وہ سب یونہی چند لمحے ایک دوسرے سے لپٹی کھڑی رہیں۔ پھر آنکھیں پونچھتے الگ ہونے لگیں۔ عروج نے سب سے پہلے الگ ہونے والی واعظہ کو نظروں میں بھرا پھر اسکے قریب آکر پرخلوص انداز میں اسکا ہاتھ پکڑکر کہا تھا
    اور واعظہ تھینکس فار ایوری تھنگ۔
    خیریت سے جائو ۔ واعظہ مسکرا کر اسکے گلے لگ گئ۔
    دلاور بھائی کو۔میری طرف سے پوچھنا اور طوبی سے معزرت بھی کر لینا۔ اسکا غصہ دیکھ کر میری ہمت نہیں ہوئی ملنے بھئ نہیں جا سکی میں۔
    عروج کے متردد انداز پر اس نے زو رو شور سے سر ہلایا۔ فلائٹ کا وقت ہو رہا تھا اس نے جلدی جلدی الوداعی کلمات ادا کیئے۔ اور تیزی سے اندر بڑھ گئ۔ یہ لوگ جب تک نظر آتی رہی ہاتھ ہلاتی رہیں۔ عشنا فاطمہ عزہ الف۔ واعظہ نے حسب عادت گنا۔ آبادی مستقل کم ہو رہی تھی۔ اسے عجیب سی یاسیت گھیرنے لگی۔
    جانے اسکے قدم۔سست پڑے تھے یا یہ سب جلدی میں تھیں۔ عشنا اور عزہ کسی بحث میں الجھی تھیں۔فاطمہ کو اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کرنا تھا۔۔ الف اسکی طرح انکے ساتھ مگر لا تعلق سئ چل رہی تھی۔
    اس نے ایک نظر اسے دیکھا پھر خاصی زور سے بولی
    ارے ژیہانگ تم یہاں کیا کر رہے ہو۔
    الف بجلی کی تیزی سے مڑی تھئ۔متلاشی نگاہوں سے دیکھتے اس نے واعظہ کو دیکھا تھا جو اسی پر نظریں جمائے تھئ۔
    عزہ عشنا فاطمہ بھئ مڑیں ۔
    کون ژیہانگ؟ فاطمہ پوچھ رہی تھی۔
    کوئی نہیں مجھے غلط فہمی ہوئی کوئی اور تھا۔ ایک تو سب کی ہی آنکھیں یہاں چندی ہیں۔
    وہ سر سری سے انداز میں کہتی بھرپور نظر الف پر ڈالتی تیز تیز قدم اٹھاتئ آگے بڑھ آئی۔
    جلدی چلو کیب والے نے ویٹنگ کے پیسے بنا لیئے ہوں گے ٹھیک ٹھاک۔
    واعظہ کو حسب عادت فکر ہو گئ تھئ۔
    ہم پھر اسی ٹیکسی میں واپس جائیں گے۔ عزہ نے اعتراض جڑا۔
    کیوں تمہارے لیئے یہاں چاپر منگوائیں۔
    فاطمہ نے مزاق اڑایا۔
    یار یہ والا ڈرائیور گھورتا آیا ہے سارا راستے۔
    عزہ ٹھنکی۔
    اس بے چارے کو۔دکھائی کیا دیا ہوگا برقع ایونجر۔ فاطمہ نے اسکے سر پر چپت لگائی۔ وہ سب ہنستی بولتی پارکنگ کی۔طرف بڑھ رہی تھیں۔ الف نے ایک بار پھرمڑ کر ائیر پورٹ کی لابی پرطائرانہ نظر ڈالی تھئ۔
    کیا پتہ سچ مچ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کمرے میں داخل ہوئے تو طوبی صارم کر تھپکتی اٹھ رہی تھیں۔
    اب کیسی طبیعت ہے تمہاری؟
    وہ فورا پاس جا کے پوچھنے لگے۔
    ٹھیک ہوں۔ سونے سے بہتر محسوس ہو رہا ہے۔
    وہ دھیمئ سی آواز میں بولی تھی۔پھر ادھر ادھر دیکھ کر بولی
    بچے سو گئے؟
    ہاں۔ زینت تو سمجھدار ہے گڑیا تمہارے پاس آنے کی ضد کر رہی تھی اسے مشکل سے بہلا کر سلا دیا۔۔
    آج تو سارا دن سوتے گزر گیا میرا۔ رات بھر کیا کروں گی۔
    اس نے گھڑی پر نظر کی تو ساڑھے دس ہی ہو رہے تھے۔
    کچھ کھا لو دوپہر میں بھی بس تھوڑا سا دلیہ کھایا ہوا ہے بھوک لگ رہی ہوگئ۔
    وہ اسکے پاس بیٹھے محبت سے پوچھ رہے تھے
    وہ انہیں دیکھ کر رہ گئ۔ جانے یہ محبت اس سے تھی یا آنے والے کی وجہ سے فکر کی جا رہی تھی۔ وہ قنوطی سا ہو کر سوچنا نہیں چاہ رہی تھی مگر اب ہر بات کے دو مطلب نکالنے کی عادت سی ہوگئ تھی۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بچے ۔۔۔۔۔۔ اسکے ذہن میں پھر یہی الفاظ گونجے۔ وہ جو انکو زندگی دینے کا ذریعہ بن رہی ہے اسکے بچے۔۔
    وہ مزید کوئی تکلیف دہ سوچ سوچنے جا رہی تھی کہ دلاور کی آواز پر چونکی
    واعظہ اور فاطمہ آئی تھیں۔ تمہارے لیئے سوپ دے کر گئ ہیں۔ تم سو رہی تھیں ۔۔۔ انہوں نے تمہیں جگانے سے بھی منع کر دیا ان میں سے کسی کی فلائٹ تھئ وہ بھی ملنے آئی تھی تمہیں سوتا دیکھ کر دور سے ہی دیکھ کر چلی گئ۔
    اچھا کیا۔ وہ بدمزا سے انداز میں بولی۔ تو وہ مزید انکا ذکر کرنے کی بجائے اٹھ کھڑے ہوئے
    میں سوپ گرم کر لاتا ہوں۔
    میں اٹھ گئ ہوں اب خود کچھ گرم کرکے کھا لوں گی آپ زحمت نہ کریں۔
    وہ چڑ چڑے پن سے کہتئ بستر سے اٹھنے لگی تو ایکدم اٹھنے سے سر چکرا سا گیا۔ بروقت دلاور نے سہارا دے کر واپس بٹھایا۔
    یہیں بیٹھو میں سوپ یہیں لا دیتا ہوں۔ انکے انداز میں قطیعت تھی وہ نا چاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئ۔۔۔
    پھر جب تک سوپ گرم ہو کے آیا وہ یونہی سوچوں میں الجھتی رہی۔ اتنی مگن تھی کہ دلاور پاس آکر کھنکارے تب چونک کے سیدھی ہو ئی۔
    گرم بھاپ اڑاتا ویجیٹیبل چکن کارن سوپ تھا ساتھ نوڈلز بھی تیر رہے تھے۔ اسکو ایکدم ہی بھوک کا احساس ہوا تھا۔ بےدلی سے تھامنے والی اب رغبت سے پیالہ ختم کر رہی تھی۔
    دلاور خاموشی سے اسکے مقابل بیٹھ گئے۔
    آج مجھے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تمہارا بہت خیال رکھوں یوں بار بار بی پی بڑھ جانا اچھی علامت نہیں۔ اور یہ بھی کوئی ذہنی دبائو ہے جس کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔تو مجھے تم سے بات کرکے پوچھنا چاہیئے۔
    وہ بلا تمہید شروع ہوئے تھے۔ طوبی کامنہ تک چمچ لے جاتا ہاتھ رک سا گیا۔
    ہم مرد سوچتے ہیں بیوی کام ہی کیا کرتی ہے سارا دن گھر میں رہنا سکون سے جب چاہا سو گئ کام کیا نا کیا عیش کرتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آج ایک دن تم نے سارا دن کوئی کام نہ کیا اور میں جانتا ہوں کیسے یہ پورا دن گزارا ہے بچوں نے تمہارے بغیر۔
    وہ ذرا سا ہنسے ۔ طوبی حیرت کے مارے گنگ سی انکی شکل دیکھ رہی تھی۔ وہ اسکی حیرت سمجھ رہے تھے۔
    گڑیا زینت صائم۔ سارا دن انکو ماں کی ہر قدم پر یاد آئی میرے ہاتھ سے تو کھانا تک نہیں کھا رہے تھے۔ عادت ہی نہیں انکو۔ اور میں بھی کب انکو سامنے بٹھا کر منہ میں نوالے ڈالتا ہوں۔ بس خرچہ اٹھا لیا کبھی لاڈ کیا کبھی ڈانٹ دیا۔ باپ کا ان سے تعلق بس اتنا ہی ہے۔ نخرے تو بس ماں ہی اٹھایا کرتی ہے نا۔۔۔۔
    آپ۔۔ طوبی نے کچھ کہنا چاہا مگر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
    پہلے میری سن لو۔ تمہاری ہر الجھن کا جواب دوں گا۔
    وہ تھمے پھر طوبی کے چہرے سے نگاہ ہٹا کر سامنے دیکھتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں بولے۔
    آج میں نے خود کو تمہاری جگہ پر رکھ کر سوچا۔ تین مختلف عمروں کے بچے جو اپنی ہر ضرورت کیلئے ماں کے محتاج ہیں انکو سنبھالنا ہر ضرورت پوری کرنا گھر کا کام کرنا یقینا ماں کوئی مشین تو ہے نہیں کہ بنا تھکے سب کام صحیح صحیح کرتی جائے۔ تم بھئ تھکتی ہوگئ کبھی گھبراتی جھلاتی ہوگی جبھی۔۔ وہ شائد سانس لینے رکے تھے طوبی نے سانس روک لی۔۔ وہ کچھ دیر سوچتے رہے پھر مڑ کر مضبوط لہجے میں طوبی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولے۔۔
    مجھے تمہارا ہر فیصلہ منظور ہے۔ اگر تم مزید اولاد نہیں چاہتی ہو تو بے شک ابارٹ کرا لو۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ یہ تین ہی ہماری۔۔۔۔۔
    کیا کہہ رہے ہیں آپ۔ ؟ طوبی چیخ پڑی۔
    میں اتنا بڑا گناہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ آپ ان بچوں سے نو مہینے بعد ملتے ہیں یہ میرے وجود میں پلے ہیں مجھ میں سانس لیتے ہیں میں انکی جان لینے کا ۔۔۔ آپ مجھے ایسا گھٹیا سمجھتے ہیں کہ ایک او ربچے کی ذمہ داری نہ اٹھانی پڑے اسلیئے میں جان لینا چاہوں گی وہ بھی اپنے بچے کی۔
    اسکی غم و غصے سے آواز پھٹ سی گئ۔
    پھر۔ دلاور۔ اسکا غصہ سمجھ نہ پائے۔
    مجھ سے اتنی بڑی خبر چھپانے کی کیا وجہ تھی؟ کیوں مجھے تم سے یہ خبر نہیں ملی ؟
    کیونکہ میں آپکی زندگی میں اپنا مقام دیکھنا چاہتی تھی۔ میں کیا ہوں ہوں بھئ کچھ یا بس آپکے بچوں کی ماں ہوں میں۔
    وہ پھٹ پڑی۔
    ان بارہ تیرہ سالوں میں مجھے ان بچوں سے الگ آپکی نظر میں اپنا مقام کیا ہے نہیں پتہ لگا۔ میں جانتی ہوں میں کبھی آپکا آئیڈیل نہیں رہی مگرخود کو بدل بدل کر ہر طرح سے آپکا آئیڈیل بننا چاہا ہے میں نے مگر اس سب کوشش کے باوجود ایک چٹی چمڑی لڑکی آپ نے میرے مقابلے پر لا کھڑی کی کیوں۔ کیا کمی ہے مجھ میں؟ بد صورت ہوں نا فرمان ہوں اولاد کی خوشی نہیں دیا کیا میں نے آپکو۔۔
    وہ کہتے کہتے رو دی۔ دلاور ہکا بکا اسکی شکل دیکھتے رہ گئے
    کونسی لڑکی؟ تم۔۔ میرا ۔میں یہاں۔۔۔۔۔۔۔
    وہی لڑکی جس سے چھپ چھپ کے باتیں کرتے ہیں آپ۔ کیا لگتا آپکو میں جاہل ہوں؟ یا اندھئ بہری ہوں ۔۔ سب سمجھ آتا ہے مجھے۔
    وہ سخت جلی بھنی تھی۔ دلاورکو بے ساختہ ہنسی آگئ۔ وہ تو شکر ہے سوں سوں کرتی سر جھکائے بیٹھی تھی ورنہ اور تائو کھا جاتئ ۔۔
    انہوں نے بمشکل ہنسی روک کر اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیکر اوپر کیا۔
    تو تم اتنے دنوں سے اسلیئےپریشان تھیں کہ تمہیں لگتا تھا میں کسی لڑکی کے چکر میں ہوں؟
    انہوں نے آج سب غلط فہمیاں دور کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
    ہاں۔ طوبی نے بھئ شائد آج سب معاملہ حل کر لینے کا ہی سوچ لیا تھا
    جس واحد لڑکی کا نمبر میرے پاس ہے اور جس سے تمہارے بقول میں چھپ چھپ کر بات کرتا تھا وہ لڑکی ایک پرائیوٹ جاسوسی کے ادارے کی منتظم ہے۔ اور اس سے رابطہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں گڈو کو ڈھونڈ رہا ہوں۔
    دلاور کی بات پر اسکی آنکھوں میں حیرت اور الجھن دونوں اتر آئی تھیں۔۔ دلاور نے ٹھنڈی سانس بھر کر سلسلہ کلام جاری رکھا
    میں نے پاکستان میں ہر ذریعہ استعمال کیا جس سے خاور کا پتہ لگ سکتا۔مجھے کسی نے بتایا کہ وہ لیبر ویزا پر سعودیہ عرب چلا گیا ہے۔ میں نے سعودیہ عرب میں اپنے دوستوں سے جاننے والوں سے معلومات نکلوائیں پتہ کروایا ۔ تب کسی نے مجھے یہ اطلاع دی کہ وہ کوریا میں ہے۔ جس دن مجھے یہ پتہ لگا اسئ دن سے میں نے کوریا آنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ تم جانتئ ہو مختلف ٹریننگز کیلئے مجھے کتنی ہی بار کبھی جاپان کبھی جرمنی جانے کی آفر آئی مگر میں انکار کردیتا تھا مگر یہاں آنے کیلئے اپنی لگی لگائی نوکری چھوڑ دی میں نے اپنی جمع پونجی لگا کر تمہیں اور بچوں کو بھی لے آیا تاکہ کوئی مجبوری نہ رہے۔ پچھلے سال بھر سے میں اسے تلاش رہا ہوں۔ ابھی بھی ایک بندے کا مجھے پتہ چلا ہے وہ اگلے پندرہ دن میں ویتنام جا رہا ہے۔ اب جانے یہ ہمارا خاور ہے یا نہیں مگر میرے پاس بس یہی چند دن ہیں طوبی یا تو وہ مجھے مل جائے گا یا ہمیشہ کیلئے ہم اسے کھو دیں گے۔
    میں نے گڈو کو دیکھا تھا۔
    طوبی بےتابی سے بات کاٹ کر بولی۔
    کب؟۔۔۔۔۔۔۔ دلاو ربری طرح چونکے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جو تو نہ ملا مجھے جو تو نہ ملا مجھے دل کو کیا بتائوں گا دل کو۔
    نیم تاریک کمپائونڈ میں دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا وہ اپنی دھن میں گنگناتا ہوا داخل ہوا تھا۔ نچلی منزل کے سب سے تاریک گیلری میں سو واٹ کا پیلی روشنی کا بلب ناکافی روشنی پہنچانے کی کوشش میں ناکام تھا۔اور وہ۔
    شاپر میں تین سوجو کی بوتلیں ایک برگر اور فرائیڈ چکن۔ اٹھائے اس وقت پارٹی کرنے کے موڈ میں تھا۔ گنگناتے ہوئے ابھی لاک کھولا ہی تھا کہ پیچھے سے کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    کم چاگیا۔ وہ بری طرح ڈر کر مڑا۔
    تمہارا خط ہے۔ ڈیلیوری بوائے میرے دروازے کے آگے ڈال گیا تھا۔
    اسکے ڈرنے پر بد مزا منہ بناتے ہوئے کم ہانا نے گھورتے ہوئے بتایا
    گھمسامنیدہ۔ اس نے سر جھکا کر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس سے خط لیا۔
    سوجو اکیلے کبھی نہیں پیا کرتے۔ ہانا کی تیز نظروں سے شاپر سے جھانکتی سوجو چھپی نہ رہ سکی۔
    یہ آپ لے لیجئے۔ کھاوا نے ایک بوتل نکال کر اسکو بڑی تمیز سے تھمائئ اور دروازہ کھول کر اندر گھس گیا۔دروازہ کھٹاک سے بند ہوا
    کہہ سیکی۔ وہ تلملا کر پیر پٹختی آگے بڑھ گئ۔
    اپنے یک کمرے کے فلیٹ میں داخل ہوتے ہی اسے پورے دن کی تھکن نے آن گھیرا تھا۔ ایک اوپن کچن سامنے لائونج ٹائپ چھوٹئ سی جگہ جس میں ایک گھسے ہوئے اسپرنگ والا صوفہ اور میز رکھی تھی۔دائیں جانب اکلوتے کمرے کا دروازہ تھا اسکے ساتھ باتھ روم بس۔ اس میں دلچسپی لینے والی لڑکی اسکی یہ پڑوسن بھی کم و بیش ایسے ہی گھر کی مالکہ تھی۔ مگر یقینا اسکے گھر کا اتنا برا حال نہیں ہوگا۔
    معزرت ہانا بی بی۔۔ فی الحال اس گھر میں میں کسی کو دعوت نہیں دے سکتا۔
    بڑبڑاتے ہوئے اس نے شاپر میز پر ڈھیر کیا ۔ سوجو نکال کر سامنے رکھی برگر اور فرائیڈ چکن نکالے۔صوفے کے نیچے بچھے اس گردآلود قالین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا ۔ لیٹر رکھا ۔۔۔۔گرم بھاپ اڑاتا کھانا اسکے سامنے تھا مگر وہ بس اس کھانے کو دیکھتا رہا چند لمحے۔
    پھر جیسے فیصلہ کرکے لیٹر اٹھایا۔۔ میونگ دونگ انٹرنیشنل اسکول۔ اس نے بے دلی سے کھولا۔
    ہم۔معزرت خواہ ہیں۔ ہم بین القوامی طلبا کو گریجوایشن کی۔سطح پر فی الحال اسکالر شپ فراہم نہیں کر رہے۔ آپ کی تفصیلات ہم نے ۔۔۔۔۔
    آگے بھئ لمبی کہانی تھی مگر اسے دلچسپی نہ تھی اس نے بے زاری سے لیٹر ایک جانب پھینکا اور کھانے پر ٹوٹ پڑا۔
    پیٹ بھر کر کھانے کے بعد اس نے سوجو کی بوتل اٹھائی وہ سادا سوڈا بھی لایا تھا مگر اس وقت وہ غٹا غٹ اس بوتل کو چڑھا گیا۔۔۔۔
    جانے پیاس ذیادہ تھی کہ کیا اسکا حلق تک جل سا گیا تھا۔
    صوفے کی نشست پر سر ٹکاتا اس نے خود کو پرسکون کرنے کی خاطر اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں
    قسم سے جھوٹ نہیں بول رہا ہوں اماں۔۔۔
    بھیا مجھے اللہ کی قسم ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔
    وہ اٹھارہ انیس سالہ لڑکا گڑگڑا رہا تھا۔۔
    جھوٹا ہے یہ ایک نمبر کا جھوٹی قسم کھاتا ہے۔۔
    وہ ٹرک ڈرائیور اسکے منہ پر تھپڑ لگاتا کہہ رہا تھا۔
    وہ لڑکا اس وقت بھئ گڑ گڑا رہا تھا۔
    قسم لے لو نگلی نہیں خالی بوتل میں۔۔۔۔
    اب منظر بدل گیا تھا وہ لڑکا اب بڑا ہو چکا تھا اب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہا تھا۔ پہلی بار جھوٹی قسم۔بھی کھا رہا تھا۔
    اس نے پٹ آنکھیں کھولی تھیں۔
    ہاتھ میں پکڑی سوجو کی بوتل خالی ہو چکی تھی اس نے لحظہ بھر اسکو اونچا کرکے دیکھا پھر پوری قوت سے وہ یونہی زمین پر پٹخ دی تھئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 57

    قسط 57
    وہ سب کھا پی کر نو بجے کے قریب فلیٹ میں پہنچی تھیں۔ عشنا عزہ اپنی صبح کی تیاری میں لگ گئیں عروج کا کافی پینے کا دل کر رہا تھا بنانے کھڑی ہوئی تو واعظہ فاطمہ نے بھی فرمائش کر دی۔۔ انہیں تو دانت کچکچا کر گھورا مگر الف جو خاموشی سے صوفے پر بیٹھی چینل پر چینل بدل رہی تھی اس سے تمیز سے پاس آکر پوچھا۔
    آنسہ الف آپ کافی پینا پسند فرمائیےگا ؟
    چینل پر چینل بدلتی شکل سے نظر آرہا تھا کہ کہیں اور ہی گئ ہوئی ہےسنا نہیں۔ دوبارہ اسکا بازو ہلاکر تمیز سے دہرایا
    نہیں۔ مختصر جواب۔ وہ کندھے اچکا کر کچن کی طرف بڑھ گئ
    فاطمہ اور واعظہ کارپٹ پر لاش کی طرح ہاتھ پائوں سیدھے کیےپڑی تھیں۔
    میں آج یہیں رک جائوں لڑے تم دونوں ہو اسکا سامنا کرتے مجھے ڈرلگ رہا ہے۔
    زمین سے بمشکل پائوں کے انگوٹھے تک سیدھی ٹانگ اٹھا کر تیس سیکنڈ تک رکتے فاطمہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
    واعظہ بھی اسی انداز میں رکی تھی۔ بولی کچھ نہیں۔ فاطمہ نے گہری سانس لیکر پائوں زمین پر واپس رکھا اب دوسری ٹانگ کی باری تھی۔
    ویسے سیہون اتنا غصے کا تیز لگتا نہیں تھا مجھے۔ اور تم بھی۔ سچ میں مجھے لگا تھا تم اسکو گردن سے پکڑ کر پٹخنی دے ڈالو گئ یا وہ تمہیں بالوں سے پکڑ کر۔ ۔
    واعظہ نے دانت پیس کر اسکی جانب گردن موڑی تو وہ کھسیانئ ہو کر زبان دانتوں تلے دبا گئ
    تم دونوں تو ہائی اسکول سےساتھ ہو نا یہ واقعی میری سے اتنئ محبت کرتا ہے۔
    فاطمہ کے تجسس کی کوئی حد نہ تھی۔ ۔ اب بیک لفٹ کی باری تھئ۔ گھٹنے کھڑے کرکے بس کمر کو اوپر ایسے اٹھانا تھا کہ سر گردن زمین پر رہے مگر کندھے کمر کی سیدھ میں ہی اونچے ہو جائیں۔
    تم ویسے اب کیا کبھی بات نہیں کروگئ سیہون سے؟ مطلب اتنے غصے میں دونوں آئے مجھے بات سمجھ نہیں آئی تم دونوں کی کہ فیصلہ کروں کہ غلطی پر کون مگر تیور تم دونوں کے معافی تلافی والے نہیں۔ تم مجھ سے ملنے تو آئوگی نا دیکھو وہ گھر اب میرا بھی۔
    فاطمہ کی کمر ابھی بھی اونچی تھی واعظہ نے بھنا کر ٹھمکا لگایا وہ الٹ کر دوسری طرف گری
    تم اتنی بڑی دماغ کی دہی ہو کہ۔۔ ذرا سا سکون سے سوچنا محال کردیا۔
    واعظہ اٹھ کر بیٹھی تھی۔ فاطمہ کمر سہلاتی گھورتی مڑی
    کتنی بدتمیز ہو تم ابھی میری کمر میں جھٹکا آجاتا۔
    اور جو میرا دماغ چکرا دیا۔ ذرا سا سکون سے سوچنا چاہ رہی تھئ ایک گمبھیر مسلئے کا حل اور تم نےسیہون سیہون کہہ کہہ کر دماغ کھا لیا میرا۔ ۔۔
    ہاں تو میرے سامنے لڑے ہو دونوں اور مجھے لڑائی کا منبع ہی سمجھ نہیں آیا تو پوچھوں گی ہی نا۔ فاطمہ نے ہاتھ نچا کر کہا۔
    کون کس سے لڑا۔
    عروج کافی کے تین مگ ٹرے میں لیئے یہیں چلی آئی
    یہ اور سیہون۔ فاطمہ کپ اٹھاتے شکایتی انداز میں بولی۔
    ہیں آخر سیہون اور تمہاری لڑائی ہو ہی گئ۔ عروج چہکی۔
    واعظہ شاکی انداز سے دیکھ کر رہ گئ
    قسم سے جب سے یہاں رہ رہی ہوں ان دونوں کی دوستی مثالی سیہون اسکی ہر کڑوی کسیلی بے چاری بیوی کی طرح سہتا آیا ہے اب اس کی بھی لگتا ہے بس ہوگئ۔
    عروج نے ذرا اثر نہ لیا۔ مزاق اڑاتئ آلتی پالتی مار کر انکے پاس بیٹھ گئ۔ کافی کی ٹرے بیچ میں رکھ کر واعظہ کا ردعمل دیکھنا چاہا خلاف توقع اس نے بنا کچھ کہے اپنا کپ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا ۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے فاطمہ کو دیکھا
    سیریس مسلئہ ہے۔ فاطمہ نے سرگوشی کی۔
    کیا ہوا واعظہ؟
    عروج کو بھئ تجسس ہوا۔
    یار سخت الجھن میں ہوں۔ خلاف عادت وہ صاف بتا گئ
    یہ الف کی امی فون کر کرکے کہہ رہی ہیں کہ اسکو منائوں شادی کیلئے اور یہ سیدھے منہ بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔واعظہ نے دائیں جانب صوفے پر نیم دراز الف کو گھورا
    فاطمہ اور عروج اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گئیں
    یہ کہیں سے بھی تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ کرے نہ کرے شادی سمجھائیں نا سمجھائیں اسکی امی تم کیوں پریشان ہو۔
    عروج کو غصہ ہی آگیا تھا۔
    میں اس وجہ سے پریشان نہیں ہوں۔ واعظہ نے گھونٹ بھرا۔
    اسکو دیکھو یہ کہیں سے نارمل لگ رہی ہے؟ مسلئہ کیا ہے اسکے ساتھ۔
    اس نے کہا تو بیک وقت تینوں نے پہلی نظر اس پر پھر ٹی وی پر ڈالی۔
    دھڑا دھڑ چینل پر چینل بدل رہے تھے مگر الف کا چہرہ بےتاثر شدید گہری سوچ کا غماز تھا۔
    ایکسول ایسے ہی پاگل ہوتے ہیں۔
    فاطمہ نے اونچی آواز میں کہا۔
    عروج اور واعظہ کا منہ کھلا اب یقینا طبل جنگ بج جانا تھا اور ان دو ہاتھیوں کی لڑائی میں قیمہ عروج اور واعظہ کا بننا تھا۔ بھونچکا ہو کر دونوں نے اپنے اپنے مگ ٹرے میں رکھ کر الف کو دیکھا۔ جو ٹس سے مس تک نہ ہوئی تھی۔
    یار یہ تو واقعی نارمل نہیں لگ رہی۔فاطمہ کو بھی فکر ہوئی
    ایکسول کو کچھ کہنے پر یہ مرنے مارنے پر اتر آتئ تھئ۔
    عروج اور واعظہ نے سکھ کا سانس لیتے واپس اپنے اپنے کپ اٹھائے۔
    مجھے لگتا ہے اسکا جی پی اے صحیح نہیں بن رہا۔ 2 جی پی اے مسلسل لے رہی تھی ایوریج کم ہوگئ ہوگئ۔
    عروج نے خیال ظاہر کیا۔
    تو یہ کونسا ڈاکٹر بن رہی ہے۔ فاطمہ نے مکھی اڑائی
    اسکو نور یاد آرہی ہوگئ۔ نور کے ساتھ بنتئ بھی تو بہت تھی۔
    فاطمہ کا خیال اسکے اپنے خیال میں درست تھا۔
    محبت تو نہیں ہوگئ کسی سے؟
    عروج نے لاپروائئ سےکہا مگر فاطمہ اورواعظہ دونوں چونکیں۔
    سیہون سے؟ اوہ خدایا۔ فاطمہ نے کپ رکھ کر دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیئے۔ مگر جب دونوں سکھیاں اسکی اوور ایکٹنگ سے سخت بے زار نظر آئیں۔تو اپنے جامے میں واپس آنا پڑا
    ایویوں سیہون سے محبت ہو جائے گئ۔دو ایک بار انٹرویو لینے سے محبت ہو جاتئ ہے کیا۔ عروج کو یقین نہ آیا۔
    تمہیں تمہارے والے سیہون سے ہو سکتی ہے الف کو ایکسو والے سے نہیں ہوسکتی ۔ عروج نے جتایا
    ہو بھی سکتی ہے۔ تائیونگ سے جنگ کوک سے مجھے نہیں ہوگئ۔ مگر چونکہ وہ دو ہیں تو میں ابھی فیصلہ نہیں کر پارہی کس سے ذیادہ ہوئی ہے محبت۔
    فاطمہ نے اٹھلا اٹھلا کر تان اڑائی
    محبت پل بھر کا معاملہ ہے۔ اگر ساتھ رہنے سے ہوتی تو فاطمہ کو سیہون سے ہوچکی ہوتئ اگر ساتھ کام کرنے ایک دوسرے کی مدد کرنے سے ہوتی تو عروج کو سیونگ رو سے ہوتی۔ واعظہ نے کہا تو دونوں قائل ہو کر اثبات میں سر ہلانے لگیں
    محبت پھر کیسے ہوتی ہے؟
    عروج کا سوال جائز تھا۔ واعظہ کی کافی کے دو گھونٹ رہ گئے تھے تندہی سے مکمل اطمینان سے اپنا مگ خالی کرکے ٹرے میں رکھ کر جونہی نگاہ اٹھائی سٹپٹا گئ۔ دونوں جی جان سے متوجہ تھیں جیسے وہ کوئی فارمولا نکال کر انہیں سمجھانے لگےگی۔
    بتائو نا۔ فاطمہ نے بھئ اصرار کیا
    مجھے کیا پتہ۔ میں کوئی سائنسدان ہوں جو محبت پر ریسرچ کر رہی ہے۔
    اسے غصہ ہی آگیا۔۔ دونوں نے منہ بنا لیا۔
    بول تو ایکسپرٹوں کی طرح رہی تھیں۔ عروج نے کہہ ہی دیا۔ واعظہ گہری سانس بھر کر رہ گئ
    بس چند دن کی بات ہے پھر میں اکیلی رہا کروں گئ
    اس نے خود کو اطمینان دلانا چاہا۔
    کیا کہہ رہی ہو۔ عروج کے کان خراب تھوڑی تھے لڑنے کو تیار ہوئی فاطمہ نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا
    تمہاری فلائٹ کب کی ہے؟ فاطمہ عروج سے پوچھ رہی تھی
    پرسوں۔ یار کل سب سمیٹنا ہے مجھے بہت کام ہیں۔ مجھے۔
    عروج کو نئی فکر سوار ہوئی
    تا تار تارا تارا۔
    چینل بدلتے ذرا سئ آواز اسکے کان میں پڑی تھی۔ واعظہ نے حیرت سے الف کو دیکھا یہ گانا اسکا پسندیدہ ترین تھا۔
    مگر چینل بدلا جا چکا تھا۔
    تو وہ سیہون نہیں ہے۔۔۔
    پھر۔۔ اب واعظہ نے اپنے ذہن کے گھوڑے دوڑانے شروع کیئے تھے تو یقینا وہ کسی منزل پر پہنچ ہی جاتے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    صبح اسی مخصوص ہنگامے کے ساتھ اتری تھی۔عروج نے تو جانا نہیں تھا وہ اسپتال سے استعفی دے چکی تھی سو کمبل منہ تک تانے سوئی پڑی تھی۔ الارم بج رہا تھا۔ عشنا نے منہ بنا کر موبائل ٹٹولا تو اسکا موبائل کا الارم نہیں بج رہا تھا۔ عزہ اسکے برابر میں بے ہوش پڑی تھئ۔ غضب کی نیند تھی اسکی
    اپنے الارم سے پہلے اٹھنے کا درد دل میں ٹیس بن کر اترا تھا۔کان پر تکیہ رکھ کر دوبارہ کروٹ لی۔
    دوبارہ الارم بجا۔ اس نے مڑ کر اپنا موبائل اٹھایا۔ یہ بھی اسکا نہیں تھا۔ اسکے دیکھتے ہی دیکھتے اسکا موبائل بجا۔ جمائئ لیتے وہ اٹھ ہی گئ۔ الف نے کمبل سے منڈی نکال کر اسکو دیکھا۔ اس نے اپنا موبائل چارجنگ پر لگایا سست قدموں سے باتھ روم کی جانب بڑھی ہی تھی کہ الف اٹھتے ہی جست لگا کر باتھ روم میں گھسی تھی باتھ روم کا دروازہ سستی سے کھولتی عشنا نے جتنی بھی گالیاں تھیں دل ہی دل میں دیں۔
    دروازہ منہ پر بند ہوا تھا
    سوری میں لیٹ ہو رہی ہوں تم واعظہ کے واش روم میں چلی جائو۔
    مفت مشورہ اسکی جان جلا گیا۔ پر اس سے بحث سے بہتر یہی سمجھا کہ واعظہ کا واش روم ہی استعمال کرلےالبتہ باہر نکلتے عزہ کا پیر ہلا دیا۔اب یقینا ایک جنگ ہونی تھئ انکئ درمیان۔ خود دوسرے کمرے میں چلی آئی۔ یہاں کمرے میں دونوں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں ۔ اطمینان سے فریش ہو کر نکلی تو فاطمہ کا الارم بج رہا تھا وہ پھر اسنوز کرنے لگی تو اس نے قریب آکر ہلا دیا اسے
    دس دس منٹ کے چار وقفے تو لے چکی ہو اب اٹھ جائو۔ ہمارے کمرے تک اس الارم کی آواز آرہی ہے مگر تم دونوں سوئئ پڑی ہو۔
    عشنا کی ڈانٹ پر فاطمہ سڑ سڑ کرتی اٹھ ہی گئ
    واعظہ باتھ روم جانا ہے تو چلی جائو ورنہ میں جا رہی ہوں
    وہ واعظہ کو ہلا کر پہلے بھیجنا چاہ رہی تھی
    تم جائو میں تمہارے بعد جائوں گی۔
    واعظہ نے کمبل اوپر کرتے کروٹ بدل لی
    فاطمہ دانت کچکچاتی اٹھنے ہی لگی۔۔
    میں یہیں ٹھیک تھی۔ اسے رشک آیا ۔۔
    تولیے سے چہرہ تھپتھپا کر خشک کرتی وہ باہر نکل آئی۔ کچن میں آکر چائے کا پانی رکھا ناشتے کی تیاری شروع کردی۔جب تک سب تیار ہو کر باہر آئیں ناشتہ تیا رہو چکا تھا
    پراٹھے آملیٹ توس مٹر قیمہ۔ پرسوں کا بچا ہوا
    اس نے کائونٹر ٹیبل پر ناشتہ لگا دیا
    تم نے تیا رنہیں ہونا ۔ واعظہ اور فاطمہ آگے پیچھے ہی تیار ہو کر نکلی تھیں۔
    میری پہلی کلاس فری ہے آج دیر سے جائوں گئ۔
    عشنا نے اتنا ہی کہا تھا لال بھبھوکا چہرہ لیئے عزہ کمرے سے نکلی
    مانا میں بہت صلح جو ہوں لڑتی بھڑتی نہیں مگر میری بھی برداشت کی ایک حد ہے۔ کیا میں کرایہ نہیں دیتی ہوں ؟ یہ الف کس خوشی میں مجھ پر رعب جما رہی ہے۔
    پیر پٹختی وہ امی کے پاس شکایت لیکر آئی تھئ
    کیا ہوا؟
    واعظہ نےسبھائو سے پوچھا تو وہ بلبلا کر بولی۔
    دو گھنٹے سے آئینے کے سامنے جمی ہے مجھے بس اسکارف سیٹ کرنا ہے میں نے کہا مجھے دیر ہو رہی ہے تو
    کہنے لگی میں کیا کروں ذیادہ جلدی ہے تو بھاڑ میں جائو۔
    فاطمہ نے بے ساختہ چہرہ نیچے کرکے مسکراہٹ چھپائی۔ انکے جھگڑے پرائمرئ اسکول کے بچوں جیسے تھے تو واعظہ کا ردعمل بھی استانی جی جیسا ہی تھا۔ گہری سانس لیکر بولی
    میرے کمرے میں بھئ ڈریسنگ ٹیبل ہے۔ وہ سر کھجانے لگی۔
    ہاں مگر وہ ماس دن جو کلنڈ رلا کر دکھایا تھا وہ کہاں ہے؟ مجھ سے لڑ رہی ہے کہ میں نے اسکا کلنڈر گما دیا۔ ایک تو وہ کیلنڈر عروج کے ہاسپٹل کا تھا اسکو میں استعمال کر رہی تھی اس نے میری سب کلاسز کا شیڈول برباد کیا نشان لگا لگا کے غصہ مجھے کرنا چاہیئے الٹا مجھ سے لڑ رہی ہے۔ میری سب چیزیں ادھر ادھر کرکے ڈھونڈ رہی ہے۔ اب میں یونی جائوں یا پھیلاوا سمیٹوں۔
    بولتے بولتے عزہ روہانسی ہوچلی تھی۔
    فاطمہ اور واعظہ ایک دوسرے کودیکھ کر رہ گئیں۔
    تم جائو میرے کمرے میں تیار ہو میں دیکھتی ہوں۔
    واعظہ ناشتہ چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    نہیں تم ناشتہ کرو میں تمہارے کمرے میں تیار ہوتی ہوں۔
    عزہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو پارہ جھٹ نیچے آیا تھا۔ اسے کہتی تیاری ہونے چل دی
    واعظہ ویسے تو بس ہمارا ساتھ چند دنوں کا ہی رہ گیا ہے مگر تب تک ان سب سے کہہ دو میری چیزوں کو ہاتھ نہ لگائیں۔ میں یہ چند دن بھئ سکون سے لڑے جھگڑے بنا گزارنا چاہتی ہوں۔
    الف تن فن کرتی باہر نکلی تھی
    فاطمہ واعظہ اور عشنا نے ایک نظر اس پر ڈال کر دوبارہ ناشتے کی جانب توجہ مبذول کرلی۔ انکا پھسپسا ردعمل اسے مزید غصہ دلا گیا۔ پیر پٹختی دھاڑ سے داخلی دروازہ بند کرتی باہر نکل گئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیپ ٹاپ سامنےمیز پر رکھے کارپٹ پر بیٹھا وہ پتہ نہیں کیا کیا ٹیب کھولے بیٹھا تھا۔ تیوجون اور دلاور اسکے بالکل پیچھے بیٹھے تھے ۔ اس نے کوئی چیز ڈائون لوڈنگ پر لگائی پھر سینٹرل ٹیبل سے سوجو اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگا۔
    آپ نے جس ایجنسی سے کہا تھا انہوں نے خود کیوں نہیں کوڈ توڑا؟
    کیونکہ یہ ال لیگل ہے۔
    تیجون نے اطمینان سے جواب دیا۔
    جون کی نے گھور کر اسے دیکھا۔ دلاور خاموشی سے کسی سوچ میں گم بیٹھے تھے۔کوڈنگ ایرر آیا تھا۔
    اس نے کلک کیا۔ دو تین مرتبہ ایرر آنے کے بعد ریکوری شروع ہوئی تھی۔چند لمحے بعد اسکرین پر ایک فہرست نظر آنے لگی
    یہ لی گروپ کی شپنگ کمپنی کے ملازمین کئ فہرست آگئ ۔
    پینتالیس سو انکے ملازمین ہیں ان میں غیر ملکیوں کی تعداد پندرہ سو کے قریب ہے وہ بھی سب بلو کالر جاب کے ہیں ان میں سے بھی پانچ سو کے قریب جنوبی ایشیا کے ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک پروفائل کو کھول کر آپکا مطلوبہ شخص ڈھونڈنا ہوگا۔ کیونکہ جو نام آپ بتا رہے ہیں اس نام کا ایک بھی ملازم نہیں ہے۔
    وہ بتاتے ہوئے کام کر رہا تھا۔
    میں اس کام کیلئے تم جتنے پیسے مانگو گے دوں گا۔
    دلاور اسکی بات کآٹ کر بولے۔ وہ ہونٹ بھینچ گیا۔
    دیکھیں۔ کوریا میں ایسے بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں جو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آپکے کہنے پر ایسے تمام افراد جو غیر قانونی طور پریا شناخت چھپا کر رہ رہے ہیں ناصرف انکو ڈھونڈنے میں مدد دیتے بلکہ انکو قانونی معاونت بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگر آپ پیسے دینے پر تیار ہیں تو پراپر لیگل وے کا انتخاب کیوں نہیں کرتے۔
    جون کو حیرت ہو رہی تھئ سو پوچھے بغیر نہ رہ سکا
    تم بڑا لیگل وے میں کام کرتے ہو۔ کسی کو بلیک میل کرنا ہو تو آرام سے ہیکنگ کر لیتے ہو ہم کہہ رہے ہیں تو نخرے۔
    تیجون تیز ہو کر بولا
    ہاں تو میں چھوٹی موٹی ہیکنگ کرتا ہوں یوں کسی کمپنی کا ریکارڈ کھولنا کوئی چھوٹی بات نہیں۔ انکے ملازمین کی تفصیلات کوئی غیر متعلقہ شخص ہیک کرکے جاننے کی کوشش کرے تو جانتے ہو اسکی سزا کیا ہے۔
    وہ بھئ ترکی بہ ترکی بولا۔
    جب یہ کام تمہارے بس کا نہ تھا تو پکڑا کیوں؟
    تیجون اسے بخشنے کے موڈ میں نہ تھا
    بن بلائے آفت ناگہانی کی طرح مجھے بلیک میل کرکے
    جون جل بھن ہی گیا۔
    مجھے جلدی ہے ۔ دلاو ربے تابئ سے انکی بحث بڑھنے کے ڈر سے بول اٹھے
    جس پرائیوٹ ڈیٹیکٹیو سے میں نے یہ کام کروانا چاہا تھا اس نے مجھ سے پندرہ دن کا وقت مانگا ہے صرف اس کمپنی کا ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے اور میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ پندرہ دن انتظار کے بعد مجھے وہ یہ جواب دے کہ میرا مطلوبہ شخص یہاں ملازم نہیں تھا۔ میں چاہتا ہوں تم مجھے یہ۔کنفرم کرکے دو تاکہ میں کہیں اور ڈھونڈوں اب اسے۔

    دلاور کی لمبی چوڑی وضاحت میں انکی بے تابی اور بے چینی مترشح تھی۔
    جون کے لب وا ہوئے ۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے یو ایس بی اٹھائی۔ وہ کوڈ توڑ چکا تھا۔ اب صرف ڈیٹا ڈائونلوڈ کرنا تھا۔
    اس نے ڈائونلوڈ کرکے یو ایس بی میں کاپی پیسٹ کیا۔
    یو ایس بی نکال کر انکی جانب بڑھا تےہوئے کھڑا ہوگیا۔
    کیا یہ ہوگیا؟
    دلاور اور تیجون حیرت سے کہتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
    یہ ملازمین کی فہرست ہے ایک دو بھی ہوتے تو میں ڈھونڈ کے دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایک ایک پروفائل کھولو اور بندہ ڈھونڈو۔ اور چلتے پھرتے نظر آئو۔۔
    وہ سب مروت بالائے طاق رکھ کر بدتمیزی سے بول رہا تھا۔
    ۔ مجھے اب اپنا کام کرنا ہے آپ لوگ جائیں۔ ۔ اور آج کے بعد ہم اجنبی ہیں دوبارہ میرے گھر کے دروازے پر آکر مجھ سے کسی قسم کی ہیکنگ کا کہاتو۔۔۔
    وہ دھمکی دے رہا تھا دلاور نے آگے بڑھ کر اسکو گلے سے لگا لیا
    شکریہ بہت بہت شکریہ تمہارا۔
    وہ بالکل چپ ہی رہ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دونوں بس اسٹاپ پر اتری ہی تھیں جب انہیں سامنے سے دلاو راور تیجون آتے نظر آئے۔ واعظہ نے فاطمہ کا ہاتھ پکڑا اور بس اسٹاپ کے شیلٹر کی اوٹ میں ہوگئ۔
    کیا ہوا۔ اسکے ساتھ جیمز بانڈ کی چیلی بنی فاطمہ نے کیریمل کارن سے منہ بھر رکھا تھا جلدی جلدی منہ چلاتے ہوئے نگل کرپوچھا۔
    شی۔۔
    واعظہ نے دلاو رپر کڑی نگاہ رکھی تھی۔وہ چلتے چلتے بس اسٹاپ کے قریب سے گزرے انکی تو نہیں تیجون کی نگاہ پڑی تھی ان پر۔ پہچانتا وہچانتا تو نہیں تھا البتہ گلاس وال میں چھپتی لڑکیوں کو دیکھ کر حیران ضرور ہوا
    انکے قدموں کے ساتھ گردن گھماتے گلاس وال سے انکو چند قدم کے فاصلے سے گزر کر جاتے دیکھ کر فاطمہ نے شانہ ہلایا واعظہ۔
    دیکھ چکے وہ ہمیں۔
    جانتئ ہوں۔ واعظہ کو اپنی حماقت کا احساس ہوا تھا مگرمزید حماقت یہی ہوتی کہ اس حماقت کا عتراف کرلیا جائے جو آپ سے سرزد ہوچکی ہے۔
    دونوں نے فٹ پاتھ کے قریب آکر مخالف سمتیں اختیار کی تھیں۔ واعظہ نے اسکا ہاتھ تھام کر دوڑ لگادی۔۔
    چلو کان سے پکڑیں۔ بھاگتے بھاگتے ہاتھ چھوڑا فاطمہ نے جزباتی ہوکر اس سے بھی ذیادہ جان لگا کر بھاگنا شروع کیا۔
    چوراہے پر آکر دونوں مخالف سمتوں میں مڑی تھیں۔فاطمہ دلاور کے پیچھے بھاگی اور واعظہ تیجون کے۔۔
    یار پکڑ کر کرنا کیا ہے۔
    دلاور کچھوے کی رفتار سے چل رہے تھے ۔ اس سے قبل وہ بھاگ کر ان سے ہی ٹکرا جاتی بروقت بریک لگا کر واعظہ سے پوچھا۔ مگر جواب ندارد تھا۔ اس نے حیرت سے مڑ کر دیکھا تو واعظہ بھی ساتھ نہیں تھی۔
    شٹ۔ اس نے اپنےسر پر ہاتھ مارا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے پیچھے سے جا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر روکنا چاہا تھا مگر وہ ضرورت سے ذیادہ چوکنا تھا۔ اسکا بازو پکڑ گول گھما کر اپنے سامنے لاکر پٹخنی دی۔
    واعظہ وہیں سڑک پر الٹی پڑی تھی۔ تیجون کے ہاتھوں سے طوطے اڑے تھے
    بیان بیان۔ اس نے آگے بڑھ کر اٹھانا چاہا مگر واعظہ کو اب اٹھانا آسان نہیں تھا۔ فاطمہ بھاگتی ہوئئ آئی تھی۔ آئو دیکھا نا تائو تیجون کو بازو سے پکڑ کر اوندھایا پھر پوچھا۔۔
    تم ٹھیک ہو ؟ یہ کل کا ٹانگ برابر لڑکا جرات کیسے ہوئی اسکی ہاتھ اٹھانے کی۔ توڑ نہ دوں ہاتھ ہی اسکا۔
    آگاشی جانے کس اجنبی زبان میں کیا چلا رہی تھیں اسکو صرف اپنا درد کراہنے پر مجبور کر رہا تھا۔ وہ اپنی مادری زبان میں کچھ ^ تعریفیں ^ کرتے ہوئے ان سے اس تشدد کی وجہ پوچھ رہا تھا جس کا جواب فاطمہ نے کیا دینا تھا الٹا گرفت مضبوط کر لی۔ تیجون کی ہائے ہائے بڑھ رہی تھی
    بازو بری طرح مڑا ہوا تھا وہ ہائی اسکول کا دبلا لڑکا بلبلا گیا۔
    واعظہ نے ایک نظر تیجون کے ہوائیاں اڑے چہرے پر ڈالی دوسری فاطمہ کے لال بھبوکا۔
    پھر اپنی کمر پکڑتی اٹھنے کی ناکام۔کوشش کرنے لگی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کنوینئیس اسٹور کے باہر تین چار درد کش پیچز خریدے دو تو تیجون کو ہی دینے پڑنے تھے درد کش دوا بھی خریدی۔ تیجون اپنے اور واعظہ کیلیے جوس خرید کر مڑی۔ تیجون سر جھکائے کنوینئیس اسٹور کے ایک کونے میں لگی کرسی میز پر واعظہ کے مقابل بیٹھا من من کر رہا تھا۔
    اس نے چیزیں میز پر رکھ کر واعظہ کا والٹ اسکو تھمایا۔اور خود بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ۔
    تیجون ایکدم چپ۔ہوا تھا۔
    بولتے رہو اسکا دماغ اتنا کام نہیں کرتا۔
    واعظہ نے ہنگل میں اسے تسلی دی۔ اس نے ذرا گھبرا کر فاطمہ کو دیکھا جو اطمینان سے لیچی کا جوس پی رہی تھی
    بس اتنا سا کام تھا ۔ میں اور آہجوشی کسی غلط نیت سے نہیں گئے تھے۔ بس یو ایس بی لینے گئے تھے اور کوئی غلط کام نہیں کیا۔
    ہاں غیر قانونئ طور پر کسی کمپنی کا ڈیٹا چرانا تو بڑے ثواب کا کام ہے۔
    واعظہ نے جتایا تو وہ کھسیانا سا ہو کر سر کھجانے لگا۔
    ٹھیک ہے جائو۔ واعظہ نے ایک جوس کا پیکٹ اور دوائیں ایک چھوٹے شاپر میں ڈال کر اسے تھمایا۔
    وہ لینے میں متامل ہوا۔ مگر واعظہ نے ابرو اچکا کر گھورا تو شاپر تھام کرجھک کر سلام کرتا الٹے پیروں نکل کھڑا ہوا۔
    مجھے دلاور ایسے نہیں لگتے تھے۔
    اسکو تاسف سے جاتے دیکھ کر فاطمہ نے باقائدہ افسوس سے سر جھٹکا۔
    کیسے۔۔ اپنے ایپل جوس کے گھونٹ بھرتی۔واعظہ سنبھل کر سیدھی ہوئئ۔
    ایسے۔ یوں بچوں کو استعمال کرنا۔ دلاور بھائئ کو زیب نہیں دیتا۔ اپنے بھی تین بچے ہیں انکے۔ اور طوبی ان پر کیا گزرے گئ جب
    فاطمہ کہے جا رہی تھی واعظہ کی آنکھیں پوری کھل سی گئیں
    تم غلط سمجھ رہی ہو ایسی کوئی بات نہیں۔۔
    واعظہ جو سمجھی تھی کہ فاطمہ کیا سمجھی ہے اس سے ڈرکر جھٹ صفائی دینی چاہی
    سب سمجھ آتا یے مجھے مانا ہنگل میں تمہاری طرح ماہر نہیں ہوں ۔ فاطمہ چڑی۔
    کیا سمجھ رہی ہو وہ۔۔ واعظہ نے غلط فہمی دور کرنی چاہی
    یہی نا دلاور بھائی ان ہائی اسکول کے بچوں کو ڈرا دھمکا کے ان سے بھتہ لے رہے۔ شرم آنی چاہییے انکو۔ اور انکی یو ایس بی بھی چھین لی کتنا کمینہ پن ہے نئی خرید لیتے۔۔۔
    دل تو کر رہا ابھی جاکے طوبی جی کو بتائوں۔
    فاطمہ تیز ہو کر ہاتھ نچا کے بولی تو واعظہ جو الرٹ سی ہو بیٹھئ تھئ اطمینان سے سیدھی ہوکر گھونٹ گھونٹ اپنا جوس ختم کرنے لگ گئ
    ویسے یہ ہے جن جتنا ہی ہوگا نا؟ ہے جن کتنا تیز تھا آرام سے چھپکلی مار لیتا تھا ایک یہ بونگا توندل آہجوشی سے بلیک میل ہو رہا ہے۔
    فاطمہ کا غصہ یونہی تھوڑی مشہور تھا۔ اب آرام سے وہ اپنا خون جلا سکتی تھی۔ اسے اسی کام میں لگا چھوڑ کر واعظہ سہولت سے کچھ سوچنے میں مگن ہوگئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج نے دروازہ کھولا تھا اورکھولتے ہی دونوں کی کلاس لی۔
    کل جا رہی ہوں میں عشنا عزہ آج خاص میرے لیئے یونیورسٹی سے جلدی آگئیں ۔ ساری پیکنگ میں مدد کی۔ طوبی نے خاص گاجر کا حلوہ بنایا کہ اپنے ساتھ امریکہ لے جائوں نور نے ابھی فون کرکے خدا حافظ کہا ابیہا دلہن بننے جا رہی تھی پارلر سے وییڈیو کال کی مجھے اور تو اور الف سب نوڈ سوئنگز بھلا کر ہمارے ساتھ گپیں مارتی رہی مگر تم دونوں میں ذرا مروت نہیں اب آرہی ہو جب سب سونے لیٹ چکی ہیں۔۔ ایک بس میں احمقوں کی طرح جاگ رہی ہوں یہ دونوں اب آئیں گی اب آئیں گی۔
    گھڑی گیارہ بجا رہی تھئ۔ انکی شکلوں پر بارہ بج رہے تھے مگر عروج نے انکا گھنٹہ بھر دماغ بھئ بجایا۔
    اتنی محبت تم مجھے پہلے جتاتیں تو قسم سے میں تمہارے ساتھ امریکہ کا ٹکٹ کٹا لیتئ۔
    فاطمہ جزباتی ہو کر بولی۔
    واعظہ اور عروج نے تاسف سے دیکھا تو ڈھٹائی سے کندھے اچکادیئے۔
    چلو اب اندر۔ عروج انہیں اندر دھکیل کر دروازے کو ہاتھ مار کر بند کرنے لگی۔دروازہ فٹ میٹ میں اٹک کر بند ہی نہ ہوسکا ذرا سا نیم وا رہ گیا مگر وہ مطمئن ہو کر خراماں خراماں چلتی انکے پیچھے آگئ۔ وہ دونوں سست قدموں سے چلتی آرہی تھیں مگر لائونج کو دیکھ کر پھرتی آگئی۔لائونج میں ہلکی پھلکی پارٹی کے مٹے مٹے نشان تھے۔ منی میز پر گاجر کے حلوے کا ڈونگا رکھا تھا جس میں حلوہ بس شرمندگی سے منہ چھپائے تھوڑا سا پڑا تھا۔ ایل ای ڈی پر شائد کوئی مووی لگی تھی۔ ایک پلیٹ میں مونگ پھلیاں تھیں دوسری میں چھلے ہوئے چھوٹے مالٹے۔ انہوں نے ویجیٹیبل پزا اڑایا تھا جسکی باقیات ایک بڑے سے ڈبے سے جھانک رہی تھیں۔
    فاطمہ نے لپک کر اٹھا یا اس میں دو سلائس تھے۔ اس نے فورا ایک واعظہ کی جانب بڑھا دیا۔ دونوں جانے کب کی بھوکی تھیں۔۔
    زندگی میں کبھی سوچا بھی نہ تھا کبھی ویجیٹیبل پزا بھی مزے لیکر کھائوں گئ۔
    فاطمہ لہرائی۔
    واعظہ کو۔اب یاد آیا یہ ویجیٹیبل پزا ہے۔ مشروم حلق میں اٹک اٹک۔گئے۔
    یہ وقت بھی آنا تھا۔ واعظہ بڑ بڑائئ۔
    ۔عروج کو۔ترس ہی آگیا۔
    چائے کافی کچھ پیئوگی دونوں۔ عروج کے پوچھنے پر دونوں نے نفئ میں سر ہلایا۔
    کب کی فلائیٹ ہے؟ واعظہ نے پوچھا تو وہ بتاتے ہوئے کمرے میں گھس گئ۔
    چار بجے کی۔
    واعظہ نے گھڑی کی۔جانب نگاہ۔کی۔ پانچ گھنٹے گھر سے کم از کم بھی پون گھنٹے پہلے نکلنا چاہیئے۔
    صحیح ناراض ہو رہی تھی۔ فاطمہ بھی گھڑی ہی دیکھ رہی تھی۔
    واعظہ کو پتہ نہ چلا کہ پیزا کہاں گیا۔ سو گاجر کے حلوے کی جانب بڑھ گئ۔ فاطمہ نے بھی تقلید کی۔
    عروج کمرے سے نکلی تو دونوں ڈونگہ صاف کر چکی تھیں۔ اسے ہنسی آگئ۔
    وہ یہ توتم نے امریکہ لےجانا تھانا۔ دونوں شرمندہ ہوگئیں
    نہیں اسی وقت ہی ختم ہونے لگا تھا وہ تو عشنا کو تم دونوں یاد آگئیں۔۔
    اس نے ان دونوں کو گفٹ بیگ لا تھمائے۔
    یہ کیا ہے ؟ واعظہ نے پوچھا مگر وہ کندھے اچکا کر انکےسامنے سہولت سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
    فاطمہ کیلئے بے حد خوبصورت بریسلٹ تھا۔ واعظہ کیلئے بریسلٹ کے ساتھ ایک بے حد خوبصورت لکڑی کا چھوٹا سا صندوق۔ واعظہ نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کھولا تو اندر ایک چھوٹا سا آئینہ تھا اور بے حد خوبصورت جڑائو لمبی سی ہیئر پن روایتی کورین ثقافت کی نشانی۔
    یہ؟۔ فاطمہ نے تجسس سے اسکے ہاتھ سے لیکر دیکھی۔
    یہ باکس مجھےاسی آنجہانی آہجومہ نے دیا تھا۔ یہ کوئی نادر نایاب باکس ہے جس کی قیمت لاکھوں وون بنتی ہے۔ اسکو جب میں کورین کلچرل میوزیم میں دکھوانے گی تو انہوں نے ہی مجھے کھول کر دیا۔ ورنہ مجھے کھولنا بھی نہیں آرہا تھا۔
    واعظہ نے تو آسانی سے کھول لیا ۔ فاطمہ حیران ہوئی
    واعظہ ہتھیلیاں مسلنے لگی۔
    میں بھی یہی دیکھ رہی تھی۔ عروج مسکرا دی۔
    خیر یہ ہزاروں وون کا ہوتا یا لاکھوں کا اس پر میرا کوئی حق نہیں۔ یہ اس آہجومہ کی بیٹی کا ہی حق ہے۔ اور یقینا اس وقت اسے پیسوں کی ضرورت بھی ہے۔ مجھے اگر اندازہ ہوتا کہ یہ اتنی قیمتی چیز ہے تو میں پہلے ہی اس لڑکی کو۔واپس کر دیتی۔ اب مجھے تمہیں ہی زحمت دینی پڑے گی۔ یہ اس لڑکی کو دے دینا۔
    عروج واعظہ کو تاکید کر رہی تھی۔
    یہ تم رکھ لو۔ اگر آہجومہ یہ اپنی بیٹی کو دینا چاہتیں تو کبھی تمہیں نہ دیتیں۔
    واعظہ نے قصدا سرسری سے انداز میں کہا۔
    تو اور کیا۔ اور اگر تمہیں نہیں چاہییے تو میں لے لیتئ ہوں آجکل مجھے ویسے بھی پیسوں کی ضرورت ہے۔ فاطمہ نے جھٹ باکس لیا۔ لیا تو شرارتا تھا مگراسکی دونوں سہیلیوں کے چہرے کے تاثرات اسے شرمندہ ہی کر گئے۔ دونوں اسے دینا نہیں چاہ رہی تھیں۔ اس نے واپس واعظہ کو تھما دیا۔
    تم رکھ لو اسے۔
    واعظہ نے کہا تو عروج سہولت سے انکار کر گئ۔
    ان آہجومہ کا خلوص اپنی جگہ مگر اس پر میرا کوئی حق نہیں۔
    اسکے قطعی سے انداز پر واعظہ چپ کرگئ۔
    ویسے عروج تم سیونگ رو سے رابطہ کرنا ایک بالکل اجنبی ملک میں تمہیں کسی جانے پہچانے کا بہت سہارا ملے گا۔
    فاطمہ کے مشورے پر عروج نے کانوں کو ہاتھ لگائے
    نہ۔بھئ۔ ویسے بھی میرے ابو نے کوئی رشتے کے چچا ڈھونڈ لیئے ہیں امریکہ میں جو خبر گیری کریں گے میری جب تک میں ڈورم میں شفٹ نہیں ہوجاتی۔ ویسے سنا ہے انکا نظام بہت اچھا ہے۔۔
    امریکہ ظاہر ہے امریکہ ہے۔ ویسے تم اتنی پڑھاکو لگتی تو نہیں ہو کہ اسکالر شپ مل۔جائے تمہیں۔ فاطمہ نے جان بوجھ کر چھیڑا۔
    کیوں بھئ ہمیشہ اے پلس لیا ہے مابدولت نے۔ عروج برا مان گئ۔
    عروج اور فاطمہ باتوں میں لگ گئیں تو وہ باکس اٹھا کر کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آس و نراس کی کیفیت میں الجھتے وہ پھر جاپان کی سڑکیں ناپ رہا تھا۔سویٹ پینٹ شرٹ میں ملبوس وہ سر جھکائے سوچ سوچ کے قدم اٹھاتا جا رہا تھا۔
    تو میں یہ بازی بھی ہار گیا۔
    اسکے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ آئی تھئ۔ جیب سے موبائل نکالا ریمائنڈر میں تین دن بعد کی تاریخ تھی۔ جب آج تک رابطہ نہ کیا تو اب کیا۔
    اس نے ریمائنڈ رآف کر دیا۔
    میں محبت کر نہیں سکتا تھا کیوں ہوگئ۔
    اس نے سراٹھا کر آسمان کو دیکھنا چاہا۔زمین پر تیز روشنیاں ہو جائیں تو آسمان دکھائی دینا بند ہوجاتاہے۔ وہ بھی کوشش کے باوجود ایک ستارہ تک نہ کھوج سکا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک ستارہ تک نہیں آسمان میں ۔ کیا تاریخ ہوگئ۔۔ ؟؟؟
    کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکتے اس نے سوچا تھا۔
    باہر فاطمہ عروج وغیرہ زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اندر عزہ اور عشنا مدھم خراٹے لیتے گہری نیند میں گم۔تھیں۔۔
    الف تھک کر وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر فلو رکشن پر بیٹھ گئ۔ کھڑکی سے خنک ہوا آرہی تھی منٹوں میں کمرہ یخ ہو گیا۔ اسے بھی نیند کے جھونکے آہی گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تین بج گئے اٹھو دیر ہو رہی ہے۔
    واعظہ نے چار بجے آکر ان کے اوپر سے کمبل کھینچا۔ ساری لائٹیں لائونج کی کھٹاک کھٹاک جلا دیں
    فاطمہ اور عروج باتیں کرتے منے لائونج میں ہی ایک کمبل میں سکڑ سمٹ کر سوگئ تھیں۔
    مندی مندی آنکھوں سے عروج نے اسے دیکھنا چاہا سر اتنا چکرا رہا تھا کہ شکل سمجھ نہ آئی۔
    کیا ہوا۔
    تین بج رہے ہیں اٹھو ابھی ٹیکسی آنے اور نکلنے میں بھی وقت لگے گا کچھ کھائو گی؟
    واعظہ نے افرا تفریح مچا دی تھی۔ فاطمہ بھی چوکنا ہو کر اٹھ بیٹھی
    کوئی کام رہ گیا ہو تو بتا دو میں مدد کروا دیتی ہوں۔
    فاطمہ کی پرخلوص پیشکش پر اس نے پہلے سر کھجایا پھر بڑی سی جمائی لی۔
    اتنی جلدی تین بج۔۔ عروج سستی سے اٹھی۔ سامنے گھڑی کی۔طرف نگاہ کی تو آنکھیں پھٹ سی گئیں۔
    گھڑی ڈھائی بجا رہی تھی
    تم تو کہہ رہی تھیں تین بج رہے۔ اس نے دانت کچکچائے
    ہاں تو لیٹ ہونا ہے کیا؟ ابھی اٹھو گی تو تین ساڑھے تین بجے تک نکلو گی۔ اٹھو تیار ہو جائو۔میں چائے بناتئ ہوں
    واعظہ فراخ دلی سے کہتے ہوئے کچن کی طرف بڑھتے ہوئے بولی
    عزہ عشنا آگئیں یونیورسٹی سے؟ عروج سستی سے چپل پہن رہی تھی
    پاگل ہو رات کو وہ یونیورسٹی کیا جھاڑو دینے جاتیں۔
    فاطمہ نے مضحکہ اڑایا۔ تو عروج نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔ پھر جیسے کوئی خیال دماغ میں کوندا ۔ لائونج کے گیلری کی طرف کھلنے والے دروازے کی طرف بڑھی دھاڑ سے پاٹو پاٹ کھولا۔ سامنے سیول کی اونچی عمارتوں جگمگ ستاروں سی روشنی مگر آسمان سیاہ گھنگھور دور کہیں سے بھونکتے کتے کی آواز نیم تاریک سڑک پر چلتے ہیولے۔ اس نے سردی سے جھر جھری لی۔
    واعظہ کی بچی۔ وہ بازو سکیڑ کر زور سے چلائی
    تم نے مجھے رات کے ڈھائی بجے جگا کر کھڑا کر دیا کس خوشی میں۔
    گیلری کے دروازے پر چلاتی عروج کی آواز سات محلوں تک گئ ہوگئ
    تمہارے امریکہ جانے کی خوشی میں۔ اسکو تو بند کرو۔
    فاطمہ کی گھگھی بندھ رہی تھی جھٹ اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا اور دروازہ بند کیا۔
    خود ہی تو کہا تھا چار بجے کی فلائٹ ہے۔ واعظہ چولہا جلائے حیران پریشان اسکا ردعمل دیکھ رہی تھی۔
    الو گدھی۔شام چار بجے کی فلائٹ ہے میری۔
    عروج اتنی زور سے چلائی تھئ کہ کھڑکی کے پٹ سے سرٹکائے الف گھبرا کے جو اٹھی تو پٹ ہی سر میں کھٹ سے لگا۔
    کیا ہوا۔ عشنا عزہ دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ بیڈ سے اٹھی تھیں۔
    سب خیریت ہو۔ الف بھی گھبرا کر انکے پیچھے بھاگئ۔
    باہر لائونج میں عجیب ہی منظر تھا منے لائونج میں عروج اور واعظہ کے درمیان میراتھن لگی تھی عروج اچک اچک کر واعظہ کی پٹائئ کرنا چاہ رہی تھی فاطمہ واعظہ کو بچانے کی کوشش میں برابر سے پٹے جا رہی تھئ۔مگر ہنسے بھئ جا رہی تھی
    بے ہنگم چیخیں شور ہنسئ۔۔ پاگل پن
    شکر ہے سب خیریت ہے۔
    ان تینوں کی جان میں جان آئی تھی سب معمول کے مطابق مناظر دیکھ کر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دلاور نے گھبرا کر کھڑکی کھولی۔
    کیا ہوا۔ طوبی بھی گھبرا کر اٹھ بیٹھی
    لگتا ہے کسی نے خود کشی کر لی ہے۔ لڑکیاں شور مچا رہی
    بولتے بولتے دلاور رکے۔
    لڑکیاں شور۔ طوبی دہل کر بستر سے اتری۔ لڑکیاں تو بس سامنے والے گھر میں ہے ہائے اللہ سب خیریت ہو۔
    وہ دوپٹہ ڈھونڈنے میں لگی تھی۔
    تکیئے کنارے صوفے کے پاس صائم کے کاٹ میں۔
    میں دیکھتا ہوں۔ جانے کیسا منظر ہو تمہیں اچانک کوئی شاک نہ لگ جائے۔
    الٹی سیدھی چپل پہن کر وہ صوفے سے تولیہ ہی کندھے پر ڈالتی باہر نکلنے کو تھی۔ کہ دلاور نے نرمی سے اسکو روک دیا۔
    چار دن کی سردمہری ضرورتا بھئ بات چیت نہیں کر رہے تھے اب اچانک اتنا نرم سا انداز وہ خوش ہوتے ہوتے رہ گئ۔ دل سامنے والے فلیٹ میں اٹکا تھا
    ہائے جانے کیا ہوا ہے کبھی ایسے تو نہیں چیخی ہیں۔
    طوبی کے بین وہ ننگے پیر ہی باہر بھاگے۔سامنے والے فلیٹ کا دروازہ نیم وا تھا۔یعنی واقعی خیریت نہیں تھی۔
    انہوں نے پلٹنا چاہا طوبی دروازے میں ٹکی تھی۔
    جائیں نا اندر۔ وہ کوئی ہتھیار لینا چاہتے تھے دونوں ہاتھ پھیلا کر اشارہ بھی کیا کہ کوئی وائپر ہی تھما دو مگر طوبی کو اشارے سمجھ نہیں آتے تھے بس کر سکتی تھی۔اس کےگھورنے اشارہ کرنے پر مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ پلٹے۔دھیرے سے قدم اٹھاتے آگے بڑھے۔ اپنے اپر کا ہڈ سر پر چڑھایا کورین جاسوس کا حلیہ بنا کر ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا پھر آنکھیں بند کرکے اندر گھس گئے۔
    اندر تیسری عالمی جنگ شروع تھی۔
    وہ سب ہنس رہی تھیں ایک دوسرے پر تکیئے اچھال رہی تھیں لائونج کئ درگت بنی تھی۔سب اکٹھے جانے کیا بول چیخ رہی تھیں مگر سب خیریت تھی۔ یہاں وہاں تکیوں سے نکلی روئی بکھری پڑی تھی مگر یقینا خیریت تھی۔ انہوں نے خاموشی سے بنا مار کھائے پلٹ جانا چاہا۔۔کیونکہ یقینا انکی پوزیشن اس وقت آکورڈ ترین تھی۔
    اف کتنا گند مچا دیا ہے کون صاف کرے گا اب یہ۔ کہاں ہے وائپر۔
    عزہ چلائی تھی۔
    میں لا رہی ہوں ۔
    ۔ فاطمہ کچن سے وائپر لارہی تھی۔۔
    چوروں کی۔طرح پلٹ کر جاتے اس شخص پر فاطمہ کی نگاہ پڑی تھی۔ ڈھیلے اپر میں یہ کون شخص انکے گھر میں اندر تک گھس آیا تھا۔
    وائپر کا اس سے بہتر استعمال کیا کیا جاسکتا تھا کہ اس چور کا سر پھوڑ دے۔ اس نے آئو دیکھا نا تائو۔وائپر اٹھایا۔۔
    دلاور کے منہ سے ڈکرائے ہوئے جانور جیسی آواز نکلی تھی وہ چکرائے لہرائے آخری منظر جو انکی یاد داشت میں رہا وہ بھونچکا کھڑی فاطمہ اور لپک کر انکی جانب آتی واعظہ کی شکل تھی اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 55

    قسط 55
    سارا دن اسکا اس چندی آنکھوں والی کے نخرے اٹھاتے گزرتا تھا اور عبداللہ سے بچتے۔ جانے عبداللہ کو کیا مسلئہ تھا بہانے بہانے سے اسکے پاس آنے بات کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اسے تو عبداللہ سے اتنی چڑ ہو چکی تھی کہ مروتا بھی مخاطب ہونے کو تیار نہ ہوتی تھی۔ ابھی بھی فاطمہ فاطمہ کی پکار پڑ رہی تھی۔ وہ کھاوا کو اشارے سے اس سے جان چھڑانے کا کہتی بیگ اٹھائے باہر نکل آئی۔۔۔
    سیہون نے کہا تھا وہ اسے یہاں سے پک کر لے گا موسم ہلکا خنک ہو رہا تھا وہ اپنے اپر کی زپ کی بند کرتی باہر احاطے میں پھولوں کے کنج کے پاس آٹکی۔۔
    بیگ کھول کر والٹ نکالا اور پیسے گننے لگی۔
    پیسے اسکی ضرورت کے مطابق تھےاس نے ٹھنڈی سانس بھری۔
    کیا چیز ہو تم واعظہ۔۔۔۔
    والٹ سنبھال کر بیگ میں رکھ رہی تھی جب آہٹ محسوس ہوئی اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو کھاوا اسکے سر پر سوار تھا
    عبد اللہ تمہیں لنچ پر لے جانا چاہتا ہے۔
    بلا تمہید بولا تھا۔ انداز میں شرارت بھری تھی۔
    اس سے کہو باز آجائے ورنہ جوتے کھائے گا ۔
    اسکے تو جیسے تلوے سے لگی تھی۔
    کھاوا کو اس سے اسی جواب کی توقع تھی کھل کر ہنسا۔
    میں نے اسے کہہ دیا ہے تمہاری شادی ہونے والی ہے۔ پوچھ رہا تھا کہاں یہیں یا پاکستان میں۔ میں نے کہا پاکستان جا رہی ہے فاطمہ اگلے مہینے۔۔۔۔
    شش۔۔ فاطمہ بھنا کر اٹھ کھڑی ہوئی
    اچھی بات منہ سے نکالو کوئی وقت قبولیت کا بھی ہوتا ہے۔
    لو پاکستان جانا بری بات ہے۔۔ وہ برا مان گیا۔
    اپنا ملک اپنا ہوتا ہے باہر رہنے والوں کو تو پاکستان کی ذیادہ قدر ہوتی ہے وہ تو بھاگ کے واپس جانا چاہتے ہیں۔
    ہاں تو کب جا رہے ہو مسٹر کھاوا۔
    وہ بھی طنزیہ انداز میں جتا کر بولی۔ کھاوا کچھ کہتے کہتے رک گیا۔
    ویسے اتنا برا بھی نہیں ہے۔ مسلمان عبداللہ پیارا ہے اور اسے واقعی تم کافی پسند آگئ ہو۔
    ایو۔ اس نے جھر جھری سی لی
    شرابی کبابی بھی ہے۔ یاک گندا انسان۔ مجھے تو جب سے اس نے سور کھایا ہے نجس بھی لگنے لگا ہے۔
    فاطمہ جیسے سچ مچ گھنیا سی گئ۔
    کھاوا سر کھجانے لگا۔
    یعنی تمہاری طرف سے نا ہے اسکے لیئے۔
    بالکل۔
    فاطمہ کا انداز قطعی تھا۔۔کھاوا کندھے اچکا گیا۔تبھی سیہون کی کال آگئ تھی۔
    اچھا میری گاڑی آگئ ہے میں چلتی ہوں۔ خدا حافظ۔
    وہ حسب عادت فون کان سے لگا کر لاپروائی سے ہاتھ ہلاتی بھاگ اٹھی شائد تیز چلنا بھاگنا اسکو پسند تھا۔ ابھی بھی سڑک کنارے تک وہ بھاگتی گئ تھی جہاں گاڑی کھڑی تھی۔ فرنٹ ڈو رکھول کر بیٹھنے تک وہ اسے یونہی دیکھتا رہا گاڑی زن سے آگے بھئ بڑھ گئ۔ اس نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ اور سیہون گروسری شاپنگ کرنے آئے تھے۔ سیہون نے باقائدہ فہرست بنا رکھی تھی۔ بس فاطمہ کا کام اس فہرست میں حلال ٹیگز دیکھنا تھا۔ سب کچھ لیتے اسکا دل للچا گیا تو آٹا بلکہ میدہ خرید ڈالا۔۔
    تم کیک بیک کرنے کا ارادہ رکھتی ہو تو پہلے بتا دوں اوون خراب پڑا ہوا ہے۔
    سیہون نے یاد دہانی کرائی۔
    اسکا کیک میں فرائی پین میں بنائوں گی۔
    فاطمہ نے تسلی کرائی۔ دالیں سبزیاں شیمپو صابن۔ وغیرہ۔
    مینز سیکشن سے جب سیہون اپنے لیئے شیمپو کنڈشنر باڈی واش سن اسکرین جانے کیا کیا اٹھا کر لایا تو وہ خود جو بس شیمپو اور فیس واش ہی چن کر لائی تھی بڑبڑا کر رہ گئ
    یہاں کے تو لڑکوں کا بھی بڑا خرچہ ہے بھئ۔ اب اس شاپنگ میں آدھے پیسے میرے لگ رہے مگر ڈینٹنگ پینٹنگ کی چیزیں اسکی ہیں ساری۔ اس نے کینہ توز نگاہوں سے آدھی بھری ٹرالی کو گھورا۔
    تم نے اور بھئ کچھ لینا ہے؟
    سیہون اسکی نگاہوں سے یہی سمجھا تھا۔
    نہیں مجھے کچھ نہیں لینا۔ ویسے ایک بات بتائو یہ کورینز اتنا ظاہری شکل وصورت کو اہمیت کیوں دیتے ہیں۔میں نے کسی پاکستانی لڑکے کو اتنا کچھ اپنے حسن کو نکھارنے کیلئے خریدتے نہیں دیکھا
    وہ کہہ گئ۔ سیہون نے چندی آنکھیں سکوڑ کر اسے گھورا
    ویسے ایک بات بتائو تم پاکستانی لڑکیاں ظاہری شکل و صورت کو اہمیت کیوں نہیں دیتیں۔ یا تو چہرہ ڈھانپ کر پھروگی یا منہ دھونے کی بھی توفیق نہیں ہوگی۔ میں نے کسی کورین لڑکی کو اپنے لیئے بس دو چیزیں لیتے نہیں دیکھا۔ یہ جتنا بڑا مینز ایریا ہے نا اس سے دوگنا بڑا وہ رہا وومینز کاسمیکٹکس کیلئے مختص حصہ۔
    اس نے چبا چبا کر کہتے اشارہ کیا تو وہ بلا ارادہ گھوم گئ۔
    کہہ صحیح رہا تھا ایک الگ ہی دنیا تھی چار رویہ جس میں درجنوں خواتین منہ پر تھوپنے والی اشیاء پر ٹوٹی پڑ رہی تھیں۔
    خیر سب پاکستانی لڑکیاں میرے جیسے نہیں ہوتیں۔۔۔
    اس نے گلا کھنکار کر گھورا۔۔
    مگر لڑکیاں یہ سب کریں بنتا ہے لڑکوں کی شکل کون دیکھتا۔
    اس نے سیہون کی شکل دیکھتے ہی کہا تھا۔
    ہم خود بھی اپنی شکل دیکھتے ہیں۔ انسان کو اپنے لیئے بھی بلکہ اپنے لیئے ہی خود کو سنوار کر رکھنا چاہیے۔ ذرا آئینہ دیکھو۔ کوئی حیرت نہیں کہ ابھی تک سنگل ہو۔
    سیہون تو کہہ کر ٹرالی گھسیٹتا چلتا بنا اسکی آنکھیں حجم سے دگنئ ہوگئیں۔
    کیا کہہ گیا۔۔ وہ دانت کچکچاکر اسکی جانب بڑھنے لگی کہ خیال آیا۔ بڑے سے قد آدم آئینے وومینز ایریا میں جا بجا لگے تھے وہ جھٹ ان میں سے ایک کے پاس چلی آئی۔
    بلو جینز اس پر مسٹرڈ ڈھیلا ڈھالا اپر۔ہلکے گھنگھریالے سے کالے سیاہ بالوں کی اونچی پونی میں سے کئی لٹیں باہر نکل چکی تھیں۔ صبح منہ دھو کے بس کریم لگائی تھی جس پر سارے دن کی تھکن ثبت ہو چکی تھی۔ مگر پھر بھی فاطمہ کو خود پر پیار ہی آگیا
    اتنی تو پیاری لگ رہی ہوں۔ اگر میک اپ کیا ہوتا تو کیا قیامت ڈھاتئ میں۔
    وہ خود کو گھوم کر دیکھ رہی تھی۔ سلم اور اسمارٹ۔
    آئینہ دیکھ کر مزید اعتماد ہی آگیا تھا
    خراماں خراماں چلتی باہر نکل آئی۔۔
    سیہون گاڑی میں سامان رکھ رہا تھا۔ ساتھ کوئی لڑکی بھی کھڑی تھی۔۔ وہ اسے مکمل نظر انداز کرتے ہوئے سامان ٹرالی سے نکال کر ڈگی میں رکھ رہا تھا
    تم مجھے نظر انداز کیوں کر رہے ہو۔ میں نے مانا مجھ سے غلطی ہوئی ہے مگر کیا تمہاری محبت اتنی کم ظرف تھی کہ میری غلطی معاف نہ کرسکے۔
    وہ تڑپ کر اسکے سامنے آکھڑی ہوئی۔ اسکے انداز میں لڑکھڑاہٹ تھئ۔
    یہ کون محترمہ ہے بھئ
    فاطمہ نے دلچسپی سے اسکی شکل دیکھی۔
    اوہ میری۔
    آہ۔ ا س نے گال پر ہاتھ رکھ لیا۔ اسکی شکل دیکھتے ہی گال تپ اٹھا تھا۔ بڑا ہی بھاری ہاتھ ہے اسکا تو۔
    اسے ان دونوں کی کپل فائٹ کا حصہ بننا مناسب نہ لگا اسے تھپڑ سے بھی ڈر لگتا تھا۔ انکو پرائیویسی دینے کی خاطر وہ قصدا واپس مڑی جبھی سیہون کی اس پر نظر پڑی۔
    یوبو۔
    وہ ڈگی بند کرتا پکار رہا تھا۔ وہ آنکھوں پھاڑ کر مڑی۔
    تم نے اور تو کچھ نہیں لینا۔ وہ بے تکلفی سے پوچھ رہا تھا۔
    آنیا۔ اس نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے سر نفی میں ہلایا۔
    گلابی لانگ ٹاپ میں ملبوس میری کی چندی آنکھیں اپنے حجم سے دگنی ہو رہی تھیں وہ حیرت سے کبھی سیہون کو دیکھتی کبھی اسے۔
    اوہ مجھے خیال نہیں رہا۔ سیہون نے اپنی پیشانی چھوئی جیسے اسے کچھ یاد آیا ہو۔
    یہ میری بیوی ہے فاطمہ۔ ہم نے چھے مہینے قبل شادی کر لی تھی۔۔ اس نے میری پر جیسے بم پھوڑا تھا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سیہون کو دیکھ رہی تھی جو قصدا مسکرا کر افاطمہ کی طرف دیکھ رہا تھا
    فاطمہ یہ میری دوست ہے میری۔ ایک بار شائد پہلے تم لوگوں کی ملاقات ہوئئ تھی میرے اپارٹمنٹ میں۔ میری تمہارے پاس اچھا موقع ہے پہلی ملاقات کا اثر زائل کر سکتی ہو۔۔۔
    اسکا ہلکا پھلکا انداز
    فاطمہ مسکرا کر اسکی جانب بڑھی۔
    وہ یقینا غلط فہمی تھی مگر اس غلط فہمی نے ہمیں ملا دیا ہمیں ملوانے کا شکریہ میری۔
    وہ بہت گرم جوشی سے میری کی۔جانب ہاتھ بڑھا رہی تھی۔۔جسے اس نے تنفر سے جھٹک کر سیہون کی جانب رخ کر لیا
    چھے مہینے پہلے؟ تم مجھ سے محبت کا دعوی کرتے تھے اور صرف چھے مہینے میں مجھے بھلا دیا؟ وے سیہونا
    وہ ہنگل میں اسکا کالر پکڑ کر چیخی تھی۔
    فاطمہ گھبرا کر اسکی جانب بڑھئ۔
    سیہونا بولو۔
    اس پر کوئی جنون طاری تھا شائد۔ سیہون نے اسکے شکنجے سے اپنا کالر چھڑایا
    میری بیوی ہنگل نہیں سمجھ سکتی مگر یقینا اس طرح اسکے سامنے ردعمل ظاہر کرکے اسے تم مشکوک کر رہی ہو۔ میرے تمہارے بیچ جو تھا ختم ہوچکا چھے مہینے پہلے۔ بہتر ہوگا یوں تماشا نہ بنائو۔
    وہ گھٹے گھٹے لہجے میں اسکا بازو جکڑے چبا چبا کر اتنے سرد لہجے میں بولا تھا کہ فاطمہ کو الفاظ سمجھ نہ آنے کے باوجود ایک سرد سی لہر اپنی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑتی محسوس ہوئئ تھی۔
    آہش۔
    میری اپنا بازو چھڑاتئ چلائی۔۔ اسکے قدم لڑکھڑا رہے تھے یقینا وہ مدہوش تھی۔
    تم جھوٹ بولتے ہو۔ تم مجھے کبھی بھول۔نہیں سکتے۔جھوٹ ہے یہ۔
    وہ اسکی گاڑی پر ٹھوکر مار رہی تھی
    سیہون تیز تیز قدم اٹھاتا فرنٹ سیٹ کی جانب بڑھا۔
    چلو فاطمہ۔
    اسکی۔جانب دیکھے بنا وہ بولا تھا
    فاطمہ دم بخود سی کھڑی تھی فورا بھاگی آئی۔
    میری ہنگل میں جانے کیا بڑبڑاتے ہوئےاسی گاڑی کی ڈگی سے ٹیک لگا کر کھڑی تھی۔۔
    فاطمہ نے پسنجر سیٹ پر بیٹھ کر مڑ کر کھڑکی سے جھانکا تو وہ ڈگی سے یوں ٹکی کھڑی تھی کہ اگر وہ گاڑی نکالتے تو وہ دھپ سے زمین پر آرہتی
    فرنٹ سیٹ پر بیٹھے سیہون نے سختی سے دانت پر دانت جمائے ہوئے تھے۔
    اسے گاڑی اسٹارٹ کرتے دیکھ کر فاطمہ نے نا چاہتے ہوئے بھی ٹوکا
    ابھی گآڑی آگے۔۔
    ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ سیہون نے لمحہ بھر کیلئے گاڑی آگے بڑھا کر روک دی تھی
    میری گرتے گرتےبچی تھی سنبھل کر سیدھی بھی پوری طرح نہ ہوئی تھی کہ وہ تیزی سے گاڑی نکال لے گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سارا راستہ خاموشی سے گزرا تھا۔اپارٹمنٹ تک سب سامان اٹھا کر لانے تک ان میں آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
    اسے لگ رہا تھا کہ اسے کچھ کہنا چاہیئے مگر کیا کہنا چاہیئے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔
    واعظہ کا فون آرہا تھا۔ اس نے کاٹ دیا۔
    سامان کچن کائونٹر پر رکھ کر اب وہ چیزوں کو انکی جگہ پر رکھ رہا تھا۔
    فاطمہ خاموشی سے آکر کائونٹر کے پاس رکھے اسٹول پر آن ٹکی۔
    سیہون کا چہرہ سپاٹ تھا مگر چیزیں اٹھاتے رکھتے اسکے ہاتھوں کی لرزش اس سے چھپی نہ رہ سکی تھی۔
    آئیم سوری۔
    کائونٹر خالی کرتے وہ مدہم سی آواز میں بولا
    دے۔۔ وہ چونکی۔
    آئیم سوری۔ اس نے دہرایا
    میں نے تمہیں یوبو کہا۔ اور تمہارا تعارف اپنی بیوی کے طور پر کرایا اسکے لیئے۔
    اس نے وضاحت کی۔
    کوئی بات نہیں۔۔۔۔
    وہ اور کیا کہتی۔
    میں سونے جا رہا ہوں شب بخیر۔
    وہ کہتا رکا نہیں تیز تیز چلتا کمرے میں گھس گیا۔
    اس نے گہری سانس لیکر بالوں میں ہاتھ پھیرا تبھی
    واعظہ کئ پھر کال آگئ۔۔ اس نے اس بار اٹھا کر کان سے لگا لیا فون
    کہاں ہو ؟ چھوٹتے ہی وہ تند لہجے میں پوچھ رہی تھی
    گھر ۔۔ اس نے ہونٹ لٹکائے
    کس کے۔ ۔ وہ حیران رہ گئ
    سیہون کے اور کہاں۔ فاطمہ چڑ گئ
    تو تم نے تو یہاں آنا تھا بھول گئیں عروج ٹریٹ دے رہی ہے اسکالر شپ ملنے کی خوشی میں؟؟؟
    یاد تھا۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔
    مگر واپس آتے ہوئے میری مل گئ اسکی اور سیہون کی تو تو میں میں ہوگئ سیہون اتنا غصے میں تھا کہ میری ہمت نہ ہوئی اسکو کہنے کی کہ
    کہاں مل گئ؟ گھر آگئے ہو تم لوگ؟ میں آتی ہوں اس میری کی توہمت کیسے ہوئی گھر آنے کی
    آگے سے واعظہ کا ردعمل کہیں مختلف تھا غصے سے آگ بگولہ ہوگئ
    ارے رکو۔سنو۔۔ فاطمہ من من کرتی رہ گئ اس نے فون کاٹ دیا۔۔۔۔
    ہاہ۔ وہ حیرانی سے موبائل کو دیکھ کر رہ گئ
    آئی بڑی اماں۔ یہ بھی یہیں اٹھ کر آرہی ہے اب خود ہی کچھ بنانا پڑے گا اپنے کھانے کو۔۔۔ بڑبڑاتے ہوئے اٹھنا ہی پڑا
    اسکا ذرا موڈ نہیں تھا۔ مگر اب کرنا اسے یہی پڑتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عروج عشنا عزہ اور طوبی ریستوران میں بیٹھی تھیں۔ آرڈر دے دیا تھا اب کھانے کا انتظار ہو رہا تھا
    فاطمہ تو آئی نہیں واعظہ بھی اٹھ کے چل دی۔ ایسا بھی کیا مسلئہ درپیش ہے دونوں کو۔
    عروج کو۔غصہ آرہا تھا
    جانے دو ہم تو سب ہیں نا موڈ نا خراب کرو۔
    طوبی نے پچکارا تو عزہ اور عشنا بھی ہاں میں ہاں ملانے لگیں
    طوبی جی بچے کس کے پاس چھوڑ کر آئی ہیں۔
    عشنا نے پوچھا تو وہ بے فکری سے بولی
    دلاور انہیں لیکر باہر گئے ہوئے تھے۔اب کھا پی کر ہی لوٹیں گے ۔۔۔بس یہ صائم نہیں ٹکتا میرے بغیر سو اسے لانا مجبوری۔
    چھوٹا بھئ تو ہے۔۔
    عزہ نے چمکارا تو وہ ماں کی گود میں مچلنے سا لگا۔
    اسکو اتار دیں ادھر دو تین سال کے بچوں کیلئے جھولے وغیرہ کا انتظام ہے ملازم بھی ہوتے ہیں سنبھال لیں گے۔
    عروج نے بتایا تو طوبی اٹھنے لگی
    آپ بیٹھیں میں اسے چھوڑ آتئ ہوں
    عشنا نے اسے اٹھنے نہ دیا۔اسے اٹھا کر بچوں کے پلے ایریا میں لے آئی۔ وہ یہاں آکر اپنے ہم عمر بچے دیکھ کر خوش ہو گیا تھا۔ وہ جب اندر گیندوں والی سلائڈ کی۔جانب بڑھ گیا تو وہ بے فکر ہو کر۔واپس چلی آئی۔
    ان ڈھیر سارے چندی آنکھوں والے بچوں میں وہ بس ایک ہی الگ تھا جبھی جس کے پاس جاتا وہ بچہ اسے دور کر دیتا۔
    سلائیڈ لینے جاتے ہوئے اس گورے چٹے موٹے بچے نے تو اسے دھکا ہی دے ڈالا۔ وہ دھپ سے گیندوں پر گرا چوٹ تو اتنی نا آئی مگر ہتک نے رلا دیا۔
    وہ ایک۔بچے کو۔غبارہ دے رہا تھا اسے روتے دیکھ کر۔بھاگ کر اسکے پاس آیا۔۔ اسے اٹھا کر کھڑا کیا بچہ روئے چلا جا رہا تھا
    کیا ہوا۔ وہ ہنگل میں پوچھ رہا تھا بچے نے روتے روتے غور سئے اسے دیکھا پھر اس سے لپٹ گیا
    یہ گندا ہے مجھے دھکا دیا اس نے۔
    اسکا لہجہ رواں نہیں تھا مگر بول اردو رہا تھا۔
    اس نے چمکارا پیار کیا۔ پھر بہلانے لگا
    چھوڑو آپ نا جائو گندے بچے کے پاس ادھر رہو
    آئو آپکو غبارہ دوں۔۔
    اس نے بڑا سا مکی مائوس اسے تھمایا۔ وہ خوش ہوگیا مگر اب اسکی مرضی یہی تھی کہ اسکے ساتھ رہے۔
    عشنا کے بتانے پر طوبی نے ایک نظر دیکھ کر تسلی کر لی تھی اب آرام سے کھانا کھا رہی تھی۔
    کھانا وانا کھا کے وہ سب آئسکریم کا انتظار کر رہی تھیں
    میں صارم کو دیکھ لوں اسے بھئ بھوک لگ گئ ہوگی۔
    طوبی کہہ کر اٹھنے لگی تو عزہ نے روک دیا
    رہنے دیں میں لے آتی ہوں ادھر بچے بھاگ دوڑ رہے ہیں ایویں آپکو دھکا وکا نا لگ جائے۔
    اسکی فکر پر طوبئ ہنس دی۔
    اب ایسی بھی کوئی احتیاط کی ضرورت نہیں ابھی مجھے
    اس نے کہا مگر عزہ نے اٹھنے نا دیا۔
    صارم شائد کسی انڈین ورکر کے ساتھ تھا وہ انڈین چھوٹے سے اسٹول پر بیٹھا اسے کیلا کھلا رہا تھا۔ اس نے دور سے دیکھ لیا تھا آگے بڑھ کر اسے چمکار کر اٹھانے لگی تو اس لڑکے نے روک دیا
    آپ اس بچے کو ہاتھ نہ لگائیں والدین برا مانتے ہیں پرائے بچے کو ہاتھ لگانے پر۔
    اس نے ٹوکا تو عزہ سر ہلا کر بولی
    اسکی ماں کے پاس ہی لے جانے آئی ہوں۔ آجائو صارم
    اس نے جیسے ہی بانہیں پھیلائیں صارم ہمک کر اسکے پاس جانے لگا اس نے نرمی سے اسے پیچھے کر لیا
    دیکھیں آپ پہلے شناخت کرائیں اسکی والدہ برقعہ نہیں کرتیں۔ ابھی چھوڑنے آئی تھیں وہ میرے پاس۔۔
    وہ اب کھڑا ہوگیا تھا
    ارے ۔۔۔ عزہ نے آنکھیں پھاڑیں
    ایسی بھی کیا بے اعتباری وہ بیٹھی ہیں اسکی والدہ انہوں نے ہی بھیجا ہے۔
    عزہ نے اشارے سے دور میز پر بیٹھی طوبی کو دکھایا۔ طوبی کی اسکی جانب پشت تھی البتہ عشنا نظر آگئ تھی اسے۔۔ وہ وہاں اشارے سے پوچھ رہی تھی کیا ہوا۔
    وہ دیکھیں ۔وہ رہی اسکی ماں ۔ میں نقاب کیئے ہوں توآپ نے سیدھا مجھے دہشت گرد بنا دیا حد ہوتی یے پکا کوئی انڈین ہی ہیں آپ۔
    اب عزہ کہے اور خاموشی سے سنے اگلا۔۔ بھنا ہی تو گئ
    دیکھیں آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں یہ بچے ہماری ذمہ داری ہیں اسلیئے۔
    اس نے صارم کو گود میں اٹھا کر اسکی جانب بڑھاتے ہوئے معزرت خواہانہ انداز اپنایا
    ہاں دیکھ رہی ہوں کتنی ذمہ داری سے اپنی ذمہ داری پوری کررہے ہیں۔۔ وہاں سب ایک شکلوں کے بچے ایک سی شکلوں کی مائوں کے ساتھ جا رہے تب کوئی فکر نہیں اور یہ کیلا کیوں کھلایا آپ نے اسے۔ سب بچوں کو کیلا کھلاتے ہیں آپ ؟ قبض ہو گیا اسے تو آپ آئیں گے گرائپ واٹر پلانے ؟
    وہ صارم کو گود میں اٹھانے کی بجائے کمر پر ہاتھ رکھے شروع تھی۔
    یار یہ لگ رہا ہے لڑ رہی ہے۔ جائو دیکھو عشنا۔
    عروج کو فکر ہوئی۔ عشنا فورا اٹھی
    کس بات پر لڑے گئ ۔۔ طوبی نے آئسکریم کا بڑا سا اسکوپ لیکر مڑ کر دیکھا۔۔
    خوامخواہ بحث کر رہی ہیں ایک تو یہ بچہ اسکی وجہ سے میں شفٹ ختم ہونے کے باوجود دس منٹ سے یہاں کھڑا ہوں۔ اوپر سے ۔۔
    لڑکا بھی جھلا سا گیا۔ زبردستی صارم کو اسے تھما دیا۔
    اوہ۔ وہ۔ عزہ لڑکھڑا گئ
    صارم نے پچھلے کچھ دنوں میں ایک دم صحت بنائی تھی۔ اسکو لگا وہ بچے سمیت پیچھے جائے گی
    کھاوا بھی گھبرا گیا۔ عشنا جو بھاگتئ آئی تھی اسے سہارا دینے لگی۔
    توبہ ہے بچہ ہے یہ بوری نہیں ایسے تھما دیا گر جاتے ابھی ہم دونوں
    کینہ توز نگاہوں سے عزہ نے گھورا
    ہاں تو کس نے کہا تھا آپکو شفٹ ختم ہو جانے کے بعد بھی بچی سنبھالیں ۔۔بچہ روتا تو ہم آجاتے اٹھانے۔۔ عزہ سے صارم کو گود میں لیتے ہوئے عشنا بھی دوبدو ہوئی
    عشنا کے کہنے پر کھاوا نے سر پیٹ لیا۔
    معاف کیجئے۔ غلطی ہوگئ آپکا بچہ ہے یہ آپ سنبھالیں میں چلتا ہوں۔
    وہ کہہ کر سائیڈ سے اپنا بیگ اٹھاتا تیزی سے ریستوران کے داخلی دروازے کی جانب نکلتا چلا گیا
    میرا بچہ نہیں ہے یہ۔ صارم کو اٹھائے اٹھائے عشنا مڑی تھی عزہ بھی مگر ان سے کہیں پھرتی سے طوبی اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔۔۔
    گڈو۔ اس کے لب بے آواز ہلے تھے۔۔ میز سے یہاں پلے ایریا تک کا فاصلہ اتنا ذیادہ تو نہ تھا مگر وہ وہاں سے بے تابی سے اٹھ کر بھاگئ تھی۔ ۔۔ کرسی سے ٹکراتئ تیزی سے چکنے فرش پر بھاگتی طوبی کو دیکھ کر عروج بھی سٹپٹا کر اٹھی تھی
    کیا ہوا طوبئ۔۔
    اسکی پکار سے بے نیاز طوبی بھاگتئ ہوئی داخلی دروازے سے باہر نکلی تھی
    گڈو۔ دیوانوں کی طرح پکارتی طوبی۔۔
    طوبی ۔۔ یہ تینوں طوبی کو پکارتی ہڑبڑا کر اسکے پیچھے بھاگیں۔طوبی ریستوران کے احاطے کے باہر سڑک تک بھاگتی آئی تھی مگر چند ہی لمحوں میں وہ لڑکا کیسے ہوا ہوگیا تھا۔۔
    گڈو۔ وہ پھولی سانسوں بکھرے حواسوں کے ساتھ متلاشی نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔
    کیا ہوا طوبی کسے ڈھونڈ رہی ہیں۔
    وہ تینوں پھولی سانسوں کے ساتھ ہانپتی ہوئی پہنچی تھیں۔
    گڈو۔ وہ گگ۔ گڈو تھا ۔۔۔۔
    طوبی کا بھاگنے سے نا صرف سانس پھول گیا تھا بلکہ ہانپ بھی رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسے چکر سا آیا وہ وہیں بے دم سی ہوتی گئی۔ عزہ اور عروج نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسے تھاما تھا۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ فرصت سے کمرے میں بیٹھی بیڈ کرائون سے سر ٹکائے رو رہی تھی۔
    بس۔ آج آج کا دن میں نے اتنا رونا ہے آئندہ ایک بھی آنسو اس آنکھ میں نہیں آئے گا۔۔
    اس نے خود کو باقائدہ کہہ کر باور کرانا چاہا۔ مگر خود کو سمجھانا اتنا آسان ہوتا تو کیا ہی بات تھی۔
    چار دن رہ گئے۔ بس چار دن اور۔ اسکے بعد سب ختم ۔ مجھے کچھ یاد نہیں رہے گا نا یاد آئے گا۔ میں نے سمسٹر مکمل۔کرنا ہے پھر پاکستان واپس۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔
    آنسو بے دردی سے پونچھتے وہ دلگیری سے بولی۔تبھی داخلی دروازے کی گھنٹی بجی
    اتنی جلدی واپس آگئیں۔۔ ڈنر کرتے ہی گھر واپس۔ ؟ ایسے تو آئسکریم بھی کھانی ہوتی ہے عذاب۔ اس گھر میں سکون سے تو رونا بھی محال ہے۔ اب کان کھا جائیں گی آنکھیں کیوں سوجی ہیں۔ جیسے جاتے وقت دماغ کھایا کہ ساتھ کیوں نہیں جارہی۔ہو تم۔بھئ جائو کھائو تم لوگ کھانا میرا دماغ نہ کھائو
    جھلاہٹ۔۔ بھری بڑ بڑ۔۔ جاری۔۔
    داخلی گھنٹی پھر بجی۔
    اسکا کوفت سے برا حال ہوگیا۔ جھلاتے ہوئے ہی بیڈ سے اتر کر چپلوں میں پائوں پھنسائے۔ دوپٹہ کندھے پر ڈالتی۔ عروج کےڈارک گلاسز سائیڈ ٹیبل پر سجے تھے۔ عروج کے منہ سے دو گنے بڑے۔۔ اس نے وہی آنکھوں پر چڑھا لیئے۔
    مگر سرخ ناک گال۔ اسکا تو منہ بھی عروج سے بڑا تھا۔
    گھنٹی پھر بجی۔ تو پیر پٹختی باہرنکل آئی۔ تن فن کرتے دروازہ کھول کر ڈانٹنا چاہا
    کیا مصی۔۔۔۔
    باقی الفاظ منہ میں دم توڑ گئے۔۔
    سامنے دلاور کھڑے تھے
    وہ ذرا تھوڑی دیر ان بچیوں کو رکھ لیں۔ عروج کا فون آیا تھا طوبی کی طبیعت خراب ہے اسے اسپتال لیکر گئے ہیں۔
    اسکے تیور۔ تھے یا وہ پریشان بہت تھے۔ دنیا جہان کی عاجزی مسکینیت طاری کرکے بولے۔
    جی۔ اسکے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا۔ وہ جلدی میں تھے شکریہ ادا کرکے تیزی سے لفٹ کی جانب بڑھ گئے۔مرے مرے انداز میں وہ بچیوں کو لیکر اندر چلی آئی۔ لائونج میں بٹھاکر ٹی وی آن کردیا۔
    کچھ کھائوگی تم دونوں۔
    دونوں بچیوں کے چہرے ستے ہوئے تھے اس نے مروتا پوچھا
    زینت نے تو نفی میں سر ہلایا زینت نے منہ بسورا
    ممابیمار نہیں ہیں تھوڑی دیر میں آجائیں گی پریشان نہ ہو۔۔
    زینت نے پیار سے چھوٹی بہن کو ساتھ لگایا۔
    الف کے دل کو کچھ ہوا۔
    وہ بھی وہیں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
    گڑیا نے رونا شروع کردیا زینت نے پیار سے بہلانا چاہا۔
    اس وقت اسکا بھی دل یہی کررہا تھا کہ کوئی پیار سے اسکو دلاسہ دے تسلی دے سب ٹھیک ہو جائے گا نا۔مگر وہ تو یہاں بالکل اکیلی تھی۔ یہ سوچ ہی اتنی کاٹ ڈالنے والی تھی۔
    اس نے بھی چہکوں پہکوں رونا شروع کردیا۔
    زینت نے حیرانی سے اسے دیکھا
    اب انکو بھی بہلانا پڑے گا؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں تو پہلا مانوس چہرہ جو اپنے سرہانے پریشان دکھائی دیا وہ عروج کا ہی تھا۔
    عشنا عزہ تینوں اس کے سرہانے کھڑی تھیں۔
    تیز روشنیوں نے اسکا دماغ مائوف سا کیا تھا یا ابھی حواس پوری طرح بحال نہ ہوئے تھے۔
    اس نے فورا آنکھیں بند کرلیں۔۔ عروج اسٹیتھسکوپ لگا کر اسکا مکمل معائنہ کر رہی تھی۔ بی پی بھی اب نارمل ہو گیا تھا۔ عزہ اور عشنا اسے منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھیں اس نے گردن کے اشارے سے انکو سب ٹھیک ہے کہا۔ تبھی صارم کو گود میں اٹھائے دلاور واپس چلے آئے۔ صارم اسپتال میں روئے جا رہا تھا سو انہیں اسے لیکر باہر جانا پڑا تھا اب وہ بے خبر سو چکا تھا۔
    ہوش آیا طوبی کو۔
    وہ صارم کے جاگ جانے کے خوف سے آہستگی سے پوچھ رہے تھے۔
    جی ابھی آنکھیں کھولی تھیں مگر ابھی غنودگی ہے فکر کی کوئی بات نہیں۔۔ بی پی اب نارمل ہے۔ ڈرپ کے ساتھ ایک دو انجیکشن بھی دیئے گئے ہیں سو طوبی اگلے دو ایک گھنٹے سوئیں گی۔
    بہتر تو یہی ہوگا دلاور بھائی کہ آج انہیں یہیں انڈر آبزرویشن رہنے دیں۔ میں انکو پرائیوٹ روم میں شفٹ کروا دیتی ہوں۔
    عروج نے تسلی دینے کے ساتھ مشورہ دیا تو دلاور گہری سانس لیکر سر ہلا گئے۔ اب یہی ہو سکتا تھا۔۔۔۔
    ٹھیک ہے اب میں سنبھال لوں گا۔ آپ۔لوگوں کا بہت شکریہ بہت زحمت ہوئی آپ لوگوں کو۔
    وہ شرمندہ سے نظر آرہے تھے۔
    نہیں ایسی کوئی بات نہیں طوبی ہماری بڑی بہن جیسی ہیں۔
    عزہ نے کہا تو عروج اور عشنا نے بھئ تائید کی
    بالکل طوبی ہماری فیملی میمبر کی طرح ہیں۔ بلکہ ایسا کریں آپ بھی گھر جا کے آرام کریں عشنا اور عزہ تم لوگ بھی گھر جائو میں یہاں رکتی ہوں طوبی کے پاس۔
    عروج نے کہا تو دلاور نے سہولت سے منع کر دیا
    نہیں آپ پہلے ہی بہت مدد کر چکی ہیں میں یہاں ہوں طوبی کے پاس آپ تینوں بھی اب گھر جائیے بہت رات ہوگئ ہے۔
    دلاور نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ ساڑھے گیارہ ہو رہے تھے۔
    نہیں کوئی بات نہیں آپکو صبح دفتر جانا ہوگا۔طوبی بالکل۔خیریت سے ہیں آپ بے فکر ہو کر گھر جاسکتے ہیں۔
    عروج نے کہا تو الٹا وہ سوال کرنے لگے
    آپکی آج ڈیوٹی ہے؟
    نہیں۔ عروج کے منہ سے فورا پھسلا پھر پچھتائی بھی
    اگر آج آپکی ڈیوٹی ہوتی تو ضرور میں آپکو زحمت دے لیتا مگر آپ ابھی گھر جائیے آرام کیجئے۔ آپ تینوں نے پہلے ہی ہمارے ساتھ بہت کردیا ہے اور ابھی اگر میں چلا گیا تو طوبی اٹھے گی تو برا مانے گی کہے گی مجھے اسکا بالکل خیال نہیں۔۔۔ مزے سے گھر جا کے سوگیا۔۔۔۔
    وہ دانستہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر ٹال گئے۔ وہ تینوں مزید اصرار کرتیں مگر انکا انداز قطیعت بھرا تھا۔ سو مسکرا کر سر ہلانا پڑا۔
    انکو روم دلوا کر تھکے تھکے انداز سے تینوں اکٹھے اسپتال سے باہر نکلیں۔
    اور مس عروج ریزائن دینے کے چند گھنٹوں بعد ہی دوبارہ اس اسپتال میں آنا کیسا لگا آپکو۔
    عزہ عشنا کا ہاتھ اٹھا کر مائک کی طرح عروج کے آگے لہرا رہی تھی
    دیکھیں جی یہ وہ اسپتال ہے جہاں میری زندگی کے چار سال آنا جانا لگا رہا ہے تو یقین جانیئے دیکھنے سے ہی نفرت محسوس ہو رہی ہے۔
    عروج بھئ ترنگ میں لہک کر بولی۔ تینوں نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔
    یار قسم سے اب کوریا سے دل بھر گیا ہے مجھے بھاگ کے امریکہ پہنچنا ہے فورا۔ عروج کی بات پر وہ دونوں خفا ہوئیں
    اور ہم؟ ہم سے دور اکیلی رہ لوگی۔
    عشنا کا ہاتھ مائک کے طور پر اسکے سامنے تھا۔
    ہاں بالکل تم دونوں کونسا میری بوائے فرینڈ ہو۔
    عروج نے کندھے اچکائے
    اچھا تو سیونگ رو بوائے فرینڈ ہے جس کے پیچھے اڑ کر امریکہ جانا چاہتی ہو۔
    عشنا نے کہا تو عزہ نے بھی آنکھیں مٹکائی
    اچھا تو یہ مجھے ساجن کے گھر جانا ہے والی بے تابی ہے
    اڑ کر امریکہ
    عزہ عشنا کا بازو جہاز کی طرح اڑا کر بن بن کر بولی

    عروج کی آنکھیں پہلے پھیلیں پھر سکڑیں
    عشنا کی بچی۔وہ بلا لحاظ اسے مارنے دوڑی تھی۔
    عزہ اور عشنا کھلکھلاتی بھاگی تھیں۔ عروج کے ہتھے چڑھ کر ہڈیاں تڑوا کر یہیں اسپتال سےپلاسٹر تھوڑی کروانا تھا دونوں نے۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون نے خفا خفا سی نگاہ ان دونوں پر ڈالی پھر سینڈوچز کی تیار ٹرے ان دونوں کی۔جانب میز پر بڑھاتے ٹھنڈی سانس لیکر ان دونوں کے مقابل اسٹول گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ دونوں اب مزے لیکر کچن کائونٹر ٹیبل پر بیٹھی سیہون کے ہاتھ سے بنا چکن چیز سینڈوچ اڑا رہی تھیں
    تم نے اسے کہا تھا کہ میں اپ سیٹ ہوں اور مجھے اس وقت کائونسلنگ کی ضرورت ہے؟
    سیہون نے کینہ توز نگاہوں سے فاطمہ کو گھورتے پوچھا تھا
    آدھا سینڈوچ اکٹھے ابھی فاطمہ نے منہ میں بھرا تھا سو بمشکل منہ چلا کر جواب دینے کی کوشش کرنے لگی
    آئی سوئیر میں نے منع کیا تھا اسے یہاں آنے سے۔۔ مگر یہ بولی تم کہیں میری سے پیچ اپ ہی نہ کرلو تمہیں۔۔ آہ۔
    واعظہ نے بلا۔لحاظ کہنی گھسیڑی تھی۔ وہ۔ کراہ۔کر سینڈوچ ختم کرنے میں لگ گئ
    سیہون نے واعظہ کی جانب رخ کیا وہ سٹپٹا کر نظر چرا گئ
    کبھی خود محبت کی ہے تم نے جو مجھے محبت کا فلسفہ سمجھانے لگ جاتی ہو۔
    سیہون اس سے ہنگل میں پوچھ رہا تھا۔ فاطمہ نے کان کھڑے کیئے۔۔۔
    واعظہ اسکی چپ ہو کر شکل دیکھنے لگی۔۔
    تھوڑی سی بھی جس انسان کیلئے آپکے دل میں جگہ ہو اس کو چوٹ پہنچانے کی سوچ بھی ذہن میں نہیں آتی اور آج میں بیچ سڑک پر اس لڑکی کو گرا کر آیا ہوں جس کیلئے میرے دل میں تھوڑی سی جگہ نہیں ہے بلکہ میرا پورا دل مختص ہے۔۔
    سارانگ اس نے سارانگ کہا ہے نا؟ کیا کہہ رہا اسے کس سے محبت ہے؟
    فاطمہ کو اسکا لہجہ ککھ سمجھ نہ آیا تھا۔ ٹھیٹھ گائوں کا کورین بولنے کا لہجہ۔ سیول کا لہجہ تو پھر شائد وہ تھوڑا بہت سمجھ جاتی مگر سیہون جو اچھا بھلا سیول کے لہجے میں بات کرتا تھا اس وقت خاص اپنے مادری علاقائی لہجے میں بولا تو یقینا مقصد اسکو بات سمجھنے کا موقع نہ دینا ہی تھا۔
    واعظہ نے اسکی بات سینڈوچ کے ساتھ نگلی تھی اندرتک کڑواہٹ اترتی گئ تھی اسکے۔
    آج جب میں اپنا محاسبہ کرنے بیٹھا تو مجھے یہ احساس ہوا کہ میں سیہون سے واعظہ بن گیا ہوں جو پل میں اجنبی بنے تو راہ میں پڑے اپنے دل پر بھی پائوں رکھ کرگزر جائے۔۔
    وہ چبا چبا کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا تھا
    اس طعنے بازی کا مقصد۔
    واعظہ نے نگاہ اٹھاکر اسے دیکھا۔ وہ مڑتے مڑتے رک کر اسکی نگاہوں میں جھانکنے لگا
    میں واعظہ بننا نہیں چاہتا ۔۔ جو انسانوں کا متبادل ڈھونڈ لیتی ہے۔ چیزوں اور انسانوں میں اتنا فرق رکھنا چاہیئے کہ چیزوں کے متبادل ڈھونڈلیں پر۔ انسانوں کے نہیں۔۔۔
    انسان خود بدل جانے والی چیز ہے۔
    واعظہ نے سیںڈوچ ختم کر لیا تھا۔۔ سو اب لاپروائی سے ہاتھ جھاڑ رہی تھی۔
    محبت کرنے والا انسان نہیں بدلتا کبھئ۔ جو بدل جاتا وہ محبت نہیں کرتا بس محبت کا دعوی کرتا ہے۔
    سیہون کبھی واعظہ۔ فاطمہ منہ میں سینڈوچ بھرے ان دونوں کو دیکھتی خود کو دنیا کی سب سے احمق لڑکی سمجھ رہی تھئ۔
    انسان محبت کے بغیر رہ سکتا ۔ واعظہ سے کم از کم اتنا تو سیکھ لیا ہوتا۔
    اسکے برعکس واعظہ کا انداز ہلکا پھلکا تھا مسکرا کر سر جھٹکا تھا اس نے۔اور کھڑی ہوگئ۔۔
    فاطمہ کا منہ کھلا ۔۔۔
    جونگ وونا تم سے نہ سیکھ پایا یہ ہنر میری کیا مجال۔
    سیہون پہلی بار شائد اپنا آپا کھوبیٹھا تھا۔
    تمہیں جو بات کرنی مجھ سے میرے متعلق کرو۔ تمہیں کوئی حق نہیں میرے ذاتی معاملات زیر بحث لانے کا۔
    واعظہ اپنا سارا لحاظ مروت بالائے طاق رکھ کر چلائی
    تمہیں بھی کوئی حق نہیں میرے ذاتی معاملات میں بولنے کا۔
    سیہون بھی حلق کے بل چلایا۔۔
    فاطمہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
    مار کٹائی پر نہ اتر آئیں دونوں۔ اسے سچ مچ یہی ڈر لگا تھا
    جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے کینہ توز نگاہوں سے گھور رہے تھے ایک دوسرے کو جیسے کچا چبا جائیں گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الف کا موڈ تو بالکل اچھا نہیں تھا کیسے لڑ ہی پڑی تھی جب ہم نے اصرار کیا کہ چلو ہمارئ ساتھ۔ جانے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہوگی۔
    لفٹ کا بٹن دباتے عشنا نے کہا تھا۔
    اس پر آجکل جو بدمزاجی کا بھوت سوار ہے اس سے کچھ بعید نہیں کہ دونوں بچوں کو ایک کمرے میں بند کرکے خود منہ تک چادر تانے سوئی پڑی ہو۔ عزہ نے خیال ظاہر کیا۔۔۔
    نہیں بھئ۔ مانا اسکا موڈ تھوڑا خراب ہے مگر بچوں سے تھوڑی بدلہ لے رہی ہوگئ انکو کھانا وانا کھلا کر بہلا لیا ہوگا۔ زینت سے تو گھنٹوں باتیں کرتی ہے اسکو تو اپنے ساتھ سلالیا ہوگا۔
    عروج نے انہیں ٹوکا۔
    ہاں یہ تو ہے۔ دونوں نے سر ہلایا۔
    بچوں کے نخرے اٹھا رہی ہوگی دل کی اچھی ہے الف۔۔۔
    لفٹ آہستہ آہستہ اوپر بڑھ رہی تھی تینوں کی خوش فہمی بھی کیونکہ اصل میں تو فلیٹ کا منظر یوں تھا
    آپی یہ والا کارٹون چینل لگا دوں۔
    گڑیا اس سے پوچھ کر ریموٹ کا بٹن دبا رہی تھی۔
    الف نے سر نفی میں ہلا دیا۔
    پھر۔
    وہ پھر چینل بدلنے لگی۔ چار پانچ چینل بدلے
    یہ ڈرامہ لگا دو۔
    الف نے کہا تو گڑیا سکون سے واپس آکر بیٹھنے لگی
    نہیں بلکہ یہ بدل دو۔ کیا سمجھ آئے گا ڈرامہ۔
    اس نے بے زاری سے کہا۔ گڑیا فورا الرٹ ہوئی۔ ریموٹ چینل نہیں بدل رہا تھا
    وہیں ٹی وی کے پاس جا کر کھڑی ہو یہاں سے سگنل آرہے ہوتے تو میں وہاں کیوں بھیجتی۔
    الف بگڑی۔ گڑیا فورا بھاگ کر ٹی وی کے پاس آئی
    دودھ گرم ہو گیا؟
    اب اس نے کچن میں مائکرو ویو کے پاس انتظار میں کھڑی زینت سے پوچھا
    بس ہوگیا۔
    زینت دودھ کا مگ مائکرو ویو کرکے بھاگی بھاگی آئی۔ ڈبل روٹی سامنے رکھی۔
    مکھن لگا کر دوں؟
    مارجرین اٹھائے پوچھ رہی تھی۔ اس نے گردن ہلائی
    یہ نیوز کیوں لگا دی۔
    ٹی وی پر نظر ڈال وہ بد مزا سی ہوئی
    آپی چینل نہیں بدل رہا۔
    گڑیا اب پاکستانی طریقے سے ریموٹ کو تھپڑ مار کر چلا رہی تھی
    اوفوہ۔ الف کی بیزاری
    زینت نے مارجرین لگا کر سلائس آگے بڑھایا
    اس نے ذرا سا کترا دودھ کا کپ منہ کو لگایا
    چینی نہیں ڈالی۔
    پھیکا دودھ اسے ذرا اچھا نہ لگا
    ایک چمچ ڈالی اور ڈال دوں
    زینت نے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
    زینت پھرتی سے چینی کا ڈبہ لینے دوڑی
    گڑیا اب ہوٹل ڈیل لونا لگا کر پوچھ رہی تھی
    یہ لگا رہنے دوں؟
    ہاں۔ اس نے بیزاری سے سر ہلایا
    کتنے مزے ہیں مان وال کے مر کر بھی لگژری لائف اسٹائل ایک میں یہاں اس کھنڈرفلیٹ میں زندہ لاش بنی بچے پال رہی ہوں
    اسے خود پر ترس آیا
    زینت چینی کا ڈبہ چمچ لیکر آئی تو اسے اس پر بھی ترس آیا تو جملے میں ترمیم کرلی
    بچوں سے اپنا آپ پلوا رہی ہوں۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 54

    قسط 54
    وہ حد درجہ مایوس گھر واپس آئے تھے۔ آہستگی سے داخلی دروازہ بند کیا کہ آہٹ نہ ہو پلٹے تو دل اچھل کر حلق میں ہی آگیا۔
    سفید سلک کے نائٹ سوٹ میں لال بھبوکا چہرہ لیئے طوبی سامنے کھڑی تھی۔ شائد انکے انتظار میں ٹہل رہی تھی
    تم سوئی نہیں۔ میرا انتظار نہ کیا کرو سو جایا کرو۔ ایویں نیند خراب کی۔
    ذرا دھک دھک کرتا دل قابو میں آیا تو انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں کہہ کر نکل جانا چاہا
    کہاں تھے آپ اتنی رات کو۔۔
    طوبی نے براہ راست سوال کرنا مناسب سمجھا۔
    پرانی آبادی گیا ہوا تھا ۔ کسی سے ملنے پر مل نہ سکا۔ گھر ڈھونڈنے کی کوشش کی ناکام رہا سو واپس آرہا ہوں۔
    وہ سہولت سے بتاتے ہوئے کچن کائونٹر پر رکھے جگ میں سے پانی نکال کر پینے لگے۔
    کوئی بات نہیں آج ملاقات نہ ہوئی کل کر لیجئے گا۔نہیں تو پرسوں تو ضرور دل کی مراد مل جائے گی آپکو۔
    طوبی نے خاصے طنزیہ انداز میں چبا چبا کر کہا مگر چونکہ اسکی جانب پشت تھی سو دلاور اسکا انداز دیکھ نہ پائے مگر بے ساختہ منہ سے نکلا
    آمین۔
    طوبئ سلگ کر رہ گئ۔
    بات سنیں میں نے کیا کمی چھوڑی ہے آپکی زندگی میں۔ گھر سنبھالتی ہوں صاحب اولاد ہیں آپ کبھی آپ سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی۔۔۔۔
    وہ پھٹ ہی تو پڑی۔ دلاور خاصی حیرت سے مڑ کر اسے دیکھنے لگے۔
    اس وقت کیا کر رہی ہو؟ دلاور نےجتایا۔
    چوٹ لگتی ہے تو انسان چیخ ہی پڑتا ہے۔
    وہ انکا طنز خاطر میں نہ لائی۔
    کہاں چوٹ لگی ہے ؟ رات کے اس پہر چلانے کا مقصد۔
    دلاور کی پیشانی پر بل پڑنے لگے اس بار لہجہ دھیما رکھنے میں انہوں نے کافی توانائیاں لگا دی تھیں۔ جس دن سے سوچا تھا کہ اب سے وہ طوبی کے ساتھ نرمی سے پیش آیا کریں گے اس دن سے طوبئ نے ان کا وہ وہ ضبط آزمانا شروع کیا تھا کہ الامان۔
    دل پر۔وہ چٹخ کر بولی
    عورت سب برداشت کر لیتی ہے اپنے شوہر کی شراکت اسے گوارا نہیں ہوتی۔ میں کالی بد صورت بھی ہوتی تو خود کو سمجھا لیتی یہ سوچ کر کہ یہاں گوری چمڑی دیکھ کر پھسل گئے آپ۔ مگر ان چٹی چمڑیوں میں میں چٹی بھی ہوں اور جٹی بھئ۔ اپنی اور اس عورت کی جان ایک کردوں گی جو آپ پر ڈورے ڈال رہی ہے۔۔ سمجھے اس گمان میں نہ رہیئے گا کہ آپ دوسری لا کر میرے سر پر بٹھا دیں گے اور میں اسکی چاکری کیا کروں گی۔ جان سے مار دوں گی اسے بھی اور خود بھی جان دے دوں گی۔۔
    کچھ اسی سے ملتے جلتے ڈائلاگ اسکی پسندیدہ سیریل میں ہیروئن نے اپنے بے وفا شوہر کو سنانے کو بولے تھے جوابا شوہر نے اسے ایک زور دار تھپڑ لگا دیا تھا۔جبھی یہ سب کہنے کے بعد اس نے آنکھیں میچ کر سر بھی جھکا لیا تھا۔
    آج اسے یہ معاملہ صاف کرنا تھا ہر قیمت پر۔
    چند لمحے بعد بھی گال پر کوئی لمس محسوس نہ ہوا تو حیرت سے سر اٹھا کر دیکھا دلاور خلاف توقع مسکراتے ہوئے اس پر نگاہ جمائے کھڑے تھے۔
    اتنا پیار کرتی ہو مجھ سے ؟
    وہ جانے کیا سننا چاہ رہے تھے۔ طوبی گڑبڑا سی گئ۔
    جان لے سکتی ہو اور جان دے بھی سکتی ہو میرے لیئے۔
    وہ سینے پر بازو لپیٹے محظوظ انداز میں دیکھ رہے تھے اسے۔۔

    کیا مطلب کیا آپ واقعی چاہتے میں اپنی اور اپنی اس سوکن کی جان لے لوں اور آپ پھر کسی تیسری کی تلاش میں لگ جائیں۔۔
    اسکے تو سر پر آسمان ہی آن گرا جیسے۔اتنی حیرت سے بولی کہ دلاور قہقہہ لگا کر ہنس پڑے
    یار قسم سے پورا ڈرامہ بلکہ فلم ہو تم۔ اور سچ کہوں۔
    وہ دلبرانہ انداز میں اسکی جانب بڑھے۔
    میرا دل جگر جانم ہو تم۔ ارے یہ تو شعر بن گیا۔ اسے بانہوں کے حلقے میں لیکر وہ شرارت بھرے انداز میں بول رہے تھے۔ برسوں بعد بھئ وہ اسی طرح گھبرائی تھی ان سے جیسے شروع سالوں میں گھبراتئ تھئ ۔پیشانی چمکنے سی لگی بات تو کہیں سے کہیں نکلتی گئ تھی
    دلاور اسے دیکھتے رہے پھر چونچال انداز پر سنجیدگی حاوی ہوتی چلی گئ۔
    تمہیں پتہ ہے جب پہلی بار تمہیں دیکھا تھا تو میں اماں سے جاکے بہت لڑا تھامیرے لیئے کیا بچی کا انتخاب کرڈالا۔۔ میں گھر کا سب سے بڑا سمجھدار میچیور انسان تھا اپنے جیون ساتھی کے روپ میں ایک سنجیدہ سمجھدار لڑکی کی ہی خواہش کی تھی اور تم تم تو مجھ سے بہت چھوٹی تھیں کم ازکم بھی دس سال۔۔۔پھر تم مجھ سے ڈرتی بھی بہت تھیں جیسے کوئی شرارتی بچہ سخت گیر استاد سے گھبراتا ہے۔ سارا دن دفتر میں کھپا کے آتا تو دل کرتا تھا میری بیوی میری دوست بنے میرے مسلئے مسائل سمجھے مگر میری بیوی تو مجھ سے یوں دور بھاگتی تھی جیسے۔
    وہ کہتے کہتے لحظہ بھر کو خاموش ہوئے۔ طوبی نے چونک کر پلکیں اٹھا کر انکا چہرہ دیکھا۔
    تم اب بھی خوبصورت ہوخیال رکھنے والی صاف دل معصوم سی۔ ۔ کسی بھی کورین چٹی چمڑی سے کہیں ذیادہ مجھے یہ چٹی جٹی عزیز ہے پر میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ تمہیں میں بھی اتنا عزیز ہوں کیا؟ اس گرتے بالوں پھیلتے جسم اور یہ عمر کا دس سال کا فاصلہ تو اب بھی ہمارے درمیان حائل ہے طوبی۔ تمہیں میری کس چیز نے باندھ رکھاہےمیرے ساتھ۔ میں تو ایک سخت گیر شوہر تھا تمہارے لیئے۔تمہیں مجھ سے کیا واقعی محبت ہے؟؟؟
    ہے نا۔ جبھی تو۔۔ طوبی گھبرا سی گئ۔ کیسے ہوتےہیں مرد کیسا بات گھما کر مجھ پر ڈال دی اب مجھ سے صفائی لے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے شاکی نگاہ سے دیکھا ۔۔ دلاور نے آہستہ سے اپنے ہاتھ ہٹا لیئے۔
    مجھے نہیں پتہ کہ تمہیں مجھ پر یہ شک کیوں ہوا کہ میں تم سے چھپ کر کوئی افئیر چلا رہا ہوں مگر تم کس بات سے ذیادہ خوفزدہ ہوئیں مجھے کھو دینے کے خوف سے یا میرے چھوڑ جانے کے ڈر سے؟
    وہ اسے بغور دیکھ رہے تھے۔طوبی نا سمجھنے والے انداز میں دیکھتئ رہی۔
    کھو دینے کا یا چھوڑ جانے کا خوف کیا الگ الگ ہوتا ہے؟
    وہ واقعی نہ سمجھ پائی تھی۔ سو پوچھ لیا۔
    ہاں۔ انہوں نے قطعیت سے کہا۔
    سوچ لو۔جب چاہو جواب دے دینا۔۔مگر یاد رکھنا میں منتظر ہوں۔۔ جواب کا۔۔۔
    وہ دھیرے سے اسکے پاس سے ہو کر اندر کمرے کی جانب بڑھ گئے وہ وہیں کھڑی سوچتی رہ گئ
    …………………………………………..
    انتظار جان لیوا ہوتا ہے اگر کسی سوال کے جواب کا ہو۔ چاہے ہاں میں ہو یا ناں میں۔ جواب سے ذیادہ جان لیوا جواب کا انتظار ہوتا ہے۔۔
    سادہ مختصر ای میل۔ اس نے موبائل لاک کیا اور سرہانے بیزاری سے رکھ کر چھت گھورنے لگا۔
    وہ بسترپر پڑا تھا۔ جانے کب سے جاگ رہا تھا یا کب ذرا سا سویا تھا۔۔۔ گھڑی موبائل میں بھی تھی سامنے بھی۔کھڑکی کا پردہ ذرا سا سرسرایا تو باہر گھپ اندھیرے کو روشنی نگلنا شروع کر چکی تھی۔ وہ تیزی سے اٹھ کر کمرے کی کھڑکی کی طرف چلا آیا۔ آر پار شیشے کی شفاف سی کھڑکی اسے ٹوکیو کی کہر آلود صبح کا منظر دکھا رہی تھی۔اونچی اونچی عمارتوں ننھی نننھی کھلونا گاڑیوں کے حجم کی گاڑیاں سڑک پر رواں دواں۔کہیں کہیں سڑکوں پرلگی دیو ہیکل بتیوں کی روشنیاں بجھنا شروع ہوئیں کہیں کہیں عمارتوں کی بتیاں جلنا شروع ہوئیں۔۔ علی الصبح کا وقت۔
    جانے نماز کا وقت تھا یا گزر گیا تھا۔اسے پچھتاوا ہوا۔
    ذکریہ صبح کی نماز کبھی نہ چھوڑنا بیٹا۔اسی وقت رزق بٹتا ہے جب رات کی غفلت بھری نیند چھوڑ کر انسان صبح اٹھکر پہلا کام ذکر الہی کرتا ہے تو اللہ اس کے دل میں سکون ڈال دیتا ہے۔ زندگی میں کبھی بھی بے چینی اور بے کلی کا شکوہ نہ کرنا اگر تم نماز چھوڑ دیتے ہو۔۔۔
    چندی آنکھوں محبت بھرے گول چہرے کی مالک اسکی ماں اسے فجر کے وقت اٹھنے پر آنا کانی کرنے پر اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سمجھا رہی تھیں۔
    بے چینی بے کلی کیا ہوتی ہے ؟
    چودہ سالہ ذکریہ حیرت سےپوچھنے لگا۔۔
    اماں سوچ میں پڑ گئیں۔پھر جیسے کچھ یاد آیا اور مسکرا دیں
    یاد ہے جب پچھلے سال تم نے ہم سے وعدہ لیا تھا کہ اگر تمہاری جماعت میں اول پوزیشن آئی تو ہم تمہیں ریموٹ کنٹرول والی گاڑی دلائیں گے۔ تو امتحانوں کے بعد رزلٹ والے دن تک تم جو پریشان تھے گھبراتے تھے راتوں کو بھی اٹھ اٹھ کر دعا مانگتے تھے کہ تمہاری پہلی پوزیشن آجائے اسے بے چینی کہتے ہیں۔
    سمجھ گیا۔ ذکریہ نے سر ہلایا پھر منہ بنا کر بولا
    مگر میری تو دوسری پوزیشن آئی تھی۔
    بالکل۔وہ محظوظ ہوئیں۔
    رزلٹ کے بعد تم۔جب گھر آئے تھے تو کتنے دکھی تھے کہ اب تمہیں گاڑی نہیں ملے گی۔ تم نے مجھ سے کہا کہ۔میں تمہارے بابا کو نہ بتائوں کہ تمہاری دوسری پوزیشن آئی ہے مگر اسکے باوجود تم پریشان بھی رہے اور گھر میں بولائے بولائےپھرتے رہے جب تک تمہارے بابا گھر نہیں آگئے۔۔
    اسے بے کلی کہتےہیں۔ ذکریہ جیسے سمجھ گیا
    اور بابا پھر بھی اس دن میرے لیئے گاڑی لے آئے تھے۔
    اسے یاد تھا۔
    ہاں کیونکہ تم نے اپنی پوری کوشش کی اللہ سے دعا بھی مانگی تو اللہ نے بھی تمہیں نواز دیا گاڑی پھر بھی تمہیں مل ہی گئی
    ۔انہوں نے پیار سے اسکے سر پر چپت سی لگا دی۔ کیسا دکھی دن تھا اس کیلئے اور اسکا کتنا پیارا انجام تھا۔ کتنا خوش ہوا تھا وہ کہ رات کو بمشکل انکے ڈانٹنے پر سونے لیٹا تھا تو گاڑی سینے سے لگا کر ہی سو پایا۔
    مگر پہلی پوزیشن مجھے دے دیتے اگر اللہ میاں تو میں اتنا بےکل اور بے چین تو نہ ہوتا۔
    تمہیں پہلی پوزیشن نہیں گاڑی چاہیئے تھی وہ اللہ نے تمہیں دے دی اب پریشان اور بے کل تم یوں رہے کہ تمہیں لگا پہلی پوزیشن آئے گئ تب ہی گاڑی ملے گی یہ خود ہی تم۔نے سوچا۔ہم نے تو تمہارے لیئے پہلی پوزیشن کی شرط نہیں رکھی تھی یہ شرط بھی تم نے خود اپنے لیئے رکھی تھی نا۔
    سوچ کا تسلسل ٹوٹا وہ چونک سا گیا
    میں نے پھر اپنے لیئے ایک بے حد فالتو سی شرط رکھ لی ہے اور بے چین اور بے کل ہوں۔ اس نے سر جھٹکا۔
    آسمان پر مکمل سفیدی نہیں چھائی تھی۔
    قضا سہی مگر نماز پڑھوں گا۔ یہ بے چینی اللہ ہی دور کرے میری ۔۔
    اس نے خود کو خود ہی تسلی دی اور حیرت انگیز طور پر بہل بھی گیا۔ پردے برابر کیئے اور آستین چڑھاتا باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دیکھئے ہم آپکی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ کسی بھی طالب علم کی ذاتی معلومات دینا ہمارے لیئے جائز نہیں۔ آپ برائے مہربانی ہم پر بے جا دبائو مت ڈالیئے۔شکریہ۔
    اس کلرک نے کہا تو مہذب انداز میں تھا مگر لگ یہی رہا تھا کہ اگر مزید اصرار انکی جانب سے ہوا تو سب ادب لحاظ بالائے طاق رکھ دے گا
    دیکھیں آپ سمجھ نہیں رہے۔ طوبی نے کائونٹر پر ہاتھ مار کر کہا تو عزہ نے کھسیا کر اسے بازو سے کھینچ لیا
    گھمسامنیدہ۔۔ مڑ کر شکریہ بھی کہہ دیا مروتا۔۔
    ارے بات تو کرنے دو۔ طوبی مڑنا چاہ رہی۔تھی مگر عزہ کی گرفت مضبوط تھی۔
    کھینچ کھانچ کر اسکول کے احاطے سے باہر نکال کر ہی دم لیا۔
    ہر اسکول نے ہمیں یہی جواب دیا ہے۔ اگر کوئی ایک آدھ ہوتا تو ہم سمجھ لیتے کہ ٹالا ہے ہمیں۔ مگر سب کا ایک ہی جواب ہے تو اسکا مطلب صاف ہے کہ واقعی وہ طلباء کی معلومات نہیں دے سکتے ہیں۔عزہ نے تفصیل سے کہا تو وہ چڑ گئ
    یہ خوب رہی۔ مانا یہ اصول ہے مگر دیکھا نہیں یہ بندہ ماڑا تھا ہم ذرا رعب ڈالتے تو بتا دیتا۔
    یقینا یہ خوش فہمی تھی طوبی کی۔مگر عزہ بحث میں نہ پڑی
    چلیں جانے دیں۔ ہم نے کوشش تو کر لی۔نہ کرتے تو قلق رہتا ہمیں کہ ہے جن کو ڈھونڈنے کی کوشش بھی نہ کی۔
    اس بات پر طوبی متفق تھئ۔ سر ہلا کر دونوں خاموشی سے سڑک کی۔طرف نکل آئیں۔
    اس علاقے کے تمام اسکول دیکھ لیئے۔ اور یہ تو احسان ہے ان کی انتظامیہ کا کہ ہے جن نام کے جتنے طلباء انکے اسکول میں تھے انکو بلوا کر شاخت پریڈ بھی کروا دیتےتھے پرہمارے ہے جن کا نہ کوئی اتا پتہ ملا نا نام و نشان۔
    اتاپتہ اور نام ونشان تو ایک ہی بات ہوئی احمق ہوں میں۔۔۔
    عزہ ہنس دی
    بات سنو۔ طوبئ ایکدم سے قدم بڑھا کر اسکے مقابل ہوئی
    یہ بتائو کھو دینے کا خوف اور چھوڑ جانے کا خوف کیا الگ الگ ہوتا ہے؟ ۔۔عزہ بھی تو الفاظ مترادف میں بات کرتی ہے اسے تو پتہ ہوگا
    کیا مطلب؟۔۔ عزہ کو سمجھ نہ آیا
    اوہو۔۔ طوبی جھلائی پھر سمجھانے والے انداز میں بولی
    دیکھو اگر اس وقت میں یہاں سے چلی جائوں تو تمہیں کیا ڈر لگے گا۔
    مجھے کھو دینے کا یا میرے چھوڑ جانے کا
    مجھے کوئی ڈر نہیں لگے گا۔ روز کا آنا جانا ہے راستہ آتا ہے مجھے میں اکیلی گھر چلی جائوں گی۔ آپ نے کہیں جانا ہے تو چلی جائیں
    عزہ نے اطمینان دلانا چاہا۔وہ یہی سمجھی کہ شائد اسے اچانک کہیں جانا ہے جو ایسے پوچھ رہی ہے
    نہیں بھئ مجھے نہیں جانا۔ وہ مایوس ہوگئ۔ یہ گتھی نہ سلجھے گی مجھ سے۔۔خدا نہ کسی کو پہلیاں بجھوانے والا شوہردے۔ اس نے سوچا
    پھر کیوں پوچھ رہی ہیں؟ عزہ نے پوچھا تو وہ منہ لٹکا کے دیکھنے لگی
    دیکھو کوئی انسان فرض کرو آپ کے پاس یا ساتھ رہتا ہوجیسے نور۔۔۔۔ اسے آخر مثال سوجھ ہی گئ
    تمہاری دوست تھی نا۔ وہ تائید چاہنے والے انداز میں پوچھ رہی تھی۔
    وہ جب یہاں سے گئ تو تمہیں دکھ ہوا ہوگا نا ؟ تو اسے کھو دینے کا دکھ ہوا یا اسکےچھوڑ جانے کا؟
    کھو جانے کا؟عزہ ہنس دی
    نور کھو تو نہیں گئ اب بھی اکثر مسیجنگ کرتی ہے بات بھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ بس ہمارا ساتھ چھٹ گیا ہے۔
    عزہ نے کندھے اچکا کر کہا۔ طوبی مزید الجھن کا شکار ہو کر رہ۔گئ تھئ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا جہان کی اداسیاں چہرے پر سجائے منہ سجائے وہ ہنگن دریا کے پل کے اوپر سے نیچے جھانک رہی تھیں۔۔
    میرے پاس تو دکھی ہونے کی وجہ ہے میری ذاتی کمائی ہوئی۔ اپنی کمائی ایک اندھے کنوئیں میں پھینک کر ہاتھ جھلا رہی ہوں تم تو اپنی ڈھیروں ڈھیر تنخواہ وصول کر بھی منہ سکھائے بنائے اترائے کھڑی ہو کیا یہ کھلی ناشکری نہیں۔۔
    ایک ہی پوز میں کافی دیر اداس شکل بنایے واعظہ کے ساتھ کھڑے کھڑے وہ تھک کر بولی
    واعظہ کا جواب دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا
    کیا سوچ رہی ہو؟؟؟؟
    فاطمہ نے کسوٹی کھیلنا چاہی۔
    عروج امریکہ جاکر دعا اور سیونگ رو کا ملاپ کیسے کرائے گئ۔۔؟
    نہیں تو۔ واعظہ نے حیران ہو کر اسکی شکل دیکھی
    پھر سیہون کا میری کا پیچ اپ کیسے کروائوں؟؟؟
    فاطمہ کا انداز ایسا تھا کہ جیسے کہہ رہی ہو پکڑ لیا نا یہی سوچ رہی ہو نا تم۔۔۔
    نہیں یہ کام تو ہرگز نہیں کروانا۔واعظہ تڑپ کر بولی
    ایک نمبر کی پیسے کی پجاری لڑکی ہے سیہون کاجتنا فائدہ اٹھانا تھا اٹھا لیا اب اسے مزید بے وقوف۔۔۔۔
    پھر عزہ کی کس سبجیکٹ کی حاضری کم ہے اسکا پتہ کیسے لگائوں۔۔ اف مجھے پتہ تھا یہی سوچ رہی ہو گی۔ جانے دو اچھا ہے اسی بہانے پڑھائی پر توجہ دے گی۔
    اس بار تو فاطمہ نے چٹکی بجا کر مسلئہ حل بھی کردیا
    پاگل سمجھا ہے کیا؟۔ واعظہ چڑ گئ۔
    میں کیوں عزہ کی پڑھائی کی ٹنشن لوں گی۔ وہ مجھے امی کہہ ضرور جاتئ ہے مگر میں اسے اپنی اولاد نہیں سمجھتی اچھا نا۔
    پھر عشنا کا معاملہ تو سلجھ گیا کس کے مسلئے کا حل سوچنے کو ایسی سنجیدہ شکل بنائی ہے؟ یاد آیا
    اسکے ذہن میں جھماکا سا ہوا
    یقینا دلاور بھائی ایکسٹرا میریٹل افئیر چلا رہے ہیں ہے نا۔۔ یہی بات ہے نا؟؟
    اس بار تو وہ غلط تکا لگا ہی نہیں سکتی تھی
    واعظہ گہری سانس بھر کے رہ گئ
    یار الف کی امی بہت پریشان ہیں الف مان کے نہیں دے رہی اور اسے سمجھا کے بات کرکے دیکھ لی وہ کسی اور ہی ذہنی کیفیت میں ہے۔۔ اسکو زور زبردستی سے سمجھانے کا تو کبھی ارادہ تھا ہی نہیں میرا پھر بھی ۔۔۔ اب آنٹی صبح شام مجھے فون کر ۔۔۔۔
    کہتے کہتے اسکی فاطمہ پر نگاہ پڑی تو وہ تاسف بھری نگاہیں اس پر جمائے کھڑی تھی
    واعظہ زندگی میں کبھی اپنے کسی مسلئے کسی پریشانی پر پریشان ہو کر میرے پاس آئو نا ایسا سینے سے لگا کر سب غم سمیٹ لوں تمہارے مگر تم ہو کہ۔۔۔
    چبا چبا کر کہتے وہ چیخ پڑی
    الف تمہاری بیٹی نہیں ہے آنٹی کی ہے آنٹی پریشان ہوں سمجھ آتا ہے۔ الف انکی پریشانی کا احساس کرے تم آنٹی کی بیٹی نہیں ہو الف ہے اسے انکی پریشانی کا احساس کرنے دو۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے اپنی زندگی جیو تمہاری اپنی بھی ایک الگ ذات ہے۔کبھی اسکا بھی سوچ لیا کرو۔
    فاطمہ کا بس نہیں تھا کہ اسکی پٹائی کردے۔ وہ یونہی اسے دیکھتی رہی پھر جیسے بحث کو فضول جان کر ریلنگ پر بازو ٹکا کر سر رکھ لیا۔
    فاطمہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر رخ دوبار ہنگن دریا کی جانب کر دیا۔ ساکت پڑے دریا پر چمکتے چاند کا عکس منعکس ہورہا تھا۔
    مجھے الف کا مسلئہ سمجھ آرہا ہے۔ کوریا ہمارے لیئے ایسا ہی ہے جیسے ہم یہ دریا ہوں اور کوریا چاند۔ جب تک رات ہے ہم اس عکس کو سمو ئے ہیں۔ صبح ہونے پر تو چاند نےغائب ہو ہی جانا ہے۔ مگر صبح ہونے تک تو چاند اس دریا میں تیرتا نظر آتا رہے گا نا۔میری امی بلا بلا کے تھک گئیں۔میرا دل نہیں چاہتا واپس جا کر اسی سیٹ اپ کا حصہ بننے کاالف بھی نہیں واپس جانا چاہتی ہوگی۔
    یہاں آکر یہ رہن سہن دیکھ کر واپس جانے کا سوچو تو خوف سا آتا ہے۔
    وہ اپنی تمام تر غیر سنجیدگی بالائے طاق رکھ کر بول رہی تھی۔
    واعظہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ملگجی روشنی میں اسکی گوری رنگت دمک رہی تھی۔ اپنے خوف بتا کراسکا دل ہلکا ہوا تھا وہ یقینا پرسکون ہوئی تھی۔ جو اسکے چہرے پر جھلکا بھی تھا۔
    چاہنے نا چاہنے کے فیصلے کے بیچ ڈولتی فاطمہ کا انداز سنجیدہ ضرور تھا مگر بے چینی بے تابی خود سے مستقل جنگ کی کیفیت میں مبتلا نہیں تھی وہ۔
    مگر الف تو۔۔۔ وہ دوبارہ مراقبے میں چلی گئ۔
    تمہیں میں پاگل۔لگتی ہوں نا ذرا سا کوریا نہ چھوڑنا پڑے تو شادی تک کر ڈالی مگر یار فاطمہ از ان ہر ونڈر لینڈ وہ یہاں رہنا چاہتی ہے ہر قیمت پر۔۔ ورنہ بہتر ہے مر جائوں۔۔ ہزار دو ہزار وون اور پورا مہینہ گزارا کرنا ہے۔۔ مجھ پر مایوسی طاری ہو رہی ہے واعظہ۔ دل کر رہا ہے کود جائوں۔۔ اس نے مڑ کر باقائدہ واعظہ کے تاثرات ملاحظہ کرنے چاہے پر
    اس کی لن ترانی پر بھی واعظہ نے سر نہ اٹھایا ۔۔ مایوس ہو کر وہ واپس ریلنگ کی جانب متوجہ ہوگئ
    زندگی نے بہت مایوسیاں دی ہیں پھر بھی۔۔
    فاطمہ نے ریلینگ پر ایک قدم چڑھ کر جھک کر نیچے دیکھا
    یہاں سے کودنے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ فاطمہ مت مرو کیا پتہ تمہارے پاس ڈھیروں ڈھیر پیسہ یکا یک آجائے۔ اسکی آنکھوں میں چمک آگئ۔۔
    ہم مسلمانوں کو مایوس ہونے کیلئے ایک ناکامی کافی ہے اور امید باندھنے کیلئے یہ ایک ہزار وون کا لاٹری ٹکٹ۔
    اس نے پرس سے لاٹری کا ٹکٹ نکال کر اسٹریٹ لائٹس کی ملگجی روشنی میں خوب غو رسے دیکھنا چاہا۔
    یار یہ وہی پل ہے نا جہاں سے کنگ چل ( ڈبلیو ٹو ورلڈ کا مرکزی کردار) نے چھلانگ مارنی چاہی تھی۔
    اس نے نہیں اسکے مصنف نے اس سے چھلانگ مروانی چاہی تھی مگر وہ ایک ہاتھ پر لٹک کر گرنے سے بچ گیا تھا
    ۔واعظہ ریلنگ سے سر ٹکائے ٹکائے بنا اسکی۔جانب دیکھے بولی۔
    اور میں گرنے لگی تو؟
    فاطمہ کو سچ مچ یہی خدشہ لاحق ہوا جبھی جھٹ اتر آئی
    میں بے رحم رائٹر ہوں مار دوں گئ۔
    واعظہ کا انداز ہنوز تھا فاطمہ چڑ کر پاس آئی اور سر پر چمٹ جما دی
    میں نے کیا بگاڑاہے تمہارا۔سوائے پیسے کے اور کوئی مسلئہ دیا تمہیں۔ اور پیسہ بھی آنے والا ہے۔آج یہ لاٹری کا ٹکٹ لیا ہے دیکھنا میرا ضرور نکلے گا کیونکہ زندگی میں پہلی بار لیا ہے دیکھنا۔
    وہ اترااترا کر لہرا رہی تھی
    اسکی چمٹ پر جھٹکے سے سر اٹھا کے گھورتی واعظہ کو اسکا لہراتا ٹکٹ مزید غصہ دلا گیا۔ چیخ ہی پڑی
    وہ جو پورے مہینے کی ساری تنخواہ کھاوا کو تھمانے کے بعد جو کچھ پیسے بچے بھی اسکا تم نے لاٹری ٹکٹ لے لیا ؟
    تمہارا دماغ وماغ ٹھکانے پر ہے کہ نہیں۔
    بالکل ٹھکانے پر ہے۔ فاطمہ بھی ڈپٹ کر بولی
    اتنے سے پیسوں سے اور کیا بھی کیا جاسکتا تھا۔ اس لاٹری ٹکٹ سے کم از کم یہی امید تو ہے کہ شائد نکل آئے او رمیں ایک دم مالا مال ہوجائوں۔
    فاطمہ ترنگ میں تھی۔ واعظہ ناک چڑھا کر بولی
    مس فاطمہ شیخ چلی آپکے انڈوں کی ٹوکری ہنگن دریا برد ہوگئ ہے۔ اس سے بہتر تھا تم کنوینیس اسٹو رمیں پارٹ ٹائم کر لیتیں کم از کم مہینے کے آخر میں ایکسپائر فوڈ ہی مل جاتی ۔
    فاطمہ کے شوخی بھرے غبارے بنے منہ سے سب ہوا نکلتی گئ۔اتر ہی گیا چہرہ
    واعظہ یار کیا کروں ۔ قسم سے سیہون کی شکل دیکھنے کی ہمت نہیں ہے۔ اتنا اکڑ کر کہا تھا کہ میں پیسے ادا کروں گی رہنے کے کھانے پینے کے۔ مگر کچھ نہ بچا میرے پاس۔
    وہ رو دینے کو تھئ۔
    کچھ بھی مت کرو سیہون بہت با مروت لڑکا ہے پلٹ کر پوچھے گا بھئ نہیں تم سے پیسوں کے بارے میں۔
    اس نے تسلی دی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیہون کی شکل دیکھتے اس نے بمشکل تھوک سا نگلا۔
    کائونٹر پر اسکے لئے کافی بنا کر رکھتا سیہون ہمہ تن گوش تھا
    کیا ہوا؟ آج پے ڈے تھا نا تمہارا؟ اس لیئے پوچھ رہا ہوں کل گروسری شاپنگ پر چلیں پھر؟ ٹوٹل برابر بانٹ لیں گے۔ یہی صحیح رہے گا۔
    اس نے کافی کا مگ اٹھا کر بڑا سا گھونٹ بھر لیا۔ منہ جل بھن گیا۔ اس نے نگل بھی لیا اندر تک آگ لگ گئ کھانسی نے بھرم رکھ لیا۔
    آرام سے۔۔۔ کین چھنا۔ اس سے ذیادہ گھبرا کر فریج سے پانی نکال کر دینے لگا۔۔ وہ غٹا غٹ دو گلاس چڑھا گئ۔
    دے۔۔۔
    ہاں کل چلیں گے میں کل جلدی واپس آجائوں گی۔
    اسے یہی جواب سوجھا۔۔
    ٹھیک ہے۔ میں اب سونے چلتا ہوں چھائے چھا۔
    سیہون بھئ شائد تھکا ہوا تھا اپنا مگ اٹھا کمرے کی۔جانب بڑھ گیا۔
    جھوٹی سیہون بامروت لڑکا ہے؟ کوئی نہیں ایک۔نمبر کا شیخ ہے مانگ رہا ہے پیسے اب کل مجھے پیسے دو تاکہ میں اسکے ساتھ جا کر گروسرئ شاپنگ کر سکوں۔
    اس نے واعظہ کو وائس میسج ہی کیا تھا۔۔ پھر گھور کر کپ کو دیکھا
    اس کڑوی زہر ایکسپریسو کے پیسے بھی دوں جو مفت بھی پینے لائق نہیں ہونہہ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ای جی کے ساتھ جیسے ہی میک اپ روم سے باہر نکلی جانے کہاں سے جن بھوت کی طرح فاطمہ نازل ہوئی اسے بازو سے کھینچ کر میک اپ روم میں دھکا دیا اور دروازہ بند بھی کر لیا۔ سہج سہج کرچلتی واعظہ سے باتیں کرتی ای جی کو کوریڈیور کے آخر تک پتہ ہی نہ چلا کہ اسکی مینیجر غائب ہوچکی ہے
    تمہیں لگتا ہے تم میرا فون نہیں اٹھائوگئ تو میں پیسے مانگنے سے باز آجائوں گی۔میڈم مجھے دنیا میں کسی سے بھی پیسے مانگتے شرم آسکتی ہےسوائے تمہارے۔ شرافت سے گروسری شاپنگ کیلئے مجھے معقول رقم فراہم کرو۔
    وہ اسے دروازے کے پیچھے دیوار سے لگائے اسکے چہرے پر وہ انگلی اٹھا کر وارننگ ایسے دے رہی تھی جیسے انگلی نہیں چھری تھام رکھی ہو
    فون۔ واعظہ چونکی۔
    فون کہاں چھوڑا ہوا ہے میں نے۔
    اس نے متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا تو صوفے کے پاس دیوار کے ساتھ لگے ساکٹ میں اسکا چارجر لگا ہوا تھا
    اف۔ ایک یہ۔لڑکی موبائل ایسی چیز ہے بھلا کہ بندہ کہیں رکھ کر بھول جائے
    فاطمہ سر پیٹ کر رہ گئ
    واعظہ اپنے کندھے سے لٹکتا بیگ اسے تھما کر فون کی۔جانب لپکی۔ شکرہے چارج ہوا تھا ورنہ کچھ بعید نہیں تھا کہ سوئچ بھی آن کرنا بھول جاتی۔
    فاطمہ نے اسکے بیگ سے والٹ نکال کر دیکھا تو کیش نام کو نہیں تھا۔
    اس نے اسکا کارڈ اسکے سر پر بجایا تو واعظہ اس سے معزرت کرتے ہوئے الیکٹرانک منتقلی کرنے لگی۔
    اسکو رقم بھیجنے کے بعد اسکا اکائونٹ خالی ہو چکا تھا۔ فاطمہ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی
    کہاں گئ تمہاری تنخواہ؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔ واعظہ مسکرا دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔۔۔۔

  • Desi Kimchi Episode 53

    53
    باہر نکلتے فاطمہ ہنستے ہنستے دہری سی ہوگئ تھئ۔ کھاوا تھوڑا کھسیایا ہوا سر کھجا رہا تھا۔
    اف خدایا۔ ایک تو شراب وہ بھی ایو۔۔۔۔ اسے سوچ کے گھن آرہی تھئ۔
    بہت اچھا ہوا اس عبداللہ کے ساتھ۔ اس دن سور کھا رہا تھا کھڑا ہوا۔ جب سور جیسی غلیظ چیز کھائے گا تو کسی دن اسے اس سے بھی ذیادہ گندبلا کھانے کو مل گیا نا۔
    فاطمہ کو مزا آیا تھا اسکی درگت بننے کا سوچ کے۔
    میرے منہ میں گند بلا ہوتاہے۔۔ کھاوا نے مصنوعی خفگی جتائی۔۔
    بس رال ہوگئ جو میرے منہ میں سے نکلی ہوگی میں نے کون سا کھنکھار کر بلغم۔۔۔
    وہ شرارت میں کہتا حد سے بڑھنے کو تھا۔ فاطمہ نے دانت پیس کر ٹوکا۔
    بس بس۔ اب مجھے الٹی مت دلائو۔پہلے ہی دو چارنوالے ہی ذہر مار کیئے ہیں۔ باہر آجائیں گے۔ جانے لوگ بنا گوشت کھائے سبزیوں پر زندہ کیسے رہ لیتے ہیں۔ اتنےمصالحے ڈال کر بھی سبزئ سبزی ہی رہی چکن نہ بن سکی ۔۔۔
    کھاوا کے ساتھ چلتے وہ باآواز بلند اپنی رائے کا اظہار کر رہی تھی۔
    پسند اپنی اپنی۔ اب مجھے گوشت سے ذیادہ سبزیاں پسند ہیں وہ بھئ ابلی کم مصالحے والی۔ جب گھر میں مرغی وغیرہ بنتی تھی تو میں اتنے برے منہ بناتا تھا اماں گردن سے دبوچ لیتی تھیں اور زبردستی کھلاتی تھیں۔ کہتئ تھیں میں ناشکرا ہوں جو مرغی پکنے پر کریلےمانگتا ہوں۔ مجھے کریلے بہت پسند ہیں۔ اسکی ہلکی سی کڑواہٹ ۔۔۔۔
    بولتے بولتے اسے احساس ہوا تو زبان دانتوں تلے دبا گیا۔
    میں بھی کیا فالتو باتیں لیکر بیٹھ گیا۔
    فاطمہ نے اسکی خفت زدہ شکل دیکھی تو ہنس دی۔
    بیٹھے تو خیر نہیں ہو چل رہے ہو وہ بھی آہستہ اتنا کہ گیارہ بجے والی جو آخری بس ہے وہ اسٹاپ سے نکل جائے گئ ہمارے پہنچنے تک۔۔۔ اس نے سامنے نظر آتے بس اسٹاپ کے کیبن کو دیکھتے ہوئے اسکی سست روی کو جتایا۔
    آئیم سوری۔ وہ شرمندہ سا ہوگیا۔
    آپ چلیئے میں اگر نہ پہنچ سکا تو ٹیکسی کرلوں گا آپ میری وجہ سے لیٹ نہ ہو جائیں۔
    وہ سہولت سے کہہ کر ایک جانب ہوگیا۔ فاطمہ نے حیرت سے اسکی شکل دیکھی۔۔۔ بجائے اپنی رفتار بڑھانے کے ۔۔ تبھئ پاس سے گزرتی بس کے ہارن نے اسے چونکا دیا۔
    یہ اسکی مطلوبہ بس تھی اور سامنے اسٹاپ تھا وہ اگر بھاگتی تو آرام سے پہنچ سکتی تھی۔
    اوکے پھر کل ملاقات ہوتی ہے خدا حافظ۔۔ وہ جلدی سے کہتی بھاگ اٹھئ۔۔
    بلیک لانگ خوب گھیر والی اسکرٹ پر پرنٹڈ گلابی پھولوں والا بلائوز گلے میں پرنٹڈ اسکارف ڈالے بے فکر سی فاطمہ کی کندھوں سے تھوڑا نیچے آتے گھنگھریالے بھورے بالوں کی اونچی سی پونی اسکے بھاگنے سے پنڈولم کی طرح جھول رہی تھی۔ لاپروا سی اپنے آپ میں مگن اس لڑکی نے بھاگتے ہوئے تیزی سے اپنی بس پکڑ لی تھی او رلمحوں میں منظر سے اوجھل ہوگئ تھئ۔ بنا سوچے کہ پیچھے رہ جانے والے کی کیا مجبوری رہی ہوگئ ۔
    اس نے سوچا پھر خود پر ہنس دیا۔
    آگے بڑھنے والے پیچھے رہ جانے والوں کو کہاں مڑ کر دیکھا کرتے ہیں۔اسے اپنی یاسیت پر بے طرح غصہ آیا۔ اسے غصہ آیا تھا کہ وہ زندگی کی شاہراہ پر دوڑتے بھاگتے لوگوں سے وہ کئی قدم پیچھے رہ گیا تھا۔ یا غصہ آجانے کی وجہ سے ۔۔۔۔
    پاس سے گزرتی ٹیکسی کو اس نے ہاتھ دے کر روک دیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    الف منہ تک کمفرٹرتانے جانے سو رہی تھی یا بنی ہوئی تھی۔
    عروج اور عزہ مگر پوری احتیاط کرتے ہوئے کمرے میں کم سے کم آہٹ کرتے ہوئے اپنے اپنے معمول کے مطابق کام نپٹا رہئ تھیں۔
    تمہیں صبح جانا ہےنا ؟ عروج نے عزہ سے سرگوشی میں ہی پوچھا تھا۔۔ اپنے بیڈ پر کمبل تکیہ درست کرتی عزہ نے نفی میں سر ہلایا۔
    کیوں؟ عروج کا انداز ہنوز تھا ہاتھوں میں لوشن ملتے ہوئے وہ عزہ سے پوچھ رہی تھی۔ سنگھار میز کے قریب کھڑی عروج اور بیڈ پر چڑھی بیٹھی عزہ کے بیچ فاصلہ پیغام رسانی میں اہم رکاوٹ تھا۔
    صبح اتوار ہے۔۔۔۔
    عزہ نے بنا آواز نکالے بتانا چاہا۔
    کیا؟ عروج نے بھنوئیں اچکائیں۔
    اتواااااار ہے۔ عزہ نے اس بار خوب منہ کھول کھول کر بتایا مگر بنا آواز۔
    کیا؟
    اتوااااااار۔۔۔۔۔
    کیا کہہ رہی ہو؟؟؟؟ عروج جھلا کر تھوڑا زور سے بول گئ۔
    سشس۔ شسس۔ ممم۔۔۔۔۔
    کمفرٹر میں سوئی شیرنی کی جانب اشارہ کرتی عزہ نے دنیا جہان کی مسکینیت چہرے پر طاری کرکے جان کی امان مانگی تھی۔
    عروج ہونہہ کرکے رخ موڑ گئ۔ عزہ نے ماتھا پیٹا پھر کمرے میں دیوار پر لگا کیلنڈر اٹھا کر اسکے پاس چلی آئی۔
    مل مل کر لوشن لگاتے ہوا۔اس نے مڑ کر دیکھا تو عزہ کیلینڈرہاتھ میں پکڑے اتوار 4 جولائی پر انگلی رکھ کر اسے دکھا رہی تھئ۔
    یہ کیا ہے؟
    عروج کیلنڈر دیکھ کر حیران رہ گئی۔
    عزہ نے دانت پیسے۔
    چہ۔۔ اتوارہےکل18جولائی اتوار کا دن اب سمجھ آئی۔۔
    ساری احتیاطیں بھول بھال وہ زور سے بول پڑی۔
    تم دونوں نے لیٹ نائٹ بک بک کرنی تو کمرے سے باہر جا کرکرو
    کمبل میں سے شیرنی نے منہ نکال کر دھاڑ کر کہاتھا۔
    اسکی تو۔عروج سنگھار میز سے ہئیر برش اٹھا کر اسے مارنے دوڑنے لگی کہ عزہ نے روک دیا۔
    سشسس۔ صبر کرو بہن بڑا اجر ہے صبر کا۔
    عزہ اپنی طرف سے تو پکا سا منہ بنا کر بولی مگر عروج قطعی متاثر نہ ہوئی۔ گھور کر دیکھتے اس سے کیلنڈر چھین لیا۔۔
    یہ کیا کیا ہے اسکے ساتھ؟ وہ عزہ سے پوچھ رہی تھی ۔۔
    یار یہ میں نشان لگاتی ہوں جب جب کوئی چھٹی کرتی ہوں تاکہ کلاسز کا اندازہ لگاسکوں۔
    عزہ صفائی دینے والے انداز میں بولی۔۔
    تم نے اتنی چھٹیاں کی ہیں؟ عروج نے کیلنڈر لہرایا جو سرخ سرخ نشانوں سے بھرا ہوا تھا۔۔
    عزہ ناسمجھنے والے انداز میں دیکھے گئ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اتنے دنوں کے بعد وہ فلیٹ واپس آئی تھی چند لمحے کھڑی دروازے کو ہی گھورتی رہی ۔۔
    اندر جانے کا ارادہ نہیں ہے؟ سیہون اسکے پیچھے سے آکر بولا تو وہ چونک گئ۔
    آننیانگ کیسے ہو؟ اس نے کرٹسی نبھانی چاہی۔
    آننیانگ۔ جوابا اس نے مروتا بھئ اسکا احوال نہ پوچھا بلکہ اطمینان سے آگے بڑھ کر دروازہ انلاک کرتا ہوا اسکے اندر آنے کیلئے دروازہ کھلا چھوڑتا آگے بڑھ گیا۔
    لڑ کر معزرت کرکے جانے کے بعد اب اگر غصہ دکھا رہا ہے تو میری جوتئ سے۔
    اس نے یہی سوچ کر دانت پیسے پھرگہری سانس لیکر اندر آگئ۔ سیہون نے حسب عادت گھر کی لابی میں لگے شو ریک میں جوتے اتار کر سلیپر پہنے ہاتھوں میں وہ دو بڑے بڑے شاپر پکڑے تھا۔ اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر اپنے سینڈلز اتارنے لگی۔ اسکی چپلیں یہاں نہیں تھیں سو اندر ننگے پائوں ہی داخل ہونا پڑا۔ بائیں ہاتھ سے سینڈلز تھامے خراماں خراماں چلتی کچن کائونٹر پر سامان رکھتے سیہون نے خاصی حیرت سے اسکے ننگے پائوں کو دیکھا تھا مگر بولا نہیں۔
    کچھ کھائو گئ؟ وہ حسب عادت پوچھ رہا تھا۔
    آندے۔ وہ کہتی اپنے کمرے میں گھس گئ۔ دو منٹ میں الٹے پائوں واپسئ ہوئئ
    کیا لائے ہو۔ ؟۔۔
    انداز سرسری تھا۔ سیہون فریج کھول کر چیزیں رکھ رہا تھا اسے دیکھ کرچیزیں رکھنے کی بجائے اندر سے دودھ کا پیکٹ نکال کر فریج بند کردیا۔۔
    مکس سبزی چیز سینڈوچ ۔ اس نے جو چیز پہلے ہاتھ لگی نکال لی۔
    سیہون خاموشی سے کافی بنانے لگا۔
    میرے۔۔۔ فاطمہ نے کہنا چاہا مگر اسکے کافی میکر کے پاس رکھے دو کپ دیکھ کر چپ کرگئ۔
    فریج میں سب کچھ ویسے کا ویسے ہی رکھا ہے گھر بھی دھول سے اٹا ہوا ہے تم دو ہفتے میں ایک دفعہ بھی فلیٹ نہیں آئیں؟
    سیہون کا انداز شکایتی نہیں حیران ہونے والا تھا
    سلیب پر انگلی پھیر کر دھول چیک کرتا وہ حیرانئ سے پوچھ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے سینڈوچ چباتی رہی۔
    مجھے اکیلے اس گھر میں ڈر لگتا ہے۔
    خاصا مشکل اعتراف تھا مگر وہ سینڈوچ نگلتے ہوئے کر گئ۔
    کس سے؟ اس عمارت کی سیکیورٹی بہترین ہے۔ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ کوئی غیر متعلقہ شخص یہاں داخل ہونہیں سکتا۔ سیہون حیران ہوا۔
    انسانوں سے کون ڈرتا ہے۔
    فاطمہ نے منہ بنایا۔
    پھر کس سے ڈر لگتا ہے۔۔ سیہون الٹا پوچھنے لگا۔
    ہر چیز سے یہ فریج جادوئی الماری لگنے لگتا ہے صوفے پر نادیدہ مخلوق بیٹھی نظر آتی ہے تو کبھی کوئی ادھر ادھر چلتا دکھائی دیتا ہے۔خاص کر جب آپکو پتہ ہو کہ آپ اکیلے ہیں فلیٹ میں اور کسی بھی قسم کی باہر سے آواز نہیں آسکتی تو گھرمیں پھربھئ کوئی آہٹ ہو تو۔۔۔
    اس نے جھرجھری سئ لی۔
    تبھی کافی میکر نے کافی بن جانے کے اعلان کے طور پر ہلکی سی گھنٹی بجائی۔ سیہون چونکا اور ہنس پڑا۔
    نا کرو تم اور ڈرپوک بلی ۔۔۔ وہ ہنسے جا رہا تھا۔
    مطلب حد ہے۔ وہ محظوظ انداز میں ہنس رہا تھا۔۔ کافئ نکال کر لا کر اسکے سامنے رکھی تو فاطمہ اسے گھور رہی تھی۔
    گھورو نہیں۔ مجھے ویسے ہی حیرت ہوئی کہ تم یوں بچوں کی طرح اکیلے رہنے سے ڈرتی ہو جبکہ ۔۔۔
    اس نے دانستہ اسے دیکھتے جملہ ادھورا چھوڑا۔
    مجھے اکیلے رہنے کی عادت نہیں ہے۔ کبھی اکیلے رہی ہی نہیں ہوں میں۔ فاطمہ نے چڑ کر کہا۔
    دبئئ میں بوائے فرینڈ کے ساتھ رہتی تھیں؟
    اس نے یونہی برسبیل تذکرہ ہی پوچھا تھا۔ فاطمہ چپ رہ گئ۔
    سیہون نے چند لمحے انتظار کیا۔۔ وہ اپنے لیئے کمباپ لایا تھا۔سو نکال کر سکون سے کھانے لگا۔
    واعظہ بتا رہی تھی تمہیں جاب مل گئ ہے۔ مبارک ہو۔
    سیہون کو یاد آیا۔ وہ چپ ہی رہی۔
    کھاوا کو آدھی تنخواہ دینے کے بعد اپنے خرچے نکالنے پر کیا اس کے پاس کچھ بچے گا جو وہ سیہون کو اپنے اخراجات کی مد میں دے سکے گی۔ کہا تو خوب اکڑ کر تھا کہ اپنا خرچہ خود اٹھائوں گئ۔
    اسکے ارد گرد حساب کتاب کے ڈھیر لگ گئے۔ ہوا میں اپنی تنخواہ سے اخراجات نکالتے وہ میتھ میں بری طرح فیل ہوئی تھی۔
    فرئ لوڈر۔ سیہون کا فلیٹ اسکے پیسوں کا سینڈوچ یہ دوسرا آدھا تھا اٹک ہی گیا۔ اسی سے بنوا کر پی جانے والی کافی۔
    مطلب خسارے میں تھی وہ بری طرح۔اور یہ سیہون کب تک واعظہ کے ساتھ مروت نبھائے گا۔ پھر اس نے بھی تو کچھ سوچ رکھا ہوگا آگے کیا کرنا۔اس نے شادی کرنی ہوگی یا پھرملٹرئ۔۔۔اسکا دل دھک سے رہ گیا۔
    بات سنو تم پر بھی ملٹری لازم ہے نا؟
    اس نے ایکدم سے پوچھا تھا سیہون چونک کر شکل دیکھنے لگا۔
    میرا مطلب ہے تم۔۔ وہ۔۔
    وہ سٹپٹا سی گئ۔
    ہاں ۔۔ سیہون نے کافی کا گھونٹ بھرا۔
    ملٹری ان لسٹمنٹ میں میرا نام تیس سال کی عمر تک آئے گا اس پہلے میں جانا چاہوں گا تب مجھے خود رابطہ کرکے انلسٹ کروانا پڑے گا خود کو۔ابھی ستائیس سال کا ہوں میں۔
    اس نے تفصیلا جواب دئا۔
    چھبیس۔فاطمہ نے درستگی کی۔
    تم کورین اخیر عجیب ہو ۔۔دنیا کا بس چلے اپنی عمر کے دو چار سال کھا کر کم بتائیں تم لوگ ایک سال خود شامل کر لیتےہو ۔۔۔ہم پاکستانی آرام سے تین چار سال کھا کر بتاتے اپنی عمر کے۔ ۔ اس نے برا سا منہ بنا کر کہا۔ سیہون مسکرا دیا
    تم کتنے سال کی ہو۔۔
    اکیس۔ وہ بے ساختہ بولی۔
    کتنےسال کم کرکے بتائے ؟
    وہ بھی سیہون تھا ہنس کر پوچھ رہا تھا۔
    تین۔۔۔۔۔۔ وہ جھٹ بولی مگر انگلیوں سے چار کا اشارہ کررہی تھی۔
    سیہون اسکے انداز پر کھل کر ہنسا تو وہ بھی ہنس دی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس نے یونہی موبائل رکھ کر کروٹ بدلی تو دوسائے خود پر چھکے پائےچونک کے اٹھ بیٹھی۔
    عروج اورعزہ اسکے سرہانے بیڈ پر کہنیاں ٹکائے اکڑوں بیٹھی تھیں۔
    تم دونوں کیا کر رہی ہو یہاں۔
    اس نے اٹھ کر بیڈ کے سائیڈ پر سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر بتیاں جلا دیں۔
    میں نے کہا تھا نا واعظہ کو ڈر نہیں لگتا ۔ عزہ نے مایوسی سے عروج کو دیکھا۔۔
    لے لینا میرا ڈینم عبایا۔کل کیلئے بس میری چھٹی ہے کل۔
    عروج جیسے مایوس سی ہو کر اٹھ کر ساتھ والے بیڈ پر بیٹھ گئ
    آہ۔۔ عشنا نے کسمسا کر اپنے پائوں سمیٹے جو کمبل میں عروج کے وزن تلے دب گئے تھے۔
    عزہ واعظہ کے بیڈ پر ٹک گئ۔
    میری بھی کل چھٹی ہے بی بی مجھے پرسوں چاہیئے۔
    عزہ ہاتھ نچا کر بولی۔
    اچھا لے لینا۔عروج کا انداز سرسری تھا۔
    واعظہ موبائل چارجنگ پر لگا کر آلتی پالتی مار کر بیڈ پر بیٹھی منتظر نظروں سے دونوں کو باری باری گھورنے لگی۔
    وہ یہ عروج کو اہم بات کرنئ تھی۔
    عزہ نے عروج کی جانب اشارہ کیا۔
    نہیں عزہ کو اہم بات کرنی تھی۔
    عروج سٹپٹائی۔۔
    مجھے اہم بات کرنی ہے۔ واعظہ نے ہاتھ جھاڑے۔
    دونوں ہمہ تن گوش ہوئیں۔کمبل سے منہ نکال کر عشنا بھی دیکھنے لگی اسکی شکل۔
    ابیہا کی شادی ہو رہی ہے اور اسکی ضد ہے ہم سب شامل ہوں اسکئ شادی میں۔ جو کہ ممکن نہیں سو سوچ رہی ہوں ہم ایک ورٹوئل پارٹی اسکے لیئے پلان کریں ۔۔۔
    واعظہ نے کہاتو تینوں نے جیسے مایوس ہو کر سر جھکایا۔
    آ ہ۔ اچھا۔۔ عشنا نے دوبارہ کمبل منہ تک تان لیا۔
    ہاہ۔مجھے لگا تھا تم سب پرجوش ہوجائوگی میرے ساتھ مدد کروائوگی پارٹی کی تیاری میں اور۔۔
    واعظہ کو خاصی حیرت ہوئی۔۔
    ہاں کروا دیں گے۔عروج نے کندھے پر سے مکھی اڑائی جیسے۔
    ابھی اہم معاملہ درپیش ہے۔۔۔ اس نے پراسرار انداز اپنایا۔۔۔۔۔
    مجھے امریکی ادارے میں اسکالر شپ مل گئ ہے۔
    عروج کا انداز اتنا پھسپھسا تھا کہ عزہ اور واعظہ دونوں نے اظہار افسوس کر ڈالا۔۔
    اوہو کوئی بات نہیں امریکہ کا ویسے بھی مقابلہ سخت ہوتا ہے۔ عزہ نے کندھا تھپکا۔
    ہاں اداس نہ ہو چھے مہینے بعد دوبارہ کوشش کرلینا۔
    واعظہ نے بھئ دلگیری سے کہا تھا۔
    مبارک ہو۔ کمبل سے منہ نکال کر عشنا نے کہا۔
    شکریہ بہن۔۔۔عروج شکرگزار ہوئی۔ پھر ان دونوں کو دیکھ کر دانت پیس کر بولی
    مجھے اسکالر شپ مل گئ ہے۔
    کیا واقعی؟ دونوں اچھل پڑیں۔
    مبارک ہویار یہ تو خوشی کی بات ہے۔۔ واعظہ بے ساختہ بولی
    ٹریٹ دو۔۔ عزہ چلائی۔
    ایک مسلئہ ہے۔۔۔عروج نے ہونٹ کاٹے۔۔اور وہ ٹیپ سے جڑاخط واعظہ کیجانب بڑھا دیا۔۔
    واعظہ نے خط پڑھ کر الجھن بھرے انداز میں اسکی شکل دیکھی۔۔
    یہ تو کسی دعا کے نام کی اسکالر شپ ہے۔۔۔۔
    عروج نے گہری سانس لی۔۔۔۔پھر دھیرے سے سب قصہ کہہ سنایا۔۔
    تم پاگل تو نہیں ہو۔۔عزہ نے سر پیٹ لیا۔
    دعا تمہاری پھپو کی بیٹی ہے جو اسکے الٹے سیدھے الزامات پر ایسے دل برا کر رہی ہو۔ جو مرضی آئے سمجھتئ پھرے تمہاری صحت پر کیا اثر؟
    دعا سیونگ رو کو پسند کرتی ہے۔۔ عروج منمنائی۔
    مجھے گلٹ ہورہا۔قسم سے بہت اچھی طبیعت کی لڑکی ہے مجھ سے کہیں پیاری۔ سیونگ رو کو پسند آجاتی جب میں بیچ سے نکل ہی گئ ہوں تو۔مگروہ بے وقوف لڑکی اپنا اصلی لیٹر یوں ڈسٹ بن میں پھینک کر چلی گئ میری وجہ سے۔۔
    اس کے منمناتے انداز پر عزہ کو غصہ آگیا۔
    حد ہے تم کیوں افسوس کر رہی ہو۔ عجیب احمق ہے وہ۔اگر اتنی کوشش کرکے اسکو سیونگ رو کے ساتھ اسپیشلائزیشن کرنے کا موقع مل رہا تھا تو اسے کیا ضرورت تھی تم سے جل بھن کر اپنا نقصان کرنے کی۔
    کورین ڈرامے نہیں دیکھتی دعا کیا۔۔۔ کمبل سے عشنا بھی برآمد ہوئی
    کیسے سائئڈ ہیروئینیں ہیرو کو پٹانے کیلئے ہرقسم کی چیپ ٹیکٹس اپناتی ہیں لیس ہو جاتی ہیں ہیروئن کی ناک سے لکیریں نکلوا دیتئ ہیں اتنا عاجز کرتی ہیں اسے یہ احمق دعآ خود ہی پیچھے ہٹ گئ۔۔
    تو وہ ڈرامہ ہوتا ہے اصل تھوڑی۔ اتنئ پڑھی لکھی سمجھدار لڑکی ہے اسکی بھئ انا ہوگی۔ اپنئ عزت اسے پیاری ہے جبھی تو بجائے لڑنے کے عزت سے سائیڈ میں ہوگئ۔۔
    عزہ نے اختلاف کیا۔ عروج مزید سر جھکا گئ۔
    میرا مطلب ہے۔۔ عزہ بول کے ہچھتائئ۔
    دیکھو محبت و جنگ میں سب جائز ہوتا ہے اگر وہ یہ سمجھ بھی رہی ہے کہ عروج اور سیونگ رو کپل ہیں تو بھی جب اسے موقع مل رہا ہے ان کے ساتھ رہ کر انکی ناک میں دم کرنے کا تو اسے ساتھ جا کر انکے بیچ میں آکر قسمت آزمانی چاہیئے۔۔
    عشنا اپنی بات پر قائم تھی۔ عزہ جھلائی۔
    یہ تم نہیں تمہارے اسٹار پلس والے سیریلز بول رہے۔ وہ کونسا حقیقئ زندگئ دکھا رہے ہوتے تھے۔۔
    کچھ نہ کچھ حقیقت ہوتئ ہے ڈراموں میں بھی ایسے تھوڑی کرتا کوئی دعا کی طرح ۔۔۔۔۔۔تم بھئ تو کچھ بولو واعظہ۔۔
    عشنا نے واعظہ سے اپنے موقف کی تائید چاہی۔
    خاموشی سے انکی بحث سنتی کیلنڈر پر غور کرتی واعظہ چونکی ۔ انکو کیلنڈر دکھا کر پوچھنے لگی۔
    یہ کیلنڈر کو نشان کس وجہ سے لگا رکھے ہیں ؟؟؟؟۔
    یہ میں لائی تھئ۔۔عزہ نے مسمسئ سی شکل بنائی۔ ہمارے کمرے کا کیلنڈر ہے۔
    جب چھٹی کرتی تھی نشان لگاتی تھئ نیچے سبجیکٹ بھی لکھتی تھئ۔۔ اوراب اس پر روز نشان لگتے لگتے پورا کیلنڈر برباد ہوگیا ہے ۔اس پر میری سب کلاسز کی تفصیل بک مارک تھئ اب مجھے یاد ہی نہیں مین نے کس سبجیکٹ کئ کتنی کلاسز مس کی ہیں۔۔۔ کس نے کی یہ حرکت۔۔
    عزہ رو دینے کو تھی۔
    واعظہ نے سوالیہ نگاہ سے عروج کو دیکھا وہ زور و شور سے سر نفی میں ہلانے لگی۔۔
    میں نے نہیں کیا یہ کام۔۔
    جس نے بھئ کیا اس نے میرے ساتھ زیادتی کر دی ہے اب میں ایک چھٹی بھی نہیں کرسکتی جانے کس سبجیکٹ کی آخری چھٹی خرچ ہوجائے۔ عزہ روہانسی ہوگئ۔
    اتنی چھٹیاں کرنی کیوں ہیں تمہیں۔۔واعظہ نے کیلنڈر اسکے سر پر بجایا۔
    پھر بھئ کس نے کی یہ حرکت۔ عزہ بلبلااٹھی۔
    تمہارے کمرے میں تم دونوں سوا ہے ہی کون اب نور تو پاکستان جا چکی لے دے کے الف ہے اسی نے کیا ہوگا۔
    واعظہ نے کہا تو عزہ اچھلی۔
    یہ دیکھو بائیس جولائی پر بھی نشان لگا ہوا ہے۔۔ یعنی بائیس جولائی تک ایک ایک دن گن رہی ہے۔الف مگر کیوں؟؟؟؟؟
    اسکے سوالیہ انداز پر باقی تینوں بھی چونک کر دیکھنے لگی تھیں اسے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بس کچھ دن کی بات ہے اسکے بعد وہ ہمیشہ کیلئے کھو جائے گا۔۔ پھر یہ سب اتنا مشکل نہیں لگے گا۔۔
    الف نے گہری سانس لیکر ژیہانگ کی تصویر کو سوائپ کیا۔ گیلری سے آخری تصویر بھی ڈیلیٹ کر کے موبائل ایک جانب رکھ دیا۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہاں رہ گئے۔ ۔۔ بچوں کو سلا کر وہ جلے پیر کی بلی کی طرح فلیٹ میں چکر لگا رہی تھی۔چلتے چلتےچکر آبھی گیا۔
    رات کے بارہ بج رہے تھےاس نے کھانا بھی انتظار میں نہیں کھایا تھا۔
    اس نے کچن کائونٹر کا سہارا لیا وہیں اسٹول کھینچ کر بیٹھ گئ۔
    بھوک نے برا حال کردیا تھا۔ ذرا سا ذہن قابو میں آیا تو فورا اٹھ کر سالن روٹی نکال کر کھانے بیٹھ گئ۔۔۔
    اتنی پریشان طبیعت ہونے کی وجہ سے نا کھانا ڈھنگ سے کھا رہی تھی نہ ڈاکٹر کے بتائے سپلیمنٹس لیئے تھے۔
    مجھے دلاور سے یہ بات چھپانا نہیں چاہیئے ۔۔۔
    کھانا کھاتے کھاتے ایکدم دل اچاٹ سا ہوا تو اس نے پلیٹ میں روٹی رکھ دی۔
    کیا خبر انکو اس نئی ذمہ داری کا احساس ہو جائےاور وہ باز آجائیں۔کون جانے وہ اس وقت بھی کس کے پاس کہاں ہیں۔۔
    خیال تھا کہ آری۔ دل لمحہ بھر کو جیسے رک سا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ اس پرانی سی عمارت کے احاطےمیں کھڑے تھے۔ارد گرد نئی طرز کی عمارتوں کے درمیان وہ خاصی خستہ حال لگ رہی تھی۔نیم اندھیرےمیں خاصی آسیب زدہ بھی۔
    رات کے دوسرےپہرمیں بھی یہاں گلی میں خاصی چہل پہل تھی۔لوگ آ جا رہے تھے۔۔ نیم سڑک پر دکانیں ٹھیلے روشنیوں سے سجے تھے۔وہ چند لمحے شش و پنج میں مبتلا رہےپھر جیسے فیصلہ کرکے اس عمارت میں داخل ہوگئے۔
    تین منزلہ اس عمارت میں ہر منزل پر دو فلیٹ تھے بس۔ انہوں نے سب نے نیچے والی منزل سے آغاز کیا۔پہلے فلیٹ کا دروازہ کافئ دیر بجانے کے باوجود نہ کھلا تو پاس والے فلیٹ سے آنکھیں ملتا نکلتا وہ ادھیڑعمر شخص بنا لحاظ ان پرچلایا۔
    کیا آفت آگئ ہے۔جب اتنا بجانے پر نہیں کھل رہا تو یقینا اندر مکین ابھی گھرنہیں پہنچے۔اتنی عقل نہیں کہ یہ اندازہ لگاسکو۔
    چھے سو ہمبندا۔
    وہ جھک کر معزرت کرنے لگے۔
    دراصل میں کسی کو ڈھونڈ رہا ہوں یہاں کیا آپ میری مدد۔
    آندے۔ اس نے بے مروتی سے کہہ کر دروازہ بند کیا۔۔
    وہ گہرا سانس لیکر اوپر کی منزل کو جاتی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔
    دوسری منزل پر وہ لڑکی اپنے فلیٹ کا دروازہ ہی کھول رہی تھی۔ان کو دیکھ کر اسکے ہاتھوں میں تیزی آگئ۔ دروازہ کھولتے ہی وہ اندر گھس گئ جھٹ بند بھئ کردیا۔۔۔۔۔ یہاں پر دوسرا فلیٹ مکمل اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ یقینا وہ اس دروازے کو بجاتے تو شائد یہی لڑکی 119 کو بلا لیتی۔
    اگلی منزل کی سیڑھیاں سامنے تھیں۔۔ اس منزل پر بھی سناٹا تھا تاہم اوپر چھت سے ہنسی قہقہوں کی آواز آرہی تھی۔وہ بجائےیہاں دروازہ کھٹکانے کے آوازوں کے تعاقب میں سیڑھیاں چڑھ گئے۔
    دس بارہ لڑکےلڑکیاں اوپر تخت بچھائے بیٹھےتاش کھیل رہے تھے ساتھ سوجو کا دور بھی چل رہا تھا ایک جانب دو لڑکے پورک کو گرل کر رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر ایکدم سب الرٹ سے ہو کر کھڑے ہوگئے۔
    انکے کہنے پر سب بدمزا سے ہو کر واپس اپنی اپنی سرگرمی میں مصروف ہونے لگے۔۔
    مجھے لگا پولیس ہے۔۔
    ایک نے پیسے پھینکتے ہوئے ہنس کر کہا۔۔
    کہہ سیکی۔ دوسرے نے گالی دینےپر ہی اکتفا کیا۔
    غیر قانونئ طور پر جوا کھیلا جا رہا تھا یہاں۔۔سب نے انکومکمل نظرانداز کیا تھا۔باتیں شور قہقہے۔۔۔۔
    وہ مایوس سے ہو کرپلٹنے لگے۔

    آہجوشی۔ گوشت تلتا ایک لڑکا اپنے ساتھی کو چمٹا تھما کر انکے پاس چلا آیا۔۔۔
    کیا ہوا کوئی مسلئہ ہے۔۔۔ چندی آنکھوں والا وہ مکمل کوریائی نقوش کا لڑکا تھا مگر انہیں وہ بہت مانوس سا لگا۔ ایسا ہی تو ہوگا وہ بھی۔۔
    آہجوشی۔۔ انہیں خود کو تکتےپا کر اس نے دوبارہ پکارا تو وہ جیسے ہوش میں آئے۔
    معاف کیجئےگا۔ میں کسی کو ڈھونڈ رہا ہوں کیا آپ اس کو جانتے ہیں کیا یہ یہاں اس عمارت میں رہائش پزید ہے؟
    انہوں نے جیب سے تصویر نکال کر اسکو دکھائی۔
    یہ۔۔ اس نے تصویر تھامی۔۔
    بمشکل سترہ اٹھارہ سال کا وہ جنوبی ایشیائی نقوش کا لڑکا تھا۔ جس نے چیک کی شرٹ پہن رکھی تھی دھیرے سے مسکراتا چمکتی روشن بڑی بڑئ آنکھیں۔۔۔
    یہ تو کوئی ہائی اسکولر لگتا ہے۔ یہاں تو ہائی اسکولر کوئی بھی نہیں رہتا سب سے اوپر والی منزل کے دونوں فلیٹ ہمارے ہیں یہ ہم دوست ہیں۔۔۔اس نے فاصلے پر بیٹھے اٹھکیلیوں میں مشغول دوستوں کی۔جانب اشارہ کیا۔۔۔ نیچے کچھ خاندان رہتے ہیں مگر میرا نہیں خیال ان میں کوئی انڈین ہے۔
    اس کو جانے انکی شکل پر چھائی مایوسی نے پگھلا دیا تھا یا وہ ویسے ہی کافئ نیک دل تھاسو تفصیل سے بتادیا۔
    نیچے تو وہ پہلے ہی دیکھ آئےتھے۔
    آپ کچھ پیئیں گے۔
    اس نے دعوت دے ڈالی۔
    نہیں۔۔ آپکا بہت شکریہ۔۔
    وہ بمشکل مسکرا کر شکریہ ادا کر پائے کانپتے ہاتھوں سے تصویر واپس جیب میں احتیاط سے رکھتے ہوئے پلٹ گئے۔۔۔ واپسی پر قدم من من بھر کے ہورہے تھے۔۔ آٹھ دس مہینوں کی پیہم تلاش کا یہ نتیجہ تھا۔۔۔۔۔ آخری منزل کی آخری سیڑھی پر وہ جیسے ڈھے سے گئے۔جیب سے تصویر نکال کر دیکھتےوہیں نیم تاریک گوشےمیں سیڑھی پر بیٹھ کر رو دیئے۔۔
    کہاں چھپ گئے ہو؟ کبھی نہیں ملوگے کیا ہمیں؟؟؟ ۔کیا ہماری یاد بھی نہیں ستاتی تمہیں کبھی۔۔۔۔۔۔ اماں بھی یاد نہیں آتیں کبھی؟؟؟؟؟۔۔۔۔
    ٹپ ٹپ کتنے ہی آنسو اس تصویر پر آن گرے تو انہوں نے گھبرا کر تصویر کو اپنی آستین سے صاف کیا۔۔
    مجھے پتہ ہے تم یہیں کہیں ہو۔۔۔ میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا یہ میرا اماں سے وعدہ ہے اسے ضرور پورا کروں گا میں۔۔
    انہوں نے ایکدم ہی اپنے آنسو پونچھے اور نئے حوصلے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
    نیم تاریک کمپائونڈ سے جس وقت ہو باہر نکل رہے تھے عین اسی وقت اسی فلیٹ کا دروازہ ایک نوجوان بھارتی گانا گنگناتے ہوئے کھول رہا تھاجس کا دروازہ بجا بجا کے وہ مایوس ہو کر جا رہے تھے۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ختم شد۔۔۔۔
    جاری ہے

  • Desi Kimchi Episode 52

    قسط 52
    تصویریں آگے پیچھے کرتے اسے جانے کتنی دیر گزر چکی تھی۔ اتنی مگن بیٹھی تصویریں دیکھ رہی تھی کہ اسے احساس بھی نہیں ہوا کہ اسے مگن بیٹھے کتنی دیر سے وہ اسکے سر پر کھڑی اسے دیکھ رہی ہے۔
    تصویریں کوئی سو ڈیڑھ سو ہوں گی۔ ختم ہوگئیں جب دوبارہ نئے سرے سے شروع کرنا چاہا تو واعظہ ٹوک بیٹھی۔
    میں نے اپنی ہی تصویریں اتنے ذوق و شوق سے حفظ کرتے کسی کو نہیں دیکھا۔
    واعظہ اطمینان سے اسکے برابر بیٹھتے بولی تو وہ بری طرح چونک سی گئ۔
    مانا پیاری آگئی ہیں مگر ایک سو دو تصویریں دوبارہ دیکھنے میں پھر کافی ٹائم لگ جائے گا سو اب پھر دیکھنے کا شوق گھر جا کر پورا کرنا۔
    واعظہ نے بات مکمل کی تو وہ جھٹ فون لاک کرکے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی کہ فارغ ہوجائو تو اکٹھے چلیں گھر۔
    جبھئ ای جی کی وین سے منہ چھپا رہی تھیں یہ سوچ کر کہ کہیں اس میں میں نا بیٹھی ہوں۔
    وہ کونسا چوکنے والی تھی جتادیا۔
    نہیں میں۔ وہ بس۔
    اس سے جواب نہ بن پڑا۔
    چلو ذرا اکٹھے ہی چلیں گھر۔۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے بہت ضرورئ
    وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ الف نے ہونٹ بھئنچ لیئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسکی ڈیوٹی آف ہونے والی تھی سو وہ آرام سے وارڈ کا چکر لگا کر اپنے کیبن میں آکر بیٹھی۔ سب سے پہلے لیپ ٹاپ آن کرکے میلز دیکھنی چاہیں۔ میل آئی ہوئی تھی۔۔۔ اس نے دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ کھولی۔
    امریکی ادارے نے اسکی درخواست منظو رکر لی تھی۔ وہ اسپیشلائزیشن اب امریکہ سے کر سکتی تھی تاہم ٹیوشن فیس میں اسے پچاس فیصد کی ہی بس رعائیت دیی گئ تھی۔ اسکے لیئے یہی بہت تھا۔
    بہت بڑی خوشی اچانک مل جائے تو کیا کرنا چاہیئے۔ اس نے ایک نظر اپنے گرد ڈالی۔ اسکا دل چاہ رہا تھا کہ ناچنا شروع کردے۔ مگر یہاں اس وقت یقینا خوشی ایسے نہیں منائی جا سکتی تھی۔
    شکر الحمداللہ ۔ اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
    اپنے ہاتھ دعا کی طرح پھیلا کر اس نے دل سے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ آنکھوں میں آنسو بھرنے لگے تھے۔ اس نے اپنی ہتھیلیوں میں چہرہ چھپا لیا۔ الحمد اللہ۔ بس یہی تکرار اسکے لبوں پر جاری تھئ۔
    تبھئ کھٹکے پر اس نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر دیکھا تو چونک کے سیدھی ہوئی۔
    ڈاکٹر دعا جانے کب خاموشی سے آکر اسکی میز کے سامنے آکھڑی ہوئئ تھی۔
    کین چھنا؟۔۔ وہ فکرمندی سے پوچھ رہی تھی۔
    دے۔ وہ ہنس دی۔ ماسک کے پیچھے سرخ ہوتی آنکھیں وہ سچ مچ خوشئ سے رو پڑی تھی
    پھر رو کیوں رہی ہو؟ اسکا انداز ہنوز تھا۔ اس نے بنا کچھ کہے لیپ ٹاپ کا رخ اسکی جانب کردیا۔ اس نے الجھن بھرے انداز میں میل پڑھی پھر اسکی شکل دیکھنے لگی۔
    مجھے اسکالر شپ مل گئ ہے میں امریکہ جارہی ہوں۔ اف میرا خوشی سے برا حال ہے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی آخری حل میرے پاس یہی تھا کہ ناروے والی اسکالر شپ لے لوں مگر اسکے لیئے جواب دینے سے پہلے یہ میل آگئ اف خدا میں بہت خوش ہوں۔
    وہ بے ربط مگر تواتر سے بول رہی تھی خوشی کے مارے تالی تک بجا لی تھی۔ اس وقت سامنے فاطمہ واعظہ وغیرہ میں سے کوئی ہوتی تو پکا وہ چمٹ چکی ہوتی اس سے مگر کورینز فاصلہ پسند کرتے ہیں۔ دعا سے اسکی اچھی سلام دعا تھی مگر وہ اس سے لپٹ نہیں سکتی تھی۔ میل پڑھتے اسکے تاثرات واضح طو رپر کڑوے ہوتے گئے۔ مسکراہٹ غائب ہوگئ
    تو تم نے بھی امریکہ ہی جانا ہے۔ اسکے جوش بھرے انداز
    کے برعکس اسکا انداز کافی سرد تھا
    ہاں شکر ہے ورنہ مجھے ناروے جانا پڑتا ۔ عروج نے ناک چڑھائی۔ میز پر سے ٹشو نکال کر وہ ماسک ہٹا کر چہرہ صاف کرنے لگی۔ کاجل ہلکا ہلکا پھیل سا گیا تھا۔
    تم پھر بھی امریکہ ہی پہنچ جاتیں۔خیر میں یہ پیشنٹ کی فائل دینے آئی تھئ۔ سر جون کو رپورٹ کردینا۔ تمہارےڈیوٹی ختم ہونے کے۔ بعد انکی ہی ذمہ داری ہوگی اس وارڈ کی۔
    وہ فائل رکھ کر مڑی ہی تھی کہ عروج نے آواز دے ڈالی
    دعا۔ کیا کھائوگی آج کی ٹریٹ میری طرف سے۔
    وہ پرخلوص انداز میں دعوت دے رہی تھی۔
    کیا کھلائوگی ؟ پورک بیلی کھلائوگی ؟
    وہ مڑ کر استہزائیہ انداز میں بولی
    ہاں کھلادوں گی۔ اس نے آرام سے کہا۔ اور چیزیں سمیٹتی اٹھنے لگئ۔
    کیوں ؟ سیونگ رو کے پیچھے لادین ہونے لگی ہو؟ مسلمان تو پورک سے دور بھاگتے ہیں ہیں نا؟ اب پورک کھانا جائز ہوگیا تمہارے لیئے؟
    سینے پر بازو لپیٹتی وہ سخت تنفر سے بولی۔
    میں نے تمہیں ٹریٹ دینے کیلئے کہا تھا یہ نہیں کہا کہ میں بھی تمہارے ساتھ پورک کھائوں گئ اور اس سب کے بیچ میں سیونگ رو کہاں سے آگیا؟
    عروج چاہتے ہوئے بھئ اپنے لہجے پر قابو نہ پاسکی
    یہ تو تم مجھے بتائو۔ جب میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم سیونگ رو کو پسند کرتی ہو تو تم نے صاف انکار کیا تھا یاد ہے۔؟
    وہ اسے وہ دن یاد کرارہی تھی جب اسکے یوں اچانک پوچھنے پر وہ حیرت سے جم سی گئ تھی۔
    سائرن بجتے اسکا ذہن ایکدم مائوف سا ہوا تھا۔
    میں پوچھ رہی ہوں کیا تم سیونگ رو سے محبت کرتی ہو؟
    دعا اسکے بالکل مقابل آکھڑی ہوئی تھی۔
    نہیں تو۔
    اس نے لمحہ بھر کا توقف بھی نہیں کیا تھا۔اسکے یوں فوری جواب پر وہ ڈھیروں اطمینان دعا کے چہرے پر آجھلکا تھا۔
    وہ تمہیں اگرپرپوز کردے تو؟ وہ جانے کیا جاننا چاہ رہی تھی۔
    تو میں انکار کردوں گی۔ اول تو ہم بس دوست ہیں دوسرا وہ بڈھسٹ ہے میں مسلمان ہماری شادی ہوہی نہیں سکتی۔ اس نے اطمینان سے کہہ کر لیب کوٹ پہنا اور اسٹیتھسکوپ گلے میں ڈال کر جانے کوتیار ہوگئ۔
    ایمرجنسئ کیسز ہیں ڈیوٹئ پر موجود ڈاکٹرفورا ایمرجنسی مین آئیں۔
    انائونسمنٹ جاری تھئ۔
    کیوں؟
    دعا نے بے تابی سے پوچھا
    پہلے ڈیوٹی پر رپورٹ کرلو یہ فالتو باتیں بعد میں کرنا۔
    وہ ناگواری چھپاتے اسے ٹوک کر جلدی سے دروازے کی۔جانب بڑھ گئ تھی۔
    اس وقت تو ایمرجنسی کی وجہ سے بات آئی گئ ہوگئی مگر اس وقت وہ جس طرح جرح کر رہی تھی عروج ساکت سی اسکی شکل دیکھنے لگی
    پھر اب کیوں اسکے پیچھے امریکہ جا رہی ہو؟ انسان میں کم ازکم اتنی شرافت ہونی چاہیئے کہ سچ کا سامنا کرے جھوٹ نہ بولے۔ اسکی خاموشی پر وہ جیسے بھڑک اٹھئ تھئ
    کیا بکوا س کر۔رہی ہو؟ میں نے کیا جھوٹ بولا؟ عروج کو اسکی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔
    تم دونوں ساتھ تھے مگر تم دونوں نے مجھ سے جھوٹ بولا۔ صاف کہتے کہ تم دونوں ساتھ ہو۔ میں کبھی اتنی امیدیں نا پالتی۔ تم دونوں نے مجھےبے وقوف بنایا۔ بولتے بولتے اسکی آواز بھرا سی گئ۔
    اور میں۔ سب چھوڑ چھاڑ کرجارہی تھی۔۔ وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رو پڑی۔
    کیا مطلب کیا کہہ رہی ہو؟ عروج کو اسکی ایک بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔کہاں لڑنے کے موڈ میں تھی کہاں اب رونا شروع کردیا۔
    کیا ہوا ہے ؟ مجھے بتائو۔
    اس نے پاس آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہااس نے تنفر سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ اپنے پرس میں سے ایک خط نکال کر دو ٹکڑے کیئئے اور وہیں فرش پر پھینک کر روتی ہوئی باہر نکل گئ۔
    دعا۔۔ اس نے پکارنا چاہا مگر وہ رکی نہیں اس نے ایک نظر اسے جاتے دیکھا پھر جھک کر اسکا پھینکا ہوا لیٹر اٹھا لیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    واصف کو دیکھتے ہی فاطمہ نے یہی کہا کہ وہ جچے گا تمہارے ساتھ۔
    بس کے پائیدان پرقدم رکھتی الف اور اسکے ہم قدم واعظہ خود کار ریکارڈ کی طرح بجتئ ہوئی۔
    شکل و صورت تو خیر اچھی ہے ہی مگر کوالیفائڈ انجینئر ہے۔ ڈیڑھ لاکھ تنخواہ ۔۔ گو اس پر مجھے اور فاطمہ دونوں کو شک ہوا کہ انجینئر اور برسرروزگار تو ہے ہی اوپر سے اتنی تنخواہ؟؟؟ مگر کوئی تنخواہ بڑھا کے کیوں بتائے گا عموما عمر اور تنخواہ لوگ گھٹا کے ہی بتاتے ہیں۔
    رنگوں روشنیوں سے جگمگاتی شہر کی پرورنق سڑکیں نیون سائنز کی جگمگ کرتئ روشنیاں دکانوں کی پیشانی پر سجی ہنگل میں تحریریں وہ سڑک پر ایک کنارے بیٹھی بلی کو دم ہلاتے دیکھ کر چونکی ۔ بس کی رفتار تیز تھی وہ مڑ مڑ کر اس بلی کو دیکھ رہی تھی۔ بس کی کھڑکی کے پاس بیٹھنا اسے اسی لیئے پسند تھا ۔ باہر کے دلفریب نظارے۔۔ واعظہ اسکے برابر ہی بیٹھی تھی۔
    اوپر سے اکلوتا بیٹا۔ نا بہن نا بھائی۔ ابا بھی نہیں ہیں۔ مطلب یہاں نہیں ہیں۔ یہاں مطلب پاکستان میں نہیں۔ جدہ میں ہوتے ہیں۔ جبھی بیٹے کو انجنیئر بنوا دیا بھئ۔ واہ۔
    انکا اسٹاپ آگیا تھا۔ دونوں آگے پیچھے اتری تھیں۔ فٹ پاتھ پر رش نہیں تھا۔ اپنی گلی تک مڑتے وہ ایک ایک دیوار کنارے لگے پودے پتھر کو دیکھتئ آئی تھی۔
    اور تو اور گھر بھئ بنوا دیا ہے پورے دس مرلے کا مکان ہے انکا وہ بھی آسٹریچ میں۔ آسٹریچ عجیب نام لگا مجھے بھلا وہاں کیا آسٹریچ کے فارم ہیں جو ۔۔۔
    ویسٹریج نام ہے جگہ کا۔ اس نے جھک کر اپنے جوتے کے تسمے دیکھے پھر وہیں اکڑوں بیٹھ کر باندھنے لگی
    ہاں ویسٹریج۔ آسٹریچ کہاں سے ذہن پر سوار ہوا میرے۔ وہ سوچ میں پڑی پھر سر جھٹک کر بولی
    خیر اب وقت آگیا ہے کہ تمہیں خود جھک کر اپنے جوتے کے تسمے باندھنے کی زحمت نہ کرنے دی جائےاور ایک ہینڈسم انجنئیر تمہارے جوتے کے تسمے باندھ دیا کرے۔
    ہینڈسم انجینئر۔ الف استہزائیہ ہنسی۔۔ اور سیدھی ہو کھڑی ہوئی
    میرے جوتے کے تسمے باندھنے کی بجائے وہ اپنے جوتے مجھ سے پالش کروانے کے خواب دیکھ رہا ہوگا۔
    اس ساری تفصیل میں یہ بھی شامل کرلو یہ واصف میرے سگے ماموں کا بیٹا ہے۔ ایک نمبر کا غصہ ور کمینہ بچپن میں ہم سب بچوں پر خوب رعب جماتا رہا ہے ہمیں تھپڑ مار کے اور میری تو پونی کھینچ کر بھاگ جایا کرتا تھا ہم سب تنگ تھے اس سے۔
    بھنا کر وہ اتنے غصے سے بول رہی تھی کہ گردن کی رگیں تن گئ تھئں۔
    ہاں یہ بھی بتایا تھا تمہاری امی نے بھول۔گئ تھی میں۔ واعظہ نے کان کھجایا
    مگر وہ بچپن کی بات ہے تمہاری امی کہہ رہی تھیں تم بچپن کی بات دل سے لگا کر انکار کررہی ہو ۔اب تھوڑی وہ بال کھینچ کے بھاگا کرے گا۔ مطلب بال نہیں کھینچے گا ویسے پاکستانی لڑکوں کا بھروسہ بھی کوئی نہیں۔وہ آخر میں بڑبڑاہٹ پر اتر آئی تو الف کے تلوے سے لگی سر پر بجھی۔
    کسی کے باپ میں جرات نہیں کہ مجھے ہاتھ لگائے منہ نہ توڑ دوں بال کھینچنے والے کا۔ اور بات سنو تم کون ہوتی ہو مجھے سمجھانے کا بیڑا اٹھانے والی ؟ بولو؟ کیوں میری امی سے بات کی اپنے کام سے کام رکھا کرو نا۔
    الف کے یوں بھڑک اٹھنے وہ پر چپ ہوکر بغور اسے دیکھنے لگی۔ طیش سے منہ سرخ ہوچلا تھا۔۔
    کیوں انکار کر رہی ہو؟ پھر ؟ اسکا انداز الف بالکل برعکس اطمینان بھرا تھا
    میری مرضئ۔ وہ مزید تپ گئ ۔
    جو بھی وجہ ہو میں صاف انکار کر چکی ہوں امی کو میں پھر بھی انہوں نے تمہیں فون کرکے مجھے منانے کا ٹاسک دے ڈالا اور تم میری روحانی امی ٹاسک پورا کرنےچلی آئیں ۔
    اپنے لانگ ٹاپ کی آستینیں باقائدہ چڑھا لی تھیں اس نے۔ فیڈڈ جینز لانگ گرے ٹاپ میں گرے ہی اسکارف پہنے وہ غصے سے لال ہوئی وی تھئ۔
    مجھےایک بات بتائو اتنی پرسکون زندگی کیسے ہے تمہاری ؟ کوئی اپنا ذاتی مسلئہ پریشانی نہیں لاحق کوئی فکر نہیں تمہاری زندگی میں کہ تم دوسروں کے مسلوں میں ٹانگ اڑانے پہنچ جاتی ہو۔۔۔ فاطمہ عروج وغیرہ کو تمہاری اس ہمدردی یا توجہ کی ضرورت ہوتی ہوگئ انکے مسلئے شوق سے حل کرو مگر میرے معاملوں میں ٹانگ نہ اڑایا کرو۔ سمجھیں۔
    الف حلق کے بل چلا رہی تھی۔ واعظہ کو یکدم ہی ٹھنڈک سی محسوس ہوئی۔ الف کے برعکس وہ پلین لانگ اسکرٹ میں ملبوس تھئ۔ اس وقت ہوا سے اسکا لباس سرسرارہاتھا رگ و پے میں سخت ٹھنڈک کی لہر دوڑ رہی۔تھی۔ اس نے ہلکی سی جھرجھری سی لی
    میری شادی ہو نہ ہو واصف سے ہویا گنگو تیلی سے تمہیں کیا۔ میری امی تمہیں ہر دوسرے دن فون کرتی ہیں تو تم اٹھاتی کیوں ہو بلیک لسٹ میں ڈالدو نمبر مت فون اٹھائو۔ جو مرضی آئے کرو مگر میرا دماغ خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھیں۔
    اسکو چکنا گھڑا بنے سنتے دیکھ کر وہ مزید بھڑک کر پیر پٹخ کر بولی۔ واعظہ چپ چاپ دیکھتئ رہی۔ اس نے چند لمحے تو واعظہ کے ردعمل کا انتظارکیا پھر تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کی طرف بڑھ گئ۔
    سڑک کنارے نیم اندھیرے موبائل کی ٹون پھر بج اٹھی تھی۔اس نے گہرا سانس لیکر پرس سے فون نکالا۔
    الف کی امی کی ہی کال تھی۔
    اس نے چند لمحے سوچا پھر کال کاٹتے کاٹتے بھی اٹھا لی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلام و علیکم۔۔ عروج ابھی ابھی واپس آئی تھی حسب عادت زور دار سلام جھاڑتئ اندر آئی۔ عزہ طوبی عشنا لائونج میں پھسکڑا مارے بیٹھی چپس اڑاتے ہوئے گپیں لڑا رہی تھیں۔ تینوں بچے خاموشی سے بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے جسکی آواز بند تھئ۔
    آئو عروج ابھی ابھی چپس بنائے ہیں۔عزہ نے شکل دیکھتے ہی آواز لگائی
    آتی ہوں۔ وہ ٹالتی ہوئی کمرے میں گھس گئ۔
    عروج اور چپس کو ٹال گئ۔ قیامت کے آثار ہیں۔ طوبی کو حیرت ہوئی۔
    کوئی مردہ چیر پھاڑ کر آئی ہوگی۔ نہا کے ہی آئے گی کھانے۔
    عشنا نے وثوق سے کہا تھا۔مگر جملہ ختم ہوتے ہی سے عروج کمرے سے برآمد ہوگئ ۔ لیب کوٹ پرس اندر رکھ کر شائد بس ہاتھ دھو کر ہی آئی تھئ۔ہاتھ گیلے تھے جنہیں جھٹکتی وہ بھی انکے برابر پھسکڑا مار کر بیٹھ گئ۔منی میز پر ٹرے بھر کر چپس رکھے تھے ساتھ ایک پیالی میں کیچپ بھی تھا۔ اس نے جھٹ دوتین اکٹھے اٹھا لیئے۔
    نہا تو آئو مردے کو ہاتھ لگا کر آئی ہو۔طوبی ٹوکے بنا نہ رہ سکی
    کونسا مردہ۔ وہ تیز تیز چپس چبا رہی تھئ۔ عشنا اور عزہ ہنسنے لگیں
    مزاق کر رہی تھی عشنا طوبی جی۔
    کیسا مزاق۔ عروج کو اپنے آپ پر حیرت ہوئی
    عشنا کہہ رہی تھئ تم نہا کے آئوگی کیونکہ مردے کو ہاتھ لگا کے آئی ہو۔
    طوبی نے وضاحت کی۔
    ہیں عشنا کو کیسے پتہ لگا؟ آج ویسے دو کیس تھے جنکی ڈیتھ ڈکلیئر کرنی پڑی مجھے۔
    وہ کافی تیزی سے منہ چلا رہی تھی۔طوبی نےجو چپس منہ میں بھر لیئے تھے انہیں چبانا بھول گئ
    اوہو وہم نہ کریں ہاتھ دھو کے ہی آئی ہے۔ نماز پڑھتے وقت نہا لے گی آپ آرام سے کھائیں۔
    عزہ نےتسلی دی تو اس نے چبانا شروع کر ہی دیا
    ویسے یہ محفل کیوں سجی ہوئی ہے۔ عروج نے برسبیل۔تذکرہ ہی پوچھا تھا
    ہم الف کا شو سننے بیٹھے تھے سیہون اور ای جی آ آئے تھے اتنئ زبردست کمپیئرنگ کی واعظہ نے سیہون تو ہنس ہنس کے پاگل ہورہا تھا اتنا مزا آیا۔
    عزہ نے جوش سے چپس چھوڑ چھاڑ اسے رام کہانی سنائی
    کیا مطلب الف کا شو۔ اور واعظہ کی۔کمپیئرنگ کر رہی تجی؟
    عروج کو۔سمجھ نہ آیا
    ہاں۔واعظہ نے ہی ایک طرح سے شو کیا الف تو بولی۔ہی نہیں۔ بس ایک دو بار واعظہ کے بلانے پر بولی پھر خاموش رہی۔
    عشنا نے اسکو سمجھانا چاہا۔عروج حیرت سے چپس چھوڑ کر سر کھجانے لگئ۔
    آج کوئی بات پہلی دفعہ میں ہی پلے کیوں نہیں پڑ رہی ہے میرے۔
    یار واعظہ بھی گئ تھی الف کے شو میں آجکل واعظہ ای جی کی مینجر بنی ہوئی ہے نا۔اور اچھا ہوا واعظہ چلی گئی ورنہ جانے کیا ہوتا الف کو دیکھا ہے نا آجکل کیا ہوا وا چڑچڑی ہوئی وی ہےگھر میں کاٹ کھانے کو تو دوڑتی ہے آج توحد ہی کردی ایک لفظ پورے شو میں بول کے نہ دی سارا شو واعظہ نے کیا بیچ بیچ میں واعظہ بولنے کو کہتئ تو بس ہوں ہاں کرکے چپ پکا اسکی نوکری گئ میں تو۔۔۔
    عزہ نے بولتے بولتے یونہی نظر اٹھائی تو الف کو سامنے کھڑا پایا۔۔ پہلی دفعہ اس نے یوں اسکے رویئے پر تبصرہ کیا تھا اور الف نے سن بھئ لیا۔ باقی جملہ وہ منہ میں ہی رکھ گئ۔
    اسکو اچانک خاموش ہوتے دیکھ کر تینوں نے مڑ کر دیکھا اور چپ ہی رہ گئیں۔
    تم لوگ سن رہے تھے میرا شو۔ ایسے تو میں کہتی رہتی تھی کوئی سنتا نہیں تھا۔
    اس کا شکوہ بجا تھا مگر انداز بنا کوشش کے ہی طنزیہ ہوا تھا۔
    ہاں وہ تم بتا رہی تھیں کہ یہ آخری شو ہے اسی لیئے ہم نے سوچا ہم تو فون بھئ کرتے مگر ۔۔ ۔۔۔ عشنا نے بات سنبھالنے کی نیت سے کہا تھا مگر وہ جانے کیوں چڑگئ۔
    ہاں تو کیا کیوں نہیں فون؟ یہ سب تبصرے فون کرکے پورے کوریا کو سنانے تھے نا۔۔
    کیا ہوگیا ہے الف؟ کیوں اتنا چڑی ہوئی ہو؟
    طوبی حیران ہوتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ہاں میں چڑچڑی ہوں دماغ خراب ہوا وا ہے میرا تم سب ہوش مند ہو بس۔
    وہ کہتئ پیر پٹختی اندر جانے لگی تو طوبی نے ہاتھ پکڑ لیا۔
    کیا بات ہے کس وجہ سے پریشان ہو؟ میں کئی دن سے دیکھ رہی ہوں تم نا ان سب کے ساتھ بیٹھتی ہو نا بات کرتی ہو؟ ہمیں یہی لگا تھا شو کی وجہ سے پریشان ہو مگر آج واعظہ نے سنبھال تو لیا شو بھی ہوگیا اب کیا مسلئہ ہے؟
    طوبی کا انداز ناصحانہ ہرگز نہیں تھا بے حد محبت سے فکرمند انداز میں پوچھ رہی تھی۔الف کے تنے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے۔
    عشنا اور عزہ دونوں ان دونوں کی جانب ہی متوجہ تھیں عروج نے تیزی سے ہاتھ منہ چلانا شروع کردیا۔ الف نے لابی میں سے واعظہ کو آتے دیکھا تو غصہ پھر عود آیا۔
    ہاں شکر گزار ہوں میں اس دیوی کی بہت بڑا احسان عظیم کردیا ۔۔
    اس نے باقائدہ واعظہ کی جانب اشارہ کرکے کہا
    اس نے میری ذات پر مگر میں احسان رکھوں گی نہیں تنخواہ آئے گئ تو پوری دے دوں گی تمہیں۔
    ۔ وہ چبا چبا کر کہتی بازو چھڑاتئ کمرے میں بند ہوگئ۔ طوبی نے مڑ کر دیکھا تو واعظہ شائد ابھی ابھی آئی تھی لاوئنج میں داخل ہوتے قدم روکے سن رہی تھی۔
    طوبی خفت سے کھڑی کی کھڑی رہ گئ۔
    اسکا تو بالکل دماغ خراب ہوگیا ہے۔ عزہ نے تاسف سے سر جھٹکا۔ عروج بے نیازی سےٹرے خالی کر رہی تھی۔
    میرا خیال ہے میں گھر چلتی ہوں اب۔ طوبی نے جھک کر صائم کو گود میں اٹھایا زینت اور گڑیا فورا اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
    آپ کیوں جا رہی ہیں۔ بیٹھیں آرام سے گھر صرف اسکا نہیں ہے۔عروج نے روکنا چاہا
    نہیں بس ویسے بھی چپس بہت کھالیئے اب رات کو کھانا نہیں کھایا جائے گا چلتی ہوں وہ پھر رکی نہیں بچوں کو لیکر چلی گئ۔ واعظہ نے ذرا سا ہٹ کر اسے راستہ دیا۔
    آئو واعظہ چپس کھالو۔ عزہ نے پکارا تو وہ نرمی سے منع کر گئ
    نہیں شکریہ تم لوگ کھائو۔ وہ اپنا بیگ سنبھالتی اپنے کمرے میں گھس گئ۔
    واعظہ بھئ خفا ہوگئ ہیں؟ عشنا نے خیال ظاہر کیا۔
    نہیں اسے آلو پسند ہی نہیں ہیں کم کم ہی چپس کھاتی ہے۔ عروج ہاتھ جھاڑتی اٹھ کھڑی ہوئی ارادہ خوب نہانے کا تھا۔
    کاش تمہیں بھی ناپسند ہوتے۔ عزہ نے حسرت سے خالی ہوتی ٹرے کو دیکھا پھر اسے اپنے قبضے میں کرلیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ بیزاری سے ایک جانب منہ بنائے بیٹھی ان سب کو گھور رہی تھی۔ جانے ان کورینوں کو پی کے ٹن ہونے کا کیا شوق تھا۔وہ سب کمپنی کی جانب سے ڈنر پر آئے تھے۔ پوری کاسٹ اور ٹیم کے چیدہ چیدہ ارکان تو آئے ہی تھے ان دونوں کو بھی خاص کر بلایا گیا تھا تاکہ مترجم کے فرائض نبھا سکیں۔ وہ تو آکر ایک کونا سنبھال کر بیٹھ گئ۔خالص کوریائی ثقافت کا ان سب کو نظارہ کرنا تھا سو اس مشہور زمانہ ریستوران کاانتخاب کیا گیا جس میں نا میزیں تھیں نا کرسیاں فرشی نظام تھا چھوٹی چھوٹی چوکیاں رکھی تھیں۔سب کے آگے مرغن مرغ اسٹیک ، پورک اور نوڈلز سوپ کے ساتھ رکھے تھے۔ ان سب کی خوشبوئوں نے اسکے سر میں درد کردیا تھا۔ اس نے اپنے لیئے خاص سبزیوں کا سوپ منگوایا تھا جس میں نوڈلز تیر رہے تھے اور ٹوفو بھی۔ مگر مجال ہے اسکا ایک لقمہ لینے کا بھی دل کیا ہو۔اس نے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر کچھ فاصلے پر بیٹھے لوگوں کو اسٹیک اڑاتے دیکھا وہ ناقدرے دعوت چھوڑ چھاڑ سوجو
    پر شرطیں لگا رہے تھے۔ بوتلیں کھل رہی تھیں۔
    مصری فنکار مکمل کوریائی ماحول میں مدغم تھے۔
    کھاوا عبداللہ کے ساتھ ہی۔بیٹھا تھا۔عبداللہ نے چھوٹا سا گلاس بھر کر اسکی جانب بڑھایا وہ نا نا کر رہا تھا مگر عبداللہ نے اسکے منہ میں ڈال ہی دیا۔
    فاطمہ کو گھن ہی آگئ۔
    توبہ ہے۔ ڈھائی سال ہورہے مجھےیہاں رہتے مجال ہے کبھی سوجو کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا ہو مگر صحیح بات ہے سب اصول لڑکیوں کیلیے ہی ہیں۔ وہ تائو کھارہی تھی۔
    غصے میں کڑوا کسیلا ٹوفو اٹھا کر منہ میں رکھ لیا۔ کانٹا پلیٹ میں رکھ کر اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ کہیں تھوکنے کی جگہ ہی نہ تھی۔
    ایسے موقعوں پر پاکستان کیسا یاد آتا ہے۔ آرام سے الٹی ہی کردینی تھی میز کے نیچے میں نے۔ اس نے حسرت سے لکڑی کے اس فرش سے بمشکل ایک ڈیڑھ بالشت اونچی اس چوکی کو دیکھا۔ چارو ناچار نگلنا پڑا۔
    عجیب بے چاری شکل بنی تھی کہ کیا تھا کھاوا کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئ۔ سفید سوڈے کی بوتل اسکے سامنے رکھتے اس نے ذرا سا کھنکھارا تو وہ چونک کرسر اٹھا کے دیکھنے لگی۔ اس نے بوتل آگے بڑھا دی۔ فاطمہ کو غنیمت لگا فورا دو گھونٹ لیئے تب منہ کا ذائقہ بدلا۔
    میرا وہاں پورک کی بوسے دل متلانےلگا تھا تو سوچا ادھر آپکے ساتھ بیٹھ کر کھا لوں۔ بیٹھ جائوں۔
    وہ معصومیت سے کہتا اسکے بالکل سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا تھا
    آپ بیٹھ چکے ہیں۔ فاطمہ نے چڑ کر کہا تھا۔
    اوہ ہاں۔ وہ جیسے کھسیایا۔ مگر ڈھیٹ بنا اپنی اسپگیٹی کی پلیٹ جو وہ لبا لب بھر کے لایا تھا تھوڑا سا آگے کھسکا کے رکھی۔
    یہاں یہ ڈش پیور ویجیٹیرین ہے ذائقہ بھی اچھا ہے چکھو ۔ اتنی بیزاری سے سوپ کو گھور رہی ہو سوپ ویسے ہی کڑوا ہوچکا ہوگا۔
    وہ چاپ اسکٹکس پھیر کر مٹر شمہ مرچ بند گوبھی اور مشرومز دکھا رہا تھا۔۔
    فاطمہ نے ایک نگاہ اسکی رنگ برنگی خوب مصالحے دار ڈش کو دیکھا پھر خاموشی سے اپنا سوپ کا پیالہ اپنی جانب کھسکا لیا۔
    یہ نئی چاپ اسٹکس لیکر آیا ہوں ویسے بھی مجھ سے چاپ اسٹکس استعمال نہیں ہوتیں۔
    اسے یہی لگا شائد وہ جھوٹا ہونے کی وجہ سے نہیں کھا رہی۔
    فاطمہ نے ترچھی نگاہ سے دییکھا تو وہ قسم کھانے لگ گیا۔
    قسم لے لو۔ وہاں بیٹھا ضرور تھا مگر کھا پی نہیں رہا تھا یہ ڈش ابھی ویٹر نے لا۔کر رکھی میں اٹھا کر تمہارے پاس چلا آیا۔ عبداللہ سے معزرت کرکے۔ وہاں بیٹھ کر سبزیاں کھانا مشکل کام ہے بھنے پورک کی بو ہی بہت تیز ہے بھئی۔ ایویں بندہ دیکھنے لگ جاتا۔
    اس نے یقین دلانا چاہا۔تو فاطمہ کہے بنا نہ رہ سکی۔
    ویسے شراب تو پی ہی لی پورک بھی چکھ لیتے کوئی حسرت نہ رہ جاتی کوریا میں رہ کر یہ کام نہیں کیا۔
    ارے ۔ وہ بے ساختہ ہنسا۔
    قسم لے لو نگلی نہیں سوجو کی خالی بوتل میں تھوک کر آیا ہوں۔ایک منٹ۔ اسے خیال آیا مڑ کر دیکھا وہ سب پارٹی کرنے میں مگن تھے۔عبداللہ میز کے برابر رکھی اس سوجو کی بوتل کو ہنستے ہوئے اٹھا رہا تھا۔
    نہیں۔۔۔۔ اسکے حلق سے چیخ کی۔بجائے ہلکی سی سرگوشی نکلی۔لمحے بھر کا وقفہ کیئے بنا وہ چیل کی۔طرح جھپٹا مارنے بڑھا سلو موشن میں عبداللہ جس سوجو کی بوتل کو اٹھانے ہی لگا تھا جب ناگہانی آفت کی طرح کھاوا اڑتا ہوا اس پر آن گرابوتل اسکے ہاتھ سے چھین کر اس نے اپنے قبضے میں کی تھی۔
    اس منظر کو پلکیں جھپکے بنا دیکھتی فاطمہ ساکت ہی تھی اس نے مڑ کر فاتحانہ انداز میں بوتل لہرائی۔فاطمہ کا منہ ذرا سا کھلا تھا۔۔
    وہ بھری ہوئی سوجو کی بوتل تھی۔ یقینا کھاوا والی بوتل دوسری تھی۔۔۔ جشن مناتے کھاوا نے بھی سٹپٹا کر بوتل کو دیکھا عبداللہ اسکا شانہ ہلا کر اس بے مقصد اچھل کود کی وجہ پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ختم شد
    جاری ہے۔