قسط 57
وہ سب کھا پی کر نو بجے کے قریب فلیٹ میں پہنچی تھیں۔ عشنا عزہ اپنی صبح کی تیاری میں لگ گئیں عروج کا کافی پینے کا دل کر رہا تھا بنانے کھڑی ہوئی تو واعظہ فاطمہ نے بھی فرمائش کر دی۔۔ انہیں تو دانت کچکچا کر گھورا مگر الف جو خاموشی سے صوفے پر بیٹھی چینل پر چینل بدل رہی تھی اس سے تمیز سے پاس آکر پوچھا۔
آنسہ الف آپ کافی پینا پسند فرمائیےگا ؟
چینل پر چینل بدلتی شکل سے نظر آرہا تھا کہ کہیں اور ہی گئ ہوئی ہےسنا نہیں۔ دوبارہ اسکا بازو ہلاکر تمیز سے دہرایا
نہیں۔ مختصر جواب۔ وہ کندھے اچکا کر کچن کی طرف بڑھ گئ
فاطمہ اور واعظہ کارپٹ پر لاش کی طرح ہاتھ پائوں سیدھے کیےپڑی تھیں۔
میں آج یہیں رک جائوں لڑے تم دونوں ہو اسکا سامنا کرتے مجھے ڈرلگ رہا ہے۔
زمین سے بمشکل پائوں کے انگوٹھے تک سیدھی ٹانگ اٹھا کر تیس سیکنڈ تک رکتے فاطمہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
واعظہ بھی اسی انداز میں رکی تھی۔ بولی کچھ نہیں۔ فاطمہ نے گہری سانس لیکر پائوں زمین پر واپس رکھا اب دوسری ٹانگ کی باری تھی۔
ویسے سیہون اتنا غصے کا تیز لگتا نہیں تھا مجھے۔ اور تم بھی۔ سچ میں مجھے لگا تھا تم اسکو گردن سے پکڑ کر پٹخنی دے ڈالو گئ یا وہ تمہیں بالوں سے پکڑ کر۔ ۔
واعظہ نے دانت پیس کر اسکی جانب گردن موڑی تو وہ کھسیانئ ہو کر زبان دانتوں تلے دبا گئ
تم دونوں تو ہائی اسکول سےساتھ ہو نا یہ واقعی میری سے اتنئ محبت کرتا ہے۔
فاطمہ کے تجسس کی کوئی حد نہ تھی۔ ۔ اب بیک لفٹ کی باری تھئ۔ گھٹنے کھڑے کرکے بس کمر کو اوپر ایسے اٹھانا تھا کہ سر گردن زمین پر رہے مگر کندھے کمر کی سیدھ میں ہی اونچے ہو جائیں۔
تم ویسے اب کیا کبھی بات نہیں کروگئ سیہون سے؟ مطلب اتنے غصے میں دونوں آئے مجھے بات سمجھ نہیں آئی تم دونوں کی کہ فیصلہ کروں کہ غلطی پر کون مگر تیور تم دونوں کے معافی تلافی والے نہیں۔ تم مجھ سے ملنے تو آئوگی نا دیکھو وہ گھر اب میرا بھی۔
فاطمہ کی کمر ابھی بھی اونچی تھی واعظہ نے بھنا کر ٹھمکا لگایا وہ الٹ کر دوسری طرف گری
تم اتنی بڑی دماغ کی دہی ہو کہ۔۔ ذرا سا سکون سے سوچنا محال کردیا۔
واعظہ اٹھ کر بیٹھی تھی۔ فاطمہ کمر سہلاتی گھورتی مڑی
کتنی بدتمیز ہو تم ابھی میری کمر میں جھٹکا آجاتا۔
اور جو میرا دماغ چکرا دیا۔ ذرا سا سکون سے سوچنا چاہ رہی تھئ ایک گمبھیر مسلئے کا حل اور تم نےسیہون سیہون کہہ کہہ کر دماغ کھا لیا میرا۔ ۔۔
ہاں تو میرے سامنے لڑے ہو دونوں اور مجھے لڑائی کا منبع ہی سمجھ نہیں آیا تو پوچھوں گی ہی نا۔ فاطمہ نے ہاتھ نچا کر کہا۔
کون کس سے لڑا۔
عروج کافی کے تین مگ ٹرے میں لیئے یہیں چلی آئی
یہ اور سیہون۔ فاطمہ کپ اٹھاتے شکایتی انداز میں بولی۔
ہیں آخر سیہون اور تمہاری لڑائی ہو ہی گئ۔ عروج چہکی۔
واعظہ شاکی انداز سے دیکھ کر رہ گئ
قسم سے جب سے یہاں رہ رہی ہوں ان دونوں کی دوستی مثالی سیہون اسکی ہر کڑوی کسیلی بے چاری بیوی کی طرح سہتا آیا ہے اب اس کی بھی لگتا ہے بس ہوگئ۔
عروج نے ذرا اثر نہ لیا۔ مزاق اڑاتئ آلتی پالتی مار کر انکے پاس بیٹھ گئ۔ کافی کی ٹرے بیچ میں رکھ کر واعظہ کا ردعمل دیکھنا چاہا خلاف توقع اس نے بنا کچھ کہے اپنا کپ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا ۔ اس نے سوالیہ نگاہوں سے فاطمہ کو دیکھا
سیریس مسلئہ ہے۔ فاطمہ نے سرگوشی کی۔
کیا ہوا واعظہ؟
عروج کو بھئ تجسس ہوا۔
یار سخت الجھن میں ہوں۔ خلاف عادت وہ صاف بتا گئ
یہ الف کی امی فون کر کرکے کہہ رہی ہیں کہ اسکو منائوں شادی کیلئے اور یہ سیدھے منہ بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔واعظہ نے دائیں جانب صوفے پر نیم دراز الف کو گھورا
فاطمہ اور عروج اسے تاسف سے دیکھ کر رہ گئیں
یہ کہیں سے بھی تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ کرے نہ کرے شادی سمجھائیں نا سمجھائیں اسکی امی تم کیوں پریشان ہو۔
عروج کو غصہ ہی آگیا تھا۔
میں اس وجہ سے پریشان نہیں ہوں۔ واعظہ نے گھونٹ بھرا۔
اسکو دیکھو یہ کہیں سے نارمل لگ رہی ہے؟ مسلئہ کیا ہے اسکے ساتھ۔
اس نے کہا تو بیک وقت تینوں نے پہلی نظر اس پر پھر ٹی وی پر ڈالی۔
دھڑا دھڑ چینل پر چینل بدل رہے تھے مگر الف کا چہرہ بےتاثر شدید گہری سوچ کا غماز تھا۔
ایکسول ایسے ہی پاگل ہوتے ہیں۔
فاطمہ نے اونچی آواز میں کہا۔
عروج اور واعظہ کا منہ کھلا اب یقینا طبل جنگ بج جانا تھا اور ان دو ہاتھیوں کی لڑائی میں قیمہ عروج اور واعظہ کا بننا تھا۔ بھونچکا ہو کر دونوں نے اپنے اپنے مگ ٹرے میں رکھ کر الف کو دیکھا۔ جو ٹس سے مس تک نہ ہوئی تھی۔
یار یہ تو واقعی نارمل نہیں لگ رہی۔فاطمہ کو بھی فکر ہوئی
ایکسول کو کچھ کہنے پر یہ مرنے مارنے پر اتر آتئ تھئ۔
عروج اور واعظہ نے سکھ کا سانس لیتے واپس اپنے اپنے کپ اٹھائے۔
مجھے لگتا ہے اسکا جی پی اے صحیح نہیں بن رہا۔ 2 جی پی اے مسلسل لے رہی تھی ایوریج کم ہوگئ ہوگئ۔
عروج نے خیال ظاہر کیا۔
تو یہ کونسا ڈاکٹر بن رہی ہے۔ فاطمہ نے مکھی اڑائی
اسکو نور یاد آرہی ہوگئ۔ نور کے ساتھ بنتئ بھی تو بہت تھی۔
فاطمہ کا خیال اسکے اپنے خیال میں درست تھا۔
محبت تو نہیں ہوگئ کسی سے؟
عروج نے لاپروائئ سےکہا مگر فاطمہ اورواعظہ دونوں چونکیں۔
سیہون سے؟ اوہ خدایا۔ فاطمہ نے کپ رکھ کر دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیئے۔ مگر جب دونوں سکھیاں اسکی اوور ایکٹنگ سے سخت بے زار نظر آئیں۔تو اپنے جامے میں واپس آنا پڑا
ایویوں سیہون سے محبت ہو جائے گئ۔دو ایک بار انٹرویو لینے سے محبت ہو جاتئ ہے کیا۔ عروج کو یقین نہ آیا۔
تمہیں تمہارے والے سیہون سے ہو سکتی ہے الف کو ایکسو والے سے نہیں ہوسکتی ۔ عروج نے جتایا
ہو بھی سکتی ہے۔ تائیونگ سے جنگ کوک سے مجھے نہیں ہوگئ۔ مگر چونکہ وہ دو ہیں تو میں ابھی فیصلہ نہیں کر پارہی کس سے ذیادہ ہوئی ہے محبت۔
فاطمہ نے اٹھلا اٹھلا کر تان اڑائی
محبت پل بھر کا معاملہ ہے۔ اگر ساتھ رہنے سے ہوتی تو فاطمہ کو سیہون سے ہوچکی ہوتئ اگر ساتھ کام کرنے ایک دوسرے کی مدد کرنے سے ہوتی تو عروج کو سیونگ رو سے ہوتی۔ واعظہ نے کہا تو دونوں قائل ہو کر اثبات میں سر ہلانے لگیں
محبت پھر کیسے ہوتی ہے؟
عروج کا سوال جائز تھا۔ واعظہ کی کافی کے دو گھونٹ رہ گئے تھے تندہی سے مکمل اطمینان سے اپنا مگ خالی کرکے ٹرے میں رکھ کر جونہی نگاہ اٹھائی سٹپٹا گئ۔ دونوں جی جان سے متوجہ تھیں جیسے وہ کوئی فارمولا نکال کر انہیں سمجھانے لگےگی۔
بتائو نا۔ فاطمہ نے بھئ اصرار کیا
مجھے کیا پتہ۔ میں کوئی سائنسدان ہوں جو محبت پر ریسرچ کر رہی ہے۔
اسے غصہ ہی آگیا۔۔ دونوں نے منہ بنا لیا۔
بول تو ایکسپرٹوں کی طرح رہی تھیں۔ عروج نے کہہ ہی دیا۔ واعظہ گہری سانس بھر کر رہ گئ
بس چند دن کی بات ہے پھر میں اکیلی رہا کروں گئ
اس نے خود کو اطمینان دلانا چاہا۔
کیا کہہ رہی ہو۔ عروج کے کان خراب تھوڑی تھے لڑنے کو تیار ہوئی فاطمہ نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا
تمہاری فلائٹ کب کی ہے؟ فاطمہ عروج سے پوچھ رہی تھی
پرسوں۔ یار کل سب سمیٹنا ہے مجھے بہت کام ہیں۔ مجھے۔
عروج کو نئی فکر سوار ہوئی
تا تار تارا تارا۔
چینل بدلتے ذرا سئ آواز اسکے کان میں پڑی تھی۔ واعظہ نے حیرت سے الف کو دیکھا یہ گانا اسکا پسندیدہ ترین تھا۔
مگر چینل بدلا جا چکا تھا۔
تو وہ سیہون نہیں ہے۔۔۔
پھر۔۔ اب واعظہ نے اپنے ذہن کے گھوڑے دوڑانے شروع کیئے تھے تو یقینا وہ کسی منزل پر پہنچ ہی جاتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اسی مخصوص ہنگامے کے ساتھ اتری تھی۔عروج نے تو جانا نہیں تھا وہ اسپتال سے استعفی دے چکی تھی سو کمبل منہ تک تانے سوئی پڑی تھی۔ الارم بج رہا تھا۔ عشنا نے منہ بنا کر موبائل ٹٹولا تو اسکا موبائل کا الارم نہیں بج رہا تھا۔ عزہ اسکے برابر میں بے ہوش پڑی تھئ۔ غضب کی نیند تھی اسکی
اپنے الارم سے پہلے اٹھنے کا درد دل میں ٹیس بن کر اترا تھا۔کان پر تکیہ رکھ کر دوبارہ کروٹ لی۔
دوبارہ الارم بجا۔ اس نے مڑ کر اپنا موبائل اٹھایا۔ یہ بھی اسکا نہیں تھا۔ اسکے دیکھتے ہی دیکھتے اسکا موبائل بجا۔ جمائئ لیتے وہ اٹھ ہی گئ۔ الف نے کمبل سے منڈی نکال کر اسکو دیکھا۔ اس نے اپنا موبائل چارجنگ پر لگایا سست قدموں سے باتھ روم کی جانب بڑھی ہی تھی کہ الف اٹھتے ہی جست لگا کر باتھ روم میں گھسی تھی باتھ روم کا دروازہ سستی سے کھولتی عشنا نے جتنی بھی گالیاں تھیں دل ہی دل میں دیں۔
دروازہ منہ پر بند ہوا تھا
سوری میں لیٹ ہو رہی ہوں تم واعظہ کے واش روم میں چلی جائو۔
مفت مشورہ اسکی جان جلا گیا۔ پر اس سے بحث سے بہتر یہی سمجھا کہ واعظہ کا واش روم ہی استعمال کرلےالبتہ باہر نکلتے عزہ کا پیر ہلا دیا۔اب یقینا ایک جنگ ہونی تھئ انکئ درمیان۔ خود دوسرے کمرے میں چلی آئی۔ یہاں کمرے میں دونوں خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھیں ۔ اطمینان سے فریش ہو کر نکلی تو فاطمہ کا الارم بج رہا تھا وہ پھر اسنوز کرنے لگی تو اس نے قریب آکر ہلا دیا اسے
دس دس منٹ کے چار وقفے تو لے چکی ہو اب اٹھ جائو۔ ہمارے کمرے تک اس الارم کی آواز آرہی ہے مگر تم دونوں سوئئ پڑی ہو۔
عشنا کی ڈانٹ پر فاطمہ سڑ سڑ کرتی اٹھ ہی گئ
واعظہ باتھ روم جانا ہے تو چلی جائو ورنہ میں جا رہی ہوں
وہ واعظہ کو ہلا کر پہلے بھیجنا چاہ رہی تھی
تم جائو میں تمہارے بعد جائوں گی۔
واعظہ نے کمبل اوپر کرتے کروٹ بدل لی
فاطمہ دانت کچکچاتی اٹھنے ہی لگی۔۔
میں یہیں ٹھیک تھی۔ اسے رشک آیا ۔۔
تولیے سے چہرہ تھپتھپا کر خشک کرتی وہ باہر نکل آئی۔ کچن میں آکر چائے کا پانی رکھا ناشتے کی تیاری شروع کردی۔جب تک سب تیار ہو کر باہر آئیں ناشتہ تیا رہو چکا تھا
پراٹھے آملیٹ توس مٹر قیمہ۔ پرسوں کا بچا ہوا
اس نے کائونٹر ٹیبل پر ناشتہ لگا دیا
تم نے تیا رنہیں ہونا ۔ واعظہ اور فاطمہ آگے پیچھے ہی تیار ہو کر نکلی تھیں۔
میری پہلی کلاس فری ہے آج دیر سے جائوں گئ۔
عشنا نے اتنا ہی کہا تھا لال بھبھوکا چہرہ لیئے عزہ کمرے سے نکلی
مانا میں بہت صلح جو ہوں لڑتی بھڑتی نہیں مگر میری بھی برداشت کی ایک حد ہے۔ کیا میں کرایہ نہیں دیتی ہوں ؟ یہ الف کس خوشی میں مجھ پر رعب جما رہی ہے۔
پیر پٹختی وہ امی کے پاس شکایت لیکر آئی تھئ
کیا ہوا؟
واعظہ نےسبھائو سے پوچھا تو وہ بلبلا کر بولی۔
دو گھنٹے سے آئینے کے سامنے جمی ہے مجھے بس اسکارف سیٹ کرنا ہے میں نے کہا مجھے دیر ہو رہی ہے تو
کہنے لگی میں کیا کروں ذیادہ جلدی ہے تو بھاڑ میں جائو۔
فاطمہ نے بے ساختہ چہرہ نیچے کرکے مسکراہٹ چھپائی۔ انکے جھگڑے پرائمرئ اسکول کے بچوں جیسے تھے تو واعظہ کا ردعمل بھی استانی جی جیسا ہی تھا۔ گہری سانس لیکر بولی
میرے کمرے میں بھئ ڈریسنگ ٹیبل ہے۔ وہ سر کھجانے لگی۔
ہاں مگر وہ ماس دن جو کلنڈ رلا کر دکھایا تھا وہ کہاں ہے؟ مجھ سے لڑ رہی ہے کہ میں نے اسکا کلنڈر گما دیا۔ ایک تو وہ کیلنڈر عروج کے ہاسپٹل کا تھا اسکو میں استعمال کر رہی تھی اس نے میری سب کلاسز کا شیڈول برباد کیا نشان لگا لگا کے غصہ مجھے کرنا چاہیئے الٹا مجھ سے لڑ رہی ہے۔ میری سب چیزیں ادھر ادھر کرکے ڈھونڈ رہی ہے۔ اب میں یونی جائوں یا پھیلاوا سمیٹوں۔
بولتے بولتے عزہ روہانسی ہوچلی تھی۔
فاطمہ اور واعظہ ایک دوسرے کودیکھ کر رہ گئیں۔
تم جائو میرے کمرے میں تیار ہو میں دیکھتی ہوں۔
واعظہ ناشتہ چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
نہیں تم ناشتہ کرو میں تمہارے کمرے میں تیار ہوتی ہوں۔
عزہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو پارہ جھٹ نیچے آیا تھا۔ اسے کہتی تیاری ہونے چل دی
واعظہ ویسے تو بس ہمارا ساتھ چند دنوں کا ہی رہ گیا ہے مگر تب تک ان سب سے کہہ دو میری چیزوں کو ہاتھ نہ لگائیں۔ میں یہ چند دن بھئ سکون سے لڑے جھگڑے بنا گزارنا چاہتی ہوں۔
الف تن فن کرتی باہر نکلی تھی
فاطمہ واعظہ اور عشنا نے ایک نظر اس پر ڈال کر دوبارہ ناشتے کی جانب توجہ مبذول کرلی۔ انکا پھسپسا ردعمل اسے مزید غصہ دلا گیا۔ پیر پٹختی دھاڑ سے داخلی دروازہ بند کرتی باہر نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیپ ٹاپ سامنےمیز پر رکھے کارپٹ پر بیٹھا وہ پتہ نہیں کیا کیا ٹیب کھولے بیٹھا تھا۔ تیوجون اور دلاور اسکے بالکل پیچھے بیٹھے تھے ۔ اس نے کوئی چیز ڈائون لوڈنگ پر لگائی پھر سینٹرل ٹیبل سے سوجو اٹھا کر گھونٹ بھرنے لگا۔
آپ نے جس ایجنسی سے کہا تھا انہوں نے خود کیوں نہیں کوڈ توڑا؟
کیونکہ یہ ال لیگل ہے۔
تیجون نے اطمینان سے جواب دیا۔
جون کی نے گھور کر اسے دیکھا۔ دلاور خاموشی سے کسی سوچ میں گم بیٹھے تھے۔کوڈنگ ایرر آیا تھا۔
اس نے کلک کیا۔ دو تین مرتبہ ایرر آنے کے بعد ریکوری شروع ہوئی تھی۔چند لمحے بعد اسکرین پر ایک فہرست نظر آنے لگی
یہ لی گروپ کی شپنگ کمپنی کے ملازمین کئ فہرست آگئ ۔
پینتالیس سو انکے ملازمین ہیں ان میں غیر ملکیوں کی تعداد پندرہ سو کے قریب ہے وہ بھی سب بلو کالر جاب کے ہیں ان میں سے بھی پانچ سو کے قریب جنوبی ایشیا کے ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک پروفائل کو کھول کر آپکا مطلوبہ شخص ڈھونڈنا ہوگا۔ کیونکہ جو نام آپ بتا رہے ہیں اس نام کا ایک بھی ملازم نہیں ہے۔
وہ بتاتے ہوئے کام کر رہا تھا۔
میں اس کام کیلئے تم جتنے پیسے مانگو گے دوں گا۔
دلاور اسکی بات کآٹ کر بولے۔ وہ ہونٹ بھینچ گیا۔
دیکھیں۔ کوریا میں ایسے بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں جو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آپکے کہنے پر ایسے تمام افراد جو غیر قانونی طور پریا شناخت چھپا کر رہ رہے ہیں ناصرف انکو ڈھونڈنے میں مدد دیتے بلکہ انکو قانونی معاونت بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگر آپ پیسے دینے پر تیار ہیں تو پراپر لیگل وے کا انتخاب کیوں نہیں کرتے۔
جون کو حیرت ہو رہی تھئ سو پوچھے بغیر نہ رہ سکا
تم بڑا لیگل وے میں کام کرتے ہو۔ کسی کو بلیک میل کرنا ہو تو آرام سے ہیکنگ کر لیتے ہو ہم کہہ رہے ہیں تو نخرے۔
تیجون تیز ہو کر بولا
ہاں تو میں چھوٹی موٹی ہیکنگ کرتا ہوں یوں کسی کمپنی کا ریکارڈ کھولنا کوئی چھوٹی بات نہیں۔ انکے ملازمین کی تفصیلات کوئی غیر متعلقہ شخص ہیک کرکے جاننے کی کوشش کرے تو جانتے ہو اسکی سزا کیا ہے۔
وہ بھئ ترکی بہ ترکی بولا۔
جب یہ کام تمہارے بس کا نہ تھا تو پکڑا کیوں؟
تیجون اسے بخشنے کے موڈ میں نہ تھا
بن بلائے آفت ناگہانی کی طرح مجھے بلیک میل کرکے
جون جل بھن ہی گیا۔
مجھے جلدی ہے ۔ دلاو ربے تابئ سے انکی بحث بڑھنے کے ڈر سے بول اٹھے
جس پرائیوٹ ڈیٹیکٹیو سے میں نے یہ کام کروانا چاہا تھا اس نے مجھ سے پندرہ دن کا وقت مانگا ہے صرف اس کمپنی کا ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے اور میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ پندرہ دن انتظار کے بعد مجھے وہ یہ جواب دے کہ میرا مطلوبہ شخص یہاں ملازم نہیں تھا۔ میں چاہتا ہوں تم مجھے یہ۔کنفرم کرکے دو تاکہ میں کہیں اور ڈھونڈوں اب اسے۔

دلاور کی لمبی چوڑی وضاحت میں انکی بے تابی اور بے چینی مترشح تھی۔
جون کے لب وا ہوئے ۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے یو ایس بی اٹھائی۔ وہ کوڈ توڑ چکا تھا۔ اب صرف ڈیٹا ڈائونلوڈ کرنا تھا۔
اس نے ڈائونلوڈ کرکے یو ایس بی میں کاپی پیسٹ کیا۔
یو ایس بی نکال کر انکی جانب بڑھا تےہوئے کھڑا ہوگیا۔
کیا یہ ہوگیا؟
دلاور اور تیجون حیرت سے کہتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
یہ ملازمین کی فہرست ہے ایک دو بھی ہوتے تو میں ڈھونڈ کے دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایک ایک پروفائل کھولو اور بندہ ڈھونڈو۔ اور چلتے پھرتے نظر آئو۔۔
وہ سب مروت بالائے طاق رکھ کر بدتمیزی سے بول رہا تھا۔
۔ مجھے اب اپنا کام کرنا ہے آپ لوگ جائیں۔ ۔ اور آج کے بعد ہم اجنبی ہیں دوبارہ میرے گھر کے دروازے پر آکر مجھ سے کسی قسم کی ہیکنگ کا کہاتو۔۔۔
وہ دھمکی دے رہا تھا دلاور نے آگے بڑھ کر اسکو گلے سے لگا لیا
شکریہ بہت بہت شکریہ تمہارا۔
وہ بالکل چپ ہی رہ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں بس اسٹاپ پر اتری ہی تھیں جب انہیں سامنے سے دلاو راور تیجون آتے نظر آئے۔ واعظہ نے فاطمہ کا ہاتھ پکڑا اور بس اسٹاپ کے شیلٹر کی اوٹ میں ہوگئ۔
کیا ہوا۔ اسکے ساتھ جیمز بانڈ کی چیلی بنی فاطمہ نے کیریمل کارن سے منہ بھر رکھا تھا جلدی جلدی منہ چلاتے ہوئے نگل کرپوچھا۔
شی۔۔
واعظہ نے دلاو رپر کڑی نگاہ رکھی تھی۔وہ چلتے چلتے بس اسٹاپ کے قریب سے گزرے انکی تو نہیں تیجون کی نگاہ پڑی تھی ان پر۔ پہچانتا وہچانتا تو نہیں تھا البتہ گلاس وال میں چھپتی لڑکیوں کو دیکھ کر حیران ضرور ہوا
انکے قدموں کے ساتھ گردن گھماتے گلاس وال سے انکو چند قدم کے فاصلے سے گزر کر جاتے دیکھ کر فاطمہ نے شانہ ہلایا واعظہ۔
دیکھ چکے وہ ہمیں۔
جانتئ ہوں۔ واعظہ کو اپنی حماقت کا احساس ہوا تھا مگرمزید حماقت یہی ہوتی کہ اس حماقت کا عتراف کرلیا جائے جو آپ سے سرزد ہوچکی ہے۔
دونوں نے فٹ پاتھ کے قریب آکر مخالف سمتیں اختیار کی تھیں۔ واعظہ نے اسکا ہاتھ تھام کر دوڑ لگادی۔۔
چلو کان سے پکڑیں۔ بھاگتے بھاگتے ہاتھ چھوڑا فاطمہ نے جزباتی ہوکر اس سے بھی ذیادہ جان لگا کر بھاگنا شروع کیا۔
چوراہے پر آکر دونوں مخالف سمتوں میں مڑی تھیں۔فاطمہ دلاور کے پیچھے بھاگی اور واعظہ تیجون کے۔۔
یار پکڑ کر کرنا کیا ہے۔
دلاور کچھوے کی رفتار سے چل رہے تھے ۔ اس سے قبل وہ بھاگ کر ان سے ہی ٹکرا جاتی بروقت بریک لگا کر واعظہ سے پوچھا۔ مگر جواب ندارد تھا۔ اس نے حیرت سے مڑ کر دیکھا تو واعظہ بھی ساتھ نہیں تھی۔
شٹ۔ اس نے اپنےسر پر ہاتھ مارا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پیچھے سے جا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر روکنا چاہا تھا مگر وہ ضرورت سے ذیادہ چوکنا تھا۔ اسکا بازو پکڑ گول گھما کر اپنے سامنے لاکر پٹخنی دی۔
واعظہ وہیں سڑک پر الٹی پڑی تھی۔ تیجون کے ہاتھوں سے طوطے اڑے تھے
بیان بیان۔ اس نے آگے بڑھ کر اٹھانا چاہا مگر واعظہ کو اب اٹھانا آسان نہیں تھا۔ فاطمہ بھاگتی ہوئئ آئی تھی۔ آئو دیکھا نا تائو تیجون کو بازو سے پکڑ کر اوندھایا پھر پوچھا۔۔
تم ٹھیک ہو ؟ یہ کل کا ٹانگ برابر لڑکا جرات کیسے ہوئی اسکی ہاتھ اٹھانے کی۔ توڑ نہ دوں ہاتھ ہی اسکا۔
آگاشی جانے کس اجنبی زبان میں کیا چلا رہی تھیں اسکو صرف اپنا درد کراہنے پر مجبور کر رہا تھا۔ وہ اپنی مادری زبان میں کچھ ^ تعریفیں ^ کرتے ہوئے ان سے اس تشدد کی وجہ پوچھ رہا تھا جس کا جواب فاطمہ نے کیا دینا تھا الٹا گرفت مضبوط کر لی۔ تیجون کی ہائے ہائے بڑھ رہی تھی
بازو بری طرح مڑا ہوا تھا وہ ہائی اسکول کا دبلا لڑکا بلبلا گیا۔
واعظہ نے ایک نظر تیجون کے ہوائیاں اڑے چہرے پر ڈالی دوسری فاطمہ کے لال بھبوکا۔
پھر اپنی کمر پکڑتی اٹھنے کی ناکام۔کوشش کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنوینئیس اسٹور کے باہر تین چار درد کش پیچز خریدے دو تو تیجون کو ہی دینے پڑنے تھے درد کش دوا بھی خریدی۔ تیجون اپنے اور واعظہ کیلیے جوس خرید کر مڑی۔ تیجون سر جھکائے کنوینئیس اسٹور کے ایک کونے میں لگی کرسی میز پر واعظہ کے مقابل بیٹھا من من کر رہا تھا۔
اس نے چیزیں میز پر رکھ کر واعظہ کا والٹ اسکو تھمایا۔اور خود بھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئ۔
تیجون ایکدم چپ۔ہوا تھا۔
بولتے رہو اسکا دماغ اتنا کام نہیں کرتا۔
واعظہ نے ہنگل میں اسے تسلی دی۔ اس نے ذرا گھبرا کر فاطمہ کو دیکھا جو اطمینان سے لیچی کا جوس پی رہی تھی
بس اتنا سا کام تھا ۔ میں اور آہجوشی کسی غلط نیت سے نہیں گئے تھے۔ بس یو ایس بی لینے گئے تھے اور کوئی غلط کام نہیں کیا۔
ہاں غیر قانونئ طور پر کسی کمپنی کا ڈیٹا چرانا تو بڑے ثواب کا کام ہے۔
واعظہ نے جتایا تو وہ کھسیانا سا ہو کر سر کھجانے لگا۔
ٹھیک ہے جائو۔ واعظہ نے ایک جوس کا پیکٹ اور دوائیں ایک چھوٹے شاپر میں ڈال کر اسے تھمایا۔
وہ لینے میں متامل ہوا۔ مگر واعظہ نے ابرو اچکا کر گھورا تو شاپر تھام کرجھک کر سلام کرتا الٹے پیروں نکل کھڑا ہوا۔
مجھے دلاور ایسے نہیں لگتے تھے۔
اسکو تاسف سے جاتے دیکھ کر فاطمہ نے باقائدہ افسوس سے سر جھٹکا۔
کیسے۔۔ اپنے ایپل جوس کے گھونٹ بھرتی۔واعظہ سنبھل کر سیدھی ہوئئ۔
ایسے۔ یوں بچوں کو استعمال کرنا۔ دلاور بھائئ کو زیب نہیں دیتا۔ اپنے بھی تین بچے ہیں انکے۔ اور طوبی ان پر کیا گزرے گئ جب
فاطمہ کہے جا رہی تھی واعظہ کی آنکھیں پوری کھل سی گئیں
تم غلط سمجھ رہی ہو ایسی کوئی بات نہیں۔۔
واعظہ جو سمجھی تھی کہ فاطمہ کیا سمجھی ہے اس سے ڈرکر جھٹ صفائی دینی چاہی
سب سمجھ آتا یے مجھے مانا ہنگل میں تمہاری طرح ماہر نہیں ہوں ۔ فاطمہ چڑی۔
کیا سمجھ رہی ہو وہ۔۔ واعظہ نے غلط فہمی دور کرنی چاہی
یہی نا دلاور بھائی ان ہائی اسکول کے بچوں کو ڈرا دھمکا کے ان سے بھتہ لے رہے۔ شرم آنی چاہییے انکو۔ اور انکی یو ایس بی بھی چھین لی کتنا کمینہ پن ہے نئی خرید لیتے۔۔۔
دل تو کر رہا ابھی جاکے طوبی جی کو بتائوں۔
فاطمہ تیز ہو کر ہاتھ نچا کے بولی تو واعظہ جو الرٹ سی ہو بیٹھئ تھئ اطمینان سے سیدھی ہوکر گھونٹ گھونٹ اپنا جوس ختم کرنے لگ گئ
ویسے یہ ہے جن جتنا ہی ہوگا نا؟ ہے جن کتنا تیز تھا آرام سے چھپکلی مار لیتا تھا ایک یہ بونگا توندل آہجوشی سے بلیک میل ہو رہا ہے۔
فاطمہ کا غصہ یونہی تھوڑی مشہور تھا۔ اب آرام سے وہ اپنا خون جلا سکتی تھی۔ اسے اسی کام میں لگا چھوڑ کر واعظہ سہولت سے کچھ سوچنے میں مگن ہوگئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج نے دروازہ کھولا تھا اورکھولتے ہی دونوں کی کلاس لی۔
کل جا رہی ہوں میں عشنا عزہ آج خاص میرے لیئے یونیورسٹی سے جلدی آگئیں ۔ ساری پیکنگ میں مدد کی۔ طوبی نے خاص گاجر کا حلوہ بنایا کہ اپنے ساتھ امریکہ لے جائوں نور نے ابھی فون کرکے خدا حافظ کہا ابیہا دلہن بننے جا رہی تھی پارلر سے وییڈیو کال کی مجھے اور تو اور الف سب نوڈ سوئنگز بھلا کر ہمارے ساتھ گپیں مارتی رہی مگر تم دونوں میں ذرا مروت نہیں اب آرہی ہو جب سب سونے لیٹ چکی ہیں۔۔ ایک بس میں احمقوں کی طرح جاگ رہی ہوں یہ دونوں اب آئیں گی اب آئیں گی۔
گھڑی گیارہ بجا رہی تھئ۔ انکی شکلوں پر بارہ بج رہے تھے مگر عروج نے انکا گھنٹہ بھر دماغ بھئ بجایا۔
اتنی محبت تم مجھے پہلے جتاتیں تو قسم سے میں تمہارے ساتھ امریکہ کا ٹکٹ کٹا لیتئ۔
فاطمہ جزباتی ہو کر بولی۔
واعظہ اور عروج نے تاسف سے دیکھا تو ڈھٹائی سے کندھے اچکادیئے۔
چلو اب اندر۔ عروج انہیں اندر دھکیل کر دروازے کو ہاتھ مار کر بند کرنے لگی۔دروازہ فٹ میٹ میں اٹک کر بند ہی نہ ہوسکا ذرا سا نیم وا رہ گیا مگر وہ مطمئن ہو کر خراماں خراماں چلتی انکے پیچھے آگئ۔ وہ دونوں سست قدموں سے چلتی آرہی تھیں مگر لائونج کو دیکھ کر پھرتی آگئی۔لائونج میں ہلکی پھلکی پارٹی کے مٹے مٹے نشان تھے۔ منی میز پر گاجر کے حلوے کا ڈونگا رکھا تھا جس میں حلوہ بس شرمندگی سے منہ چھپائے تھوڑا سا پڑا تھا۔ ایل ای ڈی پر شائد کوئی مووی لگی تھی۔ ایک پلیٹ میں مونگ پھلیاں تھیں دوسری میں چھلے ہوئے چھوٹے مالٹے۔ انہوں نے ویجیٹیبل پزا اڑایا تھا جسکی باقیات ایک بڑے سے ڈبے سے جھانک رہی تھیں۔
فاطمہ نے لپک کر اٹھا یا اس میں دو سلائس تھے۔ اس نے فورا ایک واعظہ کی جانب بڑھا دیا۔ دونوں جانے کب کی بھوکی تھیں۔۔
زندگی میں کبھی سوچا بھی نہ تھا کبھی ویجیٹیبل پزا بھی مزے لیکر کھائوں گئ۔
فاطمہ لہرائی۔
واعظہ کو۔اب یاد آیا یہ ویجیٹیبل پزا ہے۔ مشروم حلق میں اٹک اٹک۔گئے۔
یہ وقت بھی آنا تھا۔ واعظہ بڑ بڑائئ۔
۔عروج کو۔ترس ہی آگیا۔
چائے کافی کچھ پیئوگی دونوں۔ عروج کے پوچھنے پر دونوں نے نفئ میں سر ہلایا۔
کب کی فلائیٹ ہے؟ واعظہ نے پوچھا تو وہ بتاتے ہوئے کمرے میں گھس گئ۔
چار بجے کی۔
واعظہ نے گھڑی کی۔جانب نگاہ۔کی۔ پانچ گھنٹے گھر سے کم از کم بھی پون گھنٹے پہلے نکلنا چاہیئے۔
صحیح ناراض ہو رہی تھی۔ فاطمہ بھی گھڑی ہی دیکھ رہی تھی۔
واعظہ کو پتہ نہ چلا کہ پیزا کہاں گیا۔ سو گاجر کے حلوے کی جانب بڑھ گئ۔ فاطمہ نے بھی تقلید کی۔
عروج کمرے سے نکلی تو دونوں ڈونگہ صاف کر چکی تھیں۔ اسے ہنسی آگئ۔
وہ یہ توتم نے امریکہ لےجانا تھانا۔ دونوں شرمندہ ہوگئیں
نہیں اسی وقت ہی ختم ہونے لگا تھا وہ تو عشنا کو تم دونوں یاد آگئیں۔۔
اس نے ان دونوں کو گفٹ بیگ لا تھمائے۔
یہ کیا ہے ؟ واعظہ نے پوچھا مگر وہ کندھے اچکا کر انکےسامنے سہولت سے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ۔
فاطمہ کیلئے بے حد خوبصورت بریسلٹ تھا۔ واعظہ کیلئے بریسلٹ کے ساتھ ایک بے حد خوبصورت لکڑی کا چھوٹا سا صندوق۔ واعظہ نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کھولا تو اندر ایک چھوٹا سا آئینہ تھا اور بے حد خوبصورت جڑائو لمبی سی ہیئر پن روایتی کورین ثقافت کی نشانی۔
یہ؟۔ فاطمہ نے تجسس سے اسکے ہاتھ سے لیکر دیکھی۔
یہ باکس مجھےاسی آنجہانی آہجومہ نے دیا تھا۔ یہ کوئی نادر نایاب باکس ہے جس کی قیمت لاکھوں وون بنتی ہے۔ اسکو جب میں کورین کلچرل میوزیم میں دکھوانے گی تو انہوں نے ہی مجھے کھول کر دیا۔ ورنہ مجھے کھولنا بھی نہیں آرہا تھا۔
واعظہ نے تو آسانی سے کھول لیا ۔ فاطمہ حیران ہوئی
واعظہ ہتھیلیاں مسلنے لگی۔
میں بھی یہی دیکھ رہی تھی۔ عروج مسکرا دی۔
خیر یہ ہزاروں وون کا ہوتا یا لاکھوں کا اس پر میرا کوئی حق نہیں۔ یہ اس آہجومہ کی بیٹی کا ہی حق ہے۔ اور یقینا اس وقت اسے پیسوں کی ضرورت بھی ہے۔ مجھے اگر اندازہ ہوتا کہ یہ اتنی قیمتی چیز ہے تو میں پہلے ہی اس لڑکی کو۔واپس کر دیتی۔ اب مجھے تمہیں ہی زحمت دینی پڑے گی۔ یہ اس لڑکی کو دے دینا۔
عروج واعظہ کو تاکید کر رہی تھی۔
یہ تم رکھ لو۔ اگر آہجومہ یہ اپنی بیٹی کو دینا چاہتیں تو کبھی تمہیں نہ دیتیں۔
واعظہ نے قصدا سرسری سے انداز میں کہا۔
تو اور کیا۔ اور اگر تمہیں نہیں چاہییے تو میں لے لیتئ ہوں آجکل مجھے ویسے بھی پیسوں کی ضرورت ہے۔ فاطمہ نے جھٹ باکس لیا۔ لیا تو شرارتا تھا مگراسکی دونوں سہیلیوں کے چہرے کے تاثرات اسے شرمندہ ہی کر گئے۔ دونوں اسے دینا نہیں چاہ رہی تھیں۔ اس نے واپس واعظہ کو تھما دیا۔
تم رکھ لو اسے۔
واعظہ نے کہا تو عروج سہولت سے انکار کر گئ۔
ان آہجومہ کا خلوص اپنی جگہ مگر اس پر میرا کوئی حق نہیں۔
اسکے قطعی سے انداز پر واعظہ چپ کرگئ۔
ویسے عروج تم سیونگ رو سے رابطہ کرنا ایک بالکل اجنبی ملک میں تمہیں کسی جانے پہچانے کا بہت سہارا ملے گا۔
فاطمہ کے مشورے پر عروج نے کانوں کو ہاتھ لگائے
نہ۔بھئ۔ ویسے بھی میرے ابو نے کوئی رشتے کے چچا ڈھونڈ لیئے ہیں امریکہ میں جو خبر گیری کریں گے میری جب تک میں ڈورم میں شفٹ نہیں ہوجاتی۔ ویسے سنا ہے انکا نظام بہت اچھا ہے۔۔
امریکہ ظاہر ہے امریکہ ہے۔ ویسے تم اتنی پڑھاکو لگتی تو نہیں ہو کہ اسکالر شپ مل۔جائے تمہیں۔ فاطمہ نے جان بوجھ کر چھیڑا۔
کیوں بھئ ہمیشہ اے پلس لیا ہے مابدولت نے۔ عروج برا مان گئ۔
عروج اور فاطمہ باتوں میں لگ گئیں تو وہ باکس اٹھا کر کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آس و نراس کی کیفیت میں الجھتے وہ پھر جاپان کی سڑکیں ناپ رہا تھا۔سویٹ پینٹ شرٹ میں ملبوس وہ سر جھکائے سوچ سوچ کے قدم اٹھاتا جا رہا تھا۔
تو میں یہ بازی بھی ہار گیا۔
اسکے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ آئی تھئ۔ جیب سے موبائل نکالا ریمائنڈر میں تین دن بعد کی تاریخ تھی۔ جب آج تک رابطہ نہ کیا تو اب کیا۔
اس نے ریمائنڈ رآف کر دیا۔
میں محبت کر نہیں سکتا تھا کیوں ہوگئ۔
اس نے سراٹھا کر آسمان کو دیکھنا چاہا۔زمین پر تیز روشنیاں ہو جائیں تو آسمان دکھائی دینا بند ہوجاتاہے۔ وہ بھی کوشش کے باوجود ایک ستارہ تک نہ کھوج سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ستارہ تک نہیں آسمان میں ۔ کیا تاریخ ہوگئ۔۔ ؟؟؟
کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکتے اس نے سوچا تھا۔
باہر فاطمہ عروج وغیرہ زور زور سے باتیں کر رہی تھیں اندر عزہ اور عشنا مدھم خراٹے لیتے گہری نیند میں گم۔تھیں۔۔
الف تھک کر وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر فلو رکشن پر بیٹھ گئ۔ کھڑکی سے خنک ہوا آرہی تھی منٹوں میں کمرہ یخ ہو گیا۔ اسے بھی نیند کے جھونکے آہی گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین بج گئے اٹھو دیر ہو رہی ہے۔
واعظہ نے چار بجے آکر ان کے اوپر سے کمبل کھینچا۔ ساری لائٹیں لائونج کی کھٹاک کھٹاک جلا دیں
فاطمہ اور عروج باتیں کرتے منے لائونج میں ہی ایک کمبل میں سکڑ سمٹ کر سوگئ تھیں۔
مندی مندی آنکھوں سے عروج نے اسے دیکھنا چاہا سر اتنا چکرا رہا تھا کہ شکل سمجھ نہ آئی۔
کیا ہوا۔
تین بج رہے ہیں اٹھو ابھی ٹیکسی آنے اور نکلنے میں بھی وقت لگے گا کچھ کھائو گی؟
واعظہ نے افرا تفریح مچا دی تھی۔ فاطمہ بھی چوکنا ہو کر اٹھ بیٹھی
کوئی کام رہ گیا ہو تو بتا دو میں مدد کروا دیتی ہوں۔
فاطمہ کی پرخلوص پیشکش پر اس نے پہلے سر کھجایا پھر بڑی سی جمائی لی۔
اتنی جلدی تین بج۔۔ عروج سستی سے اٹھی۔ سامنے گھڑی کی۔طرف نگاہ کی تو آنکھیں پھٹ سی گئیں۔
گھڑی ڈھائی بجا رہی تھی
تم تو کہہ رہی تھیں تین بج رہے۔ اس نے دانت کچکچائے
ہاں تو لیٹ ہونا ہے کیا؟ ابھی اٹھو گی تو تین ساڑھے تین بجے تک نکلو گی۔ اٹھو تیار ہو جائو۔میں چائے بناتئ ہوں
واعظہ فراخ دلی سے کہتے ہوئے کچن کی طرف بڑھتے ہوئے بولی
عزہ عشنا آگئیں یونیورسٹی سے؟ عروج سستی سے چپل پہن رہی تھی
پاگل ہو رات کو وہ یونیورسٹی کیا جھاڑو دینے جاتیں۔
فاطمہ نے مضحکہ اڑایا۔ تو عروج نا سمجھنے والے انداز میں دیکھنے لگی۔ پھر جیسے کوئی خیال دماغ میں کوندا ۔ لائونج کے گیلری کی طرف کھلنے والے دروازے کی طرف بڑھی دھاڑ سے پاٹو پاٹ کھولا۔ سامنے سیول کی اونچی عمارتوں جگمگ ستاروں سی روشنی مگر آسمان سیاہ گھنگھور دور کہیں سے بھونکتے کتے کی آواز نیم تاریک سڑک پر چلتے ہیولے۔ اس نے سردی سے جھر جھری لی۔
واعظہ کی بچی۔ وہ بازو سکیڑ کر زور سے چلائی
تم نے مجھے رات کے ڈھائی بجے جگا کر کھڑا کر دیا کس خوشی میں۔
گیلری کے دروازے پر چلاتی عروج کی آواز سات محلوں تک گئ ہوگئ
تمہارے امریکہ جانے کی خوشی میں۔ اسکو تو بند کرو۔
فاطمہ کی گھگھی بندھ رہی تھی جھٹ اسے بازو سے پکڑ کر پیچھے کیا اور دروازہ بند کیا۔
خود ہی تو کہا تھا چار بجے کی فلائٹ ہے۔ واعظہ چولہا جلائے حیران پریشان اسکا ردعمل دیکھ رہی تھی۔
الو گدھی۔شام چار بجے کی فلائٹ ہے میری۔
عروج اتنی زور سے چلائی تھئ کہ کھڑکی کے پٹ سے سرٹکائے الف گھبرا کے جو اٹھی تو پٹ ہی سر میں کھٹ سے لگا۔
کیا ہوا۔ عشنا عزہ دھڑ دھڑ کرتے دل کے ساتھ بیڈ سے اٹھی تھیں۔
سب خیریت ہو۔ الف بھی گھبرا کر انکے پیچھے بھاگئ۔
باہر لائونج میں عجیب ہی منظر تھا منے لائونج میں عروج اور واعظہ کے درمیان میراتھن لگی تھی عروج اچک اچک کر واعظہ کی پٹائئ کرنا چاہ رہی تھی فاطمہ واعظہ کو بچانے کی کوشش میں برابر سے پٹے جا رہی تھئ۔مگر ہنسے بھئ جا رہی تھی
بے ہنگم چیخیں شور ہنسئ۔۔ پاگل پن
شکر ہے سب خیریت ہے۔
ان تینوں کی جان میں جان آئی تھی سب معمول کے مطابق مناظر دیکھ کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلاور نے گھبرا کر کھڑکی کھولی۔
کیا ہوا۔ طوبی بھی گھبرا کر اٹھ بیٹھی
لگتا ہے کسی نے خود کشی کر لی ہے۔ لڑکیاں شور مچا رہی
بولتے بولتے دلاور رکے۔
لڑکیاں شور۔ طوبی دہل کر بستر سے اتری۔ لڑکیاں تو بس سامنے والے گھر میں ہے ہائے اللہ سب خیریت ہو۔
وہ دوپٹہ ڈھونڈنے میں لگی تھی۔
تکیئے کنارے صوفے کے پاس صائم کے کاٹ میں۔
میں دیکھتا ہوں۔ جانے کیسا منظر ہو تمہیں اچانک کوئی شاک نہ لگ جائے۔
الٹی سیدھی چپل پہن کر وہ صوفے سے تولیہ ہی کندھے پر ڈالتی باہر نکلنے کو تھی۔ کہ دلاور نے نرمی سے اسکو روک دیا۔
چار دن کی سردمہری ضرورتا بھئ بات چیت نہیں کر رہے تھے اب اچانک اتنا نرم سا انداز وہ خوش ہوتے ہوتے رہ گئ۔ دل سامنے والے فلیٹ میں اٹکا تھا
ہائے جانے کیا ہوا ہے کبھی ایسے تو نہیں چیخی ہیں۔
طوبی کے بین وہ ننگے پیر ہی باہر بھاگے۔سامنے والے فلیٹ کا دروازہ نیم وا تھا۔یعنی واقعی خیریت نہیں تھی۔
انہوں نے پلٹنا چاہا طوبی دروازے میں ٹکی تھی۔
جائیں نا اندر۔ وہ کوئی ہتھیار لینا چاہتے تھے دونوں ہاتھ پھیلا کر اشارہ بھی کیا کہ کوئی وائپر ہی تھما دو مگر طوبی کو اشارے سمجھ نہیں آتے تھے بس کر سکتی تھی۔اس کےگھورنے اشارہ کرنے پر مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق وہ پلٹے۔دھیرے سے قدم اٹھاتے آگے بڑھے۔ اپنے اپر کا ہڈ سر پر چڑھایا کورین جاسوس کا حلیہ بنا کر ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا پھر آنکھیں بند کرکے اندر گھس گئے۔
اندر تیسری عالمی جنگ شروع تھی۔
وہ سب ہنس رہی تھیں ایک دوسرے پر تکیئے اچھال رہی تھیں لائونج کئ درگت بنی تھی۔سب اکٹھے جانے کیا بول چیخ رہی تھیں مگر سب خیریت تھی۔ یہاں وہاں تکیوں سے نکلی روئی بکھری پڑی تھی مگر یقینا خیریت تھی۔ انہوں نے خاموشی سے بنا مار کھائے پلٹ جانا چاہا۔۔کیونکہ یقینا انکی پوزیشن اس وقت آکورڈ ترین تھی۔
اف کتنا گند مچا دیا ہے کون صاف کرے گا اب یہ۔ کہاں ہے وائپر۔
عزہ چلائی تھی۔
میں لا رہی ہوں ۔
۔ فاطمہ کچن سے وائپر لارہی تھی۔۔
چوروں کی۔طرح پلٹ کر جاتے اس شخص پر فاطمہ کی نگاہ پڑی تھی۔ ڈھیلے اپر میں یہ کون شخص انکے گھر میں اندر تک گھس آیا تھا۔
وائپر کا اس سے بہتر استعمال کیا کیا جاسکتا تھا کہ اس چور کا سر پھوڑ دے۔ اس نے آئو دیکھا نا تائو۔وائپر اٹھایا۔۔
دلاور کے منہ سے ڈکرائے ہوئے جانور جیسی آواز نکلی تھی وہ چکرائے لہرائے آخری منظر جو انکی یاد داشت میں رہا وہ بھونچکا کھڑی فاطمہ اور لپک کر انکی جانب آتی واعظہ کی شکل تھی اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
جاری ہے

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.