Desi Kimchi Episode 63

قسط 63
غضب کا جذباتئ منظر تھا۔ طوبی اور دلاور اکٹھے کمرے میں داخل ہوئے تھے جب آہٹ پر دونوں نے نگاہ اٹھا کر دروازے کو دیکھا تھا۔ دلاور بے تابئ سے اسکے پاس آئے تھے۔۔ فاطمہ ایک طرف ہو گئ۔
وہ بستر پر چت لیٹا تھا۔ اسکی پسلی میں ہیئر لائن فریکچر تھا اور بائیں بازو میں پسلتر سو وہ ہلنے جلنے سے عاری تھا۔۔ ورنہ شائد ابھی بھی بھاگ کھڑا ہوتا۔ بھائی کی آنسوئوں میں ڈبڈبائی آنکھیں وہ جوابا آنکھیں بند کرگیا۔
اتنے ناراض ہو کہ اب میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔
دلاور نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں شکوہ کیا تھا اس نے تڑپ کر آنکھیں کھول دیں
نہ۔۔ نہیں۔بھا۔۔ اس نے دائیں جانب زور دے کر اٹھنا چاہا مگر سینے میں اٹھتی ٹیس کی وجہ سے اٹھ بھئ نا سکا۔ دلاور نے آگے بڑھ کر اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا
بھائئ سے کوئی ایسے ناراض ہوتا ہے بھلا۔
وہ محبت سے چور انداز میں پوچھ رہے تھے۔
بھیا۔ وہ رو پڑا تھا۔ کتنے لمحے وہ اسکی پیشانی پر ہونٹ لگائے روئے چلے گئے۔
طوبی نے دھیرے سے آکر انکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک کر سیدھے ہوئے۔
بہت پچھتائے ہیں تم پر ہاتھ اٹھا کر۔ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا انہوں نے تمہیں۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کے روتے پچھتاتے رہے ہیں۔۔
طوبی بتا رہی تھئ۔ اس نے حیران ہو کر بھائی کی شکل دیکھی۔ وہ مسکرا دیئے
عذاب ہوگیا میٹرک۔۔۔۔گھر سے بھاگ لیئے تمہاری یہ حالت نہ ہوتی تو میں نے ڈنڈے سے پٹائی کرنی تھئ پہلے تمہاری۔ اماں بہنوں کسی کا نا سوچا تم نےخود کو گم کر لیا۔ جانتے ہو اماں کی کیا حالت۔
طوبئ مخصوص انداز میں ڈانٹے جا رہی تھئ کہ دلاور نے اسکا ہاتھ تھام کر جیسے اسکو کچھ بتانے سے روکا۔
کیا ہوا اماں ٹھیک ہیں؟
حسب توقع وہ پریشان ہو گیا۔۔
ٹھیک ہیں سب ٹھیک۔ تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ اب تم ہمارے ساتھ پاکستان چلو سب سے خود ملو۔ تم نے میرے ساتھ ان سب کو بھئ سزا دی ہے یوں ہم سے دور ہو کر جانتے ہو مانو کتنا یاد کرتی ہے تمہیں۔ اس نے تو اپنے بیٹے کا نام بھی خاور رکھا ہے۔
دلاو رمحظوظ مسکراہٹ سے بتا رہے تھے
مانو کی شادی ہوگئ۔ ؟ اسکے ذہن میں تو دو چوٹیاں کرکے اسکول جاتی منی سی مانو تھی اتنا وقت گزر گیا۔۔۔ اسکے دل میں ہوک سی اٹھئ۔
ہاں۔ طوبی مسکرا دی۔
زینت بھئ بڑی ہوگئ ہوگئ۔
خاور کے انداز میں حسرت سی تھی۔ دلاور نے پیار سے اسکا ہاتھ تھپکا۔۔
بس جلدی سے ٹھیک ہو جائو۔۔ زینت سے ملوائیں گے اور بھی دو سرپرائز آچکے ہیں دنیا میں ایک اور بھی آ۔۔۔
دلاور ہلکے پھلکے انداز میں بولے تو طوبی جھینپ کر انکو ٹہوکا دے گئ۔
سر میں درد ورد تو نہیں ہو رہا۔ ڈاکٹرکو بلائوں۔
دلاور کو خیال آیا چوبیس گھنٹوں بعد ہوش میں آیا ہے۔
نہیں۔۔ اس نے منع کرنا چاہا مگر فاطمہ کو بھی بہتر یہی لگا کہ ڈاکٹر کو بلوا لے۔
میں ڈاکٹر کو بلا لاتی ہوں بہتر ہے وہ معائنہ کر لیں۔
اتنی دیر سے خاموش سے ایک کونے میں کھڑی فاطمہ مستعد ہوئی۔
میں بلا لاتا ہوں۔ دلاور اٹھنے لگے تو اس نے نرمی سے منع کر دیا۔۔
میں جاتی ہوں۔ وہ کہہ کر رکی نہیں۔ دلاور کے پاس کھڑی طوبی کو خیال آیا تو فورا اسکے پیچھے کمرے سے نکل آئی
فاطمہ۔
طوبی کے پکارنے پر وہ چونک کر مڑی
صبح تم سے بات کا موقع نہیں ملا اور میں۔۔۔ وہ انگلیاں چٹخا رہی تھی۔
مجھے معاف کردو۔ میں نے تم سے بہت بدتمیزی کی برا بھلا کہا۔۔ تم معزرت کرنے آئیں تو بھی ۔۔۔۔ آئیم سوری فاطمہ۔
طوبی غلطی کرکے اکڑنے والوں میں سے نہیں تھی۔ دل صاف ہوا تو فورا اپنی غلطی سمجھ لی اور معافی بھی مانگ لی۔
طوبی آپکو معزرت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
آپکی جگہ کوئی بھی ہوتا تو شائد ایسا کرتا۔۔
فاطمہ شرمندگی محسوس کرنے لگی۔
تمہاری جگہ بھئ کوئی بھی ہوتا تو شائد ایسا کرتا۔
طوبی نے جتایا تو دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس دیں۔۔
اب آپکے اور دلاور بھائی کے درمیان سب غلط فہمیاں دور ہوگئیں۔ نا؟ وہ واقعی اپنے بھائی کو ہی ڈھونڈ رہے تھے۔ آپ ایویں شک کر رہی تھیں۔
فاطمہ نے کہا تو وہ کھسیا کر سر ہلانے لگی
مجھے انہیں سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی۔میں نے انکو کیا کچھ الٹا سیدھا بولا تب بھی مجھے صفائئ دیتے رہے۔ بہت احمق ہوں میں۔۔
طوبی کو آج اپنے میاں پر بہت پیار آرہا تھا۔۔
فاطمہ نے سرہلایا
ہممم۔
کیا ؟ طوبی چونکی۔ کس بات پر تائید کر رہی ہے۔۔
وہ میرا مطلب میں ذرا ڈاکٹر کو بلالائوں ۔۔ وہ فورا وہاں سے رفو چکر ہوئی۔ اسکے اور طوبی کے ستارے شائد ملتے ہی نہیں تھے ۔۔ طوبی سر جھٹک کر رہ گئ

4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے لگا تھا آپ مجھے ڈھونڈ لیں گے ۔۔۔
اس نے شکوہ کناں انداز میں دلاور کو دیکھا تھا۔۔
میں جانے کتنی دیرسڑک پر پڑا رہا تھا۔ پولیس کی گاڑی نے مجھے مردہ سمجھ کر ملتان کے اسپتال پہنچایا تھا۔ کئی دن علاج ہوا۔ مجھے لگا تھا آپ مجھے ڈھونڈنا نہیں چاہتے اسلیئے واپس گائوں آنے کی بجائے میں ملتان میں ہی رہنے لگا۔۔
محنت مزدوری بھی نہیں کر پارہا تھا پائوں کا زخم خراب ہو رہا تھا میرے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔ ایکدن کھانے کے بھی نہیں تھے۔ایک ٹرک کے نیچے آکر زندگی تمام کردینی چاہی سو وہ بھئ ممکن نہ ہوسکا۔
اس نے آنکھیں میچ لیں۔ بے بسی کی انتہا تھی اس دن جب پورے دو دن سے ایک کھیل تک اڑ کر اسکے منہ میں نہ گئ تھی۔ سیدھا کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا سردی الگ جان نکالے تھی جب وہ بنا سوچے سمجھے اس تیز رفتار ٹرک کے سامنے آن کھڑا ہوا۔۔ ایک ہفتے میں دنیا میں کھو جانے کے سب شوق نکل گئے۔ دنیا سے ہی دل اٹھ گیا تھا اسکا۔
ٹرک ڈرائیور نے بروقت بریک لگا کر ٹرک کچے میں اتار لیا تھا۔ اسے ہلکی سی ضرب آئی تھی ۔ ٹرک ڈرائیور غصے سے بھرا اترا تھا
مرنا تھا تو نہر میں کودتا میری زندگئ کیوں عذاب میں ڈالنے لگے تھے ۔۔ اس نے بلا۔لحاظ دو تین تھپڑ لگائے تھے اسے
لوگ اکٹھے ہونے لگے کسی نے اسکے ظالم شکنجے سے بمشکل اسے چھڑایا تھا۔ ٹرک ڈرائور پشتو میں اسکی پشتوں تک کو گالیاں دے رہا تھا
سالا خود تو مرتا سب نے یہی کہنا تھا ٹرک ڈرائیور نے نیچے دے دیا۔
اسکو سمجھا بجھا کر الگ کرتے لوگوں میں ایک وہ شخص بھی تھا جو ٹرک کے یوں اچانک موڑکاٹنے کے باعث اپنی گاڑی کچے میں اتار چکا تھا ۔ جو ٹرک ڈرائیور کی بجائے اس کم عمر لڑکے کے پاس آیا تھا جسکے پائوں سے خون بہہ رہا تھا ہونٹ تھپڑوں سے پھٹ چکا تھا اور منہ سوج رہا تھا۔ وہ ان تکلیفوں کے ساتھ اٹھنے کی دو ناکام کوشش کر چکا تھا۔
اسکو ہاتھ دینا ذرا۔ اس نے پاس سے کھڑے کسی شخص کو کہا تھا۔ اس کا ذہن تاریک ہوتا جا رہا تھا پھر بھئ اس نے نظر بھر کر اس مسیحا کو دیکھا تھا
ایک چالیس پینتالیس سال کا ڈاکٹر جس کے چہرے پر مہربان سی مسکراہٹ تھی۔
اسکے زخم میں پس پڑ گئ تھئ۔ پندرہ دن وہ اسپتال میں بے ہوش پڑا رہا تھا۔ بخار اتنا تھا کہ ڈاکٹر کو اسکے بچنے کی امید تک نہ تھی۔ ہوش میں آنے پر سب سے پہلے اس ڈاکٹر نے اسکے گھر والوں کو اطلاع دینے کیلئے اسکا اتا پتہ پوچھنا چاہا تھا۔۔
پندرہ یہ اور پانچ سات دن ملتان بیس پچیس دن۔ ایک مہینہ تقریبا
وہ ڈاکٹر کی ٹکر ٹکر شکل دیکھے گیا۔
بیس دن میں اسکے گھر والوں نے اسکو نہیں تلاشا کسی اخبار میں اشتہار نہ دیا پولیس میں رپورٹ نہ درج کروائئ کوئی سن گن نہ لی تو اب وہ کس منہ سے ان سے رابطہ کرے جو اسکو اتنے گرے ہوئے کردار کا سمجھتے ہیں کہ اپنی بھابی پر بری نظر رکھتا ہے۔
کس گائوں سے ہو؟ نام کیا ہے تمہارا ؟ بولو بھی
ڈاکٹر نےاسکی مستقل خاموشی سے تنگ آکر پوچھا۔
عبداللہ۔ میرا اپنا کوئی نہیں میں دنیا میں بالکل تنہا ہوں جبھی خود کشی کرنے جا رہا تھا۔
اس نے زندگی میں پہلی بار جھوٹ بولا تھا۔ دھڑلے سے بولا تھا اور اسکے بعد کبھی سچ نہ بولا۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاور ۔۔۔
وہ پکارتی اپنے دھیان میں اٹھی تھی اسکا دوپٹہ جلتے ہوئے چولہے پر جا پڑا۔ دوپٹے نے ایسی ایکدم آگ پکڑی کہ وہ ہواس باختہ سی ہو کر باہر بھاگئ۔ دلاور اسکی چیخ پر پلٹے تھے۔تب تک اسکا پورا جسم شعلوں کی لپیٹ میں آچکا تھا۔
انہوں نے آئو دیکھا نہ تائو اسکو بھینچ لیا تھا دیوانوں کی طرح پکارا جانے کون پانی لایا کون کمبل وہ انکے بازوئوں میں بے ہوش ہو چکی تھی۔
انکو اس وقت کسی چیز کا کوئی ہوش نہیں تھا۔ گاڑی توتھی انکے پاس مگر انکے ہاتھ پائوں کانپ رہے تھے۔ محلے سے انکے بچپن کا دوست انکی گاڑی چلا کر انکو ملتان لے کر گیا۔ بہت ذیادہ تو نہیں جھلس گئ تھئ طوبی مگر پھر بھی ہوش آتے دو دن لگے تب تک پولیس نے اس معاملے سسرال کی جانب سے بہو کو جلا مارنے کی کوشش قرار دے دیا تھا۔
طوبی کے گھروالے بھی ان پر شک کر رہے تھے۔ دو دن حوالات میں گزرے انکے انکو خاور کا خیال آیا بھی تو یہی لگا کہ طوبی کا سن کے واپس آچکا ہوگا۔
بمشکل پولیس کیس سے جان چھڑائی طوبی کو اسکے میکے چھوڑا گائوں واپس آئے اماں بہنوں کی سختی سے کلاس لی اور اس معاملے کی ہوا بھی طوبی کو نہ لگنے دی کہ خاور کس وجہ سے گھر سے بھاگا ہے۔ انہوں نے خاور کو ڈھونڈا شروع کیا تو نشتر اسپتال میں اسکے داخل رہنے کا علم ہوا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنا پچھتایا تھا میں جب پتہ لگا تم ان ہی دنوں نشتر میں زیر علاج تھے جن دنوں میں طوبی کی وجہ سے اسپتال کے چکر کاٹ رہا تھا۔ جانے کیا مصلحت تھئ کہ ہمارا سامنا نہ ہوا۔
دلاور نے گہری سانس لیکر سر اٹھایا۔ خاور نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
تمہیں لگا میں تم پر شک کربیٹھا تھا؟ نہیں پگلے۔ بھائی ہو تم میرے چھوٹے بھائی گود میں لیکر پھرتا تھا تمہیں ۔۔ تمہیں نہیں جانتا ہوں گا؟ سوال کرتا تم سے؟ اور طوبی۔ کیا میں اپنی بیوی کو نہیں جانتا ہوں گا۔ کوئی صفائی مانگنے کا مطلب تو اپنے آپ کو جھٹلانا ہوا۔۔
خاور کی آنکھیں بھر آئیں۔
بہر حال۔ ایک اس دن کے بعد اماں پل پل پچھتائی ہیں تم پر شک کرنے پر۔ پہروں روتی خود کو کوستی رہی ہیں۔ بہت بیمار رہنے لگی ہیں اب۔ تمہاری یاد نے انکو اندر ہی اندر کھا لیا ہے۔
مجھے معاف کر دیجئے بھیا۔ وہ رو پڑا
میں خود کو بھابئ کا سامنا کرنے پر تیار نہیں کر پایا تھا۔ حوصلہ ہی نہیں پڑا۔۔
طوبئ کو اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی میں نے۔ تم
بھی اب اسکا ذکر کبھی زبان پر نہ لانا۔ دلاور نے اپنے ہاتھوں سے اسکے آنسو پونچھتے تنبیہہ کی۔ اس نے اثبات میں سر ہلاکر انکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے کے باہر دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی طوبی نے فاطمہ کو ڈاکٹر کے ہمراہ آتے دیکھا تو آنکھیں پونچھتی سیدھی ہوئی۔
ڈاکٹر اور فاطمہ کمرے کے اندر چلے گئے مگر وہ دانستہ راہدارئ سے ہو کر باہر کھلی فضا میں نکل آئی۔۔
ایسا ممکن تھا کہ مجھے خبر نہ ہوتی۔ میری ساس کتنا تو اونچا اونچا بولتی ہیں۔ پورا جھگڑا اس نے بنا دقت باورچی خانے میں سنا تھا۔ یونہی تھوڑی وہ گھبرا کر باہر بھاگی تھی کہ دوپٹہ جلا بیٹھئ۔ جب آگ کی لپٹوں میں گھری تھئ تو بس ایک لمحہ ۔۔ ایک لمحہ اسے ہمیشہ کیلئے دلاور کا اسیر کر گیا تھا۔ وہ پریشانی جو دلاور کے چہرے پر اسکو دیکھ کر در آئی تھئ ۔ جیسے انکے جسم سے کسی نے روح کھینچ لی ہو۔ اسکے شعلوں سے جلتے جسم کو انہوں نے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ اپنے آپ سے ذیادہ اس سے محبت کرنے والے دلاور سے اسے کیا محبت نہ ہوتی؟ اور دلاور پوچھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔
اسے سوچ کے ہنسی آگئ ۔۔۔ سیول میں شام اتر رہی تھی اندھیرا بڑھ رہا تھا مگر اسکے گرد شام ہونے سے جل اٹھنے والی روشنیاں اس اندھیرے سے کہیں ذیادہ تھیں۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسپتال سے چھٹی ملتے ہی وہ اسے اپنے گھر لے آئے تھے۔ ۔ اس کی پسلی پر چوٹ آئی تھی ہیئر لائن فریکچر تھا بازو میں پلستر تھا۔ ہلکی تکلیف تھی مگر وہ وہیل چئیر استعمال کرنے پر۔راضی نہ ہوا۔۔۔۔ دلاور نے اسکو سہارا دے کر لائونج میں صوفے پر۔بٹھایا۔طوبی فورا باورچی خانے میں اسکے لیئے یخنی بنانے چلی گئ۔۔ دونوں بچیاں بھاگ کر اسکے پاس آئی تھیں۔۔
یہ زینت ہے ۔اور یہ گڑیا۔ دلاور نے تعارف کرایا تو بچیاں باپ کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگیں۔
بیٹا یہ آپکے چاچو ہیں۔ دلاور نے سمجھ کر بتایا۔
مگر انکی تو آنکھیں چندی نہیں ہیں۔
زینت نے سنجیدگی سے باقائدہ اپنی آنکھیں آدھی میچ کر پوچھا۔
ہیں۔ اسکی۔بات پر دلاور اور خاور دونوں بھونچکا ہوئے
تیجون چاچو اور ہے جن ماموں کی تو آنکھیں چندی تھیں یہ بھی اگر ہمارے چاچو ہیں تو انکی آنکھیں آپ جیسی کیوں ہیں۔
وہ اتنئ سنجیدگئ سے پوچھ رہی تھی کہ دلاور تو دلاور اوپن کچن سے انکی۔باتیں سنتئ طوبی کا بھئ منہ کھل گیا۔
یہ تو بڑے سے ہیں۔ چاچو تو ہائی اسکول کے ہوتے ہیں۔
گڑیا نے بھی اپنی معلومات جھاڑنا ضروری سمجھا۔۔
آپ کون ہیں۔
وہ دونوں خاور کے دائیں بائیں آن کھڑی ہوئیں۔
بیٹا یہ آپکے سگے والے چاچو ہیں۔ طوبی نے وضاحت کرنی چاہی۔
سگے والے کون سے ہوتے ؟ گڑیا نے سوال داغا۔
بیٹا یہ آپکو چاچو خود سمجھائیں گے۔ دلاور مزے سے کہہ کر چلتے بنے۔ خاور نے حیران ہو کر انہیں دیکھا۔ وہ بے نیازی سے کچن میں چلے آئے۔
یہ آپ کے بازو کو کیا ہوا۔ زینت اسکا پلستر چھو کر پوچھ رہی تھی۔
یہ دونوں دماغ کھا جائیں گی خاور کا۔
طوبی ہنس کر بولی ۔۔دلاور نے ہلکا سا مسکرانے پر اکتفا کیا۔ طوبی نے گوشت نکال کر سنک کے پاس رکھا تھا اور خود پیاز لہسن چھیل رہی تھی۔
کھانا پکا ہوا ہے ؟
انہوں نے پوچھا۔۔
ہاں یخنی پلائو ہی بنا لوں گی ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے۔
طوبی نے کہا تو وہ سر ہلا کر گوشت دھونے لگے۔
کوئی اور وقت ہوتا تو شائد طوبی روکتی مگر ابھی پیاز لہسن اٹھا کر کائونٹر پر رکھ کر انکے پاس کھڑے ہو کر چھیلنے لگی۔
اماں سے ویڈیو کال پر بات کرادی تھی خاور کی؟اس
نے سرسری سا پوچھا۔
ہاں ۔۔ رو رہی تھیں بہت کہہ رہی تھیں فوری پاکستان آئو۔مگر اب فورا تو یہ سفر کے قابل نہیں ہو سکتا۔ ٹھیک ہو جائے تب ہی بھیجیں گے اسے۔
اور خود آپ کا جانے کا ارادہ نہیں؟۔۔۔۔
طوبی کے پوچھنے پر وہ ایک نظر اس پر ڈال کر رسان سے بولے
کانٹریکٹ ختم ہونے میں تین مہینے ہیں ارادہ یہی ہے کہ رینیو کرنے کی بجائے ہم پاکستان ہی چلیں۔
انکی بات پر لہسن چھیلتی طوبی کا ہاتھ رک سا گیا۔
آپ صرف گڈو کو ڈھونڈنے کوریا آئے تھے؟
اس نے سیدھا سوال کیا۔
ہاں۔ انکا جواب مختصر اور فوری تھا۔
وہ چپ سی ہوگئ۔
مگر اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیئے کوریا میں رہ بھی سکتا ہوں۔
وہ جیسے اسکا ذہن پڑھ گئے تھے۔
گوشت دھو کر ایک طرف رکھا نل بند کیا۔ طوبی اداس سی لگنے لگی تھی۔
تمہارا کوریا میں دل لگ گیا ہے؟
انہیں حیرت ہوئی تھئ اسکی اداسی دیکھ کر۔
میرا گائوں میں دل نہیں لگتا۔ وہاں کی زندگی بہت مشکل ہے کیا ۔۔۔ وہ رک کر ہمت کرکے انکی شکل دیکھ کر پوچھنے لگی
کیا اایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم پاکستان میں شہر میں کسی رہنے لگیں۔۔
وہ امید بھری نگاہ سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
ہو سکتا ہے اگر تم یہ چاہتی ہو تو ایسا ہی ہوگا۔
وہ مسکرا کر بولے طوبئ کا چہرہ تمتما اٹھا۔
واقعی۔
اسکے انداز میں بے یقینی تھی۔ دلاور ہنس دیئے۔ طوبی بے یقینی سے ابھی بھئ انکو بٹر بٹر تکے جا رہی تھی۔
ہاں اب یہاں دو دو تو نہیں رکھ سکتا۔۔قانون ہی نہیں۔ تمہیں پاکستان بھجوانا پڑے گا نا۔ تو تمہاری بھئ ماننی پڑے گئ۔
وہ چھیڑ رہے تھے اور وہ چڑ بھئ گئ۔
پوچھ کے دیکھیں سچی محبت کرتی ہے تو اسے پاکستان لےجائیں نا۔ ذرا آپکے گائوں جا کر رہ کر دکھائے۔
یہ کیا معیار ہوا؟ وہ۔حیران ہوئے
یعنی جو پاکستان مین میرے گائوں میں رہتی آئی ہے وہ سچی محبت کرتی ہے مجھ سے۔ ؟
وہ بھولپن سے پوچھ رہے تھے۔ طوبی گھور کر رہ گئ۔
بولو نا۔ انہوں نے اصرار کیا۔ طوبی رخ موڑ کر کیبنٹ کھول کر کھڑی ہوگئ۔ دلاور چند لمحے انتظار کرتے رہے پھر بولے
اچھا ایک کپ چائے بنا دو سر میں درد ہو رہا ہے۔ وہ کہہ کر کچن سے باہر نکلنے لگے تب طوبی کی آواز آئئ۔
محبت نہ کرتی ہوتی تومجھے آپکو کھو دینے کا خوف لاحق ہوتا بھلا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے انکے سوال کا جواب دیا تھا۔۔۔۔ سب باتیں کہہ کر جتائی نہیں جا سکتیں مگر کبھئ کبھی کہہ ڈالنا بھئ اچھا ہوتا ہے۔ گیارہ سالہ ازدواجی زندگئ میں طوبی کی جانب سے پہلا اقرار محبت ملا تھا انکو اور شائد آخری بھی مگر انکے لیئے اتنا کافی تھا۔۔ وہ پلٹے بنا بھی جانتے تھے اس وقت طوبی کے چہرے پر کونسا رنگ ہو گا جبھئ ذرا سا مسکرا کر آگے بڑھ گئے۔۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک مہینے میں اتنی چھوٹئ کیسے ہوگئ۔
الف بھونچکا سی اس سیامی بلی کو دیکھ رہی تھی۔۔ بلی نے اس تبصرے پر اپنی کنچوں جیسی آنکھوں سے اسے گھورا جیسے سب سمجھ آیا ہو اسے پھر سر جھٹک کر اسکی گود سے نکلی اور سامنے راہ داری میں گم ہوگئ۔وہ ژیہانگ کے پسندیدہ بلیوں والے کیفے میں آئے تھے۔اس وقت بھی انکے گرد صوفے کے آس پاس بلیاں پھر رہی تھیں ایک سفید جھاگ جیسے بالوں والی بلی صوفے کے ہتھے پر بیٹھئ تھی جبکہ یہ سیامی بلی اسکے پیروں کے پاس بیٹھئ تھئ۔ اس نے اسے پیار سے اٹھا کر گود میں بٹھا لیا تھا۔ مگر شائد بلی کو اسکا یہ لاڈ ذیادہ پسند نہیں آیا۔
یہ وہ والی بلی نہیں ہے۔ ژیہانگ ہنسا۔
اور بلی ایک مہینے میں بڑی تو ہو سکتی مگر چھوٹی نہیں ہو سکتئ۔ اسکے جتانے پر وہ کھسیائئ۔
وہ تمہاری والی سیامی بلی خاصی بڑی تھی یہ اسی نسل کی تھی شائد۔
وہ والی مر گئ ۔۔۔۔ژیہانگ کے چہرے پر اداسی سی چھائئ۔۔ میں نے آتے ہی ریسیپشن سے اسکے بارے میں پوچھا تھا۔
اوہ۔ الف۔ سر ہلا کر رہ گئ۔ اسے بلیوں سے کوئی خاص شغف نہ تھا مگر ژیہانگ کا اس بلی سے غیر معمولی لگائو ڈھکا چھپا نہ تھا اس سے۔۔۔۔
میں شائد واپس کوریا کبھی نہ آتا یہ بلی بھی کبھی مر جاتی مگر میں واپس بھئ آیا اور وہ بلی بھی مر چکی ہے مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ وہ خود مجھے دیکھتے ہی میرے پاس آجاتی تھی۔ ایک بار تو ایک کپل کی گود میں بیٹھی تھی۔ اچھل کر میرے پاس آگئ۔ وہ لڑکی اٹھ کر میرے پاس آئی بلی لینے مگر کینڈی اسکے پاس جانے کو تیار نہ ہوئی۔ کینڈی نام رکھا ہواتھا کیفے والوں نے اسکا۔۔
ژیہانگ اسے بتا رہا تھا وہ بغور سن رہی تھی۔
خاموش رہنے والا ژیہانگ پچھلے تین چار دن سے مستقل بول رہا تھا جانے کون کون سئ باتیں احساسات اسے الف کے ساتھ شئیر کرنے تھے۔ بچپن کے قصے امریکہ کی باتیں۔ وہ جیسے سب اپنے اندر دبائے بیٹھا تھا۔ اب اسے الف کی صورت روزن ملا تھا اپنے اندر کی گھٹن باہر نکالنے کا۔
سفید بلی بے چین سی ہوئی اچک کر نیچے کودی اور ژیہانگ کے صوفے پراسکے پاس آن بیٹھئ۔
ژیہانگ نے اس بلی کو پیار سے اٹھا کر گود میں بٹھا لیا۔
تمہارے گھر والے مان جائیں گے۔۔۔
اس نے اتنا اچانک پوچھا تھا کہ بلا ارادہ اسکے منہ سے بھی سچ ہی پھسلا۔۔
نہیں۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلیئے بھیجا تھا اسے کوریا۔ پورے خاندان کی مخالفت مول لیکر الف کے ابا نے الف کی ضد پوری کی۔ایک تو ان موئی یونورسٹئوں کو کیا وظیفے دینے کا شوق ہے چلو ملک میں ہی کسی دوسرے شہر بھئج دیں نہیں اٹھا کے کوریا بھیج دیا نام بھی نہیں سنا تھا کہ اس نام کا کوئی ملک بھی ہے۔۔۔ وہ بولتے بولتے سانس لینے رکیں۔
بھوک ہڑتال کرکے اپنی ضد منوائی تب تو جانے کیا وعدے کرتی رہی کہ بس یہ بات مان لیں زندگی بھر کوئی فرمائش نہیں کروں گئ جو کہیں گی مانوں گی اب سب بھول گئ۔
(آہ۔۔۔۔ )
۔ اتنا اچھا ہے واصف منہ بھر کے انکار کیا اور میں ایسی سیدھی ماں کہ شک بھئ نہ کیا کہ ایسی ویسی بھئ کوئی بات ہو سکتئ ہے۔
انہیں الف سے ذیادہ خود پر غصہ آرہا تھا۔
آنٹی وہ کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں ہے یقین کیجئے۔ واعظہ منمنائی۔۔ یہ موقع بھئ بمشکل ملا تھا اسے۔
منے لائونج منی میز پر ٹرائی پوڈ میں موبائل سجائے بیٹھی واعظہ ویڈیو کال پر الف کی امی سے بات کر رہی تھی۔ جو پہلے تو خوب برسیں ان پر اب لتے لے رہی تھیں۔الف کے عشنا اور عزہ اسکئ دائیں بائیں بیٹھئ تھیں۔
بتائو کوریا میں چینی لڑکا ٹکر گیا۔ وہ بھی جسکا نا کوئی آگا نا پیچھا جانے مسلمان ہے بھی یا نہیں۔ ماں باپ تک نہیں میں اپنی بیٹی کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں کبھی نہ دوں۔ نا زبان ایک نا قوم۔۔وہ سانس لینے رکیں واعظہ نے منہ کھولا کچھ کہنا چاہتی تھی شائد مگر موقع نہ مل سکا۔
تم نے بھئ نہ بتایا مجھے۔ اچھا خود کو الف کی بہن کہتی ہو بہن کو گڑھے میں گرنے سے نہ روکا۔ انہوں نے روئے سخن عزہ کی طرف موڑا۔ ۔ عزہ گڑبڑا سی گئ۔
آنٹئ ایسی بات نہیں الف بالکل بھی مجھے اپنی بہن جیسی نہیں سمجھتئ ہماری تو بلکہ اکثر کام نہ کرنے پر لڑائی ہوتی رہتئ ہے ابھی پرسوں بھئ۔
عزہ کی اس حق گوئی پر واعظہ اور عشنا نے بھی الف کی امی کے ساتھ اسے گھور کر دیکھا۔
چلو خوب رہی۔ اچھا بدلہ لے لیا۔ میں کہتی ہوں اسکو کل ہی جہاز مین بٹھا کر واپس بھیجو ابھی معاملہ اسکے ابو کےکانوں میں نہیں پڑا ورنہ وہ خود آکر اسکا دماغ درست کر دیں گے ۔ صاف بتائو الف کو کہ مانا دوسرے ملک میں بیٹھی ہے مگر اپنے ماں باپ کو بے بس نہ سمجھے۔۔۔۔ٹانگ توڑ دوں گئ اسکی خود کو سمجھتی کیا ہے۔
ہے کہاں ابھی بات کرائو میں خود دماغ درست کروں اسکا۔ پڑھنے بھیجا تھا اسے یہ سب کرنے نہیں۔۔۔۔
وہ بولتے بولتے ہانپنے لگیں۔
واعظہ نے موقع غنیمت جانا۔
آنٹی وہ لڑکا سچ مچ اچھا ہے آپ دیکھیں تو سہی بات کریں مل کر دیکھیں پھر فیصلہ کریں۔
میرے بھائئ کے بیٹے سے اچھا نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے فیصلہ سنایا۔ الف سے بات کرائو کہاں ہے یہیں کہیں چھپی بیٹھی باتیں سن رہی ہے نا سامنے آنے کو کہو اسے۔
انکے دعوے سے کہنے پر وہ تینوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگیں۔۔
کہیں اس موئے کے ساتھ تو نہیں۔
انکی شکل دیکھ کر انہیں یہ یقین تو آیاکہ الف گھر پر نہیں مگر دوسرا خیال ذیادہ جان لیوا تھا۔۔۔
نہیں۔ یونی گئ ہے سچی صبح تیارہو کر۔ عشنا نے بتایا
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میونگ دونگ کی گلیوں میں پھرتے اسے خیال آیا
سیول میں کوئی چینی کیفے ہے ؟
ہاں کیوں۔ ژیہانگ چونکا۔
مجھے چینی ثقافت کا بالکل نہیں پتہ۔ چینی کھانوں کا سنا وہ بھی بس فرائیڈ رائس کھائے مگر ہمیشہ اپنے مصالحے ڈال کر ورنہ پھیکا سا کھایا نہیں جاتا مجھ سے۔
اس نے ناک چڑھا کر کہا تو ژیہانگ ہنس دیا۔
جب چینی کھانا پسند ہی نہیں تو کیفے کا کیوں پوچھ رہی ہو؟
کورین روائتئ کیفے جائو تو کورین ثقافت کے رنگ نظر آتے ہیں چینی کیفے میں چینئ بود وباش کی چھاپ ہوگئ میں نے سنا ہے یہاں چائنہ ٹائون ٹائپ جگہ ہے جہاں چینی اتنی تعداد میں رہتے ہیں کہ وہاں کورین اجنبی محسوس کرتے ہیں۔۔
چلیں وہاں۔
وہ بولتے بولتے یکدم پرجوش ہوئئ۔
ژیہانگ کو اسکی ایکسائٹمنٹ پر ہنسی آئی
ہاں ایسا علاقہ سیول میں ہے مگر وہاں لڑکیاں نہیں جاتیں۔
اس نے اسکی خوشی کے غبارے میں سے ہوا نکال دی۔
الف مایوس سی ہوئی۔۔۔۔
پھر۔۔۔۔
پھر۔ ژیہانگ نے ایک نظر اطراف پر ڈالی پھر اسکی آنکھوں میں چمک سی لہرائئ۔۔
ایک جگہ ہے جہاں ہم جا سکتے ہیں۔۔
اس چینئ کیفے میں داخل ہوتے ہی جو پہلا لفظ اسکے منہ سے نکلا تھا وہ تھا وائو۔
سرخ دیواروں والے اس کیفے میں داخل ہوتے ہی ایک بڑا سا ڈریگن منہ سے پنیوں کے شعلے نکالتا چھت سے یوں لٹکا تھا جیسے اڑ رہا ہو۔ بڑے بڑے سرخ چینی کاغذ کے غبارے۔
دھیرے دھیرے ہلتے تو زمین پر مختلف ڈیزائن بنتے بگڑتے جانے انکے اندر قمقمے لگے تھے یا اوپر مگر زمین پر یوں ستارے بکھرے تھے جیسے آسمان انکے اوپر الٹ گیا ہو۔
ایک جانب بڑے بڑے بت رکھے تھے مخصوص چینی مرتبان جن پر گڑیا بنی ہوئی تھی سب سے چھوٹی اس سے بڑی ایک تو اسکے قد جتنی تھی۔
سامنے چینی طرز کے چبوترے بنے تھے جس پر بیٹھے لوگ قہوے کا لطف لیتے خوش گپیوں میں مگن تھے۔ دھیمے سروں میں بجتی چینی کلاسیکی موسیقی۔
وہ دونوں ایک کونے والے تخت کی طرف بڑھ گئے۔
چینی مخصوص لباس میں ملبوس وہ لڑکی چست سی سرخ ہی گلا بند میکسی پہنے انکے پاس آرڈر لینے چلی آئی۔
مینیو کارڈ مکمل طور پر چینی اور کورین میں تھا۔
اس نے منہ بنا کر ژیہانگ کی جانب بڑھا دیا
اس میں انگریزی بھی ہے۔ اس نے شرارت سے اسکو صفحہ پلٹ کر دکھایا اس نے مینیو جھپٹنا چاہا مگر وہ جھکائی دے گیا۔
میں تمہیں آج اپنی پسند کا ناشتہ کراتا ہوں۔
اس نے کہا تو پھر الف نے ضد نہ کی۔
اس نے قہوہ اور مٹھائئ منگوائی تھی دو تین طرز کی۔۔
جہاں تک الف کو سمجھ آیا۔ لڑکی آرڈر لیکر چلی گئ تو اس نے اپنے ذہن میں کلبلاتا سوال کر ڈالا
ژیہانگ تم لوگوں کو تو حلال کھانے پینے میں کافی مشکل ہوتی ہوگئ چین میں تو سب پتہ نہیں کیا کیا کھاتے۔۔
وہ اتنی سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی کہ ژیہانگ جس نے شرارتا جواب دینے کیلئے منہ کھولا مگر اسکی شکل دیکھ کر ارادہ بدل دیا۔
ہم مسلم اکثریتی صوبے میں رہتے تھے۔ وہاں 80 فیصد تک مسلمان ہیں۔ کبھی زندگئ میں موقع ملا تو تمہیں اپنے شہر کی سیر کرائوں گا۔ وہاں نان کلچے سالن سب ملتا ہے۔ اور ہمارے علاقے میں کھانا پھیکا نہیں ہوتا۔۔ ہم خوب چٹپٹا کھانا پسند کرتے ہیں۔ وہاں مسجدیں بھی ہیں اور وہاں لمبی داڑھی والے بوڑھے بھی ہوتے ہیں۔ بس لباس انکا چینی ہوتا ہے باقی سب مسلمانوں والا انداز ہے۔۔
اس نے اپنی طرف سے خوب تشفی کرائی جانے وہ مطمئن ہوئی یا نہیں مگر مزید بولی نہیں۔۔
تم گھبرا تونہیں رہیں ہو۔۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ اس سے قبل کہ وہ جواب دیتئ انکا مطلوبہ آرڈر آگیا تھا۔
کھانا تھا کہ خوشبوئوں کا جھونکا۔۔ مگر یہ خوشبو پکوان کی نہیں تھی۔۔چنبیلی اور گلاب کے عطر کی تیز خوشبو۔۔ اتنی تیز کے اسے اپنے ذہن پر سوار ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔روائتی چینی ظروف میں دو چھوٹئ چھوٹئ کیتلیاں اور گھونٹ کے برابر کی چھوٹی پیالیاں۔ ساتھ سفید براق چھوٹے چھوٹے پیڑے تھے ایک پلیٹ میں سرخ گول سی کوئی چیز چاپ اسٹکس میں پروئی ہوئی تھی۔ اس نے سب سے پہلے وہی اٹھایا ان کا شیرہ سخت ہو رہا تھا ایک اسٹک میں پانچ دانے۔۔
یہ کیا ہے۔ ؟ اس نے دلچسپی سے پوچھا۔
چکھ کر بتائو کیسا ہے۔ یہ میرا پسندیدہ ترین ہے۔ ۔
ژیہانگ نے کہا تو اس نے جھٹ ایک دانہ منہ میں رکھ لیا۔ منہ میں کچھ عجیب سا شیرے کا سا ذائقہ گھلا جو اسکی زبان کے ذائقے کو قطعی نہیں بھایا۔ اس نے تیزی سے چبا کر اپنے چہرے کے تاثرات درست کیئے۔
انگور۔۔اس کو چبانے پر پھل تو پتہ لگ گیا۔
ہاں یہ انگور ہیں انکو مخصوص شیرے میں ڈبو کر فریز کیا جاتا ہے۔یہ سادہ چینی کا شیرہ نہیں ہوتا اس میں دارچینی اور دو ایک اجزا اور بھئ ملائے جاتے ہیں یہ ہم بہت شوق سے کھاتے ہیں مگر لگتا ہے تمہیں بالکل پسند نہیں آیا۔
ژیہانگ نے محظوظ انداز میں کہا تو وہ کھسیانی سی ہوگئ
نہیں یہ مزے کا ہے۔۔۔ بس تھوڑا مختلف ذائقہ ہے۔۔ اس نے کہا ضررو مگر شرافت سے پلیٹ میں واپس رکھ دیا۔سفید پیڑے برفئ کے جڑواں بھائی تھے مگر برفی کے مقابلے میں کہیں نرم منہ میں گھل جانے والے۔ اسے یہ پسند آئے۔
اسکے ساتھ قہوہ لو پسند آئے گا تمہیں۔
ژیہانگ خود بڑے شوق سے انگور کھا رہا تھا مگر اسکے لیئے فورا قہوہ نکالنے لگا۔ گلابی کھولتا ہوا قہوہ۔۔
گلاب کے پھولوں کی خوشبو ۔۔ یہ قہوے میں سے آرہی تھی
یہ کس چیز کا قہوہ ہے اس نے بڑے شوق سے قہوے کی پیالی تھامی
گلاب کا۔
ژیہانگ کے جواب سے پہلے وہ گھونٹ بھر گئ۔
یہ ذائقہ بھی اسے مایوس کر گیا۔ لگا منہ میں گلاب بھر لیا ہو۔ زندگی میں کبھی عرق گلاب استعمال بھی کیا تو ملتانی مٹی میں ملا کر منہ پر ملا یا آنکھیں دکھنے پر آنکھوں میں ڈال لیا۔ اب اسکو گرم گرم گھونٹ بھر کے پینا۔ خوشبو اتنی تیز محسوس ہو رہی تھی کہ اسکو بری لگنے لگی۔
ژیہانگ اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔
یہ دوسری کیتلئ کس چیز کے قہوے کی ہے۔ اس نے دوسرا قہوہ فوری چکھنا چاہا شائد ذائقے کی تبدیلی کیلیئے۔
ظروف بے حد خوبصورت تھے اسے وہ کیتلی بہت پیاری لگی۔اس پر ایک جانب پورا مور پر پھیلائے کندہ تھا۔
یہ والا قہوہ نسبتا پیلا تھا۔ مگر چنبیلی کی خوشبو۔
اس نے ڈرتے ڈرتے چکھا ۔ یہ اسے اچھا لگا تھا۔
یہ مزے کا ہے۔۔ اسکا ذائقہ مانوس ہے میرے لیئے۔ اس نے ذہن پر ذور ڈالا
ہاں وہ مشہور برانڈ کی جیسمن گرین ٹئ ۔ جیسا ذائقہ ہے۔ گرین ٹی بہت پیتی تھی میں تب چکھی تھئ یہ والا ذائقہ یاد مجھے۔
وہ کہتے ہوئے پیڑے کے ساتھ گرین ٹی پی رہی تھی۔
کیا ہوا۔ چپ کیوں ہو گئے۔
اسکی خاموشی پر وہ پوچھ رہی تھی۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔
کیا مماثلت ہے ؟ ساتھ بیٹھ کر کھانا تک نہیں کھا سکتے۔ وہ چینی نجانے کیا الا بلا کتے بلی کھاتا ہوگا۔ اور الف وہ تو چینی پلائو تک شوق سے نہیں کھاتی میں تو حیران ہوں یہ چینی ٹکر کہاں گیا اسے۔
الف کی امی ابھئ بھئ ویڈیو کال پر تھیں۔ واعظہ نے انکو اپنا کمرہ عشنا عزہ کا کمرہ گھوم گھوم کر دکھایا۔ ایکدم پلٹی تو عزہ اور عشنا جو اسکے پیچھے پیچھے اس پریڈ کا حصہ تھیں ٹکرا ہی گئیں اس سے۔ اس نے گھور کر دیکھا۔
دونوں کھسیانئ ہوکر اسکے دائیں بائیں ہوگئیں
آگئیں تم دونوں واپس ؟ الف کو کہہ دو یوں چھپنے کی ضرورت نہیں سامنے آئے میرے ۔۔
اسکی امی کا پارہ ہائی تھا
آنٹی گھر پورا دکھا دیا کہیں نہیں ہے الف۔
سچئ۔ عزہ اور عشنا کورس میں بتاتئ اسکی مدد کو آئیں۔۔
کہاں گئ کیا وقت ہو رہا کوریا میں۔۔ ابھی تک یونی سے واپس نہیں آئئ۔۔
انکے سوال پر اب تینوں زچ ہونے لگیں تبھئ اطلاعی گھنٹئ بج اٹھئ۔
عشنا نے بھاگ کر کیمرے میں دیکھا اسکی آنکھیں اپنے حجم سے دو گنا بڑی ہو گئیں۔
کون ہے۔ عزہ اور واعظہ اسکے پیچھے لائونج میں آئیں عشنا جوابا کیمرے کے سامنے سے ہٹ گئ۔ کیمرے میں واضح ہوتے دو چہرے۔
فاطمہ وہاں موجود نہ ہوتے ہوئے بھی اسکے کان پر چیخی۔۔
الف تمہاری بیٹی نہیں ہے آنٹی کی ہے آنٹی پریشان ہوں سمجھ آتا ہے۔ الف انکی پریشانی کا احساس کرے تم آنٹی کی بیٹی نہیں ہو الف ہے اسے انکی پریشانی کا احساس کرنے دو۔۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے اپنی زندگی جیو تمہاری اپنی بھی ایک الگ ذات ہے۔کبھی اسکا بھی سوچ لیا کرو۔
فیصلہ ہو گیا۔ اس نے گہری سانس لی اور دروازہ کھولنے چل دی۔۔
ہائے واعظہ۔ شکر ہے تم گھر پر ہو۔ ہم باہر۔۔۔۔
واعظہ نے دروازہ کھولتے ہی موبائل کا فرنٹ کیم کھول کر ہاتھ بڑھا کر اسکے سامنے کیا تھا جبکہ وہ اسکی شکل دیکھتے گرمجوشی سے کہہ رہی تھی مگر جملہ اسکی امی کی آواز پر ادھورا رہ گیا
الف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی امی پکار کر دل تھام کر رہ گئیں۔۔۔ اونچے لمبے سفید چندی آنکھوں والے ژیہانگ کے ساتھ کھڑی الف۔ یہ منظر دیکھ کر انکی زبان گنگ سی ہوگئ۔۔
امی۔۔۔۔
اس کیلئے بھی یہ غیر متوقع تھا سو سٹپٹا کر اس نے ژیہانگ کو دیکھا ژیہانگ نے اسے۔
اسلام و علیکم آنٹئ۔۔ کیسی ہیں آپ۔۔
ژیہانگ نے سنبھل کر واعظہ کے ہاتھ سے موبائل لے لیا تھا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے دیسی کمچی کے سفر میں تمہارا موبائل الف کے معاملے میں کام آیا ہے۔
عزہ نے کہا تو واعظہ گھور کر رہ گئ۔
وہ تینوں کچن کائونٹر پر لائن سے پیر لٹکائے بیٹھی تھیں۔ سامنے چولہے پر چاول دم پر لگے تھے۔۔
میرے موبائل میں مجھے افسوس ہے کہ دو گھنٹے آنٹی سے ویڈیو کال کرنے کے بعد پھر بیٹری ختم ہونے والی ہے۔
واعظہ نے گہری سانس لی۔
ہاں یار۔ ہم نے اتنی دیر آنٹی سے بات کی پھر یہاں آکر چکن پلائو کی تیاری کی اب دم بھی ختم ہونے والا تمہارے موبائل کی بیٹری ختم نہیں ہوئی۔
عشنا کو بھی حیرت ہوئی۔
میں ویسے اپنا موبائل یوں کسی کے حوالے نہیں کر سکتی حالانکہ میرےموبائل میں کچھ بھی ایسا ویسا نہیں ہوتا نا میرا افئیر چل رہا پھر بھئ ایک ان سیکیورٹی سی محسوس ہوتی ہے موبائل پاس نہ ہو۔
عزہ نے سلاد کی پلیٹ سے کھیرا اٹھاتے یونہی کہا تھا کہ واعظہ کو جیسے کرنٹ سا لگا۔ ایکدم سے کود کر اتری۔
کیا ہوا۔ وہ دونوں حیران ہو کر پلٹیں جبکہ واعظہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بھاگئ جہاں اندر ژیہانگ اور الف الف کی امی سے بات کر رہے تھے۔ اسکے دھاڑ سے دروازہ کھولنے پر دونوں چونک کر اسے دیکھنے لگے۔
وہ ویڈیو کال پر نہیں تھے بلکہ ژیہانگ ڈبل بیڈ پر بیٹھا تھا اور الف واعظہ کے سنگل بیڈ پر اسکے مقابل بیٹھی تھی۔
یوں دھاڑ سے دروازہ کھولنے پر اب وہ تھوڑی خجل سی ہوئی
وہ میرا موبائل۔۔
ہاں وہ اسکی بیٹری ختم ہو گئ تھی میں نے چارجنگ پر لگا دیا۔ الف نے سوئچ بورڈ کی جانب اشارہ کیا ۔
اوہ۔ اسکی جان میں جان سی آئی۔
بات ہو گئ تمہاری امی سے مان گئیں؟
وہ موبائل کی جانب بڑھتے بر سبیل تذکرہ پوچھ رہی تھی
امی سے ژیہانگ نے ہی بات کی میری تو وہ کچھ سننے کو تیار نہیں۔ اس بے چارے کو بھی سخت سست سنائی ہے۔
ژیہانگ کے بے انتہا سنجیدہ سے چہرے پر نگاہ ڈالتے وہ ہلکے پھلکے سے انداز میں بولی۔
ہمم۔واعظہ موبائل دیکھ رہی۔تھی۔ مانوس نام کا پیغام آیا ہوا تھا۔ مگر ان ریڈ تھا۔۔۔۔
پریشان نہ ہونا ژیہانگ پاکستانی والدین ہم مزہب ہم ذات ایک خاندان بھی ہو تواپنے بچوں کی پسند کی شادی پر راضی نہیں ہوتے تم دونوں کے معاملے پر تو کافی کچھ الگ الگ ہے۔
اس نے تسلی دینے کو کہا تھا مگر ژیہانگ اٹھ کھڑا ہوا۔
میرا خیال ہے تم ایک بار پھر سوچ لو۔ مجھے تمہارا انکار اور اقرار دونوں قبول ہوں گے۔
جانے کیا بات تھی وہ یہ کہہ کر جانے ہی لگا تھا۔
اپنا خیال رکھنا خدا حافظ۔
ژیہانگ۔
الف کی جگہ واعظہ نے اسے یوں جاتے دیکھ کر پکارا
وہ رک کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔
کھانا ۔۔ کھانا کھا کر جانا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آداب میزبانی نبھارہی تھی۔۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپسی پر وہ اسے نیچے تک چھوڑنے آئی تھی۔ لفٹ میں داخل ہوتے نکلتے وقت۔ کمپائونڈ میں آتے وہ وقفے وقفے سے اسکے چہرے پر نگاہ ڈالتی جیسے اسکے تاثرات سے اسکے سوچیں پڑھ لینا چاہ رہی تھی۔ مگر وہ بالکل سپاٹ چہرے کے ساتھ خاموشی سے چل رہا تھا۔
عمارت سے باہر آکر ژیہانگ نے ہی خاموشی توڑی
تم اب اندر جائو۔۔۔ اسکے کہنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا مگر اندر جانے کو مڑی نہیں۔ ژیہانگ نے لمحہ بھر انتظار کیا پھر جانے لگا
ژیہانگ۔ اس نے ہمت کرکے پکار لیا
مجھے معلوم ہے امی نے آج تمہیں کافی کچھ سنا دیا۔ میں انکی جانب سے معافی مانگتی ہوں۔۔۔ تم ناراض مت ہو۔۔
اسکی بات پر وہ پلٹ کر اسکو دیکھنے لگا
میں ناراض نہیں ہوں۔ وہ سب کچھ غلط نہیں کہہ رہی تھیں۔۔۔
ہمارے مزہب ایک سہی مگر ہم میں بہت ثقافتی تفاوت ہے۔ الف۔ ہم تو ایک میز پر بیٹھ کر ایک کھانا تک نہیں کھا سکتے۔تم میرے ساتھ چینی طعام نہیں کھا سکیں میں تمہارے ساتھ چکن پلائو کھاتے ہوئے ۔۔۔اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔
ہم ایک زبان بول رہے ہیں۔ہم مزہب ہیں۔ رہا کھانا تو ایک گھر میں رہنے والوں کی پسند الگ ہوسکتی ہے۔
الف نے فورا دلیل دی۔
پھر بھی الف۔ تم اپنے فیصلے پر پچھتانے نا لگو۔
اسے یہی خدشہ ستا رہا تھا
میں نے تم سے رابطہ کرنے میں بیس دن لگائے جانتے ہو کیوں۔ صرف تم سے رابطہ نہ کرنے کی وجوہات سوچتے۔۔
یہ سوچتے کہ تم سے رابطہ ختم ہونے کے بعد میری زندگئ کیسی ہوگئ میں کیا کروں گئ۔۔
اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا۔
مگر صرف ایک لمحے میں جب مجھے لگا تم سے سب رابطے ختم ہوگئے ہیں تو مجھے احساس ہوا کہ تم سے رابطہ نہ کرنے کی سب وجوہات بوگس ہیں۔۔۔
آسے ایک ٹک دیکھتے ژیہانگ کے چہرے پر دھیمی سی مسکان آن سجی
مجھے کبھی نہیں لگا تھا کہ تم مجھ سے کبھی محبت کا اظہار کروگی۔
وہ ہنس دیا الف گڑبڑا سی گئ
میں نے۔ابھی بھی نہیں کیا۔ ۔۔۔ اس نے زبان دانتوں تلے دبائی
کوریا آکر بہت بولڈ نہیں ہوگئ میں۔ اسے خود پر غصہ آنے لگا۔
ژیہانگ کھل کر ہنسا۔ تو وہ اور چڑ گئ
ہاں خود تو بڑے یا یانگ ہیں نا۔ فون بھئ میں کروں اظہار بھی میں کروں آئے بڑے۔ نخرے۔۔ پڑے سو رہے تھے بھاڑ میں جائے الف رابطہ کرے نہ کرے۔ کوئی فرق نہیں۔۔
اسکی چلتی زبان کو ایکدم بریک لگی تھی جب ژیہانگ دو قدم اسکی جانب بڑھ کر گھٹنے کے بل آن بیٹھا۔۔جیب سے مخملیں کیس نکال کر کھول کر اسکی جانب ہاتھ بڑھاتے وہ پوچھ رہا تھا
میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں الف مجھ سے شادی کروگی؟
بیک گرائونڈ میوزک کوئی نہیں تھا پر الف کے گرد شہنائیاں سی بجنے لگی تھیں۔
۔گیلری سے جھانکتی عزہ حیرانی سے واعظہ سے پوچھ رہی تھئ
اظہار محبت تو اب کیا ان دونوں نے اس دن فون پر بات کیا کی تھئ؟؟؟؟
اگلی قسط میں کھلے گی یہ کہانی بھی۔
واعظہ تاسف سے دیکھ رہی تھئ۔ ان دونوں کا یہ اہم موقع اور اچھا ہو سکتا تھا ابھی تو بالکل روایتی انجام کردیا۔
4hkaH5TU7iSG9YdZ4FtLt69e9RCE41PF8c6x375LZeHC
ختم شد۔
جاری ہے۔۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *