Desi Kimchi Urdu Web Travel novel Episode 64 Finale

آخری قسط
سیول کی نیم گرم سی خوشگوار دوپہر چہل پہل سے بھرپور تھی۔ ایک کے بعد ایک قیمتی گاڑی اس عمارت کے پارکنگ کی جانب آئے چلی جا رہی تھی۔ جسکا مطلب تھا یقینا کسی نئے شو کی شوٹ جاری ہے۔ انکی گاڑی ایس این انٹرٹینمنٹ کے دفتر کے باہر کب سے رکی تھی۔ خاموشی سے گاڑیوم کو آتے جاتی دیکھی فاطمہ نے آہ بھری پھراس نے ایک نظر سیہون کو دیکھا دوسری نظر عمارت پر ڈالی پھر سر جھکا لیا۔۔
میں تمہارے لیئے ریڈ کارپٹ بچھوائوں ؟
سیہون نے طنزا کہا
مجھے فون کرکے بلانے کی کوئی اچھی وجہ نہیں ہے یقینا بستی کرنے کیلئے بلایا ہوگا..
وہ بے چارگی سے بولی
کوریا میں ملازمین کے حقوق سے متعلق قوانین سخت ہیں۔ بنا کوئی کیس چلائے وہ تمہیں نوکری سے نکالیں گے تو انکو ٹھیک ٹھاک۔جرمانہ ہوگا انہوں نے تمہیں اگر نوکری سے نکالنا بھی ہوا تو پہلے تم سے سب بات کرکے جتنے تمہارے بقایاجات بنتے ہیں وہ واپس کریں گے پھر
سیہون نےبتفصیل بتایا مگر بے چین فطرت بات کاٹ گئ
ہاں تو مجھے پیسے نہیں چاہیئیں۔ بےعزت ہو کر پیسے کیا کرنے۔
جائو جا کر پہلے اس پروڈیوسر سے ملو تو۔ پروڈیوسر نے کال کی ہے تمہیں ایچ آر نے نہیں۔ اور بے عزتی اسی پروڈیوسر نے کی تھی؟
سیہون نے پوچھا تو اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا
چلو میں بھئ چلتا ہوں۔
وہ اب یہی کہہ سکتا تھا۔
رئیلی۔ وہ ایکدم جیسے خوش ہوئی۔ سیہون گھور کر رہ گیا
پھر گاڑی لاک کرکے اسے فاطمہ کے ساتھ اندر آنا پڑا۔ ریسیپشن پر ہی اسکو روک دیا گیا۔
یہ میرے ہسبینڈ ہیں مجھے نہ جانے کس مقصد کیلئے بلایا ہے میں ہرگز یہاں محفوظ محسوس نہیں کر رہی اسکو ساتھ لیکر ہی جائوں گئ آپ بتادیں پروڈیوسر کر کہ اگر ملنا ہے تو میرے ہسبینڈ بھی میرے ساتھ آئیں گے۔۔
رواں انگریزی کی تیز گام اگلی کو خاک پتھر سمجھ نہیں آیا۔ جھک جھک کر معزرت کرتے ہوئے بات دہرانے لگی
آپ بنا اپائنٹمنٹ کے اندر نہیں جا سکتے۔۔
دیکھو۔ فاطمہ اسکا ڈیسک ناک کرکے دوبارہ شروع ہونے کو تھی کہ اس نے نرمی سے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
میں باہرانتظار کر لیتا ہوں تم جائو۔
وہ کہہ کر رکا نہیں سیدھا انتظار کیلئے لگے صوفوں کی جانب بڑھ گیا۔
وہ دانت پیستی پیر پٹختی اندر آئئ۔ تیسرے فلور پر لمبی راہداری پروڈیوسر سیکشن کے نام سے مخصوص تھئ جس کے دونوں اطراف کمرے تھے۔ جن کو پروڈیسرز روم کہا جاتا تھا۔ پروڈیوسرز روم کے باہر تختیاں لگی تھیں۔ اس نے اپنے پاس میسج میں لکھے نام کی مدد سے تختیاں پڑھنی شروع کی تین چار کمروں کے بعد مطلوبہ کمرے کا دروازہ کھولنے ہاتھ بڑھایا تبھی دروازہ کھلا تھا۔ پلستر لگا بازو احتیاط سے دروازہ کھولنے کے باوجود اسکی ناک پر دروازہ لگا تھا
اوہ سوری۔ مانوس لہجہ فاطمہ نے ناک سہلاتے گھورا
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
وہ انہوں نے بلایا تھا۔ وہ نجانے کیوں گڑبڑایا۔
کیوں؟ بستی کرنے کیلئے کہ ہم نے دھوکا دیا انہیں۔ پتہ تھا مجھے۔ میں مزید بستی نہیں کرواسکتی بتا دینا ٹاٹا۔۔
وہ کہتے فورا پلٹی
نہیں ۔ ایسی بات نہیں۔
اس نے فورا روکا۔
انہوں نے ڈانٹنے کیلئے نہیں بلایا۔ اس نے کان کھجایا
پھر کس لیئے بلایا ہے؟۔
وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر جرح کے موڈ میں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ملٹری میں ان لسٹ ہونے لگا ہوں۔
وہ دونوں باہرپھولوں کے کنج کے پاس رکھے سنگئ بنچ پر بیٹھے تھے۔۔ خاموش سامنے چلتی سڑک پر نگاہ جمائے۔۔
میں نئے ڈرامے میں ہیروئن آنے لگئ ہوں۔
اس نے بھی جوابا بے تاثر انداز میں جواب دیا
فاطمہ کا کیا کروں۔۔۔۔
طلاق دے دو آٹھ نو مہینے تو ہو ہی گئے ہیں۔
واعظہ کے کہنے پر اس نے ہونٹ بھئنچ لیئے۔
اور گھر۔
کہتے ہوئے اسکا لہجہ ڈولا تھا۔ واعظہ نے اسکی جانب نگاہ تک نہ کی سڑک کو گھورتی رہی
گھر لوگوں سے ہوتا ہے۔ وہ مکان ہے۔۔ چاہو تو فاطمہ سے کہو وہیں رہے اسے بھی رہائش درکار تو ہے۔
واعظہ کے مشورے پر اس نے گردن گھما کر واعظہ کو دیکھا
تم ۔۔ تم کیا کروگی؟ تمہاری لیز بھی ختم ہو گئ ہے نا۔ تم کیوں نہیں فاطمہ کے ساتھ رہ لیتیں۔۔
میرے پاس مکان ہے۔ اور میں اس مکان کے مکین کون ہوں گے طے کر چکی۔
وہ سابقہ انداز میں بول رہی تھی۔
تم کیوں نہیں گئیں ناروے؟
اس نے اپنی دوستی کا فائدہ اٹھاتے سیدھا سوال کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم کیوں نہیں چلتیں ہمارے ساتھ ناروے۔۔
اسکی ماں نے زچ ہو کر پوچھا۔ کمرے میں سامان بکھرا ہوا تھا۔ وہ کپڑے تہہ کر کرکے اٹیچی کیس میں لگا رہی تھیں۔
وہ بھی مدد کروا رہی تھی مگر اسکی ماں کو اسکے ہاتھ سے تہہ شدہ جوڑا لیتے ہوئے بھئ غصہ آرہا تھا۔ چھین کر اٹیچی میں پٹخا۔
آپ سب ناروے جا رہے ہیں کیوںکہ آپکا بیٹا بہو ناروے جارہے ہیں آپ کیوں نہیں رک جاتیں یہیں۔
جوابا وہ بھی جیسے تنگ آکر بولی۔۔
نا ناروے ہمارا ملک ہے نا کوریا۔ یہاں آ رہنے کا فیصلہ بھی تمہارے بھائی کی نوکری کی وجہ سے کیا تھا اب ناروے جانے کی وجہ بھی یہی ہے۔
وہ دو ٹوک انداز میں بولیں۔
میری نوکری بھی یہیں ہے میں ناروے جا کر کیا کروں گی؟
میں بھئ نوکری چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتئ۔ آپ چاہیں تو بیٹی کے پاس رہ سکتی ہیں۔
جوابا اس نے بھی صاف صاف کہا۔
نوکری تم وہاں بھی کر سکتی ہو۔ کونسا کوئی بہت اہم کیریئر ہے تمہارا۔ پڑھائی ادھوری چھوڑ رکھی ہے نا زندگی میں کوئی ایم ہے ناگول پھر بھی پتہ نہیں کوریا سے کیا محبت ہوگئ ہے کہ اسکو چھوڑ کر نہیں جانا۔۔
حقیقتا اگر وہ اسکا دماغ درست کر سکتیں تو یہیں دو تین اسکے کان کے نیچے لگا دینے تھے تھپڑ۔۔
وہ جوابا کچھ نہ بولی آرام سے بیڈ پرسے تکیہ کھئنچ کر سر کے نیچے رکھا اور نیم دراز ہو گئ۔ چند لمحے وہ کھڑی اسے گھورتی رہیں۔۔
اس چندی آنکھوں والے کی فکر ہے نا؟۔
انہوں نے زچ ہو کر پوچھا۔
خاندان کا حصہ بنا تو لیا ہے ہم نے اور کیا کریں اسکے لیئے۔ ؟؟؟
اسے خاندان کا حصہ سمجھ بھئ لیں۔۔ کیونکہ وہ اب اس خاندان کا حصہ ہے۔۔
اسکے انداز میں ضد تھی۔۔۔۔ انہوں نے مزید بحث میں پڑنا مناسب نہیں سمجھا
پھر جیسے تمہاری مرضی۔ چاہے اس گھر میں رہو یا اسی فلیٹ کی نئی لیز بھر دو۔ مگر اب میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی۔۔ مجھے جتنا جو کہنا سمجھانا تھا سمجھا چکی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تم اتنی ضدی کیوں ہو۔ سیہون نے پوچھا تھا۔ جواب اسکے اپنے پاس بھئ نہیں تھا۔تبھئ اسکا فون بج اٹھا۔۔
واعظہ واعظہ کی بچی کہاں ہو تم۔۔
چھوٹتے ہی وہ اتنی زور سے بولی کہ اسے فون کان سے دور کرنا پڑا۔
باہر احاطے میں۔
اسکے بتاتے ہی اس نے جھٹ فون بند کر دیاتھا۔
اس نے کندھے اچکا کر فون واپس بیگ میں رکھ دیا۔
فاطمہ دوڑتی ہوئی آئی اتنی تیز کہ انہیں بھی گزار گئ۔ اب آگے لب سڑک کھڑی دائیں بائیں دیکھتئ انہیں ڈھونڈ رہی تھی۔
یہ تمہیں ڈھونڈ رہی ہے۔ سیہون نے پوچھا وہ اثبات میں سر ہلا کر اٹھ کھڑی ہوئئ۔ سیہون نے بھئ تقلید کی۔۔ اس نے پیچھے سے جا کر اسکا کندھا تھپتھپایا۔ وہ تیزی سے مڑی پھر اس سے لپٹ کر گول گول گھماڈالا اسے۔
مجھے سیکنڈ فی میل لیڈ کی آفر ہوئی ہے۔ منہ مانگی سیلری کے ساتھ۔ آدھئ شوٹ کوریا میں آدھی مصر میں۔۔ اف مجھے مصر کی بھی سیر کرنے کو ملے گا اتنئ خوش ہوں میں اتنی خوش۔۔۔۔۔
وہ خوشی کے مارے پاگل ہو رہی تھی۔ واعظہ کو چکر آگئے مگر اس نے نہیں چھوڑا۔ہنستے ہنستے اسکی آنکھیں منہ سب سرخ ہو چلا تھا۔
اور مجھےبھی ولن کا کردار ملا ہے۔ انکو رواں ہنگل بولتا عربی چہرہ درکار تھا۔
خاور سیہون کے ساتھ چلتا آیا خوشی خوشی بتا رہا تھا۔
وہ فاطمہ کی طرح خوب اچھل کود نہیں کر رہا تھا مگر خوشی اسکے چہرے سے پنہاں تھئ۔
سب کاسٹ فائنل ہوچکی ہے پتہ ہے اسی عبداللہ والے ڈرامے کا سیزن ٹو اپروو ہوا ہے اس میں پرانے زمانے کی کہانی ہوگی کہ عبداللہ اور لیلی آخر عربی ہوتے ہوئے کوریا میں جوزن ایرا میں کیا کر رہے تھے۔
خاور چمکتے چہرے کے ساتھ بتا رہا تھا۔
اور پتہ ہے اس کی کہانی میں ٹویسٹ کیا ہے۔ فاطمہ اسکا بازو ہلا کر بتا نے لگی۔
ابھئ اسکرپٹ پڑھا ہے نہیں پورا ٹوئسٹ کیا پتہ ہے تمہیں۔
خاور نے چھیڑا۔۔
پڑھانہیں انہوں نے کہانئ تو بتائی ہے۔ فاطمہ واعظہ کو چھوڑ خاور سے بحث میں الجھ گئ۔
تم نے بھی ہاں کر دی اس سیریل کیلئے۔
سیہون نے خاو رسے بات کاٹ کرپوچھا
ہاں تو اور کیا۔ اس شکل کے ساتھ اس ٹوٹے پھوٹے وجود کے ساتھ کبھی پاکستان میں ڈرامہ آفر نہ ہوتا مجھے اوپر سے بین القوامئ پراجیکٹ مل رہا ہے۔ ناشکری کرتامیں۔
اتفاق کئ بات ہے شہزادہ لنگڑا تھا سو میں فٹ بیٹھا کردار میں۔
وہ ہنس کر اپنا مزاق اڑا رہا تھا
شہزادے کو گونگا بھی ہونا چاہیئے تھا تم کیا ہر وقت لنگڑا لنگڑا کہتے رہتے ہو خودکو۔
فاطمہ اسکے خودترسی والے انداز پر چڑی۔
قسم سے آج پہلی بار اپنے لنگڑے ہونے پر رشک آیا ہے۔
وہ اس وقت واقعی خوش تھا انجوائے کر رہا تھا
سیہون گہری سانس لیتا واعظہ کے ساتھ آکھڑا ہوا۔
کہانی کیا ہے یہ تو بتائو
سیہون نے کہا تو فاطمہ پر جوش سے انداز سے بتانے لگئ۔
بھئ بات یہ ہے کہ کہانی ہےگوریو کے ایک بادشاہ کی جس نے مصری شہزادی سے شادی کر لی ۔ اب مصری شہزادی جب گوریو آئی تو اسکے بچے تو چونکہ گوریو کے بادشاہ کے تھے تو کورین نقوش کے بچے عربی میں بات کرتے ہیں کیونکہ انکی ماں مصری ہے اور مصری شہزادی کے بھائی کی شادی گوریو کے بادشاہ کی بہن سے ہوئی اب یہ بہن مصر میں جا کر جب رہی تو اسکے مصری نقوش کے بچے کوریائئ زبان میں بات کرتے ہیں۔ اب جو مصری بیوی کا بیٹا ہے۔
فاطمہ خوب جوش و خروش سے بتا رہی تھی۔
نہیں جی مصری بیوی کا بیٹا نہیں ہے وہ یہی تو کہانی ہے اصل۔
خاو رنے ٹوکا۔ جوابا فاطمہ نے پورے زور سے جرح کی
جی نہیں جی تم کورین آہجومہ کے جس کی شادی مصری شہزادے سے ہوگی اسکے بیٹے ہوگے
نہیں بھئ مجھے تو ولن بننا ہے اصل میں تو وہ مصری بیوی کا بیٹا۔۔
دونوں زور و شور سےبحث میں الجھے تھے۔۔
تم کیا بنو گی؟
سیہون نے اپر کی۔جیب میں ہاتھ ڈالتے گہری سانس لیکر اس سے پوچھا۔۔
وہی مصرئ شہزادے کی بیٹی جسکا بھائئ ہوگا لنگڑا ولن۔۔
واعظہ نے بھی سیہون کی طرح اپنے اپر کی جیب میں ہاتھ گھسا لیئے۔
سامنے فاطمہ اور خاور زور شور سے بحث کرنے کے بعد اب ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنس رہے تھے جانے کس بات پر مگر جیسے دل سے ۔۔۔۔۔۔بہت خوش ہو کر اور یہ دونوں رشک سے انہیں دیکھتے سوچ رہے تھے۔
ہم اب ایسے خوش کیوں نہیں ہوپاتے؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیڑھ مہینے بعد۔
اس نے رش میں بمشکل جگہ بناتے گھستے آواز لگائی
ہٹو بچو رزلٹ دیکھنا ہے مجھے۔
بے کار زحمت کی۔ کیونکہ کالے لمبے عبایا میں سر منہ سب ڈھکے عزہ کو دیکھتے ہی بھیڑ چھٹنے لگی تھی۔ الف اسکا ہاتھ تھامے ساتھ ساتھ دوڑ رہی تھی۔ نوٹس بورڈ پر اسکی اور عزہ دونوں کی ڈگریوں کی لسٹیں برابر لگی تھیں۔ پہلی سے درمیان اور آخر الف نے پوری لسٹ گزار دی نام ہی نہیں تھا اسکا۔
یہ کیا ؟ اسکا منہ کھلا رہ گیا۔
یہ کیا تمہارا نام کیوں ہے انجینئرنگ والی لسٹ میں۔ عزہ دوسری جانب پریشان تھئ۔ اس نے دوبارہ لسٹ میں نگاہ کی تو عزہ خان ۔نظر آیا۔ دونوں جزباتی ہو کر ایک دوسرے کی ڈگری کا رزلٹ دیکھ رہی تھئں۔
اف عزہ ادھر ہے تمہاری لسٹ سوشل سائنسز میں میرا نام ڈھونڈو۔
میرا نام ہے اس میں۔ عزہ لپک کر اسکی جانب آئئ۔
ہاں اور میرا۔
الف اب اپنے بائیں جانب لسٹ پر جھکی تھی۔
ہاں تمہارا تو پڑھ لیا تھا میں نے ساتویں نمبر پر ہے۔
اپنی لسٹ پر اپنے نام پر انگلی رکھے عزہ سیلفی بنا رہی تھی۔
یہ تصویر لے کس کی رہی ہے آنکھیں نظر آرہی ہیں اسکی تو بس۔
چندی آنکھوں والی نے بد مزہ ہو کر اپنی سہیلی کے کان میں سرگوشی کی۔
سنو ایک میری اور میری سہیلی کی بھی تصویر لے دو
ایسے کمنٹس کا بہترین بدلہ اور کیا ہو سکتا تھا۔جھٹ الف نے اپنا موبائل تھمایا اسی لڑکی کو او رعزہ کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔
پھر تاریخ گواہ ہے ان لڑکیوں کو پندرہ بیس منٹ تک پچیس تیس تصویریں کھینچنے کے بعد خلاصی مل سکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الف ہنس ہنس کر اپنا کارنامہ سنا رہی تھی۔ ساتھ ساتھ پیکنگ بھی جاری تھی۔ الف اور عزہ نے کمرہ تلپھٹ کر رکھا تھا۔
عشنا کمرے میں آئی تو ہر طرف دوپٹے کپڑے ہی بکھرے نظر آئے۔
تم لوگ کیا دان کرنے لگے ہو۔یہ کپڑے۔
اسے سچ مچ یہی خیال آیا تھا۔
یہ دان کروں۔ عزہ نے اپنا گلابی دوپٹہ لہرایا۔ پورے دوپٹے میں جگہ جگہ چھید تھے۔ جیسے سوراخ کیئے گئے ہوں خاص طور پر۔۔۔
میں خود تو سب دوپٹے سینت سینت کر رکھتی رہی یہ الف کی بچی میرے ہر دوپٹے کو اپنے کپڑوں سے میچ کرکے حجاب بناتئ رہی دیکھو پنین ٹھونک ٹھونک کے کیا حال کردیا ہےاسکا۔
وہ اپنے پسندیدہ ترین دوپٹے کا یہ حشر دیکھ کر رودینے کو تھی
ہاں ذرا سا دوپٹے میں چھید ہو گئے اتنا تپ رہی ہو اور جو میں اتنا کام آتی رہی ہوں اسکا کیا۔
الف کھسیاہٹ چھپانے کو چڑھ دوڑی
کونسا کام آئی ہو ؟ گنوانا ذرا۔
عزہ حیرانئ سے گھورنے لگی۔
وہ۔۔۔ الف نے سوچنا چاہا۔ مگر ظاہر ہے سچ مچ بھی جن کاموں میں کام آئی وہ ذہن سے سلیٹ ہو چکے تھے۔
احسان کرکے جتنا کمینے لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ میں نہیں بتاتی۔ وہ سرعت سے کہہ کر رخ موڑ گئ
اور دوسروں سے زبردستی خود پر احسان کروانے والے کیا ہوتے؟
عزہ کو اسکے انداز پر ہنسی آگئ جبھی بیڈ پر چھلانگ مار کر اسکی گردن دبوچی۔
دونوں کی بے ہنگم چیخ و پکار۔۔ عشنا نے دو ایک بار دہرایا
جلدی کر لیں واعظہ نے روم لاک کرنا ہے۔۔ مگر دونوں ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو رہی تھیں۔
وہ میں بتانے آئی تھی کہ واعظہ کہہ رہی ہے دس منٹ میں وہ فلیٹ لاک کرکے چلی جائے گی چاہے آپ دونوں اس میں ہوں یا نہ ہوں۔
عشنا انکی جنگ و جدل کے تھمنے کے انتظار میں کب تک کھڑی رہتی سو گلا پھاڑ کر اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
اف۔۔۔آہستہ۔۔ عزہ کراہی۔۔
کان سائیں سائیں کر نے لگا میرا۔۔الف نے کان سہلایا۔۔
آرام سے سنتی کہاں ہیں آپ لوگ۔اب جلدی جلدی پیکنگ کر لیں۔
وہ سابقہ انداز میں ہی چیخی۔
دونوں نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے پھر اسکے کان پکڑنے دوڑیں۔۔ عشنا چوکنا تھئ۔ جبھئ بھاگ کھڑی ہوئی۔ منے لائونج میں واعظہ ویڈیو کال پر لگی تھئ اسکے ہی پیچھے آن چھپی۔ الف اور عزہ اسکے پیچھے۔ واعظہ گول۔گول گھوم گئ۔۔
یہ میرا کارڈیگن ہے ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک۔گئ تھی میں۔۔
عروج اپنی کلاس میں بیٹھئ چیخ ہی توپڑی۔
اب یہ میرا ہو چکا۔ عروج بہن۔ عزہ نے اسٹائل مارا اور زو رسے کھلکھلائی۔
کوئی نہیں الف کو دو یہ مجھے واپس کر دے گئ۔
عروج شیر ہوئی عزہ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا جبھئ منہ چڑانے لگی۔
یار جلدی کر لو میری ٹرین ہے دو گھنٹے میں تم دونوں کو ڈراپ کرکے مجھے جانا ہے۔
واعظہ بے چاری منت کرنے والے انداز میں بولی۔
جا رہے ہیں جا رہے ہیں۔
الف نے تسلی دی اور ان دونوں کو۔کھینچ کھانچ کر کمرے میں لے گئ۔
اچھا الف سے کہنا مجھے بتا دے کب آرہی ہے میں ملوں گی اس سے۔
عروج نے کہا تو واعظہ کو ہنسی آگئ۔
فی الحال تو وہ اور ذکریہ پاکستان جا رہے ہیں۔ دیکھو وہاں کیا حالات بنتے۔ واعظہ نے کہا تو وہ سر ہلانے لگئ
ویسے الف سے مجھے توقع نہیں تھی کہ اتنا اسٹینڈ لے گی۔۔
مجھے بھی ۔۔ واعظہ نے بھئ سرہلایا۔۔
چلو پھر بات کرتے ہیں ابھئ میری کلاس شروع ہونے والی ہے بائے۔
ٹیچرکو اندر آتے دیکھ کر اس نے جلدی سے فون بند کر دیا۔
کال بند کرکے واعظہ کمرے میں آکر جھانکنے لگی۔ ان دونوں نے اٹیچی بند کر لیئے تھے اب عزہ عبایا کر رہی تھی۔
شکر ہے کم از کم اب ڈورم میں کچھ ہو جائے میرے دوپٹے غائب نہیں ہوا کریں گے۔۔ ایک فائدہ تو ہوگا چندی آنکھوں والیوں کے ساتھ رہنے میں۔۔
حجاب کرتی عزہ پھر الف کو چڑ ارہی تھی۔
اور اگر ان میں سے کوئی فائیو منٹ کرافٹ دیکھتی ہوتئ ہوئی تو ؟
عشنا کے اس بے موقع سوال پر تینوں نے حیرت سے دیکھا
بھئی وہ فائیو منٹ کرافٹ والے اسکارف دوپٹے شال وغیرہ سے ڈریس ہی بنانا سکھا تے ہیں نا۔
اس کی وضاحت پر الف کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
نیٹ ہی بند کر دوں گئ موبائل ہی توڑ دوں گی اپنی رو م میٹس کے بلکہ اسی دوپٹے سے گلا گھونٹ دوں گئ۔۔
عزہ چلبلا اٹھی۔
یعنی اگلے سیزن میں ہم تم سے ملنے جیل آیا کریں گے۔
الف نے چھیڑا۔۔عشنا بھی ساتھ دینے لگی۔
واعظہ گہری سانس لیکر انکے اٹیچی کھینچنے لگی۔
یونہی ہنستے باتیں کرتے وہ باہر نکلی تھیں۔ واعظہ فلیٹ پر طائرانہ نگاہ ڈالتی کمرے لاک کرتی باہر نکلی تو سامنے والے فلیٹ سے چندی آنکھوں والی اہجومہ کو نکلتے دیکھ کر
تینوں رک کر اسے دیکھنے لگیں وہ گڑبڑا کرسر جھکا کر بولی
آننیانگ ۔ جوابا ان تینوں نے مروتا بھئ آننیانگ نہیں کہا۔
یار عجیب سا نہیں لگ رہا اس فلیٹ سے چندی آنکھوں والی کو نکلتے دیکھ کر۔۔
عزہ نے کہا تھا مگروہ سب متفق تھیں۔ سو سر ہلاتی لفٹ کی جانب بڑھ گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اینچیون ائیرپورٹ پر جتنی مرتبہ دیسی کمچی کی لڑکیاں آئی ہیں کورین حکومت کو کورین ائیر پورٹ کی اتنی ترویج کرنے پر ہمارا وظیفہ باندھ دینا چاہیئے۔
عزہ نے الف کو گلے لگاتے ہوئے ہنس کر کہا تھا۔ پھر اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
الف اور ذکریہ آج پاکستان جا رہے تھے۔ سو واعظہ عشنا اور عزہ انہیں چھوڑنے ائیر پورٹ تک آئی تھیں۔
اسکی بات پر ژیہانگ ہنسا۔ اور صرف وہ ہی ہنسا۔ جبھی ہنس کر کھسیا سا گیا۔
الف رو رہی تھئ۔ عشنا عزہ کے باری باری گلے لگ کر۔
اور تم۔
واعظہ گلے لگنے آگے بڑھی تو وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر بولی۔
گھورتے ہوئے۔ واعظہ حیرت سے دیکھنے لگی۔
تم نہ ہوتیں تو جانے میں کیا کرلیتی اپنی زندگی کے ساتھ۔ تھینک یو واعظہ مجھے میری زندگی کے سب سے اہم فیصلے کرنے میں میری مدد کرنے کیلئے۔ سدا خوش رہو۔
اور۔۔
اسکی آگے کی تقریر واعظہ نے گلے لگ کر روک دی۔
ائیر پورٹ پر اندر آتے تک وہ مڑ مڑ کر دیکھتی رہی تھی۔ یہاں تک کے ژیہانگ کو۔نرمی سے ٹوکنا پڑا
پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتے آگے سے ٹھوکر نہ کھا لینا۔
اس نے تو سادہ سے انداز میں کہا مگر الف رک سی گئ تھی۔
بات میں دم تھا۔ جہاز میں بیٹھ کر سیٹ بیلٹ لگا کر بیٹھتے جانے اسے کیا خیال آیا کہ مڑ کر اس سے پوچھنے لگا۔۔
واعظہ نے تمہاری کیا مدد کی تھی؟
واعظہ نے۔ اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئ۔
واعظہ کا ہی فون تھا۔۔۔ دراصل۔۔ وہ پوری بات بتانے لگی کہ ژیہانگ چیخ پڑا
کیا؟وہ جس فون کی بیٹری ختم ہوچکی تھی اور بار بار بات کٹتی رہی؟
الف نے محظوظ انداز میں سر اثبات میں ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دن۔۔۔۔۔
فون بجے جا رہا تھا۔ اس نے مندی مندی آنکھیں کھولیں۔۔ ملگجے اندھیرے میں کچھ سجھائی نہ دیا بس تکیئے پر پڑا فون جل بجھ کر رہا تھا۔ انجان نمبر۔۔
رات کے تیسرے پہر۔اگر کال آرہی تھی تو یقینا ڈیڈا ہوں گے۔ اسکا نمبر تو سوائے ڈیڈا کے بس ایک انسان کے پاس تھا۔
اس سے رات کے تیسرے پہر اسکی یاد کیوں ستانے لگی۔ وہ دل کی خوش فہمی پر سر جھٹکتا موبائل اٹھانے لگا
موبائل تکیے پر ہی پڑا تھا۔ انجان نمبر اس نے بے دلی سے ریسیو کرکے ہیلو کہا۔
ہیلو ذکریہ۔۔۔ میں الف بول رہی ہوں۔ آواز تھی کہ منتر وہ اچھل کر اٹھ بیٹھا۔تبھی کال بند ہوگئ۔
وہ چند لمحے اسکرین کو بے یقینی سے دیکھتا رہ گیا۔
دھڑ دھڑ۔ اسے اپنے دل کی دھڑکن جیسے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔
خواب سا لگا تھا مگر۔ اس نے نےبے تابی سے کال۔لاگ کھول کر کال ملائی۔
پہلے جاپانی پھر انگریزی میں اسے ایک ہی ریکارڈنگ سنائی دی آپکے مطلوبہ نمبر سے فی الوقت رابطہ ممکن نہیں۔
وہ دم بخود سا فون ہاتھ میں لیئے بیٹھا تھا۔
پانچ دس منٹ یا شائد پانچ دس صدیاں گزری تھیں جب اسکا فون دوبارہ بجا تھا۔
ہیلو۔ اس نےبے تابئ سے فون اٹینڈ کیا
ہیلو الف ۔۔ اسکی آواز شائد اتنی کم نکلی تھی کہ الف نے سنا نہیں وہ تیزی سے بستر سے اترا اور کھڑکی کی جانب بھاگا۔ کھڑکی کھول کر گیلری میں آگیا۔
سگنل نہ رک رہے ہوں۔ کہیں کال نہ کٹ جائے۔۔
ہیلو ذکریہ۔ کیسے ہو۔ الف نے جھجکتے ہوئے پوچھا تھا
ٹھیک ہوں تم کیسی ہو۔
اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے
میں بھی۔ وہ کہہ کر چپ سی ہوگئ۔۔ چند لمحوں کا وقفہ آیا تھا ان کے بیچ۔
الف۔۔
ذکریہ۔
دونوں اکٹھے بولے اور اکٹھے ہی چپ۔ہوگئے۔۔
فون بھی بند ہو گیا۔۔
وہ پاگلوں کی۔طرح کال ملانے لگا مگر بار بار ایک ریکارڈنگ۔۔
تبھئ ایک اور نمبر سے کال آئی۔
الف۔۔ تم سے آتے ہوئے ایک سوال کیا تھا میں نے۔۔۔تم مجھ س۔۔۔
اسکی آواز میں ہلکی سی تھراہٹ سی آئی تھئ
ہیلو ژیہانگ کیسے ہو بیٹا۔
آگے ڈیڈا تھے۔۔
ہیلو ڈیڈا ۔۔ آپ۔۔ اسکو سمجھ نہ آیا کیا بولے۔۔ دل تھا کہ پسلیاں توڑ کر باہر نکل آنے کو بےتاب تھا
کیسے ہو بیٹا۔فلائٹ کنفرم ہو گئ تمہاری؟ مجھے وقت بتادو میں اپنے بیٹے سے ملنے کیلئے سب کام سے فارغ ہو کر ۔۔۔۔
وہ آگے جانے کیا کہہ رہے تھے اس نے بے تابی سے بات کاٹ دی
ڈیڈا بعد میں ۔۔ بعد میں بات کرتا ہوں۔ ابھئ مجھے بہت ضروری کام۔ہے۔۔۔
اس نے کہہ کر جواب سنے بنا کال کاٹ دی۔
اسکا فون پھر بج اٹھا تھا۔ دھڑ دھڑ کرتے دل سے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔۔
ہیلو الف۔
الف نے لمحہ بھرکا بھی توقف نہ کیا۔۔
ہاں۔۔۔۔ ژیہانگ میں الف بول۔رہی ہوں۔۔ میں ۔۔۔
آگے پھر فون کٹ چکا تھا۔۔
واعظہ کی بچی فون کٹ گیا دوبارہ
الف چیخی۔۔ واعظہ نے کان کھجایا۔۔
بل ایکسیڈ ہوگیا ہوگا۔۔ تم نمبر لیکر اپنے فون سے کال کرلو۔۔
مفت مشورہ۔۔ وہ کھا جانے والی نظروں سے اسکا بند فون لہرا رہی تھی۔
چارجنگ پر لگا کر پہلے آن کیا فون نمبر لیا اب اپنے فون سے ڈائل کرنے لگی۔
رات کا پہر اسکا بنا شرٹ جسم ٹھنڈی ہوا سے کپکپایا تھا۔ خنکی گرمی کا احساس اسے اب ہونا شروع ہوا تھا۔۔
جان لیوا انتظار۔ فون ہاتھ میں لیئے گیلری میں کھڑا ژیہانگ جیسے سولی پر لٹکا تھا۔۔
اس نے جلدی سے میسج ٹائپ کرکے بھیجنا چاہا تبھی دوبارہ کال آئی۔تھی۔ یہ۔نمبر۔ ڈیلیٹ کرنے کے باوجود ازبر تھا۔
ہیلو الف۔
ہیلو۔ ذکریہ۔ وہ اسکے بے تابانہ پکارنے پر جھجک کر بولی۔
کیا۔۔ دوبارہ کہو۔۔
اسے وہم ہوا شائد اسکی سماعتیں دھوکا دے گئیں۔ یہ رات کا خواب تو نہیں۔اس نے سر اٹھا کر آسمان پر نگاہ کی۔
الف جوابا ہنسی تھی۔
میں نے کچھ نہیں کہا۔۔
ذکریہ۔۔ ذکریہ کہو میں سننا چاہتا ہوں۔۔
اسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔۔
ذکریہ۔۔کیسے ہو۔۔ وہ جھجکتے ہوئے بولی۔
اس چھوٹے سے لفظ۔ نے جیسے ٹوکیو کے نیلے آسمان کے سب ستارے اس پر برسا دیئے تھے۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔ شکر الحمد اللہ۔ اسکا دل سجدہ شکر بجا لایا۔
کیا ہوا۔۔ ذکریہ تم سن رہے ہو؟ بولو۔
ٹھیک ہوں بالکل ٹھیک۔۔ کتنے لمحوں کے توقف کے بعد وہ بولا تھا۔
موبائل نے بیپ بیپ کی تھی۔ اس بار ژیہانگ کے فون کی بیٹری مک گئ تھئ۔
الف نے حیرت سے اپنے موبائل کو دیکھا
عزہ عشنا اور واعظہ اسکے سامنے بیٹھی منتظر نظروں سے دیکھ رہی تھیں
کال کٹ گئ۔۔
کوئی بات نہیں تمہارا نمبر مل تو گیا نا اسے اب وہ کال بیک کر لے گا۔
عزہ نے تسلی دینی چاہی۔
مگر وہ۔۔۔ اسے اندیشے ستا رہے تھے۔
کہیں ایسا تو نہیں وہ۔جان کے کال کاٹ رہا ہو۔
الف لرزتئ آواز میں بولی۔واعظہ بھنا گئ۔
بدگمان ہونا تو کوئی پاکستانی لڑکیوں سے سیکھے۔ دونوں دفعہ تمہارے ہاتھوں میں میرا موبائل بند ہوا ہے وہ کہاں سے کال کاٹ رہا ؟ اسے تمہیں ایوائڈ کرنا ہو تو کال ہی نا اٹھائے اب۔
واعظہ نے جھاڑ پلائی تو اسکی عقل میں بھی کچھ کچھ بات گھسی۔
وہ دوبارہ فون ملانے لگی۔ کال نہیں مل رہی تھی۔
لگتا ہے اب اسکے موبائل کی بیٹری ختم ہو گئ ہے۔
عشنا نے خیال ظاہر کیا۔ عزہ کو بھی تشویش ہوئی
وہ چارجنگ پر لگا کر کال ملا لے گا اتنی عقل ہوگی اس میں بھئ۔
واعظہ چڑی۔
وہ بھی کال ملا رہا ہوگا تم۔بھی ملا رہی ہو جبھی نہیں مل رہی اب تھوڑا رکو۔۔۔
عزہ نے کہا تو وہ موبائل گود میں رکھ کر بیٹھ کر انتظار کرنے لگی۔
اب وہ کال ملارہا ہوگا۔
اس نے سوچا۔۔
جبکہ ان سے میلوں فاصلے پر۔ٹوکیو کے ہوٹل کی گیلری میں وہ موبال سینے سے لگائے وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔ جب گڑ گڑا کر دعا کرنے پر دعا قبولیت کا درجہ پا جائے تو سب سے پہلے شکر ادا کرنا چاہیے۔ وہ یہی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اب اسکے بعد اس نے فون اٹھا کر دیکھناتھا تو پتہ لگتا کہ اسکا موبائل ہی بند ہو چکا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا اٹیچئ گھسیٹ کروہ ہانپ ہانپ۔گئ تھی۔ اسکے وہیل چل۔کیوں نہیں رہے۔ یہ خیال اسے کمرے کے بیچوں بیچ لا کھڑا کرنے کے بعد آیا تھا۔ سو جھک کر جب اٹیچی کو۔دیکھا تو اسکے وہیل کا لاک ہی نہیں ہٹا ہوا تھا۔ سر پر۔ہاتھ مار کر رہ۔گئ۔ اٹیچی کو چھوڑ کر طائرانہ نظر کمرے پر ڈالی۔ دو بیڈ کا ڈورم تھا۔ صاف ستھرا ۔ جیسے کوئی کبھی رہا ہی نہ ہو۔ سامان ہی نہ تھا۔ بس چادر تکیئے کمبل تہہ ہوئے وے اور دو عد د میزیں ۔
گہری سانس لیکر مڑی تو دل اچھل کر۔حلق میں آگیا۔
ہائے اللہ۔
سامنے اٹیچی پکڑے عشنا کھڑی تھی اسکے یوں ڈر جانے پر گڑبڑا اٹھئ۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ عزہ حیرانی سے بولی۔
وہ مجھے یہی ڈورم الاٹ ہوا ہے ۔۔ آپکو بھی۔
اس نے۔مصنوعی حیران ہونا چاہا مگر عزہ کے گھورنے پر کھسیائئ۔۔
آپکے پیچھے پیچھے ہی تو آرہی تھی آواز بھی دی آپ نے سنا نہیں۔ اسکا وہیل بھی گھس گیا آپکو یہ بھی بتایا تھا کہ اسکا لاک کھول لیں۔
وہ اب جھک کر اسکا اٹیچی ٹٹول کر۔دیکھ رہی تھی۔ عزہ چپ چاپ کھڑی تھئ
آپکو اچھا نہیں لگا میرا اس روم میں آنا۔
وہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھتی سیدھی ہوئی
عزہ نے نفی میں سر ہلایا۔ اس سے قبل کے عشنا اور مایوس ہوجاتئ اس سے لپٹ کر گول چکر کھا گئ
صرف اچھا نہیں بہت بہت اچھا لگ رہا ہے۔ اف میں تو سوچ کے پریشان تھئ کیسی روم میٹس ہوں گئ نان مسلم۔کے ساتھ رہنا آسان تھوڑی ہے۔ اف شکر ہے تم ہو۔ اب سکون سے رہ سکوں گی میں پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔
عزہ اس سے الگ ہو کر اب اپنا اسکارف کھولنے لگی۔ ذہن سے بوجھ سرکا تھا اور عشنا کے ذہن پر بوجھ پڑ گیا تھا
عزہ ہنسی۔۔
نان مسلم کے ساتھ رہنے میں آپکو مسلئہ ہے ؟
عشنا نے سنجیدگئ سے پوچھا۔۔
ہاں تو اور کیا نماز روزہ کرنا آسان نہیں رہتا میں نماز کی وجہ سے پاکیزگی صفائی پر۔کمپرومائز نہیں کر سکتی سو شکر ہے خدا کا عشنا کو میرا روم میٹ بنا دیا۔
عزہ صاف گوئی سے بولی۔
عشنا کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔ لمحہ تھمی۔۔پھر سنجیدہ سے انداز میں بولی۔۔
میرا نام عشنا نہیں روجا ہے روجا جھانگیانی۔ اور میں ہندو ہوں۔۔۔۔
اسکی۔بات پر عزہ جہاں کی۔تہاں پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی رہ گئ تھی اسے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملٹری ان لسٹمنٹ میں ان جیسے بہت سے جوڑے الوداع کرنے آئے ہوئے تھے۔
کوئی اپنے شوہر سے گلے لگ کر رو رہی تھی۔ کوئی اپنی بیوی کو تسلیاں دے رہا تھا۔ کچھ اپنے والدین کے ساتھ آئے تھے مگر ان سب کی دلچسپی کا مرکز وہ جوڑا تھا۔ گھنگھریالے بالوں والی بڑی بڑی آنکھوں والی شہد رنگت لڑکی اور چندی آنکھوں والا وہ گورا لمبا لڑکا۔لڑکی رواں انگریزی میں بین کر رہی تھی۔
میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گئ۔ مجھے اتنی عادت ہوگئ ہے میکسما کافی کی۔۔ کون بنا کے دے گا مجھے۔ ایکسپریسو تو ذہرلگتی ہے مجھے۔ کیا سوجھی تھی ملٹری ان لسٹ کروانے کی۔ میرے بارے میں بھئ نا سوچا کیا کروں گی میں تمہارے بعد۔
آنکھیں ٹشو سے پونچھتی ناک رگڑتئ فاطمہ ۔۔ سیہون اسے دیکھ کر مسکراہٹ دبا رہا تھا جبکہ آس پاس کھڑے لوگ رشک اور دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔
مجھے اکیلے گھر میں ڈر لگتا ہے۔ کتنی بار بتایا تھا تمہیں۔
سوں سوں۔ شاکی۔نظریں
یہ بولی نا اصل بات ۔اکیلے گھر میں ڈر لگتا ہے۔ بس اس لیئے یہ سب ڈرامہ چل رہا۔
سیہون نے جان بوجھ کے چھیڑا وہ۔حسب توقع چڑ گئ۔
ڈرامہ لگ رہا؟ جان نکلی پڑی ہے میری۔ اتنا بڑا گھر ہے۔ دوسرے کمرے میں تو جب تم نائٹ شفٹ پر ہوتے تھے تب بھی آوازیں آتی رہتئ تھیں میں تو جبھی ڈر کر واعظہ کے پاس بھاگ جاتی تھئ۔
ہاں۔ وہ چڑ گیا۔ کوریا کے بھوتوں کو اور تو کوئی کام نہیں فاطمہ کو ڈرانے آئیں گے۔ کوئی بھوت ووت نہیں ہوتا یہاں۔
تم آرام سے رہو وہاں اور شوٹنگز پر دھیان دو۔ یہ بہت اچھا موقع ملا ہے تمہیں گنوا مت دینا کیئریر بن جائے گا۔
وہ لگے ہاتھوں سمجھانے بھی لگ گیا۔ اسے اسکی متلون مزاجی سے یہی ڈر لگا رہتا تھا کہ یہ کام۔بھی مستقل نہیں کرے گئ۔
تین کس سینز ہیں اس ڈرامے میں میں نے تو منع کردیا میں نہیں کر سکتی۔
اس نے صاف کندھے اچکائے
کیا؟ ۔ سیہون چیخ ہی پڑا۔
تم پھر جاب لیس ہو؟
اس کے چلانے پر اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائیں۔
لیکن تمہارا شکریہ ہوم لیس نہیں ہوں۔۔۔
فاطمہ نے مسکراہٹ دبائئ۔
دل تو کر رہا کھڑے کھڑے طلاق دے دوں ہوم لیس بھی ہو جائو تم۔
اس نے ہنگل میں دانت کچکائے۔ فاطمہ کے تو ظاہر ہے سر پر سے گزرا مگر ساتھ سے گزرتے ان آہجوشی نے چونک کر دیکھا پھر تسلی دینے والے انداز میں کندھا تھپکا۔
شانت رہو بیٹا۔ وہ بھی تمہارے جانے سے گھبرا رہی ہوگئ۔
انکے اس مفت کے گیان پر وہ انہیں دیکھ کر رہ گیا
تم فکر نہ کرو۔ تین مہینے کا راشن ہے گھر میں میں تب تک کوئی نوکری ڈھونڈ لوں گی تم دل جمعی سے تربیت مکمل کرو۔ اللہ حامی و ناصر ہو تمہارا
اسکے کندھے کو تھپتپا کر اس نے شرارتی سے انداز میں تسلی و تشفی دئ۔ وہ گھورتا ہوا اپنا بیگ اٹھانے لگا۔ مائکرو فون پر ان تمام نئے ان لسٹ ہونے والے نوجوانوں کو ہال میں جمع ہونے کی ہدایت نشر ہورہی تھی۔
واعظہ نہیں آئی تم سے ملنے۔ اسکے تنے تنے تاثرات ذایل کرنے کو۔اس نے بات بدلی۔
واعظہ کل مل کر تو گئ ہے اسے آج گائوں جانا تھا۔۔
اس نے رسان سے بتایا۔ بس اتنا ہی۔غصہ ہوتا تھا اسکا اب سب بھول کر آرام سے بات کر رہا تھا۔
فاطمہ مسکرا دی۔ اس غیر مذہب کا انسان کتنا اچھا انسان تھا کوئی اس سے پوچھتا۔ دوستی نبھانے والا خیال رکھنے والا متحمل مزاج انسان۔ مزہب ہی تو سب کچھ نہیں ہوتااچھا انسان ہونا بھی تو اہم ہے اور یقینا سیہون بے حد اچھا انسان تھا۔ جس سے مل کر اسے خوشی ہوئی تھی۔
سیہون نے اندرجاتے جاتے مڑ کر دیکھا تو اس نے زور و شور سے ہاتھ ہلا دیاجوابا وہ بھی مسکرا کر ہاتھ ہلاتا اندر کی۔جانب بڑھ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دھیان سے لڑکی۔۔۔
وہ اپنے دھیان میں کانوں میں ہینڈز فری لگائے چلتی جا رہی تھی جب اچانک کسی نے اسکا بازو کھینچ کر ایک جانب کیا۔ وہ بے دھیانی میں سڑک پار کرنے والی تھی جبکہ ابھی سگنل گرین ہی تھا۔
تھینک یو۔ اس نے جھک کر شکریہ ادا کیا۔ وہ ایک سیاہ فام لڑکی تھئ جو اسکے جھک کر شکریہ ادا کرنے پر ہنس دی
کورین ہو؟
دے۔ عروج کھسیائی عادت ہی کوریا کی ایسی پڑی تھی۔
تم نے آپریشن کرایا ہے آنکھیں کافی بڑی بڑی ہیں تمہاری۔
وہ بےتکلفی سے پوچھ رہی تھی۔ عروج نے گہری سانس لی۔۔
ماسک پہنے ہونے کی وجہ سے بس اسکی آنکھیں ہی دکھائی دے رہی تھیں۔
میں کے ڈرامہ کی فین ہوں کئی سالوں سے بس کے ڈرامہ ہی دیکھتی ہوں۔
وہ لمحوں میں بےتکلف ہوئی۔
میں نے کورین بھی سیکھنی شروع کی ہے۔ میرا نام سیرا ہے۔ اور تم
وہ اب کورین میں بات کرنے لگی تھی۔
عروج۔ اسکو اندازہ ہو رہا تھا کہ سیرا کو جواب میں ذیادہ دلچسپی نہیں ہے۔وہ پورا راستہ اسکے ساتھ بولتی آئی۔وہ فزیکل ایجوکیشن کی تھی سو اسکا ڈیپارٹمنٹ مختلف تھا وہ اسکے ساتھ کیمپس تک بولتی آئی
یونیورسٹی سے ملحق ہی اسپتال تھا جہاں اسکا آج اسکا پریکٹیکل ڈے تھا۔۔۔پہلا دن پریکٹیکل ڈے کا وہ گھبرائی ہوئی بھئ تھی اور پرجوش بھئ۔ اپنی حاضری لگوا کر اپنے گروپ کے دیگر طلباء کے ساتھ اس بڑے سے ہال روم میں چلی آئی۔ سامنے بڑا سا روسٹروم تھا پراجیکٹر تھا اور قطار سے چار پانچ نشستیں تھیں جن کے آگے میز پر لیپ ٹاپ کھلے پڑے تھے۔یقینا یہاں ڈاکٹرز کی ٹیم آکر بیٹھتی۔ سب پیچھے پیچھے جا کر بیٹھ رہے تھے وہ سب سے آگے والی نشست پر آکر بیٹھی۔بیٹھتے ہی سب سے پہلا کام اس نے سیلفی لینے کا ہی کیا تھا۔
اس نے بلیک لمبا سا کوٹ مفلر پہنا تھا گلے میں لاکٹ ڈالے اسے کھول کر۔دکھاتے ہوئے سیلفی لی تھی۔ پیچھے اسکا کیمپس۔نظر آرہا۔تھا۔ تصویر کا مرکز لاکٹ تھا۔ ۔ لاکٹ پر باہر کی۔جانب نگ تھا اور اسے کھولو تو اندر پوری آیت الکرسی تھی۔
اللہ نے آج مجھے بچایا۔ صبح آتے ہوئے ایکسڈنٹ ہوتے ہوتے بچا میرا۔ تھینکس ٹو سئیونگ رو اتنا پیارا تعویز مجھے دیا۔۔۔
یقینا اللہ کے کلام کی برکت نے مجھے محفوظ رکھا۔۔
اس نے گروپ میں میسج کیا تھا۔ یہی لکھ کر۔ کسی نے نہیں دیکھا تھا ابھئ۔ شائد سو رہی ہوں گی۔۔ اس نے دوبارہ اپنی تصویر کھول لی۔۔ عجیب سا احساس ہوا۔
اس نے چونک کر تصویرکو دیکھا ۔۔پھر ذوم کی۔ بیک گرائونڈ میں نیلا اپر پہنے وہ لڑکا اس سے کافی فاصلے پر پیچھے کی نشست پر بیٹھا تھا۔
عروج کو ہی دیکھتا۔ چندی آنکھوں والا۔ سیونگ رو۔
اس نے اپنا لاکٹ مٹھی میں دبا لیا۔
میری مدر مسلم تھیں۔ یہ میری ماں کا لاکٹ ہے۔۔۔ مجھے لگا تھا۔۔۔
اسکے کان میں سیونگ رو کے الفاظ گونجے۔
تو یہ اتفاق بھی ہونا تھا۔۔
اس نے گہری سانس لی۔۔ سامنے ڈاکٹرز کی ٹیم آ رہی تھی انکا لیکچر اس وقت اسکے لیئے ذیادہ اہم تھا سو سنبھل کر سیدھی ہو۔کر بیٹھ گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بوسن میں دوپہر ہو رہی تھی جب وہ اس مشہور مندر میں پہنچی تھی۔ گیروا لباس میں ملبوس بہت سے گنجے بچے اس وقت مندر کے صحن میں آسن مارے بیٹھے گیان میں مگن تھے۔
وہ۔مندر کے احترام میں جوتے اتار کر ایک جانب رکھ کر سیڑھیاں چڑھ آئی۔ سامنے مندر تھا چینی اور کوریائی ملی جلی ثقافت کا امتزاج ۔ شہتیروں والی چھت لکڑی کی رنگ برنگی کھپچیوں سے جسکی آرائش ہوئی تھی۔ وہی مخصوص بیضوی نوکدارچھتیں۔ ایک جانب چڑھاوئوں کیلئے جگہ بنی ہوئی تھی۔ اس نے اپنے بیگ سے وہ باکس نکال کر احتیاط سے وہیں رکھ دیا۔ اندر مندر میں کچھ بدھ مزہب کے پیروکار بڑے سے بدھا کے بت کے آگے سجدے میں جھکے تھے۔ آتی سردیوں کی خشک۔ہوا۔۔۔ کچھ ہی دنوں میں برفباری کا آغاز ہوجانا تھا۔
اس نے دور سے ہی دیکھاپھر پلٹ کر وہیں سیڑھیوں کے پاس بیٹھ گئ۔ چلنے سے کندھے پر لٹکے بیگ کا بوجھ دگنا لگ رہا تھا
اس نے اتار کر ایک جانب رکھ دیا۔
تبھی کوئی پیچھے سے آکر اسکے کندھے سے جھول گیا۔
نونا۔۔۔۔ کتنے دنوں بعد آئی آپ۔ مجھے بھولتی جا رہی ہیں نا آپ۔ وہ اسکے کندھے پر تھوڑی ٹکائے شکوہ کر رہا تھا۔
وہ مسکرا دی۔ مگر بولی کچھ نہیں۔ ہے جن خفا خفا سی شکل بنائے گھوم کے اسکے برابر آن بیٹھا۔
سرخ لباس۔ سر کے بال بس نہیں منڈوائے تھے ورنہ مخصوص۔ وہ مکمل بدھ مت کے پیروکاروں کے حلیئے میں تھا۔
ہوگیا تمہارا گیان؟ ۔۔ اس نے پوچھا جوابا اس نے پورے جوش سے گردن ہلائی
ہاں اور آج تو میں مکمل یکسو ہوگیا تھا۔بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں۔دل ایکدم صاف ہوگیا ہے کوئی غصہ نہیں رہا اس میں۔۔
وہ جزب کے عالم میں بول رہا تھا۔
غصہ بھی ہونا چاہیئے ہم انسان ہیں اپنی فطری جبلت کو دبا کر ہمیں صرف نقصان ہوتا ہے۔ سو تمہارے آج کے غصے کا کوٹہ میں پورا کر دیتی ہوں۔
اطمینان سے کہتے اس نے بیگ سے ایک پراسپیکٹس نکال کر اسکے ہاتھ میں تھمایا۔ ہےجن کے تاثرات ایکدم بدلے تھے۔ کچھ خفگی سے اسے گھورنے لگا۔
میں دیکھنا بیچ میں پھر ڈگرئ چھوڑ دوں گا۔
فارم فل کرو۔
اس نے مکھی اڑائئ۔۔
وہ دانت پیستا فارم کھولنے لگا۔ کوئی اور اسکے پاس آپشن ہی نہیں تھا۔
نام لکھتے لکھتے اسکا ہاتھ رکا۔۔۔
ذیدی ہےجن۔ اس نے گہری سانس لے کر لکھا۔
گارجین واعظہ ذیدی۔
سبجیکٹس ۔۔۔ وہ روانی سے فارم فل کر رہا تھا۔
اپنا بیگ اٹھا لائو ہم آج ہی چلیں گے سیول۔
اس نے اگلا حکم صادر کیا۔
میں مونک ہی بنوں گا۔ جیسے ہی بالغ ہوا نا واپس یہیں آکر دھونی رما کے بیٹھوں گا۔
وہ ضدی انداز میں بولا۔
مگر تب تک میں تین سال ہیں ان تین سالوں تک میں قانونی طور پر تمہاری بڑی بہن اور سرپرست ہوں تم میری مرضی کے بغیر یہاں پر بھی نہیں مار سکتے۔
اسکے انداز میں رعب تھا۔
سیول میں رہوں گا کہاں۔ وہ جیسے عاجز ہو کر پوچھ رہا تھا
میرے پاس میرے گھر۔
اسکا جواب فوری اور مکمل تھا۔ وہ مجبور ہو کر فارم اسکی جانب بڑھاتے اٹھ کھڑا ہوا۔
میں آپکے کہنے پر اپنے تکلیف دہ ماضی کو بھلا کر آپکو اپنا سب کچھ مان کر ساتھ چل رہا ہوں مگر کیا آپ کو میرے ماضی کی وجہ سے کسی مسلئے کا سامنا نہیں ہوگا ؟ مجھے بار بار سمجھانے کی بجائے ایک بار آپ خود بھی سوچ لیں کہ۔۔۔
جلدی کرو۔ دو گھنٹے میں سورج ڈوبنے لگے لگا میں اندھیرے میں ڈرائیو کرتے سمتوں کا تعین درست نہیں کر پاتی۔
وہ اسکو بریک لگانے کیلئے نری بکواس کر رہی تھی۔
اچھا ہے بھول جائیں سیول کا رستہ ہم یہیں بھٹکتے رہ جائیں۔ جا رہا ہوں بیگ لانے۔۔ وہ پیر پٹختا واپس جا رہا تھا۔اس نے منہ پھیر کر مسکراہٹ چھپائی۔۔۔
وہ سچ مچ تن فن کرتا جا رہا تھا۔
اس لڑکے میں ایسا کیا ہے جو تم سب اس سے اتنی بری طرح محبت میں مبتلا ہوگئیں۔
اسکا دان کیا ہوا باکس نگاہوں کے سامنے لہرایا اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
جونگ وون دلکشی سےمسکرادیا
عزہ اور طوبئ دونوں اسکے اسکول پہنچی تھیں تفصیلات جاننے کہ یہ کہاں ہے کدھر گیا ۔۔
واعظہ نے ترچھی نظر ڈالی اس پروہ اسکی آنکھوں میں لکھا سوال پڑھ چکا تھا جبھی تسلی دینے والے انداز میں بولا۔
۔ شکر ہے میں نے پکا کام کیا تھا۔ ویسے تمہیں اسکا نام بھی بدلوا لینا چاہیئے تھا آسانی رہتی۔
اسکی ان تمام باتوں کے جواب میں اس نے سامنے نظر جما لی تھی۔ نیلے پہاڑوں پر سنہری دھوپ کیا خوبصورت منظر تھا۔ چاروں اطراف پہاڑوں کے بیچ یہ مندر کسی چراغ کی طرح روشن نظر آتا تھا۔ اس نے لمحہ بھر اسکے ردعمل کا انتظار کیا پھر ٹھنڈی سانس بھر کر باکس اسکے برابر رکھتا لیکر۔ آن بیٹھا۔
اسکے سوتیلے باپ کے کیس کا آج فیصلہ ہوگیا ہے۔ عمر قید حالانکہ سزائے موت ہونی چاہیئے تھی۔ خیر بھاری جرمانہ اتناہے کہ ہے جن آرام سے عیش بھری زندگی گزار سکتا ہے۔
ہے جن ان پیسوں کو کبھی استعمال نہیں کرے گا۔۔وہ اسکے بچپن و معصومیت کے قتل کا خراج ہے۔۔ واعظہ نے کہا تو وہ متفق انداز میں سر ہلانے لگا۔
جانے کس قسم کا انسان تھا۔ معصوم بچے کے ساتھ کیا کیا نہ کیا۔ اسکو فحش مواد میں استعمال کیا اس سے جسم فروشی کروائی اب پیسہ اسکےپاس بہت ہے مگر ساری زندگی جیل میں سڑے گا کہہ سکی۔۔ اس نے گالی دی۔۔
خیر اسکی ویڈیوز اسکے سب ریکارڈز ضائع کروادیئے ہیں میں نے۔ اسی لیئے کہہ رہا تھا کہ اسکا نام بھی بدل جائے تو ماضئ کی پرچھائیں کبھی اسکا تعاقب نہیں کرےگی۔ اسکی بات سے واعظہ متفق نہ تھئ۔اسکی جانب مڑ کر آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
میں چاہتی ہوں وہ خود سے اپنی شناخت سے بھاگے مت۔ ہےجن کے ساتھ غلط ہوا تھا ہےجن غلط نہیں تھا۔ اسے نیانام اسلیئے نہیں دیا کہ کوئی پرانا واقف کار ملے تو وہ نا نظریں چرائیں نا بھاگے بلکہ اعتماد سے اپنا تعارف کرائے یہ خواہش ہے میری۔۔۔
بہت محبت کرنے لگی ہو اس سے آئیم جیلس۔ اس نے تاسف سے کہتے دونوں بازو لمبے کرکے پیچھے زمین پر جما دیئے اور سر اونچا کرکے اوپر بادلوں بھرا آسمان دیکھنے لگا۔ چھن چھن کر آتی دھوپ چہرے پر سیدھی پڑ رہی تھی۔
اسکی بات پر واعظہ نے گھور کر دیکھا پھر ساتھ پڑا باکس اٹھا کر دیکھنے لگی۔ اند ر وہی ہیئر پن آب و تاب سے جگمگا رہی تھی۔
ٹریکر لگا ہے اس میں کیا اسکو جہاں میں چھوڑ کر آئوں تم پہنچ جاتے۔ وہ چڑے ہوئے انداز میں کہہ رہی تھی جونگ وون قہقہہ لگا کر ہنسا پھر محظوظ انداز میں بولا
یہ خیال سچ مچ مجھے نہیں آیا۔ کاش آجاتا۔ ۔محترمہ یونیک آئیٹم ہے اسکو جہاں بھی بیچنے جائے گا کوئی مجھے کال آئے گی اس باکس پر ٹریکر کوڈ ہےجو میری خریداری رسید پر بھی چسپاں ہے۔ اور۔۔۔
معلوم ہےیہ مہنگی چیز ہے۔ وہ بات کاٹ گئ۔
جبھی آہجومہ کے علاج کیلئے انکے سرہانے رکھ آئی تھی۔ وہ اور آئٹم سمجھیں عروج نے دیا ہے اسی کو واپس کردیا۔
علاج کروالیتیں شائد بچ جاتیں۔۔
اسٹیج تھری کینسر تھا بچنا مشکل ہی تھا اور انکا سارا خرچہ این جی او نے اٹھا لیا تھا میری تمہیں ذیادہ سپر وومن بننے کئ ضرورت نہیں۔ اتنا خلوص سے دیا تحفہ جہاں مرضی آتی آگے دے دیتی ہو۔ خبردار جو اب اسکو کسی کو دینے کا سوچا بھی۔
وہ بھڑک کر بولا ۔ اس نے سر جھٹکا جیسے اسکی جوتی کو بھی پروا نہیں ۔ پھر باکس سے پن نکال کر گود میں رکھی۔ اپنے کندھوں سے نیچے تک آتے بال لپیٹ کر جوڑا بنایا اور پن لگا لی۔ ہلکی ہلکی ہوا سے جو بال اسکے منہ پر آن بکھر رہے تھے اب شرافت سے جوڑے میں قید ہوگئے تھے۔
اگلا ٹاسک کیا ہے تمہارا۔۔۔
اس نے برسبیل تذکرہ پوچھا تھا۔۔۔ جوابا اس نے مڑ کر دیکھا بیگ اٹھائے ہے جن انکی طرف ہی آرہا تھا۔ دھپ دھپ کرتا منہ پھلائے اب موسم کے لحاظ سے موٹا سا اپر بھی پہن لیا تھا
اسکو مونک نہیں بننے دینا۔دنیا کو ترک کردینے کی خواہش دنیا دیکھنے سے پہلے پال بیٹھا ہےسو اسکو دنیا دکھانی ہے۔
اور تم؟تم کیا کر رہے ہو آجکل۔
وہ بات بدلتے ہوئے اب اسکے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ اس کے مڑ کر دیکھنے پر جونگ وون بھی گردن گھما کر دیکھنے لگا تھا۔اب اسکے سوال پر رخ موڑ کر سامنے پہاڑوں پر نظر جما کر دھیرے سے بولا
میں سونے کا بننے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
اس نے چونک کر اسکی شکل دیکھی ۔ وہ مکمل سنجیدگی سے سامنے پہاڑوں کو تک رہا تھا۔۔
اسکی بات پر وہ چند لمحے اسکی شکل دیکھتی رہی پھرمسکرا کرسر اثبات میں ہلا کرخود بھی سامنے کے منظر پر نگاہیں جما دیں۔ کتنے ہی پل یونہی خاموش سے گزرتے چلے گئے مگرہر گزرتے پل کے ساتھ اسکی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئ تھی اورپہاڑوں سے نگاہ ہٹا کر اسکو تکتے جونگ وون کی بھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد۔۔۔۔۔۔

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.