corona and qatrina episode 3

corona and qatrina ep3

قرنطینہ اور احساس نادار  طبقے کا۔۔

corona aur katrina kahani episode 3

امی اپنی سفید والی ساڑھی دے دیں نا جس کے بارڈر پر سنہرا گوٹا ہے پلیز امی۔ 

ثانیہ نے انکو عاجز کر دیا تھا پیچھے پیچھے پھر رہی تھی برتن دھونا عذاب کردیا انکا ویسے تو صبح وے جہاں جا رہی تھیں۔اس نے پیچھا لے رکھا تھا اب کندھے سے لٹکی جا رہی تھی پلیٹ دھو کر برتنوں کی ٹرے میں رکھنے کے لئے ہاتھ لمبا کیا تو اس بار تو دوپٹہ ہی کھینچ ڈالا

توبہ ہے ثانی کیوں دوں تمہیں؟ کاٹ پیٹ کر برباد کرنے کیلئے۔۔ 

امی تنگ آکر کچن سے ہی نکل آئیں۔ ثانی پیچھے تھی۔

امی پہنتی تو آپ ہیں نہیں اسکا بلائوز آپکو تنگ ہے اور دادو آپ کو پورا سفید پہننے کب دیتی تھیں کیا ہوتا وہ۔۔اس نے ذہن پر زور ڈالا پھر یاد آنے پر چٹکی بجا کر بولی

بد شگونی ہوتئ ہے سہاگن پورا سفید پہنے تو ۔۔ 

امی گھور کر رہ گئیں

ایک تو تمہاری دادی انڈیا سے پاکستان آگئیں مگر سارے وہم واہمے بھی ساتھ لے آئیں اتنے شوق سے بنارسی ساڑھی منگوائی تھئ انڈیا سے تمہارے باوا جب گئے رشتے داروں سے ملنےپر تمہاری دادی نے ایک بار نہیں پہننے دی سات سال ہونے کو آئے ویسی کی ویسی رکھی ہے ۔ 

تو امی دادی اماں کو گزرے بھی چار سال ہونے کو آئے آپ پہن لیتیں شوق پورا ہو جاتا آپکا پھر آپ آرام سے ثانی کو اسے برباد کرنے دیتیں۔

دانی نے کسی زندہ لاش کو ٹھکانے لگاتے ہوئے مفت مشورے سے نوازا۔ ثانی متشکرانہ نظروں سے بھائی کو دیکھنے لگی۔

دانی 55 انچ ایل ای ڈی پر پلے اسٹیشن جوڑے بیٹھا تھا لائونج میں ۔ صبح سے جانے کتنی نسلیں ٹھا ٹھا کر کے اجاڑ چکا تھا ۔ کاشی بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا صبح سے ابھی تھوڑی دیر پہلے فون آنے پر اٹھ کر اندر گیا تھا اپنے کمرے میں۔

ہاں تو وہم تو ڈال گئیں نا دل میں۔ اب انکے جیتے جی تو میں پہننے کا رسک نہیں لے سکتی۔  

امی کو واقعئ افسوس تھا جیسے ۔ 

ہاں تو اب کیا ساڑھی پہننے کیلئے بابا کے جانے کا انتظار کریں گی۔ 

ثانی بے سوچے سمجھے بولی امی نے بلا لحاظ اسکی کمر پر دو ہتھڑ جما دیئے

بنا سوچے جو منہ میں آیا بک دیتی ہے نامراد۔ 

دانئ پلے اسٹیشن کے ہنڈل میں منہ چھپائے ہنس رہا تھا۔ 

ثانی کمر سہلاتی روہانسی سی ہو گئ۔

میرا یہ مطلب تھوڑی تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہارا جو بھی مطلب ہو مگر تم میرا مزاق ہی اڑا رہے تھے جیسے میں پاگل ہوں کوئی جو اس عالمی وبا ء سے پریشان ہوں دوسروں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ 

قطرینہ ابل پڑی تھی بولتے بولتے روہانسی ہوگئ کتنے آنسو آنکھوں سے پھسل آئے۔ ۔کاشی بے بسی سے موبائل کو دیکھ کر رہ گیا۔ 

قطرینہ منصوبہ بنا رہی تھی کہ کچھ راشن بیگ بنا کر دیہاڑی دار مزدوروں کو دے کر انکا کچھ وقت گزروا دے مگر ظاہر ہے ایسا سوچنا اچھا بھی تھا آسان بھی پر کرنے کیلئے وسائل بھی درکار تھے۔نیکی کا کام گھر سے شروع کرنا چاہیئے یہی سوچ اسکو لے ڈوبی۔  قصہ مختصر اس نے اپنی کام والی کی چھٹی کردی اور ساتھ ہی اسے اپنے امی کے ذخیرہ کردہ راشن سے دو کلو چاول پانچ کلو آٹا دالیں گھی وغیرہ یہاں تک کے صابن تک ساتھ باندھ دیا کام والی خوش ہوئی دعائیں دینے لگی اسکو یہ سب سامان لے جانے کیلئے رکشہ بھی کروا دیا ۔ یہ سب کاروائی یوں ممکن ہوئی کہ امی کسی سہیلی کے ہاں قرآن خوانی میں گئ تھیں۔ جب شام ڈھلے واپسی ہوئی تو جو خبر لی انہوں نے اسکی الامان۔ 

تم غلط سمجھ رہی ہو مزاق کیوں اڑائوں گا تمہارا  مانا تمہاری نیت اچھی تھی مگر کام والی کی چالاکی بھی تو دیکھو نا تمہاری امی کو غصہ تو آنا تھا نا۔ 

چالاکی؟ اسکو امی نے دو ہزار دیئے تھے بس اب بتائو دو ہزار میں یہ سب سامان آتا جو میں نے اسے دیا ٹھیک ہے اس نے مجھے نہیں بتایا کہ امی اسے تنخواہ کے علاوہ الگ سے دو ہزار دے چکی ہیں مگر دو ہزار کا تو صرف میرا شیمپو آتا یے یار۔ اور  خود بتائو اسے دو ہزار دے کر امی نے صاف کہا جب تک کرونا نہیں ختم ہوتا مت آنا یعنی وہ کام پر نہیں آئے گی کمائے گئ نہیں تو وہ اور اسکے نو بچے 

کیا کریں گے بھوکے نہیں مریں گے؟ 

وہ سب جو وہ امی کو نہیں کہہ پائی تھی اسکی بھڑاس کاشی کے سامنے نکال رہی تھی۔ 

ایک تو امی۔۔۔ اتنا کہا کہیں نہ جائیں گھر بیٹھیں الٹا خفا ہو گئیں کہ قرآن خوانی اس وبا سے نجات کیلئے ہی کروائی جا رہی ہے سو جانا ضروری پھر وہاں روشانے آنٹی نے سب نوکروں کو ہال سے دور کر کرے سب آنے والیوں کو ماسک اور سینیٹائزر بانٹے جبکہ سب ہی تقریبا ماسک پہن کر آئی تھیں امی تک کو میں نے پہنوا کر بھیجا تھا آگے ۔امی تعریف کر رہی تھیں انکی میں نے کہا جو آنٹیاں بڑی بڑی گاڑیوں سے نکل رہی تھیں وہ تو ماسک افورڈ کر سکتی تھیں انکو اپنے نوکروں کو بانٹنے چاہیئے تھے نا؟

بات تو صحیح کر رہی ہو۔ کاشی نے کان کھجایا۔

پھر سب اشتہاروں میں کہہ رہے ہاتھ بار بار دھوئو مگر یہ غریب لوگ صابن خریں یا روٹی؟ قرنطینہ میں رہیں تو کیسے؟ میری کام والی دو کمروں کے کوارٹر میں 4بچوں اور ساس سسر کے ساتھ رہتی ہے۔ انکیلئے قرنطینہ کیسے بنے گا؟ خدا نخواستہ کسی ایک کو بھی ہوا تو  ؟ میں نے درجن صابن دیئے اسے پھر بھی اتنےلوگوں کے خاندان کو کم ہی پڑنے ہیں صابن۔ 

پھر میں نے جو لیٹر بھر سینی ٹایزر بنایا وہ بھی اسے دے دیا اب دوبارہ بنائوں گی گھر والوں کیلئے۔ 

وہ بچوں کی طرح پرجوش انداز میں بتا رہی تھی۔ سب کو اسکا یہ جوش بچکانہ احمقانہ لگ سکتا تھا مگر کاشی کو اسکے پیچھے جو خیال کرنے والا محبت بھرا دل نظر آرہا تھا اس نے اسکو سرشار کر دیا تھا یقینا بہت مختلف اور دل کی اچھی لڑکی اسکی بہترین دوست اور اب دوست سے کچھ زیادہ تھی۔

بہت اچھا کام کیا تم نے یوں سوچو کہ کہیں تم مغرور نہ ہوجائو اس لیئے تمہاری امی کی ڈانٹ اسکا بونس کے طور پر پڑ گئ تمہیں۔ اب دل چھوٹا مت کرو تمہیں اس نیکی کا صلہ ضرور ملے گا۔ 

کاشی نے پرخلوص انداز میں اسے کہا تو وہ بھی جیسے شانت سی ہوگئ۔ 

فی الحال تو میں ایک اویورنیس کیمپین awareness campaign چلانے کا سوچ رہی ہوں اسکے لیئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔اسکا زہن چل پڑا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر میں آپکی امی نے دیکھ لیا تو بہت ڈانٹ پڑے گی مجھے ۔ میں تو بس آپ لوگوں کے کپڑے دھونے آئی تھی۔ 

زرینہ پچھلے صحن میں کپڑوں کا ڈھیر نکالے کھڑی تھی ۔ 

اوہو کچھ نہیں ہوتا امی کو خالہ نے فون کر رکھا یے دو گھنٹے سے پہلے نہیں آنے والی ہیں وہ ادھر۔ اور دیکھو میں ماسک پہن کر تمہارے سامنے آئی ہوں کوئی جراثیم تمہارے مجھے نہیں لگنے والے پلیز پلیز کاٹ دو نا۔ 

ثانیہ کا انداز ملتجی ہو چلا تھا۔ 

زرینہ نے بے بسی سے پھیلے کپڑوں کے ڈھیر کو دیکھا پھر مشین کا ٹائمر جسے پندرہ منٹ پر لگا کر وہ ابھی کمر سیدھی بھی نہ کر پائی تھی۔ 

پلیز۔۔ ثانیہ قینچی اور اپنی قمیض اسکے سامنے بڑھائے آنکھیں پٹپٹا رہی تھئ

لائیں دیں۔ 

وہ ہار مانتی ہوئی برآمدے میں بچھے تخت پر آ بیٹھی۔ براق سفید قمیض اسکے سامنے تھی جس کے گلے پر  سفید ہی موتیوں کا بھرا ہوا کام تھا۔ 

کیا کرنا ہے۔ اس نے بے ساختہ ہی کام پر ہاتھ پھیر دیا ۔ اتنی خوب صورت قمیض کو جانے کیوں وہ کٹوانا چاہ رہی تھی

اسکا دامن کاٹ کر مجھے سفید جھنڈا بنانا ہے۔ ثانیہ خوش ہو کر اسکے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ

جھنڈا؟ زرینہ نے آنکھیں پھاڑیں۔ مگر بی بی بالکل ٹھیک قمیض ہے یہ تو 

تنگ ہو گئ ہے پچھلے سال کی ہے اب تو بے کار ہے میرے لیئے کاٹ دو ۔ ثانیہ مزے سے بولی۔ 

سولہواں سال تھا اسکا ۔ قد بھی نکل رہا تھا تھوڑی صحت بھی اچھی ہو رہی تھی کھلتا ہوا گورا رنگ جس میں گلابیاں جھلک رہی تھیں۔ اچھا کھانا پینا بے فکری اسکی اپنی بیٹی بھی پندرہ کی ہو رہی تھی مگر کم خوراکی پریشانیاں چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالتی تھی قد تو کم نہیں تھا مگر ثانیہ میں سے آرام سے دو نکل آئیں ۔ یقینا یہ قمیض اسکو پوری ہوتی۔ فی الحال تو وہ رابعہ کی اترن پہنے ہوئے تھئ۔ جسکو بار بار سی کر بھی وہ اسکے ناپ کے مطابق نہ کر سکی تھی۔ 

کاٹو نا۔ ثانیہ اسے بے خیالی میں خود کو تکتا پا کر ٹوکنے لگئ

اس نے گہری سانس لی۔ 

مگر بی بی جھنڈا کیوں بنانا؟ اور بنانا تو کسی اور پرانے کپڑے کا بنا لو یہ تو بالکل نیا جوڑا ہے۔ 

زرینہ نے سمجھانا چاہا تو وہ نئے سرے سے افادیت بتانے کی بجائے جھلا اٹھی

میرا سوٹ یے نا مجھے نہیں پہننا کاٹ دو بس جھنڈا اسکا یہاں دامن سے کاٹو ادھر سے سل جائے گا میں یہاں ڈنڈا پرو لوں گی۔ 

وہ ضدی پن سے بولی 

زرینہ نے گہری سانس لی پھر قینچی گلے سے تھوڑا نیچے کی جانب رکھ کر چلانے ہی لگی تھی کہ رابعہ جو یونہی فون پر بات کرتی دروازہ کھلا دیکھ کر بند کرنے آئی تھیں حلق کے بل چلا اٹھیں۔ 

نہیں ۔۔۔۔۔ 

پچھلے صحن کی جانب کھلتے لائونج کے دروزے سے انکو بھاگنے والے انداز میں قدم اٹھاتے چند لمحے ہی لگے ہونگے مگر انکو لگا میلوں کا سفر طے کر لیا ہو انہوں نے

چھوڑو اسے کیوں کاٹ رہی ہو ۔۔ 

انہوں نے آگے بڑھ کر جھپٹا مارا۔

انکی چیخ پر دانی اور کاشی اندر سے بھاگے بھاگے باہر آئے 

کیا ہوا۔ دونوں برآمدے میں ہونق پن سے گھورتے امی کو زرینہ اور ثانیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے دیکھ کرمعاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

امی میرا سوٹ ہے آپ اپنی ساڑھی تو دے نہیں رہیں میں اپنا سوٹ کاٹ دوں اس پر بھی اعتراض ہے۔ 

ثانیہ جھلائی

بالکل ہے۔ غضب خدا کا نیا جوڑا ایک دو دفعہ کا پہنا ہوا کاٹنے جا رہی ہے یہ بائولی 

امی نے قمیض اپنے قبضے میں لے لی۔۔ 

فون ہاتھ سے چھوٹ کر تخت پر جا گرا تھا خالہ اس میں سے سنتی معاملہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ہیلو ہیلو کر رہی تھیں۔

نہیں آتی مجھے تنگ ہو گئ ہے اب ۔ مجھے کاٹنے دیں اسے اپنی ساڑھی تو دے نہیں رہیں میری قمیض پر بھی اعتراض ہے۔ 

ہاں ہے۔ امی نے گھورا۔ نہیں آتی تو کسی کو دے دو ۔شمسہ کی زارا کو دے دوں گی اتنی مہنگی قمیض ہے برباد تو نہیں کرنے دوں گی۔ 

اور تم تمہیں عقل نہیں نئی قمیض کاٹنے جا رہی تھیں۔ 

امی نے روئے سخن زرینہ کی جانب موڑا

وہ ثانیہ بی بی ضد کر رہی تھیں۔ وہ منمنا کر رہ گئ

میں اسے برباد نہیں کرنے دےسکتی۔

امی کا ارادہ مصمم تھا۔ 

اوفوہ ۔وہ جھلا کر رہ گئ۔ 

خالہ کو بھجوائیں گی ؟ لاہور ہیں وہ خالہ آپ زارا کو نئی شرٹ دلوا دیں گا مجھے اس شرٹ کو برباد ہی کرنا ہے۔۔ 

اس نے جھلا کر فون اٹھا کر اسپیکر آن کردیا

آں۔ ہاں۔ ظاہر ہے۔ شمسہ گڑبڑا گئی۔

کرنے دیں نا آپا کیا کرنا چاہ رہی ہے یہ؟ شمسہ نے پوچھا

ارے جھنڈا بنانا موا وہ جیو والوں نے سیاپا ڈالا ہے کہ ڈاکٹروں کیلئے سفید جھنڈا لگائیں چھت پر بس وہی شوق چڑھا ہوا ہے۔ 

امی نے بتایا تو شمسہ آگے سے خوش ہوگئیں

آپا یہ تو اچھی بات ہے اب دیکھیں ہم یہاں گھر والوں سے دور یہاں اسپتال میں لوگوں کے علاج میں مصروف ہیں 32 گھنٹے ہو رہے  مجھے یہاں ابھی تک گھر نہیں گئ ہوں ۔ سچ میں ابھی میں دیکھ رہی تھی ٹی وی اچھا لگ رہا تھا کہ ہماری اس قربانی کو عوام سراہ رہے ہیں۔۔احساس کرنا ہی تو سب کچھ ہوتاہے۔ کسی کا احساس کر لیں بہت ہے یہ احساس کہ آپکی قربانیوں کا احساس کیا جا رہا ہے انسان کو نئی توانائیاں عطاکرتاہے۔ باقی تو ہر کوئی اپنی جگہ کسی نہ کسی مسلئے میں الجھا ہے۔ 

لو یک نہ شد دو شد۔ 

کاشی اور دانی منہ چھپا کر ہنس دیئے۔ 

ہاں تو جو مرضی کرے مگر نئی قمیض برباد نہ کرے اتنا پیارا کام ہے میں زارا کو بھجوا دوں گی یہ۔ 

امی ضدی پن سے بولیں۔ 

امی اتنی سیلفیاں لے کر پوسٹ کر چکی ہوں زارا کبھی نہیں پہنے گی یہ سوٹ۔ 

ثانیہ منمنائی۔ شمسہ بھی منع ہی کرنا چاہ رہی تھیں ثانیہ کی بات تو نہ سنی وہ اپنی کہہ رہی تھیں

ارے آپا سب بند ہے ٹرانسپورٹ وغیرہ  کیسے بھجوائیں گی ؟ وہیں کسی کو دے دیں کسی غریب نادار کو اسکے کام ہی آجائے گی۔۔

انکی بات ثانیہ کے دل کو کہیں ٹھک کرکے لگی

تم میری شرٹ لے لو نا ٹی شرٹ وہائیٹ والی اب تو میں وہ پہنتا بھی نہیں اسکے کالر والی جگہ پیلی ہو رہی بس اسے کاٹ دینا۔۔ 

کاشی ہی آگے بڑھا مسلئے کا حل نکالنے کو۔ 

واقعی؟ ثانیہ خوش ہوئی۔امی نے سکھ کا سانس لیا۔ 

شکر ہے اب اسکو سنبھال کر رکھو کام آجائے گی پھر کبھی۔ 

امی نے قمیض اسکی جانب بڑھائئ۔ 

ہاں وہ لے لو بلکہ اس پر ہاتھ بھی پرنٹ کرتے ہیں ساتھ ساتھ پیغام بھی جائے گا کہ ہاتھ دھونا ہے۔کاشی پر قطرینہ کے لیکچر کا اثر تاذہ تھا

دانی نے دونوں کو یوں دیکھا جیسے انکے سر پر سینگ نکل آئے ہوں

کریک ہیں دونوں چھوٹے۔۔ وہ تاسف سے سر جھٹکتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔ امی فون پر شمسہ کو خدا  حافظ کہہ رہی تھیں

تبھی زرینہ  کو چھینک سی آگئ۔ 

مشین نے پندرہ منٹ پورے ہونے پر زور دار گھنٹی بجائی امی کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ پکڑو اور اب جب تک میں نہ بلائوں مت آنا۔  

گیراج میں انتہایی بے مروتی سے امی نے ہزار روپے اسکے ہاتھ پر رکھے وہ بھی یوں کہ ہاتھ اس سے چھو نہ جائے۔دوپٹی اچھی طرح منہ ناک پر لپیٹے تھیں۔ ثانیہ اور کاشی انکے پیچھے ہی کھڑے تھے۔ جانے کیوں انکو امی کا رویہ بہت سخت لگ رہا تھا

مگر بی بی جی وہ۔  

زرینہ جانے کیا کہنا چاہ رہی تھی امی نے موقع نہیں دیا

کہا بھی تھا اپنے ایرانی خاندان والوں سے دور رہو غضب خدا کا تمہارے بہن بھائی سب ایران گئے ہوئے تھے نا؟ لگا دیا نا انہوں نے تمہیں بھی کرونا عجیب جاہل لوگ ہو تم سب۔ ایک تو بیمار ہوتے ہو اوپر سے تجھ مجھ کے گھر جانا نہیں چھوڑتے کہ سب کو لگ جائے بیماری۔ پچھلی دفعہ ہی منع کردیا تھا اب مت آنا پھر بھی منہ اٹھا کے آگئیں میں فون میں لگی تھی تو پورا گھر گزار کر پچھلے صحن میں بھی پہنچ گئیں ثانیہ کے ساتھ۔ میری بیٹی بیمار پڑی نا تو چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔۔ پچھلی دفعہ بھی ہزار روپیہ اسی لیئے دیا تھا کہ مت آنا یہاں مگر تم لوگوں کو حرام

امی غضبناک ہوئی وی تھیں۔ 

زرینہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ نکلے تو کاشی نے آگے بڑھ کر امی کو کندھے سے تھام کر روک دیا

امی بس کریں۔ ضروری تھوڑی ہے کہ ہر چھینک کرونا ہی ہو

بی بی جی یقین کیجئے میرا صرف بھائی گیا تھا ایران وہ بھی ابھی تک اسکا کوئی اتا پتا نہیں جانے پاکستان آیا بھی ہے یا وہیں پھنسا ہے۔ پندرہ دن ہو رہے  بھائی کی کوئی خبر نہیں ملی مجھے۔ 

وہ بولتی ہوئی پھوٹ پھوٹ کر رو دی

اچھا بس اب ٹسوے نہ بہائو جائو گھر اور جب تک نہ بلائوں مت آنا۔۔ 

امی زرا سا نرم پڑیں۔ 

چلیں امی اندر چلیں ۔ کاشی کو یہی سمجھ آیا کہ انکو لے جائے یہاں سے  

امی اندر کی جانب مڑیں تو زرینہ آنسو پونچھ کر پلٹ کر جانے لگی

زرینہ۔۔ یہیں رکو۔  ثانیہ نے لمحہ بھر سوچا پھر اندر بھاگ گئ۔ 

کاشی امی کو اندر لا کر خود انکے لیئے کچن سے پانی لینے چلا آیا۔ تبھی کچن کی گیراج کی جانب کھلی کھڑکی سے اس نے ثانیہ کو اندر سے بھاگ کر آتے اور زرینہ کی جانب بڑھتے دیکھا تو تجسس میں کھڑکی کے پاس آکر باہر جھانکنے لگا

آئیم سوری تم تو اندر آ بھی نہیں رہی تھیں میں نے بلا لیا مجھے نہیں پتہ تھا امی نے کپڑے دھلوانے سے منع کیا یے۔ 

ثانیہ شرمندہ سئ اس کے سامنے کھڑی معافی مانگ رہی تھی

کوئی بات نہیں ۔ آپکی امی آپکی فکر ہی کر رہی ہیں اب اندر جائو آپ

زرینہ نے مسکرا کر اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جو بہت شرمندہ نظر آرہی تھی

یہ لو یہ دوپٹہ اور یہ ٹرائوزر ہے ۔ یقینا یہ تمہاری بیٹی کو آجائے گا اتنی پتلی سی یے اور یہ پانچ سو میری طرف سے ۔ابھی اتنے ہی ہیں میرے پاس لیکن جب بھی تمہیں  مزید کچھ بھی چاہیئے ہو آجانا ہم ضرور مدد کریں گے تمہاری

نہیں بی بی۔۔ زرینہ نے انکار کرنا چاہا مگر اس نے اصرار کرکے زبردستی تھما دیا۔ زرینہ آنسو پونچھتی ڈھیروں دعائیں دیتی گئ تو وہ مطمئن سی ہو کر اندر آگئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تینوں چھت پر چڑھے تھے۔ سفید براق جھنڈا کاشی اور ثانی نے مل کر بنایا تھا اب تینوں تین مختلف رنگوں سے ہاتھ سنے ہوئے اس جھنڈے پر چسپاں کر رہے تھے تین مختلف سائز کے ہاتھ تین مختلف رنگ۔ فاصلے سے چسپاں جو سماجی دوری اور ہاتھ دھونے دونوں پیغامات کی علامت تھے

جھنڈا ڈنڈے پر لگانے اور اسے ریلنگ سے باندھ کر ماسک پہنے سلوٹ کرتے ہوئے بہن بھائی ۔ پیچھے جواد احمد کا گانا ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو ۔ اسی وقت انہوں نے بنا کر اپلوڈ کی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند منٹوں میں ہی وہ ٹرینڈنگ پر آگئ تھی۔ 

اوئے  اس سے تو میرا چینل تو چل نکلے گا۔۔ دانی خوش ہو رہا تھا۔ اسکا گیمنگ چینل تھا جس پر وہ گیمز کی لائو اسٹریمنگ کرتا تھا لوگ اسکی ویڈیو دیکھ کر اسے فورا پہچان گئے تھے اور اب دھڑا دھڑ کمنٹ کر رہے تھے۔۔ 

واہ ہم تو اسٹار بن گئے ابھی توہم نے جیو کو بھیجی بھی نہیں ویڈیو۔  

دانی کے موبائل پر ویڈیوز کے کمنٹس اسکے ساتھ جھک کر پڑھتی ثانیہ بچوں کی۔طرح خوش ہو رہی تھی۔

یہ ویسے آئیڈیا کہاں سے آیا تھا جھنڈا بنانے کیلئے۔ 

دانی نے یونہی پوچھا تھا مگر جواب چودہ طبق روشن کر گیا

قطرینہ بھابی سے۔ وہ فورا بولی

انہوں نے اپنی ٹک ٹاک پر اسکی ڈی آئی وائی ویڈیو لگائی تھی یہ انکا ہی آئیڈیا تھا ایسے ہاتھوں کے پرنٹ بنانے کا جھنڈا بھی انہوں نے اپنی پرانی ٹی شرٹ سے بنانا سکھایا تھا

اسے ہکا بکا دیکھ کر ثانیہ اپنے موبائل میں کھول کر دکھانے لگی

یہ دیکھیں۔  

ٹک ٹاک اسٹار ملینزز فالوورز کے ساتھ وہ کوئی اور نہیں قطرینہ ہی تھی پچاس کے قریب ویڈیوز تھیں جن میں کہیں وہ سوشل ڈسٹنس مینٹین کرنے کا طریقہ بتا رہی تھی دو لڑکیاں ماسک پہن کر کہنی سے مصافحہ کر رہی تھیں کہیں سینی ٹایزر گھر بنانے کی ترکیب کئی گھر میں بیٹھے بیٹھے مصروفیتیں نکالنے کی چھوٹی چھوٹی ویڈیوز  ڈی آئی وائیز  ماسک گھر میں کھیلی جانے والی کارڈ گیمز چھوٹے چیلنجز بچوں کو کیسے مصروف رکھیں اور ایک کاش ٹرینڈ بھی تھا 

وہ دیکھتا جا رہا تھا اسکی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔ 

کاشی کو ایک عدد چیلنج دیا گیا تھا جو اسے پورا کرنا تھا اور پھر کسی اور کو نامزد کرنا تھا۔ اسے قطرینہ نے بتایا تو تھا کہ یہ کرنا مگر اتنی جلدی کرنا پڑے گا یہ پتہ نہ تھا اسے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

اختتام  تیسری قسط کا 

جاری ہے

Corona aur katrina kahani episode 2

کرونا اور قطرینہ کہانی قسط 2

قرنطینہ کے بوجھل دن 

صبح سے گھر میں اٹھا پٹخ مچی تھی  ماہانہ صفائی ہو رہی تھی کہ کیا بس چیزوں کا شور۔۔ امی نے دو بار تو کمرے میں آکر ان دونوں کو جگایا مگر ڈھٹائی عروج پر تھی دونوں کی۔ ایک بجے تو امی کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا۔ دروازہ دھاڑ سے کھول کر دھاڑیں

اٹھ جائو بہت ہوگئ بس سارا دن نحوست پھیلائے رکھتے ہیں دونوں بھائی یہ نہیں کہ وبا پھوٹی ہے تو نہا دھو کر نماز پڑھ لو کوئی اللہ کا نام لے لو بس شیطان کی طرح اوندھے پڑے ہیں۔ 

انہوں نے آگے بڑھ کر اوندھے پڑے دانش کی کمر پر دھموکا ہی جڑ دیا۔ 

آئی امی۔۔ کیا کرتی ہیں۔۔ وہ تڑپ کر سیدھا ہوا

کتنی دفعہ کہا ہے اوندھے مت لیٹا کرو ایسے شیطان سوتا ہے ہر اوندھی عادت اپنا رکھی ہے تم نے ۔ 

امی شیطان کہاں سوتا ہر وقت تو کہیں نہ کہیں مصروف ہوتا دنیا میں فساد پھیلانے۔ 

کاشی کا برا وقت آیا ہوا تھا سے خبر ہی نہیں اچھا بھلا جو دھموکے سے بچ گیا تھا اس بات پر امی نے آگے بڑھ کر اسکے بھی ایک لگا دی

ہر وقت کا ٹھٹھا ۔ مزاق بناتے ہو ہر چیز کا ۔ اسلامی شعائر تک کو نہیں چھوڑتے بس لمبی زبان ہوتی جارہی ہے سب کی۔ 

کاشی کی درگت بنتے دیکھ کر دانی نے منہ چھپا کر ہنسی روکی

کاشی منہ بسورتا اٹھ بیٹھا۔

چلو ثانیہ نے کھانا بنا دیا ہے بس آج سے کوئی ناشتہ نہیں ہوا کرے گا بس بارہ بجے کے بعد کھانا کھالیا کرو تم لوگ اٹھ کر۔۔ 

امی انکے کمبل سمیٹتی جیسے ناک تک عاجز آئی ہوئی تھیں۔ دونوں نے شرافت کے سب ریکارڈ توڑ دیئے۔ دانی ملحقہ غسل خانے کی جانب لپکا تو کاشی نے اس سے الجھنے کی بجائے سیدھا امی ابو کے کمرے کا رخ کیا انکا غسل خانہ استعمال کرنے کو۔ 

دروازہ کھولتے ہی ابو پر نگاہ پڑی۔ کونے میں جائے نماز پر بیٹھے قرآن کھولے پڑھ رہے تھے ساتھ ایک بوتل پانی بھی رکھا ہوا تھا۔ 

اسلام و علیکم ابو جی۔ اس نے گڑ بڑا کر سلام کیا جوابا ابو نے تنبیہی سی نگاہ ڈالی جسکا مطلب مجھ سے مخاطب مت ہوں وظیفہ چل رہا ہے  اس نے صحیح صحیح سمجھا اور سیدھا غسل خانے میں گھس گیا۔ منہ ہاتھ دھوکر بال ہاتھوں سے سنوارتا باہر نکلا تو ابو اپنا وظیفہ ختم کر چکے تھے پانی پر پھونکا اور  بوتل اسکی جانب بڑھا دی۔ 

یہ لو پی لو۔ 

رات بھر کی پیاس تھئ اس نے منہ لگایا تو دو گلاس پی گیا ابو ہائیں ہائیں کرتے رہ گئے۔ 

بس کرو  سارا مت ختم کرو سب گھر والوں نے پینا تھا یہ۔

ابو اس سے ذیادہ گھبرا گئے۔۔ اس نے بوتل منہ سے ہٹائی تو انکی جان میں جان آئی۔  شکر تھا لیٹر بوتل تھی ورنہ کرونا سے کاشی کو کچھ ہوتا نہ ہوتا ابو کو صدمے سے کچھ ہو جاتا۔ 

عجیب خرافاتئ اولادیں ہیں میری۔ 

وہ گھور کر رہ گئے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثانیہ لائونج میں حسب عادت آلتی پالتی مارے بیٹھی فل والیم میں جیو نیوز لگائے شملہ مرچیں کاٹ رہی تھی۔ 

27 مارچ کو تمام پیرا میڈیکل اسٹاف کی قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے انکو خراچ تحسین پیش کیجئے اپنے گھر پر سفید جھنڈا لہرائیے جیو کے ساتھ منائیں ۔۔۔۔۔۔ 

امی۔ امی۔ وہ چھری رکھ کر وہیں سے چلانے لگی۔ 

امی جو منہ پر کپڑا باندھے سارے گھر کے جالے اتارتی پھر رہی تھیں اسکے گھبرا کر آوازیں دینے پر دوڑتی چلی آئیں۔ 

کیا ہوا ہاتھ کٹ گیا۔ 

انکو پہلا خیال اس پھوہڑ اولاد کا یہی آیا تھا کہ پہلی یا حد سے حد دوسری دفعہ سبزی کاٹنے بیٹھی ہے ہو تو ہاتھ بھی کٹوا لیا ہوگا۔۔ 

نہیں امی۔ سفید جھنڈا ہے کوئی گھر پر؟ کل لگانا ہے چھت پر؟

وہ دنیا جہان کا شوق آنکھوں میں سمائے پوچھ رہی تھی

نہیں  سفید کیوں؟ اتنا بڑا چودہ اگست پر لایا تو تھا کاشی پاکستان کا ۔۔ امی ںے اسے ایک حصے میں دیکھ کر سکھ کا سانس لیا

اوہو نہیں۔ جیو والے میڈیکل اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں کہ چھت پر سفید جھنڈا لگائیں۔

میں نے بھی لگانا ہے۔ 

وہ بچوں کی طرح ٹھنک کر بولی تو امی چڑ گئیں۔ 

ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا صوفے سے ٹکاتی اسے گھور کر بولیں

کیوں سب کے سب عیسائی ہیں جو سفید جھنڈا ہی بس لگا سکتے انکے لیئے،؟۔ اپنا ملک ہے اپنے ملک کا جھںڈا لگائو۔ سفید تو ہار کا اظہار کرنے کیلئے جنگ میں لگاتے فوجی۔ 

خدا نہ کر ے جو اس وبا سے ہم ہاریں۔ 

ارے نہیں امی سفید جھنڈا امن کا اظہار کرتا ہے ہار کا نہیں۔جنگ میں سفید جھنڈا فوجی اسلیئے لہراتے ہیں کہ ہم اب مزید نہیں لڑنا چاہتے جنگ بند کی جائے امن کا پیغام ہوتا ہے سفید جھنڈا۔ 

دانی نے لائو نج میں داخل ہوتے ہوئے بحث کا سرا پکڑا

بھائی سفید جھنڈا لا دو مجھے کل چھت پر لہرانا ہے۔ 

ثانیہ نے روئے سخن بھائی کی جانب موڑ دیا۔  بڑی بڑی آنکھیں پھیلا کر معصوم سی شکل بنا کر لاڈ سے بولی۔ 

دانی کا دل موم ہوا شائد پہلی بار اٹھ جاتا کہ امی نے ڈانٹ ہی تو دیا اسے

کوئی ضرورت نہیں فالتو کے کام کرنے کی گھر بیٹھو آرام سےسب  کوئی باہر نہیں جائے گا گھر پر رہو اور تم کب سے سبزیاں ہی کاٹے جا رہی ہو کب کٹے گا کب پکے گا کھانا ایک بج گیا۔۔ 

امی نے جھاڑا تو اس نے کھسیا کر ٹرے کی جانب توجہ کی۔ 

تھوڑی سی گاجر تھوڑی سی ہری پیاز ، شملہ مرچیں پتلی پتلی کٹنے کے لئے سجی رکھیں تھیں جتنا ڈھیر تھا اور جو ثانیہ کی رفتار تھئ تقریبا دو گھنٹے اسکو کٹنے میں لگنے تھے۔ ۔ ٹرے کے ایک سائیڈ میں  موبائل بھی سجا تھا ۔یو ٹیوب ویڈیو روکی ہوئی تھی۔ اسکو کٹنا نہیں تھا اس نے گھر والوں کے معدے کا امتحان لینے کا سارا طریقہ کار بتانا تھا بس۔

کیا۔ دانی صدمے سے دل پکڑ گیا۔ 

یہ یہ وہ کھانا ہے جو ثانیہ پکا رہی ہے۔؟ مطلب پکنے کا ابھی دور دور تک نام و نشان نہیں ۔امئ رات کا کھایا ہوا ہے رحم کریں۔۔ 

اسکا  جملہ چپل گھسیٹ کرڈھیلے قدم اٹھاتا کاشی کو بھی صدمے سے دوچار کر گیا۔ ابو کے پھکے پانی کی بوتل اسکے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچی 

ہاں تو ۔ مدد کرادو بہن کی جلدی پک جائے گا۔ امی بے نیازی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

امی ایک ۔۔ دانی نے ہمت کرکے فرمائیش کرنی چاہی جو امی کی ایک تیکھی نگاہ سے منہ میں ہی رہ گئ۔ 

ناشتے کا وقت حد سے حد دس بجے تک ہے اسکے بعد بس کھانا کھائو گے جب بھئ پکے۔ غضب خدا کا سارے گھر کا نظام ہی بگاڑ دیا ہے چھٹیوں نے ۔۔ 

امی بڑ بڑاتی جالے صاف کرنے والا ڈنڈا اٹھا کر پھر کسی کمرے کو آڑے ہاتھوں لینے نکل گئیں۔ 

پانی پلا یار میرا دل بیٹھ رہا۔ 

دانی نے کاشی کے ہاتھوں سے بوتل کھینچ کر منہ سے لگا لی۔

بس یہ سبزیاں کٹ جائیں تو پکنے میں تو ٹائم نہیں لگے گا چار منٹ کی ویڈیو ہے بس۔ 

ثانیہ نے تسلی دینی چاہی۔ کاشی اسکی عقل کو سلام کرکے رہ گیا۔

ویڈیو 4 منٹ کی ہوگی مگر پکایا تو انہوں نے وقت لے کر ہی ہوگا فاسٹ فارورڈ کرکے بس اہم اہم طریقہ کار بتایا ہوگا۔ احمق پکانے میں تو تمہیں وہ پورا وقت لگے گا۔ 

کاشی نے کہا تو ثانیہ نے قائل ہوکر اپنا کدو ہلایا۔ 

 یہ تو بہت ذیادہ سبزیاں ہیں ابھی۔ مجھے پانی تو پلا دیں دانی بھائی۔ 

ثانیہ کو پھیلا وا دیکھ کر خفقان سا ہوا۔ 

کاشی کرنٹ کھا کر مڑا۔ بوتل تقریبا خالی ہونے کو تھی آخری دو گھونٹ اور دانی کا منہ۔ 

نہیں ۔ وہ دونوں ہاتھوں سے نہیں کا اشارہ کرتا ہوا دانی پر لپکا۔ دانی صورت حال کے لیئے تیار نہیں تھا کاشی اس پر کودا تو بوتل پیتے اسکے ہاتھ سے چھوٹی ہوا میں لہرائی۔ اسے گرنے سے بچانے کو کاشی نے ہاتھ بڑھایا دونوں ایک دوسرے سے الجھے دھماکے سے صوفے سے رڑھتے ہوئے نیچے آرہے۔تاہم بوتل کاشی کے ہاتھ میں آگئ تھی۔۔ 

دونوں بے ہنگم انداز میں ایک دوسرے پر الجھے کارپٹ پر گرے پڑے تھے ثانیہ بھونچکا سی دیکھ رہی تھی

اف بچا لیا۔ 

کاشی کہنی سہلاتا بوتل میں ایک گھونٹ کے قریب پانی بچا لیا تھا اسے ہی فاتحانہ انداز میں لہرا کر سیدھا ہو بیٹھا۔

کمر سہلتا دانی دانت کچکچانے لگا

صحرا میں بیٹھا ہے؟ آخری کنواں تھا یہ جس کے پانی پر مر رہا ہے۔ کمر توڑ دی میری کمینہ سانڈ کود گیا مجھ پر جیسے پھول سا وزن ہے اسکا۔ 

اس نے بلا لحاظ دو تین لاتیں مار دیں کاشی کو۔۔ 

کاشی اسکے وار سے بچتا بوتل پر ڈھکن لگاتا پیچھے ہوا

اوئے یہ پھونکا ہوا پانی ہے ابو نے نجانے کون کون سی سورت پڑھ کر دم کیا ہے اس پر اسکو فریج کی ہر بوتل میں تھوڑا تھوڑا ملانا تھا۔ ختم ہوجاتا تو ابو نے مار ڈالنا تھا مجھے۔ 

کاشی نے کہا تو دانی کو تھوڑا سکون ہوا

یعنی میں اندر تک پاک صاف ہوگیا اب مجھے اندر باہر کسی کرونا وائرس کیا کسی قطرینہ چڑیل سے بھی کوئی خطرہ نہیں۔  

وہ جوش خطابت میں یقینا حد پار کر گیا۔۔ ثانیہ نے جہاں کھی کھی کی وہیں کاشی دانی کی گردن دبوچنے بھاگا تھا۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

 لائونج میں لگے گھڑیال نے دو کا گھنٹہ بجایا تو امی خاموشی سے کچن میں گئیں دو کپ چائے بنائی  توس لیئے اور اپنے کمرے میں اسے ابو کے ساتھ سہارے کو  تناول فرمانے گھس گئیں۔ ثانیہ تندہی ہی ایک ایک گاجر کو باریک کاٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔ 

دانی اور کاشی  صبر سے اسکو ایک ٹک دیکھ رہے تھے۔ 

آپ دونوں ایسے دیکھ کر مجھے اور کنفیوز کر رہے ہیں۔ 

ثانیہ نے بے چارگی سے سر اٹھایا۔  

لائو میں مدد کروائوں۔ کاشی سے رہا نہ گیا اسکے ہاتھ سے چھری لیکر خود اسکے سامنے بیٹھ گیا

آپ کاٹیں گے؟ ثانیہ حیران ہوئی۔ 

ہاں اور تم جا کر اس سنگا پورین چاولوں کو ترکیب کے مطابق ایک کنی ابال لو اور اس میں کیا ڈالنا وہ بھی دیکھ لو۔ میں ان سبزیوں سے نمٹتا ہوں۔ 

وہ مصروف سے انداز میں اسکی حیرت کی پروا نہ کرتے ہوئے بولا تو وہ خوشی خوشی اٹھ کر باورچی خانے بھاگی۔ 

اس میں میکرونی بھئ ابال کر ڈالنی میں ابالتی ہوں۔ 

یار مجھے لگ رہا میرئ آنکھوں کے سامنے اندھیرا آرہا ہے۔ 

دانی صوفے پر نیم دراز انگڑائی لیکر بولا۔ 

ثانی ایک پراٹھا ڈال دو مجھے۔ ثانیہ کو باورچی خانے میں جاتے دیکھ کر جھٹ فرمائیش ڈال دی۔ ثانیہ کے قدم سست پڑے بھائی کو شکایتی نگاہ سے دیکھنے لگی۔ 

کوئی نہیں ثانیہ تم اپناکام کرو بس آج کھانا ہی کھائیں گے سب مل کر۔ 

کاشی نے مشکل آسان کی تو وہ غڑاپ سے باورچی خانے میں گھس گئ دانی نے صوفے سے کشن اٹھا کر اسکے سر پر دے مارا

بڑا بھائی میں ہوں کہ تو ہے۔

توہے بد قسمتی سے مگر بڑا پن نام کو نہیں تجھ میں۔ 

کاشی جوابا کشن اپنی کمر کے پیچھے ٹکا کر مزید آرام سے بیٹھ کر گاجریں کاٹنے لگا۔ 

کتنے شوق سے وہ بنا رہی ہے بجائے اسکے کہ مدد کر اسکی الٹا فرمائیشیں جھاڑ رہا ہے۔ 

ہاں تو کیا تیری طرح سبزیاں کاٹ کے دوں ؟ کاشی باجی۔۔۔ 

اس نے طنز کیا تو کاشی نے گہری سانس لیکر اسے دیکھا۔ 

کیا حرج ہے۔ ؟ بچی ہے وہ سب اکیلے کیسے کر سکتی ہے کیا ہوا جو ذرا دی مدد کروادوں میں۔۔ 

ہاں تو بچی ہے۔ اسی کا کام ہے کھانا پکانا سسرال میں میں اور تم تھوڑی مدد کرائیں گے اسکی۔۔ 

دانی کج بحثی پر اتر آیا 

اگر سسرال میں بھئ مدد کرانی پڑی تو جا کر مدد کروانے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ چھوٹی بہن ہے میری۔ 

کاشی نے آرام سے کہا تو وہ حیران ہوتا باقائدہ اٹھ بیٹھا۔

اوئے فیمنسٹ نکلا تو۔ وہ تیری قطرینہ یہ اسی نے دماغ میں ڈالا نا تیرے ؟ بڑے بلاگ لکھ رہئ تھی میرا جسم میری مرضی پر اسکے بلاگ کا لنک واٹس ایپ اسٹیٹس لگاتا رہا تو دیکھا تھا۔ ہائے امی آپکا بیٹا گیا ہاتھ سے ۔۔ 

وہ مسخرے پن سے کہتا مزاق اڑا رہا تھا۔  کاشی نے ناپسندیدہ نگاہ ڈالی اس پر۔

دیکھا ہی تو نہیں دیکھا ہوتا اسکا بلاگ تو ایسے نہ کہتا۔ اسکے بلاگ نے ہی مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔ اگر گھر میں بیوی بہن ماں کا ہاتھ بٹانا فیمنزم ہے تو اسکی شروعات چودہ سو سال پہلے رسول خدا ص کے اپنے گھر سے ہوئی جب وہ اپنا ہر کام خود کرتے تھے اور اکثر گھرکے کاموں میں اپنی زوجہ کی مدد کرواتے تھے، جب حضرت علی علیہ السلام بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہہ کو چکی پیستا دیکھ کر انکی مدد کروانے بیٹھ جاتے تھے ، جب بی بی زینب سلام اللہ علیہہ اپنے نانا جان کی قبر کی زیارت کو جاتئ تھیں تو بھائی انکا سایہ بن کر انکے ساتھ جاتے تھے۔ اپنا کھانا خود گرم کرنے میں مجھے کوئی قباحت نظر نہیں آتی اگر میری خدمت کیلئے میری ماں اٹھنے لگتی ہے۔ بہن کو سبزی کاٹ کر دیتے ہوئے مجھے صرف ایک احساس ہے کہ کل اس نے میرے اٹھنے پر بارہ بجے اپنا ہر کام چھوڑ کر مجھے تازہ ناشتہ بنا کر دیا تھا۔ اگر اسکی مدد کروادوں گا تو میں اچھا بھائی کہلائوں گا بہن نہیں بن جائوں گا نہ ہی میری مردانگی میں کمی آجائے گی۔ 

دانی کو اندازہ نہیں تھا وہ اتنا سنجیدہ ہو کر لیکچر جھاڑ دے گا۔ 

بھوک لگی ہوئی تھی اس لیئے کہہ دیا تھا۔ اتنا برا بھی نہیں ہوں میں کل اس نے مجھے بھی تو پراٹھا بنا کر دیا تھا آج میں اسے سبزیاں کاٹ کے دوں گا۔ جزباتی ہی کردیا تو نے  اب میں بنائوں گا کھانا ہٹ پیچھے ۔۔ 

دانی پر ڈرامہ بازی ختم تھئ یوں اٹھا جیسے اسکی تقریر نے جزباتی ہی تو کر ڈالا ہے۔ کاشی کے ہاتھ سے چھری لیکر خود کاٹنے بیٹھ گیا۔ کاشی اپنا ہاتھ دبانے لگا جو سبزیاں کاٹنے سے دکھنے سی لگی تھیں۔ 

کمرے کے دروازے پر کھڑے ابو نے دونوں کی گفتگو سنی تھی۔بچوں کی باتوں نے انکو بھی متاثر کر دیا تھا ۔  

کیا ہوا یہاں کیوں کھڑے ہیں 

امی کمرے سے ٹرے لیکر نکلیں تو انکو دروازے کے آگے حائل پایا۔ 

لائو دو میں رکھ آتا ہوں باورچی خانے میں ہی جا رہا ہوں۔ 

ابو نے امی کے ہاتھ سے خالی کپ اور پلیٹ والی ٹرے لے لی۔بظاہر نارمل سا انداز تھا پر امی بےہوش ہوتے ہوتے بچیں۔ ہل کر پانی نہ پینے والے شوہر کا یہ روپ انکیلئے انوکھا تھا۔ ابو کو انکی حیرت کا اندازہ تھا سو بے نیازی سے ایسے ظاہر کرتے ہوئے جیسے کچھ نئی بات ہی نہیں ہوئی وہ ٹرے اٹھا کر کچن کی۔جانب بڑھ گئے۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انکی شادی شدہ 23 سالہ زندگی کا پہلا دن تھا جو وہ آرام سے کھانے کی میز پر بیٹھی تھیں کسی مہارانی کی طرح انکے بیٹے میز سجا رہے تھے۔ شوہر سلاد کی پلیٹ لیکر آئے تو ساتھ ہی بڑے فخر سے بتایا کہ سلاد میں نے بنائی ہے۔ 

امی رائتہ میں نے بنایاہے۔ 

دانئ نے بھی جھٹ کار گزاری جتائی

ثانیہ گرم گرم چاول لیکر آئی تو سب نے اسکے بھی اطمینان سے بیٹھ جانے کا انتظار کیا ۔ 

یہ ہے کیا؟ امی کو ڈش دیکھ کر سمجھ نہ آیا 

امی سنگاپورین رائیس ہیں۔ ثانیہ نے خوش ہو کر بتایا 

اس میں مخرونی کیوں ڈال دی؟ 

وہ حیرانی سے چمچ اٹھا کر دیکھ رہی تھیں۔ 

امی اس میں سب ڈلتا ہے۔ کاشی نے انکو معلومات دیں۔  امی نے چمچ بھر کر منہ میں رکھا۔ تھوڑا مختلف سا مگر اچھا ذائقہ ۔۔بیٹی اتنی بڑی ہوگئ تھی کہ کھانا بھی بنانے لگی انہوں نے پیار بھری نگاہ سے اسے دیکھا۔ 

بہت ذائقے دار ہے میری بیٹی کا۔تجربہ کامیاب رہا۔  

یہ میں نے تو صرف نہیں بنایا کاشی اور دانی بھائی بھی برابر سے ساتھ لگے رہے ہیں سب مصالحے کاشی بھائی کو یاد تھے تو دانی بھائی نے تو آج گوشت بھی دھویا

وہ بھی ثانیہ تھی کیسے نا انصافی سے سارا کریڈٹ لے جاتی اسکی بات پر سب قہقہہ لگا کر ہنسے

کیا ہوا میں نے کچھ غلط کہا؟ وہ شرمندہ سی ہو کر پوچھنے لگی۔ 

ہاں سارے مصالحے کاشی سے منگواتی ہوں اسے تو ایک ایک چیز کا پتہ ہے۔ امی نے پیار سے کاشی کو دیکھا تووہ جھینپ کر مسکرادیا

اور میں جب جب امی چکن دھو رہی ہوتی تھیں تو میں انکے سر پر سوار کوئی فرمائش کر رہا ہوتا تھا تو مجھے پتہ چکن کیسے دھلتا 

دانئ نے بھی بتانا ضروری سمجھا۔  

اور یہ ہمیشہ سلاد کمرے میں پھیری والوں کی شکایتیں لگاتے ہوئے کاٹتی تھیں تو مجھے بھی پتہ کیسے سلاد بنتی ہے ۔۔ 

ابو کے کہنے پر امی جھینپ کر ہنس پڑیں۔ 

ویسے یار مزے کا بنا ہے پلائو ۔ کاشی نے فیاضی سے تعریف کی۔ سب سے ذیادہ نخرے اسی کے تھے سبزیاں نہیں کھانی وغیرہ مگر پلائو میں شملہ مرچ بھی چٹخارے لیکر کھا رہا تھا

کل بھی کوئی نئی چیز بنائیں؟ ثانی پرجوش ہوئی

 مزا آیا وقت بھئ گزر گیا اور امی کو آرام بھی مل گیا۔امی اب جب تک ہماری چھٹیاں ہیں نا ہم روز کوئی نئی کانٹینٹل ڈش بنائیں گے یو ٹیوب سے دیکھ کر ۔۔ 

ثانی کے جوش پر کاشی اور دانئ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی

مگر کل ناشتہ کروا کر محنت کروانا مجھ سے آج تو میرے پیٹ کے چوہے بھی بھوک سے بلک بلک کر مرچلے تھے۔۔ 

کاشی نے دہائی دی۔ 

مگر اب کوئی سبزی بنائو دیکھ کر ہر وقت کا گوشت کھانا بھی ٹھیک بات نہیں۔ ابو نے کہا تو تینوں کل کا مینو ڈیسائڈ کرنے لگ گئے۔

میزپر آج امی کے ہاتھ لگایے بنا بھی ہر چیز موجود تھی مگر ایک چیز کم تھی۔ ظاہر ہے برسوں سے میز لگانے والی کا مقابلہ نہیں ہو سکتا تھا۔ پانی رکھنا ہی بھول گئے بچے۔ انہیں ہنستا بولتا دیکھ کر خوش ہوتی امی چپکے سے پانی لینے اٹھ گئیں۔۔

۔۔۔۔اختتام قسط 2

جاری ہے۔

Corona aur katrina kahani episode 1


کرونا اور قطرینہ کہانی قسط 1
کرونا وائرس کا خطرہ اور سنجیدگی کا عالم

کاشی کاشی دہی لا دو ۔۔ 

امی نے اسکے اوپر سے کمبل کھینچ کر عجلت میں کہا۔۔ 

وہ ہڑبڑا کر اٹھا 

اور یہ لائونج میں کیوں سو رہے تھے؟ 

امی کے ایکدم صور پھونک کر جگا دینے پر بدمزا کاشی منہ بنا کر بولا

شوق تھا مجھے بیچ چوراہے میں سونے کا دیکھ رہا تھا نیند کیسی آتی ہے۔ 

اچھا اب تو دیکھ لیا نا چلو اب کمرے میں جا کر سوئو یہاں کی صفائی رہ گئ بس تمہیں سوتا دیکھ کر شاداں گیراج دھونے لگ گئ ۔۔ 

امی ۔۔ اس نے احتجاجا گھورا اس نے طنز کیا تھا اور امی بات اڑا گئیں۔

چلو اٹھو شاباش ایک بج رہے چھٹیوں کا یہ مطلب نہیں کہ دن چڑھے سوتے رہو۔ 

وہ منہ بناتاچپل گھسیٹتا اندر کی جانب بڑھنے لگا کہ امی کو پھر دہی یاد آگیا  

کہاں جارہے ہو؟ 

سونے ۔۔ کاشان بھنایا 

پہلے دہی لا کر دو مجھے۔۔ پھر بھلے شام تک سوتے رہنا کھانا بنانے میں دیر ہو جائے گی ورنہ۔۔ 

تبھئ سر کھجاتا چپل گھسیٹ کر ڈھیلے قدموں سے چلتا دانش آیا آتے ہی اسکی چھوڑی جگہ صوفے پر دھپ سے گرا۔۔ 

امی ناشتہ۔۔ دانی کی آواز نیند سے بھری تھی

ہاں بنواتی ہوں شاداں پراٹھا ڈال دو دانئ کیلئے۔۔ کیا ہوا طبیعت تو ٹھیک ہے سر میں درد ہو رہا۔۔ ؟؟؟؟

دانی نے معصوم سی شکل بنا کر آنکھیں پٹپٹائیں۔۔ 

اوہو ۔۔ ناشتہ کر لو پھر سر درد کی۔ اسکو بےزاری سے سر سہلاتے دیکھ کر امی فکر مند سی ہو کر اسکےپاس آبیٹھیں۔ 

کاشی کا خون جل گیا۔۔ 

امی میں بھئ آپکی اولاد ہوں یاد آیا؟ مجھے بھی ناشتے کا پوچھ لیں۔

اسکے جلے بھنے انداز پر دانی چسکا لینے والے انداز میں ہنسا

کتنئ بار تمہیں بتائوں کہ تم شاداں کے بھائی ہو امی نے ترس کھا کر گود لے لیا تھا تمہیں۔۔ 

اسکے طنز سے کہنے پر امی چونک کر مڑیں۔ 

تم ابھی تک گئے نہیں؟ تمہارے ابو نے صبح سات بجے کا ناشتہ کیا ہوا ہے۔ انہیں بھوک لگ جانی ہے ابھی۔۔ 

امی میں نے کل دوپہر کا کھانا کھایا ہوا ہے مجھے تو ناشتے کا بھی نہیں پوچھا آپ نے۔ 

وہ روہانسا ہوا

ہاں تو اپنی مرضی سے بھوکے رہے سب نے کریلے قیمہ شوق سے کھایا رات کو سوائے تمہارے۔۔

امی بے نیازئ سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ 

کوئی نہیں دانی نے بھی نہیں کھایا ۔یہ رات کو ڈیل آر۔۔۔ وہ غصے میں راز افشا کرنے لگا تھا دانی سٹپٹا کر سیدھا بیٹھا 

ارے قط قطرینہ کی ڈیل تھی ۔ بھول گئے

دانی نے چبا کر کہتے آنکھیں دکھائیں کاشی نے زبان کو بروقت بریک لگائی

کیا ڈیل کیسی ڈیل؟ 

امی کچھ نہ سمجھیں 

قطرینہ نے کئی نئی فلموں کی ڈیل سائن کر لی امی ایک سال تین فلمیں کر رہی ہے۔ اب پتہ ہے آپکو۔۔ 

دانئ ایران توران کی ہانکنے لگا تو امی بےزار ہو اٹھیں

ارے دفع کرو قرینہ قطرونا کرونا کو ہمیں کیا تم کاشی 

۔ چلو اب جلدی سے دہی لا کر دو میں تب تک تم دونوں کیلئے ناشتہ تیار کرواتی ہوں۔۔ 

امی کہتی اٹھ کر جانے لگی دانی نے بمشکل انکے کمرے سے نکلنے کا انتظار کیا لپک کر گردن سے پکڑ لیا کاشی کو

کیا بکنے جا رہے تھے؟ کیا طے ہوا تھا تم میرا راز رکھو گے میں تمہارا۔ ایک پیس دیا تھا نا پزا کا تمہیں احسان فراموش۔ 

اس نے جھٹکا دیا ۔ کاشی گردن چھڑا کر سہلاتے ہوئے گھورنے لگا

میرا ایک چھوٹا سا راز ہے تمہارے کتنے درجن میں راز رکھتا ہوں کچھ یاد ہے۔ 

چھوٹا سا راز ہے تمہارا اچھا ۔۔ دانی کہاں ہاتھ آنے والا تھا وہیں سے آواز لگا نے لگا

امی امی قطرینہ آپکی بہو بننے والی ہے۔۔ 

کیا ۔۔ امی کی دور سے آواز آئی کاشی ہاتھ پیر جوڑنے لگا 

اچھا اچھا ۔چپ کر جا میرے بھائی ۔ 

ہاں اب ہوا نا سیٹ۔ دانی نے فرضی کالر جھاڑے

اچھا سن پزا کے خالی ڈبے تیرے بیڈ کے نیچے گھسا دیئے تھے شاداں کو صفائی نہیں کرنے دی کمرے کی تم۔ناشتے کے بعد امی کی۔نظر بچا کر باہر پھینک دینا۔

وہ مزے سے حکم چلاتا ہوا منہ دھونے چل دیا تھا اسے کاشی بس گھور کر رہ گیا 

نجانے کونسئ منحوس گھڑی تھئ جو ایک دفعہ اسکے نمبر سے میسج کردیا قطرینہ کو۔ کمینہ چھے مہینے ہونے کو آگئے بلیک میل کیئے چلا جا رہا ہے۔

وہ منہ بناتا صوفے پر آبیٹھا پھر جیسے کرنٹ سا لگا اچھل کر کھڑا ہواسر پر ہاتھ مارا 

 دہی۔۔۔ اف امی پیسے تو دیں دہی لانے کے۔ 

وہ جھلاتا ہوا کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

 کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری وائرس چین سے پھیلتا ہوا دنیا کو لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اب تک اس وائرس سے متاثرہ ممالک میں ایران امریکہ اسپین اٹلی بھی شامل ہو چکے ہیں ۔ اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد۔۔ 

ابھی اتنی ہی خبر ہوئی تھی کہ جھٹ ثانیہ نے چینل بدل دیا۔

ارے دیکھنے تو دو پوری خبر؟؟ دانی نے کہا تو وہ لاپروائی سے کندھے اچکا کر بولی

ہمیں کیا۔ یہ گندے لوگوں کا وائرس ہے جو الا بلا کھاتے ہاتھ منہ نہیں دھوتے ہم تو دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنے والی قوم ہیں۔۔ 

اسکی بات ابھی ختم نہ ہوئی تھی امی نے جھٹ اسکے سر پر چپت لگا دی۔

یہ نماز پڑھنے والی قوم کا حال دیکھو ایک بجے محترمہ کی صبح ہوئی ہے ناشتہ تک ٹی وی لائونج میں روتی دھوتی عورتوں کو دیکھ کر ہو رہا ہے کچھ پتہ ہے عصر کب ہوتی ہے فجر ظہر تو گزر چکی ہے ۔ 

بیٹے کیلئے ٹرے میں ناشتہ لیکر آتی امی کی اس اقربا پروری پر وہ آنکھوں میں آنسو ہی تو لے آئی۔۔ 

پونے دو بجے ناشتے کیلئے صوفے پر ٹانگے پسارے بیٹھی اولاد نرینہ کیلئے بھی کچھ ارشاد فرما دیا کریں ۔ کم از کم میں اپنا ناشتہ خود لیکر آئی ہوں انکو تو ٹرے میں لگا کر دینا پڑتا آپکو۔  اتنی زور سے مارتی ہیں دماغ ادھر ادھر ہوگیا ہوگا میرا۔۔ 

وہ اب باقائدہ سر سہلا رہی تھی

دانئ نے ناشتہ آتے دیکھ کر پساری ہوئی ٹانگیں سمیٹ لی تھیں اب کشن سامنے میز کی طرح سجائے اس پر ناشتے کی ٹرے رکھے تناول فرمانے کا احسان کرنے کو تیار تھا مگر بہن کو چھیڑے بغیر لطف کیسے آتا۔۔لہک کر بولا 

مت فکر کرو کوئی ادھر ادھر نہیں ہوگا دماغ۔ در اصل دماغ ہوگا تو ادھر ادھر ہوگا نا۔ 

بھائی میرا تو ایک ہے سو مجھے فکر اب آپکی طرح دو دماغ ہوں تو بندہ ایسے ہی بے فکر رہتا۔۔ 

وہ درپردہ اسے بندر کہہ گئ تھی۔ دانی گھورنے لگا 

امی تاسف سے بیٹی کو گھور رہی تھیں

کیسا تڑ تڑ زبان چلتی ہے ۔ کبھی ہاتھ پائوں بھی ہلا لیا کرو اتنی تیزی سے چلو ناشتہ ختم ہوگیا ہو تو چائے بنائو سب کیلئے سر پھٹ رہا میرا بھی۔ اس کوکر کی چھک چھک سے۔۔ 

امئ سر تھامتی ہوئی سنگل صوفے پر پائوں اوپر کرکے اطمینان سے بیٹھ گئیں۔ 

ثانیہ نے ہونٹ لٹکا کر شکایتی نگاہ ڈالی ان پر۔اسکے پسندیدہ ڈرامے جس میں ہیروئن کی اپنے ابا کی عمر کے آدمی سے شادی ہوگئ تھی آرہا تھا۔ اور تو اور اسکے پراٹھے کے ابھی دو تین لقمے باقی تھے یہ الگ بات کافی دیر سے ہی وہ باقی تھے بے دلی سے ٹونگنے کی وجہ سے۔ 

امی کافی دیر نہیں ہوگئی اس کوکر کی آواز کو؟۔ دانی کے بھی سر پر یہ آواز گراں گزر رہی تھی۔

ہاں گوشت گلا ہی نہیں سو دوبارہ لگایا ہے پندرہ منٹ کیلئے۔ 

یہ کاشی کب کا گیا ہوا ہے آیا نہیں دہی لیکر ۔ دہی خریدنے گیا ہے یا بنانے بیٹھ گیا ہے۔۔ 

امی کو یاد آیا ۔ تبھی منہ پر ماسک چڑھائے ہاتھوں میں گلوز پہنے کاشی دہی کی تھیلی تھامے اندر داخل ہوا

تینوں اسے دیکھ کر ہکا بکا ہی تو رہ گئے

ہیں یہ کیا ہوا۔۔ ؟؟؟ تینوں نے بے ساختہ بولا تو وہ تھوڑا سٹپٹا گیا

امی وہ باہر ایک این جی او والے مفت ماسک اور گلوز بانٹ رہے ہیں کہہ رہے کہ وائرس سے بچنا ہو تو ماسک پہن کر نکلیں ۔۔ 

تینوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے ۔

ارے یہ تو چین کا وائرس ہے یہاں کہاں۔ ایویں ڈراتے ہیں میڈیا والے ۔

یہ دانی تھا باقائدہ ٹھٹھا لگا کر بولا 

نہیں پاکستان میں بھی آچکا ہے سات سو کے قریب کیسز ہوچکے ٹی وی دیکھا کرو تو پتہ لگے۔ 

ثانیہ کی خبریں ہمیشہ اپ ٹو ڈیٹ رہتی تھیں سو اپنی قابلیت جھاڑنا ضروری سمجھا۔۔ 

کیا اتنا برا حال ہو چکا ہے؟ امی بھی تھوڑا گھبرا سی گئیں

ہاں تو ایویں تھوڑی ہم سب کو چھٹیاں دے دی گئیں ہیں۔ کراچی میں تو لاک ڈائون بھی شروع ہو گیا ہے اجتماعات شادیوں اور دیگر تقریبات پر بھی پابندی لگا دی ہے پورے پاکستان میں۔ 

کاشی نے ماسک اتار کر گہری سانس لی۔ 

وہ این جی او والے کہہ رہے تھے کہ محتاط رہیں چھینک وغیرہ کہنی موڑ کر چھینکیں بار بار ہاتھ دھوئیں گلا خشک نہ ہونے دیں اور معمولی نزلہ زکام کو بھی معمولی نہ سمجھیں۔ اور یہ پینا ڈول کا پتا بھی دیا ہے انہوں نے۔ اس نے جیب سے پینا ڈول کا پتا بھی نکال کر لہرایا

اور دہی وہ لائے کہ نہیں ؟؟؟ امی نے گھورا

کب سے انتظار میں ہوں سالن بنانے کے بجائے دہی لانے کے این جی او والوں سے باتیں پٹیلنے بیٹھ گئے۔ ارے ان لوگوں کو ڈرانے کے سوا کام ہی کیا ہے۔۔ 

امی جیسے ناک تک تنگ آئی ہوئی تھیں

کرونا رٹ رٹ کر ہی سب کو بیمار کر چھوڑیں گے

انکی تقریر کو بریک کاشی کے منہ بنا کر دہی کی تھیلی انکے سامنے لہرانے پر ہی بند ہوئی

آتے ہونگے ابا تمہارے نماز پڑھنے گئے ہیں مسجد۔۔ 

سالن تیار کروں۔۔ 

کونسی نماز مسجد میں جماعت پر پابندی لگا دی ہے کہہ رہے ہیں کرونا سے بچنا ہے تو گھر بیٹھو۔۔ توبہ ایمان کی کمزور ی ہے بس۔۔ بتائو گھر بیٹھ کر موت نہ آئے گی۔۔ عجیب خرافاتی لوگ ہیں میڈیا والے سب کو ڈرا ڈرا کر پاگل ہی کر چھوڑا ہے

ابا ٹوپی سر سے اتارتے سخت ناراض ناراض سے گھر میں داخل ہوئے تھے۔۔ 

یک نہ شد دو شد۔ ۔

تازہ تازہ لیکچر لیکر آئے کاشی کو اپنے ہی گھر والوں کو کرونا کی احتیاطی تدابیر بتانا مشکل لگ رہا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت کریمہ کا ورد کرکے اس میسج کو آگے بھیجئے اس آسمانی آفت سے بچنے کا بس یہی طریقہ ہے

استغفار کیجئے یہ ہمارے ہی اعمال کی سزا ہوتی ہے جو وبا کی صورت نازل ہوتی ہے۔۔ 

بار بار فالتو میں ہاتھ دھونے سے بہتر ہے کچن میں پڑے دو چار برتن بھی لگے ہاتھوں دھو لیا کریں۔ 

ابے یار۔۔ 

اس نے بیزاری سے واٹس ایپ بند کیا ۔ ہر طرح کا کرونا کا میسج آیا ہوا تھا جس کو جو سمجھ آتا وہ آگے فارورڈ کرکے صدقہ جاریہ کا حصہ دار بننا ضروری سمجھتا۔ 

سب سے ذیادہ اسکی ہر دل عزیز سہیلی قطرینہ کے ایسے پیغام موصول ہوتے ۔ اسکے واٹس ایپ اسٹیٹس بھی کچھ ایسے تھے ہاتھ صابن سے دھونے کی ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی ہوئی تھی۔ منہ پر ماسک پہن کر وکٹری کا نشان بناتے ہوئے۔ اپنی سہیلی کے ساتھ مصافحے کیللئے ہاتھ بڑھا کر ایکدم ہاتھ پیچھے کر کے دور سے سلام کرتے ہوئے مفاد عامہ کا پیغام دیتے ہوئے کی ویڈیو۔ 

دو درجن دعائیں ۔ سینی ٹائزر لگاتے ہوئے تصویر ۔ 

وہ اسکے اسٹیٹس دیکھ کر خوب ہنسا تھا لیکن وہ کتنی سنجیدہ تھی اسکا اندازہ اسے تب ہوا جب اس سے فون پر بات کرتے ہوئے اس نے باقائدہ تعداد گنوا کر دنیا بھر میں ہونے والی اموات اور خاص کر اٹلی کے لوگوں کی کرونا کو سنجیدہ نہ لینے والی حرکت کے بعد چین کے بعد سب سے ذیادہ اموات کا شکار ہونے کا بتاتے ہوئے رو پڑی۔ 

کاشی انکی فوج فوجی گاڑیوں میں بوریوں کی طرح لاشیں بھر کر لے جارہی ہیں سڑک پر پڑیں ہیں وہاں انسانی لاشیں ۔ یہ اس ملک کا حال جہاں صحت کی سہولتیں بہترین ہیں ۔ہم جیسے ترقی پزیر ملک کا کیا ہوگا۔۔ 

روتے ہوئے اسکے بین کرنے والے اس انداز نے اس پر اچھا خاصا اثر کیا تھا۔  

وہ ویڈیو اس نے بھی فیس بک پر دیکھ رکھی تھی مگر اتنا محسوس نہیں کیا تھا۔ 

بس یار ہم بس اللہ سے مدد مانگ سکتے ہیں اور کیا کر سکتے۔۔ 

وہ بے چارگی سے بولا۔  

آدھے گھنٹے کی اس واٹس ایپ کال میں سوائے کرونا کے اس نے دوسری کوئی بات نہیں کی تھی۔ دو ہفتے سے انکی کوئی ملاقات نہیں تھئ۔ وہ اسے کافی یاد کر رہا تھا مگر وہ سوائے کرونا کے کچھ سننے کو تیار نہیں تھی۔ 

بس یہی تو اس قوم کا المیہ ہے۔ وہ ایکدم تیز ہو کر بولی

خود کچھ نہیں کرنا بس سب اللہ پر چھوڑ کر ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ رہناہے۔ اللہ بھی کہتا ہے اپنا خیال رکھو اپنی زندگی کی حفاظت کرو۔ مگر یہاں کسی کو کچھ کہو تو آگے سے ایمان کی کمزوری کا طعنہ دے ڈالتا ہے۔ ارے وبا پھوٹ پڑی ہے تو انسان دیکھ کر لگے گی یا کرونا آکر پہلے پوچھے گا بھائی مسلمان ہو، اوہ معزرت میں کوئی کافر دیکھتا ہوں آگے ۔۔

اسکا انداز اتنا چڑ چڑا سا تھا کہ وہ بے ساختہ ہنس پڑا

اب تم ہنس کر مجھے اور غصہ نہ دلائو۔ کوئی سننے کو تیار نہیں میری۔  میرے اپنے بہن بھائی میرا مزاق اڑا رہے کہ ذیادہ سوچتی ہو تم۔۔ وہ مایوس سی ہو چلی تھی۔۔

نہیں بھئی مجھے یقین ہے تمہاری بات پرکرونا سب پر یکساں حملہ آور ہے سعودیہ میں طواف بند ہے تو ایران میں مسلمان بھی اسکا شکار بن رہے ہیں۔ ہمیں ہر ممکن احتیاط کرنی چاہیئے۔ 

وہی تو۔۔ اسکو اپنا ہم نوا دیکھ کر وہ پھر پرجوش ہوئی۔۔ 

کاشان ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔۔ کال پر دوسری جانب ایک اور کرونا اپڈیٹ دئ جارہی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح حسب معمول تھی۔اسکے برابر والے بیڈ پر دانی  خراٹے مار رہا تھا۔ وہ سستی سے چپل پہنتا باہر نکل آیا۔  ابا چہل قدمی کرنے قریبی پارک گئے تھے امی کچن میں لگی تھیں۔ 

ثانیہ بھی یقینا ابھی سو ہی رہی تھی۔۔ وہ ڈھیلے قدموں سے چلتا کچن میں آکر امی کے شانوں پر سر رکھ لاڈ جتانے لگا

اٹھ گیا میرا بچہ ۔ چلو ابھی ناشتہ ہی بنا رہی ہوں کاشی کو بھی اٹھا دو۔

امی نے پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر کہا تھا اسکے ہاتھ سست سے پڑے اور وہ دھیرے سے ان سے الگ ہوگیا۔۔

امی نے مڑ کر دیکھا تو حیران ہی رہ گئیں۔

ارے تم کیسے اٹھ گئے صبح صبح۔۔ 

بس آنکھ کھل۔گئ۔۔ وہ پھیکے سے انداز میں کہتا کچن میں رکھی چھوٹی میز اور چار کرسیوں کی جانب بڑھ گیا۔ 

کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے جانے کیوں دل اداس سا ہوچلا تھا اسکا۔۔ 

تم کبھی سب سے پہلے اٹھتے ہی نہیں ہو اسلیئے میں سمجھی دانی ہے۔ 

وہ ماں تھیں یقینا اسکی بھی۔ اسکو فورا صفائی دینے لگیں۔ گرم پراٹھا انڈہ اسکے سامنے تھا۔  وہ یونہی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا۔

لاحول ولا ۔عجیب لوگ ہیں بھئ ڈرپوک ۔ پارک میں نہ کوئی بندہ نہ بندے کی ذات بس ایک میں ایک۔چوکیدار۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگا پارک نہیں کھلےگا آج کرونا کا خطرہ ہے۔ اتنا بڑا ماسک پہنے مجھ سے یوں ڈر رہا تھا جیسے میں ہی کرونا ہوں ہاتھ تک نہ ملایا مجھ سے۔۔ 

فہیم صاحب کافی خفا نظر آرہے تھے۔ بڑ بڑاتے ہوئے کچن میں داخل ہوئے سیدھا سنک کی جانب بڑھے ہاتھ دھونے کیلئے۔ 

کہا تو تھا آپکو مت جائیں آج ۔ ہر طرف کرونا پھیلا ہوا ہے شروع میں تو مجھے بھی لگا تھا کوئی بڑی بات نہیں مگر جس طرح سے اسکی لپیٹ میں دنیا کے سبھی ملک آتے جارہے ہیں ہمیں 

امی مزید بھی کہتیں مگر ابو نے ٹوک دیا

ارے رہنے دو بس سب ایمان کی کمزوری ہے۔ بھلا ایک وائرس کے پیچھے سب ایسے ڈر رہے جیسے وائرس نہیں ڈائنا سور آگیا یے۔ زرا تیز گرمی پڑے گی خود ہی سب ختم ہو جائے گا۔۔ 

ایسا نہیں ہے ابو ۔یہ وائرس دبئی سعودیہ جیسے گرم علاقوں میں بھی زندہ ہے۔وہاں بھی لوگوں کو ایسے ہی گھر میں محصور رکھا جا رہا ہے۔ 

ارے جس کو لگنا ہوگا وائرس گھر بیٹھے بھی لگ جائے گا۔۔ 

ابو نے کان پر سے مکھی اڑائی۔۔ وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی شوارما تو لا دو ۔۔ 

ثانیہ اسکے کندھے سے جھول رہی تھی۔۔ 

باہر کرونا پھیلا ہے بھائی سے زرا محبت نہیں تمہیں۔۔ 

کاشی نے بھنا کر گھورا

بھائئ لا دو نا تمہیں قطرینہ ملے دعا کروں گی ۔۔ 

اس نے مسکا لگایا۔۔ 

کاشی اسے گھورکر رہ گیا۔۔ مگر چارو ناچار اٹھنا پڑا۔ اسکی دعا اور بد دعا دونوں ہی فورا لگتی تھیں۔ اسکا بی ایس کا آخری سمسٹر چل رہا تھا جو ثانیہ نے عین فائنل پراجیکٹ سے پہلے اسی طرح شوارما نہ لا کر دینے پر بد دعا دی کہ سب مٹ ہی نہ ہو پائے۔  سب مٹ تو دور بن بھی نہ پایا تھا کہ یونیورسٹی بند ہوگئ۔ نا معلوم مدت کیلئے۔ 

امی باہر جا رہا ہوں کچھ منگوانا ہے تو بتا دیں۔ 

اس نے باہر نکلتے نکلتے کچن میں جھانکا۔ 

نہیں دودھ ڈبل روٹی وغیرہ منگوانا تھا وہ دانی لینے گیا ہوا ہے۔ امی چائے بناتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولیں۔

وہ کندھے اچکاتا لائونج کی دیوار گیر الماری کی جانب بڑھا جہاں کل ماسک اور گلوز لا کر رکھے تھے۔ اب وہ خالی منہ چڑا رہا تھا۔ 

ہاں کاشی۔ سنو کل کیلئے پیاز بھی لے آنا آج بھی سارا دن ایک پیاز والا نہیں گزرا ۔ کہ خرید لیتی اب کلو دو کلو لیکر رکھ لیتے ہیں جانے کب تک یہ کرونا کا سلسلہ چلے گا۔

امی تیزی سے کچن سے نکلیں

لے آتا ہوں مگر ماسک اور گلوز کہاں گئے؟ 

کاشی نے کہا تو وہ سر سری سے انداز میں بولیں

وہ دانی پہن گیا تم جائو جلدی سے لیکر آئو چائے تیار ہونے والی ہے۔ 

امی میں بنا ماسک کے کیسے جائوں باہر؟ 

کاشی نے کہا تو امی نے سر جھٹکا

ارے کچھ نہیں ہوتا دانی بھی ایسے ہی جا رہا تھا وہ تو ثانیہ نے پہنوا کر بھیجا اسے۔۔ 

تو ثانیہ کی۔بچی شوارما بھی دانی سے منگوا لیتی ۔

اسے سچ مچ غصہ آگیا تھا

کیا یہ لڑکی پھر شوارما منگوا رہی ہے؟ ابھی ڈانٹا تھا اسے۔ 

امی آگ بگولا ہو کر ثانیہ کو پکارنے لگیں۔ 

ثانیہ منع کیا ہے نا باہر کا الا بلا کھانے سے؟ سمجھ نہیں آتی چلو شرافت سے گوبھی کھائو جو پکا ہے صبر شکر کرکے۔۔

امی کی ڈانٹ پر وہ خوب پھولا ہوا منہ بنا کر نکلی اور اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگی۔۔ 

اور تم جلدی سے لیکر آئو بھئ۔ امی نے روئے سخن دوبارہ اسکی جانب موڑا تو وہ برا سا منہ بناتا ایسے ہی سودا لانے نکل کھڑا ہوا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شوارما کھاتی ثانیہ فل والیم میں ٹی وی لگائے بیٹھی تھی لائونج میں۔ امی نے چائے یہیں لگا دی تھی سو سب فرصت سے ٹی وی کے آگے بیٹھے تھے۔

سندھ کے بعد اب پنجاب میں بھی اگلے چودہ روز کیلئے مکمل لاک ڈائون کا اعلان۔

خبریں دل دہلائے دے رہی تھیں۔ اب تک ہر بات کو مضحکے میں اڑانے والا دانی بھی سنجیدہ بیٹھا سن رہا تھا۔ 

یہ کرونا پہلے نہیں آسکتا تھا ہمارے صرف پریکٹیکل کینسل ہوئے امتحان بھی ہو جاتے ۔ میرا کیمسٹری کا بالکل اچھا پیپر نہیں ہوا۔۔

ثانیہ رو دینے کو تھی۔ امی تسبیح ہاتھ میں لیئے بیٹھی تھیں۔ ابو بھی کافی سنجیدہ سی شکل بنا کر خبریں سن رہے تھے۔ 

سب کے کام بند سب کے کام رکے ہوئے تھے سو سب لائونج میں بیٹھے ٹی وی پر گزارا کر رہے تھے۔ 

قطرینہ نے نئی ویڈیو اسٹیٹس پر لگا دی تھئ 

گھر میں ہینڈ سینی ٹائزر بنانے کی۔۔ سادہ سی ترکیب۔ 

60 فیصد ربنگ الکوہل Rubbing alcohal 60%

20 فیصد گھیکوار/کوارگندل  aloe vera20% 

20 فیصد گلیسیرین  glacerine 20%

خوشبو دار تیل اگر خواہش ہو تو

سب کر برابر ملا کر گھول کر بوتل میں رکھ لیں آتے جاتے ہاتھ میں مل لیا کریں۔ 

گھر میں صرف قطرینہ کی آواز گونج رہی تھی جانے کب ٹی وی کی آواز بند ہوئی وہ جو آرام سے ہینڈ فری کانوں میں لگائے فل والیم میں ویڈیو دیکھ رہا تھا چونکا۔ اسکی ہینڈ فری کہ پن موبائل سے باہر جھول رہی تھی اور قطرینہ کی آواز براہ راست گھر والوں تک پہنچ رہی تھی۔ سب پلک جھپکائے بنا اسے دیکھ رہے تھے۔۔ 

سب سے پہلے ابو نے گلا کھنکارا۔۔ 

دانئ ماسک اور گلوز  پہن کر جائو اور فارمیسی سے ربننگ الکوہل تو پکڑ لائو۔۔ 

ثانیہ کاشی اور دانی کی جان میں جان آئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Zarurat Mand

ضرورت مند

انکی 28سالہ ڈاکٹر  بیٹی کا پہلا رشتہ42 سال کے رنڈوے پہلی شادی سے تیرہ سالہ بیٹے کے ساتھ اس خواہش کے ساتھ آیا تھا کہ شادی کے بعد پریکٹیس  چھوڑ دیگی کیوں کہ انکے خاندان میں نوکری پیشہ خواتین کو اچھی نظر نظر سے نہیں دیکھا جاتاہے 

رشتہ کرانے والی نے کوائف بتاتے ہوئے انکو خوب اچھی طرح باور کرایا تھا کہ چونکہ انکی بیٹی کی عمر مروجہ شادی کی عمر سے تجاوز کر گئی ہے تو مین میخ نکلنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے الله کا نام لے کر ہاں کر دیں مگر بیگم نورین کچھ ہچکچا رہی تھیں دبے لفظوں میں عمر کی زیادتی اور بیٹے کی موجدوگی کو اعتراض کا نشانہ بنایا تو گال میں پان کی گلوری داب کر ثریا  عرف سیری خالہ نے اپنی مخصوص پاٹ دار آواز میں تقریر جھاڑ دی تھی 

“

بیٹی کو ڈاکٹر بنانے میں اسکی عمر گزار دی ہے اب تو جو بھی رشتہ ملے غنیمت سمجھو آج کل کے لڑکے یا تو” خود نین مٹکا کر کے شادی رچا بیٹھتے ہیں اور جو مائیں بیٹوں کے لئے بر ڈھونڈتی ہیں وہ یونیورسٹی کالج میں پڑھنے والی لڑکیوں کی  چلتی زبانیں دیکھ کر صاف کم عمر اور خوب صورت لڑکیوں کی فرمائش  کرتی ہیں 

ایک دو کو میں نے دلیلیں دے دے کر راضی بھی کیا تو اپنے پینتیس سالہ بیٹوں کے لئے اٹھائیس سالہ لڑکی انکو عمر میں بڑھیا لگی ایک کا بیٹا تھوڑا سا گنجا تھاسکو ڈاکٹر لڑکی ملے گی یہ لالچ دیا تو نشاط بٹیا کی تصویر دیکھ کر بولی اتنا چوڑا ماتھا ہے لڑکی کا پڑھ پڑھ کر بال کم رہ گیے ہیں. مرے پوتے پوتیاں تو گنجے ہی پیدا ہونگے “

ثریا خالہ نے ایسا منہ بگاڑ کر اسی عورت کی نقل اتاری کہ اتنی سخت بات پر انھیں ہنسی آگئی اور ہنسی ابھی پوری طرح لبوں کو چھو بھی نہیں پائی تھی کہ آہ بھی نکل گئی 

ان کی چاند صورت گوری چٹی بیٹی جسکی قابلیت اور لیاقت کا کوئی ثانی نہ تھا 

MBBS 

میں گولڈ میڈل لیا تھا پر اسکی شخصیت پر اسکا ظاہر حاوی تھا 

اور تو اور عینک تک تو بٹیا کو لگ چکی ہے سچ پوچھو تو ہاتھ لگائو تو میلی ہوں ایسی صورت والیاں ایسے ناک نقشے کے مردوں سچ کہوں گی لڑکا کہتے شرم آئے ایسے ایسے جوڑ بنایے ہیں کہ دل رو پڑا 

ثریا نے لوہا گرم دیکھ کے چوٹ لگی 

بیگم نورین آہبھر کر رہ گئیں 

پھر بھی سوتیلی اولاد کو پالنا کوئی آسان بات ہے 

وہ حامی نہیں بھرنا چاہ رہی تھیں 

ثریا خالہ نے گہری سانس لی 

تیرہ سال کا ہو چکا دو چار سال میں قد نکال لےگا کونسا گھٹنیوں چلتا بچہ پالنا ہے شروع سے بچے کا جھکاؤ ننھیال کی جانب ہے دو ایک بچے نشاط بٹیا کے ہوئے تو بیٹا پس منظر میں چلا جائیگا 

مگر نشاط تو بہت شوق سے ڈاکٹر بنی ہے اسکی پریکٹس ہی رکوا دینا چاہتے ہیں یہ تو 

بیگم نورین دکھی ہوگئیں اورثریا بد مزا۔۔۔واحد رشتہ جوڑنے کی امید پچھلے تین مہینوں میں پیدا ہوئی تھی پر جانے لوگوں کو اتنے نخرے کیوں سوجھنے لگے ہیں بیٹیاں پڑھا رہے اب رشتے بھی ہم پلہ خوب پڑھے لکھے پیسے والے چاہیے یہ نہیں کہ بیٹی رخصت کر کے بوجھ ہلکا کریں 

پھر تو بہن اور انتظار کرو دیکھتی ہوں مزید دو چار گھر مگر کوئی اچھی امید نہیں رکھنا .

ڈاکٹر انجنیئر لڑکوں کو سسرال بھی خوب پیسے والا چاہیے ہوتا ہے بولی لگ رہی ہے باقاعدہ لوگ لاکھوں کا جہیز دینے کو تیار ہیں اگر لڑکے کے پاس اچھی ڈگری ہو .ویسے برا مت ماننا بٹیا کے ہم جماعتوں میں سے کسی کا رشتہ نہ آیا ڈاکٹروں کی تو آپس میں ۔۔۔۔۔۔ثریا خالہ جانے کیا گل افشانی کرنے جا رہی تھیں کہ نورین بیگم نے ناگواری سے ٹوک دیا 

ثریا بہن کھاتے پیتے گھر کے ہیں ہم ایسے بھی گرے پڑے نہیں ہیں لڑکا اگر سیٹ نہ ہوا تو کروا دیں گے نشاط کا بھائی دبئی میں ہوتا ہے یہ ذکر کر دینا مگر اب ذرا ڈھنگ کے کنواروں کے رشتے لانا کم از کم 

بیگم نورین کے تیور خالہ ثریا کو خائف کر گیے تھے اوپر سے مستقل آمدنی کا ذریعہ تھا انکا یہ دو سال سے سو بگاڑ ممکن نہ تھا 

چپکی ہو کر سلام دعا کرتی چلی گیں انکے جانے کے بعد بیگم نورین تاسف سے بولیں 

بتاؤ میری بیٹی کا شریف با کردار ہونا جرم ٹھہرا اس سے تو اچھا ہوتا نین مٹکا ہی کر لیتی کم از کم لڑکا جوڑ کا تو ہوتا ایسی پیاری صورت کی بیٹی میری کسی ہم ۔جماعت کو بھی نظر نہ آئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

صبح سے روشنا ہی نظر آئے جا رہی ہے مجھے تو لگتا ہے

اسکی ترقی پکی ہے ہم سے تو فالتو میں انٹرویو لے رہے ہیں ایڈمن سے چوتھی بار گزرتے دیکھ رہا ہوں 

دفتر میں انتظار کمرے میں بیزاری سے بیٹھے عدیل نے گلاس وال سے تیز تیز قدم اٹھا کر منیجر کے کمرے میں جاتی روشنا کو دکھتے بلکہ گھورتے ہوۓ جلے بھنے انداز میں اپنے ساتھ بیٹھے صارم کے کان  میں کہا تھا 

اپنی اسناد سی وی کو چھٹی بار ترتیب دیتے صارم کے ہاتھ رکے تھے.

صبح خوب جما جما کر استری کرکے اپنی سب سے بہتر حالت میں موجود پتلون کی کریز بٹھائی تھی شرٹ کے کالر ختم ہو رہے تھے تو اماں نے سگھڑاپادکھاتے ہوئے اندرونی جوڑ کسی پرانی شرٹ سے ٹکرے کاٹ کر لگایا تھا . سترہ پانچ سو کی نوکری میں پورے گھر کی ذمےداری اٹھاتے صارم کے لئے نئے نئے کپڑے بنوانا جوۓ شیر لانے کے مترادف تھا . ابّا ریٹائر ہو چکے تھے انکی معمولی پنشن سے دو جوان بہنوں جنکی شادی کی عمر ہو چکی  تھی کا جہیز بننا نا ممکن تھا اوپر سے مہنگائی کا بے قابو جن  صبح وہ یہاں اس پرائیویٹ فرم میں کام کرتا تھا رات میں ایک اور جگہ پارٹ ٹائم نوکری کرتا تھا سونے کے لئے اسے پورے دن میں صرف چھے گھنٹے ملتے تھے اور دو نوکریوں کے ساتھ تھکن اور محنت کے اٹھارہ گھنٹے . نا کافی نیند کی کڑواہٹ آنکھوں سے جاتی نہ تھی . ڈیڑھ سال کی انتھک محنت اور کوشش کے بعد آج ذرا امید بندھی تھی کے نیے آنے والی ٹیم کا اسے سپر وائزر بنا دیا جاتا کیوں کے اسکی کارکردگی یہاں پر انٹرویو کی نیت سے بیٹھے سب امید واروں سے بہتر تھی اس ترقی سے تنخواہ میں دس ہزار کا اضافہ ہو جاتا. یہ دس ہزار اسکے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھے 

ابھی ان سب سوچوں کے ساتھ اسکے ذہن میں واجب الادا بجلی کا بل بھی گھوم رہا تھا جسکی آخری تاریخ سر پر تھی یہاں سے تو نہیں مگر شام کو جس دفتر میں اکاؤنٹس کا شعبہ سنبھالتا تھا اسکا مالک رحم دل انسان ہے تو کیا وہ اسے پیشگی تنخواہ سے کچھ روپے ادھار دے دیگا ان ڈھیر ساری سوچوں کے درمیان عدیل نے جو کہا وہ یا تو اس نے صحیح سے سنا نہیں یا سن کر  سن سا ہو گیا تھا 

عدیل کو اپنے حسب منشا تاثرات اسکے چہرے پر نہ ملے تو بد مزہ ہوگیا اور یہ سمجھ کر کہ شاید اسکو بات ٹھیک سے سمجھ نہیں آی ہے مزید کہنے لگا 

سننے میں آیا ہے کہ مینیجر کے آگے پیچھے پھر کر اور کئی  بار اسکے ساتھ لنچ اور ڈنر کر کے روشنا نے اسے اپنی اداؤں کے جال میں پھنسا لیا ہے یہ انٹرویو تو بس مینجمنٹ کو دکھانے کے لئے ہے در پردہ تو فیصلہ ہو چکا ہے کہ ٹیم لیڈر کا عہدہ اب روشنا کو ہی ملے گا 

عدیل جل جل کر کہہ رہا تھا صارم اسکی بات سن کےخالی خالی نگاہوں سے دیکھنے لگا

کیسے پیٹ کاٹ کاٹ کر اسکے ماں باپ نے اسے

MBA 

کرایا تھا کہ اسکا مستقبل محفوظ ہو جائے اور وہ معمولی سی ایجنٹ بن کر فون سننے جیسی نوکری میں بھی ترقی کے لئے لڑکا ہونے کی وجہ سے نہ اہل قرار پانے والا تھا اسے قوی امید تھی کہ پچھلے کئی مہینوں سے بہترین کارکردگی دکھانے کے صلے میں اور گزشتہ ٹیم لیڈر کے اچانک نوکری چھوڑ کر چلے جانے پر اسکی اضافی ذمہ داریاں تندہی سے نبھانے پر اسے ترقی کے لئے سب سے زیادہ قابل ملازم سمجھا جائیگا مگر یہاں تو دراز زلفیں لہرا کر ادائیں دیکھا کر کوئی میدان مار جانے والی تھی عدیل جو خود بھی کم و بیش انہی حالات سے گزر رہا تھا سو انداز خوب جلا بھنا تھا اسکا 

صارم نے ایک نظر عدیل کو دیکھا پھر ایک بار اڈمن روم سے دبی دبی مسکراہٹ لبوں میں دبائے نمودار ہوتی روشنا کو 

انکا انٹرویو آج ایچ آر والے کر  رہے تھے چوتھے مرحلے کے منیجر وغیرہ مگر آخری فیصلہ یقینا انہی صدیقی صاحب کا ہونا تھا اور عین  انٹرویو والے دن بار بار ان ہی کے دفتر کے چکر لگاتی پھر سرتاپا سجی سنوری روشنا کو دو سال سے دیکھ رہا تھا خوب اندازہ تھا کس قماش کی لڑکی ہے اس نے احتیاط سے اپنی سب اسناد فائل میں ترتیب سے رکھیں اور اٹھ کھڑا ہوا 

عدیل نے چونک کے اسکو دیکھا 

کدھر؟ کہاں جا رہا ہے اگلی باری تیری ہے 

عدیل نے یاد دلایا تو صارم پھیکی سی ہنسی ہنس دیا 

کیا فائدہ……انٹرویو دینے کا 

ویسے بھی دوسری نوکری پر جانے میں دیر ہو رہی ہے چلتا ہوں…

…………………

ختم شد 

………………….

Kabar Khana Urdu afsana

مختصر افسانہ
کباڑ خانہ 
آج کباڑ خانے کی صفائی کی پرانے کپڑے نکالے کچھ برتن کچھ ردی لحافوں کو نکالا دھوپ لگوا لوں اچانک ہی موسم بدلے گا ایک پرانا گتے کا ڈبہ ملا کچھ پرانی کتابیں تصویریں کاغذ اور ایک خاص کتاب 
یونہی کتاب کھولی شور مچ گیا
کچھ یادیں بوکھلائیں 
کچھ لفظ چیخ پڑے
کسی کم سن کے ٹوٹے خواب تھے
جنکی کرچیاں دل میں آن کھبیں
گھبرا کر بند کر دی
بھلا ایسا بھی کہیں ہوتا ہے
کچھ پڑھ کر دل روتا ہے
میری توبہ جو آیندہ اپنی پرانی ڈائری کھولی
جلدی سے ڈبہ بند کیا لحاف بیچ دونگی یہ ردی کو دھوپ لگوا لوں یہ اففف کیا کہہ رہی ہوں توبہ بہت کام ہیں
یہ برتن ۔۔۔۔اف ۔۔۔۔۔ برتن اٹھا لوں

Aasaibi makan |is ghar main rehne walon ka koi aik fard ghayab ho jata hay |horror urdu story

آسیبی مکان

گاڑی جس پرانے زمانے کے بڑی بڑی محرابوں والے مکان کے باہر رکی تھی اسے دیکھ کر آمنہ نے بڑی شکوہ کناں نگاہ شوہر پر ڈالی جو نظر چرا کر جلدی سےگاڑی بند کرتا باہر نکل کھڑا ہوا چار و ناچار اسے بھی پیروی کرنی پڑی

گھر ارد گرد بنے نیے طرز کے خوبصورت مکانوں کے درمیان اور بھی خستہ حال لگ رہا تھا 

سجاد گاڑی کی ڈگی سے سامان نکلنے لگا تو گھر کو پھر ایک نظر بھر کر دیکھ کر آمنہ کہے بغیر نہ  رہ سکی 

“یہ گھر ہے جس کی تعریفوں میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے تھے ؟ دیکھنے میں ہی کتنا پرانی طرز کا ٹوٹا پھوٹا مکان لگ رہا ہے “

سجاد نے ڈگی کی آڑ میں چہرہ چھپا کر کان کھجایا 

پڑوس کے مکان سے ایک ادھیڑ عمر آدمی اپنی دھن میں نکلا انھیں دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گیا 

یار اندر سے بہت بہترین ہے سارا گھر سجا ہوا ہے ضرورت کی ہر چیز ہے اتنے کم کرایے میں فرنشڈ گھر ملاہے ورنہ پتا ہے اسلام آباد میں اتنا بڑا گھر پچاس ہزار سے کم میں نہیں ملتا

سجاد ڈگی سے بیگ نکال کر گھوم کر آمنہ کے پاس آیا انداز اتنا پرجوش تھا کہ آمنہ کو لگا تھا ابھی یہیں ناچنا بھی شروع کردیگا 

وہ منہ بنایے گھورتی رہی 

تو ہمیں کیوں ملا ہے اتنا سستا؟یہ نہیں سوچا؟دیکھنے سے ہی خستہ حال لگتا ہے چھتیں گرنے کو تیار لگتی ہیں 

آمنہ نے جتایا تو سجاد کھسیا گیا 

اچھا اندر تو چلو ابھی گزارا کر لو ہم بدل لینگے ایک دو مہینے میں یہ گھر میرے دفتر سے قریب ہے سب سے اچھی بات تو یہ ہے 

اس نے آگے بڑھ کر گیٹ کا تالہ کھولا آمنہ کندھے اچکا کر اندر داخل ہو گئی سجاد گاڑی کے پاس سے بڑا سا بیگ اٹھا کر گھر میں داخل ہونے لگا ابھی پہلا قدم ہی رکھا تھا کہ کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا وہ بری طرح چونک کر مڑا 

کھچڑی سفید بالوں والے براق سفید شلوار قمیض میں ملبوس زمان صاحب

بہت گھبرائے ہوۓ انداز میں دیکھ رہے تھے 

اسلام و علیکم میرا نام سجاد ہے میں 

سجاد نے بیگ  رکھ کر گرم جوشی سے ہاتھ بڑھایا 

وعلیکم السلام میں زمان ہوں  

زمان صاحب نے بیتابی سے بات کاٹ دی تھی “یہ گھر آپ نے خریدا  ہے ؟

سجاد مسکرا دیا 

نہیں انکل یہ ہم نے کرائے پر لیا ہے 

یہاں پنڈی اسلام آباد میں ہی رہتے ہو؟

وہ نجانے کیا جاننا چاہ رہے تھے 

نہیں میں کراچی سے یہاں ٹرانسفر ہو کے آیا ہوں

کہتے ساتھ ہی سجاد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ایک انجان شخص کو بتا دیا کہ پردیسی ہوں اس نے دانتوں تلے زبان دبا لی 

وہی تو 

زمان صاحب کا اندازہ درست نکلا تھا 

یہ گھر اتنا بدنام ہو چکا ہے کہ پنڈی اسلام آباد کے لوگ تو اس مکان کے قریب بھی نہیں پھٹکتے 

آپ انجان ہیں اس شہر میں جبھی بھٹی صاحب نے آپکو یہ مکان ٹکرا دیا ہے 

انکے بنا لگی لپٹی رکھے کہنے پر سجاد کی پیشانی پر الجھن کی شکن پڑی

کیا مطلب میں سمجھا نہیں آپکی بات؟

زمان صاحب گہری سانس لے کر سجاد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے “یہ مکان فورا چھوڑ دو یہ آسیب زدہ ہے یہاں کوئی دو تین دن سے زیادہ نہیں رہ پاتا سامان تک چھوڑ کر لوگوں کو بھاگتے دیکھا ہے اور جو یہاں رہ بھی گیا اسکے گھر کا کوئی نہ کوئی فرد پر اسرار طریقے سے غایب ہو جاتا ہے 

سجاد نے غصے سے انکا ہاتھ کندھے سے ہٹایا 

کیا بکواس ہے یہ میں نہیں مانتا ان فضولیات کو ہمیں بھٹی صاحب نے بتایا تھا کہ یہاں رہنے والا خاندان اپنی عزت  بچانے کیلئے ایسی کہانی بنا کر کہیں چلا گیا کیوں  کہ انکی  اپنی بیٹی رات کو گھر سے بھاگ گئی تھی 

اسکی بات پر زمان صاحب بے  چین  ہو اٹھے  

میں یہاں تیس سال سے رہ رہا ہوں وہ بچی میری بیٹی کی سہیلی تھی میری آنکھوں کے سامنے پلی بڑھی تھی 

یہ گھر بھی ٹھیک تھا اسکو دوبارہ تعمیر کرا نے کے لئے فرقان صاحب نے صحن کے بیچ میں لگا درخت کٹوا دیا تھا میری بچی اور وہ بچی اسی درخت پر جھولا ڈال کر جھولتی تھیں مگر جب درخت کٹ گیا تو عجیب واقعات ہونے لگے انکے ساتھ 

سجاد انکی فضول باتوں کو اس سے زیادہ نہیں سن سکتا تھا سو بات کاٹ کر ہاتھ اٹھا کر بولا 

بس کیجیے انکل مجھے ان فضولیات پر یقین نہیں ہے پرانے مالک مکان کی بچی گھر سے بھاگ گئی یا غائب ہوگئی مجھے دلچسپی نہیں ہے 

اسکی بیزاری پر بھی زمان صاحب نے بات جاری رکھی یوں لگتا تھا وہ خوف زدہ ہیں ایک ہی سانس میں سب بتا دینا چاہتے ہیں

انکی بیٹی اپنی دادی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے میری بچی بھی ساتھ تھی اس بچی کے پاس رات کو ٹھہری تھی رات کو اس نے بھی دیکھا کہ بچی کی دادی اسے بلانے آئیں وہ انکے ساتھ صحن میں گئی مگر جب اسے گیۓ کافی در ہو گئی تو میری بچی اسے ڈھونڈتی صحن میں آئی تو صحن میں کوئی نہ تھا اور جب وہ اندر کمرے میں گئی تو بچی کی دادی بےخبر سو رہی تھیں 

سجاد نے بد تمیزی کی انتہا کرتے ہوئے سر جھٹکا اور انکی بات کے درمیان ہی بیگ اٹھا کر اندر جانے لگا تھا مگر زمان صاحب پھولی سانسوں کے ساتھ تیز تیز قصّہ سناتے چلے گئے سجاد انکی باتوں پر یقین نہیں کر رہا تھا مگر آخری بات پر ٹھٹکا اور فطری تجسس سے مجبور ہو کر پوچھ بیٹھا 

پھر؟

دادی نے کہا کہ وہ تو نہیں بلانے آیئ تھیں بہت تلاشا پھر انہوں نے بچی کو کیا کیا حربہ نہ اپنایا مگر بچی کا سراغ نہیں ملا ایک عامل نے بتایا کہ اس درخت پر جنات کا خاندان آباد تھا درخت کاٹنے سے انکا نقصان ہوا ہے اور وہ بدلے کے طور پر اس گھر سے ایک فرد لے گیۓ ہیں اب یہ گھر انکا ہے جو یہاں آ رہے گا یہ اس پرحاوی 

انکی کہانی سے متاثر ہونے ہی لگا تھا کہ بھٹی صاحب کی بات یاد آئی اپنے پڑوسیوں سے محتاط رہیے گا بہت شر لوگ ہیں اس گھر پر نظر ہے انکی جو اس گھر میں آتے ہیں لوگ انکو الٹی سیدھی کہانیاں سناتے ہیں مقصد یہی ہے کہ یہ گھر کم داموں پر میں تنگ آ کر انکو بچ دوں اب کروڑوں کی پراپرٹی …

زمان صاحب نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا 

آپ مرے گھر رہ لیں جب تک دوسرا انتظام نہ ہو آپکو خطرے کا اندازہ نہیں ہے یہاں بوائز ہوسٹل بھی کھلا تھا دس پندرہ لڑکے تھے ایک دن سب رات کو چیختے ہوئے بھاگے تھے کہتے تھے انکا ایک دوست انکے دیکھتے دیکھتے غایب ہو گیا ہے 

سجاد شش و پنج میں پڑ گیا انکا اصرار حد سے زیادہ تھا 

آخر انکو اپنے گھر میں رہنے کی دعوت دینا ایسا بھی کیا تھا اس گھر میں کہ 

تبھی اندر سے آمنہ کے چیخنے کی آواز آئ بات ادھوری چھوڑ کر دونوں اندر لپکے آمنہ دیوار سے لگی تھر تھر کانپ رہی تھی 

ایک موتی تازی بلی صحن میں رکھی اینٹوں اور ٹوٹی کرسی کو پھلانگتی سجاد پر غراتی صحن کے کھلے دروازے سے باہر نکل گئی 

میں اندر کمرے میں جا رہی تھی کہ نجانے کہاں سے بلی سامنے آگئی تو میری چیخ نکل گئی 

آمنہ شرمندہ ہوتے ہوئے بتانے لگی پھر سوالیہ نظروں سے زمان صاحب کو دیکھنے لگی 

زمان صاحب الجھن بھری نظر سے کبھی آمنہ کو کبھی گیراج میں کھلے دروازے کو دیکھ رہے تھے 

یہ ہمارے پڑوسی ہیں زمان انکل یہ میری بیوی ہے آمنہ 

سجاد نے مارے باندھے تعارف کروایا 

کیا ہوا بیٹی کیوں گھبرا گیں ؟

وہ شفقت سے پوچھ رہے تھے 

وہ بلی سے ڈر گئی تھی نکل گئی باہر 

سجاد کو کوفت سی ہی عجیب ہی سے خبطی انسان ہیں پھر تھوڑا سختی سے بولا 

ابھی آپکے سامنے سے تو گزر کر گئی ہے باہر چلو آمنہ اندر چلو 

انکی جرح سے اکتا کر اس نے کندھے سے پکڑ کر آمنہ کا رخ گھر کی جانب کیا دونوں بنا انکو اندر آنے کی دعوت دے اندر چلے گیۓ مگر زمان صاحب برا مانے بغیر الجھن سے سر جھٹک کر باہر نکل آئے 

انکی بڑ بڑ ا ہٹ واضح تھی 

مگر میں نے تو کوئی بلی نہیں دیکھی 

………………………………………………….

آمنہ گنگناتے ہوئے باورچی خانے میں چائیے بنا رہی تھی دونوں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کھانا کھایا تھا باقی گھر کی صفائی ستھرائی کل سے شروع کرنی تھی تبھی چپکے سے ہلکی سی آہٹ کے ساتھ کوئی اسکے پیچھے آ کھڑا ہو گیا 

آمنہ نے مسکرا کر چائے کپ میں نکالی اور دو کپ کی ٹرے میں رکھ کر اٹھائی  اور آرام سے کہتی مڑی

مجھے پتا ہے یہ آپ چپکے سے پیچھے آ کھڑے ہوئے ہیں میں اب نہیں ڈرتی جناب 

مڑتے ہی آمنہ کی اوپر کی سانس اپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی ہاتھ سے 

ٹرے چھوٹتے چھوٹتے بچی پیچھے کوئی نہیں تھا 

چند لمحے تو اس کے منہ سے آواز بھی نہ نکلی اتنا شدید دھوکہ تو اسے پہلے کبھی نہ ہوا  تبھی سجاد کمرے سے بولتا ہوا نکلا سیدھا اسکے پاس چلا آیا 

لو بھئی آمنہ خوش ہو جاؤ تمہارا لاڈلا بھائی آرہا ہے رہنے تمہارے پاس پرسوں آیئیگا پورے دو مہینے کے لئے جب تک اسکی چھٹیاں ختم نہیں ہو جاتیں اب تو نہیں گھبراؤ گی اکیلے رہنے میں؟

سجاد اپنی دھن میں بول رہا تھا مگر آمنہ کو دیکھ کر عجیب سا احساس ہوا اسکے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں 

کیا ہوا ایسے بت بن کے کیوں کھڑی ہو؟

اسنے چٹکی بجائی تبھی اسکی نظر سامنے کھلے نل پر پڑی تو اسے ٹوکتا ہوا اسے بند کرنے بڑھ گیا 

کیا لاپرواہی ہے آمنہ فل ٹونٹی کھلی ہویی تھی ابھی سارا پانی بہہ جاتا ٹنکی خالی ہوجاتی 

اسکے کہنے پر آمنہ نے مڑ کر دیکھا تو ٹونٹی واقعی کھلی ہی تھی 

آمنہ حیران رہ گئی پانی گرنے کی آواز کافی تھی 

مگر میں نے تو .. یہ تو بند تھی 

سجاد اسکے گھبرانے پر مسکرا دیا 

ڈھیلی ہوگی ہوگی کافی عرصے سے تو بند ہے یہ مکان ہاں کل ٹنکی صاف کروا کر بھروائی ہے میں نے کافی بڑی ہے 

کہتے ہوئے اسکی ٹرے سے سجاد نے دونوں کپ اٹھا لئے اور کچن کی بتی بجھاتا اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے آیا چائے سائیڈ میز پر رکھ دی آمنہ بے دھیانی میں خالی ٹرے اٹھائیے چلی آئ تھی

چلو چائیے پیئیں 

یہ چاہیے کا رنگ تھوڑا عجیب سا نہیں ہے 

چائے کا کپ اٹھا کر وہ حیرت سے بولا آمنہ نے آگے بڑھ کر چائے دیکھی تو واقعی رنگ عجیب مٹیالا سا سرخی مائل تھا 

سجاد نے چائے چکھی پھر برا سا منہ بنایابہت بد مزہ چائے ہے لگتا ہے یہاں کا دودھ ٹھیک نہیں کل سے ڈبے کا دودھ لیکر آئوں گا ۔۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔

کپ میز پر رکھتے ہوئے وہ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔

بے دھیانی سے بیڈ پر بیٹھتے آمنہ  نے ٹرے کی جانب نگاہ کی تو ٹرے کے خوش رنگ پھولوں پر گری ہوئی چائے اتنی خونی رنگ کی تھئ کہ جیسے ٹرے پر خون ہی گرا ہوا ہو۔ اس نے گھبرا کر ٹرے بیڈ پر رکھ دی ۔تھوڑا دور ہٹ کر بیٹھئ۔ پھرڈرتے ڈرتے ٹرے کو دوبارہ دیکھا تو ٹرے پر چائے بھی نہیں گری ہوئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح حسب معمول خوشگوار تھی۔ انہیں کراچی کی نسبت یہاں کا معتدل موسم بے حد اچھا لگ رہا تھا۔ آمنہ صبح اٹھ کر باہر صحن میں ہی ٹہلتی رہی تھی۔ صحن کے بیچوں بیچ بڑا سا گھنا درخت اس پر لٹکتا جھولا ۔۔ اس کو بچپن ہی یاد آگیا کافی دیر اس جھولے پر جھولتے اسے کافی سرور ملا تھا ۔۔ سجاد کے اٹھنے کا وقت ہوا تو جلدی جلدی ناشتہ بنا کر میز جھاڑ کر سجا دی۔ آملیٹ پراٹھے بھاپ اڑاتی گرم گرم چائے اور مسکراتی ہوئی تازہ دم سی دکھائی دیتی آمنہ۔ سجاد کا موڈ بھی ایکدم سے اچھا ہو گیا تھا۔۔ 

گرم گرم پراٹھے کا نوالہ توڑ کر منہ میں رکھا ۔۔ اسکے اتائولے پن پر آمنہ ہنس دی۔ پھر نخرے بھرے انداز میں بولی۔۔ 

جلدی آجائیئے گا میں اکیلی اتنا بڑا گھر ۔ وقت بھی نہیں گزرے گا میرا۔۔

اسکے انداز پر سجاد مسکرا دیا پھر تسلی دینے والے انداز میں بولا

یار پہلا دن ہے دفتر کا نا جانے باس کیسا ہو آج کا تو وعدہ  نہیں کر سکتا تم ایسا کرو گھر کی صفائی وغیرہ کر لو کافی دھول مٹی ہے کھانا باہر سے آرڈر کر لینا اور پھر بھی وقت نہ گزرے تو آس پڑوس میں چلی جانا۔۔۔ 

پھر خیال آیا تو منع بھی کرنے لگا

یہ بائیں جانب والے گھر تو بالکل مت جانا کل جو انکل آئے تھے نا وہیں سے آئے تھے بہت عجیب سے تھے ایویں فالتو باتوں کا وہم ڈال دیں گے۔۔

آمنہ اسکے پھا پھا کٹنیوں والے انداز پر کھلکھلا دی۔

بالکل پھاپھا کٹنی کی طرح کہا ہے۔ ویسے کیا کہہ رہے تھے ایسا ؟ مجھے تو ڈرے ہوئے لگے تھے جیسے ہم دونوں بھوت ہوں 

آمنہ ہنسی

سجاد نے ایک نظر اسکے متبسم چہرے پر ڈالی پھر سر جھٹک دیا

بس الٹی سیدھی باتیں کر رہے تھے۔وہی جو بھٹی صاحب نے قصہ سنایا تھاکہ یہاں بچی رہتئ تھی وہ گھر سے بھاگ گئ تو گھر والوں نے مشہور کر دیا کہ اسے ہوائی مخلوق لے گئ ہے۔

آمنہ نے چائے کا گھونٹ بھرا پھر تاسف سے کہنے لگی

بے چارے بدنامی سے بچنے کو اور کیا کہتے آجکل تو بچے کیبل دیکھ کر آپے سے ہی باہر ہو گئے ہیں ایک ہم تھے بابا نے جب تک بڑے نہ ہوگئے گھر میں ڈش کیبل لگوا کر نہ دیا

۔

سجاد نے ناشتہ ختم کر کے ساتھ رکھا لیپ ٹاپ بیگ اٹھا کر کندھے سے لٹکایا اور اٹھ کھڑا ہوا 

ہاں بس یہی حالات ہیں چلو میں چلتا ہوں کوشش کروں گا کہ جلدی آجائوں تم گھر فون کر لینا امی کو یاد سے اور پریشان نہ ہونا دل گھبرائے تو ۔۔ 

اس نے شرارت بھرے انداز میں مسکرا کو چھیڑا

اپنی اس موٹی سہیلی کو فون ملا لینا۔۔ 

ثمیرہ نام ہے اسکا ۔ موٹی مت کہا کریں

حسب توقع وہ بھنا کر چیخی ۔

سجاد زور سے ہنسا تو اسے بھی ہنسی آگئ ۔سجاد گاڑی نکال کر اسے ہاتھ ہلاتا گیا تو وہ احتیاط سے گیٹ بند کر کے صحن میں چلی آئی۔ ارد گرد دو تین منزلہ گھروں کی وجہ سے دھوپ بس اوپری دیوار تک ہی آرہی تھی ۔ اس نے اس خنک ماحول کو گہری سانس بھر کے اپنے اندر جزب کیا پھر بڑے شوق سے دوبارہ جھولے پر جا بیٹھی۔۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکی سردی سے آنکھ کھلی  تھئ۔ جھر جھری لیکر وہ سیدھی ہوئی تو بیڈ پر لیٹی تھی۔۔ اس نے سر کھجایا۔۔ جانے کب وہ آکر یوں بے خبر سو گئ۔۔ سامنے وال کلاک پر نگاہ گئ تو شام کے 7 بج رہے تھے۔۔ 

وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ بیٹھی۔۔ 

کھانا منگوانا تو اب ممکن نہیں تھا ۔ گروسری کا سامان تو دو دن پہلے سے سجاد نے لا رکھا تھا۔۔ وہ خود ہی کچھ پکانے کا ارادہ کرکے کچن میں چلی آئی۔ سجاد کو بڑا گوشت پسند تھا ۔ آلو بھی رکھے تھے وہ آلو گوشت ہی بنانے لگی۔۔ 

آمنہ۔۔ سجاد نے کافی اونچی آواز لگائی تھی۔۔ 

جی۔ وہ لمحے بھر کا توقف کیئے بنا ہی جواب دے گئ۔۔ پھر ٹھٹک سی گئ۔۔ یہ کب آئے۔۔ وہ حیران سی ہو کر چولہا دھیما کرتی باورچئ خانے سے باہر نکل آئی۔۔ لائونج خالی پڑا تھا۔۔ 

سجاد۔ اس نے پکارا مگر جواب ندارد تھا۔۔ وہ لائونج کے دروازے پر آئی تووہ بھی اندر سے لاکڈ تھا۔۔ 

سجاد۔ اگر آپ مزاق کر رہے تو بھونڈا مزاق ہے یہ۔۔ 

وہ گھبرا سی گئ تھی۔۔ 

آپ آگئے ہیں جلدی؟

کمرے کے کھلے دروازے سے اسے تیزی سے کوئی گزرتا دکھائی دیا۔۔ 

ایک تو یہ بچپنا نہیں چھوٹے گا۔ پتہ ہے میں اکیلے میں گھبراتی ہوں پھر بھی تنگ کرنا ہے مجھے۔۔ ہونہہ۔  

وہ بڑ بڑاتی ہوئی کمرے کی جانب بڑھی تبھی بڑے زور سے دستک ہوئی لائونج کے دروازے پر۔۔ 

وہ کمرے میں جانے کا ارادہ ملتوی کرتی ہوئی لائونج کا دروازہ کھولنے چلی آئی۔ایک پیاری سی تیرہ چودہ سال کی بچی سر پر دوپٹہ رکھے ہاتھ میں  کھانے کی ٹرے لیئے کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر ادب سے سلام کیا

اسلام و علیکم میرا نام مریم ہے یہ ساتھ والے گھر سے آئی ہوں وہ آپکا مین گیٹ کھلا تھا تو اندر چلی آئی۔ یہ امی نے بھجوایا ہے۔۔ 

اس نے ٹرے آگے بڑھائی۔۔ 

وعلیکم السلام کوئی بات نہیں آئو اندر تو آئو میں آمنہ ہوں۔ 

آمنہ نے بھی گرمجوشی سے اسے دعوت دی۔ گرم گرم بریانی وہ بھی بھر کر۔  وہ دل ہی دل میں انکے اخلاق کی قائل ہوئی۔۔ 

نہیں بس وہ برتن دے دیں میں یہیں ٹھیک ہوں۔

لڑکی جانے کیوں سراسیمہ سی ہوگئ۔ 

ہاں دیتی ہوں برتن اندر تو آجائو میں تمہیں آئسکریم کھلاتی ہوں 

اس نے لالچ دیا۔

نہیں آپی وہ بابا منع کرتے ہیں مجھے یہاں آنے کو۔ابھی بھائی گھر میں نہیں تھا تو امی نے مجھے بھیج دیا مگر بابا کو پتہ لگا تو ڈانٹیں گے مجھے آپ بس برتن لا دیں میں یہیں ہوں۔

وہ ہتھیلیاں مسلتی گھبرائی سی لگ رہی تھی۔ آمنہ نے پھر اصرار نہیں کیا۔پلٹنے ہی لگی تھی کہ مریم کی گھبرائی سی آواز آئی۔ 

آپی آپکے کچن سے دھواں اٹھ رہا ہے آگ تو نہیں لگ گئ۔ 

مریم کے کہنے پر اس نے مڑ کر دیکھا تو واقعی کافی دھواں اٹھ رہا تھاوہ ٹرے اٹھائے بھاگتی ہوئی کچن میں آئی تو دیکھا ہنڈیا کے نیچے آنچ پوری تھی۔پوری ہنڈیا جل چکی تھی۔مریم بھی اسکے پیچھے چلی آئی۔ ٹرے کائونٹر پر ٹکا کر کھانستے ہوئے آمنہ نے ایگزاسٹ فین چلایا چولہا بند کیا پچھلے صحن کا دروازہ کھولا۔

دھواں بہت ذیادہ تھا اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔ 

دھوئیں دھوئیں میں اچانک آمنہ سرخ سرخ آنکھوں کے ساتھ پلٹ کر مریم کو دیکھ کر غرائئ

کہا تھا نا تمہیں یہاں مت آنا۔۔ سمجھ نہیں آتی میری بات۔۔ 

مریم گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی۔ 

آپ۔ آپ نے ہی تو بلایا۔۔ وہ خوف کے مارے پیلی پڑ گئ تھی۔ 

جائو نکلو یہاں سے دوبارہ مت آنا یہاں سمجھیں۔۔ 

آمنہ حلق کے بل چلائی۔۔ تھر تھر کانپتی مریم الٹے سیدھے قدم اٹھاتئ باہر بھاگی۔۔

اف کیسی غلطی ہوئی سارا کھانا جل گیا۔ بروقت آئی ہو تم بھئ۔ اب ہم دونوں میاں بیوی یہی کھائیں گے۔۔ 

خوشگوار انداز میں کہتی وہ مڑی تو مریم وہاں نہیں تھی۔ دھواں چھٹ چکا تھا وہ حیران ہو کر کچن سے نکلی تو مریم کو بھاگتے ہوئے لائونج کے دروازے سے نکلتے دیکھا 

ارے کیا ہوا۔۔ مریم۔۔ برتن تو لیتی جائو۔  

اسکی آواز سن کر مریم نے بنا مڑے اور تیزی سے دوڑ لگا دی تھی۔گیراج کے کھلے دروازے سے سجاد گاڑی اندر کر رہا تھا مریم گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی مگر رکی نہیں باہر بھاگ گئ۔سجاد حیران سا گاڑی پارک کر کے باہر نکلا۔ 

آمنہ بھی حیران سی لائونج کے دروازے پر کھڑی اسکی پھرتی دیکھ کر رہ گئ۔ 

تم کیا اس بچی کو مار رہی تھیں۔ اتنا کیوں گھبرائی ہوئی ہے؟

آمنہ خود اچنبھے میں تھی۔

 پتہ نہیں کیا ہوا اسے بریانی لیکر آئی تھی۔اس سے باتوں میں لگ کر میری ہنڈیا جل گئ شائد دھواں دیکھ کر گھبرا گئ۔۔

آمنہ نے تفصیل سے بتایا تو سجاد ہنس پڑا

یعنی ہم اب باہر ڈنر کریں گے۔کھانا ہی جلا دیا تم نے 

اس نے چھیڑا تو آمنہ اسکا بیگ لیکر بتانے لگی 

نہیں کافی ساری بریانی بھجوائی ہے پڑوسیوں نے ہم دونوں آرام سے کھا لیں گے۔

دونوں باتیں کرتے اندر چلے آئے۔ 

اور کیسا گزرا دن میرے بن 

سجاد گنگنایا۔۔ 

آمنہ کھلکھلا دی

بہت اچھا۔۔ صفائی وفائی کچھ نہیں کی بس آرام سے جھولا جھولتی رہی پھر سوگئ۔۔ 

آمنہ کا رخ کچن کی جانب تھا۔ سجاد نے مسکراتی نظروں سے لائونج کو دیکھا کل کی نسبت آج چمک رہا تھا ۔۔ 

جھولا کہاں جھولتی رہیں۔ 

اسے یہی لگا مزاق کر رہی ہے۔ 

وہ جو صحن میں لگا ہے درخت کے نیچے۔ وہ مصروف سے انداز میں کہہ کر کچن میں چلی گئ۔ 

وہ مڑ کر دروازہ بند کرنے لگا تو صحن کا منظر واضح تھا۔۔ 

صاف ستھرا پکا فرش۔ وہاں نہ کوئی درخت تھا نہ جھولا۔۔

وہ مسکرا دیا۔۔ یقینا سارا دن کام کرنے کے بعد اب وہ طنز کر رہی تھی۔ اس نے سر جھٹکا اور دروازہ بند کرنے لگا۔۔ 

طنز کر رہی ہو آمنہ۔ آج میری بیگم نے بہت کام کیا سو آج رات کو میں اپنے ہاتھوں سے کافی بنا کر پلائوں گا۔۔ 

کچن میں بریانی کو پلیٹوں میں نکالتی آمنہ ٹھٹکی

سجاد تو ابھی میرے سامنے اندر آئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ملگجے سے اندھیرے میں جھولا جھول رہی تھی۔

اسے یاد نہیں تھا کہ وہ صبح صبح یہاں آئی تھی یا رات کو۔ 

اچانک اسکی پینگ اونچی ہونے لگی۔

وہ ڈرنے سی لگی۔ اوپر بہت اوپر جاتی نیچے آتی تو ایک چودہ پندرہ سال کی لڑکی گھورتی نظر آتی۔

ایک چکر پر نظر آتی دوسرے پر نہیں۔

اس نے چیخنا شروع کردیا۔ جھوکا آہستہ ہوا وہ اچھل کر کود گئ۔۔ گھٹنے چھل گئے وہ گھٹنا سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی

وہی لڑکی عین سامنے کھڑی تھی

کیوں آئی ہو یہاں۔۔ چلی جائو ۔۔ سمجھیں جائو یہاں سے۔۔ ورنہ یہیں رہ جائوگئ۔۔ 

سمجھ رہی ہو میری بات؟۔۔۔

وہ عجیب بھرائی آواز میں چلا رہی تھی۔۔ یوں جیسے اسکا گلا بیٹھا ہو ۔۔ 

آمنہ خوفزدہ ہو کر پیچھے ہوئی۔۔

وہ لڑکی بدستور چلا رہی تھی وہ ڈر کر پیچھے ہٹی وہ لڑکی ایکدم یوں چپ ہوئی جیسے اسے نجانے کیا نظر آرہا ہو آمنہ کے عقب میں۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے سجاد کھڑا تھا ۔۔وہ دوڑ کر اس سے لپٹ گئ تو وہ لڑکی جیسے ہوش میں آکر چلائی

دور ہو جائو اس سے

یہ لے جائے گا ساتھ سن رہی ہو تم میری بات

وہ سجاد سے لپٹ کر رو دی۔

سجاد نہ سمجھنے والے انداز میں اسے  اپنے ساتھ لگائے پوچھ رہا تھا

کیا ہوا آمنہ اتنی خوفزدہ کیوں ہو؟ 

سجاد وہ وہ لڑکی۔ اس نے مڑ کر اشارہ کیا تو اب وہاں کوئی نہ تھا۔ 

تم اتنی رات کو یہاں کیا کر رہی ہو؟ 

چلو اندر۔  وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اندر لایا تھا۔  

بیڈ پر بٹھاکر سائیڈ لیمپ جلایا جگ سے پانی نکال کر اسے دیا۔ وہ پسینے پسینے ہو رہی تھی گلا بے حد خشک ہو رہا تھا ایک ہی سانس میں وہ سارا پانی پی گئ۔۔ 

وہ وہ لڑکی تھی باہر جھولا جھول رہی تھی میں تو وہ۔۔ 

ٹوٹے پھوٹے انداز میں اس نے بتانا چاہا تو سجاد مسکرا کر ٹال گیا۔۔ 

رات کے تین بجے صحن میں جھولا جھولو گی تو کچھ الٹی سیدھی مخلوق ہی نظر آئے گی نا؟ 

آمنہ اسکی بات پر چونک کر وال کلاک دیکھنے لگی تین بج کر پانچ منٹ ہو رہے تھے۔۔ 

مگر میں تو ۔۔ اسے جانے کیوں یاد نہیں آرہا تھا وہ کب صحن میں گئ۔ وہ تو گیارہ بجے بستر پر سونے لیٹی تھی۔۔ 

اسکی پیشانی الجھن بھری لکیروں سے بھر گئ۔ 

چلو سو جائو۔  سجاد نے اسے زبردستی لٹا دیا۔ شل زہن کے ساتھ وہ لیٹتے ہی غنودہ ہونے لگی۔ وہ اسکا شانہ تھپک کر چادر اڑھا رہا تھا جب باتھ روم کا دروازہ کھلا ۔۔ سجاد تولیہ سے ہاتھ پونچھتا ہوا آیا ۔۔آمنہ کا بازو بستر سے لٹک رہا تھا اس نے آگے بڑھ کر اسکا بازو سیدھا کیا۔۔ غنودہ زہن میں بھی اسے یہ احساس ہوا تھا کہ یہ لمس مانوس ہے مگر اس سے پہلے والا۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سجاد کو حسب عادت سی آف کرنے گیٹ تک آئی سجاد گاڑی میں بیٹھ رہا تھا جب آمنہ کی نظر صحن پر پڑی۔گاڑی اسٹارٹ کرتے سجاد کو یاد آیا۔ 

اچھا سنو میں دفتر سے لنچ بریک میں اٹھ کر باری کو لینے چلا جائوں گا تم کھانا تیار رکھ لینا ہم اکٹھے دوپہر کا کھانا کھائیں گے۔ 

آمنہ ایک ٹک صحن پر نگاہ جمائے تھی۔ 

اسکی بے توجہی محسوس کرے وہ پھر بولا۔ 

سن رہی ہو۔۔ 

آمنہ چونکی۔پھر پسنجر سیٹ سے اندر جھانک کر بتانے لگی

سجاد رات کو بڑا عجیب خواب دیکھا میں نے۔ اس درخت کے جھولے پر میں  بیٹھی تھی کہ ایک لڑکی آئی مجھے کہنے لگی بھاگ جائو ورنہ وہ تمہیں ساتھ لے جائے گا۔

آمنہ پریشان تھی۔ سجاد نے الجھن سے دیکھا صحن میں تو کوئی درخت نہیں تھا۔ مگر وہ اسے پریشان کیا کرتا خواب میں تو کچھ بھی نظر آتا ہے۔ 

خواب سے ڈر رہی ہو پاگل لاحول پڑھنا تھا۔ خواب میں تو کچھ بھئ نظر آسکتا اور اسکے بارے میں زیادہ سوچتے بھی نہیں ۔ کل نماز نہیں پڑھئ تھی کیا؟ 

اسکے پوچھنے پر اس نے شرمندگی سے نفی میں سر ہلایا۔  

سجاد نے تاسف سے دیکھا آمنہ کا منہ اترا ہوا تھا آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں اسے ترس آگیا۔ سو  بہلانے والے انداز میں بولا۔۔ 

آج ضرور پڑھنا۔ آیت الکرسی پڑھ کر پھونک لو خود پر۔ اور مجھے تو لگ رہا ہے تمہاری نیند بھی پوری نہیں ہوئی جائو سوجائو تھوڑی دیر۔ اٹھ کر کھانا بنا لینا بلکہ باری بھی فاسٹ فوڈ شوق سے کھاتا ہے میں باہر سے ہی کھانا لیکر آئوں گا۔ ٹھیک ہے۔

آمنہ چپ رہی سر ہلا دیا۔ سجاد نے گاڑی ریورس کی مسکرا کر خدا حافظ کہتے گاڑی نکال کر لے گیا۔ 

آمنہ گیٹ بند کرنے لگی تو ساتھ والے گھر سے زمان صاحب کو مریم کو سہارا دے کر ٹیکسی میں بٹھاتے دیکھ کر چونکی۔ مریم کے بال براق سفید ہو رہے تھے ۔۔ 

ابھی کل۔۔ وہ بری طرح چونکی۔۔ 

ایک ادھیڑ عمر عورت بھی انکے ساتھ تھی۔۔ 

اس نے مخاطب کرکے خیریت پوچھنا چاہی مگر وہ بے حد جلدی میں تھے تیزی سے بیٹھ کر چلے گئے۔  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔    

وہ کمرے میں آکر لیٹ گئ۔  آیت الکرسی پڑھ لوں۔ اس نے سوچا مگر اسکا ذہن اتنا غنودہ ہو چلا تھا کہ پڑھ نا سکی۔۔ 

بے خبر سوگئ۔۔ جانے کتنی دیر سوئی ہوگی جب اسے کچھ آوازیں سنائی دیں۔جیسے بچے کھیل رہے ہوں۔ 

شور اتنا ذیادہ تھا کہ اسکی آنکھ کھل گئ۔ کمرے میں شدید گھٹن تھی۔ اسکا حلق بھی خشک ہو رہا تھا۔۔ وہ سن سے ذہن کے ساتھ جیسے کسی ٹرانس میں اٹھی اٹھ کر کھڑکی سے پردہ ہٹایا باہر جھانکا تو کچھ بچے کھیل رہے تھے فٹ بال اچھالتے ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھےایک بچی جھولا جھول رہی تھی۔ اس نے آنکھیں مسل کر دیکھا تو مریم تھی۔ مریم نے مڑ کر اسے دیکھا پھر خوشدلی ہاتھ ہلا کر اسے بھی بلانے لگی ۔ وہ مسکرا دی۔ 

شکر ہے اب طبیعت ٹھیک ہے اسکی۔ 

اسے صبح واقعی فکر ہوئی تھی۔ 

آج بھی گیٹ کھلا رہ گیا کیا جو یہ بچے اندر چلے آئے۔وہ باآواز بلند سوچتی کھڑکی بند کرکے مڑی تو سامنے وہی خواب والی لڑکی کھڑی کینہ توز نظروں سے گھور رہی تھی۔

آمنہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی۔ وہ لڑکی دو قدم آگے بڑھ کر غرائی

سمجھ نہیں آتی بات تمہیں۔ کہا تھا نا بھاگ جائو وہ لے جائے گا تمہیں بھی۔  اٹھو جائو نہائو نماز پڑھو

وہ آگے بڑھی تو آمنہ پیچھے ہٹتی لڑکھڑا کر گر بھی گئ۔۔ 

اٹھو۔۔ وہ اگے بڑھ کر ہاتھ بڑھا رہی تھی۔خوف کے مارے آمنہ کی آواز بند ہونے لگی۔تبھی اسے سجاد نے پکارا دھیمی سی آواز مگر کہیں قریب سے ہی

آمنہ۔۔

سجاد۔ وہ آواز پہچان کر قوت سے چلائی۔۔ 

آمنہ باہر آئو۔ جلدی

۔ سجاد کا انداز عجلت بھرا تھا۔۔

لڑکی کے چہرے پر خوف سا در آیا۔

مت جواب دو مت جائو رک جائو۔۔ 

وہ کہہ رہی تھی آمنہ نے ساری ہمت مجتمع کی اور بھاگ کھڑی ہوئی

سجاد لائونج کے دروازے پر کھڑا تھا   

آمنہ ہانپتی کانپتی اسکی جانب بڑھی تبھی لڑکی ایکدم اسکے سامنے آگئ۔  

رک جائو مت جائو میرے ساتھ اندر چلو۔۔

آمنہ اسے دیکھ کر دہشت زدہ رہ گئ۔۔ 

آئو آمنہ۔۔ سجاد نے پھر پکارا ۔ آمنہ لڑکی کے پاس سے ہو کر باہر بھاگی سجاد اب دروازے پر نہیں تھا۔ وہ بھاگتی باہر آئی تو صحن سنسان پڑا تھا۔نہ بچے تھے نہ مریم۔ سجاد گھبرایا ہوا گیٹ کے پاس بے چینی سے کھڑا باہر جھانک رہا تھا وہ بھاگ کر اسکے پاس آگئ۔سجاد نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔  گھبراہٹ کے مارے اسکی حالت بری تھی۔مڑ کر دیکھا تو وہ لڑکی لائونج کے دروازے پر کھڑی گھور رہی تھی۔ 

تم ٹھیک کہہ رہی تھیں آمنہ یہ لڑکی یہیں رہتی ہے۔ یہ گھر ٹھیک نہیں ہمیں فورا یہاں سے نکلنا چاہیئے۔ 

سجاد کا انداز عجلت بھرا تھا آمنہ نے سجاد کا ہاتھ تھاما اور اسکے ساتھ گھر سے باہر نکل گئ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دروازہ کھلا باری نے دونوں گیٹ پٹ کھولے سجاد نے دھیرے سے گاڑی اندر کی باری اتنے میں گھوم کر گھر کر جائزہ لینے لگا۔۔ 

سجاد گاڑی کی بیک سیٹ سے کھانے پینے کا سامان نکالنے لگا

سجاد بھائی گھر تو شاندار ہے پرانی فلموں میں ہوتا ہے ایسا گھر آپی بتا رہی تھیں جھولا بھی ڈال رکھا ہے۔ کل جب بات ہوئی تو جھولا ہی جھول رہی تھیں۔

جھولا کہاں ڈل سکتا ہے ؟ ہاں اگر تمہاری آپی کو بہت شوق ہے تو اسٹینڈ والا جھولا ڈال لیں گے صحن میں جگہ تو کافی ہے ۔۔

سجاد نے کہا تو وہ منہ بناتے بولا

پچھلے صحن کی بات کر رہی ہوںگی پھربتا رہی تھیں درخت کے نیچے جھولا ڈال رکھا ہے ۔آپی نے کل وعدہ لیا مجھ سے 

کہ انکو پینگ دینے کی ذمہ داری ہے میری۔۔

اسکی بات پر سجاد نے ٹھٹک کر دیکھا۔۔مگر بولا کچھ نہیں

چلو اندر چلیں صبح ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کیا آمنہ نے خوب بھوکی ہو رہی ہوگی۔۔ 

آمنہ۔ سجاد پکارتا اندر کی جانب بڑھا تو باری نے بھی پیروی کی۔

صحن میں لگے درخت کے نیچے جھولا جھولتی آمنہ بے تاثر چہرے کے ساتھ ان دونوں کو دیکھتی رہی۔ پھر پینگ لینے لگی۔۔

آمنہ آمنہ۔  کہاں ہو۔۔ سجاد پکار رہا تھا

آپی آپی۔۔ باری بھی اسے ایک ایک کمرے میں ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔۔

پہلے آرام سے ہھر پریشانی سے دونوں چیخ چیخ کر پکارنے لگے تھے۔۔۔ 

آمنہ کی پینگ اونچی سے اونچی ہوتی چلی جارہی تھی۔

اندر دونوں نفوس دیوانہ وار پکار رہے تھے۔ آمنہ کا فون بج رہا تھا۔۔

اندر کمروں کے دروازے کھل بند ہو رہے تھے۔۔ 

آمنہ نے اونچی سی پینگ لی آخر میں جھولا خالی واپس آیا تھا۔۔۔

ختم شد۔۔   

    

https://urduz.pk/kafan-posh-murday-seerhion-per-thay-sachi-daroni-aap-beeti
kafan posh murday dekhay sachi aap beetian perhiyay
https://urduz.pk/ajeeb-ul-khalqat-wajood-darwazay-per-khara-thasachi-daraoni-aap-beetimaryam-faisal

Mungtay (maangnay walay) urdu suspense afsana about graveyard (qabrustan)

منگتے۔۔۔ 


جھٹپٹے کا وقت۔ اندھیرا برق رفتاری سے اپنے پر پھیلا رہا تھا ۔شہر خموشاں میں مہیب چپ طاری تھی ۔ پر

دور کہیں ایک نوجوان ایک قبر پر بے سدھ اوندھا پڑا تھا۔ دور کہیں کتے بھونکے تھے ۔ سناٹے نے ناگواری سے اس آواز کے منبع کو گھورا ۔ بے ہوش 
پڑے انسان کے کان پر جوں تک نہ رینگی تھی
قریبی مسجد سے مولوی نے گلا کھنکھار کر اذان دینا شروع کی۔
اللہ و اکبر ۔مدہوش پڑے جسم میں یوں حرکت ہوئی جیسے خدا کے نام سے سوکھے تنوں میں جان پڑگئ۔ گہری سانس لیکر عابد اٹھ کھڑا ہوا ۔
ایک اور دن تمام ہوا۔ اسکی توانائی اتنی سی بڑبڑاہٹ میں پوری ہو چلی۔ اس نے گہری سانس لیکر اپنی تمام تر ہمت مجتمع کی ۔اور پوری جان لگا کر پکار بیٹھا۔۔ 
کوئی ہے جو مجھ پر رحم کرے۔۔۔ ؟؟؟

کلمہ شہادت۔۔ 
کسی نے اونچی آواز میں پکارا۔ جنازہ اٹھائے لوگوں کا ایک گروہ چلا آرہا تھا۔ غمگین چہرے بھرائی آواز میں کلمہ شہادت دھراتے ۔دور تازہ کھدی قبر بنانا گورکن ہوشیار ہوا۔ پھائوڑا رکھ کر مئودب ہو کر کھڑا ہوگیا۔  ہر آتا جنازہ اسے دنیا کے فانی ہونے کا احساس دلاتا تھا۔ ایک دن یہیں کوئی اور کھڑا میری قبر کھود رہا ہوگا۔ خیال زور آور تھا۔ خوفناک بھی۔ پہلو بدل کر گورکن  نے اپنی سوچوں سے پیچھا چھڑانا چاہا۔لوگوں نے۔ جنازہ قبر کے قریب لاکر احتیاط سے رکھا۔ اور دفنانے کی تیاری کرنے لگے۔

عابد ان سب پر نظر جمائے ایسا ہی ایک وقت یاد کر رہا تھاجب اسکی نظر لوگوں سے کچھ دور ہٹ کر کھڑے شخص پر پڑی۔ ملول اداس سا وہ جنازے پر نظر جمائے کھڑا تھا۔عابد اسکے پاس چلا آیا اسکے قریب جا کر کندھے پر ہاتھ رکھا تب جاکے وہ چونکا
عابد نے دوستانہ انداز میں دیکھتے ہوئے مصافحے کو ہاتھ بڑھایا۔ 
اسلام و علیکم کیا حال ہے؟ میرا نام عابد ہے اور آپکا؟۔۔
جہانگیر بے ساختہ ہنس دیا۔اسکی ہنسی میں کاٹ سی تھی۔ 
سلامتی بھیج رہے ہو؟ اب مجھے ضرورت نہیں ۔۔ جہانگیر کہتے ہیں مجھے۔ عابد مسکرا دیا۔ ہر نفس سلامت رہتا ہے کبھی قبرستان کے پاس سے گزرتے بھی زی نفسوں کو سلام کیا جاتا ہے اسلام و علیک یا اہل قبور۔۔ اور وہ جواب دیتے ہیں۔۔ 
جہانگیر زندوں اور مردوں کی اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔ بائیں ٹانگ پر جسم کا بوجھ ڈالتا پہلو بدل کر یونہی بیزاری سے جنازہ دفن ہوتے دیکھتا رہا۔اسکے روکھے پھیکے انداز پر عابد کافی حیران ہوا۔اسکی توانائیاں بحال ہوئی تھیں مگر بہت زیادہ نہیں سو وہیں تھک کر ایک قبر پر بیٹھ گیا دونوں بازو گھٹنوں پر ٹکائے ۔خود بھی جنازے پر نگاہ جما دی۔۔ 
چند لمحے گزرے ہونگے اسے خیال آیا تو رخ موڑ کر جہانگیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
تمہیں مجھ سے کچھ پوچھنا نہیں ہے؟
عابد کے کہنے پر جہانگیر نے ایک نظر اسے دیکھا پھر خود بھی جیسے کھڑا کھڑا تھک چکا تھا آکر اسی کے برابر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔
اب مجھے کچھ جاننے کی احتیاج نہیں ہاں بتانے کی خواہش ہے زمان و مکاں کی حیثیت قدر قیمت سب بتائوں گا کوئی پوچھے تو سہی۔
اسکی بات پر عابد قہقہہ لگا کر ہنسا تو ہنستا ہی چلا گیا۔” کوئی کچھ نہیں جاننا چاہتا ہے نہ پوچھنا چاہتا ہے اسی خواہش میں میں بھی روز اس قبرستان کا چکر لگاتا ہوں مگر لوگ خود تجربہ کرکے جاننا چاہتے ہیں نہ ہم سے پوچھتے ہیں نہ دیکھ کر عبرت لیتے ہیں۔
ہنستے ہنستے رک کر وہ بہت سنجیدگی سے کہتا کہتا رنجیدہ ہوچلا تھا۔۔جنازہ دفن ہو چکا تھا قبر کی مٹی برابر کر دی گئ تھی لوگ پلٹنے لگے تھے ایک شخص قبر سے لپٹ کر بیٹھ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔چند لوگ دلاسے کو آگے بڑھے کسی نے کندھے پر ہاتھ رکھا کوئی گلے سے لگانے لگا۔صبر کرو جو اللہ کو منظور۔ 
یقینا اسکا مرنے والے سے قلبی رشتہ تھا عابد نے تجسس سے مغلوب ہو کر جہانگیر کوٹہوکا دیا۔
یہ کون ہے؟لگتا ہے اسے بہت صدمہ ہوا ہے۔
جہانگیر نے متاثر نہ ہونے والے انداز میں سر جھٹکا ۔چھوٹا بھائی ہے میرا۔ تین سال سے ہماری بول چال بند ہے۔ جائداد کی تقسیم پر اس نے مجھ پر حق سے زیادہ غصب کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اب ایسےرو رہا ہے جیسے۔۔ 
بولتے بولتے جہانگیر کے دل سے ہوک سی اٹھی جملہ ادھورا چھٹا آنسو گالوں پر ڈھلک آئے۔عابد نے سمجھ کر دلاسادینے والے انداز میں اسکے کندھے پر تھپکی دی۔ 
یہی تو خون کی کشش ہوتی ہے ماں جائے کو تکلیف پہنچتی ہے تو دل تڑپ اٹھتا ہے ۔ تین سال پہلے میرا بھائی مجھ سے ملنے آیا تھاٹانگ پر پلستر تھا بیساکھی اور بھتیجے کے سہارے آیاتھا۔  اسے دیکھ کر تڑپ اٹھاتھا میں ضرورت کیا تھی اسے اتنی صعوبت جھیلنے کی مگر مجھے بھولا نہیں خود تکلیلف میں مگر مجھ سے ملنے آیا۔ اتنی محبت کرتا ہے مجھ سے
اسکے انداز میں کہتے کہتے تفاخر عود آیا آنکھوں میں وہ منظر یوں تازہ تھا جیسے کل کی بات ہو۔جہانگیر کو اچنبھا ہوا۔
تین سال؟ تین سال سے تم سے ملنے تمہارا بھائی بھتیجا وغیرہ نہیں آئے اور تم کہتے ہو وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔۔ 
عابد اسکی حیرانی پر مسکرا اٹھا۔۔
محبت نہ کرتا تو یوں بیمار حال ملنے آتا مجھ سے؟ ہاں مصروف زندگی ہونگے زندگی کتنی تو تیز رفتار ہے کہاں روز روز پیچھے چھٹ جانے والوں کا خیال آتا ہے۔ کبھی کبھی آجائے بہت ہے۔مرنے والوں کو تووقت ٹھہرا ہے یا تیز چل رہا ہے کیا پتہ۔۔
جہانگیر ابھی بھی ماننے کو تیار نہ ہوا۔
پھر بھی تین سال بڑی مدت ہوتی ہے۔عابد اسکی حیرانی سمجھ رہا تھا یہ وہ منزل ہے جہاں حیرانیاں ہی حیرانیاں منتظر ملتی ہیں سمیٹے جائو۔۔ مگر بولا تو بس اتنا “انکیلئے۔۔ ہمارے لیئے تو پلک جھپکنے جتنا وقت ہے”
جہانگیر نے خاموشی میں پناہ لی۔ دور روتے لوگوں میں اسکا بھائی نمایاں تھا ابھی بھی بلک رہا تھا۔ 
جہانگیر تلملایا۔ روئے جا رہا ہے سالا مرے گا پہلے ہی دل کا مریض ہے”
عابد نے پھر محظوظ قہقہہ لگایا۔ 
سہہ چکا یہ صدمہ اسکا دل۔۔ کوئی نہیں مرتا کسی کے لیئے۔البتہ تم اب تل تل مروگے ان لوگوں کو دیکھنے کیلئے بھی۔۔ جائو آخری بار دیکھ لو جی بھر کر کچھ تو اب دوبارہ کبھی نظر نہ آئیں گے۔
جہانگیر کے بھائی کو چند لوگ سہارا دے کر قبرستان سے باہر لے جا رہے تھے۔ 
ایسا نہیں ہو سکتا۔ 
جہانگیر کو اسکا قہقہہ اسکا انداز اسکے جملے سب ناگوار لگے مگر جانے اب اتنا غصہ وہ آگ وہ چڑ جو اسکی ذات کا خاصہ تھی زات کے کس کونے میں جا چھپی تھی۔ بولا تو انداز پر سکون سا تھا۔۔ 
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ بہن بھائیوں میں سب سے پہلی موت ہے میری دور و نزدیک سب ہی تو آئے ہیں۔مجھے دفنا کر اتنا رو رہے مجھے بھول تھوڑی جائیں گے۔ بہت وسیع حلقہ احباب ہے میرا سب رشتے دار نہیں تھے جو آئے میرے ہی کتنے دوست۔۔ 
جہانگیر کافی ہشاش بشاش اور ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا خود کو بولتے بولتے عابد کا  ستا ہوا چہرہ دیکھا تو چپ ہو رہا۔ وہ اسے جتانا تھوڑی چاہ رہا تھا یہ تو بس حقیقت بیان کی تھی اس نے۔۔۔ عابد اسے رشک بھری نگاہ سے  دیکھ رہا تھا۔ صاف شفاف آر پار دکھائی دیتی روح۔ حسد جلن جیسے جزبے تو موت کے ساتھ ہی مر چکے تھے۔ اب کیا مقابلہ کون کتنا چاہا جاتا کتنا دھتکارا جاتا۔ اب تو بس مٹھی بھر اعمال تھے جو زاد راہ تھے کسی کی ہتھیلی بھری کسی کی خالی جس کی بھری وہ سمیٹے ہتھیلی خالی ہونے کے خوف سے کانپتا خالی ہتھیلی والا بس صبر سے اپنوں کا انتظار کرتا کچھ دعائیں ڈال جائیں یہ منزل آسان ہو جائے۔
تمہاری پہلی رات ہے گھبرانا مت ۔ویسے خوش نصیب ہو جو اتنے ہشاش بشاش ہو لوگوں کی دعائیں  ساتھ ہیں۔ میں تو سڑک حادثے کا شکار ہوا تھا۔شناخت ممکن نہیں تھی۔ دو دن بعد گھروالوں کو اطلاع ہوئی تو میری لاش وصولنے آئے ۔عابد کا انداز ایسا تھا جیسے کسی اور کے بارے میں بتا رہا ہو۔ بے تاثر عام سا لہجہ۔ جہانگیر نے اسکی شکل پر دکھ تلاشنا چاہا مگر وہ مطمئن نظر آتا تھا۔۔ 
جہانگیر کو ترس پھر بھی آیا۔ 
کیسا بد نصیب ہے بے چارہ پہلے گھر والے لاش تک دیر سے پہنچے اب دفنا کے بھول چکے ہیں۔۔ 
عابد اسکی نظریں خود پر جمی دیکھ کر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ 
جہانگیر نے گڑبڑا کر موضوع بدلا
میں نے سنا ہے پہلی رات بہت مشکل ہوتی یے قبرستان میں؟ واقعی؟ تمہاری پہلی رات کیسی تھی؟
عابد گہری سانس لیکر کھڑا ہوگیا۔۔ 
قبرستان اب خالی ہو چکا تھا گورکن بھی اپنا پھائوڑا اٹھائے تیز تیز قدم اٹھاتا قبرستان سے نکل رہا تھا۔ ہر طرف دل کو دہلا دینے والی چپ کا راج تھا سناٹا اندھیرا۔۔ 
عابد نے چند لمحے سوچا۔۔ 
لفظوں میں کیا بیان ہو سکتی ہے اس دن کی وہ کیفیت؟ جہانگیر اب بھی منتظر نظروں سے دیکھ رہا تھا۔اس نے جملے ترتیب دیئے پھر ایک اور آہ بھر کے کہنے لگا۔
تنہا اکیلی اداس دہشت ناک اذیت ناک اپنوں سے دور اس اجاڑ بیابان میں تنگ اندھیری سی قبر کیسی ہو سکتی؟
اس نے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر جہانگیر کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
دس سال سے ہوں یہاں مگر آج تک پہلی رات نہیں بھولا جب یاد آئی پوری جزئیات کے ساتھ ایک ایک لمحے کی یاد  
وہ کہہ کر رکا نہیں ۔۔
جہانگیر کا رواں رواں ہمہ تن گوش تھا۔ ایک خوف کی اجنبی لہر نے پھریری سی دوڑا دی تھی۔ 
مگر یہ عابد۔۔ اس نے اب غور کیا۔ اسکی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی وہ بہت نحیف اور کمزور دکھائی دیتا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمان و مکاں انکیلئے کوئی اور ہی گھمن پھیریاں چلا رہا تھا۔ ایک دن گزرا مہینہ چالیسواں ہو گیا۔ عابد کی ایک بات سچ ثابت ہوئی سب نہیں آئے چالیسویں پر بھی کتنے ہی عزیز دوست اقارب وہ تلاشتا رہا۔ وہ نہیں آئے جن کا دکھ دیکھ کر لگتا تھا کہ شائد وہ غم کے مارے جلد اسکے پڑوس آبسیں گے۔ تو وہ وہ لوگ بھی آئے جن کے بارے میں گمان تھا کہ شائد جنازے پر خوشی سے شادیانے بجائیں گے۔ اتنے ملول نظر آئے کہ اپنے گمان پر پشیمانی ہونے لگی۔ مگر ابھی لوگ بھولے نہیں تھے اسے۔ جہانگیر اب بھی خوش تازہ دم دکھائی دیتا تھا۔ گالوں پر سرخی تھی۔ محبتوں سے مالا مال وہ جب عابد کو اپنی ہی قبر کا سہارہ لے کر اٹھتے دیکھتا چہرے پر نیرگی زمانہ کی دھول مٹی سے اٹے کپڑے پیلے زرد چہرے سے وہ نقاہت سے لڑکھڑاتا جب بھی جہانگیرسے نظر ملتی خوش دلی سے ہاتھ ہلاتا پھر بازو پکڑ کر وہیں بیٹھ رہتا۔ جہانگیر ترس بھری نگاہ سے دیکھتے پوری کوشش کرتا کہ جہانگیر انکو پڑھ نہ پائے مگر روح تو آئینے جیسی ہوتی ہے پردے کون ڈال سکتا بھلا چالیسویں کے بعد  لوگوں کا آنا کافی کم ہوگیا تھا۔ہاں ابھی وہ اپنوں کی دعائوں میں زندہ تھا۔۔سو خوش تھا۔۔ مگر کب تک؟۔وقت گزر رہا تھا اسکی توانائیاں کم ہونے لگی تھیں۔ اب وہ پہلے سا ہشاش بشاش نہیں رہا تھا۔ قبرستان میں لوگوں کی آمد جاری و ساری تھی مگر سب اجنبی شکلیں۔نئے آنے والوں تک جانےکی ہمت نہ رہی پڑوس میں تو سب جیسے مرےپڑے تھے۔پڑے تھے بھی یا کہیں اور کا راستہ ناپ چکے تھے۔ بس ایک قریب عابد ہی کھانستا نظر آجاتا تھا۔۔ یہی حال رہا تو جلد اسکا حال بھی عابد جیسا ہی ہوجانا تھا۔۔۔اس نے جھر جھری سی لی۔ اسے سردی سی محسوس ہو رہی تھی بلکہ سرد مہری ذیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ کسی ننھے بچے کی طرح خود کو سمیٹ سکیڑ کر قبر سے ٹیک لگائے اکڑوں سا بیٹھ رہا تبھی کوئئ اوکے پاس آکھڑا ہوا۔ اس نے دھیرے سے سر اٹھایا ۔ 
عابد تھا  آج تو جہانگیر سے بہتر حالوں میں  دکھائی دیتا تھا۔گرم چادر اوڑھے۔ 
سردی لگ رہی ہے؟۔
جہانگیر نے کانپتے ہوئے سر ہلایا۔ وہ اپنی چادر پھیلا کر اسے بھی گھیرے میں لیتا ہوا پاس بیٹھ گیا۔۔ 
یہ تمہارے پاس کہاں سے آئی؟۔ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
میرے بھائی نے میرے نام سے کچھ اشیاء خیرات کی ہیں۔میرا بھائی مجھے بھولا نہیں ہے
عابد کا انداز جتانے والا نہیں تھاسادہ سا تھا ۔
ہاں محسوس کی جانے والی یاسیت تھی۔ جہانگیر کے دل پر بوجھ آن گرا۔
میرا بھائی لگتا ہے مجھے بھول گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پھر کسی کی آمد کی تیاری تھی۔ دور گورکن نئی قبر کھود رہا تھا۔بیچ دوپہر تھی قبر پر سایہ بھی نہیں تھا تیز دھوپ سیدھا گورکن کے چہرے پر پڑھ رہی تھی۔لال بھبھوکا چہرہ محنت سےچمکتے پسینے کے قطرے۔۔۔زندگی کی علامت۔ جہانگیر اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔اب اسکا حال بھی عابد جیسا ہوچکا تھا۔ چہرے سے برسوں کا بیمار نظر آتا تھا۔
کیا ہے اس گورکن کے چہرے پر تھکن پریشانی اور۔  وہ سوچ میں پڑا۔
ہاں زندگی ہے۔۔ 
تبھی کسی نے گرم جوشی سے اسکا کندھا دبایا اور دھپ سے پاس آن بیٹھا
جہانگیر نے چونک کر گردن موڑی عابد تھا۔ آج تو عابد کی چھب ہی نرالی تھی۔ صاف ستھرے سفید براق لباس میں نک سک سے تیار چہرے پر بشاشت صحتمندی کی سرخی۔جہانگیر حیران ہی رہ گیا۔
اسکی حیرانگی دیکھ کر عابد کھل کر مسکرادیا۔
پھر سامنے گورکن کو دیکھ کر بولا 
لگتا ہے تمہارے لیئےکسی نئے پڑوسی کی آمد کا انتظام ہو رہا ہےاچھی بات ہے تم میرے بعد تنہائی محسوس نہیں کروگے
جہانگیر چونک گیا
تمہارے بعد؟تم کہیں جا رہے ہو؟
عابد آج بہت خوش دکھائی دیتا تھا۔ 
ہاں وقت پورا ہو گیا میرا۔ ان سب کی طرح اب میرا بھی جانے کا وقت آگیا۔ اس نےانہی اجاڑ قبروں کی جانب اشارہ کیاتھا۔
میرے بھائی نے میرے لیئے قبول حج کیا ہے۔میری سزا مئوخر ہوئی اب میں اگلی منزل کی تیاری میں ہوں۔جہانگیر کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ آئی اپنے ہی کہے الفاظ یاد آئے
کیسا بد نصیب ہے بے چارہ پہلے گھر والے لاش تک دیرسے پہنچے اب دفنا کے بھول چکے ہیں۔
سوچوں سے پیچھا چھڑاتے اس نے بڑے خلوص سے مبارکباد دی۔
بہت بہت مبارک ہو اللہ اگلی منزل بھی آسان کرے ۔انسانوں نے تو بڑی راہ دکھائی۔ خدا تو آسانیاں ہی دے گا۔
اسکے چہرے ہر سچی خوشی تھی۔عابد کھل کر مسکرادیا۔
اللہ تمہاری منزلیں بھی آسان کرے گا۔ اچھا اب میں چلتا ہوں اور دیکھو کیا بروقت تمہارے لیےدوسرے ساتھ کی آمد ہوئی ہے۔
عابد کے کہنے پر اس نے سامنے دیکھا چند لوگ جنازہ اٹھائے قبرستان میں داخل ہورہے تھےان سے پرے ایک شخص سر جھکائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا چلا آرہا تھا۔
اللہ حافظ۔ 
عابد کہہ کر جنازے کی جانب بڑھ گیا۔ یہ اسکی عادت تھی اب تک ہر آنے والے سے اس نے عابد کو یونہی ملتے دیکھا تھا گرمجوشی۔ سے۔
جہانگیر وہیں بیٹھا دیکھتا رہا۔ جاتے جاتے عابد نے نووارد کے کندھے پر تسلی دینے والے انداز میں تھپکا ۔ لمس اتنا ہلکا پھلکا تھا کہ نوواردکو محسوس بھی نہ ہوا عابد یونہی ہوا میں دیکھتے دیکھتے اوجھل ہوا۔
تو سب یہاں سب دیکھ بھی نہیں سکتے۔ آج جہانگیر پر انکشاف ہوا اسکے گرد اتنا سناٹا کیوں تھا۔ اسکی پڑوس کی قبروں کے مکین کہاں مر چلے تھے۔جو نظر نہ آتے تھے یہ 
کہ اب اسکا مرحلہ بھی اگلا ہے۔ وہ اپنی زمہ داری سمجھتا اٹھ کھڑا ہوا رخ نووارد کی جانب تھا لوگ با آواز بلند کلمہ شہادت کا ورد کرتے جنازہ دفنا رہے تھے۔ نووارد چپ چاپ قبر پر نگاہ جمائے تھا۔
جہانگیر اسکے پاس والی قبر پر ٹک کر بیٹھتے ہوئے بولا
اسلام وعلیکم میرا نام جہانگیر ہے اور آپکا؟
نووارد نے چونک کر دیکھا پھر بے تابی سے اسکو کندھے سے پکڑ کر اپنی جانب رخ موڑا بلکہ جھنجھوڑ ڈالا 
سنو تم کب سے ہو یہاں؟ کیسی جگہ ہے یہ؟ میں نے بہت کچھ سنا ہے اسکے بارے میں کیا وہ سب سچ ہے؟ پہلی رات کیا واقعی بھیانک ہوتی ہے؟
بولو نہ جواب دو۔
جہانگیر نے بمشکل اسکے بازو پکڑ کر اسے ٹھنڈا کرنا چاہا۔آرام سے دھیرج رکھو۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔
اسے نظروں سے ٹٹولتے ہوئے جہانگیر نے اسکے بازو 
آرام سے پیچھے کیئے سنبھل کر بیٹھا ۔
نظریں دور جنازہ دفناتے لوگوں پر تھیں کوئی قبر سے لپٹا رو رہا تھا۔  مالک کے سوال ختم نہ ہوئے تھے
تم کب سے ہو یہاں۔؟
جہانگیر نے آہ بھرئ۔6 سال ہورہے ہیں مجھے
مالک نے بے تابی سے پوچھا۔
ملنے آتے ہیں اپنے؟
قبر پر بیٹھا رونے والا دھاڑیں مار رہا تھا۔
جہانگیر  نے نگاہ چرائی
دو سال پہلے بھتیجا آیا تھا سنا ہے بھائی کی طبیعت خراب ہے اسلیئے آنہیں سکا۔
زیر لب بڑبڑایا
روحیں تو جھوٹ بھی نہیں بول سکتیں
مالک نے پھر پوچھا
تو تمہارے گھر والے ایصال ثواب کیلئے کچھ کرتے؟
جہانگیر نے پھر آہ بھری
زندوں کے سو جھمیلے کہا ں فرصت مجھے یاد میں خود بزرگوں کیلئے سال میں ایک آدھ بار کبھی زکر نکل آنے پر فاتحہ پڑھ دیتا تھا یا خیرات کردیا کبھی کون روز روز یہ کام کرتا ہےزندگی میں

جہانگیر کا انداز استہزائیہ تھا۔ وہی کچھ ملے گا جو کچھ دوگے۔۔ 
مالک سٹپٹایا
میں نے تو زندگی میں بس ایک بار داداجی کے چالیسویں پر سپارہ پڑھا تھا اب جانے میرے لیئے کون کچھ۔۔ 
قبر سے لپٹ کر رونے والے کو لوگ اٹھا کر اب قبرستان سے باہر لے جا رہے تھے جہانگیر نے بات کاٹ دی
سنو تم آخری بار ان سب سے مل آئو۔پھر جانے ان میں سے کسی سے دوبارہ ملنا ہو نہ ہو
مالک پہلے تو سمجھا نہیں پھر سر ہلاتا انکی جانب بڑھ گیا
قبرستان کے داخلی در پر کھڑا ایک ایک کو اپنے لیئے آنسو بہاتا دیکھتا خوش ہوتا رہا سب چلے گئے تو مڑ کر جہانگیر کودیکھا
جہانگیر اسے ہی دیکھ رہا تھا وہ خود جہانگیر کے برعکس بہت بہتر حال میں تھاجہانگیر نظریں ملنے پر بھر پور انداز میں مسکرایامگر اسکے چہرے کی زردی نمایاں تھی۔ وہ خود تو فی الحال دعائوں کے حصار میں خود کو چاق و چوبند محسوس کر رہا تھامگر یہ جہانگیر۔۔ اس نے تاسف سے سوچا
میرے ساتھ تو لوگوں کی دعائیں ہیں اسلیئے بہتر حالوں میں ہوں یہ بے چارہ کیسا بد نصیب ہے کوئی دعا میں یادنہیں کرتا جیسے اسے دفنا کے بھول ہی گئے ہیں۔۔۔


ختم شد


written by vaiza zaidi {hajoom e tanhai}

Home » 2021 » 10 » Page 2

Amal short urdu story عمل مختصر افسانہ

مختصر افسانہ
عمل

گھر میں داخل ہوتے ہی نہ جانے کیوں پارہ آسمان سے باتیں کرنے لگا
حالانکہ معمول سے ہٹ کر کچھ بھی نہ ہوا تھا
ان کے گھر میں داخل ہوتے ہی انکی کم عمر بیوی بھاگ کر ان کے لئے شربت بنا کر لائی تھی
پھیکا لگا انھیں سارا دن کی محنت مشقت کے بعد پھیکا شربت موڈ غارت ہی کر گیا جھڑک کر اسے دوسرا گلاس بنانے کو کہا
کمرے میں آ کر سیدھا نیم دراز ہو کر انہوں نے گلاس خالی کیا رومانہ دوسرا گلاس لے آئی انہو نے مزید غصہ کرنا مناسب نہ سمجھا حسب عادت رومانہ ان کے قدموں میں بیٹھ کر جوتے موزے اتارنے لگی
کھانے میں کیا بنایا ہے؟
مرغ پلاؤ ہلکی سی آواز میں جواب ملا
پچھلی بار کی طرح نمک تو تیز نہیں کر دیا ایسا بدمزہ کھانا زندگی میں کبھی نہیں کھایا تھا جیسا تم پکاتی ہو
رومانہ خاموش رہی
صبح سے کوئی کام کیا یا نہیں میں کہا تھا میری کالی شلوار قمیض دھو کر رکھنا واسکٹ بھی کل پہن کر جانا ہے میں نے
دھو دیا منحنی سی آواز
استری کر کے لٹکا دینا نہانے کا پانی گرم کر دیا
اس بار جواب ملا یا نہیں ان کے پاس وقت نہیں تھا رومانہ نے سلیپر لا کر سامنے رکھے تو وہ فورا باتھ روم میں گھس گیے
نہا دھو کر نیا کر کرتا پہن کر نکھرے نکھرے باہر نکلے تو رومانہ کھانا کمرے میں ہی لا کر لگا چکی تھی
بیڈ پر دراز ہو کر پلیٹ اپنے سامنے کھسکائی نمک کم ہے نمک دانی لا کر دو
رومانہ جو نوالہ اٹھا چکی تھی پلیٹ مے رکھا اٹھ گئی
کھانے کے دوران سارے دن کی روداد سنائی اور کھانا دنیا کا پھیکا ترین کھانا قرار دے کر چایے کی فرمائش کر دی
واسکٹ تو دھلی نہیں پلٹیں اٹھا کر جاتے جاتے رومانہ کو یاد آیا
ہاں تو ابھی چائ
کھانے میں کیا بنایا ہے؟
مرغ پلاؤ ہلکی سی آواز میں جواب ملا
پچھلی بار کی طرح نمک تو تیز نہیں کر دیا ایسا بدمزہ کھانا زندگی میں کبھی نہیں کھایا تھا جیسا تم پکاتی ہو
رومانہ خاموش رہی
صبح سے کوئی کام کیا یا نہیں میں کہا تھا میری کالی شلوار قمیض دھو کر رکھنا واسکٹ بھی کل پہن کر جانا ہے میں نے
دھو دیا منحنی سی آواز
استری کر کے لٹکا دینا نہانے کا پانی گرم کر دیا
اس بار جواب ملا یا نہیں ان کے پاس وقت نہیں تھا رومانہ نے سلیپر لا کر سامنے رکھے تو وہ فورا باتھ روم میں گھس گیے
نہا دھو کر نیا کر کرتا پہن کر نکھرے نکھرے باہر نکلے تو رومانہ کھانا کمرے میں ہی لا کر لگا چکی تھی
بیڈ پر دراز ہو کر پلیٹ اپنے سامنے کھسکائی نمک کم ہے نمک دانی لا کر دو
رومانہ جو نوالہ اٹھا چکی تھی پلیٹ مے رکھا اٹھ گئی
کھانے کے دوران سارے دن کی روداد سنائی اور کھانا دنیا کا پھیکا ترین کھانا قرار دے کر چایے کی فرمائش کر دی
واسکٹ تو دھلی نہیں پلٹیں اٹھا کر جاتے جاتے رومانہ کو یاد آیا
ہاں تو ابھی چائے کے بعد دھو کر ڈال دینا صبح تک سوکھ جاییگی
بلکہ استرے سے سوکھا دینا صبح لائٹ ہو نہ ہو استری رات کو کر کے سونا
رومانہ سر ہلا کر پلٹنے لگی تو جانے کیا خیال آیا
آپ کو کل جانا کہاں ہے؟
پروفسسر محمّد حلیم سیدھے پاؤں پھیلا کر اپنی داڑھی میں انگلی چلاتے بولے
ایک تعلیمی ادارے میں اسوہ رسول صلہ الله وسلم پر لیکچر دینا ہے

written by vaiza zaidi

gul yaad rahain gay na chaman yaad rehay ga


گل یاد رہیں گے ،نہ چمن یاد رہے گا 
ایک فصل بہاراں کا چلن یاد رہے گا


بھولیں گے نہ خوشبوؤں کے رنگین جنازے 
پھولوں پہ تبسم کا کفن یاد رہے گا 

ناقدری صاحب نظراں اور ذرا دیر
یہ مقتل بے دارو  رسن یاد رہے گا 

یہ غلغلہ بے ہںراں چار  گھڑی اور 
البتہ زمانے کا یہ فن یاد رہے گا 

موسم تو بدلنا ہے بدل جایے گا اک روز 
زخموں کا تر و تازہ چمن یاد رہے گا 

ہے گرچہ وطن میں بھی غریب الوطنی سی 
یارو ہے وطن پھر بھی وطن یاد رہے گا 

گو دور کے جلوے ہی سہی اپنا مقدر 
خوشبو سی نظر، گل سا بدن یاد رہے گا 


از قلم زوار حیدر شمیم 

Home » 2021 » 10 » Page 2

ada shanaas hay dil kesay yeh ada na lagay


ادا شناس ہے دل ، کیسے یہ ادا نہ لگے

وفا کا نام نہ لے اور وہ بے  وفا نہ لگے 

نہ چھیڑ، مجھ کو نہ چھیڑ ، اے شمیم غنچہ نشین 

تجھے بھی مرے گریبان کی ہوا نہ لگے 

ادا وہ کیا جو نہ ٹھہرے پیام فصل جنوں 

کرم وہ کیا جو کلیجے پہ تیر سا نہ لگے 

اڑاؤ  جیب و گریبان کی دھجیاں ورنہ 

 لگے سراغ بہار گریز پا ، نہ لگے 

عدو کا دل بھی جلے شاخ آشیانہ کے ساتھ 

وہ ڈھنگ کر کہ قفس رشک آشیانہ لگے 

شمیم آہوں سے دیتے ہیں داغ دل ہوا 

لگے سراغ نسیم بہار ، یا نہ لگے 
از قلم زوار حیدر شمیم

https://desikimchi.com/missing-the-other-side-season-two-first-episode-urdu-review/

Home » 2021 » 10 » Page 2