ضرورت مند

انکی 28سالہ ڈاکٹر  بیٹی کا پہلا رشتہ42 سال کے رنڈوے پہلی شادی سے تیرہ سالہ بیٹے کے ساتھ اس خواہش کے ساتھ آیا تھا کہ شادی کے بعد پریکٹیس  چھوڑ دیگی کیوں کہ انکے خاندان میں نوکری پیشہ خواتین کو اچھی نظر نظر سے نہیں دیکھا جاتاہے 

رشتہ کرانے والی نے کوائف بتاتے ہوئے انکو خوب اچھی طرح باور کرایا تھا کہ چونکہ انکی بیٹی کی عمر مروجہ شادی کی عمر سے تجاوز کر گئی ہے تو مین میخ نکلنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے الله کا نام لے کر ہاں کر دیں مگر بیگم نورین کچھ ہچکچا رہی تھیں دبے لفظوں میں عمر کی زیادتی اور بیٹے کی موجدوگی کو اعتراض کا نشانہ بنایا تو گال میں پان کی گلوری داب کر ثریا  عرف سیری خالہ نے اپنی مخصوص پاٹ دار آواز میں تقریر جھاڑ دی تھی 

بیٹی کو ڈاکٹر بنانے میں اسکی عمر گزار دی ہے اب تو جو بھی رشتہ ملے غنیمت سمجھو آج کل کے لڑکے یا تو” خود نین مٹکا کر کے شادی رچا بیٹھتے ہیں اور جو مائیں بیٹوں کے لئے بر ڈھونڈتی ہیں وہ یونیورسٹی کالج میں پڑھنے والی لڑکیوں کی  چلتی زبانیں دیکھ کر صاف کم عمر اور خوب صورت لڑکیوں کی فرمائش  کرتی ہیں 

ایک دو کو میں نے دلیلیں دے دے کر راضی بھی کیا تو اپنے پینتیس سالہ بیٹوں کے لئے اٹھائیس سالہ لڑکی انکو عمر میں بڑھیا لگی ایک کا بیٹا تھوڑا سا گنجا تھاسکو ڈاکٹر لڑکی ملے گی یہ لالچ دیا تو نشاط بٹیا کی تصویر دیکھ کر بولی اتنا چوڑا ماتھا ہے لڑکی کا پڑھ پڑھ کر بال کم رہ گیے ہیں. مرے پوتے پوتیاں تو گنجے ہی پیدا ہونگے “

ثریا خالہ نے ایسا منہ بگاڑ کر اسی عورت کی نقل اتاری کہ اتنی سخت بات پر انھیں ہنسی آگئی اور ہنسی ابھی پوری طرح لبوں کو چھو بھی نہیں پائی تھی کہ آہ بھی نکل گئی 

ان کی چاند صورت گوری چٹی بیٹی جسکی قابلیت اور لیاقت کا کوئی ثانی نہ تھا 

MBBS 

میں گولڈ میڈل لیا تھا پر اسکی شخصیت پر اسکا ظاہر حاوی تھا 

اور تو اور عینک تک تو بٹیا کو لگ چکی ہے سچ پوچھو تو ہاتھ لگائو تو میلی ہوں ایسی صورت والیاں ایسے ناک نقشے کے مردوں سچ کہوں گی لڑکا کہتے شرم آئے ایسے ایسے جوڑ بنایے ہیں کہ دل رو پڑا 

ثریا نے لوہا گرم دیکھ کے چوٹ لگی 

بیگم نورین آہبھر کر رہ گئیں 

پھر بھی سوتیلی اولاد کو پالنا کوئی آسان بات ہے 

وہ حامی نہیں بھرنا چاہ رہی تھیں 

ثریا خالہ نے گہری سانس لی 

تیرہ سال کا ہو چکا دو چار سال میں قد نکال لےگا کونسا گھٹنیوں چلتا بچہ پالنا ہے شروع سے بچے کا جھکاؤ ننھیال کی جانب ہے دو ایک بچے نشاط بٹیا کے ہوئے تو بیٹا پس منظر میں چلا جائیگا 

مگر نشاط تو بہت شوق سے ڈاکٹر بنی ہے اسکی پریکٹس ہی رکوا دینا چاہتے ہیں یہ تو 

بیگم نورین دکھی ہوگئیں اورثریا بد مزا۔۔۔واحد رشتہ جوڑنے کی امید پچھلے تین مہینوں میں پیدا ہوئی تھی پر جانے لوگوں کو اتنے نخرے کیوں سوجھنے لگے ہیں بیٹیاں پڑھا رہے اب رشتے بھی ہم پلہ خوب پڑھے لکھے پیسے والے چاہیے یہ نہیں کہ بیٹی رخصت کر کے بوجھ ہلکا کریں 

پھر تو بہن اور انتظار کرو دیکھتی ہوں مزید دو چار گھر مگر کوئی اچھی امید نہیں رکھنا .

ڈاکٹر انجنیئر لڑکوں کو سسرال بھی خوب پیسے والا چاہیے ہوتا ہے بولی لگ رہی ہے باقاعدہ لوگ لاکھوں کا جہیز دینے کو تیار ہیں اگر لڑکے کے پاس اچھی ڈگری ہو .ویسے برا مت ماننا بٹیا کے ہم جماعتوں میں سے کسی کا رشتہ نہ آیا ڈاکٹروں کی تو آپس میں ۔۔۔۔۔۔ثریا خالہ جانے کیا گل افشانی کرنے جا رہی تھیں کہ نورین بیگم نے ناگواری سے ٹوک دیا 

ثریا بہن کھاتے پیتے گھر کے ہیں ہم ایسے بھی گرے پڑے نہیں ہیں لڑکا اگر سیٹ نہ ہوا تو کروا دیں گے نشاط کا بھائی دبئی میں ہوتا ہے یہ ذکر کر دینا مگر اب ذرا ڈھنگ کے کنواروں کے رشتے لانا کم از کم 

بیگم نورین کے تیور خالہ ثریا کو خائف کر گیے تھے اوپر سے مستقل آمدنی کا ذریعہ تھا انکا یہ دو سال سے سو بگاڑ ممکن نہ تھا 

چپکی ہو کر سلام دعا کرتی چلی گیں انکے جانے کے بعد بیگم نورین تاسف سے بولیں 

بتاؤ میری بیٹی کا شریف با کردار ہونا جرم ٹھہرا اس سے تو اچھا ہوتا نین مٹکا ہی کر لیتی کم از کم لڑکا جوڑ کا تو ہوتا ایسی پیاری صورت کی بیٹی میری کسی ہم ۔جماعت کو بھی نظر نہ آئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

صبح سے روشنا ہی نظر آئے جا رہی ہے مجھے تو لگتا ہے

اسکی ترقی پکی ہے ہم سے تو فالتو میں انٹرویو لے رہے ہیں ایڈمن سے چوتھی بار گزرتے دیکھ رہا ہوں 

دفتر میں انتظار کمرے میں بیزاری سے بیٹھے عدیل نے گلاس وال سے تیز تیز قدم اٹھا کر منیجر کے کمرے میں جاتی روشنا کو دکھتے بلکہ گھورتے ہوۓ جلے بھنے انداز میں اپنے ساتھ بیٹھے صارم کے کان  میں کہا تھا 

اپنی اسناد سی وی کو چھٹی بار ترتیب دیتے صارم کے ہاتھ رکے تھے.

صبح خوب جما جما کر استری کرکے اپنی سب سے بہتر حالت میں موجود پتلون کی کریز بٹھائی تھی شرٹ کے کالر ختم ہو رہے تھے تو اماں نے سگھڑاپادکھاتے ہوئے اندرونی جوڑ کسی پرانی شرٹ سے ٹکرے کاٹ کر لگایا تھا . سترہ پانچ سو کی نوکری میں پورے گھر کی ذمےداری اٹھاتے صارم کے لئے نئے نئے کپڑے بنوانا جوۓ شیر لانے کے مترادف تھا . ابّا ریٹائر ہو چکے تھے انکی معمولی پنشن سے دو جوان بہنوں جنکی شادی کی عمر ہو چکی  تھی کا جہیز بننا نا ممکن تھا اوپر سے مہنگائی کا بے قابو جن  صبح وہ یہاں اس پرائیویٹ فرم میں کام کرتا تھا رات میں ایک اور جگہ پارٹ ٹائم نوکری کرتا تھا سونے کے لئے اسے پورے دن میں صرف چھے گھنٹے ملتے تھے اور دو نوکریوں کے ساتھ تھکن اور محنت کے اٹھارہ گھنٹے . نا کافی نیند کی کڑواہٹ آنکھوں سے جاتی نہ تھی . ڈیڑھ سال کی انتھک محنت اور کوشش کے بعد آج ذرا امید بندھی تھی کے نیے آنے والی ٹیم کا اسے سپر وائزر بنا دیا جاتا کیوں کے اسکی کارکردگی یہاں پر انٹرویو کی نیت سے بیٹھے سب امید واروں سے بہتر تھی اس ترقی سے تنخواہ میں دس ہزار کا اضافہ ہو جاتا. یہ دس ہزار اسکے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھے 

ابھی ان سب سوچوں کے ساتھ اسکے ذہن میں واجب الادا بجلی کا بل بھی گھوم رہا تھا جسکی آخری تاریخ سر پر تھی یہاں سے تو نہیں مگر شام کو جس دفتر میں اکاؤنٹس کا شعبہ سنبھالتا تھا اسکا مالک رحم دل انسان ہے تو کیا وہ اسے پیشگی تنخواہ سے کچھ روپے ادھار دے دیگا ان ڈھیر ساری سوچوں کے درمیان عدیل نے جو کہا وہ یا تو اس نے صحیح سے سنا نہیں یا سن کر  سن سا ہو گیا تھا 

عدیل کو اپنے حسب منشا تاثرات اسکے چہرے پر نہ ملے تو بد مزہ ہوگیا اور یہ سمجھ کر کہ شاید اسکو بات ٹھیک سے سمجھ نہیں آی ہے مزید کہنے لگا 

سننے میں آیا ہے کہ مینیجر کے آگے پیچھے پھر کر اور کئی  بار اسکے ساتھ لنچ اور ڈنر کر کے روشنا نے اسے اپنی اداؤں کے جال میں پھنسا لیا ہے یہ انٹرویو تو بس مینجمنٹ کو دکھانے کے لئے ہے در پردہ تو فیصلہ ہو چکا ہے کہ ٹیم لیڈر کا عہدہ اب روشنا کو ہی ملے گا 

عدیل جل جل کر کہہ رہا تھا صارم اسکی بات سن کےخالی خالی نگاہوں سے دیکھنے لگا

کیسے پیٹ کاٹ کاٹ کر اسکے ماں باپ نے اسے

MBA 

کرایا تھا کہ اسکا مستقبل محفوظ ہو جائے اور وہ معمولی سی ایجنٹ بن کر فون سننے جیسی نوکری میں بھی ترقی کے لئے لڑکا ہونے کی وجہ سے نہ اہل قرار پانے والا تھا اسے قوی امید تھی کہ پچھلے کئی مہینوں سے بہترین کارکردگی دکھانے کے صلے میں اور گزشتہ ٹیم لیڈر کے اچانک نوکری چھوڑ کر چلے جانے پر اسکی اضافی ذمہ داریاں تندہی سے نبھانے پر اسے ترقی کے لئے سب سے زیادہ قابل ملازم سمجھا جائیگا مگر یہاں تو دراز زلفیں لہرا کر ادائیں دیکھا کر کوئی میدان مار جانے والی تھی عدیل جو خود بھی کم و بیش انہی حالات سے گزر رہا تھا سو انداز خوب جلا بھنا تھا اسکا 

صارم نے ایک نظر عدیل کو دیکھا پھر ایک بار اڈمن روم سے دبی دبی مسکراہٹ لبوں میں دبائے نمودار ہوتی روشنا کو 

انکا انٹرویو آج ایچ آر والے کر  رہے تھے چوتھے مرحلے کے منیجر وغیرہ مگر آخری فیصلہ یقینا انہی صدیقی صاحب کا ہونا تھا اور عین  انٹرویو والے دن بار بار ان ہی کے دفتر کے چکر لگاتی پھر سرتاپا سجی سنوری روشنا کو دو سال سے دیکھ رہا تھا خوب اندازہ تھا کس قماش کی لڑکی ہے اس نے احتیاط سے اپنی سب اسناد فائل میں ترتیب سے رکھیں اور اٹھ کھڑا ہوا 

عدیل نے چونک کے اسکو دیکھا 

کدھر؟ کہاں جا رہا ہے اگلی باری تیری ہے 

عدیل نے یاد دلایا تو صارم پھیکی سی ہنسی ہنس دیا 

کیا فائدہ……انٹرویو دینے کا 

ویسے بھی دوسری نوکری پر جانے میں دیر ہو رہی ہے چلتا ہوں…

…………………

ختم شد 

………………….

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *