corona and qatrina ep3

قرنطینہ اور احساس نادار  طبقے کا۔۔

corona aur katrina kahani episode 3

امی اپنی سفید والی ساڑھی دے دیں نا جس کے بارڈر پر سنہرا گوٹا ہے پلیز امی۔ 

ثانیہ نے انکو عاجز کر دیا تھا پیچھے پیچھے پھر رہی تھی برتن دھونا عذاب کردیا انکا ویسے تو صبح وے جہاں جا رہی تھیں۔اس نے پیچھا لے رکھا تھا اب کندھے سے لٹکی جا رہی تھی پلیٹ دھو کر برتنوں کی ٹرے میں رکھنے کے لئے ہاتھ لمبا کیا تو اس بار تو دوپٹہ ہی کھینچ ڈالا

توبہ ہے ثانی کیوں دوں تمہیں؟ کاٹ پیٹ کر برباد کرنے کیلئے۔۔ 

امی تنگ آکر کچن سے ہی نکل آئیں۔ ثانی پیچھے تھی۔

امی پہنتی تو آپ ہیں نہیں اسکا بلائوز آپکو تنگ ہے اور دادو آپ کو پورا سفید پہننے کب دیتی تھیں کیا ہوتا وہ۔۔اس نے ذہن پر زور ڈالا پھر یاد آنے پر چٹکی بجا کر بولی

بد شگونی ہوتئ ہے سہاگن پورا سفید پہنے تو ۔۔ 

امی گھور کر رہ گئیں

ایک تو تمہاری دادی انڈیا سے پاکستان آگئیں مگر سارے وہم واہمے بھی ساتھ لے آئیں اتنے شوق سے بنارسی ساڑھی منگوائی تھئ انڈیا سے تمہارے باوا جب گئے رشتے داروں سے ملنےپر تمہاری دادی نے ایک بار نہیں پہننے دی سات سال ہونے کو آئے ویسی کی ویسی رکھی ہے ۔ 

تو امی دادی اماں کو گزرے بھی چار سال ہونے کو آئے آپ پہن لیتیں شوق پورا ہو جاتا آپکا پھر آپ آرام سے ثانی کو اسے برباد کرنے دیتیں۔

دانی نے کسی زندہ لاش کو ٹھکانے لگاتے ہوئے مفت مشورے سے نوازا۔ ثانی متشکرانہ نظروں سے بھائی کو دیکھنے لگی۔

دانی 55 انچ ایل ای ڈی پر پلے اسٹیشن جوڑے بیٹھا تھا لائونج میں ۔ صبح سے جانے کتنی نسلیں ٹھا ٹھا کر کے اجاڑ چکا تھا ۔ کاشی بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھا تھا صبح سے ابھی تھوڑی دیر پہلے فون آنے پر اٹھ کر اندر گیا تھا اپنے کمرے میں۔

ہاں تو وہم تو ڈال گئیں نا دل میں۔ اب انکے جیتے جی تو میں پہننے کا رسک نہیں لے سکتی۔  

امی کو واقعئ افسوس تھا جیسے ۔ 

ہاں تو اب کیا ساڑھی پہننے کیلئے بابا کے جانے کا انتظار کریں گی۔ 

ثانی بے سوچے سمجھے بولی امی نے بلا لحاظ اسکی کمر پر دو ہتھڑ جما دیئے

بنا سوچے جو منہ میں آیا بک دیتی ہے نامراد۔ 

دانئ پلے اسٹیشن کے ہنڈل میں منہ چھپائے ہنس رہا تھا۔ 

ثانی کمر سہلاتی روہانسی سی ہو گئ۔

میرا یہ مطلب تھوڑی تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہارا جو بھی مطلب ہو مگر تم میرا مزاق ہی اڑا رہے تھے جیسے میں پاگل ہوں کوئی جو اس عالمی وبا ء سے پریشان ہوں دوسروں کی مدد کرنا چاہتی ہوں۔ 

قطرینہ ابل پڑی تھی بولتے بولتے روہانسی ہوگئ کتنے آنسو آنکھوں سے پھسل آئے۔ ۔کاشی بے بسی سے موبائل کو دیکھ کر رہ گیا۔ 

قطرینہ منصوبہ بنا رہی تھی کہ کچھ راشن بیگ بنا کر دیہاڑی دار مزدوروں کو دے کر انکا کچھ وقت گزروا دے مگر ظاہر ہے ایسا سوچنا اچھا بھی تھا آسان بھی پر کرنے کیلئے وسائل بھی درکار تھے۔نیکی کا کام گھر سے شروع کرنا چاہیئے یہی سوچ اسکو لے ڈوبی۔  قصہ مختصر اس نے اپنی کام والی کی چھٹی کردی اور ساتھ ہی اسے اپنے امی کے ذخیرہ کردہ راشن سے دو کلو چاول پانچ کلو آٹا دالیں گھی وغیرہ یہاں تک کے صابن تک ساتھ باندھ دیا کام والی خوش ہوئی دعائیں دینے لگی اسکو یہ سب سامان لے جانے کیلئے رکشہ بھی کروا دیا ۔ یہ سب کاروائی یوں ممکن ہوئی کہ امی کسی سہیلی کے ہاں قرآن خوانی میں گئ تھیں۔ جب شام ڈھلے واپسی ہوئی تو جو خبر لی انہوں نے اسکی الامان۔ 

تم غلط سمجھ رہی ہو مزاق کیوں اڑائوں گا تمہارا  مانا تمہاری نیت اچھی تھی مگر کام والی کی چالاکی بھی تو دیکھو نا تمہاری امی کو غصہ تو آنا تھا نا۔ 

چالاکی؟ اسکو امی نے دو ہزار دیئے تھے بس اب بتائو دو ہزار میں یہ سب سامان آتا جو میں نے اسے دیا ٹھیک ہے اس نے مجھے نہیں بتایا کہ امی اسے تنخواہ کے علاوہ الگ سے دو ہزار دے چکی ہیں مگر دو ہزار کا تو صرف میرا شیمپو آتا یے یار۔ اور  خود بتائو اسے دو ہزار دے کر امی نے صاف کہا جب تک کرونا نہیں ختم ہوتا مت آنا یعنی وہ کام پر نہیں آئے گی کمائے گئ نہیں تو وہ اور اسکے نو بچے 

کیا کریں گے بھوکے نہیں مریں گے؟ 

وہ سب جو وہ امی کو نہیں کہہ پائی تھی اسکی بھڑاس کاشی کے سامنے نکال رہی تھی۔ 

ایک تو امی۔۔۔ اتنا کہا کہیں نہ جائیں گھر بیٹھیں الٹا خفا ہو گئیں کہ قرآن خوانی اس وبا سے نجات کیلئے ہی کروائی جا رہی ہے سو جانا ضروری پھر وہاں روشانے آنٹی نے سب نوکروں کو ہال سے دور کر کرے سب آنے والیوں کو ماسک اور سینیٹائزر بانٹے جبکہ سب ہی تقریبا ماسک پہن کر آئی تھیں امی تک کو میں نے پہنوا کر بھیجا تھا آگے ۔امی تعریف کر رہی تھیں انکی میں نے کہا جو آنٹیاں بڑی بڑی گاڑیوں سے نکل رہی تھیں وہ تو ماسک افورڈ کر سکتی تھیں انکو اپنے نوکروں کو بانٹنے چاہیئے تھے نا؟

بات تو صحیح کر رہی ہو۔ کاشی نے کان کھجایا۔

پھر سب اشتہاروں میں کہہ رہے ہاتھ بار بار دھوئو مگر یہ غریب لوگ صابن خریں یا روٹی؟ قرنطینہ میں رہیں تو کیسے؟ میری کام والی دو کمروں کے کوارٹر میں 4بچوں اور ساس سسر کے ساتھ رہتی ہے۔ انکیلئے قرنطینہ کیسے بنے گا؟ خدا نخواستہ کسی ایک کو بھی ہوا تو  ؟ میں نے درجن صابن دیئے اسے پھر بھی اتنےلوگوں کے خاندان کو کم ہی پڑنے ہیں صابن۔ 

پھر میں نے جو لیٹر بھر سینی ٹایزر بنایا وہ بھی اسے دے دیا اب دوبارہ بنائوں گی گھر والوں کیلئے۔ 

وہ بچوں کی طرح پرجوش انداز میں بتا رہی تھی۔ سب کو اسکا یہ جوش بچکانہ احمقانہ لگ سکتا تھا مگر کاشی کو اسکے پیچھے جو خیال کرنے والا محبت بھرا دل نظر آرہا تھا اس نے اسکو سرشار کر دیا تھا یقینا بہت مختلف اور دل کی اچھی لڑکی اسکی بہترین دوست اور اب دوست سے کچھ زیادہ تھی۔

بہت اچھا کام کیا تم نے یوں سوچو کہ کہیں تم مغرور نہ ہوجائو اس لیئے تمہاری امی کی ڈانٹ اسکا بونس کے طور پر پڑ گئ تمہیں۔ اب دل چھوٹا مت کرو تمہیں اس نیکی کا صلہ ضرور ملے گا۔ 

کاشی نے پرخلوص انداز میں اسے کہا تو وہ بھی جیسے شانت سی ہوگئ۔ 

فی الحال تو میں ایک اویورنیس کیمپین awareness campaign چلانے کا سوچ رہی ہوں اسکے لیئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔اسکا زہن چل پڑا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر میں آپکی امی نے دیکھ لیا تو بہت ڈانٹ پڑے گی مجھے ۔ میں تو بس آپ لوگوں کے کپڑے دھونے آئی تھی۔ 

زرینہ پچھلے صحن میں کپڑوں کا ڈھیر نکالے کھڑی تھی ۔ 

اوہو کچھ نہیں ہوتا امی کو خالہ نے فون کر رکھا یے دو گھنٹے سے پہلے نہیں آنے والی ہیں وہ ادھر۔ اور دیکھو میں ماسک پہن کر تمہارے سامنے آئی ہوں کوئی جراثیم تمہارے مجھے نہیں لگنے والے پلیز پلیز کاٹ دو نا۔ 

ثانیہ کا انداز ملتجی ہو چلا تھا۔ 

زرینہ نے بے بسی سے پھیلے کپڑوں کے ڈھیر کو دیکھا پھر مشین کا ٹائمر جسے پندرہ منٹ پر لگا کر وہ ابھی کمر سیدھی بھی نہ کر پائی تھی۔ 

پلیز۔۔ ثانیہ قینچی اور اپنی قمیض اسکے سامنے بڑھائے آنکھیں پٹپٹا رہی تھئ

لائیں دیں۔ 

وہ ہار مانتی ہوئی برآمدے میں بچھے تخت پر آ بیٹھی۔ براق سفید قمیض اسکے سامنے تھی جس کے گلے پر  سفید ہی موتیوں کا بھرا ہوا کام تھا۔ 

کیا کرنا ہے۔ اس نے بے ساختہ ہی کام پر ہاتھ پھیر دیا ۔ اتنی خوب صورت قمیض کو جانے کیوں وہ کٹوانا چاہ رہی تھی

اسکا دامن کاٹ کر مجھے سفید جھنڈا بنانا ہے۔ ثانیہ خوش ہو کر اسکے سامنے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئ

جھنڈا؟ زرینہ نے آنکھیں پھاڑیں۔ مگر بی بی بالکل ٹھیک قمیض ہے یہ تو 

تنگ ہو گئ ہے پچھلے سال کی ہے اب تو بے کار ہے میرے لیئے کاٹ دو ۔ ثانیہ مزے سے بولی۔ 

سولہواں سال تھا اسکا ۔ قد بھی نکل رہا تھا تھوڑی صحت بھی اچھی ہو رہی تھی کھلتا ہوا گورا رنگ جس میں گلابیاں جھلک رہی تھیں۔ اچھا کھانا پینا بے فکری اسکی اپنی بیٹی بھی پندرہ کی ہو رہی تھی مگر کم خوراکی پریشانیاں چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالتی تھی قد تو کم نہیں تھا مگر ثانیہ میں سے آرام سے دو نکل آئیں ۔ یقینا یہ قمیض اسکو پوری ہوتی۔ فی الحال تو وہ رابعہ کی اترن پہنے ہوئے تھئ۔ جسکو بار بار سی کر بھی وہ اسکے ناپ کے مطابق نہ کر سکی تھی۔ 

کاٹو نا۔ ثانیہ اسے بے خیالی میں خود کو تکتا پا کر ٹوکنے لگئ

اس نے گہری سانس لی۔ 

مگر بی بی جھنڈا کیوں بنانا؟ اور بنانا تو کسی اور پرانے کپڑے کا بنا لو یہ تو بالکل نیا جوڑا ہے۔ 

زرینہ نے سمجھانا چاہا تو وہ نئے سرے سے افادیت بتانے کی بجائے جھلا اٹھی

میرا سوٹ یے نا مجھے نہیں پہننا کاٹ دو بس جھنڈا اسکا یہاں دامن سے کاٹو ادھر سے سل جائے گا میں یہاں ڈنڈا پرو لوں گی۔ 

وہ ضدی پن سے بولی 

زرینہ نے گہری سانس لی پھر قینچی گلے سے تھوڑا نیچے کی جانب رکھ کر چلانے ہی لگی تھی کہ رابعہ جو یونہی فون پر بات کرتی دروازہ کھلا دیکھ کر بند کرنے آئی تھیں حلق کے بل چلا اٹھیں۔ 

نہیں ۔۔۔۔۔ 

پچھلے صحن کی جانب کھلتے لائونج کے دروزے سے انکو بھاگنے والے انداز میں قدم اٹھاتے چند لمحے ہی لگے ہونگے مگر انکو لگا میلوں کا سفر طے کر لیا ہو انہوں نے

چھوڑو اسے کیوں کاٹ رہی ہو ۔۔ 

انہوں نے آگے بڑھ کر جھپٹا مارا۔

انکی چیخ پر دانی اور کاشی اندر سے بھاگے بھاگے باہر آئے 

کیا ہوا۔ دونوں برآمدے میں ہونق پن سے گھورتے امی کو زرینہ اور ثانیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے دیکھ کرمعاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

امی میرا سوٹ ہے آپ اپنی ساڑھی تو دے نہیں رہیں میں اپنا سوٹ کاٹ دوں اس پر بھی اعتراض ہے۔ 

ثانیہ جھلائی

بالکل ہے۔ غضب خدا کا نیا جوڑا ایک دو دفعہ کا پہنا ہوا کاٹنے جا رہی ہے یہ بائولی 

امی نے قمیض اپنے قبضے میں لے لی۔۔ 

فون ہاتھ سے چھوٹ کر تخت پر جا گرا تھا خالہ اس میں سے سنتی معاملہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے ہیلو ہیلو کر رہی تھیں۔

نہیں آتی مجھے تنگ ہو گئ ہے اب ۔ مجھے کاٹنے دیں اسے اپنی ساڑھی تو دے نہیں رہیں میری قمیض پر بھی اعتراض ہے۔ 

ہاں ہے۔ امی نے گھورا۔ نہیں آتی تو کسی کو دے دو ۔شمسہ کی زارا کو دے دوں گی اتنی مہنگی قمیض ہے برباد تو نہیں کرنے دوں گی۔ 

اور تم تمہیں عقل نہیں نئی قمیض کاٹنے جا رہی تھیں۔ 

امی نے روئے سخن زرینہ کی جانب موڑا

وہ ثانیہ بی بی ضد کر رہی تھیں۔ وہ منمنا کر رہ گئ

میں اسے برباد نہیں کرنے دےسکتی۔

امی کا ارادہ مصمم تھا۔ 

اوفوہ ۔وہ جھلا کر رہ گئ۔ 

خالہ کو بھجوائیں گی ؟ لاہور ہیں وہ خالہ آپ زارا کو نئی شرٹ دلوا دیں گا مجھے اس شرٹ کو برباد ہی کرنا ہے۔۔ 

اس نے جھلا کر فون اٹھا کر اسپیکر آن کردیا

آں۔ ہاں۔ ظاہر ہے۔ شمسہ گڑبڑا گئی۔

کرنے دیں نا آپا کیا کرنا چاہ رہی ہے یہ؟ شمسہ نے پوچھا

ارے جھنڈا بنانا موا وہ جیو والوں نے سیاپا ڈالا ہے کہ ڈاکٹروں کیلئے سفید جھنڈا لگائیں چھت پر بس وہی شوق چڑھا ہوا ہے۔ 

امی نے بتایا تو شمسہ آگے سے خوش ہوگئیں

آپا یہ تو اچھی بات ہے اب دیکھیں ہم یہاں گھر والوں سے دور یہاں اسپتال میں لوگوں کے علاج میں مصروف ہیں 32 گھنٹے ہو رہے  مجھے یہاں ابھی تک گھر نہیں گئ ہوں ۔ سچ میں ابھی میں دیکھ رہی تھی ٹی وی اچھا لگ رہا تھا کہ ہماری اس قربانی کو عوام سراہ رہے ہیں۔۔احساس کرنا ہی تو سب کچھ ہوتاہے۔ کسی کا احساس کر لیں بہت ہے یہ احساس کہ آپکی قربانیوں کا احساس کیا جا رہا ہے انسان کو نئی توانائیاں عطاکرتاہے۔ باقی تو ہر کوئی اپنی جگہ کسی نہ کسی مسلئے میں الجھا ہے۔ 

لو یک نہ شد دو شد۔ 

کاشی اور دانی منہ چھپا کر ہنس دیئے۔ 

ہاں تو جو مرضی کرے مگر نئی قمیض برباد نہ کرے اتنا پیارا کام ہے میں زارا کو بھجوا دوں گی یہ۔ 

امی ضدی پن سے بولیں۔ 

امی اتنی سیلفیاں لے کر پوسٹ کر چکی ہوں زارا کبھی نہیں پہنے گی یہ سوٹ۔ 

ثانیہ منمنائی۔ شمسہ بھی منع ہی کرنا چاہ رہی تھیں ثانیہ کی بات تو نہ سنی وہ اپنی کہہ رہی تھیں

ارے آپا سب بند ہے ٹرانسپورٹ وغیرہ  کیسے بھجوائیں گی ؟ وہیں کسی کو دے دیں کسی غریب نادار کو اسکے کام ہی آجائے گی۔۔

انکی بات ثانیہ کے دل کو کہیں ٹھک کرکے لگی

تم میری شرٹ لے لو نا ٹی شرٹ وہائیٹ والی اب تو میں وہ پہنتا بھی نہیں اسکے کالر والی جگہ پیلی ہو رہی بس اسے کاٹ دینا۔۔ 

کاشی ہی آگے بڑھا مسلئے کا حل نکالنے کو۔ 

واقعی؟ ثانیہ خوش ہوئی۔امی نے سکھ کا سانس لیا۔ 

شکر ہے اب اسکو سنبھال کر رکھو کام آجائے گی پھر کبھی۔ 

امی نے قمیض اسکی جانب بڑھائئ۔ 

ہاں وہ لے لو بلکہ اس پر ہاتھ بھی پرنٹ کرتے ہیں ساتھ ساتھ پیغام بھی جائے گا کہ ہاتھ دھونا ہے۔کاشی پر قطرینہ کے لیکچر کا اثر تاذہ تھا

دانی نے دونوں کو یوں دیکھا جیسے انکے سر پر سینگ نکل آئے ہوں

کریک ہیں دونوں چھوٹے۔۔ وہ تاسف سے سر جھٹکتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔ امی فون پر شمسہ کو خدا  حافظ کہہ رہی تھیں

تبھی زرینہ  کو چھینک سی آگئ۔ 

مشین نے پندرہ منٹ پورے ہونے پر زور دار گھنٹی بجائی امی کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ پکڑو اور اب جب تک میں نہ بلائوں مت آنا۔  

گیراج میں انتہایی بے مروتی سے امی نے ہزار روپے اسکے ہاتھ پر رکھے وہ بھی یوں کہ ہاتھ اس سے چھو نہ جائے۔دوپٹی اچھی طرح منہ ناک پر لپیٹے تھیں۔ ثانیہ اور کاشی انکے پیچھے ہی کھڑے تھے۔ جانے کیوں انکو امی کا رویہ بہت سخت لگ رہا تھا

مگر بی بی جی وہ۔  

زرینہ جانے کیا کہنا چاہ رہی تھی امی نے موقع نہیں دیا

کہا بھی تھا اپنے ایرانی خاندان والوں سے دور رہو غضب خدا کا تمہارے بہن بھائی سب ایران گئے ہوئے تھے نا؟ لگا دیا نا انہوں نے تمہیں بھی کرونا عجیب جاہل لوگ ہو تم سب۔ ایک تو بیمار ہوتے ہو اوپر سے تجھ مجھ کے گھر جانا نہیں چھوڑتے کہ سب کو لگ جائے بیماری۔ پچھلی دفعہ ہی منع کردیا تھا اب مت آنا پھر بھی منہ اٹھا کے آگئیں میں فون میں لگی تھی تو پورا گھر گزار کر پچھلے صحن میں بھی پہنچ گئیں ثانیہ کے ساتھ۔ میری بیٹی بیمار پڑی نا تو چھوڑوں گی نہیں تمہیں۔۔ پچھلی دفعہ بھی ہزار روپیہ اسی لیئے دیا تھا کہ مت آنا یہاں مگر تم لوگوں کو حرام

امی غضبناک ہوئی وی تھیں۔ 

زرینہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ نکلے تو کاشی نے آگے بڑھ کر امی کو کندھے سے تھام کر روک دیا

امی بس کریں۔ ضروری تھوڑی ہے کہ ہر چھینک کرونا ہی ہو

بی بی جی یقین کیجئے میرا صرف بھائی گیا تھا ایران وہ بھی ابھی تک اسکا کوئی اتا پتا نہیں جانے پاکستان آیا بھی ہے یا وہیں پھنسا ہے۔ پندرہ دن ہو رہے  بھائی کی کوئی خبر نہیں ملی مجھے۔ 

وہ بولتی ہوئی پھوٹ پھوٹ کر رو دی

اچھا بس اب ٹسوے نہ بہائو جائو گھر اور جب تک نہ بلائوں مت آنا۔۔ 

امی زرا سا نرم پڑیں۔ 

چلیں امی اندر چلیں ۔ کاشی کو یہی سمجھ آیا کہ انکو لے جائے یہاں سے  

امی اندر کی جانب مڑیں تو زرینہ آنسو پونچھ کر پلٹ کر جانے لگی

زرینہ۔۔ یہیں رکو۔  ثانیہ نے لمحہ بھر سوچا پھر اندر بھاگ گئ۔ 

کاشی امی کو اندر لا کر خود انکے لیئے کچن سے پانی لینے چلا آیا۔ تبھی کچن کی گیراج کی جانب کھلی کھڑکی سے اس نے ثانیہ کو اندر سے بھاگ کر آتے اور زرینہ کی جانب بڑھتے دیکھا تو تجسس میں کھڑکی کے پاس آکر باہر جھانکنے لگا

آئیم سوری تم تو اندر آ بھی نہیں رہی تھیں میں نے بلا لیا مجھے نہیں پتہ تھا امی نے کپڑے دھلوانے سے منع کیا یے۔ 

ثانیہ شرمندہ سئ اس کے سامنے کھڑی معافی مانگ رہی تھی

کوئی بات نہیں ۔ آپکی امی آپکی فکر ہی کر رہی ہیں اب اندر جائو آپ

زرینہ نے مسکرا کر اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا جو بہت شرمندہ نظر آرہی تھی

یہ لو یہ دوپٹہ اور یہ ٹرائوزر ہے ۔ یقینا یہ تمہاری بیٹی کو آجائے گا اتنی پتلی سی یے اور یہ پانچ سو میری طرف سے ۔ابھی اتنے ہی ہیں میرے پاس لیکن جب بھی تمہیں  مزید کچھ بھی چاہیئے ہو آجانا ہم ضرور مدد کریں گے تمہاری

نہیں بی بی۔۔ زرینہ نے انکار کرنا چاہا مگر اس نے اصرار کرکے زبردستی تھما دیا۔ زرینہ آنسو پونچھتی ڈھیروں دعائیں دیتی گئ تو وہ مطمئن سی ہو کر اندر آگئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تینوں چھت پر چڑھے تھے۔ سفید براق جھنڈا کاشی اور ثانی نے مل کر بنایا تھا اب تینوں تین مختلف رنگوں سے ہاتھ سنے ہوئے اس جھنڈے پر چسپاں کر رہے تھے تین مختلف سائز کے ہاتھ تین مختلف رنگ۔ فاصلے سے چسپاں جو سماجی دوری اور ہاتھ دھونے دونوں پیغامات کی علامت تھے

جھنڈا ڈنڈے پر لگانے اور اسے ریلنگ سے باندھ کر ماسک پہنے سلوٹ کرتے ہوئے بہن بھائی ۔ پیچھے جواد احمد کا گانا ڈیڑھ منٹ کی ویڈیو ۔ اسی وقت انہوں نے بنا کر اپلوڈ کی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند منٹوں میں ہی وہ ٹرینڈنگ پر آگئ تھی۔ 

اوئے  اس سے تو میرا چینل تو چل نکلے گا۔۔ دانی خوش ہو رہا تھا۔ اسکا گیمنگ چینل تھا جس پر وہ گیمز کی لائو اسٹریمنگ کرتا تھا لوگ اسکی ویڈیو دیکھ کر اسے فورا پہچان گئے تھے اور اب دھڑا دھڑ کمنٹ کر رہے تھے۔۔ 

واہ ہم تو اسٹار بن گئے ابھی توہم نے جیو کو بھیجی بھی نہیں ویڈیو۔  

دانی کے موبائل پر ویڈیوز کے کمنٹس اسکے ساتھ جھک کر پڑھتی ثانیہ بچوں کی۔طرح خوش ہو رہی تھی۔

یہ ویسے آئیڈیا کہاں سے آیا تھا جھنڈا بنانے کیلئے۔ 

دانی نے یونہی پوچھا تھا مگر جواب چودہ طبق روشن کر گیا

قطرینہ بھابی سے۔ وہ فورا بولی

انہوں نے اپنی ٹک ٹاک پر اسکی ڈی آئی وائی ویڈیو لگائی تھی یہ انکا ہی آئیڈیا تھا ایسے ہاتھوں کے پرنٹ بنانے کا جھنڈا بھی انہوں نے اپنی پرانی ٹی شرٹ سے بنانا سکھایا تھا

اسے ہکا بکا دیکھ کر ثانیہ اپنے موبائل میں کھول کر دکھانے لگی

یہ دیکھیں۔  

ٹک ٹاک اسٹار ملینزز فالوورز کے ساتھ وہ کوئی اور نہیں قطرینہ ہی تھی پچاس کے قریب ویڈیوز تھیں جن میں کہیں وہ سوشل ڈسٹنس مینٹین کرنے کا طریقہ بتا رہی تھی دو لڑکیاں ماسک پہن کر کہنی سے مصافحہ کر رہی تھیں کہیں سینی ٹایزر گھر بنانے کی ترکیب کئی گھر میں بیٹھے بیٹھے مصروفیتیں نکالنے کی چھوٹی چھوٹی ویڈیوز  ڈی آئی وائیز  ماسک گھر میں کھیلی جانے والی کارڈ گیمز چھوٹے چیلنجز بچوں کو کیسے مصروف رکھیں اور ایک کاش ٹرینڈ بھی تھا 

وہ دیکھتا جا رہا تھا اسکی آنکھیں پھیلتی جا رہی تھیں۔ 

کاشی کو ایک عدد چیلنج دیا گیا تھا جو اسے پورا کرنا تھا اور پھر کسی اور کو نامزد کرنا تھا۔ اسے قطرینہ نے بتایا تو تھا کہ یہ کرنا مگر اتنی جلدی کرنا پڑے گا یہ پتہ نہ تھا اسے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

اختتام  تیسری قسط کا 

جاری ہے

By Syeda Vaiza Zaidi

Vaiza Zaidi is a female writer who writes Urdu web novels online. She is one of the most popular and prolific writers in the Urdu literature scene. She has written over 50 novels in different genres, such as romance, thriller, comedy, and social issues. She has a large fan following who admire her for her creativity, style, and humor. She is also an active blogger who shares her views on various topics related to Urdu culture, literature, and society. She is an inspiring role model for many young and aspiring Urdu writers.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *